Feed aggregator

میرے شہر

اس طرف سے -


میں نے زندگی میں اچھی خاصی آوارہ گردی کی ہے اور کئی شہروں میں طویل قیام کیا ہے- ذیل میں ان شہروں اور ان کے بارے میری رائے ہے- بات کسی حد تک عقلیت سے آگے نکلی ہوئی ہے لیکن وہ تعلق ہی کیا جو عقلی بنیادوں پر قائم ہو- .

منجانب فکرستان

فکرستان -

منجانب فکرستان

 رب ہمیشہ مہربان رہے ایم۔ڈی۔نور ـــــــــــــــــــــــ

کالعدم تحریک طالبان کا سربراہ ملا فضل اللہ مارا گیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

news-1529059039-6993

افغان وزارت دفاع نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد ردمنیش نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغان صوبے کنڑ میں امریکی فوجی کارروائی میں ملا فضل اللہ مارا گیا۔

دوسری جانب ترجمان امریکی فوج نے بھی ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ترجمان امریکی فوج لیفٹینینٹ کرنل مارٹن کا کہناتھا کہ 13 اور14 جون کی درمیانی شب امریکی فوج نےکنڑ میں کارروائی کی جس میں دہشت گرد تنظیم کو نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں کالعدم تحریک طالبان کا سربراہ ملا فضل اللہ ہلاک ہوگیا۔

ملا فضل اللہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا اور اس پر ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ کرنے کا بھی الزام تھا جب کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔

امریکا نے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا اور اس سے متعلق اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔

واضح رہےکہ ماضی میں بھی ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آچکی ہیں تاہم افغان طالبان کی جانب سے اب تک ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ افغان وزارت دفاع نے پاکستان طالبان سربراہ ملافضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے ۔ترجمان افغان وزارت دفاع کے مطابق ڈرون حملہ13 جون کوکیاگیا جس میں پاکستان طالبان کا سربراہ ملافضل اللہ ہلاک ہو گیا تھا۔

طالبان کمانڈر عبدالرشید نے بھی ملافضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی اور بتایاکہ ایک گھر پر حملہ کیاگیا جہاں ان کے چار دیگر ساتھی بھی مارے گئے ۔

ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان میں نہ صرف قیادت کا بحران پیدا ہو گیا بلکہ  صدیوں پرانی دشمنیاں بھی ابھرنے لگی ہیں،جس کی وجہ سے یہ گروہ ایک مضبوط، مربوط  و متحرک گروپ کی حیثیت کھو بیٹھا ہے اور طاقت  کے حصول کے لیے ایک نئی رسہ کشی  کا آغاز ہوگیا ہے،جس سے تحریک طالبان کی طاقت کو زبردست دہچکا لگنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

اس دہشت گرد تنظیم کا کمزور قیادتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور نئے سربراہ کو منتخب کرنے کی اندرونی رسہ کشی نے گروپ کے حوصلے مزید پست کر دیے ہیں۔

بات سے بات

Nostalgia, Scream and Flower -


کل عید ہے ۔ چلیں کل اگر عید نہ بھی ہوئی تو پرسوں تو ہوہی جائے گی۔
عید کے موقع پر ایک دوسرے کو تحفے بھیجنے ، مٹھائیاں، بانٹنے اورآجکل کیک بھیجنے کی روایت کافی پرانی ہے۔یہ کافی پرانی بات ہے شائد ہمارے بچپن کی.جی ہمارا بھی ایک.بچپن تھا ۔ ابو کے ایک دوست کے ہاں کسی نے سپیشل مٹھائی بھیجی جو انہوں نے عید کی مناسبت سے ہماری طرف بھیج دی ۔ شائد ہم بھی کہیں فارورڈ کردیتے لیکن کسی وجہ سے پیکنگ کھولنی پڑی۔ بہت خوبصورت گفٹ پیپر میں لپٹے ڈبے کو اگرچہ کھولنے کو دل تو نہیں کر رھا تھا لیکن جب گفٹ پیپراتارا تو اندر سے ایک عید کارڈ اور پانچ سو روپے عیدی نکلی۔جس کے بعد ہمیشہ کیلئے ایسے گفٹ فارورڈ کرنے سے پہلے نئی پیکنگ کی روایت رکھ دی ۔
تایا کی بیٹی کی شادی میں شرکت کیلئے ہوسٹل سے سیدھا ان کے ہاں پہنچا تو انہوں نے میرے اس قدم کی خوب پزیرائی کی اور واپسی پر سب خوبصورت پیکنگ والا مٹھائی کا ڈبہ ساتھ دیا جو وزن میں بھی یقیناًسب سے بھاری تھا۔لیکن جب ہوسٹل آکر دوستوں کو مٹھائی تقسیم کرنے کی غرض سے ڈبہ کھولا گیا تو اندر سے لڈو نکلے اور دوستوں نے تاحیات ہوسٹل سے شادیاں اٹینڈ کرنے پر پابندی لگا دی۔
ہمارا ایک دوست تھا ۔وہ جب وجد میں آتا تھا یا موڈ کے انتہائی اونچے نوڈز میں ہوتا تھا تو بلند آواز میں کاریڈور میں یا باتھ روم میں گانا شروع کردیتا تھا لیکن آواز کے سر اتنے خراب تھے کی ایک بار سب دوستوں نے اس کے گانے پر پابندی لگا دی کہ آئیندہ سے کمرہ بند کرکے بھی نہیں گانا۔ اس معاملے میں, میں خوش قسمت واقع ہوا تھا کہ مجھے کمرے کو کنڈی لگا کر گانے کی اجازت مل گئی تھی۔ کسی زمانے میں یقین کی حد تک وہم تھا کہ میری آواز سہگل سے بہت ملتی ہے۔ چھپو نہ چھپو نہ او پیاری۔۔۔۔ ایک دن اپنے یقین کے بارے ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا کہ اس میں قصور سہگل کی آوازکا نہیں تھا بلکہ اس زمانے میں ریکارڈنگز ہی اتنی خراب ہوتی تھی۔
ابھی جب ان پیج پر لکھنے کا ہنر نہیں آیا تھا تو اس وقت اپنی تحریریں اپنی آواز میں ریکارڈ کرکے ایک ویب پیج پر اپلوڈ کردیتا تھا۔ یہ فیس بک کے ابتدائی دنوں کی بات ہے جب اپنی گھریلو سبزیوں کی کاشت کے حوالے پوسٹیں لگائیں تو ایک خاتون نے رہنمائی کیلئے انباکس رابطہ کیا۔باتوں کے دوران جب انہوں نے پوچھا کہ باغبانی کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں تو جھٹ سے اپنی آڈیو فائلز کا لنک بھیج دیا۔چند دن بعد ان کی طرف سے ایک ریکوئسٹ موصول ہوئی کہ اگر فلاں آڈیو والی تحریر ان پیج کردیں تو مہربانی ہوگی۔ اور اگلے ہی لمحے ان پیج پر مصروف ہوچکےتھے۔دو تین دن لگا کر ایک ڈیڑھ صفحے کی تحریر کو کی بورڈ سے کمپیوٹر سکرین پر منتقل کردیا۔ ٹاسک تو مکمل ہوگیا لیکن ہاتھ کی انگلیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور اپنی ساری تحریریں اپنی ڈائری سے اٹھا کر کمپیوٹر میں محفوظ کرلیں۔ 
ایک بلاگ بنا رکھا تھا جو دراصل میری ڈیجیٹل ڈائری تھی جس میں تصوریریں ویڈیوز، اقتباسات، شاعری پوسٹ کیا کرتا تھا۔وہ سب وہاں سے ڈیلیٹ کیا اور اپنی تحریریں وہاں سجانا شروع کردیں۔کچھ دوستوں کو لنک بھیجا تو ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ کہاں چھپے بیٹھے ہو ۔ ان کو فیس بک پر شیئر کرو۔ ڈرتے ڈرتے فیس بک پر شیئر کرنا شروع کیا تو حوصلہ افزائی پا کر باقائدہ لکھنا شروع کردیا۔
پھر ایک دن کسی نے چورنگی نام کے ایک گروپ میں ایڈ کردیاتو فیس بک کی ایک نئی دنیا کا علم ہوا۔وہاں سے آواز سے ہوتے ہوئے بے شمار گروپوں تک رسائی حاصل ہوئی۔ ان گروپس کی بدولت بہت سے نئے لوگ ملے ۔ نئی سوچ، نئے انداز زندگی اور نیا فہم ملا۔ان لوگوں کے بارے میں کسی دن تفصیل سے لکھوں گا کہ جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ جن کی بدولت دماغ کی بہت سے بتیاں روشن ہوئیں۔ اور سوچ کے بے شمار نئے زاویے دریافت ہوئے۔
کل عید ہے۔ اور اگر کل عید نہ بھی ہوئی تو پرسوں ہوجائے گی اور ہماری فیس بک سے وابستگی کے دس سال بھی مکمل ہوجائیں گے.
میم.سین

آنے والی عيد الفطر مبارک

افتخار اجمل بھوپال -

میری طرف سے اور میرے اہلِ خانہ کی طرف سے سب کی خدمت ميں عيد مبارک
اللہ کریم سب کو دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين
اللہ سبحانُہُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے

فطرانہ ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ عیدالفطر کی نماز سے قبل اور بہتر ہے کے رمضان المبارک کے اختتام سے پہلے فطرانہ ادا کر دیا جائے ۔ کمانے والے کو اپنا اور اپنے زیرِ کفالت جتنے افراد ہیں مع گھریلو ملازمین کے سب کا فطرانہ دینا چاہیئے
عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا
اللّہُمَ صلٰ اللہ سیّدنا محمد و علٰی آلہِ و صحبہِ و سلِّمو تسلِما

آیئے سب انکساری ۔ رَغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator