Feed aggregator

مچھر طبیعت لوگ

نوک جوک -

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔
تو صاحب، یہ عاجز  حساب کتاب کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے، کہ اپنی زندگیوں میں بھی کچھ لوگوں کو مچھر جتنی ہی اہمیت دی جائے تو خاصا سکون رہے۔
یہ مچھر طبیعت کے لوگ بھی آپ کے کان میں بھنبھناتے ہیں، آپ کو غافل پا کر کاٹ کھاتے ہیں، لیکن ان کے معاملے میں آپ ہڑبڑا کر کروٹ بدلنے کے بجائے انہیں اہمیت دینے لگتے ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ کو اعصاب پر سوار کر لیتے ہیں۔ ہر وقت اسی بارے میں سوچتے ہیں، اندر ہی اندر کھولتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے آپ زندگی کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کے بجائے الگ بیٹھ کر کڑھتے ہیں، ان کے لگائے گئے زخموں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔
حالانکہ مچھر کی طرح ایسے لوگ بھی صرف ایک تالی کی ہی مار ہوتے ہیں۔
بھئی نہ کریں نا ایسا!
جیسے مچھر کا کاٹنا اگلی صبح یاد تک نہیں رہتا ایسے ہی مچھر طبیعت لوگوں کی بھنبھناہٹ اور چبھن کو بھی بھول جائیے۔ کیا آپ مچھر کے بارے میں چند جملوں سے زیادہ کسی سے گفتگو کرتے ہیں؟ نہیں نا؟ تو مچھر جیسے لوگوں کو بھی ڈسکس نہ کیا کریں۔ یہ کاٹیں تو آپ بس کھجائیں اور کروٹ بدل کر زندگی کی گاڑی میں آگے بڑھ جائیں۔
مچھر کی طرح ان سے بچنے کی تدابیر بھی کر لیں۔ اپنی زندگی کے گرد جالی والا دروازہ لگائیں۔ جہاں سے مچھر کو تو رکاوٹ ہو لیکن تازہ ہوا کے آنے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ خوشی کی خوشبو والی مچھر مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ قہقہوں والا کوائل جلائیں اور مچھر جیسے لوگوں کو مار بھگائیں۔
ویسے تو مچھر جیسے لوگوں کو اتنی اہمیت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط بہتر ہے۔ یوں تو اکثر مچھر صرف کھجلی پیدا کرتے ہیں لیکن کچھ کچھ ملیریا اور ڈینگی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

خدا کے بغیر زندگی – الحاد کے اثرات [Life without God- The implication of atheism]

مذہب فلسفہ اور سائنس -

. زندگی محض کھیل ہے – ایک مایوس کن اورغیراطمینان بخش تصوردنیا الحاد محض ایک عقلی نقطہ نظر کا نام ہی نہیں ، اگر اس کے دعوے کو سچ مان لیا جائے تو ہمیں چند بہت ہی ناگزیر لیکن مایوس کن وجودی نظریات کو ماننا پڑے گا۔ زندگی کے متعلق الحادی نظریہ یہ کہتا ہے…

خدا نہیں تو کوئی قدر نہیں [No God, No Value]

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ ۔۔ ہم سب کامل یقین رکھتے اور محسوس کرتے ہیں کہ انسانی زندگی کا کوئی برتر مقصد ہے۔ تاہم، کیا ہم اس نا بدل سکنے والے احساس اور عقیدے کو علمی دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں؟ اسلامی عقاید میں عقلی طور پر اس پہلو کو ثابت کرنے کہ اہلیت موجود ہے اسکے برعکس…

رسموں کی جمع تفریق میں کیا کچھ کھو رہے : آفاق احمد

اسریٰ غوری -

بھائی نے شادی شدہ بہن کے گھر جانا ہو توکیسی کیسی سوچیں دماغ پر دستک دیتی ہیں . کچھ ساتھ لے کر جانا چاہیے، اب اتنے روپے کا تو ہونا چاہیے۔۔ وہاں زیادہ رُکوں گا نہیں، بہن کھانے کے چکر میں نہ پڑ جائے، ایسے وقت جانا چاہیے کہ محض ٹھنڈا یا چائے ہوجائے، کھانے […]

The post رسموں کی جمع تفریق میں کیا کچھ کھو رہے : آفاق احمد appeared first on نوک قلم.

مسئلہ شروالم اوراسلام [Islam’s Response to Evil and Suffering]

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ انسانی و حیوانی ہمدردی کے حقیقی اور بجا احساس کے سبب بہت سے ملحد یہ استدلال کرتے ہیں کہ ایک قادر و رحیمِ مطلق خدا کا وجود دنیا میں شر و الم کے وجود سے ناموافق ہے۔ اگر وہ ‘الرحمٰن’ ہے، تو اس کی خواہش ہو گی کہ دنیا میں شر و الم کا…

پیغمبرانہ سچائی [THE PROPHETIC TRUTH]

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ قرآن مجید یہ تعلیم دیتا ہے كہ ہم تمام انبیاء اور پیغمبروں پر ضرور ایمان لائیں اور یہ یقین رکھیں كہ یہ تمام نفوسِ قدسیہ اللہ كے چُنے ہوئے بندے تھے جن كو ابدی سچائی ‘خدا’ نے انسانیت کی طرف اپنا تعارف کروانے کے لیے بھیجا ۔ قرآن مجید نے بہت سے رسولوں اور…

روزمرہ کےکچھ طبی مشورے

اسریٰ غوری -

(1) گلے میں خراش ہو تو اپنےکان کے اندر کھجلی کریں کیوں کہ کان کےاندر رگوں کی بناوٹ ایسی ہیکہ وہاں خارش کرنے سے آپ کے گلے کو خودبخود سکون پہنچےگا (2) کسی نہایت شور والی جگہ پر کسی کو سننے میں دشواری ہے؟؟ تو کسی شخص کی بات سننے کے لیے دائیں کان کا […]

The post روزمرہ کےکچھ طبی مشورے appeared first on نوک قلم.

ہمیں معاف کردو : جہانزیب راضی

اسریٰ غوری -

چلیں ہم امریکا سے شروع کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے موجودہ صدر ہیں۔ انھوں نے صدر منتخب ہونے سے پہلے ایک امریکی ٹی- وی کو انٹرویو دیا اور اپنی بیٹی کے حسن پر تبصرہ کرتے ہوئے بولے ” اگر یہ میری بیٹی نہ ہوتی تو میں ضرور اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا […]

The post ہمیں معاف کردو : جہانزیب راضی appeared first on نوک قلم.

خدائی شہادت-قرآن کی الوہیت [God’s Testimony-The Divine Authorship of the Qur’an]

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ غور کیجیے، ہماری معلومات کا بیشتر حصہ لوگوں سے سنی ہوئی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں ایسی باتیں بھی شامل ہوتی ہیں جن پر ہم پورا یقین رکھتے ہیں۔مثلاً ہم میں سے بہت سے لوگ امیزون کے جنگلات میں بسنے والے قبائل، ٖفوٹو سن تھسز، بالائے بنفشی شعاؤں ، اور جراثیموں کے…

پاکستان پر امریکہ کا پہلا خطرناک وار

افتخار اجمل بھوپال -

آج سے 67 سال قبل آج کی تاریخ میں پاکستان کے پہلے مُنتخب وزیر اعظم اور قائد اعظم کے معاون نوابزادہ لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تھا ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان نے تقریر شروع کرتے ہوئے ابھی اتنا ہی کہا تھا ” برادرانِ مِلت ۔ ۔ ۔ “۔ کہ پہلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سَید اکبر نے 2 گولیاں چلائیں ۔ ایک نواب زادہ لیاقت علی خان کے سر اور دوسری پیٹ میں لگی ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان گر پڑے ۔ اُن کے آخری الفاظ جو سُنائی دیئے یہ تھے ” اللہ پاکستان کی حفاظت کرے“۔
سَید اکبر کو لوگوں نے قابو کر کے اُس کا پستول چھین لیا تھا ۔ پھر ایک پشتو آواز گونجی ”گولی کس نے چلائی ۔ مارو اِسے“۔ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی ۔ اس حُکم کی تعمیل میں انسپکٹر محمد شاہ نے سَید اکبر پر گولیاں چلا کر اُسے ہلاک کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ کا تبادلہ کچھ دن قبل ہی کیمبلپور (اٹک) سے راولپنڈی کیا گیا تھا ۔ پولیس قوانین کے مطابق قاتل کو زندہ پکڑنا ضروری ہوتا ہے ۔ مقابلہ کرتے ہوئے مارا جائے تو الگ بات ہے ۔ چنانچہ انسپیکٹر محمد شاہ نے جُرم کا ارتکاب کیا تھا لیکن حیرت ہے کہ عدالت میں اُس نے کہا ”میں جذبات میں آ گیا تھا“۔ اور اُسے کچھ نہ کہا گیا
قوم نے صرف اتنا کیا کہ کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ اور اُس کے ساتھ والی سڑک کا نام لیاقت روڈ رکھ دیا

نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کا کھُرا امریکہ کی طرف جاتا ہے کیونکہ جب نوازادہ لیاقت علی خان امریکہ کے صدر ٹرومَین کی دعوت پر امریکہ گئے تو اُن پر امریکہ کی حمائت وغیرہ کیلئے دباؤ ڈالا گیا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا

“We want to have friendship with USA but will not take diction from anyone۔”

امریکی خفیہ دستاویزات پر مشتمل کتاب ” The American Roll in Pakistan “ کے صفحہ 61 اور 62 کے مطابق امریکہ میں پہلے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسناد تقرری پیش کرنے کے بعد اپنی درخواست میں اصفہانی صاحب نے لکھا ”ہنگامی حالت میں پاکستان ایسے اڈے کے طور پر کام آسکتا ہے جہاں سے فوجی و ہوائی کارروائی کی جاسکتی ہے“۔ ظاہر ہے یہ کارروائی اس سوویت یونین کےخلاف ہوتی جو ایٹمی دھماکے کے بعد عالمی سامراج کی آنکھ میں زیادہ کھٹکنے لگا تھا

1949ء میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی رپورٹ میں ہے”پاکستان کے لاہور اور کراچی کے علاقے ۔ وسطی روس کےخلاف کارروائی کیلئے کام آسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے دفاع یا حملے میں بھی کام آسکتے ہیں“۔

یاد رہے کہ روس کے ایٹمی دھماکے اور چین میں کمیونزم آجانے سے امریکہ پاکستان کی جانب متوجہ ہوا چنانچہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری جارج کریوز مَیگھی (George Crews McGhee) دسمبر 1949ء میں پاکستان آئے اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکی صدر ٹرومین کا خط اور امریکی دورے کی دعوت دی لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اہم ملاقات وزیر خزانہ غلام محمد سے کی جنہوں نے میگھی کو تجویز دی ”ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ امریکی انٹیلی جنس کا پاکستانی انٹیلی جنس سے رابطہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ اِن (غلام محمد) کے ساتھ براہ راست رابطہ ہو“ (صفحہ 106)۔

دسمبر 1949ء میں پاک فوج کے قابل افسران جنرل افتخار اور جنرل شیر خان ہوائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ باقی کسر پنڈی سازش کیس نے
پوری کر دی ۔ ایوب خان ابتداء ہی سے امریکہ کا نظرِ انتخاب تھے ۔ وہ قیام پاکستان کے وقت لیفٹیننٹ کرنل تھے اور صرف 3 سال بعد میجر جنرل بن گئے۔ وہ کمانڈر انچیف سرڈیگلس گریسی (Commander-in-Chief General Sir Douglas David Gracey) کے ساتھ نائب کمانڈر انچیف تھے

زمامِ اقتدار اس وقت کُلی طور پر امریکی تنخواہ داروں کے ہاتھ آئی جب 16اکتوبر 1951ء کو لیاقت علی خان قتل کردیئے گئے ۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم ۔ ان کی جگہ وزیر خزانہ غلام محمد گورنر جنرل ۔ اسکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری (جو آئی سی ایس آفیسر تھا اور ڈیفنس سیکریٹری بننے کے بعد اپنے آپ کو میجر جنرل کا رینک دے دیا تھا) اور ایوب خان کمانڈر انچیف اور یوں امریکی کورم (Quorum) پورا ہوگیا

دوسری طرف امریکہ نے خطے میں روسی خطرے سے نمٹنے کے لئے دیگر اہم ممالک پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی تھی یہاں تک کہ جب اگست 1953ء میں ایران میں ڈاکٹر مصدق نے برطانیہ کے ساتھ تیل کے مسئلے پر تعلقات خراب کرلئے تو امریکہ نے ایران سے بھاگے ہوئے رضا شاہ پہلوی کو رَوم سے لاکر تخت پر بٹھادیا اور پھر روس کے خلاف ترکی ۔ ایران اور پاکستان کو ایک معاہدے میں نتھی کردیا جسے بغداد پیکٹ کہا گیا

”ہمارا دوست امریکہ کتنا ہی دغاباز کیوں نہ ہو لیکن ہم سے معاملات طے کرتے وقت اس نے منافقت کا کبھی سہارا نہیں لیا ۔ وہ صاف کہتا ہے ”امریکہ کو چاہیئے کہ امریکی دوستی کے عوض پاکستان کی موجودہ حکومت کی مدد کرے اور یہ کوشش بھی کرے کہ اس حکومت کے بعد ایسی حکومت برسراقتدار نہ آجائے جس پر امریکہ مخالف کا قبضہ ہو ۔ ہمارا ہدف امریکی دوست نواز حکومت ہونا چاہیئے“۔ (فروری 1954ء میں نیشنل کونسل کا فیصلہ ۔ بحوالہ پاکستان میں امریکہ کا کردار صفحہ 326)

WHO SHOT LAK (Liaquat Ali Khan)?..CIA CONNECTION

1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:
[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

امریکہ کی مندرجہ ذیل خُفیہ دستاویزات جن سے معلومات حاصل کی گئی تھیں 2010ء تک انٹرنیٹ پر موجود تھیں ۔ جب میں نے 2015کے شروع میں دیکھا تو انٹرنیٹ سے ہٹائی جا چُکی تھیں

1. America’s Role in Pakistan
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951 [only first page located]
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

بیٹیاں آبگینے ہیں ان آبگینوں کی حفاظت کیجیے : محمد سلیم

اسریٰ غوری -

ناجی عبدربہ (فرضی نام) ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والا یمنی تاجر ہے اور میرا بہت ہی پیارا دوست۔ صوم و صلاۃ کی پابندی تو تربیت سے ہے مگر اخلاق اُتم اور انکساری بے مثال۔ ناجی کی میرے سامنے شادی ہوئی اور اس کے بچے میری شفقت سے مستفید رہے۔ بڑی بیٹی شہد (فرضی نام) […]

The post بیٹیاں آبگینے ہیں ان آبگینوں کی حفاظت کیجیے : محمد سلیم appeared first on نوک قلم.

حبیب نے مجھے حوصلہ دیا: انوار الحق مغل

اسریٰ غوری -

حبیب نور محمدوف عرف شاہین تیس سالہ روسی مسلمان ہے جس نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں نفسانی خواہشات کا حصول سوچ سے بھی زیادہ آسان ہے، جہاں شراب ایک مشروب اور جنسی تعلقات فیشن سمجھے جاتے ہیں، جہاں پر اسلامی تعلیمات پر کاربند رہنا اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ناممکن نہ […]

The post حبیب نے مجھے حوصلہ دیا: انوار الحق مغل appeared first on نوک قلم.

طلاق کے اسباب اور حل - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 12 اکتوبر 2018

کچھ دل سے -


طلاق کے اسباب اور حل  خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)امام و خطیب: پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: دلیل ویب
فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 04 صفر 1440کاخطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "طلاق کے اسباب اور حل" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو ایک جان سے پیدا فرما کر ان کے جوڑے بنائے اور کرۂ ارضی کی آباد کاری کے لیے نکاح جیسے نعمت عطا فرمائی اور بد کاری کے راستے بند کیے، پھر انہوں نے زانیوں کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ شادی کے بہت سے فوائد ہیں جبکہ زنا کاری کے اس سے زیادہ نقصانات ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ طلاق دینے سے معاشرے اور خاندان کا توازن بگڑتا ہے نیز طلاق شیطان کے لیے اعزاز کا باعث بھی بنتی ہے، پھر انہوں نے شادی کو دوام بخشنے کے اسباب میں کہا کہ: حسن معاشرت، اختلافات کا ابتدا میں ہی خاتمہ، دو طرفہ رشتہ داروں کی طرف سے صلح کا اقدام، صبر و تحمل، اپنے چند حقوق سے دستبرداری، بیوی سے غلطی ہونے پر سمجھانا شامل ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی شرحِ طلاق کے اسباب میں بتلایا کہ : بد اخلاقی اور بد زبانی، دو طرفہ رشتہ داروں کی میاں بیوی کے درمیان دخل اندازی ، ایک دوسرے کی حق تلفی، بغیر اجازت گھر سے نکلنا اس کے اسباب میں آتا ہے، پھر انہوں نے طلاق دینے کا شرعی طریقہ بیان کیا اور آخر میں سب کے جامع دعا فرمائی۔
❝ منتخب اقتباس ❞
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انسانوں اور زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کے جوڑے بنائے نیز ان کے بھی جوڑے بنائے جن کے بارے میں انسان لا علم ہے، اللہ تعالی نے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کا حکم دیا اور فساد سے روکتے ہوئے فرمایا: {وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ} اصلاح کرو اور فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142] 
اللہ تبارک و تعالی نے لوگوں کے لیے مصلحتوں و فوائد کے حصول اور مفاسد و نقصانات سے بچانے کی غرض سے شرعی احکامات جاری کیے، میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں اور توبہ و استغفار کرتا ہوں، نیز گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ تمام جہانوں سے مستغنی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے صادق و امین رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔
لوگو! اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل یاد کرو کہ اللہ تعالی نے اتنے مرد و زن ایک جان سے پیدا فرمائے، اور ان کو جوڑے بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً } لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ۔ [النساء : 1]
اسی طرح فرمایا: {هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا} وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے [الأعراف : 189]
اس کے بعد اللہ تعالی کا نظام اور شریعت یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت شرعی عقدِ نکاح کے ذریعے ایک بندھن میں بندھ جائیں، تا کہ فطری اور انسانی ضروریات ازدواجی تعلقات کے ذریعے نکاح کی صورت میں پوری کریں اور بد کاری سے بچیں۔
چنانچہ نکاح عفت، برکت، افزائش نسل، پاکیزگی، عنایت، قلبی صحت، اور نیک اولاد کی صورت میں لمبی عمر کا راستہ ہے، جبکہ بد کاری اور زنا خباثت، قلبی امراض، مرد و زن کے لیے تباہی، گناہوں، آفتوں، بے برکتی، نسل کُشی اور آخرت میں عذاب کا راستہ ہے۔
ازدواجی زندگی ایسا گھر ہے جو اولاد کی پرورش، دیکھ بھال، اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے، والد کی شفقت اور ممتا کی محبت ایسی نسلیں تیار کرتی ہے جو زندگی کے بار اٹھانے کی صلاحیت رکھے، معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں، معاشرے کو ہر میدان میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرے، پدری شفقت اور ممتا کی محبت نئی نسل کی اعلی اخلاقی اقدار کی جانب رہنمائی کرتی ہے اور مذموم صفات سے دور رکھتی ہے، نیز اخروی دائمی زندگی کے لیے نیکیاں کرنے کی تربیت دیتی ہے، چنانچہ چھوٹے بچے انہیں دیکھ کر یا سن کر سیکھتے ہیں؛ کیونکہ وہ خود سے پڑھ کر سبق حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اس بندھن کے ساتھ میاں بیوی کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، بچوں کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، میاں بیوی کے اقربا کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، پورے معاشرے کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، دنیا و آخرت کی اتنی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں جنہیں شمار کرنا ممکن ہی نہیں ، چنانچہ اس بندھن کو توڑنا، اس معاہدے کو ختم کرنا ، اور ازدواجی زندگی کو طلاق سے برخاست کرنا مذکورہ تمام فوائد اور مصلحتوں کو منہدم کردیتا ہے، اس کی وجہ سے خاوند کو بہت ہی زیادہ آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے جس سے دین، دنیا، اور صحت سب متاثر ہوتی ہیں، دوسری جانب بیوی کو خاوند سے کہیں زیادہ آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چنانچہ عورت اپنی زندگی پہلے کی طرح استوار نہیں کر پاتی جبکہ بقیہ زندگی ندامت کے سپرد ہوتی ہے، اور آج کل کے دور میں تو خصوصی طور پر پریشانی ہوتی ہے کیونکہ حالات عورت کے لیے سازگار نہیں ہوتے، بچے اجڑ جاتے ہیں، انہیں بھی سنگین ترین حالات سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ والدین کی سائے میں گزاری ہوئی گذشتہ زندگی سے بالکل الگ تھلگ ہوتے ہیں، لہذا انہیں زندگی میں رنگ بھرنے والی تمام خوشیوں کا دامن چھوڑنا پڑتا ہے، نیز ان سنگین حالات میں ان کے سروں پر ہمہ قسم کے فکری انحراف اور امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہوتے ہیں، پورا معاشرہ بھی طلاق کے بعد رونما ہونے والے نقصانات سے متاثر ہوتا ہے، چنانچہ قطع رحمی زور پکڑتی ہے، بلکہ طلاق کی جتنی بھی خرابیاں شمار کر لو کم ہیں ۔
 طلاق کے عمومی اور خصوصی مفاسد و نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر غور کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابلیس اپنا تخت پانی پر لگا کر اپنے چیلوں کو بھیجتا ہے ؛ اور اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالے ، چنانچہ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔۔۔" تو شیطان اسے کہتا ہے کہ : "تو نے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا " پھر ان میں سے ایک اور آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے فلاں کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی " شیطان اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے: "ہاں !تو ہے کارنامہ سر انجام دینے والا" پھر وہ اسے گلے لگا لیتا ہے) مسلم
آج کل معمولی وجوہات اور وہمی اسباب کی بنا پر طلاق کی شرح بہت بڑھ چکی ہے، بلکہ طلاق کے اسباب میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، ان میں سب سے اہم سبب طلاق کے شرعی احکام سے جہالت اور کتاب و سنت کی تعلیمات سے رو گردانی ہے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے شادی کے بندھن کو مکمل تحفظ اور اہمیت دی ہے کہ مبادا یہ بندھن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، ہوس پرستی کی اندھیریوں سے متزلزل ہو۔
چونکہ طلاق کا سبب خاوند اور بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں ہو سکتے ہیں یا ان میں سے کسی کے رشتہ دار طلاق کا باعث بنتے ہیں تو شریعت نے ہر صورت حال سے نمٹنے کا الگ حل تجویز کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں خاوند کو اس بندھن کی قدر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: { وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا} اور بیویوں کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم اور زیادتی کے لیے نہ روکو جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ [البقرة : 231]
اور خاوند کو چاہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک، حسن معاشرت سے پیش آئے اور اگر کوئی بات بری بھی لگے تو صبر کرے عین ممکن ہے کہ حالات بہتر سے بہترین ہو جائیں ، یا انہیں اللہ تعالی نیک اولاد سے نوازے اور خاوند کو صبر کرنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اجر بھی ملے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا} اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھ دی ہو [النساء : 19]
میاں بیوی کو اپنے اختلافات شروع میں ہی ختم کر دینے چاہئیں چہ جائیکہ مزید بڑھیں، میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں اور پھر ایک دوسرے کی پسند اور نا پسند کا بھر پور خیال کریں، یہ کام بہت ہی آسان ہے اور سب اس سے واقف ہیں۔
صبر اور در گزر بھی ازدواجی زندگی کے دوام اور خوشحالی کا سبب ہے، چنانچہ ایسے میں صبر کا کڑوا گھونٹ لمبے عرصے کی مٹھاس کا باعث بنتا ہے، ویسے بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے صبر جیسی کوئی چیز نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} یقیناً صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔[الزمر : 10]
صرفِ نظر اور در گزر زندگی کے لیے لازمی عناصر ہیں، میاں بیوی کو ان کی خصوصی طور پر ضرورت ہوتی ہے، لہذا غیر ضروری یا قابل تاخیر امور سے صرفِ نظر میاں بیوی دونوں کے لیے بہتر ہے؛ کیونکہ دور حاضر میں بہت سے خاوند عیش پرستی پر مبنی مطالبات پورے کرتے کرتے تھک چکے ہیں، پورے حقوق کا مطالبہ ،کسی ایک حق سے بھی عدم دستبرداری اور صرف نظر نہ کرنے کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نفرت اور بغض جنم لیتا ہے۔
ازدواجی زندگی دائمی بنانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے اخلاق میں شگفتگی پیدا کرے، اور اس کے لیے شریعت کی روشنی میں جائز امور بروئے کار لائے۔
قاضی اور منصفین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے پاس آنے والے میاں بیوی کے جھگڑوں میں صلح صفائی کروائیں، تا کہ باہمی اتفاق قائم ہو اور طلاق کے خدشات زائل ہو جائیں۔
خاوند پر بیوی کا حق ہے کہ حسن معاشرت، بیوی کے لیے مناسب رہائش، نان و نفقہ اور لباس کا انتظام کرے، ہر وقت خیر خواہی چاہے، تکلیف مت دے، اور گزند نہ پہنچائے۔
طلاق کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی زبان دراز ، بد اخلاق، اجڈ اور گنوار ہو، تو ایسی صورت میں بیوی اپنا اخلاق درست کرے، اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے، اور بچوں کی صحیح تربیت کے لیے خوب محنت کرے، اور خاوند کی صرف وہی بات مانے جو اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث نہ ہو، چنانچہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب کوئی عورت پانچوں نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا: جنت کے من چاہے دروازے سے داخل ہو جاؤ) احمد، یہ حدیث حسن ہے۔
طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ میاں بیوی کے دو طرفہ یا یک طرفہ رشتہ دار ان کے درمیان دخل اندازی کریں، اس لیے رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور صرف اچھی بات ہی کیا کریں۔ ایک حدیث میں ہے کہ : (اللہ تعالی کی ایسے شخص پر لعنت ہے جو کسی کی بیوی کو خاوند کے خلاف یا خاوند کو بیوی کے خلاف بھڑکائے)
بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاوند کے رشتہ داروں کے حقوق بھی ادا کرے اور خصوصی طور پر ساس سسر کا خیال رکھے، اسی طرح خاوند بیوی کے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے، چنانچہ کئی بار کسی ایک کے رشتہ دار کی حق تلفی بھی طلاق کا سبب بن جاتی ہے۔
طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ : حیا باختہ ڈارمہ سیریل دیکھے جائیں یا فحاشی پھیلانے والی ویب گاہیں دیکھی جائیں۔
خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا بھی طلاق کا سبب ہے، چنانچہ بیوی کے لیے خاوند کی اجازت سے ہی باہر جانا جائز ہے؛ کیونکہ خاوند کو معاملات کا زیادہ علم ہوتا ہے۔
تاہم اگر شادی کا بندھن قائم رکھنا ناممکن ہو جائے تو اللہ تعالی نے طلاق دینا جائز قرار دیا ہے اگرچہ یہ ناپسندیدہ عمل ہے، جیسے کہ حدیث میں ہے کہ: (اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ ترین حلال چیز طلاق ہے) چنانچہ خاوند مکمل سوچ و بچار کے بعد اللہ تعالی کے حکم کے مطابق شرعی طلاق دے، فرمانِ باری تعالی ہے: { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ} اے نبی! جب بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت گزارنے کے لیے طلاق دو، اور عدت شمار کرو[الطلاق : 1] آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفسرین کہتے ہیں کہ: ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں جماع نہیں کیا، طلاق دینے کے بعد اگر چاہے تو دوران عدت رجوع کر لے، وگرنہ عدت ختم ہونے دے، جیسے ہی عدت ختم ہو گی زوجیت کا تعلق ختم ہو جائے گا۔
غور کریں کہ شادی کے بندھن کو تحفظ دینے کے لیے شریعت نے کتنی تاکید کی ہے جبکہ دوسری طرف آج کل طلاق کو اتنا ہی معمولی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ طلاق کے اسباب سے دوری ضروری عمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا [النور : 21]
مسلمانو!
کچھ نوجوانوں کی زبان پر طلاق کا لفظ اولاد، اقربا، اور کسی بھی دوسرے شخص کے حقوق کا خیال بالائے طاق رکھتے ہوئے پانی کی طرح جاری ہے، بسا اوقات مختلف مجالس میں تو کبھی ایک ہی مجلس میں کئی بار طلاق دے دیتا ہے، پھر اس کے بعد فتوے تلاش کرتا ہے، بسا اوقات حیلہ بازی بھی کرتا ہے اور کبھی کسی قسم کی گنجائش نہیں ملتی اور بلا سود ندامت اٹھانی پڑتی ہے؛ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ } جو بھی اللہ سے ڈرے وہ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے [2] اور اسے ایسی جگہ سے عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق : 2 - 3]
لہذا شرعی طور پر طلاق دینے والے کے لیے اللہ تعالی آسانیوں کے راستے کھول دیتا ہے، نیز شادی کے بندھن کی قدر کرنے والے اور اس کی اہانت سے دور رہنے والے کے لیے اللہ تعالی برکتیں ڈال دیتا ہے، چنانچہ وہ شادی کے اچھے نتائج سے بہرہ ور ہوتا ہے۔
یا اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق بھی عطا فرما، نیز باطل کو ہمیں باطل دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے باطل کو ہمارے لیے پیچیدہ مت بنا کہ مبادا ہم گمراہ ہو جائیں، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]
صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ دوئم ) سیدابو الاعلیٰ مودودی

اسریٰ غوری -

اب عملی شہادت کی طرف آئیے، اس کا حال قولی شہادت سے بدتر ہے بلاشبہ کہیں کہیں کچھ صالح افراد ہمارے اندر ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنی زندگی میں اسلام کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مگر سواداعظم کا حال کیا ہے؟ انفرادی طور پر عام مسلمان اپنے عمل میں اسلام کی جو نمائندگی کر […]

The post شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ دوئم ) سیدابو الاعلیٰ مودودی appeared first on نوک قلم.

مغلوں کا ملک ریاض

Nostalgia, Scream and Flower -




میر جملہ کو ہم اورنگزیب کی آسام کی اس مہم کے حوالے سے جانتے ہیں جس میں عظم اور ہمت کی ایک ایسی داستان رقم کی گئی  جس کی نظیر تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ میر جملہ نے برسات کے موسم میں سپلائی لائن کٹ جانے کے بعد اپنی فوج کے ہمراہ جس طرح چھ ماہ جنگلوں میں گزارے اس پر ہالی وڈ کی ایک فلم ضروربننی چایئے تھی۔ میر جملہ ایک ایسا کردار جس کے بارے میں ہندستانی تاریخ میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں لیکن ایک فرنچ تاجر نے اپنی کتاب میں کافی تفصیل سے اس کے بارے میں لکھا ہے۔ اونچے لمبے قد کا مالک ایک ایرانی تاجر جو ہیروں کی تجارت کرتا تھا۔گولکنڈہ کی ریاست میں کلرک بھرتی ہوا اور ترقی کرتے کرتے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ گیا ۔ اس کی اپنی ذاتی جائیداد کا حساب نہیں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بیس من ہیروں کا مالک تھا۔ اس کی ذاتی جاگیر پانچ سو کلومیٹر لمبی اور آٹھ کلومیٹر چوڑی تھی۔ جس کی سالانہ انکم چالیس لاکھ روپے تھی۔سرکاری فوج کی سربراہی کے علاوہ اس کی ذاتی پانچ ہزار افراد پر مشتمل فوج تھی ۔جس کے پاس اسلحہ کے علاوہ گھوڑوں اور ہاتھیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اور یوں ایک ریاست کے اندر ایک ریاست بنا رکھی تھی۔اس کے تجارتی جہازوں کا وسیع بیڑا تھا جن کے ذریعے دنیا بھر میں تجارت کی جاتی تھی۔ اپنے تجارتی راستوں کو سہولت دینے کیلئے دریاؤں پراپنے ذاتی خرچ سے پل بنوائے۔میر جملہ کے اگر اورنگزیب کے ساتھ اچھے تعلقات تھے تو شاہجہاں اور دار کا بھی ہم رکاب تھا۔ہمسائیہ ریاستوں کے سربراہوں سے ذاتی دوستی تھی ۔بہت زیرک انسان تھا۔دنیا بھر میں تجارت کی وجہ سے ہر کلچر اور اور مختلف قسم کے معاشروں سے واسطہ تھا جس نے اسے ایک وسیع وژن دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے ریاستوں کے گورنر اس کے مشوروں کو بہت اہمیت دیتے تھے بلکہ شاہجہاں خود اس کا کافی مداح تھا۔اورنگزیب کے دھلی کے تخت پر بیٹھنے کے بعد اس کو باقائدہ فوج کی کمانڈ دے دی گئی اور پہلا مشن شجاع کی بغاوت کو کچلنے کا دیا گیا جو اس نے کامیابی سے پورا کیا۔ جس پر اسے بنگال کا گورنر تعینات کردیا گیا۔اور اپنی گورنر شپ کے دوران اورنگ زیب کو بہت سے علاقے فتح کرکے دیئے۔آسام کی غیر معمولی اعصاب کی اس جنگ میں بارشوں کے سیزن کے بعد جب دوبارہ آسام کی طرف مارچ شروع کیا تو آسام کے حاکم نے گھٹنے ٹیک دیئے ۔۔ حکومت کے دوران اس نے عوام کو بہت سی سڑکوں اور پلوں کا تحفہ دیا جو فوج کیلئے بھی ضروری تھے اور عوام کو بھی ان کا بہت فائدہ ہوااونگ زیب کی بدقسمتی میر جمعہ جیسا ذہین شخص اوررنگ زیب کے حکومت سنبھالنے کے صرف چھ سال بعد آسام کی مہم سے واپسی پر چل بسا
پس ثابت ہوا ہر دور میں ایک ملک ریاض ہوتا ہے جس کے کندھوں کو اس وقت کے حکمران استعمال کرتے ہیں۔

شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ اول ) سیدابو الاعلیٰ مودودی

اسریٰ غوری -

(یہ تقریر ۳۰ دسمبر ۱۹۴۶ء کو جماعت اسلامی لاہور کمشنری کے اجتماع میں بمقام مراد پور متصل سیالکوٹ کی گئی) ساری تعریف اس خدا کے لیے ہے جو کائنات کا تنہا خالق، مالک اور حاکم ہے۔ جو کمال درجہ کی حکمت، قدرت اور رحمت کے ساتھ اس میں فرماں روائی کر رہا ہے۔ جس نے […]

The post شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ اول ) سیدابو الاعلیٰ مودودی appeared first on نوک قلم.

ردِالحاد کی محنت کرنےوالےاحباب کی خدمت میں

مذہب فلسفہ اور سائنس -

مذھب ِالحاد کوئی جدید شے نہیں بلکہ یہ ایک قدیم یونانی مغالطہ ہے کہ جس کی طرف خود قرآن کریم بھی ہمیں متوجہ کرتا ہے أَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُوْنَ(۳۵) کیا وہ پیدا کئے گئے ہیں بغیر کسی شے(بنانے والے) کے،یا وہ خود پیدا کرنے والے ہیں۔(۳۵) أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ…

رد الحاد کا ‘غزالی’ منہج

مذہب فلسفہ اور سائنس -

معتزلین و ملحدین کے مفروضات کے رد کے لیے امام غزالی نے جو عمومی طرز استدلال اختیار کیا اسے “داخلی تنقید” (internal criticism) کا منہج کہا جاتا ہے۔ اسکے مدمقابل نقد کا دوسرا عمومی طریقہ ”خارجی تنقید” (external criticism) کہلاتا ہے۔ خارجی تنقید کا مطلب ایک نظرئیے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات…

ملحدین کیساتھ مکالمے کے اہم اصول

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اہل مذہب اور ملحدین کا تعارف اور بنیادی فرق: ملحدوں کے ساتھ مکالمے کے بنیادی اصول اور اہم ہدایات سے قبل ضروری ہے کہ آپ ملحدین کا ایک تعارف حاصل کر لیں تاکہ نکات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔آپ نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ یقیناً دیکھے ہوں گے، مثلا عیسائی، یہودی، ہندو…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator