Feed aggregator

ہمیں اِس کی اشد ضرورت ہے

افتخار اجمل بھوپال -


آج کل سائنس کی ترقی کا چرچہ ہے ۔ سائنس کی ترقی نے آدمی کو بہت سہولیات مہیاء کر دی ہیں
پڑھنے لکھنے پر بھی زور ہے جس کے نتیجہ میں بہت لوگوں نے بڑی بڑی اسناد حاصل کر لی ہیں
توقع تو تھی کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آدمی تعلیم حاصل کر کے انسان بن جائیں گے
لیکن
سائنس کی ترقی میں انسانیت کم پنپ پائی ہے اور وبال یا جہالت زیادہ
سائنس کے استعمال نے انسان کا خون انفرادی ہی نہیں بلکہ انبوہ کے حساب سے آسان بنا دیا ہے اور انسانیت بلک رہی ہے
ایسے میں ویب گردی کرتے میں افریقہ جا پہنچا ۔ دیکھیئے نیچے تصویر میں کون بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں

Ubuntu

ان بچوں کے پاس اپنے جسم ڈھانپنے کیلئے پورے کپڑے نہیں لیکن اس تصویر سے اُن کی باہمی محبت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ تو میرا اندازہ ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے

ایک ماہرِ بشریات (anthropologist) نے ایسے لوگوں کو شاید پڑھا لکھا نہ ہونے کی بناء پر جاہل اور خود غرض سمجھتے ہوئے اپنے مطالعہ کے مطابق ایک مشق دی ۔ماہرِ بشریات نے پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تھوڑا دور ایک درخت کے نیچے رکھ کر افریقہ میں بسنے والے ایک قبیلے کے بچوں سے کہا
”جو سب سے پہلے اس ٹوکرے کے پاس پہنچے گا ۔ یہ سارے میٹھے پھل اُس کے ہوں گے“۔
اُس نے بچوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے بعد کہا ”ایک ۔ دو ۔ تین ۔ بھاگو“۔

سب بچوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اکٹھے بھاگ کر اکٹھے ہی پھلوں کے ٹوکرے کے پاس پہنچ گئے اور ٹوکرے کے گرد بیٹھ کر سب پھل کھانے لگے

ماہرِ بشریات جو ششدر کھڑا تھا بچوں کے پاس جا کر بولا ”تم لوگ ہاتھ پکڑ کر اکٹھے کیوں بھاگے ؟ تم میں سے جو تیز بھاگ کر پہلے ٹوکرے کے پاس پہنچتا سارے پھل اس کے ہو جاتے”۔

بچے یک زبان ہو کر بولے ”اُبنٹُو (ubuntu) یعنی میرا وجود سب کی وجہ سے ہے ۔ ہم میں سے ایک کیسے خوش ہو سکتا ہے جب باقی افسردہ ہوں”۔

کیا یہ سکولوں اور یونیورسٹیوں سے محروم لوگ اُن لوگوں سے بہتر نہیں جو سکولوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر انفرادی بہتری کیلئے دوسروں کا نقصان کرتے ہیں
اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے دوسروں کا قتل کرتے ہیں
اور بہت خوش ہیں کہ جسے چاہیں اُسے اُس کے ملک یا گھر کے اندر ہی ایک بٹن دبا کر فنا کر دیں

سائنس نے ہمیں آسائشیں تو دے دیں ہیں مگر انسانیت ہم سے چھین لی

یہ تحریر میں 16 مئی 2013ء کو شائع کر چکا ہوں

زندگی/موت ؟

فکرستان -

منجانب فکرستان:عرفان خان کے خیالات 
 بیماری سے پہلے بیماری کے بعد۔انسانی بیداری شعور نے جب "کائنات اور اپنی ذات" کا سوال اُٹھایا تو وہ دو رویا شاہراہ" دل و دماغ "پر گامزن ہوُا۔
"دل"نے اپنی شاہراہ کو مختلف مذاہب فرقوں سے سجایا تو ''دماغ'' نے اپنی شاہراہ کو حیران کُن ایجادات سے سجایا،
دُنیا گلوبل ولیج بن گئی تو جان پایا کہ ''جس خطہ زمین اورجس گھرانے میں پیدا ہوا '' ،وہاں کا مذہبی ماحول اِس یقین کو پکّا کرتا ہے کہ دُنیا میں صرف  اُسی کا مذہب یا فرقہ ہی سچّا ہے کہ بخشش بھی صرف  اِسی مذہب یا فرقے کے پیروکاروں کی ہوگی اور جنّت کے حقدار بھی صرف یہی ٹھرائے جائیں گے ۔۔اِس تمہید کے بعد آئیں جانیں کہ مذہب کے بارے میں عرفان خان کا نقطہ نظر کیا ہے؟۔۔۔۔
''بیماری سے پہلے عرفان کے "خیالات " ہر فرد کو اپنے لئے، اپنے مذہب کو تلاش کرنا چاہئے۔ دوسرے کی طرف سے بتایا گیا مذہب کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جو ایمان لائے ہے وہ صرف اپنی تسلی کے لئے  مانتے ہے۔ "ہر مذہب میں موت کے بعد کی کہانی بتائی گئی ہے اور ہر مذہبی شخص کو لگتا ہے کہ اس کے مذہب نے صحیح کہا ہے تو دیکھ لیجئے دنیا کتنے بڑے بھلاوے میں جی رہی ہے."۔۔۔
''بیماری کے بعد کے "خیالات'' 
 عرفان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب انہیں پہلی بار پتہ چلا کہ انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے اور وہ ہر وقت یہی سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو پائیں گے یا نہیں۔عرفان نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی التجا کی۔  عرفان خان نے تسلیم کیا کہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں وہ بہت ڈر گئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے سامنے زندگی کا نیا نظریہ آیا جو پہلے سے بہتر ہے۔۔اس لئے بیماری کو غنیمت قرار دیتے ہوئے اقرار کیا کہ اگر انہیں بیماری نہ ہوتی تو وہ دنیا اور زندگی کو اتنا جلد اس طرح نہیں سمجھ پاتے۔ان کہنا ہے کہ بیماری کے چند ماہ میں انہوں نے 30 سالہ زندگی کا تجربہ کرلیا، یہ تجربہ انہیں میڈیٹیشن کا علم حاصل کرنے سے بھی نہ ملتا ۔۔۔
 عرفان کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام لوگ قدرت پر یقین رکھیں کیوں کہ اس سے زیادہ قابل بھروسہ اور کوئی چیز نہیں۔

عرفان خان نے اپنی پوسٹ میں آسٹرین ناول نگار اور شاعر رائنر ماریہ رلکے کی انتہائی جذباتی نظم لکھی کہ
’خدا ہم سب سے بات کرتا ہے، جیسا کہ وہ ہم سب کو بناتا ہے، پھر رات کی تاریکی میں خاموشی سے وہ ہمارے ساتھ چلتا ہے، اور ہم اس سفر میں کچھ الفاظ آہستہ آہستہ سن لیتے ہیں‘۔
عرفان خان کہنا کہ "یہاں کچھ بھی مستحکم و مضبوط نہیں، تاہم خود کو کبھی شکست خوردہ نہ سمجھو اور آگے بڑھتے رہو، یہاں خوبصورتی بھی ہے، دہشت بھی ہے، یہاں ایک شعلے کی طرح زندگی گزارو اور چمکنا سیکھو"۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائیٹس کا شُکریہ ۔۔۔۔
http://www.bbc.com/hindi/entertainment-39771377
www.dawnnews.tv/news/1084335/?preview
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }

ایک کلو خالص سونے سے بنا سام سنگ گلیکسی نوٹ 9

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ نے حال ہی میں گلیکسی نوٹ 9 لانچ کیا ہے۔ اس اسمارٹ فون کا 128 گیگا بائٹس گنجائش رکھنےو الے ورژن کی قیمت 999 ڈالر ہے اور یہ چار مختلف رنگوں میں دستیاب ہے۔ اب روس کی لگثری اسمارٹ فون بنانے والی ایک کمپنی Caviar نے گلیکسی نوٹ 9 […]

The post ایک کلو خالص سونے سے بنا سام سنگ گلیکسی نوٹ 9 appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

ہیکرز نے بینکوں کے اے ٹی ایم خالی کردیئے

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

سائبر مجرموں نےایک بھارتی بینک کے کریڈٹ کارڈ پیمنٹ سسٹم کو ہیک کرکے دنیا کے 28 ممالک میں نصب اے ٹی ایم سے ڈیڑھ ارب پاکستانی روپوں کے لگ بھگ رقم چرا لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہیکروں نے بھارتی شہر پونے کے Cosmos بینک کے کریڈٹ کارڈ پیمنٹ سسٹم کو ایک مال ویئر سے […]

The post ہیکرز نے بینکوں کے اے ٹی ایم خالی کردیئے appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

انٹل کے مائیکروپروسیسز میں نئی خرابی، صارفین اپ ڈیٹس انسٹال کرلیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

اس سال میں یہ تیسری بار ہوا ہے کہ انٹل کے چپس میں نئی سکیوریٹی خرابی دریافت ہوئی ہے ۔ اس نئی خرابی جس کا nickname فور شیڈو (Foreshadow) رکھا گیا ہے، کی بدولت ہیکرز ممکنہ طور پر صارفین کا قیمتی ڈیٹا چرا سکتے ہیں۔ فور شیڈو انٹل کی ایک ٹیکنالوجی SGX میں دریافت کی […]

The post انٹل کے مائیکروپروسیسز میں نئی خرابی، صارفین اپ ڈیٹس انسٹال کرلیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

کابل: تعلیمی ادارے پر خودکش حملہ، طلبا سمیت 48 افراد ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کابل: تعلیمی ادارے پر خودکش حملہ،طلبا سمیت 48 افراد ہلاک افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں خودکش حملے کے نتیجے میں طلبا سمیت 48 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے کہا کہ خودکش بمبار نے دشتِ بارچا کے علاقے میں ایک نجی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا، جہاں نوجوان طلبہ و طالبات یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کر رہے تھے۔

خودکش دھماکے سے قبل حملہ آوروں اور افغان گارڈز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث یہ خیال کیا جارہا تھا کہ حملہ آور ایک سے زائد ہیں۔تاہم بعد ازاں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ حملہ آور ایک ہی تھا۔ پولیس ترجمان حشمت استانِکزئی نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘حملہ آور پیدل آیا تھا جس نے خود کو تعلیمی ادارے کے اندر دھماکے سے اڑا لیا۔’ افغان حکام کی جانب سے ہلاک افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا۔ شہر کی علما کونسل کے رکن جواد گھواری نے حملے کا الزام دہشت گرد تنظیم ‘داعش’ پر لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش اس سے قبل بھی ہماری مساجد، اسکولوں اور ثقافتی مراکز پر حملے کر چکی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ https://www.dawnnews.tv/news/1085054/ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے۔ ایک عینی شاہد سید علی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’تعلیمی مرکز میں زیادہ تر نوجوان لڑکے مارے گئے۔ یہ انتہائی خوفناک تھا اور بہت سے طلبا دھماکے کے نتیجے میں ٹکڑوں میں بٹ گئے۔‘ پاکستان نے کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کابل میں تعلیمی ادارے میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس کیا۔ تحریک انصاف کے نامزد وزیراعظم عمران خان نے بھی کابل میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار اور زخمیوں کی جلد شفایابی کے لیے دعا کی ہے۔ عمران خان نے افغان حکومت اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ داعش کے دہشتگردوں کی سکول کے طالبعلموں کے قتل اور سکول دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہے۔ قرآنی احکامات کی صریح اور کھلی خلاف ورزی کر کے بھی یہ دہشتگرد اسلام اور شریعت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں. اُن کی جہالت کا سب سے بڑا شاہکار بچوں کے سکولوں کا تباہ کرنا اور طالبعلموں کا قتل ہے۔ مذہبی جنونیوں و دہشت گردوں کا سکول پر حملہ کرنا نہایت قبیح اور قابل مذمت کاروائی ہے۔ سکول ایک قومی دولت ہیں جہاں اس ملک کے بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر آئندہ ملک و قوم کی خدمت کر تے ہیں۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی کا تمام دارومدار و انحصار ہے. ا ن دہشت گردوں کا سکولوں کی تباہی اور سکول دشمنی کا رویہ بتاتا ہے کہ وہ جاہلان ہیں. سکول دشمنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام اور افغانستان دونوں کے مخلص نہیں اور نہ ہی ان کو عوام میں دلچسپی ہے بلکہ یہ تو اسلام اور عوام کے دشمن ہیں کیونکہ یہ افغانستان کو ترقی کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔

شادیٔ مرگ ِ شاعری

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -

شادیٔ مرگ ِ شاعری (شادی اور شاعری)
کہتے ہیں شاعر کو شادی ضرور کرنی چاہیے، کہ اگر بیوی اچھی مل جائے تو زندگی اچھی ہو جائے گی ورنہ شاعری اچھی ہو جائے گی۔ موخر الذکر صورت تو اللہ نہ کرے کسی کے ساتھ پیش آئے لیکن اول الذکر صورت میں بھی آنے والی آپ کو محرومِ محض نہیں کرتی بلکہ اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ شاعری کا بھی دال دلیہ چلتا رہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ دال دلیا پر صبر شکر کریں یا کوئی اور نیا طوطا پال لیں۔ یہ البتہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ طوطا دال دلیے سے الرجک ہوتا ہے اور ہری مرچیں چبانے کو ہی اپنے لئے باعث صد افتخار گردانتا ہے۔ طوطا پالنے کی نسبت بکری پالنا ذرا آسان ہے اور تحریک کے لئے مشہور مثل بھی موجود ہے کہ "غم نداری بُز بجُز " یعنی اگر آپ کو کوئی غم نہیں ہے تو بکری پال لیجے ۔ تاہم بکری سے ملنے والے غموں کے خام مال سے آپ عاشقانہ اور درد بھری شاعری کرنے کے قابل ہو جائیں تو ہم سفارش کریں گے کہ اس صدی کا سب سے بڑا مبالغہ آرائی اور مغالطہ فرمائی کا ایوارڈ آپ کو ہی دیا جائے۔


جیسا کہ ہم نے بتایا کہ شادی کی صورت میں آپ غم و آلام سے محرومِ محض ہو کر نہیں رہ جاتے بلکہ کچھ نہ کچھ راشن آپ کو ملتا ہی رہتا ہے ۔ اور اسی پر اکتفا کرکے ہمارے ہاں مزاحیہ شاعر اپنے غموں پہ روتے ہیں لے کر "کسی" کا نام۔ یعنی بیگم کا نام۔ مزاحیہ شاعروں سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی شاعری صرف بیگم صاحبہ کے ارد گرد ہی کیوں گھومتی ہے تو وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ زندگی کا لطف انہی کھٹی میٹھی باتوں میں ہے۔ اور دل میں کہتے ہیں کہ :

یہ درد کے ٹکڑے ہیں، اشعار نہیں ساغر
ہم کانچ کے دھاگوں میں زخموں کو پروتے ہیں

ہمارا خیال ہے کہ اکثر سنجیدہ شاعر ،شادی کے بعد مزاحیہ شاعری صرف اس لئے کرنے لگتے ہیں کہ اُن کے خیالات پر گرفت ہونے لگے تو وہ کھسیا کر کہیں کہ بھئی یہ تو مزاحیہ شاعری ہے اور مزاحیہ شاعری ایسی ہی ہوتی ہے۔ یعنی بزبانِ حال کہتے نظر آتے ہیں کہ :

اشعار کے پردے میں ہم "کِن" سے مخاطب ہیں
اللہ کرے ہرگز وہ جان نہیں پائیں

کچھ لوگ البتہ شادی کے بعد بھی سنجیدہ شاعری ہی کرتے ہیں لیکن حالات کی ستم ظریفی کے سبب سامعین اُن کی شاعری پر ہنسنے لگتے ہیں اور وہ بے چارے تلملاتے ہوئے مسکراتے ہیں اور مسکرا کر کہتے ہیں کہ یہ مزاحیہ کلام ہی تھا۔

یوں تو ہماری قوم کے لوگ اتنے سفاک اور ظالم نہیں ہیں کہ دوسروں کے غموں پر ہنسنا شروع کر دیں لیکن کیا کیا جائے کہ شادی شدہ لوگوں کے دُکھ کنواروں کو سمجھ نہیں آتے سو وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے مسکرا دیتے ہیں اور شادی شُدہ لوگ چونکہ خود بُھگت کر بیٹھے ہوتے ہیں سو اُن کی ہنسی خودبخود نکل جاتی ہے۔

شادی شدہ شاعروں کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیاض بیگموں سے چھپا کر رکھیں کہ اگر وہ غریب ملی نغمہ بھی لکھیں گے تو اُس پر بھی اُن کی گرفت ہو سکتی ہے کہ ملی نغمہ تو چلو ٹھیک ہے لیکن اس میں فضا، کہکشاں، خوشبو اور چاندنی وغیرہ کا اس قدر ذکر کیوں ہے۔ اب اُنہیں کوئی کیا سمجھائے کہ ہمارے ہاں ایسے تمام الفاظ جو لطافت اور خوبصورتی کے استعارے ہوتے ہیں اُنہیں لڑکیوں کے ناموں کے لئے چُن لیا جاتا ہے یہاں تک بھی ٹھیک ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہی لڑکیاں آگے جا کر بیویاں بن جاتی ہیں اور تمام تر جمالیاتی احساسات اور لطافتوں سے عاری و بھاری ہو جاتی ہیں۔

اگر آپ ایک خاتون ہیں او ر ابھی تک یہ تحریر پڑھ رہی ہیں تو ہم اس بات کا اعتراف ضرور کریں گے کہ خواتین میں جمالیاتی حس ختم ہر گز نہیں ہوتی بلکہ اُن بے چاریوں کا مقصد صرف شوہروں کی "آؤٹ آف دی باکس" جمالیاتی حسیات کا قلعہ قمہ کر نا ہوتا ہے، جو کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہوتا۔

یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر شادی شدہ شاعر ملی نغمے ہی لکھ رہا ہو ۔ سو شاعروں کی بیویوں کو بھی اُن پر ظاہر ہونے والے جنوں کے آثار پر نظر رکھنی چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اُن کے شوہرِ نامدار کو کون دیوانہ بنا رہا ہے۔ اس کی اشد ضرورت اسلئے بھی ہے کہ اس قسم کے دیوانے "بکار خیر "کافی ہشیار ہوتے ہیں۔

کچھ عاشقانہ شاعری کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کی شاعری پر شادی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ تاہم اس بارے میں ہم کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ ایسے حضرات قفس کو ہی آشیاں سمجھ بیٹھتے ہیں یا قفس کی تیلیوں کو دریچہ کور (window blinds) اور دریچہ کور کو پردہء سیمیں سمجھتے ہوئے اپنے تصورات کی دنیا کو مجسم کر لیتے ہیں۔ اور غالباً بڑے غرّے سے یہ کہتے ہوں گے کہ:

اے پردہ نشین تم کو یہ پردہ مبارک ہو
ہم اپنے تصور میں تصویر بنا لیں گے

اور یہ بھی کہ :

ہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں "فلاں" کیوں چپ ہے

بہرکیف ،تمام گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم بہ استفادہء شکیب تمام شادی زدہ شعراء کو مشورہ دیں گے کہ:

شاعری کیجے کہ یہ فطرتِ شاعر ہیں شکیب
جالے لگ جاتے ہیں جب بند مکاں ہوتا ہے

گفتگو کی اجازت تو ویسے بھی آپ کو خال خال ہی ملتی ہوگی۔

يومِ اِستقلال مُبارِک

افتخار اجمل بھوپال -

Flag-1
پاکستان پائيندہ باد
اُس گمنام مسلمان بچے کے نام جو تعمیرِ پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے بمبئی کے ایک مسلمان محلے میں سڑک پر دوڑا جا رہا تھا ٹھوکر کھا کر گرا اور خون بہتے دیکھ کر رونے لگا ۔ ایک مسلمان راہگیر نے ٹوکا ”مسلمان کا بچہ ہو کر تھوڑا سا خون بہہ جانے پر رو رہا ہے“۔
دوسرے راہگیر نے کہا ”بہت شرم کی بات ہے“۔
بچے نے جواب دیا ”جناب چوٹ لگنے اور خون بہنے پر میں نہیں رو رہا ۔ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ جو خون پاکستان کے لئے بہنا تھا وہ آج بیکار ہی بہہ رہا ہے“۔

جناب مطلوب الحسن سیّد اپنی کتاب ‘ہمارے قائد’ میں لکھتے ہیں جب یہ واقعہ قائد اعظم کو بتایا تو اُنہوں نے فرمایا ”اب پاکستان بننے کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی“۔

پچھلے 55 سال سے ہمارے مُلک پر بيوروکريٹ حکومت کر رہے ہيں چاہے وردی ميں ہوں يا بغير وردی اور ہم لوگ محکوم ہيں ۔ کيا پاکستان اِسی لئے بنا تھا ؟ ہم قائد اعظم کی عزّت کے دعوے تو بہت کرتے ہيں جو صرف دفتروں ميں اُن کی تصوير لگانے تک محدود ہيں ۔ لاکھوں روپيہ خرچ کر کے شاہراہ اسلام آباد کے کنارے قائد اعظم کی بيس پچيس فٹ کی شبيح آويزاں کروا کر اپنی منافقت کو اُجا گر کرتے ہيں ۔ کيا قائد اعظم نے ہميں يہی کہا تھا ؟
ملاحظہ ہو پاکستان کے گزيٹِڈ آفيسروں سے چٹاگانگ ۔ مشرقی پاکستان ۔ ميں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے 25 مارچ 1948 کے خطاب سے اقتباس

“Ladies and Gentlemen, I want you to realize fully the deep implications of the revolutionary change that has taken place. Whatever community, caste or creed you belong to you are now the servants of Pakistan. Servants can only do their duties and discharge their responsibilities by serving. Those days have gone when the country was ruled by the bureaucracy. It is people’s Government, responsible to the people more or less on democratic lines and parliamentary practices. Under these fundamental changes I would put before you two or three points for your consideration:

You have to do your duty as servants; you are not concerned with this political or that political party; that is not your business. It is a business of politicians to fight out their case under the present constitution or the future constitution that may be ultimately framed. You, therefore, have nothing to do with this party or that party. You are civil servants. Whichever gets the majority will form the Government and your duty is to serve that Government for the time being as servants not as politicians. How will you do that? The Government in power for the time being must also realize and understand their responsibilities that you are not to be used for this party or that. I know we are saddled with old legacy, old mentality, old psychology and it haunts our footsteps, but it is up to you now to act as true servants of the people even at the risk of any Minister or Ministry trying to interfere with you in the discharge of your duties as civil servants. I hope it will not be so but even if some of you have to suffer as a victim. I hope it will not happen –I expect you to do so readily. We shall of course see that there is security for you and safeguards to you. If we find that is in anyway prejudicial to your interest we shall find ways and means of giving you that security. Of course you must be loyal to the Government that is in power.

The second point is that of your conduct and dealings with the people in various Departments, in which you may be: wipe off that past reputation; you are not rulers. You do not belong to the ruling class; you belong to the servants. Make the people feel that you are their servants and friends, maintain the highest standard of honor, integrity, justice and fair-play. If you do that, people will have confidence and trust in you and will look upon you as friends and well wishers. I do not want to condemn everything of the past, there were men who did their duties according to their lights in the service in which they were placed. As administrator they did do justice in many cases but they did not feel that justice was done to them because there was an order of superiority and they were held at a distance and they did not feel the warmth but they felt a freezing atmosphere when they had to do anything with the officials. Now that freezing atmosphere must go and you must do your best with all courtesy and kindness and try to understand the people. May be sometimes you will find that it is trying and provoking when a man goes on talking and repeating a thing over and over again, but have patience and show patience and make them feel that justice has been done to them.

Next thing that I would like to impress upon you is this: I keep or getting representations and memorials containing grievances of the people of all sorts of things. May be there is no justification, may be there is no foundation for that, may be that they are under wrong impression and may be they are misled but in all such cases I have followed one practice for many years which is this: Whether I agree with anyone or not, whether I think that he has any imaginary grievances whether I think that he does not understand but I always show patience. If you will also do the same in your dealings with an individual or any association or any organization you will ultimately stand to gain. Let not people leave you with this bearing that you hate, that you are offensive, that you have insulted or that you are rude to them. Not one per cent who comes in contact with you should be left in that state of mind. You may not be able to agree with him but do not let him go with this feeling that you are offensive or that you are discourteous. If you will follow that rule believe me you will win the respect of the people.”

کیا خواب میں کانٹی نیوٹی جمپ ہوتے ہیں

نوک جوک -

Continuity jumpٹیلی وژن اور فلم کی اصطلاح ہے۔ عموماً کوئی بھی سین ایک ہی کیمرے سے شوٹ کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایک کیمرہ سین کو مختلف زاویوں سے شوٹ کرتا ہے، بعد میں ایڈیٹنگ کرتے ہوئے ٹکڑے جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کردار نے سبزہ زار میں داخل ہو کر بینچ پر بیٹھے کسی فرد سے وقت پوچھنا ہے۔ تو اس سین کو مختلف شاٹس میں فلمایا جائے گا۔ پہلے لانگ شاٹ میں کردار سبزہ زار میں داخل ہوتے دکھایا جائے گا۔ اس لانگ شاٹ سے جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ پھر مڈ لانگ شاٹ میں اسے ایک بینچ کے قریب رکتا دکھایا جائے گا۔ مزید کلوز اپس میں اس کی گفتگو فلمائی جائے گی۔ جو فرد وقت بتا رہا ہے، ایک کلوز شاٹ اس کا بھی لیا جائے گا۔ یوں ایک چند سیکنڈ کے سین کو کئی زاویوں سے فلمایا جاتا ہے (اور کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں)۔
اب کانٹی نیوٹی جمپ یہ ہے لانگ شاٹ میں کردار نے جو کپڑے پہن رکھے ہوں، کلوز اپ میں وہ بدل جائیں۔ یا لانگ شاٹ میں وہ پسینے میں شرابور ہو اور جب کلوز اپ لیا جائے تب تک پسینہ سوکھ چکا ہو۔ یا لانگ شاٹ میں اس کے بال ایک طرز سے سنوارے گئے ہوں اور کلوز اپ میں مختلف طرز سے۔ یا ایک شاٹ میں کسی میز پر کتابیں پڑی ہیں تو دوسرے شاٹ میں اسی میز پر گلاس پڑا ہے۔ مختلف شاٹس میں ہر چیز کی ترتیب ایک سی ہونی چاہیے، ورنہ دیکھنے والے کو یہ فرق عجیب سا معلوم ہو گا اور کانٹی نیوٹی جمپ کہلائے گا۔
اب آتے ہیں اپنے موضوع کی جانب۔ کیا آپ جو خواب دیکھتے ہیں وہ ایک شاٹ میں ہوتے ہیں، یا فلم ٹیلی وژن کی طرح کٹ ٹو کٹ۔ اگر ابھی تک غور نہیں کیا تو کیجیے گا۔ مجھے تو جتنے خواب یاد ہیں وہ ایک شاٹ میں نہ تھے۔ لیکن حال ہی میں جو خواب دیکھا، اس میں تو کانٹی نیوٹی جمپ بھی تھے۔
خواب کچھ یوں تھا کہ گھر کے داخلی دروازے پر ایک گاڑی آ کر رکتی ہے۔ دروازے کے نیچے سے دکھتا ہے کہ وہ سفید رنگ کی ٹیوٹا کرولا ہے۔ پھر گھنٹی بجتی ہے۔ یہاں شاٹ ختم ہوتا ہے۔ اگلے شاٹ میں میں پورچ میں کھڑا ہوں، دروازہ کھلا ہے اور ایک دوست وہاں کھڑا ہے۔ (حالانکہ جب ٹیوٹا کرولا آ کر رکی تھی تو داخلی دروازہ بند تھا)
اب جو میں باہر نکلتا ہوں تو سفید ٹیوٹا کرولا کی جگہ سفید رنگ کی ہی سوزوکی بولان کھڑی ہے۔ یہاں خواب ختم ہو جاتا ہے۔
صاحب، اب بتائیے۔ ہے نا کانٹی نیوٹی جمپ؟
ایک شاٹ میں بند داخلی دروازے کا اگلے شاٹ میں کھلا ہونا تو چلو ہضم کر لیا جائے، لیکن ٹیوٹا کرولا کا سوزوکی بولان میں بدل جانا کیسے برداشت ہو؟
اب غور کیجیے گا، آپ جو خواب دیکھتے ہیں، کیا ان میں کانٹی نیوٹی جمپس ہوتے ہیں یا نہیں؟

اسمارٹ فون کی نیلی روشنی آپ کو اندھا کرسکتی ہے

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی اسکرین کو تواتر سے دیکھنے والے خبردار ہوجائیں کہ ان کی بینائی متاثر ہونے کی شرح میں تیزی آسکتی ہے۔ امریکہ ریاست اوہائیو میں واقع ٹولیڈو یونی ورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق میں پایا کہ ڈیجیٹل آلات سے نکلنے والی نیلی روشنی کی وجہ سےایسا کیمیائی مادہ پیدا […]

The post اسمارٹ فون کی نیلی روشنی آپ کو اندھا کرسکتی ہے appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

سام سنگ گلیکسی نوٹ 9 متعارف

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

سام سنگ نے کافی انتظار کے بعد سام سنگ گلیکسی نوٹ 9 کو باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے۔پچھلے سال کے مقابلے میں نوٹ 9 میں ہارڈ وئیر، بیٹری اور فیچرز کافی بہتر ہیں۔ ڈیزائن سام سنگ نے گلیکسی نوٹ 9 کے ڈیزائن میں زیادہ تبدیلی نہیں کی ہے۔اس ڈیوائس کے بھی دونوں طرف […]

The post سام سنگ گلیکسی نوٹ 9 متعارف appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

ZTE کے اسمارٹ فونز میں بڑی خرابیاں دریافت، ہیکر فون سے ڈیٹا چرا سکتے ہیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی ZTE کے اسمارٹ فونز میں ایسی خرابیاں دریافت کی گئی ہیں جن کی مدد سے ہیکرز ای میل اور پیغامات پڑھ سکتے ہیں۔ Fifth Domain کے مطابق ZTE کے اسمارٹ فونز میں خرابیاں تلاش کرنے کے لیے اس تحقیق کو امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیوریٹی نے فنڈز دیئے […]

The post ZTE کے اسمارٹ فونز میں بڑی خرابیاں دریافت، ہیکر فون سے ڈیٹا چرا سکتے ہیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

دنیا کا پہلا حج ہیکا تھون، سعودی خواتین نے پہلا انعام جیت لیا

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

تین اگست کو پہلے Hajj Hackathon کا اختتام ہوا اور اس کے تین روز بعد انعامات تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ سعودی عرب میں ہونے والے اس Hackathon میں دنیا بھر سے 3 ہزار کے لگ بھگ افراد نےاپنے نت نئے منصوبوں کے ساتھ شرکت کی ۔ اس ہیکاتھون کا مقصد حج کے دوران […]

The post دنیا کا پہلا حج ہیکا تھون، سعودی خواتین نے پہلا انعام جیت لیا appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

اک محبوب نگری – سفرنامۂ جہاز بانڈہ – تیسری قسط

م بلال م -


خواتین کو دیکھ کر ”خواتینے“ بھی ایسے تیار ہوئے جیسے مقابلہ حسن میں جانا ہو، حالانکہ ہم پہاڑوں کو اپنا آپ دکھانے نہیں بلکہ انہیں دیکھنے جاتے ہیں۔ خیر دس خواتین، سترہ مرد اور ایک مسافرِشب، چند گدھے اور ایک منظرباز ٹریک پر نکلے۔ پہلے ایک چشمہ، پھر جنگل، پھر چراگاہ اور پھر جہازبانڈہ آ گیا۔ کیا واقعی؟ سچی؟ نہ سائیں نہ۔ ایسے نہیں۔ ناریل پھوڑا نہ چوگ بھرا۔ کوئی موم بتی جلائی نہ چادر چڑھائی۔ ایسے تو نہیں ہوتا۔ جہاز بانڈہ ہے کوئی مذاق نہیں۔ بہرحال ٹریک کی مشکلات، فطرت کا انتقام، راجہ تاج محمد کا بندوق کے زور پر خوش آمدید کہنا، رات کی فوٹوگرافی، الاؤ کے گرد خواتین و حضرات کے گانے اور پائل کی جھنکار←  مزید پڑھیں

باہمی اختلاف ۔ میڈیکل سائنس کی نظر میں

افتخار اجمل بھوپال -

میں نے قرآن شریف کی ایک آیت نقل کی تھی ۔ اس سلسلہ میں امریکہ میں ایک مایہ ناز پاکستانی نژاد (Neurologist) وھاج الدین احمد نے میری توجہ اپنی اس تحریر کی طرف مبزول کرائی

جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور دوسری مخلوق سے (سوال سمجھنے اور جواب دینے یعنی اپنی یادداشت سے) مقابلہ کرایا تو حضرت آدم علیہ االسلام جِیتے ۔ یہ چیز ہے جو صرف انسان کو عطا کی گئی ہے ۔ یہی تمام ذہانت کی بنیاد ہے اور یہی ڈاروِن صاحب کی تھِیُوری میں اب تک جواب طلب ہے ۔ حال ہی میں میں نے دماغ کی evaluation کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ آخر میں نیُورالوجِسٹ جو ہوا

تمام آدم سے نیچے والی مخلوق ایسی بات کرنے سے معذور ہیں تمام experiment قوت گویائی کے متعلق یہی بتاتے ہیں کہ یہ “یکدم’ اس مخلوق – یعنی آدم میں پیدا ہو گئی یقین جانئے اس سائنس نے اس تھیوری کو صحیح اور مکمل ثابت کرنے میں ایڑی چوتی کا زور لگایا ہے مگر یہ مندرجہ بالا اور چند دوسری باتیں اس خلاء کو پر نہیں کر سکیں
یہی قوت گویائی ہماری افضل المخلوقات ہونے کی وجہ ہے اور یہی وجہ ہماری اللہ تعالٰے کے سامنے جوابدہی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے

اسنیپ چیٹ کا سورس کوڈ لیک، کیا ہیکر پاکستانی ہے؟

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

Github پر i5xx کے ہینڈل سے موجود اکاؤنٹ نے مبینہ طور پر اسنیپ چیٹ کا سورس کوڈ اپ لوڈ کردیا ہے۔ اس اس اکاؤنٹ کی بظاہر تفصیلات کے مطابق یہ اکاؤنٹ کسی خالد الشیری نامی شخص کا ہے جس کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ میں ٹنڈو باگو گاؤں کا ہے۔ یہ گاؤں ضلع بدین […]

The post اسنیپ چیٹ کا سورس کوڈ لیک، کیا ہیکر پاکستانی ہے؟ appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator