Feed aggregator

عِلم کی ناپُختگی

افتخار اجمل بھوپال -

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ ۔ لادینی افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطیء افکار سے مشرق میں غلام

کلام ۔ علامہ محمد اقبال

عقیدے اور یقین کی یہ کیسی داستان ؟

فکرستان -

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے"داستان" پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن*دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے ۔غالب نے اپنا یہ خیال اٹھارہویں صدی میں ظاہر کیا تھا، تاہم گُزرتی اِس بیس ویں صدی  میں بھی یہ خیال کس طور استعمال ہو رہا ہے اِس بارے میں حقیقت پر مبنی اسٹوری گزشتہ ماہ نومبر کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئی۔جنوبی کورین جیراک لی نامی باشندہ نے شہر "سیول" کے مضافات میں  واقع علاقے گورو میں صرف 12 پیروکاروں کے ساتھ چرچ قائم کیا تاہم اپنی چرب زبانی کے  طفیل قرب و جوار کے باشندوں  کے خیالات پر اثر انداز ہُوا، یوں 12 پیروکاروں کی جگہ 130،000 اراکین کا اضافہ ہوا ۔۔عقیدے اور یقین کی یہ داستان متعدد اخبارات میں شائع ہوئی اُن میں سے ایک درج ذیل ہے تاکہ آپ براہ راست پڑھ سکیں۔https://www.businesstimes.com.sg/government-economy/south-korean-cult-leader-jailed-for-raping-followers۔  نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }             

کیا اقبال ایک فلاسفر نہیں تھے؟

عامر منیر -

مجھے علامہ اقبال کو ٹھیٹھ اکیڈمک معنوں میں فلاسفر ثابت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ خود بھی اپنی شاعری میں فلسفے پر جیسی تنقید کرتے ہیں، اس کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ خود کو فلسفی کہلانا ہرگز نہ پسند کرتے۔ وہ ایک مفکر اور مصلح تھے، بدلتے ہوئے زمانے کی الجھنوں اور سوالات سے نبردآزما ایک عبقری تھے۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

بوڑھا

عدنان مسعود -

ٹوائلاٹ زون ٹی وی سیریل کی ایک قسط ‘کک دا کین‘ دیکھ کر بڑھاپے کی اصل کا خیال آیا. اس قسط میں ایک سن رسیدہ شخص جو اولڈ ہوم میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ رہتا ہے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ان کے بوڑھے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بچوں جیسے کھیل چھوڑ دیے ہیں اور اپنا بچپنا کھو دیا ہے۔

میری دانست میں بوڑھا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اجنبی ہوتی جائے، جن حقیقتوں کے ساتھ آپ پلے بڑے ہوں، وہ تبدیل ہوتی جائیں اور آخرکار چیزیں اس نہج پر پہنچ جائیں کہ مقارب خطوط کے ملنے کا امکان جاتا رہے۔ ایسی دنیا جہاں اشتیاق احمد اور مشتاق یوسفی نا ہوں، جہاں نا خانصاحب کی قوالی ہو اور نا ہی کلاسکل طبعیات کا ایٹم کا وہ ماڈل درست ٹھرے جس میں آپ نے رنگ بھرے ہوں۔ ایسے میں جب کہ آپ جو کچھ درست جانتے ہوں، اس سب پر سوالیہ نشان لگ جائے تو بڑھاپا آجاتا ہے۔

شائد اسکی وجہ یہ ہو کہ آپ مزید سیکھنا چھوڑ دیں، یا ہلنا جلنا چھوڑ دیں تو شائد یہ سن پیری کی علامت بنتا ہو، عین ممکن ہے، خمار بارہ بنکوِی نے بھی ایک درد بھری کہی کہ ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی لیکن قاسمی صاحب اچھے رہے کہ

ہم کو تو بڑھاپے نے کہیں کا بھی نہ چھوڑا
محرومی جذبات کو بیٹھے ہیں چھپائے
خوش ہوتے ہیں ہم لوگ اگر کوئی حسینہ
اس عمر میں ہم پر کوئی تہمت ہی لگائے

Share

سرمد کاشانی کی چند رباعیات بمعہ اردو ترجمہ

عامر منیر -

اورنگزیب کے ہاتھوں سرمد کے قتل کا واقعہ جس طرح بیان کیا جاتا ہے، اس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ وحدت ادیان کے قائل اور صوفیاء کے اس نوفلاطونی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے جو نیک و بد کے روایتی مذہبی تصور کو درخور اعتناء نہیں سمجھتا۔ لیکن امشب رباعیات سرمد کی ورق گردانی سے یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ اپنی رباعیات میں سرمد ٹھیٹھ اسلامی روایت کے پیرو ایک صوفی ملتے ہیں جو زاہد پر اس کی ریاکاری اور منافقت کے سبب تنقید ضرور کرتے ہیں، لیکن ان کی یہ تنقید کہیں بھی دینی روایات و شعائر کے تمسخر میں نہیں ڈھلتی۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

سوشل میدیا اسٹیٹس یا دُکھوں کے اشتہار

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -

سوشل میدیا اسٹیٹس یا دُکھوں کے اشتہاراز : محمد احمدؔ
پہلے دنیا میں عمومی طور پر دو طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ یعنی لوگ دوطرح کے رویّے رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایکسٹروورٹ (باہر کی دُنیا میں جینے والے) ہوتے تھے اور چاہتے تھے کہ جو کچھ اُن پر بیت رہی ہے وہ گا گا کر سب کو بتا دیں ۔ وہ ایک ایک کو پکڑتے اور اپنا غم خوشی اُس کے گوش و گزار کر دیتے اور اس طرح اُنہیں صبر آ جاتا تھا۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے جو انٹروورٹ (اپنے دل کی دنیا میں بسنے والے) ہوتے اور جو اپنے دل کی بات اپنے دل میں ہی رکھتے تھے ۔ کسی کو نہ بتاتے کہ اُن پر کیا بیت رہی ہے یا وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ دوست احباب اُن کی اُداسی کا سبب پوچھ پوچھ کر مر جاتے لیکن وہ کچھ نہ بتاتے۔ کبھی موسم کا بہانہ کر دیتے تو کبھی طبیعت کا۔

لیکن جب سے ہماری زندگیوں میں سوشل میڈیا کی آمد ہوئی ہے ۔ ہم میں سے انٹروورٹ لوگ بہت کم ہی رہ گئے ہیں ۔ جو اپنے دوستوں اور اقرباء سے کچھ نہیں کہہ پاتے وہ بھی سوشل میڈیا پر اپنے غموں کے اشتہار سجا دیتے ہیں۔ اور ایسی ایسی باتیں ادھر اُدھر سے اُٹھا کر چپکا دیتے ہیں کہ اگر وہ بات کوئی اور اپنی طرف سے اُن سے کہے تو اُنہیں معیوب محسوس ہو۔

سچی بات تو یہ ہے کہ پہلے دنیا بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی۔ پہلے لوگوں کے دُکھ اُن کے دلوں میں ہوتے تھے یا قریبی دوستوں کے سینوں میں۔ لیکن اب ہر شخص کے دُکھ سوشل میڈیا / اسٹیٹس پر جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ اور لوگ خوشی کو ضرب دینے اور دُکھوں کو مختصر کرنے کی حکایت بھول چُکے ہیں۔

آپ کو ایک دوست کی طرف سے کوئی غلط فہمی ہو گئی ۔ آپ نے سوشل میڈیا سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر 19 جلی کٹی تصاویر اور اقوال اپنے فیس بک یا واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگا دیے۔ جنہیں 34 لوگوں نے دیکھا اور نہ جانے کیا کیا سوچا۔

کچھ نے یہ سوچا کہ نہ جانے آپ کو کیا مسئلہ درپیش ہے اور کچھ نے یہ سوچا کہ یہ دنیا اور اُس کے لوگ اور لوگوں کے رویّے کس قدر بدصورت ہیں اور کچھ نے آپ کے مظلومیت کے فریم میں اپنی تصویر جڑ دی۔ اور نتیجتاً یہ دُنیا مزید ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ اور آپ دُکھوں کی ترویج کرنے والے بن گئے۔ اور آپ نے جانے انجانے میں نہ جانے کتنے چہروں سے مُسکراہٹیں چھین لیں۔

شام تک آپ کی اپنے دوست کے ساتھ ہو جانے والی غلط فہمی دور ہو گئی اور آپ کے درمیان مُسکراہٹوں کے تبادلے شروع ہو گئے۔ لوگ اب بھی اسٹیٹس دیکھ کر آپ کو زود رنج کہہ رہے ہیں یا دُنیا کو کوس رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم اتنے بے صبرے کیوں ہو گئے کہ معمولی معمولی باتوں پر ہمارےصبر کا پیمانہ چھلک جاتا ہے اور ہمار ے اسٹیٹس رشتے ناطوں اور احباب کے خلاف زہر میں بجھے تیر بن جاتے ہیں اور اُس سے جانے انجانے میں نہ جانے کون کون زخمی ہو جاتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے رویّوں میں اعتدال کی شدید ضرورت ہے۔

سو اسٹیٹس لکھنے یا منتخب کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیے کہ جن پچیس تیس لوگوں نے یہ اسٹیٹس دیکھنا ہے کیا یہ بات میں اُن سب کے سامنے بھی اسی طرح کہہ سکوں گا اگر ہاں تو ضرور لکھیے لیکن اگر آپ کو لگے کہ اُن میں سے ایک بھی شخص سے میں یہ بات منہ در منہ نہیں کہہ سکوں گا تو پھر آپ کو یقیناً سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے اسٹیٹس بظاہر آپ کو اوجھل رکھتے ہیں لیکن دراصل آپ اپنے جملہ خیالات(اور وقتی جذبات و اشتعالات سمیت) سب کے سامنے عیاں ہو جاتے ہیں۔

اسٹیٹس ضرور لگائیے اور جتنے دل چاہے لگائیے مگر زیادہ تر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ کے اسٹیٹس دیکھنے والے آپ کے بارے میں اچھی رائے قائم کریں اور آپ کا اسٹیٹس اُن کے من میں مسکراہٹوں کے پھول کھلائے۔ مزید یہ کہ اگر کسی سے شکوہ گلہ بھی کرنا ہے تو مہذب ترین لہجے میں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ آپ ایک اچھی محفل کے ایک اچھے شریک کی حیثیت سے کیا کرتے ہیں۔


اگر ہم مسلمان ہیں

افتخار اجمل بھوپال -

سورة 2 البَقَرَة آیت 42 ۔ وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَـقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

سورة 5 المَائدة آیت 8 ۔ ييٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ ؕ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ط اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ‏

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنَو ۔ کسی گروہ کی دُشمنی تم کو اتنا مُشتعَل نہ کر دے کہ اِنصاف سے پھِر جاؤ ۔ عدل کرو ۔ یہ خدا تَرسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔ جو کچھ تُم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے

آج کی بات ۔۔۔۔ 04 دسمبر 2018

کچھ دل سے -

⇉ آج کی بات ⇇
کبھی کسی کے اچھے مقدر کو حسرت سے تکتے ہوئے اپنی تقدیر بننے کی دعا نہ کرنا ورنہ اُس کے مقدر کے سارے کانٹے بھی اپنی پلکوں سے چننے پڑ جائیں گے.

اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 30 نومبر 2018

کچھ دل سے -

 sky and outdoor
اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوقخطبہ جمعہ مسجد نبوی ( اقتباس)22 ربیع الاول 1440 بمطابق 30 نومبر 2018امام و خطیب:  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 22 ربیع الاول 1440 کا خطبہ جمعہ " اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام میں سماجی حقوق کی بہت اہمیت ہے، ان کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے ان پر ثواب بھی عنایت کیا، ان حقوق پر مشتمل ایک جامع حدیث ذکر کی اور اس کی تفصیلات بھی بتلائیں کہ: سلام در حقیقت پیغام محبت اور امان ہے، سلام کی حقیقت سے آشنا معاشرہ بہت سی خرابیوں سے پاک ہو سکتا ہے۔ کھانے کی دعوت قبول کرنی چاہیے تاہم دعوت میں حاضر ہو کر کھانا تناول کرنا یا نہ کرنا آپ کی چاہت پر منحصر ہے، دعوتوں پر فضول خرچی اسلام کے منافی عمل ہے۔ اچھا مشورہ اور نصیحت بھی مسلمان کا حق ہے، خیر خواہ شخص کسی کے عیوب کی تشہیر نہیں کرتا بلکہ متعلقہ شخص تک محدود رکھتا ہے، کچھ لوگ پگڑی اچھالنے کو نصیحت کا نام دیتے ہیں جو کہ بدنیتی کی علامت ہے۔ چھینک آنے پر الحمدللہ کہنا اور سننے والے کا"یَرْحَمُكَ اللهُ" کہنا بھی مسلمان کا حق ہے، چھینک اللہ کی نعمت ہے جو کہ اللہ کا خصوصی شکر کی متقاضی ہے۔ تیمار داری بھی مسلمان کا حق ہے، تیمار داری کرنا بہت ہی فضیلت والا علم ہے، تیمار داری میں مریض پر دم کرنا چاہیے، تیمار داری جنت میں داخلے، فرشتوں کی دعائیں، اور اللہ کی رحمت لینے کا باعث عمل ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: نماز جنازہ بھی مسلمان کا حق ہے اور دفن تک ساتھ رہنے سے دو احد پہاڑ کے برابر ثواب ملتا ہے، آخر میں انہوں نے کہا کہ ان حقوق کی ادائیگی کرنے والا معاشرہ انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم رہتا ہے، انہیں کوئی بیرونی طاقت متزلزل نہیں کر سکتی، پھر آخر میں انہوں نے سب کے لئے جامع دعا کروائی۔
↺ منتخب اقتباس ↻
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اس نے اطاعت گزاری اور حقوق کی ادائیگی کے لئے توفیق دی، اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے اپنے بندوں کو گمراہی اور فسق سے محفوظ رکھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالی نے حق کو غلبہ عطا کیا اور باطل کو نیست و نابود فرمایا، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں اعلی اخلاق کی تبلیغ فرمائی اور نافرمانی سے خبردار کیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک صبح ہوتی رہے اور سورج چمکتا رہے۔
مصروفیات اور مادیت کے سیل رواں کی وجہ سے مسلمان کی توجہ کچھ واجبات اور سماجی تعلقات سے ہٹ جاتی ہے، اور بسا اوقات انہیں بھول جاتا ہے یا عمداً توجہ یہ کہتے ہوئے نہیں دیتا کہ میں یہ کمی ، کوتاہی اور سماجی تعلقات میں سرد مہری بعد میں ختم کر دوں گا؛ پھر اسی امید پر سالہا سال گزر جاتے ہیں اور عمر بیت جاتی ہے، جس کی وجہ سے دوری بڑھتی جاتی ہے اور دراڑیں گہری ہوتی جاتی ہیں، زندگی پر خشک سالی کا غلبہ ہو جاتا ہے اور جذبات سوکھ جاتے ہیں۔
اسلام نے سماجی تعلقات کو بھر پور اہمیت دی، سماجی تعلقات پر اتنا اجر بھی مرتب کیا کہ تعلقات میں پہل کرنے کی ترغیب ملے؛ تا کہ دل آپس میں جڑ جائیں، باہمی تعلقات گہرے ہوں ، ایک دوسرے کی ضروریات پوری ہوں، معاشرے کے سب افراد اچھے اخلاق اور بہترین تعامل کو فطرت ثانیہ بنا لیں، پھر میزان بھی نیکیوں سے بھر جائے اور درجات بھی بلند ہو جائیں۔
جس وقت سماجی حقوق ادا کیے جائیں، تو تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، جن کی بدولت مضبوط ، آہنی، اور گہری بنیادوں والا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ) پوچھا گیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جب تم ملو تو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے مشورہ طلب کرے تو اس کو خیر خواہی والا مشورہ دو، اور جب چھینک آنے پر الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں جاؤ۔) مسلم
یہ ایک عظیم حدیث ہے ، یہ حدیث مسلمانوں کی باہمی تعلق داری اور محبت کے آفاق عیاں کرتی ہے، مسلمانوں کی زندگی میں روح پھونکتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ} ان کے دلوں میں الفت ڈال دی، اگر آپ ما فی الارض بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتے تھے؛ لیکن اللہ نے ان میں الفت ڈال دی ۔ [الأنفال: 63]
◄ایک مسلمان کا دوسرے پر اولین حق محبت اور مودت پر مبنی دعائیہ جملہ ہے جو کہ اہل جنت کا سلام بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو۔) مسلم
سلام دلوں میں محبت سرایت کرنے کا ذریعہ ہے تو کسی بھی دروازے پر اجازت لینے کا سلیقہ بھی ، سلام زندگی کو برکت، ترقی اور فروغ دیتا ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً } جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنوں کو سلام کہا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ [النور: 61]
سلام در حقیقت پروانۂ امان ہے، اور اہل ایمان کی شان بھی۔ جو بھی سلام کا معنی، مقام، اور اس کی حقیقت و فضیلت سے آشنا ہو جائے تو اس کا باطن پاک ہو جائے، تعامل مہذب بن جائے، اور اس شخص کا معاشرہ بھی دین و دنیا کے اعتبار سے ترقی کر جائے۔
◄مسلمان کا مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ: مسلمان کی کھانے پر دعوت قبول کرے، ولیمے میں شرکت کر کے اس کی حوصلہ افزائی کرے، اور اس کی خوشی میں شریک ہو، دعوتوں کے تبادلے سے باہمی الفت اور یگانگت کو فروغ ملتا ہے، ایک دوسرے سے ملنے اور ملاقات کا موقع بنتا ہے، جس کی بدولت مسائل بھی تحلیل ہو جاتے ہیں، اہل عقل و خرد ناراضیوں سے تجاوز کر جاتے ہیں، دوریاں ختم ہو جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے، پھر [وہاں پہنچ کر] اس کی مرضی ہے کہ چاہے تو کھانا کھا لے اور چاہے تو نہ کھائے۔) مسلم
دعوت کی قدر و قیمت دعوت پر کیے جانے والے خرچے اور تکلف پر نہیں بلکہ دعوت کا مقصود باہمی بھائی چارے اور مسلمانوں کے آپس میں رابطے سے پورا ہو جاتا ہے، جبکہ دعوتوں میں فضول خرچی یکسر قابل ستائش عمل نہیں ہے، یہ شریعت کے منافی ہے، فضول خرچی سے برکت مٹ جاتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ} کھاؤ، پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ [الأعراف: 31]
◄مسلمان کا تیسرا حق یہ ہے کہ: اپنے بھائی کو نصیحت کرے تو نرمی اور پیار کے ساتھ، نصیحت اور مشورہ در حقیقت مسلمان کا اپنے بھائی کے لئے پیغامِ محبت ہوتا ہے؛ کیونکہ مسلمان اپنے بھائی کے لئے ہمیشہ خیر چاہتا ہے اور اسے اپنے بھائی کا نقصان کسی صورت قبول نہیں۔
خیر خواہ شخص کا دین میں بہت عظیم مقام اور مرتبہ ہے، جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اس دن بھی اس کا بہت بلند مقام ہو گا، تو جس وقت خیر خواہ شخص کسی کو نصیحت کرتا ہے تو سُچا آدمی نصیحت کو سن کر کشادہ دلی سے قبول کرتا ہے، نصیحت قبول کر کے بڑے پن کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ نصیحت گر کے بارے میں بد گمانی نہیں کرتا، یا اس کی غلط توجیہ نہیں کرتا، اسی لیے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: "اللہ اس شخص پر رحمت فرمائے جو ہمیں تحفے میں ہمارے عیب بتلائے۔"
◄مسلمان کا چوتھا حق یہ ہے کہ چھینک لے کر الحمدللہ کہنے پر چھینک لینے والے کے لئے اللہ سے دعا اور رحمت مانگیں۔ دعا سے ہر ایک خوش ہوتا ہے اور مزید دعا چاہت رکھتا ہے، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مسلمان آدمی کی اپنے بھائی کے لئے پیٹ پیچھے کی دعا مقبول دعا ہوتی ہے، دعا کرنے والے کے سر پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کے لئے کہتا ہے: آمین، تمہیں بھی یہی کچھ ملے) مسلم
چھینک اللہ تعالی کی نعمت ہے، چھینک آنے پر اللہ کا شکر اور الحمدللہ پڑھنا اس نعمت کا حق ہے، چھینک لینے والے کے الحمدللہ کہنے پر دعا کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے سے شیطان غضبناک ہوتا ہے۔ پھر چھینک لینے والے کے لئے حکم ہے کہ اس کے الحمدللہ کا جواب "یَرْحَمُكَ اللهُ" کہہ کر دینے والے کے لئے مغفرت، ہدایت اور اصلاح احوال کی دعا کرے اور کہے: "يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" کہے، دعا کے ان الفاظ میں ہر طرح کی بہتری مراد ہے۔
◄مسلمان کا مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ جب بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرے ؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض کو کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ بیماری ہفتوں اور مہینوں تک لمبی ہو جائے، بیماری کے باعث نہ آنکھیں آرام کر سکیں اور نہ ہی ذہن کو سکون ملے، درد اور الم سے کڑھتا اور کروٹیں ہی لیتا رہے، مریض شخص کو ایسی مقبول دعا کی تمنا ہوتی ہے جسے قبول کر کے اللہ تعالی مریض کو شفا یاب فرما دے، اس کے درجات بلند کر دے۔ مریض کو ایسی تیمار داری کی چاہت ہوتی ہے جس سے اس کی تکلیف کم ہو جائے، ایسے بول کی ضرورت ہوتی ہے جو پریشانی میں غم گسار بن جائے، ایسے احساس کی ضرورت ہوتی ہے جو بھائیوں کے قریب ہونے کی اطلاع دے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کا ابھی وقت نہ آیا ہو اور سات بار اس کے پاس یہ دعا پڑھے: "أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ " [ترجمہ: میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت اور بڑائی والا اور عرش عظیم کا رب ہے کہ تجھے شفا عنایت فرمائے ]تو اللہ تعالی اسے اس بیماری سے عافیت دے دے گا) ابو داود
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل "خرفۂ جنت" میں رہا)آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! "خرفۂ جنت" کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: (جنت کے چنے ہوئے پھل) مسلم
یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (کوئی بھی مسلمان کسی مسلمان کی دن کے کسی بھی حصے میں عیادت کرے تو اللہ تعالی ستر ہزار فرشتوں کو بھیجتا ہے اور وہ اس کے لیے شام تک دعا کرتے ہیں اور اگر رات کو عیادت کرے تو صبح تک اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں) احمد
جب آپ ان حقوق پر غور کریں کہ یہ متنوع، ہر طرح کے اور با مقصد ہیں تو آپ کو یقینی طور پر علم ہو جائے گا کہ مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر ایسے حقوق بھی ہیں جو اس کی وفات تک جاری و ساری رہتے ہیں،◄ بلکہ وفات بعد بھی کچھ حقوق ہیں کہ: اس کے جنازے کے ساتھ جائیں اور اس کے لئے دعا کریں، یہ مسلمان کی تکریم اور اظہار شان ہے، دوسری جانب اہل ایمان کے ہاں وفا کی حقیقی منظر کشی بھی کرتا ہے، در حقیقت یہی مسلمانوں کے ما بین اخوت کا تقاضا بھی ہے۔
مسلمان فوت ہو جائے تو غسل اور کفن دینے کے بعد اس کا جنازہ ادا کیا جاتا ہے، دعائے مغفرت کی جاتی ہے اور پھر قبر تک اسے رخصت کرنے کے لئے لوگ جاتے ہیں، پھر اسے قبر کی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے، پھر قبر کی بھی رکھوالی کی جاتی ہے کہ قبروں کی بے حرمتی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو کوئی ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے پھر نماز جنازہ اور دفن سے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر واپس آتا ہے۔ ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔) متفق علیہ
ایسا معاشرہ جہاں پر حقوق؛ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کیے جائیں تو وہ معاشرہ انتہائی مضبوط بنیادوں اور اتحاد کا حامل ہوتا ہے، اس معاشرے کے افراد معزز ہوتے ہیں، کسی بھی دشمن کو ایسے معاشرے میں قدغن لگانے کا موقع نہیں ملتا، ان کی بنیادوں کو ہلانے یا باہمی محبت میں رخنے پیدا کرنے میں انہیں کامیابی نہیں ملتی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} ان کے بعد آنے والے کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10]
اللہ کے بندو!
رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
یا اللہ! ہم تجھ سے تیری رضا اور جنت مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تیری ناراضی اور جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے کوئی جلدی ملنے والی یا دیر سے، یا اللہ ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی برائی سے پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والی ہے یا دیر سے ۔
یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہماری عبادات اور دعائیں قبول فرما، بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے، یا اللہ! ہمیں بخش بھی دے، تو ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]
تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

ادھر ادھر سے

Nostalgia, Scream and Flower -


میرا سوچنے سمجھنے کا انداز بچپن سے ہی بہت سائینٹفیک رھا ہے۔مشاہدات کی روشنی میں پہلے ایک مفروضہ تیارکرنا اور پھر اس مفروضے کی تائید یا مخالفت میں شواہد ڈھونڈنا اور پھر نتیجہ اخذ کرنا۔ اس سائنٹفک اپروچ سے اخذ شدہ نتائج حتمی اور دیر پا ہوتے ہیںیہ میرے بچپن کے بہت ابتدائی دنوں کی بات ہے جب ہم لوگ جہلم سے گرمیوں کے چھٹیاں گزارنے کمالیہ آیا کرتے تھے۔ ایک بار اپنے سلیپر کمالیہ بھول گیا۔ اگلے سال  چھٹیاں گزارنے آئے تو سلیپر سائز میں بہت چھوٹے رہ گئے تھے جس سے میں نے مفروضہ بنایا کہ جوتے وقت کے ساتھ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور چھوٹے ہوتے ہوتے وہ غائب ہوجاتے ہیں اور اس مفروضے کو تقویت اس بات سے بھی ملی کہ میں نے گھر میں پرانے  جوتے کبھی نہیں دیکھے تھےزمین کے گول ہونے کے بارے میں تھیوری کو کبھی میرے ذہن نے قبول نہیں کیا۔ اور بہت سال پہلےجس دن  مسجد کے سب سے اونچے مینار پر چڑھ کر شہر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ڈرون اڑا کر میں نے اپنے مفروضے کی تائید میں مزیدشوائد اکھٹے کرنے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ زمین ایک سیدھی پٹی ہے لیکن چونکہ فزکس کے بے شمار مسائل ایسے ہیں جن کو سمجھنے کیلئے  زمین کو گول یا بیضوی قرار دینا ضروری ہے۔اس لیئے زمین کو فرضی طور پر گول قراردے دیا گیا ہےسنا ہے کہ جس گھر میں کنیر۔ایلوویرا کا پودا ہو۔وہاں مچھر نہیں آتا۔ اس لیئے ایک گملے میں کنیر کا پودا لگا کر صحن میں رکھ دیا۔ جلد ہی بڑا ہوگیا بلکہ اس سے دو چار گملے اور بھی تیار کرلیئے ۔ جونہی گھر میں داخل ہوتا تو ان کی ہری بھری رنگت دیکھ کر موڈ پر ایک خوشگوار اثر پڑتا۔ جو بھی رشتہ دار ملنےآتا وہ ایک آدھ پودا مانگ لیتا ۔ سوشل سرکل بھی اس کے بہانے پھیلنا شروع ہوگیا اور فون پر سیاست اور موسم کی بجائے ایلوویرا کی ا فادیت پر بات چیت کیلئے ایک نیا موضوع مل گیا۔ جہاں تک اس پودے کی گھر میں موجودگی کے بعد مچھروں کی آمد  کی بات ہے تو میرا خیال ہے وہ ابھی تک جاہل ہی ہیں اور پودے کی افادیت نہیں سمجھتے مور چھپکلی شوق سے کھاتے ہیں اور اس لیئے سنا ہے جس کمرے میں مور کے پر ہوں اس کمرے میں چھپکلی نہیں آتی۔  کہیں سے دس پندرہ مور کےپر حاصل کرکے کمرے میں لگا دیئے ۔لیکن اکیلے پروں نے کچھ اثر نہ دکھایا لیکن  جب ان کواکھٹا  اس سوراخ پرپھنسا دیا جہاں سے وہ داخل ہوتی تھی تب سے غائب ہے۔ اور دھشت  کچھ ایسی پھیلی ہے  جب سے دسمبر شروع ہوا ہے سارے گھر سے غائب ہوچکی ہیںکل شام سے لوگوں  کے پرزور اصرار پر انڈےکے معیشت پر اثرات اور کٹے کے بنیادی حقوق کے حوالے سے  سائنٹیفک بنیادوں پر سوچنا شروع کردیا ہے ۔ نتائج جلد شیئر کیئے جائیں گے 

انگوٹھا کہانی

کچھ دل سے -



ヅ انگوٹھا کہانی ヅمنقول
 ‏تعلیم انسان کو انگوٹھے کے نشان سے دستخط تک لے گئی،اورٹیکنالوجی دستخط سے انگوٹھے پر واپس لے آئی۔

دنیا گول ہے ヅ ヅ ヅ

آج کی بات ۔۔۔ 01 دسمبر 2018

کچھ دل سے -

⟲ آج کی بات ⟳
ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے، اسے چھوڑ کر ہم جس چیز میں بھی عزت تلاش کریں گے اللہ ہمیں رسوا ہی کرے گا

چراغ حسن حسرت کی دو خوبصورت غزلیں

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -


اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے چراغ حسن حسرت کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ حسرت طرح دار شاعر و ادیب تھے، آپ کا بنیادی شعبہ صحافت تھا اور مزاح نگاری میں بھی کمال انداز رکھتے تھے۔

ایک بار حسرت سے مشاعرے میں ماہیا سنانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے یہ ماہیا سُنایا۔

باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو
ہم تم کو نہیں بھولے

بقول راوی مشاعرے میں داد و تحسین سے چھت کا اُڑ جانا کیا ہوتا ہے وہ ہم نے آج دیکھا۔

ہم نے چراغ حسن حسرت کی  دو خوبصورت غزلیں آپ کے لئے منتخب کی ہیں ملاحظہ فرمائیے:


یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

****


یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے
غم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے

مدد اے جذب دل راہ محبت سخت مشکل ہے
خیال دورئ منزل کہیں منزل نہ بن جائے

نہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلش تو ہے
یہ ہلکی سی خلش ہی رفتہ رفتہ دل نہ بن جائے

ہجوم شوق اور راہ محبت کی بلا خیزی
کہیں پہلا قدم ہی آخری منزل نہ بن جائے

چراغ حسن حسرت

نصیحت کے پھول

کچھ دل سے -

Image result for person giving you advice isn t perfect
ہم میں سے اکثریت یہ سوچ کر کسی کی اچھی نصیحت رد کر دیتی ہے " مجھے سمجھانے سے پہلے خود عمل کرو " 
یہ ضروری نہیں جو شخص آپکی اصلاح کر رہا ہو ، آپکو سیدھے راستے کی طرف نشاندہی کر رہا ہو ، آپ میں موجود کسی خامی کو دور کرنے کا کہہ رہا ہو وہ شخص خود اپنی ذات میں مکمل ہو ، عیب سے پاک ہو ، سیدھے راستے پر ہو ، ہو سکتا ہے وہ شخص بیسیوں خامیوں کا مجموعہ ہو لیکن آپ کو نصیحت کر کے وہ آپ کے اندر موجود کسی خامی کو دور کر کے آپکی ذات کو مکمل کرنا چاہتا ہو ۔ 
سچ پوچھیے تو بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ملتا ہے ۔ گمراہ راہوں پر چلنے سے باز رکھتا ہے ۔۔ بظاہر غصہ آتا ہے جب آپ اپنے نفس کی خواہش پر چلنا چاہیں اور کوئی آپ کا بڑا ، آپ کا ہمدرد آپ کو سمجھائے ، آپ کو روکے لیکن جب ہمارے یہ بڑے ، یہ ہمدرد ہم سے منہ موڑ لیتے ہیں ، جب انکا سایہ اٹھ جاتا ہے تو پھر تمام عمر کان اس ایک جملے کو ترستے ہیں:
" بیٹا یہ نا کرو " " دوست ایسا مت کرو " "بھائی آپکی بھلائی کے لیے ہی کہہ رہا ہوں " 
ان الفاظ کا درد آج بھی سینے میں محسوس کرتا ہوں جب میلے کپڑوں میں ملبوس ایک کم سن بچے کو سگریٹ پیتے دیکھا تو پوچھا " بیٹا سگریٹ کیوں پیتے ہو ؟ کوئی منع کرنے والا نہیں ؟ ابو کچھ نہیں کہتے ؟؟اسکا جواب میرے پاوں سے زمین کھینچنے کیلئے کافی تھا ۔۔۔ کہنے لگا ۔۔
" میرے ابو مر گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ " اس لئے دوستو ! جہاں سے نصیحت ملے لے لیا کرو ۔۔۔ یہ دیکھے بغیر کہ کہنے والا خود کتنا با عمل ہے ۔۔۔۔
منقول

حُکمرانوں کے لئے

افتخار اجمل بھوپال -

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوّت سرگرم تقاضہ ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرّہ نہیں ۔ شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ۔ بینا ہے ۔ توانا ہے

گلستاں میں نہیں حد سے گذرنا اچھا
ناز بھی کر تو باندازہء رعنائی کر
پہلے خود دار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں میں ہوس شوکت دلدائی کر

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
میّسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندہء حر کے لئے جہاں میں فراغ
فروغ مغربیان خیرہ کر رہا ہے تجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب مازاغ
وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو نفس
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے ایاغ
کیا تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ
کلام ۔ علامہ محمد اقبال

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator