اردو بلاگ

کھلونے

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -


کھلونوں کی دکانوں میں کھلونے ہی کھلونے ہیں
ہزاروں رنگ ہیں انکے ، ہزاروں روپ ہیں انکے
کبھی ہنستے، کبھی روتے، کبھی نغمے سناتے ہیں
چمکتی موٹروں میں آنے والے خوش لباس و خوش نما بچے
جدھر دیکھیں جہاں پر ہاتھ رکھ دیں ، ان کھلونوں کے
وہی مالک، وہی قابض، وہی آقا ٹھرتے ہیں
وہ چاہیں تو کسی لمحے
جسے چاہیں اٹھائیں اور چکنا چور کر ڈالیں

کھلونوں کی دکانوں میں وہ گڈّے اور گڑیاں اب نہیں  ملتے
کے جو پھٹتے لحافوں سے روئی کے گچھوں
پرانی دھجیوں سے مل کے بنتے تھے
محلے بھر کے بچے جن کی شادی میں باراتی بن کے آتے تھے
تو ایسی ہی مسرت سے بھری دنیا کی بانہوں میں
جواں ہوتے تھے وہ لاکھوں، کروڑوں خوش نظر بچے
کے جو اپنے انہی خود ساختہ ، بھدے نہایت ان گھڑے
سستے کھلونوں کو متاعِ جاں سمجھتے تھے
انہیں اپنے شکستہ گھر کے طاقوں ، کھڑکیوں، الماریوں
میں یوں سجاتے تھے
کے جیسے ان سے بہتر چیز دنیا میں کہاں ہوگی
یہی بچے جو اب حسرت بھری دزدیدہ نظروں سے
کھلونوں کی دکانوں میں کبھی جو جھانکنا چاہیں
تو انکو ایسا کرنے کی اجازت ہی نہیں ملتی
کے شیلفوں میں سجا اک بھی کھلونا انکے وارے میں نہیں ہوتا
یہ دنیا ایسی منڈی ہے
بلا قیمت جہاں انسان بیچے جا تو سکتے ہیں
کھلونوں کا مگر سودا خسارے میں نہیں ہوتا
زمانے بھر کے بچوں کا یہ مشترکہ وتیرہ ہے
کھلونے جب ملیں انکو تو وہ خوش ہو کے ہنستے ہیں
مگر جب ان کھلونوں سے بھری اونچی دکانوں سے
پلٹتے پھول سے بچے ، تہی دامان آتے ہیں
نم آنکھوں میں ، بھرے آنسو، بہ صد مشکل چھپاتے ہیں
تو لگتا ہے
کہ بچے اب نہیں ہنستے
کھلونے ان پہ ہنستے ہیں

امجد اسلام امجد
ٰImage Courtesy

ووٹ کسے دیا جائے ؟ شرعی فتوٰی

افتخار اجمل بھوپال -

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع بن محمد ياسین عثمانی دیوبندی (25 جنوری 1897ء تا 06اکتوبر 1976ء) صاحب کا ووٹ کے بارے میں تاریخی فتوی
جس اُمیدوار کو آپ ووٹ دیتے ہیں شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریئے عِلم و عمل اور دیانتداری کی رُو سے اس کام کا اہل اور دوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے ۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں
1 ۔ آپ کا ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمائندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا بُرے اقدمات کرے گا ان کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی ۔ آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے
2 ۔ اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہوجائے اسکا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے ۔ ثواب و عذاب بھی محدود ۔ قومی و مُلکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی اس کا ادنٰی نقصان بھی بعض اوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے ۔ اس لئے اس کا ثواب یا عذاب بھی بڑا ہے
3 ۔ سچی شہادت کا چھپانا اَز رُوئے قرآن حرام ہے اس لئے اگر آپ کے حلقے میں صحیح نظریہ کا حامل کوئی دیانتدار اُمیدوار کھڑا ہے تو اس کو ووٹ نہ دینا گناہ کبیرہ ہے
4 ۔ جو اُمیدوار نظامِ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ ہے
5 ۔ ووٹ کو پَیسوں کے عِوَض بیچ دینا بدترین قسم کی رِشوت ہے اور چند ٹَکوں کی خاطر اِسلام اور مُلک سے بغاوت ہے ۔ دوسروں کی دُنیا سنوارنے کے لئے اپنا دِین قُربان کر دینا چاہے کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو کوئی دانشمندی نہیں ہو سکتی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسروں کی دنیا کے لئے اپنا دین کھو بیٹھے
(جواھر الفقہ ۔ جلد نمبر 2 ۔ صفحہ 300 و 301 ۔ مکتبہ دارالعلوم ۔ کراچی)

وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے!

عَلَم گویَد -

تاثرات بہ رحلت چچا جان مولانا محمد ابراہیم ندویمحمد علم اللہ
چچا محترم مولانامحمد ابراہیم ندوی نہیں رہے، ایک سایہ دار درخت تھا جوچھن گیا، دنیا اندھیری ہو گئی ۔ مجھ پر چچا جان کے بے شمار احسانات تھے۔ بچپن سے لے کر اب تک جن شخصیتوں نے مجھے اپنی بے پناہ محبتوں سے نوازا ،انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، ان میں سے ایک چچا جان بھی تھے۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں رہے، توایسا لگا ،جیسے سچ مچ آج میں یتیم ہو گیا ، موت کا ایک دن معین ہے اور کسی کو بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے؛لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ،جو دیر تلک دل و دماغ میں محفوظ رہتے ہیں،ان کی محبت، سر زنش، ڈانٹ ڈپٹ ہماری زندگی کا حصہ ہوتی ہیں ، وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو جائیں ،تو دماغ کام نہیں کرتا، زبان گنگ ہو جاتی ہے، ہم چاہ کر بھی کچھ بیان نہیں کرپاتے۔
میرے لیے چچا جان کا انتقال بھی ویسے ہی ہے ، دکھ، تکلیف تو صبر آزما ہوتے ہی ہیں ، مگر اس حادثے نے ذاتی طور پر میرا بڑا نقصان کیا ،اس جاں کاہ خبر کی اطلاع ملی ،تو یقین ہی نہیں آیا،آنکھیں خود ہی اشکبار ہوتی چلی گئیں، میں بشریٰ،طہ، حمیرہ، سلمان، فاطحہ اور دیگر بھائی بہنوں اور متعلقین کو کیا تسلی دیتا میری حالت تو خود ہی غیر تھی، یقین ہی نہیں آتا کہ چچا جان ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں، ایسا لگ رہا ہے، جیسے میں ابھی بھی فون پر ان سے بات کر رہا ہوں اور وہ مجھے کئی مشورے دے رہے ہیں، پڑھائی لکھائی اور کیرئیر کے بارے میں کچھ بتا رہے ہیں ، بہت سے مسائل ،جو میں کسی سے شیئر نہیں کرتا، چچا جان سے بلا جھجھک بیان کر دیتا تھا، کئی باتیں میں ابا سے نہیں کہہ پاتا ،تو پیغام رساں چچا جان ہی بنتے۔
ابھی رمضان سے قبل بھائی جان کی شادی میں گھر گیا تھا، تو چچا جان سے بھی ملاقات رہی ، کمزور ،ہو گئے تھے؛ لیکن طبیعت بشاش نظر آ رہی تھی ، کینسر نے حملہ کر دیا تھا، دوا جاری تھی، ہم سب خدا سے پر امید تھے کہ سب کچھ جلد ٹھیک ہو جائے گا؛ لیکن ہونی کو کون ٹال سکا ہے ،وہی ہوا ،جس کا اندیشہ تھا، چچا جان نے9 جو لائی 2018 کو ہمیشہ ہمیش کے لیے آنکھیں موند لیں اور اپنے پیچھے ہم سب کوروتا بلکتا چھوڑ گئے۔
میرے ساتھ چچا جان کابہت گہراکا رشتہ تھا،ایک چچا کا اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کے لیے خاندانی تعلق تو ہوتا ہی ہے؛ لیکن ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، جنھیں باضابطہ کسی کی سرپرستی ملتی ہے اور وہ اسے نبھاتے بھی ہیں،جوائنٹ فیملی کی اس خصوصیت سے بہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں بچے کی پرورش و پرداخت میں بہتوں کا رول ہوتا ہے اور گھریلو ماحول پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں کا ہو، تو اس کے اثرات بچے کی شخصیت پر بھی پڑتے ہیں، مجھے گھر میں جو مثبت ماحول ملا ،اس میں چچا جان کا بھی اہم حصہ تھا۔
چچا جان سے مجھے ہمیشہ شفقت و محبت اور خوب لاڈ پیار ملا، آج میں جس مقام پر بھی کھڑا ہوں اور لکھنے پڑھنے کی جو کچھ بھی تھوڑی بہت شد بد میرے اندر ہے، اس میں چچا جان کا کرداربہت اہم ہے،عربی کی ابتدائی کتابیں تمرین النحو، تمرین الصرف، قصص النبیین، القراء ۃ الراشدہ اور معلم الانشاء کی دو جلدیں میں نے چچا جان کی نگرانی میں ہی ختم کیں،وہ بھی کسی کلاس یا درجہ میں نہیں، گھر پر ہی انھوں نے ہنستے کھیلتے یہ سب پڑھا دیا،ان دنوں مجھے ان کا یہ انداز بہت برا لگتا تھا ، گھر میں جدھر سے بھی آتے کتاب لیکر بیٹھو ، میں اِس کمرے سے اُس کمرے بھاگا پھرتا ، کبھی دروازے کے پیچھے چھپ جاتا ؛لیکن کوئی نہ کوئی انھیں بتا ہی دیتا اور مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب لے کر ان کے ساتھ بیٹھنا ہی پڑتا ۔
چچا جان لکھنؤیونیورسٹی اور دارالعلوم ندوۃ العلما کے پر وردہ تھے، توان کی سوچ اور فکر بھی قدیم اور جدید کا سنگم تھی، میری بہت سی باتوں سے گھرمیں بہتوں کو اختلاف ہوتا،کچھ برگشتہ ہو جاتے اورکئی شکوہ کناں رہتے؛ لیکن چچا ہی تھے ،جو میری ہمیشہ حما یت کرتے اورسب کے سامنے ڈٹ جاتے،اپنے بڑے بھائی یعنی ابا جان سے انھوں نے کئی مرتبہ میرے لیے ڈانٹ بھی کھائی کہ تم ہی اسے شہ دے دے کر بگاڑ رہے ہو،چچا جان مسکراتے اور کہتے آپ ایسا سمجھتے ہیں،مگر ایسا ہے نہیں، آپ دیکھئے گا یہ سب سے اچھا کرے گا ۔
پتہ نہیں چچا جان کو کیا عجلت تھی اتنی جلد جانے کی،ان کے جانے کے بعد اس بات کاشدت سے احساس ہوا کہ یہ دنیا واقعی ایک مایا جال ہے، جس کے پیچھے ہم دوڑتے چلے جا رہے ہیں، دنیا جہان کی بے ایمانیاں کر رہے ہیں، کینہ کپٹ بغض و انا پال رہے ہیں، لڑائی، جھگڑا شکوہ شکایت جانے کیا کیا کر رہے ہیں ،اس بات سے بے خبر کہ ایک دن مرنا ہے اور بالکل خالی ہاتھ جانا ہے، چھوٹے ابو کو ان چیزوں سے کبھی کوئی مطلب ہی نہ تھا، وہ کبھی بھی ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے تھے؛ اس لیے انھوں نے زندگی بھی درویشانہ گذاری۔
سادہ سپاٹ زندگی، نہ کوئی تام جھام، نہ ٹیپ ٹاپ، معمولی کھان پان، نہ کوئی آن بان،نہ گاڑی گھوڑا، وہی پرانی ٹوٹی سائیکل، جہاں جانا ہوا نکالی اور چرر مررکرتے چل دیے،زیادہ مسافت تو پیدل ہی طے کرتے،چچا جان کی یہی سب سے بڑی خصوصیت تھی ، کبھی ان سے کسی کی لڑائی بھڑائی ہوئی ہو نہیں سنا ، بہت بھولے بھالے انسان تھے ، ان کے بھولے پن پر کبھی کبھی ہم بچے ان کا مذاق بھی بناتے ؛لیکن چچا جان صرف مسکراتے اور کہتے ہاں بھئی! اب ہم لوگوں کا زمانہ گیا، اب تم لوگوں کا ہی زمانہ ہے ، ہنس لو! ایک دن روؤگے اورآج ہم سچ مچ رو رہے ہیں ۔
چچا جان نے اپنی عملی زندگی کا آغاز مدرسہ میں مدرس کی حیثیت سے کیا، کئی جگہوں پر تعلیمی خدمات انجام دیں اور علم و عرفان کے موتی بکھیرے۔ ہندوستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ان کے شاگرد علوم دین کی اشاعت اور تعلیم و تعلم میں مشغول ہیں ، چچا جان موڈی قسم کے انسان تھے،جو کچھ بھی کرتے ،اپنی مرضی سے کرتے اور کوئی کچھ بھی بولے ،اس کا ان کی شخصیت پر اثر نہیں پڑتا تھا، پتہ نہیں کیا ہوا یا اپنے وطن کی یاد انھیں ستانے لگی ، اچانک ایک دن انھوں نے تدریس کا پیشہ بھی ترک کر دیااور سب چھوڑ چھاڑ تنگن گنڈی بھٹکل سے وطن واپس لوٹ آئے اور معمولی تجارت ،جس میں چھوٹے موٹے الیکڑانک سامان اور کھلونے وغیرہ ہوتے بیچنے لگے،ان سے جو آمدنی ہوتی ،روزی روٹی اور گذر اوقات کا ذریعہ بنتی ۔
تدریسی خدمات انجام دینے سے قبل گھڑی ساز کے طور پر بھی چچا جان نے کام کیا، روزی روٹی اور رزق حلال کے لیے چھوٹے موٹے کام کو وہ معیوب نہیں سمجھتے تھے، کئی مرتبہ میں سوچتا !آخر اس قدر قابل انسان خود کو اتنے پست مقام پر کیسے لا سکتا ہے؛ لیکن چچا جان کی وہ مجبوری تھی، کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا یا ضمیر کا سودا کرنا انھوں نے سیکھا ہی نہ تھا، اپنی بساط بھر بچوں کا اچھے اسکولوں میں داخلہ کرایا، دو بچوں طہ (بڑا بیٹا)اور بشریٰ (بڑی بٹیا) کو اپنی نگرانی میں حفظ قرآن مکمل کرایا، بشریٰ دسیوں سال سے گھر کی خواتین کو تراویح پڑھاتی ہے، اکثر کہا کرتے رزق کا مالک اللہ ہے ؛ اس لیے کوئی بھی غلط کام کبھی نہیں کرنا اور نہ کبھی مایوس ہونا،کئی مرتبہ میں جاب وغیرہ نہ لگنے کا دکھڑا سناتا ،تو یہی کہتے اور ہمت دلاتے ۔
جس چیز کو خوشحالی کہتے ہیں ،چچا جان کو کبھی نصیب نہ ہوئی، طالب علمی کی زندگی بھی عسرت میں گذری اور بعد کی زندگی بھی اسی طرح مشکلوں اور جد و جہد میں گذرگئی، بچپن ہی میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، بڑے بھائی ،یعنی ابا جی کی سرپرستی حاصل ہوئی، جن کی مالی حالت ابتدائی دنوں میں خود ہی پست تھی، وہ تو بعد میں ابو کی جب نوکری لگی ،تو گھر میں بہت خوشحالی آئی اور ہم بہن بھائیوں نے شاہزادوں کی سی زندگی گذاری؛ لیکن ابو اور چچاؤوں کا بچپن تو بہت دکھ میں گذرا،چچا کبھی اپنے بچپن کے قصے سناتے، تو جذباتی ہو جاتے، زیادہ تر وہ ایسی باتیں بتانے سے کتراتے ،ہم ایسی باتیں ان سے بڑے یعنی اسرائیل چھوٹے ابو سے سنتے، وہ بہت تفصیل سے سب کی کہانیاں بتاتے، ابھی وہ حیات اور بیمار ہیں، اللہ انھیں صحت و عافیت دے۔
کبھی کبھی ہم بچے کسی اچھی چیز کے لیے گھر میں ضد کرتے یا اودھم مچاتے، تو چچا جان بڑے پیار سے سمجھاتے اور کئی مرتبہ اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات کا ذکر کرکے بہلانے کی کوشش کرتے، تب ہمیں محسوس ہوتا کہ واقعی ہم لوگ شہزاد وں کی سی زندگی گذار رہے ہیں، پھر بھی نا شکری کرتے اورکچھ چیزوں کے پورا نا ہونے کا رونا روتے ہیں،کبھی ایسی چیزوں کے لیے ہم زیادہ شرارت کرتے ،توکہتے اگر ہم لوگوں کی طرح زندگی گذارنی ہوتی، تو پتہ نہیں کیا کرتے،یہ چچا جان کا کرب تھا، جو وہ غیر محسوس طریقے سے بیان کر رہے ہوتے ۔
تعلیمی مراحل طے کرنے کے بعد جب بال و پر نکلے اور شادی وغیرہ ہوگئی، تو چچا جان نے اپنی راہ الگ بنانے کی ٹھانی اور زندگی کے منجھدار میں ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیا،ایک بھری پری زندگی کی گاڑی کو کھینچنا آسان نہیں ہوتا ،وہ بھی بغیر کسی جگاڑ اور سہارے کے ،مگر چچاجان جس چیز کو ٹھان لیتے کر گذرتے ،اپنی اس گاڑی کو کھینچنے کے لیے انھوں نے گھر سے دور افتاد ہ گاؤں ندوہ کی شاخ بنا پیڑھی میں واقع دارلعلوم اورپھر کرناٹک مدرسہ عربیہ تعلیم القران تنگنگنڈی بھٹکل تک کا سفر کیا،مجھے دونوں جگہ ان کے ساتھ کچھ وقت گذارنے کا موقع ملا، مشکلوں میں جینے اور صبر و شکر کے ساتھ رہنے کا ہنر چچا جان نے بچپن ہی میں سیکھ لیا تھا، جوبیماری اور بعد کے ایام تک بھی جاری رہا، بچوں سمیت ہم سب کو بھی اسی کی ترغیب دیتے۔
وہ آس پاس کے دیہاتوں میں کھلونے وغیرہ بیچنے جاتے ،تو کسی رشتہ دار کے یہاں ٹھہرنا پسند نہیں کرتے تھے ، پوچھنے پر کہتے بلا وجہ میرے جانے کے بعد لوگ اہتمام کرنے لگتے ہیں ؛مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا ، ابھی گذشتہ سے پیوستہ سال کی بات ہے ، میں بقرعید کے موقع پر دہلی سے گھر جا رہا تھا ، ٹرین صبح پانچ بجے رانچی اسٹیشن پہنچی ،صبح کے چھ بجے گاؤں کے لیے مجھے ٹرین پکڑنی تھی ، میں اپنا سامان اٹھا ئے ٹرین کی اور جانے لگا ، دیکھا تو ایک بنچ پر چچا جان سو رہے ہیں، مجھے یقین ہی نہیں آیا ، ایسا لگا جیسے میں گاؤں کی یادوں میں بسا ہو ا ہوں؛اس لیے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے؛لیکن جب ذرا قریب گیا، تو معلوم ہوا کہ سچ مچ وہ چچا جان ہی تھے، میں نے ادب سے ان کے پاس جاکر سلام کیا ،تو وہ ہڑ بڑا گئے، کہنے لگے’ ارے ! علم اللہ ، تم! ‘میں نے کہا ’ہاں چھوٹے ابو ! مگر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟‘ تو انھوں نے بتایا کچھ کام سے رانچی آیا تھا ،دیر رات ہو جانے کی وجہ سے گاڑی نہیں ملی ،تو اسٹیشن پر ہی رک گیا ، میں نے کہا ،اسرائیل چھوٹے ابو کے یہاں چلے جاتے (رانچی میں ایک اور چچا کا گھر ہے) وہاں تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ،تو پھر انھوں نے وہی بات دہرائی’ مگر وہ لوگ پریشان ہو جاتے نا !‘ چچا جان کی یہی سادگی انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی ۔
بڑوں کا احترام ہم نے چچا جان سے ہی سیکھا ، اتنے بڑے اور بال بچے داروالے ہو جانے کے باوجود ہم نے چچا جان کو کبھی اپنے بڑے بھائیوں ،جن میں اسرائیل چھوٹے ابو اور میرے ابا جی شامل ہیں سے اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، ابا جی کا وہ بڑا احترام کرتے تھے ، کہیں دور سے بھی ابا جی کو آتے دیکھتے، تواحتراما کھڑے ہو جاتے ، ابو لاکھ کہتے بیٹھ جاؤ ! زیادہ تکلف نہ کیا کرو ؛ لیکن جب تک دوسری کرسی نا آجاتی یا ابا جی بیٹھ نہیں جاتے، مجال ہے چچا جان بیٹھ جائیں، یہ ان کانرالاانداز تھا اور عمر بھر اس کو نبھایا اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ بڑے بھائی کا احترام کیسے کیا جاتا ہے ۔
گھر کے اجتماعی فیصلوں میں ان کے خلاف بھی فیصلہ ہو جاتا ،تو بلا چون چرا اس کو تسلیم کر لیتے ، ایک دن مجھ سے کہنے لگے پیسے کی سخت ضرورت ہے ، زمین بیچنا چاہتا ہوں ، تمہارے چچا اور تمہارے ابو منع کرتے ہیں ، ذریعۂ آمدنی کچھ ہے نہیں تو میں کیا کروں؟میں کیا کہتا ! میں نے جان بخشی کے لیے کہہ دیا، آپ جانیں اور آپ کے بھائی ،میں بھلا اس میں کیا کر سکتا ہوں ۔ کہنے لگے ؛تم ٹھیک ہی کہتے ہو، کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، میں بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔ اس وقت چچا کی بے چینی واقعی دیدنی تھی اور چچا جان ہمدردی کے مستحق تھے؛ لیکن میرے ہاتھ بھی تنگ اور بندھے ہوئے تھے ،میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکا ۔
آج میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، تو ان کی ایک ایک باتیں یاد آ رہی ہیں، چچا جان سے میں نے زندگی کے چھوٹے بڑے بہت سے اصول اور سبق سیکھے، ان سب کا یہاں احاطہ بھی کرنا نا ممکن ہے،بس دعا گو ہوں کہ اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام دے ، اور ہم سب کو صبر کی توفیق بخشے ۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ وتغمدہ بواسع رحمتہ واسکنہ فی فسیح جناتہ، آمین۔
تصویر کیپشن : 
بائیں سے دائیں :پہلے نمبر پر کرتا اور لنگی میں (چچا جان )مولانا محمد ابراہیم ندوی ، (چھوٹے ابو )محمد اویس ، منجھلے ابومحمد اسرائیل قاسمی ، اخیر میں ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے (راقم ) محمد علم اللہ اور زمین پر بیٹھے ابا جان مولانا محمد اسماعیل رحمانی ۔
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

چاند میں تو کئی داغ ہیں

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -


2013ء میں جب پاکستان میں الیکشن کا انعقاد ہوا تو اُس وقت عمران خان کی تحریکِ انصاف ایک بڑی قوت بن کر اُبھری اور گمان تھا کہ یہ میدان بھی مار جائے لیکن نتائج کچھ مختلف رہے۔

اس وقت عمران خان کے حامیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ عمران خان جیسے بھی ہیں لیکن دوسرے دستیاب آپشنز سے بہرکیف بہتر ہیں۔ یعنی بُروں میں سب سے اچھے عمران خان ہیں۔ یا یوں کہیے کہ بہت سے برے آپشنز میں سے وہ نسبتاً بہتر ہیں۔ اگر بات الیکشن تک رہتی تو شاید تحریک انصاف کامیاب بھی ہو جاتی لیکن سیلیکشن کے مرحلے میں آکر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وزیرِ اعظم بننے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ الغرض دلہن وہی بنی جو پیا من بھائی ! اور عمران خان دلہن نہ بن پائے تو ولن بن گئے اور آنے والی حکومت کے پیچھے پڑ گئے۔

عمران خان نے اپنے مخالفین کو کافی شدید زک پہنچائی اور اُن کی بے انتہا کردار کشی کی ۔ اور اسی وجہ سے اور کچھ اُن کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے اُن کا اپنا کردار بھی نظریاتی لوگوں کی نظر میں تاراج ہو گیا، اور عمران خان 2013ء کی طرح لوگوں کے ذہن میں نجات دہندہ رہبر نہیں رہے بلکہ بہت سے آپشنز میں سے ایک آپشن بن گئے۔

انہوں نے بہت تیزی کے ساتھ اپنی جماعت میں الیکٹیبلز کے نام پر لوٹے بھرتی کیے اور پرانے نظریاتی کارکنوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اُن کے نظریات ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہے اور وہ کبھی یکسو ہو کر کوئی مثبت کام نہیں کر پائے۔ خیبر پختونخواہ میں اُن کی صوبائی حکومت کی شہرت گو کہ باقی تمام صوبوں سے بہتر ہے تاہم وہ خیبر پختونخواہ کو وہ نمونہ نہیں بنا سکے کہ جسے دیکھ آئندہ انتخابات میں اُنہیں ووٹ دیے جا سکیں۔ 


وہ ابھی بہت سے بدترین لوگوں سے بہت بہتر ہیں لیکن درحقیقت صاحبِ کردار لوگ ایسے لوگوں سے اپنے تقابلی جائزے ہی کو اپنے لئے باعثِ شرم جانتے ہیں۔ بہرکیف شنید ہے کہ اس بار پیا کے من میں بھی تبدیلی کی جوت جگی ہے اور وہ نئی دلہن کی طرف راغب ہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک نظریاتی جماعت سے محروم ہو گیا ہے۔

آدمی نامہ اور دوسری نظمیں۔

چیک پوائنٹ -

آدمی نامہ اور دوسری نظمیں۔
ظہیر کاشمیری کی یہ کتاب انکی پانچ طویل نظموں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ہرگز ایسی نہیں ہے کے اس کو پڑھا جائے، ایک نظم گل رخ کی سمجھ آتی ہے تھوڑی بہت مگر وہ بھی گزارے لائق اور قدرے مضحکہ خیز ہے۔ اْوپر سے ہر نظم کے ساتھ اسکی تعریفوں پر مبنی تجزیاتی مضمون شامل کیا گیا ہے۔ اگر وہ تجزیہ پہلے پڑھا جائے تو آپ کا فوری دل کرے گا کے نظم بھی پڑھی جائے لیکن جب نظم پڑھتے ہیں تو بے اختیار تجزیہ کرنے والوں پر دو حرف بھیجنے کو دل کرتا ہے۔اس کتاب سے پرہیز ہی بہتر ہے۔

پاکستان اے گولڈ مائن آف ٹوئنٹی فرسٹ سینچری۔

چیک پوائنٹ -

پاکستان اے گولڈ مائن آف ٹوئنٹی فرسٹ سینچری۔۔یہ پہلی کتاب ہے جو میں نے آدھی پڑھ کے چھوڑ دی، نام سے پتا چلتا ہے کے لکھاری اس کتاب میں پاکستان کے جغرفیائی حدود یا صنعتی ترقی یا افرادی قوت کو موضوع بحث بنا کر پاکستان کی علاقائی یا عالمی افادیت و اہمیت پر سیر حاصل تبصرہ کریں گئے، تاہم پہلے دو صفحے پڑھ کر ہی احساس ہوتا ہے کو موصوف کو "میں میں " کی بیماری لگی ہوئی ہے،۔۔گیار صفحوں کا تعارف، جو مجھے لگا کے موصوف نے خود ہی تھرڈ پرسن میں اپنے لیے لکھا، آپ کو بور کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں کے لگتا ہے کے شاہ کا کوئی مصاھب دربار میں کھڑا قصیدہ گوئی کر راہا ہے۔
خیر دو چار صفحے اور پڑھے تو پتا چلا کے یہ کتاب تو موصوف نے اپنے لیے لکھی کے میں کیا ہوں اور میں کیا تھا،، بیچ میں مفت میں اسلام اور پاکستان کا تڑکہ لگایا محض سستی شہرت کے لیے ۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "کلک بیٹ" یعنی کسی خبر کو ایسی سرخی (heading) دینا کے صارف سسپنس یا دھوکہ کھا کر اْس پر کلک کرے ۔ بلکل اسی طرح موصوف نے کتاب کا نام رکھا "پاکستان اس صدی کی ایک سونے کی کان" اور کتاب کے اندر اپنے حالات اور دنیا کے حالات اور اپنی کمپنی کے حالات اور خاندان کے حالات کی دھیمی آنچ پر "ہم، میں، میری کمپنی، میرے خیالات، میری کامیابی، کامیابی کا راز، خواب، امید وغیرہ" کی کھچڑی بنا کے رکھ دی۔۔ جس نے پڑھنی ہے پڑھے جس نے کھانی ہے کھائے۔


بیگمات کے آنسو۔

چیک پوائنٹ -

بیگمات کے آنسو /begmaat k ansooبیگمات کے آنسو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عیال اور رشتہ داروں پر بیتے کرب ناک و عبرت ناک حالات کا افسانوی مجموعہ ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے انتہائی سادہ اور روز مرہ کی بول چال میں یہ حالات و واقعات قلمبند کیے ہیں جس سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کے وہ افسانہ نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی حقیقت جو وہ اپنے کسی بے تکلف دوست کو سنا رہے ہیں۔
شہزادوں، شہزادیوں اور اْنکے والدین پر تو غدر 1957 میں قیامت صغری بیتی ہے، کہاں وہ نرم و نازک اندام کلیاں جنہوں نے کبھی غیر مرد سے بات تک نہ کی تھی، کبھی گھر سے باہر نا نکلی تھی، کبھی بے پردہ نہ ہوئی تھی، جن کو محل کے اندر ہی دنیا کی ہر آسائش و سہولت میسر تھی، جنکی خدمت کے لیے خادمائیں، کنیزیں ہمہ وقت تیار رہتی تھیں، جو غریبوں میں ہیرے و جوہرات تقسیم کرتیں تھی، جن کے در سے مساکین کو کھانا جاتا تھا، جن کو صبح ہلکے سروں میں گانا بجا کر جگایا جاتا تھا اور جو چھپر کھٹ میں سویا کرتی تھیں، سیج پر انگڑائیاں لیتی تھیں، طشت چوقی استعمال کرتی تھیں، باغ کی سیر کرے کے جی بہلاتی تھیں، اْن پر یہ وقت آیا کے گھر سے بے گھر ہوئیں، در بدر ہوئیں، محل سے نکل کر جھونپڑی میں پہنچیں، پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نوکرانی بنیں، بھیک مانگی اور کئی تو بھوک کی وجہ سے ہی اجل کو پیاری ہوئیں، جو غیر مرد سے کلام نہ کرتی تھیں اْنکی ردائیں کھینچی گئیں، جو اْنکے وفادار تھے چھوڑ کر بھاگ گئے اور جو گھر کے مرد تھے اٌنکے سامنے زبح کیے گئے، اْنکے لخت جگر اْنکے سامنے گولیوں سے چھلنی کیے گئے اور وہ اپنے لعل سے لپٹ کر رو بھی نہ سکتی تھیں،،،غرض بادشاہ غلام بن گئے اور اْنکی ملکہ نوکرانیاں بن گئی اور اْنکی شہزادیاں مامائیں بن گئیں اور اْنکے گھر و محل تباہ و برباد ہوگئے اور وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے لگے۔ وہ اللہ سے زبان حال سے گلے شکوے کرتیں تھی کے مالک ہم تو ہندوستان کی زمین کے مالک تھے اور اب ہمیں دو گز زمین کیوں نہیں ملتی، ہم تو لوگوں کو دیتے تھے تو نے ہمیں بکھاری کیوں بنا دیا، ایسا کون سا بڑا گناہ کر دیا ہم نے کے ہمارے لیے یہ زمین تنگ ہوگئی اور ہماری رعایہ ہم سے برگشتہ ہو گئی اور ہم زلیل و خوار ہو گئے اور مرنے کے لیے زہر بھی میسر نہیں، ہم تیمور کی اولاد میں سے ہیں ، تیری رھمت کے چرچے ہر سو ہیں تو پھر ہم سے اتنی لاپرواہی کیوں، دلی شہر کے کوّے تو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں لیکن ہندوستان ایسے ملک کے مالک بھوکے سوتے ہیں۔ کیا ہم تیرے بندوں میں شامل نہیں ہیں؟؟
یہ افسانے زوال بیان کرتے ہیں بادشاہ وقت اور اْنکے خاندان کا کے شائد کوئی پڑھے تو عبرت پکڑے،، ایک چھوٹا سا اقتباس حاضر خدمت ہے۔
"تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کو ٹھوکریں مارتے تھے۔قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بے کسوں کے کام آتے تھے۔ ہم چنگیز کی نسل سے جسکی تلوار سے زمین کانپتی تھی۔ ہم تیمور کی اولاد ہیں جو ملکوں کا اور شہر یاروں کا شاہ تھا۔ہم شاہجاں کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جواہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دہلی کے اندر بنا دی۔ ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبے میں ہیں۔ ہم عزت والے تھے اور زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانا نہیں ملتا، وہ کیوں سر کشی کرتی ہے۔ آج ہم پر مصیبت ہے آج ہم پر آسمان روتا ہے" ۔

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بیٹی کلثوم زمانی بیگم کا ظاہری حلیہ غدر میں ایسا ہوا کے کسی نے پوچھا کے 'تم کس پنتھ کے فقیر ہو؟"۔۔۔۔۔۔!! زخمی دل سے وہ گویا ہوئیں
" ہم مظلوم شاہ گرو کے چیلے ہیں- وہی ہمارا باپ تھا وہی ہمارا گرو۔ پاپی لوگوں نے اس کا گھر بار چھین لیا اور ہم کو اْس سے جدا کر کے جنگلوں میں نکال دیا۔ اب وہ ہماری صورت کو ترستا ہے اور ہم اس کے درشنوں بغیر بے چین ہیں"۔

اْونچے مکاں تھے جن کے بڑے            آج وہ تنگ گور میں ہیں پڑے
عطر مٹی کا جو نہ ملتے تھے              نہ کھبی دھوپ میں نکلتے تھے
گردش چرخ سے ہلاک ہوئے              استخواں تک بھی ان کے خاک ہوئے
زات معبود جادوانی ہے                 
 باقی جو کچھ کہ ہے وہ فانی ہے             

سفال گر

چیک پوائنٹ -

سفال گرسفال گر ایک شاندار ناول ہے، یہ کہانی ہے محبت اور پروفیشن میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کی! احمد ابراہیم کو یا ہالی ووڈ کا ایڈم گرانٹ بننا تھا یا پرنیاں کا گرانٹ، وہ گو مگو میں رہا اور سوچا کے فلحال ہالی ووڈ میں نام بنا لوں پھر پرنیاں کہیں بھاگھی تو نہیں جا رہی نہ،،، بس ایک یہی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ ساری زندگی بھگتا رہا، نہ ہی وہ ہالی ووڈ سٹار بن سکا اور نہ ہی پرنیاں
کو پا سکا
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
ناول ایک انتہائی منفرد انداز میں آگے بڑھتا ہے اور ایک لمحے کے لیے بھی قاری کو بور نہیں ہونے دیتا، دو مختلف کہانیاں ایک ہی وقت میں چل رہی ہوتی ہیں، آگے جا کر وہ ایک مرکزی کہانی بن کر ایک دم سے سامنے آ جاتی ہے، یہ اسلوب میں نے جاسوسی ناولوں کے علاوہ خال ہی دیکھا ہے۔ ایک ایک کردار پر ، اسکے حلیے، بود و باش اور الفاظ کے انتخاب پر بہت زیادہ محنت کی گئی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک، پرنیاں ، البا،صوفیہ، ابرائیم، ایڈم گرانٹ،آئزک اور اسکی بیوی اور اسکا گونگا بیٹا، عمر اور۔۔۔۔ حکیم بیگم جو کے ایک اناڑی کمہارنی ہے، سب سے زیادہ دلچسب کردار ہے، سیدھی سادھی، سچی،بے لوث، خوش اخلاق، مہمان نواز اور غمزدہ، رب پر بے پناہ یقین رکھنے والی دیہاتی عورت جس کے پنچابی زبان میں ادا کیے گئے الفاظ سیدھے قاری کے دل میں جاگز یں ہوتے ہیں۔



شہاب نامہ

چیک پوائنٹ -


شہاب نامہ کا نام بچپن سے سنتے آئے تھے، آج پڑھ کے بھی دیکھ لی۔ جیسا سنا تھا اْس سے بڑھ کر پایا۔قدرت اللہ شہاب کا طرز تحریر انتہائی منفرد اور آسان ہے، ہم تو یا خدا پڑھ کر اْن کے دیوانے ہوئے تھے۔ مشکل سے مشکل بات آسانی سے بیان کرتے ہیں۔جموں میں پلیگ کے دوران لوگ چوہوں سے بھاگتے ہیں جبکہ موصوف چوہوں کو دموں سے پکڑ کے اِدھر اْدھر اْچھالتے ہیں، لوگ طاعون زدہ کے پاس تک نہیں پٹھکتے اور یہ موصوف صادقہ بیگم کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ بچپن میں سکول سے بھاگتے ہیں، گھر جھوٹ بولتےہیں، کتابوں کے رسیا ہیں اور دادی سے کہانیاں سنتے ہیں اور مزار سے پیسے چراتے ہیں۔ غرض قدرت اللہ کا بچپن ایک روایتی بچے کا بچپن ہے۔لڑکپن میں ایک محبت کرتے ہیں گویا لڑکپن بھی روایتی ہے! البتہ جوانی سے زندگی کا رخ متعین ہوتا ہے کے آئی سی ایس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
شروع سے ہی یہ کتاب آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور تب تک نہیں چھوڑتی جب تک آپ اسے ختم نہ کر دیں، بلکہ میں تو کتاب ختم ہونے کے بعد تادم تحریر شہاب نامہ کے سحر میں گرفتار ہوں۔
جوں جوں آپ پڑھتے جاتے ہیں توں توں دلچسبی میں اضافہ در اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، ایک سے بڑھ کر ایک حیرت انگیز واقعہ ہر دوسرے صفحے پر آپکی راہ دیکھ راہا ہوتا ہے چاہے وہ سول لائنز کی ویران کوٹھی ہو یا مہاراجہ کشمیر سے ملاقات، مقدس مٹکا ہو یا درود شریف کی برکت، کشمیر میں اپنے افسروں سے تلخ کلامی ہو یا ریل گاڑی میں راشٹریہ سوایم سیوک سنگ کے کر کرتا دھرتا اندر کمار سے ملاقات، نندہ بس سروس ہو یا اورنگ آباد، ڈپٹی کمیشنر کی ڈائری ہو یا "یا خدا" کی کہانی، چندراواتی کی محبت ہو یا ہندو بنیے کی مکاری، اقتدار کی غلام گردشیں ہوں یا صاحبان اقتدار کی عیاریاں، نوکر شاہی کی چلاکیاں ہوں یا پاکستانی فوج کی مکّاریاں، دشمنوں کی سازش ہو یا دوستوں کی چشم پوشیاں، ممالک کے آپسی تعلقات ہوں یا داخلی بحران، صدور، وزرائے اعظم کے واقعات ہوں یا آپ بیتیاں ، جاگیر کے کاروباری ہوں یا مزہب کے بیوپاری یہ کتاب آپ کو ہر ایک کے اندر چھپے شخص سے واقف کراتی ہے، ہر پردے کو چاق کرتی ہے ہر کردار کو سامنے لاتی ہے۔
شہاب نامہ پڑھ کر ہمیں خوشی بھی ہوتی ہے اور غم بھی، یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہنساتی بھی ہے اور رولاتی بھی ، پاکستان بننے کو یہ واقعاتی طور سے بھی دکھلاتی ہے اور نطریاتی طور پر بھی، اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔ میرا خیال جس نے یہ کتاب نہیں پڑھی اردو ادب میں اْس نے کچھ بھی نہیں پڑھا۔


خرچ

افتخار اجمل بھوپال -

سورة 2 البَقَرَة آیت 215
بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَ ؕ قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا

سائے میں پڑی لاشیں

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -


سندھی زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ حق بات اپنی جگہ لیکن ساتھ بھائی کا دیں گے۔ اس سے آپ یہ ہر گز نہ سمجھیے گا کہ تعصب پر سندھی بولنے والوں کی ہی اجارہ داری ہے بلکہ یہ بیماری تو ہمارے ہاں موجود ہر قوم میں کسی نہ کسی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔

تعصب عدل کو معزول کر دیتا ہے ۔ یوں تو عدل اور تعصب دونوں ہی اندھے ہوتے ہیں لیکن عدل سب کے لئے کورچشم ہوتا ہے تاہم تعصب اندھا ہوتے ہوئے بھی اتنا ضرور دیکھ لیتا ہےکہ کون اپنا ہے اور کون پرایا اور کسے ریوڑھیاں بانٹنی ہے اور کسے نہیں۔

ہم بڑے عجیب لوگ ہیں، ہم اپنی معاملے میں عدل چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے معاملے میں تعصب سے کام لیتے ہیں۔ جب مصیبت ہم پر آ پڑتی ہے تو ہم انصاف انصاف کی دُہائی دیتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن جب بات کسی اور کی ہو تو ہم سوچتے ہیں کہ صاحبِ معاملہ کون ہے۔ کہاں کا رہنے والا ہے؟ کون سی زبان بولتا ہے؟ کس رنگ و نسل کا ہے؟ حتیٰ کہ ہمارے علاقے کا ہے یا کہیں اور کا۔ ہمارے صوبے کا ہے یا کہیں اور کا؟ ہمارے شہر کا ہے یا کہیں اور کا؟

پھر اگر کوئی آپ کا اپنا معاملے کا فریق بن جائے تو پھر آپ عدل سے آنکھیں چرا کر اپنے پرائے کو ہی حق و باطل کا معیار بنا لیتے ہیں۔ آپ کا اپنا ؟ آپ کا اپنا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کا بھائی، آپ کا رشتہ دار، آپ کے محلے پڑوس کا کوئی شخص ، آپ کا کوئی ہم زبان، ہم رنگ و نسل۔ پھر آپ بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں عدل و انصاف نام کی بھی کوئی شے ہے۔ بس جو اپنا ہے وہ ٹھیک ہے اور دوسرا وہ شخص جو آپ سے کوئی نسبت نہیں رکھتا حق پر ہوتے ہوئے بھی ، غلط ہے ۔ ظالم ہے۔

ہم لوگ اکثر روتے ہیں کہ ہمارے ہاں ظلم بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ہاں عدل و انصاف نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی عدل کو پسند کرتے ہیں۔ عدل جو اندھا ہوتا ہے، جسے اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ جو کبھی ذات پات، رنگ ونسل، علاقہ و لسان کسی چیز سے علاقہ نہیں رکھتا۔

ہم کہتے ہیں ہمارے ہاں عدل کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہاں تو بس جان پہچان چلتی ہے، یہاں تو سیاسی وابستگی کام آتی ہے یہاں ہمارے لئے عدل کا حصول ممکن نہیں۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے معاملے میں تعصب کو برا سمجھتے ہیں۔

یا ہم نے سارے معیار صرف اس لئے وضع کیے ہیں کہ اُن سے دوسروں کی پیمائش کی جاتی رہے اور ہماری باری پر ہمیں استثنیٰ مل جائے۔

*****بہرکیف اگر آپ کسی سے تعصب برتتے بھی ہیں تو اس سے مجھے کوئی غرض نہیں ہے کہ روزِ حشر اس کے جواب دہ آپ خود ہوں گے تاہم آپ کا یہ تعصب آپ کے دشمنوں کے لئے ہی نقصان دہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے اپنے لئے بھی زہرِ قاتل ہے۔

وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ آپ کے سیاست دان آپ کی تعصب کی بیماری سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ آپ کو رنگ و نسل اور زبان و علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں اور اِسی برتے پر آپ کا قیمتی ووٹ لے اُڑتے ہیں۔ اور آپ؟

آپ اتنے سیدھے سادھے ہیں کہ آپ اس سے پوچھتے تک نہیں کہ ٹھیک ہے تم میری قوم سے ہو لیکن پچھلے پانچ سال تمہاری کیا کارکردگی رہی؟ اگلے پانچ سال کے لئے تمہار ا کیا منشور ہے؟ جس منصب پر پہنچنے کے لئے تم میرا ووٹ طلب کر رہے ہو کیا تم اُس کے اہل بھی ہو ۔ یا تمہاری اہلیت صرف یہ ہے کہ تم میری قوم سے ہو، یا میری زبان بولتے ہو۔

کہتے ہیں کہ اپنا تو مار کر بھی سائے میں ڈالتا ہے تو پھر سمجھ لیجے کہ آپ پاکستانیوں کا جو حال ہے وہ سائے میں پڑی لاشوں سے بہتر نہیں ہے جنہیں اُن کے 'اپنوں'نے مار کر بہت محبت سے سائے میں ڈالا ہے۔

یقین کیجے آپ کی آنکھیں بہت اچھا دیکھ سکتی ہے، بس ایک بار تعصب کی ہری نیلی پیلی عینکیں اُتار کر دیکھنے کی ہمت کیجے۔ تب آپ کو اپنوں میں غیر اور غیروں میں موجود اپنے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

جج یا جرنیلاں دے چمچے ؟

چیک پوائنٹ -

اے نان نے کْلچے نے؟
اے جج نے کہ چمچے نے؟

گٹر توں نکلے نے یا اْتوں لاتھے نے؟
اے سارے اْلو دے پٹھے نے

اے جیڑا ثاقب نثار اے۔
اے اندروں چودھری نثار اے۔

اے چیف جسٹس نہیں۔
اے تے "جیپ" جسٹس اے۔

اْتوں اے ملک دا وفادار اے۔
تے تھلوں اے پکا حوالدار اے۔

اے لْچے نے کہ لفنگے نے؟
سارے ہی فوجی پتنگے نے

اے نان نے کہ کْلچے نے؟
اے جج نے کہ چمچے نے۔

اے پکوان نے کہ پتاشے نے؟
اے کٹ پتلی تماشے نے۔

اے جرنیلاں دے وفادار نے۔
انہاں دے کردار بدبودار نے۔

اے لوکاں دیاں عزتاں اچھالدے نے۔
اپنیاں چوریاں چھپاندے نے۔

اے بہتیاں جْگتاں مار دے نے۔
اے جج نے کہ میراثی نے؟

اے مٹکے نے کہ کوزے نے؟
اے جج نے کہ فوجی چوزے نے؟

اے نان نے کہ کلچے نے؟
اے جج نے کہ خاکی چمچے نے۔

(ایم ایس

گوٹھ نوّں پوترا کے مکینوں کا یادگار کردار

افتخار اجمل بھوپال -

غالباً 29 جون 2018ء کو 27 اَپ شالیمار ایکسپریس کراچی سے لاہور جاتے ہوئے جب تیز رفتاری سے سفر کر رہی تھی تو محراب پور سے چند کلو میٹر آگے گوٹھ نوّں پوترا کے پاس اکانومی کلاس کی ایک بوگی کے پہیئے ٹرین سے تقریبآَ الگ ہو گئے ۔ ٹرین ڈرائیور نے بروقت بریک لگا کر ٹرین کو روک لیا اور الحمدللّہ ٹرین ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچی

سواریوں کو اس بے آباد جگہ پر عجب بے بسی کا احساس تھا اور کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کہ اچانک نہ جانے کدھر سے قریبی دیہات کے باسی قطار اندر قطار آنا شروع ہو گئے ۔ سُبحان اللہ عجیب منظر تھا ۔ کسی نے پانی کا کولر اُٹھایا ہوا ہے ۔ کسی نے مٹکا ۔ کوئی جگ اُٹھائے ہے تو کوئی دودھ کا برتن ۔ کوئی بزرگ اپنی پگڑی میں برف لا رہا ہے اور کچھ نوجوان بوریاں بھر کر برف لا رہے ہیں ۔ ایک عمر رسیدہ شخص کپڑے میں ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لائے ۔ غرض بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار اپنی استداد کے مطابق ہر کوئی کچھ نا کچھ لئے چلا آ رہا تھا ۔ چند منٹوں میں چنے چاول پلاؤ کی دیگ ایک رکشہ پر لائی گئی ۔ دیہاتیوں کے پاس قیمتی برتن نہ تھے ۔ چاول کھلانے کے لئے مٹی کی پلیٹیں لے آئے ۔ آتے ہی سب کھانے پینے کی چیزیں بانٹنا شروع کر دیں
ہمدردی کے جذبہ سے سرشار گاؤں کے نیک سیرت سادہ دل لوگ بے حد خوش نظر آ رہے تھے کہ اُنہیں خدمت کا موقع ملا ۔ نہ مدد کرنے والے جانتے تھے کہ جس کی وہ مدد کر رہے ہیں وہ کس صوبے ۔ کس ذات برادری ۔ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور نہ پریشان حال مسافر جانتے تھے کہ ان کی مدد کرنے والے فرشتہ صفت لوگ کہاں سے آئے ہیں ؟ بس ایک ہی رشتہ تھا ۔ انسانیت کا ۔ پاکستانیت کا اور احسان کا کہ اللہ کا فرمان ہے
اللّہ تعالٰی ان سب کو جزائےعظیم دے ۔ ان کے رزق میں وسعت وبرکت عطا فرمائے اور ان کو دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرمائے ۔ آمین

اسی دوران ریلوے کی امدادی کاروائیاں مکمل ہوئیں تو ٹرین کو واپس محراب پور لانے کا فیصلہ ہوا ۔ ٹرین کی روانگی کے وقت ان دیہاتوں کے امدادی کارکن اس طرح ہاتھ ہلا کر الوداع کہہ رہے تھے جیسے اپنے کسی بہت خاص عزیز کو رُخصت کیا جاتا ہے

االلہ اللہ ۔ یہ واقعہ پڑھتے ہوئے باری تعالٰی کی حمد کے ساتھ میری آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے ۔ فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ
مجھے اپنے دیہاتی بھائیوں کی ہمدردی اور مہمانداری کا تجربہ ہے ۔ میں جوانی میں سیر و سیاحت کا شوقین تھا ۔ جہاں بھی جاتا بڑے شہروں سے نکل کر قصبوں اور دیہات کی طرف چلا جاتا ۔ قصبہ یا گاؤں کے اندر سارا سفر پیدل ہی ہوتا تھا ۔ میں نے خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے میدانی علاقوں کی سیر کی اور پہاڑوں کی بھی ۔ ہر قصبہ ہر گاؤں کے باسیوں کو میں نے مُخلص ہمدرد پایا ۔ اُن کی ایک اور عادت بڑے شہروں میں رہنے والوں سے مُختلف تھی ۔ وہ برملا سیدھی بات کرتے تھے ۔ کسی لفظ یا فقرے پر مٹھاس چڑھانے کی کوشش نہیں کرتے تھے ۔ مجھے یہ طور پسند آیا کیونکہ مجھے بھی آج تک کسی بات پر ملمع چڑھانا نہیں آیا ۔ میں محسوس کرتا رہا کہ وہ بھی میرے انداز سے خوش تھے

ہمارے مُلک سلطنتِ خدا داد پاکستان کے اکثر عوام ہمدرد ۔ دُکھ درد بانٹنے والے ۔ مصیبت میں کام آنے والے ۔ اپنا پیٹ کاٹ کر دوسروں کی مدد کرنے والے اور فرض شناسی اور جذبہءِ خدمت و ایثار سے سرشار ہیں

جب میں اپنے مُلک کے بڑے شہروں کے پڑھے لکھے اور اچھی مالی حالت والے لوگوں کی زبان سے سُنتا ہوں
”یہ مُلک کوئی رہنے کے قابل ہے“۔
”سب چور ہیں“۔
”سب بے ایمان ہیں“۔
تو میرا کلیجہ کٹ کے رہ جاتا ہے ۔ اِن پڑھے لکھے جاہلوں کے ذہنوں میں ہالی وُڈ کی بنی مووی فلموں ۔ ٹی وی ڈراموں اور غیر مُلکی معاندانہ پروپیگنڈہ نے گھر کیا ہوا ہے ۔ یہ نہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور نہ اپنے دماغ سے سوچتے ہیں
اللہ ہم سب کو کریم ایسے ہموطنوں کو نیک ھدائت دے

غیب کا عِلم صرف اللہ رکھتا ہے

افتخار اجمل بھوپال -

سورة 11 ھُود آیۃ 49
تِلۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ‌ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰذَا‌ ‌ۛؕ فَاصۡبِرۡ‌ ‌ۛؕ اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ

اے محمدﷺ ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم ۔ پس صبر کرو ۔ ا نجام کار مُتّقِیوں ہی کے حق میں ہے

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - اردو بلاگ