اردو بلاگ

آوارہ گرد کی ڈائری

Nostalgia, Scream and Flower -


یہ آٹھ دسمبر اور بدھ کے دن کی ایک سرد صبح  ہے لیکن نکھڑے ہوئے سورج کی روشنی نے سردی کو اپنی آغوش میں لے کر اس کے احساس کو کچھ گھنٹوں کیلئے کم کردیا ہے ۔ریلوے سٹیشن سے بسوں کے اڈوں کو نکال کر بادامی باغ منتقل ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔ میں ایک دوست کو بہاولپور جانے والی بس میں سوار کروانے آیا ہوں لیکن میرا ارادہ واپسی کا نہیں ۔میں کچھ گھنٹے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعے میں گزارنا چاہتا ہوں  ۔جب آپ کسی تاریخی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں تو   تہذیبیں آپ کے ساتھ چلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔اور میں تہذیبوں کے اس سفر میں کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں   ۔ اقبال پارک کے گرد بنے فٹ پاتھ پر  چلتے ہوئے بار بار نگاہیں میدان کے ایک طرف  کھڑے مینار پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہیں ۔  دسمبرکے مہینہ  کے ابتدائی دن ہیں ،اس لیئے درخت اور پودے رونق سے  خالی ہیں لیکن پھر بھی جابجا بنے باغیچوں میں گیندے کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ان کے رنگ سنہری دھوپ میں چمک رہے ہیں۔پرندوں کے کچھ گروہ رات بھر سردی میں کانپتے رہنے کے بعد اب دھوپ کی تمازت پا کر مستیاں کرتے ادھر سے ادھر اڑانیں بھر رہےہیں  ۔۔ایک طرف گل داؤدی کا باغیچہ کھلے شگفتہ پھولوں کے ساتھ اپنی پوری آب و تاب دکھا رھا ہے جس کے پھولوں پر پر اچھلتی کودتی تتلیاں اور اور بھنوڑوں کی قطاریں سماں باندھ رہی ہیں۔ ابھی دن کا آغاز ہوا ہے اس لیئے پارک میں لوگوں کی زیادہ چہل پہل نظر نہیں آرہی۔ سکول اور دفتر کھلنے کا وقت گزرنے کے بعد سڑک پر گاڑیوں کا شور اور ڈیزل کا دھواں تھما ہوا ہے۔
سڑک عبور کرنے کے بعدگردوارے کے سامنے سے گزر کر بادشاہی مسجد کی طرف چل پڑتا ہوں ۔جب علامہ اقبال کے مزارکے سامنے سے گزرا تو دوغیر ملکی سیاحوں کو سیڑھیوں پر کھڑے دیکھ کر ان سے بات کرنے  کا ارادہ بناتا ہوں لیکن وہ انگریز نہیں ہیں شائد   کسی دوسرے یورپی ملک سے   ہیں کیونکہ ان کی زبان میری سمجھ میں نہیں آرہی ۔  میں ان کو باتیں کرتا چھوڑ کر مسجد کی سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں۔ آخری سیڑھی پر قدم  رکھ کر ایک بار مڑ کے دیکھتا ہوں تو حضوری باغ کی دوسری طرف  قلعہ کا عالم گیری دروازہ سورج کی روشنی میں جگمگا رھا ہے۔ اور میرے سامنے اکبر کا زمانہ دوڑ جاتا ہےجس نے لاہور شہر میں مغل ایمپائر کو کشمیر افغانستان اور ملتان سے ایک حد قائم کرنے کیلئے اس قلعے کی بنیادیں رکھیں ۔ جس میں جہانگیر نے کچھ اضافہ کیا لیکن شاہجاں  نے اس کو ایک مکمل قلعے کی شکل دے دی۔ جس کے سامنے اورنگ زیب نے وہ مشہور دروازہ تعمیر کروایا جو اس وقت میری نگاہوں کے سامنے تھا۔ اور میں مسجد دیکھنے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے قدم قلعے کی طرف بڑھا دیتا ہوں ۔
 گیٹ سے کچھ فاصلے پر ،قلعے کی دیوار کے ساتھ ایک آدمی نے چادر بچھا کر ایک سٹال بنا رکھا ہے۔ اور میں آگے بڑھنے کا ارادہ ترک کرکے اس کے پاس جا پہنچتا ہوں۔ اس کے پاس بہت سی دلچسپ چیزیں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک کیمرہ نما جس میں ریل ڈال کر تھری ڈی تصویریں دیکھ سکتے ہیں ۔ مکہ  مدینہ کیں، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی  کیں۔ نیویارک شہر اور سڈنی اوپیرا ہاؤس کی بھی۔ ساڑھے چار سو روپے  قیمت سن کر  اسے رکھ کر ایک ماچس کی ڈبیا سائز کا ریڈیو اٹھا لیتا ہوں جس پر چار بینڈ چلتے ہیں۔ دکاندار نے سیل ڈال کر اسے چلا کر دکھایا۔ سارے بینڈ چل رہے ہیں  ۔ ایف ایم ہنڈرڈ کی  آواز گونجی تو سنجیدگی سے خریدنے کے بارے سوچ رھا ہوں ۔ لیکن  تین  سو روپے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ گھر سے ملنے والے پیسوں سے  ابھی پورا مہینہ گزارا کرنا ہے۔ اس کے پاس اور بھی بہت سی دلچسپ چیزیں  ہیں۔ بیٹری سے چلنے والا پنکھا، ٹمٹماتی لائٹیں،مقناطیسی گڑیاْ ، مائوتھ آرگن۔ لیکن اپنی جیب میں رکھے پرس کی ریزگاری کا اندازہ لگا کر میں آگے بڑھ جاتا ہوں۔ 
ابن انشا اندرون لاہور کو بغداد کہتا تھا ۔ اور میرے لیئے الف لیلوی داستان سے زیادہ پر اسرار ۔اور جب میں نے قلعے کی دیوار کو دور تک جاتا دیکھا تو اس کے ساتھ ساتھ ہولیا کہ یہ مجھے کہاں تک لیکر جاتی ہے۔ پھر دیوار کے ساتھ عمارتیں شروع ہوگئیں اور میں ایلس ان ونڈر لینڈ میں داخل ہوگیا۔درخت کی شاخوں کی طرح ایک شاخ سے نکلتی کئی شاخیں اور شاخ در شاخ اور ایسے ہی گلیاں کھلتی رہیں اور میں چلتا رھا۔ایک گلی کے اوپر تھانہ ٹبی  کا بورڈ  دیکھ کراندازہ ہوا کہ کہاں سے گزر رھا ہوں  ۔یہاں موجود ایک بازار سے جڑی بہت سی کہانیاں ذہن میں گھوم گئی ہیں ۔اس بازار کے ذکر کے بغیر ہمارا کلاسیکل ادب شائد مکمل ہی نہیں ہوتا۔لیکن میں سیدھی سڑک پر ہی چلنا جاری رکھتا ہوں اور چلتے چلتے  ایک سیدھی باریک گلی میں گھس جاتا ہوں جس کے دونوں اطراف دو منزلہ گھر ہیں۔اتنی باریک گلیوں سے دھوپ کو بھی گزرے شائد مدتیں بیت چکی ہیں ۔گھروں کی چھتوں پر کبوتروں کے ڈربے نظر آرہے ہیں اور کبوتروں کی غٹرغوں خاموشی میں گونج پیدا کررہی  ہے ۔۔ 
ابھی دوپہر ہونے میں کچھ دیر ہے اس لیئے گلیوں میں بہت زیادہ چہل پہل نہیں ہے۔کبھی کبھی کوئی موٹر سائکل کی آواز اور کبھی کسی چھابڑی والے کی آواز  گونجتی دکھائی دے رہی ہے۔اینٹوں سے بنی گلیوں کی دونوں جانب نالیاں بنی ہوئی ہیں اور اکثر گھروں کے گلی میں کھلنے والے  دروازوں پر چادریں لٹکا کر پردہ کیا ہوا  ہے۔ایک دروازے پر کوئی بوڑھی عورت دروازے کی دہلیز پر بیٹھی تھال لیئے دال صاف کررہی ہے اور ساتھ ساتھ گھر میں موجود کسی کے ساتھ باتیں بھی کررہی ہے۔ ایک دروازے پر  درمیانی عمر کی ایک عورت چھوٹی بچی کو سامنے بٹھا کر اس کی کنگھی کررہی ہے۔بچی بار بار کھیلنے کیلئے اٹھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن عورت  اس کو بالوں سے کھینچ کر پھر بٹھا لیتی ہے ۔ ایک کونے میں ایک ماں بچےکا سر گود میں ٹکائے اس کے سر سے جوئیں نکال رہی ہے۔ دو عورتیں گلی کے درمیان میں کھڑی  ایک دوسرے سے احوال پوچھ رہی ہیں۔ایک طرف تین چار بچے  ماربلز بنٹوں سے نشانے بنا رہے ہیں۔میں کچھ دیر رک کر ان کے کھیل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں  ۔ایک چھت پر  بچوں کی پتنگ بازی جاری ہے اور  پرجوش آوازیں  سن کر کچھ دیر کیلئے رک جاتا ہوں اور ان کی آوازوں سے ان کی چھت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں ۔دروازوں پر لگے پردوں کے پیچھے سے جھانکتی ڈھیوریاں ۔دوپہر کو پکتے کھانوں کی خوشبوئیں ۔گلی میں کھیلتے بچوں کی اٹھکیلیاں  ۔ میں اپنی ہی دھن میں چلتا جارھا ہوںگھڑوں پر بنی محروبوں، کچی اینٹ کی دیواروں کو دیکھتے ہوئے دھیان ہی نہیں رھا کہ ایک بند گلی میں پہنچ  جاچکاہوں ۔  اپنے گھرکے باہر جھاڑو لگاتی ایک عورت پوچھتی ہےکس سے ملنا ہے؟۔ میں ہڑبڑا  جاتا ہوں  ۔ شائد غلطی سے ادھر آگیا ہوں۔ اس نے مشکوک نظروں سے مجھے دیکھا اور جب تک میں اس گلی سے واپس نہیں نکل نہیں جاتا ہوں وہ جھاڑو لگانا شروع نہیں کرتی۔ وہاں سے نکل کر نسبتا ایک کھلی گلی کا رخ کرتا ہوں  جس میں مرغیاں مجھے خوش آمدید کہتی ہیں ۔گھروں کے باہر سے گزرتے ہوئے کھانوں میں  ڈلے مصالحوں کی خوشبو ایک بار پھر مجھے  اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ایک جگہ چائے کا کھوکھا دیکھ کر رک جاتا ہوں ۔پاس سے کوئی خاتون گزری ہے جس نے تیز خوشبو لگائی ہوئی تھی ۔اس کی خوشبو میرے چائے میں مکس ہوگئی ہے۔ جتنی دیر چائے پیتا رھا خوشبو وہیں موجود رہی۔
گلیوں کوچوں محلوں سے گزرتے گزرتے  ٹریفک کا شور سن کر احساس ہوتا ہے کہ  کوئی بڑی سڑک آرہی ہے اور میں لوہاری گیٹ پہنچ چکا ہوں۔زیر زمین پل عبور کرکے انارکلی والی سائیڈ پر پہنچ کر چھوٹا پانچ روپے، بڑا دس روپے لکھا دیکھ کر فطری تقاضے نے احساس دلا دیا ہے۔انارکلی بازار سے گزرتے ہوئےاس گلی پر کچھ دیر رک جاتا ہوں  جس پر کچھ آگے چل کر  ایک پرانا مندر اور قطب الدین ایبک کا مزار آتا ہے۔ لیکن میں کچھ تھک چکا ہوں  اور بھوک بھی لگ رہی ہے ۔
سفر جاری رکھتے ہوئے انارکلی عبور کرکے کنگ ایڈورڈ والی سائیڈ پر جاکر اس فروٹ شاپ پر جاپہنچتا ہوں  جہاں سے اپلیکیشن فارم جمع کروانے والے دن سٹوڈنٹس نے فولنگ کے دوران ساڑھے سات سو روپے کے جوسز پیئے تھے اور اس احسان کے جواب میں طویل قطار سے نکال کر میرے فارم دفتر میں جمع کرواکر  رسید مجھے لاکر پکڑا دی تھیانارکلی میں بہت سی پرانی کتابوں کی دکانیں ہیں۔لیکن جس جگہ گھڑیوں کی بڑی سی دکان ہے، اس کے قریب اندر کو ایک گلی جاتی ہے جہاں پر ایک  پرانی لیکن  بڑی دکان ہے۔مجھے یہ دکان اس لیئے پسند ہے کہ اس کے مالک کے پاس نا صرف  کتابوں کا  بڑا ذخیرہ ہوتا  ہے بلکہ اس کو اپنی پسند بتائی جائے تو  ڈھیڑوں کتابیں نکال کر سامنے رکھ دیتا ہے ۔جن میں سے اپنی پسند کی کتاب ڈھونڈنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں ۔ہمیشہ کی طرح بہت سی کتابیں پسند کرلیتا ہوں  اور پھران کی قیمت کا اندازہ لگاکر  اگلے مہینے ملنے والے سکالرشپ کی امید پر دکان پر چھوڑ کر باہر نکل آتا ہوں۔گھڑیوں کی اس دکان سے کچھ آگے سٹیشنری کی بہت بڑی دکان ہے جس پر پینٹنگ اور اس سے جڑا دوسرا سامان بھی دستیاب  ہےلیکن میں دکان کے اندر نہیں جاتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کسی فضول خرچی کی نظر نہ ہوجائوں ۔
 دکانوں کے بیچ بنی مسجد میں نماز پڑھ کر پاک ٹی ہاؤس کا رخ کرتا ہوں۔یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے  اس جاں بلب   ادبی گہوارے میں کچھ وقت گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔اگرچہ وہ رونقیں مجھے ابھی تک نہیں مل سکی ہیں  جن کا ذکر کتابوں، افسانوں میں ملا کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کے اندر کے ماحول کی رومانیت اداسی اور چائے پیش کرنے کا انداز  مجھے متاثر کرتا ہے۔ میں چائے کے ساتھ پیسٹری لانے کا کہتا ہوں ۔کچھ ہی دیر بعد میرے سامنے ایک کپ رکھ دیا جاتا ہے جس میں گرم پانی ہے۔ اور ساتھ ایک خالی پیالی ہے۔بیرا سلیقے سے چائے دانی اور دودھ کی کٹوری رکھ کر چلاجاتا ہے تو میں کپ سے  گرم پانی  نکال کر خالی پیالی میں انڈیل دیتا ہوں اور اپنے  لیئے چائے کا ایک کپ بناتا ہوں۔ دھیرے دھیرے چسکیاں لیتا ارد گرد  کےماحول کوجائزہ لینے لگتا  ہوں۔ کچھ فاصلے پر ایک موٹا چشمہ لگائے سانولی سی لڑکی ایک بزرگ  کو اپنے کچھ نوٹس دکھا رہی ہے۔۔ اس کے پاس تین چار موٹی کتابیں رکھی ہیں۔ میں بزرگ آدمی کو پہچان نہیں پاتا ہوں لیکن ان کی باتوں سے اندازہ ہورھا ہےکہ بزرگ شخص  کوئی اہم ادبی شخصیت ہے اور لڑکی پی ایچ ڈی کی طالبہ  جو اس سے اپناکوئی مقالہ ڈسکس  کررہی ہے ۔ایک کونے میں ایک لمبے بالوں والا شخص سگریٹ پر سگریٹ پھونک رھا ہے اور سامنے رکھی چائے کب کی ٹھنڈی ہوچکی ہے۔۔  سانولا  ڈھلتی عمر کا ایک آدمی جس نے اپنے بال تازہ تازہ سیاہ کیئے ہوئے ہیں، ایک ہاتھ میں کپ اور دوسرے سے کچھ لکھنے کی کوشش کررھا ہے لیکن شائد اپنی تحریر سے مطمئن نہیں ہورھا اور  چہرے پر جنجھلاہٹ کے ساتھ بار بار اپنا لکھا کاٹ کر دوبارہ سے لکھنے لگ جاتا ہے۔اتنے میں تین چار افراد بہت بے تکلفی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ شائد وہ  باقائدگی سے آتے ہیں کیونکہ بیرے  نےایک ٹیبل کو  اچھی طرح کپڑے سے صاف کیا ہے اور اب کھڑا ان کے بیٹھنے کا انتظار کررھا ہے ۔ میں اپنا چائے کا کپ ختم کرچکا ہوں اور  بل ادا کرکے  وہاں سے نکل کر مال روڈ پر چلتا ہوا پرانی انارکلی کا رخ کرتا ہوں۔ کسی کھنڈر کا سماں پیش کرتی ٹولنٹن مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے  پرانی انارکلی میں داخل ہوتا ہوں ۔ انارکلی کا حسن یا تو صبح صبح نکھڑتا ہے یا پھر شام ڈھلنے کے بعد۔اس وقت سہ پہر ہے اوراس پر ایک گہری اداسی چھائی ہوئی ہے۔اس گہری اداسی کے سائے تلے چلتے ہوئے  یوسف فالوودے والے کے پاس سے گزرا تو  ایک لمحے کودودھ پینے کا خیال آتا ہے لیکن جن احساسات کو ساتھ لیکر پاک ٹی ہاؤس سے نکلا ہوں ان کو میں ابھی بچھڑنے نہیں دینا چاہتا۔ اور سڑک کے کنارے ایک طرف ٹیک لگائے جین مندر کے پاس سے گزر کر سٹیشن سے آنے والی ویگن کا انتظار کرنے لگتا ہوں  جو مجھے مسلم ٹاؤن موڑ پہنچائے گی ۔جہاں سے تیتیس نمبر ویگن لیکر میں اپنے کالج پہنچ جائوں گا

پیٹھ پیچھے بات

افتخار اجمل بھوپال -

والد صاحب نے کہا ” انسان کو کسی کی عدم موجودگی میں وہی بات کرنا چاہیئے جو وہ اس کے منہ پر بھی دہرا سکے“۔
بات معمولی سی تھی مگر میں نے اس پر عمل بڑا مشکل پایا ہے۔ ہاں جب کبھی اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق ملی ہے اس وقت زندگی بڑی ہلکی اور آسان محسوس ہوئی ہے

قدرت الله شہاب

افسانہ: فریاد کی لے​

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -

فریاد کی لے​از محمد احمدؔ​
وہ اِس وقت ذہنی اور جسمانی طور پر بالکل مستعد تھا۔ بس انتظار تھا کہ مولوی صاحب سلام پھیریں اور وہ نماز ختم کرکے اپنا کام شروع کر دے۔ اُس نے اپنے ذہن میں اُن لفظوں کو بھی ترتیب دے لیا تھا جو اُس نے حاضرینِ مسجد سے مخاطب ہو کر کہنا تھے۔ جیسے ہی مولوی صاحب نے سلام پھیر ااُس نے بھی تقریباً ساتھ ساتھ ہی سلام پھیرا اور ایک جھٹکے سے اُٹھا لیکن عین اُس وقت کہ جب اُس کو کھڑا ہو کر اپنی فریاد لوگوں تک پہنچانی تھی اُس کی قمیص کا دامن اُسی کے پاؤں تلے آ گیا اور ایک دم سے اُٹھنے کی کوشش کے باعث دامن چاک سے لے کر کافی اُوپر تک پھٹ گیا۔ ابھی وہ قمیص کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ ہال کے دوسرے کنارے سے ایک آواز سُنائی دی۔

"میرے بھائیو! میں اور میرے گھر والے تین روز سے ۔۔۔۔" رُندھی ہوئی آواز میں شروع ہوا یہ جملہ بیچ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ اِس وقت کسی غیر متوقع "حریف" سے ٹکراؤ کا اُسے خیال تک نہیں تھا۔ اُس نے دیکھا کہ ہال کے دوسرے دروازے کے پاس ایک خستہ حال لڑکے نے حاضرین کو متوجہ کیا لیکن وہ جملہ مکمل کیے بغیر ہی رونے لگا ابھی وہ اس نئے سائل کی ڈرامے بازی کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اچانک فریاد کرنے والا لڑکا جو اپنا جملہ مکمل کرنے کے بجائے رونے لگا تھا لوگوں کو پھلانگتے ہوئے بھاگنا شروع ہو گیا۔

نہ جانےاُسے کیا ہوا کہ اُس نے بھی نئے سائل کے پیچھے دوڑ لگا دی، کہ جیسے عین "دھندے" کے وقت پہنچ کر اُس کے حریف نے اُسے دعوتِ پیکار دے دی ہو اور پھر میدانِ جنگ سے فرنٹ ہو گیا ہو۔ اور جیسے اب اُس کی پہلی ذمہ داری ہی یہ ہو کہ پسپا ہوتے دشمن کو قریب ہی کہیں چھاپ لے اور پھر ایک ایک کرکے سارے بدلے چُکائے۔

صورتِ حال اب یہ تھی کہ آگے آگے خستہ حال نوجوان لڑکا روتا جاتا اور دوڑتا جاتا تھا اور وہ اُس کے پیچھے پیچھے ایک غیر ارادی تعاقب میں دوڑ رہا تھا ۔ دوڑتے دوڑتے اُس نے سوچا بھی کہ جب نیا لڑکا دوڑ ہی گیا تھا تو اُسے اپنا کام شروع کرنا چاہیے تھا بجائے اِس کے کہ وہ اُس کے پیچھے اپنا وقت برباد کرنے آگیا۔ لیکن یہ سوچ بھی اُس کے قدم روکنے کا حیلہ نہ بن سکی اور وہ اندھا دھند دوڑتا رہا۔

مختلف چھوٹی چھوٹی گلیوں سے گزر کر مفرور سائل ایک گھر کے دروازے میں داخل ہونا ہی چاہتا تھا کہ اُس نے اُسے جا ہی لیا ۔ اُس کی گرفت میں آکر مفرور لڑکا شدید پریشانی کا شکار نظر آتا تھا اور اُسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اُس کا اندھا دھند تعاقب کرنے والا یہ شخص کون تھا اور آخر اُس سے ایسا کیا قصور ہوا تھا کہ اُسے نجات ملنے کا کوئی امکان ہی نظر نہیں آتا تھا۔
"کون ہے بے تو؟؟؟" اُس نے حقارت سے لڑکے سے پوچھا
"میں ! میں!" لڑکے کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس اچانک آ پڑنے والی اُفتاد سے کیسے نمٹا جائے۔
پھر شاید اُسے ہی خیال آیا کہ وہ ضرورت سے زیادہ ہی جارح ہو رہا ہے تو اُس نے اپنے لہجے کو کچھ بہتر بناتے ہوئے پوچھا" مسجد میں کیا کرنے آیا تھا؟"
"وہ ، میں۔۔۔! مجھے پیسے چاہیےتھے" لڑکے نے ہکلاتے ہوئے بتانا شروع کیا۔
"ہمارے پاس کچھ نہیں ہے کھانے کو ، پیسے بھی نہیں ہیں" وہ سسکتا جاتا اور بتاتا جاتا۔
"میں نے۔۔۔۔ میری امی نے، میرے بھائی نے ۔۔۔ ہم نے کچھ نہیں کھایا " رو رو کر لڑکے کا بُرا حال تھا اور اُس کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہ سوال جواب کیوں کر رہا ہے۔
"تین دن سے ہمیں پانی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، میں نے سوچا مسجد میں جا کر ۔۔ جیسے دوسرے لوگ ۔۔۔ " لڑکا پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔
اُس کے ہونٹوں سے سارے سوال غائب ہو گئے تھے اور آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔
پھر اچانک اُس نے آگے بڑھ کر لڑکے کو گلے سے لگا لیا، اور پھر وہ دونوں رونے لگے ۔ جیسے جیسے اُن کا کوئی مر گیا ہو۔ لیکن اُن کا اس دنیا میں تھا ہی کون جو مرتا۔ اور اُن کا کوئی ہوتا تو کیا وہ اس طرح روتے؟
وہ روتے جاتے اور ایک دوسرے کو بھینچتے جاتے کہ جیسےکوئی سالوں برسوں بعد ملا ہو اور اس بات کا یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ ملن کا لمحہ واقعی آن پہنچا ہے۔
آس پاس جمع ہوتے بچوں کو دیکھ کر اُسے کچھ ہوش آیا۔ اُس نے لڑکے کو خود سے جدا کیا اور ہتھیلیوں کی پشت سے آنسو پوچھتے ہوئے بولا ۔ "میرے ساتھ آ" اور اُس کا ہاتھ پکڑکر چلنے لگا۔
سائل لڑکا میکانیکی انداز میں اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ راستے میں وہ دونوں بالکل خاموش تھے۔کہتے بھی تو کیا۔
اُن کا یہ مختصر سفر ایک چھوٹے سے ہوٹل پر ختم ہوا اور اُس نے لڑکے کو ہوٹل پر ایک تخت پر لا کر بٹھا دیا۔ ادھر اُدھر دیکھنے پر اُسے ایک پانی کا ڈرم نظر آیا۔ اُس نے ڈرم سے پانی جگ میں نکالا اور منہ دھونے لگا۔ منہ ہاتھ دھو کر اُس نے ایک جگ اور بھرا اور لڑکے کو بُلا کر اُس کا منہ بھی دھلوا دیا۔
کچھ تازہ دم ہو کر وہ پھر سے تخت پر بیٹھے تو بیرا اُن کے سر پر نازل ہو چکا تھا۔ "ہاں اُستاد ! کیا لاؤں؟"
"ایک دال فرائی لے آ اور روٹی گرم لانا ۔ " اُس نے بیرے کو دیکھا اور سوچتے ہوئے کہا۔
کچھ ہی دیر میں بیرا کھانا لے آیا۔ کھجور کے پتوں سے بنی رکابی میں تندور کی تازہ روٹیاں اور اسٹیل کی پلیٹ میں چنے کی دال ، فرائی کی ہوئی۔ سائل لڑکے کے آنسو اب تک تھم گئے تھے لیکن اُس کا چہرہ سُرخ ہو رہا تھا۔ اُس نے لڑکے کی طرف دیکھا اور کھانے کی طرف اشارہ کرکے کہا "گرو ، ہو جا شروع۔۔۔!"

لڑکے نے جھجکتے ہوئے ایک نوالہ بنایا اور دال کی پلیٹ سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے اپنے منہ میں رکھ لیا۔ نوالے کے منہ میں جاتے ہی اُس کی ساری جھجک رُخصت ہوگئی اور وہ بے صبری سے کھانا کھانے لگا۔ اُسے کوئی خاص بھوک نہیں تھی لیکن لڑکے کا ساتھ دینے کے لئے وہ بھی چھوٹے چھوٹے نوالے لیتا رہا۔


کھانا ختم ہونے پر اُس نے بیرے کو آواز دے کر چائے منگوائی اور مسجد سے فرار اختیار کرنے والے سائل کی طرف متوجہ ہوا۔

"تم مسجد سے بھاگ کیوں گئے تھے۔ "وہ اب تو سے تم پر آ گیا۔
لڑکے نے اُس کی طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکا کر کہا "مجھے شرم آگئی تھی۔ میں نے، میرے خاندان والوں نے کسی نے بھی کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ اگر حالات اس قدر خراب نہ ہوتے تو شاید میں مسجد میں اس غرض سے آنے کی ہمت بھی نہ کر پاتا۔"
"شرم ! " اُس نے حیرت اور غصے سے لڑکے کی طرف دیکھا۔
"تمھیں کیوں شرم آ ئی!" اُس کی آواز غیض سے بھرّا رہی تھی۔
"شرم تو تمھارے پڑوسیوں کو آنی چاہیے، تمھارے رشتہ داروں کو آنی چاہیے کہ تمھارے ہاں تین روز سے کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور وہ بے خبر ہیں۔"
"تمھاری پڑوسی اپنی زندگی جی رہے ہیں، کھا رہے پی رہے ہیں عیش کر رہے ہیں۔ کیا اُن کا فرض نہیں کہ اڑوس پڑوس کا بھی حال پوچھیں۔ کس پر کیا گزر رہی ہے۔ کس پر کیا مصیبت آن پڑی ہے" ذرا توقف کے بعد وہ پھر شروع ہوا۔
"شرم تو تمھارے رشتہ داروں کو آنی چاہیے ۔ کوئی تمھیں پوچھنے نہیں آیا" اُس نے زور سے سر کو جھٹکا دیا۔
"کیسی رشتہ داری ہے آج کل کی۔ وقت اچھا ہو تو صبح شام چکر لگائیں اور جہاں بُرے دنوں نے رستہ دیکھاوہیں گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جائیں گے۔"
"لعنت ہے ایسی رشتہ داری پر اور لعنت ہےایسے پڑوسیوں پر۔" اُس نے زور سے چائے کا کپ تخت پر پٹخا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
اُس نے ہوٹل کے مالک سے کہہ کر کچھ کھانا لڑکے کے گھر والوں کے لئے بھی پیک کروایا اور بل ادا کرنے کے بعد کچھ پیسے لڑکے کی جیب میں بھی ٹھونس دیے۔

"میں اسی ہوٹل پر بیٹھتا ہوں شام کے بعد ، کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو تو میرے پاس آ جانا۔ اور ویسے بھی ملتے رہنا " اُس نے لڑکے کو رخصت کرتے ہوئے کہا۔ " میں ویسے بھی چھڑا چھانٹ ہوں، میرا گزارا جیسے تیسے چل ہی جاتا ہے"۔ اب اُس کے چہرے پر مُسکراہٹ نے جگہ بنا لی تھی۔

*****​
عصر کی نماز اُس نے ایک اور مسجد میں پڑھی ۔ یہ مسجد بازار کے بیچ و بیچ تھی اور اس میں نمازیوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ نماز ختم ہوئی تو اُس نے اپنی درد ناک آواز میں فریاد شروع کر دی۔ آج اُس کی آواز میں الگ ہی کرب تھا۔ اُس کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو بہہ رہے تھے اور اُس کے رٹے رٹے جملے آج تاثیر میں گُندھے ہوئے تھے ۔ اُس کے پیروں میں بچھے رومال پر چھوٹے بڑے نوٹ جمع ہو رہے تھے۔ وہ مستقل رو رہا تھا اور اندر سے ایک اطمینان اُ س کے اندر اُتر رہا تھا کہ رومال پر جمع ہونے والے نوٹ اب اُس کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ اہم تھے ۔ اُس کی آنکھوں کے آنسو خوشی سے چمک رہے تھے اور اُس کا پھٹا ہوا دامن ہوا میں لہرا لہرا کر مسرت کا اظہار کر رہا تھا۔

*****

تاریخ ۔ جس سے ہم سبق نہیں لیتے

افتخار اجمل بھوپال -

کنفیوشس نے اپنے پیروکاروں سے کہا تھا ” انسان ناسازگار حالات حتیٰ کہ موت کے آس پاس بھی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے بشرطیکہ اسے وہاں ایک مکمل اور آسان انصاف حاصل ہو“۔
مجبوری میں اس ایک لفظ انصاف کا تعاقب کرنے پر آخری سرے پر ناانصافی ہی ہمارا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ آتش فشاں ہے جس سے مجبوریوں کے لاوے پھوٹتے اور ہماری زندگیوں کو بھسم کر دیتے ہیں۔ ناانصافی کا یہ لاوا پہلے ہماری اخلاقیات کو نگلتا، اُسے کمزور کرتا اور پھر اپنا راستہ بناتا سماجی زندگی سے لے کر اداروں تک کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا جاتا ہے

یہ پون صدی کا نہیں، صدیوں کا قصہ ہے جب سو سال پہلے کا امریکہ ایک ایسی عجیب و غریب سرزمین تھا جہاں پندرہ سے زیادہ ریاستوں میں سیاہ فام اور سفید فام قانونی طور پر شادی نہیں کر سکتے تھے۔ خواتین کو نہ رائے دہی کا حق حاصل تھا، نہ ہی جائیداد کی مختار ہونے کا۔ کم از کم اجرت کا کوئی قانونی معیار نہ تھا۔ سیاہ فام اور سفید فام نہ ایک اسکول میں پڑھ سکتے، نہ ہی ایک نلکے سے پانی پی سکتے تھے۔ سیاہ فاموں کو جتھے بنا کر بدترین تشدد کے بعد قتل کر دیا جاتا، کسی کو سزا تک نہ ہوتی۔ جان بچانے تک کے لئے عورتوں کو اسقاط حمل کا حق حاصل تھا نہ ہی میراتھن دوڑوں میں حصہ لینے کا۔ گھریلو تشدد عام، بچے فیکٹریوں میں کام کرتے، اقلیتوں کے لئے مذہبی آزادی مفقود۔ ظلم و ناانصافی کی اتنی طویل فہرست ہے کہ داستان الف لیلہ کی طرح پڑھتے چلے جایئے۔

سو سال بعد اگر کوئی مصنف، کوئی ادیب، کوئی محقق یا کوئی تاریخ دان ماضی کے دروازے کھول کر وطن عزیز پاکستان کی آج کی دنیا پر نظر ڈالے تو وہ کیا لکھے گا ؟
یقیناً وہ لکھے گا کہ ملک پاکستان سن 2018ء میں جس کی 70 فیصد آبادی ناخواندہ اور 60 فیصد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تھا، بیروزگاری عروج پر تھی، قوانین پر مذہبی اور سرکاری چھاپ تھی، غیرت کے نام پر قتل روزمرہ کا معمول تھا جس کا تحفظ حکومتی وزیر مشیر ایوانوں میں کرتے تھے۔ مثبت سوچ رکھنے والے جلاوطن کر دیئے جاتے، انہیں ہیرو کے بجائے سازشی، کٹھ پتلی، ڈرامہ باز اور کرپٹ قرار دے کر مطعون کیا جاتا، اسی جرم میں بزدل قوم کے بہادر لیڈر پھانسی پر لٹکا دیئے جاتے یا سرعام قتل کر دیئے جاتے اور اس عمل کی حمایت کرنے والے کھلے عام گھومتے۔ سیاست اور سیاسی منظر نامہ پر انہی کا غلبہ تھا۔ جمہوریت کے لبادے میں کٹھ پتلیاں نچانے کا کاروبار عروج پر تھا۔ عقل کی بات کرنے والے مطعون و ملعون اور حریت فکر کے پرچارک شیطان کے ہرکارے کہلاتے۔ ملک کے میدان، بازار، گلیاں، قوانین کے سیلاب کے سپرد تھیں جس سے پوری قوم ذہنی اختلال کا بدترین نمونہ تھی

یہ تاریخ شاید 100 سال بعد لکھی جائے لیکن آج کے انسان کا کیا قصور جو مہذب کہلاتا ہے، اسی آب و ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے جس میں کرپشن اور ناانصافی کا زہر گھلا ہے۔ کیا خدانخواستہ 100 سال بعد ایک ایسی قوم کی تاریخ لکھی جائے گی جس کے قوانین مکڑی کے جالے کی طرح تھے جس میں صرف چھوٹے کیڑے ہی پھنستے، طاقتور اسے توڑتے ہوئے نکل جاتے، ریاست اپنے ذمہ کے کام بھی افراد پر ڈال کر خود اپنے ہاتھ جھاڑ لیتی

ان انسانوں کا کیا حال، جن کے نزدیک زندگی سمندر نہیں نہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین ریت کے گھروندے، وہ جو زندگی کو ایک مستحکم چٹان سمجھتے اور ان کا قانون گویا سنگ تراش کی ایک چھینی ہے جس سے وہ چٹان پر اپنے وجود معنوی کے نقوش کھودتے ہیں مگر کتنی جلدی وہ اپنے ہی بنائے نقوش کو بنا بنا کر مٹاتے اور ہر نئے نقش کو مکمل سمجھتے ہیں۔ پھر ہر نقش تازہ ایک تازہ تر نقش کا محتاج پایا جاتا ہے۔ اس اپاہج کا کیا حال، جو رقص کرنے والوں کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلتا، اپنی لنگڑی ٹانگ، ٹوٹے ہاتھ اور پھوٹی آنکھ کی خوبیوں پر دلیلیں لاتا ہے۔ اس بوڑھے سانپ کا کیا حال، جو اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کینچلی نہیں اتار سکتا اور دوسرے نوجوان سانپوں کو کینچلی بدلتے دیکھ کر ننگا اور بے شرم سمجھتا ہے

وہ جو ضیافت میں اکثر بن بلائے بھی قبل از وقت آتا ہے، خوب کھاتا ہے اور کھاتے کھاتے تھک کر معذور ہو جاتا ہے، اٹھ کر چلا جاتا ہے مگر کہتا یہ ہے کہ یہ ضیافتیں قباحتیں ہیں، یہ میزبان قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں جن کی ضیافتوں میں لوگوں کے معدے بھاری اور ہاضمے خراب ہو جاتے ہیں

میرا ذاتی المیہ درد انگیز بھی ہے جس نے میری زبان پر قفل ڈال دیئے، میرے ہاتھوں کو جکڑ دیا، میں اس حال میں زندہ ہوں کہ میرے پاس عزم ہے نہ عمل۔ یہ سچ مجھے ہضم نہیں ہوتا کہ میرے ملک کی بربادی، خاموش بربادی ہے۔ وہ گناہ جس کے نتیجے میں سانپ اور اژدھے جنم لیتے ہیں، اس بربادی کی یہ داستان وہ المیہ تمثیل ہے جس میں نغمہ ہے نہ منظر۔ اس کے باوجود میں خوش ہوں کہ جنہیں میں چاہتا ہوں وہ صلیب پر مارے گئے، وہ مہر بہ لب مارے گئے کہ اپنے دشمنوں سے بزدلوں کی طرح محبت اور اپنے چاہنے والوں سے منکروں کی طرح نفرت نہ کر سکے۔ وہ اس لئے مارے گئے کہ گناہ گار نہ تھے، وہ اس لئے مارے گئے کہ انہوں نے ظالموں تک پر ظلم نہ کیا کہ وہ بلا کے صلح پسند تھے۔ اسی خاطر موت کی آغوش میں سو گئے۔ لیاقت علی خان کے مکے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر کا قتل اور پھر جمہوریت کا بہترین انتقام۔ نواز شریف کے بعد زرداری

یہ تاریخ اب نواز شریف اور زرداری کی کہانی تحریر کرے گی۔ واویلا گردی کے عادی اپنے شور و غوغا سے کان پڑی آواز سننے نہیں دیں گے، نواز شریف کا یہ شعر لوگوں کے سروں پر سے گزر جائے گا

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

دونوں رہنمائوں اور حریت و ترقی پسند دانشوروں کے بارے میں فیصلوں کی روشنی میں یہ تاریخ کہانی کو کیا موڑ دیتی ہے، بولنا تو درکنار بقول نواز شریف رو بھی نہ سکنے والوں کو تاریخ میں کیا مقام نصیب ہوتا ہے، وقت اس کا منصف بنے گا جیسا کہ وقت کی منصفانہ شمشیر ان پر بھی لٹک رہی ہے جنہیں واویلا گردی کی منحوس بلا پوری طرح نگل چکی ہے

تحریر ۔ محمد سعید اظہر
26 دسمبر 2018ء کو شائع ہوئی

ایں آلکسی بزور بازو نیست

نیرنگ خیال -

یوں توں جب ہم سست نہیں ہوتے تو تب ہم صرف سست ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کیجیے، کہ جب ہم اپنے تئیں آلکسی کی کئی سیڑھیاں دیکھ کر وہیں پر ہمت ہار جاتے ہیں کہ اب اس رتبے پر کون جائے۔ وہیں ہمیں احمد بھائی کی کوئی ایسی حرکت نظر آتی ہے کہ ہم سوچتے رہ جاتے ہیں میاں۔۔۔ جس رتبہ پر یہ حضرت ہیں، بخدا میں زندگی بھر صرف سویا رہوں تو تب بھی نہیں پہنچ سکتا۔ "ایں آلکسی بزور بازو نیست"۔ احمد بھائی کی کوچہ آلکساں سے والہانہ محبت تو دیکھیے۔ کہ شاعری میں بھی گردوپیش سے بےخبر نہیں۔ فرماتے ہیں۔ فسانہ پڑھتے پڑھتے اپنے آپ سے اُلجھ گیا عجیب کشمکش تھی میں کتاب رکھ کے سو گیا 
اے ساکنانِ کوچہ! اے منتظمین آلکسی! اے وکلاء پوستیان! دیکھو! ایک نظر ادھر تو دیکھو! ہائے۔ کبھی جو مدت بعد کتاب پڑھنے کی کوشش کی، تو دیکھیے کہ کیا بنی۔ یوں تو ہم ایسے علم کا دعوا نہیں کرتے کہ حضرت نے کون سی کتاب پڑھی ہوگی۔ مگر مصرعہ ثانی سے ظاہر ہے کہ کچھوے اور خرگوش کی کہانی ہوگی۔ اور چونکہ سخن میں حضور کی برق رفتاری کی ایک دنیا معترف ہے سو یقینی طور پر خود کو خرگوش ہی دیکھا ہوگا۔ میں نے اس شعر کو کئی بار پڑھا۔ اور سخن کی وسعت دیکھیے کہ ہر بار مجھ پر اس شعر کے نئے معانی کھلے۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاعر موضوع میں بھٹک گیا ہے۔ اور فسانہ اپنے گردوپیش کا فسانہ لگ رہا ہے۔ ایسی بیزاری روزانہ کے فسانوں پر ہی ہوتی ہے۔ جیسے کوئی آدھی بات روک کر کہے۔۔۔ اوہ یار یہ مجھے پتا ہے۔ کوئی اور بات کرو۔ اور سونے سے بہتر بات کیا ہو سکتی ہے۔ پھر مجھے لگا کہ شاعر چونکہ ہمارا دوست ہے سو ہو سکتا ہے کہ وہ کسی صفحے پر الجھ گیا ہو کہ یہ میں پہلے پڑھ چکا ہوں یا ابھی پڑھنا باقی ہے۔ جب دل و ذہن میں یہ فیصلہ کسی انجام کو نہ پہنچ سکا اور بات تکرار سے دل و ذہن میں ہاتھا پائی کا اندیشہ ہوا تو شاعر نے کہا۔ چھوڑو یار۔ کیوں لڑتے ہو۔ آؤ! بحر خواب میں ایک غوطہ زن ہوتے ہیں۔ وہی لاشعور میں فیصلہ ہوگا کہ یہ صفحہ پڑھا ہے یا نہیں۔ اور پھر جب میں خود اس نتیجے پر پہنچا تو پہلو بدل کر رہ گیا۔ اللہ اللہ۔ ایسی تاثیر۔
از قلم نیرنگ خیال7 جنوری 2019

الله کا نام

افتخار اجمل بھوپال -

الله کا نام بہت زیادہ لیا جائے یا کم، اپنا اثر ضرور رکھتا ہے
دنیا میں بعض اشیاء ایسی ہیں کہ ان کا نام لینے سے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے
پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے اُس خالقِ کائنات کا نام ” الله “ لیا جائے اور اس میں اثر نہ ہو
خود خالی نام میں بھی برکت ہے

قدرت الله شہاب

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

Nostalgia, Scream and Flower -


ماضی کے کچھ نقوش تخیل کے تاروں کو جب چھیڑتے ہیں تو یادیں کسی مون سون کی بارش کی طرح آپ کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لےلیتی ہیں۔ ماضی کے تار جب بجنے لگتے ہیں تو یادوں کے ساز قطار اندر قطار نکلتے اوربکھرتے جاتے ہیں ۔کچھ ایسا ہی ہوا جب کمالیہ سے جڑی یادوں پر مشتمل ایک تحریر پڑھنے کو ملی۔جب پہلی بار چیچہ وطنی کمالیہ روڈ از سر نو تعمیر ہوئی تو ارد گرد کی عمارتیں کافی نیچی رہ گئی تھیں اور سڑک کے کنارے ابھی زیادہ مضبوط نہیں تھے اس لیئے آئے دن گاڑیوں کے الٹنے کی خبریں سننے کو ملتی تھیں ۔ ایک دن ایک بس  ہائی سکول نمبر ایک کے سامنے الٹ گئی۔اگرچہ کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا۔لیکنامدادی کاروائیوں میں ہائی سکول کے طلبا نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ ۔بریک ٹائم میں ہم بھی تجسس کے مارے الٹی ہوئی بس کو دیکھنے چلےگئے اور واپسی پر نارمل سکول کی دیوار کے ساتھ ایک ضعیف بابا جی کو ایک بڑی سی پرات میں چنے لیکر بیٹھے دیکھا ۔ اور اس کے گرد طالبعلموں کاہجوم تھا ۔ چنے بیچنے والے اس بابا جی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی لیکن بعد میں ان کی محنت اور مستقل مزاجی کی بہت کہانیاں سنیں کہ اسی کمائی سے اس نے نے حج بھی کیا تھا۔
میں  نےاپنی تعلیمی آنکھ نارمل سکول میں کھولی اور میرا نارمل سکول سے جڑا ناسٹیلجیا آج بھی  ترو تازہ ہے۔ عثمانی صاحب کا صبح کادرس قرآن۔ ہیڈماسٹر  محمد اسحاق صاحب کا لندن سے بائی پاس آپریشن کے بعد واپسی پر شاندار استقبال اور ان کا باغبانی کا شوق اور پھلواریوں سے سکول کی سجاوٹ۔ ٹریننگ کیلئے آئے اساتذہ کا سالانہ سکاؤٹ میلہ ۔اور ٹریننگ اساتذہ کا نت نئے انداز سے پڑھانے کے طریقے۔ ولید صاحب عطا محمد صاحب رشید صاحب عبدلمجید صاحب عثمانی صاحب سلیم صاحب گلزار صاحب کی شخصیت  میرے  ذہن پر ایسے نقش ہے کہ ان کا خیال آتے ہیں نگاہیں احترام سے آج بھی جھک جاتی ہیں ۔اساتذہ کا ذکر جو ہوا تو  چھٹی یا ساتویں جماعت کا ایک قصہ یاد آگیا ۔ایک نیا لڑکا کلاس میں  داخل ہوا جس نے جلد ہی میرے ساتھ دوستی بنا لی اور دوستی بڑھی تو  اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنا شروع کردیا۔ایک دن عبدلاحفیظ طاہر صاحب اللہ ان کوغریق رحمت کرے ، عربی کی کلاس لینے  بعد مجھے بریک ٹائم میں ملنے کو کہا۔ ملنے گیا تو ایک جملہ بولا میں دوبارہ تمہیں اس لڑکے کے ساتھ نہ دیکھوں ۔اور میں تھا کہ اس کی وجہ پوچھنے کا حوصلہ پیدا نہ کرسکا۔ بستہ اٹھایا اور واپس اپنی جگہ پر منتقل ہوگیا۔ وقت گزرنے پر دیکھا کہ اس لڑکے نے بہت سے اچھے لڑکوں کو آوارہ گردی کی راہ پر ڈال کر ان کا تعلیمی کیئرئیر برباد کیا۔بارہ ربیع الالول کے حوالے سے کمیٹی کے زیراہتمام ایک تقریری مقابلہ ہوا تھا تھا جس میں شرکت کیلئے سلیم صاحب نے بڑے بھائی کو تیاری کروائی ۔اور انہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور شائد انعام میں بیس یا پچاس روپے حاصل کیئے ۔ کمیٹی باغ چوک میں ایک ہوٹل ہوتا تھا، جہلم ہوٹل نام تھا شائد اس کا۔ جہاں سے پولکا آئس کریم ملتی تھی اور بھائی نے ان پیسوں سے زندگی کی پہلی آئسکریم بار کھلائی جو شائد اڑھائی روپے میں ملی تھی۔پولکا آئسکریم بعد میں دھلی چوک میں واقع مدینہ ہوٹل سے بھی ملنا شروع ہوگئی تھی۔ ۔لیکن ابھی آئسکریم صرف عید پر یا کسی خاص موقع پر ہی کھانے کا رواج تھا۔ورنہ تو قلفی ہی خاص و عام میں مشہور  تھی ۔ گرمیوں کی دوپہر کو جب کھوئے والی قلفی کی آواز کانوں میں پڑتی تھی تو قدم بے ساختہ  گلی کے طرف نکل جاتے تھے۔سلطان مارکیٹ کے سامنے سرنٹی والا گرمیوں میں اپنے فالودے کیلئے بھی کافی مشہور تھا ۔کمالیہ کی پہچان کھدر ہے ۔ایک وقت تھاا کہ لگ بھگ ہر گلی محلے میں کھڈیوں کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں ۔ اور ان کی وجہ شام کو وولٹیج کے مسائل اس قدر ہوتے تھے کہ ٹیوب لائٹس چلنے سے انکاری ہوجاتی تھیں کیونکہ ابھی تک سٹارٹر کے بغیر ٹیوب لائٹ کا نام کسی نے نہیں سنا تھا  اور تمام گرمیاں بلب کی زرد روشنی میں گزارنے پر مجبور ہوتے تھے اورجن علاقوں میں کھڈیاں ہوتی تھیں ان میں لوڈ شیڈنگ بھی زیادہ ہوتی تھی۔ شائد کسی کو یاد ہوتو کمالیہ کچے برتنوں کی بھی ایک اہم مارکیٹ رھا ہے اور مٹی سے بنے ان برتنوں کو پکانے کیلئے شہر کے ارد گرد بہت بھٹیاں لگی ہوئی تھیں ۔ سردیوں میں ٹھنڈک کی وجہ سے دھواں ہوا میں بکھرنے کی بجائے شہر کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیتا تھا اور  ایک طرح کی سموگ سردیوں میں شہر کو اپنی گرفت میں لےلیتی تھیں جس کا احساس شام کے بعد زیادہ ہوتا تھا۔سلیم رفوگر سے تعلق اس وقت بنا تھا جب اس سے بچوں کا رسالہ، نونہال ،آنکھ مچولی، مسٹری میگزین خریدنا شروع کیا تھا...سیدھا اور بھلا مانس انسان تھا...اس کی سادہ لوحی کی ایک بات یاد آگئی کہ نونہال نے جولائی میں سالانہ نمبر نکالا تو اخبار میں  بھی اشتہار شائع کیا اور ٹی وی پر بھی...جس کی وجہ سے وہ جتنے شمارے منگواتا تھا تو وہ ایک ہی دن میں بک گئے اور بہت زیادہ ڈیمانڈ کی وجہ سے اسے مزید منگوانے پڑے...اگلے مہینے اس نے پہلے سے زیادہ شمارے منگوا لیئے لیکن وہ معمول کا شمارہ تھا اور بک نہ سکا..اور جب میں اس سے لینے گیا تو اس نے مجھ سے اپنی حیرت کا اظہار کیا تو مجھے اس کی معصومیت پر بڑا پیار آیا تھا۔ پاکستان اور خبریں کے جمعہ ایڈیشن اور نوائے وقت کا ہفتہ وار میگزین فیملی اور اخبار جہاں اسی سے خریدا کرتے تھے ۔رفو گری میں تو تو کمال تھا ہی بلکہ اس کے بعد یہ ہنر دوبارہ کہیں دیکھنے کو نہیں ملااس کے سٹال کے کے سامنے کچھ آگے جب پہلی بار عمران بیکری نے اپنی بنیاد رکھی تو ایک بار اپنے ٹیسٹ اور معیار کی وجہ سے پورے شہر میں ہل چل مچا دی تھی کہ اب لاہور کی بیکریوں جیسا ٹیسٹ کمالیہ سے بھی ملنا شروع ہوگیا ہے۔کریم رول جیم رول پیسٹری ڈبل روٹی کا ذائقہ آج بھی یاد ہے ..عمران بیکری کے تقریبا سامنے محبوب سویٹس کی دکان تھی جس کو ہوش سنبھالنے سے دیکھتے چلے آرہے تھے اور شائد شہر کی مٹھائی کی قدیم ترین دکانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے...اپنے مخصوص انداز اور رکھ رکھائو کے سبب محبوب سویٹس کی یاد ذہن سے کبھی محو نہیں ہوسکی۔ جس دن مجھے معلوم ہوا سییپریٹ چائے سرو کی جاتی ہے تو ایک کزن کے ہمراہ پہلی بار سٹی ٹاپ کے اندر جانے کا اتفاق ہوا. جاوید صاحب ابو کی وجہ سے اور شاہد محمود رامے صاحب کی وجہ سے شائد اور میں ان کو اقبال بک ڈپو کے حوالے سے جانتا تھا جہاں سے رسالوں کے پرانے شمارے آدھی قیمت پر مل جایا کرتے تھے ، اپنے کائوئنٹر سے اٹھ کر ٹیبل پر آگئے .. باتوں کے دوران ان کے وسیع علمی وادبی کینوس سے شناسائی ہوئی تو ہمیشہ کیلئے تعلق بن گیا اور سٹی ٹاپ میرے لیئے پاک ٹی ہائوس کا درجہ اختیار کرگیا۔دوران تعلیم جب بھی کمالیہ آنا ہوتا تو رات کو دیر تک محفل برپا رہتی۔ ٹکٹ گھر سے بلند ہونے والی گھنٹیوں کی آواز اور سٹیشن کی طرف بڑھتی ٹرین کی گرج دھمک اور سٹیشن پر گاڑی کی آواز سن کر لوگوں کی افراتفری اور سامان کو ٹرین کے قریب لیجانے کیلئے ٹھیلوں کے لوہے کے پہیوں کے سیمنٹ والے فرش سے ٹکرا کر بلند ہوتی اپنی طرف متوجہ کرتی آوازیں ۔اور ٹرین کے گزر جانے کے بعد سٹیشن پر چھا جانے والا گہرا سکوت ۔۔ٹرین کے گزر جانے کے بعد کینٹین سے مٹی کے تیل سے چلنے والے سٹو کی تیز آواز پر ابلتی چائے کی بکھری خوشبو اور مٹی سے بنے چولہے پر رکھی کڑاھی میں پکتے پکوڑوں کی خوشبو، جو پہلے لوگوں کے شور سے توجہ کھو چکی ہوتی ہے ایک دم سے اپنی موجودگی کااحساس  دوبارہ سےدلانے لگتی ہےکمالیہ شہر کا ریلوے سٹیشن شائد بہت سے لوگوں کی طرح میری بھی بچپن کی یادوں کا حصہ رھا ہے ۔لیکن سٹیشن کا حسن صرف ٹرین یا سٹیشن کے ہجوم کے ساتھ ہی نہیں تھا بلکہ شہر سے الگ تھلگ جگہ پر ہونے کی وجہ سے اس پر گہری خاموشی اور اداسی کا ماحول طاری رہتا ہے۔ ناسٹلجیا کو بہلانے کیلئے شائد اس سے بہتر جگہ کمالیہ شہر میں موجود نہیں ہے۔ سٹیشن کے بنچ پر بیٹھ کر دور سے کسی کھیت میں ہل چلاتے ٹریکٹر سے اٹھتی ہوا کے ساتھ منتشر ہوتی موسیقی ، سڑک سے گزرتے خاموشی کو چیڑتی تانگے کے سموں کی چاپ، پرندوں کی آپس میں اٹھکیلیاں اور درختوں کے پتوں سے سنسناہٹ پیدا کرتی ہوا کی گونج سے گیان پانے کیلئے کسی وجدان کی ضرورت نہیںنارمل سکول میں پھلواریوں والی سائیڈپر مسجد کی دوسری طرف ایک تالاب ہوا کرتا تھا جو باغیچوں کو پانی دینے کے کام آتا تھا لیکن طالب علموں کیلئے وہ ناصرف تختیاں دھونے کے کام آتا تھا بلکہ ان کی تفریح و طبع کا بھی ایک ذریعہ تھا۔ پانی کی سطح پر تختی کو کھینچ کر اس طرح مارنا کہ وہ کشتی کی طرح بہتی دوسرے کنارے کو جالگتی اور اس دوران دوسرے بچے اپنی تختیاں پھینک کر اس کو دوسرے کنارے پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرتے۔کھیل کھیل کے دوران کئی دفعہ تختیاں ٹوٹ بھی جاتی تھیں.تختیاں دھو کر ان کو گاچی لگا کر ہوا میں سکھانا اور ساتھ ساتھ ماہیئے پڑھنے کا مقابلہ اور جس کی تختی پہلے سوکھ جاتی وہ فاتح ٹھہرتاگرلز نارمل سکول کی بیرونی دیوار کے ساتھ ٹانگوں کا اڈا ہوا کرتا تھا .چھٹیوں میں جب ننہیال جانا ہوتا تو سٹیشن جانے کیلئے پہلے اس اڈے پہنچنا پڑتا تھا پھر تانگے.والے سے ریٹ طے کرکے اسے گھر لایا جاتا تھا۔سٹیشن.جانے کے رستے اگرچہ بہت تنگ تو نہ تھے لیکن پھر تانگہ کافی سست روی سے فاصلہ طے کرتا تھا لیکن جونہی آبادی سے نکلتا تو فراٹے بڑھنے لگتا ۔تانگے کی سواری میں جو مزہ اور لطف  تھا وہ شائد ہماری نئی نسل کبھی محسوس نہ کرسکے۔ گھوڑے کے سموں کے سڑک سے ٹکڑاکر اٹھنے والی آواز سے پیدا ہونے والا راگ۔ منظر پرستی ۔۔تخیل پرستی ۔۔یہ راگ زندگی کا راگ تھا  پریشر ککرکے اوپر رکھا وزن سیٹی بجاتا، لٹو کی طرح اس قدر تیز گھومتا تھا کہ مجھے ہمیشہ اندیشہ لگا رہتا کہ یہ گھومتا گھومتا ہوا میں اڑ جائے گا۔گھنٹہ گھر کے پاس مٹھو ہوٹل ہوا کرتا تھا.جس کی کھانے دیگچیاں ایک سائیڈ پر دھری ہوتی تھیں اور سامنے دو تین چولہے ہوتے تھے جس پر تازہ کڑاھی بنائی جاتی تھی.گوشت کو جلدی گلانے کیلئے پہلے اسے پیاز لہسن.نمک.ڈال کر پریشر ککر میں رکھ کر تیز آنچ پر  وزن کو نچایا جاتا تھا۔ اور یہ منظر جب کبھی روٹیاں لینے کیلئے اس ہوٹل پر رکتا تو دیکھنے کو ملتا تھا ۔دکان کے اندر ایک سائیڈ پر سیمنٹ کا بنا ایک شیلف ہوتا تھا جس میں پیاز کاٹ کر ڈالا ہوتا تھا اور گاہک کو کھانا پیش کرتے وقت ہاتھ سے نکال کر ایک پلیٹ میں ڈال کر ساتھ پیش کیا جاتا .سردیوں میں پیاز کے ساتھ مولیاں گاجریں بھی نظر آجایا کرتی تھیں

کچھ آگہی کی سبیلیں بھی، ہیں انتشار میں

نیرنگ خیال -

کچھ آگہی کی سبیلیں بھی، ہیں انتشار میںعمر رسیدہ اور جہاندیدہ لوگوں کی باتیں سن کر میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ ان سب کو مصنف ہونا چاہیے۔ کتنا اچھا بولتے ہیں۔ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس خیالات و الفاظ کی کتنی فراوانی ہے۔ کتنی سہولت سے یہ واقعات بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ مجھے تو جو دو چار لفظ آتے ہیں، فوراً سے پیشتر نوک قلم کے حوالے کر دیتا ہوں۔ دنیا چیختی رہتی ہے کہ یہ زبان و بیان درست نہیں۔ میاں لکھنے کا یہ انداز درست نہیں۔ تم کب لکھنا سیکھو گے؟ لیکن میں سب سے بےپروا جو الٹا سیدھا دل میں آتا ہے لکھتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں۔لیکن ہر گزرتا دن مجھے چپ رہنا سکھانے لگا ہے۔ میں چاہ کر بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں سوچ کر بھی نہیں بول پاتا۔ میرے الفاظ کے آگے خندق اور میری سوچ کے آگے خلا پیدا ہوگیا ہے۔ نیا سال پرانا سال۔۔۔ نئے دن پرانے دن۔۔۔ نئی باتیں پرانی باتیں۔۔۔ سب کتنا بےمعنی ہے۔ سب کتنا مبہم ہے۔ کوئی بات ، کوئی لمحہ، کوئی دن واضح نہیں ہے۔ کسی لفظ میں اثر نہیں ہے۔ کسی بات میں زندگی کی رمق نہیں ہے۔ میں جی رہا ہوں اس لیے کہ ربِ کائنات کی یہی رضا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کیوں کہ کاتبِ تقدیر نے یہ لکھا ہے۔ خاموشی۔۔۔ سردی۔۔۔ پھر سر اٹھاتی بہار۔۔۔ گرماتے ہوئے دن۔۔ مختصر راتیں۔۔۔ پھر خزاں ۔۔۔ اور آخر میں سرد راتیں۔۔ خاموشی۔۔۔۔۔ غور سے دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ سال بھی انسانی زندگی گزار رہاہے۔ کسی سرد رات میں کہرے کے پیچھے چھپ کر آخری ہچکی لے گا اور ختم ہوجائے گا۔ اسی سرد رات کی کوکھ سے ایک نیا سال ابھرے گا۔ جب آنکھیں کھولے گا تو بہار لائے گا۔ جوانی میں گرم ہوگا۔ ادھیڑ عمری میں خزاں کے رنگوں سے دل بہلائے گا۔ اور پھر سرد راتوں میں خاموش ہوتا ہوا اپنی آخری ساعت کا انتظار کرے گا۔ کتنی مماثلت ہے اس دورانیے کی انسان کی زندگی سے۔کتنی زندہ لگتی ہے یہ تخیلاتی تقسیم۔ جیسے یہی تو ہے سب کچھ۔ اور ہم۔۔۔ ہم تو ہیں نہیں۔ ہم کہاں ہیں۔ کس برس میں ہیں۔ بہار میں ہیں کہ خزاں میں۔۔۔۔ سرگرم ہیں کہ سرد راتوں کے رحم و کرم پر۔ کون جانے۔۔۔ انسان اور بدلتی رتوں میں یہی فرق رہ گیا ہے کہ انسان نے ظاہری پہناوے کو اندرونی خوبصورتی پر فوقیت دے دی ہے۔ شاید اسی ظاہری تصنع کی نمود اور برجستگی کی موت کا نام ارتقا ہے۔
فطرت کا ساتھ مجھے ہمیشہ سے بھلا لگتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جو میرے بکھرے حروف کو الفاظ کی شکل عطا کرتا ہے۔ یہ ہی وہ پانی ہے جس کی بدولت الفاظ جملوں کی فصل میں ڈھل جاتے ہیں۔ ذرا اس درخت کو دیکھو۔۔۔ میں ایک درخت سامنے کھڑا ہوں۔ بظاہر کتنا ہرابھرا۔۔۔ اور جڑیں دیکھو تو۔ دیمک چاٹ گئی ہے۔ تنا بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے۔ کسی لمحے یہ درخت گر جائےگا۔ لیکن شاید یہ بھی انسانوں سے متاثر ہوگیا ہے۔ جب تک زندہ ہے ہرا بھرا نظر آنا چاہتا ہے۔ میں اس لمحے میں یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ دھوکا درخت خود کو دے رہا ہے کہ دیکھنے والوں کو۔ میں اس دوراہے کا بھی شکار ہوں کہ دھوکا دہی انسان سے فطرت سے سیکھی ہے یا اس کا خمیر ہے۔ اور یہ درخت کچھ خزاں رسیدہ پتوں کے ساتھ۔۔ کچھ سرخ پتے ہیں اس کے اور کچھ ہرے بھی۔ کتنے بھلے رنگ ہیں اس کے۔ پر یہ پتے سرخ کیوں ہیں۔ کیا درختوں پر بھی جذباتی رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ کیا جذبات کے اظہار کا طریقہ تمام حیات میں فطری طور پر ایک سا ہے؟ اس میں تنوع کیوں نہیں؟
اور یہ پتھر سے پھوٹتا پانی۔ تو کیا ہم ساری عمر چشمے کے لیے کسی بیرونی ضرب کے منتظر رہیں گے؟ کیا ان تمام پتھروں سے پانی پھوٹ سکتا ہے؟ یا کوئی کوئی پتھر ہی پانی جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا انسان بھی اپنی صلاحیتوں کو دنیا پر آشکار کرنے کے لیے کسی ضرب کا منتظر رہے؟ کوئی واقعہ کوئی حادثہ ، بےاحتیاطی میں لگی ٹھوکر یا نادانستگی میں لگی کوئی ضرب؟ اور جو پھر بھی پانی نہ پھوٹا تو؟ پھر بھی زمین بنجر رہ گئی تو؟ شاخ پر پھول نہ کھلا تو؟ شاید ان سب سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ شاید ان سب سوالوں کا جواب "شاید" ہی ہے۔ اسی اضطراب میں ایک چھوٹا سا کنکر سامنے بہتے پانی میں پھینکتا ہوں۔ کچھ لہریں پیدا ہوتی کناروں کی طرف بڑھتی ہیں۔ پر جوں جوں اپنے مرکز سے دور ہوتی ہیں، مدہم ہوتی غائب ہونے لگتی ہیں۔ ایسے میں ایک لہر ختم ہونے سے پہلے سرگوشی کرتی ہے۔ نادان! ضرب تو ہر پل، ہر ماہ اور ہر سال لگ رہی ہے۔ گزرتے لمحے جو دنوں میں بدل رہے، دن جو ہفتوں سے مہینوں کا سفر کر رہے، مہینے جو سال کے لفافے میں لپٹ رہے، یہ سب ضربیں ہی تو ہیں۔ احساس پر۔ خیال پر۔ اگر پھر بھی ندامت آ نکھوں سے چشموں کی صورت نہیں بہہ رہی، اگر پھر بھی ذہن و دل کی زمیں پر نئی سوچ، نئے راستوں کے تعین کی فصل نہیں بیجی گئی، اگر پھر بھی شاخِ تخیل پر نئے عزم کے پھول نہیں کھل رہے۔ تو پھر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ضرب تو لگ رہی ہے مگر یہ پتھر کسی چشمے کا ماخذ بننے کا اہل نہیں۔ یہ مٹی بنجر ہے، فصل کا بار نہیں اٹھا سکتی۔ یہ شاخ اپنی اصل سے جدا ہوگئی ہے۔ سال بھی کتنی عجیب چیز ہے۔ دیکھا جائے تو ان لمحوں کا مجموعہ ہے جو کسی شمار میں نہیں۔ ان دنوں کا گوشوارہ ہے جن کا احتساب نہیں۔ یوں ہی سورج کی طرح طلوع ہوتا ہے، یوں ہی سورج کی طرح غروب ہورہا ہے۔ اور میں بےبسی سے اس بوڑھے سال کو دفناتے اس نومولود سال کا شور سن رہا ہوں۔ جبکہ میرے پاس کسی بوڑھے کا خوبصورت بیان نہیں ۔ کسی داستان گو کی زبان نہیں ۔ اس پر ستم یہ کہ محشر بدایونی کا یہ شعر مجھے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔کچھ آگہی کی سبیلیں ہیں، انتشار میں بھی کبھی کبھی نکل آیا کرو ، غبار میں بھی
از قلم نیرنگ خیالخودکلامی یکم جنوری 2019

مشین پور – اپنا دل ڈھونڈتے اک روبوٹ کی داستان

بلاگ اے -

مشین پور کو میں صرف ایک ویڈیو نہیں کہوں گا، یہ اک دل کا دوسرے دلوں کو ایک پیغام پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن ہاں اگر کہانی کی طرح دیکھا جائے تو ایک مشینی دنیا کا ایک روبوٹ جو پھر روبوٹ نہیں رہتا اور نکل پڑتا ہے اپنے اندر کی تلاش میں۔ مشین پور …

جاری رکھئیے پڑھنا مشین پور – اپنا دل ڈھونڈتے اک روبوٹ کی داستان

"۔پہلا بچہ"

نورین تبسم (کائنات ِتخیل) -

 اپنے اپنے ماحول میں،اپنے اپنے انداز سے  عمر کے ابتدائی سال طے کرنے والے مرد اور عورت معاہدۂ نکاح کے ذریعے  شادی کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں۔جذبوں اور خواہشوں کے درِیار پرپلکوں سےدستک دیتے جب آنکھ کھلتی ہے تو  آگہی کا اُجالا ہر احساس کی قلعی  کھول دیتا ہے۔باہمی محبت سمجھوتے کا لباس پہنتے دیر نہیں لگاتی تو  کہیں سمجھوتے کے گلیشئیر محبت کی  تپش سے دھیرے دھیرے پگھلنے لگتے ہیں۔شادی   ہردو افراد کے لیے "زندگی" کا ایسا "ٹرننگ پوائنٹ " ہے جو  نہ صرف جسمانی کیمسٹری یکسر تبدیل  کر دیتا ہے  بلکہ انسان ذہنی اعتبار سے بھی کئی منازل پھلانگ جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھتے سمجھاتے، شادی کے اس بندھن کا ٹر ننگ پوائنٹ" پہلا بچہ" ہے۔ پہلا بچہ وہ سوال وہ کردار ہے جو اگر اپنی موجودگی کے احساس سےکئی  سوالوں کا جواب بنتا ہے تو اس کی غیرموجودگی  بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ پہلا بچہ عام حالات میں  اگر ایک نعمت گردانا جاتا ہے تو کئی  مرتبہ ایک ایسی زنجیر یا ہتھکڑی بن جاتا ہے جس سے چاہ کر بھی فرار ممکن نظر نہیں آتا۔ کبھی یہ کمزور پڑتے رشتوں کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو کہیں گلے کا ایسا طوق،جو زندگی کی ساری خوشیوں کے  در بند کر کے بس  اپنے حصار میں جکڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جو بھی ہو پہلے بچے کی آمد اگر خوشخبری کے زمرے میں آتی ہے تو اس "خوشخبری" کا نا ملنا   رشتوں اور تعلقات میں ان کہی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔ بسا اوقات ایسی جامد خاموشی روح میں اترتی ہے کہ انسان اپنی ہی پکار سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔یہاں نہ صرف عورت کو  قصوروار کردانا جاتا ہے بلکہ عورت  ہی دوسری عورت کے حق میں زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔اعتراض کرنے میںعام طور پر وہ خواتین پیش پیش ہوتی ہیں  جن کے اپنی اولاد نہیں ہوئی یا کئی سالوں بعد اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہو۔حق تو یہ ہے کہ شادی اگر مرد اور عورت کا نجی معاملہ ہے تو بچے کا ہونا یا نا ہونا بھی ہر دو کا سراسر ذاتی  فیصلہ یا  مسئلہ ہوتا ہے۔اس بارے میں ان دو کے علاوہ کسی تیسرے کو رائے تو کیا سوال پوچھنے کا بھی اختیار ہرگز نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ ان کے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔
 خیر پہلے بچے کی "خوشخبری" خواہ شادی کے چند ماہ بعد سنائی دے یا چند سالوں بعد،اصل مرحلہ عافیت کے ساتھ  اس   امید کا پایۂ تکمیل تک   پہنچنا ہے۔بقول  منیرنیازی 
ایک اور دریا کا سامنا تھا  منیرمجھ  کو 
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بلاگ یقینِ زندگی(1) سے اقتباس۔
پہلا بچہ اپنے رویوں اور احساسات میں بھی اول ہی ہوتا ہے۔گھر میں اس کا وجود محبتوں کی کُل کائنات سمیٹتا ہے جب تک کے اُس کا دوسرا بہن بھائی نہ آ جائے۔پھر اُس کی زندگی یکدم تین سوساٹھ درجے کے زاویے پر مڑ جاتی ہے۔یا تو وہ سمجھوتے کر کے اپنے سب اختیار سب خواہشیں خاموشی سے بانٹ دیتا ہے اور یا پھر ہمیشہ اپنی بڑائی کے حصار سے باہر نہیں آ پاتا۔ اس میں شک نہیں کہ اپنوں کے دل میں اُس کا خاص احساس ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے جو وقت کے ساتھ چاہے گھٹتا بڑھتا رہے لیکن اس سے ملنے والی خوشی اگر منفرد ہوتی ہے تو اس سے ملنے والے غم بھی دل زخمی کر دیتے ہیں۔ پہلے بچے کی سب سے خاص بات جو بسااوقات اس کی کمزوری یا کسک بھی بن جاتی ہے کہ اُسے مانگنا نہیں آتا۔عمر کے پہلے سال کا یہ احساس ایک جینیٹک کوڈ کی مانند اس کے ذہن میں ٹھہر جاتا ہے چاہے اگلے برس ہی اس کا شراکت دار آ جائے۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - اردو بلاگ