اردو بلاگ

دعویٰ اور عمل

افتخار اجمل بھوپال -

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہ کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

جون ایلیا کی دو خوبصورت غزلیں

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -

غزل
زخمِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کُوچ کر گیا کب کا

دکھ کا لمحہ ازل ابد لمحہ
وقت کے پار اتر گیا کب کا

اپنا منہ اب تو مت دکھاؤ مجھے
ناصحو، میں سُدھر گیا کب کا

نشہ ہونے کا بےطرح تھا کبھی
پر وہ ظالم اتر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟
دل میری جاں، مر گیا کب کا

*****
اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں

کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں

میں جُرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھُپا گیا ہوں

میں اور فقط اسی کی تلاش
اخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں

رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں

اے شخص! میں تیری جستجو میں
بےزار نہیں ہوں، تھک گیا ہوں
 جون ایلیا

ہم اور ہم ہی ہم

افتخار اجمل بھوپال -

ہم حُکمرانوں پر نُکتہ چِینی کرتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ سیاستدانوں پر نُکتہ چِینی کرتے ہیں
ہم سرکاری ملازمِین پر بھی نُکتہ چِینی کرتے ہیں
ہم ہر دوسرے آدمی میں غلطیاں نکاتے ہیں
مگر اِنجیل میں لکھے ” تُمہیں دوسرے کی آنکھ کا تِنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا “ کے مِصداق اپنے نقائص پر کبھی نظر نہیں ڈالتے
میں آج صرف ایک شاخ کا ذکر کروں گا ”ہمارا کردار سڑک پر“۔
میں اپنی گاڑی میں سوار جب سڑک پر پہنچتا ہوں تو ”روز ہوتا ہے اِک تماشہ میرے آگے“۔

میری کمزور سمجھ لیجئے یا احتیاط یا تربیت کہ میں ڈرائیونگ کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے گاڑی چلاتا ہوں ۔ یہ صرف اتفاق تھا کہ میں نے ڈرائیونگ 1967ء جرمنی کے شمال مغربی شہر Desseldorf میں ڈرائیونگ باقائدہ طور پر سیکھی ۔ اِس کے بعد میں نے پاکستان میں کبھی کبھی گاڑی چلائی پھر طرابلس (لبیا) میں ساڑھے 6 سال (مئی 1976ء تا جنوری 1983ء) خُوب گاڑی چلائی ۔ اِس کے بعد سے پاکستان میں خُوب گاڑی چلاتا رہا ہوں ۔ جون 1999ء میں نیو جرسی (امریکہ) میں بھی گاڑی چلانے کا موقعہ ملا ۔ گو میں نے دساور کے مقابلہ میں پاکستان میں کافی زیادہ عرصہ گاڑی چلائی ہے لیکن میں اپنے آپ کو وطنی ٹریفک کے مطابق نہیں ڈھال سکا

سڑک پر جو کچھ میں روزانہ دیکھتا ہوں اُس کا خُلاصہ یہ ہے ۔ میں بات ٹیکسی ڈرائیوروں کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے خواتین و حضرات کی کر رہا ہوں جو بہترین لباس میں ملبوس قیمتی گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں

جب گاڑیاں زیادہ ہوں تو زیادہ ترلوگوں میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آگے نکل جائے لیکن جب گاڑیاں کم ہو جائیں تو وہی ڈرائیور ایسے گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں جیسے اُن کے پاس بہت وقت ہے جسے گزارنا ہے ۔ اگر پھر گاڑیاں زیادہ ہو جائیں تو وہ مزے مزے سے جانے والے خواتین وحضرات جوش میں آ کر پہلے کی طرح دوڑیں لگانے لگتے ہیں ۔ عام طور میں دیکھا گیا ہے کہ یہ گاڑیاں بھگانے والے منزلِ مقصودپر مجھ سے بعد ہی پہنچتے ہیں

کئی خواتین و حضرات مڑنے کے لئے اشارہ دینا ضروری خیال نہیں کرتے ۔ اِس پر طُرّہ یہ کہ آپ کے داہنی طرف ہوتے ہوئے آپ کے آگے سے گزر کر بائیں جانب مڑ جاتے ہیں یا بائیں طرف ہوتے ہوئے آپ کے آگے سے گزر کر داہنی طرف مڑ جاتے ہیں ۔ یہ عمل بالخصوص چوراہے (چوک یا چورنگی) پر دیکھنے میں آتا ہے جب کوئی صاحب یا صاحبہ اچانک بائیں طرف آخری قطار میں ہوتے ہیں 3 یا 4 قطاروں کے آگے سے گزرتے ہوئے داہنی طرف چلے جاتے ہیں ۔ یا اِس کا اُلٹ

بلا وجہ ہارن بجاتے رہنے کی عادت اکثر خواتین و حضرات میں پائی جاتی ہے خاص کر جب آگے کوئی گاڑی جا رہی ہو اور آگے والی گاڑی کے لئے ہان بجانے والی گاڑی کو راستہ دینا ممکن نہ ہو
اچھوتا واقعہ جو میرے ساتھ 2 بار پیش آ چکا ہے ۔ میں سڑک کی بالکل بائیں طرف آہستہ کار چلا رہا ہوں کیونکہ مجھے بائیں طرف مُڑنا ہے اورموڑ قریب ہے ۔ بائیں طرف مڑنے کا اشارہ ٹم ٹما رہا ہے ۔ مجھے پیچھے سے متواتر ہارن کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے داہنی طرف کافی پیچھے تک کوئی گاڑی نہیں ہے چنانچہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہارن کیوں بجایا جا رہا ہے ؟ پھر اچانک پیچھے والی کار میری داہنی طرف سے گزر کر سیدھی چلی جاتی ہے ۔ کار چلانے والی محترمہ میری داہنی طرف سے گزرتے ہوئے مجھے مکا دکھا جاتی ہیں ۔ اِس راز کا عُقدہ آج تک مُجھ پر افشاء نہیں ہوا
اِسی طرح ایک بار میں نے داہنی طرف مڑنا تھا ۔ موڑ قریب آنے پر میں نے داہنی طرف کا اشارہ on کر دیا پھر دیکھا کہ داہنی lane میں کافی پیچھے تک کوئی گاڑی نہیں تو داہنی lane میں چلاگیا ۔ 40 یا 45 سیکنڈ بعد پیچھے سے تیز آواز والے ہارن کی متواتر آواز شروع ہوئی ۔ پھر وہ گاڑی بڑی تیزی سے میری بائیں طرف سے ہوتی ہوئی اچانک میرے سامنے آکر کچھ دُور رُک گئی ۔ کار نئی بی ایم ڈبلیو تھی ۔ اسے چلانے والا قیمتی پوشاک میں ملبوس بڑی تیزی سے نکل کر میری طرف لپکا ۔ میں کار سے نکلنے ہی والا تھا کہ میرے پیچھے ایک High Bed Double Cab گاڑی آ کر رُکی اور اُس کا ڈرائیور بی ایم ڈبلیو والے کی سی تیزی سے باہر نکلا اور میری بائیں طرف سے گزرتے ہوئے مجھے رُکنے کا اشارہ کرتے ہوئے بی ایم ڈبلیو کے ڈرائیور کے قریب پہنچا اور بڑے رُعب سے اُسے گاڑی میں بیٹھ کر چلنے جانے کا اشارہ کیا ۔ جس پر بی ایم ڈبلیو والاچلا گیا ۔ کہا کیا میں نہیں سُن سکا ۔ بی ایم ڈبلیو والے نے شاید سمجھا تھا کہ میں کوئی بڑا افسر ہوں اور Double Cab میں Security Force ہے
اس طرح اللہ کریم نے مجھے بچا دیا ورنہ بی ایم ڈبلیو والا اپنی دولت کے نشہ میں ناجانے میری کیسی دُرگت بناتا

کئی ڈرائیور زبردستی اپنے بائیں یا داہنی طرف والی گاڑی کے آگے گھُس جاتے ہیں ۔ اور اُس بے چارے کو تیزی سے brake لگا کر اپنی گاڑی روکنا پڑتی ہے ۔ اسی طر ح ایک بار ایک صاحب نے بغیر اشارہ دیئے اچانک میرے سامنے زبردستی گھُستے ہوئے میری کار کی بائیں Head Light کی بائیں جانب dent ڈال دیا اور اشارہ والی لائیٹ توڑ دی ۔ اتفاق سے چند منٹ بعد ہم دونوں ایک ہی جگہ رُک گئے ۔ بجائے اس کے کہ میں اُن صاحب سے شکائت کرتا اُلٹا وہ مجھ پر برس پڑے اور فرمایا ” آپ کو ڈرائیونگ نہیں آتی ۔ آپ کی timing غلط ہے“ اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا ۔ لب و لہجہ مکمل کراچی والا تھا ۔ منہ سے پان کا تھوک بھی اُچھل رہا تھا
اُن کے چُپ ہونے پر میں نے کہا“ محترم ۔ میں فون کر کے ٹریفک سارجنٹ کو بلاتا ہوں ۔ وہ بتائے گا کہ کون غلطی پر تھا ۔ اس پر وہ کار بھگا کرچلے گئے جس سے معلوم ہوا کہ وہ مجھ پر غصہ نکالنے کے لئے رُکے تھے

مقابلہ

منیر عباسی (طفل مکتب) -

اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ پرانی اور نئی نسل کے معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی معیارات کا مقابلہ ہے جس میں نئی نسل کو ہر حال میں فتح حاصل ہوگی کیونکہ پرانی نسل کے پاس وقت نہیں بچا۔ Source

طفل مکتب کی تحریر کا یہ اقتباس آپ مکمل شکل میں وہیں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

زندگی دریا کی طرح ہے۔۔۔ جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔

کچھ دل سے -

Image result for riverزندگی دریا کی طرح ہے۔۔۔ جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔تحریر:   ڈاکٹر خالد سہیل 
ایک مشرقی محبوبہ کی طرح دھیرے دھیرے مجھ پر یہ راز بے نقاب ہوا کہ زندگی ایک دریا کی طرح ہے جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دریا کا ایک حصہ اگر بہنا بند کر دے تو وہ جوہڑ بن جاتا ہے جس میں پہلے کاہی جمتی ہے اور پھر اس سے بدبو آنے لگتی ہے۔
زندگی کے اس راز سے سب سے پہلے میرا تعارف میڈیکل کالج میں ہوا۔ جب میں جسمانی صحت اور بیمای کے راز سیکھ رہا تھا تو میں نے اساتذہ اور طب کی کتابوں سے یہ جانا کہ صحتمند انسان کے دل کی نالیوں میں خون ہر دم بہتا رہتا ہے۔ اگر وہ خون کی گردش رک جائے تو انسان کو ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے اور وہ مر بھی سکتا ہے۔ دل کی نالیوں کی طرح اگر جسم کے کسی اور حصے کی نالیاں بند ہو جائیں تو انسان کے جسم کا وہ عضو مفلوج ہو سکتا ہے اور مر بھی سکتا ہے۔
خون کی نالیوں کی طرح نظامِ انہضام کا بھی یہی عالم ہے۔ اگر ہماری آنتوں میں خوراک کی گردش رک جائے تو پہلے قبض ہوتا ہے اور پھر INTESTINAL OBSTRUCTION ہوتی ہے جس سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
خون کی نالیوں اور نظامِ انہضام کی طرح انسانی دماغ اور اعصاب کا بھی یہی عالم ہے۔ اگر اعصابی نظام میں برقی لہریں چلنی بند ہو جائیں تو انسان کے جسم کا کوئی حصہ بے حس بھی ہو سکتا اور مفلوج بھی۔
ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انسانی جسم کا ہر نظام دریا کی طرح بہتا رہے کیونکہ یہی جسمانی صحت کا راز ہے۔
جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت کا دارومدار بھی حرکت پر ہے۔ صحتمند انسان اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ جو ان کا اظہار نہیں کرتے وہ اکثر کڑھتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے کلینک میں ہم ان مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار زبانی یا تحریری طور پر کریں تا کہ ان کے جذبات اور خیالات کا دریا دوبارہ بہنا شروع کر دے اور وہ ایک صحتمند اور بامعنی زندگی گزار سکیں۔
جب زندگی کا دریا بہہ رہا ہوتا ہے تو لوگ اپنی چیزیں خوشی سے دوسروں سے شیر کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی دکھ اور سکھ‘ دولت اور طاقت میں شریک کرنے سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے لوک ورثہ کی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ دانائی کی بات جہاں بھی ملے میں اسے اپنے ذہن اور دل میں سنبھال رکھتا ہوں۔
ایک پادری نے خدا سے کہا کہ میں ہر ہفتے اپنی قوم کو جنت دوزخ کی کہانیاں سناتا رہتا ہوں لیکن میں نے کبھی جنت اور دوزخ دیکھے نہیں۔ اے خدا کیا میں دوزخ دیکھ سکتا ہوں؟ خدا نے پادری کی دعا قبول کی اور کہا کہ سیدھا جاؤ تمہیں بائیں طرف ایک دروازہ نطر آئے گا اسے کھولو اور اندر جاؤ وہاں تمہیں دوزخ نطر آئے گی۔ پادری نے حکم پر عمل کیا اور جب بائیبں دروازے سے داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا برتن ہے جس میں لذیذ کھانا ہے لیکن اس کے چاروں طرف جو مرد اور عورتیں بیٹھے ہیں وہ سب بھوکے اور غمزدہ ہیں۔ ان مردوں اور عورتوں میں کالے بھی ہیں گورے بھی مشرقی لوگ بھی ہیں اور مغربی بھی۔ جب اس پادری نے غور سے انہیں دیکھا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ لوگ بھوکے اور غمزدہ کیوں ہیں تو اسے یہ نظر آیا کہ انسانوں کے ہاتھوں میں چھ فٹ لمبے چمچ ہیں۔ وہ اس چمچ سے کھانا اٹھا تو لیتے ہیں لیکن اپنے آپ کو کھلا نہیں سکتے اسی لیے وہ سب بھوکے اور غمزدہ ہیں۔
پادری واپس آیا تو اس نے جنت دیکھنے کی دعا کی۔ خدا نے کہا کہ اس دفعہ سیدھا جاؤ اور تمہیں دائیں طرف ایک دروازہ نطر آئے گا اس دروازے سے داخل ہو تو تمہیں جنت نظر آئے گی۔ پادری بڑے شوق سے گیا۔ دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہے کہ اسی طرح کا بڑا برتن ہے اسی طرح کے ہر رنگ ’ نسل اور قوم کے مرد اور عورتیں ہیں اور ان کے ہاتھوں میں چھ فٹ کے چمچ ہیں لیکن وہ سب ہنس رہے ہیں اور خوشحال ہیں۔ پادری نے ان کی خوشی کا راز جاننے کی کوشش کی تو اسے اندازہ ہوا کہ ان لوگوں نے زندگی کا یہ راز جان لیا تھا کہ وہ چمچ سے کھانا اٹھا کر اپنے سامنے والے انسان کو کھلاتے تھے۔ گورے کالوں کو‘ مرد عورتوں کو اور مغربی لوگ مشرقی لوگوں کا۔
پادری جنت اور دوزخ کا راز جان کر بہت خوش ہوا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں انسان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں ایک راستہ جنگ اور تباہی کی طرف جاتا ہے دوسرا امن اور آشتی کی طرف۔ یا تو انسان اجتماعی خود کشی کر لیں گے یا ارتقا کی اگلی منزل کی طرف بڑھیں گے۔ ارتقا کی طرف جانے والے یہ راز جاتے ہیں کہ ہم سب انسان ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور ہم سب دھرتی کے باسی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ اور یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم یہ راز جان لیں کہ زندگی دریا کی طرح ہے جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔

دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 02 نومبر 2018

کچھ دل سے -

دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے  خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) 24 صفر 1440 بمطابق 02 نومبر 2018امام و خطیب: ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسمترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 24 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ "دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے" کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیاوی زندگی میں مشکلات لازمی جز ہیں، جبکہ پریشانیوں سے نجات تمام مخلوقات کی چاہت ہے، اور یہ شرح صدر کے بغیر ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ دلی سکون کے اسباب میں : ذات باری تعالی کی معرفت، اللہ تعالی پر مکمل توکل، حالت ایمان میں عمل صالح، تقدیر پر ایمان، صبر و شکر ، اللہ سے حسن ظن، قلبی راحت کی دعا، ذکر الہی، تلاوت قرآن، تسبیح، تحمید، نوافل کی ادائیگی، تقوی، نماز فجر کی پابندی، کتاب و سنت کا علم، خلقت کے ساتھ نیکی، للہیت سے بھر پور رفاہی کام، دوسروں کی غلطیوں سے چشم پوشی، اچھے لوگوں کی صحبت، اہل لوگوں سے مشورہ، قناعت، ماضی و استقبال کی بجائے حال پر توجہ، فراغت کے اوقات میں مثبت سرگرمیاں، گناہوں سے اجتناب اور دلی بیماریوں سے نجات شامل ہیں، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: مملکت حرمین شریفین پر اللہ تعالی کی لا تعداد نعمتیں ہیں، یہ ملک مسلمانوں کا قبلہ اور قلب ہے، اس ملک کے متعلق افواہوں اور اڑتی پھرتی خبروں پر کان مت دھریں، اس ملک کے دشمن جتنی کوشش کریں گے یہاں کے عوام اپنے حکمرانوں پر اعتماد اتنا ہی بڑھاتے جائیں گے، مسلمانوں کو چاہیے کہ مثبت سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں، آخر میں انہوں نے دعا کروائی۔
⇥ منتخب اقتباس ⇤
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللی علیہ وسلم- اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔
مسلمانو!
دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے، تنگی ترشی دنیا کی فطرت میں شامل ہے، یہاں انسان بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ}ہم نے انسان کو تکلیفیں برداشت کرتے رہنے والا پیدا کیا ہے۔ [البلد: 4] دنیا میں انسان کی زندگی مختصر ہوتی ہے، اور اس کا بھی وہی حصہ کام آتا ہے جو اچھا گزرے۔
قلبی سکون کا حصول جبکہ پریشانی اور غموں کا خاتمہ ہر انسان کی تمنا ہے، اگر ایسا ہو جائے تو خوشحال زندگی میسر آتی ہے۔
ساری مخلوقات خوشحالی کی چاہت رکھتی ہیں اور اس کے لیے کد و کاوش بھی کرتی ہیں، شرح صدر اور قلبی اطمینان خوشحالی کی بنیاد ہیں؛ اسی لیے جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لے تو اس کی شرح صدر فرما دیتا ہے ، اس سے بڑی نعمت بھی کوئی نہیں ہے۔ شرح صدر عظیم ترین نعمت اور اسباب ہدایت میں شامل ہے جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "شرح صدر جس طرح ہدایت کا سبب ہے اسی طرح یہ ہر نعمت اور بھلائی کی بنیاد بھی ہے"
اسی لیے جب موسی علیہ السلام کو فرعون کی جانب بھیجا گیا تو انہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالی سے شرح صدر ہی مانگی اور کہا: {قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي}انہوں نے کہا: میرے پروردگار! میری شرح صدر فرما دے۔ [طہ: 25] پھر نبی صلی اللی علیہ وسلم پر نعمتوں کے شمار میں اللہ تعالی نے اسی کو سب سے پہلے ذکر کیا اور فرمایا: {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ}کیا ہم نے تمہاری شرح صدر نہیں فرمائی؟! [الشرح: 1]
ایمان اور عمل صالح شرح صدر کے موجب بننے والے بنیادی اسباب میں شامل ہیں، ان سے قلب و بدن میں بہتری آتی ہے، ظاہر اور باطن بھی سنور جاتا ہے، ان دونوں کی بدولت اچھی زندگی اور دائمی سعادت حاصل ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً} کوئی مرد یا عورت ایمان کی حالت میں جو بھی نیک عمل کرے تو ہم اسے لازما بہترین زندگی میں رکھیں گے۔[النحل: 97]
اللہ تعالی سے محبت ،انابت اور لذت کے ساتھ عبادت کے ذریعے سب سے زیادہ شرح صدر ہوتی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر تم اپنے دل میں عبادت کی لذت اور شرح صدر نہ پاؤ تو اپنے آپ پر نظر ثانی کرو؛ کیونکہ اللہ تعالی انتہائی قدر دان ہے۔"
خوشحالی اور بدحالی لوگوں کی زندگی کے لازمی عناصر ہیں، ان سے راہ فرار کسی کو حاصل نہیں تو ایسے میں اللہ کے فیصلوں پر اطمینان عین سعادت مندی ہے، اس لیے خوشی ملے تو شکر اور تکلیف ملے تو صبر کرے، رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مومن کا معاملہ بہت تعجب خیز ہے کہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر والا ہوتا ہے، یہ امتیاز مومن کے علاوہ کسی کا نہیں، چنانچہ اگر مومن کو خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو یہ شکر اس کے لیے خیر بن جاتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو صبر اس کے لیے خیر بن جاتا ہے) مسلم
اللہ تعالی سے ملاقات اور اجر الہی پر یقین رکھنے والے کا دل بہتر سے بہترین کی تمنا رکھتا ہے، کوئی چیز نصیب میں نہ لکھی ہو تو غم نہیں کرتا بلکہ وعدہ شدہ چیزوں پر خوش رہتا ہے، اس طرح اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں
تمام معاملات کی باگ ڈور صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، وہ جیسے چاہتا ہے کہ دلوں کو ڈھال دیتا ہے: صحیح یا خراب، تنگ یا فراخ اور نیک بخت یا بد بخت بنا دیتا ہے۔ تو جس ذات کے ہاتھ میں یہ سب کچھ ہے اسی پر توکل کرنا اور سب کچھ اسی کے سپرد کرنا شرعی طور پر واجب ہے، بلکہ یہ دنیا کی جنت ہے، فرمان باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} اور جو اللہ پر توکل کرے تو اللہ ہی اسے کافی ہے۔ [الطلاق: 3] لوگوں کا رزق اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، کوئی بھی جاندار اپنا رزق پورا حاصل کیے بغیر نہ مرے گا، اس لیے اللہ تعالی نے جو تمہارے لیے لکھ دیا ہے اس سے راضی رہو، اگر کوئی چیز تمہیں نصیب نہ ہو تو اس پر غم نہ کرو۔
قلبی راحت اور سکون کے متلاشی کو رب کریم کا دروازہ زیادہ سے زیادہ کھٹکھٹانا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی دعائیں کرنے والے کے قریب ہوتا ہے اور اللہ سے امید لگانے والا نامراد نہیں ہوتا، دعاؤں سے دنیا و آخرت کے سب امور سنور سکتے ہیں، نبی صلی اللی علیہ وسلم کی ایک دعا ہے: (اَللهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ [ترجمہ: اے اللہ! میرے دین کو درست کر دے، جو میرے ہر کام کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور میری دنیا کو درست کر دے اس میں میرا معاش ہے اور میری آخرت کو درست کر دے وہیں پر میں نے لوٹنا ہے اور میری زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا سبب بنا دے اور میری وفات کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنا دے۔])
قلبی راحت اور سکون کے لیے ذکر کی تاثیر بھی بہت عمدہ ہے، ذکر سے پریشانیاں اور غم دھل جاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، توجہ کریں! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔ [الرعد: 28] رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم پریشانی کے وقت فرمایا کرتے تھے: (لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ۔[ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں جو صاحب عظمت اور بردباد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا مالک ہے۔]) بخاری
قرآن کریم افضل ترین ذکر ہے، اللہ کا کلام رہنمائی اور شفا پر مشتمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت اور سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا آ گئی ہے، یہ مومنین کے لیے رہنمائی اور رحمت بھی ہے۔[يونس: 57] چنانچہ قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس پر عمل کرنے والے لوگ راحت اور سعادت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {طه (1) مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} طہ، ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ شقاوت میں ڈوب جائیں۔[طہ: 1، 2]
سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنے ، کثرت سے نوافل ادا کرنے نیز اطاعت پر استقامت سے دل میں راحت پیدا ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} یقیناً ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے کڑھتا ہے [97] تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدے کرنے والوں میں شامل رہیں [98] اور یقین [یعنی موت] آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں۔[الحجر: 97 - 99]
جب انسان اپنے دن کا آغاز نماز سے کرے تو اس کا سارا دن بہترین گزرتا ہے؛ کیونکہ نماز فجر پڑھنے والا اللہ کے ذمے ہوتا ہے، اور جو شخص نماز فجر کی سنتیں بھی ادا کرے تو دن کے آخر میں اللہ تعالی اسے کافی ہوتا ہے، آپ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم! دن کے آغاز میں تم چار رکعات پڑھنے سے قاصر مت رہو تو میں دن کے آخر میں تمہارے لیے کافی ہوں گا) احمد
اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم سے حاصل شدہ علم با عمل بھی قلبی راحت کا باعث ہے، ایسے اہل علم کے سینے وسیع ، کشادہ، پر اطمینان، خوش و خرم اور بہترین اخلاق کے مالک ہوتے ہیں، جس قدر انسان کا علم بڑھتا جائے اس کی قلبی راحت بھی بڑھتی جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا} ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دیا کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں سے نکل ہی نہ پائے؟ [الأنعام: 122]
ابن قیم رحمہ اللہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں: "میں نے آپ سے بڑھ کر کسی کو خوش و خرم نہیں دیکھا، حالانکہ آپ بہت تنگ حالات سے گزرے، آپ عیش و عشرت سے کوسوں دور تھے، مزید برآں آپ کو قید و بند، دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود آپ خوش و خرم تھے، قلبی راحت اور قوت کے مالک تھے، خوشی آپ کے چہرے پر چمکتی ہوئی نظر آتی تھی"
نیک اہل علم، اور دیندار لوگوں کی صحبت میں پیار بھی ملتا ہے اور محبت بھی، ان کی صحبت سے انسان علم ، حکمت اور تزکیہ نفس حاصل کرتا ہے، نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والا شخص اپنے ہم عمروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔
اپنے معاملات میں اہل دانش اور مشاورت کی صلاحیت رکھنے والوں سے رجوع کرنے پر دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے اور فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} جب انہیں کوئی خبر امن یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اس خبر کو رسول (ﷺ) اور مقتدر افراد کے حوالے کر دیتے تو تجزیہ کار لوگ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے۔[النساء: 83]
شیطان کی انسان دشمنی لازوال ہے، شیطان سے پناہ حاصل کرنے پر برے وسوسوں سے نجات مل سکتی ہے، اسلام میں مسلمانوں کے لیے ایسے اسباب اپنانے کی ترغیب ہے جن سے مسلمان چاق و چوبند ہو جائے ؛ لیکن شیطان ایسا ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے، آپ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب کوئی سویا ہوا ہوتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ کہتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے، اس لیے سوئے رہو۔ لیکن اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز فجر پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور وہ خوش مزاج اور ہشاش بشاش رہتا ہے، بصورت دیگر وہ بد مزاج اور سست رہ کر اپنا دن گزارتا ہے) متفق علیہ
مومن کی ایمانی قوت ہشاش بشاش رہنے کے لیے انتہائی اہم ماخذ ہے، اس لیے کہ مومن وہمی باتوں کے پیچھے نہیں لگتا، دکھی باتوں کے سامنے ہمت نہیں ہارتا، نیز مشکلات کے سامنے ڈھیر بھی نہیں ہوتا، بلکہ ہر وقت مضبوط دل کے ساتھ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، لہذا بندہ اللہ کے فضل اور نعمتوں کو اپنے ذہن میں اجاگر کر لے تو اس سے دل مطمئن ہو جاتا ہے اور شرح صدر حاصل ہوتی ہے۔
اپنے حال پر توجہ مرکوز کرنے والا انتہائی پرسکون رہتا ہے، کیونکہ وہ ماضی کے متعلق افسوس نہیں کرتا اور مستقبل کے متعلق پریشان نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ گزرا ماضی واپس نہیں آئے گا جبکہ مستقبل غیب بھی ہے اور لکھا ہوا بھی، اسی لیے آپ صلی اللی علیہ وسلم کی دعا میں یہ بھی شامل تھا: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ[یا اللہ! مستقبل کی پریشانی اور ماضی کے غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں])بخاری
فارغ اوقات سے مستفید نہ ہوں تو یہ ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے اس لیے اپنے وقت کو مثبت سرگرمیوں اور حصول علم میں صرف کرنے سے ذہنی دباؤ پیدا ہی نہیں ہوتا۔
قلبی راحت کا جامع ترین راستہ یہ ہے کہ مفید سرگرمیوں کے لیے اللہ تعالی سے مدد مانگیں، اور منفی چیزوں سے دور رہیں، منفی امور دل اور قوت ارادی کو کمزور بناتے ہیں، آپ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مفید سرگرمیوں کا اہتمام کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جاؤ، اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں اس طرح کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس لیے کہ کاش [حسرت سے کہنا] شیطانی عمل کو کھول دیتا ہے۔)مسلم
ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!
اسلام ہی ہر طرح کی بھلائی اور سعادت مندی کی بنیاد ہے، اہل اسلام ہی دنیاوی جنت اور دائمی نعمتوں میں رہتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ} جن لوگوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ان کا بدلہ بھلائی ہے، جبکہ آخرت کا گھر اس سے بھی بہتر ہے، اور متقی لوگوں کا گھر تو بہت اعلی ہے۔[النحل: 30] جاہلوں کی بدبختی جسے معلوم ہو وہی اسلام اور مسلمانوں کی خوشحالی کا اندازہ لگا سکتا ہے، اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ اپنے دین پر مزید مضبوط ہو گا، اسلام پر ثابت قدمی اس کے لیے اعزاز ہو گی، اور دوسروں کو دین اسلام کی دعوت بھی دے گا۔
أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ} جسے اللہ ہدایت دینا چاہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے تو اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر پلیدگی ڈال دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ [الأنعام: 125]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں اگر توں ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]
تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے

پروفیسر محمد عقیل -


میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے
ڈاکٹر محمد عقیل
زندگی کی کہانی صرف دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔” میں اور وہ "۔ جو میں ہوں وہ بس "میں "ہوں اور جو میں نہیں وہ بس ” وہ” ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف ہماری اپنی ذات ہے تو دوسری طرف اس ذات سے باہر کی دنیا۔ زندگی بس انہی دو لفظوں کو سمجھ لینے کا نام ہے۔ اپنی ذات کو جاننا دراصل ” میں ” کو جان لینا ہے ۔ جبکہ اپنی ذات سے باہر کی دنیا کو جاننا اس سماج کو جان لینا ہے

۔
خود کو جاننا کیا ہے؟ یہ ہمارے چہرے ، جسم اور ظاہری وجود کی شناخت نہیں ۔ بلکہ یہ اس "میں "کی شناخت ہے جو ہمارے اندر بستی ہے۔ یہ ہمارا باطنی وجود ہے۔ یہی ہماری میں ، خودی اور انا ہے جو موت کے بعد بھی نہیں مرتی۔ ہم اپنے آپ کو جانے بنا زندگی نہیں گزار سکتے کیوں کہ یہی وہ شعور ہے جو ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وجود کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس وجود سمجھنے کے لیےہمیں دل کی آنکھیں کھولنا ہونگی۔ ان دل کی آنکھوں کو جدید سائنس میں مائینڈ سائنس کہتے ہیں۔
ہمارے وجود سے باہر بھی ایک دنیا ہے جسے ہم سماج ، سوسائٹی ، معاشرہ یا کسی بھی نام سے جان سکتے ہیں۔ یہاں سورج ، چاند ، تارے، جانور ، چرند ، پرند ہی نہیں بلکہ ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اولاد، دوست احباب،دفتر ، گھر سب بستے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہیں کہ اسی دنیا میں کہیں خدا بھی بستا ہے۔ اس دنیا کی سمجھ کے بنا بھی زندگی ممکن نہیں کیونکہ ہم خود بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ اس سماج کی اپنے اصول، اپنا میکنزم اور اپنا نظام ہے۔ اسے جانے بنا بھی ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
پس اگر زندگی دو لفظوں کی کہانی ہے تو علم بھی دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ایک اپنی ذات کا علم اور دوسرا اپنی ذات سے باہر کا علم ۔ اپنی ذات کا علم مائینڈ سائنس ہے تو ذات سے باہر کا علم سوشل سائنس۔ یہاں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ مذہب اور خدا کا علم کہاں گیا۔ وہ دراصل انہی دونوں میں موجود ہے۔ خدا نے انسان کو دو طرح سے ہدایت دی ہے۔ ایک وہ ہدایت جو ہماری فطرت میں پیوست کردی گئی۔ اس میں خدا کا بنیادی تصور ، صحیح اور غلط کا شعور، انسانی کی جبلتیں اور دیگر بنیادی الہام آجاتے ہیں۔ باطن میں مذہب اور خدا کا یہ تصور مائینڈ سائنس کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ خدا اور مذہب کے تصور کا دوسرا ماخذ وحی کا ہے جو ہمارے خارج سے آتی ہے۔ یہ وحی آج سوشل سائنس ہی کے موضوعات میں سے ایک موضوع ہے۔
پس زندگی دو لفظوں کا علم ہے اپنی ذات کی پہچان اور خارج کی پہچان ۔ اس علم کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ایک مائینڈ سائنس کے ذریعے خود کو جاننا اور سوشل سائنس کے ذریعے خارج کو جاننا۔ جس نے یہ جان لیا اور اپنے وجود کو ان قوانین کے مطابق ہم آہنگ کردیا ، وہ دنیا میں بھی فلاح پاگیا اور آخرت میں بھی۔ اور جو ان کو نہ جان پایا یا جانننے کے باوجود نہ مان پایا تو وہ دنیا میں بھی خسارے میں ہے اور آخرت میں بھی۔
ہمارے ادارے کا بنیادی مقصد اپنی ذات اور اس سے باہر کی دنیا کو سمجھنا ، ان کے قوانین جاننا ، ان کی تربیت حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی اور دوسروں کی زندگی بہتر بنانا ہے تاکہ ہم دنیا میں سرخرو ہوکر ایک مطمئین نفس بن کر جی سکیں اور آخرت میں بھی اپنا ایک ترقی یافتہ وجود خدا کے حضور پیش کرسکیں۔
اوریب انسٹٹیوٹ آف مائینڈ اینڈ سوشل سائنس
https://www.oims.pk/
ڈاکٹر محمد عقیل
۳ نومبر ۲۰۱۸

دیوار میں در رکھنا

کچھ دل سے -

Image result for door in wall
دیوار میں در رکھنادیوار مگر رکھنا

پرواز کے موسم تکٹوٹے ہوئے پر رکھنا

شیشے کی عمارت ہےپتھر کا جگر رکھنا

حق میرا مجھے دے دوپھر دار پہ سر رکھنا

جانا ہے عدم بستیکیا زاد سفر رکھنا

پندار بھلے ٹوٹےکردار مگر رکھنا

کٹ جائے بھلے گردندستار میں سر رکھنا

لمبی ہے شب فرقتآنکھوں میں سحر رکھنا

سورج سے نہیں خطرہجگنو پہ نظر رکھنا

تہذیب کے لاشے کومت لا کے ادھر رکھا

باطن ہے منور توکیا شمس و قمر رکھنا


شعروں میں حسیب اپنےکچھ لعل و گہر رکھنا

حسیب احمد حسیب​

قرآن کہانی ۔۔۔ حضرت یونس علیہ السلام

کچھ دل سے -


 ❞ قرآن کہانی❝
حضرت یونس علیہ السلام
تحریر:عمیرہ علیم
بشکریہ:الف کتاب ویب

حضرت یونس  کا شمار اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کو حضرت یونس  بن متی بھی پکارا جاتا ہے۔ آپ بنی اسرائیل پر مبعوث کیے گئے۔ ہدایت و تبلیغ کے لیے آپ کو عراق کی طرف بھیجا گیا۔ اس کے شہر نینویٰ میں لوگ اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوچکے تھے کہ ان کی ہدایت کے لیے آپ بھیجے گئے۔ اس شہر کے کھنڈراب بھی دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے واقع شہر موصل کے مقابل موجود ہیں۔ حضرت یونس کو قرآن مجید میں وَذَالنُّوْن اور صاحبِ الْحُوْتِ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ''یونس'' ہے، لیکن اس میں بھی آپ کا ذکرِ مبارک مختصراً ملتا ہے بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں چند مقامات پر آپ کا ذکر فرمایا ہے اور آپ  کی زندگی کے بیشتر واقعات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
اہلِ نینویٰ کے باسی دولت مند شمار ہوتے تھے۔ دولت کی ریل پیل نے اس قوم میں اُن تمام برائیوں کو اجاگر کردیا جس کی وجہ سے وہ دین سے دور ہوگئے اور خدا سے بغاوت و سرکشی کے مرتکب ہوئے۔ حضرت یونس جب حکمِ الٰہی سے نبی بنائے گئے تو آپ اپنی قوم کو شرک اور بت پرستی سے روکنے لگے اور انہیں خبردار کیا کہ یہ گناہِ عظیم ہے کیوں کہ شرک و بت پرستی کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے، لیکن وہ گناہوں کی دلدل میں بُری طرح دھنس چکے تھے کہ اپنے نبی کی آواز پر کان نہیں دھرتے تھے جب کہ حضرت یونس کی پاکیزہ زندگی اور دربارِ الٰہی میں کی جانے والی عبادت اس بات کا مظہر تھی کہ آپ ایک باکمال، پاکیزہ اور راست گو ہستی ہیں۔
قومِ یونس نے جب اپنے پیغمبر کی بات پر کان نہ دھرے، تو آپ  سخت غضب ناک ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم کو حکمِ الٰہی سنا دیا کہ تین دنوں میں ان پر عذاب ِ الٰہی آنے والا ہے اور پھر آپ انہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ آپ نے خیال کیا کہ اب ان کا یہاں قیام کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کی تباہی و بربادی یقینی ہوچکی۔ اب اس قوم پر رشد و ہدایت بے اثر ہے اور حکمِ خداوندی آنے سے پہلے ہی اپنی قوم کو تنہا چھوڑ گئے۔ آپ نے خود ہی قیاس کیا اور اس مقام سے نکل آئے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناپسندیدہ ٹھہری۔ آپ کوئی عام انسان نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر تھے سورة الصافات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''اور بے شک یونس بھی (ہمارے) رسولوں میں سے ہیں۔''
چوں کہ رب کریم کو اپنے نبی کی یہ ادا پسند نہ آئی تو اللہ تعالیٰ نے قومِ یونس کے دلوں میں خوفِ الٰہی ڈال دیا اور وہ نادم ہوئے کہ ہم نے اپنے نبی سے یہ گستاخی کیوں کی۔ تمام قوم گھروں سے باہر نکل آئی۔ گڑگڑا کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنے لگی۔ مائوں نے بچوں کو خود سے چھڑوا دیا۔ سبھی آہ و بکا کرنے لگے۔ بکرے، بکریاں، بھیڑیں، گائے اور بچھڑے رونے لگے۔ بچوں کا بلکنا، بڑوں کا تڑپنا، جانوروں اور مویشیوں کا رونا اتنا ہول ناک منظر پیش کررہا تھا کہ رحمتِ الٰہی جوش میں آگئی اور ان پر سے عذاب ہٹا لیا گیا۔ یہ وہ واحد قوم ہے جسے عذاب کی خبر سنائی گئی، لیکن انہوں نے توبہ کی اور ایمان لے آئے تو دردناک عذاب سے مستثنیٰ قرار دیے گئے اور ان کو ایک خاص مدت تک دنیا کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
''پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونس کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں)۔ وہ قوم جب ایمان لے آئی تو البتہ ہم نے اس پر دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدّت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔'' (سورۂ یونس)
حضرت یونس  نے عذاب کی خبر دی اور اللہ تبارک تعالیٰ کے حکم کے بغیر اپنا مستقر چھوڑا۔ ابھی عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے ہی تھے کہ قوم کے توبہ و استغفار کی وجہ سے ان کو معافی مل گئی۔ اللہ کی کتاب میں یہ خدائی دستور واضح ہے کہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں آتا جب تک مہلت پوری نہ ہو جائے اور اللہ کا نبی آخری وقت تک نصیحت و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے جب کہ حضرت یونس اپنی قوم کو چھوڑ گئے۔ اپنے نبی کی ہجرت کی وجہ سے اللہ کے انصاف نے یہ گوارا نہ کیا کہ اس قوم کو عذاب دیا جائے کیوں کہ اللہ کی مقرر کردہ شرائط پوری نہیں ہوئی تھیں۔ قومِ یونس  کی توبہ اور فرعون کی توبہ میں فرق ہی یہ ہے کہ جیسے ہی ان کو حضرت یونس نے عذاب کی اطلاع دی، تو ان کے دل پلٹ گئے۔ عذاب چوں کہ شروع نہیں ہوا تھا، صرف آثار ہی ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے، تو قوم اپنے نبی کو ڈھونڈنے نکل پڑی جب کہ حضرت یونس  ہجرت کرچکے تھے۔ دوسری طرف فرعون کو جس وقت احساس ہوا کہ اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو تب اس نے کہا تھا کہ میں موسیٰ  کے خدا پر ایمان لاتا ہوں، حالاں کہ وہ عذاب کے بھنور میں جکڑا جاچکا تھا۔
جب حضرت یونس  اپنی بستی کے مسلسل انکار پر ناراض ہوکر چل دیے اور سمندر پر پہنچے، تو وہاں ایک کشتی مسافروں کے لیے  لے جانے کو تیار کھڑی تھی۔ آپ  بھی اس میں سوار ہوگئے۔ سمندر کے وسط میں جاکر کشتی ڈولنے لگے۔ مسافر پریشان ہوگئے۔ کشتی پر بوجھ زیادہ تھا۔ ملاح نے کہا: ''کشتی والو! میرے تجربے کے مطابق جب کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگ کر آتا ہے، تو کشتی ایسے ہی ڈولتی ہے۔ باہم مشورے سے طے پایا کہ قرعہ اندازی کی جائے اور جس کا نام نکلے اُسے کشتی سے پھینک دیا جائے تاکہ  بوجھ کچھ کم ہو، کیوں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی مسافر پانی میں کودنے پر تیار نہ ہوتا۔ جب قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت یونس  کا نام نکلا۔ آپ کی وضع قطع اور بردباری آپ کی شخصیت سے ظاہر تھی۔ اس لیے کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ ایک نیک بندے کو اپنے سے جدا کرلیں۔ پھر قرعہ نکالا گیا۔ دوبارہ بھی آپ کا نام نکلا۔ آپ  کپڑے اتارنے لگے، لیکن سواریوں نے روک دیا کہ ہم آپ کو سمندر میں نہیں ڈال سکتے۔ آپ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا کہ وحی ٔالٰہی کی آمد سے قبل انہیں اپنی قوم کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ تیسری مرتبہ نام نکلنے پر آپ نے خود ہی سمندر میں چھلانگ لگا دی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ ہمارے بندے یونس  کو اپنے پیٹ میں رکھ۔ وہ تیری غذا نہیں بلکہ تیرا پیٹ اس کے لیے قید خانہ ہے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
  ''جب بھاگ کر گئے بھری ہوئی کشتی کی طرف (سوار ہونے کے لیے) پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوئے اور دھکیلے ہوئوں میں سے ہوگئے۔ پس نگل لیا انہیں مچھلی نے حالاں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ '' (سورۂ الصافات)
حضرت یونس  کو جب مچھلی نے نگلا، تو آپ  کو لگا کہ آپ کی جان قبض کرلی گئی لیکن جب آپ نے جسم کو ہلایا جلایا، تو سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ آپ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے اور ایسی جگہ کو عبادت گاہ بنا لیا جہاں پہلے کسی نے سجدہ نہ کیا تھا۔ مچھلی آپ کو لے کر سمندر میں پھرتی رہی۔ کہتے ہیں کہ اس مچھلی کو بھی ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا تھا۔ آپ مچھلی کے پیٹ میں کتنی مدت رہے، اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ مختلف اقوال کے مطابق آپ ایک دن، تین دن، پانچ دن، سات دن یا چالیس دن رہے۔ (واللہ اعلم)
جب حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں قید ہوئے تو باقاعدہ مچھلی کو وحی کی گئی کہ یہ اللہ کا خاص بندہ ہے، اس کو خراش نہ آئے اور نہ ہی اس کی ہڈی ٹوٹے۔ مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے کر پانی کی تہوں میں اتری، تو وہاں آپ کو ایک آواز سنائی دی۔ دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ کس طرح کی آواز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی کہ یہاں سمندری مخلوق اپنے رب کی تسبیح کررہی ہے۔
حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے رب کی پاکی بیان کی۔ فرشتوں نے آپ کی تسبیح سنی تو عرض گزار ہوئے:''اے پروردگار! ایک باریک اور نحیف سی آواز کسی اجنبی زمین سے سنتے ہیں۔'' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔''یہ میرا بندہ یونس ہے۔ اس نے میری حکم عدولی کی۔ میں نے اسے مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا۔ اب وہ سمندر میں ہے۔'' فرشتوں نے پھر پوچھا: ''وہ پاک باز بندہ جس کی طرف سے تیرے لیے روزانہ صبح و شام صالح اعمال چڑھتے رہے؟'' ارشاد ہوا: ہاں! وہی بندہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس وقت فرشتوں نے حضرت یونس کی سفارش کی۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ میرے بندے کو ساحل پر اگل دو۔ تبھی تو ربِ کریم سورة الصافات میں فرماتا ہے:
''پس اگر وہ اللہ کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو پڑے رہتے مچھلی کے پیٹ میں قیامت کے دن تک۔''
آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کے پرہیزگار اور عبادت گزار بندے تھے۔ اپنی قوم کی اصلاح کے بعد جو وقت بچتا وہ یادِ الٰہی میں گزارتے اور جب اپنی غلطی کی پاداش میں سمندر کی تاریکیوں کو آپ کا مسکن بنایا گیا، تو آپ اپنی غلطی کا احساس ہونے پر اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوئے اور معافی کے طلب گار رہے۔ لاالہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین۔ (کوئی معبود نہیں سوائے تیرے پاک ہے تو، بے شک میں ہی قصور وار ہوں (سورۃ الانبیاء)'' جسے آیتِ کریمہ بھی کہا جاتا ہے، آپ سے منسوب ہے۔
آپ نے جس عاجزی وانکساری سے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب فرمائی اور اپنی غلطی پر توبہ کی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو معاف فرمادیا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''پس ہم نے ان کی پکار کو قبول فرما لیا اور نجات بخش دی انہیں غم و اندھیرے سے اور یونہی نجات دیا کرتے ہیں مومنوں کو۔'' (سورۃ الانبیاء)
حضرت یونس کی دعا کو آیتِ کریمہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کلمات ہیں جن کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ان کلمات کے بارے میں حضرت ابنِ عباس کی بیان کردہ حدیث ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
''اے بچے! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں انہیں یاد کرلے۔ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ تجھے اپنی حفظ و امان میں رکھے گا۔ ان کلمات کو یاد کر لے تو اللہ تعالیٰ کو تو ہر جگہ مددگار پائے گا۔ تو اللہ کو فراخی میں پہچان، اللہ تعالیٰ تجھے شدت میں پہچانے گا۔''
حضرت سعد ابن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی محمد صلی اللی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
''اللہ تعالیٰ کا وہ نام جس کے ذریعے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتا ہے اور جب اس نام کے ذریعے اس کی بارگاہ میں سوال کیا جائے تو ضرور پورا ہوتا ہے۔ وہ حضرت یونس بن متی  کی دعا ہے۔ '' فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ! کیا یہ دعا یونس کے لیے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:''یہ حضرت یونس کے لیے خاص تھی اور اب تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔''
اللہ رب العزت بڑے بڑے گناہ گاروں کو معاف فرمانے والا ہے جب کہ آپ  تو اس کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ معافی مل گئی، مچھلی کو حکم مل گیا۔ میرے بندے کو خیریت کے ساتھ ساحلِ سمندر پر پہنچا دو۔ مچھلی نے آپ کو کھلے میدان میں ڈال دیا۔ وہاں اللہ کے حکم سے کدو یا اس جیسی کوئی بیل اگ آئی۔ ارشاد ربانی ہے:
''پھر ہم نے ڈال دیا انہیں کھلے میدان میں اس حال میں کہ وہ بیمار تھے اور ہم نے اُگا دی ان پر کدو کی بیل۔'' (سورۂ الصافات)
اس بیل کے پتے نرم و نازک تھے۔ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ بہت کم زور ہوگئے تھے اور جسم پر کوئی بال بھی نہ بچا تھا۔ دھوپ کی تپش سے آپ کو تکلیف ہوتی حتیٰ کہ مکھی کے بیٹھنے پر بھی آپ بے زار ہو جاتے۔ اس بیل کے پتوں نے اس چٹیل میدان پر آپ کو بستر کی نرمی اور سایہ دیا۔ آپ اس بیل کا پھل بھی کھایا کرتے۔ حکمِ خداوندی سے ایک جنگلی بکری آپ کے پاس صبح شام آتی اور آپ کو اپنا دودھ پلاتی جو آپ کے لیے فرحت بخش تھا۔ آہستہ آہستہ آپ کی جسمانی کمزوری دور ہونے لگی۔ جسم پر بال بھی دوبارہ اُگ آئے۔ کچھ عرصے بعد آپ تندرست و توانا ہوگئے اور حکم ہوا کہ واپس اپنی بستی کی طرف جائیں اور ان کا حال دریافت کریں۔ آپ نے واپسی کا سفر کیا اور اپنی قوم میں آگئے۔ آپ کی قوم کی تعداد تقریباً ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد تھی۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:
''اس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا اور وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقتِ خاص تک انہیں باقی رکھا۔'' (سورۂ الصافات)
اللہ تعالیٰ کو آپ کی تعداد میں کوئی شک نہیں تھا، لیکن لوگوں کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اس بستی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک گنجان آباد بستی ہے اور آپ دوبارہ اس لیے بھیجے گئے تاکہ قوم یونس اپنے نبی پر باقاعدہ ایمان لے آئیں۔ واپسی پر آپ کا شان دار استقبال ہوا۔ قوم سنبھل چکی تھی اور آپ اپنی قوم کی اصلاح میں مشغول ہوگئے۔
حضرت یونس  سے غلطی ہوئی، پھر انہیں اس کا احساس ہوگیا، تو آپ نے رب تعالیٰ سے معافی طلب فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی توبہ قبول فرمائی۔ آپ بھی انسان تھے تبھی خطا کار ہوئے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر عیب سے مستثنیٰ ہے۔ حضرت یونس  کے بلند مرتبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آپ  چیدہ ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
''آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کرلیا۔''
پھر فرمایا:
''ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی۔'' (سورة النساء)۔
سورة الانعام میں آپ کا ذِکر مبارک ان الفاظ میں آتا ہے:
''اسماعیل، الیسع اور یونس اور لوط کو (راستہ دکھایا)۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔''
ایک مرتبہ ایک یہودی کو ایک مسلمان نے اس لیے تھپڑ مارا کہ اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو تمام عالموں پر چن لیا ہے۔ جب معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں پہنچا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:''کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمانا آپ کی عاجزی و انکساری کا مظہر ہے جب کہ آپ کے مقام کی ابتدا تو وہاں سے ہوتی ہے جہاں تمام رسولوں اور نبیوں کے مقام کی انتہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے ساتھی انبیائے اکرام کی فضیلت و مرتبے کو بلند کیا کیوں کہ وہ ایسی ہستیاں ہیں جن کے بارے میں عام مسلمان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اہلِ مکہ کے ایمان نہ لانے پر پریشان رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو کافروں کے معاملات پر صبر و برداشت کی تلقین فرمائی اور قصہ یونس بیان فرمایا اور بتایا کہ جتنا کوئی شخص اللہ کا مقرب ہوتا ہے اتنا ہی اس کا امتحان سخت ہوتا ہے اور اس کی بہت معمولی سی خطا بھی قابلِ گرفت ہوتی ہے۔ مصائب و آلام سے گھبرانا نہیں چاہیے یادِالٰہی سے ان کا خاتمہ ممکن ہے۔ وہ بے قرار کی دعا سنتا ہے اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو راہِ ہدایت سے فیض یاب کرے اور سب کے لیے آسانیاں فرمائے۔ (آمین)٭…٭…٭


آسیہ ملعونہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

شعیب صفدر -

قانونی اعتبار سے آسیہ بری ہو چکی ، ریویو داخل بھی ہوا تو بھی سزا بحال ہونا ممکن نہیں اب قانونی طور پر۔
اس کیس میں سزا برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی مواد تھا اور یاد رہے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھتے وقت عدالت سے باہر عوامی جرگہ میں ملزمہ کے اقبال جرم کو قانون کی روشنی میں پہلے ہی رد کر دیا تھا یوں اس فیصلے میں باقی تضادات کے مقابلے میں دو ہی تضاد ایسے ہیں جنہیں بریت کی وجہ بیان کیا جا سکتا ہے ایک مدعی (قاری ) تک اس توہین کی خبر کس طرح پہنچی؟ اس سلسلے میں مثل پر دو بیان ہیں ایک میں قاری کی بہن نے اسے بتا کہ اس کی شاگرد خواتین  کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دوسرا وہ خواتین خود قاری صاحب کے سامنے پیش ہوئیں۔ دوسرا خواتین نے دوران جرح عدالت میں فالسے کے باغ میں پانی پینے والی بات پر ہونے والے جھگڑے کی صحت یا واقعی سے انکار کیا مگر باقی دیگر گواہان نے اس جھگڑے سے متعلق گواہی دی۔
باقی تضادات عوامی جرگہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جسٹیس کھوسہ صاحب کو فوجداری مقدمات میں پاکستان میں سند مانا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے بہت بہترین ہوتے ہیں ، جس قدر محنت سے انہوں نے اپنا اضافی نوٹ فیصلے کے حق میں لگایا ہے یقین جانے اس سے آدھی محنت وہ اختلافی نوٹ بھی لگا سکتے تھے یہ ہی نہیں اس سے بھی کم محنت میں وہ ممتاز قادری والے کیس میں سزائے موت کو عمرقید میں بدل سکتے تھے۔ (آسیہ اور عاصیہ کو ایک سمجھنا بھی عجب غلطی ہے معلوم ہوتا ہے صرف انگریزی کتاب سے ریفرنس لیا گیا ہے جو تلفظ ملنے سے یہ غلطی کر لی)

اور جس قدر محنت اور باریک بینی سے چیف صاحب نے آسیہ والی ججمنٹ لکھی ہے اس سے آدھی محنت سے بھی کم محنت میں شاہزیب والے کیس میں جبران ناصر کی پٹیشن/درخواست رد ہو سکتی تھی (فوجداری مقدمات میں تیسرے فریق کی درخواست پر فیصلہ بدلنے کی اس سے قبل کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری نہ کوئی سینئر ایسی کوئی مثال بیان کرتا ہے)۔

مختصر قانون یقین اہم ہے مگر جج کی منشاء بھی کہیں کہیں غالب ہوتی ہے۔ یہ منشاء ہی دلیل و تاویل کا فرق ہوتی ہے۔ اس ججمنٹ پر کسی جج نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا ججمنٹ کے حق میں یہ ایک بہت بڑا آرگومنٹ ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔
مذہبی حلقوں میں ملک کی بڑی عدالت اپنا وقار اس ہی مقام پر لے آئی ہے جس مقام پر نظریہ ضرورت کو متعارف کروانے اور پی سی او حلف کے بعد سیاسی حلقوں میں پہنچ گئی تھی۔
اکتیس اکتوبر کو اب ہر سال انگریز دور کے غازی علیم الدین  شہید کے ذکر کے ساتھ ملک پاکستان کے ایوان اقتدار و عدلیہ بارے کیسے خطاب ہوا کرے گے گلی گلی کیا آپ انہیں آج ہی بیان کر سکتے ہیں۔

آنکھ اور دُور بِین

افتخار اجمل بھوپال -

انسان کی آنکھ 10 لاکھ رنگوں میں فرق کر سکتی ہے
اور
دنیا میں موجود بڑی سے بڑی دُور بِین سے زیادہ معلومات لے سکتی ہے

انسان کی قوتِ سماع اتنی حساس ہے کہ لاکھوں قسم کی آوازوں کا فرق جان جانتی ہے

پس (اے انسانو اور جِنو) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

تصویر کے ساتھ بے ہودگی اور حقیقی منظر

م بلال م -


جب تصویر کا تن من چیخا۔ آج کے دور میں یہ صرف فوٹوگرافرز کو ہی نہیں بلکہ سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پیار کی یہ واردات تو بہت پہلے سے شروع ہو چکی تھی، مگر پوسٹ پراسسنگ اور ایڈیٹنگ کے درمیانی وقفے کے فوراً بعد کا ذکر ہے کہ ایک سیاحتی سفر کے دوران ایک صاحب ملے۔ کئی دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ سیاحت کے دوران جنگل بیابانوں میں، انجان راستوں پر کوئی نہ کوئی فیس بک فرینڈ یا ’انٹرنیٹی‘ جان پہچان والا مل جاتا ہے۔ بے شک فوٹوگرافرز اور سیاحوں پر کئی الزام لگائے جاتے ہیں مگر شمال کے اس سفر میں جو صاحب ملے، انہوں نے تو تصویر کے ساتھ ایسی بیہودگی←  مزید پڑھیں

ٹوٹے ہوئے دل جائیں کہاں

بلاگ اے -

پیانو سے نکلتا مسحور کن ساز ختم ہونے کے بعد جیسے ہی یہ الفاظ جعفرزیدی کے لبوں سے نکلتے ہیں ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جس سے ہر وہ انسان تعلق جوڑ سکتا ہے جو دل میں ذرا سا بھی درد رکھتا ہو

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - اردو بلاگ