اردو بلاگ

پانچواں درویش ، راوی اور تماشہ

افتخار راجہ (ہم اور ہماری دنیا) -

تو صاحبو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ راوی بیان کرتا ہے ہے پانچواں درویش راوی چلتا چلتا چلتا، اور پھر چلتا چلتا ایک اور راوی کے پاس پہنچ گیا، وہ راوی تب کافی عرصے سے خاموش ہوچکا تھا، شاید فالج زدہ۔ اسکے اندر کسی قسم کی کوئی حرکت نہ ہورہی تھی، ہر طرف خشکی اور ویرانی۔ راوی کے اس پار جاےکے لئے درویش کشتی کے انتظار میں بیٹھ رہا۔ کہ دریا ہے، بھلے سوکھا ہوا ہی سہی پر پھر بھی دریا کا احترام کرنا چاہئے۔ جیسے ہرجادو کا تماشا دکھانے والے کا احترام کیا جاتا ہے اور اسکو پروفیسر کہا جاتا ہے۔ کچھ تماشہ گر جو بہت ہی بڑے ہوجاتے ہیں انکی پہنچ دنیا کے دوسرے کونے تک ہوجاتی ہے۔ اور پھر وہ  پلک جھبپکتے ہی سال میں دو چار بار لاہور آتا ہے    اور تماشہ دکھاتا ہے، یہ اب اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ علامہ  پروفیسر ڈاکٹر  کا اضافہ کرچکا ہے۔ ایسا جادوگر ہے جو ہرکام خواب میں کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ تعلیم بھی خواب میں حاصل کرسکتا ہے۔ درویش  کا دوپہر کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے  حرارت سے دماغ ٹھکانے آیا  تو سر پر ہاتھ مار کر چلا اٹھا کہ خشک دریا میں بھی بھلا کشتیاں چلا کرتی ہیں،  پس چاروناچار درویش وہا ں سے اٹھا  اور دریا کے بیچو بیچ  خشک ریت کو سر پر ڈالتا اور اپنے آپ کو سخت سست کہتا ہوا آگے چل پڑا۔ راوی کے دوسری طرف اب ہر طرف  لاہور شہر آباد ہے،  پر درویشوں کو شہروں آبادیوں  سے کیا لینا دینا۔ چلتے چلتے  ایک پہر گزرگیا ، تب درویش کو ایک طرف سے شور ، روشنیاں اور بے ھنگم موسیقی سنائی دی۔ سادہ بندہ تھا۔ سمجھا شاید کوئی قبائلی رسم ہورہی ہے چلو دیکھتے ہیں۔ دریش ادھر پہنچا  تو کیا دیکھا ایک بڑے سے میدان میں قناتیں لگئی ہوئی اسٹیچ سجا ہوا , ہر طرف چہل پہل، بہت سے لوگ تماشہ دیکھنے آئے ہوئے تھے، کچھ جا بھی رہے تھے، البتہ تماشہ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت تھی ، اسٹیج پر خوب رونق تھی۔  پورا ایک میلہ  لگا  ہوا تھا۔ درویش  میلہ دیکھنے بیٹھ  گیا بلکہ کھڑا ہی رہا۔  باوجود اسکے کہ جگہ بہت خالی تھی۔ بے شمار کرسیاں خالی پری ہوئی تھیں۔  باندر اور ریچھ کے ساتھ ساتھ اپنی دم پکڑنے والا کتا بھی تھا۔ پروفیسر  خود بھی موجود تھا۔ مگر درویش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ تماشہ کروا  کون رہا ہے؟؟ کس نے اتنا خرچہ کردیا؟؟ اور کیوں؟ مگر کھیل دیکھتا رہا کھیل بہت  اچھا  تھا، درویش کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا،  اور سوچتا رہا کہ  لوگ تھوڑے ہیں۔  لاہورئے بہوں خراب ہیں، ریچھ دیکھنے ہی چلے جاتے۔ ویسے بھی تو چڑیا گھر جاتے ہی ہو، اس بار تو باہر کھلے ہوئے تھے، تماشہ ہورہا تھا شاید کھانا بھی مل جاتا۔ کرسیاں بھی کافی پڑئی تھیں "تشریف رکھنے" کو۔ بگڑے ہوئے لوگ۔ اپنے پیسے دیے کر ہی نان پائے کھاتے رہے۔ سرکس والے انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ بقول عین: یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشہ ختم ہوگا نوٹ۔ یہ ایک غیر سیاہ سی پوسٹ ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت یقینی ہوگی۔ نیزہم نے جیسا محسوس کیا ویسا ہی لکھ دیا۔ دروغ برگردن دریائے راوی

کرپٹوکرنسی قتل عام: رپل کے بانی کو 12 ارب ڈالرز کا نقصان

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

چار جنوری کو رپل کی قیمت عروج پر تھی اور آج ایک ڈالر سے بھی سستا ہوگیا

The post کرپٹوکرنسی قتل عام: رپل کے بانی کو 12 ارب ڈالرز کا نقصان appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

عذر کا دائرہ کار بڑھاؤ : عربی اقتباس

اسریٰ غوری -

💫میں معلم تھا
تو پرنسپل پر تنقید کرتا ۔۔جب میں مدیر بنا ۔۔تو مجھ پر واضح ہوا کہ اسکے پاس عذر تھا ۔

💫میں طالب علم تھا ۔۔

تو اپنے استاد پر تنقید کرتا ۔۔تو میں استاد بنا ۔۔۔تو میں نے جانا کہ اسکا مجھ پر حق تھا جو اس نے کیا 

💫میں چھوٹا تھا ۔۔

تو مجھے اپنے والد کے میرے لئے حریص ہونے پر غصہ آتا جب میں باپ بنا تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ میں اسکا حق ادا نہیں کر سکتا 

💫میں خاوند تھا ۔۔
تو اپنی بیوی کے گھر والوں کے اقوال وافعال کی ٹوہ میں رہتا..

جب میں سسر بنا اور میرا داماد میرے اقوال وافعال کی ٹوہ میں رہتا تو میں نے جانا کہ دنیا گھومتی ہے ۔

💫عذر قبول کرو ۔۔اس سے پہلے کہ زمانہ گھوم کر تمہیں وہاں لے آئے ۔
💫تو تم جان جاؤ گےکہ دوسرے کا تم پر حق تھا ۔۔
💫اسلئے لوگوں کیلئے عذر کا دائرہ کار بڑھا دو۔۔

قدّر .. واحترم .. و أكرم .. واعف .. وتغافل .. 

قدر کرو۔۔اور احترام کرو۔۔اوراکرام کرو۔۔۔اور معاف کرو ۔اور چشم پوشی کرو ۔۔۔

اور اللہ سے اجر  کی امید رکھو اور اسکو غنیمت جانو

ہر احساس  محبوب  كا محتاج نہیں ہوتا 

بعض احساسات  میں ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو رسوا نہ کرے 

اور دوست کی جو تکلیف نہ دے 

اور بھائی کہ جو نہ بھولے۔۔

اور ایسے سچے انسان کی جوتمہارے شکووں اور غموں کو سن کر  نہ  اکتائے ۔۔

✨دلوں سے نرمی سے کلام کرو ۔۔

ہر انسان کے دل میں ایک پھول کی کلی ہوتی ہے جو محبت اور لطافت سے کھلتی ہے ۔۔

💦 فالكلمات الجميلة !! نهر بارد وعذب يداوي ظمأ القلوب 

پس خوبصورت کلمات !!

ٹھنڈے  میٹھے پانی کی نہر ہے جو دلوں کی پیاس بجھاتی ہے .. 

💫جب تم پر  زندگی سخت ہو جائے تو تم ایسا کرنے سے بچو کہ تم دوسروں پر سختی کرو ۔

🌹🌹طابت أوقاتكم🌹🌹

تم پر  اچھے وقت رہیں ۔

The post عذر کا دائرہ کار بڑھاؤ : عربی اقتباس appeared first on نوک قلم.

حق پر ثابت قدمی ۔۔۔ خطبہ مسجد الحرام (اقتباس)

کچھ دل سے -


مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید حفظه الله
جمعہ المبارک 25 ربیع الثانی 1439 ہجری بمطابق 12 جنوری 2018
عنوان: حق پر ثابت قدمی
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
منتخب اقتباس:
اللہ آپ پر رحم فرمائے! میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ تبارک تعالیٰ سے ڈرنے اور اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کرتا ہوں! کیونکہ ساری اولاد آدم غلطیاں کرنے والی ہے، جب آپ سے غلطی ہو جائے تو گناہ چھپایا کرو، انہیں لوگوں کے سامنے بیان مت کیا کرو، اللہ سے معافی مانگا کرو اور گناہ پر بااصرار نہ رہا کرو۔  پھر گناہ کے بعد نیکی کرنے کی کوشش کیا کرو۔ خوش قسمت وہی ہے جو اپنے ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنا محاسبہ کرتا ہے اور محروم وہ ہے جو دوسروں کے لیے مال جمع کرتا ہے اور خود اپنے اوپر خرچ کرنے سے کنجوسی کرتا ہے۔ بہترین عمل اس کا ہے جو آج کا کام کل تک موخر نہیں کرتا۔
اے مسلمانو!
دل کا نام قلب اسی لیے رکھا گیا ہے کہ یہ متردد اور متقلب رہتا ہے۔ حالات اور ماحول اس کا حال تبدیل کر دیتے ہیں۔ ایک طرف اسے بھلائ کھینچ رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف برای اپنی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف فرشتہ ثابت قدم کررہا ہوتا ہے اور دوسری طرف شیطان ورغلا رہا ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں۔‘‘    (الانعام: 110)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دل کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے بڑا ہی انوکھا اور شاندار بنایا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں ’’ اے دلوں کو پھیرنے والے‘‘ کہہ کر یہ واضح کیا ہے کہ دل اللہ تبارک وتعالیٰ پھیرتا ہے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا بھی فرمائی: کہ اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما! اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپکو بھی دل کے پھر جانے سے ڈر لگتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں اس حوالے سے امن میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ دل تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں پھیرتا رہتا ہے۔
اللہ کے بندو!
دل کبھی ایک طرف مائل ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو ثابت قدمی بھی اسی بدولت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: کہ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پر ثابت قدمی نصیب فرما۔ اسے امام ابن ماجہ اور امام ترمذی نے سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
قول و عمل میں ثابت قدمی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے۔ انسان اپنی ساری زندگی میں اس نعمت کا پھل کھاتا رہتا ہے اور پھر سب سے بہتر پھل تو اسے قبر میں ملتا ہے۔ فرمان الہی ہے:
’’ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘             (ابراہیم: 27)
اللہ آپکی نگہبانی فرمائے! ثابت قدمی یہ ہے کہ انسان فتنوں، خواہشات نفس اور مختلف ورغلانے والی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حق اور ہدایت پر قائم رہے۔
اللہ کے بندو!
ثابت قدمی کا اسی وقت پتہ چلتا ہے جب انسان ایسے دور اور معاشرے میں رہتا ہے جس میں ہر کوئی کنجوسی کا قیدی اور خواہشات کا غلام ہوتا ہے۔ جہاں ہر شخص اپنی ہی راہ کو حق سمجھتا ہے۔
بزرگ فرماتے ہیں: ثابت قدمی کی نشانی یہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف متوجہ ہو جائے اور دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور موت کے آنے سے پہلے ہی موت کی فکر کرنے لگے۔
چونکہ دل کی ثابت قدمی انتہائی اہم ہے، اسی لیے اہل علم نے ان اسباب ووسائل کا ذکر کیا ہے کہ جن سے ثابت قدمی حاصل ہوسکتی ہے اور جن سے انسان فتنوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
ان اسباب و وسائل میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ تعالی کی توحید کا اقرار کرنا ہے۔ ایسی توحید کہ جو انسان کے دل میں بھی ہو، اس کی زبان پر بھی ہو اور اس کے عمل میں بھی نظر آتی ہو۔ توحید کے لئے اللہ تعالی کو پہچاننا بھی لازمی ہے۔ اللہ کے متعلق کتاب کے پاس جتنا زیادہ علم ہوگا اتنا ہی آپ اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہونگے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔‘‘           (فاطر: 28)
اللہ کے بندو! ثابت قدمی کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ انسان نیکی پر قائم رہے اور نیک اعمال کرتا رہے، اپنی بساط کے مطابق بھلائی کے کام کرتا رہے، دین کی راہ پر قائم رہے، لوگوں کی مدد کرتا رہے اور تمام کاموں کا مقصد اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور اسی سے اچھی جزا کی طلب بنائے۔
ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ علماء کے ساتھ رہا جائے اور دینی مسائل جاننے کے لیے انہی کی طرف رجوع کیا جائے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔‘‘                (النحل: 43)
اسی طرح ثابت قدمی کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اپنائی جائے، کیونکہ مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہوتا ہے اور بھائی ہوتا ہے، اسے گھاٹے سے بچاتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اس کا دفاع کرتا ہے اور اسے ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے۔
ثابت قدمی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگی جائیں، اس کی طرف لپکا جائے، اس کے ذکر میں وقت گزارا جائے اور اس کے ساتھ تعلق کو بڑھایا جائے۔
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے یہ لازمی ٹھہرایا ہے کہ وہ ہر رکعت میں اس سے ہدایت کا سوال کریں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔‘‘    (الفاتحہ: 6)
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر بندے کو دن رات، ہر وقت ہدایت کا سوال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالی اس پر یہ لازمی نہ ٹہراتا۔ مگر حقیقت یہ ہے انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہر لمحہ ضرورت رہتی ہے، کہ وہ اسے ہدایت پر قائم رکھے، ثابت قدمی نصیب فرمائے، ہدایت کی پہچان نصیب فرمائے اور ہدایت کی راہ پر چلنے کی ہمت نصیب فرمائے۔ انسان خود اپنا نفع کرنے اور نقصان سے بچنے سے تو قاصر ہے۔
ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب سے جڑا جائے۔ فرمان الہی ہے:
’’دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں۔‘‘      (الانعام: 104)
اللہ کی نگہبانی فرمائے! غور کیجئے کہ کتاب اور بصیرت میں کتنا گہرا تعلق ہے۔ اگر انسان کو بصیرت مل جائے تو حق و باطل، بھلائی اور برائی اور سنت اور بدعت کے درمیان فرق کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ آج فتنوں کے دور میں تو مسلمان کو سب سے بڑھ کر بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بصیرت کا نور ہی فتنوں کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے۔
اسی طرح ثابت قدمی کا ایک ذریعہ حاصل کردہ علم پر عمل کرنا ہے۔ یعنی شرعی مسائل، احکام اور آداب میں سے آپ کو جن جن چیزوں کا علم ہے ان پر عمل کیا جائے۔
جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید علم عطا فرماتا ہے اور پھر اسے سب سے بڑی عطا، تقوی دے دیتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔‘‘  (الانفال: 29)
ثابت قدمی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ زبان کو شکایت سے روکا جائے، صبر کیا جائے اور نفس کو قابو میں رکھا جائے۔ جلد بازی، غصہ، لالچ، اکتاہٹ، بے ضابطگی اور حرص سے بچا جائے۔ ان کاموں سے بچنے سے دل کو ہدایت ملتی ہے، اللہ تعالی کی محبت میں نصیب ہوتی ہے اور لوگوں کی محبت بھی مل جاتی ہے۔
ان سارے اسباب کو جمع کرنے والی چیز اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھنا ہے اور اس کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہے۔ مومن مایوس ہونے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ اللہ تعالی سے اچھی توقع رکھنے والا ہوتا ہے۔ مگر خیال رہے کہ نیک اعمال کرنے، اللہ کی طرف متوجہ ہونے، اطاعت گذاری پر قائم رہنے اور فرماں برداری کے بغیر اللہ تعالی کے متعلق اچھا گمان رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
مومن جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کے نفس کو سکون مل جاتا ہے، اسے انتہا درجہ سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہوجاتاہے اور اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔
پیارے بھائیو!
ثابت قدمی کے عظیم اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ دل میں یہ یقین ہو کی عاقبت پرہیزگار لوگوں ہی کی ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ جب یہ یقین دل میں ہوتا ہے تو مومن تمام مشکلات پر صبر کرتا ہے اور دین پر قائم رہتا ہے۔ پھر وہ جان لیتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دین کی حفاظت ضرور کرے گا اور اپنے لشکر کی مدد لازمی فرمائے گا۔
بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ جب وہ اہل اسلام کے حالات بدلتے دیکھتے ہیں تو وہ نوحہ کرنے لگتے ہیں اور یوں رونے لگتے ہیں جیسے بڑی مصیبت والے روتے ہیں، جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز سے منع فرمایا ہے اور لوگوں کو صبر، توکل اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ یقین رکھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ پرہیزگارلوگوں اور احسان کرنے والوں کا ساتھی ہے، اس پر بھی یقین رکھے کہ اس پر جو بھی مصیبت آ رہی ہے وہ اس کے گناہوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آرہی ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور صبح و شام اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے۔
خوب جان رکھو کہ جس نے آپ کو منہ کھولنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے وہ آپکو کبھی بھولنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالی جب بھی اپنی حکمت سے کوئی دروازہ بند کرتا ہے تو اس کی جگہ رحمت کا ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے۔
اللہ جسے چاہتا ہے ان اسباب کو اپنانے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے جو اس کے فضل و کرم سے فتنوں اور مصیبتوں کے وقت ثابت قدمی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جو فائدہ انسان کے حق میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے، وہ اسے مل کر رہتا ہے چاہے وہ اس فائدے کو ناپسند کرتا ہو اور جو فائدہ اس کے حق میں نہیں لکھا گیا ہوتا وہ اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا چاہے وہ کتنی ہی تگ ودو کیوں نہ کر لے۔
ثابت قدمی کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالٰی سے راضی ہوجائے۔ اللہ کی رضا مندی اللہ تعالی کے متعلق اچھے گمان سے جڑی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے  اس صفت کا ذکر قرآن کریم میں چار مرتبہ فرمایا ہے۔ فرمایا:
’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے۔‘‘                (المائدہ: 119، التوبہ: 100، المجادلہ: 22، البینہ: 8)
تو اے اللہ کے بندے! اپنے حال پر غور کر۔ کیا تو واقعی اللہ سے راضی ہے؟
اللہ آپکے نگہبانی فرمائے! اللہ تعالی سے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی لکھی ہوئی ہر چیز پر راضی رہا جائے۔ یہ یقین رکھا جائے کہ اچھے اور برے حالات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لیے بھلائی ہی لکھی ہے۔ جب آپ اللہ سے راضی ہو جائیں گے تو آپ لوگوں کے سامنے شکایتیں بھی کم کریں گے اور حلات سے تنگی کا اظہار بھی کم ہی کریں گے۔
اللہ سے راضی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اسباب پر عمل کرنا چھوڑ دے اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش سے ہاتھ دھو لے، اس کا معنیٰ یہ بھی نہیں ہے کہ کسی مصیبت پر آپ کو پریشانی نہیں ہوگی یا کسی مشکل میں آپکو درد نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ سے راضی رہتے ہوئے بھلائی کی تگ و دو جاری رکھی جائے۔
اللہ سے راضی ہو جانے سے اللہ بھی انسان سے راضی ہو جاتا ہے۔ ہم اللہ سے رب کے طور پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نبی کے طور پر اور اسلام سے دین کے طور پر راضی ہوگئے۔
اے اللہ! ہمیں اپنے متعلق اچھا گمان کرنے والا بنا، صحیح معنوں میں توکل کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمارا یقین پختہ فرما یہاں تک کہ ہمیں قرآن وحدیث میں بتائی گئی باتوں پر ان چیزوں سے زیادہ یقین ہو جائے جو ہمیں نظر آتی ہیں۔
ہمیں امید کے ساتھ عمل کرتے رہنا چاہیے، اور ثابت قدمی کے ساتھ محنت کرنی چاہیے کیونکہ فتح قریب ہے، اجر بہت زیادہ ہے، ہر معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ ھر چیز پر غالب ہے مگر اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔
اے اللہ ہم تیری ہی ایک مخلوق ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل وکرم سے محروم نہ فرما۔
’’ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔‘‘ (یونس: 85)
’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘          (الاعراف: 23)
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘           (البقرہ: 201)
’’ پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘

ایل جی نے ایوارڈ یافتہ پہلا 4Kیو ایچ ڈی پروجیکٹر متعارف کرادیا

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ایل جی الیکٹرانکس (ایل جی) نے4Kیو ایچ ڈی ہوم پروجیکٹرز میں وسعت لانے کے ساتھ اپنا پہلا 4Kیو ایچ ڈی 1 پروجیکٹر متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس پروجیکٹر کو الٹرا شارپ ویڈیو اور خوبصورت ڈیزائن اور جامع انداز سے سی ای ایس کا بیسٹ آف اننویشن ایوارڈ ملا ہے۔ عالمی 4Kپروجیکٹر مارکیٹ میں […]

The post ایل جی نے ایوارڈ یافتہ پہلا 4Kیو ایچ ڈی پروجیکٹر متعارف کرادیا appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

سام سنگ نے نئے گلیکسی A8/A8+ اور گرینڈ پرائم پرو سمارٹ فون جاری کر دیئے

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ٹیکنالوجی میں عالمی لیڈر سام سنگ نے اپنے انتہائی جدید سمارٹ فونز سام سنگ گلیکسی A8، سام سنگ گلیکسی A8 پلس اور گرینڈ پرائم پرو 2018ء پاکستان میں جاری کر دیئے۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب پیر کو یہاں لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سام سنگ ای سی پاکستان کے […]

The post سام سنگ نے نئے گلیکسی A8/A8+ اور گرینڈ پرائم پرو سمارٹ فون جاری کر دیئے appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

ایک ادھورے فیصلے کی دوسری مؤدبانہ برسی

چراغ شب -


مجھے  اپریل 2009 کا وہ دن یاد ہے۔ غالبا تین تاریخ تھی۔ ہم لاہور دفتر میں  کام کر رہے تھے جب اچانک یہ خبر پھیلی کہ سوات میں طالبان کے ایک لڑکی کو سرعام کوڑے لگانے اور تشدد کرنے کی بہیمانہ اور سفاک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔  بس خبر  آنے کی دیر تھی۔ یہاں سے وہاں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پورے ملک میں کہرام برپا ہو گیا۔۔  چیخ پکار شروع ہو گئی۔ کف اڑاتی شہ سرخیوں اور بیانات کا سیلاب آ گیا۔  این جی اوز میدان میں کود پڑیں۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے لیا اور اپنی سربراہی میں تحقیقاتی بنچ قائم کر دیا۔حسبِ توفیق ہم نے بھی غم و غصہ کا اظہار کیا اور اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ ویڈیو خبروں کا مرکز بنی رہی۔



یہ سوات میں اے این پی کی صوبائی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے درمیان  امن معاہدہ طے پا جانے کے کچھ دن بعد کا ہی واقعہ تھا۔ بات آگے بڑھی تو  سوات کے امن معاہدے کو ختم کرنے اور فوجی آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ ہر طرف سے سامنے آنے لگا۔  بہرحال آخرکار سوات میں آپریشن 'راہِ نجات' کا آغاز کر دیا گیا  جس سے لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے۔ ہزارہا خاندانوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے  بدل گئی۔تاریخ کی ایک بڑی داخلی ہجرت وقوع پذیر ہوئی۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوا کہ  واقعے کے فوری بعد سے ہی  مختلف حکومتی شخصیات نے، جن میں کمشنر مالاکنڈ، صوبائی حکومت، سیکرٹری داخلہ شامل تھے، اس چیخ پکار کے وقت بھی ویڈیو کو جعلی قرار دیتے  ہوئے کہا تھا کہ یہ سوات میں امن کے عمل کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کرائے کے اداکاروں کے ذریعے تیار کی گئی ویڈیو ہے جس کے پیچھے انسانی حقوق کی کارکن ثمر من اللہ کا ہاتھ ہے۔ بعد ازاں اس ویڈیو میں کام کرنے والے اداکاروں نے بھی تسلیم کر لیا کہ ان کو ایک این جی او کی طرف سے اس کام کا بھاری معاوضہ دیا گیا تھا۔ حتٰی کہ ویڈیو میں دکھائے گئے بچوں کو بھی پیسے دیے گئے تھے۔

https://nation.com.pk/29-Mar-2010/video-of-flogging-of-girl-in-swat-was-fake


اس ویڈیو کی تخلیق کار/ہدایت کار اور تمام تر سرگرمی کی روحِ رواں ثمر من اللہ نے مختلف ٹی وی شوز میں دعویٰ کیا تھا کہ کوڑے کھانے والی لڑکی ضلع سوات کی تحصیل 'کبل' کے گاؤں 'کالا کلی' کی سترہ سالہ 'چاند بی بی' ہے۔ جس کو طالبان جنگجہو سے شادی نہ کرنے پر کوڑے مارے گئے ہیں۔

2016 جنوری  میں کئی سال کی سماعت کے بعد بالآخر سپریم کورٹ نے اپنے اذخود نوٹس کا فیصلہ دے دیا تھا  اور  سوات کی کوڑے لگانے والی ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔  اس ماہ اس فیصلے کی دوسری برسی تھی۔ اس فیصلے کی نمایاں بات یہ تھی کہ بس ویڈیو جعلی قرار دینے سے آگے بڑھنے کی ہمت سپریم کورٹ بھی نہ کر سکی۔ جس ویڈیو کی بنیاد پر پوری دنیا میں پاکستان پر لعن طعن کی گئی، لاکھوں زندگیاں دربدر ہو گئیں، حویلیوں میں رہنے والے لوگ ہاتھ میں برتن پکڑے کھانے کی قطار میں آ کھڑے ہوئے، بس اس کو جعلی قرا ردے کر یہ باب بند کر دیا گیا۔ اس کو کس نے بنایا، کس نے پھیلایا، کس نے اس کی بنیاد پر کیا مقاصد حاصل کیے یہ سب کچھ کھلا راز ہونے کے باوجود کسی کو اس پر بات کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ 




وقت اور تحاریک اسلامی کے کارکنان

نوائے نے -

وقت کیسے گزارا جائے ـــــــ وقت کیسے کاٹا جائے ـــــــ وقت کیسے kill کیا جائے ــــــ یہ جملے داعی اور تحاریک ہائے اسلامی کے کارکنان کے منہ سے کیسے نکل سکتے ہیں ـــــــــ یہ وقت ہی تو ان کا اصل سرمایہ ہے ـــــــــ افراد سازی کے لیے ـــــــ قرآن سے تعلق جوڑنے کے لیے ــــــــــ اس میں غور و فکر اور تدبر کے لیے ــــــــ دعوت دین کے لیے ـــــــــ اقامت دین کے لیے ــــــــــــ مسلمانوں کو درپیش بڑے چھوٹے مسائل کے لیے جان کھپانے کے لیے ـــــــــــ داعی اور اقامت دین کے کسی کارکن کا دن اللہ کے رسول ﷺ کی نقل کرتے ہوئے دین کے لیے جدوجہد کرتے گزرنا چاہیے ـــــــــــ اور رات کا کچھ حصہ اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے ــــــــــ اسے پاس کرنے کے لیے وقت ملتا ہی کون سا ہے ــــــــــ جب کہ اسے تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف جانے کی لپک لگی ہوتی ہے ــــــــــ اپنے بیمار بھائی کی عیادت کے لیے جانا ہوتا ہے ــــــــــ کسی ضرورت مند بھائی کی حاجت برآری کے لیے پہنچنا ہوتا ہے ـــــــــــ مظلوم کی نصرت اور ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے کوشش کرنا ہوتی ہے ـــــــــــ اپنے اہل و عیال کے لیے رزق حلال کی کوشش کرنا ہوتی ہے ـــــــــــــ انہیں آگ سے بچانے کے لیے تربیت اور تحریض کے کڑے سے گزارنا ہوتا ہے ــــــــــ وقت اس کے لیے ضائع کرنے کی جنس ہو ہی نہیں سکتی ـــــــــــ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر diversions اس کے لیے محض حصولِ مقصد کا ایک ٹول ہوتا ہے، اور انہیں وہ اتنی ہی اہمیت دیتاہے ، جتنی دی جانی چاہیے ـــــــــــ ہر دس منٹ بعد اس کا ہتھ فیس بک کو ریفریش کر کے دیکھنے کے لیے بے تاب نہیں ہوتا ــــــــ ہر شام اس کا وقت گھنٹوں کے حساب سے ٹی وی سکرین کی نظر نہیں ہوتا ــــــــــ میدان دعوت و جہاد کے وہ شہسوار ہم نے حال ہی میں دیکھے سنے ہیں ، جو فارغ وقت ملتے ہی قرآن کھول کر اپنے مالک کا کلام پڑھنے اور اس پہ غورو فکر کرنے میں مشغول ہو جاتے تھے ـــــــــــ انہیں سوشل میڈیا لائکس، کمنٹس اور ریٹویٹتس کی حقیقت کا اندازہ تھا ـــــــــــ وہ اسے استعمال کرتے بھی تھے، تو ضرورت کے مطابق ـــــــــــ ان کا اوڑھنا بچھونا، مرنا جینا اس پہ اور اس کے لیے نہیں ہوتا تھا ــــــــــــ وہ شاید جانتے تھے، کہ جب آپ افکار و صور کے جنگل میں ہمہ دم بسر کرتے ہیں ، تو منکرات کو روکنے کا جذبہ آہستہ آہستہ سرد پڑتا ہے، "برداشت" کی عادت گہری ہوتی جاتی ہے ــــــــــــــ اللہ کی کتاب کھولت کسلمندی محسوس ہوتی ہے اور چہروں کی کتاب کھولتے ایک گونہ فرحت ــــــــــ بیمار یا پریشان بھائی کی عیادت و نصرت کے لیے گھر سے نکنا دشوار ترین ، جبکہ سٹیٹس کاپی پیسٹ کرنا بڑی نیکی دکھائی دیتا ہے ــــــــــــ صالحین کی صحبت میں بیٹھ کر دل کی رگڑ مانجھ بس "ایسے ہی سا" کام اور سکرین پہ آ رہے لائیو درس کا تیسوان حصہ سن کر ماشاءاللہ کا تبصرہ کافی محسوس ہوتاہے ــــــــــ جلد وہ دن آنے والا ہےجب لوگ اپنی عمر کی گھڑیاں عملِ نافع کے کے بغیر گزارنے پہ نادم ہوں گےیاد رکھوبے شک وقت گزر جاتا ہے اور یہ گھڑیاں ضائع ہو جاتی ہیںسو، داعی کا وقت اس کی دولت ہے اور اس کے مالک کے اسے قریب کرنا کا ذریعہ بھی ــــــــــــــــ شیطان کہیں اسے دھوکے میں نہ ڈال دےــــــــــــ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کے لیے قبول فرما لے، زندہ بھی اسلام پہ رکھے اور موت بھی ایمان و اسلام کی بہترین حالت میں عطا فرمائے آمین

بل گیٹس اپنے بچوں کے ٹیکنالوجی استعمال پر پابندیاں لگاتے ہیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

بچوں کو 14 سال کی عمر تک فون نہيں دیا، اب بھی محدود پابندیاں ہیں

The post بل گیٹس اپنے بچوں کے ٹیکنالوجی استعمال پر پابندیاں لگاتے ہیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

ون پلس ایک ارب ڈالرز کی فروخت کرگیا

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

اسمارٹ فون بنانے والے چینی ادارے ون پلس نے پہلی بار ایک ارب ڈالرز کی فروخت کا سنگ میل عبور کرلیا ہے اور آج کی سخت ترین مقابلہ رکھنے والی مارکیٹ میں حیران کن طور پر منافع حاصل کیا ہے۔ ادارے کے چیف ایگزیکٹو پیٹ لاؤ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس کی آمدنی […]

The post ون پلس ایک ارب ڈالرز کی فروخت کرگیا appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - اردو بلاگ