اردو بلاگ

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

کچھ دل سے -

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟اقتباس خطبہ جمعہ مسجد نبوی
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 27-شوال- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ پر سکون اور خوشحال زندگی ہر انسان کا ہدف ہے ، لیکن اسے پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالی کے احکامات کے تابع کر دے، اپنا عقیدہ مضبوط بنائے، اللہ کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
خطبے کا اقتباس پیش ہے:
تمام  تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کے لیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کے لیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب ملنے والا نہیں ہے  وہ تو اس کی راہ کے راہی بھی نہیں بن سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خوشحال اور  زندگی میں لہر بہر کی تمام تر صورتوں کا راز خالق انسانیت کے اس فرمان میں پنہاں ہے:  فرمانِ باری تعالی ہے:{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ } جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی بسر کرائیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے[النحل: 97]
 اس آیت کریمہ میں محقق مفسرین کے ہاں "خوشحال زندگی" سے مراد دنیا کی زندگی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی  میں ملنے والی مسرتیں، خوشیاں، راحتیں اور نعمتیں اس کے علاوہ ہیں۔
اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (مومن کا معاملہ تعجب خیز ہے کہ اس کا سارے کا سارا معاملہ ہی  خیر والا ہے، اور یہ خوبی صرف مومن کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ اگر مومن کو تکلیف پہنچے تو مومن اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ تکلیف اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے۔ اور اگر مومن کو خوشی ملے تو وہ اس پر شکر کرتا ہے تو یہ خوشی اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے) مسلم
یہ ایمان ہی ہے جو انسان کو ملی ہوئی معمولی دنیا پر بھی خوش کر دیتا ہے، اللہ تعالی کی عنایت پر راضی کر دیتا ہے، اور اللہ تعالی کی نوازشوں پر قناعت پسند بنا دیتا ہے۔
چنانچہ مسرتوں اور نعمتوں سے بھر پور کامیابی صرف ایسے ہی ممکن ہے جیسے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمائی ہے: (یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا  جو اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر دے ، اللہ تعالی اسے ضرورت کے مطابق رزق دے، نیز اللہ تعالی اسے جو کچھ بھی عنایت کرے اس پر قناعت عطا کر دے) مسلم
دل ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو تو اسے جوڑنے کے لیے صرف اللہ تعالی سے لگاؤ ہی کار گر ثابت ہوتا ہے۔ دل وحشت زدہ ہو تو اس کی تنہائی اللہ تعالی سے محبت کے ذریعے ہی  ختم ہوسکتی ہے۔ دل کے غموں کو  وحدانیتِ الہی  اور معرفت الہی سے زائل کیا جا سکتا ہے۔
لہذا اگر کوئی شخص ابدی راحت  اور قلب و جان  میں ظاہری و باطنی دائمی خوشحالی کا متمنی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے نفس کو اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ڈھال لے، اپنی زندگی  کے ہر گوشے کو اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے تو پھر وہ اس دنیا میں بھی مختلف نعمتوں کے مزے لوٹے گا اور آخرت میں بھی، فرمانِ باری تعالی اسی کے بارے میں  کہ : {إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} بیشک نیک لوگ  نعمتوں میں ہوں گے۔ [الانفطار: 13]
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس وقت انسان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس پر اپنے دو سپاہی مسلط کر دیتا ہے یہاں تک بندہ توبہ نہ  کر لے: پہلا سپاہی: "غم" اور دوسرا سپاہی "پریشانی"۔
اس لیے مسلمانو! اپنے دل کا تعلق صرف اللہ تعالی سے بناؤ، اپنے پروردگار کے بارے میں حسن ظن رکھو، اگر تم متقی اور پاک صاف بن جاؤ تو تمہیں سعادت مندی اور خوشحالی نصیب ہو گی۔
محصور وہ ہے جس کا دل پروردگار سے  روک دیا جائے، اسیر وہ ہے جو اپنی خواہشات کا اسیر ہو، پریشان  وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں میں ملوّث کر لے، مغموم وہ ہے جو اپنے نفس کو تباہ کن گناہوں اور شرعی خلاف ورزیوں میں ڈبو لے۔
کسی صاحب معرفت کا کہنا ہے کہ:  "دنیا میں سے مسکین لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن دنیا کی بہترین چیز سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ کہا گیا: وہ کیا چیز  ہے؟ تو بتلایا: اللہ کی محبت، اللہ کے ساتھ انس، اللہ سے ملنے کا شوق، صرف اسی کی جانب متوجہ ہو کر بقیہ ہر چیز سے رو گردانی کا لطف"
فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}  یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا  اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ [الأحقاف: 13]
اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

نُورا ملاح اور جے آئی ٹی

جاوید گوندل (بے لاگ) -

نُورا ملاح اور جے آئی ٹی ۔

نورا ملاح کشتی کھیہ رہا تھا ۔اس نے ونج کو آخری بار دریا کی تہہ میں گاڑا اور کشتی کوپتن سے لگادیا اور چھوٹی سی رسی کو دریا کنارے باندھنے کی دیر تھی کہ اس پار بکھرے دس بارہ دیہات کے اِکا دُکا مسافر جو دیر سے کشتی کا اِس پار آنے کا انتظار کررہے تھے اُچک اُچک کر جلدی جلدی کشتی میں چڑھنے لگے ۔نُورے کا گھر بھی دریا کے اِسی پار کے کچھ دُورواقع گاؤں "وسن والا” میں تھا،گرمیوں کی دوپہر سر پہ تھی ۔


نورے نے کشتی کا "پُور” (پھیرا)بھرتے سوچا یہ پچھے چار سالوں سے اسکے نصیب چمک اٹھے تھے ۔ بارہ اِس پار کے گاؤں اور بارہ چوہ دہ اُس پار کے دیہاتوں کے لوگ بھی جوق در جوق اسکی کشتی سے اپنے ضروری کاموں سے اس یا اس پار آتے جاتے تھے ۔ اور ان سالوں میں گو "ہاڑ” (سیلاب) تو سر چڑھ کر آتا رہا مگر ہر بار کی مناسب پیش بندی سے اسکی کشتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ ورنہ تو پچھلے سالوں میں دو دو بار اسکے کشتی دریا کے سیلاب میں بہہ کر گم گما گئی تھی اور اگلے سالوں میں نورے اور اور اسکے خاندان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر اب کی بار اللہ نے اس پہ اور اسکے خاندان پہ خاص کرم کیا تھا ۔


نُورا انہی سوچوں میں غرق اور دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوا کشتی کھیتا دریا کے درمیان پہنچ چکا تھا کہ اُس کے گاؤں "وسن والا” کے "مانے” کو پتہ نہیں کیا سُوجھی کہ اس نے کہا کہ
"نُورے میں ابھی گاؤں سے آیا ہوں اور تمہارے لئیے ایک بری خبر ہے ”
نورے کی ساری خوشی کافُور ہوگئی اور وہ مانے کی طرف متوجہ ہوگیا جو بتارہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"نُورے ۔ تمہاری بیوی اپنے کسی آشناء کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے”


نورے کا رنگ فوراََ فق ہوگیا ۔ کشتی میں سوار بار ہ گاؤں کے دیہاتیوں نے چونک کر اپنی باتیں چھوڑ چھاڑ کر نظریں نُورےپہ گاڑ دیں ۔ اور نورے کو یوں لگا جیسے کسی نے اسے بھرے بازار میں ننگا کر دیا ہو۔ایک لمحے کے لئیے "ونج” پہ اسکی گرفت کمزور ہوئی اور کشتی لہراکر رہ گئی ۔ مگر نُورے نے دوبارہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ” ونج ” پہ اپنی گرفت مضبوط کی مگر اُسے یوں لگا جیسے کسی نے اسکے بازؤں کی طاقت سلب کر لی ہو ۔ نورا ملاح جیسے تیسے کشتی کھیہ کہ دریا کے دوسرے کنارے لگانے میں کامیاب ہوگیا ۔ کشتی کے مسافر اسے عجیب نظروں سے دیکھتے اپنے اپنے رستوں کو ہو لئیے صرف "مانا” رک گیا تھا اور مسافروں کے جاتے ہی نُورااپنی بربادی پہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اور اچانک "مانا ” بے اختیار قہقے لگا کر ہنسے لگا ۔ نورے نے غم اور صدمے سے مانے کو دیکھا ۔ مانے نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
” اوئے جھلیا۔ میں تو تمہارے ساتھ دل لگی (مذاق) کر رہا تھا ۔ تمہیں پتہ تو ہے دل لگی کرنے والی میری اس پُرانی عادت کا۔ تمہاری بیوی کسی اپنے آشناء کے ساتھ بھاگ کر کہیں نہیں گئی اور وہ تمہارے گھر پہ ہی ہے۔ میں تو ایسے ہی تمہارے ساتھ دل لگی کر رہا تھا”
نُورے نے مایوسی اور غم کے ملے جُلے جذبات اور رندھے ہوئے گلے سے دور دراز راستوں پہ جانے والے کشتی کے مسافروں کو دیکھا اور "مانے” سے گویا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"مانے! تم نے تو دل لگی کی مگر میرا ستیا ناس کردیا۔اب یہ سمجھو کہ کہ میری بیوی واقعی گھر سے بھاگ ہی گئی ہے۔یہ بارہ گاؤں کے لوگ بارہ چودہ مختلف گاؤں کو جائیں گے اور اتنے ہی لوگوں کو بتائیں گے کہ نورے ملاح کی بیوی آج گھر سے بھاگ گئی ہے۔ نہ یہ سارا "پُورا” دوبارہ اکھٹا ہوگا ۔ اور نہ ہی وہ تم سے یہ جاننا چاہیں گے کہ تم نے مجھ سے دل لگی کی تھی جبکہ میری بیوی کسی آشناء کے ساتھ گھر سے نہیں بھاگی تھی۔ اور اگر اتفاق سے وہ اکھٹے ہو بھی جائیں اور تم انہیں حقیقت بتا بھی دو تو اتنے سارے دیہاتوں میں جہاں ان کے بتانے سے میری نیک نامی تار تار ہوگی وہ کیسے نیک نامی میں بدل پائے گی؟ بس مانے اب یوں سمجھوں کہ میری بیوی کسی آشناء کے ساتھ بھاگ ہی گئی ہے اورمیری نیک نامی تواب واپس آنے سے رہی "


نواز شریف نے اگر کرپشن نہیں بھی کی تو بھی اب نواز شریف جس قدر متنازع شخصیت بن چکے ہیں اور ثابت اور غیر ثابت شدہ الزام تراشیوں میں گھر چکے ہیں ۔توانہیں چاہئیے کہ ملک و قوم کے وسیع ترمفاد میں اپنے عہدے سے استعفی دے کر بچی کچھی نیک نامی سمیٹنے اور جمہوریت کو بچانے کی کوشش کرنی چائیے۔


ویوو نے پاکستان میں خصوصی طور پر سیاہ رنگ کا V5s سمارٹ فون متعارف کروا دیا

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

(پریس ریلیز) عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ویوو جس نے حال ہی میں پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی فروخت کا آغاز  کیا ہے، اب مارکیٹ میں خاص طور پر کالے رنگ کا V5s اسمارٹ فون متعارف کروا چکی ہے۔ ویوو کو پاکستان میں آئے ابھی چند ہی ہفتے گذرے ہیں، تاہم کمپنی نے تیزی سے سمارٹ […]

The post ویوو نے پاکستان میں خصوصی طور پر سیاہ رنگ کا V5s سمارٹ فون متعارف کروا دیا appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

غیبی امداد

Nostalgia, Scream and Flower -


اسے میں جب بھی دیکھتا ہوں تو کوشش ہوتی ہے کہ رستہ بدل لوں ۔بات یہ نہیں ہے کہ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے یا میرے اس سے کوئی اختلاف چل رہے ہیں۔   وہ  جب بھی مل جائے تو اس کے پاس سنانے کو اپنی بہت سی مجبوریاں  موجود ہوتی ہیں۔ بجلی کا بل بہت زیادہ آگیا ہے۔  بچوں کی فیس ادا کرنا ہے ۔ گھر کا پنکھا خراب ہوگیا ہے،ٹھیک کروانا ہے ۔ ساس بیمار ہے اور تیمارداری کیلئے جانے کیلئے کرایہ نہیں ہے ۔۔ جتنے بہانے اس کے پاس اپنی  مجبوریاں ثابت کرنےکیلئے ہوتے ہیں، اتنے ہی کام نہ کرنے کے بھی اس کے پاس موجود ہیں ۔الرجی کا مسئلہ ہے ۔معدہ کام نہیں کرتا ۔جگر خون نہیں بناتا۔پٹھے کمزور ہیں  ...اس لیئے جونہی اس پر نظر پڑے میری کوشش ہوتی ہے کہ راستہ بدل لوں
یہ پچھلے سال ستائیس اگست کی بات جس دن بارش نے سارا شہر ڈبو دیا ۔ ایک جگہ کھڑے پانی سے گزرتے ہوئے  گاڑی بند ہوگئی ۔سخت پریشانی میں  کھڑا تھا کہ وہ شخص سامنے آگیا اور کچھ بندوںکی مدد سے گاڑی کو دھکا لگوا کر  گاڑی سٹارٹ کروا دی..۔۔۔مجھے اس کے بارے میں اپنی سوچ تبدیل کرنا پڑی اور چند ماہ تک اسکی ضروریات پوری کرتا رھا...لیکن پھر روز روز  کے مطالبوں سے  تنگ آکر مشکل سے جان چھڑائی۔۔
چند ماہ بعد  گٹر کے ڈھکن  کے اوپر سے گزرتے ہوئے  ڈھکن ٹوٹنے کی وجہ سے گاڑی کا ٹائر  پھنس گیا لیکن یہ بندہ پھر کہیں سے نکل آیا اور دو تین بچوں کی مدد سے گاڑی نکلوائی...جس کے بعد مجھے اس کی ماں کے ختم.میں بھی حصہ ڈالنا پڑا اوراس کے بعد اس کی فیملی کو ماسی کے جنازے پر جانے کیلئے کرایہ بھی دینا پڑا..اور والد کی قبر کی مرمت کیلئے پیسے  الگ سے دینا پڑے۔لیکن روز روز کے مطالبوں سے تنگ آکراس سے جان چھڑانے پر مجبور ہوگیا 
اور اب پرسوںکی بات ہے جب شدید بارش میں گاڑی سڑک کے درمیان بند ہوگئی ..اور وہ بندہ پتا نہیں کہاں سے مدد کیلئے آن پہنچا..اور آج گھر  کا بوسیدہ دروازہ تبدیل کروانے کیلئے پیسے لیکر گیا ہے اور ساتھ ہی گھر کی بیرونی دیوار کی کمزوری کی نوید بھی سنا گیا ہے یاد رہے یہ سارے واقعات الگ الگ مقامات پر پیش آئےاور میں ابھی بیٹھا سوچ رھا ہوں کہ یہ بندہ میری غیبی مدد ہے یا ۔۔۔۔۔

PHP سیکھیں – حصہ اول

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

پی ایچ پی ویب ڈیویلپمنٹ کی دنیا میں ایک اہم لینگویج ہے جسے اس وقت سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ڈیوویلپمنٹ لینگویج کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بنیادی طور پر اسے ڈائنامک ویب پیجز ڈیزائن کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا لیکن اب یہ بہت سے دیگر مقاصد کے لئے بھی زیر استعمال […]

The post PHP سیکھیں – حصہ اول appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

اِنسانی عمل

افتخار اجمل بھوپال -

ہم انسان ہیں
ہم ٹُوٹ پھُوٹ کا شکار ہوتے ہیں
لیکن اپنی زندگی دُکھ درد کے حوالے کرنا انسانیت کا تقاضہ نہیں
صبح سویرے اُٹھیئے
اللہ کے آگے جھُکنے کے بعد اپنی مرضی سے اپنی زندگی سوارنے میں لگ جایئے

آٹھ مصیبتیں

کچھ دل سے -


》 وہ آٹھ مصیبتیں جو انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں 《منقول
کوئی بندہ جب اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتا ہے… یا کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر بہت سی مصیبتیں آتی ہیں…مگر ان مصیبتوں میں سے ’’آٹھ‘‘ بہت خطرناک ہیں …یہ آٹھ مصیبتیں انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں اور اس کی آخرت کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں…اس لئے ہمیں سکھایا گیا کہ ہر دن صبح اور شام ان آٹھ مصیبتوں سے بچنے کی دعاء مانگا کریں …عجیب بات یہ ہے کہ …شیطان ان آٹھ مصیبتوں کے تیر…ہر صبح اور ہر شام ہم پر چھوڑتا ہے…پس جو انسان صبح شام اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے…وہ بچ جاتا ہے…اور جو یہ پناہ نہیں پکڑتا وہ ان تیروں میں سے کسی ایک یا زیادہ تیروں کا شکار ہو جاتا ہے…وہ آٹھ مصیبتیں یہ ہیں:
(1) ’’الھم ‘‘ یعنی فکر میں مبتلا ہونا(۲)’’الحزن‘‘ یعنی غم میں جکڑا جانا(۳ )’’العجز‘‘ یعنی کم ہمتی ، بے کاری، محرومی(۴)’’الکسل‘‘ یعنی سستی ، غفلت(۵)’’الجبن‘‘ یعنی بزدلی، خوف، دل کا کمزور ہو کر پگھلنا( ۶) ’’البخل‘‘ یعنی کنجوسی، حرص، لالچ اور مال کے بارے میں تنگ دلی(۷)’’غلبۃ الدین ‘‘ یعنی قرضے میں بری طرح پھنس جانا کہ نکلنے کی صورت ہی نظر نہ آئے( ۸) ’’قھرالرجال ‘‘ یعنی لوگوں کے قہر، غضب ، غلبے اور ظلم کا شکار ہو جانا…
》قیمتی دعاء《
ان آٹھ مصیبتوں سے حفاظت کی دعاء… کئی احادیث مبارکہ میں آئی ہے… صحیح بخاری میں تو یہاں تک آیا ہے کہ…رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعاء مانگتے تھے…بس اسی سے اہمیت کا اندازہ لگا لیں حضور اقدس ﷺ معصوم تھے، محفوظ تھے اور شیطان کے ہر شر سے پاک تھے… مگر پھر بھی اس دعاء کی کثرت فرماتے…ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ… حضور اقدس ﷺ دن کے وقت مسجد تشریف لے گئے تو وہاں اپنے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو بیٹھا پایا…پوچھا کہ نماز کا تو وقت نہیں پھر مسجد میں کیسے بیٹھے ہو … عرض کیا…تفکرات نے گھیر رکھا ہے…اور قرضے میں پھنس چکا ہوں… فرمایا یہ کلمات صبح شام پڑھا کرو… انہوں نے اہتمام فرمایا تو تفکرات بھی دور ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے سارا قرضہ بھی اُتار دیا …یہ دعاء الفاظ کی تقدیم تاخیر اور کچھ فرق کے ساتھ کئی احادیث میں آئی ہےدعاء کے دو صیغے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں …جو آسان لگے اُسے اپنا معمول بنا لیں…(۱) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ(۲) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِالفاظ کا ترجمہ ایک بار پھر اختصار کے ساتھ سمجھ لیں…1..’’الھم‘‘ تفکرات کو کہتے ہیں…آگے کی فکریں، پریشانیاں ، فضول پریشان کرنے والے منصوبے اور خیالات…2.. الحزن ‘‘غم کو کہتے ہیں …ماضی کے واقعات کا صدمہ اور غم ایک دم اُبھر کر دل پر چھا جائے… حالانکہ حدیث شریف میں آیا ہے … ’’کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے رہ نہیں سکتا تھا…اور جو کچھ اس سے رہ گیا وہ اسے پہنچ نہیں سکتا تھا۔‘‘(مسند احمد)یعنی جو نعمت مل گئی وہ ملنا ہی تھی اس سے زیادہ نہیں مل سکتی تھی…جو تکلیف آئی وہ آنی ہی تھی اس سے بچا نہیںجا سکتا تھا…اور جو کچھ نہیں ملا وہ نہیں ملنا تھا خواہ میں کچھ بھی کر لیتا… مطلب یہ کہ اللہ کی تقدیر پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونا…یہ غم کا علاج ہے…3..’’العجز‘‘ کا مطلب اچھے کاموں اور اچھی نعمتوں کو پانے کی طاقت کھو دینا…اس میں کم ہمتی بھی آ جاتی ہے…4..’’الکسل‘‘ کا مطلب سستی… یعنی انسان کے ارادے کا کمزور ہو جانا… میں نہیں کر سکتا … میں نہیں کرتا…5..’’الجبن‘‘ بزدلی، موت کا ڈر، اپنی جان کو بچانے کی ہر وقت فکر …اللہ تعالیٰ نے جان دی کہ اس کو لگا کر جنت پاؤ مگر ہم ہر وقت جان لگانے کی بجائے جان بچانے کی سوچتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے جان دی تاکہ ہم اسے لگا کر…دین کو غلبہ دلائیں، اسلامی حرمتوں کی حفاظت کریں…امت مسلمہ کو عزت دلائیں… مگر ہم جان بچانے کے لئے ہر ذلت برداشت کرنے پر تیار ہو جائیں … اسے ’’ جبن ‘‘ کہتے ہیں…6.. البخل‘‘ مال کے بارے میں کنجوسی کرنا …مال سے فائدہ نہ اٹھانا… مال جمع کرنے اور گننے کی حرص میں مبتلا ہو کر …مال کا نوکر اور ملازم بن جانا…اور مال کے شرعی اور اخلاقی حقوق ادا نہ کرنا…7.. ضلع الدین‘‘ قرضے کا بری طرح مسلط ہو جانا… فضول قرضے لینے کی عادت پڑ جانا … قرضوں کے بوجھ تلے دب جانا…8.. غلبۃ الرجال یا قہرالرجال ‘‘ … لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ، رسوا ، مغلوب اور مقہور ہونا…اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی ان آٹھ آفتوں اور تمام آفتوں سے حفاظت فرمائے…اللھم آمین یا ارحم الراحمین.

دوسرا رخ

نیرنگ خیال -

پس منظر:میرے بھانجے خزیمہ (عمر تقریباً ایک سال) کی ہفتہ بھر کے لئے آمد۔ اس دوران زین العابدین اور عشبہ کی اس سے دوستی ہوگئی، اور تینوں بچے ملکر خوب کھیلتے تھے۔ ہفتہ بعد خزیمہ کی واپسی ہوگئی۔
منظر: میں، بیگم اور بچے بیٹھے ہیں۔ مکالمہ:بیگم: یہ خزیمہ ہمیں اداس کر کے چلا گیا ہے۔ زین العابدین: نہیں مما! وہ ہمیں اداس کر کے نہیں خوش کر کے گیا ہے۔
نیرنگ خیال#زینیات

دفاعی حربہ: ‘اگر ھم ماڈرنسٹ ھیں تو علماء بھی ماڈرنسٹ ھیں’

مذہب فلسفہ اور سائنس -

‘مسلم ماڈرنسٹ حضرات خود کو اسلامی تاریخ کا حصہ قرار دینے (درحقیقت اپنی مغربی بنیادیں چھپانے) کیلئے ایک کے بعد دوسرے حربے کی تلاش میں رھتے ہیں۔ کبھی کہیں گے کہ ھم اسلاف کے ساتھ اسی طرح اختلاف کررھے ھیں جس طرح اسلاف آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے رھے ہیں، جب ان پر…

دفاعی حربہ:کیاقرآن وحدیث مقدم ہیں یااسلاف کافہم اسلام؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

ماڈرنسٹوں کا ایک اور دفاعی وار ۔۔۔۔۔ ”کیا قرآن و حدیث مقدم ہیں یا اسلاف کا فہم اسلام؟” ماڈرنسٹ حضرات کا ایک عمومی وار یہ بھی ھوتا ھے کہ اگر آپ انکے سامنے اسلاف کے فہم اسلام کی بات کریں گے تو جھٹ سے کہیں گے: ”کیا اسلاف کا فہم مقدم ھے یا قرآن و…

دفاعی حربہ:اسلاف سےاختلاف رکھنااورغیرجانبداریت

مذہب فلسفہ اور سائنس -

. اسلاف سے اختلاف رکھنا کوئ شجر ممنوعہ نہیں: جب کبھی کسی مفکر (سرسید سے لیکر غامدی صاحب اور ان کے علاوہ دیگر تک) کو کہا جاۓ کہ آپ ماڈرنسٹ ھیں تو پلٹ کر کہتے ھیں کہ ”اسلاف سے اختلاف رکھنا کوئ شجر ممنوعہ نہیں اور پھر یہ لوگ اسلاف کے آپسی اختلافات کی مثالیں…

جدت پسندوں کاتصوراجتہاداوردفاعی حربوں کاتعاقب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

روایت پسندوں پر ‘اکابر پرستی’ کا طعنہ : گروہ متجدیدین اور انکے پیروکاروں کی ایک عمومی جھانسہ دینے کی نوعیت یہ بھی ھوتی ھے کہ دوران گفتگو یہ لوگ تاریخی معتبر اسلام پسندوں پر ”اکابر پرستی” کا طعنہ کس دیتے ہیں۔ یہ طعنہ کسنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ھوتا ھے کہ ‘تم لوگ عقل…

تجددپسندوں کا تصورِاجتہاد

مذہب فلسفہ اور سائنس -

صحیح بخاری میں ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے، حتیٰ کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ (صحرائی جانور) کے بِل میں گُھسا ہے تو تم بھی ضرور گھسو گے۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ…

ماڈرنسٹوں کی ایک انوکھی دلیل ۔۔ کنٹکسٹ بدلنے سے اطلاق بدل جاتا ھے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

جناب راشد شاز صاحب انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک متشدد قسم کے ماڈرنسٹ ہیں (جیسا کہ انکی کتاب کے نام ”مسلم ذھن کی تشکیل جدید” سے ظاھر ھے) اور غامدی صاحب سے بھی متاثر ھیں۔ ذیل کے پوسٹ میں یہ جناب اپنے تجددانہ افکار کے جواز کیلئے یہ سنہرا اصول بیان فرماتے ھیں کہ…

دورِجدیدمیں اسلامی شریعت کی تعبیروتشریح کادرست منہج

مذہب فلسفہ اور سائنس -

مسلم ممالک میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کا مسئلہ جہاں اپنی نوعیت واہمیت کے حوالے سے ہمارے ملی فرائض اور دینی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے، وہاں اس کی راہ میں حائل متنوع مشکلات اور رکاوٹوں کے باعث وہ ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور…

کیااجتہادکادروازہ بندہوچکاہے؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

صحابہ کرامؓ چونکہ براہ راست چشمہ نبوت سے فیض یاب تھے اور جناب نبی اکرم ﷺ کے مزاج اور سنت کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لیے اجتہاد کے حوالہ سے کسی واضح درجہ بندی، اصول وضوابط اور دائرہ کار کے تعین کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں کی گئی البتہ بعد کے ادوار میں ’’اجتہاد‘‘…

اجتہاد کی شرائط

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اجتہاد کی تعریف بلکہ اس کا نام ہی سے واضح ہے کہ یہ ایک بڑا نازک اور اہم کام ہے، جس میں شرعی مآخذ کی روشنی میں غیرمنصوص مسائل کا استنباط کرنا پڑتا ہے، اس لیے فطری بات ہے کہ اس کے لیے تقویٰ، خداترسی اور عدل وثقاہت کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی علمی تبحراور انتہائی…

اجتہاد-ضرورت اور اصول

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اسلام ایک ابدی مذہب ہے،اس میں قیامت تک آنے والے مسائل کاحل ہے،یہ دین خداکی طرف سے آیا ہوا آخری دین ہے ارشاد خداوندی ہے:” اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ”(آل عمران:۱۹) اس دین کا امتیاز جہاں ابدیت ودوام اور ہر عہد میں قیادت ورہبری کی صلاحیت ہے وہیں اسکا بڑا وصف جامعیت، مسائل زندگی میں…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - اردو بلاگ