عارضی معطل

سری لنکا میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہو گئی، 24 ملزمان گرفتار

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

سری لنکا میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہو گئی، 24 ملزمان گرفتار سری لنکا میں مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر ہونے والے  بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 ہوگئی ہے، سیکیورٹی اداروں کو ان دھماکوں میں انٹرنیشنل نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں گزشتہ روز ہونے والے 8 بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 ہوگئی ہے اور 500 افراد زخمی ہیں۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ یہ بم دھماکے 3 چرچوں اور 3 ہوٹلوں پر کیے گئے جب کہ ایک ایک دھماکا دوسرے مقامات پر ہوئے۔

ملک میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کردیا ہے جو رات 8 بجے تک جاری رہے گا، وزیر صحت اور کابینہ کے ترجمان نے بم حملوں میں ’انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام خود کش بمبار سری لنکا کے شہری ہی تھے۔ تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ روز پہلے دارالحکومت کولمبو سمیت 2 شہروں نیگمبو، بٹّی کالؤا کے تین گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے۔ اس کے بعد کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گيا۔ https://www.express.pk/story/1641421/10/ مذہب و اخلاق کی رو سے انسانی جان کو ہمیشہ حرمت حاصل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں پوری صراحت کے ساتھ حکم دیا ہے کہ کوئی شخص کسی کو قتل نہ کرے، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا جرم ہے۔ شرک کے بعد سنگین ترین جرم ناحق قتل ہے، چنانچہ کسی کو قتل کرنا باعثِ خسارہ، اور دائمی جہنمی بننے کا سبب ہے۔ کسی کو قتل کرنا انسانیت کی تذلیل، قاتل و مقتول کیلئے ظلم اور زمین میں فساد کا باعث ہے، اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، اور آبادیوں کی آبادیاں تباہ، اور زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، قتل کی وجہ سے قاتل کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی درد ناک عذاب سے دو چار ہونا پڑتا ہے، قتل کے باعث مقتول کے ورثاء اور دیگر افراد کے حقوق تلف ہو جاتے ہیں، اسی کی وجہ سے امن و امان داؤ پر لگ جاتا ہے۔قتل بدترین جرم، اور قاتل بد ترین مجرم ہے۔عبادت گاہوں پر حملے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ہیں۔

جہاد و قتال

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

جہاد و قتال ‘جہاد’ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا بھی معنیٰ وہی  ہے جو ‘پر امن جدوجہد’ کا معنیٰ ہے۔ بنیادی طور پر اس ‘پر امن جدوجہد’ سے مراد  لوگوں کو راہ خدا کی طرف مدعو کرنے کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ جیسا کہ قرآن کا فرمان ہے ‘‘پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں’’ (25:52)۔

دعوت، یا لوگوں کو خدا کی دعوت دینا دراصل ایک نظریاتی جدوجہد ہے۔ یہ ایک کار عظیم ہے۔ اس قسم کے کام میں مختلف مطالبات ہیں۔ جب ان تمام مطالبات کو ذہن میں رکھ کر لوگوں  کو خدا  کی دعوت دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو یہ ایک عظیم جدوجہد بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو خدا کی دعوت دینے کو جہاد کہا جاتا ہے۔ یہ جہاد کا حقیقی معنی یہی ہے۔ چند مواقع پر یہ کہا گیا ہے کہ لفظ "جہاد” کو اس کے وسیع ترین معنوں میں قتال یا جسمانی جنگ مراد  لینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ اس لفظ کا محض ایک ضمنی  معنی ہے۔ جہاں تک احکام اور جہاد اور قتال کے متعلق قوانین کا تعلق ہے تو وہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ دعوتی جہاد کا اصل مقصد فریق مدعو کی سوچ و فکر میں تبدیلی پیداکرنا ہے جبکہ قتال کا مقصد اس کے برعکس فریق مخالف کو قتل کرنا ہے۔ جہاد اور قتال میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاد دعوت کے معنوں میں ایک عمومی حکم ہے۔ لوگوں کو خدا کی دعوت دینے کا جہاد ہمیشہ اور ہر حالت میں جاری رہنا چاہیے۔ لوگوں کو خدا کی طرف مدعو کرنے کے جہاد کا مقصد اس کے بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ دعوت انسانیت کے لئے خیر خواہی  پر مبنی ایک تعمیری اور مثبت سرگرمی ہے، اور یہ ہر دور میں اور ہر نسل میں جاری رہتی ہے۔ اس کے برعکس، قتال کے معنوں میں جہاد ایک عارضی سرگرمی ہے اور اس پر صرف اسی وقت انحصار کیا جا سکتا ہے جب کوئی دوسرا ملک کسی مسلم ملک پر مسلح حملے کا آغاز کر دے۔ لیکن اس حملہ کا جواب دینا افراد کی نہیں بلکہ ایک حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اس کے لئے ضروری انتظامات بھی کرنے چاہئے۔ (مولانا وحیدالدین خاں) نہ جہاد کی تمام شکلیں قتال ہیں لیکن قتال کی تمام شکلوں جہاد کی سطح بھی شامل ہوں گے. یہ بدقسمتی ہے کہ جہاد کا تصور اکثر "مقدس جنگ” کے طور پر ترجمہ کیا جاتا ہے جب اسلام میں کوئی ایسا تصور موجود نہیں ہے. قرآن کریم میں لڑنے کے لئے استعمال کیا جانے والا حقیقی لفظ "قتال” ہے. یہ لفظ 54مقامات پر قرآن میں استعمال کیا گیا ہے۔ طالبان دہشتگردوں  نےجہاد اور قتال کے اسلامی اصولوں کی اپنے مفاد میں غلط تشریح کر کے پاکستانیوں کوگمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔

کوئٹہ کی سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق، 48 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کوئٹہ کی سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق، 48 زخمی کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دھماکے کے نتیجے میں ایف سی اہلکار سمیت 20  بیگناہ افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوگئے۔سبزی منڈی میں دھماکا اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد خرید و فروخت میں مصروف تھی۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو کے مطابق خودکش دھماکہ جمعے کی صبح ہزار گنجی کے علاقے میں واقع مارکیٹ میں ہوا اور مرنے والوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔جب کہ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ دھماکا آلو کی دکان پر لوڈنگ کے دوران ہوا۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

طالبان کے خودکش حملے ،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا,خودکش حملے کرنا،قتل و غارت کرنا خلاف شریعہ ہے۔اسلام غیر فوجی عناصر کے قتل کی ممانعت کرتا ہے۔ جنگ کی صرف ان لوگوں کے خلاف اجازت ہے ”جو آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوں۔“ مثال کے طور پر صرف جنگجو افراد کے خلاف ہی جنگ کی جائے اور عام شہریوں کو کسی بھی نوع کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کی مذمت اور ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اسلام سے زیادہ کسی اور مذہب نے مذمت نہیں کی۔ اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے  ۔ 17:33  (سورہ الاسراہ  اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ یہ دہشتگردی ہے اور جہاد نہ ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کوفی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہتے ہیں۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ دیتا ہے۔

دوستو  ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ : طالبان مسلمانوں کے خون سے ہولی  کیوں کھیل رہے ہیں اور کھیل کر کیا کر رہے  ہیں ؟ مرنے والوں نے کون سا جرم کیا ہے جو ان کو یہ سزا دی جا رہی ہے  ؟ طالبان کو معصوم و بے گناہ لوگوں پر حملہ کا کیا فائدہ ہوا ہے اور مرنے والے کیا مسلمان نہ تھے  ؟

حقانی نیٹ ورک کا کاروباری جہاد

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

حقانی نیٹ ورک کا  کاروباری جہاد
حقانی نیٹ ورک کو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور جدید جہاد مالیات کے بنیادی ڈھانچے میں سے ایک قائم کرنے کے لئے کام کیا ہے ۔

صرف افغانستان اور پاکستان کے علاقے میں، حقانی نیٹ ورک کے سامنے آنے والے کمپنیوں کی وسیع صف کو کلیدی کاروباری شعبوں میں غیر قانونی اور لائسنس آمدنی کی اجازت دیتی ہے ، درآمد برآمد، ریئل اسٹیٹ، کار ڈیلرشپ، ٹیلی فون، تعمیر، اور ہتھیار اور قدرتی وسائل  کی اسمگلنگ شامل ہیں۔ سراج الدین کے بھائیوں میں سے کچھ امیر ڈونرز سے فنڈز اکٹھے کرنے کے خلیج فارس کے خطے کا سفر کرتے ہیں ۔ حقانی نے میرانشاه میں عدالتوں، ٹیکس دفاتروں اور مدرسے کے ساتھ "مینی ریاست” قائم کیا ہے، اور یہ نیٹ ورک آٹوموبائل اور ریل اسٹیٹ کی فروخت کے سامنے کمپنیوں کی ایک سیریز چلاتی ہے۔ وہ بھی مشرقی افغانستان بھر میں بھتہ خوری، اغوا اور اسمگلنگ کی کارروائیوں سے فنڈز وصول کرتے ہیں ۔ ایک انٹرویو میں ایک سابق حقانی کمانڈر نے بھتہ خوری سے متعلق کہا کہ یہ حقانیوں کے لئے فنڈز کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ پکتیا میں ایک قبائلی رہنما کے مطابق، "حقانی کے لوگوں سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں سے پیسے مانگتےہیں۔ انہوں نے دکانداروں سے پیسے یا سامان مانگا۔ ڈسٹرکٹ عمائدین اور ٹھیکیداروں افغان کارکنوں کو پیسے ادا کر رہے ہیں، لیکن کبھی کبھی رقم کا نصف حقانی کے لوگ لےجاتے ہیں۔ نئے افغان طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ اخوند کے ڈپٹی کے طور سراج الدین حقانی کی تقرری، سےحقانی نیٹ ورک کو منشیات کی تجارت سمیت افغان طالبان کے وسائل پر زیادہ رسائی حاصل ہوئی ہے۔ حقانی نیٹ ورک، اٖفغانستان میں میں نام نہاد جہادکی آڑ میں مختلف طرح کے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور غیر شریعی کاروبار وں میں مشغول ہیں ۔ اسلامی شریعہ کی رو سے جہاد، اللہ کی راہ میں ،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے مگر افغانستان میں ،حکومت اور عوام کے خلاف نام نہاد، جہاد میں مصروف ہیں اور یہ جہاد، حقیقی معنوں میں جہاد نہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک جہاد کی آڑ میں ایک کاروبار میں مصروف ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے۔ حقانی نیٹ ورک غیر قانونی،غیر اخلاقی اور اسلامی شریعت کے منافی، لو ٹ مار سے ، دولت و طاقت حاصل کرکے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے درپے ہیں ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک حرام اور حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی غلط طریقوں و خیالات و اقدار پر رکھی گئی ہے ، اس عمارت کا انجام کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی غلط اور ناپائیدار ہو؟

بے گناہوں کا قتل

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

بے گناہوں کا قتل اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے  ﴿17:33 اس آیت کی بنیاد پر، یہ کسی فرد کو قتل کرنے کے لئے اسلامی طور پر غیر قانونی ہے جو بعض جرائم سے بے گناہ ہیں ۔ اس موقع کو یاد رکھنا اچھا ہے کہ قرآن اور سنت اور مسلمانوں کے درمیان اوپر فرق ہے : قرآن اور سنت صرف اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ خالق کی خواہشات کے مطابق کیا جاسکتا ہے، لیکن مسلمان ممکنہ طور پر باطل ہوسکتے ہیں ۔ لہذا، کوئی بھی مسلمان ایک معصوم شخص کو قتل کرتا ہے تو  اس مسلمان  نےایک سنگین گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اور یقینی طور پر کارروائی سے کیا گیا ہے مگر وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس نے یہ اسلام کے نام پرکیا ہے ۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ، "مسلم دہشت گردی” تقریبا ایک اجتماع ضدین ہے: معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہوئے، مسلمان ایک زبردست گناہ کررہا ہے اور اللہ انصاف مجسم ہے۔ امید ہے کہ عام بیداری کے عام سطح اور اسلام کی سمجھ میں اضافہ کے طور پر، لوگ "دہشت گردی” اور "اسلام” کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھیں گے، اسی جملے میں استعمال نہ کریں گے ۔ تشدد کے مظاہرہ اور معصوم لوگوں کا قتل اسلام کی متفقہ تعلیمات کے بنیادی طورپر برعکس ہے کہ ایک بنیاد پرست، اور بے شک انتہا پسند، ذہنیت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ طالبان کی حرکات اور عمل قران کی بنیادی تعلیمات  اور اوپر دی گئی آیت کے برعکس ہیں۔

میلہ چراغاں

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

میلہ چراغاں یہ میلہ موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھااور زائرین کی کثیر تعداد شاہ حسین کے مزار پر چراغ جلایا کرتی تھی اور منتیں مانا کرتی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔

حضرت مادھو لعل حسین کے 431 ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز لاہور میں ہوا، پاکستان بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، میلہ کے موقع پر بہت بڑی آگ جلائی گئی جس میں عقیدت مند موم بتیاں، تیل پھینک رہے ہیں اور منتیں مانگ رہے تھے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے درویش صفت شاہ حسین کو مادھو لعل حسین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مادھو لعل حسین کے عرس کو میلہ چراغاں سے منسوب کیا جاتاہے، اس لئے زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد دربار پر حاضری دے رہی ہے اور منتوں کی مناسبت سے چراغاں بھی کیا جا رہا ہے۔  شاہ حسین پنجابی زبان و ادب میں کافی کی صنف کے موجد ہیں، وہ پنجابی کے اولین شاعر تھے جنہوں نے ہجر و فراق کی کیفیات کے اظہار کے لیے عورت کی پرتاثیر زبان استعمال کی۔ زائرین نےعرس کی تقریبات میں اپنے اپنےانداز میں شرکت کی، کوئی گھنگھرو پہن کر آیا ، تو کوئی ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالے حاضری دے رہا تھا، مزار کے احاطےمیں کھانے پینےکی اشیاء کے سٹالزسمیت جھولے بھی لگائے گئے تھے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار لوگوں کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ عوام کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا اورنہ ہی خالصتاً عرس کی طرح منایا جاتا ہے بلکہ تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

تمہیں تاریخِ اسلامی کے رشتے جوڑنے ہونگے‘‘ مریم فاروق

اسریٰ غوری -

’’ارتغزل غازی‘‘ نومبر 2018 سے دیکھنے کا آغاز کیا تھا اور اب کوئی پانچ مہینے ہوچکے ہیں کہ ہم اب بھی سیزن 1 پر ہی اٹکے ہوئے ہیں۔ (اگر مصروفیات کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید اب تک انٹر نیٹ…

The post تمہیں تاریخِ اسلامی کے رشتے جوڑنے ہونگے‘‘ مریم فاروق appeared first on .

اسلام کا دہشتگردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

اسلام کا دہشتگردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں جہاد اسلام کا اہم فریضہ ہے۔دہشتگردی کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جہاد مظلوموں کوظالموں سے نجات دلانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کا نام ہے جبکہ دہشتگر دی بے گناہ انسانیت کے قتل عام کا نام ہے۔ دہشتگردی کرنے والے اسلام ،جہاد اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ۔ امت مسلمہ کے نوجوانوں کو ایسے گروہوں اور جماعتوں سے دور رہنا چاہیے جو بے گناہ انسانیت کو قتل کرتے ہوں کیوں کہ بچوں، عورتوں اوربوڑھوں کو قتل کرنے والے اسلامی تعلیمات کے نہیں بلکہ دہشت و وحشت پھیلانے والی قوتوں کے آلہ کار ہیں۔ اسلام ،اعتدال کا دین ہے۔ انتہا پسندی کا خمیازہ آج عالم اسلام بھگت رہا ہے۔اسلام نہ صرف دہشت گردی کی ممانعت کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے دہشت گردوں کا ٹھکانہ جہنّم میں ہے ۔اسلام میں عام شہریوں، عورتوں اور بچّوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔دہشت دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جہاد کا حقیقی  مقصد امن کی بحالی ہے۔پاکستان میں موجودہ قتل ، غارتگری  اور خودکش حملے کسی طرح بھی جہاد نہیں۔ جہاد کے نام پر امن عالم کو تباہ کرنے والے تمام ہتھکنڈے کلیتاً غیرشرعی اور غیراسلامی ہیں۔ ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا پرامن شرعی طریقہ سیاسی و جمہوری جدوجہد ہے۔

تمام یورپی رہنماؤں کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے بہادری، قیادت اور خلوص کا سبق لینا چاہیے، ایردوان

اسریٰ غوری -

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ “بحیثیت لیڈر میں دہشتگردی کے ہونے واقعات پر مسلسل کہتا آیا ہوں کہ دہشت گردی کا کسی مذہب، زبان اور نسل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آج…

سیل سیل سیل – سیدہ رابعہ

اسریٰ غوری -

دنیا کے ہر ملک میں سیل لگتی ہے۔ اور سیل کا ایک خاص موسم یا ایک خاص دن ہوتا ہے۔ سیل کے نام پر وہ تمام چیزیں فروخت ہو جاتی ہیں جن کو عام دنوں میں کوئی پلٹ کر بھی…

جو مسجداقصیٰ پر حملے پر خاموش رہتے ہیں، ہمیں آیا صوفیا پر سبق مت پڑھائیں، ایردوان

اسریٰ غوری -

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جو لوگ مسجد الاقصیٰ پر حملے کی صورت میں خاموش رہتے ہیں، وہ آج ہمیں آیا صوفیا میوزیم پر سبق مت پڑھائیں۔ اس کو کیا اسٹیٹس دینا ہے اس سے آپ…

3 سلسلہ مطالعہ تفہیم القرآن – سورۃ الفاتحة آیت نمبر1تا

اسریٰ غوری -

سلسلہ مطالعہ تفہیم القرآن – سورۃ الفاتحة نمبر 1 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے1 تفسیر – سورة الْفَاتِحَہ اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتاہے اس کے…

مذہبی نہیں سماجی مسئلہ – عبدالسمیع قائمخانی

اسریٰ غوری -

پہلی تصویر شکارپور کی ڈاکٹر راجکماری تلریجا کی ہے اور دوسری تصویر لکھی غلام شاھ کا سب انسپیکٹر(اینٹی انکروچمنٹ) آغا سراج خان ہے. دونوں کا تعلق کئی سالوں سے تھا. دونوں ہی کے گھر والوں تک کو معلوم تھا کہ…

وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے – عبدالسمیع قائمخانی

اسریٰ غوری -

غالب نے کہا تھا وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو چلیں چھوڑیں غالب کو پہلے یہ پڑھیں۔۔۔۔۔ رانی کولہی بنت روپو کولہی اپنے ماموں کے پاس قیام پذیر تھی۔…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - عارضی معطل