عارضی معطل

لورالائی: پولیس لائنز میں دہشتگردی کی کوشش ناکام، 3 حملہ آور ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

لورالائی: پولیس لائنز میں دہشتگردی کی کوشش ناکام، 3 حملہ آور ہلاک لورالائی میں پولیس نے دہشتگردی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک حملہ آور کو ہلاک کردیا جبکہ 2 خودکش بمباروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا، تاہم اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد پولیس لائنز کے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے، تاہم وہاں موجود ایک دہشتگرد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ دریں اثنا دوسرے دہشت گرد نے پولیس لائنز میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ ان دونوں کے مارے جانے کے بعد ایک اور دہشت گرد نے خود کو مین گیٹ پر دھماکے سے اڑایا۔ واقعے میں ایک اہلکار حوالدار اللہ نواز شہید ہوئے جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔

زخمیوں میں اے ایس پی لورالائی عطاالرحمان اور ایک خاتون سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) بلوچستان پولیس محسن حسن بٹ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے پولیس لائنز پر اس وقت حملہ کیا جب اہلکارو اپنی محکمانہ ترقی کے لیے امتحان میں مصروف تھے، تاہم ڈیوٹو پر مامور پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے یہ حملہ پسپا ہوا۔ https://www.dawnnews.tv/news/1105838/ واقعے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48768059 طالبان کے خودکش حملے اور دہشتگردی اسلام میں حرام ہے اور یہ کفریہ فعل ہے۔ یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے۔ قرآن کریم جیسے اسلامی تعلیمات کے اہم ذرائع کا مطالعہ سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت پاکستان کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ تاریخِ اسلام میں جملہ اہلِ علم کا فتویٰ یہی رہا ہے ۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لئے اسلام نے ہتھیار اُٹھانے کی بجائے گفت و شنید اور دلائل سے اپنا عقیدہ و موقف ثابت کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ ہتھیار وہی لوگ اُٹھاتے ہیں جن کی علمی و فکری اساس کمزور ہوتی ہے اور وہ جہالت و عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو اسلام نے باغی قرار دیا ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔

اسلام اور دہشتگردی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

اسلام اور دہشتگردی دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف موجود نہیں جس سے سب اتفاق کریں، اور اکثر یہ مسئلہ کہ دہشت گرد کون ہے بعض گروہوں کی غیر قانونی حیثیت اور ان کی سیاست سے جڑجاتا ہے۔

میرے نزدیک دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہے جس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑے مقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔

یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔ دہشت گردی کا ناسور پوری دنیا کے امن وسلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اسلام ہمیشہ مذہبی تقدس اور قو می تشخص و امتیاز، انسانیت نوازی برقرار رکھنے کے لیے عمل پیہم اور جہد مسلسل کی اجازت ضرور دیتا ہے اور تبلیغ و ہدایت کی ہر ممکن راہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرنے کی تعلیم پر بھی زور دیتا ہے۔ انتہا پسندانہ نظریات، اس کے نصاب، پھیلاؤ، معاشرے کےافراد پر اس کے اثرات کی روک تھام کے لیے اسلام کی روشن اور اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں امن بقائے باہمی کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔

قرآن مجید میں امن، رواداری، ہمدردی اور اخلاقیات کی ایک کتاب ہے، جبکہ دہشت گردی دوٹوک پرامن بقائے باہمی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے ۔قرآن کریم جیسے اسلامی تعلیمات کے اہم ذرائع کا مطالعہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔کیونکہ معصوم لوگوں پر جیمنیزیم، اسٹیڈیم، بازار، مارکیٹ وغیرہ وغیرہ پر خوفناک اور سفاکانہ حملوں کو لے کر محاربہ (اللہ کے خلاف دشمنی) اور دھمکی (دہشت گردی) جو اسلامی شریعت میں مکمل طور پر حرام اور ممنوعہ ہیں ۔قرآن مجید کے بہت سے آیات میں دہشت گردی کو سختی سے روک دیا جاتا ہے ۔”اور کسی روح کو قتل نہ کرو جس نے خدا نے مقدس بنایا ہے، قانونی طور پر بچاؤ.” [الانعام 151] وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔” دہشت گردی کے موجودہ واقعات میں ملوث خود کش بمبار قتل اور خود کشی جیسے دو حرام امور کے مرتکب ہوکر صریحا کفر کر رہے ہیں۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لیے اسلام نے ہتھیار اٹھانے کی بحائے دلیل، منطق، گفت و شنید اور پرامن جد و جہد کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ بالعموم جہالت اور عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بغاوت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قرآن کا کہنا ہے دہشت گردی مذہبی مقصد نہیں ہوسکتی کیونکہ اسلامی قانون میں دوسروں پر اسلام کو کسی مذہب کو اپنایا جانے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنے کے لئے منع کرتا  ہے۔ طالبان ،قرآن اور شریعت کی تعلیمات کے خلاف کام کر رہے ہیں ۔ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی کھلے الفاظ میں تردید کرنا چاہیے کہ یہی وقت کا تقاضا اور انسانیت کی آواز ہے۔

نائیجیریا: تین خودکش دھماکوں میں 30 افراد ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

نائجیریا: تین خودکش دہماکوں میں 30 افراد ہلاک افریقی ملک نائیجیریا کے شمال مشرق میں 3 خودکش حملوں میں 30 افراد ہلاک ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق ریاست بورنو کے دارالحکومت میدوگُری سے 38 کلومیٹر دور واقع کونڈوگا کے ایک ہال کے باہر تین خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ریاستی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (سیما) کے آپریشنز کے سربراہ عثمان کچھالا نے کہا کہ ‘حملے میں اب تک 30 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

قبل ازیں حالیہ مہینوں میں سب سے جان لیوا دھماکوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد 17، 17 بتائی گئی تھی۔ہال کے مالک نے ایک خودکش حملہ آور کو عوام کے ہجوم میں داخل ہونے سے روک دیا۔ تاہم حملے کے طریقہ کار اور نوعیت سے شدت پسند تنظیم بوکو حرام پر شک کیا جارہا ہے، جو شمال مشرقی نائیجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصے سے مہم چلا رہی ہے۔ نائیجیریا میں آخری خودکش حملہ رواں سال اپریل میں اس وقت ہوا تھا جب دو خواتین خودکش حملہ آوروں نے مونگونو کے گیریژن ٹاؤن کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جس میں ایک فوجی اہلکار سمیت 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ https://www.dawnnews.tv/news/1105321/ خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں حرام ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔بوکو حرام قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق بے گناہ لوگوں، عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندہن نہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہوں جنگ کے دوران قتل کیا جا سکتا ہے ۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔بوکو حرام کے دہشتگر کیسے مسلمان ہیں جو بے گناہ  مسلمانوں کو دن رات  قتل کرتے ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں؟ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔

افغانستان میں خودکش حملہ، 9 افراد ہلاک، 12 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغانستان میں خودکش حملہ، 9 افراد ہلاک، 12 زخمی افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان نے کہا کہ ‘پیدل چل کر آنے والے خودکش حملہ آور نے مقامی پولیس چیک پوائنٹ کے قریب خود کو دھماکا خیز ڈیوائس کے ذریعے اڑا دیا۔

عطااللہ خوغیانی نے کہا کہ ‘خودکش حملے میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں ۔

جلال آباد کے اطراف کا علاقہ طالبان اور داعش سے منسلک افغان گروپ کے جنگجوؤں کا گڑھ رہا ہے۔ https://www.dawnnews.tv/news/1105080/

داعش نے زمہ داری قبول کر لی ہے۔ https://www.rferl.org/a/suicide-bomber-kills-nine-in-eastern-afghanistan-attack-claimed-by-is/29998023.html

داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) نبی اکرم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک مسجد کے اندر طالبان کے سرخ یونٹس کی اہم جائے پناہ تباہ کر دی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک مسجد کے اندر طالبان کے سرخ یونٹس  کی اہم جائے پناہ تباہ کر دی افغان سیکیورٹی فورسز نے ننگرہار صوبے میں طالبان کے سرخ یونٹ کی اہم پناہ گاہوں میں سے ایک کو  تباہ کر دیا۔ افغان مسلح افواج نے آپریشن کے دوران طالبان کے کم از کم 30 ریڈ یونٹ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ۔ صوبائی حکام نے  بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے ایک مسجد کے اندر یہ جائے پناہ قائم کیی ہوئی تھی ۔ ایک بیان میں ننگرہار کے گورنر کے دفتر نے کہا کہ طالبان کی ریڈ یونٹ نے شیرزاد ڈسٹرکٹ میں ایک مسجد کے اندر اس  جائے پناہ کو قائم کیا تھا ۔ بیان نے مزید کہا کہ افغان مسلح افواج  نے احتیاط سے مسجد کی مقدس جگہ کو مد نظر رکھتے ہوئے گروپ کی قائم کی ہوئی جائے پنای کے خلاف آپریشن کیا ۔ بیان میں مزید کہا اصلا پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کے تین ریڈ یونٹ کمانڈرز ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے ۔ اسی آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے طالبان کے 14 ریڈ یونیٹس عسکریت پسندوں کو بھی زخمی کیا ۔ صوبائی گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے سعودی مسلح افواج بیج اور ہتھیار اور گولیاں قبضہ کرنے کے علاوہ پاکستانی سرٹیفکیٹ کو ضبط کیا ۔ طالبان سمیت حکومت مخالف مسلح عسکریت پسندوں نے اب تک آپریشن کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا ہے خامہ پریس۔ کام اسلام کے تصور عبادت میں مسجد کا بلاشبہ ایک اہم مقام حاصل ہے لیکن بالعموم تقابلی مطالعوں میں مسجد کو وہی مقام دے دیا جاتا ہے جو دیگر مذاہب کے مقام عبادات کو حاصل ہے چنانچہ مسجد‘ گرجا‘ کلیسااور مندر کی اصطلاحات ان مقدس مقامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ جہاں داخل ہوتے وقت یہ تصور ذہن میں آتا ہے کہ وہاں کی زمین دیگر مقامات کے مقابلے مین زیادہ مقدس ہیں لیکن ا سلام نے اس فرق کو ختم کردیا جو دیگر مذاہب میں مقدس اور غیر مقدس زمین کے فرق کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور ربوبیت کو دنیا کے چپے چپے ہی نافذ و جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسلام کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنے والے اصحاب رسولؐ اور ان کے بعد آنے والوں نے اسلام کو مسجد میں قید نہ ہونے دیا اور اپنے ہر عمل سے ثابت کیا کہ عبادت مسجد تک محدود اور مقید نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کی صلوٰۃ اور اس کے مراسم عبودیت و قربانی اس کی حیات و ممات ہر ہر عمل عباردت ہی کی ایک شکل ہے وہ پور اکاپور ا اسلام میں داخل ہوکر ہی مسلمان بنتا ہے اس کی زندگی دین و دنیا کے خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ مسجد دراصل مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی‘اخلاقی‘ اصلاحی‘ تعلیمی و تمدنی‘ ثقافتی و تہذیبی سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔ مسجد کی یہ حیثیت حضور اکرمؐ کے زمانے سے لے کر صدیوں بعد تک قائم رہی۔ اسلام کے مثالی دور میں مسجد ہی عدل و انصاف کا مرکز تھی۔ خود حضور اکرمؐ اور خلفائے راشدین اور اس کے تمام حکام مسجد ہی میں بیٹھ کر عدل گستری کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ تعلیم و تعلم کا سلسلہ مسجدنبویؐ مںہ صفہ سے شروع ہوا جو صدیوں تک ہر مسجد کے ساتھ قائم رہا چنانچہ مسلمانوں کے قدیم ترین تعلیمی ادارے جامعہ ازھر‘ جامعہ زیتونہ اور جامعہ قرویین مسجدوں میں قائم ہوئے اور مسجدوں ہی میں انہوں نے ترقی و ارتقا کےجملہ مراحل طے کئے۔ مسلمانوں نے اپنے مثالی ادوار میں جیسے شہر اور بستیاں اباد کیں تو ساتھ ساتھ مساجد کی بنیادیں بھی ڈالیں چنانچہ کوفہ‘ بصرہ اور زروان وغیرہ کے بنیادوں کے نقشے میں مساجد کی تعمیر کو مرکزی مقام دیا گیا۔ اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے، یہ اللہ کا گھر ہے، روئے زمین کا یہ سب سے افضل وبرتر اور مقدس خطہ ہے، اس جگہ رات ودن اور صبح وشام اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، یہاں ایسے لوگ آتے ہیں جو اللہ کی اطاعت وبندگی کرنے والے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فِیْ بُیُوتٍ أَذِنَ اللّٰہُ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالO رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْأَبْصَارُO (النور: ۳۶-۳۷)
” وہ نور ملتا ہے ایسے گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے، ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں اللہ کی یاد اقامت نماز اور ادائیگی زکو سے نہ کوئی سوداگری غفلت میں ڈال سکتی ہے اور نہ ہی کوئی خرید و فروخت ان کے آڑے آسکتی ہے وہ ڈرتے رہتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس میں الٹ دئیے جائیں گے دل اور پتھرا جائیں گی آنکھیں۔ طالبان کا مسجد کو اپنی جائے پناہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کو اصلحہ کاسٹور بنا دینا اور  تباہی و بربادی کے لئے استعمال کرنا، خلق خدا کو قتل کرنے کے منصوبے بنانے کے لئے استعمال کرنا ،خلاف اسلام ہے۔ یہ طالبان ایک طرف تو افغانستان میں اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں اور دوسرے طرف مسجد کو اصلحہ خانہ میں تبدیل کر کے اسلام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ مجھے تو ان کے تمام دعوے جھوٹے لگتے ہیں کیونکہ یہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ طالبان یہ بھول گئے کہ اسلامی احکام میں یہ بات فرض ہے کہ مسجد میں کوئی کسی کاقتل نہیں کرسکتا  اور نہ ہی قتل کی منصوبہ بندی کرستا ہےکیونکہ وہ اللہ کا گھر ہے جہاں ہر ایک کو امان ہے ۔ مسجدیں اس کعبہ کی شکل ہیں ۔ اس اعتبار سے مساجد بھی اللہ تعالی کا گھر ہوتی ہیں جہاں اسلامی اصول کے مطابق کوئی کسی کو نقصان نہیں پہونچا سکتا ہے چہ جائے کہ وہاں بے گناہوں کو بم دھماکوں میں مار دیا جائے ۔ یہ نہ تو کسی اسلامی اصول اور نہ ہی کسی انسانی اصول کے موافق ہے ۔ کوئی بھی عبادت گاہ ہو وہ محترم اور مقدس سمجھی جاتی ہے ۔ وہ عقیدت کا مقام ہوتی ہے ۔ ایسی جگہ پر قتل و خون  کرنا یا منصبے بنانےکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اصلحہ بم سٹور کیا جاسکتا ہے۔ آج ہی ہمیں عہد کر لینا چاہئے کہ ہم اب مسجد سے غافل نہیں ہوں گے، اسے آباد کریں گے، اور اسے دینی ومذہبی ضیاء پاشیوں کا مرکز اسی طرح بنائیں گے جس طرح پہلے تھیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ أَحَدًا(الجن: ۱۸)
” اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں پس تم لوگ مت پکارو اللہ (وحدہ لاشریک)کے ساتھ کسی کو بھی”
إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ فَعَسٰی أُوْلٰـئِکَ أَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ(التوبۃ:۱۸)
” اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں، جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر، جو قائم رکھتے ہوں نماز کو اور ادا کرتے ہوں زکوۃ اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے”۔

خار کمڑ میں بارودی سرنگ کادھماکہ ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت پاک فوج کے 3افسران ، ایک جوان شہید، 4زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

خار کمڑ میں بارودی سرنگ کادھماکہ ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت پاک فوج کے 3افسران ، ایک جوان شہید، 4زخمی شمالی وزیرستان کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کے تین افسران اور ایک جوان شہید ہوگئے ، حملے میں چار جوان زخمی بھی ہوئے ۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیر ستان کے علاقے خار کمڑ میں فوجی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے پاک فوج کے تین افسراور ایک جوان شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے ، شہید ہونیوالے میں لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، میجر معیز مقصود بیگ ، کیپٹن عارف اللہ اور لانس حوالدار ظہیر شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ کا تعلق ہنزہ کے علاقے کریم بیگ سے ہے ، شہید میجر معیز مقصود بیگ کاتعلق کراچی شہید کپٹن عارف اللہ کا تعلق لکی مروت اور لانس حوالدار ظہیر کا تعلق چکوال سے ہے ،دہشتگردوں نے بارودی سرنگ کے ذریعے پاک فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا، اب تک اس علاقے میں شرپسندوں کے حملے میں دس سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 35زخمی ہوچکے ہیں۔دہشتگردوں کی جانب سے حملہ اس علاقے میں کیا گیا جہاں پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ https://dailypakistan.com.pk/07-Jun-2019/975878 کالعدم تحریک طالبان نے وزیرستان دہشتگرد حملے کی زمہ داری قبول کر لی ہے۔ https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-06-08/news-1955669.html طالبان کا قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں .طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا ۔ طالبان کا مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔  طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہین اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔

عید الفطر، خوشیوں کا تہوار

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

عید الفطر، خوشیوں کا تہوار عید کی آمد آمد ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عید کی تیاریاں بڑے زور و شور سے کی جا رہی ہے۔ ہر سال پاکستان میں عید الفطر پورے مذہبی جوش و جذبے اور نہائیت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا تی ہے،مختلف شہروں میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں پاکستان کی سلامتی، بقا اور خوشحالی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ عید کے دن مسلمان صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور عید گاہ یا جامع مسجد میں جاکر نماز عید پڑھتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کی ملاقات کو جاتے ہیں۔خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں،اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں۔غریبوں محتاجوں کو کھانا کھلاتے ہیں،احباب کو تحفے بھی پیش کیے جاتے ہیں کئی جگہ میلے بھی لگتے ہیں اور خوب رونق ہوتی ہے۔

نماز عید کے روح پرور اجتماعات میں علما اور خطیب امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہیں اور دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی خصوصی طور پر مذمت کرتے ہیں کیونکہ اسلام میں دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اسلام امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے ۔

عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر جو آپس میں کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو ایک دوسرے سے صلح کر لینی چاہیے اور بروز عید ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا چاہیے۔ عید کے دن دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں کیونکہ عید آتی ہے اور خوشیاں دے کر چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیںکہ اور جب انسان اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے سرفراز ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خوب خوشیاں منائے عید کے دن مسلمانوں کی مسر ت اور خوشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خدا کے احکامات کی ایک ماہ تک سختی سے تعمیل کی اور اس تعمیل کے بعد خوش و مسرور رہتے ہیں، حضرت ابوہریرہؓ ایک مشہور صحابی تھے آپ سے روایت کرتے ہیں، کہ عیدالفطر کے دن حضور میدان میں نماز ادا فرماتے نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں سے ملاقات کرتے گلے ملتے پھر واپس گھر آجاتے۔

عیدالفطر کا مقصد لوگوں کےدرمیان محبت کو بڑھانا ہے۔عید الفطر کا یہ یہ تہوار شکر, احسان اور خوشی کا دن ہے۔عید کے خوشیوں بھرے تہوار کے موقع پر ہر گھر میں خواتین مختلف قسم کے میٹھے اور نمکین پکوانوں کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں،اور اپنے گھر والوں اور گھر آنے والوں مہمانوں کی تواضع انہی لذیذ پکوانوں سے کرتی ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن خاص طور سے غریبوں، مسکینوں اور ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی، اور عید کی خوشی میں شریک کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا تاکہ وہ نادار جو اپنی ناداری کے باعث اس روز کی خوشی نہیں منا سکتے اب وہ بھی خوشی منا سکیں۔ ہمیں غریبوں ‘یتیموں ‘مسکینوں اور بیواؤں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ رب کی رحمتیں ہمارا مقدر بنیں۔
اما م ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ’’عید ، اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔رسول اکرم کا ارشاد ہے:’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے‘‘۔حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ نبی محترم نے صدقہ فطر کو مساکین کے کھانے کے لئے مقرر کیاہے۔ جو شخص اس کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرے تو وہ مقبول صد قہ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا(سنن ابی داؤد)لہٰذا گھر کے تما م زیر کفالت افراد ،ملازمین اور بچوں کی طرف سے عید الفطر کی صبح نماز عید سے قبل صدقہ فطر ادا کر دینا چاہیے جس کا بہترین مصرف آپ کے آس پاس وہ غریب و مسکین خاندان ہیں جن کو دو وقت کو روٹی بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ عیدکی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔نہ ان کے پاس کپڑے خریدنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی مادی ذرائع جنہیں استعمال میں لاتے ہوئے یہ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے۔

عید کے اس پُرمسرّت موقعے پر ہمیں اپنےآس پڑوس اور رشتے داروں پر نظر دوڑائیں کہ کہیں اُن میں سے کوئی ایسا تو نہیں، جو اپنی غربت اور تنگ دستی کے سبب عید کی خوشیوں میں شامل ہونے سے محروم ہے، ان کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کریں۔ روایت ہے کہ آقائے دوجہاںﷺنمازِ عید سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ کی نظرایک بچّے پر پڑی، جو میدان کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ نبی کریمﷺ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور پیار سے اُس کے سَر پر دستِ شفقت رکھا، پھر پوچھا’’ کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘بچّے نے کہا’’ میرا باپ مرچُکا ہے، ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میرے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے، نہ پہننے کو کپڑا۔‘‘یتیموں کے ملجاﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،فرمایا کہ’’ اگر میں تمہارا باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہو، تو خوش ہو جائو گے؟‘‘ کہنے لگا’’ یارسول اللہﷺ! اس پر مَیں کیسے راضی نہیں ہو سکتا۔‘‘حضورِ اکرمﷺبچّے کو گھر لے گئے۔

کابل میں ملٹری اکیڈمی کے باہر خودکش حملہ، 6 افراد ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کابل میں ملٹری اکیڈمی کے باہر خودکش حملہ، 6 افراد ہلاک افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ملٹری اکیڈمی کے باہر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق 2005 میں قائم ہونے والے مارشل فہیم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے باہر خودکش حملے میں طلبہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

کابل پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز نے کہا کہ خودکش حملہ آور پیدل آیا تھا، جس نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ سے داخلے کی کوشش پر فوجی اہلکار کی جانب سے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘حملے میں 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔’ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل خود کو دھماکے سے اڑا لیا، تاہم انہوں نے ہدف کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ داعش سے منسلک افغان دہشت گرد گروپ کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ اس کی جانب سے کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ حملے میں 50 تربیتی فوجی ہلاک ہوئے۔ https://www.dawnnews.tv/news/1104372/ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہخودکش حملےاور دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔ رمضان جیسے مقدس ماہ میں خودکش دھماکا کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوں کی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

کوئٹہ میں ائیر بیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کوئٹہ میں ائیر بیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا کوئٹہ میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا ہے ، 4نامعلوم دہشتگردوں نے سمنگلی ائر بیس کے قریب  پولیس ناکہ پر فائرنگ کی تھی، جوابی فائرنگ میں 2دہشتگرد ہلاک جبکہ دوموقع سے فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں سمنگلی ائر بیس کے قریب واقع پولیس ناکے پر رات گئے نامعلوم چار دہشت گردوں نے فائرنگ کی سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ ہوا جس کے نتیجے  میں دو دہشت گرد مارے گئے اور دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیاہے  ۔ واقعہ میں ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دی  گئی ہیں۔ https://www.humnews.pk/latest/167144/ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس  چوکی پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ کبار ائمہ تفسیر و حدیث اور فقہاء و متکلمین کی تصریحات سمیت چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام میں جملہ اہلِ علم کا فتویٰ یہی رہا ہے ۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لئے اسلام نے ہتھیار اُٹھانے کی بجائے گفت و شنید اور دلائل سے اپنا عقیدہ و موقف ثابت کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ ہتھیار وہی لوگ اُٹھاتے ہیں جن کی علمی و فکری اساس کمزور ہوتی ہے اور وہ جہالت و عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو اسلام نے باغی قرار دیا ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔  داعش کی دہشتگردی، اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ.یں داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

خود کلامی

تحریر سے تقریر تک -

میری توقعات سے پر
میری خواہشیں ہی اصل محبت ہیں
ہاں مجھے ملے جو میں نے چاہا تھا
جس کو چاہا تھا
اس ترتیب سے
سب کچھ ملے
جیسے چاہا تھا
اور وہ کون
میری آرزو میں الجھا ہوا شخص
کیا جانے کہ میری محبت کیا ہے
وہ چاہتا ہے
میں اس کو چاہوں
اس کی طرح سوچوں
اس کی ہو لوں
بھلا یہ بھی کوئی محبت ہے
کہ آدمی کسی اور کی آنکھ سے دنیا کو دیکھے
اس کے بتائے رنگوں پر اعتبار کرے
اس کی انگلی تھام کر چلے
اسے بھی کوئی محبت کہے گا
ہاں یہ محبت تو غلامی سے بدتر ہے
میں کیوں اپنے ہی جیسے کسی شخص کی زندگی جیوں
میں کیوں اسی کی بن کر رہوں
اس کے بتائے ہوئے رنگوں پر اعتبار کروں
میں تو میں ہوں
میری نگاہیں کچھ سوا دیکھتی ہیں
اس سے کہیں زیادہ دیکھتی ہیں،
ہاں وہ میرا نہیں تو کیا
کوئی بات نہیں
میں اپنی نگاہوں میں ہوں معتبر
اپنی زندگی میں مگن
ہاں مجھے مجھ سے محبت ہے


کوئٹہ: نمازِ جمعہ کے وقت مسجد میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق 19 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

 

کوئٹہ: نماز جمعہ کے وقت مسجد میں دہماکہ، 3 افراد جان بحق،19 زخمی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے پشتون آباد میں قائم مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نیتجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہوگئے۔

ڈان نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دھماکا نمازِ جمعہ کے وقت ہوا جس کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا تاہم حکام نے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا۔

دھماکے کے فوری بعد ریسکیو اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لےکر شواہد اکٹھے کرلیے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ نماز جمعہ شروع ہونے سے کچھ دیر قبل دھماکا ہوا، انہوں نے کہا کہ دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ 618 مساجد میں سے 100 مساجد کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، پورے شہر میں 1500 کے قریب سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ https://www.dawnnews.tv/news/1103948/ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسلامک سٹیٹ  داعش اس واقعہ میں ملوث ہے۔ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔ بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ مساجد اللہ کا گھر ہوتی ہیں ان پر حملے خلاف اسلام اور ناجائز ہیں۔ اور مساجد میں خون خرابہ کرنا ناجائز ہے۔ رمضان جیسے مقدس ماہ اور جمعہ کے روز مسجد میں دھماکا کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) اسلام میں عام شہریوں، عورتوں اور بچّوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔دہشت دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جہاد کا حقیقی  مقصد امن کی بحالی ہوتا ہے۔ داعش کی دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. یہ جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی گردی ہے۔ خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کیلئے داعش ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کی  ضرورت ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت پاکستان کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔

کیا دولتِ اسلامیہ پاکستان میں ہے؟

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کیا دولتِ اسلامیہ پاکستان میں ہے؟ داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اُسے پاکستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے۔ پاکستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہاں پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث رہی ہے۔

Image processed by CodeCarvings Piczard ### FREE Community Edition ### on 2019-03-18 18:02:59Z | | شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دہنسنے سے خطرہ ختم نہ ہو جائے گا۔ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے مظالم ، اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔
شریعت اور اسلام کے احکامات کے مطابق الداعش اور اس کے پیرو کار خوارج ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو نظام اور/ یا اسلام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔
فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے داعش کو القاعدہ سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو داعش سے وابستگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے مگرپاکستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے اور حکومت اس حوالے سے مستعد  ہے کہ داعش کے ممکنہ خطرے سے بچائو کیلئے بھرپور کارروائی کی جائے ۔اگر داعش آجاتا ہے تو خطے میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی ایک نیا کروٹ لے گی ۔بلوچستان کے حالات بھی خیبر پختونخوا،فاٹا اور کراچی کی طرح خراب ہونگے ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے حالات مزید خراب ہونگے اور اسکے اثرات عام آدمی پر پڑیں گے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کرکے الدولۃ اسلامیہ(آئی ایس آئی ایس) یا داعش نامی عسکریت پسند تنظیم کا اثررسوخ بڑھنے کا انتباہ دیا ہے۔ سیکیورٹی ماہر ڈاکٹر اعجاز حسین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو آئی ایس سے خطرے کا سامنا ہے تاہم داعش کو ایک حقیقی خطرہ بننے میں وقت درکار ہوگا وہ بھی اس صورت میں جب ٹی ٹی پی سمیت دیگر مرکزی گروپس سے علیحدہ ہونے والے افراد کو کامیابی سے اپنے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہوئی تو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سیکورٹی ادارے داعش کے نقش قدم کو چیک کرنے میں ناکام رہے تو یہ مستقبل میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کے بقول داعش کی تکفیری سوچ اور عسکری سرگرمیاں بھی بعض شدت پسند گروہوں کے لیے انسپائریشن کا سبب بن سکتی ہے۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں انڈیا اور پاکستان کے لیے اپنی دو نئی شاخوں ’ولایت ہند‘ اور ’ولایت پاکستان‘ کے قیام کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کیا ہے۔ پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی نئی شاخ کے قیام کا اعلان انڈیا میں ’ولایت ہند‘ کے قیام کے پانچ روز بعد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں نئی شاخ کے قیام کے اعلان کے فوراً بعد 15 مئی کو جاری ہونے والے دو الگ الگ اعلامیوں میں ’ولایت پاکستان‘ نے 13 مئی کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک پولیس افسر کو ہلاک کرنے اور کوئٹہ میں پاکستانی طالبان کے ایک شدت پسند کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پہلے بھی یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں پہلے سے موجود شدت پسند گروپس دولتِ اسلامیہ کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کاﺅنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کاروائی میں فائرنگ کے تبادے میں نو مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔سی ٹی ڈی کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق داعش کا بلوچستان میں لشکر جھنگوی کے ساتھ اتحاد ہے اور یہ مل کر حملے کرتے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی نے بتایا ’پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کا وجود ہے، اس بات کو ہم یکسر مسترد نہیں کر سکتے۔ ایسا سوچنا کہ دولتِ اسلامیہ نہیں ہے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔‘ سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں کہ پاکستان میں چند شدت پسند گروہ موجود ہیں جن کا جھکاؤ پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کی طرف ہے۔ ‘گذشتہ برسوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ گروہ کمزور ضرور ہوئے ہیں، مگر مکمل ختم نہیں ہوئے۔ وہ شدت پسند جن کے لیے مواقع کم ہو رہے تھے، شاید ولایت پاکستان کا قیام ان کے لیے کشش کا باعث ہو۔’ عامر رانا نے بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ ولایت پاکستان کو افرادی قوت پہلے سے موجود تنظیموں اور افراد کی صورت میں میسر آ پائے۔ ‘نئی بنتی صورتحال پر کس طرح قابو پانا ہے۔ یہ سکیورٹی اداروں کے لیے یہ چیلنج ہو گا۔ جب پرانے شدت پسندوں کو نئے مواقع میسر آتے ہیں تو ان کی آپریشنز کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں، مدد اور تعلقات بڑھتے ہیں۔ احسان غنی کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں اس کے قیام سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب صورتحال پہلے جیسی نہیں اور متعدد فوجی آپریشنز اور کریک ڈاؤنز کے بعد اب شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں کم ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے شاید دہشت گرد تو ختم کر دیے ہوں گے مگر دہشت گردی نہیں۔

ماہ رمضان میں جنگ بندی کی تجویز طالبان نے مسترد کردی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

ماہ رمضان میں طالبان نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ماہ رمضان کے آغاز کے موقع پر افغان طالبان کو ایک بار پھر جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ افغان صدر نے یہ بات رمضان کے آغاز پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہی ہے جس کا آغاز افغانستان میں پیر کو ہوا۔ صدر غنی نے کہا کہ رمضان امن و مصالحت کا مہینہ ہے۔

‘‘میں ایک بار پھر طالبان سے کہوں گا کہ مقدس مہینے کا احترام کریں اور افغانوں کے امن و مصالحت کے مطالبے کی طرف توجہ دیں جس کا اظہار امن کے لیے ہونے والے قومی مشاورتی جرگے کے موقع پر ہوا ہے۔ ’’ افغان صدر نے کہا کہ جرگے میں شریک نمائندوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک قرار داد کی شکل میں افغان حکومت کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ ایک ہفتے کے دورن افغان صدر کی طرف سے طالبان کو جنگ بندی کی یہ دوسری پیش کش تھی۔ تاہم ماہ رمضان میں طالبان نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی۔  رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ ماہ رمضان ایک مقدس اور عبادات کا مہینہ ہے،اس لئے گزشتہ برس کی طرز پر اس بار بھی طالبان کو  جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔ تاکہ ماہ مقدس کے دوران لوگ آرام کے ساتھ مساجد میں آ جا سکیں۔ اور اس ماہ میں خون خرابہ  اور قتل و غارت گری بند ہوسکے۔ ماہ رمضان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی سے انکار کر کے طالبان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کوجنگ سے بری طرح متاثر افغان عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہے۔ طالبان کا نام نہاد جہاد ، جہاد کم اور فراڈ زیادہ ہے۔جہاد اللہ کی راہ میں اللہ کے لئے کیا جاتا ہے ، ذاتی اقتدار کےلئے نہیں۔ ایسا جہاد بجائے جہاد فی سبیل اللہ کےجہاد فی سبیل غیر اللہ ہو جاتا ہے۔ طالبان کا جہاد اسلامی جہاد کے تقاضوں کے منافی ہے۔

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار افراد ہلاک، 11 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، چار افراد ہلاک، 11 زخمی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم کے ایک دھماکے میں پولیس کے کم از کم چار اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کا واقعہ کوئٹہ شہر کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں پیش آیا۔

جائے وقوعہ کے قریب میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران مساجد کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں منی مارکیٹ کے قریب مسجد الہدیٰ کے باہر جب بلوچستان کانسٹیبلری کے ریپیڈ ریسپانس گروپ (آر آر جی) کی دو گاڑیوں میں سیکورٹی اہلکار آئے تو دونوں گاڑیوں کے درمیان ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں آر آر جی کے چار اہلکار ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک آئی ای ڈی دھماکہ تھا جو ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پولیس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ میں بھی بم دھماکوں کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔ دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ رمضان کے مہینے میں یہ ملک میں شدت پسندی کا تیسرا واقعہ ہے۔ دو روز قبل بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل ‘پرل کانٹیننٹل’ پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں نیوی کے ایک اہلکار اور چار سکیورٹی گارڈز ہلاک ہو گئے تھے تاہم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔ رواں ماہ آٹھ مئی کو لاہور میں داتا دربار کے باہر خودکش دھماکے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48255709 دہشتگردی خلاف اسلام ہے ۔پاکستان میں طالبان نے اسلام کا نام لے کر نہتے لوگوں اور اپنے ہی ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف ’’جہاد‘‘کا اعلان کردیاگیاجوکہ اصل میں فساد فی الارض تھا۔قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اسپتال، ہوٹل، مزار، مساجد غرض کوئی علاقہ بھی دہشتگردی سے بچا ہوا نہیں تھا۔ ان دہشتگردوں کیخلاف ایک عشرے سے زائد سیکیورٹی ادارے اپنی پوری تندہی و طاقت سے برسرپیکاررہے ۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس کے جوانوں اور عوام الناس پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) طالبان کی دہشتگردی جہاد نہ ہےکیونکہ جہاد اللہ کی راہ میں کی جاتی ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

خود کش حملے ، بم دھماکے اور بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

خود کش حملے ، بم دھماکے اور بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے خود کش حملے ، بم دھماکے ، بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے ، لاہور حضرت علی ہجویری ؒکے مزار کے باہر بم دھماکہ انسانیت دشمن عناصر کی کارروائی ہے ، پاکستانی قوم دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف افواج پاکستان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ ہے ۔ https://dailypakistan.com.pk/08-May-2019/963677 یہ بات متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ کے بیان میں کہی گئی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس کے جوانوں اور عوام الناس پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ، لاہور میں ہونے والا دھماکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں ملک میں انتشار پیدا کر نے کیلئے فرقہ وارانہ تشدد اور نفرتیں پھیلانا چاہتی ہیں، جسے پاکستان کی عوام ، علماء اور سلامتی کے ادارے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ متحدہ علماء بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے پولیس ، سلامتی کے اداروں اور بے گناہ عوام الناس پر خود کش حملوں کو حرام ، خلاف شریعت اسلامیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے ، لاہور میں دھماکہ کرنے والوں کا اسلام ، انسانیت اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ حزب الاحرار نے داتا دربار کے باہر خودکش حملہ کیا تھا جس میں 12 افراد شہید ہو گئے تھے۔

لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش حملے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 20 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش حملے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 20 زخمی داتا دربار کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خودکش حملے کے نتیجے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی میو اسپتال منتقل کیا گیا۔

دھماکے کے بعد میو اور جنرل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فوری طور پر ڈاکٹروں اور اضافی عملے کو طلب کرلیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز محمد اشفاق کے مطابق ایلیٹ فورس کے اہلکار داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر فرائض انجام دے رہے تھے جنہیں 8 بجکر 45 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور صالح سعید نے تصدیق کی کہ دھماکا خودکش حملہ تھا جس کا ہدف ایلیٹ فورس کے اہلکار تھے۔ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان جائے وقوعہ پر پہنچے اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملے میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایلیٹ فورس کے 3 جوانوں سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔

آئی جی پنجاب  نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پر حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کی علامت ہے، حملے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل (دائیں)، کانسٹیبل محمد سلیم (دائیں سے بائیں)، شاہد نذیر ہیڈ کانسٹیبل (بائیں)۔ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت تمام آر پی اوز کو سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں جا کر حساس مقامات اور اہم عمارات کی سیکیورٹی کا خود جائزہ لیں۔ جیو نیوز نے داتا دربار کے قریب مشتبہ حملہ آور کی پولیس کی گاڑی کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے کی تصویر حاصل کرلی جس میں بستہ پہنے مشتبہ حملہ آور کو دیکھا جاسکتا ہے۔ سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس مشتبہ حملہ آور کی تصویر پر وقت 8 بجکر 54 منٹ دیکھا جاسکتا ہے، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے بارے میں حقائق جلد منظر عام پر سامنے آنےکا امکان ہے۔ مشتبہ حملہ آور کو پولیس کی گاڑی کے قریب دیکھا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کا حکم دیا اور آئی جی پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کے علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کے بعد بھکر، سرگودھا اور شیخوپورہ کے دورے منسوخ کرتے ہوئے امن و امان سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔ https://urdu.geo.tv/latest/199723- شدت پسند تنظیم حزب الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسفزئی نے ایک بیان میں اس کارروائی کو آپریشن شامزئی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا ہدف پولیس اہلکار ہی تھے۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48197226 رمضان کے مہینے میں معصوم لوگوں کی جانیں لینے والے ان وحشیوں دہشتگردوں کا اسلام سے کو ئی تعلق یا واسطہ نہ ہے۔ نہ ہی یہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ بدلہ لینا جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے ۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا,خودکش حملے کرنا،قتل و غارت کرنا خلاف شریعہ ہے۔اسلام غیر فوجی عناصر کے قتل کی ممانعت کرتا ہے۔ جنگ کی صرف ان لوگوں کے خلاف اجازت ہے ”جو آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوں۔“ مثال کے طور پر صرف جنگجو افراد کے خلاف ہی جنگ کی جائے اور عام شہریوں کو کسی بھی نوع کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کی مذمت اور ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اسلام سے زیادہ کسی اور مذہب نے مذمت نہیں کی۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل دراصل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ قتل و غارت گری کسی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھنے والے انسان کی ہو یہ پوری انسانیت کا قتل ہے

ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ رمضان کے آتے ہی قیمتیں آسمان چھونے لگتی ہیں۔ یوں تو ہر مہینہ اللہ کے حضور سربہ سجود ہونے کا ہوتا ہے لیکن خاص کر رمضان المبارک کے مہینے میں کیا خاص اور کیا عام ہر مسلمان اپنے رب کو عبادتوں کے ذریعہ راضی کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔ مسلمان اس مہینے میں روزے رکھتے ہیں اور اسلئے وہ افطار وسحر کا بھی خاص انتظام کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی مہنگائی آسمان سے باتیں کرنی لگتی ہے۔

امسال بھی  رمضان المبارک کے آتے ہی مہنگائی کاطوفان امڈ آیا ہے۔ناجائز منافع خور،گران فروش اور ذخیرہ اندوز عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے رہے ہیں ،عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور اوپر سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اضافے سے سحری اور افطار مشکل ہو گیا ہے۔

ماہ رمضان کی آمد سے پہلے مہنگائی کا طوفان ‘سبزیوں اور پھلوں کے نرخ بڑھ گئے ‘ پیاز 70روپے فی کلو‘لیموں 400روپے ،سیب 300 روپے ،کیلا 200روپے فی درجن اور خربوزہ 150 روپے فی کلوفروخت ہونے لگا جبکہ آٹے‘چینی ‘چاول اور دال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا‘حکومت کی جانب سے2ارب روپے کا پیکیج ملنے کے باوجودیوٹیلیٹی اسٹوروں پر چینی ،آٹا،گھی اور تیل سمیت دیگر اشیائے خورد ونوش تاحال دستیاب نہیں ہے ‘ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ماہ صیام کیلئےجاری ریٹ لسٹ کو تاجر برادری نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔

گوشت،سبزی،پھلوں کی قیمتیں سن کرلوگوں کے ہوش اڑ گئے، رمضان کی خاص سوغات کھجور کی قیمت دوسو سے تین سو روپے کلو ہوگئی،دودھ ،دہی،گھی، چینی،آٹے کے بھی دام بڑھ گئے۔ رمضان کی آمد سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی من مانی سے عوام پریشان نظر آرہے ہیں،سبزیوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہےاور کھجور کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔

جس کی وجہ سے روزہ داروں کو خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے درالحکومت کراچی کے بازاروں میں تو رمضان آتے ہی یو لگتا ہے کہ جیسے یہ مہینہ پیسے کمانے کے لئے ہی آیا ہے۔اس بار بھی کراچی کے بازار رمضان کے لئے خاص طور پر سج رہے ہیں ۔ لیکن کراچی کے عام اور متوسط طبقہ کو مہنگائی کا ڈر ستانے لگا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حکو مت رمضان میں مہنگائی پر قابو پانے کے لئے خصوصی اور مؤثر اقدامات کرے۔ مذہبی طبقہ بازار کی اس روش سے کافی دکھی ہے۔ مولانا محمد اکرام کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لئے رمضان کے معنی ہی بدلتے جارہے ہیں ہر کوئی پیسے کمانے کی تگ ودو میں ہی لگا رہتا ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی آمد پراشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافہ سے عوام پریشان ہو گئے ہیں۔ منافع خوروں نے مرغی، سبزیوں اور پھلوں سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث اشیائے خورد و نوش عام آدمی کے قوت خرید سے باہر ہوگئی ہیں۔

ہرسال رمضان سے قبل ہی حکومتی عہدیداروں کے اجلاس ہوتے ہیں کہ اس سال عوام کواتنی سبسڈی دے رہے ہیں،گرانفروشوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،وغیرہ وغیرہ۔۔مگرآپ جانتے ہیں کہ ان اجلاسوں کے نتیجے میں غریبوں کیلئے کتنی آسانی پیداہوتی ہے؟اگرآپ باریک بینی سے دیکھیں توایک طرف اس کسان سے زیادتی ہورہی ہے جوسبزیاں،پھل اوراناج پیداکرکے مارکیٹس میں فروخت کررہاہے مگراس کے اخراجات کے تناسب سے صلہ نہیں ملتا،تیل،کھاد،زرعی ادویات اوردیگراخراجات نکال کرکسان کی جیب میں نہ ہونے کے برابرپیسہ جاتاہےجواونٹ کے منہ میں زیرے کے برابرہے،کسان پراس ظلم کاذمہ دارمنڈی میں بیٹھاوہ آڑھتی ہے جس نے ریٹ اپنی مرضی کالگاناہے جہاں کسان کی مرضی نہیں چل سکتی۔پھریہی اشیاء منڈیوں سے دکانوں پرآتی ہیں جہاں پھرایک دفعہ دکانداراشیاء کواپنی مرضی سے پیک کرکے ان پراپنی مرضی کی قیمتیں لگاکرعوام کے دوسرے بے بس طبقے خریدارپرظلم کرتاہے،یہاں بھی خریداربے بس ہے،اس نے کچن چلاناہے لہذا،آٹا،چاول،گھی،چینی اورپھلوں سمیت دیگراشیادکانداروں کے مرضی کے ریٹ پرخریدناپڑتی ہیں۔۔ایک طرف کسان اوردوسری طرف عام شہری گرانفروشوں کے ظلم کاشکارہے،یہ ظلم اس وقت مزیدبڑھ جاتاہے جب کسی بھی چیز کی طلب بڑھتی ہے،رمضان المبارک میں چونکہ اشیاء کی طلب بڑھ جاتی ہے تویہی مافیا وقت کافائدہ اٹھاتاہے جس کیخلاف آج تک کوئی ٹھوس کارروائی نظرنہیں آئی اورنیتجتا ہررمضان میں عوام مہنگائی کے جن کالقمہ بن جاتے ہیں۔۔اس سارے معاملے کاحل کیاہے؟؟میری نظرمیں جہاں پرائس کنٹرول سسٹم کوبہترکرنے کی ضرورت ہے وہیں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ایک ایسی مہم ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جومسلسل چلے،اس مہم میں کاروباری طبقے میں شعورپیداکیاجائے کہ صرف جائزمنافع ہی ان کاحق ہے،ناجائزمنافع سے جہاں وہ عوام پرظلم کررہے ہیں وہیں وہ اپنے اوپربھی ظلم کررہے ہیں کیوں کہ کوئی بھی دین اس کی اجازت نہیں دیتا،دکانداروں کوشعورہوناچاہیے کہ وہ جس رب کی عبادت کرتے ہیں وہی رب ناجائز منافع خوری سے ناراض ہوتاہے،اگرانتظامیہ گرانفروشوں کوسخت سزائیں دلانے میں کامیاب ہوجائے اورآگاہی مہم مسلسل چلانے کابندوبست کرلے تویہ لعنت معاشرے سے مکمل طورپرختم ہوجائےگی۔

شہری کہتے ہیں عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے مقامی حکومتوں کے نظام کو موثر بنانا ہو گا۔ مقدس اور برکتوں والے مہینہ میں منافع خوری و ذخیرہ اندوزی ،ہم تمام مسلمانوں پر ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ رمضان المبارک کی وجہ سے چنے کی دال کی قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے. دوسری جانب ذخیرہ اندوز بھی سرگرم ہیں ، بیسن، گھی، تیل، دالیں، چاول اور دیگر اشیا کا ذخیرہ کیا جا رہاہے جن کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں امن مانی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اشیا خردنوش اور پھلوں کی قیمتوں میں اگر یوں ہی اضافہ ہوتا رہا تو رمضان کے بابرکت مہینے میں غریب عوام کے لئے گزارہ کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔

افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک افغانستان کے صوبے بغلان میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں 13 اہلکار ہلاک 55 زخمی ہوگئے ہیں۔افغان وزارت داخلہ نےدعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں تمام 8 حملہ آور مارے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے بغلان کے شہر پُلِ خوماری میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر میں طالبان جنگجوؤں نے حملہ کردیا، پہلے خود کش بمبار نے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی جس کے بعد دیگر طالبان جنگجو اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خود کش بمبار کے ساتھ 7 جنگجوؤں نے دھاوا بولا تھا اور گھمسان کی جھڑپ میں افغان پولیس کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

حکام کے مطابق شہر پل خمری کے پولیس ہیڈکوارٹر پر 8 مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا۔حکام کے مطابق کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 20 شہریوں اور اہلکاروں سمیت 55 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام حملہ آور بھی مارے گئے۔ https://urdu.geo.tv/latest/199641-

خود کش حملے ناجائز، حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔ کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ اس سے مسلمانوں اور خصوصاً غریب عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ لوگ جاں بحق ہو رہے ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مفتوحہ علاقوں کے عوام کو سماجی اور مذہبی آزادی دی اور حسن کردار سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کیلئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔کچھ لوگوں نے جہاد کے نام پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے وطن عزیز کے پرامن اور محب وطن عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے چنانچہ آج ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے تمام عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اسلام ایک ہمہ گیر اور مکمل دین ہے۔ اس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور جہالت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اسلام زندگی کے معاملات میں میانہ روی اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف خروج کر کے مسلح جدوجہد کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔ باغیوں کو کچلنا دینی حکم کے عین مطابق ہے، اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

 

غزنی شہر، جنوب مشرقی صوبہ غزنی کے صوبائی دارالحکومت میں سب سے قدیم مزارات میں سے ایک ، شمس العارفین کے مزار کو طالبان عسکریت پسندوں نے بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے  ۔غزنی شہر کے مغربی حصوں میں واقع مزار شہر کی سب سے مشہور مزارات میں سے ایک تھا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی طرف سے احترام کیا جاتا تھا۔ https://www.khaama.com/taliban-militants-blow-up-one-of-the-oldest-shrines-of-ghazni-city-03866/ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج افغانستان میں، طالبان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اولیا اللہ کے مزار بھی محفوظ نہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں  اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر  پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطہ میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار  سے  سرانجام دیا۔  انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے  بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔  ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیائے اللہ کی تبلیغ اور حسن کردار سے پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار اور مقابر صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ایمان عقیدے اور یقین کے مطابق ان مزاروں پر حاضری دیتے اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں جنہیں اس مسلک سے اختلاف ہے وہ بھی ان ہستیوں کا دلی احترام کرتے اور ان کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں۔ سیکڑوں سال سے اس پر عمل ہورہا ہے اختلاف رائے کے باوجود اس پر کوئی جھگڑا یا خونریزی نہیں ہوئی۔                در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔ حضرت   شیخ عبدالقادر جیلانی سے لیکر  حضرت معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔ پتہ نہیں ان طالبان دہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے مزاروں کو  اپنےحملوں کا نشانہ بنایا ۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔                در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

 

 

 

 

شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کے حملے میں 3 فوجی جوان شہید

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کے حملے میں 3 فوجی جوان شہید شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے فوجی جوانوں پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوگئے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی دہشتگرد مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقےالوارہ میں  میں ساٹھ سے ستر دہشتگردوں نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے دوران پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کردیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کو پسپا کردیا اور جوابی کارروائی میں کئی دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے کے دوران پاک فوج کے تین جوان شہید بھی ہوئے جن میں لانس نائیک علی، لانس نائیک نذیر اور سپاہی امداد اللہ شامل ہیں جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام رکاوٹوں کے باوجود سرحد پر باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا، افغان سیکیورٹی فورسز اور حکام کو سرحد پر کنٹرول مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/199526- طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ حزب الاحرار نے اس واقہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروپ کا لیڈر مکرم خان ہے۔ ایک دہائی پہلے اسلام کا نام لے کر نہتے لوگوں اور اپنے ہی ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف طالبان نے نام نہاد  ’’جہاد‘‘کا اعلان کردیا، جوکہ اصل میں فساد فی الارض تھا۔ یہ ویسے بھی جہاد نہ تھا۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اسپتال، ہوٹل، مزار، مساجد غرض کوئی علاقہ بھی دہشتگردی سے بچا ہوا نہیں تھا۔ پاکستان اس دہشت گردی کا مقابلہ کر رہاہے۔  تحریک طالبان  اور اس سے منسلک گروپوں نے پاکستانی  بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لئے دہشت گرد حملوں کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ ان دہشتگردوں کیخلاف ایک عشرے سے زائد سیکیورٹی ادارے اپنی پوری تندہی و طاقت سے برسرپیکاررہے ۔اب کچھ عرصہ سے جب یہ محسوس کیا گیا کہ دہشتگرد تعداد میں کم ہوچکے ہیں اور ان کی طاقت کا محورختم ہوچکا ہے تو دیگر مسائل پر توجہ دی جارہی ہے ۔دہشتگرد پاکستان میں کارروائی کرتے اور بھاگ کرہمسایہ ملک چلے جاتے ۔پاکستان نے اس مسئلہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا جس کی وجہ سے دہشتگردی میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی ۔ طورخم بارڈر کے قریبی علاقوں میں آہنی باڑ کی تنصیب کر کے دہشتگردوں کی نقل و حرکت ختم کی گئی جس کے باعث خیبر پی کے سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔  یہ باڑ ہمارے پڑوسی ملک کے لئے بھی مفید ہے اور اس سے دہشتگردوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ اس دہشتگردی کی پاکستان نے بھاری لاگت ادا کی کیونکہ ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی زندگی کو کھو دیا ہے اور ملک کو سنگین اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا  ۔ اگرچہ طالبان بھاگ گئے ہیں مگر کبھی کبھار چھوٹے موٹے حملے کرتے رہتے ہیں۔ عوام کی مدد سے طالبان  کے تمام ناپاک منصوبے   ناکام بنا دیئے جائیں گے اور ان کو پاکستان میں چھپنے کے لئے جگہ نہ ملے گی۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator - عارضی معطل