Feed aggregator

کمپیوٹنگ شمارہ نمبر 127

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ماہنامہ کمپیوٹنگ کا نیا شمارہ ہوگیا ہے اور ملک بھر میں دستیاب ہے۔ کمپیوٹنگ آپ کے شہر میں کہاں دستیاب ہے کی تفصیل اس ربط پر دیکھی جاسکتی ہے۔ کمپیوٹنگ اگر آپ کے علاقے میں دستیاب نہ ہو تو برائے مہربانی اپنے علاقے کے اخبار فروش سے کہیں کہ وہ میگزین منگوائیں۔ کسی بھی سلسلے میں مدد کے لیے ہمارے نمبر پر…مزید پڑھیں ←

The post کمپیوٹنگ شمارہ نمبر 127 appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

ایسی ایپ جو کسی بھی چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہے

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی تصویر اصل عمر سے کم کی نظر آئے، آپ جوان یا بزرگ نظر آئیں یا پھر آپ تصویر میں موجود کسی چہرے پر مسکراہٹ لانا چاہتے ہیں تو یہ سب اس نئی ایپ کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔ نئی سامنے آنے والی یہ ایپلی کیشن جیسے ’’فیس ایپ‘‘ (FaceApp) کا…مزید پڑھیں ←

پارلیمنٹیرین کی انسانیت کیلئے قربانی

افتخار اجمل بھوپال -

ہَیلن جو آن کاکس (Helen Joanne Cox) المعروف جو کاکس (Jo Cox) مئی 2015ء میں لبر پارٹی کی طرف سے برطانوی پارلمنٹ کی رُکن منتخب ہوئی ۔ اُس کی انسانیت دوستی اور اصول پرستی کی وجہ سے اُسے 16 جون 2016ء کو قتل کر دیا گیا

جو کاکس 22 جون 1974ء کو باٹلی (ویسٹ شائر) میں پیدا ہوئی ۔ تعلم مکمل کرنے کے بعد 2001ء میں آکس فام میں شمیولیت اختیار کی

ایپل مبینہ طور پر رقوم منتقل کرنے کی سروس پر کام کررہا ہے

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ایپل جلد ہی رقوم منتقل کرنے کی اپنی نئی  سروس شروع کرنے والا ہے۔ یہ دعویٰ ٹیکنالوجی سے متعلق خبروں کی ایک معروف ویب سائٹ نے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سروس کے تحت آئی فون صارفین  دوسرے آئی فون صارفین کو ڈیجیٹل رقوم منتقل کرپائیں گے۔ اس سروس سے متعلق فی الحال  منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ رپورٹ…مزید پڑھیں ←

انسٹاگرام کے صارفین کی تعداد 70 کروڑ سے تجاوز کرگئی

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

تصویر اور ویڈیو شیئر کرنے والی ایپ انسٹا گرام کے صارفین کی تعداد 70 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے چار ماہ میں صارفین کی تعداد میں 10 کروڑ نئے صارفین کا اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی نے اپنے بلاگ پر لکھا ہے کہ ہم یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی کہ انسٹاگرام کےصارفین اب…مزید پڑھیں ←

مصالحے دار کھانے مختلف امراض کے لئے فائدہ مند

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

مصالحے دار کھانے مختلف امراض کے لئے فائدہ مند مصالحے دار کھانے ذیابیطس اور قولون کے ورم کی روک تھام کے علاوہ غذائی نالی سے جڑے امراض اور دیگر امراض کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

کنیکٹیکٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مرچوں میں پائے جانے والے کیمیکل کیپسیکن معدے کے ورم سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران چوہوں کو یہ کیمیکل استعمال کرایا گیا جس سے یہ نتیجہ سامنے آیا۔محققین کا کہنا تھا کہ  کیکیپسیکن ایک ریسیپٹر ٹی آر پی وی 1 کو حرکت میں لاتا ہے جو  غذائی نالی کے خلیات میں پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول جب یہ ریسیپٹر حرکت میں آتا ہے تو خلیات anandamide نامی جز بنتا ہے جو کہ جسمانی دفاعی نظام کو پرسکون کرتا ہے۔anandamide ریسیپٹرز دماغ میں بھی پائے جاتے ہیں اور محققین کے خیال میں دفاعی نظام اور دماغ ایک دوسرے سے اس کے ذریعے ہی بات کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جسم میں اس جز کی مقدار میں اضافہ ایسے خلیات کی تعداد بڑھاتا ہے جو کہ ورم کو کنٹرول کرتے ہیں۔محققین نے تحقیق کے دوران ٹائپ ون ذیابیطس کے شکار چوہے کا علاج بھی مرچیں کھلا کر کیا۔ یہ جنسی امراض کے لئے بھی بڑی مفید ہوتی ہے۔ مرچ کو ادرک کے ساتھ ملا کر کھانے سے کینسر کے مرض سے افاقہ ہوتا ہے۔ حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے کھانوں میں شامل ہونے والے متعدد مصالحے یا جڑی بوٹیاں متعدد طبی فوائد کی حامل ہیں اور اگر آپ ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو درج ذیل مصالحے اپنی روزمرہ کی خوراک میں لازمی شامل کریں۔

دارچینی دار چینی بریانی، قیمہ اور دیگر مزیدار کھانوں میں شامل کی جاتی ہے بلکہ اسے کچھ میٹھے پکوان اور چائے وغیرہ تک میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خوشبودار مصالحہ مینگنیز اور ایسے کیمیائی اجزاءسے بھرپور ہوتا ہے جو ہڈیوں، پٹھوں اور ٹشوز وغیرہ کی نشوونما کے لیے فائدے مند ہوتے ہیں، اس کے علاوہ یہ جوڑوں کے درد کے شکار افراد کے لیے بھی بہترین دوا ہے۔ دارچینی کا مستقل استعمال شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور جسم میں بیکٹیریا کے خلاف مدافعت بڑھاتا ہے۔

میتھی میتھی کو سفوف یا پاﺅڈر کی شکل میں سالن اور دالوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے، اس کے مستقل استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول اور مضر صحت چربی کی شرح کم ہوتی ہے اور دل کے امراض یا ذیابیطس کے شکار افراد میں بلڈ شوگر کی سطح معمول پر رہتی ہے۔ رات کو سونے سے پہلے ایک گرام میتھی کو پانی میں بھگو کر صبح اٹھ کر پی لینے سے جسمانی وزن بھی کم ہوتا ہے۔

سونف سونف عام طور پر روٹی اور کیک وغیرہ پر پکانے سے پہلے بکھیری جاتی ہے جبکہ پلاﺅ اور سبزیوں وغیرہ کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، تاہم اس میں شامل اجزاء بینائی کی کمزوری اور موتیہ وغیرہ کی روک تھام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ سونف کی چائے کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس سے دماغی افعال میں بہتری آتی ہے، مایوسی کم ہوتی ہے اور ڈیمنشیا جیسے مرض کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

زیرہ زیرہ کھانوں کا ذائقہ تو بڑھاتا ہی ہے مگر اس کا مستقل استعمال خون کے صحت مند خلیات کو نشانہ بنانے والے اجزاءکی مقدار بھی کم کرتا ہے۔ اسی طرح اس کا روزانہ استعمال جگر کو زہریلے اثرات دور کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ گرم پانی کے ساتھ ایک چمچ زیرہ کو نگلنے سے نظام ہاضمہ اور پیٹ کے درد میں بہتری آتی ہے۔

ہلدی ہلدی ہر طرح کے کھانوں کا رنگ روپ سنوارنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے مگر یہ وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے اور اس میں سوجن یا ورم اور کینسر کی روک تھام جیسی خوبیاں بھی موجود ہیں۔ ہلدی کا جوس عالمی سطح پر اپنے اینٹی آکسائیڈنٹ خوبی کی وجہ سے بہت مقبول ہے جس سے دل کی شریانوں سے متعلق امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
Filed under: ہلدی, میتھی, مصالحے دار کھانے مختلف امراض کے لئے فائدہ مند, دیگر امراض کے لیے بھی فائدہ مند, دارچینی, ذیابیطس اور قولون کے ورم, زیرہ, سونف, غذائی نالی سے جڑے امراض Tagged: ہلدی, میتھی, مصالحے دار کھانے مختلف امراض کے لئے فائدہ مند, دیگر امراض کے لیے بھی فائدہ مند, دارچینی, ذیابیطس اور قولون کے ورم, زیرہ, سونف, غذائی نالی سے جڑے امراض

Sharbat-e-Gond Kateera شربت گوند کتیرہ

میرا بلاگ ۔ ںعیم خان -


خوشبودار پھول پتیوں، مربوں، مغزیات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اس شربت کی نہ صرف خوشبو آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے بلکہ اس کا رنگ اور بہت سارے مغزیات کی جھلک بھی آپ کو ایک خوشگواراحساس دلاتی ہے اور دل کرتا ہے کہ اس کو پی کر کھا لیں یا کھا کر پی لیں اور گرمیوں کی شدید پیاس کا علاج کرلیں۔اس تمہید کے پیچھے میرا بھی خوشگوار تجربہ ہی ہے، پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار سے گزرتے ہوئے ایک تنگ سی گلی کے نکڑ پر چند رنگ برنگی بوتلوں کو سجائے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا تو کچھ تو تجسس اور کچھ پیاس کی شدت نے اُس کی طرف توجہ مبذول کروادی۔ اگرچہ دکھنے میں صفائی ستھرائی کی حالت کچھ اتنی خاص نہیں تھی مگر اپنی سی کوشش وہ کر ہی رھاتھا۔ ابھی اپریل میں جو گرمی کی لہر آئی تھی اُس نے اچھے اچھوں کو اپنی پہچان کروا دی تھی، اور ہم جو اتوار کے دن اوارہ گردی کرنے نکلے تھے پھر تو ہماری کیا مجال جو ایسی گرمی کا سامنہ کرسکیں۔ گرمی اور پیاس نے صفائی ستھرائی اور مکھیوں کی موجودگی پر منہ چڑانے والے دل کی آنکھوں پر کالے پیاس کر پردہ ڈال کر شربت والے ۔کوآرڈر دیا۔ اُس نے ہمارے سامنے ہی رنگ برنگی مربوں، مغزیات، خوشبودار اور خوش رنگ پھول پتیوں نے ہماری اشتہا اور بڑھا دی۔ سننے میں آرہا تھا کہ  بدن میں گرمی کی شدت کم کرنے اور گرمیوں کے موسم میں گرمی سے بچنے کیلئے گوندکتیرہ کے استعمال کی بہت افادیت ہے۔ اس شربت کا اہم جز گوند کتیرہ ہی ہے۔ اب تو یہ شربت کئی جگہوں پر ملنا شروع ہوچکا ہے اگر آپ بھی اس سے استفادہ کرنا چاہیں تو ضرورت نوش فرمائیں اور اگر کسی کے پاس گوند کتیرہ کے بارے میں بھی معلومات ہوں تو ضرور شیئر کیجئے گا میں اس کو اپنے بلاگ کا حصہ بنا دونگا۔ میں نے تو بغیر ناک منہ بسورے اس شربت کو پیا اور جتنا خوش رنگ نظر آرہا تھا اُتنا ہی خوش ذائقہ بھی تھا۔ جسم کی گرمی کم ہوئی کہ نہیں ، یہ نہیں معلوم ہاں البتہ اُس وقت شدید پیاس میں بڑی تسکین اور راحت محسوس کی۔ آزاما لیجئے اور اپنے تجربے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیجئے۔



Fresh Curly Icecream

میرا بلاگ ۔ ںعیم خان -



جیم فوڈ ٹی وی چینل پر ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں بازار میں ایک آدمی توے نما کوکنگ ٹیبل پرٹکاٹک سٹائل میں فریش فروٹ اور دودھ سے آئس کریم بنا رہا تھا۔ کچھ دن پہلے لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم میں یہی چیز دیکھی تو دل للچایا کہ اس کو بھی ٹرائی کریں۔ اپنے سامنے تازہ آئس کریم بنتے اور پھر اس کو کھانے کا الگ ہی مزہ ہے۔ 

سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح

کچھ دل سے -



سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح ڈاکٹر محمد عقیل
تعریف، توصیف، حمد و ثنا حقیقت میں اللہ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہی تنہا ان گنت کہکشاؤں ، ستاروں ، سیاروں ، مادی و غیر مادی جہانوں اور انفس و آفاق کی وادیوں کا پالنے والا ہے۔ وہی تو ہے جو سراپا مہربان ہے اور اسی کی شفقت ابدی ہے۔ وہی تنہا ہر قسم کے بدلے کے دن کا مالک ہے۔ چونکہ وہی پالنے والا، مہربانی و شفقت نچھاور کرنے والا اور جزا و سزا دینے کا تنہا اختیار رکھتا ہے تو ہمارے رب ، ہم آپ ہی کی غلامی قبول کرتے، آپ ہی کا حکم مانتے ، آپ ہی کے قدموں میں اپنا چہرہ رکھ کر پرستش کرتے ہیں اور آپ ہی سے دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں مدد مانگتے ہیں۔اے مہربان خدا، ہم پہلی مدد یہ مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنی رضا کے حصول کے لیے سیدھا ، سچا اور درست طریقہ بتادیجیے ۔ وہ طریقہ جس پر چل کر کامیاب لوگوں نے آپ کی رضا حاصل کی۔ ہمیں ان لوگوں کے طریقوں سے دور رکھیے جو اپنے تعصب ، ہٹ دھرمی ، سرکشی، خواہشِ نفس یا کسی اور وجہ سے آپ کی ابدی رحمت و شفقت سے محروم ہوکر آ پ کے غضب کا شکار ہوئے ۔ اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ پر چلائیے جو اپنی ٹیڑھی سوچ کی بنا پر کسی غلط فلسفے، گمراہ کن سائنسی تفہیم ، اندھی تقلید ، نفسانی خواہشات ، شیطانی کی اکساہٹوں یا کسی اور بنا پر آپ کے پسندیدہ راستے سے بھٹک کر گمراہی کی وادیوں کو ہی حق سمجھنے لگے۔ 

قرآن تفصیلا لکل شیء (ہرچیزکی تفصیل)ہےاسکےبعدحدیث ضرورت ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اعتراض کے مختلف انداز :
1. قرآن ہی کافی ہے، حدیث کی کیا ضرورت ہے؟
2. قرآن میں وحی کی پیروی کرنے کا تذکرہ ہے اور وحی صرف قرآن ہے!
3. قرآن میں کل شیء (ہر چیز) کی تفصیل اور وضاحت ہے لہٰذا حدیث کی کیا ضرورت ہے؟
4. قرآن کی تفسیر کے لیے اگر حدیث کی ضرورت ہو تو پھر قرآن کو حدیث کا محتاج ماننا پڑے گا!
جواب:
کیا قرآن کریم تشریح طلب ہے؟
کئی مقامات پر قرآن مجید میں بظاہر یہ دعویٰ نظر آتا ہے کہ اس کی آیات کریمہ جو کہ سمجھنے کے لیے آسان اور معانی کے اعتبار سے واضح ہیں، خود اپنی ہی تشریح ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے کسی بیرونی تفسیر کی حاجت نہیں ہے، لہٰذا پیغمبری تشریحات کو اتنی اہمیت کیوں دی جائے؟
موضوع کے اعتبار سے مشترک بہت سی آیات کریمہ کے یکجا مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم بنیادی طور پر دو قسم کے موضوعات سے تعرض کرتا ہے۔ ایک تو وہ جن کا تعلق سادہ حقائق اور ان کے عمومی بیانات سے ہے اور جس میں سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی گم گشتہ امتوں کے واقعات، بنی نوع آدم پر اللہ تعالٰی کے احسانات کا ذکر، زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق، اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کے کائناتی مظاہر، جنت کی نعمتوں، دوزخ کے عذاب اور دیگر ملتے جلتے مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
موضوعات کی دوسری قسم میں شریعت کے قوانین اور علتیں، اسلامی قانون کے متفرق پہلو، نظریاتی معاملات کی تفاصیل، احکام کے مصالح اور حکمتیں اور اسی قسم کے علمی موضوعات شامل ہیں۔
پہلی قسم کے موضوعات جن کے لیے قرآن کریم میں “ذکر” ( نصیحت، موعظت، درس) کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے یقیناً سمجھنے میں اس قدر آسان اور عام فہم ہیں کہ کوئی ناخواندہ شخص بھی کسی دوسرے کی مدد کے بغیر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قرآن کریم اسی قسم کے موضوعات کے بارے میں کہتا ہے۔وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿القمر:٢٢﴾” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔” (۲۲ – ۵۴)
یہاں للذکر ( نصیحت حاصل کرنے کےلیے) کے الفاظ بڑھا کر قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کر دیا ہے کہ قرآن مجید کا عام فہم ہونا پہلی قسم کے موضوعات سے تعلق رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر آیت کریمہ کا زور قرآن کریم سے سبق حاصل کرنے اور اسی مقصد کے لیے اس کے آسان اور عام فہم ہونے پر ہے۔
اس سے یہ مسئلہ قطعاً نہیں نکالا جا سکتا کہ قانونی نزاکتوں کے استنباط، اسلامی قوانین کی تشریحات اور نظریاتی مباحث پر بھی اس کے آسان اور عام فہم ہونے کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے۔ اگر اس قسم کے موضوعات کی تشریح اور تعبیر بھی ہرکس و ناکس کے لیے عام ہوتی خواہ اس کی علمی صلاحیت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، تو قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتاب کی ” تعلیم” اور ” تفسیر” کے فرائض ہرگز تفویض نہ کرتا۔ ایسی آیات کریمہ کے حوالے سے، جو تشریح طلب ہیں خود قرآن کریم میں ارشاد ہے۔وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ ﴿العنکبوت:٤٣﴾” اور ہم ان قرآنی مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی لوگ سمجھتے ہیں۔” (۴۳- ۲۹)
اس سے واضح ہوا کہ پہلی قسم کے موضوعات کے ” آسان اور عام فہم” ہونے کا مطلب ایک ایسے پیغمبر کی ضرورت کا انکار قطعاً نہیں ہے جو قرآن کریم کے قانونی معاملات اور علمی نتائج کی تشریح کر سکے۔

٭اعتراض ٭:
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کی صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل:۸۹) یعنی اس میں ہرچیز کوکھول کھول کربیان کردیا گیا ہے، سورۂ نحل میں ہے وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل:۸۹) وَهُوَالَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا (الانعام:۱۱۴) اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَافَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام:۳۸) کہ ہم نے قرآن میں کسی بھی چیز کا حکم بیان کرنا نہیں چھوڑا ہے؛ لہٰذا جب قرآن کریم میں اس درجہ جامعیت ہے کہ ہرچیز کوبیان کردیا گیا تواب کسی دوسری دلیل کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے جوحدیث کا سہارا لیا جائے؟۔

٭تبصرہ٭ :
قرآن کریم کی جامعیت کا دعویٰ:
آیت :”وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ”۔(النحل:۸۹)
ترجمہ: اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب اتاری جو ہر چیز کا کھلا بیان ہے ہدایت اوررحمت ہے اورماننے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
قرآن کریم کی مذکورہ بالاآیت بتارہی ہیں کہ قرآن کریم نہایت جامع اور مکمل کتاب ہے اور اس میں ہر انسانی ضرورت کا پورا پورا حل موجود ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا یہ دعویٰ کہاں تک حالات سے ہم آہنگ ہے؟اورزندگی کے تمام مسائل کیا اپنی پوری تفصیل کے ساتھ ہمیں اس میں ملتے ہیں یا نہیں؟ اس پر ذرا اور غور کیجئے، یہ حقیقت ہے اور اس کے تسلیم کرنے سے چارہ نہیں کہ بہت سے قرآنی احکام ایسے مجمل ہیں کہ جب تک اور کوئی ماخذ علم ان کی تفصیل نہ کرے ان کی عملی تشکیل نہیں ہوسکتی اور زندگی کے لا تعداد مسائل ایسے بھی ہیں جن کے متعلق واضح جزئی ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتی،پس قرآن کریم کی جامعیت کی تشریح ایسی ہونی چاہئے جس سے یہ دعویٰ واقعات سے ہم آہنگ بھی ہوسکے۔

٭قرآن کریم کی جامعیت کا صحیح مفہوم٭
آج تک کسی نے قرآن کریم کی جامعیت کا یہ مفہوم نہیں لیا کہ اس کی کسی آیت میں کوئی اجمال (Brevity) یا کسی بیان میں کوئی تقیید (Particularisation) نہیں ، اس نے ہر باب کی غیر متنا ہی جزئیات کا بھی احاطہ کرلیا ہے اور ہر حکم کی تمام حدود اور تفصیلات (Details) اس نے بیان کردی ہیں نہ یہ کسی کا دعویٰ ہے نہ اس کا کوئی قائل ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا حل ملتا ہے اور لا تعداد جزئیات کے احکام کے اصول وکلیات اورضوابط کی شکل میں اس میں موجود ہیں، علامہ شاطبیؒ (۷۹۰ ھ) لکھتے ہیں:
ترجمہ: قرآن مجید مختصر ہونے کے باوجود ایک جامع کتاب ہے اور یہ جامعیت تبھی درست ہوسکتی ہے کہ اس میں کلیات کا بیان ہو۔ (الموافقات:۳/۱۳۲)
پس جب قرآن پاک میں ایسے اصول و کلیات ہیں جن کے تحت لا تعداد جزئیات کا فیصلہ قرآن کریم کی جامعیت کی تصدیق کرے تو یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ ان مواقع پر قرآن کریم کی اصولی دعوت کیا ہے؟ وہ ان کلیات کی تفصیل کے لیے کس کی طرف رجوع کرنے کا کہتا ہے؟
قرآن کریم نے اپنے احکام وارشاد کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت کا تعارف بھی کرایا ہے اوراس کو اپنے ساتھ لازم کیا ہے، قرآن کریم مسلمانوں کو اس کے عمل سے اسوۂ حسنہ کی دعوت دیتا ہے، یہ ایک ایسی اصل عظیم ہے جس کے تحت ہزاروں مجملات کی تفصیل اور لاکھوں جزئیات کا حل مل جاتا ہے،قرآن کریم کی اس دعوت کے تحت اس اسوہ حسنہ کی تعمیل عین قرآن پاک کی تعمیل شمار ہوگی،یہ کلیدی آیات ہیں جن کے تحت لا تعداد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
چند آیات ملاحظہ کیجئے۔
(۱)”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔ )الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
(2)”یَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ”۔ (النساء:۵۹)
ترجمہ: اے ایمان والوحکم مانو اللہ کا اورحکم مانو(اس کے) رسول کا۔
(3)”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ”۔ (النساء:۸۰)
ترجمہ: جو اللہ کے رسول کی اطاعت کرتا ہے پس بیشک وہ اللہ کی اطاعت کرچکا۔
یہاں رسول کی اطاعت صیغہ مضارع (Present) سے بیان فرمائی جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی اوراللہ کے اطاعت کو ماضی (Past) سے تعبیر فرمایا کہ مومن ایمان لانے کے ساتھ ہی اسی اصول کو تسلیم کرچکا تھا کہ زندگی کی ہر ضرورت میں رسول کی اطاعت کی جائے گی اوراسی کے تحت وہ اطاعت رسول کررہا ہے، یہ وہ کلیدی آیات (Key Verses) ہیں جن کے تحت جمیع جزئیات حدیث آجاتی ہیں اورقرآن کریم جمیع تعلیمات رسول پر حاوی قرار پاتا ہے۔

٭اگر احادیث حجت نہیں ہیں تو مندرجہ ذیل سوالات کا جواب ہمیں کہاں سے ملے گا؟ ٭
٭ قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز کی حالت میں کھڑے ہونے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا ذکر بھی قرآن میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نماز میں پہلے کھڑے ہوں یا پہلے رکوع کریں یا پہلے سجدہ کریں؟ لغت میں ’’رکوع‘‘ کا معنی ہے جھکنا، سوال یہ ہے کہ آگے جھکیں، یا دائیں جھکیں یا بائیں جھکیں؟ پھر رکوع کی حالت میں ہاتھ کہاں ہوں؟ اسی طرح سجدہ کیسے کریں؟ سجدہ ایک کریں یا دو کریں؟
٭ قرآن میں زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نہ دینے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی ہے جس جس قسم کے لوگوں پر زکوٰۃ خرچ کرنی ہے، انھیں بھی بتا دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ کم از کم کتنے مال پر فرض ہے؟ کتنے فیصد فرض ہے؟ اور کب کب فرض ہے؟
٭ قرآن میں جن جانوروں کو حرام اور جن کو حلال قرا ردیا گیا ہے، انکے علاوہ بقیہ جانور حلال ہیں یا حرام؟ مثلا کتا، بلی، گیڈر، بھیڑیا، چیتا، شیر، تیندوا، بندر، ریچھ، ہرن، چیتل، سانبھر، بارہ سنگھا، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا، فاختہ وغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم نے میتۃ یعنی از خود مر جانے والے جانور کوحرام قرار دیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ مچھلی جب پانی سے باہر آتی ہے تو مر جاتی ہے، تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس کی حلت کو قرآن سے ثابت فرمائیے یا مچھلی کھانا چھوڑیے ۔
٭ قرآن میں حکم ہے کہ مسلمان جنگ میں کفار کا جو مالِ غنیمت حاصل کریں، اس کے پانچ حصے کر کے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر الگ نکال دیا جائے جو یتیموں، مسکینوں اور حاجت مندوں وغیرہ میں بانٹ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ باقی چار حصے کیا کیے جائیں؟ تمام مجاہدین پر برابر برابر بانٹ دیئے جائیں یا فرق کیا جائے؟ اگر ان سب کو برابر دیں تو کیوں دیں؟ اور اس کا ثبوت قرآن میں کہاں ہے؟ اور اگر فرق کریں تو کس حساب سے فرق کریں؟ قرآن سے اس کا حساب بتایے اور اگر سالار کی رائے پر چھوڑ دیں تو قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ سالار کی رائے پر چھوڑ دیں؟
٭ قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دو۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ اور اگر ایک ہاتھ کاٹیں تو داہنا کاٹیں یا بایاں؟ پھر اسے کاٹیں تو کہاں سے کاٹیں؟
٭ قرآن میں یہ ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن کب پکارا جائے؟ کس نماز کے لیے پکارا جائے؟ کن الفاظ کے ساتھ پکارا جائے؟ جس نماز کے لیے پکارا جائے، وہ نماز کیسے پڑھی جائے؟

اس طرح کے ہر شعبے اور موضوع پر سینکڑوں اٹھائے جاسکتے ہیں ، ان سوالات کو ایک بار غور سے پڑھ لیجئے اور بتائیے کہ اگر قرآن میں ساری تفصیلات موجود ہیں تو انکی تفصیلات کہاں ہیں ؟ قرآن کہتا ہے کہ﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب 21) آپ بتائیے اس سلسلے میں ‘رسول اللہ ﷺ کا عمل کیا تھا؟ اور اس عمل کی تفصیلات کہاں سے ملیں گی؟ اگر قرآن میں ملیں گی تو کس سورہ، کس پارے، کس رکوع اور کن آیات میں؟ اور حال یہ ہے کہ جو مسائل پیش آتے ہیں،ان کے متعلق قرآن میں رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ ملتا ہی نہیں۔ اور اگر کہیں ملتا بھی ہے تو آپ اسے ‘ایرانی سازش’ کہہ کر اس پر تقدس کا خول چڑھا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے لگ جاتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی چاہنے والے بے چارے کریں تو کیا کریں؟

٭غلام احمد پرویز صاحب کا ایرانی سازش سے استفادہ ٭
پرویز صاحب چوری کی سزاؤں کے بارے میں سنت اور احادیث پر انحصار کرتے ہیں لیکن سنت کو ماخذ قانون بھی نہیں مانتے۔ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں ”
” چوری کی سزا قطع ید ہے یہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے جو قرآن نے متعین کی ہے کس قدر چوری اور کن حالات میں چوری کے جرم میں مجرم اس سزا کا مستحق ہوگا اور کن حالات میں اس سے کم سزا کا سزاوار ہوگا۔ اس کے متعلق فقہ اور روایات دونوں میں تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ روایات (مسلم اور بخاری) میں ہے کہ دینار سے کم کی چوری میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ فقہ میں اس کو نصاب کہتے ہیں بعض کے نزدیک نصاب ایک دینار ہے اور بعض کے نزدیک ربع (ایک چوتھائی) دینار ی یہ تو رہا مقدار کا سوال۔ اب لیجیے احوال و ظروف کو، فقہ کی رو سے چور کو اس تک قطع ید کی سزا نہیں دی جائے گی جب اس نے کسی محفوظ جگہ سے نہ چرایا ہو ‘‘۔ (قرآنی فیصلے ص ۱۶۶)
پھر اس کے بعد مال محفوظ کی تعریف میں ’’سارق کسے کہتے ہیں‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت نسائی کی ایک روایت اور روایت حضرت عمرؓ کا قول اور امام ابن حزم کا ایک قول بطور حجت پیش فرماتے اور نتیجہ یہ پیش فرماتے ہیں کہ: “پہاڑوں پر آوارہ چرنے پھرنے والے جانوروں میں سے اگر کوئی جانور لے جائے تو وہ چور نہیں ہوتا۔ بھوکا شخص باغ سے پھل توڑ کر کھالے تو وہ بھی چور نہیں ہوتا۔ قحط کے زمانے میں چوری کرنے والا بھی چور نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان پر قطعِ ید کی حد جاری نہیں ہوگی۔ البتہ قاضی جرم کی نوعیت کے مطابق اسے سزا دے سکتا ہے”۔ (قرآنی فیصلے ص ۱۶۶)
جب احادیث پرویز صاحب کے موقف کی تائید میں ہوں تو ان کا استعمال ایمان کا تقاضہ بن جاتا ہے جب پرویز صاحب کے موقف کی تردید ہو رہی ہو تو احادیث کو عجمیوں کی اختراع اور ایرانی سازش قرار پاتی ہے۔

٭خلاصہ ٭:
قرآن کریم نے کچھ احکام نہایت وضاحت اورصراحت سے بیان کئے ہیں جیسے قانون وراثت، قانون شہادت، قانون حدود، ایمانیات اوراخلاقیات۔ مگر کچھ احکام ایسے بھی ہیں اور یہ بہت سے ہیں جنہیں قرآن کریم نے مجمل طور پر بیان کیا ہے،قرآن کریم میں ان کی پوری کیفیت ادا نہیں ملتی، پھر قرآن پاک میں کچھ ایسے اشارات ہیں جن کی تفصیل اس میں نہیں ہے اور پھر کچھ مشکلات ہیں جن کی وضاحت کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے اور پھر اصول قرآنی کی ایسی توسیعات بھی ہیں جن کی پوری جزئیات کا بیان یہاں نہیں ملتا اورنہ یہ عملاً ممکن ہے۔ انہی تفاصیل کے لیے قرآن کے ساتھ حضور ﷺ کو معلم بنا کے بھیجا گیا اور قرآن میں ہی کہا گیا کہ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَيْهِمْ (النحل:۴۴) یعنی ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جومضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے ہیں، آپ ان کوکھول کرسمجھادیں۔
منكرين حديث اس آیت کا انکار کرتے ہوئے كتاب كو ہی مفصّل،مُبِين، مُبَيّن اور تبيان كہتے ہيں ۔ لیکن دوسری طرف اللہ تعالىٰ كى تبيين كے بعد خود تفسيريں بھی لكھتے ہیں ۔ ايك مقام اور دوسرے مقام كے درميان جو خلیج رہ جاتى ہے، اسے پُر كرنے كے لئے وہ اپنے ذہن و اجتہاد سے كام ليتے ہيں ، ربط ِمضامين اور استنباط ِنتائج ميں قرآنى آيات كو اپنے فہم اور سمجھ كے مطابق چلاتے ہيں ۔ انکا ہر فرقہ اسی بين، مفصل اور مبين قرآن كو كھینچ تان كركے اپنے ذہنى تصورات پرمنطبق كرنے كى كوشش كرتا ہے- كيا آج لاہور ہى ميں بلاغ القرآن والوں اور طلوعِ اسلام والوں كى يہى كيفيت نہيں ہے؟
يہ تو رہى منكرين حديث كے مختلف فرقوں كى كيفيت، خود پرويز صاحب كى كيفيت يہ ہے كہ وہ اس ميں مفصل ، مبين، مبين قرآن كى آيات كو فضاے دماغى ميں اُٹھنے والى ہر لہر كے ساتھ اپنے تازہ ترين ذ ہنى مزعومات پر كھینچ تان كے ذريعہ منطبق كرتے رہے ہيں – ان كے وسيع خار زار تضادات كى آخر اس كے سوا كيا وجہ ہوسكتى ہے؟اگر ان كے نزديك “اللہ كى تبیانا لکل شئی كے بعد، مزيد كسى تبيين كے كوئى معنى نہيں ہيں تو پهر ‘مفكر ِقرآن’ صاحب كى يہ ‘تفسير مطالب الفرقان‘، يہ ‘قرآنى فيصلے‘، يہ ‘قرآنى قوانين’، يہ ‘تبويب القرآن’، يہ ‘لغات القرآن‘، يہ’مفہوم القرآن‘ يہ سلسلہ ہائے ‘معارف القرآن‘ وغيرہ كتب ، اگر قتل اوقات (Time Killing) كى خاطر بهى نہيں تهى، تو پهر پيٹ كے جہنم كو ايندهن فراہم كرنے كى پيشہ وارانہ ضرورتوں ہى كا تقاضا تها؟
كتاب لے كر تشریح پیغمبر كو نہ لينا، نہ صرف يہ كہ تعليم بلا عمل، كتاب بلاپيغمبر اور قرآن بلا محمد كے نرالے مسلك كو اختيار كرنا ہے بلكہ اسى منصب ِرسالت كى تكذيب كرنا بهى ہے جس كا تقاضا ہى يہ ہے كہ رسول كتاب كى تشريح و تفسیر اورتبیین و توضيح كرے- اس كا انكار نفس رسالت ہى كا انكار ہے۔
ہم اس اعتراض کے جواب میں پہلے بھی تفصیلا ایک تحریر میں پیش کرچکے ہیں یہ لنک ملاحظہ کیجیے :

کیامحمدؐکی اطاعت صرف عہدنبوت کےلوگوں کیلئےہی ضروری تھی؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

یہ شبہ حجیت حدیث کے منکر حلقوں کی جانب سے اکثر بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ مسلمانوں پر سردار اور حاکم تھے اس لیے مسلمانوں کو آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا گیا لیکن پھر جب آپ ﷺ کا وصال ہو گیا تو آپ ﷺ کی ذاتی اطاعت لازمی نہ رہی بلکہ اب جو کوئی بھی سربراہ اور حاکم بنے گا وہ اسی اطاعت کا حقدار ہو گا اور مسلمانوں پر اس کی پیروی لازمی ہو گی۔

قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک محدود وقت اور مخصوص قوم کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئےتھے یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام بنی توع انسان اور ہر زمانے کے لیے عام ہے آیئے اس سوال کا جواب خود قرآن کریم میں تلاش کریں ۔ چند آیا ت پیش ہیں :

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ إِ نِّی رَسُوْلُ اللّٰہ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاً (الاعراف :۱۵۸)
(اے محمد) کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ﴿سبا:٢٨﴾
اور (اے محمد) نہیں بھیجا ہم نے تم کو مگر تمام انسانوں کی طرف بشارت دینے والا متنبہ کرنے والا بنا کر۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴿الانبیاء:١٠٧﴾
” اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لیے۔” (۱۰۷ – ۲)

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ﴿الفرقان:١﴾
” بڑی عالیشان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب اپنے بندہ خاص پر نازل فرمائی تاکہ وہ ( بندہ) تمام دنیا جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔” (۱ -۲۵)

وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿النساء:٧٩﴾
” اور ہم نے آپ کو لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالٰی گواہ کافی ہیں۔” (۷۹ – ۴)۔

اور کل بنی نوع انسان کو اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿النساء:١٧٠﴾
” اے تمام لوگو! تمہارے پاس (یہ) رسول (ﷺ) سچی بات لے کر تمہارے پروردگار کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو تم یقین رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا اور اگر تم منکر رہے تو خدا تعالٰی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور اللہ تعالٰی پوری اطلاع رکھتے ہیں کامل حکمت والے ہیں۔” (۱۷۰ – ۴)

ان آیات کریمہ کے لیے کسی وضاحت و تفصیل کی ضرورت نہیں یہ خود تشریحی آیات اس امر پر ناطق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مخصوص قوم کی طرف نہیں بلکہ تمام بنی نوع آدم کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی رسالت نہ تو کسی زمانے تک مخصوص ہے اور نہ کسی علاقے تک محدود۔قرآن کریم میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذات اقدس پیغمبروں میں سب سے آخری ہے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں ہے۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿الاحزاب:٤٠﴾
“محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ ہیں سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔ اور اللہ تعالٰی ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔” (۳۳-۴۰)
اس آیت کریمہ میں صاف بتلایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے سلسلۃ الذھب میں رسول اکرم ﷺ آخری پیغمبر ہیں۔ سابقہ پیغمبر اکثر کسی خاص قوم اور خاص زمانے کے لیے مبعوث کئے گئے تھے۔ کیونکہ ان کے بعد دوسرے پیغمبر بھی آنے والے تھے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی پیغمبر کو نہیں آنا تھا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی رسالت و نبوت کی وسعت تمام زمانوں اور تمام اقوام تک ہے اور یہی بات خود آنحضرت ﷺ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔”بنی اسرائیل کی رہنمائی پیغمبر کیا کرتے تھے۔ جب کبھی کسی پیغمبر کا انتقال ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا پیغمبر لے لیتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے کافی تعداد میں ہوں گے۔( صحیح بخاری باب نمبر ۵۰ انبیاء، حدیث نمبر ۳۴۵۵)”
اس کے علاوہ اگر رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت کا دائرہ اثر اگلی نسلوں تک وسیع نہ ہوتا تو بعد کی نسلوں کے افراد پیغمبری رشد و ہدایت اور رہنمائی سے محروم رہ جاتے جبکہ سنت اللہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کسی شخص کو پیغمبرانہ رہنمائی سے محروم نہیں رکھتا۔ چنانچہ مندرجہ بالا آیات اور گفتگو کی روشنی میں اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا کہ نبی اکرم ﷺ تمام اقوام پر تا ابد تمام زمانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

چند مزید نکات:

۱ ۔ جب کبھی اور جہاں کہیں بھی قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ہمیشہ “رسول کی اطاعت” کے الفاظ اختیار کئے گئے ہیں اور کسی بھی جگہ “سربراہ کی اطاعت” یا “بحیثیت ایک فرد کے محمد ﷺ” کی اطاعت کا ذکر نہیں ہے، یہ اسلوب واضح طور پر اس کی نشان دہی کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت بحیثیت پیغمبر لازمی ہے۔
۲ ۔ کم از کم ایک موقعے پر قرآن مجید نے غلط معنی نکالنے کے اس بعید ترین امکان کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ ﴿النساء:٥٩﴾
“اے ایمان والو! تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہل حکومت ہیں ان کا بھی۔” (۴-۵۹)
یہاں “رسول کی اطاعت” سربراہوں اور حکام کی اطاعت سے علیحدہ اور ممتاز کر کے بیان کی گئی ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ پیغمبر اور حاکم دونوں مناصب کا اطاعت ان کی مختلف حیثیات میں بجا لانا ضروری ہے۔
یہاں یہ بات اہم اور قابل توجہ ہے کہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کا تعلق ہے آپ کی ذات اقدس میں یہ دونوں مناصب اور حیثیات جمع تھیں۔ آپ نہ صرف ایک پیغمبر تھے بلکہ مسلمانوں کے سربراہ اور حاکم بھی تھے۔ چنانچہ اگر “آنحضرت ﷺ کی اطاعت” کو صرف آپ ﷺ کی حیات طیبہ تک محدود کرنا ہی قرآن کریم کا مقصود ہوتا تو باسانی کہا جا سکتا تھا کہ “محمد کی اطاعت کرو” لیکن قرآن کریم نے ان الفاظ سے احتراز کر کے واضح طور پر آنحضرت ﷺ کی دو حیثیات و مناصب جدا جدا بیان کر دی ہیں اور ان دونوں کو امتیازی طور پر علیحدہ علیحدہ ذکر کر کے اس غلط فہمی کے بعید ترین امکان کو بھی ختم کر دیا ہے۔ چنانچہ اس طرح ان دونوں حیثیات کو آپس میں خلط ملط کرنے کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔
اس کے علاوہ اسی آیت میں ایک اور لطیف نکتہ بھی قابل توجہ ہے یہاں لفظ “رسول” کے لئے صیغہ واحد استعمال کیا گیا ہے جبکہ “تمہارے حاکموں” کے الفاظ میں صیغہ جمع میں ذکر کئے گئے ہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری رسول ہیں جن کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا لہٰذا آپ ﷺ کی اطاعت بحیثیت پیغمبر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صرف آپ ہی کے لئے مخصوص و محدود رہے گی اور مستقبل میں کوئی شخص اس اطاعت میں آپ ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا اس کے برعکس دوسری طرف سربراہوں اور حاکموں کی ایک بڑی تعداد ہو گی جو ایک کے بعد ایک دوسرے کی جگہ لیں گے۔اس قسم کی اطاعت صرف نزول وحی کے وقت کے حاکم تک مخصوص نہ رہے گی بلکہ اس کا دائرہ اثر بعد میں آنے والے تمام حاکموں تک پھیلتا جائے گا۔
۳ ۔ اللہ تعالٰی کی جانب سے بھیجا جانے والا پیغمبر جو رضائے الٰہی کا ترجمان بھی ہے ہمیشہ خدائی نگرانی میں رہتا ہے۔ پیغمبر کی جانب سے ادا کیا جانے والا کوئی فعل یا اس کا کوئی قول اگر رضائے الٰہی سے کلی طور پر مطابقت نہ رکھتا ہو تو اسے ہمیشہ اس بارے میں متنبہ کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسی کئی آیات موجود ہیں جن میں کئی ایسے معاملات پر اللہ تعالٰی کی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے انجام دیئے تھے یا آپ ﷺ کا ان کو انجام دینے کا ارادہ تھا چنانچہ آنحضرت ﷺ کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالٰی کی جانب سے جانچا نہ جا چکا ہو۔اس پس منظر میں اگر آپ ﷺ کی جانب سے کوئی کام انجام دیا جاتا ہے یا کوئی حکم صادر ہوتا ہے اور اس کی نامنظوری کے لئے کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تو اس کا لازمی مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالٰی کی جانب سے اس کام یا حکم کو رضامندی حاصل ہے۔ لہٰذا اس کی روشنی میں یہ بات بالکل درست ہے کہ آنحضرت ﷺ کے تمام احکامات اور تمام افعال براہ راست یا بالواسطہ طور پر وحی پر مبنی ہیں۔یہ منصب آپ ﷺ کے بعد کسی سربراہ کو حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ وحی کا نزول آپ ﷺ پر ختم ہو چکا اور یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے پیغمبر کی اطاعت کو حکام کی اطاعت سے جدا اور ممتاز طور پر بیان کیا ہے۔
یہ وہ تین بڑی وجوہات ہیں جن کی موجودگی میں اس غلط فہمی کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ قرآن حکیم نے “رسول کی اطاعت” کی جو بار بار تاکید کی ہے اور اسے جس اہمیت کے ساتھ ذکر کیا ہے اس سے دراصل مراد سربراہ اور حکام وقت (اولی الامر) کی اطاعت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کی اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالٰی کی جانب سے رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رضا مندی کے ترجمان تھے چنانچہ ” سنت” جو تمام تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور افعال کے ذخیرے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے، اللہ اور کتاب اللہ پر ایمان رکھنے والے تمام مسلمانوں کے لئے واجب التعمیل اور حجت ثابت ہوتی ہے۔

عقلی دلائل :

اس سلسلے میں ایک اور نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ اللہ تعالٰی جل شانہ نے کوئی آسمانی کتاب کسی پیغمبر کے بغیر نازل نہیں فرمائی اور اللہ تعالٰی نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کتاب کی “تعلیم اور تشریح” کے لیے بھیجے گئے ہیں۔قبل ازیں اس امر کا ثبوت بھی پیش کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ تشریحات اور تفصیلات سے قطع نظر کر کے کوئی شخص صرف فرض نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ بھی صحیح طور پر نہیں جان سکتا۔
یہ سب باتیں مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تشریحات محض عہد نبوت کے عربوں ہی کے لیے ضروری تھیں؟ جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے مکہ کے عرب ہم سے کہیں زیادہ اچھی طرح اس سے واقف تھے۔ وہ قرآن کریم کے اسلوب سے کہیں بہتر طور پر آشنا تھے۔ وہ نزول وحی کے مواقع پر خود موجود تھے اور گرد و پیش کے ان تمام حالات و واقعات اور پس و پیش منظر کا براہ راست مشاہدہ کرنے والے تھے جن میں قرآن کریم نازل ہوا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیات کریمہ خود رسالت ماب نبی اکرم ﷺ کے زبان مبارک سے سنی تھیں اور ان تمام اجزا و عناصر کو بخوبی جانتے تھے جن کا جاننا وحی الہٰی کا صحیح اور درست مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے لیکن ان سب کے باوجود رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ تشریحات ان کے لیے ضروری بلکہ لازمی سمجھی گئیں اور ان کی تعمیل بھی ان پر واجب کی گئی۔
اگر یہ درست ہے اور بلاشبہ اس کے درست ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی عام آدمی بقائمی ہوش و حواس یہ سمجھ لے کہ موجودہ عہد کے ان لوگوں کے لیے جو مذکورہ تمام فوائد سے محروم بھی ہیں پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریحات کی کوکئی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ موازنہ کیا جائے تو ہمیں نہ تو عربی زبان و بیان پر ایسی قدرت حاصل ہے جو ان لوگوں کو تھی اور نہ ہی ہم قرآنی اسلوب سے اس درجہ آشنا ہیں جتنا وہ تھے۔ جن حالات و واقعات کے درمیان قرآن کریم نازل ہوا اور جس کے وہ عینی شاہد تھے، ہم تو ان سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود اگر انہیں قرآن کریم کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی تشریحات کی ضرورت تھی تو پھر ہمیں یقیناً کہیں زیادہ اس کی ضرورت ہے۔
اگر قرآن کریم کی حاکمیت کے لیے وقت اور زمانے کی کوئی حد آخر نہیں ہے اور اگر قرآن کریم آنے والے تمام زمانوں اور تمام نسلوں کے لیے واجب التعمیل ہے تو پھر آنحضرت ﷺ کی وہ حاکمیت جس کے لیے خود قرآن حکیم نے وقت کی کوئی حد متعین نہیں کی، قرآن کریم ہی کی طرح ہمیشہ
ہمیشہ مؤثر اور واجب العمل رہے گی۔ قرآن کریم نے جب یہ کہا تو محض مکہ اور مدینہ کے عربوں ہی کو نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو خطاب کر کے کہا تھا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﴿محمد:٣٣﴾
“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔” (۴۷-۳۳)
اگر “اللہ تعالٰی کی اطاعت” ہمیشہ “رسول کی اطاعت” کے ساتھ ساتھ ذکر کی گئی ہے، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں تو اب اس امر کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر ایک سے مراد تا ابد اور تمام زمانوں کے لیے اطاعت ہے تو پھر دوسرے کو مخصوص وقت کی کسی حد میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اور مقام پر قرآن کریم نے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے مابین ایسی کسی تفریق سے اس طرح خبردار کیا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿النساء:١٥١﴾
“جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالٰی کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور یوں چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان میں فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور یوں چاہتے ہیں کہ بین بین ایک راہ تجویز کریں، ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔” (النساء : ۱۵۰-۱۵۱)
پس رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان کا لازمی جزو آپ ﷺ کی حاکمیت کی اطاعت ہے اور یہ جزو اصل سے کبھی جدا نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اسلام کے ابتدائی زمانے میں آنحضرت ﷺ کی حاکمیت ماننا اور بعد کے زمانوں میں اس سے انکار کرنا ایسا گمراہ کن نظریہ ہے جس کی اسلامی ماخذ سے کوئی مدد نہیں مل سکتی اور نہ عقل و منطق کی کسی بنیاد پر اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
حیرت ہے جن خلفائے راشدین کو پرویز صاحب مرکز ان ملت قرار دے کر اللہ اور رسولؐ کی گدی پر براجمان کرکے انھیں یہ اعزاز عطا فرمارہے ہیں ان کو خود ساری عمر اس اعزازی مسند کی خبر تک نہیں ہوئی۔ یہ مرکز ملت (مثلا حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ ) خود عدالتوں میں حاضر ہوئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ فیصلے بھی ان کے خلاف ہی ہوئے۔ انھیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آئی کہ اللہ اور رسول تو ہم خود ہیں، ہماری اطاعت ہی اللہ اور رسول کی اطاعت ہے۔
غلام احمد پرویز صاحب کے مزعومہ مرکز ملت کے دلائل کا جائزہ ہم پہلے بھی ایک تحریر میں لے چکے ہیں۔ تحریر اس لنک سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
“خدا اور رسول یا مرکز ملت-قرآن کی روشنی میں “ٌ

کیاحضورﷺ کاہرعمل سنت اورواجب الاتباع ہے ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

یہ بات مسلماتِ شریعت میں ہے کہ سنت واجب الاتباع صرف وہی اقوال و افعال رسول ہیں جو حضورﷺ نے رسول کی حیثیت سے کیے ہیں۔ شخصی حیثیت سے جو کچھ آپ نے فرمایا یا عملاً کیا ہے وہ واجب الاحترام تو ضرور ہے مگر واجب الاتباع نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں باب بیان اقسام علوم النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عنوان سے اس پر مختصر مگر بڑی جامع بحث کی ہے۔ صحیح مسلم میں امام مسلم نے ایک پورا باب ہی اس اصول کی وضاحت میں مرتب کیا ہے اور اس کا عنوان یہ رکھا ہے: باب وجوب امتثال ما قالہ شرعاً دون ما ذکر صلی اللہ علیہ و سلم من معاش الدنیا علیٰ سبیل الرای (یعنی باب اس بیان میں کہ واجب صرف ان ارشادات کی پیروی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شرعی حیثیت سے فرمائے ہیں نہ کہ ان باتوں کی جو دنیا کے معاملات میں آنحضور ﷺ نے اپنی رائے کے طور پر بیان فرمائی ہیں)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کا جو حکم دیا ہے وہ آپ کے کسی ذاتی استحقاق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ آپؐ کو اس نے اپنا رسول بنایا ہے۔ اس لحاظ سے باعتبار نظریہ تو آپ کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت میں یقیناً فرق ہے۔ لیکن عملاً چونکہ ایک ہی ذات میں شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت دونوں جمع ہیں اور ہم کو آپ کی اطاعت کا مطلق حکم دیا گیا ہے، اس لیے ہم بطور خود یہ فیصلہ کر لینے کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم حضورؐ کی فلاں بات مانیں گے کیونکہ وہ بحیثیت رسولؐ آپ نے کی یا کہی ہے اور فلاں بات نہ مانیں گے کیونکہ وہ آپؐ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی ہے، یہ کام خود حضورؐ ہی کا تھا کہ شخصی نوعیت کے معاملات میں آپ نہ صرف لوگوں کو آزادی عطا فرماتے تھے بلکہ آزادی برتنے کی تربیت بھی دیتے تھے اور جو معاملات رسالت سے تعلق رکھتے تھے ان میں آپؐ بے چون و چرا اطاعت کراتے تھے۔ اس معاملہ میں ہم کو جو کچھ بھی آزادی حاصل ہے، وہ رسول پاکؐ کی دی ہوئی آزادی ہے جس کے اصول اور حدود حضورؐ نے خود بتا دیئے ہیں۔ یہ ہماری خود مختارانہ آزادی نہیں ہے۔
جو امور براہ راست دین اور شریعت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں تو حضورؐ کے ارشادات کی اطاعت اور آپ کے عمل کی پیروی طابق الفعل بالفعل کرنی ضروری ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور طہارت وغیرہ مسائل۔ ان میں سے جو کچھ آپؐ نے حکم دیا ہے اور جس طرح خود عمل کر کے بتایا ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرنی لازم ہے۔ جو معاملات بظاہر بالکل شخصی معاملات ہیں، مثلاً ایک انسان کا کھانا، پینا، کپڑے پہننا، نکاح کرنا، بیوی بچوں کے ساتھ رہنا، گھر کا کام کرنا، غسل اور طہارت اور رفع حاجت وغیرہ۔ وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں خالص نجی نوعیت کے معاملات نہیں ہیں بلکہ انہی میں شرعی حدود اور طریقوں اور آداب کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ شامل ہے۔ مثلاً حضورؐ کے کھانے پینے کے معاملہ کو لیجیے۔ اس کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ آپؐ وہی کھانے کھاتے تھے جیسے آپؐ کے عہد میں اہل عرب کے گھروں میں پکتے تھے اور ان کے انتخاب میں بھی آپؐ کے اپنے ذوق کا دخل تھا۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ اسی کھانے اور پہننے میں آپؐ اپنے عمل اور قول سے شریعت کے حدود اور اسلامی آداب کی تعلیم دیتے تھے۔
اب یہ بات خود حضورؐ ہی کے سکھائے ہوئے اصول شریعت سے ہم کو معلوم ہوتی ہے کہ ان میں سے پہلی چیز آپؐ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری چیز حیثیت نبویہ ہے۔ اس لیے کہ شریعت نے، جس کی تعلیم کے لیے آپؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے گئے تھے، انسانی زندگی کے اس معاملہ کو اپنے دائرۂ عمل میں نہیں لیا ہے کہ لوگ اپنے کھانے کس طرح پکائیں۔ البتہ اس نے یہ چیز اپنے دائرۂ عمل میں لی ہے کہ کھانے کے معاملہ میں حرام اور حلال اور جائز اور ناجائز کے حدود متعین کرے اور لوگوں کو ان آداب کی تعلیم دے جو اہل ایمان کے اخلاق و تہذیب سے مناسبت رکھتے ہیں۔
اگر کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ حضورؐ کا اتباع کرنا چاہے اور اسی غرض سے آپؐ کی سنت کا مطالعہ کرے تو اس کے لیے یہ معلوم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ کن امور میں آپ کا اتباع طابق الفعل بالفعل ہونا چاہیے اور کن امور میں آپ کے ارشادات اور اعمال سے اصول اخذ کر کے قوانین وضع کرنے چاہئیں اور کن امور میں آپ کی سنت سے اخلاق و حکمت اور خیر و صلاح کے عام اصول مستنبط کرنے چاہئیں۔

اتباع رسول کا صحیح مفہوم
اشکال :کیا آج کے ایٹمی دور میں جنگ کے اندر تیروں کا استعمال ہی ضروری ہے کیونکہ حضورﷺ نےجنگوں میں تیر استعمال کیے تھے ۔ اتباع کا یہ مفہوم “غیر فطری اور ناقابل عمل ہے ۔ یہ مفہوم اگر لیا جائے تو زندگی اجیرن ہو جائے گی۔
جواب:
اتباع سنت کے یہ معنی اہل علم نے کبھی نہیں لیے ہیں کہ ہم جہاد میں وہی اسلحے استعمال کریں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں استعمال ہوتے تھے۔ بلکہ ہمیشہ اس کے معنی یہی سمجھے گئے ہیں کہ ہم جنگ میں ان مقاصد، ان اخلاقی اصولوں اور ان شرعی ضابطوں کو ملحوظ رکھیں جن کی ہدایت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے دی ہے اور ان اغراض کے لیے لڑنے اور وہ کاروائیاں کرنے سے باز رہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے۔ اتنے بڑے بنیادی مسئلے کو بہت ہی سطحی انداز میں لے لینا غلط ہے۔

حدیث “تم اپنے دنیاوی معاملات بہتر جانتے ہو۔”سے ایک غلط استدلال:
مغرب سے مرعوب شدہ کچھ حلقوں کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حجیت و حاکمیت سے متعلق ایک اور نقطہ نظر پیش کیا جاتا رہا ہے اور وہ یہ کہ بلا شبہ تمام نسلوں اور تمام زمانوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حاکمیت قرآن مجید سے ثابت ہے لیکن اس حاکمیت کا دائرہ عمل صرف عقائد اور عبادات کے ساتھ مخصوص ہے۔ ان لوگوں کے نقطہ نظر کے مطابق کسی پیغمبر کا فرض منصبی صرف امت کے ایمان و عقائد کی درستگی اور اللہ تعالٰی کی عبادت کا طریقہ سکھلانے تک ہی محدود ہے اور جہاں تک روزمرہ کے دنیاوی معاملات کا تعلق ہے وہ اس حاکمیت کے ذیل میں نہیں آتے۔ ان دنیاوی معاملات میں، اس نقطہ نظر کے تحت، معاشی، معاشرتی اور سیاسی معاملات شامل ہیں جن کو ہر زمانے کے حالات کے مطابق اپنے طور پر طے کیا جانا چاہیے اور پیغمبری حاکمیت کا ان معاملات میں اطلاق نہیں ہوتا اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان معاملات میں کچھ ہدایات دی بھی ہیں تو وہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصی آراء ہیں جو بطور پیغمبر نہیں دی گئیں لہٰذا امت کے لیے ان ہدایات کی پیروی واجب نہیں ہے۔اس نظرئيے میں وزن پیدا کرنے کے لیے عموماً ایک مخصوص حدیث سیاق و سباق سے جدا کر کے نقل کی جاتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم سے فرمایا تھا:انتم اعلم بامور دنیاکم”تم اپنے دنیاوی معاملات بہتر جانتے ہو۔”
اس سے قبل کہ میں اس حدیث شریف کا مکمل متن پیش کروں اس نقطہ نظر کی بنیاد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دراصل یہ نظریہ دین اسلام کی ساخت اور ڈھانچے کے متعلق ایک سنگین غلط فہمی پر مبنی ہے۔اور وہ غلط فہمی یہ ہے کہ دیگر تمام مذاہب کی طرح اسلام بھی کچھ عقائد اور کچھ رسومات کے مجموعے کا نام ہے اور انہیں تک محدود بھی ہے اور روز مرہ انسانی زندگی کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چند متعین نظریات مان لینے اور بعض مخصوص رسومات کی بجا آوری کے بعد ہر شخص آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزارے۔ اس طرز زندگی کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس نقطہ نظر کے موید اور ترجمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حاکمیت محض چند عقائد اور عبادات تک ہی تسلیم کرتے ہیں۔
کوئی ایسا شخص جس نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہو، یہ بے بنیاد بات اس پر چسپاں نہیں کر سکتا کہ قرآن کی تعلیمات محض عبادات اور رسومات سے متعلق ہیں۔ قرآن کریم میں تو خرید، فروخت، قرض کے لین دین، گروی رکھنے، شراکت داری، تعزیری قوانین، وراثت، ازدواجی تعلقات، سیاسی معاملات، جنگ و امن کے مسائل اور بین الاقوامی تعلقات جیسے بیسیوں موضوعات پر خاص احکامات و فرامین موجود ہیں۔ اگر اسلامی تعلیمات محض عقائد اور رسومات کے پہلوؤں تک محدود ہوتیں تو ان احکامات و قوانین کی قرآن مجید میں موجودگی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
بالکل اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت بھی معاشی، معاشرتی، سیاسی اور قانونی معاملات پر اس تفصیل سے بحث کرتی ہے کہ بے شمار ضخیم کتب محض اس کی تدوین و ترتیب کے لئے لکھی گئی ہیں۔ پھر یہ کیسے خیال کیا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان موضوعات میں بغیر کسی حاکمیت اور اختیار کے اس قدر تفصیل کے ساتھ دخل دیا ہو۔ ان موضوعات پر قرآن و سنت کے احکامات اس قدر قطعی، حاکمانہ اور ہدایتی نوعیت کے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قانونی قوت سے محروم، محض شخصی نصائح کا مجموعہ ہیں۔
یہ بات اگرچہ فی نفسہ درست ہے کہ اس میدان میں جسے اسلامی اصطلاح میں “معاملات” کہا جاتا ہے قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشتر مواقع پر لچکدار اور غیر جامد اصول پیش کئے ہیں اور اکثر تفصیلات کھلی چھوڑ دی ہیں تاکہ بدلتے ہوئے زمانوں میں ضروریات کے مطابق تبدیلی کی جا سکے۔ لیکن ایسا صرف اور صرف انہی اصولوں کے مطابق اور انہی کے اندر رہتے ہوئے کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جن معاملات سے قرآن و سنت نے تعرض نہیں کیا وہ کھلے میدان ہیں جن میں مصلحتی ضروریات اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعا نہیں ہے کہ قرآن و سنت کا حیات انسانی کی ایک ایسی اہم شاخ سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے جو تاریخ عالم میں ہمیشہ بے سکونی اور انقلابات کا بنیادی سبب رہی ہے۔ جس کے بارے میں نام نہاد ” عقلیت پسندانہ نقطہ نظر” سدا باہمدگر متصادم رہے ہیں اور جو بالآخر شیطانی خواہشات کا شکار ہو کر دنیا کو تباہی کی طرف لے گئے ہیں۔

کھجور کے درختوں پر تابیر کا واقعہ:
اب ہم اس حدیث پاک کی طرف آتے ہیں جو عموماً اس گمراہ کن نقطہ نظر کی تائید میں پیش کی جاتی ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔
“موسیٰ بن طلحہ اپنے والد ( حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا! میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو کہ کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کھجور کی تابیر کر رہے ہیں اور نر کھجور کے کچھ حصے کو مادہ کھجور کے کچھ حصے پر ڈال رہے ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا تو گمان نہیں ہے کہ اس عمل سے کچھ فائدہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بعض لوگوں نے ان حضرات تک پہنچا دیا ( جو کہ تابیر کر رہے تھے) چنانچہ انہوں نے یہ عمل ترک کر دیا۔ بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا گیا ( کہ آپ کے اس ارشاد کی بناء پر انہوں نے تابیر ترک کر دی ہے) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” اگر اس عمل سے انہیں فائدہ پہنچتا ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ کرتے رہیں میں نے تو اپنے ایک گمان کا اظہار کیا تھا، میرے گمان پر مواخذہ نہ کیا کرو لیکن جب میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی بات بتاؤں تو اس پر ضرور عمل کرو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔”
صحابی رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مطابق آپ نے اس موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا!انتم اعلم بامور دنیاکم ” تم اپنے دنیاوی معاملات بہتر جانتے ہو۔”
مکمل سیاق و سباق اور متن کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل روشن ہو جاتی ہے کہ اس حدیث کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کھجور کے درختوں کی تابیر کے خلاف کوئی حتمی اور قطعی ممانعت نہیں دی تھی، یہاں جائز اور ناجائز کا کوئی سوال نہیں تھا۔ جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا وہ نہ تو کوئی حکم تھا نہ کوئی قانونی اور مذہبی ممانعت تھی اور نہ اس فعل کی کوئی اخلاقی مذمت۔ وہ تو حقیقتاً کوئی سوچا سمجھا تبصرہ بھی نہ تھابلکہ ایک سرسری انداز میں کہا ہوا ایک فقرہ تھا جو ایک عمومی اور فوری نوعیت کے اندازے پر مبنی تھا جیسا کہ آپ نے وضاحت فرما دی۔ ” میرا تو گمان نہیں ہے کہ اس عمل سے کچھ فائدہ ہو گا” کوئی شخص اس جملے کو کسی قانونی یا دینی تبصرے کا مفہوم نہیں دے سکتا اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ جملہ ان لوگوں سے نہیں فرمایا جو یہ عمل کر رہے تھے اور نہ ہی یہ پیغام ان تک پہنچانے کا حکم دیا بلکہ ان کو بعد میں دیگر لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تبصرے کا علم ہوا۔
اگرچہ یہ تبصرہ باقاعدہ ممانعت کا حکم نہیں رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاک نفس اصحاب ہر بات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دیوانہ وار اتباع کرنے کے عادی تھے اور صرف کسی قانونی پابندی کی وجہ سے نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے غیر معمولی اور بے پناہ الفت و تعلق کی بنا پر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے تابیر کا یہ عمل بالکلیہ ترک کر دیا۔لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معلوم ہوا کہ انہوں نے اس ارشاد کی بنا پر یہ عمل چھوڑ دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غلط فہمی دور کرنے کے لئے بات کی وضاحت فرما دی۔اس وضاحت کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام حتمی اور قطعی بیانات ہی واجب التعمیل ہیں کیونکہ وہ آپ نے پیغمبرانہ حیثیت میں اللہ تعالٰی ہی کی جانب سے ارشاد فرمائے ہیں اور جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کسی ایسے لفظ کا تعلق ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسی حتمی اور قطعی بیان کے طور پر نہیں، بلکہ محض ایک بشری گمان کے طور پر ارشاد فرمایا ہو، اگرچہ وہ بھی پوری تعظیم کا مستحق ہے، لیکن اس کو شریعت کا جز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے روزمرہ معاملات میں جہاں شریعت نے براہ راست حکم جاری نہیں کیا وہاں لوگوں کے لئے ایک وسیع میدان چھوڑ دیا گیا ہے اور لوگوں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہاں اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے علم اور تجربے کی بنیاد پر معاملات چلائیں۔کسی بنجر اور بے نمو زمین کو کیسے زرخیز بنایا جا سکتا ہے؟ پودوں کی دیکھ بھال کس طرح کرنی چاہیے؟ دفاع کے مقاصد میں کون سے ہتھیار زیادہ کارآمد ہیں؟ سواری کے لئے کس قسم کے گھوڑے زیادہ موزوں ہوتے ہیں؟ کسی مخصوص بیماری کے لئے کون سی دوا زیادہ زود اثر ہے؟ یہ اور اس قسم کے تمام معاملات زندگی کے اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شریعت نے کوئی مخصوص جواب نہیں دیا اور اس نوعیت کے معاملات انسانی تجسس پر چھوڑ دیئے ہیں جو کہ ایسے مسائل کے حل کے لئے کافی ہے۔ ” مباحات” کا یہی وہ میدان ہے جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے۔انتم اعلم بامور دنیاکم
اس میں وہ دنیاوی معاملات شامل نہیں ہیں جہاں قرآن مجید یا سنت نے مخصوص اور متعین اصول وضع کئے ہیں یا کوئی واضح حکم دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کے درختوں کے معاملہ کو ایک کھلا میدان قرار دیا وہیں اس کے متصل بعد یہ بھی ارشاد فرمایا “لیکن جب میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی بات بتاؤں تو اس پر ضرور عمل کرو۔”خود قرآن ہی اس بات پر شاہد ہے کہ دیوانی اور فوجداری قوانین، عائلی قوانین، معاشی قوانین اور اسی طرح اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق احکام قوانین بیان کرنے کو دین اسلام نے اپنے دائرۂ عمل میں لیا ہے۔ ان امور کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایات کو رد کر دینے کے لیے مذکورہ بالا حدیث کو دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔مذکورہ بالا تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلامی قانون کا دوسرا سرچشمہ ہے، آنحضرت نے پیغمبرانہ حیثیت میں جو کچھ فرمایا یا عمل فرمایا وہ امت کے لئے واجب العمل ہے۔

 

محمدؐ خدا تو نہیں تھے کہ خدا کیطرح انکی پیروی کی جائے!

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔

اعتراض:
“اسلام ایک خدائی دین ہے۔ یہ اپنی سند خدا سے اور صرف خدا ہی سے لیتا ہے۔ اگر یہ اسلام کا صحیح تصور ہے تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ محمد رسول اللہ کے اقوال و افعال اور کردار کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی سی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ ایک کامل انسان تھے۔ نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ جس عزت اور تکریم کے مستحق ہیں یا جس عزت و تکریم کا ہم ان کے لیے اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کے اظہار کی قوت و قابلیت وہ رکھتا ہے۔ لیکن با ایں ہمہ وہ خدا نہ تھے، نہ خدا سمجھے جا سکتے ہیں۔ دوسرے تمام رسولوں کی طرح وہ بھی انسان ہی ہیں.وہ ہماری طرح فانی تھے۔ وہ ایک نذیر تھے مگر یقیناً خدا نہ تھے ان کو بھی اسی طرح خدا کے احکام کی پیروی کرنی پڑتی تھی جس طرح ہمیں۔ وہ مسلمانوں کو اس سے زیادہ کوئی چیز نہ دے سکتے تھے جو خدا کی طرف سے بذریعۂ وحی ان کو دی گئی تھی”.

جواب :
اصل مسئلہ جس کی تحقیق اس مقام پر مطلوب تھی وہ یہ نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم معاذ اللہ خدا ہیں یا نہیں اور وہ انسان ہیں یا کچھ اور دین کے احکام میں سند مرجع خدا کا حکم ہے یا کسی اور کا ۔بلکہ تحقیق جس چیز کی کرنی چاہیے تھی وہ یہ تھی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے کس کام کے لیے مقرر کیا ، دین میں ان کی حیثیت اور اختیارات کیا ہیں؟ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں، انسان ہی ہیں، مگر وہ ایسے انسان ہیں جن کو خدا نے اپنا نمائندۂ مجاز بنا کر بھیجا ہے۔ خدا کے احکام براہ راست ہمارے پاس نہیں آئے بلکہ ان کے واسطے سے آئے ہیں۔ وہ محض اس لیے مقرر نہیں کیے گئے کہ خدا کی کتاب کی آیات جو ان پر نازل ہوں، بس وہ پڑھ کر ہمیں سنا دیں بلکہ ان کے تقرر کا مقصد یہ ہے کہ وہ کتا ب کی تشریح کریں، اسکے احکامات کی وضاحت کریں ۔ ہم اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ قرآن حضور ﷺ کو کس حیثیت سے پیش کرتا ہے ؟ قرآن میں اللہ تعالی نے حضور ﷺ کو کیا کیا اختیارات عنایت فرمائے ہیں ۔؟ اس سے واضح ہوجائے گا کہ کہ محمد رسول اللہ کے اقوال و افعال اور کردار کی دین میں کیا حیثیت ہے۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت شارح کتاب اللہ:
سورۂ النحل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اور (اے نبی) یہ ذکر ہم نے تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے”۔ (النمل: ۴۴)
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد یہ خدمت کی گئی تھی کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ جو احکام و ہدایات دے، ان کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم توضیح و تشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی کتاب کی توضیح و تشریح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہو جاتی بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے تاکہ سننے والا کتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سے متعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ کر کے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب و مدعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہی سنا دینا کسی طفل مکتب کے نزدیک بھی تشریح و توضیح قرار نہیں پا سکتا۔
یہاں تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے۔ پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ شارح قرآن کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے منصب کو رسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و تفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکار خود رسالت کا انکار نہ ہو گا۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت شارع:
سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے، جو ان پر چڑھے ہوئے تھے۔ (الاعراف: ۱۵۷)
اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تشریعی اختیارات (Legislative Powers) عطا کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے امر و نہی اور تحلیل و تحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے بلکہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضورﷺ نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے، وہ بھی اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات سے ہے، اس لیے وہ بھی قانونِ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورۂ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے:

“جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کر دے، اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے”۔
ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویل نہیں کی جا سکتی کہ ان میں قرآن کے امر و نہی اور قرآن کی تحلیل و تحریم کا ذکر ہے۔ یہ تاویل نہیں بلکہ اللہ کے کلام میں ترمیم ہو گی۔ اللہ نے تو یہاں امر و نہی اور تحلیل و تحریم کو رسول کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت پیشوا و نمونہ تقلید:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران: ۳۱)” (اے نبی) کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ کہو کہ اطاعت کرو اللہ اور رسول کی، پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا”۔
اور لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ۲۱)”تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک تقلید ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو”۔
ان دونوں آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو پیشوا مقرر کر رہا ہے، ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے، ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے اور صاف فرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار نہ کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، میری محبت اس کے بغیر تمہیں حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔
اگر قرآن کے یہ الفاظ بالکل غیر مشتبہ طریقے سے آنحضور ﷺ کو مامور من اللہ رہنما و پیشوا قرار دے رہے ہیں۔ تو پھر آپ کی پیروی اور آپ کے نمونہ زندگی کی تقلید سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیروی ہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فاتبعو القرآن فرمایا جاتا نہ کہ فاتبعونی۔ اور اس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کو اسوۂ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت حاکم و فرمانروا
قرآن مجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبی ﷺ ، اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم و فرمانروا تھے اور آپ کو یہ منصب بھی رسول ہی کی حیثیت سے عطا ہوا تھا:
“ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا، مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے۔ (النساء 64)”۔
جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی (النساء 80)”۔
” (اے نبی) یقیناً جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں (الفتح 10)”۔
“اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کا رسول کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملہ میں خود کوئی فیصلہ کر لینے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا (الاحزاب 36)”۔
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللہ اور روز آخر پر (النساء 59)
یہ آیت صاف بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ اس سے بیعت در اصل اللہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللہ کی نافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں مقبول نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملہ کا فیصلہ وہ کر چکا ہو، اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت قاضی:
قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر اللہ تعالیٰ اس امر کی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو قاضی مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:
“(اے نبی) ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللہ کی دکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو (النساء:105)”۔
“پس (اے نبی) تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تو کرے اس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے بسرو چشم قبول کر لیں (النساء:65)
یہ آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے جج تھے۔ دوسری آیت میں کہا گیا کہ رسول ﷺ کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر رسول ﷺ کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخص اپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ کیا دنیا کے کسی جج کی یہ حیثیت ہو سکتی ہے کہ اس کا فیصلہ اگر کوئی نہ مانے یا اس پر تنقید کرے یا اپنے دل میں بھی اسے غلط سمجھے تو اس کا ایمان سلب ہو جائے گا؟

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت معلم و مربی:
اس کتابِ پاک میں چار مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منصبِ رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے:
“اور یاد کرو جبکہ ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (انہوں نے دعا کی) ۔۔ اے ہمارے پروردگار، ان لوگوں میں خود انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے (البقرہ:129)”۔
“جس طرح ہم نے تمہارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے (البقرہ:151)”۔
“اللہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جبکہ ان کے اندر خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے (آل عمران:164)”۔
“وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے (الجمعہ:2)”۔
ان آیات میں بار بار جس بات کو بتاکید دہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو صرف آیات قرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھی تھے۔1. ایک یہ کہ آپ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔2. دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔3. اور تیسرے یہ کہ آپ افراد کا بھی اور ان کی اجتماعی ہئیت کا بھی تزکیہ کریں، یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کو نشو و نما دیں۔ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنادینے سے زائد ہی کوئی چیز تھی ورنہ اس کا الگ ذکر کرنا بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اور معاشرے کی تربیت کے لیے آپ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے، وہ بھی قرآن کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں، ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کے کوئی معنی نہ تھے۔

کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحات کے بعد اسی کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ یہ دونوں مناصب رسالت کے اجزاء نہ تھے؟ اگر نہیں کہہ سکتا تو بتایئے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم کتاب و حکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول و عمل سے افراد اور معاشرہ کی جو تربیت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کی اسے من جانب اللہ ماننے اور سند تسلیم سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
معترض کا یہ جملہ لفظاً بالکل صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم “مسلمانوں کو اس سے زیادہ کوئی چیز نہ دے سکتے تھے جو خدا کی طرف سے بذریعۂ وحی ان کو دی گئی تھی۔”کیونکہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرمانروا، قاضی اور رہنما تھے تو یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلے اور آپ کی تعلیمات و ہدایات اور آپ کے احکام من جانب اللہ تھے اور اس بنا پر لازماً وہ اسلام میں سند و حجت ہیں۔

سنت کے مآخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع:
آپ اگر واقعی قرآن کو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظ میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا کی طرف سے مقر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، رہنما، شارحِ کلام اللہ، شارع (Law Giver)، قاضی اور حاکم و فرمانروا قرار دے رہا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصبِ رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور سے لیکر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا مآخذ قانون (Source of Law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائی بر خود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ تمام دنیا کے مسلمان اور ہر زمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیک مطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضور ﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔ اور اس کے بعد آپ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کے ہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آ گئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نے سمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا؟

قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ حضورﷺ پرقرآن کے علاوہ بھی وحی آئی؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اعتراض:
“اگر فرض کر لیا جائے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ حضورؐ جو کچھ کرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا کو اپنی طرف سے بھیجی ہوئی ایک قسم کی وحی پر (نعوذ باللہ) تسلی نہ ہوئی، چنانچہ دوسری قسم کی وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ یہ دورنگی آخر کیوں؟ پہلے آنے والے نبیوں پر جب وحی نازل ہوئی تو اس میں نزول قرآن کی طرف اشارہ تھا۔ تو کیا اس اللہ کے لیے جو ہر چیز پر قادر ہے، یہ بڑا مشکل تھا کہ دوسری قسم کی وحی، جس کا آپ ذکر کرتے ہیں، اس کا قرآن میں اشارہ کر دیتا۔ مجھے تو قرآن میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی۔

تبصرہ :
آپ تو “دو رنگیِ وحی” پر ہی حیران ہیں، اگر آپ نے قرآن پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ کتاب “سہ رنگی” کا ذکر کرتی ہے جن میں سے صرف ایک “رنگ” کی وحی قرآن میں جمع کی گئی ہے۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن یكَلِّمَه اللَّهُ إِلَّا وَحْیا أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یرْسِلَ رَسُولاً فَیوحِی بِإِذْنِهِ مَا یشَاء إِنَّهُ عَلِی حَكِیمٌ (الشورٰی:51)
“کسی بشر کے لیے یہ نہیں ہے کہ اللہ اس سے گفتگو کرے، مگر وحی کے طریقہ پر، یا پردے کے پیچھے سے، یا اس طرح کہ ایک پیغام بر بھیجے اور وہ اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ اللہ چاہتا ہو۔ وہ برتر اور حکیم ہے”
یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بشر پر احکام و ہدایات نازل ہونے کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک براہِ راست وحی (یعنی القاء و الہام) دوسرے پردے کے پیچھے سے کلام، تیسرے اللہ کے پیغام بر (فرشتے) کے ذریعہ سے وحی۔ قرآن مجید میں جو وحیاں جمع کی گئی ہیں وہ ان میں سے صرف تیسری قسم کی ہیں۔ اس کی تصریح اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی ہے۔
قُلْ مَن كَانَ عَدُوّاً لِّجِبْرِیلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللّهِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَینَ یدَیهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِینَ (البقرۃ:97-98 )
“(اے نبیؐ) کہو جو کوئی دشمن ہو جبریل کا اس بنا پر کہ اس نے یہ قرآن نازل کیا ہے تیرے قلب پر اللہ کے اذن سے، تصدیق کرتا ہوا ان کتابوں کی جو اس کے آگے آئی ہوئی ہیں اور ہدایت و بشارت دیتا ہوا اہلِ ایمان کو۔ ۔ ۔ تو اللہ دشمن ہے ایسے کافروں کا”
وَإِنَّهُ لَتَنزِیلُ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِینُ۔عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِینَ (الشعراء 192-194)
“اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اسے لے کر روح الامین اترا ہے۔ تیرے قلب پر تا کہ تو متنبہ کرنے والوں میں سے ہو”
اس سے معلوم ہو گیا کہ قرآن صرف ایک قسم کی وحیوں پر مشتمل ہے۔ رسول کو ہدایات ملنے کی باقی دو صورتیں جن کا ذکر سورۂ الشورٰی والی آیت میں کیا گیا ہے وہ ان کے علاوہ ہیں۔

وحی کی دوسری قسم کا ثبوت قرآن کریم سے:
اگرچہ وحی کی یہ قسم قرآن پاک میں شامل نہیں ہے  لیکن قرآن کریم نہ صرف یہ کہ اکثر اس کا حوالہ دیتا ہے بلکہ اس کے مضامین کا انتساب بھی اللہ تعالی جل شانہ کی طرف کرتا ہے۔  وحی الٰہی محض قرآن کریم تک ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وحی کی ایک دوسری قسم بھی ہے جو کلام پاک کا جزو نہ  ہونے کے باوجود وحی الٰہی ہے، ثبوت اس تحریر میں دیکھیے۔

پنیر کا استعمال جگر کو توانا ئی اور سرطان سے بچائومیں مفید ہے

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

پنیر کا استعمال جگر کو توانا ئی اور  سرطان سے بچائومیں مفید ہے  ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پنیر کا استعمال جگر کو توانا ئی کے ساتھ سرطان سے بچائو فراہم کرتا ہے ۔ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی لوگ پنیر سے اجتناب کرتے ہوئے اسے موٹاپے کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق سے پنیر کے بہت سے فائدے منظرِ عام پر آئے ہیں۔

پنیر خواہ شیڈر ہو، برائی ہو یا پرمیسن، یہ جگر کو توانا رکھتے ہوئے اسے سرطان سے بچاتا ہے۔ پنیر میں موجود ایک مرکب، اسپرمیڈائن جگر کے متاثرہ خلیات کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جگر فائبروسِس، ہیپٹوسیلولرکارسینوما (ایچ سی سی ) کو روکتا ہے جو جگر کے کینسر کی سب سے عام وجہ بھی ہے۔ اس سے قبل ڈنمارک کے آرہس یونیورسٹی ہسپتال نے اپنی تحقیق میں بتایا تھا کہ دانتوں کی اچھی طرح صفائی جگر کے امراض سے بچاتی ہے کیونکہ منہ کے بیکٹیریا جگر تک جاکر اسے بیمار کرتے ہیں۔
Filed under: متاثرہ خلیات, پنیر کے بہت سے فائدے, پنیر کا استعمال جگر کو توانا ئی اور سرطان سے بچائومیں مفید ہے, اسپرمیڈائن, سرطان سے بچاتا Tagged: متاثرہ خلیات, پنیر کے بہت سے فائدے, پنیر کا استعمال جگر کو توانا ئی اور سرطان سے بچائومیں مفید ہے, اسپرمیڈائن, سرطان سے بچاتا

احسان اللہ احسان کا اعتراف

افتخار اجمل بھوپال -

پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بھارتی نیوی کے افسر اور بھارتی ایجنسی ” را “ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی بلوچِستان سے گرفتاری کے بعد دوسری کامیابی عطا فرمائی ہے

آپ خبروں پڑھ یا سُن چکے ہوں گے کہ احسان اللہ احسان جو کچھ عرصہ تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ بھی رہا اُس نے کچھ دن قبل اپنے آپ کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا تھا

احسان اللہ احسان کے بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بھی بھارتی حکومت کی چلائی ہوئی ہے اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ” را “ اور افغانستان کی اییجنسی ” این ڈی ایس“ کے ماتحت چل رہی ہے جو دہشتگردی کے ہر واقعہ کے بدلے ڈالرز دیتی ہیں

اشکال:احادیث قرآن کیطرح لکھوائی نہیں گئی

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اعتراض: “اگر وحی منزل من اللہ کی دو قسمیں تھیں۔ ایک وحیِ متلو یا وحیِ جلی اور دوسری وحیِ غیر متلو ، تو کیا یہ چیز رسول اللہ کے فریضۂ رسالت میں داخل نہ تھی کہ حضورؐ وحی کے اس دوسرے حصے کو بھی خود مرتب فرما کر محفوظ شکل میں امت کو دے کر جاتے جس طرح حضورؐ نے وحی کے پہلے حصے (قرآن) کو امت کو دیا تھا”۔
یہ اعتراض یوں بھی کیا جاتا ہے کہ
” اگر حدیث کا دین میں کوئی مقام ہوتا اور دینی معاملات میں اسے مستقل حجیت حاصل ہوتی تو پھر نبی اکرمﷺ اسی اہتمام کے ساتھ حدیث بھی لکھوا لیا کرتے جس اہتمام سے آپﷺ قرآن کی ہر آیت و سورہ لکھوا لیا کرتے تھے۔اب جس شئے کو قلم بند کر کے دوسروں تک پہنچانے کا باقاعدہ التزام نہیں کیا گیا اسے ہمیشہ کے لیے ایک واجب الاتباع قانون کا درجہ کیسے دیا جاسکتا ہے؟

تبصرہ :
منکرین حدیث یہ سوال عموماً بڑے زور و شور سے اٹھاتے ہیں اور اپنے خیال میں اسے بڑا لاجواب سمجھتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہے کہ قرآن چونکہ لکھوایا گیا تھا اس لیے وہ محفوظ ہے اور حدیث چونکہ حضورؐ نے خود لکھوا کر مرتب نہیں کی اس لیے وہ غیر محفوظ ہے۔
لطیفہ یہ ہے کہ تمام منکرین حدیث بار بار قرآن کے لکھے جانے اور حدیث کے نہ لکھے جانے پر اپنے دلائل کا دارومدار رکھتے ہیں، لیکن یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے زمانہ میں کاتبان وحی سے ہر نازل شدہ وحی لکھوا لیتے تھے اور اس تحریر سے نقل کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں لکھا گیا اور بعد میں اسی کی نقلیں حضرت عثمان نے شائع کیں۔ یہ سب کچھ محض حدیث کی روایات ہی سے دنیا کو معلوم ہوا ہے۔ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ حدیث کی روایات کے سوا اس کی کوئی دوسرے شہادت دنیا میں کہیں موجود ہے۔ اب اگر حدیث کی روایات سرے سے قابل اعتماد ہی نہیں ہیں تو پھر کس دلیل سے آپ دنیا کو یہ یقین دلائیں گے کہ فی الواقع قرآن حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے زمانے میں لکھا گیا تھا؟
مزید یہی راوی جب یہ بیان کرتے ہیں کہ عہدِ صحابہ میں احادیث کی کتابت ہوتی تھی وہ آپ قبول نہیں کرتے ۔ کیا یہ منافقت بھی قرآن کے ساتھ محبت کی وجہ سے ہے؟

قرآن اور حدیث کے معاملے میں فرق:
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہئے کہ قرآن کو جس وجہ سے لکھوایا گیا، وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معنی دونوں من جانب اللہ تھے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں، اس کی آیتوں کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب بھی اللہ کی طرف سے تھی۔اس کے الفاظ کو دوسرے الفاظ سے بدلنا بھی جائز نہ تھا۔ اور وہ اس لئے نازل ہوا تھا کہ لوگ انہی الفاظ میں اسی ترتیب کے ساتھ اس کی تلاوت کریں۔ اس کے مقابل میں سنت کی نوعیت بالکل مختلف تھی ، وہ محض لفظی نہ تھی بلکہ عملی بھی تھی، اور جو لفظی تھی، اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعہ وحی نازل نہیں ہو ئے تھے بلکہ حضور نے اس کو اپنی زبان میں ادا کیا تھا۔ پھر اس کا ایک بڑا حصہ ایسا تھا جسے حضور کے ہمعصروں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ مثلاً یہ کہ حضور کے اخلاق ایسے تھے، حضور کی زندگی ایسی تھی، اور فلاں موقع پر حضورؐ نے یوں عمل کیا۔
حضورؐ کے اقوال و تقریریں نقل کرنے کے بارے میں بھی یہ پابندی نہ تھی کہ سننے والے انہیں لفظ بلفظ نقل کریں۔ بلکہ اہل زبان سامعین کے لئے یہ جائز تھا اور وہ اس پرقادر بھی تھے کہ آپ سے ایک بات سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اسے اپنے الفاظ میں بیان کردیں۔ حضورؐ کے الفاظ کی تلاوت مقصود نہ تھی بلکہ اس تعلیم کی پیروی مقصود تھی جو آپ نے دی ہو۔ احادیث میں قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی طرح یہ ترتیب محفوظ کرنا بھی ضروری نہ تھا کہ فلاں حدیث پہلے ہو اور فلاں اس کے بعد۔ اس بنا پراحادیث کے معاملے میں یہ بالکل کافی تھا کہ لوگ اسے یاد رکھیں اور دیانت کے ساتھ انہیں لوگوں تک پہنچائیں۔ ان کے معاملے میں کتابت کی وہ اہمیت نہ تھی جو قرآن کے معاملے میں تھی۔
دوسری بات جسے خوب سمجھ لینا چاہئے، یہ ہے کہ کسی چیز کے سند اور حجت ہونے کے لئے اس کا لکھا ہوا ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ اعتماد کی اصل بنیاد اس شخص یا ان اشخاص کا بھروسے کے قابل ہونا ہے جس کے یا جن کے ذریعہ سے کوئی بات دوسرے تک پہنچے، خواہ وہ مکتوب ہو یا غیر مکتوب۔ خود قرآن کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھوا کر نہیں بھیجا بلکہ نبی کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔ اللہ نے پورا انحصار اس بات پر کیا کہ جو لوگ نبی کو سچا مانیں گے، وہ نبی کے اعتماد پر قرآن کو ہمار ا کلام مان لیں گے۔ نبی ﷺ نے بھی قرآن کی جتنی تبلیغ و اشاعت کی، زبانی ہی کی۔ آپ کے جو صحابہ مختلف علاقوں میں جاکر تبلیغ کرتے تھے، وہ قرآن کی سورتیں لکھی ہوئی نہ لے جاتے تھے۔ لکھی ہوئی آیات اور سورتیں تو اس تھیلے میںپڑی رہتی تھیں جس کے اندر آپ ﷺ انہیں کاتبانِ وحی سے لکھوا کر ڈال دیا کرتے تھے۔ باقی ساری تبلیغ و اشاعت زبان سے ہوتی تھی اور ایمان لانے والے اس ایک صحابی کے اعتماد پریہ بات تسلیم کرتے تھے کہ جو کچھ وہ سنا رہا ہے، وہ اللہ کا کلام ہے یارسول اللہ ﷺ کا جو حکم وہ پہنچا رہا ہے، وہ حضور ہی کا حکم ہے۔
تیسرا اہم نکتہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ لکھی ہوئی چیز بجائے خود کبھی قابل اعتماد نہیں ہوتی، جب تک کہ زندہ اور قابل اعتماد انسانوں کی شہادت اس کی توثیق نہ کرے۔ محض لکھی ہوئی کوئی چیز اگرہمیں ملے اور ہم اصل لکھنے والے کا خط نہ پہچانتے ہوں، یا لکھنے والا خود نہ بتائے کہ یہ اسی کی تحریر ہے ، یا ایسے شواہد موجود نہ ہوں جو اس امر کی تصدیق کردیں کہ یہ تحریر اسی کی ہے جس کی طرف منسوب کی گئی ہے تو ہمارے لئے محض وہ تحریر یقینی کیا معنی، ظنی حجت بھی نہیں ہوسکتی… یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے موجودہ زمانے کا قانونِ شہادت بھی تسلیم کرتاہے اور فاضل جج خود اپنی عدالت میں اس پر عمل فرماتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے محفوظ ہونے پر ہم جو یقین رکھتے ہیں، کیا اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ لکھاگیاتھا؟ کاتبین ِوحی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے صحیفے جو حضورؐ نے املا کرائے تھے، آج دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ اگر موجود ہوتے تو بھی آج کون یہ تصدیق کرتا کہ یہ وہی صحیفے ہیںجو حضورؐ نے لکھوائے تھے۔ خود یہ بات بھی کہ حضور ؐاس قرآن کونزولِ وحی کے ساتھ ہی لکھوالیاکرتے تھے، زبانی روایات ہی سے معلوم ہوئی ہے، ورنہ اس کے جاننے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا۔ پس قرآن کے محفوظ ہونے پر ہمارے یقین کی اصل وجہ اس کا لکھا ہوا ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ زندہ انسان زندہ انسانوں سے مسلسل اس کو سنتے اور آگے زندہ انسانوں تک اسے پہنچاتے چلے آرہے ہیں۔ لہٰذا یہ خیال ذہن سے نکال دینا چاہئے کہ کسی چیز کے محفوظ ہونے کی واحد سبیل اس کا لکھا ہوا ہونا ہے۔
کسی کا یہ کہنا کہ عہد ِنبوی کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو ‘ایک کتاب’کی شکل میں مرتب شدہ ملنا چاہئے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرزِ فکر ہے اور وہی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے جو خیالی دنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجئے جب کہ احوال و وقائع کو ریکارڈ کرنے کے لئے ذرائع بے حد ترقی کرچکے ہیں۔ فرض کرلیجئے کہ اس زمانے میں کوئی لیڈر ایسا موجود ہے جو ۲۳ سال تک شب و روز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرتا ہے۔ ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کرتا ہے۔ ان سے کام لے کر ایک پورے ملک کی فطری، اخلاقی، تمدنی اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔ اپنی قیادت و رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے۔ اس معاشرے میں اس کی ذات ہروقت ایک مستقل نمونہ ہدایت بنی رہتی ہے۔ ہر حالت میں لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ ہر طرح کے لوگ شب و روز اُس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد و افکار، سیرت و اخلاق، عبادات و معاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اُصولی ہدایات بھی دیتا ہے اور جزئی اَحکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرمانروا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہ سالار بھی تنہا وہی ہے۔ اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اُصولوں پرقائم کرتا اور اپنی رہنمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میں یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ ‘ایک کتاب’کی شکل میں مرتب ہوسکتا ہے؟
کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کی مشین اس کی شبانہ روز نقل و حرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر، پورے معاشرے کی ہیئت اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے جس کا اعتبار کیا جاسکے؟ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریر سننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط و تعلق رکھنے والے بے شمار افراد کی رپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں، کیونکہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ ‘ایک کتاب’ کی شکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟ کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے اور اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونی فرامین، اس کے صلح و جنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوں میں موجود ہے، اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ایک ‘جامع و مانع کتاب’کی شکل میں تو ہے ہی نہیں؟ ”(ترجمان القرآن: منصب ِرسالت نمبر ، ص۳۳، ۳۴،۱۶۳،۳۳۶ تا ۳۳۸)

لہٰذا تحریر پر جتنا زور یہ حضرات دیتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنتوں پر قائم کیا ہوا ایک پورا معاشرہ چھوڑا تھا جس کی زندگی کے ہر پہلو پر آپؐ کی تعلیم و ہدایات کا ٹھپہ لگا ہوا تھا۔ اس معاشرے میں آپؐ کی باتیں سنے ہوئے، آپؐ کے کام دیکھے ہوئے اور آپؐ کے زیر ہدایت تربیت پائے ہوئے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ اس معاشرے نے بعد کی نسلوں تک وہ سارے نقوش منتقل کیے اور ان سے وہ نسلاً بعد نسل ہم کو پہنچے۔ دنیا کے کسی مسلَّم اصول شہادت کی رو سے بھی یہ شہادت رد نہیں کی جا سکتی۔ پھر یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ یہ نقوش کاغذ پر ثبت نہیں کیے گئے۔ انہیں ثبت کرنے کا سلسلہ حضورؐ کے زمانے میں شروع ہو چکا تھا۔ پہلی صدی ہجری میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا اور دوسری صدی ہجری کے محدثین زندہ شہادتوں اور تحریری شہادتوں، دونوں کی مدد سے اس پورے نقشے کو ضبط تحریر میں لے آئے۔ہم پہلے اس پر ایک تبصرہ پیش کرچکے ہیں مزید تفصیل آگے ایک تحریر میں پیش کی جائے گی ۔
اس وضاحت کے بعد یہ بھی عرض ہے کہ آپ ذخیرئہ حدیث کو فن تاریخ کے معیار پر پورا اُترتا ہوا تسلیم نہیں کرتے، اس لئے آپ کو چیلنج ہے کہ آپ دنیا کے کسی اعلیٰ سے اعلیٰ معیارِ تاریخ کو معیارِ حدیث کے ہم پلہ ہی ثابت کردیجئے۔ صرف بڑا بول بول دینا کوئی کمال نہیں ہوتا!!

اشکال:حفاظتِ حدیث کی ذمہ داری اللہ نے نہیں اٹھائی۔!

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اعتراض :

قرآن مجيد تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اسکی حفاظت کی ذمہ داری تو خود اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ليكن حديث رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى حفاظت كا ذمہ اللہ تعالى نے نہيں ليا ۔ اللہ تعالى نے فرمايا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۔ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔( سورة الحجر15: آية 9)

تبصرہ :

سوال یہ ہے کہ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری جو اللہ نے لے لی تھی، اس کو اللہ نے براہ راست عملی جامہ پہنایا، یا انسانوں کے ذریعہ سے اس کو عملی جامہ پہنوایا؟ ظاہر ہے آپ اس کا کوئی جواب اس کے سوا نہیں دے سکتے کہ اس حفاظت کے لیے انسان ہی ذریعہ بنائے گئے۔ اور عملاً یہ حفاظت اس طرح ہوئی کہ حضورؐ سے جو قرآن لوگوں کو ملا تھا اس کو اسی زمانہ میں ہزاروں آدمیوں نے لفظ بلفظ یاد کر لیا، پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں اس کو نسلاً بعد نسل لیتے اور یاد کرتے چلے گئے، حتی کہ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں رہا کہ قرآن کا کوئی لفظ دنیا سے محو ہو جائے، یا اس میں کسی وقت کوئی رد و بدل ہو اور وہ فوراً نوٹس میں نہ آ جائے، یہ حفاظت کا غیر معمولی انتظام آج تک دنیا کی کسی دوسری کتاب کے لیے نہیں ہو سکا ہے اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کیا ہوا انتظام ہے۔
اب ملاحظہ فرمائیے کہ جس رسولؐ کو ہمیشہ کے لیے اور تمام دنیا کے لے رسول بنایا گیا تھا اور جس کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دینے کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا، اس کے کارنامۂ حیات کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا محفوظ فرمایا کہ آج تک تاریخ انسانی میں گزرے ہوئے کسی نبی، کسی پیشوا، کسی لیڈر اور رہنما اور کسی بادشاہ یا فاتح کا کارنامہ اس طرح محفوظ نہیں رہا ہے اور یہ حفاظت بھی انہیں ذرائع سے ہوئی ہے جن ذرائع سے قرآن کی حفاظت ہوئی ہے، ختم نبوت کا اعلان بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کیے ہوئے آخری رسولؐ کی رہنمائی اور اس کے نقوش قدم کو قیامت تک زندہ رکھنے کی ذمہ داری لے لی ہے تاکہ اس کی زندگی ہمیشہ انسان کی رہنمائی کرتی رہے اور اس کے بعد کسی نئے رسول کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔
اب آپ خود دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے فی الواقع جریدۂ عالم پر ان نقوش کو کیسا ثبت کیا ہے کہ آج تک کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی۔ کیا آپ کو نظر نہیں آتا کہ یہ وضو، یہ پنچ وقتہ نماز، یہ اذان، یہ مساجد کی با جماعت نماز، یہ عیدین کی نماز، یہ حج کے مناسک، یہ بقر عید کی قربانی، یہ زکوٰۃ کی شرحیں، یہ ختنہ، یہ نکاح و طلاق و وراثت کے قاعدے، یہ حرام و حلال کے ضابطے اور اسلامی تہذیب و تمدن کے دوسرے بہت سے اصول اور طور طریقے جس روز نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شروع کیے اسی روز سے وہ مسلم معاشرے میں ٹھیک اسی طرح رائج ہو گئے جس طرح قرآن کی آیتیں زبانوں پر چڑھ گئیں اور پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں مسلمان دنیا کے ہر گوشے میں نسلاً بعد نسل ان کی اسی طرح پیروی کرتے چلے آ رہے ہیں جس طرح ان کی ایک نسل سے دوسری نسل قرآن لیتی چلی آ رہی ہے۔ ہماری تہذیب کا بنیادی ڈھانچہ رسول پاک کی جن سنتوں پر قائم ہے، ان کے صحیح ہونے کا ثبوت بعینہٖ وہی ہے جو قرآن پاک کے محفوظ ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کو جو شخص چیلنج کرتا ہے وہ دراصل قرآن کی صحت کو چیلنج کرنے کا راستہ اسلام کے دشمنوں کو دکھاتا ہے۔
پھر دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی اور آپ کے عہد کی سوسائٹی کا کیسا مفصل نقشہ، کیسی جزئی تفصیلات کے ساتھ، کیسے مستند ریکارڈ کی صورت میں آج ہم کو مل رہا ہے۔ ایک ایک واقعہ اور ایک ایک قول و فعل کی سند موجود ہے، جس کو جانچ کر ہر وقت معلوم کیا جا سکتا ہے کہ روایت کہاں تک قابل اعتماد ہے۔ صرف ایک انسان کے حالات معلوم کرنے کی خاطر اس دَور کے کم و بیش 6 لاکھ انسانوں کے حالات مرتب کر دیئے گئے تاکہ ہر وہ شخص جس نے کوئی روایت اس انسان عظیمؐ کا نام لے کر بیان کی ہے اس کی شخصیت کو پرکھ کر رائے قائم کی جا سکے کہ ہم اس کے بیان پر کہاں تک بھروسہ کر سکتے ہیں۔ تاریخی تنقید کا ایک وسیع علم انتہائی باریک بینی کے ساتھ صرف اس مقصد کے لیے مدون ہو گیا کہ اس ایک فرد فرید کی طرف جو بات بھی منسوب ہو، اسے ہر پہلو سے جانچ پڑتال کر کے صحت کا اطمینان کر لیا جائے۔ کیا دنیا کی پوری تاریخ میں کوئی اور مثال بھی ایسی ملتی ہے کسی ایک شخص کے حالات محفوظ کرنے کے لیے انسانی ہاتھوں سے یہ اہتمام عمل میں آیا ہو؟ اگر نہیں ملتی اور نہیں مل سکتی، تو کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اس اہتمام کے پیچھے بھی وہی خدائی تدبیر کارفرما ہے جو قرآن کی حفاظت میں کارفرما رہی ہے؟

احادیث کے محفوظ رہنے کی اصل علت:

یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ صحابہ کے لیے خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث کو ٹھیک ٹھیک یاد رکھنے اور انہیں صحیح صحیح بیان کرنے کے کچھ مزید محرکات بھی تھے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
1.صحابہ سچے دل سے آپ کو خدا کا نبی اور دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھتے تھے۔ ان کے دلوں پر آپﷺ کی شخصیت کا بڑا گہرا اثر تھا۔ ان کے لیے آپ کی بات اور آپ کے واقعات و حالات کی حیثیت عام انسانی وقائع جیسی نہ تھی کہ وہ ان کو اپنے معمولی حافظے کے حوالے کر دیتے۔ ان کے لیے تو ایک ایک لمحہ جو انہوں نے آپﷺ کی معیت میں گزارا، ان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی لمحہ تھا اور اس کی یاد کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے تھے۔
2. وہ آپ کی ایک ایک تقریر، ایک ایک گفتگو اور آپ کی زندگی کے ایک ایک عمل سے وہ علم حاصل کر رہے تھے جو انہیں اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوا تھا۔ وہ خود جانتے تھے کہ ہم اس سے پہلے سخت جاہل اور گمراہ تھے اور یہ پاکیزہ ترین انسان اب ہم کو صحیح علم دے رہا ہے اور مہذب انسان کی طرح جینا سکھا رہا ہے۔ اس لیے وہ پوری توجہ کے ساتھ ہر بات سنتے اور ہر فعل کو دیکھتے تھے، کیونکہ انہیں اپنی زندگی میں عملاً اسی کا نقش پیوست کرنا تھا، اسی کی نقل اتارنی تھی اور اسی کی راہنمائی میں کام کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس شعور و احساس کے ساتھ آدمی جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اسے یاد رکھنے میں وہ اتنا سہل انگار نہیں ہو سکتا جتنا وہ کسی میلے یا کسی بازار میں سنی اور دیکھی ہوئی باتیں یاد رکھنے میں ہو سکتا ہے۔
3. وہ قرآن کی رو سے بھی یہ جانتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بار بار متنبہ کرنے سے بھی ان کو شدت کے ساتھ اس بات کا احساس تھا کہ خدا کے نبی پر افترا کرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہو گی۔ اس بنا پر وہ حضور ﷺ کی طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے میں سخت محتاط تھے۔ صحابہ کرام میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی صحابی نے اپنی کسی ذاتی غرض سے یا اپنا کوئی کام نکالنے کے لیے حضورﷺ کے نام سے کبھی ناجائز فائدہ اٹھایا ہو، حتیٰ کہ ان کے درمیان جب اختلافات برپا ہوئے اور دو خونریز لڑائیاں تک ہو گئیں، اس وقت بھی فریقین میں سے کسی ایک شخص نے بھی کوئی حدیث گھڑ کر دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کی۔ اس قسم کی حدیثیں بعد کے ناخدا ترس لوگوں نے تو ضرور تصنیف کیں جنہوں بعد میں علیحدہ کرلیا گیا مگر صحابہ کے واقعات میں اس کی مثال ناپید ہے۔
4.وہ اپنے اوپر اس بات کی بہت بڑی ذمہ داری محسوس کرتے تھے کہ بعد کے آنے والوں کو حضورﷺ کے حالات اور آپ کی ہدایات و تعلیمات بالکل صحیح صورت میں پہنچائیں اور اس میں کسی قسم کا مبالغہ یا آمیزش نہ کریں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دین تھا اور اس میں اپنی طرف سے تغیر کر دینا کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خیانت تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کے حالات میں اس قسم کے بکثرت واقعات ملتے ہیں کہ حدیث بیان کرتے ہوئے وہ کانپ جاتے تھے، ان کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا تھا، جہاں ذرہ برابر بھی خدشہ ہوتا تھا کہ شاید حضور ﷺ کے الفاظ کچھ اور ہوں وہاں بات نقل کر کے “اؤ کما قال” کہہ دیتے تھے تا کہ سننے والا ان کے الفاظ کو بعینہٖ حضور ﷺ کے الفاظ نہ سمجھ لے۔
5. اکابر صحابہ خاص طور پر عام صحابیوں کو احادیث روایت کرنے میں احتیاط کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ اس معاملے میں سہل نگاری برتنے سے شدت کے ساتھ روکتے تھے اور بعض اوقات ان سے حضور ﷺ کا کوئی ارشاد سن کر شہادت طلب کرتے تھے تا کہ یہ اطمینان ہو جائے کہ دوسروں نے بھی یہ بات سنی ہے۔ اسی اطمینان کے لیے صحابیوں نے ایک دوسرے کے حافظے کا امتحان بھی لیا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت عائشہ کو حج کے موقع پر حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے ایک حدیث پہنچی۔ دوسرے سال حج میں اُم المومنین نے پھر اسی حدیث کو دریافت کرنے کے لیے ان کے پاس آدمی بھیجا۔ دونوں مرتبہ حضرت عبد اللہ کے بیان میں ایک حرف کا فرق بھی نہ تھا۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا: “واقعی عبد اللہ کو بات ٹھیک یاد ہے”۔ (بخاری و مسلم)
6. حضور ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کا بہت بڑا حصہ وہ تھا جس کی حیثیت محض زبانی روایات ہی کی نہ تھی بلکہ صحابہ کے معاشرے میں، ان کی شخصی زندگیوں میں، ان کے گھروں میں، ان کی معیشت اور حکومت اور عدالت میں اس کا پورا ٹھپہ لگا ہوا تھا جس کے آثار و نقوش ہر طرف لوگوں کو چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ ایسی ایک چیز کے متعلق کوئی شخص حافظے کی غلطی، یا اپنے ذاتی خیالات و تعصبات کی بنا پر کوئی نرالی بات لا کر پیش کرتا بھی تو وہ چل کہاں سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نرالی حدیث آئی بھی ہے تو وہ الگ پہچان لی گئی ہے اور محدثین نے اس کی نشاندہی کر دی ہے کہ اس خاص راوی کے سوا یہ بات کسی اور نے بیان نہیں کی ہے، یا اس پر عمل درآمد کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

احادیث کی صحت کا ایک لطیف اشارہ اور ثبوت:

ان سب کے علاوہ ایک نہایت اہم بات اور بھی ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عربی زبان جانتے ہیں اور جنہوں نے محض سرسری طور پر کبھی کبھار متفرق احادیث کا مطالعہ نہیں کر لیا ہے بلکہ گہری نگاہ سے حدیث کی پوری پوری کتابوں کو، یا کم از کم ایک ہی کتاب (مثلاً بخاری یا مسلم) کو از اول تا آخر پڑھا ہے۔ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علی و سلم کی اپنی ایک خاص زبان اور آپ کا اپنا ایک مخصوص اندازِ بیان ہے جو تمام صحیح احادیث میں بالکل یکسانیت اور یک رنگی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ قرآن کی طرح آپ کا لٹریچر اور اسٹائل اپنی ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس کی نقل کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ اس میں آپ کی شخصیت بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس میں آپ ﷺ کا بلند منصب و مقام جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے آدمی کا دل یہ گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ باتیں محمد رسول اللہ کے سوا کوئی دوسرا شخص کہہ نہیں سکتا۔ جن لوگوں نے کثرت سے احادیث کو پڑھ کر حضور ﷺ کی زبان اور طرزِ بیان کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے، وہ حدیث کی سند کو دیکھے بغیر محض متن کو پڑھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع، کیونکہ موضوع کی زبان ہی بتا دیتی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان نہیں ہے حتیٰ کہ صحیح احادیث تک میں روایت باللفظ اور روایت بالمعنی کا فرق صاف محسوس ہو جاتا ہے، کیونکہ جہاں راوی نے حضور کے بات کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، وہاں آپﷺ کے اسٹائل سے واقفیت رکھنے والا یہ بات پا لیتا ہے کہ یہ خیال اور بیان تو حضور ﷺ ہی کا ہے لیکن زبان میں فرق ہے۔ یہ انفرادی خصوصیت احادیث میں کبھی نہ پائی جا سکتی اگر بہت سے کمزور حافظوں نے ان کو غلط طریقوں سے نقل کیا ہوتا اور بہت سے ذہنوں کی کارفرمائی نے ان کو اپنے اپنے خیالات و تعصبات کے مطابق توڑا مروڑا ہوتا۔ کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ بہت سے ذہن مل کر ایک یک رنگ لٹریچر اور ایک انفرادی اسٹائل پیدا کر سکتے ہیں؟
اور یہ معاملہ صرف زبان و ادب کی حد تک ہی نہیں ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر دیکھیے تو نظر آتا ہے کہ طہارت جسم و لباس سے لے کر صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاملات تک زندگی کے تمام شعبوں اور ایمان و اخلاق سے لے کر علامات قیامت اور احوال آخرت تک تمام فکری اور اعتقادی مسائل میں صحیح احادیث ایک ایسا نظام فکر و عمل پیش کرتی ہیں جو اول سے آخر تک اپنا ایک ہی مزاج رکھتا ہے اور جس کے تمام اجزا میں پورا پورا منطقی ربط ہے۔ ایسا مربوط اور ہم رنگ نظام اور اتنا مکمل وحدانی نظام لازماً ایک ہی فکر سے بن سکتا ہے، بہت سے مختلف ذہن مل کر اسے نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک اور اہم ذریعہ ہے جس سے موضوع احادیث ہی نہیں مشکوک احادیث تک پہچانی جاتی ہیں۔ سند کو دیکھنے سے پہلے ایک بصیرت رکھنے والا آدمی اس طرح کی کسی حدیث کے مضمون ہی کو دیکھ کر یہ بات صاف محسوس کر لیتا ہے کہ صحیح احادیث اور قرآن مجید نے مل کر اسلام کا جو نظام فکر اور نظام حیات بنایا ہے اس کے اندر یہ مضمون کسی طرح ٹھیک نہیں بیٹھتا کیونکہ اس کا مزاج پورے نظام کے مزاج سے مختلف نظر آتا ہے۔

آخری بات:

كسى چيز كى تكميل سے مراد یہ ہوتا ہے كہ اب اس ميں مزيد اضافے ، رد وبدل يا تغيير كى ضرورت نہيں رہی۔ مكمل سے يہ بھی مراد ہوتا ہے كہ اب اس چيز ميں كوئى كمى باقى نہيں ، مكمل سے مراد نقائص وعيوب سے خالى ہونا بھی ہوتا ہے ، اس تمہيد کے بعد كلام الہی كى اس آيت مباركہ پر غور كيجيے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ٌ (سورة المائدة )
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔
اب اگر آخری نبی کی طرف سے کی گئی كلام الہی كى تشريح اور بيان ہی محفوظ نہيں تو اسلام كے مكمل ہونے كا كيا مطلب ہے؟ اگر قرآن كريم كى تشريح ہی تحريف و تغيير سے محفوظ نہيں تو دين اسلام مكمل كيسے ہوا؟ اللہ كى نعمت تمام كيسے ہوئى اور آخر ايسے تغيير و تحريف كے خطرے سے دوچار اسلام كو اللہ تعالى نے ہمارے ليے بطور دين پسند كيسے كر ليا ؟ ( ورضيت لكم الاسلام دينا ) ۔ اللہ نے اپنے كلام ميں دين اسلام كو مكمل دين كہا ہے اور كتاب اللہ كا حرف حرف سچا ہے۔ اسکے آخری نبی کا دین اور شریعت محفوظ ہے اور قیامت تک کے لیے محفوظ رہے گی۔ ومن أصدق من الله قيلا !!

امام بخاری اور چھے لاکھ احادیث کا فسانہ

مذہب فلسفہ اور سائنس -

علم حدیث پر منکرین حدیث نے یہ اعتراض بھی بڑی شدومد سے اٹھایا ہے کہ محدثین کے پاس اتنی تعداد میں احادیث کہاں سےآ گئیں؟انہوں نے اس ذخیرے میں سے نوے فیصد ریجیکٹ کردیں۔ اس طرح وہ نہایت مہیب اور مدہش اعدادو شمار پیش کر کے قارئین کرام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان میں سے 95% موضوع اور جعلی احادیث تھیں۔ملاحظہ کیجیے :
“ضمناً یہ بھی دیکھیے کہ ان حضرات کو کس قدر احادیث ملیں اور ان میں سے انھوں نے کتنی احادیث کو منتخب کر کے اپنے مجموعہ میں داخل کیا۔
1.امام بخاری چھ لاکھ میں سے مکررات نکال کر صرف ۲۷۶۲ ۔
2.امام مسلم تین لاکھ میں سے صرف ۴۲۴۸ ۔
3.ابو داؤد پانچ لاکھ میں سے ۴۸۰۰۔
4.ابن ماجہ چار لاکھ سے صرف ۴۰۰۰۔
5.نسائی دو لاکھ میں سے صرف ۴۳۲۱
(مقام حدیث ، ص ۲۵)
امام بخاریؒ کے بارے میں طلوع اسلام کا مؤقف ہے: ’’انھوں نے شہر اور قریہ بہ قریہ پھر کر چھ لاکھ کے قریب احادیث جمع کیں ان میں سے انھوں نے اپنے معیار کے مطابق صرف ۷۲۰۰ احادیث کو صحیح پایا اور انھیں اپنی کتاب میں درج کرلیا باقی پانچ لاکھ ترانوے ہزار کو مسترد کر دیا‘‘۔ [مقام حدیث، ص۲۲]
اس استدلال سے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:
’’ذرا سوچیے کہ اگر امام بخاری پانچ لاکھ چورانوے ہزار احادیث کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کی دانست میں رسولؐ اللہ کی نہیں ہوسکتیں اور اس سے وہ منکر حدیث نہیں قرار پاتے تو اگر آج کوئی شخص ایک حدیث کے متعلق کہتا ہے کہ اس کی بصیرت قرآن کی رو سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہوسکتی تو وہ کافر اور خارج از اسلام کس طرح قرار پا سکتا ہے؟ وہ درحقیقت ایک جامع حدیث کے شاہد یا راوی کی روایت کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہے۔ ارشاد نبوی سے انکار نہیں کرتا‘‘۔ [مقام حدیث، ص۵۶]

مغالطے کی حقیقت:

1.محدثین کی اصطلاح میں اگر ایک متن حدیث متعدد سندوں سے آیا ہے تو یہ متن اپنی ہر سند کے لحاظ سے ایک حدیث شمار ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی جو پانچ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے سنی، ہر صحابی نے اپنے پانچ شاگردوں کو وہ بات سنائی اس طرح تابعین تک اسکی پچیس اسناد بن گئیں اب اگر تابعی راوی اپنے دس شاگردوں کو روایت بیان کرے تو اس طرح اس حدیث کی دو سو پچاس اسناد بن گئیں۔ اس طرح امام بخاری کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے احادیث کا یہ ذخیر ہ کئی لاکھ حدیثوں کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ مثلاً مشہور حدیث «إنما الأعمال بالنيات» سات سو سندوں سے مروی ہے یعنی ایک حدیث کے سینکڑوں توابع و شواہد ہیں۔ فن حدیث میں یہ ایک حدیث نہیں بلکہ سات سو حدیثیں شمار ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب امام بخاری  کی ایک ہی حدیث کی سندیں سینکڑوں تک پہنچتی ہیں توباقی روایات کے توابع و شواہد کی تعداد کہاں تک پہنچے گی۔ اس کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ (تلقیح ابن جوزی، مقدمہ ابن صلاح، صفحہ ۱۱)
2۔ محدثین’حدیث’ کا وسیع مفہوم لیتے ہوئے اس کا اطلاق صحابہ اور تابعین کے آثار و اقوال پر بھی کردیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ امام بخاری  نے ایک لاکھ میں سے خالص مرفوع احادیث یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اور اُسوہٴ حسنہ پر مشتمل روایات کوچھانٹ لیا۔ظاہر ہے کہ امام محترم کا یہ طرزِ عمل اُمت ِاسلامیہ پر ایک بہت بڑا احسان ہے نہ کہ حدیث کے بارے میں وسوسہ اندازی کا موجب۔
3۔امام بخاری کا طریقہ یہ تھا کہ جتنی سندوں سے کوئی واقعہ انہیں پہنچا تھا انہیں وہ اپنی شرائطِ صحت (یعنی سند کی صحت نہ کہ اصل واقعہ کی صحت) کے مطابق جانچتے تھے اور ان میں سے جس سند یا جن سندوں کو وہ سب سے زیادہ معتبر سمجھتے تھے ان کا انتخاب کر لیتے تھے مگر انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو حدیثیں انہوں نے منتخب کی ہیں بس وہی صحیح ہیں اور باقی تمام روایات غیر صحیح ہیں ۔ ان کا اپنا قول یہ ہے کہ “میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی حدیث داخل نہیں کی ہے جو صحیح نہ ہو، مگر بہت سی صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں تا کہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ (تاریخ بغداد، ج 2 ص 8 – 9، تہذیب النووی ج 1، ص 74، طبقات السبکی ج 2 ص 7) بلکہ ایک اور موقع پر وہ اس کی تصریح بھی کرتے ہیں کہ “میں نے جو صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں۔” اور یہ کہ “مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں یاد ہیں۔” (شروط الائمۃ الخمسہ، ص 49 ) قریب قریب یہی بات امام مسلم نے بھی کہی ہے۔ ان کا قول ہے “میں نے اپنی کتاب میں جو روایتیں جمع کی ہیں ان کو میں صحاح کہتا ہوں مگر یہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ جو روایت میں نے لی ہے وہ ضعیف ہے۔” (توجیہ النظر، ص 91 )
اس ساری تفصیل سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ایک لاکھ کے عدد کو ہوا بنا کرپیش کرنا کس قدر مغالطہ انگیز ہے۔

احادیث کی عددی کثرت کے اسباب:

سنن اور احادیث میں جو فرق ہے وہ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں۔ سنن کا تعلق صرف رسول اللہﷺ کی ایک ذات سے ہے۔ جب کہ احادیث کا تعلق بیشمار صحابہ اور تابعین کے اقوال وافعال سے بھی ہے۔ لہٰذا احادیث کی تعداد سنن رسول ﷺ سے کئی گناہ زیادہ ہونا لازمی امر ہے۔جس کی مثال ہم پہلے پیش کر چکے ہیں کہ:”انَّمَا الاَ عمَالُ بالنَّیَّات”ایک سنت قولی ہے۔ جب کہ احادیث کے لحاظ سے اس کا شمار سات سو (700) ہے۔ اس لحاظ سے بھی احادیث کی تعداد سنن سے بیسیوں گنا بڑھ جاتی ہے۔صحابہ آپ کو جیسے نماز پڑھتے دیکھتے ویسے ہی پڑھ لیتے۔یاجووفودباہر سے مدینہ آتے۔ آپ انھیں چند دن اپنے پاس ٹھہرا کر، جاتے وقت یہ وصیت کرتے کہ”صَلُّوا کَمَا رَأَیُتُمُونِی أُّصَلَّی [ترجمہ:” نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ صحیح البخاری: کتاب الاذان: باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ[ یا آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُم۔[ ترجمہ:” مجھ سے حج کے ارکان کی ادائیگی کے طریقے سیکھ لو۔سنن الکبریٰ للبیھقی۔ کتاب الحج: باب الایضاع فی وادی محسر (5:125) ، الحدیث]
پھر جب صحابہؓ نے نماز،حج،روزہ،زکوٰۃ اور دوسرے احکام کے کوائف و تفصیلات کو روایت و کتابت کرنا شروع کیا تو انھیں چھوٹے چھوٹے ارشادات سے دفتر کے دفتر تیار ہوگئے۔

احادیث کی اصل تعداد:

جسے عرف عام میں حدیث کہا جاتا ہے ان کی مجموعی تعداد ۲۰ ہزار سے متجاوز نہیں, پھر بے شمار ایسی حادیث ہیں جو مختلف مجموعوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں۔ اس طرح ان کی اصل تعدادنصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ چنانچہ حاکم کی تحقیق کے مطابق صحاح ستہ کے علاوہ مسند احمد بن حنبل سمیت صحیح احادیث کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ’’اعلیٰ درجہ کی حدیثوں کی تعداد دس ہزار تک نہیں پہنچ پاتی‘‘۔ [توجیہہ النظر بحوالہ تدوین]

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator