Feed aggregator

گھر سے جو تیغ و کفن لے کے چلا کیوں سرِ کوئے بُتاں رقصاں ہے : اسریٰ غوری

اسریٰ غوری -

میدان کے عین درمیان میں لکڑی کی سادہ سی میز رکھی ہے جس کے دونوں طرف بھارتی فوج اور سپاہی الگ الگ قطار میں کھڑے ہیں، میز کے گرد پہلے جنرل اروڑا بیٹھتے ہیں، ان کے برابر جنرل نیازی بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ ذلّت آمیز لمحہ ہے، مسّودہ میز پر رکھا ہے، جنرل نیازی کا ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور ان کا قلم مسودے پر اپنے دستخط ثبت کر دیتا ہے۔ پاکستان کا پرچم سر زمین ڈھاکہ میں سرنگوں ہوگیا۔ جنرل نیازی اپنا ریوالور کھولتے ہیں اور گولیوں سے خالی کر کے جنرل اروڑا کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ جنرل نیازی کے تمغے اور رینک سر عام اتارے جاتے ہیں۔ ہجوم کی طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ شروع ہوتی ہے۔ جنرل نیازی اپنی جیپ کی طرف آتے ہیں جس کا بھارتی فوجیوں نے محاصرہ کر رکھا ہے۔ ”قصاب، بھیڑیے اور قاتل“ کا شور اُٹھتا ہے، جنرل نیازی اپنی گاڑی میں بیٹھنے والے ہیں، ایک آدمی محاصرہ توڑ کر آگے بڑھتا ہے، اور اُن کے سر پر جوتا کھینچ کر مارتا ہے۔ ہائے ! یہ رُسوائی ، یہ بے بسی اور یہ بےچارگی، یہ ذلّت اور اور یہ ہزیمت ، ہماری تاریخ نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ (سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک) لکھنے کو بڑا حوصلہ درکار تھا کوئی افسانہ تو نہیں لکھنے جا رہے تھے کہ بس قلم اٹھایا اور چلا دیا۔ یہ تو اپنی ہی آپ بیتی تھی، اپنے ہی لہو کی داستاں تھی، نام نہاد اپنوں ہی کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کی دردناک روداد تھی، سرا پکڑنے کی تلاش میں بہت دیر تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکتی رہی، سامنے ہی صدیق سالک کی کربناک سچائیاں لیے ایک ایک حقیقت میری تلاش کا جواب دیتی ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“، ہاں ہم نے بھی اس میں حقیقتا ڈھاکہ کو ڈوبتے دیکھا. لمحہ لمحہ ڈوبتے ڈھاکہ میں کئی بار آنکھیں دھندلائیں، کئی بار الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہوئے، کئی بار دل اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے اس خون ناحق پر اس زور سے نوحہ کناں ہوا۔ مگر وہ نوحے کون سنتا؟ غلطیوں، زیادتیوں، اور ناانصافیوں کے شور میں ایسے نوحے دب جایا کرتے ہیں۔ وہ خواب، وہ نظریہ، یوں دولخت کیوں ہوا؟
اس سوال میں خود بہت کچھ ہے مگر سیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سقوط ڈھاکہ پرصرف آنسو بہانے کے بجائے ہم تلخ حقائق کا جائرہ لیں جن کے سبب ہمیں مشرقی پاکستان میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا۔ خرابیاں تو پاکستان بننے کے بعد ہی واضح ہو گئی تھیں جن کا احاطہ کرنا تفصیل طلب ہے، اس لیے صرف1971ء سے مختصر تجزیہ ضروری ہے۔ 1970ء میں جنرل یحیی خان نے انتخابات کرائے جن کے نتیجے میں ملک سیاسی اعتبار سے تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم کو سیاسی حکمت عملی سے دور کیا جا سکتا تھا لیکن دانستہ طور پر طاقت کے زور پر اسے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذرا غور کیجیے کہ جنرل یحییٰ خان جنوری 1971 ءمیں ڈھاکہ جاتے ہیں اور وہاں جھوٹا اعلان کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 9 مارچ کو ڈھاکہ میں ہوگا۔ اسلام آباد واپس آتے ہی اپنا وعدہ بدل دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کر دیا اور نئی شرائط عائد کر دیں۔ ہماری کوتاہیاں دشمن کی راہ ہموار کرتی گئیں اور بالاخر اس نے ہمیں یوں زیر کیا کہ ہم اٹھ بھی نہیں پائے، مگر افسوس صد افسوس کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں تھا کہ ہم کیا کھو رہے ہیں، بلکہ ہماری مغربی پاکستان کی اعلی سیاسی و فوجی قیادت کی جانب سے ”خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا“ تو کبھی ” ادھر ہم ادھر تم ” کی بازگشت سنائی دی۔ 16 دسمبر کو پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ملک بھر میں بے شمار جگہوں پر تقریبات ہوتی ہیں۔ اسباب کا ذکرہوتا ہے، مقالے پڑھے جاتے ہیں اور ملک کے دانشور اپنے خیالات کا بڑے پر زور الفاظ میں اظہار کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کو اس سانحے پر بڑا دکھ ہے اور قوم اس سے سبق سیکھنا چاہتی ہے اور ملک کی تقسیم سے نظریہ پاکستان کو جو نقصان پہنچا ہے، اس پر پشیمان ہے اور اس نظریے کی مضبوط حصار بندی کی ضرورت سے آگاہ ہے۔ دراصل یہ تمام باتیں خود فریبی ہے۔

یہ حقیقت بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو پھانسی دینے سے عیاں ہو گئی ہے، جن کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے 1971ء میں جب فوج مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے جنگ لڑ رہی تھی، تو اس نے جماعت اسلامی کے نوجوانوں پر مشتمل ایک تنظیم البدر کے نام سے بنائی جس نے پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستان کی جنگ لڑتے ہوئے بڑی قربانیاں دیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت پر الزام لگایا کہ البدر کا حصہ ہوتے ہوئے انہوں نے بنگالیوں پر ظلم کیا، انہیں قتل کیا اور خواتین کی بے حرمتی کی۔ ان الزامات کی بنیاد پر انھیں اس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جسے جنگی جرائم کے خلاف انٹرنیشنل ٹرائل کورٹ کا نام دیا گیا. اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان نےاحتجاج کا ایک لفظ بھی نہ بولا، بلکہ یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ ”یہ بنگلہ دیش کا اندرونی مسئلہ ہے۔“ حالانکہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ نہیں تھا بلکہ نظریہ پاکستان کے تقدس کا معاملہ تھا۔ پاکستان کی سلامتی کا معاملہ تھا، اس لیے کہ مشرقی پاکستان کا علاقہ کہ جہاں مسلم لیگ ایک جماعت کی حیثیت سے معرض وجود میں آئی تھی، اور جہاں کے مسلمانوں نے یک زبان ہو کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا،وہاں ان لوگوں نے پاک فوج کے ساتھ مل کر ملک کی بقا کی جنگ لڑی، قربانیاں دیں، جس طرح فوجی جوان اور آفیسر اس جنگ میں شہید ہوئے اور ان میں اکثر وہاں گمنام قبروں میں دفن ہیں، اسی طرح ان لوگوں نے بھی قربانیاں دیں اور شہید ہوئے. ہماری حکومت نے ان کے جسد خاکی کو پاکستان لانے کی ایک موہوم سی کوشش بھی نہیں کی جبکہ ویتنام کی جنگ ختم ہونے کے نصف صدی گزرنے کے بعد بھی امریکہ اپنے گمنام سپاہیوں کو تلاش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس قوم کو حب الوطنی کے معنی معلوم ہیں۔ تجزیہ نگار شیخ افتخار عادل انھی قائدین میں سے ایک عبدالقادر ملا کی شہادت پر یوں رقمطراز ہیں: ”جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو بھارتی اشارے پر اسلام اور پاکستان سے محبت کی سزا دی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیشی عوام حسینہ واجد حکومت کی اسلام اور پاکستان دشمن پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان قائدین کا قصور کیا تھا، پاکستان سے محبت، وہ پاکستاں کی تقسیم کا مخالف تھا۔ اس محب وطن پاکستانی کا خیال تھا کہ بھارت سے ساز باز کر کے پاکستان کو توڑنے کی سازش کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس باہمت نوجوان نے پاکستان، نظریہ پاکستان اور اسلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان سے محبت کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا 65 سالہ بوڑھا شخص آج پاکستانیوں کی نظر میں اجنبی ہے، خود پاکستانی میڈیا اسے جنگی جرائم کا مرتکب سمجھ رہا ہے۔ وہ شخص جو دین و وطن کی خاطر پھانسی کے پھندے پر جھول گیا، اسے مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔“ ملا عبدالقادر سے مطیع الرحمن نظامی تک، یہ سولیوں پر لٹکائے جانے والوں کے اجسام آج بھی اپنی محبتوں کے صلے پر سراپا حیران ہیں کہ محبت کی سزا تختہ دار ٹھہری ہے. اپنے دور اقتدار میں جنرل پرویز مشرف بنگلہ دیش گئے اور یادگار پر پھول چڑھا آئے اور ”غلطیوں کی معافی“ مانگ لی. کون سی غلطیاں؟ کیا وطن کی بقا کی جنگ لڑنا غلطی ہے۔ شمال مغربی سرحدوں سے بلوچستان اور کراچی تک، جو جنگ لڑی جا رہی ہے، اور جانوں کی قربانیاں دی جا رہی ہیں، کیا یہ بھی غلطی ہے یاد رہے جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہیں حاصل کرتیں اور محسنوں کو فراموش کردیتی ہیں، وقت انہیں پھر انہیں یوں فراموش کردیا کرتا ہے کہ وہ تاریخ کے اوراق میں بھی جگہ نہیں پاتیں۔
نوٹ : تحریر کے لیے صدیق سالک کی کتاب میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا اور جنرل اسلم بیگ کے ایک کالم سے استفادہ کیا گیا ہے

The post گھر سے جو تیغ و کفن لے کے چلا کیوں سرِ کوئے بُتاں رقصاں ہے : اسریٰ غوری appeared first on نوک قلم.

آج کی بات ۔۔۔ 16 دسمبر 2017

کچھ دل سے -

~!~ آج کی بات ~!~
" عزت وقتی طور پر ایک “غیر مستحق” کو بھی مل جاتی ہے ، مگر آخرت میں ساری عزت ان لوگوں کا حصہ ہو گی جو واقعی اس کا “استحقاق”  رکھتے ہوں۔"

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات سے ایک درخواست

مذہب فلسفہ اور سائنس -

. آج سے دو سو برس پیشتر ایک آدمی اچھا مسلمان ہو سکتا تھا اور رہ سکتا تھا خواہ اس نے کبھی امام غزالی اور ابن عربی کا نام بھی نہ سنا ہوتا۔ اس وقت نرا ایمان کافی تھا کیونکہ اس کی حفاظت ہوتی رہتی تھی۔ آج کا مسلمان اگر ان عقائد کے بارے میں…

بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

کچھ دل سے -

بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل - خطبہ جمعہ مسجد نبویترجمہ: شفقت الرحمان مغل
فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 27-ربیع الاول- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " بیت المقدس کی فضیلت اور مسئلے کا حل " ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین ہر مسلمان کا مسئلہ ہے کوئی بھی اسلامی ملک یا  معاشرہ اس مسئلے کو ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہیں کر سکتا، ایسا اس لیے ہے کہ مسجد اقصی اور بیت المقدس کا اسلام میں بہت اعلی مقام ہے؛ یہ قبلہ اول، رسول اللہ ﷺ کی جائے اسرا ہے، یہاں ایک نماز کا ثواب مسجد نبوی کے مقابلے میں ایک چوتھائی ہے، یہ جگہ مقام حشر ہے، اس کی تعمیر سلیمان بن داود علیہما السلام نے فرمائی۔ چنانچہ انہی امور کے پیش نظر علمائے کرام اس خطے کے فضائل اور حقوق لوگوں تک پہنچانے کے لیے تسلسل سے کتابیں تحریر کرتے آئے ہیں انہوں نے متعدد کتابوں کے نام اور مؤلفین بھی ذکر کئے۔ بیت المقدس اسلامی دار الحکومت ہے، مسئلہ فلسطین عرب کا نہیں مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور اس چیز کی گواہی الہامی شریعتوں اور عالمی قوانین میں واضح طور پر موجود ہے۔
خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:
تمام  تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جس نے مخصوص جگہوں کو بلند مقام عطا فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے  اور اس کے  رسول ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک راتوں رات سیر کروائی، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں [حق و باطل کے مابین] تفریق کی قوت عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے [الأنفال: 29]
ہر مسلمان کے دل میں ایک بہت ہی اہم مسئلہ جا گزین ہے اور وہ ہے مسجد اقصی کا مسئلہ ؛ بیت المقدس قبلہ اول ، حرمین شریفین کے بعد تیسری اعلی ترین مسجد اور سید ثقلین  صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے ۔
یہ عصر حاضر کا ایسا اہم ترین مسئلہ ہے کہ مسلم معاشرے کے ہر فرد  کے ذہن میں ہر وقت اجاگر رہتا ہے؛ چاہے وہ مسلم  معاشرہ بذات خود کسی بھی بحران کا شکار ہو یا ان کے اپنے حالات جس قدر بھی خراب ہوں مسئلہ فلسطین کبھی بھی ذہنوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔
بیت المقدس اور اس کے احاطے میں مسجد اقصی  کا وجود  مسلمانوں کے ہاں عقیدے سے متعلقہ مسئلہ ہے، اس کا مسلمانوں کی تاریخ سے نا قابل فراموش اور گہرا تعلق ہے، بیت المقدس اور مسجد اقصی کے اس تاریخی تعلق کو کسی بھی صورت اسلامی تاریخ سے نکالنا ممکن نہیں؛ کیونکہ  یہ امت کی پہچان  ہے، یہ امت اسلامیہ کی اساسی علامت  اور امت اسلامیہ کے ہاں مقدس مقام ہے۔
بیت المقدس کو یہ مقام حاصل کیوں نہ ہو! اللہ کی کتاب صبح شام ہمیں یاد کرواتی ہیں کہ: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی  کی سیر کروا دی، جس مسجد کے ارد گرد ہم نے برکت فرمائی، تا کہ ہم اپنے بندے کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ [الإسراء: 1]
مسجد اقصی ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن کی جانب قرب الہی کی جستجو میں رخت سفر باندھا جا سکتا ہے، ان تینوں جگہوں کی جانب اللہ کا فضل طلب کرنے کے لیے سفر کر سکتے ہیں، جیسے کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث ثابت ہیں۔
سر زمین بیت المقدس محشر [جمع ہونے] اور منشر [دوبارہ زندہ ہونے]کی جگہ ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا  کہتی ہیں کہ: "میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتلائیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  (وہ جمع ہونے اور زندہ ہونے کی جگہ ہے)  اس روایت کو ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
بیت المقدس کی اسلام میں اتنی فضیلت کیوں نہ ہو! یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا ہے، یہاں سے ہی آپ کو آسمانوں کی جانب لے جایا گیا؛
بیت المقدس کے عظیم فضائل میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس وقت سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں: 1) قوت فیصلہ جو اللہ تعالی کے فیصلوں کے عین مطابق ہو۔ 2) ایسی بادشاہی جو ان کے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ 3) اور اس مسجد میں نماز کی نیت سے آنے والا کوئی بھی ہو وہ جب یہاں سے واپس نکلے تو اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پہلی دو دعائیں تو ان کی قبول  ہو گئیں تھیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی قبول ہو گئی ہو گی)  نسائی، ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
اسلامی بھائیو!
بیت المقدس اور مسجد  اقصی کی اسلام میں بہت فضیلت اور امتیازی خوبیاں ہیں، انہی خوبیوں نے بہت سے مسلم علمائے کرام کو مجبور کیا کہ صدیوں سے بیت المقدس کی فضیلت ،شان  اور حقوق کے متعلق مستقل تالیفات لکھتے چلے آئیں، چنانچہ اہل علم کی بہت بڑی تعداد نے مسجد اقصی اور بیت المقدس  کی مسلمانوں کے ہاں اہمیت اور فضیلت اجاگر کرنے کے لیے کتابیں لکھیں۔
اسی لیے تمام کے تمام مسلمان چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک اور خطے سے ہو ، وہ کسی بھی جگہ کے رہائشی ہوں، سب مسلمان  کسی بھی ایسے اقدام کو تسلیم نہیں کرتے جو مسئلہ قدس اور مسجد اقصی پر منفی اثرات مرتب کرے؛ کیونکہ یہ اسلامی مقدسات ہیں کسی صورت میں ان کی بے حرمتی کی گنجائش نہیں۔ بلکہ بیت المقدس کے متعلق منفی اقدامات  مسلمانوں کو اپنے مسلّمہ حقوق مزید پر زور طریقے سے مانگنے پر ابھارتے ہیں، ان کے مطالبے اپنے حقوق لینے، ظالم کو روکنے اور مظلوم کی مدد کے مقررہ اصولوں کے عین مطابق ہیں، ان کے یہ مطالبے سابقہ تمام آسمانی شریعتوں اور عالمی دستور میں بھی موجود ہے۔
مسلم اقوام!
امت مسلمہ کے مسائل دھواں دھار تقریروں اور زرق برق نعروں کے ذریعے حل نہیں ہوں گے، مسلمانو! مذمت، اظہارِ تشویش ، احتجاج اور مظاہروں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا؛ کیونکہ مسلمانوں نے یہ تمام کام پہلے کتنی بار کر لیے ہیں، ماضی میں تسلسل کے ساتھ ان پر عمل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ایسا رد عمل ہوتا ہے جو ظلم نہیں روک پاتا، ان سے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوتا، ایسے اقدامات سے مسلح کاروائیوں اور جارحیت میں کمی نہیں آتی، اس لیے مسلمانو! اللہ تعالی کی جانب حقیقی رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ تعالی کی طرف اخلاص اور گڑگڑا کر رجوع لازمی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے بھر پور کوشش اور محنت بھی ہو۔
امت مسلمہ کی مدد اور فتح دل و جان کے ساتھ دینِ الہی کی مدد سے ہو گی، دین الہی کو تسلیم کر کے اس پر عمل پیرا ہوں اور اسے عملی شکل دیں۔ چنانچہ جس دن بھی امت دین الہی پر عمل پیرا ہو جائے گی، اللہ تعالی کے احکامات اور شریعت کی پابند بن جائے گی، پوری امت اپنے تمام تر عملی اقدامات حقیقی دین  سے حاصل کرے گی کہ جس دین کی بنیاد پر مسجد اقصی کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے تو تب امت  مؤثر علاج  اور مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ} اگر تم اللہ [کے دین]کی مدد کرو تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنا دے گا۔ [محمد: 7] 
کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ تمام تر صحابہ کرام نے مسجد اقصی کو تب آزاد کروایا تھا جب انہوں نے غلبہ اسلام کیلیے دل و جان سے عملی اقدامات کئے تھے۔
اسلامی بھائیو!
جس دن دلوں پر قرآن و سنت کا راج ہو گا، زندگی کے تمام شعبے عملی طور پر اس کی گواہی دیں گے  تو مسلمان کبھی بھی کمزور اور ذلیل نہیں ہوں گے، انہیں کسی قسم کی پستی اور تنزلی کا سامنا نہیں ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالی نے سچا وعدہ بتلا دیا ہے کہ: {وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} اور نہ ہی کمزوری دکھاؤ اور غم بھی نہ کرو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب ہو۔ [آل عمران: 139]
مسلمان جس وقت بھی اپنی حالت کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل طور پر ڈھال لیں گے کہ کسی بھی اعتبار سے کمی باقی نہ رہے، اسلامی تعلیمات کو ہی مکمل طور پر بالا دستی دیں ، ظاہر و باطن ہر طرح سے شریعت پر ہی عمل پیرا ہوں، اسلامی تعلیمات کے سائے تلے اسلام کے لیے زندگی گزاریں جیسے کہ سلف صالحین نے اپنی زندگیاں گزاریں، جیسے کہ صحابہ کرام اور ان کے بعد مسلمانوں نے زندگی گزاری، تو ان کی کوئی بھی کوشش اور کاوش ناکام نہیں ہو گی چاہے حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، ان کے راستے میں کبھی اندھیرا نہیں ہو گا چاہے کتنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں، شرط یہ ہے کہ  جب تک وہ اسلام پر قائم رہیں، اسلامی احکامات کی پابندی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سنتوں پر عمل پیرا ہوں اور انہی کو مضبوطی سے تھام کر رکھیں، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا} بیشک اللہ تعالی ایمان لانے والوں کا دفاع فرماتا ہے۔ [الحج: 38]
بصورت دیگر جب امت میں شہوت پرستی ، گمراہ کن لہو و لعب، ہوس پرستی، اور شبہات کا راج رہے تو امت پر جارحیت، مصیبتیں اور ہر قسم کی بلائیں اور بحران آتے رہیں گے؛ کیا اللہ تعالی نے ہمیں صاف لفظوں میں نہیں فرمایا: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے کیے دھرے کی وجہ سے ہے، اور اللہ بہت سی چیزوں سے درگزر فرما لیتا ہے۔[الشورى: 30] اسی طرح اللہ تعالی نے غزوہ احد کے متعلق نہیں فرمایا! {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} بھلا جب (احد کے دن) تم پر مصیبت آئی تو تم چلا اٹھے  کہ "یہ کہاں سے آ گئی ؟" حالانکہ اس سے دو گنا صدمہ تم کافروں کو پہنچا چکے ہو؟ آپ ان مسلمانوں سے کہہ دیں کہ: یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[آل عمران: 165]
تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے چاہے وہ کسی بھی منصب پر فائز ہیں کہ اقصی ، بیت المقدس، اور فلسطین جیسے بنیادی مسئلے  کی حمایت میں صرف اسلام کی بنیاد پر کھڑے ہو جائیں، مؤثر انداز میں متحد ہوں، ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھیں کہ جن کی بدولت ثمرات سامنے آئیں اور اہداف پورے ہو سکیں۔ {وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ} تم اقدامات کرو؛  تمہاری پیش قدمی کو اللہ، اللہ کا رسول اور مومنین عنقریب ملاحظہ کر لیں گے۔[التوبۃ: 105]
کسی بھی اقدام کے لیے گہری بصیرت  اور کامل حکمت کا ہونا از بس ضروری ہے کہ انہی دونوں کی بدولت امت اسلامیہ متنوع چیلنجز کا مقابلہ ہر صورت میں کر سکتی ہے۔ اس کے لیے آپس میں تعاون، مدد اور شانہ بشانہ چلیں نہ کہ گالم گلوچ، ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کھول لیں۔ اس طریقے پر عمل کریں تو ظالم کو ظلم سے روکا جا سکتا ہے اور امت اسلامیہ کو فتح اور کامیابی حاصل ہو گی۔
نیز امت کو در پیش مسائل کے لیے گہری نظر و فکر کی ضرورت ہے کہ جن کی بدولت جذباتی بھنور کی بجائے ٹھوس عملی اقدامات سامنے آئیں، متوازن اور بہتر طریقہ کار اپنا کر مخلص کاوشوں کو یکجا کریں، اپنائے گئے ٹھوس موقفوں کو مضبوط طریقے سے مربوط بنائیں، دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں سید الانبیاء  والمرسلین  کی شریعت  کے سائے تلے  اقدامات کریں جو کہ پوری دنیا کو امن و سلامتی، خوشحالی اور امان  کی جانب گامزن کر سکتی ہے۔
نیز اللہ تعالی کے اس فرمان کی تعمیل بھی ضروری ہے: {إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ} یقیناً یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری عبادت کرو۔ [الأنبياء: 92]
یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہمیں تیری طرف کامل صورت میں رجوع کرنے والا بنا، یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! سب مسلمانوں کو تیری طرف کامل صورت میں رجوع کرنے والا بنا، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو صرف انہی کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند فرماتا ہے، یا اللہ! انہیں صرف انہی کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند فرماتا ہے، جن کے ذریعے غلبہ اسلام ممکن ہو، تیرے نیک بندوں کے لیے جو ممد و معاون ہوں، یا حیی! یا قیوم! آمین!!

مسجدوں اور اذانوں کا پاکستان

مذہب فلسفہ اور سائنس -

عالم اسلام میں آئیں تو سب کشمکش آج اس پر ہے، اور ہوگی، کہ ہم اپنی اُسی ملت پر اصرار کریں جو چودہ سو سال سے ہماری نظریاتی تشکیل کرتی آئی؛ اور اُن کے دیے ہوئے اِس نئے تصورِ ملت کو اپنے لیے قبول نہ کریں۔ ’اپنی ملت کو قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرنے‘…

نیشنلزم اورانسان کےاندرکچھ طبعی جذبے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اسلام جہاں ایک اصولی دستورِ حیات ہے وہاں فطرت کے مقاصد کا بہترین نگہبان بھی ہے۔ اپنے کنبے قبیلے سے عام انسانوں کی نسبت آدمی کو زیادہ محبت ہونا، خاص اپنی زبان اور پھر زبان میں بھی خاص اپنا لہجہ بولا جا رہا ہو تو آدمی کا اس پر پھڑک اٹھنا، اپنے خون کےلیے آدمی…

دل کا داغ جو مٹ نہ سکا

افتخار اجمل بھوپال -

ہمارے مُلک کے ایک بڑے حصے کو علیحدہ ہوئے 46 سال بِیت گئے لیکن مجھے وہ خوبصورت نوجوان Assistant Works Manager محبوب نہیں بھولتا ۔ سُرخ و سفید چہرہ ۔ دراز قد ۔ چوڑا سینہ ۔ ذہین ۔ محنتی ۔ کم گو ۔ بہترین اخلاق ۔ اُردو باقی بنگالیوں کی بجائے نئی دہلی کے رہنے والوں کی طرح بولتا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں نئی مکمل ہونے والی فیکٹری میں اُسے اوائل 1970ء میں بھیج دیا گیا کہ وہ بنگالی تھا (سِلہٹ کا رہائشی)

یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کر Production Manager Weaponsتعینات کر کے فیکٹری کے 8 میں سے 4 محکموں کی سربراہی کے ساتھ نئے اسِسٹنٹ ورکس منیجر صاحبان کی تربیت بھی ذمہ داریاں دے دی گئیں ۔ 1969ء میں بنگالی کچھ افسران بھرتی ہوئے ۔ یہ سب ہی محنتی اور محبِ وطن تھے ۔ اِن میں محبوب بھی تھا

میری 21 دسمبر 2012ء کو شائع شدہ تحریر
جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا مُکتی باہنی والوں نے فیکٹری کے سب بنگالی ملازمین کو بنگلا دیش کا جھنڈے کے پیچھے جلوس نکالنے کا کہا ۔ اپنی جان بچانے کی خاطر سب باہر نکل آئے لیکن محبوب نہ نکلا ۔ محبوب پر مُکتی باہنی نے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ محبوب شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مجبوراً جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر فوج کے افسر نے اُس کی بيوی ۔ چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے محبوب کا سمری کورٹ مارشل کر کے چند منٹوں می موت کی سزا سُنا دی ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رَو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حُکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے Senior Civilian Officers موجود تھے جو محبوب کے کردار سے واقف تھے مگر خاموش رہے ۔ يہ اُن میں سے ہی ایک سینیئر افسر نے مغربی پاکستان پہنچنے کے بعد مُجھے سُنایا تھا

سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ء کے متعلق جو اَعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں ”کیا آزادی اِس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دَم اور ہر طَور اس سلطنتِ خدا داد کے بخِیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
میں ذاتی معلومات پر مبنی واقعات پہلے لکھ چکا ہوں جو مندرجہ ذیل موضوعات پر باری باری کلک کر کے پڑھے جا سکتے ہیں ۔ آج صرف اعداد و شمار پیش کر رہا ہوں
بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 2 ۔ معلومات
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 3 ۔ مشاہدہ اور تجزیہ

مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور اِنتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے
شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے
حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا
“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”
(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)
مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا
جُونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے
یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا
فوجی کاروائی 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں محبِ وطن بنگالی اور مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی جس میں بھارتی فوج کے Commandos کی خاصی تعداد شامل تھی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رَونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی صرف ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
اس کے بعد مُکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا
پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دُکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا

مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے فوجیوں کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری
ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے

شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی
مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مُکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ الله محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے

مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ لاکھوں بنگالیوں نے دستخط کر کے ایک یاد داشت برطانیہ کے راستے ذوالفقار علی بھٹو کو بھجوائی تھی کہ بنگلا دیش منظور نہ کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کی اکثریت بھی بنگلہ منظور کرنے کے خلاف تھی ۔ اِسی لئے جب عوام بنگلہ دیش کیی منظوری لینے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تو اہل جللسہ نے بھٹو کو بولنے نہ دیا اور تمام لاؤڈ سپیکروں کے تار کاٹ دیئے ۔ بعد میں بھٹو نے اسلامی کانفرنس کا انعقاد کر کے بنگلا دیش منظور کرنے کا اعلان کر دیا

نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مُپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھُگت رہے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں

کیاسیکولرازم لادینیت کانام ہے؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

کس معصومیت اور تجاہل عارفانہ سے سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا سیکولرزم لادینیت کا نام ہے؟اور پھر سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگا دیا جاتا ہے کہ سیکولرزم تو محض انسان دوستی اور اعلی اخلاقیات کا نام ہے اسے لادینیت نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستانی معاشرے کی اپنی نفسیات ہیں۔مذہبی تعلیمات پر عمل…

مغالطہ :سیکولرازم لادینی نہیں کثیرالمذہبی نظام ہے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

برادر سید متین نے پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کے ایک اقتباس کی روشنی میں سوال اٹھایا ہے کہ سیکولر ریاست کا معنی کیا ہوتا ہے؟ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ مولانا مودودی نے سیکولرازم کا ترجمہ “لادینی” کیا ہے تو یہ درست نہیں بلکہ سیکولرازم کا معنی “ہمہ دینی یا کثیر مذہبی” ہوتا ہے۔…

مذہب کوذاتی زندگی تک محدود کرنےکا مطلب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

موجودہ تہذیب آزادی کے نام پر یہ جھانسہ دیتی ھے کہ فرد یہاں ”جو” چاھنا چاھے چاھنے اور اسے حاصل کرسکنے کیلئے آزاد ھے”۔ مگر فی الحقیقت یہ ایک لغو دعوی ھے، عملا اس نظام میں فرد صرف وہی چاہ سکتا اور چاھتا ھے جس کے نتیجے میں سرمائے میں اضافہ ھو کیونکہ آزادی کا…

مغالطہ:کون سا اِسلام جناب؟مولوی لڑتے ہیں ہم لڑتے نہیں

مذہب فلسفہ اور سائنس -

1. کون سا اِسلام جناب، کیونکہ مولویوں کا اسلامی احکامات کی تشریح میں اختلاف ہے، لٰہذا جب تک یہ اختلاف ختم نہیں ہوجاتے،اسلام کو اجتماعی نظم سے باہر رکھو۔ 2. ٹھیک ہے اختلافات ہمارے درمیان بھی ہیں،مگر ہم لڑتے تو نہیں نا، مولوی تو لڑتے ہیں،ایک دوسرے کو کافر وگمراہ کہتے ہیں۔ 3. عقل پر…

مغالطہ: کونسی شریعت ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

سیکولرز کا پیش کردہ اشکال: کونسی شریعت شریعت شریعت تو سب کرتے ہیں۔ مگر اِن داعیانِ شریعت میں سے آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ کونسی شریعت؟ کوئی ایک شریعت ہو تو بات کریں۔ یہاں خمینی کی شریعت ہے۔ نمیری کی شریعت ہے۔ ضیاءالحق کی شریعت ہے۔ قذافی کی شریعت الگ ہے۔ سعودیہ…

مغالطہ:عقل پرمبنی سیکولرنظام متشدد نہیں ہوتا!

مذہب فلسفہ اور سائنس -

 ٭عقل پر مبنی اجتماعی نظم ڈاگمیٹک نہیں ہوتا جب ان باتوں کا جواب نہیں بنتا تو عقل پرست و سیکولر لوگ ایک نئے قسم کا داؤ پیچ کھیلتے ہیں اور وہ یہ کہ ‘مذہبی عقیدہ چونکہ معین،غیر متبدل وآفاقی ہونے کا مدعی ہوتا ہے لٰہذا یہ اپنے ماننے والوں میں ڈاگمیٹک (متشدد) رویے کو فروغ…

مغالطہ:سیکولر ریاست کسی تصورخیر کی بیخ کنی نہیں کرتی

مذہب فلسفہ اور سائنس -

گزشتہ بحث کےبعد یہ غلط فہمی خودبخود صاف ہوجانی چاہیئے کیونکہ اپنے دائرہ عمل میں سیکولر ریاست صرف انہی تصورات خیر اور حقوق کو برداشت کرتی ہے جو اسکے اپنے تصور خیر (ہیومن رائٹس،یعنی ہیومن کی آزادی) سے متصادم نہ ہوں، اور ایسے تصورات خیر جو ہیومن رائٹس سے متصادم ہوں انکی بذریعہ قوت بیخ…

مغالطہ:سیکولرریاست پرامن مذہبی بقائے باہمی ممکن بناتی ہے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اس ضمن میں سیکولر لوگ بڑے طمطراق سے یہ بھی کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست مذہبی اختلافات (مثلاً شیعہ،سنی،دیوبندی،بریلوی) کو ختم کرکے انکے پرامن بقائے باہمی کوممکن بناتی ہے، اور ہمارے چند دینی لوگ بھی اس جھانسے کاشکار ہوکر اسے سیکولر ریاست کی کوئی ‘خوبی’ اور اہل مذہب پر اس کا کوئی’احسان’ تصور کرنے لگتےہیں۔…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator