Feed aggregator

خُوش رنگ سیب ۔۔

فکرستان -

"منجانب فکرستان"
غور و فکر کیلئے
ممبئی فضائی آلودگی کی وجہ سے سفید رنگ کتّے نیلے رنگ ہو گئے۔ خبر نے اُن سیبوں کی یاد تازہ کرادی جو اُوپر سے خُوش رنگ، خُوش نما، ٹھوس بے داغ تھے، کاٹنے پر اندر سے داغ زدہ ، خراب نکلے، تبدیلی کا اثر آموں پر بھی پڑا، بلکہ سیاسی نعروں پر بھی پڑا، روٹی  کپڑا مکان کا نعرہ دُھندلا گیا وہیں قرض اُتاروں مُلک سنوارو کا نعرہ، انقلاب کیلئے ساتھ دو نعرے میں تبدیل ہوگیا (اہم نکات لنک پر)۔۔ عمران خان کے نعرے "تبدیلی" کے بارے میں جو زور و شور پایا تھا اور جو لوگوں کو، آس دلاتا تھا، امید بندھتا تھا، اب جیسے مترروک ہوتا جارہا ہے اب سارا زور "نیا پاکستان" نعرے پر لگایا جا رہا ہے ۔ https://www.samaa.tv/urdu/pakistan/2017/08/862671/

نوٹ : پوسٹ میں  ذاتی خیالات کا اظہار ہے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔{  رب  مہربان  رہے  }

نوکیا 8 بوتھی کے نئے فیچر کے ساتھ ریلیز کردیا گیا

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

نوکیا نے اپنا فلیگ شپ اسمارٹ فون Nokia 8 باقاعدہ طور پر پیش کردیا ہے۔ اس اسمارٹ فون سے نوکیا کو بہت سی توقعات ہیں اور وہ یقیناً چاہتا ہے کہ موبائل فونز کی مارکیٹ جہاں اس وقت سام سنگ، ایپل اور ہواوے کا راج ہے، میں اسے اس کا کھویا ہوا مقام دوبارہ واپس […]

The post نوکیا 8 بوتھی کے نئے فیچر کے ساتھ ریلیز کردیا گیا appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

کٹاس کے مندر

Nostalgia, Scream and Flower -


یہ پچھلی سردیوں کی بات ہے جب پہلی بار کٹاس جانے کا پروگرام بنایا ۔طیب کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو اس نے خوش دلی سے  قبول کرلی لیکن جس دن جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک قریبی عزیزہ کے انتقال کرجانے کی وجہ سے پروگرام کینسل ہوگیا۔پھر دھند کا سلسلہ شروع ہوا تو پورا مہینہ رکنے کا نام نہیں لیا۔ پھر خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا طیب بیوی کو پیارا ہوگیا۔یوں کٹاس دیکھنے کا خواب خواب ہی رہ گیا۔
چند دن پہلے کسی کام سے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو واپسی پر اچانک کٹاس کی یاد دوبارہ جاگ اٹھی اور یوں کٹاس کے دیومالائی مندر دیکھنے کی خواہش مکمل ہوگئیکٹاس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ کہ مقدس جگہ ہے وہاں پر سیاحوں کو بھی ننگے پاؤں جانا پڑتا ہے۔چونکہ یہ جگہ ناصرف ہندوؤں بلکہ بدھ مت اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کیلئے بھی مقدس ہے اس لیئے  ہزاروں لوگ بھارت سے ہر سال اس جگہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں ۔اس لیئے ذہن میں ایک بہت صاف شفاف اور پرسکون جگہ کا تصور تھالیکن وہاں جانے کے بعد معلوم ہوا یہ جگہ بھی  پاکستان کی دوسری تاریخی جگہوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ ایک مندر کے ساتھ لوگ باربی کیو کا اہتمام کرچکے تھے اور دوسرے مندر کے ساتھ چاول پک رہے تھے۔ ایک جگہ کچھ نوجوان چپس کھا رہے تھے اور کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلوں سے مندر کی دیواروں کا نشانہ لے رہے تھے۔ایک جگہ ایک فیملی دستر خوان بچھائے کھانے کا اہتمام کررہی تھی۔ کچھ نوجوان مندر کے اوپر چڑھنے کی شرط پوری کرنے کی کوشش کررہے تھے تو کسی کو کھڑکیوں پر چڑھ کر سیلفی بنانے کا شوق ستا رھا تھا۔ اور یوں ایک دیومالائی جگہ کی تصویر جو کئی سالوں سے میں اپنے ساتھ لیے پھر رھا تھا وہ ٹوٹ گئی۔متعدد ہندو دیو مالائی داستانوں کے مطابق شیو نامی دیوتا نے ستی نامی دیوی کے ساتھ اپنی شادی کے بعد کئی سال کٹاس راج میں ہی گزارے تھے۔ ہندو عقیدے کے مطابق کٹاس راج کے تالاب میں نہانے والوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ دو ہزار پانچ میں جب بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی پاکستان آئے تھے تو انہوں نے خاص طور پر کٹاس راج کی یاترا کی تھی۔چوہاسیدن شاہ سے کچھ ہی دوری پر کٹاس کا کمپلکس واقع ہے۔ جو سات مندروں اور بدھ مت اور سکھوں کی عبادت گاہوں کا ایک سلسلہ ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی سیتا کا جب انتقال ہوا تھا تو شیو کے آنسوؤں سے دو لڑیاں جاری ہوگئی تھیں جن سے پانی کے دو تالاب وجود میں آئے تھے ۔ ایک تو بھارت میں  پشکارجو اب نینی تال کہلاتا ہے نامی علاقے میں پیدا ہوا تھا اوردوسرا کٹاشکا  میں بنا،جو بگڑتے بگڑتے کٹاس رہ گیا ہے میں وجود میں آیا تھا۔لیکن کچھ داستانوں میں ذکر ہے کہ شیو جی پتنی کے مرنے پر نہیں بلکہ اپنے سب سے پسندیدہ  گھوڑے کے مرنےپر روئے تھے،۔ بحرحال وجہ جو بھی ہو شیو جی روئے تھے، یہ سب روایات میں ذکر ملتا ہے۔ اس تالاب کے پانی کو مقدس جانا جاتا ہے اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب  کے عقیدے کے مطابق  مخصوص تہواروں کے موقع پر اس میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ایک ہندو روایت کے مطابق کوروں کے ساتھ لڑائی کے بعد شکست کے بعد پانڈوں نے بارہ سال کٹاس میں گزارے تھے۔ جس دوران انہوں نے متعدد مندر تعمیر کروائے اس سے ان مندروں کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوروں اور پانڈوں یعنی مہا بھارت کے زمانے میں بھی موجود تھے۔کٹاس کی شہرت کی ایک بہت اہم وجہ وہ قدرتی چشمے بھی ہیں، جن کے پانیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مل جانے سے گنیا نالہ وجود میں آیا تھا۔کٹاس راج کے تالاب کی گہرائی تیس فٹ ہے اور یہ تالاب آہستہ آہستہ خشک ہوتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ علاقے میں  قائم سیمنٹ فیکٹریاں بتائی جاتی ہیں۔  شری کٹاس راج کے مندروں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ تالاب کے ارد گرد یا قریب ہی یہ مرکزی مندر اور دیگر عبادت خانے دو دو کے جوڑوں کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔۔سکھ جنرل نلوا نے کٹاس راج میں جو حویلی تعمیر کروائی، اس کے چند جھروکے آج بھی کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔شری کٹاس راج کے مندروں اور دوسری عمارات کے کئی حصوں میں مونگے کی چٹانوں، جانوروں کی ہڈیوں اور فوصل شدہ آبی حیات کی ایسی قدیم باقیات دیکھی جا سکتی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان صدیوں پرانے آثار کی تعمیر میں سمندری یا دریائی پانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔مقامی لوگوں سے یہ بھی سننے میں آیا کہ البیرونی نے اسی جگہ پر کھڑے ہو کر کرہ ارض کا قطر ماپا تھا۔
میم سین

جگنو بچے

کچھ دل سے -

“جگنو بچے”
(بچوں اور بڑوں کے نام)

یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے خورشید بنیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بے درد اندھیرے مِٹ جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
ظالم نہ رہے ظلمت نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
ہر جان فروزاں ہو جائے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
رہبر نہ رہے رہزن نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
یاں رزق میں سب کا حصہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
سائل نہ رہے صاحب نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
کھلیان برابر بٹ جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
آقا نہ رہے بندہ نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
کمزور کی خدمت پہلے ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
عہدہ نہ رہے رتبہ نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
سب علم کے طالب ہو جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
عالم نہ رہے جاہل نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
قانون محافظ ہو سب کا
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بیکَس نہ رہے بے بس نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
تحقیق ہمارا شیوہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
یاں صید نہ ہو صیاد نہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
احساس کے قیدی ہوں ہم سب
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
آزاد جو ہو آزاد نہ ہو
ہاں ممکن ہے اے اہلِ چمن
یہ سن رکھّو اور جان رکھو
ان چھوٹی چھوٹی شمعوں سے
غافل نہ رہو غافل نہ رہو
یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے خورشید بنیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بے درد اندھیرے مِٹ جائیں

– اِبنِ مُنیبؔ

بشکریہ: عمر الیاس

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

مہتاب عزیز -

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اختیار اور 1992 میں سبکدوش ہوئے۔ اس طویل فوجی سروس میں وہ 1987 سے 1989 کے دوران 2 سال کیلئے آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ لیکن وہ ہمیشہ خود کو سابق سربراہ آئی ایس آئی کہلانا پسند کرتے تھے۔ حمید گل صاحب مارچ 1987 جنرل اختر عبد الرحمان کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی کے بعد آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے تھے۔ یہ عین وہی وقت تھا جب سوویت یونین نے افغانستان سے انخلا کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جنرل صاحب کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے چند دن بعد ہی افغان مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنے والا اوجھڑی کیمپ پراسرار طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں غیر سرکاری اندازے کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد کے 5 ہزار معصوم لوگ لقمہ اجل بنے تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی قربانی 248 سٹنگر میزائلوں کو ملک کے بہترین مفاد میں محفوظ کرنے کے لئے پیش کی گئی تھی۔ سویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے فوری بعد امریکہ اور اس کے زیر اثر مغربی و عرب حکومتوں کی توجہ سویت یونین کی شکست سے مسقبل میں جہادیوں کی طرف سے ممکنا خطرات کی طرف منتقل ہوئی۔ جرنل حمید گل صاحب نے تجربہ کار جہادیوں کو ’’ تلف‘‘ کرنے کی بہترین حکمت عملی تیار کی۔ پہلے مرحلے پر اپنی تمام تر عسکری مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے آپریشن جلال آباد کی منصوبہ بندی کی۔ جس کے دوران 4 ہزار تجربہ کار مجاہدین شہید ہوئے لیکن جلال آباد فتح نہ ہو سکا۔ پھر ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی کہ چند ماہ میں ختم ہوتی نظر آنے والی کابل انتظامیہ کئی سال تک چلتی رہی۔ پھر جب کابل انتظامیہ ختم ہوئی تو بھی اقتدار جہادیوں کے ہاتھ نہیں آسکا۔ انہیں جنرل صاحب کے دور میں عرب مجاہدین کے قائد عبد اللہ عزام کو پشاور شہر میں ایک بم حملے میں شہید کر دیا گیا۔ افغان مہاجرین کے شمشتو اور جلوزئی کیمپوں پر عسکری کاروائیاں کر کے غیر افغان خصوصا عرب مجاہدین کو گرفتار کر کے عرب حکومتوں کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستانی مجاہدین کو "تلف" کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں جہاد شروع کرنے کی منصوبہ بندی کا سہرا بھی جرنل صاحب کے سر سجتا ہے۔ حمید گل صاحب کو جب 1989 میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر ملتان بنایا گیا تو وہ خاصے ناراض ہوئے۔ پھر جب 1991 میں انہیں ڈائریکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نامزد کیا گیا تو انہوں نے اسے اپنی توہین قرار دے کر ریٹائر منٹ اختیار کر لی۔ جرنل صاحب کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی وجہ امریکہ کا دباؤ ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس کے بعد امریکہ کو دنیا بھر کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ 
جہادیوں کو "تلف" کرنے کے علاوہ انکا دوسرا کارنامہ "پولٹیکل انجینیئرنگ" ہے۔ انہوں نے پاکستان کی پرائم انٹیلیجنسی کے ذریعے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، حکومت کی برطرفی و تشکیل اور سیاستدانوں کو اوپر اٹھانے اور گرانے کا ایسا کامیاب نظام وضع کیا، جو آج تک پوری کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ جرنل ریٹائر حمید گل صاحب اپنی بات پورے اعتماد سے کیا کرتے تھے، لیکن 2001 کے بعد میں نے کئی بار اُن سے پرائیوٹ جہاد کے بارے میں سوال کیا تو وہ جواب دیتے ہوئے خاصے کنفیوژ دیکھائی دیے۔ اُن کی رائے کا لُب لُباب یہ تھا کہ پرائیوٹ جہاد میں کوئی ہرج نہیں اگر وہ مکمل طور پر سرکاری کنٹرول میں رہے تو۔ 
جرنل صاحب اُس خاص زہنیت کا ایک شہکار تھے جس کے خیال میں اسلام کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، البتہ اگر کہیں اسلام اور ملکی مفاد میں ٹکراو پیدا ہو جائے تو پھر ترجیع ملکی مفاد کو دی جانی ضروری ہے۔ 
اللہ اُن کی خطاوں سے درگزر اور اُن کی مغفرت فرمائے۔ آمین

پاکستان کیوں بنا ؟

افتخار اجمل بھوپال -

فی زمانہ لوگ بے بنیاد باتیں کرنے لگ گئے ہیں جو پاکستان کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کی نادانستہ یا دانستہ کوشش ہے ۔ دراصل اِس قبیح عمل کی منصوبہ بندی تو پاکستان بننے سے قبل ہی ہو گئی تھی اور عمل قائد اعظم کی 11 ستمبر 1948ء کو وفات کے بعد شروع ہوا جس میں لیاقت علی خان کے 16 اکتوبر 1951ء کو قتل کے بعد تیزی آ گئی تھی ۔ اب مُستنَد تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے بنا ؟
برطانوی حکومت کا نمائندہ وائسرائے دراصل ہندوستان کا حکمران ہی ہوتا تھا ۔ آخری وائسرائے ماؤنٹ بيٹن نے انتہائی جذباتی مرحلے پر 21 مارچ 1947ء کو ذمہ داری سنبھالنے کیلئے 3 شرائط پيش کيں تھیں جو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کليمنٹ ايٹلی نے منظور کر لی تھیں
1 ۔ اپنی پسند کا عملہ
2 ۔ وہ ہوائی جہاز جو جنگ میں برما کی کمان کے دوران ماؤنٹ بيٹن کے زيرِ استعمال تھا
3 ۔ فيصلہ کرنے کے مکمل اختيارات
ماؤنٹ بيٹن نے دہلی پہنچنے پر سب سے پہلے مہاراجہ بيکانير سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات پنڈت جواہر لال نہرو سے کی
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو سے قائد اعظم کے متعلق دريافت کيا
جواہر لال نہرو نے کہا “مسٹر جناح سياست ميں بہت دير سے داخل ہوئے ۔ اس سے پہلے وہ کوئی خاص اہميت نہيں رکھتے تھے” ۔
مزید کہا کہ “لارڈ ويول نے بڑی سخت غلطی کی کہ مسلم ليگ کو کابينہ ميں شريک کرليا جو قومی مفاد کے کاموں ميں رکاوٹ پيدا کرتی ہے” ۔
ماؤنٹ بيٹن نے تيسری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کی ۔ ماؤنٹ بيٹن نے قائد اعظم سے پنڈت جواہر لال نہرو کے متعلق دريافت کيا ۔ قائد اعظم نے برجستہ فرمايا ” آپ تو ان سے مل چکے ہيں ۔ آپ جيسے اعلی افسر نے ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرلی ہوگی”۔
ماؤنٹ بيٹن اس جواب پر سمجھ گيا کہ اس ليڈر سے مسائل طے کرنا ٹيڑھی کھير ہے
ماؤنٹ بيٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کے مشورے سے آئی سی ايس افسر کرشنا مينن کو اپنا مشير مقرر کيا ۔ اگرچہ تقسيم فارمولے ميں بھی کرشنا مينن کے مشورے سے ڈنڈی ماری گئی تھی ليکن کرشنا مينن کا سب سے بڑا کارنامہ جموں کشمير کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاويز پر دستخط کرانا تھےجبکہ مہاراجہ جموں کشمير (ہری سنگھ) پاکستان سے الحاق کا بيان دے چکا تھا ۔ پھر جب مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق نہ کیا توکرشنا مينن کے مشورے پر ہی جموں کشمير پر فوج کشی کی گئی تھی
انگريز کو ہندوؤں سے نہ تو کوئی سياسی پَرخاش تھی نہ معاشی ۔ مسلمانوں سے انگریز اور ہندو دونوں کو تھی ۔ انگريز نے اقتدار مسلمانوں سے چھينا تھا اور ہندو اقدار حاصل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا تھا
حقيقت يہ ہے کہ کانگريس نے کيبنٹ مشن پلان کو اس نيت سے منظور کيا تھا کہ مسٹر جناح تو پاکستان سے کم کی بات ہی نہيں کرتے لہٰذا اقتدار ہمارا (ہندوؤں کا) مقدر بن جائے گا ۔ قائد اعظم کا کيبنٹ مشن پلان کا منظور کرنا کانگريس پر ايٹم بم بن کر گرا
صدرکانگريس پنڈت جواہر لال نہرو نے 10جولائی کو کيبنٹ مشن پلان کو يہ کہہ کر سبوتاژ کرديا کہ کانگريس کسی شرط کی پابند نہيں اور آئين ساز اسمبلی ميں داخل ہونے کے لئے پلان ميں تبديلی کرسکتی ہے ۔ چنانچہ ہندو اور انگريز کے گٹھ جوڑ نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کرديا ۔ قائد اعظم نے بر وقت اس کا احساس کر کے مترادف مگر مضبوط لائحہ عمل پیش کر دیا تھا ۔ آسام کے چيف منسٹر گوپی چند باردولی نے کانگريس ہائی کمانڈ کو لکھا” رام اے رام ۔ يہ تو ايک ناقابل تسخير اسلامی قلعہ بن گيا ۔ پورا بنگال ۔ آسام ۔ پنجاب ۔ سندھ ۔ بلوچستان ۔ صوبہ سرحد”۔

کيبنٹ مشن کے سيکرٹری (Wood Rowiyt) نے قائد اعظم سے انٹرويو ليا اور کہا ” مسٹر جناح ۔ کیا یہ ایک مضبوط پاکستان کی طرف پیشقدمی نہیں ہے ؟”
قائد اعظم نے کہا ”بالکل ۔ آپ درست سمجھے“۔
مگر جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چکا ہے کرشنا مینن کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے باہمی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریز نے بڑی عیّاری سے پنجاب اور بنگال دونوں کو تقسیم کر دیا اور آسام بھی بھارت میں شامل کر دیا
مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تصنیف (INDIA WINS FREEDOM) کے صفحہ 162 پر تحرير کرتے ہيں کہ اپنی جگہ نہرو کو کانگريس کا صدر بنانا ان کی زندگی کی ايسی غلطی تھی جسے وہ کبھی معاف نہيں کرسکتے کيونکہ انہوں نے کيبنٹ مشن پلان کو سبوتاژ کيا ۔ مولانا آزاد نے تقسيم کی ذمہ داری پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی پر ڈالی ہے ۔ يہاں تک لکھا ہے کہ 10 سال بعد وہ اس حقيقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں کہ جناح کا مؤقف مضبوط تھا
کچھ لوگ آج کل کے حالات ديکھ کر يہ سوال کرتے ہيں کہ ” پاکستان کيوں بنايا تھا ؟ اگر يہاں يہی سب کچھ ہونا تھا تو اچھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قول کے مطابق ہم متحدہ ہندوستان ميں رہتے”۔
کانگريس ہندوستان ميں رام راج قائم کرنا چاہتی تھی ۔ چانکيہ تہذيب کے پرچار کو فروغ دے رہی تھی ۔ قائد اعظم کی ولولہ انگيز قيادت اور رہنمائی ميں ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں نے بے مثال قربانياں دے کر پاکستان حاصل کیا ۔ اس پاکستان اور اس کے مقصد کے خلاف بات کرنے والے کسی اور نہیں اپنے ہی آباؤ اجداد کے خون پسینے کو پلید کرنے میں کوشاں ہیں

بل گیٹس نے چار عشاریہ چھ ارب ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کردی

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

دنیا کے سب سے امیر شخص بل گیٹس نے اپنی 90 ارب ڈالر کی دولت میں سے 4 عشاریہ چھ ارب ڈالر کی بڑی رقم عطیہ کردی ہے۔ سال 2000ء کے بعد بل گیٹس کی یہ اب تک عطیہ کردہ سب سے خطیر رقم ہے۔ امریکی سکیوریٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کروائی گئی دستاویز […]

The post بل گیٹس نے چار عشاریہ چھ ارب ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کردی appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

میرا دل بدل دے

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -

جنید جمشید کا پڑھا ہوا یہ کلام مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ دعائیہ کلام ہے اور اس کی شاعری بھی بہت خوب ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ شاعری جنید جمشید صاحب کی ہی ہے یا کسی اور کی ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام میں دعا کو منظوم کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔
میرا دل بدل دے
میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے​ہوا و حرص والا دل بدل دے​​الٰہی فضل فرما ،دل بدل دے​بدل دے دل کی دنیا ،دل بدل دے​​گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں؟؟​بدل دے میرا رستہ، دل بدل دے​​ہٹا لوں آنکھ اپنی ماسواسے​جیوں میں تیری خاطر، دل بدل دے​​کروں قربان اپنی ساری خوشیاں​تو اپنا غم عطا کر، دل بدل دے​​سہل فرما مسلسل یاد اپنی​الٰہی رحم فرما،دل بدل دے​​پڑا ہوں تیرے در پر دل شکستہ​رہوں کیوںدل شکستہ، دل بدل دے​​تیرا ہو جاؤں اتنی آرزو ہے​بس اتنی ہے تمنا ،دل بدل دے​​میری فریاد سن لے میرے مولا​بنا لے اپنا بندہ ،دل بدل دے​​دلِ مغموم کو مسرور کر دے​دلِ بے نور کو پر نور کر دے​​میرا ظاہر سنور جائے الٰہی​میرے باطن کی ظلمت دور کر دے​

میرا دل بدل دے ۔۔۔ جنید جمشید کی آواز میں

گوگل کی نئی پیش کش، آپ اردو بولیں، ٹائپنگ خود ہوجائے گی

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

اردو زبان بولنے والوں کے لیے گوگل کی جانب سے ایک بہت خوشی کی خبر، اب گوگل آپ کے اردو زبان میں بولے جملوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ گوگل کی مدد سے اپنے اینڈروئیڈ فون اور کمپیوٹر (فی الحال گوگل کروم ) کو اردو میں ہدایات […]

The post گوگل کی نئی پیش کش، آپ اردو بولیں، ٹائپنگ خود ہوجائے گی appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

فائل کھولنے کی کوشش کروں تو ایرر آتا ہے کہ فائل موجود ہی نہیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

سوال: مجھے میرے دوست نے ایک پروگرام کی زِپ فائل بھیجی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس فائل کو جب میں ڈاؤن لوڈ کرکے چلانے کی کوشش کرتا ہوں تو ایرر آتا ہے کہ یہ فائل موجود ہی نہیں۔ حالانکہ یہ فائل ایک بالکل ٹھیک ٹھاک پروگرام کی ہے۔ مائیکروسافٹ ونڈوز انٹرنیٹ یا نیٹ ورک […]

The post فائل کھولنے کی کوشش کروں تو ایرر آتا ہے کہ فائل موجود ہی نہیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

یاددہانی (وقت کو ضائع نہ کریں)

محمد اویس -



اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ اپنے گزشتہ پانچ برسوں کو یا د کیجیے اور یہ بتائیں کہ پانچ سال پہلے آپ  نے اپنے لئے جس مقام کا تعین کیا تھا کیا آپ آج اسی مقام پہ ہیں ؟یا آپ جو حاصل کرنا چاہتےتھے وہ حاصل کر چکے ہیں ؟ یقینا ً صرف آپ کا نہیں  ہم میں سے اکثر کا جواب نفی میں ہو گا۔کیونکہ ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلے پانچ برس  بعد  ہم کہاہوں گے۔اب ذرا یہ تصور کریں،اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آنے والے پانچ برسوں کے بعد آپ کہا ہوں گے تو آپ کا جوب کیا ہوگا؟ کیا گزشتہ پانچ برسوں کی طرح اس کو  بھی ضائع کریں گے ؟یا اس کے لئے کوئی منظم منصوبہ بندی کر یں گے ؟جنا ب والا! اگر آپ اپنے وقت کی منصوبہ بندی نہیں کریں گے تو آپ کی ساری زندگی یونہی گزر جائے گی ،اپنے  باقی ماندۂ وقت  کو منظم انداز میں گزاریں اور آنے والے وقت کی باقاعدہ منصوبہ بندی  کریں ،کیونکہ "زندگی تو وقت کا خمیر ہے" اگر آپ وقت کو ضائع کررہے  ہیں  تو اس کا  سیدھا سادہ مطلب  یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو ضائع کر رہے ہیں۔


جشن آزادی مبارک Pakistan India National Anthem

میرا بلاگ ۔ ںعیم خان -

جشن آزادی مبارکہندوستانی میڈیا اور بالی ووڈ جہاں ہمیشہ پاکستان، اسلام اور مسلمان کو منفی انداز میں پیش کرکے عالمی سطح پر ہمارا چہرہ مسخ کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے وہاں اُن کےکچھ من چلے نوجوانوں کے ایک بینڈ "وائس آف رام" نے جشن آزادی کے موقع پرپاکستانی قومی ترانہ پڑھ کر پاکستانیوں کو جشن آزادی کی مبارک باد دے کر ایک مثبت قدم اُٹھایا ہے، ہم اُن کے اس اقدام کی بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔ 
 اس دفعہ دوخوبصورت ترانے سننے اور دیکھنے کو ملے، پاکستان کوک سٹوڈیوز کا تیارکردہ قومی ترانہ اور انڈیا کے بینڈ "وائس آف رام" کا پاکستان اور ہندوستان کے گلوکاروں کا پڑھا گیا دونوں ممالک کا قومی ترانہ۔  ان ترانوں کے یوٹیوب ویڈیوز یہاں ملاحظہ کیجئے۔ 

یوم آزادی اور حقیقی آزادی کی منزل کا حصول

مہتاب عزیز -

حقیقی آزادی سے محرومی صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ تیسری دنیا (Third World) کے تمام ہی ممالک حقیقی آزادی سے کوسوں دور ہیں۔ ہم اس وقت ’مابعد استعماری دور‘ (Post Colonial Era) میں زندہ ہیں۔ یہ دور افریقہ اور ایشیا کے پورے سابق نو آبادیاتی خطے پر یکساں مسلط ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپی قابضین کے لیے اپنی کالونیوں پر براہ راست قبضہ برقرار رکھنا مہنگا ہوگیا تو انہوں متبادل انتظام کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ متبادل انتظام دو مختلف سطعوں پر مشتعمل ہے۔ اول استعماری طاقتوں نے یہاں ایک اشرافیہ (Elite Class) تخلیق کی، جس کے مفادات اپنے ملک سے زیادہ استعماری طاقتوں (Colonialist) sy سے وابسطہ ہیں۔ یہ اشرافیہ سول و ملٹری نوکرشاہی، سیاستدانوں اور بڑے کاروباریوں پر مشتعمل ہے۔ (اس اشرافیہ کی تخلیق کس طرح کی گئی اور اس کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا ہے، یہ ایک الگ اور تفصیل طلب موضوع ہے، جس پر پھر کبھی گفتگو کی جائے گی) بادی النظر میں اشرافیہ کی پہچان یہ ہے کہ ان کے بچے استعماری ممالک میں پڑھتے ہیں، ان کے کاروبار، جائیداد اور بنک اکاونٹ انہی ممالک میں ہوتے ہیں، یہ اپنے علاج کے لیے بھی استعماری ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ بلواسطہ حکمرانی کی دوسری سطع بین القوامی تنظیمیں ہیں۔ جیسے اقوام متحدہ، ولڈ بینک، آئی ایم ایف، ولڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، وغیرہ، نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا۔ یہ تمام تنظیمیں اور ادارے مل کر ترقی پزیر ممالک کو اپنے جال میں جھکڑے رکھتے ہیں۔ ان کا اولین مقصد ان ممالک کے عوام کا خون نچوڑنا اور استعماریوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ ان تنظیموں اور اداروں کا ثانوی مقصد ہے کہ اگر کسی ملک کی اشرافیہ کا کوئی طبقہ استعماری مفادات سے روح گردانی کرنا شروع کر دے۔ یا پھر کسی ملک کے اقتدار پر اشرافیہ کے بجائے عوام کے حقیقی نمائندے پہنچ جائیں، تو انہیں روکا جائے۔ایسی صورت میں یہ تنظیمیں کُھل کر حرکت میں آتی ہیں، پہلے مرحلے اُس ملک کو ولڈ بینک، آئی ایم ایف وٖغیرہ اقتصادی طور پر دیوالیہ کرتے ہیں۔ تاکہ عوام کو روٹی کے لالے پڑھ جائیں اور وہ حکومت سے بدظن ہوں۔ پھر انسانی حقوق کی تنظیمیں اُس ملک کے خلاف الزامات کا طوفان برپا کرتی ہیں، اور میڈیا رائے عامہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ دو مختلف انداز میں طے پاتا ہے، حالات کے مطابق یا تو مقامی اشرافیہ کی مدد سے تخہ الٹ دیا جاتا ہے۔ یا پھر اقوام متحدہ باقاعدہ فوجی کاروائی کی اجازت دیتی ہے اور پھر استعماری ممالک کی فوجیں چڑ دوڑتیں ہیں۔ یہاں تک کہ اقتدار پھر استعماری طاقتوں کی وفادار اور تابع فرمان اشرافیہ کے ہاتھ آ جائے۔ مصنوعی طور پر حالات خراب کر کے اقتدار دوبارہ مقامی اشرافیہ کے حوالے کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں، جن میں سے ایران میں ڈاکٹر مصدق اور مصر میں اخوان کی حکومت کے خلاف ہونے والے آپریشن ہمارے ہاں معروف ہیں۔ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنگی کاروائیوں کی مثالیں، افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ، عراق میں صدام اور لیبیا میں قذافی کی حکومتوں کا خاتمہ ہمارے سامنے ہے۔ استعماری طاقتوں کی اس نئی غلامی سے آزادی کا خواب تک پورا ہونا ممکن نہیں، جب تک اس غلامی کی آگاہی عوام کو نہیں ہو جاتی اور اُن میں اس غلامی سے آزادی کے لیے بھی وہی جذبہ بیدار نہیں ہوجاتا جو استعماری طاقتوی کی براہ راست غلامی کے خلاف بیدار ہوا تھا۔ اس پورے نظام سے مکمل آگاہی کے بغیر اس سے نجاعت کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہیں۔ یہی وجہ ہے آج تک کہیں بھی معمولی سی کامیابی بھی نصیب نہیں ہو سکی ہے۔

آزادی مبارک

نیرنگ خیال -

"صرف مشترکہ کوششوں اور مقدر پر یقین کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔"(محمد علی جناح)
 میں جانتا ہوں کہ آپ سب کو  لفظ آزادی کے مفہوم کی تجدید کی ضرورت  نہیں ہے ۔ میں اسی خوش گمانی کو قائم رکھنا چاہتا ہوں کہ  تمام افرادِ پاکستان آزادی کے تصور اور اس کی قدر و قیمت سے بخوبی آشنا ہیں۔ مگر کیا کروں کہ میرے سامنے جب سماجی، معاشرتی اور سیاسی واقعات آتے ہیں تو میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ لفظ آزادی کے معانی اور قدروقیمت کا تو ذکر ہی کیا، شاید ابھی تک میرے ملک کے لوگ اس لفظ سے ہی آشنا نہیں۔ ہمارے  گزرے ستر برس اس بات کے  غماز ہیں کہ ہم نے اپنے لیڈر کے آخری الفاظ کو بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ ان ستر برس کی داستاں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے مشترکہ کوشش اور مقدر پر یقین تو کیا کرنا تھا، ہم نے خواب دیکھنے ہی چھوڑ دیے۔ ہماری گفتگو زبانی جمع خرچ تک محدود ہوتی چلی گئی اور عملی طور پر ہر آنے والا دن ہمارے لئے بےیقینی کا سورج لایا،  جس کی شامیں یاس و ناامیدی کی شفق لیے ہیں۔ ہر سال ہم بحثیت قوم اس دن ارادے تو باندھتے ہیں۔ خود سے وعدے بھی کرتے ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ ان میں صداقت نہیں ہوتی۔ مگر گزرتے دن ان وعدوں پر وقت کی دھول ڈال دیتے ہیں اور یوں یہ سب طاق نسیاں میں دھرا رہ جاتا ہے۔ اگلے سال ان وعدوں اور ارادوں کو اٹھا کر جھاڑا جاتا ہے۔ انہی وعدوں ارادوں کی نئے لفظوں نئے لہجوں سے آرائش کی جاتی ہے۔
 میں مایوسی نہیں لکھنا چاہتا۔ میں قنوطیت کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا   لیکن ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کہ کیا واقعی سچ میں آپ نے کبھی اس معاشرے کی فکر کی ہے؟ ایسا کوئی کام کیا ہے جو معاشرے میں بہتری لانے کا سبب ہو۔  کبھی کسی غمگیں کے آنسو پونجھے ہو؟ کبھی کسی بھوکے کے منہ میں نوالا ڈالا ہو۔ یوں ہی کبھی آپ کسی انجان جنازے میں شامل ہوگئے ہوں۔ کبھی آپ نے سڑک کنارے کسی چھوٹے سے بچے کو ہاتھ میں غبارے و کھلونے لیے بیٹھا دیکھ کر اپنی سواری روکی ہو۔ اور اس سے پوچھا ہو کہ ہاں بیٹا! تم بیچنے لائے ہو تو ایک طرف اداس کیوں بیٹھے ہو۔ غربت اپنی جگہ، مگر ایسی اداسی نے کیوں آن گھیرا ہے؟ یوں چپ چاپ کیوں بیٹھے ہو؟کبھی یوں ہی بے سبب کسی ہسپتال میں جا کر آپ نے موت سے لڑتے ہوئے مریضوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہو یا پھر تھیلیسما کے مریض بچوں کے پاس جا کر کوئی دن گزارا ہو؟
ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ   سب ایک اچھی زندگی کے خواہاں ہیں۔ ایک ایسی زندگی جس میں آپ کی ، آپ کے   بچوں کی اور  گھر والوں کی ہر خوشی شامل ہو۔ مگر بدقسمتی سے مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں ملک کا نام نظر نہیں آتا۔ مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں وہ اداس چہرے کہیں نظر نہیں آتے جو دن بھر کسی غیبی مدد کی آس لئے رات کے بوجھل قدموں تلے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  سیاسی آزادی نظر نہیں آتی۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  اخلاقی آزادی نظر نہیں آتی۔ آپ کی سمت دوسرے متعین کرتے ہیں۔ آپ کا معیارِ سچ جھوٹ کی تکرار ہے۔  ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ دن میں دس اچھی پوسٹس بھی شئیر کرتے ہیں۔ حوصلہ بڑھانے والی ویڈیوز اور تصاویر  بہت خوشی سے سب کو دکھاتے ہیں۔ احادیث اور قرآنی آیات آگے بڑھانے میں بھی آپ کا  دامن تنگ نہیں۔ اور یوم آزادی پر تو جھنڈے بھی پہنے پھرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا کہ نعرے بھی بخوشی لگا لیتے ہیں۔
مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ گزشتہ عرصہ  سے،  میں محض  بکواس پڑھ اور سن رہا ہوں۔ ایک دوسرے کے لیے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کو کسی بھی طرح سے اشرافیہ کی زبان نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک دوسرے کے لیے زہر اگلا جا رہا ہے۔فضا نفرت سے تعفن زدہ ہے۔ رویوں نے اظہار کو مسموم کر رکھا ہے۔ ایسے میں اچھے کام، اچھے رویے اور اچھے لوگ خلائی مخلوق محسوس ہونے  لگے ہیں۔ کس کو سراہا جائے۔ کس کی تعریف کی جائے۔ کس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے۔ معاشرے سے زندہ مثالیں ڈھونڈے نہیں ملتیں۔ اور اگر بدقسمتی سے کوئی اچھا شخص زندہ ہی ہے تو اس کے مرنے کا انتظار جاری ہے تاکہ بعد از مرگ اس کی تعریف کی جا سکے، اس کو سراہا جا سکے۔ اس ریا کے تماشے میں وہی افضل ہے جو ننگا ہے۔
مجھے مسائل کا حل پیش نہیں کرنا۔ دانشور چلا چلا کر اپنے گلے چھیل چکے ہیں۔ مجھے تم سے یہ نہیں کہنا خدارا محبتوں کو فروغ دو، کیوں کہ  کسی چیز کی ترغیب دینا اس کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔میں کیا کہوں، کیا لکھوں، کیا سمجھاؤں کہ میں خود اسی تعفن زدہ معاشرے کا جزو ہوں جس کے سوچ وخیالات نے اس فضا کو خوشگوار بنانے میں ابھی تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ 
میں ناامیدی کی ناؤ میں  دہشت و خوف کے منجدھار میں پھنسی، نفرتوں کے بیج بوتی، محبتوں کے جنازے اٹھاتی، تشدد کے پھل کاٹتی اور زہر کے دریا بہاتی   قوم کو ملک کی سترھویں سالگرہ پر مبارک دیتا ہوں۔ اور اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اب غیب سے اسباب پیدا کر۔ اب اس رات کی سحر کر۔ اب بےیقینی کے سائے اٹھا دے مولا۔  اس گمان و یاس کی دھند سے امید کا سورج طلوع کر۔ ہم پر اپنی پہچان آسان کر دے۔ آمین یا رب العالمین  

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator