Feed aggregator

افغانستان میں خودکش حملہ، 9 افراد ہلاک، 12 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغانستان میں خودکش حملہ، 9 افراد ہلاک، 12 زخمی افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان نے کہا کہ ‘پیدل چل کر آنے والے خودکش حملہ آور نے مقامی پولیس چیک پوائنٹ کے قریب خود کو دھماکا خیز ڈیوائس کے ذریعے اڑا دیا۔

عطااللہ خوغیانی نے کہا کہ ‘خودکش حملے میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں ۔

جلال آباد کے اطراف کا علاقہ طالبان اور داعش سے منسلک افغان گروپ کے جنگجوؤں کا گڑھ رہا ہے۔ https://www.dawnnews.tv/news/1105080/

داعش نے زمہ داری قبول کر لی ہے۔ https://www.rferl.org/a/suicide-bomber-kills-nine-in-eastern-afghanistan-attack-claimed-by-is/29998023.html

داعش کو علم ہونا چاہئیے کہ ایک بے گناہ انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور دہشت گردی اسلام میں قطعی حرام بلکہ کفریہ اعمال ہے۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) نبی اکرم نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ معصوم بچوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرنا جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل کرنا یا انہیں زخمی کرناحالت جنگ میں بھی منع ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔ آپ نے کہا کہ ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

Sharing and forwarding

افتخار اجمل بھوپال -

سوشل میڈیا (فیس بک ۔ وَٹس اَیپ وغیرہ) کے استعمال سے بہت سے لوگ غیر محسوس طور پر الله کی حُکم عدولی کے مُرتکِب ہو رہے ہیں یہاں تک کہ اپنی اِس قباحت کو حصُولِ ثواب سمجھ لیا گیا ہے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر آگے نکلنے کی دوڑ جاری ہے ۔ اِسے دعوتِ دین کا حِصہ سمجھتے ہوئے دوسرے لوگوں اسے اختیار کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ۔ اس طرح گردش میں رہنے والی کئی تحاریر مصدقہ نہیں ہوتیں ۔ ایک دِیندار شخص نے مجھے ایک تحریر بھیجی جو حقیقت کے بَرعَکس تھی
میں نے اُن سے پوچھا ” کیا یہ درست ہے ؟“
جواب آیا ”میں پڑھتا ہوں پھر دیکھتا ہوں“۔
یعنی اُنہوں نے بغیر پڑھے کارِ ثواب سمجھتے ہوئے سب کو فارورڈ کر دی تھی ۔ سُبحان الله
اس سلسلہ میں الله سُبحانُهُ و تعالٰی کا فرمان واضح ہے
سُوۡرَةُ 4 النِّسَاء آیة 83
بِسمِ اللہِ الَّرحمٰنِ الرَّحیم ۔ یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سُن پاتے ہیں اُسے لے کر پھَیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے عِلم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اَخذ کرسکیں تم لوگوں پر الله کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے
سُوۡرَةُ 49 الحُجرَات آیة 6
بِسمِ اللہِ الَّرحمٰنِ الرَّحیم ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانِستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو

فاسِق کے لُغوی معنی نافرمان اور حسن و فلاح کے راستے سے مُنحرف ہونے والا ہیں
اصطلاح میں فاسِق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو حرام کا مرتکب ہو یا واجب کو ترک کرے یا اطاعتِ الٰہی سے نکل جائے ۔ غیر عادل شخص کو بھی فاسق کہا جاتا ہے
الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور حدودِ شرعی کو توڑنے والا بھی فاسِق کہلاتا ہے
الله تعالیٰ کی نافرمانی 2 طرح کی ہے
ایک کُلّی اور دوسری جُزوی
کُلّی اور واضح نافرمانی کُفر ہے جس میں کوئی شخص الله کی نافرمانی کو درُست جانتا ہے
جُزوی نافرمانی فِسق ہے جس میں ایک شخص دین الٰہی اور شریعتِ محمدی کی تصدیق بھی کرتا ہے مگر خواہشاتِ نفس میں پڑ کر شریعت کے کِسی حُکم کی خلاف ورزی بھی کر دیتا ہے

مدحتِ رسول ﷺ ۔ ایک توجہ طلب پہلو

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -


مدحتِ رسول ﷺایک توجہ طلب پہلو
ہمارے ہاں رکشے والوں کے پاس آڈیو پلئر ہونا ایک بڑی پرانی روایت ہے جسے وہ بڑی بے دردی سے اب تک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پہلے آڈیو سننے کے لئے کیسٹ پلئرز استعمال ہوتے تھے لیکن اب تو بس چھوٹے سے ایم پی تھری پلئر سے یو ایس بی منسلک کرنے کی دیر ہوتی ہے اور بعض لوگ تو اپنے موبائل کو بھی پلئر سے جوڑ کر سنںنے سُنانے کا "فریضہ" انجام دیتے ہیں۔

خیر ، کل صبح کی بات ہے کہ ہم راستے میں کہیں جا رہے تھے کہ کہیں سے ایک نغمے کی صدا کان میں پڑی ، اور ہم نے چونکہ ایک مدت ، ہندوستانی اردو موسیقی کو تضیع اوقات کے لئے خاص نشانہ بنائے رکھا ہے ،اس مصرع کو فوراً پکڑ لیا اور آگے سے لقمہ بھی دے دیا۔ لقمہ کیا دیا بلکہ ساتھ ساتھ گنگنانے لگے۔ یہ کافی مشہور و معروف نغمہ تھا۔

میرے محبوب قیامت ہو گی
آج رُسوا تیری گلیوں میں محبت ہوگی

لیکن جیسے ہی گنگناتا رکشہ ہمارے قریب پہنچا تو ہمیں کافی خفت کا سامنا ہوا کہ یہ وہ گانا نہیں تھا بلکہ اُس کی طرز پر لکھی اور پڑھی گئی ایک نعت تھی۔ ہمیں شرمندگی تو ہوئی لیکن غصہ بھی آیا کہ یہ کیا طریقہ ہے۔

ہمارے ہاں اس طرح معروف نغموں کی طرز پر نعتیں وغیرہ کہنے کا رُجحان کافی زیادہ ہوگیا ہے۔ حالانکہ خاکسار کی ذاتی رائے میں یہ رُجحان کچھ اچھا نہیں ہے۔ بلکہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کردہ موسیقی اور نعت جیسی ارفع شے کو یکجا کردینے جیسی بات ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ شاعری کے لئے دستیاب بحور عام شعراء اور نعت گو شعراء کے لئے یکساں ہیں اور دونوں کو انہی میں رہ کر شاعری کرنا ہوتی ہے ۔ لیکن یہ رویّہ کہ نعت کو بالکل گیت کی ہی زمین میں کہا جائے، نا صرف کہا جائے بلکہ اُسے اُسی طرز میں پڑھا بھی جائے ، میری رائے میں قابلِ قبول نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی پکی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اُن کی ذات کا حتی الوسع احترام کیا جائے اور نعت گوئی جیسی پاکیزہ صنفِ سُخن کو ہر قسم کی کجی کوتاہی سے پاک رکھنے کی کوشش کی جائے۔ بالخصوص فلمی گانوں کی طرز پر نعتیں لکھ کر اس پاکیزہ محبت کو گلیوں میں رُسوا نہ کیا جائے۔
*****

افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک مسجد کے اندر طالبان کے سرخ یونٹس کی اہم جائے پناہ تباہ کر دی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک مسجد کے اندر طالبان کے سرخ یونٹس  کی اہم جائے پناہ تباہ کر دی افغان سیکیورٹی فورسز نے ننگرہار صوبے میں طالبان کے سرخ یونٹ کی اہم پناہ گاہوں میں سے ایک کو  تباہ کر دیا۔ افغان مسلح افواج نے آپریشن کے دوران طالبان کے کم از کم 30 ریڈ یونٹ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ۔ صوبائی حکام نے  بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے ایک مسجد کے اندر یہ جائے پناہ قائم کیی ہوئی تھی ۔ ایک بیان میں ننگرہار کے گورنر کے دفتر نے کہا کہ طالبان کی ریڈ یونٹ نے شیرزاد ڈسٹرکٹ میں ایک مسجد کے اندر اس  جائے پناہ کو قائم کیا تھا ۔ بیان نے مزید کہا کہ افغان مسلح افواج  نے احتیاط سے مسجد کی مقدس جگہ کو مد نظر رکھتے ہوئے گروپ کی قائم کی ہوئی جائے پنای کے خلاف آپریشن کیا ۔ بیان میں مزید کہا اصلا پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کے تین ریڈ یونٹ کمانڈرز ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے ۔ اسی آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے طالبان کے 14 ریڈ یونیٹس عسکریت پسندوں کو بھی زخمی کیا ۔ صوبائی گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے سعودی مسلح افواج بیج اور ہتھیار اور گولیاں قبضہ کرنے کے علاوہ پاکستانی سرٹیفکیٹ کو ضبط کیا ۔ طالبان سمیت حکومت مخالف مسلح عسکریت پسندوں نے اب تک آپریشن کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا ہے خامہ پریس۔ کام اسلام کے تصور عبادت میں مسجد کا بلاشبہ ایک اہم مقام حاصل ہے لیکن بالعموم تقابلی مطالعوں میں مسجد کو وہی مقام دے دیا جاتا ہے جو دیگر مذاہب کے مقام عبادات کو حاصل ہے چنانچہ مسجد‘ گرجا‘ کلیسااور مندر کی اصطلاحات ان مقدس مقامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ جہاں داخل ہوتے وقت یہ تصور ذہن میں آتا ہے کہ وہاں کی زمین دیگر مقامات کے مقابلے مین زیادہ مقدس ہیں لیکن ا سلام نے اس فرق کو ختم کردیا جو دیگر مذاہب میں مقدس اور غیر مقدس زمین کے فرق کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور ربوبیت کو دنیا کے چپے چپے ہی نافذ و جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسلام کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنے والے اصحاب رسولؐ اور ان کے بعد آنے والوں نے اسلام کو مسجد میں قید نہ ہونے دیا اور اپنے ہر عمل سے ثابت کیا کہ عبادت مسجد تک محدود اور مقید نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کی صلوٰۃ اور اس کے مراسم عبودیت و قربانی اس کی حیات و ممات ہر ہر عمل عباردت ہی کی ایک شکل ہے وہ پور اکاپور ا اسلام میں داخل ہوکر ہی مسلمان بنتا ہے اس کی زندگی دین و دنیا کے خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ مسجد دراصل مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی‘اخلاقی‘ اصلاحی‘ تعلیمی و تمدنی‘ ثقافتی و تہذیبی سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔ مسجد کی یہ حیثیت حضور اکرمؐ کے زمانے سے لے کر صدیوں بعد تک قائم رہی۔ اسلام کے مثالی دور میں مسجد ہی عدل و انصاف کا مرکز تھی۔ خود حضور اکرمؐ اور خلفائے راشدین اور اس کے تمام حکام مسجد ہی میں بیٹھ کر عدل گستری کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ تعلیم و تعلم کا سلسلہ مسجدنبویؐ مںہ صفہ سے شروع ہوا جو صدیوں تک ہر مسجد کے ساتھ قائم رہا چنانچہ مسلمانوں کے قدیم ترین تعلیمی ادارے جامعہ ازھر‘ جامعہ زیتونہ اور جامعہ قرویین مسجدوں میں قائم ہوئے اور مسجدوں ہی میں انہوں نے ترقی و ارتقا کےجملہ مراحل طے کئے۔ مسلمانوں نے اپنے مثالی ادوار میں جیسے شہر اور بستیاں اباد کیں تو ساتھ ساتھ مساجد کی بنیادیں بھی ڈالیں چنانچہ کوفہ‘ بصرہ اور زروان وغیرہ کے بنیادوں کے نقشے میں مساجد کی تعمیر کو مرکزی مقام دیا گیا۔ اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے، یہ اللہ کا گھر ہے، روئے زمین کا یہ سب سے افضل وبرتر اور مقدس خطہ ہے، اس جگہ رات ودن اور صبح وشام اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، یہاں ایسے لوگ آتے ہیں جو اللہ کی اطاعت وبندگی کرنے والے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فِیْ بُیُوتٍ أَذِنَ اللّٰہُ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالO رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْأَبْصَارُO (النور: ۳۶-۳۷)
” وہ نور ملتا ہے ایسے گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے، ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں اللہ کی یاد اقامت نماز اور ادائیگی زکو سے نہ کوئی سوداگری غفلت میں ڈال سکتی ہے اور نہ ہی کوئی خرید و فروخت ان کے آڑے آسکتی ہے وہ ڈرتے رہتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس میں الٹ دئیے جائیں گے دل اور پتھرا جائیں گی آنکھیں۔ طالبان کا مسجد کو اپنی جائے پناہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کو اصلحہ کاسٹور بنا دینا اور  تباہی و بربادی کے لئے استعمال کرنا، خلق خدا کو قتل کرنے کے منصوبے بنانے کے لئے استعمال کرنا ،خلاف اسلام ہے۔ یہ طالبان ایک طرف تو افغانستان میں اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں اور دوسرے طرف مسجد کو اصلحہ خانہ میں تبدیل کر کے اسلام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ مجھے تو ان کے تمام دعوے جھوٹے لگتے ہیں کیونکہ یہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ طالبان یہ بھول گئے کہ اسلامی احکام میں یہ بات فرض ہے کہ مسجد میں کوئی کسی کاقتل نہیں کرسکتا  اور نہ ہی قتل کی منصوبہ بندی کرستا ہےکیونکہ وہ اللہ کا گھر ہے جہاں ہر ایک کو امان ہے ۔ مسجدیں اس کعبہ کی شکل ہیں ۔ اس اعتبار سے مساجد بھی اللہ تعالی کا گھر ہوتی ہیں جہاں اسلامی اصول کے مطابق کوئی کسی کو نقصان نہیں پہونچا سکتا ہے چہ جائے کہ وہاں بے گناہوں کو بم دھماکوں میں مار دیا جائے ۔ یہ نہ تو کسی اسلامی اصول اور نہ ہی کسی انسانی اصول کے موافق ہے ۔ کوئی بھی عبادت گاہ ہو وہ محترم اور مقدس سمجھی جاتی ہے ۔ وہ عقیدت کا مقام ہوتی ہے ۔ ایسی جگہ پر قتل و خون  کرنا یا منصبے بنانےکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اصلحہ بم سٹور کیا جاسکتا ہے۔ آج ہی ہمیں عہد کر لینا چاہئے کہ ہم اب مسجد سے غافل نہیں ہوں گے، اسے آباد کریں گے، اور اسے دینی ومذہبی ضیاء پاشیوں کا مرکز اسی طرح بنائیں گے جس طرح پہلے تھیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ أَحَدًا(الجن: ۱۸)
” اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں پس تم لوگ مت پکارو اللہ (وحدہ لاشریک)کے ساتھ کسی کو بھی”
إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ فَعَسٰی أُوْلٰـئِکَ أَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ(التوبۃ:۱۸)
” اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں، جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر، جو قائم رکھتے ہوں نماز کو اور ادا کرتے ہوں زکوۃ اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے”۔

کاٹالونیا کے انسانی معیار اور اعلیٰ جمالیاتی تجربات کا مابعدالطبیعاتی پہلو

نوائے نے -

(تصویر بشکریہ گارجین ویب گاہ)
 اونچائی، حیرانی ،وجدان، شدت جذبات،حتی کہ حسی تلذذ کاہر انتہائی نوعیت تجربہ اپنی اصل میں مابعدالطبیعاتی ہی ہے ۔۔سپین کا ایک صوبہ ہے کاٹالونیا، جہاں کے رہائشی پچھلے کچھ عرصہ سے سپین سے علیحدگی چاہ رہے ہیں ، اپنی تہذیب اور دیگر مختلف اسباب کی وجہ سے، انہوں نے حکومت سازی بھی کی ، لیکن سپین کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، ان کے ہاں ایک روایت ہے کہ ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پہ سوار ہو کر انسانی مینار سا بناتے ہیں ، اسی سے ملتی جلتی روایت ہندوستان میں بھی ہے ۔ بچوں، عورتوں اور بڑوں کا اس حوالے سے جذباتی تعلق اور کامیابی سے مینار بنا پانے پہ خوشی کا اظہار محض ثقافت سے تعلق کی کہانی نہیں سناتا، بلکہ انسانی تجربات میں سے اعلیٰ جذبات اور تسکین کے بالاتر مصادر کا مابعدالطبیعاتی ہونا ہی بتاتا ہے ۔اس ربط پہ اس حوالہ سے ڈاکیومینٹری دیکھی جا سکتی ہے۔

The Hour of Lynching ... بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پہ مسلم کشی

نوائے نے -

(تصویر بشکریہ بی بی سی ویب سائٹ)
شرلے ابراہام اور امیت مدھیشیا نامی دو بھارتی نوجوانوں کی بنائی اس ڈاکیومینٹری "دی آور آف لنچنگ"سے مذہبی نفرت کے گرد گھومتی بھارتی سیاست، مسلمانوں کی حالت زار، جدید و قدیم کی کشمکش میں ڈولتی اور متزلزل مسلم نوجوان آبادی، ماضی قریب میں مذاہب سے بیزاری کی عالمی لہر کے نتیجے میں سوشلسٹ پارٹیوں اور نظریات کی طرف جھکاؤ ۔۔۔سب آشکارا ہو جاتا ہے ۔
ایک نوجوان دیہاتی مسلمان بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے لاٹھیالوں اور تلوار بردار غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ایک گائے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ بی جے پی کے غنڈے گائے امی کی حفاظت کا دینی فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ بی جے پی کا مقامی ایم پی اے اور کونسلر ٹائپ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، جبکہ راکبر خان نامی مسمل نوجوان کی بیوہ، جوان بچی اور چھوٹے نوعمر بچوں کی حالت زار ۔۔۔سب اس مختصر ڈاکیومنٹری میں دکھایا گیا ہے۔۔بنانے والے بھی ہندو ہیں ، غالباً یہ نوجوان کنہیا کمار جیسے یونیورسٹی سوشلسٹوں سے متاثر ہیں۔ درج ذیل لنک پہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے ۔The Hour of Lynching

خار کمڑ میں بارودی سرنگ کادھماکہ ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت پاک فوج کے 3افسران ، ایک جوان شہید، 4زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

خار کمڑ میں بارودی سرنگ کادھماکہ ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت پاک فوج کے 3افسران ، ایک جوان شہید، 4زخمی شمالی وزیرستان کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کے تین افسران اور ایک جوان شہید ہوگئے ، حملے میں چار جوان زخمی بھی ہوئے ۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیر ستان کے علاقے خار کمڑ میں فوجی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے پاک فوج کے تین افسراور ایک جوان شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے ، شہید ہونیوالے میں لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، میجر معیز مقصود بیگ ، کیپٹن عارف اللہ اور لانس حوالدار ظہیر شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ کا تعلق ہنزہ کے علاقے کریم بیگ سے ہے ، شہید میجر معیز مقصود بیگ کاتعلق کراچی شہید کپٹن عارف اللہ کا تعلق لکی مروت اور لانس حوالدار ظہیر کا تعلق چکوال سے ہے ،دہشتگردوں نے بارودی سرنگ کے ذریعے پاک فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا، اب تک اس علاقے میں شرپسندوں کے حملے میں دس سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 35زخمی ہوچکے ہیں۔دہشتگردوں کی جانب سے حملہ اس علاقے میں کیا گیا جہاں پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ https://dailypakistan.com.pk/07-Jun-2019/975878 کالعدم تحریک طالبان نے وزیرستان دہشتگرد حملے کی زمہ داری قبول کر لی ہے۔ https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-06-08/news-1955669.html طالبان کا قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ۔ طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں .طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا ۔ طالبان کا مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔  طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہین اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -


یہ ابھی کچھ دیر پہلے کی بات کی ہے۔سرددر اور کمزوری کی شکائیت سے آنے والی مریضہ کو جب میں نے ٹینشن کم لینے اور خود کو مصروف رکھنے کا کہا تو مسکرا کرجواب دیا۔ کوشش تو کرتی ہوں لیکن کیا کروں؟ کبھی کبھی سوچ خود ہی آجاتی ہے ۔ اللہ نے تین بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی تھی۔ ایک بیٹا قتل ہوگیا ، دوسرا ایکسیڈنٹ میں چلا گیا اور تیسرے کو بیماری کے بہانے اللہ نے واپس بلا لیا ۔ ایک بیٹی ادھر بیاہی ہوئی ہے۔ اس سے ملنے آئی تھی۔ کسی نے آپ کا بتایا تو چیک اپ کروانے ادھر آگئی۔
ایک دوست کے والد کہا کرتے تھے ۔کچھ باتیں ہم کتابوں سے سیکھتے ہیں کچھ تجربے سے اور کچھ لوگوں سے ۔
اور جو صبر کا سبق مجھے آج تک کوئی کتاب، کوئی وعظ ،کوئی نصیحت نہیں سکھا سکی تھی ۔وہ مجھے اس خاتون کی ایک مسکراہٹ نے سکھا دیا

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

چار پانچ سال کا بچہ کھانسی کی شکائیت کے ساتھ آیا ۔موٹی سی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ جب اس کی ماں اس کی زپ کھولنے میں ناکام ہورہی تھی تو میں نے تھوڑا سا مدد کیلئےزور لگایا تو وہ ٹوٹ گئی۔ اتنے میں اسکا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچے نے چیختے ہوئے اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے میری جیکٹ کی زپ توڑ دی ہے ۔اس کے باپ نے مجھے گھور کر دیکھا ہے تب سے بڑا ہی شرمندہ شرمندہ سا محسوس کررھا ہوں

tabsra

Nostalgia, Scream and Flower -

کتابوں پر تبصرہ...
مکہ مکرمہ کے ہزار راستے
مائیکل وولف
ترجمہ تصدق حسینتاریخ سے دلجسپی رکھنے والوں کیلیئے ایک بہت ہی دلچسپ کتاب ..جس میں مکہ شہر اور حج کے حوالے سے لکھے گئے لگ بھگ تئیس سفرناموں سے اقتباسات کو اکھٹا کیا گیا ہے.. پہلا سفرنامہ 1050 عیسوی اور آخری 1990سے منتخب کیا گیا ہے....
ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے اور اس دور کے شعور کو سمجھے بغیر اس دور کے فیصلوں اور واقعات کو سمجھا نہیں جاسکتا۔اور کسی دور کے شعور کو سمجھنے کیلئے سفرنامے اور خود نوشت سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے
ایک ایسا شہر جہاں کوئی فصل نہیں ہوتی نہ ہی کوئی اناج پیدا ہوتا ہے ۔ ایک ایسا شہر جہاں پینے کا پانی بھی بارشوں کا محتاج ہے اور ایک ایسا شہر جس کے لوگوں کو اپنی زندگی کی ساری ضروریات کیلئے باہر کی دنیا کی طرف دیکھنا پڑتا ہو ۔ اور ایک ایسا شہر جہاں تک پہنچنے کیلئے خطرات کے پل صراط موجود ہو۔ اس شہر کو اللہ تعالی اپنا شہر قرار دے کر وہاں سے ایک ایسی دعوت کو کھڑا کرتا ہے کہ جس کی بازگشت چند ہی صدیوں بعد پوری دنیا میں گونج رہی تھی۔ اور وہ دعوت کس قدر جامع اور مضبوط تھی کہ راستوں کی سختیاں اور موسم کی نا مہربانیاں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں ۔ایسے ہی سمجھ لیں اگر لاہور سے ایک کام شروع کیا جائے تو اس کو لوگوں تک پہنچانا کس قدر آسان ہوگا اور تھر کے صحرا میں کھڑی کسی بستی سے ایک پیغام کو دنیا تک پہنچانے کیلئے حالات کتنے ساز گار ہوسکتے ہیں ؟ ۔
مکہ شہر ویسا نہیں تھا جیسا اب ہے ۔اس شہر میں زندگی کس قدر مشکل تھی اور وہاں رہنے اور پہنچنے کیلئے کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا ۔مکہ شہر کا حدود اربعہ وہاں کے صعوبتیں اور مسافروں کو در پیش مسائل اور تکالیف کا ادراک مجھے ان سفرناموں کو پڑھ کرہوا جو اس کتاب میں جمع کیئے گئے ہیں
عرب چھوٹے چھوٹےقبائل میں تقسیم تھے۔ اور ان قبائل کو عبور کرکے مکہ آنا یا پھر عرب کے اس خطے سے باہر نکلنا ایک بہت جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس کے علاوہ خوراک اور پانی کی کمیابی اور موسم کی سختی الگ سے مسئلہ ہمیشہ سے درپیش رھا ہے۔ مکہ تک پہنچنے کیلئے کون کون سے راستے تھے اورحکمران طبقے کی طرف سے حاجیوں کو کیلئے کیا کیا سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں۔اور حاجیوں کی راہ میں کیسے روڑے اٹکائے جاتے تھے۔یہ محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ مکہ شہر ، حج اور حج کے سفر کے ارتقا کی ایک دستاویزی ڈاکومنٹری ہے۔
ایک اور اہم چیز جو اس کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے ، وہ ہماری مسلم تاریخ کی معتدل تصویر ہے جو کتابوں میں درج قتل غارت سے بھرپور تاریخ کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
میں نے یہ کتاب رومیل پبلیکیشنز کے فیس بک پیج سے آرڈر کرکے منگوائی تھی..
https://www.facebook.com/romailpublications/میم سین

yadoon ka

Nostalgia, Scream and Flower -


یادوں کا جھروکہ......پانچ منٹ تک مرغا بنے رہنے کے بعد کھڑا ہوا تو اوسان بحال ہونے میں کچھ وقت لگ ہی گیا
بہت دنوں بعد جب دھند سےآسمان صاف ہوا تو چمکدار دھوپ دیکھ کر ریاضی کی کلاس گراؤنڈ میں لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس گراؤنڈ میں ہماری کلاس نے ڈیڑہ ڈالا اس کے ساتھ والی گرائونڈمیں سالانہ کھیلوں کی تیاری کیلئے طالب علم کرکٹ کی پریکٹس کررہے تھے۔ ماسٹر صاحب جونہی بلیک بورڈ پر لکھنے کیلئے رخ بدلتے، میں فورا بالر اور بیٹس مین کی کارکردگی دیکھنے میں مصروف ہوجاتا اور ماسٹر صاحب کے کلاس کی طرف مڑنے سے پہلے دوبارہ اپنی توجہ کلاس میں مرکوز کرلیتا۔
بیٹسمین نے ایک سٹروک کھیلا اور گیندہوا میں کافی بلند ہوگئی ۔ فیلڈر اس کے نیچے تھا۔ میری نگائیں بال اور فیلڈر پر مرکوز تھیں ۔ کیچ کرسکے گا یا نہیں۔اور جب میں کلاس کی طرف متوجہ ہوا تو ماسٹر صاحب اشارے سے مجھے اپنے پاس بلارہے تھے۔۔۔۔۔ریاضی کے یہ ماسٹر صاحب ناصرف پڑھائی کے معاملے میں کافی سخت مزاج تھے بلکہ وقت کے بھی بہت پابند تھے۔ چھٹی کا لفظ شائد ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا ۔ سکول شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے زیرو پیریڈ کے نام پر اضافی کلاس بھی لیا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے ان کی طالب علموں میں مقبولیت حکومتی کارکردگی کی طرح کافی کم رہتی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن سکول سے بنا کسی اطلاع کے غائب ہوگئے۔دوپہرکو خبر ملی، لقوہ ہوگیا ہے۔ محمد بخش تو کہہ کر گیا تھادشمن بیمار پوے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی بیمار پر جاناں
ٹیگر تے دن ہویا محمد اوڑک نوں ڈب جانالیکن خوشی وہی، جو چھپائے نہ چھپے ۔باوثوق ذرائع سے پتا چلا، دو ہفتے سے پہلے ان کا سکول آنا ممکن نہیں ۔اور کلاس میں جشن کی گھٹا چھا گئی۔ ۔لیکن سانحہ یہ ہوا کہ تیسرے دن ہی منہ پر کپڑا لپیٹ کر کلاس میں چلے آئے اور سرپرائز ٹسٹ کا علان بھی کردیاولی محمد صاحب کو اللہ غریق رحمت کرے اور جنت کے بلند مقام پر جگہ دے۔ ایک بار کلاس میں میرے بارے کہا تھا کہ اس کو سعادت مندی کی وجہ سے اللہ ہمیشہ کچھ نمبر تیاری کے بغیر ہی دے دیا کرے گا ۔اور اللہ تب سے کچھ نہیں، سے کچھ زیادہ ہی نواز رھا ہے۔۔۔
میم.سین

moulvi

Nostalgia, Scream and Flower -

بھولی بسری یاد...گزرے دنوں کی بات ہے کالج کی مسجد میں ایک صاحب جمعہ پڑھایا کرتے تھے..کالج کی مسجد تھی تو مقتدی زیادہ تر طالبعلم ہی ہوا کرتے تھے لیکن.جمعہ کے موضوعات کافی اڈلٹ نوعیت کے ہوتے تھے..جیسے ایک سے زائد شادی کی شرعی حیثیت، مسئلہ لعان، شوہر کے ازدواجی حقوق، حلالہ کیا ہے..
ایک ایسے ہی جمعہ میں نقشہ کھینچ رہے تھے ایک اچھی بیوی کا... کہنے لگے ایسی بیوی ملے تو دل کرتا ہے ایسی ایک اور بیوی ہو، دو نہیں تین.ہوں اور تین بھی کیا چار بھی کم ہونگی...
لیکن یہ بات کنواروں کو سمجھ نہیں آسکتی..
اور ہم نے بے ساختہ ارد گرد نظردوڑائی کہ یہاں شادی شدہ کون ہے؟

ایک لمحے کے تعاقب میں

Nostalgia, Scream and Flower -

آوارہ گرد کی ڈائری...
ایک لمحے کے تعاقب میںکچھ لمحے لافانی ہوتے ہیں۔ فردوسی لمحے ۔ وہ لمحے جن میں انسان قید ہوجاتا ہے ۔وہ لمحے جو تنہائی میں بھی مسرت کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔وہ لمحے جو پروں کے بغیر اڑان بھرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ایک انوکھی روحانیت، ایک انوکھی راحت۔وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جس نے مجھے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ جس سے رہائی کا سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔
فطرت کے نظام میں کبھی ترتیب نہیں ہوتی لیکں اس ترتیب میں ایک حسن ہوتا ہے۔اور اس حسن کی تلاش میں ابوزر کے ہمراہ ایک بار پھر محو سفر تھا ۔کلرکہار انٹر چینج سے اتر کر چکوال روڈ پر سفر شروع کیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر جلیبی چوک سے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو جانے والے راستے پر سفر شروع کیا۔ اس روڈ پر کوئی تین کلومیٹر چلنے کے بعد دائیں جانب ایک سڑک نکلتی ہے جو موٹر وے کے نیچے سے گزر کرکلرکہار ایریا کی سب سے خوبصورت سیوک جھیل کوجانے والے ٹریک کو ملاتی ہے جس پر پچھلے سال ایڈونچر کیا تھا لیکن بدقستی سے جہاں سے پیدل ٹریک شروع ہوتا ہے وہاں تک پہنچتے پہنچتے شام ہوچکی تھی اور سیوک جھیل کو ،پھر آئیں گے کہہ کر واپس لوٹ آئے تھے۔ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے بعد سڑک سنگل ہوجاتی ہے ۔کٹی پھٹی لیکن اس قابل ہے کہ آسانی سے اس پر سفر کیا جاسکے۔ چڑھائی دھیرے دھیرے بڑھتی ہے اس لیئے ڈرائیونگ میں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی ۔
میلوٹ ٹیمپل کے قریب پہنچ کر گاڑی کو ایک طرف پارک کیا۔باہر نکلے تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ گہرے بادل اور یخ بستہ ہوائوں نے جسم میں ایک سنسناہٹ پھیلا دی۔ اور ہیبت ناک ہزاروں سال پرانے ٹیمپل کے آثار کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے ہوئے جب دوسری طرف نکلا تو سفید چٹانوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے قدموں کے نیچے سے جیسے چھت ختم ہوگئی ہو اور سامنے جہلم کا وسیع و عریض ڈیلٹا تاریخ کے ہزاروں صفحوں کو اپنے اندر سموئے اپنی بے پناہ تابناکیوں کے ساتھ کسی آرٹسٹ کے کینوس کی مانند میری نظروں کے سامنے پھیلا ہواتھا۔
ٹھنڈی یخ ہوا ایک عجیب پر اسرایت پیدا کررہی تھی ۔میرے سامنے فطرت کی رعنائی اپنی بھرپور دلفریبی کے ساتھ میرے اوپر ایک سحر طاری کرچکی تھی ۔جس میں بل کھاتی ندیاں اور موٹر وے ایک لکیر کی صورت دکھائی دے رہی تھی۔تاحد نظر سر سبز و شاداب وادی بکھری ہوئی تھی۔ ہواؤں کے سرد تھپرے کسی نظر نہ آنے والے ہیولوں کی مانند جسم کو سہلاتے اٹھکیلیاں کرتے کبھی سامنے سے دھکا دیتے تو کبھی سائیڈ سے۔
میں وادی کی طرف منہ کرکے ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔یہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان تنہائی میں مسرت محسوس کرتا ہے۔ امنگیں اور ولولے ایک ہجوم بپا کردیتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسانی فطرت کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔انسانی احساسات کے گمشدہ گوشوں کو روشن کرتے ہیں ۔انسانی ذہن کی متضاد کیفیتوں کی آماجگاہ کو ایک نقطے پر سمیٹ دیتے ہیں۔
میں سرشار تھا۔ایک مدھر ترنگ سرشاری دکھا رھا تھا۔پہلا لمحہ دوسرے میں ڈھل رھا تھا اور دوسرا تیسرے میں، تیسرا ایک احساس میں ۔اور میں ایک وجدانی کیفیت اور خودفراموشانہ محویت سے ایک جذبے میں ڈھل رھا تھا۔ اس جذبے کا کوئی نام نہیں تھا ۔ جس جذبے کو آپ کوئی نام نہ دے سکیں اس کو خوشی کہتے ہیں ۔ روحانی خوشی۔
وہ لافانی لمحے تھے ۔وجدانی لمحے۔وہ لمحے جن کا کوئی مول نہیں
وہ لمحے ، جن کے اختتام پر احساسات کا ہجوم ہوتا ہے، ناقابل بیان ہیجان ہوتا ہے۔
امید، حزن، توقعات، ملال، حسن، اداسی، خوشی، سرشاری، جوش۔
جذبات و احساسات کا ہجوم ہوتا ہے جو انسانی وجود اور زندگی کے ضامن ہیں وہ جذبات جن کے دم سے انسانی زندگی چل رہی ہے اور اپنے اپنے محور میں زندہ ہے۔
زندگی اسی کا نام ہے شائد ہر جذبے کا احساس، اس کا ظہور اور اس ظہور کا احساس۔
اور انسانی زندگی کی معراج شائد ان جذبوں کو زبان دینا ہے ۔
احساسات کے اظہار کی لگن روز ازل سے انسان کے خمیر میں ہے۔.....کیمرہ سے قلم تکسفر کریں۔ خوش رہیں۔ احساسات لکھیں اور خوشی محسوس کریں
میم سین

haqeeqat

Nostalgia, Scream and Flower -

یہ چند دن پہلے کی بات ہے .اپنے بھائی ابوزر کے ہمراہ چورپرجی والے خان بابا کے ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے پہنچا...خان بابا کا مٹن قورمہ ذائقے میں اپنی نوعیت کی منفرد ڈش ہے.. سالوں بعد بھی جائیں تو وہی ذائقہ ملتا ہے جو آپ کی زبان.محسوس کررہی ہوتی ہے....اس دن بھی کچھ ایسا ہی ذائقہ زبان.پر رکھے وہاں پہنچے اور قورمہ آرڈر کردیا..سروس کا بھی جواب نہیں اور چند ہی لمحوں بعد کھانا میز پر موجود تھا..اس دن ذائقہ تو ہمیشہ کی طرح ویسے ہی اعلی لگ رھا تھا لیکن گوشت کی کوالٹی بھی معمول سے زیادہ اچھی دکھائی دے رہی تھی..
لیکن ہوا کچھ یوں کہ ابھی ابتدائی لقمے ہی چل رہے تھے کہ گردے کا درد شروع ہوگیا..جووقفے وقفے سے اٹھتا اور پھر کچھ سنبھل جاتا... جیسے تیسے کھانا ختم.کرلیا..لیکن.کھانے کا ذائقہ یاد رھا نہ گوشت کی کوالٹی..درد بھی کچھ دیر بعد کافی سنبھل گیا
لیکن اس سارے واقعے سے میں نے ایک نتیجہ نکالا...
دوسری شادی کا فیصلہ کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی گردے کے درد جیسی بدمزگی پیدا ہوجائے تو سارا مزہ کرکراہ ہوجانا ہے..

flowers

Nostalgia, Scream and Flower -

بہار آئی توجیسے یک بار۔۔۔۔کچھ قربتیں , کچھ تعلق زبان کے محتاج نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بھی ہم ان سے باتیں کرتے ہیں ۔ آبشار کے پتھروں سے ٹکرا کر نکلتی ترنم کی زبان ، ہوا سے ٹکراتے، سرسراتے پتوں کی زبان، ندی کے پانی کی، پتھروں سے ٹکرا کر پیدا ہوتی گونج کی زبان۔ خشک مٹی پر پڑنے والے بارش کے پہلے چھینٹوں سے اٹھتی خوشبو کی زبان۔ پسینے سے شرابور جسم سے ٹکرانے والی ہوا کے پہلے جھونکے کی زبان۔ ساحل پر سمندر کے پانی کے پاؤں پر پہلے لمس کی زبان ۔ پتوں میں سے چھن چھن کر آتی سورج کی شوخکرنوں کی زبان ۔
جذبات اور احساسات خود ساختہ نہیں ہوتے۔ یہ فطری ہوتے ہیں۔ فطرت جب فطرت سے باتیں کرتی ہے تو تو روحیں تحلیل ہوجاتی ہیں ۔ایک خودفراموشی کا عالم ہوتا ہے۔ مسرت، طمانیت، ایک جذباتی یگانگت، اپنائیت۔
پرندوں کی خوش الحانی میں صدا سنائی دیتی ہے۔ درختوں کے پتوں کے رنگوں میں سانسوں کا گماں ہوتا ہے۔پھول کی پنکھڑیوں میں خوشبو کسی سنگیت میں رنگ بھرتی نظر آتی ہیں۔ یہ کتنا دلکش احساس ہے۔ کس قدر دل نشیں۔
چلیں پھر پھولوں سے باتیں کریں ۔ایک نیا رنگ ایک نیا روپ ایک نیا کیف محسوس کریں۔ ایک الہام کو۔ ایک وجدان کو ۔محبت کے اس اھساس کو جو لہو کی طرح ہمارے جسموں میں رواں ہے۔کائنات کی ان بہاروں کو جو ہمارے ارد گرد سماں باندھے کھڑی ہیں۔ زندگی کی ان گنت رعنائیوں کو جو آرزوئوں کو پروان چڑھاتی ہیں۔اس ابدی خوشی کیلئے جس کو زوال نہیں ۔
میم سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

یاداشتیں....چند سال پہلے ہمیں ایک تعریفی خط موصول ہوا تھا..خوشی سے ہم پھولے نہ.سمائے تھے..پھر ایک غزل نما بھی موصول ہوئی جس میں ہماری تعریف کچھ کچھ ڈبے میں کیک رکھ کر کی گئی تھی...پاس ہی عید تھی .عید کا کارڈ بھی ملا...جس پر ایک چھوٹا سا دل بھی بنا ہوا تھا.سرخ مارکر کے ساتھ جس میں ایک تیر بھی پیوست تھا...جس دن غائبانہ مداح نے اپنا تعارف کروایا تو معلوم ہوا ان کی تو پوری فیملی ہی ذہنی مریض ہے اور خود بھی ڈیپریشن کا ہی علاج کروا رہی تھی....ایک فیملی اپنی لڑکی کو بے ہوش حالت میں لائے جس نے زہر پی لیا تھا.چونکہ پرانا تعلق تھا اس لیئے ریفر نہ کرسکا .جب معدہ واش کرنے کیلئے نالی لائی گئی تو لڑکی نے کن اکھیوں سے موٹی سی نالی دیکھی تو اوسان خطا ہوگئے اور جونہی موقع ملا کہ تو ہاتھ جوڑ دیئے. میں نے تو اسے پریشان کرنا تھا جو کئی دن سے میری کال نہیں سن رھا تھا اور میرے میسجز کا جواب نہیں دے رھا تھا..ایک لڑکی چہرے کی دوائی لینے آئی.ہاتھ میں موبائل تھا.جونہی سٹول پر.بیٹھی تو سکرین آن ہوگئی...اس پر اس کی تصویر لگی تھی....بڑی گلاسز ...سیلفی سٹائل .. سفید شفاف جلد کے ساتھ ...
نقاب ہٹایا تو سارا چہرہ دانوں اور سیاہیوں سے بھرا ہوا تھا..بےساختہ منہ سے نکلا..
دیتے ہیں دھوکہ یہ موبائل کے فلٹر کھلا..یہ ابھی کل کی بات ہے..ایک پٹھان فیملی کو بچے کے بارے سمجھایا کہ گھر جاکر پہلے گرم.پانی سے نہلانا ہے پھر اس کو دوائی پلانی ہے اس کے آدھے گھنٹے بعد دودھ پلانا ہے...
اور آج خان صاحب کافی غصے میں تھے..ہمارے بچے کو کوئی افاقہ نہیں ہوا..
گھر جا کر ہم نے دوائی سے نہلایا پھر اس کوگرم.پانی کرکے پلایا ..آدھے گھنٹے بعد دودھ پلایا لیکن اس نے پھر الٹی کر دی...چلتے چلتے ایک بھولی بسری کہانی سناتا چلوں۔یہ کہانی ہے ایک چار جوان بچوں کی ماں کی جو ایک نوجوان ڈاکٹر کی اداؤں پر فریفتہ ہوگئی تھی۔خاتون کو اس نوجوان سے محبت ہوگئی تھی یا پھر صرف عقیدت تھی۔ اس کا جواب شائد اتناآسان نہیں ۔ ہوا کچھ یوں کہ نوجوان ڈاکٹرنے ایک قصبے میں نیا نیا کلینک کھولا تو وہ خاتون جو اپنے ایک سو بیس کلو وزن سے نالاں تھی ۔ اس ڈاکٹر کو بھی آزمانے پہنچ گئی۔ اور نوجوان جو نیا نیا ڈگری لیکر کالج سے نکلا تھا۔ پوری توجہ سے اسکی رہنمائی کی۔ اور خاتون اس توجہ پر کچھ اس طرح فدا ہوئیں کہ ناصرف ہدایات کو وحی سمجھ کر عمل کرنا شروع کردیا بلکہ ڈاکٹر کیلئے کبھی تازہ پھلوں کا جوس، کبھی ملک شیک، کبھی گاجروں کا حلوہ کے تحفے میں لانا شروع کردیئے۔ نوجوان ڈاکٹر تکلف کا مارا انکار تو نہ کرتا لیکن خاتون کے جانے کے بعد وہ کلینک کے عملے میں تقسیم کر دیتا۔ اور یوں خاتون نے چند مہینوں میں پورے تیس کلو وزن کم کرلیا۔ اور پھر ایک دن کچھ یوں ہوا کہ وہ خاتون بہت محبت کے ساتھ میووں میں بنا سوجی کا حلوہ بنا کرلائی۔ اورڈاکٹر نے حسب عادت اس کے جانے کے بعد پلیٹ عملے کے حوالے کر دی۔ لیکن خاتون کو کسی کام سے واپس لوٹ کر آنا پڑااور سویپر کے ہاتھ میں سوجی کے حلوہ کی پلیٹ دیکھ کر اس کے دل پر کیا گزری اس کا تو پتا نہیں لیکن وہ دوبارہ لوٹ کر کلینک پر نہیں آئی۔ راوی لکھتا ہے کہ ایک ماہ بعد ہی خاتون کا وزن دوبارہ ایک سو بیس کلو ہوگیا تھا اور وہ نوجوان ڈاکٹرآجکل کلینک سے کتاب تک لکھنے کے بعد اس کے اگلے حصے کی تیاری میں مصروف ہے۔میم سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

اماں حاجرہ اپنی بیماری کی فائلوں کے ساتھ پہلی بار آئیں تو ان کی ایک سال سے پخانے کے ساتھ خون آنے کی شکائیت ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے اور ہر ٹیسٹ کروانے اور کئی ڈاکٹرز کو چیک اپ کروانے کے باوجود رفع نہیں ہوسکی تھی..چیک اپ کرنیاور رپورٹس دیکھنے کے بعد میں نے ان کو ان کی بتائی ہوئی علامات پر سوچنے کی بجائے ذہنی امراض کی ادوایات شروع کرنے کا فیصلہ کیا..اور ہفتے بعد ہی کافی مطمئن واپس آئیں کہ اب خون آنا کافی کم ہوگیا ہے..چند ملاقاتوں کے بعد اماں سے بے تکلفی بڑھی تو ان کا میرے اوپر اعتماد بھی بڑھ گیا...جب اپنی اس کیفیت سے باہر نکل آئیں تو ایک دن بتانے لگیں....میرے چار بیٹے ہیں..زمینوں کا انتظام اور کاروبار کے سلسلے میں صبح گھر سے نکل جاتے ہیں..سب کی شادی میری مرضی اور پسند سے ہوئی ہے. شام کو جب واپس آتے ہیں تو ہم سب اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں..اس دن بھی جب سب کھانا کھانے لگے تو مجھے اپنا بیٹا ماجد یاد اگیا جو پانچ سال پہلے خونی پیچش لگنے کے بعد فوت ہوگیا تھا.. اور اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال نہ سکی..اگر وہ زندہ ہوتا تو آج وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رھا ہوتا.....ماں تو آخر ماں ہی ہوتی ہے....اسکے سارے بچے ایک جیسےمیم سین

camera

Nostalgia, Scream and Flower -

آوارہ گردی کے تین سال۔۔۔لوگ سمجھتے ہیں شائد ایک اچھا کیمرہ ایک اچھی تصویر کی ضمانت ہے اور میں بھی یہی سمجھتا تھا۔ لیکن وقت اور تجربے نے سکھایا ایک اچھا کیمرہ ایک اچھے ہتھیار کی طرح ہوتا ہے لیکن اسکو کب استعمال کرنا کیسے کرنا اور کس اینگل سے کرنا یہ سب کچھ تجربہ اور وقت سکھاتا ہے۔ایک اچھی تصویر کیلئے مناسب روشنی ، مناسب زاویہ, رنگوں کا امتزاج، اور بہت سارے دوسرے اجزا کے ساتھ فوٹو شاپ کا استعمال ضروری ہےفوٹو شاپ کا استعمال ضروری کیوں؟ روشنی کو کم زیادہ کرنا، زاویہ درست کرنا،غیر ضروری ابجیکٹس کو غائب کرنا، کراپ کرنا، بلرحصوں کو کلیئر کرنا۔وغیرہ وغیرہانسانی شعوراور علم وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہم جس بات پر کل یقین رکھ رہے ہوتے ہیں اس پر آج سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں اور جس بات کو کل ماننے سے انکاری ہوتے ہیں اس کو آج ایمان کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔ شعور ہمیشہ ارتقا کا سفر کرتا ہے۔ ایسے ہی علم وقت کے ساتھ بالیدگی کی سیڑھیاں طے کررھا ہوتا ہے۔۔ باقائدگی سے شروع کی ہوئی اس فوٹوگرافی کو لگ بھگ تین سال ہوچکے ۔اورہر سال جب اپنی پرانی تصویروں کو نکال کر دیکھتا ہوں تو آدھی سے زائد تصویروں کو نظر آنے والی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ریجیکٹ کردیتا ہوں۔میں کوئی بہت اچھا فوٹو گرافر نہیں ہوں نہ ہی مجھے کوئی ایسا دعوی ہے بس ایک ایگزاسٹ ہے جو قلم اور کیمرے کی مدد سے نکالتا رہتا ہوں لیکن جب مجھے کوئی فوٹو گرافی کے بارے پوچھتا کہ اچھی تصویر کیلئے کیا ضروری ہوتا ہے تو میرا جواب ہوتا ہے ۔ زندگی کے ہر کام کی طرح مستقل مزاجی۔۔میم سین

summer

Nostalgia, Scream and Flower -

ہمارے ہاں بہت سی خواتین کے نزدیک پچے کی پیدائش کے بعد سوا مہینے بعد پاک ہونے کیلئے جو غسل کیا جاتا ہے اس سیپہلے نہانا منع ہوتا ہے...ایسے ہی بہت سی عبایا پہننے والی خواتین سمجھتی ہیں کہ عبایا کا کپڑا شائد دھونے سے خراب ہوجاتا ہے....اور دونوں باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے..اپنے اوپر نہ سہی دوسروں پر رحم کھائیں جو مروت کے مارے بدبو کو برداش کرنے مجبور ہوتے ہیں..میم سین کلینک سے کتاب تک والے #عبایا #عبایادھونا #پسینا #گرمیاں #شاور
اضافی حاشیہ بشکریہ شہباز ملک صاحب..
حضرات سے بھی گذارش کہ گرمی کے موسم میں وضو کرتے ہوئے ایک گیلا ہاتھ اپنی کَچھ میں بھی مار لیا کریں۔ اسی طرح سردی کے موسم میں جرابوں کی دھلائی پر بھی تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ دوران جماعت اگر اگلی صف میں کوئی“مجرب”بھائی سجدہ ریز ہوں تو پچھلی صف والے بندے کے لئے سانس بند کر کے سبحان ربی الاعلیࣿ کا ورد مشکل ہو جاتا ہے۔
عمومی تاثر یہی ہے کہ سادگی دراصل اپنے حال اور آپٹکس سے بے خبری کا نام ہے۔ ذاتی صفائی سے بے اعتنا بندے کو پتہ نہیں کیوں سادہ مزاج سمجھا جاتا ہے۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator