Feed aggregator

پارا چنار طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،25 افراد شہید ،100سے زائد زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

پارا چنار طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،25 افراد شہید ،100سے زائد زخمی پار ا چنار کے مصروف ترین طوری  بازار  میں یکے بعد دیگرے 2  دھماکے ،25 افراد شہید اور 100سے زائد زخمی ہو گئے ،20 سے زائد زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ،شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ،سرکاری حکام نے پارا چنار میں ہونے والے دھماکے کو خود کش قرار دے دیا، پاک فوج ،فرنٹیئر کور اور پولیس کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف۔

تفصیلات کے مطابق جمعتہ الوداع کے موقع پر کوئٹہ کے بعد پارا چنار کے مصروف ترین بازار میں  میں یک بعد دیگرے 2دھماکوں کے نتیجے میں25افراد شہیدہوگئے ہیں جبکہ100کے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے30سے زخمیوں کی حالت انتہائی  تشویشناک ہے جبکہ شہادتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہے ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق پارا چنار کے طوری بازار میں لوگ عید کی خرید داری میں مصروف تھے کہ ایک ہلکا دھماکہ ہوا ،جب لوگ دھماکے کی جگہ پر جمع ہوا تو دوسرا  انتہائی  زور دار دھماکہ ہوا جس کی آواز 2 کلو میٹر دور تک سنی گئی ،دھماکے کے فوری بعد طوری بازار میں قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا ،ہر طرف زخمیوں کی چیخ و پکار دلوں کو دہلا رہی تھی ،مقامی لوگو اپنی مدد آپ کے تحت طوری بازار سے زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے نظر آئے جبکہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج ،فرنٹیئر کور ،پولیس اور دیگر امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال پہنچایا ،دھماکے کے بعد پارا چنار کے تمام  ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے ،جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بھی جائے حادثہ کی جگہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے ابتدائی طور پر امدای کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔یاد رہے کہ پارا چنار دھماکے کے فوری بعد 10 افراد کی شہادت کی اطلاع تھی لیکن بعد میں اس افسوسناک دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 15اور بعد میں بڑھ کر 25 ہو گئی ہے جبکہ ان شہادتوں میں ابھی مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ایک دوسرے ٹی وی کے مطابق طوری بازار میں  پہلا دھماکہ ہوا تو  خریداری میں مصروف  لوگ دھماکے کی جگہ پر اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ،ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ خوفناک دھماکے نے ہر چیز تباہ و برباد کر کے رکھ دی جبکہ  دھماکے کی آواز 10کلومیٹر دور تک سنائی گئی۔دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جب کہ ریسکیو آپریشن کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے پاراچنار دھماکوں پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں جب کہ کوئی بھی مسلمان ایسے گھناؤنے اقدامات کا تصور بھی نہیں کرسکتا تاہم دہشت گردی کے ایسے واقعات کو ریاست کی طاقت سے کچل دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے جب کہ وزیراعظم نے ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت کی۔ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی پارا چنار دھماکوں کی شدید مذمت کی جب کہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاراچنارکے شہدا کے ورثا کےغم میں برابرکے شریک ہیں اور دہشتگردی کو نیست ونابود کرنے کے لیے قوم تیار ہوجائے۔ دہشتگردوں کو رمضان کے مقدس مہینے اور جمعتہ الوداع کے  تقدس کا بھی خیال نہ ہے۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ جماعت احرار گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔عورعتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جماعت احرار جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول(ص) کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. دہشتگردوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خودکش حملے  اور بم دہماکےکر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ یہ شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے  ۔ جماعت احرار   کا طرز عمل ، جہاد فی سبیل کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔ اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جماعت احرار اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاد نہ کر رہے ہیں۔دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ضرب عضب کے علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

 

 


Filed under: پارا چنار طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،25 افراد شہید ،100سے زائد زخمی, جمعتہ الوداع کے موقع, دھماکے کو خود کش قرار دے دیا, شہادتوں میں اضافے کا خدشہ, طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے Tagged: پارا چنار طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،25 افراد شہید ،100سے زائد زخمی, جمعتہ الوداع کے موقع, دھماکے کو خود کش قرار دے دیا, شہادتوں میں اضافے کا خدشہ, طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے

کوئٹہ میں آئی جی کے دفتر کے سامنے ممکنہ خودکش حملہ ، پولیس اہلکار وں سمیت 12افراد شہید ، 20 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کوئٹہ میں آئی جی کے دفتر کے سامنے ممکنہ خودکش حملہ ، پولیس اہلکار وں سمیت 12افراد شہید ، 20 زخمی کوئٹہ کے علاقے گلستان روڈ پر آئی جی آفس کے سامنے ممکنہ خودکش حملے میں6 پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد شہید اور 20زخمی ہو گئے ۔جائے حادثہ کے قریب ڈی آئی جی کا دفتر بھی واقع ہے جبکہ گرلز و بوائز سکول بھی قریب ہی واقع ہیں۔

دھماکے کے بعد سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکا خٰیز مواد کار میں نصب تھا جس میں مبینہ خودکش بمبار بھی موجود تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی تو دہشتگرد نے  دھماکا کیا۔حملہ آور کا ٹارگٹ ممکنہ طور پر آئی جی آفس ہی تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے جناح چیک پوسٹ کے قریب  آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے کار میں نصب بم دھماکا ہوا ہے جس میں پولیساہلکاروں سمیت 12 افراد شہید اورایک بچی سمیت 20 زخمی ہیں جنہیں سول ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ۔زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ۔دھماکے کی آواز پورے شہر میں سنی گئی جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔دھماکے سے 2 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔شہید اہلکاروں کی شناخت لال خان ، غنی خان اور ساجد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی چلانے والے شخص کی عمر 18سے 20سال کے درمیان تھی جس کی وضع قطع کے بارے تاحال کچھ نہیں بتایا گیا تاہم اس کا نشانہ ممکنہ طور پر آئی جی آفس تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح چیک پوسٹ کے قریب  کینٹ کا علاقہ بھی واقع ہے۔ دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے حادثہ پر پہنچ گئے جبکہ پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے ۔ اس کے علاوہ  بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیاہے جو دھماکے کی نوعیت کاپتہ لگانے میں مصروف ہیں۔ دھماکے سے محکمہ تعلیم کی عمارت کی دیوار بھی زمین بوس ہو گئی۔ ترجمان بلوچستان حکومت انورا لحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد کار میں نصب تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد شہید ہوئے تاہم دھماکے سے لگتا ہے کہ پولیس کے اہم دفاتر دہشتگردوں کا ٹارگٹ تھے۔سیکیورٹی اہلکاروں نے کار کو روکا تو دھماکا ہوا تاہم دھماکے کی جگہ سیکیورٹی موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ بم دھماکوں کے حوالے سے انٹیلی جنس اطلاعات تھیں جس وجہ سے سیکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی تاہم جس نوعیت کا دھماکا تھا اس قدر نقصان نہیں ہوا ، دھماکے سے زیادہ جانی نقصان ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔’’دہشتگردوں نے سافٹ ٹارگٹ کیا ہواتھا جو شائد آگے بڑھنا چاہ رہے تھے مگر ایسا نہیں ہو سکا تو انہوں نے اسی جگہ دھماکا کر دیا ‘‘۔ ادھر سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی سید جمیل الرحمان کے نام سے رجسٹرڈ ہے جس کا نمبر ٹی 4377 ہے اور کراچی سے رجسٹرڈ شدہ ہے، دھماکے سے قبل گاڑی گلستان روڈ پر ایک چوک میں خراب بھی ہوئی جس کے بعد ڈرائیور کے کہنے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے دھکا لگا کر اسے سائیٖڈ پر کر دیا جس کے فوری بعد دھماکا ہو گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار شخص کی عمر 18 سے 20 سال تھی جس کا ہدف ممکنہ طور پر آئی جی آفس تھا۔ http://dailypakistan.com.pk/quetta/23-Jun-2017/598502 صدر ممنون حسین نے کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد آخری سانسیں لے رہے ہیں جبکہ ریاست عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کےمقدس مہینے میں معصوم انسانوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی بزدلی کی بدترین مثال ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم پرعزم ہوکر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں سنگین جرم میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کےلئےکوئی کسراٹھانہ رکھیں۔ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ہرصورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو علاج معالجےکی بہترین طبی سہولیات فوری مہیاکی جائیں، وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سفاکانہ عمل میں ملوث دہشت گرد کسی طور قابل رحم نہیں ، انہیں ہر صورت انجام تک پہنچائیں گے۔وزیراعظم نواز شریف نے بتایا کہ دہشت گردی و انتہاپسندی کو جڑ سےاکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری قوم پر عزم ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے بھی کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے. لشکر جھنگوی پاکستان  بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرر ہی ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے۔ دہشتگرد اپنے گمراہ کن نظریات کی وجہ سے اسلام کو بد نام کررہے ہیں۔ گمراہ عناصرنے خونریزی کر کے اسلام کو بدنام کیا ہے اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ خودکش حملے،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. دہشتگردوں کا طرز عمل جہاد فی سبیل اللہ  کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے.۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ لشکر جھنگوی گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ لشکر جھنگوی اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاد نہ کر رہے ہیں۔دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ضرب عضب کے علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔دہشت گردی ایک ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ، دہشت گرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا اسلام اور پاکستان دشمنی ہے۔
Filed under: مبینہ خودکش بمبار بھی موجود تھا, نشانہ ممکنہ طور پر آئی جی آفس, کوئٹہ میں آئی جی کے دفتر کے سامنے ممکنہ خودکش حملہ, پولیس اہلکار وں سمیت 12افراد شہید ، 20 زخمی, بچی سمیت 20 زخمی, جناح چیک پوسٹ, دھماکا خٰیز مواد کار میں نصب تھا Tagged: مبینہ خودکش بمبار بھی موجود تھا, نشانہ ممکنہ طور پر آئی جی آفس, کوئٹہ میں آئی جی کے دفتر کے سامنے ممکنہ خودکش حملہ, پولیس اہلکار وں سمیت 12افراد شہید ، 20 زخمی, بچی سمیت 20 زخمی, جناح چیک پوسٹ, دھماکا خٰیز مواد کار میں نصب تھا

یہی ایک موقع ہے!!

کچھ دل سے -



صاحبو! یہی ایک موقع ہے!از: حامد کمال الدین
ایک دانا نے کسی بھلےمانس کو غفلت اور زیاں میں دھنسا ہوا پایا... تو اس سے کہا: برخوردار! کیا تم اپنی اِس حالت کو موت کےلیے درست پاتے ہو؟

اس نے جواب دیا:

نہیں، اِس حالت میں تو میں یہ جہان نہیں چھوڑوں گا۔

فرمایا: یعنی اِس جہان سے توبہ تائب ہو کر ہی جانا چاہتے ہو؟

کہا: جی ہاں، اس کے بغیر تو معاملہ خراب ہے۔

پوچھا: تو کیا اپنے نفس کو ابھی اِسی لمحے توبہ کےلیے آمادہ پاتے ہو؟

وہ شخص بولا: ابھی تو نہیں، البتہ کسی نہ کسی وقت توبہ کا ارادہ ہے!

بزرگ نے پوچھا: تو کیا تمہارے علم میں کوئی اور جہان بھی ہے جہاں تم خدا کو خوش کرجاؤ؛ اور اس کے بعد اُس کے ابدی جہان میں جا پہنچو؟

وہ شخص بولا: نہیں ،جہان تو یہی ایک ہے۔

بزرگ نے پوچھا: تو کیا تمہارے دو نفس ہیں؛ کہ ایک نفس اگر مر کر یہاں سے چلا بھی گیا تو دوسرا نفس نیک عمل کرتا رہے گا؟

وہ شخص بولا: نہیں، نفس تو یہی ایک ہے۔

بزرگ نے پوچھا: تو کیا موت سے کوئی یقین دہانی حاصل کر رکھی ہے کہ وہ اچانک تمہارے ہاں پھیرا نہیں لگا لے گی؛ اور وہ ’’ابدی جہان‘‘ جس سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں، تمہارے سامنے یکلخت آکھڑا نہیں ہوگا؟

وہ شخص بولا: نہیں، یقین دہانی تو کوئی نہیں۔

تب وہ بزرگ بولے: برخوردار! پھر تو کوئی عقلمند تمہاری اِس حالت پر رہنے کا خطرہ مول نہ لےگا۔ (التبصرۃ لابن جوزی 2: 86)

تو بھائی! دنیا بس یہی ہے جو تم نے دیکھ لی! ایسے ہی دن، ایسی ہی راتیں، ایسی ہی گرمیاں، ایسی ہی سردیاں، ایسی ہی بہاریں، ایسی ہی خزائیں، ایسے ہی رمضان، اور ایسا ہی ایک کے بعد ایک نیا سال! اِس کے سوا یہاں کیا ہے جس کی آس میں رہا جائے؟ ایسے ہی دنوں، ایسی ہی سردیوں اور گرمیوں اور ایسے ہی رمضانوں میں ایک ابدی جہان کی طلب کرسکتے ہو تو کرلو؛ یہاں اور کچھ نیا نہیں۔ کچھ نیا رہ گیا ہے تو وہ صرف ایک چیز: کوئی ایسی گرمی، کوئی ایسی سردی، کوئی ایسا سال، کوئی ایسا رمضان، کوئی ایسا دن، جب تم اِس دنیا میں نہیں پائے جاؤ گے!!! خدا کے ساتھ معاملہ درست کرنے کے یہ ایام جو تمہیں حاصل ہیں، یہ تو اب نئے نہ ہوں گے؛ کوئی اور دن، کوئی اور سال، کوئی اور رمضان تمہیں ملے گا تو وہ بھی ایسا ہی ہوگا جیساکہ یہ! اب تو کوئی ایسا رمضان ہی باقی ہے جو تمہیں نہ ملے اور تم اُس کو نہ ملو! تو پھر وہ چیز تو بہت بھیانک ہے جس کا تمہیں ’’انتظار‘‘ ہے!

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-7

کچھ دل سے -

تدبرِ القرآن سورہ الکھف استاد نعمان علی خانحصہ-7اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۖ وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ فَلَن يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا - 18:57اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وه پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بےشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے
اور کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے جسے یاد دلائی جائیں نشانیاں اس کے رب کی اور وہ منہ پھیر لے اُن سے۔۔اور بھول جاتا ہے اس کو جس کا اہتمام اس نے اپنے ہاتھوں کیا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے جب میری نشانیوں کی، میری آیات کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ منہ پھیر لیتا ہے۔ کیسے منہ پھیر لیتا ہے؟ وہ کہتا ہے "مجھے اس ہدایت کی ضرورت نہیں ہے، مجھے یہ نہیں سُننا، مجھے مت بتاؤ" ایسا ہی ہوتا ہے نا؟؟جب ہم کوئی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے اور تب کوئی آ کر ہمیں نصیحت کرے تو ہم اس نصیحت سے فائدہ لینے کے بجائے چڑنے لگ جاتے ہیں۔اور وہ شخص ان تمام اعمال کو بھول جاتا ہے اس سزا کو بھول جاتا ہے جو وہ اپنے لیے تیار کر رہا ہے۔ اس کا سارا فوکس یہ دنیا ہے۔اس لیے ہمیں آج سے ابھی سے خود کا جائزہ لینا چاہیے ہے کہ کہیں ہم ان لوگوں میں سے تو نہیں جنہیں جب نصیحت کی جائے تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں؟کیا جب ہمیں ہماری غلطی دکھائی دیتی ہے تو ہم اسے مانتے ہیں یا پھر تکبر کرتے ہیں اور انکار کردیتے ہیں؟؟اور کیا ہمیں اندازہ ہے ہم اپنے لیے کیا تیار کر رہے ہیں؟؟ ہمیں خود کا اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا ہے اب سے تاکہ ہم ظالم بننے سے بچ سکیں۔ اگے اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے ان لوگوں کے دلوں پہ اور کانوں پہ پردہ ڈال رکھا ہے، وہ نہیں سمجھتے، اور اگر تم ان لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ کبھی نہیں آئیں گے۔۔ایسے لوگ جو غلطی کرنے پر نہیں مانتے، اور اللہ کی یاد دلانے پر منہ پھیر لیتے ہیں وہ ہدایت سے بہت دور چلے جاتے ہیں.وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۚ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلًا - 18:58تیرا پروردگار بہت ہی بخشش واﻻ اور مہربانی واﻻ ہے وه اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بےشک انہیں جلد ہی عذاب کردے، بلکہ ان کے لئے ایک وعده کی گھڑی مقرر ہے جس سے وه سرکنے کی ہرگز جگہ نہیں پائیں گے۔
ہم نے پچھلی آیت میں پڑھا تھا ان لوگوں کے بارے میں جو نصیحت سے منہ پھیر لیتے ہیں۔تو اگر ہم میں سے کوئی ایسا ہے وہ تو اُس آیت کو پڑھ کر غمگین ہوگیا ہوگا نا؟؟ غمگین اس لیے کہ کیا اللہ مجھے معاف کریں گے؟؟ تو اگلی ہی آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے "اور تمہارا رب بہت معاف کرنے والا ہے" ❤️اللہ تعالی نے ہماری امید واپس بندھائی ہے کہ اگر تم غلطی کر بیٹھے ہو تو مایوس مت ہو میں بار بار معاف فرمانے والا ہوں۔اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اگر میرا بندہ اتنے گناہ کرے کہ زمین آسمان اُس کے گناہوں سے بھرجائیں اور پھر وہ توبہ کرلے تو میں تب بھی اُسے معاف کردوں گا۔۔آیت میں آگے بڑھیں تو اللہ نے فرمایا کہ وہ "ذُو الرَّحْمَةِ" ہے، یعنی "رحمت کا حامل/مالک۔"اُس کے رحمت کے حامل ہونے کا ثبوت کیا ہے؟؟آگے آیت میں ہی اس کا جواب ہے " کہ وہ ان لوگوں کے اعمال کے باعث فوراً ہی ان کو نہیں پکڑتا" سبحان اللہ۔۔اللہ ہمیں توبہ کا وقت دیتا ہے وہ فوراً سے نہیں پکڑ لیتا اور اگر غور کیا جائے تو یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے ہم انسانوں پر۔ اگر وہ جلد پکر لیتا تو ہم پر عذاب نازل ہوجاتا۔اس کے برعکس اللہ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس دن اُس سے کوئی نہیں بچ پائے گا۔ اس لیے اُس بڑے دن کے آنے سے قبل ہی ہمیں خود کو سنوار لینا چاہیے ہے، توبہ کر کے اس کی طرف بڑھ جانا چاہئیے ہے۔ابھی ہمارے پاس وقت ہے اس لیے اس سے فائدہ اُٹھائیں۔
جاری ہے۔۔۔۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات

پروفیسر محمد عقیل -


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن

کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو زمین پر نافذ کرنے کے عملی اقدامات خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔دوسرا مضمون شب قدر یعنی تقدیر یا منصوبہ بندی والی رات کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور تیسرا مضمون ان تدابیر کی جانب اشارہ کرتا ہے جو خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس رات میں نافذ کی جاتی ہیں۔
سورہ کی تفصیل کیا ہے؟
اس سورہ میں پانچ آیات ہیں۔ دوسری جانب انہی پانچ آیات کے مضمون کو سورہ دخان کی پانچ آیات میں دوہرایا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ قدر کی تفہیم کے لیے سورہ دخان کی پانچ آیات کو سامنے رکھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ سورہ دخان کی پانچ آیات یہ ہیں۔
اس کتاب مبین کی قسم ۔ بیشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے ۔ اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے ۔ ہر حکم ہماری جانب سے صادر ہوتا ہے ہم ہی (فرشتوں کو )بھیجنے والے ہیں ۔(سورہ الدخان آیات ۲ تا ۶)
غور کریں تو ان پانچ آیات میں بھی سورہ قدر کی تفصیل ہے۔ چنانچہ ان آیات کو سامنے رکھا جائے تو سورہ قدر کی تفہیم اور آسان اور واضح ہوجاتی ہے۔
شب قدر کا قرآن سے کیا تعلق ہے؟
اس سورہ میں سب سے پہلے تو قرآن کا شب قدر سے گہرا تعلق بیان ہوا ہے۔ جب اللہ تعالی نے اس دنیا سے آخری بار آفیشل سطح پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا تو اس خطاب کی ابتدا اسی رات کو ہوئی۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو وہ رات شب قدر ہی تھی ۔خداوند عالم کا قیامت سے قبل یہ آخری آفیشل خطاب ایک عظیم خدائی منصوبے کی ابتدا ہے اسی لیے اس خطاب کی ابتدا عظیم منصوبوں اور تنظیم والی رات میں ہوئی ۔ اس عظیم بابرکت رات کو جب خدا کے فرشتے اپنے ہیڈ جبریل امین کی نگرانی میں نازل ہورہے ہوتے ہیں۔ اس عظیم اہتمام کے بعد کسی شیطان مردود کی مجال نہیں کہ پر بھی مار سکے اور خدا کی اس عظیم تدبیر کے نفاذ میں کوئی رخنہ اندازی کرسکے۔
قدر کا کیا مطلب ہے؟
اسے لیلۃ القدر بھی کہا گیا اور لیلۃ المبارکہ بھی۔ قدر کے معنی عزت و منزلت کے بھی ہیں اور تقدیر کے بھی۔ جبکہ تقدیر کے تخمینہ لگانا، منصوبہ بندی کرنا، تنظیم کرنا یا ساخت بنانے کے ہیں۔ تو یہاں شب قدر سے مراد دونوں ہی مفہوم ہیں ۔ یعنی ایک تو یہ رات بہت مبارک ، قدر و منزلت والی رات ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ رات ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ کی جانب سے تمام معاملات کا حکمت کے ساتھ حکم دیا جاتا، ان کی منصوبہ بندی کی جاتی، ان کی تنظیم (Organization) کی جاتی اور تمام امور کے بارے میں اصولی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔یہ مفہوم اس سورہ کے نام ” قدر” سے بھی واضح ہے جس کا مطلب ہی تقدیر یعنی منصوبہ اور تنظیم کے ہیں ۔ اس مفہوم کی وضاحت سورہ الدخان کی آیت سے بھی ہوجاتی ہے جس میں لکھا ہے کہ اس میں ہر اہم کام کا فیصلہ حکمت سے کردیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر سے مراد منصوبہ بندی یا تنظیم کیوں لیا گیا جبکہ ہماری مروجہ فکر میں تو تقدیر سے مراد وہ علم الٰہی ہے جو اس نے پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے جب بھی تقدیر کا لفظ استعمال کیا ہے تو اسے منصوبہ بندی یا تنظیم کے طور پر ہی لیا ہے۔ اس کے دلائل ان آیات میں ہیں:
’’وہی برآمدکرنے والا ہے صبح کا اوراس نے رات سکون کی چیزبنائی اورسورج اورچانداس نے ایک حساب سے رکھے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ ، (انعام6: 96)
’’اورسورج اپنے ایک معین مدارمیں گردش کرتا ہے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ (یس36: 38)
’’ہم نے ہرچیزایک(تقدیر ) معین حساب (Precise Calculation) کے ساتھ پیداکی۔‘‘ ، (قمر54: 49)
جہاں تک کچھ چیزوں کے تقدیر میں پہلے سے لکھے ہونے کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی بعد میں بات کی جاسکتی ہے۔ البتہ قرآن میں تقدیر سے مراد کسی کے لیے منصوبہ بندی کرنا اور اس کا ایک معین حساب مقرر کرنا یا تنظیم کرناہے ۔
انگلش کے تراجم میں بہت عمدہ طریقے سے ” تقدیر ” کا ترجمہ کیا گیا ہے جو یہ ہے۔
1. Reckoning-the action or process of calculating or estimating something.
2. Measure or Measuring
3. An arrangement of the Mighty
4. Determination
5. Calculation
6. Structure, arrangement, scheme, plan, pattern, order, form, format, framework, system, composition, constitution, shape, make-up, configuration; systematization, methodization, categorization, classification, codification
ان تمام الفاظ کو دیکھیں تو یہ منصوبہ بندی، تنظیم ، تخمینے یا پیمانہ مقرر کرنےیا حساب معین کرنے کے معنی ہی میں آتے ہیں اور انگریزی کے مترجموں نے بالعموم تقدیر کا مفہوم” لکھی ہوئی تقدیر لینے سے گریز” کیا ہے ۔اردو مترجمین نے تقدیر کے لفظ کا ترجمہ کرنے کی بجائے اسے تقدیر ہی لکھ دیا جس سے عام ذہن میں کنفوژن پیدا ہوتی ہے۔
شب قدر میں کس قسم کے کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ اس رات میں کس قسم کے کاموں کے احکامات نازل ہوتے ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم کے پہلو کو جاننا ہوگا۔یوں تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کے معاملات کو ہر وقت ہر لمحہ جانتے ہیں لیکن اللہ نے اپنی ایڈمنسٹریشن کے کارندوں یعنی فرشتوں سے رپورٹ طلب کرنے کے لیے کچھ ٹائم لائن مقرر کررکھی ہیں ۔ اس آیت میں بیان ہوتا ہے:
اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔ (سورہ آل عمران ۱۰۹)
اس طرح کی کئی آیات ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ فرشتے اللہ کے حضور معاملات پیش کرتے ہیں۔ یہ معاملات یوں تو ظاہر ہے کہ کسی مخصوص وقفے ہی سے پیش ہونگے جیسے اس آیت میں بیان ہوتا ہے۔
ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔( المعارج آیت ۴)
گویا فرشتے مخصوص اوقات یعنی صبح و شام، روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ ، ہزار سال یا پچاس ہزار سال بعد اللہ کے سامنے اجتماعی یا انفرادی معاملات کمپائل کرکے رپورٹ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان پر اپنے احکامات صادر کرتے اور مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں۔ یہ بات ایک روایت میں بھی بیان ہوئی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
بہرحال اللہ کے حضور مخصوص وقفوں میں مخلوق اور کائنات کے معاملات پیش کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان پر اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔سورہ قدر اور دخان میں جن تدابیر اور منصوبوں کا ذکر ہے وہ سالانہ نوعیت کے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں اپنی سالانہ انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ بناتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی دنیا کے تمام معاملات کی ایک سالانہ رپورٹ اللہ کے حضور اس رات سے قبل پیش کرچکے ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر ہے کائنات کے چیف ایگزیکٹو یعنی رب العالمین کو پیش کی جارہی ہے تو اس میں انفرادی، اجتماعی ہر ہرپہلو سے چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔
یہاں ایک اشکال ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تو عالم الغیب ہیں تو انہیں اس رپورٹ کیا ضرورت؟ تو یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ رپورٹ لکھوانے کا عمل اللہ تعالی خود اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی ایڈمنسٹریشن یعنی فرشتوں کی تفہیم کے لیے اور ان کی آپس میں کمیونکیشن اور کوآرڈنیشن کو آسان بنانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے اس سالانہ رپورٹ میں فرشتے کائنات میں پیش آنے والے ایک سال کے معاملات کو کمپائل کرتے اور آئیندہ سال کے لیے اپنی تجاویز یا بجٹ پیش کردیتے ہیں۔اس رات ان تجاویز اور تدابیر کو اللہ کے حکم سے حتمی شکل اور منطوری دے دی جاتی ہے۔ اسی کو ہم تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم (Planning and Organizing)کہہ سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اجتماعی طور پر یہ طے کردیا جاتا ہے کہ بارشیں کتنی ہونگیں، زلزلے ، سیلاب کتنے آئیں گے، کہاں آئیں گے، فصل کتنی اگے گی، کہاں اگے گی، خوشحالی ہوگی یا تنگدستی، زمین پر کوئی نئی شے ایجاد ہوگی یا نہیں ، کوئی بڑی وبا آئے گی یا نہیں، نئے ستاروں کی تخلیق ہوگی یا پرانے ستاروں کی موت واقع ہوگی، کائنات بگ بینگ کے اثر سے مزید کتنا پھیلے گی، موسم میں کیا تغیرات ہونگے، قوموں کے عروج و زوال کا کیا معاملہ ہوگاوغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح فرد کی ماضی کی کاکردگی کی بنیاد پر یا امتحان کے اصول پر بھی کچھ منصوبے ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی رزق کی کشادگی، تنگی، صحت، بیماری، موت، تعلیم وغیرہ کے بارے میں منصوبے ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری پلاننگ الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کائنات کے بادشاہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ کہیں پر تباہی کا فیصلہ قوموں کے اعمال کی بنا پر ہوتا ہے، کہیں آزمائش و تربیت کے اصول پر ، کہیں طبعی قوانین کو مد نطر رکھ کر ہوتا ہے تو کہیں کچھ اور حکمت ہوتی ہے۔
لیکن یہاں تقدیر کے لفظ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ پیمانہ یا تدبیر ہے جو کائنات کا نظم و نسق چلانے اور زندگی کو کائنات میں ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ البتہ انسان اخلاقی معاملات میں آزاد ہے اور اخلاقی دائرے میں اس آزادانہ اختیار (Free will) یعنی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگتی ہے اور یہی وہ دائرہ ہے جہاں آخرت میں پوچھ گچھ ہونی ہے۔
شب قدر میں تقدیر معین کرنے کو ہم محدود طور پر ایک اور طرح بیان کرسکتے ہیں۔ دنیاوی ریاستیں سالانہ بجٹ بناتی ہیں جس میں خرچوں یعنی اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا اور آمدنی کے ذرائع بیان کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی منصوبہ بندی میں یہ بیان ہوتا ہے کتنے خرچے ہونگے، کہاں کہاں ہونگے، کب ہونگے ۔اسی طرح یہ بھی بیان ہوتا ہے وسائل کہاں سے آئیں گے، کتنے وسائل ہونگے وغیرہ۔ بجٹ ایک طرح کی منصوبہ بندی ہے اور اسے ہم محدود معنوں میں اس ملک کی تقدیر یا پیمانہ یا تخمینہ کہہ سکتے ہیں یعنی تمام اخراجات اور آمدنی انہی دائروں میں رہے گی۔ اس را ت میں بھی اس سے بہت اعلی درجے کی منصوبہ بندی پیش کی جاتی ہے جو قوم، ملک، فرد، گروہ ،ادارے، زمین، آسمان، سیاروں اور ستاروں کے امور سے متعلق ہوتی ہے۔ اسی منصوبہ بندی اور تنظیم کو تقدیر کہا جاتا ہے۔
بہر حال ، خدا کے امور تو خدا ہی جانتا ہے ۔ ہمارا اندازہ اور قرآن کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ یہ معاملات کی چند مثالیں ہیں جن میں پلاننگ کی جاتی اور تقدیر یعنی پیمانہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اسی کو سورہ دخان میں کہا گیا کہ اس رات میں ہر کام کے لیے حکیمانہ فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔
فرشتے کون ہیں؟
شب قدر میں اللہ کے حکم سے روح الامین اور دیگر فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کی آسمانی حکومت کی ایڈمنسٹریشن کا کام اللہ تعالی فرشتوں سے لیتے ہیں۔ اللہ کی حیثیت اس ایڈمنسریشن کے چیف ایگزیکٹو یا حاکم اعلی یا بادشاہ کی ہے ۔ اللہ تعالی نے جس طرح یہ کائنات ایک منظم (Systematic/ Organized)اور سائنٹفک(Scientific) انداز میں بنائی اور چلائی ہے، اسی طرح منظم انداز میں اللہ نے اپنی آسمانی حکومت کو قائم کیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عزرائیل علیہ السلام موت کے فرشتے ہیں، اسرافیل سور پھونکنے کا کام کریں گے، میکائل نیچر یعنی قدرت کی قوتوں کا نطام خدا کے حکم سے چلاتے ہیں۔جبریل امین ان تمام فرشتوں کے ہیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب اگر ہم صرف حضرت عزرائل علیہ السلام کی مثال لے لیں تو ہم جانتے ہیں دنیا میں ایک وقت میں کئی لوگ مررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت رات کے دو بجے فرض کریں ایک شخص آسٹریلیا میں مررہا ہے تو کسی کا امریکہ میں دم نکل رہا ہے اور کوئی افریقہ میں زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عزرائل علیہ السلام رات کے دو بجے ان تینوں مقامات پر موجود ہوں۔ اس سے ایک نتیجہ آپ سے آپ نکلتا ہے کہ دراصل عزرائل ایک ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں جس میں ان کے ماتحت بے شمار فرشتے ہیں جو اللہ کے اذن سے جان نکالنے کا کام کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی آسمانی حکومت کے ماتحت اللہ نے مختلف ڈیپارٹمنٹ قائم کررکھے ہیں جن کو سمجھنے کے لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان میں موت دینے، رزق فراہم کرنے ، بارش برسانے وغیرہ جیسے کئی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں اور ان سب کے ہیڈ کی حیثیت حضرت جبریل علیہ السلام کو ہے۔اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے:
جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے ۔اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے (التکویر۲۰، ۲۱)
اس کے علاوہ فرشتے مختلف طاقتوں کے ہوتے ہیں جس کا ذکر سورہ فاطر میں موجود ہے۔
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(فاطر ۱:۳۵ )
اس آیت میں دو ، تین ، چار اور زیادہ پروں سے مراد فرشتوں کی طاقت ، مرتبہ اور قوت پرواز ہے۔ یہ فرشتے اپنے رتبے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے اللہ کے حکم کے مطابق مختلف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے ہیں۔
فرشتے کہاں ہوتے ہیں؟
قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ فرشتے تین درجات میں اپنا کام کررہے ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دنیا اور کائنات کا سسٹم سمجھنا ہوگا۔ ہماری یہ زمین ایک سیارہ ہے جہاں ارادہ و اختیار والی مخلوق انسان آباد ہے۔ یہ زمین ایک سیارہ ہے اور یہ سیارہ سورج کے گرد گردش کررہا ہے۔ سورج اپنی کہکشاں میں گردش کررہا ہے جس میں اربوں ستارے ہیں اور اس طرح کی اربوں کہکشائیں ہیں۔ ان تمام مادی کہکشاؤں کا اگر ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک آسمان ہے جسے سما ء الدنیا یعنی قریب کا آسمان کہا جاتا ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
اس آسمان سے اوپر تہہ بر تہہ چھ اور آسمان ہیں اور ان کی اپنی اپنی زمینیں ہیں اور عین ممکن ہے وہاں زندگی بھی موجود ہو۔اس کا ذکر سورہ طلاق میں موجود ہے:
اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے ‘ ’ تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے “ اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ‘(سورہ الطلاق ۱۲:۶۵)
گویا زمین کے اوپر سب سے پہلے اس دنیا کا آسمان ہے اور پھر اس کے اوپر مزید چھ آسمان۔ ان کے اوپر ایک اور دنیا ہے جسے ہم غیبی دنیا یا ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس یا ہائیر اسمبلی کہہ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے:
مجھے ملائے اعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے ۔( ص ۶۹:۳۸)
وہ ملااعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں ۔( الصافات ۸:۳۷)
یہ ملائے اعلی دراصل فرشتوں کی مجلس ہے جس میں غیر متعلقہ افرادکا داخلہ ممنوع ہے۔ اس فرشتوں سے اوپر ایک اور مقام ہے جہاں عرش الٰہی قائم ہے۔
وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوگیا عرش پر وہ رحمن ہے ! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے ۔( الفرقان ۵۹:۲۵)
یہ عرش ہر وقت فرشتوں سے گھرا رہتا ہے جو اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔
جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا (غافر ۲۴:۴۰)
اب معاملہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ سب سے نیچے ہماری زمین اور اس کے اوپر آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر مزید چھ آسمان ۔ کل ملا کر سات آسمان اور یہ مادی دنیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک غیبی دنیا ہے جس میں فرشتے ، جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق موجود ہیں۔ اس غیبی دنیا کے نچلے حصے[ ملاء اسفل] میں جنات کا بسیرا ہے اور اوپر کے حصے میں فرشتوں کا۔ فرشتوں کی سب سے اعلی مجلس یا اسمبلی کو ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس سے قرآن نے تعبیر کیا ہے۔ گویا یہ ایک ہائیر اسمبلی ہے اسی کو ملا ء اعلی بھی کہتے ہیں۔ اس میں ہر بڑے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ یا سربراہ موجود ہوتا ہے۔جیسے کائنات کی میکانی قوتوں کے سربراہ میکائل، دنیا میں وسائل و رزق کی نگرانی کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسرافیل، موت و زندگی سے متعلق نبٹنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عزرائل وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہ سب چونکہ خدا کے حکم اور اذن ہی سے کام کرتے ہیں اس لیے ان کی شمولیت کو شرک سمجھنا قرآن کے خلاف ہوگا۔
ملائے اعلی کے نیچے ایک زیریں اسمبلی بھی ہے جس کا مقام معلوم ہوتا ہے ہماری زمین کے آسمان سے اوپر ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
یہاں بھی فرشتے پہرہ لگائے موجود ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی جن اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے دھتکاردیتے ہیں۔ اس کا ذکر سورہ جن میں بھی موجود ہے:
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا ۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے ۔(سورہ جن ۷۲ آیات ۷ تا ۱۰)
ان آیات پر غور رکریں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فرشتے ملائے اعلی اور ملائےاسفل کی درمیانی سرحدوں پر پہرہ داروں کا کام کرتے ہیں ۔ان فرشتوں کی ہم سمجھنے کے لیے ملائے زیریں یعنی درمیانے لیول کی مجلس کہہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ فرشتے ملائے اعلی کے فرشتوں سے پیغام وصول کرکے نیچے زمین پر مامور فرشتوں تک پیغام پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان ٹاپ ڈاؤن (Top- Down)یا ڈاؤن اپ (Down-up)کمیونکیشن ہوتی رہتی ہے ۔ جب اللہ فرشتوں کو ہدایات دیتے ہیں تو اس کی ترتیب یوں بنتی ہے۔
خدا کا حکم = ملائے اعلی کے فرشتوں نے سنا= انہوں نے یہ آرڈر اپنے ماتحت فرشتوں کو لوئیر اسمبلی میں دیا = انہوں نے یہ حکم زمینی فرشتوں کو دیا ۔
اسی طرح جب نیچے سے معاملہ چلتا ہے تو یہی ترتیب ہوتی ہے یعنی زمین کے فرشتے، پھر ملائے زیریں ، پھر ملائےاعلی اور پھر عرش عظیم یعنی اللہ تعالی جن کی حیثیت اور پوری ایڈمنسٹریشن یا آسمانی حکومت میں چیف ایگزیکٹو کی ہے اور تنہااللہ کو ہی ہر قسم کا اختیار اور ویٹو پاور حاصل ہے ۔
چنانچہ جب آسمان سے زمین میں یہ آرڈر دا جارہا ہوتا ہے یا فرشتوں کی مجلس میں کوئی بات ڈسکس ہورہی ہوتی ہے تو جنات کونے کھدروں میں گھس کر گھات لگاکر سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ بات کی سن گن لے کر اپنی موکلوں کو بتادیتے ہیں۔ اسی پر ایک شہاب ثاقب کا گرز ان پر آکر پڑتا ہے اور یہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتوں کے نزول سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر جب کوئی حکم اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسی ہائی رارکی (Hierarchy)یا ترتیب سے آتا ہے ۔ اللہ حکم صادکرتے ہیں تووہ ملائے اعلی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو یہ حکم دیتے ہیں وہاں سے درمیانی مقام یا ملا ئے زیریں کے فرشتوں کو یہ حکم ملتا ہے اور آخر میں زمین پر موجود فرشتے اسے جب وقت آتا ہے تو نافذ (Execute)کردیتے ہیں۔
یعنی اب شب قدر کا معاملہ یوں ہے کہ :
۱۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ اس رات سے قبل اللہ کے حضور پیش کی جاچکی ہوتی ہے۔اس رپورٹ میں اگلے سال کی پلاننگ کے لیے تجاویز اور سفارشات بھی ہوتی ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے ہوتی ہیں۔
۲۔ اللہ تعالی اپنے لامحدود علم و حکمت کی بنیاد پر اس منصوبہ بندی کی تجاویز کو منظور کرتے اور ان احکامات کو آگے بتانے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔
۳۔ یہ منصوبہ بندی کے احکامات لے کر ملائے اعلی کے متعلقہ فرشتے ملائے زیریں یا قریب کے آسمان کے فرشتوں کے پاس آتے اور ان کو یہ منصوبے سونپتے اور سمجھاتے ہیں۔
۴۔ ملائے زیریں کہ فرشتے ان منصوبوں کو اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔ اور جب ان منصوبوں پر عملدآمد کا وقت ہوتا ہے اس وقت زمینی کارکنان کے سپرد کرتے رہتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟
شب قدر میں تمام بڑے بڑے فیصلوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کا وقت ہوتا ہے اس لیے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے کہاں اترتے ہیں؟ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ ایک اور شاذرائے یہ ہے کہ یہ فرشتے آسمان دنیا یعنی زمین کے آسمان پر جمع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ملائے اعلی اور ملائے زیریں کے تمام فرشتوں کی ایک بڑی مجلس یا میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ سمجھنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ پوری بیوروکریسی یا ایڈمنسٹریشن کی تمام منسٹریز اور ڈیپارٹمنٹس کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں تمام اہم اور متعلقہ فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ اس میں جبریل امین اور ان کا ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو کوآرڈنیشن کا کام کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس رات تمام متعلقہ فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ فجر تک موجود رہتے ہیں۔چونکہ ہر ملک میں ان کا منصوبوں کا تعلق اپنے علاقوں کے حساب سے ہوتا ہے اسی لیے شب قدر اگر مختلف جگہوں پر مختلف اوقات یا دنوں میں آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نیز شب قدر کی تاریخ کو اسی لیے متعین طور پر نہیں بتایا گیا کیونکہ یہ متعین ہوتی ہی نہیں۔ یعنی عین ممکن ہے کسی سال اللہ کی مشیت ہو کہ یہ فیصلہ سازی اور تنظیم رمضان کی اکیسویں شب میں ہو تو کبھی یہ تئیسیوں شب تو کبھی پچیس یا ستائس یا انتیسویں شب۔
ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس رات چونکہ ساری اہم بیوروکریسی زمین کے قریب موجود ہوتی ہےا ور اللہ کی خصوصی توجہ دنیا والوں پر ہوتی ہے تو یہ رات بہت اہم ہے۔ یہ ایک اصول ہے کہ اللہ تعالی جب بھی اپنا رسول کسی فرشتے یا انسان کی شکل میں دنیا پر بھیجتے ہیں تو جزا و سزا کے معاملات بہت تیز ہوجاتے ہیں۔ کسی حاضر رسول کے انکار کی صورت میں تباہی لازمی ہوجاتی اور اس پر ایمان لاکر اس کا اتباع کرنے کی صورت میں دنیا ہی میں کامرانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
یہی معاملہ شب قدر کا بھی ہے۔فرشتے خدا کے رسول یعنی بھیجے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔ اب سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ روبہ عمل ہوتا ہے کیونکہ ساریاہم ایڈمنسٹریشن قریب کے آسمان پر موجود ہوتی ہے اور فیصلہ پر اطلاق فوری طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس رات مانگی گئی دعاؤں کی خصوصی اہمیت ہے۔ اسی لیے اس رات کو ہزار مہینے سے بہتر رات کہا گیا ہے۔
اس رات میں بندے کو بھی اپنی گذشتہ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کھویا ، پایا، کیا گناہ کیا، کہاں شخصیت میں آلودگی کی اور آئیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ یہ وہ کام ہے جو خدا کے فرشتے کررہے ہوتے ہیں چنانچہ یہی وہ کام ہے جسے مغفرت مانگنا اور توبہ کرنا کہتے ہیں۔
اس رات کی مناسبت سے نوافل کے علاوہ جو کام اہم ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے کہ ہماری شخصیت نے ماضی میں خاص طور پر ایک سال میں کیا کیا کام کیے۔
۲۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سے اچھے کام تو جو کرنا لازم تھے اور نہیں کیے۔
۳۔ یہ دیکھا جائے کہ کون سے برے کام تھے جن سے بچنا لازم تھا اور ہم نہ بچ پائے۔
۴۔ ان کوتاہیوں کی وجہ تلاش کی جائے۔
۵۔ ان سے بچنے کا ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
۶۔ اللہ سے ان کی معافی مانگی جائے اور تلافی ممکن ہو تو اس کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
۷۔ یہی احتساب ، غور فکر، تدبر سب سے بڑی عبادت ہے جو فرض عین ہے۔
۸۔ اس رات میں نوافل کے درمیانی وقفے میں بیٹھ کر یہی کام کرنا چاہیے۔
۹۔ عین ممکن ہے کہ اس اخلاص کے ساتھ احتساب کی بنا پر اس تقدیروں والی رات میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لکھ دی جائے۔


سورہ القدر کا خلاصہ-ڈاکٹر محمد عقیل

پروفیسر محمد عقیل -


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ القدر کا خلاصہ-ڈاکٹر محمد عقیل
اے حق کے متلاشیو! تم چاہتے تھے کہ خدا تم سے مخاطب ہو تو جان لو، ہم نے ان خطبات کوتقدیروں والی اہم رات میں نازل کرنا شروع کیا۔ تم کیا جانتے ہو کہ یہ منصوبوں اور تدبیروں والی عظیم رات کیا ہے؟ اس بابرکت رات میں خدا وند عالم کے حکم سے قوموں کا مستقبل طے کیا جاتا ، وسائل کی تنظیم جاری ہوتی اور فرد کی زندگی ، موت، رزق اور دیگر امورکا حساب مقرر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ رات ماضی کی غلطیوں سے رجوع کرنے اور مستقبل کی خیر وعافیت مانگنے والوں کے لیے ہزار مہینوں سے بہتر را ت ہے۔ اس رات خدا کی ایڈمنسٹریشن کے فرشتے اپنے سربراہ جبریل امین کے ساتھ اترتے ہیں اور ان منصوبوں کو زمین پر وقت مقررہ پر نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس پوری رات میں خدا کے تکوینی امور کی منصوبہ بندی و تنظیم ہوتی ہے۔اسی لیے یہ رات آخرت کی منصوبہ بندی و تنظیم کرنے والوں کے لیے سراپا سلامتی اور امن دینے والی ساعتوں سے بھرپور شب ہوتی ہے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوجائے۔


افغانستان میں بنک پر کار بم حملہ،29افراد شہید ،60سے زائد زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغانستان میں بنک پر کار بم حملہ،29افراد شہید ،60سے زائد زخمی افغانستان میں کابل بینک کے قریب کار دھماکے سے 29افراد شہید جبکہ 60 افراد کے قریب شدید زخمی ہو گئے جن میں افغان فوج کے جوان بھی شامل ہیں ۔زیادہ تر مرنے والے سویلین ہیں۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند کے شہر لشکر گاہ میں کابل بینک کے قریب بارود سے بھری گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 29افراد شہید جبکہ 60سے زائد شدید زخمی ہو گئے ۔دھماکے کے فوری بعد افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ امدادی ٹیمیں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں ۔بتا یا جا رہا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں افغان فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔ افغان حکام کے مطابق دھماکا صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں نیوکابل بینک برانچ کے باہر اس وقت ہوا جب عام شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکا ر تنخواہ کے حصول کیلئے کھڑے تھے۔واضح رہے کہ عید کی چھٹیاں نزدیک ہونے اور عید بونس کے باعث بینک پر رقوم نکلوانے کےلیے بڑی تعداد میں مقامی پولیس، فوج اور سویلین اداروں کے ملازمین قطاریں لگائے ہوئے موجود تھے۔ اب تک کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہلمند کے بیشتر علاقوں پر افغان طالبان کا اثر و رسوخ بہت بڑھ چکا ہے تاہم لشکر گاہ ابھی تک افغان حکومت ہی کے کنٹرول میں ہے اس لیے ممکنہ طور پر یہ کارروائی افغان طالبان کی جانب سے ہوسکتی ہے۔ دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے.​ ’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے. ۔ البقرة، 2 : 195​ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ طالبان  قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے اقتدار کےل ئے جنگ کر رہے ہیں۔علمائے اسلام ایسے جہاد کوفی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہتے ہیں۔انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا افغانستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  ​وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء

 


Filed under: کابل بینک کے قریب کار دھماکے, افغانستان میں بنک پر کار بم حملہ،29افراد شہید ،50سے زائد زخمی, دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں, زور دار دھماکہ, سویلین ہیں, صوبے ہلمند کے شہر لشکر گاہ میں کابل بینک Tagged: کابل بینک کے قریب کار دھماکے, افغانستان میں بنک پر کار بم حملہ،29افراد شہید ،50سے زائد زخمی, دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں, زور دار دھماکہ, سویلین ہیں, صوبے ہلمند کے شہر لشکر گاہ میں کابل بینک

پنجاب میں اہم شخصیات پر حملوں کا خدشہ ،سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

پنجاب میں اہم شخصیات پر حملوں کا خدشہ ،سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پنجاب بھرمیں اہم سیاستدانوں اور شخصیات کو ٹارگٹ بنائے جانے کا خدشہ ہے جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے گورنر اور وزیراعلی پنجاب سمیت اہم سیاسی شخصیات کی سیکورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس حکام اورسکیورٹی سے متعلق اداروں کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی شہریار محسود گروپ پنجاب بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اہم سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے لہٰذا گورنر، وزیراعلی اور وزرا سمیت اہم شخصیات کی سکیورٹی کو فول پروف رکھا جائے۔وقفے وقفے سے انٹیلی جنس بیسڈکومبنگ و سرچ آپریشنز کئے جائیں، تمام حساس اور اہم تنصیبات، عمارتوں، ہسپتالوں اور سکولوں سمیت اہم رہائشی علاقوں کی کڑی نگرانی رکھی جائے اور اس حوالے سے اٹھائے جانیوالے تمام اقدامات سے آئی جی پنجاب آفس کو تفصیلی طور پر آگاہ رکھا جائے۔ http://dailypakistan.com.pk/back-page/22-Jun-2017/597847 دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔طالبان ,‫‏پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناسور ہیں۔
طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر دین اسلام اور پاکستان کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔ دونوں تکفیری اور اسلام دشمن ہیں۔
طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں ۔ ان کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے تقاضون کے منافی ہے۔
طالبان کےدہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں .طالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ اپنے اقتدار کےلئے لڑ رہے ہیں۔ یہ گمراہ لوگ ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ رمضان کے مقدس مہینہ میں خودکش حملے کرنا ، کو ئی غیر مسلم ہی سوچ اور کر سکتا ہے۔
دہشتگرد، پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔

 


Filed under: کالعدم ٹی ٹی پی شہریار محسود گروپ, پنجاب میں اہم شخصیات پر حملوں کا خدشہ ،سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت, اہم رہائشی علاقوں کی کڑی نگرانی, اہم سیاسی شخصیات, حساس اور اہم تنصیبات، عمارتوں، ہسپتالوں اور سکولوں Tagged: کالعدم ٹی ٹی پی شہریار محسود گروپ, پنجاب میں اہم شخصیات پر حملوں کا خدشہ ،سکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت, اہم رہائشی علاقوں کی کڑی نگرانی, اہم سیاسی شخصیات, حساس اور اہم تنصیبات، عمارتوں، ہسپتالوں اور سکولوں

غُصہ ۔ دماغ کا دُشن

افتخار اجمل بھوپال -

ہم جب غُصے میں ہوں یا ناراض ہوں تو عام طور پر ہماری توجہ بدلے کی طرف ہوتی ہے اور مزا چکھانے کا رجحان بن رہا ہوتا ہے
ہم اپنے آپ کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ز یادتی ہوئی ہے اسلئے ہم کوسنے اور نقصان پہنچانے میں بر حق ہیں
جبکہ اللہ کا فرمان ہے
سورت 16 النحل آيت 126 ۔ اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بیشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے
سورت 42 الشورٰی آيت 40 ۔ اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ۔ (فی الواقع) اللہ تعالٰی ظالموں سے محبت نہیں کرتا ۔

حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی:03

تحریم ارتقاءِ حیات -

حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺکے ساتھ کتنے آدمی تھے؟  اس بارے میں مختلف اقوال ہیں چنانچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس حج میں آنحضرتﷺکےساتھ90ہزارآدمنیٰ تھے، بعض حضرات نے 1 لاکھ 30ہزار اور بعضوں نے اس سے بھی زائدتعداد بیان کی ہے۔ حضرت اسماء بنت عمیس پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب کے …

مزید پڑھیے

حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی:02

تحریم ارتقاءِ حیات -

جب آنحضرت ﷺکے لئے قربانی کے واسطے یمن سے اونٹ لے کر آئے تو آنحضرت ﷺنے ان سےفرمایا کہ جب تم نے آپ نے اوپر حج لازم کیا تھا تو اس وقت یعنی احرام باندھنے کے وقت کیاکہاتھا؟تونے کس چیز کے لئے احرام باندھا تھا اور کیا نیت کی تھی؟ حضرت علی نے کہا کہ …

مزید پڑھیے

حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی:01

تحریم ارتقاءِ حیات -

  مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 1095  حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے ہجرت کے بعد مدینہ میں نو برس اس طرح گزارے کہ حج نہیں کیا البتہ آپ  ﷺنے عمرے کئے ۔ پھر جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو دسویں سال آپ   ﷺنے لوگوں میں اعلان کرایا کہ رسول اللہ حج کا …

مزید پڑھیے

کشمیری سیخ کباب

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کشمیری سیخ کباب کشمیری کھانے، کشمیر کے حسن اور خوبصورتی کی طرح ، اپنے ذائقہ اور نفاست کے لحاظ سے لازوال ہوتے ہیں۔15 وہیں صدی میں تیمور لنگ کے ساتھ آنے والے باورچی آج بھی کشمیر میں آباد ہیں۔ اگر لکھنؤ میں روایتی باورچیوں کا مسکن باورچی ٹولہ ہے تو سرینگر میں وازا پورہ جہاں ہنرمند باورچي برسوں سے اقامت پذیر ہیں، جن کے ہاتھ سے تیار شدہ کھانوں سے ہاتھ رکنے کا نام ہی نہ لیتا ہے۔

"وازوان کے پکوانوں کو تیار کرنا ایک معمولی باورچی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کی ہنرمندی اور بنائے ہوئے کھانوں کی لذت بے مثال ہے۔وازا خود تامڑیوں میں گوشت، مرغ اور ترکاریوں کے بنے مرغن کھانے یکے بعد دیگرے مہمانوں کے تھال میں ڈالتے جاتے ہیں۔ فضا کھانوں کی مہک سے مہک اٹھتی ہے، منہ میں پانی آجاتا ہے اور مہمان سر جھکائے کھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔”

آج ہم آپ کو کشمیری سیخ کباب جو کہ عام کبابو ں سے مختلف اور نہایت ذائقہ دار ہوتے ہیں، گھر میں بنانے کا طریقہ بتائیں گے۔ اجزاء:
قیمہ ۔۔ ایک کلو  گائے کا
انڈے ۔۔ دو عدد
سونف پاؤڈر ۔۔ ایک چائے کا چمچہ
لال مرچ ۔۔ ایک چائے کا چمچہ
نمک ۔۔ حسب ذوق
ادرک ۔۔ ایک چائے کا چمچہ
دار چینی پاؤڈر ۔۔ آدھا چائے کا چمچہ
زیرہ پاؤڈر ۔۔ ایک چائے کا چمچہ
پیاز ۔۔ ایک عدد
سوکھا پودینہ ۔۔ ایک کھانے کا چمچہ
مکھن ۔۔ دو کھانے چمچے قیمے میں تمام مصالحے ڈال کر مکس کر کے پیس لیں۔ پھر اس میں کٹی پیاز، انڈے اور دو کھانے کے چمچے مکھن ڈال کر مکس کریں۔ اب سیخوں میں لگائیں اور باربی کیو کرلیں یا گھی میں تل لیں۔آپ کے کشمیری سیخ کباب تیار ہیں۔ گرماگرم تندوری روٹی کے ساتھ نوش جان کریں۔ پودینےکی چٹنی کے ساتھ سرو کریں۔
Filed under: ہنرمند باورچي, وازا پورہ, کشمیر کے حسن اور خوبصورتی, کشمیری کھانے, کشمیری سیخ کباب, باورچی, تیمور لنگ, ذائقہ اور نفاست کے لحاظ سے لازوال, سرینگر Tagged: ہنرمند باورچي, وازا پورہ, کشمیر کے حسن اور خوبصورتی, کشمیری کھانے, کشمیری سیخ کباب, باورچی, تیمور لنگ, ذائقہ اور نفاست کے لحاظ سے لازوال, سرینگر

افتخار عارف کی دو خوبصورت غزلیں

محمد احمد (رعنائیِ خیال) -

افتخار عارف کی دو خوبصورت غزلیں
قِصّہ ٴاہلِ جنُوں کوئی نہیں لِکّھے گاجیسے ہم لِکھتے ہیں، یُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
وَحشتِ قلبِ تپاں کیسے لکھی جائے گی!حالتِ سُوزِ دَرُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
کیسے ڈھہ جاتا ہے دل، بُجھتی ہیں آنکھیں کیسے؟؟سَر نوِشتِ رگِ خُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
کوئی لِکّھے گا نہیں ، کیوں بڑھی، کیسے بڑھی بات؟؟کیوں ہُوا درد فزُوں؟ کوئی نہیں لِکّھے گا
خلقتِ شہر سَر آنکھوں پہ بِٹھاتی تھی جنہیں کیوں ہُوئے خوار و زبُوں؟ کوئی نہیں لِکّھے گا
عرضیاں ساری نظر میں ہیں رَجَز خوانوں کیسب خبر ہے ہمیں، کیُوں کوئی نہیں لِکّھے گا
شہر آشُوب کے لکھنے کو جگر چاہیے ہےمَیں ہی لِکُّھوں تو لکُھوں، کوئی نہیں لِکّھے گا! 
بے اثر ہوتے ہُوئے حرف کے اِس موسِم میں کیا کہُوں،کس سے کہُوں، کوئی نہیں لِکّھے گا
✿✿✿✿✿✿✿
دل کو دِیوار کریں، صبر سے وحشت کریں ہمخاک ہو جائیں جو رُسوائی کو شُہرت کریں ہم
اِک قیامت کہ تُلی بیٹھی ہے پامالی پریہ گُزرلےتوبیانِ قد وقامت کریں ہم
حرف ِ تردید سے پڑ سکتے ہیں سَو طرح کے پیچایسے سادہ بھی نہیں ہیں کہ وضاحت کریں ہم
دل کے ہمراہ گزارے گئے سب عُمرکے دِنشام آئی ہے تو کیا ترکِ محُبت کریں ہم
اک ہماری بھی امانت ہے تہ ِ خاک یہاںکیسے ممکن ہے کہ اس شہر سے ہِجرت کریں ہم
دن نکلنے کو ہے چہروں پہ سجا لیں دُنیاصُبح سے پہلے ہر اِک خواب کو رُخصت کریں
شوق ِآرائش ِ گل کایہ صلہ ہے کہ صباکہتی پھرتی ہے کہ اب اور نہ زحمت کریں ہم
عُمر بھر دل میں سجائے پھرے اوروں کی شبیہکبھی ایسا ہو کہ اپنی بھی زیارت کریں ہم


افتخار عارف
ٰImage Credit : Urdu Mehfil

اتوار 18 جون 2017 کی یاد میں

افتخار اجمل بھوپال -

وہ آئے معمول کو چھوڑ کر
پچھلی سب روائتیں توڑ کر
دماغ کی اُنہوں نے مان لی
پھِر دِل میں اپنے ٹھان لی
آج کر کے کچھ دِکھانا ہے
یُونہی لَوٹ کر نہیں جانا ہے
سینہ تان کے آئے میدان میں
اِس مبارک ماہِ رمضان میں
روزے تھے گھنٹے بیس کے
رکھ دیا مقابل کو پِیس کے
سب کے دِل میں وہ سما گئے
عید سے پہلے عید بنا گئے

تمام ہموطن بزرگوں بہنوں بھائیوں اور بچوں کو کرکٹ کی فتح مبارک ہو ۔ جس طرح ساری قوم یعنی ننھے بچوں سے لے کر مجھ سے بھی بڑے ہموطنون تک کے دل اتوار کو ایک ہی رُخ پر تھے اور اُن کے دِل سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی ”یا اللہ ۔ فتح“۔ میری دعا ہے کہ باری تعالٰی میرے سب ہموطنوں کے دِلوں میں قوم و مُلک کی ہر بہتری کیلئے یکسُوئی اور محبت ڈال دے ۔ اور گروہوں اور ذاتی پسند ناپسند کو چھوڑ کر ہم سب مِل کر یگانگت سے بھرپور ایک پاکستانی قوم بن جائیں ۔ آمین ۔ پھر دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف مَیلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گی

تاخیر کی معذرت
میں نے علیل ہونے کے باوجود سارا میچ دیکھا تھا لیکن اُس کے بعد میری طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ۔ بخار بھی تیز ہو گیا تھا اسلئے خواہش کے باوجود بلاگ پر اظہارِ خیال نہ کر سکا ۔ آج بیٹھنے کے قابل ہوا ہوں تو سب سے پہلے یہی کام کیا ہے

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator