Feed aggregator

خیال کا آسرا محمد ﷺ

کچھ دل سے -



حبیبِ رب العلی محمد ﷺشفیعِ روزِ جزا محمد ﷺنگاہ کا مدعا محمد ﷺخیال کا آسرا محمد ﷺ
یہی ہے زخمِ جگر کا مرہمانہی کا ہے اسم اسمِ اعظمقرار بے تابیوں کو آیازُباں سے جب کہہ دیا محمد ﷺ
دُرود بھیجا ہے خُود خُدا نےرَموز کو اُن کے کون جانےکہیں وہ محمودِ کبریا تھےکہیں لقب اُن کا تھا محمد ﷺ
اسی تمنا میں جی رہا ہوںکہ جا کے روضہ کی جالیوں پرسناؤں حالِ دل میں ان کوسنیں میرا ماجرا محمد ﷺ
ہے بارِ عصیاں صبا کے سر پرنہ کوئی ساتھی نہ کوئی یاورقدم لرزتے ہیں روزِ محشرسنبھالیے آکے یا مُحَمَّد ﷺ
صبا اکبر آبادی

ایڈوبی کا نیا منصوبہ، بلیک اینڈ وائٹ تصویر سیکنڈوں میں رنگین

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

بالآخر، ایڈوبی نے کسی بھی بلیک اینڈ وائٹ تصویر کو رنگین بنانے کا طریقہ پیش کردیا ہے۔ ایڈوبی میکس 2017ء کے تقریب کے موقع پر تحقیقی سائنسدان جنگوان لو نے پروجیکٹ اسکربلر (Project Scribbler) کا مظاہرہ کیا جو جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک پروگرام ہے۔ یہ نہ صرف رنگ بلکہ سیکنڈوں میں شیڈنگ […]

The post ایڈوبی کا نیا منصوبہ، بلیک اینڈ وائٹ تصویر سیکنڈوں میں رنگین appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

سب سے زیادہ خلائی کچرا پھیلانے والے ممالک

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ہمیں پتہ تو نہیں چلتا لیکن ہمہ وقت ہزاروں سیٹیلائٹس ہمارے اوپر سے گزرتے ہیں، کوئی چند سو میل کے فاصلے پر ہوتا ہے تو کچھ لاکھوں میل کے فاصلے پر لیکن انسان کے بنائے گئے اجسام میں سے چلتے پھرتے سیٹیلائٹس پھر بھی بہت کم ہیں۔ 95 فیصد اجسام دراصل Space Junk یعنی خلائی […]

The post سب سے زیادہ خلائی کچرا پھیلانے والے ممالک appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

بٹ کوائن 6 ہزار ڈالرز کی حد بھی پار کرگیا

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ڈجیٹل کرنسی بٹ کوائن تمام پچھلے ریکارڈز توڑتے ہوئے 6 ہزار ڈالرز کی حد بھی عبور کرگئی ہے۔ محدود فراہمی اور زبردست طلب نے کرپٹو کرنسیز کے لیے نیا میدان کھول دیا ہے لیکن جو بلندیاں پہلی ورچوئل کرنسی، یعنی بٹ کوائن، کو حاصل ہوئی ہیں، وہ کسی کو نہیں ملیں۔ رواں سال کے دوران […]

The post بٹ کوائن 6 ہزار ڈالرز کی حد بھی پار کرگیا appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

پیرس ، شانزے لیزے اور قطری شہزادے

افتخار راجہ (ہم اور ہماری دنیا) -

پیرس   اورلی  اترنے کا فیصلہ  میرا اپنا تھا۔ تین برس قبل پیرس میں ہونے والی فارماسیوٹیکل ایکسپو CPhI میں شرکت کےلئے ہم تینوں کو جانا تھا، باقی کے دونوں  اطالوی کولیگ الایطالیہ ائیرلانز پر چارلس دے گال پر اتر رہے تھے۔ جب کے میرے دماغ میں حسب عادت رائن ائر گھسی ہوئی تھی۔ جسکے ہم عادی ہیں۔ کم قیمت اور وقت کی پابند۔ باوجود کہ  کمپنی نے ادائیگی کرنی تھی ۔  مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ میں نے کیا  کرلیا ہے۔ ادھر چارلس دی گال سے 2 اسٹیشن   پر ایکسپو تھا اور باقیوں کا ہوٹل بھی اگلے دو  اسٹاپ پر، جب کہ مجھے شہر کے  ایک طرف اتر کر دوسری طرف جانا تھا ہوٹل کےلئے جبکہ ایکسپو اسکے بعد دوسری طرف تھا۔ گویا شہر کے تین کونے ماپنے تھے، ا"چھا وائی جو کرے " کہہ کر ٹرین میں سوار ہوگیا  لا فرتینیلے اتر اور ادھر سے  آر ای آر پکڑی گار دے آوستریلیاس کےلئے پھر وہاں سے بوبینی  پابلو پیکاسو پہنچا۔ کوئی  27 کلومیٹر کا سفر تھا۔ گوگل میپ پر  حساب میں لگا چکا تھا۔ ٹکیں ساتھ ساتھ لیتا  گیا  اور بغیر کسی کھیچل کے پہنچ گیا اپنے ہوٹل  جو اسٹیشن کے پاس ہی تھا۔ بس 10 منٹ پیدل اور ٹیکسی کے پانچ منٹ۔ کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑی، کچھ ویسے بھی ٹریولنگ کا  عادی ہوں۔ کچھ ادھر ہر طرح کی نشاندہی  موجود تھی۔ بس آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں نے جانا کہاں پر ہے اور کونسی ٹرانسپورٹ پکڑنی ہے۔ 

پیرس  ایک بڑا اور عالمی شہر ہے، جس میں فرینچ کم اور دوسرے ملکوں سے آنے والے زیادہ ہیں۔ کالے، عربی ، انڈینز، فلپینو، چینی ہر طرح کے لوگ  فرینچ بولتے ہوئے اپنے اپنے چکروں میں رواں دواں تھے۔  بوبینی شاید بنگالیوں کا گڑھ ہے۔ لگ رہا تھا کہ سارے مجھے ہی گھور رہے ہیں۔ شہر پرانا سا تھابڑی بڑی عمارات اور انکے نیچے کی طرف  کی کالی ہوئی پڑی دیواریں۔  ہوٹل کی ریسپشن پر ایک لڑکی تھی بہت منہ لگنی سی ، جو مجھے مراکشی لگی، عادتاُ اس سے پوچھ بیٹھا ، مروکن ہو، جواب ملا اگر ناں ہوں تو؟؟ ہیں ،اب میں  ہڑبڑا گیا۔ ارے نہیں میں نے تو بس پوچھا ہی ہے؟؟ اہو اچھا۔ میں فرینچ ہوں۔ پر میرے بزرگ الجیریا کے تھے۔ دھت تیرے کی۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ نہیں میں لاہور کا نہیں بلکہ جالندھر کا ہوں۔ ہلا چلو، سانوں کی۔ ہوٹل میں بیگ  رکھا، کپڑے اور شیو کا سامان رکھا اور نیچے اتر ا اور   فون  پر پھر سے شانزے لیزے ایوینیو  پر آرک دے ٹریومپف کا نقشہ دیکھا، کیمرہ اٹھایا،  ہوٹل سے نکلا اور دو میٹروز پکڑتا ہوا  2 بجے ادھر جاپہنچا ۔ ادھر اس دن گھوڑوں کی ریس کا فارمولہ ون  تھا۔ قطر اسکا آفیشل سپانسر تھا۔ شارہراہ کے دونوں طرف قطر کے جھنڈے  اور ریس کورس کے علم لہرا رہے تھے۔  کالے برقعے پہنے ہوئے  چیٹی سفید قطرنیاں اور انکے ساتھ کالے کالے قطری ، وللہ  وللہ ، ھنا، طعال کے نعرے ماررہے تھے۔ گویا پیرس اغوا ہوچکا تھا۔  یا پھر میں قطر پہنچ چکا تھا۔ اور قطری شہزادے ، شہزادیاں میرے اردگرد ہی تھے۔ شام کی روشنیوں  میں ویسے ہی  بندہ اکیلا پن زیادہ محسوس کرتا ہے
میں اپنے ساتھ کی قطری  شہزادی کے بارے سوچتا  ہوا ،  جو کہیں بھی نہ تھی ادھر ادھر کی فوٹوز کھینچتا رہا۔  فوٹو کھینچتا رہا۔ فیراری، اور ہوملیس کتے کے ساتھ اسی سڑک پر تھے، لوئیس ویٹون کے جوتے اور پانچ یورو لیکر رکشہ میں شانزےلیزے ایوینیو کی سیرکروانے والا، تیونسی نما فرینچ۔ ، دیکھتا رہا اور   بس پولے پولےفوٹو بناتا رہا۔  اور انتظار کرتا رہا باقی دونوں ساتھیوں کا جنکو شام گئے آنا تھا۔ اکتوبر کی شام صرف ایک کوٹ میں اچھی بھلی ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ مجھے جو چیز پیرس کی سب سے اچھی لگی وہ اسکی ٹرانسپورٹ کا نظام تھا جہاں ریل، آری آی آر، میٹرو اور بس ایک ساتھ بندے کو اسکی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ میٹرو اسکی کوئی ڈیڑھ سو برس پرانی ہے، پر چل رہی، ٹرینیں پرانی ضورر ہیں، پر کوئی دھماچوکڑی نہیں اور یہی وہ چیز ہے جو پیرس کو پیرس بناتی ہے۔ اتنے بڑے شہر میں اگر آپ کسی کو کہہ دیں کہ 30 منٹ  بعد ملیں گے تو  ایسا ہوتا ہے۔ ابھی لاہور، راولپنڈی، ملتان ،  پشاور میں ماس ٹرانسپوٹیشن  کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ چلو ایک صدی بعد ہی سہی پر کچھ کام چلا تو،  لاہور کی رونقیں ہوں یا پشاور کی ، یا پھر پنڈی میں موتی محل سے راجہ بازار پیدل جانا ہو، میرے لئے ہمیشہ خوابناک رہا۔ پر پاکستان  کے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ پر آپ نہ کہیں وقت پر پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی کسی کے پہنچنے کی توقع کرسکتے تھے۔  جبکہ میں  پورے تین دن اپنے ہوٹل سے دو بسیں بدل کر اور ایک ایک ٹرین پکڑ کر  کامپو دے ناتسیون پہنچ ہی جاتا تھا۔ نہ کوئی بھولنے کا رولا اور نہ دیر سے پہنچے کا خوف۔  پیر کو پھر فلائیٹ ہے فرینکفرٹ کی ۔ 

اپنا فون کبھی گاڑی میں چارج نہ کریں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

آپ لمبے سفر پر ہیں یا ہماری طرح “ملّا کی دوڑ مسجد تک’ یعنی دفتر اور گھر کے درمیان کی ٹریفک میں پھنسے ہیں، اس دوران فون کی بیٹری ختم ہونے لگے تو سب سے پہلے گاڑی کے یو ایس بی پورٹ میں لگا لیتے ہیں۔ بظاہر یہ بے ضرر سا کام ہے لیکن جب […]

The post اپنا فون کبھی گاڑی میں چارج نہ کریں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

یوٹیوب کو بیک گراؤنڈ میں کیسے چلائیں؟

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

یوٹیوب انٹرنیٹ کی دنیا کا ٹیلی وژن ہے، اس لیے ایسا ہونا تو چاہیے کہ ہم اسے پس منظر میں چلائیں لیکن گوگل یہ سہولت نہیں دیتا کیونکہ یہ یوٹیوب کا خاص فیچر ہے جو “یوٹیوب ریڈ” کی سبسکرپشن پر ہی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب صرف پیش منظر یعنی foreground پر چلتا […]

The post یوٹیوب کو بیک گراؤنڈ میں کیسے چلائیں؟ appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

اینڈرائیڈ ایپ انسٹال کرنے سے پہلے آزما کر دیکھیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

گوگل نے اپنے پلے اسٹور میں کئی تبدیلیاں کی ہیں جن میں بہت بڑی بھی ہیں اور معمولی سی بھی لیکن جو سب سے دلچسپ ہے وہ ہے انسٹینٹ ایپس (Instant Apps)، جس کی مدد سے آپ ایپ کو انسٹال کیے بغیر اسے آزما سکتے ہیں اور اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ انسٹینٹ ایپس […]

The post اینڈرائیڈ ایپ انسٹال کرنے سے پہلے آزما کر دیکھیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

بچوں کی اسمارٹ واچ اتنی محفوظ نہیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

اسمارٹ واچز اب کوئی نئی چیز نہیں رہیں بلکہ اب تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی بچوں کی اسمارٹ گھڑیاں مقبول ہو رہی ہیں لیکن ناروے کی کنزیومر کونسل کی ایک رپورٹ میں بھیانک انکشاف ہوا ہے کہ ان گھڑیوں کو باآسانی ہیک کیا جا سکتا ہے اور یوں یہ بچوں کو تحفظ […]

The post بچوں کی اسمارٹ واچ اتنی محفوظ نہیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

انسان موت کے بعد بھی سن اور دیکھ سکتا ہے، سائنسی تحقیق

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

موت ایک اٹل حقیقت اور انسان کے لیے سب سے بڑا راز ہے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے کے دل میں ‘موت ایک چبھتا ہوا کانٹا’ ہے۔ وہ اس پر موجود راز کے پردوں کو اٹھانا چاہتا ہے اور پردے کے اُس پار دیکھنا چاہتا ہے۔ کوئی کیوں مرتا ہے؟ کہاں جاتا ہے؟ اصل میں […]

The post انسان موت کے بعد بھی سن اور دیکھ سکتا ہے، سائنسی تحقیق appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

سوشل میڈیا سیلف ہارم کی اہم وجہ، برطانوی تحقیق میں انکشاف

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

مینچسٹر یونی ورسٹی کے محققین کے مطابق برطانیہ میں سنہ 2011 اور 2014 کے درمیان 13 اور 16 سالہ لڑکیوں میں خود کو ایذا پہنچانے کی شرح میں 68 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

The post سوشل میڈیا سیلف ہارم کی اہم وجہ، برطانوی تحقیق میں انکشاف appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

ابنٹو 17.10 ریلیز، گنوم کے لیے یونٹی کی قربانی

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

سالوں کی محنت کے بعد کینونکل نے اپنا مخصوص ڈیسک ٹاپ اینوائرمنٹ اور ڈسپلے سرور ڈیولپ کیا تاہم اب یونٹی Unity اور میر Mir اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں

The post ابنٹو 17.10 ریلیز، گنوم کے لیے یونٹی کی قربانی appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

پناہ

کچھ دل سے -


پناہ(منقول)

ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗﻮجہ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ , ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﺲ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’
ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ , ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﮐﭽﮫ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺸﺘﺮﮎ ﮨﯿﮟ , ﺟﯿﺴﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ . ﺑﻠﮑﮧ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮯ , ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ , ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺍﺑﺪ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮓ ﭼﮭﮍﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﮭﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺴﯽ ’ ? ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ’ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﭘﺴﻠﯽ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ , ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮨﮯ . ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮈﺭ ﮐﺮ ﻭﮦ , ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻼﺗﺎ , ﻣﮕﺮ ﻣﺠﺎﺯﯼ ﺧﺪﺍ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﮩﻼﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮫ ﭨﮭﯿﮏ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ . ﻇﺎﮨﺮﺍً ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ , ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ , ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﺟﻨﮓ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮨﮯ ’ ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮐﮭﺠﺎﺗﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ , ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ . ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺳﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ
ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﯿﭩﮯ , ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ . ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺣﺼّﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ . ﺭﺍﺯﻕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻣﺘﮑﺒّﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻗﺎﺑﺾ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻋﺎﺩﻝ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺻﻔﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ , ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺻﻔﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ  ﺑﯿﭩﮯ .
ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ .
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻃﺎﻗﺖ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﻮ ﺩﻭﺍﻡ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﮯ . ﻗﻮﺕ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .
ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﻻ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ , ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﺎ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ ﻧﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺊ ؟  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍۓ , ‘ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﭩﮯ , ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ . ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯﻧﺎﻡ ﮐﯽ , ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺎﮦ ﮐﯽ , ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ ﮐﯽ , ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﭗ ﺳﮑﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒّﺖ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺭﮐﮯ , ‘ ﺍﺏ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ کہ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﻨﺎﮦ ﺗﮭﯽ؟ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ..؟

"معلوماتِ قران"

نورین تبسم (کائنات ِتخیل) -

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھی جانے والی چیز کے معنوں  میں استعمال ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی پہلی منزل سورۂ فاتحہ(1) سے سورۂ النساء (4)تک ہے۔ جس میں میں چار سورتیں، پچاسی(85) رکوع اور چھ سو انہتر(669) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی دوسری منزل سورۂ مائدہ (5)سے سورۂ توبہ  (9)تک ہے جس  میں پانچ سورتیں، چھیاسی(85) رکوع اور چھ سو پچانوے (695)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی تیسری منزل  سورۂ یونس (10)سے سورۂ نحل(16) تک ہے جس میں سات سورتیں، اڑسٹھ(68) رکوع اور چھ سو پینسٹھ (665)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی چوتھی منزل  سورۂ بنی اسرائیل(17) سے سورۂ فرقان (25)تک ہے جس میں نو سورتیں، چھہتر ر(76)کوع اور نو سو تین(903) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی پانچویں منزل  سورۂ الشعراء (26)سے سورۂ یٰس(36)  تک ہے جس میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع(72) اور آٹھ سو چھپن(856) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی چھٹی منزل سورۂ  الصّٰفٰت (37)سے سورۂ الحجرات(49) تک ہے جس  میں  تیرہ سورتیں، انہتر (69)رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی (887)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی ساتویں منزل  سورۂ ق (50) سے سورۂ الناس (114)تک ہے جس میں پینسٹھ(65) سورتیں، ایک سو دو رکوع(102) اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ (1561)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں (37)، انتالیس رکوع(39) اور پانچ سو چونسٹھ (564)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ(111) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ(2) ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات  اور چالیس رکوع ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ سورة الکوثر(108) ہے جس کی تین آیات ہیں۔
٭سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے۔(ترمذی)۔٭عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔٭قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔٭قرآن کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔٭قران پاک میں موجودسورتوں کو تنزیل کے اعتبار سے مکی اور مدنی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قران میں موجود 114 سورتوں میں سے 65 مکی ہیں جبکہ 18 سورتیں مدنی ہیں۔سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔
٭ سورۂ النمل (27) میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘دو مرتبہ آئی ہے۔٭ سورۂ توبہ (9) وہ واحد قرانی سورہ ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بغیر شروع ہوتی ہے٭قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔  ٭قران پاک میں دو ایسی سورۂ ہیں جو تین پاروں میں شامل ہیں۔
٭1) سورۂ بقرۂ(2)۔۔۔۔ جو پہلے پارے سے شروع ہوتی ہے اور تیسرے پارے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭2)سورۂ النساء(4)۔۔۔جو پارہ چار سے شروع ہوتی ہے اور پارہ  چھ  میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورہ سے شروع ہوتے ہیں۔
٭1)پارہ 1۔۔۔سورۂ فاتحہ۔سورۂ البقرہ
٭2) پارہ 15۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17)۔
٭3)پارہ17۔۔۔سورۂ الانبیاء(21)۔
٭4) پارۂ 18۔۔ سورۂ المومنون (23)۔
٭5)پارہ26۔۔سورۂ الاحقاف(46)۔
٭6)پارہ28۔سورۂ المجادلہ(58)۔
٭7)پارہ 29۔۔سورۂ الملک(67)۔٭8) پارہ 30۔۔سورۂ النبا(78)۔٭قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطا فرمائے گئے۔۔۔۔حوالہ ۔۔سورة النمل (27) آیت 12۔۔۔۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت 101۔۔٭پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے۔
٭1)سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران(3) آیت (45)۔
٭2)سیدنا اسحاق علیہ السلام ،3) سیدنا یعقوب علیہ السلام۔سورة ھود (11)آیت (71)۔
٭4)سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم(19) آیت (7)۔
٭5)سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف (61)آیت (6)۔لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
٭پورا کلمہ طیبہ  قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا۔٭قرآن کریم میں  صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام آیا ہے۔(سورۂ الاحزاب آیت 37 )۔
٭قرآن میں کسی عورت کانام نہیں آیاہے فقط”حضرت مریم علیہا السلام“کا۔بی بی ”مریم “کانام قرآن میں 34مرتبہ آیاہے۔٭ سورۂ لہب(111)۔۔۔قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا۔عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے۔ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے کی  بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔٭قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورۂ بنی اسرائیل(17) ہے۔٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة طحہٰ (20) ،سورة یٰسین(36) ،سورۂ ص (38)، سورة ق  (50) اور سورۂ القلم 68(سورۂ ن) کے نام  ان سورتوں کے پہلے لفظ  ہیں۔٭قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔
٭1)سورۂ المائدہ(5)۔۔ 2)سورۂ ہود(11)۔۔3)سورۂ الرعد(13)۔۔4) سورۂ طٰہ(20)، ۔۔5)سورۂ روم(30)۔۔ 6)سورۂ ص(38)۔۔ 7)سورۂ محمد(47)۔۔8)سورۂ طور(52)۔۔9)سورۂ ملک(67)۔۔ 10)سورۂ دہر(76)۔َ۔11)سورۂ الاعلی(87)، اور12)سورۂ عصر(103)۔
٭قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے۔قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون بار اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی تین سورۂ مبارکہ سورة القمر (54)،سورة الرحمن(55) اورسورة الواقعہ(56)  میں لفظ اللہ نہیں۔٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔  ٭قرآن کریم کی سورۂ التین (95)  کا آغاز دو پھلوں انجیر اور زیتون کے نام سے ہوا ہے۔٭قرآن کریم کی  سورۂ الاعلی(87)  کا اختتام دو نبیوں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسی  علیہ السلام کے نام پر ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورۂ الفاتحہ(1)،سورۂ الانعام(6)،سورۂ الکہف (18)،سورۂسبا(34)،سورۂ فاطر(35)۔٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ   کا آغاز قل سے ہوتا ہے۔
سورة الجن(72)،سورة الکافرون (109)،سورة االاخلاص(112)،سورة الفلق(113)،سورة الناس (109)۔
٭قرآن مجید کی اُنتیس(29)سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔ تمام سورۂ مبارکہ میں حروف  مقطعات  پہلی آیت کے طور پر ہیں۔صرف سورۃ الشوریٰ میں پہلی آیت میں  حٰمٓ اور دوسری آیت میں عٓسٓقٓ ملتا ہے۔٭1)سورۂ البقرۂ(2) ۔الٓـمٓ۔۔2) سورۂ  آل عمران(3) ۔الٓـمٓ ۔۔3)سورہ  الاعراف(7)۔الٓـمٓـصٓ۔ ۔4) سورۂیونس(10 )۔"الٓـرٰ۔۔ 5) سورہ ہود (11) ۔"الٓـرٰ۔۔6)سورہ  یوسف(12)۔"الٓـرٰ۔۔7)سورۂ الرعد (13)۔الٓـمٓـرٰ ۚ۔۔ 8)سورہ ابراہیم (14)۔الٓـرٰ۔۔ 9) سورۂ  الحجر (15)۔ الٓـرٰ۔۔ 10) سورۂ طہٰ (20)۔ ٰطهٰ۔۔11)سورہ  مریم (25)۔ كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ۔ ۔12)سورہ الشعراء (26)۔ٰطسٓمٓ  ۔ ۔13) سورۂ النمل (27)۔ٰطـسٓ ۚ۔۔ 14) سورۂ القصص(28)۔ ٰطسٓمٓ۔۔15)سورہ العنکبوت(29)۔ الٓـمٓ۔۔16)سورۂ الروم (30)۔ الٓـمٓ۔۔17) سورۂ  لقمان (31)۔  الٓـمٓ ۔۔ 18) سورۂ السجدہ (32)۔  الٓـمٓ ۔۔19)سورۂ  یٰس(36)۔يٰـسٓ  ۔۔20)سورۂ ص (38)۔صٓ۔۔21)سورۂ غافر(40)۔حٰمٓ۔
۔22)سورۂ فصلت(41)۔حٰمٓ۔۔ 23) سورۂ الشورٰی (42)۔حٰمٓ۔عٓسٓقٓ (2)۔
۔ 24) سورۂ الزخرف(43)۔حٰمٓ ۔۔25)سورۂ  الدخان(44)۔حٰمٓ۔۔26) سورۂ الجاثیہ (45)۔حٰمٓ۔۔27) سورۂ  الاحقاف(46)۔حٰمٓ۔۔28)سورۂ ق(50)۔ قٓ ۚ۔۔29)سورۂ  القلم (68)۔نٓ ۚ۔٭چھ سورۂ مبارکہ  سورة البقرة (2)،سورة آل عمران(3) سورة العنکبوت(29)،سورة الروم(30)،سورة لقمان(31) اور سورة السجدہ(32)"الٓــمٓ" سے شروع ہوتی ہیں۔٭قرآن کریم میں دو سورتوں سورة الشعراء (26)اورسورة القصص(28) کا آغاز "طسٓمٓ  "سے ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة الاحقاف(46) ۔٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ سورة یونس(10)سورة ہود(11)سورة یوسف(12)سورة ابراہیم(14) اورسورۂ الحجر (15)    کا آغاز"الٓـرٰ"سے ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی  چار سورتیں سورة الحدید(57)،سورة الحشر(59)اورسورة الصف(61) سورۂ الاعلیٰ (87)  "  سَبَّحَ "سے شروع ہوتی ہیں۔٭قرآن کریم میں دو سورتوں  سورة الجمعہ(62) اور سورة التغابن(64) کا آغاز " يُسَبِّـحُ" سے ہوتا ہے۔٭دو سورتوںسورة الفرقان(25) اورسورة الملک(67) کی ابتدا "تَبَارَكَ الَّـذِىْ" سے ہوتی ہے۔٭چار سورتوں سورة الفتح(48)،سورة نوح(71)،سورة القدر(97) اور سورة الکوثر(108)  کی ابتداء "اِنَّا" سے ہوتی ہے۔٭دو سورتیں  سورة المطفیفین(83)، سورة الھمزہ(104) کا آغاز" وَيْلٌ" سے ہوتا ہے۔٭ سات سورتیں سورۂ واقعہ56،سورۂ المنافقون63،سورۂ التکویر81،سورۂ انفطار82 ، سورۂ انشقاق84،سورۂ نصر110اور سورۂ زلزال99  ۔۔  ” اِذَا 'سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ بیس سورۂ مبارکہ  "قسم" ،"و" سے شروع ہوتی ہیں۔۔سورۂ الصافات 37۔۔۔سورۂ ص 38۔۔۔سورۂ ق 50۔۔۔سورۂ ذاریات 51۔۔۔سورۂ طور 52۔۔۔سورۂ نجم 53۔۔۔سورۂ ن 68۔۔۔سورۂ قیامت 75۔۔۔ سورۂ مرسلات 77۔۔۔سورۂ نازعات79۔۔۔سورۂ البروج 85۔۔۔سورۂ طارق86۔۔۔۔سورۂ فجر 89۔۔۔سورۂ بلد90۔۔۔۔سورۂ شمس 91۔۔۔سورۂ ضحیٰ 93۔۔۔سورۂ تین 95۔۔۔سورۂ عادیات 100۔۔۔سورۂ عصر 103 سورۂ لیل105۔۔۔۔٭قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ " پکارا گیا ہے۔٭تین سورتوں  سورة الاحزاب(33) ،سور ة الطلاق(65) اور سورة التحریم (66)کی ابتدا " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ"سے ہوتی ہے۔
٭قرآن کے تیسویں پارے میں37سورتیں ہیں۔٭ قرآن کریم میں  چار فرشتوں کے نام آئے ہیں۔۔(1) جبریل۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98،سورۂ التحریم(66) آیت 4۔۔۔
۔(2) میکائیل۔ ۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98۔۔ 
۔(3) مالک۔۔سورۂ الزخرف(43) آیت 77۔
۔(4) ہاروت و ماروت۔۔سورۂ بقرہ (2) آیت 102۔۔۔٭ فرشتوں کی صفات کے نام پر  تین سورتیں  ہیں ۔
۔1)سورہ الصافات (37)ـ 2)سورۂ معارج(70) ـ3)سورہ مرسلات (77)،4)سورہ نازعات (79)ـ،بعض نے اس سے مراد فرشتوں کو لیا ہے ـ٭ قیامت کے نام پر یا قیامت کی خوفناکیوں کے نام پر تیرہ سورتیں آئی ہیں ـ
۔1) سورہ الدخان 44۔۔ 2)سورہ الواقعہ56 ـ۔ 3)سورہ الحشر59۔۔ 4)سورہ التغابن64۔۔ 5)سورہ الحاقہ 69۔۔ 6)سورہ قیامہ75۔۔ 7)سورہ النبا78۔۔ 8)سورہ التکویر 81ـ 9)سورہ النفطار82۔۔ 10)سورہ الانشقاق84۔۔ 13)سورہ غاشیہ 88۔۔12)سورہ الزلزال 99۔۔13)سورہ القارعہ 101ـ٭ازمان و اوقات کے نام پر آٹھ سورتیں ہیں۔۔(1) سورہ الحج،(2) سورہ جمعہ،(3)سورہ فجر،(4) سورہ لیل ،(5)سورہ ضحٰی، (6) سورہ القدر، (7) سورہ العصر،(8) سورہ فلق،۔٭ مقامات کے نام پر سات سورتیں ہیں۔۔۔
۔(1)سورہ اعراف 7۔
۔(2) سورہ الحجر 15۔
۔(3)سورہ الاحقاف46۔
۔(4) سورہ طور52۔
۔(5) سورہ البلد90۔
۔(6) سورہ الککوثر108۔
۔(7) سورہ التین95۔
٭قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے۔مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار٭قران پاک میں  چھ پھلوں کے نام ہیں۔۔۔  کھجور،انگور،انار،کیلا،انجیر،زیتون
کھجور (نخل) ۔انگور(اعناب)۔۔۔سورۂ الانعام 6، آیت 99۔۔
انار (رمان)۔۔۔سورۂ  الرحمٰن55 آیت 68۔۔
کیلا۔۔۔ سورۂ واقعہ56 ،آیت 29
انجیر،زیتون(سورۂ والتین95)۔۔٭قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔ساگ، لہسن ،ککڑی  اور پیاز(البقرۂ2،آیت61)۔٭قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے۔یثرب،بابل اور مکہ۔٭قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے۔کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور( سورہ طور52)۔
٭دو دریاؤں کے نام قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔دریاۓ نیل (سورہ انبیاء ) اور دریائے فرات(سورہ فرقان25،سورۂ فاطر 35) ۔٭قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے۔
لوہا (سورۂ حدید57۔آیت 25)۔
سونا،چاندی(سورۂ دہر ِ76۔آِیت 16اورآیت 21)۔
تانبا(سورۂ الکہف18۔آیت96)۔٭قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے۔
کھجور(سورۂ الکہف18۔آیت 32)۔
بیری(سورۂ واقعہ56۔آیت 28)۔
  زیتون(سورۂ التین 95)۔
٭قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر ہیں۔
سورۂ البقرة(2) گائے۔۔
سورۂ الانعام(6)مویشی۔۔
سورۂ النحل(16)شہد کی مکھی۔۔
سورة النمل(27)چیونٹیاں۔۔
سورۂ العنکبوت(29)مکڑی۔۔
سورةۂ العادیات(100)گھوڑے۔۔
سورة الفیل(105)ہاتھی۔۔
٭قرآن کریم میں چارپرندوں کا ذکر آیا ہے۔
٭1)بٹیر(سلویٰ)سورۂ البقرہ(2) آیت(57)۔٭2)کوا (غراب)۔سورۂ المائدہ(5) آیت(31)۔
٭3)  ہدہد۔سورۂ النمل(27) آیت (20) ۔
٭4)  ابابیل۔سورۂ الفیل 105۔

انصاف کرو

کچھ دل سے -



ایک عورت کہتی ہے . “زن مرید ہے“ دوسری عورت بولتی ہے “ماں کا مرید ہے“.ایک عورت دوسری عورت کو اس کا پیر و مرشد بنا دیتی ہے.عورت کی فطرت بھی عجیب ہے. بیٹا کنوارہ ہوتا ہے تو دن رات اس کے سر پہ سہرا سجانے کے خواب دیکھتی ہے بہو لانے کے سپنوں میں کھوئی رہتی ہے خیالوں ہی خیالوں میں پوتے پوتیوں سے کھیلتی ہے .
مرنے سے پہلے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹے کا گھر بسائے . بیٹا شادی پر راضی نہ ہو تو ضد سے کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے . بالآخر سہرا سجا دیا جاتا ہے ارمان پورے ہو جاتے ھیں۔ بہو آجاتی ہے تب اس کے اندر ایک نئی عورت جنم لیتی ہے . بیٹے کے ساتھ بہو کو بیٹھے دیکھتی ہے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، طعنے کوسنے اور زہریلے جملے تخلیق کرنے لگتی ہے پہل اکثراس کی طرف سے ہوتی ہے جو بہو کے ارمان میں پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ وہ نئی آنے والی کچھ دن تو اپنا قصور تلاش کرنے میں لگی رہتی ہے تب اسے اپنے جرم کا پتہ چلتا ہے، اسے معلوم ہوتا کہ ایک عورت ہونا ہی دوسری عورت کی نظر میں اس کا اصل جرم ہے تب وہ اپنے اس جرم پر ڈٹ جاتی ہے قانونی طور پر کیونکہ مرد اس کی ملکیت ہوچکا ہوتا ہے۔
تو وہ اپنی اس ملکیت کو اپنی ذات کی حد تک محدود کرنے کی فکر میں لگ جاتی ہے، جس نے پیدا کیا ہوتا ہے اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو صرف دو کلموں کے عوض دوسری کو سونپ دے۔ تب۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ بغیر اس بات کو سوچے کہ ملکیت کی اس جنگ میں وہ کس کرب سے گزر رہا ہے جو دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتا ، مکرو فریب کا ایسا سٹارپلس گھر میں آن ائیر ہونے لگتا ھے جس کی ہر قسط اسے ذہنی مریض بنا کر رکھ دیتی ہے۔ ایک جملہ اس کے کانوں میں تواتر کے ساتھ انڈیلا جاتا ہے کہ "انصاف کرو"۔ سو موٹو ایکشن لینے کا مطالبہ بہن بھائیوں اور سسرالیوں کی جانب سے کیا جانے لگتا ہے۔
” ماں کی شان” سنانے والے اسے قدموں میں جنت تلاش کرنے پر لگانے کی سرتوڑ کوششیں کرنے لگتے ہیں اور بیوی کے حقوق کے “علمبردار” اس کے لیے انصاف نہ کرنے کی صورت میں آخرت کے عذابوں سے ڈرانے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ انصاف کے مطالبوں سے تنگ آکر یا تو جنت پانے کے چکر میں ایک کے ہاتھ میں طلاق تھما دیتا ہے ، یا بیوی کے حقوق کے تحفظ میں ماں کی گستاخی پر اتر آتا ہے اور اگر ان دونوں کے ساتھ “انصاف” نہ کر سکے تو گلے میں رسی ڈال کر “منصف” کا ہی انصاف کر دینے پر مجبور ہو جاتا ہے
ان تینوں انتہائی اقدام کے بعد ایک عورت کی طرف سے بغیر ضمیر کی خلش سے کہہ دیا جاتا ہے” میں نے تو ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا، میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ انصاف کرو”
۔نوٹ : یہ تحریر ہر گھر اور ہر فرد پر لاگو نہیں ہوتی معاشرہ اچھے اور برے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے ۔ جہاں برے ہوتے ہیں وہ اچھے بھی ہوتے ہیں بس اپنا اپنا ضمیر زندہ ہونا چاہئیے۔

2017ء کے بہترین فونز، جو آپ اس وقت خرید سکتے ہیں

ماہنامہ کمپیوٹنگ -

ہم نے رواں سال یعنی 2017ء میں جاری ہونے والے تمام نئے فونز کا جائزہ لیا اور آپ کے لیے ایسے فونز کا استعمال کیا ہے جو بہترین کیمرے، بیٹری لائف اور مجموعی کارکردگی رکھتے ہیں۔ چاہے ایپل کا آئی فون ہو، سام سنگ کا گلیکسی نوٹ8، گوگل پکسل، ون پلس 5 یا اینڈی روبن […]

The post 2017ء کے بہترین فونز، جو آپ اس وقت خرید سکتے ہیں appeared first on ماہنامہ کمپیوٹنگ.

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator