Feed aggregator

moulvi

Nostalgia, Scream and Flower -

بھولی بسری یاد...گزرے دنوں کی بات ہے کالج کی مسجد میں ایک صاحب جمعہ پڑھایا کرتے تھے..کالج کی مسجد تھی تو مقتدی زیادہ تر طالبعلم ہی ہوا کرتے تھے لیکن.جمعہ کے موضوعات کافی اڈلٹ نوعیت کے ہوتے تھے..جیسے ایک سے زائد شادی کی شرعی حیثیت، مسئلہ لعان، شوہر کے ازدواجی حقوق، حلالہ کیا ہے..
ایک ایسے ہی جمعہ میں نقشہ کھینچ رہے تھے ایک اچھی بیوی کا... کہنے لگے ایسی بیوی ملے تو دل کرتا ہے ایسی ایک اور بیوی ہو، دو نہیں تین.ہوں اور تین بھی کیا چار بھی کم ہونگی...
لیکن یہ بات کنواروں کو سمجھ نہیں آسکتی..
اور ہم نے بے ساختہ ارد گرد نظردوڑائی کہ یہاں شادی شدہ کون ہے؟

ایک لمحے کے تعاقب میں

Nostalgia, Scream and Flower -

آوارہ گرد کی ڈائری...
ایک لمحے کے تعاقب میںکچھ لمحے لافانی ہوتے ہیں۔ فردوسی لمحے ۔ وہ لمحے جن میں انسان قید ہوجاتا ہے ۔وہ لمحے جو تنہائی میں بھی مسرت کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔وہ لمحے جو پروں کے بغیر اڑان بھرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ایک انوکھی روحانیت، ایک انوکھی راحت۔وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جس نے مجھے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ جس سے رہائی کا سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔
فطرت کے نظام میں کبھی ترتیب نہیں ہوتی لیکں اس ترتیب میں ایک حسن ہوتا ہے۔اور اس حسن کی تلاش میں ابوزر کے ہمراہ ایک بار پھر محو سفر تھا ۔کلرکہار انٹر چینج سے اتر کر چکوال روڈ پر سفر شروع کیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر جلیبی چوک سے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو جانے والے راستے پر سفر شروع کیا۔ اس روڈ پر کوئی تین کلومیٹر چلنے کے بعد دائیں جانب ایک سڑک نکلتی ہے جو موٹر وے کے نیچے سے گزر کرکلرکہار ایریا کی سب سے خوبصورت سیوک جھیل کوجانے والے ٹریک کو ملاتی ہے جس پر پچھلے سال ایڈونچر کیا تھا لیکن بدقستی سے جہاں سے پیدل ٹریک شروع ہوتا ہے وہاں تک پہنچتے پہنچتے شام ہوچکی تھی اور سیوک جھیل کو ،پھر آئیں گے کہہ کر واپس لوٹ آئے تھے۔ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے بعد سڑک سنگل ہوجاتی ہے ۔کٹی پھٹی لیکن اس قابل ہے کہ آسانی سے اس پر سفر کیا جاسکے۔ چڑھائی دھیرے دھیرے بڑھتی ہے اس لیئے ڈرائیونگ میں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی ۔
میلوٹ ٹیمپل کے قریب پہنچ کر گاڑی کو ایک طرف پارک کیا۔باہر نکلے تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ گہرے بادل اور یخ بستہ ہوائوں نے جسم میں ایک سنسناہٹ پھیلا دی۔ اور ہیبت ناک ہزاروں سال پرانے ٹیمپل کے آثار کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے ہوئے جب دوسری طرف نکلا تو سفید چٹانوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے قدموں کے نیچے سے جیسے چھت ختم ہوگئی ہو اور سامنے جہلم کا وسیع و عریض ڈیلٹا تاریخ کے ہزاروں صفحوں کو اپنے اندر سموئے اپنی بے پناہ تابناکیوں کے ساتھ کسی آرٹسٹ کے کینوس کی مانند میری نظروں کے سامنے پھیلا ہواتھا۔
ٹھنڈی یخ ہوا ایک عجیب پر اسرایت پیدا کررہی تھی ۔میرے سامنے فطرت کی رعنائی اپنی بھرپور دلفریبی کے ساتھ میرے اوپر ایک سحر طاری کرچکی تھی ۔جس میں بل کھاتی ندیاں اور موٹر وے ایک لکیر کی صورت دکھائی دے رہی تھی۔تاحد نظر سر سبز و شاداب وادی بکھری ہوئی تھی۔ ہواؤں کے سرد تھپرے کسی نظر نہ آنے والے ہیولوں کی مانند جسم کو سہلاتے اٹھکیلیاں کرتے کبھی سامنے سے دھکا دیتے تو کبھی سائیڈ سے۔
میں وادی کی طرف منہ کرکے ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔یہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان تنہائی میں مسرت محسوس کرتا ہے۔ امنگیں اور ولولے ایک ہجوم بپا کردیتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسانی فطرت کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔انسانی احساسات کے گمشدہ گوشوں کو روشن کرتے ہیں ۔انسانی ذہن کی متضاد کیفیتوں کی آماجگاہ کو ایک نقطے پر سمیٹ دیتے ہیں۔
میں سرشار تھا۔ایک مدھر ترنگ سرشاری دکھا رھا تھا۔پہلا لمحہ دوسرے میں ڈھل رھا تھا اور دوسرا تیسرے میں، تیسرا ایک احساس میں ۔اور میں ایک وجدانی کیفیت اور خودفراموشانہ محویت سے ایک جذبے میں ڈھل رھا تھا۔ اس جذبے کا کوئی نام نہیں تھا ۔ جس جذبے کو آپ کوئی نام نہ دے سکیں اس کو خوشی کہتے ہیں ۔ روحانی خوشی۔
وہ لافانی لمحے تھے ۔وجدانی لمحے۔وہ لمحے جن کا کوئی مول نہیں
وہ لمحے ، جن کے اختتام پر احساسات کا ہجوم ہوتا ہے، ناقابل بیان ہیجان ہوتا ہے۔
امید، حزن، توقعات، ملال، حسن، اداسی، خوشی، سرشاری، جوش۔
جذبات و احساسات کا ہجوم ہوتا ہے جو انسانی وجود اور زندگی کے ضامن ہیں وہ جذبات جن کے دم سے انسانی زندگی چل رہی ہے اور اپنے اپنے محور میں زندہ ہے۔
زندگی اسی کا نام ہے شائد ہر جذبے کا احساس، اس کا ظہور اور اس ظہور کا احساس۔
اور انسانی زندگی کی معراج شائد ان جذبوں کو زبان دینا ہے ۔
احساسات کے اظہار کی لگن روز ازل سے انسان کے خمیر میں ہے۔.....کیمرہ سے قلم تکسفر کریں۔ خوش رہیں۔ احساسات لکھیں اور خوشی محسوس کریں
میم سین

haqeeqat

Nostalgia, Scream and Flower -

یہ چند دن پہلے کی بات ہے .اپنے بھائی ابوزر کے ہمراہ چورپرجی والے خان بابا کے ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے پہنچا...خان بابا کا مٹن قورمہ ذائقے میں اپنی نوعیت کی منفرد ڈش ہے.. سالوں بعد بھی جائیں تو وہی ذائقہ ملتا ہے جو آپ کی زبان.محسوس کررہی ہوتی ہے....اس دن بھی کچھ ایسا ہی ذائقہ زبان.پر رکھے وہاں پہنچے اور قورمہ آرڈر کردیا..سروس کا بھی جواب نہیں اور چند ہی لمحوں بعد کھانا میز پر موجود تھا..اس دن ذائقہ تو ہمیشہ کی طرح ویسے ہی اعلی لگ رھا تھا لیکن گوشت کی کوالٹی بھی معمول سے زیادہ اچھی دکھائی دے رہی تھی..
لیکن ہوا کچھ یوں کہ ابھی ابتدائی لقمے ہی چل رہے تھے کہ گردے کا درد شروع ہوگیا..جووقفے وقفے سے اٹھتا اور پھر کچھ سنبھل جاتا... جیسے تیسے کھانا ختم.کرلیا..لیکن.کھانے کا ذائقہ یاد رھا نہ گوشت کی کوالٹی..درد بھی کچھ دیر بعد کافی سنبھل گیا
لیکن اس سارے واقعے سے میں نے ایک نتیجہ نکالا...
دوسری شادی کا فیصلہ کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی گردے کے درد جیسی بدمزگی پیدا ہوجائے تو سارا مزہ کرکراہ ہوجانا ہے..

flowers

Nostalgia, Scream and Flower -

بہار آئی توجیسے یک بار۔۔۔۔کچھ قربتیں , کچھ تعلق زبان کے محتاج نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بھی ہم ان سے باتیں کرتے ہیں ۔ آبشار کے پتھروں سے ٹکرا کر نکلتی ترنم کی زبان ، ہوا سے ٹکراتے، سرسراتے پتوں کی زبان، ندی کے پانی کی، پتھروں سے ٹکرا کر پیدا ہوتی گونج کی زبان۔ خشک مٹی پر پڑنے والے بارش کے پہلے چھینٹوں سے اٹھتی خوشبو کی زبان۔ پسینے سے شرابور جسم سے ٹکرانے والی ہوا کے پہلے جھونکے کی زبان۔ ساحل پر سمندر کے پانی کے پاؤں پر پہلے لمس کی زبان ۔ پتوں میں سے چھن چھن کر آتی سورج کی شوخکرنوں کی زبان ۔
جذبات اور احساسات خود ساختہ نہیں ہوتے۔ یہ فطری ہوتے ہیں۔ فطرت جب فطرت سے باتیں کرتی ہے تو تو روحیں تحلیل ہوجاتی ہیں ۔ایک خودفراموشی کا عالم ہوتا ہے۔ مسرت، طمانیت، ایک جذباتی یگانگت، اپنائیت۔
پرندوں کی خوش الحانی میں صدا سنائی دیتی ہے۔ درختوں کے پتوں کے رنگوں میں سانسوں کا گماں ہوتا ہے۔پھول کی پنکھڑیوں میں خوشبو کسی سنگیت میں رنگ بھرتی نظر آتی ہیں۔ یہ کتنا دلکش احساس ہے۔ کس قدر دل نشیں۔
چلیں پھر پھولوں سے باتیں کریں ۔ایک نیا رنگ ایک نیا روپ ایک نیا کیف محسوس کریں۔ ایک الہام کو۔ ایک وجدان کو ۔محبت کے اس اھساس کو جو لہو کی طرح ہمارے جسموں میں رواں ہے۔کائنات کی ان بہاروں کو جو ہمارے ارد گرد سماں باندھے کھڑی ہیں۔ زندگی کی ان گنت رعنائیوں کو جو آرزوئوں کو پروان چڑھاتی ہیں۔اس ابدی خوشی کیلئے جس کو زوال نہیں ۔
میم سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

یاداشتیں....چند سال پہلے ہمیں ایک تعریفی خط موصول ہوا تھا..خوشی سے ہم پھولے نہ.سمائے تھے..پھر ایک غزل نما بھی موصول ہوئی جس میں ہماری تعریف کچھ کچھ ڈبے میں کیک رکھ کر کی گئی تھی...پاس ہی عید تھی .عید کا کارڈ بھی ملا...جس پر ایک چھوٹا سا دل بھی بنا ہوا تھا.سرخ مارکر کے ساتھ جس میں ایک تیر بھی پیوست تھا...جس دن غائبانہ مداح نے اپنا تعارف کروایا تو معلوم ہوا ان کی تو پوری فیملی ہی ذہنی مریض ہے اور خود بھی ڈیپریشن کا ہی علاج کروا رہی تھی....ایک فیملی اپنی لڑکی کو بے ہوش حالت میں لائے جس نے زہر پی لیا تھا.چونکہ پرانا تعلق تھا اس لیئے ریفر نہ کرسکا .جب معدہ واش کرنے کیلئے نالی لائی گئی تو لڑکی نے کن اکھیوں سے موٹی سی نالی دیکھی تو اوسان خطا ہوگئے اور جونہی موقع ملا کہ تو ہاتھ جوڑ دیئے. میں نے تو اسے پریشان کرنا تھا جو کئی دن سے میری کال نہیں سن رھا تھا اور میرے میسجز کا جواب نہیں دے رھا تھا..ایک لڑکی چہرے کی دوائی لینے آئی.ہاتھ میں موبائل تھا.جونہی سٹول پر.بیٹھی تو سکرین آن ہوگئی...اس پر اس کی تصویر لگی تھی....بڑی گلاسز ...سیلفی سٹائل .. سفید شفاف جلد کے ساتھ ...
نقاب ہٹایا تو سارا چہرہ دانوں اور سیاہیوں سے بھرا ہوا تھا..بےساختہ منہ سے نکلا..
دیتے ہیں دھوکہ یہ موبائل کے فلٹر کھلا..یہ ابھی کل کی بات ہے..ایک پٹھان فیملی کو بچے کے بارے سمجھایا کہ گھر جاکر پہلے گرم.پانی سے نہلانا ہے پھر اس کو دوائی پلانی ہے اس کے آدھے گھنٹے بعد دودھ پلانا ہے...
اور آج خان صاحب کافی غصے میں تھے..ہمارے بچے کو کوئی افاقہ نہیں ہوا..
گھر جا کر ہم نے دوائی سے نہلایا پھر اس کوگرم.پانی کرکے پلایا ..آدھے گھنٹے بعد دودھ پلایا لیکن اس نے پھر الٹی کر دی...چلتے چلتے ایک بھولی بسری کہانی سناتا چلوں۔یہ کہانی ہے ایک چار جوان بچوں کی ماں کی جو ایک نوجوان ڈاکٹر کی اداؤں پر فریفتہ ہوگئی تھی۔خاتون کو اس نوجوان سے محبت ہوگئی تھی یا پھر صرف عقیدت تھی۔ اس کا جواب شائد اتناآسان نہیں ۔ ہوا کچھ یوں کہ نوجوان ڈاکٹرنے ایک قصبے میں نیا نیا کلینک کھولا تو وہ خاتون جو اپنے ایک سو بیس کلو وزن سے نالاں تھی ۔ اس ڈاکٹر کو بھی آزمانے پہنچ گئی۔ اور نوجوان جو نیا نیا ڈگری لیکر کالج سے نکلا تھا۔ پوری توجہ سے اسکی رہنمائی کی۔ اور خاتون اس توجہ پر کچھ اس طرح فدا ہوئیں کہ ناصرف ہدایات کو وحی سمجھ کر عمل کرنا شروع کردیا بلکہ ڈاکٹر کیلئے کبھی تازہ پھلوں کا جوس، کبھی ملک شیک، کبھی گاجروں کا حلوہ کے تحفے میں لانا شروع کردیئے۔ نوجوان ڈاکٹر تکلف کا مارا انکار تو نہ کرتا لیکن خاتون کے جانے کے بعد وہ کلینک کے عملے میں تقسیم کر دیتا۔ اور یوں خاتون نے چند مہینوں میں پورے تیس کلو وزن کم کرلیا۔ اور پھر ایک دن کچھ یوں ہوا کہ وہ خاتون بہت محبت کے ساتھ میووں میں بنا سوجی کا حلوہ بنا کرلائی۔ اورڈاکٹر نے حسب عادت اس کے جانے کے بعد پلیٹ عملے کے حوالے کر دی۔ لیکن خاتون کو کسی کام سے واپس لوٹ کر آنا پڑااور سویپر کے ہاتھ میں سوجی کے حلوہ کی پلیٹ دیکھ کر اس کے دل پر کیا گزری اس کا تو پتا نہیں لیکن وہ دوبارہ لوٹ کر کلینک پر نہیں آئی۔ راوی لکھتا ہے کہ ایک ماہ بعد ہی خاتون کا وزن دوبارہ ایک سو بیس کلو ہوگیا تھا اور وہ نوجوان ڈاکٹرآجکل کلینک سے کتاب تک لکھنے کے بعد اس کے اگلے حصے کی تیاری میں مصروف ہے۔میم سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

اماں حاجرہ اپنی بیماری کی فائلوں کے ساتھ پہلی بار آئیں تو ان کی ایک سال سے پخانے کے ساتھ خون آنے کی شکائیت ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے اور ہر ٹیسٹ کروانے اور کئی ڈاکٹرز کو چیک اپ کروانے کے باوجود رفع نہیں ہوسکی تھی..چیک اپ کرنیاور رپورٹس دیکھنے کے بعد میں نے ان کو ان کی بتائی ہوئی علامات پر سوچنے کی بجائے ذہنی امراض کی ادوایات شروع کرنے کا فیصلہ کیا..اور ہفتے بعد ہی کافی مطمئن واپس آئیں کہ اب خون آنا کافی کم ہوگیا ہے..چند ملاقاتوں کے بعد اماں سے بے تکلفی بڑھی تو ان کا میرے اوپر اعتماد بھی بڑھ گیا...جب اپنی اس کیفیت سے باہر نکل آئیں تو ایک دن بتانے لگیں....میرے چار بیٹے ہیں..زمینوں کا انتظام اور کاروبار کے سلسلے میں صبح گھر سے نکل جاتے ہیں..سب کی شادی میری مرضی اور پسند سے ہوئی ہے. شام کو جب واپس آتے ہیں تو ہم سب اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں..اس دن بھی جب سب کھانا کھانے لگے تو مجھے اپنا بیٹا ماجد یاد اگیا جو پانچ سال پہلے خونی پیچش لگنے کے بعد فوت ہوگیا تھا.. اور اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال نہ سکی..اگر وہ زندہ ہوتا تو آج وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رھا ہوتا.....ماں تو آخر ماں ہی ہوتی ہے....اسکے سارے بچے ایک جیسےمیم سین

camera

Nostalgia, Scream and Flower -

آوارہ گردی کے تین سال۔۔۔لوگ سمجھتے ہیں شائد ایک اچھا کیمرہ ایک اچھی تصویر کی ضمانت ہے اور میں بھی یہی سمجھتا تھا۔ لیکن وقت اور تجربے نے سکھایا ایک اچھا کیمرہ ایک اچھے ہتھیار کی طرح ہوتا ہے لیکن اسکو کب استعمال کرنا کیسے کرنا اور کس اینگل سے کرنا یہ سب کچھ تجربہ اور وقت سکھاتا ہے۔ایک اچھی تصویر کیلئے مناسب روشنی ، مناسب زاویہ, رنگوں کا امتزاج، اور بہت سارے دوسرے اجزا کے ساتھ فوٹو شاپ کا استعمال ضروری ہےفوٹو شاپ کا استعمال ضروری کیوں؟ روشنی کو کم زیادہ کرنا، زاویہ درست کرنا،غیر ضروری ابجیکٹس کو غائب کرنا، کراپ کرنا، بلرحصوں کو کلیئر کرنا۔وغیرہ وغیرہانسانی شعوراور علم وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہم جس بات پر کل یقین رکھ رہے ہوتے ہیں اس پر آج سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں اور جس بات کو کل ماننے سے انکاری ہوتے ہیں اس کو آج ایمان کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔ شعور ہمیشہ ارتقا کا سفر کرتا ہے۔ ایسے ہی علم وقت کے ساتھ بالیدگی کی سیڑھیاں طے کررھا ہوتا ہے۔۔ باقائدگی سے شروع کی ہوئی اس فوٹوگرافی کو لگ بھگ تین سال ہوچکے ۔اورہر سال جب اپنی پرانی تصویروں کو نکال کر دیکھتا ہوں تو آدھی سے زائد تصویروں کو نظر آنے والی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ریجیکٹ کردیتا ہوں۔میں کوئی بہت اچھا فوٹو گرافر نہیں ہوں نہ ہی مجھے کوئی ایسا دعوی ہے بس ایک ایگزاسٹ ہے جو قلم اور کیمرے کی مدد سے نکالتا رہتا ہوں لیکن جب مجھے کوئی فوٹو گرافی کے بارے پوچھتا کہ اچھی تصویر کیلئے کیا ضروری ہوتا ہے تو میرا جواب ہوتا ہے ۔ زندگی کے ہر کام کی طرح مستقل مزاجی۔۔میم سین

summer

Nostalgia, Scream and Flower -

ہمارے ہاں بہت سی خواتین کے نزدیک پچے کی پیدائش کے بعد سوا مہینے بعد پاک ہونے کیلئے جو غسل کیا جاتا ہے اس سیپہلے نہانا منع ہوتا ہے...ایسے ہی بہت سی عبایا پہننے والی خواتین سمجھتی ہیں کہ عبایا کا کپڑا شائد دھونے سے خراب ہوجاتا ہے....اور دونوں باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے..اپنے اوپر نہ سہی دوسروں پر رحم کھائیں جو مروت کے مارے بدبو کو برداش کرنے مجبور ہوتے ہیں..میم سین کلینک سے کتاب تک والے #عبایا #عبایادھونا #پسینا #گرمیاں #شاور
اضافی حاشیہ بشکریہ شہباز ملک صاحب..
حضرات سے بھی گذارش کہ گرمی کے موسم میں وضو کرتے ہوئے ایک گیلا ہاتھ اپنی کَچھ میں بھی مار لیا کریں۔ اسی طرح سردی کے موسم میں جرابوں کی دھلائی پر بھی تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ دوران جماعت اگر اگلی صف میں کوئی“مجرب”بھائی سجدہ ریز ہوں تو پچھلی صف والے بندے کے لئے سانس بند کر کے سبحان ربی الاعلیࣿ کا ورد مشکل ہو جاتا ہے۔
عمومی تاثر یہی ہے کہ سادگی دراصل اپنے حال اور آپٹکس سے بے خبری کا نام ہے۔ ذاتی صفائی سے بے اعتنا بندے کو پتہ نہیں کیوں سادہ مزاج سمجھا جاتا ہے۔

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

ایک شکل اور حلیئے سے کافی معقول اور پڑھے لکھے بندے نے آکر بتایا.چند دن پہلے آپ سے دوائی لی تھی لیکن ایک تیلے دا وی فیدہ نہ ہویا (اس سے کوئی افاقہ نہیں ہوا).پھر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تو اس کی صرف ایک خوارک سے ٹھیک ہوگیا.کم ازکم تہانو ایڈا تے پتا ہونا چاہی دا سی کہ مرض ایلوپیتھک اے کہ ہومیوپیتھک(آپ کو اتنا تو پتا ہونا چاہیئے تھا کہ بیماری ہومیوپیتھک ہے یا ایلوپیتھک)..اب چیک اپ کے بعد میرا تجربہ تو رھنمائی کرنے میں ناکام ہوچکا.. گوگل نے بھی کسی قسم کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے..اب مجھے سمجھ نہیں آرہی رہنمائی کیلئے کس سے رجوع کروں...فیلنگ کنفیوزڈ ود بابا کی ڈول اینڈ نائنٹی ایٹ ادرزمیم سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

ایک بچے کی ماں کو کافی دیر سمجھایا کہ اسے ماں کے دودھ کے علاوہ چھ ماہ تک کوئی چیز منہ کو نہیں لگانی..ماں ہلکی سی آواز میں بولیانگوراں دی کھنڈ دے دیان کراںمیں نے کہا نہیںپانی منہ نون لا دیاں کراںنہینچاروں عرق؟پھر ایک بار دھرایا سوائے ماں کے دودھ کے، اس کے منہ کو کچھ نہیں لگانا...شیزان دی بوتل منہ نون لا دیاں کراں..میں نے مایوس ہوکر ساتھ آئی اماں سے کہاتسی اینوں کج سمجھا دیو..میری تے کوئی گل ایڈی سمجھ نہین آندی پئی.وہ خاتون اس کی طرف مڑی اور کہنیلگی..گل سن. توں اینوں کچھ نہ دیا کر بس ماکھی دے دیا کر..میں نے حیرت کے ساتھ اماں کو دیکھا تو میرے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ کر بولیہن بچہ روندا ہویا ویکھیا وی تے نہین جاندا
میم.سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

کچھ سال پہلے ہم کچھ دوست ایک کینٹین پر بیٹھے تھے. گفتگو شیخوں کے لطیفوں سے شروع ہوئی. اور ارائیوں کی طرف نکل گئی اور میں نے بھی بھرپور حصہ لیا.. محفل برخواست ہوئی تو ایک دوست قریب آیا... ہاتھ پر ہاتھ مارا...ایک مزے کی بات بتائوں..میں اج تک آپ کو ارائیں سمجھتا رہا ہوں.بات سے بات نکلی تو پوچھا گیا پہلا کرش کون تھا..کہا سنا معاف..چند گھر دور ایک بٹ فیملی تھی.ان کی ایک مہ جبیں دوسری منزل پر بالوں میں کنگھی کرنے آیا کرتی تھی.. ہوبہو موتیے کا پھول...تب میں ساتویں جماعت میں تھا.اٹھویں میں پہنچا تو اس کی شادی ہوگئی.میں کئی دن اداس رھا..وقت گزرا تو اس کی یاد بھی محو ہوگئی.ایک دن گھر آیا تو تو دو فربہ خواتین کو گھر میں مہمان پایا..پتا چلا.ان.میں سے ایک موتیے کا پھول بھی ہے جو اب گوبھی کے پھول میں ڈھل چکا تھا...بٹوں کے حسن سے اعتبار کچھ ایسااٹھا کہ شادی سے پہلے جب کسی لڑکی کومستقبل کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی تو حفظ ماتقدم پوچھ لیتا تھا..تسی بٹ تے نہیں ہندے؟
میم.سین

clinic

Nostalgia, Scream and Flower -

صبح جس خاتون کو بڑی مشکل سے تسلی دے کر بھیجا تھا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں..بچے میں پانی کی کمی نہیں ہے.. دوائی استعمال کرائیں... بہتر ہوجائے گا..اور اب دو گھنٹے بعد خاتون دوبارہ بچے کو لیکر آگئی ہے کہ بالکل پانی نکالے جارھا ہے... نڈھال ہوچکا ہے... کچھ کھایا پیا بھی نہیں صبح سے..اور مجبورا مجھے اس کو ڈرپ لگانا پڑی.اور کچھ دیر پہلے ہی ایک کونسلر صاحب کی اپنے بھتیجے کے بارے میں کال موصول ہوئی تھی کہ اس بچے کو اس وقت تک چھٹی نہیں دینی جب تک اس کے پخانے بہتر نہیں ہوجاتے...اور میں اپنے علم فہم اور ابزرویشن کے درمیان الجھا ہوا تھا.کہ میرابیماری کی شدت بارے اندازہ غلط ہے یا پھر والدین کے تفکر میں انتہاپسندی ہے...کوئی دو گھنٹوں بعد ایک نوجوان نے خاتون کا ڈرپ لگوانے کے معاملے کا ڈراپ سین کیا..اس نے بتایا کہ مصروفیات کی وجہ سے گھر فون کیا تھا اس ویکنڈ نہیں آسکوں گالیکن بچے کی بیماری کا سن کر سب کچھ چھوڑ کر آنے پر مجبور ہوگیا ہوں......اگلے چند گھنٹوں میں کونسلر صاحب کے بھتیجے کی بیماری کی نوعیت بارے بھی علم ہوگیا..اتوار کی چھٹی کو بچے کی بیماری کے سہارے ہفتہ کے ساتھ ملایا جارھا تھا..لیکن میرے ذہن میں سوال یہ پیدا ہورھا ہے کہ بچوں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے والے والدین کی اس کوشش کو میڈیکل سائنس کس نظر سے دیکھتی ہے؟؟

ٹھٹھا مذاق

افتخار اجمل بھوپال -

سورۃ 49 الحجرات آیۃ 11
اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے پہ طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے ۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں

اپنے بلاگ پر میری 24 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے اقتباس

عید الفطر، خوشیوں کا تہوار

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

عید الفطر، خوشیوں کا تہوار عید کی آمد آمد ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عید کی تیاریاں بڑے زور و شور سے کی جا رہی ہے۔ ہر سال پاکستان میں عید الفطر پورے مذہبی جوش و جذبے اور نہائیت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا تی ہے،مختلف شہروں میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں پاکستان کی سلامتی، بقا اور خوشحالی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ عید کے دن مسلمان صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور عید گاہ یا جامع مسجد میں جاکر نماز عید پڑھتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کی ملاقات کو جاتے ہیں۔خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں،اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں۔غریبوں محتاجوں کو کھانا کھلاتے ہیں،احباب کو تحفے بھی پیش کیے جاتے ہیں کئی جگہ میلے بھی لگتے ہیں اور خوب رونق ہوتی ہے۔

نماز عید کے روح پرور اجتماعات میں علما اور خطیب امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہیں اور دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی خصوصی طور پر مذمت کرتے ہیں کیونکہ اسلام میں دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اسلام امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے ۔

عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر جو آپس میں کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو ایک دوسرے سے صلح کر لینی چاہیے اور بروز عید ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا چاہیے۔ عید کے دن دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں کیونکہ عید آتی ہے اور خوشیاں دے کر چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیںکہ اور جب انسان اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے سرفراز ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خوب خوشیاں منائے عید کے دن مسلمانوں کی مسر ت اور خوشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خدا کے احکامات کی ایک ماہ تک سختی سے تعمیل کی اور اس تعمیل کے بعد خوش و مسرور رہتے ہیں، حضرت ابوہریرہؓ ایک مشہور صحابی تھے آپ سے روایت کرتے ہیں، کہ عیدالفطر کے دن حضور میدان میں نماز ادا فرماتے نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں سے ملاقات کرتے گلے ملتے پھر واپس گھر آجاتے۔

عیدالفطر کا مقصد لوگوں کےدرمیان محبت کو بڑھانا ہے۔عید الفطر کا یہ یہ تہوار شکر, احسان اور خوشی کا دن ہے۔عید کے خوشیوں بھرے تہوار کے موقع پر ہر گھر میں خواتین مختلف قسم کے میٹھے اور نمکین پکوانوں کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں،اور اپنے گھر والوں اور گھر آنے والوں مہمانوں کی تواضع انہی لذیذ پکوانوں سے کرتی ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن خاص طور سے غریبوں، مسکینوں اور ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی، اور عید کی خوشی میں شریک کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا تاکہ وہ نادار جو اپنی ناداری کے باعث اس روز کی خوشی نہیں منا سکتے اب وہ بھی خوشی منا سکیں۔ ہمیں غریبوں ‘یتیموں ‘مسکینوں اور بیواؤں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ رب کی رحمتیں ہمارا مقدر بنیں۔
اما م ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ’’عید ، اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔رسول اکرم کا ارشاد ہے:’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے‘‘۔حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ نبی محترم نے صدقہ فطر کو مساکین کے کھانے کے لئے مقرر کیاہے۔ جو شخص اس کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرے تو وہ مقبول صد قہ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا(سنن ابی داؤد)لہٰذا گھر کے تما م زیر کفالت افراد ،ملازمین اور بچوں کی طرف سے عید الفطر کی صبح نماز عید سے قبل صدقہ فطر ادا کر دینا چاہیے جس کا بہترین مصرف آپ کے آس پاس وہ غریب و مسکین خاندان ہیں جن کو دو وقت کو روٹی بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ عیدکی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔نہ ان کے پاس کپڑے خریدنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی مادی ذرائع جنہیں استعمال میں لاتے ہوئے یہ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے۔

عید کے اس پُرمسرّت موقعے پر ہمیں اپنےآس پڑوس اور رشتے داروں پر نظر دوڑائیں کہ کہیں اُن میں سے کوئی ایسا تو نہیں، جو اپنی غربت اور تنگ دستی کے سبب عید کی خوشیوں میں شامل ہونے سے محروم ہے، ان کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کریں۔ روایت ہے کہ آقائے دوجہاںﷺنمازِ عید سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ کی نظرایک بچّے پر پڑی، جو میدان کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ نبی کریمﷺ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور پیار سے اُس کے سَر پر دستِ شفقت رکھا، پھر پوچھا’’ کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘بچّے نے کہا’’ میرا باپ مرچُکا ہے، ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میرے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے، نہ پہننے کو کپڑا۔‘‘یتیموں کے ملجاﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،فرمایا کہ’’ اگر میں تمہارا باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہو، تو خوش ہو جائو گے؟‘‘ کہنے لگا’’ یارسول اللہﷺ! اس پر مَیں کیسے راضی نہیں ہو سکتا۔‘‘حضورِ اکرمﷺبچّے کو گھر لے گئے۔

کُلُ عام انتم بخیر

افتخار اجمل بھوپال -

میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عيد مبارک
الله کریم آپ سب کو کامِل ایمان کے ساتھ دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين
اُنہیں نہ بھولیئے جنہیں الله نے آپ کے مقابلہ میں کم نوازہ ہے ۔ ایسے لوگ دراصل آپ کی زیادہ توجہ کے حقدار ہیں

رمضان کا مبارک مہینہ بخیر و عافیت گزر گیا ۔ الله سُبحانُهُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے
عیدالفطر کی نماز سے قبل اور بہتر ہے کے رمضان المبارک کے اختتام سے پہلے فطرانہ ادا کر دیا جائے ۔ کمانے والے کو اپنا اور اپنے زیرِ کفالت جتنے افراد ہیں مع گھریلو ملازمین کے سب کا فطرانہ دینا چاہیئے
عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْا الله وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لا اِلهَ اِلالله و اللهُ اکبر اللهُ اکبر و للهِ الحمد
ا اللهُ اکبر کبِیرہ والحمدُللهِکثیِرہ و سُبحَان اللهُ بکرۃً و أصِیلا

آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں
اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
جدِ امجد سیّدنا ابراھیم علیه السّلام کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ ہمارے مُلک کو امن کا گہوارہ بنا دے اور سب کے رزقِ حلال میں کُشائش عطا فرما
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین یا رب العالمین

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۔ (سُوۡرَةُ البَقَرَة ۔ آیة 126)
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: “اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے” جواب میں اس کے رب نے فرمایا ”اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے“۔

توجہ کا اکرام

پروفیسر محمد عقیل -


اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نماز پڑھتے وقت ہماری توجہ نماز کی بجاۓ دوسری جانب مبذول ہو جاتی ہے. اس میں شیطانی وسوسوں کا بھی بڑا دخل ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے انسان کو ورغلانے کاوعدہ کیا تھا.اور وہ آپ کا دھیان دوسری طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے.

دوسری وجہ یہ کہ یہ ایک فطری عمل اورآپ کی اپنی کمزوری بھی ہے کہ جس طرف آپ کا دل و دماغ لگا ہوتا ہے. ظاہر ہے وہی چیزیں آپ کے دماغ پرمسلط ہوں گی اور دھیان اسی جانب جاۓ گا. حالانکہ آپ زبان سے تلاوت کر رہے ہیں مگر آپ کی توجہ اس طرف چلی جاتی ہے جو کام آپ نے کرنے ہوتے ہیں یا جو کام آپ نےابھی ختم کئے ہوتے ہیں اور سب سے بڑی چیز یہ کہ ہم دنیا میں اتنے منہمک ہیں کہ دنیاوی کاموں کواپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہوتاہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت آٹومیٹک ثانوی پوزیشن اختیار کرلیتی ہے. ہم زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت , تلاوت یا تسبیحات کر رہے ہوتے ہیں مگر دماغ دوسری طرف تیز رفتاری سےاپنے دنیاوی پراجیکٹ پر کام کررہا ہوتا ہے. جوں ہی آپ کی عبادت , تلاوت ,تسبیہات مکمل ہوئیں آپ کا دنیاوی پراجیکٹ بھی آٹو میٹک تکمیل کی حدود تک پہنچ چکا ہوتا ہے
آپ نے نوٹ کیا ہے کہ جب آپ ریڈیو سن رہے ہوں تو کہ آپ جس اسٹیشن کی نشریات سن رہے ہوں تو اس کے ساتھ والے اسٹیشن سےدھیمی انداز میں آٹومیٹک نشریات سنائی دے رہی ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے اسٹیشن کی فریکوئینسی زیادہ طاقتور ہے اس لئے بیک وقت دو مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہوتی ہیں انسانی سوچ اوراسکی فوقیت کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے کہ ہم زبان سے تلاوت کر رہے ہوتے ہیں رکوع و سجود کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمارے دماغ میں وہ خیالات آتے ہیں. جو کام ہم ختم کرچکے ہوتے ہیں یا ہم کرنے والے ہوتے ہیں یا ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں اور وہ تمام منصوبے ہم نماز کی تکمیل ہونےتک مکمل کرلیتے ہیں. کیوں کہ ہمارا دماغ ریڈیو کی فریکوئینسی کی طرح دنیاوی مسائل کی طرف الجھا ہوا ہوتا ہے اور ہمارے مسائل ہماری تلاوت پر فوقیت پا جاتے ہیں
آپ کسی ویب سائٹ کو ٹائپ کریں اور وہ نقطہ لگانا بھول جائیں جو "ڈاٹ کام” کہلاتا ہے. آپ پوری کوشش کرتے رہیں مگر وہ ویب سائٹ کھل ہی نہیں سکتی جب تک آپ وہ نقطہ نہ لگائیں . یہی وہ نقطہ ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان حائل ہےجسے ہم توجہ اور یکسوئی کہتے ہیں. اگر آپ کی نماز کے دوران اللہ کی یاد اور اسکی بندگی کی لگن اتنی طاقتور ہو کہ آپ کے دنیاوی مسائل پر ہاوی ہوجائے . تو یہی آپ کی کامیابی ہے .عبادت میں توجہ اور یکسوئی کا ہونا ہی اصل معراج ہے.
آپ گلاب کے پھول کو ہاتھ میں لیں اور اس کی خوبصورتی کو دیکھیں اور اس کو سونگھیں. اس کی خوبصورتی سے آپ لطف اندوز ہوں گے
اور اس کی خوشبو آپ کے دل و دماغ کو معطر کر دے گی. جس سے خوشی اور لذت حاصل ہو گی یہ گلاب کا پھول آپ کو کیوں اچھا لگا اور اس کی خوشبو سےآپ کس طرح محظوظ ہوئے. کیوں کہ آپ نے اس کو غور سے اور توجہ سے دیکھا اور سونگھا
آدھی رات، یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو. المزمل 73:3,4
اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جا مع ہو اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فر ماں بردار غلام کھڑ ے ہوتے ہیں. البقرہ 2:238
اس سے کہیں زیادہ تسکین آپ کو اس وقت حاصل ہوگی جب آپ نماز میں تلاوت کو اس انداز اور توجہ سے کر رہے ہوں کہ جیسے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہیں اور اللہ آپ کودیکھ رہا ہے یہ وہ عمل ہے جو آپ کے دل و دماغ میں سرائیت کر جائے گااس عمل کا کوئی پیمانہ نہیں صرف توجہ اور یکسوئی درکار ہے. آپ دیکھیں گے کہ آپ کی عبادت اور عمل قبولیت کے اس درجے کےقریب سے قریب تر ہوتا جائے گا.اور رب ذوالجلال کی طرف توجہ مرکوز کرلیں تو ہم اس اجر عظیم کے حقدار بن جائیں گے جس کا اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے
اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا
دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں. البقرہ 2:186
ترتیب وتالیف: عبدالرشید خان
ورجینیا امریکہ

آئیے منی پلانٹ اگائیں ، کٹنگ سے پودے تک آسان مراحل

گھریلو باغبانی -

Image result for money plant
انتہائی آسانی سے گملوں میں لگائے جانے اس پودے کا عام فہم نام" منی پلانٹ" ہے ، منی پلانٹ بڑا ہی خوبصورت پودا ہےجتنا یہ خوبصورت ہے ، اسے اگانا اتنا ہی آسان ہے ،ہمارے ہاں روائت ہے جس گھر میں منی پلانٹ ہوتا ہے وہاں بڑی خوشحالی آ جاتی ہے بحرحال یہ روائت ہی ہے، ان ڈور پودوں میں سب سے زیادہ مقبول پودا ہے بس آپ ایک دفعہ کسی دوست سے یا نرسری سے اس لے لیں،نرسری سے ممکن ہے پچاس روپے میں مل جائے بس پھر اس سے جتنے چاہو تیار کرلو بس اس کی تقریباً چھ انچ کی شاخ کو سیون اپ کی بوتل میں پانی ڈال کر لگا دو ،اس کا دو انچ حصہ پانی میں اور باقی باہر ہو، ایک ہفتہ میں آپ کو اس کی سفید رنگ کی جڑیں نظر آنا شروع ہو جائیں گی بس نکال کر کسی چھوٹے گملے میں لگا لیں،ذرا بڑا ہوجائے تو بڑے گملہ میں شفٹ کر دیں، لٹکانے والی ٹوکریوں میں بھی بہت خوبصور ت لگتا ہے،پانی کی بوتلوں میں بھی سب سے زیادہ اسی کو ہی لگایا جاتا ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ   یہ ہے کہ عام پودوں کی نسبت رات کو یہ زیادہ آکسیجن خارج کرتا ہے  اس طرح یہ ہمارے گھر کو آلودگی سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہےنوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

فقہ، حنفی، ذمی اور شاتم رسول کی سزا

مذہب فلسفہ اور سائنس -

سوال: امام ابو حنیفہ ؒکے نزدیک ذمی اگر رسول ؐکو گالی دے تو اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا تو آسیہ بی بی کے کیس میں اگر توہین ثابت ہو بھی جائےتو کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر فتوی دے کر اسے ذمی جان کر معاف نہیں کیا جا سکتا؟ جواب: جب یہ…

جدیددورمیں غلام اورباندی بنانےکاتصور

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ عمار خان ناصر صاحب نے جنگی قیدیوں کو غلام باندی بنانے سے متعلق داعش کے نقطہ نظر کا ذکر کیا اور اس کے لیے کن دلائل کا سہارا لیا جاتا ہے، ان الفاظ کے ساتھ وہ سوال اُٹھاتے ہیں: ”دولت اسلامیہ (داعش) کے ترجمان جریدے میں جنگی قیدیوں کو غلام باندی بنانے کے حق…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator