Feed aggregator

کابل میں ملٹری اکیڈمی کے باہر خودکش حملہ، 6 افراد ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کابل میں ملٹری اکیڈمی کے باہر خودکش حملہ، 6 افراد ہلاک افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ملٹری اکیڈمی کے باہر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق 2005 میں قائم ہونے والے مارشل فہیم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے باہر خودکش حملے میں طلبہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

کابل پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز نے کہا کہ خودکش حملہ آور پیدل آیا تھا، جس نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ سے داخلے کی کوشش پر فوجی اہلکار کی جانب سے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘حملے میں 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔’ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل خود کو دھماکے سے اڑا لیا، تاہم انہوں نے ہدف کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ داعش سے منسلک افغان دہشت گرد گروپ کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ اس کی جانب سے کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ حملے میں 50 تربیتی فوجی ہلاک ہوئے۔ https://www.dawnnews.tv/news/1104372/ داعش کو علم ہونا چاہئیے کہخودکش حملےاور دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔ رمضان جیسے مقدس ماہ میں خودکش دھماکا کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔ حضرت  ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے  جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہیں اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں مالوں کو مامون جانیں۔’  فساد پھیلانا قتل و غارتگری کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اللہ کے رسول اکرم کا ارشا د ہے: اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ (البخاری) ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوں کی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

اورنگزیب عالمگیرپرلگائےجانےوالےبڑےاعتراضات کاعلمی جائزہ

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ اورنگزیب عالمگیر کی طرف سے اپنے بھائیوں کو قتل کرنے اور باپ کو قید میں ڈالنے کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ اورنگزیب اوربرصغیر کے حالات و واقعات کے بارے میں فرانسس برنیئر اور دیگر مغربی مورخین کے بیانات کیوں کر ناقابل اعتماد ہیں؟ فرانسس برنیئر کی طرف سے شاہ جہان اور اس کی…

مغلیہ دورمیں برصغیرکی ترقی-غیر مسلم مورخین کےبیانات کےروشنی میں

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی،…

فخر و تکبّر

افتخار اجمل بھوپال -

اپنے اِسی بلاگ پر میری 23 اکتوبر 2005ء کی تحریر سے

سورۃ 31 لقمان آیت 18 اور 19
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر
نہ زمین میں اکڑ کر چل
اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا
اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ
سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے

کوئٹہ میں ائیر بیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

کوئٹہ میں ائیر بیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا کوئٹہ میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنادیا گیا ہے ، 4نامعلوم دہشتگردوں نے سمنگلی ائر بیس کے قریب  پولیس ناکہ پر فائرنگ کی تھی، جوابی فائرنگ میں 2دہشتگرد ہلاک جبکہ دوموقع سے فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں سمنگلی ائر بیس کے قریب واقع پولیس ناکے پر رات گئے نامعلوم چار دہشت گردوں نے فائرنگ کی سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ ہوا جس کے نتیجے  میں دو دہشت گرد مارے گئے اور دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیاہے  ۔ واقعہ میں ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دی  گئی ہیں۔ https://www.humnews.pk/latest/167144/ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس  چوکی پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ۔ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے۔ کبار ائمہ تفسیر و حدیث اور فقہاء و متکلمین کی تصریحات سمیت چودہ سو سالہ تاریخِ اسلام میں جملہ اہلِ علم کا فتویٰ یہی رہا ہے ۔ اپنی بات منوانے اور دوسروں کے موقف کو غلط قرار دینے کے لئے اسلام نے ہتھیار اُٹھانے کی بجائے گفت و شنید اور دلائل سے اپنا عقیدہ و موقف ثابت کرنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ ہتھیار وہی لوگ اُٹھاتے ہیں جن کی علمی و فکری اساس کمزور ہوتی ہے اور وہ جہالت و عصبیت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو اسلام نے باغی قرار دیا ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔  داعش کی دہشتگردی، اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہ.یں داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، اسلام لانے کے بعد شراب پیتے تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ کے تیسرے باب میں ص 15 پر، حدیث نمبر 31 کے تحت مسند احمد کی ایک روایت کے ترجمے میں ڈنڈی مارتے ہوئے یہ الزام لگاتے ہیں کہ معاذ اللہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، اسلام لانے کے…

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب سے ملاقات، مکالمہ اور اس کے احوال

مذہب فلسفہ اور سائنس -

کل انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کے حوالے سے ایک پوسٹ لگائی تھی کہ تین ماہ پہلے راقم ان سے ملاقات کے لیے ان کے ادارے جہلم گیا تھا، دوران ملاقات کچھ مکالمہ بھی ہوا اور پھر راقم الحروف نے مرزا صاحب کی ان کے بقول دی بیسٹ پراڈکٹ اور ہائیڈروجن بم کا ناقدانہ جائزہ…

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، اسلام لانے کے بعد حرام اشیا استعمال کرتے تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ کے تیسرے باب میں ص 15 پر، حدیث نمبر 31 کے تحت سنن ابو داود کی ایک روایت کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں حرام اشیا…

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بدعتی تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سنت کو ختم کر کے اپنی بدعات کو رواج دینے کے لیے کوشاں تھے۔ مرزا صاحب اپنے اس کتابچے کے…

کیا امیر معاویہ کے دور حکومت میں ان کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبروں پر گالیاں دی جاتی تھیں؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ کے چوتھے باب بعنوان ’’چوتھے خلیفہ راشد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان اور ان پر منبروں سے لعنت کرنے کی بدعت کب اور کس نے ایجاد کی ؟‘‘ میں یہ ثابت کرنے کی…

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ کے تیسرے باب میں ص 14 پر، حدیث نمبر 27 کے تحت لکھتے ہیں ’’یعنی صحابیت کے سوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے۔‘‘ سنن الترمذی کی…

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی اور بدعتی تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام کا گروہ، باغی گروہ تھا۔ اور وہ صرف انہیں باغی کہنے پر اکتفا نہیں کرتے…

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کےاعتراضات کاجائزہ

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں تیسرے باب کے ذیل میں، ص 13 پر، صحیح مسلم کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں یہ ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول…

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزاکےاعتراضات کا جائزہ

مذہب فلسفہ اور سائنس -

۔ حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ کی صحت : انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں پہلے باب کے ذیل میں، ص 2 پر، سنن ابی داؤد کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں یہ ہے کہ حضرت سفینہ، مولی ام سلمہ…

اصحاب رسول ﷺ اور منافقت کے طعنے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

. اس دنیا میں کسی بھی دعوت اور اس پر برپا ھونے والے انقلاب (مثلا لبرل ازم یا مارکس ازم ہی) کا مطالعہ کرلیں تو معلوم ھوگا کہ اسکی کامیابی اور پھیلاؤ ھمیشہ ایسے حضرات کے ھاتھوں ھوا جو اس دعوت پر سب سے اعلی درجے کا ایمان لانے والے تھے۔ جو کام انسانوں کے…

واقعہ کربلا اور تاریخی روایات:

مذہب فلسفہ اور سائنس -

. سانحہ کربلا کے موضوع پر بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں اس واقعے سے متعلق جیسا جھوٹ گھڑا گیا ہے، شاید ہی کسی اور واقعے سے متعلق گھڑا گیا ہو۔ ہزاروں مرثیے لکھے گئے اور انتہاء درجے کی مبالغہ آرائی کے ساتھ اس سانحہ کو ایک افسانے…

واقعہ کربلا کے تین رخ-بحث کوخلط نا کیجیے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

محرم آتے ہی کربلا پر متنوع قسم کی بحثیں شروع ہوجا تی ہیں ،اور پھر ناصبیت ،رافضیت اور نیم رافضیت کے الزامات ایک دوسرے کے سر تھوپے جاتے ہیں ،اس واقعے کے تین رخ ہیں ،اور بحث کرتے وقت ہر رخ متعین کر کے بات کی جانی چاہیے ،خلط مبحث سے ہی الزامات کی بوچھاڑ…

تاریخ اسلام کو عقائد کی بنیاد نا بنائیے

مذہب فلسفہ اور سائنس -

تاریخ کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟ اس پر ہم پہلے کچھ تحاریر پیش کرچکے ہیں ، یہ تحریر تاریخی مطالعہ کے متعلق ایک بہت جداگانہ اور دلچسپ نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ نوٹ ہمارا رائٹر کی ہر بات سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ ایڈمن ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سوشل میڈیا پہ( بالخصوص محرم الحرام کے دنوں میں)،…

شیعہ سنی اختلاف کی حقیقت

مذہب فلسفہ اور سائنس -

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ “اهل سنت” اور “شيعه اثناعشريه” کا اختلاف صرف دو مکاتب فکر کا یا محض “فقہی” اختلاف نہیں، بلکہ ان کا اختلاف اصول دین اور ارکان اسلام کا اختلاف ہے، ہاں ہم اس سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ مذہبی اختلافات میں تشدد اور قتل و غارت کا کوئی جواز…

عقیدہ امامت

مذہب فلسفہ اور سائنس -

٭قرآنی کاسمولوجی اور “اماموں” کی کیٹیگری ھر مابعدالطعبعیات “حقیقیت کی ماھیت” (آنٹالوجی) کے ساتھ ان “حقیقتوں کی ترتیب” کے تصور کو بھی جنم دیتی ہے (جسے اھل فلاسفہ کاسمولوجی یعنی کونیات کہتے ہیں)۔ قرآن انسان کو جس مابعد الطبعیات (حقیقت) پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے خود قرآن اپنی اس مابعدالطبعیات سے برآمد ہونے…

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator