Feed aggregator

محبت کا دن” یا عصمت دری کا لائسنس _ محمد فاروق بھٹی

اسریٰ غوری -

ترقی کے نام پر “ہم” باہم شیر و شکر اور “کو” ہو چکے ہیں ۔۔۔ شادی بیاہ۔کی طویل ترین رسومات نے بھی “کو” کر دیا ہے، سکول، کالجز، یونیورسٹیز، دفاتر بھی “کو” ہوئے ہیں، لباس خوراک بھی، بازار، منڈی اور مارکیٹ بھی ۔۔۔ سہیلی جیسے “پسماندہ” لفظ کی جگہ “یار یار اور دوست” نے لے […]

ویلنٹائن ڈے تہذیبوں کی جنگ کا ایک اہم ہتھیار _ مہتاب عزیز

اسریٰ غوری -

چودہ فروری کو منائے جانے والے یوم محبت یا ویلنٹائں ڈے کی ابتداء کہاں اور کیوں ہوئی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ البتہ یہ سب کا ماننا ہے کہ اس کا تعلق بت پرست یونانی یا رومی ادوار سے ہے۔ کہیں اسے یونان کی رومانی دیوی ” یونو ” […]

یوم سبت کی مچھلیاں اور ہماری مستیاں !! _ ملک جہانگیر اقبال

اسریٰ غوری -

قرآن پاک کی سورہ اعراف میں حضرت موسیٰ علیہ سلام کی امت کا اک واقعہ شاید آپ سب نے پڑھ رکھا ہوگا جو اصحاب سبت/ یوم سبت کے نام سے جانا جاتا ہے . واقعہ کچھ یوں تھا کہ یہودیوں کے اک قبیلے کو اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ آپکو یوم سبت یعنی […]

طیب اردوان کے خلاف بغاوت کے الزام میں سابق ایئر چیف سمیت 104 اہلکاروں کو عمر قید

اسریٰ غوری -

انقرہ: ترکی میں حکومت کے خلاف بغاوت کے مرتکب سابق ایئر چیف سمیت 104 فوجی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی میں صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف دو سال قبل فوجی بغاوت اور انہیں قتل کرنے کی سازش کرنے کے مقدمے کی […]

روز کے ویلنٹائن _ فیض اللہ خان

اسریٰ غوری -

مخلوط دفاتر کا ایک مسئلہ یہ ھوتا ھیکہ خواتین کے چکر میں کئی مرد بھی سج سنور کر آتے ھیں ، چاھے برینڈڈ کپڑے ھوں چہر٥ گورا کرنا ھو یا علمیت کا رعب جھاڑنا ۔ ایسے کاموں میں مرد حضرات ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہا کرتے ہیں […]

حرم کی ابابیلیں

اسریٰ غوری -

فلسطینی بچے ’محمد ایاش‘ نے آنسو گیس سے بچے لیے پیاز کی مدد سے ایک ایسا ماسک تیار کیا ہے جو شیلنگ کے دوران زہریلی گیس سانسوں کے ذریعے پھیپڑوں میں جانے سے روکتا ہے، جسے لگا کر اسرائیلی فوج کے آگے ڈٹ کر احتجاج کیا جاسکے گا۔ بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے […]

میڈیا اور میرا کردار – ناہید خان

اسریٰ غوری -

اس وقت میڈیا ایک ایسا عالمگیر ٹیچر ہے جو اپنے شاگردوں کو جیسے جب اور جہاں چاہے ان کے ذہن موڑ دے ۔آج معاشرے میں جس اچھے یا برے رویے کا برملا اظہار کیا جا رہا ہے وہ سب میڈیا کے کردار کی مرہون منت ہے۔میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے اور اس طاقت کا […]

منیبہ مزاری حقیقت یا جھوٹ ؟ عبد السمیع قائم خانی

اسریٰ غوری -

ہم اب ایسی دنیا کے باسی ہیں جہاں شخصیات، واقعات اور مہمات کو مشہور کرنے کے لئے حقائق سے زیادہ احساسات سے کام لیا جاتا ہے۔ جھوٹ اتنی سچائی سے اور اتنا زیادہ بولا جاتا ہے کہ سچ لگنے لگتا ہے اور لگتے لگتے سچ بن بھی جاتا ہے۔ منیبہ مزاری آج کل ایک بہت […]

ندائے دل صدائے وقت _ الطاف جمیل ندوی سوپور

اسریٰ غوری -

تحمل قوت برداشت امت مسلمہ کا خاصہ اسلام کا مصدر “سَلِم” یا “سِلم” ہے جس کا مطلب ہے سر تسلیم خم کردینا، امن و آشتی کی طرف رہنمائی کرنا اور تحفظ اور صلح کو قائم کرنا یہ ایک پر نور نظریہ ہے جہاں انسانی مال جان آبرو کو عزت دی گئی ہے ہم نے گر […]

ناقابل معافی جرم _ مسعود ابدالی

اسریٰ غوری -

امریکی تاریخ کی پہلی مسلم خاتون رکنِ کانگریس محترمہ الحان عمر آجکل شدید دباو میں ہیں۔ بات بظاہر بہت معمولی سی ہے لیکن ‘ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی والا معاملہ ہے’۔ گزشتہ دنوں امریکی سیاست پر یہودی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا Its […]

یادش نخیر

Nostalgia, Scream and Flower -


پانچ منٹ تک مرغا بنے رہنے کے بعد کھڑا ہوا تو اوسان بحال ہونے میں کچھ وقت لگ ہی گیا
بہت دنوں بعد جب دھند سےآسمان صاف ہوا تو چمکدار دوھوپ دیکھ کر ریاضی کی کلاس گراؤنڈ میں لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس گراؤنڈ میں ہماری کلاس نے ڈیڑہ ڈالا اس کے ساتھ والی گرائونڈمیں سالانہ کھیلوں کی تیاری کیلئے طالب علم کرکٹ کی  پریکٹس کررہے تھے۔ ماسٹر صاحب جونہی بلیک بورڈ پر لکھنے کیلئے رخ بدلتے میں فورا بالر اور بیٹس مین کی کارکردگی دیکھنے میں مصروف ہوجاتا اور  ماسٹر صاحب کے کلاس کی طرف مڑنے سے پہلے دوبارہ  اپنی توجہ کلاس میں مرکوز کرلیتا۔ بیٹسمین نے ایک سٹروک کھیلا اور گیندہوا میں کافی بلند ہوگئی ۔ فیلڈر اس کے نیچے تھا۔  میری نگائیں بال اور فیلڈر پر مرکوز تھیں ۔ کیچ کرسکے گا یا نہیں۔ اور جب میں  کلاس کی طرف متوجہ ہوا  تو ماسٹر صاحب اشارے سے مجھے اپنے پاس بلارہے تھے۔۔۔۔۔ریاضی کے یہ ماسٹر صاحب ناصرف پڑھائی کے معاملے میں کافی سخت مزاج تھے بلکہ وقت کے بھی بہت پابند تھے۔ چھٹی کا لفظ شائد ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا ۔ سکول شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے زیرو پیریڈ کے نام پر اضافی کلاس بھی لیا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے ان کی طالب علموں میں مقبولیت  حکومتی کارکردگی کی طرح کافی کم رہتی  تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن سکول سے بنا کسی اطلاع کے غائب ہوگئے۔دوپہرکو خبر ملی، لقوہ ہوگیا ہے۔  محمد بخش تو کہہ کر گیا تھادشمن بیمار پوے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی بیمار پر جاناںٹیگر تے دن ہویا محمد اوڑک نوں ڈب جانالیکن خوشی وہی، جو چھپائے نہ چھپے ۔باوثوق ذرائع سے پتا چلا، دو ہفتے سے پہلے ان کا سکول آنا ممکن نہیں ۔اور  کلاس میں جشن کی گھٹا چھا گئی۔ ۔لیکن سانحہ یہ ہوا کہ تیسرے دن ہی منہ پر کپڑا لپیٹ کر کلاس میں چلے آئے اور سرپرائز ٹسٹ کا علان بھی کردیا
 ولی محمد صاحب کو اللہ غریق رحمت کرے اور جنت کے بلند مقام پر جگہ دے۔ ایک بار کلاس میں میرے بارے کہا تھا کہ  اس کو سعادت مندی کی وجہ سے زندگی میں اللہ ہمیشہ کچھ نمبر تیاری کے بغیر ہی دے دیا کرے گا ۔اور  اللہ تب سے کچھ نہیں، سے   کچھ زیادہ ہی نواز رھا ہے۔۔۔ 

عمر بلال کی سال گرہ

نوک جوک -

امریکا پلٹ صحافی عمر بلال کی سالگرہ یوں تو سات دسمبر کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تقریبات سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔IMG-20181208-WA0017
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سات دن تک جشن منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ نیویارک، لندن، ٹوکیو، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا میں بھی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے اور قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے۔
عمر بلال کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بہت زیادہ موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے موم کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ فوری طور پر موم دوسرے ممالک سے درآمد کرتا پڑتا ہے، جس کے بعد ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اور موم بتیاں جلانے سے دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت اور دھویں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔
کروڑوں کی تعداد میں کیک ہلال کیے جاتے ہیں۔ بیکریاں ڈبل شفٹوں میں کام کرتی ہیں لیکن پھر بھی مانگ پوری کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ کیک کی تیاری میں استعمال ہونے والی چینی سے تمام شوگر ملوں کا اسٹاک ختم ہو جاتا ہے اور وہ گنا مالکان سے مزید گنا منہ مانگے داموں خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں کسانوں پر بھی خوش حالی آ جاتی ہے۔
سال گرہ پر بین الاقوامی صحافیوں کرسٹینا امان پور، اینڈرسن کوپر اور دیگر نے واٹس ایپ پر مبارک باد کے ویڈیو پیغام بھیجے۔ اوپرا ون فری نے اپنا ایک شو عمر بلال کے نام کیا۔ بین الاقوامی برطانوی نشریاتی ادارے کے صحافی عماد خالق نے بھی تقریب میں شرکت کی.
عمر بلال کی عمر گزرتی جا رہی ہے اور اس ویڈیو کی ریکارڈنگ تک وہ کنوارے ہی ہیں۔ اس غم میں کئی دوست دبلے ہو
چکے ہیں۔۔ اس خدشے کے باعث کہ کہیں عمر بلال شادی کر ہی نہ لیں، کئی خواتین نے ہاتھوں کی چوڑیاں توڑ کر ان کا شیشہ پیس کر کھا لیا ہے۔ کئی نے زہر کھایا اور کئی کودنے کے لیے بلند عمارتوں پر چڑھ گئیں۔
اس پر مسرت موقع پر محکمہ ڈاک نے دو روپے کا یادگاری سکہ جاری کیا۔ قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی گئی کہ اسٹیٹ بینک سو روپے کے نوٹ پر بھی عمر بلال کی تصویر چھاپے۔
عمر بلال چونکہ اس جماعت کے حامی ہیں جو ووٹوں کے بجائے بوٹوں سے اقتدار میں آئی۔ لہزا ان کی سالگرہ کی خوشی میں راولپنڈی صدر کے قریب اور اسلام آباد آب پارہ مارکیٹ کے قریب اکیس اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ ان کی طویل عمر کے لیے شاہراہ دستور کی ایک عمارت میں انصاف نامی دیوی کو قربان کر کے صدقہ دیا گیا۔ حکومت نے قیدیوں کی سزا میں کمی کا اعلان کیا اور قذافی اسٹیڈیم لاہور میں عمر بلال کے نام سے ایک انکوژر بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

آج اولین سقوطِ بغداد کا روز ہے__!! مہتاب خان

اسریٰ غوری -

10 فروری 1258 کو خلافت عباسیہ کو منگولوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ بغداد اس وقت دنیائے اسلام کا سب سے شاندار اور آباد شہر تھا، قلعہ بندیاں مضبوط تھیں۔ لیکن دل اور ایمان کمزور تھے۔ اس لئے 50 دن کے محاصرے کے بعد ہلاکو خان خلیفہ کے وزیر رافضی العقیدہ ابن علقمی کی مدد […]

مشہور زمانہ شمع اردو میگزین دہلی کے عروج و زوال کی داستان

حیدر آبادی -

shama-delhi
تحریر: اقبال حسن آزاد (مونگیر، بہار)۔

دہلی سے شائع ہونے والے مشہور زمانہ رسالے "شمع" کے نام سے کون ناواقف ہوگا۔
واقعہ یہ ہے کہ یوسف دہلوی مرحوم اپنی اہلیہ کے علاج کے سلسلے میں دہلی آئے ہوئے تھے۔ بیماری نے طول کھینچا اور ان لوگوں کا قیام طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ وقت گزاری کے لیے انہوں "شمع" نام کا ایک نیم ادبی رسالہ جاری کیا۔ شروع میں اس کی قیمت صرف دو آنے تھی۔ اس رسالے نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور "شمع" ایک مستحکم ادارے کی شکل اختیار کرتا گیا یہ رسالہ اتنا مشہور تھا کہ پاکستان سمگل ہوتا تھا۔
پھر اس ادارے سے "شمع" کے علاوہ "سشما" (ہندی) "بانو"، "کھلونا"، شبستاں"، "مجرم" اور "دوشی" (ہندی) بھی شائع ہونے لگے۔ یہ سارے رسالے پابندئ وقت کے لیے مشہور تھے۔
"مطب خانے" کا قیام بھی عمل میں آیا اور "شمع پبلیکشنز" کا بھی۔ اس ادارے کا اپنا چارٹرڈ ہوائی جہاز تھا۔ کسی زمانے میں یہاں زبیر رضوی اور ڈاکٹر راہی معصوم رضا بھی کام کیا کرتے تھے۔ اس ادارے سے نکلنے والے رسالوں میں قرةالعین حیدر، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس اور کرشن چندر کے علاوہ اپنے وقت کے تقریباً سارے بڑے افسانہ نگار شائع ہوا کرتے تھے۔ یہ رسالہ اپنے قلمی معاونین کو معاوضہ بھی ادا کیا کرتا تھا کیونکہ اس کی اشاعت ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔
اس ادارے نے "آئینہ" نام کا ایک خالص ادبی رسالہ بھی نکالا تھا جو گھاٹے کا سودا ثابت ہوا لہذا اسے جلد ہی بند کر دیا گیا۔

1978 میں آنجہانی اندرا گاندھی کے نافذ کردہ ایمرجنسی کا جب خاتمہ ہوا اور مرار جی ڈیسائی کی سرکار بنی تو میں نے ایک مختصر افسانہ "انقلاب" لکھا اور اسے "شمع" کے پتے پر ارسال کر دیا۔ اگلے ہی ہفتے مدیر شمع جناب یونس دہلوی کا خط آیا کہ افسانہ اشاعت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ اسے کہیں اور مت بھیجئے گا۔ اس ادارے کا ذاتی پوسٹ کارڈ ہوا کرتا تھا جو سفید رنگ کا تھا۔ اس سے پہلے میری ادبی کاوشیں دیگر رسائل میں جگہ پاتی رہی تھیں لیکن شمع میں چھپنے کا پہلا اتفاق تھا۔ خیر ! دوسرے یا تیسرے مہینے ہی وہ افسانہ شائع ہو گیا۔۔
مرار جی ڈیسائی نے بھی ایک ہزار روپے کا چلن ختم کروا دیا تھا مگر اس وقت آج جیسی افرا تفری نہیں مچی تھی کیونکہ اس زمانے میں ہزار روپے ایک بڑی رقم ہوا کرتی تھی اور اس کا نیاز صرف امراء و رؤسا ہی کو حاصل تھا۔ اس نوٹ بندی پر بھی میں نے ایک افسانہ "چھوٹا چور" لکھا تھا۔ یہ افسانہ بھی شمع ہی میں شائع ہوا تھا۔ "انقلاب" کی اشاعت کے فوراً بعد دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔ میرا قیام جامعہ نگر میں تھا۔ دہلی کا پروگرام بنتے ہی میں نے شمع کے دفتر میں جانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ پتا تو میرے پاس تھا لہذا پہلی ہی فرصت میں وہاں جا پہنچا۔ شمع کا دفتر ایک عالیشان عمارت میں واقع تھا۔ صدر دروازے پر ایک باوردی دربان تعینات تھا جس کا قد یقنیناً ساڑھے چھ فٹ رہا ہوگا۔ اس نے آنے کی وجہ پوچھی۔ میں نے کہا کہ میں یونس دہلوی صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ اس نے میری رہنمائی کی اور استقبالیہ پر بیٹھی ایک نوجوان خاتون سے ملا دیا۔ وہ خاتون اردو زبان سے نابلد معلوم ہو رہی تھیں۔ انہوں نے بھی میرے آنے کا سبب پوچھا۔ میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں مدیر محترم سے ملنے آیا ہوں۔ انہوں نے جرح کی کہ کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ میرا افسانہ شمع میں چھپا ہے ۔ میں ان سے مل کر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے میری شکل غور سے دیکھی اور حیرت سے پوچھا۔
"آپ کا افسانہ شمع میں چھپا ہے؟"
"جی، جی ہاں!" میں نے مسکین لہجے میں جواب دیا۔ انہوں نے میرا نام پوچھا۔ پھر اسے کاغذ پر نوٹ کیا اور انٹر کام پر کسی سے کچھ بات کی۔ ادھر سے ہری جھنڈی ملی تو مجھے ایک طرف جانے کا اشارہ کیا۔
میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ بہت سارے کاتب فرش پر بیٹھے اپنے اپنے کام میں مشغول تھے۔ ہر طرف کاغذات کے ڈھیر لگے تھے۔ کسی نے میری جانب توجہ نہ دی۔ میں بتائے گئے کیبن کی جانب بڑھا۔ اندر ایک نہایت خوش شکل اور وجیہ صاحب فروکش تھے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے چشمے کی پیچھے سے مسکراتی آنکھوں سے جواب دیا اور مجھے سامنے بچھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ان کی میز پر بہت ساری ڈاک پڑی تھی۔ میرے اندازے کے مطابق دیڑھ دو سو لفافے اور پوسٹ کارڈ رہے ہوں گے۔ دوران گفتگو میں نے دریافت کیا کہ کیا یہ صرف ایک دن کی ڈاک ہے۔
ہنس کر بولے: جی ہاں!
پھر باتیں ہونے لگیں۔ ان دنوں واجدہ تبسم کا طویل افسانہ "پھول کھلنے دو" شمع میں قسط وار شائع ہو رہا تھا۔ کچھ باتیں اس کے تعلق سے ہوئیں۔ وہ اپنی ساری مصروفیتوں کو چھوڑ کر صرف میری جانب متوجہ تھے۔ ان کے کسی بھی عمل سے یہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا کہ میرا اس طرح بن بلائے آنا ان پر گراں گزر رہا ہے۔ پھر انہوں نے مجھے سبز چائے پلائی اور پوچھا کہ ابھی تو آپ کو اپنے افسانے کا معاوضہ موصول نہیں ہوا ہوگا۔
میں نے کہا۔ "جی نہیں! ابھی تک تو نہیں ملا ہے۔"
پھر انہوں نے ایک واؤچر پر کچھ لکھا اور گھنٹی بجائی۔ چپراسی اندر آیا تو اس کی جانب وہ واؤچر بڑھا کر بولے کہ اسے فلاں صاحب کو دے آؤ ۔ تھوڑی دیر بعد چپراسی مبلغ پینتالیس روپے نقد لے کر آیا۔ انہوں نے وہ رقم میرے حوالے کی اور میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جانے کی اجازت مانگی۔
اس کے بعد بھی میرے کئی افسانے "شمع" اور "بانو" میں شائع ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ معاوضہ کی رقم میں اضافہ ہوتا گیا۔
لیکن وہ جو کہا گیا ہے نا کہ "سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں"
تو جناب! اس ادارے کے برے دن بھی آ گئے۔ اور ایک ایک کر کے سارے رسالے بند ہوتے چلے گئے۔ شمع کا جو آخری شمارہ شائع ہوا تھا اس میں میرا افسانہ "دشمن" شامل تھا۔ اس کا معاوضہ مجھے نہیں ملا۔ اس کے بعد یہ ادارہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

اس ادارے کے بند ہونے کے چند ماہ بعد میرے پاس ایک انجان شخص کا خط آیا۔ لکھا تھا کہ: "میں شمع میں کاتب تھا۔ بھائیوں کے جھگڑے میں ادارہ بند ہو گیا۔ ہم لوگوں کو کئی ماہ سے تنخواہ بھی نہیں ملی۔ اب میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوں اور فاقے کر رہا ہوں۔ اگر آپ میری کچھ مدد کر دیں تو عنایت ہو گی۔"
میں نے سوچا کہ یہ کوئی فراڈ بھی ہو سکتا ہے لہذا اس خط کو ردی کی ٹوکری کے حوالے کر دیا۔ لیکن اس کے چند ہفتوں بعد ہی کسی اردو اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی:

"شمع کے کاتب فلاں صاحب کا بعارضہ کینسر انتقال ہوگیا ہے۔"

ماہنامہ شمع دہلی - جنوری 1989 - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

وہ اپنے زمانے کا ارطغرل تھا ۔ محمد حسان

اسریٰ غوری -

اوکتائی خان کے جنگلوں ، صلیبیوں کے قلعوں ، قونیا اور اناطولیہ کے شہروں سے سلطان کے محلات تک ۔۔۔ ہر جگہ اس کی جرات اور بہادری کے چرچے ہیں ۔ ۔ ۔ قبیلوں کے سردار اس کی ذہانت اور بہادری کے معترف ہیں مگر اپنی سرداری کھونا بھی نہیں چاہتے ۔ ایسے میں حالات […]

مجھے میرے محافظوں سے بچاؤ _ عامر ہزاروی

اسریٰ غوری -

یہ تصویر اوگی سے تعلق رکھنے والے بائیس سالہ نوجوان بلال کی ہے ، بلال کی جب کمر سیدھی ہوئی تو ماں کی کمر جھک چکی تھی ، اولاد جب طاقت ور ہوتی ہے تو ماں باپ کمزور ہو جاتے ہیں ، جب ہمارے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں تو ماں باپ کے ہاتھ لرزنے لگ […]

خاموش آدمی

افتخار اجمل بھوپال -

پنجرے کے پنچھی رے تیرا درد نہ جانے کوئے
باہر سے خاموش رہے تُو ۔ بھیتر بھیتر روئے
کہہ نہ سکے تُو اپنی کہانی تیری بھی پنچھی کیا زندگانی رے
لِکھیا نے تیری کتھا لکھی ہے ۔ آنسو میں قلم ڈبوئے
چُپکے چُپکے رونے والے رکھنا چھُپا کے دِل کے چھالے
یہ پتھر کا دیس ہے پگلے ۔ یہاں کوئی کسی کا نہ ہوئے
(ایک بہت پرانا گیت)

انتخاب کی آزادی

اسریٰ غوری -

شوخ رنگ کی بنارسی ساڑھی کے اوپر سادہ سے انداز میں نقاب پہنے یہ لڑکی کوئ عام لڑکی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم Slim Dog Millinior کے موسیقار اے آر رحمان کی صاحبزادی ہیں جو اپنے والد کی فلم کے دس سال مکمل ہونے کی تقریب میں یوں باپردہ شریک ہوئ […]

اچھی عادت کیسے اپنائیں؟

نوک جوک -

کسی بھی بری عادت سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو اس کا بہت ہی سادہ سا طریقہ ہے۔۔۔ آپ اچھی عادتیں اپنا لیں۔ لیکن وہ کرنا کیسے ہے؟
اچھی عادت اپنانے کے تین مراحل ہیں۔
سب سے پہلے فیصلہ کریں کہ کس چیز کی عادت ڈالنی ہے؟ روزانہ ورزش کرنے کی عادت ڈالنی ہے، روزانہ ایک مخصوص وقت تک کچھ لکھنے پڑھنے کی عادت ڈالنی ہے، اپنا کام وقت پر کرنے کی عادت ڈالنی ہے۔۔۔ یعنی سب سے پہلے تو طے کر لیں کہ آپ کس اچھی چیز کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے خود میں نظم و ضبط پیدا کرنے کا۔ ڈسپلن پیدا کرنے کا۔ آپ نے خود کو ایک ڈسپلن کا پابند کرنا ہے کہ آپ جس بھی اچھی چیز کی عادت ڈالنا چاہ رہے ہیں ایک ڈسپلن کے تحت روز اس کی مشق کریں۔ آپ نے ورزش کرنے کی ٹھانی ہے تو روزانہ ایک مخصوص وقت پر ورزش ضرور کریں چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ اس موقع پر سستی نہیں کرنی۔ نہ ہی بہانے بنانے ہیں۔
تیسرا مرحلہ ہے: ڈٹے رہیں۔ جو بھی ارادہ کیا ہے، اسے ضرور پورا کریں۔ یقین کیجیے، آپ مستقل مزاجی کے ساتھ کچھ بھی کرتے رہیں گے تو وہ عادت آپ کے مزاج اور آپ کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی۔
ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ خود میں جو بھی عادت ڈالنا چاہ رہے ہیں، تصور کیجیے اس عادت کے فوائد آپ کو حاصل ہو بھی چکے۔ یعنی اگر آپ ورزش کرنے کی عادت ڈالنا چاہ رہے ہیں تو تصور کیجیے کہ روزانہ کی ورزش کے بعد آپ بہترین صحت کے مالک بن چکے ہیں۔ یہ تصور آپ کو موٹی ویٹ کرتا رہے گا۔
آپ کسی بھی کام کے ماہر ہونا چاہتے ہیں، کوئی بھی صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں، آپ میں وہ مہارت حاصل کرنے کی، وہ صلاحیت حاصل کرنے کی قابلیت موجود ہے۔ بس آپ کو خود میں عادت ڈالنی ہے، مشق کرنے کی اور بار بار کرنے کی۔ آپ نے یہ کر لیا تو آپ کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator