Feed aggregator

عصمت اسامہ : فکرونظر

اسریٰ غوری -

صحراۓ تھر کی پیاسی انسانیت موسم سرما میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ خوردونوش کرتے ہوے , رب کریم کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوۓ ایک لمحہ کے لئے موبائل سکرین پر صحراۓ تھر کے سسکتے بلکتے بچے نظر آجائیں تو جی دہل جاتا ہے کہ یہ بھی پاکستان ہے ! ان تصاویر کو […]

دنیا کو میری ضرورت ہے یا نہیں؟

م بلال م -


آج آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں اور یہ کہانی صرف میری ہی نہیں، بلکہ بہت سارے لوگوں کی ہے۔ کیونکہ دنیا ایسے عجوبوں سے بھری پڑی ہے۔ کہیں آپ بھی عجوبہ تو نہیں؟ بس جی! یہی بات تو جاننے والی ہے۔ مجھے بھی پہلے معلوم نہ تھا۔ لیکن پھر کسی حد تک معلوم ہو گیا کہ آخر میں کیا عجوبہ ہوں۔۔۔ ہاں تو! کہانی میرے بچپن سے شروع ہوتی ہے۔ میں وہ بندہ ہوں کہ جس کا بچپن شدید ذہنی الجھنوں میں گزرا۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ بڑے ہو کر کیا بنوں گا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میری کوئی دلچسپی یا شوق نہیں تھا، بلکہ مسئلہ تو یہ تھا کہ میرے بہت سارے شوق تھے۔ سکول اور پھر کالج میں مجھے تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ بھی پسند←  مزید پڑھیں

اسلام کی نظر میں عورت حسن البنا شہید

اسریٰ غوری -

مجھے ایک فاضل دوست نے خط کے ذریعے متوجہ کیا ہے کہ مَیں عورت اور معاشرے کے حوالے سے، مرد و عورت کے مقام اور ان کے باہمی تعلق کے بارے میں کچھ عرض کروں کہ اسلام نے اس سلسلے میں کیا احکام دیے ہیں، اور لوگوں کو اس پر اُبھاروں کہ وہ ان احکام […]

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی اور ایس آئی یوٹی

اسریٰ غوری -

پاکستان میں ایسے اِداروں کی تعداد آٹے میں نمک ہی کے برابر ہے، جنہیں بین الاقوامی سطح پر توقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہےاور ’’سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یوروآلوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن ‘‘ ( SIUT )اُن ہی معدودے چند اِداروں میں سے ایک ہے۔ ایک اِدارہ، جو فی الحقیقت خواب کی تعبیر ہے۔ ایک ادارہ […]

بلوچستان: معدنی خزائن کی سرزمین

اسریٰ غوری -

بہ لحاظِ رقبہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان اپنے محلِ وقوع، جغرافیائی اہمیت، قدرتی و معدنی وسائل، ساخت اور متنّوع ثقافتی خدوخال کی وجہ سے ہمیشہ توجّہ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم، یہاں کے لوگ نیم صحرائی زمینی ساخت اور کم بارشوں کی وجہ سے اکثر خشک سالی اور قحط کی صورت حال […]

تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی بڑھتی تعداد نے تشویش ناک شکل اختیار کر لی‘ صاحبزادہ محمد حلیم

اسریٰ غوری -

پشاور: خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے فلاحی ادارے فرنٹیئر فائونڈیشن کے چیرمین صاحبزادہ محمد حلیم نے کہا ہے کہ تھیلی بیلٹ پر واقع ہونے سے خیبر پختونخوا میں تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے تشویش ناک شکل اختیار کر لی ہے اور اس سے چالیس ہزار سے زائد خاندان ذہنی […]

ہالینڈ کی سب سے بڑی اسلام مخالف سیاسی جماعت کے سابق رکن کا قبول اسلام

اسریٰ غوری -

ہالینڈ کی سب سے بڑی اسلام مخالف سیاسی جماعت کے سابق رکن کا قبول اسلام غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تعلیمات کا مذاق اُڑانے والے مسلمان مخالف 40 سالہ ڈچ سیاست دان وین کلورین نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ وین کلورین سے قبل سیاسی جماعت کے رکن آرناوڈ وین ڈورن […]

مولانا مودودی ؒ اور کشمیر : چند یادیں مجتبیٰ فاروق

اسریٰ غوری -

مولانا مودودی ؒ نے اپنی پوری زندگی ملت اسلامیہ کی فکری و عملی رہنمائی کے لیے وقف کررکھی تھی۔ انھوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اسلامی نظام کی تشریح و تفسیر اور اس کے قیام کی جدوجہد میں صرف کردیا۔ پھر دورِ حاضر کو اسلام کی ایسی ہم آہنگی سے پیش کیا، کہ اُمت […]

کشمیر کا مقدمہ کیا ہے ۔۔۔ ؟

اسریٰ غوری -

علی گیلانی سے برہان وانی تک … ایک مکمل داستان ہے ۔ ۔۔! سری نگر کے کوچہ بازار ۔۔۔۔ اننت ناگ کی مسجدوں کے مینار ۔۔کپواڑہ کے کہسار وادی لہو رنگ میں سیاست کے میدان ہوں یا عوامی میدان ..ہر جگہ ۔۔۔ حریت فکر کے چراغ روشن ہیں آزادی کے نعرے فضاوں میں موجزن ہیں […]

قرآن ، اقامت ِ دین اور مولانا مودودیؒ – پروفیسر خورشید احمد

اسریٰ غوری -

تجدید و احیاے دین، اسلامی تاریخ کی ایک روشن روایت اور عقیدۂ ختم نبوت کا فطری نتیجہ اور دینِ اسلام کے مکمل ہونے کا تقاضا ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ برگزیدہ بندوں کو اس توفیق سے نوازا کہ وہ دین کی بنیادی دعوت پر مبنی اللہ کے پیغام کو، نبی پاک […]

یومِ یک جہتی جموں کشمیر

افتخار اجمل بھوپال -

آج پورے مُلک میں یومِ یک جہتی جموں کشمیر منایا جا رہا ہے

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشتگردی کے نتیجے میں جنوری 1989ء سے دسمبر 2015ء تک مندرجہ ذیل ہلاکتیں ہوئیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں

94290 نہتے شہری ہلاک ہوئے جن میں 7038 زیرِ حراست ہلاک ہوئے
22806 عورتیں بیوہ ہوئیں
107545 بچے یتیم ہوئے
10167 عورتوں کی عزتیں لوٹیں
106050 مکانات تباہ کئے
8000 سے زائد لوگ گھروں سے اُٹھا کر غائب کئے گئے

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے دوسری مسلح جدوجہد 1989ء میں شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کی ایما پر شروع کی گئی تھی ۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی ۔ بےنظیر بھٹو نے 1988ء میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی خاطر نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا بلکہ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی ۔ اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کی چند سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی کے اِظہار کے لئے 5 فروری 1990ء کو یومِ یکجہتیءِ کشمیر منانے کا فیصلہ کیا جو اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے بڑے جوش و خروش سے منایا

اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار محض روایتی نوعیت کی اخلاقی ہمدردی کا مسئلہ نہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے 1947ء میں پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام کے ساتھ ہی پوری منصوبہ بندی کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسی دشواری نہیں تھی جو برطانوی حکومت اور برصغیر میں اس کے آخری وائسرائے نے ہمارے لئے پیدا نہ کی ہو اور سب سے زیادہ کاری ضرب جو پاکستان پر لگائی جاسکتی تھی وہ مسئلہ کشمیر کی صورت میں لگائی گئی۔ کشمیر کا مسئلہ دو مملکتوں کے درمیان کسی سرحدی تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی ”حق خودارادیت“ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ برطانوی حکومت نے پیدا کرایا ۔ وہ برصغیر سے جاتے جاتے کشمیر کو بھارت کی جارحیت کے سپرد کر گئے اور اس سروے میں مِڈل مَین کا کردار برصغیر میں برطانیہ کے آخری وائسرائے اور آزاد بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کے جسم پر ایک ناسور بنا دیا جائے اور اُس کے بعد بھارت محض اسلحہ کی طاقت کے زور پر کشمیریوں پر اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے ۔

قوموں کی زندگی میں ایک وقت فیصلہ کا آتا ہے کہ “جھُکے سر کے ساتھ چند روز عیش قبول کرلیں” یا “سرفروشی کے ساتھ سرفرازی کی راہ اپنائیں”۔ جَبَر کرنے والے اذِیّتوں سے اور موت سے ڈراتے ہیں۔ اِیمانی توانائی موت سے نبرُد آزما ہونے کی جرأت عطا کرتی ہے۔ موت میں خوف نہیں ہوتا بکہ لذت ہوتی ہے اور جذبہءِ ایمانی کا کَیف اس لذّت کو نِکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت سے سرشار ہو چکے ہیں ۔ یہ اللہ کا کرم ہے اہل کشمیر پر اور اہل پاکستان پر بھی ۔ اہل کشمیر صرف کشمیرکیلئے حق خودارادیت کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں وہ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ حُرِیّت کی داستانیں اِسی طرح رَقَم ہوتی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ طاقت اس جذبے کا مقابلہ کب تک کرے گی ۔ بھارتی فوج پوری طرح مسلح ہے لیکن وہ انسانی قدروں سے نہ صرف محروم بلکہ ان سے متصادم ہے اس لئے ناکامی اس کا مقدر ہے ۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ”دہشت گردی“ کہتا جبکہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے

لہولہان کشمیر اور عالمی ضمیر : ہلال احمد تانترے

اسریٰ غوری -

۱۰ دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طور پر منایا گیا۔ مختلف انجمنوں نے انسانی حقوق کی اہمیت و افادیت کی وضاحت کے لیے مختلف پروگرامات کیے۔ کچھ نے خوشیاں منائیں اور کچھ ملول دل سے شکوے ہی کرتے رہ گئے۔ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ براے انسانی حقوق اوراس میں چند انسانی حقوق کا […]

کشمیر کا آتش فشاں نظرانداز کیوں؟ افتخار گیلانی

اسریٰ غوری -

بھارت میں دسمبر۲۰۱۸ء کے دوران پانچ صوبائی اسمبلی انتخابات میں جس طرح حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت انتخابی نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے، الخصوص تین بڑی ریاستوں میں کانگریس کی پیش قدمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ بگڑتی معیشت، کسانوں کی بدحالی اور دو سال قبل […]

چائینیز مردوں کی پاکستانی خواتین سے شادیاں … کیا کوئی معاشرتی مسئلہ بننے جا رہا ہے؟

فخر نوید -

پاک چین دوستی کو ہمالیہ سے بلند، بحیرہء عرب سے گہرا، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھا سمجھا جاتا ہے. لیکن ایسا نہیں ہے ہر کوئی اپنے مفادات کے لئے یہ بلند و بانگ دعوی کرتا ہے. پاکستان جس اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے . اس نے کبھی چائینیز مسلمانوں پر ہونے والے مزید پڑھیں

مدد کی پکار

منیر عباسی (طفل مکتب) -

ایک ناکام انسان اور ایک عدد کامیاب انسان مدد کے لئے کیسے پکاریں گے؟ ایک کامیاب انسان کی پکار میں اس کی اب تک کی کامیابیوں کا ذکر ہوگا اور ایک ناکام انسان کے پاس کچھ نہیں، بس رحم کی ایک اپیل۔ Source

طفل مکتب کی تحریر کا یہ اقتباس آپ مکمل شکل میں وہیں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator