Feed aggregator

صاحبزادہ میکش اور مخدوم کا کلام - 1944 کی کل ہند اردو کانگریس

حیدر آبادی -

جولائی 1944 میں کل ہند اردو کانگریس کے پہلے حیدرآباد اجلاس کے موقع پر حیدرآبادی شعرا کی نظموں کا مجموعہ ایک کتابچے کی شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ جسے شائع کرنے میں صاحبزادہ میکش حیدرآبادی کا بڑا تعاون حاصل رہا۔
اسی کتابچے سے صاحبزادہ میکش کا کلام اور مخدوم محی الدین کی نظم "اندھیرا" ملاحظہ کیجیے۔

sahibzada-maikashپیام
شاعر: صاحبزادہ میکش
حدِ تعینات سے آگے نکل کے دیکھاوہام کو کبھی تو یقیں سے بدل کے دیکھمایوس ہو کے بیٹھ نہ جا، رہ نوردِ شوقمنزل کی جستجو ہے تو کچھ اور چل کے دیکھفرسودہ ہو گئے ہیں روایاتِ کہنہ سالدنیا بدلنے والی ہے تو بھی بدل کے دیکھہر عیب میں متاعِ ہنر ہے چھپی ہوئیلغزش سنبھال لے گی تجھے خود سنبھل کے دیکھانوار کی بسیط فضائیں ہیں تیرے ساتھتاریکیوں کی گود میں کروٹ بدل کے دیکھخاموش ہو نہ جائے کہیں شمع زندگیاک شعلۂ مدام کی صورت میں جل کے دیکھپروردۂ شباب، مجسم شباب ہوذرے کے روپ میں ہی کبھی آفتاب ہو
اندھیرا
شاعر: مخدوم محی الدین
نوٹ:
بجلی کا ایسا رقص جو سوکھی کھیتی کے لیے برسات کی نوید دے، ایک اضطراب پرور سکون۔ ایک سکون نواز اضطراب، پیشانی کی ایک شکن، جس میں حوصلوں کی بلندی جھول رہی ہو۔ تبسم کی ایک لہر، جس میں دل کی تمنائیں انگڑائیاں لے رہی ہوں۔ ندی کی ایک لہر جو طوفانوں سے ٹکرا کر بھی ناچتی رہے۔ انسانی پیکر میں بےتاب تمنائیں۔ ایک نیکی جو سکونِ حیات کو حاصل کرنے کے لیے بدی کی ہر پناہ گاہ کو ڈھا دینا چاہتی ہے۔ ایک تلوار جس کو فولادی عزم اور جرات رندانہ نے بنایا ہے۔ ایک پرخلوص دیوانگی جس کی مجاہدانہ بےباکی اپنے مقصد کی خاطر اغراض اور مصلحتوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ ایک نحیف لیکن بلند ہمت سپاہی جو انسانیت کے محاذ پر سینہ سپر ہو کر مستقبل کی فتح کو آواز دے رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔رات کے ہاتھ میں ایک کاسۂ دریوزہ گری
یہ چمکتے ہوئے تارے یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوس عروسی ہے یہی ان کا ۔۔۔ کفن!
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوئے جسموں کی کراہ
وہ عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ
وہ تہذیب کے زخم
خندقیں
باڑھ کے تار
باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوئے انسانوں کے جسم
اور انسانوں کے جسموں پہ بیٹھے ہوئے گدھ
وہ تڑختے ہوئے سر
میتیں ہات کٹی پاؤں کٹی
لاش کے ڈھانچے کے اس پار سے اُس پار تلک
سرد ہوا
نوحہ و نالہ و فریاد کناں
شب کے سناٹے میں رونے کی صدا
کبھی بچوں کی کبھی ماؤں کی
چاند کے تاروں کے ماتم کی صدا
رات کے ماتھے پہ آزردہ ستاروں کا ہجوم
صرف خورشید درخشاں کے نکلنے تک ہے

رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں
رات کے پاس اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

کمرہ نمبر 17- ممتاز مفتی

اسریٰ غوری -

ارجمند کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا.. وہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر سامنے بیٹھی ہوئی آویزہ کو دیکھ رہا تھا… دیکھے جا رہا تھا! اس کے روبرو وہ آویزہ نہ تھی جسے وہ دفتر میں روز دیکھا کرتا تھا.. اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ آویزہ اور لڑکی تھی،یہ آویزہ اور […]

توبہ شکن – بانو قدسیہ

اسریٰ غوری -

بی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ “مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے، ایسی ملتی ہے کہ گویا کوکا کولا کی بوتل میں ریت ملا دی ہو کسی نے۔” بی بی کی آنکھیں سرخ […]

دکن - شاعری کے آئینے میں

حیدر آبادی -

hussain sagar hyderabad old photo
دکن
یہ مقولہ ہند میں مدت سے ہے ضرب المثل
جو کہ جا پہنچا دکن میں، بس وہیں کا ہو رہا
پارسی، ہندو، مسلماں یا مسیحی ہو کوئی
ہے دکن کو ہر کوئی اپنی ولایت جانتا
(حالی)

شبلی کو نہیں بار یہاں ملک سخن میں
حالی ہی کا سکہ ہے جو چلتا ہے دکن میں
(شبلی)

خلق و تہذیب میں خدا رکھے
ہیں غنیمت بہت دکن کے لوگ
(صفی اورنگ آبادی)

سالار جنگ میوزیم
کیا دولت بیدار ہے ارباب ہنر کی
قیمت ہے یہاں ہیچ لعل و گہر کی
یہ گنج گراں مایہ تہذیب و تمدن
معراج ہے حسن عمل و ذوق نظر کی
(سکندر علی وجد)

حسین ساگر
اپنے محبت بھرے انداز میں صبح نو تجھ پر ڈورے ڈالتی ہے
غروب آفتاب کے مسافر بادل
تیرے درخشاں چہرے کا حسن پیتے، رکتے اور منڈلاتے ہیں
پر تیری اندرونی تجلی کا راز کوئی نہیں جان سکتا
کیونکہ تیرا غمزے باز روپہلا پن
جس پراسرار نیلاہٹ اور جس لطیف گلابی پن کو
اپنے میں چھپائے ہے وہ
صرف تیری جان جاں ، ہوا کے زیر اثر ہے
تیری چمکتی لہریں صرف اس کے لیے
جھلملاتی موسیقی، جو اس کے اشارے پر ہوتی ہے
ظاہر کرتی ہیں
اے جھیل، اے میری روح کی زندہ عکس
میری طرح تو
ایک وفاداری پر قائم رہتی ہے!
(سروجنی نائیڈو)

ڈیجیٹل دادی جان – رابعہ محمد

اسریٰ غوری -

”سیدھے لیٹو میرے مُنے!! سارا کھانا منہ میں آجائے گا۔۔۔ بہت بار سمجھایا ہے ناں!!“ ”جی جی اچھا۔۔آگے چلیں ناں۔۔ میں سیدھا ہو گیا۔۔۔“ ”اچھا تو سنو؛ بچے کی دادی نے کہا کہ باتھ روم کے اندر بولنا بھی نہیں چائیے اور گنگنانا بھی نہیں چائیے جبکہ۔۔۔“ ”اچھا!! بھائی تو بہت زور زور سے نظمیں […]

شکوہ شکایت – منشی پریم چند

اسریٰ غوری -

زندگی کا بڑا حصّہ تو اسی گھر میں گزر گیا مگر کبھی آرام نہ نصیب ہوا۔ میرے شوہر دُنیا کی نگاہ میں بڑے نیک اور خوش خلق اور فیاض اور بیدار مغز ہوں گے لیکن جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ دُنیا کو تو ان لوگوں کی تعریف میں مزا آتا ہے جو اپنے […]

ستاروں سے آگے – قراۃ العین حیدر

اسریٰ غوری -

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کر دیا۔ وہ بہت دیر سے ماہیا الاپ رہا تھا جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوبصورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بیزار ہو چکی تھی کہ اسے خوف ہو چلا […]

پسماندگان – انتظار حسین

اسریٰ غوری -

ہاشم خان اٹھایئس برس کا کڑیل جوان، لمبا تڑنگا، سرخ و سفید جسم آن کی آن میں چٹ پٹ ہو گیا۔ کمبخت مرض بھی آندھی و ہاندی آیا۔ صبح کو ہلکی حرارت تھی، شام ہوتے ہوتے بخار تیز ہو گیا۔ صبح جب ڈاکٹر آیا تو پتہ چلا کہ سرسام ہو گیا ہے۔ غریب ماں باپ […]

مینڈک کھائیں

نوک جوک -

اگر آپ آج کا کام کل پر چھوڑنے کے عادی ہیں، اور اپنی اس عادت سے تنگ بھی ہیں، اور اس سے پیچھا بھی چھڑانا چاہتے ہیں۔۔۔ تو مینڈک کھائیں۔
مینڈک کھانے کا کانسیپٹ یہ ہے کہ اگر آپ کو روزانہ صبح صبح ایک زندہ مینڈک کھانا پڑے، تو باقی سارا دن آپ کو یہ سکون رہے گا کہ صبح جو کچھ ہوا، اس سے زیادہ برا پورے دن میں مزید کچھ نہیں ہو سکتا۔
اور یہ مینڈک کیا ہے؟ یہ آپ کا وہ اہم کام ہے جو کرنا ضروری ہے لیکن کئی دن سے یہ کام آپ ٹالتے جا رہے ہیں۔
برائن ٹریسی صاحب نے کتاب لکھی ہے
Eat that frog
اس میں وہ کہتے ہیں۔ مینڈک کھانے کا پہلا اصول یہ ہے، کہ اگر آپ نے دو مینڈک کھانے ہیں تو سب سے زیادہ بدصورت مینڈک سب سے پہلے کھائیں۔ یعنی اگر آپ کے سامنے کرنے کو دو کام ہیں، تو سب سے مشکل کام سب سے پہلے کر لیں۔ خود کو ڈسپلن کریں۔ کام شروع کریں، اور جب تک وہ پہلا کام ختم نہ ہو جائے، کسی دوسرے کام کو ہاتھ نہ ڈالیں۔
مینڈک کھانے کا دوسرا اصول یہ ہے۔۔۔ کہ اگر مینڈک کھانا ہی ہے تو اس کے سامنے بیٹھ کر دیر تک اسے دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ یعنی دیر تک بیٹھ کر دیکھیں نہیں، کھا جائیں۔۔ کام کو رکھ کر بیٹھیں نہیں۔۔ کر جائیں۔
اچھی کارکردگی یعنی پرفارمنس اور پروڈکٹیویٹی کی کنجی ہی یہ ہے کہ سب سے اہم کام سب سے پہلے ختم کریں۔
کامیاب لوگ تو کرتے ہی یہی ہیں۔۔ وہ سب سے اہم کام سب سے پہلے شروع کرتے ہیں، اور پھر جب تک وہ کام ختم نہ ہو جائے، اپنی توجہ ادھر ادھر نہیں کرتے۔ کام ختم کر کے ہی اٹھتے ہیں۔ اور اس بات کا بھی خیال رہے، کہ آنیاں جانیاں دکھانے اور کام کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ سرگرمی دکھانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے کارکردگی بھی دکھائی ہے۔ بہت سی باتیں کر لیں۔ میٹنگز کر لیں، منصوبے بنا لیے۔۔ لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا تو پھر کوئی فائدہ نہیں۔
تو کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ اہم کام کو ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی عادت اپنائیں۔
جب آپ اپنا اہم کام ختم کر لیتے ہیں تو اس کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے آپ نے دنیا فتح کر لی ہے۔ آپ کو اپنا آپ اچھا لگنے لگتا ہے۔ خود میں توانائی آ جاتی ہے۔ مکمل ہونے والا کام جتنا اہم ہو گا، اتنی ہی آپ خوشی محسوس کریں گے۔
ایک دفعہ آپ نے خود میں ڈسپلن پیدا کر لیا۔ تو پھر اہم کام کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا اور لٹکائے بغیر بروقت ختم کرنا بھی آپ کی عادت بن جائے گی۔
لیکن یاد رہے۔۔۔ یہ عادت ایک دم سے نہیں بن جانی۔ اس کے لیے مسلسل مشق کی ضرورت ہے

نبی کریم _____ غیر مسلموں کی نظر میں

اسریٰ غوری -

مرتبہ:ڈاکٹر محمد خالد مسعود یہ حضرت محمد رسول اللہ کی عظمت ہے کہ اپنے ہی نہیں بیگانے بھی آپؐ کی تعریف میں رطب.اللسان ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں نعت کی شکل میں نبی کریمؐ کو جو خراجہائے عقیدت پیش کیے گئے ان میں ہندو شعراء کا حصہ کافی نمایاں ہے۔ ان نعتوں میں رسول […]

لمّی اُڈیک

نیرنگ خیال -

میری ایک چھوٹی جیہی پنجابی نظم

لمّی اُڈیک
دل دی سخت زمین اندرخورے کنّے ورھیاں توںکئی قسماں دیاں سدھراں دبیاںاکّو سٹ اُڈیکن لگیاںکتّھے وجّے، کجھ تے پُھٹّے
28 جنوری 2019نیرنگ خیال

یاد رکھنے کی باتیں

افتخار اجمل بھوپال -

1 ۔ ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا
2 ۔ لوگوں کی رائے آپ کی اصلیت نہیں بتاتی
3 ۔ ہر کسی کی زندگی کا سفر مختلف ہوتا ہے
4 ۔ وقت گزرنے کا ساتھ بہتری آتی ہے
5 ۔ کسی کے متعلق فیصلہ اپنا کردارظاہر کرتا ہے
6 ۔ ضرورت سے زیادہ سوچنا ہریشانی پیدا کرتا ہے
7 ۔ خوشی انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے
8 ۔ مثبت سوچ کے نتائج مثبت ہوتے ہیں

لورا لائی میں دہشت گردوں کے حملے سے10اہلکار شہید ،سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 4دہشت گرد مارے گئے

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

لورا لائی میں دہشت گردوں کے حملے سے10اہلکار شہید ،سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 4دہشت گرد مارے گئے لورالائی میں ڈی آئی جی آفس پردہشت گردوں کے حملے سے شہید ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 10ہو گئی جبکہ 15اہلکار زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔

تفصیل کے مطابق لورالائی میں ڈی آئی جی آفس میں کانسٹیبل کی اسامیوں کیلئے انٹرویو ہو رہے تھے کہ دہشتگردوں نے حملہ کردیا ،دہشتگردوں کی جانب سے پہلے ڈی آئی جی آفس پر فائرنگ کی گئی پھر دستی بم پھینکے گئے جس کے نتیجے میں بھگڈر مچ گئی ،فائرنگ اور دستی بم کے حملوں میں 10اہلکار شہید جبکہ 15زخمی ہو گئے۔حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں4دہشتگرد مارے گئے ۔ دہشتگردوں کے حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا،دہشتگردوں کے حملے پر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور امدادی سر گرمیاں تاحال جاری ہیں ۔ بلوچستان کے ضلع لورا لائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ۔ https://dailypakistan.com.pk/29-Jan-2019/918374 طالبان کے دہشت گردانہ حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔طالبان کی دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے۔ دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ظالبان جہاد نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں۔
طالبان دہشت گرد فساد فی الارض کاارتکاب کر رہے ہیں ۔اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام   ہے۔خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔

آخری آدمی – انتظار حسین

اسریٰ غوری -

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر […]

چینی چھوڑنے کا دکھ

نوک جوک -

آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ضرور ہوں گے، جو چائے میں چینی نہیں لیتے
میں ایسے نام نہاد، کھوٹے نفیس لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔ کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پھیکی چائے پی کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں۔ چینی کے بغیر چائے ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر انسان۔ لیکن کچھ لوگ پھیکی، بلکہ کڑوی چائے پی پی کر خود کو سوفیسٹی کیٹڈ سمجھنے لگتے ہیں، اور جو ایسا نہ کرے، اسے خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ان میں خواہ مخواہ کا احساس برتری کمپلیکس آ جاتا ہے۔ یوں برتاؤ  کرنے لگتے ہیں جیسے وہ بڑی توپ چیز ہیں۔ کسی محفل میں ان سے پوچھا جائے، کہ کتنی شکر لیں گے، تو سر جھٹک کر انگریزی میں جواب دیتے ہیں
No sugar please.
رفتہ رفتہ ان کا یہ کمپلیکس اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کافی بھی بلیک پینے لگتے ہیں۔ یعنی چینی کے ساتھ ساتھ دودھ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے لوگ دوسروں کو مجبور تو نہیں کرتے کہ وہ بھی چینی نہ لیا کریں، لیکن ایسی باتیں ضرور کرتے ہیں، یو نو! میں نے جب سے شوگر چھوڑی ہے، میری لائف ہی بدل گئی ہے۔ بندہ پوچھے، چائے میں چینی نہیں تو لائف کا اچار ڈالنا ہے۔
جس طرح یہ خود کو کیری کرتے ہیں، چینی لینے والا بندہ بے چارہ خود کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر وہ دن آ جاتا ہے جب اچھی خاصی چینی والی چائے پینے والا انسان، خود بھی چینی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔
کسی دوسرے کا کیا کہیں، خود اپنے ساتھ یہی کہانی ہوئی۔ اپنے حلقہ احباب میں ایک دو ایسے حضرات دیکھے جو چائے میں چینی نہیں لیتے تھے اور اس بات پر بڑا فخر وغیرہ بھی کرتے تھے۔ تو ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا، یار یہ کڑوا کسیلا مائع کیسے پی لیتے ہو۔ وہ کندھے اچکا کر بولے۔۔۔ بس ہفتے دو ہفتے میں عادت ہو جاتی ہے۔
تو ہم ان کی باتوں میں آ گئے۔ گھر والوں کو کہہ دیا کہ آج کے بعد سے ہماری چائے میں چینی نہ ڈالی جائے۔ وہ بھی ایسے ظالم کہ جھٹ سے مان گئے۔
پہلے یہ حال تھا کہ دن میں کم از کم نو کپ چائے پیتے تھے۔ ہر کپ میں دو چمچ چینی ڈالتے۔ یوں ایک دن میں صرف چائے کے مد میں اٹھارہ چمچ چینی ہو جاتی۔ اور چائے کے ساتھ جو دیگر لوازمات ہوتے ہیں مثلا کیک رس، بسکٹ، مٹھائی ۔۔۔ وہ اس کے علاوہ۔
اب چینی چھوٹی تو لگ پتہ گیا۔ پہلا ہفتہ تو ہم نے یہ سوچ کر کڑوے گھونٹ بھرے کہ ہفتے دو ہفتے میں عادت ہو جائے گی۔ جب دوسرے ہفتے کے بعد بھی کڑوی چائے دل کو نہ بھائی تو ترغیب دینے والوں سے پوچھا۔۔۔ بھیا دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں، میٹھی چائے کی بہت یاد آتی ہے۔ وہ ظالم کہنے لگے، بس چالیس دنوں میں عادت ہو جائے گی۔ چالیس دنوں بعد پوچھا، کہنے لگے، دو مہینے بعد عادت ہو جائے گی۔
اب ہم کڑوی چائے پیتے ہیں، اور اس کی کڑواہٹ مارنے کو ساتھ میں آٹھ دس کیک رس کھاتے ہیں ۔۔۔ مزا پھر بھی نہیں آتا ۔۔۔ اور نام نہاد نفیس لوگوں کو جھولی اٹھا اٹھا کر دعائیں دیتے ہیں۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator