Feed aggregator

ادھورے سفر

محمود الحق -

بچپن گزر جاتا ہے ، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ماضی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ مگربعض لوگ زندگی میں طوفان کی طرح آتے ہیں اور ایک جھونکے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ نہ تو راہ و رسم رہتی ہے ، نہ ہی تعلق قائم رہتا ہے اور نہ اپنائیت و وابستگی۔ بس یادداشت کے کینوس پر گرد و غبار کی مانند بس اتنی سی جیسے عینک پر پڑی دھول جو آنکھوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا کو بہت کچھ دینے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لینے والوں کی لائن میں لگے ہوتے ہیں ۔غذائی ضرورتیں انسان کی صحت و توانائی کا لیبل سجائے رکھتی ہیں اور بھوک بدن کو زندہ رکھنے کی تڑپ میں مبتلا رکھتی ہے۔ ایک بات تو طے ہے راستے جدا جدا ہیں منزلیں الگ الگ۔ الفاظ ترازو نہیں ہو سکتے جن پر انسان تولے جا سکتے ہیں۔ انسانی بستیوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا تنہائیاں ، جنگلی حیات میں ریوڑ ہوتے ہیں یا غول۔ عجب لوگ ہیں خالق کائنات کی تخلیق پر غور نہیں کرتے لیکن جب اس کا نام بادلوں، پھلوں میں نظر آئے تو اس کی شان و بڑائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی نے روٹی پر دکھا دیا تو ٹی وی پر چلا دیا۔ عجب زمانہ ہے دولت و طاقت سے عزت و وقار کا بھرم ہے۔ کردارواعتبار ، اخلاق و اطوار تو بس وہ اجزائےترکیبی ہیں جو ہر شے پہ لکھے ہوتے ہیں مگرپڑھتا کوئی نہیں۔ مال و اسباب ترازو پر رکھتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں اور ہنسی کا کسی کے پاس حساب نہیں۔ ایک ہنسی میں کتنے آنسو پڑتے ہیں۔ بس یاد ہے تو صرف مسکرانا یا رونا۔ جو لفظوں میں معنی تلاش کرتے ہیں ان کے سفر ادھورے ہیں۔ جو احساس تلاش کرتے ہیں وہ منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ محبت انسان اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوسرا اچھا لگتا ہے یا اپنا آپ اچھا لگتا ہے۔ حالانکہ چاہت احساس مانگتی ہے اوراحساس ایثار مانگتا ہے۔ ایثار قربانی مانگتا ہے تو قربانی قبولیت مانگتی ہے۔ قبولیت تعلق مانگتی ہے اور تعلق تقدس مانگتا ہے۔ تقدس وفا مانگتا ہے اور وفا عشق مانگتا ہے۔ عشق رضا مانگتا ہے اور رضا خدا مانگتا ہے۔ 

تحریر: محمودالحق

1965 کے صدرارتی انتخابات

شعیب صفدر -


وہ تاریخ جو آپ کو مطالہ پاکستان کی کورس کی کتابوں میں نہیں ملے گی

تاریخ می کئی چہروں پر ایسا غلاف چڑھا رکھاہے کہ اب انکی تعریف کرنی پڑتی ہے اور ان کا ماضی ہمیں بھولنا پڑتا ہے ایسےکئی کردار صدارتی الیکشن 1965 کے ہیں جن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے یہ پہلا الیکشن تھا جس میں بیورکریسی اور فوج نے ملکر دھاندلی کی۔ 1965کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود ایوب خان نےکی پہلے الیکشن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرانے کا اعلان کیا ۔یہ اعلان 9اکتوبر1964کوہوا مگر فاطمہ جناح کے امیدوار بنے کے بعد یہ اعلان انفرادی رائے ٹھہرا اور ذمہ داری حبیب اللّہ خان پرڈالی گئی یہ پہلی پری پول دھاندلی تھی۔ 1964 میں کابینہ اجلاس کے موقع پروزراء نے خوشامد کی انتہا کی حبیب خان نے فاطمہ جناح کو اغواء کرنے کی تجویز دی وحیدخان نے جووزیراطلاعات اورکنویشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے تجویزدی کہ ایوب کو تاحیات صدر قرار دینے کی ترمیم کی جائے بھٹونے مس جناح کو ضدی بڑھیا کہا اگرچہ یہ تمام تجاویز مسترد ہوئیں۔ ایوب خان نے الیکشن تین طریقوں سے لڑنےکا فیصلہ کیا۔ پہلامذھبی سطح پر،انچارج ، پیرآف دیول تھے جنہوں نے مس جناح کےخلاف فتوےديئے دوسری انتظامی سطح پرسرکاری ملازم ایوب کی مہم چلاتے رھے تیسری عدالتی سطح پرمس جناح کےحامیوں پرجھوٹےمقدمات درج ہوئےعدالتوں سے انکے خلاف فیصلے لئے گئے۔ سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب کےساتھ تھے۔بھٹو،جتوئی،۔محمدخان جونیجو،ٹھٹھہ کےشیرازی،خان گڑھ کے مہر،۔نواب شاہ کےسادات،بھرچونڈی،رانی پور،ہالا،کےپیران کرام ایوب خان کےساتھی تھے۔جی ایم سید ، حیدرآباد کےتالپوربرادران اور بدین کے فاضل راہو مس جناح کے حامی تھے یہی لوگ غدار تھے ۔ پنجاب کے تمام سجادہ نشین سوائے پیرمکھڈ صفی الدین کوچھوڑکر باقی سب ایوب خان کے ساتھی تھے۔سیال شریف کےپیروں نے فاطمہ جناح کےخلاف فتوی دیا پیرآف دیول نے داتادربار پر مراقبہ کیا ۔اور کہاکہ داتاصاحب نے حکم دیا ہے کہ ایوب کوکامیاب کیاجائے ورنہ خدا پاکستان سے خفا ہو جائے گا۔ آلومہار شریف کے صاحبزادہ فیض الحسن نے عورت کےحاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کی ۔مولاناعبدالحامدبدایونی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سے مذاق اور ناجائز قرار دیا حامدسعیدکاظمی کے والد احمدسعیدنے ایوب کو ملت اسلامیہ کی آبروقراردیا یہ لوگ دین کے خادم ہیں۔لاھورکے میاں معراج الدین نے فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقدکیا جس سےمرکزی خطاب غفارپاشا وزیربنیادی جمہوریت نے خطاب کیا معراج الدکن نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کاالزام لگایا موصوف یاسمین راشدکےسسرتھے۔ میانوالی کی ضلع کونسل نے فاطمہ جناح کے خلاف قراردداد منظور کی ۔ مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے ایوب خان کی حمایت کااعلان کیا اور دعا بھی کی پیرآف زکوڑی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سے مذاق قراردیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا اور ایوب کی حمایت کااعلان کیا۔ سرحدمیں ولی خان مس جناح کےساتھ تھے ۔یہ غدارتھے۔ بلوچستان میں مری سرداروں اورجعفرجمالی کوچھوڑ کر سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے۔ قاضی محمد عیسی مسلم لیگ کابڑ انام بھی فاطمہ جناح کےمخالف اورایوب کے حامی تھے انہوں نے کوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی ۔ حسن محمودنے پنجاب و سندھ کے روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔ خطہ پوٹھوہارکے تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے ۔ چودھری نثار والد برگیڈیئرسلطان , ملک اکرم جو دادا ہیں امین اسلم کے ملکان کھنڈا کوٹ فتح خان، پنڈی گھیب، تلہ گنگ ایوب کے ساتھ تھے سوائے چودھری امیر اور ملک نواب خان کےاور الیکشن کے دو دن بعد قتل ہوئے۔ شیخ مسعود صادق نے ایوب خان کیلئے وکلاہ کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئ لوگوں نے انکی حمایت کی پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے اسکےعلاوہ میاں اشرف گلزار ۔بھی فاطمہ جناح کے مخالفین میں شامل تھے۔ صدارتی الیکشن 1965کے دوران گورنر امیرمحمد خان صرف چند لوگوں سےپریشان تھے ان میں شوکت حیات،۔خواجہ صفدر جو والد تھے خواجہ آصف کے، چودھری احسن جو والد تھے اعتزاز احسن کے ، خواجہ رفیق جو والد تھے سعدرفیق کے ، کرنل عابدامام جو والد تھے عابدہ حسین کے اورعلی احمد تالپورشامل تھے۔ یہ لوگ آخری وقت تک۔۔فاطمہ جناح کےساتھ رہے۔ صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکستان توڑنےکاالزام بھی لگا یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جس میں مس جناح کی بھارتی سفیرسےملاقات کاحوالہ دياگیا اوریہ بیان کہ قائدتقسیم کےخلاف تھے یہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایاگیا ایوب اس کو لہراکر مس جناح کوغدارکہتےرھے۔ پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللّہ جیسی نظم لکھنےوالے اصغرسودائی ایوب خان کے ترانے لکھتے تھے۔ اوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نے چاپلوسی کےریکارڈ توڑڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جوآجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کامذاق اڑاتےہیں۔ سرورانبالوی اور دیگرکئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے۔ حبیب جالب، ابراھیم جلیس ، میاں بشیرفاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعرتھے۔ جالب نے اس کام میں شہرت حاصل کی ۔ میانوالی جلسےکےدوران جب گورنرکے غنڈوں نے فائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کرکھڑی ہوگئیں اسی حملےکی یادگا بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کےیہ بولی نظم ہے۔۔فیض صاحب خاموش حمائتی تھے۔ چاغی،لورالائی ، ،سبی، ژوب، مالاکنڈ، باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب ، فاطمہ کےووٹ برابرتھے مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے اور اے سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے مس جناح کو کم ووٹوں سے شکست پنڈی گھیب میں ہوئی۔ ایوب کے82 اور مس جناح کے 67 ووٹ تھے۔اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کےڈرانےکےبعد۔ پیچھے ہٹ گئ یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پردستخط کیلئے ۔مس جناح کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے اسطرح کی دھونس عام رہی۔ ۔حوالےکیلئےدیکھئے ڈکٹیٹرکون ایس ایم ظفرکی ، میراسیاسی سفر حسن محمود کی ، فاطمہ جناح ابراھیم جلیس کی ۔مادرملت ظفرانصاری کی ۔۔فاطمہ جناح حیات وخدمات وکیل انجم کی۔ story of a nation..allana..A nation lost it's soul..shaukat hayat..Journey to disillusion..sherbaz mazari. اورکئ پرانی اخبارات۔۔

یہ تحریر دراصل ایک سرمد سلطان کے ٹویٹ ٹھریڈ کا مجموعہ ہے جو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
P { margin-bottom: 0.08in; }A:link { }

گناہ کا حقیقی تصور

پروفیسر محمد عقیل -


گناہ سے بچنے کے لیے گناہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ گناہ کیا ہے؟ گناہ دراصل خدائی قوانین کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خدائی قوانین کی کئی اقسام ہیں۔ ایک قسم مادی قوانین کی ہے جیسے کشش ثقل کا قانون۔ جو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اونچی جگہ سے بلا سہاراچھلانگ لگائے گا تو اس کی سزا زخمی یا ہلاک ہونا لازمی ہے۔
دوسرے قوانین اخلاقی قوانین ہیں ۔ ان قوانین کا منبع ہماری فطرت یا ضمیر ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی بھی گناہ ہے۔ جیسے چوری کرنا

، کسی پر ظلم کرنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا وغیرہ۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کی سزا بھی نافذ ہوتی ہے لیکن یہ سزا مادی قوانین کے برعکس فوری طور پر نظر نہیں آتی۔ مثال کے طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ ایک شخص نے دھوکہ دیا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس کے برعکس یہ اخلاقی انحراف آہستہ آہستہ جمع ہوتے رہتے ہیں اور وقت آنے پر اس دنیا میں سزا مل جاتی ہے ۔ اور اگر اس دنیا میں یہ سزا پوری نہ ہو تو گناہ اس کی روحانی وجود کے ساتھ لگ کر اگلی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
تیسری قسم کے قوانین مذہبی قوانین ہیں۔ ان قوانین کا منبع مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عقیدے اور شریعت ہوتی ہے۔ ان میں زیادہ ترتو اخلاقی قوانین ہی ہوتے ہیں جو مختلف انداز میں بیان ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مذاہب کے عقائد اور ان کی د ی ہوئی شریعتوں کے احکامات ہوتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کوپانچ نمازوں کا حکم ہے، یہود کے ہاں سبت یعنی ہفتے کے دن کا احترام وغیرہ۔ ان قوانین کو دل سے درست مان لینے کے بعد ان سے انحراف بھی حقیقت میں خدا کے حکم سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کی سزا کا معاملہ بھی اخلاقی قوانین ہی کی مانند ہے۔
گناہ کی ایک اور قسم اجتماعی معاملات سے متعلق انحراف ہے۔ اگر کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی اخلاقی، مادی یا مذہبی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی قوم نااہل لوگوں کو کسی ادارے میں بھرتی کرلیتی ہے تو اس کا خمیازہ ان سروسز کی بری کوالٹی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم بحیثیت مجموعی کسی اخلاقی برائی کی مرتکب ٹہرتی ہے تو اس کا خمیازہ بھی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ گناہ سے مراد خدائی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ قوانین مادی ، اخلاقی، مذہبی اور اجتماعی قوانین ہیں ۔ ان قوانین کی سزا کا اپنا میکنزم ہے۔ البتہ عام طور پر گناہ سے مراد صرف مذہبی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

Dr. Muhammad Aqil
ڈاکٹر محمد عقیل

خود کش حملے ، بم دھماکے اور بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

خود کش حملے ، بم دھماکے اور بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے خود کش حملے ، بم دھماکے ، بے گناہ انسانیت کا قتل شریعت اسلامیہ میں حرام ہے ، لاہور حضرت علی ہجویری ؒکے مزار کے باہر بم دھماکہ انسانیت دشمن عناصر کی کارروائی ہے ، پاکستانی قوم دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف افواج پاکستان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ ہے ۔ https://dailypakistan.com.pk/08-May-2019/963677 یہ بات متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ کے بیان میں کہی گئی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں پولیس کے جوانوں اور عوام الناس پر حملے کرنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں ، لاہور میں ہونے والا دھماکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں ملک میں انتشار پیدا کر نے کیلئے فرقہ وارانہ تشدد اور نفرتیں پھیلانا چاہتی ہیں، جسے پاکستان کی عوام ، علماء اور سلامتی کے ادارے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ متحدہ علماء بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے پولیس ، سلامتی کے اداروں اور بے گناہ عوام الناس پر خود کش حملوں کو حرام ، خلاف شریعت اسلامیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا احترام تو دور جاہلیت میں بھی کیا جاتا تھا ، کفار اور مشرکین بھی رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے قتل و قتال بند کر دیتے تھے ، لاہور میں دھماکہ کرنے والوں کا اسلام ، انسانیت اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ حزب الاحرار نے داتا دربار کے باہر خودکش حملہ کیا تھا جس میں 12 افراد شہید ہو گئے تھے۔

انصاف ۔ گواہی

افتخار اجمل بھوپال -

اپنے بلاگ پر میری 16 اکتوبر 2005ء کی تحریر

سورۃ 4 النّسآء آیۃ 58 ۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ۔ اللہ تم کو نہائت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے

سورۃ 4 النّسآء آیۃ 135 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ۔ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نَفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔

مغربی فکروفلسفہ

مذہب فلسفہ اور سائنس -

 ٭1۔تفہیم مغرب  جدید چیلنجز قدیم چیلنجز سے کیسے مختلف ہیں مغرب کی طرف سے مسلم دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز مغرب سےدرپیش چیلنجزاورکرنےکےکام جدیدمغربی چیلنجز اور مسلم مکاتب فکر جدیدتہذیبی یلغاراورنوجوان نسل کا فکری المیہ مغربی تہذیب کافکری واعتقادی چیلنج اورمولانادریابادی کےتجربات لبرل و دیندار طبقہ اور مغرب شناسی مغربی تہذیب الحاد و مادہ پرستی…

لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش حملے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 20 زخمی

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

لاہور: داتا دربار کے باہر خودکش حملے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید، 20 زخمی داتا دربار کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب خودکش حملے کے نتیجے میں 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے باہر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی میو اسپتال منتقل کیا گیا۔

دھماکے کے بعد میو اور جنرل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فوری طور پر ڈاکٹروں اور اضافی عملے کو طلب کرلیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز محمد اشفاق کے مطابق ایلیٹ فورس کے اہلکار داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر فرائض انجام دے رہے تھے جنہیں 8 بجکر 45 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور صالح سعید نے تصدیق کی کہ دھماکا خودکش حملہ تھا جس کا ہدف ایلیٹ فورس کے اہلکار تھے۔ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان جائے وقوعہ پر پہنچے اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملے میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایلیٹ فورس کے 3 جوانوں سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔

آئی جی پنجاب  نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پر حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کی علامت ہے، حملے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل (دائیں)، کانسٹیبل محمد سلیم (دائیں سے بائیں)، شاہد نذیر ہیڈ کانسٹیبل (بائیں)۔ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت تمام آر پی اوز کو سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں جا کر حساس مقامات اور اہم عمارات کی سیکیورٹی کا خود جائزہ لیں۔ جیو نیوز نے داتا دربار کے قریب مشتبہ حملہ آور کی پولیس کی گاڑی کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے کی تصویر حاصل کرلی جس میں بستہ پہنے مشتبہ حملہ آور کو دیکھا جاسکتا ہے۔ سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس مشتبہ حملہ آور کی تصویر پر وقت 8 بجکر 54 منٹ دیکھا جاسکتا ہے، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے بارے میں حقائق جلد منظر عام پر سامنے آنےکا امکان ہے۔ مشتبہ حملہ آور کو پولیس کی گاڑی کے قریب دیکھا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کا حکم دیا اور آئی جی پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کے علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کے بعد بھکر، سرگودھا اور شیخوپورہ کے دورے منسوخ کرتے ہوئے امن و امان سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔ https://urdu.geo.tv/latest/199723- شدت پسند تنظیم حزب الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسفزئی نے ایک بیان میں اس کارروائی کو آپریشن شامزئی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا ہدف پولیس اہلکار ہی تھے۔ https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48197226 رمضان کے مہینے میں معصوم لوگوں کی جانیں لینے والے ان وحشیوں دہشتگردوں کا اسلام سے کو ئی تعلق یا واسطہ نہ ہے۔ نہ ہی یہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ خود کش حملے ناجائز، حرام اورخلاف اسلام ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ بدلہ لینا جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے ۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا,خودکش حملے کرنا،قتل و غارت کرنا خلاف شریعہ ہے۔اسلام غیر فوجی عناصر کے قتل کی ممانعت کرتا ہے۔ جنگ کی صرف ان لوگوں کے خلاف اجازت ہے ”جو آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوں۔“ مثال کے طور پر صرف جنگجو افراد کے خلاف ہی جنگ کی جائے اور عام شہریوں کو کسی بھی نوع کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کی مذمت اور ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اسلام سے زیادہ کسی اور مذہب نے مذمت نہیں کی۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل دراصل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ قتل و غارت گری کسی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھنے والے انسان کی ہو یہ پوری انسانیت کا قتل ہے

خداومذہب

مذہب فلسفہ اور سائنس -

٭1۔مقصدِزندگی میں کون ہوں ؟ میں کون اور کیو ں؟ میں کیا ہوں ؟! عرفانِ ذات سوچ کر دیکھیے۔۔! کبھی سوچا؟! انسان اور کائنات کی مقصدیت کی بحث اور مذہب، فلسفہ اور سائنس انسان اورکائنات کامقصد کیاہے؟ایک مشہورملحدفلسفی کیساتھ مکالمہ الحاد اور زندگی کی معنویت خدا نہیں تو کوئی قدر نہیں [No God, No Value]…

ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

ماہ رمضان میں اشیا کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ رمضان کے آتے ہی قیمتیں آسمان چھونے لگتی ہیں۔ یوں تو ہر مہینہ اللہ کے حضور سربہ سجود ہونے کا ہوتا ہے لیکن خاص کر رمضان المبارک کے مہینے میں کیا خاص اور کیا عام ہر مسلمان اپنے رب کو عبادتوں کے ذریعہ راضی کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔ مسلمان اس مہینے میں روزے رکھتے ہیں اور اسلئے وہ افطار وسحر کا بھی خاص انتظام کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی مہنگائی آسمان سے باتیں کرنی لگتی ہے۔

امسال بھی  رمضان المبارک کے آتے ہی مہنگائی کاطوفان امڈ آیا ہے۔ناجائز منافع خور،گران فروش اور ذخیرہ اندوز عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے رہے ہیں ،عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور اوپر سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اضافے سے سحری اور افطار مشکل ہو گیا ہے۔

ماہ رمضان کی آمد سے پہلے مہنگائی کا طوفان ‘سبزیوں اور پھلوں کے نرخ بڑھ گئے ‘ پیاز 70روپے فی کلو‘لیموں 400روپے ،سیب 300 روپے ،کیلا 200روپے فی درجن اور خربوزہ 150 روپے فی کلوفروخت ہونے لگا جبکہ آٹے‘چینی ‘چاول اور دال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا‘حکومت کی جانب سے2ارب روپے کا پیکیج ملنے کے باوجودیوٹیلیٹی اسٹوروں پر چینی ،آٹا،گھی اور تیل سمیت دیگر اشیائے خورد ونوش تاحال دستیاب نہیں ہے ‘ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ماہ صیام کیلئےجاری ریٹ لسٹ کو تاجر برادری نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔

گوشت،سبزی،پھلوں کی قیمتیں سن کرلوگوں کے ہوش اڑ گئے، رمضان کی خاص سوغات کھجور کی قیمت دوسو سے تین سو روپے کلو ہوگئی،دودھ ،دہی،گھی، چینی،آٹے کے بھی دام بڑھ گئے۔ رمضان کی آمد سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی من مانی سے عوام پریشان نظر آرہے ہیں،سبزیوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہےاور کھجور کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔

جس کی وجہ سے روزہ داروں کو خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے درالحکومت کراچی کے بازاروں میں تو رمضان آتے ہی یو لگتا ہے کہ جیسے یہ مہینہ پیسے کمانے کے لئے ہی آیا ہے۔اس بار بھی کراچی کے بازار رمضان کے لئے خاص طور پر سج رہے ہیں ۔ لیکن کراچی کے عام اور متوسط طبقہ کو مہنگائی کا ڈر ستانے لگا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حکو مت رمضان میں مہنگائی پر قابو پانے کے لئے خصوصی اور مؤثر اقدامات کرے۔ مذہبی طبقہ بازار کی اس روش سے کافی دکھی ہے۔ مولانا محمد اکرام کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لئے رمضان کے معنی ہی بدلتے جارہے ہیں ہر کوئی پیسے کمانے کی تگ ودو میں ہی لگا رہتا ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی آمد پراشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافہ سے عوام پریشان ہو گئے ہیں۔ منافع خوروں نے مرغی، سبزیوں اور پھلوں سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث اشیائے خورد و نوش عام آدمی کے قوت خرید سے باہر ہوگئی ہیں۔

ہرسال رمضان سے قبل ہی حکومتی عہدیداروں کے اجلاس ہوتے ہیں کہ اس سال عوام کواتنی سبسڈی دے رہے ہیں،گرانفروشوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،وغیرہ وغیرہ۔۔مگرآپ جانتے ہیں کہ ان اجلاسوں کے نتیجے میں غریبوں کیلئے کتنی آسانی پیداہوتی ہے؟اگرآپ باریک بینی سے دیکھیں توایک طرف اس کسان سے زیادتی ہورہی ہے جوسبزیاں،پھل اوراناج پیداکرکے مارکیٹس میں فروخت کررہاہے مگراس کے اخراجات کے تناسب سے صلہ نہیں ملتا،تیل،کھاد،زرعی ادویات اوردیگراخراجات نکال کرکسان کی جیب میں نہ ہونے کے برابرپیسہ جاتاہےجواونٹ کے منہ میں زیرے کے برابرہے،کسان پراس ظلم کاذمہ دارمنڈی میں بیٹھاوہ آڑھتی ہے جس نے ریٹ اپنی مرضی کالگاناہے جہاں کسان کی مرضی نہیں چل سکتی۔پھریہی اشیاء منڈیوں سے دکانوں پرآتی ہیں جہاں پھرایک دفعہ دکانداراشیاء کواپنی مرضی سے پیک کرکے ان پراپنی مرضی کی قیمتیں لگاکرعوام کے دوسرے بے بس طبقے خریدارپرظلم کرتاہے،یہاں بھی خریداربے بس ہے،اس نے کچن چلاناہے لہذا،آٹا،چاول،گھی،چینی اورپھلوں سمیت دیگراشیادکانداروں کے مرضی کے ریٹ پرخریدناپڑتی ہیں۔۔ایک طرف کسان اوردوسری طرف عام شہری گرانفروشوں کے ظلم کاشکارہے،یہ ظلم اس وقت مزیدبڑھ جاتاہے جب کسی بھی چیز کی طلب بڑھتی ہے،رمضان المبارک میں چونکہ اشیاء کی طلب بڑھ جاتی ہے تویہی مافیا وقت کافائدہ اٹھاتاہے جس کیخلاف آج تک کوئی ٹھوس کارروائی نظرنہیں آئی اورنیتجتا ہررمضان میں عوام مہنگائی کے جن کالقمہ بن جاتے ہیں۔۔اس سارے معاملے کاحل کیاہے؟؟میری نظرمیں جہاں پرائس کنٹرول سسٹم کوبہترکرنے کی ضرورت ہے وہیں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ایک ایسی مہم ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جومسلسل چلے،اس مہم میں کاروباری طبقے میں شعورپیداکیاجائے کہ صرف جائزمنافع ہی ان کاحق ہے،ناجائزمنافع سے جہاں وہ عوام پرظلم کررہے ہیں وہیں وہ اپنے اوپربھی ظلم کررہے ہیں کیوں کہ کوئی بھی دین اس کی اجازت نہیں دیتا،دکانداروں کوشعورہوناچاہیے کہ وہ جس رب کی عبادت کرتے ہیں وہی رب ناجائز منافع خوری سے ناراض ہوتاہے،اگرانتظامیہ گرانفروشوں کوسخت سزائیں دلانے میں کامیاب ہوجائے اورآگاہی مہم مسلسل چلانے کابندوبست کرلے تویہ لعنت معاشرے سے مکمل طورپرختم ہوجائےگی۔

شہری کہتے ہیں عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے مقامی حکومتوں کے نظام کو موثر بنانا ہو گا۔ مقدس اور برکتوں والے مہینہ میں منافع خوری و ذخیرہ اندوزی ،ہم تمام مسلمانوں پر ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ رمضان المبارک کی وجہ سے چنے کی دال کی قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے. دوسری جانب ذخیرہ اندوز بھی سرگرم ہیں ، بیسن، گھی، تیل، دالیں، چاول اور دیگر اشیا کا ذخیرہ کیا جا رہاہے جن کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں امن مانی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اشیا خردنوش اور پھلوں کی قیمتوں میں اگر یوں ہی اضافہ ہوتا رہا تو رمضان کے بابرکت مہینے میں غریب عوام کے لئے گزارہ کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔

مسلم فکروفلسفہ (آرٹیکل لسٹ )

مذہب فلسفہ اور سائنس -

مسلم فکروفلسفہ ( عقلیات، تصور علم، فلسفہ ، سائنس  ) کے حوالے سے جدید   ذہن   کے اشکالات  کو ہم نے گزشتہ تحریر ی سلسلے میں پیج پر  تفصیل سے زیر بحث لایا تھا ، وہ   تمام تحاریر اب ہماری سائیٹ پر بھی اپ ڈیٹ کردی گئی ہیں اور قارئین کی آسانی کے لیے انکی  ایک…

اسلام-عقلی اشکالات

مذہب فلسفہ اور سائنس -

٭1۔معجزہ سائنس کےخوف سے معجزات کاانکار معجزے کی سائنسی تشریح معجزہ اور علت و معلول واقعہ معراج اورجدیدذہن کےاشکالات حضرت آدمؑ، عیسیؑ وحواؑ کی پیدائش کس سائنسی اصول کے تحت ہوئی؟ معجزات کی سائنسی افادیت   ٭2۔روح روح کی حقیقت وماہیت قرآن کی روشنی میں روح کی حقیقت اور احادیث رُوح کیا ہے؟ ایک سائنسی…

ایک جائزہ

کوثر بیگ -


کچھ لوگ خود کو اہمیت دیتے ہیں ۔ مجھے دیکھو  مجھے چاہو مجھے سے بات کرو میرے آرام کا خیال رکھو  پہلے میری نیند پوری ہو ، میری عزت کرو اور کروالو  ،  میں یہ پہنو میں یہ کھاؤں ،فلاں کے ساتھ رہنا پسند ہے ، کون گھر آئے ، کہاں جائے ، کس کو بلائیں نہ بلائیں  یہاں تک کہ اپنی فیملی بھی انہیں کی مرضی سے رہیں اور ایسا ہوتا بھی ہے ان کے تیکھےتیور انکی خود پسندی و خود غرضی، رعب و دبدبہ ، لڑائی و جھگڑے سے متاثر اور مجبور ہوکر ہر بات چپ چاپ سہتے سنتے مانتےجاتے ہیں ۔ 
مگر ایک دوسری قسم  اس کے الٹ بھی ہوتی ہے ۔ ہر بات دوسروں کی نہ چاہتے ہوئے بھی سنتے مانتے رہتے ہیں اپنی پسند نہ پسند کو دبا کر دوسروں کو فوقیت دیتے ہیں ۔انہیں اپنے آرام و راحت کی پروا نہیں ہوتی۔ ان کے کپڑے ہر ضرورتیں دوسروں کی مرضی کے ہوتے ہیں ۔ ہر طنز و بدسلوک پر صبر کرتے ہیں  ۔ اپنی وجہ سے دوسروں کی دل آزاری نہ ہو ،کوئی ان کے ہوتے بے آرام نہ رہے۔تن من دھن سے خدمت کےلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں . انہیں پتہ ہوتا ہے کہ انہیں بیوقوف سمجھا جارہا ہے انہیں استعمال کیا جارہا ہے ان کی ناقدری کی جارہی ہے یہ سب جانتے ہوئے انجان بنے صبر کے گھو نٹ پیتے زندگی گزارتے رہتے ہے۔ وہ اذیت میں بھی لطف لینے لگتے ہیں۔

بے قراری میں  لطف آتا ہے
آرزوئے قرار کون کرے

ان کے اس رویہ ،خدمت  ،احساس ،جذبات ،پسند  ،مرضی اور خوشی کا کبھی کسی کو خیال نہیں آتا وہ ایسا چراغ ہوتے ہیں جو جلتے رہتے ہیں اور جلنے تک ان کے وجود کا کسی کو احساس نہیں ہوتا ۔جب چراغ بجھ جاتا ہے تو تاریکی اورپچھتاؤے کے سوا باقی کچھ نہیں رہ جاتا ہے ۔۔۔آخر  ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

(کوثر بیگ)

افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ،13 اہلکار ہلاک افغانستان کے صوبے بغلان میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں 13 اہلکار ہلاک 55 زخمی ہوگئے ہیں۔افغان وزارت داخلہ نےدعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں تمام 8 حملہ آور مارے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے بغلان کے شہر پُلِ خوماری میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر میں طالبان جنگجوؤں نے حملہ کردیا، پہلے خود کش بمبار نے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی جس کے بعد دیگر طالبان جنگجو اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خود کش بمبار کے ساتھ 7 جنگجوؤں نے دھاوا بولا تھا اور گھمسان کی جھڑپ میں افغان پولیس کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

حکام کے مطابق شہر پل خمری کے پولیس ہیڈکوارٹر پر 8 مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا۔حکام کے مطابق کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 20 شہریوں اور اہلکاروں سمیت 55 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام حملہ آور بھی مارے گئے۔ https://urdu.geo.tv/latest/199641-

خود کش حملے ناجائز، حرام اور اسلام کے منافی ہیں۔ کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ اس سے مسلمانوں اور خصوصاً غریب عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ لوگ جاں بحق ہو رہے ہیں۔ارشاد ربانی ہے’’اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب‘‘۔زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک بڑا جرم ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اور اپنی جانیں قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو ظلم اور زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو بہت آسان ہے)۔ خود کش حملے کرنے، کرانے اور ان کی ترغیب دینے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرنے کی شرعی طور پر مجاز ہے۔ جہاد کا اعلان کرنا ریاست اور حکومت کا حق ہے۔جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قِتال شامل ہیں صرف اسلامی ریاست شروع کر سکتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات ریاست کیخلاف بغاوت تصور کئے جائیں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی سنگین اور واجب التعزیر جرم ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مفتوحہ علاقوں کے عوام کو سماجی اور مذہبی آزادی دی اور حسن کردار سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کیلئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے۔ ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد بھی حرام ہے۔ حکومت کے خلاف ہر طرح کی عسکری کارروائیوں یا مسلح طاقت کے استعمال کو شرعی لحاظ سے حرام قرار دیا گیا ہے۔کچھ لوگوں نے جہاد کے نام پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے وطن عزیز کے پرامن اور محب وطن عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے چنانچہ آج ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے تمام عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اسلام ایک ہمہ گیر اور مکمل دین ہے۔ اس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور جہالت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اسلام زندگی کے معاملات میں میانہ روی اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف خروج کر کے مسلح جدوجہد کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔ باغیوں کو کچلنا دینی حکم کے عین مطابق ہے، اسلامی ریاست کے خلاف منظم ہو کر طاقت کا استعمال قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے، ایسے عمل کو بغاوت کہا جائے گا۔ باغی نیک نیتی کے ساتھ تاویل بھی رکھتے ہوں تو بھی ریاست اسلامی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ عوام کی غالب اکثریت اسلامی ریاست کے حکمرانوں سے شدید نفرت کرتی ہو پھر بھی اسلام ایسے حکمرانوں کے خلاف مسلح حملوںکی اجازت نہیں دیتا البتہ پرامن طور پر ان کے خلاف جمہوری جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

مغرب میں الحاد کی ابتداء کیسے ہوئی ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

اسلام کی پوری تاریخ کے اندر، اسلام کو ان دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو یورپ کو انکے غلط عقیدے کی وجہ سے کرنا پڑیں۔ بہت اہم مشکلات میں سے ایک مذہب اور سائنس کے درمیان خوفناک اختلافات تھے۔ مذہب اس بےرحمی کیساتھ سائنس سے جا ٹکرایا کہ کلیسا نے بہت سے سائنسدانوں کو…

رمضان کریم

افتخار اجمل بھوپال -

سب مُسلمانوں کو رمضان کريم مبارک
اللہ الرحمٰن الرحيم آپ سب کو اور مجھے بھی اپنی خوشنودی کے مطابق رمضان المبارک کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے ۔ اللہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے احتساب کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حِلم ۔ برداشت اور صبر کی عادت سے نوازے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم
سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيات 183 تا 185
اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ
چند روز ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دِنوں سے اور جن کو طاقت ہے روزہ کی ان کے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو
‏ مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دِنوں سے اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے رمضان کی فضيلت سورت ۔ 97 ۔ القدر ميں بيان فرمائی ہے
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے
اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے
شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حُکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اُترتے ہیں
یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے

طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

طالبان عسکریت پسندوں نے غزنی شہر کے سب سے قدیم مزارات میں سے ایک کو اڑا دیا

 

غزنی شہر، جنوب مشرقی صوبہ غزنی کے صوبائی دارالحکومت میں سب سے قدیم مزارات میں سے ایک ، شمس العارفین کے مزار کو طالبان عسکریت پسندوں نے بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے  ۔غزنی شہر کے مغربی حصوں میں واقع مزار شہر کی سب سے مشہور مزارات میں سے ایک تھا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی طرف سے احترام کیا جاتا تھا۔ https://www.khaama.com/taliban-militants-blow-up-one-of-the-oldest-shrines-of-ghazni-city-03866/ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج افغانستان میں، طالبان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اولیا اللہ کے مزار بھی محفوظ نہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں  اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر  پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطہ میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار  سے  سرانجام دیا۔  انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے  بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔  ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیائے اللہ کی تبلیغ اور حسن کردار سے پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار اور مقابر صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ایمان عقیدے اور یقین کے مطابق ان مزاروں پر حاضری دیتے اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں جنہیں اس مسلک سے اختلاف ہے وہ بھی ان ہستیوں کا دلی احترام کرتے اور ان کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں۔ سیکڑوں سال سے اس پر عمل ہورہا ہے اختلاف رائے کے باوجود اس پر کوئی جھگڑا یا خونریزی نہیں ہوئی۔                در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔ حضرت   شیخ عبدالقادر جیلانی سے لیکر  حضرت معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔ پتہ نہیں ان طالبان دہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے مزاروں کو  اپنےحملوں کا نشانہ بنایا ۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔                در حقیقت  صوفیائے کرام کی تعلیمات  تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں  موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج  کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ   ہم سب  لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

 

 

 

 

کس مذہب کا خدا مانیں ؟

مذہب فلسفہ اور سائنس -

وجود باری تعالی پر بحث کے دوران وہ لمحہ آتا ہے جب ملحد یہ سوال کرتا ہے: “اچھا چلو ہم خدا کو مان لیتے ہیں، اب بتاؤ کونسے خدا کو مانیں، مسلمانوں کے، عیسائیوں کے یا پھر ھندووں کے؟ ان میں سے ہر کوئی اپنے مذہب کو سچ کہتا ہے”ان کا یہ سوال “کیوں” کے…

محبوب جاں ہوتا

محمود الحق -

کاغذ پہ لکھ دیتے تو حال بیاں ہوتا ۔ یوں نہ قلب ،سفر امتحاں ہوتازندگی تو یوں بھی گزر گئی ۔ دل ناتواں ہوتا یا ناداں ہوتاکس سے کہیں شکوہ جان جاناں ۔ موج تنہائی میں الفت بیاباں ہوتاسینے میں دہکتا انگاروں پہ لوٹتا ۔ دھڑکا نہ ہوتا تو ٹھہرا آسماں ہوتاآنے میں بیتابی جانے میں شادابی ۔ خیال پرواز ہوتی ،نہ قدم نشاں ہوتادولت ترازو میں رہاعشق بے مول ۔ جبر تسلسل نہ ہوتا، کانٹا گلستاں ہوتا آنکھ سے نہ چھلکا ہوتا جو قطرہ ۔ رگوں میں لہو بن دوڑتا ارماں ہوتا روح احساس کو ستانےوالے ۔ نہ ہوتا تو تو یہ میرا جہاں ہوتاخلوت میں نہ ہوتی گر دستک ۔ جلوت میں محمود محبوب جاں ہوتا

محمودالحق

شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کے حملے میں 3 فوجی جوان شہید

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کے حملے میں 3 فوجی جوان شہید شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے فوجی جوانوں پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوگئے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی دہشتگرد مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقےالوارہ میں  میں ساٹھ سے ستر دہشتگردوں نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے دوران پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کردیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کو پسپا کردیا اور جوابی کارروائی میں کئی دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے کے دوران پاک فوج کے تین جوان شہید بھی ہوئے جن میں لانس نائیک علی، لانس نائیک نذیر اور سپاہی امداد اللہ شامل ہیں جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام رکاوٹوں کے باوجود سرحد پر باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا، افغان سیکیورٹی فورسز اور حکام کو سرحد پر کنٹرول مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/199526- طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ حزب الاحرار نے اس واقہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروپ کا لیڈر مکرم خان ہے۔ ایک دہائی پہلے اسلام کا نام لے کر نہتے لوگوں اور اپنے ہی ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف طالبان نے نام نہاد  ’’جہاد‘‘کا اعلان کردیا، جوکہ اصل میں فساد فی الارض تھا۔ یہ ویسے بھی جہاد نہ تھا۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اسپتال، ہوٹل، مزار، مساجد غرض کوئی علاقہ بھی دہشتگردی سے بچا ہوا نہیں تھا۔ پاکستان اس دہشت گردی کا مقابلہ کر رہاہے۔  تحریک طالبان  اور اس سے منسلک گروپوں نے پاکستانی  بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لئے دہشت گرد حملوں کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ ان دہشتگردوں کیخلاف ایک عشرے سے زائد سیکیورٹی ادارے اپنی پوری تندہی و طاقت سے برسرپیکاررہے ۔اب کچھ عرصہ سے جب یہ محسوس کیا گیا کہ دہشتگرد تعداد میں کم ہوچکے ہیں اور ان کی طاقت کا محورختم ہوچکا ہے تو دیگر مسائل پر توجہ دی جارہی ہے ۔دہشتگرد پاکستان میں کارروائی کرتے اور بھاگ کرہمسایہ ملک چلے جاتے ۔پاکستان نے اس مسئلہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا جس کی وجہ سے دہشتگردی میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی ۔ طورخم بارڈر کے قریبی علاقوں میں آہنی باڑ کی تنصیب کر کے دہشتگردوں کی نقل و حرکت ختم کی گئی جس کے باعث خیبر پی کے سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔  یہ باڑ ہمارے پڑوسی ملک کے لئے بھی مفید ہے اور اس سے دہشتگردوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ اس دہشتگردی کی پاکستان نے بھاری لاگت ادا کی کیونکہ ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی زندگی کو کھو دیا ہے اور ملک کو سنگین اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا  ۔ اگرچہ طالبان بھاگ گئے ہیں مگر کبھی کبھار چھوٹے موٹے حملے کرتے رہتے ہیں۔ عوام کی مدد سے طالبان  کے تمام ناپاک منصوبے   ناکام بنا دیئے جائیں گے اور ان کو پاکستان میں چھپنے کے لئے جگہ نہ ملے گی۔

ہاتھ کی کھڈی

Nostalgia, Scream and Flower -

چند دن پہلے ڈاکٹر رابعہ درانی نے لکھا تھا چاند پر چرخا کاتنے والی بی بی اگر حقیقت ہوتی تو وہ چاند پر چرخا کیوں کاتا کرتی اسے زمین پر آنا چاہیے تھا کپاس تو یہاں اگتی ہے ۔۔ دراصل چاند الی اماں اپنے محبوب" بہت پہنچی ہوئی سرکار" کے مزار کی مجاور ہے ۔
 پھر بھی ہزارہا صدیوں کا وقت کیسے کاٹے تو چاند بی جی چرخے والی نے'وقت کاٹنے' کی بجائے ''چرخا کاتنے '' کا فیصلہ کیا ۔سمارٹ چوائس ازنٹ اٹ ! اپنے ہاتھوں سے بٹی سوت کی کیا ہی بات ہے۔
 عشق کی قیمت ملے نہ ملے۔۔۔اپنی پہچان سے عشق،اپنی  شناخت، اپنی مٹی سے عشق، اپنی ثقافت اپنی تہذیب ۔۔ ۔انسان جب عشق کے زیر اثر آتا ہے تو یہ خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ایک دنیا جاگ رہی ہوتی ہے ایک آلائو روشن ہوچکا ہوتا ہے۔سچائی کی قندیل آپ کی رہنمائی پر مامور ہوچکی ہوتی ہے۔پھر عشق کی کیا قیمت ۔ عشق کا کیا صلہ۔کمالیہ شہر کی  پہچان کھدر ہے۔ اور اصلی کھدر وہی تھا جو ہاتھ کی کھڈی پر بنایا جاتا تھا۔ کمالیہ کے ہی ایک رہائشی  اعظم بانکا کو بھی اپنی اس شناخت سے عشق ہے۔ اور اس  نے مشینی دور میں اپنے عشق کو دیکھا۔اور ہاتھ سے دو کھڈیاں بنا کر ان پر کپڑا بننا شروع کیا۔
عشق کی قیمت ملے یا نہ ملے۔اعظم بانکا ہمارے ہی آبائی محلے بلکہ آبائی گلی کا مکین ہے۔اس سے ملا تو  دلچسپ انکشاف ہوا کہ یہ کھڈیاں اس نے  اپنے ہاتھ سے اس لکڑی سے بنائی ہیں جو ہمارے آبائی گھر  کے نئے مالکان  کی جانب سے تعمیر نو کیلئے پرانے گھر کو گرانے کے بعد فروخت کی تھی ہاتھ سے بنا کھدر کا دھاگہ کچھ موٹا ہوتا ہے اس لیئے اس سے بنا ہوا کپڑا عموما سردیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔کپڑے کی بنتی میں ایک تانا ہوتا ہے اور ایک بانا۔ تانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جو ورٹیکل باندھا ہوتا ہے اور بانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جسے ایک ایک لکڑی کے بنے چوہا نما کی مدد سے تانے میں سے گزارا جا رھا ہوتا ہے۔ہاتھ سے بنی کھڈی کا کپڑا  ایک تارہ یا دو تارہ یا پھر تین تارہ ہوتا ہے۔ تارہ کہتے ہیں رنگوں کے ان شیڈز کو جو بانا کے ذریئے پیدا کیا جاتا ہے۔ایک تھان میں  انچاس سے چھپن  میٹر کپڑا ہوتا ہے۔ اور ایک دن میں آٹھ سے دس گھنٹے محنت کے بعد ایک کھڈی پر سات سے دس میٹر کپڑا بنا جاسکتا ہے۔کاروباری لوگ ان کاریگر لوگوں سے اڑھائی سو سے تین سو روپے  میٹر میں کپڑا خرید کر پانچ سے آٹھ سو روپے میٹر تک فروخت کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک قیمت بہت زیادہ ہے۔لیکن یہ قیمت کپڑے کی نہیں ہے اس عشق کی ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی ۔۔۔ 

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator