Feed aggregator

نواب بہاولپور اور قائد اعظم

اسریٰ غوری -

نامور کالم نگار مشتاق احمد قریشی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔متعلق ان معلومات کو عام لوگوں تک پہنچایا جائے گو کہ یہ تحریر میری نہیں ہے لیکن میرے قلم سے لکھی جا رہی ہے۔ کیا آج کی موجودہ نسل جانتی ہے کہ سر صادق محمد خان عباسی کون تھے ہمیں اپنے محسنوں کو بھولنا […]

پیارے نبیﷺ تاجدارِ حرمﷺ ۔ آتش

اسریٰ غوری -

عشق, محبت, پیار, الفت, عقیدت کی چوبیس گھنٹے رٹ لگانے والو!!! آؤ تمھیں دکھاؤں کہ عشق کی اصل کیا ہے۔ آؤ بتاؤں کہ حُبِّ محبوب کیا ہوتی ہے۔ وہاں کا منظر دکھاؤں کہ جب پیار ہوتا ہے تو چشمِ فلک اس کے جذب کے کیسے کیسے مناظر دیکھتی ہے۔ آؤ دیکھو کہ اپنی ہستی کا […]

بیڑیوں کی چھن چھن

عامر منیر -

ایک معمر شناسا سے یہ واقعہ سننے کا اتفاق ہوا. کہتے ہیں: اس وقت کی بات ہے جب پنجابی سنیما اپنے عروج پر تھا اور فلم بین سلطان راہی کے دیوانے تھے- حقیقی زندگی میں آئے دن عوام کی عزت نفس مجروح کرنے والے تھانے کچہری کے اہلکاروں کو پردہ سکرین پر ہیرو کی گرجدار آواز اور دبنگ رویے سے خائف یا تلملائے ہوئے دیکھنا عوام کو نہایت مرغوب تھا اور فلموں میں ایسے مناظر بکثرت ہوتے تھے- جج یا تھانیدار کے سامنے ہیرو کے بلند بانگ ڈائیلاگ عرصہ دراز تک زبان زد عام رہتے تھے-دودھ دہی کی دکان کرنے والا ایک گجر لڑکا جس کی دکان پر میں لسی پینے جاتا تھا، ان فلموں کا بہت شوقین تھا، سنیما پر نئی آنے والی کوئی فلم تو خیر اس نے کبھی چھوڑی ہی نہیں، اس کے علاوہ بھی وی سی آر کرائے پر لا کر پنجابی فلمیں دیکھنا اس کا دلپسند مشغلہ تھا۔
ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگا- "بھاء، دل کر دا اے کدی میں وی اینج کچہری وچ پیش ہوواں کہ ہتھکڑیاں تے بیڑیاں لگیاں ہون، اگے پچھے پلس ای پلس ہووے۔ میں سینہ چوڑا کر کے ٹراں تے بیڑیاں چھن چھن کرن۔ لوکی کہن پرے ہو جاو فلانا گجر آ ریا اے۔"
 میں نے اس کی بات سن کر ڈانٹا کہ کچھ عقل کرو، ان فلموں نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے- لوگ تھانے کچہری سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور تم الٹا اس کی خواہش کر رہے ہو۔
 لیکن جو رنگ اس جوان نے پکڑ لیا تھا، وہ ظاہر ہو کر رہا- کچھ ہی عرصے بعد دکان پر اس کی کسی سے لڑائی ہوئی، اس نے لکڑی کی وہ مدہانی جس سے لسی بناتا تھا، لڑنے والے کے سر میں دے ماری- بدقسمتی سے وار مہلک ثابت ہوا، مضروب سر کی چوٹ سے جانبر نہ ہو سکا اور یہ دفعہ تین سو دو کے کیس میں جیل جا پہنچا۔
 وقوعہ کے کوئی چھ ماہ بعد کی بات ہو گی، ایک پیشی پر میں اس کے والد اور چچا کے ساتھ کچہری چلا گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مدقوق سا نوجوان، ہتھکڑیوں میں جکڑا، پژمردہ چال چلتا آ رہا ہے، چہرے کی رونق اور شادابی رخصت ہو چکی ہے۔
 بیساختہ میرے منہ سے نکلا "پتر چھن چھن دی آواز نئیں آ رئی۔"
اس نے شرم سے سر جھکا لیا، کہنے لگا "چاچا جی تسی ٹھیک کہندے سو، فلماں نے میرا دماغ خراب کر دتا سی۔"

شِفاء اور شفا میں فرق

افتخار اجمل بھوپال -

جو الفاظ ہم روز مرّہ بولتے ہیں اِن میں سے کچھ ہم غلط تلفّظ کے ساتھ بولتے ہیں اور ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم غلط معنی والا لفظ بول رہے ہیں جبکہ بعض اوقت وہ معنی قابل سر زنش یا ندامت ہوتے ہیں
میں ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں کہ پڑھنے اور مطالعہ کرنے میں فرق ہوتا ۔ پڑھنے سے آدمی پڑھ پُخت تو بن جاتا ہے لیکن عِلم سے محروم رہتا ہے ۔ ہر آدمی کو چاہیئے کہ ہر لفظ جو وہ پڑھے اس کے معنی اُسی وقت تلاش کر کے ذہن نشین کر لے ۔ جب وہ لفظ عادت بن جائے تو اپنی غلطی کا احساس ختم ہو جاتا
اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے احتساب میں تو سرگرداں رہتے ہیں لیکن خود احتسابی کے قریب نہیں جاتے
مسلمان ہونے کے ہم بڑے دعویدار ہیں لیکن الله کریم کا فرمان یا ہم غور سے پڑھتے ہی نہیں یعنی فر فر پڑھ جاتے ہیں اس پر غور نہیں کرتے کیونکہ الله عزّ و جل ہمیں خود احتسابی کا حکم دیا ہے اور عیب جُوئی سے منع فرمایا ہے

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہم غَلَط کو بھی غَلَط بولتے ہوئے غَلَط کی بجائے غَلط کہتے ہیں
ہمیں قرآن شریف کو غور سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

اب ایک لفظ جسے غلط بولنے میں بہت سے لوگ ملوّث ہیں
شِفاء کا مطلب ہے صحت ۔ تندرستی
سُوۡرَةُ 17 بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیة 82
وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا
ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شِفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

شفا کا مطلب ہے موت ۔ گھڑا
سُوۡرَةُ 3 آل عِمرَان آیة 103
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا
ۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‏
سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ اِن علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے

ماضی کا کرب

کوثر بیگ -


تحریر : کوثر بیگ 
خون کے رشتے، وطن کی محبت، احساس و جذبات، ماضی کی یادیں اور اپنے طرز زندگی کا انداز ، مشرقی لوگ غیر محسوس طریقے سے نسل در نسل منتقل کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ہم اپنے طور طریقہ رسم و رواج بڑی مستعدی و خوشی سے نبھا تے جاتے ہیں ۔ہم بزرگوں سے محبت  عقیدت کی حد تک کرتے ہیں ۔ اٹھارہ دن پہلے لمبا سفر طے کرکے اپنے ننھیالی رشتہ داروں سے ملنے آئی ہوں، ان عزیزوں سے تیس سالہ زندگی میں پہلی بار ملاقات ہوئی ـ ۔آنے سے پہلے کئی وسوسے آتے رہے اکیلے اجنبی مقام پر آتے ڈر کے  ساتھ لگتا تھا کہیں کوئی مجھے اپنی جانب کھیچ کر ہمت بھی بڑھا رہا ہے ۔ ذہن میں مرحوم والدین سے کیا گیا وعدہ پورا  کرنے کا عزم بھی  کارفرما تھا ۔ یہاں آنے کے بعد  کوئی پہچانے گا  یا نہیں یہ خیال الگ دامن گیر رہا۔
یہاں پہنچ کر میں حیران رہ گئی ۔ اتنی گرم جوشی و خلوص سے استقبال ہوا کہ میزبانوں کی محبت اور اپنی نانی اماں پر فخر محسوس کرنےلگی اور  اب دو دن بعد طویل عرصہ  کےلئےجدا ہونے کا احساس!  انہیں چھوڑتے لگ رہا ہے جیسے برسوں کا ساتھ تھا ۔ نانی اماں کے چھوٹے بھائی نانوابو اور ان کی فیملی کے گھر قیام کیا، خوب سیر و تفریح کرائی، ضعیفی کی وجہ سےنانو ابو  ہمارے ساتھ چل نہیں پاتے تھے ـ تو ایک دن پہلے مجھے ہر اس جگہ کے بارے میں تفصیل سے  بتاتے  جاتے جہاں ہم اگلے دن جانے والے ہوتے اس طرح یہاں آکر مجھے پیار خلوص کےساتھ بڑی دلچسپ معلومات بھی حاصل ہوتے رہے ـ۔واپسی کے لئے دو دن باقی ہیں میں ہر لمحہ اپنوں میں گزارنا چاہتی ہوں ابھی ہم ڈنر سے فارغ ہوئے تھے کہ میرے دل میں کئی برسوں سے چھپی جستجو نے سر اٹھایا اور میں نانو سے دل کی بات  کہنے لگی:
" نانو ابو آپ مجھے اتنی معلومات سے روشناس کروائے ہیں وہیں میری نانی امی کی ہجرت کے بعد آپ لوگوں کے کیسے حالات رہے؟ وہ بھی مجھے آپ کے زبانی سننے ہیں"
نانو ابو نے پہلے تو مجھے عینک کے پیچھے سے جہاں دید نظروں سے بغور  دیکھا پھر آہستہ سے سر ہلایا اور آرام کرسی سے پیٹھ ٹکا کر اسے پیچھے دھکیلا، سکون سے نیم دراز ہوگئے ۔ دوبارہ میری جانب متوجہ ہو کر تخت پر مجھے آرام سے بیٹھنے کو کہا ۔ چائے کے لئے پوتی کو حکم دیا اور پھر اپنی بات کی یوں شروعات کی: ...  
" قصہ تو طویل ہے مگر مختصراً کہنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ یہاں کی مملکت کے اطراف ایک بڑا ملک غلامی سے نجات پایا تھا، ان کے پاس وسائل زیادہ نہیں تھے ۔ یہاں کی شاہی حکومت کا اپنا سکہ اپنی ریل گاڑیاں ،ایرپورٹ ،کمپنیاں، صنعت و حرفت ، ڈاک گویا ہر نعمت سے مالا مال مملکت تھی ۔ غر با پروری، مذہبی رواداری، علمی خدمات ان سب  کے ہمیشہ پیش نظر رہا۔ ہزاروں سال سے جس نے بھی یہاں حکومت کی اس نے مقدس روایات برقرار رکھیں ۔ 
آخری دور ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔  غربا اور فقرا کوچوبیس گھنٹے بلا روک ٹوک کھاناکھلایا جاتا رمضان میں مساجد میں افطار کرایا جاتا، محرم میں بغیر گوشت کا کھانا عاشور خانوں کو بھیجا جاتا۔ دیوالی کےموقع پر بادشاہ کا جلوس نکلتا جس میں بادشاہ کے اردگردسینکڑوں لوگ گاتے  ہوئے دف بجاتے اور تلوار پھیرا کر کرتب دکھاتے ہوئے چلتے ۔ خدمت گار بھالدار چو بداروں کا ہجوم رہتا۔ مشعلچی چاندی کے دستے لگے ہوئے مشعل اور چاندی کی خوبصورت اور نازک کپیاں لیے آگے پیچھے تیز تیز چلتے ۔ گھوڑ سوارمصاحبین ہم رکاب رہتے تھےـیہ جگہ ہر زمانے میں نظر افروز رہی ۔ اس کے ہر پہلو میں دل کشی رہی تہذیب وتمدن بہت اعلٰی وخاص رہا ۔ اس کی مٹی میں شروع سے رواداری بھائی چارہ رہا ۔ صدیوں سے چلتی آئی گنگا جمنی تہذیب قائم  تھی ۔ اسےعلم و ہنر  کا گہوارہ مانا جاتا۔ یہاں مال و زر کی کبھی کمی نہ رہی ۔ یہ موتیوں کے شہر سے جانا جاتا تھا ۔
 شاہی مملکت کے اطراف بسے ملک سے جب قابض حکمراں اپنا دامن بچا کر فرار ہوگئے ۔ ان کےقائم مقام آزاد حکومت نے غلامی سے نجات پالی ۔مگر انکے پاس وسائل زیادہ نہیں تھے ـ ۔شاہ کی مملکت دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آیا اور انہوں نے نظرِبد ڈالی ۔ شاہ کئی ممالک کی، جس طرح بھی ضرورت رہی مدد کرتے رہے تھے۔ جب ان پر وقت آیا تو سب حکمرانوں نے احسان بھلا کر پیٹھ دیکھائی ۔ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہونے والا انسان اپنی گدی اور رعایا  کے لئے جوابی کاروائی کرنے  لگا ۔ 
چار دن تک ہزار ہا شاہی  فوجی شہید ہوتے رہے ۔پے در پے بمباری سے سرحدوں پر فوجیوں اور خاص و عام انسان خاک و خون میں ملنے کی اطلاعات آتی رہیں ۔ ہزاروں بے یار و مددگار اور بے گھر ہوگئے ۔ ادویات ، خوردونوش کا سامان ، پٹرول اور پینے کے پانی کےلئے کلورین درآمد کرنے پر ناکہ بندی لگنے کی و جہ سے شہر بھر میں غذا کی کمی اور کئی افراد ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہوگئے ۔  حملہ بے حد سخت ثابت ہوا  شاہی مملکت کا سورج غروب ہونے لگا ۔ فوجیوں   کے بد اخلاقی کی خبریں  موصول ہونے لگی ۔ سرحدوں اور اضلاع سے لوگ صدر مقام کا رخ کرنے لگے ۔ ہندو مسلم فساد کا لا علاج مرض پھوٹ پڑا۔ پرانی قدریں مٹنے لگیں۔ آزادی کی خاطر ہزاروں کی تعداد میں لوگ مرے، گھر، دکانیں لٹ گئیں ہزاروں بے روزگار ہوگئے ۔ فرقہ واریت کا نہ ختم ہونے والے سلسلے کی ابتداء ہوگئی بلآخر شاہی مملکت آزاد جمہوری حکومت میں ضم ہوگئی ـ "
نانو ابو کی آنکھوں میں پانی بھر آیا، آواز بھرا نے لگی تو مجھے جاکر سونے کے لیے کہا: " نانو ابو آپ کو نیند آرہی ہے تو ٹھیک ہے آپ آرام کریں۔ اب مجھے تو جستجو سونے نہیں دے گی " " نہیں! اب میرے لئے بھی نیند آنا مشکل ہے۔ چائے آگئی تھی ۔ آہستہ آہستہ چسکی لیتے ہوئے  پھر خود ہی آگے سنانے لگے: " گھروں میں لوگ ڈرے سہمے محصور تھے ۔نو عمر بچوں کو آزاد حکومت کی پولیس لے جارہی تھی ۔ فسادی گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔ کل تک جو امن و امان سے تھے وہ پریشان بے حال ہوچکے تھے ۔میری بہن یعنی آپ کے نانا نانی کی رہائش سرحد کے قریب تھی لٹ لٹا کر جان بچا تے ہمارے پاس آکر ٹھہر گئے تھے اور انکے سسرالی دوسرے ملک ہجرت کے لئے روانہ ہوگئے مگر یہاں بھی خوف و ڈر کا ماحول دیکھ کر وہ ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا ۔ میرے والدین ‎انہیں بھیجتے ہوئے گھبرا رہے تھے۔ابا ،اماں نے مل کرطے کیا کہ ابا  سرحد تک ساتھ جاکر چھوڑ  آئیں گے، میرے بڑے دو بھائیوں کو منچان پر ٹین کے پرانے ڈبوں میں بیٹھا دیا جاتا تھا کیونکہ بارہ سال سے بڑے بچوں کو پولیس امن کے خیال سے گرفتار کر ر ہی تھی ۔ گھر کی تلواریں کنواں میں ڈال دی گئی، تمام لٹھ چھپا دیے گئے ۔ گھر گھر تلاشی لی جارہی تھی ـ ہتھیار برآمد ہونے کی صورت میں گرفتار کیا جا رہا تھا ۔ ابا نے اپنے بڑے بھائی کی بیوہ اور ان کے بچوں کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے رکھی تھی ـ وہ سب بھی ہمارے گھر رہتے تھے میرے دادا دادی  بھی موجود تھے ۔ اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی گھر میں سناٹا چھایا رہتا ۔ 
‏‎  ہمارے گھر کے پرانے ملازم نے چھپتے چھپاتے آکر اطلاع دی کہ فسادی ہماری گلی کی طرف آرہے ہیں  ۔ یہاں سے کہیں اور جاکر پناہ لیں یا کچھ اور تدبیر کریں ۔ یہ سنتے ہی اماں اٹھیں گھر کے تینوں سمت میں باہر کھولنے والے  سب راستوں  کو اندر سے تالا لگایا برقعہ پہنا بندوق برقعہ کے اندر چھپائی لٹھ ہاتھ میں لیکر سامنے والے باہر کے دروازہ کی طرف بڑھنے لگی گھر  کے سب لوگ جانے سے منع کرتے رہے تھے ہم بچوں نے اماں کے پاؤں پکڑ لیے دادا جان اللہ پر بھروسہ کا درس دینے لگے دادی نے اپنا پلو پھیلا کر کہنے لگیں:" بیٹا خطرہ مول لے کر گھر سے باہر گیا ہے ۔ بہو تم اس کی امانت ہو وہ آئے گا تو ہم کیا جواب دیں گے جو ہو گا ہم مل کر سامنا کریں گے ـ"  اماں نے بڑی متانت سے دادی کو تسلی دی ۔" آپ کے بیٹے نے مجھے لٹھ پھیرانا ، تلوار بازی اور بندوق چلانا شاید آج کے لئے ہی سیکھایا تھا ۔ اب میرا فرض بنتا ہے کہ ان کے پیچھے گھر بار کی آخری سانسوں تک حفاظت کروں ـ "دادی کے قدم بوس ہوئی ۔ بے اختیار دادا، دادی نے اماں کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اماں تیزی سے باہر جاکر دروازہ مقفل کرلیا ـ
‏ ‎میں چھ سات سال کا تھا کھڑکی کی دراڑ سے اماں کو دیکھتا رہا دادی نے اپنے پاس بلایا کھڑ کی میں بیٹھنے سے منع کیا مگر  مجھے اماں کا ساتھ چاہئیے تھا انہیں دیکھتا رہا ۔  کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آٹھ دس لوگ چیختے پکارتے بھاگتے ہمارے گھر کی طرف بڑھنے لگے اماں لٹھ چاروں طرف بجلی کی رفتار سےگھومانے لگی لٹھ کی ما ر ان  اشرارکو لگتی تو گھمڑے آجاتے جسے وہ سہلا تے رہ جاتے پھر اماں نے بندوق نکالی جیسے دیکھ کر وہ  بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اماں دروازے کے پاس بیٹھ گئیں ۔ میں بھاگ کر قریب جاکراندر سے  ہی آواز لگائی:" اب آجاؤ نا  اماں “  انہوں نے وہیں سے جواب دیا: “وہ پھر آسکتے ہیں تم دادی کے پاس جاؤ”۔ میں پھر آکر کھڑکی میں اماں کو دیکھتے بیٹھ گیا ۔ بہت دیر گزر گئی سورج ڈھل گیا اندھیرا پھیلنے لگا ۔  پھر لوگوں کے قدموں کی آواز یں قریب سے قریب آتی محسوس ہونے لگیں  ۔ پھر لٹھوں کی آوازیں آنے لگیں اماں  پھر مقابلہ کرنے لگیں ۔ تاریکی میں کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا بس مار لگنے، درد سے کراہنے اور لٹھوں کے ٹکرانے کی آوازیں بہت دیر تک آتی رہیں ۔ پھر ہر طرف پراسرار خاموشی چھا گئی ۔ تاریکی مزید بڑھ گئی ۔ میں انتظار کرتا کھڑ کی میں بیٹھا رہ گیا ۔۔۔
‏‎آج بھی اس دروازے سے کوئی اجنبی گھر میں داخل نہیں ہوسکتا  اگر آنا بھی چاہتا تو اس پر ہول و ہیبت طاری ہوجاتی ہے اور وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھا گ کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شدہ

علاج

نوک جوک -

کہاں مصروف ہو آج کل؟
بس یار کیا بتاؤں
ارے ہاں، تم تو ماہر نفسیات کے پاس جا رہے تھے نا، کیا تشخیص کی اس نے
کچھ نہیں، بس کہتا ہے میں بہت زیادہ workaholic ہوں۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
جسے کام کا بہت شوق ہو۔
پھر کیا علاج ہے مرض کا
علاج تو اس نے نہیں بتایا، لیکن ماہر نفسیات کی فیس بھرنے کے لیے آج کل دو نوکریاں کر رہا ہوں

#منقول

سمندر کی تہہ سے کھربوں ٹن پانی زمین کی گہرائی میں جانیکا انکشاف

افتخار اجمل بھوپال -

زلزلے کے نتیجے میں زمین کی اندرونی پرت (ٹیکٹونک پلیٹس) کے ٹوٹنے اور اس عمل سے جڑی سرگرمیوں کے نتیجے میں سمندر کا پانی بھاری مقدار میں کرۂ ارض میں 20؍ میل تک گہرائی میں جا رہا ہے۔ اور، حیران کن بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کو معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب رکے گا اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ سائنس میگزین اور لائیو سائنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کے گہرے ترین مقام ماریانہ ٹرینچ (Mariana Trench) میں زلزلہ پیما ماہرین کی ٹیم نے ایک نئی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ زمین کے اندرونی حصے (Subduction Zones) گزشتہ اندازوں کے مقابلے میں پانی کی تین گنا زیادہ مقدار اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سمندر کی تہہ میں زلزلے کے نتیجے میں آنے والی دراڑوں سے پانی بہہ کر زمین کے اندر جا رہا ہے۔ نئے تخمینوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مقدار ہر دس لاکھ سال میں تین ارب ٹیرا گرام پانی کے برابر ہے، ایک ٹیرا گرام پانی ایک ارب کلوگرام کے مساوی ہوتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے سرکردہ محقق چین کائی کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ سبڈکشن زونز پانی زمین میں کھینچ کر لے جاتے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر کتنا پانی اندر جا رہا ہے۔ نیچر نامی جریدے میں شایع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین نے زلزلہ پیما مشینوں کی مدد سے ایک سال تک کی زمین کی تھرتھراہٹ اور لرزنے کا ڈیٹا حاصل کیا۔ زلزلہ پیما 19؍ مشینیں ماریانہ ٹرینچ کے قرب و جوار میں نصب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ماہرین نے دیگر سمندر میں دیگر مقامات پر نصب کردہ زلزلہ پیما مشینوں (Seismographs) کے ڈیٹا کا سہارا بھی لیا۔ اس سے ماہرین کو اس بات کا جائزہ لینے میں مدد ملی کہ بحرالکاہل (Pacific) میں ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹرینچ میں مڑنے کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے۔ نیشنل سائنس فائونڈ یشن ڈویژن آف اوشن سائنسز کی پروگرام ڈائریکٹر کینڈنس او برائن کہتی ہیں کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبڈکشن زونز کی وجہ سے زمین کی گہرائی میں کئی میلوں تک پانی جاتا ہے، اور یہ گزشتہ اندازوں سے زیادہ پانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی واٹر سائیکل میں سبڈکشن زونز کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ پلیٹوں کے زمین کی گہرائی میں جانے اور اوپری پرت کے قریب موجود فالٹ لائنوں کے پاس موجود زبردست دبائو اور درجہ حرارت کی صورتحال اور کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی غیر مائع شکل اختیار کرتے ہوئے سمندر کی تہہ میں موجود سخت پتھروں اور چٹانوں میں قید ہو جاتا ہے۔ سائنس ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق، ہزاروں برسوں سے سمندروں میں پانی کی سطح معتدل رہی ہے اور اس میں کبھی اضافہ نہیں ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو پانی زمین کی تہہ میں سمندروں سے ہوتے ہوئے جا رہا ہے، وہ کہیں نہ کہیں سے باہر بھی نکلتا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ پانی کا لیول بدستور برقرار ہے۔ تاہم، مقدار کے حوالے سے معلومات غیر یقینی ہیں۔ رابرٹ ایس بروکنگز میں زمین اور سیارہ جاتی سائنس کے مایہ ناز پروفیسر ڈگ وائنز کا کہنا ہے کہ اس بات کا شبہ ہے کہ ماریانہ سے جانے والا پانی ممکنہ طور پر الاسکا یا پھر جنوبی امریکی سمندروں سے نکلتا ہوگا لیکن کسی نے بھی آج تک سمندر کی تہہ میں 20؍ میل سے زیادہ گہرائی میں جا کر تحقیق نہیں کی اور یہی کچھ ہم ماریانہ ٹرینچ کے حوالے سے تلاش کر رہے ہیں۔اگرچہ یہ تو معلوم تھا کہ سبڈکشن زونز میں موجود پلیٹیں پانی کو قید رکھتی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر پانی کی مقدار کتنی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کا نیا طریقہ زیادہ پائیدار ہے، ارضیاتی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ماریانہ ٹرینچ میں موجود آبیدہ (Hydrated) پتھر سمندر کی تہہ سے 20؍ میل نیچے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماریانہ ٹرینچ دنیا بھر کے سمندروں میں سب سے گہرا ترین مقام ہے جو مغربی بحرالکاہل میں ماریانہ جزیرے کے مشرق میں واقع ہے۔ ٹرینچ بنیادی طور پر ایک کھائی ہے جو 1580؍ میل (2550؍ کلومیٹر) طویل ہے اور اس کی چوڑائی 69؍ کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے ماریانہ ٹرینچ کے آخری حصے تک مجموعی فاصلہ 11؍ کلومیٹر ہے جس کا نام چیلنجر ڈیپ رکھا گیا ہے۔ 2012ء میں دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون دنیا کے واحد فرد تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ اس گہرائی کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس مقام تک جانے کیلئے پانی کا دبائو اتنا ہوتا ہے جتنا آپ اندازہ کریں کہ 100؍ بالغ ہاتھی انسان کے سر پر کھڑے کیے جائیں، جبکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے ایک سے چار ڈگری تک نیچے ہوتا ہے۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator