Feed aggregator

میلہ چراغاں

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

میلہ چراغاں یہ میلہ موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھااور زائرین کی کثیر تعداد شاہ حسین کے مزار پر چراغ جلایا کرتی تھی اور منتیں مانا کرتی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔

حضرت مادھو لعل حسین کے 431 ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز لاہور میں ہوا، پاکستان بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، میلہ کے موقع پر بہت بڑی آگ جلائی گئی جس میں عقیدت مند موم بتیاں، تیل پھینک رہے ہیں اور منتیں مانگ رہے تھے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے درویش صفت شاہ حسین کو مادھو لعل حسین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مادھو لعل حسین کے عرس کو میلہ چراغاں سے منسوب کیا جاتاہے، اس لئے زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد دربار پر حاضری دے رہی ہے اور منتوں کی مناسبت سے چراغاں بھی کیا جا رہا ہے۔  شاہ حسین پنجابی زبان و ادب میں کافی کی صنف کے موجد ہیں، وہ پنجابی کے اولین شاعر تھے جنہوں نے ہجر و فراق کی کیفیات کے اظہار کے لیے عورت کی پرتاثیر زبان استعمال کی۔ زائرین نےعرس کی تقریبات میں اپنے اپنےانداز میں شرکت کی، کوئی گھنگھرو پہن کر آیا ، تو کوئی ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالے حاضری دے رہا تھا، مزار کے احاطےمیں کھانے پینےکی اشیاء کے سٹالزسمیت جھولے بھی لگائے گئے تھے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار لوگوں کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ عوام کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا اورنہ ہی خالصتاً عرس کی طرح منایا جاتا ہے بلکہ تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

جب ملزم انتقال کر گیا

شعیب صفدر -


ہمارے ایک دوست جو اب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہو گئے ہیں پہلے ہماری طرح اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ہم اسسٹنٹ پروسیکیوٹر جنرل ہیں اب) تھے ان کی عدالت کے ایک مقدمے میں ایک ملزم اچانک غیر حاضر ہوا اور پھر کئی تاریخوں میں جب وہ پیش نہ ہوا تو اس ملزم کے وکیل نے عدالت کو ملزم کے کسی رشتے دار کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ "ملزم کے فلاح رشتے دار سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم  بنام فلاح انتقال کر گئے ہیں لہذا میرے لئے مزید اس مقدمے میں پیروی کرنا ممکن نہیں" انہوں نے یہ آگاہی درخواست  اردو میں دی (ورنہ عموماً وکلاء انگریزی میں عدالت کو تحریری طور مخاطب کرتے ہیں) ۔
اس بنیاد پر اس مقدمہ کی سماعت معطل ہو گئی یعنی dormant کہہ لیں۔ چند ماہ بعد اس کیس کا تفتیشی آفیسر اس ملزم کی کسی دوسرے کیس میں گرفتاری کی رپورٹ لایا اور مقدمہ دوبارہ اوپن ہوا اور وہ ہی وکیل صاحب اس کی ضمانت کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوئے تو ہمارے دوست نے  وکیل کی سابقہ غلط بیانی کی طرف عدالت کو متوجہ کیا کہ یہ وکیل صاحب ماضی میں ملزم کے "انتقال" کی اطلاع دے کر عدالت کو گمراہ کر چکے ہیں لہذا اب ان کی درخواست ضمانت نہ صرف رد کی جائے بلکہ عدالت سے غلط بیانی پر وکیل کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ وکیل صاحب کا دعویٰ تھا انہوں نے کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں کی لہذا انہیں سماعت کا موقع فراہم کیا جائے وہ اگلی تاریخ پر سب واضح کر دیں گے لہذا تاریخ پڑ گئی۔
دن مقررہ پر سرکاری وکیل (ہمارے دوست) اور ملزم کے وکیل دونوں حاضر ہوئے ملزم کے وکیل نے اردو لغت کی چند کتب کی مدد سے ثابت کیا کہ درخواست میں "انتقال" سے مراد ملزم کا مقام یا جگہ تبدیل کرنا ہے نہ کہ وفات پا جانا لہذا اگر زبان سے ناواقفیت کی بناء پر عدالت یا کسی فرد نے مختلف سمجھا تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔
بعد میں ضمانت ہوئی ملزم کی یا نہیں یہ تو معلوم نہیں مگر وکیل صاحب کی واہ واہ ضرور ہوئی ہمارے وہ دوست آج زباں دانی اور الفاظ کے چناؤ میں اپنی مثال آپ ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنا استاد انہی وکیل صاحب کو مانتے ہیں ہمیں علم نہیں اس عدالت کے جج صاحب کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے۔
یہ سارا قصہ ہمیں ابن آس صاحب کے اس اسٹیٹس سے بتانے کا خیال آیا۔

ناسٹیجیا

Nostalgia, Scream and Flower -

شفیق الرحمن کی نیلی جھیل کا طلسم میرے اوپر بہت دیر تک رہا۔جھیل کی دوسری جانب کیا ہے؟ وہاں پریوں کے ڈیڑے ہیں۔بونے وہاں رہتے ہیں یا سمرفس وہاں آباد ہیں ۔جھیل کی دوسری جانب ایلس ان ونڈر لینڈ آباد تھا۔یا سنہرے بالوں والی شہزادی اپنے شہزادے کے انتظار میں بہتی کرنوں کو ڈھونڈ رہی تھی یا پری تھی کوئی ، کسی دیو کی قید میں ،کسی بہادر لکڑہارے کے بیٹے کے انتظار میں ۔ وہ کب آئے گا اور اسے رہائی دلائے گا۔ نیلی جھیل کی پراسراریت ایک رومانوی معنویت کے ساتھ ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے۔کسی ان دیکھی منزلوں کا متلاشی، کسی دیو ملائی حقیقتوں کا منتظر۔کبھی ٹی وی پر کسی انگلش فلم میں دکھائی دینے والے معصوم چہرے کے ذہن پر ثبت ہوتے نقوش، تو کبھی راہ چلتے کسی دوشیزہ کا دلوں کو مغموم کر دینے والا نگاہوں کا سکوتایڈورڈ دنیا سے مایوس ہو کر خودکشی کے ارادے سے جمپ لگانے دریا پر پہنچا اور اپنے ماضی کی یادوں کو دھرا رہا تھا اور ہاتھ سے پاس پڑی کنکریوں کو اٹھا کر پانی میں پھینک رہا تھا۔  اچانک پانی سے سنہرے بالوں والی لڑکی نکلی اور چلائی۔ کیا کر رہے ہو۔ دیکھ نہیں سکتے۔ میں پانی میں ہوں۔ جل پری کو دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے ابل پڑیں۔اور پھر دونوں کے درمیان تکرار سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا۔ اور پھر کیسے دنیا سے چھپتے اور ایک ایڈونچر سے گزرتے رہے، ناول کو تو 262 صفحے لگے اور فلم کو ڈیڑھ گھنٹہ۔
یہ چند سال پہلے کی بات ہے ۔قلم سے کیمرے تک کے پیج کی بنیاد رکھے چند دن گزرے تھے۔  جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلا تو مسجد کے باغیچے میں کھلے گلابوں کو دیکھ کر میری رگ فوٹو گرافی پھڑکی ۔اور پھولوں کی ڈھیڑوں تصویریں کھینچیں ۔وہ پھول  ایک عام سا پھول تھا۔سیدھا سادہ سا گلاب کا پھول۔ بہار کی آمد کی نوید  سناتا ہوا۔ لیکن مجھے  معلوم  نہ تھا یہ پھول ایک کردار میں ڈھل جائے گا اور آنے والے دنوں میں میری زندگی کے معیار بدل کے رکھ دے گا۔  اس کردار  میں ایک طلسماتی حسن تھا۔ ایک رومانوی نکھار تھا۔ ایک جذباتی ٹھہراؤ تھا۔ کردار نے میرے وجود کے ارد گرد یوں حصار  باندھا کہ میں چلتے پھرتے،سوتے ، جاگتے اس حصار کا پابند ہوگیا تھا۔۔وہ  ٹھنڈی ہوا کی تازگی کے احساس کا ایک جھونکا تھا۔اس کی موجودگی سرشاری اور شادمانی کا سبب۔ امید کا اک دیا  ۔ کسی پینٹر کا درخت پر بنایا گیا پتا جو جاں بلب مریض کے اندر زندگی کا جذبہ پیدا  کرتا ہے۔ شعور کی ایسی علامت جہاں سے ذہانت کی شعائیں پھوٹتی ہیں۔جہاں سے زندگی اپنا مفہوم اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ایسی علامت، ایسی بلاغت جن کی تکمیل سے مسرتوں کے جام پھوٹتے ہیں۔میرے لئے وہ زندہ رہنے کے بہانوں میں سے ایک بہانہ بن گیا۔مجھے نیلی جھیل کی دوسری جانب جانے پر اکسایا۔میں ایلس ان ونڈر لینڈ کے سفر پر نکلا تو پھر واپس نہ لوٹ سکا۔ میری زندگی کے شب و روز بدل گئے۔کبھی میکسیکو امریکہ کے بارڈر پرکسی ویران گرجا گھر میں ویمپائرز دیکھنے نکل پڑتا۔تو کبھی برمود ا ٹرائینگل کے اسرار ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگ جاتا۔کبھی شخصی اور مذہبی آزادی کی بحث ۔تو کبھی فکری اور تخلیقی کشمکش کا توڑ۔کبھی مزاح سے علاج غم اور کبھی اعتراف عجزو ہنر سے مورال کا نباہ۔میں کیا کہوں ، میں کیا سوچوں جنت گمگشتہ کے تعاقب میں بھٹکتے رستوں پر جب میں، حدت جذبات سے کانپ رہا تھا، وہ پھول شجرسایہ دار بن گیا۔جب حبس جنوں تھا، وہ ابرباراں بن گیا۔ جب سوچ کے دروازوں پر پہرے لگے نظر آتے تو سارے قفل ٹوٹ جاتے۔۔میں ہوس اقدار سے بیگانہ ہوں، میرے جینے کی تمنا سطحی ہے۔جہاں دولت کی فراوانی درکار ہے اور نا مجھے نمودونمائش سے کوئی سروکار ہے۔ زندگی کا مقصد میرے نزدیک جذبوں کا احترام ہے۔انسانیت سےپیار ہے۔اور مجھے لگا میرے ان جذبوں کو ایک زبان مل گئی ہے۔  آنکھوں میں بلا کی گویائی آگئی۔  یکسوئی میں بے نیازی  جھلکنے لگی۔ زندگی کی معنویت بدلنے لگی۔ مسرت کی نئی حدیں متعین ہونے لگیں ۔ ہوسکتا ہے ،یہ میرے وِجدان کا قصور ہو۔میر ی ذہنی تخلیق ہو۔مگر اتنی پرکشش تخلیق اور ان سے وابستگی میں کوئی حرج تو نہیں ہے۔اس دن کے بعد میں نے جسم میں اپنی روح کو پہلی بار محسوس کیا ۔مجھے معلوم ہوا روح کا جسم کے ساتھ رشتہ کیا ہے۔رواں رواں مسرت،اور  ایک سرشاری۔اک ادائے دلنوازی  ۔جسم و جاں کی الاؤ روشن ہو گئی ۔تلخئی سوچ و فکر کسی گلیشئر سے آتی سرد ہوا میں جم گئی ۔روح کو درپیش اتھل پتھل تھم گئی ۔میں جو اپنی ذات کا عرفان جاننے سے قاصر رہا تھا ۔مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میری دکھتی رگوں پر مرہم رکھ دیا ہےمیں انسانی تضادات سے پڑے کسی قدم پر آباد ہوگیا۔ میرا ظرف کشادہ  ہوگیا اور وسعت پذیر بھی۔ مزاج میں ایک یکسوئی نظر آنے لگی۔ باتوں میں استقامت ۔آنکھیں جھیل سے نظارے دیکھنے لگیں۔ میں جستجو کا مسافر تھا لیکن کسی جمود کا شکار ہوچکا تھا لیکن ایک نئے سفر کا آغاز کردیا۔ تاریخ کے بوجھ کو اپنا بوجھ سمجھ کر فاصلوں کو کم کرنا شروع کر دیا۔ وِجدان کی باتیں  کرنے لگا۔روح کی بالیدگی کو پھر سے ماننے لگ گیا ۔فرشتے اور انسان میں فرق سیکھ لیا ہے۔یہ سب زندگی کا بہلاوہ بھی  ہو سکتا تھا۔محض دلاسے بھی ۔بچے کو سلانے کیلئے ماں کی سنائی ہوئی کوئی لیلہ رخ پری کی داستان بھی۔جو رات بھر آپ کے ساتھ سفر کرتی ہے اور صبح ہوتے ہی رخصت ہو جاتی ہے ۔مگر یہ بہلاوہ تھا تو کیا حرج تھا؟ ذہنی تخلیق تھی تو اعتراض کیوں؟ یہ زندگی بھی تو اک دھوکہ ہے۔ بہت اندھیرے کے بعد روشنی ملے توخواب بنتے ہی ہیں۔ تو کیا حرج تھا اگر خوابوں سے حقیقت اور حقیقتوں سے خوابوں کا سفر چلتا رہتا۔۔۔۔
لیکن   ایڈونچر کتنا ہی دلچسپ کیوں نہ ہو ۔ ایک انجام دیکھنا ہوتا ہے ۔کتاب  کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔ ایک اختتام لکھا ہوتا ہے۔فلم کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو ۔اس کا ایک دورانیہ ہوتا ہے ہے  ۔اور آج شام اس پھول کو بھی کسی نے چرا لیا۔

تمہیں تاریخِ اسلامی کے رشتے جوڑنے ہونگے‘‘ مریم فاروق

اسریٰ غوری -

’’ارتغزل غازی‘‘ نومبر 2018 سے دیکھنے کا آغاز کیا تھا اور اب کوئی پانچ مہینے ہوچکے ہیں کہ ہم اب بھی سیزن 1 پر ہی اٹکے ہوئے ہیں۔ (اگر مصروفیات کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید اب تک انٹر نیٹ…

The post تمہیں تاریخِ اسلامی کے رشتے جوڑنے ہونگے‘‘ مریم فاروق appeared first on .

لیڈر کی 12 خصوصیات

نوک جوک -

آپ کسی ادارے میں کام کر رہے ہیں، اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ترقی کرنا چاہتے ہیں۔
تو اس کے لیے آپ کو ایک follower کے رول سے آگے بڑھ کر ایک leader کا رول اپنانا ہو گا۔
لیڈر بننے کے لیے آپ کو 12 خصوصیات اپنے اندر پیدا کرنا ہوں گی۔
1.لیڈر جو ہوتا ہے، وہ بہادر ہوتا ہے۔ مسائل سے گھبراتا نہیں ہے۔ اپنا حوصلہ قائم رکھتا ہے، اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا حوصلہ بھی بڑھاتا ہے۔ فیصلے کرنے سے ڈرتا نہیں ہے۔
2.اچھا لیڈر اپنے کام کو اچھے سے جانتا ہے۔ جو کام کرتا ہے اس پر اسے مہارت ہوتی ہے۔
3.چوں کہ اچھا لیڈر اپنے کام کو جانتا ہے، اسی وجہ سے وہ پر اعتماد بھی ہوتا ہے۔
4.لیڈر کو خود پر قابو ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایک لیڈر نے اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ تو ان پر قابو پانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ پر قابو پانا سیکھتاہے۔
5.لیڈر انصاف کرتا ہے۔ جو اچھا کام کریں ان کی تعریف کرتا ہے۔ انہیں ترقی دیتا ہے۔ جو اچھا کام نہیں کرتے، انہیں سکھاتا ہے۔ اچھا کام کرنے کی جانب مائل کرتا ہے۔ اچھا لیڈر کسی سے ناانصافی نہیں کرتا۔ عہدے وغیرہ ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اہلیت کی بنیاد پر دیتا ہے۔
6.سوچ سمجھ کر فیصلے کرتا ہے۔ اور پھر اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ جو لوگ کوئی فیصلہ کرنے کے بعد انہیں جلدی جلدی بدل لیتے ہیں اس کا مطلب ہے انہیں خود پر اور اپنے فیصلوں پر اعتماد نہیں ہے۔ جنہیں خود پر اعتماد ہی نہ ہو وہ لیڈر کیسے بن سکتے ہیں۔
7.اچھا لیڈر ٹھوس منصوبے بناتا ہے اور پھر ان پر عمل کرتا ہے۔ جو بندہ بھی تیر تکے سے کام چلائے وہ لیڈر نہیں ہو سکتا۔ بغیر منصوبہ بنائے کوئی کام شروع کرنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر چپو کے کشتی چلائی جائے۔ اس پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ اور ایسی کشتی لہروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
8.اچھا لیڈر کام کرنے کو ہر دم تیار رہتا ہے۔ اور کام کی مقدار سے گھبراتا نہیں۔کہ جی زیادہ کام ہے تو میں نے نہیں کرنا۔ کیوں کہ اس نے لوگوں سے بھی تو کام لینا ہوتا ہے۔ اگر وہ دیکھیں کہ ہمارا لیڈر خود تو کوئی کام کر نہیں رہا، ہمی سے کرائے جا رہا ہے، تو وہ بھی دل چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے ایک اچھا لیڈر اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے زیادہ کام کرتا ہے۔
9.اچھا لیڈر خوش مزاج ہوتا ہے۔ اکھڑ نہیں ہوتا۔ کھڑوس نہیں ہوتا۔ اس کے اچھے مزاج کی وجہ سے اس کی عزت کی جاتی ہے۔
10.اچھا لیڈر دوسروں کے دکھ درد سمجھتا ہے۔ اسے خیال ہوتا ہے کہ دوسروں کے مسائل کیا ہیں۔ اور وہ جہاں تک ممکن ہو ، اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
11.اگر کام کرتے ہوئے لوگوں سے کوئی غلطی ہو جائے، یا کوئی کمی رہ جائے، تو اچھا لیڈر اس کی ذمہ داری لیتا ہے۔ وہ غلطی کا ملبہ کام کرنے والوں پر نہیں ڈالتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے نیچے کام کرنے والے افراد معیاری کام نہیں کر سکے، تو اس کا قصور وار وہ خود ہے۔
ہاں اگر کوئی کام امید کے مطابق اچھا ہو جائے، تو وہ دل کھول کر کام کرنے والوں کو شاباش دیتا ہے۔
12.اچھا لیڈر ڈیڑھ اینٹ کی الگ سے مسجد نہیں بناتا، بلکہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عادی ہوتا ہے۔

 آپ بھی اپنے اندر یہ 12خصوصیات پیدا کر لیں، تو آپ کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

قطرہ قطرہ برس

محمود الحق -

آرزوں کی خاک جب لالچ کی دھول میں اڑتی ہے تو غرض و مفاد کی کنکریاں سہانے خوابوں کی نیل گیں روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ ہر چہرے پہ ایک ہی عینک سے منظر صاف دکھائی نہیں دیتے جو نظر سے دھندلائے گئے ہوں۔ ایک ہی عینک سے ایک اخبار کو بہت سے لوگ پڑھ لیتے ہیں۔ عقل انسان پہاڑوں سے لڑھکتے پتھروں کی مثل پستیوں میں گر گر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ اور پرندے مجبوری سے پستیوں میں گرتے ہیں یا اترتے ہیں۔ خواہشیں اور آرزوئیں منزل تک پہنچنے کے مقصد نہیں ہوتے۔ بادل بننے کی خواہش دل کے ارمان ہوتے ہیں جو بادل بن کر برسنے سے محروم رہ جائے تو گڑگڑاتے چلاتے ہیں۔ زندگی صرف پانے کا نام نہیں ہے دینا بھی اسی کا جزو ہے۔ 

اسلام کا دہشتگردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں

اقبال جہانگیر (آواز پاکستان) -

اسلام کا دہشتگردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں جہاد اسلام کا اہم فریضہ ہے۔دہشتگردی کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جہاد مظلوموں کوظالموں سے نجات دلانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کا نام ہے جبکہ دہشتگر دی بے گناہ انسانیت کے قتل عام کا نام ہے۔ دہشتگردی کرنے والے اسلام ،جہاد اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ۔ امت مسلمہ کے نوجوانوں کو ایسے گروہوں اور جماعتوں سے دور رہنا چاہیے جو بے گناہ انسانیت کو قتل کرتے ہوں کیوں کہ بچوں، عورتوں اوربوڑھوں کو قتل کرنے والے اسلامی تعلیمات کے نہیں بلکہ دہشت و وحشت پھیلانے والی قوتوں کے آلہ کار ہیں۔ اسلام ،اعتدال کا دین ہے۔ انتہا پسندی کا خمیازہ آج عالم اسلام بھگت رہا ہے۔اسلام نہ صرف دہشت گردی کی ممانعت کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے دہشت گردوں کا ٹھکانہ جہنّم میں ہے ۔اسلام میں عام شہریوں، عورتوں اور بچّوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بڑی سختی کے ساتھ ممانعت کی گئی ہے۔بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔دہشت دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جہاد کا حقیقی  مقصد امن کی بحالی ہے۔پاکستان میں موجودہ قتل ، غارتگری  اور خودکش حملے کسی طرح بھی جہاد نہیں۔ جہاد کے نام پر امن عالم کو تباہ کرنے والے تمام ہتھکنڈے کلیتاً غیرشرعی اور غیراسلامی ہیں۔ ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا پرامن شرعی طریقہ سیاسی و جمہوری جدوجہد ہے۔

تمام یورپی رہنماؤں کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے بہادری، قیادت اور خلوص کا سبق لینا چاہیے، ایردوان

اسریٰ غوری -

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ “بحیثیت لیڈر میں دہشتگردی کے ہونے واقعات پر مسلسل کہتا آیا ہوں کہ دہشت گردی کا کسی مذہب، زبان اور نسل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آج…

سیل سیل سیل – سیدہ رابعہ

اسریٰ غوری -

دنیا کے ہر ملک میں سیل لگتی ہے۔ اور سیل کا ایک خاص موسم یا ایک خاص دن ہوتا ہے۔ سیل کے نام پر وہ تمام چیزیں فروخت ہو جاتی ہیں جن کو عام دنوں میں کوئی پلٹ کر بھی…

جو مسجداقصیٰ پر حملے پر خاموش رہتے ہیں، ہمیں آیا صوفیا پر سبق مت پڑھائیں، ایردوان

اسریٰ غوری -

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جو لوگ مسجد الاقصیٰ پر حملے کی صورت میں خاموش رہتے ہیں، وہ آج ہمیں آیا صوفیا میوزیم پر سبق مت پڑھائیں۔ اس کو کیا اسٹیٹس دینا ہے اس سے آپ…

3 سلسلہ مطالعہ تفہیم القرآن – سورۃ الفاتحة آیت نمبر1تا

اسریٰ غوری -

سلسلہ مطالعہ تفہیم القرآن – سورۃ الفاتحة نمبر 1 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے1 تفسیر – سورة الْفَاتِحَہ اسلام جو تہذیب انسان کو سکھاتاہے اس کے…

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ انسان اور چیوٹیاں

افتخار اجمل بھوپال -

انسان اپنے تئیں عقلِ کُل سمجھتا ہے
لیکن
تجربہ بتاتا ہے کہ چیوٹیاں بھی انسان سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتی ہیں
چیونٹیاں
پلیٹ میں مارجرین ۔ low fat مارجرین اور مکھن کی ٹکڑیاں پڑی ہیں ۔ مارجرین پر چند چیوٹیاں گئی ہیں ۔ low fat مارجرین پر کوئی چیونٹی نہیں گئی جبکہ مکھن کو بہت سی چیونٹیاں کھا رہی ہیں

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ ساڑھے 14 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے

ووکیشنل ایجوکیشن اور پاکستان کا عمومی رویہ

پروفیسر محمد عقیل -

اگر کوئی نوجوان ہمارے ملک میں الیکٹریشن بننا چاہے، کار مکینک بننا چاہے، پلمبر بننا چاہے یا اسی طرح کے کسی اور شعبے میں آنا چاہے تو اسے مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے کسی روایتی استاد سے یہ کام سیکھنا پڑے گا۔ ویسے بھی اس طرح کے تمام شعبوں میں زیادہ تر وہی نوجوان آتے ہیں جو یا تو میٹرک میں فیل ہوجاتے ہیں یا پھر ساتویں آٹھویں کلاس سے ہی بھاگ کر مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں کوئی کام سکھا دیا جائے۔ لہٰذا ان نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں نااہل اور بھگوڑا تصور کرتے ہوئے روایتی استاد کی دکان پر چھوڑ دیا جاتا ہے

۔
دکان پر پہلے چار چھ مہینے اس سے صفائی کروائی جاتی ہے، پھر اگلے چھ مہینے اوزار پکڑانے پر مامور کردیا جاتا ہے، اور یوں آہستہ آہستہ اسے فنی رموز سے آگاہ کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اگر نوجوان کے نصیب اچھے ہوں اور استاد نیک دل ہو تو تین چار سال میں نوجوان کاریگر بن جاتا ہے۔کاریگر بننے کے بعد نوجوان اپنی دکان کھول لیتا ہے اور دکان کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی مناسب سا شاگرد ڈھونڈ لیتا ہے اور پھر اسے بھی اسی طرح کام سکھاتا ہے، جس طرح سے اس نے خود سیکھا ہوتا ہے۔
ووکیشنل تعلیم کے اس نظام کو ہم نان فارمل ٹریننگ کا نام دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں نان فارمل ٹریننگ کے علاوہ بھی ووکیشنل ٹریننگ کا ایک نظام موجود ہے جسے ہم فارمل ووکیشنل ٹریننگ کہہ سکتے ہیں۔اگر ہم صوبہ پنجاب کی بات کریں تو یہاں کئی ووکیشنل اور ٹیکنیکل کالج ہیں، جہاں طلبا کو الیکٹریشن، اے سی، فریج اور اسی طرح کے دوسرے کام سکھانے کےلیے داخلہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کو بھی بیوٹیشن اور اس سے ملتے جلتے کورسز کروائے جاتے ہیں۔حکومت پنجاب نے ووکیشنل ایجوکیشن سسٹم کو فعال بنانے کےلیے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اتھارٹی بھی قائم کر رکھی ہے جو ووکیشنل اداروں کے معاملات کو دیکھتی ہے۔
طلبا کو ان کالجوں میں باقاعدہ داخل کیا جاتا ہے، جہاں انہیں فنی تربیت کے ساتھ ساتھ متعلقہ فن کی تھیوری بھی پڑھائی جاتی ہے۔ کورس کی مدت پوری ہونے پر طلبا کا امتحان لیا جاتا ہے، جسے پاس کرنے پر انہیں ڈپلومہ جاری کردیا جاتا ہے۔ ہنر کے لحاظ سے یہ کورسز 6 ماہ سے لے کر دو سال تک کے ہوسکتے ہیں۔
گزشتہ حکومت نے ووکیشنل ٹریننگ کے اس نظام پر خاصی توجہ دی ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی طلبا کو ویٹرنری اسسٹنٹ، فیڈ ٹیکنالوجی اور اسی طرح کے دیگر کئی کورسز کروائے جارہے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووکیشنل ٹریننگ کا فارمل سسٹم ہمارے ملک میں کس حد تک موثر ہے؟
اس بات کو سمجھنے کےلیے میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جب 2014 میں ایف ایم ریڈیو لانچ ہوا تو مجھے ریڈیو کے معاملات دیکھنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ پبلک سیکٹر ریڈیو ہونے کی وجہ سے ضروری تھا کہ ہم نشر کرنے سے پہلے اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کریں۔ ظاہر ہے جب پروگرام ریکارڈ ہونا تھا تو پھر اسے ایڈٹ کرنے کی بھی ضرورت تھی، جس کےلیے ہمیں ایک وائس ایڈیٹر چاہیے تھا۔
ہم نے انتظامیہ سے درخواست کی اور ہمیں کوالیفائڈ وائس ایڈیٹر بھرتی کرنے کی منظوری مل گئی۔ اب سرکاری کاغذوں میں کوالیفائڈ صرف اسی شخص کو تسلیم کیا جاسکتا تھا جس کے پاس کسی رجسٹرڈ ادارے کی کوئی نہ کوئی سند ہوتی۔ وائس ایڈیٹر کی بھرتی کے حوالے سے ہمارا یہ تجربہ بڑا دلچسپ رہا۔ کیونکہ جس امیدوار کے پاس ڈپلومہ ہوتا تھا، اسے وائس ایڈیٹنگ کا کام نہیں آتا تھا، اور جسے کام آتا تھا، اس کے پاس ڈپلومہ نہیں ہوتا تھا۔
میں نے آپ کو صرف ایک مثال دی ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر ٹیکنیکل ڈپلومہ ہولڈر کے پاس تسلی بخش مہارت نہیں ہوتی۔ ڈپلومہ تو ڈپلومہ، ہمارے ہاں تو ڈگریاں رکھنے والوں کا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سیکڑوں کی تعداد میں طلبا کمپیوٹر سائنس کی ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں لیکن کم ہی لوگ ہوں گے جو کوئی ویب سائٹ بنا لیتے ہوں گے یا کمپیوٹرپروگرامنگ کرلیتے ہوں گے۔ ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے لیکن مطلوبہ مہارت نہیں ہوتی۔ دراصل یہ ہمارے ملک کی ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کا ایک مستقل المیہ ہے۔
فارمل ووکیشنل ٹریننگ نہ ہونے یا غیر موثر ہونے کی وجہ سے صارفین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آپ نے کوئی الیکٹریشن بلایا ہے تو جوڑ لگانے سے زیادہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ پلمبر بلایا ہے تو اس سے لیکیج بند نہیں ہوتی۔ پلستر کرنے کےلیے مستری بلوایا ہے تو اسے ڈھنگ سے پلستر نہیں کرنا آتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مارکیٹ میں جو ٹیکنیکل لیبر دستیاب ہے اس کی پروفیشنل طریقے سے کوئی ٹریننگ ہی نہیں ہوئی۔ دو چار ماہ کسی استاد کے ساتھ کام کیا، کسی بات پر ناراضگی ہوئی۔ الگ ہوئے تو اگلے محلے میں پہنچ کر استاد بن گئے۔
اب اگر اس طرح کا کوئی استاد آپ کے گھر میں سینیٹری کا کام کرگیا تو پھر آپ کی بلڈنگ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ تو تھی ہمارے پیارے وطن میں ووکیشنل ٹریننگ کی صورت حال۔ آئیے! اب ہم آسٹریلیا، جرمنی اور چین میں ووکیشنل ٹریننگ کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلے آسٹریلیا کی مثال لیجئے۔
آسٹریلیا میں کوئی فرد پلمبر، الیکٹریشن یا کار مکینک وغیرہ کا کام نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی رجسٹرڈ ادارے سے تربیت لے کر سند حاصل نہ کرلے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کام کرنے والا کاریگر نہ صرف یہ کہ اپنے شعبے کی جدید تکنیک سے واقف ہوتا ہے بلکہ وہ پریکٹیکل کے ساتھ ساتھ اپنے کام کی تھیوری سے بھی واقف ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب ایک آدمی اپنے کام کی تھیوری کو سمجھتا ہے تو وہ کام میں پیش آنے والے ہر طرح کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرسکتا ہے۔
لہٰذا اگر آپ نے حجام کی دکان بنانی ہے، ٹیلرنگ کا کام کرنا ہے یا آٹوموبائل مکینک وغیرہ بننا ہے، تو آپ کو کسی نہ کسی ادارے میں داخلہ لینا پڑے گا۔ ادارے سے تربیت حاصل کرنے کے بعد امیدوار کو لائسنس جاری کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر بازار میں وہ اپنی دکان کھول سکتا ہے۔ لیکن آسٹریلیا میں ووکیشنل سند یافتہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کرکے اس شخص کی مہارت پر اعتماد کرسکتے ہیں اور آپ کا کام انتہائی تسلی بخش ہوگا۔
پنجاب میں بھی اگر کوئی شخص پیسٹی سائیڈ کی دکان بنانا چاہتا ہے تو پہلے اس کو پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مختصر مدت کے کورس میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔ امیدوار داخلہ فیس دیتا ہے، ریگولر کلاسیں لیتا ہے اور کورس مکمل ہونے کے بعد محکمہ اسے ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے اور اسی سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر وہ بازار میں پیسٹی سائیڈ کی دکان کھولتا ہے۔ ہمارے ہاں جتنے بھی لوگ پیسٹی سائیڈ کی دکانیں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں، ان سب کے پاس کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ لازمی ہوتا ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوجاتی ہے۔ یہی معاملہ ہمارے ہاں میڈیکل اسٹور بنانے کے حوالے سے بھی ہے۔
آسٹریلیا میں کاریگر اگر سندیافتہ ہوتا ہے تو اس کی اجرت بھی اچھی خاصی ہوتی ہے۔
میرے برادر نے 90 کی دہائی میں آسٹریلیا سے سوفٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ پچھلے 20 سال سے وہ آسٹریلیا میں ہی بطور سوفٹ وئیر انجینئر کام کر رہے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے پروفیشن سے مطمئن ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔
میں نے پوچھا کہ اگر آپ کو دوبارہ موقع ملے تو آپ کیا بننا پسند کریں گے۔
تو انہوں نے جواب دیا کہ میں وہاں پلمبر بننا پسند کروں گا۔ میرے سوال کا جواب سن کر ساتھ بیٹھے ہوئے تمام لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
ظاہر ہے ہم تو پلمبری کے پیشے کو اپنے معاشرے کے حساب سے ہی دیکھیں گے۔ جب کہ آسٹریلیا میں پلمبر بننا معاشرے کے حوالے سے ایک باعزت اور پیسہ کمانے کے اعتبار سے ایک اہم پیشہ ہے۔ وہاں کال کرنے پر پلمبر اپنی گاڑی میں آتا ہے۔ اس نے اپنا یونیفارم پہنا ہوا ہوتا ہے، وہ ہر طرح کے اوزاروں سے لیس ہوتا ہے اور کام کرنے کے بعد آپ کی جیب کافی ہلکی کرجاتا ہے۔ آسٹریلیا کے بارے میں عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہاں ٹول یعنی اوزار سستا اور مزدوری مہنگی ہے۔ وہاں لوگ اوزار خرید کر خود کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ اوزار تو آپ نے ایک مرتبہ خرید کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آسٹریلیا میں ووکیشنل ٹریننگ نہ صرف یہ کہ انتہائی منظم ہے بلکہ اس شعبے کو ایک باعزت پروفیشن بھی سمجھا جاتا ہے۔اب دوسری مثال جرمنی کی ہے
جرمنی نے اپنے ملک میں جنرل اور پروفیشنل ایجوکیشن کی طرح ووکیشنل ایجوکیشن کا بھی ایک جامع سسٹم بنا رکھا ہے۔
ضمنی بات یہ ہے کہ اول اول میرے لیے اس بات کو قبول کرنا بڑا مشکل تھا کہ لوگوں کو جنرل یا پروفیشنل ایجوکیشن کے بجائے ووکیشنل ایجوکیشن کی طرف راغب کیا جائے۔ چونکہ جنرل اور پروفیشنل ایجوکیشن کو ہمارے ہاں زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے، لہٰذا میں سوچتا تھا کہ ہر آدمی کو کم از ماسٹرز کرنا چاہیے یا کوئی پروفیشنل ڈگری حاصل کرنی چاہیے۔ چونکہ میں خود پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہا تھا تو دوسروں کےلیے بھی ویسی ہی سوچ رکھتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کے اندر مختلف طرح کے رجحانات رکھے ہوتے ہیں۔ ایک آدمی جنرل ایجوکیشن کی طرف مائل ہے تو دوسرا آدمی ووکیشنل سائیڈ کو زیادہ پسند کرتا ہے۔
ہمارے ملک میں مسئلہ یہ ہے کہ جنرل ایجوکیشن کےلیے تو ہم نے ایک سسٹم بنایا ہوا ہے، لیکن ووکیشنل ٹریننگ کےلیے ہم نے کوئی جامع سسٹم نہیں بنایا ہوا۔ جبکہ پاکستان کے برعکس جرمنی میں ووکیشنل ٹریننگ کا بھی ایک زبردست سسٹم موجود ہے۔ یوں سمجھیے کہ اگر جرمنی میں ایک طالب علم نے مڈل یا میٹرک کرلیا ہے اور اب وہ کوئی کام سیکھنا چاہتا ہے تو اس کےلیے وہ متعلقہ کالج کو داخلے کےلیے درخواست دے گا۔
سمجھنے کےلیے فرض کرلیجیے کہ آپ نے فیصل آباد میں کسی ووکیشنل کالج کو کار مکینک بننے کےلیے درخواست دی ہے۔ کالج آپ کا داخلہ کرنے کے بعد آپ کو کام سیکھنے کےلیے (انٹرن شپ) سوزوکی موٹر ورکشاپ پر بھیج دے گا۔ جہاں ہفتے کے 3 دن آپ کام سیکھیں گے جبکہ باقی 3 دن آپ ووکیشنل کالج میں کار انجن کی تھیوری پڑھنے کے علاوہ ریاضی اور سائنس وغیرہ بھی پڑھیں گے۔ سوزوکی موٹر ورکشاپ آپ کو ماہانہ تنخواہ دینے کی بھی پابند ہوگی۔ اس طرح آپ کی ٹریننگ اور تعلیم ساتھ ساتھ چلیں گے۔ جب آپ کی دو یا تین سال کی ٹریننگ اور ووکیشنل کالج کی تعلیم مکمل ہوجائے گی تو امتحان پاس کرنے کے بعد آپ کو سند جاری کردی جائے گی۔ اور اس سند کی بنیاد پر آپ ملازمت کرسکتے ہیں یا پھر اپنی ورکشاپ بناسکتے ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ورکشاپ والوں کو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
جرمنی میں حکومت نے ٹیکنیکل شاپ رکھنے والوں کو پابند کیا ہوا ہے کہ وہ سال میں نوجوانوں کی ایک مخصوص تعداد کو ٹریننگ دیں گے۔ خلاف ورزی کی صورت میں انہیں حکومتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا، ورکشاپ والوں کے پاس جب اور جتنی گنجائش ہوتی ہے، ووکیشنل کالج کو لکھ بھیجا جاتا ہے۔ اور کالج، نوجوانوں کو کام سیکھنے کےلیے ورکشاپ پر بھیج دیتا ہے۔ جرمنی میں ووکیشنل ٹریننگ سسٹم کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد اگر آپ چاہیں تو دوبارہ جنرل یا پروفیشنل ایجوکیشن کی طرف جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے میٹرک کے بعد دو سال کی ووکیشنل ٹریننگ لی ہے تو کالج سے ملنے والی سند ایف اے، ایس ایس سی کے برابر مانی جائے گی۔ اور اس سند کی بنیاد پر آپ انجینئرنگ کی ڈگری میں داخلہ لینے کے بھی اہل ہوتے ہیں۔
یعنی اگر کوئی طالب علم ووکیشنل ٹریننگ کا راستہ اختیار کرے تو آگے چل کر انجینئر بننے کا راستہ اس کےلیے بند نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ جنرل ایجوکیشن میں جانا چاہے تو اس کےلیے وہ راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں ووکیشنل ٹریننگ کرنے والوں کےلیے اعلیٰ تعلیم کے راستے یا تو بالکل بند ہیں یا پھر انتہائی محدود ہیں۔ میرے برادر جرمنی میں بطور انجنیئر کام کرتے ہیں، وہ سی ٹی اسکین مشینیں بنانے والی کمپنی سیمن کے شعبہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں جاب کرتے ہیں۔ ان کا یہ مشاہدہ ہے کہ جرمنی میں وہ لوگ جو ووکیشنل ٹریننگ والے راستے سے انجینئر بنتے ہیں، وہ ان لوگوں سے زیادہ کامیاب ہیں جو جنرل ایجوکیشن سے انجینئرنگ ڈگری میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ووکیشنل ٹریننگ والے چینل سے انجینئر بننے والے لوگوں کی مجموعی صلاحیت خاص طور پر تکنیکی مسائل کے حل اور تخلیق کاری میں وہ دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جرمنی کا ووکیشنل ٹریننگ کا نظام نہ صرف یہ کہ طلبا کو بہتر فنی تربیت فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں آگے بڑھانے کےلیے بھی ہر طرح کے تعلیمی دروازے کھلے رکھتا ہے۔
تیسری اور آخری مثال چائنا کی ہے۔
امریکا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے اپنی بہت ساری مینوفیکچرنگ انڈسٹری چائنا شفٹ کردی ہیں۔ میں اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا ٹیلی ویژن انٹرویو دیکھ رہا تھا۔ میزبان نے سوال کیا کہ آپ نے اپنی زیادہ تر انڈسٹری چائنا شفٹ کردی ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا وہاں لیبر سستی ہے؟
چیف ایگزیکٹو نے جواب دیا کہ اگر ہم امریکا میں کسی ٹیکنیکل جاب کےلیے درخواستیں طلب کریں تو ہمیں 100 سے زیادہ درخواستیں موصول نہیں ہوتیں۔ لیکن اگر ہم اسی جاب کےلیے چائنا میں درخواستیں طلب کریں تو کم از کم ایک ہزار لوگ درخواستیں دیتے ہیں اور پھر ان ایک ہزار درخواستوں میں سے ہم بہترین صلاحیت کے لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ باصلاحیت لوگوں کا مطلب بہترین کام اور بہترین کام کا مطلب کمپنی کی کامیابی۔
چیف ایگزیکٹو کا ماننا تھا کہ چائنا کی ترقی کے پیچھے بنیادی طور پر وہاں کی ووکیشنل ایجوکیشن کا ہاتھ ہے۔ ہم سب دیکھتے ہیں کہ چائنا فنی اعتبار سے ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔
ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے والے افراد کا، کام کرنے کے حوالے سے رویہ زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی کام کو سر انجام دینے میں اپنی ہتک نہیں سمجھتے۔ جبکہ ماسٹرز یا ایم فل کرنے والا آدمی ایک آدھ مخصوص ملازمت کے علاوہ نوکری یا کام کرنا اپنی ہتک سمجھتا ہے۔
اگر ہم زرعی تعلیم کے حوالے سے بات کریں تو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایگری کلچر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فارغ التحصیل افراد توسیعی و تحقیقی خدمات کے علاوہ عملی زراعت کو اپنائیں، تاکہ وطن عزیز کی زراعت پڑھے لکھے اور پروفیشنل لوگوں کے ہاتھ میں آئے۔
ہم نے دو سال پہلے پنجاب کی تین زرعی یونیورسٹیوں کا ایک سروے کیا تھا، جس میں ایم ایس سی ایگری کلچر کرنے والے طلبا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد کاشتکاری کو بطور پیشہ اپنائیں گے؟ 80 فیصد سے زائد طلبا نے یہ جواب دیا کہ وہ کاشتکاری بالکل نہیں کریں گے۔
زیادہ تر طالب علموں کا یہ کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے گاؤں میں جا کر زراعت کرنا شروع کردیں گے تو گاؤں والے ہمیں جینے نہیں دیں گے۔ بہت سے طالب علموں کی سوچ یہ تھی کہ ان کے والدین ہی انہیں یہ کام کرنے نہیں دیں گے۔ والدین کہیں گے کہ اگر آپ نے کاشتکاری ہی کرنا تھی تو پھر زرعی یونیورسٹی جا کر چار چھ سال ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ زراعت تو ایک ان پڑھ آدمی بھی کرسکتا ہے۔
البتہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ووکیشنل یا ٹیکنیکل ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبا اور والدین کے ہاں اس طرح کی سوچ بہت کم پائی جاتی ہے۔ اور ان کا محنت اور کام کی طرف رویہ زیادہ مثبت ہوتا ہے۔
میرے خیال میں جرمنی کا ووکیشنل ٹریننگ والا ماڈل، قابل تقلید ہے۔ پاکستان میں تجربہ کار لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ ملکوں ملکوں گھومنے والے لوگ موجود ہیں، جن کی ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن پر بڑی گہری نظر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا ووکیشنل ٹریننگ سسٹم قائم کیا جائے جو جرمنی کے نظام کی خوبیاں رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی مزاج کے ساتھ مطابقت بھی رکھتا ہو۔
ڈاکٹر شوکت علی بشکریہ ایکسپریس اخبار

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator