Feed aggregator

مذہبی نہیں سماجی مسئلہ – عبدالسمیع قائمخانی

اسریٰ غوری -

پہلی تصویر شکارپور کی ڈاکٹر راجکماری تلریجا کی ہے اور دوسری تصویر لکھی غلام شاھ کا سب انسپیکٹر(اینٹی انکروچمنٹ) آغا سراج خان ہے. دونوں کا تعلق کئی سالوں سے تھا. دونوں ہی کے گھر والوں تک کو معلوم تھا کہ…

وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے – عبدالسمیع قائمخانی

اسریٰ غوری -

غالب نے کہا تھا وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو چلیں چھوڑیں غالب کو پہلے یہ پڑھیں۔۔۔۔۔ رانی کولہی بنت روپو کولہی اپنے ماموں کے پاس قیام پذیر تھی۔…

اعداد کا کھیل Double math magic

محمود الحق -

ایک نئے خیال نے بہت دنوں سے ذہن میں کھلبلی مچا رکھی تھی کہ کچھ ایسا نیا ہونا چاہیئے جو اچھوتا ہو ، منفرد ہو اور مکمل بھی ہو۔ پھر وہی ہوا اچانک ایک نیا آئیڈیا دماغ میں عود کر آیا۔ سفید کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں بنانے کے بعد مائیکروسوفٹ ایکسل پر رکھا تو وہ بنتا ہی چلا گیا۔چھ سات ماہ سے جسے پڑھا سیکھا سمجھا اور بنایا یہ اسی کا تسلسل ہےیعنی Math magic ۔ لیکن اس بار معاملہ زرا ہٹ کے ہے کیونکہ یہ ایک انوکھے، منفرد اور اچھوتے خیال کا شاخسانہ ہے۔یہ   Double math magic  کا آئیڈیا ہے جو بنتا تو ایک ہی  Pattern  سے ہے  لیکن دونوں   Math magic  الگ الگ بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ  Double math magic  میں اعداد کی ترتیب مختلف ہے اور مختلف اعداد کی وہی ترتیب دونوں  Math magic  کو الگ الگ کرنے پر بھی رزلٹ میں فرق نہیں آنے دیتی۔فارمولہ کے مطابق   Vertically, Horizantally  اور  Diaginally  ان سب کا ٹوٹل ایک ہی آتا ہے یعنی   516۔اس میں  نمبرز    کی ٹوٹل تعداد  128  ہے اور  64 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ان کا ٹوٹل  129  آتا ہے۔ جنہیں دو مخالف سمت میں ایک جیسے دو رنگوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔اس کی مختلف  Formations  ہیں جو کہ میں نے پانچ طرح سے تصاویر کے ذریعے دکھائی ہیں۔عام طور پر یہ  Square  میں ہوتے ہیں ، میں نے اسے  Diamond shape  میں تشکیل دیا ہے۔   Even / Even  اور  Even / Odd  میں بنائے جا سکتے ہیں۔زیر نظر تصاویر 8x8 & 8x8  کے  Math magic کی ہیں جس میں مختلف رنگوں سے مزین انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔   ان میں  1  تا  128  نمبرز ایسے استعمال ہوئے ہیں کہ نمبرز دو واضح حصوں کی بجائے ملے جلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 
اس تصویر میں  16 گروپ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں ہر گروپ میں  8اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے۔ جو کہ دونوں  Math magic  کے چار چار نمبرز سے تشکیل پاتے ہیں ۔ ایک ہی رنگ میں 516 کے دو گروپس میں 8 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ہر جوڑے کا ٹوٹل 129 بنتا ہے۔

اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو  258کےچار  اعدادایک ہی رنگ میں مخالف سمت میں موجود258 کے  چاراعداد سے مل کر 516 بنتے ہیں۔


ایک اس کی یہ صورت بھی بنتی ہے کہ  Math magic کے چار عدد مل کر 130 بنتے ہیں اور اسی جگہ پر دوسرے  Math magic  کے چار عدد  386 بنتے ہیں جن کا ٹوٹل 516 ہے۔

 اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو نمبرز کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ جس سے درج بالا  Math magic  تشکیل پاتا ہے۔

ایک اس کی صورت یہ بھی بنتی ہے کہ ہر رنگ میں اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے اور مخالف سمت کے اسی رنگ میں ان کا جوڑا بنتا ہے جن کا ٹوٹل 129 ہے۔

 اس Math magic  کا ایک انداز یہ بھی ہو سکتا ہے ۔


تحقیق و ترتیب : محمودالحق

ان کھانا فروشوں کو آپ بھی کچھ تلقین کیجئے – محمد سلیم احمد

اسریٰ غوری -

ہمارے ملتان کے ایک حلوائی ، جنہوں نے سب سے پہلے وہ دکان خریدی جس میں وہ کرایہ پر بیٹھے تھے، پھر ساتھ والی خریدی، پیچھے والا مکان خریدا، اب شاندار سیٹ اپ بنا لیا ہے۔ پہلے پیسے دے کر…

مہاراجہ کشن پرشاد کی زندگی کے حالات - pdf download

حیدر آبادی -

maharaja-kishen-pershad-life-history
مہاراجہ سر کشن پرشاد
(پ: یکم/جنوری 1864 ، م:13/مئی 1940)
سابق نظام شاہی ریاست حیدرآباد (دکن) میں دو بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ پہلی مرتبہ 1901 سے 1912 تک اور دوسری مرتبہ 1926 سے 1937 تک۔

مہاراجہ کی زندگی کا پھیلاؤ جو تقریباً اسی (80) سال تھا، ان کی تعلیم و تربیت، پیشکاری، فوج کی وزارت ، مدار المہامی (وزارت عظمی)، خانہ نشینی، صدر اعظمی اور اس کے بعد کے زمانے میں موصوف کی ہمہ گیر مصروفیتوں، دلچسپیوں، ہمدردیوں سے متعلق اہل ملک کے واسطے ایک شاندار انسانیت کا نمونہ پیش کرتا ہے۔
مہاراجہ کے جیتے جی ہر ایک کو ان تک رسائی حاصل تھی اور ان کے ملنے والے تو ممدوح سے ہر طرح مستفید ہوتے ہی تھے۔ ان کے علاوہ مہاراجہ سے عقیدت رکھنے والے اگر ان سے ملتے بھی نہ تھے تو ان کے وجود کے خیال ہی سے خوش ہوتے تھے۔
یوں تو دکن میں پہلے ہی سے انسانوں کا قحط ہو چلا تھا، مہاراجہ کے انتقال نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا کہ اچھے انسانوں کے شیدا ملک کی حرماں نصیبی کو دیکھ کر سہم گئے کہ ایک اچھے امیر ، سچا انسان، مفلسوں کا دوست، یتیموں کا مربی، وضع داری میں یکتا، مروت میں یگانہ، بڑے پایہ کا سخی اور پریمی دنیا سے کیا گیا کہ تہذیب و شائستگی کی انجمن کی شمع گل ہو گئی۔

مہدی نواز جنگ نے مہاراجہ کی سوانح سے دنیا کو واقف کرانے یہ کتاب 1950 میں تحریر کی۔ اور یہ کوشش بھی کی کہ ان کی سیرت اور ان کی سوانح حیات کو درسی کتب میں شامل کیا جائے۔ سید آغا حیدر حسین نے مخالفتوں کے باوجود اس کتاب کے ایک مضمون کو نصاب میں داخل کرا دیا۔

حیدرآباد دکن کی تہذیب و تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مہاراجہ سر کشن پرشاد کی اس سوانح کا مطالعہ بھی ہر قاری کے لیے لازم ہے۔

کتاب "مہاراجہ کشن پرشاد کی زندگی کے حالات" پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔
تعداد صفحات: 420
pdf فائل سائز: 36MB

Direct Download link:
Download

ہیر رانجھا میڈ ایزی

Nostalgia, Scream and Flower -


یہ داستان مغلوں کے ہندوستان آنے سے کچھ سال پہلے کی ہے۔ضلع سرگودھا میں ایک قصبہ تخت ہزارہ تھا۔ جس کے چوہدری موجو کے آٹھ بیٹے تھے جن میں سے سب سے چھوٹا رانجھا تھا۔ کام کا نا کاج کا بس بانسری خوب بجاتا تھا۔لمبے لمبےبال، سوہنا گھبرو تھا ۔بھائیوں بھابیوں نے کام نہ کرنے پر پہلے پہل تو باتیں سنائیں  ۔ لیکن پھر تنگ آکر زمین کا بٹوارہ کرلیا اور سب سے نکمی زمین رانجھے کو دے دی۔ نازک اندام  رانجھا۔ مشقت اس کے بس کاکام نہیں تھا اورجلد ہی مایوس ہوگیا
ادھر جھنگ شہر میں سیال قوم رہتی تھی ۔ ان کے کے سردار مہر چوچک کی بیٹی کا  نام ہیر تھا جس کے حسن کی شہرت دور دور پھیلی ہوئی تھی۔یہ شہرت رانجھے تک بھی پہنچی ہوئی تھی۔ گھر کے طعنوں اور مشقت سے تنگ آکر رانجھے نے جھنگ کے سفر کی ٹھانی۔راستے میں ایک گاؤں کی مسجدمیں رات ٹھہرا تو پہلے تو اس کا مسجد کے امام سے جھگڑا ہوگیا اور صبح جب اٹھا تو کنوئیں پر پانی بھرنےآئی لڑکیوں نے اسے دیکھ لیا اور ایک نے کھلم کھلا اعلان کردیا۔  ویاہ کروں گی تو صرف اس نوجوان سے۔ ورنہ نہیں۔ اور رانجھے کو چھپ چھپا کروہاں سے نکلنا پڑا۔چلتے چلتے دریائے چناب پر  جاپہنچا۔ ایک کشتی کنارے پر آکر رکی تو اس میں سے دوسرے مسافروں کے علاوہ پانچ پیر بھی نکلے اوررانجھے کو بنسری بجاتے دیکھ کر سیالوں کی ہیر اسے بخش دینے کا کہہ کر چل دیئے۔رانجھا کشتی پر سوار ہوا تو دیکھا کہ کشتی پر ایک پلنگ بھی ہے۔ ملاح نے بتایا کہ ہیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ جب کشتی پر سیر کیلئے آتی ہے تو اس پلنگ پر آرام کرتی ہے۔ رانجھے نے اجازت مانگی کہ کچھ دیر اس پر سستا لوں تو ملاح جو اس کی بنسری پر فدا ہوچکا تھا انکار نہ کرسکا اور رانجھے کو اس پر لیٹتے ہی نیند آگئی۔ ہیر جب سہیلیوں کے ساتھ کشتی پر پہنچی تو اپنے پلنگ پر ایک اجنبی کو دیکھ کر سخت غصہ آیا۔ سہیلیوں نے اسے مارکر جگایا تو شانوں تک جھولتے سیاہ بال اور رانجھے کے حسین چہرے نے ہیر سے اسکا دل وہیں چھین لیا۔ہیر کو جب پتا چلا اجنبی ہے تو اسے اپنی بھینسوں کی دیکھ بھال کیلئے ملازم رکھ لیااور یوں دونوں کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ہیر کا ایک چاچا تھا ۔کیدو، لنگڑا تھا، اسے رانجھا ایک آنکھ نہ بھایا اور ہیر کے ابا کے کان بھرتا رھا۔ ایک دن کیدو کی باتوں میں آکررانجھے کو نوکری سے نکال دیا۔ لیکن بھینسیں جو رانجھے کی بنسری کی عادی ہوچکی تھیں۔ وہ قابو سے باہر ہونے لگیں تو مجبورا رانجھے  کو دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑا۔ لیکن اب دونوں پر گہری نظر رکھنا شروع کردی گئی ۔ اورایک دن کیدو کی وجہ سے  دونوں کو اکھٹے پیار محبت کی باتیں کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔اور مظفر گڑھ کے ایک گاؤں رنگ پور کے کھیڑوں کے طرف سے آئے ہوئے رشتے کو قبول کرکے شادی کی تیاریاں شروع کردیں ۔لیکن جب نکاح کے وقت رضامندی پوچھی گئی تو ہیر نے صاف انکار کردیا کہ میرا نکاح پانچ پیروں نے رانجھا کے ساتھ کردیا تھا ۔لیکن اس کے اس سارے ہنگامے کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور سیدا کھیڑا اسے بیاہ کر لے گیا۔رانجھا کو نوکری سے نکالا گیا تو واپس اپنے گاؤں تخت ہزارہ واپس لوٹ گیا۔ وہاں اسے ہیر کے بیاہ کی خبر پہنچی تو دل برداشتہ گھر سے نکل گیا۔جہلم کے قریب جوگیوں کا ٹلہ تھا جہاں گوروگال ناتھ کا آستانہ تھا۔ جس نے رانجھے کے کانوں میں مندریاں ڈال کر اسے اپنا جوگ دے دیا اور عشق کی آگ میں رانجھا پہلے ہی تپا ہوا تھا اسلئے ساری منزلیں بہت جلد طے پاگیا۔گورو سے اجازت لیکر رانجھے نے جوگی بن کر رنگ پور  جاکر ایک باغ میں ڈیڑہ ڈال لیا اورایک دن ہیر کی نند سہتی جو خود مراد بلوچ کے عشق میں مبتلا تھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ جوگی کو ملنے آئی اسے جوگی کی باتوں میں پراسرایت نظر آئی جس کا ذکر اس نے ہیر سے بھی کیا۔ایک دن رانجھا جوگی کے روپ میں ہیر کے گھر جاپہنچا اور اللہ کے نام کی صدا لگائی۔سہتی نے اس کے کشکول میں اناج ڈالا تو اس نے گرا دیا جس پر دونوں کے درمیان تکرار ہوگئی جسے سن کر ہیر باہر نکلی تو دونوں کی نگائیں چار ہوگئیں اور ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ہیر نے اپنی نند کو ساری بات بتائی اور رانجھے سے چھپ کر ملنے لگی۔ایک دن ہیر سہیلیوں کے ساتھ کھیتوں میں گئی ہوئی تھی کہ اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا۔ لیکن اس کی نند نے شور ڈالا کی زہریلا سانپ کاٹ گیا اس لیئے کسی جوگی کو بلایا جائے۔ یوں رانجھے کو بلایا گیا۔ جس نے ہیر کے کمرے سے کنواری لڑکیوں  کے علاوہ سب کو نکل جانے کا کہا۔ یوں ہیر سہتی اور رانجھا اکیلے کمرےمیں رہ گئے۔مراد بلوچ سے بھی ربطہ کرلیا گیا اور یوں دم کے بہانے فرار ہونے کا پروگرام مکمل بنا لیا گیا۔صبح جب ناشتہ کیلئے کمرے پر دستک دی گئی تو ان کے فرار کی اطلاع پورے گاؤں میں پھیل گئی اور گھوڑوں پر ان کا پیچھا کیا گیا۔ مراد بلوچ کی مدد کو ان کا قبیلہ پہنچ گیا اور ان کو پناہ میں لے لیا لیکن رانجھے کو پکڑ کر خوب مارا گیا اور ہیر کو لیکر واپس چلے گئے۔ رانجھا روتا پیٹتا وہاں کے راجہ عدلی کے پاس جا پہنچا۔ جہاں کھیڑوں کو بلایا گیا اور دونوں فریقوں کی بات سن کر قاضی نے فیصلہ کھیڑوں کے حق میں دے دیا۔ جس پر رانجھے نے بددعا دی تو سارے شہر کو آگ لگ گئی۔جس پر راجہ ڈر گیا اور کھیڑوں کو بلا کر ہیر کو رانجھے کے حوالے کر دیا گیا۔ جب رانجھا واپس تخت ہزارہ کو جانے لگا تو ہیر کے گھر والوں نے  کہا اس طرح تو تیرے گھر والے ہیر کو قبول نہیں کریں گے تو ایسا کر اپنے گھر جا اور بارات لیکر جھنگ آ۔جو  سب ایک بہانہ تھا۔ جھنگ لیجا کر ہیر کو زہر دے کر مار دیا اور مشہور کردیا گیا کہ بیمار ہوکر ہیر چل بسی اور رانجھا بارات لیکر تخت ہزارے سے نکلنے لگا تھا  اسے  اطلاع ملی تو یقین نہ آیا لیکن جب قبر دیکھی تو زمین پر گرا اور دوبارہ نہ اٹھ سکا

وطن کی مٹی عظيم ہے تو – مسعود قاضی

اسریٰ غوری -

امریکہ میں کلے ہانڈی ریسٹورنٹ کھولنے کا اشارہ مجھے ایک رات بحالت خواب ملا تھا کہ میرے ریسٹورینٹ میں مٹی کی ہانڈیوں میں کھانا پک بھی رہا ہے اور لوگ مٹّی کے برتنوں میں کھانا کھا بھی رہے ہیں اور…

شاعری احساسات، جزبات تخیلات کی ترجمان ہے -ذوالقرنین احمد

اسریٰ غوری -

عالمی یوم شاعری ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔1999ء میں یونیسکو کی جانب سے اس دن کو مختص کیا گیا جس کا مقصد پوری دنیا میں شاعری کے متعلق پڑھنے، پڑھانے اس کو چھاپنے اور شاعری کے متعلق…

جیسنڈا آیرڈن کون ہیں؟ بریرہ صدیقی

اسریٰ غوری -

ستمبر ۲۰۱۸ میں وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈن کا، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تین ماہ کی بچی Neve سمیت شرکت ان سے اولین تعارف کا سبب بنا۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں بچے سمیت شرکت پہلا واقعہ تھا…

جیسینڈا آرڈن ہمیں شرمندہ کرنے کے مشن پر ہیں – فرح رضوان

اسریٰ غوری -

جیسینڈا آرڈن کو پوری دنیا میں، خصوصا پاکستان میں جی بھر کر سراہا جا رہا ہے ان کی کئی ایک باتوں پر واہ واہ اور دعائیں ہو رہی ہیں …..سب سے حیرت انگیز بات کہ انکی قابلیت کو سراہا جا…

آٹھ قدم بڑھائیں، امیر ہو جائیں

نوک جوک -

آپ بہت ساری دولت کمانا چاہتے ہیں نا۔۔۔ یقین کیجیے آپ کر سکتے ہیں۔
دولت کمانا تو میں نے اس لیے کہا کہ لوگوں کو یہ موضوع اچھا لگتا ہے۔۔
لیکن اس کے علاوہ بھی، آپ کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں ، تو آپ کر سکتے ہیں۔۔
اس کے لیے کچھ زیادہ نہیں کرنا۔ بس آٹھ قدم بڑھانے ہیں۔
1.سب سے پہلے تو اپنی سوچ کو وسیع کر لیں۔ بہت سے لوگوں کے دل میں خیال آتا ہے کہ وہ بہت ساری دولت کمائیں، تو اگلے ہی لمحے وہ خودسے کہتے ہیں، چھوڑو یار، یہ کیسے ممکن ہے۔
اس سوچ سے چھٹکارا پائیں۔ اپنی امیجی نیشن کو پابند نہ کریں۔ خود سے کہیں کہ جو بھی آپ سوچ رہے ہیں وہ ممکن ہو سکتا ہے۔
2.اور یہی دوسرا سٹپ ہے۔ آپ جو کچھ سوچ سکتے ہیں وہ سوچیں۔ جب آپ کی سوچ کسی حد کی پابند نہیں رہے گی نا تو آپ کو لا تعداد آئیڈیاز آئیں گے۔
جو آئیڈیا آپ کو آئے، اسے یہ سوچ کر مسترد نہ کریں ۔۔ چھوڑو یار، میرے پاس تو اتنے وسائل ہی نہیں۔ سوچنے پر تو کچھ خرچ نہیں آتا نا۔ لہذا سوچتے ہوئے خود پر کوئی پابندی نہ لگائیں۔بس خیال رہے کہ آپ جو بھی آئیڈیا سوچ رہے ہیں، اس میں کسی کا نقصان تو نہیں ہے۔
3.اس کے بعد جس آئیڈیا پر آپ کا دل آ جائے، اسے سلیکٹ کر لیں۔
4.اس موقع تک آپ نے یہ فکر نہیں کرنی کہ جو بھی آپ سوچ رہے ہیں وہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔
بس جو خیال آپ کے ذہن میں آیا ہے، اس پر یقین رکھنا ہے۔ اور خود پر یقین رکھنا ہے۔
5.پانچویں سٹپ پر آپ نے سوچنا ہے کہ جو آئیڈیا آپ کے دل کو بھایا ہے اسے ڈو ایبل کیسے بنایا جائے۔ ممکن کیسے بنایا جائے۔
واضح رہے۔ میں نے آپ سے یہ نہیں کہا کہ جو آئیڈیا آپ کے ذہن میں آیا وہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔
بلکہ میں نے آپ سے کہا۔۔جو آئیڈیا آپ کے ذہن میں آیا اسے ممکن کیسے بنانا ہے؟
مثلا آپ کے ذہن میں آئیڈیا آیا کہ ایک بہت بڑا جنرل اسٹور کھولا جائے۔ لیکن پیسے آپ کے پاس صرف ایک کھوکھا کھولنے کے ہیں۔
6.تو چھٹے سٹپ میں آپ نے اپنے آئیڈیا پر عمل کرنے کے لیے، اسے ڈو ایبل بنانے کے لیے پلان بنانا ہے۔
ہو سکتا ہے آپ سوچیں کہ ایک کھوکھا ہی کھول لیا جائے۔ لیکن جب آپ کے دل میں بڑا اسٹور کھولنے کی دھن سمائی ہو گی، تو پھر ایک روز آپ اس میں کامیاب ضرور ہوں گے۔
جب آپ کی سوچ پابند نہیں ہو گی، تو آپ کو آئیڈیاز آتے رہیں گے۔ آپ اپنے کھوکھے کو ہی وسعت دیتے رہیں گے۔ اور ایک دن بڑا اسٹور بنا لیں گے۔
بس آپ نے رکنا نہیں ہے۔ یہ نہیں سوچنا کہ بڑااسٹور کھولنا تو ممکن ہی نہیں۔ اپنی نظر بڑے گول کی طرف رکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم لینا شروع کر دیں
7.اور یہی ساتواں سٹپ ہے۔ یعنی جو پلان بنایا ہے اس پر عمل شروع کر دیا جائے ۔
8.آٹھواں، اور آخری سٹپ یہ ہے کہ ایک بار یہ سات قدم بڑھا لیے، تو پھر رکنا نہیں ہے۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ راستے میں کوئی ناکامی ملی تو دل نہیں چھوڑنا۔ خود سے یہ نہیں کہنا، چھوڑو یار، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ سٹپ نمبر چار میں آپ سے کہا تھا نا کہ خود پر یقین رکھنا ہے۔ تو راستے میں رکاوٹیں آتی جائیں، اس کے باوجود خود پر یقین رکھیں۔ اور لگے رہیں۔۔
آپ جو بھی حاصل کرنا چاہیں، وہ حاصل کر سکتےہیں۔ بس یہ آٹھ قدم بڑھائیں، اور پھر رکنے کا نام نہ لیں۔

یومِ اِسلامی جمہوریہ پاکستان

افتخار اجمل بھوپال -

flag-1بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین
ہمارے وطن پاکستان میں 23 مارچ کو یومِ اِسلامی جمہوریہ پاکستان منایا جاتا ہے
جنتری کے مطابق 23 مارچ 1940ء لاہور میں بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی شمال کی طرف اُس وقت کے منٹو پارک میں جو پاکستان بننے کے بعد علامہ اقبال پارک کہلایا مسلمانانِ ہِند کے نمائندوں نے ایک مُتفِقہ قرارداد منظور کی جس کا عنوان” قراردادِ مقاصد“ تھا لیکن وہ minar-i-pakistanقرارداد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے قراردادِ پاکستان ثابت
ہوئی ۔ مینارِ پاکستان علامہ اقبال پارک میں ہی کھڑا ہے ۔ مینار پاکستان پاکستان بننے کے بعد بطور ”یادگار قراردادِ پاکستان“ تعمیر کیا گیا تھا ۔ کچھ لوگوں نے اِسے ”یادگارِ پاکستان“ کہنا شروع کر دیا جو کہ مناسب نہ تھا ۔ چنانچہ اسے مینارِ پاکستان کا نام دے دیا گیا

مندرجہ بالا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یکجہتی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو 5 دہائیوں سے ہمارے ملک سے غائب ہے ۔ اللہ قادر و کریم کے حضور میں دعا ہے کہ ہماری قوم کو سیدھی راہ پر گامزن کرے ۔ اِن میں مِلّی یکجہتی قائم کرے اور قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی مفاد کو بھُول کر باہمی اور قومی مفاد کیلئے جد و جہد کرے اور مستقبل کی دنیا ہماری قوم کی مثال بطور بہترین قوم دے ۔ آمین

میرے مشاہدے کے مطابق بہت سے ہموطن نہیں جانتے کہ 23 مارچ 1940ء کو کیا ہوا تھا ۔ متعلقہ حقائق کا مختصر ذکر یہاں ضروری سمجھتا ہوں

آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اِجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اِس کے ساتھ اِسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اِختلافات اِتنے شدید اور تلخ ہیں کہ اِن دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ اِنہیں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں“۔

قائد اعظم کے تصَوّرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ابُو القاسم فضل الحق (المعروف اے کے فضل الحق جن کے نام پر اسلام آباد بلیو ایریا میں جناح ایوَینِیو کے متوازی سڑک کا نام رکھا گیا ہے) جو اُن دنوں بنگال کے وزیرِ اعلٰی تھے نے تاریخی ” قراردادِ مقاصد“ پیش کی جس کا خلاصہ یہ ہے

” کوئی دستوری منصوبہ قابل عمل یا مسلمانوں کو منظور نہیں ہو گا جب تک جغرافیائی طور پر مُنسلِک مسلم اکثریتی علاقے قائم نہیں کئے جاتے ۔ جو مسلم اکثریتی علاقے شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان میں ہیں کو مسلم ریاستیں بنایا جائے جو ہر لحاظ سے خود مختار ہوں ۔ ان ریاستوں میں غیرمسلم اقلیت کو مناسب مؤثر تحفظات خاص طور پر مہیا کئے جائیں گے اور اِسی طرح جن دوسرے علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں اُن کو تحفظات مہیا کئے جائیں“۔

اس قراداد کی تائید پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ۔ سرحد سے سردار اورنگزیب ۔ سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسٰی ۔ یونائیٹڈ پراونس (اب اُتر پردیش) سے چوہدری خلیق الزمان کے علاوہ اور بہت سے رہنماؤں نے کی ۔ اس قراداد کے مطابق مغرب میں پنجاب ۔ سندھ ۔ سرحد اور بلوچستان اور مشرق میں بنگال muslim-majority-map اور آسام پاکستان کا حصہ بنتے ۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور اِس کی تفصیلات طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ یہ قراداد 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے دستور کا حصہ بنا دی گئی

مندرجہ بالا اصُول کو برطانوی حکومت نے مان لیا مگر بعد میں کانگرس اور لارڈ مؤنٹ بیٹن کی ملی بھگت سے پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو تقسیم کر دیا گیا اور آسام کی صورتِ حال بھی بدل دی گئی ۔ بنگال اور پنجاب کے صوبوں کو نہ صرف ضلعی بنیاد پر تقسیم کیا گیا بلکہ پنجاب کے ایک ضلع گورداسپور کو تقسیم کر کے بھارت کو جموں کشمیر میں داخل ہونے کیلئے راستہ مہیا کیا گیا

مسلم اکثریتی علاقے ۔ اس نقشے میں جو نام لکھے ہیں یہ چوہدری رحمت علی کی تجویز تھی ۔ وہ لندن [برطانیہ] میں مقیم تھے اور مسلم لیگ کی کسی مجلس میں شریک نہیں ہوئے ۔ اِس نقشے میں ہلال کے ساتھ 10 ستارے دکھائے گئے ہیں یعنی پاکستان کی مملکت 10 مُسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دکھائی گئی ہے جس میں (1) مغربی پاکستان (جسے پاکستان لکھا گیا ہے) ۔ (2) مشرقی پاکستان (جسے بنگالستان لکھا گیا ہے) ۔ (3) جنوبی پاکستان (جس میں ریاست حیدر آباد اور ملحقہ مُسلم علاقے شامل ہیں) ۔ (4) گجرات کاٹھیا واڑ اور منادور وغیرہ ۔ اور مزید 6 چھوٹے چھوٹے علاقے شامل ہیں
m-l-working-committee

مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی

۔

۔
welcome-addr-22-march-1940
شاہنواز ممدوٹ سپاسنامہ پیش کر رہے ہیں

چوہدری خلیق الزمان قرارداد کی تائید کر رہے ہیں
seconding-reson-march-1940

۔

۔
quaid-liaquat-mamdot
قائدِ ملت لیاقت علی خان اور افتخار حسین خان ممدوٹ وغیرہ قائد اعظم کے ساتھ

تحفہ

عامر منیر -

ابو آج کل کام پر نہیں جا رہے تھے ، پہلے جب ہم سکول جانے کے لئے تیار ہو رہے ہوتے تھے تو وہ بھی اٹھ کر شیو کر چکے ہوتے تھے اور جیسے ہی وہ ناشتے کے لئے باورچی خانے میں امی کے پاس آ کر چوکی پر بیٹھتے، میں چھوٹے بھائی کو اشارہ کرتا جو ان سے لپٹ کر چونی یا اٹھنی کے دو سکے نکلوا لینے میں عموماً کامیاب رہتا۔ لیکن ہفتہ بھر سے یہ معمول چل رہا تھا کہ جب ہم سکول جانے کی تیاری کر رہے ہوتے تو ابو ابھی تک سو رہے ہوتے تھے، ہمارے جانے کے بعد کسی وقت وہ اٹھ کر باہر نکل جاتے اور رات گئے اس وقت واپس آتے جب ہم سو چکے ہوتے۔ پہلے دن ہم نے ارادہ کیا کہ ابو کو جگا کر ان سے اپنی چونی یا اٹھنی لی جائے، لیکن امی نے ہماری گفتگو سن لی اور ڈانٹ کر منع کر دیا۔ ان کی یہ ڈانٹ ہمیں بہت بری لگی، سکول جاتے ہوئے ہم دونوں باتیں کرتے گئے کہ اٹھنی کا معاملہ ہمارے اور ابو کے بیچ ہے اور امی کو درمیان میں آنے کا کوئی حق نہیں تھا، اس لئے اب ہم ان سے نہیں بولیں گے۔
مکمل تحریر کے لئے یہاں کلک کریں »

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator