Feed aggregator

کیا فرماتے ہیں ملا محمد عمر صاحب ….؟؟؟؟

درویش خراسانی -

کل  ایک ساتھی کے ساتھ واک کر رہا تھا ۔باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ اس بار تو عید کے موقع پر تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملا محمد عمر صاحب نے بھی  ایک پیغام بھیجا ہے۔ ہمارئے اندر بھی تجسس کے جراثیم سر اٹھانے لگے کہ دیکھتے ہیں کہ  ہمیں کیا کہنا چاہتے [...]

گوشت اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عید قربان کا تحفہ ہے

حکیم خالد کا بلاگ -


 تمام احباب کو عید الاضحی مبارک  ہو


گوشت کے بکثرت استعمال سے بد ہضمی ‘ڈائریا’پیٹ درد ‘آرتھرائٹس’امراض قلب اورہائی بلڈ پریشرہو سکتا ہے
گوشت کے ساتھ ساتھ موسمی پھل اور سبزیاں بھی استعمال کریں:یونانی میڈیکل آفیسرقاضی ایم اے خالد
لاہور…صحت مند افراد کیلئے دن بھر میںسو گرام گوشت کا استعمال نقصان دہ نہیں جبکہ اس سے زیادہ مقدار نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔گوشت کو نقصان دہ یا غیر نقصان دہ سمجھنے کی بجائے یہ سمجھنا زیادہ اہم ہے کہ غیر متوازن غذامرض اور متوازن غذا صحت کی علامت ہے۔عید الاضحیٰ کے موقع پر گوشت کھانے میں بے اعتدالی اور غیر محتاط رویہ اختیار کرنے کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔گوشت کے بکثرت استعمال سے بد ہضمی ‘ڈائریا’پیٹ درد’بخار جیسی شکایات تو فوری ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن ہائی بلڈ پریشر’آرتھرائٹس’امراض قلب’کینسر جیسی امراض کافی عرصہ بعد وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرقاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ گوشت اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عید قربان کا تحفہ ہے۔جس کا اعتدال کے ساتھ استعمال پروٹین کی کمی پوری کرتا ہے اور خون میں سرخ خلئے بناتا ہے۔لیکن گوشت کے استعمال کے ساتھ ساتھ موسمی پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی کرنا چاہئے تاکہ غذا متوازن ہو سکے ۔گوشت کے پکوانوں میں مصالحوں کا استعمال کم سے کم کریں۔گوشت ہضم کرنے کیلئے کولڈ ڈرنکس کا استعمال سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اس کی بجائے حفظان صحت اور جی ایم پی یعنی گڈ میڈیکل پریکٹس کے مطابق تیارشدہ ہاضمے کے روائتی چورن اور گولیاں زیادہ موثر ہیں۔امراض قلب اور بلڈ پریشر کے مریض گوشت کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کریں۔زیادہ گوشت کا استعمال دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی کمی کا باعث بنتا ہے۔کیلشیم کی کمی سے ہڈیاں ہلکی اور بھر بھری ہو جاتی ہیں جس سے فریکچربا آسانی ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ گوشت زیادہ کھانے سے وزن بڑھتا ہے’پیٹ بڑھنے سے پیٹ کے نیچے لبلبہ ڈی پریس ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسولین بننے کی رفتار کم ہوکر خدانخواستہ شوگر ہو سکتی ہے۔گوشت کو محفوظ کرنے کے لئے اسے ٹکڑے کرکے نمک اور لیموں یا سرکہ چھڑک کردھوپ میں سکھائیں’چولہے پر خشک کریں یا فریز کریں ۔یہ تینوں طریقے حفظان صحت کے مطابق ہیں۔

نکاح کا مذاق

محمد سعد (تیزابیت) -

ایک دفعہ جمعہ کے خطاب کے دوران نکاح کا موضوع آیا تو خطیب صاحب نے بڑی دلچسپ بات کہی۔کہا کہ اذان سنت ہے۔ اگر کوئی شخص اذان کے دوران آ کر گانا بجانا شروع کر دے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ یقیناً سب اسے روکیں گے کہ یہ کیا اذان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ نکاح بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت ہے۔ لیکن اس میں لوگ خوب شوق سے گانے بجانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر کوئی روکے تو طرح طرح کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ اکثریت کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔براہِ مہربانی اس چیز کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا مذاق نہ بنائیں۔ اور کوشش کریں کہ اوروں کو بھی اس طرح نکاح کی سنت کا مذاق بنانے سے روکیں۔

پرسیپشن (Perception)

عادل بھیا -

عالیہ دِن دیہاڑے گھر سے لاپتہ ہوگئی۔۔۔ دِن بھر کی کوششوں، انتظار اور دُعاؤں کے بعد بھی نہیں ملی تو اماں زلیخا کہتی سُنائی دیتی ہیں: ’’عالیہ کی ماں نے اُسکا رشتہ طے کر دیا تھا جبکہ عالیہ کا ایک لڑکے سے کوئی چکر وکر چل رہا تھا، میں تو کہتی ہوں وہ اُسی بدمعاش کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘
 سیٹھ عنایت اللہ اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں: ’’ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان ہے۔ تم دیکھ لینا جلد ہی کوئی فون کر کے تائیوان مانگے گا‘‘
عالیہ کی ایک سہیلی کا کہنا ہے: ’’ مُجھے یقین ہے کہ عالیہ کو اُس بلے لفنگے نے اغواہ کروایا ہے‘‘
بشیر کا کہنا تھا: ’’ عالیہ کا خاندان اِس شہر میں نیا ہے، یقیناً عالیہ کہیں راستہ کھو گئی ہوگی۔ انشاءاللہ مل جائے گی‘‘
ہمدانی صاحب کہتے ہیں: ’’مُجھے خدشہ ہے کہ کسی نے اغواہ کر کے قتل نہ کر دیا ہو‘‘-----------------------------------------
آئیے اب آپکو بتاؤں کے اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے ایسا کیوں سوچا!!

دراصل اماں زلیخا عالیہ کو روزانہ شام دفتر سے واپسی پر ایک لڑکے کی گاڑی میں آتا ہوتا دیکھتی تھیں۔ لہٰذا اماں کو یقین تھا کہ ہو نہ ہو بات یہی ہے۔
سیٹھ عنایت اللہ کا بیٹا بھی چند سال قبل اغواہ ہوا تھا اور اغواہ کاروں نے دوسرے دِن فون کر کے تائیوان مانگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سیٹھ صاحب کو یقین تھا کہ یہ ضرور اغواہ برائے تائیوان کی وارداد ہے۔
عالیہ اور اُسکی سہیلی روزانہ یونیورسٹی اکٹھی جایا کرتی تھیں، ایک دِن راستے میں بلے لفنگے نے عالیہ کو چھیڑا جس پر عالیہ نے اُس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ عالیہ کی سہیلی کو اِسی وجہ سے پختہ یقین تھا کہ یہ بلے لفنگے نے ہی بدلہ لیا ہے۔
بشیر جب اِس شہر میں نیا آیا تھا تب اُسکی چھوٹی بہن ایک روز راستہ بھول گئی تھی۔ موبائل کی چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے بشیر کی بہن کسی سے رابطہ نہ کر پائی اور کسی نے اُسکی غلط رہنمائی کر دی جس سے وہ مزید گھر سے دور ہوگئی۔ یوں بشیر کی بہن کو گھر پہنچتے ہوئے نہایت دیر ہوگئی۔ لہٰذا وہ پراُمید تھا کہ انشاءاللہ عالیہ بھی جلد گھر پہنچ جائے گی۔
ہمدانی صاحب کے خالہ زاد بھائی کی کسی کے ساتھ دُشمنی تھی اور دُشمنوں نے اُسکے بیٹے کو اغواہ کر کے قتل کر کے نعش ایک نالے میں پھینک دی۔ یوں اُنہوں نے اپنا انتقام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمدانی صاحب کا خیال تھا کہ عالیہ کے والد کے کاروباری دُشمنوں نے اُنکی بیٹی کو اغواہ کر کے قتل کرکے ضرور اپنا کوئی بدلہ لیا ہوگا۔
دراصل اماں زلیخا، سیٹھ عنایت اللہ، عالیہ کی سہیلی، بشیر اور ہمدانی صاحب نے اپنے گردونواح کے حالات کے مطابق وہی کچھ سوچا جو اُنکی زندگیوں میں ہورہا ہے یا ہوا جبکہ کسی نے بھی عالیہ، اُسکی زندگی، اُسکے کے گھر، اور حالات کے مطابق سوچنے کی بالکل کوشش نہ کی۔ مختلف افراد نے یہ جو مختلف اندازے لگائے اِنکو انگریزی میں ’’پرسیپشن (Perception)‘‘ کہا جاتا ہے۔

اِن پرسیپشنز (Perceptions) کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو ہماری زندگیوں اور مختلف رشتوں میں بیشتر تلخیوں، ناچاقوں اور دوریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ہر فرد دوسرے شخص کیلئے اپنی سوچ اور اپنے گردونواح کے ماحول کے مطابق سوچتا ہے۔ وہ یہ کبھی سوچنے کی کوشش نہیں کرتا کہ دوسرا شخص کِس چوراہے پر کھڑا ہے، وہ جو بات یا فعل کر رہا ہے، کس نظریہ کے پیشِ نظر کر رہا ہے، اُسکی سوچ اور نظریات کیا ہیں، وہ کس ماحول میں رہ رہا ہے، وہ کیا چاہتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم اِس انداز سے سوچنے لگیں تو شائید بہت سی تلخیاں، ناچاقیاں اور دوریاں ختم ہو جائیں۔ یاد رکھئیے آپکی ایک غلط فہمی اور ایک غلط سوچ کسی دوسرے کی زندگی برباد بھی کر سکتی ہے۔ 
آپکو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ آپ سے جو رشتے دور ہیں یا جن رشتوں میں ناچاقیاں ہیں، سوچئیے کہاں کوئی غلط فہمی ہے اور کہاں آپنے کسے دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ آئیے۔ ۔ ۔ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے روٹھے رشتوں اور پیاروں کی جانب پیار، محبت، اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیے۔ بھیا کی نیک تمنّائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔

سرسید احمد خان کے دینی کارنامے

سعد (بنیاد پرست) -

صحابہ کے عہد اور خیر القرون کے بابرکت زمانے تک سیدھا سادہ مطابق فطرت دین تھا۔ واضح  عقائد اور خلوص اور بے ریائی کی عبادت تھی، اصول و اعتقادی مسائل میں کبھی کوئی شخص عقلی شک و شبہ ظاہر کرتا  بھی تو قرآن و حدیث کے احکام و نصوص بتا کر خاموش کردیا جاتا، نہ کسی کا عقیدہ بدلتا  اور نہ کسی کے زہد و تقوی میں فرق آتا۔ مگر تعلیمات نبوت کا اثر جس قدر کمزور ہوتاگیا۔ اسی قدر وسوسہ ہائے شیطانی نے قیل و قال اور چون و چراکے شبہے پیدا  کرنا شروع کر دیے۔ چنانچہ  واصل بن عطا ، ، عمرو بن عبید جیسے عقل پرست لوگ سامنے آئے۔ یہ لوگ معتزلہ کے نام سے مشہور ہوئے۔جب ہارون و مامون کے عہد میں فلسفہ یونان کی کتابیں بہ کثرت ترجمہ  ہوئیں تو معتزلہ کو اپنے خیالات و شبہات کے لیے فلسفی دلیلیں مل گئیں اور انہوں نے ایک نیا عقلی اسلامی فن ایجاد کیا جس کا نام علم " کلام" قرار دیا۔۔  ان لوگوں نے دینی عقائد واحکام میں عقل کو معیار بنایا اور مبہا  ت اور مخفی علوم میں اپنی عقل لڑا کر تشریحات اور تاویلیں کرنی شروع کردیں۔معتزلہ کی اس  عقلیت پسندی سے قرآنی ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کااعتمادزائل ہونے لگا، جن مسائل کا حل صرف وحی سے میسر آسکتا تھاان کا حل انسانی شعور اور عقل  سے  تلاش کرنے سے وہ وحی کی ہدایت سے  محروم ہوگئے۔یوں  وحی کے ساتھ نبوت کی احتیاج بھی ختم ہوتی ہوئی نظر آئی ،تاویل کا فن حیلہ طرازیوں میں تبدیل ہونے لگا،ذات باری سے متعلق مجرد تصور توحید نے جنم لیا،ظاہر شریعت اورمسلک سلف کی علمی بے توقیری اور ان پر بے اعتمادی پیدا ہونے لگی،قرآن مجید کی تفسیراورعقائداسلام،ان فلسفی نمامناظرین کے لیے بازیچہٴ اطفال بنے جارہے تھے،مسلمانوں میں ایک خام عقلیت اورسطحی فلسفیت مقبول ہورہی تھی، یہ صورت حال دینی وقاراورسنت کے اقتدار کے لیے سخت خطرناک تھی ۔شروع میں علما نے وہی طریقہ تعلیم رکھا کہ علوم وحی سمجھ آئیں یا نہ آئیں ہم نے ان پر غیبی ایمان اور اعتقاد رکناا ہے۔ لیکن جب فسا د ذیادہ بڑھنے لگا اور  معتزلہ کی   عقلی دلیلوں اور وساوس  نے عوام کے ساتھ حکمران طبقہ کو بھی متاثر کر لیا اور مامون رشید، معتصم بااللہ، متوکل علی اللہ، واثق بااللہ  جیسے حکمران بھی معتزلہ کے مسلک کو اختیار کرگئے تو علما نے مجبورا ان معتزلہ کے  ساتھ عقلی مباحثے اور مناظرے شروع کیے۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل، امام ابوالحسن اشعری،  ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ  جیسے لوگ سامنے آئے اور معتزلہ کی ہر دلیل کا جواب دیا ، امام احمد بن حنبل کے  فتنہ  خلق قرآن کے مناظرے مشہور ہیں جن میں معتزلہ کو بری طرح شکست ہوئی  ۔ بعد میں معتزلہ مختلف فرقوں اور ناموں سے مشہور ہوئے مثلاواصلیہ، ہذیلیہ ، نظامیہ وغیرہ ۔انگریز برصغیر میں آئے تو  مختلف  خوشنما   اصطلاحیں  اور نام متعارف کروائے گئے، اعتزال نےبھی  ایک نئے خوبصورت  نام سے دنیا کو اپنی صورت دکھائی ،چنانچہ بے دینی، الحاد اور   عقل پرستی کو روشن خیالی کا نام دیا گیا اور اسکے  نام پر تاریک ضمیری‘ ضمیر فروشی اور جمہور علماء کی راہ سے انحراف کیا جانے لگا ۔ آج بھی روشن خیال سارا زور اس پر خرچ کررہے ہیں  کہ دینی عقائد واعمال کو  یا عقل کے ترازو میں پیش کردیں‘ ورنہ کوئی توجیہ اپنی طرف سے کرکے اصل حکم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں۔
برصغیر میں انگریزوں کے دو منتخب احمد  :۔انگریزوں کو  برصغیر میں اپنا قبضہ جمانے کے دوران  سب ذیادہ علما اور دیندار طبقے کی طرف سےمزاحمت کا سامنا  کرنا پڑا، اس لیے انہوں نے  عوام میں دین  اسلام کے بارے میں کنفیوزین پیدا کرنے والے لوگوں کی بھرپور سپورٹ کی  ۔ اور چند لوگوں کو خصوصی طور پر منتخب کیا گیا۔ ایک  مرزا احمد کو کچہری سے اٹھایا منصب نبوت پر بٹھا دیا، ایک اور سید احمد کو کلرکی کے درجے سے ترقی دی  اور سرسید احمدخان بنا دیا۔ مرزا غلام قادیانی نے جھوٹی نبوت کا سہارا لے کر جہاد کا انکار کیا اور سر سید احمد خان  نے نا صرف  احادیث،  معجزات‘ جنت‘ دوزخ اور فرشتوں کے انکار پر گمراہ کن تفسیر اور کتابیں  لکھیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کو دینی تعلیم کے مقابلے میں فرنگی نظام تعلیم سے متعارف کروایا۔ دونوں انگریزوں سے خوب دادِ شجاعت لے کر دنیاوی مفاد حاصل کئے اور اپنی آخرت کو تباہ وبرباد کرگئے  ۔مرز ا قادیانی  کی " مذہبی"خدمات اور سرسید کی تعلیمی  اور سیاسی خدمات  کا تذکرہ تو ہم چند پچھلی تحریروں میں کرچکے ۔ہمارا آج کا موضوع سرسید احمد خان کی روشن خیال فرنگی اسلام کے لیے دی گئی خدمات ہیں۔موضوع تفصیل مانگتا ہے لیکن ہم کوشش کریں گہ کہ ضرورت کی ہی بات کی جائے۔سرسید کے مذہب پر ایک نظر
تاریخی واقعات شاہد ہیں کہ انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان سے وہ کام لئے جو وہ اپنے ملکوں کی ساری دولت خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے تھے۔  سرسید کا عقیدہ کیا تھا ؟   مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ سرسید احمد  تین باتوں میں مجھ سے متفق ہے۔•  ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے‘ بلکہ معمول کے مطابق ان کا باپ تھا۔ (واضح رہے کہ عیسائیوں کے ایک فرقے کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ مریم علیہا السلام کے یوسف نامی ایک شخص سے تعلقات تھے جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی سے قبل پیدا ہوئے۔ (نعوذ باللہ من ذلک) • دوسرے یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس سے ان کے درجات بلند کرنا مراد ہے۔ • تیسرے یہ کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد کو روح مع الجسد معراج نہیں ہوئی‘ بلکہ صرف ان کی روح کو معراج ہوئی ہے۔
                                   سرسید کو موجودہ دور کا روشن خیال طبقہ نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں، ذیل میں سرسید کے افکار پر  کچھ تفصیل پیش خدمت ہے۔ یہ پڑھنے کے بعد آپ کےلیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ سرسید بھی حقیقت میں  معتزلہ کے اسی سلسلہ کا فرد تھا اوراور اس کے روحانی شاگرد’ روشن خیال مذہب کے موجودہ داعی ڈاکٹر، فلاسفر، دانشور، پروفیسر ٹائپ لوگ  بھی معتزلہ کے اسی مقصد  یعنی دین میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور لوگوں کا ایمان چوسنے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے معاشرہ کا تھوڑا پڑھا لکھا اور آزاد خیال طبقہ ان کو اسلام کا اصل داعی سمجھ کر انہی کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہا ہے۔
1 - سرسید کی چند تصنیفات :۔۔سرسید نے اسلام کے نام پر بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کیں۔ ایک خلق الانسان( انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ‘ جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق وتوثیق کی گئی ہے کہ انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ یوں قرآن وسنت کی نصوص کا منکر ہوا)،  اسباب بغاوت ہند (۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘ اور انگریز سامراج کے مخالف علما اور مجاہدین پر کھلی تنقید کی)، تفسیر القرآن (پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ہے۔  سرسید لکھتے ہیں”میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہئے“۔ (تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲) چنانچہ سرسید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘ جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘ نہ ہی جنت ودوزخ کا کہیں نشان ہے اور نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور معجزات وکرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں۔خود سرسید کے پیرو کار ومعتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس (وفات دسمبر ۱۹۱۴ء) تحریر فرماتے ہیں کہ:” سرسید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں“۔ (حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)
2 - سرسید کی عربی شناسی:۔غزوہٴ احد میں نبی اکرم ا کے سامنے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا تھا‘ چنانچہ علامہ ابن کثیررحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:۔
”وان الرباعیة التی کسرت لہ علیہ السلام ہی الیمنیٰ السفلیٰ“ (السیرة النبویة ج:۳‘ ص:۵۷)ترجمہ:․․․”نبی علیہ السلام کے سامنے کا داہنا نچلا دانت مبارک شہید ہوا تھا“۔فن تجوید وقرأت کے لحاظ سے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک کو رباعی کہتے ہیں‘ جیسے لغت کے امام ابن منظور افریقی لکھتے ہیں:رباعی کا لفظ ثمانی کی طرح ہے یعنی سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک۔(لسان العرب ج:۸‘ ص:۱۰۸)
سرسید نے رباعی کا لفظ دیکھ کر اسے اربع (چار) سمجھ لیا ہے اور حکم لگا دیا کہ آپ کے چار دانت شہید ہوئے تھے“۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”آنحضرت کے چار دانت پتھر کے صدمہ سے ٹوٹ گئے“۔ (تفسیر القرآن ج:۴‘ص:۶۴) قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ جو شخص رباعی اور اربعہ میں فرق نہیں کرسکا اس نے  قرآن کی تفسیر لکھنے میں کیا گل کھلائے ہوں گے۔

3 - قرآن کی من مانی تشریحات :۔سرسید نے معتزلی سوچ کے مطابق  دین اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور قرآن کریم میں جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ہے‘ اس کی تاویل فاسدہ کرکے من مانی تشریح کی ہے۔
پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے کہ:” یہود سے جب عہد وپیماں لیا جارہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا“۔ جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ سرسید اس واقعہ کا انکار کرتاہے اور لکھتاہے:”پہاڑ کو اٹھاکر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا“۔ 
سرسید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتاہے۔ وہ لکھتاہے:”مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب وغریب واقعہ بنادیا ہے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور ازکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘ اس لئے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات (یعنی معجزات) بھر دی ہیں‘ بعضوں نے لکھا ہے کہ کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتاہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹)
کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ہے۔  اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ہے ہم اس کے جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف بھیجتے ہیں۔
 بریں عقل ودانش بباید گریست

4 -  جنت ودوزخ کا انکار :۔تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ جنت ودوزخ حق ہیں اور دونوں پیدا کی جاچکی ہیں۔ خود قرآن پاک سے یہ ثابت ہے ارشاد خداوندی ہے:”وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة عرضہا السموات والارض اعدت للمتقین“ (آل عمران:۱۳۳)ترجمہ:․․․”اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تیار کی جاچکی ہے“ ۔ دوزخ کے پیدا کئے جانے بارے میں ارشاد خداوندی ہے:”فاتقوا النار التی وقود ہا الناس والحجارة اعدت للکافرین“ (البقرہ:۲۴)ترجمہ:․․․”پس ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے جو کافروں کے لئے تیار کی جاچکی ہے“۔ 
سرسید جنت ودوزخ دونوں کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ لکھتا ہے: ”پس یہ مسئلہ کہ بہشت اور دوزخ دونوں بالفعل مخلوق وموجود ہیں‘ قرآن سے ثابت نہیں ۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۳۰) وہ مزید لکھتاہے:”یہ سمجھنا کہ جنت مثل باغ کے پیدا کی ہوئی ہے‘ اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں۔ باغ میں سرسبز وشاداب درخت ہیں‘ دودھ وشراب وشہد کی نالیاں بہہ رہی ہیں‘ ہرقسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے․․․ایسا بیہودہ پن ہے جس پر تعجب ہوتا ہے‘ اگر بہشت یہی ہو تو بے مبالغہ ہمارے خرابات (شراب خانے) اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں“۔ (نعوذ باللہ) ایضاً ج:۱‘ص:۲۳)قرآن میں جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کسی قرآن پڑھنے والے سے مخفی نہیں، مگر سرسید نے  نا صرف ان کا  صاف  انکار کیا  بلکہ مذاق بھی اڑایا اور شراب خانوں کو جنت سے ہزار درجے بہتر قرار دیا۔
5 - بیت اللہ شریف کے متعلق موقف :۔بیت اللہ شریف بارے کی عظمت کے بارے میں قرآن وحدیث میں کافی تذکرہ موجود ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ہے۔ بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے۔  (آل عمران:۹۶)ترجمہ:․․․” اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ہے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایاہے“ ۔ (المائدہ:۹۷)علامہ اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا ہے:دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
اب ذرا کلیجہ تھام کر سرسید کی ہرزہ سرائی کعبۃ اللہ کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ نقل کفر کفر نباشد ۔ اپنی تحریف القرآن میں لکھتاہے:”جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چوکھونٹے گھر میں ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے یہ ان کی خام خیالی ہے․․․ اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھر نے سے کیا ہوتا ہے‘ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھر تے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۲۱۱و۲۵۱) مزید لکھتاہے:”کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ہے “۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۱۵۷)خانہ کعبہ کے گرد طواف کے مقدس عمل کو سرسید  کا ”سات دفعہ اس کے گرد پھرنا“ پھر خدا کے اس عظیم اور مقدس گھر کو انتہائی ڈھٹائی اور بے غیرتی کے ساتھ ”چوکھونٹا گھر“ کہنا اور آگے خباثت کی انتہا کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھر تے ہیں‘ کیا وہ حاجی بن گئے؟ پھر  نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے خلاف یہ زہر افشانی کرنا کہ یہ اسلام کا اصلی حکم نہیں ہے‘  کیا  یہ بکواسات  کیا کوئی صاحب ایمان کرسکتا ہے ؟ دوسرے پارہ کے شروع میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایاہے: ”سیقول السفہاء الخ“ ”اب بہت سارے بیوقوف کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا؟“ اس آیت کی رو سے جو لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نہیں مانتے وہ بیوقوف ہیں اور سرسید تمام بیوقوفوں کا سردار۔

6 - سرسید فرشتوں کے وجود کا منکرفرشتوں کا مستقل خارجی وجود قرآن وحدیث سے صراحۃ ثابت ہے اور فرشتوں کا اس طرح وجود ماننا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے‘ ان کے وجود کو مانے بغیر کوئی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔قرآن پاک میں ہے کہ:
فرشتے خدا کی ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس کام کا حکم دیا جاتاہے اس کو بجالاتے ہیں (التحریم:۶)دوسری جگہ مذکور ہےپھر یہی فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور قوم لوط پر عذاب ڈھانے لگے۔ (الحجر:۵۸تا۷۷)
ان تمام آیات اور روایات سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا مستقل خارجی وجود ہے‘ مگر سرسید اس کے منکر ہیں وہ لکھتے ہیں کہ:” قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا مسلمانوں نے اعتقاد کررکھا ہے ثابت نہیں ہوتا“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص:۴۲) آگے لکھتا ہے”اس میں شک نہیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے‘ انسان تھے اور قوم لوط کے پاس بھیجے گئے تھے۔علماء مفسرین نے قبل اس کے کہ الفاظ قرآن پر غور کریں یہودیوں کی روایتوں کے موافق ان کا فرشتہ ہونا تسلیم کرلیا ہے‘ حالانکہ وہ خاصے بھلے چنگے انسان تھے۔ (ایضاً ج:۵‘ص:۶۱)اس طرح قرآن پاک اور احادیث طیبہ یہ بات موجود ہے کہ  مختلف غزوات کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا ہے جیسا کہ آیت ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلة“ (آل عمران:۱۲۳) میں مذکور ہے۔ سرسید اس کا منکر ہے وہ اس آیت کے تحت لکھتاہے۔” بڑا بحث طلب مسئلہ اس آیت میں فرشتوں کا لڑائی میں دشمنوں سے لڑنے کے لئے اترناہے‘ میں اس بات کا بالکل منکر ہوں‘ مجھے یقین ہے کہ کوئی فرشتہ لڑنے کو سپاہی بن کریا گھوڑے پر چڑھ کر نہیں آیا‘ مجھ کو یہ بھی یقین ہے کہ قرآن سے بھی ان جنگجو فرشتوں کا اترنا ثابت نہیں“۔ (تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ص:۵۲)
7 - سرسید جبرائیل امین کا  منکر :۔قرآن پاک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ہے‘ ترجمہ:․․․”جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل کا اور میکائیل کاتو اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کا مخالف ہے“۔(البقرہ:۹۸)اسی طرح  کئ احادیث  میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کبھی انسانی شکل میِں بار گاہ نبوی میں تشریف لاتے ‘چنانچہ مشکوٰة کی پہلی حدیث ”حدیث جبرائیل“ میں جب سوالات کرنے کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے گئے تو آپ ا نے فرمایا :”فانہ جبرئیل اتاکم یعلمکم دینکم“ (یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے‘ تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے) (مشکوٰة: کتاب الایمان)

سرسید حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود کا منکر ہے۔ وہ لکھتاہے:ہم بھی جبرائیل اور روح القدس کو شئ واحد تجویز کرتے ہیں‘ مگر اس کو خارج از خلقتِ انبیاء جداگانہ مخلوق تسلیم نہیں کرتے‘ بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ خود انبیاء علیہم السلام میں جو ملکہ نبوت ہے اور ذریعہ مبدء فیاض سے ان امورکے اقتباس کا ہے جو نبوت یعنی رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں‘ وہی روح القدس ہے اور وہی جبرائیل ہے“۔ (تفسیر القرآن از سرسید ج:۲‘ ص:۱۵۶‘ ج:۱‘ ص:۱۸۱‘ ۱۲۲‘ ۱۲۹‘ ۱۷۰)اس عبارت میں سرسید نے اس بات کا انکار کیا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کوئی خارجی وجود ہے ‘ بلکہ ان کے نزدیک یہ رسول اکرم  کی طبیعت میں ودیعت کردہ ایک ملکہٴ نبوت کا نام ہے۔

8 - سرسید کا واقعہٴ معراج سے انکار:۔رسول اللہ  کے معجزات میں سے ایک معجزہ واقعہٴ معراج ہے ۔سرسید  نےیہاں بھی عقل لڑائی مشکرکین مکہ کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے جسم مبار کے ساتھ سات آسمانوں پر جانا اسکی عقل میں نہ آسکا اور وہ انکار کرگیا ۔ اپنی تفسیرالقرآن ج :۲ ص: ۱۳۰ پرلکھتا ہے:”ہماری تحقیق میں واقعہ معراج ایک خواب تھا جو رسول اللہ نے دیکھا تھا"حقیقت میں معجزہ کہتے ہی اسکو ہیں جسکو سمجھنے سے عقل عاجز ہو۔ اگر اسے خواب یا تصور کا واقعہ قرار دیں تو معجزہ نہیں کہلا یا جاسکتا‘ کیونکہ خواب اور تصور میں کوئی بھی شخص اس قسم کا واقعہ دیکھ سکتاہے۔  اس لیے آنحضرت کا واقعہ معراج تب معجزہ بنے گا جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ آنحضرت کو معراج روح مع الجسد ہوئی تھی یعنی جسم اور روح دونوں کو معراج ہوئی تھی‘ اور اسی بات پر امت کا اجماع چلا آرہا ہے۔ روایات میں آتاہے کہ واقعہ معراج کا سن کر کفار ومشرکین مکہ آپ کے ساتھ حجت بازی کرنے لگے۔ اگر واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار ومشرکین کبھی آپ  کے ساتھ حجت بازی نہ کرتے۔

9 - جنات وشیاطین کے وجود کا انکار :۔جنات وشیاطین کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لئے اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں‘ مگر سرسید اس کا انکار کرتا ہے‘ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے ماتحت جنات کے کام کرنے کے قرآنی واقعہ پر تبصرہ کرتا ہے:

”ان آیتوں میں ”جن“ کا لفظ آیا ہے‘ اس سے وہ پہاڑی اور جنگلی آدمی مراد ہے‘ جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں بیت المقدس بنانے کا کام کرتے تھے اور جن پر بسبب وحشی اور جنگلی ہونے کے جو انسانوں سے جنگلوں میں چھپے رہتے تھے اور نیز بسبب قوی اور طاقتور اور محنتی ہونے کے ”جن“ کا اطلاق ہوا ہے پس اس سے وہ جن مراد نہیں جن کو مشرکین نے اپنے خیال میں ایک مخلوق مع ان اوصاف کے جو ان کے ساتھ منسوب کئے ہیں‘ ماناہے اور جن پر مسلمان بھی یقین کرتے ہیں۔ (تفسیر القرآن ج: ۳‘ ص: ۶۷) 

اس طرح سرسید  شیطان کا الگ مستقل وجود تسلیم نہیں کرتا‘ بلکہ انسان کے اندر موجود شرانگیز صفت کو شیطان قرار دیتاہے آگے  لکھتاہے: ”انہی قویٰ کو جو انسان میں ہے اور جن کو نفس امارہ یا قوائے بہیمیہ سے تعبیر کرتے ہیں‘ یہی شیطان ہے“۔ (ج ۳ ص۴۵ پ)

سرسید کے اعتزالی عقائد و نظریات کا مکمل احاطہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے ، ہم نے اس کے چند گمراہ افکار پر روشنی ڈالی ہے۔ حقیقت میں سرسید اور ان جیسے دیگر روشن خیالوں کی فکری جولانیوں کودیکھ کر یہی کہا جاسکتاہے کہ:ناطقہ بگریباں ہے اسے کیا کہئے؟ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے؟مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجودہ دور کے ان معتزلہ کے افکار ونظریات کو پہچان کر اپنے ایمان وعمل کو ان کی فریب کاری سے بچائیں اور جو سادہ لوح مسلمان ان کے شکنجہ میں آچکے ہیں ان کے بارے میں فکر مند ہوکر ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں.
(’سرسید احمد خان کے مذہب پر نظر‘ والے حصہ کا بیشتر حصہ معروف دینی درسگاہ جامعہ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤں کی سائیٹ پر دی گیے آرٹیکل سے لیا گیا ہے اللہ انکی تحقیق کو قبول فرمائے۔ )

کرکٹی انتہا پسندی

محمد سعد (تیزابیت) -

پرسوں "بولتا پاکستان" کے فیسبک صفحے پر ایک سوال دیکھا۔سوال تھا، "لندن کی عدالت نے پاکستانی کرکٹرز کو سزا دے دی۔ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟"نیچے کیے گئے تبصروں کے درمیان کچھ عجیب و غریب سے تبصرے دیکھنے کو ملے۔کسی کا کہنا ہے کہ تاحیات پابندی لگا دی جائے۔ کسی نے کہا کہ تاحیات پابندی کے ساتھ پانچ کروڑ جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔ جبکہ کوئی اتنے کم جرمانے پر خوش نہیں اور چاہتا ہے کہ ان کے تمام اثاثے ہی منجمد کر دیے جائیں۔ کوئی چاہتا ہے کہ ان کی پاکستانی قومیت ہی ختم کر دی جائے جبکہ کسی کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کو اتنا بدنام کرنے پر انہیں پھانسی کیوں نہیں دے دی گئی۔
یہ کہتے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ اگر واقعی یہ لوگ مجرم ہیں تو بس قانون کے مطابق سزا دو اور جان چھوڑو۔

ہے نا عجیب منطق؟
ملکی دولت لوٹنے والے لٹیروں کو اگلی بار ووٹ دیکر پھر سے سارے وطن کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دو اور ایک نو بال کروانے پر لوگوں کو پھانسی چڑھا دو۔وطن عزیز میں معاشرے میں موجود برائی اور کرپشن کلچر کا الزام ملا پر۔ شدت پسندی، بم دھماکے، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا ذمہ دار مولوی ہے۔ لیکن ایک نو بال پر پھانسی کی سزا یقینا عین اعتدال پسندی ہے۔پاکستان کھپے! ملکانہ لاجک زندہ باد! (ملک ساب کو تو جانتے ہی ہوں گے آپ سب)

میرے معمولات

درویش خراسانی -

جو پستی کی جانب اترتا ہوں میں بیاں تیری تسبیح کرتا ہوں میں                     بلندی  پہ جس وقت چڑھتا ہوں میں                     تو اللہ اکبر ہی پڑھتاہوں میں تو الحمدللہ کا رہتا ہے ورد  جو ہموار راہوں پہ چلتا ہوں میں                     تعجب کی جب بھی کوئی بات ہو                      تو حیرت سے تسبیح پڑھتا [...]

طب یونانی اور ہومیو پیتھک کو عطائیت قرار دینا آئین پاکستان کی توہین ہے

حکیم خالد کا بلاگ -



طب یونانی قومی ورثہ ہے ‘جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا:حکیم قاضی ایم اے خالد
ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیانے بلامعاوضہ اہم کردار ادا کیا’کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور یکم نومبر:مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میںملکی و غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق وطن عزیز میں سرکاری طور پر تین طریقہ علاج یعنی طب یونانی’ ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک منظور شدہ ہیں۔اپنے اپنے طریق علاج کے اندر رہتے ہوئے پریکٹس عطائیت نہیں کہلا سکتی۔لہذا کسی بھی طریق علاج کے ماہرین کی طرف سے آئینی وقانونی طور پر تسلیم شدہ طریق علاج کو عطائیت قرار دیناقابل مذمت فعل اور آئین پاکستان کی توہین ہے ۔غیرملکی مفاد کے علمبردار’ ملٹی نیشنل دواسازاداروں کے تنخواہ دار’ایلوپیتھک فیملی فزیشنز کی طرف سے’ طب یونانی کودیوار سے نہیںلگنے دیںگے۔طب یونانی قومی ورثہ اور پاکستانی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے جس کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا ۔حکیم خالد نے کہا کہ طب یونانی کے کاروان میں بی ای ایم ایس ڈگری ہولڈرز’گریجوایٹس اور پوسٹ گریجوایٹس اطباشامل ہو چکے ہیں جو یقیناً متعصب طریقہ علاج کی مقبولیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔پنجاب حکومت کی طرف سے اطباء اور ہومیو ڈاکٹرز کو سرٹیفکیٹس کے اجرا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قاضی خالد نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سربراہ کی خصوصی ہدایات پر یہ ضروری ہے ایلوپیتھک فیملی فزیشنز احمقوں کی جنت میں بس رہے ہیںدنیا میں کیا ہو رہا ہے اس کیلئے انہیں اپنا نالج اپڈیٹ رکھنا چاہئے ۔ یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ جب حکومت’بیوروکریسی اور ایلوپیتھک ماہرین خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے اس وقت ڈینگی کی آگہی کے حوالے سے اطبائے کرام اور میڈیا اپنا کرداربغیر کسی معاوضہ کے اداکر رہے تھے۔ڈینگی اویرنس کے حکومتی سیمینارز و تربیتی ورکشاپس میں جو کچھ بتایا جا رہا ہے۔کونسل آف ہربل فزیشنز’پاکستان بھر کی عوام کو بہت پہلے بتا چکی ہے۔اس سلسلے میںالیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکا چھ ماہ کا ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ایلوپیتھک میں ڈینگی بخار کا کوئی علاج نہیں ہے۔2006میں سب سے پہلے کونسل آف ہربل فزیشنز نے ہی انتباہ کیا تھا کہ ڈینگی کے مریضوںکو اینٹی بایوٹک ادویات استعمال نہ کروائی جائیںکیونکہ وائرس کو ختم کرنا بعض وائرل ڈیزیزز میں مرض کی بجائے مریض کو ختم کرنا ہے یہاں فطری طریق علاج طب یونانی کی راہنمائی دنیا بھر کے معالجین کے کام آ رہی ہے کہ صرف جراثیم اور وائرس کے خاتمے پر زور دینے کی بجائے مدافعتی نظام کے غلبہ کیلئے ایمیون سسٹم کو طاقتور بنایا جائے وائرس خود ہی معدوم ہو جائے گا۔ڈینگی وائرس میںانارو سیب کاجوس شہد اور پپیتے کے پتوں سے شفا یابی اس کی واضح مثال ہے۔ لہذا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان کی ہدائت کے مطابق محکمہ ہیلتھ پنجاب ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی تربیت کیلئے طب یونانی کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کرے۔



چھوڑو فساد کو بس تم الله الله کرو

سعد (بنیاد پرست) -



ایماں کو بسا لو دل میں کچھ غور تم کرو
نبی کا جو طریقہ ہے   اسی پر   تم  چلو
جو ہٹ کر دکھے اس سے فورا پرے کرو
چھوڑو فساد کو      بس تم   الله الله   کرو

قرآن کو سر پہ رکھو دجل و فریب سے تم بچو
راستہ جو  اصحاب    کا ہے    اسی پر تم چلو
آسرے اپنے سارے     رحمان پر   تم رکھو
چھوڑو فساد کو            بس تم الله الله کرو

ادھر ادھر دیکھو گے سرے سے بھٹک جاؤگے
گرو گے اس طرح     پھر الٹے لٹک جاؤگے
رب کا جو حکم ہے   صرف  اسی پر تم چلو
چھوڑو فساد کو            بس تم    الله الله کرو

یہ دور کم نہیں کسی طرح بھی قیامت سے
جہنم کا راستہ مت لینا تم اپنی قیادت سے
چاہت و نفرت کا اپنی    قبلہ درست کرو
چھوڑو فساد کو      بس تم   الله الله   کرو

شرک سے بچو نہ ملاوٹ دین میں کچھ کرو
مت بناؤ یہ بت     روح کو تم تندرست کرو
صراط مستقیم پر جما کے قدم آگے تم بڑھو
چھوڑو   فساد  کو     بس تم  الله الله    کرو

یہ جینا بھی کیا جینا ہے

محمود الحق -

انسان اپنی سوچ کے دھارے میں بہنے اور بہانے کے عمل سے دوچار رہتا ہے ۔ کبھی خوشی سمیٹتا تو کبھی غموں کے جام چھلکاتا ہے ۔ جینے کے نت نئے انداز لبادے کی طرح اوڑھے جاتے ہیں ۔ مگر جینا کفن کی طرح ایک ہی لبادے کا محتاج رہتا ہے ۔ برداشت دکھ جھیلنے اور درد سہنے میں طاقت کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے ۔
نقصان عدم اعتماد پیدا کرتا اور بھروسہ کو پامال کرتا ہے ۔ فائدہ تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے ۔ مقدر کے سمندر میں سکندر کی ناؤ بہاتا ہے ۔ انسان سوچتا وہی ہے جو پانا چاہتا ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہو ۔
زندگی میں خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ خوشی موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔ اور مواقع حسد ، رقابت ، لالچ اور نفرت سے کھوتے چلے جاتے ہیں ۔ مزاج مسلسل بگڑے رہنے سے رویے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر دوست دوست نہیں رہتے ۔ محبوب بھی محبوب نہیں رہتے ۔ عیوب کی نظر بد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جیسے ساحل سمندر پر لہریں پاؤں کے نیچے سے ریت سرکا نے سے توازن بگاڑتی اور پھر ساتھ بہانے کی ضد میں ایک کے بعد ایک لہر دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتی ہے ۔جو سنبھلنے اور پاؤں جمانے کی مہلت دینے میں بخل سے کام لیتیں ہیں ۔
محنت سے جوڑی گئی ایک ایک اینٹ جب ایک دوسرے سے کٹ جائے تو صرف ملبہ کے ڈھیر کی صورت میں رہ جاتی ہے ۔ عمارت نقش و نگار سے مزین اور نظر اُٹھا کر دیکھنے میں خوبصورتی کا مجسمہ بنتی ہے ۔نظریں جھکانا احتیاط یا تابعداری میں رہتا ہے ۔ دیکھنے والی آنکھ وجود کا ہی حصہ ہیں مگر نظر میں جزب کی کیفیت روح سے مزین ہے ۔
زمین میں بیج بو کر آبیاری سے ثمر کے حصول تک پروان چڑھانا ایک عمل کا نتیجہ ہے ۔ مگر جس زمین کی تاثیر سے شاخوں میں پھول کھلتے اور رس گھلتے ہیں ۔ وہ جڑوں سے پہنچنے والی طاقت ،مٹی میں عمل تبخیر آبگیری تک آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے ۔
جو درخت گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ، دھوپ سے بچاتے تو سردی میں وہی اپنے سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر انھیں کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ موسم میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے تک انتظار میں رہا جاتا ہے ۔ مگر انسان بھلائی نیکی کرنے والے کی ایک غلطی یا خامی کو حالات کی درستگی تک ٹھیک ہونے کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔بلکہ محبت کی ڈوری سے بندھے رشتے ناطے کو نفرت اور غرض کی آری سے کاٹنے کے درپے رہتا ہے ۔ چشمہ سے ابلتا پانی گرمی میں ٹھنڈک کا احساس دلاتا اور موسم سرما میں یخ بستہ سردی کا احساس مٹاتا ہے ۔ مٹی سے بنا انسان مٹی سے اٹ جانے کو گندگی تصور کرتا ہے ۔ لباس اور وضع قطع سے منفرد اور مسحور کر دینے کی بے لگان خواہش سے عزت ومنزلت اور جاہ و مرتبہ کا متمنی رہتا ہے ۔
آزادی سرکش اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جسے قانون کی کاٹھی سے موافق بنایا جاتا ہے ۔ مگر نفس پھر بھی سرکشی پر مائل رہتا ہے ۔اگر روح کا بار وجود پر بھاری پن کا احساس بڑھا دے تو خلوت کا احساس بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ترغیب گناہ کی لذت کا احساس ضمیر اور خواہش کے درمیان فاصلے مٹاتا چلا جاتا ہے ۔
خوشی لزت سے آشنا ہوتی ہے اور غم خوف سے ۔
غم کے آنے میں غم ہے تو جانے میں خوشی ۔ خوشی کے آنے میں خوشی ہے تو جانے میں غم ۔
جو اسے رضا جان لے تو رضائے الہی سے قلب اطمینان میں دھڑکتا ہے وگرنہ اچھل اچھل بھڑکتا ہے ۔

بادشاہ

آہنگ ادب -

لفظ ”بادشاہ“ کے ساتھ میرا تعلق تقریباً اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ میری عمر ہے۔ بچپن میں پہلی دفعہ ماں جی کو یہ دعا دیتے سنا تھا کہ ”بیٹا! اللہ میاں تجھے بادشاہ بنا دے“ اُسی دن سے میرے ننھے سے ذہن میں دو باتیں بیٹھ گئیں ۔ ایک یہ کہ اللہ میاں کوئی [...]

غربت کا بہانہ

درویش خراسانی -

کچھ لوگ دوسروں کو یہ کہہ کردوسری شادی سے روکتے ہیں کہ پہلی بیوی کے اخراجات پورے نہیں ہورہے اور تم دوسری کی بات کرتے ہو۔ دراصل آج کل کے زمانے میں جو مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں Filed under: گل دستہ (کاپی پیسٹ) Tagged: پہلی بیوی, دوسری شادی, شادیاں

سرسید احمد خان قومی رہنما یا انگریز کا زر خرید ایجنٹ

سعد (بنیاد پرست) -

سرسید احمد خان  ہمارے ملک کے بہت سے لوگوں کے لیےانتہائی محترم ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک وہ دنیا کی ایک مخصوص "برادری" کے متحرک فرد تھے،  خود  ہمارے سامنے سکولوں کالجوں میں سرسید احمدخان کو ایک عظیم قائدکے طور پر پیش کیا گیا، آج بھی  انکی تصویر ہر سکول کالج میں لٹکی نظر آتی ہے،   جسے ہماری قوم کا ہر بچہ آتے جاتے دیکھتا ہے اور صبح شام ان کی عظمت کا قائل ہوتا جاتا ہے ۔کئی دفعہ ان کی معتبر شخصیت اور تاریخی کارناموں  پر لکھنے کا ارادہ کیا  لیکن  توفیق نہ ہوسکی ۔ چند دن پہلے  خان صاحب کی ایک کتاب پڑھنے کو ملی جس میں خود خان صاحب نے اپنا نظریہ، اپنے خیالات و افکار نہایت خوبی سے بیان فرمائے ہیں۔ اس کتاب کی مدد سے ان پر کچھ لکھنے کا ارادہ  اس لیے پختہ ہوتا گیا کہ ایک متنازع شخصیت کے متعلق فیصلہ کرنا  عام طور پر کافی مشکل ہوتا ہے لیکن یہاں  انکی اپنی تحریر جو بدست خود بقلم خود تھی ’ ہاتھ آگئی تھی۔ آئیے دیکھتے ہیں خود وہ اپنی تحریروں کے بین السطور میں اپنا تعارف کس انداز میں کرواتے ہیں۔ جناب کی تحریر کردہ کتاب " مقالات سرسید" کے مندرجات اس مخمصے سے نکلنے میں یقینا ہماری مدد کریں گے۔
۔1857 کی جنگ آزادی مسلمانان برصغیر کی طرف سے فرنگی سامراج کے خلاف جہاد کی شاندار تاریخ ہے۔ مسلمانان برصغیر اس پر جتنا فخر کریں کم ہے کہ انہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں دنیا کے سب سے مضبوط ترین اور ظالم ترین استعمار سے ٹکر لی اور اسے ہلا کررکھ دیا۔ ایسی  قربانیوں کے تسلسل سے ہی ہم نے آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھا، لیکن سرسید صاحب اس جدوجہد پر خاصے ناراض اور برہم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں
" جن مسلمانوں نے ہماری سرکار کی نمک حرامی اور بدخواہی کی، میں ان کا طرف دار نہیں۔ میں ان سے بہت ذیادہ ناراض ہوں اور حد سے ذیادہ برا جانتا ہوں، کیونکہ یہ ہنگامہ ایسا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کے بموجب عیسائیوں کے ساتھ رہنا تھا، جو اہل کتاب اور ہمارے مذہبی بھائی بند ہیں، نبیوں پر ایمان لائے ہوں ہیں ، خدا کے دیے ہوئے احکام اور خدا کی دی ہوئی کتاب اپنے  پاس رکھتے ہیں، جس کا تصدیق کرنا اور جس پر ایمان لانا ہمارا عین ایمان ہے۔ پھر اس ہنگامے میں جہاں عیسائیوں کا خون گرتا، وہیں  مسلمانوں کا خون گرنا چاہیے تھا۔ پھر جس نے ایسا نہیں کیا، اس نے علاوہ نمک حرامی اور گورنمنٹ کی ناشکری جو کہ ہر ایک رعیت پر واجب ہے ’کی ، اپنے مذہب کے بھی خلاف کیا۔ پھر بلاشبہ وہ اس لائق ہیں کہ ذیادہ تر ان سے ناراض ہواجائے:۔(مقالات سرسید، صفحہ 41
انگریز سرکار کے متعلق  سرسید صاحب کے  دلی خیالات خود انکی زبانی سنتے ہیں :۔
" میرا ارادہ تھا کہ میں اپنا حال اس کتاب میں کچھ نہ لکھوں کیونکہ میں اپنی ناچیز اور مسکین خدمتوں کو اس لائق نہیں جانتا کہ ان کو گورنامنٹ  (فرنگی)کی خیر خواہی میں پیش کروں۔ علاوہ اس کے جو گورنامنٹ نے میرے ساتھ سلوک کیا وہ درحقیقت میری مسکین خدمت کے مقابل میں بہت ذیادہ ہے اور جب میں اپنی گورنمنٹ کے انعام و اکرام کو دیکھتا ہوں اور پھر اپنی ناچیز خدمتوں پر خیال کرتا ہوں تو نہایت شرمندہ ہوتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ نے مجھ پر اسے سے ذیاہ احسان کیا ہے جس لائق میں تھا، مگر  مجبوری ہے کہ اس کتاب کے مصنف کو ضرور ہے کہ اپنا حال اور اپنے خیالات کو لوگون پر ظاہر کرے ، تاکہ سب لوگ جانیں کہ اس کتاب کے مصنف کا کیا حال ہے ؟ اور اس نےاس ہنگامے میں کس طرح اپنی دلی محبت گورنمنٹ کی خیر خواہی میں صرف کی ہے ؟" ۔(مقالات سرسید، صفحہ 44)
اس کے عوض میں جناب کو کیا ملا، پڑھیے




مسکین خدمت کے مقابلے میں حد سے ذیادہ انعام و اکرام کے اقرار کی روداد تو آپ نے " بقلم خود" سن لی۔ انگلش گورنمنٹ سے محبت و یگانگت اور رفاقت و خیر خواہی کا سلسلہ قائم کروانے کے لیے خاں صاحب عمر بھر کوشاں رہے۔ 1857 کا یادگار واقعہ رونما ہوا  جس میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کیے بغیر  تمام   محب وطن ہندوستانیوں نے ملی فریضہ سمجھ کر جوش وخروش سے حصہ لیا۔ اس موقع پر خاں صاحب کا رویہ لائق مطالعہ ہے۔ ادھر مجاہدین  مسلط  سامراج کے خلاف زندگی موت کی جنگ لڑ رہے تھے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے تھے، ادھر ہمارے مصلح قوم اس کو " غدر" قرار دیتے ہوئے کیا کارگزاری سنا تے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
" جب غدر ہوا، میں بجنور میں صدر امین تھا کہ دفعتا سرکشی میرٹھ  کی خبر  بخنور میں پہنچی۔ اول تو ہم نے جھوٹ جانا، مگر یقین ہو اتو اسی وقت سے میں نے گورنمنٹ کی خیر خواہی اور سرکار کی وفاداری پر چست کمر باندھی ۔ ہر حال اور ہر امر میں مسٹر الیگزینڈر شیکسپیئر کلکٹر و مجسٹریٹ بجنور کے شریک رہا۔ یہاں تک کہ ہم نے اپنے مکان پر رہنا موقوف کردیا"۔
سبحان اللہ ! یہ تو تھا جذبہ جاں سپاری۔  اس سے بھی آگے بڑھ کر حال یہ تھا کہ خاں صاحب اپنی جان کو اتنا ہلکا اور  گوری چمڑی والے گماشتے فرنگیوں کو اتنا قیمتی سمجھتے تھے کہ خود کو ان پر بے دریغ نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے۔ ارشاد فرماتے ہیں :
" جب دفعتا 29 نمبر کی کمپنی سہارن پور سے بجنور میں آگئی ۔ میں اس وقت ممدوح کے پاس نہ تھا۔ دفعتا  میں نے سنا کہ باغی فوج آگئی اور صاحب کے بنگلہ پر چڑھ گئی۔ میں نے یقین جان لیا کہ سب صاحبوں کا کام تمام ہوگیا۔ مگر میں نے نہایت بری بات سمجھی کہ میں اس حادثہ سے الگ رہوں۔ میں ہتھیار سنبھال کر روانہ ہوا اور میرے ساتھ جو لڑکا صغیر سن تھا ، میں نے اپنے آدمی کو وصیت کی : " میں  تو مرنے جاتا ہوں۔، مگر جب تو میرے مرنے کی خبر سن لے تب اس لڑکے کو کسی امن کی جگہ پہنچا دینا"۔ مگر ہماری خوش نصیبی اور نیک نیتی کا یہ پھل ہوا کہ اس آفت سے ہم بھی اور ہمارے حکام بھی سب محفوظ رہے ، مگر مجھ کو ان کے ساتھ اپنی جان دینے میں کچھ دریغ نہ تھا" ۔(مقالات سرسید، صفحہ 47)
انگریز حکام کی طرف سے خاں صاحب  پر یہ کرم نوازیاں محض وقتی نہ تھیں، انہیں باقاعدہ پنشن کا مستحق سمجھا گیا اور یوں وہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی خدمت اور خیر خواہی کا صلہ دشمنان  ملت سے پاتے رہے۔ ثبوت حاضر ہیں:
" دفعہ پنجم رپورٹ میں ہم لکھ چکے ہیں کہ ایام غدر میں کارگذاری سید احمد خان صاحب صدر امین کی بہت عمدہ ہوئی، لہذا ہم نے ان کے واسطے دوسو روپیہ ماہواری کی پنشن کی تجویز کی ہے۔ اگرچہ یہ رقم ان کی نصف تنخواہ سے ذیادہ ہے، مگر ہمارے نزدیک اس قدر روپیہ ان کے استحقاق سے ذیادہ نہیں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی ہماری تجویز کو مسلم رکھیں۔ اس واسطے کہ یہ افسر بہت لائق اور قابل نظر عنایت ہے۔ دستخط شیکسپیئر صاحب، مجسٹریٹ کلکٹر" 
۔(مقالات سرسید، صفحہ 54
ہماری روشن خیال" برادری" کے ہم خیال افراد  کی ایک بڑی علامت جہاد کا انکار ہے۔ کیونکہ جہاد یا اس سے متعلق کوئی چیز انگریز سرکار کو کسی قیمت گوارہ نہیں ۔ خان صاحب اسی مشن پر  اس فریضہ عادلہ کی تردید میں اپنے ہم عصر کذاب اکبر مرزا قادیانی کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ فرماتے ہیں :۔
" ایک بڑا الزام جو ان لوگوں نے مسلمانوں کی طرف نہایت بے جا لگایا، وہ مسئلہ جہاد کا ہے حالانکہ کجا جہاد اور کجا بغاوت۔ میں نہیں دیکھتا کہ اس تمام ہنگامہ میں کوئی خدا پرست آدمی یا کوئی سچ مچ کا مولوی شریک ہوا ہو۔ بجز ایک شخص کے۔ اور میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا آفت پڑی ؟  شاید اس کی سمجھ میں غلطی پڑی کیونکہ خطا ہونا انسان سے کچھ بعید نہیں۔ جہاد کا مسئلہ مسلمانوں میں دغا اور بے ایمانی اور غدر اور بے رحمی نہیں ہے۔ جیسے کہ اس ہنگامہ میں ہوا۔ کوئی شخص بھی اس ہنگامہ مفسدی اور بے ایمانی اور بے رحمی اور خدا کے رسول کے احکام کی نافرمانی کو جہاد نہیں کہہ سکتا"۔(مقالات سرسید، صفحہ 93، 94)
جہاد اور مجاہدین کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے، جہاد آزادی میں علمائے کرام اور مجاہدعوام کی قربانیوں کی نفی کرنے اور جہاد کے فلسفے کو داغدار کرنے کے بعد وہ مسلمانان ہند کو انگریز کی وفاداری کا دم بھرنے کی تلقین کرتے   ہیں۔ فرماتے ہیں :۔
" ہماری گورنمنٹ انگلشیہ نے تمام ہندوستان پر دو طرح حکومت پائی ۔ یا یہ سبب غلبہ اور فتح یابموجب عہدوپیمان تمام مسلمان ہندوستان کے ان کی رعیت ہوئے۔ ہماری گورنمنٹ نے انکو امن دیا اور تمام مسلمان ہماری گورنمنٹ کے امن میں آئے۔ تمام مسلمان ہماری گورنمنٹ سے اور ہماری گورنمنٹ بھی تمام مسلمانوں سے مطمئن ہوئی کہ وہ ہماری رعیت اور تابعدار ہوکر رہتے ہیں۔ پھر کس طرح مذہب کے بموجب ہندوستان مسلمان گورنمنٹ انگلشیہ کے ساتھ غدر اور بغاوت کرسکتے تھے کیونکہ شرائط جہاد میں سے پہلی ہی شرط ہے کہ جن لوگوں پر جہاد کیا جائے ان میں اور جہاد کرنے والوں میں امن اور کوئی عہد نہ ہو "   (مقالات سرسید، صفحہ 94
آہستہ آہستہ وہ اپنی رو میں بہتے ہوئے اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ مفتی اور مصلح کا منصب سنبھال لیتے ہیں۔ تمام علما اور مجاہدین، تمام محب وطن ہندوستانی انگریز کے خلاف سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے، جان مال لٹا رہے تھے اور خان صاحب انہیں مبلغ اعظم اور مصلح وقت بن کر سمجھا رہے تھے:۔

یعنی انگریز کی بدعہدی کے باوجود اس سے بغاوت جائز   نہیں۔ مسلمان   انگریز کی وفاداری واطاعت کریں ورنہ اپنا ملک چھوڑ دیں، اپنے حق کے لیے انگریز سے لڑنا حرام ہے۔ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ جو تعلیمی تحریک انہوں نے برپا کی وہ انگریز ی حکومت کے لیے بابو پیدا کرنے کی کوشش تھی یا مسلمان قوم کو دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی " عظیم خدمت" تھی؟؟؟

اس کے بعد جنگ آزادی کے مجاہدین اور علمائے کرام پر  نام نہاد وفا اور خودساختہ عہد کی پاسداری  نہ کرنے کاغصہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
" اس ہنگامہ میں برابر بدعہدی ہوتی رہی۔ سپا نمک حرام عہد کر کر پھر گئی۔ بدمعاشوں نے عہد کرکر دغا سے توڑ ڈالا اور پھر ہمارے مہربان متکلمین اور مصنفین کتب بغاوت  فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے مذہب میں یوں ہی تھا۔
 مقالات سرسید، صفحہ 99)۔)
 خان صاحب نے اس یادواشت نما کتابچے میں اور بہت کچھ لکھا ہے کہاں تک پیش کیا جائے۔ اس ڈر سے کہ مضمون کی طوالت عموما قارئین میں بددلی پیدا کرتی ہے،آخری پیرگراف پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں سرسید مسلمانوں کو تہذیب سکھلا رہے ہیں:۔
" اور ایک بات سنو کہ یہ تمام بغاوت جو ہوئی وجہ اسکی کارتوس تھا۔ کارتوس میں کاٹنے سے  مسلمانوں کے مذہب کا کیا نقصان تھا ؟ہمارے مذہب میں اہل کتاب کاکھانا درست ہے، انکا ذبیحہ ہم پر حلال ہیں (چاہیں سور کھلادیں: راقم) ہم فرض کرتے ہیں کہ اس میں سور کی چری ہوگی۔ تو پھر بھی ہمارا کیا نقصان تھا۔ ہمارے ہاں شرع میں ثابت ہوچکا ہے کہ جس چیز کی حرمت اور ناپاکی معلوم نہ ہو، وہ چیز حلال اور پاک کا حکم رکھتی ہے( کارتوس میں تو معلوم تھی جناب: راقم) اگر یہ بھی فرض کرلیں کہ اس میں یقینا سور کی چربی تھی تو اس کے کاٹنے سے بھی مسلمانوں کا دین نہیں جاتا۔ صرف اتنی بات تھی کہ گناہ ہوتا، سو وہ گناہ شرعا بہت درجہ کم تھا، ان گناہوں سے جو اس غدر میں بدذات مفسدوں نے کیے"۔(مقالات سرسید، صفحہ 105)
گویا سور جیسی ناپاک چیز کا استعمال اتنا ذیادہ گناہ نہیں جتنا انگریز جیسے غمخوار حاکم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ اس قسم کی تحریروں سے خان صاحب کی تعلیمی تحریکوں کا ہدف اور اصلاحی تحریروں کا اصل مشن سامنے آجاتا ہے اور اس میں شک وشبہ نہیں رہتا کہ مسلمانان برصغیر کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے کا ہدف اور انہیں جدید تعلیم کے نام پر انگریز کی لامذہب تہذیب میں رنگنے کا مشن انہوں نے کس لگن سے انجام دیا۔ انکی " تحریک علی گڑھ" میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے نام پر یورپ کے فرسودہ اور ناکارہ نظریات ہندوستان کے آزادی پسندوں کو پڑھائے جاتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان ہو یا پاکستان دونوں ممالک کے باشندے آج تک تعلیمی ترقی کے نام پر یورپ کا تعاقب کرتے کرتے نڈھال ہوچکے ہیں، لیکن ترقی ابھی تک سراب ہی ہے۔ یہ تو برصغیر کے باشندوں کی ذاتی ذہانت و قابلیت ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرلیں ورنہ   جدید تعلیم یافتہ حضرات تو  محض بابو گیری سیکھ کر یورپ کی نقالی تک محدود رہے۔اس جدید ترقی سے ہمیں بس اتنا حصہ ملا ہے کہ ہمارے ذہین دماغ اور قابل نوجوان امریکا و یورپ کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے پڑھ کر مغربی زندگی کی چکا چوند کے سحر میں ایسے آئے کہ وہیں کے ہوکے رہ گئے۔
سرسید کی تعلیمی تحریک کے سیل رواں میں خس و خاشاک کی طرح مشرق کے باسیوں کے بہنے کے باوجود  انکے حصے میں وہی پرانا مٹکا آیا، بلوریں جام تو ان کی پہنچ سے دور ہی رہے۔ مغربی محققین کے لیے جو تعلیم وتحقیق فرسودہ ہوجاتی ہے تو وہ ڈسٹ بن میں پھینکنے سے بچانے کے لیے ہمارے ہاں بھجوادیتے ہیں اور اصل ٹیکنالوجی اور اس کے حصول کے ذرائع کی ہوا نہیں لگنے دیتے، لہذا ہمارے ہاں سائنس نے کبھی رواج پایا  نہ ہی ہمارے تعلیمی اداروں میں تحقیق کا مزاج بنا۔ البتہ ہماری نسل کی نسل  "ہمٹی ڈمٹی" ٹائپ کے نیم مشرقی نیم مغربی ہندوستانیوں میں تبدیل ہوگئی اور بابوؤں کی کھیپ کی کھیپ پیدا ہوکر شکل وصورت کے ہندوستانی اور فکرو طرز زندگی کے لحاظ سے انگلستانی بنتے گئے۔ اس  سارے کارنامہ کا کریڈٹ  خاں صاحب کو جاتا ہے جن کی دلی خواہش پوری ہوئی ان کے تعلیمی اداروں نے  انگریز کی حکومت کے لیے وفادار کلرک اور بابو  تیار کر کر کے فراہم کیے ، یہ وفادار ملازم انگریز کی غلامانہ اطاعت تو کرسکتے تھے، اس سے ٹکرانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
تحریکات سیاسی ہوں یا تعلیمی۔۔۔۔ ان کو ان شخصیات کے نظریات کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے جنہوں نے انہیں برپا کیا اور کسی شخصیت کے نظریات کی  ترجمانی اس کی اپنی تحریرات سے ذیادہ بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔ اسی اصول کو سامنے رکھ کر ہم نے خاں صاحب کی برپا کردہ تحریک کو اس مضمون میں جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی  ، شاید کہ ہماری قوم حقیقت اور سراب کا فرق سمجھ لے، جدید تعلیم کو جدید تہذیب سے الگ کرکے دیکھنا شروع کردے اور ترقی کی خواہش میں مغرب کی ایسی نقالی نہ کرے کہ اپنی چال بھول جائے۔

عمران خان،ن لیگ اورابرارالحق

فرحان دانش -

آج کل لاہور میں جلسے جلسوں اورریلیوں کا زور ہے۔ جسے دیکھو وہ اپنی سیاست چمکا رہا ہے۔27 اکتوبر کومعروف گلوکار ابرارالحق کی "پاکستان بچاؤ ریلی" ناصرباغ میں ہونی ہے۔ 28 اکتوبرکون لیگ کی نواز شریف کی زیر قیادت " زرداری ہٹاؤ مُلک بچاؤ "ریلی ناصر باغ سے بھاٹی گیٹ پرمنعقد ہوگی اور30اکتوبرکو تحریکِ انصاف کا عمران خان کی قیادت میں مینارپاکستان پر"پاکستان بچاؤ"جلسہ ہونا ہے۔
 میڈیا اطلاعات کے مطابق دونوں جماعتیں اور ابرارالحق بڑ ی گرمجوشی سےتیاریوںمیں مصروف ہیں۔ لاہور کی اہم شاہراوں پر دونوں جماعتوں اور ابرارالحقکے بڑے بڑے پوسٹرز آویزاں ہوچُکے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ دنگل کون جیتتا ہے۔

غیرضروری تعطیلات

فرحان دانش -

 چھٹیوں کے شوقین لوگوں کیلئےبطورخاص ایک نظم
بڑوں کو اور چھوٹوں کو انہیں صدمات نے مارا
مجھے دفتر انہیں کالج کی تعطیلات نے مارا

کبھی سردی کی چھُٹی ہے، کبھی گرمی کی چھٹی ہے
یہ سب اس کے علاوہ ہیں جو ہٹ دھرمی کی چھٹی ہے

کبھی تعطیل کھانے کی، کبھی تعطیل پینے کی
پڑھائی دو مہینے، چھٹیاں ہیں دس مہینے کی

ابھی پرسوں تو رنگینیئ حالت کی چھٹی
پھر اُس کے بعد پورے ماہ ہے برسات کی چھٹی

کبھی اسکول میں اُستاد کے سردرد کی چھٹی
ہوائے سرد چل جائے تو پھر ہر فرد کی چھٹی

کبھی افسر کو تھوڑا بخار آ جائے تو چھٹی
کبھی سسرال سے بیگم کا تار آجائے تو چھٹی

کبھی ٹیبل پہ رکھ پاؤں سو جانا بھی چھٹی ہے
کبھی دفتر سے اُٹھ کر گول ہو جانا بھی چھٹی ہے

ابھی تو درد کے آثار کچھ باقی ہیں سینے میں
ابھی تو بیس ہی ناغے ہوئے ہیں اس مہینے میں

غرض جو تین سو پینسٹھ دنوں کے گوشوارے میں
ہمارے تین سو دن ہیں فقط پینسٹھ تمہارے ہیں
شاعر: نامعلوم

”خواب اور تجربے“ ۔۔ از شاہد حمید

محمود مغل -

معاملہ ہے جو درپیش‘ہے وہ پیشِ نظرکوئی مثال نہیں دوسری مگر ہے بھی یہ وہ زمانہ ہے کہ اپنے احوالِ ناگفتہ بہ پر شکوہ سنج زمانہ بھر ہے۔ زمانہ معاشرے یا معاشروں کے اجتماعی وجودوں سے متشکل ہوتا ہے۔ آسانی سے یہ بات اِس طرح بھی قابلِ فہم کہی جا سکتی ہے کہ گویا ہر معاشرے کا ہر فرد شکوہ سنجی کی تصویرِ فردِ عمل بنا ہُوا ہے۔ یہ زمانہ کس کا ہے، یہ ہمارا زمانہ ہے یعنی گذشتہ زمانوں کا جدید تر زمانہ موجودہ زمانہمحمد محمود مغلnoreply@blogger.com0

دو سیاستدان ایک مستقبل

فرحان دانش -

آج کل میڈیا عمران خان کو بہت پروموٹ کر رہا ہے اور خود عمران خان نے جب سے ایک سال قبل دھرنے دیئے تھے خود کو آنے والے وقت کا وزیر اعظم سمجھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ مثال بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ وزیر اعظم ہوتے تو ایسا کرتے ویسا کرتے ایک ہاتھ سے وہ صدر زرداری کو للکارتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے وہ نوا ز شریف کی خبر لیتے ہیں۔ ایسی چٹ پٹی خبروں کو میڈیا والے خوب مزے لے کر اچھالتے ہیں تو عمران خان اور اُن کی پارٹی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ واقعی اگر وہ وزیر اعظم بن گئے
تو وہ دونوں پہلوانوں کو ایک ہی وار میں چت کر لیں گے۔ حالانکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ایک امیدوار جن کا لقب کھگاتھا جو اپنے والد کی جعلی ڈگری کی وجہ سے نشست کھو بیٹھے تھے مسلم لیگ (ق) جس کو پی پی پی کی بھی پوری حمایت حاصل تھی ہرا کر دگنے ووٹوں سے کامیاب ہوئے اور تیسرے امیدوار جن کا تعلق تحریکِ انصاف یعنی عمران خان کی پارٹی سے تھا نہ صرف ہار گئے بلکہ اپنی ضمانت بھی ضبط کروا بیٹھے۔ پتہ نہیں عمران خان نے اس سے سبق حاصل کیا یا وہ ابھی تک اقتدار کے سہانے سپنے دیکھ رہے ہیں۔ اب جبکہ ہمارے سندھ کے روحانی پیشوا پیر پگارہ صاحب نے 22نومبر 2011ء تک سیاسی بساط کے الٹ جانے کی پیشگوئی کی ہے یار لوگ عمران خان کے پلڑے میں اقتدار ڈالنے سے تشبیہ دے رہے ہیں اور بنگلہ دیش کی طرزِ انقلاب کی بھی پیشگوئی گزشتہ 2سال سے ہم سب سن سن کر حیران ہو رہے ہیں کہ ہر6ماہ بعد اس قسم کی ریڈی میڈ افواہ پھیلا کر حکمرانوں کو خبردار کر دیا جاتا ہے جس سے حکمران پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل رک جا تا ہے البتہ مسلم لیگ (ن) والے حسرت سے ان کی آنیاں جانیاں دیکھ کر مزید مایوس ہو جاتے ہیں ایسے میں مسلم لیگ (ق) والے حکومتی ٹرین میں سوار ہو کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں توجے یو آئی والے اقتدار کی چلتی ٹرین سے اتر کر پچھتا رہے ہیں۔
راقم نے ماضی میں 10سال اصغر خان کی تحریک استقلال میں 1977ء سے 1986ء تک کئی اعلیٰ عہدوں پر وقت گزارا ہے اور اصغر خان کی سیاست کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے۔ مجھے اصغر خان اور عمران خان کی سیاست میں بہت مماثلت نظر آتی ہے بہت سے ان دونوں حضرات کے فیصلے ایک ہی جیسے ہیں مثلاً جب جنرل ضیاء الحق نے پی پی پی کا تختہ الٹا تو اصغرخان نے ضیاء الحق کی بڑی بڑی تعریفیں کیں اور بھٹو صاحب کو مارشل لاء کا مورد ِالزام ٹھہرایا اور پھر بعد میں انہی اصغر خان نے اس وقت کے قومی اتحاد سے سب سے پہلے علیحدگی اختیار کر کے ضیاء الحق کے خلاف سیاست شروع کر دی ۔ عمران خان نے ایسا ہی کچھ کیا جب پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف کا تختہ الٹا تو سب سے پہلے پرویز مشرف کی تعریفیں کرنے والوں میں عمران خان سب سے آگے تھے وہ بھی پرویز مشرف کے وزیر اعظم کے امیدوار تھے مگر جب پرویز مشرف نے ان کو لفٹ نہیں دی تو عمران خان نے پرویز مشرف کے خلاف ان کی پالیسیوں پر زبردست تنقید شروع کر دی اور ہر ایک ان کی نظر میں کرپٹ تھا وہ بھی اصغرخان کی طرح صرف ایک مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست سے کامیاب ہوئے اور پھر کبھی یا تو انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا یا پھر وہ ناکام ہوئے ۔یہ دونوں حضرات عوام میں کرپشن کے خلاف تقاریر کرنے میں شہرت رکھتے ہیں عوام ان کی باتوں سے متاثر ہوتے ہیں مگر ووٹ جا کر انہی پرانے کھلاڑیوں کو دیتے ہیں جن کی پشت پناہی جاگیرداروں ، وڈیروں اور چوہدریوں کی ہوتی ہے۔ آج کل عمران خان نے سب سے پنگا لے رکھا ہے ہر صوبے کی بڑی جماعت کو وہ برا بھلا اور کرپٹ گردانتے ہیں، پرویز مشرف جو آج کل خود ساختہ جلاوطنی گزار رہے ہیں ان کو بھی عمران خان کرپٹ سمجھتے ہیں۔ امریکہ کے تو وہ اصغر خان کی طرح ازلی دشمن ہیں ، حالانکہ دونوں کو معلوم تھا کہ بغیر امریکہ کی آشیر باد کے یہاں ایک وزیر خارجہ بھی نہیں لگ سکتایہی وجہ ہے کہ نواز شریف بھی امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے 8سال اقتدار کھونے کے علاوہ جلاوطنی بھگت چکے ہیں۔ اگر آج بھی الیکشن ہوں تو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا ہی کانٹے کا مقابلہ ہو گا اصغر خان ساری زندگی سیاست میں گزار کر اپنے سخت فیصلوں کی وجہ سے آج گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسا کچھ عمران خان کی پارٹی کا بھی یہی مستقبل نظر آتا ہے۔ کرکٹ کی کپتانی، سیاسی کپتانی سے مختلف ہوتی ہے اس میں ایک طرف عوام کی خوشنودی ہے تو دوسری طرف سیاسی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اصغر خان نے بھی اکثر فیصلے غلط کئے تو کبھی وہ اقتدار کے پاس سے گزر گئے تو کبھی اقتدار ان کے پاس سے گزر گیا۔ کبھی وہ سیاسی الائنس بنانے میں جلدی کرتے تھے تو کبھی وہ الائنس سے نکلنے میں جلدی کر جاتے تھے بقول پیر پگارہ صاحب کے ، ان کی پارٹی میں نہ تحریک تھی نہ استقلال بالکل اسی طرح عمران خان کی پارٹی میں نہ تحریک ہے اور نہ انصاف ، کیونکہ جو لوگ بھی ان کو سیاست میں لائے تھے ان سے اختلاف کر کے وہ ایک ایک کر کے ان کی پارٹی سے نکل چکے ہیں اور جو رہ بھی گئے ہیں وہ ان میں سیاسی لچک نہ ہونے کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔ اگر کوئی معجزہ ہو جائے تو وہ اقتدار میں آسکتے ہیں ووٹوں کی گنتی سے وہ اقتدار میں نہیں آسکتے ، البتہ باہر بیٹھ کر اصغرخان کی طرح میڈیا کی ضرورت وہ پوری کرتے رہیں گے ۔ عمران خان کو عوام ان کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر چندہ تو دے سکتے ہیں مگر ووٹ دینے میں ان کی رائے مختلف ہی ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ جو نوٹ دیتی ہے وہ بدقسمتی سے الیکشن میں ووٹ نہیں ڈالتی اور جو ووٹ ڈالنے والے ہیں وہ نوٹ نہیں دیتے۔تحریر: خلیل احمد نینی تال والابشکریہ: جنگ کراچی

تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (2)

محمد اسد -

(گزشتہ سے پیوستہ)

اگلی صبح تقریباً آٹھ بجے کیفے میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر ورکشاپ ہال کی راہ لی۔ چند لوگ پہلے ہی وہاں موجود تھے اور کچھ بعد میں وہاں پہنچے جن میں نئے چہرے بھی نظر آئے۔ منظور علی اور اشرف الدین کی جوڑی، جن سے ہم گزشتہ رات ملاقات کر چکے تھے، 9 بجے کے بعد پہنچی۔ وجہ معلوم کی تو اشرف الدین نے بتایا کہ منظور علی کو کل رات بخار ہوگیا تھا۔ یہ بات تو بعد میں پتہ چلی کہ خود منظور علی کو اس کا علم نہیں تھا کہ انہیں کب بخار ہوا اور کب خودبخود اتر بھی گیا۔

بہرحال، ورکشاپ کے منتظم لالا حسن (پی پی ایف) نے باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اپنا اور پی پی ایف کا مختصر تعارف کروایا۔ یوں ورکشاپ کی شروعات تو ہوگئی لیکن شرکاء کے تفصیلی تعارف کا اہم مرحلہ ابھی باقی تھا۔ اس کام کے لیے ہماری انسٹرکٹر سندس رشید نے بڑا دلچسپ طریقہ اپنایا۔ چونکہ پہلے روز ہر کوئی اپنی جان پہچان والے کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے انہوں نے ہر دوسری نشست پر بیٹھنے والے کو اپنی نشست سامنے بیٹھے شخص سے تبدیل کرنے کا کہا۔ یوں وہ ترتیب جو شرکاء کی مرضی سے بنی تھی بالکل تبدیل ہوگئی۔ اب انہوں نے ورکشاپ کے تمام شرکاء کو کہا کہ وہ اپنے تعارف اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے کروائیں اور پھر دونوں ایک دوسرے کے بارے میں باقی شرکاء کو بتائیں گے۔

مجھے ذاتی طور پر یہ طریقہ بہت پسند آیا۔ اس سے نہ صرف تمام شرکاء میں ہچکچاہٹ کا خاتمہ ہوا بلکہ ورکشاپ کا ماحول بھی خوشگوار ہوگیا۔ اسے حسن اتفاق کہیں کہ میرے ساتھ جو شخصیت بیٹھی، یعنی جس کا مجھے اور جس نے میرا تعارف کروانا تھا، وہ ہماری انسٹرکٹر سندس رشید ہی تھیں۔ پہلے میں نے ان سے کچھ سوالات کیے اور پھر انہوں نے میرے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سندس رشید چونکہ ڈان گروپ کے سٹی ایف ایم 89 میں پروگرام منیجر ہیں، اس لیے میں نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ڈان نیوز (ٹی وی چینل) کی زبان انگریزی سے اردو کیوں ہوگئی؟ جواباً انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے خیال میں انگریزی کے برعکس اردو چینلز کو عوام میں زیادہ پزیرائی حاصل ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اردو کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔

میں نے سندس رشید کو اپنا تعارف بطور اردو بلاگر کروایا اور کرک نامہ سے اپنی وابستگی کے بارے میں بھی بتایا۔ کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے سوال پر میں نے انہیں پاک اردو انسٹالر کے متعلق بتایا کہ اب صرف ٹرانسلٹریشن یا انپیج نہیں بلکہ کسی بھی آپریٹنگ سسٹم کے کسی بھی سافٹ ویئر میں اردو براہ راست لکھی جاسکتی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے شرکاء کو میرا تعارف کرواتے ہوئے بھی کرک نامہ کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔

اس کے بعد سندس رشید نے سوشل میڈیا کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے، معلومات کی درست اور تیز تر فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صحافی اپنے فیس بک، ٹویٹر اکاؤنٹ اور بلاگ کے ذریعے اپنی ذاتی جدگانہ حیثیت بناسکتے ہیں جو مستقل میں ان کے کام آسکتی ہے، مثال کے طور پر کوئی صحافی بڑی محنت سے کوئی تحقیق، خبر یا کوئی ویڈیو پیکیج بناتا ہے، لیکن اس کا چینل کسی وجہ سے اسے نشر نہیں کرتا یا زیادہ اہمیت نہیں دیتا تو وہ اسے اپنے بلاگ پر با آسانی رکھ سکتا ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اکثر صحافی فیس بک سے تو واقف تھے لیکن ٹویٹر اور بلاگنگ کے بارے میں بہت کم جانتے تھے، اس لیے سب کو فیس بک، ٹویٹر، بلاگ اسپاٹ، پکاسا اور یوٹیوب پر اکاؤنٹ بنانے کا مکمل طریقہ بتایا گیا اور پھر ان کے فوائد و استعمال کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران انہوں نے میرا بلاگ بلاعنوان بھی شرکاء کو دکھایا۔ خوش قسمتی سے ان کے لیپ ٹاپ میں جمیل نوری نستعلیق موجود تھا، اس لیے بلاگ کافی اچھا نظر آیا۔ شاید سندس رشید کے ذہن میں اسے بطور نمونہ لے کر استعمال کرنے کا ارادہ ہوگا تاہم اس کے ڈاٹ کام ڈومین اور ورڈپریس پلیٹ فارم کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔ وہاں موجود چند ساتھیوں نے پاک اردو انسٹالر اپنے لیپ ٹاپ میں انسٹال کیا اور پھر اردو لکھی تو انہیں خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ جو کام انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے وہ تو حقیقت میں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

صحافی چاہے اخبار کے لیے کام کرتا ہو یا ٹیلی ویژن چینل کے لیے اس کا براہ راست تعلق خبر سے ہوتا ہے، اس لیے ورکشاپ میں خبر اور بلاگ میں مماثلت اور مختلف انداز مثلاً inverted pyramid، chronological اور narrative کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ اگلے روز 300 الفاظ کا بلاگ لکھنے کے اسائنمنٹ کے ساتھ ورکشاپ کا پہلا دن اختتام پزیر ہوا۔ ورکشاپ کے دوران میں نے بھی اپنے انگریزی بلاگ کی بنیاد رکھ ہی دی لیکن مجھے خود علم نہیں کہ آیا میں اس پر کب اور کتنا لکھ سکوں گا۔

کمروں میں چونکہ انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا تھا، اس لیے مچھروں اور دیگر اقسام کے کیڑے مکوڑوں کے باوجود وقت باہر گزارنا پڑا۔ شام کو کچھ دیر سستانے کے بعد سب مل کر چہل قدمی کے لیے نکلے لیکن عربین سی کنٹری کلب انتظامیہ کی طرف سے گالف کورس پر چلنے اور بیٹھنے پر پابندی کے باعث جلد ہی ہوٹل میں واپس آنا پڑا۔ کھانے سے قبل محبوب علی (جیو نیوز) نے صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس) سے اپنے علاقائی ڈانس کی فرمائش کی جو اس شرط پر پوری ہوئی کہ ورکشاپ کے دیگر شرکاء بھی کوئی گیت، غزل، لطیفہ سنائیں یا پھر ڈانس کریں۔

اس سلسلے کا آغاز میری ساتھی کولیگ شینا سومرو (پی پی ایف) کی گائیکی سے ہوا۔ پھر ہارون سراج (دی نیشن / ریڈیو پاکستان)، صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس)، محبوب علی (جیو نیوز)، عرفان اللہ (وائس آف امریکا)، وصی قریشی (انڈس ریڈیو)، شہزاد بلوچ (ایکسپریس ٹریبیون)، بلال فاروقی (روزنامہ آغاز)، راقم (پی پی ایف)، درشہوار چننا (پی پی ایف) اور اشرف الدین پیرزادہ (دی نیوز) کے بعد آخر میں سندس رشید نے بھی اس سلسلے میں حصہ لیا۔ پہلے تو میں نےاپنی باری آنے پر معذرت کرلی کہ مجھے سرے سے کوئی لطیفہ، نظم یا غزل یاد ہی نہیں جس پر مجھے 300 الفاظ (وہ بھی انگریزی میں) بلاگ لکھنے کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا سے بچنے کے لیے میں نے موبائل غزل ‘کہانی درد کی میں زندگی سے کیا کہتا’ ہی پیش کرنے میں خیر سمجھی۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کا وقت ہوگیا اور ہم کھانا کھا کر کمرے میں چلے گئے۔ لیکن مسئلہ وہی کہ کمرے میں انٹرنیٹ ہی موجود نہیں اور اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ اس وجہ سے کمرے سے باہر نکل کر اور ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کچھ اور ساتھی پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ وہاں بیٹھ کر مزید گپ شپ کی اور کچھ بلاگ اسائنمنٹ پر بھی کام کیا۔ اس دوران ہمارے ایک اور ساتھی عدنان رشید ہوٹل پہنچے جنہیں میرا روم میٹ بنا دیا گیا۔ عدنان رشید سے تعارف کے بعد ہم پھر بستر میں گھس گئے۔

(اگلا حصہ)

الیکٹرونیات کے حروف تہجی

محمد اشفاق راجپوت (الیکٹرونیات) -

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جس طرح کسی بھی زبان میں الفاظ اور جملے حروف تہجی سے ملکر بنتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرونیات میں بڑے بڑےسرکٹ چاہے وہ اینا لاگ سسٹم ہوں یا پیچیدہ ڈیجیٹل سسٹم الیکٹرونیات کے حروف تہجی سے ملکر بنتے ہیں۔
اور وہ حروف تہجی ہیں رزسٹنس (Resistance)، کیپسٹینس (Capacitance)، اور انڈکٹنس (Inductance)

 

رزسٹنس (Resistance): کرنٹ کے بہاؤ میں مزاحمت۔ اور کرنٹ الیکٹرونز کے بہاؤ کو کہتے ہیں۔ آپ ایسے تصور کرلیں جب آپ ذیادہ بھیڑ والی جگہ پر چلوگے تو ذیادہ رکاوٹ ہوگی اور کم بھیڑ والی جگہ پر کم رکاوٹ محسوس ہوگی یہی حال بے چارے الیکٹرونز کا ہے حرکت کرتے کرتے اس شے کے دیگر ایٹموں میں موجود دوسرے الیکٹرونز سے ٹکرا جاتے ہیں۔
کنڈکٹرز(Conductor) میں بہت کم رزسٹینس ہوتی ہے، اور انسولیٹر (Insulator) میں بہت ذیادہ رزسٹینس ہوتی ہے۔

جب بھی کرنٹ بہتا ہے تو اس میٹریل میں اس کرنٹ کے حساب سے مقناطیسی فیلڈ بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

 

کیپسٹینس (Capacitance): الیکٹرک چارج کو اسٹور کرنے کی صلاحیت۔ تقریباً ہر میٹریل میں چارج اسٹور کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کسی میں بہت بہت کم اور کسی میں بہت ذیادہ۔ جب دو میٹریل کے درمیان گیپ آجائے چاہے مائکرومیٹرز میں ہو۔ تب اس چیز میں یہ صلاحیت ابھر آتی ہے۔ کسی بھی سرکٹ میں اس حروف تہجی یعنی (Capacitance)کا استعمال عموماً سگنل کی فریکونسی کے اثرات پر کنٹرول کے لئے ہوتا ہے۔

 

انڈکٹنس(Inductance): مقناطیسی چارج (Magnetic Flux)کو اسٹور کرنے کی صلاحیت۔ تقریباً ہر میٹریل میں مقناطیسی چارج اسٹور کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کسی میں بہت بہت کم اور کسی میں بہت ذیادہ۔ جب کوئی میٹریل موٹائی اور چوڑائی میں سکڑتا جاتا ہے جب اس میٹریل کی موٹائی اور چوڑائی چند ملی میٹرز میں ہو۔ تب اس چیز میں یہ صلاحیت ابھرآتی ہے۔ اور کسی بھی سرکٹ میں اس حروف تہجی یعنی (Inductance) کا استعمال عموماً سگنل کی فریکونسی کے اثرات پر کنٹرول کے لئے ہوتا ہے۔

Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator