Feed aggregator

ھندوستانی ٹھگ

جوانی پِٹّے کا بلاگ -


انگریز ھندوستان پر قبضے کے دوران اپنی جن سماجی کامیابیوں کا تذکرہ بہت فخر سے بیان کرتے ھیں، ان میں سے ایک ٹھگوں کے منظم گروہوں  پر قابو پانا ھے، جو کہ پندرھویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک تین سو سال تک ھندوستان بھرکے راستوں میں  دھڑلّے سے منڈلاتے رھے۔
 ان کی وارداتیں  اتنی بڑھ گئی تھیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے  قابو پانے کے لیے کیپٹن ولیم سلی مین کی سربراھی میں ایک سپیشل سیل تشکیل دیا گیا۔  اس سیل کی  تفتیش اور کاروائی کی تفصیلات  نے انگلستان میں اتنی سنسنی پھیلا  دی کہ رڈیارڈ کپلنگ سمیت بہت سے لوگوں نے ٹھگوں کے قصے لکھ لکھ کر ٹھگ کالفظ انگریزی زبان میں مستقلاً شامل کر دیا۔  سنسنی  کا مزید اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ اس دور کی  ملکہ وکٹوریا نے  اسی موضوع سے متعلق ایک ناول "کنفیشن آف اے  ٹھگ" چسکے لے کر پڑھا، جس میں ایک حقیقی سلطانی گواہ سیّد امیر علی عرف فرنگھیا نامی ٹھگ کے اعتراف جرم کو بنیاد بنایا گیا تھا۔
آج کے زمانے میں ٹھگ کا لفظ چالاک   اور مطلب پرست آدمی سے لے کر دھوکے باز جرائم پیشہ افراد تک کے لیے استعمال  کیا جاتا ھے ۔  یہی لفظ امریکہ میں ڈاکوؤں کے لیے استعمال کیا جاتا ھے، جو اپنی شناخت یا  نیّت چھپانے کا تردد نہیں کرتے۔ لیکن اصلی تے وڈّےھندوستانی ٹھگ، اپنے شکار پر آخر تک اپنی شناخت یا  نیّت ظاہر نہیں کرتے تھے۔
 ولیم سلی مین کی اس زمانے (1830-1840) کی تفتیش کے مطابق ٹھگ توھم پرست قاتلوں کا گروہ تھا جو بھوانی نام کی دیوی کے پجاری تھے۔اور  نسل در نسل ٹھگی  سے وابستہ تھے اور ان کا پختہ یقین تھا کہ صرف  ان کو اس کام کا خدائی حق ھے اور جرائم پیشہ لوگوں کا کوئی اور گروہ اس نام سے کام کرنے کا حق  نہیں رکھتا۔(یعنی جملہ حقوق محفوظ)
ان لوگوں کا بنیادی مقصد  اجنبی مسافروں کاقتل تھا۔ جو  کسی بھی محّرک کے بغیر  صرف اور صرف خون کی پیاس(ھڑک) بجھانے کے لیے ھوتا تھا۔ مال کی لوٹ مار ان کے لیے  ثانوی چیز تھا۔  ٹھگوں کے اقبالی بیانات کے مطابق یہ لوگ کسی بھی مسافر کے مال اسباب کا لالچ کیے بغیر، بلا تخصیصِ مذہب،  امیر اور غریب دونوں کو بلا امتیاز کاٹ ڈالتے تھے۔  (البتہ انگریزوں پر پکڑے جانے کے ڈر سے ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ویسے اپنے ملک میں انگریزوں پر کوئی بھی ہاتھ نہیں ڈالتا۔) یہ لوگ ایک کھلاڑی کی طرح اپنا "سکور" بہت فخر سے بیان کرتے تھے۔ ایک سلطانی گواہ بہرام نے سلی مین کے سامنے   چالیس سال میں کم از کم نو سو اکتیس قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ (اس کا کہنا تھا کہ نو سو اکتیسویں قتل کے بعد اس نے گننا چھوڑ دیا تھا)۔   ایک اور سلطانی گواہ فتح خان نے اکیس سال میں پانچ سو چار مسافروں کو مارنے کا بتایا۔
ذیل میں بہرام ٹھگ سے کی گئی تفتیش کا ایک اقتباس ٹھگ ذھنیت کو عیاں کرتا ھے۔۔۔
"سلی مین: معصوم لوگوں کو دوستی کا جھانسہ اور جھوٹا احساس تحفظ دلا کر بعد میں سفاکی سے قتل کرنے پر کبھی پچھتاوا ھوا؟
"بہرام:  بالکل نہیں صاحب! آپ خود  شکاری ھیں۔  کیا آپ جانور کا پیچھا کر کے اس کو اپنی چالاکی سے زیر کرنے کے بعد، اس کا سر اپنے قدموں میں دیکھ کر خوش ھوتے ھیں کہ نہیں؟ ٹھگ انسانوں کا شکار کر کے اسی طرح کی راحت محسوس کرتے ھیں۔ صاحب! آپ کے لیے درندے کی جنگلی جبلت  پر قابو پانا کھیل ھے ، جبکہ ٹھگ کو ذہین  اور اکثر اوقات مسلح    مسافروں  کے خوف، ذہانت اورشک پر  قابو پانا ھوتا ھے، یہ وہ لوگ ھوتے ھیں جو  راستے کی خطرناکی کے پیش نظر پہلے ھی چوکنّے  ھوتے ھے۔ ذرا اس خوشی کا اندازہ کریں جو ھمیں اسطرح کے لوگوں کے ساتھ سفر کرتے ھوئے ، ان کا شک دوستی اور اعتماد  میں بدلتے ھوئے دیکھ  کر ھوتی ھے، حتٰی کہ ھمارا  رومال ان کو شکار کر لیتا ھے۔! پچھتاوا؟ کبھی بھی نہیں۔ بس صرف خوشی، سکون  اور اطمینان!!!"
ٹھگ ٹولیوں میں شکار کرتے تھے۔ ٹولی کے ھر ٹھگ کا کام مختلف ھوتا تھا۔ مثلاً ایک کا کام شکار کے گلے کو رومال سے جکڑنا  ھوتا تھا۔جبکہ باقی ٹھگ ٹولے کے ذمہ شکار کے ہاتھ پاؤں قابو کرنا اور اس کے نازک حصوں پر ضربیں لگانا ھوتا تھا  حتٰی کہ رومال والا ٹھگ شکار کا گلا دبا  کر اس کا کام تمام کر دے۔ ٹھگ اپنے شکار کو مارنے کے لیے  رومال کے علاوہ کسی قسم کے ہتھیار کا استعمال نہیں کرتے تھے کیونکہ ٹھگی کے اصول و ضوابط کے تحت قتل کے دوران مقتول کا خوں بہانا ممنوع تھی۔  اس کے بعد یہ لوگ لاش کے ٹکڑے کرتے تاکہ دفنانے کے بعد لاش پھولنے سے زمین اوپر  ابھر نہ آئے اور خوامخواہ وھاں سے گزرنے والے کو شک  پیدا نہ ھو۔  دفنانے کا کام اتنی ھوشیاری اور جلد بازی میں کیا جاتا کہ ٹھگ خود بھی کچھ عرصہ بعد قبر کی نشاندھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس تمام کام کی انہیں بچپن سے تربیت ملتی تھی۔
یہ لوگ غضب کے اداکار تھے۔ اگر انہیں محسوس ھوتا کہ شکار ان کی طرف سے مشکوک  ھے، تو یہ اس سے کسی بہانے سے بچھڑ کر کسی اور سمت میں نکل جاتے اور  ٹھگوں کی دوسری متحرک ٹولیوں کی طرف پیغام رساں بھیج کر ان کو شکار کی انٹیلیجنس  فراھم کرتے۔ ایسا کبھی کبھارہی ھوتا کہ کوئی ان کے ہاتھ سے بچ کر نکل جانے میں کامیاب ھوجاتا۔
 ٹھگ پورے کے پورے قافلے بھی قتل کردیتے تھے۔ وہ اس طرح کہ  ٹھگوں کی ٹولی غریب مسافروں کے بھیس میں کسی قافلے  سے درخواست کرتے کہ انہیں رستے میں جان کے ڈر کی وجہ سے قافلے کےساتھ سفر کی اجازت دی جائے ، جو کہ اہل قافلہ (جو کہ اکثر اوقات مسلح ھوتے تھے)  ان کی تھوڑی سی  غیر مسلح تعداد ، اور  بے سروسامانی دیکھ کر دے دیا کرتے تھے۔  اگلے چند دنوں میں یہ اھل قافلہ سے دوستی اور اعتماد کا رشتہ قائم کر لیتے۔ اس دوران  ٹھگوں کی دوسری ٹولیاں ،آہستہ آہستہ اسی طریقے سے قافلے میں ھوتی رھتیں، حتٰی کہ اصل اہل قافلہ کے مقابلے ٹھگوں کی تعداد زیادہ ھو جاتی۔ ایسا ھونے کے بعدھر مسافر کے ساتھ ایک یا زیادہ ٹھگ نتھی ھو کر حملے کے سگنل کا انتظا ر کرتے۔ حملے کا سگنل عموماً "تمباکو لے آؤ" کا نعرہ ھوتا، جس کے سنتے  ہی ٹھگ اپنے شکاروں کے گلوں میں رومال کس کراتنی مہارت سے ان  کا دم نکال دیتے کہ مسافر کو لڑنے یا فرار کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اس کے بعد  مقتولیں کو  طے شدہ مقامات پرپہلے سے کھدی ھوئی قبروں میں یا پھر قافلے والوں کے خیموں کے نیچے ہی قبریں کھود کر  دفن کر دیا جاتا۔
 ایک اور طریقہ واردات میں، قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک ٹھگ شدید بیماری کی اداکاری شروع کر دیتا، جس کا دوسرے ٹھگ کئی طریقوں سے ناکام علاج کرنے کی  کوشش کرتے۔ آخر کار، اھل قافلہ کو یہ باور کروا کر ایک پانی کے پیالے کے گرد گلے ننگے کروا کر بٹھا دیتے  کہ اب ایک خاص جادو سے اس کا علاج کیا جائے گا۔ اس کے بعد  سب کو آسمان کیطرف  منہ کر کے تارے گننے پر لگا دیا جاتا، اور پھر اچانک رومال پھینکے جاتے اور۔۔۔۔۔۔
ٹھگوں کے پاس اس طرح کے ان گنت داؤ تھے جنہیں وہ اپنے شکار کے مطابق استعمال کرتے۔ لیکن ان سب داؤ میں ایک ہی چیز  استعمال ہوتی تھی۔۔۔ٹھگ کا رومال جس کے دونوں کونوں میں انہوں نے گرھیں دی ہوتیں۔
 ان کے بارے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ سال کے زیادہ تر حصہ میں ٹھگ عام لوگوں کی طرح اپنے علاقہ میں معزز اور ذمہ دار شہری  بن کر رہتے، جبکہ "سالانہ چھٹیوں " میں اپنے علاقے سے دور جا کر، اجنبی مسافروں کو اپنی نرم گفتاری اور چالاکی سے لبھا کر، ان کی عمر،جنس،  رنگ، نسل، کردار،  دیکھے بغیر سفاکی سے قتل کردیتے اور پھر دوبارہ اپنے علاقے میں واپس جا کر عام آدمی کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے۔
ٹھگوں کے جرائم عرصہ دراز تک منظر عام پر نہ آتے کیونکہ یہ عمومی طور سے جرم کے کسی گواہ کو زندہ نہ چھوڑتے۔ مزید یہ کہ اس زمانے میں جو شخص کلکتہ سے  دھلی تک جاتا تھا اس کو پہنچتے پہنچتے کئی ماہ لگ جاتے، جس کی وجہ سے رستے میں ھوئی کسی بھی واردات کا پتہ مہینوں بعد لگتا جب کافی دیر ھو جانے کے بعد اس شخص کی ڈھنڈیا مچتی اور پورے قافلے کے غائب ھونے کا پتہ چلتا۔ اس وقت تک ٹھگ کوئی بھی ثبوت چھوڑے بغیر واپس اپنی عام زندگی کی طرف لوٹ گئے ھوتے۔
اس تمام پر اسرار زندگی اور حتٰی الامکان رازداری کے باوجود، عجیب بات یہ ھے کہ چند انگریز افسروں کی تدبیر سے ہزاروں ٹھگوں پر مشتمل ان منظم گروہوں کا  چند سال کے اندر قلع قمع ھو گیا۔
کیسے؟ اس کی تفصیل پھر سہی۔

میں بلاگ کیوں لکھوں گا؟ - دوسرا حصہ

جوانی پِٹّے کا بلاگ -

کتابیات:میں 1986 میں سعودی عرب سے اپنے گھر والوں کے ساتھ مستقل طور پر پاکستان واپس آگیا۔

میرے بڑے بھائی کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے اوراباجی کے سعودیہ ھونے کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے  گھر میں کافی کتابیں اکٹھی کی ھوئی تھیں۔۔ لیکن ھر طرح کی نہیں ۔ بلکہ بہت ھی عجیب و غریب۔ (کم از کم مجھے اس عمر میں عجیب ھی لگتی تھیں )۔ مثلاً۔ عملی نفسیات۔  ابواعلیٰ مودودی۔ دست شناسی۔خلیل جبران۔دیسی جڑی بوٹیوں کے خواص۔جنرل نالج۔ یعنی کہ کسی بھی قسم کے ڈائجسٹ، افسانے ، ناول   یا اسی قسم کی پرلطف کیٹیگری کی کوئی کتاب گھر پر نہیں تھی۔
ھمارا گھر شہر سے قدرے دور ایک تقریباً بے آباد کالونی میں تھا۔ اور سکول کے بعد شدید تنہائی تھی۔ اس لیے مصروفیت ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھے دس سال کی عمر سے کتابوں کی لت لگ گئی۔
آھستہ آھستہ  اردو پڑھنے کی رفتا ر اتنی ھو گئی کہ کھڑے کھڑے  چند گھنٹوں میں  پوری کتاب چاٹ جاتا۔
اسی سپیڈ ریڈنگ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ تھا کہ  میرے بھائی جو کتابیں میونسپل لائبریری سے لاتے ، ان سے پہلے میں کتاب چھپا کر پڑھ جاتا اور بھائیوں سے "اپنی عمر سے بڑی" کتابیں پڑھنے پر گالیا ں کھاتا۔
جہاں اس سپیڈ ریڈنگ نے  مجھے ذھنی طور پر سہارا دیا، وہیں اس کا ایک نقصان بھی ھوا اور وہ یہ کہ کتاب تو پوری پڑھی جاتی لیکن کتاب پڑھنے کا لطف آھستہ آھستہ جاتا رھا۔ کتاب کے مین پوائنٹ تو یاد رھتے لیکن بیچ میں کیا گھوڑے دوڑ رھے تھے ، ان کی تعداد و خصوصیات آفٹر شیو کی طرح فضا میں تحلیل ھو جاتیں۔
یہ سب مطالعہ اردو کتب کا تھا۔
2005 میں لاھور  لبرٹی مارکیٹ میں واقع  گلیکسی بک سٹور میں یونہی پہلی دفعہ گُھسا تو انڈیا میں چھپے انگریزی کتابوں کے پائریٹد ایڈیشنزکی قیمتیں دیکھ کر حیران ھو گیا۔ عموماً لاھور میں کتب فروش کتابوں کی قیمت یہ دیکھ کر طے کرتے ھیں کہ کتاب کس زبان کی ھے۔ اسی لیے عموماً انگریزی ردّی کا بھاؤ بھی آسمان سے باتیں کرتا ھے۔ گلیکسی میں تقریباً تمام انگریزی کتب 20 روپے سے لے کر پچاس ساٹھ تک میں بک رھی تھیں۔ اسی لیے رال ٹپک پڑی اور تُکے سے  ایک سستی سی کتاب بنام "آخری مغل" تصنیف بہ ولیم ڈیلرمپل خرید لی۔  یہ کتاب بہادر شاہ ظفر اور 1857 کے غدر کے متعلق تھی۔
اس کتاب کے ختم کرنے کے بعد میری  اردو کتب بینی کی لت کی موت واقع ھو گئی۔
مجھ پر آشکار ھواکہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تاریخ کی کتابیں عموماکئی سال کی  ریسرچ کے بعد لکھی جاتی ھیں اور انگریزی مصنف اپنی کتاب میں ، اسی موضوع کی اردو زبان کی تاریخ کی طرح عموماً مختلف واقعات کو سنسرکرنے کی بجائے ان سے منسوب تمام حوالے دے کر سچ جھوٹ کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ھیں۔
اسی لیے میں تب سے انگریزی کتب پڑھ رھا ھوں۔ (ایک وجہ ویسے یہ بھی ھے کہ اردو میں تب سے  احمد بشیر کی دل تو بھٹکے گا کے بعد کوئی قابل ذکر کام نہیں دیکھا۔ شائد سب تخلیقی لوگوں کو میڈیا کھا گیا اور مزید یہ کہ اب سنگ میل کی کتب ھزاروں روپے میں بکتی ھیں ، جس کی اوقات نہیں ، اس لیے اُن کتب کو عموماً دکان میں ھی سپیڈ ریڈنگ کر کے پھڑُس کر دیا جاتا ھے)۔
میرے بلاگ کا ایک مقصد پڑھی ھوئی انگریزی  کتابوں کے اچھوتے حصوں کو بلاگ کے ذریعے اردو قاری تک لے کر آنا ھے تاکہ پڑھیں اورسوچ کا الاؤ گرم کریں۔
علم دریاؤ
پاکستان میں جس رفتار سے انٹرنیٹ مختلف حلقہ فکر کے لوگوں تک پھیل رھا ھے۔ اس کو دیکھتے ھوئے میرا خیال ھے کہ آنے والے کچھ سالوں میں اردو میں اب لکھا گیا آن لائن مواد کروڑوں عوام کے لیے کافی فائدہ مند ھوگا۔
اردو بلاگز میں آپ ھر طرح کے موضوعات  دیکھیں گے۔ مذھب، سیاسیات، مزاحیات، ذاتیات،بکواسیات۔۔ لیکن اگر نہیں دیکھیں گے تو علم معاشیات یا روپے پیسے  سے متعلق موضوعات نظر نہیں آئیں گے۔
شائد اس کی وجہ یہ ھے کہ یا تو بلاگرز  کو ان علوم کی اہمیت کا احساس نہیں یا پھر ھمارے لوگ روپے پیسے سے متعلق علوم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتے۔ (یہ اور بات ھے کہ روپے پیسے کو چاٹنے سے کراھت نہیں آتی)۔  یہ بھی اھم ھے کہ ھماری معاشیات کی کتابیں کافی گاڑھی اردو میں لکھی ھوتی ھیں یعنی کہ قانوں برائےافادہ مختمم  کو دیکھ کر ھی عوام کی اردو معاشی علم کی پیاس سڑ بُھن جاتی ھے۔
چونکہ میرا پیشہ اور پچھلے پندرہ سال کی پڑھائی بھی اسی سے متعلق ھے ،  اس لیے اس موضوع پر  آسان زبان میں لکھوں گا۔
چنانچہ ان تین بنیادی مقاصد کو لے کر میں اردو بلاگ دنیا میں چھلانگ لگا رھا ھوں۔


میں بلاگ کیوں لکھوں گا؟ - پہلا حصہ

جوانی پِٹّے کا بلاگ -


میرے بلاگ لکھنے کے پیچھے پڑھنے والے کا ٹائم ضائع کرنے کے علاوہ ایک انتہائی  اھم مقصد بھی ھے۔
ایک نہیں بلکہ کئی سارے مقاصد ھیں۔ مثلاً:
۱۔آن لائن ڈائری : میں نے 1993 سے 1996 تک بہت باقاعدگی اور ایمان داری  سے ڈائری لکھی ھے۔
ڈائری لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھے کہ یہ ایک ٹائم ٹریول ڈیوائس کا کردار ادا کرتی ھے۔ یعنی کہ سالوں بعد(نہ کہ فوراً)پڑھیں اور کھڑے کھڑے اپنے ماضی میں پہنچ جائیں اور حیران ھوں کہ یہ بھی زمانہ گزرا ھے مجھ پہ؟۔ ۔
اور سب سے بڑا نقصان یہ ھے کہ اس کو چھپاکے رکھنا پڑتا ھے کہ کہیں عوام پڑھ کر آپ کے اندر بسے اصل انسان کوپہچان کر۔  اُس کی بجائے آپ کو جُوت نہ پھیرنا شروع کر دے۔
 ھماری قوم کی عادت ھے کہ ھم اپنے معاملات سے زیادہ  دوسروں کی سُو لینے میں دلچسپی رکھتے ھیں۔
 تب جب ڈائری لکھتا تھا تو ھوسٹل میں  جس بھی یار دوست کو علم ھوتا کہ حضور رات کے پچھلے پہر لمبی لمبی ڈائریاں لکھنے کے شوقین ھیں تو میرے  لاکھ تالے لگانے اورنت نئی جگہوں پر  چھپانے کے باوجود کتّے کی طرح ڈھونڈ ہی نکالتے  اور  بعد میں پہروں میرے پوشیدہ خیالات اور جذبات کو میرے جزبز ھونے کی فکر کیے بغیر میرے ساتھ ڈسکس کرتے۔ بدتمیزوں کو نام لے لے کر گالیاں بھی اپنی ڈائری میں لکھیں ، اس امید پر کہ شائدپڑھیں اور مجھے کچھ دماغی تنہائی نصیب ھو۔ مگر نہیں ھٹنا تھا جوانوں کو، سو نہ ھٹے۔ اب اس امید پرباقاعدگی سے پڑھنے لگے کہ شائد ان کا نام بھی کہیں آئے۔
 آخرکار تنگ آکر1996 کے فروری میں  ڈائری لکھنا چھوڑ گیا۔۔۔۔
 بہت سال بعد جب  کئی سال ھوسٹلوں میں رُل  کُھل کر  آخرکار گھر پہنچا، تو اپنے سارے غبار آلود کاٹھ کباڑ کو چھانتے ھوئےایک گتے کے بھورے ڈبے سے ۔۔۔۔۔وہی نیلی  ڈائریاں نکل آئیں۔۔۔۔۔
نہیں معلوم کہ  کتنی دیر اُن کو مضبوطی سے پکڑ کر گُھورتا رھا۔
ھوش آیا توکمرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر ورق پلٹتا گیا اور  سوچوں میں ڈوبتا گیا کہ میں ایسا بھی ھوا کرتا تھا۔۔ وہ سب لوگ یاد آگئے جن کے اب نام بھی بھول گیا تھا۔ سوچتا رھا کہ سولہ سترہ سال کی عمر میں لکھی ھوئی ڈائری کتنی بیوقوفانہ ھوتی ھے۔ ۔۔۔
بہت سالوں بعد کوئی پرانا  دوست ملے توتمام تر شناسائی اورمانوسیت کے باوجود ایک ان دیکھا پردہ یہ باور کرواتا رھتا ھے کہ اب سب ویسا نہیں، بہت کچھ بدل گیا۔
شائد اسی لئے اپنا ماضی دیکھ کر اتنی شدید اجنبیت محسوس ھوئی کہ  دونوں  ڈائریوں کو باغیچے کے ایک ویران کونے میں رکھ کر آگ لگا دی۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کی دفعہ، قسم لے لیں جو ایسا اینڈ کرنے کا ارادہ ھو۔ کیونکہ اب کی دفعہ ڈائری  ذاتی ایشوز پر کم کم لکھوں گا۔ بڑا جو ھو گیا ھوں۔۔۔۔ھیں جی؟

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ االرحمٰن الرحیم

جوانی پِٹّے کا بلاگ -


کل مجھے اپنی ای میل میں اپنی  ہی طرف سے    کئی سال پہلے اپنے آپ کو مستقبل میں بھیجا گیا میسیج ملا۔
لکھا تھا  ۔
 "مجھے نہیں معلوم کہ تمہیں مستقبل میں ای میل بھیجنے کا آئیڈیا کیوں آیا۔ لیکن شائد اس میں قصور  ڈائری لکھنے کی عادت کا ھے۔ اپنی ہی ڈائری کو کئی سال بعد پڑھیں تو لگتا ھے کہ کسی اور شخص نے لکھی ھے۔نہیں پتا کہ جب تم یہ چند جملے پڑھ رھے ھوگے تو اس وقت کن حالات میں ھوگے، لیکن مجھے یقین ھے کہ اب کی نسبت بہت کچھ بدل چکا ھوگا"-
میں یہ پڑھ کر دہل گیا۔
کیونکہ   جب یہ سب کچھ لکھا تھا  تب میں بہت سی مشکلوں سے گزر رھا تھا  اور کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی تھی۔۔۔لگتا تھا کہ بس پھنسا ہی رہوں گا۔۔۔۔تبھی شائد اپنے آپ کو ہمت دلانے کے لیے میں نے اپنے مستقبل کو پیغام بھیجا کہ فکر مت کر، سب کچھ عارضی ھے۔اور اب اس کے اتنے عرصے بعد، جلدی میں  گھسیٹے گئے چند جملوں نے ثابت کردیا کہ واقعی انسان پر آنے والی ھر حالت عارضی ھے ــــ  
تو صاحبو، اپنے آپ کو اوقات میں رکھنے کے لیے مجھے بلاگ لکھنے کا آئیڈیا آیا-
تاکہ جب کبھی کئی سال بیت گئے ہوں ، جب کایا پلٹ گئی ہو،جب سمت بدل گئی ہو  تو میں ماضی کو دیکھوں اورنم آنکھوں کے ساتھ اپنے  رب کا لاکھ لاکھ شکر ادا کروں۔ ۔ ۔ ۔

'وہ سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔۔۔'

چراغ شب -

ابھی تو اہل ملتان انضمام کی ریٹائرمنٹ کا سوگ ہی نہیں منا پائے تھے کہ انہیں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا صدمہ بھی سہنا پڑ گیا ہے۔

فیض صاحب نے کہا تھا
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رخی کی ہے

ویسے تو کرکٹ میں فیض صاحب کا حوالہ آسانی سے ہضم ہونے والی بات نہیں ہے لیکن ملتان والوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ چونکہ مخلوط میراتھن، ورائٹی اینڈ فیشن شوز کی برکات اور ایوان صدر، گورنر ہاؤس، وزیر اعلی ہاؤس وغیرہ کی قربت کے فیض سے سینکڑوں میل ادھر ہیں، اس لیے چارو ناچار زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کے لیے انہیں روزمرہ کے معمولی واقعات پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے اور انہی سے خوشیاں کشید کرنا پڑتی ہیں۔

ملتان والوں کی انہی محرومیوں کا اظہار تھا کہ چند برس پہلے کچہری فلائی اوور اپنی تعمیر کے کچھ عرصہ بعد تک غیر علانیہ طور پر ایک فیملی پکنک پوائنٹ کا مقام اختیار کیے رہا۔ مجھے یاد ہے کہ شام ہوتے ہی یہاں لوگ اپنے بال بچوں سمیت اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے اور پل کی چڑھائیوں اور اترائیوں پر میلہ سا لگ جاتا۔
اسی طرح شاید یہ محلہ کڑی مصری کے انضمام سے نسبت کا اظہار ہے کہ ملتان میں ہونے والا ہر کرکٹ میچ اپنے انعقاد کے دس روز قبل ہی سےدفتروں اور تعلیمی اداروں وغیرہ میں موضوع بحث بن جاتا ہے اور عینی شاہدین کی پراسرار داستان گوئی اسے ملتان اور قرب و جوار میں ہفتہ عشرہ بعد تک گفتگو کا مرکز بنائے رکھتی ہے۔


پاکستانی ٹیم کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ابھی تو سیریز دو دو سے برابر ہوئی ہے اور فتح حاصل کرنے کا ایک موقع تو ان کے پاس موجود ہے۔ تاہم اگر صفر پر آؤٹ ہونے والے شاہد آفریدی اہل ملتان کے المیہ سے آگاہ ہوتے با کم از کم انہوں نے ابن انشاء کی 'اردو کی آخری کتاب' سے "سکندر اعظم" والا باب پڑھ رکھا ہوتا تو آفریدی کو یہ تو پتہ ہوتا کہ مدمقابل باؤلر سے انہیں کیا سلوک کرنا ہے۔۔۔ ۔۔ '(ظاہر ہے) وہی سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ‍ کرتے ہیں'

"عزیز ہموطنو، شاعر اصل میں کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔"

چراغ شب -

چھٹی جماعت میں ہمیں اردو ماسٹر عبدالرزاق پڑھایا کرتے تھے۔ حصہ نظم پڑھاتے ہوئے وہ پہلے شعر کے مشکل الفاظ کے معنی اور نثری ترتیب بتاتے اور پھر آستین چڑھاتے ہوئے کہتے، " دیکھو بھئی، شاعر اصل میں کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔" اور اس فقرے میں سارا زور 'اصل میں' پر ہوتا۔ پھر ماسٹر جی تو کمال جوش و خروش سے شعر کا اصل مطلب سمجھانے میں اور ہم اس بات پر غوروخوض میں مصروف ہو جاتے کہ اصل بات صرف ماسٹر جی کی سمجھ‍ میں ہی کبوں آتی ہے۔ یہ بات تو ہم پر اب جا کر کھلی ہے کہ بات چھٹی جماعت کی ہو با پاکستان کے چھٹے عشرے کی، اصل بات صرف ماسٹر کی سمجھ‍ میں ہی آتی ہے۔ اور ماسٹر خواہ جماعت کا ہو یا قوم کا اس کی ساری عمر تو نالائق طالب علموں کو سمجھانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے عوام بھی ہماری طرح نالائق طالب علم ثابت ہوئے ہیں۔ بارہا مختلف ماسٹر انہیں سمجھانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ " عزیز ہموطنو، بات اصل میں یہ ہے کہ ۔۔۔۔" لیکن عوام ہیں کہ سمجھ‍ کر ہی نہیں دے رہے۔ اور اب تو ستم یہ ہے کہ مشاعرہ باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ صدر مشاعرہ جناب مشرف دہلوی (جنہیں پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں خالد مقبول صاحب تو سند تصوف عطا کر چکے ہیں) طرح مصرع پھینک چکے ہیں اور کئی احباب تو باقاعدہ شریک مشاعرہ ہو چکے ہیں جیسے بی بی، مولانا فضل الرحمان، چوہدری شجاعت، بھائی لوگ وغیرہ۔ ہمارے بے مثال نوجوان شاعر شاہین عباس نے مولانا کی اٹھکیلیوں اور بی بی کے ناز نخروں سے بہت پہلے کہا تھا جھونکا تھا گریز کے نشے میں
دیوار گرا گیا ہماری ۔۔۔!! لیکن یہاں تو جھونکوں بلکہ بگولوں کو یہ خبر تک نہیں کہ وہ گریز کے نشے میں دیوار تو کیا سارے کا سارا قصر امید ہی زمیں بوس کبے جا رہے ہیں۔ پر بات تو پھر عوام کی ناسمجھی اور بدذوقی پر اٹکی ہوئی ہے۔ صدر مشاعرہ کا طرح مصرع اصحاب ق کے پلے نہیں پڑ رہا، بی بی کی آزاد نظم ان کے اپنے کارکنان کی کوتاہ نظری کی نذر ہو رہی ہے اور مولانا کے مصرعوں کا وزن ایم ایم اے اور اے پی ڈی ایم کے قائدین کے قبضہ گرفت سے نکلا جا رہا ہے۔ ادھر چوہدری شجاعت ہیں کہ ہر مصرع پر بڑی جان لیوا قسم کی فی البدیہہ گرہ لگائے جا رہے ہیں اور سامعین کی داد سمیٹ رہے ہیں۔ ایوان صدر سے جاری ہونے والے مفاہمتی آرڈینینس، بی بی کے روٹی کپڑے اور مکان کی نشاۃ ثانیہ اور مولانا کی خود سپردگیوں کو دیکھ‍ کر نہ جانے مجھے ماسٹر عبدالرزاق کیوں بہت یاد آئے اور میرا جی چاہا کہ میں ان سے جا کر پوچھوں، 'ماسٹر جی، آخر شاعر اصل میں کہنا کیا چاہتا ہے۔۔۔۔'

کراچی کے سیاسی کارکن کا المیہ

چراغ شب -




کراچی کے سیاسی کارکن جو کبھی جلسے جلوسوں کی تیاری میں مصروف نظر آتے تھے۔ یہاں سے وہاں ٹینٹ لگاتے، دریاں بچھاتے، کرسیاں ترتیب دیتے اور ساؤنڈ سسٹم سیٹ کرتے پھرتے تھے، آج کل ان کا زیادہ وقت کفن اکٹھے کرنے، زخمیوں کو اٹھانے، لاشوں کو کندھا دینے اور ان کی شناخت کرنے میں گزرتا ہے۔
مرحوم احمد ندیم قاسمی کی دعا اپنی جگہ، لیکن 12 مئی اور 18 اکتوبر کے دن کم سے کم کراچی میں تو حیات جرم اور زندگی وبال بن گئی تھی۔ اور یہ زندگی محض سانس لینے والے جانداروں کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ یہ ان کی بات ہے جن کے لیے اقبال نے کہا تھا کہ

خدائے زندہ زندوں کا خدا ہے

اب تو یہ کارکنان نعروں سے زیادہ گولیوں اور دھماکوں کی آواز کی شناخت کے عادی ہو گئے ہیں۔
جو نظریاتی کشمکش اور مزاحمت، سوچ اور سیاسی عمل میں نکھار پیدا کرتی تھی وہ تو کب کی اقتدار کے ایوانوں کو پیاری ہوئی۔ اب افتخار عارف لاکھ‍ کہتے رہیں کہ
دل نہیں ہو گا تو بیعت نہیں ہو گی ہم سے
لیکن یہاں کے پیران طریقت کے پاس تو ایسی ایسی کرامات موجود ہیں کہ ادھر نظر ملی، ادھر 'مری روح سے مری آنکھ‍ تک کسی روشنی میں نہا گئے'۔
تو ان حالات میں پروانہ وار قربانیاں دیتے ان کارکنان کے پاس روزانہ تازہ لاشیں اٹھانے کے سوا کیا چارہ رہا ہے، جنہیں ہر پل ساعت آئندہ کا خوف کھائے جا رہا ہے

عمر بھر کی کاہش بے غم کے خوگر
اس جہان بے بصر میں ہم کہاں تک
اپنے دل میں خاک ہوتی بستیوں کے دکھ‍ سمیٹیں
بین کرتی خواہشوں کی بھیڑ میں
روز اک تازہ لحد کی باس لے کر
کب تلک پھرتے رہیں گے دربدر
پیشتر اس سے کہ یہ ساری متاع بے ہنر
خاک میں مل جائے
ہم فرض کر لیں
یہ جہان بے بصر اک گلشن نوخیز ہے
اور اس کے طائران خوش نوا کی
رنگ برنگی بولیوں سے
لفظ کچھ‍ دامن میں چن کر
صفحہ خواب بشارت پر الٹ دیں ہم اگر
ڈھونڈ لیں پھر اس خزینہ گہر آباد سے
ایک حرف باریاب
اور پھر دست تمنا کے حوالے کر بھی دیں
ڈور یہ سانسوں کی تب شاید سلجھ‍ جائے مگر
موج فکر ساعت آئندہ ہم کو ایک پل بھی
چین لینے دے تو پھر۔۔۔

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

پروفیسر محمد عقیل -


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟
عظمی عنبرین/ اقصی ارشد
اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔
بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک دولت مند شخص ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔
ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔
ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق کے مطابق ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲ ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12 کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن کی کمی کا شکا ر ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔
اگر آپ مندرجہ ذیل علاما ت سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ کے جسم میں وٹامن 12 –B کی شدید کمی کا عندیہ ہے :
1.احساسات و جذبات کا غیر معمولی اتا ر چڑھاؤ۔
2.روزمرہ کے کاموں میں بے رغبتی ،خواہ وہ اپنی مرضی و منشا کے پسندیدہ مشاغل ہی کیوں نہ ہوں 3.دماغ کا چکرانا ۔
4.سونے کے اوقات کی بے اعتدالی ۔
5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن
6.معمولی سی باتوں پر بدمزاجی اور جھلاہٹ
7.دیگر معاشرتی دباؤ یا پسپائی والی علامات
اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
عام خوراک میں وٹامن کی دستیابی کا بڑا ذریعہ بچھڑے کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر چکن دستیاب ہے جس میں اس وٹامن کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد ایک دن کا وقفہ اور پھر اگلا انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال میں ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔


Pages

Subscribe to اردو بلاگ ایگریگیٹر aggregator