پروفیسر محمد عقیل

ارحمنا یاجبار


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی سہارے یا سیڑھی کی ضرورت ہوتی تھی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تصور

سے زیادہ طاقتور، گمان سے زیادہ قوی اور شان و شوکت کے مالک ہیں اور کسی سرکش، بڑے سے بڑے طاقتور اور باجبروت بادشاہ کا ناپاک ہاتھ اللہ کی عظمت اور طاقت کی بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔ خدا کے جبار ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ سرکش اور فساد پھیلانے والوں کو تنبیہ کرے اور نہ ماننے کی صورت میں اپنی لامتا ہی طاقت کے ذریعے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں فنا کردے ۔
بالعموم جبا ر کا لفظ پڑھ کر ایک ظالم اور جابر ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے ۔ اللہ تعالی چونکہ تمام عیوب سے پاک ہیں اس لیے ان کی صفات بھی ہر قسم کے عیب سے پاک ہوتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ ایک بے انتہا شفیق ، بربار، نرمی برتنے والے اور مہربانی کرنے والے ہیں۔ ہم انسانوں میں جب رحمت کی صفات دیکھتے ہیں تو ایسا انسان عام طورپر افراط کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ کسی بدترین مجرم کو بھی اپنے مزاج کی نرمی کی بنا پر چھوڑنے کی سفارش کرتا، کسی قاتل کو بیخ کنی کے لیے پیش نہیں کرتا اور کسی ظالم کے خلاف سختی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ یہ اس کے مزاج کا ایک عیب ہے جو صفت رحمت کے بے جا افراط سے پیدا ہوا ہے۔
اللہ تعالی کا معاملہ یوں نہیں ۔ اللہ کی صفت رحمت انہیں انصاف کے تقاضے پورا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ بلکہ یہ اللہ کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ مظلوم کو اس کا حق دلوایا جائے اورمقتول کی داد رسی کی جائے ۔ اس رحمت کی صفت کے ساتھ ساتھ صفت جبار کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر فرعون ، نمرو د و شداد کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ پھر ابو جہل کا سر بچوں سے کٹوادیا جاتا ہے، پھر ابو لہب کو مٹی میں ملادیا جاتا ہے۔ پھر عادو ثمود کے عالیشان محلات زمیں بوس ہوجاتے ہیں، پھر نوح کی بستی پانی میں ڈبودی جاتی ہے، پھر قوم لوط پر سنگریزے برسائے جاتے ہیں اور خدا کی رحمت صفت جبار کے ساتھ اپنا اظہار کردیتی ہے۔
لیکن یہ کام ماضی میں ہوا تو کیا آج ممکن نہیں؟ کیا آج کے نمرود و شداد تک خدا کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا؟ کیا آج خدا کی فوجیں کم پڑ چکی ہیں؟ کیا آج اس کے ہاتھ سے تندو تیز ہوا کی باگیں چھوٹ چکیں؟ کیا آج زمین نے اس کا حکم ماننے سے انکار کردیا ہے؟ کیا آج بادلوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی ہے؟ کیا آج سائنس نے اس خدا، تنہا خدا ، کی صفت جباریت کو معطل کردیا ہے؟ نہیں ایسا نہیں۔ ہر گز نہیں۔ آج بھی وہ اپنی مخلوق کو اسی طرح دیکھ رہا ہے جیسے پہلے دیکھتا تھا، آج بھی اس کے فرشتے ہتھیار وں سے لیس کھڑے حکم کے منتظر ہیں، آج بھی زمین اس کے حکم پر پلٹنے کو تیار ہے، آج بھی آسماں اس کے حکم کی تعمیل میں گرجانے کو بے چین ہے، آج بھی سورج مغرب سے نکلنے کی تاب رکھتا ہے ، آج بھی تارے ٹوٹ کے گرنے کو بے تاب ہیں۔
ماضی میں بھی لوگوں نے خدا کو فراموش کردیا ۔ وہ اپنے اسباب پر بھروسہ کرتے رہے، وہ غیر خدا کی سفارش پر بھروسہ کرتے رہے ، وہ دنیا کی زندگی میں خدا کو بھول بیٹھے ۔ آج کا انسان بھی اسباب و علل کے فتنے میں پڑ کر یہ بھول رہا ہے کہ ان اسباب کا بھی کوئی سبب ہے، کوئی ہے جس کا اشارہ ساری کائنات تباہ کرسکتا ہے۔ و ہ بھول بیٹھے کہ خدا رحیم و رحمٰن ہے تو جبا ر بھی ہے۔
کیا خبر کہ مشاہدوں کے دفتر لپیٹے جاچکے ہوں، کیا خبر کہ مہلت ختم ہوچکی ہو، کیا خبر وہ وقت آن پہنچا ہو جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے، جب محکوموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حکم کے سر اوپر یہ بجلی کڑ کڑ کڑکے گی۔ کیا خبر وہ گھڑی آن پہنچی ہو جب تاج اچھالے جائیں گے، جب تخت گرائے جائیں گے، جب اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے۔ کِیا خبر ، خدا کی صفت جبار کے ظہور کا وقت آن پہنچا ہو۔
ارحمنا یا جبار
پروفیسر محمد عقیل
۱۵مارچ ۲۰۱۶


فیصلہ سازی


فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
"آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم

دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد کی جانب گاڑی موڑ لی ۔ ”
"ہاں لیکن ایکسڈنٹ میں تو پورے پچیس افراد ہلاک ہوگئے؟” پولیس آفیسر نے غصے سے کہا۔
” جی جناب ، جب میں نے بس کو دو آدمیوں کی جانب لے جانے کا فیصلہ کیا توسارے باراتی ا ن دو آدمیوں میں گھس گئے۔ ”
اس لطیفے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ ہمیں اپنی زندگی میں فیصلہ نہیں کرنا بلکہ درست فیصلہ کرنا چاہئے۔ ہم سب اپنی زندگی کے مینجر ہیں۔ ہم ہر دوسرے لمحے جو کام کررہے ہیں وہ فیصلہ سازی ہے۔ فیصلہ کرنے کا عمل ایک ڈرائیور ہی نے نہیں، ایک ڈاکٹر، انجنئیر، قانون دان، طالب علم، استاد ، مرد اور عورت ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے۔ ہم سب کو اپنے کیرئیر، جاب ، شادی بیاہ جیسے اہم فیصلہ کرنا ہوتے ہیں۔ اجتماعی سطح پر حکومتیں بین الاقوامی سطح پر فیصلے کررہی ہوتی ہیں۔
درست فیصلہ کی اس اہمیت کے باوجود اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ فیصلہ سازی کس طرح کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہماری زندگی کے اکثر فیصلے سائنسی اصولوں کی بجائے جذبات، تعصبات، رغبات اور اٹکل بچو بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ اس کے اثرات ہماری زندگی پر بہت دور رس مرتب ہوتے ہیں۔
فیصلہ سازی کے مراحل
فیصلے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک روزمرہ کے فیصلے اور دوسرے اہم فیصلے۔اہم فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنے ہوتے ہیں ۔ ذیل میں ہم فیصلہ سازی کے سائنسی طریقے کو ایک کیس اسٹڈی کے ذریعے بیان کررہے ہیں۔ اس کے بعد کچھ سوالات ہیں۔ جن کا آپ سے جواب مطلوب ہے۔
۱۔ مسئلہ یا موقع کو بیان کریں
سب سے پہلے ہمیں اس مسئلے یا موقع کو پہچاننا اور بیان کرنا ہے جس کے بارے میں ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کہ لیے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس پیشے کو اختیار کرے، ایک خاتون کو آئے ہوئے کئی رشتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہے، کسی نے کوئی جاب تبدیل کرنی ہے وغیرہ۔ تو سب سے پہلے اس موقع یا مسئلہ کو بیان کریں جس پر آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔
مثال :مثال کے طور پر ایک طالب علم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مستقبل میں کیا تعلیم حاصل کرے کہ ایک موزوں پیشہ اپناسکے۔
۲۔ معلومات جمع کریں
اگلا مرحلہ معلومات اکھٹی کرنے کے ہوتا ہے۔ ہمیں جو بھی معاملہ درپیش ہے اس کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔ لیکن معلومات حاصل کرنے سے قبل یہ بھی پتا ہونا چاہئے کہ مطلوبہ علم کہاں سے حاصل ہوگا۔ آج گھر میں کیا پکے گا ؟ اس فیصلہ کا ڈیٹا اسٹیٹ بینک سے حاصل کیا جائے تو ظاہر ہے یہ ایک لطیفہ ہی ہوگا۔ اسی طرح پچھلے پچاس سالوں میں پاکستان میں کیا شرح سود رہی اس کو اگر گھر میں بیٹھی ہوئی دادی اماں سے پوچھا جائے تو دوسرا لطیفہ۔
مثال: اوپر والی مثال میں ایک طالب علم اپنے کیرئیر کا انتخاب کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے معلومات کے ذرائع اس کے والدین، اساتذہ، پروفشنل بھائی بہن یا رشتہ دار یا کیرئیر کاؤنسلنگ کے ادارے ہوسکتے ہیں۔
۳۔ معلومات کا جائزہ لیں
اگلا مرحلہ صورت حال کا جائزہ لینا ہے۔ یعنی یہ دیکھنا ہے کہ اس مسئلے کے لیے کیا کیا آپشنز آ پ کے پاس موجود ہیں۔ اس سلسلے میں حاصل کردہ معلومات کو سمجھنا اور ان کی تشریح کرنا بہت اہم ہے۔
مثال: ہماری مثال میں ایک طالب علم معلومات حاصل کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس پاکستان میں جو پیشے موجود ہیں ان میں ڈاکٹر، انجنئیر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، ٹیچنگ، وکالت وغیرہ جیسے پیشے موجود ہیں۔ لیکن یہاں ان آپشنز کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کیا کام کرتا ہے ، یا اسے پتا ہی نہیں کہ وکالت کیا ہوتی ہے تو وہ ان آپشنز کو غلط سمجھے گا اور اس سے نتیجہ بھی غلط نکلے گا۔ تو معلومات کو سمجھنا اور اس کی درست تشریح کرنا بہت اہم ہے۔
۴۔ متبادل آپشنز سیٹ کریں
جب معلومات اچھی طرح سمجھ آجائے تو ہم اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اپنے لیے آپشنز سیٹ کرسکیں ۔ اس مرحلے میں آپنشز کا انتخاب نہیں کرنا بلکہ زیادہ سے زیادہ آپشنز لکھے جائیں ۔ اگر معلومات کی کمی یا کسی اور بنا پر کوئی آپشن نہ بیان کیا گیا تو ممکن ہے کہ فیصلہ ہی غلط ہوجائے۔
مثال: ہماری مثال میں ایک طالب علم معلومات اکھٹی کرنے کے بعد اپنے لیے جو آپشنز لکھتا ہے وہ یہ ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، بینکر، ٹیچنگ ۔ البتہ وہ ڈاکٹر اور انجنئیر کے آپشنز کو نکال دیتا ہے کیونکہ اس نے انٹرمیڈیٹ کامرس میں کیا ہے جس کے بعد یہ دونوں شعبے اختیار نہیں کیے جاسکتے۔
۵۔ آپشنز کا تجزیہ کریں
اس مرحلے میں ایک ایک آپشن کا جائزہ لیا جائے گا کہ ہمارے حالات کے مطابق وہ آپشن کس حد تک موزوں ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایک ایک آپشن کا تجزیہ کرکے اس کے مثبت اور منفی پوائینٹس کو دیکھا جائے گا۔
مثال:
یہاں وہ طالب علم اس طرح تجزیہ کرتا ہے :
۱۔ بنک کی جاب گوکہ مطلقا حرام نہیں لیکن وہ احتیاط کے پیش نظر اس شعبے میں نہیں جانا چاہتا۔
۲۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی جاب بہت پرکشش ہے اور اس میں تنخواہ لاکھوں میں ملتی ہے ۔نیز اس سے ایڈمنسٹریٹر کی جاب بھی مل سکتی ہے۔
۳۔ ٹیچنگ میں نہ تو اتنا پیسہ ہے اور نہ ہی اسٹیٹس۔ اس لیے وہ اس شعبے میں بھی شاید نہ چل پائے۔
۴۔ ایڈمنسٹریٹر کا آپشن اچھا معلوم ہورہا ہے کیونکہ اس میں کچھ انتظامی صلاحیت بھی ہے اور اسے دلچسپی بھی ہے ۔ نیز آج کل ایم بی اے آسانی سے ہوجاتا ہے جس کے بعد یہ جاب بلاکسی پریشانی کے مل سکتی ہے۔
۶۔ سب سے اچھا آپشن منتخب کریں
اوپر دیے گئے تجزیے کے مطابق بہترین آپشن وہ ہے جس ہمارے حالات کے تحت سب سے زیادہ مثبت پہلو رکھے اور سب سے کم منفی پہلو۔
مثال: چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ایم بی اے کرنے کے کے دو آپشنز بہتر لگ رہے ہیں۔ اب ان دو میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننا یقینی طور پر ایک محفوظ معاشی مستقبل کی ضمانت ہے ۔ طالب علم نے جب جائزہ لیا تو علم ہوا کہ سی اے کرنے کے لیے اکاؤنٹنگ کا علم ، صلاحیت اور رحجان ہونا ضروری ہے ورنہ چارٹرڈ اکاونٹنسی کا امتحان برسوں محنت کے باوجود پاس نہیں ہوتا۔وہ یہ دیکھتا ہے کہ سی اے کرنے کی صلاحیت اور رحجان اس میں موجود نہیں ت تو وہ ایم بی اے کرکے ایڈمنسٹریٹر بننے کے روٹ کو اختیار کرلیتا ہے۔
۷۔ فیصلہ کریں اور عمل کریں
یہاں تجزیہ کے بعد فیصلہ کرلینا ہے۔ فیصلہ کرنا صرف بہترین آپشن کو منتخب کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ اس فیصلہ پر عمل درآمد کے طریقہ کار دستیاب وسائل میں طے کرنا بھی شامل ہے۔
مثال:اوپر بیان کیے گئے تجزیہ کے بعد وہ ایم بی اے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ اور اس کا طریقہ کار وہ یہ طے کرتا ہے کہ سب سے پہلے ان یونی ورسٹیوں کو دیکھے جہاں ایم بی اے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان میں سے بہترین یونی ورسٹی کو اپنے حالات کے لحاظ سے منتخب کرلے۔ اس فیصلے کہ لیے پہلے اسٹیپ سے دوبارہ شروع کرنا ہوگا۔
۸۔ اللہ پر توکل
آخری مرحلہ بہت اہم ہے۔ اگر کسی شخص نے اوپر بیان کیے گئے مراحل پورے نہیں کیے اور اس نے محض توکل کرکے کوئی اہم فیصلہ کرڈالا تو یہ توکل نہیں بلکہ حماقت ہے۔ اپنے حصے کا کام کیے بنا توکل کا تصور نہ تو قرآن دیتا ہے اور ہی سنت رسول سے ثابت ہے۔
اسی طرح جب کسی شخص نے اپنے حصے کا کام کرلیا اور اللہ سے مدد طلب نہ کی تو یہ تکبر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص نے اپنے حصے کا کام کرلیا تو خدا کی کیا ضرورت؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کسی کام کو کرنے کے صرف وہی پہلو مد نظر رکھ سکتے ہیں جو ہم کسی حد تک کنٹرو ل کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمارے فیصلوں پر بے شمار ایسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں کہ نہیں ہم قابو کرہی نہیں سکتے۔ ان عوامل کو موافق بنانے کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی اور اس پر بھروسہ رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر طالب علم نے ایم بی اے بھی کرلیا اور اچھے جی پی اے سے کرلیا۔ لیکن اچانک اس کی صحت اتنی خراب ہوگئی کہ اس کا ایم بی اے کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ صحت کی خرابی وہ عنصر ہے جو وہ قابو نہیں کرسکتا تھا جس کی بنا پر اس کی ساری پلاننگ ناکام ہوگئی۔ اسی کے لیے دعا کی جاتی اور خدا سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


کہیں یہ مسجد ضرار تو نہیں؟

کہیں یہ مسجد ضرار تو نہیں؟
ڈاکٹر محمد عقیل
مسجد کو خد ا کا گھر کہا جاتا ہے یعنی ایک ایسی جگہ جہاں فرشتے خاص طور پر رحمتیں کی بارش کے لیے جمع ہوتے ، جہاں خدا کی خصوصی برکتیں عبادت گذاروں پر ناز ل ہوتیں اور جہاں خدا کی قربت کا غیر معمولی احساس ہوتا ہے۔مسجد کی پاکیزہ فضا اردگرد

کے علاقے والوں کے لیے بھی باعث رحمت ہوتی ہے۔
چونکہ مسجد کو اللہ سے ایک خاص نسبت ہے اس لیےاس جگہ کی نہ صرف ظاہری پاکی کا اہتمام ہونا چاہیے بلکہ اس کے منتظمین کی نیت میں اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔ اگر مسجد میں ظاہری پاکی کا اہتمام تو کیا جائے لیکن اس کی انتظامیہ کا ایجنڈاخالص نہ ہو،یہاں شرک و بدعات کو علمی طور پر ثابت کیا جائے، یہاں فرقہ پرستی کی تعلیم دی جائے، یہاں نفرتوں کے بیج بوئے جائیں،یہاں کے ممبر ومحراب کو تشدد کے لیے استعمال کیا جائے، یہاں لاوڈ اسپیکر سے صبح و شام لوگوں کا جینا حرام کردیا جائے یا یہاں خدا کے نام کو استعمال کرکے اپنے معاشی مقاصد کی تکمیل کی جائے تو یہی مسجد باعث رحمت کی بجائے باعث زحمت بن جاتی ہے ۔اب یہاں رحمت کے فرشتوں کی بجائے عذاب کے فرشتے ڈیرہ ڈال لیتے ہیں، اب یہاں خدا کی شفقت کی جگہ خدا کا غضب چھانے لگتا ہے۔ بالآخر یہی مسجد اپنے علاقے والوں کے لیے اصلاح کی بجائے فساد کا باعث بن جاتی ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے سیرت نبوی سے رجوع کرتے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد ہوئی تو سب سے پہلی مسجد جس کی بنیاد رکھی وہ مسجد قبا تھی ۔یہ مدینے کے مضافات میں تھی جبکہ مسجد نبوی مدینہ شہر میں تھی۔ غزوہ تبوک سے قبل کچھ منافقین نے مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے کے لیے ایک سازش یہ بہانہ کیا کہ مسجد قبا ان کے لیے دور پڑتی ہے اس لیے وہ ایک اور مسجد بنارہے ہیں ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرکے انہیں لڑوایا جائے اور بالآخر رسالت کے ادارے پر حملہ کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے درخواست کی کہ نبی کریم وہاں آکر نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہونے والے تھے اس لیے آپ نے فرمایا کہ واپسی پر اگر اللہ نے چاہا تو نماز پڑھا لوں گا۔
تبوک سے واپسی پر اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی اور واشگاف الفاظ میں سورہ توبہ میں یہ فرمایا:

"کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف بر سر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔
تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔
پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات بنیاد پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے۔ سورہ توبہ آیات ۱۰۷ تا ۱۱۰ ۔”

ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ کسی عمارت کا مسجد کے نام سے منسوب ہوجانا اسے تقدس فراہم نہیں کرتا ۔ خدا کا گھر تو وہی مسجد ہوتی ہے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہو ، جس کا مقصد خدا کی رضا کا حصول ہو اور جہاں لوگ فرقہ بندی اور سازشوں سے خود بھی پاک رہنا چاہیں اور دوسروں کے تزکیے کا سبب بنیں۔ فرقہ بندی والی مسجد تو مسجد ضرار ہے یعنی نقصان اور فساد برپا کرنے والی مسجد۔
اس تناظر میں اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو بے شمار مساجد خدا کے نام پر بنی ہوئی ہیں لیکن افسوس کہ ان میں سے اکثر کی بنیاد نفرت، تفرقہ بازی اور باہم لڑائیاں کروانا ہے۔ ایسی مساجد محض عمارتیں ہیں جن کا اسلام، خدا ، رسول اور اس کی تعلیمات سے دور دور کا واسطہ نہیں۔ لیکن اس کے منتظمین اس کےتقدس کا دعوی کرتے، اسے خدا کے نام سے منسوب کرتے اور اپنے خلاف بات کرنے والے کو خدا اور رسول کا منکر مشہور کرکے اس کے خلاف کاروائیاں شروع کردیتے ہیں۔ اوپر کی آیات کو دوبارہ پڑھ لیں تو علم ہوگا کہ آیات کس خوبصورتی سے اکثرفساد برپا کرنے والی مساجد پر منطبق ہورہی ہیں۔
لیکن یہاں ہمیں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے حق بات کہنی چاہیے۔ حق یہی ہے کہ ساری مساجد اس زمرے میں نہیں آتیں۔ بعض مساجد ایسی بھی ہیں جو واقعی تقوی پرست لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ۔ یہ مساجد کسی خاص مسلک کی نہیں بلکہ ہر مسلک میں موجود اچھے لوگوں کی ہیں۔
کچھ لوگ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ آیا ان مساجد کو ڈھادیا جائے جو شر پھیلانے کا سبب ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو ایک فساد کو ختم کرنے کے لیے ایک اور فساد جنم لے گا۔ آج نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں اور نہ ہم میں سے کسی پر وحی آسکتی ہے ۔ اسی لیے ہم متعین طور پر کسی مسجد کو مسجد ضرار نہیں کہہ سکتے اور نہ کہنا چاہیے۔ البتہ کچھ اقدامات ضرور کرنے چاہئیں تاکہ اپنے محلے ، شہر اور ملک کے کو اس عذاب ، شدت پسندی اور دہشت گردی سے محفوظ رکھ سکیں جو اس وقت پورے ملک میں برپا ہے۔
۱۔ ہم میں سے ہر فرد ان خطیبوں اور مدارس سے دور رہے جو نفرت، فرقہ بازی اور تشدد کی باتیں کرتے ہیں۔
۲۔ ریاست کی سطح پر قانون سازی کی جائے اور قانون کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔
۳۔ مساجد ومدارس کو فرد، مسلک، جماعت یا ادارے کی بجائے ریاست کے کنٹرول میں ہونا چاہیے جیسے سعودی عرب اور مڈل ایسٹ ممالک میں ہوتا ہے۔
۴۔ خطیب کوریاست کی جانب سے لکھا ہو ا خطبہ آئے جس میں زیادہ تر غیر متنازعہ اور تزکیہ نفس کی باتیں ہوں ۔
۵۔ مساجد کو ایک تربیت گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے جہاں ملٹی میڈیا، انٹرنیٹ، وڈیو اور آڈیو کے ذریعے ایک اچھا مسلمان بنانے اور تزکیہ نفس کی تعلیم دی جائے اور مسجد جیسی جگہ کو ایک درس گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔
۶۔ ضروری نہیں کہ تمام تربیت ایک مولوی صاحب یا درس نظامی کے فاضل مدرس ہی دیں۔ گیسٹ اسپیکر کے طور پر ایک نفسیات دان، پروفیسر، سائنسدان، ڈاکٹر ، سماجی علوم کے ماہر وغیرہ سب کو بلایا جاسکتا اور ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
۷۔ اگر ممکن ہو تو خواتین کو بھی مسجد میں نماز ادا کرنے اور مسجد کے ٹریننگ سیشن سے استفادہ کرنے کی اجازت دی جائےا ور اہتمام کیا جائے۔
۸۔ مستقبل میں کچھ تربیت کے بعد مسجد ومدارس میں مختلف مسالک کے لوگوں کو دعوت دی جائے جہاں وہ شائستہ اسلوب میں اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔
۹۔ مسجد ومدارس میں تعلیم کی بنیاد صرف قرآن اور معلوم سنت پر رکھی جائے۔
۱۰۔ حکومتی مدارس کے نصاب کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پڑھانے والے مدرسین کی ٹریننگ کو لازمی قرار دیا جائے اور ان کے لیے این ٹی ایس ، بی ایڈ، ایم ایڈ یا اسی نوعیت کے کسی اور سرٹفکیٹ کو لازم قرار دیا جائے۔
۱۱۔ امام احمد بن حنبل کے قول کو اچھی طر ح تمام مساجد و مدارس کا موٹو بنادیا جائے کہ ” ہم اپنی رائے کو درست سمجھتے ہیں اس احتمال کے ساتھ کہ مخالف کی رائے بھی درست ہوسکتی ہے۔


الحلیم۔ بردبار


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحلیم۔ بردبار
ڈاکٹر محمد عقیل
الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے

مراد وہ شخصیت ہوتی ہے جس میں جلد بازی نہ ہو، جو تحمل اور عزم کے ساتھ کسی بھی عمل کے مقابلے میں فوری رد عمل کا اظہار نہ کرے، وہ شخصیت جو جلد بازی سے کام خراب نہ کردے، وہ جسے اپنے اعصاب پر پورا قابو ہو، وہ جو اپنے آپ کو اچانک رد عمل سے روک کر رکھے اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرے، وہ جو جذبات سے مغلوب نہ ہو۔
اللہ کی صفت الحلیم سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہری اور پوشیدہ انداز میں اپنی رحمت نازل کرتا رہتا اور ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کے باوجود ان شفقت کرتا اور ان کی کوتاہیوں سے درگذر کرتا ہے ۔ اللہ کی اسی صفت حلم انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ اگر اللہ تعالی میں حلم نہ ہوتا تو اللہ ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں کب کا ہلاک کرچکے ہوتے، اللہ کے غضب سے زمین و آسمان پھٹ چکے ہوتے اور وہ قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے کب کی آ لگی ہوتی۔ لیکن اللہ کی یہی بردباری اور تحمل ہے وہ انسان کو مہلت دیتے ہیں حتی کہ برا بھلا کہنے والوں کو بھی فوری طور پر ہلاک نہیں کرتے اور انہیں موقع دیتے ہیں کہ وہ اصلاح کرلیں۔ نہ صرف اللہ موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ توبہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کو لغزشوں سے پاک ہونے کے لیے اپنی جانب سے خصوصی گائیڈلائن فراہم کرتے ہیں۔
صفت حلیم اللہ کی صفت الوہاب اور الغنی کے تحت آتی ہے۔ صفت غنی یا وہابیت وہ صفت ہے جسے دیگر صفات کی مدد کی ضرورت نہیں۔ باقی صفات تخلیق، علم، فنا، بقا وغیرہ کو کسی حقیقت میں ظاہر ہونے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہابیت کے مطابق اللہ تعالی انسان کو وسائل عطا کرتے اور انہیں برتنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان وسائل کو انسان خدا کے طے کردہ قوانین کے مطابق بھی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔ لیکن اللہ کی صفت حلم آزمائش کی وجہ سے انسان کو اس کی نافرمانی کی دوری سزا نہیں دیتی بلکہ تحمل و بردباری کی بنا پر اس کے نتیجے کو مؤخر کردیتی ہے۔
انسان کے لیے صفت حلم
قرآن میں یہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خاص طور پر استعمال ہوئی ہے۔ان کے ساتھ ہی حضرت شعیب اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ اپنے اندر حلم پیداکرے ۔ صفت حلم و بردباری کو بیدار کیے بنا کوئی شخص حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ اس صفت کے بنا جو بھی حاصل ہوتا ہے وہ مختصر مدت کے لیے ہوتا ہے یا محض ایک فریب ہوتا ہے۔ الحلیم ہی وہ بنیادی صفت ہے جس کے تحت دیگر صفات سے دیرپا استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی شخصیت میں صفت حلم بیدار کردیتے ہیں۔ تاکہ اسے زندگی میں جو کچھ بھی ملے وہ دیرپا ہو۔
مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر دولت مل جائے لیکن اس میں حلم و بردباری نہ ہو تو وہ بہت جلد فضول خرچی میں دولت کو ختم کرکے فقیر بن سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بڑا عالم اگر غیر متحمل مزاج ہو تو اپنے علم کو جلد بازی میں استعمال کرکے نادانی کا رویہ اختیار کرسکتا ہے۔ ایک مینجر جلد بازی میں غلط فیصلے کرسکتا، سیاست دان ریاست کو داؤ پر لگاسکتا اور ایک بزنس مین عارضی ناکامیوں کی بنا پر جلد ہمت ہارسکتا ہے۔
یہ صفت حلم کی کمی ہی ہوتی ہے کہ ایک عام شخص جلد غصے، چڑچڑاہٹ، بدمزاجی، عدم برداشت، ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی کی بنا پر شادیاں ناکام ہوجاتیں، گھر اجڑ جاتے، خاندان فساد کا شکار ہوجاتے، ریاست انتشار کا شکار ہوجاتی اورمعاشرے باہمی فسادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
حلم کے درجات
حلم یعنی بردباری کے درجات ہوتے ہیں۔ ایک درجہ تو وہ ہے جو ہر شخص کے لیے لازم ہے۔ یہ لازمی درجہ نہ ہو تو انسان کے لیے زندگی پریشانیوں کی آماجگاہ بن جائے گی اور وہ جلد بازی، ٹینشن یا بے صبر ی کی بنا پراپنا ہرکام بگاڑ دے گا۔ دوسرا درجہ عزیمت کا درجہ ہے۔ یعنی جہاں پر طبعی حالات ناموافق ہوں اور ہر بڑے سے بڑا انسان بوکھلاہٹ کا شکار ہوجائے، وہاں بھی انتہائی برداشت، بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ایک عزیمت کا درجہ ہے۔
تحمل کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں ۔ایک چھوٹے سے تالاب میں اگر ایک بڑا پتھر پھینکا جائے تو اس میں بھونچال آجاتا ہے اور اس تالاب کا سارا سکون درہم برہم ہوجاتا ہے، اس کی لہروں میں تلاطم برپا ہوتا ہے اور پانی کی ساری ترتیب تتر بتر ہوجاتی ہے اور اگر تالاب بہت کم گہرا ہو تو اس پتھر کی بنا پر اس کا وجود ہی بگڑ جاتا اور بعض اوقات ختم ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب وہی پتھر سمندر کے بیچوں بیچ پھینکا جائے تو اس سمندر اپنی گہرائی کی بنا پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور و ہ اسی سکون و اطمیان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم و دائم رہتا ہے۔
انسان کا وجود بھی اسی کی طرح ہے۔ اس کو ملنے والی مصیبت یا ناموافق حالات کا ٹکراؤ پتھر ہیں۔ جس انسان میں بردباری کی گہرائی زیادہ ہوگی تو وہ سمندر کی مانند اپنی جگہ قائم و دائم بھی رہے گا اور پرسکون ر ہ کر اس مصیبتوں کے پہاڑ کوبھی اپنے متحمل وجود میں سمولے گا۔ دوسری جانب جس انسان کا ظرف چھوٹا ہوگا تو مصیبتوں کے پتھر پڑنے پر بے سکون ہوجائے گا، اس کا وجود تتر بتر ہوگا، وہ ابتری ، بوکھلاہٹ اور پریشانی میں اس مصیبت کے پتھر کو اپنے اوپر حاوی کرلے گا اور ایک وقت آئے گا کہ وہ پتھر اس کی پوری شخصیت کو نگل لے گا۔
صفت حلم کا تقاضا
ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ بے انتہا بردباری اور تحمل سے پیش آتے ہیں، وہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو فوری سزا نہیں دیتے، وہ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتے حتی کے اپنے خلاف جانے والوں سے بھی شفقت کا معاملہ کرتے اور ان کے واپس لوٹ آنے کی حوصلہ افزائی کرتے اور پلٹ آنے والوں کی لغزشیں اپنے قانون کے تحت معاف کردیتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ صفت حلم کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے مخالفین کے ساتھ فوری بدلہ لینے سے گریز کرے، و ہ انہیں معاف کرے، ان سے درگذر کرے، انہیں پلٹنے کا نہ صرف موقع دے بلکہ اس واپس پلٹنے میں وہ ان کی مدد بھی کرے۔ اس کے باوجود وہ اگر اپنا رویہ درست نہ کریں تو وہ بھی انہیں اللہ کی رضا کے لیے انہیں معاف کرنے کی کوشش کرے کیونکہ وہ بھی خدا سے یہی چاہتا ہے کہ اللہ اس کے گناہوں کے باوجوداسے معاف کردے۔

صفت حلم ظاہر ہونےکا وقت
اللہ کی صفت حلم اتنی زیادہ ضروری ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ تمام انسان خود بخود سکون کے عالم میں چلے جاتے ہیں۔ اس وقت کو ہم نیند کا وقت کہتے ہیں۔ یہ ہر شخص کے لیے چوبیس میں سے آٹھویں حصے میں آتی ہے۔
صبر اور حلم میں فرق
عام طور پر صبر اور تحمل کو مترادف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت صبر اور حلم میں فرق ہے۔ حلم ایک صفت ہے جو کسی شخص میں ایک پوشیدہ قوت کی طرح موجود ہوتی ہے۔ صبر ایک فعل یا کام ہے جو مخصوص انجام دینا ہوتا ہے۔ کسی شخص میں تحمل کی بنیادی قوت موجود نہ ہو تو اس کے لیے صبر کرنا یعنی مخصوص حالات میں خود پر قابو رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
اللہ تعالی نے اپنے لیے صفت حلم بیان کی ہے لیکن کہیں یہ نہیں آیا کہ اللہ تعالی صابر بھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر ناموافق اور ناقابل کنٹرول حالات میں خود پر قابو رکھنے کا نام ہے۔ اللہ تعالی کے لیے تو کوئی بھی حالات ناموافق نہیں کیونکہ آپ تو مسبب الاسبا ب ہیں۔ اسی لیے اللہ کے لیے صابر کی صفت بیان نہیں ہوئی ہے۔
تحمل و بردباری پیدا کرنے کا طریقہ
اگر ہم یہ جان لیں کہ دین و دنیا کی بھلائی تحمل و بردباری کی طاقت میں ہے تو شاید اس طاقت کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ساری دولت داؤ پر لگادیں۔ ایک شخص جس میں تحمل ، بردباری اور خود پر قابو کی صلاحیت نہ ہو وہ نہ تو دین پر چلنے میں خود کو قابو رکھ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں کوئی مقام لے سکتا ہے۔
تحمل کے حصول کے لیے مضبوط نفسیات کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اعصاب کو مضبوط بنانا اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ ۱۔تحمل پیدا کرنے کے لیے پہلا مرحلہ اپنی سوچوں پر قابو کرنا ہے۔ منشتر خیالی اعصابی کمزوری کو جنم دیتی ہے۔ یکسوئی کے حصول کے لیے مراقبے ، یوگا یا دیگر ذہنی مشقوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
۲۔ تحمل ایک طاقت ہے اور طاقت کا حصول بیلنس غذا پر منحصر ہے۔ چنانچہ غذا متوازن لینا بھی اس سلسلے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔
۳۔ عملی مشق کرنا بھی بہت اہم ہے۔ جب کبھی ناموافق حالات کا سامنا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تربیت کا بہت اہم ذریعہ ہے۔ اس موقع پر کسی بھی قسم کے منفی رد عمل کا اظہار کرنا جائز نہیں۔بلکہ اپنا ظرف کو بڑا کرکے مردانہ وار مشکل صورت حال کو جھیلنا چاہیے۔
۴۔ تحمل و بردباری کے لیے اللہ پر توکل و بھروسہ بہت اہم ہے۔ اپنا کام کرلینے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا اور پھر تمام معاملات اسے سونپ کر اس کے فیصلے پر راضی ہوجانا بھی تحمل کی عادت بیدار کرنے کے لیے لازمی ہے۔
۵۔ حلم پیدا کرنے کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔ چونکہ یہ صفت وہاب یا غنی کے تحت آتی ہے اس لیے حروف مقعطات میں المص کے اسم اعظم کو پکار کر اللہ سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہوکر کعبے کی جانب رخ کرکے آنکھیں بند کی جائیں اور تصور میں اللہ کی صفت حلم کو ذہن میں رکھ کر ہلکی آواز میں المص قرات کے انداز میں دس مرتبہ پڑھیں۔ ۲۱ دن تک یہ عمل کرنے اور اوپر بیان کیے گئے اقدامات کرنے سے انشاءاللہ صفت حلم بیدار ہوگی اور طبیعت میں ٹہراؤ آئے گا۔
ڈاکٹر محمد عقیل


شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں

اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمدللہ

، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا ہوگیا۔ عین ممکن ہے کہ ہم زبان سے خدا کا شکر کررہے ہوں اور خدا کے ہاں ہمارا نام ناشکروں میں لکھا ہوا ہو۔ اگر ایسا ہو تو ہم زندگی کے آدھے امتحان میں ناکام ہوگئے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ شکر گذاری کا اصل مفہوم کیا ہے ، خدا کو کس طرح کی شکر گذاری مطلوب ہے اور شکر گذاری کے درجات کیا کیا ہیں۔
شکر گزاری کا مفہوم
شکر گذاری یا کسی کا شکریہ ادا کرنے کے پیچھے جو محرک یا نفسیات ہوتی ہے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جب کوئی شخص ہمارے ساتھ بھلائی کرتا ، ہمیں نفع پہنچاتا اور ہم سے اچھا رویہ اختیار کرتا ہے تو ہم دل میں پیدا ہونے والے احسان مندی کے جذبات کے تحت اس کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔یہ شکریہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص ہمارے قابلیت نہ ہونے کے باوجود ہماری ضرورت پوری کرنے کے لیے ہمیں ملازمت دے دیتا ہے۔ ہم پہلے مرحلے میں دل سے اس کے ممنون اور احسان مند ہوتے ہیں اور اس دلی احساس کی بنا پر زبان سے اس کی تعریف و توصیف میں شکریے کے کلمات ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ تو محض زبانی شکر ہے جسے اپنے عمل سے ثابت نہ کیا جائے یہ شکر ایک جھوٹ اور منافقانہ عمل بن جاتا ہے۔
شکر کی اصل ابتدا ہمارے عمل سے شروع ہوتی ہے جو یہ ہے کہ ہم اس کی ملازمت کے حقوق ادا ا کرتے ہوئے کام ایمانداری سے کریں، اس کے حکم کی تعمیل کریں خواہ ہمارا موڈ ہو یا نہ ہو ، ہم ملازمت میں اپنی پسندو ناپسند کو ا س کی مرضی کے تابع کردیں اور آخر میں اگر کبھی مالک کو ہماری ضرورت ہو تو ہم بھی اس کی اسی طرح مدد کریں جیسے اس نے ہماری مشکل میں مدد کی تھی۔
اگر یہ شخص محض زبانی شکریے کو کافی سمجھے اور اس کے بعد عملی اقدامات نہ کرے تو وہ خود کو کتنا ہے شکر گذار سمجھتا رہے لیکن اصل میں وہ ایک ناشکرا، احسان فراموش اور خود غرض انسان ہے جس نے منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ خدا کے ساتھ شکر گذاری کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ خدا کی عنایت کردہ نعمتیں بے شمار ہیں جن میں زندگی کا ملنا، شعور، روٹی ، کپڑا ، مکان، سورج کی روشنی، چاند کی ٹھنڈک، بارش سے ملنے والا پینے کا پانی، آنکھیں، کان ، زبان ، صحت غرض ان گنت چیزیں شامل ہیں۔انسان کو جب جب ان چیزوں کی اہمیت کا ادراک ہوتو اس پر لازم ہے کہ وہ دل سے احسان مندی کے جذبات کے تحت خدا کا شکر زبان اور عمل دونوں سے ادا کرے۔ چنانچہ شکر گذاری کی تعریف کی جائے تو یوں ہے:
شکر گذاری = نعمت کا علم ہونا+دل سے شکر ادا کرنا (جو زبان پر بھی جاری ہوسکتا ہے) + عمل سے شکر ادا کرنا
عمل سے شکر ادا کرنا
ہم دلی طور پر شکر کرنے کو اور اسے زبان سے ادا کرنے کو تو جانتے ہیں لیکن عمل سے شکر ادا کرنے سے کیا مراد ہے؟ عمل سے شکر ادا کرنے کے چار درجات ہیں۔
۱۔ پہلا درجہ یہ کہ ملنے والی نعمت کے تمام حقوق و فرائض ادا کرنا۔یہ لازم ہے
۲۔ دوسرا درجہ یہ کہ حاصل شدہ نعمت کے حقوق ادا کرتے وقت اپنے موڈ، مزاج اور طبیعت کو قابو میں رکھ کر ہر حال میں حقوق ادا کرنا
۳۔ تیسر ا درجہ یہ کہ نعمت سے متعلق حقوق کی ادائیگی میں اپنی پسند و ناپسند کو ختم کرکے صرف نعمت کے مالک کی مرضی کا خیال رکھنا
۴۔ چوتھا مرحلہ یہ کہ حاصل شدہ نعمت کوبلا تفریق مخلوق میں تقسیم کرنا
۱۔ پہلا درجہ- نعمت کے حقوق و فرائض ادا کرنا
یہ عملی شکر گذاری کا پہلا درجہ ہے۔ جو بھی نعمت ملے اس کو اس کے اصل مالک و خالق یعنی خدا کی مرضی کے مطابق ادا کرنا اس کا پہلا حق ہے۔ چنانچہ آنکھوں کی نعمت کی پہلی شکر گزاری یہ ہے کہ اسے ان کاموں میں استعمال کیا جائے جہاں استعمال کرنا جائز ہے۔ فحش مناظر دیکھنے میں آنکھوں کو لگانا اس نعمت کی ناشکری اور اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ اسے لوگوں کو دکھ پہنچانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اسی طرح رزق یا دولت اگر ملے تو اس کا شکر یہی ہے کہ اسے اپنے اوپر اور اپنے بیوی بچوں اور متعلقین پر جائز طریقے سے خرچ کیا جائے اور اسراف یا ناجائز مصارف پر خرچ کرنے سے گریز کیا جائے۔
۲۔ دوسرا درجہ ۔ مزاج کو تابع رکھنا
پہلا درجہ تو یہ تھا کہ ان نعمت کو مالک کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے۔عام حالات میں تو ایسا کرنا مشکل نہیں ہوتا اور عمومی حالات میں نعمتیں اپنے جائز محل ہی میں استعمال ہورہی ہوتی ہیں۔ لیکن قدم قدم پر ایسے حالات پیش آتے ہیں جب نعمت کا حق ادا کرنا یعنی اس کو جائز طور پر استعمال کرنا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات ٹی وی اسکرین پر ایسے مناظر بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن کا دیکھنا جائز نہیں۔ یا بعض اوقات چیزوں کی چمک دمک اسراف پر مجبور کردیتی ہے۔ ایسی صورت میں اپنی طبیعت ، مزاج، موڈ یا نفس کو قابو کرکے نعمت کا حق ادا کرنا یعنی اسے مالک کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شکر گذاری کا دوسرا درجہ ہے۔
یعنی اس مرحلے میں معاملہ یہ ہے کہ حالات کے دباؤ اور لالچ کے باوجود اپنے نفس اور موڈ پر قابو رکھا جائے۔ نگاہوں کو اس وقت بھی قابو رکھا جائے جب فحش منظر پوری آب و تاب کے ساتھ سامنےہو، مال اس وقت بھی حلال کمایا جائے جب بیوی بچوں کے تقاضے عروج پر ہوں وغیرہ۔
۳۔ تیسرا درجہ ۔ اپنی پسند و ناپسند کو ختم کردینا
اوپر کے دو درجات تو شکر گذاری کے لیے لازمی ہیں ۔ البتہ نعمت کے استعمال میں ایک درجہ یہ بھی ہے کہ انسان مکمل طور پر اپنی پسند و ناپسند سے دست بردار ہوجائے اور اس نعمت کو کامل طور پر مالک کی پسند کے تحت استعمال کرے۔ یہ درجہ لازم نہیں بلکہ عزیمت کا درجہ ہے۔اس درجے میں بعض اوقات انسان نعمتوں کے جائز استعمال کو بھی خدا کے حکم کے تحت خود کو دور کرلیتا ہے۔
مثال کے طور ابراہیم علیہ السلام کو اولاد کی نعمت ملتی ہے لیکن وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں اسے قربان کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ انہیں ایک خاندان کی نعمت ملتی ہے لیکن وہ حضرت حاجرہ اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں بسا کر چلے جاتےہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پرآسائش زندگی میسر تھی لیکن آپ خدا کے حکم کی تعمیل میں دولت اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر دعوت حق بلند کرتے ہیں ، گالیاں سنتے ، تشدد برداشت کرتے ، طعنوں تشنیع کا سامنا کرتے او ر بالآخر اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرجاتے ہیں۔
عام انسانوں کے لیے یہ مرحلہ اس وقت آتا ہے جب خدا کا حکم پورا کرنے میں کوئی بہت بڑی نعمت کی قربانی دینی پڑ رہی ہو۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ والدین کی رضامندی اور خوشی کے لیے اپنی محبت کی قربانی دے دیتے ہیں، کچھ بہنوں کی شادی کرانے میں ساری عمر کی کمائی داؤ پر لگادیتے ہیں، کچھ دوسروں کو بچانے میں اپنی جان قربان کردیتے ہیں وغیرہ۔
۴۔ چوتھا درجہ ۔ حاصل شدہ نعمت سے فیض پہنچانا
عملی شکر گذاری کا آخری درجہ یہ ہے کہ جو نعمت حاصل ہے اس کو صرف بیوی بچوں ، ماں باپ اور قریبی لوگوں تک ہی محدود نہ رکھے بلکہ اس کا فیض دیگر لوگوں تک بھی پہنچائے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر مال کی نعمت ملی ہے تو وہ ضرورت سے زائد مال کو خدا کے بندوں میں تقسیم کرے، علم کی نعمت سے لوگوں کو بہر مند کرے، صحت ہے تو بیماروں کی مدد کرے، آسانی ہے تو مشکل میں گھرے لوگوں کو آسانیاں فراہم کرے ، آنکھیں ہیں تو نابینا کی مدد کرے۔ یہ فیض ہر شخص کے لیے ہوگا جو اس کے رابطے میں آجائے یا مدد کی درخواست کرے۔
چنانچہ اس مرحلے پر ایک شخص سخاوت کے دروازے کھول دیتا اور اپنی ضرورت سے زائد ہر شے کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیتا ہے۔ ایک شخص علم کے فروغ کے لیے اپنی جان کھپادیتا ہے ، ایک شخص لوگوں کی مدد کے لیے دن اور رات کی پروا نہیں کرتا۔
درجہ بندی کی اہمیت
عام طور پر کچھ لوگ درجہ بندی کی اس ترتیب کو مد نظر نہیں رکھتے اور وہ آخری درجے میں چھلانگ لگانا چاہتے ہیں ۔ یعنی ایک شخص کو مال ملے تو وہ اپنے بیوی بچوں کا حق بھی بعض اوقات غربا میں تقسیم کردیتا، تبلیغ کے نام پر بیوی بچوں کو چھوڑ کر بیابانوں میں دعوت دیتا رہتا ہے۔ یہ عمل شکر گذاری نہیں بلکہ ناشکری ہی ہے کیونکہ اس طرح ہم ملنے والی نعمت کا بنیادی حق تو ادا نہیں کر پاتے اور ثانوی حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شکر گذاری اور ناشکری کی چند مثالیں
۱۔ علم کی ناشکری یہ ہے کہ تکبرکیا جائے، اس سے دوسروں کو نقصان پہنچایا جائے، اس سے لوگوں کو حقیرثابت کیا جائے، اس سے لوگوں پر اپنی دھونس جمائی جائے، اس کو بلاوجہ اپنی ذات تک محدود کرلیا جائے۔
۲۔ مال کی ناشکری یہ ہے کہ تکبر کیا جائے، اسراف کیا جائے ، کنجوسی کی جائے، اسے ناجائز کاموں میں استعمال کیا جائے، اسے بالکل ہی استعمال نہ کیا جائے، اسے بے دریغ استعمال کیا جائے، اسے صرف اپنی ذات یا اپنے بیوی بچوں تک ی محدود رکھا جائے۔
خلاصہ
شکر گذاری اگر صرف زبان سے ہو اور عمل میں اس کا اظہار نہ ہو تو یہ منافقت ہے۔ شکر گذاری کا پہلا درجہ یہ ہے کہ نعمت کو خدا کے بیان کردہ جائزو ناجائز حدود میں استعمال کیا جائے، دوسرا درجہ یہ ہے کہ حق اداکرنے میں نفس اور طبیعت کو قابو میں رکھا جائے، تیسرا درجہ یہ ہے کہ نعمت سے دوسروں کو بھی فیض پہنچایا جائے اور آخری درجہ یہ ہے کہ اپنی پسند و ناپسند کو ختم کرکے صرف خدا کی پسند ہی کا خیال رکھا جائے۔


حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟


حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: آج کے دور میں وہ جماعت یا مسلک کس طرح تلاش کیا جائے جو حق پر ہو؟
جواب: بالعموم ہم جب حق کی تلاش کی بات کرتے ہیں توا سے محدود

معنوں میں لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حق کی تلاش سے مراد کسی ایسے مخصوص فرقے ، مسلک یا جماعت سے وابستگی اختیار کرنا ہے جو سرتاسر حق پر ہو۔ یہ بات پیغمبروں کی موجودگی کی حد تک تو درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر خدا کے نمائیندے ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی میں انہی کی جماعت حق پر ہوتی ہے اور اس کی تائید خدا کی وحی بھی کرتی ہے۔ پیغمبر کی موجودگی میں حق پیغمبر ہی کے ساتھ ہوتا ہے اور حق کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب پیغمبر کی کی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی جائے۔ جب پیغمبر یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ حق ہے تو اس اعلان کے پیچھے خدا کا حکم موجود ہوتا ہے۔
پیغمبروں کے بعد ان ماننے والے تعداد میں بالعموم بڑھ بھی جاتے ہیں اور ان میں دین کے فہم کے حوالے اختلاف رائے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی فرقے یا مسلک کے لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ تمام حق ان کے پاس ہے اور باقی جماعتیں یا مسالک مکمل طور پر کفر یا باطل پر کھڑے ہیں۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ حق مختلف مسالک میں بکھرا ہوا ہو۔ ایسی صورت میں اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ حق بات اور حق نظریے کو مانا جائے اور کسی شخصیت یا جماعت یا مسلک کو پیغمبر یا سراپا حق نہ سمجھا جائے ۔ اس تناظر میں یہ رویہ درست نہیں کہ حق کو تلاش کرنے سے مراد ایک ایسی جماعت لی جائے جو سراپا حق ہو۔البتہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک جماعت بحیثیت مجموعی حق کے قریب تر ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر کی موجودگی میں جماعت میں شمولیت اختیار کرنا لازم ہوتا ہے کیونکہ حق ا س جماعت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی تعلیمات کی صورت میں حق موجو د ہوتا ہے جو ضروری نہیں صرف ایک ہی جماعت یا مسلک کے پاس ہو۔ ایسی صورت میں حق پر عمل کرنے کے لیے کسی جماعت یا عالم کی اندھی پیروی کی بجائے ان تعلیمات کو جاننا اور ماننا لازمی ہوتا ہے جو پیغمبر کی اصل ہدایات ہوں۔
سوال یہ ہے کہ کسی کو اگر کوئی جماعت یا مسلک یا عالم یا فکر کو منتخب کرنا ہے تو کس طرح کرے؟اس کا جواب بہت سادہ ہے:
۱۔ سب سے پہلے تو ایک شخص جس جماعت میں ہے اسی جماعت میں رہے اور ہر وقت اپنے کان ، آنکھ اور ذہن کھلا رکھے۔
۲۔ اپنی جماعت کے علما کی رائے کو عقل و فطرت اور قرآن و سنت کی روشنی پر جانچے اور اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں تحقیق کرے۔
۳۔جونہی اسے اپنی جماعت اور مسلک کے بارے میں کوئی سوال یا اعتراض پیدا ہو تو اس پر تحقیق کرے اور یہ تحقیق صرف اپنی جماعت کے علما اور اپنے مسلک ہی کی کتابیں پڑھ کر نہ کرے بلکہ دوسرے مسلک کی رائے کو بھی بلاتعصب جانے۔
۴۔ اگر اس پر واضح ہوجائے کہ اس کی جماعت یا مسلک کا نقطہ نظر درست نہیں تو وہ حق پر مبنی نقطہ نظر ہی اختیار کرے۔
۵۔ اپنی جماعت یا مسلک کے علماء اور انتظامیہ کی اخلاقی حالت اور کردار پر ہمیشہ نظر رکھے۔ اگر اس میں کوئی خرابی دیکھے تو برملا ادب کے ساتھ بتادے۔ اور اگر وہ علما ء رجوع نہ کریں تو وہ ان سے کنارہ کشی اختیار کرلے۔
۶۔ اگر اپنی جماعت یا مسلک کے نظریات اور علما ء سے مجموعی طور پر علمی اطمینان نہ ہو تو اس جماعت سے کنارہ کش ہوجائے۔
۷۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھے کہ حق خدا اور اس کے پیغمبر کی تعلیمات کا نام ہے، کسی جماعت، فرقے ، مسلک یا علما اور اسکالرز کا نام نہیں۔


فہم القرآن کورس-سیشن 14


فہم القرآن کورس-سیشن 14
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ البقرہ آیات 144 تا 151
السلام علیکم
فہم القرآن کے سیشن 14 میں الحمدللہ کم و بیش تمام ہی ایکٹو طلبا نے حصہ لیا۔اب سب بھائیوں اور بہنوں کا میں شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں کچھ ساعتیں اس اہم کام کے لیے صرف کیں۔ یہ سیکھنے کا عمل اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب ہم اس میں انوالو ہوجائیں۔ کلاس سے دور ر کر مشاہد ہ کرنے والے کبھی بھی وہ کچھ نہیں سیکھ پاتے جو کلاس میں بیٹھ کر سیکھا جاتا ہے۔ جن بھائیوں اور بہنوں نے شرکت نہیں کی ان میں سے کچھ کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ بے انتہا مصروف ہیں لیکن فون پر یا ملاقات میں اس پر اپنا فیڈ بیک ضرور دیتے ہیں۔

جزاکم اللہ خیرا
جوابات میں سب سے زیادہ جن دو سوالوں پر اختلاف ہوا وہ یہ کہ اہل کتاب اسے اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں تو اسے سے مراد کعبہ ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن مجید۔دوسرا سوال جو اہم تھا وہ رخ س متعلق تھا کہ رخ سے کیا مراد ہے۔ اس پر میں آپ سب کی آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی طالب علمانہ رائے رکھتا ہوں ۔
سوالات
1۔ آیت 145 میں ہے کہ
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں ہی کے قبلے کی پیروی کی۔ تو کیا یہاں کیا قرآن کی اس آیت میں اور حقیقت میں تضاد نہیں ؟
جواب: جی کم و بیش سب نے ہی متفقہ طور پر بیان کیا کہ یہاں مراد و اہل کتاب ہیں جنہوں نے آخری درجے میں جانتے بوجھتے مخالفت کا تہیہ کرلیا تھا۔ اس آیت کی تائید تاریخ کرتی ہے کہ یہود کے قبائل بنونضیر نے بالخصوص خود کو قتل کروانا اور جلاوطن کرلینا پسند کرلیا لیکن اسلام نہ لائے۔ تو یہاں اشار ہ انہی یہود کی جانب تھا جنہوں نے سب کچھ جاننے کے باوجود اسلام نہ لانا تھا اور نہ وہ لائے۔ تو یہ آیت ایک سچی حقیقت ہے۔
2۔ آیت 146 میں بیان ہوتا ہے:
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
یہاں "اسے "سے مراد کیا ہے یعنی کس کو بیٹوں کی طرح پہنچانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کعبے کو یا قرآن کو؟ مولانا مودودی نے ” اسے ” سے مراد کعبہ لیا ہے یعنی وہ کعبے کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب : یہاں ” اسے ” سے مراد میں تین آپشنز ہیں۔ تینوں کو لینے کا اپنا اپنا قرینہ ہے۔ طبری، قتادہ ، ربیع، ابن عباس، سدی، ابن زید اور جریح کے نزدیک ” اسے ” کی ضمیر سے مراد تحویل قبلہ ہے یعنی وہ کعبے کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ (جامع البیان جلد ۲ صفحہ ۱۶)
مجاہد ، قتادہ ، زجاج ، تبریزی اور زمخشری کا کہنا ہے کہ یہاں اسے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس قول کی تائید میں ایک شان نزول بھی بیان کی جاتی ہے جو صحت کے آخری معیار پر تو پوری نہیں اترتی لیکن حضرت عبداللہ ابن سلام جو یہودی تھے اور بعد میں اسلام لے آئے تھے ان کے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ آیت اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں یہ حضرات اپنی کتاب میں رسول اللہ کی صفات ، تعریف اور ان کی بعثت کے بارے میں اس طرح جانتے ہیں جس طرح ان کا کوئی آدمی اپنے بچے کو دوسرے بچوں کے درمیان پہچان لے۔ عبداللہ بن مسلم کا کہنا ہے کہ میں رسول اللہ کو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ جانتا پہچانتا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب نے ان سے کہا کہ اے ابن سلام یہ کیسے ہے کہ تم رسول اللہ کو سب سےز یادہ پہچانتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد حق و یقین کے ساتھ خدا کے رسول ہیں اس طرح کی گواہی میں اپنے بیٹے کے بارے میں نہیں دے سکتا اس لیے کہ میں یہ نہیں جانتا کہ عورتوں نے کیا کیا۔ اس پر حضرت عمر نے ان سے کہا کہ اے ابن سلام اللہ تمہیں کامیاب کرے اور کامیابیوں کی توفیق دے۔(سیوطی )
جہاں تک میں نے اس پر غور کیا تو یہاں ” اسے ” کی ضمیر سے مراد ” حق ” یعنی ” ” سچ” ہے یعنی اہل کتاب اس حق یا سچ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ حق مراد لینے سے دونوں ہی معنی ممکن ہیں یعنی اب اس حق میں کعبہ کا حکم بھی شامل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں اور اگر قرآن مجید مراد لیا جائے تو وہ بھی شامل ہے۔ اس کی تائید اگلی آیت سے ہوتی ہے یہ ایک قطعی سچا حکم ہے۔
3۔ آیت 147 میں ہے کہ
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو ۔
یہاں حق سے کیا مراد ہے نیز کیا حق صرف مذہبی معنی میں ہی ہوتا ہے یا دنیاوی معنوں میں بھی حق اور باطل کا معاملہ ہوتا ہے؟
یہاں حق سے مراد کعبے کی تحویل کا حکم ہے کہ جو قبلے کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا یہی حق ہے اور اہل کتاب اگر کوئی پروپیگنڈا کریں تو اس سے تم شک میں مبتلا نہ ہوجانا۔
جہاں تک دوسرے حصے کا تعلق ہے تو میری رائے میں حق صرف مذہبی معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ حق کے غلبے کا تعلق صرف مذہبی معاملات ہی سے نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی یا زندگی ے تمام شعبوں سے ہے۔اللہ کی سنت حق کے غلبے کے لحاظ سے پیغمبروں کے معاملے میں تو بالکل واضح ہے۔ البتہ باقی شعبوں میں بھی اس غلبے کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک سائنسدان قانون ثقل (Gravitational Law) کو ایک حق یعنی سچائی کے طور پر مانتا ہے۔ نہ صرف سائنسدان بلکہ تمام انسان یہ بات جانتے اور مانتے ہیں کہ زمین میں ایک کشش پائی جاتی جو چیزوں کو نیچے کی جانب کھینچتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص کشش ثقل کے قانون کو نہ مانے یا اسے ماننے میں کوئی غلط فہمی ہوجائے اور اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگادے یا غلطی سے گر جائے تو اس نے ایک حق کا انکار کیا ۔اس انکار کی سزا اس کے زخمی ہونے یا موت کی صورت میں نکلتی ہے۔دوسری جانب وہ لوگ جو اس قانون ثقل کی پاسداری کرتے ہیں، انہیں اس حق کو ماننے کا انعام یہ ملتا ہے کہ و ہ باآسانی حرکت کرتے ہیں اور نت نئی چیزیں ایجاد کرکے فضاؤں تک کو مسخر کرلیتے ہیں۔
یہی معاملہ معاشی قوانین کا بھی ہے۔ قانون طلب ( Law of Demand ) یہ بیان کرتا ہے کہ کسی شے کی قیمت میں اضافے سے اس شے کی طلب یا ڈیمانڈ کم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی بیچنے والا اپنی شے کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کرلے تو اس نے ایک معاشی حقیقت یا سچائی کا انکار کیا اور اس کی خلاف ورزی کی۔ نتیجے کے طور پر اس شے کی طلب کم ہوکر اس کی فروخت یعنی سیل اور پرافٹ میں عمومی حالات میں کمی آجائے گی۔ دوسری جانب وہ بیچنے والا فائدہ میں رہتا ہے جس نے اس قانون طلب کو مد نظر رکھ کر قیمتوں کو تعین کیا ۔
یہی حق باطل کا اصول سماجی میدان میں بھی کارفرما ہے۔کسی شخص کو قتل کرنا سماجی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کوئی شخص کسی کو جانتے بوجھتے غیر قانونی طور پر قتل کرتا ہے تو وہ اس سماجی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ لہٰذاوہ اس حق کی خلاف ورزی پر سزا کا مستحق ہے۔ عین ممکن ہے یہ سزا اسے اسی دنیا میں مل جائے۔ اور اگر اس دنیا میں نہ پائے تو دوسری دنیا میں وہ انکار حق کی سزا بھگتتا ہے۔
یہی معاملہ مذہبی حق کا بھی ہے۔ اگر ایک شخص جانتے بوجھتے پیغمبر کا انکار کرتا ہے تو وہ حق کا انکار کررہا ہے۔ چنانچہ ایک مخصوص مدت کے بعد انکار حق کی پاداش میں خدائی قانون حرکت میں آتا ہے اور اسی دنیا میں پیغمبر کے انکار کرنے والے مخاطبین کا قلع قمع کردیا جاتا ہے۔ البتہ پیغمبر کی غیر موجودگی میں انکار کرنے والوں کی سزا دوسری دنیا تک موخر کردی جاتی ہے۔ دوسری جانب پیغمبر پر ایمان لانے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حق کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے۔ اس کوماننے کی صورت میں قانون جزا اور اس کی خلا ف ورزی پر سزا کا قانون حرکت میں آجاتا ہے۔ یہ جزا و سزا اسی دنیا یا دوسری دنیا میں ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔اس کی تفصیل میرے مقالے ” الحق ” میں دیکھی جاسکتی ہے جو عنقریب شائع ہوجائے گا۔

4۔ آیت 144 میں قبلے کو بدلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تو پھر آیت 149 اور 150 میں دوبارہ مسجدالحرام کی جانب رخ کرنے کا کیوں کہا جارہا ہے؟
جواب : آیت ۱۴۴ میں حالت حضر یعنی قیام میں اپنا رخ کعبے کی جانب کرنے کا حکم ہے۔ لیکن یہود نے بعد میں یہ کیا تھا کہ وہ سفر میں اپنا رخ بیت المقدس کی بجائے جہاں چاہیں کرلینا چاہتے تھے۔ تو آیت ۱۴۹ اور ۱۵۰ میں حالت سفر میں بھی رخ کعبہ کی جانب کرنے کا حکم دیا گیا۔
5۔ آیت 148 میں کہا جارہا ہے کہ
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے
یہاں رخ سے مراد کیا ہے؟
اگر اس آیت کو پورا دیکھیں تو بتایا جارہا ہے
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ڲ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٤٨؁
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔
یہاں رخ سے مراد شاکلہ یعنی طریقہ ہے۔ یہ مفہوم سورہ بنی اسرائل کی آیت ۸۴ میں آیا ہے کہ
قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا 84؀ۧ
اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ” ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے۔”
تو اس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ ہر شخص کی زندگی کسی خاص رخ پر ہوتی ہے، کوئی مادیت پرستی کی جانب رخ کیے ہوئے ہے، کوئی ہٹ دھرمی کو وتیرہ بنائے ہوئے ہے، کوئی بیت المقدس کے ظاہر ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہے تو تم بھی کہیں کعبے کی جانب رخ کو سب کچھ نہ سمجھ لینا۔ اصل طریقہ ظاہرپرستی نہیں بلکہ حق پرستی ہے۔ ہر شخص اپنے مزاج کے مطابق رخ کرتا اور زندگی کی ڈائریکشن متعین کرتا ہے تو تم بھلائیوں کی جانب سبقت لے جانے کا رخ کرو۔ یہی وہ حیات طیبہ ہے جو خدا کو مطلوب ہے۔ یہی وہ رخ ہے جو اس کو اصل میں پسند ہے۔ تو ہم سب اسرا کے ممبران سے بھی یہی مطلوب ہے کہ ہم اپنے ظاہر و باطن کو خدا کی جانب لگادیں، اس کی رضا کے لیے ساری توانائیاں لگادیں ۔ پھر وہ اس کا اجر ہمیں اتنا دے گا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ جزاکم اللہ خیرا

جوابات ختم ۔
نیچے سیشن ۱۴ کی آیات اور ان کا ترجمہ ہے
قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ ١٤٤؁
وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙاِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ ١٤٥؁ۘ
اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ١٤٦؀۩
اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ١٤٧؁ۧ
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ڲ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٤٨؁
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ١٤٩؁
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ ڎ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ١٥٠؀ڒ
كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ١٥١؀ړ
ترجمہ :
آیت 144:
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو ۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو ۔ یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خوب جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔
آیت 145:
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔
آیت 146
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
آیت 147
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو ۔
آیت 148
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔
آیت 149
تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ﴿نماز کے وقت﴾ مسجد حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔
آیت 150
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔ہاں جو ظالم ہیں ، ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو ان سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے۔
آیت 151
جس طرح ﴿تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ ﴾ میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہارے زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے تھے ۔
سوالات
1۔ آیت 145 میں ہے کہ
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں ہی کے قبلے کی پیروی کی۔ تو کیا یہاں کیا قرآن کی اس آیت میں اور حقیقت میں تضاد نہیں ؟
2۔ آیت 146 میں بیان ہوتا ہے:
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
یہاں "اسے "سے مراد کیا ہے یعنی کس کو بیٹوں کی طرح پہنچانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کعبے کو یا قرآن کو؟ مولانا مودودی نے ” اسے ” سے مراد کعبہ لیا ہے یعنی وہ کعبے کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
3۔ آیت 147 میں ہے کہ
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو ۔
یہاں حق سے کیا مراد ہے نیز کیا حق صرف مذہبی معنی میں ہی ہوتا ہے یا دنیاوی معنوں میں بھی حق اور باطل کا معاملہ ہوتا ہے؟
4۔ آیت 144 میں قبلے کو بدلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تو پھر آیت 149 اور 150 میں دوبارہ مسجدالحرام کی جانب رخ کرنے کا کیوں کہا جارہا ہے؟
5۔ آیت 148 میں کہا جارہا ہے کہ
ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے
یہاں رخ سے مراد کیا ہے؟
درخواست کرتا ہوں کہ جوابات اگلے سنڈے یعنی 15 جنوری تک عنایت کردیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
8 جنوری 2017


دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی


مضمون نمبر 5: دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی
ڈاکٹر محمد عقیل
جب اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے ” کن ” کہا یعنی ہوجا۔ تو یہ کائنات وجود میں آگئی ۔ اللہ تعالی اس بات پر قادر تھے کہ وہ بس اشارہ کرتے اور سب کچھ خود بخود ایک سیکنڈ میں بن جاتا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ کائنات کو اس حالت میں آنے میں کروڑوں سال کا عرصہ لگا ۔ اسی طرح آج بھی اللہ تعالی جب کسی انسان کو دنیا میں بھیجتے ہیں تو نو ماہ تک اسے ماں کے پیٹ میں مختلف حالتوں سے گذارتے ہیں اس کے بعد تخلیق ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کا کن کے ذریعے تخلیق کرنے کا معاملہ نہ تو یک جنبش قلم ہوتا ہے اور نہ یکایک ہوتا ہے۔
اللہ تعالی کی سنت جو عمومی طور پر نظر آتی ہے وہ تدریج کی ہے۔ "کن” یعنی "ہوجا "کی ادائیگی کے فورا بعد اصول اور قانون پیدا ہوتا ہے اور پھر چیزیں اسی قانون کے تحت ہونے لگ جاتی ہیں۔مثال کے طور پر پانی پیدا کرنے سے قبل اللہ نے اس کا فارمولے تخلیق کرکے اس کا قانون بنایا کہ یہ H2O ہوگا۔ یعنی اس میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کا ایک اِیٹم ہوگا۔ اسی طرح آکسیجن اور ہائیڈروجن کی خصوصیات طے کیں۔
یہی تدریج کا معاملہ انسان کے ساتھ بھی خاص کردیا گیا ۔ جس نے اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہونے والے قوانین کو دریافت کرلیا ، وہ بھی تخلیق کے قانون سے آگاہ ہوگیا۔ چنانچہ جب کھیتی باڑی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان نے زمین کو نرم کرکے اس میں بیج بوتا، اسے پانی دیتا اور وقت آنے پر فصل کی کٹائی کرتا ہے۔ بچے کی تخلیق اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عورت و مرد کا ملاپ ہوتا ہے۔ جہاز اس وقت تک نہیں اڑا جب تک کہ نیوٹن کے دریافت کردہ تیسر ے قانون کے مطابق عمل نہ کیا گیا۔
یہ طریقہ کار صرف فزکس کا نہیں بلکہ اخلاقیات، معیشت ، معاشرت اور مذہب ہر شعبے میں کارفرما ہے۔اللہ کی سنتوں کو سمجھنے کے لیے اللہ کی صفات کے نظام کا ادراک بے حد ضروری ہےکیونکہ اس کے بنا ہم کلمہ کن کے پوشیدہ قوانین کو دریافت نہیں کر سکتے۔کلمہ کن اور فیکون کے درمیان بہت سے تکوینی قوانین موجود ہیں۔ یہ قوانین اللہ کی صفات کے فہم ہی کے ذریعے سمجھ میں آتے ہیں۔
کلمہ کن کے ساتھ ہی ایک تکوینی نظام وجود میں آجاتا ہے۔ اس نظام میں تخلیق ہوتی ہے، چیزوں کی نکھ سکھ سنواری جاتی ہے، انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے اور وقت پورا ہونے پر انہیں فنا کردیا جاتا ہے۔ یہاں ہم دیکھیں تو کلمہ کن سے اللہ کی تین بنیادی صفاتی نظاموں کا ظہور ہوا۔ تخلیق، بقا اور فنا۔ کن سے صفت الخالق نے تخلیق کی۔ پھر اس تخلیق کو الرب کی صفت نے پروان چڑھایا گیا تو بقا کا کام ہوا ۔ پھر کچھ نئی چیزیں وجود میں لانے کے لیے اورکچھ پرانی چیزوں میں اصلاح کرنے کے لیے صفت الجبار کے ذریعےتوڑ پھوڑ اور فنا کا کام ہوا۔
کلمہ کن کے ساتھ ہی صفات کے ایک منظم سسٹم کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی جب اللہ نے کائنات بنانے کا ارادہ کیا تو اللہ نے بحیثیت علیم و حکیم کے کائنات کی منصوبہ بندی کی۔ جب اللہ نے ” کن” کہا کہ ہوجا تو یہاں ایک خالق، مصور اور باری کی حیثیت سے چیزوں کو بنانے کا حکم جاری کیا۔لیکن اگر طاقت و قدرت نہ ہو تو کام نہیں ہوگا۔ چنانچہ اللہ نےایک قادر مطلق بادشاہ کی حیثیت سے فرمان جاری کیا کہ ہوجا تو چیزیں ہوگئیں۔
کن کے بعد آج تک اسی کن کی بازگشت موجود ہے جسے ہم بگ بینگ تھیوری کہتے ہیں ۔ اس روز اول سے آج تک یہی تینوں کام مسلسل کائنات میں ہورہے ہیں یعنی تخلیق، بقا ، فنا پھر تخلیق، بقا اور فنا۔گویا کن یعنی ہوجا کا حکم تین پہلو رکھتا ہے ۔ کن یعنی پیدا ہوجا تو وہ شے پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر کن یعنی باقی رہ جا تو وہ باقی رہتی ہے پھر کن یعنی فنا ہوجا تو وہ فنا ہوجاتی ہے۔
اس تخلیق، بقا اور فنا کے پس منظر میں جو دیگر صفاتی نظام کرتے ہیں ۔ ان نظاموں میں صفت علم سر فہرست ہے کیونکہ تخلیق ، فنا اور بقا علم و حکمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح تخلیق ، بقا اور فنا کے لیے وسائل کا ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ صفت وہابیت وسائل کی فراہمی کا نظام ہے۔ایسے ہی یہ تینوں کام طاقت یا قدرت کے بنا ادھورے ہیں چنانچہ صفت جبار اسی طاقت کا اظہار ہے۔
اس طرح اگر ہم دیکھیں تو اللہ کی صفات کے چھ بنیادی نظام ہمارے سامنے آتے ہیں۔
۱۔ تخلیق کا صفاتی نظام = الخالق
۲۔ بقا کا صفاتی نظام = الرب
۳۔ فنا کا صفاتی نظام = الجبار/الممیت
۴۔ علم و حکمت کا صفاتی نظام= العلیم
۵۔ وسائل کا صفاتی نظام = الوہاب
۶۔ طاقت و قدرت کا صفاتی نظام = ذوالجلال والاکرام
گویا کہ اللہ تعالی کی بے شمار صفات میں سے تین بنیادی صفات ہیں جو ہمارےسامنے کائنات اور مخلوق کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سامنے آتی ہیں۔ تخلیق، بقا اور فنا۔ ان تین صفات کے ظہور پذیر ہونے کے لیے علم ، وسائل کی فراہمی اور طاقت کا ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ اللہ کی چھ بنیادی صفات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔ الخالق، الرب، الجبار، العلیم، الوہاب اور ذوالجلال والاکرام ۔ انہی صفات کے تحت دیگر صفات بھی آتی ہیں۔
کائناتی نظام اور چھ صفاتی نطام
جب سے کائنات وجود میں آئی ہے تو وہ ان چھ بنیادی صفات ہی کے زیر اثر ہے۔ ہر صفت اپنی جگہ ایک مستقل محکمہ اور مستقل نظام ہے۔ ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت کے یوں تو لاتعداد محکمے ہیں لیکن ان میں سے چھ محکمے بنیادی ایڈمنسٹریشن کے محکمے ہیں جو مخلوق سے متعلق ہیں۔ ہر محکمے میں اصول و ضوابط، قوانین ، پالیسیز ، پروسیجرز اور رولز موجود ہیں۔اس حقیقت کو ہم اس چارٹ سے واضح کرسکتے ہیں۔
sifaat
مثال کے طور پر الرب کا صفاتی نظام یا محکمہ بقا سے متعلق ہے کہ کس طرح اس کائنات کی پرورش کرنی، رزق پیدا کرنا، اسے مخلوق تک پہنچانا ، اس کے لیے زندگی کے اسباب پیدا کرنا اور زندگی کو پروان چڑھانا ہے۔ دوسری جانب صفت الخالق کا محکمہ کائنات اور اور اس کی مخلوقات میں تخلیقی عمل کو دیکھ رہا ہے کس کتنے نئے ستارے پیدا کرنے ہیں، کتنے نئے انسان دنیا میں آئیں گے، کتنے جانور ، پھول پودے پیدا کرنے ہیں ۔اسی طرح صفت الجبار فنا کے عمل کی دیکھ بھال کررہی ہے کہ کتنے ستاروں ، سورجوں ، سیاروں اور ستاروں کی موت واقع ہوگی، کتنے انسان ، جانور ، پھول پودے مریں گے وغیرہ۔ ان تینوں محکموں کو علم ، وسائل اور طاقت کی بھرپور معاونت حاصل ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی حکومت ایک ایڈمنسٹریشن ہے جس کے کئی ڈیپارٹمنٹس یا محکمے ہیں۔ ان محکموں کو ہم صفاتی نظام کہتے ہیں ۔ یہ صفات ایک مخصوص سسٹم اور میکنزم کے تحت اپنا اپنا کام کرتی ہیں اور ساتھ ہی یہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتی ہیں۔ دنیاوی حکومت میں کئی وزارتیں اور محکمے ہوتے ہیں جیسے فائنانس ، تجارت، خارجہ ، دفاع، تعلیم ، صحت وغیرہ ۔یہ تمام محکمے نہ صرف اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کرتے اور تعاون طلب کرتے ہیں۔ سمجھنے کے لیے ہم یہ کہ سکتے ہی کہ اللہ کی صفات بھی ایک دوسرے کے ساتھ وہی تعلق رکھتی ہیں جوحکومت کے ادارے آپس میں رکھتے ہیں۔مختلف ادارے ہونے کے باوجود حکومت کی وحدت ایک ہی رہتی ہے۔ بالکل ایسے ہی اللہ کی صفات کے مختلف نظاموں کے باوجود اللہ کی توحید اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
اگر ہم کوئی مادی معاملہ کرتے ہیں تو ہم کسی مخصوص صفاتی نظام سے رجوع کرتے ہیں۔ جیسے فصل اگاتے وقت ہم تخلیقی صفات کے ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کررہے ہوتے ہیں اور جب اس کے بیان کردہ قوانین پر عمل نہ کریں ، فصل کو نہیں اگاسکتے۔ یہی معاملہ ملازمت کے حصول کا بھی ہے۔ ملازمت حاصل کرتے وقت ہم الرب یا ربوبیت اور وہابیت کے ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کررہے ہوتے ہیں اور اسی کے قوانین سے آگاہی لازمی ہوتی ہے۔
اگر مادی دنیا میں ہم یہ اصول مان لیتے ہیں تو غیر مادی دنیا میں بھی یہ اصول ماننا ہوگا۔یعنی جب بھی ہم اللہ سے مدد کے لیے رجوع کرتے اور اپنی کوئی حاجت پیش کرتے ہیں تو وہ ضرورت کسی نہ کسی مخصوص صفت کے تحت آتی ہے۔ چنانچہ دعا مانگتے وقت ہم اسی مخصوص ڈیپارٹمنٹ میں اپنی درخواست پیش کررہے ہوتے ہیں جو اس ڈیپارٹمنٹ کے قوانین سے فلٹر ہوتی ہوئی خدا کے حضور قبولیت یا رد کے لیے پہنچ جاتی ہے۔
خدا جس طرح فزکس کے قوانین کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح دعا کی قبولیت کے وقت بھی قبولیت کے اصولوں کے تحت ہی بالعموم فیصلہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فزکس کا قانون یہ کہتا ہے کہ زمین پر اونچائی سے کودنے سے کشش ثقل کی بنا پر ٹانگیں ٹوٹ سکتی ہیں۔ اسی طرح دعا کی قبولیت کا قانون یہ کہتا ہے کہ زبانی کلامی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا اور اگر فصل اگانی ہے تو کھیتی باڑی کرکے دعا کرنی ہوگی۔ یعنی دعا قبولیت کا اصول ہے کہ اپنے کرنے کا کام خود کیا جائے اور جو کام بس میں نہ ہو تو ہو خدا پر چھوڑ دیا جائے۔
اسی طرح ہم جب اللہ سے صحت یابی کی درخواست کررہے ہوتے ہیں تو اس کی صفت ربوبیت کے تحت ایک درخواست پیش کررہے ہوتے ہیں۔ اگر ہماری دعا اس صفت کے قوانین کے خلاف کی گئی ہے تو اللہ اس دعا کو بالعموم قبول نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص دل کی بیماری سے بچنے کی دعا مسلسل کررہا ہے لیکن ساتھ ہی سگریٹ بھی پیے جارہا ہے تو یہ دعا اس ڈیپارٹمنٹ کے اصول و ضوابط کی واضح خلاف ورزی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اللہ اس دعا کو رد کردیں لیکن وہ چاہیں تو اپنی حکمت کے تحت اسے قبول بھی کرسکتے ہیں کیونکہ وہ قادر مطلق ہیں۔ لیکن ایسا بالعمو م کم ہوتا ہے۔ چنانچہ دعا کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ جس صفت سے متعلق ہے اسی کے تحت بھیجی جائے تاکہ اس صفت سے متعلق قوانین و ضوابط کے تحت بندہ خود کو ڈھال سکے۔


اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟


مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟
ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
"اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف ۱۸۰:۷)

ایک اور مقام پر آتا ہے:
ان سے کہدو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔ (بنی اسرائل ۱۱۰:۱۷)
چنانچہ قرآن میں خود یہ بیان ہوتا ہے کہ اللہ کو اچھے ناموں سے پکارو۔ ظاہر ہے کہ یہ نام ایک سے زائد ہیں ۔ اس بات پر تمام علماء کا اتفا ق ہے کہ ان ناموں سے مراد اللہ کے صفاتی نام یا اللہ کی صفات ہی ہیں ۔
ایک اور جگہ پر سورہ بنی اسرائل میں بیان ہوتا ہے:
آپ ان سے کہئے کہ: اللہ (کہہ کر) پکارو یا رحمن (کہہ کر) جو نام بھی تم پکارو گے اس کے سب نام ہی اچھے ہیں ۔ اور آپ اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھئے نہ بالکل پست آواز سے بلکہ ان کے درمیان اوسط درجہ کا لہجہ اختیار کیجئے۔(آیت ۱۱۰)
اس سے علم ہوتا ہے کہ اللہ کو مختلف ناموں یعنی صفات سے پکارا جانے کا حکم خود قرآن میں موجود ہے۔ اس حکم کو پیغمبروں نے من و عن مانا اور اپنی دعاؤں میں دعا کی نسبت سے اللہ کی مخصوص صفت کا خیال رکھا۔ جیسے :
• حضرت ابراہیم کی دعا:
اے ہمارے پروردگار! ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک جماعت پیدا کر جو تیری فرمانبردار ہو ۔ اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتلا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے(اانک انت التواب الرحیم)۔(البقرہ ۱۲۸)
اے ہمارے پروردگار! ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو، وہ ان کے سامنے تیری آیات کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنا دے۔ بلاشبہ تو غالب اور حکمت والا ہے(اانک انت العزیز الحکیم)۔” (البقرہ ۱۲۹)
دیگر دعاؤں میں بھی یہی بات نمایاں ہے کہ بزرگ ہستیوں نے اللہ سے مدد مانگتے وقت اللہ کو کسی نہ کسی مخصوص صفت کے ذریعے پکارا۔ جیسا کہ نیچے کی ٔپیش کردہ دعاؤں سے علم ہوتا ہے۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ Ď۝
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّىْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِيْ بَطْنِىْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 35؀
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ١١٨؁
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ 35؀
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ Ĉ۝
ان چند آیات کو دیکھیں تو دعا مانگتے وقت ان پیغمبروں اور دیگر برگزیدہ ہستیوں نےاس بات کا پورا خیال رکھا کہ دعا کی مناسبت سے اللہ کی اس صفت کو پکارا جائے یا مینشن کیا جائے۔ اگر ہم ان صفات کا درست شعور پیدا کرلیں تو ان کے ذریعے اللہ کیاان بنیادی صفات کا نہ صرف شعور حاصل کرسکتے بلکہ اللہ کو پکارنے ، اس سے مانگنے اور اس سے گڑگڑانے کا طریقہ بھی سیکھ سکتے ہیں۔اللہ کو اس کے صفاتی نام سے مخاطب کرنا دراصل اسم اعظم یعنی وہ بڑا نام یا صفت ہے جو اس موقع کی مناسبت سے لازمی ہوتی ہے۔
اللہ کو مختلف صفات یا اسم اعظم سے پکارنے کی حکمت
اللہ کو مختلف صفات اور ناموں سے پکارنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ ہم خود کو نفسیاتی طور پر خدا کی اس صفت کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں جو اس کام کے لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب خدا بھی اسی مناسبت سے ہماری جانب رجوع کرتے ہیں جس بنا پر ہم نے انہیں پکارا ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کے مختلف نام یا صفات دراصل اللہ سے رجوع کرنے کے مختلف چینلز یا راستے ہیں۔ یہ چینلز دراصل اپنی جگہ ایک مکمل سسٹم یا نظام ہوتا ہے جو اس صفت کے تحت چل رہا ہوتا ہے۔ جب ہم کسی مخصوص صفت کے ذریعے اللہ کو پکارتے ہیں تو دراصل ہم اس نظام کو متحرک کررہے ہوتے ہیں۔
ہم جب بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور مکان بنوانا ہو تو انجنئیر کو بلاتے ہیں۔ اسی طرح جب ہمیں خدا کے رحم کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم خدا کی رحمت کے نظام کو متحرک کرتے ہیں، اگر ہمیں رزق کی ضرورت ہوتی ہے تو نظام ربوبیت کو تحریک دیتے ہیں وغیرہ۔چنانچہ ہم اپنی ضرورت کے تحت کسی مخصوص راستے کا انتخاب کرکے اپنی دعا یا درخواست اللہ کے حضور پیش کردیتے ہیں اور اسی کے ساتھ مخصوص عمل بھی کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر کسی کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا سامنا ہے لیکن وہ کمزوری کی بنا پر اس ظلم کا مقابلہ نہیں کرپارہا۔ چنانچہ و اللہ کو اس کے نام القدیر، القادر ، یا المک کے ذریعے پکارتا ہے کہ کہ اے قدیر (قدرت والے) اس ظالم کے مقابلے میں میری مدد کر۔اس مخصوص نام کے ذریعے پکارنے کی بنا پر اسے ایک تو نفسیاتی سہارا ملتا ہے جس کی بنا پر وہ اللہ کی قدرت کو اپنی پشت پر محسوس کرتا ہے۔
لیکن یہ معاملہ صرف نفیسات کی حد تک محدود نہیں رہتا اور اللہ کی صفت قدرت کا اس کے کیس میں اظہار بھی ہوتا ہے۔ اور اللہ کی مشیت کے تحت طاقت و قدرت کا صفاتی نظام یا محکمہ حرکت میں آتا ہے اور ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کی جاتی ہے۔یہ مدد ظاہر ہے اسباب کے پردوں میں پوشیدہ ہوتی ہے اس لیے بادی النطر میں محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن یہی وہ قدرت ہوتی ہے جو بڑے بڑے جابر بادشاہوں اور سربراہوں کو ہلاک کردیتی ہے۔
یہاں کوئی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہے لیکن ہم کیوں اسے مختلف ناموں سے پکاررہے ہیں۔ اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ قرآن نے خود اللہ کو مختلف ناموں سے پکارنے کی ہدایت دی ہے۔ اور اس ہدایت کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ کا مخلوق کے ساتھ معاملہ صفات کے ذریعے طے ہوتا ہے اور ہر صفت اپنی جگہ اصول و ضوابط کا ایک نظام ہے۔
ہم جانتے ہیں پاسپورٹ کے لیے محکمہ داخلہ میں درخواست جمع کرائی جاتی اور ٹیکس کے لیے ایف بی آر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ بظاہر دو الگ الگ محکمے ہیں لیکن دونوں حکومت پاکستان ہی کے ذیلی ادارے ہیں جس کے تحت حکومت اپنے شہریوں سے رابط کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی صفات بھی الگ الگ محکمے ہیں۔ ہم اپنی ضرورت کے تحت ان محکموں سے رجو ع کرسکتے ہیں ۔ یہ محکمے متعدد ہونے کے باوجود ایک ہی خدا کی صفات ہیں جنہیں ہم نے اپنی تفہیم کے لیے محکموں کی صورت میں سمجھا ہے۔


اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا


مضمون نمبر ۳: اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا
ڈاکٹر محمد عقیل
متعدد حسن اور صحیح روایات میں اسم اعظم کے ذریعے اللہ کو پکارنے کا حکم موجود ہے۔ یعنی اللہ کو ایک مخصوص نام سے اگر پکارا جائے تو اللہ تعالی ضرور سنتے ہیں۔ان روایات کی تفصیل یہ

ہے۔
۱۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی وہاں پر کھڑا ہوا نماز میں مشغول تھا جس وقت رکوع اور سجدے اور تشہد سے فراغت ہوئی تو دعا مانگنے لگا اور کہنے لگا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُکَ ۔
پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ کیا تم لوگ اس سے واقف ہو کہ کون سے جملوں سے دعا مانگی جائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب واقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے اللہ تعالیٰ کو آواز دی۔ اللہ کے اسم اعظم (یعنی بڑے نام) سے جس وقت اللہ تعالیٰ کو اس کے نام سے آواز دی جاتی ہے اور اس کو یاد کیا جاتا ہے اور جس وقت کوئی شخص اس سے مانگتا ہے تو وہ عنایت کرتا ہے۔( سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1305 حدیث مرفوع۔قال الشيخ الألباني : صحيح)
۲۔ حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس (شخص )نے اللہ سے اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے۔ اگر اس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو قبول کی جاتی ہے اور اگر کچھ مانگا جائے تو عطاء کیا جاتا ہے۔( جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1429، قال الشيخ الألباني : صحيح)
۳۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ اس (شخص )نے کن الفاظ سے دعا کی ہے؟ اس نے اسم اعظم (کے وسیلے) سے دعا کی ہے۔ اگر اس (کے وسیلے) سے دعا کی جائے تو دعا قبول کی جاتی ہے اور اگر سوال کیا جاتا ہے تو عطا کیا جاتا ہے۔( جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1499، صحیح حدیث)
اس سے علم ہوتا ہے کہ اسم اعظم کے ذریعے مانگی جانے والی جانے والی دعا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور اس دعا کی قبولیت کے امکانات کو روشن بیان کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسم اعظم سے کیا مراد ہے۔ اسم اعظم سے مراد ظاہر ہے صفات الٰہی ہی ہیں۔ قرآن میں اسمائے حسنی کا مطلب اللہ کے صفاتی نام یا صفات ہیں۔ اسی طرح اسم اعظم سے مراد بھی اللہ کی مخصوص صفات ہیں۔ جیسا کہ اس روایت میں بیان ہوتا ہے:
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے
وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (البقرہ ۲:۲:۱۶۳)
اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1430، حسن حدیث)
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا کہ آیا اسم اعظم کے بارے میں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین طور پر بتایا۔ تو روایات سے علم ہوتا ہے کہ مختلف آیات کی جانب نشاندہی کرکے اسم اعظم کی جانب اشارہ کیا گیا لیکن کہیں بھی خاص طور پر اسم اعظم کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ کہیں بقرہ ، کہیں ال عمران اور کہیں سورہ طہ میں اسم اعظم کے موجود ہونے کی بابت بیان کیا گیا۔ ایک روایت جو اوپر گذرچکی ہے اس میں ایک صاحب کی دعا جس میں خدا کی صفات تھیں انہی میں اسم اعظم کی موجودگی کو بیان کیا گیا ۔ یہ دعا یہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ
اس سے ثابت ہوتا ہے اسم اعظم سے مراد اللہ کے مخصوص صفاتی نام ہیں ۔ اگر ہم دیکھیں تو اسم اعظم کوئی متعین صفت نہیں بلکہ تمام صفات ہی اسم اعظم ہیں۔ اگر ہم صفات کے نظام کو دیکھیں تو کسی بھی دعا کے موقع پر کسی مخصوص صفاتی نظام کو ضرورت کی مناسبت سے مخاطب کرنا ہی دراصل اسم اعظم کے ذریعے پکارنا ہے۔مثال کے طور پر کسی تخلیقی کام کے لیے اسم اعظم الخالق کی صفت یا اس گروپ کی دیگر صفات ہیں۔علم کے حصول کے لیے اس اعظم علم و حکمت سے متعلق صفات ہیں۔ رزق اور مال میں اضافہ کے لیے اسم اعظم صفت رب اور صفت وہابیت ہیں۔ کسی بیماری یا برائی کو فنا کرنے کے لیے اسم اعظم صفت جبار ہے وغیرہ۔
سوال یہ ہے کہ اسم اعظم سے اللہ کو پکارنے سے اللہ کیوں سنتے ہیں۔ اس کا جواب اگلے مضمون نمبر۴ یعین” اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟


دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو


مضمون نمبر ۲: دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو
ڈاکٹر محمد عقیل
ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات لوگ لاکھوں کروڑوں دعائیں مانگتے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی قبول ہوتی ہیں۔ دوسری جانب قرآن میں اللہ نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ نمازیا صلوٰۃ کے لغوی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اسی طرح تمام عبادات میں اصل فوکس دعا یعنی اللہ کو پکارنے اور اس سے مدد

مانگنے پر ہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو کس طرح پکارا جائے اور اس سے مدد طلب کی جائے کہ دعا قبول ہوجائے۔ دعا کی قبولیت پر کئی نظریات موجود ہیں۔ ایک نظریے کے مطابق دعا مخصوص اوقات (جیسے روزہ افطار کرتے وقت )میں زیادہ قبول ہوتی ہے، دوسری کے مطابق دعا مخصوص مقامات( جیسے کعبہ ) میں زیادہ قبول ہوتی ہے۔ کچھ کے نزدیک مخصوص ہستیوں کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔
یہ تمام نظریات اپنے اپنے محل میں درست ہوسکتے ہیں۔ البتہ دعا پر کئی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر انسان اپنے حصے کا کام کرلے اور اس کے بعد دعا مانگے تو دعا مانگنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ اکثر دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ تیسرا یہ کہ دعا مانگنے کے لیے کسی وظیفہ وغیرہ کا استعمال ضروری ہے؟
دعا کی قبولیت کا قانون
لیکن اگر ہم قرآن و سنت کا جائزہ لیں تو دعا کی قبولیت کا ایک چھوٹا سا فارمولابن جاتا ہے۔
دعا کی قبولیت = (انسان کا مطلوبہ عمل + تکوینی نظام کی تطہیر)+اللہ کا فیصلہ
۱۔ انسان کا مطلوبہ عمل
اس سے مراد یہی ہے کہ جس مسئلے پر دعا مانگی جارہی ہو اس پر جو اللہ کے عالم اسباب کے قوانین ہیں ان کو پورا کردیا گیا ہو۔ مثال کے طور ایک شخص کو اولاد کی خواہش ہے تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ کسی عورت سے نکاح کرکے مطلوبہ جنسی عمل کے طریقہ کا ر کو پورا کرے۔ کسی کا( نکاح کے ذریعے) کوئی جنسی تعلق ہی قائم نہ ہو اور وہ اولاد کی خواہش کرے تو یہ پاگل پن ہے۔ یہی معاملہ امتحان میں کامیابی ، کھیتی باڑی ، رزق کمانے اور دیگر معاملات کا ہے۔
لیکن دعا کی قبولیت کے لیے صرف اسباب و علل پورا کرنا کافی نہیں۔انسان نہ تو تمام اسباب کو پورا کرسکتا ہے اور نہ یہ اس کے بس کی بات ہے۔ چنانچہ وہ اللہ سے مدد مانگ کر اپنی محنت اس کے سامنے رکھ دیتا ہے تاکہ جو کمی بیشی اس کے اسباب پورا کرنے میں رہ گئی یا جو بات اس کے بس کی نہیں وہ اللہ اپنی قدرت کاملہ سے پورا کردیں۔
یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنے حصے کا کام مکمل کرلیا تو وہ اسباب کی کمی کے باوجود مایوس نہیں ہوئے ۔ جیسے حضرت ذکریا بڑھاپے کے عالم میں بھی اولاد کی دعا کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۳۱۳ افراد کے ساتھ ہی بدر میں فتح کی درخواست کرتے ہیں وغیرہ۔
تو دعا کی قبولیت کے لیے انسانی عمل لازمی ہے اور انسانی عمل سے مراد اسباب مہیا کرنا اور پھر اللہ سے مدد کے لیے درخواست کرنا ہے۔
۲۔ اللہ کے تکوینی نظام کی تطہیر
اللہ کے تکوینی نظام سے مراد وہ سسٹم ہے جو اللہ کے کن کہنے سے وجود میں آیا۔ کن دراصل ایک خدائی حکم ہے کہ ہوجا تو وہ کام یا شے ہوجاتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام یا وہ چیز فورا ہی بن جاتی ہے۔ گوکہ اللہ اس پر قادر تھے کہ اسے فورا ہی بنادیں۔ لیکن اللہ کی سنت اس معاملے میں تدریج اور حکمت ہی ہے”کن” یعنی "ہوجا "کی ادائیگی کے فورا بعد اصول اور قانون پیدا ہوتا ہے اور پھر چیزیں اسی قانون کے تحت ہونے لگ جاتی ہیں۔مثال کے طور پر پانی پیدا کرنے سے قبل اللہ نے اس کا فارمولے تخلیق کرکے اس کا قانون بنایا کہ یہ H2O ہوگا۔ یعنی اس میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کا ایک اِیٹم ہوگا۔ اسی طرح آکسیجن اور ہائیڈروجن کی خصوصیات طے کیں۔
یہی تدریج کا معاملہ انسان کے ساتھ بھی خاص کردیا گیا ۔ جس نے اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہونے والے قوانین کو دریافت کرلیا ، وہ بھی تخلیق کے قانون سے آگاہ ہوگیا۔ چنانچہ جب کھیتی باڑی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان نے زمین کو نرم کرکے اس میں بیج بوتا، اسے پانی دیتا اور وقت آنے پر فصل کی کٹائی کرتا ہے۔ بچے کی تخلیق اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عورت و مرد کا ملاپ ہوتا ہے۔ جہاز اس وقت تک نہیں اڑا جب تک کہ نیوٹن کے دریافت کردہ تیسر ے قانون کے مطابق عمل نہ کیا گیا۔
چنانچہ تکوینی نظام کی تطہیر سے مراد یہ ہے کہ جب انسان اپنا کوئی عمل کرکے اس کے لیے دعا کرتا اور اسے قبولیت کے لیے خدا کے حضور پیش کرتا ہے تو یہ تکوینی نظام اس درخواست کو چیک کرتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا انسان نے اسباب کا درست استعال کیا یا نہیں، اس نے خدا کو کس خلوص سے پکارا، اس نے کوئی غلط طریقہ تو استعمال نہیں کیا۔ جب یہ ساراچیک کرنے یا اسکروٹنی کا عمل ہوجاتا ہے تو بات خدا کے حضور فیصلے کے لیے پہنچ جاتی ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص ملازمت کے لیے ایک کمپنی میں درخواست دیتا ہے تو وہ کمپنی یہ دیکھتی ہے کہ آیا اس شخص کی تعلیم اس جاب کے مطابق ہے یا نہیں، اسے کام کا تجربہ ہے یا نہیں، اس کا کردار عمومی طور پر درست ہے یا نہیں۔ اس اسکروٹنی کے بعد ہی اس کی درخواست اگلے مرحلے میں منقتل کی جاتی ہے۔
یہ تکوینی نظام نیک مخلوق یعنی فرشتوں پر مبنی ہوتا ہے ۔ فرشتے اللہ کے حکم سے اور اللہ ہدایات کے تحت اسکروٹنی کا یہ عمل کرتے ہیں۔ ان فرشتوں کا کام دعا یا پکار کو سننا یا قبول کرنا یا رد کرنا ہرگز نہیں ہوتا۔ یہ تو بس اپنے اندر فیڈ کردہ قانون کے تحت قبول ہونے والی دعا کو آمین کہہ کر آگے بڑھا دیتے اور رد ہونے والی دعا کو اعتراضات لگا کر پیش کردیتے ہیں اور فیصلہ کا تنہا اختیار اللہ ہی کا ہوتا ہے۔ چونکہ اس تکوینی نظام کے خالق اللہ تعالی ہی ہیں اسی لیے اس نظام میں ہونے والا تمام کام اللہ ہی سے منسوب ہوتا ہے۔
اس بات کی کئی دلیلیں احادیث میں بیان ہوتی ہیں۔
حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے مسلمان مرد کی اپنے بھائی کے لئے پس پشت دعا قبول ہوتی ہے اس کے سر کے پاس موکل فرشتہ موجود ہے جب یہ اپنے بھائی کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو موکل فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2428)
ایک اور روایت ہے کہ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 910)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور صف میں داخل ہوگیا اور اس کا سانس پھول رہا تھا اس نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سے نماز میں یہ کلمات کہنے والا کون ہے لوگ خاموش رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون ہے اس نے کوئی غلط بات نہیں کہی تو ایک آدمی نے عرض کیا کہ میں آیا تو میرا سانس پھول رہا تھا تب میں نے یہ کلمات کہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ جو ان کلمات کو اوپر لے جانے کے لئے جھپٹ رہے تھے۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1352)
یہاں دراصل اسی تکوینی نظام کی جانب اشارہ ہے۔ یعنی اس نظام میں فرشتے انسانوں کی دعاؤں پر آمین کہتے یا بعض اوقات ان پر آمین نہیں کہتے ہیں۔ چونکہ فرشتے اللہ کے حکم اور قانون کے تحت کام کرتے اور اللہ کے بنائے گئے اصول و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔ اس لیے فرشتوں کا آمین کہنا یا دعا کو اوپر لے کر جانا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے تکوینی نظام کے تحت یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔ بعض اوقات اس دعا پر اعتراضات لگا کر دعا کو واپس کردیا جاتا یا موخر کردیا جاتا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک آدمی کسی گناہ یا قطع رحمی اور قبولیت میں جلدی نہ کرے اس وقت تک بندہ کی دعا قبول کی جاتی رہتی ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2435)
یہ فلٹریشن ظاہر ہے کہ صرف انہی امور تک محدود نہیں۔ ممکن ہے کسی کی دعا عمل میں کمی، اخلاص میں نقص، اسباب کو نظر انداز کردینے، حرام غذا کھانے یا کسی اور سبب سے رد کردی جائے۔ چنانچہ دعا کی قبولیت کا دوسرا مرحلہ اللہ کے تکوینی نظام کی فلٹریشن ہے۔ یہ دراصل اللہ ہی کی فلٹریشن ہے البتہ اسے تکوینی قوانین کے تحت بیان کردیا گیا ہے۔
۳۔ اللہ کا فیصلہ
دعا کی قبولیت کا آخری مرحلہ یا اصل مرحلہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر ہم اللہ کی سنتوں کو مد نظر رکھیں تو علم ہوگا کہ اللہ تعالی بالعموم اپنے بنائے ہوئے قوانین کی روشنی ہی میں کام کررہے ہوتے ہیں ۔ اور ان قوانین کے تحت کیا فیصلہ اللہ ہی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ چنانچہ عمومی طور پر دعا کی قبولیت یا رد کا فیصلہ اللہ تعالی انہی دو اصولوں کی روشنی میں کرتے ہیں۔ یعنی بندے نے کیا عمل کیا اور اس عمل کو تکوینی نظام نے کس حیثیت سے فلٹر کیا۔ تکوینی نظام نے اگر اس درخواست کو فلٹریشن کے بعد درست گردانا تو اللہ تعالی کی جانب سے بھی دعا قبول ہوجاتی ہے اور اگر اس دعا پر کچھ اعتراضات کرکے واپس کردیا تو خدا کا فیصلہ بھی رد ہی کا ہوتا ہے۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی اسباب و علل کے پابند نہیں۔ اللہ جب چاہیں تو اسباب سے ماورا کسی کو جو چاہیں عطا کردیں اور جس کو چاہیں دینے سے منع کردیں۔ اسی طرح اللہ تعالی تکوینی نظام میں موجود فلٹریشن کے طریقہ کار کو بائی پاس کرنے بھی قادر ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی جب مناسب سمجھتے ہیں کسی کی دعا اسباب و علل سے ماورا بھی قبول کرلیتے اور فلٹریشن کے طریقہ کو بھی بائی پاس کردیتے ہیں۔
اس کی اہم وجہ اللہ کی حکمت اور قدرت کاملہ ہوتی ہے۔ یعنی اللہ اپنی حکمت کے تحت یہ سمجھتے ہیں کہ اسباب میں جو کمی رہ گئی ہے اسے کسی اور طریقے سے پورا کردیا جائے۔مثال کے طور پر حضرت ذکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں اولاد کی جو دعا مانگی اسے اللہ نے قبول کیا اور اس بڑھاپے میں انہیں اولاد عطا کی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا جو آپ نے بدر کے میدا ن جنگ میں مانگی اسے اللہ نے قبولیت بخشی ۔
اسباب سے ماورا دعائیں قبول کرنے کا مقصد بہت واضح ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسباب ان کے تحت ہیں وہ اسباب کے تحت نہیں۔ چنانچہ جب چاہیں وہ اسباب کو نظر انداز کرکے کسی بھی کام کو کرنے پر قادر ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سبق بھی بہت اہم ہے کہ اللہ تعالی جب چاہیں ، اسباب سے ماورا ہوکر دعا قبول کرسکتے ہیں لیکن ہم چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ یعنی یہ اللہ کی حکمت ہے جس کے مطابق اللہ فیصلہ کرتے ہیں ، یہ ہماری خواہش نہیں۔
اسی طرح اسباب سے ماورا دعائیں قبول کرنے کا تناسب بہت ہی کم ہے۔ یعنی ہزار میں سے کوئی ایک معاملہ ایسا نظر آتا ہے جس میں یہ ہوا ہو۔ اس سے بھی یہ بات پتا لگتی ہے اللہ تعالی ہم سے یہی چاہتے ہیں کہ ہم طے کردہ طریقہ کے تحت ہی کام کریں اور دعا کریں۔خوامخواہ اپنا کام کیے بنا خدا کو اپنے ذمے کا کام سونپنے سے گریز کریں۔
دعا کی قبولیت کے بارے میں ایک اور اہم بات ہم یہ جانتے ہیں کہ بہت سی دعائیں تو گناہ گاروں اورمشرکوں حتی کے غیراللہ سے مانگنے والوں کی بھی پوری ہوجاتی ہیں تو کیا یہ فلٹریشن کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں کہ دعا کی قبولیت میں اصل حکم اللہ کے فیصلے کا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات جب گناہ گارو یا مشرکین کی دعائیں اللہ کے حضور رکھی جاتی ہیں تو اللہ اسے بھی اپنی حکمت کے مطابق قبول کرتے ہیں۔
ایک حکمت یہ پوشید ہ ہوتی ہے کہ یہ دنیا آزمائش وامتحان کے اصول پر بنی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی غیراللہ کو پکار کر محروم رہتا ہے اور صرف خدا پرست ہی دنیا میں فیض یاب ہوتے تو غیب کا پردہ فاش ہوجاتا۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ انسان ظاہری معاملات دیکھ کر حقیقت تک پہنچے نہ کہ غیب کا پردہ فاش کرکے حق پرست بنے۔ایک اور حکمت یہ ہے کہ اگر کوئی گناہ گار یا خدا کا منکر اسباب و علل کی دنیا میں وہ شرائط پوری کردیتا ہے تو اسے اسباب کے تحت ضرور نوازا جاتا ہے تاکہ دنیا میں اس کو اسے عمل کا بدلہ مل جائے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شخص دعا مانگنے کی تمام شرائط پوری کردیتا ہے۔ یعنی وہ اسباب کی دنیا میں بھی بالکل ٹھیک کام کرتا ہے اور خدا کو اخلاص کے ساتھ پکارتا ہے اور فلٹریشن میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ کا فیصلہ اس کی دعا کو رد کرنے یا موخر کرنے کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جو شے وہ مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے دنیاوی یا دینی پہلو سے موزوں نہیں۔ یا پھر خدا اس کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ خدا پر کتنا اعتماد رکھتا ہے۔
خلاصہ
خلاصہ یہ ہےکہ دعا کی قبولیت کی بنیادی شرط یہ ہے انسان اپنے حصے کا ممکنہ کام کرے خواہ یہ کام بہت تھوڑا کیوں نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ اللہ کا تکوینی نظا م اس درخواست کو آگے بنا اعتراضات کے فارورڈ کردے اور آخر میں اللہ تعالی اس پر فیصلہ صادر فرمادیں۔ یہ کام چند سیکنڈ میں بھی ہوسکتا ہے اور اس کو ہونے میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔
http://www.iisra.net
aqilkhans@gmail.com
https://www.facebook.com/aqil.muhammad.338


دعا یا اللہ کو پکارنا


دعا پر مقالات کا مجموعہ
ڈاکٹر محمد عقیل

مضمون نمبر ا: دعا یا اللہ کو پکارنا
دعا کے لغوی معنی پکارنے کے ہیں۔ توحید کا خلاصہ ہے کہ اللہ ہی کو تنہا پکارا جائے اور جب اسے تنہا نہیں پکارا جاتا تو شرک جنم لیتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اللہ کو پکارنے کا حکم ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے شرک سے تعبیر

کیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔
پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبودکو نہ پکارو، ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔(الشعرا ۲۶:۲۱۳)
اللہ کو پکارنے کا مفہوم
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو پکارنے سے کیا مراد ہے اور اللہ کو تنہاپکارنے سے کیا مراد ہے؟ ہم دن رات ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ، پکارتے ہیں اور ان سے مدد لیتے ہیں ۔ تو کیا یہ شرک ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہاں اللہ کو ہی پکارنے کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی کو مدد کے لیے پکارا ہی نہ جائے۔ کسی بھی زندہ شخص سے مدد مانگنا چونکہ اسباب کے قانون کے تحت ہے اس لیے یہ پُکارنا ان معنوں میں نہیں جن میں ہم خدا کو پکارتے ہیں۔
یہاں جس پکار کی ممانعت کی جارہی ہے وہ اسباب سے ماورا پکار ہے۔ چنانچہ مشرکین مکہ چند فرشتوں ، دیویوں اور دیوتاؤ ں کو خدا کا مقرب سمجھ کر انہیں پکارتے، ان سے مانگتے اور ان سے سفار ش کرتے تھے۔ چونکہ یہ تمام ہستیاں نہ اسباب کی دنیا کے تحت نہ تو موجود ہوتی ہیں، نہ ان سے بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ اس کا جواب دے سکتی ہیں۔ اسی لیے ان سے مدد مانگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کو خدا کی طرح حاضر، ناظر، سمیع، بصیر، حکیم ، علیم ، قدیر ، خالق اور زندہ سمجھ ان سے مدد کی درخواست کی جائے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس ہستی کو خدا کے برابر نہ سہی بلکہ اس کے مقربین کا درجہ دے کر ہی کلام کیا جائے۔ لہٰذا وہ مخلوق جو اس وقت اسباب کی دنیا میں موجود نہیں اس سے کسی بھی قسم کی مدد کی درخواست کرنا شرک ہے۔ اس مخلوق میں جنات ، فرشتے اور وہ تمام انسان آجاتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔


فہم القرآن۔ سیشن 12 البقرہ: آیات 127 تا 141


1۔ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہماالسلام ایک نئے گھر کی تعمیر کیوں کررہے تھے اور اس کے کیا مقاصد تھے؟
انسان کی ایک کمزوری کہہ لیں یا نفسیات ہے کہ وہ مجرد یعنی (Abstract ) چیزوں کا تصور کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ شیطان بالعموم اس

کمزوری سے فائدہ اٹھا کر انسان کو شرک کی جانب لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے کیس نے خد اکو نہیں دیکھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیکھنا کا شوق سب رکھتے ہیں۔ یہ بات شوق سے بڑھ کر آگے اس وقت چلی جاتی ہے جب ہم ایک ایسے خدا کی عبادت کریں جو نہ نگاہوں کے سامنے ہو، نہ اس کا کوئی مجسمہ ہو ، نہ کوئی تصویر ، نہ شبیہہ نہ کچھ اور۔ چنانچہ ماضی میں انسانوں نے خدا کو مجسم بنانے کی کوشش کی اور یوں وہ دیوی دیوتا وجود میں آگئے جنہیں

آج ہم بتوں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔
اللہ نے جب انسانوں کو ایک بن دیکھے خدا کی پرستش کا حکم دیا تو ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ خدا کی عبادت بن دیکھے کیسے کریں۔ انسان نہ صرف خدا کو دیکھنا چاہتا تھا بلکہ اس کے قدموں میں سر رکھنا، اس سے بات کرنا، اس کو چھونا، اس کا دست شفقت اپنے سر پر محسوس کرنا چاہتا تھا ۔ ایسا ہوجاتا تو امتحان کس بات کا ہوتا۔
انسان کی اسی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ نے بنی اسرائل کو تابوت سکینہ اور بعد میں بیت المقدس کی شکل میں ایک مجسم فراہم کیا جسے خدا کا گھر سمجھ کر اس کی جانب رخ کیا جاتا اور اس کا تصور کیا جاتا تھا۔ یہی معاملہ کعبہ کے ساتھ ہوا۔ اس صورت میں مسلمانوں کو خدا تو نہیں البتہ خدا کے گھر کا علامتی ڈھانچہ دے دیا گیا۔ چنانچہ بیت اللہ کی تجسیم سے مسلمان اپنی نفسیات کی تسکین پاتے ہیں اور خود کو شیطان کی دراندازی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ بیت اللہ کو دیکھنا، اسے چھونا، لپٹنا، چمٹنا، بوسے دینا، اس کی چوکھٹ کو پکڑ لینا، اس کے گرد دیوانہ وار چکر لگانا اور اس کے آگے اپنا ماتھا ٹک دینا دراصل یہ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کا علامتی اظہار ہے۔ یہی اس کا بنیادی مقصد تھا اور یہی اس کا آج بھی مقصد ہے۔
اس کا ایک اور مقصد امت مسلمہ میں اجتماعیت کا شعور پیدا کرنا اور ایک جانب رخ کرکے اللہ کی عبادت کرنا ہے۔
۲۔ آیت ۱۳۱میں ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ لکھا ہے:
اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: “مسلم ہو جا”، تو اس نے فوراً کہا: “میں مالک کائنات کا “مسلم” ہو گیا
تو کیا ابراہیم علیہ السلام پہلے سے مسلم نہیں تھے؟
مسلم کے دو معنی ہیں۔ ایک لغوی اور ایک اصطلاحی۔ لغوی معنوں میں مسلم سے مراد فرماں بردار کے ہیں اور ان معنوں تمام ستارے، چاند، سورج، آسمان ، زمین، سیارے ، جانور، کیڑے اللہ کے مسلم یعنی فرماں بردار ہیں۔ ان معنوں میں مسلم ہونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نہ تو شامل ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کلمہ پڑھنے کی حاجت۔ چنانچہ ان معنوں میں اگر ایک غیر مسلم بھی خدا کا فرماں بردار ہے تو وہ مسلم یعنی فرماں بردار ہے۔ یعنی وہ اس تمام علم کا فرماں بردار ہے جو اسے ملا تو وہ مسلم ہی ہے۔ ہاں اگر اسے اسلام کی دعوت مل گئی اور جانتے بوجھتے انکار کیا تو اب وہ اس فرماں برداری سے نکل گیا۔یعنی اسلام کی دعوت سمجھ لینے کے بعد اب اس کے لیے کلمہ کا اقرار لازم ہے۔
اسی طرح وہ لوگ جو مسلمانوں کی امت میں ہیں اور کلمہ گو ہیں لیکن خدا کی نافرمانی یا انکار حق کو شیوہ بنائے ہوئے ہیں اور بحیثیت مجموعی وہ فرماںبرداری کی بجائے نافرمانی کی جانب زیادہ راغب ہیں۔ تو وہ ان معنوں میں مسلم نہیں یعنی وہ چونکہ فرماں بردار نہیں اس لیے مسلم نہیں۔ البتہ اس کا حقیقی علم خدا ہی کو ہے ۔ اور اس کا فیصلہ روز آخرت میں ہی ہوگا۔
دوسری جانب مسلم کے اصطلاحی معنی ہیں یعنی وہ لوگ جو کلمہ پڑھ کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے۔ یہاں مسلم سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قانونی طریقے سے اسلام کو مانتا اور تسلیم کرتا ہے۔ یہاں مسلم ایک گروہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص دشمن ملک جاسوس ہے اور وہ پاکستان آکر مقیم ہوجاتا اور کچھ عرصے بعد پاکستانی شہریت لے لیتا ہے۔ قانونی طور پر تو وہ پاکستانی ہے لیکن حقیقت میں وہ دشمن ملک جاسوس۔ وہ اس وقت تک تو پاکستان کی ریاست سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا رہے گا جب تک کہ اس کی اصلیت کا پتا نہیں چلے گا۔ لیکن جونہی اس کا راز کھلے گا ، وہ ریاست پاکستان کی پکڑ کا شکار ہوجائے گا اس کے باوجود کہ اس کے شناختی کارڈ پر پاکستانی لکھا ہے۔
یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو گروہی طور پر پ تو مسلمانوں میں شامل ہیں اندر سے خدا کے غدار اور مجرم اور باغی۔ ایسے لوگوں کی حقیقت جب سب کے سامنے آخرت میں کھلے گی تو ان کا وہی حشر ہوگا جو دشمن ملک جاسوس کا ہوا۔ چنانچہ قرآن و حدیث میں جو جنت کے وعدے ہیں وہ حقیقی مسلم کے لیے ہیں گروہی مسلم کے لیے نہیں۔
اس آیت میں ابراہیم علیہ السلام کے مسلم ہونے کا مطلب یہی حقیقی اور لغوی معنی میں ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا کہ فرماں بردار بن جا تو وہ فرماں بردار یعنی مسلم بن گئے۔ تو کیا اس سے پہلے وہ نافرمان تھے؟ نہیں ، دراصل ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی بندگی اور اطاعت گذاری کا زبان سے اقرار کیا تو اللہ نے اس دعوے کو کڑی آزمائشوں سے آزمایا۔
چنانچہ جب انہوں نے خدا کے حکم سے بتوں کو توڑ دیا تو ان کے لیے آگ کا الاؤ تیار کیا گیا جسے کئی روز تک دہکایا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام اس وقت قید میں تھے۔ تصور کریں ، ایک شخص کو آگ میں ڈالا جانے لگا ہے، وہ قید میں ہے، اس کے سامنے جو خدا ہے وہ نظر نہیں آرہا ۔ کیا تصویر ہوگی اس تکلیف کی جو آگ میں ڈالے جانے سے کئی روز تج حضرت ابراہیم نے محسوس کی۔ اگر وہ اس وقت بادشاہ سے معافی مانگ لیتے اور شرک کو قبول کرلیتے تو غالبا انہیں چھوڑ دیا جاتا۔ ابراہیم علیہ السلام کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ آگ گلزار بن جائے گی۔ اب جب انہیں آگ میں پھینک ہی دیا گیا تو اپنی دانست میں تو ابراہیم خدا کے لیے آگ میں کود ہی گئے۔ وہ تو بعد میں اللہ نے انہیں بچالیا۔ یہ مسلم یعنی فرماں بردار ہونے کے قولی اقرار کا پہلا ٹیسٹ تھا۔
یہ ٹیسٹ ختم نہ ہوا اور آپ کو اپنے باپ ، گھر اور آبائی وطن کو چھوڑ کر خدا کے لیے ہجرت کرنا پڑی جو مسلم ہونے کا دوسرا عملی ثبوت تھا۔ اس کے بعد آپ کو بیٹے کو قربان کرنے کا خواب نظر آیا اور آپ نے اپنی دانست میں تو اسے قربان کر ہی ڈالا۔ یہ تیسرا عملی ثبوت تھا مسلم ہونے کا۔ اس کے بعد پھر اپنی بیوی حاجرہ اور پہلوٹھے بیٹے ااسماعیل کو خدا کے حکم سے ایک ریگستان میں بسانے کا حکم ملا جسے حضرت ابراہیم نے بلا چون و چراں مان لیا۔ یہ وہ آزمائشیں تھیں جن کے ذریعے خدا نے کہا کہ مسلم ہوجا تو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عمل سے فورا کہا کہ میں مسلم ہوگیا۔ اس آیت میں ان تمام آزمائشوں کو سمیٹ کر ایک جملے میں بیان کردیا گیا اور ابرہیم علیہ السلام نے مسلم ہونے کا ثبوت بھی دے دیا۔

۳۔ آیت 129 میں ” اَلْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ” میں کتاب اور حکمت سے کیا مراد ہے؟
اس پر دو آرا موجود ہیں۔ ایک یہ کہ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد حدیث۔ دوسری یہ کہ کتاب سے میراد قانون اور حکمت سے مراد اس شریعت کا فلسفہ ۔ لغوی اعتبار سے دیکھیں تو کتاب کا مفہوم قانون ہوتا ہے اور حکمت کا مفہوم دانائی یا وزڈم۔ اس اعتبار سے دونوں آرا کو دیکھیں تو کتاب سے مراد اگر ہم صرف قرآن لیں تو قرآن میں تو قانون کے علاوہ حکمت میں بھی بیان ہوئی ہے ۔ اسی طرح اگر حکمت سے مراد حدیث لیاجائے تو حدیث میں تو قانون بھی بیان ہوا ہے۔ چنانچہ لغوی اعتبار سے پہلی تعریف قابل اعتبار نہیں رہتی۔
دوسری طرح اگر ہم کتاب و حکمت کی تعلیم دینے سے مراد صرف قرآن کو لے لیں تو اس آیت کے ایک حصے کا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یعنی پہلا کام یہ کہ آیات تلاوت کرنا۔ ظاہر ہے اگر کتا ب وحکمت کی تعلیم دینے سے مراد صرف قرآن کی تعلیم دینا ہوتا تو وہ تو کسی حد تک آیات تلاوت کرنے سے پورا ہوجاتا ۔ لیکن یہاں آیات تلاوت کرنے سے بعد یہ بھی بیان ہوا کہ نبی کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ تو یہاں کتاب و حکمت کی تعلیم دینے سے مراد صرف قرآن نہیں لیا جاسکتا۔
تو ان دونوں آراء کی تطبیق کے لیے آیت کو مکمل طور پر دیکھنا ہوگا۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے:
اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ ( شخصیت کی تعمیر) کرے، تو بڑا زبردست اور حکیم ہے۔
اس آیت کا اصل مقصد تزکیہ نفس یعنی تعمیر شخصیت کو بیان کرنا ہے۔ رسول کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے یعنی ایسی شخصیت کی تعمیر جو آلائشوں سے پاک ہو اور اچھی خصوصیات سے متصف ہو اور اس دنیا میں ایک اچھے اور آخرت میں ایک آئیڈیل معاشرے کی بنیاد بن سکے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پیغمبر کی بعثت کا اصل مقصد تعمیر شخصیت یا تزکیہ نفس ہے۔ اسی کے لیے پیغمبر وحی کی آیات تلاوت کرتا، اسی کے لیے وہ قانون بیان کرتا اور اسی کے لیے اس فلسفہ و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ یہاں کتاب سے مراد تعمیر شخصیت کا قانون ہے جس کے اصول قرآن میں موجود ہیں۔ اور حکمت سے مراد اسی تعمیر شخصیت کا فلسفہ ہے جو قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے۔
۴۔ آیت ۱۲۹ پیغمبر کا ایک اہم کام نفس کا تزکیہ کرنا یعنی تعمیر شخصیت بیان ہوا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کس طرح انجام دیا؟
تزکیہ نفس کا بنیا ی مفہوم جیسا کہ اوپر پڑھا وہ تعمیر شخصیت ہے۔ یعنی ایک مسلم (مطیع )شخصیت کی تعمیر۔ ایک ایسی شخصیت جو برائیوں سے پاک ہو اور اچھائیوں سے آراستہ۔ یہ ربانی وجود دنیا میں اچھے معاشرے کے لیے ضروری ہے اور آخرت میں جنت کی شہریت کا امیدوار ہے۔ پیغمبر نے یہ کام دو طریقوں سے انجام دیا ایک تعلیم ،اور دوسری تربیت۔
آیت یہ ہے :
اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ ( شخصیت کی تعمیر) کرے، تو بڑا زبردست اور حکیم ہے۔
اس آیت میں آیات کی تلاوت کرنا درحقیقت علم کو منتقل کرنے کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ یعنی جب ہم کسی بچے کو پڑھاتے ہیں تو سب سے پہلے بک ریڈنگ کرتے ہیں تاکہ وہ سن کر اسی طرح پڑھنے اور سمجھنے لگ جائے جیسے ہم نے پڑھایا۔ لیکن جب بک ریڈنگ ہوگی تو کچھ سوالات پیدا ہونگے کہ اس کتاب کا مرکزی خیال کیا ہے، اس کتاب میں کس بات کی تعلیم دی جارہی ہے اور اس کی کیا حکمت ہے اور کیا مقصد ہے۔ چنانچہ اگلے درجوں میں ٹیچر ان سب باتوں کی وضاحت کرتا ہے۔ اور جب بچہ اس کتاب کو سمجھ جاتا ہے تو پھر اس پر عمل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس کی مثال یوں لے لیں جیسے کسی طالب علم کو تعارف کاروبار کی کتاب پڑھائی جارہی ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلے اس کا متن پڑھا جائے گا جسے ہم تلاوت آیات سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ تلاوت کا بنیادی مقصد چند اصولوں کو ازبر کرانا ہوتا ہے۔ پھر متن کا تلفظ، اس کے لغوی معنی ، اصطلاحی معنی بتائے جائیں گے جسے ہم تعلیم کتاب کہہ سکتے ہیں اور اس کے بعد اس متن میں بیان کردہ قانون کی علت یا فلسفہ بیان کیا جائے گا جسے ہم حکمت کی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔
جیسے ایک لائن یوں ہے:
“کاروبار میں دو چیزیں استعمال ہوتی ہیں ایک سرمایہ(Capital ) اور دوسری محنت(Labor)۔ کاروبار دو طرح کا ہوتا ہے ایک مینوفیکچرنگ اور دوسرا ٹریڈنگ”
استاد صرف یہ جملہ پڑھ کر سنائے گا ۔ اس پڑھنے کو ہم تلاوت آیات کہہ سکتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں وہ سرمایہ اور محنت کو مثالوں سے واضح بھی کرے گا تاکہ مخاطب کے بات سمجھ میں آجائے۔ وہ قانون بتائے گا کہ سرمائے کے بغیر کیا کاروبار ممکن ہے یا نہیں تو علم ہوگا کہ سرمایہ اور محنت کاروبار کرنے کے لیے لازمی (واجب ) ہیں۔ اسے کتاب یا قانون کی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔ پھر وہ مثالوں سے سمجھائے گا کہ سرمایہ و محنت کاروبار کے لیے کیوں ضروری ہیں ۔ ۔یہ حکمت کی تعلیم کا بیان ہے۔
اگلے مرحلے میں وہ شاگرد کو عملی زندگی میں لے جائے گا جہاں اسے سرمایہ اور کاروبار کرنے کی تربیت دی جائے گی، ان رموز و اسرار کو اپلائی کرکے بتایا جائے گا جن کو پڑھایا گیا۔ اسے ہم تزکیہ نفس، تعمیر شخصیت یا تربیت کہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو تلاوت ، کتاب کی تعلیم اور حکمت کی تعلیم دینے کا بنیادی مقصد یہی تربیت و تزکیہ ہے تاکہ ایک شخص عملی زندگی میں اصولوں کو یاد رکھ سکے ، ان کا قانون اور فلسفہ سمجھ کر ان کا اطلاق عملی زندگی میں کرسکے۔
تو پیغمبر نے تعلیم و تربیت کے ذریعے تزکیہ نفس کا کام کیا۔ سب سے پہلے اللہ کی نازل کردہ آیات کی تلاوت کی جاتی تھی جو ہر نماز میں دہرائی جاتیں تاکہ مسلمانوں کو قرآن یاد ہوجائے۔ اس کے بعد اس کا قانون بتایا جاتا یعنی شریعت ۔ جس میں معیشت ، معاشرت ، عبادت، عقائد اور دیگر قوانین آجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان قوانین کی حکمت بھی بتائی جاتی ہے کہ نماز کا کیا مقصد ہے روزہ کیوں فرض ہے، زکوٰۃ کا کیا فلسفہ ہے، حج کی کیا حکمت ہے، نکاح کیوں کیا جاتا ہے وغیرہ۔
یہ سب کام یعنی تلاوت آیات، کتاب کی تعلیم اور حکمت کے ابلاغ کو نبی کریم نے عملی زندگی میں اپنی شخصیت میں ڈھال کر دکھایا کہ ایک ربانی شخصیت سے کیا مراد ہے؟ اس کے بعد ان کا اطلاق وقتا فوقتا عملی مثال کے ذریعے لوگوں میں منتقل کیا۔ یہ تزکیہ کا کام آپ نے مکہ کی ۱۳ سالہ اور مدینہ کی دس سالہ دور میں زندگی کے مختلف دائروں میں کیا۔ یہاں تک کہ ایک ایسی امت وجود میں آگئی جس کے پاس دنیا و آخرت کی کامیابی آگئی۔

۵۔ آیت ۱۳۸ میں اللہ کا رنگ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کے رنگوں سے کیا مراد ہے اور یہ کس طرح اختیار کیا جاسکتا ہے۔
اللہ کے رنگوں سے مراد اللہ کی ذات کے رنگ نہیں بلکہ ہدایت کا رنگ یعنی نور ہدایت ہے۔ اس آیت سے پہلے دیکھیں تو بات یہود و نصاری کی چل رہی ہے کہ انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی میں اسلام یعنی اللہ کی اطاعت سے انکار کردیا جبکہ اللہ کے صالح بندوں نے اس اطاعت کو قبول کرلیا۔ یہاں اللہ کے رنگوں کو اختیار کرنے سے مراد اللہ کا مطیع و فرمانبردار ہونا ہے۔ یعنی جب اللہ کی فرماں برداری اختیار کرلی جاتی ہے انسان کی شخصیت اندھیروں سے نکل کر نور میں آجاتی ہے۔ یہی نور اللہ کا رنگ ہے۔ یہ وہی یزدانی نور ہے جس کا ذکر سور بقرہ میں موجود ہے:
اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ڛ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ٢٥٧؁ۧ
جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے ۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کےحامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔
اسی نور کا متعدد جگہوں پر ذکر ہے یعنی یہ وہ نور ہے جو مسلم یعنی فرماں برداروں کو ملتا ہے جبکہ طاغوت کے ماننے والے اس نور سے نکل اندھیروں میں آجاتے ہیں۔ چنانچہ یہود کو ً بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اصل رنگ ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے ۔

۶۔ آیت ۱۴۰ کی روشنی میں اختلاف رائے اور فرقہ بندی میں فرق واضح کریں۔
اختلاف رائے فرقہ بندی
دلیل کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ تعصب یا ہٹ دھرمی کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
نہ ماننے پر مخالف کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ نہ ماننے پر مخالف کے ساتھ تشدد سے نبٹا جاسکتا ہے۔
مخالف سے نفرت نہیں ہوتی۔ مخالف سے نفرت ہوتی ہے۔
مخالف کو دعوت دلائل کے ذریعے دی جاتی ہے جب دلائل نہ ملیں تو شور شرابہ، دھونس اور تشدد اختیار کیا جاتا ہے۔

۶۔ آیت ۱۳۵ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہود و نصاری کو مخاطب کرکے فرمایا کہ سب کو چھوڑ کر ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیار کرو۔ یہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنانے کا حکم کیوں نہیں دیا گیا؟
دراصل یہود و نصاری کا اصل اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور وہ ان کو ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر پیش کررہے تھے۔ ان کا اصل اعتراض ہی اس با ت پر تھا کہ یہ نبی نعوذباللہ نبی نہیں یا یہ جو تعلیمات پیش کررہے ہیں وہ دین ابراہیمی کی نہیں۔ تو اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دینا لایعنی ہوتا۔ چنانچہ پہلے ابراہیم علیہ السلام کی اصل تعلیمات کو واضح کردیا اور پھر کہا کہ تم ابراہیم کی پیروی کرو اور اگر اس کی پیروی کروگے تو وہیں پہنچ جاؤ گے جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلارہے ہیں۔
۷۔ آیت 140 میں کون سی گواہی اور کس کی جانب سے چھپانے کی بات ہے؟ اور آج کے دور میں یہ گواہی چھپانے والے کون لوگ ہیں؟
گواہی چھپانے والوں سے مراد بنی اسرائل ہیں اور آج کے دور میں ان سے مراد مسلمانوں کے وہ علما ہیں جو اپنے فرقہ یا مسلک کی حمایت میں حقیقی قرآن وسنت کی تعلیم کو چھپاتے یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖإِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٢٧﴾ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿١٢٨﴾ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾ وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴿١٣٠﴾ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٣١﴾وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢﴾ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٣﴾ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿١٣٤﴾ وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖوَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٣٥﴾ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٦﴾ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٣٧﴾ صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ﴿١٣٨﴾ قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّـهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ﴿١٣٩﴾ أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّـهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّـهِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿١٤٠﴾ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٤١﴾

ترجمہ:
اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: “اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے (127)اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے (128) اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے” (129) اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو، اس کے سو ا کون یہ حرکت کرسکتا ہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا (130)اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: “مسلم ہو جا”، تو اس نے فوراً کہا: “میں مالک کائنات کا “مسلم” ہو گیا”(131) اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ اپنی اولاد کو کر گیا اس نے کہا تھا کہ: “میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا” (132) پھر کیا تم اس وقت موجود تھے، جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟اس نے مرتے وقت اپنے بچوں سے پوچھا: “بچو! میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟” ان سب نے جواب دیا: “ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا ہے اور ہم اُسی کے مسلم ہیں” (133) وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے (134) یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں: عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی اِن سے کہو: “نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ کا طریقہ اور ابراہیمؑ مشر کو ں میں سے نہ تھا”(135) مسلمانو! کہو کہ: “ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں” (136) پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اطمینان رکھو کہ اُن کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (137) کہو: “اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں”(138) اے نبیؐ! اِن سے کہو: “کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو؟حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں (139) یا پھر کیا تما را کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو: “تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اُسے چھپائے؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے (140) وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا” (141)


درست عالم یا ڈاکٹر کا انتخاب


سوال : ایک انسان کس طرح کسی درست ڈاکٹر یا عالم کا انتخاب کرسکتا ہے ؟
جواب: آج سے چند سال قبل میری بیٹی جو اس وقت سات آٹھ سال کی ہوگی اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ ایک علاقے کی ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا کہ اسے آپ ہاسپٹل لے جائیں۔ میں قریبی ہسپتال کے کر گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اپینڈکس ہے اور بس فوری آپریشن کرنا ہوگا اور بس ابھی سرجن صاحب آرہے ہیں اور آپریشن کروالیں۔ مجھے لگا کہ یہ ڈاکٹر بے وقوف بنا رہا ہے کیونکہ درد کی نوعیت ایسی معلوم نہیں ہورہی تھی۔ میں ایک اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا جو بہت پرانے تھے اور تجربہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اپینڈکس کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا اور یہ صرف کلینکل ڈائگنوسس کی بنیاد پر ہی طے ہوتا ہے کہ اپینڈکس ہے یا نہیں۔ پھر انہوں نے خود چیک کیا اور مجھے بھی ہاتھ رکھ کر چیک کروایا کہ آنتوں کی نرمی بتارہی ہے اپینڈکس نہیں ہے ۔ انہوں نے دوا دی اور سب ٹھیک ہوگیا۔
یہاں دیکھا جائے تو میں میڈیکل کا بالکل علم نہیں رکھتا تھا ، صرف کامن سینس کی بنیاد پر میں نے کوشش کی اور درست ڈاکٹر تک پہنچ گیا۔ یہی رویہ عالم دین کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے۔ ایک عالم دین جب کوئی مسئلہ بتاتا ہے تو اس کے ساتھ دلیل بھی دیتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو دینا چاہیے۔اگر اس کی دلیل سمجھ آرہی ہے تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن اگر کچھ شک ہے تو اس پر عمل کرنے سے قبل کسی دوسرے مکتبہ فکر کے عالم سے رائے لینے اور دلیل معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دونوں کے دلائل سمجھنے کے لیے عالم دین ہونا لازمی نہیں ۔ جس طرح ہم دو ڈاکٹروں، دو دوکانداروں، دو ٹھیکیداروں اور دو اسکولوں کا انتخاب بخوبی کرلیتے ہیں اسی طرح درست رائے جاننا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو ہم عالم دین کے چکر ہی لگاتے رہیں گے اور ہمیں بیسیوں کام کرنے ہوتے ہیں تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ ہمیں ڈاکٹروں کے پاس بھی اسی وقت جانا ہوتا اور موازنہ کرنا ہوتا ہے جب کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہو۔ اور ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں دین کے ایسے مسائل کا سامنا بھی شاذو نادر ہی کرنا پڑتا ہے جب موازنہ کرنا پڑے ۔
یعنی جس طرح ہمارا کام یہ نہیں کہ روزانہ ہم ہسپتال میں یہ خاک چھانتے پھریں کہ کون سا ڈاکٹر صحیح ہے اور کون غلط۔ ایسے ہی ہم پر یہ فرض نہیں کہ ہر وقت صحیح اور غلط علما ہی تلاش کرتے رہیں۔ نہیں جب ضرورت پڑے تب تلاش کرلیں اور یہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


دوسرے مسلک کے عالم سے رجوع کرنا


سوال : کسی دوسرے عالم دین سے رجوع کرنے کی صورت میں تو خواہش پرستی جنم لے گی؟
جواب: یہ ایک اشکال ہے کہ اگر ایک شخص کو مسلک اور عالم تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا خواہش پرستی جنم نہیں لے گی۔ یعنی ایک شخص نے اگر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو حنفی مسلک کے تحت طلاق واقع ہوگئی۔ لیکن وہ حنفی مسلک کے عالم سے مطمئین نہیں ہوتا کیونکہ اس کا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تو وہ اہل حدیث کے پاس جاتا ہے جہاں اسے بتادیا جاتا ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک ہیں اور وہ اپنی بیوی سے تعلق قائم کرسکتا ہے۔
ا س کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ خواہش پرست ہوتے ہیں وہ تو عام طور پر ویسے بھی دین کی حددود قیود کا خیال نہیں رکھتے۔لہٰذا اس بنیاد پر تقلید جامد کو فروغ دینا مناسب نہیں۔نیز اگر کسی نے خواہش کی بنیاد پر کسی مسئلے کو ماننے یا رد کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ تو اس پابندی کو بھی نہیں مانے گا کہ کسی دوسرے مسلک کے عالم سے پوچھنا جائز نہیں ہے،
اس کے علاوہ ایسے مسائل بہت کم ہوتے ہیں جس میں انسان خواہش کی بنا پر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ اکثر مسائل میں ایک صالح مسلمان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی بات تک پہنچ جائے۔ بہرحال کسی کو خواہش پرستی سے روکنے کے لیے سب کو اندھی تقلید پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈاکٹر اور عالم سے علمی اختلاف


سوال۔ کیا ڈاکٹر اور عالم سے ایک عام انسان علمی اختلاف کرسکتا ہے جبکہ اس کے پاس خود علم نہیں؟
جواب: آج سے بیس سال قبل پاکستان میں میڈیکل ڈاکٹروں کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ وہ مریض کو بہت کم باتیں بتاتے تھے اور خاموشی سے اسے دوائیں تجویز کردیتے۔وہ مرض کے بارے میں تفصیل سے مریض کو نہیں سمجھاتے تھے اور نہ ہی اپنی تشخیص کے دلائل دیتے تھے۔ چنانچہ ان کی اندھی تقلید کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ آج صورت حال مختلف ہےاب مریض ڈاکٹروں سے اس مرض کی تفصیل جاننا چاہتا اور اپنے مرض کی تشخیص پر اطمینان بخش جواب چاہتا ہے۔ چنانچہ آج مریض کو اچھے ڈاکٹر مرض کے بارے میں بھی بتاتے اور اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ ثبوت کے طور پر اسے دیتے اور اسے مطمئین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریض مطمئین نہ ہو تو کسی بھی دوسرے داکٹر کے پاس جاسکتا ہے ۔
علمائے دین کا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے۔ جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تووہ پوچھنےوالے کو اپنی رائے بھی بیان کرے اور اس کے ساتھ ساتھ آسان الفاظ میں اس کے دلائل بھی پیش کرے۔ سوال پوچھنے والا اگر مطمئین نہ ہو تو اسے سمجھائے کہ اس نے یہ رائے کیوں اختیار کی۔ اگر سوال پوچھنے والا مطمئین نہ ہو تو وہ کسی دوسرے عالم دین کی جانب رجوع کرسکتا ہے۔
تو حتمی جواب یہ ہے کہ عالم دین سے ٹیکنکل معاملے میں اختلاف کرنے کے لیےتو عالم ہونا ضروری ہے لیکن عالم کی بات سمجھنے کے لیے اور اس کی پیش کردہ دلیل سے مطمئین ہونے کے لیے عالم ہونا لازمی نہیں۔ ایک عام پڑھا لکھا شخص یہ کام کرسکتا ہے۔ دلیل سے مطمئین کرنا عالم کا کام ہے اور اس کا بنیادی فرض ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف
عام طور پر جب مذہبی علما سےب اختلاف کی بات کی جاتی اور تحقیق کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “جس طرح کسی اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے کسی عام شخص کو اختلاف کا کوئی حق نہیں، اسی طرح ایک عام انسان نہ ہی تحقیق کرسکتا اور نہ ہی عالم سے اختلاف کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اسی درجے کا عالم ہونا لازمی ہے۔”۔ یہ دلیل جزوی طور درست ہے۔ یعنی علمی طور پر کسی ڈاکٹر سے” علمی اختلاف” کرنے کے لیے ڈاکٹری کا علم ہونا ضرور ہے۔یعنی ایک ڈاکٹر یہ تشخیص کررہا ہے کہ سینے کے درد کی وجہ ہارٹ کا معاملہ ہے اور ایک عام آدمی اپنی ڈاکٹری لڑا رہا ہے کہ نہیں جناب یہ تو گیس کا مرض معلو م ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے پہلو سے یہ بات غلط ہے۔ ایک ڈاکٹر کے اخلاقی پہلو کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر ہونا قطعا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر غلط تشخِیص کررہا ہے، پیسے بنانے کے لیے ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ رہا ہے، بار بار بلانے کے لیے مرض کا درست علاج نہیں کررہا، اور کمیشن کھانے کے لیے کسی خاص میڈیکل اسٹور بھیج رہا ہے تو اس قسم کے ڈاکٹر کی علمیت سے ہمیں نہ کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی علمی اختلاف کرنا ہے۔ ہم تو اس سے عملی اختلاف کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجائیں گے اور اس اختلاف کے لیے ڈاکٹر ہونا لازمی نہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوگا کہ ہم اس ڈاکٹر کے رویے کا جائزہ لیں گے، اس سے کچھ سوالات کریں گے، کچھ لوگوں سے رائے لیں گے اور اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کنارہ کش ہوجائیں گے،
یہی رویہ علما کے لیے بھی مطلوب ہے۔کس عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے ظاہر ہے دین کا ٹیکنکل علم ہونا لازمی ہے۔ لیکن عملی اختلاف کرنے کے لیے صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عالم فرقہ واریت کی دعوت دے رہا، شعیہ سنی کو لڑوارہا،معصوم لوگوں کے قتل کا سبب بن رہا ، اپنے قول سے دنیا پرستی کو حرام اور فعل سے دنیا میں پوری طرح ملوث ہو، زبان سے عورتوں کی آواز کو بھی سننا حرام قرار دیتا ہو اور عمل سے عورتوں کی محفلوں کا رسیا ثابت ہو تو وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کی اس اپروچ سے ہمیں اختلاف ہوگا۔ یہ اختلاف کرنے کے لیے ہمیں درس نظامی سے عالم کا کورس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی جامعہ الازہز سے عالم کی ڈگری لینے کی حاجت۔ جب بھی ہم کسی عالم میں کوئی اس قسم کی عملی برائی دیکھیں گے تو سب سے پہلے تو اس سے بات چیت کریں گے کہ ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو یا بات سمجھ نہ آئی ہو، پھر لوگوں سے ڈسکس کریں گے اور اس سب کےباوجود اگر اطمینان نہیں ہوا تواس کی تقلید محض اس لیے نہیں کرنے لگیں گے کہ ہمارے مسلک کے عالم ہیں یا ان عالم کی ہر بات درست ہوگی اور یہ غلطی نہیں کرسکتے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے مطلوبہ علم ہونا لازمی ہے۔ البتہ ایک ڈاکٹر یا مذہبی عالم کے علم پر شک ہونے کی صورت میں تحقیق کرنا لازمی ہے۔ اور ایک ڈاکٹر یا ایک عالم کے عمل میں غلط رویہ ثابت ہونے کی صورت میں دونوں سے دور ہوجانا بھی لازم ہے غلط انتخاب اگر ڈاکٹر کے معاملے میں ہوجائے تو جان کو خطرہ ہے اور اگر عالم کے معاملے میں ہوجائے تو ایمان کو خطرہ ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


کنویں کا مینڈک


کنویں کا مینڈک
از پروفیسر محمد عقیل
آ پ نے اکثریہ محاورہ سناہوگا۔ایک مینڈک کنویں کے اندرپیداہوا، پلا، بڑھااورپروان چڑھا۔اس نے اپنے اردگردایک تاریک ماحول دیکھا،سیلن، بدبواورایک تنگ سادائرہ۔صبح وشام اس کاگذربسراسی محدوددنیامیں ہواکرتا۔اس کی غذابھی چندغلیظ کیڑے تھے۔ایک دن ایک اورمینڈک باہرسے اس کنویں ایک اور مینڈک گرگیا۔اس نے کنویں کے مینڈک کوبتایاکہ باہرکی دنیابہت وسیع ہے،وہاں سبزہ ہے،کھلاآسمان ہے،وسیع زمین ہے اورآزادزندگی ہے۔لیکن کنویں کامینڈک ان تمام باتوں کوسمجھ ہی نہیں سکتاتھاکیوں کہ وہ توکنویں کامینڈک تھا۔
ہم میں سے اکثرمتمدن شہری بھی کنویں کے مینڈک بنتے جارہے ہیں۔ہم انسانوں کے بنائے ہوئے ماحول میں شب وروزبسرکرتے ہیں۔صبح آفس کے لیے گاڑی لی،شام تک آفس کی چاردیواری میں محدودرہے اورپھرسواری میں گھرآگئے۔کسی چھٹی والے دن اگرکوئی تفریح بھی ہوئی توہوٹل وغیرہ چلے گئے۔اگرہم غورکریں توہماراتمام وقت انسان کی بنائی ہوئی مادی چیزوں کے ساتھ ہی بسرہوتاہے۔جس کے نتیجے میں مادیت ہی جنم لیتی ہے۔ہمارے اردگردفطرت کی دنیابھی ہے۔جس سے روحانیت پیداہوتی ہے۔لیکن ہم اس کی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالتے کیونکہ ہم خوفزدہ ہیں کہ کہیں یہ مادی وسائل ہم سے چھن نہ جائیں۔اگرہم اس مادی کنویں سے باہرنکلیں توپتاچلے گاکہ ہمارے اوپرپھیلاہو نیلگوں اآسمان ہے جہاں خدابلندیوں کی جانب دعوت دے رہاہے۔ایستادہ پہاڑہیں جوانسان کومضبوطی کاسبق دے رہے ہیں،شام کے ڈھلتے ہوئے سائے ہیں جوہمیں خداکے حضورجھکناسکھارہے ہیں،بہتے ہوئے دریاہیں جو رواں دواں زندگی کااظہارکررہے ہیں۔ساحل کی ٹکراتی موجیں ہیں جوعمل پیہم کاپیام سنارہی ہیں،پتھرپرگرتاہواپانی کا قطرہ ہے جوناممکن کوممکن بنارہاہے۔
غرض یہ چڑیوں کی چہچہاہٹ،بلبلوں کی نغمگی،شفق کی لالی،درختوں کی چھاؤں اوردیگرمظاہرفطرت انسان کوایک روحانی دنیاکی جانب بلارہے ہیں وہ ایسے خداکی جانب بلارہے ہیں جو اسے ایک کامل تر دنیاکی جانب لے جانا چاہتا ہے۔لیکن انسان نے بھی عزم کرلیاہے کہ وہ ان کی جانب ایک نظربھی نہیں ڈالے گا،وہ ہرگزاس مادی کنویں کی بدبو،سیلن اورمحدودیت کو چھوڑنے کے لیے تیارنہیں کیونکہ وہ توکنویں کامینڈک ہے۔جس کی دماغی صلاحیت کنویں سے باہرکی حسین اورپرسکون زندگی کوسمجھنے سے قاصرہے۔


سورہ العلق کی تشریح


سورہ العلق کی تشریح
پروفیسر محمد عقیل
پس منظر
سورہ العلق کی ابتدائی پانچ آیات وہ پہلی وحی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں۔ ان پانچ آیات کے بعد دیگر آیات کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں

۔
۱۔ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ (1)
اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔
تشریح: عام طور پر اس آیت کے پہلے لفظ پر بہت زیادہ فوکس کیا جاتا ہے جس کی بنا پر اس آیت کا پورا مفہو م ہی بدل جاتا ہے۔ یہاں اقرا کا لفظ ایک حکم اور ہدایت ہے۔ جیسے قرآن میں کئی مقامات پر نبی کریم کو کہا گیا کہ ” قل” یعنی کہہ دو۔ تو اسی طرح یہاں اللہ تعالی فرشتے کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ ” پڑھو” یعنی جو کچھ وحی تمہیں دی جارہی ہے اسے پڑھو۔ اسی لیے جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار حرا میں ملے اور وحی کا یہ ابتدائی حکم دیا کہ ” پڑھو” تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ” ماانا بقاری ” یعنی میں تو پڑھا ہوا نہیں تو کیسے پڑھوں یا کیا پڑھوں۔
تو اگر ہم اقرا کے لفظ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی ایک کمانڈ یا ہدایت مان لیں باقی آیت کا مفہوم کم و بیش وہی ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ہے۔ یعنی ” باسم ربک الذی خلق”۔ یعنی ابتدا ہے تمہارے رب کے نام سے جس نے تخلیق بھی کیا۔ یہ ابتدا ہے قرآن کی اور انسانیت کو دی جانے والی آخری وحی کی۔ اور اس کی ابتدا ہوتی ہے پالنے والے یعنی رب کے نام سے جو خالق بھی ہے۔ یہاں رب اور خالق کی دو صفات کا مطلب اس وقت دیگر مذاہب میں ہائی جانے والے تصورات کی نفی کرنا تھا جس میں پالنے والا خدا الگ اور پیدا کرنے والا الگ ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ کے مختلف بتوں کے فنکشنز مختلف تھے۔ کوئی پیدا کرنے والا، کوئی پالنے والا ، کوئی حفاظت کرنے والا تو کوئی کوئی اور کام کرنے والا تھا۔اس پہلی آیت نے اس پورے فلسفے کو منہدم کردیا۔ یہ بتادیا کہ رب یعنی پالنے والا وہی ہے جس نے پیدا کیا اور یہ کوئی اور نہیں ہے۔
اس آیت کو دیکھیں تو یہ دراصل وحی کی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ابتدا ہے البتہ یہاں الفاظ مختلف ہیں۔
۲۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2)
انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
پچھلی آیت وحی کی ابتدا تھی تو یہ آیت انسان کے مادی وجود کی ابتدا کو بیان کرتی ہے۔ قرآن نے اس زمانے میں یہ بات کہہ دی کہ انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ یہ رحم مادر میں نر اور مادہ کے ملاپ کے بعد زائگوٹ کی جانب اشارہ ہے جو ایک خون کے لوتھڑے یا جمے ہوئے خون کی مانند ہی ہوتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی کی ابتدا ہی میں اس دوسری آیت میں تخلیق کا یہ عمل بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہاں دراصل وحی بھیجنے والی ہستی کا تعارف کرایا جارہا ہے۔ کہ وہ رب ہے، وہ خالق ہے تو اب اگر وہ خالق ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے کہ وہی خالق ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے تخلیق کا وہ مرحلہ بیان کردیا جو اس وقت انسان کے علم میں نہیں تھا۔ ظاہر ہے یہ مرحلہ ایک خالق ہی جان سکتا ہے۔
یہ مرحلہ اولین مخاطبین یعنی مشرکین مکہ کے لیے اہم نہیں تھا کیونکہ اس وقت وہ سائنسی علم کے ارتقا کے بغیر اس سچائی کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ وہ خون کے لوتھڑے کو ایک دوسری فارم میں جانتے تھے۔البتہ انہیں اس بات کا شعور ضرور تھا کہ انسان ایک حقیر سے نطفے سے پیدا ہوتا ہے۔
یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ وحی جس ہستی کی جانب سے بھیجی جارہی ہے وہ کتنی عظیم اور قدرت رکھتی ہے کہ ایک جمے ہوئے خون سے زندگی پیدا کرتی ہے۔ یہ اس کی عظمت کی وہ دلیل ہے انسان کی نظروں کے سامنے ہے ۔ تو اسی وحی میں جب آگے یہ بتایا جائے گا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس وحی اور اس پیغام کا بھیجنے والا کوئی معمولی نہیں بلکہ ہر شے پر قاد ر ہے۔
۳۔ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْـرَمُ (3)
پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔
یہاں دوبارہ وہی لفظ ” اقرا” یعنی پڑھو استعمال ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تصور کیجے کہ وہ ایک غار میں موجود ہیں اور خدا کا فرشتہ ان سے ہم کلام ہے۔ وہ اپنی زندگی میں پہلی باراس تجربے سے براہ راست گذررہے ہیں ، ایک عجیب مقام حیرت ہے، ذہن میں کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔ اس کیفیت میں فرشتہ ان سے مخاطب ہے تو وہ دوبارہ ہدایت کرتا ہے کہ اس مقام حیرت اور ان سوالات کو فی الحال پس پشت ڈالیے اور پھر پڑھیے۔اور گھبرائیے نہیں ، یہ کلام جس ہستی کی جانب سے آرہا ہے وہ کوئی جابر، قاہر ،ظالم اور متشدد قسم کی ہستی نہیں ۔ بلکہ وہ تو انہتائی کریم ، شفیق ، مہربان اور خیال رکھنے والی ذات ہے۔ وہ آپ کے تمام سوالات کے جواب دے گی، آپ کی اس حیرت کو دور کردے گی، وہ آپ کے اضطراب کو سکون میں دل دے گی۔ یہ وہ پیغام ہے جو اس آیت میں خدا نے اپنے نبی کو دیا۔
دوسری جانب یہ آیت اپنے دوسرے مخاطبین کو وحی بھی والی ہستی کی چوتھی صفت سے آشنا کرتی ہے۔ پہلی آیت میں بتایا گیا کہ اس کلام کا بھیجنے والا رب بھی ہے ، خالق بھی ہے اور قادر مطلق بھی ہے۔ اب یہاں بتایا جارہا ہے کہ وہ بہت ہی کرم ، لطف، مہربانی والا خدا ہے۔ وہ بے شک سب سے بلندو بالا ہے لیکن دنیاوی حکمرانوں کی طرح وہ کوئی سخت مزاج یا تشدد کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنی بات جو بھیج رہا ہے وہ کوئی عذاب کا پیغام نہیں بلکہ انسانیت کے رحمت ہے۔وہ اپنی بات اس وقت ماننے کا مکلف انسان کو ٹہراتا ہے جب وہ اچھی طرح سمجھادے اور مخاطب یہ بات اچھی طرح سمجھ لے۔ وہ اپنی مرضی اگر تھوپنا چاہتا تو اس پیغام کے بغیر ہی یہ کام کردیتا۔ لیکن وہ تو کریم النفس ہستی ہے۔
۴۔ اَلَّذِىْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4)
جس نے قلم سے سکھایا۔
یہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو سکھایا۔ یہاں قلم ایک ٹول کے طور پر بیان ہوا ہے۔ دیکھا جائے تو قلم یہاں مجازی معنوں میں ہے حقیقی معنوں میں نہیں۔ اگر ہم دیکھیں تو پین یا قلم انسانی تاریخ میں بالکل ابتدا سے موجود نہیں تھا۔ پہلے انسان اپنے خیالات کے اظہار کے لیے کلام، تصاویر ، بت اور دیگر طریقوں سے کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد انسان کی تاریخ میں قلم اگر آیا بھی تو وہ عوام کی بجائے مخصوص طبقات کے استعمال میں تھا ۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بہت کم لوگ لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے اور خود نبی کریم بھی لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے۔
تو اگر یہاں قلم سے مراد پین یا پر لیا جائے تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ انسان کو ابتدا ہی سے قلم سے سکھایا گیا اور نہ ہی ہر انسان نے قلم سے سیکھا۔ بلکہ ہم دیکھیں تو آج بھی ایک بچہ اپنی ابتدائی زندگی میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ قلم کے بغیر ہی ہوتا ہے۔اگر یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جانے والی وحی مراد لی جائے تو یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ حضرت جبریل نے اس وقت قلم استعمال نہیں کیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں قلم سے کیا مراد ہے۔ قلم درحقیقت ایک ٹول یا آلے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قلم کا کام انسانی کی سوچ ، علم اور خیالات کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر وہ چیز یا طریقہ کار جو علم کو آگے پہنچانے کا سبب بنے وہ قلم کی ذیل میں آجائے گا۔ چنانچہ یہاں قلم سے مراد ہر وہ کمیونکیشن یا ابلاغ کا ذریعہ ہے جس سے علم ایک شخص سے دوسرے شخص، ایک گروہ سے دوسرے گروہ اور ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں منتقل ہوتا ہے۔ اس میں قلم ، کمپیوٹر، زبانی تقریر، تصویر ، ہر طرح کی کمیونکیشن کا ذریعہ شامل ہے۔
اس آیت کا اصل پہلو قلم نہیں بلکہ سکھانے کا عمل ہے۔ قلم کا ذکر تو یہاں ضمنا آگیا ہے۔ اصل فوکس اس بات پر ہے کہ انسان کو سکھایا اور اسے علم دیا۔ اس سے پچھلی آیت میں بات یہ ہوئی تھی کہ انسان کے حیوانی وجود کی ابتدا کس طرح جمے ہوئے خون سے ہوئی۔ اب یہاں انسا ن کے روحانی وجود کی ابتدا کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ کس طرح انسان کو سکھا کر اور اسے علم دے کر دیگر مخلوقات سے ممتاز کیا گیا۔ یہاں اسی خالق کی صفت خلاق کی جانب اشارہ ہے کہ اس سنے انسان کے حیوانی وجودکو تخلیق کرنے کے بعد تنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کو وہ سب کچھ سکھایا جس کی اسے ضرورت تھی۔
یہاں پس منظر واضح رہے کہ خدا انسانیت سے اپنے آخری آفیشل پیغام میں پہلی بار مخاطب ہورہا ہے۔ تو یہ بات بتائی جارہی ہے کہ یہ وحی بھی اسی سکھانے کا عمل ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جس کی انسانیت کو ضرورت ہے اور اس کا سیکھنا اور اس کا جاننا بھی دیگر چیزوں کی طرح ضروری ہے۔ سیکھنے کا عمل انسانی عقل سے متعلق ہے۔ اس لیے یہ آیت علم اور عقل کی اہمیت کو بھی بیان کرتی ہے۔ عقل نہ ہو تو انسان پر نہ تو کوئی دنیاوی قانون لاگو ہوتا ہے اور نہ کوئی دینی حکم۔ اسی لیے عقل کا ہونا ، اس کا ااستعمال کرنا اور اس کا درست استعمال کرنا ہی اصل مقصد ہے۔
یہ آیت اللہ کی صفت علیم و حکیم کی جانب اشارہ کررہی ہے۔
۵۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5)
انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔
اس آیت میں یہ بتادیا کہ انسان کو جو کچھ بھی علم ملا ہے وہ خدا کی جانب سے ملا ہے۔انسان کو اللہ تعالی نے جو علم دیا ہے وہ اس کی فطرت و جبلت اور وجدان کے ساتھ ساتھ وحی کے ذریعے بھی دیا ہے۔ اسی طرح انسان اپنے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھتا اور اپنا علم اگلی نسل کو منتقل کرتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے علم کو دیکھیں تو کھیتی باڑی کرنا، کھانا پکانا، شکار کرنا، جنسی تعلق قائم کرنا، رہائش تعمیر کرنا ، لباس پہننا ، اسلحہ بناناوغیرہ وہ علوم ہیں جو انسان کو جبلت ، فطرت ، وجدان اور وحی کے ذریعے ملے ہیں۔ اگر انسان ان سب علوم کو مائنس کردے تو اس کی زندگی غاروں کے دور میں چلی جائے گی۔یہی حال تمام سائنسی ایجادات کا ہے۔ ان کو بنانے میں خدا کی جانب سے راہنمائی ہر لمحہ پیش پیش رہی ہے۔
تو علم عطا کرنا خدا کی دین ہے اور یہ وہ سار ا کا سارا علم ہے جو انسان نہیں جانتا تھا بلکہ اسے مختلف طریقوں سے سکھایا گیا۔ اس آیت میں ایک جانب تو اللہ کی ربوبیت اور خلاقی کی جھلک ہے تو دوسری جانب یہ پیغام بھی دیا جارہا ہے یہ وحی بھی اسی نوعیت کا علم ہے جو ماضی میں خدا انسانوں کی ہدایت کے لیے نشر کرتا رہا ہے ۔ دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی اللہ کی جانب سے ہے اس لیے اس میں کوئی شک نہیں ہوناچاہیے۔ اس علم میں اور دیگر علوم میں کچھ قدر مشترک اور کچھ بات مختلف ہے۔
اس وحی کے علم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ براہ راست عالم کے پروردگار نے اپنے الفاظ میں نازل کیا ہے جبکہ دیگر علوم بالواسطہ طور پر انسان کو وجدانی طور پر عطا کیے جاتے ہیں۔ دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ دیگر علوم کے منتقل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک نسل اپنے سے اگلی نسل کو یہ منتقل کرتی ہے جبکہ یہ علم ایک ہی شخص کو عطا کیا جارہا ہے اور یہاں سے اس کا انتقال ہوگا۔ تیسر ی چیز یہ ہے اس علم کے ماننے اور نہ ماننے کا نتیجہ باقی علوم کی طرح نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے یہ سمجھ لیا کہ یہ خدا کی جانب سے ہے اور اس کے باوجود نہیں مانا تو اس کا انکار خدا کی توہین کے مترادف ہوگا۔ جس کا نقصان بھگتنا پڑے گا۔
یہ آیت خدا کے رحمان و رحیم ہونے کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ اس کی کرم نوازی کہ اس نے انسان کو و ہ سب سکھادیا جس کی اسے ضرورت تھی۔
ابتدائی پانچ آیات کا خلاصہ
یہ پانچ آیات انسانوں کو ایک عظیم ہدایت دینے سے قبل ایک تعارف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں یہ بتایا گیا کہ یہ پیغام کسی انسان ، فرشتے، جن یا دیگر مخلوق کی جانب سے نہیں ہے ۔ اس کی نسبت عالم کے پروردگار کی جانب ہے ۔ اسی لیے یہ کہا گیا کہ ” اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا”۔ یعنی یہ پیغام اسی رب کے نام سے ہے جو خالق بھی ہے۔ وہ قادر مطلق خالق بھی ہے جس نے جمے ہوئے خون سے انسان کے حیوانی وجود کو پیدا کیا۔ وہ رب یاآقا انتہائی کرم کرنے والا ہے ۔ اسی کرم کا تقاضا اور نتیجہ ہے کہ انسان کو مختلف ذرائع سے سکھایا اور عقل عطا کی اور وہ سب کچھ سکھایا جو اس کی دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ یہ وحی بھی اسی سکھانے کا عمل کا تسلسل ہے جو ایک کریم ، قادرالمطلق ،علیم اور حکیم آقا کی جانب سے عطا کی جارہی ہے۔
اگلی آیات
جیسا کہ ان آیات سے پتا لگ رہا ہے کہ آگے کی آیات کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائی پانچ آیات وحی کی گئیں تو آپ پر نفسیاتی طور پر ایک تردد و خوف کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ نے سب سے پہلے اس کا اظہار اپنی بیوی حضرت خدیجہ اور اپنے دوست ابوبکر صدیق سے کیا۔ دونوں نے آپ کو تسلی دی کہ یہ جو کچھ بھی ہے اس سے آپ کو نقصان نہیں پہنچنے والا کیونکہ آپ تو خود اک نیک سیرت انسان ہیں۔ حضرت خدیجہ کے کزن ورقہ بن نوفل نے تصدیق کی کہ یہ وہی وحی کا علم ہے جو ماضی میں بھی لوگوں کو دیا گیا ہے۔
اس ابتدائی بات چیت کے بعد ظاہر ہے یہ بات آہستہ آہستہ مکہ میں پھیلی ہوگی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی خوشی، غمی اور حیرت سب سے پہلے اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں ہی سے شئیر کرتا ہے۔ تو نبی کریم نے یہ دعوت اسی فطری جذبے کے تحت اور خدا کے حکم سے اپنے قریبی رشتہ داروں کے سامنے رکھی۔ اس وقت نبی کریم کی عمر صرف چالیس سال تھی اور آپ کے رشتے داروں میں بہت سے لوگ آپ سے دنیاوی رتبے اور عمر میں بڑے تھے۔ ان میں سب سے اہم ابولہب ، ابوجہل اور ابوطالب تھے جو نبی کریم کے چچا بھی تھے اور بنی ہاشم قبیلہ کے کرتا دھرتا تھے۔
ابوجہل کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے مخالفت کا آغاز ہوا کیونکہ آپ کے اور ابوجہل کے مکانات بھی قریب قریب تھے۔ ایک تو رشتہ داری کی قربت دوسرے ہمسائیگی۔ آپ کی خواہش یہی ہوگی کہ ابوجہل چچا کی حیثیت سے آپ کو سپورٹ کریں اور اس مشکل وقت میں کام آئیں۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ اسی پہلے کھلم کھلم اختلاف کو قرآن نے موضوع بنا کر بیان کیا۔ اس کے بیان کی وجہ اس کا خلاف توقع ہونا ، اسکی شدت اور بے اصولی تھی۔ اسی پس منظر میں ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
۶۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى (6) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى (7) اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى (8)
ہرگز نہیں، بے شک آدمی سرکش ہو جاتا ہے۔جب کہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے۔ بے شک آپ کے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
یہاں بات عمومی طور پر بیان ہوئی ہے ۔ وحی کی دعوت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی تجربات سے گذرنا تھا اور اس میں سب سے پہلا تجربہ یہی اصول تھا کہ انسان کے جب سارے مسائل حل ہورہے ہوتے ہیں تو اس سے اس میں سرکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ رویہ قریش کی لیڈر شپ میں بالکل عام تھا اور ابتدا میں جو لوگ ایمان لائے تھے وہ غریب لوگ تھے۔ حالانکہ انسان جانتا ہے کہ وہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر چلا جائے گا۔ تو جو چیز اس میں تکبر پیدا کررہی ہے وہ تو ایک عارضی چیز ہے۔
یہی اصول آج کے دن بھی موجود ہے۔ خدا کی یاد سے غافل بالعموم امیر اور دولت مند ہی ہوتے ہیں۔ انہیں خدا کا حکم ماننا برا لگتا ہے کیونکہ وہ خود کو لاشعور ی طور پر بڑا سمجھتے اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وہ ہر اصول، قانون اور حکم کو پیسوں سے خریدنا چاہتے ہیں۔ یہیں سے ان کی گمراہی اور تباہی کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔
۷۔ اَرَاَيْتَ الَّـذِىْ يَنْهٰى (9) عَبْدًا اِذَا صَلّـٰى (10)
کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے۔
یہاں وہی ابوجہل کی جانب اشارہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ابوجہل نے نہیں ماننا تھا تو نہ مانتا ، وہ نبی کریم کو دعوت دینے سے کیوں روکنے لگا خاص طور پر جب آپ مراسم عبودیت ادا کررہے تھے اس وقت۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ابوجہل قریش کے لیڈروں میں سے تھا۔ خانہ کعبہ میں بت پرستی اس وقت اہل مکہ اور بالخصوص قریش کے لیے ایک معاشی فائدہ کے باعث تھی۔ لوگ دوردراز کے علاقوں سے یہاں حج اور عمرہ کرنے اور اپنے بتوں کو چڑھاوے چڑھانے کے لیے آتے تھے۔ ظاہر ہے، اگر بت پرستی کا خاتمہ ہوتا تو قریش کو ملنے والی ایک بڑی رقم سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ اس کے علاوہ نبی کریم کو رسول ماننے کے بعد سیاسی حکمرانی بھی ممکنہ طور پر قریش کی اس وقت کی لیڈرشپ کے ہاتھوں سے نکل جاتی۔
اس تناظر میں ابوجہل نے نہ صرف دعوت کا انکار کیا بلکہ اس کا سب سے بڑا مخالف بن کر کھڑا ہوگیا۔ ان آیات میں اسی جانب اشارہ ہے کہ ابوجہل کو تم نے دیکھا کہ کس طرح اس نے ہمارے بندےمحمد کو اپنے رب کے اگے جھکنے سے روک دیا۔
ابوجہل کی دوسری حیثیت مذہبی نظام کے پیشوا اور کرتا دھرتا کی تھی۔ اس کی مخالفت کی ایک دوسری وجہ یہی مذہبی پروہتوں کی نمائندگی تھی۔ امیروں کے بعد دوسرے لوگ جو غنی ہوتے ہیں اور لاپرواہی کا شکار ہوسکتے ہیں وہ مذہبی لیڈرشپ ہے۔ ان کے پاس دولت کے برعکس ایک دوسری طاقت ہوتی ہے اور وہ ہے خدا کے نام پر لوگوںکو احکامات دینا۔ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس طاقت کا غلط استعمال کرلیں گے۔ چنانچہ ماضی میں بنی اسرائل کے علما نے یہی کیا یہاں تک کہ اپنی مذہبی گدی بچانے کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام تک کو پھانسی چڑھانے کی کوشش کی۔
اسی خدشے کا اظہار نبی کریم نے اپنی امت کے لیے کیا تھا کہ تم ضرور یہود و نصاری کی پیروی کروگے۔ یہی معاملہ ہماری مذہبی لیڈرشپ کے ساتھ ہوچکا ہے۔ آج مدارس میں جب بھی اصلاحات لانے کی بات کی جاتی ہے تو اسی قسم کی مخالفت ان کی جانب سے پیدا ہوتی ہے۔
۸۔اَرَاَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْـهُـدٰٓى (11) اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى (12)
بھلا دیکھو تو سہی اگر وہ راہ پر ہوتا۔یا پرہیز گاری سکھاتا۔
یہاں اس تاسف کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ابو جہل ایک لیڈر ہونے کے ناطے اور نبی کریم کا قرابت دار ہونے کے ناطے خود ہدایت کو قبول کرتا اور اسی تقوی کا حکم دیتا جو نبی کریم دے رہے تھے۔ لیکن و ہ اس مشن میں ساتھی بنے کی بجائے مخالف بن گیا۔
۹۔ اَرَاَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّـٰى (13) اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّـٰهَ يَرٰى (14)
بھلا دیکھو تو سہی اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔تو کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
یہ ابوجہل کے برے رویے اور باڈی لینگویج کی جانب اشارہ ہے۔ کہ اس نے اس حق میں ساتھ بننے کی بجائے اسے جھٹلادیا اور منہ موڑ لیا۔ اگلی آیت میں یہ بتایا جارہا ہے کہ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ابوجہل کو ئی ملحد نہیں تھا بلکہ وہ خدا کو مانتا تھا اور اپنے مذہب کا پیروکار تھا۔ وہ اصلا مذہب ابراہیمی کا پیروکار تھا اور جانتا تھا کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اس علم کے باوجود اس کا نبی کریم سے پرتشدد رویہ یہ بتارہا تھا کہ وہ انتقام کی آگ میں اس حد تک آگے جاچکا تھا کہ اپنے مذہب کی اقدار بھی فراموش کربیٹھتا تھا۔
۱۰۔ كَلَّا لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (16)
ہرگز ایسا نہیں چاہیے، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔پیشانی جھوٹی خطا کار۔
یہاں ابوجہل کو وارننگ دے دی گئی تھی کہ تمہار ا معاملہ کسی عام انسان سے نہیں بلکہ عالم کے پروردگار سے ہے۔ یہاں پیشانی کے بال سے پکڑ کر گھسیٹنے کا جملہ اپنے مجازی معنوں میں ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوزخ کے فرشتے اس طرح گھیٹیں گے۔ ایک دوسری تعبیر یہ ہے کہ انسان کی پیشانی کے سامنے والا حصہ بہت اہم ہوتا ہے ۔ اگر اسے نقصان پہنچ جائے انسان کی عقل ختم ہوسکتی اور وہ دماغی طور پر بالکل معذور ہوسکتا ہے۔ تو یہاں اشارہ ہے کہ اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم اسے نہ صرف جاہل بنادیں گے بلکہ جاہلوں کے سردار کے نام سے رہتی دنیا تک زندہ رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ابوجہل کا اصل نام عمرو ابن ہشام تھا۔ ابوجہل یعنی جاہلوں کا سردار کا لقب تو اسے بعد میں ملا جب اس نے اسلام کی مخالفت میں انتہائی درجے کی جہالت کا اظہار کیا۔ یہی ابوجہل کا لقب اس آیت میں کی گئی پیشین گوئی کا اظہار ہے۔
۱۱۔ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٝ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18)
پس وہ اپنے مجلس والوں کو بلا لے۔ہم بھی مؤکلین دوزخ کو بلا لیں گے۔
یہاں یہ وارننگ شدید رخ اختیار کررہی ہے ۔ چونکہ ابو جہل کی مخالفت اب اس مقام پر پہنچ گئی تھی کہ اس نے تشدد کا رخ اختیار کرلیا تھا۔ تو یہاں پہلے تو اسے ڈائلاگ کی دعوت دی گئی کہ وہ بھی اپنا جتھا لے آئے تو ہم بھی اپنا جتھا لے آتے ہیں اور بات کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ کون جاہل ہے۔
۱۲۔كَلَّا ۖ لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَـرِبْ ۩ (19)
ہرگز ایسا نہیں چاہیے، آپ اس کا کہا نہ مانیے اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے۔
یہاں نبی کریم کو حکم دیا جارہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کی باتوں کی طرف توجہ فرمالیں۔ دراصل یہاں نبی کریم کو مخاطب کرنے باالواسطہ نومسلموں کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ان کی باتوں میں نہ آجانا، اس کے تشدد کی پروا مت کرنا، اس کی ظلم ستم سے نہ گھبرانا۔ بس جب بھی اس کی باتوں سے یا تشدد سے تکلیف ہو تو اللہ کا قرب تلاش کرکے اور خواہشات و جذبات کو خدا کے آگے سرنگوں کردینا۔


Pages