پروفیسر محمد عقیل

میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے


میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے
ڈاکٹر محمد عقیل
زندگی کی کہانی صرف دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔” میں اور وہ "۔ جو میں ہوں وہ بس "میں "ہوں اور جو میں نہیں وہ بس ” وہ” ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف ہماری اپنی ذات ہے تو دوسری طرف اس ذات سے باہر کی دنیا۔ زندگی بس انہی دو لفظوں کو سمجھ لینے کا نام ہے۔ اپنی ذات کو جاننا دراصل ” میں ” کو جان لینا ہے ۔ جبکہ اپنی ذات سے باہر کی دنیا کو جاننا اس سماج کو جان لینا ہے

۔
خود کو جاننا کیا ہے؟ یہ ہمارے چہرے ، جسم اور ظاہری وجود کی شناخت نہیں ۔ بلکہ یہ اس "میں "کی شناخت ہے جو ہمارے اندر بستی ہے۔ یہ ہمارا باطنی وجود ہے۔ یہی ہماری میں ، خودی اور انا ہے جو موت کے بعد بھی نہیں مرتی۔ ہم اپنے آپ کو جانے بنا زندگی نہیں گزار سکتے کیوں کہ یہی وہ شعور ہے جو ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وجود کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس وجود سمجھنے کے لیےہمیں دل کی آنکھیں کھولنا ہونگی۔ ان دل کی آنکھوں کو جدید سائنس میں مائینڈ سائنس کہتے ہیں۔
ہمارے وجود سے باہر بھی ایک دنیا ہے جسے ہم سماج ، سوسائٹی ، معاشرہ یا کسی بھی نام سے جان سکتے ہیں۔ یہاں سورج ، چاند ، تارے، جانور ، چرند ، پرند ہی نہیں بلکہ ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اولاد، دوست احباب،دفتر ، گھر سب بستے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہیں کہ اسی دنیا میں کہیں خدا بھی بستا ہے۔ اس دنیا کی سمجھ کے بنا بھی زندگی ممکن نہیں کیونکہ ہم خود بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ اس سماج کی اپنے اصول، اپنا میکنزم اور اپنا نظام ہے۔ اسے جانے بنا بھی ہم زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
پس اگر زندگی دو لفظوں کی کہانی ہے تو علم بھی دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ایک اپنی ذات کا علم اور دوسرا اپنی ذات سے باہر کا علم ۔ اپنی ذات کا علم مائینڈ سائنس ہے تو ذات سے باہر کا علم سوشل سائنس۔ یہاں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ مذہب اور خدا کا علم کہاں گیا۔ وہ دراصل انہی دونوں میں موجود ہے۔ خدا نے انسان کو دو طرح سے ہدایت دی ہے۔ ایک وہ ہدایت جو ہماری فطرت میں پیوست کردی گئی۔ اس میں خدا کا بنیادی تصور ، صحیح اور غلط کا شعور، انسانی کی جبلتیں اور دیگر بنیادی الہام آجاتے ہیں۔ باطن میں مذہب اور خدا کا یہ تصور مائینڈ سائنس کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ خدا اور مذہب کے تصور کا دوسرا ماخذ وحی کا ہے جو ہمارے خارج سے آتی ہے۔ یہ وحی آج سوشل سائنس ہی کے موضوعات میں سے ایک موضوع ہے۔
پس زندگی دو لفظوں کا علم ہے اپنی ذات کی پہچان اور خارج کی پہچان ۔ اس علم کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ایک مائینڈ سائنس کے ذریعے خود کو جاننا اور سوشل سائنس کے ذریعے خارج کو جاننا۔ جس نے یہ جان لیا اور اپنے وجود کو ان قوانین کے مطابق ہم آہنگ کردیا ، وہ دنیا میں بھی فلاح پاگیا اور آخرت میں بھی۔ اور جو ان کو نہ جان پایا یا جانننے کے باوجود نہ مان پایا تو وہ دنیا میں بھی خسارے میں ہے اور آخرت میں بھی۔
ہمارے ادارے کا بنیادی مقصد اپنی ذات اور اس سے باہر کی دنیا کو سمجھنا ، ان کے قوانین جاننا ، ان کی تربیت حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی اور دوسروں کی زندگی بہتر بنانا ہے تاکہ ہم دنیا میں سرخرو ہوکر ایک مطمئین نفس بن کر جی سکیں اور آخرت میں بھی اپنا ایک ترقی یافتہ وجود خدا کے حضور پیش کرسکیں۔
اوریب انسٹٹیوٹ آف مائینڈ اینڈ سوشل سائنس
https://www.oims.pk/
ڈاکٹر محمد عقیل
۳ نومبر ۲۰۱۸

من پر قابو کیسے ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، چند باتیں بہت پریشان کرتی ہیں؟ میں نے حضرت سے پوچھا
• پوچھو کیا مسئلہ ہے؟ حضرت نے جواب دیا۔
• حضرت ، گوکہ میں جانتا ہوں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟لیکن پھر بھی خود پر قابو نہیں۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
• بھئی دیکھو،محض یہ جاننا ضرور نہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ” خود” کو جاننا ضروری ہے

۔
• اچھا؟ تو پہلے وہی بتائیے۔ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا ۔
• دیکھو میاں، ایک کار کا تصور کرو۔ اس کار کا مالک پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے۔ دوسرا شخص ڈرائیور جو اس کا ملازم ہے وہ کار چلا رہا ہے اور تیسرا فریق وہ کار ہے جس میں یہ دونوں بیٹھے ہیں۔ اب یوں سمجھو کہ یہ کار ہمارا مادی وجود یعنی جسم ہے، ڈرائیور ہمارا مائینڈ اور مالک ہم خود یعنی ہماری اپنی شخصیت ۔
• وہ کیسے ؟ میں نے شوق سے پوچھا۔
• دیکھو ، اس کار کا ایک ظاہری ڈھانچہ ہے جو سمجھ لو ہمارا ظاہری بدن ہے۔ اس کار کااندرونی نظام جیسے انجن ، الیکٹرک کا نظام وغیرہ ہمارے جسم کے کے اندرونی اعضا ء کی مانند ہیں جیسے دل ، گردے پھیپڑے وغیرہ
• اچھا کیا کار خود بخود چل سکتی ہے؟
• نہیں ، میں نے جواب دیا۔ اسے پٹرول کی ضرورت ہے جیسے انسان کو غذا کی ۔
• ارے بھئی ، اگر پٹرول بھی ہو تو کیا خود بخود چل سکتی ہے یا کوئی چلانے والا ہونا چاہیے؟ حضرت نے دوبارہ پوچھا۔
• جی بالکل ، ایک ڈرائیور ہوتا ہے جو اسےچلاتا ہے۔
• تو بس سمجھ لو ، جس طرح کار کو چلانے کے لیے ڈرائیور ہوتا ہے، ایسے ہی جسم کو چلانے کے لیے مائینڈ یا دماغ ہوتا ہے جسے قدیم اصطلاح میں دل بھی کہا جاتا ہے۔
• بس تو سمجھ لو ، ڈرائیور کے پیچھے بیٹھا مالک ہماری اپنی شخصیت ہے جسے قدیم اصطلاح میں خودی، انا، نفس وغیر ہ کہا جاتا ہے۔ اب کچھ سمجھے کہ معاملہ کیا ہے؟حضرت نے پوچھا۔
• اوہ، یہ تو گتھی سلجھتی جارہی ہے۔ کار میرا جسم ہے، ڈرائیور، میرا دل یا مائینڈ او ر اس کے پیچھے بیٹھا ہو ا شخص ان سب چیزوں کا مالک یعنی میں ہوں ۔ میں نے کہا ۔
• ہاں بس ایک اور چیز کا اضافہ کرلو۔ کار کے شیشے اور کھڑکیاں انسان کے اعضا یعنی ناک، کان، آنکھیں، زبان اور لمس کی مثال ہیں جن سے میں باہر کی دنیا سے رابطہ رکھتا ہوں۔
• پس جان لو کہ کار ہمارا جسم ہے، مالک ہمارا باطن اور ڈرائیور ہمارا دل، کھڑکیاں اور دروازے ہمارے ناک ، کان،زبان ، لمس اور آنکھیں اور کار سے باہر باقی دنیا موجود ہے۔
• اب سوچو، اگر ڈرائیور اپنے مالک سے باغی ہوکر اپنی مرضی چلانے لگے، وہ کھڑکی سے نظر آنے والے ہر خوبصور ت منظر کو غور سے دیکھے، باہر کے دل کش میوزک ہی کو سننے کے لیے رک جائے، ساتھ چلنے والی کاروں کے ڈرائیور وں سے بات کرتا رہے ، جہاں چاہے کار کو لیے پھرے، کسی قانون کی پابندی نہ کرے، نہ سگنل پر رکے نہ اسپیڈ کا خیال رکھے اور نہ ہی سڑک پر موجود دوسری گاڑوں کو خاطر میں لائے تو کیا مالک کبھی اپنی منزل تک پہنچ پائے گا؟ اس کا انجام کیا ہوگا؟
• یہ شخص تو اپنے مالک کو بھی حادثے سے دوچار کرے گا اور اپنی کار کو بھی۔ میں نے کہا
• بس تو جان لو، جس شخصیت کے قابو میں اس کا اپنا ڈرائیور یعنی دل نہیں وہ اپنے جسم اور روح یا ظاہر و باطن دونوں کی ہلاکت کی تیاری کررہا ہے۔ اور یہ بھی جان لو کہ ڈرائیور یعنی دل کو قابو نہ کیا جائے تو یہ آزادی کی مستی میں کبھی جنسی لذت کی کھائیوں کی جانب دوڑے گا تو کبھی نشے کی وادیوں میں سکون تلاش کرتا پھرے گا۔کبھی یہ دوسرے ڈرائیوروں سے حسد کرتے ہوئے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرے گا تو کبھی جیتنے والوں پر الزام تراشی ، بدگمانی اور بدتمیزی سے زیادتی کرنا چاہے گا۔
• ارے تو اس کا مالک اسے کچھ نہیں کہتا؟ میں نے پوچھا
• یہی تو مسئلہ ہے۔ جب مالک کا کنٹرول ڈرائیور پر کمزور پڑ جاتا ہے اسی بنا پر تو یہ ایسی حرکتیں کرتا ہے۔ پھر یہ ڈرائیور یا دل بہت چالاک ہوتا ہے۔ اسے علم ہے کہ اس کا مالک اگر مضبوط ہوگیا تو اس کی آزادی خطرے میں ہے۔ چنانچہ یہ اپنے مالک کو جھانسے میں لے آتا ہے۔یہ بھی کھڑکیوں کے باہر جنسی مناظر میں مالک کو مشغول کردیتا ہے۔ یہ اسے اچھے کھانے کھلا کھلا کر سست اور کاہل بنادیتا ہے۔ یہ اسے لوگوں سے لڑوا کر اس کو الجھادیتا ہے کہ مالک کو اس دل کی جانب نظر کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔
• ارے تو یہ دل ایسا ظلم کیوں کرتا ہے؟ میں نے پوچھا
• دیکھو بھئی ، دل تو ایک ڈرائیور کی مانند ہے جس کا کام حکم ماننا ہے۔ یہ جو مالک ہے نا، یہ انسان کی روح ہے ۔ یہ وہ روح ہے جو خدا نے انسان میں پھونکی۔ یہ روح خدا کی پھونک ہے۔ یہ ایک طرح کا ایک دم ہے جو خدا نے انسان پر کیا ہے تاکہ اپنی کچھ صفات ادانیٰ درجے میں انسان میں منتقل کرکے اسے جانوروں سے افضل بنائے۔ جب انسان ان خدائی رنگوں یعنی صفات کو استعمال نہیں کرتا اور اپنے اعضا پر کنٹرول ختم کردیتا ہے تو اب یہ رحمانی صفات یا رنگ میلے ہونے لگ جاتے اور آہستہ آہستہ گندگی میں تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ اب اس گندگی میں شیطان ڈیرے ڈالنا شروع کردیتا ہے ۔
• جب یہ رنگ میلے ہوجاتے ہیں تو انسانی شخصیت شیطان کی آلہ کار بن جاتی ہے ۔ اب دل پر نفس لوامہ کی بجائے نفس امارہ کا قابو ہوتا ہے۔ اب یہ خدائی صفات کی حامل روح کی بجائے شیطانی ارواح کے قابو میں آجاتا ہے۔ پھر یہ اسے جہاں چاہے لیے پھرتے ہیں۔
• ارے تو اس دل ، مائینڈ یا ڈرائیور پر قابو کیسے کیا جائے؟ اصل سوال تو یہی ہے؟ میں نے پھر پوچھا۔
• اب اس کا جواب بہت آسان ہے۔لیکن یہ جواب تم بتاوگے۔ اچھا یہ بتاو جب ڈرائیور کو ہم پہلی مرتبہ ملازم رکھتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟
• اسے بتاتے ہیں کہ تمہارے کیا اوقات ہیں، کیا تنخواہ ہے، کب چھٹی اور کب نہیں۔ مالک کو کیا پسند ہے اور کیا نہیں وغیرہ۔ میں نے کہا۔
• درست کہا تم نے۔ یہی معاملہ ہمیں اپنے دل کے ساتھ بھی کرنا ہے ۔ اسے سختی سے بتادینا ہے کہ جائز کیا ہے ناجائز کیا ہے، ہماری اصل شخصیت کے لیے کیا درست ہے اور کیا نہیں، کب اٹھنا اور اور کب سونا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتادینا ہے کہ مالک کی مرضی چلے گی ، ڈرائیور کی نہیں۔ اسے جدید اصطلاح میں ایجوکیشن کہتے ہیں۔ اچھا بتاو اس کے بعد کیا کرتے ہیں۔
• اگر ڈرائیور کام صحیح نہ کرے تو اسے سزا دیتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔
• ارے نہیں، اتنی جلدی سزا کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسے کچھ ہفتے یا مہینے تربیت سے گذارو۔ اپنی مرضی سے آگاہ کرو، ہلکی پھلکی تنبیہ کرو۔ اسے جدید اصطلاح میں ٹریننگ کہتے ہیں۔
• اس کے بعد اگر وہ نہ مانے جو سزا دینی ہے؟ میں نے کہا
• ارے میاں تمہیں سزا کی بہت جلدی ہے لگتا ہے مستقبل میں مولوی بننے کا ارادہ ہے۔ اب دو مرحلے مکمل ہوگئے ہیں ایک ایجوکیشن اور دوسرا ٹریننگ۔ اب اگلا مرحلہ ہے ڈسپلن جس میں سزا ہی نہیں جزا کا نظام بھی ہے۔ ڈرائیو ر کس اچھی طرح بتادو کہ حکم کی خلاف ورزی بھی سزا ہوگی۔ جیسے جھوٹ بولنے پر اس کی تنخواہ کا دس فی صد حصہ صدقے میں دے دیا جائے گا، کسی فحش سائٹ کو دیکھنے پر روزہ رکھنا ہوگا، کسی کو گالی دینے یا جھگڑا کرنے پر انا کو کچلنے کے لیے سر عام معافی مانگنی ہوگی وغیرہ۔
• اچھا ، زبردست ۔ لیکن مزید جرمانے بھی تو ہوسکتے ہیں نا؟
• ہاں ، جرمانہ مالی ، بدنی یا دونوںہوسکتے ہیں۔ بس یہ خیال رہے کہ نہ تو جرمانہ اتنا ہلکا ہو کہ ڈرائیور کو کوئی فرق ہی نہ پڑے اور نہ اتنا بھاری کے ڈرائیور کا کچومر نکل جائے اور وہ سرکش ہوکر بھاگ ہی جائے۔ اس کے علاوہ صرف سزا کا نظام ہی نہ رکھو۔کبھی ڈرائیور کر آرام بھی دو، کبھی اس کی مرضی بھی چلنے دو لیکن اس طرح کہ تمہارے حکم پر ہی اسے محدود آزادی ملے۔اسے اچھا کام کرنے پر شاباش دو۔ کبھی اسے کھانا کھلانے اچھی جگہ لے جاو، کبھی جائز حدود میں اسے زبردستی تفریح پر بھیجو، کبھی کچھ دنوں کے لیے اسے ڈسپلن سے محدود چھٹی بھی دو۔
• ارے ، یہ تو میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے؟
• بھئی یہی تو ایک مینٹور اور عام استاد میں فرق ہوتا ہے ۔ تو اب ذرا جلدی سے بتاوّ کیا سمجھے؟
• جی میرا دل ڈرائیور ہے جو میرا یعنی میری اصل باطنی شخصیت کا غلام ہے اور کار میرا جسم ۔ اگر ڈرائیور کو ایجوکیشن، ٹریننگ اور ڈسپلن سے قابو نہ کیا جائے تو یہ میری ظاہری شخصیت کو بھی تباہ کرکے بیمار، لاغر، موٹا،بھدا، سست اور کاہل بنادے گا اور میری باطنی شخصیت کو بھی ہائی جیک کرکے اسے شیطان کے ہاتھوں یرغمال بنادے گا۔ چنانچہ مجھے سب سے پہلے اس کو قابو کرنا ہے۔ اسے بتانا ہے کہ کان، ناک ، ہاتھ، منہ، زبان چلنا پھرنا، کھانا پینا اور سونا جاگنا ہر کام میرے حکم ہی سے ہوگا۔ اور یہ نہ مانے تو سزا کا جرمانہ اور مانے تو جزا اور انعام۔
• درست سمجھے۔ لیکن خالی سمجھنا کافی نہیں ، عمل ضروری ہے ورنہ سمجھ لو ڈرائیور نے ایک اور جھانسا دے دیا کہ مجھے تو سب پتا ہے۔
• بھگوت گیتا اور امام غزالی کی احیا ء العلوم سے ماخوذ

انسانی ذہن اور وجود الٰہی


تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

دنیا کے تمام مذاہب میں خدا کا تصور موجود ہے۔ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے۔ اگر مشرکانہ مذاہب کی عبادت کو دیکھا جائے تو وہ خدا کا بت، تصویر یا پتلا سامنے رکھ کر اسے خدا سمجھتے ہیں اور یہ تمام مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔ اس سے اگلا درجہ مراقبے کا ہے۔اس میں خدا کو سامنے تو نہیں رکھا جاتا البتہ اس کے کسی تصور کو فوکس کرکے اس سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کسی بت کا بھی

ہوسکتا ہے اور کسی اور شے کا بھی۔
اس کے بعد یہودیت، عیسائیت اور اسلام آتے ہیں۔ عیسائیت میں حضرت عیسی و مریم علیہما السلام کے مجسمے سامنے رکھ کر ان سے قربت کا اظہار کیا جاتا اور خدا کے نزولی تصور کو اپنی سوچوں میں بسایا جاتا ہے۔ یہودیت و اسلام میں بت پرستی کی اجازت نہیں۔ البتہ دونوں مذاہب میں بھی تجسیم اور علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ مثال کے طور پر یہودیت میں ماضی میں تابوت سکینہ کو سامنے رکھ کر عبادت کی جاتی اور آگ جلائی جاتی تھی جبکہ حال میں یہی اہمیت دیوار گریہ کو حاصل ہے۔
دوسری جانب اسلام میں بھی ایسے شعائر یا علامات موجود ہیں جن کو مذہبی تقدس حاصل ہے۔ مثال کے طور پر خانہ کعبہ کو خدا کے گھر اور حجر اسود کو خدا کے ہاتھ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ صفا و مروہ، منی عرفات، مزدلفہ، قرآن پاک اور عام مساجد بھی شعائر یعنی اللہ کی نشانیوں میں شامل ہیں اور ان کی تعظیم کا حکم ہے۔
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ماضی کے مذاہب میں ہر دوسرا مذہب بتوں کی شکل میں تجسیم کا قائل رہا؟ اور ایسا کیوں ہوا کہ اسلام نے بھی بت پرستی کے خاتمے کے باوجود ایک پتھر کی عمارت(خانہ کعبہ ) کی جانب سجدہ کرنے ، اور ایک پتھر(حجر اسود) کو چومنے یا اس کو خدا کا ہاتھ تعبیر کرنے کا حکم دیا؟ یا صفا مروہ کی پہاڑیوں کو مذہبی تقدس دیا ۔اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ خدا کی نشانیوں پر غور کرنے کا حکم ہے جن میں زمین، چاند ، سورج ، ستارے، پہاڑ، دریا ، سمندر ، چرند پرند اور دیگر مخلوقات موجود ہیں؟ اس کا جواب ہمیں جدید سائنس سے ملتا ہے۔
جدید سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک دایاں یا رائٹ برین اور دوسرا بایاں یا لیفٹ برین۔ رائٹ برین جذبات ، تصورات اور خیالات کا حصہ ہے جبکہ لیفٹ برین لاجک اور حساب کتاب کا حصہ ہے۔ دونوں حصوں کا کام کرنے کا طریقہ کار مختلف ہے۔ رائٹ برین جس زبان کو سمجھتا ہے وہ تصویر، علامات اور رنگوں کی زبان ہے جبکہ لیفٹ برین الفاظ اور جملوں پر مشتمل کسی زبان جیسے انگلش یا اردو کو سمجھتا ہے۔ رائٹ برین ہمیں روحانی دنیا کے قریب کرتا ہے جبکہ لیفٹ برین ہمیں مادی دنیا کے قریب کرتا ہے۔
اس بات کو مد نظر رکھ کر ہم دوبارہ اسی سوال کی جانب آتے ہیں۔آخر کیوں ماضی اور حال کے مذاہب بشمول اسلام نے تجسیم کو کسی نہ کسی صورت میں بحال رکھا۔ اس کا جواب مائنڈ سائنسز کی روشنی میں بہت سادہ ہے۔ اس معاملے کو ہم خواب کی نوعیت سے سمجھتے ہیں۔
ہم جو خواب دیکھتے ہیں تو یہ ہمارے رائٹ برین ہی کے متحرک ہونے کی بنا پر نظر آتا ہے۔ لیکن آپ پورے خواب میں دیکھ لیں وہاں کوئی بات چیت نہیں ہوتی ، پھر بھی ہم ٹیلی پیتھی کے ذریعے بات سمجھ جاتے ہیں ۔ وہاں صرف امیجز یعنی تصاویر ہوتی ہیں جیسے ہمارے کسی گذرے ہوئے بزرگ کی شبیہ ۔ وہاں رنگ ہوتے ہیں جیسے فجر جیسا اجالا، دھند، بے حد اندھیرا وغیرہ۔ وہاں علامات ہوتی ہیں جیسے سانپ پہاڑ ، دریا وغیرہ ۔ وہاں فیلنگز یعنی احساسات ہوتے ہیں جیسے شدید پیا س لگنا،سانس رکنا،خوف کھانا، درد محسوس کرنا وغیر۔اس دنیا میں ہر تصویر، شبیہ ، رنگ اور علامت کی اپنی ایک تعبیر ہے۔
خواب ایک روحانی دنیا کی سرگرمی ہے۔ چنانچہ روحانی دنیا سے کنکٹ ہونے کے لیے ہمیں اپنے رائٹ برین کو متحرک کرنا لازمی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ برین زبان کو نہیں سمجھتا۔چونکہ مذہب انسان کو مادی دنیا سے اوپر اٹھا کر روحانی دنیا سے کنکٹ کرنا چاہتا ہے اسی لیے مذہب میں علامات کا استعمال ہوتا ہے۔ تمام مذاہب اس برین کو متحرک کرنے کے لیے علامات ، شبیہ اور تصاویر کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر ہم بت پرستی کو چھوڑ کر صرف اسلام ہی کی بات کرلیں جو جونہی حج کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے تو بالعمو م خانہ کعبہ ہمارے تصور میں آجاتا ہے۔ اسی طرح جب ہم لفظ ” اللہ ” بولتے ہیں تو یہ چار حروف یعنی الف، لام، لام اور ہ ڈھل کر کسی بزرگ شخصیت کا تصور بن جاتے ہیں۔اسی لیے تمام مذاہب بشمول اسلام میں علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہی علامات رائٹ برین کی تحریک کا سبب بنتی اور انسان کو روحانی دنیا سے منسلک کرتی ہیں۔
لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہب میں تو مخصوص زبان کے ذریعے کچھ کلمات پڑھے جاتے ہیں۔ جیسے اسلام میں نماز میں سورہ فاتحہ، قرآن اور دیگر تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہندو مذہب میں سنسکرت کے منتر، یہودیت و عیسائیت میں عبرانی کی حمد زبان ہی سے پڑھی جاتی ہے۔ اور ہم نے جانا کہ زبان کا تعلق تو لیفٹ برین سے ہے۔ اس کا جواب بہت آسان ہے۔
ہم جب زبان سے کسی مخصوص مقدس کتاب کے الفاظ ادا کرتے ہیں تو اس سے پہلے ہمارا لیفٹ برین متحرک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ہم کلمہ طیبہ کا ورد کرکے یا سورہ فاتحہ سے خدا کی حمد و ثنا کرکے اور اس سے مددو نصرت مانگ کر لاجک اور منطق کی سطح پر اپنے آپ کو یہ باور کراتے ہیں ہم خدا کے غلام ہیں، ہم اس کے بندے ہیں اور وہ آقا، ہم عبد ہیں اور وہ معبود۔
البتہ یہ تعلق بہت ابتدائی سطح کا عقلی تعلق ہے ۔ ابھی اس تعلق کی جڑیں دل میں پیوست نہیں ہوئیں، ابھی یہ تعلق اتنا مضبوط نہیں کہ انسان اس منطقی خدا کے لیے اپنا تن من دھن لگادے۔ اس ابتدائی تعلق کو اسلام کی اصطلاح میں محض تسلیم کرلینا اور مان لینا یا اسلام قبول کرلینا کہا گیا ہے جس کی تفصیل سورہ حجرات میں موجود ہے۔
اگلا مرحلہ اس منطقی اور زبانی اسلام کو ایک یقین اور ایک تحریک میں بدلنے کا ہے تاکہ اس منطقی تعلق کو جذبات ، محبت اور روحانیت کی سطح پر کنورٹ کیا جاسکے۔ اس کو ایمان یا یقین کہتے ہیں۔اس مقصد کے لیےرائٹ برین کو متحرک کرنا لازم ہے۔ چنانچہ اب الفاظ کے پیچھے چھپے تصورا ت کو نمایاں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ا س تجسیم میں اولین حیثیت خانہ کعبہ کو حاصل ہے۔ اب یہ سیاہ پوش مکعب محض ایک کمرہ نہیں بلکہ اسے خدا کے گھر کا تقدس حاصل ہے۔اب حجر اسود خدا کے ہاتھ کا نعم البدل ہے جس میں ہاتھ دے کر انسان خدا سے بیعت کرتا ہے۔اب صفا مرو ہ محض پہاڑیاں نہیں بلکہ خدا کی یاد میں دوڑنے کا مقام ہے۔ اب مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ خدا کے گھر کی حیثیت کی حامل ہے۔
یہ تجسیم محض مذہبی مقامات تک محدود نہیں بلکہ قرآن نے اسے پوری کائنات تک وسعت دی ہے اور کائناتی مظاہر کو خدا کی نشانیاں یا علامات کہا ہے۔ چنانچہ ہرے بھرے درخت خدا کی ربوبیت کا مظہر ہیں، اب سورج کی روشنی خدا کی صفت نور کی علامت ہے، اب بارش کی بوندیں خدا کی صفت رحم کو ظاہر کرتی ہیں، اب بلند و بالا پہاڑ خدا کے جلال و قدرت کی نشانی ہیں اور اب بے کراں سمندر خدا کی لامحدودیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اب بات بہت سادہ ہوگئی ہے۔ کسی بھی مذہب بالخصوص اسلام کی ابتدا زبان سے چند کلمات ادا کرنے سے ہوتی ہے جسے ہم اسلام کو زبان سے قبول کرنا کہتے ہیں۔ یہ کلمات ہمارے لیفٹ برین یا لاجکل برین کو یہ باور کراتے ہیں کہ ہم کسی معاہدے کے تحت ہیں اور کسی کے غلام ہیں۔ اس کے بعد ان الفاظ کے پیچھے موجود تصورات ہمارے ذہن ، دل اور دماغ میں راسخ ہوجاتے ہیں تو یہ رائٹ برین کی تحریک کا وقت ہوتا ہے۔ اب ہم اس منطقی تعلق کو جذبات اور محبت میں ڈھال کر اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اسلام کی عقلی قبولیت کو ایمان و یقین میں بدل سکیں۔ غور سے دیکھا جائے تو حقیقی مومن اس وقت حقیقی بنے جب انہوں نے اپنے دعوہ ایمان کو زبان سمجھنے والے لیفٹ برین سے اٹھا کر رائٹ برین تک پہنچادیا۔
اسی گفتگو سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ دین سے متعلق ہونے والے افراد کو تین حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جن کا رائٹ برین زیادہ ایکٹو ہے ، دوسرے وہ جن کا لیفٹ برین زیادہ ایکٹو ہے اور تیسرے وہ جن کا معاملہ بیلنس کا ہے۔
جن کا لیفٹ برین زیادہ ایکٹو ہوتا ہے وہ لوگ اسلام لانے کے باوجود خدا سے ایک منطقی تعلق ہی قائم رکھ پاتے ہیں ۔ ان کی مثال مسلمانوں میں ان فقہا کی ہے جو ہر چیز کو ظاہر کی آنکھ سے دیکھتے اور اسے منطق، فقہ اور ظاہری قانون کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس معاملے میں جب یہ ایک حد سے گذرتے ہیں تو باطنی تطہیر کو چھوڑ کر محض شریعت کے ظاہری اعمال ہی کو فوکس میں رکھنے پر تل جاتے ہیں۔
دوسری جانب جن کا رائٹ برین زیادہ متحرک ہوتا ہے وہ جذبات و احساسات کو فوقیت دیتے اور خدا سے ایک محبت و عشق کا تعلق قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ جب اس تحریک میں حد سے گذرتے ہیں تو شریعت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور محض جذبات و احساسات ہی کو اپنا محور و مرکز بنالیتے ہیں۔ مسلمانوں میں یہ گروہ صوفیا کا رہا ہے۔
لیکن دیکھا جائے تو انسان کا برین رائٹ اور لیفٹ دونوں کا مجموعہ ہے اور کسی ایک جانب جھکاؤ اس کی شخصیت میں عدم تواز ن پیدا
کرسکتا ہے۔ اس لیے خدا سے تعلق میں عقل و خرد کی اپنی اہمیت ہے اور محبت و جذبات کی اپنی اہمیت ۔ چنانچہ تیسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو رائٹ اور لیفٹ برین میں تواز ن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا سے تعلق تو دیکھیں تو وہ نہ تو عقلی مقدمات سے عاری تھا اور نہ ہی جذبات و کیفیات سے آزاد۔ وہ عقل و محبت کا ایک حسین امتزاج تھا۔ ایک جانب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے ذریعے خدا کے وجود کے عقلی دلائل دیتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب آپ خدا کی محبت میں اپنا مال، اپنا آرام و آسائش، اپنی فیملی لائف سب قربان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ مذہب عقل اور محبت دونوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اگر اس میں لیفٹ برین یعنی منطق و عقل ہی کو اہمیت دے دی جائے گی تو یہ یہیودیت کی طرح خشک احکامات مجموعہ بن کر رہ جائے گا۔ اور اگر اس میں رائٹ برین یعنی محبت و عشق ہی کو فوکس کیا جائے گا تو شریعت کی جگہ رہبانیت لے لے گی جس میں عقل دشمنی میں کسی بھی نامعقول حد کو کراس کرنے کو دین سمجھ لیا جائے گا۔ حق یہی ہے کہ رائٹ اور لیفٹ برین کو بوقت ضرورت متحرک بھی کیا جائے او ر بیدار بھی رکھا جائے ۔

شب قدر اور فرشتے سے مکالمہ

پروفیسر عقیل کا بلاگ

کتنی اہم رات ہے۔
اچانک سلیم کا جی چاہا ہے ان کے بات چیت کرے۔ وہ ان کے قریب گیا اور سلام عرض کیا۔ فرشتوں نے مسکراکر جواب دیا۔
"کیا میں آپ سے بات چیت کرسکتا ہوں؟ ” سلیم نے پوچھا۔
” جی ضرور! فرمائیے!”
” مجھے یہ پوچھنا ہے کہ پاکستان کے لوگ اتنی عبادتیں کرتے ، اتنی دعائیں مانگتے، اتنے روزے رکھتے اور اتنی زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن پھر بھی اس ملک کا برا حال ہے۔ عوام چکی میں پس رہے ہیں،غربت، افلاس ، بھوک، دہشت گردی، قتل و گردی لگتا سے سب مسائل نے اسی ملک میں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ کیا خدا نے نہیں کہا کہ دعا کرو میں سنوں گا؟ پھر خدا ہماری سنتا کیوں نہیں؟ کیا وہ رحمان و رحیم نہیں ہے؟”
فرشتوں نے بغور اس بات کو سنا اور پھر ان میں سے ایک فرشتہ گویا ہوا:
” کیا دل میں درد کا…

View original post 1,051 more words

کیا تو ایسے شخص کو دنیا میں بھیجے گا جو قتل و غارت گری کرے گا؟

ڈاکٹر محمد عقیل
” میں زمین میں ایک بااقتدار مخلوق بھیجنے والا ہو ں۔ تم سب اس کے آگے جھکے رہنا اور اس کے ارادہ و اختیار میں بے جا مداخلت مت کرنا”۔ خدا نے فرشتوں سے کہا۔

فرشتوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ انہوں نے انسان کےآزادانہ اختیار کی تصویر اپنے کمپیوٹر نما دماغ میں بنا کر یہ اندازہ لگالیا تھا کہ اس سے زمین میں قتل غارت گری مچے گی۔ چنانچہ انہوں نے اپنا کنسرن انتہائی مودبانہ انداز میں خدا کے سامنے رکھ دیا ۔

” آپ کہ ایسی مخلوق کو کیوں پیدا کررہے ہیں جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ؟ اگر مقصد اطاعت اور تکوینی امور چلانا ہی ہے تو ہم پہلے ہی آپ کی اطاعت خوش دلی سے کررہے ہیں اور آپ کو ہر عیب سے مبرا مانتے ہیں اور آپ پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتے؟ “

فرشتوں کا ایہ اعتراض غلط نہ تھا لیکن یہ صرف انسان کی شخصیت کا محض ایک رخ تھا جو فرشتے اپنے محدود علم اور پروگرامنگ کی بنا پر جان پائے تھے۔ انہیں علم ہی نہ تھا کہ خدا کا اصل منصوبہ کیا ہے۔ چنانچہ خدا نے انہیں سمجھانے کے لیے سب سے پہلے تو انہیں ان کی محدود علمیت سے آگاہ کیا :

” دیکھو ، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ تم انسان کے اختیار کی ایک ہی رخ سے واقف ہو۔یقینا ایسا ہے کہ انسان آزادی پاکر منفی صفات کی جانب بھی رغبت کرے گا۔ وہ حسد، نفرت، کینہ ، بغض اور عداوت کی بنا پر خون خرابے کا مرتکب ہوگا۔ لیکن حقیقت میں اس کے اقتدار کی کئی اور جہتیں بھی ہیں۔”

اس کے بعد خدا نے آدم کو انسان کی مثبت صفات سے آگاہ کیا کہ کس طرح وہ ایثا ر، قربانی، ہمدردی، اطاعت اور محبت کا پیکر ہوگا۔ پھر فرشتوں سے کہا ۔

” اب ان ساری صفات کو سامنے رکھ کر بتاو کہ انسان کے کتنے روپ یا صفات ہوں گی؟کیا وہ صرف ایک قاتل،ظالم جابر، ڈاکو اورلٹیرا ہی بنے گا یا انہی میں خداپرست عابد، فلاح پھیلانے والے لیڈر، ہدایت دینے والے پیغمبر، دنیا سے بے رغبت ولی اور شخصیت سنوارنے والے عالم بھی پیدا ہوں گے؟”

فرشتے خاموش تھے۔ انہیں علم ہوگیا تھا کہ ان کی پروگرامنگ نے تصویر کا ایک ہی رخ دکھایا ہے اور مثبت پہلو یکسر نظر انداز ہوگیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا:

“اے اللہ! تمام غلطیوں سے پاک تو صرف آپ ہی کی ذات ہے اور ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا آپ نے ہمیں سکھا رکھا ہے ، پورے علم و حکمت والے تو بس آپ ہی ہیں۔”

اب خدا نے آدم کو مخاطب کرکے کہا:

” اچھا تم انہیں انسان کے وہ نام یا مثبت خصوصیات بتادو جن کی بنا پر میں نے انسان کو پیدا کیا ہے۔”

آدم نے بتایا کہ اس خون خرابہ کرنے والی مخلوق میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو اپنے رب کا حکم مانیں گے، یہ رب کے لیے سارا دن بھوکے پیاسے رہیں گے، یہ اس کے لیے راتوں کو قیام کریں گے، یہ اس کے لیے اپنا مال لٹادیں گے، یہ اس کے لیے اپنی جان نچھاور کردیں گے لیکن اطاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آدم نے بتا یا کہ ایسے بھی لوگ ہوں گے جو دوسروں کے سکون کے لیے اپنا سکون غارت کریں گے، جو دوسروں کو زندگی دینے کے لیے اپنی زندگی کی قربانی دیں گے، جو دوسروں کے امن کے لیے اپنا امن تباہ کردیں گے۔ غرض آدم نے فرشتوں کو انسان کے تمام مثبت پہلووں اور صفات سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد خدا نے ارشاد فرمایا :

” دیکھو ، یہی وہ غیب ہے جسے تم اپنی محدودیت کی بنا پر نہیں جان سکتے ۔ تمہاری بات درست ہے کہ یہاں ہٹلر جیسے فاشسٹ، چنگیز خان سے قاتل، فرعون جیسے جابر اور نمرود جیسے آمر پیدا ہوں گے ۔ لیکن ساتھ ہی موسیٰ جیسا کلیم بھی ہوگا۔ ایوب جیسا صبر بھی ہوگا، ابراہیم جیسا خلیل بھی ہوگا، محمد جیسا رحمت للعالمین بھی ہوگا۔ یہاں ان پیغمبروں کے اصحاب بھی ہوں گے۔ یہاں میرے دوست بھی ہوں گے۔ یہاں میرے ماننے والے ، میرے نام لیوا ور میرے چاہنے والے بھی ہوں گے۔ یہ اسی آزادنہ اختیار کے ساتھ مجھے پہچانیں گے، مجھے مانیں گے، مجھے چاہیں گے۔ جواب میں میں بھی انہیں جنت کی ابدی بادشاہت دوں گا۔یہ اصل محفل انہی لوگوں کو چننے کے لیے سجائی جارہی ہے۔پس میں ہی وہ سب باتیں جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔

آٹھ سال سے بڑے بچوں کے لیے رمضان تربیتی گائیڈ


اگر باقاعدہ پلاننگ کی جائے تو رمضان میں بچوں کی تربیت بہت اچھے انداز میں کی جاسکتی ہے۔انہیں عبادات کا عادی بنایا جاسکتا، اچھے اخلاق پیدا کئے جاسکتے اور بری عادتوں سے چھٹکارا دلوایا جاسکتا ہے۔بچوں کی تربیت ماں باپ پر اسی طرح فرض ہے جیسے نماز یا دیگر احکامات۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ گائیڈآپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اس گائیڈسے بچوں میں دین سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوگا انشاءاللہ۔کوشش کیجئے کہ دو یا اس سے زائد بچوں کے درمیان یہ گائیڈاستعمال کریں اور روزانہ انہیں ان کا اسکور بتائیں تاکہ اگلے دن وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔
ڈاؤن لوڈ کے لئے یہاں کلک کریں
ramadan-guide-for-kids

فطرت و وحی


اداریہ
میرے دوستو! مذہب کا مفہوم ہے ” راستہ”۔ یعنی مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاتا ہے۔کم و بیش ہر مذہب اپنی نسبت خدا سے کرتا ہے کہ وہی سچا اور واحد راستہ ہے۔ ہر مذہب دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور خود کو سراپا حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ہر مذہب دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ باطل مذہب کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرلیں۔ ہر مذہب کے پاس اپنی صداقت کو بیان کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل

موجود ہوتے ہیں۔
دوستو ! سوال یہ ہے کہ اگر مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے تو وہ کون سا مذہب ہے؟ ظاہر ہے انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اسی مذہب کو حق سمجھتااور باقی کو باطل گردانتا ہے۔ شعور کی عمر کو پہنچتے پہنچتے اس کا ذہن ایک خاص طرز میں ڈھل چکا ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبدارہوکر عقائد کا جائزہ لینے کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے۔
دوستو! ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے تو یہ راستہ خدا نے سب کو یکساں طور پر کیوں نہیں بتایا؟ کیوں ایسا نہ ہو اکہ خدا کے پیغمبر سب قوموں کے پاس آتے اور براہ راست ایک ایک شخص کو مخاطب کرکے انہیں تعلیم دیتے، انہیں تزکیہ و تربیت کے مراحل سے گذارتے؟
اس کا جواب بالعموم مذہب کے ماننے والے یہ دیتے ہیں کہ خدا نے انسانوں تک یہ ہدایت پہنچادی، اب انسانوں کا کام ہے کہ اسے باقی انسانوں تک پہنچائیں۔لیکن اس پر سوال یہ ہے کہ اتنا اہم کام خدا نے دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں کیوں دے دیا؟ اگر راستے یعنی مذہب کو جانے بنا خدا تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا تو یہ راستہ بتانا تو خدا کی ذمہ داری تھی ۔ جس طر ح انسان کو آکسیجن فراہم کرنے کا کام خدا نے انسانوں کے ہاتھ میں نہیں دیا ، اسی طرح مذہب بھی آکسیجن کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے جس کے نہ ملنے پر دوسری دنیا کی زندگی کی سانس ممکن نہیں۔
اس سوال پر مزید غور کریں اور غیر جانب دار ہوکر سوچیں تو گتھیاں سلجھنے کی بجائے الجھتی چلی جاتی ہیں۔ ہاں اگر ہم اپنے مذہب کی عصبیت کے تحت یہ بات سوچیں تو پھر تو اس کا جواب دینا بہت آسان ہے کہ ہمارا مذہب حق ہے باقی مذاہب کے ماننے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ حق تلاش کریں اور ان عقائد کو تسلیم کرلیں جو ہمارا برحق مذہب پیش کرتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ بات سب ہی خود کو سراپا حق سمجھتے ہوئے دوسرو ں پر ان باتوں ا اطلاق کررہے ہوتے ہیں اس لیے نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔
سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کون سا پیغام ہے جو خدا نے تمام انسانوں کو کامن دیا ہے، جس میں عرب و عجم، ہندوستان پاکستان، جدیدو قدیم دنیا ، عورت مرد، تعلیم و غیر تعلیم یافتہ کسی میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی؟ وہ کونسی ہدایت ہے جو کاغذ کے صفحوں پر نہیں بلکہ انسان کے اندر ہی کسی جینیٹک کوڈ میں لکھی ہوئی ہے جو ہر لمحہ اسے راہ دکھاتی ، صحیح و غلط کے بارے میں بتاتی اور خدا کی ہدایت کو واضح کرتی ہے؟وہ کون سی تعلیم ہے جس میں مذہبی لیڈر شپ درمیان میں نہیں آتی اور نہ اس کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے؟ وہ کونسی تعلیم ہے جو انسانیت کا کامن ورثہ ہے اور جس میں کوئی اختلاف ، کوئی ابہام کوئی بحث نہیں؟
یہ تعلیم انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ خیر و شر کا بنیاری تصور ہے جسے ہم ضمیر، فطرت، نفس لوامہ یا کسی اور نام سے موسوم کرسکتے ہیں۔ یہ وہ تعلیم ہے جو دنیا کے ہر انسان کو خدا نے براہ راست دی ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کا ہر عمل پرکھا جارہا ہے، یہ وہ تعلیم ہے جو کسی واسطے کی محتاج نہیں، اور یہی وہ تعلیم ہے جس پر بعض اوقات وحی کو بھی پرکھا جاتا اور اس کے مستند یا غیر مستند ہونے کا فیصلہ کا جاتا ہے۔یہی وہ دین ہے جو پوری انسانیت کا ایک مشترکہ اثاثہ ہے اور یہی وہ داخلی وحی ہے جس کی یاددہانی کرانے کے لیے خارج سے پیغمبر آتے رہے ہیں۔
البتہ فطرت یا ڈی این اے میں موجود اس خیر و شر کی تعلیم میں کچھ محدودیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا اطلاق مختلف معاشروں میں مختلف ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ تصور غیبی دنیا کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں بیان کرتا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا، جنت و جہنم کیا ہیں وغیرہ۔ نیز یہ تصور بعض اوقات مسخ ہوجاتا ہے جیسے ہم جنس پرستی۔
اس وقت خارجی وحی کا کام شروع ہوتا ہے۔ وحی سب سے پہلے اس کے اطلاق کو موضوعی سے معروضی یعنی آبجیکٹو انداز میں حتمی طور پر بیان کرتی ہے۔ وہ ان غیبی امور کو خدا کی جانب سے بیان کرتی ہے جو انسان عقل و فطرت کے ذریعے معلوم ہی نہیں کرسکتا، وحی ایک ایسی فضا پیدا کرتی ہے جس کے ذریعے فطرت کے تصورات کو مسخ ہونے سے بچایا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے ایک شخص جب تک کوئی مخصوص مذہب قبول نہ کرے تو وہ امتحان کے دائرے ہی میں نہیں ہے اور وہ جہنمی ہے۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ہر انسان کا بنیادی امتحان اسی فطرت کے ذریعے دی جانے والی تعلیم سے ہورہا ہے۔ مذہب یا درست وحی تک رسائی ایک دوسرا مرحلہ ہے۔ اگر کسی کو درست مذہب کی دعوت پہنچ جائے اور بات اس کی سمجھ میں آجائے تو اسی فطری مذہب کا تقاضا ہے وہ اس کو مانے کیونکہ حق اس پر واضح ہوچکا ہے۔
میرے دوستو! مذہبی راہنماؤں کی اکثریت کی غلطی یہ رہی کہ انہوں نے ان دائروں کو ملحوظ خاطر نہ رکھا اور خیر و شر کے بنیادی شعور کو فطرت کی بجائے وحی سے اخذ کرنے کی کوشش کی۔ یوں خدا کی ابتدائی وحی پس پشت چلی گئی اور جو وحی اس کی وضاحت کے لیے آئی تھی اسے بنیادی تصور کرلیا گیا ۔لیکن اگر ہم فطرت و وحی کو ان کے درست مقام پر رکھ کر سمجھیں تو دنیا میں مذہب و مسلک کے نام پر کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو۔
میرے دوستو!خدا نے اپنا کام کردیا۔ اس نے ہر انسان کے اندر خیر و شر کا بنیادی شعور ودیعت کردیا۔اس نے ہر شخص کے اندر ہی داخلی وحی مہیا کردی۔ اس نے ہر انسان تک اپنا امتحانی پرچہ پہنچادیا۔ اس کے بعد اس کے ابہام کو خارجی وحی کی تعلیمات سے دور کردیا۔ ہمارا کام اس داخلی اور خارجی وحی کو سمجھنا اور اس پر سر تسلیم خم کردینا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے یعنی اطاعت و فرماں برداری۔ بس یہی آج کا مختصر پیغام ہے۔
ڈاکٹر محمد عقیل


السلام علیکم
اسرا کے زیراہتمام کل میں نے ایک لیکچر دیا کیا جو دین کے صحیح تصور کے حوالے سے تھا۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ دین اللہ نے صرف وحی کے ساتھ ساتھ فطرت کے ذریعے بھی دیا ہے اور یہی وہ یونی ورسل دین ہے جس کا علم ہر انسان کے پاس موجود ہے۔ اس لیکچر کی ریکارڈنگ بھی ہوئی ہے جو دلچسپی رکھنے والے لوگوں میں شئیر کردی جائے گی۔
اسرا ایک آن لائن تعلیم و تربیت کا ادارہ ہے جس کے تحت مذہبی و سماجی کورسز کرائے

جاتے ہیں۔ ۔ الحمد للہ ، اب اسرا نے آن لائن دنیا سے فزیکل گراؤنڈ میں قدم رکھ لیا ہے ۔
ہمارا ارادہ ہے کہ اسرا کی فزیکل سرگرمیوں کو باقاعدہ شکل دی جائے اور نہ صرف کراچی بلکہ باقی شہروں میں بھی ایسے مینٹورز اور ٹرینرز تیار کیے جائیں جو اپنے اپنے علاقوں میں مختلف ورکشاپس کنڈکٹ کراسکیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ایک شخص عالم دین ہو۔ ہم نے سماجی کورسز اس طرح ڈیزائن کیے ہیں کہ ایک شخص کچھ مطالعے اور پریکٹس کے بعد یہ کورسز خود کراسکتا ہے۔ البتہ کسی دینی موضوع پر لیکچر دینے کے لیے یقینی طور پر مطلوبہ علم درکار ہے جس کے لیے ہم ٹریننگ لی جاسکتی ہے۔
اس سلسلے میں اگر آپ بھی اپنے شہر میں اسرا کا کوئی کورس کرانا چاہتے ہیں یا وہاٹس ایپ پر کرانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کیجے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

شب برات اور درست رویہ


ہماری سوسائٹی میں شب برات پر دو مکاتب فکر ہیں۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ شب برات نجات کی رات ہے، اس رات لوگوں کے نامہ اعمال اللہ کے حضور پیش ہوتے ، ان کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا، ان کے جینے مرنے کا تعین ہوتا ، لوگوں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس رات کی عبادت بہت افضل ہے اور اس رات قبرستان جانا چاہئے اور نوافل و اذکار کثرت سے کرنے چاہئیں اور اگلے دن روزہ رکھنا چاہیے ۔ان کے نزدیک یہ سب سنت سے ثابت ہے

۔
دوسرا گروہ اس رات کی مذہبی حیثیت کو چلینج کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس رات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس رات کی بنیاد ضعیف احادیث پر ہے اور اس کے فضائل مستند نہیں۔ چنانچہ یہ گروہ اس رات کو بااہتمام منانے اور اجتماع کرنے کو سنت کی بجائے بدعت مانتا اور اس کے تمام فضائل کو باطل قرار دیتا ہے۔
ہمیں یہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ درست علم کیا ہے؟ اس معاملے میں اپنے فرقے یا مکتب فکر کے علما ء پر ہی تکیہ کرنے کی بجائے نیوٹرل انداز میں مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ شب برات پر جتنا بھی مواد پیش کیا جاتا ہے وہ سب کا سب روایات پر مبنی ہے۔ صرف ایک آیت قرآن کی پیش کیا جاتی ہے جو سورہ الدخان کی ہے۔ وہ یہ ہے:
کہ ہم نے اس (قرآن کو) خیرو برکت والی رات میں نازل کیاہے کیونکہ ہمیں بلاشبہ اس سے ڈرانا مقصود تھا۔اس رات ہمارے حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ (سورہ الدخان آیات ۴۳،۴۴)
یہاں صاف واضح ہے کہ یہ شب برات سے متعلق آیات نہیں کیونکہ شب بارات میں قرآن نازل نہیں ہوا تھا ، یہ شب قدر میں نازل ہونا شروع ہوا تھا۔ اس لیے جس رات میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے وہ شب برات نہیں شب قدر ہے۔
اس کے علاوہ شب برات والی رات کو جاگنا، قبرستان جانا، اگلے دن روزہ رکھنا، اسے نجات والی رات سمجھنا وہ امور ہیں جن کی توثیق ضعیف روایات کی بنیاد پر ہے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ فقہ احناف جس میں دیوبندی اور بریلوی شامل ہیں ، ضعیف احادیث کو فضائل یا نفل عبادات کے لیے بالعموم قابل قبول سمجھتے ہیں جبکہ اہل حدیث یا سلفی فکر کے لوگ اسے ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں مکاتب فکر دو انتہاؤں پر کھڑے ہیں اور اس موقع پر ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے لیے بعض اوقات اخلاقی حدود بھی پامال کر بیٹھتے ہیں۔ اس کھینچا تانی میں عوام ایک کنفیوژ ن کا شکار رہتے ہیں کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے؟
اس کنفیوژن سے بچنے کے لیے ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے جو غیر معروف لیکن حقیقت سے قریب تر ہے۔ اس مکتبہ فکر کے نزدیک جو چیزیں دین میں مباح یعنی جائز ہیں وہ سب کی سب اس رات میں جائز رہیں گی اور جو چیزیں ناجائز ہیں وہ اس رات کی بنا پر جائز نہیں ہوجائیں گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس رات کو عبادت کرتا، نفل پڑھتا، قرآن کی تلاوت کرتا، ذکرو اذکار کرتا یا اور کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا ہے تو اسے کسی طور اس بنا پر ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ شعبان کی مخصوص رات کو یہ کام ہورہا ہے۔
دوسری جانب لاؤڈ اسپیکر پر نعتیں پڑھ کر لوگوں کی نیندیں حرام کرنا، پٹاخے اور آتش بازی سے پڑوسیوں کا سکون غارت کرنا، روحوں کو حاضر کروانا، مزارات پر سجدہ کرنا ، قبروں میں چلہ کشی کرناکسی بھی رات میں جائز نہیں تو اس رات میں کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟

خدا نظر کیوں نہیں آتا؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خدا نظر کیوں نہیں آتا؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال یہ کہ خدا ظاہر ہوکر ایمان کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا ؟ وہ کیوں سات آسمانوں میں چھپ کر خود تک پہنچنے کا مطالبہ کا کرتا ہے؟ وہ کیوں براہ راست کلام نہیں کرتا اور پیغمبروں پر کتابیں نازل کرکے انسانوں سے بات چیت کرتا ہے؟ وہ کیوں انسان سے مخلوق دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے؟یہ چند سوالات ہیں جو ایک انسان کے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔۔ اس کی ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہیں۔ ہم علمی طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ خدا کیوں غیب میں رہتے

ہوئے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
۱۔ اس کی سب سے پہلی وجہ تو عام طور پر یہ بیان کی جاتی ہے کہ اگر خدا سامنے ظاہر ہوجاتا اور براہ راست کلام کرتا تو آزمائش یا امتحان کا عمل ممکن نہ ہوپاتا۔کس کی مجال ہوتی کہ خدا کو دیکھ کر اس کا انکار کرے، اس کے حکم کو براہ راست سن کراس کی سرتابی کی جرت کرے؟ اور اگر خدا لوگوں کو آزادانہ اختیار دے کر انہیں حکم عدولی کرنے دیتا تو یہ خدا کے رتبے کی توہین ہوتی ۔ ایسا کرنے کی صورت میں خدا کو اپنا اختیار اور طاقت غیب میں رکھنی پڑتی۔ آزمائش ممکن بنانے کے لیے دوسری صورت یہ ہوتی کہ خدا بھیس بدل کر مخلوق کی نگاہوں کے سامنے بھی ہوتا اور اوجھل بھی۔ اس صورت میں بھی خدا ایک اعتبار سے غیب ہی میں چلا جاتا۔ لہٰذا خدا کے غیب میں رہنے کی پہلی وجہ یہی ہے کہ یہ امتحان کا نظام قائم ہو جس میں امیدواروں کواپنی مرضی چلانے کااختیار ہو۔
۲۔ دوسرا جواب عام طور پر یہ دیا جاتا ہے کہ خدا اس لیے نظر نہیں آتا کہ انسان اسے دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا۔ موسی علیہ السلام کا واقعہ اس کی دلیل ہے۔ جب موسی علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی استدعا کی تو اللہ نے یہ فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ چنانچہ جب اللہ نے اپنی ایک تجلی پہاڑ پر ڈالی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ۔ بتانا یہی مقصود تھا کہ انسان میں ابھی تو اتنی بھی صلاحیت نہیں کہ وہ سورج کو چند فٹ کے فاصلے سے دیکھ سکے چہ جائکہ سورج کے خالق کو براہ راست دیکھے۔
۳۔ خدا کے دکھائی نہ دینے کی ایک اور وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خدا اگر اس کائنات میں کسی مقام پر موجود ہوکر خود کو ظاہر کردے تو وہ زمان و مکان میں مقید اور محدود ہوجائے گا ۔ جبکہ خدا تو زمان و مکان سے ماورا ہے۔
۴۔ انسانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو خدا کو قابل دید سمجھتا اور اسے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ لوگ صوفی، سینٹ، سادھو، مونکس اور دیگر ناموں سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کے نزدیک خدا کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا البتہ اگر من کی آنکھیں کھول لی جائیں تو تصور کی دنیا میں خدا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس گروہ کے دعووں کو تسلیم کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ معروضی مشاہدات نہیں جو سب کو نظر آتے ہوں۔ یہ موضوعی مشاہدات ہیں جن کا تعلق وجدان اور ذاتی تجربے سے ہے اور کسی کا ذاتی تجربہ اس وقت تک حجت نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ عقل یا نقل سے ثابت نہ کردیا جائے۔
۵۔ ایک سائنٹفک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انسان ایک محدو د ڈائمنشن والی مخلوق ہے جو انہی چیزوں کو دیکھ سکتی ہے جو اس کی ڈائمنشن کے احاطے میں آتے ہوں۔ فرشتے اور جنات کی ڈائمنشن مختلف ہے اس لیے انہیں دیکھا نہیں جاسکتا ۔ چنانچہ خدا کا معاملہ تو بعید از قیاس ہے۔
۶۔ بعض مکاتب فکر مخلوق کو دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا دعوی کرتے اور اس کی ذات کی کھوج لگاتے ہیں۔ لیکن یہ بات عقلا درست نہیں۔ ایک کرسی کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی کاریگری کی صفت کو تو پہنچانا جاسکتا ہے لیکن کرسی بنانے والے کی شکل و صورت کیا ہوگی، اس کی باڈی کس طرح کی ہوگی، یہ سب معلوم کرلینا ناممکن ہے۔
یہ سب تو مذہبی ، سائنسی اور روحانی وجوہات ہیں جو بالعموم خدا کے غیب میں رہنے کے لیےبیان کی جاتی ہیں۔ایک اور اہم وجہ جو شاید آج تک بیان نہیں کی گئی وہ خدا کی صفت رحمت ہے۔
اگر ہم خدا کے نظام کو دیکھیں تو معاملات جتنے زیادہ غیب میں رہتے ہیں ، اتنا ہی ان میں یقین کی کاملیت کا امکان کم ہوتا اور تشکیک کا کچھ نہ کچھ پہلو موجود ہوتا ہے۔ اسی بنا پر جزا و سزا کا نظام تاخیر سے عمل میں آتا ہے۔ جوں جوں یہ غیب کھلتا جاتا ہے، جزا و سزا کا نظام سرعت سے عمل کرتا ہے۔ چنانچہ جب پیغمبر کو خدا کے نما ئندے کے طور پر بھیجا جاتا ہے تو ابتدا میں لوگ انکار ہی کرتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ بار بار غیب کو منکشف کرکے معجزے دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیغمبر عام طور پر ان کے ظہور سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ لیکن جب غیب منکشف ہوکر حق سامنے آجاتا ہے تو اب فرار کی کوئی راہ نہیں بچتی اور جزا و سزا کا نظام قانون دینونت کی شکل میں نافذ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح سورہ انعام میں بیان ہوا ہے کہ اگر ہم ان کے مطالبے پر پیغمبر کی جگہ کوئی فرشتہ اصل شکل میں بھیجتے تو پھر تو قصہ تمام کردیا جاتا اور اور ان کو مہلت ہی نہ ملتی۔
اسی اگر ہم ان مخلوقات کو دیکھیں جو خدا کی حضوری میں جی رہے ہوتے ہیں تو ان کے پاس غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ چنانچہ فرشتے اول تو کوئی حکم عدولی کر ہی نہیں سکتے اور اگر کر بھی لیں تو فورا ان پر سزا کا نفاذ ہوجاتا ہے۔ خدا کے ظاہر ہونے کے بعد کسی بھی معمولی حکم عدولی پر سزا کا نفاذ ہونا لازمی ہے۔
ا س پس منظر میں دیکھا جائے تو خدا کے غیب میں رہنے کی ایک بڑی وجہ جزا و سزا کے نظام کو موخر کرنا اور انسانوں کو مہلت دینا ہے تاکہ وہ اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں اور رجوع کرلیں۔

قوم کی اصلاح کیسے؟


قوم کی اصلاح کیسے؟
از: ڈاکٹر محمد عقیل

ملک و قوم کی اصلاح کے دوماڈل ہیں۔ایک یہ کہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ دوسرا یہ کہ قوم کی تربیت کے بنا قانون کا نفاذ ممکن نہیں۔ پہلے گروہ کی دلیل امریکہ ،کینڈا جیسے ممالک ہیں جہاں سب پاکستانی اور انڈین جاکر قانون کی پاسداری شروع کردیتے ہیں۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ وہاں چونکہ اکثریت تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہے اس لیے ایک عام پاکستانی یا انڈین اقلیت میں ہونے کی بنا پر قانون فالو کرنے پر مجبور ہوتا ہے

۔
میرا خیال میں کوئی ایک ماڈل تنہا اصلاح نہیں کرسکتا اور دونوں کو ملانے کی ضرورت ہے۔ صرف قانون کا نفاذ کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر آج بیس کروڑ پاکستانیوں یا انڈین کو لے جاکر کینڈا بسا دیا جائے تو حکمران کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، کینڈا بھی پاکستان یا انڈیا بن جائے گا۔ یا اگر کینڈا کے حکمرانوں کو پاکستان پر مسلط کردیا جائے تو وہ بھی اس قوم کو محض قانون کے ذریعے سدھارنے میں ناکام ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون جس بیوروکریسی اور پولیس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، ان کی کرپشن، نااہلی، سستی و کام چوری اور بے ایمانی قانون نافذ کرنے والے صالح حکمرانوں کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ اسی لیے قوم کی تربیت کی ضرورت ہے جن میں ایمانداری، خوداحتسابی، کام کرنے کی لگن اور روزی حلال کرنے کا جذبہ اندر سے پھوٹے، نا کہ خارج سے قابو کیا جائے ۔
اس بات کو ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں کہ اس ملک کے حکمران ہم امریکی یا کینڈین یا حتی کہ فرشتے نما لوگوں کو مقرر کردیتے ہیں ۔ اب ان حکمرانوں کا کیا کام ہے؟ یہ قانون سازی کرتے ہیں اور اس قانون کا نفاذ بیوروکریسی اور انتظامیہ کے ذریعے کرواتے ہیں۔ فرض کریں انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کردیا کہ آج کے بعد سے کوئی کرپشن نہیں ہوگی اور کام وقت پر ہی ہوگا بصورت دیگر سخت کاروائی ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ حکم تمام محکموں میں پہنچادیا۔یہ حکم پولیس ، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور سب جگہ پہنچ گیا۔
اب پولیس کے محکمے میں ایک شخص نے کرپشن کی اور سب کے سامنے رشوت لی۔ قانون کو حرکت میں آکر اس کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے لیکن اس تھانے کا ایس ایچ او خود کرپٹ ہے۔ اب وہ کاروائی کیسے کرے؟ اس کے اوپر ڈی ایس پی خود اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے بے تاب ہے تو قانون پر عمل کہاں سے ہو؟ اب دیکھا جائے تو حکمران صالح ہیں، نیک نیت ہیں لیکن یہاں کچھ نہیں کرسکتے کیوں وہ چند ہیں اور عوام کثیر۔ ایک جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ حکمران اپنے جاسوس مقرر کردیں تو ہمارے ہاں تو پہلے ہی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ موجود ہے جسے آنٹی کرپشن کا نام دیا جاتا ہے۔
شاید ابھی کچھ لوگ اختلاف کریں تو ایک اور مثال لیتے ہیں۔ ٹریفک کے قوانین پوری طرح موجود ہیں اور پاکستانی دوسرے ممالک جاکر ان قوانین کی پابندی کرتے ہیں وگرنہ ان پر جرمانہ لگتا ہے۔ لیکن پاکستان میں وہ یہ پابندی نہیں کرتے۔ اس کا حل ایک عام آدمی بتائے گا کہ ٹریفک پولیس کو سختی کرنی چاہیے ۔ بہت عمدہ جواب ہے لیکن ٹریفک پولیس اسی قوم کا ایک عام فرد ہے۔ اگر وہ چاروں طرف کرپشن، کام چوری اور بددیانتی ہوتے دیکھ رہا ہے تو وہ احکامات کے بعد بھی اس کو نافذ کرنے سے قاصر رہے گا۔ جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے تو وہ ہرجگہ نہ موجود ہوسکتے ہیں اور نہ جاسوسی کرواسکتے ہیں۔ حتی کہ آرمی مانیٹرنگ ٹیموں کے ذریعے کرپشن روکنے کی کوشش مشرف دور میں ناکام ہوچکی ہے۔ جب آرمی جیسا منظم ادارہ کچھ نہ کرپایا، تو بے چارے سویلین کیا کرلیں گے؟
پھر دوبارہ وہی سوال کہ آخر امریکہ ، یورپ اوردیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی تو قانون کا راج ہے؟ وہاں یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے اور ہمارے ہاں کیوں نہیں؟ تو جناب اس کا سادہ سا جواب ہے کہ آج امریکہ و یورپ جس مقام پر پہنچے ہیں وہ گذشتہ سو دو سو سال کی جدوجہد کے بعد پہنچے ہیں۔ وہ وقت یاد کریں جب امریکہ میں ریڈ انڈینز کو قتل کردیا جاتا تھا، کاوبوائے دندناتے پھرتے تھے اور قانون نام کی کوئی شے نہ تھی۔ اس وقت کوئی امریکہ میں محض قانون کے نفاذ سے یہ سب کچھ ممکن نہیں بناسکتا تھا۔ صدیوں کی تعلیم ، تربیت ، کاونسلنگ، تجربات کے بعد ایک قوم تیار ہوئی جس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں دیکھی تھیں، جس نے جہالت کا انجام دیکحا تھا، جس نے جذباتیت کے نتائج بھگتے تھے، جس نے مذہبی جبر کو برداشت کیا تھا۔ یہ قوم جانتی تھی کہ ڈسپلن اور قانون کی پاسداری ہی ترقی کا راز ہے۔ تو انہوں نے اس راز کو پالیا ، سمجھ لیا اور عمل کیا ۔ آج وہ اس مقام پر ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ وہ ڈنڈے کے زور پر نہیں سیکھے بلکہ تجربات اور تعلیم سے سیکھے جس میں ان کے دانشوروں کا بڑا کردار ہے۔
ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم برسوں سے نظاموں، حکمرانوں کو بدل رہے ہیں۔ نہیں بدلا تو فرد نہ بدلا۔ چنانچہ کیساہی نظام ہو، کیسا ہی حکمران ہو، اگر لوگوں کی اکثریت خراب ہے تو نظام و حکمران آپ سے آپ خراب ہوجائیں گے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ صرف تعلیم و تربیت ہی سب کچھ ہے۔ اگر محض تعلیم و تربیت ہی کی جاتی رہی تو کچھ لوگ ہمیشہ ایسے رہیں گے جو اس تعلیم و تربیت سے نہیں سدھریں گے۔ وہ ہمیشہ نیک مقاصد کو سبوتاژ کرتے رہیں گے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے قانون ہی کے اطلاق سے ہوگی۔البتہ قانون کا اطلاق اسی وقت درست طور پر ممکن ہوگا جب ایک صالح گروہ تیار ہو، جو خود کو رول ماڈل کے طور پر لوگوں کو متاثر کرے، ان کا تزکیہ کرے، تربیت کرے، اصلاح کرے، راہنمائی کرے۔ جب لوگوں کی اکثریت قانون کو دل سے تسلیم کرلے کی تو پھر حکمران خواہ کتنا ہی بدمعاش کیوں نہ ہو، سسٹم خواہ کتنا ہی بودا ہو، سب کو وہ درست کردیں گے۔
تو آئیے، اپنی اصلاح کریں، اپنے گھر کی اصلاح کریں۔ خود کو سدھاریں، اپنے گھر کو سدھاریں۔ لوگوں کے لیے رول ماڈل بنیں، قانون کی پاسداری ہم خود کریں۔ جب ہم جیسے لوگوں کی ایک معقول تعداد بن جائے گی تو اکثریت بھی تبدیل ہوگی اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ اور اگر یہ نہیں تو پھر ہم ترقی یافتہ ہونے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

خدا کا غیبی ہاتھ


ڈاکٹر محمد عقیل
ہمارے ہاں کچھ اسکالرز کا تصورایک ایسے خدا کے تصور سے ملتا ہے جو کائنات بناکر سات پردوں میں چھپ گیا اور جیتے جاگتے انسان کو قوانین قدرت کے بے رحم موجوں کے حوالے کردیا ۔ان کے تصور کے مطاق خدا ایک ایسی ہستی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا، جو کبھی کبھی پیغمبروں کے ساتھ ہی نمودار ہوا،

ماننے والوں کی مدد کی، کافرو ں پر قہر ڈھایا اور اس کے بعد سات آسمانوں سے اوپر چلا گیا۔ ان کے مطابق ایسا واقعہ آخری بار چودہ سال قبل ہوا تھا اور اب خدا سب کچھ اسباب و علل کے سپرد کرکے چلاگیا ہے۔اب وہ دوبارہ قیامت کے وقت ہی نمودار ہوگا۔ اس سے پہلے اب وہ نہ کسی پر اپنا عذاب نازل کرتا ، نہ کسی کو انعام دیتا، نہ کسی کو سزا دیتا اور نہ اسباب سے ماورا کا م کرتا ہے۔ ان کے نزدیک خدا اگر مداخلت کرتا بھی ہے تو قوموں کے اجتماعی معاملات میں ان کی اخلاقی حالت دیکھ کر ان کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتا ہے۔ البتہ فرد کے اعمال کی جزا و سزا کا اس دنیا میں کوئی امکان نہیں۔
دوسری جانب ایک روایتی نقطہ نظر ہے جو دوسری انتہا پر کھڑا ہے۔ یہ فرد کی ہر بیماری کو غیر مرئی گناہوں کا نتیجہ قرار دے کر اس کے علاج پر توجہ نہیں کرنا چاہتا، جو ہر سیلاب کو زنا اور چوری کا نتیجہ قرار دیتا،جو ہر زلزلے کے پیچھے چند رسمی عبادتوں میں کوتاہی کو اصل سبب سمجھتا ہے۔ اس اپروچ کے نتیجے میں بیماری ، سیلاب ، قحط، موسموں کی شدت وغیرہ کے پیچھے جو طبعی اسباب ہوتے ہیں انسان کو کو حل کرنے کی بجائے قدیم زمانوں کی طرح قربانی ، عبادت اور دیگر طریقوں سے خدا کو خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ حالانکہ خدا کی ناراضگی اگر ہو بھی تو اس کی کچھ مادی وجوہات بھی ہوتی ہیں جن کو حل کیے بنا قدرت بھی رسپانس نہیں دیتی۔
خدا کے یہ دونوں تصور آج کے مذہبی انسان کے لیے دو انتہائیں ہیں اور بہت مایوس کن ہیں ۔آج کے انسان کے ذہن میں یہ سوالات جنم لیتے ہیں اگر سب کچھ دوا ہی نہیں کرنا ہے تو بیماری دور کرنے کے لیے خدا سے دعا کیوں کی جائے؟اگر رزق کی فراہمی کے لیے ساری کوشش انسان ہی نے کرنی ہے تو خدا سے رزق کی التجا کیوں کی جائے؟ اگر کوئی حادثہ مادی قوانین کے تحت ہی ہونا ہے تو اس سے بچنے کے لیے خدا سے مدد کیوں مانگی جائے؟
اس کا جواب ہمیں اسکالرز کی بجائے براہ راست قرآن سے پوچھنا چاہیے کہ آیا خدا آج بھی کائنات میں اتنا ہی فعال، متحرک اور ظاہر ہے جتنا وہ پیغمبروں کے دور میں ہوتا تھا؟ کیا خداایک عام انسان کی زندگی میں بھی اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے جتنی وہ قوموں کے معاملات میں رکھتا ہے؟ کیا خدا انسانی اعمال کی جزا و سزا صرف آخرت ہی میں دے گا یا وہ چاہے تو اسی دنیا میں انجام دکھا سکتا ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں مل جائے تو خدا کو ماننے والوں کا توکل کہیں بڑھ جائے گا، پھر زندگی ہمہ وقت خدا کی معیت میں گذرتی نطر آئے گی، پھر خدا کی شفقت ہر وقت چاروں طرف دکھائی دے گی، پھر گھٹاٹوپ اندھیروں میں بھی خدا پریقین کا نور امید کی کرن بنتا رہے گا۔ پھر خدا کے عذاب کو آخرت تک موخر کرنے کی بجائے اس دنیا میں بھی خدا کی سزا کی پہلی قسط نازل ہوتی دکھاءی دے گی۔
آئیے ان سوالوں کو جواب قرآن سے تلاش کرتے ہیں۔ پورا قرآن پڑھنے کی ضرورت نہیں ، محض ایک سورہ ہی ان باتوں کو اتنے واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہیں۔
۱۔ اصحاب کہف کا سبق
اصحاب کہف کا واقعہ مختصرا یہ ہے کہ چند نوجوان توحید پر ایمان لے آئے جو ان کے زمانے کے مشرکانہ مذہب کی خلاف ورزی تھی ۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان کی قوم انہیں مارڈالے گی۔ چنانچہ انہوں نے تہیہ کیا کہ کسی غار میں چھپ جاتے ہیں ۔ انہوں نے اللہ سے امید لگائی کہ ہمارا رب اپنی رحمت پھیلائے گا اور ہمارے لیے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔ یعنی ہمیں قوم کے ظم و ستم سے بچائے گا۔
اس کے بعد اللہ نے انہیں قوم کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کم وبیش تین سو سال تک وہاں سلائے رکھا۔ اس کے بعد جب وہ بیدار ہوکر اپنی قوم کی جانب واپس گئے تو حالات بدل چکے تھے اور ان کی قوم بھی اسی مذہب پر ایمان لاچکی تھی جس کے وہ ماننے والے تھے۔
سبق
اس واقعے کو دیکھیں تو کس طرح معجزانہ طور پر اللہ نے ان نوجوانوں کی مدد کی ۔ دیکھا جائے تو یہ چند نوجوانوں کا واقعہ ہے اور کسی پیغمبر کا واقعہ نہیں۔ خدا کی مدد کا اس معجزانہ طریقے سے ظاہر ہونا یہ بتاتا ہے کہ خدا اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو اس پر جتنا یقین رکھتا وہ اس کے لیے اتنا ہی اپنی رحمت کشادہ کردیتا ہے۔ البتہ اس کا طریقہ کا ر کیا ہوتا ہے؟ اس کا تعین خدا اپنی حکمت کے مطابق ہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس دعا کی قبولیت اس طرح نہیں ہوئی کہ ان نوجوانوں کی قوم فورا ایمان لے آئی اور ان کے لیے حالات سازگار ہوگئے۔ ایسا ہونے میں تین سو سال کا عرصہ لگا اور اس دوران وہ نوجوان محو استراحت ہی رہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا معجزہ آج بھی نمودار ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ خود سے محبت رکھنے والوں کے لیے کس قسم کے اقدامات کرے۔ البتہ اس طریقہ کار کیا یہی ہوگا جو اصحاب کہف کے معاملے میں ہوا تو ایسا کہنا مناسب نہ ہوگا۔ خدا کے معجزے ہمیشہ حالات و واقعات کے پس منظر میں نمودار ہوتے ہیں۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اس قسم کا معجزہ ہونا کیا آج ممکن ہے کہ کوئی تین سو سال تک سوتا رہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کا معجزہ جب بھی نمودار ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی دوسری مادی توجیہہ بھی ممکن ہوتی ہے اور یہ بظاہر اسباب کے پردے ہی میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت جب یہ نوجوان تین سو سال کے بعد دوبارہ بیدار ہوکر قوم کی جانب گئے ہونگے تو لوگوں نے اسی قسم کی باتیں کی ہونگی جیسا کہ ایسے واقعے پر آج لوگ کرتے۔ کچھ لوگوں نے اسے طبعی قوانین کا معاملہ قرار دیا ہوگا، کچھ نے جادو کہا ہوگا، اور کچھ نے من جانب اللہ قرار دیا ہوگا۔
اسی طرح آج بھی بے شمار واقعات ہمارے ارد گرد اللہ کی تدبیر سے ہوتے رہتے ہیں جن کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی کیا حکمت ہے۔
۲۔ باغ والوں کا قصہ
دوسرا سبق اسی سورہ میں باغ والوں کے قصے سے ملتا ہے۔ دو افراد کے باغ بہت خوب پھل لارہے اور نفع دے رہے تھے۔ ایک دن زیادہ مالدار شخص اپنی برتری اور تکبر جتانے لگا۔ وہ کہنے لگا کہ میرا مال اور میرا گروہ تجھ سے زیادہ بہتر ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ برباد ہوسکتا ہے۔ اول تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آئی بھی تو مجھے میرا رب اس سے بھی زیادہ دے گا کیونکہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔ اس کے ساتھی نے اسے سمجھایا کہ تکبر نہ کرو اور اپنے نفس کو خدا کے ساتھ شریک نہ کرو لیکن وہ باز نہ آیا۔ تو اس کے تکبر کے نیتجے میں اس کا باغ تباہ کردیا گیا۔ اسی قسم کا ایک مضمون سورہ ن میں بھی ہے جب باغ والوں کو عذاب دے کر ان کا باغ تباہر کردیا گیا تھا۔
سبق
یہاں خدا کا دوسرا روپ دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح خدا اپنے چاہنے والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں دنیا میں تین سو سال تک سلاسکتا ہے ، اسی طرح متکبر اور اناپرست مالداروں کا غرور توڑنے کے لیے ان کو عذاب سے دوچار کرسکتا ہے۔ یہاں دیکھا جائے تو ایسا نہیں کہ یہ واقعہ کسی پیغمبر کے دور میں ہو ا ہو۔ یہ دو عام لوگوں کا معاملہ ہے اور خدا نے اپنی حکمت کے تحت ان کو ان کے کیے کی سزا دی۔
اس سے یہ علم ہوتا ہے کہ خدا چاہے تو انسان کے برے اعمال کی سزا اسی دنیا میں دے سکتا ہے اور چاہے تو اسے آخرت تک موخر کرسکتا ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے کہ جو برائی بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کے سبب ہوتی ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ہر برائی ہمارے اخلاقی اعمال کے سبب آئی ہے ، کہنا مناسب نہیں۔ کسی کو بخار آگیا، کسی کا مال چور ہوگیا، کسی کو کوئی اور نقصان ہوگیا تو یہ کہنا کہ چونکہ نماز نہیں پڑھی اس لیے یہ ہوگیا، چونکہ زکوٰۃ ادا نہیں کی اس لیے یہ ہوا ، درست نہیں۔ ہمارے بخار کے طبعی عوامل ہوسکتے، مال چوری ہونے کے سماجی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ہر معاملے میں خفیہ ہاتھ تلاش کرنا ایک وہم ہے۔ البتہ دوسرا نقطہ نظر بھی مناسب نہیں کہ سب کچھ طبعی یا سماجی اسباب ہی کے تحت ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کوئی برا واقعہ کسی اخلاقی کوتاہی کے سبب بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ ان آیات میں بیان ہوتا ہے۔ اسی لیے انسان کو اپنا احتساب کرتے رہنا اور متنبہ رہناچاہیے۔
۳۔ تیسرا واقعہ : موسی و خضر کا سبق
یہ واقعہ حضرت موسی وحضرت خضر کا ہے۔ حضرت خضر کےبارے میں اکثریت کا رحجان ہے کہ وہ خدا کے تکوینی نظام کے نمائیندے اور فرشتے ہیں۔ حضرت موسی کی ان سے ملاقات کرائی جاتی ہے تاکہ حضرت موسی کو اس دنیا میں ہونے والے واقعات کے پیچھے خدا کا غیر مرئی نظام دکھایا جائے ۔ اسے قران میں بیان کرنے کی وجہ بھی اسی باطنی نظام کے بعض پہلووں کو واضح کرنا ہے۔
اس واقعے میں تین کیس بیان ہوئے ہیں۔ پہلا کیس ایک کشتی والے کا ہے جس کی کشتی میں حضرت خضر سورا خ کردیتے ہیں ، پھر ایک بچے کو قتل کردیتے ہیں اور پھر ایک بستی میں داخل ہوکر ایک گرتی ہوئی دیوار کو تعمیر کردیتے ہیں۔حضرت موسی ظاہری حالت میں تمام واقعات کو لیتے ہوئے دو واقعات کو ظلم سے تعبیر کرتے اور ایک واقعے پر اپنے دیگر اعتراضات پیش کرتے ہیں۔
حضرت خضر بعد میں ان واقعات کی تعبیر کرتے ہیں کہ کشتی میں سوراخ کرنے کا مقصد ظلم نہیں بلکہ اس کے غریب مالک کو ظلم سے بچانا تھا ۔ کشتیوں کو وہاں کا حاکم اپنے قبضے میں لے رہا تھا لیکن وہ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی دیکھ کر اسے قبضے میں نہیں لیتا۔ یوں وہ غریب ایک بڑے ظلم سے بچ جائے گا۔ بچے کو قتل کرنے کی توجیہہ یہ بتائی کہ اس بات کا امکان تھا کہ بچہ بڑا ہوکر اپنے والدین کو برائی اور فتنے میں مبتلاکردیتا۔ اللہ کے تکوینی نظام نے چاہا کہ وہ ان کے والدین کو نہ صرف اس آزمائش سے بچائے بلکہ اس سے بہتر اولاد عطا فرمائے۔ والدین کے نقطہ نظر دے دیکھا جائے تو فوری طور پر یہ ایک حادثہ اور سانحہ ہے جو ان کے ساتھ وقوع پذیر ہوا۔ لیکن اسی بظاہر نظر آنے والے شر میں کیا خیر پوشید ہ ہے، اس کی فوری طور پر ان کو خبر نہ ہوگی۔
تیسر ا واقعہ یوں ہے کہ وہ دیوار دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے ان کے والد کا خزانہ دفن تھا۔ ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اور خدا نے چاہا کہ یہ خزانہ انہی دو یتیموں کو ملے جن کا وہ حق ہے۔ اس لیے گرتی ہوئی دیوار کو حضرت خضر نے اس بستی کی بدسلوکی کے باوجود تعمیر کردیا۔ یہاں دیکھا جائے تو اللہ نے اس نیک آدمی کے اچھے عمل کا پھل اس دنیا میں بھی دیا اور اس کے بچوں کو مالی مشکلات سے محفوظ رکھا ۔
سبق
ان تینوں واقعات سے کئی اسباق نکلتے ہیں۔
۱۔ بظاہر نظر آنے والے ظلم اور شر کے پیچھے بعض اوقات بڑی خیر ہوتی ہے لیکن اس خیر کو سمجھنے کے لیے وقت اور حکمت درکار ہوتی ہے۔
۲۔ من جانب اللہ ہونے والے واقعات اسباب ہی کے پردے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور عین ممکن ہے کشتی میں سوراخ کسی بھاری چیز کے گرنے سے ہوا ہو، بچے کی موت کسی طبعی بیماری یا حادثے ہی سے ہوئی ہو، دیورا کی مضبوطی کسی طبعی قوانین کی صورت میں نمودار ہوئی ہو اور دیکھنے والے کو علم ہی نہ ہو کہ یہ سب کچھ کسی خاص مقصد کے تحت ہورہا ہے۔
۳۔ یہ تینوں واقعات انفرادی ہیں یعنی یہ کوئی قوموں کا معاملہ نہیں بلکہ افراد کا معاملہ ہے۔یعنی ایسا نہیں کہ خدا کسی پیغمبر کے ساتھ ہی نمودار ہوا اور قوم کے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ وہ معاملات ہیں جو روزمرہ ہر کسی کے ساتھ پیش آرہے ہیں ۔
۴۔ ان تین واقعات کے اسباب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پہلے واقعے میں آدمی کی غربت کی بنا پر اس کی کشتی کو بچایا گیا۔ دوسرے واقعے میں والدین کو بڑی آزمائش سے بچانے کے لیے چھوٹی آزمائش مِیں ڈالا گیا۔ تیسرے واقعے میں باپ کے اچھے اعمال کا صلہ اسے دنیا ہی میں دیا گیا۔
۵۔سوال یہ ہے کہ آیا ہمارے ساتھ جب اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو ہمیں کس طرح اسے سمجھنا چاہیے۔ سب سے پہلا اصول تو سمجھ لینا چاہیے کہ کسی واقعے کے پیچھے اصل کیا حکمت ہے ، اس کو حتمی طور پر یا تو خدا جانتا ہے یا کسی حد تک وہ لوگ جانتے ہیں جن سے یہ کا م لیا گیا۔ حتی کہ موسی علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر ان واقعات کی اصل توجیہ تک اس وقت تک نہیں پہنچ پائے، جب تک انہیں یہ سب کچھ نہ بتادیا گیا۔ جب حضرت موسی کا یہ معاملہ ہے تو میں اور آپ تو کسی گنتی ہی میں نہیں۔
لہٰذا جب بھی اس قسم کا واقعہ ہمارے سامنے آئے تو سب سے پہلے ہمیں ظاہری اسباب کے تحت معاملہ کرنا چاہیے۔ البتہ بعض اوقات کوئی بڑا واقعہ ہوجاتا ہے اور انسا ن کا دل مطمئین نہیں ہوتا کہ ایسا کیوں ہوا؟ ایسی صورت میں حسن ظن رکھتے ہوئے خدا پر مکمل اعتماد رکھنا چاہیے کہ بظاہر شر نظر آنے والے واقعے میں کوئی نہ کوئی حکمت، کوئی بڑا خیر یا کوئی بڑا پیغام ہے۔ اس توجیہہ کو سمجھنے کے لیے پیروں اور فقیروں کی بجائے اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے جو دین کے ظاہری پہلو کے ساتھ ساتھ اس کی حکمتوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاقی معاملات کو درست رکھا جائے اور دین کے ڈھانچے پر ہی نہیں بلکہ اس کی روح پر عمل کرکے عمل صالح کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ خدا پر یہی توکل ، تفویض و رضا اچھی زندگی گذارنے کی علامت ہے۔
خلاصہ
۱۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا اس کائنات کے تمام معاملات کے پیچھے کھڑا ہے اور اپنے فرشتوں کے ذریعے یہ تکوینی معاملات سرانجام دے رہا ہے۔
۲۔ وہ نہ صرف قوموں کے معاملات دیکھ رہا ہے بلکہ فرد کی پشت پر بھی کھڑا ہے۔
۳۔ کسی بھی فرد کے ساتھ ہونے والے معاملے کے پیچھے دو قسم کے اسباب ہوسکتے ہیں، ایک ظاہری اسباب اور دوسرے تکوینی اسباب۔ ظاہری اسباب کو قدرت کے قوانین کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ جبکہ تکوینی قوانین کے سلسلے میں خدا پر توکل اعتماد اور تفویض کرتے رہنا چاہیے۔
۴۔ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ہم سے کوئی اخلاقی یا دینی معاملے میں کوتاہی تو نہیں ہورہی۔ لیکن اس معاملے میں حد سے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے ورنہ انسان وہم میں ہی مبتلا رہتا ہے۔
۵۔ کائنات کا پورا مادہ مل کر بھی دنیا کا صرف چار فی صد ہے جسے ہم میٹر یا مادہ کے طور پر جانتے ہیں۔ بقیہ چھیانوے فی صد یا تو ڈارک میٹر ہے یا ڈارک انرجی جسے آج کی ماڈرن سائنس ابھی تک سمجھ نہیں پائی۔ چنانچہ آج کی تمام سائنس صرف کائنات کا چار فی صد تجزیہ کرنے کے بعد وجود میں آئی ہے۔ عین ممکن ہے کل کو بقیہ میٹر تک انسان کی رسائی ہو اور وہ قدرت کے ان تکوینی قوانین میں سے کچھ کو سمجھ لے جن کے ذریعے خدا کا اتکوینی نظام بقیہ چار فی صد مادے یا کائنات کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔ البتہ ہم قرآن اور دیگر آسمانی صحائف کے ذریعے اتنا تو جانتے ہیں کہ خدا نہ صرف قوموں بلکہ فر د کے معاملات میں بھی اس کی پشت پر کھڑا ہوتا اور اس کی اعمال اور نیت کے مطابق اس کے ساتھ معاملات کررہا ہوتا ہے۔

سیکس ایجوکیشن اور ہم


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیکس ایجوکیشن اور ہم
ڈاکٹر محمد عقیل
تعارف
سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گذاری جاسکتی۔ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن

حقیقت سے انکھیں چرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔
جنسی تعلیم نہ دینے کے نقصانات
ایسا نہیں کہ ہماری زندگی یہ ایجوکیشن نہ دینے سے بہت پاکیزہ اور متقی گذرہی ہوتی ہے۔ میڈیا کریم کے اشتہارات تک سے فحاشی پھیلا کر پیسہ بٹوررتا ہے۔ ڈرامے جنسی زیادتی کے معاملات سر عام بیان کرتے، ناولز عشق ومحبت کے مناظر قلم بند کرنے سے باز نہیں آتے، انٹرنیٹ فحش مواد کو فنگر ٹپس پر فراہم کرتا رہتا اور نیم عریاں سائن بورڈز نوجوانوں کی اشتہا کو بجھانے کی بجائے بھڑکانے کا کام کرتے ہیں۔
اس منافقانہ طرز عمل کا نقصان پوری سوسائٹی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک بچہ جب جوانی کی حدود پھلانگتا ہے تو اسے کوئی مستند ذریعہ سے یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ جنسی معاملات کیا ہوتے ہیں، ان کا کیا مقصد ہے، ان کی کیا شرعی حدود قیود ہیں، ان کی کیا اخلاقی سرحدیں ہیں جنہیں پھلانگنا اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہے، ان کی کیا طبی ریڈ لائن ہیں ؟
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک نوجوان جنسی معلومات کے حصول کے لیے غیر مستند ذرائع کا رخ کرتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنے ہی جیسے لاعلم اور غیر پختہ نوجوانوں سے راہنمائی لیتا ہے۔ اگلا مرحلہ وڈیوز، ناولز، فحش لٹریچر اور دیگر ذرائع کااستعمال ہے۔ اس قسم کا نوے فی صد سے زائد لٹریچر کمرشل مقاصد کے بناہوتا ہے جس کا بنیادی مقصد جنسی تعلیم دینا نہیں بلکہ جنسی اشتہا کو بھڑکا کر اپنا منافع دوگنا چوگنا کرنا ہے۔
چنانچہ لٹریچر کے نتیجے میں ایک نوجوان کو جنسی امور پر کوئی سنجیدہ راہنمائی نہیں ملتی بلکہ وہ ایک جنسی اور نفسیاتی مریض بن جانے کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ ایک جانب اس کا مذہب اور کلچر اسے ان سب باتوں سے روکتا ہے تو دوسری جانب جنسی لٹریچر کی سرخ بتیاں اسے اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ایک جانب تو وہ احسا س گناہ میں مبتلا ہوکر خود کو ستا رہتا اور دوسری جانب اپنی جبلت سے مجبور ہوکر اس لٹریچر سے حظ بھی اٹھا تا ہے۔ گویا کہ
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
یہ نوجوان ایجوکیشن یا راہنمائی کے لیے جب کسی مذہبی لٹریچر کا رخ کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں بہشتی زیوریا اسی قسم کی کوئی نادر چیز ہاتھ لگتی ہے جس کی زبان اور انداز بیان سوسال پرانا اور آج کی جدید ڈیجیٹل دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اس کے بعد یہ نوجوان اگر بہت ہی زیادہ شریف ہے تو اس جنسی اشتعال کا اخراج تنہائیوں تک محدود رہتا ہے۔ لیکن اگر اس کی شخصیت بیروں رخی ہے یا اس کی صحبت درست نہیں تو پھر معاملہ تنہائیوں تک محدود نہیں ہوتا۔ پھر وہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جانب راغب ہوتا، تشدد و منشیات کا راستہ اختیار کرتا، خواتین تک رسائی حاصل کرتا، یا خاتون مرد کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہے۔ پھر خواتین ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ، بچے جنسی زیادتیوں کا شکار ہوتے، شادی شدہ افراد دوسروں کے گھروں میں جھانکتے اور یوں گھرہی نہیں نسلیں برباد ہوتی رہتی ہیں۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ سب کچھ صرف سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ بعض شادی شدہ خواتین و حضرات بھی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں ۔ اس کی کئی نفسیاتی، سماجی، معاشرتی اور دیگر عوامل بھی ہیں لیکن اس کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں۔
سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے اور ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہوگیا۔ اسی طرح بعض بچیاں جو بلوغت میں ابھی داخل ہی ہوئی ہوتی ہیں ان کے ساتھ بھی اس قسم کی زیادتی عام ہوتی ہے۔ شرم حیا کے غلط تصور کی بنا پر بچہ یا بچی اپنے ساتھ ہونے والے معاملے کو بیان نہیں کرتی ۔ اس طرح زیادتی کرنے والے شخص کو لائسنس ٹو کل مل جاتا ہے۔
سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کا تیسرا نقصان یہ ہے کہ وہ بچیاں جو بلوغت میں داخل ہورہی ہوتی ہیں، انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔وہ ماہانہ ہونے والے عمل اور جسمانی ساخت میں تبدیلی سے خوف زدہ ہوجاتی ہیں۔ بعض مائیں جھجھک یا مناسب طور پر تعلیم یافتہ نہ ہونے کی بنا پر مناسب طریقے سے بچیوں کو نہیں سمجھا پاتیں کہ یہ انڈا ٹوٹنے کا عمل ہے جو ہر ماہ ایک بچی کو برداشت کرنا ہے۔ اس کمیونکیشن گیپ کی بنا پر بچی طبی اور نفسیاتی تکالیف کا سامنا کرتی ہے اور ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتی ہے۔ کم وبیش اسی قسم کا معاملہ ایک بالغ ہوتے ہوئے نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان سب کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اوپر بیان ہوا یعنی غیر مستند فحش مواد سے راہنمائی حاصل کرنا۔
اس نقصان کا نکاح کے بعد بھی جاری رہنا کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد بالعموم خواتین اس عمل کو ایک گناہ تصور کرتیں اور اپنے شوہر سے جائز تعاون کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔اس کا بنیادی سبب بچپن کا تصور گناہ، خوف یا عدم راہنمائی ہوتی ہے جو اس رویے کا سبب بنتی ہے۔ نیز بعض شوہر بھی لاعلمی کی بنا پر حد سے گذرجانے کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
اس کا ایک اور نقصان نوجوانی میں لڑکے اور لڑکی کا اختلاط ہوتا ہے۔ ہماری فلمی دنیا میں "عشق و محبت ” کو عبادت کے روپ میں دکھایا جاتا اور اسے ہیروازم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکا یا لڑکی جب ایک دوسرے سے انٹرایکٹ کرتے ہیں تو ان کی گھٹی میں یہ بنیادی اور غلط قدر موجود ہوتی ہے۔ وہ یہ باتیں اپنے ہی جسے نامعقول نوجوانوں سے ڈسکس کرتے ہیں۔ یوں یہ عشق و محبت کا انجام کبھی چیٹس، کبھی فون کالز، کبھی ملاقاتیں ، کبھی ہجرو فراق کا ایڈوینچر حتی کہ کبھی آزادانہ جنسی اختلاط تک چلا جاتا ہے۔ بچے اور بچیاں اکثر لاعلمی میں ان حدود کو کراس کرلیتے ہیں جہاں ان کی اپنی تعلیم اور ذاتی زندگی کی تباہی کا پورا سامان تیار ہوتا ہے۔
جنسی تعلیم کے موجودہ ماڈلز
سوال یہ ہے کہ جنسی تعلیم اگر دی جائے تو کیا دی جائے اور کس طرح دی جائے؟ ۔ اس معاملے میں ہمارے معاشرے میں دو ماڈل موجود ہیں۔ ایک طبقہ تو لبرلز کا طبقہ ہے جو جنس کے بارے میں فرائیڈ کے نظریات کا حامل ہے۔ یہ مغربی دنیا میں نافذ طرز تعلیم کو من و عن ہمارے معاشرے میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا طبقہ مذہبی یا روایتی لوگوں کا ہے۔ یہاں جنسی تعلیم پر مبنی لٹریچر مولوی صاحب یا کوئی عالم دین ترتیب دیتا ہے یا تخلیق کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال تو بہشتی زیور ہے اور دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہ دونوں ماڈلز دو انتہائیں ہیں جنکے نفاذ سے ہماری سوسائٹی میں بگاڑ میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوگا اور ہوا ہی ہے۔
مغربی جنسی تعلیم کی خامی
مغرب کا نظام من و عن نافذ کردینا زیادتی ہے۔ مغرب جس اصول پر جنسی معاملات کی تشریح کرتا وہ ہمارے مذہبی اور اخلاقی تصور سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں جنسی تعلق اگر باہمی رضامندی سے ہو تو کوئی گناہ نہیں جبکہ ہمارے ہاں نکاح کا بندھن لازم ہے۔ وہاں غیر مردو عورت میں معانقہ کرنا ایک عام چیز سمجھی جاتی ہے جبکہ ہمارے کلچر میں یہ ایک معیوب چیز ہے۔ وہاں بوائے اور گرل فرینڈ کا نہ ہونا معیوب اور ہمارے ہاں ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ ماڈل ہمارے مذہبی اور معاشرتی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔
مذہبی ماڈل کی خامی
دوسری جانب جنسی تعلیم کا مذہبی ماڈل ہے ۔ اس ماڈل کی بنیاد یہ ہے کہ جنسی معاملات ڈسکس کرنے کو گناہ سمجھاجاتا ہے۔ چنانچہ جب بھی جنسی امور پر بات ہوتی ہے تو پرانے اشاروں کنایوں میں ہوتی ہے اور بات ہی سمجھ نہیں آتی۔ اس کے علاوہ اس لٹریچر براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے اخذ نہیں کی جاتیں ۔ اس لٹریچر پر عربی، عراقی ، ایرانی، سینٹرل ایشیا اور ہندو معاشرت کا کافی اثر ہے۔ یہ لٹریچر آج کی ماڈرن دنیا اور اس میں استعمال ہونے والے میڈیا سے جنم لینے والے مسائل کو ایڈریس کرنے سے قاصر ہے۔ اس لٹریچر کی زبان قدیم اور ناقابل فہم ہے۔ پھر یہ لٹریچر جن لوگوں نے تخلیق کیا ہے وہ دین کا تو ممکن ہے بہت عمدہ علم رکھتے ہوں لیکن جدید سماجی سائنس ، نیچرل سائنس، نفسیات اور پوسٹ ماڈرنزم کی تحریکوں اور ان کے اثرات سے بالعموم ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں وہ اثر نہیں پایا جاتا جو ہونا چاہیے۔ اور آخری وجہ یہ کہ مذہبی علما ء کی اپنی اعتباریت پر آج سوالیہ نشان ہے۔ ان میں فرقہ بندی کی بنا پر ایک فرقے کا لٹریچر دوسرے فرقے کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتا یوں اس لٹریچر کا دائرہ کار اپنے فرقے تک ہی محدود رہتا ہے۔
موجودہ میڈیا کی خامی
اس وقت ہمارا الیکٹرانک میڈیا ٹی وی پروگرامز کے ذریعے اس قسم کے اشوز پر بات کرتا ہے ۔ لیکن ان کا حل بتانے والے لوگ زیادہ تر مغربی ماڈل کے تحت ہی چیزیں بیان کررہے ہوتے ہیں۔ نیز ان میں سے اکثر ناتجربہ کار ہوتے ہیں جنہیں خود راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔
قرآن و سنت سے راہنمائی
اس سلسلے میں اگر ہم قرآن ، سنت اور صحابہ سے رہمنائی لیں تو بڑی واضح گائیڈلائنز سامنے آتی ہیں۔
۱۔ سب سے پہلے قرآن کو لیتے ہیں۔ قرآن کا موضوع انسان کا تزکیہ ہے اور جنسی معاملات کی حدود قیود جان کر اس دائرے میں عمل کرنا تزکیہ کا لازمی حصہ ہے۔ قرآن نے ہدایت دی ہے کہ جلدی نکاح کردیا جائے اور اگر کوئی مالی مسائل کا شکار ہے تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ قرآن نے مخصوص اوقات میں بچوں کو بیڈ روم میں آنے سے روکنےکی ہدایات دیں۔ قرآن نے مردو زن کے اختلاط، حجاب کے اصولوں کو تفصیل سے بیان کیا۔قرآن نے نکا حو طلاق کے امور کو تفصیل سے ڈسکس کیا۔ قرآن نے حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کے قصے سے یہ بتایا کہ کس طرح ایک نوجوان بھی اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرسکتا ہے۔ قرآن نے لواطت جیسے عمل کو قبیح قراددیا۔ یہ سب باتیں ظاہر ہے بچے اور بچیاں بھی پڑھتے ہیں ۔ اگر یہ باتیں بچوں کو بتانا ممنوع ہوتیں تو قرآن میں واضح طور پر لکھا ہوتا کہ یہ بچوں یا کنواروں کو نہ پڑھائی جائیں۔
۲۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھیں تو آپ سے متعدد روایات اس سلسلے میں مروی ہیں کہ جنسی معاملات کی حدود قیود کیا ہیں۔ آپ نے بتایا کہ اگر کوئی نکاح نہیں رکھ سکتا تو روزے رکھ لے کیونکہ اس سے نفس قابو میں رہتا ہے۔ آپ نے بہت شائستہ اسلوب میں معاشرت کے ان معاملات پر روشنی ڈالی جو ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
۳۔ صحابہ کرا م سے متعدد روایات اس سلسلے میں مروی ہیں ۔ بالخصوص امہات المومنین اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت شائستہ اسلوب میں خواتین کے مسائل پر امت کو ایجوکیٹ کیا جو اب تاریخ کا ایک مستند باب ہے۔
جنسی تعلیم کے فروغ کے لیے تجاویز
اس بحث کے بعد سیکس ایجوکیشن کے لیے ہماری تجاویز درج ذیل ہیں:
۱۔ سیکس ایجوکیشن کا پہلا اصول تو یہ ہو کہ اسے ہر صورت ہمارے مذہبی و سماجی اقدار کے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
۲۔ ایچ ای سی اپنی کری کیولم کمیٹی کے ذریعے سماجی ماہرین، نفسیات دان،علماء اور اساتذہ پر مشتمل ایک بورڈ بنائے جس کے ذریعے دو طرح کے لٹریچر کو تخلیق کیا جائے۔ ایک باقاعدہ تعلیم کا نصاب اور دوسرا شارٹ کورسز کا نصاب ۔
۳۔ باقاعدہ تعلیم کے نصاب کو مختلف کلاسز کی سطح پر سلیبس میں شامل کیا جائے۔
۳۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس نصاب کے نفاذ کو یقنی بنائیں ۔
۴۔ ان سب کاموں کی مانیٹرنگ وزارت تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ ادارے بھی کریں۔
۵۔حکومتی سطح پر ہر سال ایک رپورٹ مرتب کی جائے جس میں اس نصاب کی تخلیق، تجدید اور عمل درآمد کو بیان کیا جائے
۶۔ مختلف دانشور، علما اور نفیسات دان ذاتی یا ادارے کی سطح پر اس قسم کا لٹریچر ترتیب دیں جو ان ہدایات کی روشنی میں تیار ہو۔
۷۔ اس لٹریچر سے شارٹ کورسز کے ذریعے میڈیا ، اساتذہ، سماجی تنظیموں اور والدین کو تربیت دی جائے کہ وہ کس طرح اپنے دائرہ کار میں موجو د لوگوں کو جنسی تعلیم فراہم کریں گے۔
۸۔ یہ کورسز خواتین و حضرات کے ذریعے محلے، مساجد ، پرنٹ ، الیکٹرانک ،سوشل میڈیا اور اداروں کی سطح پر منعقد کیے اور پھیلائے جائیں ۔
۹۔ ان میں سے اچھے پروگراموں اور لیکچر کی آڈیوز، وڈیوز اور تحریریں انٹرنیٹ پر شائع کی جائیں۔
۱۰۔ خواتین کے لیے کاونسلنگ کرنے والی خواتین کی ٹیم تیار کی جائے جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور گراونڈ لیول پر خواتین اور نوجوان بچیوں کے مسائل اور ان کا حل بیان کریں۔ یہی کام مردوں اور نوجوانوں کے لیے بھی کیا جائے۔
آخری بات
انشاءاللہ، ایسے اقدامات سے سوسائٹی میں بہت تبدیلی آئے گی انشاءاللہ۔ آپ میں سے کچھ قاری یہ سوچ رہے ہونگے کہ یہ سب کچھ لکھنا بے کار ہے کیونکہ کوئی عمل نہیں کرے گا۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا ہم سے دوسروں کے نہیں ہمارے اپنے عمل کے بارے میں پوچھے گا کہ ہم نے کیا کیا ؟ میں جو کرسکتا تھا کردیا اور انشاءاللہ نصاب کی ترتیب کے سلسلے میں اگر کچھ کرسکا تو ضرور کرو ں گا۔ ہمارا ادارہ اسرا بھی اس سلسلے میں فوکسڈ ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ آ پ کا یہ کام ہے کہ یہ سوچیں آپ کیا کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کسی فیلڈ سے وابستہ ہیں تو لکھیے، اگر قاری ہیں تو بات پھیلائیے، اگر والدین ہیں تو بات پہنچاِئیے، اگر نوجوان ہیں تو بات سمجھیے ۔ کم از کم ایک کام تو ہم سب کرسکتے ہیں کہ جنسی تزکیہ کے لیے ہم تہیہ کرلیں کہ فحش لٹریچر سے ہر صورت دور رہیں گے۔ غرض جو کچھ بھی آپ کا دائرہ کار ہے وہ کیجے اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ یہ ہوگا یا نہیں۔ ہمارے لیے کرنا مشکل ہے لیکن خدا کے لیے نہیں۔ اگر خدا ہمارے اخلاص سے کنونس ہوجائے تو قوموں کی تقدیریں بدلتے دیر نہیں لگتی۔اور اگر ہم سب یہ نہیں کرسکتے تو اس وقت سے بچنے کی دعا کریں جب جنسی بے راہروی کی آگ ہمارے بچے، بچیوں، ماوں ، بہنوں حتی کہ بیویوں کو اپنےلپیٹ میں لینے کے لیے ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہوگی ۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں ، آمین ۔ جزاکم اللہ خیرا


زینب کا قتل اور خدا پر سوالات


بسم اللہ االرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
معصوم زینب کی شہادت پر اس وقت پورا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سراپا احتجاج اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ اس پر اہل علم بہت کچھ لکھ چکے اور لکھ رہے ہیں۔ اس کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ خدا کے انصاف اور مذہب کو نشانہ بنارہے اور طنزو تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سنجیدہ طور پر خدا کی حکمت اور مذہب کی راہنمائی کو جاننا چاہتے ہیں۔ مجھے خود کئی سوال براہ راست اور بلاواسطہ اس موضوع پر مل چکے ہیں جن کا ایک تحریر میں جواب دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ جذبات سے بالاتر ہوکرعقل اور نقل کی روشنی میں لینا لازمی ہے ورنہ حقیقت

تک رسائی مشکل ہے۔ یہ چند سوال و جواب اسی حقیقت تک پہنچنے کی ایک کاوش ہیں ۔

سوال : یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک معصوم بچی کو اس بہیمانہ طریقے سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا؟ خدا نے ان ظالموں کے ہاتھ کیوں نہیں روکے؟
جواب : یہ دنیا جزا و سزا کے اصول پر نہیں بلکہ امتحان اور آزمائش کے اصول پر بنی ہے۔ یہاں جس طرح اچھے لوگوں کو اچھائی کرنے کا اختیار ہے، اسی طرح برے لوگوں کو برائی کرنے کا اختیار ہے۔یہ اختیار ہی اس امتحان و آزمائش کی بنیاد ہے۔ اسی اختیار پر فرشتوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر انسان کو بااختیار بنا کر بھیجا گیا تو یہ خون خرابہ کرے گا۔
سوال: یہ امتحان کیوں ہے؟ ہم نے تو خدا سے نہیں کہا تھا وہ دنیا میں بھیجے؟ کیوں ہمیں اس بھٹی میں زبردستی جھونک دیا گیا ؟
جواب : یہ آزمائش زبردستی کی نہیں۔ آج اگر کسی کو زبردستی پکڑ کر امتحان میں بٹھادیا جائے اور اس سے کہا جائے کہ یہ پرچہ حل کرو توانعام ملے گا ورنہ آگ میں ڈالے جاو گے۔ تو امتحان میں زبردستی بٹھانے والا شخص ایک ظالم اور نامعقول شخص کہلائے گا۔ خدا نے انسان کو اس آزمائش میں جھونکنے سے پہلے اس کی رضامندی پوچھی تھی۔ اس کا ذکر سورہ احزاب میں موجود ہے:
ہم نے [ارادہ و اختیار کی یہ ] امانت آسمانوں پر زمین اور پہاڑوں کو پیش کی لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے ( مگر ) انسان نے اسےاٹھا لیا ، وہ بڑا ہی ظالم جاہل ہے [ کہ وہ جانتا نہیں اس نے کیا اٹھالیا لیا ہے] ۔
سوال: جناب یہ سب باتیں تو ہمِیں یاد نہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں سب کچھ یاد ہوتا تب تو آپ کی بات درست تھی؟
جواب: جس طرح امتحان سے قبل تمام کاپیاں ، کتابیں او ر نوٹس لے لیے جاتے ہیں، بالکل ایسے ہی ہماری اس یادداشت کو محو کردیا گیا ہے جو عالم ارواح میں بنی تھی۔
سوال : یہ سب باتیں چھوڑیں، آپ یہ بتائیں کہ اگر بچی کے ساتھ زیادتی ہوہی گئی تھی تو ظالموں پر اسی وقت خدا کا عذاب کیوں نہ آیا؟ کیوں آسمان سے بجلی نہ کوندی؟ کیوں زمین شق نہ ہوئی ؟اور کیوں خدا کا فرشہ قہر نازل کرنے کے لیے نہیں اترا؟
جواب: یہ دنیا جن قوانین پر بنی ہے ان میں سے کچھ طبعی قوانین ہیں اور کچھ اخلاقی قوانین۔ دونوں کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے۔ ایک شخص اونچی عمارت سے چھلانگ لگادے تو وہ کشش ثقل کی بنا فورا ہلاک یا زخمی ہوجائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص جنسی زیادتی جیسا ظلم کرتا ہے تو اسے بھی اس کا بدلہ ملے گا۔ البتہ اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ فورا نہیں بلکہ تدریج کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگرفورا ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی آج شاید زندہ نہ ہوتا۔ نیز اگر گناہوں کا اثر فورا ہونے لگ جائے تو آزمائش کا اصول متاثر ہوگا۔
سوال : ارے جناب، آپ تو عجیب بات کرتے ہیں۔ اچھا تو کیا ان قاتلوں کو عذاب دینے کے لیے قیامت تک کا انتظار کرنا ہوگا؟
جواب: یہ ایک غلط فہمی ہے کہ خدا چودہ سوسال پہلے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نمودار ہوا اور اتمام حجت کرکے دوبارہ کائنات سے لاتعلق ہوکر بیٹھ گیا ہے۔ خدا نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی معاملات پر نظر رکھتا اور اپنی تدبیر یں اسباب و علل کے پردے میں ظاہر کرتا رہتا ہے۔ اگر ہمارا قانون اور سماجی نظام اتنا طاقت ور اور فعال ہو تو ہم یقینا ان ظالموں کو اسی دنیا میں عبرتناک عذاب کی پہلی قسط دےسکتے ہیں۔ اور اگر خدا نے اسی دنیا میں انہیں عذاب دیا تو وہ اسباب و علل ہی کے تحت ہوگا اور اپنےو قت پر ہوگا اور ضروری نہیں یہ دنیا وی عذاب دیکھنے والوں کو دکھائی بھی دے۔ البتہ اصل عذاب تو دوسری دنیا ہی میں ممکن ہے۔
سوال: آپ ہر بار مولوی بن کر آخرت کی بات ہی کیوں کرتے ہیں؟
جواب : ظاہر ہے اگر ہٹلر لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے کے بعد خاموشی سے ایک مرتبہ پھانسی پر چڑھادیا جائے تو یہ کیسا انصاف ؟ اصل انصاف تو یہ ہے کہ اسے بھی لاکھوں بار پھانسی پر چڑھایا جائے اور اسی اذیت سے گذارا جائے جس سے مرنے والے اور ان کے اہل خانہ گذرے۔ ایسا اس دنیا میں ممکن نہیں اسی لیے آخرت ضروری ہے۔
سوال: چلیں یہ باتیں تو ٹھیک ہیں۔ اگر ظالموں کو دنیا میں یا آخرت میں عذاب مل بھی گیا تو اس سے کیا ہوگا؟ زینب تو دنیا سے چلی گئی۔ اس پر اور اس کے ماں باپ پر جو بیتی کیا ہونے والا عذاب اس کا مداوا کرے گا؟ یہ کیسا انصاف ہے خدا کا ؟
جواب : اس دنیا میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو دنیا والے کیا کرتے ہیں؟ وہ اس مظلوم سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں کیا چاہیے۔ مظلوم جس بات پر راضی ہوجائے، وہ اسے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی اصو ل کو آخرت میں بھی اپلائی کردیجے۔ جب زینب اور اس گھر والے خدا کے حضور پہنچیں گے اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دے دیا جائے گا تو پھر زینب سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ وہ جو چاہے گی خدا اپنی حکمت کے تحت اس طرح دے گا کہ وہ اور اس کے گھر والے راضی ہوجائیں گے۔۔ جب وہ سب راضی ہوجائیں گے تو پھر اعتراض کس بات کا؟
سوال: حضرت، آپ کے جوابات تو مجھے لفاظی ہی معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال میرے پاس کوئی جواب نہیں ان باتوں کا۔ لیکن یہ بتائیے کہ اس واقعے میں اصل سبق کیا ہے؟
جواب : خدا کامل خیر ہے۔ اس سے شر کا ظہور نہیں ہوتا۔ حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جہاں خدا نے تین مختلف افراد کے ساتھ مختلف معاملہ کیا۔ دیکھا جائے تو کشتی کا توڑ دینا، بچے کو قتل کردینا بظاہر ایک شر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اس میں جو خیر تھا وہ صرف اللہ ہی کو معلوم تھا۔
یہ واقعہ دراصل صرف زینب اور س کے قاتلوں ہی کی نہیں میری ، آپ کی، میڈیا ، حکومت، فیملی کی تربیت، حفاظتی نظام ، ایجوکیشن سب کی آزمائش ہے۔ آپ غور کریں تو علم ہوگا کہ اس قسم کے بیسیوں واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن زینب کا واقعہ اتنا مشہور کیوں ہوا۔ یقینا اس کی اتنی کثرت سے اشاعت میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوگی۔
سوال : وہ کیا حکمت ہے جناب ، یہ بھی فرمادیں؟
جواب: وہ حکمت بہت سادہ ہے۔ اس کے اسباب دیکھے جائیں تو سب سے پہلے وہ والدین قصور وار ہیں جن کے ہاں ایسے ظالموں کی تربیت ہوئی، یہ ہماری تربیت کے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ پھر پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا، فلمیں، ڈرامے اور ناول ذمہ دار ہیں جنہوں نے عریانی پھیلانے ، جنسیات اشتہا بھڑکانے اور تشدد سے پیسا کمانے کو اپنے وطیرہ بنارکھا ہے اور نوجوان جنسی اشتعال سے بے قابو ہورہے ہیں ۔ پھر ہمارا سماجی نظام قصور وار ہے جس نے نکاح مشکل اور زنا آسان بنا رکھا ہے۔ پھر ہمارا ایجوکیشن کا سسٹم قصور وار ہے جس میں اخلاقیات نامی کوئی سبجیکٹ ہی موجود نہیں۔ پھر ہمارے مذہبی رہنما قصور وار ہیں جنہوں نے مذہب کو رسومات کا مجموعہ بنا کر اسے اخلاقی زندگی سے لاتعلق کردیا ہے۔ پھر ہمارے سیاستدان قصوروار ہیں جو اس معاملے میں پوائینٹ اسکورنگ کررہے ہیں، پھر ہمارے حکمران قصور وار ہیں جن کی ناہلی کے سبب ایسے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔
سوال: حضرت ، یہ سب باتیں ٹھیک ہیں؟ لیکن زینب کو کیوں مارا گیا؟یہ کیسا خدا کا انصاف ہے؟؟؟؟


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، ذرا نماز سے متعلق کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔
o پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
• یہ بتائیں کہ نماز کی نیت زبان سے کرنی ہے کہ دل میں؟
o میاں نیت زبان سے کرو یا دل میں کرو، ہر صورت میں خالص ہونی چاہیے۔

جواب کچھ عجیب تھا لیکن اگلا سوال :اچھا ہاتھ کانوں تک اٹھانے ہیں یا کاندھے تک؟
o میاں کان اور کاندھے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ حقیقت میں تو ہاتھ نفس کی پوجا سے اٹھانے ہیں۔
• اچھا ہاتھ کہاں باندھنے ہیں، سینے پر کہ ناف کے نیچے ؟
o ارے صاحبزادے، ہاتھ ادب سے باندھنے ہیں ، جہاں ادب محسوس ہو وہیں رکھ لو۔
• سورہ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھنی ہے یا چپ رہنا ہے؟
o بھائی ، جب تمہارا نمائیندہ خدا سے سب کے لیے باآواز بلند بول رہا ہو تو تمہیں بولنے کی کیا ضرورت؟ اور جب وہ خاموش ہو تو تمہارے چپ رہنے کا کیا مقصد؟
• اچھا سمجھ گیا لیکن یہ آمین زور سے بولنی ہے کہ آہستہ؟
o میاں، آمین کا مطلب ہے” قبول فرما”۔ تو کبھی یہ آہ زور سے نکلتی ہے تو کبھی آہستہ۔دعا کی قبولیت آواز کی بلندی نہیں دل کی تڑپ کا تقاضا کرتی ہے۔
• سنا ہے رکوع میں کمر اتنی سیدھی ہوئی ہو کہ پانی کا پیالہ بھی پشت پر رکھ دیا جائے تو اس کا لیول برقرار رہے؟
o میاں ، جب غلام جھکتا ہے تو کیا بادشاہ پیالہ رکھ کر کمر کا تناو چیک کرتا ہے؟ وہ تو تمہارے بے اختیار سے جھکنے کو دیکھتا ہے اور بس۔
• کیا رکوع سے اٹھ کر دوبارہ رفع یدین کرنا ضروری ہے؟
o جناب من ، اصل کام تو تکبیر یعنی خدا کی بڑائی بیان کرنا ہے، اب یہ بڑائی ہاتھ اٹھاکربیان کرلو یا بنا ہاتھ اٹھائے۔
• حضور ، کیا سجدے میں اتنا اونچا ہونا لازمی ہے کہ ایک چھوٹا بکری کا بچہ نیچے سے نکل جائے؟
o میرے دوست، سجدہ تو عاجزی و پستی کی انتہائی علامت ہے۔ بادشاہوں کے بادشاہ کے حضور ناک رگڑتے وقت کس کو ہوش ہوگا ہے کہ اونچائی اور لمبائی کتنی ہے؟
• حضرت آپ تو ساری باتوں میں اتنی وسعت اور آپشنز پیدا کررہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ “صلو کما رائتمونی اصلی” یعنی نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
o ارے بھائی ہم نے تو نبی کریم کو نماز میں روتے ہوئے دیکھا، گڑگڑاتے دیکھا، ادب و احترام کا پیکر بنے قیام میں دیکھا، قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہوئے دیکھا، اپنے رب کے آگے بے تابی سے جھکتے دیکھا، تڑپتے ہوئے سجدہ کرتے دیکھا، قومہ و قعدہ میں بھی دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا، تسبیحات بدل بدل کر پڑھتے ہوئے دیکھا، اپنے رب کو خوف و امید سے پکارتے ہوئے دیکھا۔ہم نے یہی دیکھا اور یہی سمجھا کہ نماز کا اصل مغز یہی سب کچھ ہے ۔ یہی وہ نماز ہے جس کے لیے نبی نے حکم دیا کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔
• بات اس کی سمجھ آچکی تھی کہ آج تک وہ نماز پڑھتا تو رہا ، ادا نہ کرپایا۔ موذن حی علی الصلوٰۃ کی صدائیں لگارہا تھا اور وہ اس حکم پر عمل کرنے کے لیے بے تاب تھا ” صلو کما رائیتمونی اصلی”—“نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے”


قرآن کا نظریہ ارتقا


قرآن کا نظریہ ارتقا
ڈاکٹر محمد عقیل
آج جس اہم موضوع پر بات کرنی ہے وہ قرآنی لائف سائکل ہے۔ انسان کا پورا وجود اسی ترقی و تنزلی سے ہمیشہ سے دوچار ہے۔ ابتدا میں انسان ایک روح یا بغیر مادی جسم کے ایک روحانی وجود کی صورت میں تخلیق ہوتا ہےجسے عالم ارواح کہتے ہیں ۔ جب اسے دنیا میں بھیجا جاتا ہے تو اس کا مزیدارتقا ہوتا ہے ۔اب ماں کے پیٹ میں اس روح کو قالب یعنی مادی جسم دینے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ جو روحانی وجود اس عمل کو پورا نہیں کرپاتا ، وہ ماں کے پیٹ میں ہی مرجاتا ہے

۔

اگلا مرحلہ بچے کا ماں کے پیٹ سے دنیا کے پیٹ میں منتقلی ہے۔ اس مرحلے میں انسان تھری ڈائی منشنز میں اپنا ارتقا جاری رکھتا ہے۔ یہاں اس کا وجود دو حصوں میں منقسم ہوجاتا ہے۔ ایک ظاہری یا مادی وجود او دوسرا روحانی یا باطنی وجود۔ مادی وجود کی ترقی تو مادی غذا کھانے سے ہوتی ہے اور روحانی وجود کی ترقی عقیدہ و اخلاق کی روحانی غذا کھانے سے ہوتی ہے۔

انسان جوں جوں اعلی اخلاقیات و کردار سے شخصیت کو نمو دیتا ہے، اس کا روحانی وجود اتنا ہی طاقتور، توانا ، رعنائی سے بھرپور اور جوان ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب وہ کوئی برا کام یا گناہ کرتا ہے تو یہ برائی اس کے لیے زہر کی مانند ہوتی ہے جو اس کے روحانی ارتقا کو روک دیتی اور بعض اوقات ریورس گئیر لگا کر اس کے باطنی وجود کی تنزلی کا باعث بن جاتی ہے۔

انسان کی جب موت واقع ہوتی ہے تو اب وہ دنیا کے پیٹ سے ایک اور دنیا کے پیٹ میں منتقل ہوجاتا ہے جسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔ اب اس سے یہ مادی وجود چھین لیا جاتا اور دوبارہ اسے روح کی شکل میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس وجود کے ساتھ مادی جسم نہیں ہوتا بلکہ وہ وجود ہوتا ہے جو اس نے دنیا میں پروان چڑھایا ہوتا یا اس کی تنزلی کی ہوتی ہے۔ اسی روحانی وجود کی کمائی ہوئی دولت کو اس وجود کے سامنے خواب کے عالم میں پیش کیا جاتا ہے جسے وہ دیکھ کر یا تو خوشی محسوس کرتا یا عذاب محسوس کرتا ہے۔

عالم برزخ کے بعد اگلا مقام وہ ہے جہاں اس وجود کو اپنی کمائی کے لحاظ سے کسی مستقل مقام پر منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہ روحانی وجود کا پچاس فی صد سے زائد حصہ کو آلودگیوں سے پاک کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر یہ ایک توانا اور بھرپور حیثیت میں اگلی دنیا میں منتقل ہوتا ہے ۔ اب اس میں وہ صلاحیت ہوتی ہے کہ زمینی دنیا کی تھری ڈائی مینشن لائف سے ارتقا پاکر ایسی آسمانی دنیا میں رہ سکے جہاں ملٹی ڈائی مینشن کائنات ہے۔ یہ آسمانی دنیا لائف سپورٹ سسٹم سے بھرپور ہے۔ یہ کائنات اس پاکیزہ وجود کے لیے سراپا رحمت ہوتی ، اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کردیتی، اس کے لیے اپنے وسائل خدمت میں پیش کردیتی اور اس کی ہر خواہش کی تکمیل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ اسے اصطلاح میں جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اگر یہ روحانی وجود اپنے ساتھ پچاس فی صد سے زائد آلائشیں رکھتا اور اخلاقی گندگی اور گناہوں کے بوجھ کے ساتھ اگلی دنیا میں منتقل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں یہ اس ملٹی ڈائی مینشن دنیا میں گذارا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ اس کی حیثیت بالکل اس مردہ بچے کی مانند ہوتی ہے جو ماں کے پیٹ میں اپنے مادی وجود کو مکمل نہ کرنے کی وجہ سے دنیا میں رہنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا اور ماں کےپیٹ سے نکلتے ہی اسے سوسائٹی سے الگ تھلگ کرکے ہی قبرستان کے سپرد کردیا جاتا ہے۔

ایک آلودہ اور گناہوں سے آراستہ روحانی وجود البتہ فنا نہیں ہوتا ۔ اس روحانی وجود کی تخلیق ازلی تو نہیں البتہ ابدی ضرور ہے۔ یعنی خالق نے اسے فنا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے تخلیق کیا ہے۔ چنانچہ اب اس نجس وجود کے پاس دنیا میں جانے کا تو کوئی راستہ نہیں ہوتا، نہ ہی اسے فنا کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جنت کی ملٹی ڈائی مینشن دنیا میں رہ سکے۔ ایسی صورت میں اسے ایک ایسی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے جس کی ڈائی مینشن دو یا ایک ہوتی ہے اور یہ حیوانی سطح کی ڈائی مینشن ہے۔

حیوانات دو ڈائی مینشن مخلوق ہیں ۔ چنانچہ ایک آلودہ وجود کو ایک ایسی دنیا میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں لائف سپورٹ سسٹم نام کی کوئی شے نہیں۔ وہا ں پیاس ہے تو پانی نہیں بلکہ گندگی، پیپ اور دھوون ہے۔ وہاں بھوک ہے تو مٹانے کے لیے غذا کی بجائے جھاڑ پھونس اور گندگی ہے۔ وہاں نہ پودے اگتے ہیں ، نہ پانی پیدا ہوتا ہے اور نہ جانوروں کا پاکیزہ گوشت دستیاب ہے۔ وہاں گریوٹی عین ممکن ہے اتنی زیادہ ہو کہ ہر قدم پر پہاڑ کے برابر بوجھ محسوس ہو، وہاں زخم لگ جائے تو صحتیاب ہونے کی بجائے خراب ہوتا چلاجائے، وہاں فرشتے داروغہ کی شکل میں پھر رہے ہوں اور آئے دن ان کی جانب سے کوڑے اور تازیانے برستے ہوں۔یہاں اس وجود کو اس کے گناہ اور آلودگی کے مطابق تنزلی کی پستیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اس مقام کو جہنم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

کیا اس جنت اور جہنم کے بعد بھی کوئی ارتقا ہے، یہ بات ہمارے لیے سمجھنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا پیٹ میں موجود بچے کے لیے دنیا کی زندگی کو سمجھنا۔

یہ قرآن کا نظام ارتقا ہے۔ یہ ارتقا ء کا نظام اپنے اصولوں اور ضابطوں پر کام کرتا ہے۔ اس کے اصو ل خدا نے بنائے ہیں اور خدا کے بنائے ہوئے اصول کوئی نہیں توڑ سکتا الا یہ کہ خدا ہی توڑ دے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر خدا نے ان اصولوں کو توڑنا ہی تھا تو بنائے کیوں؟یہ نظام ارتقا مادی دنیا میں بھی ہر انسان پر لاگو ہے خواہ وہ یہودی ہو، عیسائی ہو، مسلمان ہو، ہندو ہو، سکھ ہو ، ملحد ہو یا کوئی اور۔ یہ نظام ارتقا ء روحانی دنیا پر بھی اسی طرح منطبق ہے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اب یہودی اگر خود کو خدا کے چہیتے سمجھتے ہیں ، عیسائی خود کو خدا کے بیٹے قرار دیتے ہیں، ہندو خود کو آواگون کے چکر میں گرفتار سمجھتے ہیں، مسلمان خود کو بحیثیت قوم کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے نجات دہندہ سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں، یہ ارتقا کا نظام اسی طرح جاری و ساری ہے جیسے ماں کے پیٹ میں بچے کا ارتقا ۔ کوئی شخص اگر خوش فہمیوں میں مبتلا رہے اور حمل کے دوران وہ مادی تقاضے پورا نہ کرے تو اس کی خوش فہمیوں کے باوجود مردہ بچہ ہی جنم لیتا ہے الا ماشاءاللہ۔ یہی اصول روحانی وجود کا اگلی دنیا میں منتقلی کا بھی ہے۔

جنت کی اعلی زندگی کا حصول کسی ولی ، بزرگ، پیغمبر کی سفارش پر نہیں بلکہ میرٹ پر ہے۔جو انسان اپنے آزادنانہ اراہ اختیار کے ساتھ خود کو آلائشوں سے پاک کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں ، تو باقی کمی بیشی اللہ تعالی اپنے کرم سے پوری کردیتے اور اسے جنت کی شہریت عطا کردیتے ہیں۔ اور جس نے اپنے وجود کو آلوگیوں ہی سے ڈھانک لیا تو اس کا ٹھکانہ پستیوں کی وادی ہے۔

قرآن نے اس بات کو قطیعت کے ساتھ بیان کردیا کہ
قد افلح من زکھاوقد خاب من دسھا۔
فلاح پاگیا وہ شخص جس نے اس شخصیت کو پاک کیا اور ناکام ہوگیا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔
اداریہ ۔ اسرا میگ


میری کرسمس – کفر یا ایمان؟


میری کرسمس – کفر یا ایمان؟
ڈاکٹر محمد عقیل
میری کرسمس پر آج کل زوردار بحث چل رہی ہے۔ ایک گروہ اس اصطلاح کا مطلب خدا کا بیٹا لے کر اس کے کہنے والوں پر کفر کا اطلاق کررہا ہے تو دوسرا گروہ وارفتگی میں میری کرسمس بولنا مذہنی و اخلاقی فریضہ ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے بین بین ہے۔
جہاں تک میری کرسمس کے لغوی معنی کا تعلق ہے تو یہ سادہ الفاظ میں "ہیپی کرسمس "یا "کرسمس مبارک ہو” بنتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم عید مبارک کہتے ہیں۔ بالفرض میری کرسمس کے لغوی معنی خدا کا بیٹا ہی کے ہیں تب بھی اس اصطلاح کے موجودہ معنی ” کرسمس مبارک ہو ” ہی لیے جائیں گے۔ اس کی وجہ

زبان کا وہ عمومی قاعدہ ہے جس کی بنا پر لغوی معنوں پر اصطلاحی معونوں کو فوقیت دی جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات لغوی معنی ماضی کا قصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔
اس کی کئی مثالیں ہر زبان میں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر عربی کا ایک لفظ ہے ” لفظ”۔ اس کے لغوی معنی پھینکنا ہے۔ لیکن آج لفظ سے مراد حروف کا مجموعہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح غزل کے لغوی معنی عورتوں کی بات چیت کرنا ہیں لیکن آج غزل ایک صنف ادب ہے۔ شوربا کا مطلب نمک کا پانی ہے لیکن آج اس سے مراد سالن لیا جاتا ہے۔ شعر کا مطلب کسی چیز سے جان پہچان کرنا ہے لیکن آج ہم شعر کا مطلب کچھ اور لیتے ہیں۔عورت کا مطلب چھپی ہوئی چیز ہے لیکن ہم اس سے مراد صنف نازک ہی لیتے ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ لغوی معنی کو اہل زبان جن معنوں میں استعمال کریں، انہی معنوں کا اعتبار ہوتا ہے۔ چنانچہ میری کرسمس کو اہل زبان "کرسمس مبارک "ہی کے عمومی معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اسی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔ ہاں اگر کسی کو ذاتی طور پر یہ استعمال ناپسند ہو تو وہ دلائل کے ذریعے بات واضح کرسکتا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرسکتا ہے لیکن کفر کے فتووں کا اظہار کسی طور مناسب نہیں۔
دوسرا گروپ ان لوگوں کا ہے جو کرسچن بھائیوں سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت میری کرسمس کہنے کو دین یا اخلاق کا کوئی بنیادی تقاضا قرار دینے پر تلا ہے۔ عیسائیوں کو مبارک باد دیناایک ذاتی فعل ہے جس کا تعلق انسان کے ذوق، مزاج، طبیعت اور رحجان سے ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تو عید مبارک کی پوسٹیں بھی اپنے مزاج کی بنا پر نہیں لگاتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بداخلاق لوگ ہیں یا انہوں نے کسی غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کیا۔
میری کرسمس کہنا یا نہ کہنا ذاتی ذوق پر مبنی ہے اور اسے ذوق تک ہی محدود رکھنا چاہیے، اس میں مذہب کو شامل کرنا نامناسب ہے۔ میری کرسمس بولنے پر روکنا اور رکنے پر بلوانا دونوں نامناسب رویے ہیں۔


بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا ؟اسٹیفن ہاکنگ کے جواب کا تجزیہ


بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا ؟اسٹیفن ہاکنگ کے جواب کا تجزیہ
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: کیا کائنات کہیں ختم ہوتی ہے۔ اگر ہاں تو اس اختتام کے اس پار کیا ہے؟

جواب: ہمارا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک انتہائی تیز رفتار اسراع کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پھیلاو لامتناہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ سے کائنات مزید خالی اور تاریک ہوتی چلی جائے گی۔ اگرچہ کائنات کا کوئی اختتام نہیں پر اس کا ایک آغاز ضرور ہے۔ آج اس آغاز کو ہم بگ بینگ کہتے ہیں۔ یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ بگ بینگ سے پرے کیا تھا اور اس کا جواب ہو گا کہ کچھ نہیں۔ایسے ہی جیسے قطب جنوبی سے پرے کوئی جنوب نہیں ہے

۔۔ [اسٹیفن ہاکنگ
http://content.time.com/time/magazine/article/0,9171,2029483,00.html%5D۔
تجزیہ : ہاکنگ کے جواب میں ایک بنیادی فزکس غلطی پائی جاتی ہے۔ ہاکنگ کہتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے کچھ بھی نہ تھا جیسے قطب جنوبی سے ماورا کوئی جنوب نہیں ہے۔ یہاں ہاکنگ نظریہ اضافیت جیسی تھیوری ہی کے خلاف بات کررہے ہیں جسے وہ خود تسلیم کرتے بلکہ دنیا کا ہر سائنسدان مانتا ہے۔
اگر اس زمین پر کھڑے ہوکر دیکھیں تو واقعی قطب جنوبی سے پرے کوئی جنوب نہیں۔ لیکن اگر چاند پر جاکر دیکھیں تو قطب جنوبی سے پرے کئی سیارو ں کے جنوب موجود ہیں۔ اس مثال کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ بگ بینگ سے پہلے کچھ نہیں تھا، محض ایک مغالطہ معلوم ہوتا ہے۔ ہماری اس کائنات کی تخلیق سپر نووا سے ہوئی اور ہم اگر اس کائنات میں رہ کر دیکھیں تو بگ بینگ سے قبل نہ وقت تھا نہ اسپیس۔ لیکن اگر ہم کائنات سے ماورا ہوکر دیکھیں تو ہمارا فریم آف ریفرنس بدل جائے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ کچھ ایسی کائناتی قوتیں موجود ہوں جنہوں نے سپرنووا کو جنم دیا ہو اور ان قوتوں کے پیچھے بھی کچھ قوتیں ہوں اور آخر میں علت العلل یعنی خدا کا ارادہ موجود ہو جس نے یہ سب کچھ تخلیق کیا۔
چنانچہ یہ کہنا کہ بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا، ایک غیر علمی جملہ ہے۔ ایسا اس وقت کہا جاسکتا ہے جب انسان نے حتمی طور پر معلوم کرلیا ہو کہ اصل کائنات بس یہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور کائنات موجود نہیں جس کے فریم آف ریفرنس سے چیزوں کو دیکھا جاسکے۔


Pages