پروفیسر محمد عقیل

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن

کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو زمین پر نافذ کرنے کے عملی اقدامات خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔دوسرا مضمون شب قدر یعنی تقدیر یا منصوبہ بندی والی رات کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور تیسرا مضمون ان تدابیر کی جانب اشارہ کرتا ہے جو خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس رات میں نافذ کی جاتی ہیں۔
سورہ کی تفصیل کیا ہے؟
اس سورہ میں پانچ آیات ہیں۔ دوسری جانب انہی پانچ آیات کے مضمون کو سورہ دخان کی پانچ آیات میں دوہرایا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ قدر کی تفہیم کے لیے سورہ دخان کی پانچ آیات کو سامنے رکھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ سورہ دخان کی پانچ آیات یہ ہیں۔
اس کتاب مبین کی قسم ۔ بیشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے ۔ اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے ۔ ہر حکم ہماری جانب سے صادر ہوتا ہے ہم ہی (فرشتوں کو )بھیجنے والے ہیں ۔(سورہ الدخان آیات ۲ تا ۶)
غور کریں تو ان پانچ آیات میں بھی سورہ قدر کی تفصیل ہے۔ چنانچہ ان آیات کو سامنے رکھا جائے تو سورہ قدر کی تفہیم اور آسان اور واضح ہوجاتی ہے۔
شب قدر کا قرآن سے کیا تعلق ہے؟
اس سورہ میں سب سے پہلے تو قرآن کا شب قدر سے گہرا تعلق بیان ہوا ہے۔ جب اللہ تعالی نے اس دنیا سے آخری بار آفیشل سطح پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا تو اس خطاب کی ابتدا اسی رات کو ہوئی۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو وہ رات شب قدر ہی تھی ۔خداوند عالم کا قیامت سے قبل یہ آخری آفیشل خطاب ایک عظیم خدائی منصوبے کی ابتدا ہے اسی لیے اس خطاب کی ابتدا عظیم منصوبوں اور تنظیم والی رات میں ہوئی ۔ اس عظیم بابرکت رات کو جب خدا کے فرشتے اپنے ہیڈ جبریل امین کی نگرانی میں نازل ہورہے ہوتے ہیں۔ اس عظیم اہتمام کے بعد کسی شیطان مردود کی مجال نہیں کہ پر بھی مار سکے اور خدا کی اس عظیم تدبیر کے نفاذ میں کوئی رخنہ اندازی کرسکے۔
قدر کا کیا مطلب ہے؟
اسے لیلۃ القدر بھی کہا گیا اور لیلۃ المبارکہ بھی۔ قدر کے معنی عزت و منزلت کے بھی ہیں اور تقدیر کے بھی۔ جبکہ تقدیر کے تخمینہ لگانا، منصوبہ بندی کرنا، تنظیم کرنا یا ساخت بنانے کے ہیں۔ تو یہاں شب قدر سے مراد دونوں ہی مفہوم ہیں ۔ یعنی ایک تو یہ رات بہت مبارک ، قدر و منزلت والی رات ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ رات ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ کی جانب سے تمام معاملات کا حکمت کے ساتھ حکم دیا جاتا، ان کی منصوبہ بندی کی جاتی، ان کی تنظیم (Organization) کی جاتی اور تمام امور کے بارے میں اصولی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔یہ مفہوم اس سورہ کے نام ” قدر” سے بھی واضح ہے جس کا مطلب ہی تقدیر یعنی منصوبہ اور تنظیم کے ہیں ۔ اس مفہوم کی وضاحت سورہ الدخان کی آیت سے بھی ہوجاتی ہے جس میں لکھا ہے کہ اس میں ہر اہم کام کا فیصلہ حکمت سے کردیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر سے مراد منصوبہ بندی یا تنظیم کیوں لیا گیا جبکہ ہماری مروجہ فکر میں تو تقدیر سے مراد وہ علم الٰہی ہے جو اس نے پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے جب بھی تقدیر کا لفظ استعمال کیا ہے تو اسے منصوبہ بندی یا تنظیم کے طور پر ہی لیا ہے۔ اس کے دلائل ان آیات میں ہیں:
’’وہی برآمدکرنے والا ہے صبح کا اوراس نے رات سکون کی چیزبنائی اورسورج اورچانداس نے ایک حساب سے رکھے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ ، (انعام6: 96)
’’اورسورج اپنے ایک معین مدارمیں گردش کرتا ہے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ (یس36: 38)
’’ہم نے ہرچیزایک(تقدیر ) معین حساب (Precise Calculation) کے ساتھ پیداکی۔‘‘ ، (قمر54: 49)
جہاں تک کچھ چیزوں کے تقدیر میں پہلے سے لکھے ہونے کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی بعد میں بات کی جاسکتی ہے۔ البتہ قرآن میں تقدیر سے مراد کسی کے لیے منصوبہ بندی کرنا اور اس کا ایک معین حساب مقرر کرنا یا تنظیم کرناہے ۔
انگلش کے تراجم میں بہت عمدہ طریقے سے ” تقدیر ” کا ترجمہ کیا گیا ہے جو یہ ہے۔
1. Reckoning-the action or process of calculating or estimating something.
2. Measure or Measuring
3. An arrangement of the Mighty
4. Determination
5. Calculation
6. Structure, arrangement, scheme, plan, pattern, order, form, format, framework, system, composition, constitution, shape, make-up, configuration; systematization, methodization, categorization, classification, codification
ان تمام الفاظ کو دیکھیں تو یہ منصوبہ بندی، تنظیم ، تخمینے یا پیمانہ مقرر کرنےیا حساب معین کرنے کے معنی ہی میں آتے ہیں اور انگریزی کے مترجموں نے بالعموم تقدیر کا مفہوم” لکھی ہوئی تقدیر لینے سے گریز” کیا ہے ۔اردو مترجمین نے تقدیر کے لفظ کا ترجمہ کرنے کی بجائے اسے تقدیر ہی لکھ دیا جس سے عام ذہن میں کنفوژن پیدا ہوتی ہے۔
شب قدر میں کس قسم کے کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ اس رات میں کس قسم کے کاموں کے احکامات نازل ہوتے ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم کے پہلو کو جاننا ہوگا۔یوں تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کے معاملات کو ہر وقت ہر لمحہ جانتے ہیں لیکن اللہ نے اپنی ایڈمنسٹریشن کے کارندوں یعنی فرشتوں سے رپورٹ طلب کرنے کے لیے کچھ ٹائم لائن مقرر کررکھی ہیں ۔ اس آیت میں بیان ہوتا ہے:
اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔ (سورہ آل عمران ۱۰۹)
اس طرح کی کئی آیات ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ فرشتے اللہ کے حضور معاملات پیش کرتے ہیں۔ یہ معاملات یوں تو ظاہر ہے کہ کسی مخصوص وقفے ہی سے پیش ہونگے جیسے اس آیت میں بیان ہوتا ہے۔
ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔( المعارج آیت ۴)
گویا فرشتے مخصوص اوقات یعنی صبح و شام، روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ ، ہزار سال یا پچاس ہزار سال بعد اللہ کے سامنے اجتماعی یا انفرادی معاملات کمپائل کرکے رپورٹ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان پر اپنے احکامات صادر کرتے اور مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں۔ یہ بات ایک روایت میں بھی بیان ہوئی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
بہرحال اللہ کے حضور مخصوص وقفوں میں مخلوق اور کائنات کے معاملات پیش کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان پر اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔سورہ قدر اور دخان میں جن تدابیر اور منصوبوں کا ذکر ہے وہ سالانہ نوعیت کے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں اپنی سالانہ انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ بناتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی دنیا کے تمام معاملات کی ایک سالانہ رپورٹ اللہ کے حضور اس رات سے قبل پیش کرچکے ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر ہے کائنات کے چیف ایگزیکٹو یعنی رب العالمین کو پیش کی جارہی ہے تو اس میں انفرادی، اجتماعی ہر ہرپہلو سے چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔
یہاں ایک اشکال ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تو عالم الغیب ہیں تو انہیں اس رپورٹ کیا ضرورت؟ تو یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ رپورٹ لکھوانے کا عمل اللہ تعالی خود اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی ایڈمنسٹریشن یعنی فرشتوں کی تفہیم کے لیے اور ان کی آپس میں کمیونکیشن اور کوآرڈنیشن کو آسان بنانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے اس سالانہ رپورٹ میں فرشتے کائنات میں پیش آنے والے ایک سال کے معاملات کو کمپائل کرتے اور آئیندہ سال کے لیے اپنی تجاویز یا بجٹ پیش کردیتے ہیں۔اس رات ان تجاویز اور تدابیر کو اللہ کے حکم سے حتمی شکل اور منطوری دے دی جاتی ہے۔ اسی کو ہم تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم (Planning and Organizing)کہہ سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اجتماعی طور پر یہ طے کردیا جاتا ہے کہ بارشیں کتنی ہونگیں، زلزلے ، سیلاب کتنے آئیں گے، کہاں آئیں گے، فصل کتنی اگے گی، کہاں اگے گی، خوشحالی ہوگی یا تنگدستی، زمین پر کوئی نئی شے ایجاد ہوگی یا نہیں ، کوئی بڑی وبا آئے گی یا نہیں، نئے ستاروں کی تخلیق ہوگی یا پرانے ستاروں کی موت واقع ہوگی، کائنات بگ بینگ کے اثر سے مزید کتنا پھیلے گی، موسم میں کیا تغیرات ہونگے، قوموں کے عروج و زوال کا کیا معاملہ ہوگاوغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح فرد کی ماضی کی کاکردگی کی بنیاد پر یا امتحان کے اصول پر بھی کچھ منصوبے ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی رزق کی کشادگی، تنگی، صحت، بیماری، موت، تعلیم وغیرہ کے بارے میں منصوبے ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری پلاننگ الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کائنات کے بادشاہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ کہیں پر تباہی کا فیصلہ قوموں کے اعمال کی بنا پر ہوتا ہے، کہیں آزمائش و تربیت کے اصول پر ، کہیں طبعی قوانین کو مد نطر رکھ کر ہوتا ہے تو کہیں کچھ اور حکمت ہوتی ہے۔
لیکن یہاں تقدیر کے لفظ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ پیمانہ یا تدبیر ہے جو کائنات کا نظم و نسق چلانے اور زندگی کو کائنات میں ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ البتہ انسان اخلاقی معاملات میں آزاد ہے اور اخلاقی دائرے میں اس آزادانہ اختیار (Free will) یعنی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگتی ہے اور یہی وہ دائرہ ہے جہاں آخرت میں پوچھ گچھ ہونی ہے۔
شب قدر میں تقدیر معین کرنے کو ہم محدود طور پر ایک اور طرح بیان کرسکتے ہیں۔ دنیاوی ریاستیں سالانہ بجٹ بناتی ہیں جس میں خرچوں یعنی اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا اور آمدنی کے ذرائع بیان کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی منصوبہ بندی میں یہ بیان ہوتا ہے کتنے خرچے ہونگے، کہاں کہاں ہونگے، کب ہونگے ۔اسی طرح یہ بھی بیان ہوتا ہے وسائل کہاں سے آئیں گے، کتنے وسائل ہونگے وغیرہ۔ بجٹ ایک طرح کی منصوبہ بندی ہے اور اسے ہم محدود معنوں میں اس ملک کی تقدیر یا پیمانہ یا تخمینہ کہہ سکتے ہیں یعنی تمام اخراجات اور آمدنی انہی دائروں میں رہے گی۔ اس را ت میں بھی اس سے بہت اعلی درجے کی منصوبہ بندی پیش کی جاتی ہے جو قوم، ملک، فرد، گروہ ،ادارے، زمین، آسمان، سیاروں اور ستاروں کے امور سے متعلق ہوتی ہے۔ اسی منصوبہ بندی اور تنظیم کو تقدیر کہا جاتا ہے۔
بہر حال ، خدا کے امور تو خدا ہی جانتا ہے ۔ ہمارا اندازہ اور قرآن کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ یہ معاملات کی چند مثالیں ہیں جن میں پلاننگ کی جاتی اور تقدیر یعنی پیمانہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اسی کو سورہ دخان میں کہا گیا کہ اس رات میں ہر کام کے لیے حکیمانہ فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔
فرشتے کون ہیں؟
شب قدر میں اللہ کے حکم سے روح الامین اور دیگر فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کی آسمانی حکومت کی ایڈمنسٹریشن کا کام اللہ تعالی فرشتوں سے لیتے ہیں۔ اللہ کی حیثیت اس ایڈمنسریشن کے چیف ایگزیکٹو یا حاکم اعلی یا بادشاہ کی ہے ۔ اللہ تعالی نے جس طرح یہ کائنات ایک منظم (Systematic/ Organized)اور سائنٹفک(Scientific) انداز میں بنائی اور چلائی ہے، اسی طرح منظم انداز میں اللہ نے اپنی آسمانی حکومت کو قائم کیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عزرائیل علیہ السلام موت کے فرشتے ہیں، اسرافیل سور پھونکنے کا کام کریں گے، میکائل نیچر یعنی قدرت کی قوتوں کا نطام خدا کے حکم سے چلاتے ہیں۔جبریل امین ان تمام فرشتوں کے ہیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب اگر ہم صرف حضرت عزرائل علیہ السلام کی مثال لے لیں تو ہم جانتے ہیں دنیا میں ایک وقت میں کئی لوگ مررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت رات کے دو بجے فرض کریں ایک شخص آسٹریلیا میں مررہا ہے تو کسی کا امریکہ میں دم نکل رہا ہے اور کوئی افریقہ میں زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عزرائل علیہ السلام رات کے دو بجے ان تینوں مقامات پر موجود ہوں۔ اس سے ایک نتیجہ آپ سے آپ نکلتا ہے کہ دراصل عزرائل ایک ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں جس میں ان کے ماتحت بے شمار فرشتے ہیں جو اللہ کے اذن سے جان نکالنے کا کام کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی آسمانی حکومت کے ماتحت اللہ نے مختلف ڈیپارٹمنٹ قائم کررکھے ہیں جن کو سمجھنے کے لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان میں موت دینے، رزق فراہم کرنے ، بارش برسانے وغیرہ جیسے کئی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں اور ان سب کے ہیڈ کی حیثیت حضرت جبریل علیہ السلام کو ہے۔اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے:
جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے ۔اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے (التکویر۲۰، ۲۱)
اس کے علاوہ فرشتے مختلف طاقتوں کے ہوتے ہیں جس کا ذکر سورہ فاطر میں موجود ہے۔
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(فاطر ۱:۳۵ )
اس آیت میں دو ، تین ، چار اور زیادہ پروں سے مراد فرشتوں کی طاقت ، مرتبہ اور قوت پرواز ہے۔ یہ فرشتے اپنے رتبے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے اللہ کے حکم کے مطابق مختلف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے ہیں۔
فرشتے کہاں ہوتے ہیں؟
قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ فرشتے تین درجات میں اپنا کام کررہے ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دنیا اور کائنات کا سسٹم سمجھنا ہوگا۔ ہماری یہ زمین ایک سیارہ ہے جہاں ارادہ و اختیار والی مخلوق انسان آباد ہے۔ یہ زمین ایک سیارہ ہے اور یہ سیارہ سورج کے گرد گردش کررہا ہے۔ سورج اپنی کہکشاں میں گردش کررہا ہے جس میں اربوں ستارے ہیں اور اس طرح کی اربوں کہکشائیں ہیں۔ ان تمام مادی کہکشاؤں کا اگر ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک آسمان ہے جسے سما ء الدنیا یعنی قریب کا آسمان کہا جاتا ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
اس آسمان سے اوپر تہہ بر تہہ چھ اور آسمان ہیں اور ان کی اپنی اپنی زمینیں ہیں اور عین ممکن ہے وہاں زندگی بھی موجود ہو۔اس کا ذکر سورہ طلاق میں موجود ہے:
اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے ‘ ’ تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے “ اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ‘(سورہ الطلاق ۱۲:۶۵)
گویا زمین کے اوپر سب سے پہلے اس دنیا کا آسمان ہے اور پھر اس کے اوپر مزید چھ آسمان۔ ان کے اوپر ایک اور دنیا ہے جسے ہم غیبی دنیا یا ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس یا ہائیر اسمبلی کہہ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے:
مجھے ملائے اعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے ۔( ص ۶۹:۳۸)
وہ ملااعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں ۔( الصافات ۸:۳۷)
یہ ملائے اعلی دراصل فرشتوں کی مجلس ہے جس میں غیر متعلقہ افرادکا داخلہ ممنوع ہے۔ اس فرشتوں سے اوپر ایک اور مقام ہے جہاں عرش الٰہی قائم ہے۔
وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوگیا عرش پر وہ رحمن ہے ! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے ۔( الفرقان ۵۹:۲۵)
یہ عرش ہر وقت فرشتوں سے گھرا رہتا ہے جو اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔
جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا (غافر ۲۴:۴۰)
اب معاملہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ سب سے نیچے ہماری زمین اور اس کے اوپر آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر مزید چھ آسمان ۔ کل ملا کر سات آسمان اور یہ مادی دنیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک غیبی دنیا ہے جس میں فرشتے ، جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق موجود ہیں۔ اس غیبی دنیا کے نچلے حصے[ ملاء اسفل] میں جنات کا بسیرا ہے اور اوپر کے حصے میں فرشتوں کا۔ فرشتوں کی سب سے اعلی مجلس یا اسمبلی کو ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس سے قرآن نے تعبیر کیا ہے۔ گویا یہ ایک ہائیر اسمبلی ہے اسی کو ملا ء اعلی بھی کہتے ہیں۔ اس میں ہر بڑے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ یا سربراہ موجود ہوتا ہے۔جیسے کائنات کی میکانی قوتوں کے سربراہ میکائل، دنیا میں وسائل و رزق کی نگرانی کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسرافیل، موت و زندگی سے متعلق نبٹنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عزرائل وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہ سب چونکہ خدا کے حکم اور اذن ہی سے کام کرتے ہیں اس لیے ان کی شمولیت کو شرک سمجھنا قرآن کے خلاف ہوگا۔
ملائے اعلی کے نیچے ایک زیریں اسمبلی بھی ہے جس کا مقام معلوم ہوتا ہے ہماری زمین کے آسمان سے اوپر ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
یہاں بھی فرشتے پہرہ لگائے موجود ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی جن اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے دھتکاردیتے ہیں۔ اس کا ذکر سورہ جن میں بھی موجود ہے:
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا ۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے ۔(سورہ جن ۷۲ آیات ۷ تا ۱۰)
ان آیات پر غور رکریں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فرشتے ملائے اعلی اور ملائےاسفل کی درمیانی سرحدوں پر پہرہ داروں کا کام کرتے ہیں ۔ان فرشتوں کی ہم سمجھنے کے لیے ملائے زیریں یعنی درمیانے لیول کی مجلس کہہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ فرشتے ملائے اعلی کے فرشتوں سے پیغام وصول کرکے نیچے زمین پر مامور فرشتوں تک پیغام پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان ٹاپ ڈاؤن (Top- Down)یا ڈاؤن اپ (Down-up)کمیونکیشن ہوتی رہتی ہے ۔ جب اللہ فرشتوں کو ہدایات دیتے ہیں تو اس کی ترتیب یوں بنتی ہے۔
خدا کا حکم = ملائے اعلی کے فرشتوں نے سنا= انہوں نے یہ آرڈر اپنے ماتحت فرشتوں کو لوئیر اسمبلی میں دیا = انہوں نے یہ حکم زمینی فرشتوں کو دیا ۔
اسی طرح جب نیچے سے معاملہ چلتا ہے تو یہی ترتیب ہوتی ہے یعنی زمین کے فرشتے، پھر ملائے زیریں ، پھر ملائےاعلی اور پھر عرش عظیم یعنی اللہ تعالی جن کی حیثیت اور پوری ایڈمنسٹریشن یا آسمانی حکومت میں چیف ایگزیکٹو کی ہے اور تنہااللہ کو ہی ہر قسم کا اختیار اور ویٹو پاور حاصل ہے ۔
چنانچہ جب آسمان سے زمین میں یہ آرڈر دا جارہا ہوتا ہے یا فرشتوں کی مجلس میں کوئی بات ڈسکس ہورہی ہوتی ہے تو جنات کونے کھدروں میں گھس کر گھات لگاکر سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ بات کی سن گن لے کر اپنی موکلوں کو بتادیتے ہیں۔ اسی پر ایک شہاب ثاقب کا گرز ان پر آکر پڑتا ہے اور یہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتوں کے نزول سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر جب کوئی حکم اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسی ہائی رارکی (Hierarchy)یا ترتیب سے آتا ہے ۔ اللہ حکم صادکرتے ہیں تووہ ملائے اعلی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو یہ حکم دیتے ہیں وہاں سے درمیانی مقام یا ملا ئے زیریں کے فرشتوں کو یہ حکم ملتا ہے اور آخر میں زمین پر موجود فرشتے اسے جب وقت آتا ہے تو نافذ (Execute)کردیتے ہیں۔
یعنی اب شب قدر کا معاملہ یوں ہے کہ :
۱۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ اس رات سے قبل اللہ کے حضور پیش کی جاچکی ہوتی ہے۔اس رپورٹ میں اگلے سال کی پلاننگ کے لیے تجاویز اور سفارشات بھی ہوتی ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے ہوتی ہیں۔
۲۔ اللہ تعالی اپنے لامحدود علم و حکمت کی بنیاد پر اس منصوبہ بندی کی تجاویز کو منظور کرتے اور ان احکامات کو آگے بتانے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔
۳۔ یہ منصوبہ بندی کے احکامات لے کر ملائے اعلی کے متعلقہ فرشتے ملائے زیریں یا قریب کے آسمان کے فرشتوں کے پاس آتے اور ان کو یہ منصوبے سونپتے اور سمجھاتے ہیں۔
۴۔ ملائے زیریں کہ فرشتے ان منصوبوں کو اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔ اور جب ان منصوبوں پر عملدآمد کا وقت ہوتا ہے اس وقت زمینی کارکنان کے سپرد کرتے رہتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟
شب قدر میں تمام بڑے بڑے فیصلوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کا وقت ہوتا ہے اس لیے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے کہاں اترتے ہیں؟ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ ایک اور شاذرائے یہ ہے کہ یہ فرشتے آسمان دنیا یعنی زمین کے آسمان پر جمع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ملائے اعلی اور ملائے زیریں کے تمام فرشتوں کی ایک بڑی مجلس یا میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ سمجھنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ پوری بیوروکریسی یا ایڈمنسٹریشن کی تمام منسٹریز اور ڈیپارٹمنٹس کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں تمام اہم اور متعلقہ فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ اس میں جبریل امین اور ان کا ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو کوآرڈنیشن کا کام کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس رات تمام متعلقہ فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ فجر تک موجود رہتے ہیں۔چونکہ ہر ملک میں ان کا منصوبوں کا تعلق اپنے علاقوں کے حساب سے ہوتا ہے اسی لیے شب قدر اگر مختلف جگہوں پر مختلف اوقات یا دنوں میں آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نیز شب قدر کی تاریخ کو اسی لیے متعین طور پر نہیں بتایا گیا کیونکہ یہ متعین ہوتی ہی نہیں۔ یعنی عین ممکن ہے کسی سال اللہ کی مشیت ہو کہ یہ فیصلہ سازی اور تنظیم رمضان کی اکیسویں شب میں ہو تو کبھی یہ تئیسیوں شب تو کبھی پچیس یا ستائس یا انتیسویں شب۔
ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس رات چونکہ ساری اہم بیوروکریسی زمین کے قریب موجود ہوتی ہےا ور اللہ کی خصوصی توجہ دنیا والوں پر ہوتی ہے تو یہ رات بہت اہم ہے۔ یہ ایک اصول ہے کہ اللہ تعالی جب بھی اپنا رسول کسی فرشتے یا انسان کی شکل میں دنیا پر بھیجتے ہیں تو جزا و سزا کے معاملات بہت تیز ہوجاتے ہیں۔ کسی حاضر رسول کے انکار کی صورت میں تباہی لازمی ہوجاتی اور اس پر ایمان لاکر اس کا اتباع کرنے کی صورت میں دنیا ہی میں کامرانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
یہی معاملہ شب قدر کا بھی ہے۔فرشتے خدا کے رسول یعنی بھیجے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔ اب سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ روبہ عمل ہوتا ہے کیونکہ ساریاہم ایڈمنسٹریشن قریب کے آسمان پر موجود ہوتی ہے اور فیصلہ پر اطلاق فوری طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس رات مانگی گئی دعاؤں کی خصوصی اہمیت ہے۔ اسی لیے اس رات کو ہزار مہینے سے بہتر رات کہا گیا ہے۔
اس رات میں بندے کو بھی اپنی گذشتہ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کھویا ، پایا، کیا گناہ کیا، کہاں شخصیت میں آلودگی کی اور آئیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ یہ وہ کام ہے جو خدا کے فرشتے کررہے ہوتے ہیں چنانچہ یہی وہ کام ہے جسے مغفرت مانگنا اور توبہ کرنا کہتے ہیں۔
اس رات کی مناسبت سے نوافل کے علاوہ جو کام اہم ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے کہ ہماری شخصیت نے ماضی میں خاص طور پر ایک سال میں کیا کیا کام کیے۔
۲۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سے اچھے کام تو جو کرنا لازم تھے اور نہیں کیے۔
۳۔ یہ دیکھا جائے کہ کون سے برے کام تھے جن سے بچنا لازم تھا اور ہم نہ بچ پائے۔
۴۔ ان کوتاہیوں کی وجہ تلاش کی جائے۔
۵۔ ان سے بچنے کا ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
۶۔ اللہ سے ان کی معافی مانگی جائے اور تلافی ممکن ہو تو اس کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
۷۔ یہی احتساب ، غور فکر، تدبر سب سے بڑی عبادت ہے جو فرض عین ہے۔
۸۔ اس رات میں نوافل کے درمیانی وقفے میں بیٹھ کر یہی کام کرنا چاہیے۔
۹۔ عین ممکن ہے کہ اس اخلاص کے ساتھ احتساب کی بنا پر اس تقدیروں والی رات میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لکھ دی جائے۔


سورہ القدر کا خلاصہ-ڈاکٹر محمد عقیل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ القدر کا خلاصہ-ڈاکٹر محمد عقیل
اے حق کے متلاشیو! تم چاہتے تھے کہ خدا تم سے مخاطب ہو تو جان لو، ہم نے ان خطبات کوتقدیروں والی اہم رات میں نازل کرنا شروع کیا۔ تم کیا جانتے ہو کہ یہ منصوبوں اور تدبیروں والی عظیم رات کیا ہے؟ اس بابرکت رات میں خدا وند عالم کے حکم سے قوموں کا مستقبل طے کیا جاتا ، وسائل کی تنظیم جاری ہوتی اور فرد کی زندگی ، موت، رزق اور دیگر امورکا حساب مقرر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ رات ماضی کی غلطیوں سے رجوع کرنے اور مستقبل کی خیر وعافیت مانگنے والوں کے لیے ہزار مہینوں سے بہتر را ت ہے۔ اس رات خدا کی ایڈمنسٹریشن کے فرشتے اپنے سربراہ جبریل امین کے ساتھ اترتے ہیں اور ان منصوبوں کو زمین پر وقت مقررہ پر نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس پوری رات میں خدا کے تکوینی امور کی منصوبہ بندی و تنظیم ہوتی ہے۔اسی لیے یہ رات آخرت کی منصوبہ بندی و تنظیم کرنے والوں کے لیے سراپا سلامتی اور امن دینے والی ساعتوں سے بھرپور شب ہوتی ہے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوجائے۔


سورہ الفلق کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الفلق کا خلاصہ
دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والوں سے کہہ دو ، رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو بتادو، کالے علم کرنے والے شیطانوں کو خبردار کردو، حسد کی آگ میں جلنے والوں کو سمجھادو کہ میں تو اپنے بچانے والے آقا کے قلعے میں

پناہ لے چکا ہوں۔ یہ اس حکمران کی پناہ کا قلعہ ہے جس کی حکومت ہر چاند ، سورج، زمین آسمان، رات دن سب پر ہے۔ یہ وہ پالنے والا ہے جو رات کی تاریکی کو چیر کر صبح کا کا اجالانمودار کرتا ہے۔
میں ہر نقصان پہنچانے والی شر کی تمام مادی قوتوں کے مقابلے میں اسی حاکم کی پناہ میں ہوں۔ میں اندھیرے آپڑنے والی مصیبت، بیماری، چوری، ڈاکہ زنی ، شب خون، لوٹ مار، تشدد، زنا ، شراب نوشی اور تمام برائیوں سے اسی کے مضبوط حصار میں ہوں۔ میں جادو ٹونے، کالے علم ،سفلی عمل، جھاڑ پھونک اور شیطانی عملیات جیسی تمام غیرمادی شرارتوں سے بھی اسی ہستی کی امان میں محفوظ ہوں۔
میں اس شخص کی سازشوں سے بھی خدا ئے رب ذوالجلال کی پناہ میں ہوں جو میری کامیابی سے جلتا ہے اور چاہتا ہے مجھ سے سب کچھ چھن کر اس کو مل جائے اور اگر اسے نہ ملے تو مجھ سے تو چھن ہی جائے۔وہ جو میرے نقصان پر خوش ہوتا اور خوشی پر افسردہ ہوتا ہے۔
بس اے دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والے شریرو! رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والی تاریکیو! شیطانی عملیات سے نقصان پہنچانے والے شیطانو! میری خوشیوں پر جل جانے والےنادانو! میں تو تمہارے ہر طرح کے شر سے اس پرورش کرنے والے کی حفاظت میں ہوں جس کی امان میں جب کوئی آجائے تو ساری مخلو ق بھی مل کر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ڈاکٹر محمد عقیل


سورہ الناس کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الناس کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
تم اپنے شرارت کرنے والے نفس سے کہہ دو، بہکانے والنے انسانوں کو بتادواور وسوسہ ڈالنے والے جنوں کو اعلان کردو کہ میں تم سب کے بہکاووں کے مقابلے میں تمام انسانوں کے پالنے والے کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ پناہ جو چٹانوں سے

زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ قوی ہے۔ و ہ پناہ جو بالکل محفوظ و مامون ہے، جس کے ارد گرد فرشتوں کے پہرے ہیں اور جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا بادشاہ ہے اور میرابادشاہ اپنے غلام کی حفاظت خوب جانتا ہے۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا معبود ہے اورمیرا معبود اپنے بندے کو بچانا خوب جانتا ہے ۔
میں اپنے آقا کی امان میں ہوں ہر اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو دلوں میں جنس ، فساد، حسد، بغض، عداوت، انتقام، مایوسی، الحاد ، بے چینی اور ان گنت منفی خیالات پیدا کرتا ہے۔یہ وہ دشمن ہے جو دوست بن کر وار کرتا ، دل ہی دل میں خیالات پیدا کرتا اور کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا ۔یہ دشمن جنات یعنی چھپی ہوئی طاقتوں کے روپ میں بھی ہے جو نظر نہیں آتا ۔ یہ دشمن شریر انسانوں کی شکل میں بھی ہے جواصلاح کے نام پر فساد پھیلاکر چلا جاتا ہے۔ یہ دشمن میرے نفس کی صورت میں بھی ہے جو خواہشوں کی ہوس میں غلط کام کرنے پر اکساتا ہے۔
پس سن لو ، تم سب مل کر بھی کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ میری پشت پر میرا بادشاہ کھڑا ہے اور وہی میری امان ہے، وہی میری پناہ کا حصار


روزہ ، رمضان اور قرآن


روزہ ، رمضان اور قرآن
ڈاکٹرمحمدعقیل
عام طور پر رمضان اور روزوں کے ذکر میں ہم مختلف لوگوں کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ روزہ کا فلسفہ کیا ہے ؟ رمضان میں کیا کرنا چاہیے؟ تقوی کیا چیز ہے ؟ وغیرہ۔ ان تمام باتوں کی بنیاد اکثر اوقات قران و سنت ہی ہوتے ہیں۔ البتہ

آج ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن نے جب روزوں اور رمضان کو بیان کیا تو اس کی پریزنٹیشن کی ترتیب اور فوکس کیا تھا۔
رمضان اور روزوں کا سب سے تفصیلی بیان قرآن میں سورہ البقرہ کی آیات ۱۸۳ سے لے کر ۱۸۷ تک ہے۔ ان پانچ آیات میں تفصیل سے رمضان اور روزوں کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
۱۔ سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ روزہ فرض کیے گئے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی روزے دیگر امتوں پر فرض کیے گئے ۔ یہ بتانے کا مقصدحوصلہ افزائی بھی ہے اور تنبیہہ بھی۔ حوصلہ افزائی اس پہلو سے ہے کہ پہلے بھی لوگ روزے رکھتے رہے ہیں تو تم بھی روزے رکھو اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ تنبیہہ یہ کہ چونکہ پہلے بھی لوگ رکھتے رہے ہیں اس لیے یہ کوئی عذر نہیں کہ بہت مشکل کام ہے ہم نہیں رکھ سکتے وغیرہ۔ جب وہ رکھ سکتے ہیں تو تم بھی رکھ سکتے ہو۔
۲۔ دوسری بات روزے کا مقصد بیان کیا گیا کہ اس کا اصل مقصد تقوی ہے۔ تقوی کے دو پہلو ہیں، ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ باطنی پہلو ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان خدا کا خوف رکھتا ، اس کا لحاظ رکھتا اور اس کی ناراضگی سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کا ظاہری طور پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنا عمل اس طرح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ خدا کی ناراضگی سے بچے۔ لیکن عمل درست کرنے کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ روزہ کے ذریعے نفس کو قابو رکھتا ہے تاکہ اپنی سوچ اور عمل خدا کی رضا کے مطابق کرلے۔
۳۔ آگے یہ بتایا گیا رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے انسانوں کے لیے کہ عالم کا پروردگار ان سے مخاطب ہے۔ چنانچہ اسی شکرگذاری کے جذبے کے تحت پوری امت مسلمہ پر رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تاکہ اس ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اللہ کی بڑئی بیان کی جائے۔ اسی لیے قرآن اور رمضان کا گہرا تعلق ہے۔ صرف زبانی طور پر الحمد للہ کہہ لینے سے یہ حق ادا نہیں ہوتا ۔رمضان میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ، سننا، ڈسکس کرنا اور اس پر عمل کرنا ہی دراصل اس شکرگذاری کا عملی اور حقیقی اظہار ہے ۔
۴۔ اس کے بعد مریض اور مسافرین کو چھوٹ دی جارہی ہے کہ وہ رمضان کے روزے بعد میں رکھ لیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اللہ نرمی چاہتا ہے سختی نہیں۔ ورنہ تو وہ تمام جہانوں کا رب اور حقیقی بادشاہ ہے جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔ وہ چاہتا تو دنیاوی بادشاہوں کے طرح سختی کا رویہ روا رکھتا، ان سے بدسلوکی کرتا، ان کو ہر طرح سے مشقت میں ڈالتا تب بھی کوئی اس سے پوچھنے والا نہ تھا۔ لیکن یہ اس کی شفقت و محبت ہے کہ ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں کا خیال رکھتااور بیماری و تکلیف میں اپنی شریعت وقانون ہی کو نرم کر دیتا ہے۔
۵۔ اگلی آیت دعا سے متعلق ہے۔ چونکہ رمضان کا اصل مقصد خدا ور بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے، اسی لیے اللہ کو پکارنے سے متعلق چند اصول بیان کردیے گئے ہیں۔ جب بھی بندہ خدا سے بات کرنا چاہتا، اس سے اپنا کوئی مسئلہ بیان کرنا چاہتا یااس کی جانب رجوع کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہیں نظر ہی نہیں آتا ۔ زیادہ سے زیادہ جو تصور قائم ہوتا ہے وہ یہ کہ خدا آسمان میں کہیں دور بیٹھا ہے۔یہ دوری کا تصور انسان کو زمین میں ان زمینی ہستیوں کو تلاش کرنے پر مجبور کردیتا ہے جو اس دور بیٹھے خدا تک اس کی بات پہنچا سکیں۔ یہی شرک کی ایک بڑی وجہ ہے۔چنانچہ پہلی بات اللہ نے بیان کی کہ میں دور نہیں بہت قریب ہوں، میں تو تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ میں تمہارے ساتھ موجود ہوں ، جب تم دو ہوتے ہو تو تیسرا للہ ہوتا ہے۔ جب میں اتنا قریب ہوں تو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ، براہ راست مجھ سے ہی بات کرو، مجھ سے اپنی امیدیں، مسائل، پریشانیاں ڈسکس کرو ۔
پھر یہ فرمایا کہ کوئی پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں براہ راست سنتا ہوں۔ یعنی خدا کا دربار ہر وقت ہر کسی کے سامنے موجود ہے جہاں خدا اپنے عرش پر جلوہ افروز ہے اور اس کے کارندے یعنی فرشتے ادب سے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ ہر انسان جب بھی چاہے اس دربار میں جاکر اپنی بات کہہ دے۔ نہ اسے لائن لگانی ہے ، نہ وزرا کو بادشاہ سے ملنے کے لیے رشوت دینی ہے ، نہ کسی اور تاخیر کا سامنا کرنا ہے۔
آگے یہ بھی فرمادیا کہ میں نہ صرف سنتا ہوں بلکہ جواب بھی دیتا ہوں۔ خدا جواب کس طرح دیتا ہے یہ ایک طویل موضوع ہے۔ البتہ خدا کسی کی پکار سننے کے بعد تین طرح کے فیصلہ کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ دعا یعنی درخواست کو من و عن مان لیا جائے، دووسرا یہ کہ اسے کچھ اعتراضات لگا کر واپس کردیا جائے، تیسرا یہ کہ اسے رد کردیا جائے قبولیت کی صورت میں فرشتوں کو اس پر عمل درآمد کا حکم ہوتا ہے اور دعا کی درخواست اپنی معینہ مدت پر پوری ہوجاتی ہے۔ اعتراضات لگاکر واپس کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ دعا میں ابھی مطلوبہ خلوص یا عمل کی کمی ہے اسے پورا کیا جائے۔ رد کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دعا مانگنے والے کے حق میں یہ دعا مناسب نہیں یا دعا کی مطلوبہ شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں۔ اس لیے اسے رد کردیا جاتا ہے۔ مانگنے والے کے لیے حکم ہے کہ وہ دعا کی عدم قبولیت کی صورت میں اپنی اخلاص اور عمل کا جائزہ لیتا رہے اور مطلوبہ کمی کو پورا کرکے دوبارہ دعا کرے۔ یہ بار بار مانگنا ہی تعلق باللہ کی مضبوطی ہے۔
آخر میں یہ فرمایا کہ جب میں سنتا بھی ہوں اور جواب بھی دیتا ہوں تو پھر مجھ پر ایمان یعنی یقین رکھیں اورا سی یقین کے بعد ہی وہ ہدایت پاسکیں گے۔ یعنی بات قرآن کی ہورہی تھی جو عالم کے پروردگار کی جانب سے ایک ہدایت ہے۔ لیکن بتادیا کہ درست راہ یقین کے بغیر ممکن نہیں۔ جس کو خدا کے قریب ہونے اور دعا قبول کرنے کا یقین نہیں تو اسے قرآن بھی ہدایت نہیں دے سکتا اور وہ یونہی وسیلہ تلاش کرنے میں سرگردا ں رہتا ہے۔
۶۔ آگلی آیت میں رمضان کی راتوں میں شوہر و بیوی کے تعلق کی اجازت دی جارہی ہے۔ اس سے قبل یہ بات واضح نہیں تھی کہ رمضان کی راتوں میں یہ تعلق قائم کرنا جائز ہے یا نہیں۔ اس لیے کچھ لوگ وضاحت سے قبل ہی یہ تعلق قائم کررہے تھے جسے اللہ نے خیانت سے تعبیر کیا ۔ نیز میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ ایسا لباس جو ایک دوسرے کی شرمگاہوں کی حفاظت کرے اور دنیا کے سامنے انہیں ظاہرہونے سے بچائے۔اور ساتھ ہی یہ لباس انہیں فیشن و عریانی کے بدلتے ہوئے موسموں کے منفی اثرات سے بچائے رکھے۔
البتہ اعتکاف کے وقت مردو زن کے تعلق کی نہ صرف نفی کردی بلکہ اسے اللہ کی حدود قرادے دیا۔ اعتکاف دراصل خدا اور بندے کے درمیان ایک پرائیویسی کا تعلق ہے۔ اس تعلق کے درمیان کسی اور شرکت گوار ا نہیں حتی کہ لائف پارٹنر کی بھی نہیں۔
خلاصہ
روزے کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ پہلی امت پر بھی فرض تھے تاکہ نفس کے سرکش گھوڑے کو قابو میں کرکے اسے خدا کی ظاہر وباطنی عبادت پر مجبور کیا جاسکے۔ رمضان میں چونکہ قرآن نازل ہوا س لیے روزہ رکھنے کی ایک اور وجہ شکر گذاری کا اظہار کرنا ہے اور یہ شکر گذاری قرآن کو رمضان میں خصوصی توجہ دے کر ہی ظاہر ہوسکتی ہے۔ رمضان کا ایک اور مقصد اللہ سے براہ راست تعلق قائم کرنا ہے اور خدا وہ بادشاہ ہے جس تک کوئی بھی اپنی بات کبھی بھی پہنچاسکتا ہے۔ تو رمضان کے مقاصد اللہ سے تعلق میں مضبوطی، قرآن سے گہرا تعلق ، شکرگذاری اور تقوی کا حصول ہیں۔ جس نے یہ پالیا اس نے سب کچھ پالیا۔ اور جو ان سے محروم رہا ، وہ نہ صرف جسمانی طور پر بھوکا پیاسا رہا بلکہ روحانی طور پر بھی بھوکا اور پیاسا ہی رہا۔


کیا خدا ہمیں مشکل میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے؟


کیا خدا ہمیں مشکل میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال :” اللہ کی محبت آزمائش، مصائب و آلام سے مشروط کیوں ہوتی ہے؟
جواب :یہ ایک غلط فہمی ہے۔ دنیا کی زندگی فرض کریں کہ سو دن کی ہے تو اس میں مصیبت و آلام کے بمشکل دس دن ہی ہونگے۔ باقی نوے دن یا تو خوشی ہوگی اور یا پھر نیوٹرل ۔

سوال :مذہب انسان کو روتا، تڑپتا اور سسکتا کیوں پسند کرتا ہے؟
جواب :مذہب انسان کو سسکتا دیکھان نہیں چاہتا بلکہ سسکیوں اور آہوں کے لیے ایک کندھا فراہم کرتا ہے۔ وہ ممالک جہاں مذہب نہیں ، سسکیاں ، آہیں اور رمصائب و آالم تو وہاں بھی ہیں۔ تو مذہب رونا تڑپنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا علاج دیتا ہے۔
سوال :جو پیدا ہی غریب، پسماندہ، معذور اور مفلس ہوا اس کا کیا قصور؟ اس کی کیا مزید آزمائش؟
جواب: امتحانی پرچہ میں سوالات مختلف ہوتے ہیں۔ کسی کے پرچے میں غربت تو کسی کے پرچے میں امارت۔ دیکھنے میں امارت بہتر لگتی ہے لیکن ایک مالدار شخص کی آزمائش بہت کڑی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ عیسی علیہ السلام نے رمادیا کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں تو جاسکتا ہے لیکن ایک متکبر مالدار جنت میں نہیں جاسکتا۔ باقی جو مفلس اور نادار اور معذور ہیں ان کا امتحانی پرچہ میں پہلے ہی ان کو گریس مارکس دے دیے گئے ہیں یعنی اگر وہ اس محرومی پر صبر کرلیں تو اسی پر جنت کے اعلی درجات کی بشارت ہے۔
دراصل ا س سارے معاملے کو ہم خدا کی جانب سے دیکھتے ہیں تو یہ سارے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ماں باپ بن کر دیکھیں تو بڑی عجیب بات ہے کہ یہ سارے کام کسی حد تک ہم اپنے بچوں کے ساتھ بھی کررہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب بچے کو چلنا سکھاتے ہیں تو اسے کھڑا کردیتے ہیں وہ گرتا ہے، لڑھکتا ہے ، سے چوٹ بھی لگتی ہے لیکن ہم اسے گرنے دیتے ہیں البتہ بڑی چوٹ سےبچالیتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو وہ کبھی چلنا نہیں سیکھ سکتا۔ ایسے ہی ہم اپنے بچوں کو خود امتحان سے گذارتے ہیں اور اس امتحان کا مقصد تنگ کرنا نہیں بلکہ اگلی کلاس میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ خدا کی جانب سے بھی جو آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں وہ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ انسان کو ایک اعلی سوسائٹی یعنی جنت میں رہنے کے لیے قابل بنانا اس ٹریننگ کا بنیادی مقصد ہے۔ جس طرح آرمی کی ٹریننگ ، مشقت، مشکلات اور کورسز کیے بنا کوئی فوج میں شامل نہیں ہوسکتا ، اسی طرح خدا کے ٹریننگ پروگرامز میں سے کامیابی سے گذرے بنا کوئی جنت کے قابل نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی سویلین بنا ٹریننگ کے فوج میں شامل کردیا جائے تو وہ اس سیٹ اپ میں رہ ہی نہیں سکتا اور ایک وقت آئے گا کہ اسے نکال دیا جائے گا۔ چنانچہ جنت میں کوئی ایسا شخص نہیں داخل ہوسکتا جو آلائشوں سے آراستہ ہو۔ اسی لیے جو مومن دنیا میں یہ تزکیہ کا عمل مکمل نہیں کرپاتے ان کے لیے عارضی جہنم ہے۔ یہاں اس کے بعض گناہوں کو سزا دے کر دور کردیا جاتا اور پھر اس کے جنت میں دخول کے امکانات ہوتے ہیں۔
یعنی دنیا کی ٹریننگ کے بعد تین آپشنز ہیں۔ اگر اس میں کامیاب ہوکر نفس کو پاک کرلیا تو جنت، پاک کیا لیکن کچھ آلائشیں لگی رہ گئیں جو نیکیوں کے مقابلے میں پچاس فی صد سے زائد تھین تو جہنم میں عارضی قیام اور پھر جنت۔ اور اگربرائیوں نے احاطہ اس طرح کرلیا تھا کہ پوری شخصیت ہی غلاظت کا ڈھیر تھی تو جنت میں لے جانے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں اور ابدی جہنم۔


سورہ اخلاص کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ اخلاص کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
پتھروں میں خدا تلاش کرنے والوں کو بتادو، بزرگوں کو معبودبنانے والوں کو سمجھادو، خدا کا بیٹا اور بیٹی ٹہرانے والوں کو جتادو ، عالم اسباب کو خدا سمجھنے والوں میں اعلان کردو کہ اللہ تو یکتا و یگانہ ہے۔ اس جیسی کوئی مثال ہی

نہیں ۔وہ ان سب باتوں سے بے نیاز ہے کہ اس کو بیوی کی حاجت ہو، اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو ، وہ کسی کا باپ بنے، وہ اپنے اختیارات پتھروں کو سونپ دے یا وہ اپنی قدرت بزرگوں میں بانٹ کر خود بے طاقت ہوکر بیٹھ جائے۔
پس اے مسیح کو خدا کا بیٹا بنانے والو سن لو، اس کی کوئی اولاد نہیں ۔ اے خدا کے خالق کا پتا پوچھنے والو جان لو، وہ تو ہمیشہ سے ہے تو اس کی کوئی ابتدا نہیں ۔پس وہ کسی کی اولاد بھی نہیں۔ یہ تمام پتھروں کے پتلے، عقیدت کے بت، چاند، ستارے، سورج ، انسان، فرشتے اور جنات سب اسی کی مخلوق ہیں۔ کوئی مخلوق کس طرح خالق کے ہم پلہ ہوسکتی ہے؟ تو خدارا اپنے ا ن خودساختہ مٹی کے بتوں کو توڑ دو، قبروں سے مانگنا چھوڑ دو، من پسند سفارشی پر بھروسہ ختم کرو، اسباب و علل کو خدا سمجھنا ترک کرو۔ کیونکہ وہ قدرت میں تنہا ہے،دینے میں یکتا ہے،خبرگیری میں یگانہ ہے ، اسباب سے ماورا و رمنفرد ہے اور اپنی ذات و صفات میں سب سے جد ا ہے۔


سورہ لہب کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ لہب کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
شان و شوکت والے متکبر اور خودسر ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ۔ اس کی سرداری ، اقتدار اور مددگار سب تمام ہوئے اور یہ خود بھی نامراد ہوا۔ اس کا مال ، دولت، عزت اور اعلی اسٹیٹس اور جو کچھ بھی اس نے ساری زندگی لگا کر

کمایا وہ اس کے کچھ کام نہ آیا۔
یہ سب کچھ چھن جانا اصل سزا نہیں بلکہ اس عظیم عذاب کی ابتدا ہے جب وہ اپنی جھوٹی انا، بے انتہا تکبر اور اخلاق سے عاری غلیظ وجود کے ساتھ شعلوں سے بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اور وہ یہاں تنہا نہیں ہوگا۔ اس کی وہ بیوی بھی اس کے ساتھ ہوگی جو اسے حق کی مخالفت کے لیے بھڑکاتی تھی، جو نبی کی ہجو کرتی تھی، جواس کے راستوں کو پرخار کرکے خوش ہوتی تھی۔ وہ دنیا میں شاندار ہار پہن کر خوش ہوتی تھی تو ہم اس کی عزت افزائی اس طرح کریں گے کہ اس کے گلے میں ایک رسی ہوگی جسے پکڑ کر جہنم کے داروغہ لیے پھریں گے۔
سورہ کا پس منظر
یہ سورہ قرآن کی واحد سورہ ہے جس میں کسی دشمن کا نام لے کر اس کی بربادی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورہ کس موقع پر نازل ہوئی ؟ اس پر عام مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ یہ نبوت کے ابتدا ئی زمانے میں نازل ہوئی جب ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بددعا کی۔ لیکن سورہ میں جس طرح جلالی انداز میں ابولہب کی مذمت کی گئی اور اس کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو اس سے علم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی زمانے کی سورہ نہیں۔
اتنی سخت زبان استعمال ہونے کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ ابولہب نے ایک عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برا سلوک کیا، آپ کو اذیت دی، آپ کی ہمسائگی کے باوجود آپ پر ظلم و زیادتی کی۔حتی کہ شعب بن ابی طالب میں بائیکاٹ میں یہی ابو لہب پیش پیش تھا جس کی بنا پر حضرت خدیجہ اور ابوطالب فوت ہوئے۔
اس ظلم و زیادتی میں ابولہب ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی بھی پیش پیش تھی جو نہ صرف اپنے شوہر کو نبی کریم کے خلاف بھڑکاتی ، بلکہ خود بھی آگے بڑھ کر اقدام کرتی تھی اور کبھی آپ کی راہ میں کانٹے ڈالتی تو کبھی گندگی۔ یہ دونوں میاں بیوی اس قدر اس دشمنی میں آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں میں یہی نفرت منتقل کی ۔ نبی کریم کی دو صاحبزادیاں ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کی منکوحہ تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ان دونوں بیٹوں نے بے دردی سے ان معصوم بچیوں کو طلاق دے دی اورنبی کریم سے بدزبانی بھی کی۔
گویا کہ پورا خاندان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف ذاتی دشمن تھا بلکہ ان کے مشن کا بھی مخالف تھا۔ اس مخالفت کے اسباب دیکھیں تو اس سورہ میں نمایاں ہیں۔ پہلا سبب تو مشرکانہ نظام کو معیشت کا مرکز سمجھنا تھا ۔یعنی ابو لہب کو علم تھا کہ اگر اسلام حاوی آجاتا ہے تو اقتدار اس کے ہاتھ میں نہیں رہے گا ۔ چنانچہ وہ پوری طاقت کے ساتھ اس مشرکانہ نظام کی حفاظت کرنا چاہتا تھا ۔
دوسری وجہ ابولہب کا مالدار ہونا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر لوگ تو غریب اور غلام طبقے سےتعلق رکھتے ہیں تواسے گوارا نہ ہوا کہ مسلمان ہوکر ان لوگوں کو اپنے برابر جگہ دے۔
بہرحال جب یہ سورہ ناز ل ہوئی تو اس کے بعد یہ پیشین گوئی مکمل طور پر پوری ہوگئی۔ ابوطالب کے انتقال کے بعد ابولہب سردار بنا اور اسی کی سرداری کے دور میں نبی کریم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینے ہجرت کرگئے۔ ایک سال بعد غزوہ بدر ہوئی جس میں مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ اس جنگ میں ابولہب نے شرکت نہ کی اور اپنی جگہ دو کرائے کے غلاموں کو بھیج دیا۔ کہتے ہیں کہ اس سورہ کی بنا پر اسے خوف تھا کہ وہ مارا جائے گا۔
غزوہ بدر اس سورہ کی تفسیر ہے۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹنے کا مطلب اس کی اصل اقتدارکی طاقت تھی جو مشرکین کے سرداروں کی حمایت کی بنا پر اسے حاصل تھی۔ غزوہ بدر ایک عجیب جنگ ہے جس میں قریش کی ٹاپ کی لیڈرشپ ختم ہوگئی ۔مارے جانے والے ۷۰ مشرکین میں سے کم و بیش سارے ہی سردار تھے۔ یہ اس سورہ کی پہلی آیت کی پیشین گوئی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ ابو لہب خود اس جنگ میں ڈر کے مارے نہیں آیا لیکن غزوہ بدر کے چند دنوں بعد وہ عدسہ یا چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور مرگیا۔
اس کی بیماری چونکہ چھوت کی بیماری تھی اس لیے اس کی اولاد سمیت کوئی اسے ہاتھ تک لگانے کو تیار نہ تھا کہ اسے دفن کرے۔ لیکن لوگوں نے اس کی اولاد کو غیرت دلائی تو انہوں نے چند غلاموں کوپیسے دیے جنہوں نے اس کی لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا۔ اس کا اس طرح مارا جانا دوسری آیت کی تشریح ہے کہ اس کے کام کچھ نہیں آیا نہ اس کا مال، نہ عزت، نہ اقتدار اور وہ اس ذلت آمیز طریقے سے گڑھے میں دھکیل دیا گیا ۔
اگلی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ تو حق کی مخالفت کرنے کا دنیوی عذاب ہے۔ آخرت میں وہ اور اس کی بیوی دونوں جہنم کی آگ میں ہونگے جہاں بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے ان کے منتظر ہیں۔
سورہ کا سبق
اس سورہ کا آج کے دور کا سبق امیر ، مالدار، عزت دار، شہرت والے اور اقتدار کے حامل لوگوں کے لیے ہے۔ جب بھی حق ان کے سامنے آتا ہے تو وہ کچھ تقاضے کرتا ہے۔ وہ انسان کو انا، تکبر اور تعصب چھوڑ کر عنزو انکساری، حق پرستی اور خدا کے حکم کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ تقاضا اس کے اقتدار ، ما ل اور دولت کی قربانی بھی مانگتا ہے۔ جو لوگ انا ، اقتدار اور دولت کی قربانی نہیں دیتے وہ بعض اوقات دعوت حق کے شدید مخالف ہوجاتے ہیں۔یہ سورہ اعلان کررہی ہے کہ ان کی مخالفت جتنی زیادہ بڑھتی جائے گی وہ انجام کے اعتبار سے ابولہب کے قریب ہوتے جائیں گے۔


سورہ الحدید آیت ۲۰ تا ۲۴ کا خلاصہ


سورہ الحدید آیت ۲۰ تا ۲۴ کا خلاصہ
دنیا جہان کی باتیں سمجھنے والو، ذرا یہ بھی جان لو کہ دنیا اور آخرت میں سے کونسی زندگی بہتر ہے؟ دنیا کی زندگی تو بچپن کے کِھیل تماشے، جوانی کی زینت و مقابلہ اور ادھیڑ عمر کی مال و اوالاد میں ایک دوسرے سے آگے نکل

جانے اور پھر مرجانے کا نام ہے۔ یہ ظاہری زندگی تو ایک حقیر پودے کی مانند ہے۔ جب بارش ہونے سے کونپل پھوٹتی ہے تو یہ وہی تمہار ا بچپن ہے جسے آخرت کے انکاری دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں ۔ پھر یہ فصل جوبن اور جوانی کو پہنچتی ہے پھر یہ زرد ہوکر ادھیڑ پن کو پہنچ جاتی ہے اور آخر میں یہ تمہاری طرح فنا ہوجاتی ہے۔ کھیتی تو فنا ہوجاتی ہے لیکن مرنے کے بعد تم فنا نہیں ہوگے۔ اگر تم نے خود کو حیوانی سطح سے اوپر نہ کیا تو آخرت میں اس بے پروائی کا انجام شدید عذاب ہے ۔ اور اگر تم نے خود کو اس دھوکے کی پرکشش مادی دنیا سے بلند کرلیا تو اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔
تو اس پرفریب حیوانی سطح سے دو ر بھاگو اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی جانب جو اس دنیا وی زندگی کی طرح محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ یہ جنت اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی یقین رکھنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند حقیقت نہیں ، اللہ کا ابدی فضل تو یہی جنت کی زندگی ہے جسے وہ اپنی چاہت اور حکمت سے میرٹ پر جس کو چاہے عطا کرتا ہے ۔اس کے فضل کا تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ وہ کتنا بڑا فضل کرنے والا ہے۔
البتہ جب تم اس پرفریب حیوانی زندگی سے اوپر اٹھو گے تو مشکلات پیش آئیں گی اور مصیبتیں بھی آپڑیں گی۔ تو جب بھی کوئی مصیبت آسمان سے طوفان یا تباہی کی شکل میں نازل ہو ، زمین میں زلزلے، سیلاب، قحط، شدید گرمی یا سردی کی شکل میں آئے یا تمہاری اپنی ذات میں کسی بیماری یا دکھ کی شکل میں نمودار ہو تو سمجھ لینا کہ امتحان کا وقت شروع ہوچکا ۔ یہ وہ امتحان ہے جو خدا نے اس کے نازل ہونے سے پہلے ہی مقرر کردیا اور لکھ دیا تھا اور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

اور اللہ نے تمہیں یہ سب اس لیے بتایا تم جان لو امتحان کے لیے دی گئی مصیبتیں اور نعمتیں اللہ کی جانب سے ہوتی ہیں۔ پس تم آفتوں کے آپڑنے پر مایوس ہوکر نہ بیٹھ جانا اور نہ ہی نعمتوں کے ملنے پر اترانے لگ جانا ۔ جس طرح مصبیتیں آزمائش کے لیے ہوتی ہیں تو نعمتیں بھی آزمائش ہی کے یے ہوتی ہیں۔ بس نعمتوں کا سبب محض اپنا فضل اور قابلیت نہ سمجھ لینا۔ اور اگر تم نے خود کو بڑا سمجھ لیا تو جنت کی منزل سے دور ہوجاوّ گے کیونکہ اللہ کسی متکبر کو پسند نہیں کرتا۔
اور جو کوئی اپنے مال، اولاد، علم ، جائداد یا حسن کا سبب محض اپنی قابلیت سمجھتا ہے تو وہ بخیل ور کنجوس بن کر خدا کے دیے گئے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے قول و فعل سے باقی لوگوں کو بھی اکساتا ہے کہ وہ بھی بخل کریں اور اللہ کی نعمتیں لوگوں میں تقسیم کرنے سے گریز کریں۔ درحقیقت وہ دوبارہ اسی حیوانی زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے جس سے اوپر اٹھنے کا اس نے فیصلہ کیا تھا۔ تو جو کوئی بھی حق کی راہ سے پلٹ گیا اور اللہ سے منہ موڑ لیا تو اللہ بھی اس سے بے نیاز ہے کیونکہ اللہ تو پہلے ہی اپنی صفات میں ایک مکمل اور لائق تعریف ہستی ہے۔

آیات کا ترجمہ ہے:
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھُس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان کام ہے
یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے۔
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20؀
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21؀
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ 22۝ښ
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23۝ۙ
الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24؀


مصیبت اور نعمت – سورہ الحدید کی روشنی میں


مصیبت اور نعمت – سورہ الحدید کی روشنی میں
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ الحدید کی چار آیات بہت خوبی سے انسانی کے امتحا ن میں اللہ کی جانب سے شامل کیے جانے والی مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں بتاتی ہیں کہ یہ مصیبتیں کیوں نازل ہوتی ہیں اور نعمتیں کون دیتا ہے؟ ان مصیبتوں پر کیا رویہ ہونا چاہیےاور نعمتوں کی شکر گذاری کیسے کرنی چاہیے ۔ انسان کس طرح حیوانی سطح سے بلند ہوکر خد ا کا قرب حاصل کرسکتا ہے/ سورہ الحدید کی یہ

چار آیات کا مجموعہ آیت ۲۰ سے شروع ہوتا ہے اور آیت ۲۴ پر ختم ہوجاتا ہے۔
بیسیوں آیت میں انسانی زندگی کا لائف سائکل ڈسکس ہوا ہے۔انسانی زندگی کا پہلا اسٹیج لہو و لعب یعنی کھیل تماشے کا ہے۔ یہاں بچپن کی زندگی مراد ہے جس میں انسان بچے کی صورت میں ہوتا اور ہر قسم کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوتا ہے۔ دوسرا اسٹیج زینت و تفاخر مرحلہ ہے یعنی جوانی کا دور۔ اب انسان میں ایک مقابلے کا رحجان پیدا ہوتا، وہ کیرئیر بناتا اور آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ تیسرا اسٹیج ادھیڑ عمر کا اسٹیج ہے جس میں عمومی طور جوانی کے مقابلے میں مال و الاد کی کثرت ہوتی ہے ۔ اس کے بعد بڑھاپا اور موت کا اسٹیج ہے جس کا ذکر نہیں کیا اور وہ حذف ہے البتہ اس کا ذکر آیت کے اگلے حصے سے واضح ہوجاتا ہے۔
انسانی زندگی کا یہ لائف سائکل بالکل نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لائف سائیکل سے ملتا جلتا ہے۔اسی لیے اگلے حصے میں بتایا کہ انسانی زندگی کے ان چار مراحل کی مثال پودوں کی زندگی میں گذرنے والے اسٹیجز کے مشابہ ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو نباتات کی زندگی کا پہلا اسٹیج شروع ہوتا یعنی بیج سے کونپل پھوٹتی ہے۔چنانچہ کفار یعنی آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے دنیا پرست اس مادی ترقی کو ہی واحد حقیقت سمجھ کر بے خوش ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ فصل لہلہاتی ہوئی کھیتی میں بدل جاتی ہے جو جوانی کی علامت ہے۔ اس کے بعد کھیتی پک کر زرد ہوجاتی ہے جو ادھیڑ پن کا اسٹیج ہے۔ آخر میں کھیتی کٹ جاتی ہے تو وہ بھس بن جاتی ہے یہ لائف سائکل کا آخری اسٹیج ہے۔
چنانچہ اس آیت کے پہلے سیٹ میں انسانی اور دوسرے سیٹ میں نباتاتی زندگی کا لائف سائکل بیان کرکے یہ واضح کردیا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ایک پودا بھی انہی مراحل سے گذرتا ہے جس سے انسان ۔ لیکن یہ تو مادی زندگی ہے جس کا انجام محض چند دن کی جوانی کی خوشی اور پھر پودے نے تو ہمیشہ کے لیے فنا ہوجانا ہے لیکن تم نے نہیں۔ تمہارا انجام یا تو مادیت سے اوپر نہ اٹھنے کی بنا پر شدید عذاب ۔ اور اگر تم نے خود کو اس دھوکے کی پرکشش مادی دنیا سے بلند کرلیا تو اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔چنانچہ اگر ابدی زندگی میں برے انجام سے بچنا ہے تو اس حیوانی سطح سے اوپر اٹھنا ہوگا۔
اگلی آیت میں یہ واضح کردیا کہ اگر اس مادی اور حیوانی سطح سے بلند ہوکر اٹھنا ہے ابدی زندگی اور ابدی جوانی و نعمت کے لیے بھاگ دوڑ کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے آخرت کی زندگی کو اصل مرکز بنانا ہوگا۔ تو پھر تم لوگ حیوانی سطح سے اوپر اٹھو اور دوڑو اس مغفرت اور جنت کی جانب جس کی وسعت زمین اور آسمانوں کے برابر ہے۔ یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو حق کی دعوت پانے کے بعد کے بعد اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور رسول پر یقین رکھتے ہیں۔ اور یہ اللہ کا وہ فضل ہے جو وہ اپنی حکمت سے اس کو دیتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ یعنی حیوانی زندگی میں تو سب کو بلاتخصیص ملتا ہے یہاں انسان کو اس کے ایمان و عمل کے مطابق ملتا ہے۔
اگلی آیت میں ہے کہ جو آپڑنے والی پڑ جاتی ہے۔ یہاں لفظ ” اصاب ” استعمال ہوا ہے جس کا مطلب مصیبت نہیں بلکہ پڑجانے والی یا نازل ہوجانے والی ہے۔ یہاں پڑجانے والی سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی یعنی من جانب اللہ کوئی بھی تدبیر ہوسکتی ہے۔ تو جب بھی کوئی پڑجانے والی مصیبت [یا نعمت ] آ پڑتی ہے تو خواہ وہ آسمانوں سے نازل ہوئی ہو یا زمین سے وارد ہوئی ہو یا تمہارے اپنے نفس میں ظاہر ہوئی ہو، یہ سب کچھ ان کے نزول سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھا ہوا ہےاور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
یہاں اگر غور سے دیکھیں تو اللہ تعالی یہ فرمارہے ہیں کہ انسان جب حیوانی زندگی کے سائکل سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اب اسے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جب تک وہ اپنی خواہشات کی رو میں پستیوں میں گرتا چلا گیا تو اسے کوئی دقت نہیں تھی کیونکہ اس نے خود کو پستیوں میں گرنے کے لیے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن جب وہ اس سطح سے اٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے قول اور ایمان کا ٹیسٹ بھی دینا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس پر آسمان سے بھی مصیبتیں نازل ہوسکتی ہیں اور زمین سے بھی۔ یہ مصیبتیں یوں تو ہر ایک پر نازل ہوتی ہیں خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن۔ لیکن مومن کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ یہ وہ مصیبتیں ہیں جو مقرر ہیں اور اس میں انسان کا کوئی بہت زیادہ براہ راست کردار نہیں۔
جو مصیبتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں ان میں طوفان، بجلی کا گرنا ، شدید بارش، بے انتہا گرمی یا سردی، برفباری وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ وہ مصبیتیں جو زمین سے وارد ہوتی ہیں ان میں سیلاب، زلزلہ، وبا، قحط یا قدرت کی جانب سے کوئی بڑا اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے ۔مصیبتوں کی تیسری قسم اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی نوعیت کی ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی عزیز کا فوت ہوجانا، کسی بیماری کا آجانا، کسی حادثے کا ہوجانا، کسی مصیبت میں پھنس جانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔
بہرحال مصیبتیں کسی بھی نوعیت کی ہوں، اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ مصیبتوں کی وہ قسمیں ہیں جن کے نزول میں انسان کا کوئی براہ راست کردار نہیں ہوتا۔چنانچہ وہ مصیبتیں جو انسان کے اپنے اعمال کی بنا پر آتی ہیں وہ یہاں کسی طور زیر بحث نہیں۔
یہ معاملہ صرف مصبیتوں ہی کا نہیں بلکہ نعمتوں کا بھی ہے۔ یعنی یہ وہ براہ راست آسمان سے نازل ہونے والی نعمتیں یا زمین میں پید ا ہونے والے وسائل ہیں جو سرتاسر اللہ کی جانب سے آتے ہیں ۔یعنی جو مصیبتیں اور آلام اوپر بیان کیے گئے ہیں اگر ان کی نفی ہوجائے تو یہی ٹلنے والی مصیبت نعمت میں بدل جائے گی۔ مثال کے طور پر آسمان سے رحمت کی بارش کا ہونا ، پھلوں کا اگنا، فصل کا آنا، رزق کا بڑھ جانا، موسم کا موافق ہوجانا، زلزلہ ، سیلاب ، قحط اور بلاوّں کا ٹل جانا اور بیماریوں کا آنے سے پہلے ہی دور ہوجانا وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کا کوئی بالواسطہ رول نہیں۔
ان سب مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں بتادیا کہ یہ سب کچھ پہلے ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب کیا ہے؟ جدید سائنسی تحقیق کے بعد اس بات کو جزوی طور پر سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ہم آج جین کی تحقیق کو جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ڈی این اے کوڈ بہت کچھ لکھا ہوتا ہے۔ یہ وہ انفارمیشن کوڈ ہے جسے ہم کتاب کے ایک پہلو سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ہمارے ڈین این اے میں لکھا ہوتا ہے کہ ہماری شکل ، صورت، رنگت ، قد وغیرہ کیا ہوگا؟ ہمیں کو ن کون سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اس کا مزاج ، عادات و اطوار کیسے ہونگے وغیرہ۔چنانچہ جب اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہے تو ڈی این اے کوڈ اس عظیم کتاب کا حصہ ہے جو انسانی نفس سے متعلق تقدیریعنی پیمانے کو بیان کرتا ہے۔
اس عظیم کتاب یعنی کے کچھ حصے ایسے ہیں جس میں کائنات پر نازل ہونے والی مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں لکھا ہوا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقدیر کا تعلق ڈی این اے کی کوڈنگ سے ہو یا آسمان کے دیگر قوانین سے، انسان کا اخلاقی وجود اس تقدیر سے بالکل آزاد ہے۔ یعنی ڈی این کی کوئی کوڈنگ آج تک دریافت نہیں ہوئی کہ جس کی بنا پر انسان مجبور محض ہوگیا ہو کہ اس نے ہر صورت میں شر کرنا اور خیر سے گریز کرنا ہے۔ یعنی انسان کے لیے یہ تو مقرر کردیا گیا کہ اس کے ماں باپ کون ہونگے لیکن یہ مقرر نہیں کیا گیا کہ اس نے ایک برا انسان ہی بننا ہے۔
اب آگے کی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ نے یہ بات تمہیں کیوں بتائی کہ یہ آسمانی مصیبتیں اور نعمتیں اللہ نے کیوں مقرر کرکھی ہیں۔ اس لیے کہ اگر کوئی اس نوعیت کی مصیبت تم پر نازل ہو تو اس پر تم مغموم و مایوس ہوکر ہی نہ بیٹھ جاوّ اور ہمت ہار بیٹھو۔ تمہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ تو اس آزمائش کا لازمی حصہ ہے جو حیوانی سطح سے اٹھنے کے لیے لازمی طور پر کامیابی سے جھیلنی ہوتی ہے ۔ تو اب یہ مصیبت تم پر آسمان سے آئی ہے جس میں تمہار ا کوئی قصور نہیں لیکن یہ آزمائش ہے۔ اس پر صبر کرلو تو جنت کی شہریت کی درخواست دینے کے اہل بن جاوگے۔
جس طرح مصبیتیں آسمان سے آتی ہیں تو نعمتیں بھی آسمان ہی سے آتی ہیں۔ تو اگر تمہیں نعمتیں مل جائیں تو ان سبب بھی اپنی تدبیر، عقل ، ذہانت یا قابلیت نہ سمجھنا بلکہ انہیں بھی من جانب اللہ ہی ماننا۔ اس سے تمہیں حقیقت کا ادراک رہے گا ور تکبر نہیں پیدا ہوگا۔ اور اگر تکبر پید ا ہوگیا تو جنت میں داخلہ ممکن نہیں کیونکہ اللہ متکبر کو قطعا پسند نہیں کرتے۔
آگے ان متکبروں کی ایک اہم صفت بیا ن کردی کہ یہ لوگ چونکہ مال ، دولت، اولاد، جائدا د اور علم کے ملنے کی وجہ اپنی قابلیت سمجھتے ہیں تو پھر یہ اس نعمت کو بھی دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر یہ مال و دولت میں سے خرچ ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، پھر یہ علم ملنے کے بعد لوگوں کو حقیر جانتے اور پوچھنے والے کی تحقیر کرتے اور اسے اپنا علم شئیر کرنے سے بلاوجہ گریز کرتے ہیں۔ اور چونکہ یہ سوسائیٹی کے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو یہ اپنے رویے سے باقی لوگوں کے لیے بھی بخل اور کنجوسی او ر وسائل پر قابض ہونے کا رول ماڈل بنادیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ پلٹ گئے ہیں دوبارہ اسی حیوانی زندگی کی جانب۔ تو یہ پلٹ جائیں تو خدا بھی ان حیوانی زندگی کے شوقین لوگوں سے بے نیاز ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی تمام اچھی صفات والا ہے اور وہ کسی کی اطاعت و عبادت کا محتاج نہیں۔
آیات کا ترجمہ ہے:
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھُس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان کام ہے
یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے۔
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20؀
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21؀
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ 22۝ښ
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23۝ۙ
الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24؀


سورہ المنافقون کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ المنافقون کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
جب یہ دھوکے باز منافق تمہاری محفلوں میں آتے ہیں تو تمہاری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو۔ ان کی جھوٹی گواہی کے جواب میں اللہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں اور یہ تمہیں دل سے رسول نہیں مانتے

۔
یہ اپنے غلط کرتوتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے اور غلط سلط گواہی دیتے ہیں تاکہ اللہ کی سیدھی راہ سے لوگوں کو دھوکا دے کر بھٹکا دیں۔ انہیں پتا ہی نہیں کہ یہ کتنا برا کام کررہے ہیں جو ان کے اپنے لیے بھی تباہ کن ہے۔
یہ ایسا اس لیے کررہے ہیں کہ پہلے تو یہ بحالت مجبوری ایمان لائے ۔اور جب ان کو اس ایمان کے تقاضے پورا کرنے کو کہا گیا تو انکار کردیا۔اس سے ان کے ظاہر وباطن میں تضاد پیدا ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے گناہوں کی سیاہی نے ان کے دل کو پوری طرح گھیر لیا اور اس پر مہر لگ گئی۔ اب یہ حق کو سننے ، دیکھنے، جاننے ور ماننے کی صلاحیت کھوبیٹھے ہیں۔
ان کا ظاہر ی حال تو ایسا ہے کہ تم ان کی شکل و صورت ، جسم اورچال ڈھال دیکھو تو شاندارشخصیت کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاؤ۔ اگر یہ لوگ بولنا شروع کریں تو ان کی لفاظی اور جوش خطابت کو سحر زدہ ہوکر سنتے ہی چلے جاؤ۔ لیکن یہ تو لکڑی پر بنے نقش و نگار کی مانند ہیں جو دیکھنے میں نہایت حسین ہیں لیکن اندر سے بے روح اور بے جان ۔ یہ خوف کے مارے تمہاری بات چیت کرنے تک کو سمجھتے ہیں ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔ ان کی ظاہری شخصیت اور باتوں سے متاثر نہ ہوجانا، یہی اصلی دشمن ہیں، تو ان سے محتاط رہ کر بچتے رہنا اور ہوشیا رہنا۔عنقریب اللہ انہیں ہلاک کرے گا خواہ یہ بھاگ کر کہیں بھی چلے جائیں۔
ان کے نفاق کا اصل سبب تکبر ہے۔ جب ان سے کہاجاتا ہے کہ چلو جو ہوا سو ہوا، اب ماضی کو بھولو اور توبہ کرنے کے لیے چلو اللہ کے رسول کے پاس تاکہ وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں تو وہ تکبر سے اپنا سرجھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ معافی مانگنے سے رک جاتے ہیں کیونکہ و ہ اپنی اکڑ اور جھوٹی انا کو نہیں چھوڑنا چاہتے۔
اب وہ جس مقام پر پہنچ گئے ہیں تو اے نبی تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے اور اللہ بھی ان معافی نہ مانگنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا کیونکہ اللہ اس قسم کے متکبر اور انا پرستوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔
ان کے تکبر کا سبب مال ، اولاد اور اسٹیٹس ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ زمین کے خزانوں کے مالک یہی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا اور ان کو مالی امداد دینا بند کردو تاکہ یہ لوگ غریب اور نادار ہوکر رہ جائیں اور ہماری حکومت دوبارہ مدینے پر قائم ہو جائے۔یہ بے وقوف نہیں جانتے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام دولت اور وسائل کا اصل مالک تو اللہ ہے ۔ یہ خود کو ہی عزت دار سمجھتے اور تمہیں حقیر گردانتے ہیں۔ تو یہ جنگ سے واپسی پر اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ "اب ہم ہی مدینے میں رہیں گے کیونکہ ہم عزت والے ہیں اور اب ہم ان حقیر و نادار مسلمانوں کو نکا ل باہر کریں گے۔” یہ نادان جان ہی نہیں سکتے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ ہے اور اس نے یہ عزت اپنے رسول اور اپنے اوپر ایمان رکھنے والوں کے لیے خاص کررکھی ہے۔
تو اے(آج کے ) مسلمانو، سن لو، ان منافقین کی گمراہی کی وجہ تکبر اور انا پرستی ہے اور یہ گھمنڈ ان میں مال ، اولاد اور وسائل کی کثرت کی بنا پر آیا ہے۔ تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا شاندار مکان ، کار، بنک بیلنس، موبائل، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ، کپڑوں کی چمک دمک ، کھیت کھلیان، اعلی ڈگریاں، علم و فن کی مہارت،اولاد کی طاقت ، ماں باپ کی جائداد، بیوی یا شوہر کی شان و شوکت تمہیں خدا کی یاد سے غافل کردیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سب کچھ تم کو اس پرفریب تکبر میں مبتلا کردیں کہ یہ سب کچھ تمہارا ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ خدا کا ہے جو اس نے تمہیں کچھ وقت کے لیے امانت کے طور پر دیا ہے۔ تو اگر تم نے یہ سمجھا تو تم بھی ان مدینے کے منافقین کی طرح نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاوگے کہ ان کی دنیا بھی برباد ہوئی اورو آخرت بھی ہاتھ سے گئی۔
اس نفاق کے مرض سے اگر بچنا چاہتے ہو تو جو مال ہم نے علم ، صحت، وقت ، رقم یا کسی اور شکل میں تمہیں دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرواتنا خرچ کرو کہ اس کی محبت تمہارے دل سے نکل جائے۔ اور ہاں، جلد خرچ کرو اس سے قبل کہ موت آدھکمے اور تم یہ کہنے لگو کہ اے رب ، تو ہمیں اور مہلت دیتا تو ہم خرچ کردیتے۔ یاد رکھو جب موت کا وقت آتا ہے تو تو کسی کو مہلت نہیں دی جاتی اور اللہ جانتا ہے کہ تم موت سے پہلے کیا کیا کرتے رہے ۔


نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟


نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
نفاق کا مرض اتنا اہم ہے کہ قرآن نے اسے خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ سورہ بقرہ جو قرآن کی دوسری ہی سورہ ہے اس کے دوسرے رکوع میں ہی منافقین کا ذکر ہے اور ان کی کچھ خصوصیات بتائی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن نے جگہ جگہ منافقین کی جانب اشارہ کرکے ان کی نفاق کی علامات، اس کی وجوہات اور اس کا

علاج بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ توبہ، الحجرات ، سورہ احزاب اور سورہ حدید میں خاص طور پر منافقین کو خطاب کیا گیا ہے۔ آخر میں سورہ المنافقون میں تو سورہ کا نام ہی منفافقون رکھ کر اس اہم نفسیاتی مرض کی چند علامات، اسباب اور ان تدارک بیان کردیا جس کی تفصیل پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں نفاق کو مدینے کے منافقین کے ساتھ خاص کرکے اسے ایک ماضی کا قصہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ نفاق کا ہماری سوسائٹی سے کفر اور شرک سے بھی زیادہ تعلق ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارے ہاں اس بات کا امکان تو بہت ہی کم پایا جاتا ہے کہ ہم میں سے کوئِی علی الاعلان شرک کا کفر کا اظہار کرے۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر خدا کی توحید کی گواہی دے اور توحید کے تقاضوں پر عمل نہ کرے، وہ رسول کو مانے تو صحیح لیکن اس کے حکم سے روگردانی کرے، وہ قرآن کو خدا کی کتاب تو مانے لیکن کتاب میں جو لکھا ہے وہ پورا کا پورا نہ مانے ۔اپنے اندر کے ممکنہ نفاق کو جاننا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔
دوسری جانب نفاق خدا کو شدید ناپسند ہے یہاں تک کہ منافقین کے بارے میں قرآن میں بتادیا کہ یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے(سورہ النسا ء آیت ۱۴۵)۔ اس تناظر میں ہمیں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیےکہ کیا نفاق کیا ہے، اس کی کیا علامات ہیں، اس کے اسباب کیا ہیں اور اس مرض سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے؟ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم یہ سب اس لیے نہیں سیکھیں کہ ہمیں دوسروں کو منافق ثابت کرنا یا ان پر ان کے نفاق کو واضح کرنا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم سب سے پہلے اپنے اندر اس مرض کا جائزہ لیں اور بار بار لیتے رہیں ۔ کسی دوسرے کے نفاق بارے میں ہم صرف اسی وقت بات کریں جب وہ ہم سے دریافت کرے اور یا کوئی انتظامی یا معاشرتی مسئلہ درپیش ہو۔ اس تمہید کے بعد اب ہم نفاق پر کچھ گذارشات پیش کررہے ہیں جو سوال جواب کی صورت میں مختصرا بیان کی جارہی ہیں۔
سوال ۱۔ نفاق کیا ہے؟
جواب۔ نفاق قول اور فعل میں تضاد کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک شخص جو بات زبان سے کہے یا دوسروں سے جس بات کی توقع کرے اس پر استطاعت کے باوجودعمل نہ کرے۔ اس کی مثال مذہبی تناظر میں تو واضح ہے کہ ایک شخص کلمہ پڑھ لے لیکن خدا کو معبود کہنے کے باوجود اس کی اطاعت نہ کرے اور مسلسل نماز، روزہ حج، زکوٰۃ، زنا، شراب، جھوٹ جیسے گناہوں میں ملوث رہے۔ دوسری مثال سماجی ہے کہ ایک شخص لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کرے اور خود ان باتوں پر عمل نہ کرے۔ وہ فیس بک پر اچھی پوسٹیں لگائے لیکن اس کا عمل اس کے برخلاف ہو، وہ لمبے لمبے آرٹیکلز لکھے لیکن خود ان کی تعلیمات پر عمل نہ کرے ، وہ لوگوں کو سادگی کی تعلیمات دے لیکن خود پرتعیش زندگی گذارے ، دنیا بھر پر تنقید کرے اور خود کو ان معاملات میں کھلی چھوٹ دے دے وغیرہ۔
سوال نمبر ۲: کیا ہر قسم کی بے عملی نفاق ہے؟
جواب۔ نہیں ایسا نہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کسی بات کو دل و جان سے مانتا اور اس پر عمل کرنا چاہتا ہے لیکن قوت ارادی کی کمی کی بنا پر وہ عمل نہیں کرپاتا لیکن وہ دل سے ضرور براجانتا اور اسے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کو ہم نفاق تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ رویہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو نفاق بن سکتا ہے۔ مثال کے طور ایک شخص فجر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے لیکن نیند کی زیادتی کی بنا پر اٹھ نہیں پاتا تو ایسا کبھی کبھی تو گوارا ہے لیکن اگر کسی نے اپنا معمول ہی بنالیا ہو تو یہ رویہ نفاق کی جانب لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
سوال نمبر ۳: کیا منافقت صرف مذہبی معاملے میں ہی ممکن ہے یا اس کا دائرہ کار وسیع ہے؟
جواب: منافقت ایک نفسیاتی رویہ ہے اور یہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں ہوسکتا ہے۔ ایک شخص ضروری نہیں کہ کسی ایک میدان میں نفاق کا شکار ہو تو وہ باقی معاملات میں بھی نفاق کا شکار ہو۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے ایک شخص مذہبی طور پر نفاق کا شکار نہ ہو لیکن سماجی معاملات میں قول و فعل کے تضاد کا شکار ہو۔ وہ اپنے بچوں کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرتا ہو اور خود ان کے سامنے جھوٹ بولتا ہو۔ وہ لوگوں کو کرپشن سے بچنے کی تلقین کرتا ہو اور خود ہی کرپشن کا شکار ہو، وہ لوگوں کو والدین سے حسن سلوک کا کہتا ہو اور خود اس کا رویہ اپنے والدین سے برا ہو، وہ دیانت داری کا تقاضا کرتا ہو اور خود دفتری اوقات پورے نہ کرتا ہو ، وہ دوسروں سے توقع کرتا ہو کہ غریبوں کی مدد کریں لیکن خود ایک پائی بھی جیب سے نہ نکالتا ہو۔
سوال نمبر ۴: منافقت کی کیا علامات ہیں؟
منافقت کی علامات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔ سب سے پہلی علامت تو قول و فعل میں تضاد ہے یعنی جو زبان سے کہے یا لوگوں سے توقع کرے خود اس پر استطاعت کے باوجود عمل نہ کرے۔ البتہ چند اور علامات یہ ہیں:
۱۔ جھوٹ بولنا۔ چونکہ انسان قول اور فعل کے تضاد کا شکار ہوتا ہے یعنی جو وہ بولتا ہے تو وہ کرتا نہیں۔یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے ۔ تو پہلی علامت یہی ہے کہ قول و فعل کا تضاد ہونا۔جتنا زیادہ نفاق ہوگا اتنا زیادہ جھوٹ کا عنصر گفتگو میں بڑھتا جائے گا ۔
۲۔ وعدہ خلافی کرنا۔ اپنے قول پر عمل نہ کرنا دراصل اپنے ہی ساتھ وعدہ خلافی کرنے کی علامت ہے۔ چنانچہ ایک شخص جس میں نفاق جتنا زیادہ ہوگا وہ اتنا ہی وعدہ خلاف ہوگا۔
۳۔ امانت میں خیانت کرنا۔ چونکہ ایک شخص اپنے قول کی امانت کا پاس نہیں رکھ پاتا اس لیے وہ دوسروں کی امانت کا بوجھ بھی نہیں اٹھاپاتا۔
۴۔ جھگڑالو ہونا۔ ایک منافق شخص کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصل شخصیت کو لوگوں سے چھپائے۔ چنانچہ جب وہ شخصیت یا اس کا کوئی پہلو سامنے آجاتا ہے اور اس پر تنقید ہوتی ہے تو وہ بات کو گھمانے کی کوشش کرتا ہے اور جب اس میں ناکام ہوجاتا ہے تو آواز بلند کرکے جھگڑا کرتا اور بات کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
سوال نمبر ۵۔ ہمیں کیسے علم ہو کہ ہم مذہبی نفاق کا شکار ہیں؟
جواب : سب سے پہلے تو یہ جان لینا چاہیے کہ نفاق کا ٹیسٹ دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک عمومی حالات میں اور ایک خصوصی حالات میں۔ عمومی حالات میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دین کے جو بنیادی تقاضے جس میں نماز ،روزہ، حج ، زکوٰۃ، اسراف، بخل، نکاح و طلاق اور دیگر احکامات کے بارے میں دین کے احکامات پر عمل پیرا ہیں یا نہیں۔ اگر ہاں تو کس حد تک اور نہیں تو کس حد تک ۔ اگر ہمارا عمل ان تقاضوں پر عمل پیرا ہونے سے قاصر ہو تو جان لینا چاہیے کہ نفاق کے جراثیم موجود ہیں۔
اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اخلاقی معاملات میں کیا ہم دین کے تقاضے پورا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔ کیا ہم ماں باپ، بیوی بچے، رشتے دار اور دوست احباب سے ویسا ہی اچھا رویہ رکھتے ہیں جس طرح کا اچھا رویہ ہم ان سے ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو اخلاقی معاملات میں ہم نفاق کی جانب جارہے ہیں کیونکہ ہم زبان سے اور اپنے ایکشن سے تو کہتے ہیں کہ اچھا سلوک کرنا چاہیے لیکن جب خود ہم پر پڑتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
سوال نمبر۶: خصوصی حالات کے نفاق سے کیا مراد ہے؟
جواب : انسان عمومی حالات میں تو بہت شریف بن کر رہتا اور ایمان و اخلاق کے تقاضوں پر عمل کرتا ہی ہے ۔ چنانچہ اس کے باطن کے کھوٹ کو نمایاں کرنے کے لیے بعض اوقات اللہ تعالی خصوصی حالات پیدا کرتے ہیں جس سے اس کی اصل شخصیت سامنے آجاتی اور اندر کا نفاق ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص عام حالات میں بڑا مہذب ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن ٹریفک میں پھنستا ہے تو گالیاں بکنے لگ جاتا ہے۔ کوئی تنقید کرے تو بھڑک اٹھتا ہے وغیرہ۔ یا ایک شخص عام حالات میں تو خدا کی بندگی کا پابند رہتا ہے لیکن کوئی مصیبت آپڑے تو خدا کو دل ہی دل میں برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے۔ ایک شخص عام حالات میں تو ماں باپ سے احسان کرنے کے دعوے کرتا ہے اور جب ماں باپ کی جانب سے کوئی سخت لیکن قابل عمل تقاضا آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ خصوصی حالات کا نفاق ہے جس سے کامیابی سے گذرنا کافی مشکل کام ہے۔
سوال نمبر ۷۔ نفاق کے کیا اسباب ہیں؟
مختلف نفاق کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ کم ہمتی ۔ ایک شخص یا گروہ کسی سے شدید اختلاف رکھتا ہے لیکن کم ہمتی کی بنا پر اس اختلاف کو بیان نہیں کرپاتا تو وہ بظاہر ان سے اچھا رویہ رکھتا اور دل میں بغض یا نفرت رکھتا اور نفاق کا شکار ہوجاتا ہے۔
۲۔ حسد، نفرت، بغض۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص یا گروہ کی کی ترقی سے جلتا ہے تو اس کے دل میں شدید حسد پیدا ہوتا ہے۔ اس کی مثال مدینے میں عبداللہ بن ابی کی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداری کو دل سے تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔
۳۔ تکبر۔ نفاق کی ایک اور وجہ تکبر ہے۔ جب کوئی گروہ یا شخص آگے بڑھتا ہے تو ایک متکبر شخص اس کو دیکھ کر یہ خیال کرتا ہے کہ یہ ترقی تو مجھے ملنی چاہیے کیوں کہ میں زیادہ قابل ہوں، میرے پاس زیادہ مال، اولاد، بنک بیلنس ، جائداد، علم اور تقوی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے مخالف شخص یا گروہ میں کیڑے نکالتا اور ان کو حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
۴۔ قوت ارادی کی کمزوری۔ نفاق کا ایک اہم سبب قوت ارادی کی کمزوری ہے ۔ ایک انسان بار بار ایک بات کہتا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ عمل کرنا اور کوشش کرنا ہی ترک کردیتا ہے۔ یہیں سے نفاق کا مرض دل میں آنا شروع ہوجاتا ہے۔
۵۔ مفاد پرستی۔ اس کی بنا پر بھی ایک شخص کسی شخص یا گروہ سے ظاہری طور پر وابستہ ہوجاتا اور باطنی طور پر اختلاف رکھتا ہے تاکہ درپردہ اپنے مادی مفادات پورے کرسکے۔
۶۔ احساس کمتری۔ اس کی بنا پر ایک شخص دنیا کو وہ چہرہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو و ہ اصل میں ہوتا نہیں تاکہ اپنے احساس کمتری کو چھاسکے۔
۷۔ تساہل پسندی اور نفس پرستی۔ سستی کاہلی اور نفس پرستی ایک کمزوری ہے جسے چھپانے کے لیے انسان بہانے تراشتا اور اپنی شخصیت کے اس کمزور پہلو کو چھپانے کے لیے نفاق کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
سوال نمبر ۸۔ نفاق سے کس طرح نجات حاصل کی جائے؟
جواب۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم میں نفاق موجود ہے یا نہیں۔ اس کے لیے ہم خود سے بعض اوقات سچ نہیں بول رہے ہوتے اور اپنے نفاق کا خود ہی شکار ہوکر اپنے آپ ہی کو دھوکا دینے لگ جاتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں ایسے مخلص اور قریبی دوستوں کو تلاش کرنا چاہیے جو ہمیں جانتے ہوں اور ہمارے منہ پر ہماری کمزوری بیان کرنے کی جرت بھی رکھتے ہیں۔
جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہم میں کسی حد تک نفاق ہے تو یہ جانیں کہ کس میدان میں نفاق کا شکار ہیں؟ یہ مذہبی معاملہ ہے، اخلاقی، سماجی، معاشی، معاشرتی یا کوئی اور۔ اس کے بعد اس کے اسباب اپنی شخصیت میں دیکھیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس کے بعد ان اسباب کو دور کرنے کوشش کریں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں لیکن کچھ توجہ طلب ضرور ہے۔


دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
” تم لوگوں کو پتا ہے دنیا کا سب مشکل کام کیا ہے؟” ابلیس نے سوال کیا
” ابلیس اعظم ہی بہتر جانتے ہیں ۔” چوبدار کی آواز سناٹے میں گونجی۔

” غور سے سنو، کیا ایک ما ں کو اس کے بچے سے دور کرنا، اسے ناراض کرنا اور بچے پر غضب ڈھانے پر مجبور کرنا کوئی آسان کام ہے؟ بچے کی برسوں کی بدبختی اور نافرمانی بھی ماں ماں کو بچے سے دور نہیں کرپاتی اور ماں اس کی کوتاہوں سے درگذر کرتی رہتی ہے اور اپنی شفقت و محبت نچھاور کرتی رہتی ہے۔ ”
مجلس شوری میں سناٹا تھا اور ابلیس بے تابی سے ادھر ادھر ٹہل کر اپنا مضطرب بیان دے رہا تھا۔
” تو بتاؤ ، اگر ایک معمولی سی ماں کو اپنے بچے سے جدا کرنا اتنا مشکل کام ہے تو خدا ئے رب ذوالجلال کی شفقت کو بندوں سے دور کرنا کتنا مشکل کام ہے۔میری لاکھوں سال کی محنت، ریاضت اور کوششوں کے باوجود آج بھی خدا کی عنایتیں اپنے بندوں پر ہیں، وہ آج بھی ان کو پکار کر اپنی جانب بلارہا ہے، وہ آج بھی انہیں نت نئے رزق سے نواز رہا ہے، وہ آج بھی ان کی ضروریات کو پورا کررہا ہے، وہ آج بھی ان کواپنے بندوں کے ذریعے سیدھا راستہ دکھانا چاہتا ہے، وہ آج بھی ان کے باغیانہ رویہ کے باوجود اپنا حتمی عذاب نہیں بھیج رہا، وہ آج بھی آسمانی فرشتوں کو سکینت نازل کرنے کے لیے اتار رہا ہے۔”ابلیس غصے سے چیختا رہا۔
"میرا اصل مشن تم لوگوں کے بلندو بانگ دعوے سننا نہیں تھا، میں تو خدا کو انسانیت سے ناراض کرنا چاہتا تھا تاکہ انسان سے میرا انتقام پورا ہوجائے اور میں یہ ثابت کردوں کہ انسان واقعی اس قابل نہ تھا کہ میں اس کے آگے جھک جاتا۔ لیکن آج میں جیت کر بھی ہاررہا ہوں۔ خدا آج بھی انسانوں کی پشت پر کھڑا ہے اس کے باوجود کہ کہ ان ناعاقبت اندیشوں نے اسے ناراض کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ وہ کونسی حرکت ہوگی جو ان انسانوں نے نہیں کی لیکن خدا کا کامل غضب آج بھی نہیں بھڑکا ، آج بھی سورج مشرق سے نکلتا، سمندر کی لہریں اٹھکلیاں کرتی، بادنسیم کے جھونکے فرحت پہنچاتے، راتیں سکون آور بنتیں، آسمان سے پانی برستا اورزمین کے سینے سے سبزہ نکلتا ہے۔ ”
ابلیس کا بیان جاری تھا کہ ایک منسٹر اٹھا اور بولا
” اے ابلیس عظم، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے ناراض نہیں ہوتا، جبکہ وہ تو کہتا ہے میں جہنم کو جن و انسانوں سے بھردوں گا۔”
” یہی تو تم نہیں سمجھ رہے نا بھولے منسٹر، خدا بندوں سے ناراض ہوتا ہے ، ضرور ہوتا ہے لیکن طویل عرصے کے بعد۔ سن لو، انسانوں پر جو مشکلات اس دنیا میں آتی ہیں وہ تین قوانین کے تحت آتی ہیں۔ پہلا قانون آزمائش کا قانون ہے ، دوسرا قانون جزا و سزا کا قانون ہے اور آخر میں قانون غضب کا اطلاق ہوتا ہے۔
انسان پر جو مشکلات آتی ہیں ان کا ایک سبب قانون ارتقا ہے یعنی Law of Evolution ۔ یہ ڈارون کا قانون ارتقا نہیں بلکہ خدا کا قانو ن ارتقا ہے کے جس کے ذریعے وہ بندوں سے کھوٹ اور میل دور کرکے ان کا تزکیہ کرنا چاہتا اور ان کی شخصیت کو پروان چڑھانا چاہتا ہے ۔ جس طرح ایک بچے کو اگلی کلاس میں ڈالنے سے قبل پڑھایا جاتا اور پھر امتحان لیا جاتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اگلے درجے میں ڈالنے کے لیے آزمائش سے گذار اجاتا ہے۔
دوسرا قانون جزا و سزا کا قانون یعنی Law of Retribution ہے۔ اللہ تعالی بہت سے اچھائیوں اور برائیوں کا بدلہ اسی دنیا میں دیتے ہیں۔ ان میں سرفہرست مادی قوانین ہیں جیسے ایک شخص محنت کرے گا تو روزی کمائے گا نہیں کرے گا تو بھوکا رہے گا۔ چنانچہ انسان اپنے بعض اعمال کی مکمل یا جزوی سزا اسی دنیا میں بھگت لیتا ہے۔ تم لوگ جب مشکلات کو دیکھتے ہو انسانوں کی طرح یہ سمجھ لیتے ہو کہ خدا ناراض ہے، وہ غضب ناک ہوگیا ہے۔ نہیں ایسا نہیں۔ انسان پر جو مشکل آئی وہ قانون جزا و سزا کے اطلاق کی بنا پر آئی ہوتی ہے اور اس کا مداوا باآسانی اس کوتاہی کو دور کرکے کیا جاسکتا ہے۔”
” قانون غضبLaw of Destruction آخری اسٹیج ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں بچتا، سب کچھ تہس نہس ہوجاتا ہے، بستیاں اجڑ جاتی ہیں، کھلیان ختم ہوجاتے ، آسمان آگ برساتا اورزمین تنگ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ ناراضگی ہے جس پر خدا کی جانب سے آنکھوں ، دلوں اور کانوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ یہی وہ خدا کی ناراضگی ہے کہ جو جس فرد پر پڑتی ہے اس کی زندگی کے اس حصے کو برباد کردیتی ہے۔ ”
” یہ غضب کس طرح نازل ہوتا ہے حضور؟ اس کی کچھ تفصیلات سے آگاہ کریں تاکہ ہم اسی علم کے مطابق منصوبہ بندی کریں۔”ایک منسٹر نے استفسار کیا
” دیکھو! ایک انسان کی شخصیت ایک سفید اور خوبصورت نور یعنی روشنی کی مانند ہے جس میں رحمانی صفات موجود ہیں۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس نور پر سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے۔ اگر تو وہ اس کو توبہ سے دھوڈالے تو نور دوبارہ نمایاں ہوجاتا ہے اور اگر نہ دھوئے اور مزید گناہ کرتا رہے تو اس نور پر سیاہی غالب آنے لگ جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آزمائش کے قانون کے ذریعے کبھی کچھ مصیبتیں بھیجتے ہیں تاکہ وہ رجوع کرے اور اس کی سیاہی کم ہو۔ لیکن جب وہ باز نہیں آتا تو اس پر قانون جزا و سزا کا ااطلاق ہوتا ہے اور اس کے گناہ کے عوض اسے دنیا میں ہی جزوی یا کلی بدلہ دیا جاتا ہے تاکہ اس کا سیاہی میں لپٹا ہوا نوری وجود پاک ہوکر سامنے آجائے۔
لیکن جب ایک شخص خدا کی جانب سے بھیجی جانے والی تمام تنبیہات کو ماننے سے انکار کردیتا اور برائیوں سے بھری زندگی نہیں چھوڑتا تو پھر تو اس کا نور بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اب اس کی جگہ سیاہی لے لیتی ہے۔ اب یہ ایک شیطانی وجود بن جاتا ہے۔ اب اس وجود کی اصلاح ممکن نہیں رہتی کیونکہ گناہوں کی سیاہی نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ہوتا ہے۔ اس سیاہی کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پٹی پڑجاتی ہے اور اسے وہی دکھائی دیتا ہے جو اس کا سیاہ وجود دکھانا چاہتا ہو۔ اب وہ وہی سنتا ہے جو اس کے کالے کرتوت اسے سنانا چاہتے ہیں۔ اب وہ ایک ایسے گلاس کی مانند ہوتا ہے جو غلاظت سے لبالب بھرا ہو اور جس میں ہدایت کا شربت انڈیلا نہیں جاسکتا۔
یہ عذاب کی ابتدا ہے۔ اس موقع پر اس کے لیے دنیا کے دروازے کھول دیے جاتے، اس پر دنیاوی نعمتیں برسنا شروع ہوجاتیں، اور وہ اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں۔ اس شخص کو یہ لگتا ہے کہ خدا شاید اس سے راضی ہے ۔ اسی طرح دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ شاید خدا موجود ہی نہیں ورنہ اس جیسے ظالم اور جابر کو ضرور سزادیتا۔ ان بے چاروں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ خدا کے سخت عذاب میں مبتلا ہے ۔ یہ وہ خدا کے غضب کا ایک پہلو ہے جس میں وہ بندے کو نہ صرف چھوڑ دیتا ہے بلکہ پلٹنے کے دروازے بھی بند کردیتا ہے۔”
” تو کیا جو لوگ دنیا کی زندگی اچھی گزاررہے ہیں وہ سب اسی کیٹگری میں آتے ہیں؟”ایک وزیر نے پوچھا۔
” ارے نہین، ایسا نہیں۔ دنیا کی زندگی خواہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو اگر خدا کی مرضی کے تابع گذاری جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اس کیٹگری میں تو بے حد ظالم و جابر لوگ آتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں جان سکتا کہ کون دل پر لگنے والے عذاب میں مبتلا ہے۔ اس طرح یہ لوگ یوں تو زند ہ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں مردہ ہوتے ہیں”
” خدا کے غضب کا دوسرا اظہارقوموں پر ہوتا ہے۔ا س کا پہلا شکار پیغمبر کے مخاطبین ہوتے ہیں۔ جب وہ پیغمبر کا انکار جانتے بوجھتے کردیتے ہیں تو اس کے بعد ان وجودوں کو دنیا سے فنا کردیا جاتا ہے۔ اس کی دوسری مثا ل بنی اسرائل سے سمجھو جس نے خدا کو ناراض کیا اور خدا نے اس کو ذلت کے عذاب سے دوچار کیا اور ان پر کئی خارجی قومیں مسلط کیں۔”
” پیغمبر کی موجودگی کے باوجود بھی قانون غضب بہت دیر میں اپلائی ہوتا ہے۔ نوح علیہ السلام نو سو سال تبلیغ کرتے رہے، ان کی قوم کے لوگوں نے مذاق اڑایا، انہیں برا بھلا کہا، ان کی بات سننے سے انکار کردیا لیکن خدا نے اپنا غضب نہ ڈھایا۔ یہاں تک کہ جب اس قسم میں بالکل بھی جان باقی نہ بچی تو اس کے بعد اسے تباہ کیا گیا۔ یہی معاملہ عاد، ثمود،قوم لوط اور دیگر اقوام کا تھا۔ ”
” پتا ہے میرا مشن کیا ہے؟”
ابلیس اعظم نے پوچھا اور پھر خود ہی جواب دینے لگا۔
” میرا مشن یہ ہے کہ پوری انسانیت کو خدا کی نگاہ میں باغی قراردے دیا جائے اور معاملہ اس حد تک بڑھ جائے کہ خدا کا قانون غضب حرکت میں آئے تو اس سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے۔ خدا اس انسانیت کو اس کی بغاوت پر فنا کردے۔ اس سے ظاہر ہے جو نیک لوگ گذرگئے ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، البتہ اس دھرتی پر مزید خدا کے نام لیوا پیدا نہیں ہوپائیں گے اور میرے حسدو انتقام کی آگ شاید ٹھنڈی ہوجائے۔”
سب لوگ سرجھکائے ابلیس کی تقریر سن رہے تھے۔
” یہی ہمارا مقصود ہے، یہی ہمارا مشن ہے کہ انسان خدا کی اتنی نافرمانی کرلے کہ خدا اس سے ناراض ہوجائے اور اس پر غضب ناک ہوجائے ۔وہ ان سے دور ہوجائے، وہ ان سے منہ موڑ لے، وہ ان کو قانون ارتقا اور قانون جزا وسزا کی بجائے قانون غضب جکڑ لے۔ تم لوگ جو کچھ کررہے ہو وہ زیادہ تر قانون ارتقا یا قانون جزا میں آتا ہے لیکن قانون غضب کا اطلاق بہت کم ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا بہت شفیق ہے، وہ ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، وہ انہیں مہلت دیے جارہا ہے، وہ انہیں مسلسل نافرمانیوں پر نہیں پکڑتا، وہ انہیں پلٹنے کا موقع دے رہا ہے، تمہاری سب کوششوں اور چالوں کے باوجود وہ انہیں اب بھی بلارہا ہے۔”
تو پتا ہے دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟”
ابلیس اعظم نے اپنے منسٹرز کی جانب نگاہ دوڑائی اور جواب نہ ملنے پر خود ہی بولنے لگا۔
بے وقوف انسان یہ سمجھتا ہے کہ خدا بائی ڈیفالٹ ناراض ہےا ور اسے راضی کرنا مشکل ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا اصل میں ناراض نہیں اور اسے ناراض کرنا ہی مشکل ترین کام ہے۔تو جان لو کہ دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
دنیا کا سب سے مشکل کام ہے خدا کو ناراض اور غضب ناک کرنا۔ اور جب وہ وہ غضب ناک ہوجائے تو اسے راضی کرنا دوسرا مشکل کام ہے۔”
” یہ کام کس طرح ہوگا اے عظیم شیطان؟” چوبدار نے پوچھا
” یہ کام کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی ہے، انسان کو قانون غضب کے نرغے میں لانا ہے اور یہ کام موت سے پہلے کرنا ہے کیونکہ موت کے بعد ہمیں نہیں پتا کیا ہونے والاہے۔ ایک ایک انسان کو ٹارگٹ کرنا ہے، اس کو ہر اس پہلو سے خدا کی نافرمانی پر مجبور کرنا ہے جس سے خدا اس سے ناراض ہوجائے۔ ایک وقت آئے گا کہ ہم اپنا مقصد حاصل کرلیں گے اور زمین کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور آخرت میں بھی جہنم میں یہی لوگ ہمارے ساتھ ہونگے۔”


علم – شیطان کا ایک ہتھیار


علم – شیطان کا ایک ہتھیار
ڈاکٹر محمد عقیل
” حضرت! میں بہت زیادہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں، بہت زیادہ” میں نے کہا۔
"تو حاصل کرلو، کس نے روکا ہے؟” حضرت نے جواب دیا
"جناب مسئلہ یہ ہے کہ علم بعض اوقات تکبر پیدا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہی سب کچھ نہ ہو جو شیطان کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنے علم کے زعم میں خدا کے

سامنے کھڑا ہوگیا؟”
” ہممم۔۔۔۔۔ اس کے دو طریقے ہیں۔”
” وہ کیا ؟”
” پہلا یہ کہ جو کچھ علم حاصل کرو، اس کی تمام اچھائیوں کو من جانب اللہ سمجھو۔ ہر اچھی کوٹ، آرٹیکل یا کتاب لکھو تو اس کے اچھے پہلووں کو من جانب اللہ سمجھو۔اس کا سارا کریڈٹ خدا کے اکاؤنٹ میں ڈال دو۔ اس سے ملنے والی تعریفوں پر یوں سمجھو کہ لوگ تمہاری نہیں بلکہ اس خدا کی توفیق کی تعریف کررہے ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ۔”
” بہت عمدہ بات کہی آپ نے حضرت!، دوسری ہدایت کیا ہے؟”
” دوسری ہدایت یہ کہ جب کسی کو علم سکھاؤ تو استاد نہیں طالب علم بن کر سکھاؤ۔ اس کو سمجھانے کی بجائے اس سے طالب علم بن کر سوال کرو۔ اس کے سوالوں کے جواب ایک طالب علم کی حیثیت سے دو۔ اپنی کم علمی اور غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرو۔ اس طرح تم خود کو عالم نہیں طالب علم سمجھو گے اور تکبر پیدا نہیں ہوگا۔
” بہت شکریہ حضرت! آپ نے بہت اچھے طریقے سے بات کو سمجھایا۔”
"یاد رکھو ! علم وہ ہتھیار ہے جس کا غلط استعمال خود کو ہی ہلاک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ شیطان سب سے آسانی سے عالموں ہی کو پھانستا ہے۔ پہلے اسے یہ یقین دلاتا ہے تم تو عالم ہو، تمہیں سب پتا ہے۔ جب سب پتا ہے تو یہ کل کے بچے تمہارے سامنے کیا بیچتے ہیں؟ اس کے بعد لوگوں کو حقیر دکھاتا ہے ۔، لوگوں کے لائکس اور واہ واہ کو استعمال کرکے انسان میں تکبر ، غرور اور انا کو مضبوط کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود کو عقل کل سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر اپنی اور دنیا والوں کی نظر میں عالم اور متقی نظر آتا ہے، لیکن خدا کی کتاب میں اسے "ابوجہل” لکھ دیا جاتااور فرشتوں کی محفل میں اسے شیطان کا ساتھی گردانا جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔”


رمضان کی تیاری


السلام علیکم
آپ سب کو رمضان مبارک۔ اللہ تعالی اس رمضان کو ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں۔
رمضان میں ہم سب کو کچھ اہداف ضرور مقرر کرنے چاہئیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ اپنا احتساب کرنا- اس کا مطلب ہے کہ ہم اب تک گذری ہوئی زندگی کا جائزہ لیں اور اپنی شخصیت کا SWOT تجزیہ کریں۔ یعنی اپنی شخصیت کی طاقتور اور کمزور پہلووں کو جانیں اور ساتھ ہی وہ مواقع اور خطرات بھی بیان کریں جو ہمیں دین پر چلنے میں پیش آسکتے ہیں۔ یہ کام لکھ کرکریں تو زیادہ بہتر ہے۔
۲۔ قرآن سے تعلق بڑھائیں۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور کم از کم ایک مرتبہ قرآن ترجمہ سے پڑھ لیں۔ اگر پڑھ نہ پائیں تو ترجمہ ہی سن لیں۔قرآن کا ترجمہ اس لنک پر اچھا دیا ہوا ہے۔
http://www.quranurdu.com/quran_ss/
۳۔ آئیندہ زندگی کے لیے لائحہ عمل تیار کریں کہ اب تک ہم سے جو کوتاہیاں ہوئیں ان کو کس طرح دور کرنا ہے۔
۴۔ کم از کم ویک اینڈ میں تہجد ضرور ادا کریں۔ اس میں رکعتوں کی تعداد پوری کرنے سے زیادہ صرف بیٹھ کر اللہ تعالی سے باتیں کریں، اس کی نعمتوں کا تصور کریں، اس کے جلال پر غور کریں۔ اس کی صفات پر غور کریں اور دنیاوی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اللہ کی خالص حمد و ثنا بھی کریں۔
۵۔ ہر ہفتے یہ جائزہ لیں کہ ہم نے ایک ہفتے میں کیا کھویا اور کیا پایا۔
اس ضمن میں اس لنک پر موجود ورک بک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے:
https://aqilkhans.files.wordpress.com/…/ramazan-workbook.pdf


سورہ الناس کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الناس کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
تم اپنے شرارت کرنے والے نفس سے کہہ دو، بہکانے والنے انسانوں کو بتادواور وسوسہ ڈالنے والے جنوں کو اعلان کردو کہ میں تم سب کے بہکاووں کے مقابلے میں

تمام انسانوں کے پالنے والے کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ پناہ جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ قوی ہے۔ و ہ پناہ جو بالکل محفوظ و مامون ہے، جس کے ارد گرد فرشتوں کے پہرے ہیں اور جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا بادشاہ ہے اور میرابادشاہ اپنے غلام کی حفاظت خوب جانتا ہے۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا معبود ہے اورمیرا معبود اپنے بندے کو بچانا خوب جانتا ہے ۔
میں اپنے آقا کی امان میں ہوں ہر اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو دلوں میں جنس ، فساد، حسد، بغض، عداوت، انتقام، مایوسی، الحاد ، بے چینی اور ان گنت منفی خیالات پیدا کرتا ہے۔یہ وہ دشمن ہے جو دوست بن کر وار کرتا ، دل ہی دل میں خیالات پیدا کرتا اور کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا ۔یہ دشمن جنات یعنی چھپی ہوئی طاقتوں کے روپ میں بھی ہے جو نظر نہیں آتا ۔ یہ دشمن شریر انسانوں کی شکل میں بھی ہے جواصلاح کے نام پر فساد پھیلاکر چلا جاتا ہے۔ یہ دشمن میرے نفس کی صورت میں بھی ہے جو خواہشوں کی ہوس میں غلط کام کرنے پر اکساتا ہے۔
پس سن لو ، تم سب مل کر بھی کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ میری پشت پر میرا بادشاہ کھڑا ہے اور وہی میری امان ہے، وہی میری پناہ کا حصار۔


سورہ الفلق کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الفلق کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والوں سے کہہ دو ، رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو بتادو، کالے علم کرنے والے شیطانوں کو خبردار کردو، حسد کی آگ میں جلنے والوں کو سمجھادو کہ میں تو اپنے بچانے والے آقا کے قلعے میں پناہ لے چکا ہوں۔ یہ اس حکمران کی پناہ کا قلعہ ہے

جس کی حکومت ہر چاند ، سورج، زمین آسمان، رات دن سب پر ہے۔ یہ وہ پالنے والا ہے جو رات کی تاریکی کو چیر کر صبح کا کا اجالانمودار کرتا ہے۔
میں ہر نقصان پہنچانے والی شر کی تمام مادی قوتوں کے مقابلے میں اسی حاکم کی پناہ میں ہوں۔ میں اندھیرے آپڑنے والی مصیبت، بیماری، چوری، ڈاکہ زنی ، شب خون، لوٹ مار، تشدد، زنا ، شراب نوشی اور تمام برائیوں سے اسی کے مضبوط حصار میں ہوں۔ میں جادو ٹونے، کالے علم ،سفلی عمل، جھاڑ پھونک اور شیطانی عملیات جیسی تمام غیرمادی شرارتوں سے بھی اسی ہستی کی امان میں محفوظ ہوں۔
میں اس شخص کی سازشوں سے بھی خدا ئے رب ذوالجلال کی پناہ میں ہوں جو میری کامیابی سے جلتا ہے اور چاہتا ہے مجھ سے سب کچھ چھن کر اس کو مل جائے اور اگر اسے نہ ملے تو مجھ سے تو چھن ہی جائے۔وہ جو میرے نقصان پر خوش ہوتا اور خوشی پر افسردہ ہوتا ہے۔
بس اے دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والے شریرو! رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والی تاریکیو! شیطانی عملیات سے نقصان پہنچانے والے شیطانو! میری خوشیوں پر جل جانے والےنادانو! میں تو تمہارے ہر طرح کے شر سے اس پرورش کرنے والے کی حفاظت میں ہوں جس کی امان میں جب کوئی آجائے تو ساری مخلو ق بھی مل کر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ڈاکٹر محمد عقیل


سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح


سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح
ڈاکٹر محمد عقیل
تعریف، توصیف، حمد و ثنا حقیقت میں اللہ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہی تنہا ان گنت کہکشاوں ، ستاروں ، سیاروں ، مادی و غیر مادی جہانوں اور انفس و آفاق کی وادیوں کا پالنے والا ہے۔ وہی تو ہے جو سراپا مہربان ہے اور اسی کی شفقت ابدی ہے۔ وہی تنہا ہر قسم کے بدلے کے دن کا مالک ہے۔ چونکہ وہی پالنے والا، مہربانی و شفقت نچھاور کرنے والا اور جزا و سزا دینے کا تنہا اختیار رکھتا ہے تو ہمارے رب ، ہم آپ ہی کی غلامی قبول کرتے، آپ ہی کا حکم مانتے ، آپ ہی کے قدموں میں اپناچہرہ رکھ کر پرستش کرتے ہیں اور آپ ہی سے دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں مدد مانگتے ہیں۔اے مہربان خدا، ہم پہلی مدد یہ مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنی رضا کے حصول کے لیے سیدھا ، سچا اور درست طریقہ بتادیجے ۔ وہ طریقہ جس پر چل کر کامیاب لوگوں نے آپ کی رضا حاصل کی۔ ہمیں ان لوگوں کے طریقوں سے دور رکھیے جو اپنے تعصب ، ہٹ دھرمی ، سرکشی، خواہش نفس یا کسی اور وجہ سے آپ کی ابدی رحمت و شفقت سے محروم ہوکر آ پ کے غضب کا شکار ہوئے ۔ اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ پر چلائیے جو اپنی ٹیڑھی سوچ کی بنا پر کسی غلط فلسفے، گمراہ کن سائنسی تفہیم ، اندھی تقلید ، نفسانی خواہشات ، شیطانی کی اکساہٹوں یا کسی اور بنا پر آپ کے پسندیدہ راستے سے بھٹک کر گمراہی کی وادیوں کو ہی حق سمجھنے لگے۔
ڈاکٹر محمد عقیل


ارحمنا یاجبار


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی سہارے یا سیڑھی کی ضرورت ہوتی تھی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تصور

سے زیادہ طاقتور، گمان سے زیادہ قوی اور شان و شوکت کے مالک ہیں اور کسی سرکش، بڑے سے بڑے طاقتور اور باجبروت بادشاہ کا ناپاک ہاتھ اللہ کی عظمت اور طاقت کی بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔ خدا کے جبار ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ سرکش اور فساد پھیلانے والوں کو تنبیہ کرے اور نہ ماننے کی صورت میں اپنی لامتا ہی طاقت کے ذریعے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں فنا کردے ۔
بالعموم جبا ر کا لفظ پڑھ کر ایک ظالم اور جابر ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے ۔ اللہ تعالی چونکہ تمام عیوب سے پاک ہیں اس لیے ان کی صفات بھی ہر قسم کے عیب سے پاک ہوتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ ایک بے انتہا شفیق ، بربار، نرمی برتنے والے اور مہربانی کرنے والے ہیں۔ ہم انسانوں میں جب رحمت کی صفات دیکھتے ہیں تو ایسا انسان عام طورپر افراط کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ کسی بدترین مجرم کو بھی اپنے مزاج کی نرمی کی بنا پر چھوڑنے کی سفارش کرتا، کسی قاتل کو بیخ کنی کے لیے پیش نہیں کرتا اور کسی ظالم کے خلاف سختی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ یہ اس کے مزاج کا ایک عیب ہے جو صفت رحمت کے بے جا افراط سے پیدا ہوا ہے۔
اللہ تعالی کا معاملہ یوں نہیں ۔ اللہ کی صفت رحمت انہیں انصاف کے تقاضے پورا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ بلکہ یہ اللہ کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ مظلوم کو اس کا حق دلوایا جائے اورمقتول کی داد رسی کی جائے ۔ اس رحمت کی صفت کے ساتھ ساتھ صفت جبار کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر فرعون ، نمرو د و شداد کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ پھر ابو جہل کا سر بچوں سے کٹوادیا جاتا ہے، پھر ابو لہب کو مٹی میں ملادیا جاتا ہے۔ پھر عادو ثمود کے عالیشان محلات زمیں بوس ہوجاتے ہیں، پھر نوح کی بستی پانی میں ڈبودی جاتی ہے، پھر قوم لوط پر سنگریزے برسائے جاتے ہیں اور خدا کی رحمت صفت جبار کے ساتھ اپنا اظہار کردیتی ہے۔
لیکن یہ کام ماضی میں ہوا تو کیا آج ممکن نہیں؟ کیا آج کے نمرود و شداد تک خدا کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا؟ کیا آج خدا کی فوجیں کم پڑ چکی ہیں؟ کیا آج اس کے ہاتھ سے تندو تیز ہوا کی باگیں چھوٹ چکیں؟ کیا آج زمین نے اس کا حکم ماننے سے انکار کردیا ہے؟ کیا آج بادلوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی ہے؟ کیا آج سائنس نے اس خدا، تنہا خدا ، کی صفت جباریت کو معطل کردیا ہے؟ نہیں ایسا نہیں۔ ہر گز نہیں۔ آج بھی وہ اپنی مخلوق کو اسی طرح دیکھ رہا ہے جیسے پہلے دیکھتا تھا، آج بھی اس کے فرشتے ہتھیار وں سے لیس کھڑے حکم کے منتظر ہیں، آج بھی زمین اس کے حکم پر پلٹنے کو تیار ہے، آج بھی آسماں اس کے حکم کی تعمیل میں گرجانے کو بے چین ہے، آج بھی سورج مغرب سے نکلنے کی تاب رکھتا ہے ، آج بھی تارے ٹوٹ کے گرنے کو بے تاب ہیں۔
ماضی میں بھی لوگوں نے خدا کو فراموش کردیا ۔ وہ اپنے اسباب پر بھروسہ کرتے رہے، وہ غیر خدا کی سفارش پر بھروسہ کرتے رہے ، وہ دنیا کی زندگی میں خدا کو بھول بیٹھے ۔ آج کا انسان بھی اسباب و علل کے فتنے میں پڑ کر یہ بھول رہا ہے کہ ان اسباب کا بھی کوئی سبب ہے، کوئی ہے جس کا اشارہ ساری کائنات تباہ کرسکتا ہے۔ و ہ بھول بیٹھے کہ خدا رحیم و رحمٰن ہے تو جبا ر بھی ہے۔
کیا خبر کہ مشاہدوں کے دفتر لپیٹے جاچکے ہوں، کیا خبر کہ مہلت ختم ہوچکی ہو، کیا خبر وہ وقت آن پہنچا ہو جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے، جب محکوموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حکم کے سر اوپر یہ بجلی کڑ کڑ کڑکے گی۔ کیا خبر وہ گھڑی آن پہنچی ہو جب تاج اچھالے جائیں گے، جب تخت گرائے جائیں گے، جب اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے۔ کِیا خبر ، خدا کی صفت جبار کے ظہور کا وقت آن پہنچا ہو۔
ارحمنا یا جبار
پروفیسر محمد عقیل
۱۵مارچ ۲۰۱۶


فیصلہ سازی


فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
"آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم

دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد کی جانب گاڑی موڑ لی ۔ ”
"ہاں لیکن ایکسڈنٹ میں تو پورے پچیس افراد ہلاک ہوگئے؟” پولیس آفیسر نے غصے سے کہا۔
” جی جناب ، جب میں نے بس کو دو آدمیوں کی جانب لے جانے کا فیصلہ کیا توسارے باراتی ا ن دو آدمیوں میں گھس گئے۔ ”
اس لطیفے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ ہمیں اپنی زندگی میں فیصلہ نہیں کرنا بلکہ درست فیصلہ کرنا چاہئے۔ ہم سب اپنی زندگی کے مینجر ہیں۔ ہم ہر دوسرے لمحے جو کام کررہے ہیں وہ فیصلہ سازی ہے۔ فیصلہ کرنے کا عمل ایک ڈرائیور ہی نے نہیں، ایک ڈاکٹر، انجنئیر، قانون دان، طالب علم، استاد ، مرد اور عورت ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے۔ ہم سب کو اپنے کیرئیر، جاب ، شادی بیاہ جیسے اہم فیصلہ کرنا ہوتے ہیں۔ اجتماعی سطح پر حکومتیں بین الاقوامی سطح پر فیصلے کررہی ہوتی ہیں۔
درست فیصلہ کی اس اہمیت کے باوجود اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ فیصلہ سازی کس طرح کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہماری زندگی کے اکثر فیصلے سائنسی اصولوں کی بجائے جذبات، تعصبات، رغبات اور اٹکل بچو بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ اس کے اثرات ہماری زندگی پر بہت دور رس مرتب ہوتے ہیں۔
فیصلہ سازی کے مراحل
فیصلے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک روزمرہ کے فیصلے اور دوسرے اہم فیصلے۔اہم فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنے ہوتے ہیں ۔ ذیل میں ہم فیصلہ سازی کے سائنسی طریقے کو ایک کیس اسٹڈی کے ذریعے بیان کررہے ہیں۔ اس کے بعد کچھ سوالات ہیں۔ جن کا آپ سے جواب مطلوب ہے۔
۱۔ مسئلہ یا موقع کو بیان کریں
سب سے پہلے ہمیں اس مسئلے یا موقع کو پہچاننا اور بیان کرنا ہے جس کے بارے میں ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کہ لیے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس پیشے کو اختیار کرے، ایک خاتون کو آئے ہوئے کئی رشتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہے، کسی نے کوئی جاب تبدیل کرنی ہے وغیرہ۔ تو سب سے پہلے اس موقع یا مسئلہ کو بیان کریں جس پر آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔
مثال :مثال کے طور پر ایک طالب علم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مستقبل میں کیا تعلیم حاصل کرے کہ ایک موزوں پیشہ اپناسکے۔
۲۔ معلومات جمع کریں
اگلا مرحلہ معلومات اکھٹی کرنے کے ہوتا ہے۔ ہمیں جو بھی معاملہ درپیش ہے اس کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔ لیکن معلومات حاصل کرنے سے قبل یہ بھی پتا ہونا چاہئے کہ مطلوبہ علم کہاں سے حاصل ہوگا۔ آج گھر میں کیا پکے گا ؟ اس فیصلہ کا ڈیٹا اسٹیٹ بینک سے حاصل کیا جائے تو ظاہر ہے یہ ایک لطیفہ ہی ہوگا۔ اسی طرح پچھلے پچاس سالوں میں پاکستان میں کیا شرح سود رہی اس کو اگر گھر میں بیٹھی ہوئی دادی اماں سے پوچھا جائے تو دوسرا لطیفہ۔
مثال: اوپر والی مثال میں ایک طالب علم اپنے کیرئیر کا انتخاب کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے معلومات کے ذرائع اس کے والدین، اساتذہ، پروفشنل بھائی بہن یا رشتہ دار یا کیرئیر کاؤنسلنگ کے ادارے ہوسکتے ہیں۔
۳۔ معلومات کا جائزہ لیں
اگلا مرحلہ صورت حال کا جائزہ لینا ہے۔ یعنی یہ دیکھنا ہے کہ اس مسئلے کے لیے کیا کیا آپشنز آ پ کے پاس موجود ہیں۔ اس سلسلے میں حاصل کردہ معلومات کو سمجھنا اور ان کی تشریح کرنا بہت اہم ہے۔
مثال: ہماری مثال میں ایک طالب علم معلومات حاصل کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس پاکستان میں جو پیشے موجود ہیں ان میں ڈاکٹر، انجنئیر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، ٹیچنگ، وکالت وغیرہ جیسے پیشے موجود ہیں۔ لیکن یہاں ان آپشنز کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کیا کام کرتا ہے ، یا اسے پتا ہی نہیں کہ وکالت کیا ہوتی ہے تو وہ ان آپشنز کو غلط سمجھے گا اور اس سے نتیجہ بھی غلط نکلے گا۔ تو معلومات کو سمجھنا اور اس کی درست تشریح کرنا بہت اہم ہے۔
۴۔ متبادل آپشنز سیٹ کریں
جب معلومات اچھی طرح سمجھ آجائے تو ہم اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اپنے لیے آپشنز سیٹ کرسکیں ۔ اس مرحلے میں آپنشز کا انتخاب نہیں کرنا بلکہ زیادہ سے زیادہ آپشنز لکھے جائیں ۔ اگر معلومات کی کمی یا کسی اور بنا پر کوئی آپشن نہ بیان کیا گیا تو ممکن ہے کہ فیصلہ ہی غلط ہوجائے۔
مثال: ہماری مثال میں ایک طالب علم معلومات اکھٹی کرنے کے بعد اپنے لیے جو آپشنز لکھتا ہے وہ یہ ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایڈمنسٹریٹر، بینکر، ٹیچنگ ۔ البتہ وہ ڈاکٹر اور انجنئیر کے آپشنز کو نکال دیتا ہے کیونکہ اس نے انٹرمیڈیٹ کامرس میں کیا ہے جس کے بعد یہ دونوں شعبے اختیار نہیں کیے جاسکتے۔
۵۔ آپشنز کا تجزیہ کریں
اس مرحلے میں ایک ایک آپشن کا جائزہ لیا جائے گا کہ ہمارے حالات کے مطابق وہ آپشن کس حد تک موزوں ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایک ایک آپشن کا تجزیہ کرکے اس کے مثبت اور منفی پوائینٹس کو دیکھا جائے گا۔
مثال:
یہاں وہ طالب علم اس طرح تجزیہ کرتا ہے :
۱۔ بنک کی جاب گوکہ مطلقا حرام نہیں لیکن وہ احتیاط کے پیش نظر اس شعبے میں نہیں جانا چاہتا۔
۲۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی جاب بہت پرکشش ہے اور اس میں تنخواہ لاکھوں میں ملتی ہے ۔نیز اس سے ایڈمنسٹریٹر کی جاب بھی مل سکتی ہے۔
۳۔ ٹیچنگ میں نہ تو اتنا پیسہ ہے اور نہ ہی اسٹیٹس۔ اس لیے وہ اس شعبے میں بھی شاید نہ چل پائے۔
۴۔ ایڈمنسٹریٹر کا آپشن اچھا معلوم ہورہا ہے کیونکہ اس میں کچھ انتظامی صلاحیت بھی ہے اور اسے دلچسپی بھی ہے ۔ نیز آج کل ایم بی اے آسانی سے ہوجاتا ہے جس کے بعد یہ جاب بلاکسی پریشانی کے مل سکتی ہے۔
۶۔ سب سے اچھا آپشن منتخب کریں
اوپر دیے گئے تجزیے کے مطابق بہترین آپشن وہ ہے جس ہمارے حالات کے تحت سب سے زیادہ مثبت پہلو رکھے اور سب سے کم منفی پہلو۔
مثال: چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ایم بی اے کرنے کے کے دو آپشنز بہتر لگ رہے ہیں۔ اب ان دو میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننا یقینی طور پر ایک محفوظ معاشی مستقبل کی ضمانت ہے ۔ طالب علم نے جب جائزہ لیا تو علم ہوا کہ سی اے کرنے کے لیے اکاؤنٹنگ کا علم ، صلاحیت اور رحجان ہونا ضروری ہے ورنہ چارٹرڈ اکاونٹنسی کا امتحان برسوں محنت کے باوجود پاس نہیں ہوتا۔وہ یہ دیکھتا ہے کہ سی اے کرنے کی صلاحیت اور رحجان اس میں موجود نہیں ت تو وہ ایم بی اے کرکے ایڈمنسٹریٹر بننے کے روٹ کو اختیار کرلیتا ہے۔
۷۔ فیصلہ کریں اور عمل کریں
یہاں تجزیہ کے بعد فیصلہ کرلینا ہے۔ فیصلہ کرنا صرف بہترین آپشن کو منتخب کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ اس فیصلہ پر عمل درآمد کے طریقہ کار دستیاب وسائل میں طے کرنا بھی شامل ہے۔
مثال:اوپر بیان کیے گئے تجزیہ کے بعد وہ ایم بی اے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ اور اس کا طریقہ کار وہ یہ طے کرتا ہے کہ سب سے پہلے ان یونی ورسٹیوں کو دیکھے جہاں ایم بی اے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان میں سے بہترین یونی ورسٹی کو اپنے حالات کے لحاظ سے منتخب کرلے۔ اس فیصلے کہ لیے پہلے اسٹیپ سے دوبارہ شروع کرنا ہوگا۔
۸۔ اللہ پر توکل
آخری مرحلہ بہت اہم ہے۔ اگر کسی شخص نے اوپر بیان کیے گئے مراحل پورے نہیں کیے اور اس نے محض توکل کرکے کوئی اہم فیصلہ کرڈالا تو یہ توکل نہیں بلکہ حماقت ہے۔ اپنے حصے کا کام کیے بنا توکل کا تصور نہ تو قرآن دیتا ہے اور ہی سنت رسول سے ثابت ہے۔
اسی طرح جب کسی شخص نے اپنے حصے کا کام کرلیا اور اللہ سے مدد طلب نہ کی تو یہ تکبر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص نے اپنے حصے کا کام کرلیا تو خدا کی کیا ضرورت؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کسی کام کو کرنے کے صرف وہی پہلو مد نظر رکھ سکتے ہیں جو ہم کسی حد تک کنٹرو ل کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمارے فیصلوں پر بے شمار ایسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں کہ نہیں ہم قابو کرہی نہیں سکتے۔ ان عوامل کو موافق بنانے کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی اور اس پر بھروسہ رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر طالب علم نے ایم بی اے بھی کرلیا اور اچھے جی پی اے سے کرلیا۔ لیکن اچانک اس کی صحت اتنی خراب ہوگئی کہ اس کا ایم بی اے کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ صحت کی خرابی وہ عنصر ہے جو وہ قابو نہیں کرسکتا تھا جس کی بنا پر اس کی ساری پلاننگ ناکام ہوگئی۔ اسی کے لیے دعا کی جاتی اور خدا سے مدد طلب کی جاتی ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


Pages