پروفیسر محمد عقیل

آٹھ سال سے بڑے بچوں کے لیے رمضان تربیتی گائیڈ


اگر باقاعدہ پلاننگ کی جائے تو رمضان میں بچوں کی تربیت بہت اچھے انداز میں کی جاسکتی ہے۔انہیں عبادات کا عادی بنایا جاسکتا، اچھے اخلاق پیدا کئے جاسکتے اور بری عادتوں سے چھٹکارا دلوایا جاسکتا ہے۔بچوں کی تربیت ماں باپ پر اسی طرح فرض ہے جیسے نماز یا دیگر احکامات۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ گائیڈآپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اس گائیڈسے بچوں میں دین سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوگا انشاءاللہ۔کوشش کیجئے کہ دو یا اس سے زائد بچوں کے درمیان یہ گائیڈاستعمال کریں اور روزانہ انہیں ان کا اسکور بتائیں تاکہ اگلے دن وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔
ڈاؤن لوڈ کے لئے یہاں کلک کریں
ramadan-guide-for-kids

فطرت و وحی


اداریہ
میرے دوستو! مذہب کا مفہوم ہے ” راستہ”۔ یعنی مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاتا ہے۔کم و بیش ہر مذہب اپنی نسبت خدا سے کرتا ہے کہ وہی سچا اور واحد راستہ ہے۔ ہر مذہب دیگر مذاہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور خود کو سراپا حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ہر مذہب دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ باطل مذہب کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرلیں۔ ہر مذہب کے پاس اپنی صداقت کو بیان کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل

موجود ہوتے ہیں۔
دوستو ! سوال یہ ہے کہ اگر مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے تو وہ کون سا مذہب ہے؟ ظاہر ہے انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اسی مذہب کو حق سمجھتااور باقی کو باطل گردانتا ہے۔ شعور کی عمر کو پہنچتے پہنچتے اس کا ذہن ایک خاص طرز میں ڈھل چکا ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبدارہوکر عقائد کا جائزہ لینے کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے۔
دوستو! ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خدا تک پہنچا جاسکتا ہے تو یہ راستہ خدا نے سب کو یکساں طور پر کیوں نہیں بتایا؟ کیوں ایسا نہ ہو اکہ خدا کے پیغمبر سب قوموں کے پاس آتے اور براہ راست ایک ایک شخص کو مخاطب کرکے انہیں تعلیم دیتے، انہیں تزکیہ و تربیت کے مراحل سے گذارتے؟
اس کا جواب بالعموم مذہب کے ماننے والے یہ دیتے ہیں کہ خدا نے انسانوں تک یہ ہدایت پہنچادی، اب انسانوں کا کام ہے کہ اسے باقی انسانوں تک پہنچائیں۔لیکن اس پر سوال یہ ہے کہ اتنا اہم کام خدا نے دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں کیوں دے دیا؟ اگر راستے یعنی مذہب کو جانے بنا خدا تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا تو یہ راستہ بتانا تو خدا کی ذمہ داری تھی ۔ جس طر ح انسان کو آکسیجن فراہم کرنے کا کام خدا نے انسانوں کے ہاتھ میں نہیں دیا ، اسی طرح مذہب بھی آکسیجن کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے جس کے نہ ملنے پر دوسری دنیا کی زندگی کی سانس ممکن نہیں۔
اس سوال پر مزید غور کریں اور غیر جانب دار ہوکر سوچیں تو گتھیاں سلجھنے کی بجائے الجھتی چلی جاتی ہیں۔ ہاں اگر ہم اپنے مذہب کی عصبیت کے تحت یہ بات سوچیں تو پھر تو اس کا جواب دینا بہت آسان ہے کہ ہمارا مذہب حق ہے باقی مذاہب کے ماننے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ حق تلاش کریں اور ان عقائد کو تسلیم کرلیں جو ہمارا برحق مذہب پیش کرتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ بات سب ہی خود کو سراپا حق سمجھتے ہوئے دوسرو ں پر ان باتوں ا اطلاق کررہے ہوتے ہیں اس لیے نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔
سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کون سا پیغام ہے جو خدا نے تمام انسانوں کو کامن دیا ہے، جس میں عرب و عجم، ہندوستان پاکستان، جدیدو قدیم دنیا ، عورت مرد، تعلیم و غیر تعلیم یافتہ کسی میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی؟ وہ کونسی ہدایت ہے جو کاغذ کے صفحوں پر نہیں بلکہ انسان کے اندر ہی کسی جینیٹک کوڈ میں لکھی ہوئی ہے جو ہر لمحہ اسے راہ دکھاتی ، صحیح و غلط کے بارے میں بتاتی اور خدا کی ہدایت کو واضح کرتی ہے؟وہ کون سی تعلیم ہے جس میں مذہبی لیڈر شپ درمیان میں نہیں آتی اور نہ اس کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے؟ وہ کونسی تعلیم ہے جو انسانیت کا کامن ورثہ ہے اور جس میں کوئی اختلاف ، کوئی ابہام کوئی بحث نہیں؟
یہ تعلیم انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ خیر و شر کا بنیاری تصور ہے جسے ہم ضمیر، فطرت، نفس لوامہ یا کسی اور نام سے موسوم کرسکتے ہیں۔ یہ وہ تعلیم ہے جو دنیا کے ہر انسان کو خدا نے براہ راست دی ہے۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کا ہر عمل پرکھا جارہا ہے، یہ وہ تعلیم ہے جو کسی واسطے کی محتاج نہیں، اور یہی وہ تعلیم ہے جس پر بعض اوقات وحی کو بھی پرکھا جاتا اور اس کے مستند یا غیر مستند ہونے کا فیصلہ کا جاتا ہے۔یہی وہ دین ہے جو پوری انسانیت کا ایک مشترکہ اثاثہ ہے اور یہی وہ داخلی وحی ہے جس کی یاددہانی کرانے کے لیے خارج سے پیغمبر آتے رہے ہیں۔
البتہ فطرت یا ڈی این اے میں موجود اس خیر و شر کی تعلیم میں کچھ محدودیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا اطلاق مختلف معاشروں میں مختلف ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ تصور غیبی دنیا کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں بیان کرتا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا، جنت و جہنم کیا ہیں وغیرہ۔ نیز یہ تصور بعض اوقات مسخ ہوجاتا ہے جیسے ہم جنس پرستی۔
اس وقت خارجی وحی کا کام شروع ہوتا ہے۔ وحی سب سے پہلے اس کے اطلاق کو موضوعی سے معروضی یعنی آبجیکٹو انداز میں حتمی طور پر بیان کرتی ہے۔ وہ ان غیبی امور کو خدا کی جانب سے بیان کرتی ہے جو انسان عقل و فطرت کے ذریعے معلوم ہی نہیں کرسکتا، وحی ایک ایسی فضا پیدا کرتی ہے جس کے ذریعے فطرت کے تصورات کو مسخ ہونے سے بچایا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے ایک شخص جب تک کوئی مخصوص مذہب قبول نہ کرے تو وہ امتحان کے دائرے ہی میں نہیں ہے اور وہ جہنمی ہے۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ہر انسان کا بنیادی امتحان اسی فطرت کے ذریعے دی جانے والی تعلیم سے ہورہا ہے۔ مذہب یا درست وحی تک رسائی ایک دوسرا مرحلہ ہے۔ اگر کسی کو درست مذہب کی دعوت پہنچ جائے اور بات اس کی سمجھ میں آجائے تو اسی فطری مذہب کا تقاضا ہے وہ اس کو مانے کیونکہ حق اس پر واضح ہوچکا ہے۔
میرے دوستو! مذہبی راہنماؤں کی اکثریت کی غلطی یہ رہی کہ انہوں نے ان دائروں کو ملحوظ خاطر نہ رکھا اور خیر و شر کے بنیادی شعور کو فطرت کی بجائے وحی سے اخذ کرنے کی کوشش کی۔ یوں خدا کی ابتدائی وحی پس پشت چلی گئی اور جو وحی اس کی وضاحت کے لیے آئی تھی اسے بنیادی تصور کرلیا گیا ۔لیکن اگر ہم فطرت و وحی کو ان کے درست مقام پر رکھ کر سمجھیں تو دنیا میں مذہب و مسلک کے نام پر کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو۔
میرے دوستو!خدا نے اپنا کام کردیا۔ اس نے ہر انسان کے اندر خیر و شر کا بنیادی شعور ودیعت کردیا۔اس نے ہر شخص کے اندر ہی داخلی وحی مہیا کردی۔ اس نے ہر انسان تک اپنا امتحانی پرچہ پہنچادیا۔ اس کے بعد اس کے ابہام کو خارجی وحی کی تعلیمات سے دور کردیا۔ ہمارا کام اس داخلی اور خارجی وحی کو سمجھنا اور اس پر سر تسلیم خم کردینا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے یعنی اطاعت و فرماں برداری۔ بس یہی آج کا مختصر پیغام ہے۔
ڈاکٹر محمد عقیل


السلام علیکم
اسرا کے زیراہتمام کل میں نے ایک لیکچر دیا کیا جو دین کے صحیح تصور کے حوالے سے تھا۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ دین اللہ نے صرف وحی کے ساتھ ساتھ فطرت کے ذریعے بھی دیا ہے اور یہی وہ یونی ورسل دین ہے جس کا علم ہر انسان کے پاس موجود ہے۔ اس لیکچر کی ریکارڈنگ بھی ہوئی ہے جو دلچسپی رکھنے والے لوگوں میں شئیر کردی جائے گی۔
اسرا ایک آن لائن تعلیم و تربیت کا ادارہ ہے جس کے تحت مذہبی و سماجی کورسز کرائے

جاتے ہیں۔ ۔ الحمد للہ ، اب اسرا نے آن لائن دنیا سے فزیکل گراؤنڈ میں قدم رکھ لیا ہے ۔
ہمارا ارادہ ہے کہ اسرا کی فزیکل سرگرمیوں کو باقاعدہ شکل دی جائے اور نہ صرف کراچی بلکہ باقی شہروں میں بھی ایسے مینٹورز اور ٹرینرز تیار کیے جائیں جو اپنے اپنے علاقوں میں مختلف ورکشاپس کنڈکٹ کراسکیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ایک شخص عالم دین ہو۔ ہم نے سماجی کورسز اس طرح ڈیزائن کیے ہیں کہ ایک شخص کچھ مطالعے اور پریکٹس کے بعد یہ کورسز خود کراسکتا ہے۔ البتہ کسی دینی موضوع پر لیکچر دینے کے لیے یقینی طور پر مطلوبہ علم درکار ہے جس کے لیے ہم ٹریننگ لی جاسکتی ہے۔
اس سلسلے میں اگر آپ بھی اپنے شہر میں اسرا کا کوئی کورس کرانا چاہتے ہیں یا وہاٹس ایپ پر کرانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کیجے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

شب برات اور درست رویہ


ہماری سوسائٹی میں شب برات پر دو مکاتب فکر ہیں۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ شب برات نجات کی رات ہے، اس رات لوگوں کے نامہ اعمال اللہ کے حضور پیش ہوتے ، ان کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا، ان کے جینے مرنے کا تعین ہوتا ، لوگوں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس رات کی عبادت بہت افضل ہے اور اس رات قبرستان جانا چاہئے اور نوافل و اذکار کثرت سے کرنے چاہئیں اور اگلے دن روزہ رکھنا چاہیے ۔ان کے نزدیک یہ سب سنت سے ثابت ہے

۔
دوسرا گروہ اس رات کی مذہبی حیثیت کو چلینج کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس رات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس رات کی بنیاد ضعیف احادیث پر ہے اور اس کے فضائل مستند نہیں۔ چنانچہ یہ گروہ اس رات کو بااہتمام منانے اور اجتماع کرنے کو سنت کی بجائے بدعت مانتا اور اس کے تمام فضائل کو باطل قرار دیتا ہے۔
ہمیں یہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ درست علم کیا ہے؟ اس معاملے میں اپنے فرقے یا مکتب فکر کے علما ء پر ہی تکیہ کرنے کی بجائے نیوٹرل انداز میں مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ شب برات پر جتنا بھی مواد پیش کیا جاتا ہے وہ سب کا سب روایات پر مبنی ہے۔ صرف ایک آیت قرآن کی پیش کیا جاتی ہے جو سورہ الدخان کی ہے۔ وہ یہ ہے:
کہ ہم نے اس (قرآن کو) خیرو برکت والی رات میں نازل کیاہے کیونکہ ہمیں بلاشبہ اس سے ڈرانا مقصود تھا۔اس رات ہمارے حکم سے ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ (سورہ الدخان آیات ۴۳،۴۴)
یہاں صاف واضح ہے کہ یہ شب برات سے متعلق آیات نہیں کیونکہ شب بارات میں قرآن نازل نہیں ہوا تھا ، یہ شب قدر میں نازل ہونا شروع ہوا تھا۔ اس لیے جس رات میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے وہ شب برات نہیں شب قدر ہے۔
اس کے علاوہ شب برات والی رات کو جاگنا، قبرستان جانا، اگلے دن روزہ رکھنا، اسے نجات والی رات سمجھنا وہ امور ہیں جن کی توثیق ضعیف روایات کی بنیاد پر ہے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ فقہ احناف جس میں دیوبندی اور بریلوی شامل ہیں ، ضعیف احادیث کو فضائل یا نفل عبادات کے لیے بالعموم قابل قبول سمجھتے ہیں جبکہ اہل حدیث یا سلفی فکر کے لوگ اسے ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں مکاتب فکر دو انتہاؤں پر کھڑے ہیں اور اس موقع پر ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے لیے بعض اوقات اخلاقی حدود بھی پامال کر بیٹھتے ہیں۔ اس کھینچا تانی میں عوام ایک کنفیوژ ن کا شکار رہتے ہیں کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے؟
اس کنفیوژن سے بچنے کے لیے ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے جو غیر معروف لیکن حقیقت سے قریب تر ہے۔ اس مکتبہ فکر کے نزدیک جو چیزیں دین میں مباح یعنی جائز ہیں وہ سب کی سب اس رات میں جائز رہیں گی اور جو چیزیں ناجائز ہیں وہ اس رات کی بنا پر جائز نہیں ہوجائیں گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس رات کو عبادت کرتا، نفل پڑھتا، قرآن کی تلاوت کرتا، ذکرو اذکار کرتا یا اور کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا ہے تو اسے کسی طور اس بنا پر ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ شعبان کی مخصوص رات کو یہ کام ہورہا ہے۔
دوسری جانب لاؤڈ اسپیکر پر نعتیں پڑھ کر لوگوں کی نیندیں حرام کرنا، پٹاخے اور آتش بازی سے پڑوسیوں کا سکون غارت کرنا، روحوں کو حاضر کروانا، مزارات پر سجدہ کرنا ، قبروں میں چلہ کشی کرناکسی بھی رات میں جائز نہیں تو اس رات میں کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟

خدا نظر کیوں نہیں آتا؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خدا نظر کیوں نہیں آتا؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال یہ کہ خدا ظاہر ہوکر ایمان کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا ؟ وہ کیوں سات آسمانوں میں چھپ کر خود تک پہنچنے کا مطالبہ کا کرتا ہے؟ وہ کیوں براہ راست کلام نہیں کرتا اور پیغمبروں پر کتابیں نازل کرکے انسانوں سے بات چیت کرتا ہے؟ وہ کیوں انسان سے مخلوق دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے؟یہ چند سوالات ہیں جو ایک انسان کے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔۔ اس کی ایک وجہ نہیں کئی وجوہات ہیں۔ ہم علمی طور پر جائزہ لیتے ہیں کہ خدا کیوں غیب میں رہتے

ہوئے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
۱۔ اس کی سب سے پہلی وجہ تو عام طور پر یہ بیان کی جاتی ہے کہ اگر خدا سامنے ظاہر ہوجاتا اور براہ راست کلام کرتا تو آزمائش یا امتحان کا عمل ممکن نہ ہوپاتا۔کس کی مجال ہوتی کہ خدا کو دیکھ کر اس کا انکار کرے، اس کے حکم کو براہ راست سن کراس کی سرتابی کی جرت کرے؟ اور اگر خدا لوگوں کو آزادانہ اختیار دے کر انہیں حکم عدولی کرنے دیتا تو یہ خدا کے رتبے کی توہین ہوتی ۔ ایسا کرنے کی صورت میں خدا کو اپنا اختیار اور طاقت غیب میں رکھنی پڑتی۔ آزمائش ممکن بنانے کے لیے دوسری صورت یہ ہوتی کہ خدا بھیس بدل کر مخلوق کی نگاہوں کے سامنے بھی ہوتا اور اوجھل بھی۔ اس صورت میں بھی خدا ایک اعتبار سے غیب ہی میں چلا جاتا۔ لہٰذا خدا کے غیب میں رہنے کی پہلی وجہ یہی ہے کہ یہ امتحان کا نظام قائم ہو جس میں امیدواروں کواپنی مرضی چلانے کااختیار ہو۔
۲۔ دوسرا جواب عام طور پر یہ دیا جاتا ہے کہ خدا اس لیے نظر نہیں آتا کہ انسان اسے دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا۔ موسی علیہ السلام کا واقعہ اس کی دلیل ہے۔ جب موسی علیہ السلام نے خدا کو دیکھنے کی استدعا کی تو اللہ نے یہ فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ چنانچہ جب اللہ نے اپنی ایک تجلی پہاڑ پر ڈالی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ۔ بتانا یہی مقصود تھا کہ انسان میں ابھی تو اتنی بھی صلاحیت نہیں کہ وہ سورج کو چند فٹ کے فاصلے سے دیکھ سکے چہ جائکہ سورج کے خالق کو براہ راست دیکھے۔
۳۔ خدا کے دکھائی نہ دینے کی ایک اور وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خدا اگر اس کائنات میں کسی مقام پر موجود ہوکر خود کو ظاہر کردے تو وہ زمان و مکان میں مقید اور محدود ہوجائے گا ۔ جبکہ خدا تو زمان و مکان سے ماورا ہے۔
۴۔ انسانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو خدا کو قابل دید سمجھتا اور اسے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ لوگ صوفی، سینٹ، سادھو، مونکس اور دیگر ناموں سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کے نزدیک خدا کو ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا البتہ اگر من کی آنکھیں کھول لی جائیں تو تصور کی دنیا میں خدا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس گروہ کے دعووں کو تسلیم کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ معروضی مشاہدات نہیں جو سب کو نظر آتے ہوں۔ یہ موضوعی مشاہدات ہیں جن کا تعلق وجدان اور ذاتی تجربے سے ہے اور کسی کا ذاتی تجربہ اس وقت تک حجت نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ عقل یا نقل سے ثابت نہ کردیا جائے۔
۵۔ ایک سائنٹفک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انسان ایک محدو د ڈائمنشن والی مخلوق ہے جو انہی چیزوں کو دیکھ سکتی ہے جو اس کی ڈائمنشن کے احاطے میں آتے ہوں۔ فرشتے اور جنات کی ڈائمنشن مختلف ہے اس لیے انہیں دیکھا نہیں جاسکتا ۔ چنانچہ خدا کا معاملہ تو بعید از قیاس ہے۔
۶۔ بعض مکاتب فکر مخلوق کو دیکھ کر خالق تک پہنچنے کا دعوی کرتے اور اس کی ذات کی کھوج لگاتے ہیں۔ لیکن یہ بات عقلا درست نہیں۔ ایک کرسی کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی کاریگری کی صفت کو تو پہنچانا جاسکتا ہے لیکن کرسی بنانے والے کی شکل و صورت کیا ہوگی، اس کی باڈی کس طرح کی ہوگی، یہ سب معلوم کرلینا ناممکن ہے۔
یہ سب تو مذہبی ، سائنسی اور روحانی وجوہات ہیں جو بالعموم خدا کے غیب میں رہنے کے لیےبیان کی جاتی ہیں۔ایک اور اہم وجہ جو شاید آج تک بیان نہیں کی گئی وہ خدا کی صفت رحمت ہے۔
اگر ہم خدا کے نظام کو دیکھیں تو معاملات جتنے زیادہ غیب میں رہتے ہیں ، اتنا ہی ان میں یقین کی کاملیت کا امکان کم ہوتا اور تشکیک کا کچھ نہ کچھ پہلو موجود ہوتا ہے۔ اسی بنا پر جزا و سزا کا نظام تاخیر سے عمل میں آتا ہے۔ جوں جوں یہ غیب کھلتا جاتا ہے، جزا و سزا کا نظام سرعت سے عمل کرتا ہے۔ چنانچہ جب پیغمبر کو خدا کے نما ئندے کے طور پر بھیجا جاتا ہے تو ابتدا میں لوگ انکار ہی کرتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ بار بار غیب کو منکشف کرکے معجزے دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیغمبر عام طور پر ان کے ظہور سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ لیکن جب غیب منکشف ہوکر حق سامنے آجاتا ہے تو اب فرار کی کوئی راہ نہیں بچتی اور جزا و سزا کا نظام قانون دینونت کی شکل میں نافذ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح سورہ انعام میں بیان ہوا ہے کہ اگر ہم ان کے مطالبے پر پیغمبر کی جگہ کوئی فرشتہ اصل شکل میں بھیجتے تو پھر تو قصہ تمام کردیا جاتا اور اور ان کو مہلت ہی نہ ملتی۔
اسی اگر ہم ان مخلوقات کو دیکھیں جو خدا کی حضوری میں جی رہے ہوتے ہیں تو ان کے پاس غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ چنانچہ فرشتے اول تو کوئی حکم عدولی کر ہی نہیں سکتے اور اگر کر بھی لیں تو فورا ان پر سزا کا نفاذ ہوجاتا ہے۔ خدا کے ظاہر ہونے کے بعد کسی بھی معمولی حکم عدولی پر سزا کا نفاذ ہونا لازمی ہے۔
ا س پس منظر میں دیکھا جائے تو خدا کے غیب میں رہنے کی ایک بڑی وجہ جزا و سزا کے نظام کو موخر کرنا اور انسانوں کو مہلت دینا ہے تاکہ وہ اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں اور رجوع کرلیں۔

قوم کی اصلاح کیسے؟


قوم کی اصلاح کیسے؟
از: ڈاکٹر محمد عقیل

ملک و قوم کی اصلاح کے دوماڈل ہیں۔ایک یہ کہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ دوسرا یہ کہ قوم کی تربیت کے بنا قانون کا نفاذ ممکن نہیں۔ پہلے گروہ کی دلیل امریکہ ،کینڈا جیسے ممالک ہیں جہاں سب پاکستانی اور انڈین جاکر قانون کی پاسداری شروع کردیتے ہیں۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ وہاں چونکہ اکثریت تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہے اس لیے ایک عام پاکستانی یا انڈین اقلیت میں ہونے کی بنا پر قانون فالو کرنے پر مجبور ہوتا ہے

۔
میرا خیال میں کوئی ایک ماڈل تنہا اصلاح نہیں کرسکتا اور دونوں کو ملانے کی ضرورت ہے۔ صرف قانون کا نفاذ کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر آج بیس کروڑ پاکستانیوں یا انڈین کو لے جاکر کینڈا بسا دیا جائے تو حکمران کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، کینڈا بھی پاکستان یا انڈیا بن جائے گا۔ یا اگر کینڈا کے حکمرانوں کو پاکستان پر مسلط کردیا جائے تو وہ بھی اس قوم کو محض قانون کے ذریعے سدھارنے میں ناکام ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون جس بیوروکریسی اور پولیس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، ان کی کرپشن، نااہلی، سستی و کام چوری اور بے ایمانی قانون نافذ کرنے والے صالح حکمرانوں کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ اسی لیے قوم کی تربیت کی ضرورت ہے جن میں ایمانداری، خوداحتسابی، کام کرنے کی لگن اور روزی حلال کرنے کا جذبہ اندر سے پھوٹے، نا کہ خارج سے قابو کیا جائے ۔
اس بات کو ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں کہ اس ملک کے حکمران ہم امریکی یا کینڈین یا حتی کہ فرشتے نما لوگوں کو مقرر کردیتے ہیں ۔ اب ان حکمرانوں کا کیا کام ہے؟ یہ قانون سازی کرتے ہیں اور اس قانون کا نفاذ بیوروکریسی اور انتظامیہ کے ذریعے کرواتے ہیں۔ فرض کریں انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کردیا کہ آج کے بعد سے کوئی کرپشن نہیں ہوگی اور کام وقت پر ہی ہوگا بصورت دیگر سخت کاروائی ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ حکم تمام محکموں میں پہنچادیا۔یہ حکم پولیس ، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور سب جگہ پہنچ گیا۔
اب پولیس کے محکمے میں ایک شخص نے کرپشن کی اور سب کے سامنے رشوت لی۔ قانون کو حرکت میں آکر اس کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے لیکن اس تھانے کا ایس ایچ او خود کرپٹ ہے۔ اب وہ کاروائی کیسے کرے؟ اس کے اوپر ڈی ایس پی خود اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے بے تاب ہے تو قانون پر عمل کہاں سے ہو؟ اب دیکھا جائے تو حکمران صالح ہیں، نیک نیت ہیں لیکن یہاں کچھ نہیں کرسکتے کیوں وہ چند ہیں اور عوام کثیر۔ ایک جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ حکمران اپنے جاسوس مقرر کردیں تو ہمارے ہاں تو پہلے ہی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ موجود ہے جسے آنٹی کرپشن کا نام دیا جاتا ہے۔
شاید ابھی کچھ لوگ اختلاف کریں تو ایک اور مثال لیتے ہیں۔ ٹریفک کے قوانین پوری طرح موجود ہیں اور پاکستانی دوسرے ممالک جاکر ان قوانین کی پابندی کرتے ہیں وگرنہ ان پر جرمانہ لگتا ہے۔ لیکن پاکستان میں وہ یہ پابندی نہیں کرتے۔ اس کا حل ایک عام آدمی بتائے گا کہ ٹریفک پولیس کو سختی کرنی چاہیے ۔ بہت عمدہ جواب ہے لیکن ٹریفک پولیس اسی قوم کا ایک عام فرد ہے۔ اگر وہ چاروں طرف کرپشن، کام چوری اور بددیانتی ہوتے دیکھ رہا ہے تو وہ احکامات کے بعد بھی اس کو نافذ کرنے سے قاصر رہے گا۔ جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے تو وہ ہرجگہ نہ موجود ہوسکتے ہیں اور نہ جاسوسی کرواسکتے ہیں۔ حتی کہ آرمی مانیٹرنگ ٹیموں کے ذریعے کرپشن روکنے کی کوشش مشرف دور میں ناکام ہوچکی ہے۔ جب آرمی جیسا منظم ادارہ کچھ نہ کرپایا، تو بے چارے سویلین کیا کرلیں گے؟
پھر دوبارہ وہی سوال کہ آخر امریکہ ، یورپ اوردیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی تو قانون کا راج ہے؟ وہاں یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے اور ہمارے ہاں کیوں نہیں؟ تو جناب اس کا سادہ سا جواب ہے کہ آج امریکہ و یورپ جس مقام پر پہنچے ہیں وہ گذشتہ سو دو سو سال کی جدوجہد کے بعد پہنچے ہیں۔ وہ وقت یاد کریں جب امریکہ میں ریڈ انڈینز کو قتل کردیا جاتا تھا، کاوبوائے دندناتے پھرتے تھے اور قانون نام کی کوئی شے نہ تھی۔ اس وقت کوئی امریکہ میں محض قانون کے نفاذ سے یہ سب کچھ ممکن نہیں بناسکتا تھا۔ صدیوں کی تعلیم ، تربیت ، کاونسلنگ، تجربات کے بعد ایک قوم تیار ہوئی جس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں دیکھی تھیں، جس نے جہالت کا انجام دیکحا تھا، جس نے جذباتیت کے نتائج بھگتے تھے، جس نے مذہبی جبر کو برداشت کیا تھا۔ یہ قوم جانتی تھی کہ ڈسپلن اور قانون کی پاسداری ہی ترقی کا راز ہے۔ تو انہوں نے اس راز کو پالیا ، سمجھ لیا اور عمل کیا ۔ آج وہ اس مقام پر ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ وہ ڈنڈے کے زور پر نہیں سیکھے بلکہ تجربات اور تعلیم سے سیکھے جس میں ان کے دانشوروں کا بڑا کردار ہے۔
ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم برسوں سے نظاموں، حکمرانوں کو بدل رہے ہیں۔ نہیں بدلا تو فرد نہ بدلا۔ چنانچہ کیساہی نظام ہو، کیسا ہی حکمران ہو، اگر لوگوں کی اکثریت خراب ہے تو نظام و حکمران آپ سے آپ خراب ہوجائیں گے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ صرف تعلیم و تربیت ہی سب کچھ ہے۔ اگر محض تعلیم و تربیت ہی کی جاتی رہی تو کچھ لوگ ہمیشہ ایسے رہیں گے جو اس تعلیم و تربیت سے نہیں سدھریں گے۔ وہ ہمیشہ نیک مقاصد کو سبوتاژ کرتے رہیں گے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے قانون ہی کے اطلاق سے ہوگی۔البتہ قانون کا اطلاق اسی وقت درست طور پر ممکن ہوگا جب ایک صالح گروہ تیار ہو، جو خود کو رول ماڈل کے طور پر لوگوں کو متاثر کرے، ان کا تزکیہ کرے، تربیت کرے، اصلاح کرے، راہنمائی کرے۔ جب لوگوں کی اکثریت قانون کو دل سے تسلیم کرلے کی تو پھر حکمران خواہ کتنا ہی بدمعاش کیوں نہ ہو، سسٹم خواہ کتنا ہی بودا ہو، سب کو وہ درست کردیں گے۔
تو آئیے، اپنی اصلاح کریں، اپنے گھر کی اصلاح کریں۔ خود کو سدھاریں، اپنے گھر کو سدھاریں۔ لوگوں کے لیے رول ماڈل بنیں، قانون کی پاسداری ہم خود کریں۔ جب ہم جیسے لوگوں کی ایک معقول تعداد بن جائے گی تو اکثریت بھی تبدیل ہوگی اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ اور اگر یہ نہیں تو پھر ہم ترقی یافتہ ہونے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

خدا کا غیبی ہاتھ


ڈاکٹر محمد عقیل
ہمارے ہاں کچھ اسکالرز کا تصورایک ایسے خدا کے تصور سے ملتا ہے جو کائنات بناکر سات پردوں میں چھپ گیا اور جیتے جاگتے انسان کو قوانین قدرت کے بے رحم موجوں کے حوالے کردیا ۔ان کے تصور کے مطاق خدا ایک ایسی ہستی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا، جو کبھی کبھی پیغمبروں کے ساتھ ہی نمودار ہوا،

ماننے والوں کی مدد کی، کافرو ں پر قہر ڈھایا اور اس کے بعد سات آسمانوں سے اوپر چلا گیا۔ ان کے مطابق ایسا واقعہ آخری بار چودہ سال قبل ہوا تھا اور اب خدا سب کچھ اسباب و علل کے سپرد کرکے چلاگیا ہے۔اب وہ دوبارہ قیامت کے وقت ہی نمودار ہوگا۔ اس سے پہلے اب وہ نہ کسی پر اپنا عذاب نازل کرتا ، نہ کسی کو انعام دیتا، نہ کسی کو سزا دیتا اور نہ اسباب سے ماورا کا م کرتا ہے۔ ان کے نزدیک خدا اگر مداخلت کرتا بھی ہے تو قوموں کے اجتماعی معاملات میں ان کی اخلاقی حالت دیکھ کر ان کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتا ہے۔ البتہ فرد کے اعمال کی جزا و سزا کا اس دنیا میں کوئی امکان نہیں۔
دوسری جانب ایک روایتی نقطہ نظر ہے جو دوسری انتہا پر کھڑا ہے۔ یہ فرد کی ہر بیماری کو غیر مرئی گناہوں کا نتیجہ قرار دے کر اس کے علاج پر توجہ نہیں کرنا چاہتا، جو ہر سیلاب کو زنا اور چوری کا نتیجہ قرار دیتا،جو ہر زلزلے کے پیچھے چند رسمی عبادتوں میں کوتاہی کو اصل سبب سمجھتا ہے۔ اس اپروچ کے نتیجے میں بیماری ، سیلاب ، قحط، موسموں کی شدت وغیرہ کے پیچھے جو طبعی اسباب ہوتے ہیں انسان کو کو حل کرنے کی بجائے قدیم زمانوں کی طرح قربانی ، عبادت اور دیگر طریقوں سے خدا کو خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ حالانکہ خدا کی ناراضگی اگر ہو بھی تو اس کی کچھ مادی وجوہات بھی ہوتی ہیں جن کو حل کیے بنا قدرت بھی رسپانس نہیں دیتی۔
خدا کے یہ دونوں تصور آج کے مذہبی انسان کے لیے دو انتہائیں ہیں اور بہت مایوس کن ہیں ۔آج کے انسان کے ذہن میں یہ سوالات جنم لیتے ہیں اگر سب کچھ دوا ہی نہیں کرنا ہے تو بیماری دور کرنے کے لیے خدا سے دعا کیوں کی جائے؟اگر رزق کی فراہمی کے لیے ساری کوشش انسان ہی نے کرنی ہے تو خدا سے رزق کی التجا کیوں کی جائے؟ اگر کوئی حادثہ مادی قوانین کے تحت ہی ہونا ہے تو اس سے بچنے کے لیے خدا سے مدد کیوں مانگی جائے؟
اس کا جواب ہمیں اسکالرز کی بجائے براہ راست قرآن سے پوچھنا چاہیے کہ آیا خدا آج بھی کائنات میں اتنا ہی فعال، متحرک اور ظاہر ہے جتنا وہ پیغمبروں کے دور میں ہوتا تھا؟ کیا خداایک عام انسان کی زندگی میں بھی اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے جتنی وہ قوموں کے معاملات میں رکھتا ہے؟ کیا خدا انسانی اعمال کی جزا و سزا صرف آخرت ہی میں دے گا یا وہ چاہے تو اسی دنیا میں انجام دکھا سکتا ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں مل جائے تو خدا کو ماننے والوں کا توکل کہیں بڑھ جائے گا، پھر زندگی ہمہ وقت خدا کی معیت میں گذرتی نطر آئے گی، پھر خدا کی شفقت ہر وقت چاروں طرف دکھائی دے گی، پھر گھٹاٹوپ اندھیروں میں بھی خدا پریقین کا نور امید کی کرن بنتا رہے گا۔ پھر خدا کے عذاب کو آخرت تک موخر کرنے کی بجائے اس دنیا میں بھی خدا کی سزا کی پہلی قسط نازل ہوتی دکھاءی دے گی۔
آئیے ان سوالوں کو جواب قرآن سے تلاش کرتے ہیں۔ پورا قرآن پڑھنے کی ضرورت نہیں ، محض ایک سورہ ہی ان باتوں کو اتنے واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہیں۔
۱۔ اصحاب کہف کا سبق
اصحاب کہف کا واقعہ مختصرا یہ ہے کہ چند نوجوان توحید پر ایمان لے آئے جو ان کے زمانے کے مشرکانہ مذہب کی خلاف ورزی تھی ۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان کی قوم انہیں مارڈالے گی۔ چنانچہ انہوں نے تہیہ کیا کہ کسی غار میں چھپ جاتے ہیں ۔ انہوں نے اللہ سے امید لگائی کہ ہمارا رب اپنی رحمت پھیلائے گا اور ہمارے لیے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔ یعنی ہمیں قوم کے ظم و ستم سے بچائے گا۔
اس کے بعد اللہ نے انہیں قوم کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کم وبیش تین سو سال تک وہاں سلائے رکھا۔ اس کے بعد جب وہ بیدار ہوکر اپنی قوم کی جانب واپس گئے تو حالات بدل چکے تھے اور ان کی قوم بھی اسی مذہب پر ایمان لاچکی تھی جس کے وہ ماننے والے تھے۔
سبق
اس واقعے کو دیکھیں تو کس طرح معجزانہ طور پر اللہ نے ان نوجوانوں کی مدد کی ۔ دیکھا جائے تو یہ چند نوجوانوں کا واقعہ ہے اور کسی پیغمبر کا واقعہ نہیں۔ خدا کی مدد کا اس معجزانہ طریقے سے ظاہر ہونا یہ بتاتا ہے کہ خدا اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو اس پر جتنا یقین رکھتا وہ اس کے لیے اتنا ہی اپنی رحمت کشادہ کردیتا ہے۔ البتہ اس کا طریقہ کا ر کیا ہوتا ہے؟ اس کا تعین خدا اپنی حکمت کے مطابق ہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس دعا کی قبولیت اس طرح نہیں ہوئی کہ ان نوجوانوں کی قوم فورا ایمان لے آئی اور ان کے لیے حالات سازگار ہوگئے۔ ایسا ہونے میں تین سو سال کا عرصہ لگا اور اس دوران وہ نوجوان محو استراحت ہی رہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا معجزہ آج بھی نمودار ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ خود سے محبت رکھنے والوں کے لیے کس قسم کے اقدامات کرے۔ البتہ اس طریقہ کار کیا یہی ہوگا جو اصحاب کہف کے معاملے میں ہوا تو ایسا کہنا مناسب نہ ہوگا۔ خدا کے معجزے ہمیشہ حالات و واقعات کے پس منظر میں نمودار ہوتے ہیں۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اس قسم کا معجزہ ہونا کیا آج ممکن ہے کہ کوئی تین سو سال تک سوتا رہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کا معجزہ جب بھی نمودار ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی دوسری مادی توجیہہ بھی ممکن ہوتی ہے اور یہ بظاہر اسباب کے پردے ہی میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت جب یہ نوجوان تین سو سال کے بعد دوبارہ بیدار ہوکر قوم کی جانب گئے ہونگے تو لوگوں نے اسی قسم کی باتیں کی ہونگی جیسا کہ ایسے واقعے پر آج لوگ کرتے۔ کچھ لوگوں نے اسے طبعی قوانین کا معاملہ قرار دیا ہوگا، کچھ نے جادو کہا ہوگا، اور کچھ نے من جانب اللہ قرار دیا ہوگا۔
اسی طرح آج بھی بے شمار واقعات ہمارے ارد گرد اللہ کی تدبیر سے ہوتے رہتے ہیں جن کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی کیا حکمت ہے۔
۲۔ باغ والوں کا قصہ
دوسرا سبق اسی سورہ میں باغ والوں کے قصے سے ملتا ہے۔ دو افراد کے باغ بہت خوب پھل لارہے اور نفع دے رہے تھے۔ ایک دن زیادہ مالدار شخص اپنی برتری اور تکبر جتانے لگا۔ وہ کہنے لگا کہ میرا مال اور میرا گروہ تجھ سے زیادہ بہتر ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ برباد ہوسکتا ہے۔ اول تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آئی بھی تو مجھے میرا رب اس سے بھی زیادہ دے گا کیونکہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔ اس کے ساتھی نے اسے سمجھایا کہ تکبر نہ کرو اور اپنے نفس کو خدا کے ساتھ شریک نہ کرو لیکن وہ باز نہ آیا۔ تو اس کے تکبر کے نیتجے میں اس کا باغ تباہ کردیا گیا۔ اسی قسم کا ایک مضمون سورہ ن میں بھی ہے جب باغ والوں کو عذاب دے کر ان کا باغ تباہر کردیا گیا تھا۔
سبق
یہاں خدا کا دوسرا روپ دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح خدا اپنے چاہنے والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں دنیا میں تین سو سال تک سلاسکتا ہے ، اسی طرح متکبر اور اناپرست مالداروں کا غرور توڑنے کے لیے ان کو عذاب سے دوچار کرسکتا ہے۔ یہاں دیکھا جائے تو ایسا نہیں کہ یہ واقعہ کسی پیغمبر کے دور میں ہو ا ہو۔ یہ دو عام لوگوں کا معاملہ ہے اور خدا نے اپنی حکمت کے تحت ان کو ان کے کیے کی سزا دی۔
اس سے یہ علم ہوتا ہے کہ خدا چاہے تو انسان کے برے اعمال کی سزا اسی دنیا میں دے سکتا ہے اور چاہے تو اسے آخرت تک موخر کرسکتا ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے کہ جو برائی بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کے سبب ہوتی ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ہر برائی ہمارے اخلاقی اعمال کے سبب آئی ہے ، کہنا مناسب نہیں۔ کسی کو بخار آگیا، کسی کا مال چور ہوگیا، کسی کو کوئی اور نقصان ہوگیا تو یہ کہنا کہ چونکہ نماز نہیں پڑھی اس لیے یہ ہوگیا، چونکہ زکوٰۃ ادا نہیں کی اس لیے یہ ہوا ، درست نہیں۔ ہمارے بخار کے طبعی عوامل ہوسکتے، مال چوری ہونے کے سماجی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ہر معاملے میں خفیہ ہاتھ تلاش کرنا ایک وہم ہے۔ البتہ دوسرا نقطہ نظر بھی مناسب نہیں کہ سب کچھ طبعی یا سماجی اسباب ہی کے تحت ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کوئی برا واقعہ کسی اخلاقی کوتاہی کے سبب بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ ان آیات میں بیان ہوتا ہے۔ اسی لیے انسان کو اپنا احتساب کرتے رہنا اور متنبہ رہناچاہیے۔
۳۔ تیسرا واقعہ : موسی و خضر کا سبق
یہ واقعہ حضرت موسی وحضرت خضر کا ہے۔ حضرت خضر کےبارے میں اکثریت کا رحجان ہے کہ وہ خدا کے تکوینی نظام کے نمائیندے اور فرشتے ہیں۔ حضرت موسی کی ان سے ملاقات کرائی جاتی ہے تاکہ حضرت موسی کو اس دنیا میں ہونے والے واقعات کے پیچھے خدا کا غیر مرئی نظام دکھایا جائے ۔ اسے قران میں بیان کرنے کی وجہ بھی اسی باطنی نظام کے بعض پہلووں کو واضح کرنا ہے۔
اس واقعے میں تین کیس بیان ہوئے ہیں۔ پہلا کیس ایک کشتی والے کا ہے جس کی کشتی میں حضرت خضر سورا خ کردیتے ہیں ، پھر ایک بچے کو قتل کردیتے ہیں اور پھر ایک بستی میں داخل ہوکر ایک گرتی ہوئی دیوار کو تعمیر کردیتے ہیں۔حضرت موسی ظاہری حالت میں تمام واقعات کو لیتے ہوئے دو واقعات کو ظلم سے تعبیر کرتے اور ایک واقعے پر اپنے دیگر اعتراضات پیش کرتے ہیں۔
حضرت خضر بعد میں ان واقعات کی تعبیر کرتے ہیں کہ کشتی میں سوراخ کرنے کا مقصد ظلم نہیں بلکہ اس کے غریب مالک کو ظلم سے بچانا تھا ۔ کشتیوں کو وہاں کا حاکم اپنے قبضے میں لے رہا تھا لیکن وہ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی دیکھ کر اسے قبضے میں نہیں لیتا۔ یوں وہ غریب ایک بڑے ظلم سے بچ جائے گا۔ بچے کو قتل کرنے کی توجیہہ یہ بتائی کہ اس بات کا امکان تھا کہ بچہ بڑا ہوکر اپنے والدین کو برائی اور فتنے میں مبتلاکردیتا۔ اللہ کے تکوینی نظام نے چاہا کہ وہ ان کے والدین کو نہ صرف اس آزمائش سے بچائے بلکہ اس سے بہتر اولاد عطا فرمائے۔ والدین کے نقطہ نظر دے دیکھا جائے تو فوری طور پر یہ ایک حادثہ اور سانحہ ہے جو ان کے ساتھ وقوع پذیر ہوا۔ لیکن اسی بظاہر نظر آنے والے شر میں کیا خیر پوشید ہ ہے، اس کی فوری طور پر ان کو خبر نہ ہوگی۔
تیسر ا واقعہ یوں ہے کہ وہ دیوار دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے ان کے والد کا خزانہ دفن تھا۔ ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اور خدا نے چاہا کہ یہ خزانہ انہی دو یتیموں کو ملے جن کا وہ حق ہے۔ اس لیے گرتی ہوئی دیوار کو حضرت خضر نے اس بستی کی بدسلوکی کے باوجود تعمیر کردیا۔ یہاں دیکھا جائے تو اللہ نے اس نیک آدمی کے اچھے عمل کا پھل اس دنیا میں بھی دیا اور اس کے بچوں کو مالی مشکلات سے محفوظ رکھا ۔
سبق
ان تینوں واقعات سے کئی اسباق نکلتے ہیں۔
۱۔ بظاہر نظر آنے والے ظلم اور شر کے پیچھے بعض اوقات بڑی خیر ہوتی ہے لیکن اس خیر کو سمجھنے کے لیے وقت اور حکمت درکار ہوتی ہے۔
۲۔ من جانب اللہ ہونے والے واقعات اسباب ہی کے پردے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور عین ممکن ہے کشتی میں سوراخ کسی بھاری چیز کے گرنے سے ہوا ہو، بچے کی موت کسی طبعی بیماری یا حادثے ہی سے ہوئی ہو، دیورا کی مضبوطی کسی طبعی قوانین کی صورت میں نمودار ہوئی ہو اور دیکھنے والے کو علم ہی نہ ہو کہ یہ سب کچھ کسی خاص مقصد کے تحت ہورہا ہے۔
۳۔ یہ تینوں واقعات انفرادی ہیں یعنی یہ کوئی قوموں کا معاملہ نہیں بلکہ افراد کا معاملہ ہے۔یعنی ایسا نہیں کہ خدا کسی پیغمبر کے ساتھ ہی نمودار ہوا اور قوم کے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ وہ معاملات ہیں جو روزمرہ ہر کسی کے ساتھ پیش آرہے ہیں ۔
۴۔ ان تین واقعات کے اسباب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پہلے واقعے میں آدمی کی غربت کی بنا پر اس کی کشتی کو بچایا گیا۔ دوسرے واقعے میں والدین کو بڑی آزمائش سے بچانے کے لیے چھوٹی آزمائش مِیں ڈالا گیا۔ تیسرے واقعے میں باپ کے اچھے اعمال کا صلہ اسے دنیا ہی میں دیا گیا۔
۵۔سوال یہ ہے کہ آیا ہمارے ساتھ جب اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو ہمیں کس طرح اسے سمجھنا چاہیے۔ سب سے پہلا اصول تو سمجھ لینا چاہیے کہ کسی واقعے کے پیچھے اصل کیا حکمت ہے ، اس کو حتمی طور پر یا تو خدا جانتا ہے یا کسی حد تک وہ لوگ جانتے ہیں جن سے یہ کا م لیا گیا۔ حتی کہ موسی علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر ان واقعات کی اصل توجیہ تک اس وقت تک نہیں پہنچ پائے، جب تک انہیں یہ سب کچھ نہ بتادیا گیا۔ جب حضرت موسی کا یہ معاملہ ہے تو میں اور آپ تو کسی گنتی ہی میں نہیں۔
لہٰذا جب بھی اس قسم کا واقعہ ہمارے سامنے آئے تو سب سے پہلے ہمیں ظاہری اسباب کے تحت معاملہ کرنا چاہیے۔ البتہ بعض اوقات کوئی بڑا واقعہ ہوجاتا ہے اور انسا ن کا دل مطمئین نہیں ہوتا کہ ایسا کیوں ہوا؟ ایسی صورت میں حسن ظن رکھتے ہوئے خدا پر مکمل اعتماد رکھنا چاہیے کہ بظاہر شر نظر آنے والے واقعے میں کوئی نہ کوئی حکمت، کوئی بڑا خیر یا کوئی بڑا پیغام ہے۔ اس توجیہہ کو سمجھنے کے لیے پیروں اور فقیروں کی بجائے اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے جو دین کے ظاہری پہلو کے ساتھ ساتھ اس کی حکمتوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاقی معاملات کو درست رکھا جائے اور دین کے ڈھانچے پر ہی نہیں بلکہ اس کی روح پر عمل کرکے عمل صالح کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ خدا پر یہی توکل ، تفویض و رضا اچھی زندگی گذارنے کی علامت ہے۔
خلاصہ
۱۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا اس کائنات کے تمام معاملات کے پیچھے کھڑا ہے اور اپنے فرشتوں کے ذریعے یہ تکوینی معاملات سرانجام دے رہا ہے۔
۲۔ وہ نہ صرف قوموں کے معاملات دیکھ رہا ہے بلکہ فرد کی پشت پر بھی کھڑا ہے۔
۳۔ کسی بھی فرد کے ساتھ ہونے والے معاملے کے پیچھے دو قسم کے اسباب ہوسکتے ہیں، ایک ظاہری اسباب اور دوسرے تکوینی اسباب۔ ظاہری اسباب کو قدرت کے قوانین کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ جبکہ تکوینی قوانین کے سلسلے میں خدا پر توکل اعتماد اور تفویض کرتے رہنا چاہیے۔
۴۔ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ہم سے کوئی اخلاقی یا دینی معاملے میں کوتاہی تو نہیں ہورہی۔ لیکن اس معاملے میں حد سے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے ورنہ انسان وہم میں ہی مبتلا رہتا ہے۔
۵۔ کائنات کا پورا مادہ مل کر بھی دنیا کا صرف چار فی صد ہے جسے ہم میٹر یا مادہ کے طور پر جانتے ہیں۔ بقیہ چھیانوے فی صد یا تو ڈارک میٹر ہے یا ڈارک انرجی جسے آج کی ماڈرن سائنس ابھی تک سمجھ نہیں پائی۔ چنانچہ آج کی تمام سائنس صرف کائنات کا چار فی صد تجزیہ کرنے کے بعد وجود میں آئی ہے۔ عین ممکن ہے کل کو بقیہ میٹر تک انسان کی رسائی ہو اور وہ قدرت کے ان تکوینی قوانین میں سے کچھ کو سمجھ لے جن کے ذریعے خدا کا اتکوینی نظام بقیہ چار فی صد مادے یا کائنات کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔ البتہ ہم قرآن اور دیگر آسمانی صحائف کے ذریعے اتنا تو جانتے ہیں کہ خدا نہ صرف قوموں بلکہ فر د کے معاملات میں بھی اس کی پشت پر کھڑا ہوتا اور اس کی اعمال اور نیت کے مطابق اس کے ساتھ معاملات کررہا ہوتا ہے۔

سیکس ایجوکیشن اور ہم


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیکس ایجوکیشن اور ہم
ڈاکٹر محمد عقیل
تعارف
سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گذاری جاسکتی۔ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن

حقیقت سے انکھیں چرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔
جنسی تعلیم نہ دینے کے نقصانات
ایسا نہیں کہ ہماری زندگی یہ ایجوکیشن نہ دینے سے بہت پاکیزہ اور متقی گذرہی ہوتی ہے۔ میڈیا کریم کے اشتہارات تک سے فحاشی پھیلا کر پیسہ بٹوررتا ہے۔ ڈرامے جنسی زیادتی کے معاملات سر عام بیان کرتے، ناولز عشق ومحبت کے مناظر قلم بند کرنے سے باز نہیں آتے، انٹرنیٹ فحش مواد کو فنگر ٹپس پر فراہم کرتا رہتا اور نیم عریاں سائن بورڈز نوجوانوں کی اشتہا کو بجھانے کی بجائے بھڑکانے کا کام کرتے ہیں۔
اس منافقانہ طرز عمل کا نقصان پوری سوسائٹی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک بچہ جب جوانی کی حدود پھلانگتا ہے تو اسے کوئی مستند ذریعہ سے یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ جنسی معاملات کیا ہوتے ہیں، ان کا کیا مقصد ہے، ان کی کیا شرعی حدود قیود ہیں، ان کی کیا اخلاقی سرحدیں ہیں جنہیں پھلانگنا اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہے، ان کی کیا طبی ریڈ لائن ہیں ؟
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک نوجوان جنسی معلومات کے حصول کے لیے غیر مستند ذرائع کا رخ کرتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنے ہی جیسے لاعلم اور غیر پختہ نوجوانوں سے راہنمائی لیتا ہے۔ اگلا مرحلہ وڈیوز، ناولز، فحش لٹریچر اور دیگر ذرائع کااستعمال ہے۔ اس قسم کا نوے فی صد سے زائد لٹریچر کمرشل مقاصد کے بناہوتا ہے جس کا بنیادی مقصد جنسی تعلیم دینا نہیں بلکہ جنسی اشتہا کو بھڑکا کر اپنا منافع دوگنا چوگنا کرنا ہے۔
چنانچہ لٹریچر کے نتیجے میں ایک نوجوان کو جنسی امور پر کوئی سنجیدہ راہنمائی نہیں ملتی بلکہ وہ ایک جنسی اور نفسیاتی مریض بن جانے کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ ایک جانب اس کا مذہب اور کلچر اسے ان سب باتوں سے روکتا ہے تو دوسری جانب جنسی لٹریچر کی سرخ بتیاں اسے اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ایک جانب تو وہ احسا س گناہ میں مبتلا ہوکر خود کو ستا رہتا اور دوسری جانب اپنی جبلت سے مجبور ہوکر اس لٹریچر سے حظ بھی اٹھا تا ہے۔ گویا کہ
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
یہ نوجوان ایجوکیشن یا راہنمائی کے لیے جب کسی مذہبی لٹریچر کا رخ کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں بہشتی زیوریا اسی قسم کی کوئی نادر چیز ہاتھ لگتی ہے جس کی زبان اور انداز بیان سوسال پرانا اور آج کی جدید ڈیجیٹل دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اس کے بعد یہ نوجوان اگر بہت ہی زیادہ شریف ہے تو اس جنسی اشتعال کا اخراج تنہائیوں تک محدود رہتا ہے۔ لیکن اگر اس کی شخصیت بیروں رخی ہے یا اس کی صحبت درست نہیں تو پھر معاملہ تنہائیوں تک محدود نہیں ہوتا۔ پھر وہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جانب راغب ہوتا، تشدد و منشیات کا راستہ اختیار کرتا، خواتین تک رسائی حاصل کرتا، یا خاتون مرد کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہے۔ پھر خواتین ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ، بچے جنسی زیادتیوں کا شکار ہوتے، شادی شدہ افراد دوسروں کے گھروں میں جھانکتے اور یوں گھرہی نہیں نسلیں برباد ہوتی رہتی ہیں۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ سب کچھ صرف سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ بعض شادی شدہ خواتین و حضرات بھی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں ۔ اس کی کئی نفسیاتی، سماجی، معاشرتی اور دیگر عوامل بھی ہیں لیکن اس کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں۔
سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے اور ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہوگیا۔ اسی طرح بعض بچیاں جو بلوغت میں ابھی داخل ہی ہوئی ہوتی ہیں ان کے ساتھ بھی اس قسم کی زیادتی عام ہوتی ہے۔ شرم حیا کے غلط تصور کی بنا پر بچہ یا بچی اپنے ساتھ ہونے والے معاملے کو بیان نہیں کرتی ۔ اس طرح زیادتی کرنے والے شخص کو لائسنس ٹو کل مل جاتا ہے۔
سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کا تیسرا نقصان یہ ہے کہ وہ بچیاں جو بلوغت میں داخل ہورہی ہوتی ہیں، انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔وہ ماہانہ ہونے والے عمل اور جسمانی ساخت میں تبدیلی سے خوف زدہ ہوجاتی ہیں۔ بعض مائیں جھجھک یا مناسب طور پر تعلیم یافتہ نہ ہونے کی بنا پر مناسب طریقے سے بچیوں کو نہیں سمجھا پاتیں کہ یہ انڈا ٹوٹنے کا عمل ہے جو ہر ماہ ایک بچی کو برداشت کرنا ہے۔ اس کمیونکیشن گیپ کی بنا پر بچی طبی اور نفسیاتی تکالیف کا سامنا کرتی ہے اور ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتی ہے۔ کم وبیش اسی قسم کا معاملہ ایک بالغ ہوتے ہوئے نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان سب کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اوپر بیان ہوا یعنی غیر مستند فحش مواد سے راہنمائی حاصل کرنا۔
اس نقصان کا نکاح کے بعد بھی جاری رہنا کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد بالعموم خواتین اس عمل کو ایک گناہ تصور کرتیں اور اپنے شوہر سے جائز تعاون کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔اس کا بنیادی سبب بچپن کا تصور گناہ، خوف یا عدم راہنمائی ہوتی ہے جو اس رویے کا سبب بنتی ہے۔ نیز بعض شوہر بھی لاعلمی کی بنا پر حد سے گذرجانے کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
اس کا ایک اور نقصان نوجوانی میں لڑکے اور لڑکی کا اختلاط ہوتا ہے۔ ہماری فلمی دنیا میں "عشق و محبت ” کو عبادت کے روپ میں دکھایا جاتا اور اسے ہیروازم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکا یا لڑکی جب ایک دوسرے سے انٹرایکٹ کرتے ہیں تو ان کی گھٹی میں یہ بنیادی اور غلط قدر موجود ہوتی ہے۔ وہ یہ باتیں اپنے ہی جسے نامعقول نوجوانوں سے ڈسکس کرتے ہیں۔ یوں یہ عشق و محبت کا انجام کبھی چیٹس، کبھی فون کالز، کبھی ملاقاتیں ، کبھی ہجرو فراق کا ایڈوینچر حتی کہ کبھی آزادانہ جنسی اختلاط تک چلا جاتا ہے۔ بچے اور بچیاں اکثر لاعلمی میں ان حدود کو کراس کرلیتے ہیں جہاں ان کی اپنی تعلیم اور ذاتی زندگی کی تباہی کا پورا سامان تیار ہوتا ہے۔
جنسی تعلیم کے موجودہ ماڈلز
سوال یہ ہے کہ جنسی تعلیم اگر دی جائے تو کیا دی جائے اور کس طرح دی جائے؟ ۔ اس معاملے میں ہمارے معاشرے میں دو ماڈل موجود ہیں۔ ایک طبقہ تو لبرلز کا طبقہ ہے جو جنس کے بارے میں فرائیڈ کے نظریات کا حامل ہے۔ یہ مغربی دنیا میں نافذ طرز تعلیم کو من و عن ہمارے معاشرے میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا طبقہ مذہبی یا روایتی لوگوں کا ہے۔ یہاں جنسی تعلیم پر مبنی لٹریچر مولوی صاحب یا کوئی عالم دین ترتیب دیتا ہے یا تخلیق کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال تو بہشتی زیور ہے اور دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہ دونوں ماڈلز دو انتہائیں ہیں جنکے نفاذ سے ہماری سوسائٹی میں بگاڑ میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوگا اور ہوا ہی ہے۔
مغربی جنسی تعلیم کی خامی
مغرب کا نظام من و عن نافذ کردینا زیادتی ہے۔ مغرب جس اصول پر جنسی معاملات کی تشریح کرتا وہ ہمارے مذہبی اور اخلاقی تصور سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں جنسی تعلق اگر باہمی رضامندی سے ہو تو کوئی گناہ نہیں جبکہ ہمارے ہاں نکاح کا بندھن لازم ہے۔ وہاں غیر مردو عورت میں معانقہ کرنا ایک عام چیز سمجھی جاتی ہے جبکہ ہمارے کلچر میں یہ ایک معیوب چیز ہے۔ وہاں بوائے اور گرل فرینڈ کا نہ ہونا معیوب اور ہمارے ہاں ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ ماڈل ہمارے مذہبی اور معاشرتی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔
مذہبی ماڈل کی خامی
دوسری جانب جنسی تعلیم کا مذہبی ماڈل ہے ۔ اس ماڈل کی بنیاد یہ ہے کہ جنسی معاملات ڈسکس کرنے کو گناہ سمجھاجاتا ہے۔ چنانچہ جب بھی جنسی امور پر بات ہوتی ہے تو پرانے اشاروں کنایوں میں ہوتی ہے اور بات ہی سمجھ نہیں آتی۔ اس کے علاوہ اس لٹریچر براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے اخذ نہیں کی جاتیں ۔ اس لٹریچر پر عربی، عراقی ، ایرانی، سینٹرل ایشیا اور ہندو معاشرت کا کافی اثر ہے۔ یہ لٹریچر آج کی ماڈرن دنیا اور اس میں استعمال ہونے والے میڈیا سے جنم لینے والے مسائل کو ایڈریس کرنے سے قاصر ہے۔ اس لٹریچر کی زبان قدیم اور ناقابل فہم ہے۔ پھر یہ لٹریچر جن لوگوں نے تخلیق کیا ہے وہ دین کا تو ممکن ہے بہت عمدہ علم رکھتے ہوں لیکن جدید سماجی سائنس ، نیچرل سائنس، نفسیات اور پوسٹ ماڈرنزم کی تحریکوں اور ان کے اثرات سے بالعموم ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں وہ اثر نہیں پایا جاتا جو ہونا چاہیے۔ اور آخری وجہ یہ کہ مذہبی علما ء کی اپنی اعتباریت پر آج سوالیہ نشان ہے۔ ان میں فرقہ بندی کی بنا پر ایک فرقے کا لٹریچر دوسرے فرقے کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتا یوں اس لٹریچر کا دائرہ کار اپنے فرقے تک ہی محدود رہتا ہے۔
موجودہ میڈیا کی خامی
اس وقت ہمارا الیکٹرانک میڈیا ٹی وی پروگرامز کے ذریعے اس قسم کے اشوز پر بات کرتا ہے ۔ لیکن ان کا حل بتانے والے لوگ زیادہ تر مغربی ماڈل کے تحت ہی چیزیں بیان کررہے ہوتے ہیں۔ نیز ان میں سے اکثر ناتجربہ کار ہوتے ہیں جنہیں خود راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔
قرآن و سنت سے راہنمائی
اس سلسلے میں اگر ہم قرآن ، سنت اور صحابہ سے رہمنائی لیں تو بڑی واضح گائیڈلائنز سامنے آتی ہیں۔
۱۔ سب سے پہلے قرآن کو لیتے ہیں۔ قرآن کا موضوع انسان کا تزکیہ ہے اور جنسی معاملات کی حدود قیود جان کر اس دائرے میں عمل کرنا تزکیہ کا لازمی حصہ ہے۔ قرآن نے ہدایت دی ہے کہ جلدی نکاح کردیا جائے اور اگر کوئی مالی مسائل کا شکار ہے تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ قرآن نے مخصوص اوقات میں بچوں کو بیڈ روم میں آنے سے روکنےکی ہدایات دیں۔ قرآن نے مردو زن کے اختلاط، حجاب کے اصولوں کو تفصیل سے بیان کیا۔قرآن نے نکا حو طلاق کے امور کو تفصیل سے ڈسکس کیا۔ قرآن نے حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کے قصے سے یہ بتایا کہ کس طرح ایک نوجوان بھی اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرسکتا ہے۔ قرآن نے لواطت جیسے عمل کو قبیح قراددیا۔ یہ سب باتیں ظاہر ہے بچے اور بچیاں بھی پڑھتے ہیں ۔ اگر یہ باتیں بچوں کو بتانا ممنوع ہوتیں تو قرآن میں واضح طور پر لکھا ہوتا کہ یہ بچوں یا کنواروں کو نہ پڑھائی جائیں۔
۲۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھیں تو آپ سے متعدد روایات اس سلسلے میں مروی ہیں کہ جنسی معاملات کی حدود قیود کیا ہیں۔ آپ نے بتایا کہ اگر کوئی نکاح نہیں رکھ سکتا تو روزے رکھ لے کیونکہ اس سے نفس قابو میں رہتا ہے۔ آپ نے بہت شائستہ اسلوب میں معاشرت کے ان معاملات پر روشنی ڈالی جو ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
۳۔ صحابہ کرا م سے متعدد روایات اس سلسلے میں مروی ہیں ۔ بالخصوص امہات المومنین اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت شائستہ اسلوب میں خواتین کے مسائل پر امت کو ایجوکیٹ کیا جو اب تاریخ کا ایک مستند باب ہے۔
جنسی تعلیم کے فروغ کے لیے تجاویز
اس بحث کے بعد سیکس ایجوکیشن کے لیے ہماری تجاویز درج ذیل ہیں:
۱۔ سیکس ایجوکیشن کا پہلا اصول تو یہ ہو کہ اسے ہر صورت ہمارے مذہبی و سماجی اقدار کے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
۲۔ ایچ ای سی اپنی کری کیولم کمیٹی کے ذریعے سماجی ماہرین، نفسیات دان،علماء اور اساتذہ پر مشتمل ایک بورڈ بنائے جس کے ذریعے دو طرح کے لٹریچر کو تخلیق کیا جائے۔ ایک باقاعدہ تعلیم کا نصاب اور دوسرا شارٹ کورسز کا نصاب ۔
۳۔ باقاعدہ تعلیم کے نصاب کو مختلف کلاسز کی سطح پر سلیبس میں شامل کیا جائے۔
۳۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس نصاب کے نفاذ کو یقنی بنائیں ۔
۴۔ ان سب کاموں کی مانیٹرنگ وزارت تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ ادارے بھی کریں۔
۵۔حکومتی سطح پر ہر سال ایک رپورٹ مرتب کی جائے جس میں اس نصاب کی تخلیق، تجدید اور عمل درآمد کو بیان کیا جائے
۶۔ مختلف دانشور، علما اور نفیسات دان ذاتی یا ادارے کی سطح پر اس قسم کا لٹریچر ترتیب دیں جو ان ہدایات کی روشنی میں تیار ہو۔
۷۔ اس لٹریچر سے شارٹ کورسز کے ذریعے میڈیا ، اساتذہ، سماجی تنظیموں اور والدین کو تربیت دی جائے کہ وہ کس طرح اپنے دائرہ کار میں موجو د لوگوں کو جنسی تعلیم فراہم کریں گے۔
۸۔ یہ کورسز خواتین و حضرات کے ذریعے محلے، مساجد ، پرنٹ ، الیکٹرانک ،سوشل میڈیا اور اداروں کی سطح پر منعقد کیے اور پھیلائے جائیں ۔
۹۔ ان میں سے اچھے پروگراموں اور لیکچر کی آڈیوز، وڈیوز اور تحریریں انٹرنیٹ پر شائع کی جائیں۔
۱۰۔ خواتین کے لیے کاونسلنگ کرنے والی خواتین کی ٹیم تیار کی جائے جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور گراونڈ لیول پر خواتین اور نوجوان بچیوں کے مسائل اور ان کا حل بیان کریں۔ یہی کام مردوں اور نوجوانوں کے لیے بھی کیا جائے۔
آخری بات
انشاءاللہ، ایسے اقدامات سے سوسائٹی میں بہت تبدیلی آئے گی انشاءاللہ۔ آپ میں سے کچھ قاری یہ سوچ رہے ہونگے کہ یہ سب کچھ لکھنا بے کار ہے کیونکہ کوئی عمل نہیں کرے گا۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا ہم سے دوسروں کے نہیں ہمارے اپنے عمل کے بارے میں پوچھے گا کہ ہم نے کیا کیا ؟ میں جو کرسکتا تھا کردیا اور انشاءاللہ نصاب کی ترتیب کے سلسلے میں اگر کچھ کرسکا تو ضرور کرو ں گا۔ ہمارا ادارہ اسرا بھی اس سلسلے میں فوکسڈ ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ آ پ کا یہ کام ہے کہ یہ سوچیں آپ کیا کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کسی فیلڈ سے وابستہ ہیں تو لکھیے، اگر قاری ہیں تو بات پھیلائیے، اگر والدین ہیں تو بات پہنچاِئیے، اگر نوجوان ہیں تو بات سمجھیے ۔ کم از کم ایک کام تو ہم سب کرسکتے ہیں کہ جنسی تزکیہ کے لیے ہم تہیہ کرلیں کہ فحش لٹریچر سے ہر صورت دور رہیں گے۔ غرض جو کچھ بھی آپ کا دائرہ کار ہے وہ کیجے اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ یہ ہوگا یا نہیں۔ ہمارے لیے کرنا مشکل ہے لیکن خدا کے لیے نہیں۔ اگر خدا ہمارے اخلاص سے کنونس ہوجائے تو قوموں کی تقدیریں بدلتے دیر نہیں لگتی۔اور اگر ہم سب یہ نہیں کرسکتے تو اس وقت سے بچنے کی دعا کریں جب جنسی بے راہروی کی آگ ہمارے بچے، بچیوں، ماوں ، بہنوں حتی کہ بیویوں کو اپنےلپیٹ میں لینے کے لیے ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہوگی ۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں ، آمین ۔ جزاکم اللہ خیرا


زینب کا قتل اور خدا پر سوالات


بسم اللہ االرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
معصوم زینب کی شہادت پر اس وقت پورا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سراپا احتجاج اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ اس پر اہل علم بہت کچھ لکھ چکے اور لکھ رہے ہیں۔ اس کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ خدا کے انصاف اور مذہب کو نشانہ بنارہے اور طنزو تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سنجیدہ طور پر خدا کی حکمت اور مذہب کی راہنمائی کو جاننا چاہتے ہیں۔ مجھے خود کئی سوال براہ راست اور بلاواسطہ اس موضوع پر مل چکے ہیں جن کا ایک تحریر میں جواب دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ جذبات سے بالاتر ہوکرعقل اور نقل کی روشنی میں لینا لازمی ہے ورنہ حقیقت

تک رسائی مشکل ہے۔ یہ چند سوال و جواب اسی حقیقت تک پہنچنے کی ایک کاوش ہیں ۔

سوال : یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک معصوم بچی کو اس بہیمانہ طریقے سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا؟ خدا نے ان ظالموں کے ہاتھ کیوں نہیں روکے؟
جواب : یہ دنیا جزا و سزا کے اصول پر نہیں بلکہ امتحان اور آزمائش کے اصول پر بنی ہے۔ یہاں جس طرح اچھے لوگوں کو اچھائی کرنے کا اختیار ہے، اسی طرح برے لوگوں کو برائی کرنے کا اختیار ہے۔یہ اختیار ہی اس امتحان و آزمائش کی بنیاد ہے۔ اسی اختیار پر فرشتوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر انسان کو بااختیار بنا کر بھیجا گیا تو یہ خون خرابہ کرے گا۔
سوال: یہ امتحان کیوں ہے؟ ہم نے تو خدا سے نہیں کہا تھا وہ دنیا میں بھیجے؟ کیوں ہمیں اس بھٹی میں زبردستی جھونک دیا گیا ؟
جواب : یہ آزمائش زبردستی کی نہیں۔ آج اگر کسی کو زبردستی پکڑ کر امتحان میں بٹھادیا جائے اور اس سے کہا جائے کہ یہ پرچہ حل کرو توانعام ملے گا ورنہ آگ میں ڈالے جاو گے۔ تو امتحان میں زبردستی بٹھانے والا شخص ایک ظالم اور نامعقول شخص کہلائے گا۔ خدا نے انسان کو اس آزمائش میں جھونکنے سے پہلے اس کی رضامندی پوچھی تھی۔ اس کا ذکر سورہ احزاب میں موجود ہے:
ہم نے [ارادہ و اختیار کی یہ ] امانت آسمانوں پر زمین اور پہاڑوں کو پیش کی لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے ( مگر ) انسان نے اسےاٹھا لیا ، وہ بڑا ہی ظالم جاہل ہے [ کہ وہ جانتا نہیں اس نے کیا اٹھالیا لیا ہے] ۔
سوال: جناب یہ سب باتیں تو ہمِیں یاد نہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں سب کچھ یاد ہوتا تب تو آپ کی بات درست تھی؟
جواب: جس طرح امتحان سے قبل تمام کاپیاں ، کتابیں او ر نوٹس لے لیے جاتے ہیں، بالکل ایسے ہی ہماری اس یادداشت کو محو کردیا گیا ہے جو عالم ارواح میں بنی تھی۔
سوال : یہ سب باتیں چھوڑیں، آپ یہ بتائیں کہ اگر بچی کے ساتھ زیادتی ہوہی گئی تھی تو ظالموں پر اسی وقت خدا کا عذاب کیوں نہ آیا؟ کیوں آسمان سے بجلی نہ کوندی؟ کیوں زمین شق نہ ہوئی ؟اور کیوں خدا کا فرشہ قہر نازل کرنے کے لیے نہیں اترا؟
جواب: یہ دنیا جن قوانین پر بنی ہے ان میں سے کچھ طبعی قوانین ہیں اور کچھ اخلاقی قوانین۔ دونوں کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے۔ ایک شخص اونچی عمارت سے چھلانگ لگادے تو وہ کشش ثقل کی بنا فورا ہلاک یا زخمی ہوجائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص جنسی زیادتی جیسا ظلم کرتا ہے تو اسے بھی اس کا بدلہ ملے گا۔ البتہ اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ فورا نہیں بلکہ تدریج کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگرفورا ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی آج شاید زندہ نہ ہوتا۔ نیز اگر گناہوں کا اثر فورا ہونے لگ جائے تو آزمائش کا اصول متاثر ہوگا۔
سوال : ارے جناب، آپ تو عجیب بات کرتے ہیں۔ اچھا تو کیا ان قاتلوں کو عذاب دینے کے لیے قیامت تک کا انتظار کرنا ہوگا؟
جواب: یہ ایک غلط فہمی ہے کہ خدا چودہ سوسال پہلے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نمودار ہوا اور اتمام حجت کرکے دوبارہ کائنات سے لاتعلق ہوکر بیٹھ گیا ہے۔ خدا نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی معاملات پر نظر رکھتا اور اپنی تدبیر یں اسباب و علل کے پردے میں ظاہر کرتا رہتا ہے۔ اگر ہمارا قانون اور سماجی نظام اتنا طاقت ور اور فعال ہو تو ہم یقینا ان ظالموں کو اسی دنیا میں عبرتناک عذاب کی پہلی قسط دےسکتے ہیں۔ اور اگر خدا نے اسی دنیا میں انہیں عذاب دیا تو وہ اسباب و علل ہی کے تحت ہوگا اور اپنےو قت پر ہوگا اور ضروری نہیں یہ دنیا وی عذاب دیکھنے والوں کو دکھائی بھی دے۔ البتہ اصل عذاب تو دوسری دنیا ہی میں ممکن ہے۔
سوال: آپ ہر بار مولوی بن کر آخرت کی بات ہی کیوں کرتے ہیں؟
جواب : ظاہر ہے اگر ہٹلر لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے کے بعد خاموشی سے ایک مرتبہ پھانسی پر چڑھادیا جائے تو یہ کیسا انصاف ؟ اصل انصاف تو یہ ہے کہ اسے بھی لاکھوں بار پھانسی پر چڑھایا جائے اور اسی اذیت سے گذارا جائے جس سے مرنے والے اور ان کے اہل خانہ گذرے۔ ایسا اس دنیا میں ممکن نہیں اسی لیے آخرت ضروری ہے۔
سوال: چلیں یہ باتیں تو ٹھیک ہیں۔ اگر ظالموں کو دنیا میں یا آخرت میں عذاب مل بھی گیا تو اس سے کیا ہوگا؟ زینب تو دنیا سے چلی گئی۔ اس پر اور اس کے ماں باپ پر جو بیتی کیا ہونے والا عذاب اس کا مداوا کرے گا؟ یہ کیسا انصاف ہے خدا کا ؟
جواب : اس دنیا میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو دنیا والے کیا کرتے ہیں؟ وہ اس مظلوم سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں کیا چاہیے۔ مظلوم جس بات پر راضی ہوجائے، وہ اسے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی اصو ل کو آخرت میں بھی اپلائی کردیجے۔ جب زینب اور اس گھر والے خدا کے حضور پہنچیں گے اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دے دیا جائے گا تو پھر زینب سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ وہ جو چاہے گی خدا اپنی حکمت کے تحت اس طرح دے گا کہ وہ اور اس کے گھر والے راضی ہوجائیں گے۔۔ جب وہ سب راضی ہوجائیں گے تو پھر اعتراض کس بات کا؟
سوال: حضرت، آپ کے جوابات تو مجھے لفاظی ہی معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال میرے پاس کوئی جواب نہیں ان باتوں کا۔ لیکن یہ بتائیے کہ اس واقعے میں اصل سبق کیا ہے؟
جواب : خدا کامل خیر ہے۔ اس سے شر کا ظہور نہیں ہوتا۔ حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جہاں خدا نے تین مختلف افراد کے ساتھ مختلف معاملہ کیا۔ دیکھا جائے تو کشتی کا توڑ دینا، بچے کو قتل کردینا بظاہر ایک شر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اس میں جو خیر تھا وہ صرف اللہ ہی کو معلوم تھا۔
یہ واقعہ دراصل صرف زینب اور س کے قاتلوں ہی کی نہیں میری ، آپ کی، میڈیا ، حکومت، فیملی کی تربیت، حفاظتی نظام ، ایجوکیشن سب کی آزمائش ہے۔ آپ غور کریں تو علم ہوگا کہ اس قسم کے بیسیوں واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن زینب کا واقعہ اتنا مشہور کیوں ہوا۔ یقینا اس کی اتنی کثرت سے اشاعت میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوگی۔
سوال : وہ کیا حکمت ہے جناب ، یہ بھی فرمادیں؟
جواب: وہ حکمت بہت سادہ ہے۔ اس کے اسباب دیکھے جائیں تو سب سے پہلے وہ والدین قصور وار ہیں جن کے ہاں ایسے ظالموں کی تربیت ہوئی، یہ ہماری تربیت کے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ پھر پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا، فلمیں، ڈرامے اور ناول ذمہ دار ہیں جنہوں نے عریانی پھیلانے ، جنسیات اشتہا بھڑکانے اور تشدد سے پیسا کمانے کو اپنے وطیرہ بنارکھا ہے اور نوجوان جنسی اشتعال سے بے قابو ہورہے ہیں ۔ پھر ہمارا سماجی نظام قصور وار ہے جس نے نکاح مشکل اور زنا آسان بنا رکھا ہے۔ پھر ہمارا ایجوکیشن کا سسٹم قصور وار ہے جس میں اخلاقیات نامی کوئی سبجیکٹ ہی موجود نہیں۔ پھر ہمارے مذہبی رہنما قصور وار ہیں جنہوں نے مذہب کو رسومات کا مجموعہ بنا کر اسے اخلاقی زندگی سے لاتعلق کردیا ہے۔ پھر ہمارے سیاستدان قصوروار ہیں جو اس معاملے میں پوائینٹ اسکورنگ کررہے ہیں، پھر ہمارے حکمران قصور وار ہیں جن کی ناہلی کے سبب ایسے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔
سوال: حضرت ، یہ سب باتیں ٹھیک ہیں؟ لیکن زینب کو کیوں مارا گیا؟یہ کیسا خدا کا انصاف ہے؟؟؟؟


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے


ذرا نماز پڑھنا سکھادیجے
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، ذرا نماز سے متعلق کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔
o پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
• یہ بتائیں کہ نماز کی نیت زبان سے کرنی ہے کہ دل میں؟
o میاں نیت زبان سے کرو یا دل میں کرو، ہر صورت میں خالص ہونی چاہیے۔

جواب کچھ عجیب تھا لیکن اگلا سوال :اچھا ہاتھ کانوں تک اٹھانے ہیں یا کاندھے تک؟
o میاں کان اور کاندھے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ حقیقت میں تو ہاتھ نفس کی پوجا سے اٹھانے ہیں۔
• اچھا ہاتھ کہاں باندھنے ہیں، سینے پر کہ ناف کے نیچے ؟
o ارے صاحبزادے، ہاتھ ادب سے باندھنے ہیں ، جہاں ادب محسوس ہو وہیں رکھ لو۔
• سورہ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھنی ہے یا چپ رہنا ہے؟
o بھائی ، جب تمہارا نمائیندہ خدا سے سب کے لیے باآواز بلند بول رہا ہو تو تمہیں بولنے کی کیا ضرورت؟ اور جب وہ خاموش ہو تو تمہارے چپ رہنے کا کیا مقصد؟
• اچھا سمجھ گیا لیکن یہ آمین زور سے بولنی ہے کہ آہستہ؟
o میاں، آمین کا مطلب ہے” قبول فرما”۔ تو کبھی یہ آہ زور سے نکلتی ہے تو کبھی آہستہ۔دعا کی قبولیت آواز کی بلندی نہیں دل کی تڑپ کا تقاضا کرتی ہے۔
• سنا ہے رکوع میں کمر اتنی سیدھی ہوئی ہو کہ پانی کا پیالہ بھی پشت پر رکھ دیا جائے تو اس کا لیول برقرار رہے؟
o میاں ، جب غلام جھکتا ہے تو کیا بادشاہ پیالہ رکھ کر کمر کا تناو چیک کرتا ہے؟ وہ تو تمہارے بے اختیار سے جھکنے کو دیکھتا ہے اور بس۔
• کیا رکوع سے اٹھ کر دوبارہ رفع یدین کرنا ضروری ہے؟
o جناب من ، اصل کام تو تکبیر یعنی خدا کی بڑائی بیان کرنا ہے، اب یہ بڑائی ہاتھ اٹھاکربیان کرلو یا بنا ہاتھ اٹھائے۔
• حضور ، کیا سجدے میں اتنا اونچا ہونا لازمی ہے کہ ایک چھوٹا بکری کا بچہ نیچے سے نکل جائے؟
o میرے دوست، سجدہ تو عاجزی و پستی کی انتہائی علامت ہے۔ بادشاہوں کے بادشاہ کے حضور ناک رگڑتے وقت کس کو ہوش ہوگا ہے کہ اونچائی اور لمبائی کتنی ہے؟
• حضرت آپ تو ساری باتوں میں اتنی وسعت اور آپشنز پیدا کررہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ “صلو کما رائتمونی اصلی” یعنی نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
o ارے بھائی ہم نے تو نبی کریم کو نماز میں روتے ہوئے دیکھا، گڑگڑاتے دیکھا، ادب و احترام کا پیکر بنے قیام میں دیکھا، قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہوئے دیکھا، اپنے رب کے آگے بے تابی سے جھکتے دیکھا، تڑپتے ہوئے سجدہ کرتے دیکھا، قومہ و قعدہ میں بھی دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا، تسبیحات بدل بدل کر پڑھتے ہوئے دیکھا، اپنے رب کو خوف و امید سے پکارتے ہوئے دیکھا۔ہم نے یہی دیکھا اور یہی سمجھا کہ نماز کا اصل مغز یہی سب کچھ ہے ۔ یہی وہ نماز ہے جس کے لیے نبی نے حکم دیا کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔
• بات اس کی سمجھ آچکی تھی کہ آج تک وہ نماز پڑھتا تو رہا ، ادا نہ کرپایا۔ موذن حی علی الصلوٰۃ کی صدائیں لگارہا تھا اور وہ اس حکم پر عمل کرنے کے لیے بے تاب تھا ” صلو کما رائیتمونی اصلی”—“نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے”


قرآن کا نظریہ ارتقا


قرآن کا نظریہ ارتقا
ڈاکٹر محمد عقیل
آج جس اہم موضوع پر بات کرنی ہے وہ قرآنی لائف سائکل ہے۔ انسان کا پورا وجود اسی ترقی و تنزلی سے ہمیشہ سے دوچار ہے۔ ابتدا میں انسان ایک روح یا بغیر مادی جسم کے ایک روحانی وجود کی صورت میں تخلیق ہوتا ہےجسے عالم ارواح کہتے ہیں ۔ جب اسے دنیا میں بھیجا جاتا ہے تو اس کا مزیدارتقا ہوتا ہے ۔اب ماں کے پیٹ میں اس روح کو قالب یعنی مادی جسم دینے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ جو روحانی وجود اس عمل کو پورا نہیں کرپاتا ، وہ ماں کے پیٹ میں ہی مرجاتا ہے

۔

اگلا مرحلہ بچے کا ماں کے پیٹ سے دنیا کے پیٹ میں منتقلی ہے۔ اس مرحلے میں انسان تھری ڈائی منشنز میں اپنا ارتقا جاری رکھتا ہے۔ یہاں اس کا وجود دو حصوں میں منقسم ہوجاتا ہے۔ ایک ظاہری یا مادی وجود او دوسرا روحانی یا باطنی وجود۔ مادی وجود کی ترقی تو مادی غذا کھانے سے ہوتی ہے اور روحانی وجود کی ترقی عقیدہ و اخلاق کی روحانی غذا کھانے سے ہوتی ہے۔

انسان جوں جوں اعلی اخلاقیات و کردار سے شخصیت کو نمو دیتا ہے، اس کا روحانی وجود اتنا ہی طاقتور، توانا ، رعنائی سے بھرپور اور جوان ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب وہ کوئی برا کام یا گناہ کرتا ہے تو یہ برائی اس کے لیے زہر کی مانند ہوتی ہے جو اس کے روحانی ارتقا کو روک دیتی اور بعض اوقات ریورس گئیر لگا کر اس کے باطنی وجود کی تنزلی کا باعث بن جاتی ہے۔

انسان کی جب موت واقع ہوتی ہے تو اب وہ دنیا کے پیٹ سے ایک اور دنیا کے پیٹ میں منتقل ہوجاتا ہے جسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔ اب اس سے یہ مادی وجود چھین لیا جاتا اور دوبارہ اسے روح کی شکل میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس وجود کے ساتھ مادی جسم نہیں ہوتا بلکہ وہ وجود ہوتا ہے جو اس نے دنیا میں پروان چڑھایا ہوتا یا اس کی تنزلی کی ہوتی ہے۔ اسی روحانی وجود کی کمائی ہوئی دولت کو اس وجود کے سامنے خواب کے عالم میں پیش کیا جاتا ہے جسے وہ دیکھ کر یا تو خوشی محسوس کرتا یا عذاب محسوس کرتا ہے۔

عالم برزخ کے بعد اگلا مقام وہ ہے جہاں اس وجود کو اپنی کمائی کے لحاظ سے کسی مستقل مقام پر منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہ روحانی وجود کا پچاس فی صد سے زائد حصہ کو آلودگیوں سے پاک کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر یہ ایک توانا اور بھرپور حیثیت میں اگلی دنیا میں منتقل ہوتا ہے ۔ اب اس میں وہ صلاحیت ہوتی ہے کہ زمینی دنیا کی تھری ڈائی مینشن لائف سے ارتقا پاکر ایسی آسمانی دنیا میں رہ سکے جہاں ملٹی ڈائی مینشن کائنات ہے۔ یہ آسمانی دنیا لائف سپورٹ سسٹم سے بھرپور ہے۔ یہ کائنات اس پاکیزہ وجود کے لیے سراپا رحمت ہوتی ، اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کردیتی، اس کے لیے اپنے وسائل خدمت میں پیش کردیتی اور اس کی ہر خواہش کی تکمیل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ اسے اصطلاح میں جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اگر یہ روحانی وجود اپنے ساتھ پچاس فی صد سے زائد آلائشیں رکھتا اور اخلاقی گندگی اور گناہوں کے بوجھ کے ساتھ اگلی دنیا میں منتقل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں یہ اس ملٹی ڈائی مینشن دنیا میں گذارا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ اس کی حیثیت بالکل اس مردہ بچے کی مانند ہوتی ہے جو ماں کے پیٹ میں اپنے مادی وجود کو مکمل نہ کرنے کی وجہ سے دنیا میں رہنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا اور ماں کےپیٹ سے نکلتے ہی اسے سوسائٹی سے الگ تھلگ کرکے ہی قبرستان کے سپرد کردیا جاتا ہے۔

ایک آلودہ اور گناہوں سے آراستہ روحانی وجود البتہ فنا نہیں ہوتا ۔ اس روحانی وجود کی تخلیق ازلی تو نہیں البتہ ابدی ضرور ہے۔ یعنی خالق نے اسے فنا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے تخلیق کیا ہے۔ چنانچہ اب اس نجس وجود کے پاس دنیا میں جانے کا تو کوئی راستہ نہیں ہوتا، نہ ہی اسے فنا کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جنت کی ملٹی ڈائی مینشن دنیا میں رہ سکے۔ ایسی صورت میں اسے ایک ایسی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے جس کی ڈائی مینشن دو یا ایک ہوتی ہے اور یہ حیوانی سطح کی ڈائی مینشن ہے۔

حیوانات دو ڈائی مینشن مخلوق ہیں ۔ چنانچہ ایک آلودہ وجود کو ایک ایسی دنیا میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں لائف سپورٹ سسٹم نام کی کوئی شے نہیں۔ وہا ں پیاس ہے تو پانی نہیں بلکہ گندگی، پیپ اور دھوون ہے۔ وہاں بھوک ہے تو مٹانے کے لیے غذا کی بجائے جھاڑ پھونس اور گندگی ہے۔ وہاں نہ پودے اگتے ہیں ، نہ پانی پیدا ہوتا ہے اور نہ جانوروں کا پاکیزہ گوشت دستیاب ہے۔ وہاں گریوٹی عین ممکن ہے اتنی زیادہ ہو کہ ہر قدم پر پہاڑ کے برابر بوجھ محسوس ہو، وہاں زخم لگ جائے تو صحتیاب ہونے کی بجائے خراب ہوتا چلاجائے، وہاں فرشتے داروغہ کی شکل میں پھر رہے ہوں اور آئے دن ان کی جانب سے کوڑے اور تازیانے برستے ہوں۔یہاں اس وجود کو اس کے گناہ اور آلودگی کے مطابق تنزلی کی پستیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اس مقام کو جہنم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

کیا اس جنت اور جہنم کے بعد بھی کوئی ارتقا ہے، یہ بات ہمارے لیے سمجھنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا پیٹ میں موجود بچے کے لیے دنیا کی زندگی کو سمجھنا۔

یہ قرآن کا نظام ارتقا ہے۔ یہ ارتقا ء کا نظام اپنے اصولوں اور ضابطوں پر کام کرتا ہے۔ اس کے اصو ل خدا نے بنائے ہیں اور خدا کے بنائے ہوئے اصول کوئی نہیں توڑ سکتا الا یہ کہ خدا ہی توڑ دے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر خدا نے ان اصولوں کو توڑنا ہی تھا تو بنائے کیوں؟یہ نظام ارتقا مادی دنیا میں بھی ہر انسان پر لاگو ہے خواہ وہ یہودی ہو، عیسائی ہو، مسلمان ہو، ہندو ہو، سکھ ہو ، ملحد ہو یا کوئی اور۔ یہ نظام ارتقا ء روحانی دنیا پر بھی اسی طرح منطبق ہے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اب یہودی اگر خود کو خدا کے چہیتے سمجھتے ہیں ، عیسائی خود کو خدا کے بیٹے قرار دیتے ہیں، ہندو خود کو آواگون کے چکر میں گرفتار سمجھتے ہیں، مسلمان خود کو بحیثیت قوم کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے نجات دہندہ سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں، یہ ارتقا کا نظام اسی طرح جاری و ساری ہے جیسے ماں کے پیٹ میں بچے کا ارتقا ۔ کوئی شخص اگر خوش فہمیوں میں مبتلا رہے اور حمل کے دوران وہ مادی تقاضے پورا نہ کرے تو اس کی خوش فہمیوں کے باوجود مردہ بچہ ہی جنم لیتا ہے الا ماشاءاللہ۔ یہی اصول روحانی وجود کا اگلی دنیا میں منتقلی کا بھی ہے۔

جنت کی اعلی زندگی کا حصول کسی ولی ، بزرگ، پیغمبر کی سفارش پر نہیں بلکہ میرٹ پر ہے۔جو انسان اپنے آزادنانہ اراہ اختیار کے ساتھ خود کو آلائشوں سے پاک کرنے میں ایک حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں ، تو باقی کمی بیشی اللہ تعالی اپنے کرم سے پوری کردیتے اور اسے جنت کی شہریت عطا کردیتے ہیں۔ اور جس نے اپنے وجود کو آلوگیوں ہی سے ڈھانک لیا تو اس کا ٹھکانہ پستیوں کی وادی ہے۔

قرآن نے اس بات کو قطیعت کے ساتھ بیان کردیا کہ
قد افلح من زکھاوقد خاب من دسھا۔
فلاح پاگیا وہ شخص جس نے اس شخصیت کو پاک کیا اور ناکام ہوگیا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔
اداریہ ۔ اسرا میگ


میری کرسمس – کفر یا ایمان؟


میری کرسمس – کفر یا ایمان؟
ڈاکٹر محمد عقیل
میری کرسمس پر آج کل زوردار بحث چل رہی ہے۔ ایک گروہ اس اصطلاح کا مطلب خدا کا بیٹا لے کر اس کے کہنے والوں پر کفر کا اطلاق کررہا ہے تو دوسرا گروہ وارفتگی میں میری کرسمس بولنا مذہنی و اخلاقی فریضہ ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے بین بین ہے۔
جہاں تک میری کرسمس کے لغوی معنی کا تعلق ہے تو یہ سادہ الفاظ میں "ہیپی کرسمس "یا "کرسمس مبارک ہو” بنتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم عید مبارک کہتے ہیں۔ بالفرض میری کرسمس کے لغوی معنی خدا کا بیٹا ہی کے ہیں تب بھی اس اصطلاح کے موجودہ معنی ” کرسمس مبارک ہو ” ہی لیے جائیں گے۔ اس کی وجہ

زبان کا وہ عمومی قاعدہ ہے جس کی بنا پر لغوی معنوں پر اصطلاحی معونوں کو فوقیت دی جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات لغوی معنی ماضی کا قصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔
اس کی کئی مثالیں ہر زبان میں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر عربی کا ایک لفظ ہے ” لفظ”۔ اس کے لغوی معنی پھینکنا ہے۔ لیکن آج لفظ سے مراد حروف کا مجموعہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح غزل کے لغوی معنی عورتوں کی بات چیت کرنا ہیں لیکن آج غزل ایک صنف ادب ہے۔ شوربا کا مطلب نمک کا پانی ہے لیکن آج اس سے مراد سالن لیا جاتا ہے۔ شعر کا مطلب کسی چیز سے جان پہچان کرنا ہے لیکن آج ہم شعر کا مطلب کچھ اور لیتے ہیں۔عورت کا مطلب چھپی ہوئی چیز ہے لیکن ہم اس سے مراد صنف نازک ہی لیتے ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ لغوی معنی کو اہل زبان جن معنوں میں استعمال کریں، انہی معنوں کا اعتبار ہوتا ہے۔ چنانچہ میری کرسمس کو اہل زبان "کرسمس مبارک "ہی کے عمومی معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اسی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔ ہاں اگر کسی کو ذاتی طور پر یہ استعمال ناپسند ہو تو وہ دلائل کے ذریعے بات واضح کرسکتا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرسکتا ہے لیکن کفر کے فتووں کا اظہار کسی طور مناسب نہیں۔
دوسرا گروپ ان لوگوں کا ہے جو کرسچن بھائیوں سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت میری کرسمس کہنے کو دین یا اخلاق کا کوئی بنیادی تقاضا قرار دینے پر تلا ہے۔ عیسائیوں کو مبارک باد دیناایک ذاتی فعل ہے جس کا تعلق انسان کے ذوق، مزاج، طبیعت اور رحجان سے ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تو عید مبارک کی پوسٹیں بھی اپنے مزاج کی بنا پر نہیں لگاتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بداخلاق لوگ ہیں یا انہوں نے کسی غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کیا۔
میری کرسمس کہنا یا نہ کہنا ذاتی ذوق پر مبنی ہے اور اسے ذوق تک ہی محدود رکھنا چاہیے، اس میں مذہب کو شامل کرنا نامناسب ہے۔ میری کرسمس بولنے پر روکنا اور رکنے پر بلوانا دونوں نامناسب رویے ہیں۔


بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا ؟اسٹیفن ہاکنگ کے جواب کا تجزیہ


بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا ؟اسٹیفن ہاکنگ کے جواب کا تجزیہ
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: کیا کائنات کہیں ختم ہوتی ہے۔ اگر ہاں تو اس اختتام کے اس پار کیا ہے؟

جواب: ہمارا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک انتہائی تیز رفتار اسراع کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پھیلاو لامتناہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ سے کائنات مزید خالی اور تاریک ہوتی چلی جائے گی۔ اگرچہ کائنات کا کوئی اختتام نہیں پر اس کا ایک آغاز ضرور ہے۔ آج اس آغاز کو ہم بگ بینگ کہتے ہیں۔ یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ بگ بینگ سے پرے کیا تھا اور اس کا جواب ہو گا کہ کچھ نہیں۔ایسے ہی جیسے قطب جنوبی سے پرے کوئی جنوب نہیں ہے

۔۔ [اسٹیفن ہاکنگ
http://content.time.com/time/magazine/article/0,9171,2029483,00.html%5D۔
تجزیہ : ہاکنگ کے جواب میں ایک بنیادی فزکس غلطی پائی جاتی ہے۔ ہاکنگ کہتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے کچھ بھی نہ تھا جیسے قطب جنوبی سے ماورا کوئی جنوب نہیں ہے۔ یہاں ہاکنگ نظریہ اضافیت جیسی تھیوری ہی کے خلاف بات کررہے ہیں جسے وہ خود تسلیم کرتے بلکہ دنیا کا ہر سائنسدان مانتا ہے۔
اگر اس زمین پر کھڑے ہوکر دیکھیں تو واقعی قطب جنوبی سے پرے کوئی جنوب نہیں۔ لیکن اگر چاند پر جاکر دیکھیں تو قطب جنوبی سے پرے کئی سیارو ں کے جنوب موجود ہیں۔ اس مثال کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ بگ بینگ سے پہلے کچھ نہیں تھا، محض ایک مغالطہ معلوم ہوتا ہے۔ ہماری اس کائنات کی تخلیق سپر نووا سے ہوئی اور ہم اگر اس کائنات میں رہ کر دیکھیں تو بگ بینگ سے قبل نہ وقت تھا نہ اسپیس۔ لیکن اگر ہم کائنات سے ماورا ہوکر دیکھیں تو ہمارا فریم آف ریفرنس بدل جائے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ کچھ ایسی کائناتی قوتیں موجود ہوں جنہوں نے سپرنووا کو جنم دیا ہو اور ان قوتوں کے پیچھے بھی کچھ قوتیں ہوں اور آخر میں علت العلل یعنی خدا کا ارادہ موجود ہو جس نے یہ سب کچھ تخلیق کیا۔
چنانچہ یہ کہنا کہ بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا، ایک غیر علمی جملہ ہے۔ ایسا اس وقت کہا جاسکتا ہے جب انسان نے حتمی طور پر معلوم کرلیا ہو کہ اصل کائنات بس یہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور کائنات موجود نہیں جس کے فریم آف ریفرنس سے چیزوں کو دیکھا جاسکے۔


خدا شخصی ہے یا غیر شخصی ؟اسٹیفن ہاکنگ کے اعتراض کا تجزیہ


خدا شخصی ہے یا غیر شخصی ؟اسٹیفن ہاکنگ کے اعتراض کا تجزیہ
ڈاکٹر محمد عقیل
حال ہی میں اسٹیفن ہاکنگ کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے دس سوالات کے جواب دیے ہیں۔۔ ان کے پہلےجواب پر تبصرہ پیش خدمت ہے ۔ اس کا مقصد اہل مذہب کی غلطیوں کے ساتھ ساتھ اہل سائنس کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا اور ایک ریکنسی لی ایشن کے نتیجے تک پہنچنا ہے۔
سوال: اگر خدا نہیں ہے تو اس کے وجود کا تصور اتنا مقبول کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب: میں نے یہ دعوی کبھی نہیں کیا کہ خدا وجود نہیں رکھتا۔ ہم اس جہان میں کیوں ہیں؟ یہ سوال جب بھی ایک انسانی ذہن میں اٹھتا ہے تو اس کی توجیہہ کا نام وہ خدا ہی رکھتا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ میرے خیال میں یہ توجیہہ طبعیاتی قوانین پر مشتمل ہے نہ کہ ایک ایسا وجود جس سے کوئی ذاتی تعلق استوار کرنا ممکن ہو۔ میرا خدا ایک غیر شخصی خدا ہے۔ [اسٹیفن ہاکنگ
http://content.time.com/time/magazine/article/0,9171,2029483,00.html%5D۔
تجزیہ : یہاں ہاکنگ کا نقطہ نظر سمجھنا چاہیے اور اس کے بعد ہی ہم ملحدین اور سائنس دانوں کے انکار خدا کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہاکنگ ایک ماہر طبیعات ہونے کی وجہ سے ان قوانین کو خدا کا نام دے رہا ہے جن کی بنا پر یہ کائنات بنی ، ارتقا پذیر ہوئی اور پھیلتی جارہی ہے۔ یہاں وہ خدا سے مراد وہ توجیہہ یا ریزن لے رہا ہے جس کی وجہ سے کائنات بنی اور جن قوانین پر کائنات چل رہی ہے۔
دیکھا جائے تو ہاکنگ اور دیگر ماہر طبیعات خدا کے منکر نہیں بلکہ خدا کے اس تصور کے منکر ہیں اہل مذہب کی اکثریت انہیں فراہم کرتی ہے۔اہل مذہب کی اکثریت کا خدا شخصی ہے اور ایک ایسے جادوگر کی طرح کام کرتا ہے جو جب چاہے ، جو چاہے کردے۔جو کسی قاعدے اور قانون کے ذریعے کام کرنے کا عادی نہ ہو وغیرہ۔ لیکن جب ایک سائنس دان دنیا کو دیکھتا ہے تو اسے کائنات مخصوص قوانین میں چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چنانچہ وہ اس شخصی اور رینڈم خدا کا انکار کردیتا ہے۔
یہاں اہل مذہب کا مقدمہ کمزور لگتا ہے کہ خدا ایک جادوگر کی طرح ایکٹ کرتا ہے۔ اس کی وجہ اہل مذہب کی کتب نہیں بلکہ ان کا فہم ہے۔ اہل مذہب کی تربیت جس ماحول میں ہوئی وہ کوئی سائنسی نہیں بلکہ قدیم یونانی فلسفہ ااور سائنس تھی۔ اس دنیا میں کسی بھی ہستی کے خدا ہونے کی سب سے بڑی علامت یہی ہوتی تھی کہ وہ جب چاہے جو چاہے کردے۔ دوسری جانب جب ہم قرآن اور دیگر آسمانی کتب اور مذہبی لٹریچر کا مطالعہ کریں تو علم ہوتا ہے کہ خدا رینڈم ایکٹ نہیں کرتا۔ خدا کے تخلیق کرنے اور کام کرنے انداز بالکل اسی پیٹرن پر نظر آتا ہے جس پر ہم کائنات کو دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسمان و زمین چھ دن یا ادوار میں وجود میں آئے ۔ جیسا کہ قرآن میں سورہ فصلت میں بیان ہوتا ہے:
کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو سارے جہان کا مالک ہے ﴿۹﴾ اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں ﴿۱۰﴾ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں ﴿۱۱﴾ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا اور محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں ﴿۱۲﴾
ان آیات پر دوبارہ غور کریں تو یہ پراسیس سامنے آتا ہے:
زمین کی تخلیق = دو دن
اگلا مرحلہ : پہاڑ بنانے کا عمل+ زمین میں برکت یعنی گرو کرنے اور نمو پانے کی صلاحیت+سامان معیشت = دو دن
اگلا مرحلہ : سات آسمانوں کی تخلیق+ آسمان میں احکامات یعنی قوانین و ضوابط کا نزول + چراغوں یعنی ستارے اور سیاروں سے تزین و آرائش = دو دن
یہاں دیکھا جائے تو ایک کے بعد ایک کام تدریج کے ساتھ ہورہا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو مادی دنیا سے متعلق ہے۔ دوسری جانب روحانی اور غیر مرئی دنیا کو دیکھیں تو وہاں بھی خد ا رینڈ م ایکٹ نہیں کرتا۔ اس نے فرشتوں کی ایک بیوروکریسی بنائی ہوئی ہے جس میں مختلف ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ تین جانے پہچانے ڈیپارٹمنٹس تو جبریل ، میکائل اور عزرائل ہیں۔ خدا دنیا میں کمیونکیشن کا کام جبریل کے ڈیپارٹمنٹ سے لیتا، کائنات میں مادی طاقتوں کو کنٹرول کرنے کا کام میکائل سے لیتا اور ڈیسٹرکشن یعنی تباہ کرے بہتر بنانے کا کام عزرائل کے ذمے ہے۔ یہ تین فرشتے ہی نہیں بلکہ ڈیپارٹمنٹس ہیں جن کے تحت کئی ماتحت فرشتے یہ کام کررہے ہوتے ہیں۔
ان دونوں مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے باقاعدہ تدریج کے ساتھ اس کائنات کو تخلیق کیا۔ ایسا نہیں ہوا کہ اللہ نے کن کہا اور یہ چیزیں فورا وجود میں آگئیں۔ اللہ چاہتا تو ایسا کرسکتا تھا لیکن اللہ نے اس تخلیق کو تدریج اور قوانین کے ساتھ اسی لیے تخلیق کیا تاکہ اسباب کا پردہ یا حجاب پڑا رہے اور انسان جب بھی خدا کے کن تک پہنچنے کی کوشش کرے تو اس کی مادی رسائی کن کے بعد پیدا ہونے والے قوانین تک ہی رہے اور اس سے آگے نہ جاسکے۔ اسی طرح روحانی دنیا کے مسافرین کی اڑان بھی ایک حد تک ہی محدود رہے۔
اہل مذہب سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ خدا کے کن [ہوجا] اور فیکون [ تو وہ ہوگئی ] کے درمیان موجود پراسیس کو نہ سمجھ پائے اور خدا کو ایک ایسی ہستی کے روپ میں پیش کیا جو بنا کسی قاعدے، ضابطے اور قانون کے کام کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی ہستی ہے جس پر جب محبت کا غلبہ ہو تو بلاوجہ شفقتیں نچھاور کرتی اور جب غصہ آئے تو بستیوں کو تہس نہس کردیتی ہے۔ اس ہستی کا نہ کوئی قاعدہ ہے ، نہ قانون ، نہ ضابطہ اور نہ کوئی طریقہ کار۔ اس جذبات سے مغلوب تصور کو قبول کرناظاہر ہے اہل سائنس تو کیا کسی عقل مند انسان کے لیے ممکن نہیں الا یہ کہ عقیدے کے پردے آنکھوں پر پڑے ہوں۔
اب آتے ہیں اہل سائنس کی غلطی کی جانب۔ اسٹیفن ہاکنگ کے بالکل درست لکھا اور ان کا یہ جواب ان کی جماعت کے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ خدا کے منکر نہیں ، البتہ اس شخصی خدا کے منکر ہیں جو اہل مذہب پیش کرتے ہیں ۔ اہل مذہب کے نزدیک جب کائنات کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں ہوتی تو وہ اسے خدا کا نام دے دیتے ہیں۔
لیکن یہاں ہاکنگ جس مفروضے سے اہل مذہب کا انکار کررہے ہیں ، اسی مفروضے کو بنیاد بنا کر اپنے غیر شخصی خدا کا تعارف کرارہے ہیں۔ کائنات کس نے پیدا کی؟ اہل مذہب کہتے ہیں خدا نے پیدا کی۔ اعتراض یہ کہ اس کا تعلق مخلوق سے نظر نہیں آتا یعنی خدا کا ہاتھ نظر نہیں آتا۔ لیکن اہل سائنس کہتے ہیں کائنات خود بخود وجود میں آئی یعنی کائنات خود اپنی خالق ہے۔ یعنی وہ ایک اندھے بہرے اور بے جان مادے کو خدا کہہ رہے ہیں۔ ان کا خدا غیر شخصی ہونے کے ساتھ ساتھ بے جان بھی ہے اور اندھا بھی۔یہاں بھی خدا یعنی کائنات یا مادہ کا ہاتھ خود کو پیدا کرنے کے پیچھے دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ یہ غیر شخصی خدا یعنی کائنات کے خالق ہونے کا عقیدہ شخصی خدا کے تصور سے زیادہ لایعنی اور غیر معقول بات معلوم ہوتی ہے ۔ شخصی خدا کم از کم مادے کی طرح اندھا ، گونگا ، بہرا اور بے جان نہیں۔ وہ سنتا ہے، سمجھتا ہے، سوچتا ہے، دیکھتا ہے، فیصلہ کرتا ہے، بات چیت کرتا ہے، اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے ۔
اس کے علاوہ کائنات میں ایسے کئی مادی معاملات ہیں جن کی توجیہہ ابھی تک کی سائنس کے مطابق ممکن نہیں ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر کائنات کا چار سے پانچ فی صد حصہ صرف اس مادے پر مشتمل ہے جسے ہم انسان، جانور، چرند ، پرند، کہکشاں ، چاند، سورج، ستارے، سیارے ، زمین وغیرہ کی صورت میں دریافت کرچکے ہیں۔ ہاکنگ اور پوری فزکس کی دنیا کی تحقیق صرف اسی چار فی صد مادے پر ہوئی ہے۔ کائنات کا 26 فی صد حصہ ڈارک میٹر یعنی ایسے مادے پر مشتمل ہے جس کا وجود تو مسلمہ ہے لیکن اس کو نہ دیکھا جاسکتا ہے اور نہ چھوا جاسکتا ہے۔یہ میٹر ٹھوس چیزوں جیسے دیوار اور دروازے سے بھی گذر جاتا ہے۔ یہ میٹر کیا ہے؟ فزکس کی دسترس سے تاحال باہر ہے۔
ایسے ہی معاملہ ڈارک انرجی کا ہے جو کل کائنات کا ستر فی صد ہے۔ بگ بینگ کے بعد کائنات پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلاوّ میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہی ڈارک انرجی ہے جو کائنات کی اسپیس کو پھیلا رہی ہے۔اس کے بارے میں سائنس کچھ کہنے سے قاصر ہے کہ یہ کیا ہے اور کن قوانین کے تحت کام کررہی ہے۔
کچھ یہی صورت حال بلیک ہول اور ایونٹ ہورائزن کی ہے۔ بلیک ہول میں وقت اور اسپیس ختم ہوجاتے ہیں اور پھر وہاں کیا ہوتا ہے؟ کسی کو علم نہیں۔ ایونٹ ہورائزن کے اس پار کیا واقعات جنم لے رہے ہیں؟کیا معاملات ہورہے ہیں، کیا غیبی امور سرانجام کیے جارہے ہیں؟ کچھ نہیں پتا۔
چنانچہ کائنات کے محض چار فی صد مادے کو جان کر اسے ہی پوری کائنات کے سو فی صد کا خالق سمجھ لینا اس سے بھی بڑا نامعقول عقیدہ ہے جو چرچ نے یا مشرکانہ اقوام نے خدا کے بارے میں قائم کیا۔ محض چار فی صد کی توجیہہ کو غیر شخصی خدا کہہ دینا ایک غیر سائنسی رویہ ہے جو کسی محقق کو زیب نہیں دیتا ہے۔
اب ہم اس گفتگو کا خلاصہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ:
۱۔ خدا نے یہ کائنات بنانے کے لیے جب کن کہا تو اس کے بعد وہ مادی اور روحانی قوانین وجود میں آئے جس پر اس دنیا نے چلنا تھا۔
۲۔ ان قوانین سے مراد جیسے ایچ ٹو او ہے ۔ یعنی جب خدا نے پانی تخلیق کیا تو یوں نہ ہوا کہ براہ راست پانی تخلیق ہوگیا ، بلکہ پہلے ہائیڈروجن اور آکسیجن کی خصوصیات وجود میں آئیں اور اس کے بعد دنوں کے ملاپ سے پانی بنا۔اسی طرح روحانی یا غیر مرئی دنیا کو چلانے کے فرشتوں پر مبنی ایک ورک فورس تیار کی گئی جس تک عمومی رسائی ممکن نہیں۔
۳۔ اس کا ایک فائدہ نظر آتا ہے کہ خدا نے بس ایک مرتبہ یہ عمل کیا اور اب اس طریقے سے پانی بننے کا عمل خود بخود ہونے لگا۔ دوسرا فائدہ یہ نظر آتا ہے کہ خدا نے یہ کائنات اسباب کے پردے میں ظاہر کی ہے اور وہ اپنی ذات کو اسباب سے ماورا آزمائش کی بنا پر ظاہر نہیں کرناچاہتا۔ اس لیے جب بھی مادی دنیا کی مادی طریقے سے چھان پھٹک ہوگی تو انسان زیادہ سے زیادہ اس قانون کو تو دریافت کرلے گا جس کے تحت وہ مادہ وجود میں آیا ہے لیکن وہ اس کن کے کہنے والے کا مشاہدہ نہیں کرسکتا ۔
۴۔ اہل مذہب کا یہ مقدمہ کمزور ہے کہ خدا قوانین کے مطابق کام نہیں کرتا۔ ہاں وہ جب چاہے اپنے قانون کو توڑ سکتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے۔ لیکن ایسا بھی کسی دوسرے قانون کے تحت ہی ہوتا ہے جو اس نے خود بنایا ہوتا ہے اور جس کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔
۵۔ اہل سائنس کا مقدمہ بھی کمزور ہے کہ محض چار فی صد مادے کو سمجھ کر وہ اسے ہی ایک غیر شخصی خدا قرار دے بیٹھے۔ محض چار فی صد مادہ سو فی صد کائنات کا کیسے خالق ہوسکتا ہے؟
۶۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شخصی خدا کا تصور غیر شخصی خدا کے مقابلے میں زیادہ معقول، سائنٹفک، وسیع اور غیر متعصبانہ ہے۔ شخصی خدا مادے کی طرح اندھا ، گونگا ، بہرا اور بے جان نہیں۔ یہ بولتا بھی ہے، سنتا بھی ہے، سمجھتا ، سوچتا، عمل کرتا اور وہ سب کچھ کرتا ہے جو ایک زندہ اور طاقتور خدا سے متوقع ہے۔
۷۔ خدا وہ ہے جو تمام مادی قوانین کا خالق ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے لیکن قوانین بنا کر کام کرتا ہے، وہ جو وقت سے ماورا ہے اس لیے اس کے لیے ماضی حال مستقل ایک کھلی کتاب ہے۔

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ
یہی اللہ تعالٰی تمہارا رب ہے اس کے لئے بادشاہت ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر تم کہاں بہک رہے ہو[الزمر]


یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد عقیل
آخر کیا وجہ ہے کہ رسول کریم کا اسوہ مبارک ہم سب کے لیے نمونہ ہے لیکن مسلمان اس کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں؟ آئیے جذبات سے بالاتر ہوکر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے بڑی وجہ تو ظاہر پرستی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بننا ہے تو اپنا ظاہر اس کے مطابق کرنا ہوگا۔ داڑھی کم از کم ایک مشت ہونی چاہیے، ٹخنوں سے اوپر پائنچے ہونے چاہئیں، سر پر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ۔ حالانکہ نبی کریم کے جس اسوہ کو مشعل راہ بنایا گیا وہ آپ کا ظاہری حلیہ نہیں بلکہ باطنی کیفیت

تھی۔ وہ ایمان جو بندے کو خدا کے قریب کرتا، وہ تعلق باللہ جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرتا، وہ رب سے محبت جو اس کی انا کو جھکا دیتی، وہ اطاعت خداوندی جو اس کے گفتار کو درست کرتی اور اس کے کرادر کو اجلا بنادیتی ہے۔ظاہر پرستی ہی کی بنا پر ہم نبی کی اصل شخصیت سے دور ہوگئے ہیں۔
ایک اور وجہ نبی کریم سے ادھورا تعلق ہے۔ ہماری اکثریت نبی کریم سے جذباتی وابستگی تو رکھتی ہے لیکن عقلی طور پر اسے علم ہی نہیں کہ آپ کی نبوت کی اصل دلیل کیا ہے؟ اور آپ کن بنیادوں پر خدا کے سچے پیغمبر کہلائے جاتے ہیں؟ اس کم علمی کی بنا ہمارا نبی سے تعلق جذبات کی حد تک ہوتا ہے اور اس کی کوئی زیادہ عقلی گہرائی نہیں ہوتی۔ چنانچہ جذباتی مواقع پر ہم نبی کے لیے مرنے کا دعوی کرنے کو تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کے لیے جینے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ مرنے کا دعوی کرنے لیے محض ایک جذباتی اور وقتی ابال چاہیے ہوتا ہے جبکہ نبی کے طریقے کے مطابق جینے کے لیے عقلی تعلق بھی چاہیے ہوتا ہے اور مسلسل نفس کو مجاہدے سے گذانا پڑتا ہے ۔ اسی بنا پر نبی کا مقام ہمیں عید ، بقرعید، بارہ ربیع الاول اور چند اور مقامات پر تو یاد آتا ہے لیکن ہماری روزمرہ زندگی میں اس کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہوتا۔
ایک اور وجہ نبی کریم کے مشن اور پیغام کو محض چند رسمی عبادات تک محدود کردینا اور باقی زندگی کے معاملات کو سنت یا آپشنل مان لینا ہے۔ چنانچہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی بات کی جاتی ہے تو معاملات نماز، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور قرآن کے تلفظ کی تصحیح سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ زیادہ محبت کا مظاہر ہ کرنا ہوتو کھانے کے میٹھا کھانے، سیدھی کروٹ نیند لینے، داڑھی ایک مشت کرنے اور دیگر ظاہری امور پر توجہ کرنے ہی کو مذہب سمجھا جاتا ہے۔حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ مذہب یا دین کا بنیادی مقصد صراط مسقتیم یا وہ راہ دکھانا ہے جس کے ذریعے بندہ خدا تک پہنچ جاتا اور دنیا و آخرت میں سرخروہوجاتا ہے۔یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل پیغا م تھا کہ بندوں کو خدا سے ملانا، بندوں کو بندگی سکھانا اور ان کے نفس کو تربیت سے کر آگے ارتقا دلانا۔ جب تک یہ فلسفہ واضح نہ ہو، نبی کریم کے مشن سے آگاہی ممکن ہی نہیں۔ اور جب آگاہی ہی نہیں ہوگی تو عمل کیسے ہوگا۔
ایک اور وجہ سنت کے تصور کا غلط اطلاق ہے۔سنت وہ اعمال نہیں جو نبی کریم نے کلچر، عادت، ذوق یا کسی اور ذاتی وجہ سے اپنائے۔ سنت وہ طریقہ ہے جس پر چل کر وہ خود خدا تک پہنچے اور جس پر چل کر ہم بھی خدا کی رضا حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ زبان کی سنت گالیوں کے جواب میں بھی میٹھا بولنا ہے۔ہونٹوں کی سنت مشکلات میں بھی مسکراتے رہنا ہے۔ سیاست کی سنت اقتدار کی لالچ کی بجائے خدا کی رضا کا حصول ہے۔ کردار کی سنت مخالفین سے بدلہ لینے کی بجائے معاف کردینا ہے۔ ہاتھ کی سنت اس سے کسی کو ناحق نقصان پہنچانے سے گریز کرنا ہے۔نگاہوں کی سنت اسے خدا کے حکم کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ تجارت کی سنت دیانتداری سے لین دین کرنا ہے۔ملازمت کی سنت ایمانداری سے اپنا کام کرنا ہے، معاشرت کی سنت حسن سلوک اور عہد کو مشکل حالات میں بھی نبھانا ہے۔
آخری معاملہ ہمارے قول فعل کا تضاد ہے۔ نبی کریم نے کبھی وہ دعوی نہیں کیا جس پر وہ عمل نہ کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہِیں اور جو کرتے ہیں وہ بیان نہیں کرتے کیونکہ وہ بیان کرنے کے لائق ہی نہیں ہوتا۔ ہم جو جو اشیاء بیچتے ہیں ان کے بارے میں کہتے کچھ اور ہیں اور ان کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ ہم تنخواہ پوری لیتے ہیں اور کام ادھورا کرتے ہیں۔ ہم دعوی خدا پرستی کا کرتے ہیں او ر پوجا اپنی خواہش نفس کی کرتے ہیں۔ ہم سیاسی و کاروباری مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ ہم بحیثیت فرد، جماعت اور ادارہ اسی قول و فعل کا شکا رہیں جس کی قرآن و سنت نے سختی سے مذمت کی ہے۔
جب تک ان سب باتوں کی اصلاح نہیں ہوگی ، خدا کی مدد ہمارے پاس نہیں آئے گی ۔ اگر ہم ان حقیقی سنتوں کو نہیں اپنائیں گے تو یونہی ملاوٹ شدہ اشیاء ہمارا مقدر بنی رہیں گی، ہسپتال میں مریض سسکتے رہیں گے، ممبروں سے قتل کا پیغام ملتا رہے گا، بدتر حکمران مسلط ہوتے رہیں گے، گلی تعفن سے سڑتی رہے گی، بہنوں کی عزتیں لٹتی رہیں گی، قتل و غارت گری ہوتی رہے گی۔ یہ سب کچھ ہوتا رہے گا خواہ ہم کتنے ہی میلاد منعقد کرلیں، کتنی ہی خوشیاں منالیں، کتنا ہی شور مچا کر نبی کی محبت کا اعلان کرتے پھریں۔ لیکن نبی کے ساتھ اگرجذبات کے ساتھ ساتھ عقلی تعلق قائم نہیں کیا، نبی کی ظاہری سنتوں کے علاوہ حقیقی سنتوں پر عمل نہیں کیا، نبی کے مشن کو رسمی عبادت سے آگے بڑھا کر معیشت ، معاشرت، اخلاقیات و معاملات تک وسیع نہیں کیا تو پھر عید میلاد النبی آتے رہیں گےا ور جاتے رہیں گے ، لوگ خوشیاں مناتے رہیں گے لیکن خدا کے فرشتے افسوس کے ساتھ یہ پڑھتے ہوئے گذرجائیں گے کہ
صم بکم عمی فہم لایرجعون


کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل
• "حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔
• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟
میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر مار دی جاتی ہے

۔
• حضور تقوی کیا ہے؟
تقوی God Consciousness کا نام ہے۔ یہ خدا کو اپنے تمام معاملات میں شامل کرلینے اور پھر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ تقوی اپنی رضا کو خدا کی رضا میں فنا کردینے کا نام ہے۔
• حضرت مجھے بتائیے کہ میری قربانی میں تقوی شامل ہے یا نہیں؟
” اچھا یہ بتاؤ کیا قربانی کی تیاری کرلی؟”
• جی ہاں! ایک گائے خرید کر اپنے گھر باندھ لی ہے۔
میاں یہ تو تم نے جانور خرید کر باندھا ہے ۔ اگر تم نے اپنے اندر کی حرص و ہوس، شہوت، مادہ پرستی، سستی و کاہلی ، انا اور تکبر جیسے جانوروں کو قربانی کے لیے نہیں باندھا تو خاک تیاری کی۔ اچھا جانور خریدتے وقت کیا ارادے تھے ؟
• حضرت ! بس وہ بیگم بچے بہت تنگ کررہے تھے، کہہ رہے تھے کہ سب کے ہاں جانور آگئے ہیں ، ہم بھی تگڑا جانور لائیں گے تاکہ سب سے اچھا ہمارا ہی جانور لگے۔
ارے صاحبزادے ! یہ تو تم نے بچوں کی رضا کے لیے جانور خریدا ہے جس کا مقصد دکھاوا ہے اور بس۔ اس میں خدا کی رضا کہاں ہے؟
• تو حضرت ! آپ ہی بتائیے کہ پھر کیا ارادہ کرتا؟
بھائی، جانور خریدنے سے پہلے خدا کے حضور کھڑے ہوتے ، اس سے عرض کرتے کہ میرا مال ، میری جان، میری اسٹیٹس ، میرا خاندان ، میر ا گھر میرا روزگار سب آپ ہی کا دیا ہوا ہے۔ میں نے عہد کیا ہے کہ آپ کی رضا کے لیے ہر کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کروں گا یہاں تک کہ جان بھی قربان کرنی پڑی تو کروں گا۔ اور یہ جانور آپ ہی کے عطا کردہ مال میں سے آپ کی رضا کے لیے علامتی طور پر حاضر ہے۔ اس حقیر سے نذرانے کو عظیم بنا کر قبو ل کرلیجے۔
اچھا یہ بتاؤ، گوشت کی تقسیم کا کیا ارادہ ہے؟
• حضرت ! اب آپ سے کیا چھپاؤں، ابھی ایک نیا ڈیپ فریزر لیا ہے جس میں بکرا محفوظ ہوجائے گا ۔ باقی گائے کا گوشت انہی لوگوں میں تقسیم کرنے ارادہ ہے جو ہمارے گھر گوشت بھجوائیں گے ۔ البتہ کچھ گوشت غریبوں میں بھی دینے کا ارادہ ہے۔
میاں! اس معاملے میں کوئی فتوی تو نہیں دے سکتا۔ البتہ ترمذی کی روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک بکری ذبح کی اور اس کا گوشت لوگوں میں تقسیم کیا۔ کچھ دیر بعد آپ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کچھ گوشت باقی ہے؟ تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ صرف ایک دستی بچی ہے باقی سب تقسیم ہوگیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو صدقہ ہوگیا وہی باقی ہے (یعنی آخرت میں )۔
یہ اسپرٹ ہو تو قربانی قربانی ہے وگرنہ یہ سب قربانی کے نام پر گوشت کی خرید و فروخت معلوم ہوتی ہے۔ اچھا قربانی کرنے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے؟
• جی ہاں! کھال تو پہلے ہی مدرسے والوں نے بک کرلی ہے ۔ باقی ایک پروفیشنل قصائی سے بات کرلی ہے وہ نماز کے فور ا بعد آجائے گا۔ وہ ساتھ ساتھ بوٹیاں بنائے گا تو میں اپنے بیٹوں کے ساتھ گوشت شام تک تقسیم کردوں گا اور شام کو تکہ پارٹی بھی ہے۔ سب انتظام مکمل ہے۔
اچھا صاحبزادے! تم یہ تو جانتے ہو کہ اللہ کو جانور کا نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت۔ بلکہ صرف تقوی پہنچتا ہے۔تم نے خون اور گوشت کا انتظام تو کرلیا۔ یہ بتاؤ، تقوی کے خدا کے حضور پہنچانے کا کیا انتظام کیا؟
• جی تقوی پہنچانے کا انتظام ؟ اس پر تو کبھی سوچا ہی نہیں بلکہ مجھے تو علم ہی نہیں کہ یہ بھی کوئی کا م ہے۔لیکن یہ تو اصل قربانی کا مقصد ہے اور قربانی بنا تقوی محض ایک دھوکہ ، فریب اور تکہ پارٹی ہی ہے ۔ حضرت ! آپ نے میر ی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مجھے بتائیے یہ کس طرح ہوگا، اور مجھے کیا انتظام کرنے ہونگے۔ اس نے نمناک آنکھوں کے ساتھ پوچھا۔
میاں ! میں تمہیں یہیں لانا چاہتا تھا اور الحمدللہ تم آگئے۔ دیکھو جب پیغمبر کی قوم پر کچھ وقت بیت جاتا ہے تو رسومات کے پیچھے موجود مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ بعض اوقات ظاہر پرست علما ء فقہی بحثوں میں اتنا الجھادیتے ہیں کہ حقیقت نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ پھر یوں سمجھو کہ دین کے حکم کا ڈھانچہ تو رہ جاتا ہے، روح نکل جاتی ہے۔ یہی سب قربانی کے ساتھ ہوا ہے۔
• لیکن ہمارے ہاں تو تقوی پر زور دینے کی بجائے کچھ اور بحثیں جاری رہتی ہیں۔
ہاں ،آج جانور کے دانت، سینگ، وزن، گوشت کی تقسیم ، کھال کے عطیے ، نصاب ، اور واجب و سنت کی باتیں تو بہت ہیں لیکن قربانی کی اصل روح شاید ان فقہی موشگافیوں پر قربان ہوچکی ہے۔کیا ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب نظر آیا تھا تو انہوں نے خدا سے پوچھا کہ یہ قربانی واجب ہے یا آپشنل؟ کیا انہوں دریافت کیا کہ انسان کی اور وہ بھی پہلوٹھے بیٹے کی قربانی جائز ہے یا ناجائز؟ نہیں ایسا نہیں کیا کیونکہ جو محبوب ہوتا ہے اس سے بحث نہیں کی جاتی، سر تسلیم خم کیا جاتاہے۔ یہی سنت ابراہیمی ہے کہ فقہی موشگافیوں سے بالاتر ہوکر اپنی محبوب شے کو خدا کی راہ میں قربا ن کردیا جائے ۔ قربانی میں اصل اہمیت اس جذبے اور تقوی کی ہے اور اس کی رکاوٹ میں آنے والے ہر فقہی موشگافی ثانوی ہے۔
• حضرت یہ تو بات ٹھیک ہے لیکن وہ تو پیغمبر تھے، ہم ان کے برابر کہاں ہوسکتے ہیں؟
یہی تو غلط فہمی ہے۔ تمام پیغمبر انسان تھے ۔ انہیں بھی اولاد سے محبت ہوتی تھی، ان کا بھی گھر بار تھا، انہیں بھی اولاد کی تکلیف پر اتنی ہی تکلیف ہوتی تھی جتنی ایک انسان کو ہوتی ہے۔ پھر خدا تم سے کب تمہاری اولاد کی قربانی مانگ رہا ہے؟البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ جب آخرت کے مقابلے میں مال و اولاد آڑے آجائے تو اپنی کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کی بجائے انہیں قربان کردو۔
• حضرت ، پھر بھی مجھے کسی ایسے واقعے سے سمجھائیے جو پیغمبر کا نہ ہو ۔
اچھا تو قرآن میں وہ واقعہ یاد کرو جب ہابیل و قابیل نے خدا کے حضور قربانی پیش کی۔ ہابیل جو چرواہا تھا وہ اپنے گلے سے بہترین پہلوٹھی کا بھیڑ لے کر آیا۔ قابیل جو ایک کسان تھا اس نے سوچا کہ یوں بھی اس قربانی کے اناج نے جل کر راکھ ہو جانا ہے تو وہ کچھ فالتو قسم کا اناج لے آیا۔ معاملہ نہ پہلوٹھی کے بچے کا تھا اور نہ ناقص اناج کا ۔ معاملہ اس نیت اور جذبے کا تھا جو ہابیل اور قابیل نے خدا کے حضور پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہابیل کی قربانی کو خدا کی بھیجی ہوئی آگے نے جلاڈا لا جو اس بات کی علامت تھی کہ خدا نے قربانی قبول کرلی۔ یہ کس چیز کی قربانی تھی ؟ یہ قربانی اپنی بہترین شے خدا کو راہ میں دینے کا علامتی اظہار تھا۔ یہی وہ تقوی تھا، خدا خوفی تھی، محبت تھی جو ہابیل نے صرف علامتی طور پر پیش ہی نہیں کی بلکہ وقت پڑنے پر اس کا ثبوت بھی دیا۔
• ہابیل نے کس طرح ثبوت دیا؟
جب قابیل نے اس کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے اس وقت بھی خدا خوفی اور تقوی کے مظاہر کرتے ہوئے یہی کہا کہ تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاؤگے تو میں خدا کی محبت اور تقوی کا پابند رہتے ہوئے تمہیں قتل کرنے میں پہل نہیں کروں گا۔ اور اس نے کا ثبوت بھی دیا کہ قابیل نے اسے ناحق قتل کردیا لیکن ہابیل نے ایک قدم بھی خدا کی مرضی کے خلاف نہیں اٹھایا۔ گویا جو ابتدا اس نے پہلوٹھی کا محبوب بھیڑ قربان کرکے کی تھی اس کا عملی مظاہرہ اس نے خدا کے حضور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے کردیا۔
• حضور مجھے آپ آسان الفاظ میں بتادیجے کہ مجھے کیا کرنا ہے؟
کرنا کچھ نہیں، قربانی کا جانور خریدتے وقت یوں سمجھو کہ خدا کے ہاتھو ں تم اپنی جا ن بیچ رہے رہو۔سورہ توبہ کی وہ آیت کا ترجمہ پڑھو کہ اللہ نے ایمان رکھنے والوں سے ان کی جان اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ جانور خریدتے وقت بیوی بچوں کی خوشی کو ثانوی رکھو، دکھاوے کا عنصر ختم کرو۔جانور کی قربانی سے قبل اپنے نفس کے اندر موجود جانوروں کو تلاش کرو جو تمہیں خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ ان جانوروں کے نام ایک ایک کرکے پرچے پر لکھو اور یہ بتاو کہ انہیں کب اور کیسے ذبح کرنا ہے۔ جب قربانی کے جانور پر چھری چلاو تو یہ ذہن میں رکھو کہ تم اپنے نفس کی رضا پر چھری چلارہے ہو اور اسے خدا کی رضا کے تابع کررہے ہو۔ اس کے بعد زندگی میں قربانی کے لیے تیار رہو۔
• اچھا مجھے کیسے علم ہوگا کہ قربانی قبول ہوگئی ؟
اس کا حقیقی علم تو خدا ہی کو ہے البتہ جب تقوی دل میں آجاتا ہے تو اس کی قربانی قبول ہوجاتی ہے اور جس کی قربانی قبول ہوجاتی ہے اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔وہ عملی دنیا میں ہر لمحہ خدا کی یاد میں رہتا ہے۔ پھر اس کی آنکھیں اس کی نہیں خدا کی ہوجاتی ہیں، پھر اس سوچیں خدا کی نذر ہوجاتی ہیں، پھر اس کی یادیں خدا کے حضور رہتی ہیں، پھر اس کی سانسیں اس کی نہیں رہتیں، پھر اس کے قدم خدا ہی کے لیے اٹھتے اور اسی کے لیے رکتے ہیں۔ پھر اس کی جان مال عزت آبرو سب خدا کی مرضی کے تابع ہوجاتی ہے۔ پھر وہ کہہ اٹَھتا ہے کہ ان صلاتی ونسکی محیای ومماتی للہ رب العالمین۔ کہ میری نماز، میری قربانی، میراجینا، میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔
• حضرت بول رہے تھے اور وہ گردن جھکائے آنسو بہار ہا تھا۔ شاید یہ اسی تقوی کا بیج تھا جو دل کے باغیچے میں پھوار پڑنے کے بعد پھٹ چکا تھا۔ وہ گرد ن جھکائے اٹھا اور جانور کی جانب توجہ دینے کی بجائے اندر کے جانوروں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہونے لگا۔ تاکہ کل اس کا وجود گواہی دے دے کہ اس کی قربانی اپنے مقام کو پہنچ گئی۔


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنا یا پھر محض بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے پڑھ لیا ہے۔ اس عمل میں عمومی طور

پر کوئی قباحت نہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم جھوٹے لائکس اور کمنٹس کررہے ہوتے ہیں ۔ ایسا کرنے کا سبب یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا بھی جواب میں ہماری پوسٹوں کو لائک کرے اور اچھے کمنٹس کرے ۔ گویا کہ یہ لائکس اور کمنٹس کی ایک باہمی تجار ت یا( Mutual Admiration) ہورہی ہوتی ہے۔ اسے فارسی میں میں کہتے ہیں کہ
من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو
یا اسے انگلش میں کہتے ہیں:
You scratch my back and I’ll scratch yours
اگر اس قسم کے معالات ایک حد میں رہیں یہ تو زیادہ نقصان دہ نہیں۔ لیکن ایک حد سے زیادہ جب یہ عمل بڑھ جائے اور انسان ہر وقت محض جھوٹے لائکس اور مبالغے پر مبنی کمنٹس کرتا رہے تو اس سے دو طرفہ نقصان ہوتا ہے۔
پہلا نقصان تو اس شخص کو ہوتا ہے جو یہ کام کررہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر ایک قسم کا دوغلہ پن، منافقت اور چاپلوسی کا رویہ جنم لے سکتا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص اپنے ظاہر میں ایک بہت ملنسار، سلجھا ہوا، خوش اخلاق اور محبت کرنے والا شخص نظر آتا ہے ۔ لیکن وہ چونکہ یہ سب کچھ ایک خاص مقصد کے لیے مبالغہ آمیزی سے کام رہا ہوتا ہے تو اس کا باطن اندر سے ایک مختلف شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ظاہرو باطن کا یہ تضاد جب بڑھتا جاتا ہے تو زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی یہ احاطہ کرنے لگتا ہے اور یہ منافقانہ طرز عمل اس پر حاوی ہونے لگ جاتا ہے۔
اس کا دوسرا نقصان اس شخص کو ہوتا ہے جس کی جھوٹی تعریف کی گئی ہو۔ وہ شخص غلط طور پر خود کو ویسا ہی سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ تعریف کرنے والے لوگ اسے غلط طور پر دکھا رہے ہوتےہیں۔ وہ شخص خود کو اسی دھوکے میں مبتلا کردیتا ہے جس میں تعریف کرنے والے مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات وہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے، دھوکہ ہے، فریب ہے لیکن وہ اس کے باوجود اس پرفریب تعریف سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص عملی زندگی میں بھی خود کو وہی سمجھنے لگ جاتا ہے جیسا کہ جھوٹی تعریفوں اور کمنٹس نے اسے سمجھایا ہوتا ہے۔اس سے جو نقصان ہوتا ہے اس کا اسے انداز ہ تک نہیں ہوتا۔ اسی بات کو ایک روایت میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے:
حضرت ابو موسیٰ ( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم (صلی اللہ علہت وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سنا، وہ کسی آدمی کی تعریف کررہا تھا، تعریف مںا اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علہک وآلہ وسلم) نے فرمایا :” تم نے اس کو ہلاک کرڈالا یا تم نے اس آدمی کی کمرتوڑ دی۔ ” (مسلم ، حدیث نمبر حدیث نمبر:7504)
گویا کہ اس کا نقصان سب سے زیادہ ایسا سمجھنے والے ہی کو ہوتا ہے۔ ایک شخص کو اگر یہ یقین دلایا جائے کہ تم ماہر ڈرائیور ہو اور تم کار چلا سکتے ہو اور اگر وہ اس تعریف کے جھانسے میں آبھی جائے تو بھی وہ کار نہیں چلا سکتا۔ اور جب بھی زندگی کے عملی میدان میں وہ کار چلائے تو حادثے کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوگا۔
جھوٹی یا مبالغہ آمیز تعریف کو سمجھنے کے لیے فرض کریں ایک شخص نے کوئی کوٹ لکھا یا کوئی تحریر لکھی۔ اس تحریر میں ممکن ہے کہ بے شمار زبان و بیان، مضمون ، تجزیے اور تراکیب کی غلطیاں ہوں اور یہ بات پڑھنے والوں کو پتا بھی ہو۔ لیکن چونکہ وہ شخص چونکہ اکثر پڑھنے والو ں کا دوست ہے اور ان کی پوسٹوں کو بھی لائک کرتا ہے تو وہ بھی اس کی پوسٹوں کو لائک کرکے بے حد تعریف کے کمنٹس لکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص کچھ عرصے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا لکھاری، تجزیہ نگار، مفکر، عالم دین اور پتا نہیں کیا کیا سمجھنے شروع کر سکتا ہے۔
ان جھوٹی تعریفوں اور ایموشنل لائکس کا ایک اور نقصان بہت تباہ کن ہے۔ یہ جھوٹی تعریفوں اور بناوٹی کمنٹس کا سلسلہ جب ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہوتا ہے تو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے۔ عام طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں تعریفوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی شناخت قائم کرنے کے عمل سے گذررہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط کردار کا لڑکا کسی معصوم لڑکی کو باآسانی ورغلا دیتا ہے یا کوئی لڑکی باآسانی کسی لڑکے کو غلط اقدام اٹھانے پر مجبور کرسکتی ہے۔ خاص طور پر ایک فلرٹ کرنے والا لڑکا جانتا ہے کہ لڑکی کی خوبصورتی، وجاہت، حسن، لباس، کلام یا کسی اور پہلو کی تعریف میں مبالغہ آمیزی پیدا کرکے بہت آسانی سے اسے جذباتی طور پر اپنا غلام بناسکتاہے۔
جھوٹی تعریفوں کا ایک اور پہلو مذہبی ہے۔ اکثر مذہبی اسکالرز یا اسکالز سمجھے جانے والے لوگوں کے ان باکس میں خواتین وحضرات کے میسجز آتے ہیں۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے نفسیاتی مسائل نسبتا زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہ نفسیاتی اشوز کو مذہبی سمجھ کراس شخص کے ساتھ ڈسکس کررہی ہوتی ہیں جس کو وہ اپنی دانست میں مذہبی یا ایک سمجھدار اور سلجھا ہوا شخص سمجھتی ہیں۔ جوں جوں مسائل کو ڈسکس کیا جارہا ہوتا ہے تو خاتون کا نفسیاتی طور پر اس شخص پر انحصار بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں شیطان کی دراندازی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اس مذہبی شخص کی شخصیت میں خامی ہو یا وہ دانائی اور حکمت سے کام نہ لے تو خاتون بہت زیادہ اس شخص پر انحصار کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ معاملہ ایسے شخص کے لیے بھی ایک آزمائش ہوتا ہے۔ اس کا نفس اسے یہ سب کچھ اچھا کرکے دکھا تا ہے کہ کوئی خاتون ا اس پر انحصار کررہی ہے۔ چنانچہ وہ جانتے بوجھتے بعض ایسی غیر اخلاقی حرکتیں کرسکتا ہے جو بظاہر تو بے ضرر ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ایک مذہبی شخص کو زیب نہیں دیتیں۔ ایسے شخص پر اس وقت دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک تو یہ اسے خود نفس کی آلودگی سے بچنا ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اسے دوسرے فریق کو بھی ممکنہ آلودگی سے بچانا ہونا ہے۔
اب اس مضمون کے بعدچند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سوالات اور ان کے مختصر جوا ب یہ ہیں:
۱۔کیا فیس بک پر پوسٹوں کو لائک ہی نہ کیا جائے؟
ضرور لائک کیا جائے۔ لائک کا مطلب صرف پسند کرنا ہی نہیں بلکہ اکنالج (Acknowledge) کرنا بھی ہوتا ہے کہ ہم نے پوسٹ پڑھ لی ہے۔ البتہ جذباتی ایماٹی کونز (Emoticons) جیسے لو(Love)، اسمائل (Smile)، تعریفی کمنٹس وغیرہ کو اسی وقت استعمال کیا جائےجب واقعتا پوسٹ کے مواد میں کوئی ایسی بات ہو جس نے آپ کو مجبور کردیا ہو۔ اسی طرح لائکس محض اس لیے نہیں کرنے چاہئیں کہ آپ کو بھی جواب میں لائکس ملیں۔
۲۔ بعض اوقات ہم پوسٹ سے اتفاق نہیں کرتے البتہ حوصلہ افزائی کے لیے اچھے کمنٹس لکھ دیتے ہیں۔ تو کیا یہ غلط ہے؟
حوصلہ افزائی کے لیے بھی کمنٹس لکھنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ یہ کمنٹس ایسے ہوں کہ اس میں جھوٹ یا مبالغہ کا عنصر شامل نہ ہو نیز اس اسلوب میں بات بیان ہو کہ ہمار ا دوست کہیں کسی غلط فہمی ، تکبر یا انا پرستی میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اسی بات کو روایت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
۔۔۔۔۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اگر تم مںس سے کسی نے لا محالہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اس طرح کہے : مںل سمجھتا ہوں کہ فلاں (اس طرح ہے) اگر وہ واقعی اس کو ایسا سمجھتا ہو (یا پھر کہے) اور مں اللہ (کے علم) کے مقابلے مںس کسی کی خوبی با ن نہں کرتا (مسلم حدیث نمبر:7502)
البتہ وہ پوسٹ جسے ہم خود غلط سمجھتے ہوں ، اس پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسانا غلط ہے۔ ایک غلط پوسٹ کے جواب میں یہ لکھنا کہ بہترین پوسٹ ہے ، یہ جھوٹ ہوگا۔ البتہ آپ اس پوسٹ پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور اپنا کمنٹ بھی پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تو جزاک اللہ، اللہ ہدایت عطا فرمائیں، یا اس قسم کی کوئی بات لکھ سکتے ہیں جس سے پوسٹ کرنے والے کو بھی گراں نہ گذرے، جھوٹ کا گمان بھی نہ ہو اور آپ اپنا کمنٹ بھی پوسٹ کردیں۔
۳۔ اگر کسی کی پوسٹ میں کوئی غلط بات ہو تو کیا ہم اپنے کمنٹ میں اس غلطی کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟
اگر پوسٹ میں غلط بات ہو تو اس پر رد عمل کے کئی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔ یہ اس وقت موزوں ہوتا ہے جب آپ کو علم ہو کہ مخاطب آپ کے منفی کمنٹس کو اصلاحی طور پر لینے کی بجائے انتقامی طور پر لے گا۔ ایسا ایک دو مرتبہ کے تجربے سے پتا چل جاتا ہے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ کمنٹ کا جواب پبلک میں دیا جائے ۔ ایسا کرنے کے لیے یہ احتیاط لازمی ہے کہ الفاظ کا چناؤ بہت اچھا ہو اور لہجہ اتنا سافٹ ہو کہ اس سے نفرت، تکبر ، حسد، کینہ یا بدگمانی کی بجائے اصلاحی عمل ٹپک رہا ہو۔ جیسے ایک شفیق باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتا ہے۔ ایسا کرنا بعض اوقات اس وقت بھی ضروری ہوجاتا ہے جب پبلک کو بھی پوسٹ کے اس غلط پہلو سے آگاہ کرنا لازم ہوتا ہے۔
تیسرا حل یہ ہے کہ پوسٹ کرنے والے کو ان باکس میں میسج کردیا جائے کہ یہ پہلو غلط معلوم ہوتا ہے۔ یہ اس وقت بہتر ہوتا ہے جب منفی کمنٹس سے مخاطب اپنی ہتک محسوس کوتا ہو یا اصلاح کی بجائے فساد کا امکان زیادہ ہو۔ لیکن ایسا کرتے وقت بھی بات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ سامنے والا کچھ غلط محسوس نہ کرے۔
چوتھا حل یہ ہوسکتا ہے کہ پوسٹ کی غلطی واضح کرنے کے لیے ان باکس میں بات کی جائے لیکن سختی کا عمل اپنایا جائے اور سخت لہجے میں اس پر بات واضح کی جائے۔ ایسا اس وقت مناسب ہے جبکہ مخاطب سے رشتہ استاد ، سینئیر ، بڑے بھائی باپ یا ماں کا ہو۔ لیکن ایساا سی وقت مناسب ہے کہ سامنے والا ہمیں وہ عزت دیتا ہو جو ہم اس سے توقع کررہے ہیں۔ لیکن ایسا بہت ہی اہم اور ناگزیر کیسز میں کرنا چاہیے۔
ان تما م کیسز میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح ہماری رائے کے مطابق اس کی پوسٹ کا کوئی پہلو غلط ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ شخص اس کو دل و جان سے درست سمجھ رہا ہو ۔ اس با ت کا بھی امکان ہے کہ ہماری رائے ہی غلط ہو۔ چنانچہ اس احتمال کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہماری رائے درست ہے اس امکان کے ساتھ کہ وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔
۴۔ اگر کوئی ہماری تعریف کرے تو کیا اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے؟
کسی کی تعریف پر خوش ہونا ایک فطری معاملہ ہے۔ البتہ یہ خوشی اس وقت بہت خطرناک بن جاتی ہے جب ہم اسے نشے کی طرح انجوائے کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ جب ہمیں کسی خاص شخص یا خاص لوگوں کی تعریف کچھ عرصے نہ ملے اور ہم دل میں ملول ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم اس تعریف کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ رویہ بذات خود ایک خطرناک معاملہ ہے اور اس کا وہی نقصان ہوتا ہے جو ہیروئین کے نشے کا ہوتا ہے۔ اس طرح ہم تعریف کرنے والو ں کے ہاتھوں یرغمال بن سکتے ہیں اور بعض اوقات ان کی جائزو ناجائز مطالبات کو ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
۵۔ ہمیں کس طرح علم ہو کہ سامنے والا شخص جھوٹی تعریف کررہا ہے؟
اگر ہماری تعریف صرف ایک خاص شخص ہی کررہا ہے اور باقی لوگ یہ نہیں کررہے تو اس پر ضرور سوچنا چاہیے۔ اسی طرح اگر ہمیں اچھے کمنٹس اور اور لائکس اس وقت مل رہے ہیں جب ہم دوسروں کو کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تب بھی متنبہ ہوجانا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ لائک کرنے والے کا آپ سے کیا مفاد وابستہ ہے۔ اگر آپ خاتون ہیں اور وہ ایک محض فیس بکی مرد ، اور و ہ آپ کی معمول کی تحریروں اور کمنٹس پر وارفتگی کا شکار ہورہا ہے تو بھی متنبہ ہوجانا چاہیے اور بالخصوص اس وقت تو خاص طور پر جب لائکس کے معاملات ان باکس تک آپہنچیں۔
۶۔ کیا کسی اجنبی مرد کا عورت سے یا نامحرم عور ت کا مرد سے ان باکس میں بات کرنا جائز نہیں؟
اس معاملے میں کوئی قانون تو وضع نہیں کیانہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات یہ بات چیت کسی دفتری معاملے میں بھی ہورہی ہوتی ہے۔ البتہ چند علامات جب ظاہر ہونے لگیں تو متنبہ ہوجانا چاہیے۔ پہلا یہ کہ معاملات بے تکلفی کی حد تک نہ چلے جائیں کہ دونوں اپنی چیٹ کو دوسروں سے چھپانے یا ڈیلیٹ کرنے لگ جائیں۔ دوسرا یہ کہ لائکس کا نشہ اتنا طاری نہ ہوجائے کہ اس کے بنا زندگی ادھوری نظر آنے لگ جائے۔
۷۔ اکثر خواتین فیس بک پر ان مذہبی یا سماجی اسکالرز سے اپنے ذاتی مسائل ڈسکس کرتی ہیں جنہیں وہ اپنی دانست میں اسکالرز سمجھتی ہیں۔ اس میں کس احتیاط کا مظاہر کرنا چاہیے؟
یہ ایک بہت نازک معاملہ ہے۔ ہماری سوسائٹی میں کاؤنسلنگ کا کوئی ادارہ نہیں ۔ نیز ہماری سوسائٹی میں نفسیاتی ماہرین کی آڑ میں اکثر اوقات صرف پیسہ کمانے کا عمل جاری ہے۔ اس لیے لوگ بالعموم ایسے سہارے تلاش کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مسائل بیان کرسکیں۔ اس سلسلے میں اکثر انہی لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جن کی پوسٹیں اکثر لوگ لائک کررہے ہوتے ہیں اور وہ کچھ معقول بات کررہے ہوتے ہیں۔
مرد حضرات کی بنسبت خواتین کے اشوز عام طور پر زیادہ ہوتے ہیں جن میں رازداری رکھی جاتی ہے۔ جس طرح عملی دنیا میں اچھے برے دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، ایسے ہی فیس بک پر بھی اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔برے لوگ ایسی خواتین کی تاک میں رہتے ہیں۔ وہ جب ان سے نفسیاتی طور پر قریب ہوجاتی ہیں تو ایسے لوگ ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے، انہیں بلیک میل کرتے اور ان کو ہراساں کرتے ہیں۔
کچھ خواتین توجان بوجھ کر چاہتی ہیں کہ ان سے فلرٹ کیا جائے، ان پر تو سوائے انا للہ پڑھنے کے کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ البتہ وہ خواتین جو کسی ممکنہ خطرے سے بچنا چاہتی ہیں ان کے لیے یہ ہدایات ہیں:
۱۔ سب سے پہلے تو اگر کوئی پرائیویسی کا رزاداری کا کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو کسی خاتون اسکالر ہی کو تلاش کیا جائے۔ ایسی خواتین فیس بک پر کم تو ہیں لیکن معدوم نہیں۔
۲۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی ادارے سے وابستہ فرد کو تلاش کرنا چاہیے۔ ایک فرد کی نسبت اس شخص کا زیادہ اعتبار ہوتا ہے جو کسی ادارے سے وابستہ ہو اور وہاں خواتین بھی کافی تعداد میں موجود ہوں۔
۳۔ کسی بھی اسکالر سے اگر بات کرنی ہے تو کوشش کی جائے کہ ان باکس میں کوئی دوسری خاتون بھی موجود ہو ، یعنی بالکل تنہائی نہ ہو۔
۴۔ اگر اسکالر پر پورا اطمینا ن نہیں تو اپنی نام کی آئی ڈی کی بجائے کسی فرضی نام کی آئی ڈی سے بات کی جائے اور اپنی شناخت ظاہر کرنے کی بجائے توجہ اس مسئلہ تک ہی رکھی جائے۔ تاکہ کسی قسم کی بلیک میلنگ سے بچا جاسکے۔
۵۔ بعض اوقات خواتین بھی مردوں کے ساتھ فلرٹ کرتی ہیں۔ چنانچہ مردوں کو بھی اس معاملے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ تعریف و توصیف کے جھانسے میں آکر کوئی غلط اقدام نہ کربیٹھیں۔
۸۔ تعریف کے نشے سے کس طرح بچا جائے کہ ہمارے اندر تکبر، انا، خودپرستی ، نرگسیت (narcissism)، خودفریبی یا کوئی اور غلط فہمی پیدا نہ ہوجائے؟
ایک مشہور مذہبی عالم نے درست کہا تھا کہ خدا کی راہ میں چلنے والوں کے دل میں سب سے آخری بیماری جو نکلتی ہے وہ حب جاہ یعنی چاہے جانے کی تمنا ہے۔ چاہا جانا کوئی غلط جذبہ نہیں بلکہ یہی جذبہ بہت سی تخلیقات کا سبب بنتا ہے۔ لیکن یہ خواہش اگر ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بجائے فائدے کے نقصان دیتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ اپنی کسی بھی تعریف کے اچھے پہلووں کا رخ اللہ کی جانب کردیا جائے۔ یہ بات خود کو بار بار باور کرائی جائے کہ جو کچھ بھی ہمارے اندرصلاحیت ہے اس کا اصل منبع اللہ کی ذات ہے۔ چنانچہ اصل تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ اس کے علاوہ تعریف ہونے کے باوجود اپنی کمیوں پر نظر رکھتے رہنا چاہیے اور اللہ سے دعاگو رہنا چاہیے کہ ہم تعریف کے فتنے سے محفوظ رہیں۔
اس کے علاوہ خود کو اپنے مخلص اور سمجھدار دوستوں کے سامنے رکھ کر رائے لینی چاہیے ۔ ان کو شخصیت کے ان پہلووں پر تنقید کے لیے آمادہ کرنا چاہیے جو تعریف کی وجہ سے اوجھل ہورہے ہوں۔ اس طرح اصلاح کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ بصورت دیگر انسان عملی یا عملی دنیا کا فرعون، ہامان، نمرود ،ابوجہل اور ابولہب بن جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن

کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو زمین پر نافذ کرنے کے عملی اقدامات خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔دوسرا مضمون شب قدر یعنی تقدیر یا منصوبہ بندی والی رات کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور تیسرا مضمون ان تدابیر کی جانب اشارہ کرتا ہے جو خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس رات میں نافذ کی جاتی ہیں۔
سورہ کی تفصیل کیا ہے؟
اس سورہ میں پانچ آیات ہیں۔ دوسری جانب انہی پانچ آیات کے مضمون کو سورہ دخان کی پانچ آیات میں دوہرایا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ قدر کی تفہیم کے لیے سورہ دخان کی پانچ آیات کو سامنے رکھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ سورہ دخان کی پانچ آیات یہ ہیں۔
اس کتاب مبین کی قسم ۔ بیشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے ۔ اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے ۔ ہر حکم ہماری جانب سے صادر ہوتا ہے ہم ہی (فرشتوں کو )بھیجنے والے ہیں ۔(سورہ الدخان آیات ۲ تا ۶)
غور کریں تو ان پانچ آیات میں بھی سورہ قدر کی تفصیل ہے۔ چنانچہ ان آیات کو سامنے رکھا جائے تو سورہ قدر کی تفہیم اور آسان اور واضح ہوجاتی ہے۔
شب قدر کا قرآن سے کیا تعلق ہے؟
اس سورہ میں سب سے پہلے تو قرآن کا شب قدر سے گہرا تعلق بیان ہوا ہے۔ جب اللہ تعالی نے اس دنیا سے آخری بار آفیشل سطح پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا تو اس خطاب کی ابتدا اسی رات کو ہوئی۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو وہ رات شب قدر ہی تھی ۔خداوند عالم کا قیامت سے قبل یہ آخری آفیشل خطاب ایک عظیم خدائی منصوبے کی ابتدا ہے اسی لیے اس خطاب کی ابتدا عظیم منصوبوں اور تنظیم والی رات میں ہوئی ۔ اس عظیم بابرکت رات کو جب خدا کے فرشتے اپنے ہیڈ جبریل امین کی نگرانی میں نازل ہورہے ہوتے ہیں۔ اس عظیم اہتمام کے بعد کسی شیطان مردود کی مجال نہیں کہ پر بھی مار سکے اور خدا کی اس عظیم تدبیر کے نفاذ میں کوئی رخنہ اندازی کرسکے۔
قدر کا کیا مطلب ہے؟
اسے لیلۃ القدر بھی کہا گیا اور لیلۃ المبارکہ بھی۔ قدر کے معنی عزت و منزلت کے بھی ہیں اور تقدیر کے بھی۔ جبکہ تقدیر کے تخمینہ لگانا، منصوبہ بندی کرنا، تنظیم کرنا یا ساخت بنانے کے ہیں۔ تو یہاں شب قدر سے مراد دونوں ہی مفہوم ہیں ۔ یعنی ایک تو یہ رات بہت مبارک ، قدر و منزلت والی رات ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ رات ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ کی جانب سے تمام معاملات کا حکمت کے ساتھ حکم دیا جاتا، ان کی منصوبہ بندی کی جاتی، ان کی تنظیم (Organization) کی جاتی اور تمام امور کے بارے میں اصولی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔یہ مفہوم اس سورہ کے نام ” قدر” سے بھی واضح ہے جس کا مطلب ہی تقدیر یعنی منصوبہ اور تنظیم کے ہیں ۔ اس مفہوم کی وضاحت سورہ الدخان کی آیت سے بھی ہوجاتی ہے جس میں لکھا ہے کہ اس میں ہر اہم کام کا فیصلہ حکمت سے کردیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر سے مراد منصوبہ بندی یا تنظیم کیوں لیا گیا جبکہ ہماری مروجہ فکر میں تو تقدیر سے مراد وہ علم الٰہی ہے جو اس نے پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے جب بھی تقدیر کا لفظ استعمال کیا ہے تو اسے منصوبہ بندی یا تنظیم کے طور پر ہی لیا ہے۔ اس کے دلائل ان آیات میں ہیں:
’’وہی برآمدکرنے والا ہے صبح کا اوراس نے رات سکون کی چیزبنائی اورسورج اورچانداس نے ایک حساب سے رکھے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ ، (انعام6: 96)
’’اورسورج اپنے ایک معین مدارمیں گردش کرتا ہے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ (یس36: 38)
’’ہم نے ہرچیزایک(تقدیر ) معین حساب (Precise Calculation) کے ساتھ پیداکی۔‘‘ ، (قمر54: 49)
جہاں تک کچھ چیزوں کے تقدیر میں پہلے سے لکھے ہونے کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی بعد میں بات کی جاسکتی ہے۔ البتہ قرآن میں تقدیر سے مراد کسی کے لیے منصوبہ بندی کرنا اور اس کا ایک معین حساب مقرر کرنا یا تنظیم کرناہے ۔
انگلش کے تراجم میں بہت عمدہ طریقے سے ” تقدیر ” کا ترجمہ کیا گیا ہے جو یہ ہے۔
1. Reckoning-the action or process of calculating or estimating something.
2. Measure or Measuring
3. An arrangement of the Mighty
4. Determination
5. Calculation
6. Structure, arrangement, scheme, plan, pattern, order, form, format, framework, system, composition, constitution, shape, make-up, configuration; systematization, methodization, categorization, classification, codification
ان تمام الفاظ کو دیکھیں تو یہ منصوبہ بندی، تنظیم ، تخمینے یا پیمانہ مقرر کرنےیا حساب معین کرنے کے معنی ہی میں آتے ہیں اور انگریزی کے مترجموں نے بالعموم تقدیر کا مفہوم” لکھی ہوئی تقدیر لینے سے گریز” کیا ہے ۔اردو مترجمین نے تقدیر کے لفظ کا ترجمہ کرنے کی بجائے اسے تقدیر ہی لکھ دیا جس سے عام ذہن میں کنفوژن پیدا ہوتی ہے۔
شب قدر میں کس قسم کے کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ اس رات میں کس قسم کے کاموں کے احکامات نازل ہوتے ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم کے پہلو کو جاننا ہوگا۔یوں تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کے معاملات کو ہر وقت ہر لمحہ جانتے ہیں لیکن اللہ نے اپنی ایڈمنسٹریشن کے کارندوں یعنی فرشتوں سے رپورٹ طلب کرنے کے لیے کچھ ٹائم لائن مقرر کررکھی ہیں ۔ اس آیت میں بیان ہوتا ہے:
اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔ (سورہ آل عمران ۱۰۹)
اس طرح کی کئی آیات ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ فرشتے اللہ کے حضور معاملات پیش کرتے ہیں۔ یہ معاملات یوں تو ظاہر ہے کہ کسی مخصوص وقفے ہی سے پیش ہونگے جیسے اس آیت میں بیان ہوتا ہے۔
ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔( المعارج آیت ۴)
گویا فرشتے مخصوص اوقات یعنی صبح و شام، روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ ، ہزار سال یا پچاس ہزار سال بعد اللہ کے سامنے اجتماعی یا انفرادی معاملات کمپائل کرکے رپورٹ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان پر اپنے احکامات صادر کرتے اور مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں۔ یہ بات ایک روایت میں بھی بیان ہوئی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
بہرحال اللہ کے حضور مخصوص وقفوں میں مخلوق اور کائنات کے معاملات پیش کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان پر اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔سورہ قدر اور دخان میں جن تدابیر اور منصوبوں کا ذکر ہے وہ سالانہ نوعیت کے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں اپنی سالانہ انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ بناتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی دنیا کے تمام معاملات کی ایک سالانہ رپورٹ اللہ کے حضور اس رات سے قبل پیش کرچکے ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر ہے کائنات کے چیف ایگزیکٹو یعنی رب العالمین کو پیش کی جارہی ہے تو اس میں انفرادی، اجتماعی ہر ہرپہلو سے چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔
یہاں ایک اشکال ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تو عالم الغیب ہیں تو انہیں اس رپورٹ کیا ضرورت؟ تو یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ رپورٹ لکھوانے کا عمل اللہ تعالی خود اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی ایڈمنسٹریشن یعنی فرشتوں کی تفہیم کے لیے اور ان کی آپس میں کمیونکیشن اور کوآرڈنیشن کو آسان بنانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے اس سالانہ رپورٹ میں فرشتے کائنات میں پیش آنے والے ایک سال کے معاملات کو کمپائل کرتے اور آئیندہ سال کے لیے اپنی تجاویز یا بجٹ پیش کردیتے ہیں۔اس رات ان تجاویز اور تدابیر کو اللہ کے حکم سے حتمی شکل اور منطوری دے دی جاتی ہے۔ اسی کو ہم تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم (Planning and Organizing)کہہ سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اجتماعی طور پر یہ طے کردیا جاتا ہے کہ بارشیں کتنی ہونگیں، زلزلے ، سیلاب کتنے آئیں گے، کہاں آئیں گے، فصل کتنی اگے گی، کہاں اگے گی، خوشحالی ہوگی یا تنگدستی، زمین پر کوئی نئی شے ایجاد ہوگی یا نہیں ، کوئی بڑی وبا آئے گی یا نہیں، نئے ستاروں کی تخلیق ہوگی یا پرانے ستاروں کی موت واقع ہوگی، کائنات بگ بینگ کے اثر سے مزید کتنا پھیلے گی، موسم میں کیا تغیرات ہونگے، قوموں کے عروج و زوال کا کیا معاملہ ہوگاوغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح فرد کی ماضی کی کاکردگی کی بنیاد پر یا امتحان کے اصول پر بھی کچھ منصوبے ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی رزق کی کشادگی، تنگی، صحت، بیماری، موت، تعلیم وغیرہ کے بارے میں منصوبے ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری پلاننگ الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کائنات کے بادشاہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ کہیں پر تباہی کا فیصلہ قوموں کے اعمال کی بنا پر ہوتا ہے، کہیں آزمائش و تربیت کے اصول پر ، کہیں طبعی قوانین کو مد نطر رکھ کر ہوتا ہے تو کہیں کچھ اور حکمت ہوتی ہے۔
لیکن یہاں تقدیر کے لفظ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ پیمانہ یا تدبیر ہے جو کائنات کا نظم و نسق چلانے اور زندگی کو کائنات میں ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ البتہ انسان اخلاقی معاملات میں آزاد ہے اور اخلاقی دائرے میں اس آزادانہ اختیار (Free will) یعنی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگتی ہے اور یہی وہ دائرہ ہے جہاں آخرت میں پوچھ گچھ ہونی ہے۔
شب قدر میں تقدیر معین کرنے کو ہم محدود طور پر ایک اور طرح بیان کرسکتے ہیں۔ دنیاوی ریاستیں سالانہ بجٹ بناتی ہیں جس میں خرچوں یعنی اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا اور آمدنی کے ذرائع بیان کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی منصوبہ بندی میں یہ بیان ہوتا ہے کتنے خرچے ہونگے، کہاں کہاں ہونگے، کب ہونگے ۔اسی طرح یہ بھی بیان ہوتا ہے وسائل کہاں سے آئیں گے، کتنے وسائل ہونگے وغیرہ۔ بجٹ ایک طرح کی منصوبہ بندی ہے اور اسے ہم محدود معنوں میں اس ملک کی تقدیر یا پیمانہ یا تخمینہ کہہ سکتے ہیں یعنی تمام اخراجات اور آمدنی انہی دائروں میں رہے گی۔ اس را ت میں بھی اس سے بہت اعلی درجے کی منصوبہ بندی پیش کی جاتی ہے جو قوم، ملک، فرد، گروہ ،ادارے، زمین، آسمان، سیاروں اور ستاروں کے امور سے متعلق ہوتی ہے۔ اسی منصوبہ بندی اور تنظیم کو تقدیر کہا جاتا ہے۔
بہر حال ، خدا کے امور تو خدا ہی جانتا ہے ۔ ہمارا اندازہ اور قرآن کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ یہ معاملات کی چند مثالیں ہیں جن میں پلاننگ کی جاتی اور تقدیر یعنی پیمانہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اسی کو سورہ دخان میں کہا گیا کہ اس رات میں ہر کام کے لیے حکیمانہ فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔
فرشتے کون ہیں؟
شب قدر میں اللہ کے حکم سے روح الامین اور دیگر فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کی آسمانی حکومت کی ایڈمنسٹریشن کا کام اللہ تعالی فرشتوں سے لیتے ہیں۔ اللہ کی حیثیت اس ایڈمنسریشن کے چیف ایگزیکٹو یا حاکم اعلی یا بادشاہ کی ہے ۔ اللہ تعالی نے جس طرح یہ کائنات ایک منظم (Systematic/ Organized)اور سائنٹفک(Scientific) انداز میں بنائی اور چلائی ہے، اسی طرح منظم انداز میں اللہ نے اپنی آسمانی حکومت کو قائم کیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عزرائیل علیہ السلام موت کے فرشتے ہیں، اسرافیل سور پھونکنے کا کام کریں گے، میکائل نیچر یعنی قدرت کی قوتوں کا نطام خدا کے حکم سے چلاتے ہیں۔جبریل امین ان تمام فرشتوں کے ہیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب اگر ہم صرف حضرت عزرائل علیہ السلام کی مثال لے لیں تو ہم جانتے ہیں دنیا میں ایک وقت میں کئی لوگ مررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت رات کے دو بجے فرض کریں ایک شخص آسٹریلیا میں مررہا ہے تو کسی کا امریکہ میں دم نکل رہا ہے اور کوئی افریقہ میں زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عزرائل علیہ السلام رات کے دو بجے ان تینوں مقامات پر موجود ہوں۔ اس سے ایک نتیجہ آپ سے آپ نکلتا ہے کہ دراصل عزرائل ایک ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں جس میں ان کے ماتحت بے شمار فرشتے ہیں جو اللہ کے اذن سے جان نکالنے کا کام کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی آسمانی حکومت کے ماتحت اللہ نے مختلف ڈیپارٹمنٹ قائم کررکھے ہیں جن کو سمجھنے کے لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان میں موت دینے، رزق فراہم کرنے ، بارش برسانے وغیرہ جیسے کئی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں اور ان سب کے ہیڈ کی حیثیت حضرت جبریل علیہ السلام کو ہے۔اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے:
جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے ۔اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے (التکویر۲۰، ۲۱)
اس کے علاوہ فرشتے مختلف طاقتوں کے ہوتے ہیں جس کا ذکر سورہ فاطر میں موجود ہے۔
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(فاطر ۱:۳۵ )
اس آیت میں دو ، تین ، چار اور زیادہ پروں سے مراد فرشتوں کی طاقت ، مرتبہ اور قوت پرواز ہے۔ یہ فرشتے اپنے رتبے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے اللہ کے حکم کے مطابق مختلف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے ہیں۔
فرشتے کہاں ہوتے ہیں؟
قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ فرشتے تین درجات میں اپنا کام کررہے ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دنیا اور کائنات کا سسٹم سمجھنا ہوگا۔ ہماری یہ زمین ایک سیارہ ہے جہاں ارادہ و اختیار والی مخلوق انسان آباد ہے۔ یہ زمین ایک سیارہ ہے اور یہ سیارہ سورج کے گرد گردش کررہا ہے۔ سورج اپنی کہکشاں میں گردش کررہا ہے جس میں اربوں ستارے ہیں اور اس طرح کی اربوں کہکشائیں ہیں۔ ان تمام مادی کہکشاؤں کا اگر ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک آسمان ہے جسے سما ء الدنیا یعنی قریب کا آسمان کہا جاتا ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
اس آسمان سے اوپر تہہ بر تہہ چھ اور آسمان ہیں اور ان کی اپنی اپنی زمینیں ہیں اور عین ممکن ہے وہاں زندگی بھی موجود ہو۔اس کا ذکر سورہ طلاق میں موجود ہے:
اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے ‘ ’ تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے “ اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ‘(سورہ الطلاق ۱۲:۶۵)
گویا زمین کے اوپر سب سے پہلے اس دنیا کا آسمان ہے اور پھر اس کے اوپر مزید چھ آسمان۔ ان کے اوپر ایک اور دنیا ہے جسے ہم غیبی دنیا یا ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس یا ہائیر اسمبلی کہہ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے:
مجھے ملائے اعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے ۔( ص ۶۹:۳۸)
وہ ملااعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں ۔( الصافات ۸:۳۷)
یہ ملائے اعلی دراصل فرشتوں کی مجلس ہے جس میں غیر متعلقہ افرادکا داخلہ ممنوع ہے۔ اس فرشتوں سے اوپر ایک اور مقام ہے جہاں عرش الٰہی قائم ہے۔
وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوگیا عرش پر وہ رحمن ہے ! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے ۔( الفرقان ۵۹:۲۵)
یہ عرش ہر وقت فرشتوں سے گھرا رہتا ہے جو اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔
جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا (غافر ۲۴:۴۰)
اب معاملہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ سب سے نیچے ہماری زمین اور اس کے اوپر آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر مزید چھ آسمان ۔ کل ملا کر سات آسمان اور یہ مادی دنیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک غیبی دنیا ہے جس میں فرشتے ، جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق موجود ہیں۔ اس غیبی دنیا کے نچلے حصے[ ملاء اسفل] میں جنات کا بسیرا ہے اور اوپر کے حصے میں فرشتوں کا۔ فرشتوں کی سب سے اعلی مجلس یا اسمبلی کو ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس سے قرآن نے تعبیر کیا ہے۔ گویا یہ ایک ہائیر اسمبلی ہے اسی کو ملا ء اعلی بھی کہتے ہیں۔ اس میں ہر بڑے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ یا سربراہ موجود ہوتا ہے۔جیسے کائنات کی میکانی قوتوں کے سربراہ میکائل، دنیا میں وسائل و رزق کی نگرانی کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسرافیل، موت و زندگی سے متعلق نبٹنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عزرائل وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہ سب چونکہ خدا کے حکم اور اذن ہی سے کام کرتے ہیں اس لیے ان کی شمولیت کو شرک سمجھنا قرآن کے خلاف ہوگا۔
ملائے اعلی کے نیچے ایک زیریں اسمبلی بھی ہے جس کا مقام معلوم ہوتا ہے ہماری زمین کے آسمان سے اوپر ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
یہاں بھی فرشتے پہرہ لگائے موجود ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی جن اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے دھتکاردیتے ہیں۔ اس کا ذکر سورہ جن میں بھی موجود ہے:
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا ۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے ۔(سورہ جن ۷۲ آیات ۷ تا ۱۰)
ان آیات پر غور رکریں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فرشتے ملائے اعلی اور ملائےاسفل کی درمیانی سرحدوں پر پہرہ داروں کا کام کرتے ہیں ۔ان فرشتوں کی ہم سمجھنے کے لیے ملائے زیریں یعنی درمیانے لیول کی مجلس کہہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ فرشتے ملائے اعلی کے فرشتوں سے پیغام وصول کرکے نیچے زمین پر مامور فرشتوں تک پیغام پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان ٹاپ ڈاؤن (Top- Down)یا ڈاؤن اپ (Down-up)کمیونکیشن ہوتی رہتی ہے ۔ جب اللہ فرشتوں کو ہدایات دیتے ہیں تو اس کی ترتیب یوں بنتی ہے۔
خدا کا حکم = ملائے اعلی کے فرشتوں نے سنا= انہوں نے یہ آرڈر اپنے ماتحت فرشتوں کو لوئیر اسمبلی میں دیا = انہوں نے یہ حکم زمینی فرشتوں کو دیا ۔
اسی طرح جب نیچے سے معاملہ چلتا ہے تو یہی ترتیب ہوتی ہے یعنی زمین کے فرشتے، پھر ملائے زیریں ، پھر ملائےاعلی اور پھر عرش عظیم یعنی اللہ تعالی جن کی حیثیت اور پوری ایڈمنسٹریشن یا آسمانی حکومت میں چیف ایگزیکٹو کی ہے اور تنہااللہ کو ہی ہر قسم کا اختیار اور ویٹو پاور حاصل ہے ۔
چنانچہ جب آسمان سے زمین میں یہ آرڈر دا جارہا ہوتا ہے یا فرشتوں کی مجلس میں کوئی بات ڈسکس ہورہی ہوتی ہے تو جنات کونے کھدروں میں گھس کر گھات لگاکر سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ بات کی سن گن لے کر اپنی موکلوں کو بتادیتے ہیں۔ اسی پر ایک شہاب ثاقب کا گرز ان پر آکر پڑتا ہے اور یہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتوں کے نزول سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر جب کوئی حکم اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسی ہائی رارکی (Hierarchy)یا ترتیب سے آتا ہے ۔ اللہ حکم صادکرتے ہیں تووہ ملائے اعلی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو یہ حکم دیتے ہیں وہاں سے درمیانی مقام یا ملا ئے زیریں کے فرشتوں کو یہ حکم ملتا ہے اور آخر میں زمین پر موجود فرشتے اسے جب وقت آتا ہے تو نافذ (Execute)کردیتے ہیں۔
یعنی اب شب قدر کا معاملہ یوں ہے کہ :
۱۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ اس رات سے قبل اللہ کے حضور پیش کی جاچکی ہوتی ہے۔اس رپورٹ میں اگلے سال کی پلاننگ کے لیے تجاویز اور سفارشات بھی ہوتی ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے ہوتی ہیں۔
۲۔ اللہ تعالی اپنے لامحدود علم و حکمت کی بنیاد پر اس منصوبہ بندی کی تجاویز کو منظور کرتے اور ان احکامات کو آگے بتانے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔
۳۔ یہ منصوبہ بندی کے احکامات لے کر ملائے اعلی کے متعلقہ فرشتے ملائے زیریں یا قریب کے آسمان کے فرشتوں کے پاس آتے اور ان کو یہ منصوبے سونپتے اور سمجھاتے ہیں۔
۴۔ ملائے زیریں کہ فرشتے ان منصوبوں کو اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔ اور جب ان منصوبوں پر عملدآمد کا وقت ہوتا ہے اس وقت زمینی کارکنان کے سپرد کرتے رہتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟
شب قدر میں تمام بڑے بڑے فیصلوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کا وقت ہوتا ہے اس لیے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے کہاں اترتے ہیں؟ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ ایک اور شاذرائے یہ ہے کہ یہ فرشتے آسمان دنیا یعنی زمین کے آسمان پر جمع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ملائے اعلی اور ملائے زیریں کے تمام فرشتوں کی ایک بڑی مجلس یا میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ سمجھنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ پوری بیوروکریسی یا ایڈمنسٹریشن کی تمام منسٹریز اور ڈیپارٹمنٹس کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں تمام اہم اور متعلقہ فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ اس میں جبریل امین اور ان کا ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو کوآرڈنیشن کا کام کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس رات تمام متعلقہ فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ فجر تک موجود رہتے ہیں۔چونکہ ہر ملک میں ان کا منصوبوں کا تعلق اپنے علاقوں کے حساب سے ہوتا ہے اسی لیے شب قدر اگر مختلف جگہوں پر مختلف اوقات یا دنوں میں آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نیز شب قدر کی تاریخ کو اسی لیے متعین طور پر نہیں بتایا گیا کیونکہ یہ متعین ہوتی ہی نہیں۔ یعنی عین ممکن ہے کسی سال اللہ کی مشیت ہو کہ یہ فیصلہ سازی اور تنظیم رمضان کی اکیسویں شب میں ہو تو کبھی یہ تئیسیوں شب تو کبھی پچیس یا ستائس یا انتیسویں شب۔
ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس رات چونکہ ساری اہم بیوروکریسی زمین کے قریب موجود ہوتی ہےا ور اللہ کی خصوصی توجہ دنیا والوں پر ہوتی ہے تو یہ رات بہت اہم ہے۔ یہ ایک اصول ہے کہ اللہ تعالی جب بھی اپنا رسول کسی فرشتے یا انسان کی شکل میں دنیا پر بھیجتے ہیں تو جزا و سزا کے معاملات بہت تیز ہوجاتے ہیں۔ کسی حاضر رسول کے انکار کی صورت میں تباہی لازمی ہوجاتی اور اس پر ایمان لاکر اس کا اتباع کرنے کی صورت میں دنیا ہی میں کامرانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
یہی معاملہ شب قدر کا بھی ہے۔فرشتے خدا کے رسول یعنی بھیجے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔ اب سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ روبہ عمل ہوتا ہے کیونکہ ساریاہم ایڈمنسٹریشن قریب کے آسمان پر موجود ہوتی ہے اور فیصلہ پر اطلاق فوری طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس رات مانگی گئی دعاؤں کی خصوصی اہمیت ہے۔ اسی لیے اس رات کو ہزار مہینے سے بہتر رات کہا گیا ہے۔
اس رات میں بندے کو بھی اپنی گذشتہ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کھویا ، پایا، کیا گناہ کیا، کہاں شخصیت میں آلودگی کی اور آئیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ یہ وہ کام ہے جو خدا کے فرشتے کررہے ہوتے ہیں چنانچہ یہی وہ کام ہے جسے مغفرت مانگنا اور توبہ کرنا کہتے ہیں۔
اس رات کی مناسبت سے نوافل کے علاوہ جو کام اہم ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے کہ ہماری شخصیت نے ماضی میں خاص طور پر ایک سال میں کیا کیا کام کیے۔
۲۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سے اچھے کام تو جو کرنا لازم تھے اور نہیں کیے۔
۳۔ یہ دیکھا جائے کہ کون سے برے کام تھے جن سے بچنا لازم تھا اور ہم نہ بچ پائے۔
۴۔ ان کوتاہیوں کی وجہ تلاش کی جائے۔
۵۔ ان سے بچنے کا ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
۶۔ اللہ سے ان کی معافی مانگی جائے اور تلافی ممکن ہو تو اس کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
۷۔ یہی احتساب ، غور فکر، تدبر سب سے بڑی عبادت ہے جو فرض عین ہے۔
۸۔ اس رات میں نوافل کے درمیانی وقفے میں بیٹھ کر یہی کام کرنا چاہیے۔
۹۔ عین ممکن ہے کہ اس اخلاص کے ساتھ احتساب کی بنا پر اس تقدیروں والی رات میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لکھ دی جائے۔


Pages