پروفیسر محمد عقیل

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد عقیل
آخر کیا وجہ ہے کہ رسول کریم کا اسوہ مبارک ہم سب کے لیے نمونہ ہے لیکن مسلمان اس کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں؟ آئیے جذبات سے بالاتر ہوکر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے بڑی وجہ تو ظاہر پرستی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بننا ہے تو اپنا ظاہر اس کے مطابق کرنا ہوگا۔ داڑھی کم از کم ایک مشت ہونی چاہیے، ٹخنوں سے اوپر پائنچے ہونے چاہئیں، سر پر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ۔ حالانکہ نبی کریم کے جس اسوہ کو مشعل راہ بنایا گیا وہ آپ کا ظاہری حلیہ نہیں بلکہ باطنی کیفیت

تھی۔ وہ ایمان جو بندے کو خدا کے قریب کرتا، وہ تعلق باللہ جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرتا، وہ رب سے محبت جو اس کی انا کو جھکا دیتی، وہ اطاعت خداوندی جو اس کے گفتار کو درست کرتی اور اس کے کرادر کو اجلا بنادیتی ہے۔ظاہر پرستی ہی کی بنا پر ہم نبی کی اصل شخصیت سے دور ہوگئے ہیں۔
ایک اور وجہ نبی کریم سے ادھورا تعلق ہے۔ ہماری اکثریت نبی کریم سے جذباتی وابستگی تو رکھتی ہے لیکن عقلی طور پر اسے علم ہی نہیں کہ آپ کی نبوت کی اصل دلیل کیا ہے؟ اور آپ کن بنیادوں پر خدا کے سچے پیغمبر کہلائے جاتے ہیں؟ اس کم علمی کی بنا ہمارا نبی سے تعلق جذبات کی حد تک ہوتا ہے اور اس کی کوئی زیادہ عقلی گہرائی نہیں ہوتی۔ چنانچہ جذباتی مواقع پر ہم نبی کے لیے مرنے کا دعوی کرنے کو تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کے لیے جینے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ مرنے کا دعوی کرنے لیے محض ایک جذباتی اور وقتی ابال چاہیے ہوتا ہے جبکہ نبی کے طریقے کے مطابق جینے کے لیے عقلی تعلق بھی چاہیے ہوتا ہے اور مسلسل نفس کو مجاہدے سے گذانا پڑتا ہے ۔ اسی بنا پر نبی کا مقام ہمیں عید ، بقرعید، بارہ ربیع الاول اور چند اور مقامات پر تو یاد آتا ہے لیکن ہماری روزمرہ زندگی میں اس کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہوتا۔
ایک اور وجہ نبی کریم کے مشن اور پیغام کو محض چند رسمی عبادات تک محدود کردینا اور باقی زندگی کے معاملات کو سنت یا آپشنل مان لینا ہے۔ چنانچہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی بات کی جاتی ہے تو معاملات نماز، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور قرآن کے تلفظ کی تصحیح سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ زیادہ محبت کا مظاہر ہ کرنا ہوتو کھانے کے میٹھا کھانے، سیدھی کروٹ نیند لینے، داڑھی ایک مشت کرنے اور دیگر ظاہری امور پر توجہ کرنے ہی کو مذہب سمجھا جاتا ہے۔حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ مذہب یا دین کا بنیادی مقصد صراط مسقتیم یا وہ راہ دکھانا ہے جس کے ذریعے بندہ خدا تک پہنچ جاتا اور دنیا و آخرت میں سرخروہوجاتا ہے۔یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل پیغا م تھا کہ بندوں کو خدا سے ملانا، بندوں کو بندگی سکھانا اور ان کے نفس کو تربیت سے کر آگے ارتقا دلانا۔ جب تک یہ فلسفہ واضح نہ ہو، نبی کریم کے مشن سے آگاہی ممکن ہی نہیں۔ اور جب آگاہی ہی نہیں ہوگی تو عمل کیسے ہوگا۔
ایک اور وجہ سنت کے تصور کا غلط اطلاق ہے۔سنت وہ اعمال نہیں جو نبی کریم نے کلچر، عادت، ذوق یا کسی اور ذاتی وجہ سے اپنائے۔ سنت وہ طریقہ ہے جس پر چل کر وہ خود خدا تک پہنچے اور جس پر چل کر ہم بھی خدا کی رضا حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ زبان کی سنت گالیوں کے جواب میں بھی میٹھا بولنا ہے۔ہونٹوں کی سنت مشکلات میں بھی مسکراتے رہنا ہے۔ سیاست کی سنت اقتدار کی لالچ کی بجائے خدا کی رضا کا حصول ہے۔ کردار کی سنت مخالفین سے بدلہ لینے کی بجائے معاف کردینا ہے۔ ہاتھ کی سنت اس سے کسی کو ناحق نقصان پہنچانے سے گریز کرنا ہے۔نگاہوں کی سنت اسے خدا کے حکم کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ تجارت کی سنت دیانتداری سے لین دین کرنا ہے۔ملازمت کی سنت ایمانداری سے اپنا کام کرنا ہے، معاشرت کی سنت حسن سلوک اور عہد کو مشکل حالات میں بھی نبھانا ہے۔
آخری معاملہ ہمارے قول فعل کا تضاد ہے۔ نبی کریم نے کبھی وہ دعوی نہیں کیا جس پر وہ عمل نہ کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہِیں اور جو کرتے ہیں وہ بیان نہیں کرتے کیونکہ وہ بیان کرنے کے لائق ہی نہیں ہوتا۔ ہم جو جو اشیاء بیچتے ہیں ان کے بارے میں کہتے کچھ اور ہیں اور ان کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ ہم تنخواہ پوری لیتے ہیں اور کام ادھورا کرتے ہیں۔ ہم دعوی خدا پرستی کا کرتے ہیں او ر پوجا اپنی خواہش نفس کی کرتے ہیں۔ ہم سیاسی و کاروباری مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ ہم بحیثیت فرد، جماعت اور ادارہ اسی قول و فعل کا شکا رہیں جس کی قرآن و سنت نے سختی سے مذمت کی ہے۔
جب تک ان سب باتوں کی اصلاح نہیں ہوگی ، خدا کی مدد ہمارے پاس نہیں آئے گی ۔ اگر ہم ان حقیقی سنتوں کو نہیں اپنائیں گے تو یونہی ملاوٹ شدہ اشیاء ہمارا مقدر بنی رہیں گی، ہسپتال میں مریض سسکتے رہیں گے، ممبروں سے قتل کا پیغام ملتا رہے گا، بدتر حکمران مسلط ہوتے رہیں گے، گلی تعفن سے سڑتی رہے گی، بہنوں کی عزتیں لٹتی رہیں گی، قتل و غارت گری ہوتی رہے گی۔ یہ سب کچھ ہوتا رہے گا خواہ ہم کتنے ہی میلاد منعقد کرلیں، کتنی ہی خوشیاں منالیں، کتنا ہی شور مچا کر نبی کی محبت کا اعلان کرتے پھریں۔ لیکن نبی کے ساتھ اگرجذبات کے ساتھ ساتھ عقلی تعلق قائم نہیں کیا، نبی کی ظاہری سنتوں کے علاوہ حقیقی سنتوں پر عمل نہیں کیا، نبی کے مشن کو رسمی عبادت سے آگے بڑھا کر معیشت ، معاشرت، اخلاقیات و معاملات تک وسیع نہیں کیا تو پھر عید میلاد النبی آتے رہیں گےا ور جاتے رہیں گے ، لوگ خوشیاں مناتے رہیں گے لیکن خدا کے فرشتے افسوس کے ساتھ یہ پڑھتے ہوئے گذرجائیں گے کہ
صم بکم عمی فہم لایرجعون


کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل
• "حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔
• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟
میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر مار دی جاتی ہے

۔
• حضور تقوی کیا ہے؟
تقوی God Consciousness کا نام ہے۔ یہ خدا کو اپنے تمام معاملات میں شامل کرلینے اور پھر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ تقوی اپنی رضا کو خدا کی رضا میں فنا کردینے کا نام ہے۔
• حضرت مجھے بتائیے کہ میری قربانی میں تقوی شامل ہے یا نہیں؟
” اچھا یہ بتاؤ کیا قربانی کی تیاری کرلی؟”
• جی ہاں! ایک گائے خرید کر اپنے گھر باندھ لی ہے۔
میاں یہ تو تم نے جانور خرید کر باندھا ہے ۔ اگر تم نے اپنے اندر کی حرص و ہوس، شہوت، مادہ پرستی، سستی و کاہلی ، انا اور تکبر جیسے جانوروں کو قربانی کے لیے نہیں باندھا تو خاک تیاری کی۔ اچھا جانور خریدتے وقت کیا ارادے تھے ؟
• حضرت ! بس وہ بیگم بچے بہت تنگ کررہے تھے، کہہ رہے تھے کہ سب کے ہاں جانور آگئے ہیں ، ہم بھی تگڑا جانور لائیں گے تاکہ سب سے اچھا ہمارا ہی جانور لگے۔
ارے صاحبزادے ! یہ تو تم نے بچوں کی رضا کے لیے جانور خریدا ہے جس کا مقصد دکھاوا ہے اور بس۔ اس میں خدا کی رضا کہاں ہے؟
• تو حضرت ! آپ ہی بتائیے کہ پھر کیا ارادہ کرتا؟
بھائی، جانور خریدنے سے پہلے خدا کے حضور کھڑے ہوتے ، اس سے عرض کرتے کہ میرا مال ، میری جان، میری اسٹیٹس ، میرا خاندان ، میر ا گھر میرا روزگار سب آپ ہی کا دیا ہوا ہے۔ میں نے عہد کیا ہے کہ آپ کی رضا کے لیے ہر کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کروں گا یہاں تک کہ جان بھی قربان کرنی پڑی تو کروں گا۔ اور یہ جانور آپ ہی کے عطا کردہ مال میں سے آپ کی رضا کے لیے علامتی طور پر حاضر ہے۔ اس حقیر سے نذرانے کو عظیم بنا کر قبو ل کرلیجے۔
اچھا یہ بتاؤ، گوشت کی تقسیم کا کیا ارادہ ہے؟
• حضرت ! اب آپ سے کیا چھپاؤں، ابھی ایک نیا ڈیپ فریزر لیا ہے جس میں بکرا محفوظ ہوجائے گا ۔ باقی گائے کا گوشت انہی لوگوں میں تقسیم کرنے ارادہ ہے جو ہمارے گھر گوشت بھجوائیں گے ۔ البتہ کچھ گوشت غریبوں میں بھی دینے کا ارادہ ہے۔
میاں! اس معاملے میں کوئی فتوی تو نہیں دے سکتا۔ البتہ ترمذی کی روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک بکری ذبح کی اور اس کا گوشت لوگوں میں تقسیم کیا۔ کچھ دیر بعد آپ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کچھ گوشت باقی ہے؟ تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ صرف ایک دستی بچی ہے باقی سب تقسیم ہوگیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو صدقہ ہوگیا وہی باقی ہے (یعنی آخرت میں )۔
یہ اسپرٹ ہو تو قربانی قربانی ہے وگرنہ یہ سب قربانی کے نام پر گوشت کی خرید و فروخت معلوم ہوتی ہے۔ اچھا قربانی کرنے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے؟
• جی ہاں! کھال تو پہلے ہی مدرسے والوں نے بک کرلی ہے ۔ باقی ایک پروفیشنل قصائی سے بات کرلی ہے وہ نماز کے فور ا بعد آجائے گا۔ وہ ساتھ ساتھ بوٹیاں بنائے گا تو میں اپنے بیٹوں کے ساتھ گوشت شام تک تقسیم کردوں گا اور شام کو تکہ پارٹی بھی ہے۔ سب انتظام مکمل ہے۔
اچھا صاحبزادے! تم یہ تو جانتے ہو کہ اللہ کو جانور کا نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت۔ بلکہ صرف تقوی پہنچتا ہے۔تم نے خون اور گوشت کا انتظام تو کرلیا۔ یہ بتاؤ، تقوی کے خدا کے حضور پہنچانے کا کیا انتظام کیا؟
• جی تقوی پہنچانے کا انتظام ؟ اس پر تو کبھی سوچا ہی نہیں بلکہ مجھے تو علم ہی نہیں کہ یہ بھی کوئی کا م ہے۔لیکن یہ تو اصل قربانی کا مقصد ہے اور قربانی بنا تقوی محض ایک دھوکہ ، فریب اور تکہ پارٹی ہی ہے ۔ حضرت ! آپ نے میر ی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مجھے بتائیے یہ کس طرح ہوگا، اور مجھے کیا انتظام کرنے ہونگے۔ اس نے نمناک آنکھوں کے ساتھ پوچھا۔
میاں ! میں تمہیں یہیں لانا چاہتا تھا اور الحمدللہ تم آگئے۔ دیکھو جب پیغمبر کی قوم پر کچھ وقت بیت جاتا ہے تو رسومات کے پیچھے موجود مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ بعض اوقات ظاہر پرست علما ء فقہی بحثوں میں اتنا الجھادیتے ہیں کہ حقیقت نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ پھر یوں سمجھو کہ دین کے حکم کا ڈھانچہ تو رہ جاتا ہے، روح نکل جاتی ہے۔ یہی سب قربانی کے ساتھ ہوا ہے۔
• لیکن ہمارے ہاں تو تقوی پر زور دینے کی بجائے کچھ اور بحثیں جاری رہتی ہیں۔
ہاں ،آج جانور کے دانت، سینگ، وزن، گوشت کی تقسیم ، کھال کے عطیے ، نصاب ، اور واجب و سنت کی باتیں تو بہت ہیں لیکن قربانی کی اصل روح شاید ان فقہی موشگافیوں پر قربان ہوچکی ہے۔کیا ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب نظر آیا تھا تو انہوں نے خدا سے پوچھا کہ یہ قربانی واجب ہے یا آپشنل؟ کیا انہوں دریافت کیا کہ انسان کی اور وہ بھی پہلوٹھے بیٹے کی قربانی جائز ہے یا ناجائز؟ نہیں ایسا نہیں کیا کیونکہ جو محبوب ہوتا ہے اس سے بحث نہیں کی جاتی، سر تسلیم خم کیا جاتاہے۔ یہی سنت ابراہیمی ہے کہ فقہی موشگافیوں سے بالاتر ہوکر اپنی محبوب شے کو خدا کی راہ میں قربا ن کردیا جائے ۔ قربانی میں اصل اہمیت اس جذبے اور تقوی کی ہے اور اس کی رکاوٹ میں آنے والے ہر فقہی موشگافی ثانوی ہے۔
• حضرت یہ تو بات ٹھیک ہے لیکن وہ تو پیغمبر تھے، ہم ان کے برابر کہاں ہوسکتے ہیں؟
یہی تو غلط فہمی ہے۔ تمام پیغمبر انسان تھے ۔ انہیں بھی اولاد سے محبت ہوتی تھی، ان کا بھی گھر بار تھا، انہیں بھی اولاد کی تکلیف پر اتنی ہی تکلیف ہوتی تھی جتنی ایک انسان کو ہوتی ہے۔ پھر خدا تم سے کب تمہاری اولاد کی قربانی مانگ رہا ہے؟البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ جب آخرت کے مقابلے میں مال و اولاد آڑے آجائے تو اپنی کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کی بجائے انہیں قربان کردو۔
• حضرت ، پھر بھی مجھے کسی ایسے واقعے سے سمجھائیے جو پیغمبر کا نہ ہو ۔
اچھا تو قرآن میں وہ واقعہ یاد کرو جب ہابیل و قابیل نے خدا کے حضور قربانی پیش کی۔ ہابیل جو چرواہا تھا وہ اپنے گلے سے بہترین پہلوٹھی کا بھیڑ لے کر آیا۔ قابیل جو ایک کسان تھا اس نے سوچا کہ یوں بھی اس قربانی کے اناج نے جل کر راکھ ہو جانا ہے تو وہ کچھ فالتو قسم کا اناج لے آیا۔ معاملہ نہ پہلوٹھی کے بچے کا تھا اور نہ ناقص اناج کا ۔ معاملہ اس نیت اور جذبے کا تھا جو ہابیل اور قابیل نے خدا کے حضور پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہابیل کی قربانی کو خدا کی بھیجی ہوئی آگے نے جلاڈا لا جو اس بات کی علامت تھی کہ خدا نے قربانی قبول کرلی۔ یہ کس چیز کی قربانی تھی ؟ یہ قربانی اپنی بہترین شے خدا کو راہ میں دینے کا علامتی اظہار تھا۔ یہی وہ تقوی تھا، خدا خوفی تھی، محبت تھی جو ہابیل نے صرف علامتی طور پر پیش ہی نہیں کی بلکہ وقت پڑنے پر اس کا ثبوت بھی دیا۔
• ہابیل نے کس طرح ثبوت دیا؟
جب قابیل نے اس کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے اس وقت بھی خدا خوفی اور تقوی کے مظاہر کرتے ہوئے یہی کہا کہ تم اگر مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاؤگے تو میں خدا کی محبت اور تقوی کا پابند رہتے ہوئے تمہیں قتل کرنے میں پہل نہیں کروں گا۔ اور اس نے کا ثبوت بھی دیا کہ قابیل نے اسے ناحق قتل کردیا لیکن ہابیل نے ایک قدم بھی خدا کی مرضی کے خلاف نہیں اٹھایا۔ گویا جو ابتدا اس نے پہلوٹھی کا محبوب بھیڑ قربان کرکے کی تھی اس کا عملی مظاہرہ اس نے خدا کے حضور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے کردیا۔
• حضور مجھے آپ آسان الفاظ میں بتادیجے کہ مجھے کیا کرنا ہے؟
کرنا کچھ نہیں، قربانی کا جانور خریدتے وقت یوں سمجھو کہ خدا کے ہاتھو ں تم اپنی جا ن بیچ رہے رہو۔سورہ توبہ کی وہ آیت کا ترجمہ پڑھو کہ اللہ نے ایمان رکھنے والوں سے ان کی جان اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ جانور خریدتے وقت بیوی بچوں کی خوشی کو ثانوی رکھو، دکھاوے کا عنصر ختم کرو۔جانور کی قربانی سے قبل اپنے نفس کے اندر موجود جانوروں کو تلاش کرو جو تمہیں خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ ان جانوروں کے نام ایک ایک کرکے پرچے پر لکھو اور یہ بتاو کہ انہیں کب اور کیسے ذبح کرنا ہے۔ جب قربانی کے جانور پر چھری چلاو تو یہ ذہن میں رکھو کہ تم اپنے نفس کی رضا پر چھری چلارہے ہو اور اسے خدا کی رضا کے تابع کررہے ہو۔ اس کے بعد زندگی میں قربانی کے لیے تیار رہو۔
• اچھا مجھے کیسے علم ہوگا کہ قربانی قبول ہوگئی ؟
اس کا حقیقی علم تو خدا ہی کو ہے البتہ جب تقوی دل میں آجاتا ہے تو اس کی قربانی قبول ہوجاتی ہے اور جس کی قربانی قبول ہوجاتی ہے اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔وہ عملی دنیا میں ہر لمحہ خدا کی یاد میں رہتا ہے۔ پھر اس کی آنکھیں اس کی نہیں خدا کی ہوجاتی ہیں، پھر اس سوچیں خدا کی نذر ہوجاتی ہیں، پھر اس کی یادیں خدا کے حضور رہتی ہیں، پھر اس کی سانسیں اس کی نہیں رہتیں، پھر اس کے قدم خدا ہی کے لیے اٹھتے اور اسی کے لیے رکتے ہیں۔ پھر اس کی جان مال عزت آبرو سب خدا کی مرضی کے تابع ہوجاتی ہے۔ پھر وہ کہہ اٹَھتا ہے کہ ان صلاتی ونسکی محیای ومماتی للہ رب العالمین۔ کہ میری نماز، میری قربانی، میراجینا، میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔
• حضرت بول رہے تھے اور وہ گردن جھکائے آنسو بہار ہا تھا۔ شاید یہ اسی تقوی کا بیج تھا جو دل کے باغیچے میں پھوار پڑنے کے بعد پھٹ چکا تھا۔ وہ گرد ن جھکائے اٹھا اور جانور کی جانب توجہ دینے کی بجائے اندر کے جانوروں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہونے لگا۔ تاکہ کل اس کا وجود گواہی دے دے کہ اس کی قربانی اپنے مقام کو پہنچ گئی۔


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنا یا پھر محض بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے پڑھ لیا ہے۔ اس عمل میں عمومی طور

پر کوئی قباحت نہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم جھوٹے لائکس اور کمنٹس کررہے ہوتے ہیں ۔ ایسا کرنے کا سبب یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا بھی جواب میں ہماری پوسٹوں کو لائک کرے اور اچھے کمنٹس کرے ۔ گویا کہ یہ لائکس اور کمنٹس کی ایک باہمی تجار ت یا( Mutual Admiration) ہورہی ہوتی ہے۔ اسے فارسی میں میں کہتے ہیں کہ
من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو
یا اسے انگلش میں کہتے ہیں:
You scratch my back and I’ll scratch yours
اگر اس قسم کے معالات ایک حد میں رہیں یہ تو زیادہ نقصان دہ نہیں۔ لیکن ایک حد سے زیادہ جب یہ عمل بڑھ جائے اور انسان ہر وقت محض جھوٹے لائکس اور مبالغے پر مبنی کمنٹس کرتا رہے تو اس سے دو طرفہ نقصان ہوتا ہے۔
پہلا نقصان تو اس شخص کو ہوتا ہے جو یہ کام کررہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر ایک قسم کا دوغلہ پن، منافقت اور چاپلوسی کا رویہ جنم لے سکتا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص اپنے ظاہر میں ایک بہت ملنسار، سلجھا ہوا، خوش اخلاق اور محبت کرنے والا شخص نظر آتا ہے ۔ لیکن وہ چونکہ یہ سب کچھ ایک خاص مقصد کے لیے مبالغہ آمیزی سے کام رہا ہوتا ہے تو اس کا باطن اندر سے ایک مختلف شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ظاہرو باطن کا یہ تضاد جب بڑھتا جاتا ہے تو زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی یہ احاطہ کرنے لگتا ہے اور یہ منافقانہ طرز عمل اس پر حاوی ہونے لگ جاتا ہے۔
اس کا دوسرا نقصان اس شخص کو ہوتا ہے جس کی جھوٹی تعریف کی گئی ہو۔ وہ شخص غلط طور پر خود کو ویسا ہی سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ تعریف کرنے والے لوگ اسے غلط طور پر دکھا رہے ہوتےہیں۔ وہ شخص خود کو اسی دھوکے میں مبتلا کردیتا ہے جس میں تعریف کرنے والے مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات وہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے، دھوکہ ہے، فریب ہے لیکن وہ اس کے باوجود اس پرفریب تعریف سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص عملی زندگی میں بھی خود کو وہی سمجھنے لگ جاتا ہے جیسا کہ جھوٹی تعریفوں اور کمنٹس نے اسے سمجھایا ہوتا ہے۔اس سے جو نقصان ہوتا ہے اس کا اسے انداز ہ تک نہیں ہوتا۔ اسی بات کو ایک روایت میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے:
حضرت ابو موسیٰ ( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم (صلی اللہ علہت وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سنا، وہ کسی آدمی کی تعریف کررہا تھا، تعریف مںا اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علہک وآلہ وسلم) نے فرمایا :” تم نے اس کو ہلاک کرڈالا یا تم نے اس آدمی کی کمرتوڑ دی۔ ” (مسلم ، حدیث نمبر حدیث نمبر:7504)
گویا کہ اس کا نقصان سب سے زیادہ ایسا سمجھنے والے ہی کو ہوتا ہے۔ ایک شخص کو اگر یہ یقین دلایا جائے کہ تم ماہر ڈرائیور ہو اور تم کار چلا سکتے ہو اور اگر وہ اس تعریف کے جھانسے میں آبھی جائے تو بھی وہ کار نہیں چلا سکتا۔ اور جب بھی زندگی کے عملی میدان میں وہ کار چلائے تو حادثے کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوگا۔
جھوٹی یا مبالغہ آمیز تعریف کو سمجھنے کے لیے فرض کریں ایک شخص نے کوئی کوٹ لکھا یا کوئی تحریر لکھی۔ اس تحریر میں ممکن ہے کہ بے شمار زبان و بیان، مضمون ، تجزیے اور تراکیب کی غلطیاں ہوں اور یہ بات پڑھنے والوں کو پتا بھی ہو۔ لیکن چونکہ وہ شخص چونکہ اکثر پڑھنے والو ں کا دوست ہے اور ان کی پوسٹوں کو بھی لائک کرتا ہے تو وہ بھی اس کی پوسٹوں کو لائک کرکے بے حد تعریف کے کمنٹس لکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص کچھ عرصے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا لکھاری، تجزیہ نگار، مفکر، عالم دین اور پتا نہیں کیا کیا سمجھنے شروع کر سکتا ہے۔
ان جھوٹی تعریفوں اور ایموشنل لائکس کا ایک اور نقصان بہت تباہ کن ہے۔ یہ جھوٹی تعریفوں اور بناوٹی کمنٹس کا سلسلہ جب ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہوتا ہے تو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے۔ عام طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں تعریفوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی شناخت قائم کرنے کے عمل سے گذررہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط کردار کا لڑکا کسی معصوم لڑکی کو باآسانی ورغلا دیتا ہے یا کوئی لڑکی باآسانی کسی لڑکے کو غلط اقدام اٹھانے پر مجبور کرسکتی ہے۔ خاص طور پر ایک فلرٹ کرنے والا لڑکا جانتا ہے کہ لڑکی کی خوبصورتی، وجاہت، حسن، لباس، کلام یا کسی اور پہلو کی تعریف میں مبالغہ آمیزی پیدا کرکے بہت آسانی سے اسے جذباتی طور پر اپنا غلام بناسکتاہے۔
جھوٹی تعریفوں کا ایک اور پہلو مذہبی ہے۔ اکثر مذہبی اسکالرز یا اسکالز سمجھے جانے والے لوگوں کے ان باکس میں خواتین وحضرات کے میسجز آتے ہیں۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے نفسیاتی مسائل نسبتا زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہ نفسیاتی اشوز کو مذہبی سمجھ کراس شخص کے ساتھ ڈسکس کررہی ہوتی ہیں جس کو وہ اپنی دانست میں مذہبی یا ایک سمجھدار اور سلجھا ہوا شخص سمجھتی ہیں۔ جوں جوں مسائل کو ڈسکس کیا جارہا ہوتا ہے تو خاتون کا نفسیاتی طور پر اس شخص پر انحصار بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں شیطان کی دراندازی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
اگر اس مذہبی شخص کی شخصیت میں خامی ہو یا وہ دانائی اور حکمت سے کام نہ لے تو خاتون بہت زیادہ اس شخص پر انحصار کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ معاملہ ایسے شخص کے لیے بھی ایک آزمائش ہوتا ہے۔ اس کا نفس اسے یہ سب کچھ اچھا کرکے دکھا تا ہے کہ کوئی خاتون ا اس پر انحصار کررہی ہے۔ چنانچہ وہ جانتے بوجھتے بعض ایسی غیر اخلاقی حرکتیں کرسکتا ہے جو بظاہر تو بے ضرر ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ایک مذہبی شخص کو زیب نہیں دیتیں۔ ایسے شخص پر اس وقت دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک تو یہ اسے خود نفس کی آلودگی سے بچنا ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اسے دوسرے فریق کو بھی ممکنہ آلودگی سے بچانا ہونا ہے۔
اب اس مضمون کے بعدچند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سوالات اور ان کے مختصر جوا ب یہ ہیں:
۱۔کیا فیس بک پر پوسٹوں کو لائک ہی نہ کیا جائے؟
ضرور لائک کیا جائے۔ لائک کا مطلب صرف پسند کرنا ہی نہیں بلکہ اکنالج (Acknowledge) کرنا بھی ہوتا ہے کہ ہم نے پوسٹ پڑھ لی ہے۔ البتہ جذباتی ایماٹی کونز (Emoticons) جیسے لو(Love)، اسمائل (Smile)، تعریفی کمنٹس وغیرہ کو اسی وقت استعمال کیا جائےجب واقعتا پوسٹ کے مواد میں کوئی ایسی بات ہو جس نے آپ کو مجبور کردیا ہو۔ اسی طرح لائکس محض اس لیے نہیں کرنے چاہئیں کہ آپ کو بھی جواب میں لائکس ملیں۔
۲۔ بعض اوقات ہم پوسٹ سے اتفاق نہیں کرتے البتہ حوصلہ افزائی کے لیے اچھے کمنٹس لکھ دیتے ہیں۔ تو کیا یہ غلط ہے؟
حوصلہ افزائی کے لیے بھی کمنٹس لکھنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ یہ کمنٹس ایسے ہوں کہ اس میں جھوٹ یا مبالغہ کا عنصر شامل نہ ہو نیز اس اسلوب میں بات بیان ہو کہ ہمار ا دوست کہیں کسی غلط فہمی ، تکبر یا انا پرستی میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اسی بات کو روایت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
۔۔۔۔۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اگر تم مںس سے کسی نے لا محالہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اس طرح کہے : مںل سمجھتا ہوں کہ فلاں (اس طرح ہے) اگر وہ واقعی اس کو ایسا سمجھتا ہو (یا پھر کہے) اور مں اللہ (کے علم) کے مقابلے مںس کسی کی خوبی با ن نہں کرتا (مسلم حدیث نمبر:7502)
البتہ وہ پوسٹ جسے ہم خود غلط سمجھتے ہوں ، اس پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسانا غلط ہے۔ ایک غلط پوسٹ کے جواب میں یہ لکھنا کہ بہترین پوسٹ ہے ، یہ جھوٹ ہوگا۔ البتہ آپ اس پوسٹ پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور اپنا کمنٹ بھی پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تو جزاک اللہ، اللہ ہدایت عطا فرمائیں، یا اس قسم کی کوئی بات لکھ سکتے ہیں جس سے پوسٹ کرنے والے کو بھی گراں نہ گذرے، جھوٹ کا گمان بھی نہ ہو اور آپ اپنا کمنٹ بھی پوسٹ کردیں۔
۳۔ اگر کسی کی پوسٹ میں کوئی غلط بات ہو تو کیا ہم اپنے کمنٹ میں اس غلطی کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟
اگر پوسٹ میں غلط بات ہو تو اس پر رد عمل کے کئی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔ یہ اس وقت موزوں ہوتا ہے جب آپ کو علم ہو کہ مخاطب آپ کے منفی کمنٹس کو اصلاحی طور پر لینے کی بجائے انتقامی طور پر لے گا۔ ایسا ایک دو مرتبہ کے تجربے سے پتا چل جاتا ہے۔
دوسرا حل یہ ہے کہ کمنٹ کا جواب پبلک میں دیا جائے ۔ ایسا کرنے کے لیے یہ احتیاط لازمی ہے کہ الفاظ کا چناؤ بہت اچھا ہو اور لہجہ اتنا سافٹ ہو کہ اس سے نفرت، تکبر ، حسد، کینہ یا بدگمانی کی بجائے اصلاحی عمل ٹپک رہا ہو۔ جیسے ایک شفیق باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتا ہے۔ ایسا کرنا بعض اوقات اس وقت بھی ضروری ہوجاتا ہے جب پبلک کو بھی پوسٹ کے اس غلط پہلو سے آگاہ کرنا لازم ہوتا ہے۔
تیسرا حل یہ ہے کہ پوسٹ کرنے والے کو ان باکس میں میسج کردیا جائے کہ یہ پہلو غلط معلوم ہوتا ہے۔ یہ اس وقت بہتر ہوتا ہے جب منفی کمنٹس سے مخاطب اپنی ہتک محسوس کوتا ہو یا اصلاح کی بجائے فساد کا امکان زیادہ ہو۔ لیکن ایسا کرتے وقت بھی بات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ سامنے والا کچھ غلط محسوس نہ کرے۔
چوتھا حل یہ ہوسکتا ہے کہ پوسٹ کی غلطی واضح کرنے کے لیے ان باکس میں بات کی جائے لیکن سختی کا عمل اپنایا جائے اور سخت لہجے میں اس پر بات واضح کی جائے۔ ایسا اس وقت مناسب ہے جبکہ مخاطب سے رشتہ استاد ، سینئیر ، بڑے بھائی باپ یا ماں کا ہو۔ لیکن ایساا سی وقت مناسب ہے کہ سامنے والا ہمیں وہ عزت دیتا ہو جو ہم اس سے توقع کررہے ہیں۔ لیکن ایسا بہت ہی اہم اور ناگزیر کیسز میں کرنا چاہیے۔
ان تما م کیسز میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح ہماری رائے کے مطابق اس کی پوسٹ کا کوئی پہلو غلط ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ شخص اس کو دل و جان سے درست سمجھ رہا ہو ۔ اس با ت کا بھی امکان ہے کہ ہماری رائے ہی غلط ہو۔ چنانچہ اس احتمال کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہماری رائے درست ہے اس امکان کے ساتھ کہ وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔
۴۔ اگر کوئی ہماری تعریف کرے تو کیا اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے؟
کسی کی تعریف پر خوش ہونا ایک فطری معاملہ ہے۔ البتہ یہ خوشی اس وقت بہت خطرناک بن جاتی ہے جب ہم اسے نشے کی طرح انجوائے کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ جب ہمیں کسی خاص شخص یا خاص لوگوں کی تعریف کچھ عرصے نہ ملے اور ہم دل میں ملول ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم اس تعریف کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ رویہ بذات خود ایک خطرناک معاملہ ہے اور اس کا وہی نقصان ہوتا ہے جو ہیروئین کے نشے کا ہوتا ہے۔ اس طرح ہم تعریف کرنے والو ں کے ہاتھوں یرغمال بن سکتے ہیں اور بعض اوقات ان کی جائزو ناجائز مطالبات کو ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
۵۔ ہمیں کس طرح علم ہو کہ سامنے والا شخص جھوٹی تعریف کررہا ہے؟
اگر ہماری تعریف صرف ایک خاص شخص ہی کررہا ہے اور باقی لوگ یہ نہیں کررہے تو اس پر ضرور سوچنا چاہیے۔ اسی طرح اگر ہمیں اچھے کمنٹس اور اور لائکس اس وقت مل رہے ہیں جب ہم دوسروں کو کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تب بھی متنبہ ہوجانا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ لائک کرنے والے کا آپ سے کیا مفاد وابستہ ہے۔ اگر آپ خاتون ہیں اور وہ ایک محض فیس بکی مرد ، اور و ہ آپ کی معمول کی تحریروں اور کمنٹس پر وارفتگی کا شکار ہورہا ہے تو بھی متنبہ ہوجانا چاہیے اور بالخصوص اس وقت تو خاص طور پر جب لائکس کے معاملات ان باکس تک آپہنچیں۔
۶۔ کیا کسی اجنبی مرد کا عورت سے یا نامحرم عور ت کا مرد سے ان باکس میں بات کرنا جائز نہیں؟
اس معاملے میں کوئی قانون تو وضع نہیں کیانہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات یہ بات چیت کسی دفتری معاملے میں بھی ہورہی ہوتی ہے۔ البتہ چند علامات جب ظاہر ہونے لگیں تو متنبہ ہوجانا چاہیے۔ پہلا یہ کہ معاملات بے تکلفی کی حد تک نہ چلے جائیں کہ دونوں اپنی چیٹ کو دوسروں سے چھپانے یا ڈیلیٹ کرنے لگ جائیں۔ دوسرا یہ کہ لائکس کا نشہ اتنا طاری نہ ہوجائے کہ اس کے بنا زندگی ادھوری نظر آنے لگ جائے۔
۷۔ اکثر خواتین فیس بک پر ان مذہبی یا سماجی اسکالرز سے اپنے ذاتی مسائل ڈسکس کرتی ہیں جنہیں وہ اپنی دانست میں اسکالرز سمجھتی ہیں۔ اس میں کس احتیاط کا مظاہر کرنا چاہیے؟
یہ ایک بہت نازک معاملہ ہے۔ ہماری سوسائٹی میں کاؤنسلنگ کا کوئی ادارہ نہیں ۔ نیز ہماری سوسائٹی میں نفسیاتی ماہرین کی آڑ میں اکثر اوقات صرف پیسہ کمانے کا عمل جاری ہے۔ اس لیے لوگ بالعموم ایسے سہارے تلاش کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مسائل بیان کرسکیں۔ اس سلسلے میں اکثر انہی لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جن کی پوسٹیں اکثر لوگ لائک کررہے ہوتے ہیں اور وہ کچھ معقول بات کررہے ہوتے ہیں۔
مرد حضرات کی بنسبت خواتین کے اشوز عام طور پر زیادہ ہوتے ہیں جن میں رازداری رکھی جاتی ہے۔ جس طرح عملی دنیا میں اچھے برے دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، ایسے ہی فیس بک پر بھی اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔برے لوگ ایسی خواتین کی تاک میں رہتے ہیں۔ وہ جب ان سے نفسیاتی طور پر قریب ہوجاتی ہیں تو ایسے لوگ ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے، انہیں بلیک میل کرتے اور ان کو ہراساں کرتے ہیں۔
کچھ خواتین توجان بوجھ کر چاہتی ہیں کہ ان سے فلرٹ کیا جائے، ان پر تو سوائے انا للہ پڑھنے کے کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ البتہ وہ خواتین جو کسی ممکنہ خطرے سے بچنا چاہتی ہیں ان کے لیے یہ ہدایات ہیں:
۱۔ سب سے پہلے تو اگر کوئی پرائیویسی کا رزاداری کا کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو کسی خاتون اسکالر ہی کو تلاش کیا جائے۔ ایسی خواتین فیس بک پر کم تو ہیں لیکن معدوم نہیں۔
۲۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی ادارے سے وابستہ فرد کو تلاش کرنا چاہیے۔ ایک فرد کی نسبت اس شخص کا زیادہ اعتبار ہوتا ہے جو کسی ادارے سے وابستہ ہو اور وہاں خواتین بھی کافی تعداد میں موجود ہوں۔
۳۔ کسی بھی اسکالر سے اگر بات کرنی ہے تو کوشش کی جائے کہ ان باکس میں کوئی دوسری خاتون بھی موجود ہو ، یعنی بالکل تنہائی نہ ہو۔
۴۔ اگر اسکالر پر پورا اطمینا ن نہیں تو اپنی نام کی آئی ڈی کی بجائے کسی فرضی نام کی آئی ڈی سے بات کی جائے اور اپنی شناخت ظاہر کرنے کی بجائے توجہ اس مسئلہ تک ہی رکھی جائے۔ تاکہ کسی قسم کی بلیک میلنگ سے بچا جاسکے۔
۵۔ بعض اوقات خواتین بھی مردوں کے ساتھ فلرٹ کرتی ہیں۔ چنانچہ مردوں کو بھی اس معاملے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ تعریف و توصیف کے جھانسے میں آکر کوئی غلط اقدام نہ کربیٹھیں۔
۸۔ تعریف کے نشے سے کس طرح بچا جائے کہ ہمارے اندر تکبر، انا، خودپرستی ، نرگسیت (narcissism)، خودفریبی یا کوئی اور غلط فہمی پیدا نہ ہوجائے؟
ایک مشہور مذہبی عالم نے درست کہا تھا کہ خدا کی راہ میں چلنے والوں کے دل میں سب سے آخری بیماری جو نکلتی ہے وہ حب جاہ یعنی چاہے جانے کی تمنا ہے۔ چاہا جانا کوئی غلط جذبہ نہیں بلکہ یہی جذبہ بہت سی تخلیقات کا سبب بنتا ہے۔ لیکن یہ خواہش اگر ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بجائے فائدے کے نقصان دیتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ اپنی کسی بھی تعریف کے اچھے پہلووں کا رخ اللہ کی جانب کردیا جائے۔ یہ بات خود کو بار بار باور کرائی جائے کہ جو کچھ بھی ہمارے اندرصلاحیت ہے اس کا اصل منبع اللہ کی ذات ہے۔ چنانچہ اصل تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ اس کے علاوہ تعریف ہونے کے باوجود اپنی کمیوں پر نظر رکھتے رہنا چاہیے اور اللہ سے دعاگو رہنا چاہیے کہ ہم تعریف کے فتنے سے محفوظ رہیں۔
اس کے علاوہ خود کو اپنے مخلص اور سمجھدار دوستوں کے سامنے رکھ کر رائے لینی چاہیے ۔ ان کو شخصیت کے ان پہلووں پر تنقید کے لیے آمادہ کرنا چاہیے جو تعریف کی وجہ سے اوجھل ہورہے ہوں۔ اس طرح اصلاح کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ بصورت دیگر انسان عملی یا عملی دنیا کا فرعون، ہامان، نمرود ،ابوجہل اور ابولہب بن جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات


شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن

کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو زمین پر نافذ کرنے کے عملی اقدامات خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔دوسرا مضمون شب قدر یعنی تقدیر یا منصوبہ بندی والی رات کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور تیسرا مضمون ان تدابیر کی جانب اشارہ کرتا ہے جو خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس رات میں نافذ کی جاتی ہیں۔
سورہ کی تفصیل کیا ہے؟
اس سورہ میں پانچ آیات ہیں۔ دوسری جانب انہی پانچ آیات کے مضمون کو سورہ دخان کی پانچ آیات میں دوہرایا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ قدر کی تفہیم کے لیے سورہ دخان کی پانچ آیات کو سامنے رکھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ سورہ دخان کی پانچ آیات یہ ہیں۔
اس کتاب مبین کی قسم ۔ بیشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے ۔ اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے ۔ ہر حکم ہماری جانب سے صادر ہوتا ہے ہم ہی (فرشتوں کو )بھیجنے والے ہیں ۔(سورہ الدخان آیات ۲ تا ۶)
غور کریں تو ان پانچ آیات میں بھی سورہ قدر کی تفصیل ہے۔ چنانچہ ان آیات کو سامنے رکھا جائے تو سورہ قدر کی تفہیم اور آسان اور واضح ہوجاتی ہے۔
شب قدر کا قرآن سے کیا تعلق ہے؟
اس سورہ میں سب سے پہلے تو قرآن کا شب قدر سے گہرا تعلق بیان ہوا ہے۔ جب اللہ تعالی نے اس دنیا سے آخری بار آفیشل سطح پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا تو اس خطاب کی ابتدا اسی رات کو ہوئی۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو وہ رات شب قدر ہی تھی ۔خداوند عالم کا قیامت سے قبل یہ آخری آفیشل خطاب ایک عظیم خدائی منصوبے کی ابتدا ہے اسی لیے اس خطاب کی ابتدا عظیم منصوبوں اور تنظیم والی رات میں ہوئی ۔ اس عظیم بابرکت رات کو جب خدا کے فرشتے اپنے ہیڈ جبریل امین کی نگرانی میں نازل ہورہے ہوتے ہیں۔ اس عظیم اہتمام کے بعد کسی شیطان مردود کی مجال نہیں کہ پر بھی مار سکے اور خدا کی اس عظیم تدبیر کے نفاذ میں کوئی رخنہ اندازی کرسکے۔
قدر کا کیا مطلب ہے؟
اسے لیلۃ القدر بھی کہا گیا اور لیلۃ المبارکہ بھی۔ قدر کے معنی عزت و منزلت کے بھی ہیں اور تقدیر کے بھی۔ جبکہ تقدیر کے تخمینہ لگانا، منصوبہ بندی کرنا، تنظیم کرنا یا ساخت بنانے کے ہیں۔ تو یہاں شب قدر سے مراد دونوں ہی مفہوم ہیں ۔ یعنی ایک تو یہ رات بہت مبارک ، قدر و منزلت والی رات ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ رات ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ کی جانب سے تمام معاملات کا حکمت کے ساتھ حکم دیا جاتا، ان کی منصوبہ بندی کی جاتی، ان کی تنظیم (Organization) کی جاتی اور تمام امور کے بارے میں اصولی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔یہ مفہوم اس سورہ کے نام ” قدر” سے بھی واضح ہے جس کا مطلب ہی تقدیر یعنی منصوبہ اور تنظیم کے ہیں ۔ اس مفہوم کی وضاحت سورہ الدخان کی آیت سے بھی ہوجاتی ہے جس میں لکھا ہے کہ اس میں ہر اہم کام کا فیصلہ حکمت سے کردیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر سے مراد منصوبہ بندی یا تنظیم کیوں لیا گیا جبکہ ہماری مروجہ فکر میں تو تقدیر سے مراد وہ علم الٰہی ہے جو اس نے پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے جب بھی تقدیر کا لفظ استعمال کیا ہے تو اسے منصوبہ بندی یا تنظیم کے طور پر ہی لیا ہے۔ اس کے دلائل ان آیات میں ہیں:
’’وہی برآمدکرنے والا ہے صبح کا اوراس نے رات سکون کی چیزبنائی اورسورج اورچانداس نے ایک حساب سے رکھے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ ، (انعام6: 96)
’’اورسورج اپنے ایک معین مدارمیں گردش کرتا ہے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ (یس36: 38)
’’ہم نے ہرچیزایک(تقدیر ) معین حساب (Precise Calculation) کے ساتھ پیداکی۔‘‘ ، (قمر54: 49)
جہاں تک کچھ چیزوں کے تقدیر میں پہلے سے لکھے ہونے کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی بعد میں بات کی جاسکتی ہے۔ البتہ قرآن میں تقدیر سے مراد کسی کے لیے منصوبہ بندی کرنا اور اس کا ایک معین حساب مقرر کرنا یا تنظیم کرناہے ۔
انگلش کے تراجم میں بہت عمدہ طریقے سے ” تقدیر ” کا ترجمہ کیا گیا ہے جو یہ ہے۔
1. Reckoning-the action or process of calculating or estimating something.
2. Measure or Measuring
3. An arrangement of the Mighty
4. Determination
5. Calculation
6. Structure, arrangement, scheme, plan, pattern, order, form, format, framework, system, composition, constitution, shape, make-up, configuration; systematization, methodization, categorization, classification, codification
ان تمام الفاظ کو دیکھیں تو یہ منصوبہ بندی، تنظیم ، تخمینے یا پیمانہ مقرر کرنےیا حساب معین کرنے کے معنی ہی میں آتے ہیں اور انگریزی کے مترجموں نے بالعموم تقدیر کا مفہوم” لکھی ہوئی تقدیر لینے سے گریز” کیا ہے ۔اردو مترجمین نے تقدیر کے لفظ کا ترجمہ کرنے کی بجائے اسے تقدیر ہی لکھ دیا جس سے عام ذہن میں کنفوژن پیدا ہوتی ہے۔
شب قدر میں کس قسم کے کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ اس رات میں کس قسم کے کاموں کے احکامات نازل ہوتے ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم کے پہلو کو جاننا ہوگا۔یوں تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کے معاملات کو ہر وقت ہر لمحہ جانتے ہیں لیکن اللہ نے اپنی ایڈمنسٹریشن کے کارندوں یعنی فرشتوں سے رپورٹ طلب کرنے کے لیے کچھ ٹائم لائن مقرر کررکھی ہیں ۔ اس آیت میں بیان ہوتا ہے:
اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔ (سورہ آل عمران ۱۰۹)
اس طرح کی کئی آیات ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ فرشتے اللہ کے حضور معاملات پیش کرتے ہیں۔ یہ معاملات یوں تو ظاہر ہے کہ کسی مخصوص وقفے ہی سے پیش ہونگے جیسے اس آیت میں بیان ہوتا ہے۔
ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔( المعارج آیت ۴)
گویا فرشتے مخصوص اوقات یعنی صبح و شام، روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ ، ہزار سال یا پچاس ہزار سال بعد اللہ کے سامنے اجتماعی یا انفرادی معاملات کمپائل کرکے رپورٹ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان پر اپنے احکامات صادر کرتے اور مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں۔ یہ بات ایک روایت میں بھی بیان ہوئی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
بہرحال اللہ کے حضور مخصوص وقفوں میں مخلوق اور کائنات کے معاملات پیش کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان پر اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔سورہ قدر اور دخان میں جن تدابیر اور منصوبوں کا ذکر ہے وہ سالانہ نوعیت کے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں اپنی سالانہ انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ بناتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی دنیا کے تمام معاملات کی ایک سالانہ رپورٹ اللہ کے حضور اس رات سے قبل پیش کرچکے ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر ہے کائنات کے چیف ایگزیکٹو یعنی رب العالمین کو پیش کی جارہی ہے تو اس میں انفرادی، اجتماعی ہر ہرپہلو سے چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔
یہاں ایک اشکال ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تو عالم الغیب ہیں تو انہیں اس رپورٹ کیا ضرورت؟ تو یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ رپورٹ لکھوانے کا عمل اللہ تعالی خود اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی ایڈمنسٹریشن یعنی فرشتوں کی تفہیم کے لیے اور ان کی آپس میں کمیونکیشن اور کوآرڈنیشن کو آسان بنانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے اس سالانہ رپورٹ میں فرشتے کائنات میں پیش آنے والے ایک سال کے معاملات کو کمپائل کرتے اور آئیندہ سال کے لیے اپنی تجاویز یا بجٹ پیش کردیتے ہیں۔اس رات ان تجاویز اور تدابیر کو اللہ کے حکم سے حتمی شکل اور منطوری دے دی جاتی ہے۔ اسی کو ہم تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم (Planning and Organizing)کہہ سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اجتماعی طور پر یہ طے کردیا جاتا ہے کہ بارشیں کتنی ہونگیں، زلزلے ، سیلاب کتنے آئیں گے، کہاں آئیں گے، فصل کتنی اگے گی، کہاں اگے گی، خوشحالی ہوگی یا تنگدستی، زمین پر کوئی نئی شے ایجاد ہوگی یا نہیں ، کوئی بڑی وبا آئے گی یا نہیں، نئے ستاروں کی تخلیق ہوگی یا پرانے ستاروں کی موت واقع ہوگی، کائنات بگ بینگ کے اثر سے مزید کتنا پھیلے گی، موسم میں کیا تغیرات ہونگے، قوموں کے عروج و زوال کا کیا معاملہ ہوگاوغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح فرد کی ماضی کی کاکردگی کی بنیاد پر یا امتحان کے اصول پر بھی کچھ منصوبے ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی رزق کی کشادگی، تنگی، صحت، بیماری، موت، تعلیم وغیرہ کے بارے میں منصوبے ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری پلاننگ الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کائنات کے بادشاہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ کہیں پر تباہی کا فیصلہ قوموں کے اعمال کی بنا پر ہوتا ہے، کہیں آزمائش و تربیت کے اصول پر ، کہیں طبعی قوانین کو مد نطر رکھ کر ہوتا ہے تو کہیں کچھ اور حکمت ہوتی ہے۔
لیکن یہاں تقدیر کے لفظ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ پیمانہ یا تدبیر ہے جو کائنات کا نظم و نسق چلانے اور زندگی کو کائنات میں ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ البتہ انسان اخلاقی معاملات میں آزاد ہے اور اخلاقی دائرے میں اس آزادانہ اختیار (Free will) یعنی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگتی ہے اور یہی وہ دائرہ ہے جہاں آخرت میں پوچھ گچھ ہونی ہے۔
شب قدر میں تقدیر معین کرنے کو ہم محدود طور پر ایک اور طرح بیان کرسکتے ہیں۔ دنیاوی ریاستیں سالانہ بجٹ بناتی ہیں جس میں خرچوں یعنی اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا اور آمدنی کے ذرائع بیان کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی منصوبہ بندی میں یہ بیان ہوتا ہے کتنے خرچے ہونگے، کہاں کہاں ہونگے، کب ہونگے ۔اسی طرح یہ بھی بیان ہوتا ہے وسائل کہاں سے آئیں گے، کتنے وسائل ہونگے وغیرہ۔ بجٹ ایک طرح کی منصوبہ بندی ہے اور اسے ہم محدود معنوں میں اس ملک کی تقدیر یا پیمانہ یا تخمینہ کہہ سکتے ہیں یعنی تمام اخراجات اور آمدنی انہی دائروں میں رہے گی۔ اس را ت میں بھی اس سے بہت اعلی درجے کی منصوبہ بندی پیش کی جاتی ہے جو قوم، ملک، فرد، گروہ ،ادارے، زمین، آسمان، سیاروں اور ستاروں کے امور سے متعلق ہوتی ہے۔ اسی منصوبہ بندی اور تنظیم کو تقدیر کہا جاتا ہے۔
بہر حال ، خدا کے امور تو خدا ہی جانتا ہے ۔ ہمارا اندازہ اور قرآن کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ یہ معاملات کی چند مثالیں ہیں جن میں پلاننگ کی جاتی اور تقدیر یعنی پیمانہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اسی کو سورہ دخان میں کہا گیا کہ اس رات میں ہر کام کے لیے حکیمانہ فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔
فرشتے کون ہیں؟
شب قدر میں اللہ کے حکم سے روح الامین اور دیگر فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کی آسمانی حکومت کی ایڈمنسٹریشن کا کام اللہ تعالی فرشتوں سے لیتے ہیں۔ اللہ کی حیثیت اس ایڈمنسریشن کے چیف ایگزیکٹو یا حاکم اعلی یا بادشاہ کی ہے ۔ اللہ تعالی نے جس طرح یہ کائنات ایک منظم (Systematic/ Organized)اور سائنٹفک(Scientific) انداز میں بنائی اور چلائی ہے، اسی طرح منظم انداز میں اللہ نے اپنی آسمانی حکومت کو قائم کیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عزرائیل علیہ السلام موت کے فرشتے ہیں، اسرافیل سور پھونکنے کا کام کریں گے، میکائل نیچر یعنی قدرت کی قوتوں کا نطام خدا کے حکم سے چلاتے ہیں۔جبریل امین ان تمام فرشتوں کے ہیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب اگر ہم صرف حضرت عزرائل علیہ السلام کی مثال لے لیں تو ہم جانتے ہیں دنیا میں ایک وقت میں کئی لوگ مررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت رات کے دو بجے فرض کریں ایک شخص آسٹریلیا میں مررہا ہے تو کسی کا امریکہ میں دم نکل رہا ہے اور کوئی افریقہ میں زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عزرائل علیہ السلام رات کے دو بجے ان تینوں مقامات پر موجود ہوں۔ اس سے ایک نتیجہ آپ سے آپ نکلتا ہے کہ دراصل عزرائل ایک ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں جس میں ان کے ماتحت بے شمار فرشتے ہیں جو اللہ کے اذن سے جان نکالنے کا کام کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی آسمانی حکومت کے ماتحت اللہ نے مختلف ڈیپارٹمنٹ قائم کررکھے ہیں جن کو سمجھنے کے لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان میں موت دینے، رزق فراہم کرنے ، بارش برسانے وغیرہ جیسے کئی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں اور ان سب کے ہیڈ کی حیثیت حضرت جبریل علیہ السلام کو ہے۔اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے:
جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے ۔اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے (التکویر۲۰، ۲۱)
اس کے علاوہ فرشتے مختلف طاقتوں کے ہوتے ہیں جس کا ذکر سورہ فاطر میں موجود ہے۔
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(فاطر ۱:۳۵ )
اس آیت میں دو ، تین ، چار اور زیادہ پروں سے مراد فرشتوں کی طاقت ، مرتبہ اور قوت پرواز ہے۔ یہ فرشتے اپنے رتبے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے اللہ کے حکم کے مطابق مختلف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے ہیں۔
فرشتے کہاں ہوتے ہیں؟
قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ فرشتے تین درجات میں اپنا کام کررہے ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دنیا اور کائنات کا سسٹم سمجھنا ہوگا۔ ہماری یہ زمین ایک سیارہ ہے جہاں ارادہ و اختیار والی مخلوق انسان آباد ہے۔ یہ زمین ایک سیارہ ہے اور یہ سیارہ سورج کے گرد گردش کررہا ہے۔ سورج اپنی کہکشاں میں گردش کررہا ہے جس میں اربوں ستارے ہیں اور اس طرح کی اربوں کہکشائیں ہیں۔ ان تمام مادی کہکشاؤں کا اگر ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک آسمان ہے جسے سما ء الدنیا یعنی قریب کا آسمان کہا جاتا ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
اس آسمان سے اوپر تہہ بر تہہ چھ اور آسمان ہیں اور ان کی اپنی اپنی زمینیں ہیں اور عین ممکن ہے وہاں زندگی بھی موجود ہو۔اس کا ذکر سورہ طلاق میں موجود ہے:
اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے ‘ ’ تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے “ اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ‘(سورہ الطلاق ۱۲:۶۵)
گویا زمین کے اوپر سب سے پہلے اس دنیا کا آسمان ہے اور پھر اس کے اوپر مزید چھ آسمان۔ ان کے اوپر ایک اور دنیا ہے جسے ہم غیبی دنیا یا ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس یا ہائیر اسمبلی کہہ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے:
مجھے ملائے اعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے ۔( ص ۶۹:۳۸)
وہ ملااعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں ۔( الصافات ۸:۳۷)
یہ ملائے اعلی دراصل فرشتوں کی مجلس ہے جس میں غیر متعلقہ افرادکا داخلہ ممنوع ہے۔ اس فرشتوں سے اوپر ایک اور مقام ہے جہاں عرش الٰہی قائم ہے۔
وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوگیا عرش پر وہ رحمن ہے ! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے ۔( الفرقان ۵۹:۲۵)
یہ عرش ہر وقت فرشتوں سے گھرا رہتا ہے جو اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔
جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا (غافر ۲۴:۴۰)
اب معاملہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ سب سے نیچے ہماری زمین اور اس کے اوپر آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر مزید چھ آسمان ۔ کل ملا کر سات آسمان اور یہ مادی دنیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک غیبی دنیا ہے جس میں فرشتے ، جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق موجود ہیں۔ اس غیبی دنیا کے نچلے حصے[ ملاء اسفل] میں جنات کا بسیرا ہے اور اوپر کے حصے میں فرشتوں کا۔ فرشتوں کی سب سے اعلی مجلس یا اسمبلی کو ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس سے قرآن نے تعبیر کیا ہے۔ گویا یہ ایک ہائیر اسمبلی ہے اسی کو ملا ء اعلی بھی کہتے ہیں۔ اس میں ہر بڑے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ یا سربراہ موجود ہوتا ہے۔جیسے کائنات کی میکانی قوتوں کے سربراہ میکائل، دنیا میں وسائل و رزق کی نگرانی کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسرافیل، موت و زندگی سے متعلق نبٹنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عزرائل وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہ سب چونکہ خدا کے حکم اور اذن ہی سے کام کرتے ہیں اس لیے ان کی شمولیت کو شرک سمجھنا قرآن کے خلاف ہوگا۔
ملائے اعلی کے نیچے ایک زیریں اسمبلی بھی ہے جس کا مقام معلوم ہوتا ہے ہماری زمین کے آسمان سے اوپر ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
یہاں بھی فرشتے پہرہ لگائے موجود ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی جن اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے دھتکاردیتے ہیں۔ اس کا ذکر سورہ جن میں بھی موجود ہے:
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا ۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے ۔(سورہ جن ۷۲ آیات ۷ تا ۱۰)
ان آیات پر غور رکریں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فرشتے ملائے اعلی اور ملائےاسفل کی درمیانی سرحدوں پر پہرہ داروں کا کام کرتے ہیں ۔ان فرشتوں کی ہم سمجھنے کے لیے ملائے زیریں یعنی درمیانے لیول کی مجلس کہہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ فرشتے ملائے اعلی کے فرشتوں سے پیغام وصول کرکے نیچے زمین پر مامور فرشتوں تک پیغام پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان ٹاپ ڈاؤن (Top- Down)یا ڈاؤن اپ (Down-up)کمیونکیشن ہوتی رہتی ہے ۔ جب اللہ فرشتوں کو ہدایات دیتے ہیں تو اس کی ترتیب یوں بنتی ہے۔
خدا کا حکم = ملائے اعلی کے فرشتوں نے سنا= انہوں نے یہ آرڈر اپنے ماتحت فرشتوں کو لوئیر اسمبلی میں دیا = انہوں نے یہ حکم زمینی فرشتوں کو دیا ۔
اسی طرح جب نیچے سے معاملہ چلتا ہے تو یہی ترتیب ہوتی ہے یعنی زمین کے فرشتے، پھر ملائے زیریں ، پھر ملائےاعلی اور پھر عرش عظیم یعنی اللہ تعالی جن کی حیثیت اور پوری ایڈمنسٹریشن یا آسمانی حکومت میں چیف ایگزیکٹو کی ہے اور تنہااللہ کو ہی ہر قسم کا اختیار اور ویٹو پاور حاصل ہے ۔
چنانچہ جب آسمان سے زمین میں یہ آرڈر دا جارہا ہوتا ہے یا فرشتوں کی مجلس میں کوئی بات ڈسکس ہورہی ہوتی ہے تو جنات کونے کھدروں میں گھس کر گھات لگاکر سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ بات کی سن گن لے کر اپنی موکلوں کو بتادیتے ہیں۔ اسی پر ایک شہاب ثاقب کا گرز ان پر آکر پڑتا ہے اور یہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتوں کے نزول سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر جب کوئی حکم اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسی ہائی رارکی (Hierarchy)یا ترتیب سے آتا ہے ۔ اللہ حکم صادکرتے ہیں تووہ ملائے اعلی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو یہ حکم دیتے ہیں وہاں سے درمیانی مقام یا ملا ئے زیریں کے فرشتوں کو یہ حکم ملتا ہے اور آخر میں زمین پر موجود فرشتے اسے جب وقت آتا ہے تو نافذ (Execute)کردیتے ہیں۔
یعنی اب شب قدر کا معاملہ یوں ہے کہ :
۱۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ اس رات سے قبل اللہ کے حضور پیش کی جاچکی ہوتی ہے۔اس رپورٹ میں اگلے سال کی پلاننگ کے لیے تجاویز اور سفارشات بھی ہوتی ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے ہوتی ہیں۔
۲۔ اللہ تعالی اپنے لامحدود علم و حکمت کی بنیاد پر اس منصوبہ بندی کی تجاویز کو منظور کرتے اور ان احکامات کو آگے بتانے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔
۳۔ یہ منصوبہ بندی کے احکامات لے کر ملائے اعلی کے متعلقہ فرشتے ملائے زیریں یا قریب کے آسمان کے فرشتوں کے پاس آتے اور ان کو یہ منصوبے سونپتے اور سمجھاتے ہیں۔
۴۔ ملائے زیریں کہ فرشتے ان منصوبوں کو اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔ اور جب ان منصوبوں پر عملدآمد کا وقت ہوتا ہے اس وقت زمینی کارکنان کے سپرد کرتے رہتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟
شب قدر میں تمام بڑے بڑے فیصلوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کا وقت ہوتا ہے اس لیے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے کہاں اترتے ہیں؟ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ ایک اور شاذرائے یہ ہے کہ یہ فرشتے آسمان دنیا یعنی زمین کے آسمان پر جمع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ملائے اعلی اور ملائے زیریں کے تمام فرشتوں کی ایک بڑی مجلس یا میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ سمجھنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ پوری بیوروکریسی یا ایڈمنسٹریشن کی تمام منسٹریز اور ڈیپارٹمنٹس کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں تمام اہم اور متعلقہ فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ اس میں جبریل امین اور ان کا ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو کوآرڈنیشن کا کام کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس رات تمام متعلقہ فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ فجر تک موجود رہتے ہیں۔چونکہ ہر ملک میں ان کا منصوبوں کا تعلق اپنے علاقوں کے حساب سے ہوتا ہے اسی لیے شب قدر اگر مختلف جگہوں پر مختلف اوقات یا دنوں میں آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نیز شب قدر کی تاریخ کو اسی لیے متعین طور پر نہیں بتایا گیا کیونکہ یہ متعین ہوتی ہی نہیں۔ یعنی عین ممکن ہے کسی سال اللہ کی مشیت ہو کہ یہ فیصلہ سازی اور تنظیم رمضان کی اکیسویں شب میں ہو تو کبھی یہ تئیسیوں شب تو کبھی پچیس یا ستائس یا انتیسویں شب۔
ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس رات چونکہ ساری اہم بیوروکریسی زمین کے قریب موجود ہوتی ہےا ور اللہ کی خصوصی توجہ دنیا والوں پر ہوتی ہے تو یہ رات بہت اہم ہے۔ یہ ایک اصول ہے کہ اللہ تعالی جب بھی اپنا رسول کسی فرشتے یا انسان کی شکل میں دنیا پر بھیجتے ہیں تو جزا و سزا کے معاملات بہت تیز ہوجاتے ہیں۔ کسی حاضر رسول کے انکار کی صورت میں تباہی لازمی ہوجاتی اور اس پر ایمان لاکر اس کا اتباع کرنے کی صورت میں دنیا ہی میں کامرانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
یہی معاملہ شب قدر کا بھی ہے۔فرشتے خدا کے رسول یعنی بھیجے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔ اب سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ روبہ عمل ہوتا ہے کیونکہ ساریاہم ایڈمنسٹریشن قریب کے آسمان پر موجود ہوتی ہے اور فیصلہ پر اطلاق فوری طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس رات مانگی گئی دعاؤں کی خصوصی اہمیت ہے۔ اسی لیے اس رات کو ہزار مہینے سے بہتر رات کہا گیا ہے۔
اس رات میں بندے کو بھی اپنی گذشتہ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کھویا ، پایا، کیا گناہ کیا، کہاں شخصیت میں آلودگی کی اور آئیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ یہ وہ کام ہے جو خدا کے فرشتے کررہے ہوتے ہیں چنانچہ یہی وہ کام ہے جسے مغفرت مانگنا اور توبہ کرنا کہتے ہیں۔
اس رات کی مناسبت سے نوافل کے علاوہ جو کام اہم ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے کہ ہماری شخصیت نے ماضی میں خاص طور پر ایک سال میں کیا کیا کام کیے۔
۲۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سے اچھے کام تو جو کرنا لازم تھے اور نہیں کیے۔
۳۔ یہ دیکھا جائے کہ کون سے برے کام تھے جن سے بچنا لازم تھا اور ہم نہ بچ پائے۔
۴۔ ان کوتاہیوں کی وجہ تلاش کی جائے۔
۵۔ ان سے بچنے کا ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
۶۔ اللہ سے ان کی معافی مانگی جائے اور تلافی ممکن ہو تو اس کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
۷۔ یہی احتساب ، غور فکر، تدبر سب سے بڑی عبادت ہے جو فرض عین ہے۔
۸۔ اس رات میں نوافل کے درمیانی وقفے میں بیٹھ کر یہی کام کرنا چاہیے۔
۹۔ عین ممکن ہے کہ اس اخلاص کے ساتھ احتساب کی بنا پر اس تقدیروں والی رات میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لکھ دی جائے۔


سورہ القدر کا خلاصہ-ڈاکٹر محمد عقیل


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ القدر کا خلاصہ-ڈاکٹر محمد عقیل
اے حق کے متلاشیو! تم چاہتے تھے کہ خدا تم سے مخاطب ہو تو جان لو، ہم نے ان خطبات کوتقدیروں والی اہم رات میں نازل کرنا شروع کیا۔ تم کیا جانتے ہو کہ یہ منصوبوں اور تدبیروں والی عظیم رات کیا ہے؟ اس بابرکت رات میں خدا وند عالم کے حکم سے قوموں کا مستقبل طے کیا جاتا ، وسائل کی تنظیم جاری ہوتی اور فرد کی زندگی ، موت، رزق اور دیگر امورکا حساب مقرر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ رات ماضی کی غلطیوں سے رجوع کرنے اور مستقبل کی خیر وعافیت مانگنے والوں کے لیے ہزار مہینوں سے بہتر را ت ہے۔ اس رات خدا کی ایڈمنسٹریشن کے فرشتے اپنے سربراہ جبریل امین کے ساتھ اترتے ہیں اور ان منصوبوں کو زمین پر وقت مقررہ پر نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس پوری رات میں خدا کے تکوینی امور کی منصوبہ بندی و تنظیم ہوتی ہے۔اسی لیے یہ رات آخرت کی منصوبہ بندی و تنظیم کرنے والوں کے لیے سراپا سلامتی اور امن دینے والی ساعتوں سے بھرپور شب ہوتی ہے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوجائے۔


سورہ الفلق کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الفلق کا خلاصہ
دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والوں سے کہہ دو ، رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو بتادو، کالے علم کرنے والے شیطانوں کو خبردار کردو، حسد کی آگ میں جلنے والوں کو سمجھادو کہ میں تو اپنے بچانے والے آقا کے قلعے میں

پناہ لے چکا ہوں۔ یہ اس حکمران کی پناہ کا قلعہ ہے جس کی حکومت ہر چاند ، سورج، زمین آسمان، رات دن سب پر ہے۔ یہ وہ پالنے والا ہے جو رات کی تاریکی کو چیر کر صبح کا کا اجالانمودار کرتا ہے۔
میں ہر نقصان پہنچانے والی شر کی تمام مادی قوتوں کے مقابلے میں اسی حاکم کی پناہ میں ہوں۔ میں اندھیرے آپڑنے والی مصیبت، بیماری، چوری، ڈاکہ زنی ، شب خون، لوٹ مار، تشدد، زنا ، شراب نوشی اور تمام برائیوں سے اسی کے مضبوط حصار میں ہوں۔ میں جادو ٹونے، کالے علم ،سفلی عمل، جھاڑ پھونک اور شیطانی عملیات جیسی تمام غیرمادی شرارتوں سے بھی اسی ہستی کی امان میں محفوظ ہوں۔
میں اس شخص کی سازشوں سے بھی خدا ئے رب ذوالجلال کی پناہ میں ہوں جو میری کامیابی سے جلتا ہے اور چاہتا ہے مجھ سے سب کچھ چھن کر اس کو مل جائے اور اگر اسے نہ ملے تو مجھ سے تو چھن ہی جائے۔وہ جو میرے نقصان پر خوش ہوتا اور خوشی پر افسردہ ہوتا ہے۔
بس اے دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والے شریرو! رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والی تاریکیو! شیطانی عملیات سے نقصان پہنچانے والے شیطانو! میری خوشیوں پر جل جانے والےنادانو! میں تو تمہارے ہر طرح کے شر سے اس پرورش کرنے والے کی حفاظت میں ہوں جس کی امان میں جب کوئی آجائے تو ساری مخلو ق بھی مل کر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ڈاکٹر محمد عقیل


سورہ الناس کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الناس کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
تم اپنے شرارت کرنے والے نفس سے کہہ دو، بہکانے والنے انسانوں کو بتادواور وسوسہ ڈالنے والے جنوں کو اعلان کردو کہ میں تم سب کے بہکاووں کے مقابلے میں تمام انسانوں کے پالنے والے کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ پناہ جو چٹانوں سے

زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ قوی ہے۔ و ہ پناہ جو بالکل محفوظ و مامون ہے، جس کے ارد گرد فرشتوں کے پہرے ہیں اور جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا بادشاہ ہے اور میرابادشاہ اپنے غلام کی حفاظت خوب جانتا ہے۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا معبود ہے اورمیرا معبود اپنے بندے کو بچانا خوب جانتا ہے ۔
میں اپنے آقا کی امان میں ہوں ہر اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو دلوں میں جنس ، فساد، حسد، بغض، عداوت، انتقام، مایوسی، الحاد ، بے چینی اور ان گنت منفی خیالات پیدا کرتا ہے۔یہ وہ دشمن ہے جو دوست بن کر وار کرتا ، دل ہی دل میں خیالات پیدا کرتا اور کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا ۔یہ دشمن جنات یعنی چھپی ہوئی طاقتوں کے روپ میں بھی ہے جو نظر نہیں آتا ۔ یہ دشمن شریر انسانوں کی شکل میں بھی ہے جواصلاح کے نام پر فساد پھیلاکر چلا جاتا ہے۔ یہ دشمن میرے نفس کی صورت میں بھی ہے جو خواہشوں کی ہوس میں غلط کام کرنے پر اکساتا ہے۔
پس سن لو ، تم سب مل کر بھی کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ میری پشت پر میرا بادشاہ کھڑا ہے اور وہی میری امان ہے، وہی میری پناہ کا حصار


روزہ ، رمضان اور قرآن


روزہ ، رمضان اور قرآن
ڈاکٹرمحمدعقیل
عام طور پر رمضان اور روزوں کے ذکر میں ہم مختلف لوگوں کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ روزہ کا فلسفہ کیا ہے ؟ رمضان میں کیا کرنا چاہیے؟ تقوی کیا چیز ہے ؟ وغیرہ۔ ان تمام باتوں کی بنیاد اکثر اوقات قران و سنت ہی ہوتے ہیں۔ البتہ

آج ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن نے جب روزوں اور رمضان کو بیان کیا تو اس کی پریزنٹیشن کی ترتیب اور فوکس کیا تھا۔
رمضان اور روزوں کا سب سے تفصیلی بیان قرآن میں سورہ البقرہ کی آیات ۱۸۳ سے لے کر ۱۸۷ تک ہے۔ ان پانچ آیات میں تفصیل سے رمضان اور روزوں کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
۱۔ سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ روزہ فرض کیے گئے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی روزے دیگر امتوں پر فرض کیے گئے ۔ یہ بتانے کا مقصدحوصلہ افزائی بھی ہے اور تنبیہہ بھی۔ حوصلہ افزائی اس پہلو سے ہے کہ پہلے بھی لوگ روزے رکھتے رہے ہیں تو تم بھی روزے رکھو اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ تنبیہہ یہ کہ چونکہ پہلے بھی لوگ رکھتے رہے ہیں اس لیے یہ کوئی عذر نہیں کہ بہت مشکل کام ہے ہم نہیں رکھ سکتے وغیرہ۔ جب وہ رکھ سکتے ہیں تو تم بھی رکھ سکتے ہو۔
۲۔ دوسری بات روزے کا مقصد بیان کیا گیا کہ اس کا اصل مقصد تقوی ہے۔ تقوی کے دو پہلو ہیں، ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ باطنی پہلو ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان خدا کا خوف رکھتا ، اس کا لحاظ رکھتا اور اس کی ناراضگی سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کا ظاہری طور پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنا عمل اس طرح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ خدا کی ناراضگی سے بچے۔ لیکن عمل درست کرنے کے لیے تربیت درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ روزہ کے ذریعے نفس کو قابو رکھتا ہے تاکہ اپنی سوچ اور عمل خدا کی رضا کے مطابق کرلے۔
۳۔ آگے یہ بتایا گیا رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے انسانوں کے لیے کہ عالم کا پروردگار ان سے مخاطب ہے۔ چنانچہ اسی شکرگذاری کے جذبے کے تحت پوری امت مسلمہ پر رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تاکہ اس ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اللہ کی بڑئی بیان کی جائے۔ اسی لیے قرآن اور رمضان کا گہرا تعلق ہے۔ صرف زبانی طور پر الحمد للہ کہہ لینے سے یہ حق ادا نہیں ہوتا ۔رمضان میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ، سننا، ڈسکس کرنا اور اس پر عمل کرنا ہی دراصل اس شکرگذاری کا عملی اور حقیقی اظہار ہے ۔
۴۔ اس کے بعد مریض اور مسافرین کو چھوٹ دی جارہی ہے کہ وہ رمضان کے روزے بعد میں رکھ لیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اللہ نرمی چاہتا ہے سختی نہیں۔ ورنہ تو وہ تمام جہانوں کا رب اور حقیقی بادشاہ ہے جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔ وہ چاہتا تو دنیاوی بادشاہوں کے طرح سختی کا رویہ روا رکھتا، ان سے بدسلوکی کرتا، ان کو ہر طرح سے مشقت میں ڈالتا تب بھی کوئی اس سے پوچھنے والا نہ تھا۔ لیکن یہ اس کی شفقت و محبت ہے کہ ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں کا خیال رکھتااور بیماری و تکلیف میں اپنی شریعت وقانون ہی کو نرم کر دیتا ہے۔
۵۔ اگلی آیت دعا سے متعلق ہے۔ چونکہ رمضان کا اصل مقصد خدا ور بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے، اسی لیے اللہ کو پکارنے سے متعلق چند اصول بیان کردیے گئے ہیں۔ جب بھی بندہ خدا سے بات کرنا چاہتا، اس سے اپنا کوئی مسئلہ بیان کرنا چاہتا یااس کی جانب رجوع کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہیں نظر ہی نہیں آتا ۔ زیادہ سے زیادہ جو تصور قائم ہوتا ہے وہ یہ کہ خدا آسمان میں کہیں دور بیٹھا ہے۔یہ دوری کا تصور انسان کو زمین میں ان زمینی ہستیوں کو تلاش کرنے پر مجبور کردیتا ہے جو اس دور بیٹھے خدا تک اس کی بات پہنچا سکیں۔ یہی شرک کی ایک بڑی وجہ ہے۔چنانچہ پہلی بات اللہ نے بیان کی کہ میں دور نہیں بہت قریب ہوں، میں تو تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ میں تمہارے ساتھ موجود ہوں ، جب تم دو ہوتے ہو تو تیسرا للہ ہوتا ہے۔ جب میں اتنا قریب ہوں تو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ، براہ راست مجھ سے ہی بات کرو، مجھ سے اپنی امیدیں، مسائل، پریشانیاں ڈسکس کرو ۔
پھر یہ فرمایا کہ کوئی پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں براہ راست سنتا ہوں۔ یعنی خدا کا دربار ہر وقت ہر کسی کے سامنے موجود ہے جہاں خدا اپنے عرش پر جلوہ افروز ہے اور اس کے کارندے یعنی فرشتے ادب سے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ ہر انسان جب بھی چاہے اس دربار میں جاکر اپنی بات کہہ دے۔ نہ اسے لائن لگانی ہے ، نہ وزرا کو بادشاہ سے ملنے کے لیے رشوت دینی ہے ، نہ کسی اور تاخیر کا سامنا کرنا ہے۔
آگے یہ بھی فرمادیا کہ میں نہ صرف سنتا ہوں بلکہ جواب بھی دیتا ہوں۔ خدا جواب کس طرح دیتا ہے یہ ایک طویل موضوع ہے۔ البتہ خدا کسی کی پکار سننے کے بعد تین طرح کے فیصلہ کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ دعا یعنی درخواست کو من و عن مان لیا جائے، دووسرا یہ کہ اسے کچھ اعتراضات لگا کر واپس کردیا جائے، تیسرا یہ کہ اسے رد کردیا جائے قبولیت کی صورت میں فرشتوں کو اس پر عمل درآمد کا حکم ہوتا ہے اور دعا کی درخواست اپنی معینہ مدت پر پوری ہوجاتی ہے۔ اعتراضات لگاکر واپس کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ دعا میں ابھی مطلوبہ خلوص یا عمل کی کمی ہے اسے پورا کیا جائے۔ رد کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دعا مانگنے والے کے حق میں یہ دعا مناسب نہیں یا دعا کی مطلوبہ شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں۔ اس لیے اسے رد کردیا جاتا ہے۔ مانگنے والے کے لیے حکم ہے کہ وہ دعا کی عدم قبولیت کی صورت میں اپنی اخلاص اور عمل کا جائزہ لیتا رہے اور مطلوبہ کمی کو پورا کرکے دوبارہ دعا کرے۔ یہ بار بار مانگنا ہی تعلق باللہ کی مضبوطی ہے۔
آخر میں یہ فرمایا کہ جب میں سنتا بھی ہوں اور جواب بھی دیتا ہوں تو پھر مجھ پر ایمان یعنی یقین رکھیں اورا سی یقین کے بعد ہی وہ ہدایت پاسکیں گے۔ یعنی بات قرآن کی ہورہی تھی جو عالم کے پروردگار کی جانب سے ایک ہدایت ہے۔ لیکن بتادیا کہ درست راہ یقین کے بغیر ممکن نہیں۔ جس کو خدا کے قریب ہونے اور دعا قبول کرنے کا یقین نہیں تو اسے قرآن بھی ہدایت نہیں دے سکتا اور وہ یونہی وسیلہ تلاش کرنے میں سرگردا ں رہتا ہے۔
۶۔ آگلی آیت میں رمضان کی راتوں میں شوہر و بیوی کے تعلق کی اجازت دی جارہی ہے۔ اس سے قبل یہ بات واضح نہیں تھی کہ رمضان کی راتوں میں یہ تعلق قائم کرنا جائز ہے یا نہیں۔ اس لیے کچھ لوگ وضاحت سے قبل ہی یہ تعلق قائم کررہے تھے جسے اللہ نے خیانت سے تعبیر کیا ۔ نیز میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ ایسا لباس جو ایک دوسرے کی شرمگاہوں کی حفاظت کرے اور دنیا کے سامنے انہیں ظاہرہونے سے بچائے۔اور ساتھ ہی یہ لباس انہیں فیشن و عریانی کے بدلتے ہوئے موسموں کے منفی اثرات سے بچائے رکھے۔
البتہ اعتکاف کے وقت مردو زن کے تعلق کی نہ صرف نفی کردی بلکہ اسے اللہ کی حدود قرادے دیا۔ اعتکاف دراصل خدا اور بندے کے درمیان ایک پرائیویسی کا تعلق ہے۔ اس تعلق کے درمیان کسی اور شرکت گوار ا نہیں حتی کہ لائف پارٹنر کی بھی نہیں۔
خلاصہ
روزے کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ پہلی امت پر بھی فرض تھے تاکہ نفس کے سرکش گھوڑے کو قابو میں کرکے اسے خدا کی ظاہر وباطنی عبادت پر مجبور کیا جاسکے۔ رمضان میں چونکہ قرآن نازل ہوا س لیے روزہ رکھنے کی ایک اور وجہ شکر گذاری کا اظہار کرنا ہے اور یہ شکر گذاری قرآن کو رمضان میں خصوصی توجہ دے کر ہی ظاہر ہوسکتی ہے۔ رمضان کا ایک اور مقصد اللہ سے براہ راست تعلق قائم کرنا ہے اور خدا وہ بادشاہ ہے جس تک کوئی بھی اپنی بات کبھی بھی پہنچاسکتا ہے۔ تو رمضان کے مقاصد اللہ سے تعلق میں مضبوطی، قرآن سے گہرا تعلق ، شکرگذاری اور تقوی کا حصول ہیں۔ جس نے یہ پالیا اس نے سب کچھ پالیا۔ اور جو ان سے محروم رہا ، وہ نہ صرف جسمانی طور پر بھوکا پیاسا رہا بلکہ روحانی طور پر بھی بھوکا اور پیاسا ہی رہا۔


کیا خدا ہمیں مشکل میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے؟


کیا خدا ہمیں مشکل میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال :” اللہ کی محبت آزمائش، مصائب و آلام سے مشروط کیوں ہوتی ہے؟
جواب :یہ ایک غلط فہمی ہے۔ دنیا کی زندگی فرض کریں کہ سو دن کی ہے تو اس میں مصیبت و آلام کے بمشکل دس دن ہی ہونگے۔ باقی نوے دن یا تو خوشی ہوگی اور یا پھر نیوٹرل ۔

سوال :مذہب انسان کو روتا، تڑپتا اور سسکتا کیوں پسند کرتا ہے؟
جواب :مذہب انسان کو سسکتا دیکھان نہیں چاہتا بلکہ سسکیوں اور آہوں کے لیے ایک کندھا فراہم کرتا ہے۔ وہ ممالک جہاں مذہب نہیں ، سسکیاں ، آہیں اور رمصائب و آالم تو وہاں بھی ہیں۔ تو مذہب رونا تڑپنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا علاج دیتا ہے۔
سوال :جو پیدا ہی غریب، پسماندہ، معذور اور مفلس ہوا اس کا کیا قصور؟ اس کی کیا مزید آزمائش؟
جواب: امتحانی پرچہ میں سوالات مختلف ہوتے ہیں۔ کسی کے پرچے میں غربت تو کسی کے پرچے میں امارت۔ دیکھنے میں امارت بہتر لگتی ہے لیکن ایک مالدار شخص کی آزمائش بہت کڑی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ عیسی علیہ السلام نے رمادیا کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں تو جاسکتا ہے لیکن ایک متکبر مالدار جنت میں نہیں جاسکتا۔ باقی جو مفلس اور نادار اور معذور ہیں ان کا امتحانی پرچہ میں پہلے ہی ان کو گریس مارکس دے دیے گئے ہیں یعنی اگر وہ اس محرومی پر صبر کرلیں تو اسی پر جنت کے اعلی درجات کی بشارت ہے۔
دراصل ا س سارے معاملے کو ہم خدا کی جانب سے دیکھتے ہیں تو یہ سارے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ماں باپ بن کر دیکھیں تو بڑی عجیب بات ہے کہ یہ سارے کام کسی حد تک ہم اپنے بچوں کے ساتھ بھی کررہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب بچے کو چلنا سکھاتے ہیں تو اسے کھڑا کردیتے ہیں وہ گرتا ہے، لڑھکتا ہے ، سے چوٹ بھی لگتی ہے لیکن ہم اسے گرنے دیتے ہیں البتہ بڑی چوٹ سےبچالیتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو وہ کبھی چلنا نہیں سیکھ سکتا۔ ایسے ہی ہم اپنے بچوں کو خود امتحان سے گذارتے ہیں اور اس امتحان کا مقصد تنگ کرنا نہیں بلکہ اگلی کلاس میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ خدا کی جانب سے بھی جو آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں وہ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ انسان کو ایک اعلی سوسائٹی یعنی جنت میں رہنے کے لیے قابل بنانا اس ٹریننگ کا بنیادی مقصد ہے۔ جس طرح آرمی کی ٹریننگ ، مشقت، مشکلات اور کورسز کیے بنا کوئی فوج میں شامل نہیں ہوسکتا ، اسی طرح خدا کے ٹریننگ پروگرامز میں سے کامیابی سے گذرے بنا کوئی جنت کے قابل نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی سویلین بنا ٹریننگ کے فوج میں شامل کردیا جائے تو وہ اس سیٹ اپ میں رہ ہی نہیں سکتا اور ایک وقت آئے گا کہ اسے نکال دیا جائے گا۔ چنانچہ جنت میں کوئی ایسا شخص نہیں داخل ہوسکتا جو آلائشوں سے آراستہ ہو۔ اسی لیے جو مومن دنیا میں یہ تزکیہ کا عمل مکمل نہیں کرپاتے ان کے لیے عارضی جہنم ہے۔ یہاں اس کے بعض گناہوں کو سزا دے کر دور کردیا جاتا اور پھر اس کے جنت میں دخول کے امکانات ہوتے ہیں۔
یعنی دنیا کی ٹریننگ کے بعد تین آپشنز ہیں۔ اگر اس میں کامیاب ہوکر نفس کو پاک کرلیا تو جنت، پاک کیا لیکن کچھ آلائشیں لگی رہ گئیں جو نیکیوں کے مقابلے میں پچاس فی صد سے زائد تھین تو جہنم میں عارضی قیام اور پھر جنت۔ اور اگربرائیوں نے احاطہ اس طرح کرلیا تھا کہ پوری شخصیت ہی غلاظت کا ڈھیر تھی تو جنت میں لے جانے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں اور ابدی جہنم۔


سورہ اخلاص کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ اخلاص کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
پتھروں میں خدا تلاش کرنے والوں کو بتادو، بزرگوں کو معبودبنانے والوں کو سمجھادو، خدا کا بیٹا اور بیٹی ٹہرانے والوں کو جتادو ، عالم اسباب کو خدا سمجھنے والوں میں اعلان کردو کہ اللہ تو یکتا و یگانہ ہے۔ اس جیسی کوئی مثال ہی

نہیں ۔وہ ان سب باتوں سے بے نیاز ہے کہ اس کو بیوی کی حاجت ہو، اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو ، وہ کسی کا باپ بنے، وہ اپنے اختیارات پتھروں کو سونپ دے یا وہ اپنی قدرت بزرگوں میں بانٹ کر خود بے طاقت ہوکر بیٹھ جائے۔
پس اے مسیح کو خدا کا بیٹا بنانے والو سن لو، اس کی کوئی اولاد نہیں ۔ اے خدا کے خالق کا پتا پوچھنے والو جان لو، وہ تو ہمیشہ سے ہے تو اس کی کوئی ابتدا نہیں ۔پس وہ کسی کی اولاد بھی نہیں۔ یہ تمام پتھروں کے پتلے، عقیدت کے بت، چاند، ستارے، سورج ، انسان، فرشتے اور جنات سب اسی کی مخلوق ہیں۔ کوئی مخلوق کس طرح خالق کے ہم پلہ ہوسکتی ہے؟ تو خدارا اپنے ا ن خودساختہ مٹی کے بتوں کو توڑ دو، قبروں سے مانگنا چھوڑ دو، من پسند سفارشی پر بھروسہ ختم کرو، اسباب و علل کو خدا سمجھنا ترک کرو۔ کیونکہ وہ قدرت میں تنہا ہے،دینے میں یکتا ہے،خبرگیری میں یگانہ ہے ، اسباب سے ماورا و رمنفرد ہے اور اپنی ذات و صفات میں سب سے جد ا ہے۔


سورہ لہب کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ لہب کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
شان و شوکت والے متکبر اور خودسر ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ۔ اس کی سرداری ، اقتدار اور مددگار سب تمام ہوئے اور یہ خود بھی نامراد ہوا۔ اس کا مال ، دولت، عزت اور اعلی اسٹیٹس اور جو کچھ بھی اس نے ساری زندگی لگا کر

کمایا وہ اس کے کچھ کام نہ آیا۔
یہ سب کچھ چھن جانا اصل سزا نہیں بلکہ اس عظیم عذاب کی ابتدا ہے جب وہ اپنی جھوٹی انا، بے انتہا تکبر اور اخلاق سے عاری غلیظ وجود کے ساتھ شعلوں سے بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اور وہ یہاں تنہا نہیں ہوگا۔ اس کی وہ بیوی بھی اس کے ساتھ ہوگی جو اسے حق کی مخالفت کے لیے بھڑکاتی تھی، جو نبی کی ہجو کرتی تھی، جواس کے راستوں کو پرخار کرکے خوش ہوتی تھی۔ وہ دنیا میں شاندار ہار پہن کر خوش ہوتی تھی تو ہم اس کی عزت افزائی اس طرح کریں گے کہ اس کے گلے میں ایک رسی ہوگی جسے پکڑ کر جہنم کے داروغہ لیے پھریں گے۔
سورہ کا پس منظر
یہ سورہ قرآن کی واحد سورہ ہے جس میں کسی دشمن کا نام لے کر اس کی بربادی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورہ کس موقع پر نازل ہوئی ؟ اس پر عام مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ یہ نبوت کے ابتدا ئی زمانے میں نازل ہوئی جب ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بددعا کی۔ لیکن سورہ میں جس طرح جلالی انداز میں ابولہب کی مذمت کی گئی اور اس کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو اس سے علم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی زمانے کی سورہ نہیں۔
اتنی سخت زبان استعمال ہونے کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ ابولہب نے ایک عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برا سلوک کیا، آپ کو اذیت دی، آپ کی ہمسائگی کے باوجود آپ پر ظلم و زیادتی کی۔حتی کہ شعب بن ابی طالب میں بائیکاٹ میں یہی ابو لہب پیش پیش تھا جس کی بنا پر حضرت خدیجہ اور ابوطالب فوت ہوئے۔
اس ظلم و زیادتی میں ابولہب ہی نہیں بلکہ اس کی بیوی بھی پیش پیش تھی جو نہ صرف اپنے شوہر کو نبی کریم کے خلاف بھڑکاتی ، بلکہ خود بھی آگے بڑھ کر اقدام کرتی تھی اور کبھی آپ کی راہ میں کانٹے ڈالتی تو کبھی گندگی۔ یہ دونوں میاں بیوی اس قدر اس دشمنی میں آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں میں یہی نفرت منتقل کی ۔ نبی کریم کی دو صاحبزادیاں ابولہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کی منکوحہ تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ان دونوں بیٹوں نے بے دردی سے ان معصوم بچیوں کو طلاق دے دی اورنبی کریم سے بدزبانی بھی کی۔
گویا کہ پورا خاندان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف ذاتی دشمن تھا بلکہ ان کے مشن کا بھی مخالف تھا۔ اس مخالفت کے اسباب دیکھیں تو اس سورہ میں نمایاں ہیں۔ پہلا سبب تو مشرکانہ نظام کو معیشت کا مرکز سمجھنا تھا ۔یعنی ابو لہب کو علم تھا کہ اگر اسلام حاوی آجاتا ہے تو اقتدار اس کے ہاتھ میں نہیں رہے گا ۔ چنانچہ وہ پوری طاقت کے ساتھ اس مشرکانہ نظام کی حفاظت کرنا چاہتا تھا ۔
دوسری وجہ ابولہب کا مالدار ہونا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر لوگ تو غریب اور غلام طبقے سےتعلق رکھتے ہیں تواسے گوارا نہ ہوا کہ مسلمان ہوکر ان لوگوں کو اپنے برابر جگہ دے۔
بہرحال جب یہ سورہ ناز ل ہوئی تو اس کے بعد یہ پیشین گوئی مکمل طور پر پوری ہوگئی۔ ابوطالب کے انتقال کے بعد ابولہب سردار بنا اور اسی کی سرداری کے دور میں نبی کریم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینے ہجرت کرگئے۔ ایک سال بعد غزوہ بدر ہوئی جس میں مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ اس جنگ میں ابولہب نے شرکت نہ کی اور اپنی جگہ دو کرائے کے غلاموں کو بھیج دیا۔ کہتے ہیں کہ اس سورہ کی بنا پر اسے خوف تھا کہ وہ مارا جائے گا۔
غزوہ بدر اس سورہ کی تفسیر ہے۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹنے کا مطلب اس کی اصل اقتدارکی طاقت تھی جو مشرکین کے سرداروں کی حمایت کی بنا پر اسے حاصل تھی۔ غزوہ بدر ایک عجیب جنگ ہے جس میں قریش کی ٹاپ کی لیڈرشپ ختم ہوگئی ۔مارے جانے والے ۷۰ مشرکین میں سے کم و بیش سارے ہی سردار تھے۔ یہ اس سورہ کی پہلی آیت کی پیشین گوئی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ ابو لہب خود اس جنگ میں ڈر کے مارے نہیں آیا لیکن غزوہ بدر کے چند دنوں بعد وہ عدسہ یا چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور مرگیا۔
اس کی بیماری چونکہ چھوت کی بیماری تھی اس لیے اس کی اولاد سمیت کوئی اسے ہاتھ تک لگانے کو تیار نہ تھا کہ اسے دفن کرے۔ لیکن لوگوں نے اس کی اولاد کو غیرت دلائی تو انہوں نے چند غلاموں کوپیسے دیے جنہوں نے اس کی لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا۔ اس کا اس طرح مارا جانا دوسری آیت کی تشریح ہے کہ اس کے کام کچھ نہیں آیا نہ اس کا مال، نہ عزت، نہ اقتدار اور وہ اس ذلت آمیز طریقے سے گڑھے میں دھکیل دیا گیا ۔
اگلی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ تو حق کی مخالفت کرنے کا دنیوی عذاب ہے۔ آخرت میں وہ اور اس کی بیوی دونوں جہنم کی آگ میں ہونگے جہاں بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے ان کے منتظر ہیں۔
سورہ کا سبق
اس سورہ کا آج کے دور کا سبق امیر ، مالدار، عزت دار، شہرت والے اور اقتدار کے حامل لوگوں کے لیے ہے۔ جب بھی حق ان کے سامنے آتا ہے تو وہ کچھ تقاضے کرتا ہے۔ وہ انسان کو انا، تکبر اور تعصب چھوڑ کر عنزو انکساری، حق پرستی اور خدا کے حکم کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ تقاضا اس کے اقتدار ، ما ل اور دولت کی قربانی بھی مانگتا ہے۔ جو لوگ انا ، اقتدار اور دولت کی قربانی نہیں دیتے وہ بعض اوقات دعوت حق کے شدید مخالف ہوجاتے ہیں۔یہ سورہ اعلان کررہی ہے کہ ان کی مخالفت جتنی زیادہ بڑھتی جائے گی وہ انجام کے اعتبار سے ابولہب کے قریب ہوتے جائیں گے۔


سورہ الحدید آیت ۲۰ تا ۲۴ کا خلاصہ


سورہ الحدید آیت ۲۰ تا ۲۴ کا خلاصہ
دنیا جہان کی باتیں سمجھنے والو، ذرا یہ بھی جان لو کہ دنیا اور آخرت میں سے کونسی زندگی بہتر ہے؟ دنیا کی زندگی تو بچپن کے کِھیل تماشے، جوانی کی زینت و مقابلہ اور ادھیڑ عمر کی مال و اوالاد میں ایک دوسرے سے آگے نکل

جانے اور پھر مرجانے کا نام ہے۔ یہ ظاہری زندگی تو ایک حقیر پودے کی مانند ہے۔ جب بارش ہونے سے کونپل پھوٹتی ہے تو یہ وہی تمہار ا بچپن ہے جسے آخرت کے انکاری دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں ۔ پھر یہ فصل جوبن اور جوانی کو پہنچتی ہے پھر یہ زرد ہوکر ادھیڑ پن کو پہنچ جاتی ہے اور آخر میں یہ تمہاری طرح فنا ہوجاتی ہے۔ کھیتی تو فنا ہوجاتی ہے لیکن مرنے کے بعد تم فنا نہیں ہوگے۔ اگر تم نے خود کو حیوانی سطح سے اوپر نہ کیا تو آخرت میں اس بے پروائی کا انجام شدید عذاب ہے ۔ اور اگر تم نے خود کو اس دھوکے کی پرکشش مادی دنیا سے بلند کرلیا تو اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔
تو اس پرفریب حیوانی سطح سے دو ر بھاگو اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی جانب جو اس دنیا وی زندگی کی طرح محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ یہ جنت اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی یقین رکھنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند حقیقت نہیں ، اللہ کا ابدی فضل تو یہی جنت کی زندگی ہے جسے وہ اپنی چاہت اور حکمت سے میرٹ پر جس کو چاہے عطا کرتا ہے ۔اس کے فضل کا تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ وہ کتنا بڑا فضل کرنے والا ہے۔
البتہ جب تم اس پرفریب حیوانی زندگی سے اوپر اٹھو گے تو مشکلات پیش آئیں گی اور مصیبتیں بھی آپڑیں گی۔ تو جب بھی کوئی مصیبت آسمان سے طوفان یا تباہی کی شکل میں نازل ہو ، زمین میں زلزلے، سیلاب، قحط، شدید گرمی یا سردی کی شکل میں آئے یا تمہاری اپنی ذات میں کسی بیماری یا دکھ کی شکل میں نمودار ہو تو سمجھ لینا کہ امتحان کا وقت شروع ہوچکا ۔ یہ وہ امتحان ہے جو خدا نے اس کے نازل ہونے سے پہلے ہی مقرر کردیا اور لکھ دیا تھا اور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

اور اللہ نے تمہیں یہ سب اس لیے بتایا تم جان لو امتحان کے لیے دی گئی مصیبتیں اور نعمتیں اللہ کی جانب سے ہوتی ہیں۔ پس تم آفتوں کے آپڑنے پر مایوس ہوکر نہ بیٹھ جانا اور نہ ہی نعمتوں کے ملنے پر اترانے لگ جانا ۔ جس طرح مصبیتیں آزمائش کے لیے ہوتی ہیں تو نعمتیں بھی آزمائش ہی کے یے ہوتی ہیں۔ بس نعمتوں کا سبب محض اپنا فضل اور قابلیت نہ سمجھ لینا۔ اور اگر تم نے خود کو بڑا سمجھ لیا تو جنت کی منزل سے دور ہوجاوّ گے کیونکہ اللہ کسی متکبر کو پسند نہیں کرتا۔
اور جو کوئی اپنے مال، اولاد، علم ، جائداد یا حسن کا سبب محض اپنی قابلیت سمجھتا ہے تو وہ بخیل ور کنجوس بن کر خدا کے دیے گئے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے قول و فعل سے باقی لوگوں کو بھی اکساتا ہے کہ وہ بھی بخل کریں اور اللہ کی نعمتیں لوگوں میں تقسیم کرنے سے گریز کریں۔ درحقیقت وہ دوبارہ اسی حیوانی زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے جس سے اوپر اٹھنے کا اس نے فیصلہ کیا تھا۔ تو جو کوئی بھی حق کی راہ سے پلٹ گیا اور اللہ سے منہ موڑ لیا تو اللہ بھی اس سے بے نیاز ہے کیونکہ اللہ تو پہلے ہی اپنی صفات میں ایک مکمل اور لائق تعریف ہستی ہے۔

آیات کا ترجمہ ہے:
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھُس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان کام ہے
یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے۔
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20؀
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21؀
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ 22۝ښ
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23۝ۙ
الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24؀


مصیبت اور نعمت – سورہ الحدید کی روشنی میں


مصیبت اور نعمت – سورہ الحدید کی روشنی میں
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ الحدید کی چار آیات بہت خوبی سے انسانی کے امتحا ن میں اللہ کی جانب سے شامل کیے جانے والی مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں بتاتی ہیں کہ یہ مصیبتیں کیوں نازل ہوتی ہیں اور نعمتیں کون دیتا ہے؟ ان مصیبتوں پر کیا رویہ ہونا چاہیےاور نعمتوں کی شکر گذاری کیسے کرنی چاہیے ۔ انسان کس طرح حیوانی سطح سے بلند ہوکر خد ا کا قرب حاصل کرسکتا ہے/ سورہ الحدید کی یہ

چار آیات کا مجموعہ آیت ۲۰ سے شروع ہوتا ہے اور آیت ۲۴ پر ختم ہوجاتا ہے۔
بیسیوں آیت میں انسانی زندگی کا لائف سائکل ڈسکس ہوا ہے۔انسانی زندگی کا پہلا اسٹیج لہو و لعب یعنی کھیل تماشے کا ہے۔ یہاں بچپن کی زندگی مراد ہے جس میں انسان بچے کی صورت میں ہوتا اور ہر قسم کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوتا ہے۔ دوسرا اسٹیج زینت و تفاخر مرحلہ ہے یعنی جوانی کا دور۔ اب انسان میں ایک مقابلے کا رحجان پیدا ہوتا، وہ کیرئیر بناتا اور آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ تیسرا اسٹیج ادھیڑ عمر کا اسٹیج ہے جس میں عمومی طور جوانی کے مقابلے میں مال و الاد کی کثرت ہوتی ہے ۔ اس کے بعد بڑھاپا اور موت کا اسٹیج ہے جس کا ذکر نہیں کیا اور وہ حذف ہے البتہ اس کا ذکر آیت کے اگلے حصے سے واضح ہوجاتا ہے۔
انسانی زندگی کا یہ لائف سائکل بالکل نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لائف سائیکل سے ملتا جلتا ہے۔اسی لیے اگلے حصے میں بتایا کہ انسانی زندگی کے ان چار مراحل کی مثال پودوں کی زندگی میں گذرنے والے اسٹیجز کے مشابہ ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو نباتات کی زندگی کا پہلا اسٹیج شروع ہوتا یعنی بیج سے کونپل پھوٹتی ہے۔چنانچہ کفار یعنی آخرت کی زندگی کا انکار کرنے والے دنیا پرست اس مادی ترقی کو ہی واحد حقیقت سمجھ کر بے خوش ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ فصل لہلہاتی ہوئی کھیتی میں بدل جاتی ہے جو جوانی کی علامت ہے۔ اس کے بعد کھیتی پک کر زرد ہوجاتی ہے جو ادھیڑ پن کا اسٹیج ہے۔ آخر میں کھیتی کٹ جاتی ہے تو وہ بھس بن جاتی ہے یہ لائف سائکل کا آخری اسٹیج ہے۔
چنانچہ اس آیت کے پہلے سیٹ میں انسانی اور دوسرے سیٹ میں نباتاتی زندگی کا لائف سائکل بیان کرکے یہ واضح کردیا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ایک پودا بھی انہی مراحل سے گذرتا ہے جس سے انسان ۔ لیکن یہ تو مادی زندگی ہے جس کا انجام محض چند دن کی جوانی کی خوشی اور پھر پودے نے تو ہمیشہ کے لیے فنا ہوجانا ہے لیکن تم نے نہیں۔ تمہارا انجام یا تو مادیت سے اوپر نہ اٹھنے کی بنا پر شدید عذاب ۔ اور اگر تم نے خود کو اس دھوکے کی پرکشش مادی دنیا سے بلند کرلیا تو اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔چنانچہ اگر ابدی زندگی میں برے انجام سے بچنا ہے تو اس حیوانی سطح سے اوپر اٹھنا ہوگا۔
اگلی آیت میں یہ واضح کردیا کہ اگر اس مادی اور حیوانی سطح سے بلند ہوکر اٹھنا ہے ابدی زندگی اور ابدی جوانی و نعمت کے لیے بھاگ دوڑ کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے آخرت کی زندگی کو اصل مرکز بنانا ہوگا۔ تو پھر تم لوگ حیوانی سطح سے اوپر اٹھو اور دوڑو اس مغفرت اور جنت کی جانب جس کی وسعت زمین اور آسمانوں کے برابر ہے۔ یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو حق کی دعوت پانے کے بعد کے بعد اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور رسول پر یقین رکھتے ہیں۔ اور یہ اللہ کا وہ فضل ہے جو وہ اپنی حکمت سے اس کو دیتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے۔ یعنی حیوانی زندگی میں تو سب کو بلاتخصیص ملتا ہے یہاں انسان کو اس کے ایمان و عمل کے مطابق ملتا ہے۔
اگلی آیت میں ہے کہ جو آپڑنے والی پڑ جاتی ہے۔ یہاں لفظ ” اصاب ” استعمال ہوا ہے جس کا مطلب مصیبت نہیں بلکہ پڑجانے والی یا نازل ہوجانے والی ہے۔ یہاں پڑجانے والی سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی یعنی من جانب اللہ کوئی بھی تدبیر ہوسکتی ہے۔ تو جب بھی کوئی پڑجانے والی مصیبت [یا نعمت ] آ پڑتی ہے تو خواہ وہ آسمانوں سے نازل ہوئی ہو یا زمین سے وارد ہوئی ہو یا تمہارے اپنے نفس میں ظاہر ہوئی ہو، یہ سب کچھ ان کے نزول سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھا ہوا ہےاور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
یہاں اگر غور سے دیکھیں تو اللہ تعالی یہ فرمارہے ہیں کہ انسان جب حیوانی زندگی کے سائکل سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اب اسے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جب تک وہ اپنی خواہشات کی رو میں پستیوں میں گرتا چلا گیا تو اسے کوئی دقت نہیں تھی کیونکہ اس نے خود کو پستیوں میں گرنے کے لیے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن جب وہ اس سطح سے اٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے قول اور ایمان کا ٹیسٹ بھی دینا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس پر آسمان سے بھی مصیبتیں نازل ہوسکتی ہیں اور زمین سے بھی۔ یہ مصیبتیں یوں تو ہر ایک پر نازل ہوتی ہیں خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن۔ لیکن مومن کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ یہ وہ مصیبتیں ہیں جو مقرر ہیں اور اس میں انسان کا کوئی بہت زیادہ براہ راست کردار نہیں۔
جو مصیبتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں ان میں طوفان، بجلی کا گرنا ، شدید بارش، بے انتہا گرمی یا سردی، برفباری وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ وہ مصبیتیں جو زمین سے وارد ہوتی ہیں ان میں سیلاب، زلزلہ، وبا، قحط یا قدرت کی جانب سے کوئی بڑا اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے ۔مصیبتوں کی تیسری قسم اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی نوعیت کی ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی عزیز کا فوت ہوجانا، کسی بیماری کا آجانا، کسی حادثے کا ہوجانا، کسی مصیبت میں پھنس جانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔
بہرحال مصیبتیں کسی بھی نوعیت کی ہوں، اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ وہ مصیبتوں کی وہ قسمیں ہیں جن کے نزول میں انسان کا کوئی براہ راست کردار نہیں ہوتا۔چنانچہ وہ مصیبتیں جو انسان کے اپنے اعمال کی بنا پر آتی ہیں وہ یہاں کسی طور زیر بحث نہیں۔
یہ معاملہ صرف مصبیتوں ہی کا نہیں بلکہ نعمتوں کا بھی ہے۔ یعنی یہ وہ براہ راست آسمان سے نازل ہونے والی نعمتیں یا زمین میں پید ا ہونے والے وسائل ہیں جو سرتاسر اللہ کی جانب سے آتے ہیں ۔یعنی جو مصیبتیں اور آلام اوپر بیان کیے گئے ہیں اگر ان کی نفی ہوجائے تو یہی ٹلنے والی مصیبت نعمت میں بدل جائے گی۔ مثال کے طور پر آسمان سے رحمت کی بارش کا ہونا ، پھلوں کا اگنا، فصل کا آنا، رزق کا بڑھ جانا، موسم کا موافق ہوجانا، زلزلہ ، سیلاب ، قحط اور بلاوّں کا ٹل جانا اور بیماریوں کا آنے سے پہلے ہی دور ہوجانا وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کا کوئی بالواسطہ رول نہیں۔
ان سب مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں بتادیا کہ یہ سب کچھ پہلے ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب کیا ہے؟ جدید سائنسی تحقیق کے بعد اس بات کو جزوی طور پر سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ہم آج جین کی تحقیق کو جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ڈی این اے کوڈ بہت کچھ لکھا ہوتا ہے۔ یہ وہ انفارمیشن کوڈ ہے جسے ہم کتاب کے ایک پہلو سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ہمارے ڈین این اے میں لکھا ہوتا ہے کہ ہماری شکل ، صورت، رنگت ، قد وغیرہ کیا ہوگا؟ ہمیں کو ن کون سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اس کا مزاج ، عادات و اطوار کیسے ہونگے وغیرہ۔چنانچہ جب اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہے تو ڈی این اے کوڈ اس عظیم کتاب کا حصہ ہے جو انسانی نفس سے متعلق تقدیریعنی پیمانے کو بیان کرتا ہے۔
اس عظیم کتاب یعنی کے کچھ حصے ایسے ہیں جس میں کائنات پر نازل ہونے والی مصیبتوں اور نعمتوں کے بارے میں لکھا ہوا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقدیر کا تعلق ڈی این اے کی کوڈنگ سے ہو یا آسمان کے دیگر قوانین سے، انسان کا اخلاقی وجود اس تقدیر سے بالکل آزاد ہے۔ یعنی ڈی این کی کوئی کوڈنگ آج تک دریافت نہیں ہوئی کہ جس کی بنا پر انسان مجبور محض ہوگیا ہو کہ اس نے ہر صورت میں شر کرنا اور خیر سے گریز کرنا ہے۔ یعنی انسان کے لیے یہ تو مقرر کردیا گیا کہ اس کے ماں باپ کون ہونگے لیکن یہ مقرر نہیں کیا گیا کہ اس نے ایک برا انسان ہی بننا ہے۔
اب آگے کی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ نے یہ بات تمہیں کیوں بتائی کہ یہ آسمانی مصیبتیں اور نعمتیں اللہ نے کیوں مقرر کرکھی ہیں۔ اس لیے کہ اگر کوئی اس نوعیت کی مصیبت تم پر نازل ہو تو اس پر تم مغموم و مایوس ہوکر ہی نہ بیٹھ جاوّ اور ہمت ہار بیٹھو۔ تمہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ تو اس آزمائش کا لازمی حصہ ہے جو حیوانی سطح سے اٹھنے کے لیے لازمی طور پر کامیابی سے جھیلنی ہوتی ہے ۔ تو اب یہ مصیبت تم پر آسمان سے آئی ہے جس میں تمہار ا کوئی قصور نہیں لیکن یہ آزمائش ہے۔ اس پر صبر کرلو تو جنت کی شہریت کی درخواست دینے کے اہل بن جاوگے۔
جس طرح مصبیتیں آسمان سے آتی ہیں تو نعمتیں بھی آسمان ہی سے آتی ہیں۔ تو اگر تمہیں نعمتیں مل جائیں تو ان سبب بھی اپنی تدبیر، عقل ، ذہانت یا قابلیت نہ سمجھنا بلکہ انہیں بھی من جانب اللہ ہی ماننا۔ اس سے تمہیں حقیقت کا ادراک رہے گا ور تکبر نہیں پیدا ہوگا۔ اور اگر تکبر پید ا ہوگیا تو جنت میں داخلہ ممکن نہیں کیونکہ اللہ متکبر کو قطعا پسند نہیں کرتے۔
آگے ان متکبروں کی ایک اہم صفت بیا ن کردی کہ یہ لوگ چونکہ مال ، دولت، اولاد، جائدا د اور علم کے ملنے کی وجہ اپنی قابلیت سمجھتے ہیں تو پھر یہ اس نعمت کو بھی دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر یہ مال و دولت میں سے خرچ ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، پھر یہ علم ملنے کے بعد لوگوں کو حقیر جانتے اور پوچھنے والے کی تحقیر کرتے اور اسے اپنا علم شئیر کرنے سے بلاوجہ گریز کرتے ہیں۔ اور چونکہ یہ سوسائیٹی کے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو یہ اپنے رویے سے باقی لوگوں کے لیے بھی بخل اور کنجوسی او ر وسائل پر قابض ہونے کا رول ماڈل بنادیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ پلٹ گئے ہیں دوبارہ اسی حیوانی زندگی کی جانب۔ تو یہ پلٹ جائیں تو خدا بھی ان حیوانی زندگی کے شوقین لوگوں سے بے نیاز ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی تمام اچھی صفات والا ہے اور وہ کسی کی اطاعت و عبادت کا محتاج نہیں۔
آیات کا ترجمہ ہے:
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھُس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان کام ہے
یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے۔
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20؀
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21؀
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ 22۝ښ
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23۝ۙ
الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24؀


سورہ المنافقون کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ المنافقون کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
جب یہ دھوکے باز منافق تمہاری محفلوں میں آتے ہیں تو تمہاری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو۔ ان کی جھوٹی گواہی کے جواب میں اللہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں اور یہ تمہیں دل سے رسول نہیں مانتے

۔
یہ اپنے غلط کرتوتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے اور غلط سلط گواہی دیتے ہیں تاکہ اللہ کی سیدھی راہ سے لوگوں کو دھوکا دے کر بھٹکا دیں۔ انہیں پتا ہی نہیں کہ یہ کتنا برا کام کررہے ہیں جو ان کے اپنے لیے بھی تباہ کن ہے۔
یہ ایسا اس لیے کررہے ہیں کہ پہلے تو یہ بحالت مجبوری ایمان لائے ۔اور جب ان کو اس ایمان کے تقاضے پورا کرنے کو کہا گیا تو انکار کردیا۔اس سے ان کے ظاہر وباطن میں تضاد پیدا ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے گناہوں کی سیاہی نے ان کے دل کو پوری طرح گھیر لیا اور اس پر مہر لگ گئی۔ اب یہ حق کو سننے ، دیکھنے، جاننے ور ماننے کی صلاحیت کھوبیٹھے ہیں۔
ان کا ظاہر ی حال تو ایسا ہے کہ تم ان کی شکل و صورت ، جسم اورچال ڈھال دیکھو تو شاندارشخصیت کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاؤ۔ اگر یہ لوگ بولنا شروع کریں تو ان کی لفاظی اور جوش خطابت کو سحر زدہ ہوکر سنتے ہی چلے جاؤ۔ لیکن یہ تو لکڑی پر بنے نقش و نگار کی مانند ہیں جو دیکھنے میں نہایت حسین ہیں لیکن اندر سے بے روح اور بے جان ۔ یہ خوف کے مارے تمہاری بات چیت کرنے تک کو سمجھتے ہیں ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔ ان کی ظاہری شخصیت اور باتوں سے متاثر نہ ہوجانا، یہی اصلی دشمن ہیں، تو ان سے محتاط رہ کر بچتے رہنا اور ہوشیا رہنا۔عنقریب اللہ انہیں ہلاک کرے گا خواہ یہ بھاگ کر کہیں بھی چلے جائیں۔
ان کے نفاق کا اصل سبب تکبر ہے۔ جب ان سے کہاجاتا ہے کہ چلو جو ہوا سو ہوا، اب ماضی کو بھولو اور توبہ کرنے کے لیے چلو اللہ کے رسول کے پاس تاکہ وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں تو وہ تکبر سے اپنا سرجھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ معافی مانگنے سے رک جاتے ہیں کیونکہ و ہ اپنی اکڑ اور جھوٹی انا کو نہیں چھوڑنا چاہتے۔
اب وہ جس مقام پر پہنچ گئے ہیں تو اے نبی تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے اور اللہ بھی ان معافی نہ مانگنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا کیونکہ اللہ اس قسم کے متکبر اور انا پرستوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔
ان کے تکبر کا سبب مال ، اولاد اور اسٹیٹس ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ زمین کے خزانوں کے مالک یہی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا اور ان کو مالی امداد دینا بند کردو تاکہ یہ لوگ غریب اور نادار ہوکر رہ جائیں اور ہماری حکومت دوبارہ مدینے پر قائم ہو جائے۔یہ بے وقوف نہیں جانتے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام دولت اور وسائل کا اصل مالک تو اللہ ہے ۔ یہ خود کو ہی عزت دار سمجھتے اور تمہیں حقیر گردانتے ہیں۔ تو یہ جنگ سے واپسی پر اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ "اب ہم ہی مدینے میں رہیں گے کیونکہ ہم عزت والے ہیں اور اب ہم ان حقیر و نادار مسلمانوں کو نکا ل باہر کریں گے۔” یہ نادان جان ہی نہیں سکتے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ ہے اور اس نے یہ عزت اپنے رسول اور اپنے اوپر ایمان رکھنے والوں کے لیے خاص کررکھی ہے۔
تو اے(آج کے ) مسلمانو، سن لو، ان منافقین کی گمراہی کی وجہ تکبر اور انا پرستی ہے اور یہ گھمنڈ ان میں مال ، اولاد اور وسائل کی کثرت کی بنا پر آیا ہے۔ تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا شاندار مکان ، کار، بنک بیلنس، موبائل، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ، کپڑوں کی چمک دمک ، کھیت کھلیان، اعلی ڈگریاں، علم و فن کی مہارت،اولاد کی طاقت ، ماں باپ کی جائداد، بیوی یا شوہر کی شان و شوکت تمہیں خدا کی یاد سے غافل کردیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سب کچھ تم کو اس پرفریب تکبر میں مبتلا کردیں کہ یہ سب کچھ تمہارا ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ خدا کا ہے جو اس نے تمہیں کچھ وقت کے لیے امانت کے طور پر دیا ہے۔ تو اگر تم نے یہ سمجھا تو تم بھی ان مدینے کے منافقین کی طرح نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاوگے کہ ان کی دنیا بھی برباد ہوئی اورو آخرت بھی ہاتھ سے گئی۔
اس نفاق کے مرض سے اگر بچنا چاہتے ہو تو جو مال ہم نے علم ، صحت، وقت ، رقم یا کسی اور شکل میں تمہیں دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرواتنا خرچ کرو کہ اس کی محبت تمہارے دل سے نکل جائے۔ اور ہاں، جلد خرچ کرو اس سے قبل کہ موت آدھکمے اور تم یہ کہنے لگو کہ اے رب ، تو ہمیں اور مہلت دیتا تو ہم خرچ کردیتے۔ یاد رکھو جب موت کا وقت آتا ہے تو تو کسی کو مہلت نہیں دی جاتی اور اللہ جانتا ہے کہ تم موت سے پہلے کیا کیا کرتے رہے ۔


نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟


نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
نفاق کا مرض اتنا اہم ہے کہ قرآن نے اسے خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ سورہ بقرہ جو قرآن کی دوسری ہی سورہ ہے اس کے دوسرے رکوع میں ہی منافقین کا ذکر ہے اور ان کی کچھ خصوصیات بتائی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن نے جگہ جگہ منافقین کی جانب اشارہ کرکے ان کی نفاق کی علامات، اس کی وجوہات اور اس کا

علاج بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ توبہ، الحجرات ، سورہ احزاب اور سورہ حدید میں خاص طور پر منافقین کو خطاب کیا گیا ہے۔ آخر میں سورہ المنافقون میں تو سورہ کا نام ہی منفافقون رکھ کر اس اہم نفسیاتی مرض کی چند علامات، اسباب اور ان تدارک بیان کردیا جس کی تفصیل پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں نفاق کو مدینے کے منافقین کے ساتھ خاص کرکے اسے ایک ماضی کا قصہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ نفاق کا ہماری سوسائٹی سے کفر اور شرک سے بھی زیادہ تعلق ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارے ہاں اس بات کا امکان تو بہت ہی کم پایا جاتا ہے کہ ہم میں سے کوئِی علی الاعلان شرک کا کفر کا اظہار کرے۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر خدا کی توحید کی گواہی دے اور توحید کے تقاضوں پر عمل نہ کرے، وہ رسول کو مانے تو صحیح لیکن اس کے حکم سے روگردانی کرے، وہ قرآن کو خدا کی کتاب تو مانے لیکن کتاب میں جو لکھا ہے وہ پورا کا پورا نہ مانے ۔اپنے اندر کے ممکنہ نفاق کو جاننا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔
دوسری جانب نفاق خدا کو شدید ناپسند ہے یہاں تک کہ منافقین کے بارے میں قرآن میں بتادیا کہ یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے(سورہ النسا ء آیت ۱۴۵)۔ اس تناظر میں ہمیں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیےکہ کیا نفاق کیا ہے، اس کی کیا علامات ہیں، اس کے اسباب کیا ہیں اور اس مرض سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے؟ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم یہ سب اس لیے نہیں سیکھیں کہ ہمیں دوسروں کو منافق ثابت کرنا یا ان پر ان کے نفاق کو واضح کرنا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم سب سے پہلے اپنے اندر اس مرض کا جائزہ لیں اور بار بار لیتے رہیں ۔ کسی دوسرے کے نفاق بارے میں ہم صرف اسی وقت بات کریں جب وہ ہم سے دریافت کرے اور یا کوئی انتظامی یا معاشرتی مسئلہ درپیش ہو۔ اس تمہید کے بعد اب ہم نفاق پر کچھ گذارشات پیش کررہے ہیں جو سوال جواب کی صورت میں مختصرا بیان کی جارہی ہیں۔
سوال ۱۔ نفاق کیا ہے؟
جواب۔ نفاق قول اور فعل میں تضاد کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک شخص جو بات زبان سے کہے یا دوسروں سے جس بات کی توقع کرے اس پر استطاعت کے باوجودعمل نہ کرے۔ اس کی مثال مذہبی تناظر میں تو واضح ہے کہ ایک شخص کلمہ پڑھ لے لیکن خدا کو معبود کہنے کے باوجود اس کی اطاعت نہ کرے اور مسلسل نماز، روزہ حج، زکوٰۃ، زنا، شراب، جھوٹ جیسے گناہوں میں ملوث رہے۔ دوسری مثال سماجی ہے کہ ایک شخص لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کرے اور خود ان باتوں پر عمل نہ کرے۔ وہ فیس بک پر اچھی پوسٹیں لگائے لیکن اس کا عمل اس کے برخلاف ہو، وہ لمبے لمبے آرٹیکلز لکھے لیکن خود ان کی تعلیمات پر عمل نہ کرے ، وہ لوگوں کو سادگی کی تعلیمات دے لیکن خود پرتعیش زندگی گذارے ، دنیا بھر پر تنقید کرے اور خود کو ان معاملات میں کھلی چھوٹ دے دے وغیرہ۔
سوال نمبر ۲: کیا ہر قسم کی بے عملی نفاق ہے؟
جواب۔ نہیں ایسا نہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کسی بات کو دل و جان سے مانتا اور اس پر عمل کرنا چاہتا ہے لیکن قوت ارادی کی کمی کی بنا پر وہ عمل نہیں کرپاتا لیکن وہ دل سے ضرور براجانتا اور اسے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کو ہم نفاق تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ رویہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو نفاق بن سکتا ہے۔ مثال کے طور ایک شخص فجر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے لیکن نیند کی زیادتی کی بنا پر اٹھ نہیں پاتا تو ایسا کبھی کبھی تو گوارا ہے لیکن اگر کسی نے اپنا معمول ہی بنالیا ہو تو یہ رویہ نفاق کی جانب لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
سوال نمبر ۳: کیا منافقت صرف مذہبی معاملے میں ہی ممکن ہے یا اس کا دائرہ کار وسیع ہے؟
جواب: منافقت ایک نفسیاتی رویہ ہے اور یہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں ہوسکتا ہے۔ ایک شخص ضروری نہیں کہ کسی ایک میدان میں نفاق کا شکار ہو تو وہ باقی معاملات میں بھی نفاق کا شکار ہو۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے ایک شخص مذہبی طور پر نفاق کا شکار نہ ہو لیکن سماجی معاملات میں قول و فعل کے تضاد کا شکار ہو۔ وہ اپنے بچوں کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرتا ہو اور خود ان کے سامنے جھوٹ بولتا ہو۔ وہ لوگوں کو کرپشن سے بچنے کی تلقین کرتا ہو اور خود ہی کرپشن کا شکار ہو، وہ لوگوں کو والدین سے حسن سلوک کا کہتا ہو اور خود اس کا رویہ اپنے والدین سے برا ہو، وہ دیانت داری کا تقاضا کرتا ہو اور خود دفتری اوقات پورے نہ کرتا ہو ، وہ دوسروں سے توقع کرتا ہو کہ غریبوں کی مدد کریں لیکن خود ایک پائی بھی جیب سے نہ نکالتا ہو۔
سوال نمبر ۴: منافقت کی کیا علامات ہیں؟
منافقت کی علامات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔ سب سے پہلی علامت تو قول و فعل میں تضاد ہے یعنی جو زبان سے کہے یا لوگوں سے توقع کرے خود اس پر استطاعت کے باوجود عمل نہ کرے۔ البتہ چند اور علامات یہ ہیں:
۱۔ جھوٹ بولنا۔ چونکہ انسان قول اور فعل کے تضاد کا شکار ہوتا ہے یعنی جو وہ بولتا ہے تو وہ کرتا نہیں۔یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے ۔ تو پہلی علامت یہی ہے کہ قول و فعل کا تضاد ہونا۔جتنا زیادہ نفاق ہوگا اتنا زیادہ جھوٹ کا عنصر گفتگو میں بڑھتا جائے گا ۔
۲۔ وعدہ خلافی کرنا۔ اپنے قول پر عمل نہ کرنا دراصل اپنے ہی ساتھ وعدہ خلافی کرنے کی علامت ہے۔ چنانچہ ایک شخص جس میں نفاق جتنا زیادہ ہوگا وہ اتنا ہی وعدہ خلاف ہوگا۔
۳۔ امانت میں خیانت کرنا۔ چونکہ ایک شخص اپنے قول کی امانت کا پاس نہیں رکھ پاتا اس لیے وہ دوسروں کی امانت کا بوجھ بھی نہیں اٹھاپاتا۔
۴۔ جھگڑالو ہونا۔ ایک منافق شخص کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصل شخصیت کو لوگوں سے چھپائے۔ چنانچہ جب وہ شخصیت یا اس کا کوئی پہلو سامنے آجاتا ہے اور اس پر تنقید ہوتی ہے تو وہ بات کو گھمانے کی کوشش کرتا ہے اور جب اس میں ناکام ہوجاتا ہے تو آواز بلند کرکے جھگڑا کرتا اور بات کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
سوال نمبر ۵۔ ہمیں کیسے علم ہو کہ ہم مذہبی نفاق کا شکار ہیں؟
جواب : سب سے پہلے تو یہ جان لینا چاہیے کہ نفاق کا ٹیسٹ دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک عمومی حالات میں اور ایک خصوصی حالات میں۔ عمومی حالات میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دین کے جو بنیادی تقاضے جس میں نماز ،روزہ، حج ، زکوٰۃ، اسراف، بخل، نکاح و طلاق اور دیگر احکامات کے بارے میں دین کے احکامات پر عمل پیرا ہیں یا نہیں۔ اگر ہاں تو کس حد تک اور نہیں تو کس حد تک ۔ اگر ہمارا عمل ان تقاضوں پر عمل پیرا ہونے سے قاصر ہو تو جان لینا چاہیے کہ نفاق کے جراثیم موجود ہیں۔
اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اخلاقی معاملات میں کیا ہم دین کے تقاضے پورا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔ کیا ہم ماں باپ، بیوی بچے، رشتے دار اور دوست احباب سے ویسا ہی اچھا رویہ رکھتے ہیں جس طرح کا اچھا رویہ ہم ان سے ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو اخلاقی معاملات میں ہم نفاق کی جانب جارہے ہیں کیونکہ ہم زبان سے اور اپنے ایکشن سے تو کہتے ہیں کہ اچھا سلوک کرنا چاہیے لیکن جب خود ہم پر پڑتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
سوال نمبر۶: خصوصی حالات کے نفاق سے کیا مراد ہے؟
جواب : انسان عمومی حالات میں تو بہت شریف بن کر رہتا اور ایمان و اخلاق کے تقاضوں پر عمل کرتا ہی ہے ۔ چنانچہ اس کے باطن کے کھوٹ کو نمایاں کرنے کے لیے بعض اوقات اللہ تعالی خصوصی حالات پیدا کرتے ہیں جس سے اس کی اصل شخصیت سامنے آجاتی اور اندر کا نفاق ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص عام حالات میں بڑا مہذب ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن ٹریفک میں پھنستا ہے تو گالیاں بکنے لگ جاتا ہے۔ کوئی تنقید کرے تو بھڑک اٹھتا ہے وغیرہ۔ یا ایک شخص عام حالات میں تو خدا کی بندگی کا پابند رہتا ہے لیکن کوئی مصیبت آپڑے تو خدا کو دل ہی دل میں برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے۔ ایک شخص عام حالات میں تو ماں باپ سے احسان کرنے کے دعوے کرتا ہے اور جب ماں باپ کی جانب سے کوئی سخت لیکن قابل عمل تقاضا آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ خصوصی حالات کا نفاق ہے جس سے کامیابی سے گذرنا کافی مشکل کام ہے۔
سوال نمبر ۷۔ نفاق کے کیا اسباب ہیں؟
مختلف نفاق کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ کم ہمتی ۔ ایک شخص یا گروہ کسی سے شدید اختلاف رکھتا ہے لیکن کم ہمتی کی بنا پر اس اختلاف کو بیان نہیں کرپاتا تو وہ بظاہر ان سے اچھا رویہ رکھتا اور دل میں بغض یا نفرت رکھتا اور نفاق کا شکار ہوجاتا ہے۔
۲۔ حسد، نفرت، بغض۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص یا گروہ کی کی ترقی سے جلتا ہے تو اس کے دل میں شدید حسد پیدا ہوتا ہے۔ اس کی مثال مدینے میں عبداللہ بن ابی کی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداری کو دل سے تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔
۳۔ تکبر۔ نفاق کی ایک اور وجہ تکبر ہے۔ جب کوئی گروہ یا شخص آگے بڑھتا ہے تو ایک متکبر شخص اس کو دیکھ کر یہ خیال کرتا ہے کہ یہ ترقی تو مجھے ملنی چاہیے کیوں کہ میں زیادہ قابل ہوں، میرے پاس زیادہ مال، اولاد، بنک بیلنس ، جائداد، علم اور تقوی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے مخالف شخص یا گروہ میں کیڑے نکالتا اور ان کو حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
۴۔ قوت ارادی کی کمزوری۔ نفاق کا ایک اہم سبب قوت ارادی کی کمزوری ہے ۔ ایک انسان بار بار ایک بات کہتا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ عمل کرنا اور کوشش کرنا ہی ترک کردیتا ہے۔ یہیں سے نفاق کا مرض دل میں آنا شروع ہوجاتا ہے۔
۵۔ مفاد پرستی۔ اس کی بنا پر بھی ایک شخص کسی شخص یا گروہ سے ظاہری طور پر وابستہ ہوجاتا اور باطنی طور پر اختلاف رکھتا ہے تاکہ درپردہ اپنے مادی مفادات پورے کرسکے۔
۶۔ احساس کمتری۔ اس کی بنا پر ایک شخص دنیا کو وہ چہرہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو و ہ اصل میں ہوتا نہیں تاکہ اپنے احساس کمتری کو چھاسکے۔
۷۔ تساہل پسندی اور نفس پرستی۔ سستی کاہلی اور نفس پرستی ایک کمزوری ہے جسے چھپانے کے لیے انسان بہانے تراشتا اور اپنی شخصیت کے اس کمزور پہلو کو چھپانے کے لیے نفاق کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
سوال نمبر ۸۔ نفاق سے کس طرح نجات حاصل کی جائے؟
جواب۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم میں نفاق موجود ہے یا نہیں۔ اس کے لیے ہم خود سے بعض اوقات سچ نہیں بول رہے ہوتے اور اپنے نفاق کا خود ہی شکار ہوکر اپنے آپ ہی کو دھوکا دینے لگ جاتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں ایسے مخلص اور قریبی دوستوں کو تلاش کرنا چاہیے جو ہمیں جانتے ہوں اور ہمارے منہ پر ہماری کمزوری بیان کرنے کی جرت بھی رکھتے ہیں۔
جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہم میں کسی حد تک نفاق ہے تو یہ جانیں کہ کس میدان میں نفاق کا شکار ہیں؟ یہ مذہبی معاملہ ہے، اخلاقی، سماجی، معاشی، معاشرتی یا کوئی اور۔ اس کے بعد اس کے اسباب اپنی شخصیت میں دیکھیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس کے بعد ان اسباب کو دور کرنے کوشش کریں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں لیکن کچھ توجہ طلب ضرور ہے۔


دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
” تم لوگوں کو پتا ہے دنیا کا سب مشکل کام کیا ہے؟” ابلیس نے سوال کیا
” ابلیس اعظم ہی بہتر جانتے ہیں ۔” چوبدار کی آواز سناٹے میں گونجی۔

” غور سے سنو، کیا ایک ما ں کو اس کے بچے سے دور کرنا، اسے ناراض کرنا اور بچے پر غضب ڈھانے پر مجبور کرنا کوئی آسان کام ہے؟ بچے کی برسوں کی بدبختی اور نافرمانی بھی ماں ماں کو بچے سے دور نہیں کرپاتی اور ماں اس کی کوتاہوں سے درگذر کرتی رہتی ہے اور اپنی شفقت و محبت نچھاور کرتی رہتی ہے۔ ”
مجلس شوری میں سناٹا تھا اور ابلیس بے تابی سے ادھر ادھر ٹہل کر اپنا مضطرب بیان دے رہا تھا۔
” تو بتاؤ ، اگر ایک معمولی سی ماں کو اپنے بچے سے جدا کرنا اتنا مشکل کام ہے تو خدا ئے رب ذوالجلال کی شفقت کو بندوں سے دور کرنا کتنا مشکل کام ہے۔میری لاکھوں سال کی محنت، ریاضت اور کوششوں کے باوجود آج بھی خدا کی عنایتیں اپنے بندوں پر ہیں، وہ آج بھی ان کو پکار کر اپنی جانب بلارہا ہے، وہ آج بھی انہیں نت نئے رزق سے نواز رہا ہے، وہ آج بھی ان کی ضروریات کو پورا کررہا ہے، وہ آج بھی ان کواپنے بندوں کے ذریعے سیدھا راستہ دکھانا چاہتا ہے، وہ آج بھی ان کے باغیانہ رویہ کے باوجود اپنا حتمی عذاب نہیں بھیج رہا، وہ آج بھی آسمانی فرشتوں کو سکینت نازل کرنے کے لیے اتار رہا ہے۔”ابلیس غصے سے چیختا رہا۔
"میرا اصل مشن تم لوگوں کے بلندو بانگ دعوے سننا نہیں تھا، میں تو خدا کو انسانیت سے ناراض کرنا چاہتا تھا تاکہ انسان سے میرا انتقام پورا ہوجائے اور میں یہ ثابت کردوں کہ انسان واقعی اس قابل نہ تھا کہ میں اس کے آگے جھک جاتا۔ لیکن آج میں جیت کر بھی ہاررہا ہوں۔ خدا آج بھی انسانوں کی پشت پر کھڑا ہے اس کے باوجود کہ کہ ان ناعاقبت اندیشوں نے اسے ناراض کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ وہ کونسی حرکت ہوگی جو ان انسانوں نے نہیں کی لیکن خدا کا کامل غضب آج بھی نہیں بھڑکا ، آج بھی سورج مشرق سے نکلتا، سمندر کی لہریں اٹھکلیاں کرتی، بادنسیم کے جھونکے فرحت پہنچاتے، راتیں سکون آور بنتیں، آسمان سے پانی برستا اورزمین کے سینے سے سبزہ نکلتا ہے۔ ”
ابلیس کا بیان جاری تھا کہ ایک منسٹر اٹھا اور بولا
” اے ابلیس عظم، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے ناراض نہیں ہوتا، جبکہ وہ تو کہتا ہے میں جہنم کو جن و انسانوں سے بھردوں گا۔”
” یہی تو تم نہیں سمجھ رہے نا بھولے منسٹر، خدا بندوں سے ناراض ہوتا ہے ، ضرور ہوتا ہے لیکن طویل عرصے کے بعد۔ سن لو، انسانوں پر جو مشکلات اس دنیا میں آتی ہیں وہ تین قوانین کے تحت آتی ہیں۔ پہلا قانون آزمائش کا قانون ہے ، دوسرا قانون جزا و سزا کا قانون ہے اور آخر میں قانون غضب کا اطلاق ہوتا ہے۔
انسان پر جو مشکلات آتی ہیں ان کا ایک سبب قانون ارتقا ہے یعنی Law of Evolution ۔ یہ ڈارون کا قانون ارتقا نہیں بلکہ خدا کا قانو ن ارتقا ہے کے جس کے ذریعے وہ بندوں سے کھوٹ اور میل دور کرکے ان کا تزکیہ کرنا چاہتا اور ان کی شخصیت کو پروان چڑھانا چاہتا ہے ۔ جس طرح ایک بچے کو اگلی کلاس میں ڈالنے سے قبل پڑھایا جاتا اور پھر امتحان لیا جاتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اگلے درجے میں ڈالنے کے لیے آزمائش سے گذار اجاتا ہے۔
دوسرا قانون جزا و سزا کا قانون یعنی Law of Retribution ہے۔ اللہ تعالی بہت سے اچھائیوں اور برائیوں کا بدلہ اسی دنیا میں دیتے ہیں۔ ان میں سرفہرست مادی قوانین ہیں جیسے ایک شخص محنت کرے گا تو روزی کمائے گا نہیں کرے گا تو بھوکا رہے گا۔ چنانچہ انسان اپنے بعض اعمال کی مکمل یا جزوی سزا اسی دنیا میں بھگت لیتا ہے۔ تم لوگ جب مشکلات کو دیکھتے ہو انسانوں کی طرح یہ سمجھ لیتے ہو کہ خدا ناراض ہے، وہ غضب ناک ہوگیا ہے۔ نہیں ایسا نہیں۔ انسان پر جو مشکل آئی وہ قانون جزا و سزا کے اطلاق کی بنا پر آئی ہوتی ہے اور اس کا مداوا باآسانی اس کوتاہی کو دور کرکے کیا جاسکتا ہے۔”
” قانون غضبLaw of Destruction آخری اسٹیج ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں بچتا، سب کچھ تہس نہس ہوجاتا ہے، بستیاں اجڑ جاتی ہیں، کھلیان ختم ہوجاتے ، آسمان آگ برساتا اورزمین تنگ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ ناراضگی ہے جس پر خدا کی جانب سے آنکھوں ، دلوں اور کانوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ یہی وہ خدا کی ناراضگی ہے کہ جو جس فرد پر پڑتی ہے اس کی زندگی کے اس حصے کو برباد کردیتی ہے۔ ”
” یہ غضب کس طرح نازل ہوتا ہے حضور؟ اس کی کچھ تفصیلات سے آگاہ کریں تاکہ ہم اسی علم کے مطابق منصوبہ بندی کریں۔”ایک منسٹر نے استفسار کیا
” دیکھو! ایک انسان کی شخصیت ایک سفید اور خوبصورت نور یعنی روشنی کی مانند ہے جس میں رحمانی صفات موجود ہیں۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس نور پر سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے۔ اگر تو وہ اس کو توبہ سے دھوڈالے تو نور دوبارہ نمایاں ہوجاتا ہے اور اگر نہ دھوئے اور مزید گناہ کرتا رہے تو اس نور پر سیاہی غالب آنے لگ جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آزمائش کے قانون کے ذریعے کبھی کچھ مصیبتیں بھیجتے ہیں تاکہ وہ رجوع کرے اور اس کی سیاہی کم ہو۔ لیکن جب وہ باز نہیں آتا تو اس پر قانون جزا و سزا کا ااطلاق ہوتا ہے اور اس کے گناہ کے عوض اسے دنیا میں ہی جزوی یا کلی بدلہ دیا جاتا ہے تاکہ اس کا سیاہی میں لپٹا ہوا نوری وجود پاک ہوکر سامنے آجائے۔
لیکن جب ایک شخص خدا کی جانب سے بھیجی جانے والی تمام تنبیہات کو ماننے سے انکار کردیتا اور برائیوں سے بھری زندگی نہیں چھوڑتا تو پھر تو اس کا نور بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اب اس کی جگہ سیاہی لے لیتی ہے۔ اب یہ ایک شیطانی وجود بن جاتا ہے۔ اب اس وجود کی اصلاح ممکن نہیں رہتی کیونکہ گناہوں کی سیاہی نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ہوتا ہے۔ اس سیاہی کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پٹی پڑجاتی ہے اور اسے وہی دکھائی دیتا ہے جو اس کا سیاہ وجود دکھانا چاہتا ہو۔ اب وہ وہی سنتا ہے جو اس کے کالے کرتوت اسے سنانا چاہتے ہیں۔ اب وہ ایک ایسے گلاس کی مانند ہوتا ہے جو غلاظت سے لبالب بھرا ہو اور جس میں ہدایت کا شربت انڈیلا نہیں جاسکتا۔
یہ عذاب کی ابتدا ہے۔ اس موقع پر اس کے لیے دنیا کے دروازے کھول دیے جاتے، اس پر دنیاوی نعمتیں برسنا شروع ہوجاتیں، اور وہ اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں۔ اس شخص کو یہ لگتا ہے کہ خدا شاید اس سے راضی ہے ۔ اسی طرح دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ شاید خدا موجود ہی نہیں ورنہ اس جیسے ظالم اور جابر کو ضرور سزادیتا۔ ان بے چاروں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ خدا کے سخت عذاب میں مبتلا ہے ۔ یہ وہ خدا کے غضب کا ایک پہلو ہے جس میں وہ بندے کو نہ صرف چھوڑ دیتا ہے بلکہ پلٹنے کے دروازے بھی بند کردیتا ہے۔”
” تو کیا جو لوگ دنیا کی زندگی اچھی گزاررہے ہیں وہ سب اسی کیٹگری میں آتے ہیں؟”ایک وزیر نے پوچھا۔
” ارے نہین، ایسا نہیں۔ دنیا کی زندگی خواہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو اگر خدا کی مرضی کے تابع گذاری جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اس کیٹگری میں تو بے حد ظالم و جابر لوگ آتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں جان سکتا کہ کون دل پر لگنے والے عذاب میں مبتلا ہے۔ اس طرح یہ لوگ یوں تو زند ہ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں مردہ ہوتے ہیں”
” خدا کے غضب کا دوسرا اظہارقوموں پر ہوتا ہے۔ا س کا پہلا شکار پیغمبر کے مخاطبین ہوتے ہیں۔ جب وہ پیغمبر کا انکار جانتے بوجھتے کردیتے ہیں تو اس کے بعد ان وجودوں کو دنیا سے فنا کردیا جاتا ہے۔ اس کی دوسری مثا ل بنی اسرائل سے سمجھو جس نے خدا کو ناراض کیا اور خدا نے اس کو ذلت کے عذاب سے دوچار کیا اور ان پر کئی خارجی قومیں مسلط کیں۔”
” پیغمبر کی موجودگی کے باوجود بھی قانون غضب بہت دیر میں اپلائی ہوتا ہے۔ نوح علیہ السلام نو سو سال تبلیغ کرتے رہے، ان کی قوم کے لوگوں نے مذاق اڑایا، انہیں برا بھلا کہا، ان کی بات سننے سے انکار کردیا لیکن خدا نے اپنا غضب نہ ڈھایا۔ یہاں تک کہ جب اس قسم میں بالکل بھی جان باقی نہ بچی تو اس کے بعد اسے تباہ کیا گیا۔ یہی معاملہ عاد، ثمود،قوم لوط اور دیگر اقوام کا تھا۔ ”
” پتا ہے میرا مشن کیا ہے؟”
ابلیس اعظم نے پوچھا اور پھر خود ہی جواب دینے لگا۔
” میرا مشن یہ ہے کہ پوری انسانیت کو خدا کی نگاہ میں باغی قراردے دیا جائے اور معاملہ اس حد تک بڑھ جائے کہ خدا کا قانون غضب حرکت میں آئے تو اس سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے۔ خدا اس انسانیت کو اس کی بغاوت پر فنا کردے۔ اس سے ظاہر ہے جو نیک لوگ گذرگئے ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، البتہ اس دھرتی پر مزید خدا کے نام لیوا پیدا نہیں ہوپائیں گے اور میرے حسدو انتقام کی آگ شاید ٹھنڈی ہوجائے۔”
سب لوگ سرجھکائے ابلیس کی تقریر سن رہے تھے۔
” یہی ہمارا مقصود ہے، یہی ہمارا مشن ہے کہ انسان خدا کی اتنی نافرمانی کرلے کہ خدا اس سے ناراض ہوجائے اور اس پر غضب ناک ہوجائے ۔وہ ان سے دور ہوجائے، وہ ان سے منہ موڑ لے، وہ ان کو قانون ارتقا اور قانون جزا وسزا کی بجائے قانون غضب جکڑ لے۔ تم لوگ جو کچھ کررہے ہو وہ زیادہ تر قانون ارتقا یا قانون جزا میں آتا ہے لیکن قانون غضب کا اطلاق بہت کم ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا بہت شفیق ہے، وہ ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، وہ انہیں مہلت دیے جارہا ہے، وہ انہیں مسلسل نافرمانیوں پر نہیں پکڑتا، وہ انہیں پلٹنے کا موقع دے رہا ہے، تمہاری سب کوششوں اور چالوں کے باوجود وہ انہیں اب بھی بلارہا ہے۔”
تو پتا ہے دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟”
ابلیس اعظم نے اپنے منسٹرز کی جانب نگاہ دوڑائی اور جواب نہ ملنے پر خود ہی بولنے لگا۔
بے وقوف انسان یہ سمجھتا ہے کہ خدا بائی ڈیفالٹ ناراض ہےا ور اسے راضی کرنا مشکل ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا اصل میں ناراض نہیں اور اسے ناراض کرنا ہی مشکل ترین کام ہے۔تو جان لو کہ دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
دنیا کا سب سے مشکل کام ہے خدا کو ناراض اور غضب ناک کرنا۔ اور جب وہ وہ غضب ناک ہوجائے تو اسے راضی کرنا دوسرا مشکل کام ہے۔”
” یہ کام کس طرح ہوگا اے عظیم شیطان؟” چوبدار نے پوچھا
” یہ کام کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی ہے، انسان کو قانون غضب کے نرغے میں لانا ہے اور یہ کام موت سے پہلے کرنا ہے کیونکہ موت کے بعد ہمیں نہیں پتا کیا ہونے والاہے۔ ایک ایک انسان کو ٹارگٹ کرنا ہے، اس کو ہر اس پہلو سے خدا کی نافرمانی پر مجبور کرنا ہے جس سے خدا اس سے ناراض ہوجائے۔ ایک وقت آئے گا کہ ہم اپنا مقصد حاصل کرلیں گے اور زمین کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور آخرت میں بھی جہنم میں یہی لوگ ہمارے ساتھ ہونگے۔”


علم – شیطان کا ایک ہتھیار


علم – شیطان کا ایک ہتھیار
ڈاکٹر محمد عقیل
” حضرت! میں بہت زیادہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں، بہت زیادہ” میں نے کہا۔
"تو حاصل کرلو، کس نے روکا ہے؟” حضرت نے جواب دیا
"جناب مسئلہ یہ ہے کہ علم بعض اوقات تکبر پیدا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہی سب کچھ نہ ہو جو شیطان کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنے علم کے زعم میں خدا کے

سامنے کھڑا ہوگیا؟”
” ہممم۔۔۔۔۔ اس کے دو طریقے ہیں۔”
” وہ کیا ؟”
” پہلا یہ کہ جو کچھ علم حاصل کرو، اس کی تمام اچھائیوں کو من جانب اللہ سمجھو۔ ہر اچھی کوٹ، آرٹیکل یا کتاب لکھو تو اس کے اچھے پہلووں کو من جانب اللہ سمجھو۔اس کا سارا کریڈٹ خدا کے اکاؤنٹ میں ڈال دو۔ اس سے ملنے والی تعریفوں پر یوں سمجھو کہ لوگ تمہاری نہیں بلکہ اس خدا کی توفیق کی تعریف کررہے ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ۔”
” بہت عمدہ بات کہی آپ نے حضرت!، دوسری ہدایت کیا ہے؟”
” دوسری ہدایت یہ کہ جب کسی کو علم سکھاؤ تو استاد نہیں طالب علم بن کر سکھاؤ۔ اس کو سمجھانے کی بجائے اس سے طالب علم بن کر سوال کرو۔ اس کے سوالوں کے جواب ایک طالب علم کی حیثیت سے دو۔ اپنی کم علمی اور غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرو۔ اس طرح تم خود کو عالم نہیں طالب علم سمجھو گے اور تکبر پیدا نہیں ہوگا۔
” بہت شکریہ حضرت! آپ نے بہت اچھے طریقے سے بات کو سمجھایا۔”
"یاد رکھو ! علم وہ ہتھیار ہے جس کا غلط استعمال خود کو ہی ہلاک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ شیطان سب سے آسانی سے عالموں ہی کو پھانستا ہے۔ پہلے اسے یہ یقین دلاتا ہے تم تو عالم ہو، تمہیں سب پتا ہے۔ جب سب پتا ہے تو یہ کل کے بچے تمہارے سامنے کیا بیچتے ہیں؟ اس کے بعد لوگوں کو حقیر دکھاتا ہے ۔، لوگوں کے لائکس اور واہ واہ کو استعمال کرکے انسان میں تکبر ، غرور اور انا کو مضبوط کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود کو عقل کل سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر اپنی اور دنیا والوں کی نظر میں عالم اور متقی نظر آتا ہے، لیکن خدا کی کتاب میں اسے "ابوجہل” لکھ دیا جاتااور فرشتوں کی محفل میں اسے شیطان کا ساتھی گردانا جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔”


رمضان کی تیاری


السلام علیکم
آپ سب کو رمضان مبارک۔ اللہ تعالی اس رمضان کو ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں۔
رمضان میں ہم سب کو کچھ اہداف ضرور مقرر کرنے چاہئیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ اپنا احتساب کرنا- اس کا مطلب ہے کہ ہم اب تک گذری ہوئی زندگی کا جائزہ لیں اور اپنی شخصیت کا SWOT تجزیہ کریں۔ یعنی اپنی شخصیت کی طاقتور اور کمزور پہلووں کو جانیں اور ساتھ ہی وہ مواقع اور خطرات بھی بیان کریں جو ہمیں دین پر چلنے میں پیش آسکتے ہیں۔ یہ کام لکھ کرکریں تو زیادہ بہتر ہے۔
۲۔ قرآن سے تعلق بڑھائیں۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور کم از کم ایک مرتبہ قرآن ترجمہ سے پڑھ لیں۔ اگر پڑھ نہ پائیں تو ترجمہ ہی سن لیں۔قرآن کا ترجمہ اس لنک پر اچھا دیا ہوا ہے۔
http://www.quranurdu.com/quran_ss/
۳۔ آئیندہ زندگی کے لیے لائحہ عمل تیار کریں کہ اب تک ہم سے جو کوتاہیاں ہوئیں ان کو کس طرح دور کرنا ہے۔
۴۔ کم از کم ویک اینڈ میں تہجد ضرور ادا کریں۔ اس میں رکعتوں کی تعداد پوری کرنے سے زیادہ صرف بیٹھ کر اللہ تعالی سے باتیں کریں، اس کی نعمتوں کا تصور کریں، اس کے جلال پر غور کریں۔ اس کی صفات پر غور کریں اور دنیاوی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اللہ کی خالص حمد و ثنا بھی کریں۔
۵۔ ہر ہفتے یہ جائزہ لیں کہ ہم نے ایک ہفتے میں کیا کھویا اور کیا پایا۔
اس ضمن میں اس لنک پر موجود ورک بک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے:
https://aqilkhans.files.wordpress.com/…/ramazan-workbook.pdf


سورہ الناس کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الناس کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
تم اپنے شرارت کرنے والے نفس سے کہہ دو، بہکانے والنے انسانوں کو بتادواور وسوسہ ڈالنے والے جنوں کو اعلان کردو کہ میں تم سب کے بہکاووں کے مقابلے میں

تمام انسانوں کے پالنے والے کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ پناہ جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ قوی ہے۔ و ہ پناہ جو بالکل محفوظ و مامون ہے، جس کے ارد گرد فرشتوں کے پہرے ہیں اور جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا بادشاہ ہے اور میرابادشاہ اپنے غلام کی حفاظت خوب جانتا ہے۔ یہ اس کی پناہ ہے جو تمام انسانوں کا معبود ہے اورمیرا معبود اپنے بندے کو بچانا خوب جانتا ہے ۔
میں اپنے آقا کی امان میں ہوں ہر اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو دلوں میں جنس ، فساد، حسد، بغض، عداوت، انتقام، مایوسی، الحاد ، بے چینی اور ان گنت منفی خیالات پیدا کرتا ہے۔یہ وہ دشمن ہے جو دوست بن کر وار کرتا ، دل ہی دل میں خیالات پیدا کرتا اور کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا ۔یہ دشمن جنات یعنی چھپی ہوئی طاقتوں کے روپ میں بھی ہے جو نظر نہیں آتا ۔ یہ دشمن شریر انسانوں کی شکل میں بھی ہے جواصلاح کے نام پر فساد پھیلاکر چلا جاتا ہے۔ یہ دشمن میرے نفس کی صورت میں بھی ہے جو خواہشوں کی ہوس میں غلط کام کرنے پر اکساتا ہے۔
پس سن لو ، تم سب مل کر بھی کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ میری پشت پر میرا بادشاہ کھڑا ہے اور وہی میری امان ہے، وہی میری پناہ کا حصار۔


سورہ الفلق کا خلاصہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ الفلق کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والوں سے کہہ دو ، رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو بتادو، کالے علم کرنے والے شیطانوں کو خبردار کردو، حسد کی آگ میں جلنے والوں کو سمجھادو کہ میں تو اپنے بچانے والے آقا کے قلعے میں پناہ لے چکا ہوں۔ یہ اس حکمران کی پناہ کا قلعہ ہے

جس کی حکومت ہر چاند ، سورج، زمین آسمان، رات دن سب پر ہے۔ یہ وہ پالنے والا ہے جو رات کی تاریکی کو چیر کر صبح کا کا اجالانمودار کرتا ہے۔
میں ہر نقصان پہنچانے والی شر کی تمام مادی قوتوں کے مقابلے میں اسی حاکم کی پناہ میں ہوں۔ میں اندھیرے آپڑنے والی مصیبت، بیماری، چوری، ڈاکہ زنی ، شب خون، لوٹ مار، تشدد، زنا ، شراب نوشی اور تمام برائیوں سے اسی کے مضبوط حصار میں ہوں۔ میں جادو ٹونے، کالے علم ،سفلی عمل، جھاڑ پھونک اور شیطانی عملیات جیسی تمام غیرمادی شرارتوں سے بھی اسی ہستی کی امان میں محفوظ ہوں۔
میں اس شخص کی سازشوں سے بھی خدا ئے رب ذوالجلال کی پناہ میں ہوں جو میری کامیابی سے جلتا ہے اور چاہتا ہے مجھ سے سب کچھ چھن کر اس کو مل جائے اور اگر اسے نہ ملے تو مجھ سے تو چھن ہی جائے۔وہ جو میرے نقصان پر خوش ہوتا اور خوشی پر افسردہ ہوتا ہے۔
بس اے دن کے اجالے میں نقصان پہنچانے والے شریرو! رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والی تاریکیو! شیطانی عملیات سے نقصان پہنچانے والے شیطانو! میری خوشیوں پر جل جانے والےنادانو! میں تو تمہارے ہر طرح کے شر سے اس پرورش کرنے والے کی حفاظت میں ہوں جس کی امان میں جب کوئی آجائے تو ساری مخلو ق بھی مل کر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ڈاکٹر محمد عقیل


Pages