کوثر بیگ

دلدل

آج ایک فورم پر دلدل عنوان  پر لکھنے کہا گیاتھا میری تحریر آپ سب سے شئیر کررہی ہوں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر وہ کام ہر وہ چیز جو غلط راہ پر ہمیں لے جائے اور غلط کو غلط سمجھنے کی تمیز ختم ہوجائے۔ اس کے عادی ہوجائیں تو میں اسے ایک دلدل کی طرح سمجھتی ہوں جس سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہےمگر ناممکن نہیں  ۔ جس کا ذکر حدیث قدسی میں بھی کیا گیا ہے " رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور معافی مانگ لیتا ہے تو یہ سیاہ دھبہ مٹا دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اس گناہ کا اعادہ کرتا ہے تو سیاہ دھبوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھاجاتا ہے، بس ہمیں توبہ استغفار سے گناہوں کے دلدل سے نکلنے کا راستہ دیکھایا گیا ہے پس ہمیں توبہ استغفار کرتے رہنا چاہئے ۔
اسی طرح رشتے بھی بعض وقت دلدل بن جاتے ہیں ۔ جب ان میں حسد، جلن ، غرور ، بغض ، جھوٹ اور بد اخلاقی آجاتی ہے ۔ اس کو محبت ، مروت ،احسان اور خوش اخلاقی سے انہیں  دور کرسکتے ہیں مگر جب اس کے لئے دل بہت بڑا کرنا ہوگا عفو درگزار سے کام لینا ہوگا ۔ تب ہی ہم اس مہلک دلدل سے نکل کر اتحاد و خیر کا سلوک رائج کرسکے گے ۔

مال و زر کی کمی اور زیادتی بھی  کبھی کبھی برائی کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے جیسے زیادہ مال اکثر تکبر، حرص ، ناانصاف بدتمیزبنادیتا ہے اور غربت کبھی چور خیانت اور حق تلفی کی راہ پر ڈال دیتی ہے ۔ 
دنیا کیا ہے ؟ ایک آزمائش کی جگہ ہے یہاں ظاہری و باطنی آنکھیں کھول کر ہمیں جینا ہوگا اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کرنی ہوگی  ۔ جس طرح دلدل میں بھی کنول کا پھول کھلتا ہے اسی طرح دنیا میں رہ کر دنیا کی ہر برائی سے بج کر کنول کے پھول کی طرح پاک صاف دیدہ زیب بنے رہنا چاہئے

کالی زلف


کالی زلف
ایک زمانہ تھا شاعر کسی نازنین مہ جبین کو دیکھتے تو ان کے چہرے و رخسار کے بعد نظر کالی زلفوں پر جاتی اور وہ قصیدے پڑھنے لگ جاتے وہ اسے کبھی وجہ بہار کہتے تو کبھی اسے رات سے تشبہ دیتے اور کبھی گھٹا بنا دیتے جیسے یہ شعرکھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پرچھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پر
  کالی زلف عاشقوں کے لئے بھی بہت اہم ہوا کرتی تھی ان کی عین خواہش ہوا کرتی کہ محبوبہ کے زلف کے سایہ میں شام کرلیں بلکہ عمر تمام کرلیں وہ چاہتے کہ محبوبہ کے بڑے گھنے سے زلف ہوں بس  انہیں در و دیوار سے کیا مطلب کون محنت کریں گھر بنائیں مشقت اٹھائیں  بس خیالوں کی دنیا بسا کر اس میں کالی دراز زلف کی چھاؤن میں پڑے رہیں ۔ پھر جب دنیا اور دنیا کے حالات کے سامنے کا وقت آئے تو کہنے لگے  ۔بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تیرے زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے 
نہ اب وہ شاعر رہے نہ عاشق اور کالی زلفوں کے دیوانے آپ حیرت سے اس جملہ کو کیوں دیکھ رہے ہو میں نے سچی بات کی ہے نہ اب کوئی اسے سانپ کی طرح ڈستا دل پر محسوس کرتا ہے نہ لہرا کر چلنے پر کوئی کالی زلف کےساتھ ساتھ خود کے من کو لہراتا خیال کرتا ہے نہ اس کے چھٹکنے سے موتیوں کے ٹوٹنے کا گمان کیا کرتے ہیں  اور نہ زلف کے سنوارنے اور بگڑنے سے محبوب کے حال کا پتہ چلتا ہے ۔ بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئیمیں بھی شریک ہوں تیرے حالِ تباہ میں 
 عورت جو اپنے زلفوں کو بڑھانے محبوب کو پھنسا نے کبھی زلفی ائیر آئل ڈالتی تو کبھی شیکاکائی سے بال دھوتی کبھی خوشبوں کے شیمپو سے زلف صاف کرتی اپنے زلف کو سنوارتی سجاتی خوبصورت رنگ کرتی خوبصورت زیورات سے آراستہ کرتی  غریب بھی ہوتی تو پھولوں سے سجا تی مہکاتی مگر آج کی خواتین آزادی کے ساتھ ساتھ اب وہ پردہ کی طرح زلف کی زنجیر سے بھی آزاد ہوگئی ہیں اب انہیں ان ترکیبوں کی ضرورت نہیں رہی انہوں  نے دراز زلفوں کو کمر تک پھر شانوں تک اور اب کانوں تک لے آئی ہیں انہیں اب محبوب کے خوابوں میں رہنا نہیں ہے بلکہ اب انہیں محبوب کے خوابوں کو کھولی آنکھوں سے پورا کرنا ہے ان کا خیالی نہیں بلکہ عملی ساتھ دینا ہے ۔ اب نہ ان کے پاس اپنی کالی زلفوں کی پیچ و خم دور کرنےوقت ہے اور نہ سنوارنے وقت ہے محبوب کے لئے سجنے سنوارنے کی حاجت تو نہیں رہی وہ ویسے ہی دامِ الفت میں گرفتار رہتا ہے ۔ اگر کسی خاص موقعوں و محفل پر ضرورت محسوس بھی ہوئی تو خود کو سجانے سنوارنےکی تو  چند ٹکوں میں  بیوٹیشن  یہ کام آپ کے لیے کردے گی ۔ دنیا کی روش دیکھی ہے تیری زلف دوتا میں بنتی ہے یہ مشکل سے بگڑتی ہے ذرا میں
میرے زمانے کے والدین بھی عجیب تھے وہ شاعری عاشقی سے ہمیں بہت دور رکھتے امی ،حضرت ایوب کا قصہ سناتی جس میں ان کی بی بی ایوب علیہ سلام کے واسطے اپنے بالوں کو انکے سہارے کےلئے پیش کرتی تھی اور پھر ایک دن ایوب علیہ السلام کی بھوک مٹانے ایک عورت کو اپنے بال فروخت کردیتی ہیں ۔ ہمیں وفا اطاعت فرمانبرداری کےلئے ایسے قصوں سے عملی زندگی کےلئے تیار کیا جاتا تھا اور رات دن بابا ہمیں عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم  کو ہمارےسینے میں بھرنے کی کوشش کرتے ۔ آپ کے معطر جسم و گیسو کی تعریف کرتے کالی زلفوں پر قربان جانے کا درس دیتے جن کے زیر سایہ قیامت کے دن رہنے کی دُعایں مانگی جاتی  ۔۔ ہماری دونوں جہاں کی زندگی سنوارنے میں والدین کا بڑا حصہ ہوتا تھا ۔ کیا ہم بھی اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر رہے ہیں ؟؟؟ خیر چلیں اب دعا پر یہ مضمون ختم کرتی ہوںاللہ پاک ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی دے

ماں بیٹے کی نوک چھونک

 پہلے زمانے میں دکن کی خواتین حیدرآبادی محاورات استمعال کیاکرتی تھی اسی کو یاد( کرکے یہ لکھی ہوں پسند آیا کہ نہیں بتائیں )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں بیٹے کی نوک چھونک

کام سے تھک کراماں نے پانی کی ضرورت محسوس کی تو خود سے بڑبڑانے لگی باندی جگ کے پاواں دھوتی اپنے نئیں دھوتی
ارے اماں آپ کیوں اکیلی کام کرتی ہیں شازیہ سے کہا کریں نا وہ مدد کرے گی بیٹے نے کہا
ہوں (زور سے سانس لیتے ہوئے)نکّوماں نکوّ بڑی ماں کو بلاو ھنڈی میں ڈوئی ھلاو ۔ اماں نے طنز سے کہاایسا کیوں کہتی ہو اماں وہ ایسی نہیں ہے۔
اجی ساون کے اندھے کو ہرا ہی سوچھتا ہے۔ اماں نے پھر جل کر کہااماں اب ایسا کیا کہدیا میں نے جو یوں برا مان رہی ہو ؟
ہاں ہاں مئچہ(میں ہی ) ُبری ہوں نا وہ کیا کہتے ہیں چھلنی جاکے سوپ سے بولی تیرے میں کتنے چھید

آپ سے شازیہ کے بارے میں کچھ کہنا ہی نہیں تھا اماں مجھے
ہووں( ہاں )بیٹا اندھا ریوڑیاں اپنوں کو بانٹتا ہے نا

افف فوہ ماں جب سے شادی کی ہے تب سے آپ نے مجھے بھی غیر سمجھا ہوا ہے۔
ہاں بیٹا ،شادی کے لڈو کھائے تو پچتھائے اور نہ کھائے تو پچھتائے
تو پھر آپ ہی بتائیں میں کیا کرو اب ؟
جو اب کرئیں وہچہ(وہ ہی)کرو ۔اپلیاں ڈوب رئیں پتھرے تیرئیں۔ اور کیا
اماں اب بس بہت ہوگیا ہم الگ ہوجائیں گے۔
ارے مجھے پتہ ہے تم لوگ تو یہ چہ چاہ رئیں۔( یہ ہی چا ہتے ہیں) دادا مریں گے بیل بٹیں گے۔
آپ کچھ بھی کہہ لیں اب نہیں رہنا ہمیں
ارے جا ! میں بھی دیکھتئوں(دیکھتی ہوں) دونوں الگ کیسا رہتئیں(رہتے ہیں)دونوں کو دمڑی کی آمدنی نئیں گھڑی بھر فرصت نئیں
جب اماں نے احساس دیلایا تو بیٹے نے دل ہی دل میں اپنی بیوی کی خوبیاں کو یاد کیا تو خیال آیا کہ سر منڈائے تو اولے پڑے والی بات نہ ہوجائے اس لئے بنا کچھ کہے اماں کے پاوں دبانے لگا۔
اماں نے سوچا کہ آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے لاگ دستِ قدرت میں







میرے بلاگ کی یہ سوویں ( 100) پوسٹ ہے اوراس میں بہت خوشی سے یہ خبر دے رہی ہوں کہ  کئی روز بیتابی سے  انتظار  کرنےکے بعد رمضان رفیق بھائی کی  کوشش اور مہربانی سے پوسٹ کے ذریعہ بے لاگ میرے ہاتھوں تک پہچ گئی ۔۔۔۔جس خلوص و خیال اور جدو جہد سے رمضان بھائی نے ارسال کی ہے اس کے لئے شکریہ کہنا بہت کم ہوگا اللہ ہی ان کو جزائے خیر دے ۔
بچوں نے فون پر جب مجھے بتایا کہ آپ کا پارسل آیا ہے تو میری بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا پھر جب بے لاگ میرے ہاتھوں میں آئی تو بیٹے نے جلدی سے رمضان بھائی کو میسج دینے کہا مگر میں تواسے ایسا الٹ پلٹ کردیکھ رہی تھی جیسے کسی نے پہلی بار کوئی کتاب دیکھی ہو۔ جب کھول کر مطالعہ کیا تو اپنے سارے بلاگرز بھائیوں بہنوں کے نام ستاروں جیسے جگمگا رہے تھے ایک کے بعد دیگر سب کے تحاریر پڑھتی رہی بہت خوشی کا احساس چھایا رہا جن  کو نیٹ پر پڑھنے  ڈھونڈ کرگھورنا پڑتا تھا انہیں ایک جگہ پاکر اچھا  لگ رہا تھاہر ایک کا مضمون بہت خوب ہے کوئی نصیحت کررہے ہیں کوئی اپنے بلاگ کے بارے میں بتارہے ہیں تو کوئی اپنی یادیں اور کوئی تجربہ شیئر کررہے ہیں کوئی اپنا علم بانٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ کئی بلاگرز کے یہ تحاریر کا مجمع قابل تعریف ہے جو انہوں نے اپنے دماغ اور قلم کی صلاحیتیں کو روبہ عمل لاکر بلاگ پرصرف کررہے ہیں یہ ایک اچھا قدم ہے اس طرح ہم بلاگرز کے تحاریر محفوظ بھی ہونگے اور ہمارے فکری و فنی نظریہ عام بھی ہوگا ۔اب کی طرح ہمارے بلاگرز کے محدود قارئین نہیں رہنگے اس نا چیز کو بھی بے لاگ میں شامل فرما  یا گیا ہے، ممنون ہوں ۔


ہرچھ ماہ بعد یا ہر سال یہ سلسلہ چلتے رہنا چاہیے بیشک رمضان بھائی ،خاور بھائی ،ساجد بھائی،زاہد بھائی اور دوسرے احباب کو مسائل اور دشواریاں کا سامنا ہوا ہوگا مگر ایک بار اس نیک کام کی باگ ڈور سنبھالی ہے تو اسے آگے بھی ضرور نبھائیں اپنے احباب کے دلوں کو خوشی اور چہرے پر مسکراہٹ دینا کوئی معمولی کام نہیں ۔  اس تعارفی ایڈیشن میں جو بلاگرز غیر حاضر ہیں آگے وہ بھی آپ کے ساتھ ہونگے اور خوب سے خوب تر کی طرف گامزان رہنگے ۔ان 
شاءاللہ

میری طرف سے اشاعت میں مدد کرنے والے اسے سپلائی کرنے والے خریدنے اور پڑھنے والوں کا دلی شکریہ ادا کرتی ہوں اور ڈھیروں دعائیں آپ سب کےلئےمیری جانب سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوہرے جذبات


السلام علیکم 
کل دواخانہ کے انتظار گاہ کی رکھی کرسی پر بیٹھی وقتاً فوقتاً اپنے فون کو کھولتی دیکھتی پھر بےچینی سے آپریشن تھیٹر سے ہر آنے جانے والے پر چونک کر نظر ڈالتی رہی اپنے آنے والے نومولود پوتے کی آمد کی سرتا پا منتظر تھی کہ سیل فون نے فیملی گروپ پر اطلاع دی کہ میرے ایک بہت ہی عزیز رشتہ دار نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے تو میں ایک عجب تجریدی کیفیت میں گرفتار ہوگئی کبھی آنے والے بچے کے لئے پیار اور آمد کی خوشی ہوتی تو کبھی اپنے عزیز کی رحلت کا غم امڈ آتا ان کی یادیں نظر کے سامنے محسوس ہوتی ہمارا ان سے ایک نہیں تین تین رشتے تھے پھر میرے والدین کے اور انکے والدین میں بلا کا میل ملاپ خلوص تھا ہم ان کے گھر پچپن سے جاتے ان کی وہ بچپن کی سمجھداری سے کی گئی شراتیں لطیفہ گوئی مختلف آوازیں نکلنا ہنسنا باتیں کرنا پھر بڑے ہوکر بہت ہی بردبار مہذب بے حد با اخلاق ملنسار اپنے والدین کے نقش قدم پرچلنے والے انسان کی زندگی گزارتے دیکھنا پھر ایک طویل عرصہ موت سے لڑنا اور ایک لفظ بھی شکایت نہ کرنا سب کچھ یاد آتے اور دل کو مغموم کرتا رہا ۔۔۔

 مجھے احساس ہوا کہ یہ دنیا ایک راستہ ہے ہر انسان ایک پلیٹ فورم  سے آتا ہے زندگی کا سفرگزار کر دوسرے پلیٹ فورم پر انتطار کے لئے چلے جاتا ہے کوئی اس سفر میں زیادہ عرصہ ساتھ رہتا ہے تو کوئی جلدی چلا جاتا ہے بس ہماری نظر تو اس منزل پر مرکوز ہونی چاہئے جہاں ہمیں مستقل رہنا ہے۔ نومولود کو گود میں لے کر میرے دل سے یہ ہی دعا نکلی کہ اللہ اسے نیک اور صالح بنا دنیا کی سختی اور آزمائیش سے بچائے دونوں جہاں کی کامیابی عطا کر ۔۔۔۔    

یہ تو سنا اور دیکھا تھا کہ انسان دوہرے چہرہ اور رہن سہن رکھتے ہیں مگر اپنے اندر اٹھنے والی خوشی اور غم کے احساس و خیالات کو محسوس کر کے  اپنی خود کی حالت پر حیرت ہوئی کہ اللہ نے انسان کو کیا بنایا ہے وہ ایک وقت میں الگ الگ جذبات خود میں بہت خوبی سے سما سکتا ہے ۔ تمام تر تعریف کے قابل اللہ واحدکی ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پاک  ہے ۔
۔

دھبہ اور زخم ۔۔ منی افسانے





السلام علیکم
یہ چھوٹے چھوٹے دو افسانہ میں نے اردو افسانہ فورم کے اردو فلیش فکشن2015 کے لئے لکھے تھے۔


دھبہ

جب سے مالکن میکہ گئی ہیں مجھے  پرہی گھر کے سارے کام آن پڑے ہیں  یہ صبح صبح صاحب کو اٹھانے کا کام تو سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔ بھگوان کرے کے مالکن جلد سے جلد واپس آجائے اور میری جان چھوٹے ۔۔۔۔۔ رامو منہ ہی منہ بڑ بڑاتا ہوا پھر  بیڈ روم کا دروازہ کٹکٹانے لگا  ۔  اندر  سے صاحب نے نیند سے بھرے لہجہ میں" ہاں ہاں رامو " کی آواز لگائی تو رامو جواب پاکر اطمینان کی سانس لی
ناشتہ کی میز پر بیٹھے بڑے صاحب نے لقمہ منہ میں لیتے  ہوئے اخبار دوسری طرف سرکاتے رامو سے کہنے لگے "ارے او رامو ذرا دیکھ تو آنا عبدل نے گاڑی تیار کی یا نہیں اورہاں  ڈرائیور کو بھی دیکھ لیں " رامو دوڑتے جاکر دوڑتا الٹے پاوں بھاگتا آیا اور اطلاع دی کہ صاحب عبدل تو بیمار ہے بھٹی بخار میں تپ رہا ہے آج وہ گاڑی کو صاف نہیں کرسکے گا ۔رامو اس کا بیٹا اب کچھ بڑا ہوگیا ہے نا اس سے کہو کہ اپنے باپ کا کام آج وہ  انجام دے باہر اس سے چھوٹے بچوں کو بھی میں نے گاڑی صاف کرتے دیکھا ہے ۔جی صاحب ابھی بول کر حاصر ہوتا ہوںچھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے عبدل کے بیٹے نے گاڑی خوب چمکائی آج وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے بیمار باپ کی مدد کی تھی اور اسے یقین تھا کہ بڑے صاحب بھی دیکھ کر ضرور اس کے کام کو پسند کرینگے ہو سکتا ہے کہ اس پہلے کام کا انعام بھی دیں اسی آس میں وہ وہی کھڑا رہا  بڑے صاحب کو آتا دیکھا تو اس نے  آگے بڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا ۔بڑے صاحب نے کراہیت کے انداز سے اس کو دیکھا اور چھڑک کر  زور سے کہا "اے لڑکے دور رہے گاڑی سے ! دھبہ لگ جائیگا" اور پھر ہاتھ بڑھا کر ڈور لگا لیا ۔۔۔۔۔  لڑکا اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔321زخم


  رتنا ایک پڑھی لکھی آزاد خیال لڑکی تھی   سونے پر سہاگہ وہ اپنے گھر کی اکلوتی  بیٹی بھی تھی ۔ وہ  صنف مخالف کی زیادتی پر  مزحمت کے بعد خود کو پرسکون محسوس کررہی تھی ۔ آج کی عورت مجبور نہیں ۔ وہ پہلی ضرب پر ہی اپنی آواز بلند کرکے ظلم کو پنپنے نہیں دے گی وہ مظلومیت کی لپٹی چادر نکال کر ہمت کی عبا  پہنے لگی ہے وہ سارا راستہ ایسا ہی کچھ سوچنی رہی  ۔ رتنا اپنے باپ اور بھائیوں کے ساتھ سسرال سے اپنے میکے کے گھر میں داخل ہوئی تو بڑی خوش تھی اس نے زنانی بیٹھک میں جاکر اماں سے مل کر لپٹ گئی اور کہنے لگی ۔اماں بابا اور بھائیوں نے میاں اور سسرال والوں کا لڑ لڑ کر مزاج بحال کردیا پورا محلہ جمع ہونے لگا تھا ۔آخر میں وہ لوگ معافیاں چاہنے لگے تھے اور مجھے گھر سے نہ جانے سے منا کررہے تھے مگر بابا نے کہا کہ چار دن آرام کرنے کے بعد وہ مجھے واپس گھر بھیج دینگے اور مجھے لے کر آگئے وہ ایک سانس میں ساری روداد سنانے لگی ۔ماں نے تیل میں ہلدی پکا کر برتن رتنا کے آگے بڑھا دیا ۔ ماں بابا تو ڈاکٹر بابو سے میرے یہاں آنے سے پہلے مرہم پٹی کروا چکے ہیں نا !۔وہ کہنے لگیماں نے خاموشی سے اپنی پیٹھ کی چادر ہٹائی اور بلوز کا بندھن کھول کر اس کے آگے کھڑی ہوگئی ۔ افف اماں ! رتنا مار کے زخم دیکھ کر مجسمِ حیران رہ گئی۔ آخر یہ کیا ہے اور کیسا ہوا ماں ۔ماں کی خاموشی اور بہتے آنسو اس سے ساری کہانی چپکے سے سنا گئے ۔ وہ بے اختیار گلا کرنے لگی ۔ یہ مرد ایسے کیوں ہوتے ہیں کیوں ہوتے ہیں وہ بار بار خود سے سوال کرتی رہی!!! اُسے اپنے دل اور جسم پر ایک اور کاری زخم کا احساس ہونے لگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسانہ ۔۔۔۔ کفارہ

۔




" کَفٌارہ''

مسافروں کی آمد اب کم ہوگئی تھی ۔  وجے کام کرتے کرتے اوب سا گیا ۔ میز کے سہارے کرسی کو دھکیل کرایر پورٹ کا چکر لگانے وہ نکل پڑا۔ گھومتے پھرتے رمیش سے ملنے آیا تو یہاں جانے والے مسافروں کی قطاریں لگی تھیں اور وہ اس مصروفیت سے جھنجلائے ہوا تھا ۔ وہ وہی کھڑے کھڑے سارے لوگوں کو بغور دیکھتا رہا کوئی جلد سے جلد پلین میں بیٹھنےکے لیے بے چین تھا تو کوئی سامان اور بچوں سے بے حال نظر آرہے تھے۔ کسی کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا تو کوئی اطمینان کا مظاہرہ کررہے تھے ۔ ان سب سے الگ تھلک قریب چوبیس سال کاایک لڑکا خاموش ہر تاثر سے خالی چہرہ لئے گم صم کرسی کے سامنے کے حصہ پر ٹیک لگاکر بیھٹا ہوا تھا جب بہت دیر تک اس کو یوں ہی دیکھتے رہنے کے بعد وجے سے رہا نہ گیا وہ قریب جاکر اس سے پوچھنے لگا ۔
کیا ہوا تم پردیس پہلی بار جاریے ہو ؟جی ہاں اس نے مختصر سا جواب دیا۔وجے نے پھر پوچھا ،جاب کے لئے جارہے ہو یا کسی کے بلانے پر؟"جی جی سر" اس بار تو اس نے حد ہی کردی صرف جی جی کرکے جان بچانا چائی ۔"عیجب آدمی ہو یہ جی جی کا کیا مطلب ہے ۔ بلایا ہے تو بلایا ہے جاب کے لئے تو جاب کے لئے کہنا چاہئے نا "اس نے ناراضگی سے کہا ۔نوجوان نے اس کی خفگی کو دیکھتے ہوئے لب کشائی کی" وہ سر بہن نے نوکری کے لئے بلایا ہے "۔وجے "اچھاااا "کہا اورسوچنے لگا کہ اب وہ آگے کیا بات کرے اس سے اس کی اداسی کا سبب کیسےپوچھے۔ جب کہ اس عمر کےنوجوانوں میں جوش ولولہ شوخی تیزی طراری ہوا کرتی ہے یہ اتنا بجھا بجھا سا کیوں ہے؟وجےپھر دریافت کرنے لگا ، " کیا ٹائم پر ہے تمہارا پلین؟"وقت تو ہوچکا مگر اور تین گھنٹہ لیٹ ہے ۔ وجے نے مشورہ دیا " تم سامان ڈالو اور بوڈنگ کارڈ لے کر اندر بیٹھ جاو ۔"" نہیں سر وہ لوگ بہت رش ہونے سے منع کردیے ہیں ایک گھنٹے کے بعد آنے کہا ہے ۔"اس کی آنکھوں میں رنج کے سایے منڈلا رہے تھے وجے کی متجسس طبعیت نے پھر اسےجاننے کے لئے مجبور کردیا۔ وجے نے اس کی پیٹھ پر آہستہ سے ہاتھ رکھکر اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا کہ کیا بات ہے نوجوان میں تمہاری آنکھوں میں عمیق غم چھپا دیکھ رہا ہوں ۔ یہ ہی بات مجھے تم تک کھینچ لائی ہے۔ کبھی کسی سے دل کی بات کہنے سےٖدکھ دور تو نہیں ہوتا مگراحساس کم ضرور ہوتا ہے میں تمہارے لئے انجان ہوں تم مجھےکچھ بھی بے جھجھک کہہ سکتے ہو پھر ہم اپنے اپنے راستے چلے جائیں گے ۔

نوجوان کو زندگی میں پہلی بار کسی نے اپنے قریب کیا تھا ۔ نرمی و محبت کا احساس دیا تھا ۔ وہ جذبات سے مغلوب ہوگیا ۔ زندگی کی دوڑ سے تھکا ہارا تھا ایک اجنبی کے لمس سے اپنائیت کا احساس ہوا اور وہ بے اختیار کہنے لگا آپ نے ٹھیک اندازہ لگایا سر میرا ماضی ،حال ،میری یادیں، میری سوچیں سب دکھ کی کالی سیاہی سے لکھی گئی ہیں ۔میری ماں ہم بہن بھائیوں کی ہمدرد ،مدد گار۔ ہر کام ہر بات میں معاونت کرنے والی نیک خاتون تھی ۔ بڑی بہن مجھ سے کافی بڑی تھی میں بارہ سال کا اور چھوٹا بھائی نو کا ہوگا ۔ایک دن ہمیشہ کی طرح امی ابو کے کمرے سے ابو کی زور زور سے چیخنےکی آوازیں آنے لگیں۔ آج پہلی بار امی کی بھی آواز آئی تھی ہم دونوں بھائی، بہن کے بازوں سے لپٹ گئے۔امی کی چیخ کے ساتھ آواز بند ہوگئی اور امی دیوار کے سہارے باہر آئی وہ حمل سے تھی اور کچھ دیر میں خالہ بھی ہمارے گھر آئیں اور امی کو ہاسپٹل لے کر گئیں پھر صبح خالہ نے ہمیں فون کرکے وہاں بلالیا جہاں امی کی میت رکھی ہوئی تھی ۔اس دن کے بعد ابو نےبزنس پر کم اور اوباش دوستوں کے ساتھ کو زیادہ اہمیت دی ۔امی کے بعد بغیرشرم و حیا کے لڑکیوں کو گھر لاتے سیل فون مسلسل استمعال کرتے خالہ نے یہ بگڑتے حالات دیکھے تو بہن کی شادی کوششوں سے ایک اچھی جگہ کروادی۔ بہن بھی ہم کو چھوڑ کر پردیس سدھاری ۔ ابو کی یہ دنیا پرستی اور عیش نے جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر تباہی کے دہانے کھول دیے بزنس کے ٹھپ ہوتے ہوتے سب دوست احباب نے بھی منہ موڑ لیا اور ابو کی صحت کرنے لگی ۔ہماری پڑھائی کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ایسے میں بہن کچھ چوری چھپی ہمیں فیس اور غذا کے انتظام کے لئے پیسوں کا بندو بست کرتی رہی آج اسی کی مدد سے یہاں کھڑا ہوں ۔ اس نے سوٹ کیس کے ساتھ رکھا ایک بڑا ڈبہ بتا کر کہا اس میں کچھ چیزیں اپنی بہن کی فرمائش کی ہیں بہن کی ساس کی میڈیسن بھی ہے جس کو دیکھ کر اس کا میاں خوش ہوجائے گا ۔ یہ کہتے اس کی آنکھوں میں امید کے دیے جگمگا نے لگے پہلی بار زندگی کی رمق دیکھکر وجے کو اطمینان ہوا اس نے گھڑی دیکھی ابھی تک رپورٹ کرکے گھرلوٹ  جانا چائیے تھا نوجوان سے ہاتھ ملاکروہ چل پڑا ۔ پھر نوجوان بھی لائن میں کھڑا ہو گیا ۔

وجے جب ڈیوٹی سے واپس ہونے لگا توجاتے جاتے  پھر ایک بار وہ نوجوان کو دیکھنے چلے آیا ۔ وہ یہ دیکھکر حیران ہوگیا وہ نوجوان سامان کا وزن زیادہ ہونے سے کاونٹر پر بیٹھے آفیسر سے منت سماجت کررہا تھا وجے کو معلوم تھا یہ آفیسر بہت ہی سخت ہے کوئی اور ہوتا تو وہ مدد کردیتا۔ وہ آفیسر نوجوان سے کہہ رہا تھا بارہ ہزار ویٹ کے نکالو نہیں تو پھر کچرے میں ڈالدویہ ڈبہ ،  جلدی بولو،  ٹائم کم ہے ۔ تم ایک نہیں ہو، دیکھو پوری لائن باقی ہے وہ پریشان نوجوان اس سفاک آفیسر کی خوشامد کئے جارہا تھا ۔"پلیز سر پلیز سر۔" آفیسر نے پلین جانے کی دھمکی کے ساتھ بازو ہٹو کہا تونوجوان بے چارگی سےانکساری سے کہنے لگا" نہیں ہے نا سر پیسے باہر بھی کوئی نہیں ہے میرا سامان کس کو دوں ؟ اب کیا کروں سر؟ "تو آفیسرنے اکتائی ہوئی شکل بناکر صرف سوٹ کیس وزن کر کے کارٹن اس کے حوالے کر دیا اس نے جلدی جلدی پیچھے کے سارے لوگوں سےایک کے بعد دیگر مدد کی درخواست کی اگر آپ کا سامان کم ہوتو یہ اپنے سامان میں ویٹ کروالیں مگر سب بے حسی سے انجان ہوتے رہے پھر اس نے بھائی کو فون کرکے آکر لے جانےکے لیے کہا۔ ایر پورٹ کا عملہ اسے بار بار اندر جانے کا کہنے لگا تو وہ کارٹن ایک جگہ رکھنے لگا جس پر عملہ کے لوگ سختی سے کہنے لگے"اسے یا تو کچرے میں ڈالو یا باہر رکھ آءو۔" وجے نے بڑھ کروہ کارٹن لینا چاہا تو اس کے سینئر آفیسر نے غصہ سے گھورتے ہوئے اسے ہاتھ سے منع کرتے ہوئے کہا کہ دن بھر میں ایسے ڈرامے ہوتے رہتے ہیں ۔ تم اپنے کام سے کام رکھو سالے یہ لوگ الٹا پھر ہمارے گلے پڑجاتے ہیں ہمارا سامان اِنہوں نے لیا اُنہوں نے لیا کہکر ۔ ہم نے کوئی ٹھیکا لیا ہے کیا ان کا ؟ وجے کو بھی اپنی نوکری عزیز تھی نہ چاہتے چپ ہورہا ۔ نوجوان کا بورڈنگ کارڈ لے کر اسے سامان دینے باہر جانے کہا گھر بہت دور ہے بھائی کا جلدی آنا مشکل ہے اس نے یہ سوچتےہوئے چارونہ چا ر ایک کونہ میں لے جاکر قریب ہی پڑا اخبار اٹھا کراس پر ڈال دیا اور انگلی کو کارٹن کے اطراف گھما کر حصار بندھا کرسراسیمگی کے عالم میں چلتا آرہا تھا ۔وجے چوکیدار کے قریب یہ سب کھڑا دیکھتا رہا۔  پھر وہ نوجوان بنا رکے بنا کسی سے کچھ کہے بورڈنگ کارڈ اور ہینڈ کیری لے کر جانے لگا وجے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جہاں گہرے کالے بادل سمٹ آئے تھے۔

وجے گھر جانے ائیر پورٹ سے باہر آیا تو یہ دیکھ کر حیران ہوگیا اس کارٹن کولے کر دو آدمی خود کا ثابت کرنے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے ۔ وجے نے ان کے قریب جاکر غصہ سے کہا کہ یہ نہ تمہارا ہے نہ تو تمہارا یہ میرا ہے ابھی تو رکھا تھا ۔ اس کی یہ بات سن کر وہ دونوں سر جھکا کر چل دیے اور وجے اس کارٹن کو لے کر گھر آگیا۔

گھر آتے ہی وجے کی ہاتھ میں کارٹن دیکھکر اس کی بیوی شانتی خوشی سے اچھل پڑی وجے نے مسافر کا ہےکہہ کر ہاتھ لگانے سے منع کردیا تو شانتی کچھ توقف کے بعد کہنے لگی کسی بھائی بندو کا ہے یہ ؟ نہیں پھر دوست کا؟ "نہیں" شانتی نے اپنے گداز بازوں کو لہرا کر وجے کے کندھے پر رکھے اور آنکھوں کے اشارے سے پھر سوال کر دیا تو وجے کو سب بتانا پڑا ۔ ساتھ ہی کہدیا کہ میں اس لڑکے کو انٹر نیشنل کال کرکے یہاں اس کے بھائی  کا پتہ لے کر سامان دے دونگا ۔ شانتی کی آنکھوں میں لالچ سمٹ آیا تھا ۔ ارے واہ پیسے ڈال کر تم فون کروگے وہ طنزیہ ہنسی اب تم اتنے بھی سیدھے نہ بنو، زمانےکےساتھ چلوپتی دیو۔  نہیں وہ بے چارا مجبور تھا اس کے ساتھ ہم برا نہیں کرینگےوجے نے دوٹوک بات کہی ۔۔۔۔ تمہیں تو سوائے میرے سب ہی بے چارے مجبور لگتے ہیں ۔ ہائے ہائے اماں نے تمہاری نوکری دیکھ کر تھوڑی ہی لگن (شادی ) کیا تھا وہ تو یہ سوچے تھے کہ ایک کسٹم آفیسر کو تنخواہ سے کئی گنا زیادہ تو اوپر کی آمدنی ہوتی ہے۔ ہےبھگوان! یہ تو گھر آئی لکشمی کو لات مار رہے ہیں۔  پھروجے بیزارگی سے بات کاٹتے ہوئے"پاپ لگے گا تم کوپاپ ""کہتے ہوئےبیڈ روم میں چلا گیا  

شانتی نے جلدی جلدی کارٹن کھولا اس میں سے ایک کھلونوں کا پلین اور گڑیا تھی ایک کوکر دوئی کردا بیلن کچھ کشن اور میڈسن اور کپڑے رکھے تھے شانتی نے ساری چیزیں جگہ پر رکھدی کھلونے بیٹی کو دیے او ر میڈیسن کے لئےمیڈیکل ہال والے سے فون پر بات کرلی کچھ قیمت کم لگا کر پیسے دینے وہ تیار ہوگیا وجے کو کہہ دیا کہ پہلی فرصت میں دوا واپس کر آئیں ۔ ان کی بیٹی کملا نے ماں سے پڑوس جا نے کی ضد کی تو شانتی نے کہا کہ ڈیڈی ناراض ہیں تم انہیں بلالو اور دروازے سے پکار کروہ ہی بلا لائی دونوں بچیاں کھیل رہے تھے ۔ شانتی کمرے میں خوش خوش بیٹھی کنگنا رہی تھی اور وجے چپ چاپ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ زورسے کسی چیزکے ٹوٹنے کی آواز آئی شانتی اور وجے آگے پیچھے بھاگ کر گئے تو شانتی کی دادی کی پلیٹ جو اس نے بڑی احتیاط سے سجا کررکھی تھی وہ پلین اڑانے سے گر کر چکنا چور ہوگئی تھی شانتی کا پارہ چڑگیا ۔ چیخ کر پوچھنے لگی کس نے کیا یہ؟  کملا نے رتنا کی طرف ہاتھ سےبتلایا تو شانتی کو اور غصہ آیا ۔ یہ پلین اڑانے کا ہے؟ اتنی مہنگی چیز سے کبھی کھیلا نہیں نا۔ وجےنے "شانتی" کہہ کر ٹوکا  اور کہا اسے تو تمہاری زبان سمجھ میں بھی نہیں آرہی ہے ۔ تو وہ اور جوش میں آگئی ننھی سی بچی کا بازو تھام کر نی اماں مکولا تھوکو( یہ تلگو میں گالی ہے جس کا مطلب ہے تمہاری اماں کی ناک میں چھٹنی) وجے نے رتنا کا ہاتھ چھڑا کر اماں پلستوندی(اماں بلارہے ہیں) کہتا باہر تک لے گیا ۔ شانتی کا موڈ خراب ہوگیا تھا۔ اسے پوو پوو یعنی جاو جاو کہتے رہی ۔

وجے دوسرے دن آفس سے واپس ہوا تو شانتی ویسے ہی منہ پھولائے بیٹھی تھی ۔ "او ہو، شانتی کب تک تم ماتم مناو گی آخر" وہ آتے ہی  شانتی کو اداس دیکھکر مخاطب ہوا۔ تو اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا "اجی میں کل کی بات پہ دکھی نہیں ۔ مکان کا کرایہ لینے گئی تھی ان لوگوں نے نہیں دیا عدالت سے آڈر لے کر آو اب یہ گھر ہمارا ہےکہتے ہیں ۔ اماں کی نشانی ہے  وہ گھر۔  شانتی یہ کہتے ہوئےزار و قطار رونے لگی۔  وجے نے سوچا کہ یہ تو سچ میں بہت بڑی پریشانی ہے ۔ واپس ملنے کا یقین دیلا کرچھوٹی تسلی دی تب جاکر شانتی کوسکون ملا ۔

آج وجے  شانتی کے بگڑے موڈ کے خیال سے باہر جاکر کھانے کا پروگرم بنایا تھا آفس سے آنے تک تیار رہنے کی ہدایت کے تھی ۔  شانتی خوب اچھے سے تیار ہوکربیٹی کے ساتھ دہلیز پر کھڑے وجے کا انتظار کر تی رہی ۔ وجے کے آتے ہی شانتی نے گھر کو تالا لگا کر پلٹتے ہی ان دونوں کی نظرایک ساتھ کملا پر گئی تو جیسے دونوں ہی کی جان نکل گئی ۔ کملا سڑک پر تھی اور دوسری طرف سے کار آرہی تھی وجے  دیوانہ وار بھاگ کر کملا کو پکڑ کراپنی طرف کھچ لیا ۔ کملا بال بال بچ کئی دونوں کو کہیں کہیں ہلکے زخم آئے ۔۔۔۔۔ وجے کملا کو گود میں لے کر گھر کا تالا کھول کر گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹی کو بیڈ پر بیٹھا دیا اور پھر غصہ اور تیزی سے اپنے بیڈ روم میں پڑے اس نوجوان کے کارٹن میں میڈسن رکھے ،  کپڑے الماری سے نکال کرکار ٹن میں ڈالدیے۔ پلین، گڑیا بیٹی کے کمرے سے لا کر کارٹن میں رکھے پھر کچن سے کوکر بیلن دوئی اور دوسری چیزیں لاکرکار ٹن میں بھرنے کے بعد ٹیپ سے چپکا کر کارٹن پر لکھے فون نمبر پر بات کرکے پتہ کنفرم کیا اور بتایا کہ میں آپ کو آپ کے پاس وہاں کارگو کردونگا ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں تکلیف کی کوئی بات نہیں آپ کے ساتھ ہوئی زیادتی کا کفارہ سمجھے ۔

شانتی کملا کے زخم پر دوا لگا تے یہ سب خاموش نادم نادم سی دیکھ رہی تھی ۔ وجے کے زخم صاف کرنےوہ جب آگے بڑھی تو وجے نے شانتی کے ہاتھ کو جھٹک کر کملا کو گود میں بیٹھا لیا اور کہنے لگا کہ نام شانتی ہے مگر اس کے بالکل الٹ ہو۔ تم پاپی ہو ۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔ جب سے تم نے اس نوجوان کے سامان پر قبضہ کیا ہے تب سے کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے پہلے دن پشتینی پلیٹ پھوٹی دوسرے دن کرایہ داروں نے دھمکی دی اور آج تو حد ہی ہوگی میری بیٹی ۔۔۔۔۔۔اور شانتی نے آگے بڑھکر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا " ہماری بیٹی" اب کچھ نہیں ہوگا اسے۔

نعم البدل

محترم بھائیوں اور پیاری بہنوں 

السلام علیکم

وہ دوہزار بارہ کا ایک خوش گوار دن تھا جب وہ مجھے سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا تھا پھر تو اس نے مجھے اور میں نے اسے ایسا تھاما کہ چھوڑنے کا نام ہی نہ لیا ہر گھڑی سوتے جاگتے ، محفل و برخاست  ، فرصت ہو یا مصروفیت وہ ہر جگہ ہر وقت میرے  ساتھ رہنے لگا ۔ اس کی ایک پل کی غیر موجودگی بھی مجھے بے چین کردتیی
ایک طویل عرصہ کی رفاقت کے بعد ایک دن اس کو تنفسی شکایت ہوگئی ۔ ہم نے اس کے خاص ڈاکٹر کے پاس پہچایا تووہ چھوٹے سے آپریش کے بعد ہمارے گھر واپس آگیا  کچھ دن ٹھیک رہنے کے بعد اسکی پھر سانس گھٹنے لگی ۔ اب تو بار بار اسے طبیب کی ضرورت لا حق ہونے لگی ہم اس کی محبت میں اس کے عادی ہوچکے تھے ۔ ہم سے اس کی یہ حالات بردا شت نہ ہوتی  ۔اس کو ٹھیک کرنے کی ہر جتن کرتے ہر زاویہ سے اسے دیکھتے  پیٹھ سہلاتے دباتے اس کے بند ہوتے آنکھوں کو روشنی سے منور کرنے کی کوشش  کرتے کبھی کامیاب ہوتے اور کبھی وہ ٖغشی میں آنکھیں بند رکھا رہتا ۔۔۔۔۔ آخر پھر ایک ماہ پہلے اس نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں ۔ انسان سدا سے بے بس رہا ہے ہم بھی مجبور تھے اور مجبور تو صرف آہ و بکا کے بعد چپ ہورہتا ہے ۔ہم بھی چپ رہے اور سب سے بات چیت چھوڑدی بس ضرورت پر ہی منہ کھولتے ۔
 اس کے جانے سے ہمارے دوست عزیز رشتہ دار سب ہی متاثر تھے ہم نے  سب سے بات چیت چھوڑ رکھی تھی گھر والوں کے اصرار پر ہم نے گھر کے ایک ننھے سے دل کو لگانا چاہا مگر وہ تو بہت چھوٹا تھا اس نے بس ہمارا  اتنا غم غلط کیا کہ گھر والوں اور قریب کے لوگوں سےہی میں بات چیت کر نے لگی تھی مگر دنیا سے ابھی کٹ آف ہی تھی ۔ پھر بیٹوں سے میری یہ حالت دیکھی نہ گئی اور کل انہوں نے مجھے اس کا نعم البدل لاکر دیا یعنی گیلکسی ایس 3 کے خراب ہونے پر آئی فون 6 (ایس) دیلادیا ۔ الحمدللہ



ایک شگفتہ تحریر

   السلام علیکم
، ون اردو فورم پر ہم رمضان میں  بہت مزہ کیا کرتے تھے ایک دوسرے پر  خاکے لکھا کرتے خیالی سحری کا حال لکھتے اور افطار و سحری کے پکوان ایک دوسرے کو بتایا کرتے اب ون اردو سائیٹ بند ہوگئی مگر یادیں ابھی بھی دماغ میں محفوظ ہیں وہ سارے ممبرز ابھی بھی یادوں میں دعاوں میں شامل رہتے ہیں آپ سب نے کائنات جی کا لکھا "کوثر بیگ کی سحری " تو پڑھا ہی ہے اب ون اردو  کی ایک اور ممبر اور فیس بک کے ون اردو پیچ کی ایڈمین نے بہت پہلے ایسے ہی  ایک خیالی انٹرویوں میرا اور آمنہ جی کا ملاکر لکھا تھا  آپ سب کے لئے اسے شیئر کررہی ہوں اسےپڑھیں اور محظوظ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ناظرین
آج پھر سے دو عدد نہایت معزز محترم شخصیات کے پول لے کر میں ہوں ثنا بچہ۔۔۔۔۔۔اوہ سوری میں ہوں ایک نہایت مشہور صحافی جو کہ بالکل بھی نہ بکتی ہے نہ جھکتی ہے ہاں پوائنٹس آتے نظر آئیں تو بس اپنے کہے ہوئے میں تھوڑا ردو بدل کر لیتی ہوں ۔۔۔یہ کوئی بے ایمانی تو نہ ہوئی نا۔۔۔

تو جناب آج ہم اس فورم کی دو مشہور اور ذرا بزرگوار ہستیوں کے ساتھ کچھ 
ٹایم گزاریں گے ۔۔اور آُپ کا وقت بھی گزروائیں گے ۔۔زبردستی

اچھا جی تو ہوا کچھ یوں کہ عمران بھائی کی حالت پڑھ کر لبنی کا بہت دل للچا رہاتھا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتیں تو اس بار کیمرہ مین کی جگہ لبنی یہ فرائض انجام دیں گی ۔۔۔

تو لبنی جو کہ آج کل ذرا کمزور ہو گئی ہے دوسروں کو کھانے پر ڈانٹتے ڈانٹتے ایسی عادت ہوئی کہ خود بھی جب کھانا کھانے بیٹھتی ہے تو اپنے آُپ کو ڈانٹ کر کھانا چھوڑ دیتی ہے بےچاری ۔۔۔

دماغ پر اثر ہو گیا نا
تو جب لبنی جی نے کیمرے کو اٹھانے کی کوشش کی تو اس کے وزن سے نیچے جا گریں ۔۔اور کیمرے کے نیچے سے انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا گیا۔۔ذرا سانس بحال ہوئی تو نعرہ لگا کر اٹھیں کہ ہمت عورتاں مدد خدا
اور کیمرہ اٹھا لیا۔۔

ان کی اتنی بڑی اچیومنٹ پر ہماری پوری ٹیم نے کھڑے ہو کر ایک منٹ تک تالیاں بجائیں ۔۔

ہمارا ارادہ تو تھا کہ پانچ منٹ تک بجوائی جاءیں لیکن لبنی نے کہا کہ اس سے 
پہلے کہ میں دوبارہ مٹی کی سوندھی خوشبو سونگھنے کے لیے زمین بوس ہو جاوں اب چلو۔۔تو جناب ہم نے اپنی ہر دلعزیز کوثر آپی کے گھر کی راہ لی ۔۔اس بار حیرت انگیز طور پر نہ کسی سے پوچھا اور نہ ہی بھولے کیونکہ ایڈریس یاد تھا۔۔۔

دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک پیاری سی لڑکی باہر نکلی ۔۔ہم نے کہا کہ جی ہم کوثر آپی سے ملنے آیے ہیں ۔۔وہ بولیں ۔۔
جی ضرور خوش آمدید اندر آئیے۔۔
ہم ان کے ہمراہ اندر گئے ۔ہمیں بیٹھانے کے بعد وہ خود بھی سامنے والے صوفے پر براجمان ہو گئیں ۔۔
ہم سمجھے شاید ان کو کیمرہ میں آنا ہے اس لیے یہیں بیٹھ گئی ہیں ۔۔
پھر سے پوچھا جی اپنی امی کو بلا دیں ہمیں ان سے ملنا ہے ۔۔۔
جواب آیا۔۔۔
پیاری رفعت اور پیاری کمزور سی لبنی۔۔۔۔۔امی باوا کو نکو بلا سکتے نا وہ تو حیدر آباد میں ہوتے نا۔۔

ہائیں ۔۔ہم حیران پریشان ۔ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔۔۔
کہ کوثر آُپی فورم میں اعلان کیے بغیر ہی چلی گئیں ۔۔
ان کو کہا ۔۔
دیکھیں آُپ کی امی کیسے فورم کے سب بہن بھائیوں کو اپنا کہتی ہیں اور بنا بتائے ہی انڈیا چلی گئیں ۔۔۔(دل میں کہا۔۔۔۔کیسی بے مروت نکلیں ۔۔ہم کون سا ان سے انڈیا سے ساڑھیاں منگوا لیتے ۔۔۔)۔

وہ بولیں ۔۔۔

مذاخاں نکو کرو جی ۔۔۔میں ایچ تو کوثر ہوں ۔۔
اب تو حد ہی ہو گئی ۔۔
لبنی یہ سن کر لڑکھڑائی ۔۔کیمرہ میرے اوپر گرتے گرتے بچا،،فورا سے لبنی کو سہارا دلایا اور زمین کی طرف دکھایا۔۔کہ لبنی یہاں مٹی کی سوندھی خوشبو کی کارپٹ بچھا ہے سیدھی کھڑی رہو۔۔براداشت کرو یہ صدمہ۔۔۔

ہم نے ناگواری سے کہا۔۔
دیکھیں آُپ کا ہمارا کوئی مذاق نہیں ہے کوثر آپی کو بلائیں ۔۔

بولیں ۔۔
اجی دھوکہ کھا گئے نا آُپ لوگاں بھی ۔۔سب یہ ایچ کرتے۔۔فورم پر اپنے آپ کو بڑا بتائی اس لیے کہ سب میری بات سنیں اور میری عزت کریں ۔۔ویسے تو ابھی تو میں جوان ہوں ۔۔۔۔
اوہ اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایک گہری سانس لی ۔۔
لیکن آپ تو فورم پر کہتی ہیں میرے بچے بڑے بڑے ہیں پوتے پوتیاں ہیں تو یہ سب کیسے ۔۔۔؟؟

بولیں ۔۔
پیاری رفعت ۔۔
دیکھو نا بہنا کیا بڑے بڑے بچوں کے اماں باوا بڈھے ہو جاتے ۔۔۔
لیکن اب مجھے خطرہ ہو رہا ہے ۔۔سب مجھے زیادہ ایچ بڑی اماں بناتے۔۔مجھے غصہ بھی آتا ہے لیکن کیا کروں ۔۔اب سوچ رہی ہوں میں بھی ثمرین کی طرح دھماکہ کر کے سب کو سچ سچ کی اپنی عمر بتا ایچ دوں ۔۔

ہم نے انہیں دھماکے سے روکا کہ ہمارے جانے کے بعد کیجیے گا ۔۔
کوثر آپی بولیں ۔۔
پیاری رفعت اور پیاری لبنی۔۔۔آپ ایک منٹ ادر ایچ بیٹھو میں آتی ہوں ۔۔
ان کے جانے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک صاحبہ اخبارات کا ڈھیر اپنے سامنے رکھے چشمہ ناک پر ٹکایے ہوئے نہایت تیزی سے کچھ لکھتی جا رہی ہیں ۔۔

پاس جا کر دیکھا تو وہ ہم سب کی استانی جی ام فوزان تھیں۔۔ہم خوش ہو گئے کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے ۔۔
جھٹ ان کے پاس جا کر سلام مارا۔۔
نہایت غصے سے سر اٹھایا
سلام کا جواب دیا۔چشمہ درست کیا اور فرمایا۔۔
بس اسی لیے تو کہتی ہوں اب بہت ہو چکا اس قوم کو انقلاب کی ضرورت ہے ۔۔ان کی سوچ میں ارتقا ہی نہیں ہے ۔۔کوئی ادب لحاظ کچھ نہیں ۔۔استاد کی عزت تو اب ختم ہو گئی بالکل ۔۔


ہمارا وہ حال کہ بس کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔۔کہ کہیں ٹیچر جی نے تشدد شروع کر دیا تو جیو پر ہم بگڑے چہرے کے ساتھ کیسے لگیں گے نا ۔۔۔
سو ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔۔
کیا ہوا آمنہ جی کوئی غلطی ہو گئی کیا?
جواب آیا ۔۔۔
غلطی۔۔۔۔ آپ اسے غلطی کہتی ہیں ۔۔میرے بس میں ہو تو ایسی گستاخی پر ٌپھانسی لگوا دوں ۔۔
ڈر کے مارے ہاتھ پاوں کانپنے لگے اور میرے ہاتھ پاوں کی تو خیر تھی ڈر تو لبنی کا تھا کیمرہ اگر آمنہ جی کے اوپر گرتا تو ہم تو شہید ہی ہو کر نکلتے اس گھر سے ۔۔۔
گھگھیاتے ہوئے پوچھا ہمارا قصور تو بتائیں ۔۔
بولیں ۔۔
میں نے کوئی سو نیوز پیپر پڑھ کر ریسرچ کرنے کے بعد ابھی بلاگ لکھنا شروع کیا ہی تھا کہ آپ نے آکر سارا کام خراب کر دیا۔۔۔۔۔۔اب اگر میں نے بلاگ نہ لکھا تو سب کیا سمجھیں گے ؟میں نے سوچا تھا پہلے بلاگ لکھوں گی جب اس پر کمنٹس آءیں گے پھر اسی بلاگ کا تھریڈ شروع کر لوں گی ۔۔جب خوب تپ جاءے گا تھریڈ تو اخیر میں سب کو کہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔کہ ابھی ہم بات چیت کرنے کے لاءق نہیں ہوءے ہماری سوچ ابھی پستی میں ہے اس میں ارتقا کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔پھر میں غصے سے ٹاپک لاک کروں گی ۔یا میں نہیں کروں گی تو اپنی وارننگ باجی آجاءیں گی ۔۔ اور تھریڈ لاک ہو جایے گا ۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر میں اگلے مہینے کے میگ میں وہی تحریر پھر سے بھیج دوں گی ۔۔۔۔۔۔پھر اس سے اگلے مہینے اس پر تبصرہ آیے گا کہ آمنہ جی کی تحریر پر تو ایک تھریڈ بنتا ہے ۔۔۔۔۔میں پھر سے نام بدل کر وہی تھریڈشروع کر دوں گی ۔۔۔۔پھر سے گرما گرمی ہو گی ۔۔۔۔میرے تھریڈکی ریٹنگ ارتقا پر پہنچ جایے گی ۔۔۔۔لیکن وارننگ باجی پھر سے بند کر دیں گی ۔۔۔۔پھر میں دوبارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری برداشت ختم ہو چکی تھی ۔جلدی سے بولے ۔۔
جان کی امان پاءیں تو ہم بھی کچھ عرض کریں۔۔
جواب آیا۔۔۔۔۔۔۔۔جی جی بولیے مجھے تو ویسے بھی زیادہ بولنے کی عادت نہیں ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔مجھے وہ لوگ سخت برے لگتے ہیں جو زیادہ بولیں۔۔زیادہ وہی لوگ بولتے ہیں جن کی سوچ میں ارتقا نہیں ہوتا ۔۔اور جن کی سوچ ارتقا تک نہیں پہنچے گی وہ ایک ملک کیسے چلا سکتے ہیں بس اس ملک کو انقلاب کی ضرورت ہے ۔ایسے انقلاب کی جس میں وہ لوگ سامنے آءیں جن کی سوچ میں ارتقا ہو ۔۔
ابھی وہ سانس لینے کو رکیں تو ہم نے جلدی سے پوچھ لیا۔۔۔

آمنہ جی یہ بتائیں ۔کہ استاد کی عزت کم کیوں ہوکئی ہے ہمارا نظام تعلیم کیوں اس قدر گر گیا ہے؟؟

جواب آیا۔۔
ہمم۔۔۔۔۔لگتا ہے کچھ معقول لوگ ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔دیکھیے جی آج کل استاد ایک نسل کو سنوار نہیں رہا بلکہ اچھی سیلری کے لیے بچے پڑھا رہا ہے ۔۔بلکہ میں تو کہوںگی گدھے ہانک رہا ہے ۔۔۔گدھے کا تو پتا ہے نا آپ کو ۔۔(ساتھ ہی ہمیں ایسی نظروں سے دیکھ کر مسکرائیں جیسے گدھے دیکھ لیے ہوں۔۔۔۔)تو جب استاد اپنی ذمے داری سمجھ کر پوری نہیں کرے گا تو شاگرد اس کی عزت کیسے کرے گا ۔۔۔۔ویسے بھی آج کل شاگرد جو ہیں ان کی سوچ ابھی پختہ نہیں ہوئی ابھی ارتقا تک نہیں پہنچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اففف پھر سے ارتقا۔۔دل چاہ رہا تھا کہ دیوار سے ٹکریں ماریں لیکن اخلاق اتنا اچھا ہے ہمارا کہ ہم دونوں ہی مسکراتی رہیں ۔۔۔۔۔)

اتنے میں کوثر آپی واپس آگئیں اور بولیں ۔۔۔

ارے پیاری رفعت اور پیاری لبنی ۔۔۔۔آپ دونوں ادر آجائے نا۔۔آمنہ بہن بہت اچھی ہیں پڑھی لکھی اچھا اچھا سوچنے والی ۔۔تو ان کو ان کا کام کرنے دیتے ہیں تاکہ وہ اچھی باتاں ہم کو بھی سکھائے۔۔۔۔
ہم کوثر آپی کو دعائیں دیتے ہوئے جھٹ ادھر سے اٹھ گئے ۔۔
کوثر آپی بولیں ۔۔۔میں عاجز اور معصوم بندی بہت خوش ہوں کہ آپ دونوںپیاری بہنوں نے میرے گھر کو اس قابل سمجھا اور یہاں قدم رنجہ فرمایا۔۔۔
(ہم تو خوشی سے پھولنے ہی لگے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اپنے اپنے پیارے ہونے کا یقین کیا۔۔۔)

ہم نے سوال کیا۔۔۔

کوثر آپی آپ کا لہجہ اتنا عاجزانہ کیوں ہے ?
بولیں۔۔
پیاری رفعت ۔۔بات یہ ہے کہ میں تو چھوٹے ہوتے سے ایسی ایچ ہوں۔۔۔میرے بچے تو مجھے امی نہیں بلاتے عاجزانہ امی بلاتے۔۔صاحب بھی عاجزانہ ہی بلاتے۔۔۔اب تو مجھے اپنا اصل نام ہی بھول جاتا ہے ۔۔۔کبھی کبھی مجھے برا لگتا غصہ آتا لیکن میں غصہ پی جاتی ہوں ۔۔نام کی لاج رکھنے کو ۔۔(ان کا چہرہ شاید اندرونی غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔)ایک دم بولیں ۔۔۔۔۔پیاری رفعت میں ابھی ایچ آئی۔۔۔
(اور اٹھ کر چلی گئیں)

ہم نے ذرا سی نظر پھر سے دوسری طرف پھیری آمنہ جی دھڑا دھڑ لکھے جا رہی تھیں۔۔۔۔اچانک چشمے کے اوپر سے ہمیں دیکھا ۔۔۔اور نوکر کو آواز دی ۔۔
(ہم دونوں ہی ڈر گئیں کہ بس شاید آخری وقت آگیا۔۔یا دھکے دے کر نکلوائیں گی ہمیں یہاں سے ۔۔۔)
لیکن وہ بولیں۔۔۔
بیٹا ذرا اوپر جاو پانی کی ٹینکی کے اوپر شاپر میں کچھ سوچ ڈالی ہوئی ہے ارتقا کے لیے ۔۔آج کے لیے کافی ارتقا ہو گیا ہو گیا اسے دھیان سے نیچے اتار لاو ۔۔باقی ارتقا کل لائیں گے ۔۔۔۔۔

لبنی نے مجھے دیکھا میں نے لبنی کو ۔۔۔۔ہنسنے کا بہت دل ہو رہا تھا۔۔لیکن ہمیں 
اپنی جان عزیز تھی ۔۔لبنی نے جھٹ کیمرہ رکھ کر کاپی پین نکالا ۔۔میں نے بھی پیپر پر جھٹ سے لکھنا شروع کیا اور ایک دوسرے کو ٹرانسفر کیا۔۔۔۔اور سمائیل دی ۔۔۔کاغذ پر لکھا تھا ۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کرتے ویسے تو نہیں ہنس سکتے تھے نا ۔۔۔۔
اس وقت واقعی ہمیں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوا ۔۔اگر ہمیں لکھنا نا آتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہنسی کافی مہنگی پڑتی نا


کوثر آپی پھر سے واپس آگئیں ۔۔۔منہ میں کچھ ڈالا ہوا تھا۔۔۔
ہم نے اگلا سوال کیا۔۔۔۔

لیکن آپی اتنا عاجزانہ پن کیوں۔۔۔۔کیا آپ کو واقعی غصہ نہیں آتا??
بولیں۔۔۔۔پیاری رفعت۔۔۔۔ایسا تو نئیں ۔۔کہ مجھے غصہ نہ آئے ۔۔کئی بار اتنی فضول پوسٹ پڑھنے کو ملتیں فورم پر ۔۔۔سخت غصہ میں دل کرتا کہ جس کی پوسٹ ہے اس کو قتل کروادوں۔۔لیکن اس سے امیج خراب ہو سکتی ہے نا ۔۔اس لیے بس دھیان رکھ کر بول دیتی ہوں کہ بہت اچھی پوسٹ کی۔۔۔اندر سے تو دل کرتا ہے کہ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ایک دم سے چہرہ سرخ)
بولیں ۔۔۔پیاری رفعت میں ابھی آئی۔۔۔۔
اب کی بار ہم نے پیچھے دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔
کوثر آپی واپس آئیں ۔۔

ہم نے پوچھا آپی چلیں یہ بتائیں کہ کھانے میں کیا اچھا بناتی ہیں?
ابھی کچھ بولنے ہی والی تھیں کہ اندر سے آپی کی بیٹی روتی ہوئی آگئیں۔۔۔
اور بولیں۔۔۔۔۔امی یہ کیا کرتے آپ ۔میں چائے کیسے بناوں پورے ہفتے کی چینی آپ آج ہی ختم کر دی ۔۔۔اب پورا ہفتہ ہم کیا کریں گے ۔۔۔اور آپ کو چینی نہ ملے تو شامت تو ہماری آنی ہے ۔۔۔آپ چینی نہیں کھائے گے تو ہم پر غصہ ہوتی رہیں گی ۔۔۔اب میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔

کوثر آپی نے بیٹی کو گھورا ۔۔۔۔اور بولیں پیاری رفعت پیاری لبنی اچھی بہنو ادر ایچ بیٹھو میں ابھی آتی۔۔۔۔

وہ تو چلی گئیں۔۔۔
اور ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بھاگنے کا ارادہ کیا۔۔۔ لبنی جی جوش میں کیمرہ ایک ہاتھ میں منتقل کیا تو دھڑام سے میرے اوپر آگریں۔۔۔۔میں نے نہایت غصے سے کیمرہ چھینا اور لبنی کو کہا۔۔۔۔
دیکھنا اب اگلی باری تم کو کہیں نہیں لے کر جاوں گی تمہاری جگہ ثمرین کو لے جاوں گی وہ کم از کم تمہاری باتوں میں آکر کھانا پینا تو نہیں چھوڑتی ۔۔۔
لبنی یہ سن کر نہایت خونخوار انداز میں میری طرف بڑھی ۔۔۔اور میں نے جان بچانے کے لیے باہر کی طرف دوڑ لگا دی
........................................................
تحریر! میری پیاری دوست رفعت کی ہے ۔ 

تشنگی


  • رات گہری ہو چلی تھی حویلی کی رنگینیوں نے اپنے لئے کہیں اور جگہ ڈھونڈ لی تھی ۔ سب ملازم اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے تھے ۔ شہزادی بیگم صاحبہ اپنی تسلی کے لئے وسعی و عریض عمارت پہ مشتمل حویلی میں موجود کمروں کے دروازوں پہ لگے تالوں کا معائنہ کرتی ہوئی راہ داری میں جب داخل ہوئیں تو بہو رانی کو بیگم صاحبہ نے اپنی آرام گاہ کی طرف جاتے دیکھا تو آواز دی "بہو " جی، امی جان "آپ ابھی تک نہیں سوئیں ' شہزادی بیگم نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا ۔ جی میں پانی لینے آئی تھی سوکھے حلق سے تھوک نگلتے ہوۓ بہو رانی نے جواب دیا.."کل سے خادمہ کو کہہ کر اپنے کمرے میں پانی کا بندوبست مغرب سے پہلے کر لیا کریں. جی بہتر'' وہ اتنا کہہ کر تیزی سے اپنی خوابگاہ کو ھولی۔ شہزادی بیگم نے چند قدم آگے بڑھائے تھے کہ انہیں لگا جیسے بائیں طرف کھڑکی پر پڑا پردہ ہلنے لگا ہے۔ جب رک کر دیکھا توپردہ ساکت تھا پھر وہ پردے کے قریب آئیں اور پردے کو اٹھانے لگی تو پردے کے پیچھے سے بوا نصیبن نکلی بوا کی تین پشتیں اس حویلی میں کام کرتی چلی آرہیں تھیں.. چھوٹے نواب انہیں کے گود مین کھیل کر جوان ہوئے تھے ۔ "یہ کیا ہے، آپ یہاں کیوں تھی عیجب حرکتیں کرتی ہیں آپ ! ہماری تو جان ہی نکلے جارہی تھی ۔ تکلیف کے معذرت شہزادی بیگم صاحبہ . مجھے آپ کو ایک خاص بات بتانی ہے آپ میرے کمرہ میں چلیں بتاتی ہوں ۔ "ہم آپ کے کمرے میں چلیں گے ہوش تو ہے آپکو شہزادی بیگم نے رعب کیساتھ متکبرانہ لہجے میں بوا سے کہا ۔ جی بیگم صاحبہ معافی چاھتی ہوں..بیگم صاحبہ نے تنبیع کرتے ھوۓ نصیبین سے کہا اچھا ٹھیک ھے آئندہ اپنی حیثیت مت بھولا کریں' حویلی کے مہمان خانے میں چلواسے رات میں بھی کھولا رکھا جاتا ہے..نصیبین آگے آگے ھو لی ۔راستے میں پڑنے والے مد ھم روشنی کی جگہ تیر روشنی کے سبھی بند بلبوں کے بٹن کھولتی جاتی..شہزادی بیگم نصیبن کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی مہمان خانے تک پہنچی.. مخملی ریشم سے ملبوس تخت و تاج جیسی معلوم ہوتیں کرسیاں ترتیب سے رکھی گئیں تھیں.. دیوار میں نصب قدِآدم بڑے نواب صاحب کی تصویر پر نگاہ ڈالتے ہوئے ایک کرسی کو شہزادی بیگم نے اپنی طرف موڑ کر برجمان ہوتے ہوۓ بوا کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا ہاں بولو نصیبین.. بوا نے قریب اکر دھیمی سی اواز میں شہزادی بیگم سے کہنے لگی ۔اللہ اپ کے گھر کو ہمیشہ رونق بخشے میں کہوں تو چھوٹا منہ بڑی بات ہوگی آپ سے پہلے معذرت کی درخوست ہے ۔ تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد شہزادی بیگم حیرانگی اور غصے کے لہجے میں بولی کچھ بولو گی ؟ آپ تو ہمارے گھر پیدا ہوئی، امی حضور کے زیر سایہ بڑی ہوئی ہیں ۔ پھر کہنے میں جھجک کیسی بوا نے خوشامدی لہجے میں بیگم صاحبہ سے کہا. بات یہ ہے بیگم صاحبہ ابھی بہو رانی کو حویلی میں بیاہ کر آۓ صرف دس مہنے ہوۓ ہیں روز چھوٹے نواب صاحب رات میں باہر جانے لگتے ہیں تو وہ ہر دن سینہ سپرہوکر روکنے کھڑی ہوجاتی ھے..طرح طرح سے منتیں کرتی ہیں دہائیاں دیتی ہیں.. میں ہر روز چپ چاپ یہ معاملہ دیکھتی رہتی ہوں اور چھوٹےنواب صاحب ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ کئی بار آپ سے کہنے کا ارادا بھی کیا مگر آپ کے رعب و دبدبے نے ہمت پست کردی ۔ " نصیبن بوا آپ نے تو ہمیں پریشان کردیا نوابوں کی زندگی میں یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے آپ کو نہیں معلوم کیا؟ ہمارے ساتھ بھی تو ایسا ہوتا رہا تھا پھر ایک وقت کے بعد نواب صاحب کے دوستوں کی بیٹھک حویلی میں لگنے لگی ..ایک وقت آیا سبھی دوست ایک ایک کرکے غیر حاضر ہونے لگ گئے آہستہ آہستہ نواب صاحب کے دوستوں کی بیٹھک ختم ہو گئی۔ آپ دروازے اور لائیٹ بند کرکے آرام کرلیں " یہ کہہ کر شہزادی بیگم تیز تیز قدموں سے اپنی آرام گاہ کیطرف چل دی. بہت ہی بڑا کمرہ جس کو بہت ماہرانہ انداز سے سجایا گیا تھا موتیاں کے پھولوں کی مہک چاروں طرف بکھری تھی کمرے میں پڑی آرامدہ مسہری پر لیٹی بہت دیر تک پریشانی کے عالم میں شہزادی بیگم سوچتی رہیں.. کب نیند نے اپنے پر پھیلا کر آغوش میں لیا خبر بھی نہ ہوئی ۔ صبح ہوتے ہی ناشتہ کرنے کے بعد شہزادی بیگم نے بوا کو بھیج کر بہو رانی کو بلوایا. بہو رانی حیرانی اور پریشانی کے عالم میں سوچتی رہی آخرکار کیونکر مجھے بیگم صاحبہ نے بلوایا ھے.. یوں اچانک آج کیسے ؟ اس سے پہلے تو مجھے کبھی نہ بلوایا، آخر کچھ نہ کچھ بات ضرور ۔ کہیں بیگم صاحبہ کو چھوٹے نواب کی خبر تو نہیں لگ گئی اور میرا روکنا انکو ناگوارتو نہیں گزرا ہو گا. وہ ہیں ہی ایسی سخت مزاج.. روایتی نواب زادی .. کیا بات ہوگی وہ سوچتی رہی.. جبکہ دسترخوان پر مختلف انواع اقسام کے پکوان رکھے ہونے کے باوجود تھوڑا سا لیکر زہر مار کرلیا اور نعمت خانہ کیطرف چل دی " آئیں یہاں تخت پر ہمارے قریب آ جائیں" یہ کہتے ہوئےکئی تختوں میں سے ایک تخت پر بیٹھی شہزادی بیگم نے گاوتکیہ (لمبا اور گول ہوتا ہے) سے ٹیک لگاتے ہوۓ کہا. اس کشادہ اور خوبصورت نعمت خوانے میں تھوڑے تھوڑے وقفے پرتخت بچھے تھے جن پہ مخملی سفید اور سرخ رنگ کی چادریں چڑھیں تھی.. سب تختوں کے بیچ میں دبیزلال قالین ڈالی گئی تھی تختوں پر سرخ گاو تکیے اور کشن سلیقے سے رکھے گئے تھے دیواروں پر دیوارگری لگائی گئی تھی دروازوں پر چھت سے لٹکتے ریشمی پردےجو فرش تک لٹک رہے تھے ۔ چھوٹی بہو نے سارے کمرہ کا طائرنہ جائزہ لیا اور بیگم صاحبہ کے ساتھ والے تخت پر براجمان ہوگئی ۔آپ گھبرا کیوں رہی ہیں آپ ہمارے اکلوتا بیٹے کی بیوی ہیں ۔ اس گھر کی مالکہ ہونے کیساتھ ہماری بیٹی جیسی ہیں ۔ بہت امیدیں وابستہ ہیں ہمیں آپ سے۔۔۔۔۔ بہو رانی نے بولنے کے لیۓ ابھی آدھا منہ ہی کھولا تھا کہ شہزادی بیگم نے ٹوکتے ہوۓ کہا ہماری پوری بات سن لی جیۓ. آپ کی شادی ہوۓ سال ہونے کو ہے.. ھمیں اپنی حویلی میں بچے کی گلکاریاں اور اٹھکھیلیاں دیکھنےکے لئےدل بےچینی سے منتظر ہے ۔ بہو رانی کا چہرہ گلنار کی طرح سرخ ہوگیا جو اس کے دل کی آرزو خوشی بنکر چہرہ پر واضع نظر آرہی تھی اور شرم و حیا کی لالی الگ تھی یا پھر کچھ اور .. شہزادی بیگم کی بات پوری ہونے سے پہلے چھوٹی بہورانی نے امی جان " کہہ کر لپٹ گئی ۔شہزادی بیگم نے پیار سے سر سہلایا پھر کہنے لگی میری اچھی بہو رانی مجھے سب معلوم ہے چھوٹے نواب روز باہر دوستوں کی محفل سجانے چلے جاتے ہیں بس ہمارے نور نظر کو آجانے دیں ہم ان کی خبر لیں گے آپکو فکرمند ھونے کی ضرورت نہیں..آپ کسی کچے دھاگے سے نہیں بندھیں ۔ آپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر لے آئیں ہیں ۔ ہم نے حویلی کا ملازم آپ کی والدہ کو بلوانے بھیج دیا ہے ۔ ان سے ملکر آپ کو یقینا مسرت ہو گی ۔ شہزادی بیگم خود کو بہو رانی سے الگ کرتے ھوۓ نرمی سے بولیں..آپ روز روز چھوٹے نواب کو تنگ نہ کیا کریں یہ حویلی آپ کی ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں اس حویلی میں آپ کی جگہہ کوئی اور بہو نہیں آ سکتی ۔ خوش رہیں اور اپنی والدہ کے آنے سے پہلے ملازموں سے کہہ کر دعوت کا پرتکلف اھتممام کروا لیجیۓ.. ماں کو دیکھ کر جیسے بہو رانی کے دل کو بہت عرصے بعد سکون ملا مایوس اور شکستہ دل کو تسلی ہوئی چہرے پہ رونق لوٹ آئی..جتنی دیر ماں رہی بہو رانی کسی نہ کسی بہانہ سے مہمان خانہ میں رات کے وقت بھی چکر لگاتی رہتی.۔ایک دن اماں جی نے بہو رانی کو خانہ باغ چلنے کے لیۓ کہا.. بہو رانی نے شہزادی بیگم سے اجازت چاہی کہ ہم امی جان کے ساتھ اپنے گھر کا باغ دیکھنے چلی جائیں آجکل وہاں بہت سارے رنگ برنگے پھول لگے ہیں عرصہ دراز سے باغیچے میں پھول کھلتے نہیں دیکھے تازہ ہوا نہیں لی..انہیں دیکھ آئیں ۔ ہاں چلی جائیں مگر جلدی آئیے گا..اجازات ملتے ہی ماں بیٹی باغ کی طرف چل دیں جہاں نہ حویلی کے ملازم تھے نہ کوئی اور وہاں پہنچ کر خوب دکھ سکھ بانٹے ، گھر کی بہنوں بھائیوں کی باتیں کرتی رہیں .اماں نے پوچھا کہ آپ تو بی بی خوش ہیں ناں ؟ اس سے پہلے کے بیٹی جواب دیتی ماں پھر بولی اتنا اچھا سسرال تو قسمت والوں کوملتا ہے ، نہ آگے کوئی نہ پیچھے کوئی حصہ دار ۔ "امی جان دھن دولت سب کچھ نہیں ہوتی اگر میاں کی محبت نہ ملے تو یہ سب بیکار اور بے معنی ہے پھر ایسی جائیداد کا کرنا کیا ؟ اماں نے منہ پر حیرت سے ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا. آپ ہماری بیٹی ہیں لال حویلی کی غزالہ خانم کی، نواب سرفراز جنگ بہادرکی بیوی اور سر ہدایت اللہ خان کی بیٹی ہیں ہم! ہمیں سب بتادیا گیا ہے چھوٹے نواب کی بے اعتنائی لاپرواہی کے متعلق ، آپ کے والد نواب ہونے کے باوجود ہم سے رشتہ ازواج قائم ہونے کے بعد دوستوں کی محافل سے یوں دور ہوۓ کہ آج تک پلٹ کرادھر دیکھا تک نہیں.۔ سنو بٹیا رانی آپ کو ایسے گر سکھاتی ہوں کہ جمائی راجہ مٹھی میں بند نظر آئیں گے. چوڑی ، کنگن ، مالے ، بالے لچھے ، جھمکے ، پازیب صرف پہنا نہیں جاتا ۔ آو میں آپ کو سکھاتی ہوں کہ کیسے پازیب پہن کر چھم چھم چلنا اور کھڑے ہوکرکب چھن چھن کی آواز نکلنی چاہئے .ترچھی نگاہوں کے تیرکب چلا کر مرٖغِ بسمل کی طرح تڑپایا جاۓ۔ چوڑیوں کی کھنک کیسے من کو بھاتی ہے ۔ مہندی سولہ سنگھار کرنا کیوں سہاگن کو ضروری ہے ۔ عطرو خوشبو کی دھونی سے کیسے مدہوش کیا جاسکتا ہے ۔ باورچی سے من پسند چیزیں بنوا کر اپنے نام سے پیش کرکے نزاکت سے اپنے ہاتھوں نوالا دیا جاتا ھے سنو اپنی عزت پہلے خود کرنا سیکھو۔ خود کو حقیر و ذلیل کبھی مت سمجھو ایسا کرو گی تو دوسروں کو ذلیل کرنے کا موقعہ مل جائے گا ۔ کبھی کمزور نہ ہونا کامیاب وہی ہوتے ہیں جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہیں۔ آپ بھی کسی سے کم نہیں ہیں گوری ایسی کے ہاتھ لگانے سے میل لگے ۔اونچی ناک ،غلافی آنکھیں ،پتلے ہونٹ جاذب نظر سراپا ۔متانت سے بھرا لب و لہجہ ۔ اس شہر کی سب سے بڑی حویلی کی مستقبل قریب میں اکلوتی مالکن ہو ۔ آٹھ دن میں اماں جی صاحبہ نے اتنی باتیں سمجھائیں کہ بیٹی ماں کی زبان بولنے لگی..ماں چلی گئی لیکن بہو رانی نے ان نصیحتوں کو پلو سے باندھے عمل پیرا ہوتی رہیں ۔ تھوڑے ہی عرصے میں حویلی کا ماحول بدل گیا۔ اب دونوں ہنستے مسکراتے ساتھ ساتھ رہتے انہیں دیکھ کر سب خاص و عام خوش ہوتے دعائیں دیتے مگر چھوٹے نواب دس سال بعد بھی محافل میں رونق افروز ہوتے رہے بہو رانی کے دل میں کھٹک برقرار رہی ۔ ویسے بھی صبر کرتے کرتے عادی ہوچکی تھی. اس طویل عرصہ میں گھر کے چراغ کی امید کی جوت جگاۓ شہزادی بیگم نہیں تھکی تھیں۔ البتہ اس گھڑی کو کوستی جب بہو رانی کو وعدہ دے بیٹھیں تھی کہ کسی اور کو بہو بنا کر نہ لایا جاۓ گا.. اچانک ایک دن بہو رانی کے پیٹ میں شدید تکلیف شروع ہوگئی لال حویلی سے اماں جی بھی آ گئیں شہزادی بیگم اور انہوں نے مل کر بہو رانی سے کئی سوال کر ڈالے جب ان کو یقین ہوگیا تو پھولیں نہ سمائیں. دونوں نے مزید سات مہینوں کی مدت کا حساب لگایا.. خواہشوں کی منڈیر پر تڑپتی مچلتی خوشی ایسی کہ اپنی مانی ہوئی منتیں مرادیں گننے لگیں.. پھر ایک دوسرے کو خوشی سے دیکھتیں گلے لگاتیں اور کہتیں سب ادا ہو جائیں گی.. پہلے بہو بیگم کی تکلیف ختم ہونا ضروری ہے ۔ ڈرئیوار سے کہہ کر گاڑی نکالی گئی سب گاڑی میں بیٹھ کر ہسپتال ہو لیۓ۔ شہزادی بیگم نے پہنچنے سے پہلے لیڈی ڈاکٹر کو فون پہ اطلاع دے رکھی تھی۔ ڈاکٹر ایسی جس سے بات کرنے کے لیۓ بھی مہنوں پہلے وقت لینا پڑتا تھا عام شہریوں کو . ڈاکٹر کے روم میں پہچے دو تین ٹیسٹ کروائے پھر مریض کا چیک اپ کرنے لگی ایک دو سوال کرکے پھر چیک کرنے لگی ۔ بہو رانی کو بیڈ پر جا کے لیٹنے کو کہا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد لیڈی ڈاکٹر اپنی میز پر آ کر بیٹھ گئی ۔ مضطرب نظروں سے سب دیکھنے لگے ۔ آپ دونوں میں ان کی ماں کون ہیں ۔ "جی یہ" شہزادی بیگم نے اشارے سے بتایا ۔ ان کی عمر کیا ہے ؟ "جی بتیس سال " آپ لوگ عجیب ہوتے ہیں اتنا سارا پیسہ ہونے کے باوجود اپنی کنواری لڑکیوں کو بوڑھی کر دیتے ہیں۔ "کیا " دونوں کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
  • Kauser Baig

سڑک


سڑک


السلام عیلکم
سڑک کئی قسم کی ہوتی ہے  چمکتی دلکش سڑک ، ہموار سڑک ،کشادہ سڑک ،خالی سڑک ،  پتلی سڑک  ، چوڑی سڑک  ، بڑی سڑک ، قدیم سڑک ، نئی سڑک ، پتھریلی سڑک ،بل کھاتی سڑک ،کچی سڑک ،اوپر چڑھتی سڑک ،ڈھلوان کی طرف جاتی سڑک ،ٹامر والی سڑک ، سنسان سڑک ،خطرناک سڑک ،ٹھنڈی سڑک ۔میں ان میں سے کسی بھی سڑک کا ذکر نہیں کرنا چاہتی اور نہ تاریخ پر روشنی ڈالنے کا اردہ ہے جیسا کہ شیر شاہ سوری جس کو ہندوستان کا نپولن کہتے ہیں ان کی تعمیر کردہ ایک ہزار پانچ سو کوس کی لمبی یاد گار جرنیلی سڑک بنائی وغیرہ نہیں سنانا ہے ۔ سڑک تو لوگوں کی آمد و رفت کے لئے بنائی جاتی ہے چاہے وہ کیسی بھی رہے ۔
 ابھی ابھی انڈیا سے آئی ہوں تو کہیں یہ تو نہیں سمجھ رہے ہیں کہ سڑک پر جگہ جگہ گڑھے ہونے یا سڑک  کھنڈرات میں تبدیل ہونے کی شکایت کرونگی یا پھرپانی کی لائن پھٹ پڑنے سے سڑک پر گڑھے پڑگئے ہیں اور نہ یہ بتانا چاہتی ہوں کہ سڑک کی توسع کی آڑ میں ٹھکیدار کیسے اچھے میٹریل کے پیسے لے کر خراب مال استعمال کرتے ہیں اورسڑک کچھ ماہ کے بعد خراب ہوجاتی ہے  یہ بات تو اب شہر کا بچا بچا جان گیا ہے کہنا ہی فضول ہے۔  بزرگ بچے مریضوں کا خیال کئےبناعوام ٹولیوں کی شکل میں کوئی نہ کوئی بات منوانے احتجاج کے لئے سڑک پر نکل پڑتی ہے  اب یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے اس میں کہنے والی کیا بات ہے
اور یہ بھی سب دیکھتے ہی  ہیں کہ اپنے ہی شہر میں کیسے شہری سڑک پر کچرا پھینک دیتے ہیں جب کہ صفائی آدھا ایمان ہے اور صحت پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے ۔اس تعلق سے آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ کامرس  کے دو گریجویٹ پراتیک اگروال اور راج ڈیسائی دونوں نے اپنے خرچ پر بنگلور ،کولکتہ اوردہلی کی صفائی کے لئے ایک پروگرام بنایا ہے جو دہلی کے ہفتہ وار میوزک فیسٹول میں  وائی فائی کوڑے دان نصب کرکے متعارف کیے ۔اگروال کا کہنا ہے کہ جب کوئی کوڑے دان میں کچرا پھنکتا ہے تو کوڑے دان  ایک کوڈ بھیجتا ہے جس سے مفت وائی فائی  حاصل کرنے استعمال کیا جاسکتا ہے جو بہت کامیاب آئیڈیا رہا ۔ اکثر لوگوں کو کچرا اٹھا کر ڈالتے دیکھا گیا ہے واہ کیا دکھتی رگ پکڑی ہے ان لڑکوں نے
 یہ بھی بتانا بیکار ہے کہ سڑک میں لگی کنکریٹ سیلیں اکھاڑ لی جاتی ہیں یا مین ہول کے ڈھکن چوری کرلئے جاتے ہیں ۔ اور کبھی تو سڑک پر دلھا دلہن اور براتیوں کے ساتھ باچے والے رک رک کر ایسا چلتے ہیں کہ کوئی مصبت کا مارا   دم تک نہیں مار سکتا شادی کے باجے سے یاد آیا کچھ دن پہلے بی بی سی پر پڑھی تھی کہ بہار کے بروان کالا گاوں جو کیموا پہاڑیوں کے درمیان بسا ہے وہاں سڑک نہ ہونے کے باعث بنیادی سہولیات نہیں ہے جس کی وجہہ سے کوئی ان سے شادی  نہیں کرنا چاہتا  اب اس غیر شادی شدہ لوگوں کے گاوں کے مرد شادی کے لئے سڑک تعمیر کرنے کا اردا کئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو بھی ہو ہم تب تک نہیں رکیں گے جب تک پوری چھ کیلو میٹر کی سڑک تیار نہ ہوجاتی ہے ۔ پاپڑ بیلنا محاورہ سنا تھا یہ سڑک بنانے والی بات بھی  خوب ہے ۔  بے چاروں کو شادی کے لئے سڑک بنانی پڑگئی ۔
اس محنتی خبر سے یاد آیا پہلے ہمارے بچپن میں  دیکھا کرتے تھے کہ سڑک کے کمبے کے نیچے بعض لوگ علم کے حصول و جستجو میں بیٹھکر پڑھائی کیا کرتے تھے ۔ آج بچے سارے سہولت فراہم کرنے پر بھی پڑھائی نہیں کرتے ۔
آج کے د نوں میں سڑک پر لادینا ، سڑک پر اتر آنا ۔ سڑک چھاپ عاشقی کے قصہ ، سڑک کنارہ بم دھماکا ، نو مولود بچہ کا سڑک پر پڑا ملنا ،نامعلوم لاش سڑک پر سڑنا ، سڑک پر ٹرک کی ٹکر، سڑک کی خراب حالت کی وجہہ سے گہرے کھائی میں گرجانا ۔ گاڑی کے پنکچر ٹھیک کرنے حفاظتی پتھر رکھے تھے اسی حالت میں چھوڑ جانے سے حادثہ واقعہ ہونا ، نشہ یا فون کرنے کی  وجہہ سے گاڑیوں میں تصادم ،ہراس زدگی کی روداد ، سڑک بلاک کی  جانا ، اس طرح کی خبریں آئے دن اخبار کی سرخی بنی نظر آتے ہی رہتی ہے ۔  سڑک پر لگے اشارے یعنی سنگنل اور قوانین کی پروا نہیں کرتے اورہر مسافر سڑک مسافت کی عجلتوں میں گھرے ہوئے نظرآتے ہیں سب ہی کو جانے کی جلدی نظر آتی ہے اور اس چکر میں جو جیسا سڑک سے نکلنا ممکن ہو، نکل جاتا ہے اس سے نظام میں بے ترتیبی ہوجاتی ہے۔ وقت میں مزیداضافہ اور حادثہ کا  امکان بھی بڑجاتا ہے ۔ بائیک اور سائیکلیوں والے کم سے کم جگہ سے نکلنے میں اکثر کامیاب ہوجاتے ہیں اگر کبھی کسی گاڑی کا ہلکا سا دھکا بھی لگے تو اچھل کر دور چلے جاتے ہیں پھر الٹا گاڑی والوں سے لڑائی شروع کردیتے ہیں ۔ بس اور ٹرک والے اپنی بڑی گاڑی کے خمار میں چھوٹی گاڑی والوں کو پیچھے کرنا چاہتے ہیں مگر وہ  بھی آخر موٹر نشین ہیں کب پیچھے رہنے تیار ہوتے ہیں بھلا ۔  خیر ایسے تصادم توسڑک پر بے ضوابط کی وجہہ سے ہوتے ہی رہتے ہیں ۔
اب کے انڈیا کی چکر میں یہ دیکھکرسر چکرا گیا  اِدھر سڑک جم ہوئی یا لال بتی جلی اور ُادھر  بائیک والے  پاوں نیچے ٹیکا کر اور گاڑی والے اسٹیرنگ چھوڑ کر  فون پکڑے مصروف نطر ارہے تھے  ۔ میرے بازوسے کچھ آگے ایک بائیک پر دو آدمی براجمان تھے ان کی بلند آواز کی وجہہ سے غیر ارادی طور سے میری توجہ ان کی طرف ہوگئی  وہ فون پر کہہ رہے تھے ایک گھنٹہ سے زیادہ سے ٹریفک میں پھنسا ہوا ہوں( جب کہ پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوئے تھے ) تم کھانا کھالو ابھی کتنی دیر ہوتی ہے نہیں معلوم  ۔ فون رکھنے  کے بعد دوسرا ادمی پوچھ رہاتھا تم نے بھابی سے چھوٹ کیوں بولا  ؟ارے جانے دو یارو پھر میرے کو بھی بریانی کا پارسل نہیں لائے ، نخرے شروع ہوجاتے ۔ سفید چوٹ میں نے دل میں  خود سے کہہ کر اپنے بازو کھڑی گاڑی کے طرف دیکھنے لگی ۔

ایک مہاشہ ڈرئیونگ سیٹ پر بیٹھے فون پرمحو گفتگو تھے ۔ نہیں نہیں ایک لاکھ کی چیز ہے میں ستر ہزار میں دیلانے راضی کروایا ہوں ۔  میرا نہیں ہے جی  یہ دوسروں کا بزنس ہے میرا رہتا تو کم کرتا اور آپ کو ان کے پاس سے ہی لینا ہے۔۔۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہے ساتھ چلنے ۔۔۔ لکڑی کے پل سے آگے جاتے ہی وہ ملنے آجائنگے۔۔۔۔اچھا اچھا کہہ کر فون بند کرکے فوراً دوسرا فون ملانے لگے اورفون پر کہنے لگے وہ پارٹی تیار ہوگئی ، تم فلاں جگہ جاکرمال دے آو اور رات میں میرے پیسے تیار رکھو چالیس کا مال ستر میں نکال گیا ۔۔۔ افف یہ تو صریح ظلم ہوا ، جیب کترا منافع خور یہ سوچتے ہوئے میں میاں کی جانب دیکھنے لگی ۔
ان کی طرف بھی دو بائیک آگے بیچھے کھرے تھے پیچھے والی بائیک پرمیاں بیوی تین بچے بے زار سے کھڑے تھے تھوڑی آگے کو نکلی بائیک پر ایک نوجوان تھا جو بہت آہستہ سے بات کررہا تھا ۔ میں دل میں کہنے لگی دیکھو سب چلا چلا کر بات کررہے ہیں کتنا مہذب ہے ۔ اس نوجوان کا فون نیا ہے شاید نئی بیوی کی طرح شروع میں آہستہ سرگوشیاں ہوا کرتی ہیں اور بعد میں زور سے کہا سنا جاتا ہے فون کا بھی یہ ہی حال ہے پھر ٹریفک کھول چکی اس نے سڑک کھولتے ہی مارے جوش کے زور سے جاتے ہوئے ائی لو یوڈرلینگ (اس انداز سے کہا کہ معاملہ صاف سمجھ آگیا) کہہ کر فون بند کردیا اور تیزی سے نکل پڑا ۔

افف ! یا اللہ دنیا میں لوگ دوسروں کو بیوقف بنا رہے ہیں یا خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ مجھے اپنے اطراف ٹریفک کی  جگہ کسی  دوسری دنیا کے لہراتے سایہ محسوس ہونے لگے جس میں چھوٹ ، دھوکا  ،فریب ،مکر بھری دیکھائی دینے لگی  ۔     زمیں نہ بدلی ،سورج نہ بدلا، بدلا نہ آسمان کتنا بدل گیا انسان

آزادی کا جشن مبارک ہو





السلام علیکمکل صبح سے نیٹ پر آنا نہیں ہوا کئی بار سوچی کہ پاکستانی بہن بهائی کو مبارک با دوں مگر فرصت نہ ہو پائی ابهی جب آئی تو خیال آیا کہ کیوں نا ایک ساته ہی سب کو مبارک باد دے دی جائے .

میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے ہندوستان و پاکستان دونوں کی عوام کے تمام بہنوں بهائیوں کو جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو .

آج جب میں یہ لکه رہی ہوں تو مجهے میرے بچپن کے وہ دن یاد آرہے ہیں. ہمارے اسکول میں کئی دن پہلے سے کلاس کو سجانے کی تیاری کی جاتی تهی. گهر پر قومی ترانہ کی مشق ہوا کرتی لگتا جیسے ایک عید ہو جس کی تیاری اور انتظار بے چینی سے کیا جارہا ہے .

اب جب نیٹ اور اخبار میں آزادی پر کئی مضامین افسانہ پڑهے مبارک بادی سے پیشتر لکهے تحریر کردہ جملے پڑهے تو آزادی کی خوشی ولولہ وطن سے محبت کی جو تجدید ہوا کرتی تهی اس کی جگہ گلہ شکوہ برائیوں کا اظہار ناکامی کے قصہ محرومی کی باتیں پڑھ کر دکه و افسوس ہوتا رہا.

جو گزار گیا وہ گزار گیا آو اب ہم خود میں نئی توانائی پیدا کرتے ہیں نئے منصوبے بناتے ہیں ان سب سے پہلے ہم خود کو نیک اعمال سے آراستہ کرتے ہیں کیونکہ جو حق کے راستہ پر چلتے ہیں وہ ناکام و نامراد نہیں ہوتے جو اللہ کو صبح شام یاد کرتے ہیں اس سے مانگتے ہیں انہیں کسی سے ماگنے کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اللہ کو اپنا بنالیں تو پهر کسی کی ضرورت نہیں ہوتی یہ چوری یہ قتل و خون یہ بے آبرو کرنا سب خوف خدا کے نہ ہونے سے ہوتا ہے.


آئیں آگے بڑهیں اللہ کی رسی کو تهام لیں اس کی راہ میں پہلے ہم اکیلے ہوگے مگر ہر اچهے کام میں برکت ہوتی ہے اللہ سے جیسے جیسے قریب ہوتے جائیں گے ہم سب آپس میں مربوط ،مظبوط ،محفوظ ہوتے جائنگے .
آئیں آج ہم سب بهولا کر ایک بار جوش ولولہ اور نئے جذبہ کے ساته ہم سب ملکر کہتے ہیں .

آزادی کا جشن مبارک ہو

ہم نے روزہ رکھا

السلام علیکم
 آج صبح جب میں نے فیس بک کھولا تو دیکھا کہ شعیب صفدر بھائی کا مسیج انتظار کررہا تھا پہلے تو حیران ہوئی کہ کبھی نہیں سو بھائی نے کیسے یاد کیا۔ جب پڑھا تو بے اختیار مسکراہٹ آگئی لکھا تھا "آپ کو اپنی تحریر میں ٹیگ کیا ہے مطلب آپ کو ایک تحریر بچپن کے روزوں پر لکھنی ہے " مجھے لگا صفدر بھائی جج کی کرسی پر بیٹھے حکم صادر فرما رہے ہیں اور  تحریر نہ لکھنے کی صورت میں ہتھوڑا ہمارے سر پر نہ لگ جائیں اس لئے اپنی پہلی فرصت میں فائل اوہ سوری تحریر تیار کردی ہے  ۔ میری زبانی میرے پہلے روزہ کا حال کچھ یوں عرص ہے۔
بچپن کی باتیں بچپن کی طرح ہی سہانے ہوتے ہیں  ۔ بچپن میں ہم، ہم نہیں ہوتے بلکہ ایک انجمن ہوتے ہیں جہاں امی بابا اور بہنوں بھائیوں کی نصیحت مشورے پیار محبت ڈانٹ ہمارے ہر قدم کو ناپنے تالنے کے بعدبھی تیار ملتے تھے  ۔ میں خود کو ایک گڑیا کی طرح محسوس کیاکرتی تھی کیا کرنا ہے کب کھانا ہے کہاں جانا ہے بیٹھنا ہے  بڑے کہتے اور ہم بنا سوچے سمجھے  ایک بے جان گڑیا کی طرح تعمیل کیا کرتے ۔
جب میں پانچ سال کی تھی اب کی طرح گرمیوں میں رمضان آیا تھا ۔ ایک دن میں نے امی بابا کی باتیں سنی بابا  میرے روزہ رکھانے کی بات کررہے تھے۔ امی  میرے بہت چھوٹے ہونے کی بات کی تو بابا نے فرمایا کہ چھوٹی تم کو دیکھ رہی ہے ،ہمارے سارے بچے پانچ سال میں روزہ رکھے ۔امی نے گرمی کا بہانہ بنایا تو بابا مان گئے ۔  کیوں کہ میں  گھر کی سب سے چھوٹی فرد ہونے سے  بہت لاڈ دلار  ہواکرتے تھے ۔اس لئے آیندہ سال پر بات ٹل گئی مگر مجھے یاد ہے میں نے بابا  کے  سامنے امی سے روزہ رہنے کی ضد پکڑ لی امی انکار کرتی رہیں تو بابا نے مجھے سمجھایا کہ رات میں اٹھکر کھانا ہوگا پھر سارا دن کوئی بھی چیز حلق سے نہیں اترنی ہوتی ہے پانی تک بھی نہیں ۔  میرے ہاں ہاں کہنے کے بعد سحر کی تیاری کی گئی مجھے سحر کا بالکل یاد نہیں مگر امی کہتی تھی کہ ہمارے پڑوس میں ایک نورانساء آپا ہوا کرتی تھی جو سحر میں آکر امی کے بعد انہوں نے  کھلانے کی آخری کسر پوری کی تھی ۔ فجر کی نماز کے بعد سب قرآن پڑھنے بیٹھے تو ہم نے بھی اپنا  قاعدہ پڑھا ایسا لگ رہا تھا کہ اب میں بھی سب کی طرح بہت بڑی ہوگئی ہوں  ۔کچھ دیر سونے کے بعد امی نے ظہر کی نماز کو اٹھا یا پھر امی تو افطار کی تیاری میں لگ گئی مگر ساتھ ہی ساتھ ہم پر نظر بھی رکھی رہتی کہ ہم کچھ کھا نہ لیں یہاں تک کہ ہم باتھ روم جانا چاہتے تو پہلے سمجھاتے کہ پانی بھی پینا نہیں ہے ۔جب باہر آتے تو سب غور سے دیکھتے منہ پر پانی کی تری تو نہیں مگر ہم تو بہت ہی شریف سی بچی تھے ان کی نظروں سے ہڑ بڑا جاتی  ۔
 جوں توں کرکے وقت گزار رہا تھا ۔ آہستہ آہستہ سے ہوتے ہوتے  زور سے چوہے پیٹ میں اچھلنے کودنے لگے تھے ۔ہونٹ سوکھ کر پپڑی آگئی تھی باربار زبان پھیرنے سے بھی کچھ نہیں ہورہا تھا زبان خود سوکھکر کانٹا ہوگئی تھی ۔امی یہ کیفیت دیکھ رہی تھی کام کے ساتھ مجھے دوسرے بہنوں بھائیوں کے روزے کے صبر کے قصے سناتی رہی مگر میری توجہ امی کی باتوں سے زیادہ امی کے کام پر زیادہ تھی جہاں افطار کی دال ، فالودہ نہ جانے کیا کیا بنا رہی تھی ۔ ساتھ یہ بھی بیچ بیچ میں کہتی کہ تم روزہ ہے بول کے اتنی ساری چیریں بن رہی ہیں ۔ امی کا یہ جملہ بڑا تسلی بخش ہوتا۔
پھر بابا اسکول سے آئے ( ٹیچر تھے) آتے ہی  مجھے  تیار ہونے کہا اور خود فرش ہوکر مجھے باہر لے آئے سب سے پہلے ہم نے سیکل رکشا میں بیٹھ کر چارمینار پہچے وہاں سے ٹیکسی کرکے  سکندرآباد  گئے  سکندرآباد میں ڈبل بس تھی اس میں بیٹھا کر ریلوے استیشن لے آئے پھر ہم نے  ریل گاڑی میں سفر کرکے نامپلی اسٹیشن پر اترے نامپلی میں معظم جاہی مارکٹ  پہچےوہاں سے  قسم قسم کےبہت سارے میوے خریدے گئے ۔  پھر رکشا کرکے گھر واپس آئے اس عرصہ میں کبھی ہمیں ڈبل بس کی خوشی رہتی تو کبھی ٹرین میں پہلی بار بیٹھنے کا مزہ آتا رہا سارے چھاڑ مکان اتنی تیزی سے گزرتے رہے اور اسی رفتار سے ہمارے دماغ سے روزے کا خیال بھی جاتا رہا پھلوں کی مارکٹ میں بار بار بابا ہم سے پوچھتے یہ لینا ہے  وہ لیں  تو ہمیں لگتا ہم کوئی کہانی کی شہزادی ہیں جس کی پسند پر ہر چیز لینے سے پہلے پوچھ رہے ہیں ۔
بہت سارا وقت بڑے اچھے سے گزار گیا ۔پھر بھی  مغرب کو باقی تھا ، مجھے لگتا جیسے وقت سے پہلےمیری آنکھوں کے آگے  آندھیرا ہوگیا ہے ۔ اب پوچھنے لگی تھی کتنا وقت باقی ہے ۔۔۔ بس ابھی ہوگیا سمجھو ہر بار اسی طرح کا کوئی جواب ملتا ۔ بابا نے جب یہ حال میرا دیکھا تو ہمیں کام لگانے لگے چلو اب ہم چاٹ بناتے ہیں امی کے پاس سے یہ لے آو یہ دے آو ،یہ سیب ادھر دینا وہ کیلا یہاں رکھیں چاٹ بنتے بنتے وقت کوچاٹ گیا ۔ پڑوس کو حصے  بھجوائے گئے وہاں بھی ہمیں ساتھ جانے کہا ۔پڑوس سے واپس آنے پر دیکھا کہ لمبا چوڑا  لال دستر لگایا گیا ہے اس پہ مختلف پکوان اور  پھل رکھے ہیں انہیں دیکھ کر جان میں جان آئی ۔ایک ایک کرکے سب آکر بیٹھتے گئے مجھے بھی  سب کے بیچوں بیچ چگہ دی گئی  مگر وقت تھا کہ تھما ہوا تھا کچھ دیر میں  زور کی سیرنگ کی آواز آئی تو سب ہی بہت خوش ہوگئے ہر ایک نے میرے صبر کی تعریف کرتے دعائیں  دینے لگے ۔اس دن جو افطار پہ خوشی ہوئی  وہ ابھی تک یاد رہ گئی ہے۔ 
 جب بھی میں وہ حدیث پڑھتی یا سنتی ہوں جس میں کہا گیا ہے کہ روزے دار کو دوخوشیاں ملتی ہیں  جن سے وہ خوش ہوتا ہے ۔ایک تو وہ اپنے  افطار سے خوش ہوتا ہے دوسرا وہ اس وقت خوش ہوگا جب وہ اپنے روزے کے سبب اپنے پرور دگار سے ملے گا (صحیح)
اللہ پاک ہمیں دوسری خوشی کا موقع بھی عطا فرمائے ۔        

محبت اور نظر

محبت اور نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل رات  افطار کے بعد مجھے بہو کے ساتھ ہاسپٹل جانے کا اتفاق ہوا  وہاں پر ویسے تو بہت سارے جوڑے ڈاکٹر کے منتظر  نظر آرہے تھے مگر ان میں ایک  بہت ہی نمایا سا جوڑا تھا ۔یا مجھے لگ رہا تھا  ۔ جو نو بیاہتا  معلوم ہوتا تھا  جب وہ لوگ نام لکھانے لائن میں کھڑے تھے ۔ میں دور بیٹھی انہیں پہلی بار دیکھی تھی تب میاں اپنی بیوی کے بہت ہی قریب کھڑا جھک کر سر سے سر لگا کر سرگوشی کرتا تو کبھی جھک کر کانا پھوسی کرتا رہا اور جب کرسیوں پر ہم آکر بیٹھے تووہ سامنے کی کرسیوں پر بیٹھے شوہرنامدار بیوی کی کرسی کے پیچھے ہاتھ رکھےنہ جانے کس بات پر  ہنس رہے تھے اور بیوی خاموش سیل کو دیکھے جارہی تھی۔ پھر میاں نے کمر کی قریب ہاتھ سرکاتے  بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتے کچھ کہا ہمارے درمیان کچھ فاصلہ  تھا اور آواز دھیمی تھی سنے تو کچھ نہیں آیا مگر میں انہیں دیکھ کر محظوظ ہوتی رہی اور سوچتی رہی کہ اس طرح جائز محبت کو دیکھنے سے بھی دل میں خوشی و پاکیزگی کا احساس رہتا ہے اس کی جگہ اگر کوئی نامحرم ہونے کا شبہ بھی ہو ،تو دیکھ کر کوفت سی ہونے لگتے  ہے یہ لڑکی شاید پپلیک کی جگہ ہونے سےمیاں سے انجان ہے یا ان کے درمیان کہا سنانا تو نہیں ہوگیا ؟یاپھر یہ لڑکی اس لڑکے کو پسند نہیں کرتی ؟ نہیں نہیں یہ تو اس لڑکی سے بھی زیادہ خوبرو گورا سجیلا نوجوان ہے پھر پھر  ۔۔۔۔۔۔  ان سوچوں میں گم تھی کہ مجھے یوں دیکھتا اور سوچتا دیکھ کر میری بہو نے خود  ہی بتایا کہ امی جب یہ لڑکی میرے ساتھ لائن میں کھڑی تھی نا تب فون پر بتا رہی تھی کہ مما میرے پاس کوئی      خوشخبری نہیں ،ہم ڈاکٹر سے مل کر آنے تک دیر ہوجائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورمیں سوچ لگی محبت تیرا ہر رنگ خوبصورت ہے تو دکھ میں بھی اچھی  لگتی ہے اور سکھ میں بھی تیری بے رخی بھی پرکشش ہے اور اظہار بھی اچھا لگتا ہے ۔ دیکھنے میں اور کرنے اور پانے میں بھی تیرا جواب نہیں ۔
زند ہ باد، زندہ باد اے محبت تو زندہ باد


مفید ماہ


رمضان کا مہینہ بڑا برکتوں کا ہے پیغام مومنون کے لئے رحمتوں کا ہے


رمضان المبارک عبادتو ں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ دنیا کے ہر مسلمانوں کے لئے یہ خاص مہینہ روحانی قوت مہیا کرتا ہے. رات کی نیند کی قربانی دے کر سحری کی جاتی ہے ۔دن کے اوقات پر کھانے پینے سے خود کو اللہ کی خوشنودی کے لئے روکتے ہیں اس سے غریب مسلمان کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں ہمدردی اور انسانیت کے جزبہ کو ترقی ہوتی ہے ۔خود ہماری صحت کے لئے بھی فائدہ مند ہے ۔رمضان میں ہر نیک کام کا اجر اللہ پاک بڑاکر دیتے ہیں روزہ کا اجر تو اللہ ہی دینے والا ہے اور وہ سب سے زیادہ دینے والا ملکِ حقیقی ہے ۔ خوب اس سے سوال کریں اللہ کو دعا کرنا پسند ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ بنا کسی وجہہ کے روزہ نہ چھوڑیں ۔اس کی قضا بھی کردیں تو بھی خسارہ پورہ نہ کرسکے گے ۔رمضان کے اس برکاتوں رحمتوں والے مہینہ میں خوب خوب مستفید ہوں۔اس ناچیز کو بھی اپنی دعا میں یاد رکھیں

پیدائشی مقصد




ہم بچپن سے یہ سنتے اور پڑهتےآئے ہیں کے ہماری پیدائش کا مقصد اللہ کی عبادت کر نا ہے ہم کماتے ہیں کهانے پہنے ضرورت زندگی کی تکمیل کے لئے اور کهاتے ہیں تو بدن کی طاقت قوت ، تندرستی وتشو نما کے واسطے .اب ہم کو چائیے کہ اس طاقت قوت کا صحیح استعمال کریں .جس نے اس جسم کو پیدا کیا اس کو ناتواں سے توانائی دی تو ہم پر فرض ہے کہ سب سے پہلے ہم اللہ کا حق ادا کریں پهر اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کے حقوق جو ہم پر اللہ نے لاگو کئے ہیں ان کوادا کرنے کی کوشش کریں
مولانا عبدالقدیر صدیقی رحمتہ علیہ فرماتے تهےتم اللہ کا کام کرو وہ بهی تمہارا کام کردے گا . ومن یتوکل علی اللہ فهو حسبہ (الطاق، آیت 3) ترجمہ : اور جو اللہ پربھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے .

کیا ہی اچهی بات کہی ہے جس کا اللہ ہوجاے پهر اسے کسی غیر اللہ  کی کیا ضرورت .اللہ کو راضی کرنا ہے تو ہمیں اس کے احکام کو بجا لانا ہوگا . ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آج مسلمان اللہ کے حکم کی پاسداری نہیں کرتا  دنیا میں مشغول ہوگیا ہے اسی لئے ہم جگہ جگہ ظلم کا شکار ہورہے ہیں .جب تک ہم اپنی حالت نہیں بدلتے تب تک عزت و امان سے رہنا دشوار ہے .اس لئے میرے اچهے بهائیوں اور بہنوں ہم اپنا پیدائش کا مقصد یاد رکهے  .اللہ کی بندگی میں سر خم  کرینگے تب ہی ہمیںہر کام میں کامیابی ملے گی  
کچه یاد خدا کر لے بابا جو بهول گئے پچھتائو رے

پاکستان میں آخری شام


آخری قسط

جانے سے ایک دن پہلے پیاری کشور کا فون آیا کہ آپی آپ رات میرے گھر ڈینر کیجئے گا میں کیسے ہاں کرتی جب کے ایک دن پہلے بہن کےسب بچے بڑی بھانجی کے پاس جہاں میں ٹہری ہوئی تھی جمع ہونے کا پروگرام بنایا ہواتھا ۔ میں کشور کی والدہ محترمہ سے فون پر بات کرکے انہیں اپنی مصروفیت کے بارے میں بتایا کتنا وقت کم ہے اور بہت کام باقی ہیں وہ بہت ہی مخلص لگی بڑی متانت سے بات کی جب میں نےان سے کہا کہ اگر کشور ہی میرے پاس آجائے تو میرا بہت وقت بچ سکتا ہے وہ بڑی اچھی بی بی ہیں میری بات کو سمجھکر مغرب تک بھیجنے کا اردہ ظاہر کیا تو میں پھر ایک بار شش و پنچ میں آگئی پھر میں نے بلا وقفہ کہ انہیں بتایاکہ مجھے مغرب پر کہیں اور جانا ہے ۔وہ مغرب سے پہلے کشور کے ملاقات کا وقت طے ہوا اور ہم رجسٹریشن آفس سے نکل کرہم دونوں الگ رہ اختیار کی میں دونوں بھانجیوں کے ساتھ شاپنگ کو چلے گئی اور میاں اپنے آفس کے ساتھیوں سے ملاقاتوں کے لئے بڑی بھانجی اورانکےمیاں کے ساتھ چلے گئے ۔


جلدی جلدی سارے بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ خریداری کی ابھی خرید ہی رہے تھے کہ صاحب کا فون آیا کہ تمہاری دوست گھر سے نکل چکی ہے جلدی سے تم بھی آجاؤں پھر ہمیں جانا بھی ہے ۔ ہم نے شاپنگ کو دی اینڈ کہا مگر اچانک ہماری فیملی کے نئے ممبر جو پانچ ماہ پہلے شامل ہوئےداماد کے لئے کچھ بھی تحفہ نہیں لینے کے خیال کے ساتھ ہی ہم نے فوراً فیصلہ کیا کہ گھر پر جانا ضروری ہے میری ایک بھانجی جوداماد کا کرتا خرید کر اپنی گاڑی میں واپس چلے جائے گی پھر رات میں آکر ملے گی اور چھوٹی بھانجی کے ساتھ میں نے پاکستان کے پندرہ دنوں میں پہلی بار آٹو میں بیٹھکر گھر کی رہ لی راستہ میں فون آیا کہ کشور آچکی ہیں ہم ویسے ہی اندر سے بے چین تھےپہلی بار کسی نیٹ کی سہیلی سے مل رہے تھے اس فون نے ہمارے سارے بند توڑ دیے اور میں بار بار ابھی کتنی دیر ہے پوچھ پوچھ کربھانجی کو بہت تنگ کیا ۔ 
بڑی دعاؤں ارمانوں اور تمناوں کے بعد کشور سے ملنے کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ پتہ نہیں ایک عجیب سی بے چینی تھی ناجانے کیسا لگے گا ملکر۔ صبح آٹھ بجے کے گھر سے نکلے تھکے ہوئے برقع نے اور ادھ مرا کردیا تھا۔ شوپنگ کا ٹنشن کمر توڑ گیا تھا، وقت کی کمی کا احساس کھایا جارہا تھا، پیکنگ کی فکرالگ تھی، لمبے سفر کی ذہنی تیاری اوربہن کی جدائی کا غم ،گھر اور بچوں سے ملنے کی مسرت کئی ملے جلے احساسات میں، میں گھری ہوئے تھی ۔

اللہ اللہ کرکے گھر آگیابرقع اتارکر ایک طرف رکھا شاپنگ بیگس دوسری طرف رکھے ابھی منہ پر تھوڑا پانی مارکر تازہ دم ہوجاؤں سوچا ہی تھا کہ میاں اور بہن نے کشور سے جاکر جلد ملو بے چاری تمہارا انتظار کررہی ہے کہا تو ویسے ہی میں نے ہینڈ بیگ ایک طرف ہٹا کررکھا اور کشور سے ملنے ڈرئنگ روم میں چلی آئی جہاں وہ اپنے بھائی کے ساتھ جلوہ آفروز تھی مجھے دیکھتے ہی کشور بہت پیار سے ملنے آگے بڑھے اور میں خود کو روک نہیں پائی انکو گلے سے لگا لیا ۔ان کے بھائی نے بھی بڑے ہی اخلاق کامظاہرہ کیا وہ سارا وقت کبھی مجھے دیکھتے تو کبھی کشور کو جب بھی میں نے بھائی کی طرف دیکھا وہ زیر لب مسکراتے نطر آئے ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ماشاءاللہ سے حافظ قرآن ہیں تعلیم میں وقت دینے سے قرآن کو دہرانے اور حفظ برقرار رہنے دعا کرنے بھی کہا اللہ انہیں اپنے مقصد میں کامیابی دے ۔
میری اور کشور کی خوشی مشترکہ تھی ہم دونوں اتنے خوش تھے کہ ہمیں بات کرنے الفاظ نہیں مل رہے تھے بس زیادہ تر ایک دوسرے کو دیکھے جارہے تھے ہنسے جارہے تھے خود کو یقین دیلانے بات کرنے کی کوشش کررہے تھے میں نے بعد میں سوچا تو سمجھ آیا کہ لوگ سچ ہی کہتے ہیں محبت کی کوئی زبان نہیں ہوتی

اس مختصر ملاقات میں میں کشور کو دیکھتی اور محظوظ ہوتی رہی کبھی ان کی ریشمی آواز میں گم ہوتی تو کبھی ذہین آنکھوں میں جھکتی اور کبھی موہنی صورت کو تکتی اور کبھی لباس کی پاکیزگی اور ڈوپٹہ کے بندھنے کے انداز سے متاثر ہوتی۔میں نے ایک بار انکے پڑھے لکھے قابل ہونے کی تعریف کرنے پر اور ایک بار انکی اچھی اچھی تحاریر کی تعریف کی تو وہ بہت عمدگی و انکساری سے ٹال گئی ۔ بہت ملنسار، سادگی پسند،ہنس مکھ نازک سی بہنا ہیں ۔میرے ساتھ ساتھ میاں بھی ان سے ملکر خوش تھے ایک وجہہ ان کی خوشی کی یہ تھی کہ وہ میری ساس کی ہم نامی ہیں دوسری وجہہ کشور کی بات چیت انداز تہذیب سے متاثر ہوئے۔
میں محسوس کررہی تھی کشورکے دل میں ایک ساتھ بہت سارے خیالات اور سوالات چھپے تھے میں نے دل ہی دل میں کہا میں سارے جوابات دہنا چاہتی ہوں میں ہر خیال پر تفصیلی بات کرنا چاہتی ہوں مگر وقت کم ہے ہم یہ سب نیٹ پر بھی شیئر کرسکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے اس لئے ہم نے تصویر لے لی کہ یہ یاد زندہ رہے میں نے کشور کے قریب بیٹھ کر انہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کی مجھے لگا یہ میری ننھی منی سی بہنا ہے یہ میری بیٹی ہے جو کچھ دیر میں مجھے سے پھر دنیا کی بھیڑ میں جدا ہوجائیگی میں نے خود سےکہا جتنا ساتھ ہے غنیمت ہےجتنا وقت سمٹ سکتی ہوں سمٹ لوں
بعض بہت اچھی یادیں اور بہت قیمتی لمحے ہوتے ہیں کچھ ہماری زندگی میں جو گزار تو جاتے ہیں مگر وہ امر ہوجاتے ہیں ۔ جس کا جتنا بھی اللہ کا شکر کریں کم ہے اللہ میرے پیاروں پر ہمیشہ کرم فرماتے رہے انہیں ڈھیروں خوشیاں دے۔ ہمارے پاس وقت کم تھا مجھے پھر دوسری جگہ ملاقات کو جانا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں جدا ہونا تھا میں اندر ہی اندر بہت بے چین ہوئی کشور کو جاتا دیکھ کر دل کرتا تھا کہ دروزے سے نکل کر سیڑیوں سے نیچے تک چھوڑ آوں مگر کب تک ساتھ رہ سکتی تھی الگ تو ہونا ہی تھا جب تک نظر آئے دیکھتی رہی اور محسوس کرتی رہی کہ کشور ذہنی طور سےبہت دیر تک میرے ساتھ رہیں ہیں ۔۔۔۔۔
نیٹ کےکراچی میں رہنے والے اور بھی دوستوں سے ملنے کاخیال تھا جو پورا نہ ہوسکا جیسے ون اردو کی مانوگھر سے باہر تھی اسی لئےصرف فون پر بات ہوسکی۔ ون اردو کے امان بھائی ،بلاگروقار اعظم،بلاگرشعیب صفدر بھائی سے ملنے کو من تھا مگر ان سےربطہ قائم کرکے اجازات لینے کاسوچتی رہ گئی موقعہ ہی نہ ملابلاگر اسریٰ غوری کو میسج کیا تھا مگر جواب نہ ملاشاید وہ دیکھی نہیں ایک اور فیس بک کی اچھی سی دوست شاہدہ حق ان سے فون پر بات ہوئی اور ملاقات ہوتے ہوتے رہ گئی۔ جس سےملے اور جس سے نہ مل سکے اللہ ان سب کو شاد و آباد رکھے


مغرب کے وقت پر میرے سسرالی رشتہ دار وقت کی کمی کی وجہہ سے ایک جگہ جمع ہونے والے تھے ۔ تیار ہونے کا صبح ہی سے وقت نہیں مل رہا تھااسی حالت میں فوراً برقع پہن کرمیاں بہن اور انکے داماد کے ساتھ نکل پڑی وہاں بھی صاحب اور میزبانوں نے بچپن کی یادیں بزرگوں کی وفات کے تذکرہ وگزشتہ حالات کی باتیں کرتےرہے اور کئی چیزوں سے ضیافت کے بعد جانے کی اجازات ملی ۔

گھر آتے ہی ہم نے پیکنگ کی اسی دوران ایک کے بعد ایک بہن کے سب بچے آنے لگے سب نے ملکر کھایا پیا اور بہت دیر تک ہنستے بولتے بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ بہت یادگار بیٹھک رہی ہم نے کیمرے میں بھی کچھ باتیں ریکارڈ کرلیں تین بجنے پر سب اپنے اپنے گھر کی رہ لی کہ صبح آٹھ بجے ایر پورٹ بھی توجانا تھا ہم نے اپنی باقی پیکنگ پوری کرلی بستر پر لیٹے تو نیند کوسوں دور تھی کئی باتیں دماغ میں آنکھ مچولی کھیل رہی تھی میں نے سب کو چھٹک کرطبعیت صاف کی اور سو گئی ۔ صبح بہن کی آواز روح میں اترتی محسوس ہوئی وہ مجھے بیدار کررہی تھی۔ ایک لمحہ کو لگا تیس پیتیس سال پیچھے چلی گئی ہوں اور امی مجھے آواز لگا رہی ہیں ۔ جلدی جلدی بڑی بھانجی نے ناشتہ بنایا کھلایا ۔ بھانجے بھی آگئے وہ اوربہن کے بڑے داماداشفاق نے اپنی گاڑی میں ہمیں ایر پورٹ تک لاکرچھوڑا سامان کے ساتھ ہمیں اندر جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔
ہم نے اپنا سامان ڈالا کلیر ہونے کے بعدجانے لگے تو بتایا گیا کہ پلین دو گھنٹہ دیر سے جائے گا ۔ ہم اندر جاکرانتظار کرنے لگے بے کارہی کبھی اس مسافرکو دیکھتی تو کبھی کسی دوسرے کا نظارہ کرتی بیٹھی رہی جب دو گھنٹہ ہونے کو آئے تو صاحب نے جاکر پھر دریافت کیا تو پتہ چلا کہ اور تین گھنٹے دیر سے جانا ہوگا ۔ سعودیہ سے کئی بار پرواز کیا ہے یہ پہلا اتفاق ہے کہ پلین اتنے گهنٹے لیٹ ہے .شاید کچه دیر اس سر زمین پر کهڑا رہنا ہے یہاں کی ہوا کهانی اور پانی پینا ہے سوچکرجانے کے منتظر رہے۔
بھوک اور تھکن محسوس ہونے لگی ایر لائن والوں نے لنچ کا انتظام کیا تھا ہم نے بھی نام لکھوایا اور کھانے کے بعد آگے سفر کے لئےکچھ تقویت پائی ۔اب کرسی پر برجمان اطراف نظریں دوڑتی رہی تو کبھی فون پر نیٹ سے دل بہلاتے رہے کبھی اِدھر اُدھربے مقصد چکر کاٹے تو کبھی آنکھیں بند کرکے کرسی پر آرام کرنےکی کوشش کرتی رہی غصہ بھی آتا کہ جب ہم اپنوں کے ساتھ تھے تووقت َپرلگا کر اُڑرہا تھااور اب وقت جیسے بھاگتے بھاگتے تھم سا گیا تھا۔ ُسستانے رکا ہوا تھا ۔ چاہتے ہوئے ہو یا نہ چاہتے ،وقت کے ساتھ تو چلنا ہی ہوتا ہے۔ بلاخر روانگی کا اعلان ہوا جسے سنتے ہی ہم نے پلین کی رہ لی سیٹ تک پہچتے پہچتے ہمیں خیرمعمولی طور پر دو بار چیک کیا گیا ۔ ہم تو سیٹ تک آنے میں پھرتی دیکھائے مگر دوسرے لوگوں کی چیکینگ ہوتے ہوتے ہمارا دم گھٹتامحسوس ہورہا تھا ۔ پلین پرواز کرنےلگا ۔ کچھ کم پانچ گھنٹہ میں دمام ایر پورٹ پہچ گئے۔
ساڑهے آٹه کے گهر سے نکلے تهکے ماندهے مسافر غروب ہوتے سورج کے ساته دمام ایر پورٹ پہنچ گئے۔ سورج توبہت آگےاپنی منزل کی رہ جاچکا ہم یہاں اپنے سفر کا راستہ تلاش کرتے رہے گئے.بس سمجهیں کہ ہاتھی نکل گیا دم اٹک گئی ۔ منزل کے قریب پہچ کرمسافراتنا تھک جاتا ہے کہ اس کو ہمت سمیٹنے کا اصل یہ ہی وقت ہوتا ہے۔ باہر آئے سامان لیا دوسری لائن میں کھڑے رہے کراچی سے پلین لیٹ ہونے سے پھر میاں نے دمام ٹو جدہ کی سیٹ کےلئےکوشش شروع کردی ایک گھنٹہ کے انتظار کے بعدہم پھر ہوا کے دوش پر سوارتھے۔ گھر بچوں سے ملنے کی خوشی لیے جدہ ایر پورٹ اترے۔
بچوں نے خوب خوب لپٹ کر محبت کا اظہار کیا گاڑی میں سے ہی پاکستان کے رشتہ دار اور وہاں کی ایک ایک چیز کے بارے میں دریافت کرنے لگے ۔ اب بھی کبھی کبھی کوئی بات پوچھ کر مجھے یاد دیلادیتے ہیں ، بہن کا وہ نورانی چہرہ اور پاکستان کی یادیں وہاں کے لوگوں کا پیار آنکھوں میں سما جاتا ہے۔ 
وقت رخصت جو مجھے پیار سے دیکھا تم نے
اس سے بڑھ کر مرا سامانِ سفر کیا ہو گا



۔

پاکستان کے یادگار ایام

پاکستان کے قیام کا عرصہ بہت ہی خوشیوں شادمانی اور مصروفیت میں گزرا ۔ بھانجی کے بیٹے کی شادی میں خوب شریک رہی بہت اچھی معیاری شادی تھی ۔ ماشاءاللہ دلہا دلہن بہت پیارے تھےانتظام کپڑے لتے سجاوٹ سب ہی بہترین تھی اللہ انہیں خوش و خوش حال رکھے ۔

بڑی بھانجی کی ضد و اصرارپر ہم وہاں گئے تھے ۔انہوں نے ہی ساری کاروائی بلانے کی خوشی خوشی سے کی جس میں ان کے میاں بچوں نے بھی بہت ساتھ دیا۔ ہم انہیں کے گھر مقیم رہے ۔

میرے تیسرے بھانجےامجد نے بھی آنے سے لے کر جانے تک خوب خیال رکھااچھی میزبانی کی اور منا کرنے پربھی تحائف بھی دئے۔

دوسرے بھانجے قدیرانکی فیملی نےمہمان رکھا خوب سیر تفرح کرائی ہر وہ جگہ لے کر گئے جہاں امان بھائی اور ون اردو کے ممبرز نے بتائی تھی اور مجھے یاد رہیں ۔ مزیدارپکوان کھلائے گھر کی مویز دیکھکر انجوائے کیا اورہمیں کپڑے بنائے۔

دوسری اور تیسری بھانجی نے اپنے گھر بھی بلاکر رکھا ان کے میاں بچوں بہت خلوص سے ملے اور بہت کم وقت میں عمدہ چیزیں خریدنے میں میری مدد کی اورتحفے بھی دئیے ۔


بڑے بھانجے لاہورمیں رہتے ہیں ۔ شادی کے لئے آئے تھے۔ میں جہاں بھی رہی وہ آکر ملتے رہےاپنے دلچسپ باتوں سے محظوظ کرتے رہے۔اور بھی بہت سارے حضرات سے ملاقات ہوئی بعض تو ایسے بھی ملے جن سے ملنے کی تمنا دل کے نہاں خانہ میں بند پڑی تھی جس سے کبھی ملنے کی امید تک نہیں تھی جیسے میری چیچا زاد بہن عائشہ ،چیچازاد بھائیاں احد بھائی اور صمد بھائی اور پھوپی زاد بھائی حسین ان سے مل کر مجھے خوشی کے ساتھ حیرت اور تعجب ہوا کہ ہم ہیں تو ایک دادا کی اولاد مگر اتنے طویل عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی ہے۔ میری بہن کی نندیں ،میری بہنوں کے سارے بچے میری بڑی بھانجی  کے دیور اور نند ،چھٹانی کے بھائی رضی اور ان کی بیگم ، ون اردو کی نیٹ کی پیاری سی بہن کم دوست کشور اور انکے بھائی نے آکر ملا اور گفٹ سے نوازا مرحوم بڑی بہن کے صاحب زادے مع محل  آکر بہن کی کمی پوری کی ۔ بہت سارے سسرالی اقارب اور میاں کے آفس کے دوست ، خاص طور سے اپنی بہن جن سے ملنے کی تمنا نے ان سب سے ملاقات کا موقعہ فراہم کیا اور بھی بہت سارے لوگوں سے ملاقات ہوئی بہت اچھا لگا دلی خوشی ہوئی
مگر ہر بار یہ ہی سوچتی رہ گئی کہ یہ سرحدیں یہ فاصلہ یہ دوریاں کیسی ہیں مجبوریاں اپنوں کےدرمیان حائل ہوکر ہمارے دل میں محبت ہونے کے باوجود ہم کو جدا رکھتی ہیں ۔

سب کو ہماری وہاں رہنے کی ُمعینہ مدت بہت کم لگی سب نے بڑھوانے کہا تو چار اور پانچ تاریخ ہمارا ویزہ بڑھانے کی چکر میں گزار گیا اتنے لوگوں نے بڑھانے اپنے اپنے لوگوں کی پہچان سے کوشش کرنے لگے ( وہ لوگ زیادہ لوگوں کی شفارش سے گھبرا گئےشاید یہ میرا خیال ہے ) پاسپورٹ پر سعودیہ سے ویزہ لگنے پر اسلام آباد سے کاروائی کروانا ہوتا ہے کہہ کر ویزہ نہیں بڑھایا اورمیرے ایک ایک بچے بہویں اور پوتا پوتیوں نے الگ الگ آواز ریکارڈ کرکے واپس آجانے پر مجبور کیا۔

ہم نے دوسرے دن پھر رجسڑیسن آفس جاکر اپنے جانے کا اسٹامپ لگانے جلوہ دیکھا نے چلے گئے۔ ساری کاروائی کرنے تک چار بچ گئے۔

ہم ابھی تک رتی بھرشاپنگ بھی نہیں کرسکے تھے اورپھر اتنے لوگ ملنے کے باقی تھےاگر ہم اہم اہم لوگ بھی گنتے تو انگلیاں کی گرہ کم پڑجاتی۔ سب ہی بہت اداس تھے بعض نے تو اتنے کم وقت کے ویزہ سے خفا بھی ہوئے ہمارا دل بھی نہیں بھرا تھا ان سب کی ناراضگی پر ملال سا ہو رہا تھا پر کیا کرتے مجبوری تھی۔ سب کی محبت کو سمیٹ کر واپس جانا ہی تھا ۔

میں خود پہ اوڑھتا ہوں تیرے پیار کی رداتو خود پہ میری چاہ کا اُجلا لحاف کراس تلخیِ حیات کے لمحوں کا ہر قصورمیں نے معاف کر دیا ۔۔تو بھی معاف کر
جاری ہے

۔

پاکستان میں پہلا دن




السلام علیکم
میری پیاری بہنوں اور اچھے بھائیوں
آج بہت دن سے چاہتے ہوئے بھی لیپ ٹاپ کی ناراضگی کے وجہہ سے اپنے سفر کا حال لکھ نہ سکی تھی آج ممکن ہوا تو سارے کام پس پشت ڈال کر لکھنے لگی ہوں

پچھلے دنوں میں اور میرے صاحب آٹھ دن کی کوشش کے بعد پاکستان کا ویزہ سعودیہ میں لگواکر چوبیس ڈسمبر تاریک رات میں دو بجے کے قریب ایر پورٹ پرپہچے ۔ بچوں نے بہت ہی اداس چہروں کے ساتھ ہم سے ملکر ہمیں جاتا ہوا دیکھکر ہاتھ ہلاتے رہے ۔

ہمیں پندرہ دن کا ویزہ ملا تھا ۔ سامان چیک کروا کر سامان دے کر پاسپورٹ اور بوڈنگ پاس لئے اور اندر داخل ہوگئے تب تک بھی بچے کھڑے باہر سے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔پھر پچیس کی صبح پاکستان پہچ گئے ۔
ایمیگریشن کی لائن میں کھڑے تھے کہ آدھی لائن تک پہچنے پر ہماری نظر انڈین مسافروں کے لئے مخصوص تختی پر پڑی تو ہم اس لائن میں لگ گئے کچھ ہی دیر میں ہمارا بھی نمبر آ ہی گیا میرے صاحب نے پاسپورٹ آگے بڑھیا تو وہ ویزہ وغیرہ کے مزید پیپرز کا مطالبہ کرنے لگے ہم اس بات سے بے خبر تھے کہ پاسپورٹ پر ویزہ لگنے کے باوجود ساری کاروائی پھر چیک کی جائے گی ۔ میاں نے وہ پیپرز سامان میں رکھ دیئے تھے۔مجھے سیٹ پر بیٹھاکر میاں نے اسے نکلا ۔ پھربتلایا گیا ۔ کئی سوالات ہوئے کس لئے آئے ہیں؟ کس نے بلایا ہے؟ بلانے والے کا نام ؟ پتہ ؟ شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی ِ؟ کہاں قیام ہے ؟ کہاں سے ویزہ لگا ہے؟ کتنے دن کا ہے ؟۔یہ سب ان پیپر میں لکھا تھا مگر ہم سے بھی پوچھا گیا ۔ جب تشفی ہوگئی تو ہمیں اندر جانے کی اجازات ملی اور ہم سامان لے کر باہر آئے جہاں ہمارے رشتہ دار بہت دیر سے منتظر تھے ۔


سب سے ملے خوب دلی خوشی ہوئی اور دوسروں کے آنکھوں اور زبان سے اپنی آمد کی خوشی دیکھ کر تو مزید خوشی دوبالا ہوگئی ۔

ہم سفر سے تھک گئے تھے جی توچاہتا تھا کہ آرام کرلیں مگر چوبیس گھنٹہ کے اندر رجسڑیسن آفس میں آنے کی اطلاع کرنی تھی میرا بدن سستانا چاہتا تھا اس لئے میرا جانا ضروری ہےکیا پوچھا صاحب چلے جائیں تو نہیں چلے گا؟ تو سب نے مجھے بھی جانا ضروری ہے جتنا جلدی نپٹا لیں یہ کام بہتر رہے گابولے تو بادل ناخوستہ جانا پڑا ۔

بہن کے بیٹے اور دماد ساتھ تھے سب پیپربنانا فوٹو کاپی نکلنا دینا لینے سب بھنجے نے کرلیا اب ڈی سی پی کے کمرہ میں جانا بذات خودملنا تھا مگر وہ اس وقت دروزہ لگا کر تناول طعام فرما رہے تھے ہم باہر رکھی کرسیوں پر سایہ میں ٹھنڈی ہوا میں جہاں اور بھی لوگ اپنے اپنے باہر سے آئےعزیز و اقارب کے ساتھ بیٹھےتھے ۔ سب ہی کےچہرے اپنوں سے دیرینہ ملاقات سے چمکتے دمکتے مسکرارہے تھے اور دھیمی دھیمی سرگوشیاں ماحول کوخوش گوار کررہی تھی ۔ میں سب کو بغور دیکھ رہی تھی میاں بھی باتوں میں محو تھے۔

پھر ہماری حاضری کا وقت آگیا ہمیں اند بلایا گیا سامنے ہمارے عزیز اور ہم دونوں پیچھے تھے قریب جانے پر ڈی سی پی نے بڑے رعب سے زوردار آواز میں دور ہٹنے اور دیوار سے لگے صوفوں پر بیٹھنے کہا ۔ پھر ہمارے عزیزوں سے کس نے بلایا کیوں بلایا کہاں رہتے ہوشناختی کارڈ وغیرہ کے بارے میں پوچھاجب کہ انہیں معلومات کے پیپرز پہلے ہی ملاحظہ کرنے اور ریکاڈ رکھنے دے دیے تھے پھرہمارے طرف توجہ فرما کرنرم لہجہ میں وہ ہی ساری باتیں دوہرا کر پوچھے اور سعودیہ کے قیام کی مدت، جاب،پڑھائی،انڈیا سے کہاں سے تعلق ہے سولات پوچھے جب حیدرآباد شہر کے رہنے والے ہیں بتایا تو مسکرا کر حیدرآبادی بریانی مرجیوں کا سالن وہاں کے بارے میں بڑی خوشی سے باتیں دریافت کرنے لگے ۔میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ میرے پیارے شہر یہ تو تیرے نام کا اثر ہے کہ مشکل وقت کو بھی آسان بنا دیتا ہے جس طرح حضرت علی کے چاہنے والے حیدرکرار پکارتے ہیں اور مدد پہچ جاتی ہے۔

اب کیا تری دیوار کے سائے کا بیاں ہوکوچے کی ترے دھوپ بھی سایا سا لگے ہے

میں نے چپکے سے دل میں یہ شعر پڑھا اوروہاں سے واپس گھر آنے تک مغرب ہونے لگی تھی۔

جاری ہے
 بلاگ پر آنے کا شکریہ

Pages