یاز غل

تاریخ اور مبالغہ ۔ ابنِ خلدون کی نظر سے

تاریخ کا فقط ایک مصرف ہے اور وہ یہ کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے، عبرت پکڑی جائے، اور اس کی روشنی میں اپنے مستقبل کی راہوں کا تعین کیا جائے۔ بدقسمتی سے من حیث القوم ہم نے تاریخ کا مصرف یہ نکالا ہے کہ اس کے خوشگوار حصوں کا بھجن گایا جائے اور اس کے ناخوشگوار حصوں کا انکار کیا جائے، اور اگر خوشگوار حصوں کی کمی محسوس کریں تو حسبِ توفیق اس میں مبالغہ آرائی کا تڑکا لگانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
لیکن تاریخ اور تواریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ چلن صرف ہمارا یا عہدِ حاضر کا ہی نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے تاریخ میں من پسند و من گھڑت فسانہ نویسی شامل کی جاتی رہی ہے۔ بقول ونسٹن چرچل ’’مورخ وہ کام کر گزرتے ہیں، جو خدا بھی نہیں کر سکتا۔ یعنی وہ ماضی یا تاریخ کو ہی بدل دیتے ہیں‘‘۔ دانستہ مبالغہ آرائی کے علاوہ تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر اغلاط اور جھوٹ بھی شامل ہوتے رہے ہیں۔
تاریخ میں مبالغہ آرائی اور اغلاط کے متعلق شہرہ آفاق مورخ اور ماہرِ عمرانیات علامہ ابنِ خلدون کیا کہتے ہیں۔ ہم ان کی تاریخ کے مقدمہ سے کچھ اقتباسات کی مدد لیتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تاریخ بیان کرنے میں غلطی یا مبالغہ آرائی کیوں اور کیسے ہوتی ہے۔
مقدمہ میں ایک جگہ پر ابنِ خلدون لکھتے ہیں’’تاریخ میں غلطیوں کے کئی اسباب ہیں۔ پہلا سبب اختلافِ آرا اور مذہب ہے۔ دوسرا سبب نقل کرنے والوں پر بھروسہ ہے کہ اس زعم میں وہ ثقہ ہیں اور غلطی کرنا ان کے شایانِ شان نہیں۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ بہت سے راوی اپنی مشاہدہ کی ہوئی یا سنی ہوئی خبروں کے اغراض و مقاصد سے ناآشنا رہتے ہیں اور اپنے گمان پر روایت کر دیتے ہیں۔ چوتھا سبب وہمِ صداقت ہے۔ یعنی کہ لوگوں نے کسی سنی بات کو کم علمی یا نادانستگی میں سچ جان لیا اور اسی کو روایت کر دیا۔ پانچواں سبب معزز اور بڑے لوگوں کی مدح ثنا کر کے ان کو خوش کرنا اور ان کا قرب حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ چھٹا سبب معاشرے کے طبعی احوال سے ناواقفیت ہے‘‘۔ (حوالہ: ترجمہ مقدمہ ابنِ خلدون از راغب رحمانی، حصہ اول، صفحہ نمبر 146)۔

ایک اور مقام پر ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ "لوگ عموماََ کسی چیز کی تعداد بڑھا چڑھا کر بتایا کرتے ہیں: ہم اپنے زمانے کے اکثر عوام کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ اپنے زمانے یا قریبی زمانہ کی حکومت کے لشکروں کی تعداد بیان کرتے ہیں یا مسلمانوں کی یا عیسائیوں کی فوجوں کی تعداد کا ذکر کرتے ہیں یا ٹیکس و خراج کے مال گنواتے ہیں یا مالداروں کے خرچے اور دولتمندوں کے سامان بتانے لگتے ہیں تو تعداد میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور مروجہ عادتوں کی حدوں سے پھلانگ جاتے ہیں اور انوکھی بات پیش کرنے میں اوہام و وسوسوں کے مرید بن جاتے ہیں"۔ (حوالہ: ترجمہ مقدمہ ابنِ خلدون از راغب رحمانی، حصہ اول، صفحہ نمبر 119)۔ 

اب ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ میں بیان کردہ واقعات کی تصدیق یا جانچ کا کیا پیمانہ ہے؟
یقیناََ تاریخی واقعات کی تصدیق یا اسنا د کو ثابت کرنا (یا نہ ثابت کرنا) مشکل بلکہ تقریباََ ناممکن کام ہے۔ ایسے میں چند ایک ہی پیمانے رہ جاتے ہیں جن سے آپ کسی حد تک اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ابنِ خلدون نے شہرہ آفاق تصنیف مقدمۂ تاریخِ ابنِ خلدون میں اس کے لئے ایک پیمانہ عقل و تدبر بیان فرمایا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے بہت سی مثالیں بھی دی ہیں۔
ایک جگہ عوج بن عناق کا ذکر کیا ہے کہ اس کے بارے میں مورخین لکھتے تھے کہ وہ اتنا طویل القامت تھا کہ سمندر میں ہاتھ ڈال کے مچھلی پکڑ لیتا تھا اور ہاتھ سورج کی طرف بڑھا کر مچھلی کو بھون لیتا تھا۔ اس پہ ابنِ خلدون نے لکھا ہے (مفہوم یہ ہے)کہ مورخین عقل کو ہاتھ ماریں، ایسا بھلے کیسے ممکن ہے۔(حوالہ: ترجمہ مقدمہ ابن خلدون از راغب رحمانی، فصل نمبر 18، صفحہ نمبر 300)۔
 ایک اور جگہ ابنِ خلدون لکھتے ہیں "ایک حکایت مسعودی بیان کرتے ہیں جس کا تعلق مینا کے مجسمے سے ہے جو رومہ میں ہے۔ سال کے ایک معین دن بہت سی مینائیں چونچوں میں زیتون لے کے جمع ہوتی ہیں جن سے رومہ کے باشندے روغنِ زیتون نکال لیتے ہیں۔ غور کیجئے زیتون حاصل کرنے کا یہ طریقہ قدرتی طریقے سے کس قدر دور اور بعید از عقل ہے"۔ (حوالہ: ترجمہ مقدمہ ابن خلدون از راغب رحمانی، حصہ اول، صفحہ نمبر 147)۔

مقدمہ ابنِ خلدون میں اس موضوع پر سیرحاصل مواد مطالعہ کے لئے میسر ہے، جس میں سے بوجۂ اختصار صرف چند ایک کا بیان اس بلاگ میں شامل کیا گیا ہے۔ حاصلِ کلام یا اہم ترین بات یہی ہے کہ ماضیٔ بعید یا ماضی قریب کے واقعات سے متعلق تاریخ پڑھتے ہوئے عقل و شعور کا پیمانہ ضرور پیشِ نظر رکھا جائے، نہ کہ ہر بات کو من و عن تسلیم کر کے خود بھی گمراہ ہوا جائے اور دوسروں تک بھی اس کا ابلاغ کر دیا جائے۔وما علینا الالبلاغ

تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے خلاف سنچری بنانے والے بلے باز

آج آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے مایہ ناز بلے باز یونس خان پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پہ بارہویں بلے باز بن گئے ہیں، جنہوں نے نو ٹیمز (یعنی تمام مخالف ٹیمز) کے خلاف سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔

یہ بات ملحوظ رہے کہ زیادہ پرانے کھلاڑی اس فہرست میں شامل ہی نہیں ہو سکتے، کیونکہ اس وقت ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد ہی کم تھی۔

گیری کرسٹن یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا بلے باز تھا۔ تمام بارہ بلے بازوں کے نام یہ رہے۔ ناموں کی فہرست اس اعزاز کے حصول کی زمانی ترتیب سے ہے۔

گیری کرسٹنبائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے جنوبی افریقن بلے باز گیری کرسٹن سب سے پہلے یہ اعزاز حاصل کرنے والے بلے باز بنے جب دو ہزار دو میں انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے اس میں سنچری بنائی۔ 
سٹیو واہمایہ ناز بلے باز سٹیو واہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بنے جب دو ہزار تین میں انہوں نے بھی بنگلہ دیش کے خلاف سنچری بنائی۔ بلکہ سٹیو واہ کا اعزاز اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ وہ ہر ٹیسٹ کھیلنے والے ملک کے خلاف ایک سو پچاس رنز سے بڑی اننگز کھیل چکے ہیں۔ 
سچن ٹنڈولکرٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ یعنی اکیاون سنچریاں بنانے والے سچن ٹنڈولکر نے بھی یہ اعزاز بنگلہ دیش کے خلاف دو ہزار چار میں سنچری بنا کر حاصل کیا۔ 
راہول ڈریوڈدی وال کے نام سے شہرت پانے والے راہول ڈریوڈ نے بھی دو ہزار چار میں بنگلہ دیش کے خلاف سنچری بنا کر یہ اعزاز حاصل کیا۔ 
مارون اتاپتومارون اتاپتو نے اپنے مجموعی کیریئر میں صرف سولہ سنچریاں سکور کیں۔ اس طرح وہ اس فہرست میں جگہ پانے والوں میں سب سے کم سنچریاں اور سب سے کم ٹیسٹ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے دو ہزار پانچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری بنا کر یہ اعزاز مکمل کیا۔
 برائن لارااپنے وقت کے بہترین بلے باز برائن لارا نے یہ اعزاز اس وقت مکمل کیا، جب دو ہزار پانچ میں پاکستان کے دورے کے دوران انہوں نے سنچری سکور کی۔ 
رکی پونٹنگآسٹریلیا کے عہد ساز بلے باز رکی پونٹنگ نے دو ہزار چھ میں بنگلہ دیش کے خلاف سنچری سکور کر کے اس فہرست میں جگہ پائی۔ 
ایڈم گلکریسٹدھواں دھار بیٹنگ سے مخالف ٹیم کے چھکے چھڑا دینے والے آسٹریلوی وکٹ کیپر بلے باز ایڈم گلکریسٹ نے بھی دو ہزار چھ کی سیریز میں بنگلہ دیش کے خلاف ہی سنچری بنائی اور یہ اعزاز مکمل کیا۔ 
کمارا سنگاکاراعہدِ حاضر کے بہترین بلے باز اور دلکش سٹروکس کھیلنے والے کمارا سنگاکارا نے اس فہرست میں اس وقت جگہ بنائی جب دو ہزار سات میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف چوتھی اننگز میں ایک سو بانوے کی  یادگار اننگز کھیلی۔ 
ماہیلا جے وردھنےموجودہ دور کے ایک اور باکمال بلے باز سری لنکا کے ماہیلا جے وردھنے نے یہ اعزاز اس وقت مکمل کیا جب دو ہزار نو میں پاکستان کے دورے میں انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنائی۔ اس سیریز کے دو ٹیسٹ کے دوران سری لنکن ٹیم پہ حملے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا۔ 
جیک کیلسٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے بلاشرکتِ غیرے بہترین آل راؤنڈر جیک کیلس کو اس فہرست میں جگہ بنانے میں کافی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے دو ہزار بارہ میں سری لنکا کے خلاف سنچری بنا کر یہ اعزاز حاصل کیا۔ 
یونس خاندو ہزار چودہ میں آسٹریلیا کے خلاف مشکل حالات میں سنچری بنا کر تمام ٹیموں کے خلاف سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی دوران وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ یعنی پچیس سنچریاں بنانے میں انضمام الحق کے ساتھ مشترکہ طور پہ پہلی جگہ پانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ 

تحریکِ انصاف کی نئی اور بہتر احتجاجی حکمت عملی

چند ماہ قبل سے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے موجودہ حکومت (یا موجودہ نظام کہہ لیں) کے خلاف تحریک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میرے لئے ابتدا میں سب سے حیرت انگیز عنصر ان دونوں مختلف الخیال جماعتوں کی پلاننگ اور ٹائمنگ میں اتفاقیہ طور پہ ہم آہنگی تھی۔ ہر ذی شعور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ حیران کن مطابقت کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ خیر دو ماہ گزرنے کے بعد اس بابت کافی کچھ سامنے آ چکا ہے، جس میں باغی صاحب کی معروضات بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس بابت مزید بات کی ضرورت نہیں ہے۔
دھرنا سٹریٹجی کے طریقہ کار سے میری مخالفت کی بڑی وجوہات میں اس کا غلط طریقہ کار، غلط "عناصر" (یعنی امپائرز وغیرہ) پہ انحصار اور نقضِ امن کی دانستہ کوشش یا خواہش وغیرہ شامل تھی۔ اسی دوران ایسے ایسے مضحکہ خیز واقعات سامنے آئے کہ جن کو سن کے دھرنا پلانرز کی عقلوں پہ ماتم کرنے کو جی چاہا۔ جیسے کرنسی نوٹوں پہ گو نواز گو لکھنا، سول نافرمانی کا اعلان کرنا، پیسے ہنڈی کے ذریعے بھجوانا، بجلی گیس کے بل جمع نہ کرانا، اسمبلیوں، الیکشن کمیشن کو نہ ماننا وغیرہ شامل ہیں۔
تاہم جاوید ہاشمی کے انکشافات کے بعد اچانک اس سٹریٹجی نے ایک نیا رخ لیا، جس نے مجھے بھی حیران  کر دیا۔ عمران خان نے اپنی پارٹی سمیت دھرنا و سول نافرمانی وغیرہ کو چھوڑ کر جلسے جلوسوں کی حکمت عملی اپنائی۔ دیکھا جائے تو اب یہ عمل کافی حد تک جمہوری جدوجہد کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔ اب آپ کو جلسوں میں پہلے سے بہتر رویہ، پہلے سے بہتر زبان دانی اور پہلے سے بہتر اٹینڈنس دکھائی دے رہی ہے۔ اب کوئی امپائرز کو آوازیں دیتا بھی سنائی نہیں دے رہا۔ میری نظر میں جمہوری دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یہ جدوجہد نواز حکومت کے لئے دھرنا وغیرہ سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ جیسے جیسے یہ سلسلہ طویل ہوتا جائے گا، ویسے ویسے یہ حکومت کمزور ہوتی جائے گی۔اب اہم سوال یہی ہے کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ اس کے لئے صرف انتظار ہی کیا جا سکتا ہے۔  

ایم کیو ایم ۔ ایک بار پھر طلاقِ رجعی؟؟

ایم کیو ایم اور ان کی طلاقِ رجعی پر مبنی سیاست کے بارے میں کافی پہلے بھی کچھ لکھا تھا۔ تازہ ترین پیش رفت کے طور پہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر پی پی پی کی سندھ حکومت سے سیاسی طلاق کا اعلان کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب کے یہ حتمی طلاق ہے یا ایک بار پھر طلاقِ رجعی ہی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ اب کے حالات اور سابقہ چار پانچ طلاقِ رجعی والے حالات میں کافی فرق ہے۔ اب ملک کے مجموعی سیاسی حالات بھی کافی مختلف منظر پیش کر رہے ہیں اور انقلابوں اور تبدیلیوں کا دور دورہ ہے۔ اس لئے اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس دفعہ ایم کیو ایم مستقل بنیادوں پہ پی پی پی سے الگ ہو جائے۔ اس بابت بعض تجزیہ نگاروں کی یہ پیشنگوئی بھی قرین قیاس ہو سکتی ہے کہ دھرنا والی جماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو ایم کیو ایم کی شکل میں ایک اور حلیف ملنے والا ہے۔ 
اسی کے ساتھ ساتھ اسی طور کی سابقہ چپقلشوں کا جائزہ لیا جائے تو اب بھی اہمیت اس چیز کی ہو گی کہ رحمان ملک کب الطاف حسین سے لندن میں جا کے ملتا ہے اور جیسے کہانیوں میں کسی جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے تو ایم کیو ایم کے قائد کی سلامتی والے دو طوطوں کا ذکر کر کے اس سے طلاقِ غیر رجعی کو طلاقِ رجعی میں تبدیل کرنے کا کہتا ہے۔ اسی معاملے میں کچھ ایجنسیوں (جن کو شاید اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے) کی دلچسپی کو بھی دیکھنا ہو گا۔
میرے تجزیے کے مطابق ایم کیو ایم کے سابقہ تنخواہ پر لوٹ آنے کے امکانات اب بھی باقی ہیں۔ اس بات کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ایم کیو ایم کو اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے ڈیڑھ عشرہ سے زائد ہو چکا ہے اور اس وقت سے لے کر اب تک اس نے ہر طرح کے حالات میں حکومت کو ایک ڈیڑھ ہفتے سے زیادہ کے لئے نہیں چھوڑا۔ اور جب بھی حکومت چھوڑی تو بھی گورنر سندھ نے ساتھ استعفٰی نہیں دیا۔خیر یہ تو تھا تجزیہ۔ امید ہے کہ اگلے کچھ دن میں منظرنامہ مزید کھل کے واضح ہو جائے گا۔ 

فال آف جائنٹس از کین فولیٹ

انگلش مصنف کین فولیٹ کا لکھا ناول فال آف جائنٹس دراصل تین ناولز پر مبنی سلسلے کا پہلا ناول ہے۔ اس سلسلے کو سنچری ٹرائیلوجی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔پہلے آئی آف دی نیڈل اور اب فال آف جائنٹس پڑھنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ جب تاریخی فکشن اور خصوصا" یورپی تاریخ سے متعلق فکشن کی بات ہو تو کین فولیٹ کا کوئی مقابل نہیں۔
آئی آف دی نیڈل کے بعد میں نے کین فولیٹ کے دو مزید ناولز بھی پڑھے تھے۔ وائٹ آؤٹ اور دی تھرڈ ٹوئن۔ دونوں ہی تھرل جینرے کے تھے اور کافی اچھی رینٹنگ وغیرہ کے حامل تھے، لیکن مجھے کافی ایوریج سے لگے۔ خصوصا" جب ان کا مقابلہ یا موازنہ آئی آف دی نیڈل اور فال آف جائنٹس جیسے معرکۃ الآرا ناولز سے کیا جائے۔
سنچری ٹرائیلوجی میں کین فولیٹ نے کچھ افسانوی اور بہت سے حقیقی کرداروں کی مدد سے ماضی قریب کے چند عظیم ترین واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے ناولائزیشن کی ہے۔ پہلے حصے یعنی فال آف جائنٹس میں پہلی جنگِ عظیم اور کمیونسٹ انقلاب مرکزی واقعات ہیں۔ جبکہ دوسرے حصے میں نازی فاشسٹ تحریک اور دوسری جنگِ عظیم کا احاطہ کیا گیا ہے۔
فال آف جائنٹس میں پانچ خاندانوں میں کہانی ہے جن میں سے ایک روس، ایک امریکہ، ایک جرمنی اور دو  انگلینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ناول کے پلاٹ میں انیس سو گیارہ سے انیس سو چوبیس تک کے عرصے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کہانی کے مطابق ان پانچ خاندانوں کے مختلف کرداروں کا ایک دوسرے سے سیاسی یا رومانوی تعلق قائم ہوتا ہے جبکہ اسی دوران روس میں بالشویک انقلاب اور باقی یورپ میں جنگ کی تیاری کا ماحول ہوتا ہے۔ اسی دوران دیگر بے شمار واقعات ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کہانی کافی سنسنی خیز ہو جاتی ہے۔ ناول میں رومان، سیکس، سیاست، عالمی سیاسی کشمکش، جنگی محاذوں کا احوال، مزدوروں اور خواتین کی تحریکوں سمیت بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ ڈین براؤن کے ناولز کی طرح اس میں بھی حقیقت اور افسانے کا امتزاج ہے اور کہاں حقیقت ختم ہوئی اور کہاں افسانہ شروع ہوا، یہ علم نہیں ہو پاتا۔ لیکن مصنف نے ناول کے آخر میں دعویٰ کیا ہے کہ تمام اہم اور بڑے واقعات حقیقت پر مبنی ہیں۔ جن قارئین نے ڈین براؤن کے ناولز پڑھے ہیں، ان کو یاد ہو گا کہ ایسا ہی دعوٰی ڈین براؤن صاحب اپنے ناولز کے آغاز میں ہی کر دیتے ہیں۔
 ویسے یہ کافی طویل ناول ہے اور ایک ہزار سے اوپر صفحات پر مشتمل اس کی کہانی کی تلخیص یہاں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔  جو احباب صرف تھرل کے لئے ناول پڑھنا چاہتے ہوں، ان کے لئے یہ ناول بالکل بھی ریکمنڈڈ نہیں ہے، لیکن جو لوگ پہلی جنگِ عظیم، روسی انقلاب اور اس زمانے میں برطانیہ، جرمنی، امریکہ وغیرہ کے عوام و خواص کے رہن سہن اور ان کی مشکلات، طبقاتی تفریق وغیرہ کے بارے میں آگاہی جاننا چاہتے ہوں، ان کو یہ ناول ضرور پڑھنا چاہئے۔
اس میں پتا چلتا ہے کہ انقلاب سے پہلے زارِ روس کے دور میں روسی لوگوں کی حالتِ زار کیسی تھی۔ ساتھ ہی انقلاب کے ابتدائی چند سالوں پہ محیط عرصے میں یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ انقلاب کے بعد بھی حالات میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔اسی طرح پہلی جنگِ عظیم کے بارے میں بہت سے تاریخی حقائق سے بھی جانکاری ملتی ہے۔ جیسے مجھے پہلی دفعہ صحیح طور سے یہ بات سمجھ آئی کہ آسٹریا کے ایک شہزادے کے بوسنیا میں قتل سے کیسے پہلی جنگِ عظیم کا آغاز ہو گیا۔اسی طرح جرمنی اور فرانس کی جنگ کا بہت تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ کے اس جنگ میں کود پڑنے کی وجوہات کا بھی علم ہوتا ہے۔اسی عرصے کے دوران برطانیہ میں خواتین کی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا بھی احوال مذکور ہے۔ خواتین کے چیدہ مطالبات میں ووٹ کا حق اور مردوں کے مساوی تنخواہ وغیرہ شامل تھے۔
ایک اور چیز کا ذکر کرتا چلوں کہ چونکہ یہ ایک ناول ہے، نہ کہ پہلی جنگِ عظیم کے بارے میں تفصیلی کتاب۔ تو اس لئے اس میں پہلی جنگِ عظیم کے کچھ اہم واقعات یا جنگوں کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ، جس کو ہمارے ہاں خلافتِ عثمانیہ بھی کہا جاتا ہے پہلی جنگِ عظیم کا ایک اہم کردار تھی اور گیلی پولی میں ان کی برطانیہ کے ساتھ جنگ ایک اہم ترین واقعہ تھا، تاہم اس کا ناول میں کوئی ذکر نہیں ہے۔
اس ناول کے فورا" بعد میں نے اس کا دوسرا حصہ "ونٹر آف دی ورلڈ" بھی شروع کردیا ہے۔ ابھی تک تیسرا حصہ پبلش نہیں ہوا۔ وکی پیڈیا کے مطابق تیسرا حصہ اسی سال پبلش ہو جائے گا۔ ابھی تک جتنا بھی پڑھا ہے، ونٹر آف دی ورلڈ اس سے بھی زیادہ سنسنی خیز اور دلچسپ محسوس ہو رہا ہے۔ انشاءاللہ جلد ہی اس کو بھی مکمل کر کے اس کا احوال لکھوں گا۔

مبارک ہو!!! انقلاب جہاز سے نکل آیا بالآخر

جیسا کہ سب جانتے ہی ہیں کہ جنابِ کینڈین انقلاب صاحب کو ایک ڈیڑھ سال سے اچانک پاکستان سے محبت ہو گئی ہے اور ان کی روح تک پاکستان میں انقلاب لانے اور ریاست بچانے کے لئے تڑپ تڑپ کے بے چین ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ان پہ کافی کالمز لکھ چکا ہوں اور ہر بار ارادہ کرتا ہوں کہ اب مزید ان پہ نہیں لکھنا، لیکن جنابِ انقلاب صاحب ہر بار کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ ان پہ مزید نہ لکھنے سے تشنگی سی محسوس ہوتی ہے۔کنٹینر والے انقلاب اور اس کے بعد چند ایک ویڈیو لنک انقلابات بپا کرنے کے بعد اس بار جنابِ انقلاب صاحب نے ایک بار پھر سرزمینِ انقلاب کو اپنی زیارت سے فیض یاب کرنے کا قصد کیا، جس کے لئے غیب سے آئے پیسے، فرشتوں کی اخلاقی امداد اور منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں کی استانیوں اور طلبا و طالبات کی انقلاب میں شرکت سے ماحول بنانے کا انتظام و انصرام کیا گیا۔
باقی سب تو ٹھیک ہی چل رہا تھا، لیکن دو کام ہو گئے۔ ایک تو یہ کہ حکومت نے دو نمبری یا شاید ایک نمبری کرتے ہوئے جہازِ انقلاب کو اسلام آباد کی بجائے لاہور ہی جا بھیجا، دوسرے یہ کہ انقلاب نے جہاز سے باہر آنے سے ہی انکار کر دیا۔ ایمیریٹس ایئرلائنز سے نادانستگی میں خطا ہو گئی یا پھر ان کی سوچ سے بالا بات ہو گی کہ انقلاب اتنا بے شرم ثابت ہو گا کہ جہاز پہ ہی قبضہ جما بیٹھے گا، ورنہ وہ انقلاب صاحب کو ٹکٹ دینے سے ہی پرہیز کرتے، جس کے بعد باکمال لوگ لاجواب پرواز ہی کے کندھوں پہ انقلاب لانے کا کام سرانجام دیا جانا تھا۔
سنا ہے کہ انقلاب کا جہاز سے باہر آنے کا اتنا جلدی ارادہ نہیں تھا، لیکن جب جہاز کا اے سی (جو کہ جہاز کے زمین پر ہونے کی وجہ سے اے پی یو یعنی آگزیلری پاور یونٹ سے چلایا جاتا ہے) بند کر دیا گیا، تو نازک مزاجِ انقلاب است کو گرمی نے ستایا جس سے انقلاب نے جہاز اور ایمیریٹس ایئرلائن وغیرہ کی جاں بخشی وغیرہ کی اور باہر تشریف آوری کی۔
ورنہ پہلے تو انقلاب کی فرعونیت کا یہ عالم تھا کہ کور کمانڈر سے کم سطح سے بندے سے بات کرنے کو بھی تیار نہ تھے۔ اور اپنے غریب اور عقل سے مکمل پیدل پیروکاروں کو شہادت کا درس دینے والے انقلاب کے لونڈاپن کا یہ حال تھا کہ جہاز سے باہر نکلتے ہوئے جاں جا رہی تھی۔ اور بعد میں بھی یہ عالم تھا کہ جہاز تک بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی محافظ آئیں تو ہی جان ہتھیلی پہ رکھھ کے شہادت کی تمنا لئے انقلاب جہاز سے باہر آنے کو تیار ہوا۔ یہ بھی غنیمت ہے، ورنہ میرا خیال تھا کہ پھر سے وہی شہادت پروف کنٹینر ہی کی فرمائش نہ کر ڈالے۔
اب انقلاب کی اگلی منزل اور اگلا قدم کیا ہوگا۔ اس بابت انتظار فرمائیے تاکہ یہ ڈرامے باز، عیار اور نیچ شخص مزید سکرپٹ تیار کر سکے۔ کچھ کامیابی ہو گئی تو بہت خوب ورنہ پھر سے کینیڈا کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھ کے اگلے انقلاب کی تیاری شروع کر لے گا۔ 

کینیڈا والی سونامی کی ماڈل ٹاؤن میں ٹھُکائی

چند روز قبل ماڈل ٹاؤن میں بھی کمال ہی تماشا ہوا۔ اس وقت تو تماشا ہوا سو ہوا۔ اس کے بعد سے بھی ذرائع ابلاغ میں ایک تماشا سا ہی لگا ہے۔ ہر کسی کو اس میں ظلم، بربریت اور انسانیت کی توہین نظر آ رہی ہے۔ طاہر قادری کو اس میں انقلاب نظر آ رہا ہے۔ عمران خان کو اس میں حکومت کا چل چلاؤ نظر آ رہا ہے اور کچھ خفیہ والوں کو اس میں اپنی روزی روٹی کا سبب بنتا نظر آ رہا ہے۔
ایسا ہونا چاہئے تھا یا نہیں۔ اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔ زیادہ کا یہی کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ تاہم میرے خیالات اس بابت کچھ مختلف ہیں۔ میرے خیال سے یہ کام بہت عمدہ ہوا ہے کہ حکومت نے اچھی طرح سے کُٹ لگا دی ہے طاہر کینیڈی والوں کی۔
ان لوگوں کو اندازہ ہونا چاہئے کہ ہر بار سموتھ سیلنگ نہیں ملنے والی کہ کوئی لونڈا کینیڈا سے اٹھے گا اور اپنے ادارے (یعنی منہاج القران) کے تمام ملازمین و طلباء کو ساتھ چلنے کا حکم دے کر اسلام آباد میں جا کر کنٹینر میں ڈرامہ بازی کر ڈالے گا۔
یہ حکومت راجہ رینٹل یا منحوس گیلانی جیسی نہیں کہ جن کو اپنی کرپشن، نااہلی اور بددماغی کی وجہ سے کوئی سخت قدم اٹھانے کی توفیق ہی نہ تھی۔

طاہر قادری نے اس ملک کو گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے کہ جب کبھی من ہوا تو اس جانب بھی خیال کر لیا، ورنہ کینیڈا میں بیٹھ کے زکوٰۃ سے چلنے والی اپنی فیملی کی بزنس امپائر چلاتے رہیں۔
اس بندے سے کوئی پوچھے کہ اگر تم اتنے ہی مقبول ہو کہ بقول تمہارے لاکھوں کروڑوں لوگ تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں تو تم الیکشن میں کھڑے ہو کر ان کروڑوں ووٹوں سے حکومت کیوں نہیں بنا لیتے۔

اور خاندانی سیاست کے خلاف بولنے والے اس شخص سے کوئی پوچھے کہ اگر آج تم مر جاؤ تو تمہاری پارٹی اور منہاج القرآن فاؤنڈیشن میں تمہارا جانشین کون ہو گا۔ اور اس وقت بھی تمہاری پارٹی یا ادارے میں تمہارا سیکنڈ کون ہے۔ سیکنڈ چھوڑو تھرڈ، فورتھ، ففتھ ہی بتا دو کہ کون ہے۔
ماڈل ٹاؤن آپریشن کی ویڈیو فوٹیج میں جو لہولہان جوان، بڈھے یا عورتیں نظر آ رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ وہاں تم امب لینے پہنچے ہوئے تھے، یا انقلاب لانے یا جہاد کرنے یا نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عمرے ادا کرنے۔

یہ سب کے سب بے شرم لوگ ہیں۔ نام اسلام کا اور کرتوت ایسے۔ ناجائز تجاوزات اوربیرئیر ہٹانے کے خلاف سب سے بڑے دو دلائل ملاحظہ ہوں کہ
ہٹانے تھے تو پہلے کیوں نہیں ہٹائے
اور فلاں فلاں جگہ سے کیوں نہیں ہٹائے

جیسے ایم کیو ایم مشرف سمیت ہر کیس کے جواب میں کہتی ہے کہ انیس سو سینتالیس سے شروع کریں تو تسلیم ہے۔
اس کے جواب میں ہم بھی پوچھ سکتے ہیں کہ طاہر قادری کو چند سال پہلے انقلاب کیوں نہیں یاد آیا۔

شیخ الاسلام صاحب کے لئے تقریر کا مسودہ

جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائدِ انقلاب، شیخ الاسلام جناب طاہرالقادری صاحب نے اس بار سردیوں کی بجائے گرمیوں کی کچھ چھٹیاں پاکستان میں گزارنے کا اعلان فرما دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ اس بار میں ملک میں انقلاب بھی لاؤں گا۔ یہ تقریبا" ایسا ہی ہے جیسے بندہ ٹماٹر لینے دکان پہ جا رہا ہو اور گھر سے کوئی آواز دے کہ ٹماٹر کے ساتھ دھنیا بھی لے کے آنا، سو اسی طرز پہ جناب قادری صاحب اپنی چھٹیوں کو دلچسپ بنانے کے لئے انقلاب کا ڈرامہ بھی رچائیں گے۔
ایسے موقعے پہ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ان کی کچھ مدد کی جائے۔ اپنے تئیں لکھاری کے دعویدار ہونے کی وجہ سے سب سے بہتر مدد یہی کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے ایک عدد تقریر لکھ کے دی جائے۔ سو پیشِ خدمت ہے تقریر کا مسودہ جو کہ ان کی پاکستان آمد سے پہلے کی تقریر کے لئے ہے۔
پیارے پاکستانیو! السلام علیکمجیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں سیاست نہیں ریاست بچانا چاہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب بھی یہی چاہتے ہیں۔ انقلاب کی منزل آسان نہیں ہوتی، اس کے لئے جان ہتھیلی پر لے کے نکلنا ہوتا ہے۔ تو میں بھی اس بار جان ہتھیلی پر لے کے پاکستان آ رہا ہوں۔ ارے کم بختو یہ تم لوگوں کی جان کی بات کر رہا ہوں۔ اپنی حفاظت کے لئے میں پاکستان کی مسلح افواج سے گزارش کروں گا کہ وہ ایئرپورٹ سے میری سیکورٹی سنبھال لیں اور جلسہ گاہ یا احتجاج گاہ تک اپنے سب کمانڈوز میری حفاظت پہ لگا دیں۔ ویسے میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں۔ لیکن آپ سب کو علم ہی ہے کہ میری جان ریاست بچانے کے لئے کتنی قیمتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میرے لئے وہی پرانے والا شہادت پروف کنٹینر ہی نہیں لا رکھنا۔ آپ کو پتا ہی ہے کہ اس میں ہیٹرز کا انتظام تھا، جس کی وجہ سے سخت سردی میں جب باہر آپ سب لوگ ٹھٹھر رہے تھے تو اندر مجھے آستینیں کھولنا پڑی تھیں۔ اب چونکہ سخت گرمی کا موسم ہے تو کنٹینر میں تگڑا سا اے سی بمعہ جنریٹر کے موجود ہونا چاہئے تاکہ اچھی طرح سے انقلاب لایا جا سکے۔
باقی آپ اس چیز کی فکر نہ کریں کہ اس سخت گرمی میں میرے جلسے یا احتجاج میں کم لوگ آئیں گے۔ میں نے منہاج القران کے سب سکولوں کالجوں کے ملازمین و اساتذہ کی جلسہ گاہ میں حاضری کو یقینی بنانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ ویسے بھی ملک میں کافی بیروزگاری ہے تو کوئی لگی لگائی نوکری کو لات مارنا پسند نہیں کرے گا۔
اور ہاں میں مسلح افواج سے یہ بھی اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ جلسہ گاہ کے قریب کچھ بکروں اور قصائی کا بھی انتظام کیا جائے تا کہ اگر کوئی ڈرامے بازی کرنے کا من ہو تو بکرے کا خون لگا کے تصویریں کھنچوا سکوں۔ خیال رہے کہ خون بکرے کا ہو، بکری کا نہ ہو۔ ورنہ انقلاب اچھی طرح سے نہیں آ سکے گا۔
اور یہ کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں مغرور اور نک چڑھا ہوں۔ آپ خود ہی بتائیں کہ اگر میں مغرور ہوتا تو آپ جیسے ٹکے ٹکے کے لوگوں سے اتنی عزت اور احترام سے بات کرتا۔
اور آخری بات پی آئی اے والوں سے کہ کینیڈا کے ٹکٹ کا بھی انتظام کر رکھیں، تا کہ اگر یہاں انقلابی دال اس بار بھی نہ گل سکی تو باعزت یا بے عزت نکلنے کا بھی سارا انتظام موجود رہے۔ اگر بروقت ٹکٹ کا انتظام نہ کیا گیا تو اس کو پی آئی اے والوں کی جانب سے انقلاب کے خلاف سازش سے تعبیر کیا جائے گا۔ 

کراچی ایئرپورٹ پہ دہشت گردی اور ماضی کے واقعات

ویسے تو پاکستان میں مکمل امن شاید ہی کبھی موجود رہا ہو، لیکن ماضی قریب میں فاٹا آپریشن شروع کئے جانے کے بعد سے اس ملک نے دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ اب محسوس ہوتا ہے کہ اس سے پہلے تو پاکستان بہت ہی پرسکون اور امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔
لیکن فاٹا آپریشن کے بعد بہادر کمانڈو المعروف مشرف صاحب نے جب لال مسجد کر دیا تو اس کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات ہوئے کہ ہالی ووڈ کی ڈائی ہارڈ سیریز جیسی فلموں کو بھی مات کر دیا۔ ان واقعات کے نتیجے میں پاکستان نے ایسا ایسا جانی و مالی و جذباتی نقصان اٹھایا کہ جس کا ذکر بھی مشکل ہے۔ ان میں جی ایچ کیو پہ حملہ، راولپنڈی پریڈ لین پہ حملہ، مہران بیس پہ حملہ، کامرہ میں اواکس جہازوں پہ حملہ وغیرہ زیادہ مشہور واقعات ہیں، ورنہ تو دل دہلا دینے والی دہشت گردی کے اتنے واقعات ہیں کہ صرف ان کے نام درج کرنے کا بھی یہ بلاگ متحمل نہ ہو سکے۔
ان سب واقعات میں نقصان، اس پہ افسوس، رونا دھونا، سرکاری بیانات تو اپنی جگہ۔ لیکن مجھے ہمیشہ ایک چیز چبھتی ہے ہے کہ جن واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجے میں پراپر انکوائری کرا کے اس میں موجود سیکورٹی لیپس کی نشاندہی کرنا اور متعلقہ لوگوں کو لٹکانا یا سزا دلوانا درکار تھا۔ اس کی بجائے ہم ہمیشہ ان واقعات کے اندر سے بہادری اور شجاعت کی داستانیں نکال لاتے ہیں۔مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ جب کامرہ بیس پہ اٹیک ہوا تو اگلے دن سب سے پہلا نعرہ یہ سننے کو ملا کہ بے مثال شجاعت کے نتیجے میں دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیئے گئے ہیں۔ اگلے دن خبر آئی کہ پچیس ارب روپے مالیت کا ایک اواکس طیارہ مکمل تباہ ہو گیا، جبکہ پچاس ارب مالیت کے دو اواکس طیاروں کو اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اب کوئی پوچھے کہ بھائی دہشت گردوں کا مقصد کیا کامرہ بیس پہ قبضہ جمانا اور ان پہ اپنی حکومت قائم کرنا تھا۔ قومی اثاثہ جات کو لگ بھگ پچاس ارب روپے کا ٹیکا لگوا کے بھی شجاعت و بہادری کے نعرے کافی مضحکہ خیز لگتے ہیں۔
خیر الحمدللہ کل رات والے کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ میں ابھی تک ایسا کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس بار شکر الحمدللہ کہ سیکورٹی فورسز نے شاندار رسپانس کا مظاہرہ کیا اور کراچی ایئرپورٹ کو کسی بڑے المیے سے بچا لیا۔ اس پہ یقینا" تمام سیکورٹی ادارے تحسین کے مستحق ہیں۔

ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا از محسن حامد

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور انگلش زبان میں ناول یا کتب لکھنے والوں میں عہدِ حاضر کا روشن ترین نام محسن حامد کا ہے۔ جنہوں نے اپنے گزشتہ دو ناولز یعنی دی موتھ سموک اور دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ سے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ان کا تیسرا ناول گزشتہ سال شائع ہوا تھا۔ ناول کے نام کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنے گا "ترقی پذیر ایشیا میں دھن بنانے کے طریقے"۔ تاہم اصل نام کچھ یوں ہے۔ ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا،،، یعنیHow to Get Filthy Rich in Rising Asia
میں نے یہ ناول کچھ ہی دن قبل ای فارمیٹ میں پڑھا ہے۔ کافی عرصے بعد ایسی فراغت میسر ہوئی تھی کہ ایک ہی دن میں دو نشستوں میں ناول ختم کر کے ہی دم لیا۔ اس ناول کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محسن حامد نے ایک بار پھر زبردست چیز پیش کی ہے اور اپنے سٹینڈرڈ کو نیچے نہیں آنے دیا۔ 
یہ ناول ایک علامتی طریقہ کار میں لکھا گیا ہے۔ انداز ایسا اپنایا ہے جیسے سیلف ہیلپ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ تاہم محسن حامد اس کی حدود کے اندر اندر ہی ناول کے مرکزی کردار کی کہانی کو واحد متکلم کی شکل میں بیان کیا ہے۔ یعنی جیسے لکھا جائے کہ تم ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے تم نے غربت دیکھی۔ تمہارے امیر ہونے کی سیڑھی چڑھنے کا پہلا قدم تب لیا گیا، جب تمہارے والد نے مزدوری کے لئے اپنے کنبے سمیت شہر جانے کی ٹھان لی۔ وغیرہ وغیرہ۔
ناول کا مرکزی خیال جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے کہ ترقی پذیر معاشرے میں امیر ہونے کے حربے یا سٹیجز کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف نے مجموعی طور پہ بارہ سٹیجز یا مراحل بیان کئے ہیں اور ناول کا ہر ایک باب ایک سٹیج کے لئے مختص ہے۔ سٹیجز کچھ اس قسم کی ہیں۔موو ٹو دی سٹی یعنی شہر کو منتقلیڈونٹ فال ان لو یعنی پیار محبت سے پرہیزیلرن فرام اے ماسٹر یعنی کسی ماہر استاد سے مال کمانا سیکھوبی پریپیئرڈ ٹو یوز وائلنس یعنی ضرورت پڑنے پہ تشدد کا استعمال ضروری ہےوغیرہ وغیرہ
کہانی کی مختصر ترین تلخیص کچھ یوں ہے کہ ایک غریب بچے کی فیملی جب شہر منتقل ہو جاتی ہے تو سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے سکول اور پھر کالج وغیرہ جانا بس اسی کو نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ بچہ پیسہ کمانے کے گر سیکھتا ہے اور جلد ہی پینے کے پانی کی بوتلیں پیک کرنے کا سیٹ اپ لگاتا ہے، جو کہ شہر میں ایسی سہولیات کی کمیابی کی وجہ سے خاصا کامیاب ہونے لگتا ہے۔ اسی بزنس میں وہ مزید سیڑھیاں چڑھتا جاتا ہے اور بیوروکریٹوں کو مال لگا لگا کے سرکاری ٹھیکے بھی لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ یعنی متوازی اسی کی ہم عمر ایک لڑکی کی داستان بھی کچھ کچھ بیان کی جاتی ہے جو کہ شوبزنس میں اینٹر ہوتی ہے اور عروج و زوال و عروج وغیرہ کے مراحل سے گزرتی ہے۔
کہانی کا سیٹ اپ کافی حد تک پاکستان کا ہے، تاہم مصنف نے کسی بھی جگہ کسی ملک یا شہر یا کسی بھی سپیسیفیک چیز کا نام استعمال نہیں کیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس ناول کا سیٹ اپ ایشیا کے زیادہ آبادی والے ترقی پذیر ممالک میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے یعنی پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ وغیرہ
بحیثییتِ مجموعی یہ ایک شاندار ناول ہے اور پڑھنے کے لئے ریکمنڈڈ ہے۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ ہر قاری اس کو زیادہ دلچسپ محسوس نہ کرے۔ 

الطاف بھائی اور رابطہ کمیٹی کے لئے بیان کا مسودہ

آج کی تازہ ترین پیش رفت (یعنی الطاف حسین صاحب کی حراست) کے سلسلے میں جس طرح سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے "سچے" بیانات جاری کر کے قوم کو حقائق سے روشناس کرانے کی کوششِ عظیم کی ہے، تو اسی ضمن میں ہم بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ اس رابطہ کمیٹی کی مدد کی جائے اور ان کے لئے ایک ایسے بیان کا مسودہ مہیا کیا جائے جو جامع بھی ہو، "حقیقت" پر بھی مبنی ہو اور ہم سب امید سے ہیں اور مذاق رات وغیرہ کی کمی کا احساس بھی نہ ہونے دے۔
تو پیشِ خدمت ہے جی مجوزہ بیان کا مسودہ
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان کے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ الطاف بھائی کو کسی قسم کی حراست میں نہیں لیا گیا، بلکہ وہ اپنے گھر پر بھی موجود ہیں۔ اگر کسی کو شبہ ہے تو ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ الطاف بھائی سارے لندن کو اپنا گھر ہی سمجھتے ہیں، تو چاہے لندن کے تھانے ہوں یا لندن کے پب، یہ سب بھی ان کے لئے گھر کے مافک ہی ہیں۔اور تھانے میں بھی ان سے تفتیش ہرگز ہرگز نہیں کی جا رہی، بلکہ ان کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا ہے۔ اس انٹرویو کے بعد بھائی کو وہاں گریڈ چودہ کی نوکری ملنے کا بھی امکان ہے۔
مزید یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ الطاف بھائی نے کسی قسم کی منی لانڈرنگ نہیں کی۔ یہ پیسہ تو پاکستان کے عوام نے ان کی محبت میں ان کو نذرانے کے طور پہ بھجوایا تھا، اور یہ اتفاق ہے کہ جس دن پولیس نے چھاپا مارا، اس سے اگلے ہی دن بھائی اس سب پیسے کا ٹیکس وغیرہ جمع کرانا چاہتے تھے۔
ہم پاکستان کے عوام کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ الطاف بھائی کا کسی بھی سیاسی رہنما یا عام آدمی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمران فاروق کے قاتلوں سے ان کا قریبی تعلق اور ان سے قتل سے قبل کے رابطے صرف اتفاقات کی ایک لڑی ہیں۔ الطاف بھائی تو ان کے قاتلوں سے فون پہ صرف یہ پوچھا کرتے تھے کہ کراچی میں ٹماٹر اور انڈوں کا کیا بھاؤ ہے، اور لندن سے کیا بھجواؤں وغیرہ۔
حالیہ واقعات کے تناظر میں ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ الطاف بھائی کے سیاسی فلسفے سے خوفزدہ ہو کر ساری دنیا کا سرمایہ دارانہ نظام ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ اس میں یہودی لابی بھی ہے، بھارتی لابی بھی، نصرانی لابی بھی، قادیانی لابی بھی، کمیونسٹ لابی بھی، بدھسٹ لابی بھی، نیز یہ کہ کوئی اور لابی بھی باقی بچی ہو تو اس میں شامل سمجھ لیں۔ اور کوئی یہ سوال پوچھ کے شرمندہ نہ ہو کہ بھائی کا فلسفہ کیا ہے، کیونکہ اس کا جواب ہمیں کیا، خود بھائی کو بھی نہیں معلوم۔
نیز یہ کہ ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ کاں چِٹا ہوتا ہے۔
شکریہ

ایک "کُوگی" کی داستان

چند ماہ قبل کراچی میں میری ملاقات جرمنی کے دو افراد سے ہوئی جو کہ اپنی کمپنی کے کاروبار کے سلسلے میں یہاں میٹنگ کے لئے آئے تھے۔ ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں میٹنگ کی گئی۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو گیا تو ہم سب لوگ لنچ والے ہال میں چلے گئے۔ اب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو گوروں کی عادت کے مطابق یعنی کھانے کے دوران بزنس کی بات نہیں کرتے، بلکہ جنرل گپ شپ کی جاتی ہے، ہم نے بھی ان سے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی۔  میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ تو یہاں بور ہو رہے ہو گے۔ یہاں نہ تم لوگوں کی گرل فرینڈز ہیں، نہ ہی باہر گھومنے پھرنے کے حالات ہیں اور نہ ہی پینے پلانے کو بارز موجود ہیں۔ گورا صاحب نے کہا کہ باقی سب تو میسر نہیں ہے، لیکن پینے پلانے کو یہاں ہوٹل میں ہی مل جاتا ہے۔ بس اس کے لئے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے جیسے ایک سرٹیفیکیٹ سائن کرتے ہیں کہ میں یہ اپنے علاوہ کسی کو نہیں دوں گا، فلاں فلاں وقت کے علاوہ نہیں پیوں گا۔ کمرے سے باہر نہیں پیوں گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
میں نے کہا کہ ہمارے ہاں تو لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہوٹل سے اسی طرح سرٹیفیکیٹ سائن کر کے لے لیتے ہیں اور کسی کو بیچ دیتے ہیں۔ اس پہ گورا صاحب حیران ہوئے اور بولے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کیسے ہو سکتا ہے۔ بولا کہ جب آپ نے ایک کاغذ پہ سائن کر دیا ہے کہ میں یہ کسی کو نہیں دوں گا تو کسی کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ میں نے اوپر سے تو مذاق میں بات ٹال شال دی، لیکن اندر سے یہ کیفیت تھی کہ دل کر رہا تھا کہ زمین میں گڑ جاؤں۔ میں سوچ رہا تھا کہ گورے کا دماغ ایک سادے کاغذ پہ سائن کی خلاف ورزی کو حقیقت تسلیم کرنے پہ تیار نہیں ہے۔ اس کو اگر بتاؤں کہ یہاں لوگ عدالتوں، کچہریوں میں مقدس ترین کتاب یعنی قرآن مجید پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھاتے ہیں کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پہ عذاب نازل ہو وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی ہر قسم کی جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔ اور ان کے ضمیر پہ نہ کوئی بوجھ ہوتا ہے اور نہ چہرے پہ کوئی شرم۔ ان کے ارد گرد موجود لوگوں بشمول جج اور وکلاء کو یقینِ کامل ہوتا ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور گواہی کے نام پہ بکواس کر رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس کی بات کو سچ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ گورا صاحب کو کیسے سمجھایا جائے کہ اس سرٹفیکیٹ پہ دستخط کی وقعت کاغذ پہ لگی ایک "کُوگی" سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس "کُوگی" لگانے والے کو دو منٹ بعد یاد بھی نہیں ہو گا کہ اس نے ابھی ابھی کسی حلف نامے یا کسی کاغذ پہ سائن بھی کئے تھے۔ سچ ہے کہ قومیں ایسے ہی نہیں بنتی ہیں، اور ایسے ہی نہیں بگڑتی ہیں۔

میلینئم سیریز از سٹیگ لارسن

سویڈن سے تعلق رکھنے والے ناول نگار سٹیگ لارسن پچاس برس کی عمر میں سن دو ہزار چار میں وفات پائی۔ سٹیگ لارسن نے اپنی زندگی میں ایک ناول سیریز لکھنی شروع کی تھی جو کہ اب میلنئم سیریز کے نام سے مشہور ہے۔ سٹیگ لارسن کا ارادہ تو دس ناولز کی سیریز لکھنے کا تھا، تاہم ان کی وفات کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا اور صرف تین ہی حصے شائع ہو سکے اور وہ سب بھی ان کی وفات کے بعد ہی شائع ہوئے یعنی سن دو ہزار پانچ، چھ اور سات میں۔ ان تین حصوں کے نام یہ ہیں۔The Girl with the Dragon Tattoo (2005)
The Girl Who Played with Fire (2006)
The Girl Who Kicked the Hornets' Nest (2007)
ان تینوں ہی ناولز نے اپنی اشاعت کے ساتھ ہی دنیا بھر میں دھوم مچا دی۔ اب تک ان ناولز کی آٹھ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اس کا نام میلینئم سیریز اس لئے پڑا کہ اس کے دو مرکزی کرداروں میں سے ایک مائیکل بلومکؤیسٹ ایک سراغ رساں نما جرنلسٹ ہے اور ایک مشہور میگزین بنام میلینئم کا پبلشر ہے۔ لیکن اصل میں اس سیریز کی مرکزی ترین کردار ایک لڑکی ہے جس کا نام لزبتھ سالینڈر ہے اور یہ کافی عجیب و غریب عادات و اطوار کی حامل ہے۔
میں نے یہ سیریز کچھ عرصہ قبل ہی پڑھی تھی اور حسبِ عادت تینوں حصوں کو جلد سے جلد ختم کر کے ہی چین کیا تھا۔ سیریز کا سب سے پہلا حصہ سب سے زیادہ تھرلنگ اور سسپنس آمیز ہے۔ اس میں میلینئم کے پبلشر مائیکل بلومکؤیسٹ کو ایک جزیرہ نما جگہ پہ جا کے تقریبا" چالیس سال قبل کے ایک واقع (یا جرم) کا سراغ لگانے کا ٹاسک ملتا ہے۔ اس کا چکر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک خاندانی تقریب کے عین دوران ایک لڑکی غائب ہو جاتی ہے جس کا ابھی تک یعنی چالیس سال تک کچھ علم نہیں ہو سکا جس کے لئے ہیرو صاحب کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ابتدا میں یہ کام ناممکن سا دکھائی دیتا ہے، تاہم ایک کلیو آخرکار ہاتھ آ ہی جاتا ہے، جس کی مدد سے تہہ در تہہ گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے مائیکل بلومکؤیسٹ صاحب اس معاملے کا سراغ لگانے کے قابل ہو ہی جاتے ہیں۔ اسی کہانی کے دوران سیریز کی مرکزی کردار یعنی لزبتھ سالینڈر کے حالات بھی بیان ہوتے رہے، جس میں ایک بوڑھے سرپرست کے ہاتھوں اس کی آبروریزی اور پھر لزبتھ کا انتقام لینا، پھر لزبتھ کی خدمات مائیکل بلومکویسٹ کے اسسٹنٹ کے طور پہ لیا جانا وغیرہ شامل ہے۔اسیریز کا دوسرا حصہ مجھے پہلے حصے جیسا جاندار تو نہیں لگا، تاہم یہ بھی سسپنس اور تھرل سے بھرپور ہے۔ اس حصے میں مرکزی رول لزبتھ سالینڈر ہی کا ہے جبکہ مائیکل بلومکؤیسٹ کا کردار بس سپورٹنگ ہیرو نما ہی محسوس ہوتا ہے۔ اس میں لزبتھ کے ماضی کے واقعات کا کچھ ہنٹ دیتے ہوئے مصنف نے بتایا ہے کہ کیسے اب لزبتھ ان واقعات سے متعلق کچھ ان کھلے راز جاننے کی کوشش کرتی ہے۔ اس میں لزبتھ کے باپ (جو کہ ایک ولن نما کردار ہے) کا تذکرہ بھی شامل ہے اور سویڈش سیکرٹ سروس کی دو نمبریوں وغیرہ کا بھی تذکرہ ہے کہ کیسے روس کے خلاف اپنی جاسوسی کاروائیوں کے چکر میں وہ ایک بڑے مجرم کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہی مجرم لزبتھ کا باپ بھی ہے۔ کہانی میں اتنے واقعات ہیں کہ ان کی تلخیص بھی کافی طویل ہو جائے گی۔ ناول کو پڑھنا اس مقصد کے لئے سودمند رہے گا۔
سیریز کا تیسرا ناول شاندار ایکشن اور تھرل سے بھرپور ہے۔ اس میں بنیادی کہانی یہ ہے کہ سویڈش سیکرٹ سروس نے ایک مجرم کی پشت پناہی کر کے جو جو کاروائیاں کی تھیں، اب لزبتھ کے اپنے باپ کے خلاف انتقامی اقدامات سے ان کے افشا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس معاملے پہ پریشانی کا شکار سیکرٹ سروس کے کچھ حاضر اور کچھ ریٹائرڈ افراد مل کر اس معاملے کو اپنے انداز میں ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جانب لزبتھ کے دوست کے طور پہ مائیکل بلومکؤیسٹ بھی کچھ افراد یا اداروں کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ یوں ایکشن اور سراغ رسانی سے بھرپور کشمکش کا آغاز ہوتا ہے
بحیثییتِ مجموعی میلینئم سیریز ایک شاندار سیریز ہے اور ایکشن اور تھرل کے شوقین قاری حضرات کے لئے ریکمنڈڈ ہے۔ تیسرا حصہ ختم ہونے پہ کافی افسوس بھی ہوتا ہے کہ ناول نگار اتنی جلدی کیوں فوت ہو گیا۔ کچھ مزید ناولز بھی لکھ جاتا۔ ویسے سننے میں آیا ہے کہ چوتھے ناول کا سکرپٹ بھی موجود ہے جو کہ ناول نگار کی گرل فرینڈ کی تحویل میں ہے۔ مستقبل میں اس کے پبلش ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ابھی اس کا ٹائم فریم نہیں بتایا گیا۔


  

زندہ ہیروز کی تلاش

چند ماہ قبل کی بات ہے۔ کسی ٹی وی چینل پہ کسی شاعر یا ادیب کو ایوارڈ دینے کی خبر چلی تو میرے ایک کزن کا پہلا سوال یہ تھا کہ ہائیں!!! کیا یہ بھی فوت ہو گیا ہے؟
اس ایک فقرے میں گویا ہمارے من حیث القوم مزاج اور رویوں کی داستان بیان کر دی گئی۔ میں بہت عرصے سے اس چیز کو دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی شاعر ادیب، فنکار یا ماہرِ فنونِ لطیفہ کے لئے ہیرو بننے (یا ایوارڈ پانے) کی سب سے بڑی کوالیفیکیشن "وفات پا جانا" ہے۔ جونہی کوئی بندہ فوت ہوتا ہے تو اسی سال اس کے لئے ایوارڈ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس بابر اعوان، فرزانہ راجہ، شرمیلا فاروقی، عرفان صدیقی جیسے منحوس اور رذیل کرداروں کو زندہ ہی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے جن کی تمام تر کوالیفیکیشن جوتیاں چاٹنا یا کرپشن میں ہمدم ہونا ہے۔
میں جب اہلِ مغرب سے اپنا موازنہ کرتا ہوں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ مغربی معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو زندہ ہیں یا زندہ تھے اور اپنی زنگی میں بھی ہیرو کا درجہ رکھتے تھے۔ بھلے یہ سٹیو جابز ہو یا بل گیٹس، نوم چومسکی ہو یا آرٹ بکوالڈ، ہیریسن فورڈ ہو یا ٹام ہینکس، پاؤلو کوایلہو ہو یا گیبریل گارشیا مارکیزجارج لوکاز ہو یا پیٹر جیکسنمائیکل جیکسن ہو یا میڈوناڈین براؤن ہو سٹیفن کنگجے کے راؤلنگ ہو یا سٹیفنی مائیرڈیوڈ بیکہم ہو یا میراڈونانیلسن منڈیلا ہو یا کوفی عنان
یہ سب کے سب اپنی اپنی زندگیوں میں ہی اپنے معاشروں میں لوگوں کو ہیرو کے طور پہ قبول ہیں یا تھے۔ ان میں سے اکثر کا کوئی نہ کوئی سیکنڈل یا تنازعہ بھی سامنے آتا رہا ہو گا، لیکن ان کے معاشرے نے ان کو اس خرابی کے ساتھ بھی ہیرو کے طور پہ قبول کیا۔ وجہ یہ کہ یہ لوگ اپنی اپنی فیلڈ کے ماہر ترین اور صاحبِ کمال بندے تھے۔
اسی کے برعکس ہمارے ہاں دیکھیں تو زندہ بندے میں جتنی مرضی خوبی ہو، اس کو متنازع بنانا یا اس کے منفی پہلوؤں پہ زیادہ سے زیادہ زور دینا کوئی ہم سے سیکھے کوئی سائنسدان ہے تو اس کو قادیانی و غیرمسلم، کوئی کھلاڑی ہے تو اس کو جواری و سٹے بازکوئی فنکار ہو گلوگار ہے تو اس کو میراثی و کنجرشاعر یا ادیب ہو تو ویسے ہی گمنام و انجانکوئی غدار مشہور ہے توکوئی یہودی و نصرانی لابی کا آلۂ کار کوئی آزاد خیال ہے تو کوئی زیادہ بولڈاور نجانے کیا کیا
اور تو اور، ایک ادارہ جس نے اس ملک کو ہیرو مہیا کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے یعنی پاک فوج، حیران کن طور پہ اس میں بھی آپ کو زندہ انسان ہیرو کے طور پہ سننے کو نہیں ملے گا۔ کتنی جنگیں اور آپریشنز ہو چکے، کیا یہ حیرانی کی بات نہیں کہ ایک بھی نام ایسا سامنے نہیں آیا جو زندہ ہو اور اس نے بھی کوئی "شجاعت و بہادری" کا مظاہرہ کیا ہو۔
دوستو! ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایک معاشرہ ہیروز سے یکسر محروم ہو۔ یقینا" ہمارے آپ کے درمیان بھی ہیروز موجود ہوں گے، لیکن یا تو گمنامی اور بے توجہی کی زندگی گزار رہے ہوں گے، یا جن کو چند لوگوں نے جان لیا ہو گا، وہ ان کی ٹانگ کھینچنے یا منفی پہلو اجاگر کرنے میں زیادہ مصروف ہوں گے۔
عزیزانِ کرام! کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس سب رویے کی وجہ کیا ہے۔ جو میری سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ زندہ ہیروز سے ہم میں سے کچھ لوگ خوفزدہ ہوں گے اور کچھ جیلس۔خوفزدہ اس وجہ سے کہ یہ ان سے زیادہ قدوقامت نہ پا لیںجیلس اس وجہ سے کہ ہم ان جیسے کیوں نہ بن پائے۔
اللہ ہی جانے کہ کب ہم لوگ بھی سدھریں گے اور قبروں کو سلیوٹ کرنے کی بجائے زندہ انسانوں کو بھی سلیوٹ کرنا شروع کریں گے۔اپنے گرد و پیش میں دیکھئے اور کھلے اذہان کے ساتھ زندہ ہیروز کی تلاش کیجئے۔ یقین جانئے کہ آپ کو مایوسی نہیں ہو گی۔  

آئی آف دی نیڈل از کین فولیٹ

برطانوی ناول نگار کین فولیٹ کا لکھا یہ ناول ابتدا میں "سٹارم آئے لینڈ" کے نام سے بھی چھپا تھا۔ تھرلر ناولز پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لئے یہ ایک توشۂ خاص ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں تو جتنا لطف اس ناول کو پڑھنے میں آیا، اتنا کم کم ہی کسی ناول میں آیا ہو گا۔ یہ ناول دوسری جنگِ عظیم کے دوران انگلینڈ میں موجود ایک جرمن جاسوس کی کہانی کا بیان ہے۔ اپنے پتلے جسم اور لمبے قد کی وجہ سے اس کو نیڈل (یعنی سوئی) اور جرمن (یا شاید کسی اور زبان) میں ڈائے نیڈل بھی کہا جاتا تھا۔ اسی سے اس ناول کا اصل نام یعنی آئی آف دی نیڈل بھی رکھا گیا۔ناول کی کہانی میں اصل پلاٹ کافی حد تک حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔ بس اس میں جاسوس صاحب کی کارگزاری والا حصہ یقینا" افسانوی ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کی ابتدا میں جب جرمنی نے فرانس پہ قبضہ کر لیا تو جرمنی کی مخالف قوتوں میں سب سے اہم قوت برطانیہ ہی بچا تھا۔ اسی وقت سے برطانیہ نے ایک ایسا آپریشن پلان کرنا شروع کر دیا تھا جس میں ان کی افواج سمندر کو پار کر کے فرانس کے ساحلوں پہ قبضہ جمائیں۔ اور وہاں سے جرمنی کی فوج کی تباہی و بربادی کا آغاز کرتے ہوئے ان کو مکمل شکست دے سکیں۔ عام زبان میں اس کو لینڈنگ آپریشن کہا جاتا ہے۔ ہٹلر کو بھی اس بات کا شروع سے ادراک تھا کہ برطانیہ و اتحادیوں نے ایک دن یہاں لینڈنگ آپریشن کرنا ہی ہے۔ 
اب کیا یہ گیا کہ فرانس کے ساحل پہ لینڈنگ کے لئے جس مقام کا انتخاب کیا گیا، اس کا نام نارمنڈی تھا۔ جبکہ کالیس نامی جگہ (جہاں انگلش چینل سب سے تنگ ہے) کا صرف شوشا چھوڑا گیا کہ یہاں سے لینڈنگ کی جائے گی۔ اس کام کے لئے کالیس والی جگہ کے نزدیک بہت بڑے بڑے مصنوعی کیمپس بنائے گئے تا کہ جرمنی کے جہازوں وغیرہ سے جو جاسوسی کی جاتی تھی، ان کو دھوکا دیا جا سکے۔ان دونوں لینڈنگ سائٹس میں اہم نکتہ یہ تھا کہ فرانس والی سائیڈ پہ دونوں جگہوں کے درمیان دریا تھا، اور جرمنی مشرقی محاذ پہ روس کے خلاف مصروفِ پیکار ہونے کی وجہ سے فوجی قوت کی کمی کا شکار تھا تو اس نے اصل دفاع کسی ایک ہی جگہ پہ لینا تھا۔ ہٹلر کو اپنی فہم و فراست کی بناء پہ اندازہ تھا کہ لینڈنگ نارمنڈی پہ ہو گی لیکن اس کے زیادہ تر جرنیلوں کا یہی اصرار تھا کہ اصل لینڈنگ سائٹ کالیس والی ہے۔ اس کا ثبوت جاسوس جہازوں کی تصویروں سے بھی پیش کیا گیا۔
ابھی تک کی جو کہانی بیان کی گئی ہے، یہ تاریخی طور پہ بھی ایسے ہی ہے۔ اب اس میں ناول کا پہلو یہاں سے آتا ہے کہ نیڈل نامی جاسوس مصنوعی کیمپس تک پہنچ کے وہاں سے تصویری ثبوت حاصل کر لیتا ہے کہ یہ سب دھوکا دہی کے لئے ہے اور یہ اصل لینڈنگ آپریشن والی سائٹ نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ہی برطانوی انٹیلی جنس کے ایک آفیسر کو بھی علم ہو جاتا ہے کہ یہاں سے کچھ ثبوت حاصل کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اس کا تمام تر مشن یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح ان معلومات کو جرمنی پہنچائے جانے سے روک سکے۔ اسی کے نتیجے میں تھرلنگ قسم کی جاسوسی کاروائیاں اور سراغ رسانی کے حالات و واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ انجام کیا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ناول پڑھنا مفید رہے گا۔
ناول کا اندازِ بیان ایسا سادہ اور پلاٹ ابتدا ہی سے ایسا دلچسپ ہے کہ بندہ ستر سال پرانے ماضی کے حالات میں مسحور ہو جاتا ہے اور پورا ناول جلد سے جلد پڑھے بغیر چین نہیں آتا۔ اسی کے ساتھ ساتھ دوسری جنگِ عظیم کے حالات و واقعات کی (خصوصا" جرمنی کے مغربی محاذ کی) بھی کچھ سمجھ آتی ہے کہ کیسے یہاں لڑائی لڑی گئی اور کیسے اتحادی افواج نے جرمنی کو ہرانے کی پلاننگ کی۔
 یہ ناول تمام جاسوسی یا تھرلر ناولز پڑھنے والوں کے لئے ریکمنڈڈ ہے۔  

نئی سیاسی صف بندی کا آغاز؟

ویسے تو سیاسی صف بندی دائیں اور بائیں بازو کے درمیان ہوا کرتی ہے، یا انتہاپسند اور اعتدال پسند نظریات کے حامل دھڑوں کے مابین۔ لیکن پاکستان میں کچھ مختلف قسم کی سیاسی صف بندی کا بھی رواج چلتا رہا ہے، جو کئی عشروں سے مختلف ناموں اور مختلف شکلوں سے سامنے آتا رہا ہے۔ یہ ہے جمہوری اور غیرجمہوری قوتوں کی صف بندی۔
یہ صف بندی کسی حد تک زرداری حکومت کے دور میں بھی موجود تھی، جس میں نون لیگ، پی پی پی اور اے این پی وغیرہ ایک جانب تھے اور اس ایک نکتے پہ کم از کم متفق تھے کہ اب ایسے حالات پیدا نہیں کرنے کہ ایک بار پھر غیرجمہوری قوتوں (ڈائریکٹ الفاظ میں جرنیلوں) کو سیاسی بساط لپیٹنے کا موقع نہ مل سکے۔ جبکہ دوسری جانب ایسے تمام عناصر تھے کہ جن کا کوئی سیاسی قدوقامت یا تو بالکل نہیں تھا اور یا پھر بالکل محدود تھا۔ جیسے ایم کیو ایم، قاف لیگ، شیخ رشید وغیرہ
اب تازہ ترین حالات کے تناظر میں ایک بار پھر وہی سیاسی صف بندی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جرنیلوں نے یہ جان لیا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اب موقع دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے تک عمران خان بھی ایسی ہی سوچ رکھتے دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن اچانک کہیں سے ڈوریاں ہلیں اور اچانک عمران خان کو نظام میں بہت سی خرابیاں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ اور اتفاق سے اسی کے ساتھ ہی طاہرالقادری، قاف لیگ وغیرہ کو بھی احتجاج یاد آ گیا۔
تجزیہ نگاروں کے رائے میں یہ سب کچھ صرف موجودہ حکومت پہ دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے، تاکہ وہ زیادہ پر پھیلانے کی کوشش نہ کرنے لگ جائے اور بڑے بڑے ایشوز پہ اپنی مرضی نہ کرنے لگ جائے جیسے پاک انڈیا تجارت، خارجہ پالیسی، طالبان پالیسی وغیرہ وغیرہ۔
ویسے تو اس سب میں سیاسی لونڈوں اور ہیجڑوں کی چاندی لگنے کا امکان ہے جیسے قاف لیگ، شیخ رشید وغیرہ۔ لیکن اس کھیل کا سب سے زیادہ نقصان عمران خان اٹھائے گا۔ اس کھیل کی ٹائمنگ ہی ایسی ہے کہ اگر حقیقت سونامی صاحب ایجنسیوں کے ہاتھوں میں نہیں بھی کھیل رہے تو کسی کو بھی اس بات میں شک نہیں ہو گا کہ ان کی ڈوریں پھر سے انہی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں جا پہنچی ہیں۔ یعنی جتھے کی کھوتی اوتھے آ کھلوتی۔ اوپر سے جناب سونامی صاحب کے موقف میں ایسے ایسے نکات ہیں کہ لوگ پیٹ پہ ہاتھ رکھے کے قہقہے لگانے پہ مجبور ہوئے جا رہے ہیں۔ اس کا تذکرہ گزشتہ بلاگ میں کیا جا چکا ہے۔
اس سوال یہ ہے کہ ہو گا کیا؟میرا اندازہ یا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ اب حالات کافی بدل چکے ہیں اور کسی قسم کی غیرسیاسی طالع آزمائی کے لئے سازگار نہیں رہے۔ اس لئے موجودہ نظام کسی نہ کسی شکل میں چلتا رہے گا۔ تاہم کسی بھی صورتحال کو مکمل طور پہ خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لئے میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر اب کے فوجی مداخلت ہوئی تو اگلا وزیرِ اعظم عمران خان صاحب ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں وہ ایک کٹھ پتلی وزیرِاعظم ہوں گے اور چند سال کے مصنوعی عروج کے بعد اپنی اور اپنی سونامی کی سیاسی موت کا موجب بن جائیں گے۔

سونامی صاحب کا ذہنی دیوالیہ پن

ویسے تو جنابِ عمران خان صاحب گزشتہ کچھ ماہ سے کافی ٹھیک جا رہے تھے۔ خصوصا" ان کی فاٹا آپریشن کی بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کے موقف پہ سختی سے قائم رہنے اور نتیجتا" ملک میں گزشتہ چند ماہ میں نسبتا" پرامن حالات ہونا کافی بہتر اپروچ لگ رہا تھا۔ ان کے لئے میرے پسندیدگی کے گراف میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ لیکن گزرے چند دن میں جناب قائدِ انقلاب نے کچھ ایسے کارنامے کر ڈالے ہیں کہ مجھے تو خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید جناب کے سر پہ چوٹ لگی ہے یا آجکل شدت سے بخار  رہا ہے جس کا اثر سر تک جا پہنچا ہے۔نمونہ جات ملاحظہ ہوں۔
ایک سال بعد جنگ اور جیو کا بائیکاٹ۔ اور اس میں بھی مزید مزے کی بات اس کی وجہ ہے۔ وجہ حامد میر و عامر میر کی حالیہ گوہرافشانی نہیں، بلکہ گزشتہ سال کے الیکشن کے دوران جنگ اور جیو پہ انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلانِ عالیشان فرما ڈالا ہے۔ اس پہ مجھے بجا طور پہ وہ لطیفہ نما واقعہ یاد آ رہا ہے کہ "کیوں بھائی ہنس کیوں رہے ہو؟ وہ یار تم نے سال پہلے جو لطیفہ سنایا تھا، وہ مجھے سمجھ آ گیا ہے"۔
جیو پہ مضحکہ خیز ترین الزام یہ کہ اس نے ادھورے نتائج کی بنیاد پہ ہی نوازشریف سے تقریر کروا دی۔ بندہ کچھ عقل ہی کو ہاتھ مار لیتا ہے کہ کیا وہاں بندے بھی جنگ اور جیو نے اکٹھے کر ڈالے تھے؟ کیا نواز شریف کو تقریر کا آئیڈیا اور سکرپٹ جیو نے تحریر کر کے دیا تھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا صرف جیو نے ہی وہ تقریر نشر کی تھی؟ اس آخری سوال کے جواب میں سونامی صاحب کا فرمانا تھا کہ پہلے جیو نے ایسا کیا تو اس کی دیکھا دیکھی باقی چینلز نے بھی کیا۔ اس سادگی پہ تو مر جانے کو بھی نہ جی چاہے بھائی۔
اگلا کارنامہ جو ہونے جا رہا ہے، وہ سب سے بڑھ کر شرمناک اور خطرناک ہے۔ وہ ہے جناب رئیس المنافقین طاہر الپادری اور شیخ رشید نامی سیاسی لونڈے کے ساتھ مل کے احتجاجی پروگرام چلانے کا۔ خان صاحب! کاش آپ اکیلے ہی احتجاج کروا لیتے۔ آپ کو سٹریٹ پاور یا بندوں کی کیا کمی ہے؟ اور ایک سال بعد الیکشن کی دھاندلی پہ احتجاج کا خیال کچھ زیادہ جلدی ہی نہیں آ گیا۔
اس آخری والی بات سے مجھے اب اس بات میں کم ہی شک رہ گیا ہے کہ ایک بار پھر جنرل پاشا صاحب والا دور واپس آتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویسے تو ہمارے زیادہ تر سیاستدانوں کی سیاست کا پودا خاکی والوں کی کھاد سے پروان چڑھتا ہے، لیکن جس جس میں بلوغت کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں۔ وہ پھر ان کے قابو سے نکل جاتا ہے۔ خان صاحب بھی قابو سے نکلتے ہی نظر  رہے تھے۔ لیکن اب اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے پھر سے خاکی کھاد کے کیوں متمنی ہوئے جا رہے ہیں۔اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ قابلِ مذمت اور قابلِ افسوس ہے۔ اس ملک کے بے شمار لوگوں خصوصا" پڑھے لکھے اور نوجوان طبقے نے بڑی تمناؤں اور امیدوں کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا ہے۔ کیوں ان کو ایک بار پھر مایوس کرنے جا رہے ہیں۔

خوش قسمت کون؟

کوئی سال دو پہلے کی بات ہے۔ ایپل کمپنی کے مشہورِ زمانہ بانی سٹیو جابز کی وفات کی خبر سنی تو بہت سے لوگوں کا یہ کمنٹ سننے یا پڑھنے کا موقع ملا کہ امریکہ خوش قسمت ہے کہ اس میں سٹیو جابز جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ ایسے کمنٹس کو سن کے یا پڑھ کے جو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا کہ خوش قسمت امریکہ نہیں کہ اس میں سٹیو جابز پیدا ہوا۔ بلکہ خوش قسمت سٹیو جابز تھا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہو گیا۔
ذرا سوچیئے کہ اگر سٹیو جابز صاحب شومئیِ قسمت سے ہمارے یہاں پیدا ہو جاتے۔ اول تو سکول کالج کے لیول پہ ہی جناب کا سارا ذوق و شوق و جستجو مر کھپ چکے ہوتے۔ محترم کوئی چھوٹی موٹی اور سچی یا جھوٹی ڈگری کما کے ریلوے یا واپڈا میں اچھی سی نوکری لگنے کے اور پھر چاند سی بہو لانے کے سپنوں سے ہی باہر نہ آ پاتے۔اگر کسی معجزے کی مدد سے وہ ایپل یا آئی فون جیسا کوئی آئیڈیا سامنے لے بھی آتا تو یا تو بھی ہمارے ٹیلنٹ ہنٹنگ (یہ دوسرے والا ہنٹ ہے) نظام نے اس کی وہ درگت بنانی تھی کہ جناب عمر بھر یاد رکھتے اور یہ غزل بھی گاتے کہ
یا رب مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتایا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اور کچھ نہیں تو ایک طبقے نے ایسی کسی بھی ایجاد پہ کفریہ و غیراسلامی کی تہمت لگانی تھی اور کسی نے اس پہ یہود و ہنود کی سازش کا الزام دھرنا تھا۔ جنابِ طالبان نے اس پہ اس ایجاد کی مدد سے نوجوانوں کو جہاد سے دوری پہ مائل کرنے کی مہر لگانی تھی۔ اور شاید کوئی خودکش حملہ کامیاب ہو ہی جاتا۔ یا اگر بچ جاتا اور کسی طرح یہاں سے بچ کے نکالا جاتا تو اس کا وہی ہونا تھا، جو یار لوگوں نے ملالہ کا کیا۔ یوں ایک نیا سٹیو جابز یوسفزئی وجود میں آ جاتا۔
خیر یہ سب تو کسی حد تک مذاق کے پیرائے میں عرض کیا ہے۔ 
اصل غور طلب بات وہی ہے کہ خوش قسمت کون ہے۔ امریکہ یا سٹیو جابز؟
آپ عہدِ حاضر کی کسی بھی چیز پہ نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ایجادات و نظریات وغیرہ یعنی انوینشنز اینڈ تھیوریٹکل سٹڈیز میں یورپیئن ممالک کا نمایاں کردار نظر آتا ہے، لیکن جن جن چیزوں کے پیچھے نئی ایجادات کی بجائے صرف آئیڈیاز کا عمل دخل ہے، وہ تقریبا" سب کی سب امریکہ سے متعلق ہیں۔ چاہے فاسٹ فوڈ ہو، چاہے سوفٹ ڈرنکس ہوں، چاہے انٹرنیٹ ہو، ڈسپوزیبل ریزر ہو،سپر سٹورز ہوں، بچوں کے ڈائپرز ہوں یا کچھ بھی اور۔اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ ان کا نظام ہے۔ جو انسانی دماغ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جہاں حسب نسب اور مال و دولت کی بنیاد پہ تو لوگوں کو عزت و احترام حاصل ہے ہی، لیکن عقل و دانش و دماغ کی بنیاد پہ بھی ہے۔ تمام بڑی بڑی امریکی کمپنیوں کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عام، متوسط یا غریب بندے کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا اور اس نے اس کو عملی جامہ پہنانے کی ٹھانی تو ان کے وسیع الذہن معاشرے اور نظام نے نہ صرف اس کو قبول کیا بلکہ کی اس کی اثرپذیری کے حساب سے اس کی مارکیٹنگ کو عروج تک بھی پہنچایا۔ ذرا کھنگالئے تاریخکے ایف سی کیپزا ہٹ کیسب وے کیجیلٹ کیوال مارٹ کیہنری فورڈ کیمائکروسوفٹ کیایپل کیایمیزون کیای بے کیگوگل کییاہو کیفیس بک کییوٹیوب کی اور انہی جیسی نجانے کتنی ہی اور کمپنیاں اور ادارے جو کہ صرف ایک آئیڈیا کی بنیاد پہ وجود میں آئے۔  ان میں کوئی ایجاد نہیں تھی۔ کوئی فزکس، کیمسٹری یا بائیولوجی کا خاص عمل دخل نہیں تھا۔ یہ صرف آئیڈیاز تھے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ سب اس وقت دنیا پہ صرف اور صرف اس وجہ سے چھائے ہوئے ہیں کہ یہ سب آئیڈیاز امریکہ میں شروع ہوئے۔لہٰذا خوش قسمت امریکہ نہیں، خوش قسمت یہ سب ہیں۔

میرے عزیز ہم وطنو

پاکستان جب سے بنا ہے، ایک چیز تواتر سے ہر کچھ عرصے بعد ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے، اور وہ ہے میرے عزیز ہم وطنو۔ اس شروعات کے بعد کا جو متن ہے، وہ کم وبیش ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یعنی کہ ملک و ملت کو عظیم الشان خطرات لاحق ہو چکے تھے، نظریہ پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا تھا، کرپشن کا دور دورہ ہو چکا تھا۔ مختصر یہ کہ حالات اس نہج پہ پہنچا دیئے گئے تھے کہ اسلام کے اس قلعے کی حفاطت کے لئے مجھے مجبورا" میرے عزیز ہم وطنو کرنا پڑ گیا ہے۔ لہٰذا میرے عزیز وطنو! اب تم سب سے التماس ہے کہ مجھے دس بارہ سال کم از کم برداشت کرو اور اس سے اگلے دس بیس سال میرے اثرات و باقیات کو بھی برداشت کر لینا۔
مزید بدقسمتی یہ ہے کہ بھاڑے کے کالم نگاروں، دانشوروں اور ٹٹ پونجئے مفکروں کی مدد سے یہ پرچار بھی بہت سے ذہنوں میں یونیورسل ٹرتھ کی مانند منقش ہو چکا ہے کہ تمام سیاست دان ایک نمبر کے حرام خور ہیں، جبکہ فوجی حکمران اقتدار پہ قبضہ جمانے کے بعد ملک کو استحکام پخشتا ہے، معیشت کو پروان چڑھاتا ہے، کرپشن سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ یعنی کہ اگر اس ملک نے بچنا ہے تو ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد فوجی حکمران آ کر تطہیر کی رسم ادا کر دیا کریں۔
میری ذاتی رائے میں پاکستان جن تمام مسائل سے دوچار ہے، ان سب کے پیچھے یہی میرے عزیز ہم وطنو کارفرما ہے۔ فوجی حکمرانی کے دور میں سب اچھا دکھائی دے رہا ہوتا ہے، لیکن ان کے کرتوتوں کے اثرات مابعد ان کے جانے کے بعد ذرا واضح ہو کر سامنے آنا شروع ہوتے ہیں۔ بعد میں پتا چلتا ہے کہ کوئی اسلام کے نام پہ اس ملک کا بیڑا غرق کر گیا، اور کوئی طالبان کے نام پہ ملک کو جنگ میں دھکیل گیا۔ کسی نے کراچی میں ایم کیو ایم لا کھڑی کی، کسی نے بلوچستان میں آگ لگائی اور کسی نے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بنا دیا۔
جو لوگ سیاسی حکمرانوں کی کرپشن کو بہانہ بنا کر فوجی ٹیک اوور کی حمایت کرتے ہیں، ان سے صرف اتنا پوچھا جانا چاہئے کہ تین چار فوجی حکمرانوں کے دور میں کتنے سیاست دانوں یا کرپٹ بیوروکریٹوں کو سزا ہوئی۔ کتنوں سے لوٹ کا مال واپس چھینا گیا اور کتنوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے صرف ایک اہم شخصیت کو فوجی حکومت کے دور میں سزا ہوئی تھی اور وہ تھا ذوالفقار علی بھٹو۔ اور اس کو بھی کرپشن پہ نہیں، بلکہ فوجداری مقدمے میں سزا ہوئی تھی۔ نیز یہ کہ اس پھانسی کے ذیلی اثرات کو یہ ملک آج تک بھگت رہا ہے۔
گزشتہ پانچ چھ سال کی سیاست پہ نظر ڈالیں تو ایک مثبت پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ اب بڑی سیاسی قوتیں میرے عزیز ہم وطنو کے خلاف یکجا ہیں اور اعلانیہ یا غیراعلانیہ طور پہ یہ واضح کر چکی ہیں کہ مستقبل میں ایسے کسی میرے عزیز ہم وطنو کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ دیکھا جائے تو یہ ایک اہم ترین پیش رفت ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے جب بھی فوجی ٹیک اوور ہوا، تو اس کو جِلا بخشنے کے لئے بہت سے سیاسی لونڈے اکٹھے کر کے کبھی کنونشن مسلم لیگ بنائی گئی اور کبھی مسلم لیگ ق بنوائی گئی۔
لیکن آج تینوں بڑی جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن، پی پی پی اور تحریک انصاف کی قیادت اور کسی چیز پہ متفق ہو یا نہ ہو، لیکن اس بات پہ ضرور متفق ہے کہ اب کسی آمر کی حمایت کا سوچنا بھی نہیں۔ ان کے علاوہ دیگر چھوٹی جماعتوں میں بھی بالعموم یہی سوچ پائی جاتی ہے۔ سوائے لندن میں خودساختہ جلاوطن سیاسی مسخرے کے، اور شیخ رشید جیسے سیاسی ہیجڑوں کے۔
میری نظر میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اللہ کرے کہ پاکستان میں جمہوری اور سیاسی قوتیں مزید مضبوط ہوں۔ اور جو تماشے اس ملک نے گزشتہ پچاس پچپن سالوں میں دیکھ لئے ہیں، ان سے دوبارہ واسطہ نہ ہی پڑے۔ 

اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز از محمد حنیف

محمد حنیف کے انگریزی زبان میں لکھے گئے اس باکمال ناول نے دنیا بھر میں شہرت پائی۔ بلاشبہ یہ ایک بہت شاندار ناول ہے۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ پاکستانی مصنفین کے لکھے انگلش ناولز میں یہ ناول اور دی ریلکٹینٹ فنڈامینٹلسٹ (از محسن حامد) سب سے بہترین ناول ہیں تو کچھ ایسا غلط نہ ہو گا۔
ناول کا پلاٹ حقیقی کرداروں اور حقیقی سچویشن کو لے کے بنایا گیا ہے۔ بنیادی طور پہ یہ ضیاءالحق کے دور کے آخری چند ماہ کی کہانی بیان کرتا ہے۔ واقعات کی سیکوینسز میں کچھ اصل اور حقیقی ہیں تو کچھ افسانوی ہیں۔ جس کی وجہ سے ناول میں تھرل کی کمی کہیں بھی محسوس نہیں ہوتی۔ناول کا نام ضیاءالحق کے جہاز گرنے کی وجہ بننے والی آموں کی پیٹیوں کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ناول کی کہانی کا اختصاریہ کچھ یوں ہے کہ ضیاءالحق کے عروج کے دور میں دوسرے طاقتور ترین آدمی کے طور پہ جنرل اختر عبدالرحمٰن کو کسی پل چین نہیں آ رہا اور وہ دل ہی دل میں سلگ رہا ہے کہ کس طرح ضیاءالحق کی جگہ لی جا سکے۔ اسی چکر میں وہ ایک ایئرفورس آفیسر علی شگری کو ٹریپ کرتا ہے کہ وہ اپنے والد کا انتقام لینے کے لئے ضیا کا کام تمام کروائے۔ علی شگری کا باپ بھی ایئرفورس آفیسر تھا، جو افغان جنگ میں ضیا اور پاکستانی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر افغان آپریشن کا انتظام چلاتا رہا تھا اور خصوصا" ڈالر کھانے کھلانے میں اس کا بھی ایک اہم رول تھا، جس میں گڑبڑ کے شبے میں اس کے والد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ جنرل اختر صاحب علی شگری کو یقین دلاتے ہیں کہ اس کے والد کو مروانے میں تمام تر ہاتھ ضیاء الحق کا ہے۔اسی دوران جنرل ضیاء کو کچھ وجوہات کی بناء پر شک اور وہم ہو چکا ہوتا ہے کہ کوئی اس کو مروانا چاہتا ہے، جس وجہ سے وہ کئی ماہ تک اپنے گھر یعنی آرمی ہاؤس سے باہر نہیں نکلتا۔ تاہم امریکی ٹینک ابرام کے فائر شو کے مظاہرے کو دیکھنے کے لئے اس کو بہاولپور جانا ہی پڑتا ہے۔ اس میں ضیاء الحق چالاکی سے جنرل اختر کو بھی ساتھ ہی اپنے طیارے میں لے جاتا ہے، اور واپسی پہ بھی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جنرل اختر اس کے ساتھ ہی جہاز میں بیٹھے۔ جنرل اختر کو علم ہوتا ہے کہ واپسی کے جہاز میں کسی طرح کی سیبوٹیج کاروائی ہونی ہے، اسی چکر میں جہاز پہ سوار نہ ہونے کی بہت حیلہ بازی کرتا ہے، تاہم ضیاء اس کی ایک نہیں سنتا۔ اسی میں مصنف یہ بتاتا ہے کہ جہاز میں آموں کی پیٹییاں رکھوائی جاتی ہیں، جس میں ممکنہ طور پہ وائس چیف جنرل اسلم بیگ کی انوالومنٹ ہوتی ہے۔ اور انہی آموں کی پیٹیوں کی وجہ سے جہاز میں اعصابی گیس وغیرہ سے پائلٹ سمیت سب لوگ بے حس ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں جہاز آخر کار گر جاتا ہے۔جنرل اسلم بیگ پہلے ہی ضیاءالحق کو انکار کر چکا ہوتا ہے کہ میں اپنے الگ جہاز میں آیا ہوں اور اسی میں واپس جاؤں گا۔ وہ جہاز کے کریش کی سائٹ کو فضا سے دیکھتے ہوئے اسلام آباد پہنچنے کی جلدی کرتا ہے تا کہ جا کے فوج کی کمان سنبھال سکے۔
 مصنف نے ناول کے واقعات کو انتہائی شاندار طریقے سے بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی مرحلے پہ تھرل یا دلچسپی کی کمی واقع نہیں ہوتی۔ تاہم یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تمام واقعات حقیقی یا سچ نہیں ہیں۔ جیسے ناول میں یہ بتایا گیا ہے کہ ضیاء کا جہاز گرنے سے چند ماہ پہلے اس کے سیکورٹی انچارج بریگیڈیئر طارق محمود (ایس ایس جی والے) کا پیراشوٹ نہ کھلنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی گئی تا کہ ضیاء کے خلاف سازش میں ایسے موثر سیکورٹی چیف کا پتا صاف کیا جا سکے۔ جبکہ حقیقت میں بریگیڈیئر طارق محمود کی وفات ضیا کے حادثے کے اگلے سال میں ہوئی تھی۔
ناول میں مصنف ایک چیز کا کافی جگہوں پہ واقعات کی مدد سے تذکرہ کیا ہے کہ کیسے ضیاء نے اسلام کے نام کو اپنی حکومت چلانے کے لئے استعمال کیا، اور ہر جگہ اسلام اسلام کرنے والے جنرل ضیا کا اصل چہرہ کیا تھا۔ کچھ لوگوں کو اس سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ ذاتی طور پہ میں مصنف سے اس ضمن میں متفق ہوں۔
ناول کے ابتدا کی ایک چیز مجھے بہت شاندار اور پراثر لگی، جس میں مصنف دکھاتا ہے کہ اپنے دور کے اختتام کے قریب ایک دن (جو کہ ناول میں ضیاء الحق کا پہلا سین ہے) ضیاء الحق نے صبح قرآن پاک کی تلاوت کی، اس میں فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کا ترجمہ دیکھتا ہے تو اس میں لکھا ہوتا ہے کہ بلاشبہ میں غلط تھا یعنیi was indeed wrongضیاءالحق کو یاد ہوتا ہے کہ اس نے پہلے جو ترجمہ پڑھا تھا اس میں ترجمہ کچھ یوں تھاAnd I am one of those who oppressed their own souls   اس پہ ضیاء کو بے چینی لگتی ہے اور وہ آرمی ہاؤس کی مسجد میں جا کے دوسرے قران پاک کو بھی دیکھتا ہے تو اس میں بھی وہی ترجمہ پاتا ہے کہ بلاشبہ میں غلط تھا۔اس سے ضیاء کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی کہانی کا اختتام قریب ہے۔
اس ناول کے بارے میں حتمی کمنٹ یہی ہے کہ محمد حنیف نے باکمال ناول لکھا ہے اور پڑھنے کے لئے بالکل ریکمنڈڈ ہے، خصوصا" جن لوگوں کو ماضی قریب کے تاریخ، پاکستان کی سیاسی تاریخ وغیرہ سے بھی دلچسپی ہو تو وہ اس ناول کو ضرور انجوائے کریں گے۔     

Pages