مہتاب عزیز

شعیہ سُنی منافقرت کی وجوعات اور حل

شعیہ سُنی اختلاف تو 14 سو سال پرانا ہے۔ 14 صدیوں کے دوران کبھی یہ اختلاف دبا رہا اور کبھی ابھر کر سامنے آجاتا رہا ہے۔عرب اور ایران کی نسبت ہندوستان میں شعیہ سُنی منافقرت بہت کم رہی ہے۔ تاریخ کو کھنگالنے پر بھی چند ایک واقعات کے علاوہ کسی بڑے فساد کے شواہد نہیں ملتے ہیں۔اگرچہ ہندوستان میں محمد بن قاسم کی قائم کردہ سلطنت منصورہ کے بعد دوسری اسلامی مملکت جو ملتان میں قائم ہوئی وہ اسماعیلی شعیوں کی تھی۔ تیمور لنگ کے حملے کے بعد مختصر عرصے کہ لیے دہلی میں ایک شعیہ خاندان کی نیم خود مختار حکومت قائم ہوئی۔ اسی طرح شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد ہمایوں ایران فرار ہوا، اور انتہائی متعصب شعیہ حکمرانوں یعنی صفویوں کی مدد سے دوبارہ ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ہمایوں نے ایران نے باقاعدہ شعیہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ تاہم اس کا اثر مغلوں میں چند شعیہ رسومات کی صورت میں اورنگزیب سے پہلے تک باقی رہا۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں کی اکثریت سنی العقیدہ تھی اور ہمیشہ رہی ہے۔انگریزوں کا برصغیر پر قبضے کے دوران پہلے پہل جن نمایاں شخصیات  واسطہ پڑا وہ بھی شعیہ ہی تھے۔ پلاسی کی جنگ میں انگریزوں کا مقابلہ کرنے والا سراج الدولہ، اور معروف غدار میر جعفر دونوں شعیہ تھے۔ اسی طرح ٹیپو سلطان سے غداری کرنے والا میر صادق بھی شعیہ تھا۔ انگریزوں نے تقسیم کرو کی پالیسی کے مطابق سُنی اکثریت کے مقابلے میں ہمیشہ شعیہ اقلیت کو پروان چڑھایا۔ ایران سے جب آغا خان اول کو انگریزوں کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں جلاوطن کیا گیا۔ تو انہیں ہندوستان لا کر مسلمانوں کی قیادت کے منصب پر سرفراز کرایا گیا۔ جس وقت مسلمانان برصغیر خلافت عثمانیہ کے لیے تاریخ ساز تحریک چلا رہے تھے، عین اُسی وقت معروف شعیہ رہنماوں آغا خان اور سید امیر علی نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے باوجود عوام میں شعیہ سنی منافقرت جڑ نہیں پکڑ سکی۔ طوالت سے بچنے اور موضوع کو سمجھنے کے لیے  صرف یہی مثال کافی ہوگی  کہ برصغیر میں علمائے دیوبند کی دوسری بڑی جماعت "مجلس احرار" کے جنرل سیکریٹری ایک شعیہ 'مظہر علی اظہر' رہے ہیں ۔ اسی طرح  لکھنو کے ایک شعیہ عالم “تحریک مدح صحابہ" کے روح رواں ہوا کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی شعیہ سُنی منافقرت کی عمومی فضا بہتر رہی، خصوصا "ختم نبوت " کی پوری تحریک کے دوران شعیہ اور تمام سُنی مکاتیب فکر کے علما ایک ہی سٹیج پر موجود ہوا کرتے تھے۔
معاملات وہاں سے خراب ہونے شروع ہوئے، جب 1979 میں ایران میں آنے والے شعیہ انقلاب کو پاکستان جیسے غالب سُنی اکثریت کے ملک میں درامد کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایرانی انقلاب کے سال ہی پاکستان میں شعیہ عالم مفتی جعفر حسین کی صدارت میں ‘تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان’ کا قیام عمل میں آیا۔ بیسویں صدی کی آٹھویں دھائی کا نصف اول کچھ غالی شعیوں کی جانب سے مسلسل جہاریت اور ہٹ دھرمی کا گواہ ہے۔ اس دوران پاکستان کی پارلیمان کا گھیراو کیا گیا، عمارت کو آگ بھی لگائی گئی۔ زبردستی اپنے مطالبات منوائے گئے۔ اسی طرح کوئٹہ میں پہلا شعیہ سُنی فساد ہوا جس میں کئی سُنی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار مارے گئے۔ اسی دوران ‘بالائی کرم ایجنسی’ خصوصا پارہ چنار سے سُنیوں کا مکمل صفایا کر کے وہاں مضبوط شعیہ ہولڈ قائم کر لیا گیا۔ اسی دوران ایران اور پاکستان کے کئی غالی شعیوں نے صحابہ اور ازدواج مطہرات  کے متعلق دلآزار کتابیں تصنیف کیں، یا پھر ماضی میں لکھی گئی دلآزار کتابوں کے تراجم ہوئے اور اشاعت نو کی گئی۔ان واقعات کے بعد اہل سنت کی جانب سے رد عمل آنا ناگزیر تھا۔ چناچہ  انقلاب ایران اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قیام کے 6 سال بعد سپاہ صحابہ وجود میں آئی۔ جس نے پاکستان میں شعیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ غالی شعیوں کے جواب میں سُنی انتہا پسند موقف کی ترجمانی کی۔ لیکن یہ دوسری انتہا پر یوں چلے گئے کہ انہوں نے "کافر کافر شعیہ کافر" کا نعرہ لگا کر تمام شعیوں کو ترازوں کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں پائے جانے والے شعیوں میں غالی شعیہ بہت کم تھے۔ یہاں ہمیشہ سے زیادہ تعداد تفصیلی شعیوں کی رہی ہے۔ جبکہ زیدی شعیہ بھی خاصی تعداد میں موجود رہے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور غالی شعیوں کی زبانی وتحریری تکرار جلد ہی مسلح تصادم میں بدل گئی۔ پھر اس میں ایرانی اور سعودی پراکسی وار بھی شامل ہوگئی۔ ایک دوسرے پر حملے، مساجد ، امام باڑوں میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی ہے۔اس سے فائدہ جہاریت پسند غالی شعیہ طاقتوں نے اٹھایا، جنہوں نے خوف اور مظلومیت کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ کسی شعیہ کے لیے معتدل موقف پر برقرار رہنا ناممکن بنا دیا گیا۔ اس لیے آج پاکستان میں اہل تشیع مذہب کے تمام انڈے غالی شعیوں کی ٹوکری میں ہیں۔اس سے ملتی جلتی صورتحال نسبتا کم شدت سے سُنیوں کو بھی درپیش ہے، یہاں بھی کسی شعیہ کے حق میں بات کرنا یا شعیوں کے کسی جزوی موقف کو تاریخ طور پر درست قرار دینا، رافضیت کا الزام خود پر لینے کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں بدترین کردار ہماری اسٹیبلشمنٹ کا رہا ہے، جسں نے ایرانی انقلاب کی پاکستان میں درامد اور فروغ کو روکنے کے لیے جذباتی سُنیوں کو استعمال کیا۔ اور پھر انتہا پسند سُنیوں کی گوشمالی کے لیے شعیوں کو استعمال کرتی رہی ہے۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جانب واضع جھکاو کی پالیسی کو ترک کر کے ریاست دونوں طرف کے انتہا پسندوں کے خلاف برابری کی سطح پر غیر جانبدارآپریشن کرے۔ تاکہ ہمارا معاشرہ دونوں جانب کے مٹھی بھر انتہا پسندوں کے نرغے سے آزاد ہو سکے۔

کیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور پر ہونے والا حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا؟؟


بی بی سی کے معروف صحافی آصف جیلانی 1965 میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار تھے۔ آصف جیلانی نے بی بی سی اردو پر تحریر کی گئیں 1965 کی جنگ سے متعلق یاداشتوں میں بتایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑی جنگ کے بادل اگست 1965 کے پہلے ہفتہ سے ہی چھانے شروع ہو گئے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جب مقبوضہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے چھاپہ مار کارروائی اپنے عروج پر تھی۔ حکومت پاکستان کا سرکاری بیان تھا کہ یہ کشمیری ’حریت پسندوں‘ کی کارروائی ہے۔ لیکن ہندوستان کی حکومت کا واضع اصرار تھا کے یہ چھاپہ مار پاکستان کے فوجی ہیں جو جنگ بندی لائین پار کر کے ہندوستان
کی حدود میں عسکری کاروائیاں کر رہے ہیں۔
16 اگست 1965 کو ہندو قوم پرست جماعت جن سنگھ نے کی کال پر دلی میں عام ہڑتال ہوئی اور اسی روز ایک لاکھ سے زیادہ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے سامنے تک جلوس نکالا۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کشمیر میں مبینہ دراندازوں کے
حملے روکنے کے لیے پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
آصف جیلانی بتاتے ہیں 20 اگست 1965 کو بھارتی جریدے ’تھاٹ‘ کے نایب مدیر این مکرجی نے مجھے بتایا کہ انہیں بے حد باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صبح کابینہ کے اجلاس میں ہندوستا ن کی بری فوج کے سربراہ جنرل جے این چودھری نے شرکت کی تھی اور خبر دار کیا تھا کہ رن آف کچھ کے معرکہ میں شکست کے بعد ہندوستانی فوج کے حوصلے بہت پست ہیں اور فوج کے حوصلے بڑھانے کے لیے پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی لازمی ہے۔ مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل چودھری نے صاف صاف الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ملک کی سیاسی قیادت کے لیے
اس کے نتایج خطرناک ہوں گے جس کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
24 اگست 1965 کو اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ (مقبوضہ) کشمیر میں پاکستان کے در اندازوں کو روکنے کے لیے ہندوستانی فوج جنگ بندی لائین کے پار کارروائی سے دریغ نہیں کرے
گی۔
دلی میں جنگ کے کے بادل اتنے واضع تھے کہ 17 اگست کو پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے نامہ نگار خلیل بٹالوی جو دلی کے پٹودی ہاوس میں اپنی فیملی کے ہمرا رہائس پذیر تھے۔ جنگی حالات کے پیش نظر پٹودی ہاوس چھوڑ کر چانکیہ پوری میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی عمارت میں پناہ لے لی تھی۔
یکم ستمبر 1965 کو ریڈیو پاکستان لاہور پر اعلان ہوا کہ ’آزاد کشمیر‘ کی فوجوں
نے پاکستانی فوج کی مدد سے چھمب پر قبضہ کر لیا ہے۔
تین ستمبر 1965 کو جب لال بہادر شاستری نے اپنی نشری تقریر میں دلی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں بلیک آوٹ کا اعلان کیا تو کسی کو شبہ نہیں رہا تھا
کہ دونوں ملکوں میں جنگ کا بگل بج گیا ہے۔
پانچ ستمبر کو یہ خبر آئی کہ پاکستانی فوج نے جوڑیاں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اور وہ
اکھنور سے صرف چھ میل دور رہ گئی ہے۔
آصف جیلانی مزید یہ بھی بتاتے ہیں کہ 1965 ستمبر کی جنگ کے بعد بھارت میں پاکستان کے سفیر میاں ارشد حسین نے مجھے بتایا تھا کہ ہمیں اطلاع ملی تھی ٰٓکہ لال بہادر شاستری نے 3 جولائی کو انتقامی حملہ کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا تھا۔ 6 سمتبر کو لاہور پر حملے کی باوثوق ذرائع سے اطلاع ہمیں تاخیر سے ملی تھی، اس کے باوجود 4 ستمبر کو دلی میں ترکی کے سفارت خانہ کے توسط سے پاکستان کے دفتر خارجہ کو خبردار کردیا تھا کہ ہندوستان 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کرنے والا
ہے۔
اس سب کے باوجود لاہور پر بھارتی فوج کے حملے کو ہم سرکاری طور پر بزدل دشمن کی چوری چھپے کاروائی قرار دیتے ہیں۔

کیا برما اکسیویں صدی کا اندلس بننے جا رہا ہے؟

روہنگیا یا روہنجیا مسلمان آج دنیا کے مظلوم ترین انسان ہیں، اقوام متحدہ بھی انہیں بجا طور پر سب سے زیادہ ستائی جانے والی اقلیت قرار دیتا ہے۔
برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے، تاریخی طور پر برصغیر کا حصہ رہا ہے، مختلف ادوار میں اس کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس پر مختلف سلطنتیں قائم ہوتی رہی ہیں۔ برصغیر کے دیگر خطوں پر قبضے کے ساتھ ہی برما پر بھی انگریزوں نے قبضہ کر لیا، موجودہ میانمار کے علاقوں پر انگریزوں کے قبضے کی ابتدا 1826 میں ہوئی جب  'اراکان' اور' تناسرم' کا علاقہ  برٹش انڈیا کے زیر قبضہ آیا، برمن وار 1852 میں وسطی برما جبکہ تیسری اینگلو برمن وار 1885 میں بالائی خطے پر قبضے کے ساتھ ہی تمام برما پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا۔
روہنگیا کا آبائی وطن اراکان بنگال سے متصل ہے، یہاں خلیفہ ہارون رشید کے عہدِ میں مسلم تاجروں کے ذریعہ اسلام پہنچا۔ 1430 میں 'سلیمان شاہ' کے ہاتھوں یہاں پہلی اسلامی حکومت تشکیل پائی، اس خطے پر ساڑھے تین سا سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔ 1784 میں برما کے بدھسٹ راجہ بودھوپیہ نے اراکان پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا. جس کے خلاف مسلمانوں کی مزاحمت اور بدھ سپاہیوں کے مظالم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حالات کی خرابی کا فائدہ انگریزوں نے اٹھایا اور ابتدا میں اراکان اور پھر پورے برما پر قبضہ کر لیا، برما پر قبضہ کرنے والی برطانوی فوج کے سپاہیوں کی اکثریت بنگالی مسلمانوں کی تھی۔ جبکہ اراکان کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کو نجاعت دھندہ سمجھ کر اُن کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں برما کے مسلمانوں کی حالت بہتر رہی، سرکاری ملازمتوں اور کاروبار میں مسلمان نمایاں تھے۔ برصغیر میں مسلمانوں کے تمام رفاعی اداروں اور انجمنوں کو سب سے زیادہ چندہ برما کے دارلحکومت رنگون سے ملا کرتا تھا۔
انگریزوں نے اپنی انتظامی تقسیم کے تحت بنگال اور برما کی حد چٹاگانگ اور اراکان کے درمیان واقعہ دریائے ناف کو بنایا، یوں تاریخ میں پہلی بار یہ خطہ ایک انتظامی یونٹ کے تحت آگیا۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ کے علاوہ یہ برصغیر کا واحد حصہ تھا جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت تھی۔ اس الگ انتظامی یونٹ میں اراکان کے علاقے کو ایک نیم خود مختار ریاست کا درجہ حاصل تھا، جس کے تمام انتظامی معاملات مقامی حکومت کے ماتحت تھے۔
روس میں سویت انقلاب، چین میں اشتراکی شورش اور جاپان کی جرمنی اور اٹلی سے قربت وہ خاص حالات تھے، جنہوں نے انگریزوں کو انیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے بعد سے تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ان حالات میں برصغیر (ہندوستان) میں بڑھتی ہوئی سیاسی آگاہی اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 1938 میں انگریزوں نے برما کو ہندوستان سے جدا کر کے ایک الگ کالونی کا سٹیٹس دے دیا۔ کیوں کہ برما کی سرحد چین، لاؤس اور تھائی لینڈ سے ملتی ہے۔ جہاں بیک وقت اشتراکی اثرات اور جاپان کی جہاریت کے خدشات لاحق تھے۔ (یہ خدشات دوسری جنگ عظیم میں برما پر جاپانی حملے، اور چین میں اشتراکی حکومت کے قیام کی صورت میں سچ بھی ثابت ہو گئے تھے۔)
یاد رہے برما کی ہندوستان سے علیحدگی کو جواز بنا کر ہی آل انڈیا مسلم لیگ نے 1940 میں ہندوستان کے مسلم اکثریتی خطے پر مشتمل'برما طرز کی' الگ  ڈومین تشکیل دیے جانے کی قرارداد پاس کی تھی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب استعماری طاقتوں کو اپنی 'کالونیوں' پر براہ راست قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تو برطانیہ نے جہاں برصغیر کو پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کر کے اگست 1947 میں آزادی دی، وہیں برما کو جنوری 1948 میں ایک ملک کی حیثیت سے آزاد کر دیا۔ اس سے قبل اراکان کے مسلمانوں کی جانب سے  1945میں برما مسلم کانگریس (BMC) کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنا کر اراکان کی برما سے اعلیحدگی یا پھر اس مسلم اکثریتی خطے کو برما کے بجائے مسلم اکثریتی مشرقی پاکستان میں ضم کرنے کی تحریک شروع کی تھی۔ لیکن نہ تو انگریزوں نے اس پر کان دھرا نہ ہی پاکستان کی نوزائیدہ مملکت نے اس حوالے سے کوئی سرگرمی دیکھائی۔ آزادی کے بعد 1950 سے اراکان کے مسلمان تاریخی پس منظر کے حوالے سے اپنے خطے کی برما سے اعلیحدگی کی کوشش کرتے رہے۔ جس کی وجہ سے کبھی حالات زیادہ کشیدہ ہو جاتے اور کبھی کشیدگی میں کمی بھی ہوتی۔ اس سلسلے میں بڑی تبدیلی 1962 میں آئی جب برما میں جنرل 'نی ون' نے "برمی قومیت" کا نعرہ لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کیا۔ اس کے فوری بعد مارشل لاء آڈر کے تحت برمی فوج اور سرکاری ملازمتوں سے مسلمانوں کو غدار قرار دے کر نکال دیا گیا۔ اراکان پر فوج کشی کی گئی اور بڑے پیمانے پر مظالم ڈھائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ 5 لاکھ سے زیادہ اراکانی مسلمانوں نے اس دور میں ہجرت کی، جو بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان، سعودیہ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں آباد ہو گئے۔

 1982میں ایک مارشل لا کے ایک ضابظے کے تحت اراکان کے مسلمانوں کو غیر ملکی مہاجر قرار دے کر حق شہریت سے بھی محروم کردیا گیا۔ یوں یہ اپنے ہی آبائی وطن میں غیر ملکی قرار پائے، نئے قانون کے مطابق ان کی لڑکیوں کی شادی کے لیے 25 سال اورلڑکوں کی شادی کے لیے کم ازکم 30 سال عمر مقرر کی گئی، شادی  کے لیے بھی سرحدی سیکوریٹی فورسیز سے اجازت نامہ کا حصول ناگزیر قراردیا گیا، تاکہ ان کی آبادی کی شرح میں اضافہ نہ ہوسکے۔ اراکانی مسلمانوں پر سرکاری سکولوں میں پڑھنے، کاروبار کے لیے لائسنز حاصل کرنے یا ملازمت کرنے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ ان پر ملک کے اندر سفر کرنے کے لیے بھی پرمٹ کے حصول کی پابندی لگائی گئی۔ تاکہ یہ اپنے حقوق سے آگاہ نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت کے قابل رہیں۔ اراکان کا نام تبدیل کر کے 'رکھائین' رکھ دیا گیا تاکہ مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی سے کاٹا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی حکمران فوجی جنتا نے بدھسٹوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے بدھ مت کے مذہبی پیشواوں یعنی مانکوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔ تاکہ عوام کی توجہ فوجی جنتا کی بدعمالیوں سے ہٹی رہے۔ نتیجے میں مسلمان ایک جانب برمی فوج اور دوسری جانب بدھ مذہب کے پروکاروں کے مظالم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس دوران مسلمانوں کو  کئی فسادات کا نشانہ بنایا گیا۔ جن میں 1997کے منڈلالی کے فسادات، 2001 میں ٹنگائو کے فسادات، 2012 ء میں راکھینی  فسادات، 2013ء میں پورے میانمر میں مسلم کش فسادات، 2014ء میں ایک بار پھر منڈلالی فسادات، 2016ء میں مساجدوں کا جلائو اور رہنگیا کے فسادات اور اب 2017ء میں روہنگیا میں ہونے والے مسلم کش فسادات شامل ہیں۔
 2011 میں 1962 سے جاری طویل مارشل لا کا خاتمہ ہو گیا، لیکن جمہوریت کی بحالی سے مسلمانوں کی حالت  میں کوئی فرق نہیں پڑ سکا ہے۔ امن کا نوبل انعام پانے والی برما کی وزیر اعظم 'آنک سان سوچی' بدھ مانکوں کے خوف سے مسلمانوں کی بدترین نسل کشی پر لب کھولنے کی ہمت کے قابل بھی نہیں۔  آج صورتحال یہ ہے، ایک لاکھ دس ہزار برمی مسلمان مہاجرین برما۔تھائی لینڈ سرحد پر 9 کیمپوں میں بد حالی کی زندگی گزار رہے ہیں، کئی لاکھ بنگلادیش اور ہندوستان کے کیمپوں میں انتہائی بے بسی کا شکار ہیں۔ جبکہ ان کے آبائی وطن اراکان میں بچے مسلمانوں کے بارے میں انسانی حقوق کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کا گینگ ریپ، عورتوں بچوں اور مردوں کا قتل، مساجد، سکول اور گھروں کو جلانے کی کاروائیاں  فوج خود کر رہی ہے، یا  فوج کی سر پرستی میں یہ عمل جاری ہے۔ فوج اور بدھ دہشت گردوں نے صرف 2 ستمبر 2017 کو 2600 سے زیادہ گھر جلائے ہیں۔ لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے محققوں نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار حکومت کے زیرِ سر پرستی، روہنگیا کی باضابطہ نسل کشی اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

بدھ مانک کھلے عام اعلان کر رہےہیں کہ ہم برما سے مسلمانوں کو اُسی طرح مٹا کر دم لیں گے جس طرح انہیں سپین سے مٹایا گیا تھا۔واقعات بتا رہے ہیں کہ  اس دعوے کو حقیقت بننے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔       

پاکستان کی تاریخ کے ایک منفرد کردار جنرل حمید گُل

حمید گُل صاحب جنرل ضیاٗ الحق کے باعتماد اور قریبی ساتھی اور اُن کی سوچ کے آخری نمایاں فوجی آفیسر تھے۔ انہوں نے 1956 میں فوج میں شمولیت اختیار اور 1992 میں سبکدوش ہوئے۔ اس طویل فوجی سروس میں وہ 1987 سے 1989 کے دوران 2 سال کیلئے آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ لیکن وہ ہمیشہ خود کو سابق سربراہ آئی ایس آئی کہلانا پسند کرتے تھے۔ حمید گل صاحب مارچ 1987 جنرل اختر عبد الرحمان کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی کے بعد آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے تھے۔ یہ عین وہی وقت تھا جب سوویت یونین نے افغانستان سے انخلا کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جنرل صاحب کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے چند دن بعد ہی افغان مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنے والا اوجھڑی کیمپ پراسرار طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں غیر سرکاری اندازے کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد کے 5 ہزار معصوم لوگ لقمہ اجل بنے تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی قربانی 248 سٹنگر میزائلوں کو ملک کے بہترین مفاد میں محفوظ کرنے کے لئے پیش کی گئی تھی۔ سویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے فوری بعد امریکہ اور اس کے زیر اثر مغربی و عرب حکومتوں کی توجہ سویت یونین کی شکست سے مسقبل میں جہادیوں کی طرف سے ممکنا خطرات کی طرف منتقل ہوئی۔ جرنل حمید گل صاحب نے تجربہ کار جہادیوں کو ’’ تلف‘‘ کرنے کی بہترین حکمت عملی تیار کی۔ پہلے مرحلے پر اپنی تمام تر عسکری مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے آپریشن جلال آباد کی منصوبہ بندی کی۔ جس کے دوران 4 ہزار تجربہ کار مجاہدین شہید ہوئے لیکن جلال آباد فتح نہ ہو سکا۔ پھر ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی کہ چند ماہ میں ختم ہوتی نظر آنے والی کابل انتظامیہ کئی سال تک چلتی رہی۔ پھر جب کابل انتظامیہ ختم ہوئی تو بھی اقتدار جہادیوں کے ہاتھ نہیں آسکا۔ انہیں جنرل صاحب کے دور میں عرب مجاہدین کے قائد عبد اللہ عزام کو پشاور شہر میں ایک بم حملے میں شہید کر دیا گیا۔ افغان مہاجرین کے شمشتو اور جلوزئی کیمپوں پر عسکری کاروائیاں کر کے غیر افغان خصوصا عرب مجاہدین کو گرفتار کر کے عرب حکومتوں کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستانی مجاہدین کو "تلف" کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں جہاد شروع کرنے کی منصوبہ بندی کا سہرا بھی جرنل صاحب کے سر سجتا ہے۔ حمید گل صاحب کو جب 1989 میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر ملتان بنایا گیا تو وہ خاصے ناراض ہوئے۔ پھر جب 1991 میں انہیں ڈائریکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نامزد کیا گیا تو انہوں نے اسے اپنی توہین قرار دے کر ریٹائر منٹ اختیار کر لی۔ جرنل صاحب کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی وجہ امریکہ کا دباؤ ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس کے بعد امریکہ کو دنیا بھر کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ 
جہادیوں کو "تلف" کرنے کے علاوہ انکا دوسرا کارنامہ "پولٹیکل انجینیئرنگ" ہے۔ انہوں نے پاکستان کی پرائم انٹیلیجنسی کے ذریعے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، حکومت کی برطرفی و تشکیل اور سیاستدانوں کو اوپر اٹھانے اور گرانے کا ایسا کامیاب نظام وضع کیا، جو آج تک پوری کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔ جرنل ریٹائر حمید گل صاحب اپنی بات پورے اعتماد سے کیا کرتے تھے، لیکن 2001 کے بعد میں نے کئی بار اُن سے پرائیوٹ جہاد کے بارے میں سوال کیا تو وہ جواب دیتے ہوئے خاصے کنفیوژ دیکھائی دیے۔ اُن کی رائے کا لُب لُباب یہ تھا کہ پرائیوٹ جہاد میں کوئی ہرج نہیں اگر وہ مکمل طور پر سرکاری کنٹرول میں رہے تو۔ 
جرنل صاحب اُس خاص زہنیت کا ایک شہکار تھے جس کے خیال میں اسلام کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، البتہ اگر کہیں اسلام اور ملکی مفاد میں ٹکراو پیدا ہو جائے تو پھر ترجیع ملکی مفاد کو دی جانی ضروری ہے۔ 
اللہ اُن کی خطاوں سے درگزر اور اُن کی مغفرت فرمائے۔ آمین

یوم آزادی اور حقیقی آزادی کی منزل کا حصول

حقیقی آزادی سے محرومی صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ تیسری دنیا (Third World) کے تمام ہی ممالک حقیقی آزادی سے کوسوں دور ہیں۔ ہم اس وقت ’مابعد استعماری دور‘ (Post Colonial Era) میں زندہ ہیں۔ یہ دور افریقہ اور ایشیا کے پورے سابق نو آبادیاتی خطے پر یکساں مسلط ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپی قابضین کے لیے اپنی کالونیوں پر براہ راست قبضہ برقرار رکھنا مہنگا ہوگیا تو انہوں متبادل انتظام کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ متبادل انتظام دو مختلف سطعوں پر مشتعمل ہے۔ اول استعماری طاقتوں نے یہاں ایک اشرافیہ (Elite Class) تخلیق کی، جس کے مفادات اپنے ملک سے زیادہ استعماری طاقتوں (Colonialist) sy سے وابسطہ ہیں۔ یہ اشرافیہ سول و ملٹری نوکرشاہی، سیاستدانوں اور بڑے کاروباریوں پر مشتعمل ہے۔ (اس اشرافیہ کی تخلیق کس طرح کی گئی اور اس کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا ہے، یہ ایک الگ اور تفصیل طلب موضوع ہے، جس پر پھر کبھی گفتگو کی جائے گی) بادی النظر میں اشرافیہ کی پہچان یہ ہے کہ ان کے بچے استعماری ممالک میں پڑھتے ہیں، ان کے کاروبار، جائیداد اور بنک اکاونٹ انہی ممالک میں ہوتے ہیں، یہ اپنے علاج کے لیے بھی استعماری ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ بلواسطہ حکمرانی کی دوسری سطع بین القوامی تنظیمیں ہیں۔ جیسے اقوام متحدہ، ولڈ بینک، آئی ایم ایف، ولڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، وغیرہ، نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا۔ یہ تمام تنظیمیں اور ادارے مل کر ترقی پزیر ممالک کو اپنے جال میں جھکڑے رکھتے ہیں۔ ان کا اولین مقصد ان ممالک کے عوام کا خون نچوڑنا اور استعماریوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ ان تنظیموں اور اداروں کا ثانوی مقصد ہے کہ اگر کسی ملک کی اشرافیہ کا کوئی طبقہ استعماری مفادات سے روح گردانی کرنا شروع کر دے۔ یا پھر کسی ملک کے اقتدار پر اشرافیہ کے بجائے عوام کے حقیقی نمائندے پہنچ جائیں، تو انہیں روکا جائے۔ایسی صورت میں یہ تنظیمیں کُھل کر حرکت میں آتی ہیں، پہلے مرحلے اُس ملک کو ولڈ بینک، آئی ایم ایف وٖغیرہ اقتصادی طور پر دیوالیہ کرتے ہیں۔ تاکہ عوام کو روٹی کے لالے پڑھ جائیں اور وہ حکومت سے بدظن ہوں۔ پھر انسانی حقوق کی تنظیمیں اُس ملک کے خلاف الزامات کا طوفان برپا کرتی ہیں، اور میڈیا رائے عامہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ دو مختلف انداز میں طے پاتا ہے، حالات کے مطابق یا تو مقامی اشرافیہ کی مدد سے تخہ الٹ دیا جاتا ہے۔ یا پھر اقوام متحدہ باقاعدہ فوجی کاروائی کی اجازت دیتی ہے اور پھر استعماری ممالک کی فوجیں چڑ دوڑتیں ہیں۔ یہاں تک کہ اقتدار پھر استعماری طاقتوں کی وفادار اور تابع فرمان اشرافیہ کے ہاتھ آ جائے۔ مصنوعی طور پر حالات خراب کر کے اقتدار دوبارہ مقامی اشرافیہ کے حوالے کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں، جن میں سے ایران میں ڈاکٹر مصدق اور مصر میں اخوان کی حکومت کے خلاف ہونے والے آپریشن ہمارے ہاں معروف ہیں۔ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنگی کاروائیوں کی مثالیں، افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ، عراق میں صدام اور لیبیا میں قذافی کی حکومتوں کا خاتمہ ہمارے سامنے ہے۔ استعماری طاقتوں کی اس نئی غلامی سے آزادی کا خواب تک پورا ہونا ممکن نہیں، جب تک اس غلامی کی آگاہی عوام کو نہیں ہو جاتی اور اُن میں اس غلامی سے آزادی کے لیے بھی وہی جذبہ بیدار نہیں ہوجاتا جو استعماری طاقتوی کی براہ راست غلامی کے خلاف بیدار ہوا تھا۔ اس پورے نظام سے مکمل آگاہی کے بغیر اس سے نجاعت کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہیں۔ یہی وجہ ہے آج تک کہیں بھی معمولی سی کامیابی بھی نصیب نہیں ہو سکی ہے۔

ایرانی انقلاب: پس منظر اور احوال کا ایک جائزہ


ایرانی انقلاب کو سمجھنے کے لئے پہلے ایران کی طویل تاریخ پر ایک مختصر نظر ڈال لیتے ہیں۔ پارتھی سلطنت 
ایران کا قدیم نام فارس تھا، یہ دنیا کی قدیم ترین سلطنتوں میں سے ایک ہے، تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کا جغرافیہ اور حدود اربعہ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ تاریخ کی کتابوں اس خطے پر قدیم ترین "پارتھی سلطنت کا ذکر ملتا ہے۔ اس سلطنت کا آغاز 249 قبل مسیح سے ہوا، اور یہ 228 عیسوی تک کسی نا کسی صورت میں موجود رہی۔ اس سلطنت کی خاص بات یہ ہے کہ اسی کے دور اقتدار میں" زرتشت" نے "پارسی مذہب" ایجاد کیا، اور پھر جلد ہی یہ ایران کا اکثریتی اور سرکاری مذہب بن گیا۔ دوسری خصوصیت فارسی زبان کا ارتقاء اور رواج ہے۔ ماہر لسانیات متفق ہیں کہ اس دور میں "کتابی پہلوی" زبان رائج ہو چکی تھی جو قدیم اور جدید کے درمیان کی وسط فارسی زبان سمجھی جاتی ہے۔ 
ساسانی سلطنت
دوسری فارسی اور سب سے اہم ، ساسانی سلطنت ہے، جس کے بانی ارد شیر اول نے پارتھیا کے آخری بادشاہ 'ارتبانوس چہارم' کو شکست دے کر سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ساسانی سلطنت اپنے دورِ عروج میں موجودہ ایران، عراق، آرمینیا، افغانستان، ترکی اور شام کے مشرقی حصوں، پاکستان، قفقاز، وسط ایشیا اور بہت سے عرب علاقوں پر محیط تھی۔ خسرو پرویز کے دور میں مصر، اردن، فلسطین اور لبنان بھی فتح کر لیے گئے تھے۔یہ اپنے وقت کی سب سے بڑی سپر پاور تھی۔ ایک وقت میں اس کی فوجوں نے مدمخالف سپرپاور بزنطینی سلطنت کے پایہ تخت قسطنطنیہ کی فیصلوں کے نیچے بھی ڈھیرے ڈالے رکھے ہیں۔ پارسی مذہب اس سلطنت کا سرکاری مذہب تھا۔ آج بھی فارسی زبان کی کہاوتوں اور کلاسیکی لٹریچر میں اسی سلطنت کی عظمت کا پرچار اور اس پر فخر و مباہات کا اظہار ملتا ہے۔ آخری ساسانی شہنشاہ "یزد گرد سوم" تھا جو دین اسلام کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے میں ناکام رہا، قادسیہ ۱ور نہاوندکی فیصلہ کن جنگوں نے ساسانیوں کی قسمت کا فیصلہ سُنا دیا تھا۔ "یزدگرد" بلخ کی طرف فرار ہواتا کہ شہنشاہ چین سے امداد لے سکے، وہ 651 عیسوی میں مرو کے قریب مارا گیا۔ یوں ساسانی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ یوں ایران اسلامی مملکت کا ایک حصہ بن گیا۔ 
ایران خلافت کے دور میں
خلافت راشدہ کے بعد ایران خلافت بنو امیہ اور پھر خلافت عباسیہ کا حصہ بنا۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید کے مقرر کردہ خراسان کے مستقل والی طاہر ابن حسین نے پہلی بار 821 عیسوی میں مرکز سے اعلیحدگی اختیار کی۔ اس کی حکومت میں موجودہ ایران، افغانستان،تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے علاقے شامل تھے۔ دار الحکومت نیشا پور تھا۔ اس کے بعد ایران کے مختلف علاقے مختلف مقامی حکومتوں کے زیر قبضہ آتے رہے، کبھی وسط ایشا کے حکمران قابض ہو جاتے، کبھی افغانیوں نے عروج حاصل کیا، تو کبھی ترک قبضہ جما لیتے۔ مختلف ادوار میں سلطنتیں اس علاقے پر قابض ہوئیں، اُن میں دولت سامانیہ، آل بویہ، سلطنت غزنویہ، سلجوقی سلطنت، ایل خانی منگول، آل مظفر ، آل جلائر شامل ہیں۔ 
تیموری عہد 
ایرانی تاریخ کا اگلا دور تیموری سلطنت کے فتح ایران سے شروع ہوتا ہے۔ وسط ایشیا کے امیر تیمور نے 1392ء میں ایک نئی جنگی مہم کا آغاز کیا تھا جو "یورش پنج سالہ" کہلاتی ہے۔ اس مہم کے دوران اس نے ہمدان، اصفہان اور شیراز فتح کیا۔آل مظفر کی حکومت کا خاتمہ کیا اور بغداد اور عراق سے آل ِجلائر کو بے دخل کیا۔ اس طرح وہ پورے ایران اور عراق پر قابض ہوگیا۔ تیمور ایران پر قابض ہونے والا پہلا طاقتور شعیہ حکمران تھا۔ امیر تیمور نے عثمانی حکمران بایزید پر عین اُس وقت حملہ کیا جب اُس نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا، نوبت یہاں تک آن پہنچی کا بازنطینی حکمران شہر چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔ 
صفوی عہد 
بایزید پر فتح پانے کے نظرانے کے طور" صفوی حکمرانوں کے جد اعلیٰ" اور معروف صوفی "خواجہ علی" کو آذربائیجان کے شہر اردبیل اور اس کے نواح کا علاقہ دے دیا تھا۔ خواجہ علی کے پوتے شیخ جنید اور پڑپوتے شیخ حیدر نے مسند کی گدی چھوڑ کر اقتدار کے تخت کی جدوجہد شروع کی ۔ لیکن وہ اس جدوجہد کے دوران ہی مارے گئے اور صفوی سلطنت کا باقاعدہ آغاز اسماعیل صفوی کے ہات عمل میں آیا۔ 1503ء تک اسماعیل شیراز اور یزد ، استرایار تک اور مغرب میں بغداد اور موصل تک اپنی سلطنت کی حدوں کو بڑھالیا تھا۔ 1510ء میں مرو کے قریب شیبانی خان ازبک کی شکست کے بعد خراسان بھی اسماعیل کے قبضے میں آگیا۔یوں وہ ایران، عراق اور شیروان کا بلا شرکت غیرے حکمران بن گیا۔ اسماعیل صفوی سے ایران کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے جسے ایران کا شیعی دور کہا جاتا ہے۔اس سے قبل ایران میں اکثریت سنی حکمران خاندانوں کی رہی تھی اور سرکاری مذہب بھی اہل سنت کا تھا ۔ شاہ اسماعیل نے تبریز پر قبضہ کرنے کے بعد شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا اور اصحاب رسول پر تبرا کرنا شروع کر ا دیا۔یاد رہے کہ اس وقت تبریز کی دو تہائی آبادی سنی تھی اور شیعہ اقلیت میں تھے۔ شاہ اسماعیل صفوی نے صرف یہی نہیں کیا کہ شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا بلکہ اس نے شیعیت کو پھیلانے میں تشدد اور بدترین تعصب کا بھی ثبوت دیا۔ لوگوں کو شیعیت قبول کرنے پرمجبور کیا گیا، بکثرت علماء قتل کردیئے گئے جس کی وجہ سے ہزار ہا لوگوں نے ایران چھوڑدیا۔ یوں ایران سنی اکثریت سے شعیہ اکثریت کا ملک بن گیا۔ (صفویوں کی حکمرانی ایران کے علاوہ آزربائیجان پر بھی تھی، وہاں بھی زبردستی لوگوں کو شعیہ مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ آج بھی ایران اور آزربائیجان دو ہی شعیہ اکثریت کے ملک ہیں)
صفویوں کے خلاف بغاوتصفوی سلطنت 1736 ء تک کسی نہ کسی شکل میں قائم رہی ۔ آخری طاقتور صفوی حکمران شاہ حسنین کی جانب سے اہلسنت کے خلاف حد سے زیادہ مظالم کا رد عمل سامنے آیا، افغانوں نے بغاوت کر دی۔ قندھار کے افغانوں نے غلزئی قبیلے کے سردار "حاجی میر وایس خان ہوتک" کی قیادت میں آزادی کا اعلان کر دیا۔ حاجی میر وایس خان کی وفات کے بعد اُس کے جانشیں امیر محمود نے افغانستان سے نکل کر ایران پر حملہ کیا اور اصفہان پر قبضہ کرکے صفوی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔
جلد ہی ایران کے صوبے خراسان کے "نادر شاہ افشار" (جسے بعض مقامات پر نادر قلی بیگ بھی لکھا گیا ہے) نے صفویوی کی طرف سے افغانوں سے جنگ شروع کی۔ "مہن دوست" کے مقام پر 1729ء میں اس نے افغانوں کو شکست دے کر اصفہان اور پھر شیراز پر قبضہ کر لیا
پھر جلد ہی افغانوں کو ایران سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔نادر شاہ کا عہد 
نادر شاہ نے پہلے کچھ عرصہ کے لئے صفوی سلطنت کے احیاء کا اعلان کیا اور ایک کٹ پُتلی صفوی حکمران بھی مقرر کیا۔ لیکن پھر اپنے ہی مقرر کردہ صفوی حکمران عباس سوم کو معزول کرکے 1736ء میں نادر شاہ نے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ جس سے قاچار سلطنت کا آغاز ہوا۔ نادر شاہ نے اپنے عہد میں ایران کی عظمت رفتہ کو بحال کر دیا، وہیں صحابہ اکرام پر" تبرا" کرنے کی صفوی روایت کو ختم کر کے اہلسنت کے ساتھ بہتر سلوک کا آغاز کیا، جس پر شعیہ اس کے مخالف ہو گئے، جگہ جگہ اس کے خلاف بغاوتیں پھوٹنے لگیں۔ اسی دوران جب وہ داغستان کے پہاڑوں میں بغاوت کچلنے میں مصروف تھا ایک رات اس کے محافظ دستے کے شعیہ سپاہیوں نے اس کے خیمےمیں گُھس کر اسے سوتے میں قتل کردیا۔ نادر شاہ کے بعد ایران ایک بار پھر انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار ہوا۔ افشار خاندان کی محدود حکومت اگرچہ 1796ء تک قائم رہی، تاہم یہ حکومت افغانستان کے احمد شاہ ابدالی کے زیر اثر تھی۔
قاچار عہد
افشار خاندان کے زوال کے بعد کچھ علاقوں میں "کریم خان زند" نے "زند خاندان" کی حکومت کی بیاد ڈالی جو 1750 سے شروع ہو کر 1794 تک قائم رہی۔
"محمد خان قاجار" نے پہلے 1794 میں زند خاندان کے "لطفعلی خان زند" کو شکست دے کر زند خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا، پھر دو سال بعد افشار خاندان کے دارالحکومت مشہد پر قبضہ کر کے افشار خاندان کی حکومت کا بھی خاتمہ کر دیا۔ 
اس کے بعد پورے ایران اور ملحقہ علاقوں پر قاجان خاندان کی بلاشرکت غیرے حکمرانی کا آغاز ہو گیا۔ قاجار خاندانی کی ایران پر حکمرانی 1925 تک برقرار رہی۔ قاجار خاندان کے عہد میں ہی پورا خطہ یورپی استعمار کے قبضے میں آ گیا۔ ان کے توسیع پسندانہ عزائم نے ایران کو موجودہ سرحدوں میں مقید کیا، وسط ایشیائی علاقوں پر روس نے پنجے گاڑ دیے۔ شام پر فرانس قابض ہو گیا۔ جبکہ عراق، عمان اور ہندستان پر برطانوی راج قائم ہو گیا۔
ایران کے اندر ایک جانب روسی لابی متحرک ہو گئی اور دوسری جانب برطانیہ کے حاشیہ بردار اقتدار کے ایوانوں میں برجمان ہو گئے۔ قاجار خاندان کے آخری دنوں میں برطانیہ اور روسی لابی کی کشمکش انتہائی عروج پر تھی۔ پہلوی عہد کا آغاز
قاچار خاندان کے آخری فرمانروا احمد شاہ قاجار کا جھکاو روس کی جانب ہوا تو برطانیہ نے ایک فوجی افسر رضا خان کے ذریعے بغاوت کروا دی۔ چار سال تک کشمکش چلتی رہی، جس کے بعد برطانوی لابی فتح بن کر ابھری اور رضا خان 1925ء میں "رضا شاہ پہلوی" کا لقب اختیار کر کے بادشاہ بن گیا۔ یوں ایران میں پہلوی خاندان کی حکومت کا آغاز ہو گیا۔
رضا شاہ کے 16 سالہ دور اقتدار (1925ء تا 1941ء) میں ان کے منصوبہ جات نے ایران کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ ان کی صنعتی اصلاحات سے پیشہ ور متوسط اور صنعتوں میں کام کرنے والے طبقات ابھرے۔ اسی دوران تیل کی دریافت ہوئی اور اینگلو-ایرانین آئل کمپنی کا قیام عمل میں آیا، جس کے بعد لوگوں کو معیار زندگی بھی بلند ہوا۔ پہلوی خاندان کی حکومت میں ملک مکمل طور پر مغربی رنگ میں ڈھلنا شروع ہو گیا۔ حکومت نے جدیدیت کے نام پر خالص مغربیت کی ملک میں آبیاری شروع کر دی، ماضی سے رشتی کاٹنے کی خاطر ملک کا نام فارس سے بدل کر ایران کر دیا گیا۔ اس تمام کوشش کے خاطر خواہ نتائج برامد ہوئے، ماضی کی روایات اور ثقافت کو بڑے شہروں سے دیس نکالا مل گیا۔ ایران کے بڑے شہروں اور یورپی شہروں کے طرز زندگی میں فرق تلاش کرنا مشکل تھا۔ اس کا ایک اثر یہ بھی نکلا کہ مذہب کو ایک ثانوی اور نمائشی چیز سمجھا جانے لگا۔رضا شاہ سے محمد رضا شاہ 
دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن انجنئرز اور تکنیکی ماہرین کو ملک بدر کرنے کے برطانوی مطالبہ پر رضا شاہ نے پس پیش کی تو برطانیہ اور روس نے اپنی فوجیں ایران میں داخل کر دیں۔ اگست 1941ء میں ایران پر قبضہ کر نے کے بعد رضا شاہ کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ اور کچھ عرصے بعد رضا شاہ کے صاحبزادے محمد رضا پہلوی کو بادشاہ مقرر کر دیا گیا۔ چونکہ برطانیہ کی لابی ایران میں بہت مضبوط تھی۔ اس لئے اُس نے 1943 تک اپنی فوجیں نکال لیں۔ لیکن روس نے فوجیں نکالنے کے بجائے اپنے زیر قبضہ مشرقی صوبوں میں اعلیحدگی کی تحریکیں کھڑی کر دیں۔ بعد ازاں روس نے مئی 1946ء میں اپنی فوج کو نکال لیا، لیکن اس عرصے میں روسی پشت پناہی میں ایک مضبوط کیمونسٹ نواز لابی ایران میں قائم ہو گئی۔ایران میں اشتراکی اثراتاسی دوران 1944ء میں مجلس کے انتخابات ہوئے، جس میں خاصی تعداد میں روس نواز بھی منتخب ہو گئے، لیکن شاہ نے مختلف حیلے بہانوں سے انہیں کام نہیں کرنے دیا۔ عام خیال یہی تھا کہ صنعتوں کے مزدور طبقے اور طلبہ میں کیمونسٹ عناصر تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سیاست میں کیمونسٹ نواز عنصر غالب آتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں 1949ء میں شاہ پر ایک پراسرار قاتلانہ حملہ ہوا، جس کے بعد سیاست، سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، اور شاہ کے آئینی اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔1951 میں سیاست سے پابندی ہٹی تو ڈاکٹر مصدق مجلس میں 12 کے مقابلے میں 79 ووٹ لے کر وزیر اعظم بن گئے۔ مصدق اگرچہ سیکولر سیاستدان سمجھے جاتے تھے لیکن اُن نے کیمونسٹوں کی سب سے مشہور پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کر کے مغرب کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ جس کے فورا بعد محمد رضا شاہ ملک سے فرار ہو گیا۔اشترکیوں کے خلاف سی آئی اے کی مہم بجائے حالات پر قابو پانے کے ملک سے فرار ہونے کو امریکہ اور برطانیہ نے رضا شاہ کی نا اہلی سے تعبیر کرتے ہوئے، خود میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس نے اگست 1953ء میں مصدق کو ہٹانے کا آپریشن ترتیب دیا جسے آپریشن ایجیکس (Operation Ajax) ترتیب دیا۔ جس میں ایرانی وزیر اعظم ڈاکٹر مصدق کو گرفتار کیا گیا، جسے پہلے پہلے جیل میں ڈال دیا گیا اور پھر تمام عمر کے لیے گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹر مصدق کبھی کسی شخص سے نہیں مل پایا۔مصدق حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر مغربی لابی کی گرفت ایران پر مضبوط دیکھائی دینے لگی۔ محمد رضا شاہ واپس ایران آگیا۔اس عرصے میں مغربی ذرائع ابلاغ نے ایرانی ترقی کے خوب ڈھنڈورے پیٹے۔ ملکیت زمین، عورتوں کے حق رائے دہی اور ناخواندگی کے خاتمے، ایران میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے عظیم تر منصوبوں، خوشحالی کے دور دورے کی خبریں مغربی ذرائع ابلاغ میں روزانہ کی بنیاد میں دی جاتی تھیں۔ مغربی اخبارات اور ٹھنک ٹینک ایران کو مشرق وسطٰی کی بڑی اقتصادی و فوجی قوت ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملایا کرتے تھے۔اشتراکی سیاست کے اثراتلیکن ایران کے اندر اشتراکی نظریات کی حامل تودہ پارٹی کی بڑتی ہوئی مقبولیت شاہ اور اُس کے مغربی سرپرستوں کے لئے وبال جان بنی ہوئی تھی۔ کیمونسٹوں پر کئی بار الزام عاید ہوا کہ انہوں نے شاہ اور اس کے صاحبزادوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ شاہ کی حکومت نے خفیہ جاسوسی کے ادارے ساواک کے ذریعے اشتراکی عناصر کو بے دردی سے کچلنے کی سعی کی گئی جس کے وران تودہ پارٹی کے ہزاروں اراکین کا قتل عام کیا گیا۔ تاہم اشتراکیوں کا زور بڑھتا ہی چلا گیا۔ جس سے خائف ہو کر شاہ نے ایک معاہدے کے تحت امریکی فوجی مشن کو ایران بلایا۔روح اللہ موسوی خمینی کی رونمائی28 اكتوبر 1964ء كو شاہ نے اىک قانون كى منظورى دى جس كے تحت امرىكى فوجى مشن كے افراد كو وہی حقوق دیے گئے جو وىانا كنونشن كے تحت سفارتكاروں كو حاصل ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ روایتی شعیہ علما میں سے کوئی ایرانی سیاست میں نمودار ہوا۔ قم شہر کے مدرسہ فىضىہ کے ایک استاد "روح اللہ موسوی خمینی" نے مدرسے میں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر تو شاید کم لوگوں نے ہی سُنی ہو گی، لیکن اس کا متن باقاعدہ اخبارات کو جاری کیا گیا جس کی وجہ سے یہ ایران میں موضوع بحث بنی۔ تقریر میں کہا گیا تھا کہ "مىرا دل درد سے پھٹا رہا ہے میں اس قدر دل گرفتہ ہوں کہ موت كے دن گن رہا ہوں اس شخص (رضاشاہ پہلوی) نے ہمیں بىچ ڈالا ہمارى عزت اور ایران كى عظمت خاک میں ملا ڈالی،اہل ایران كا درجہ امریكى كتے سے بهى كم كر دیا گیا ہے، اے لوگو! تمہیں خبردار كرتا ہوں یہ غلامى مت قبول كرو۔"شاہ مخالف تقریر کرنے پر روح اللہ موسوی خمینی پر مقدمہ قائم ہوا، اُنہیں گرفتار کر لیا گیا، لیکن کچھ دنوں بعد وہ حکومت کی جازت سے تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے ترکی چلے گئے۔ اُن کے حامی کہتے ہیں کہ انہیں جلا وطن كیا گیا تھا ، تاہم اُس وقت ایران میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں تھا جس کے تحت کسی مجرم کو بغیر سزا سنائے جلا وطن کیا جا سکے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کمیونسٹوں کے علاوہ کسی اور کو شاہ مخالف تحریر یا تقریر پر چند سال سے زیادہ کی سزا نہیں سُنائی گئی تھی۔ روح اللہ موسوی خمینی کی جلا وطنیروح اللہ موسوی خمینی نے ایران سے نکلنے کے بعد کچھ دنوں تک ترقی میں قیام کیا ، اور پھر عراق منتقل ہو گئے، جہاں عرب قوم پرست بعث پارٹی نے نیا نیا اقتدار سنبھالا تھا اور کرنل عبدالسلام عارف صدر بنے تھے۔ روح اللہ موسوی خمینی کی عراق میں سکونت کے روران ہی 1968ء میں وہاں بعث پارٹی کے" احمو حسن البکر" صدر بنے۔ جن کے دست راست صدام حسین تھے۔ روح اللہ موسوی خمینی عراق میں 4 اکتوبر 1965ء سے 6 اکتوبر 1978ء مقیم رہے جو 13 سال بنتے ہیں۔کمیونسٹوں کے خلاف ایکشن اور پُرامن مظاہروں کا آغاز اس دوران محمد رضا شاہ نے 1968 میں ایک بار پھر کمیونسٹوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ کمیونسٹ پارٹی کو توڑ دیا گیا۔ ملک بھر کی ٹریڈ یونیوں پر پابندی لگا دی۔ کمیونسٹ لیڈر روپوش ہوگئے تو ساوک نے اُن کے اہلخانہ کو کو تختہ مشق بنایا۔ جس کے بعد اشتراکی عناصر دوبارہ کبھی اپنے نام سے ظاہر نہیں ہوئے۔ 
ایران نے1971ء میں ایرانی شہنشاہت کا ڈھائی ہزار سالہ جشن بڑی دھوم دھام سے منایا۔اس تقریب میں پاکستان سے جنرل یحییٰ اور دنیا کے سربراہان مملکت شریک ہوئے۔
اس جشن کے بعد سے دارلحکومت تہران میں شاہ مخالف مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔ یہ مظاہروں کا نقطہ آغاز تہران یونیورسٹی تھی جو اُس وقت کمیونسٹ طلبہ کا گڑھ سمجھی جاتی تھی۔ پھر ان مظاہروں کی تعداد اور ہجم میں روز بروز اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ سویت یونین کے عزائم اور اہداف1970 عشرے میں جس وقت ایران میں شاہ مخالف مظاہرے شروع ہوئے، وہ وقت اشتراکی سویت یونین کی توسیع پسندی کے عروج کا زمانہ تھا۔ ایران کے پڑوس میں اس کے علاوہ واحد شعیہ اکثریتی ملک آزربائیجان سویت یونین کے زیر تسلط تھا اور وہاں سے اشتراکیت مہم پوری شدت سے چلائی جارہی تھی۔ دوسری جانب ایران کے علاوہ فارسی بولنے والے تاجکستان اور افغانستان میں بھی اشتراکیوں کا طوطی بول رہا تھا۔ جہاں سے اشتراکیت پر مبنی کتابیں اور اشتہارات دھڑا دھڑ ایران میں پہنچ رہے تھے۔ ایرانی کیمونسٹوں کو ایران کی سرحدوں سے نکلتے ہی پناہ مل جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے ایران میں کمیونسٹوں کی سرکوبی کی تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہو رہی تھیں۔یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ سویت یونین کا اُس وقت سب سے اہم ہدف گرم پانیوں تک رسائی تھا۔ جس کا سب سے مختصر اور موثر ترین راستہ بحیرہ قزوين (Caspian Sea) کے ذریعے خلیج فارس (Persian Gulf) تک تھا۔ جبکہ متبادل راستہ افغانستان کے ذریعے پاکستان سے ہوتے ہوئے بحیرہ عرب ہو سکتا تھا۔ 
اُس وقت کے معروضی حالات بتاتے ہیں کہ روس دونوں راستوں کے ذریعے گرم پانیوں تک پہنچنے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ یہ کوشش متعلقہ ممالک میں موجود اشتراکی عناصر کی مدد سے جاری تھی۔ سویت یونین کی ایما اور پیسے کے زور پر افغانستان میں خلق اور پرچم کے نام سے اشتراکی متحرک تھے۔ جنہوں نے 1973 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد وہ افغانستان میں کمیونزم کو رائج کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسری جانب ایران میں بھی کیمونسٹ عناصر امریکہ نواز محمد رضا شاہ کے خلاف متحرک تھے۔ ایران کے اندر شاہ مخالف مظاہروں کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ جن میں طلبہ کے ساتھ ساتھ صنعتوں کے مزدور اور عوام کی شرکت بڑھتی جا رہی تھی۔ 1976 تک مظاہرے تہران سے نقل کر دیگر شہروں میں بھی ہونے لگے تھے۔ لیکن دور دور تک شاہ کی حکومت کو ان مظاہروں سے کوئی خطرہ دیکھائی نہیں دیتا تھا۔ 
اشتراکیوں کی جگہ مذہبی عناصر مودر الزام
1977ء میں تبدیلی یہ دیکھی گئی کہ مغرب نواز اخبارات نے اچانک مظاہروں کے لیے کیمونسٹوں کے بجائے مذہبی عناصر کو مورود الزام ٹہرانا شروع کر دیا۔ مظاہروں اور شاہ کے خلاف سازشوں کا مرکز کیمونسٹ تودہ پارٹی کے بجائے "قم" کے مذہبی رہنماوں کو قرار دیا جانے لگا۔ صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ مگرب نواز بیوروکریسی کے بیانات میں بھی یہی الزامات کثرت سے دہرائے گئے۔ اچانک سرکاری رپورٹوں میں بیان کیا جانے لگا کہ شاہ مخالف اور ترقی مخالف تمام اقدامات عراق کے شہر نجف میں موجود "روح اللہ موسوی خمینی" کے اشاروں پر ہو رہے ہیں۔ اسی اثنا میں ایران کے معتدل و مقبول ترین شعیہ رہنما، سکالر، سیاسی فلسفی اور انقلاب کے داعی علی شریعیتی صرف پالیس سال کی عمر میں پُر اسرار طور پر قتل ہو گئے۔ ایک طرف میڈیا اور بیوروکریسی کے پئے در پئے الزمات اور دوسری جانب علی شریوتی کے قتل نے دو سال کے اندر بیرون ملک موجود سابق غیر معروف مذہبی اُستاد "روح اللہ موسوی خمینی" کو ایران بھر میں مشہور کر دیا۔ایک طرف مظاہروں کی آڑ میں عوام پر حکومت کا ناقابل بیان جبر تھا اور دوسری جانب حکومت کی مخالفت کا سزاوار "روح اللہ موسوی خمینی" کو قرار دینا۔ تیسری جانب اس دوران "روح اللہ موسوی خمینی" کے ایرانی قوم کے نام پیغامات پر مبنی ہینڈ بلز تھے جو اچانک ہزاروں کی تعداد میں تقسیم ہو جاتے تھے۔ لیکن کبھی معلوم نہ ہو سکا کہ انہیں کون چھاپتا تھا ان ہی وجوعات کی بنیاد پر ایران میں "خمینی" کا نام ایک نجات دہندہ کے طور پر مشہور ہوگیا۔
روح اللہ موسوی خمینی کی فرانس منتقلی اور امریکہ سے رابطے
6 اکتوبر 1978ء کو "روح اللہ موسوی خمینی" نامعلوم وجوعات کی بنا پر فرانس منتقل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے پیرس کے نواح میں واقعے قصبے "نوفل لوش تو" میں سکونت اختیار کر لی۔ حیرت انگیز امر یہ تھا کہ محمد رضا شاہ خطے میں مغرب کا سب سے بڑا اتحادی تھا۔ فرانس اور امریکہ شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم نیٹو (NATO - The North Atlantic Treaty Organization) کے باقاعدہ ممبر تھے۔ لیکن اس کے باوجود فرانس نے شاہ محمد رضا شاہ کے سب سے بڑے مخالف اور بقول ایرانی بیوروکریسی کے سازشوں کے سب سے بڑے سرغنہ کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔ نہ صرف پناہ دی بلکہ انقلاب کے بعد کے سرکاری موقف کے مطابق "روح اللہ موسوی خمینی" فرانس میں سکونت کے دوران لمحہ با لمحہ شاہ مخالف تحریک کی مکمل رہنمائی کرتے رہے تھے۔ فرانس میں سکونت کے دوران "روح اللہ موسوی خمینی" کی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی مستند اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم حال ہی میں امریکہ کی جانب سے ڈی کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اُن کا امریکی حکام سے گہرا رابطہ رہا تھا۔ ڈیکلاسیفائڈ ہونے والی دستاویزات جو سفارتی پیغامات، پالیسی میموز اور میٹنگز کے ریکارڈز پر مشتمل ہیں، جو امریکہ کے روح اللہ خمینی کے ساتھ خفیہ رابطوں کے متعلق خاصا تفصیل سے بتاتے ہیں۔ اس حوالے سے بی بی سی کی ایک روپوٹ میں انکشاف کیا گیا ہے، کہ "روح اللہ موسوی خمینی" نے اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ کو تجویز دی تھی کہ "اگر صدر کارٹر فوج پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان کے اقتدار پر قبضے کو ہموار بنا دیں تو وہ قوم کو پرسکون کر دیں گے۔ استحکام قائم ہو جائے گا اور ایران میں امریکی مفادات اور شہریوں کو تحفظ حاصل ہو گا۔" امریکہ کے لیے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مظاہروں اور ہڑتالوں کی وجہ سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو چکی تھی۔ جو امریکہ کے خیال میں سویت یونین کے ساتھ کسی ممکنا محاذ آرائی کی صورت میں بڑے نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ اپنے ایک پیغام میں "روح اللہ موسوی خمینی" وائٹ ہاؤس کو کہا کہ وہ "اس اہم اتحادی (محمد رضا شاہ کی طرف اشارہ) کے جانے پر پریشان نہ ہو جس کے اس کے ساتھ 37 سال سے تعلقات ہیں۔ ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم بھی دوست ہی رہیں گے۔" خمینی نے اپنے ایک اور پیغام امریکی حکومت کو ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ "آپ دیکھیں گے کہ ہماری امریکیوں سے کوئی خاص دشمنی نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ’انسانی ہمدردی پر قائم کی جائے گی، جس سے ساری انسانیت کے امن اور سکون کو فائدہ پہنچے گا۔"روح اللہ خمینی نے اپنے ایک پیغام میں امریکی حکومت کو بتایا کہ "خمینی نے امریکہ کو بتایا تھا کہ وہ امریکی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں تاکہ سویت اور برطانوی اثر کو کم کیا جا سکے۔" روح اللہ خمینی نے ایک مرتبہ امریکیوں کے تیل کی ترسیل کے حوالے سے موجود خدشے کو دور کرتے ہوئے واشنگٹن بھیجے گئے ایک پیغام میں لکھا تھا کہ "جو بھی ہم سے صحیح قیمت پر تیل خریدا گا ہم اسے بیچیں گے۔ اسلامی جمہوریہ قائم ہونے کے بعد دو ممالک یعنی جنوبی افریقہ اور اسرائیل، کے علاوہ سب کے لیے تیل کا بہاؤ جاری رہے گا۔" پیغام میں خمینی کا کہنا تھا کہ "ملک کی ترقی کے لیے ایران کو دوسروں کی امداد کی ضرورت ہے، خصوصاً امریکیوں کی۔"(دستاویزات جاری ہونے کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ نے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں تبدیلی کی گئی ہے۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان کے مقابلے میں کوئی اصلی دستاویز جاری نہیں کی ہے۔)بی بی سی کی مکمل رپورٹ اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے، www.bbc.com/news/world-us-canada-36431160
"روح اللہ موسوی خمینی" کے پیغامات کے بعد امریکی صدر نے فضائیہ کے جنرل رابرٹ ای ہیوئزر کو پُراسرار مشن پر تہران بیجا۔ جس نے اگلے چند ہفتوں کے دوران محمد رضا شاہ اور ایران کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں سے درجنوں ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا ذکر تو اُس وقت کے اخبارات میں تفصیل سے ملتا ہے لیکن ان ملاقاتوں کے مندجات کبھی منظر عام پر نہیں آ سکے۔ (خیال رہے کہ اس وقت ایران کی فوج 4 لاکھ اہلکاروں پر مشتعمل تھی جس کا زیادہ تر انحصار امریکی اسلحے اور مشاورت پر تھا۔)امریکی خفیہ سفارتکاری اور خمینی کی ایران واپسی 
امریکی جنرل رابرٹ ای ہیوئزر کے خفیہ مشن کے بعد ایران کے بادشاہ محمد رضا شاہ نے بیرون ملک چھٹیاں منانے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انہیں امریکی صدر کارٹر نے قائل کیا تھا۔ شاہ کو تہران کے ہوائی اڈے سے پورے شاھی پروٹوکول اور فوجی گارڈ آف آنر کے ساتھ کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ شاہ رخصتی کے ساتھ ہی پیریس میں "روح اللہ موسوی خمینی" چیف آف سٹاف اور امریکی حکومت کے درمیان فرانس میں مذاکرات شروع ہو گئے، جو دو ہفتے جاری رہے، امریکی دستاویزات کے مطابق شاہ کے ایران سے روانہ ہونے کے دو دن بعد ہی "روح اللہ موسوی خمینی" کے نمائندے کو خوشخبری سُنائی گئی تھی کہ ایران کی فوج کے اہم جنرلز ملک کے سیاسی مستقبل کے متعلق لچک دیکھانے کو تیار ہو گئے ہیں"۔
انہی کامیاب مذاکرات کے بعد "روح اللہ موسوی خمینی" فرانس سے چارٹر جہاز کے ذریعے صحافیوں کے ہمرا تہران روانہ ہوئے تھے جہاں 
لاکھوں لوگوں نے اُن کا استقبال کیا تھا۔ 
افغانستان اور ایران کے متضاد اتفاقات 
ہو سکتا ہے کہ یہ محض حُسن اتفاق ہو کہ دسمبر 1979 کو سویت فوجوں نے افغانستان میں قدم رکھا اور اس کے فورا بعد امریکی صدر نے ایرانی بادشاہ اور خطے میں اپنے سب اہم حریف محمد رضا شاہ کو عارضی طور پر ملک چھوڑنے پر آمادہ کر لیا۔ دوسری جانب ایک امریکی جنرل نے امریکی اثر تلے دبی ہوئی ایرانی فوج کے سربراہوں کو شاہ سے منحرف ہونے پر قائل کر لیا۔ جبکہ تیسری جانب شاہ مخالف مذہبی رہنما کے نمائندے سے دو ہفتے طویل مذاکرات مکمل کر لئے۔ یوں افغانستان میں روسی فوج کے داخلے کے صرف ایک مہینے بعد 17 جنوری 1979 کو "روح اللہ موسوی خمینی" ایران میں ایک انقلاب کے نقیب بن کر تہران پہنچ گئے۔ 
عبوی حکومت اور انقلابی کونسل ایران پہنچنے کے فوری بعد11 فروری 1979 کو ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی جس میں معروف ایرانی سکالر اور ماہر تعلیم مہدی بازرگان کو عبوری وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔ (کہا جاتا ہے کہ اس مدت میں بھی درپردہ تمام اختیارات "روح اللہ موسوی خمینی" کے ہاتھ میں ہی تھے۔) اس دور میں ایران کے اندر "رد انقلاب" کی اصطلاع ایجاد ہوئی، ہزروں افراد کو انقلاب مخالف قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔ اب تک کا انقلاب ایران جدت پسندوں، مذہبی افراد اور کیمونسٹوں سب کا انقلاب تھا۔ اس میں شعیہ اور سنی کی بھی کوئی تفریق نہیں تھی۔ حالات میں تبدیلی اُس وقت آئی جب روح اللہ خمینی نے "قم" پہنچ کر شعیہ مذہبی رہنماوں پر مشتعمل اسلامی انقلابی کونسل قائم کرنے کا اعلان کیا۔ عدالت عالیہ کے ارکان، سپہ سالار اور چیف آف اسٹاف کی تقرری اور برطرفی، پاسداران کے سربراہ، قومی تحفظ کی مجلس اعلیٰ کی تشکیل، بری بحری اور فضائی افواج کے سپہ سالاروں، جنگ وصلح کا اختیار، صدر کے انتخاب کی توثیق کے تمام اختیارات اس کونسل کے حوالے کر دیے گئے۔انقلاب سے ولایت فقیہاس پر تہران یونیورسٹی میں ایک لاکھ سے زیادہ لڑکوں اور لڑکیوں کے اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ کابینہ میں تمام جماعتوں مذاہب اور فرقوں کو نمائندگی دی جائے۔ تو اس پر روح اللہ خمینی نے کہا کہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کی کابینہ میں شمولیت کا مطالبہ کرنے والے طلبا بے دین اور اسلام دشمن ہیں۔ (بحوالہ انقلاب ایران از سبط حسن) پریس کی آزادی بھی سلب کر لی گئی۔ 
ریاست کی نوعیت کے سوال پر ریفرینڈم کے موقعہ پر روح اللہ خمینی نے فتویٰ صادر کیا کہ رائے دہندگان سے فقط یہ دریافت کیا جائے کہ وہ اسلامی ری پبلک کے حق میں ہیں کہ نہیں۔ ریفرینڈم کے بعد اعلان کر دیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سربراہی اور قیادت شعیہ مذہب کے مطابق "ولایت فقیہ" کے سپرد ہو گی۔ان اقدامات کے بعد ایران میں انقلاب کا خواب بڑی حد تک دھندلاتا چلا گیا۔ 
امریکی سفارتخانے پر قبضہ
عوام میں انقلاب سے بیزاری اور بے چینی میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ ولایت فقیہ کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں تو اسی دوران روح اللہ خمینی کی قربت رکھنے والے طلبہ کے ایک گروپ نے اچانک 4 نومبر 1979 کو امریکی سفارتخانے پر حملہ کر دیا اور سفارتخانے کے عملے کو یرغمال بنا لیا۔ خیال رہے کہ جب ایران میں عبوری حکومت قائم ہوئی تھی اُس وقت 50 ہزار سے زیادہ امریکی ایران میں موجود تھے۔ جن میں ملٹری مشنز کے اہکار، تکنیکی عملہ اور کاروباری افراد بھی شامل تھے۔ لیکن یہ سب نہایت پُرامن طور پر ایران سے روانہ ہو گئے تھے۔ کسی نے ان کی روانگی میں رکاوٹ ڈالی نہ ہی کسی امریکی کو کوئی نقصان پہنچا تھا۔ لیکن نومبر میں ایرانی طلبہ کے مخصوص گروپ نے شاہ کو امریکہ میں پناہ دیے جانے کے خلاف اچانک امریکی سفارتخانے پر چڑھائی کر دی، جبکہ محمد رضا شاہ کو پناہ بھی اس وقعے سے کئی مہینے پہلے دی گئی تھی۔
امریکی سفارتخانے کا یہ بحران 444 دن یعنی ایک سال 2 ماہ اور 2 ہفتے تک جاری رہا۔ اس دوران امریکہ کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے کی بار بار دھمکی دی گئی۔ ایک بار امریکی صدر جمی کارٹر نے امریکی فوج کو ایران پر حملہ کر کے سفارتی عملے کو ریسکیو کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ جس کے بعد دو امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس کرول سی (USS Coral Sea) اور نمٹز (USS Nimitz) ایرانی ساحلوں کی جانب روانہ ہوگئے۔ امریکی فوج نے تہران کے امریکی سفارتخانے میں پھنسے عملے کو نکالنے کے لیے 24 اپریل 1980 کو آپریشن ایگل کلیو ( Operation Eagle Claw) لانچ کیا جو بُری طرح ناکام ہو گیا۔ اس آپریشن کے دوران 8 امریکی کمانڈوز مارے گئے اور دو گن شپ ہیلی کپٹر تباہ ہوئے۔ دوسری جانب صرف ایک ایرانی سولین مارا گیا۔ 
(یاد رہے کہ اس سے پہلے دسمبر 1929 میں محمد رضا شاہ پہلوی امریکہ سے مصر منتقل ہو چکا تھا، جہاں 27 جولائی 1980 کو کینسر کے باعث اُس کا انتقال ہو گیا تھا۔)
امریکی سفارت خانے پر قبضے کے اثراتتمام معاصر تجزیہ نگار اس امر پر متفق ہیں کہ امریکی سفارتخانے کے محاصرے، اس پر امریکی دھکیوں اور ناکام حملے نے ایران کو مضبوط قوم اور "روح اللہ موسوی خمینی" کو ایران کی ایک طاقتور شخصیت اور متفقہ لیڈر بنا دیا۔ اس دوران عوام کی مکمل تائید "روح اللہ موسوی خمینی" کو حاصل ہو گئی۔ ولایت فقیہ کے خلاف اٹھنے والے آوازیں امریکی دھمکیوں کے شور میں دب گئیں تھیں۔ اسی عرصے میں حکومت اور فوج کے اندر ولایت فقیہ کے حامی کٹر شعیہ عناصر کو مضبوط کیا گیا، اور اس کے بر خلاف خیالات رکھنے والوں کو نکال باہر کر دیا گیا۔ چونکہ اس دوران روز نئی امریکی دھمکی آ جاتی اور امریکی حملے کا ہر لمحہ خطرہ موجود تھا، اس لیے ان اقدامات کے خلاف بات کرنا ملک دشمنی سمجھی جاتی تھی۔سُنی شعیہ منافقرت اور ایران عراق جنگ
امریکی سفارتخانے کا ایشو حل ہونے سے پہلے ہی ایرانی حکومت نے سُنی کردوں اور اہواز کے سنی عربوں کی جانب سے شیعہ ولایت فقیہ کے خلاف اپنے مطالبات پیش کر دیے۔ جسے ایرانی حکومت نے بغاوت قرار دیتے ہوئے پاسداران انقلاب کی مدد سے سختی سے کُچل ڈالا۔ جس پر ایک بار پھر ایران کے متعدل اور غیر شعیہ افراد میں بے چینی پھیل گئی۔ لیکن بغاوت کچلے جانے کے چند ہی ہفتوں بعد دریائے شط العرب کے تنازعے پر عراق ایران جنگ شروع ہو گئی۔ اکثر مبصرین کے خیال میں سمتبر 1980 میں شط العرب کو محض ایک بہانہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ، اصل میں عراق نے امریکہ کی ایما پر ایران پر حملہ کیا۔ ایران عراق کی جنگ دس سال تک جاری رہى۔ 18 جولائی 1988ء کو ایران نے ڈرامائی طور پر جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا۔ یوں 8 اگست 1988ء کو دونوں ممالک میں جنگ بندی ہوگئی۔
ایران عراق جنگ کے دوران ایران میں ولایت فقیہ جبکہ عرب ریاستوں پر امریکہ کی گرفت مظبوط ہو گئی۔ جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران عرب ممالک کی جانب سے عراق کی کھل کر امداد کی گئی کیوں کہ عربوں کو خطرہ تھا کہ ایرانی شیعہ انقلاب دیگر خطوں میں بھی برامد ہو جائے گا۔یاد رہے کہ ایران عراق جنگ شروع ہونے کے بعد نائیجیریا کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ ختم کر کے عملے کو رہا کر دیا گیا تھا، جو باحفاظت امریکہ روانہ ہو گئے تھے۔

(انقلاب میں کمیونسٹ تحریک کا کردار جاننے کے لئے سبط حسن کی کتاب انقاب ایران کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔انقلاب کے دنوں کی زمینی روداد جاننے کے لئے مختار مسعود کی لوح ایام بہترین ہے۔ دیگر احوال کی تفصیل کے لیے تاریخ اور حالات حاضرہ کے موضوع پر مختلف جانب سے لکھی گئی کتابوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔)

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس مقام پر پہنچا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یورپ میں ساتویں صدی سے پندرویں صدی عیسوی کا دور مذہب وابستگی کے عروج کا دور تھا۔ کلیساء کے حکم پر عوام مال و جائیداد ہی نہیں بلکہ اولاد و عیال بھی قربان کر دیتے تھے۔ اپنی جان لُٹانا تو ایک معمولی سی بات تھی۔ مذہب کے لئے یورپ والوں جانثاری کی حقیقت جاننے کے لئے صرف صلیبی جنگوں کا مطالعہ ہی کافی ہے۔ اس دور میں ریاست برائے نام تھی، قوت کا اصل اور واحد ماخذ کلیساء تھا۔ والیانِ ریاست اور ڈیوک وغیرہ کلیساء کے حاشیہ بردار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
تیرویں صدی کے بعد مذہبی پیشواوں نے عوام کی عقیدت اور خلوص کو اپنی عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ عوام بے حال ہوئے اور مذہبی پیشواوں کے رہن سہن بادشاہوں سے بھی اعلیٰ ہوتا چلا گیا۔ چرچ سونے اور جواہرات سے بھر گئے۔ خانقاہیں عیاشی کے اڈوں میں تبدیل ہوگئیں۔
غضب یہ بھی تھا کہ مذہبی پیشواں کی ان غلط کاریوں پر انگلی اٹھانے کی جرات کرنے، یا پھر مذہبی پیشواون کی کسی تعبیر سے اختلاف کرنے والے کو گمراہ اور بدعقیدہ قرار دیا جاتا۔ اس "بدعقیدہ" کو مذہبی عقوبت خانوں میں ایسے ایسے الاتِ تشدد سے گزار کر اعتراف جرم کرایا جاتا، جن کو عجائب گھروں میں دیکھ کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اعتراف جرم کے بعد اُس "بدعقہدہ" کو شہر کے کسی مرکزی چوک میں آگ کے الاو میں زندہ جلا دیا جاتا۔ دوسری جانب کوئی بھی امیر اور گناہ گار شخص مذہبی پیشواں کو بھاری مالیت کا خراج دے کر دنیا کے لئے معافی نامہ اور آخرت کے لئے بخشش نامہ حاصل کر لیتا تھا۔

ایسے حالات مذہبی پیشواں سے نفرت کا جنم فطری تھا۔ چونکہ یہ پیشوا اپنی تمام بدعمالیوں کے لئے مذہب کا سہارا لیتے تھے اس لئے عوام میں یہ نفرت مذہب بیزاری کا روپ اختیار کرتی چلی گئی۔ جو آج ہمارے سامنے الحاد کی شکل میں موجود ہے۔ اور جس کے باعث عیسائی مذہب ایک نمائشی رسومات کا پلندہ بن چکا ہے۔

سوچنے کی ضروت ہے کہ آج ہمارے ہاں جو الحاد اور مزہب بیزاری کے بیج پھوٹ رہے ہیں۔ اس کی وجوعات کیا ہیں۔ کیا کہیں مذہبی شدت پسندی، مسلک پرستی، اور مذہبی پیشواوں کی مادیت پرستی سے نم تو نہیں مل رہا؟

کیا ہم یورپ کی تاریخ سے کوئی سبق سیکھ سکتے ہیں؟

کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بار تاریخ خود کو مشرق میں دہرا دے۔  

مطیع الرحمٰن نظامی ۔۔ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت


مطیع الرحمن نظامی۔۔۔۔ سعادت کی زندگی شہادت کی موت




اس شخص کے نصیب کے کیا ہی کہنے۔
ایک مومن کی خواہشات ہی کتنی ہوتی ہیں؟سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت۔
اس شخص کی حیات قابل رشک تھی تو موت قابل فخر۔ 31 مارچ 1943 کو لطف الرحمٰن کے گھر پیدا ہونے والا مطیع الرحمٰن بچپن میں والدین کا ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کا دلارا رہا۔ مدرسہ العالیہ سے اسلامی فقہ میں کامل کی سند اور ڈھاکہ یونیوسٹی سے گریجویشن کی ڈگری کے ساتھ استاتذہ کی محبت بھی سمیٹی۔ دور طالب عملی میں ہی وہ لاکھوں طلبہ کی دلوں کی دھڑکن بھی بن چکا تھا۔ پہلے اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان (اسلامی چھاترو شنگو) کا ںاطم ہوا، پھر متحدہ پاکستان میں طالبہ کی سب سے بڑی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کا پہلا اور اکلوتا بنگالی ناظم اعلیٰ بنا۔ بیسویں صدی کے چھٹے اور ساتویں پُر آشوب عشروں میں یہ نوجوانوں کا ہیرو تھا۔ یہ بنگلہ، انگریزی، عربی اور اردو کا بے مثل مقرر تھا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد انتہائی خطرناک حالات میں اسلامی جمعیت طلبہ کا اسلامی چھاترو شبر کے نام سے احیاٗ کیا۔ پھر جماعت اسلامی میں آئے اور ایک عشرے کے اندر ہی اُسے ملک کی بڑی سیاسی جماعت بنا ڈالا۔ یہ کسی ایک جماعت کا ہی نہیں بلکہ عوام کا بھی ہر دلعزیز قائد تھا۔ ہر حلقے کا ناقابل شکست سیاسی امیدار رہا ۔ ایک بار وزیر زراعت اور ایک بار وزیر صنعت بنا۔ اسے بنگلہ دیش کی تاریخ کے کامیاب ترین وزیروں میں شمار کیا گیا۔ پیشے کے اعتبار سے اسلامی تعلیمات کا استاد تھا۔ اُس نے مختلف موضوعات پر بیس کتابیں تصنیف کیں۔ مسلم دنیا میں انہیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ طویل عرصے تک دنیا کے 500 با اثر ترین افراد میں شامل رہا ہے۔
 پھر جب عالمی استعماری طاقتوں نے دنیا میں اسلام کے نفاذ کی تحریکوں کو مٹانے کا فیصلہ کیا، تو سکیولرازم کے نشانے پر اسلامی سیاسی جماعتیں آئیں۔ سیاسی اسلام کے لئے دنیا بھر میں عرصہ حیات تنگ ہوا۔ بنگلہ دیش میں ربع صدی پہلے حل ہو جانے والے قضیے کو دوبارہ کھولا گیا۔ نام نہاد جنگی جرائم کی تحقیق کا ایسا ٹربیونل بنا جس کی کاروائی کی مذمت دنیا بھر نے کی۔ اسی ٹربیونل کی جانب سے اس پر بھی جنگی جرائم کا مقدمہ بنایا گیا۔ انتہائی یکطرفہ کاروائی کے بعد موت کی سزا سنائی گئی۔ اس قسمت کے دھنی نے فیصلہ پوری جرات اور استقامت سے سنا۔ ایک اللہ کے سوا کسی سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کیا، تہتر سال کی عمر میں ثابت قدمی اور آہنی عزم کے ساتھ خود چل کر تختہ دار تک آیا۔ اسلام سے وفاداری کی پاداشت میں ملنے پھندے کو چوم کر گلے میں حمائل کیا۔ اور ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو گیا۔
 اس شخص کی دار فانی سے رخصتی پر دنیا بھر کے کروڑوں اہل ایمان کی آنکھیں نمناک ہوئیں، اور دل دکھ سے شق ہوئے۔ دنیا کے تقریبا ہر بڑے شہر میں اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ایسے نصیب اللہ کی خاص عنایت سے ہی میسر آ سکتے ہیں۔اے راہروانِ راہ وفا! ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں
 تم جان پہ اپنی کھیل گئے اور ہم سے ہوئی تاخیر بہت(مطیع الرحمٰن نظامی صاحب کی شہادت پر لکھی گئی تحریر)

خلافت کا خاتمہ اور اہل ہندوستان کا کردار


مارچ کا مہینہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا مہینہ ہے۔ 3 مارچ 1924 کو مصطفی کمال نے 14 سو سال سے قائم اس مقدص ادارے کو سامراجی طاقتوں کی آشیرواد سے ختم کر ڈالا تھا۔مصطفیٰ کمال پاشاخلافت عثمانیہ کے متوازی حکومت قائم کرنے کے باوجود 8 اپریل 1923ء کی تقریر میں مصطفٰی کمال نے بہت واضع الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ''خلافت ایک مقدص اسلامی ادارہ ہے اس لئے اعلیٰ تُرک قومی اسمبلی اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔" یہی نہیں بلکہ یکم
نومبر 1923ء میں ترکی کو جمہوریہ بنائے جانے کی قرار داد میں بھی خلافت کو برقرار رکھا گیا تھا۔سید امیر علی اور آغا خان کا خط 
اسی دوران 13 دسمبر 1923 کو فرانس میں مقیم اسماعیلوں کے روحانی پیشوا سر آغا خان اور برطانیہ میں مقیم اثنا عشری، اہل تشیع کے معروف لیڈر جسٹس سید امیر علی نے ایک مشترکہ خط تُرک حکومت پر براجمان مصطفی کمال اور عصمت انونو کو لکھا۔ جس میں خلیفہ کے اختیارات میں تخفیف پر احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عالم اسلام میں بسنے والے کروڑوں "سنّی مسلمانوں" کی جذباتی و مذہبی وابستگی خلافت کے ادارے سے ہے، لہذا تُرک حکومت کو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے محتاط رہے۔اثنا عشری شعیوں کے رہنما سید امیر علی
اسماعلیوں کے روحانی پیشوا آغا خان اولخط تُرک حکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی فرانس برطانیہ اور خود تُرکی کے اخبارات میں شائع ہو گیا اور دنیا بھر میں ایک سُلگتا ہوا موضوع بحث بن گیا۔

 لندن اور پیریس میں موجود دو اعلیٰ سطی اختیارات کے حامل اشخاص کی جانب سے لکھے گئے اس طرح کے خط کے مضمرات کو زیر بحث لانے کے لئے 15 فروری کو تُرک فوجی کمانڈروں کی میٹنگ ازمیر شہر میں طلب کی گئی۔ جہاں اس پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اسی موضوع پر یکم مارچ 1924 کو تُرک قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے ایک جذباتی تقریر کی۔ اُس نے اسمبلی ممبران کو بتایا کہ یہ خط دراصل برطانیہ اور فرانس کے گماشتوں کی بہت بڑی سازش ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک خلافت کا ادارہ برقرار رہے گا یہ طاقتیں اسی طرح تُرکی کے معملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔ خلافت کو ہمیشہ تُرک جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ کل کلاں کو خلافت کے اختیارات کی بحالی کی آڑ میں ترکی پر جنگ بھی مسلط کی جا سکتی ہے۔ لہذا تُرک قوم اور ملک کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ خلافت کے ادارے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ اسمبلی میں خوب گرما گرم بحث ہو ئی اور بلآخر 3 مارچ کو اسی جذباتی فضا میں قانون نمبر 431 کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ جس میں خلافت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

خلافت کے تحفظ کے لئے مسلمانانِ برصغیر نے انگریزوں کے غلام ہونے کے باوجود ایثار اور سرفروشی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک اور واقعہ بھی بہت اہم ہے، جسے جان بوجھ کر تاریخ سے حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست کے ساتھ ہی خلافت کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہوا تو 5 جولائی 1919ء کو بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم ہوئی۔ جس کا مقصد رائے عامہ کو منظم کر کے ”خلافت کی برقراری، مقامات مقدسہ کے تحفظ اور سلطنتِ ترکی کی مجوزا تقسیم رکوانے کے لئے انگریزوں پر دباؤ ڈالنا تھا۔ خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس نومبر 1919ء کو دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر اُن کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے۔ اس اجلاس میں ہندوؤں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی۔ اسی اپیل کے نتیجے میں دسمبر 1919ء کو کانگریس مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے۔  کانگریس کے اجلاس میں تحریک خلافت کی حمایت کا معملہ زیر بحث آیا تو ورکنگ کمیٹی کے ایک ممبر کے علاوہ تمام ممبران نے حمایت کے حق میں فیصلہ دیا۔ تحریک خلافت کی حمایت کی مخالفت کرنے والے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے واحد رکن جناب محمد علی جناح صاحب تھے۔ جنہوں نے نہ صرف پارٹی کے اجلاس میں اس فیصلے کی مخالفت کی بلکہ حمایت کا فیصلہ طے پا جانے پر احتجاجا کانگریس کی ورکنگ کمیٹی اور بنیادی رکنیت سے ہی استعفی دے دیا تھا۔
(محمد علی جناح صاحب کی کانگریس سے اعلیحدگی کی یہی وجہ بنی، جس کے بعد وہ سیاست سے الگ ہو کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ بظاہر محمد علی جناح صاحب کی مخالفت کی وجہ بڑی معقول تھی۔ اُس وقت تک اُن کا تعلق اسماعیلی مذہب سے تھا، جو خلافت کے ادارے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اُن کے نزدیک زندہ امام ہی سربراہ حکومت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُس وقت تک جناح صاحب اثنائے عشری مذہب اختیار کر چکے تھے۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے توبھی یہ حقیقت یہی ہے کہ خلافت کا ادارہ اثنائے عشریہ کے ہاں بھی قابل قبول نہیں، اُن کے ہاں خلافت کی جگہ مقدص سیاسی ادارہ "ولایت فقیہ" ہے)

تاریخ برصغیر چند حقائق (حصہ اوّل)


تاریخ کا کھلے دماغ اور غیرجاندارانہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو عجیب عجیب انکشافات ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے تاریخ برصغیر زیر مطالعہ ہے۔ اس مطالعہ سے حاصل ہونے والی اہم معلومات احباب سے شئیر کرنے کا ارادہ ہے۔ تاکہ جو حقائق نظر آئے ہیں، اجتماعی طور پر معروضی انداز میں اُن کا جائزہ لیا جا سکے۔ اور اگر سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اُس کی اصلاح ہو سکے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی ستمبر 1599ء میں لندن میں وجود میں آئی۔ اگلے سال یعنی 1600 اس نے ملکہ الزبتھ اول سے ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ 1612ء میں تھامس مور نے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہو کر کمپنی کے لئے تجارت کی اجازت حاصل کی۔ 1613ء میں سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی گئی۔1647ء تک ان کی 23 قلعہ بند فیکٹریاں مختلف شہروں میں تھیں۔ جن کی حفاظت کے نام پر خاصی بڑی فوج بھی تیار کی گئی تھی۔ جس کی مدد سے 1689ء میں کمپنی نے پہلی مرتبہ بھاری معاوضے پر علاقائی جھگڑے میں ایک فریق کی مدد کی۔ یوں وہ ایک علاقائی قوت بن گئی۔ طوائف الملوکی کے اس دور میں پرائیوٹ فوج سب سے نفع بخش کاروبار تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کاروبار سے خوب نفع کمایا۔ اور ساتھ ہی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ ساتھ ہی اس نے اپنے طور پر علاقوں کی تسخیر کا آغاز بھی کر دیا۔ 1717ء میں کمپنی کے سامان اور مال پر ہر قسم کا ٹیکس معاف کر دیا گیا۔ جس سے اس کے نفعے میں گئی گناہ اضافہ ہو گیا۔ کمپنی نے اس نفعے کو فوج میں اضافے کے لئے استعمال کیا۔ اور وہ ایک بڑی فوجی قوت بن گئی۔ کمپنی کو پہلی بڑی عسکری کامیابی 1757ء میں پلاسی کے میدان میں حاصل ہوئی۔ جب اس کی افواج نے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال جیسے بڑے صوبے پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد کمپنی کامیابیوں کو گویا پر لگ گئے۔ 1799 ء میں شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی شکست کے بعد ہندوستان پر قبضے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہٹ گئی۔ یہاں تک کہ 1835ء میں سلطنت دہلی کے تخت پر متمکن اکبر شاہ ثانی انگریزوں کا کٹ پُتلی بن گیا۔ تب سے منادی کرنے والوں نے صدا لگانی شروع کی کہ "خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا"۔ 1849ء تک پنجاب، سرحد اور سندھ بھی انگریزوں کے سامنے ڈھیر ہو چکے تھے۔ یوں انیسویں صدی کے نصف اول کے اختتام سے پہلے ہی برصغیر کی تمام ریاستیں، راجے، مہاراجے اور فوجی طاقتیں یا تو انگریزوں کی حاشیہ بردار بن چکی تھیں یا پھر اپنا وجود کھو چکی تھیں۔
ہندوستان کی کامل تسخیر کو صرف آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ 1857ء میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہوئی۔ جسے ہندوستانیوں نے جنگ آزادی اور انگریزوں نے غدر کا نام دیا۔ یہ بغاوت سراسر عوامی تھی۔ اس میں تمام ہندوستانیوں نے بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب مل کر حصہ لیا۔ خصوصا مسلمانوں اور ہندوں کا اتحاد مثالی تھا۔
ایک بار تو انگریزوں کی ہوا اکھڑ گئی تھی۔ لیکن وہ سکھوں کی فوج اور غداروں کی مدد سے بلآخر بمشکل بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔ غداروں میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ جنگ آزادی تو ناکام ہو گئی، لیکن انگریزوں کو کھٹکا لگ گیا کہ کسی بھی وقت دوبارہ بغاوت کا ظہور ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے تدارک کے لئے انہوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی اختیار کی۔
انگریزوں کی اس پالیسی نے متحدہ ہندوستان میں کیا رنگ بکھیرے اور آج تک ہم کن صورتوں میں اس کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں اسی کا مطالعہ ہمارا موضوع ہے۔
انشا اللہ آئیندہ اقساط میں اسی پر گفتگو کی جائے گی۔
(جاری ہے)

واعظ اثر کیوں کھو دیتے ہیں

نکاح کی تقریب میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مولانا صاحب نے سماں باندھ دیا. نہایت جلالی انداز میں حاضریں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے اپنی خوائشات اور نمود نمائش کی خاطر نکاح کو مہنگا بنا دیا ہے. جس کی وجہ سے زنا آج آسان جبکہ نکاح مشکل ہو چکا ہے. بے حیائی نے معاشرے کی چولیں ہلا ڈالی ہیں. یاد رکھو قوموں کی تباہی میں سب سے اہم کردار بے حیائی اور زنا کاری کا ہوتا ہے. تمارا معاشرہ اب تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے. اگر اب بھی نہ پلٹے تو تمارا مقدر دردناک عذاب ہو گا. اگر اللہ کے قہر سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے نکاح کو سہل اور بلا قیمت کر دو. شادی میں مہر اور ولیمہ کے سوا ہونے والے تمام اخراجات اور رسومات کو ختم کر دو. مہر بھی کم مقرر کرو اور ولیمہ بھی سادگی سے ہو. تبھی معاشرے میں عفت حیا اور پاکبازی کو فروغ ملے گا. اللہ کی نعمتیں اور برکتیں نازل ہوگی.
تقریب کے اختتام پر میرا دل چاہا کہ اسے حق گو اور بے باک عالم سے مصافہ کرنے کی سعادت حاصل کروں. مولانا صاحب کی طرف گیا تو انہیں ہجوم میں گرا پایا. غالبا تقریب میں موجود ہر شخص کی دلی کیفیت میرے جیسی تھی. حل میں ایک طرف مولانا صاحب کے ساتھ آنے ان کے اسسٹنٹ نما صاحب دولہے کے باپ سے مصروف گفتگو تھے. سوچا اُن سے ہی مولانا صاحب اُن کا پتہ پوچھ لوں اور مستقل ان کے ہاں حاضری کو معمول بناوں. تاکہ کچھ تذکیہ نفس ہو سکے. یہی سوچ لئے قریب جا کر کھڑا ہوا. وہ صاحب دولہے کے والد سے کہ رہے تھے کہ نکاح پڑھانے کے پانچ سات ہزار تو گلی محلے کے کے مولوی لیتے ہیں. مولانا صاحب کو تو لوگ لاکھوں ہدیہ کر دیتے ہیں. آپ زیادہ اصرار کر رہے ہیں تو بیس ہزار روپے اور کپڑوں کا جوڑا دے دیں.
میں ایڈریس لئے بغیر ہیک واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.

پاکستان کا دوست کون؟ دشمن کون؟

یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب نوے فیصد افغانستان پر ملؔا عمر کی حکومت تھی۔ تب ایک بار مجھے مغرب کے بعد کابل سے قندھار کے لئے ہنگامی طور پر نکلنا پڑا۔ گاڑی کے افغان ڈرائیور نے بتایا کہ رات کے اوقات میں شہر سے نکلنے اور راستے کی چوکیوں سے گزرنے کے لئے ’’نامِ شب‘‘ (Night code) معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کابل سے نکلنا راستے میں موجود درجنوں چوکیوں سے گزرنا اور قندھار میں داخل ہونا ناممکن ہے۔
میں نے کئی جگہ فون گمایا کہ کسی متعلقہ ذمہ دار سے رابطہ ہوجائے تاکہ نائٹ کوڈ حاصل کر سکوں، لیکن اتفاق ایسا تھا کہ کوئی بھی فرد دستیاب نہیں تھا۔ ڈرائیور سے عرض کی کہ اللہ کا نام لے کر نکلتے ہیں، دیکھیں گے کہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔ ڈرائیور نے بڑے معنی خیر انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ضد کر رہے ہو تو چلے چلتے ہیں لیکن ایک گھنٹے بعد پہنچیں گے واپس اِدھر ہی۔
کابل کے علاقے ’’وزیر اکبر خان‘‘ سے روانہ ہو کر ہم آدھ گھنٹے میں شہر کے خارجی راستے پر واقع پہلی چیک پوسٹ پر پہنچ گئے۔ پوسٹ پر رُکتے ہی حسبِ توقع پہلے منزل اور پھر ’’نامِ شب‘‘ پوچھا گیا۔ ’’نامِ شب‘‘ معلوم نہ ہونے پر آگے جانے کی اجازت دینے سے قطعی انکار ہو گیا۔ ڈرائیور نے پشتو اور فارسی میں خاصی بحث کی لیکن جب انکار، اقرار میں تبدیل نہ ہوا تو میری طرف مڑ کر پشتو لہجے میں پنجابی کا مشہور جملہ بولا ’’ہن آرام ای‘‘۔
ڈرائیور کا یہ جملہ سُن کر چوکی پر موجود طالبان کے ذمہ دار نے مجھ سے پوچھا تم پاکستانی ہو؟
میرے اقرار پر اُس نے ہمیں چوکی کے اندر آنے کی دعوت دی، قہوہ پلایا، تاخیر پر معذرت کی، نامِ شب بتایا اور دعائیں دے کر رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی کہ ہر صوبے کی چوکی پر "نامِ شب" مختلف ہوتا ہے۔ ہر نئے صوبے کی چوکی پر بتا دینا کہ تم پاکستانی ہو، انشا اللہ کہیں مسئلہ نہیں ہوگا، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ راستے میں آنے والی درجنوں چوکیوں میں سے کسی پر "نامِ شب" اور کہیں ’’پاکستانی‘‘ کا ’’اسم اعظم‘‘ دھراتے رہے، جس پر فورا قہوہ پر اصرار کے ساتھ آگے جانے کی اجازت مل جاتی۔ یقین جانیے اُس وقت اپنے پاکستانی ہونے پر جتنا فخر محسوس ہوا ویسی نوبت آج تک دوبارہ نہیں آ سکی ہے۔
اس کے ٹھیک ایک سال بعد ہی پاکستانی ہوائی اڈوں سے پرواز کرنے والے بی 52 طیاروں سے برسنے والے ڈیزی کٹر بموں نے طالبان کی حکومت کو قصہ پارینہ بنا دیا تھا۔ پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر طالبان حکومت کے خاتمے اور حامد کرزی کی حکومت کے قیام میں اہم قردار ادا کیا تھا۔ اُس وقت مجھے ایک بین القوامی ٹی وی چینل سے اس کے کابل بیورو میں کام کرنے کی آفر ملی۔ میں اپنے پاکستانی اور غیر ملکی صحافی دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے متفقہ طور پر ایک ہی جواب دیا، افغانستان میں انڈین لابی قابض ہے وہاں کسی بھی پاکستانی کی زندگی کسی بھی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔ افغانستان جانے والے کئی پاکستانی صحافی دوستوں نے کابل میں عوام اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تذلیل کے ایسے قصے سُنائے کے کابل جانے کے نام سے توبہ کر لی۔
آج جب مجھ سے کہا جاتا ہے کہ طالبان اور ملّا عمر کا اچھے الفاظ میں ذکر یا افغانستان پر قابض امریکہ کی کٹھ پُتلی حکومت پر تنقید پاکستان سے دشمنی کے برابر ہے، تو مجھے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دشمنی اور دوستی کے معیار بنانے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کا دل کرتا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ ہر مظلوم کی آخری امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون کہتا ہے پاکستان میں انصاف بروقت نہیں ملتا، سندھ ہائی کورٹ کے جج محمد علی مظہر نے تو عدل کی تاریخ رقم کی ہے جس پر دنیا بھر کے منصف صدیوں تک رشک کرتے رہیں گے۔

موصوف کی عدالت میں درخواست پیش ہوئی کہ ایف آئی اے ایک آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی انکوائری کر رہی ہے۔ انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے کسی مجاز عدالت سے حکم لئے بغیر ازخود ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل بول کے تمام اکاونٹ سیل کیے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بول اور ایگزیکٹ کے 7 ہزار ملازمین کو تین مہینوں سے تنخوائیں ادا نہیں ہوسکی ہیں۔ جس کی وجہ سے 7 ہزار خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ چونکے یہ اکاونٹس کی بندش غیر قانونی ہے لہذا عدالت عید سے پہلے اکاونٹس کی بحالی کا حکم صادر کرے۔

جسٹس محمد علی مظہر صاحب نے درخواست کی سماعت پر ایف آئی اے سے پوچھا کہ، کیا اکاونٹس کی بندش کا حکم نامہ کسی عدالت نے جاری کیا ہے؟ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ کسی عدالت نے ایسا حکم جاری نہیں کیا۔ معزز جج صاحب نے پوچھا کہ، کیا ایگزیکٹ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کوئی ایسی دفعہ شامل ہے جس میں اکاونٹ سیل کرنا قانونی تقاضہ ہو؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایسی کوئی دفعہ ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے۔ جناب جسٹس نے استفسار کیا کہ، کیا ایسے متاثرہ مدعی موجود ہیں جنہیں ایگزیکٹ سے ریکوری کروانی ہے؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایگزیکٹ سے ریکوری کا کوئی مدعی ملک میں یا بیرون ملک موجود نہیں ہے۔ پھر جج صاحب نے ایف آئی اے سے پوچھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ ایگزیکٹ اور بول کے اکاونٹ کیوں سیل کیے گئے ہیں؟ ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے تاکہ ہم جواب تیار کر سکیں۔ جج صاحب نے حکم جاری کیا کہ آپ کو دس دن کی مہلت دی جاتی ہے آپ لوگ جواب تیار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

دس دن بعد جب سماعت شروع ہوئی تو عید میں چند دن ہی باقی تھے۔ جج صاحب نے ایف آئی اے کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تو ایک وکیل صاحب نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز سابق وکیل کو ہٹا کر یہ کیس میرے سپرد کیا ہے، چونکہ مجھے تیاری کا وقت نہیں ملا لہذا مجھے دو ہفتوں کی مزید مہلت دی جائے۔ جج صاحب نے کچھ سوچنے کے بعد حکم صادر کیا کہ آپ کو تیاری کے لئے 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔

ایگزیکٹ کے وکیل نے عدالت سے استداء کی کہ یہ سات ہزار خاندانوں کے لاکھوں افراد کا معملہ ہے۔ اگر عدالت اکاونٹ بحالی کے لئے لمبی تاریخ دے رہی ہے تو وہ کم از کم ایف آئی اے کو اپنی نگرانی میں ملازمین کو تنخواوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دے۔ جتنی رقم اکانٹس سے جاری کی جائے اُتنی رقم کے برابر مالیت کی جائیداد عدالت رہن رکھ لے۔ جج صاحب نے ایک طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ملازمین اور اُن کے خاندانوں سے ہمدردی ہے لیکن ایف آئی اے کے جواب آنے سے پہلے کیس کا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ عدل کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جانے سے بھلے ہی محروم رہے، لیکن یہ وفاداری کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ کیوں کہ جناب جسٹس محمد علی مظہر صاحبزادے ہیں مظہر علی صدیقی صاحب کے جن کا بطور وکیل سارا کیرئر جنگ گروپ کے قانونی مشیر گزرا تھا، والد صاحب کی وفات کے بعد محمد علی مظہر اپنے والد کی جگہ جنگ گروپ کے قانونی مشیر مقرر ہوئے تھے۔ جن کے سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے کے لئے جنگ گروپ نے باقاعدہ لابنگ کی تھی۔ ان کے جج بننے پر جنگ اخبار نے خلاف معمول اپنا پورا رنگین صفہ ان کی خدمات اور شخصیت کے کارناموں کے لئے مختص کیا تھا۔ اب اگر جج صاحب انصاف کی کُرسی پر بیٹھ کر محسن نوازی کی روایت قائم کر رہے ہیں تو اس میں بُرا کیا ہے۔ اب وہ دور تو رہا نہیں جب جج خود کو ایسے کسی مقدمے سے از خودعلیحدگی اختیار کر لیتے تھے جس میں اُن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتا ہو۔ اب تو مشہور ہے کہ وکیل کیا کرنا سیدھا جج کر لو۔

خیر جناب جسٹس محمد علی مظہر کی نذر روز نامہ جنگ کے ہی گروپ ایڈیٹر جناب محمود شام کے اشعار کرنے کو جی  چاہتا ہے، جو عین حسب حال بھی ہیں۔

اب کے تو اہلِ عدل انصاف کر گئے
برسوں کے داغ انکی جبیں سے اتر گئے
کتنے باضمیر تھے جو مر کے بھی زندہ ہیں آج
کتنے بے ضمیر ہیں جو زندہ ہی مر گئے

جہاد کشمیر ۔۔۔۔ ناکامی کا ذمہ دار کون؟؟

میں نے اپنے صحافتی کیریئر کا اولین انٹرویو سردار عبدالقیوم خان صاحب کا کیا تھا۔ تقریبا 14 سال پہلے کی بات ہے۔ یہی جون جولائی کے دن تھے۔ حبس سے دم گُھٹا جا رہا تھا۔ جب پہلی بار چیف رپوٹر نے مجھے کہا کہ آج تم نے اکیلے انٹرویو کرنا ہے تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ ایک سنئیر نے ساتھ بیٹھ کر چار پانچ سوال ایک کاغذ پر لکھوائے اور پھر کہا کہ باقی بات سے بات نکلا کرتی ہے، تم موقعے کی مناسبت سے مزید سوال کرتے جانا۔ پھر تاکید بھی فرمائی کہ سردار صاحب منجھے ہوئے سیاستدان اور صاحبِ مطالعہ فرد ہیں دیکھنا کوئی بونگی نہ مار دینا۔

خیر میں میلوڈی اسلام آباد سے ایک نمبر ویگن پر بیٹھ کر مری روڈ کے رحمان آباد سٹاپ پہنچا، پھر سٹلائٹ ٹاون کی قریبی گلیوں میں واقعے خانہ فرہنگ ایران کو ڈھوندتا ہوا مجاہد منزل کے صدر دروازے پر پہنچ گیا۔ لیکن جون جون وقت گزرا، ایک نامعلوم سا خوف مسلط ہوتا گیا تھا۔ کال بیل کا بٹن دبانے تک میں باقاعدہ نروس ہو چکا تھا۔ بہرحال بیل بجانے اور اپنا تعارف کرانے کے بعد جلد ہی وسیع و عرض ڈرائنگ روم میں درجنوں لوگوں میں گھرے ہوئے سردار عبدالقیوم صاحب کے سامنے موجود تھا۔ جنہوں نے کمال شفقت سے کھڑے ہو کر معانقہ کیا، اپنے نزدیکی صوبے پر بٹھایا اور پانی لانے کا حکم دیا۔ پانی کے بجائے ایک صاحب سیون اپ لے آئے۔ جس کی چسکیاں لیتے ہوئے میرا خوف کچھ کم ہو گیا، ابھی گلاس آدھا ہی کیا تھا کہ سردار صاحب نے با آواز بلند اعلان کیا کہ یہ بچہ انٹرویو کے لئے آیا ہے، لہذا باقی سب لوگوں کو مکمل خاموش ہو کر ہیٹھنا ہوگا یا پھر آپ لوگ دوسرے کمرے میں تشریف لے جائیں۔ اعلان کے خاتمے پر اکثریت دوسرے کمرے کی طرف روانہ ہوگئی۔ میں نے اپنا ننھا منا سا ٹیپ ریکاڈر نکال کر سامنے رکھا، ریکارڈ کا سرخ بٹن دبایا، نوٹ پیڈ اور بال پوانٹ کی پوزیشن درست کی اور جیب سے سوالات والا کاغذ نکال کر پہلا سوال داغ دیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلا سوال کرتے ہوئے ہوئے میری آواز میں ارتعاش بہت واضع تھا۔ سردار صاحب نے بڑے تحمل سے سوال سُنا اور پھر تفصیلی جواب دینا شروع کیا۔

خیال رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں جہاد کشمیر اپنا جوبن دیکھنے کے بعد اب اپنے ہی "پشتی بانوں" کی بدعمالیوں اور سازشوں کے نتیجے میں کسی ضعیف اور لاغر فرد کی طرح ہو چکا تھا۔ میرے تمام سولات جہاد آزادی کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں تھے۔ جن کے جوابات سرادار صاحب بہت محتاط انداز اور نپے تلے الفاظ میں دے رہے تھے۔ تقریبا پون گھنٹے تک مسلسل سوال، جواب کے بعد میں نے ایک آخری سوال ان الفاظ میں داغا۔ "کشمیر کے پہلے جہاد کے آپ بانی مبانی تھے، موجودہ دم توڑتے جہاد کے اول و آخر، ظاہر و باطن سب سے آپ اچھی طرح واقف ہیں، آپ کے نزدیک دونوں مرتبہ ناکامی کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے؟"

سردار عبدالقیوم صاحب نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا، پھر مسکراتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔ "کشمیرکی آزادی کے دونوں تحریکوں کی ناکامی کے ذمہ دار کا نام میں نہیں لوں گا، اگر میں لے بھی لوں تو کہیں چھپے گا نہیں، اور اگر کہیں چھپ گیا تو میں، تم اور چھاپنے والے کسی کی خیر نہیں۔ تم صحافت میں نئے ہو اس لئے یہ سوال کر رہے ہو، تھوڑا وقت گزرنے دو، پھر تم کبھی ایسا سوال نہیں کیا کرو گے"۔

اُس روز مجھے معلوم ہوا کہ "کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے" دراصل ہوتا کیا ہے۔ اب کہاں وہ لوگ جن سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان سے مل کر انسان کچھ سیکھتا ضرور تھا۔

میڈیا مالکان ۔۔۔۔۔۔ قاری اور ناظر کا بدترین استحصال



چند دن پہلے تک پاکستان میں خبروں کا سب سے بڑا موضوع ایگزیکٹ ایشو تھا۔ ہر روز ایف آئی اے کی تحقیقات، گرفتاریوں اور برامدگیوں کی خبروں سے ٹی وی چینلز کے تمام بلیٹن اور اخبارات کا پورا پہلا صفحہ بھرا ہوا ہوتا تھا۔ ہر چند لمحوں بعد چیختی چنگاڑتی بریکنگ نیوز ٹی وی سیکرینز پر نمودار ہو رہی تھیں۔ ایسے لگ رہا تھا کہ دنیا میں پائی جانے والی تمام بُرائیوں اور خرابیوں کی جڑیں ایگزیکٹ کے دفتر میں سے مل گئی ہیں۔ اخبارات نے تو بول اور ایگزیکٹ کے بارے میں حقائق سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے خبروں سے ہٹ کر پورے صفحے کا سپلیمنٹ تک چھاپ دیا۔
پھر ہر طرف اچانک خاموشی چھا گئی۔ بریکنگ نیوز اور ہیڈلائنز سے ایگزیکٹ کا ایشو غائب ہو گیا؟؟
یہ اس لئے ہوا کہ اب خبریں ایگزیکٹ کے حق میں آنا شروع ہوگئی تھیں، جنھیں بلیک آوٹ کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈی جی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کھل کر کہہ دیا کہ تمام تر تحقیقات کے باوجود ایگزیکٹ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ صورتحال یہ ہے جن کے دفتر سے لاکھوں جعلی ڈگریوں کی برامدگی کی خبریں چلائی گئی تھی، اُن پر ایف آئی اے فرد جرم عائد کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ جج صاحب کی بار بار تنبیہ پر بھی چالان پیش نہیں کیا جا رہا۔ اب تو جج صاحب نے ایف آئی اے کو آخری مہلت دی ہے، اگر دس دن کے اندر چالان جمع نہ کرایا تو عدالت عبوری چالان پر ہی ٹرائیل شروع کر دے گی۔ کمزور کیس کی وجہ سے گرفتار ملازمین جیل سے رہا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اب وہ مالکان جو اپنی میڈیا ایمپائر کو للکارنے کے جرم میں ایگزیکٹ اور بول سے وابسطہ ہر فرد کو پھانسی پر لٹکوانا چاہتے تھے۔ ان کی رہائی کی خبریں کیوں نشر یا شائع کریں گے۔ یہ صورتحال صرف ایگزیکٹ ایشو تک محدود نہیں ہے۔ اخبارات ہوں یا چینلز دونوں کا معیار ایک ہے۔ کس خبر کو نمایاں کرنا ہے اور کس کو شائع نہیں کرنا اس کا فیصلہ اخبار یا چینل مالک کے کاروباری مفاد یا اُس کی ذاتی پسند نا پسند پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے بدترین استحصال کے بارے میں کوئی خبر کسی اخبار یا چینل پر نہیں چل سکتی ہے، کیوں کہ فون کمپیناں اشتہارات دیتے وقت پابند کرتی ہیں کہ اُن کے خلاف خبر نہیں چلائی جائے گی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو قاری اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے اخبار خریدتا ہے یا کیبل کی فیس ادا کرتا ہے، اُس کو اخبار یا چینل مالک کے کاروباری مفادات یا ذاتی پسند ناپسند پر مبنی مواد دیکھنے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے؟ قاری یا ناظر کو حقائق جاننے سے دلچسبی ہوتی ہے، جس کے لئے وہ اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم خرچ کرتا ہے۔ لیکن میڈیا مالکان اُس کا استحصال کر رہے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ بےچارا قاری اس استحصال کی کسی فورم پر شکایت بھی نہیں کر سکتا۔
کیا یہ آزادی اظہار پر قدغن نہیں ہے؟؟؟ آئین میں آزادی اظہار کی جو ضمانت دی گئی ہے وہ یہاں آکر کیوں بے بس ہو جاتی ہے؟؟ اس پر صحافتی تنظیموں، سول سوسائٹی اور ممبران پارلیمنٹ کو سوچنا ہوگا۔

مسجد قاسم خان پشاور میں رویت ہلال کی تاریخ

پاکستان میں رمضان اور عید کے چاند کی رویت ہر سال ہی تنازعے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اعلان سامنے آتا ہے تو دوسری جانب مسجد قاسم خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ یوں عموما پورے ملک میں ایک ساتھ رمضان اور عید نہیں ہو پاتی۔
عموما لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد قاسم خان سے ہونے والا اعلان کوئی تازہ وادات ہے جس کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔


 بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ پشاور کی مسجد قاسم خان سے چاند کی رویت کا فیصلہ ہونے کی راویت کئی صدیوں سے جاری ہے۔ پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے پہلو میں واقع مسجد قاسم خان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی پہلی تعمیر اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں پشاور کے گورنر محبت خان نے کی تھی۔ (محبت خان کے بھائی کا نام قاسم خان تھا)۔ بعد ازاں اس کی تعمیر نو اور توسیع کشمیری نژاد سوداگر حاجی غلام احمد صمدانی کے ہاتھوں اٹھارویں صدی کے آخر میں سرانجام پائی جو آج تک برقرار ہے۔ مسجد قاسم خان میں رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے عہد میں پشاور کے قاضی اور خطیب مسجد قاسم خان عبدالرحیم پوپلزئی نے کیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے بعد پشاور سکھوں کی علمداری میں چلا گیا، بعد ازاں طویل عرصے تک انگریزوں کے زیر قبضہ رہا۔ اس تمام عرصے میں رویت کا حتمی فیصلہ مسجد قاسم خان سے ہی ہوتا رہا۔ عبد الرحیم پوپلزئی کے بعد اُن کے فرزند حافظ محمد آمین پوپلزئی اور پھر اُن کے فرزند عبدالقیوم پوپلزئی اور پوتے عبدالحکیم پوپلزئی مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور یہاں سے رویتِ ہلال کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ عبدالحکیم کے فرزند عبد الرحیم پوپلزئی ثانی مسجد قاسم خان کے خطیب کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں تحریک خلافت کے سرگرم کارکن اور امیر بھی تھے۔ قصہ خوانی کے مشہور قتل عام کے بعد آپ کو بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید کی سزاء سنائی گئی تھی۔ دوسری مرتبہ آپ کو وزیرستان میں انگریزی طیاروں کی بمباری کے خلاف بنوں میں احتجاج کی پاداشت میں طویل عرصے کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ عبد الرحیم پوپلزئی ثانی کے بعد مسجد قاسم خان کی خطابت آپ کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم پوپلزئی کرتے رہے۔ جن کے فرزند مفتی شہاب الدین پوپلزئی مسجد قاسم خان کے موجودہ خطیب و امام ہیں۔ جو آج بھی پشاور و اطراف کے ٓنے والی شہادتوں کو جمع کر کے رمضان، شوال اور ذوالحجہ کی رؤیت کااعلان کیاجاتاہےکیونکہ ان مہینوں پہ اسلامی احکامات موقوف ہوتےہیں پشاور و اطراف کے علاوہ دیر، بونیر، ملاکنڈ اور قبائل کی اکثر آبادی آج بھی سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے بجائے مسجد قاسم خان سے ہونے والے رویت کے اعلان کے مطابق رمضان اور عید مناتے ہیں۔


نوٹ: اس مضمون کے لئے قاسم اقبال صاحب کی کتاب ۔ (ثقافت سرحد ،تاریخ کے آئینے میں) اور عبدالجلیل پوپلزئی صاحب کی کتاب ( تاریخ خاندان پوپلزئی) کے علاوہ پاکستان کرونیکل سے استفادہ کیا گیا ہے

اے شیوخِ عرب

اے شیوخِ عرب!!
تمہیں علم ہے کہ تم پر عذاب کیوں نازل ہوا ہے؟ یہ کئی سر والا عفریت جو تمیں چاروں طرف سے گھیر رہا ہے۔ لبنان، شام، بحرین کے بعد اب یمن تمارے لئے ڈرونا خواب بن چکا ہے، تماری سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ تم جو آج اپنی عشرت گاہوں میں لرزہ بر اندام ہو۔ جانتے ہو کہ یہ کس جرم کی سزا ہے؟
کبھی غور کیا! آج تمیں اپنے عالیشان محلات میں چین نصیب نہیں، دنیا کی سب سے بہترین اور آرام دہ گاڑیوں میں سکون میسر نہیں، ملازموں کی فوج ظفر موج کے ہوتے، غم روزگار کی فکر سے آزاد ہی نہیں بلکہ دولت کے انباروں میں ڈوبے ہونے کے باوجود، جو تمیں کسی کروٹ چین نہیں ملتا، کبھی سوچا ہے کہ قدرت تم سے تمہاری کس بدعمالی کا انتقام لے رہی ہے؟؟
تمارے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ تم یاد تو کرو، کل تک تم صرف ایک خانہ بدوش بدّو تھے۔ 20و یں صدی کے چھٹے عشرے تک تمہیں جدید دنیا کی کوئی نعمت میسر نہیں تھی۔ تمہاری گزر اوقات مال مویشی پالنے پر تھی، یا پھر سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر تم زندگی کا سامان مہیا کرتے تھے۔ بار برداری اور نقل وحمل کا واحد زریعہ اونٹ اور گھوڑے تھے۔ تمارے فقیر خیرات کی خاطر اور متمول بہتر مزدوری کی تمنا دل میں لے کر یمن، شام، ترکی اور ہندوستان کی خاک چھانا کرتے تھے۔
پھر مشیت ایزدی کو تم پر رحم آگیا۔ تمارے صحرا سے تیل کے چشمے جاری ہو گئے۔ تم پر ہُن برسنے لگا۔ دنیا کی ہر نعمت تمارے قدموں میں آگئی۔ دنیا کے کونے کونے سے لوگ آکر تماری چاکری کرنے لگے۔ اور تم اللہ کی ان نعمتوں کے حصول پر شکرگزار ہونے کے بجائے اترانے لگے۔ تکبّر کو اپنا شعار بنا لیا۔ جس سرزمین پر اللہ کے بنی ﷺ نے مساوات کا درس دیا تھا، وہیں تم نے انسانوں کو وطنی اور اجنبی کے اعلیٰ اور ادنیٰ خانوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اللہ کی صفات کو اپنی ذات میں مرکوز کرنے کی جسارت کی اور خود کو انسانوں کا "کفیل" اور "ارباب" کہنے و سمجھنے لگے۔ یہی نہیں بلکہ تم نے اسراف کی انتہا کر دی۔ دولت کو اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنے کے بجائے نمود نمائش پر اڑاتے گئے۔ جس اللہ کی نمعتوں سے سرفراز ہوئے تھے اُس کے دین کی امداد کے بجائے، تم دین کے دشمنوں پر اپنے خزانے لُٹاتے رہے۔ اس سب کے باوجود اللہ کی رسی دراز ہوتی گئی۔
پھر تم ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے۔ اپنی عیاشیوں کی خاطر اللہ کے دین کے غلبے کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے دشمن بن گئے۔ ظاغوت اکبر نے عراق کے مسلمانوں کا قتل عام کیا تو تم اُس کے معاون اور ممددگار تھے۔ شام میں اللہ کا دشمن بشار تماری نیم رضامندانہ خاموشی کی شہہ پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ سیسی نے جب سے علائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد میں مصروف اخوان کے خون سے مصر کے کوچہ و بازار کو رنگین کرنا شروع کیا تو تم نے اُس کے لئے اپنے خزانے وقف کر دیے۔ تم بھول ہی گئے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اُس کی تدبیر ہر مکر پر بھاری ہوتی ہے۔ وہ جب اپنے کُتوں میں سے کسی کُتے کو متکبر دشمن پر مسلط کر دیتا ہے تو پھر کسی مدد کرنے والے کا حصار کارآمد نہیں ہوتا۔
اے شیوخِ عرب تمیں جو چیز اللہ کے عذاب سے بچا سکتی ہے وہ کسی ملک کی فوج ہے نہ کسی عالمی تنظیم یا حکومت کا اثر و رسوخ۔
ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کُھلا ہے۔ پلٹ آؤ قبل اس کے، کہ یہ آخری دروازہ بھی بند ہو جائے۔

یمن اور حوثی چند حقائق

یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے اور پھر سعودیہ کی جانب سے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد یمن کے حوثی قبیلہ دنیا بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ عوام تو عوام ہمارے خاصے صاحب علم افراد کے پاس بھی حوثی قبیلے کی تاریخ اور مذہب کے بارے میں مستند معلومات نہیں ہیں۔ اہل صحافت خصوصا ٹی وی اینکرز اس بارے میں عجیب و غریب خود ساختہ حقائق پھیلا کر لوگوں کو مزید کنفیوز کر رہے ہیں۔حوثیوں کے بارے میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ یہ شعیہ مذہب کے زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات ماضی کے حوالے سے  کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر زیدی فرقے کے مذہبی عقائد پر ڈال لیتے ہیں۔ زیدی شیعہ عقائد کے اعتبار سے اثنا عشری (بارہ امامی) اور اسماعیلی شیعوں سے مختلف ہیں۔ اثنا عشری اور اسماعیلی شیعہ امامت پر نص کے اصول کے قائل ہیں۔ جس کے مطابق امام کے انتخاب کا حق اُمت کی بجائے خدا کو حاصل ہے۔ جبکہ زیدی شیعوں کا ماننا ہے کہ امامت اگرچہ اہل بیعت اور اولاد فاطمہؓ میں ہے تاہم اُمت اہل بیعت میں سے کسی بھی ایسے راہنما کو امام مان سکتی ہے جس کا عدل مشہور ہو اور جو ظلم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ فقہی اعتبار سے بھی زیدی شیعہ حنفی اور مالکی سنی مکاتب فکر سے قریب ہے۔معاملات کو سمجھنے کے لیے ہم یمن کی پچھلی ایک دو صدیوں کی تاریخ پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے شمالی یمن زیدی شیعہ اکثریتی علاقہ رہا ہے۔ زیدی شیعوں کے سیاسی تسلط کی تاریخ شمالی یمن میں کوئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ایسے ادوار بھی ہیں جن میں یہ تسلط شمالی یمن سے بڑھ کے تقریباً پورے یمن میں موجود رہا ہے۔اس کے برعکس جنوبی یمن جس کا سیاسی دارالحکومت بالعموم عدن کی بندرگاہ ہے تاریخی اعتبار سے سنیوں کے شافعی مکتبہ فکر کی اکثریت کا گہوارا رہا ہے۔ عدن کی بندرگاہ اور جنوبی یمن کے اکثر حصے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں پہلے سلطنت عثمانیہ اور بعد میں براہ راست برطانوی سلطنت کے زیر اختیار چلے گئے تھے۔ تاہم شمالی یمن میں دو صدیوں سے قائم شیعہ زیدی امامت میں کسی نہ کسی طرح 1962ء تک اپنی سلطنت کو برقرار رکھا اگرچہ اُس کی حیثیت کئی ادوار میں علامتی ہی تھی۔1962ء میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری عرب سوشلسٹ نیشنلسٹ تحریک کے نتیجے میں مصر کے جمال عبدالناصر کے حامی فوجی افسران نے شمالی یمن میں شیعہ زیدی امامت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ اس موقعہ پر سعودی عرب کی حکومت نے زیدی امام کا ساتھ دیا تھا جبکہ باغیوں کی امداد کے لئے مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے مصری فوج اور بڑی مقدار میں اسلحہ یمن بھیجا تھا۔ یمن کی یہ خانہ جنگی 5 سال تک جاری رہی۔ 1967ء میں اسرائیل جنگ میں بدترین شکست کے نتیجے میں جمال عبدالناصر شمالی یمن سے مصری افواج کے انخلا پر مجبور ہوگیا تھا۔ یوں سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک مفاہمت کے نتیجے میں یمن دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک طرف شمال میں جمہوریۂ یمن معرض وجود میں آیا تو دوسری طرف جنوبی یمن میں جاری نیشنلسٹ سوشلسٹ گوریلا تحریک کے نتیجے میں برطانیہ کا عدن اور جنوبی یمن کی دوسری نوآبادیوں سے انخلا عمل میں آیا۔ جس کی بدولت عوامی جمہوریۂ یمن یا سوشلسٹ یمن کا قیام عمل میں آیا جو سرد جنگ کے زمانے میں عرب دنیا کی واحد سوشلسٹ جمہوریہ تھی۔1990 میں ایک معاہدے کے تحت شمالی اور جنوبی یمن میں اتحاد ہو گیا۔ یوں 22 مئی 1990 کو علی عبداللہ الصالح متحدہ یمن کا پہلا صدر بن گیا۔*****22 مئی 1990 سے 27 فروری 2012 تک یمن پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے علی عبداللہ صالح کا تعلق متحدہ یمن کے دارالحکومت صنعاء کے نواع میں مقیم احمر قبیلے سے ہے جس کی اکثریت مذہبا” زیدی شیعہ ہے۔ خود عبداللہ کا تعلق بھی اسی مذہب ہے۔ عبداللہ الصالح کی متحدہ یمن پر حکومت کے قیام کو چند ماہ بعد ہی گزرے تھے کہ اگست 1990ء میں کویت پر عراق نے قبضہ کر لیا۔ جس کے بعد عرب کی تمام ریاستوں نے صدام حسین کی عراقی حکومت کے خلاف اتحاد قائم کر لیا۔ لیکن یمن کا عمومی جھکاؤ عراق کی جانب تھا۔ جس کی وجہ سے یمن اور دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ خصوصا خلیج کی دوسری جنگ کے موقعہ پر یمن نے کھل کر اپنا وزن عرب اتحاد کے مخالف پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ یمن کی خارجہ پالیسی کے رد عمل میں سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کی عاقبت نااندیش قیادت نے اپنے ہاں سے بڑی تعداد میں یمنی شہریوں کو نکال دیا۔ یاد رہے کہ اس جنگ سے پہلے کویت اور سعودی عرب سمیت دیگر تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کی یمن اور یمنیوں پر بڑی عنایات تھیں۔ تعلیم، صحت، اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں یمن کو ان ریاستوں سے بڑے پیمانے پر تعاوّن ملتا تھا۔ ان ملکوں میں یمنیوں کو کام کرنے اور رہنے کے لئے غیر معمولی سہولیات میسر تھیں۔ خلیجی ممالک سے بڑے پیمانے پر انخلاء کی وجہ سے یمن میں عوام بہت زیادہ معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے، خصوصا یمن میں بے روز گاری میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ اس معاشی ناگفتہ بہ صورت حال میں یمن کی عوام میں عرب حکومتوں کے خلاف جذبات کا پیدا ہونا فطری عمل تھا، جس کا فائدہ ایران نے اٹھایا۔اگرچہ 1960ء کی دہائی میں شیعہ زیدی امامت کے خاتمے کے بعد سے ہی شیعہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ حالات سے ناخوش تھا۔ تاہم 1990 میں عرب ممالک کی جانب سے یمن کی اقتصادی امداد کی کٹوتی اور عمومی سرد مہری کے رجحان سے فائدہ اٹھانے کے لئے حسین بدرالدین حوثی نے ایران کے تعاون سے نے ’شباب المومنین‘ نامی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ حسین ایک زبردست خطیب اور اپنے ساتھ لوگوں کو لے کر چلنے میں ماہر تھا۔ اس نے سب سے پہلے نوجوانوں کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ایران کی امداد سے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہسپتال، سکولز اور سوشل ویلفیئر کے دوسرے منصوبے شروع کیے۔ ان تمام اداروں میں خاص طور پر “امامی شیعہ دینیات” کے پڑھنے اور پڑھانے کا نظام قائم کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں زیدی شعیوں کو امامی یا اثناء عشری بنانے کا آغاز ہوا۔ ’شباب المومنین‘ کے زیر اہتمام طلبہ اور طالبات کو بڑی تعداد میں ایرانی یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوایا گیا۔ جو ایران سے عمومی تعلیم کے علاوہ مالی تعاون عسکری تربیت بھی حاصل کرتے تھے۔ یوں وہ ایران سے شیعہ انقلاب اور خیمنی کے سپاہی بن کر یمن واپس آتے تھے۔ حسین بدر الدین حوثی نے اپنی خطیبانہ مہارت اور انقلابی نعروں سے اور ایرانی پیسے کی مدد سے حوثی قبیلے کے شیعہ قائدین اور عوام کو اپنے گرد جمع کرلیا۔ بہت سے فوجی کمانڈروں اور حزب مخالف کے لیڈروں کو بھی اپنے پیسے کے لالچ سے اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا۔14 سال کی محنت اور ایران سے آنے والے بے پناہ وسائل کی بدولت بدالدین نے اتنی عسکری قوت مہیا کی کہ اُس نے 2004ء میں یمن پر قبضہ کرنے کے لئے بغاوت کر دی۔ یہ پہلی حوثی بغاوت کہلاتی ہے جو شمالی یمن کے سعودی سرحد سے متصل صوبے صعدہ میں واقع ہوئی تھی۔ حوثیوں کی یہ بغاوت بُری طرح ناکام ہو گئی تھی جس میں شباب المومنین کا بانی حسین بدرالدین اور اُس کے بہت سے اہم رفقاء یمنی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ خیال رہے کہ اس وقت یمن پر زیدی مذہب سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ الصالح کی حکومت تھی۔ حسین بدر الدین کے مارے جانے کے بعد تحریک کی قیادت اُس کے بھائی عبدالمالک الحوثی کے پاس آگئی۔ عبدالمالک الحوثی نے قیادت سنبھالتے ہی زیدی شعیوں سے تعلق مکمل طور پر ختم کر دیا۔ شباب المومنین کی تنظیم کو تحلیل کر کے اس کی جگہ نئی تنظیم انصار اللہ قائم کی جسے عرف عام میں الحوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس تحریک میں صرف اور صرف اثناء عشری مذہب اختیار کرنے والوں کو شامل کیا گیا جن میں اکثریت حوثی قبیلے کے افراد کی ہے۔عبدالمالک الحوثی کی خوش قسمتی تھی کہ جب اُس کے پاس قیادت آئی تو اُس وقت امریکہ اور مغربی ممالک یمن میں القاعدہ کے فروغ اور استحکام سے سخت پریشان تھے۔ امریکہ اور نیٹو نے القاعدہ کے یمن میں روز بروز فروغ پانے والے اثر و رسوخ کے سامنے بند باندھنے کے لئے حوثی تحریک کا انتخاب کیا۔ یوں اسے بیک وقت ایران اور مغربی ممالک کا مالی اور عسکری تعاون حاصل ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کی سرپرستی کی وجہ سے سعویوں اور دیگر خلیجی حکومتوں نے بھی اس کی سرگرمیوں سے چشم پوشی اختیار کر لی۔*****امریکہ، مغربی طاقتوں اور اُن کے خلیجی اتحادیوں کے نزدیک یمن میں طاقتور ہوتی ہوئی القاعدہ کی مقامی شاخ “انصارالشریعہ” القاعدہ کے دیگر گروپوں کی نسبت بہت زیادہ خطرناک تھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ان طاقتوں نے دو دھاری پالیسی کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف یمن کے حکمران علی عبداللہ الصالح کی وفادار فوج ری پبلکن گارڈز (جس کی قیادت علی عبداللہ الصالح کے بیٹے احمد علی الصالح کے پاس تھی) کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ 2004 سے لے کر 2011 تک یمنی ری پبلکن گارڈز کو امریکہ کی جانب سے 326 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ اور نقد رقوم مہیا کی گئیں، اسی عرصے میں اس کے فوجی کمانڈروں کی تربیت کے کئی پروگرامات پایہ تکمیل تک پہنچ چکے تھے۔ “انسدادِ دہشت گردی” سلسلے میں 2004 کی بغاوت کے وقت سے معتوب چلی آنے والی حوثی تحریک کی حکومت سے صلح کرائی گئی۔ 2008 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت بغاوت کے جرم میں قید تمام حوثی قائدین کو نہ صرف رہا کر دیا گیا، بلکہ ان کا تمام ضبط شدہ اسلحہ اور گولہ بارود واپس کر دیا گیا۔ اور ایران سے ملنے والی عسکری امداد پر بھی آنکھیں بند کر لی گئیں، جس کا امریکی حکام یہ جواز پیش کرتے تھے کہ اگر انہیں ایران سے امداد مل رہی ہے تو یہ القاعدہ سے لڑ بھی رہے ہیں۔دوسری جانب القاعدہ کے خلاف یمنی فوج اور امریکہ نے براہ راست جنگ کا بھی آغاز کر دیا۔ یمنی فوج زمینی کاروائیوں کی ذمہ دار تھی جبکہ اسے سعودیہ کی سرزمین سے پرواز کرنے والے امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے فضائی امداد مہیا کی جاتی تھی۔ امریکی ڈرون طیاروں کی ان کاروائیوں کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان، عراق اور صومالیہ کی نسبت کہیں زیادہ ڈرون حملے یمن پر کیے۔ بظاہر یہ ڈرون حملے اور زمینی عسکری کاروائیاں القاعدہ اور اس سے تعاون کرنے والوں پر کیے جاتے تھے، لیکن عملا ان کے نتیجے میں یمن کے تمام ہی سنّی قبائل کی عسکری قوت کو کمزور کر دیا گیا کیونکہ مغربی طاقتوں کا خیال تھا کہ القاعدہ کو سنّی قبائل سے اجتماعی یا انفرادی طور پر تعاوّن ملتا ہے۔یمن کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اُس وقت رونما ہوئی جب تیونس، مصر اور لیبیا میں عرب بہار کی کامیابی کے بعد یمن کے دارالحکومت صنعاء اور دوسرے شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی گئی۔ حکومت نے مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنائی۔ 2 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ 22 ہزار شدید زخمی ہوئے، جبکہ 7 ہزار افراد جیلوں میں قید کردیے گئے۔ علی عبداللہ الصالح کی ری پبلکن گارڈز کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود مظاہریں ڈٹے رہے۔ امریکہ اور اُس کے یورپی و خلیجی اتحادیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ افراتفری کے اس ماحول سے القاعدہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ لہذا پُرامن انتقال اقتدار کا ایک فارمولہ تیار کیا گیا، جس کے تحت علی عبداللہ الصالح کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور یمن کے تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ نئی قائم ہونے والی حکومت کا صدر “عبد ربہ منصور ہادی” مسلک کے اعتبار سے شافعی تھا، جبکہ اس حکومت میں وزیر اعظم کا عہدہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنی مضبوط سیاسی پوزیشن کی وجہ سے اخوان المسلمون کی یمنی شاخ جماعت الاصلاح کے پاس آ گیا۔یہاں حالات نے ایک اور کروٹ لی، عرب حکومتیں نہ صرف القاعدہ سے خائف تھیں، بلکہ وہ یمن میں اخوان کے نظریات رکھنے والے کسی شخص کو ملک کے اعلیٰ عہدے پر برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں تھیں۔ لہذا اس حکومت کے ساتھ ان کا رویہ ابتداء ہی سے بہت سرد مہری کا تھا۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے بھی اس حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی یمن کو دی جانے والی ہر قسم کی امداد بند کر دی۔ دوسری طرف علی عبد اللہ الصالح نے اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ 1911 میں یمن سے خلافت عثمانیہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر متحدہ یمن کے اقتدار پر اہل سنّت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ اس نعرے کو اہل تشیع میں پذیرائی حاصل ہوئی، یمن کے شعیہ اکثریتی علاقوں میں اہل تشیع کے اقتدار کی بحالی کے نعرے بلند ہونا شروع ہو ئے۔ علی عبداللہ الصالح کے تعاون، عبد المالک حوثی کی قیادت اور ایرانی عسکری ماہرین کی رہنمائی میں حوثی قبائل کی فوجوں نے پیش قدمی کرنا شروع کر دی۔دلچسب حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی کی راہ میں مزاحمت کرنے والوں میں سب سے نمایاں نام سابق صدر علی عبداللہ کے زیدی مذہب کے حامل قبیلے الاحمر کا ہے۔ جس کے مسلح نوجوانوں نے جنرل علی محسن الاحمر کی زیر قیادت 6 مختلف مقامات پر حوثیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لیکن اس موقع پر 30 سال سے زیادہ عرصے تک یمن کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے علی عبداللہ الصالح کی وفادار ری پبلکن کارڈز (جسے نئی حکومت نے بحیثیت ادارہ تحلیل کر دیا تھا) اور دیگر سرکاری عہدے داروں نے حوثیوں کا ساتھ دیا اور وہ بغیر کسی بڑی مزاحمت کے دارالحکومت صنعاء پر قابض ہو گئے۔ جہاں اںہوں نے سب سے پہلے طاقت کے بل بوتے پر “جماعت الاصلاح” کے وزیراعظم “سلیم باسندوا” کو برطرف کر دیا۔ “جماعت الاصلاح” کی قیادت اور کارکنوں کو چُن چُن کر قتل کیا گیا۔ یہاں تک سب کچھ پلان کے مطابق تھا اسی لئے یورپی اور خلیجی حکومتوں نے حوثیوں کے دارلحکومت صنعاء پر قبضے پر بھی کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔*****یمن کے دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے مکمل قبضے اور وزیر اعظم کی جبری برطرفی کے بعد قصر صدارت میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر (امریکی ٹاؤٹ کے طور پر شہرت رکھنے والا مراکش کا سابق سیاستدان) کی زیر نگرانی اور خلیج تعاون کونسل کی ضمانت میں حزب الاصلاح کو ایک طرف رکھ کر حوثی نمائندوں اور باقی یمنی سیاسی جماعتوں کے مابین ایک دستاویز پر دستخط ہوئے۔ جسے “اتفاقیۃ السلم والشراکۃ” (معاہدہ امن و اشتراک) کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت سابق یمنی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ فوری طور پر ایک ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام پر اتفاق ہوا، جس کا وزیراعظم حُوثی ہونا قرار پایا۔ “عبد ربہ ھادی منصور” کو اس مجوزہ حکومت کا عبوری صدر نامزد کیا گیا۔ حُوثیوں نے اس امن معاہدے کی سیاسی دستاویز پر دستخط کردیے۔ لیکن انہوں نے فوجی اور دفاعی امور سے متعلق دستاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت حوثیوں کو دارالحکومت صنعاء سے پیچھے ہٹ جانا تھا اور سکیورٹی سرکاری حکام کے حوالے کر دینی تھی۔معاہدے کی شب کو حوثیوں نے یمن کے تمام زیر قبضہ شہروں اور قصبات میں زبردست آتش بازی اور فائرنگ کرتے ہوئے ’’انقلاب آزادی‘‘ کی کامیابی کا جشن منایا۔ انہوں نے دارالحکومت کو خالی کرنے کے بجائے وزارت دفاع، داخلہ، فوجی مراکز سمیت دارالحکومت کے تمام اہم مقامات پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا۔ صنعاء اور دیگر زیر قبضہ شہروں میں واقع اہم فوجی چھاؤنیوں سے ٹینکوں، توپوں اور بکتربندگاڑیوں پر مشتمل بھاری اسلحہ اپنے قبضے میں لے کر شمال میں واقع اپنے محفوظ فوجی ٹھکانوں میں منتقل کردیا۔ یہی نہیں بلکہ عبوری صدر کو اُس کے محل میں نظر بند رکھنے کے بعد صنعاء سے نکال دیا۔ تہران اور صنعاء کے درمیان براہ راست پروازوں کا غیر قانونی معاہدہ کر لیا۔ اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی علی شیرازی نے فارسی نیوز ویب پورٹل” دفاع پریس” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حوثی گروپ “انصار اللہ”، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ایک نئی شکل ہے جو “یمن میں کامیابی کے بعد اسلام دشمنوں کے خلاف ایک نیا محاذ شروع کرے گا”۔ ادھر حوثی باغیوں نے صنعاء سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے عارضی دارلحکومت عدن کو محاصرے میں لے لیا۔عین یہی وہ وقت تھا جب ان پر سعودی طیاروں کے فضائی حملوں کا آغاز ہوا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کی ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل سرحد یمن سے ملتی ہے۔ حوثی یمن کے علاوہ سعودی عرب کے تین صوبوں “نجران جازان اور عسیر” کو یمن کی سابق شیعہ سلطنت کا حصہ قرار دے کر دوبارہ قبضے کے دعوے دار ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ یمن کی 70 فیصد آبادی سنّی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ 20 فیصد آبادی زیدی شیعہ کی ہے۔ جبکہ حوثی کل آبادی کا 5 فیصد بھی نہیں بنتے ہیں۔ اس لئے یمن پر ان کے مستقل قبضے کی کوئی صورت عملا نظر نہیں آتی ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ حوثی اور ایران حوثیوں کے موجودہ قبضے کے ذریعے یمن میں ایک خود مختار علاقے اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے برقرار رہنے کی یقین دھانی کے علاوہ بحرین میں شیعہ حکومت کے قیام کے لئے سودےبازی کرنا چاہتے ہیں۔

بچوں سے جنسی زیادتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک معروضی جائزہ

آج کی ماڈرن اور تہذیب یافتہ دنیا میں بچوں سے جنسی زیادتی (child sex) ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ ہر سال یورپ اور امریکہ سے لاکھوں لوگ بچوں کے جنسی استحصال کی سیاحت (Child sex tourism) کے لئے مشرق بعید کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، لاؤس، مشرقی تیمور، کمبوڈیا، تائیوان، منگولیا اور مکاؤ میں یہ شرم ناک کاروبار(child prostitution) ایک منظم صنعت کی شکل میں ہو رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مناظر پر مبنی فلموں، تصاویر اور ویب سائیٹ کا کاروباری حجم بھی کروڑوں ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
بچوں سے جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات جن ممالک میں ہوتے ہیں اُن میں سرے فہرست جنوبی افریقہ، انڈیا، زمبابے، برطانیہ اور امریکہ ہیں۔ سکارٹ لینڈ یارڈ(Scotland Yard) کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں سال 2013 کے دوران 18,915 بچوں سے جسنی زیادتی کیس رجسٹر ہوئے ہیں۔ جبکہ قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والے اکثر بچوں کے کیس رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات (US Department of Health and Human Services) کے تحت 2010 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے 28 فیصد امریکی بچے جنسی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دنیائے عیسائیت کے سب سے قدیم اور ہم جنس پرستی کی مخالفت کرنے والے کیتھولک چرچ میں پادریوں کی جانب بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات اتنے تسلسل سے سامنے آئے ہیں، کہ اقوام متحدہ نے باقاعدہ ویٹیگن سے 1995 سے 2013 تک کے کیسز کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ لیکن ویٹیگن نے یہ تفصیلات مہیا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن پوپ کی جانب سے یہ یقین دھانی کرائی گئی تھی کہ اس کے بعد بچوں سے جسنی تعلق کا میلان رکھنے والوں کو پادری مقرر نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب پروٹیسٹنٹ چرچ میں ہم جسنیت کی اجازت ہونے کی وجہ سے وہاں کا حال اس سے کئی گناہ زیادہ بُرا ہے۔
یہ ہے ماڈرن اور تہذیب یافتہ ممالک کے معروضی حالات ایک سر سری جائزہ۔ ادھر پاکستان میں ایک معصوم بچہ ایک ایسے درندے کی حیوانیت کا شکار ہو گیا ہے۔ جس نے شکل مولوی جیسی بنائی ہوئی تھی اور اس کا تعلق مسجد سے تھا۔ اس واقعے کی آڑ میں نام نہاد لبرل، سیکولر مولوی ، مسجد اور مدرسے کو گالیاں دینے کا شوق پورا کر رہے ہیں۔ کئی ایک تو مسجد سے بچوں کو دور رکھنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے بچوں سے جنسی زیادتی مولوی اور مسجد و مدرسے سے لازم ملزوم ہے۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے این کا زوال ایک نظریے کی شکست

پاکستانی سیاست میں سیکولر قوم پرست اور اسلام مخالف جماعت عوامی نیشنل پارٹی (این این پی) کا زوال کوئی عام واقعہ نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک اسلامی معاشرے میں مذہب بیزار سوچ اور سامراج کی چاکری پر فخر کرنے کے نظریے کی واضع شکست ہے۔

اے این پی کی تاریخ خاصی طویل ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس جماعت کی ہیت تبدیل ہوتی رہی اور اس کے کئی نام بھی تبدیل ہوئے۔ اس کی ابتداء موجودہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے برطانوی فوج کے ایک سابق ملازم خان عبدالغفار خان کی جانب سے "انجمن اصلاح افغان نامی تنظیم" کے قیام سے ہوئی تھی۔ بظاہر پشتونوں کی سماجی اصلاح کے مقصد کے لئے بنائی جانے والی اس تنظیم کا مقصد پشتون معاشرے میں علماء کے مقام کو زک پہچانا اور غیور پشتون قبائل کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرنا تھا۔

اس تنظیم کے اغراض و مقاصد کے بارے میں خان عبد الغفار خان نے 1969ء میں شائع ہونے والی  اپنی کتاب "میری زندگی اور جدوجہد" میں لکھا ہے، "بیسیوں صدی سے پہلے پشتون معاشرہ نہایت جنگجو، غیر مساوی، بنیاد پرست، سماجی بگاڑ، جہالت اور غیر تعلیم یافتہ بنیادوں پر استوار تھا۔ تعلیم کے مواقع نہایت محدود تھے۔ یہاں آباد تمام پشتون قبائل مسلمان تھے اور معاشرے پر مذہب کی چھاپ واضع تھی، معاشرے پر مساجد کے امام جو کہ مولوی کہلاتے تھے کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔ تعلیم حاصل کرنا اور خاص طور پر انگریزی طرز پر قائم سرکاری مدرسوں میں بچوں کا تعلیم حاصل کرنا جہنم واصل ہونے سے منسوب کر دیا گیا تھا۔ تعلیم بارے اس تمام پروپیگنڈہ کا مقصد پشتونوں کو غیر تعلیم یافتہ اور جہالت میں غرق رکھنا تھا"

پشتون معاشرے میں اسلام پسندی کے انمٹ اثرات کے باعث یہ تنظیم اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو گئی۔ لیکن خان عبدلغفار خان نے ہمت نہ ہاری، جلد ہی پینترا بدلا اور پشتون قبائل میں انگریز قابضیں کے خلاف جاری تحریک جہاد کی بنیادوں میں تزلزل پیدا کرنے کے لئے ایک نئی "تنظیم خدائی خدمت گار" بنا کر عدم تشدد کا پرچار شروع کردیا۔ انگریز سامراج کے تعاون سے اس نئی تنظیم نے خوب ترقی کی اور آزاد قبائل میں جاری انگریزوں کے خلاف مزاحمتی جہاد کو انگریزوں کے زیر قبضہ پشتون علاقوں میں پھیلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیاب رہی۔ اس خدمت کے صلے میں انگریزوں نے اس جماعت کو خوب نوازا، یہی جماعت 1947 میں تقسیم برصغیر تک یہ شمال مغربی سرحدی صوبے کی حکمران رہی۔

تقسیم برصغیر کے بعد انگریز سامراج کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد خدائی خدمات گار تحریک کی قیادت نے جلد ہی روسی سامراج سے یارانے گانٹھ لئے جو اس وقت وسط اشیاء کے مسلم ممالک کو ہڑپ کرنے کے بعد افغانستان میں قدم جما رہا تھا۔ مقامی طور پر خدائی خدمتگار کا نام تبدیل کر کے نیشنل عوامی پارٹی رکھ دیا گیا جس میں پشتونوں کے علاوہ دیگر کیمونسٹ نواز قوم پرست بھی شامل ہو گئے۔ روسی سامراج سے اس تنظیم کی قربت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب روسی فوج کے افغانستان میں داخل ہونے پر اس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا، تو خان عبدالغفار خان 1980ء سے 1982 کے دوران روس میں موجود رہ کر، اور اس کے بعد اے این پی کی صدارت کرنے والا اجمل خٹک پورے افغان جہاد کے دوران کابل میں موجود رہ کر پشتون قومیت کے نعرے کی بنیاد پر جہاد کی مخالفت میں اپنا کردار ادا کرتا رہا تھا۔ اُن دنوں اے این پی کے قائدین کھلے عام اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم بہت جلد "سرخ روسی" روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر آئیں گے اور پاکستان کو فتح کر ڈالیں گے۔

"سرخ روسی ریچھ" افخانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر جب اپنی موت  آپ مر گیا تو پاکستان میں روس نواز قوم پرستوں کا اتحاد جو روسی روبل کے سہارے نیشنل عوامی پارٹی کی شکل میں قائم تھا، جلد ہی تنکوں کے آشیانے کی طرح بکھر گیا۔ اس کے بعد پشتوں قوم پرست ایک ابر پھر "اے این پی" کی صورت میں ایک نئی جماعت میں اگھٹے ہو گئے۔ جب افغانستان میں اسلامی حکومت پر جب امریکہ نے حملہ کیا تو ایک بار پھر ان قوم پرستوں کی بن آئی۔ انہوں حسب روایت نے اپنے کندھے اس نئے سامراج کو پیش کیے۔ امریکہ کے خلاف مزاحمت کی ہر طرح اور ہر فورم پر مخالفت کے بدلے میں ڈالر اور اقتدار کے مزے لوٹے۔

لیکن شاہد مہلت کا زمانہ بیت چکا ہے، ایک معاشرے میں بڑھتے ہوئی عوامی شعور اور بیداری نے اس پارٹی کی حقیقت عوام کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ دوسری طرف پشتوں معاشرے میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری نے مذہب بیزار سیاست کا ناقطہ بند کر دیا ہے۔ یہی وجہ سے کہ یہ پارٹی اپنی بدترین شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہی ہے۔ پشتون خون کے بدلے ملنے والے کروڑوں ڈالر عوامی نیشنل پارٹی یا اے این پی کی قیادت کرنے والے خاندان میں اختلافات کا باعث بن گئے ہیں، خان عبد الغفار خان کی بہو نسیم ولی خان اور اس کے دو پوتے سنگین ولی اور اسفند یار ولی آپس میں دست گریباں ہیں۔ دوسری طرف ان کے قریبی رشتے دار اور مرکزی رہنما و سابق وزیر اعلیٰ سرحد کے والد اعظم ہوتی کھل کر پارٹی قیادت پر امریکہ سے پیسے وصول کرنے کے الزامات عاید کر رہے ہیں۔ ہر فرد دوسرے کو پارٹی کی اس تباہی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ سب اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔  

Pages