مہتاب عزیز

مذہب بیزاری اور الحاد

یورپ بلکہ پورے مغرب میں آج جو مذہب بیزاری اور الحاد کا چلن ہے، اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک طویل ارتقائی عمل کے نتیجے میں اس مقام پر پہنچا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یورپ میں ساتویں صدی سے پندرویں صدی عیسوی کا دور مذہب وابستگی کے عروج کا دور تھا۔ کلیساء کے حکم پر عوام مال و جائیداد ہی نہیں بلکہ اولاد و عیال بھی قربان کر دیتے تھے۔ اپنی جان لُٹانا تو ایک معمولی سی بات تھی۔ مذہب کے لئے یورپ والوں جانثاری کی حقیقت جاننے کے لئے صرف صلیبی جنگوں کا مطالعہ ہی کافی ہے۔ اس دور میں ریاست برائے نام تھی، قوت کا اصل اور واحد ماخذ کلیساء تھا۔ والیانِ ریاست اور ڈیوک وغیرہ کلیساء کے حاشیہ بردار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
تیرویں صدی کے بعد مذہبی پیشواوں نے عوام کی عقیدت اور خلوص کو اپنی عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ عوام بے حال ہوئے اور مذہبی پیشواوں کے رہن سہن بادشاہوں سے بھی اعلیٰ ہوتا چلا گیا۔ چرچ سونے اور جواہرات سے بھر گئے۔ خانقاہیں عیاشی کے اڈوں میں تبدیل ہوگئیں۔
غضب یہ بھی تھا کہ مذہبی پیشواں کی ان غلط کاریوں پر انگلی اٹھانے کی جرات کرنے، یا پھر مذہبی پیشواون کی کسی تعبیر سے اختلاف کرنے والے کو گمراہ اور بدعقیدہ قرار دیا جاتا۔ اس "بدعقیدہ" کو مذہبی عقوبت خانوں میں ایسے ایسے الاتِ تشدد سے گزار کر اعتراف جرم کرایا جاتا، جن کو عجائب گھروں میں دیکھ کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اعتراف جرم کے بعد اُس "بدعقہدہ" کو شہر کے کسی مرکزی چوک میں آگ کے الاو میں زندہ جلا دیا جاتا۔ دوسری جانب کوئی بھی امیر اور گناہ گار شخص مذہبی پیشواں کو بھاری مالیت کا خراج دے کر دنیا کے لئے معافی نامہ اور آخرت کے لئے بخشش نامہ حاصل کر لیتا تھا۔

ایسے حالات مذہبی پیشواں سے نفرت کا جنم فطری تھا۔ چونکہ یہ پیشوا اپنی تمام بدعمالیوں کے لئے مذہب کا سہارا لیتے تھے اس لئے عوام میں یہ نفرت مذہب بیزاری کا روپ اختیار کرتی چلی گئی۔ جو آج ہمارے سامنے الحاد کی شکل میں موجود ہے۔ اور جس کے باعث عیسائی مذہب ایک نمائشی رسومات کا پلندہ بن چکا ہے۔

سوچنے کی ضروت ہے کہ آج ہمارے ہاں جو الحاد اور مزہب بیزاری کے بیج پھوٹ رہے ہیں۔ اس کی وجوعات کیا ہیں۔ کیا کہیں مذہبی شدت پسندی، مسلک پرستی، اور مذہبی پیشواوں کی مادیت پرستی سے نم تو نہیں مل رہا؟

کیا ہم یورپ کی تاریخ سے کوئی سبق سیکھ سکتے ہیں؟

کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بار تاریخ خود کو مشرق میں دہرا دے۔  

خلافت کا خاتمہ اور اہل ہندوستان کا کردار


مارچ کا مہینہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا مہینہ ہے۔ 3 مارچ 1924 کو مصطفی کمال نے 14 سو سال سے قائم اس مقدص ادارے کو سامراجی طاقتوں کی آشیرواد سے ختم کر ڈالا تھا۔مصطفیٰ کمال پاشاخلافت عثمانیہ کے متوازی حکومت قائم کرنے کے باوجود 8 اپریل 1923ء کی تقریر میں مصطفٰی کمال نے بہت واضع الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ ''خلافت ایک مقدص اسلامی ادارہ ہے اس لئے اعلیٰ تُرک قومی اسمبلی اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔" یہی نہیں بلکہ یکم
نومبر 1923ء میں ترکی کو جمہوریہ بنائے جانے کی قرار داد میں بھی خلافت کو برقرار رکھا گیا تھا۔سید امیر علی اور آغا خان کا خط 
اسی دوران 13 دسمبر 1923 کو فرانس میں مقیم اسماعیلوں کے روحانی پیشوا سر آغا خان اور برطانیہ میں مقیم اثنا عشری، اہل تشیع کے معروف لیڈر جسٹس سید امیر علی نے ایک مشترکہ خط تُرک حکومت پر براجمان مصطفی کمال اور عصمت انونو کو لکھا۔ جس میں خلیفہ کے اختیارات میں تخفیف پر احتجاج کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عالم اسلام میں بسنے والے کروڑوں "سنّی مسلمانوں" کی جذباتی و مذہبی وابستگی خلافت کے ادارے سے ہے، لہذا تُرک حکومت کو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے محتاط رہے۔اثنا عشری شعیوں کے رہنما سید امیر علی
اسماعلیوں کے روحانی پیشوا آغا خان اولخط تُرک حکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی فرانس برطانیہ اور خود تُرکی کے اخبارات میں شائع ہو گیا اور دنیا بھر میں ایک سُلگتا ہوا موضوع بحث بن گیا۔

 لندن اور پیریس میں موجود دو اعلیٰ سطی اختیارات کے حامل اشخاص کی جانب سے لکھے گئے اس طرح کے خط کے مضمرات کو زیر بحث لانے کے لئے 15 فروری کو تُرک فوجی کمانڈروں کی میٹنگ ازمیر شہر میں طلب کی گئی۔ جہاں اس پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اسی موضوع پر یکم مارچ 1924 کو تُرک قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے ایک جذباتی تقریر کی۔ اُس نے اسمبلی ممبران کو بتایا کہ یہ خط دراصل برطانیہ اور فرانس کے گماشتوں کی بہت بڑی سازش ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک خلافت کا ادارہ برقرار رہے گا یہ طاقتیں اسی طرح تُرکی کے معملات میں مداخلت کرتی رہیں گی۔ خلافت کو ہمیشہ تُرک جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ کل کلاں کو خلافت کے اختیارات کی بحالی کی آڑ میں ترکی پر جنگ بھی مسلط کی جا سکتی ہے۔ لہذا تُرک قوم اور ملک کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ خلافت کے ادارے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ اسمبلی میں خوب گرما گرم بحث ہو ئی اور بلآخر 3 مارچ کو اسی جذباتی فضا میں قانون نمبر 431 کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔ جس میں خلافت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

خلافت کے تحفظ کے لئے مسلمانانِ برصغیر نے انگریزوں کے غلام ہونے کے باوجود ایثار اور سرفروشی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک اور واقعہ بھی بہت اہم ہے، جسے جان بوجھ کر تاریخ سے حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست کے ساتھ ہی خلافت کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہوا تو 5 جولائی 1919ء کو بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم ہوئی۔ جس کا مقصد رائے عامہ کو منظم کر کے ”خلافت کی برقراری، مقامات مقدسہ کے تحفظ اور سلطنتِ ترکی کی مجوزا تقسیم رکوانے کے لئے انگریزوں پر دباؤ ڈالنا تھا۔ خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس نومبر 1919ء کو دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر اُن کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے۔ اس اجلاس میں ہندوؤں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی۔ اسی اپیل کے نتیجے میں دسمبر 1919ء کو کانگریس مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے۔  کانگریس کے اجلاس میں تحریک خلافت کی حمایت کا معملہ زیر بحث آیا تو ورکنگ کمیٹی کے ایک ممبر کے علاوہ تمام ممبران نے حمایت کے حق میں فیصلہ دیا۔ تحریک خلافت کی حمایت کی مخالفت کرنے والے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے واحد رکن جناب محمد علی جناح صاحب تھے۔ جنہوں نے نہ صرف پارٹی کے اجلاس میں اس فیصلے کی مخالفت کی بلکہ حمایت کا فیصلہ طے پا جانے پر احتجاجا کانگریس کی ورکنگ کمیٹی اور بنیادی رکنیت سے ہی استعفی دے دیا تھا۔
(محمد علی جناح صاحب کی کانگریس سے اعلیحدگی کی یہی وجہ بنی، جس کے بعد وہ سیاست سے الگ ہو کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ بظاہر محمد علی جناح صاحب کی مخالفت کی وجہ بڑی معقول تھی۔ اُس وقت تک اُن کا تعلق اسماعیلی مذہب سے تھا، جو خلافت کے ادارے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اُن کے نزدیک زندہ امام ہی سربراہ حکومت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُس وقت تک جناح صاحب اثنائے عشری مذہب اختیار کر چکے تھے۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے توبھی یہ حقیقت یہی ہے کہ خلافت کا ادارہ اثنائے عشریہ کے ہاں بھی قابل قبول نہیں، اُن کے ہاں خلافت کی جگہ مقدص سیاسی ادارہ "ولایت فقیہ" ہے)

تاریخ برصغیر چند حقائق (حصہ اوّل)


تاریخ کا کھلے دماغ اور غیرجاندارانہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو عجیب عجیب انکشافات ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے تاریخ برصغیر زیر مطالعہ ہے۔ اس مطالعہ سے حاصل ہونے والی اہم معلومات احباب سے شئیر کرنے کا ارادہ ہے۔ تاکہ جو حقائق نظر آئے ہیں، اجتماعی طور پر معروضی انداز میں اُن کا جائزہ لیا جا سکے۔ اور اگر سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اُس کی اصلاح ہو سکے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی ستمبر 1599ء میں لندن میں وجود میں آئی۔ اگلے سال یعنی 1600 اس نے ملکہ الزبتھ اول سے ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ 1612ء میں تھامس مور نے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہو کر کمپنی کے لئے تجارت کی اجازت حاصل کی۔ 1613ء میں سورت کے مقام پر پہلی کوٹھی قائم کی گئی۔1647ء تک ان کی 23 قلعہ بند فیکٹریاں مختلف شہروں میں تھیں۔ جن کی حفاظت کے نام پر خاصی بڑی فوج بھی تیار کی گئی تھی۔ جس کی مدد سے 1689ء میں کمپنی نے پہلی مرتبہ بھاری معاوضے پر علاقائی جھگڑے میں ایک فریق کی مدد کی۔ یوں وہ ایک علاقائی قوت بن گئی۔ طوائف الملوکی کے اس دور میں پرائیوٹ فوج سب سے نفع بخش کاروبار تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کاروبار سے خوب نفع کمایا۔ اور ساتھ ہی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ ساتھ ہی اس نے اپنے طور پر علاقوں کی تسخیر کا آغاز بھی کر دیا۔ 1717ء میں کمپنی کے سامان اور مال پر ہر قسم کا ٹیکس معاف کر دیا گیا۔ جس سے اس کے نفعے میں گئی گناہ اضافہ ہو گیا۔ کمپنی نے اس نفعے کو فوج میں اضافے کے لئے استعمال کیا۔ اور وہ ایک بڑی فوجی قوت بن گئی۔ کمپنی کو پہلی بڑی عسکری کامیابی 1757ء میں پلاسی کے میدان میں حاصل ہوئی۔ جب اس کی افواج نے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال جیسے بڑے صوبے پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد کمپنی کامیابیوں کو گویا پر لگ گئے۔ 1799 ء میں شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی شکست کے بعد ہندوستان پر قبضے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہٹ گئی۔ یہاں تک کہ 1835ء میں سلطنت دہلی کے تخت پر متمکن اکبر شاہ ثانی انگریزوں کا کٹ پُتلی بن گیا۔ تب سے منادی کرنے والوں نے صدا لگانی شروع کی کہ "خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا"۔ 1849ء تک پنجاب، سرحد اور سندھ بھی انگریزوں کے سامنے ڈھیر ہو چکے تھے۔ یوں انیسویں صدی کے نصف اول کے اختتام سے پہلے ہی برصغیر کی تمام ریاستیں، راجے، مہاراجے اور فوجی طاقتیں یا تو انگریزوں کی حاشیہ بردار بن چکی تھیں یا پھر اپنا وجود کھو چکی تھیں۔
ہندوستان کی کامل تسخیر کو صرف آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ 1857ء میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہوئی۔ جسے ہندوستانیوں نے جنگ آزادی اور انگریزوں نے غدر کا نام دیا۔ یہ بغاوت سراسر عوامی تھی۔ اس میں تمام ہندوستانیوں نے بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب مل کر حصہ لیا۔ خصوصا مسلمانوں اور ہندوں کا اتحاد مثالی تھا۔
ایک بار تو انگریزوں کی ہوا اکھڑ گئی تھی۔ لیکن وہ سکھوں کی فوج اور غداروں کی مدد سے بلآخر بمشکل بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔ غداروں میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ جنگ آزادی تو ناکام ہو گئی، لیکن انگریزوں کو کھٹکا لگ گیا کہ کسی بھی وقت دوبارہ بغاوت کا ظہور ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے تدارک کے لئے انہوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی پالیسی اختیار کی۔
انگریزوں کی اس پالیسی نے متحدہ ہندوستان میں کیا رنگ بکھیرے اور آج تک ہم کن صورتوں میں اس کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں اسی کا مطالعہ ہمارا موضوع ہے۔
انشا اللہ آئیندہ اقساط میں اسی پر گفتگو کی جائے گی۔
(جاری ہے)

واعظ اثر کیوں کھو دیتے ہیں

نکاح کی تقریب میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مولانا صاحب نے سماں باندھ دیا. نہایت جلالی انداز میں حاضریں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے اپنی خوائشات اور نمود نمائش کی خاطر نکاح کو مہنگا بنا دیا ہے. جس کی وجہ سے زنا آج آسان جبکہ نکاح مشکل ہو چکا ہے. بے حیائی نے معاشرے کی چولیں ہلا ڈالی ہیں. یاد رکھو قوموں کی تباہی میں سب سے اہم کردار بے حیائی اور زنا کاری کا ہوتا ہے. تمارا معاشرہ اب تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے. اگر اب بھی نہ پلٹے تو تمارا مقدر دردناک عذاب ہو گا. اگر اللہ کے قہر سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے نکاح کو سہل اور بلا قیمت کر دو. شادی میں مہر اور ولیمہ کے سوا ہونے والے تمام اخراجات اور رسومات کو ختم کر دو. مہر بھی کم مقرر کرو اور ولیمہ بھی سادگی سے ہو. تبھی معاشرے میں عفت حیا اور پاکبازی کو فروغ ملے گا. اللہ کی نعمتیں اور برکتیں نازل ہوگی.
تقریب کے اختتام پر میرا دل چاہا کہ اسے حق گو اور بے باک عالم سے مصافہ کرنے کی سعادت حاصل کروں. مولانا صاحب کی طرف گیا تو انہیں ہجوم میں گرا پایا. غالبا تقریب میں موجود ہر شخص کی دلی کیفیت میرے جیسی تھی. حل میں ایک طرف مولانا صاحب کے ساتھ آنے ان کے اسسٹنٹ نما صاحب دولہے کے باپ سے مصروف گفتگو تھے. سوچا اُن سے ہی مولانا صاحب اُن کا پتہ پوچھ لوں اور مستقل ان کے ہاں حاضری کو معمول بناوں. تاکہ کچھ تذکیہ نفس ہو سکے. یہی سوچ لئے قریب جا کر کھڑا ہوا. وہ صاحب دولہے کے والد سے کہ رہے تھے کہ نکاح پڑھانے کے پانچ سات ہزار تو گلی محلے کے کے مولوی لیتے ہیں. مولانا صاحب کو تو لوگ لاکھوں ہدیہ کر دیتے ہیں. آپ زیادہ اصرار کر رہے ہیں تو بیس ہزار روپے اور کپڑوں کا جوڑا دے دیں.
میں ایڈریس لئے بغیر ہیک واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.

پاکستان کا دوست کون؟ دشمن کون؟

یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب نوے فیصد افغانستان پر ملؔا عمر کی حکومت تھی۔ تب ایک بار مجھے مغرب کے بعد کابل سے قندھار کے لئے ہنگامی طور پر نکلنا پڑا۔ گاڑی کے افغان ڈرائیور نے بتایا کہ رات کے اوقات میں شہر سے نکلنے اور راستے کی چوکیوں سے گزرنے کے لئے ’’نامِ شب‘‘ (Night code) معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کابل سے نکلنا راستے میں موجود درجنوں چوکیوں سے گزرنا اور قندھار میں داخل ہونا ناممکن ہے۔
میں نے کئی جگہ فون گمایا کہ کسی متعلقہ ذمہ دار سے رابطہ ہوجائے تاکہ نائٹ کوڈ حاصل کر سکوں، لیکن اتفاق ایسا تھا کہ کوئی بھی فرد دستیاب نہیں تھا۔ ڈرائیور سے عرض کی کہ اللہ کا نام لے کر نکلتے ہیں، دیکھیں گے کہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔ ڈرائیور نے بڑے معنی خیر انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ضد کر رہے ہو تو چلے چلتے ہیں لیکن ایک گھنٹے بعد پہنچیں گے واپس اِدھر ہی۔
کابل کے علاقے ’’وزیر اکبر خان‘‘ سے روانہ ہو کر ہم آدھ گھنٹے میں شہر کے خارجی راستے پر واقع پہلی چیک پوسٹ پر پہنچ گئے۔ پوسٹ پر رُکتے ہی حسبِ توقع پہلے منزل اور پھر ’’نامِ شب‘‘ پوچھا گیا۔ ’’نامِ شب‘‘ معلوم نہ ہونے پر آگے جانے کی اجازت دینے سے قطعی انکار ہو گیا۔ ڈرائیور نے پشتو اور فارسی میں خاصی بحث کی لیکن جب انکار، اقرار میں تبدیل نہ ہوا تو میری طرف مڑ کر پشتو لہجے میں پنجابی کا مشہور جملہ بولا ’’ہن آرام ای‘‘۔
ڈرائیور کا یہ جملہ سُن کر چوکی پر موجود طالبان کے ذمہ دار نے مجھ سے پوچھا تم پاکستانی ہو؟
میرے اقرار پر اُس نے ہمیں چوکی کے اندر آنے کی دعوت دی، قہوہ پلایا، تاخیر پر معذرت کی، نامِ شب بتایا اور دعائیں دے کر رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی کہ ہر صوبے کی چوکی پر "نامِ شب" مختلف ہوتا ہے۔ ہر نئے صوبے کی چوکی پر بتا دینا کہ تم پاکستانی ہو، انشا اللہ کہیں مسئلہ نہیں ہوگا، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ راستے میں آنے والی درجنوں چوکیوں میں سے کسی پر "نامِ شب" اور کہیں ’’پاکستانی‘‘ کا ’’اسم اعظم‘‘ دھراتے رہے، جس پر فورا قہوہ پر اصرار کے ساتھ آگے جانے کی اجازت مل جاتی۔ یقین جانیے اُس وقت اپنے پاکستانی ہونے پر جتنا فخر محسوس ہوا ویسی نوبت آج تک دوبارہ نہیں آ سکی ہے۔
اس کے ٹھیک ایک سال بعد ہی پاکستانی ہوائی اڈوں سے پرواز کرنے والے بی 52 طیاروں سے برسنے والے ڈیزی کٹر بموں نے طالبان کی حکومت کو قصہ پارینہ بنا دیا تھا۔ پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر طالبان حکومت کے خاتمے اور حامد کرزی کی حکومت کے قیام میں اہم قردار ادا کیا تھا۔ اُس وقت مجھے ایک بین القوامی ٹی وی چینل سے اس کے کابل بیورو میں کام کرنے کی آفر ملی۔ میں اپنے پاکستانی اور غیر ملکی صحافی دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے متفقہ طور پر ایک ہی جواب دیا، افغانستان میں انڈین لابی قابض ہے وہاں کسی بھی پاکستانی کی زندگی کسی بھی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔ افغانستان جانے والے کئی پاکستانی صحافی دوستوں نے کابل میں عوام اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تذلیل کے ایسے قصے سُنائے کے کابل جانے کے نام سے توبہ کر لی۔
آج جب مجھ سے کہا جاتا ہے کہ طالبان اور ملّا عمر کا اچھے الفاظ میں ذکر یا افغانستان پر قابض امریکہ کی کٹھ پُتلی حکومت پر تنقید پاکستان سے دشمنی کے برابر ہے، تو مجھے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دشمنی اور دوستی کے معیار بنانے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کا دل کرتا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ ہر مظلوم کی آخری امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون کہتا ہے پاکستان میں انصاف بروقت نہیں ملتا، سندھ ہائی کورٹ کے جج محمد علی مظہر نے تو عدل کی تاریخ رقم کی ہے جس پر دنیا بھر کے منصف صدیوں تک رشک کرتے رہیں گے۔

موصوف کی عدالت میں درخواست پیش ہوئی کہ ایف آئی اے ایک آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی انکوائری کر رہی ہے۔ انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے کسی مجاز عدالت سے حکم لئے بغیر ازخود ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل بول کے تمام اکاونٹ سیل کیے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بول اور ایگزیکٹ کے 7 ہزار ملازمین کو تین مہینوں سے تنخوائیں ادا نہیں ہوسکی ہیں۔ جس کی وجہ سے 7 ہزار خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ چونکے یہ اکاونٹس کی بندش غیر قانونی ہے لہذا عدالت عید سے پہلے اکاونٹس کی بحالی کا حکم صادر کرے۔

جسٹس محمد علی مظہر صاحب نے درخواست کی سماعت پر ایف آئی اے سے پوچھا کہ، کیا اکاونٹس کی بندش کا حکم نامہ کسی عدالت نے جاری کیا ہے؟ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ کسی عدالت نے ایسا حکم جاری نہیں کیا۔ معزز جج صاحب نے پوچھا کہ، کیا ایگزیکٹ کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں کوئی ایسی دفعہ شامل ہے جس میں اکاونٹ سیل کرنا قانونی تقاضہ ہو؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایسی کوئی دفعہ ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے۔ جناب جسٹس نے استفسار کیا کہ، کیا ایسے متاثرہ مدعی موجود ہیں جنہیں ایگزیکٹ سے ریکوری کروانی ہے؟ ایف آئی اے کا جواب تھا کہ ایگزیکٹ سے ریکوری کا کوئی مدعی ملک میں یا بیرون ملک موجود نہیں ہے۔ پھر جج صاحب نے ایف آئی اے سے پوچھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ ایگزیکٹ اور بول کے اکاونٹ کیوں سیل کیے گئے ہیں؟ ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے تاکہ ہم جواب تیار کر سکیں۔ جج صاحب نے حکم جاری کیا کہ آپ کو دس دن کی مہلت دی جاتی ہے آپ لوگ جواب تیار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

دس دن بعد جب سماعت شروع ہوئی تو عید میں چند دن ہی باقی تھے۔ جج صاحب نے ایف آئی اے کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تو ایک وکیل صاحب نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز سابق وکیل کو ہٹا کر یہ کیس میرے سپرد کیا ہے، چونکہ مجھے تیاری کا وقت نہیں ملا لہذا مجھے دو ہفتوں کی مزید مہلت دی جائے۔ جج صاحب نے کچھ سوچنے کے بعد حکم صادر کیا کہ آپ کو تیاری کے لئے 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔

ایگزیکٹ کے وکیل نے عدالت سے استداء کی کہ یہ سات ہزار خاندانوں کے لاکھوں افراد کا معملہ ہے۔ اگر عدالت اکاونٹ بحالی کے لئے لمبی تاریخ دے رہی ہے تو وہ کم از کم ایف آئی اے کو اپنی نگرانی میں ملازمین کو تنخواوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دے۔ جتنی رقم اکانٹس سے جاری کی جائے اُتنی رقم کے برابر مالیت کی جائیداد عدالت رہن رکھ لے۔ جج صاحب نے ایک طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ملازمین اور اُن کے خاندانوں سے ہمدردی ہے لیکن ایف آئی اے کے جواب آنے سے پہلے کیس کا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ عدل کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جانے سے بھلے ہی محروم رہے، لیکن یہ وفاداری کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ کیوں کہ جناب جسٹس محمد علی مظہر صاحبزادے ہیں مظہر علی صدیقی صاحب کے جن کا بطور وکیل سارا کیرئر جنگ گروپ کے قانونی مشیر گزرا تھا، والد صاحب کی وفات کے بعد محمد علی مظہر اپنے والد کی جگہ جنگ گروپ کے قانونی مشیر مقرر ہوئے تھے۔ جن کے سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے کے لئے جنگ گروپ نے باقاعدہ لابنگ کی تھی۔ ان کے جج بننے پر جنگ اخبار نے خلاف معمول اپنا پورا رنگین صفہ ان کی خدمات اور شخصیت کے کارناموں کے لئے مختص کیا تھا۔ اب اگر جج صاحب انصاف کی کُرسی پر بیٹھ کر محسن نوازی کی روایت قائم کر رہے ہیں تو اس میں بُرا کیا ہے۔ اب وہ دور تو رہا نہیں جب جج خود کو ایسے کسی مقدمے سے از خودعلیحدگی اختیار کر لیتے تھے جس میں اُن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتا ہو۔ اب تو مشہور ہے کہ وکیل کیا کرنا سیدھا جج کر لو۔

خیر جناب جسٹس محمد علی مظہر کی نذر روز نامہ جنگ کے ہی گروپ ایڈیٹر جناب محمود شام کے اشعار کرنے کو جی  چاہتا ہے، جو عین حسب حال بھی ہیں۔

اب کے تو اہلِ عدل انصاف کر گئے
برسوں کے داغ انکی جبیں سے اتر گئے
کتنے باضمیر تھے جو مر کے بھی زندہ ہیں آج
کتنے بے ضمیر ہیں جو زندہ ہی مر گئے

جہاد کشمیر ۔۔۔۔ ناکامی کا ذمہ دار کون؟؟

میں نے اپنے صحافتی کیریئر کا اولین انٹرویو سردار عبدالقیوم خان صاحب کا کیا تھا۔ تقریبا 14 سال پہلے کی بات ہے۔ یہی جون جولائی کے دن تھے۔ حبس سے دم گُھٹا جا رہا تھا۔ جب پہلی بار چیف رپوٹر نے مجھے کہا کہ آج تم نے اکیلے انٹرویو کرنا ہے تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ ایک سنئیر نے ساتھ بیٹھ کر چار پانچ سوال ایک کاغذ پر لکھوائے اور پھر کہا کہ باقی بات سے بات نکلا کرتی ہے، تم موقعے کی مناسبت سے مزید سوال کرتے جانا۔ پھر تاکید بھی فرمائی کہ سردار صاحب منجھے ہوئے سیاستدان اور صاحبِ مطالعہ فرد ہیں دیکھنا کوئی بونگی نہ مار دینا۔

خیر میں میلوڈی اسلام آباد سے ایک نمبر ویگن پر بیٹھ کر مری روڈ کے رحمان آباد سٹاپ پہنچا، پھر سٹلائٹ ٹاون کی قریبی گلیوں میں واقعے خانہ فرہنگ ایران کو ڈھوندتا ہوا مجاہد منزل کے صدر دروازے پر پہنچ گیا۔ لیکن جون جون وقت گزرا، ایک نامعلوم سا خوف مسلط ہوتا گیا تھا۔ کال بیل کا بٹن دبانے تک میں باقاعدہ نروس ہو چکا تھا۔ بہرحال بیل بجانے اور اپنا تعارف کرانے کے بعد جلد ہی وسیع و عرض ڈرائنگ روم میں درجنوں لوگوں میں گھرے ہوئے سردار عبدالقیوم صاحب کے سامنے موجود تھا۔ جنہوں نے کمال شفقت سے کھڑے ہو کر معانقہ کیا، اپنے نزدیکی صوبے پر بٹھایا اور پانی لانے کا حکم دیا۔ پانی کے بجائے ایک صاحب سیون اپ لے آئے۔ جس کی چسکیاں لیتے ہوئے میرا خوف کچھ کم ہو گیا، ابھی گلاس آدھا ہی کیا تھا کہ سردار صاحب نے با آواز بلند اعلان کیا کہ یہ بچہ انٹرویو کے لئے آیا ہے، لہذا باقی سب لوگوں کو مکمل خاموش ہو کر ہیٹھنا ہوگا یا پھر آپ لوگ دوسرے کمرے میں تشریف لے جائیں۔ اعلان کے خاتمے پر اکثریت دوسرے کمرے کی طرف روانہ ہوگئی۔ میں نے اپنا ننھا منا سا ٹیپ ریکاڈر نکال کر سامنے رکھا، ریکارڈ کا سرخ بٹن دبایا، نوٹ پیڈ اور بال پوانٹ کی پوزیشن درست کی اور جیب سے سوالات والا کاغذ نکال کر پہلا سوال داغ دیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلا سوال کرتے ہوئے ہوئے میری آواز میں ارتعاش بہت واضع تھا۔ سردار صاحب نے بڑے تحمل سے سوال سُنا اور پھر تفصیلی جواب دینا شروع کیا۔

خیال رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں جہاد کشمیر اپنا جوبن دیکھنے کے بعد اب اپنے ہی "پشتی بانوں" کی بدعمالیوں اور سازشوں کے نتیجے میں کسی ضعیف اور لاغر فرد کی طرح ہو چکا تھا۔ میرے تمام سولات جہاد آزادی کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں تھے۔ جن کے جوابات سرادار صاحب بہت محتاط انداز اور نپے تلے الفاظ میں دے رہے تھے۔ تقریبا پون گھنٹے تک مسلسل سوال، جواب کے بعد میں نے ایک آخری سوال ان الفاظ میں داغا۔ "کشمیر کے پہلے جہاد کے آپ بانی مبانی تھے، موجودہ دم توڑتے جہاد کے اول و آخر، ظاہر و باطن سب سے آپ اچھی طرح واقف ہیں، آپ کے نزدیک دونوں مرتبہ ناکامی کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے؟"

سردار عبدالقیوم صاحب نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا، پھر مسکراتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔ "کشمیرکی آزادی کے دونوں تحریکوں کی ناکامی کے ذمہ دار کا نام میں نہیں لوں گا، اگر میں لے بھی لوں تو کہیں چھپے گا نہیں، اور اگر کہیں چھپ گیا تو میں، تم اور چھاپنے والے کسی کی خیر نہیں۔ تم صحافت میں نئے ہو اس لئے یہ سوال کر رہے ہو، تھوڑا وقت گزرنے دو، پھر تم کبھی ایسا سوال نہیں کیا کرو گے"۔

اُس روز مجھے معلوم ہوا کہ "کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے" دراصل ہوتا کیا ہے۔ اب کہاں وہ لوگ جن سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان سے مل کر انسان کچھ سیکھتا ضرور تھا۔

میڈیا مالکان ۔۔۔۔۔۔ قاری اور ناظر کا بدترین استحصال



چند دن پہلے تک پاکستان میں خبروں کا سب سے بڑا موضوع ایگزیکٹ ایشو تھا۔ ہر روز ایف آئی اے کی تحقیقات، گرفتاریوں اور برامدگیوں کی خبروں سے ٹی وی چینلز کے تمام بلیٹن اور اخبارات کا پورا پہلا صفحہ بھرا ہوا ہوتا تھا۔ ہر چند لمحوں بعد چیختی چنگاڑتی بریکنگ نیوز ٹی وی سیکرینز پر نمودار ہو رہی تھیں۔ ایسے لگ رہا تھا کہ دنیا میں پائی جانے والی تمام بُرائیوں اور خرابیوں کی جڑیں ایگزیکٹ کے دفتر میں سے مل گئی ہیں۔ اخبارات نے تو بول اور ایگزیکٹ کے بارے میں حقائق سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے خبروں سے ہٹ کر پورے صفحے کا سپلیمنٹ تک چھاپ دیا۔
پھر ہر طرف اچانک خاموشی چھا گئی۔ بریکنگ نیوز اور ہیڈلائنز سے ایگزیکٹ کا ایشو غائب ہو گیا؟؟
یہ اس لئے ہوا کہ اب خبریں ایگزیکٹ کے حق میں آنا شروع ہوگئی تھیں، جنھیں بلیک آوٹ کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈی جی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کھل کر کہہ دیا کہ تمام تر تحقیقات کے باوجود ایگزیکٹ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ صورتحال یہ ہے جن کے دفتر سے لاکھوں جعلی ڈگریوں کی برامدگی کی خبریں چلائی گئی تھی، اُن پر ایف آئی اے فرد جرم عائد کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ جج صاحب کی بار بار تنبیہ پر بھی چالان پیش نہیں کیا جا رہا۔ اب تو جج صاحب نے ایف آئی اے کو آخری مہلت دی ہے، اگر دس دن کے اندر چالان جمع نہ کرایا تو عدالت عبوری چالان پر ہی ٹرائیل شروع کر دے گی۔ کمزور کیس کی وجہ سے گرفتار ملازمین جیل سے رہا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اب وہ مالکان جو اپنی میڈیا ایمپائر کو للکارنے کے جرم میں ایگزیکٹ اور بول سے وابسطہ ہر فرد کو پھانسی پر لٹکوانا چاہتے تھے۔ ان کی رہائی کی خبریں کیوں نشر یا شائع کریں گے۔ یہ صورتحال صرف ایگزیکٹ ایشو تک محدود نہیں ہے۔ اخبارات ہوں یا چینلز دونوں کا معیار ایک ہے۔ کس خبر کو نمایاں کرنا ہے اور کس کو شائع نہیں کرنا اس کا فیصلہ اخبار یا چینل مالک کے کاروباری مفاد یا اُس کی ذاتی پسند نا پسند پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے بدترین استحصال کے بارے میں کوئی خبر کسی اخبار یا چینل پر نہیں چل سکتی ہے، کیوں کہ فون کمپیناں اشتہارات دیتے وقت پابند کرتی ہیں کہ اُن کے خلاف خبر نہیں چلائی جائے گی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو قاری اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے اخبار خریدتا ہے یا کیبل کی فیس ادا کرتا ہے، اُس کو اخبار یا چینل مالک کے کاروباری مفادات یا ذاتی پسند ناپسند پر مبنی مواد دیکھنے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے؟ قاری یا ناظر کو حقائق جاننے سے دلچسبی ہوتی ہے، جس کے لئے وہ اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم خرچ کرتا ہے۔ لیکن میڈیا مالکان اُس کا استحصال کر رہے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ بےچارا قاری اس استحصال کی کسی فورم پر شکایت بھی نہیں کر سکتا۔
کیا یہ آزادی اظہار پر قدغن نہیں ہے؟؟؟ آئین میں آزادی اظہار کی جو ضمانت دی گئی ہے وہ یہاں آکر کیوں بے بس ہو جاتی ہے؟؟ اس پر صحافتی تنظیموں، سول سوسائٹی اور ممبران پارلیمنٹ کو سوچنا ہوگا۔

مسجد قاسم خان پشاور میں رویت ہلال کی تاریخ

پاکستان میں رمضان اور عید کے چاند کی رویت ہر سال ہی تنازعے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اعلان سامنے آتا ہے تو دوسری جانب مسجد قاسم خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ یوں عموما پورے ملک میں ایک ساتھ رمضان اور عید نہیں ہو پاتی۔
عموما لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد قاسم خان سے ہونے والا اعلان کوئی تازہ وادات ہے جس کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔


 بہت کم لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ پشاور کی مسجد قاسم خان سے چاند کی رویت کا فیصلہ ہونے کی راویت کئی صدیوں سے جاری ہے۔ پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے پہلو میں واقع مسجد قاسم خان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی پہلی تعمیر اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں پشاور کے گورنر محبت خان نے کی تھی۔ (محبت خان کے بھائی کا نام قاسم خان تھا)۔ بعد ازاں اس کی تعمیر نو اور توسیع کشمیری نژاد سوداگر حاجی غلام احمد صمدانی کے ہاتھوں اٹھارویں صدی کے آخر میں سرانجام پائی جو آج تک برقرار ہے۔ مسجد قاسم خان میں رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے عہد میں پشاور کے قاضی اور خطیب مسجد قاسم خان عبدالرحیم پوپلزئی نے کیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے بعد پشاور سکھوں کی علمداری میں چلا گیا، بعد ازاں طویل عرصے تک انگریزوں کے زیر قبضہ رہا۔ اس تمام عرصے میں رویت کا حتمی فیصلہ مسجد قاسم خان سے ہی ہوتا رہا۔ عبد الرحیم پوپلزئی کے بعد اُن کے فرزند حافظ محمد آمین پوپلزئی اور پھر اُن کے فرزند عبدالقیوم پوپلزئی اور پوتے عبدالحکیم پوپلزئی مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور یہاں سے رویتِ ہلال کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ عبدالحکیم کے فرزند عبد الرحیم پوپلزئی ثانی مسجد قاسم خان کے خطیب کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں تحریک خلافت کے سرگرم کارکن اور امیر بھی تھے۔ قصہ خوانی کے مشہور قتل عام کے بعد آپ کو بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید کی سزاء سنائی گئی تھی۔ دوسری مرتبہ آپ کو وزیرستان میں انگریزی طیاروں کی بمباری کے خلاف بنوں میں احتجاج کی پاداشت میں طویل عرصے کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ عبد الرحیم پوپلزئی ثانی کے بعد مسجد قاسم خان کی خطابت آپ کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم پوپلزئی کرتے رہے۔ جن کے فرزند مفتی شہاب الدین پوپلزئی مسجد قاسم خان کے موجودہ خطیب و امام ہیں۔ جو آج بھی پشاور و اطراف کے ٓنے والی شہادتوں کو جمع کر کے رمضان، شوال اور ذوالحجہ کی رؤیت کااعلان کیاجاتاہےکیونکہ ان مہینوں پہ اسلامی احکامات موقوف ہوتےہیں پشاور و اطراف کے علاوہ دیر، بونیر، ملاکنڈ اور قبائل کی اکثر آبادی آج بھی سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے بجائے مسجد قاسم خان سے ہونے والے رویت کے اعلان کے مطابق رمضان اور عید مناتے ہیں۔


نوٹ: اس مضمون کے لئے قاسم اقبال صاحب کی کتاب ۔ (ثقافت سرحد ،تاریخ کے آئینے میں) اور عبدالجلیل پوپلزئی صاحب کی کتاب ( تاریخ خاندان پوپلزئی) کے علاوہ پاکستان کرونیکل سے استفادہ کیا گیا ہے

اے شیوخِ عرب

اے شیوخِ عرب!!
تمہیں علم ہے کہ تم پر عذاب کیوں نازل ہوا ہے؟ یہ کئی سر والا عفریت جو تمیں چاروں طرف سے گھیر رہا ہے۔ لبنان، شام، بحرین کے بعد اب یمن تمارے لئے ڈرونا خواب بن چکا ہے، تماری سرحدیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ تم جو آج اپنی عشرت گاہوں میں لرزہ بر اندام ہو۔ جانتے ہو کہ یہ کس جرم کی سزا ہے؟
کبھی غور کیا! آج تمیں اپنے عالیشان محلات میں چین نصیب نہیں، دنیا کی سب سے بہترین اور آرام دہ گاڑیوں میں سکون میسر نہیں، ملازموں کی فوج ظفر موج کے ہوتے، غم روزگار کی فکر سے آزاد ہی نہیں بلکہ دولت کے انباروں میں ڈوبے ہونے کے باوجود، جو تمیں کسی کروٹ چین نہیں ملتا، کبھی سوچا ہے کہ قدرت تم سے تمہاری کس بدعمالی کا انتقام لے رہی ہے؟؟
تمارے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ تم یاد تو کرو، کل تک تم صرف ایک خانہ بدوش بدّو تھے۔ 20و یں صدی کے چھٹے عشرے تک تمہیں جدید دنیا کی کوئی نعمت میسر نہیں تھی۔ تمہاری گزر اوقات مال مویشی پالنے پر تھی، یا پھر سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر تم زندگی کا سامان مہیا کرتے تھے۔ بار برداری اور نقل وحمل کا واحد زریعہ اونٹ اور گھوڑے تھے۔ تمارے فقیر خیرات کی خاطر اور متمول بہتر مزدوری کی تمنا دل میں لے کر یمن، شام، ترکی اور ہندوستان کی خاک چھانا کرتے تھے۔
پھر مشیت ایزدی کو تم پر رحم آگیا۔ تمارے صحرا سے تیل کے چشمے جاری ہو گئے۔ تم پر ہُن برسنے لگا۔ دنیا کی ہر نعمت تمارے قدموں میں آگئی۔ دنیا کے کونے کونے سے لوگ آکر تماری چاکری کرنے لگے۔ اور تم اللہ کی ان نعمتوں کے حصول پر شکرگزار ہونے کے بجائے اترانے لگے۔ تکبّر کو اپنا شعار بنا لیا۔ جس سرزمین پر اللہ کے بنی ﷺ نے مساوات کا درس دیا تھا، وہیں تم نے انسانوں کو وطنی اور اجنبی کے اعلیٰ اور ادنیٰ خانوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اللہ کی صفات کو اپنی ذات میں مرکوز کرنے کی جسارت کی اور خود کو انسانوں کا "کفیل" اور "ارباب" کہنے و سمجھنے لگے۔ یہی نہیں بلکہ تم نے اسراف کی انتہا کر دی۔ دولت کو اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنے کے بجائے نمود نمائش پر اڑاتے گئے۔ جس اللہ کی نمعتوں سے سرفراز ہوئے تھے اُس کے دین کی امداد کے بجائے، تم دین کے دشمنوں پر اپنے خزانے لُٹاتے رہے۔ اس سب کے باوجود اللہ کی رسی دراز ہوتی گئی۔
پھر تم ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے۔ اپنی عیاشیوں کی خاطر اللہ کے دین کے غلبے کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے دشمن بن گئے۔ ظاغوت اکبر نے عراق کے مسلمانوں کا قتل عام کیا تو تم اُس کے معاون اور ممددگار تھے۔ شام میں اللہ کا دشمن بشار تماری نیم رضامندانہ خاموشی کی شہہ پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ سیسی نے جب سے علائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد میں مصروف اخوان کے خون سے مصر کے کوچہ و بازار کو رنگین کرنا شروع کیا تو تم نے اُس کے لئے اپنے خزانے وقف کر دیے۔ تم بھول ہی گئے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اُس کی تدبیر ہر مکر پر بھاری ہوتی ہے۔ وہ جب اپنے کُتوں میں سے کسی کُتے کو متکبر دشمن پر مسلط کر دیتا ہے تو پھر کسی مدد کرنے والے کا حصار کارآمد نہیں ہوتا۔
اے شیوخِ عرب تمیں جو چیز اللہ کے عذاب سے بچا سکتی ہے وہ کسی ملک کی فوج ہے نہ کسی عالمی تنظیم یا حکومت کا اثر و رسوخ۔
ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کُھلا ہے۔ پلٹ آؤ قبل اس کے، کہ یہ آخری دروازہ بھی بند ہو جائے۔

یمن اور حوثی چند حقائق

یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے اور پھر سعودیہ کی جانب سے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد یمن کے حوثی قبیلہ دنیا بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ عوام تو عوام ہمارے خاصے صاحب علم افراد کے پاس بھی حوثی قبیلے کی تاریخ اور مذہب کے بارے میں مستند معلومات نہیں ہیں۔ اہل صحافت خصوصا ٹی وی اینکرز اس بارے میں عجیب و غریب خود ساختہ حقائق پھیلا کر لوگوں کو مزید کنفیوز کر رہے ہیں۔حوثیوں کے بارے میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ یہ شعیہ مذہب کے زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات ماضی کے حوالے سے  کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر زیدی فرقے کے مذہبی عقائد پر ڈال لیتے ہیں۔ زیدی شیعہ عقائد کے اعتبار سے اثنا عشری (بارہ امامی) اور اسماعیلی شیعوں سے مختلف ہیں۔ اثنا عشری اور اسماعیلی شیعہ امامت پر نص کے اصول کے قائل ہیں۔ جس کے مطابق امام کے انتخاب کا حق اُمت کی بجائے خدا کو حاصل ہے۔ جبکہ زیدی شیعوں کا ماننا ہے کہ امامت اگرچہ اہل بیعت اور اولاد فاطمہؓ میں ہے تاہم اُمت اہل بیعت میں سے کسی بھی ایسے راہنما کو امام مان سکتی ہے جس کا عدل مشہور ہو اور جو ظلم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ فقہی اعتبار سے بھی زیدی شیعہ حنفی اور مالکی سنی مکاتب فکر سے قریب ہے۔معاملات کو سمجھنے کے لیے ہم یمن کی پچھلی ایک دو صدیوں کی تاریخ پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے شمالی یمن زیدی شیعہ اکثریتی علاقہ رہا ہے۔ زیدی شیعوں کے سیاسی تسلط کی تاریخ شمالی یمن میں کوئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ایسے ادوار بھی ہیں جن میں یہ تسلط شمالی یمن سے بڑھ کے تقریباً پورے یمن میں موجود رہا ہے۔اس کے برعکس جنوبی یمن جس کا سیاسی دارالحکومت بالعموم عدن کی بندرگاہ ہے تاریخی اعتبار سے سنیوں کے شافعی مکتبہ فکر کی اکثریت کا گہوارا رہا ہے۔ عدن کی بندرگاہ اور جنوبی یمن کے اکثر حصے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں پہلے سلطنت عثمانیہ اور بعد میں براہ راست برطانوی سلطنت کے زیر اختیار چلے گئے تھے۔ تاہم شمالی یمن میں دو صدیوں سے قائم شیعہ زیدی امامت میں کسی نہ کسی طرح 1962ء تک اپنی سلطنت کو برقرار رکھا اگرچہ اُس کی حیثیت کئی ادوار میں علامتی ہی تھی۔1962ء میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری عرب سوشلسٹ نیشنلسٹ تحریک کے نتیجے میں مصر کے جمال عبدالناصر کے حامی فوجی افسران نے شمالی یمن میں شیعہ زیدی امامت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ اس موقعہ پر سعودی عرب کی حکومت نے زیدی امام کا ساتھ دیا تھا جبکہ باغیوں کی امداد کے لئے مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے مصری فوج اور بڑی مقدار میں اسلحہ یمن بھیجا تھا۔ یمن کی یہ خانہ جنگی 5 سال تک جاری رہی۔ 1967ء میں اسرائیل جنگ میں بدترین شکست کے نتیجے میں جمال عبدالناصر شمالی یمن سے مصری افواج کے انخلا پر مجبور ہوگیا تھا۔ یوں سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک مفاہمت کے نتیجے میں یمن دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک طرف شمال میں جمہوریۂ یمن معرض وجود میں آیا تو دوسری طرف جنوبی یمن میں جاری نیشنلسٹ سوشلسٹ گوریلا تحریک کے نتیجے میں برطانیہ کا عدن اور جنوبی یمن کی دوسری نوآبادیوں سے انخلا عمل میں آیا۔ جس کی بدولت عوامی جمہوریۂ یمن یا سوشلسٹ یمن کا قیام عمل میں آیا جو سرد جنگ کے زمانے میں عرب دنیا کی واحد سوشلسٹ جمہوریہ تھی۔1990 میں ایک معاہدے کے تحت شمالی اور جنوبی یمن میں اتحاد ہو گیا۔ یوں 22 مئی 1990 کو علی عبداللہ الصالح متحدہ یمن کا پہلا صدر بن گیا۔*****22 مئی 1990 سے 27 فروری 2012 تک یمن پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے علی عبداللہ صالح کا تعلق متحدہ یمن کے دارالحکومت صنعاء کے نواع میں مقیم احمر قبیلے سے ہے جس کی اکثریت مذہبا” زیدی شیعہ ہے۔ خود عبداللہ کا تعلق بھی اسی مذہب ہے۔ عبداللہ الصالح کی متحدہ یمن پر حکومت کے قیام کو چند ماہ بعد ہی گزرے تھے کہ اگست 1990ء میں کویت پر عراق نے قبضہ کر لیا۔ جس کے بعد عرب کی تمام ریاستوں نے صدام حسین کی عراقی حکومت کے خلاف اتحاد قائم کر لیا۔ لیکن یمن کا عمومی جھکاؤ عراق کی جانب تھا۔ جس کی وجہ سے یمن اور دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ خصوصا خلیج کی دوسری جنگ کے موقعہ پر یمن نے کھل کر اپنا وزن عرب اتحاد کے مخالف پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ یمن کی خارجہ پالیسی کے رد عمل میں سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کی عاقبت نااندیش قیادت نے اپنے ہاں سے بڑی تعداد میں یمنی شہریوں کو نکال دیا۔ یاد رہے کہ اس جنگ سے پہلے کویت اور سعودی عرب سمیت دیگر تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کی یمن اور یمنیوں پر بڑی عنایات تھیں۔ تعلیم، صحت، اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں یمن کو ان ریاستوں سے بڑے پیمانے پر تعاوّن ملتا تھا۔ ان ملکوں میں یمنیوں کو کام کرنے اور رہنے کے لئے غیر معمولی سہولیات میسر تھیں۔ خلیجی ممالک سے بڑے پیمانے پر انخلاء کی وجہ سے یمن میں عوام بہت زیادہ معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے، خصوصا یمن میں بے روز گاری میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ اس معاشی ناگفتہ بہ صورت حال میں یمن کی عوام میں عرب حکومتوں کے خلاف جذبات کا پیدا ہونا فطری عمل تھا، جس کا فائدہ ایران نے اٹھایا۔اگرچہ 1960ء کی دہائی میں شیعہ زیدی امامت کے خاتمے کے بعد سے ہی شیعہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ حالات سے ناخوش تھا۔ تاہم 1990 میں عرب ممالک کی جانب سے یمن کی اقتصادی امداد کی کٹوتی اور عمومی سرد مہری کے رجحان سے فائدہ اٹھانے کے لئے حسین بدرالدین حوثی نے ایران کے تعاون سے نے ’شباب المومنین‘ نامی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ حسین ایک زبردست خطیب اور اپنے ساتھ لوگوں کو لے کر چلنے میں ماہر تھا۔ اس نے سب سے پہلے نوجوانوں کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ایران کی امداد سے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہسپتال، سکولز اور سوشل ویلفیئر کے دوسرے منصوبے شروع کیے۔ ان تمام اداروں میں خاص طور پر “امامی شیعہ دینیات” کے پڑھنے اور پڑھانے کا نظام قائم کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں زیدی شعیوں کو امامی یا اثناء عشری بنانے کا آغاز ہوا۔ ’شباب المومنین‘ کے زیر اہتمام طلبہ اور طالبات کو بڑی تعداد میں ایرانی یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوایا گیا۔ جو ایران سے عمومی تعلیم کے علاوہ مالی تعاون عسکری تربیت بھی حاصل کرتے تھے۔ یوں وہ ایران سے شیعہ انقلاب اور خیمنی کے سپاہی بن کر یمن واپس آتے تھے۔ حسین بدر الدین حوثی نے اپنی خطیبانہ مہارت اور انقلابی نعروں سے اور ایرانی پیسے کی مدد سے حوثی قبیلے کے شیعہ قائدین اور عوام کو اپنے گرد جمع کرلیا۔ بہت سے فوجی کمانڈروں اور حزب مخالف کے لیڈروں کو بھی اپنے پیسے کے لالچ سے اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا۔14 سال کی محنت اور ایران سے آنے والے بے پناہ وسائل کی بدولت بدالدین نے اتنی عسکری قوت مہیا کی کہ اُس نے 2004ء میں یمن پر قبضہ کرنے کے لئے بغاوت کر دی۔ یہ پہلی حوثی بغاوت کہلاتی ہے جو شمالی یمن کے سعودی سرحد سے متصل صوبے صعدہ میں واقع ہوئی تھی۔ حوثیوں کی یہ بغاوت بُری طرح ناکام ہو گئی تھی جس میں شباب المومنین کا بانی حسین بدرالدین اور اُس کے بہت سے اہم رفقاء یمنی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ خیال رہے کہ اس وقت یمن پر زیدی مذہب سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ الصالح کی حکومت تھی۔ حسین بدر الدین کے مارے جانے کے بعد تحریک کی قیادت اُس کے بھائی عبدالمالک الحوثی کے پاس آگئی۔ عبدالمالک الحوثی نے قیادت سنبھالتے ہی زیدی شعیوں سے تعلق مکمل طور پر ختم کر دیا۔ شباب المومنین کی تنظیم کو تحلیل کر کے اس کی جگہ نئی تنظیم انصار اللہ قائم کی جسے عرف عام میں الحوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ اس تحریک میں صرف اور صرف اثناء عشری مذہب اختیار کرنے والوں کو شامل کیا گیا جن میں اکثریت حوثی قبیلے کے افراد کی ہے۔عبدالمالک الحوثی کی خوش قسمتی تھی کہ جب اُس کے پاس قیادت آئی تو اُس وقت امریکہ اور مغربی ممالک یمن میں القاعدہ کے فروغ اور استحکام سے سخت پریشان تھے۔ امریکہ اور نیٹو نے القاعدہ کے یمن میں روز بروز فروغ پانے والے اثر و رسوخ کے سامنے بند باندھنے کے لئے حوثی تحریک کا انتخاب کیا۔ یوں اسے بیک وقت ایران اور مغربی ممالک کا مالی اور عسکری تعاون حاصل ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کی سرپرستی کی وجہ سے سعویوں اور دیگر خلیجی حکومتوں نے بھی اس کی سرگرمیوں سے چشم پوشی اختیار کر لی۔*****امریکہ، مغربی طاقتوں اور اُن کے خلیجی اتحادیوں کے نزدیک یمن میں طاقتور ہوتی ہوئی القاعدہ کی مقامی شاخ “انصارالشریعہ” القاعدہ کے دیگر گروپوں کی نسبت بہت زیادہ خطرناک تھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ان طاقتوں نے دو دھاری پالیسی کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف یمن کے حکمران علی عبداللہ الصالح کی وفادار فوج ری پبلکن گارڈز (جس کی قیادت علی عبداللہ الصالح کے بیٹے احمد علی الصالح کے پاس تھی) کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ 2004 سے لے کر 2011 تک یمنی ری پبلکن گارڈز کو امریکہ کی جانب سے 326 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ اور نقد رقوم مہیا کی گئیں، اسی عرصے میں اس کے فوجی کمانڈروں کی تربیت کے کئی پروگرامات پایہ تکمیل تک پہنچ چکے تھے۔ “انسدادِ دہشت گردی” سلسلے میں 2004 کی بغاوت کے وقت سے معتوب چلی آنے والی حوثی تحریک کی حکومت سے صلح کرائی گئی۔ 2008 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت بغاوت کے جرم میں قید تمام حوثی قائدین کو نہ صرف رہا کر دیا گیا، بلکہ ان کا تمام ضبط شدہ اسلحہ اور گولہ بارود واپس کر دیا گیا۔ اور ایران سے ملنے والی عسکری امداد پر بھی آنکھیں بند کر لی گئیں، جس کا امریکی حکام یہ جواز پیش کرتے تھے کہ اگر انہیں ایران سے امداد مل رہی ہے تو یہ القاعدہ سے لڑ بھی رہے ہیں۔دوسری جانب القاعدہ کے خلاف یمنی فوج اور امریکہ نے براہ راست جنگ کا بھی آغاز کر دیا۔ یمنی فوج زمینی کاروائیوں کی ذمہ دار تھی جبکہ اسے سعودیہ کی سرزمین سے پرواز کرنے والے امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے فضائی امداد مہیا کی جاتی تھی۔ امریکی ڈرون طیاروں کی ان کاروائیوں کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان، عراق اور صومالیہ کی نسبت کہیں زیادہ ڈرون حملے یمن پر کیے۔ بظاہر یہ ڈرون حملے اور زمینی عسکری کاروائیاں القاعدہ اور اس سے تعاون کرنے والوں پر کیے جاتے تھے، لیکن عملا ان کے نتیجے میں یمن کے تمام ہی سنّی قبائل کی عسکری قوت کو کمزور کر دیا گیا کیونکہ مغربی طاقتوں کا خیال تھا کہ القاعدہ کو سنّی قبائل سے اجتماعی یا انفرادی طور پر تعاوّن ملتا ہے۔یمن کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اُس وقت رونما ہوئی جب تیونس، مصر اور لیبیا میں عرب بہار کی کامیابی کے بعد یمن کے دارالحکومت صنعاء اور دوسرے شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی گئی۔ حکومت نے مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنائی۔ 2 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ 22 ہزار شدید زخمی ہوئے، جبکہ 7 ہزار افراد جیلوں میں قید کردیے گئے۔ علی عبداللہ الصالح کی ری پبلکن گارڈز کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود مظاہریں ڈٹے رہے۔ امریکہ اور اُس کے یورپی و خلیجی اتحادیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ افراتفری کے اس ماحول سے القاعدہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ لہذا پُرامن انتقال اقتدار کا ایک فارمولہ تیار کیا گیا، جس کے تحت علی عبداللہ الصالح کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور یمن کے تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ نئی قائم ہونے والی حکومت کا صدر “عبد ربہ منصور ہادی” مسلک کے اعتبار سے شافعی تھا، جبکہ اس حکومت میں وزیر اعظم کا عہدہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنی مضبوط سیاسی پوزیشن کی وجہ سے اخوان المسلمون کی یمنی شاخ جماعت الاصلاح کے پاس آ گیا۔یہاں حالات نے ایک اور کروٹ لی، عرب حکومتیں نہ صرف القاعدہ سے خائف تھیں، بلکہ وہ یمن میں اخوان کے نظریات رکھنے والے کسی شخص کو ملک کے اعلیٰ عہدے پر برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں تھیں۔ لہذا اس حکومت کے ساتھ ان کا رویہ ابتداء ہی سے بہت سرد مہری کا تھا۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے بھی اس حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی یمن کو دی جانے والی ہر قسم کی امداد بند کر دی۔ دوسری طرف علی عبد اللہ الصالح نے اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ 1911 میں یمن سے خلافت عثمانیہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر متحدہ یمن کے اقتدار پر اہل سنّت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ اس نعرے کو اہل تشیع میں پذیرائی حاصل ہوئی، یمن کے شعیہ اکثریتی علاقوں میں اہل تشیع کے اقتدار کی بحالی کے نعرے بلند ہونا شروع ہو ئے۔ علی عبداللہ الصالح کے تعاون، عبد المالک حوثی کی قیادت اور ایرانی عسکری ماہرین کی رہنمائی میں حوثی قبائل کی فوجوں نے پیش قدمی کرنا شروع کر دی۔دلچسب حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی کی راہ میں مزاحمت کرنے والوں میں سب سے نمایاں نام سابق صدر علی عبداللہ کے زیدی مذہب کے حامل قبیلے الاحمر کا ہے۔ جس کے مسلح نوجوانوں نے جنرل علی محسن الاحمر کی زیر قیادت 6 مختلف مقامات پر حوثیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لیکن اس موقع پر 30 سال سے زیادہ عرصے تک یمن کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے علی عبداللہ الصالح کی وفادار ری پبلکن کارڈز (جسے نئی حکومت نے بحیثیت ادارہ تحلیل کر دیا تھا) اور دیگر سرکاری عہدے داروں نے حوثیوں کا ساتھ دیا اور وہ بغیر کسی بڑی مزاحمت کے دارالحکومت صنعاء پر قابض ہو گئے۔ جہاں اںہوں نے سب سے پہلے طاقت کے بل بوتے پر “جماعت الاصلاح” کے وزیراعظم “سلیم باسندوا” کو برطرف کر دیا۔ “جماعت الاصلاح” کی قیادت اور کارکنوں کو چُن چُن کر قتل کیا گیا۔ یہاں تک سب کچھ پلان کے مطابق تھا اسی لئے یورپی اور خلیجی حکومتوں نے حوثیوں کے دارلحکومت صنعاء پر قبضے پر بھی کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔*****یمن کے دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے مکمل قبضے اور وزیر اعظم کی جبری برطرفی کے بعد قصر صدارت میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر (امریکی ٹاؤٹ کے طور پر شہرت رکھنے والا مراکش کا سابق سیاستدان) کی زیر نگرانی اور خلیج تعاون کونسل کی ضمانت میں حزب الاصلاح کو ایک طرف رکھ کر حوثی نمائندوں اور باقی یمنی سیاسی جماعتوں کے مابین ایک دستاویز پر دستخط ہوئے۔ جسے “اتفاقیۃ السلم والشراکۃ” (معاہدہ امن و اشتراک) کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت سابق یمنی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ فوری طور پر ایک ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام پر اتفاق ہوا، جس کا وزیراعظم حُوثی ہونا قرار پایا۔ “عبد ربہ ھادی منصور” کو اس مجوزہ حکومت کا عبوری صدر نامزد کیا گیا۔ حُوثیوں نے اس امن معاہدے کی سیاسی دستاویز پر دستخط کردیے۔ لیکن انہوں نے فوجی اور دفاعی امور سے متعلق دستاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے تحت حوثیوں کو دارالحکومت صنعاء سے پیچھے ہٹ جانا تھا اور سکیورٹی سرکاری حکام کے حوالے کر دینی تھی۔معاہدے کی شب کو حوثیوں نے یمن کے تمام زیر قبضہ شہروں اور قصبات میں زبردست آتش بازی اور فائرنگ کرتے ہوئے ’’انقلاب آزادی‘‘ کی کامیابی کا جشن منایا۔ انہوں نے دارالحکومت کو خالی کرنے کے بجائے وزارت دفاع، داخلہ، فوجی مراکز سمیت دارالحکومت کے تمام اہم مقامات پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا۔ صنعاء اور دیگر زیر قبضہ شہروں میں واقع اہم فوجی چھاؤنیوں سے ٹینکوں، توپوں اور بکتربندگاڑیوں پر مشتمل بھاری اسلحہ اپنے قبضے میں لے کر شمال میں واقع اپنے محفوظ فوجی ٹھکانوں میں منتقل کردیا۔ یہی نہیں بلکہ عبوری صدر کو اُس کے محل میں نظر بند رکھنے کے بعد صنعاء سے نکال دیا۔ تہران اور صنعاء کے درمیان براہ راست پروازوں کا غیر قانونی معاہدہ کر لیا۔ اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی علی شیرازی نے فارسی نیوز ویب پورٹل” دفاع پریس” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حوثی گروپ “انصار اللہ”، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ایک نئی شکل ہے جو “یمن میں کامیابی کے بعد اسلام دشمنوں کے خلاف ایک نیا محاذ شروع کرے گا”۔ ادھر حوثی باغیوں نے صنعاء سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے عارضی دارلحکومت عدن کو محاصرے میں لے لیا۔عین یہی وہ وقت تھا جب ان پر سعودی طیاروں کے فضائی حملوں کا آغاز ہوا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کی ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل سرحد یمن سے ملتی ہے۔ حوثی یمن کے علاوہ سعودی عرب کے تین صوبوں “نجران جازان اور عسیر” کو یمن کی سابق شیعہ سلطنت کا حصہ قرار دے کر دوبارہ قبضے کے دعوے دار ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ یمن کی 70 فیصد آبادی سنّی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ 20 فیصد آبادی زیدی شیعہ کی ہے۔ جبکہ حوثی کل آبادی کا 5 فیصد بھی نہیں بنتے ہیں۔ اس لئے یمن پر ان کے مستقل قبضے کی کوئی صورت عملا نظر نہیں آتی ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ حوثی اور ایران حوثیوں کے موجودہ قبضے کے ذریعے یمن میں ایک خود مختار علاقے اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے برقرار رہنے کی یقین دھانی کے علاوہ بحرین میں شیعہ حکومت کے قیام کے لئے سودےبازی کرنا چاہتے ہیں۔

بچوں سے جنسی زیادتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک معروضی جائزہ

آج کی ماڈرن اور تہذیب یافتہ دنیا میں بچوں سے جنسی زیادتی (child sex) ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ ہر سال یورپ اور امریکہ سے لاکھوں لوگ بچوں کے جنسی استحصال کی سیاحت (Child sex tourism) کے لئے مشرق بعید کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، لاؤس، مشرقی تیمور، کمبوڈیا، تائیوان، منگولیا اور مکاؤ میں یہ شرم ناک کاروبار(child prostitution) ایک منظم صنعت کی شکل میں ہو رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مناظر پر مبنی فلموں، تصاویر اور ویب سائیٹ کا کاروباری حجم بھی کروڑوں ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
بچوں سے جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات جن ممالک میں ہوتے ہیں اُن میں سرے فہرست جنوبی افریقہ، انڈیا، زمبابے، برطانیہ اور امریکہ ہیں۔ سکارٹ لینڈ یارڈ(Scotland Yard) کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں سال 2013 کے دوران 18,915 بچوں سے جسنی زیادتی کیس رجسٹر ہوئے ہیں۔ جبکہ قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والے اکثر بچوں کے کیس رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات (US Department of Health and Human Services) کے تحت 2010 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے 28 فیصد امریکی بچے جنسی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دنیائے عیسائیت کے سب سے قدیم اور ہم جنس پرستی کی مخالفت کرنے والے کیتھولک چرچ میں پادریوں کی جانب بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات اتنے تسلسل سے سامنے آئے ہیں، کہ اقوام متحدہ نے باقاعدہ ویٹیگن سے 1995 سے 2013 تک کے کیسز کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ لیکن ویٹیگن نے یہ تفصیلات مہیا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن پوپ کی جانب سے یہ یقین دھانی کرائی گئی تھی کہ اس کے بعد بچوں سے جسنی تعلق کا میلان رکھنے والوں کو پادری مقرر نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب پروٹیسٹنٹ چرچ میں ہم جسنیت کی اجازت ہونے کی وجہ سے وہاں کا حال اس سے کئی گناہ زیادہ بُرا ہے۔
یہ ہے ماڈرن اور تہذیب یافتہ ممالک کے معروضی حالات ایک سر سری جائزہ۔ ادھر پاکستان میں ایک معصوم بچہ ایک ایسے درندے کی حیوانیت کا شکار ہو گیا ہے۔ جس نے شکل مولوی جیسی بنائی ہوئی تھی اور اس کا تعلق مسجد سے تھا۔ اس واقعے کی آڑ میں نام نہاد لبرل، سیکولر مولوی ، مسجد اور مدرسے کو گالیاں دینے کا شوق پورا کر رہے ہیں۔ کئی ایک تو مسجد سے بچوں کو دور رکھنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے بچوں سے جنسی زیادتی مولوی اور مسجد و مدرسے سے لازم ملزوم ہے۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے این کا زوال ایک نظریے کی شکست

پاکستانی سیاست میں سیکولر قوم پرست اور اسلام مخالف جماعت عوامی نیشنل پارٹی (این این پی) کا زوال کوئی عام واقعہ نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک اسلامی معاشرے میں مذہب بیزار سوچ اور سامراج کی چاکری پر فخر کرنے کے نظریے کی واضع شکست ہے۔

اے این پی کی تاریخ خاصی طویل ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس جماعت کی ہیت تبدیل ہوتی رہی اور اس کے کئی نام بھی تبدیل ہوئے۔ اس کی ابتداء موجودہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے برطانوی فوج کے ایک سابق ملازم خان عبدالغفار خان کی جانب سے "انجمن اصلاح افغان نامی تنظیم" کے قیام سے ہوئی تھی۔ بظاہر پشتونوں کی سماجی اصلاح کے مقصد کے لئے بنائی جانے والی اس تنظیم کا مقصد پشتون معاشرے میں علماء کے مقام کو زک پہچانا اور غیور پشتون قبائل کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرنا تھا۔

اس تنظیم کے اغراض و مقاصد کے بارے میں خان عبد الغفار خان نے 1969ء میں شائع ہونے والی  اپنی کتاب "میری زندگی اور جدوجہد" میں لکھا ہے، "بیسیوں صدی سے پہلے پشتون معاشرہ نہایت جنگجو، غیر مساوی، بنیاد پرست، سماجی بگاڑ، جہالت اور غیر تعلیم یافتہ بنیادوں پر استوار تھا۔ تعلیم کے مواقع نہایت محدود تھے۔ یہاں آباد تمام پشتون قبائل مسلمان تھے اور معاشرے پر مذہب کی چھاپ واضع تھی، معاشرے پر مساجد کے امام جو کہ مولوی کہلاتے تھے کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔ تعلیم حاصل کرنا اور خاص طور پر انگریزی طرز پر قائم سرکاری مدرسوں میں بچوں کا تعلیم حاصل کرنا جہنم واصل ہونے سے منسوب کر دیا گیا تھا۔ تعلیم بارے اس تمام پروپیگنڈہ کا مقصد پشتونوں کو غیر تعلیم یافتہ اور جہالت میں غرق رکھنا تھا"

پشتون معاشرے میں اسلام پسندی کے انمٹ اثرات کے باعث یہ تنظیم اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو گئی۔ لیکن خان عبدلغفار خان نے ہمت نہ ہاری، جلد ہی پینترا بدلا اور پشتون قبائل میں انگریز قابضیں کے خلاف جاری تحریک جہاد کی بنیادوں میں تزلزل پیدا کرنے کے لئے ایک نئی "تنظیم خدائی خدمت گار" بنا کر عدم تشدد کا پرچار شروع کردیا۔ انگریز سامراج کے تعاون سے اس نئی تنظیم نے خوب ترقی کی اور آزاد قبائل میں جاری انگریزوں کے خلاف مزاحمتی جہاد کو انگریزوں کے زیر قبضہ پشتون علاقوں میں پھیلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیاب رہی۔ اس خدمت کے صلے میں انگریزوں نے اس جماعت کو خوب نوازا، یہی جماعت 1947 میں تقسیم برصغیر تک یہ شمال مغربی سرحدی صوبے کی حکمران رہی۔

تقسیم برصغیر کے بعد انگریز سامراج کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد خدائی خدمات گار تحریک کی قیادت نے جلد ہی روسی سامراج سے یارانے گانٹھ لئے جو اس وقت وسط اشیاء کے مسلم ممالک کو ہڑپ کرنے کے بعد افغانستان میں قدم جما رہا تھا۔ مقامی طور پر خدائی خدمتگار کا نام تبدیل کر کے نیشنل عوامی پارٹی رکھ دیا گیا جس میں پشتونوں کے علاوہ دیگر کیمونسٹ نواز قوم پرست بھی شامل ہو گئے۔ روسی سامراج سے اس تنظیم کی قربت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب روسی فوج کے افغانستان میں داخل ہونے پر اس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا، تو خان عبدالغفار خان 1980ء سے 1982 کے دوران روس میں موجود رہ کر، اور اس کے بعد اے این پی کی صدارت کرنے والا اجمل خٹک پورے افغان جہاد کے دوران کابل میں موجود رہ کر پشتون قومیت کے نعرے کی بنیاد پر جہاد کی مخالفت میں اپنا کردار ادا کرتا رہا تھا۔ اُن دنوں اے این پی کے قائدین کھلے عام اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم بہت جلد "سرخ روسی" روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر آئیں گے اور پاکستان کو فتح کر ڈالیں گے۔

"سرخ روسی ریچھ" افخانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر جب اپنی موت  آپ مر گیا تو پاکستان میں روس نواز قوم پرستوں کا اتحاد جو روسی روبل کے سہارے نیشنل عوامی پارٹی کی شکل میں قائم تھا، جلد ہی تنکوں کے آشیانے کی طرح بکھر گیا۔ اس کے بعد پشتوں قوم پرست ایک ابر پھر "اے این پی" کی صورت میں ایک نئی جماعت میں اگھٹے ہو گئے۔ جب افغانستان میں اسلامی حکومت پر جب امریکہ نے حملہ کیا تو ایک بار پھر ان قوم پرستوں کی بن آئی۔ انہوں حسب روایت نے اپنے کندھے اس نئے سامراج کو پیش کیے۔ امریکہ کے خلاف مزاحمت کی ہر طرح اور ہر فورم پر مخالفت کے بدلے میں ڈالر اور اقتدار کے مزے لوٹے۔

لیکن شاہد مہلت کا زمانہ بیت چکا ہے، ایک معاشرے میں بڑھتے ہوئی عوامی شعور اور بیداری نے اس پارٹی کی حقیقت عوام کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ دوسری طرف پشتوں معاشرے میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری نے مذہب بیزار سیاست کا ناقطہ بند کر دیا ہے۔ یہی وجہ سے کہ یہ پارٹی اپنی بدترین شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہی ہے۔ پشتون خون کے بدلے ملنے والے کروڑوں ڈالر عوامی نیشنل پارٹی یا اے این پی کی قیادت کرنے والے خاندان میں اختلافات کا باعث بن گئے ہیں، خان عبد الغفار خان کی بہو نسیم ولی خان اور اس کے دو پوتے سنگین ولی اور اسفند یار ولی آپس میں دست گریباں ہیں۔ دوسری طرف ان کے قریبی رشتے دار اور مرکزی رہنما و سابق وزیر اعلیٰ سرحد کے والد اعظم ہوتی کھل کر پارٹی قیادت پر امریکہ سے پیسے وصول کرنے کے الزامات عاید کر رہے ہیں۔ ہر فرد دوسرے کو پارٹی کی اس تباہی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ سب اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔  

مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی روایت : چند حقائق



کسی حادثے میں مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی رسم کو میڈیا نے گلیمرس بنا دیا ہے، کہ اب ہر بلا سوچے سمجھے اسے اختیارکر رہا ہے۔آئیے اس رسم کے بارے میں چند حقائق دیکھتے ہیں۔شمع جلا کر یا آگ روشن کر کےعبادت کرنا تو دنیا کے کئی مذاہب کا مشترکہ عمل ہے۔ جس میں عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، آتش پرستی وغیرہ سب شامل ہیں۔ لیکن خاص طور پر مر جانے والوں کی یاد میں شمع جلانے کی رسم مذاہب دنیا میں صرف اور صرف یہودیت کا خاصہ ہے۔

ہر مرنے والے یہودی کی یاد میں اُس کے خاندان والے مرنے کی اگلی رات سے لے کر مسلسل سات راتوں تک گھر میں ایک شمع روشن کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ عمل ہر ہفتے یعنی "سبت" کی رات کو دھرایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر سال یعنی اس کی برسی کی رات کو بھی اس کی یاد میں شمع جلائی جاتی ہے۔ یہ یہودیت کی ایک باقاعدہ مذہبی رسم ہے جس کو "یاہرذٹ" (yahrzeit) کہا جاتا ہے۔یہودیت میں مرنے والوں کی یاد میں شمع روشن کرنے کا دوسرا موقع "یوم کپور" (Yom Kippur) ہوتا ہے۔ یوم کِپور کا تہوار ہر سال یہودی کلینڈر کے مہینے "تشری" کے دسویں دن مانایا جاتا ہےـ جو عموماً ستمبر یا اکتوبر میں آتا ہےـ یہ ایک لمبا روزہ ہوتا ہے جو سورج ڈوبنے پر شروع ہوتا ہے اور اگلے دن سورج غروب پر کھولا جاتا ہےـ اس پوری رات میں یہودی عبادت کرتے ہیں اس رات ہر یہودی اپنے دنیا سے گزر جانے والے ہر عزیز کی یاد میں شمع بھی جلاتا ہے۔صدیوں سے مرنے والوں کی یاد میں شمع روشن کرنے کی یہ رسومات یہودی مذہب کا حصہ ہیں۔ اور صرف یہودیوں میں ہی رائج رہی ہیں۔ مغربی دنیا میں اس رسم کو معاشرے کا عمومی رواج بننے کا عمل دوسری جنگ عظیم کے بعد سے شروع ہوا۔ جب سامراجیوں نے ہٹلر کی جانب سے لاکھ یہودییوں کے قتل عام (Holocaust) کے پراپوگنڈے کو اتنا پھیلایا کہ لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگے۔ تو ہر طرف یہودی مظلومیت کی ہوا چلنے لگی۔ جب یہود نے جنگ کے اختتام پر ہالو کاسٹ میں مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنا شروع کیا تو، یورپ بھر میں غیر یہود نے بھی اظہار یکجہتی کے لئے قریہ قریہ شہر شہر شمعیں جلانا شروع کیں۔ ایک طویل عرصے تک یورپ میں ہر سال صرف ہالو کاسٹ میں مرنے والے یہودیوں کی یاد میں ہی شمعیں روشن کی جاتی رہی ہیں۔ اس کے بعد یہ ہر حادثے میں مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جانے لگیں۔یورپ کی دیکھا دیکھی آہستہ آہستہ گلوبلائیزیشن کے زیر اثر یہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی یہ رسم پھیلنا شروع ہو گئی۔

دہشت گرد کون؟؟؟

کیا دہشت گرد" وہ"                                                  ہوتا ہے جو انسانوں کا قتل عام کرے، جس کے باعث عوام الناس دہشت کا شکار ہو جائیں؟؟
اگر ایسا ہوتا تو "اندلس میں مسلمانوں اور امریکہ میں سرخ ہندیوں کی نسل کشی کے مجرم ہسپانویوں، برصغیر اور الجزائر میں مسلمانوں کے قتل عام کے مجرم برطانویوں اور فرانیسیوں کو دہشت گرد مان لیا گیا ہوتا"۔
"جلیاں والا باغ میں ظلم اور بربریت کی انتہا کرتے ہوئےاپنے فوجیوں کو احتجاج کرنے والوں پرفائرنگ کا حکم دینے والے جنرل ڈائر کو دنیا دہشت گرد جانتی"۔
"روس میں کروڑوں انسانوں کے قتل عام کے مجرم شیطان نما جوزف سٹالن اور جاپان میں ھیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کے ذریعے قتل عام کے مجرم ہیری ٹرومین کو دہشت گرد کے نام سے یاد کیا جاتا"۔
"صبرا و شتیلا میں نہتے اور معصوم انسانوں کے قتلِ عام کے براہ راست ذمہ دار ایرئل شیرون کو دہشت گرد تسلیم کر لیا گیا ہوتا"۔"بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا راڈوان کرازچ، افغانستان کے 15 لاکھ مسلمانوں اور عراق میں 4 لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کا ماسٹر مائینڈ جارج بش پر دہشت گرد کا لیبل چسپاں ہو چکا ہوتا"۔
بلکہ رونڈا و برونڈی، کانگو، زائیر، لائبیریاء، وسطی افریقہ، مالی اور نائیجیریا میں انسانیت کے قتل عام کے کسی مجرم کو کبھی دہشت گرد نہیں کہا گیا۔برما کا  تھین سین ہو یا ہندوستان کا نریندر مودی، اسرائیل کا بنیامن نتھن یاہو ہو یا پھر شام کا بشار الاسد، نہتے انسانوں پر آتش و آہن برسانے کا جرم کریں یا ریاستی طاقت کو قتل عام میں معاونت کا حکم دیں، ہر صورت میں دہشت گرد کے لیبل سے محفوظ رہتے ہیں۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ دہشت گرد ہوتا کون ہے ؟؟
بڑا سیدھا سا جواب ہے، کہ دہشت گرد صرف وہ کہلاتا ہے جو اللہ کا نام لیتا ہے اور اسلام کے نفاذ کی بات کرتا ہے۔  یہ چاہے افغان طالبان کی صورت خود پر مسلط کردہ مسلح جنگ میں اپنا     دفاع کر رہا   ہو یا اخوان المسلمون کی صورت پُرامن جدوجہد، یہ ہر صورت میں دہشت گردی کا مجرم کہلائے گا۔
حد تو یہ ہے کہ "پی ایل او" اگر عرب قوم پرستی کے نام پر اسرائیل کے خلاف گوریلہ جنگ لڑے، جہاز اغواہ کرے یا ٹارگٹ کلنگ، وہ حریت پسند ہی رہتی ہے۔  لیکن اگر اسلام کا نام لینے والی حماس اسرائیلی جہاریت سے دفاع ہی کر لے تو بھی، وہ دہشت گرد کہلاتی ہے۔
مصر کا دین بیزار آمر عبدالفتح سیسی جمہوریت پر شب خون مارے، عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرے، نہتے مظاہرین پر ٹینک چڑھا دے تو بھی دہشت گرد نہیں ہوتا، لیکن ان سارے مظالم کے باوجود بھی ہتھیار نہ اٹھانے والی اخوان المسلمون صرف اسلام کی بات کرنے کے جرم میں دہشت گرد بن جاتی ہے۔

لہذا اس "دہشت گرد" لفط کے لغوی مفہوم کو بھاڑ میں جھونک ڈالیے اور اسے ہمیشہ اُسی اصطلاحی مفہوم میں لیجیے جس میں مغرب اور اُس کے چیلے چانٹے پیش کرتے ہیں، یعنی دہشت گرد وہ انسان یا تنظیم ہے جو اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات مانتی  اور اس کے نفاذ کے لئے کوشاں ہو۔

ضرب عضب اور پاکستان کا مسقبل

پاکستانی فوج  نےایک مرتبہ پھر شمالی وزیرستان میں "ضرب عضب"  کے نام سے ایک بڑےفوجی آپریشن کا آغاز کر دیا  ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق  2001ء میں  امریکہ کی اعلان کردہ  جنگ کے بعد  کے 13 سالوں میں یہ 26واں  بڑا آپریشن ہے جو پاکستانی فوج اپنے ملک کے قبائیلی علاقوں میں شروع کر چکی  ہے،جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں کی جانے  والی چھوٹی عسکری  کاروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔   اگر صرف وزیرستان کی بات کی جائے تو یہاں اس سے پہلے "المیزان،  زلزلہ،  راہ  راست،  راہ  نجات " کے ناموں  سے بڑے آپریشن   ماضی میں کیے جا چکے  ہیں ۔

ان تمام فوجی آپریشنز  کے مقاصد میں دہشت گردی کا خاتمہ اور حکومتی رٹ کی بحالی شامل تھی۔  ہر آپریشن کے  آغاز میں  پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا   نے پوری قوم  میں  جنگی ہجان برپا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عسکری زرائع  سے بھی  دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے اور اُن کے نیٹ ورک کو ملیا میٹ کرنے  کے اعلانات سامنے آتے رہے ہیں۔   آہستہ آہستہ  "کامیابیوں کی نویدِ مسرت " کا بہاو کم ہوتا جاتا اور پھر اچانک کسی سہانی شام میں بغیر کسی اعلان کے یہ آپریشن  انتہائی خاموشی  سے ختم ہوجاتا۔  عوام کو  ہمیشہ  سابقہ آپریشن   کے خاتمے کا سراغ  نئے آپریشن کے آغاز کے اعلان سے ملتا رہا  ہے۔ تاہم ہر نئے  آپریشن کا آغاز ہی اس  بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ  اس سے پہلے  کیے جانے والے تمام آپریشنز اپنے  اہداف کے حصول  میں ناکام رہے تھے۔ 

موجودہ آپریشن "ضرب عضب" بھی ماضی  کے آپریشنز سے بڑی حد تک مماثلت  رکھتا ہے۔  وہی دعوے اور اعلانات ، ویسا ہی جنگی ہیجان  پیدا کرنے کی کوشش۔  باخبر حلقے کہتے ہیں کہ اس آپریشن کے پس منظر میں بھی ماضی کی طرح امریکہ کی جانب سے "ڈو مور " (Do More)  کا  مطالبہ اور فوجی امداد کو اس فوجی کاروائی سے مشروط کرنے کی دھمکی شامل ہے۔  لیکن یہ آپریشن ماضی میں کیے جانے والے تمام آپریشنز سے ایک لحاظ سے مختلف  بھی  ہے  اور نتائج کے اعتبار سے بہت  زیادہ  بھیانک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

اس آپریشن کی خاص بات ایک تو اس کی ٹائمنگ  ہے ، یہ آپریشن عین اُس وقت شروع کیا گیا ہے جب امریکہ اس خطے سے ایک بدترین اور ذلت آمیز شکست کے بعد  کسی بھی قیمت پر محفوط انخلاء کی کوشش میں مصروف ہے۔ دوسری  اہم بات یہ کہ موجودہ آپریشن  "تحریک طالبان پاکستان" کے علاوہ  افغان طالبان کے بازوئے شمیشر زن  "حقانی نیٹ ورک" اور اُن کے پاکستانی اتحادی "حافظ گل بہادر گروپ "کے خلاف  بھی کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ "حقانی نیٹ ورک" کو پاکستان کی سکیورٹی  اسٹیبلشمنٹ  اپنا  "تزویراتی     اثاثہ" (Strategic Asset)قرار  دیتی آئی ہے ۔ ماضی میں اس حوالے  سے امریکی دباؤکو ہمیشہ  نظر انداز کرتی رہی ہے۔  اور یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک  اہم نقطہ  رہا ہے  کہ"حقانی نیٹ ورک" کو مسقبل کے لئے محفوط رکھا جائے ،تاکہ جب طالبان اقتدار میں آئیں تو   وہاں پاکستان کے مفادات کا تحفظ  ہو سکے۔
 ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کا افغانستان سے نکل جانا نوشتہ دیوار بن چکا ہے۔  اب وہ  افغانستان پر حملے  کے وقت اعلان کردہ  کوئی بھی ہدف  کا ذکر کرنے کے بجائے محفوظ انخلاء کی بات کر رہا  ہے، افغانستان میں طالبان کی  کابل میں فاتحانہ  واپسی  کے امکانات   اور طاقت  و اقتدار میں ہر گزرنے والا دن اضافہ کررہا ہے، امریکہ کی حمایت  اور طاقت  کے سہارے  قائم ہونے والی "کابل حکومت" کے   اقتدار کی عمارت زمین بوس ہونے کو  ہے،القاعدہ پہلے کی نسبت زیادہ طاقتور ہو چکی ہے ، اب وہ افغانستان کے پہاڑوں میں روپوش نہیں ہے  بلکہ یمن ، عراق، شام ، لیبیا، مصر، مالی  اور صومالیہ جیسے ممالک میں مغربی طاقتوں اور انکے مقامی حلیفوں  سے براہ راست حالتِ جنگ میں ہے، خود مغربی ممالک میں  مسلمان  نوجوانوں کی بڑی تعداد  القاعدہ  کی دعوت سے متاثر ہو کر جہادی میدانوں میں اتر رہی ہے۔ پاکستانی حکومت  اور سکیورٹی سٹیبلشمنٹ کی جانب سے   "حقانی نیٹ ورک" اور انکے پاکستانی اتحادیوں  (جنہیں وہ اپنا انصار اور محسن قرار دیتے ہیں) کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دینا   سمجھ سے بالاتر عمل ہے۔

حالات پر نظر رکھنے والے حلقے جانتے ہیں  کہ امریکہ کی کوشش میں تھا  کہ وہ افغانستان سے نکلنے سے قبل یہاں "پراکسی وار" (Proxy War)  کا بدوبست کر سکے۔  ایک ایسی جنگ جس کے ذریعے وہ طالبان اور دیگر اسلامی قوتوں کو مصروف رکھ سکے  لیکن اُس کا اپنا جانی نقصان نہ ہو۔ امریکہ جانتا ہے کہ افغانستان میں اُس  کی اپنی  تیار  کی ہوئی"افغان ملّی اردو"(Afghan National Army) اس قابل نہیں ہے کہ  امریکی فوج کے انخلاء کے بعد چند مہینوں تک بھی طالبان کا مقابلہ کر سکے۔ اس لئے اسے ایک زیادہ  بہتر فوجی قوت کی ضرورت تھی جو  اُس کی  جاری  کردہ  سراسر خسارے کی جنگ کو اپنے گلے کا طوق بنانے پر تیار ہو جائے۔  
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود مضبوط امریکی لابی میڈیا ،اقتدار کے ایوانوں اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں موجود  اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر  پاکستان کو اس  نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے سنجیدہ اور محب الوطن حلقے اس پر واضع  پالیسی  اختیار کریں ، آج اگر  میڈیا اور مغرب نواز حلقوں کی جانب سے پیدا کیے گئے جنگی ہیجان  سے خوفزدہ  ہو کر  خاموش رہے۔اور پاکستان کواس دلدل میں اترنے سے نہ روکنے میں اپنا کردار ادا  نہ کیا   تو مسقبل کے مورخ کی نظر میں  وہ  بھی پاکستان  کی تباہی میں برابر کے مجرم شمار ہوں گے۔ 

جیو کا جرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ 2001 کے ابتدائی دن تھے۔ جب پشاور سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں ایک توہین رسالت ﷺ پر مبنی  خط شائع ہوا۔  ایک یہودی کے لکھے ہوئے اس خط میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ کی شان میں انتہائی نوعیت کی گستاخی کی گئی تھی۔ آپﷺ کی ذات پر سنگین  حملے کیے گئے  اور انتہائی غلیظ زیان استعمال کی گئی تھی۔ خط کا چھپنا تھا کہ عوام میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ اُس روز بھی پشاور کا ماحول خاصا تلخ رہا لیکن دوسرے روز جب ایک اردو اخبار نے اس طرح کے خط کی اشاعت کی خبر شائع کی تو عوام کے جذبات کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

شہر کے ہر گلی کوچے سے جلوس نکلنا شروع ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد عوام کا ایک جمِ غفیر اخبار کے دفتر کے سامنے جمع ہو گیا۔ عوام کے ضزبات قابو سے باہر ہوئے تو انہوں نے دفتر پر حملہ کردیا۔ جس سے اخبار کا دفتر اور پریس جل کر راکھ ہو گیا۔  اخبار کے دفتر کے علاوہ کئی سنیماء اور دیگر املاک بھی عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بنے۔ تین دن تک شہر میں مکمل ہڑتال کا سماں رہا۔ کوئی دکان نہیں کھل سکی۔ یہاں تک کہ کئی علاقوں میں اشیائے خورد و نوش کی قلت ہو گئی۔  

تین دن کے بعد جب حالات کسی حد تک معمول پر آئے تو انگریزی اخبار پر توہین رسالت کا مقدمہ قائم ہوا۔ اور جس اردو اخبار نے اس خط کے شائع ہونے کی خبر چھاپی تھی اُس کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ معملہ کئی مہنے تک چلتا رہا۔ اس دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ چند روز کے تعطل کے بعد فرنٹیئر پوسٹ نے اپنی اشاعت دوبارہ شروع کر دی۔ چند مہینے گزرنے کے بعد انگریزی اخبار کے مدیر اور ناشر نے عدالت سے غیرمشروط معافی طلب کی۔ جس پر عدالت نے انہیں معاف کردیا۔ یہ اخبار آج بھی پشاور سے روزانہ شائع ہو رہا ہے۔ جبکہ خبر شائع کرنے والے اردو اخبار کو معمولی جرمانے کی سزا سنائی گئی۔دلچسب بات یہ ہے کہ کسی بھی جانب سے انگریزی اخبار کی بندش اور اس کے ڈکلریشن کی منسوخی کا نہ تو مطالبہ کیا گیا اور نہ ہی ایسی کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی۔

اس واقعے کے 13 سال بعد مئی 2014 میں پاکستان کے ایک بڑے ٹی وی چینل "جیو نیوز" کے اہم انیکرپرسن اور معروف صحافی پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ حملے کی خبر نشر کرتے ہوئے اپنی نشریات میں اُ س چینل نے مذکورہ صحافی کے بھائی کا بیان شامل کیا جس میں اُس کے بھائی کا کہنا تھا کہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے صحافی نے اُسے اور بہت سے دیگر لوگوں کو بتایا تھا کہ اُسے آئی ایس آئی مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں لہذا اگر اُسے قتل کیا گیا تو اس کا ذمہ دار آئی ایس آئی کا سربراہ ہو گا۔ چینل نے اپنی نشریات میں اس بیان کے ساتھ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تصویر بھی سکرین پر چلائی۔     
اس نشریات کے فورا بعد ملک بھر کی چھوٹی چھوٹی تنظیمیں حرکت میں آگئیں۔ اس حرکت کو ملک دشمنی اور ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا۔ چینل کے خلاف مطاہرے اور جلوس نکلنے شروع ہو گئے۔ وہ ٹی وی چینلز جن کو اُن کے مالکان نے اصل کاروبار کے "کور" کے طور پر شروع کیا ہوا تھا، اس گھیل میں شامل ہو گئے۔ کئی ایسے اینکر پرسن جن کی وجہ شہرت پیسے لے کر پروگرام کرنا تھا، سامنے آئے اور اشتعال انگیزی کا بازار گرم کرنے لگے۔ تصویر چلانے والے چینل کے لائسنس کی منسوخی اور اس پر پابندی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ دوسری جانب ملک کے اکثر کیبل آپریٹرز نے اسے ملک دشمن قرار دے کر اس کی نشریات کو اپنے طور پر بند کر دیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے یہی کیبل آپریٹرز نے بھارتی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
ابھی یہ معاملات چل رہے تھے کہ جیو نیوز کے ایک ساتھ اسی بینر تلے اپنی نشریات پیش کرنے والے چینل جیو انٹرٹینمنٹ نے ایک دل آزار قوالی جسے اس سے پہلے بھی کئی چینل اپنی نشریات میں چلا چکے تھے انتہائی گھٹیا انداز میں پیش کی۔ اس قوالی اور اور اس کی فلم بندی کو ایک دوسرے چینل "اے آر وائی" نے بار بار چلایا۔ اور عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔
اس کے بعد ایک ایسی تنظیم جس پر امریکہ سے پیسے لے کر ملک میں مہم چلانے کے ثبوت سامنے آئے تھے نے جیو کو دیکھنا حرام قرار دیا۔ اس دوران ملک کے مختلف مقامات پر توہین مذہب کے مقدمات درج ہونے شروع ہوگئے۔ پاکستان میں چینلز کو لائیسنس جاری کرنے والے ادارے پمرا کے کچھ پرائیویٹ ممبران نے اجلاس منعقد کرکے جیو کے بینر تلے نشریات پیش کرنے والے تین چینلز کے نہ صرف نشریات بند کرنے کا اعلان کیا بلکہ انکے لائیسنس منسوخ کرنے اور دفاتر سیل کرنے  کا بھی حکم جاری کر دیا۔ تاہم بعد ازاں پمرا نے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ تاہم حقیقت یہی ہے اب اس چینل کا اپنی نشریات جاری رکھنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ جلد یا بدیر اس کی نشریات ہمیشہ کے لئے بند ہونے جاری ہیں۔  
لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ "جیو" کو سزا توہین مذہب کی مل رہی ہے یا توہین "آئی ایس آئی"  کی؟؟؟ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں  "آئی ایس آئی "کے سربراہ کی شان میں گستاخی  توہین رسالتﷺ سے زیادہ بڑا جرم کیوں ہے؟؟ ؟

اُمت مسلمہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

 بلا شک و شبہ 3 مارچ مسلم امہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اگرچہ اِس اُمتِ مظلوم پر پہلے بھی لا تعداد خونچکاں سانحے گزر چکے تھے، اس کی داستان میں اُحد، جمل وصفین کی کی شہادت گاہیں بھی ہیں اور منصورہ اور خوارزم کی رزمگاہ ہوں میں ہونے والی حزیمت بھی۔ تاتاریوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کے مناظر بھی یادوں میں تازہ ہیں اور صلیبیوں کی لائی ہوئی افتاد بھی بھولی نہیں ہے، اندلس کا سقوط بھی یاد ہے اور اقصٰی کے چھن جانے کی مصیبت بھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک حادثہ گزرا، لیکن یہ زخم گہرے ضرور تھے لیکن مہلک ہرگز نہیں۔ یہ سخت جان اُمت ہر زخم کے بعد پہلے سے زیادہ آب و تاب کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اس لیے ظالموں نے 3ٗ  مارچٗ کو وہ کاری وار کیا کہ اپنے تیئن اُمت کی کمر توڑ کر رکھ دی اور شیرازہ بکھیر ڈالا۔
 "3مارچ" وہ منحوس دن جب ترکی پر مسلط یہودیہ ماں کے بیٹے مصطفی کمال پاشا نے خلافت اسلامیہ کے ادارے کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ خود ترکی کو جمہوریہ بنانے کے اعلان کے ساتھ ہی "18 اپریل 1923ء" کو اپنی تقریر میں وعدہ کر چکا تھا کہ خلافت ایک مقدص اسلامی ادارہ ہے اس لئے "اعلٰی تُرک قومی اسمبلی" اسے برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔ لیکن "3مارچ 1924ء" کو تمام وعدوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے ترک جمہوریہ کےقانون نمبر 431 کے تحت خلافت کے ادارے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ دن اچانک نہیں آیا تھا بلکہ اس کے پیچھے دشمن کی صدیوں کی محنت تھی، ایک طرف اس کے خاتمے کی وجہ فری میسنری مصطفی کمال پاشا اور عصمت انونو تھے تو دوسری طرف اس کی راہ ہموار کرنے میں "ہاشمی النسب" شریف حسین اور اس کے فرزند فیصل پیش پیش تھے۔

 خلافت کےخاتمے نے گویا اُمت ِ مسلمہ سے اُس کی وہ ڈھال چھین لی جو اسےصدیوں سے دشمن کے وار سے محفوظ رکھے ہوئےتھی، وہ شجرِ سایہ دار کٹ گیا جو آلام اور مصاحب کی تیز دھوپ میں اس کی جائے پناہ ہوا کرتا تھا، وہ نخلستان تباہ ہو گیا جو زمانے کےریگستان میں اٹھنے والے ہر طوفان میں اسکی آخری اُمید ہوا کرتا تھا، خلافت کے خاتمے کے ساتھ ہی اُمت کے حصے یوں بخرے ہوگئے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ کبھی یہ سب مسلمان ملکوں اور خطوں سے ماورا ایک ہی ملت ہوا کرتے تھے ۔ ذلت، محکومی اور بے چارگی یوں اس پر مسلط ہوئی کہ اب یہ گمان تک کرنا دشوار ہے کہ کبھی یہ اُمت اس دنیا میں جہانگیر و جہانداربھی رہی ہے۔

 دشمن نے صرف خلافت کے خاتمے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کے دوبارہ قیام کے راستے مسدود کرنے کی بھی اپنی سی سعی کر ڈالی۔ گروہی و مسلکی تعصب کو ہوا دے کر نفاق کے بیج بوئے۔ اُمت کے خطوں کو الگ الگ ٹکڑوں میں بانٹ کر انہیں وطن قرار دیا اور حُب الوطنی کے نام پر وطن پرستی کو اُمت ِتوحید میں رواج دیا۔ اُمت کی نئی نسل کو ان کی تاریخ سے بے بہرہ رکھ کرانہیں مغربی علوم، فکر و تہذیب کی حقانیت کا قائل کیا گیا۔ اُمت کے ایسے منافقین کو نمایاں کر کے پیش کیا جاتا رہا جو اسلام کا لبادہ اُٹھ کر دشمن کے گُن گاتے ہیں۔ ممالکِ اسلامیہ پر ایسےبدبخت حکمران مسلط کئے گئے جو اسلام کے بجائے دشمن کے وفادار ہیں۔

 اسلام دشمنوں نے بظاہر اپنے ارادوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی، ایک ملت کا تصور خواب ہو کر رہ گیا، خلافت بھولی بسری داستان گئی۔ لیکن یہ امت دشمن کی توقع سے کہیں زیادہ سخت جان ثابت ہوئی، کئی صدیوں کی جدوجہد کے بعد ہونے والے"سقوطِ خلافت" کو ابھی ایک صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ زمیں کے شرق و وسط سے خلافت کی احیا کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ امت کے جواں رنگ و خون کے بُتوں کوتوڑ کر ملتِ واحدہ میں گم ہونے کو بے چین ہو رہے ہیں۔ کہیں احیائے خلافت کی صدا رگوں میں لہو گرما رہی ہے تو کہیں شعلہ جوالہ بن کر پھوٹ چکی ہے۔ مچلتے طوفان کو روکنے کی خاطر کی جانے والی چالوں کا بھودا پن نمایا ں ہو چکا۔ فیصلے کی گھڑی قریب آن پہنچی ہے۔

 " 3مارچ " ہمیں یاد ہے ، اس سال یعنی 2014 کو خلافت کے سقوط کو پورے نوے سال ہو جائیں گے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اس روزیعنی " یوم سقوط خلافت" کو یاد رکھیں گے ۔ غیروں کی عیاری اور ان کے ایجنٹوں کی مکاری کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہر سال ہم اس روز کو "یوم احیائے خلافت "کے عنوان سے مناتے رہیں گے، جدوجہد جاری رکھیں گے، یہاں تک کے خلافت کا ادارہ دوبارہ قائم نہیں ہوجاتا، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے،فتح کے خدوخال بہت نمایاں ہو چلے ہیں، امت کےنوجواں فتح مبین کا مژدہ اپنے خون سے در و دیوار پر لکھ رہےہیں، اب صرف چند ہی مہ و سال کا فرق ہے اور پھر ۔۔۔۔
  آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی
 پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی

بنگلہ دیش جنگی جرائم کے ٹریبیونل اور اس کے تحت دی جانے والی سزاوں کی حقیقت


بنگلہ دیش میں منتازعہ ترین عدالتی فیصلے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ جرنل سکریٹری عبدالقادر ملا کو گزشتہ رات پھانسی دے دی گئی۔ جس کی دنیا کے ہرانصاف پسند انسان شدد مذمت کر رہا ہے۔ عبدالقادر ملا کو ابتدائی طور پر نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کے سیکولر اور بھارت نواز افراد نے اس سزا کو کم کہہ کر اس کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے تھے۔ جس کے دباو میں آگر بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اسے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کے نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے جن اسلام پسند رہنماوں کو سزا سنائی ہے ان میں بی این پی کے صلاح الدین قادر چوہدری کے علاوہ جماعت اسلامی کے پروفیسرغلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی ، علامہ دلاور حسین سعیدی، مولانا ابوالکلام آزاد و دیگر رہنما شامل ہیں۔ جن میں سے مولانا ابوالکلام آزاد کے علادہ تمام رہنما بنگلہ دیش کی جیلوں میں بند ہیں۔
 بنگلہ دیش کی پاکستان سے اعلیحدگی کے 42 سال بعد اس قسم کے متعصب ٹریبونل کا قیام اور اس کے جانبدارانہ فیصلوں کے نتیجے میں سزاوں کا نفاذ دراصل بنگلہ دیش میں برسر اقتدارعوامی لیگ کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کی کوشش ہے تو دوسری جانب یہ اسلام پسندوں کے خلاف جاری بین القوامی مہم کا ایک حصہ ہے، جسے وہ ’سیاسی اسلام‘ کو دنیا میں شکست دینے کی مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

 وکی لیکس‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی ایک کیبل کے مطابق 18 جون 2009ء کو بنگلہ دیش میں اس وقت کے امریکی سفیر ’ مسٹر موری آر ٹی‘ نے ایک خفیہ پیغام واشنگٹن بھیجا تھا جس میں بتایا گیا تھاکہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ و سینٹرل ایشین افیئرز، مسٹر رابرٹ بلیک جب ڈھاکہ کے دورہ پر آئے تو بنگلہ دیش کی خاتوں وزیر داخلہ ایڈووکیٹ سہارا خاتون ان سے ملاقات کی تھی۔ جس میں انہوں نے مسٹر بلیک سے جنگی مجرموں کے ٹرائل کے حوالے سے معملات طے کیے تھے۔ ملاقات میں بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں امریکی حمایت بھی طلب کی تھی جس پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ نے مشروط آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ہونے والی یہ تمام کاروائی ایک ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کیوں کے بنگلہ دیش کے قیام کے فوری بعد اس وقت کے صدر اورآزادی کے ہیرو شیخ مجیب حکومت نے کڑی تفتیش کے بعد پاکستانی فوج کے 195 افسروں اور دیگر فوجی عہدے داروں کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلانے کے لیے 19 جولائی 1973ء کو بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل ایکٹ پاس کروایا گیا تھا۔ لیکن 9 اپریل 1974ء کو دہلی میں بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے وزراے خارجہ کے سہ فریقی مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں ان 195 مجرم قرار دیے جانے والے افراد کو بنگلہ دیش کی حکومت نے باقاعدہ طور پر معاف کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ شیخ مجیب کی زیر نگرانی ہونے والی اس تمام کاروائی کے دوران کبھی بھی کسی سویلین کو جنگی مجرم قرار نہیں دیا۔

 جو لوگ بنگلہ دیش بنانے کی مہم میں شامل نہ تھے، اس کے مخالف تھے یا پاکستان آرمی کے ساتھ تھے۔ مجیب حکومت کے کمیشن نے ان سب کو collaborator یعنی تعاون کرنے والا قرار دیا تھا۔ یہاں میں اس بات کا ذکرکرنا مناسب ہے کہ 1971 میں پاکستان آرمی نے اپنی مدد کے لیے مقامی لوگوں پر مشتمل کئی تنظیمیں تشکیل دیں تھیں ان عسکری تنظیموں میں البدر، الشمس اور رضاکار کے نام اہم ہیں۔ ان تنظیموں کی تشکیل رضاکارانہ اور اس وقت کی حکومت کی رضا مندی سے ہوئی تھی ۔ ان تنظیموں کے افراد کو بھی شیخ مجیب حکومت نے collaborator قرار دیا تھا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے 24.جنوری 1972ء کو collaborator's orderجاری کیا گیا تھا۔ جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو گرفتاربھی کیا گیا تھا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں سے 37 ہزار4 سو 71 افراد پر الزامات عائد کیے گئے۔ جن افراد پر الزامات عاید کیے گئیے تھے ان میں سے 2334 افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقدمہ دائر کرنا ممکن نہ ہوسکا تھا۔ کُل صرف 2 ہزار 8 سو 48 افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ جن میں سے عدالت نے 752 کے خلاف جرم ثابت ہونے پر، مختلف سزاؤں کے فیصلے دیے گئے تھے۔ جب کہ 2 ہزار 94 افراد کو باعزت طور پر بری کردیا گیا ۔ بعد ازاں جب نومبر1973ء میں بنگہ دیش کی حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان کیا گیا تو یہ تمام افراد بھی رہا ہو گئے تھے۔

 موجودہ حسینہ واجد کی حکومت نے 42 سال گزرنے کے بعد ملزمان کے خلاف تفتیش کے لیے جو ادارہ بنایا ہے وہ سرکاری پارٹی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس ٹریبونل کے لیے حکومت نے اپنے من پسند ججوں کا تقرر کیا ہے۔ ایک طرف کمزور اور جانب دارکالا قانون تیار کیا گیا اور دوسری طرف اپنے ہی لوگوں کے ذریعے تحقیقات اورپھر من پسند ججوں کا تقرر۔ ان حالات میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس کیس میں انصاف کا کوئی معمولی تعلق بھی ان فیصلوں میں تھا تو یہ حماقت ہے۔ عملاً جو ہوا ہے کہ تفتیشی ٹیم نےاپنی پسند کے لوگوں کو اکٹھا کرکے ،انھیں جھوٹی گواہیاں دلائی ہیں۔ واقفانِ حال اور غیر جانب دار گواہوں کو اس ٹیم نے پوچھتا تک بھی نہیں، بلکہ پولیس کے ذریعے ان کو ہراساں کرکے بھگانے کے لیے کوشاں رہتی ہے ۔ یہ سب واقعات اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں۔ اس طرح ٹریبونل کی یہ کارروائی پہلے دن سے عوام کے نزدیک ایک مذاق بن کر رہ گئی تھی۔

طائفہء منصورہ کے منصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصر کا نوحہ

آج میری حیرت کی کوئی حد نہیں رہی۔ جس طرح میں نے مصر کی سڑکوں پر ان پیکرانِ وفا کو جانیں لُٹاتے دیکھا وہ عقل کو ماعوف کر دینے والا نظارہ تھا۔ حیرت پے حیرت یہ کہ اپنے لہو کی اشرفیوں کو فیاضی سے لُٹانے والے یہ سرفروش اپنی جانبازی پر اتنے نازاں و مسرور تھے کہ ان کی مسکراہٹ ان کے لبوں پر امر ہو گئی تھی۔ اس مسکراہٹ کو ظالم کی شقاوت چھین سکی نا موت کی سختی۔

 یہ حیران کن نظارہ دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ کتنی عظیم ہیں وہ مائیں جنہوں نے ایسےسپوتوں کو جنم دیا۔ پھر انکی ایسی تربیت کی کہ کسی قسم کا خوف انکی کھال میں گُھسنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ کسی ظالم کا ظلم ان کی راہ کھوٹی نہیں کر سکتا۔ اور کسی جابر کا جبر انہیں منزل کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا، اور راہ وفا میں جان لُٹا دینا تو گویا  ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

میرے تخیل نے کچھ مزید پرواز کی تو خیال آیا، ہائے! کیسا عجیب وہ نظارہ ہوگا جب آج یہ اپنی مہربان ماؤں سے رخصت ہوئے ہوں گے۔ جان وارنے والی بہنوں کو آخری سلام کیا ہوگا۔ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو آخری بار چوما ہوگا۔ محبت کا دم بھرنے والی شریک حیات کو الوداع کہا ہوگا۔ ضعیف باب سے اجازت لی ہوگی اور اپنے آشیانے پر آخری نگاہ ڈال کر مقتل کی طرف وارفتگی سے چل دیے ہونگے۔

جی چاہا کہ چیخ چیخ کر کہوں! زمانے والو! تم نے منصور حلاج کو بد عقیدگی کے باوجود جرات کا استعارہ بنا ڈالا، کیوں کہ تختہ دار کی طرف اس کی لپک میں والہانہ پن تھا۔ آج آؤ زمانے والو، آج یہاں دیکھو! ہر طرف منصور ہی منصور ہیں ایک دو نہیں، دس بیس نہیں، سو دو سو نہیں، ہزاروں بھی نہیں بلکہ آؤ اور لاکھوں منصور دیکھو۔ آؤ اور طائفہ منصورہ کے منصور دیکھو، عنقریب منصور ہونے والے منصور دیکھو۔

 ان میں کوئی بھی "انا الحق" کے خبط میں مبتلاء نہیں ہے۔ یہ سبھی اللہ اکبر کہنے والے ہیں۔ زرا مقتل کی طرف انکا والہانہ پن تو دیکھو۔۔۔ تم اُس منصور کو بھول جاؤ گے۔ جو پھانسی کا حکم ملنےکے بعد تختہ دار کی جانب لپکا تھا۔ آؤ اور دیکھو، یہ وہ "عشاق الحق" ہیں جنہیں کسی نے سزائے موت نہیں سنائی۔ اگر یہ اپنے گھروں میں رک جائیں تو انہیں ایک حقیر کانٹا چبنے کا بھی امکان نہیں۔ لیکن یہ اپنے رب کی پکار پر گھروں کو چھوڑ آئے ہیں۔ یہ موت کے جام کو لبوں سے لگا کر حیات سرمدی کا لطف لینے کی امید پر آئے ہیں۔

 آؤ، آکر آج قاہرہ میں دیکھو، سکندیہ میں دیکھو، دمیاط میں دیکھو، اسماعلیہ میں دیکھو، پوٹ سعید میں دیکھو۔ آج مصر میں جہاں چاہو دیکھو لو، آج ہر طرف مقتل سجے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقتل سجھے ہیں اور یہ چلے آ رہے ہیں۔ یہ شرق اور غرب سے آ رہے ہیں۔ یمین و یسار سے آ رہے ہیں، یہ اللہ کی کبریائی بیان کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں روشن، ایمان کی چنگاری شعلہ جوالہ بن چکی ہے۔ شہادت کی آزو سے بے تاب ہو کر گھروں سے نکلل آئے ہیں۔ اپنے رب کے دیدار کی امید لے کر نکلے ہیں۔

نادان دشمن انہیں آگ سے بھسم ہونے کا خوف دلاتا ہے۔ لیکن وہ بھول چکا ہے کہ یہ تو اُنہیں راہوں پر رواں ہیں، جن سے کبھی ابرائیم خلیل اللہ گزرے تھے۔ وہ انہیں دھمکیوں اور اسلحے کی شعبدہ بازی سے ڈرانا چاہتا ہے لیکن کیا اسے یاد نہیں کہ یہ موسیٰ کلیم اللہ کے ہم وطن ہیں۔ اس نے انہیں مصائب اور زندان کا خوف دلانے کی کوشش کی، لیکن وہ جانتا نہیں کہ ان کے پیش نظر تو حضرت یوسف کی سنت ہے۔

بس اے "روح فرعونیت" اب وقت پورا ہو چکا۔ اخوان کا لشکر تو اپنے لہو کے "نیل" کو پاٹ کر پار اتر چکا۔ تیرے لئے توبہ کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔ جیزہ میں نئے حرم کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ قاہنوں نے لیلن کے کپڑوں کے تانے بانے بُن لئے ہیں۔ سنکی تابوتوں کی تیاری کا کام کسی بھی لمحے مکمل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر صدیوں بعد ایک اجنبی سیاح جب قاہرہ کے میوزیم میں داخل ہو گا تو یہاں کا گائیڈ اسے کچھ یوں بتائے گا یہ "رعمسیس" کی ممی ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ "آمن جوطف" کی، اِدھر "مرنفتاح" کی ممی رکھی ہے اور اگر ان سے بھی زیادہ شقی القلب انسان دیکھنا چاہتے ہو تو ادھر آو تمیں "سیسی" کی ممی دیکھاؤں۔

Pages