شمال مشرق سے

شکوہ کِس فصلِ خار سے

پاکستان میں ایک عرصے کی خواری بھگتنے کے بعد دوبئی میں وہ میرا اکتیسواں دن تھا۔
میں جس کمپنی کے ویزے پر وہاں گیا تھاوہاں کئی ممالک کے تقریباً تین ہزار ملازم کام کرتے تھے۔ پاکستان سے روانگی کے وقت ایجنٹ نے میری تنخواہ بطور میسن بارہ سو ریال اور میڈیکل، رہائش اور کھانا بذمہ کمپنی بتایا تھا لیکن وہاں جاکر دیکھا تو صورتحال یکسر مختلف ملی۔ وہاں ہمیں رہائش تو مل گئی لیکن کھانے کے پیسے ہماری تنخواہ سے کٹتے اور میڈیکل وغیرہ کا خرچ خود برداشت کرنا پڑتا۔ دو چار دن تو کافی گھبراہٹ اور بے چینی میں گزرےکیونکہ ویزے کے دولاکھ اسی ہزار روپے ایک قریبی رشتے دار سے مستعار لئے تھے جس کویہ دو ماہ میں واپس کرنے تھے لیکن جب اپنے ساتھی ملازمین کا بھی یہی حال دیکھا تو کچھ تسلی ہوئی کہ سبھی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔تین چار دن کام سمجھنے میں لگے اور اس کے بعد کولہو میں باقاعدہ ڈٹ کر گھومنے لگے۔ ہماری روٹین کچھ اس طرح کی تھی کہ صبح اٹھ کر جت جاتے اور آٹھ گھنٹے کے طے شدہ اوقاتِ کار کی بجائے نو یا دس گھنٹے پسینہ بہاتے رہتے، اور شام کو بیرک نما کوٹھڑی میں گھس کر ایک دوسرے کو ہیر وارث شاہ سنایا کرتے۔ اسی طرح ایک ماہ پورا ہوگیا اور "باہر کی کمائی" مبلغ دس سو پچاس ریال کی شکل میں پہلی تنخواہ میرے ہاتھ میں تھما دی گئی۔ اس وقت چونکہ شام ہورہی تھی اس لئے پیسے گھر بھجوانے کا عمل کل کام سے واپسی تک مؤخر کردیا اور رقم کی گرمائش اپنے بیگ میں منتقل کرکے سو گئے۔
دوسرے دن یہی کوئی دو تین بجے کا عمل تھا اور میں چوتھے فلور پر مصروف تھا جب ایک شور سا سنائی دیا۔ نیچے جھانک کر دیکھا تو چند لوگ کھڑے دکھائی دیئے جو مینیجر سے کسی بات پر جھگڑ رہے تھے۔ اگر پاکستان ہوتا تو میں یقیناً اپنا کام چھوڑ کر دیکھتا کہ کیا ہورہا ہے لیکن دیارِ غیر میں رہ کر اپنے کام سے کام رکھنا سیکھ لیا تھا اس لئے واپس اپنے کام پر لگ گیا۔ شام کو روٹین کے مطابق گاڑی ہمیں لینے آئی اور ہم سبھی واپس اپنی رہائش گاہوں میں پہنچ گئے۔ ابھی شام کے کھانے میں کچھ دیر تھی کہ نصف درجن کے لگ بھگ شُرطے ربڑ کے ڈنڈے تھامے ہماری بیرکوں میں گھس آئے۔ انہوں نےکمرے میں داخل ہوتے سب سے پتاکے(آئیڈنٹٹی ڈاکیومنٹس) دکھانے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا اور ہم سب پاکستانی ملازمین کو پولیس بسز میں بٹھا کر وہاں سے نکل آئے۔ مجھے چونکہ حالات کا کوئی اندازہ نہیں ہورہا تھا اس لئے جب ساتھ والوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ صبح کام کے دوران نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملازم کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ ہم اسے اٹھا کر نیچے لائے لیکن مینیجر نے نہ تو ہمیں وہاں سے نکلنے دیا اور نہ ہی اس مریض کو ہسپتال لے جانے دیا۔ ابھی ترلے منتیں کرنے کا عمل جاری تھا کہ وہ بیچارہ فوت ہوگیا جس پر وہاں موجود سب لوگ مشتعل ہوگئے ، مینیجر سمیت سیکیورٹی والوں کو برا بھلا کہا اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ مختصر یہ کہ سائیٹ کے بڑے صاحب نے پولیس طلب کرکے صورتحال پر قابو تو پالیا لیکن کسی بڑے ہنگامے کے ڈر سے ہم سب پاکستانی لوگوں کو پکڑوا کر اس سردردی سے مستقل جان چھڑوا لی تھی۔
تقریباً پانچ سو لے لگ بھگ لوگ تھے جنہیں ایک بڑے ہال میں لاکر بٹھا دیا جہاں باری باری سب کے آئی ڈی نمبرز، پاکستانی ایڈریس اور دیگرتفصیلات لکھے گئے۔  رات کے گیارہ بجے تک یہ سب کام آخرختم ہوا اور پھر سے گاڑیوں میں لاد کرباقاعدہ جیل لے جایا گیا۔ دوپہر سے نہ تو کھانا کھانے کا موقع ملا تھا اور نہ ہی ہمیں رات کوگھر فون کرنے کی اجازت ملی جو ہم روزانہ کیا کرتے تھے۔جیل میں سبھی بھوک اور تھکاوٹ سے نڈھال  لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کرکے جیبوں میں موجود ضروری چیزیں ایک تھیلی میں ڈال کر نام لکھے گئے اور دس دس کے گروپ میں کوٹھڑیوں تک پہنچا دیا گیا جہاں عجیب سی تنہائی اور اداسی ہماری منتظر تھی۔ ہم نے دسیوں بار اُن سے اپنی غلطی یا قصور پوچھنا چاہا لیکن کوئی جواب نہ مل سکا۔۔۔۔ بس ایک اندازہ تھا کہ رات کے تین بج چکے ہیں۔سبھی خاموش تھے۔۔۔۔۔سبھی کی بھوک اور نیند بھی شائد'اب کیا ہوگا؟' نے ختم کردیا تھی۔
صبح سلاخوں کے نیچے سے خمس نامی بڑی سی روٹی، ایک ٹکیہ مکھن اور ایک جیلی نما ساشے نامی ناشتے نے کوٹھڑی میں گھسنا شروع کردیا۔ہم سب نے ایک دوسرے کو دیکھا لیکن گھنٹوں کی بھوک کے آگے ہتھیار پھینک کر شکم پُری کا فریضہ سرانجام دینے لگے۔ دوپہر کو ویسی ہی روٹی بمعہ آنکھوں سمیت مچھلی کا سر، جو جیسا آیا ویسا ہی واپس گیا۔۔ شام کو خمس کے ساتھ کوئی عجیب لجلجاتا سا سالن تھا جو حلق سے اترنے سے انکاری تھا۔ چند دن یہ مناظر دیکھنے کے بعد ہم صرف ناشتہ کرتے تھے یا پھر مجبور ہوکر روٹی کو پانی کی مدد سے کھاتے۔ شام ہوتے ہی چھت میں نصب ائیرکنڈیشنر کمرے کو اتنا زیادہ ٹھنڈا کردیتا کہ سونا تو کیا، بیٹھنا تک محال ہوجاتا۔  اس کا حل یہ نکلا کہ رات جھوٹے قہقہوں اور ایک دوسرے کو 'سب ٹھیک ہوجائے گا یار' طفل تسلیاں دیتے ہوئے گزرتی اور دن بھر اونگھتے رہتے، اگر رات کو نیند زور پکڑتی تو کمرے سے ملحقہ غسل خانے میں جاکے سوجاتے۔ ہمارے کپڑے وہی تھے جن میں گرفتار کئےگئے تھے اور انہیں کو باری باری دھو کر ادھ سوکھے کرکے دوبارہ پہن لیتے۔ اندازاً  ایک ہفتے بعد ہمیں فنگر پرنٹس اور آنکھوں کے نقش لینے کیلئے لے جایا گیا، اور دوبارہ واپس لاکر باڑے میں بند کردیا۔ ایک بار ہم نے بھوک ہڑتال بھی کی لیکن سوائے دو دن فاقہ کرنے کے کچھ نہ بنا۔ ایک دن کمپنی والا مینیجر شُرطوں کے ہمراہ پوچھنے آیا کہ واپسی  کا ٹکٹ کس شہر کا بنوانا ہے اور چلا گیا، اسی سے پتا چلا کہ سب کے گھر والوں کو صورتحال بتا دی گئی ہے جو ہمارے لئے مزید پریشان کن بات تھی۔
ہمیں سورج اور آسمان دیکھے ایک ماہ سے اوپر کا عرصہ ہوچکا تھا  جب واپسی کا عمل باقاعدہ شروع ہوا۔ روزانہ دس لوگوں کے نام کا قرعہ نکلتا جو ہمیں خداحافظ کہہ کر پاکستان کیلئے روانہ ہوجاتے جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی تھی۔ ہربار اپنا نام آنے کی امید کرتےجو ہر روز ہی ختم ہو جاتی۔ اب تو ہم ایک دوسرے کو دلاسہ دینا بھی چھوڑ چکے تھے، جو بھی پریشان ہوکر روتا ہم پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اسےدیکھتے رہتے۔ آخر ایک دن جب ٹھگنا سا بنگالی  سلاخوں کے سامنے آکر نام پکارنے لگاتو کسی کو یقین نہیں آرہا تھا۔ ہمارے پاؤں میں بیڑیاں پہنائی گئیں اور ہاتھوں کو پیچھے کی طرف جکڑکر اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں کمپنی نے ہمارے بیگ وغیرہ رکھوائے تھے، اور بیگز کو رسی کی مدد سے ہمارے کاندھوں پر بندھوا کر ایک اور جگہ لے جایا گیا۔  صبح سے دوپہر ہوئی اور دوپہر ڈھل رہی تھی کہ تین شُرطے کمرے میں داخل ہوئے  اور ہمیں قیدیوں والی مخصوص بس میں بٹھا کر جیل سے نکل آئے، اُنہیں سے پتا چلا کہ ہماری رات گیارہ بجے واپسی کی فلائیٹ ہے۔۔۔ ائیرپورٹ تک کا سفر تقریباً ایک گھنٹے میں طے ہوا اور وہاں لا کر بھی ہمیں جیل نما کمرے میں انڈیل دیا گیا۔۔ رات کے ٹھیک گیارہ بجے تنگ سے رستے کے ذریعے ہمیں جہاز تک پہنچایااور وہاں سیٹوں پر بٹھا کر آہنی زیورات اتروائے ،اور اللہ کے سپرد کردیا گیا۔
گھر والے ہماری واپسی سے بے خبر تھے اور موبائل فون پونے دو ماہ سے چارج نہ ہوسکنے کے باعث بند، اس پریشانی سے لیکر ویزے کے پیسے واپس کرنے تک ہزاروں فلمیں بیک وقت دماغ میں چل رہی تھیں۔  جہاز میں بھی چونکہ ہم سب کو بیڑیاں پہنا کر لایا گیا تھا اس لئے سب عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے ہم کوئی دوسری دنیا کی مخلوق ہوں، یا خدانخواستہ  کسی سنگین جرم کی وجہ سے گرفتار کرکے پاکستان لایا جارہا ہے۔ دوبئی سے اسلام آباد کا سفر اسی کشمکش میں طے ہوا۔ رات کے پچھلے پہر جب ائیرپورٹ حکام کے سامنے پہنچے تو وہاں ایک اور مصیبت ہمارا استقبال کرنے کو تیار تھی۔  ایف آئی حکام نے ہم سے پچیس ہزار روپے فی کس کا مطالبہ کیا کہ ہم بیرونِ ملک پاکستان کا تشخص خراب کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں اس لئے یہ جرمانہ بہرحال بھرنا پڑے گا۔ہم نے اپنی مجبوری اور وہاں پیش آنے والے سارے حالات ان کو بتائے لیکن مجال جو اُن پر رتی بھر بھی اثرہوا ہو۔ ابھی چونکہ ہم نے  اپنی تنخواہ پاکستانی کرنسی میں تبدیل نہیں کروائی تھی  اس لئے جتنا "جرمانہ" بنتا تھا وہ غیرملکی کرنسی میں ادا کیا اور باہر نکل کر باقی بچ جانے والی تنخواہ  تبدیل کروائی تو پندرہ سو روپےہمارے ہاتھ میں تھے۔
ائیر پورٹ کی حدود پیدل پار کرکے ایک رکشے پر بیٹھے اور لاری اڈے آن پہنچے۔ صبح کا وقت تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ دن کی روشنی میں گھر جاؤں اس لئے پہلے تو ایک حمام سے بال اور داڑھی ٹھیک کروائی اور وہیں سے موبائل بھی چارج کیا۔ دوپہر تک وہیں اڈے میں بیٹھ کر حالات پر غور کرتا رہا کہ مجھے سزا ملی بھی تو کس جرم کی آخر۔۔۔۔ شام ڈھلنے کو تھی جب میں چکوال لاری اڈے پر اترا۔ اس وقت تک میں نے کسی سے رابطہ نہیں کیا تھا، ایک دو بار موبائل جیب سے نکال کر نمبر ملایا بھی لیکن پھر واپس رکھ دیا۔اپنا بیگ اٹھائے قدرے کم رش والی جگہ پر جا بیٹھا اور جیب  سے جمع پونجی نکال کر گنی تو وہ اتنی نہیں تھی جس سے بچوں کیلئے کچھ خرید پاتا۔۔۔ بوجھل قدموں سے ویگن میں بیٹھا جس نے نو بجے مجھے میرے گاؤں والے سٹاپ پر جا اُتارا۔ وہاں سے میرے گھر کا فاصلہ پندرہ بیس منٹ کا تھا اور مجھ میں جاگتے لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت بالکل نہیں تھی اس لئے وہیں درخت سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔دس ہوئے، گیارہ، بارہ۔۔ آخر ساڑھے بارہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا اور آہستہ آہستہ جہاں سے جیسے خالی ہاتھ گیا تھا ،  ویسے ہی خالی ہاتھ واپس اُسی دروازے کی کنڈی کھٹکھٹا رہا تھا۔۔۔۔ میری ماں نے  دروازہ کھولا،  اپنی لال انگارہ بنی آنکھوں سے ایک لمحے کو مجھے دیکھا اور ایسے بھینچ کر گلے لگایا کہ دل پر جما ہوا پونے تین ماہ کا غبار یکبارگی آنکھوں کے رستے سیلاب بن کر اُمڈنے لگا۔۔۔ میری بیوی کی خاموش آنکھوں میں پتا نہیں  میرے واپس لوٹنے کی خوشی تھی یا یُوں واپس لوٹنے کا کرب  جو بہتا جارہا تھا۔جیل سے نکلنے کے بعد وہ پانی کا پہلا گلاس تھا جو گلے کی سرحد آسانی سے پار کرپایا ۔ مجھ میں اپنے بچوں کا سامنا کرنے کی ہمت تک نہیں تھی۔
دوسرے دن بھی یہی حال رہا۔ ایک انجان سا ڈر اور احساسِ شرمندگی تھا شائد جو مجھے گھر سے باہر نکلنے سے منع کررہا تھا۔ بچوں کی آنکھوں میں کئی سوال تھے لیکن گھر کے ماحول کی وجہ سے وہ بیچارے بھی خاموش رہنے پر مجبور تھے۔ کچھ دن یونہی خود کو سمیٹنے میں لگے، لیکن جب قرض کی رقم آنکھوں کے سامنے آئی تو پاؤں خود ہی باہر کی طرف نکل آئے۔ گاؤں میں رہ کر میں وہ پیسے چکا نہیں سکتا تھا ۔دوبارہ نہ تو میں  ملک سے باہر جاسکتا تھا اور نہ ہی کسی نے مجھ پر اعتبار کرنا تھا اس لئے ایک دن بوری بستر گول کرکے لہور چلا آیا۔ یہاں مجھے مستریوں کا کام کرتے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں، کبھی دیہاڑی لگ جاتی ہے تو کبھی ہفتہ ہفتہ یونہی پھرنا پڑتا ہے۔  گاؤں والا جو گھر تھا  اسکی قیمت یوں تو چار لاکھ سے اوپر ہوگی لیکن مجبوری کی بنا پر ان کو لکھ  کر دینا پڑاجن سے پیسے لئے تھے اور اب اسی گھر میں میرے بیوی بچے کرائے پر رہتے ہیں۔۔۔ بس جی! وہ کہتے ہیں ناں کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا رب ہوتا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ کسی گناہ کی وجہ سے وہ بھی مجھ سے اب ناراض ہے شائد۔۔ بس جی۔۔۔۔ بس جی۔۔ کیہ دسیئے۔
*چکوال کا رہائشی چالیس سالہ محمد شریف گیٹ مرمت کرنے کے بعد شام کی چائے پر مجھے اپنی یہ کتھا سنا رہا تھا۔۔۔ اور مجھے آہنی اعصاب والے اُس شخص کے سیلف ری سٹوریشن سکلز پر رشک محسوس ہورہا تھا۔

جہاں اوجھل، خزاں اوجھل

مجھے اس بات پر ذرا بھر بھی تامل نہیں کہ میں بہت سے لوگوں سے بہت کچھ چھپاتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں خدانخواستہ "وسیع تر قومی و مذہبی مفادات" کے خلاف کسی قسم کی سازش کا مرتکب ہورہا ہوں یا اس طرح کا کوئی چکر۔۔ بلکہ اِس  کے پیچھے کچھ فطری و بشری کمزوریوں کا ہاتھ ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ ان سیٹ بیکس کو لوگ میرے خلاف استعمال کرنا شروع ہوجائیں۔ یا ایک وجہ یہ بھی  ہے کہ  جتنی دیر میں لوگ ان کمزوریوں کو خود ڈھونڈتے ہیں،  اس دوران مجھے  کوئی اور لائحہ عمل اپنا نے کا وقت مل جاتا ہے۔۔۔ اِنہیں 'بہت کچھ' چھپانے والی چیزوں میں سے ایک شرمندگی بھی ہے۔ جی ہاں! میں ہر روز کئی اقسام کی شرمندگیوں سے نبردآزما رہتا ہوں۔۔۔ مثلاً۔
میرے گھر اور دفتر کے درمیان تقریباً پچیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے جو مجھے دن میں دو بار طے کرنا پڑتا ہے، ایک بار آنا اور ایک بار واپس جانا۔۔  اس رستے میں صرف ایک ہی ایسا پٹرول اسٹیشن ہے جہاں  ملاوٹ سے پاک تیل ملتا ہے۔ میں جب بھی وہاں گاڑی کھڑی کرتا ہوں، ایک ساٹھ سالہ بزرگ وائپر پکڑتے ہیں اور صاف ونڈ سکرین کو دوبارہ صاف کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ کئی بار کوشش کی کہ انہیں ایسا کرنے سے منع کردوں لیکن پمپ مالکان نے ' وائپر نہ لگانے پر فری کوک آفر' کا نوٹس بورڈ لگا رکھا ہے جو  شائد اِنہیں بزرگ ملازم کی جیب سے نکلتی ہوگی۔  اس سارے کام میں زیادہ سے زیادہ دو یا ڈھائی منٹ لگتے ہیں لیکن اُن کے چہرے کے سپاٹ تاثرات، کپکپاتے ہاتھ، کسی گہری وادی میں گم پتھرائی آنکھیں اور ماتھے پر لٹکتی ان گنت شکنیں بہت کچھ بتا رہی ہوتی ہیں جنہیں پڑھنا اتنا آسان بہرحال نہیں۔ ان کی کوئی مجبوری ہوگی ورنہ آرام کرنے کی عمر یہاں کیوں گزارتے؟  میری کمزوری یہ کہ میں چاہتے ہوئے بھی ان سے بات نہیں کرسکتا۔۔ وجہ؟ شرمندگی۔
ہمارا دفتر یوں تو کافی محفوظ (یا نسبتاً کم خطرناک) علاقے میں ہے لیکن اس کے باوجود ادارے نے دو سیکیورٹی آفیسرز بھرتی کررکھے ہیں۔ دونوں ریٹائر فوجی ہیں۔ ساٹھ کے پیٹے میں ہونے کے باوجود کافی صحت مند بھی ہیں اور بظاہر مسکراتے  بھی۔۔ گیٹ پر پہنچ کر 'صاحب' لوگ ہارن دیتے ہیں اور یہ ان کو عادتاً سلیوٹ کرکے گیٹ کھولتے ہیں۔ اکثر صاحب لوگ اِن کے بچوں کی عمر کے ہیں۔۔  انہوں نے اپنی ساری جوانی چونکہ مملکتِ خداداد کی حفاظت کرتے ہوئے گزاری ہے اس لئے سرکار ان کو ہر ماہ باقاعدہ پنشن دیتی ہے۔۔۔ بیس بائیس سال کی مشقت کے باوجود ایسا کیا ہے کہ جو ان کو پھر اسی کوہلو میں جوت گیا ہے؟ پرسکون بڑھاپا تو ہر کسی کی دلی خواہش رہی ہے۔۔۔ تو یہ اپنی خواہش کی تکمیل کیوں نہیں کرپارہے؟ کئی بار بات کرنے کا سوچا لیکن نہ کرسکا۔۔ دو وجوہات کی بنا ءپر۔۔۔ جن میں سے ایک وہی ہے، شرمندگی۔
سن چورانوے یا پچانوے کی بات ہے، جب میں پانچویں کلاس پاس کرکے چھٹی میں پہنچا تو بوجوہ سکول بدلنا پڑا۔ نئے سکول میں جہاں بہت سی دیگر دلچسپ چیزیں تھیں وہیں پر ایک بابا دِینو بھی تھا جو گیٹ کے سامنے پاپ کارن بیچتا تھا۔ بابا دینو کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ  سکول کے تیسرے سال میں جب ہمیں اپنے اردگرد کسی شخصیت پر مضمون لکھنے کو کہا گیا تو ساٹھ فیصد طلباء نے بابا دینو پر رقم طرازی کی تھی۔ چند ماہ پہلے پرانے گھر اور پرانے محلے جانا ہوا تو بابا دینو سے بھی ملاقات ہوگئی۔ وہ اب بھی پاپ کارن بیچتا ہے لیکن ضعف کی وجہ سے نزدیکی سکول کے سامنے بیٹھ کر۔۔ بچے اب بھی اس کے گرد حالہ بنائے بیٹھے رہتے ہیں، وہ اب بھی ان کو ہوم ورک کی ٹینشن سے تھوڑی بہت ریلیف پہنچانے کا ذریعہ ہے۔۔ اس کی عمر اسی سال کے لگ بھگ ہے۔ بچے  بچوں والے ہوگئے ہیں لیکن  اس کا گھر پاپ کارن ہی چلاتے ہیں۔۔۔ میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن ہنستے چہروں کے دکھ سننے کی ہمت آج تک نہیں کرپایا۔۔  اس نے مجھے پہچانا اور مسکرا کر ہاتھ ملایا۔۔۔  اور میں شرمندگی کی وجہ سے نظریں ملائے بغیر نکل آیا۔
یہ سب چیزیں تو یونہی ذہن میں آگئیں۔۔ اصل  بات یہ ہے کہ میں نے پچھلے چند ماہ سے حالاتِ حاضرہ کے پروگرامز وغیرہ دیکھنا گناہِ صغیرہ سمجھ رکھا ہے اس لئے اردگرد سے کافی ناواقف ہوتا جارہا ہوں۔ ابھی ایک ویب سائٹ کے توسط سے تھر میں آنے والے قحط پر ایک وڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہاں کے کوئی ڈی سی او وزیرِ اعظم کو بریفنگ دے رہے ہیں۔  میاں صاحب کے سامنے والی دیوار پر پروجیکٹر کی روشنی میں کچھ اعدادو شمار نظر آرہے ہیں۔ ڈی سی او صاحب اپنے مخصوص حاکمی ڈنڈے کی نوک بار بار دیوار پر رکھ کر کچھ سمجھا رہے ہیں، اور بتا رہے ہیں کہ دوہزار دس میں ستر افراد بھوک سے مرے، گیارہ میں چالیس، بارہ میں ۔۔۔، تیرہ میں۔۔۔ اور اس سال 'صرف 'اڑتیس۔۔  یہ صرف میڈیا ہائپ ہے اور کچھ نہیں، یہاں بھوک سے مرنا نارمل ہے۔ ہاں البتہ اگر لہور، کراچی یا اسلام آباد میں ایسا مسئلہ بنے تو بات کی جاسکتی ہے۔ تھر اور کوئٹے والے شائد تھرڈ کلاس لوگ ہیں۔۔۔اسی دوران کیمرے کا رخ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آل ن آل اور تیسری بار وزیرِ اعظم بننے والے جناب میاں محمد نواز شریف صاحب کی طرف مڑتا ہے۔۔ میاں صاحب کا گورا، بیکٹیریا فری خون سے لبریز، متمول اور بھوک کی اذیت کو محسوس کرنے سے عاری چہرہ بہت کچھ بتا رہا ہے۔ انہوں نے وہاں اپنی خوبصورت ٹھوڑی کو ہاتھوں پر سجا کر کچھ کیا ہو یا نہیں، مجھے نہیں علم، لیکن ہیلی کاپٹر جب واپس پہنچا ہوگا تو مرغِ مسلم نے ان کا والہانہ استقبال ضرور کیا ہوگا۔۔۔  سابق چیف جسٹس کی آمریت کا شکار ہونے والے ملک ریاض کو اب بھی گالیاں ہی مل رہی ہونگی۔ ۔۔ اور کچھ لوگوں کیلئے وزیرِ اعظم وزیرِ الظلم بن چکے ہونگے۔
محنت اچھی چیز ہے لیکن ایک حد تک، اس سے آگے نکلنا جبر کے زُمرے میں آتا ہے۔۔ اور جب خود پر جبر کرکے بھی اپنا سروائیول ناممکن ہوجائے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم پہ حکمران بطور سزا مسلط ہوئے ہیں۔
صدیوں پہلے ایک حکمران گزرا ہے جس کی سلطنت پاکستان کے رقبے سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔ سنا ہے کہ  وہ دریائے فرات کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے تک کی موت کا ذمہ دار خود کو سمجھتا تھا۔۔ سنا ہے اسے حکمرانی کے پل صراط پر چلنے کی وجہ سے نیند بھی کم ہی آتی تھی۔۔۔ لوگ اُسے آج بھی عمر ؓ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اب لیکن حالات مختلف ہیں۔ اب اُن کے نقشِ قدم پر تھوڑی چلا جاسکتا ہے۔ اب تو زمانہ کہیں آگے نکل گیا ہے۔

خود فریبیاں

مشتاق احمد یوسفی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں "آدمی اگر قبل از وقت نہ مرسکے تو بیمے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے"، لیکن! ہمارا خیال ہے کہ قبل از وقت مرنا تقریباً تقریباً ناممکن سی چیز ہے۔ یہ سب بیمے والوں کے گورکھ دھندے ہوتے ہیں۔
ایک بار ہم سارے دن کی سر کھپائی کے بعد مکینک کے پاس بیٹھے گاڑی کا اچانک نکل آنے والاکوئی کام کروا رہے تھے کہ اچانک السلام علیکم کا نعرہ سنائی دیا۔  جواب یہ سوچ کر زیرِ لب دینا  ہی مناسب تھا  کہ ہوسکتا ہے صاحبِ فائل کسی اور سے مخاطب ہوں اور اونچی آواز میں بونے سے ہماری سبکی نہ ہو جائے۔ دوسری دفعہ  متوجہ ہوئے تو پتا چلا ہم ہی ہیں جن کی سلامتی چاہی گئی تھی، تو ہم نے بھی جواب داغ ڈالا اور انہیں پہچاننے کی کوشش میں ذہن پر زور ڈالنے کی گستاخی کرنی پڑی کیونکہ اجنبی کا اندازِ تکلّم بالکل بھی اجنبی نہیں تھا۔ حال احوال پوچھنے لگےجو بلا چوں و چرا من و عن بیان کردیا گیا۔ کام شام کا پوچھا تو ہم نے کام کے متعلق بتا کے شام کے ذکر کو بڑی خوبصورتی سے گول کردیا کہ کہاں یہ بیچارے شریف اور بال بچّے دار نظر آنے والے انسان ساری رات "میری ذات ذرہِ بے نشاں"کی غیر مقناطیسی تشریحیں سوچ سوچ کر کڑھتے رہیں گے– اور پھر اخلاقاً اُن سے بھی ایسے ہی جملے پوچھے۔ کوئی دس منٹ گزرے تھے  کہ ہنکارہ بھرا اور فرمانے لگے کہ میرا تعلق ایک بیمہ فروش ادارے سے ہے اور اسی سلسلے میں "حاضر"ہُوا ہوں، پھر جواب کا انتظار کئے بنا ہی دوبارہ جو گویاہوئے تو اس کا طول و عرض دوگھنٹوں پر محیط تھا۔ ہم سے زیادہ وہ مکینک اُکتایا ہوا لگ رہا تھا جس نے ورکشاپ بند کرکے گھر جانا تھاجبکہ ہم دونوں اُس کی راہ میں حائل تھے۔ اس لئے بات کو حتی المقدور قابلِ سمجھوتا کرتے ہوئے سیدھا سیدھا لُبِ لباب جاننے کے خواستگار ہوئے تو انکشاف ہُوا کہ ہمیں کل ان کے دفترتشریف لے جا کر ان کو ایک عدد چائے کا شرف بخشنا ہے۔۔اتنی حیرانگی ہمیں چھٹی جماعت میں عربی کا مضمون پاس کرنے کی نہیں ہُوا کرتی تھی جتنی اس عزت افزائیانہ فقرے کو سن کے ہوئی۔ سمجھ تو گئے تھے کہ جناب ہمیں خالصتاً "کاروباری ڈیٹ" کا کہہ رہے ہیں لیکن جانا تو پھر بھی بنتا تھا۔
دفتر کی صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایک طرف شیشے کا گھر بنا ہوا تھا جس کی داخلی راہداری پر "اے ایم" لکھا ہوا تھا۔ دوسری جانب کے دو میزوں پر "ایس او" جبکہ باقی سارے علاقے میں کاغذات  بڑے منظم انداز میں دھرے ہوئے  تھے۔ ایک طرف صوفے پڑے تھے جن پر مختلف اخبارات، انگریزی رسائل،انشورنس کی مشہوریوں والے لفافے اور ایک(آدھا خالی یا آدھا بھرا ہوا؟ کچھ کہنا مشکل ہے) گلاس – ابھی ایک منٹ بھی نہیں گزراتھا کہ بھاپ اُڑاتی چائے بمعہ جدید بسکٹ(جنہیں ہم آج بھی اپنے مخصوص خانیوالی انداز میں " بِس کُٹ" ہی کہتے اور سمجھتے پائے گئے ہیں) ہمارے سامنے لا رکھےاور بڑا شاہی قسم کا پروٹوکول۔۔چائے ختم کی ہی تھی کہ اے ایم صاحب فون سن کر آگئے اور تاخیر کی معذرت کرنے لگے۔ بلّی ابھی چونکہ تھیلے سے باہر نہیں نکلی تھی اس لئے کچھ کہنا قبل ازوقت تھا، سو چُپ رہے کچھ نہ کہا – منظور تھا پردہ اپنا۔ دو گھنٹے اور چائے کے تین ادوار کے بعد  جو عقدہ کھلا تو ہمیں پتا چلا کہ ہم میں تو مارکیٹنگ کی(بھی :ڈ) بڑی صلاحیت چھپی ہوئی ہے۔  ہم تو خواہمخواہ اپنے( لیکن ہمیں خود کو نظر نہ آنے والے) ٹیلنٹ کو ضائع کررہے ہیں، اور ہمارا اصل و فطری  شعبہ وہ نہیں بلکہ بیمہ فروشی ہے۔۔ پوچھا حضور آپ کو یہ سب باتیں کیسے پتا چلیں؟  پھر  علم ہوا کہ اے ایم صاحب نے اتفاق سے ایک جگہ گفتگو ملاحظہ کی تھی جس کی بناء پر یہ(غلط) نتیجہ اخذکیئے بیٹھے تھے۔۔ ایک گھنٹہ مزید ہمیں سنے بغیر ہی اس کام کے قواعد و فوائد گنوائے جاتے رہے، دسیوں زندہ و مردہ مثالیں دی گئیں اور  ان سب کو نچوڑا ایسے گیا کہ "بہہ جاتے تیری محبت میں ظالم – زمانے کے دستور جو نہ جانے ہوتے"، انتہائی ادب سے معذرت کی اور اُٹھ لئے۔۔البتہ صاحبانِ کرم کم ازکم سطح پرہمیں انشورڈ  کرنے کا مطالبہ بہرحال پھر بھی منوا گئے تھے۔
پھر کیا تھا، صبح اُٹھ کے دیکھیں تو دو تین ایس ایم ایس ان کے آئے ہوتے ، دس سے گیارہ بجے کے درمیان ایک ٹیلی فون کال جس کا مقصد بظاہر ہمارا حال چال ڈھال پوچھنا ہوتا  لیکن ڈھکے چھپے لہجے میں کچھ اور،  ہر دوسرے یا تیسرے دن پکڑ کے زبردستی دفتر لے جایا جارہا ہے۔کبھی فارم بھروائے جارہے ہیں تو کبھی فوٹوکاپیاں بنوائی جارہیں ہیں، کہیں طبی معائنے کا کہا جارہا ہے – لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے بعد دوبارہ چائے نہیں پلوا پائے اور اس میں ہماری ایک میڈیکل کہانی کا کمال تھا ہمارا نہیں۔۔یہ کام اگلے چھ ماہ بطریقِ احسن چلتا رہا۔اس کے بعد موصوف کو ترقی  دے دی گئی  جس کا فوری  فائدہ ہمیں یہ ہوا کہ جو ٹیلی فون وہ روزانہ کرتے تھے اب مہینے میں دودفعہ کرنے لگے، اور پھر ایک دفعہ۔۔۔۔یہ قصہ فروری میں شروع ہوا تھا اور نومبر کی ایک ٹھنڈی شام اسے اختتام پذیر  کرتے ہوئے اپنے مخصوص فیصل آبادی لہجے میں ارشاد فرمانے لگے  "جناب تُسی تے ساڈے نالوں وی ٹیٹھ نکلے"، اور اپنے لئے یہ اعزاز سن کر ہم نے بھی بغلیں بجائیں۔ وقتی طور پر تو سکون کا سانس لیا کہ چلو سردردی ختم ہوئی روز روز کی لیکن چند ماہ بعد وہی صاحب پھر سرِراہ مل گئے ، بالکل ویسے ہی لہجے اور گرمجوشی سے ملے جیسے پہلے ملاکرتے تھے، اور ستم یہ کہ پھر سےوہی مطالبات دہرانے  لگ پڑے۔  اس بار موصوف بہت کنسسٹنٹ انداز میں وارد ہوئے تھے اور ٹھیک دو ماہ بعد ہمیں انشورڈ کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے۔
اس "حادثے" کے کچھ عرصے بعد ہم نے ان سے پوچھا "آپ روزانہ اتنے لوگوں سے ملتے ہیں، کہیں سے انکار ہوتا ہوگا اور کہیں لارے لپّے، تو آپ کبھی مایوس نہیں ہوئے؟" فرمانے لگے "دنیا کا سب سے مشکل کام کسی کی جیب سے پیسہ نکالنا ہے، اور اتفاق سے یہ بات ہم بھی جانتے ہیں۔ اس لئے تیس چالیس دفعہ کے انکار سے پہلے مایوس ہوجانا ہمیں بالکل بھی زیب نہیں دیتا"۔۔۔ بات تو ان کی بالکل سچ تھی لیکن ہزار کوششوں کے باوجود ہم اسے خود پر اپلائی نہ کرسکے۔ جانتے بھی ہیں کہ مستقل مزاجی کو بہرحال کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہیئے کیونکہ ہوسکتا ہے مایوسیت سے دو سانس کی دوری پرمنزل ہمارا انتظار کررہی ہو، لیکن۔۔۔ کچھ بشری تقاضے۔۔۔ کچھ انجانے خوف۔۔۔ کچھ خود ساختہ بند گلیوں سے بھاگنے کی عادت۔۔۔۔ اور ایک راہ پر چلتے ہوئے کسی متوازی دوڑ میں باقی لوگوں سے پیچھے رہ جانے کا ڈر ثابت قدمی کو ہربار ہی شکست دے دیتا ہے۔

مذاکرات یا مخولرات

ایک گاؤں میں کسی میراثی کے ہمسائے نے کنڈلے سینگوں والی گائے خریدی۔ گائے دیکھنے میں بہت خوبصورت اور کافی قیمتی تھی اس لئے اہلیانِ علاقہ جوق در جوق اسے دیکھنے کیلئے آتے اور تعریفیں کرکے واپس ہولیتے۔ میراثی کے اپنے ہمسائے سے تعلقات چونکہ کچھ کشیدہ تھے اور بول چال وغیرہ کا سلسلہ منقطع تھا  جو مبارکباد دینے کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ گائے خریدنے کی خبر آخر کتنے دن لوگوں کی زبان پر رہتی؟ مہینہ ہوا اور لوگ اسے بھول بھال کے دوبارہ اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ میراثی روز صبح شام دروازے پر کھڑے ہوکر اس کے سینگوں کا جائزہ لیتا اور پریشان رہتا کہ اگر کسی کی ٹانگ اِن سینگوں میں پھنس گئی تو کیا ہوگا؟ کبھی اس سوال کا خود سے جواب گھڑتا تو بھی اطمینان نہ ہوتا۔  ایک بار دن بھر کا تھکا ہارا گھر آیا اورگرمی کی پروا کئے بغیر ہی تھوڑا جلدی سوگیا۔  آدھی رات کو آنکھ کھلی تو وہی پرانا فتور دماغ پر سوار تھا کہ اُس گائے کے سینگوں میں کسی کی ٹانگ پھنس جائے تو کیا نتیجہ نکلے؟ کیا منظر ہو؟ اسی شش و پنج میں بستر سے اُٹھا اور تہہ بند جھاڑتا ہوا  گیٹ سے باہر نکل کے ہمسائے کے باڑے میں پہنچ گیا۔ گائے اپنی مستی میں اپنا سر زمین پر رکھ کر کسی سوچ میں گم تھی اور صاحب اُس کے چہرے کے عین سامنے کھڑے ہوکر بڑی پیچیدگی سے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کررہے تھے۔ آخرکار جب رہا نہ گیا تو کڑوا گھونٹ کرکے دایاں پاؤں زمین سے بلند کیا اور پنجے کو جھٹکا لگا کر سینگ میں پھنسا لیا۔ گائے رات کے اِس پہر اپنے آرام میں کسی کی یُوں بے باک دخل اندازی کی توقع نہیں کررہی تھی اس لئے ہڑبڑا کے سر کو جھٹکا دیا اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔  اب چونکہ گائے کے اِس ردعمل کیلئے صاحب بھی تیار نہیں تھے تو سر نیچے اور پاؤں اوپر ہونا ضروری سی بات ٹھہری۔۔۔ دوسرے کچھ بیچارے میری طرح کے بزدل بھی تھے اس لئے چلّانا شروع ہوگئے کہ مارا گیا بچاؤ دوڑو وغیرہ۔۔ گلی کے لوگ اُٹھ کر بھاگے تو دیکھا کہ گائے پوری طرح بدکی ہوئی ہے اور صاحب کو جھولا جھولانے کا عمل جاری ہے، گائے کے مالک نے آکر اُسے تھپکی لگاکر کچھ ٹھنڈا کیا۔۔۔ صاحب کو اُتارا تو پتا چلا کہ آپ ٹانگ تڑوا کر شہیدوں میں نام لکھوا چکے ہیں۔
رات کے اُس ٹائم ایک پہلوان کا ترلہ کرکے جاگنے کی گزارش کی اور لہراتی ٹانگ سیٹ کرواکے پٹیوں میں لپٹے صاحب کو کھاٹ پر دھرکے واپس آنگن میں لا دھرا۔ صبح ہوئی تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا  جو بظاہر تو عیادت کرنے آئے تھے لیکن درپردہ اُن کا مقصد فلم کی کہانی سننا اور بعد میں ہاتھ پہ ہاتھ مارکے ہنسنا تھا۔دوپہر تک مریض درد کی وجہ سے کراہتا رہا، جب تھوڑا افاقہ ہوا تو گلی محلے والوں نے پوچھا کہ اب کیا حال ہے، جیسا کہ عموماً تیمارداری کرتے ہیں۔۔۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد صاحب نے جو تاریخی الفاظ لبوں سے نکالے وہ سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل تھے، فرمایا "ٹانگ کو مارو گولی، یہ ٹینشن تو ختم ہوئی ناں کہ سینگ میں پاؤں پھنس جائے تو اس کا نتیجہ کس صورت میں نکلتا ہے"۔
الحمدُاللہ ہمارے ہمسائے کی بجائے ایسی گائے ہم نے خود خرید فرمائی ہے  اور ثم الحمدُاللہ اُس کے سینگوں میں اپنی دونوں ٹانگیں رکھ کے چیک بھی کرلیں ہیں اور تڑوا بھی لی ہیں۔ اب گائے سے مذاکرات ہونے جارہے ہیں کہ جب پہلوان ہماری ٹانگوں کو دوبارہ درست کردے گا تو یہ دوبارہ توڑے گی یا نہیں؟ فرض کیا اگر نہیں بھی توڑتی تو کیا وہ زخمی ٹانگیں دوبارہ اُس گائے کی طرف جائیں گی؟
ویسے اچھے طالبان سے مذاکرات کرنے میں کوئی حرج تو نہیں۔۔۔۔ ہے ناں؟ 

ثقافت گردی

کچھ سال پہلے امریکہ میں"کیپٹن امریکہ" نامی فلم بنی۔ یہ ایک پروپیگنڈا، عوامی مورال بوسٹنگ ٹرک اور تھرلر مووی تھی، اور حسبِ روایت کافی ہٹ رہی۔ اس فلم کی کہانی ایک مریل سے نوجوان سے شروع ہوتی ہے جسے فوج میں جاکر ملک کی خدمت کرنے کا شوق ہوتا ہے لیکن اپنی صحت کی وجہ سے شوق کی تکمیل نہیں کرپا رہا ہوتا۔ اسی کشمکش میں اُس کی ملاقات کسی تحقیقی ادارے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے ہوتی ہے جو  اُس نوجوان کو "وسیع تر ملکی مفاد" میں  لیبارٹری کی زینت بنادیتی ہے جہاں اسے "مشین" میں ڈال کرنئے روپ اور جسمانی ساخت میں تبدیل کرکے قومی اثاثہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس اثاثے سے پہلے تو ناچ گانا کرواکے فنڈ وغیرہ اکٹھے کرنے کا کام لیتے ہیں، ما بعد جرمنی کے خلاف جاری دوسری جنگِ عظیم میں بھجوا کر خرچہ وصول کرنے کا سوچا جاتا ہے۔ اِس مردِ میداں کو جذباتی اور جسمانی طور پر اتنا طاقتور بنا دیا گیا ہوتا ہے کہ یہ نہ تو اپنی محسنہ کی اپنے لئے چھپی محبت محسوس کرتا ہے، نہ اٹالین افواج کے ہاتھوں ہونے والی کنجرانہ بے عزتی، اور نہ ہی  افسروں کی حکم عدولی سے پیدا ہونے والا ڈر۔۔۔ یہ چند ساتھیوں کو لے کر وہ وہ میدان سرکرتا ہے جس کے خواب پنٹاگان شائد آج تک بھی پایہءِ تعبیر تک نہیں پہنچا پایا۔۔ ایک سائنسدان کو اغواء کرکے حکومتِ جرمنی کی کمر توڑنے کے بعد ہٹلر انتظامیہ کے باغی کی طرف  مبذول ہوجاتا ہے۔۔۔ یہ پرانی بات ہے وگرنہ آج کل تو لوگ دشمن کے دشمن/سے باغی کو بھی دوست ہی سمجھتے ہیں۔ خیر! بات کچھ آگے بڑھتی ہے اور ایک گھمسان کےرَن کے بعد باغی اپنا وہ طلسمی جہاز  لے کر انتہائی طویل اور ناختم ہونے والے رن وے پر آن پہنچتے ہیں جس میں مختلف امریکی شہروں کے ناموں والے میزائلز نصب ہوتے ہیں۔ کیپٹن جیسے لوگ فلم کے ہیرو ہوں اور ولن ایسے  نکل جائے، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ آپ کار میں جہاز کا پیچھا کرتے کرتے آخر تقریباً اُڑتے ہوئے خود کو جہاز کے حوالے کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔   فلم کے کلائمیکس سین میں ولن اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیار ہیرو کے ہاتھ میں آجانے کی وجہ سے ہوا میں تحلیل ہوکر ختم ہوجاتا ہے۔ اب جہاز میں لدے ہوئے بم امریکی سلامتی کیلئے خطرہ محسوس ہونے لگتے ہیں اور اپنے کیپٹن صاحب کنٹرول ٹاور میں بیٹھی محبوبہ سے الوداعی الفاظ کے ساتھ ہی کسی برف ناک علاقے میں جہاز سمیت غرقاب ہو جاتے ہیں۔  کافی عرصہ وہاں مدغم رہنے کے بعد جب محبوبہ کو ڈھونڈنے اپنے وطن واپس ہوتے ہیں تو خود کو وقت سے کہیں زیادہ پیچھے رُکا پاکر اپنی فلم کا اختتام کروا بیٹھتے ہیں۔
فلم کی کہانی یہاں لکھنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ میں امریکہ کے ہاتھوں بک چکا ہوں یا مغربی ایجنٹ ہوں( خواہش البتہ ہے اور خواہشیں ناقابلِ گرفت ہوتی ہیں)۔۔ بلکہ یہ چند دن سے میڈیا میں چلنے والے ثقافتی ڈرامے کی فکر میں ہلکان بلاول بھٹو زرداری کی حالت دیکھ کر یاد آئی کیونکہ کہانی دونوں فلموں کی تقریباً ایک سی ہے، سوائے مرکزی کردار کے۔ ہمارے سیاستدانوں، صحافیوں اور اداکاروں میں ایک بات مشترک ہوتی ہے ، یہ سب خود کو خبروں میں شامل رہنے کیلئے ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جو  اِن کے سرِعام مذاق کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ "بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا؟" کی عملی تفسیر ثابت ہوتی ہیں، اور شائد یہی بات کسی ناعاقبت اندیش مشیر نے پیپلز پارٹی کو سکھا دی کہ آپ لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ کیوں نہیں دھوتے؟ موئن جو داڑو، شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام، سندھی ٹوپی، زبان،  اجرک۔۔ ان سب کو بلاول یا پیپلز پارٹی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق پڑا ہے اور نہ پڑے گا۔ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنے والی چیزوں سے جب کوئی اپنا مثبت تعلق بناتا ہے تو عوام اس کی قدر کرتی ہے، اور وہ تعلق دربار سے ہو یا دیارِ یار سے۔  پرائی قوم سے منسلک باتوں کا سہارا لیکر اپنی زندہ ثقافت کو زندہ کرنے کی کوشش بذاتِ خود ثقافت دشمنی شمار ہوتی ہے جو ہو بھی رہی ہے۔ چاہیئے  تو یہ تھا کہ جیسے کچھ سال پہلے محدود سطح پر پنجاب کلچرل فیسٹیولز کا انعقاد کیا گیا، اُس طرز پر سیاست سے دور رہتے ہوئے اپنے کلچر کو بین الصوبائی اور بین الاقوامی نظروں میں لایا جاتا، لیکن ہوا اُلٹ۔۔۔ پہلے ثقافت پر سٹیج بناکر حتی الامکان ثقافتی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی گئی، اور جب عدالت نےنوٹس لیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ عنقریب  اس پر اچھی خاصی سیاست بھی کی جائے گی۔ بلاول بھٹو ناصرف پیپلزپارٹی کا مستقبل ہے بلکہ آئندہ سیاسی عمل میں بائیں بازو والے لوگوں  کی نوجواں امید، ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹی قیادت کو اس کی صلاحیتیں مثبت راستے پر استعمال کرنی چاہیئں۔۔۔ ناکہ اس کے ہاتھوں ثقافت، اور ثقافت کے ہاتھوں سیاست کا خون کروانے کی کھلی چھٹی دی جائے۔
کسی ملک یا معاشرے کی پہچان اس کے رسوم و رواج، عام بات چیت میں بولے جانے والے الفاظ اور کسی صورتحال میں خود کو ڈھال لینے کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔ صدیوں پہلے انسان نے یہ بات جان لی تھی کہ اسے اپنی بقاء اور الگ پہچان کیلئے کچھ تو ایسا کرنا پڑے گا جو اسے باقی اقوام سے ممتاز کر دے،  اور یہ عین فطری بات تھی۔ اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کیلئے کہیں اُس نے جنگیں لڑیں اور کہیں ہاتھوں کی کاریگری دکھانا پڑی جو آہستہ آہستہ اُس معاشرے کے خون میں سرایت کرکےنسل در نسل آگے منتقل ہوتی رہی۔ ثقافت کوئی ایسی چیز تو ہوتی نہیں جس کو بنانے کا اگر آج ارادہ کیا  تو کل مکمل صورت میں سامنے موجود ہو، یہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو کسی قوم کی اور اُس کے آباءو اجداد  کی ذہنیت اپنے اندر سموئے ہوتی ہے، بالکل جیسے ہماری وراثتی زمین یا ملک۔ جس طرح ہم وراثت میں اپنا نام زندہ رکھنے کیلئے عدالتوں کچہریوں اور دیگر ذرائع کا سہارا لیکر اپنا آپ منواتے ہیں اُسی طرح ہماری ثقافت بھی ایک وراثت ہوتی ہے جس پر باقی قومیں حملہ (حربہ زیادہ مناسب لفظ ہوگا) کرتے ہوئے کچھ اپنے رسوم و رواج شامل کرنا چاہ رہی ہوتی ہیں۔ کسی ثقافت کو بنانے میں اتنا وقت نہیں لگتا جتنا اسے خود مٹانے میں صرف ہوتا ہے، اور جو قوم کسی ثقافت کو مٹانا چاہے وہ خود مٹ کر اپنا نام بھی تاریخ سے گم کروا جاتی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ جس ثقافت کو  ڈھول باجے سے زندہ کرنا چاہ رہے ہیں، دشمن اپنے نفسیاتی ہتھیاروں سے لیس ہوکر اُسے براستہ ٹیلی ویژن ہمارے گھروں سے تقریباً نکال چکا ہے۔۔۔ اور اِس طرف کسی کی توجہ نہیں۔

انتقام کی ناممکن تلافی

موہنی:    ہیں راما! یہ تُم ہو؟کہیں میری آنکھیں مجھے دھوکہ تو نہیں دے رہیں؟راما:      تمہاری آواز کی خوشبو بتا رہی ہے کہ مجھے دوبارہ دیکھ کر خوش نہیں ہوئیموہنی:   موئے! کدال نے جہاں  زمین میں کھڈے کھودے ہوں  وہاں کی مٹی تو لوہے کی آہٹ سے بھی کانپ اُٹھتی ہےراما:   موہنی! تم تو پوری فلسفی بن گئی ہوموہنی:   اچھا چل وہ سب چھوڑ، آ بیٹھ اِدھر۔ دھیان سے کہیں پھسل نہ جائیوراما:   اب بھی میرا اتنا خیال ہے یا ویسے ہی جھوٹے دلاسے دے رہی ہو؟موہنی:   ۔۔۔۔۔(ایک سو اسّی ڈگری کا زاویہ)۔۔۔۔۔۔                چھیمو ! چائے لائیو، میرا بہت ہی خاص مہمان آیا ہے                اچھا جی، کپڑے بدل لُوں ورنہ سلوٹیں پڑ جائیں گی                تُو سالی اِن ٹشنوں سے نکلنے والی نہیں                آپا۔۔۔۔۔۔۔ تیرے سامنے ہی تو ہوا                اچھا چل زیادہ بکواس نہ کراب، اور خالی چائے ہی لیکر نہ آجائیوموہنی:   تو  میں کیا کہہ رہی تھی راما۔۔ ہاں! یہ لڑکا کون ہے تیرے ساتھ؟راما:       ہاہاہاہاہا۔۔۔۔موہنی! تیری بات گھمانے کی عادت گئی نہیں؟موہنی:   خدا کا واسطہ ہے  یہ اپنی ہنسی بند کرو۔ اس نے ہی تو مجھ سے میری ہنسی چھینیراما:      تم مجھے  بددُعائیں دیتی ہو ناں؟موہنی:    تُم اب تک محبت کو سمجھے ہی نہیں پگلے، اس میں بددُعا کی گنجائش باقی کہاں بچتی ہےراما:    تجھ میں اتنی سخت باتیں منہ سامنےکہنے کی ہمت کیسے آگئی ہے؟ بددعا دی تو ہوگیموہنی:   خدا محبت کرنے والوں کے بہت نزدیک رہتا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ کب کیا کرنامناسب رہے گاراما:    میں گاؤں گیا تھا۔۔ وہ شیر محمد کا باغ سنا ہے کاٹ دیا گیا ۔ لوگ بتا رہے تھے کہ وہ خود بھی مر گیا تین سال پہلےموہنی:    مجھے اُن باتوں سے کوئی مطلب نہیں، تُم صرف شیر محمد کا ہی نام کیوں لے رہے ہو؟راما:        بس موہنی! شک کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اُسے خود سے کھرچنے میں زندگی ختم ہوجاتی ہےموہنی:    بڑی جلدی خیال آگیا؟راما:    ۔۔۔۔۔۔(۔۔۔۔)۔۔۔۔۔۔موہنی:    سمجھنے میں عمر بِتا دی۔                اچھا چھوڑ! یہ چائے پیراما:     موہنی!موہنی:    ہاں۔ بولراما:     تمہیں پتا تھا ناں کہ میں ایک منتقم مزاج شخص ہوں؟موہنی:    ۔۔۔۔۔(۔۔۔۔)۔۔۔۔۔۔راما:     اور انتقام بھی محبت سے لیتا ہوں؟                اپنی عادت کے نشے پر لگاتا ہوں                پھر اپنا اڈہ بڑھا لیتا ہوں                اور پیچھے آنے والے کو ایک خاص مقام پر لاکے اپنی قدموں کے نشان تک مٹا دیتا ہوں؟موہنی:    ۔۔۔۔(۔۔۔۔)۔۔۔۔۔راما:      افسوس کہ میں نے یہی انتقام تم سے بھی لیا تھاموہنی:   اب افسوس کی کیا ضرورت،  تیرےاُس انتقام نے مجھے تو یہاں پہنچا دیاراما:       اور اُس انتقام نے ہی انتقام میں مجھ سے میری بینائی چھین لیموہنی:   تُو واقعی اندھا ہوگیا ہے؟ میں بھی کہوں یہ اتنی دیر سے کھوپے کیوں نہیں اُتار رہا                چلو مجھ سے تو کم ہی سزا پائی ناں                تو کیا جانے یہاں مردہ روح والےجسم کو بیچنا کتنا مشکل ہوتا ہے                میں بھی کیا بکواس کرنے بیٹھ گئی۔ یہ چائے پکڑ اب! اس پر تو دوانچ موٹی بالائی کی تہہ بھی جم چکی ہےراما:      موہنی!  تُو مجھے معاف کر دے گی؟موہنی:   میں نے پہلے کہاں ناں، محبت کرنے والوں کا معاملہ خدا خود دیکھتا ہے                اور وہی مناسب فیصلہ کرتا ہے                میں تو خود کو معاف نہیں کرنے کے قابل نہیں، تجھے کیسے کروںراما:      اندھے کی فریاد ٹھکرا دے گی؟موہنی:   مردے کے اختیار میں کچھ نہیں ہوتا                جا! اور جاکے کسی ایسے کو ڈھونڈ جو تجھے اندر سے پاک کرے                تجھے بات منوانے کا ڈھنگ سکھائے                میرا  تویہ خود کا جسم بہت گندہ ہے، مجھے کچھ نہیں پتاراما:      معاف کرنے کیلئے جسم کی نہیں، روح کی ضرورت ہوتی ہےموہنی:   چل ایسے ناں بھونک                اب تو نہیں لیکن ہوسکتا ہے کبھی اندر پڑی حنوط شدہ موہنی کو تجھ پر ترس آ ہی جائےراما:      تُو ایک دن آکے میری زندگی تو جی کے دیکھ، تجھے اپنی اہمیت کا احساس ہوجائے گا                 اور تجھے دوبارہ مجھ سے محبت ہوجائے گیموہنی:    میری روح تو شائد ابھی تک بھی تیری ہی محبت کی توحید پر قائم ہے کلموہے                لیکن اُس روح کو دوبارہ جسم کے لباس میں ڈھالنا میرے لئے اب ممکن نہیں رہا راما:      موہنی ! یہ محبت کچھ نہیں ہوتی ناں؟                ورنہ کوٹھے کیوں آباد ہوتےموہنی:    پاگل! اگر محبت نہ ہوتی تو کوٹھوں کی ضرورت ہی کیا تھی؟راما:      اچھا میں چلتا ہوں۔ ایک بار مسکرا دے تاکہ میرے کانوں کو کچھ تو سکون ہوموہنی:     کیوں؟ تیرا انتقام ابھی تک ختم نہیں ہوا؟ ہنسا کے پھر انتقام لے گا ؟-----(گھٹنے سیدھے ہونےکی کڑکڑاتی آواز)۔۔۔۔۔۔                ۔۔۔۔کہاں چل دیا؟۔۔۔۔۔                چائے تو پیتا جاتا
۔۔۔۔۔۔(دیکھ کے چاچا، گلی کی سیڑھیاں آرام سے اُتر۔ ورنہ کل کی طرح آج بھی گرکے دانت تڑوا لے گا)۔۔۔۔۔موہنی:     (بڑبڑاتے ہوئے)                ہونہہ۔۔۔۔                اِس کمبخت مارے کو بڑا پتا محبت کا                مرد ہے ناں شائد اس لئے                محبت اِن کو طوائف تھوڑا بناسکتی ہے                ۔۔۔۔۔(۔۔۔۔۔)۔۔۔۔۔                میں بھی کس کو سوچنے لگی                چھیمو!                کوئی گاہک آئے تو آواز دے دیجیو، میں ذرا کمر سیدھی کرلوں                          ۔۔۔۔ سرکلر روڈ۔۔۔۔                ادھر ہی رک چاچا، میں کسی رکشے کو بلاتا ہوںراما:       یہ آواز کہاں سے آرہی ہے                تیری دائیں طرف ۔۔ فقیر ہے کوئیراما:       اچھا میں یہیں رکتا ہوں، تُو جا
                                                                                            کتنا درد ہے اس فقیر کی آواز میں۔ ۔۔ رو رو کر ترس پیدا کرتا ہے اور لیتا کچھ نہیں! پتا نہیں میری طرح یہ بھی کسی  کی جوشِ رحمت کا منتظر ہے؟شائد اس کا گناہ مجھ سے کچھ کم ہی ہے؟  اِس نے شائد کسی سے انتقام لیا نہیں، بلکہ ہوسکتا ہے صرف ایسا کرنے کا سوچا ہو۔۔۔ تبھی تو اسے کم ازکم رونے کی توفیق تو میّسر ہے۔۔۔۔یہ کمبخت محبت بھی عجیب چیز ہے۔۔۔ ہونے لگے تو مجھ جیسے کم ظرف سے بھی ہوجائے، اور نہ ہو تو اپنے پیچھے پاگل ہونے والوں سے انتقام لینے پر مجبور کردے۔
رکشا رکنے کی آواز نے  اُس کی گہری سوچ کو بکھیرا اور وہ اپنے نا اُمید وجود سمیت وہاں سے نکل آیا۔

مجبوری سے گمراہی تک

دسمبر کے آخری دن چل رہے تھے اور اُس قیامت جیسی رات کا آخری پہر۔۔چار بجنے میں بس کچھ ہی پل کم تھے۔ ماحول پر عجیب بوجھل اور بے کیف سی سست کیفیت طاری تھی جسے ویران علاقے کا فائدہ اٹھا کر عود آنے والی ابتدائی دھند مزید بے وزن کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ ہوا میں موجود نمی کا تناسب بڑھنے کی وجہ سے درختوں کے پتے شبنم کا بڑھتا ہوا بوجھ سنبھالنے سے قاصر لگ رہے تھے اور اُس پانی کو گرانے کے چکر میں تھک ہار کر خود بھی زمین پر گر رہے تھے۔ کہیں دور سے اچانک ابھرنے والی گیدڑوں کی باجماعت ہانک سنائی دیتی تو سناٹے میں وہ طلسمی خاموشی انگڑائی لے کر تھوڑا سا ہنکارہ بھرتی اور دوبارہ  سےاسی بے پروائی کا لبادہ پہنے اپنی وسعت سمیت خود میں گم ہوجاتی۔ رہ رہ کرچلنے والے ہوا کے مخمور جھونکے کسی بے وقت گھر لوٹنے والے شرابی کی طرح دھند کو ہلا کر دھویں میں تبدیل کرتے اور دسویں دن  کے چاند کا ہالہ بناتے ہوئے پیڑوں کے جھنڈ میں فنا ہوتے جارہے تھے۔ یُوں تو موسم بذاتِ خود بھی ہر چیز کو جمانے پر تلا ہوا تھا لیکن چند آوارہ کُتے  اس کی پرواہ کئے بغیر  دیوار کی اوٹ میں لیٹ کر نتھنوں سے دھواں اڑاتے ہوئے اپنا سخت جان ہونا ثابت کررہے تھے۔ سڑک سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر دیوار سے لٹکے کچھ ٹمٹماتے بلب  زندگی کی موجودگی کا آسیبی احساس دلانے کی اپنی سی کوششوں میں مصروف تھے۔ کچھ موسم کی تلخ نوائیاں اور کچھ ذہن میں چلنے والے حسیں ادوار کی فلم نے گھنٹوں سے  لکڑی کے متروک اور یخ بستہ بنچ پر اکڑوں بیٹھے اُس شخص کے خیالات کو ایک نقطے پر منجمد کر دیا تھا۔
کہیں دور مسجد میں فجرسے کچھ پہلے بوڑھی اور کپکپاتی آواز بابا بلھے شاہؒ کا کلام پڑھ رہی تھی جسے ہوا کی لہریں زیروبم میں اُس کے کانوں تک پہنچا رہی تھیں۔ سردی کا احساس مٹانے کیلئے وہ اُٹھتا، کچھ دیر کو ٹہلتا،  ہاتھوں میں پھونک مار کر دوبارہ وہیں جا بیٹھتا اور ٹھنڈی ہوا اندر کھینچ کر اپنی روح کو جگانے کی ناکام کوشش کرنے لگتا۔ اڈّے کی دوسری جانب بس کے پاس کنڈکٹر کو آتے دیکھا تو اپنا تھیلا اُٹھا کر اپنے مرجھائے ہوئے قدموں سے لڑکھڑاتے ہوئے اُس کی جانب چلنے لگا۔ تھا تو وہ چالیس پچاس قدم  کا فاصلہ، لیکن صدیوں کی مسافت جیسا لگ رہا تھا جسے منّوں وزنی پاؤں اُٹھانے سے قاصر تھے۔  وہ اپنے سپاٹ چہرے اورکورے سے لبریز بھنوؤں  کو زبردستی کھلا رکھتے ہوئے برف بنے آہنی ڈنڈے کا سہارہ لے کربس میں داخل ہوگیا۔اسےکسی مناسب سیٹ کی تلاش تھی کہ جہاں سفر کے دوران اسے بنا مداخلت اپنی آنسوؤں سےنبردآزمائی کچھ بہتر انداز میں دیکھنی تھی۔ کنڈکٹر نے سیٹ کے نیچے پڑی پرانی ردی سے کچھ اوراق نکالے، پانی کی بوتل کھول کر سکرین پر انڈیلی اور  بڑبڑاتے ہوئے تڑی مڑی اخبار شیشےپر پھیرنے لگا۔  اڈّے کے دائیں کونے میں واقع مسجد میں اذان ہوچکی تھی اور سکوت کی چادر نے دوبارہ سے دھند کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔وہ چمڑے کی اڑے رنگ والی برفیلی سیٹ پر بیٹھا بس کی صفائی ہوتے دیکھ رہا تھا۔ کچھ کل کےمسافروں کے پھینکے ہوئے ادھ جلے سگریٹ، ٹافیوں کے ریپرز، انڈوں کے چھلکے، مونگ پھلی  کے گلابی غلاف، یہ سب سمیٹ کر دروازے سے باہر پھینکنے کے بعد کنڈکٹر جیب سے چابی نکال کر ڈرائیور سیٹ پر جا بیٹھا۔  زیرِ لب مناجات پڑھتے ہوئے ہاتھ سے سوئچ ٹٹولا اور گاڑی کسی نومولود بچے کے پہلے سانس کی طرح چھوٹی سی سرسراہٹ  بھرکے پھرسے ساکن ہوگئی۔ تین بار یہی عمل دہرانے کے بعد بھی کچھ بہتری نہ ہوئی تو اگلی سیٹ اُٹھا کر بیٹری پر پانی ڈالا،  ایک تار نکالی اور اسے سوئچ سے جوڑ کر دوبارہ چابی گھمائی۔ گاڑی کی ٹی بی زدہ کھڑکھڑاتی  کھانس نے اندھیرے کو کچھ مشتعل کیا اور سیاہ دھویں کے مرغولے اجلی دھند میں مدغم کرتی ہوئی مدھم تال میں کپکپانے لگی۔ اتنے میں ڈرائیور آنکھیں ملتا ہوا گاڑی کے پاس آن پہنچا اور نیند کو دوچار غیر ارادی گالیاں دیتے ہوئے گاڑی اڈے سے نکال کر سڑک پر لے آیا۔اُسے وہاں تکونی  چوک پر دوسرے راستے سے آنے والی گاڑی سے اخباروں کے بنڈل وصول کرنے تھے اور کچھ پکّی سواریاں بٹھانے کے بعد منزل کی جانب رواں دواں ہو جانا تھا۔
وہ  یہ سب آوازیں سن تو رہا تھا لیکن پھربھی پسِ منظر میں نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ اُس کے کانوں میں صرف ایک بازگشت کے پہرے  تھے اور اُس گونج کی تان دنیا کا  خیالی سفر کرنے کے باوجود سات سالہ حذیفہ اور تین سالہ مہرین کی توتلی زبان پر آکے رُکتی جارہی تھی۔ ابھی دو ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی -  سالہا سال سے پندرہ گھنٹے روزانہ کام اور فیکٹری میں اُڑتے پھرنے والے زہریلے کیمیائی بخارات نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا تھا۔ باوجود اپنی تمام تر برداشت اور حتی المقدور دیسی علاج کے صحت پر تو کیا اثر پڑتا، الٹا خود کو مزید کئی پیچیدگیوں کی آماجگاہ بنا بیٹھا تھا۔ چھپاتا بھی تو آخر کب تک؟  ایک دن وہیں عقبی لان میں اوندھا  پڑا تڑپ رہا تھا کہ مینیجر نے دیکھ لیا اور  کام چوری کا بہانہ بنا کر نوکری سے نکال دیا۔ مجبور کی دعا بھلے قبولیت پائے یا نہ پائے، کردار اور ماضی اس کے کہیں جانے سے پہلے ہی پہنچ جاتا ہے۔ اگلے دس دن جتنی جگہوں پر بھی ملازمت ڈھونڈنے پہنچا، کہیں فورمین اور  کہیں سپروائزر  سے صاف انکار  سن کر واپس ہولیا۔ پچھلی کمائی ماں باپ کی مسلسل بیماری کھاتی رہی تھی اور دوپہر کا کھانا خود پر حرام کرکے جو تھوڑی سی رقم سالوں سے پسِ انداز کی تھی اسے بھی پچھلے برس باپ کی موت نے صاف کردیا تھا۔ ایک ماہ پرائے شہر میں فارغ رہنے کے بعد گھر واپس آیا تو وہاں بھی خالی جیب کئی محاذ منہ کھولے اس کے انتظار میں تھے۔ پھیری والے کی آواز پر مہرین اور حذیفہ کا معصوم چہرے اور توتلی زبان میں"بابا، پیشے دو"کہنا اور کہتے ہی رہنا حتیٰ کہ پھیری والے کی آواز کا آنا بند ہوجانا، پہلے سوال کرنے والوں کا رونا اور پھر سوال سننے والے کا بھی ان میں شامل ہوجانا۔۔ نومبر کے آخر میں پڑنے والی چلچلاتی سردی کے باوجود پھٹی چادر اور ننگے پاؤں اُس صابر ہمسفر کا کچھ کہنے کی کوشش میں ہونٹ کاٹ کے رہ جانا اور پاؤں کے انگوٹھے سے زمین کرید کر واپس چلے جانا۔۔۔ رات کو بوڑھی ماں کا رضائی دانتوں میں داب کر بھی اپنی کھانسی روکنے میں ناکام رہنا۔۔۔ روز صبح موٹے اور ابلے چاولوں کو دیکھ کر بچوں کا منہ بسوڑنا اور پھر بھوک سے بے حال ہوکر ان پر خود ہی مان جانا۔۔۔ وہ یہ سب دیکھ کر روزانہ لاکھوں بار مرتا تھا اور پچھتاتا تھا کہ وہ کیوں ان کو دنیا میں لاکر ترسانے کا باعث بنا۔۔اُس کیلئے وہ ہر لمحہ قیامت کا لمحہ تھا۔
گاڑی کا ایک طرف سے شیشہ شائد کچھ ٹوٹا ہوا تھا جسے گتا رکھ کر ٹیپ کی مدد سے بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ گاڑی کی رفتار جب جب بڑھتی، وہیں کسی کونے سے ہوا کا جھونکا سا آتا اور اُس کے خیالات کا ربط تھوڑا سا بکھیر کر اپنی ہی تپش سے ختم ہوتا جارہا تھا۔ ۔۔ پچھلے جمعے نماز کے بعد دیر تک وہیں بیٹھا روتا رہا اور کچھ بولنے کی کوشش میں سب کچھ بھولتا گیا۔ عمامہ باندھے کونے میں بیٹھا وہ شخص اسے روتے ہوئےدیکھ رہا تھا، اُٹھ کر اُس کے پاس آیا اور دلاسہ دینے لگا۔اس کو تب چاہیئے بھی کیا تھا؟ صرف ایک سہارا اور کاندھے پر بظاہر گرمجوشی سے دی جانے والی تھپکی، بچوں کی طرح بلک بلک کر رو دیا۔۔۔ کچھ اپنی مجبوریوں پر اور کچھ آنے والے دنوں کا تصور کرکے۔ مشکل وقت میں محبت کے دو بول بولنے والے میں بھی ایک نیا رستہ نظر آنے لگتا ہے، جبکہ انسان ٹھہرا سدا کا جذباتی اور اندھے رستوں کا مقلّد، بعض اوقات اپنا سب کچھ پسِ پشت ڈال کر بنا سوچے اُن نئی راہوں کا مسافر بن جاتا ہے۔ عمامے والے بزرگ نے اپنا تعارف کروانے کے بعد ایک مخصوص جگہ پر آنے کا کہا تھا۔ وہ گھر پہنچا تو عجیب سی بے چینی کے بھنورمیں بکھرنے لگا۔۔عجیب سی کشمکش۔۔ جیسے کوئی  واحد کنارے والے دریا میں ڈوب رہا ہو اور بچنے کی حسرت میں اُس کی طرف تیرنا شروع کردے۔ رات بہت مشکل میں کاٹی اور دوسرے دن بنا کسی کو بتائے منہ اندھیرے ہی گھر کی پاگل دہلیز سے نکل پڑا۔ وہاں پورا دن تو کیا، ابھی ظہر کی نماز کا وقت بھی نہیں ہوا تھا لیکن اس کی دنیا بدل چکی تھی، بلکہ اس کی دنیا اسے مل چکی تھی اور وہ بھی بنا کسی ایسی شرط کے، کہ جو وہ پوری نہ کرسکتا ہو۔کبھی حذیفہ کا اداس چہرہ آنکھوں کے سامنے آتا تو کبھی مہرین کا معصوم سوال، اور کبھی ہمسفر کی بیچارگی۔۔۔۔ کچھ مصنوعی اور وقتی اطمینان محسوس کررہا تھا۔۔ ایسا اطمینان جو صحرا میں سراب دیکھ کر ادھوری پیاس اور چلنے کی رفتار مزید بڑھا دیتا ہے۔ ایسی امید جو مسافر کی منزل کو اُس کے سفر کی منزل سے دور کردیتی ہے۔۔۔۔۔وہ اُن سب کے چہروں کی خوشیاں واپس لوٹانے کا فیصلہ کرچکا تھا۔
مشرق کی طرف جانے والی سڑک نے جب گاڑی کا رُخ جنوب کی طرف موڑا تو افق پر سنہری رنگوں  کی سیج سے پتا چلا کہ نئے سورج کے ابھرنے کا ساماں کیا جارہا ہے۔ پہاڑوں کے سلسلے نے فضا کی بے رنگ کدورت تو کچھ گھٹا دی تھی لیکن سرد تھپیڑے دِن کی روشنی کی آمد دیکھ کر اپنی شدت مزید  تیز کر گئے تھے۔ سڑک کنارےچنار کے درخت پیچھے بھاگ رہے تھے  اور دور دکھائی دینے والے پہاڑ اُس کے ساتھ محو سفر تھے۔ اب کے یہ سرد موسم بھی شائد اُسی کا بھرم رکھنے کو ہی آیا تھا، کیونکہ وہ چادر کی بُکل میں سمٹا لوگوں کی نظر میں صرف سردی سے بچنا چاہ رہا تھا، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ سردی کے باوجود گاڑی میں اتنی حدّت اُس کے بہنے والے بیکار آنسوؤں کی وجہ سے ہے۔ کسی کے یہ سات گھنٹے پلک جھپکتے گزر گئے اور کسی نے اِس وقت میں اپنے بچپن سے حال تک کا سفر کرلیا تھا۔ گاڑی مخصوص مقام پر جاکے رُکی تو کنڈکٹر نے سب کو مطلوبہ مقام پر پہنچ جانے کی نوید سنائی اور دروازہ کھول کر چھت پر  رکھا سامان اُتارنا شروع ہوگیا۔ کچھ لوگ اپنے بیگ ہاتھ میں پکڑے چل دیئے اور کچھ کو ٹیکسی یا رکشے کی مدد لینا پڑی، غرضیکہ جس مسافر نے جتنا وقت اِس شہر میں گزارنا تھا وہ اپنے ہمراہ اُتنا ہی سامان لایا تھا۔۔ ۔۔۔ پہلی منزل تک کا رستہ بخیروعافیت تمام ہوا اور سبھی مسافر گاڑی سے اُتر کر کپڑے جھاڑ تے ہوئے بظاہر بے فکر انداز میں انگڑائیاں لیتے چاروں سمت بکھرنے لگے۔ اُسے مگر رقعے پر لکھے ہوئے پتے پر پہنچنے کی جلدی تھی۔
آنسوؤں کا ساتھ کسی کسی کو ہی راس آتا ہے۔ یہ وہ دولت ہوتی ہے جس کی راہیں گمراہی سے راہِ راست پر بھی لے جاتی ہیں اور مجبوری میں غلط سمت بھی رُخ موڑ دیتی ہیں۔ کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا جہاں موجود باریش نوجوانوں نے اُس کا بڑے تپاک کے ساتھ استقبال کیا۔دوپہر کا وقت ہوچلا تھا اور وہ سب کھانا کھا رہے تھے، اُسے بھی شامل ہونے کا کہا لیکن اُس کی بھوک مٹنے والی نہیں تھی۔ بلکہ بھوک تو کیا سبھی احساسات مٹ کر ایک نقطے پر اکٹھے ہوچکے تھے جو مل کر اور چاہنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر پارہے تھے۔ اسے جو ہدایات مل رہی تھیں وہ آپوں آپ ہی کانوں میں داخل ہوتے ہوئے دماغ میں حذیفہ اور مہرین کے درمیان پناہ ڈھونڈ رہیں تھیں، اور ہیولا بن کر گزشتہ زندگی کے جلے ہوئے باب عیاں کررہی تھیں۔ وہ بیگ، لباس، چادر، کاغذات،۔۔۔۔۔ میکانکی انداز میں وہاں سے نکل آیا۔ یہ شہر اُس کے لئے نیا بالکل نہیں تھا، وہ یہاں پہلے بھی کئی بار آچکا تھا۔ جس جگہ اُس نے جانا تھا وہ ذہن نشین تھی۔ لوگ سلوموشن میں چلتے دکھائی دے رہے تھے اور گاڑیوں کی چنگاڑتی آوازیں چلتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔سڑک کی ایک جانب پارکنگ کو دیکھا، دوسری طرف دربار پر لگے ہوئے جمعرات کے روائتی رش کو۔۔۔ جہاں اُس جیسے سینکڑوں اپنی اپنی ادھوری زندگیوں کو مکمل کرنے کی آس میں جمع ہوئے تھے۔ وہ سوچنے سمجھنے کی سب صلاحیتیں سلب کروا چکا تھا اور سات مخصوص الفاظ تک یاد نہ رکھ پایا تھا۔۔۔حذیفہ۔۔۔ مہرین۔۔۔ وہ ایک بٹن اور عارضی بہرہ پن۔۔۔مکروہ دھواں۔۔۔ سڑک پر چیختی بریکیں۔۔۔ حواس باختہ چہرے۔۔۔ وہ اپنے ہمراہ دس لوگوں کو لئے آخری منزل کی طرف نکل چکا تھا ۔۔۔ لیکن اُس کی جگہ باقی دس سے علیحدہ تھی، اُسے وہاں مستقل جلنا تھا۔۔۔ وہ دنیا کی عارضی آگ سے بچنے کی کوشش اور دوڑ میں دائمی آگ کو اپنے مقدر میں لکھ چکا تھا۔
مختلف سیاسی رہنماؤں کی طرف سے دہشت گردی کے حالیہ واقعے پر مذمتی بیانات  دیئے جارہے تھے اور انٹی ٹیررزم سکواڈ کو مزید چوکس کرنے  کی ضرورت پر زور دیا جارہا تھا۔۔ہاں! ایک بات تسلی بخش تھی کہ طالبان نےاس خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی تھی۔

قحط، قرآن اور ہم

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی کل آبادی  سات اعشاریہ تین بلین، یا پاکستانی الفاظ میں سوا سات ارب سے کچھ زیادہ ہوچکی ہے۔ جس رفتار سے اِس میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ہی ضروریاتِ زندگی بھی بڑھتی جارہی ہیں جبکہ وسائل کم سے کم ہوتے ہوئے مزید محدود ہوتے جارہے ہیں۔ اس اضافے نے جہاں ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو ایک خاص حد تک باندھ رکھا ہے وہیں براعظم افریقہ سمیت دنیا کے کئی ممالک شدید غذائی کمی کا شکار ہوکے قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر موسمی وجغرافیائی نقطہِ اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ کی زمین ساخت اور جنگلات زیادہ  ٹمپریچر کے باوجود  زراعت کیلئے اتنی بری بھی نہیں کہ وہاں کی آبادی کو ایسے بھوک سے مرنے دے، لیکن خانہ جنگی اور کسی پلاننگ کی غیر موجودگی ہی شائد اِس رستے کی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔یوں تو آج سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے  آبادی کے اِس بے لگام بھوت کو روکنے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں مگر سوائے چند ایک ممالک کے کہیں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ تصویر کے دوسرے رُخ کو دیکھیں تو امریکہ ہر سال جتنی گندم پیدا کرتاتھا  پہلے وہ اپنی  منڈیوں میں قیمت کی کمی کے ڈر سے اس کا اچھا خاصا حصہ سمندر برد کردیتا تھا لیکن اب ورلڈ فُوڈ پروگرام کے تحت اِنہیں قحط زدہ افریقی ممالک میں بھجواتا ہے۔ باوجود ان سبھی کوششوں کے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کسی طرح شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔ آبادی کے بڑھنے سے روزانہ ہزاروں ہیکٹرز زرعی زمین رہائشی علاقوں میں تبدیل ہورہی ہے توصنعتی ترقی پہلے سے موجود زمینوں کو بنجر کرنے کی سعی میں مصروف ہے،  جس سے محدود وسائل کو مزید کم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر شرح نمو اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والی صدی انسانی بقاء کیلئے بہت ہی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اب چونکہ نہ تو ہم نامیاتی وسائل بڑھا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی صورت اِن چیلنجز سے بھاگ سکتے ہیں تو ایسا کیا کیا جائے جس سے ہم اپنی آنے والی نسل کو محفوظ بنا سکیں؟
اس پس منظر میں اگر ہم  گندم جو اس وقت ایک اہم غذائی ضرورت ہے، کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ اس کی کاشت تقریباً گیارہ ہزار سال قبل مسیح مشرقِ وسطیٰ میں ہوا کرتی تھی اور اس کے سات ہزار سال بعد، یعنی چار ہزار سال قبل مسیح ایشیاء ، یورپ اور مشرقی امریکہ میں پہنچی۔ اس وقت یہ چاول  اور مکئی کے ساتھ مل کر دنیا کی 75 فیصدی خوراک کی ضرورت پوری کررہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں  690 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا ہوتی ہے۔ گندم اگانے والے ممالک میں  چین 110 ملین میٹرک ٹن پیداوار کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان 30 ملین میٹرک ٹن کے ساتھ اس فہرست میں آٹھویں مقام پر۔ہم تین چار دہائیاں پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ایک ایکڑ سے بمشکل پانچ یا دس من  گندم حاصل ہوا کرتی تھی اور تب زندگی کا معیار ایسا بالکل نہیں ہوا کرتا تھا جیسا آج ہے۔ ۔ پھر جیسے جیسے ضروریات بڑھتی گئیں، ٹیکنالوجی بھی ترقی کرنے لگی۔اِس وقت وہ زمینیں  بھی  کہ جہاں جھاڑ جھنکار اور سوائے ریت کے کچھ نہیں ہوا کرتا تھا،  ہمیں پچاس سے ساٹھ من پیداوار دے رہی ہیں۔  بیج بنانے والے سرکاری ادارے بتاتے ہیں کہ جس ورائٹی کی پیداواری طاقت اُن کے محدود اور مصنوعی ماحول میں نوّے من سے کم ہو اسے محکمہ سیڈ سرٹیفکیشن اپرُوو  ہی نہیں کرتا۔اِس بات  کا مطلب یہ ہوا کہ ہم محتلف قدرتی عوامل اور کچھ اپنی نااہلیوں  کے وجہ سے آج بھی بیج کی صلاحیت سے چالیس فیصد کم گندم پیدا کررہے ہیں۔
یہاں میں اپنی سوچ کے حساب سے قرآنِ کریم کی ایک آیت  کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ ہوسکتا ہے یہ صرف اشارہ ہو لیکن بہرحال قرآن میں موجود اشارے بھی حقیقت ہوتے ہیں۔ سورۃِ البقرہ کی آیت نمبر 261  میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اب ہم اِس آیتِ مبارکہ کو زرعی شعبے کے بین الاقوامی سطح پر مانے گئے اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
گندم کے ایک ہزار دانوں کا وزن بتیس سے چالیس گرام تک ہوتا ہے۔ہم اسے  یہاں تینتیس گرام بھی مان لیں تو ایک کلو گرام میں دانوں کی تعداد  تینتیس ہزار بنے گی، اور دانوں کی یہی تعداد پچاس کلو گرام(سٹینڈر شرحِ بیج فی ایکڑ) میں ساڑھے سولہ لاکھ ہوگی۔ ہمارے پاکستان کے موسمی حالات اور زمینوں کی اساسی خاصیت کی وجہ سے گندم کے بیج کا اوسطاً اگاؤ تقریباً نوّے فیصد رہ جاتا ہے،  یعنی پینتالیس کلوگرام میں چودہ لاکھ پچاسی ہزار جرمینیٹڈ یا قابلِ اگاؤ  دانے۔  ہر دانے سے سات بالیاں (ٹِلرز) نکلنے کا مطلب چودہ لاکھ پچاسی ہزار پودے بنا، جن کو سات(ٹِلرز) سے ضرب دیں تو یہ تعدادایک کروڑ تین لاکھ پچانوے ہزار بنتی ہے، اور اب اسے دوبارہ سو(سو دانے فی بالی/ٹِلر) سے ضرب دیں تو ہمارے سامنے ایک ایکڑ سے پیداوار ایک ارب تین کروڑپچانوے لاکھ  دانوں کی صورت میں آجائے گی۔  جیسا کہ پہلے بات ہوئی کہ ہم ایک ہزار دانوں کا وزن ہم تینتیس گرام مانتے ہیں۔ دانوں کی اس مجموعی پیداوار(جوکہ تیرہ لاکھ بیس ہزار دانے فی من ہیں) کو منوں میں تبدیل کیا جائے تو یہ تقریباً سات سو ستاسی من فی ایکڑ بنتی ہے،  جو پاکستان کی اس وقت کی اوسط پیداوار تیس من فی ایکڑ سے چھبیس گُنا زیادہ ہے۔یہ تھوڑا ریاضیاتی سا سلسلہ بن گیا ہے لیکن بہرحال اتنا مشکل بھی نہیں ہے کہ سمجھ میں نہ آسکے۔۔۔ویسے دنیا میں جس رفتار سے اس فصل پر تحقیق کی جارہی ہے اس سےامید ہے  کہ ؁2330 کے لگ بھگ یہ خواب /اشارہ حقیقت بن جائے گا۔اگر شعبہِ جینیات کو ایمانداری سے مکمل وسائل مہیا کئے جائیں اور پھر مشن سمجھ کر اس پر فوکس کرلیا جائے تو یہ سنگِ میل پچاس ساٹھ سال پہلے بھی عبور کیا جانا ممکن ہے۔
 چونکہ مندرجہ بالا آیتِ مقدّسہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے پر بطور اجر یہ مثال دی ہےکسی فصل کا نہیں،  کچھ تفاسیر میں البتہّ گیہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تفصیل یا مفہوم جو بھی کہیں، اس بات سے  ہم کسی طرح انکار نہیں کرسکتے کہ کتابِ ہدایت ہمیں اشاروں میں ہر وہ بات سمجھا دیتی ہے جسے سمجھنا چاہیں۔ اور یہ ویسے بھی ہمارے ایمان کا اہم حصہ ہے کہ ہر ذی روح اپنے حصے کی خوراک اور سانسیں خداوند تعالیٰ سے لکھوا کر ہی اس دنیا میں آتا ہے۔۔۔ یہ صرف ایک ذریعے کا تذکرہ تھا، اگر ہم باقی فصلوں کے ییلڈ پوٹینشل پر بات کریں تو اللہ تعالیٰ نے اتنی نعمتیں اور مواقع بنا رکھے ہیں کہ اس دنیا کا کوئی باسی کم از کم خوراک کی کمی سے ہرگز نہیں مر سکتا۔ بے شک! ہم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائیں گے؟
اربابِ اختیار اگر آبادی کو روکنے کیلئے استعمال ہونے والے وسائل کا تھوڑا سا حصہ بھی اِس طرف موڑ دیں تو ہم قدرتی نظام کو چھیڑے بناء ہی دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔

ایک محبت، خواب اور قرض

شب و روز کی ستم گیریاں جھیلتے ہوئے اُس مخصوص پاتھ وے  بورڈ کی رنگت اب توبہت حد تک اُڑ چکی ہے، لیکن پھر بھی کچھ غور کرنے سے پتا چل جاتا ہے کہ یہاں پہلے کوئی عبارت لکھی گئی تھی۔لفظ "Nort"پر تحریکِ انصاف کے ایک امیدوار کا انتخابی سٹیکر چسپاں ہے، اور "h East Intl."بلا مطلب چیز سی لگتی ہے۔ یوں تونیچے لکھے گئے ایڈریس اور ای میل کے تمام حروف رنگ و روغن سمیت اتر چکے ہیں، لیکن اگر انڈسٹریل اسٹیٹ کی اُس سڑک پر چائے کے کھوکھے والے سے بھی بورڈ کے متعلق پوچھا جائے تو مجھے یقین ہے کہ لفظ"North East Intl."اُسے بھی یاد ہوگا۔ چند دن پہلے ائیرپورٹ سے واپسی پر لہور کی ٹریفک کے ڈر سے اُس رستے جانا پڑا تو  وہی پرانے مناظر دوبارہ زندہ ہوگئے۔
جامعہ سے فراغت کے فوراً بعد ہم دودوستوں کے  ساتھ مل کر نارتھ ایسٹ انٹرنیشنل کے نام سےایک بریڈنگ ریسرچ سنٹر شروع کرنے کا جنون لئے گھر سے نکل آئے تھے۔  لہور میں ریسرچ سنٹر/ دفتر کیلئے انڈسٹرئیل اسٹیٹ میں واقع پلاٹ کو استعمال کرنے کا سوچا۔ سرمایہ کاری کیلئے جب  بنک سے رجوع کیا گیا تو وہ بھی بآسانی مان گئے، اور ہم  رات دن کا خود پر فرق ختم کرکے اسی کام میں مشغول ہوگئے۔تجربے کی شدید کمیابی کی وجہ سے جب ساڑھے تین ماہ میں  سوائے ایک کےتمام ضروری و غیر ضروری سرکاری لائسنسز  اور کاغذی کاروائیاں ختم کرنے کے بعد جب عملی اعتبار سے دیکھا تو پتا چلا کہ وزارتِ  صنعت و پیداوار کے این او سی کے بغیر یہ کام ریاست سے بے وفائی کے زُمرے میں آتا ہے لہذا  بہتر یہی ہے کہ ہم پہلے اسے مکمل کروائیں، اور اسی دوران باقی سلسلہ  بھی جاری رہے۔ کئی ماہ تک لہور اور اسلام آباد کے درمیان شٹل کاک بنے پھرتے رہنے کے بعدآخر ایک "اعلیٰ" افسرنے کمالِ مہربانی کرتے ہوئے کافی معزز دِکھنے والے اور داڑھی ہولڈر(اپنے) سالے کو  ہمارا پارٹنر بنانے  کی شرط پر  اس اذیّت سے چھٹکارہ دلا نے کی تجویز دی، جسے ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہمارے دونوں پارٹنرز اِس عرصے میں اپنا ابتدائی جذبہ برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکے تھےاور اپنے اپنےحصے کی سرمایہ کاری لے کر چلتے بنے، جو  میرے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ بینک کے علاوہ بھی کئی صاحبان  اس پراجیکٹ میں انویسٹ کرنے کو تیار تھے۔اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب بلڈنگ اور دفاتر۔۔۔تقریباً سارا کام تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکا اورایک جاننے والے کے توسط سے یہ پہاڑ آن گرا کہ مولانا صاحب اپنے دماغ کو استعمال کرکے ہمارے مشترکہ لائسنسز،  این او سیز ، بینک اکاؤنٹ ، اورپراجیکٹ بلیو پرنٹس  چراتے ہوئے دو ماہ پہلے کسی اور جگہ آپریشنل ہوچکے ہیں۔قصہِ مختصر، جب ری سٹوریشن/ بیک اَپ کیلئے رکھے ہوئے سارے شریفانہ گُر آزماکر دیکھ لئے تو بطورِ بسمِ اللہ اُن کے خلاف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو ایک درخواست دے دی اور گھومتے گھماتے تھانیدار صاحب تک پہنچادی،اورمزید تین ماہ کے چکروں کے بعد  تنگ آکر وہاں جانا ہی چھوڑ دیا۔ عدالت کا رُخ کرنے پر علم ہوا کہ اب تو ہمارے ثبوت بھی اُن کے ہوگئے ہیں، کیونکہ ہم پراپر چینل کی تلاش میں کافی وقت ضائع کر چکے تھے۔ ایک دن دماغ ٹھنڈا کیا اور بڑے پیار سے وجہ پوچھی،  کہنے لگا میرے ساتھ ایک اور بندے نے فراڈ کیا ہےچلو دونوں مل کر اُس کو عدالت  میں گھسیٹتے ہیں، اور میری مرضی کے برخلاف وہ معاملہ پھر سے عدالت کے سپرد فرما دیا جہاں تاریخوں پر تاریخیں پڑنا شروع ہوگئیں اور بس۔۔آخرکار کوئی چھ ماہ بعد شہادتوں کی باری آئی اور بجائے مُلزم کو، ہمیں ہی کٹہرے میں لاکھڑا کیا گیا، اور ایسے دےدھنادھن قسم کے سوالات کیئے گئے کہ جی چاہا ابھی زمین پھٹے اور ہمیں ساتھ لیئے پھر سے گول ہوجائے۔ یہ تو خیر معمول کی کاروائی تھی اس لئے ساری ذلالت برداشت کئیے گئے، لیکن ستم در ستم بذاتِ اسیراں  - ابھی کافی نمک پاشی باقی تھی اس لئے مذکورہ بالا شہادتوں کے بعددوماہ تک مسلسل ملزم صاحب کے وکیل صاحب اُس کی طبی مجبوری پتا نہیں کہاں کہاں سے لاکے مائی لارڈکو پیش کرتے رہے اور ویسے ہی مائی لارڈ بھی،  جنہوں نے ایک بار تو محض زُکام کی وجہ سے فراڈیان کو دوہفتے پیشی سے استثنیٰ عطا فرما دیا۔ان حرکات پرکبھی کبھی تو دل کرتا کہ کسی تاریخ پر مائی لارڈ کو بھی کھلے اور واشگاف الفاظ میں کھری کھری سنا دوں ،اور ایسا رولاڈلواؤں کہ سب کو لگ پتا جائےپھر دیکھی جائے گی جو بنتا ہے لیکن سوچ اور عمل میں فرق، اور دیگر تحفظات کے پیشِ نظر ایسا کرنے سے قاصر رہے۔
وکلاء خوش گپیاں کرتے ہوئے آتے، تاریخ لیتے اور نکل بھاگتے جبکہ ہم عدالتوں اور اُن کے دفاتر کی غلام گردشوں میں پھرتے پھرتے ذہنی توازن کھونے کے قریب آگئے۔ اسی مقدمے کاپتا جب ہمارے ایک ٹیڑھے دماغ کے مالک سلام دُعا والے کو لگا تو اُس نے ہمیں بزورِ بازو دو دن میں مولانا کا  مَکّو ٹھپنے کی ضمانت دی تھی، جو بزورِبازو کے مشکوک طریقہ کار کی وجہ سے خود ہم نے مسترد کردی اور قانون کے رستے میں آتے جاتے آئین کی غیر آئینی لونڈیوں سے منصفی کے طلب گار بنے کھجل خراب ہوتے رہے۔ ایک بار تاریخ پر آنا ہوا تو وہاں جاننے والے وکیل سے ملاقات ہوگئی جن کی وکالت سے زیادہ تعلق اور زبان چلتی ہے اور اکثر دوسرے وکلاء کے دفاتر میں بیٹھے پائے جاتے ہیں۔  چونکہ بے ضرر ہیں اس لئے دوسرے وکلاء ان سے اپنے کیسوں پر بلاجھجک تبادلہ خیال کرلیتے ہیں، پوچھنے لگے جناب آپ کا کیا کام ادھر؟جس پر ساری حقیقت گوش گزاردی گئی اور درخواست کی کہ یار آپ ہی دیکھ دیں اس معاملے کو، اور معاملے کی حقیقت کو۔۔۔اُس شام انہوں نے فون پر جو "معاملے کی حقیقت"بتلائی تو زمین  پاؤں کے نیچے سے بھاگ نکلی۔ وہ حقیقت کچھ یوں تھی کہ مولانا نے جس فریق پر درخواست ہم سے ٹھنکوائی تھی اُس سےوہ پہلے ہی مُک مکا کر بیٹھا تھا، اور اس کیس کو ہارنے کی صورت میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ،  اگر میں ہارتا ہوں تو دونوں مل کر ہرجانے کا کیس دائر کریں گے،جبکہ میرا وکیل مولوی صاحب اور ملزم صاحب کا مشترکہ رشتے دار  بھی ہے۔اب تاریخوں پر ہوتا کچھ ایسے کہ میں مولانا سے بدظن، مولانا اور اُس کا بیلی مجھ سے، دونوں وُکلاء خود اپنے اپنے موکلان سے۔۔۔۔۔۔ جبکہ مائی لارڈ ہم سب سے۔  دو ہزار سات سے شروع عدالتی کاروائیوں  اور ان گنت تفتیشوں کے باوجود ہم جج صاحبان کے سامنے اپنے سچ کو ثابت نہ کرسکےاور چند کرم فرماؤں کے گن پوائنٹی مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اس سال اپریل میں مزید پیروی سے دست بردار ہوگئے، اور آئندہ کیلئے انٹرپرئنیورر بننے کی سوچ کو بھی خود پر حرام تصور کرلیا۔ بینک کی شرح سود  اور اقساط کے چکر میں ہمیں ریسرچ سنٹر تو ایک طرف رہا، دفتر کی جگہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ خاندان کے کئی افراد ایسے ہیں جومحض اس برے تجربے کی بناء پر آج تک ہم سے ناراض ہیں۔ اور تو اور تب سے ولید سلطان بھی ماسوائے کام کی بات کے، لب تک کھولنا گوارا نہیں کرتا۔
چونکہ سالاءِ مبارک (جن کے ہیں)کا اتنا ذکر خیر ہوچکا ہے تو اُن کے نورانی حلیے کو چھپانا صریحاً بُخل ہوگا۔
مولانا صاحب کی داڑھی تقریباٗ آدھی سفید ہے اور  جہاں پسلیوں  کے آگے جاکے پیٹ شروع ہوتا ہے، وہیں اختتام پذیر ہوتی ہے۔  ماتھے پر شب و روز کے سجود کی وجہ سے دو انچ قطر کی ٹکیا بنی ہوئی ہے جسے لوگ بشمول میرے محراب سے تشبیہ دیتے ہیں۔ سال میں ایک بار عُمرے کیلئے سعودی عرب جلوہ افروز ہوتے ہیں (کبھی کبھار حج کا تُکا بھی لگ جاتا ہے) جس کے اخراجات کی بابت ٹریول ایجنسیوں سےادھار کرتے ہیں جو نورانی چہرے کی بدولت بآسانی مل بھی جاتا ہے۔جب رب کا گھر دیکھ کے واپس آتے ہیں تو ٹکٹوں والے اِن کے گھر کے چکر لگانا شروع ہوجاتے ہیں جس کا سلسلہ سات آٹھ ماہ چلتا رہتا ہے۔ اگر ٹریول ایجنسی والا شریف اور کاروباری ہے تو  اِس عرصے میں ٹکٹ کے پیسوں کو صدقہ سمجھ کر کڑوا گھونٹ کرلیتا ہے، اگر تھوڑا کم شریف ہے تو گلی میں کھڑے ہوکے منگل کے منگل گالیاں نکال کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرتا ہے اور اس دوران صاحبِ عُمرہ تلاوت کرتے رہتے ہیں۔  اگر مالک کی پہنچ بھائی لوگوں تک ہے تو وہ چار پانچ کن ٹُٹے لاکے اِن کی بیٹھک میں آن دھمکتا ہے  جس کے نتیجے میں ہونے والی تلخ کلامی کی ریکارڈنگ  اور بہنوئی کی کرسی کو بروئے کار لاتے ہوئے مولانا صاحب تھانے میں ایسے مجرمین کی تشریف مبارکہ پورا مہینہ لال کروانے کا بندوبست کروادیتے ہیں۔دِل کے اتنے بُرے بھی نہیں - ہر جمعہ سات محلے چھوڑ کے ایک مسجد میں پڑھاتے ہیں فی سبیلِ اللہ، اور اسی محلے سے اکثر اوقات کچہری میں گواہیاں دلوانے کیلئے بندے بھی لاتے ہیں جو اِن کی ظاہری شکل  دیکھ کے بڑی سے بڑی شہادت بھی ہنسی خوشی دےجاتے ہیں۔مولانا صاحب کنزیومر کورٹ کے ماہر ہیں اور دسیوں بار کوکاکولا، ٹی سی ایس، ڈی ایچ ایل اور دیگر اداروں سے براستہ عدالت لاکھوں اینٹھ چکے ہیں۔ "اسلام اور اولیاء کِرام"، یہ اُن کی زیرِ طبع کتاب کا نام ہے جسے کئی رسائل و جرائد سے بڑے پیچیدہ انداز میں کاپی پیسٹ کرکے بنا رہے ہیں اور پُر امید ہیں کہ اگلے سال اسے شائع کرکے بہتوں کی آخرت سنواریں گے۔باقاعدہ اختتام سے پہلےمولانا صاحب کی ایک اور خصوصیت کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ،  جو متاثرینِ مولانا یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے گوڈوں میں گریس ابھی باقی ہےاور اِسی زعم میں حضرت صاحب کی تشریف مبارکہ کے نیچے دبے ہوئے اپنے حق کو بزورِ ڈنڈہ نکلوانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں یہ محترم اُنہیں بڑے پیار سے یہ سمجھاتے پائے گئے ہیں کہ سدھر جاؤ،  وگرنہ کسی مذہبی قسم کی توہین لگوا کر  یہیں  لوگوں کے ہجوم کے ہاتھوں تمہاری مدر سسٹر ایک کروا دوں گا، اور یہ فارمولہ ننانوے فیصد کارگر  ثابت ہوتا چلا آرہا ہے۔۔۔۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں کہ آخر کون خود پر توہین کا دھبہ لگوائے اتنی عبرت ناک موت مرنا چاہے گا جس پر لوگ فاتحہ پڑھنےسے بھی ہچکچائیں؟
تلخ و شیریں تجربات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن عقلمند وہی کہلواتا ہے جو خود پر تجربہ کرنے کی بجائے دوسروں سے سیکھے۔ وہ نوجوان جو پرائم منسٹر یُوتھ ایمپاورمنٹ سکیم کے تحت قرض حاصل کررہے ہیں میرا ان کو مشورہ ہے کہ خدارا جذبات کو کبھی عقل پر حاوی مت ہونے دیجیئے گا۔ یہ پیسہ بھلے ہی آپ کو حکومت کا ایک تحفہ محسوس ہو، دراصل بینکوں کا ہی ہے جنہیں وہ بمعہ سود ہر حال میں واپس چاہیئے ہوتا ہے۔ بس یوں سمجھیئے کہ یہاں اب  قدم قدم پر مذہب، کاروبار اور کنسلٹنٹس کا لبادہ اوڑھ کر منڈلاتی ہوئی گدھیں  آپ پر ٹوٹ پڑنے کو بیتاب ہیں، اور کاروباری شعبے میں سوائے آپ کی اپنی ذات کےپاکستان کا کوئی شخص آپ سے مخلص نہیں ۔۔۔۔یہ قرض جہاں آپ کی زندگی سنوار سکتا ہے وہیں خدانخواستہ آپ پر سوار بھی ہوسکتا ہے۔

ملنا صاحب سے

روزمرّہ معمولاتِ زندگی میں اکثر ایک جملہ سننے کو ملتا ہے کہ "خدا حسن دے تو نزاکت آہی جاتی ہے" ۔ سیانوں کی بات ہےتو سیانے جو کہہ گئے ہیں وہ پتھر پر لکیر نہیں بھی تو کم ازکم انمٹ ضرورہے۔
جب سے بلاگ لکھنا شروع کیا ہے ، فیس  بُک اور ٹوئٹر پرجان پہچان نہ ہونے والے لوگوں سے بھی اکثر منفی اور مثبت ردعمل ملتا رہتا ہے، جوکبھی تعمیری ہوتا ہے تو کبھی تخریبی۔ ایک دن مجھے ٹوئٹر پر ایسا ہی مینشن ملا "ہم نے آپ کا بلاگ پڑھا ہے" اور میں رپلائی کرتے ہوئے کنفیوز ہوگیا کہ اس کا جواب دوں بھی تو کیا؟ اور جب جناب کی اردو سے لبریز پروفائل پر نظر ڈالی تو ان کا پیچھا کرنا مجبوری تھا۔  خیر دن گزرتے رہے اور ہوتے ہوتے وہ صاحب ہمارے موسٹ فیوریٹ بن گئے جس کی وجہ بڑی سادہ تھی۔۔۔ کبھی صاحب ٹھرک کو نمونہِ عبرت بناتے تو کبھی ہیر رانجھا کے باہمی تعلق کو عشق ماننے سے انکاری، کبھی مجاز کی ٹھونک بجا کر مخالفت کرتے تو کبھی کسی منجھے ہوئے مزاح نگار کا ریمکس ورژن محسوس ہوتے۔۔ کبھی پنجابی تو کہیں اردو، لیکن کبھی خود کو روائتی ٹوئٹری سیاستدان ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ پہلے پہل میں ان کے اس روّیے کو سیلف سنٹرازم سمجھتا رہا لیکن دو چار دفعہ کی بورڈی گپ شپ ہوئی تو علم ہوا کہ صاحب ایک بڑے خوبصورت دل کے بھی مالک ہیں اور مجھے پہلا تاثر بدلنا پڑا۔ میرا اس ہوائی دنیا سے تقریباً نو سال پرانا رشتہ ہے اور اس دوران صرف ایک بار ضیاء صاحب سے صوتی سلام دُعا کے علاوہ نہ تو یہاں کے  کسی باسی سے ملاقات ہوئی تھی  اور نہ ہی بات، اس لئے جب صاحب نے ملاقات کا کہا تو روائتی ٹال مٹول سے کام لیا، کیونکہ ایک تو ہمارے ہاں  نقطہ نظر سے اختلاف کا مطلب عموماً فریقِ ثانی کا گلا کاٹنا رہا  ہے اسلئے بچاؤ کرنا پڑتا ہے، اور دوسرے ہماری طرح یہ صاحب بھی کافی شرمیلے(؟؟) واقع ہوئے تھے، تو شش و پنج فطری سی بات تھی۔ پچھلے ماہ دو دن کیلئے ٹچ اینڈ گو کی طرح اسلام آباد آنا ہوا تو صاحب مطالبہ پھر یاد کروانے لگے اور آخر منوا رہے۔
صاحب نے چونکہ نہ تواپنا موبائل نمبر وغیرہ دینا مناسب  جانا تھا اور نہ پوچھنا اور صرف ٹوئٹری ڈی ایمز کے سہارے  مجھ تک پہنچنے کو ہی ایڈونچر سمجھے بیٹھے تھے۔ ایک تو اُس رات میری فلائیٹ تھی، اور دوسرے کچھ معاملات نے کافی پریشان کیا ہوا تھا اس لئے پارک کی پارکنگ میں غائب دماغی کا عنصر حاوی تھا کہ السلام علیکم  کی آواز سنائی پڑی۔ دیکھا تو سامنے ایک  بچّہ کھڑا ہے۔۔۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہی وہ بچّہ نما بلاگر کم "فلاسفر" کم پتا نہیں کیا کیا ہیں۔ حالات و اقعات کو جوڑا تو جو چیزیں سامنے آئیں وہ کچھ یُوں ہیں کہ صاحب سائیکل سواری کے کافی شوقین معلوم پڑتے ہیں اور شائد یہی ان کی صحت کا راز بھی ہے،جسے یہ اگر سمارٹ نیس سمجھتے ہوں تو اِن کے وہم پر میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ انہیں دیکھ کر بندہ خود پریشان ہوجاتا ہے کہ بچّے کو والدین بازار میں یُوں اکیلا چھوڑ کر کہاں چلے گئے ہیں آخر۔ حلیے کی بات ہو تو یہی کوئی اٹھاون انسٹھ کلوگرام وزن کوساڑھے پانچ فٹ قد میں پیک کروائے پھرتے ہیں۔ آنکھوں پر کالا چشمہ جسے صاحب اپنے گہرے مشاہدے کا اہم ٹُول سمجھتے ہیں،۔۔ ویسے اتنی سی عمر میں جو مشاہدات انہوں نے کررکھے ہیں وہ واقعی "قابلِ رشک" ہیں۔ اگر جیلٹ کاروزانہ استعمال کرنا شروع کردیں تو بیس سے بھی پانچ سال کم کرواسکتے ہیں۔ لاتعداد جیبوں والا ٹراؤزر، کالی شرٹ جو حیرت انگیز طور پر کسی قسم کی لکھائی سے پاک ، یہ بات معمہ ہی رہی کہ بالوں کو جیل میں ڈبویا گیا ہے یا جیل کو بالوں پر انڈیلا گیا ہے، یا ویسے ہی کتابوں کی جگہ بالوں پر توجہ دینے کا شوق رکھتے ہیں۔ گلے ملنے کی کوشش کی تو صاحب کی صحت کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ صاحب نے اپنی برگر سائیکل کو بڑے شاہانہ انداز میں پارک کیا اور واکنگ میں شامل ہوگئے۔ یادرہے اس دوران چشمہ ایک بار بھی چشم سے جُدا نہ ہوا تھا اور حالات بتا رہے تھے کہ شائد ان کا بیّک وقت دائیں اور بائیں دیکھنے والا معاملہ ہو، بعد میں کلئیر ہوگیا کہ ایسا نہیں۔ صاحب دکنی اور لکھنؤی انداز میں میں کیلئے ہم اور تُم کیلئے آپ کا صیغہ بکثرت استعمال کرتے ہیں جو خاصا حیران کن ہے۔ پارک کا ابھی دوسراچکر بھی مکمل نہیں ہوا تھا لیکن محسوس ہورہا تھا کہ اِن صاحب سے میری کوئی بہت پرانی شناسائی ہے۔۔۔اور میں شائد مہینوں بعد اپنی فطری مسکراہٹ کومحسوس کررہا تھا۔
صاحب کے خیالات اور نظریات خود اِنہیں کی طرح بڑے عجیب و غریب ہیں۔ انہیں ابنِ انشاء، منٹو اور میاں محمد بخش صاحب کے علاوہ اور کوئی نہیں بھاتا۔ وجہ بہتر تو وہی جانتے ہوں گے لیکن میرا ایک اندازہ ہے کہ ان تینوں کے کلام میں مشترک چیز زندگی کو افسانوی کی بجائے حقیقت کے انداز میں دیکھنا  اور الفاظ کی موسیقیت ہے۔یہ ٹوئٹر پر جتنے بولڈ نظر آتے ہیں حقیقت میں اتنے ہی حساس اور اس سے کہیں زیادہ خوش اخلاق، جس پر کبھی تو ٹرولنگ کا گمان ہوتا ہے اور کبھی لہجے کی خودساختہ صناعی کا، لیکن ان کی باتیں سن کر دونوں اندازے غلط ثابت ہوگئے۔دِل و دماغ کے بڑے اچھے انسان ہیں جوکہ آج کل ایک نایاب کوالٹی ہے۔یہ صاحب دراصل صاحب نہیں بلکہ سات ساڑھے سات سو الفاظ فی منٹ کی رفتار سے بولنے والے کوئی روبوٹ لگتے ہیں۔ ان سے مِل کر میرے تین خودساختہ گمانوں نے  دم توڑا۔۔۔ زیادہ ہنسنے اور بولنے والے بندے کا دل مردہ ہوتا ہے،اکیس سال کی عمر میں مکمل ڈاکٹر نہیں بنا جاسکتا، اور آج کی جنریشن اردو سے دور ہوتی جارہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بہت سے عام لوگوں کے علاوہ تھوڑے سے سٹیٹ-آف-دی-آرٹ لوگ ایسے بھی بنا رکھے ہیں جو حساس ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اُنہیں مٹھی بھر میں سے چند ایک ہی ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی سوچ کو حقیقت بنانے کا موقع ملتا ہے جبکہ باقی اپنی حساسیّت کو خود کیلئےسوہانِ روح بنا کر اپنی ذات کے محور سے کبھی باہر نکل ہی نہیں پاتے۔اصل بات شائد جذبہ یا سوچ بھی نہیں، بلکہ وہ ماحول ہوتا ہے جس میں کسی انسان کی پرورش ہوئی ہو کیونکہ اولاد اکثر اپنے ماں باپ کے کردار کی عکاس ہوتی ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات صاحب کی اور اِن کے کی بورڈ کی حفاظت کرے تاکہ کوئی تو ڈاکٹر ایسا ہو جو خود کو مریضوں کی جگہ رکھ کر اُن کی تکلیف سمجھ سکے۔
امید تو ہے کہ آپ سمجھ گئے ہونگے کہ یہ کن صاحبِ کمال کا ذکرِ خیر ہے، اگر نہیں تو ان سے ملئے یہ ہیں سبھی جانوروں کا درد سمجھنےاور اس درد کو اپنے دل پر لیے پھرنے کے باوجود دِل کو صرف ایک بلڈ پمپنگ مشین سمجھنے والے ہمارے مصنف جناب ڈاکٹر سیّد عدیل ذکاءالقمر گیلانی المعروف عین ادیل، جن کی صحت اِس نام کے بالعکس متناسب ہے۔۔۔۔ اور جن سے مِل کر میرا "خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی" پر یقین مزید پختہ ہوچلا ہے۔

دِل دریا سمندروں ڈُونگے

تئیس نومبر  کی صبح  کو لندن انتہائی سرد، بلکہ برفیلا برفیلا سا محسوس ہورہا تھا۔ سڑکوں پر  چلنے والی اکّا دُکّا گاڑیوں کے ٹائر خنکی سے ڈھکی ہوئی سڑک پر عجیب آوازیں پیدا کرتے نکل رہے تھے اور شہر ویک اینڈ کے نشے میں مدہوش سویا ہوا تھا۔ صبح ٹھیک چھ بجے بخاری صاحب بمعہ ڈرائیور نمودار ہوگئے اور ہمیں لئے ڈاکٹر صاحبان کے بتلائے گئے ایڈریس پر موجود عمارت میں داخل ہوگئے، جسے باہر سے دیکھ کر ہسپتال کا قطعی کوئی گمان نہیں ہوتا تھا۔  ہماری  باقاعدہ ٹیوننگ مقامی وقت کے مطابق ٹھیک ساڑھے دس بجے شروع ہونا طے پائی تھی اور اِس درمیانی وقفےاور ویک اینڈ کی چھٹی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک اور صاحب بھی تشریف لے آئے تاکہ بوقتِ غیر وصلی عقل وخرد کے معاملات کو سنبھالیں، اردگرد کڑی نظر رکھیں کہ عملے کا کوئی بندہ ہمارےقیمتی سپئرپارٹس کو فینسی اور غیر معیاری آلات سے نہ بدل پائے، اورساتھ میں بخاری صاحب کو اکیلے بیٹھے بور ہونے سے بچائے۔ یہاں کے ہسپتالوں کا طبی عملہ مریضوں سے بالکل گھریلو افراد جیسا سلوک کرتا ہے اس لئے عموماً کسی کے ساتھ ہونے کی ضرورت پیش نہیں آتی، لیکن ہماری مشرقیت بھی بہرحال ایک روائت ہے جو اب بھی زندہ ہے۔ وہ بیچارے ہیں تو دونوں  ہی بال بچے دار لیکن کمال مہربان نکلے اور اپنے بیوی بچوں کے حصے کا وقت ہمیں دینے کو تیار تھے۔یہاں ایک فارم نے کافی کنفیوز کیئے رکھا جس پر جینڈر کی بجائے لکھا تھا "سیکس"،اب سمجھنا کچھ مشکل ہورہا تھا کہ اِس جگہ "میل یا فی میل" لکھنا ہے یا "یس/نو"، کافی غوروخوض کے بعد میل لکھنے پر ہی قانع ہونا پڑا۔  اور دونوں کو واپس جانے کا کہہ کر انتظار گاہ میں چھوڑ ے ڈاکٹر صاحب کی ہدایات پر عمل پیرا ہوگئے۔
بخاری صاحب کا ذکر نکل ہی آیا ہے تو ان سے اپنے تعلق پر سرسری سی روشنی ڈالنا قطعی غیرمناسب نہیں۔ دو ہزار  دو کی بات ہے، ہمارا یونیورسٹی میں پہلا سال تھا اور جمیت کے سابقہ کالجی معاملات میں حصہ دار ہونے کی وجہ سے ہمیں صدارتی الیکشنز میں نامزد کر دیا گیا جبکہ بخاری کو انقلابی کونسل کی حمائت حاصل تھی۔ جماعتی اور انقلابی، دونوں ہی بڑی دھواں دھار انتخابی مہم چلا رہے تھے، اور انتظامیہ کا سردرد بنے روزانہ کسی نہ کسی جگہ دست و گریباں ہوا کرتے۔ آخر جب یہ لڑائیاں حد سے بڑھ گئیں تو یونیورسٹی انتظامیہ نے افواج کے نام والے آزمودہ فارمولے کو استعمال کرکے الیکشن ملتوی اور بعد ازاں منسوخ کردیا۔ دماغ پر چھایا ہواابتدائی دنوں کا غبارِ بےوقوفی چھٹا تو حالات جذبات سے کہیں زیادہ سنگیں دکھائی دینے لگے۔ دوسرے سمسٹر کے اختتام تک ہم جمیعت اور بخاری صاحب انقلابی کونسل کو خیرباد کہہ چکے تھے، اور ہم پھرایک ہی صف کے محمود و ایاز بن گئے، بالکل اُسی طرح جیسے خیبر پختونخواہ میں پچھلے دنوں جماعت والے انقلاب والوں سے یک جان دو قالب بنے نیٹو سپلائی روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یونیورسٹی سے فارغ ہوکر ہم نے جب مل کر ایک ریسرچ یونٹ بنانے کی ناکام کوشش کی(جس کا ذکر چند دن میں) تو یہ صاحب بددل ہوکر برطانیہ چلے آئے۔ آج کل ایک ماحولیاتی ادارے سے وابستہ ہیں اور پلانٹ پیتھالوجی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں، جبکہ ہم ابھی تک اپنی ایم فِلی کو آگے بڑھانے کا صرف سوچ کرہی بیٹھ جاتےہیں۔
آپریشن تھیٹر کہنے کو تو دو الفاظ کا مجموعہ ہےلیکن اِس میں نہ تو کوئی کمانڈو آپریشن جیسا تھِرل ہے اور نہ ہی تھیٹر جیسی کوئی رنگین بلا۔  یہاں ہر چیز سفید ہوتی ہے(یا لگتی ہے) بشمول ڈاکٹرز کے لباس اور چہرے، جو بیک وقت زندگی دینے اور زندگی لینے کا ذریعہ بنے نظر آتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ حیات و ممات کے وقت پر سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کوئی قادر نہیں لیکن شائد یہ ایمان کی کمزوری ہے یا دنیا کی بےجا محبت، جو ہماری دماغی سکرین میں ایسے غیریقینی موقعوں پر  ماضی کے ان حسین لمحات کی فلم چلا کر ہمیں بےبس کردیتی ہے جنہیں ہم ہزار کوششوں کے باوجود بھلا نہیں پارہے ہوتے۔ ایسے اوقات میں لاعلمی بھی شائد ایک نعمت ہوتی ہے، کیونکہ اگر کسی شخص کو علم ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے تو وہ جاننے والے کی نسبتاً زیادہ پرسکون ہوتا ہے۔چند سال پہلے ایک دربار پر جانا ہوا اور وہاں بیٹھے بزرگ سے کسی نے سوال کیا کہ جو ان پڑھ ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے  زیادہ ڈرتے ہیں اور خشوع و خضوع سے عبادت کرتے ہیں ایسا کیوں ہے؟ جس پر انہوں نے بڑی خوبصورت بات کہی، فرمانے لگے" لاعلم جب دل سے روتا ہے تو اُس کے درد میں دنیا بھی روتی ہے اور وہ درخواست قادرِ مطلق کے دربار میں قبولیت پاتی ہے، لیکن جب کوئی علم والا روتا ہے تو اس کے آنسو زمین پر گرنے سے پہلے ہی  زمین کو کیا، کائنات تک کو ہلا دیتے ہیں"۔۔۔ خیر یہ تو بات سے بات نکل آئی ورنہ کہاں وہ علم والے لوگ اور کہاں ہم طفلِ مکتب۔۔۔ایک بار ہم نے بعد از وفات والی چیرپھاڑ جسے عام طور پر پوسٹ مارٹم کہا جاتا ہے، لائیو ملاحظہ کی تھی اور  اردگرد کا ماحول دیکھ کراُس واقعے کے بے رحم مناظر پھر دوبارہ سے زندہ ہوگئے تھے، جو ڈرانے کا کام سرانجام دے رہے تھے۔ڈاکٹر صاحبان نے مخصوص جگہ پر لٹایا اور اینستھیزیا کے دوران سوالات کا سلسلہ شروع کردیا۔۔آر یُو سٹریسڈ؟ نو ۔ آر یُو افریڈ؟ نو۔ آر یُو ریلیکسڈ؟ نو۔۔یس۔ لُکس کنفیوزڈ؟ عرض کیا ڈاکٹر صاحب ہمارے دِل کو ذرا آرام سے ہینڈل کرنا، اِن(ساتھ والیوں) کو نہ دکھانا وگرنہ بڑی سبکی ہوسکتی ہے عورت ذات کے سامنے، کیا کہیں گی کہ اس نے کیا کیا بھر رکھا ہے :ڈ۔اور بعد میں ہمیں بتانا بھی کہ کتنا کالا ہوگیا ہے تاکہ کچھ عبرت پکڑیں۔۔۔۔اوکے جنٹلمین کی آواز کے ساتھ ہی ہوش و حواس ساتھ چھوڑ چکے تھے ۔۔۔ جو محسوس ہورہا تھا کہ اب کافی گھنٹے  واپس آنے والے نہیں۔
ایک نیند ہی تو تھی شائد، یا جیسے ویک اینڈ کا رتجگا۔۔ یا جیسے چھٹی والے دن دوتین گھنٹے دیر سے شروع ہونی والی صبح۔۔۔۔۔ لیکن جب سامنے لگے وال کلاک پر نظر پڑی  تو وہ پچیس نومبر کی سہہ پہر دِکھا رہا تھا۔ اور گلاس وال کی دوسری جانب کچھ جانے پہچانے اور  چند غیر مانوس سے چہرے دکھائی دے رہے تھے۔

دل کا درد مٹانے نکلے

اس سال مارچ تک تو ہم دل کو کچھ نان سیرئس اور بائی ڈیفالٹ چلنے والاوہ آلہ سمجھے بیٹھے تھے  جو کبھی فراز نے فیض کو دیا، اور فیض نے ایلس کو، یا دوسرے شعراء حضرات کی چپقلش میں متفقہ منصف قرار پایا۔ لیکن، ہم کافی غلط تھے۔
تین اپریل کو ایک پرانے خواب کی حقِ ملکیت کی واپسی کے پنج سالہ (سال کی جمع) طویل  مقدمے کے مخالفانہ فیصلے اور اس کے ٹھیک تیسرے دن اُسی غیرملکیتی چیز کے ذمہ واجب الادا ٹیکس نادہنگی کی مد میں دھرلیا جانا دراصل اس درد کی ابتداء تھی۔ جمعے تو ویسے شروع  دن سے ہی  مخالف رہےہیں  اور اُس دن بھی زندگی  کے گھن چکروں میں پڑے لہور ہائی کورٹ سے نکل کر وکیل صاحب کے ہمراہ دوتین جگہیں بھگتا کر رات کے گیارہ بجے کینال بنک روڈ کے رستے اُنہیں جوہر ٹاؤن اُتار نے جارہے تھے ۔ قریب تھا ،ہم خود پر اور گاڑی پر سے کنٹرول کھوکر عازمِ نہر ہوتے کہ صاحبِ پسنجر سیٹ کی "حیران کُن" حاضر دماغی نے دستی بریک اور سٹیرنگ قابو کرکے اُس وقت تو کسی بڑے پنگے سے  توبچا لیا لیکن پھر ڈاکٹر صاحب کے درشن میں ڈال کر کسر پوری کرلی۔ چونکہ سابقہ ڈاکٹری لفافے بھی پاس ہی تھے ،سووہ بھی لیئے اور پہنچ گئے۔۔۔۔طبیب صاحبان نے پچھلے چھ ماہ میں جو جو ٹیسٹ کروا کر ہماری حق حلال کی جیب ہلکی کروائی تھی ،ان پلندوں کو ملاحظہ کرتے وقت وقتاّ فوقتاّ گہرائی سے نکلتی ہوئیں "ہوں ہوں" کی آوازیں واضح اعلان کررہیں تھیں کہ موصوف ابھی مزید کچھ کروانے کے موڈ میں ہیں۔بات ایسی بھی تشویش ناک نہیں تھی  جتنا وہ  بڑھا چڑھا کر بیان کرنا چاہ رہے تھے، کم ازکم ہمارا یہی خیال تھا اور سابق ڈاکٹر صاحب کا بھی، جو اکثر لال پیلی گولیاں دے کر ہی مُکت ہوجایا کرتے، لیکن مزید دو ٹیسٹ کروانے کے بعد عِلم ہوا کہ ہمارے دِل کی دماغ سےکچھ اَن بَن ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات دِل صاحب، جگر صاحب کی پیداوار کو دماغ صاحب  تک برآمد کروانے میں جان بُوجھ کر کوتاہی برتتے پائے گئے ہیں، اور اِس کی بڑی وجہ سپلائی لائن کی تنگی ہے۔ مجبوراً ایک کارڈیالوجسٹ سے ملے اور وہاں سے" وِیک وینز جوائنٹ" نامی بلا تشخیص کرواکے مذاق اُڑایا کہ یہ بھی بھلا کوئی عمر ہے ایسے بڑھاپے والے روگ کی؟ اور واپس ہولئے۔۔۔ انگریز وں کے اداروں میں کام کرنے کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، وہ اپنے ملازمین کو بہرحال اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں۔  جب اس تشخیص کی بھنک صدردفتر پہنچی توافسران نے کمال مہربانی اور شفقتِ فرنگی کا ثبوت دیتے ہوئے سارے میڈیکل پراسس کو کمپنی کی جیب سے دلوانے کا حکم جاری کردیا جسے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ والوں کو ناک بھوں چڑھانے کے باوجود منظور کرنا پڑا۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، یا فقط ایک۔۔ کے مطابق بڑے ذوق و شوق سے ڈاکٹرز کے ہاتھوں تختِ مشق کا نشانہ بنے  اور بقول اُنہیں ڈاکٹرزکے، مکمل صحتیاب قرار پائے۔  کچھ موسم کی مہربانی اور کچھ ادویات کی مہربانی، پندرہ دن کے قلیل عرصے میں دوبارہ اپنی روٹین کی شروعات کردی۔۔۔۔۔ مارے گُردہ پھوٹے آنکھ  کی تب تک سمجھ نہیں آئی تھی۔
رمضان کا مہینہ افغانستان گزارنے کے بعد واپسی ہوئی تو کنٹریکٹ اپنے اختتام کو تھا اور تقریباً سارا ستمبر ہی اس کلوزنگ اور اوپننگ کی بھاگ دوڑ میں نکل گیا۔ اس دوران ایک دو بار تکلیف کا احساس ہوا جسے اس وقت تو وقتی تھکاوٹ سمجھ کر نظرانداز کردیا لیکن اکتوبر میں صورتحال کافی نازک ہوگئی اور ڈاکٹر صاحبان  کے در پر حاضری دینے کا سلسلہ ایک بار پھر سے چل نکلا۔ جنہوں نے پہلے علاج کیا تھا وہ کسی قسم کی ذمہ داری لینے سے مکمل انکاری تھے اور نئی جگہ والے کچھ اور ہی فلم سنا رہے تھے۔ بہرحال پی آئی سی والوں نے محنتِ شاقہ سے پتا لگوایا کہ مندرجہ بالا روگ دوبارہ سے جاری ہوچکا ہے اور اس بار ساتھ میں والوو کی تخریب کاری بھی ثابت ہورہی ہے۔ مزید اگر اس اندرونی عسکریت پسندی پر فوراً قابو نہ پایا گیا تو داخلی خودمختاری خطرے میں پڑنے کے ساتھ ساتھ دل کسی کو دینے کے لائق بھی نہیں بچے گا، اور کوئی اس دہشت گردی کی ذمہ داری بھی نہیں قبول کرے گا۔قہر درویش بجان درویش ، چار پانچ مختلف جگہوں سے اس تشخیص پر فتوے لے کر تصدیق کروائی اور کچھ دوستوں کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اس بار فرنگی کی جیب سے علاج کی بجائے فرنگی کو جیب سے دےکر دیکھا جائے۔ تاجِ برطانیہ کے چند وفاداروں کی محنت اور محبت کے نتیجے میں پہلے ہمیں اٹھائیس نومبر کی اپوائنٹمنٹ ملی، جسے انہوں نے مزید محبت سے تئیس نومبرکروا لیا۔ اس ساری دوڑ میں اگر برطانوی ہائی کمیشن کا شکریہ ادا نہ کریں تو زیادتی ہوگی، کیونکہ انہوں نے بھی "محبت" کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں صرف ایک ہفتے کے کم ترین عرصے میں داخلی پروانہ جاری کیا تھا۔۔۔۔ بہرحال! ہمارا بیس کی رات کو اُڑنا اور اکیس کی تقریباً شام وہاں اترنا قرار پایا، اور اس طوالت کی وجہ اپنے متحدہ عرب اماراتی عرب بھائی، جن کے طیارے اسلام آباد کو ڈائریکٹ لندن سے ملانے کی بجائے ہب کا بہانہ بنا کر مڈل مین کا کردار ادا کرتے ہیں۔ شائد یہ ہوائی مڈل مینی بھی اس غیر مشروط سچ  کی کی ہلکی سی غماز ہے کہ پاکستان سے اُٹھنے اور اُڑنے والی صدا ہمیشہ سے عربوں کی آوازِ ہم آہنگی کی محتاج رہی ہے اور بہت عرصے تک رہے گی۔  اگر یقین نہ آئے تو ان دنوں صوبہءِ البنجاب کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس پر کنندہ "الباکستان" کو ہی دیکھ لیں۔
آج کا لندن ایک بہت بڑا اور اچھا خاصا منہ متھے لگنے والا شہر ہے، اور یہاں پر موجود ہیتھرو ائرپورٹ دنیا کا مصروف ترین (اور شائد سست ترین بھی) ہوائی اڈہ کہلوانے کا دعویدار ہے۔ ہم سے تیسری دنیا میں رہنے والے تو ویسے بھی ظاہری چکاچوند دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں اور اس سحر میں ایکڑوں کے حساب سے زمینیں بیچ بانٹ کر اُس روشنی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جو درحقیقت ہمارے لئے بنی ہی نہیں۔اگر برطانیہ کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت دنیا کے اس خطے میں رہنے والی اجڈ قوم  فضول رسوم و رواج میں صدیوں سے جکڑے جانوروں جیسی زندگی گزار رہی تھی، مسلمان لوگ علمِ سائنس کی داغ بیل رکھ چکے تھے اور ان سے ہزاروں سال آگے تھے۔لیکن پھر ہوا نے  رُخ موڑا،  اور جب عربوں کے بانجھ صحرا تیل اگلنے لگے تو دولت نے صحرا کا بانجھ پن اذہان میں منتقل کرنا شروع کردیا۔ بعد ازاں یہ ناسور اپنی جڑیں مضبوط کرتا کرتا بازوں اور شتر مرغوں کی دوڑ تک محدود ہوگیا، علاوہ ازیں لہو گرم رکھنے کیلئے میں سُنیِّ، تُو شیعہ۔۔ تُو کافر  وہ کافر والا میجیکل چئیرز  کا کھیل رچالیا اور فلک سے زمین پرماردیئے گئے۔ یہ علم تب کے اجڈ لوگوں نے سینے سے لگایا اور  محنت و محبت سے وہ مقام پالیا جو آج سے صدیوں پہلے ہم نے پالینا تھا۔ ۔۔۔لندن پہلے تو صرف ایک اور اجنبی شہر تھا  لیکن ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو دو تین دوستوں کومنتظردیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی جو اپنی بجلی جیسی تیز زندگی سے نکل کر صرف میرے لئے وہاں موجود تھے، اور لندن بھی لہور بن گیا۔ اگلی ساری رات ہمیں زمانہِ طالبِ علمی والی یادوں نے گھیرے رکھا جو اتنی طاقتور تھیں کہ سفر کی تھکن اور نیند کا احساس مکمل طور پر پسِ پشت پڑا رہا۔صبح پانچ بجے وہ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے اور ہم اُس زمانے کے سحر میں ڈوبے نیند کی آغوش میں۔ دوسرے دِن وہ سب اگر واپس آکر نہ جگاتے تو جس کام کیلئے آئے تھے وہ بھی مِس ہوجاتا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شائد صرف دوست ہی وہ جادوگر ہوتے ہیں جوزندگی کے ہر منفی کو مثبت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ ہوں دوست۔
اس وقت تئیس نومبر؛ صبح کے چار ہورہے ہیں اور عجیب سی بے چینی نے گھیر رکھا ہے۔رات سے مختلف وسوسے آتے تو جا رہے ہیں لیکن واپس نہیں نکل رہے۔ ابھی آپریشن میں تقریباً چھ گھنٹے باقی ہیں اور یار لوگوں کے بقول اس چھیڑ خانی کے دوران دل  کم ازکم ایک گھنٹے کیلئے آئیڈل ہوجاتا ہے جسے دوبارہ چالو کرتے ہیں۔ کہنے کو تو پچھلے اٹھائیس سالوں(سال کی جمع) میں کئی بار دھڑکنیں پر رُکیں اور دوبارہ چل پڑیں،  لیکن اب چونکہ معاملہ شاعری کی بجائے آہنی اوزاروں کا مرہونِ منت ہے تو دیکھتے ہیں کہ آج جیت دِل کی ہوتی ہے یا ایک بار پھر سے ہماری۔۔۔۔ دیکھتے ہیں  یہ اس بار بھی ری سٹارٹ ہوگاکہ نہیں۔
٭لیٹ پبلشنگ :)

سانحہ راولپنڈی اور اصل حقائق

سولہ اکتوبر کو تمام امت مسلمہ عید الاضحیٰ پورے جذبہِ ایمانی اور سنتِ ابراہیمی کےمنا رہی تھی لیکن پنٹاگان میں اُس دِن ایک بہت ہی اہم میٹنگ جاری تھی جس میں تمام بڑے بڑے سائنس دان، ڈپلومیٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی قد آور شخصیات شریک تھیں۔یہ میٹنگ پورے چوبیس گھنٹے کھانے ، کافی اور شربتِ انگور کے وقفوں کے بغیر جاری رہی۔ آخر اُس فیصلے نے کئی اقوام کی زندگی اور لاج سلامت رکھنی تھی۔ سترہ اکتوبر کو امریکی وقت کے مطابق ایک بج کر انچاس منٹ پر میٹنگ متفقّہ فیصلے سے برخاست کردی گئی، اور وہ فیصلہ حتمی و قابلِ عمل تھا۔
چھبیس اکتوبر کی رات انڈین ائرلائنز کے طیارے نے دہلی کے راجیو گاندھی ائیر پورٹ سے بناء کسی شیڈول کے اُڑان بھری، دریں اثناء ائربس تین سو اکیس ماڈل کی ایک ایسی ہی پرواز تِل ابیب سے بھی روانہ ہوئی۔ دونوں طیاروں کی منزل سوئٹزرلینڈ کا شہر جنیوا تھی جہاں چند دِن پہلے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کی ٹیموں کے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ دہلی اور تِل ابیب سے روانہ ہونے والی پروازیں جنیوا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بخیریت اُتریں  جہاں سے امریکی اور ایرانی عہدیداروں نے بھارتی اور اسرائیلی حکام کو ویلکم کیا اور ایک قافلے کی صورت میں  ہوٹل لیس آرمورس جا پہنچے۔ یہ چونکہ ایک غیر معروف اور نسبتاً محفوظ جگہ تھی  اس لئے پلاننگ اور دیگر لائحہِ عمل طے کئے گئے۔ ہوٹل لیس آرمورس میں چاروں ممالک کے مندوبین اٹھائیس اکتوبر کی شام دوبارہ جنیوا ہوائی اڈے پہنچے جہاں روس سے آئے ماہرین بھی اِن کے ساتھ شامل ہوگئے۔ جنیوا سے سوئس ائیرلائنز کا ایک چارٹرڈ بوئنگ طیارہ شام تقریباً سوا چھ بجے نیویارک کیلئے روانہ ہوگیا۔ پانچوں ممالک کے آپسی تعلقات جیسے بھی تھے، لیکن اُن کا مقصد ایک تھا اور وہ اپنے کام سے کمٹڈ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے خیرخواہ بھی تھے۔ نو گھنٹے بعد  یہ ٹرانس اٹلانٹک فلائیٹ نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے کی بجائے لاگورڈیا نامی قدرے غیرمعروف اور کم مصروف ائرپورٹ پر اُتری ۔ نیویارک میں ایک خفیہ مقام پر ان سب لوگوں کے پروگرامز اور ڈیوٹیز کو حتمی شکل دینے کے علاوہ کچھ ضروری ٹریننگز بھی دی گئیں اور یہ سلسلہ چھ نومبر تک جاری رہا۔ پنٹاگان اس ساری صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا اور ماہرین وقتاً فوقتاً اپنی رائے بھی دے رہے تھے۔ سات نومبر کو ایک نسبتاً چھوٹا جہاز سب کو لے کر دوبارہ محوِ پرواز ہوگیا ، ایک ایسا طیارہ جسے لینڈ ہونے کے مقام کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔ آٹھ اور نو تاریخ کی درمیانی شب جہاز کے کو پائلٹ کو کچھ ہدایات موصول ہوئیں  جس نے پائلٹ سے ڈسکس کرنے کے  بعد جہاز کو پاکستان کے کشمور ہوائی اڈے پر اتار لیا، جہاں خفیہ گاڑیوں کی زیرِ نگرانی  سب کو ایک جگہ اکٹھا کرکے ناشتہ کروایا گیا اور میک اپ کرواکے مختلف بیچز کی صورت میں اسلام آباد کی طرف روانہ کردیا گیا۔یہ سب انتہائی طاقتور سیٹلائیٹ کیمروں اور اِن ماہرین کی حفاظت کیلئے بھرتی کئے گئے انتہائی قابلِ بھروسہ افراد کی چھان بین سے ہوتا رہا۔ کشمور سے اسلام آباد کا ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ ان ماہرین نے پندرہ گھنٹوں میں طے کیا  اور بشیر گُل کے ڈیرے پر آکر دوبارہ اکٹھے ہوگئے۔ بشیر گُل عرصے سے اسلام آباد کی پوش مارکیٹ میں قالین بیچنے کا کام کرتا تھا اور بین الاقوامی لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔  آپریشن نائیٹ ہنٹ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا جاچکا تھا اور پنٹاگان میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر گلے لگنے کا کام کررہے تھے۔
آپریشن نائیٹ ہنٹ کے تیسرے مرحلے میں راجہ بازار سے ملحقہ اور نزدیک ترین امام بارگاہ کے واعظ کو اپنی عبادات اور مذہبی رسومات سید پور گاؤں میں ادا کرنے کیلئے آمادہ کیا گیا ، دریں اثناء راجہ بازار کی جامع مسجد کے امام اور نمازیوں کی فہرست مرتب کرکے اُن سے فرداً فرداً خفیہ ملاقاتیں کی گئیں اور اُنہیں دس محرم کے روز جمعہ پڑھنے کیلئے مری لے جایا گیا۔یہ سب کام آٹھ محرم بروز بدھ تک مکمل کرلیا گیا تھا اور چوتھا مرحلہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوچکا تھا۔ ۔ نو محرم بروز جمعرات جب تمام لوگ قبرستانوں میں اپنے عزیزواقرباء کی آخری آرامگاہوں پر دعا اور مٹی وغیر ڈالنے میں مصروف تھے، نصیب خان کے باڑہ مارکیٹ پشاور سے خریدے گئے ازبک باشندوں کو کالے لباس پہنا کر امام بارگاہ منتقل کیا جاچکا تھا اور مسجد میں یہ ریپلیسمنٹ تُرک باشندوں سے کی گئی۔ دس محرم کا سورج طلوع ہوا اور بشیر گُل کے ڈیرے پر بیٹھے غیرملکی ماہرین کا فنگر کراسڈ انتظار شروع ہوگیا۔ گھڑیوں نے سوا ایک بجانے کا اعلان کیا اور ساتھ میں ہی راجہ بازار کی مختلف جگہوں پر لگے ہوئےپانی کے پائپوں میں نصب خفیہ کیمروں نے کام کرنا شروع کردیا، ان کیمروں کی سٹریمنگ بشیر گُل کے ڈیرے کے ساتھ ساتھ پنٹاگان اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی ہورہی تھی۔اُزبک باشندے جونہی راجہ بازار میں داخل ہوئے تو اُن میں سے ایک کو بھلیکھا لگ گیا اور وہ مسجد سے آگے نکل گیا، جس پر کمانڈنٹ اُزبک کانوائے نے اُسے سرزنش کی اور واپس شامل کیا۔ مسجد کے سامنے پہنچ کر فریقین نے خفیہ جگہوں پر تعینات اشاراتی زبان میں اوکے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔ اور قیامت  برپا ہوگئی۔ اسی دوران غیر ملکی ماہرین بشیر گُل اور نصیب خان کی معیت میں آپریشن نائیٹ ہنٹ مکمل کرکے اسلام آباد سے نکل گئے۔  رات بارہ بج کر اٹھاون منٹ پر کشمور ہوائی اڈے سے مقامی لوگوں نے ٹیک آف لائیٹس کے بغیر طیارے کی جو آواز سنی تھی  وہ دو بج کر دس منٹ پر پاکستان کی سمندری اور فضائی حدود سے باہر نکل چکا تھا۔ پنٹاگان میں بغیر ڈنر اور ناشتے کے بیٹھے حضرات بھوکے ہونے کے باوجود گلے گلے خوش تھے، اور گیارہ محرم کے نتائج کا انتظار کررہے تھے۔
پاکستان کے ایک منجھے ہوئے سیاستدان، راولپنڈی کے بچے بچے کو چہرہ دیکھ کر پہچان جانے والے اور ہردل عزیز شخصیت شیخ رشید احمد صاحب  کے مطابق حملہ آوروں کے چہرے اُن کیلئے شناسا نہیں تھے، اِس بات کی دلیل ہے  کہ حملہ آور اُزبک تھے۔ اس بات کی گواہی ممتاز ریسرچ سکالر، ڈیفنس اینلسٹ، بین الاقوامی امور کے ماہر اور یہود و ہنود و نصاریٰ کی ریشہ دوانیاں جاننے والے جناب سید زید زمان حامد صاحب، نامور محقق، سوشل اسپیشلسٹ اور فزکس میں ایم اے کی ڈگری متعارف کروا کر علمِ طبیعات کو نئی جہت عطاکرنے والے جناب اوریا مقبول جان صاحب، ممتاز مذہبی عالم، آئین ِ پاکستان میں ڈاکٹریٹ کرنے والے اور عوامی ووٹس کے بغیر سلطنتِ اسلامی پر عبور رکھنے والے جناب قبلہ انصار عباسی صاحب   بھی بوقتِ ضرورت دے سکتے ہیں، اور دیتے آئے ہیں۔آپریشن نائیٹ ہنٹ کی کامیابی کے پیچھے افواجِ پاکستان کی کوتاہی بھی شامل ہے، کیونکہ  قبلہ و کعبہ جناب سید منور حسن دامتِ برکاتہم کے مطابق دہشتگردوں کو مارنے سے آئین کی پامالی ہوتی ہے اور حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ ٹیمپر ہوجاتا ہے، اس لئے ازبک، تُرک اور افغانی دہشت گرد کم مجاہدین کو مارنا گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہے۔۔۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آپریشن نائیٹ ہنٹ کو اقوامِ یہود و ہنود و نصاریٰ نے اتنا سیرئس کیوں لیا؟  تو عرض ہے کہ پاکستانی سائنس دان جناب عبدالقدیر خان صاحب نے ایک ایسی مشین تیار کی تھی جس نے گیارہ محرم کو مریخ  کے مقابلے مشتری کیلئے روانہ ہونا تھا، اور اُس سٹیٹ آف دی آرٹ مشین کے فیوز راجہ بازار  والی مسجد کی دائیں جانب واقع دوکان میں تھے، جسے جلانا اوّلین مقصد تھا۔ اگر ویسے یہ کام کیا جاتا تو اچھا نہ ہوتا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، عین موقع پر فیوز نہ ملنے سے مشین زمین سے ایک فٹ تین انچ اوپر اُٹھی اور دھڑام سے نیچے گرگئی۔ سورس کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان شدید صدمے میں ہے اور پنٹاگان نے آپریشن نائیٹ ہنٹ کی کامیابی کے موقع پر اپنے تمام ملازمین کو دو دو چھٹیاں دے دی ہیں۔یہ رپورٹ ہمارے اپنے خفیہ سورس نے صاحبِ انوسٹی گیشن کو چائے پیش کرتے وقت چرائی ہے اور بس یہی حقیقت ہے، باقی سب فسانے ہیں۔
جب تک ہم بحیثیت پاکستانی اور مسلمان اپنی غلطی کوتاہیوں کا ذمہ دار خود نہ بنیں گے، ہمارا ایسے حادثات اور دھماکوں میں مرنا کبھی نہ ٹل سکے گا۔ اگر شیعہ مسلک کے ماننے والے یہ کہیں کہ ملوث افراد کہیں باہر سے آئے تھے تو غلط بات ہوگی۔ اور اگر سنی حضرات اس واقعے کو بنیاد بنا کر تمام شیعہ افراد کو ذمہ دار ٹھہرائیں تو بھی زیادتی ہے۔ کچھ شدت پسند عناصر کی سرکوبی کیلئے ہمیں بحیثیت قوم اکٹھے ہونا پڑے گا۔ اگر الزامات در الزامات کا سلسلہ جاری رہا تومسائل حل ہونے کی بجائے مزید بگڑتے چلے جائیں گے۔ ہماری غلطیوں، کوتاہیوں، اور دین کے معاملات کو علماء کی بجائے جہلاء پر چھوڑنے سے مملکتِ پاکستان میں جو انارکی پھیل چکی ہے، اُس پر پٹرول ڈالنے والے لوگوں کو جس دن ہم سمجھ جائیں گے اُس دن دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہ روک سکے گی۔ یہود و نصاریٰ کو اور بھی بہت کام ہیں، اُنہوں نے صرف پاکستان سے ہی کوئی کستوری نہیں حاصل کرنی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دھارے میں بہنے کی بجائے اپنی سوچ اور آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کرنے کے قابل بنائے۔ آمین۔
باٹم نوٹ:لکھے ہوئے واقعات کا حقائق سے کسی قسم کا ہرگز ہرگز کوئی تعلق نہیں جبکہ آپریشن نائیٹ ہنٹ ایک فرضی نام ہے۔

مکئی اور قادرِ مطلق

دنیا کے کئی ممالک کی معیشت اور خوراک کی ضرورتیں پوری کرنے میں مکئی کا ایک اچھا خاصا حصہ ہے۔ براعظم یورپ اور امریکہ میں زندگی کی تقریباً تمام بنیادی ضرورت کی اشیاء میں اسے استعمال کیا جاتا ہے، اور کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔پال مینگلزڈولف نامی محقق اور ماہرِ فصلات کے مطابق مکئی دو جنگلی گھاس کے خاندانوں کے قدرتی ملاپ کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آئی۔انسانی تاریخ میں مکئی کی کاشت کے شواہد گیارہ سو سال قبل مسیح  تک پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس فصل کو خزاں اور بہار، دونوں موسموں میں کاشت کیا جاتا ہے۔
آج تک زرعی شعبے میں جتنی تحقیق مکئی پر کی گئی  اتنی کسی اور فصل پر نہ ہوسکی۔ اس وقت جو مکئی ہم دیکھتے ہیں وہ سوائے پیرنٹل میز جینز کے علاوہ تقریباً ساری کی ساری جنیٹکلی موڈیفائیڈ ہے، اور اگر اُن جینز کے ہٹا دینے سے یہ تبدیل نہ ہوتی تو کچھ بعید نہیں تھا اُنہیں بھی پیداواری بڑھوتری کے عمل میں رکاوٹ سمجھ کر اُڑا دیا جاتا۔ مغربی ممالک کے برعکس پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں دو یا تین  ادارے ہی مکئی اور چاول کی جینیاتی تبدیلی اور بریڈنگ کرنے کا رِسک لیتے ہیں کیونکہ اِن دونوں کے ناکام ہونے کا خدشہ روزِ اوّل سے ہی ننانوے فیصد ہوتا ہے۔مکئی کی کاشت سے برداشت تک کے سب مراحل ہمارے لئے تو طے شدہ ہی ہیں لیکن جنیٹک موڈیفائر کیلئے یہ کائنات کے کئی اسرار و رموز لئے ہوتی ہے۔آپ نے مکئی کا بھٹہ دیکھا ہوگا، چاہے کسی ٹھیلے والے کے پاس ہی اور سوچا بھی ہوگا کہ اُس پر لگے بالوں کا کیا مقصد، جو انہیں اتارنا ہی ہے؟
مکئی کا پودا اپنی ذات میں مکمل خاندان ہوتا ہے اور یہ بال اُس خاندان کو بڑھانے کا ایک ذریعہ، اگر آپ مکمل پودے کو غور سے دیکھیں تو اس کے اختتام پر بالیاں سی بنی نظر آئیں گی۔ جوں جوں پودے کی ویجیٹیٹیو بڑھوتری کم ہوتی جاتی ہے، اُن بالیوں پر بُور سا لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ اسی دوران تنے سے پتے کے نقطہِ آغاز سے لاتعداد اور حساس پردوں میں ملبوس ابھار بڑھنے لگتا ہے اور ایک خاص مدت کے بعد اُس ابھار کے سرے سے ریشم کی طرح ملائم اور آزاد بال نمودار ہونے لگتے ہیں۔ موسم اور درجہ حرارت کے پیشِ نظر پودے کے اندر لگے قدرتی سینسرز بالیوں اور اِن بالوں کی نقل و حرکت کنٹرول کرتے ہیں ، بارش یا آندھی کا موسم آنے سے پہلے ہی پودا اِن دونوں پروڈیکٹیو حصوں کو خوراک کی ترسیل روک دیتا ہے اور ہوا کے سازگار ہوتے ہی سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ جب تنا جڑوں اور پتوں کو مزید بوجھ سہارنے سے لاچار ہونے کا سگنل دیتا ہے تو بالیوں کے سروں پر لگے بُور پھٹنا شروع ہوجاتے ہیں، اور چند بُور سے ہزاروں کی تعداد میں زردانے نکل کر ہوا میں پھیل جاتے ہیں اور پودےکیلئے ریڈار کا کام دینا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ چونکہ ہوا کے دباؤ اور کششِ ثقل سے تقریباً آزاد ہوتے ہیں اس لئے اکثر کئی کئی گھنٹوں کے بعد زمین پر پہنچتے ہیں۔ پودا جب مثبت پیغام موصول کرتا ہے تو بالیوں کے درمیانی حصے پر واقع بُور کو جھاڑتا ہے جو تنے کے ابھار سے نکلنے والے بالوں کے آخر ی حصے پر گرتا ہے اور بال کے اندر موجود ٹیوب اُس زردانے کو اپنے شروعاتی حصے تک لے جاتی ہے ۔ جب اُس بال کو اپنی ڈیوٹی مکمل ہونے کا یقین ہوجاتا ہے تو وہ اپنا تُکے سے رابطہ ختم کرکے مُرجھانا شروع ہوجاتا ہے۔ یہی سلسلہ ایک بھٹے میں بننے والے تمام دانوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جیسے جیسے بال قطع ہونا شروع ہوتے ہیں، زردانے تکے کے ساتھ مل کر دانوں میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور چھلی بننے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ کئی جینیٹک انجینئرز نے بال کی نالی کا مائیکروسکوپک آپریشن کرکے وہاں اپنی مرضی کے زردانے اور ورائیٹی ویرئیشن کرنے کی کوشش کی لیکن اُن زردانوں اور بھٹے کے تُکے اتنی دیر میں مردہ ہوگئے۔ یہ کام آج تک دنیا کی کسی بھی جدید سے جدید لیبارٹری میں کرنا ممکن نہیں رہا، اور مستقبل قریب میں ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔
جب ہم مکئی کی کسی ورائیٹی کا دوسری قسم سے کراس کرنے لگتے ہیں تو دونوں اقسام کے دو دو پودے منتخب کرتے ہیں جنہیں آئیڈیل موسم اور آب وہوا مہیا کی جاتی ہے۔ جب پودے اپنی  گروتھ کم کرنا شروع ہوتے ہیں تو ایک ورائیٹی کی بالیاں کاٹ دی جاتی ہیں اور دوسری کے تنے پر نمودار ہونے والے ابھار، اس کے بعد دوسری قسم کے پودے کو پہلے والے کے ساتھ جوڑ کے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد باریک بینی سے زردانوں کی موجودگی ماپنے والے میٹر کا اور ہمارا اکتاہٹ آمیز انتظار  شروع ہوجاتا ہے، اور یہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک ہمیں حسبِ منشاء نتائج نظر نہ آجائیں۔ اس کے بعد پروڈکٹیو حصے کو پودے سے اتار کر لیبارٹری میں جینیاتی ڈی کوڈنگ کیلئے بھیج دیا جاتا ہے اور وہاں سے پلانٹ انکوبیٹر پر، جہاں مختصر وقت میں اس بیج کی کارکردگی دیکھی جاتی ہے اور ایک سال بعد وہ بیج تجربات کیلئے مختلف علاقوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ۔۔۔ مکئی کے پودے کے نظام کو ہم کافی حد تک سمجھ جانے کے باوجود بھی نہیں سمجھ پارہے اور ہربار ہماری سائنس قدرتی عوامل کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
چلتے چلتے ایک کہاوت: کچھ سائنس دان خدا کے حضور پیش ہوئے اور کہنے لگے "اے خداوند کریم، ہم نے مٹی اور اپنے علم کی بدولت انسان بنا دیا ہے اور اب بس اس میں روح ڈالنی باقی ہے، جو ہم کوشش کررہے ہیں " خدا کی ذات نے فرمایا: "کیا تُم یہ کام میرے سامنے کرسکتے ہو؟"۔ کہنے لگے "کیوں نہیں، ہمیں اس کیلئے مٹی منگوادیں، ہم ابھی بنا کے دکھاتے ہیں"۔ وہ ذات فرمانے لگی: "پہلے مٹی بنا کے دکھا دو، انسان بنانا تو بڑی دور کی بات ہے"۔
بے شک وہ ذات ہرجگہ موجود ہے۔

ہمارا آزاد میڈیا

اگست میں مجھے اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں ایک سیلاب سے متاثرہ علاقے کی طرف جانے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ بارشیں بھی شہروں کو دیکھ کر ہورہی تھیں، آج یہاں تو کل وہاں، اس لئے جب ہم نکلے تو اُس علاقے کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ وہاں پانی وغیرہ کی کیا صورتحال ہوگی۔ ابھی منزلِ مقصود سے بیس کلومیٹر پیچھے ہی تھے کہ محکمہ سڑکیات والوں کا بورڈ آن وارد ہوا جس پرلکھا تھا کہ سیلابی پانی کے سڑک پرسے گزرنے کی وجہ سے گاڑیوں کو یہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے گاڑی کو ایک طرف کھڑا کیا اور اتر کر حالاتِ سامنا کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ سڑک اُس علاقے کی مرکزی اور دو اضلاع کو آپس میں ملانے کا واحد ذریعہ  تھی، اور گاڑیوں کے کثیر تعداد میں کھڑا ہونے پر کافی رونق کا سماں تھا۔سڑک جہاں پانی میں مدغم ہوئی تھی وہاں سے چند میٹر آگے دوتین ٹرک کچے راستے پر اترے وہیں اوندھے پڑے تھے،  ایک طرف  اونچی جگہ پر اڈا سا بن گیا تھا جہاں لوگ پانی کا عارضی دریا پیدل عبور کرکے اس طرف آتے اور یہاں موجود ویگنوں میں بیٹھ کر روانہ ہوجاتے۔ آسان الفاظ میں آپ یوں سمجھ لیجیئے کہ پانی دونوں اطراف کیلئے واہگہ بارڈر کا کردار ادا کررہا تھا۔
سڑک کے عین اوپر چھ سات ٹیلی ویژن چینلز کی موبائل رپورٹنگ گاڑیاں کھڑی تھی،جن سے نکل کر اچھے خاصے صاحبِ عقل مرد و خواتین پانی میں کھڑے بلاتکان بول رہے تھے ، اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ان کی یہ باتیں لائیو ٹرانس مشن میں آن ائیر کی جارہی ہیں۔ہمارا یہاں سے تقریباً ہر مہینے ایک آدھ بار گزرنا ہوتا تھا ا س لئے سڑک اور اس کے گرد و نواح میں موجودنشیب و فراز ذہن میں نقش ہوچکے تھے۔ پہلے تو ہم نے یہی کوشش کی کہ کسی طرح وہاں موجود لوگوں کو منا کر گلیوں سے ہوتے ہوئے رستے کا پتا کریں لیکن کوئی ایک صاحب بھی ہمارا ہم خیال نہ بن سکا۔ویسے ایک ڈیڑھ فٹ پانی سے ہم کئی بار پہلے بھی باحفاظت و صحیح سلامت گزر چکے تھے، اور خود پر اتنا اعتماد تھا کہ اگر اجازت مل جاتی تو اس کو بھی پار کرلیتے۔ اب جب کوئی چارہ نہ رہا تو سوچا کہ واپس تو جانا ہی ہے، کیوں نہ کچھ دیر اس منظر کو محسوس کیا جائے۔اپنی دائیں جانب غور کیا تو وہاں  سماء نیوز کا ایک رپورٹر رانوں تک چڑھے پانی میں کھڑا ہوکر رپورٹنگ کررہا تھا جبکہ دوسری جانب جیو نیوز کی خاتون بھی بالکل ایسی ہی حرکات کی مرتکب ہورہی تھی، اور اہلیانِ علاقہ اس مفت کی تفریح کو ٹھیک ٹھاک انداز میں انجوائے کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ آخر اس چھوٹے شہر میں ٹی وی پر آنا ایک بہت بڑی  بات بھی تو تھی۔ہم نے بھی یہاں کے چند غیر اعتراضی مناظر محفوظ کیئے، جن میں سے ایک یہاں بیان کرتے ہیں۔

اگر آپ ان دونوں تصاویر کو غور سے دیکھیں تو یقیناً صحافت کو سمجھ جائیں گے۔ سڑک کے ساتھ عموماً تھوڑی سی نیچی زمین ہوتی ہے اور سیلاب کا پانی اگر زیادہ ہو تو وہاں سے گہرائی کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ رپورٹر صاحب نے اپنے "بیک گراؤنڈ میں چند نوجوانوں کو اس زاویے سے اکڑوں بٹھایا ہوا تھا کہ دیکھنے پر ایسا محسوس ہو جیسے وہ پانی اُن کے سینوں تک موجود ہے۔ خود برلبِ سڑک ایک نیچی جگہ پر کھڑا تھا جہاں پانی اُس کی ٹانگوں کو ڈھکے ہوئے تھا اور اپنی آواز کو دردناک بنائے علاقے والوں کا ماما بننے کی مکمل کوشش کررہا تھا۔ فرما رہا تھا کہ اس علاقے سے ایک طاقتور وزیر  گزرا ہے، اس علاقے کو یہ ہے، وہ ہے۔۔۔ لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت یہاں سے تین فٹ پانی پورے زور و شور سے گزر رہا ہے اور میرے بالکل پیچھے جو بندے آپ دیکھ رہے ہیں ان کی ٹھوڑیوں تک آ پہنچا ہے۔۔۔۔کیمرے کے عین پیچھے اور اردگرد بھی "ڈائریکٹر" صاحبان  اپنی من مرضی کا سین لگائے پاکستانی کے دیگر علاقوں میں رہنے والی بھولی عوام کو نوانچ کا سیلابی پانی  چار پانچ فٹ کا بتا رہےتھے۔ یہی مناظر ہمیں جیو، اے آر وائے، ایکسپریس اور دنیا نیوز کے "سٹالز" پر بھی دیکھنے کو ملے۔اتفاق کی بات ہے کہ جیو اور دنیا نیوز میں یہ نیک کام خواتین کررہی تھیں۔ شائد " اندر کی خبرجان کے جیو" اور "دُنیا تیز ہے" والا کوئی چکر ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
آج سوشل میڈیا میں ایک بات کو صبح سے ہائی لائیٹ کیا جارہا ہے کہ پشاور کے کرکٹ سٹیڈیم میں ایک دوستانہ امن میچ کھیلا گیا، جس میں مملکتِ خداداد کے نامور کھلاڑیوں، سیاستدانوں اور چئیرمین تحریکِ انصاف جناب عمران خان صاحب نے بھی شرکت کی۔ جو تصاویر لوگوں نے شئیر کیں، اُن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عوام کی ایک اچھی خاصی  تعداد یہ میچ دیکھنے اپنے گھروں سے نکلی اور عرصے بعد یہاں اس کھیل کو انجوائے کیا۔ پشاور ہمارے جسم کا وہ حصہ ہے جس میں کئی سالوں سے کبھی درد ہوتا رہا، کبھی کوئی زخم اور کبھی ان دیکھی چوٹ۔۔ ان تمام معاملات میں ہم نے اپنے روائتی اور آزاد میڈیا کو گرد و خون کی رپورٹنگ اور وہ دلخراش مناظر براہِ راست دکھاتے ہوئے پایا۔حال ہی میں چرچ پر ہونے والے دھماکے کی فوٹیج دیکھ کر تو بڑے بڑوں کا دل بھی دہل گیا ہوگا، لیکن اگر کسی کا نہ دہلا تو وہ یہی آپ کا میڈیا تھا۔ آج صبح سے پاکستان کے آزاد میڈیا پرایشوریہ رائے کی بچی کی مسکراہٹ، ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام نہ ملنے پر پر مغز بحث، بھارت کے مسلمانوں کی حالت، یوگنڈہ کی خواتین کی آپس میں شادی اور گورڈن براؤن کے ناشتے میں شامل لوازمات، اِن سب کی مفصل رپورٹنگ تو دکھائی جاتی رہی، لیکن کہیں ایک جگہ بھی دانشور اس بات کا ذکر کرتے نظر نہیں آئے۔ بطور پاکستانی، ہمارے حصے میں تو ویسے بھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی آتی ہیں، جیسے کہیں سے صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ جیتنے کی خوشی، یا وسیم اکرم کی آسٹریلوی دوشیزہ سے شادی، اب لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ جیسے یہ سارا میڈیا کسی پاکستانی دشمن ملک نے خرید لیا ہو، اور جو ہماری عوام کو رلاتا تو روزانہ کی بنیاد پر ہے، لیکن مہینے یا سال میں ایک بار بھی  پاکستانیوں کو ہنسنایا خوش ہونا اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔یہ لوگ دہشت گردوں کی کوششوں کو تو صبح سے رات تک بیان کرسکتے ہیں لیکن امن کیلئے کی جانے والی کوششیں ان کیلئے زہرِ قاتل کا درجہ رکھتی ہیں۔
ہاں البتہ اس دوران اگر حامد میر یا مبشر لقمان کو داڑھی منڈواتے وقت بلیڈ کا کَٹ لگ جائے تو وہ بریکنگ نیوز ضرور بن سکتی ہے۔ آخر خفیہ ایجنسیاں اُن  بلیڈوں کو بھی تو یہ کام کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ پیسے ضرور دیتی ہونگی۔

اندازِ مسلمانی

رمضان کی چوبیس تاریخ کو ہمارا افغانستان میں کام یوں تو تقریباً مکمل ہوچکا تھالیکن کاغذی مسائل اورباقاعدہ افتتاح کیلئے دوڑ دھوپ کی جارہی تھی۔ ہمیں ایک دن پہلے اطلاع ملی کہ اس تقریب میں  ولسن انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر آپریشنز بنفسِ نفیس ہرات تشریف لا رہے ہیں جس کیلئے ہمیں فرینک ہرٹز کے ساتھ وزارت تجارت کے چند افسران سے ملنے قندھار جانا پڑا۔صبح دس بجے ہم قندھار پہنچے اور چھ بجے کام ختم کرکے واپسی کی تیاری پکڑ لی۔ ارادہ تھا کہ افطاری کہیں راستے میں کریں گے اور سحری ہرات میں، یوں ہمارا اگلا دن ضائع نہیں ہوگا۔ابھی ہم شہر سے ستّر کلومیٹر دور ہی آئے تھے کہ گاڑی کا ریڈی ایٹر جواب دے گیا اور ہم اُس ویرانے میں بے یارومددگار ہوگئے۔ اب سحری کیلئے سوائے پانی کے کوئی چیز میسر نہیں تھی اس لئے اُسی سے کام چلانا پڑا۔دوسرے دن میلوں پیدل چلنے کے بعد چھوٹے سے قصبے میں پہنچے اور وہاں سے ہرات رابطہ کیا، جنہوں نے کمال مہربانی کرتے ہوئے ہمارے لئے ایک اور گاڑی کا بندوبست کروا دیا، اور ہم افطاری سے دس پندرہ منٹ  پہلے نیم بے ہوشی کی حالت میں واپس پہنچ گئے۔تین چار گھنٹے بعد جب ہوش ٹھکانے آنے پر فرینک نے ہمیں چائے دی اور ہچکچاتے ہوئے پوچھا "مسٹر وحید، اگر آپ برا نہ سمجھیں تو کیا میں ایک مذہبی سوال پوچھ سکتا ہوں؟"  میں نے کہا پوچھیں جناب، کہنے  لگا کہ آپ لوگ روزہ بطورایک عبادت اس امید پر رکھتے ہیں کہ اس کا ثواب ملتا ہے ، اگر ہم مسلمان لوگوں کو دیکھیں تو یہ لوگ دوسرے تمام مذاہب کی نسبت اپنے دین کے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ دنیا بھر میں مسلمان باقی لوگوں سے کہیں زیادہ کسمپرسی میں  زندگی گزار رہے ہیں؟  میں نے جواب دیا کہ ہم لوگ دنیاوی زندگی کو عارضی اور موت کے بعد والی زندگی سنوانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں اس لئے – اور چند دیگر ایسی توجیہات۔۔۔کہنے لگا میں آپ کی بات سمجھتا ہوں لیکن دنیا بھی تو ایک حقیقت ہے، کیا آپ کا اللہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے پسندیدہ بندے اچھی زندگی گزاریں؟ ایک دنیاوی مثال بھی اُس نے دی کہ جو لوگ ہمارے نزدیک ہوتے ہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ باقی لوگوں سے ممتاز ہوجائیں۔۔ اس پر ہم نے بھی کچھ مثالیں دیں ، اب یہ تو مجھے نہیں پتا کہ وہ قائل ہوا یا نہیں، لیکن میرے دل میں اس خیال نے جنم لے لیا کہ مسلمان امت کو پسماندہ رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے، اور یہ سوال دل میں بہت شدت سے بیٹھ گیا۔ خیر، وہاں سے ہمارا کام عید سے پہلے ہی مکمل ہوگیا اور انتیس رمضان کو ہم  بخیر و عافیت اسلام آباد پہنچ گئے۔
چند ہفتے پہلے کی بات ہے کہ کسی کام سے اچانک بالا کوٹ جانا ہوا۔ جمعے کا روز تھا اور جمعہ شروع سے ہی ہمارے لئے بہت بھاری   رہا ہے، ہماری سابقہ زندگی کی ننانوے فیصد پریشانیاں اسی دن معرضِ وجود میں آئی ہیں۔بالاکوٹ سے نکلتے نکلتے ایک بج گیا اور ہم جمعہ کہیں راستے میں پڑھنے کے ارادے سے واپس  نکل آئے۔ بالاکوٹ سے کوئی پندرہ کلومیٹر آگے ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کا نام ذہن سے نکل گیا ہے ، وہاں برلبِ سڑک مسجد دیکھ کر گاڑی روکی اوروضو کرکے مسجد میں داخل ہوگئے ۔ابھی خطبے اور جماعت میں کچھ دیر باقی تھی اور امام صاحب  تقریر پر رہے تھے۔ تقریر کا سیاق و سباق تو لیٹ ہونے کی وجہ سے معلوم نہ ہوسکا لیکن بِل گیٹس کے ذکر نے ہمارے کان کھڑے کردیئے، ہم نے سوچا اس دور درازجگہ، اور جمعے کی  تقریر میں بِل گیٹس کا کیا کام؟ خیر، جو باتیں ذہن میں رہیں وہ  اُنہیں مولوی صاحب کے الفاظ میں۔۔۔"آپ سبھی جانتے ہیں کہ دنیا کے امراء انگریز ہیں یا امریکی لیکن اُن میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی لوگ اب بھی مسلسل آگے جاتے جارہے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ اُن کو پسند کرتا ہے؟ نہیں! نبی کریمﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو مسلمان خدا کی راہ میں ایک روپیہ خرچ کرتا ہے، وہ ذات اس مسلمان  کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتی، بلکہ ایک روپے کا دس گنا اسی دنیا میں لوٹا دیتی ہے اور ستر گنا اُس وقت کیلئے اپنے پاس لکھ لیتی ہے جب بندے کو ابدی زندگی میں ان کی ضرورت ہوگی۔ آپ نے اکثر پڑھا ہوگا کہ بِل گیٹس اپنی آمدن کا ایک اچھا خاصا حصہ راہِ خدا میں وقف کردیتا ہے ۔ راہِ خدا تو ہم سمجھتے ہیں، وہ تو انسانیت کے احترام میں ایسا کرتا ہے ۔ اب ایک غیر مسلم، مسلمان ممالک میں پولیو ختم کرنے کی مہمات چلائے، کہیں پانی مہیا کرے، کہیں افریقی ممالک میں  مستحق لوگوں کے کیمپ لگا کر  کھانا کھلائے اور وہ ذات اُس بندے کو بھول جائے! ایسا نہیں ہوتا! اللہ تعالیٰ کی ذات بِل گیٹس کو ایک روپے کے بدلے اسّی روپے اسی دنیا میں لوٹا دیتی ہے۔۔۔۔اب رہا سوال ہماری غربت، پسماندگی، بیماری، پریشانی، ظالم حکمران۔ میرے بھائیو! دنیاوی مال فتنہ ہے اور یہ فتنہ دس روپے کیلئے بیٹے کے ہاتھوں باپ اور باپ کے ہاتھوں بیٹے کو مروا دیتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دولت سے نواز دے تو یہی مسلمان بے حیائی اور غیر اخلاقی چیزوں میں مغرب سے کہیں آگے نکل سکتے ہیں۔کیا آپ چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات آپ کو دولت سے، صحت سےا ور امارت سے آپ کی آزمائش کرے اور آپ ڈگمگا جائیں، یا آپ کی اس کسمپرسی  حالت میں بھی اسلام پر ڈٹا رہنے پر آپ سے خوش ہو؟ مسلمان کیلئے دنیا کی زندگی، مال و دولت، امارت، حسن اور سکون ایک آزمائش ہیں، جن کی راہ پر چلتے ہوئے کئی صاحبانِ عِلم و دیں بھی ڈگمگا  گئے۔"
اب یہ تو میں نہیں جانتا کہ مولوی صاحب صحیح کہہ رہے تھے یا نہیں، لیکن اُن کی باتیں سیدھے دِل تک پہنچی تھیں اور مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا۔

گجّر – ایک قبیلہ، ایک تاریخ

تاریخ دان اور ماضی الِّسان حضرات  گجروں کی ابتداء و ارتقاء کے بارے میں ابھی تک "شائد" اور کسی حد تک "کہا جاتا ہے" سے آگے نہیں بڑھ پائے۔"شائد" وہ اِس بات سے خائف رہے ہونگے کہ اگر کچھ ایسا ویسا لکھ دیا تو شان سٹائل کا ماکھا گجر اپنے قبل ازمسیح سے تعلق رکھنے والے تاریخی گنڈاسے ، بمعہ صائمہ جیسی معشوق کے، آکر ریسرچر کو کاٹ وڈ دیں گے۔ یا "شائد" کسی اور نامعلوم وجہ کی بنیاد پر تحقیق اس قدیم قبیلے و ذات کی طرف نہ موڑی جاسکی ہو۔۔ کیونکہ آج کتابی صورت میں اس حوالے سے جو مواد بھی دستیاب ہے وہ تاریخ سے زیادہ افسانوی ہے ،اور اُن مصنفین نے معصوم لوگوں کی پلاٹنگ ہی ایسی کی ہے کہ جسے پڑھ کے دماغ میں پہلا خاکہ"گنوار" کے نام سےآتا ہے۔
لفظ گُجر، گوجرسے ماخوذ ہے جو ترکی زبان کے دو حروف "گاؤ-چر" مابعد گورجرکی جدید شکل ہے جو وہاں کی زبان میں بطور"Göçer"مستعمل ہے،اور جن  کے لغوی معانی  دودھیل جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ گجر قبیلے کی ابتداء بھی ترکی سے ہی ہوئی جہاں یہ یونان و ترکی کے سرحدی علاقے میں ڈیرہ کیئے ہوئے تھے۔صدیوں پہلے جب سکندرِ اعظم نے تُرکی میں نہتے لوگوں پر حملہ کرنا چاہتا تھا تو اِنہوں نے بھرپور مخالفت  اور مزاحمت کی جس کی پاداش میں بہت سے نوجوانوں کو قتل کردیا گیا  اور باقی ماندہ  اپنا ملک اور مال مویشی چھوڑ کر مشرقِ وسطی سے براستہ افغانستان کشمیر کے پہاڑوں پر آن آباد ہوئے اور وہاں بھی اپنی طاقت و ہنر کی بناء پر جنگلی گائے اوربھینسوں کو قابو کرلیا اور دوبارہ سے اپنے آبائی پیشے سے منسلک ہوگئے۔ ابتدائی مہاجرین کی تعداد میں اختلاف ہے، کیونکہ کچھ چار سو بتاتے ہیں اور کئی گیارہ سو، بہرحال عرصے بعد مقامی راجہ نے ان کو قابو کرنے کا سوچا اور اپنی افواج کو لیکر پہاڑوں پر چڑھ دوڑا۔ چونکہ فنونِ جنگ کو یہ کچھ حد تک ترکی سے سیکھ کے آئے تھے لیکن پھر بھی سینکڑوں قتل ہوئے، کئی پہاڑوں کے رستے ہی ہندوستان کے اندرونی علاقوں میں چلے گئے،  جو چند ایک خاندان بچ گئے اُن کو غلام بنا لیا گیا اور شاہی باڑے کی رکھوالی پر معمور کردیا گیا۔ ہمارے آباء اِس جنگ کو ایک مخصوص پہاڑی لفظ میں دہراتے ہیں جس کا مطلب "پردیسیوں کا قتل"ہے۔جو لوگ غلام بنائے گئے اُن کی اولادوں نے کامیاب بغاوت کی اور دوبارہ سے پہاڑوں پر چلے گئے جہاں ہمسائیہ ریاست کے راجہ نے اُن کوجنگی تربیت میں معاونت کی۔ جو لوگ لڑائی کے وقت بھاگ کر  وسطی علاقوں میں چلے گئے تھے وہ بعد میں اترپردیش، گجرات اور دہلی کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ برصغیر میں اسلام کی آمد پر گجر قبیلے کی تقریباً پچانوے فیصد کشمیری آبادی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی تھی اس  وجہ سے بھی بہت سی جنگیں بھی اِن پر مسلط کی گئیں جو  اِنہوں نے جھیلیں۔پنجاب کے جاٹ اور راجپوت  حکمران گوجر قبیلے کے  بہادرمسلح جنگجوؤں  کی وجہ سے کئی بار کشمیر پر حملہ کرنے کے باوجود شکست سے دوچار ہوئے، اور جب کشمیر کی مسلمان آبادی نے ڈوگرہ راج کے خلاف کاروائیاں شروع کیں تو یہی نوجوان اُن کے قدم بقدم رہے، لیکن پھر بھی تاریخ دانوں کی ناانصافیوں کی نذر ہوگئے۔ تقسیمِ ہندوستان کے وقت کشمیر سے یہ ایک بہت بڑی تعداد  پاکستان کی طرف ہجرت کرآئے اور سیالکوٹ، گجرات، لہور، اور جی ٹی روڈ کے کنارے آباد شہروں سے ملحقہ علاقوں میں اپنی نئی بستیاں آباد کرکےرہائش پذیر ہوگئے۔ آج  بھی تُرکی، یونان اور چند یورپی ممالک میں گجر قوم  اپنے آبائی علاقے میں رہائش پذیر ہے، خاص طور پر رومانیہ میں جہاں یہ "Goekjer"کہلاتے ہیں۔ ہندوستان کی مشرقی اور شمالی ریاستوں میں ، پاکستان اور افغانستان میں جو گجر موجود ہیں وہ اُنہیں چند سو پردیسیوں کی اولادوں میں سے ہیں جبکہ کشمیر میں رہنے والے وہ ہیں جن کے آباواجداد نے بغاوت کرکے غلامی کا طوق اپنے گلے سے اُتارا تھا۔ آزادی کے دوران کشمیر میں دریائے توی کے کنارے اکھنور اور جموں سے تعلق رکھنے والے گجر نوجوانوں کی  سکھ سپاہ سے لڑی جانے والی  جنگ کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے نام نہادتاریخ دانوں نے شائد اپنی ہتک سمجھی ہو۔باقیوں کو تو خیر کاٹھ ماریں، کشمیر سے ہی تعلق رکھنے والے پاکستان کے ایک سابق اور مشہور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب نے اپنی تصنیف شہاب نامہ میں فرضی اور سنے سنائے واقعات کو تو جگہ دے دی لیکن ڈوگرہ راج کے خلاف گوجر قبیلے کی درجنوں جنگوں میں دی جانے والی قربانیاں اپنی جگہ نہ بنا سکیں۔۔
تاریخی اور واقعاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو گجر قبیلے کے ممبران تمام برصغیر کے باشندوں سے زیادہ امن پسند اور صلح جُو رہے ہیں تادیکہ اُن کی سالمیت کو چیلنج نہ کیا گیا ہو۔ یہ قوم نسبتاً کھلے ذہن کی مالک تھی اسی وجہ سے صرف ایک آواز پر اسلام قبول کرلیا(اُن صوفی صاحب کانام ذہن سے محو ہوگیا ہے، یاد آنے پر درج کردیا جائے گا) اور پھر اپنے اس فیصلے کو دمِ آخر تک نبھایا۔ پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چودھری رحمت علی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا  جو آج بھی امانتاً برطانیہ میں مدفون ہیں، اور  چند"خفیہ" سیاسی وجوہات اُن کی میت پاکستان میں لانے کی راہ میں حائل ہیں۔ پاکستان کی ابتدائی زندگی میں اس قبیلے کے کئی گمنام لوگوں نے مثالی انتظامی صلاحیتوں سے مملکتِ خداد کی خدمت کی۔ آج  بھی قومی اسمبلی میں تقریباً اٹھارہ ممبران کا تعلق گجر قبیلے سے ہے اور اُن میں سے کوئی بھی کرپشن یا ایسی دیگر کسی قباحت میں شامل نہیں رہا۔ اس وقت برصغیر میں گجر قبیلے کی تقریباً پونے تین سو ذیلی ذاتیں(سب کاسٹ) ہیں۔
صدیوں تک ہندو مذہب کے لوگوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ذات پات جیسی مکروہ رسم یہ بھی مانتے رہے۔ اِس بات کا ایک یہ بھی پیمانہ  مقرر کررکھا تھا کہ  یونانی مہاجر اپنے بچوں کی شادیاں تُرکی والے مہاجروں کے ساتھ نہیں کیا کریں گے، یونان اور تُرکی والے گجر مشرقِ وسطیٰ والوں سےدور رہیں گے۔۔یونان، ترکی اور عربی النسل ہونے کو تو کئی بزرگ آج بھی پاؤں کے انگوٹھے اور اُس کے ساتھ والی انگلی کو دیکھ کر بتا دیتے ہیں، بعد میں جب تعلیم عام ہوئی تو ہوتے ہوتے یہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔
جو گوجر کلچر اور رسوم  و رواج آج کی پنجابی فلموں میں دکھائے جاتے ہیں وہ  نہ صرف  معاشرے میں غلط تاثر پھیلانے کا موجب بنتے ہیں، بلکہ ڈائریکٹلی ہمارے قبیلے کی توہین ہے۔ میری ایک جاننے والے کی وساطت چندسال پہلے سیّدنور سے ملاقات ہوئی جواُن دنوں  چولستان میں اپنی ایک فلم کی شوٹنگ کررہا تھا  اور منظر بندی میں ہمارے فیلڈ آفس کو استعمال کرنا چاہتا تھا۔باتوں باتوں ہی میں  میں نے پوچھا جناب آپ کو گجروں کے علاوہ کوئی اور موضوع نہیں ملتا ؟ تو اُس مہا کنجر نے جواب دیا کہ ہم فلمیں لوگوں کے ذہنوں کو بدلنے کیلئے نہیں بناتے کیونکہ یہ فنانشل رسک ہوتا ہے، بلکہ سامع نے جو خود امیجن کیا ہوا ہوتا ہے اُسی کو پختہ کرتے ہیں، اور یہ کام ہِٹ ہو یا نہ ہو، ہماری انویسٹمنٹ بہرحال واپس آ جاتی ہے۔۔ اسی طرح ایک بار لہور میں متعین گوجر ڈی سی او صاحب سے  شکوہ کیا کہ آپ اپنی ناک تلے ایسے کنجروں کو بند کیوں نہیں کرواتے؟ جس پر اُنہوں نے لطیف پیرائے میں ایک کہاوت سنائی جو یہاں لکھنے سے تو قاصر ہوں لیکن۔۔بہرحال، اُن کی بھی ثقافتی حوالے سے کچھ اپنی مجبوریاں تھیں۔۔۔۔۔اگر کبھی آپ کا واسطہ اِن سے پڑا ہو، یا مشاہدہ کیا ہو تو آپ بخوبی جان گئے ہوں گے کہ گجر وں جیسا قوم پرست قبیلہ شائد ہی برصغیر میں کہیں اور ہو۔وِکی پیڈیا پر اِس حوالے سے جو آرٹیکل ہے، وہ افسانوی کتابوں سے حاصل شُدہ ریفرنسز کے باوجود حقیقت کے تقریباً قریب قریب ہے۔

اگر کسی کے ذہن میں سیّد نور کی فلمیں دیکھ کر گجروں کا وہی خاکہ ابھرتا ہے تو بس اتنا سمجھ لیجیئے گا کہ وہ بندہ حقیقت سے دور رہتے ہوئے پاکستان کی بائیس فیصد آبادی کا مذاق اُڑا رہا ہے۔ اور ایسا کرنا یقینی طور پر اُس بندے کی ذہنی صحت کیلئے نیک شگون نہیں ہوسکتا۔

داستاں اِک سفر کی

اکتیس اگست دوہزار تیرہ کی  اُس بوجھل سی  شام کو ہم ولسن انٹرنیشنل والوں  کی گاڑی، دفترو مکان کی چابیاں اور باقی تمام اشیاء جن پر ہمارا قبضہ ، لوٹا کرواپس اپنے گھر پہنچ چکےتھے۔
یہ قصہ بہت پہلے کا ہے۔۔۔جب ہم غرورِڈِگری اور  خود کو"عقلِ کُل" سمجھنےکی وجہ سے نئے نئے فلاپ ہوئے خود کو چار کونوں میں محصور کرکے یا تو اِدھر اُدھر سی وِیاں بھیجا کرتے، یا کہیں بھاگ جانے کیلئے پر تولتے ہوئے اکثرایف ٹین کی سڑکوں پر آوارہ گردی میں مصروف ہُوا  کرتےتھے۔ایک دِن یونہی بے مصرفی کے مارے  سونے کی ناکام کوشش میں جُٹے تھے کہ موبائل نے "ڈُو ناٹ ریپلائی" ٹائپ کے ایک ای میل نوٹیفیکیشن کی بیپ بجائی، اور اِس میں لکھا تھا کہ صرف سی وی سے کچھ نہیں ہونے والا محترم، اپنے ڈاکیومنٹس اور دیگر تفصیلات بھی بھیجیں تاکہ "ہاں یا ناں" کیا جاسکے۔چونکہ اُن دنوں ہم نے درجنوں جگہ ایسی سی ویائی حرکتیں کررکھی تھیں ، اور ریفرنسز وغیرہ گُڈ مُڈ ہوچکے تھے  اس لئے پہلے تو پریشانی ہوئی کہ یہ ہیں کون، پھر ڈھونڈ ڈھانڈ کر متعلقہ اشیاء بھجوا دیں۔دو دِن کے بعد ہمیں کراچی میں موجود ایک ایڈریس پر پہنچنے کا حکم صادر فرمایا گیا جہاں انٹرویو اور چند ایسی قبیل کی دیگر ایسیس منٹس وغیرہ، اُسی دِن تقریباً دس بجے(رات) پھر طلب کیا  جہاں بذریعہ ویڈیو کال چند گورے صاحبان نے بھی اپنی طرف سے تسلی کی۔رات کو واپسی تک ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس شعبے سے وابستہ ہیں، یا میں نے یہاں کس پوسٹ کیلئے اپلائی کر رکھا ہے۔ ہمیں دوسرے دِن تک رُکنے کا اور جواب کے انتظار کرنے کا کہا گیا تھا جو بڑی برق رفتاری سے نو بجے "ہاں" میں مِل گیا، اور تین دِن بعد لہور میں موجود مقامی دفتر سے رجوع کرنے  کی ہدائت مِلی۔۔۔۔۔لہور پہنچے تو دیکھا کہ عام سا بنگلہ ہے جسےدفترکا نام دیا گیا ہے، جو تین لوگوں پر مشتمل ہے اور ہم یہاں اسسٹنٹ ٹرینر (فارمز) کیلئے چُنے گئے ہیں۔ابھی تک پڑھائی کا خمار مکمل طور پر اُترا نہیں تھا  اس لئے بڑی تپ چڑھی کہ اب ہم ایسے کام کرنے جوگے ہی رہ گئے ہیں؟ پھر کوڑہ گھونٹ کرنے میں عافیت جانی اور شرائط و ضوابط والے کاغذات لئے دوسرے دِن جوائننگ دینے کا وعدہ کرکے نکل لئے۔شام کو یاران و منافقان و سنگدلان سے مشاورتی نشستیں   کرنے کے بعد اِس نتیجے پر پہنچے کہ  بندے کی قدر نوکری  کے راست متناسب ہے، ویہلے بندے سے تو چارپائی بھی پناہ مانگتی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ ۔ پانچ جُون دوہزار چھ بروز پیر ،ہم فی ماہ دس ہزار سات سو اٹھارہ روپے نصف جن کے پانچ ہزارتین سو انسٹھ ہوتے ہیں، دو ماہ کے پروبیشن پیرئڈ، اور 24/7 دستیاب رہنے کی شرائط ماننے کے عوض ولسن لمیٹڈ(تب یہ جوائنٹ وینچر میں تھے)نامی جہاز پر سوار ہوگئے۔ راوی اب تک نام لے لے کر بتا سکتے ہیں کہ ہمیں دی جانے والی اِن "سہولیات" کا سُن کرکس کس  نے سکون کا سانس لیتے ہوئے(اپنی اپنی)بغلیں بجا کر سُرخ کرلی تھیں۔
اُن دِنوں کمپنی پاکستان میں اپنے قدم جما رہی تھی اور ملک کے سیاسی حالات کی وجہ سے یہاں رُکنے اور نہ رُکنے کی کشمکش میں مبتلاء تھی، جبکہ دوسری جانب  ٹیکسز  اور سرکاری محکموں کی پیدا کردہ مشکلات۔۔۔ اسی دوران ہمارے دو ماہ مکمل ہوئے اور ہمیں سات سالہ کنٹریکٹ آفر کیا گیا، جوآجرین کو دُعائیں دیتے ہوئے بخوشی قبول کرلیا گیا۔اب اسے ہماری خوش قسمتی کہیئے یا کچھ اورکہ اُدھرحکومتِ وقت کی توجہ چولستان کی طرف مُڑی،  بڑے ولسن نے دُنیا کو خیر آباد کہہ دیا،  ادارے کا بٹوارہ ہوا اور  وِلسن انٹرنیشنل جنرل مشرفانہ شفقت کی وجہ سے اپنا پہلا پراجیکٹ "شائننگ ڈیزرٹ" حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی – اور اِدھر ہمیں بطور اکلوتے مہندسِ جینیاتِ شجریہ جنوبی پنجاب تعینات کردیا گیا، اور اُس دِن ہمیں  بھارتی فلم "مالا مال ویکلی" اور مقامی محاورہ "چھپڑ پھاڑ کے دینا" بہت یاد آئے۔ یہاں جنوبی پنجاب  اور چولستان میں ہم نے تقریباً دو سال ہفتوں، بلکہ مہینوں شہر کی شکل دیکھے بناء گزارے۔  کئی بار اوور ورک کی وجہ سے سلیپنگ پِلز کا سہارہ لیا لیکن پھر بھی  کم افرادی قوّت،  بینظیر کے قتل کے بعد پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال، گورنمنٹ کی جانب سے فنڈنگ ریسٹرکشنز،  غلط فورکاسٹنگ ، کمپنی کے محدود معاشی حالات اور دفتری "ٹانگ کھنچائی"جیسے  عفریتوں سے لڑنے میں ناکام رہے اور شائننگ ڈیزرٹ ادارے کی فائلوں میں "نو پرافٹ، نو لاس" کے طور پر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔۔۔۔ ہم اِس ناکامی کو اب بھی اپنا تیسرا اُستاد مانتے ہیں۔
دو ہزار نو اور دس ہمارے لئے ، اور ادارے کیلئے  بہت مشکل سال ثابت ہوئے اور فرنگی مالکین خیبر پختونخواہ  ، سندھ اور بلوچستان سے وائنڈ اپ کرگئے۔ہمارا لہور دفتر کارکردگی کی لسٹنگ میں کراچی کے بعد دوسرے نمبر پر جارہاتھا اور قریباً بند ہوا ہی چاہتا تھا کہ جنوبی پنجاب سیلاب کی زدمیں آگئے۔اب ملتان اور بہاولپور سیکٹرز کو ختم کیا گیا اور لہور کا دائرہ کار  حیدرآباد سے زیارت  اور ایبٹ آباد تک بڑھا دیا گیا اور ایک چھوٹا سا "پوٹیٹو ریسرچ یونٹ" گلگت میں بھی شروع کردیا۔اس غیریقینی صورتحال میں ہمارے ساتھیوں نے آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلز ایکسپینڈنگ پروگرام میں خصوصی دلچسپی لی اور ایک دن تقریباً سارا دفتر ہی اُڑ گیا جبکہ ہم گلگت میں بیٹھے آلو کی نسل کشی کا مقدس فریضہ سرانجام  دیتے رہ گئے۔اِس حادثے نے آجرین پر ہماری "وفاداری"ثابت کردی تھی  جس کی پاداش میں ہمیں ایک ماہ کی خصوصی رائس ٹریننگ کیلئے  تھائی لینڈ بھیجا گیا اور واپسی پر وہ گاڑی بھی بدل دی گئی جس پر سابق باس چھ ماہ سے ناگ بن کر بیٹھا ہوا تھا۔دو ہزار گیارہ میں کمپنی نے اپنی کی ہوئی سرمایہ کاری سے دوگنی آمدن حاصل ہوتی دیکھی تو ٹیم بڑھانے کا سوچا اور بلوچستان دوبارہ آپریشنل ہوگیا۔ہم نے جنوری سے لیکر اپریل تک  جو وقت وہاں گزارہ وہ ناامیدی کا ہی تھا، کیونکہ وہاں پنجاب اور پنجابیوں سے نفرت اپنے عروج پر تھی۔ ہر روز کہیں نہ کہیں گیس پائپ لائن اورایف سی کے اہلکاروں پر حملے ہونے کی اطلاع آتی رہتی۔ آخر کار مئی میں ایک نئے صاحب کی تعیناتی ہوئی اور ہماری جان چھوٹی۔اَس کے بعد ہم سے جنوبی پنجاب میں چھوٹے موٹے کا م نکلوائے جاتے رہے اور حتی المقدور  لہور سے جُدا رکھنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ چند شدید قسم کے اندرونی معاملات کے پیشِ نظر ہم نے اپنا کنٹریکٹ  جو اگست میں ختم ہورہا تھا، اُسے مزید آگے لے جانا مناسب نہ سمجھا اور  دفتری لوگوں کو "جہاں ہیں، جیسے ہیں" کی بنیاد پر خیرباد کہہ دیا۔
دفتر سے فیلڈ کی طرف ہمیں دو ہزار سات میں بھجوایا گیا تھا، تب سے لیکر بوقتِ آخر ہم نےتین لاکھ اٹھارہ ہزار کلومیٹر کی ڈرائیونگ اپنےاِنہی "نازک" ہاتھوں سے کی۔ جس میں ہم نے فرنگیوں کے پٹرول و جیب سےصوبہ بلوچستان، سندھ، غیر پہاڑی خیبرپختونخواہ، گلگت اور کشمیر  کی وطنِ عزیز میں،جبکہ تھائی لینڈ، ملائیشیا، بالی، قاقستان، روس، دوبئی اور افغانستان  جیسے "وطنانِ ناعزیزان" کی خاک چھانی۔پچھلے سال اگر ہمارا پاسپورٹ اٹلی کا سفارت خانہ نہ دابے ہوتا تو کچھ بعید نہیں تھا کہ  امریکہ بھی دیکھ لیتے۔۔۔۔۔۔بحیثیت ایک کارکن، ہمارا تعلق ادارے کے ساتھ بہت اچھا رہا – جبکہ کولیگز میں صرف باقر علی خان سے۔ خان صاحب دفتر میں بطور چوکیدار کام کرتے تھے اور دفتری دنوں میں ہمارا رات کا کھانا اور ناشتہ  ساتھ ہوتا۔اکثر جب کام کرتے کرتے رات کو تاریخیں بدل جاتیں، تو یہی باقر علی خان ہمارے لئے سپیشل قندھاری چائے بنایا کرتے  اور  صبح  دفتر میں ناشتہ بھی پہنچا دیا کرتے۔وہ خود اپنے آپ میں مکمل دنیا تھے لیکن اس خلاصے میں ہی اُن کی شخصیت کو فِٹ کردینا زیادتی ہوگی۔
اکتیس اگست کو باقر علی خان اور"کیٹ ونزلیٹ" کے علاوہ سبھی بہت خوش تھے۔

وقت کرتا رہا پرورش برسوں

ہم نے اپنی چندکمزوریوں کو چھپانے کیلئے جو نام نہاد اور خود ساختہ اصول مرتّب کررکھے تھے، اُن میں سے کسی ایک کو وجہ بنا کرپچھلے دِنوں ہماری لسٹ میں موجود ہمارے اکلوتے و آخری فرینڈ بھی حقیقی طور پر ان فرینڈ کر کے بھاگ نکلے۔
بہت پہلے کا تو ٹھیک سے یاد نہیں لیکن اس روّیئے کی ابتداء شائد گِل صاحب کی کلاس اور اُن کی مار سے بچنے کےمعروضی حالات میں اُس وقت ہوئی تھی جب ہم نے پہلی بار اپنے گروہ سے علیحدگی اختیار کی۔ گِل صاحب چھٹی جماعت میں ہمارے ریاضی کے اُستاد تھے۔ سردیوں میں اوقاتِ جماعت سے پہلے ساری کلاس کو طلب کرلیا کرتے  اور ہندساتی جمع تفریقوں کی ضرب تقسیم سمجھایا کرتے۔ خالص اردو بولتے اور الفاظ کو ایسے محتاط انداز میں استعمال کیا کرتے کہ گویا کسی ادبی محفل میں بیٹھے ہوئے ہوں،گورا چِٹا رنگ اورقد تقریباًپانچ فُٹ کے قریب، لیکن ڈنڈہ برسانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کا گاؤں ہماری درسگاہ سے چار میل کے فاصلے پر تھا جو وہ سائیکل پر طے کرتے، لیکن کبھی ان کو کسی نے آتے ہُوئےنہیں دیکھا - نہ کبھی حبیب نے جودفتر کھولا کرتا تھا، اور نہ ہی ہم نے، جو اکثر حبیب اور گِل صاحب کے بعد  نازل برسکول ہوا کرتے۔گِل صاحب کے لبوں سے پورا سال ہم نے کبھی مسکراہٹ غائب نہیں دیکھی اور یہاں تک کہ جب کسی کو مرغا بناکے، اُس کا سر اپنی ٹانگوں میں داب کے، کیکر کی پرانی شاخ کے "اوساکا ٹیپ"چڑھے ڈنڈے پر انگوٹھے کا دباؤ ڈالتے ہوئےمقہور کی پشت مبارک پر بطرزِ ڈرون ضربِ سکندری کھینچ کھینچ کر بطورِ ثواب ٹکایاکرتے تو اُس وقت بھی درونِ پردہ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لیئے ہوتے تھے۔گِل صاحب سے ہمارا تعارف ہائی اسکول کے پہلے دن ایسے ہوا کہ سارے کامیاب داخلہ "ہولڈرز" کو ایک جگہ بٹھایا ہوا تھا ،اساتذہ کے درمیان فریقوں کی بندر بانٹ کا عمل جاری تھا، اور اس میں کچھ دیری تھی کہ اچانک ان کی آمد ہوگئی۔کرسی پر بیٹھنے کے فوری بعد سوال کیا کہ چلو جسے (A,B,C) آتی ہے ہاتھ کھڑا کرو، ہر ایک نے دوسری اور تیسری جانب نظریں دوڑائیں لیکن صرف ایک ہاتھ کے کوئی "بندے دا پُتر"(بقول گِل صاحب،تکیہ کلام)دکھائی نہ دیا۔کہنے لگے سناؤ – لیکن اُس بندے دے پُتر کی گراری بھی ایچ (H)پرآکے ختم شُد،ساروں کو باری باری اُٹھایا اور تختہ سیاہ پر انگریزی حروفِ تہجی اردو میں لکھ کےسبھی سے پڑھوائے اور کاپی پینسل کی مدد سے نوٹ کروائے،لیکن ہمیں ان کی پہچان کرتے کرتے چھ ماہ مزید لگ گئے۔
تو ہماری قسمت چھٹی جماعت کی ذیلی فریق "سی"میں لکھی گئی کہ جس میں ہمارے محلے کے تین اور لڑکے بھی شامل تھے۔پہلے پہل تو یہ تینوں اکٹھے بیٹھتے اور ہم ان کے ساتھ والے ڈیسک پر بطور ہمسائےبراجمان ہوتےلیکن جب ان تینوں کو کھڑکی، ڈیسک، دورازہ، غرضیکہ ہر جگہ "--- گروپ"لکھنے کا شوق چڑھا توہم نے اپنی جگہ بدل لی اور ترقی کرتے کرتے گل صاحب کے سامنے پہنچ گئے۔سردیاں پورے جوبن پرتھیں اور گل صاحب کی قبل از اسکول والی کلاسیں بھی کہ ایک دن سلیم کو "تفریح"کے وقت گھر بھاگنے پر بطور سزا"لمیاں پالیا" گیا۔پندرہ منٹ کی دھواں دھار دھلائی سے پتا نہیں وہ سدھرا یا نہیں، البتہ ہم پر یہ دھاک ایسی بیٹھی کہ ان کی کلاس سے ایک گھنٹہ پہلے اور چُھٹی کے بعد سکول سے نکلنے والے آخری طالبِ علم ہم ہوا کرتے (اوریہ معمول بہت عرصہ ساتھ ساتھ رہا)۔ایک دن تینوں نے دورانِ ریسیس بھاگنے کی ٹھانی اور ہمیں بھی ساتھ ملا لیا، اور نکل بھاگے گھر کی طرف، ابھی پُل پار کیا ہی تھا کہ ہمیں سلیم کی "خدمت"یاد آگئی۔پُل کی ایک طرف گھر کا راستہ تھا اور دوسری جانب والی گلی ایک کتابوں کی دوکان کو نکلتی تھی جو بازار سے ہوتے ہوتے سکول کو مُڑجاتی تھی اور یہ راستہ بڑا مختصر ہوا کرتا تھا۔ ہم نے نکڑ پر پہنچ کے اُن سب سے کہا کہ یار آؤ واپس چلیں دو پیریڈز ہی کی تو بات ہےپھر چلے چلیں گے، لیکن نئیں جی جو ہوگا دیکھا جائے کل۔۔کہا آپ لوگ پھرجائیں، میں نے ایک کتاب لینی ہے، وہ  لے کے پہنچ جاتا ہوں – کہنے لگے ٹھیک ہے لیکن میچ سے پہلے پہلے آجانا۔۔۔اب اندھا کیا چاہے، مار سے بچنا کے مصداق جو زقند بھری تو کلاس میں پہنچ کرہی دم لیا اور باقاعدہ چھٹی کے بعد گھر واپس آگئے، اور شام کو تمام حضرات بڑے فخریہ انداز میں ہمارے گھر  یہ کہنے(جتلانے)آئے کہ دیکھو ہم نے(طوفان کرکٹ کلب نے) تمہارے بغیر ہی پرلی کالونی  والوں سے میچ جیت لیا ہے(اور وہی دن ہمارے  لئے طوفان کرکٹ کلب میں بطور" فاسٹ باؤلر"، اور مابعدکرکٹ کیرئیر کا اختتام تھا   :D)۔دوسرے دن ہم تو اپنے مخصوص پر کلاس میں پہنچ گئے، اور یہ تینوں بھی۔۔۔گِل صاحب بھی اپنی قاتل"سمائل"کے ساتھ رونما ہوگئے، اور آتے ہی جیب سے پرچی نکالی جس پر کل کے آدھی چھٹی کے وقت بھاگنے والوں کے نام تھے۔ایک ایک نام پکارا جاتا رہا اور صاحبِ نام پیچھے جاکے سعادت مندی سے کھڑا ہوجاتا، اور باقی کلاس اُن کے چہرے دیکھتی۔جب فہرست مکمل ہوئی تو ڈر کے علاوہ"---- گروپ"کے چہرے پر حیرانگی بھی عیاں تھی، ہمارے نہ اُٹھنے کی(اور شائد شکوہ بھی)۔۔۔۔۔اُس دن سے لیکرجامعہ میں ہمارے آخری دِن تک، یہ سلسلہِ (خودی  :D ) چلتا رہا  -  اِس امید پر کہ اب  کےہم پروفیشنل زندگی میں پروفیشنل لوگوں سے دوستی کیا کریں گے۔
نوکری کے ابتدائی غیر حتمی تین ماہ ختم ہوئے تھے اور ہمارا آفیشل ہنی مون پیریڈ کا پہلا مہینہ ابھی جاری تھا کہ کمپنی نے ایک نیا پراجیکٹ شروع کردیا،   خوش قسمتی سے ہماری  ایم فِلی بھی اسی شعبے سے تھی جس کی وجہ سے  سلیکشن بھی ہوگئی، اور اسی بناء پر دفترمیں موجود پُرانے  صاحبان ہمیں بھگانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ اُنہیں دِنوں میں کمپنی کے ڈائریکٹرآپریشن اینڈایکسٹرنل افیئرز بمعہ پوری ٹیم  صدر دفتر سے لہور تشریف لائے اور دفتر والوں کی پچھلی کارکردگی کا ایجنڈا بناکر میٹنگ طلب کرلی۔ریویوز اور سوالات کا سلسلہ جاری تھا اور ہمارے باس  کو اُن کے چہیتے متعلقہ فائلز دینے سے ہچکچا رہےتھے،  جس پر صاحبِ اعلیٰ کا پارہ بُوسٹ کرگیا اور  علی الاعلان فرمانے لگے "تُم سے کاہل، کام چور، اور نالائق ترین لوگ میں نے آج تک نہیں دیکھے۔۔۔بلا بلا بلا"، اِس تقریر پر سارے کے سارے علامتی واک آؤٹ کرگئے لیکن ہم وہیں بیٹھے رہے۔ بِگ باس نے دو گلاس پانی چڑھایا اور ہماری طرف متوجّہ ہوکے استفسار کیا "آپ ابھی تک یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟" ، "سر، میٹنگ ابھی ختم نہیں ہوئی"، "تو پھر وہ سب کیوں چلے گئے؟"، "سر جو کام چور اور نالائق تھےاُنہوں نے ہی تو غُصہ کرنا تھا، آپ نے مجھے تھوڑی کہا کچھ"۔۔۔۔ اِن  چند الفاظ نے ہماری اُن سے جو تعلق داری بنائی، وہ تو اگلے سات سال ہمارےبڑے کام آئی، لیکن کولیگز کنی کترانے لگ گئے۔۔۔۔ اور پھر پروفیشنل لائف   والی فرینڈشپ کا دروازہ بھی ہمارے لئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا۔
کہتے ہیں کہ مخلص دوست بڑی مشکل سے ملتے ہیں،اور جب مل جائیں تو ظاہری بات ہے خود بھی مخلص ہونا پڑتا ہے، لیکن وقت کی قلت – بندہ کسی سےآخر کیسے مخلص ہوبھلا؟اَن فرینڈی کا دکھ تو ہوتا ہے لیکن سکون بھی، کہ کم ازکم اب کسی کو کوئی توقع تو نہیں جس پر پورا نہ اترنے پر اُن کو دکھ ہو اور بندہ خود بھی "گِلٹی گِلٹی"محسوس کرتا رہے۔آج ہم اپنےمخلص ترین دوست کو  اوَیپوریٹ ہوتے ہوئے دیکھ کرافسردہ تو ہیں ہی، لیکن ساتھ میں ایک  بڑا عجیب سا اطمینان بھی ہے، اور ویسے بھی ہم اب یہ شعبہِ دوستی بوجوہ مکمل طور پر وائنڈ اَپ کرگئے ہیں۔

اؤئے چودھری صاحب

اچھے وقتوں کی بات ہے کہ لالے موسے شہر سے کوئی ستر میل دور مغرب کی سمت کریم آباد نامی ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جس کی آبادی اُس وقت تقریباً سوا تین سو نفوس پر مشتمل تھی۔گاؤں میں بھائی چارے اور امن امان کا راج تھا ہر سمت، چونکہ وہاں ہر طبقے  اور برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے تھے اس لئے ایک بار متفقّہ چناؤ کے ذریعے وہیں کے سب سے بڑے زمیندار بوٹے خان کو سرپنچ نامزد کردیا گیا۔جمہوریت اُن دنوں عوام کی نالیوں میں آ چکی تھی تو بوٹے خان کے مدّمقابل گاؤں کا کمہار بخشو، دِتّے حجام کا بڑا لونڈا کاشی اور ایک دو دیگر اسی قماش کے بندے کھڑے ہوگئے۔ووٹوں والے دن چند بار کی ہاتھا پائی اور توتکار کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہ ہوا، اور شام کو بوٹے خان ڈھائی سو بندوں کے انگوٹھے لے کر کامیاب ہوگیا۔ یہ بات تب کی تھی جب بوٹے خان کی مسیں پوری طرح بھیگ چکی تھیں، تو اُس دن سے لیکر تیس سال بعد تک کسی کی جرات نہ ہوئی کہ اُس کی چودھراہٹ اُتار سکے۔بوٹے کے ٹور تو زمینوں کی کمائی سے اور فصلوں کے ششماہی حساب کتاب سے تھے لیکن کچھ بھولے بادشاہ سمجھنے لگے کہ وہ پتا نہیں کیا  دونمبریاں کرتا ہے جو روز دیہاڑے ساٹن کا مایاں لگا سوٹ پہنےگھر سے نکلتا ہے اور شام کو ویسے کا ویسا واپس آنے کے باوجود اگلے دن پھر سے نیا جوڑا زیبِ تن کرتا ہے۔
بشیرے کامے  کو چودھری بوٹے کے کھیتوں میں کام کرتے دو دہائیاں ہوچکی تھیں اور اب کمر کے جھکاؤ  اور دمے کی وجہ سے مزید کہیں آنے جانے سے قاصر تھا۔بشیرے کی گھر والی دو بیٹوں کو جنم دے کر  بہت پہلے آنکھیں بند کئے اگلے جہاں جا چکی تھی  تو ایسے میں جیسی تیسی تربیت وہ بیچارہ کرپایا اُس نے کی،اور جب کام کاج سے ناکارہ ہوا تو علم ہوا کہ وہ تو خود کمائی کرکے کھانے کا عادی تھا لیکن اولاد اُس پر نہیں گئی ۔چھ ماہ بعد جب اناج کا دانہ دانہ بیچ کھا چکے تو کام کی بجائے ایک دن چودھری کے منشی سے بھڑ بیٹھے۔سیانے کہتے ہیں کہ آمنے سامنے کی لڑائی وہی لڑسکتا  ہے جو پیٹ سے خالی ہو، بھرے پیٹوں والے تو تاند سے تاند ملا کر اگلے کو وہاں مارتے ہیں کہ جہاں سے وہ پھر دوبارہ کبھی نکل نہ سکے – جب چودھری کو اس معاملے کی بُو محسوس ہوئی تواُس نے منشی اور بشیرے کامے کے دونوں لونڈوں کو انجن والی حویلی طلب کرلیا اور فریقین کو اچھی طرح سننے کے بعد زمانہ شناس بندہ لڑائی کے پیچھے والی بھوک پہچان گیا۔ چونکہ بوٹے خان امن پسند طبیعت کا مالک تھا(یا بظاہر ایسا محسوس کرواتا تھا) اپنی چودھراہٹ برقرار رکھنے کیلئے گندم کی دو بوریاں  کبھی نہ ملنے والے ادھار پر بشیرے کے گھر بھجوا دیں۔شام کو دونوں بیٹے کن اکھیوں سے باپ اور آپ کو دیکھ دیکھ کے مسکرائے جارہے تھے کہ محض ایک تڑی سے جتنا مل گیا اُتنا تو ابّا تین ماہ میں بمشکل کما پاتا تھا، یہ تو بڑا آسان کام ہے کیوں نہ اسی کو جاری رکھا جائے۔ اُن دو بوریوں میں حلال کمائی والی برکت کہاں ہوتی جو چھ  ماہ چلتی رہتیں، تو چاند کی پچیس کو دونوں خالی ہوگئیں اور کام چور اُسی شام چودھری کے گاؤں والے ڈیرے کے سامنے کھڑے مونچھیں تاپ رہے تھے۔اس بار منشی تو اپنا دامن بچا کر نکل گیا لیکن حویلی کا پہریدار اور چودھری کا جیپ ڈرائیور ہتھے چڑھ گیا، بات سے بات اور پھر مزید بات۔۔۔ گھونسے پر گھونسا ۔۔۔ اُس دن دوپہر کو فریقین گاؤں والی حویلی میں شاملِ تفتیش تھے۔
سال ہونے کو تھا سارا سلسلہ شروع ہوئے کہ اب کی بار دونوں سپوتوں نے چودھری کے گھر کو تاکا ، تاکہ ایک ہی بار مرغی ذبح کرکے بھاگ جائیں اس غلیظ گاؤں سے، پہلے تو وہ دونوں چودھری کی منجھلی لڑکی کو آنکھیں مارتے رہے، پھر اُس کے بیٹے کے کان مروڑے، اور سہہ پہر تک یہی ٹچکریاں چلتی رہیں۔ چودھری چونکہ اپنے رعب و دبدبے کو زندہ رکھنا چاہتا تھا اس لئے جب پانی سر سے اوپر آن پہنچا تو حویلی سے بندے بلوا کر دونوں کو اُٹھوایا اور واپس حویلی آن ٹپکایا۔
سننے والے بتاتے ہیں کہ اُس رات بڑی سحری تک چودھری کی انجن والی حویلی کے توڑی والے کمرے سے ایسی آوازیں آ تی رہیں کہ جیسے کسی زندہ بکرے کی تشریف سینک کر اُس کی سجی بنائی جارہی ہو۔ وہ دن اور آج کا دن، بشیرے کامے کے دونوں لونڈے لالے موسے کی حدود میں کہیں نظر نہیں آئے،کچھ کہتے ہیں کہ وہ کراچی بھاگ گئے اور کچھ کا خیال ہے کہ بنگال چلے گئے تھے اور وہیں کہیں لڑائی میں مرکھپ گئے۔
جاتے جاتے دو خبریں، گو اِن کا پوسٹ یا کہانی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن پھر بھی۔۔ تاکہ سند رہے۔
ڈرون حملے ہماری ریاستی خودمختاری کےخلاف ہیں، اِنہیں فوری روکا جائے۔ وزیرِ اعظم پاکستان، میاں محمد نواز  شریفآئی ایم ایف پاکستان کو پانچ اعشاریہ تین بلین ڈالر سے بڑھا کر سات اعشاریہ تین بلین ڈالر بطور قرض دینے پر آمادہ۔

Pages