شعیب صفدر

اور سڑک بن گئی!!!!

یہ قریب بیس سال قبل کی بات ہے میرے رہائشی علاقے ماڈل کالونی کی ایک نہایت مصروف سڑک ماڈل کالونی روڈ مکمل طور پر تباہ تھی۔ ہم یار دوست اکثر مذاق میں کہتے کہ جس نے جھولے لینے ہیں وہ بائیک لے کر اُس طرف چلا جائے۔ مگر پھر ایک دن صبح صبح اس سڑک پر کارپیٹنگ ہوئی ہوئی تھی مکمل سڑک نئی نئی سی معلوم ہوتی تھی دیکھ کر حیرت اس لئے ہوئِی کہ ایک دن قبل جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو "جھولے" لے کر آئے تھے مطلب سڑک خستہ حالت میں تھی۔ معلومات لینے پر معلوم ہوا کراچی کی مشہور زمانہ پارٹی کے لیڈران نے ایک جلسہ کی سلسلے میں تشریف لانا تھا س لئے ایک ہی رات میں انتظامیہ نے "فرض شناسی" کا ثبوت دیا جو اہل علاقہ کے لئے چند دنوں کی "سہولت" کی شکل میں برآمد ہوا۔
تب یہ جانا کہ اگر آپ کے علاقے میں بہتری چاہے وقتی یا مستقل ان "جلسوں" کے مرہون منت ہوتی ہے جن کے سبب انہیں آپ کے محلے آنا پڑے۔ یوں وہ سڑک ہر جلسے و سیاسی ایکٹیوٹی پر "نئی " سی ہو جاتی مگر اب پھر دو سالوں سے وہ دوبارہ اجڑی ہوئی ہے۔
قریب ڈھائی سال قبل عمرکوٹ میں تعیناتی ہوئی تو میرپور خاص سے عمر کورٹ تک کی روڈ کی حالت زار دیکھ کر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا کہ یہ ہماری صوبائی حکومت کام کیوں نہیں کرتی۔ مگر ڈیڑھ ماہ قبل اس سڑک کی قسمت جاگی اور یہ سڑک بہتر انداز میں کارپیٹ ہونا شروع ہوئی چونکہ سیاسی جماعتوں کے جلسے پہلے بھی ہوتے رہے مگر اس روڈ کی حالت جوں کی توں رہی اس لئے اول خیال یہ آیا کہ ممکنہ طور پر یہ الیکشن سے قبل کیا جانے والا کام ہے مگر جب گزشتہ اتوار مقامی رہنما کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے مختلف "رہنماؤں" اور خاص کر صوبے کے حاکم جماعت کے تمام وہ لیڈر جن کا تعلق سندھ سے تھا کی آمد ہوئی تو معلوم ہوا یہ "ترقیاتی پروجیکٹ" اس شادی کی بدولت ہے۔
ایسی ہی خبر اس سے قبل لاہور سے "بنت مریم" کے گھر اپنی والدہ کی آمد پر تعمیر کی جانے والی سڑک سے جڑی ہے۔ یوں یہ بات پکی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے اپنے علاقے کی بہتری کے لئے یقین کوئی ایسی ہی تقریب رکھنی پڑے گی ورنہ کوئی امید بر نہیں آتی۔

بدمعاش ہیرو

ہمارے رویےہماری شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ہماری شخصیت کی تعمیر میں وہ تمام عوامل شامل ہیں جن سے ہم متاثر ہوں ۔ گزشتہ چند سالوں سے ہماری درمیان ایک ایسی نسل پروان چڑ چکی ہے جو بدمعاشی، گالی ، بدتمیزی، پگڑی اچھالنے اور اوچھے پن کو قابل ستائش جانتی ہے اگر یہ اس فرد کے بارے میں یا کے لئے ہو جو ان  کی نظر میں ظالم ، چور یا برا ہے۔
ہمارے رویوں میں ایک خاص خامی جو داخل ہو چکی وہ یہ کہاگر ہم نے خود کو کسی گروہ سے منسلک کیا تو ہم اس کے ہر برے فعل کے لئے بھی نہ صرف جواز تلاش کرتے ہیں بلکہ اس کو درست قرار دینے کے لئے جھوٹ (پروپیگنڈے) تک کا سہارا لے لیتے ہیں۔ایسے رویے کو شخصیت کا حصہ بنانے میں ہمارے لکھاریوں و میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا۔جنہوں نے ناانصافی کا خاتمہ لاقانونیت سے کرنے کا درس اپنے قصےکہانیوں سے دیا ۔
غلط راستہ درست منزل تک نہیں لے کر جا سکتا۔اونچی عمارتیں مضبوط بنیادوں کے مرہون منت ہوتی ہیں اور مضبوط بنیادیں غیرمیعاری مواد سے نہیں رکھی جاسکتی، پھر ہم غلط رویوں اور کمزور کرداروں سے ایک بہتر معاشرہ کیسے تعمیر کر سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ضلع عمر کوٹ کی تحصیل کنری کے تھانے میں ایک مقامی وڈیرے کی ایس ایچ او سے بدتمیزی کی ویڈیو ایسی ہی ایک رویے کی عکاس ہے۔


محکمہ آب پاشی سے پانی کی باری پر شروع ہونے والا جھگڑا وڈیرے کے نقظہ نظر سے ظالم کا ہاتھ روکنے کی کاوش دراصل لاقانونیت کا مظاہرہ تھی۔ یہاں بھی دونوں طرف کے گروہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے ہیرو و ولن کی حمایت میں کہیں آدھے سچ اور کہیں پورے جھوٹ کا سہارا لیا۔
واقعہ کی جزیات اور حقیقت کے بیان سے بڑھ کر اہم یہ کہ ہم خود یہ جان لیں کہ اندھیرے کو روشنی سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ایڈونچریس اور بدمعاش ہیرو پردے کی اسکرین پر تو گلیمر بکھیر سکتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں اس آندھی کی ماند ہے جو تباہی پھیلاتی ہے اور ان جلتے دئیوں کوبھی بجھا دیتی ہے جو کسی حد تک روشنی کی وجہ تھے۔

Pages