شعیب صفدر

1965 کے صدرارتی انتخابات


وہ تاریخ جو آپ کو مطالہ پاکستان کی کورس کی کتابوں میں نہیں ملے گی

تاریخ می کئی چہروں پر ایسا غلاف چڑھا رکھاہے کہ اب انکی تعریف کرنی پڑتی ہے اور ان کا ماضی ہمیں بھولنا پڑتا ہے ایسےکئی کردار صدارتی الیکشن 1965 کے ہیں جن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور نہ انکے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے یہ پہلا الیکشن تھا جس میں بیورکریسی اور فوج نے ملکر دھاندلی کی۔ 1965کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود ایوب خان نےکی پہلے الیکشن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرانے کا اعلان کیا ۔یہ اعلان 9اکتوبر1964کوہوا مگر فاطمہ جناح کے امیدوار بنے کے بعد یہ اعلان انفرادی رائے ٹھہرا اور ذمہ داری حبیب اللّہ خان پرڈالی گئی یہ پہلی پری پول دھاندلی تھی۔ 1964 میں کابینہ اجلاس کے موقع پروزراء نے خوشامد کی انتہا کی حبیب خان نے فاطمہ جناح کو اغواء کرنے کی تجویز دی وحیدخان نے جووزیراطلاعات اورکنویشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے تجویزدی کہ ایوب کو تاحیات صدر قرار دینے کی ترمیم کی جائے بھٹونے مس جناح کو ضدی بڑھیا کہا اگرچہ یہ تمام تجاویز مسترد ہوئیں۔ ایوب خان نے الیکشن تین طریقوں سے لڑنےکا فیصلہ کیا۔ پہلامذھبی سطح پر،انچارج ، پیرآف دیول تھے جنہوں نے مس جناح کےخلاف فتوےديئے دوسری انتظامی سطح پرسرکاری ملازم ایوب کی مہم چلاتے رھے تیسری عدالتی سطح پرمس جناح کےحامیوں پرجھوٹےمقدمات درج ہوئےعدالتوں سے انکے خلاف فیصلے لئے گئے۔ سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب کےساتھ تھے۔بھٹو،جتوئی،۔محمدخان جونیجو،ٹھٹھہ کےشیرازی،خان گڑھ کے مہر،۔نواب شاہ کےسادات،بھرچونڈی،رانی پور،ہالا،کےپیران کرام ایوب خان کےساتھی تھے۔جی ایم سید ، حیدرآباد کےتالپوربرادران اور بدین کے فاضل راہو مس جناح کے حامی تھے یہی لوگ غدار تھے ۔ پنجاب کے تمام سجادہ نشین سوائے پیرمکھڈ صفی الدین کوچھوڑکر باقی سب ایوب خان کے ساتھی تھے۔سیال شریف کےپیروں نے فاطمہ جناح کےخلاف فتوی دیا پیرآف دیول نے داتادربار پر مراقبہ کیا ۔اور کہاکہ داتاصاحب نے حکم دیا ہے کہ ایوب کوکامیاب کیاجائے ورنہ خدا پاکستان سے خفا ہو جائے گا۔ آلومہار شریف کے صاحبزادہ فیض الحسن نے عورت کےحاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کی ۔مولاناعبدالحامدبدایونی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سے مذاق اور ناجائز قرار دیا حامدسعیدکاظمی کے والد احمدسعیدنے ایوب کو ملت اسلامیہ کی آبروقراردیا یہ لوگ دین کے خادم ہیں۔لاھورکے میاں معراج الدین نے فاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقدکیا جس سےمرکزی خطاب غفارپاشا وزیربنیادی جمہوریت نے خطاب کیا معراج الدکن نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کاالزام لگایا موصوف یاسمین راشدکےسسرتھے۔ میانوالی کی ضلع کونسل نے فاطمہ جناح کے خلاف قراردداد منظور کی ۔ مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے ایوب خان کی حمایت کااعلان کیا اور دعا بھی کی پیرآف زکوڑی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سے مذاق قراردیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا اور ایوب کی حمایت کااعلان کیا۔ سرحدمیں ولی خان مس جناح کےساتھ تھے ۔یہ غدارتھے۔ بلوچستان میں مری سرداروں اورجعفرجمالی کوچھوڑ کر سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے۔ قاضی محمد عیسی مسلم لیگ کابڑ انام بھی فاطمہ جناح کےمخالف اورایوب کے حامی تھے انہوں نے کوئٹہ میں ایوب کی مہم چلائی ۔ حسن محمودنے پنجاب و سندھ کے روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔ خطہ پوٹھوہارکے تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے ۔ چودھری نثار والد برگیڈیئرسلطان , ملک اکرم جو دادا ہیں امین اسلم کے ملکان کھنڈا کوٹ فتح خان، پنڈی گھیب، تلہ گنگ ایوب کے ساتھ تھے سوائے چودھری امیر اور ملک نواب خان کےاور الیکشن کے دو دن بعد قتل ہوئے۔ شیخ مسعود صادق نے ایوب خان کیلئے وکلاہ کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئ لوگوں نے انکی حمایت کی پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے اسکےعلاوہ میاں اشرف گلزار ۔بھی فاطمہ جناح کے مخالفین میں شامل تھے۔ صدارتی الیکشن 1965کے دوران گورنر امیرمحمد خان صرف چند لوگوں سےپریشان تھے ان میں شوکت حیات،۔خواجہ صفدر جو والد تھے خواجہ آصف کے، چودھری احسن جو والد تھے اعتزاز احسن کے ، خواجہ رفیق جو والد تھے سعدرفیق کے ، کرنل عابدامام جو والد تھے عابدہ حسین کے اورعلی احمد تالپورشامل تھے۔ یہ لوگ آخری وقت تک۔۔فاطمہ جناح کےساتھ رہے۔ صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکستان توڑنےکاالزام بھی لگا یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جس میں مس جناح کی بھارتی سفیرسےملاقات کاحوالہ دياگیا اوریہ بیان کہ قائدتقسیم کےخلاف تھے یہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایاگیا ایوب اس کو لہراکر مس جناح کوغدارکہتےرھے۔ پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللّہ جیسی نظم لکھنےوالے اصغرسودائی ایوب خان کے ترانے لکھتے تھے۔ اوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نے چاپلوسی کےریکارڈ توڑڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جوآجکل اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کامذاق اڑاتےہیں۔ سرورانبالوی اور دیگرکئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے۔ حبیب جالب، ابراھیم جلیس ، میاں بشیرفاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعرتھے۔ جالب نے اس کام میں شہرت حاصل کی ۔ میانوالی جلسےکےدوران جب گورنرکے غنڈوں نے فائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کرکھڑی ہوگئیں اسی حملےکی یادگا بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کےیہ بولی نظم ہے۔۔فیض صاحب خاموش حمائتی تھے۔ چاغی،لورالائی ، ،سبی، ژوب، مالاکنڈ، باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب ، فاطمہ کےووٹ برابرتھے مس جناح کےایجنٹ ایم خمزہ تھے اور اے سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے مس جناح کو کم ووٹوں سے شکست پنڈی گھیب میں ہوئی۔ ایوب کے82 اور مس جناح کے 67 ووٹ تھے۔اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کےڈرانےکےبعد۔ پیچھے ہٹ گئ یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پردستخط کیلئے ۔مس جناح کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے اسطرح کی دھونس عام رہی۔ ۔حوالےکیلئےدیکھئے ڈکٹیٹرکون ایس ایم ظفرکی ، میراسیاسی سفر حسن محمود کی ، فاطمہ جناح ابراھیم جلیس کی ۔مادرملت ظفرانصاری کی ۔۔فاطمہ جناح حیات وخدمات وکیل انجم کی۔ story of a nation..allana..A nation lost it's soul..shaukat hayat..Journey to disillusion..sherbaz mazari. اورکئ پرانی اخبارات۔۔

یہ تحریر دراصل ایک سرمد سلطان کے ٹویٹ ٹھریڈ کا مجموعہ ہے جو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
P { margin-bottom: 0.08in; }A:link { }

اپنی ایک لا علمی کا اعتراف!!

آج 2016 میں پارلمنٹ میں زنا سے متعلق ہونے ترامیم کا مطالعہ کرتے وقت "علم" ہوا (اور افسوس بھی کہ پروسیکیوٹر اور وکیل ہونے کی بناء پر مجھے اس بارے میں آگاہ ہونا چاہئے تھا نہ جانے پہلے اس ترمیم کو یوں کیوں نہ دیکھا) کہ اس میں ایسی ترامیم بھی ہیں جن کا اطلاق صرف "زنا" سے متعلقہ جرائم تک نہیں ہے بلکہ ان کے اثرات بڑے گہرے اور در رس ہیں اگر عدالتیں اس کو استعمال کریں اگرچہ اب تک اس کا استعمال ہوتے دیکھا نہیں پہلی ترمیم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 166 میں ذیلی دفعہ 2 میں اس انداز میں ہوا 
Whoever being a public servant, entrusted with the investigation of a case, fails to carry out the investigation properly or diligently or fails to pursue the case in any court of law properly and in breach of his duties, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine, or with both.  یعنی کہ ناقص تفتیش پر تفتیشی آفیسر کو تین سال تک کی سزا ہو سکتی ہے  پہلے پہلے یہ ترمیم دفعہ 218 اے کے طور پر صرف زنا سے متعلق تفتیش تک محدود کر کے شامل کرنے کی تجویز تھی، اگر تفتیشی آفیسرز کو ناقص تفتیش پر سزا کا رجحان پیدا ہو تو ممکن ہے کہ "انصاف" کے اسباب پیدا ہوں مگر دہشت گردی سے متعلق قانون کی دفعہ 27 کا استعمال(جو اسی مقصد کے تحت موجود ہے) بھی ججز کی نرم دلی کے باعث بے اثر ہوئے پڑی ہے۔ اسی طرح اسی ترمیم میں دفعہ 186 کی ذیلی دفعہ 2 میں شامل کیا گیا کہ  Whoever intentionally hampers, misleads, jeopardizes or defeats an investigation, inquiry or prosecution, or issues a false or defective report in a case under any law for the time being in force, shall be punished with imprisonment for a term which may extend to three years or with fine or with both.  یعنی کہ تفتیش و استغاثہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، گمراہ کرنے یا خراب کرنے میں شامل ہوا یا جھوٹی یا غلط رپورٹ کسی مقدمہ میں جاری کرے وہ بھی تین سال کی سزا کا مستعحق ہو گا۔ پہلے شاید زنابلجبر سے متعلق ترامیم کو پڑھتے ہوئے لاشعور میں یہ تھا کہ یہ ترامیم زنا جیسے جرم تک محدود ہے مگر اب اسے دوبارہ اتنے وعرصے بعد ایک نظر دیکھنے سے یہ آگاہی ہوئی کہ اس کے اثرات دور رس ہیں۔ ایک بار ایک ریٹائر جسٹس جو بعد میں قانون کی تدریس سے جڑ گئی تھے سے ایک محفل میں سنا تھا "قوانین کی اس دفعات کا اطلاق میں عمر کے بڑے حصے عدالت میں کرتا رہا ہو مگر اب جب پڑھانے کی نیت سے پڑھتا ہوں تو ان کے نئے معنی مجھ پر آشکار ہوتے ہیں" آج کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا ہے۔

جب ملزم انتقال کر گیا


ہمارے ایک دوست جو اب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہو گئے ہیں پہلے ہماری طرح اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ہم اسسٹنٹ پروسیکیوٹر جنرل ہیں اب) تھے ان کی عدالت کے ایک مقدمے میں ایک ملزم اچانک غیر حاضر ہوا اور پھر کئی تاریخوں میں جب وہ پیش نہ ہوا تو اس ملزم کے وکیل نے عدالت کو ملزم کے کسی رشتے دار کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ "ملزم کے فلاح رشتے دار سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم  بنام فلاح انتقال کر گئے ہیں لہذا میرے لئے مزید اس مقدمے میں پیروی کرنا ممکن نہیں" انہوں نے یہ آگاہی درخواست  اردو میں دی (ورنہ عموماً وکلاء انگریزی میں عدالت کو تحریری طور مخاطب کرتے ہیں) ۔
اس بنیاد پر اس مقدمہ کی سماعت معطل ہو گئی یعنی dormant کہہ لیں۔ چند ماہ بعد اس کیس کا تفتیشی آفیسر اس ملزم کی کسی دوسرے کیس میں گرفتاری کی رپورٹ لایا اور مقدمہ دوبارہ اوپن ہوا اور وہ ہی وکیل صاحب اس کی ضمانت کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوئے تو ہمارے دوست نے  وکیل کی سابقہ غلط بیانی کی طرف عدالت کو متوجہ کیا کہ یہ وکیل صاحب ماضی میں ملزم کے "انتقال" کی اطلاع دے کر عدالت کو گمراہ کر چکے ہیں لہذا اب ان کی درخواست ضمانت نہ صرف رد کی جائے بلکہ عدالت سے غلط بیانی پر وکیل کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ وکیل صاحب کا دعویٰ تھا انہوں نے کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں کی لہذا انہیں سماعت کا موقع فراہم کیا جائے وہ اگلی تاریخ پر سب واضح کر دیں گے لہذا تاریخ پڑ گئی۔
دن مقررہ پر سرکاری وکیل (ہمارے دوست) اور ملزم کے وکیل دونوں حاضر ہوئے ملزم کے وکیل نے اردو لغت کی چند کتب کی مدد سے ثابت کیا کہ درخواست میں "انتقال" سے مراد ملزم کا مقام یا جگہ تبدیل کرنا ہے نہ کہ وفات پا جانا لہذا اگر زبان سے ناواقفیت کی بناء پر عدالت یا کسی فرد نے مختلف سمجھا تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔
بعد میں ضمانت ہوئی ملزم کی یا نہیں یہ تو معلوم نہیں مگر وکیل صاحب کی واہ واہ ضرور ہوئی ہمارے وہ دوست آج زباں دانی اور الفاظ کے چناؤ میں اپنی مثال آپ ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنا استاد انہی وکیل صاحب کو مانتے ہیں ہمیں علم نہیں اس عدالت کے جج صاحب کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے۔
یہ سارا قصہ ہمیں ابن آس صاحب کے اس اسٹیٹس سے بتانے کا خیال آیا۔

موٹیویشنل اسپیکر

ابے آج کل کیا کر رہا ہے
"کچھ نہیں بس فارغ ہو وقت برباد کر رہا ہوں"
اچھا! ایسا کر پھر یو ٹیوب پر ڈاکومینٹری دیکھا کر یا کسی اچھے موٹیویشنل اسپیکر کو سنا کر
"کوئی اچھا نام بتا بتا اس سلسلے میں"
یار ایک لاہور کا ہے قاسم علی شاہ یا کراچی کا ہے عاطف احمد اچھے ہیں ویسے
"ٹھیک ایک ہندوستانی کا نام بھی سنا ہے سندیپ کر کے نام ہے وہ کیسا ہے"
وہ بھی ٹھیک ہے اسے بھی سنا جا سکتا ہے
"ویسے ان کو سننے سے موٹیویشن ملتی ہے کیا؟"
ابے موٹیویشن ان اسپیکروں سے نہیں ملتی بس باتیں کرنا آ جاتی ہے یہ فائدہ ہے سننے کا

آسیہ ملعونہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

قانونی اعتبار سے آسیہ بری ہو چکی ، ریویو داخل بھی ہوا تو بھی سزا بحال ہونا ممکن نہیں اب قانونی طور پر۔
اس کیس میں سزا برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی مواد تھا اور یاد رہے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھتے وقت عدالت سے باہر عوامی جرگہ میں ملزمہ کے اقبال جرم کو قانون کی روشنی میں پہلے ہی رد کر دیا تھا یوں اس فیصلے میں باقی تضادات کے مقابلے میں دو ہی تضاد ایسے ہیں جنہیں بریت کی وجہ بیان کیا جا سکتا ہے ایک مدعی (قاری ) تک اس توہین کی خبر کس طرح پہنچی؟ اس سلسلے میں مثل پر دو بیان ہیں ایک میں قاری کی بہن نے اسے بتا کہ اس کی شاگرد خواتین  کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دوسرا وہ خواتین خود قاری صاحب کے سامنے پیش ہوئیں۔ دوسرا خواتین نے دوران جرح عدالت میں فالسے کے باغ میں پانی پینے والی بات پر ہونے والے جھگڑے کی صحت یا واقعی سے انکار کیا مگر باقی دیگر گواہان نے اس جھگڑے سے متعلق گواہی دی۔
باقی تضادات عوامی جرگہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جسٹیس کھوسہ صاحب کو فوجداری مقدمات میں پاکستان میں سند مانا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے بہت بہترین ہوتے ہیں ، جس قدر محنت سے انہوں نے اپنا اضافی نوٹ فیصلے کے حق میں لگایا ہے یقین جانے اس سے آدھی محنت وہ اختلافی نوٹ بھی لگا سکتے تھے یہ ہی نہیں اس سے بھی کم محنت میں وہ ممتاز قادری والے کیس میں سزائے موت کو عمرقید میں بدل سکتے تھے۔ (آسیہ اور عاصیہ کو ایک سمجھنا بھی عجب غلطی ہے معلوم ہوتا ہے صرف انگریزی کتاب سے ریفرنس لیا گیا ہے جو تلفظ ملنے سے یہ غلطی کر لی)

اور جس قدر محنت اور باریک بینی سے چیف صاحب نے آسیہ والی ججمنٹ لکھی ہے اس سے آدھی محنت سے بھی کم محنت میں شاہزیب والے کیس میں جبران ناصر کی پٹیشن/درخواست رد ہو سکتی تھی (فوجداری مقدمات میں تیسرے فریق کی درخواست پر فیصلہ بدلنے کی اس سے قبل کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری نہ کوئی سینئر ایسی کوئی مثال بیان کرتا ہے)۔

مختصر قانون یقین اہم ہے مگر جج کی منشاء بھی کہیں کہیں غالب ہوتی ہے۔ یہ منشاء ہی دلیل و تاویل کا فرق ہوتی ہے۔ اس ججمنٹ پر کسی جج نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا ججمنٹ کے حق میں یہ ایک بہت بڑا آرگومنٹ ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔
مذہبی حلقوں میں ملک کی بڑی عدالت اپنا وقار اس ہی مقام پر لے آئی ہے جس مقام پر نظریہ ضرورت کو متعارف کروانے اور پی سی او حلف کے بعد سیاسی حلقوں میں پہنچ گئی تھی۔
اکتیس اکتوبر کو اب ہر سال انگریز دور کے غازی علیم الدین  شہید کے ذکر کے ساتھ ملک پاکستان کے ایوان اقتدار و عدلیہ بارے کیسے خطاب ہوا کرے گے گلی گلی کیا آپ انہیں آج ہی بیان کر سکتے ہیں۔

برا تو عوام ہے!!!

ہمارے ایک دوست نے ایک بار  ہمیں ایک قصہ سنایا آپریشن رد الفساد کے دور کا جن علاقوں میں پاک فوج نے آپریشن شروع کئے ان علاقوں میں طالبان کی کسی حد تک مقامی سپورٹ بھی ہوتی تھی لہذا پاک فوج وقت انخلاح مقامی افراد سے انٹرویو وغیرہ یا یوں کہہ لیں بات چیت وغیرہ کرتے تھے  کہ ممکنہ طور پر کوئی کام کی بات جو آپریشن میں مدد گار ہو سکے شاید مل جائے دوسری طرف مقامی افراد بھی خوف میں مبتلہ تھے نہ فوج مخالف بات کرتے نہ طالبان کی پرزور مخالفت کیونکہ تذذب کا شکار تھے
ایسے ہی ایک موقعہ پر ایک مقامی بزرگ سے  جب پوچھا گیا کہ طالبان بارے کیا رائے ہے تو جواب دیا “ سنا ہےاچھے لوگ ہیں اللہ کے قانون کی بات کرتے  ہیں قرآن و سنت کا بات کرتے ہیں اس کا نفاذ چاہتے ہیں اس زمین پر”
جوابن پاک فوج کے بارے سوال کیا گیا تو جواب آیا “وہ بھی اچھے لوگ ہیں پاکستان کی بات کرتے ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے مسلمانوں کا ملک اللہ اور رسول کے لئے بنا ہے اس کی سالمیت چاہتے ہیں”
اب کے اگلا سوال ہوا کہ “طالبان بھی اچھے فواج بھی اچھی یہ کیا بات ہوئی برا کوئی تو ہو گا؟”
بزرگ گویا ہوئے “برا تو ہم ہے ہم عوام کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی”

گزشتہ دوماہ سے ملک میں الیکشن کے بعد اب تو لگتا ہے بزرگ نے ٹھیک کہا “برا تو ہم عوام ہے!!!!  عوام!! کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی باقی سب تو اچھا ہے کیا پٹواری، کیا یوتھیا، کیا جیالا کیا جماعتی یا کسی اور سیاسی جماعت یا گروہ کا حمایتی”

فوجی ڈیم

ایک سینئر بتا رہے تھے ماضی میں جب بھی فوجی حکومت آئی یعنی فوجی حکمران آیا اس نے ڈیم بنانے پر زور دیا یا اس کا سوشہ چھوڑا۔
پوچھا فوجی حکمران مطلب فوج کا حکمران
بے دھیانی سے بولے "ہاں"
تو پوچھا ڈیم کے نعرہ کا مطلب فوجی حکومت ہوتا ہے ؟
بولے خاموش بیٹا تیری عمر ابھی میری عمر جتنی نہیں ہوئی کوئی دوسری بات کر۔

ایلیکٹیبل

ایک عجیب معاملہ ہے بڑی پارٹیوں  کے نامرذ امیدوار کردار میں بڑے نہیں اور جو امیدوار  کردار میں اچھے ہیں وہ بڑی پارٹی میں نہیں۔ ہمارے ملک کی جمہوریت میں یوں لگتا ہے بڑے و بُرے  اور اچھے و نکے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ دلچسپ بات جو پارٹی جس قدر کم عوام میں مقبول ہوتی ہے اس قدر بہترین کردار کا امیدوار نامزد کرتی ہے اور جو جو عوامی حمایت بڑھتی جاتی ہے اس کا ممکنہ امیدوار اس قدر کمزور کردار کا حامل ہوتا ہے۔ اس اعلی درجے کے پست کردار امیدوار کو ایلیکٹیبل کا نام دیا جا رہا ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ منتخب امیدوار ہمارے معاشرے کا آئینہ نہیں ہیں؟ اگر جمہوریت واقعی ہی عوام کی حکومت کی ایک شکل ہے تو اس سے یہ اخذ کیا جائے کہ بحیثیت قوم ہم  پست کردار ہیں؟ یا ابھی ہم قوم کی تعریف سے بھی دور ایک ہجوم یا گروہ ہیں؟

دعا، طلب اور شرف قبولیت

یوں لگتا ہے کچھ دعائیں منظور ہو کر نہیں دیتی چاہے کتنا رو کر مانگو اور کچھ خیالات ابھی طلب کی دہلیز پر پہنچتے بھی نہیں کہ پورے ہو جاتے ہیں۔ مطلوب کے نہ ملنے کا احساس بن مانگے ملنے والی نعمتوں پر شکر گزاری کے راستے بند کر دیتا ہے۔
بڑے بزرگ کہتے ہیں جو دعائیں قبولیت کا شرف نہیں رکھتی ان کے بدل میں ملنے والی نعمت دراصل انمول ہوتی ہیں مگر اس کی آگاہی صرف اس کو ہو پاتی ہے جو شکر گزار  و رب کی رضا پر مطمئن ہو بصورت دیگر بندہ ایسی راہ پر چل نکلتا ہے جس سے آخرت کی کھیتی و فصل دونوں تباہ ہو جاتے ہیں۔
دعا و شکر گزاری کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔  شکر گزاری دراصل دعا کی قبولیت کی سند ہے۔ خالق کی عبادات، اللہ کے بندوں کی مدد و ان پر احسان، ہر مشکل و تکلیف پر صبر، مختصر یہ کہ زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کو یاد رکھنا ہی شکرگزاری ہے۔
اسے اپنے بندے کا رو رو کر مانگنا پسند ہے مگر نہ ملنے پر اپنے بندے کا رونا نہیں۔ طلب کے پورا نہ ہونے پر شکایت کرنے والے عموماً ذہانت سے نہیں عقل سلیم سے مرحوم ہوتا ہے جس کی ایک شکل گمراہی کی وہ سطح ہے جب کوئی رب کی ذات سے مایوس ہو کر اس کے ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔
مانگو!! اس کی ذات سے یہاں تک خواہش کے پورے نہ ہونے پر مانگ بدل جائے مگر مایوسی تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے مانگ کا بدلنا بھی سند خوشنودی ہے۔

شاہ رخ جتوئی کی رہائی کیوں ممکن ہوئی؟؟؟

شاہ رخ جتوئی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے اس کی رہائی کے ساتھ ہی سوشل اور روایتی میڈیا پر فیصلہ پر تنقید جاری ہے ۔عام افراد پاکستانی قانون سے نا واقف ہیں سو ان کو بس یہی نظر آرہا ہے کے ہمیشہ کی طرح ایک دولت مند شخص سزا سے بچ گیا ۔
پاکستان میں کچھ جرائم نا قابل راضی نامہ ہیں اور کچھ قابل راضی نامہ ہیں۔ قتل کا مقدمہ دفعہ 309 اور 310 تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری دفعہ 345 ذیلی دفعہ 2 کے تحت عدالت مجاز کے اجازت سے قابل راضی نامہ ہوتا ہے ۔ مگر چونکہ اس قتل سے عام لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا تھا (جو دراصل میڈیا کوریج کا نتیجہ تھا) اس لیے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں جو کہ ناقابل راضی نامہ ہے ۔شاہ رخ کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو گئی مگر اپیل کے دوران شاہ زیب کے وارثان سے راضی نامہ ہوگیا، مگر اس کے باوجود شاہ رخ کی رہائی ممکن نہ تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں. 1 ۔دہشت گردی کی دفعہ کی موجودگی میں راضی نامہ ممکن نہ تھا۔
2۔۔دفعہ 338 ای (2) تعزیرات پاکستان کے تحت اگر کسی قبل راضی نامہ کیس میں سزا ہو جائے اور اپیل میں راضی نامہ ہو تو عدالت کی صوابدید ہوگی کہ اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے جس کے الفاظ یوں ہیں!
“All questions relating to waiver or compounding of an offence or awarding of punishment under Section 310, whether before or after the passing of any sentence, shall be determined by trial Court”
مزید براں دفعہ 311 تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کے کیس میں راضی نامہ ہونے کے باوجود عدالت اصول "فساد فی الآ رض" کے تحت تعزیر میں ملزم کو سزا دےسکتی ہے۔
اس سلسلے میں ذیل کا فیصلہ ایک نظیر ہے۔
“Ss. 302(b)1149, 186/149, 353/149, 148/149 & 311---Anti-Terrorism Act (XXVII of 1997), S.7---Criminal Procedure Code (V of 1898), S.345(2)---Constitution of Pakistan (1973), Art.185(3)---Parties had compromised the matter and compensation had already been received by the complainants---Permission to compound the offence, therefore, was accorded under S.345(2), Cr.P.C.---Accused, however, had committed the murder of two young boys who were confined in judicial lock-up in a brutal and shocking manner, which had outraged the public conscience and they were liable for punishment on the principle of "Fasad-fil-Arz"---Accused had taken the law in their hands without caring that police stations or Court premises were the places where law protected the life of citizens---Consequently, in exercise of jurisdiction under S.311, P.P.C. death sentence of two accused was reduced to imprisonment for life under S.302(b), P.P.C. and under S.7 of the Anti-Terrorism Act, 1997 on both the counts---Similarly, sentences of imprisonment for life awarded to two other accused under S.302(b), P.P.C. was reduced to fourteen years' R.I., but their life imprisonment awarded under S.7(b) of the Anti-Terrorism Act, 1997, was maintained on both the counts with benefit of S.382-B, Cr.P.C.---Remaining sentences awarded to accused were kept intact---All sentences were directed to run concurrently. (P L D 2006 Supreme Court 182)
ایسا ہی ایک فیصلہ PLD 2006 Peshawar page 82 ہے باقی عموما عدالتیں فساد فی الآ رض کی تعریف میں عموما سفاکی کے جز کو دیکھی ہیں۔ . مگر سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کی دفعات ختم کردی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا جرم دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتا۔
“Ss. 6 & 7---Act of terrorism---Scope---Occurrence which resulted due to a personal motive/enmity for taking revenge did not come within the fold of "terrorism"---Mere fact that crime for personal motive was committed in a gruesome or detestable manner, by itself would not be sufficient to bring the act within the meaning of terrorism or terrorist activities---Furthermore, in certain ordinary crimes, the harm caused to human life might be devastating, gruesome and sickening, however, this by itself would be not sufficient to bring the crime within the fold of terrorism or to attract the provisions of Ss. 6 or 7 of the Anti-Terrorism Act, 1997, unless the object intended to be achieved fell within the category of crimes, clearly meant to create terror in people and/or sense of insecurity. (2017 S C M R 1572)
اب ٹرائل کورٹ راضی نامہ کو تسلیم کرنے کی پابند تھی ۔جس سے شاہ رخ جتوئی کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ۔ مگر اب بھی سرکار سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ اپیل دائر کرسکتی ہے۔ جو یقیناً وہ نہیں کریگی مگر پرائیویٹ سطح پر دائر کر دی گئی ہے۔اس مقدمہ سے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت ملی کہ پاکستان میں امیر آدمی کے سزا سے بچنے کے بہت سے راستے ہوتے ہی,مگر درحقیقت ایسا بالکل نہیں ہے اس قانون کے تحت ہر طبقے کے افراد فیض یاب ہوئے ہیں اور یہ قانون خاندانوں کی دشمنوں کے کے اختتام کا سبب بھی بنتا ہے. مگر اگر اس قانون سے کسی کو اختلاف ہے تب اس کی تبدیلی اسمبلی سے ہی ممکن ہے بذیعہ ترمیم کیونکہ فیڈریل شریعت کورٹ (PLD 2017 page 8 FEDERAL-SHARIAT-COURT ) سے ایسی ایک پٹیشن جس میں متعلقہ دفعات 306 (b) اور (c), 307(1) (b) اور (c), 309(1), 310(1) کوچیلنج کیا گیا تھا رد کر دی گئی ہے ۔

※※※اقسام وکیل با زبان وکیل ※※※

(نوٹ یہ تحریر مجھے بذریعہ وٹس اپ موصول ہوئی لکھاری کا علم نہیں مگر حسب حال ہے)

‎ہم پر یہ راز کھلا کہ دیگر مخلوقات کی طرح وکیلوں کی بھی کئی اقسام پائ جاتی ہیں ۔

‎جن کی حتمی تفصیلات بارکونسل کے مستقل  افسران کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔کچھ ناکام وکیلوں کی مدد سے ہم تاحال وکیلوں کی جن اقسام کو دریافت کر پا ۓ وہ درج زیل ھیں

اصلی وکیل:

‎سب سے پہلے تو اصلی وکیل، یہ وکیلوں کی وہ کمیاب قسم ہے جو شاذ شاذ ہی نظر آتے ھیں۔یہ ھر نۓ قانون سے واقفیت کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ھیں۔ عموماََ ان کے جلو میں دو نہایت تابع فرماں قسم کے ننھے وکیل یعنی جونیئر ہوتے ہیں، جن میں سے ایک کے ہاتھ می مقدموں کی فائلیں اور دوسرے کے ہاتھوں میں کوئی پی ایل ڈی کی موٹی سی کتاب یا اصل وکیل کی ڈائری ہوتی ہے ، جو اس کے لئے کسی کتاب سے کم نہیں ہوتی یہ دونوں اصل وکیل کے دائیں بائیں چلتے ہوئے انتہائی ہنر مندی سے ایک ایسی مثلث تشکیل دے لیتے ہیں جس میں اصلی وکیل اور انکے درمیان شرقاََ غرباََ ڈیڑھ قدم کا فاصلہ اور آپس میں شمالََ جنوباََ ٹھیک تین قدم کا فاصلہ برقرار رہتا ہے ۔

‎اصلی وکیل اپنے مقدمات کی پیروی خود کریں یا کسی جونیئر کو بھیجیں ہر دو صورت میں انہیں مقدمے کی ٹھیک ٹھیک صورتحال معلوم ہوتی ہے ۔ اور یہ مقابلے کے وکیل سے ایک قدم آگے کی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں گفتگو کم کرتے ہیں سوچتے زیادہ ہیں ان کے منہ سے نکلنے والا ایک ایک جملہ آئین کی پُر پیچ ندیوں میں نہایا ہوا، اور قانون کی موٹی موٹی کتابوں کی ہوا سے سکھایا ہوا ہوتا ہے ۔ اس پہلی قسم کے وکیلوں کو انسانوں کے بجائے کتابوں کے درمیان رہنا زیادہ پسند ہوتا ہے۔۔۔دفتر ان کا وقت زیادہ گزرتا ھے ۔سوائے جج حضرات کے ، یہ عام زندگی میں کسی سے نہیں الجھتے ، چونکہ یہ قسم شاذ و نادر نظر آتی ہے لہذا ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔

قبلی وکیل:

یہ عموماً میرون ٹائ میں ملبوس نظر آئیں گے اور اس تکلیف کے پیش نظر کے ان کو مقدمہ میں پیش ھو نے کی ابھی اجازت نہ ھے ان کا خیال ھوتا ھے کہ اگر موصوف استاد کی جگہ یہ ھوتے تو ان کی شعلہ بیانی قابل سماعت ھوتی جبکہ مستقبل میں اس کے بالکل برعکس ھوتا ھے اور دوران بحث اپنی آواز بمشکل سنائ دیتی ھے۔

منتھلی وکیل:

یہ قسم سرکاری دفاتر میں پائ جاتی ھے جن کو منتھلی تنخواہ کی ترسیل ان کے بینک اکاونٹ میں مل جاتی ھی اور ان کا کام صرف عدالتوں کے باھر کھڑے  ھو کر اس وکیل کا انتظار کرنا ھوتا ھے جس کو اس سرکاری ادارے نے متعین کیا ھوتا ھے۔  ان کے پاس ایک سرکاری گاڑی ھوتی ھے جس میں پیٹرول ڈلتا ھی رھتا ھے۔ ان کا قوانین کی تشریح سے کوئ واسطہ نہیں ھوتا اور الیکشن کے دن بھی وارد ھوتے ھیں۔

الیکشنلی وکیل:

یہ جوائنٹ سیکرٹری سے لے کر صدر تک کا الیکشن لڑتا ھے اور  وہ کچھ کرتا ھے جو ساری اقسام کے وکیل مل کر بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔  میرا مطلب بار کی خدمت۔۔۔۔۔ کرتا ھے۔۔۔

جبلی وکیل:

جبل عربی میں پہاڑ کو کہتے ھیں ۔۔۔تو شاھیں ھے بسیرا کر لا فرموں کی چٹانوں پر۔۔۔۔ اس وکیل کو اس کے علم کے عوض دس گنازیادہ  ڈالر ملتے ھیں۔ اس کی زندگی پرتعیش اور اکثر رنگین ھوتی ھے۔۔۔ فکر معاش اس کا مسلۂ نہیں ھوتا بلکہ مزید تر معاش از خود اس کی تلاش میں ھوتا ھے۔۔۔۔ویک اینڈ پر اس کا خرچہ ایک سول جج کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ھو جایا کرتا ھے۔۔۔ یہ اکثر سوال کرتا پایا جاتا ھے کہ آجکل ھائ کورٹ کی عمارت کہاں واقع ھے۔۔۔وجود زن سے ان کی تصویر کائنات میں رنگ سنبھالے نہیں سنبھلتے۔۔۔۔۔پردہ پوشی درست است

نسلی وکیل:

‎ان کے علاوہ وکیلوں کی ایک قسم نسلی وکیل بھی ہے ، یہ وکیلوں کی وہ قسم ہے جو نسل در نسل
‎وکالت سے وابستہ ہے ان میں کچھ صرف ددیال کی طرف سے واکالت ورثے میں پاتے ہیں اور کچھ نجیب الطرفین وکیل ہوتے ہیں ادھر ابا اور دادا وکیل اور ادھر اماں اور نانا وکیل ۔ وکالت ان کی رگوں میں دوڑ تی ہے ۔ اور اگر انہیں وکالت سے دلچسپی نہ بھی ہو تب بھی یہ کامیاب وکیل ثابت ہوتے ہیں ۔ گھرانے کا گھرانا وکیل ہوتا ہے نہار منہ مقدموں کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ خاندان میں کوئی جج بھی ہوجائے تو سونے پہ سہاگہ ۔ نسلی وکیلوں کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، انہیں بچپن ہی سے وکالت کے داؤ پیچ سکھائے جاتے ہیں جس سے یہ اسکول میں اساتذہ اور ساتھ پڑھنے والے بچوں کی زندگی مشکل کردیتے ہیں بعد کو یہی مشق شدہ تربیت جج صاحبان کے لئے دردِ سر بنتی ہے ۔ ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ بھر ی عدالت میں مقدمے کی پیروی کے دوران دلائل دیتے ہوئے وکیل صاحب نے "آئی آبجیکٹ مائی لارڈ" کے بجائے روانی میں " آئی آبجیکٹ بڑے ماموں" کہہ دیا۔

‎ایک اعتبار سے یہ مظلوم بھی ہوتے ہیں کہ کسی مقدمے کی بیروری میں تاخیر سے پہنچنے پر جو ڈانٹ جج صاحب سے کمرہِ عدالت میں پڑتی ہے وہی ڈانٹ رات کو کھانے کی میز پر انہیں جج صاحب سے بحثیت والدِ محترم دوبار سننے کو ملتی ھے

کسلی وکیل:

‎نسلی وکیلوں کو جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں ، ان کے مقابلے میں وکیلوں کی ایک دوسری قسم جسے "کسلی وکیل" کہا جاتا ہے ہمیشہ آرام سے رہتی ہے ۔ ان کی نسبت ان کی کسل مندی کی بنیاد پر ہے ۔ یہ انتہائی سست اور کاہل قسم کے وکیل ہوتے ہیں ، ایک تو عدالتی نظام کی رفتار پر پہلے ہی تنقید کی جاتی ہے ، کسلی وکیل اس رفتار کو اور سست کردیتے ہیں ، ذرا ذرا سی بات بلکہ بات بے بات پیروئی کی نئی تاریخ لینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ " تاریخ پہ تاریخ ۔۔۔ تاریخ پہ تاریخ"جیسے مشہور فلمی ڈائیلاگ انہیں کسلی وکیلوں کی مرہونِ منت ہیں ۔ یہ زیادہ تر وقت اپنے دفاتر میں گزارتے ہیں بار کونسل میں کم آتے ہیں ۔ عدالتوں میں اس سے بھی کم جاتے ہیں ۔ یہ کبھی کبھی بار کونسل کے سوفوں میں یوں دھنس کے بیٹھے نظر آتے ہیں کہ کوٹ پشت سے اٹھ کر گدی سے ہوتا ہوا سر کے اوپر آکر ایک موکلہ سا بنا لیتا ہے جس سے منہ نکال کر یہ بے دلی اور نفرت سے چاک و چوبند وکیلوں کو گھورتے ہیں ۔ ویسے تو یہ تمام لوگوں کو گھورتے ہیں مگر ان کےغضب کا سب سے زیادہ شکار ، "پسلی وکیل " ہوتے ہیں ۔

پسلی وکیل:

‎جی ہاں ، "پسلی وکیل"یہ وہ وکیل ہیں جن کیلئے محاورے کا ڈیڑھ پسلی بھی زیادہ معلوم ہوتا ہے ۔ معصوم معصوم چہروں والے یہ ننھے وکیل ، اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے پڑھائی میں بہت آگے ہوتے ہیں ۔ یہ بچپن میں غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کا بڑا حصہ، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں استعمال کرتے ہیں لہذا جسمانی نشونما کی رفتار سست پڑجاتی ہے ۔ اگر ایسے چار چھ پسلی وکیل ایک جگہ جمع ہوں اور پس منظر سے عدالت کی عمارت ہٹا دی جائے ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسکول کے بچے سالانہ ٹیبلو کی تیاری کررہے ہیں ۔

‎ایسے وکیل عموماََ جرائم کے مقدموں سے دور رہتے ہیں ، عموماََ ایسے مقدمات کا انتخاب کرتے ہیں جس میں کسی زور آور موکل سے واسطہ نہ پڑےمثلاََ مالی بے ضابتگی، نام کی تبدیلی ، ملکیت کی منتقلی، اور صلاح نامہ وغیرہ

ٹسلی وکیل:

‎ ۔ان کے بالکل مخالف ، وکیلوں کی ایک سب سے خطرناک قسم پائی جاتی ہے جسے "ٹسلی وکیل " کہا جاتا ہے ۔ یہ "ٹسلی" لفظ ٹسل سے ہے ۔ بمعنی اڑ جانا، ضد کرنا، کینہ رکھنا، جھگڑا کرنا ، دشمنی رکھنا، اس لفظ میں یہ تمام کیفیات یکجا ہیں ۔ اس نوع کے وکلا ء کے پاس زیادہ تر مقدمات اپنے ہی قائم کردہ ہوتے ہیں ۔جو انہوں نے اپنے قرب و جوار کے لوگوں پر مختلف اوقات اور مختلف کیفیات میں دائر کئے ہوتے ہیں ۔جن میں عام طور سے محلے کا دھوبی ، حجام، گاڑی کا مکینک، بچوں کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر، سسرالی رشتہ دار، الغرض جہاں جہاں ان کی ٹسل ہوجائے یہ وہیں مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔ یہ وکیل اپنی وکالت کی سند کا بے دریغ استعمال اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں ۔ بعض اوقات تو مقدمہ ہارنے کے بعد مقابلے کے وکیل تک پر مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔

وصلی وکیل:
‎البتہ وکیلوں کی سب سے زرخیز قسم وصلی وکیل ہوتے ہیں ۔ یہ صرف عدالتی شادیاں یعنی کورٹ میرج کرواتے ہیں۔ ان کے پاس کبھی مقدمات کی کمی نہیں ہوتی ۔ بلکہ عدالتی شادیوں کے نتیجے میں عداوتی مقدمات کا ایسا بیج بو تے ہیں جس سے دوسرے وکیلوں کا دال دلیہ بھی جاری ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ بارکونسل میں ان کی زیادہ آؤ بھگت نہیں ہوتی مگر اعداد و شمار سے ثابت کرنا مشکل نہیں کہ یہی طبقہء وکیلاں ساٹھ فیصد وکیلوں کیلئے معاشی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

جی نہیں میں بلاگر نہیں رہا!!!!

یہ ابتدائی وکالت بلکہ وکالت کے پہلے چھ ماہ کے دور کی بات ہے ہمارے ایک دوست ایک فوجداری کیس میں پھنس گئے چونکہ ان کی جان پہچان میں ہم ہی تھے لہذا وہ مسئلہ بیان کئے بغیر (سچی بات ہے کہ بتا بھی دیتے تو فرق نہیں پڑتا) ہمیں رفیق بنا کر لے گئے اور ایک پولیس والے سے جا ملوایا۔ اب چائے کیفے میں میز کے اس طرف اے ایس آئی صاحب ہمارے دوست کے "جرم" کی تفصیل بتا کر ہمیں اپنے احسانات بشکل رعایات کی تفصیل بیان کر رہے تھے۔ اپنے دوست سے ہم کیا کہتے بس پولیس والے کی بات سن کر جی جناب، اور شکریہ ادا کرتے رہے۔ وجہ سادہ سی تھی ہمیں جرم و قانون کی سمجھ تو نہ آئی مگر پولیس والا بات بات پر کہتا  "وکیل صاحب آپ تو قانون سمجھتے ہیں آپ ہی سمجھائیں" ۔ وہاں سے اٹھ کر ہم گھر آئے قانون کی متعلقہ کتاب اٹھائی اور بیان کردہ تفصیلات کی کی روشنی میں جانا کہ پولیس والا "کمائی" کر گیا ورنہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا جس قدر وہ باور کروا رہا تھا۔
تب ہم نے جانا کہ جھوٹی تعریف اور کم علمی دونوں میری پروفیشنل زندگی کے لئے اچھی نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ آئیندہ جو علم نہ ہو اس بارے پوچھ لینے، جان لینے کے بعد ہی آگے بڑھا جائے۔
یہ خیال کہ مجھے سب آتا ہے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی یہ کہ کوئی اس شعبہ یا ایسے معاملات سے نبردآزما ہو چکا ہے اس لئے بہتر جانتا ہو گا بھی درست نہیں۔
گزشتہ دنوں اپنے میٹرک کے ایک دوست سے سر راہ ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں پرانی یادیں تازہ کی دوران گفتگو کسی بات پر اس نے ہمارے باعلم و واقف حال ہونے کی ایک دلیل یہ دی کہ "تم تو سمجھتے ہو گے آخر بلاگر ہو" ہمیں اس جملے تو اوپر بیان کیا واقعی یاد آگیا لہذا اب یہ وضاحت کر دوں کہ بھائی لوگو بلاگر ممکن ہے اپنی پروفیشنل زندگی کے مخصوص معاملات میں تو جانکاری رکھتا ہو مگر اسے ہرفن مولا نہ سمجھا جائے۔ اہل علم وہ ہی ہے جو حصول علم کی جدو جہد جاری رکھے صرف اظہار رائے صاحب علم ہونے کی دلیل نہیں۔

اور سڑک بن گئی!!!!

یہ قریب بیس سال قبل کی بات ہے میرے رہائشی علاقے ماڈل کالونی کی ایک نہایت مصروف سڑک ماڈل کالونی روڈ مکمل طور پر تباہ تھی۔ ہم یار دوست اکثر مذاق میں کہتے کہ جس نے جھولے لینے ہیں وہ بائیک لے کر اُس طرف چلا جائے۔ مگر پھر ایک دن صبح صبح اس سڑک پر کارپیٹنگ ہوئی ہوئی تھی مکمل سڑک نئی نئی سی معلوم ہوتی تھی دیکھ کر حیرت اس لئے ہوئِی کہ ایک دن قبل جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو "جھولے" لے کر آئے تھے مطلب سڑک خستہ حالت میں تھی۔ معلومات لینے پر معلوم ہوا کراچی کی مشہور زمانہ پارٹی کے لیڈران نے ایک جلسہ کی سلسلے میں تشریف لانا تھا س لئے ایک ہی رات میں انتظامیہ نے "فرض شناسی" کا ثبوت دیا جو اہل علاقہ کے لئے چند دنوں کی "سہولت" کی شکل میں برآمد ہوا۔
تب یہ جانا کہ اگر آپ کے علاقے میں بہتری چاہے وقتی یا مستقل ان "جلسوں" کے مرہون منت ہوتی ہے جن کے سبب انہیں آپ کے محلے آنا پڑے۔ یوں وہ سڑک ہر جلسے و سیاسی ایکٹیوٹی پر "نئی " سی ہو جاتی مگر اب پھر دو سالوں سے وہ دوبارہ اجڑی ہوئی ہے۔
قریب ڈھائی سال قبل عمرکوٹ میں تعیناتی ہوئی تو میرپور خاص سے عمر کورٹ تک کی روڈ کی حالت زار دیکھ کر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا کہ یہ ہماری صوبائی حکومت کام کیوں نہیں کرتی۔ مگر ڈیڑھ ماہ قبل اس سڑک کی قسمت جاگی اور یہ سڑک بہتر انداز میں کارپیٹ ہونا شروع ہوئی چونکہ سیاسی جماعتوں کے جلسے پہلے بھی ہوتے رہے مگر اس روڈ کی حالت جوں کی توں رہی اس لئے اول خیال یہ آیا کہ ممکنہ طور پر یہ الیکشن سے قبل کیا جانے والا کام ہے مگر جب گزشتہ اتوار مقامی رہنما کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے مختلف "رہنماؤں" اور خاص کر صوبے کے حاکم جماعت کے تمام وہ لیڈر جن کا تعلق سندھ سے تھا کی آمد ہوئی تو معلوم ہوا یہ "ترقیاتی پروجیکٹ" اس شادی کی بدولت ہے۔
ایسی ہی خبر اس سے قبل لاہور سے "بنت مریم" کے گھر اپنی والدہ کی آمد پر تعمیر کی جانے والی سڑک سے جڑی ہے۔ یوں یہ بات پکی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے اپنے علاقے کی بہتری کے لئے یقین کوئی ایسی ہی تقریب رکھنی پڑے گی ورنہ کوئی امید بر نہیں آتی۔

Pages