شعیب صفدر

آسیہ ملعونہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

قانونی اعتبار سے آسیہ بری ہو چکی ، ریویو داخل بھی ہوا تو بھی سزا بحال ہونا ممکن نہیں اب قانونی طور پر۔
اس کیس میں سزا برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی مواد تھا اور یاد رہے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھتے وقت عدالت سے باہر عوامی جرگہ میں ملزمہ کے اقبال جرم کو قانون کی روشنی میں پہلے ہی رد کر دیا تھا یوں اس فیصلے میں باقی تضادات کے مقابلے میں دو ہی تضاد ایسے ہیں جنہیں بریت کی وجہ بیان کیا جا سکتا ہے ایک مدعی (قاری ) تک اس توہین کی خبر کس طرح پہنچی؟ اس سلسلے میں مثل پر دو بیان ہیں ایک میں قاری کی بہن نے اسے بتا کہ اس کی شاگرد خواتین  کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دوسرا وہ خواتین خود قاری صاحب کے سامنے پیش ہوئیں۔ دوسرا خواتین نے دوران جرح عدالت میں فالسے کے باغ میں پانی پینے والی بات پر ہونے والے جھگڑے کی صحت یا واقعی سے انکار کیا مگر باقی دیگر گواہان نے اس جھگڑے سے متعلق گواہی دی۔
باقی تضادات عوامی جرگہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جسٹیس کھوسہ صاحب کو فوجداری مقدمات میں پاکستان میں سند مانا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے بہت بہترین ہوتے ہیں ، جس قدر محنت سے انہوں نے اپنا اضافی نوٹ فیصلے کے حق میں لگایا ہے یقین جانے اس سے آدھی محنت وہ اختلافی نوٹ بھی لگا سکتے تھے یہ ہی نہیں اس سے بھی کم محنت میں وہ ممتاز قادری والے کیس میں سزائے موت کو عمرقید میں بدل سکتے تھے۔ (آسیہ اور عاصیہ کو ایک سمجھنا بھی عجب غلطی ہے معلوم ہوتا ہے صرف انگریزی کتاب سے ریفرنس لیا گیا ہے جو تلفظ ملنے سے یہ غلطی کر لی)

اور جس قدر محنت اور باریک بینی سے چیف صاحب نے آسیہ والی ججمنٹ لکھی ہے اس سے آدھی محنت سے بھی کم محنت میں شاہزیب والے کیس میں جبران ناصر کی پٹیشن/درخواست رد ہو سکتی تھی (فوجداری مقدمات میں تیسرے فریق کی درخواست پر فیصلہ بدلنے کی اس سے قبل کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری نہ کوئی سینئر ایسی کوئی مثال بیان کرتا ہے)۔

مختصر قانون یقین اہم ہے مگر جج کی منشاء بھی کہیں کہیں غالب ہوتی ہے۔ یہ منشاء ہی دلیل و تاویل کا فرق ہوتی ہے۔ اس ججمنٹ پر کسی جج نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا ججمنٹ کے حق میں یہ ایک بہت بڑا آرگومنٹ ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔
مذہبی حلقوں میں ملک کی بڑی عدالت اپنا وقار اس ہی مقام پر لے آئی ہے جس مقام پر نظریہ ضرورت کو متعارف کروانے اور پی سی او حلف کے بعد سیاسی حلقوں میں پہنچ گئی تھی۔
اکتیس اکتوبر کو اب ہر سال انگریز دور کے غازی علیم الدین  شہید کے ذکر کے ساتھ ملک پاکستان کے ایوان اقتدار و عدلیہ بارے کیسے خطاب ہوا کرے گے گلی گلی کیا آپ انہیں آج ہی بیان کر سکتے ہیں۔

برا تو عوام ہے!!!

ہمارے ایک دوست نے ایک بار  ہمیں ایک قصہ سنایا آپریشن رد الفساد کے دور کا جن علاقوں میں پاک فوج نے آپریشن شروع کئے ان علاقوں میں طالبان کی کسی حد تک مقامی سپورٹ بھی ہوتی تھی لہذا پاک فوج وقت انخلاح مقامی افراد سے انٹرویو وغیرہ یا یوں کہہ لیں بات چیت وغیرہ کرتے تھے  کہ ممکنہ طور پر کوئی کام کی بات جو آپریشن میں مدد گار ہو سکے شاید مل جائے دوسری طرف مقامی افراد بھی خوف میں مبتلہ تھے نہ فوج مخالف بات کرتے نہ طالبان کی پرزور مخالفت کیونکہ تذذب کا شکار تھے
ایسے ہی ایک موقعہ پر ایک مقامی بزرگ سے  جب پوچھا گیا کہ طالبان بارے کیا رائے ہے تو جواب دیا “ سنا ہےاچھے لوگ ہیں اللہ کے قانون کی بات کرتے  ہیں قرآن و سنت کا بات کرتے ہیں اس کا نفاذ چاہتے ہیں اس زمین پر”
جوابن پاک فوج کے بارے سوال کیا گیا تو جواب آیا “وہ بھی اچھے لوگ ہیں پاکستان کی بات کرتے ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے مسلمانوں کا ملک اللہ اور رسول کے لئے بنا ہے اس کی سالمیت چاہتے ہیں”
اب کے اگلا سوال ہوا کہ “طالبان بھی اچھے فواج بھی اچھی یہ کیا بات ہوئی برا کوئی تو ہو گا؟”
بزرگ گویا ہوئے “برا تو ہم ہے ہم عوام کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی”

گزشتہ دوماہ سے ملک میں الیکشن کے بعد اب تو لگتا ہے بزرگ نے ٹھیک کہا “برا تو ہم عوام ہے!!!!  عوام!! کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی باقی سب تو اچھا ہے کیا پٹواری، کیا یوتھیا، کیا جیالا کیا جماعتی یا کسی اور سیاسی جماعت یا گروہ کا حمایتی”

فوجی ڈیم

ایک سینئر بتا رہے تھے ماضی میں جب بھی فوجی حکومت آئی یعنی فوجی حکمران آیا اس نے ڈیم بنانے پر زور دیا یا اس کا سوشہ چھوڑا۔
پوچھا فوجی حکمران مطلب فوج کا حکمران
بے دھیانی سے بولے "ہاں"
تو پوچھا ڈیم کے نعرہ کا مطلب فوجی حکومت ہوتا ہے ؟
بولے خاموش بیٹا تیری عمر ابھی میری عمر جتنی نہیں ہوئی کوئی دوسری بات کر۔

ایلیکٹیبل

ایک عجیب معاملہ ہے بڑی پارٹیوں  کے نامرذ امیدوار کردار میں بڑے نہیں اور جو امیدوار  کردار میں اچھے ہیں وہ بڑی پارٹی میں نہیں۔ ہمارے ملک کی جمہوریت میں یوں لگتا ہے بڑے و بُرے  اور اچھے و نکے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ دلچسپ بات جو پارٹی جس قدر کم عوام میں مقبول ہوتی ہے اس قدر بہترین کردار کا امیدوار نامزد کرتی ہے اور جو جو عوامی حمایت بڑھتی جاتی ہے اس کا ممکنہ امیدوار اس قدر کمزور کردار کا حامل ہوتا ہے۔ اس اعلی درجے کے پست کردار امیدوار کو ایلیکٹیبل کا نام دیا جا رہا ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ منتخب امیدوار ہمارے معاشرے کا آئینہ نہیں ہیں؟ اگر جمہوریت واقعی ہی عوام کی حکومت کی ایک شکل ہے تو اس سے یہ اخذ کیا جائے کہ بحیثیت قوم ہم  پست کردار ہیں؟ یا ابھی ہم قوم کی تعریف سے بھی دور ایک ہجوم یا گروہ ہیں؟

دعا، طلب اور شرف قبولیت

یوں لگتا ہے کچھ دعائیں منظور ہو کر نہیں دیتی چاہے کتنا رو کر مانگو اور کچھ خیالات ابھی طلب کی دہلیز پر پہنچتے بھی نہیں کہ پورے ہو جاتے ہیں۔ مطلوب کے نہ ملنے کا احساس بن مانگے ملنے والی نعمتوں پر شکر گزاری کے راستے بند کر دیتا ہے۔
بڑے بزرگ کہتے ہیں جو دعائیں قبولیت کا شرف نہیں رکھتی ان کے بدل میں ملنے والی نعمت دراصل انمول ہوتی ہیں مگر اس کی آگاہی صرف اس کو ہو پاتی ہے جو شکر گزار  و رب کی رضا پر مطمئن ہو بصورت دیگر بندہ ایسی راہ پر چل نکلتا ہے جس سے آخرت کی کھیتی و فصل دونوں تباہ ہو جاتے ہیں۔
دعا و شکر گزاری کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔  شکر گزاری دراصل دعا کی قبولیت کی سند ہے۔ خالق کی عبادات، اللہ کے بندوں کی مدد و ان پر احسان، ہر مشکل و تکلیف پر صبر، مختصر یہ کہ زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کو یاد رکھنا ہی شکرگزاری ہے۔
اسے اپنے بندے کا رو رو کر مانگنا پسند ہے مگر نہ ملنے پر اپنے بندے کا رونا نہیں۔ طلب کے پورا نہ ہونے پر شکایت کرنے والے عموماً ذہانت سے نہیں عقل سلیم سے مرحوم ہوتا ہے جس کی ایک شکل گمراہی کی وہ سطح ہے جب کوئی رب کی ذات سے مایوس ہو کر اس کے ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔
مانگو!! اس کی ذات سے یہاں تک خواہش کے پورے نہ ہونے پر مانگ بدل جائے مگر مایوسی تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے مانگ کا بدلنا بھی سند خوشنودی ہے۔

شاہ رخ جتوئی کی رہائی کیوں ممکن ہوئی؟؟؟

شاہ رخ جتوئی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے اس کی رہائی کے ساتھ ہی سوشل اور روایتی میڈیا پر فیصلہ پر تنقید جاری ہے ۔عام افراد پاکستانی قانون سے نا واقف ہیں سو ان کو بس یہی نظر آرہا ہے کے ہمیشہ کی طرح ایک دولت مند شخص سزا سے بچ گیا ۔
پاکستان میں کچھ جرائم نا قابل راضی نامہ ہیں اور کچھ قابل راضی نامہ ہیں۔ قتل کا مقدمہ دفعہ 309 اور 310 تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری دفعہ 345 ذیلی دفعہ 2 کے تحت عدالت مجاز کے اجازت سے قابل راضی نامہ ہوتا ہے ۔ مگر چونکہ اس قتل سے عام لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا تھا (جو دراصل میڈیا کوریج کا نتیجہ تھا) اس لیے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں جو کہ ناقابل راضی نامہ ہے ۔شاہ رخ کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو گئی مگر اپیل کے دوران شاہ زیب کے وارثان سے راضی نامہ ہوگیا، مگر اس کے باوجود شاہ رخ کی رہائی ممکن نہ تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں. 1 ۔دہشت گردی کی دفعہ کی موجودگی میں راضی نامہ ممکن نہ تھا۔
2۔۔دفعہ 338 ای (2) تعزیرات پاکستان کے تحت اگر کسی قبل راضی نامہ کیس میں سزا ہو جائے اور اپیل میں راضی نامہ ہو تو عدالت کی صوابدید ہوگی کہ اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے جس کے الفاظ یوں ہیں!
“All questions relating to waiver or compounding of an offence or awarding of punishment under Section 310, whether before or after the passing of any sentence, shall be determined by trial Court”
مزید براں دفعہ 311 تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کے کیس میں راضی نامہ ہونے کے باوجود عدالت اصول "فساد فی الآ رض" کے تحت تعزیر میں ملزم کو سزا دےسکتی ہے۔
اس سلسلے میں ذیل کا فیصلہ ایک نظیر ہے۔
“Ss. 302(b)1149, 186/149, 353/149, 148/149 & 311---Anti-Terrorism Act (XXVII of 1997), S.7---Criminal Procedure Code (V of 1898), S.345(2)---Constitution of Pakistan (1973), Art.185(3)---Parties had compromised the matter and compensation had already been received by the complainants---Permission to compound the offence, therefore, was accorded under S.345(2), Cr.P.C.---Accused, however, had committed the murder of two young boys who were confined in judicial lock-up in a brutal and shocking manner, which had outraged the public conscience and they were liable for punishment on the principle of "Fasad-fil-Arz"---Accused had taken the law in their hands without caring that police stations or Court premises were the places where law protected the life of citizens---Consequently, in exercise of jurisdiction under S.311, P.P.C. death sentence of two accused was reduced to imprisonment for life under S.302(b), P.P.C. and under S.7 of the Anti-Terrorism Act, 1997 on both the counts---Similarly, sentences of imprisonment for life awarded to two other accused under S.302(b), P.P.C. was reduced to fourteen years' R.I., but their life imprisonment awarded under S.7(b) of the Anti-Terrorism Act, 1997, was maintained on both the counts with benefit of S.382-B, Cr.P.C.---Remaining sentences awarded to accused were kept intact---All sentences were directed to run concurrently. (P L D 2006 Supreme Court 182)
ایسا ہی ایک فیصلہ PLD 2006 Peshawar page 82 ہے باقی عموما عدالتیں فساد فی الآ رض کی تعریف میں عموما سفاکی کے جز کو دیکھی ہیں۔ . مگر سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کی دفعات ختم کردی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا جرم دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتا۔
“Ss. 6 & 7---Act of terrorism---Scope---Occurrence which resulted due to a personal motive/enmity for taking revenge did not come within the fold of "terrorism"---Mere fact that crime for personal motive was committed in a gruesome or detestable manner, by itself would not be sufficient to bring the act within the meaning of terrorism or terrorist activities---Furthermore, in certain ordinary crimes, the harm caused to human life might be devastating, gruesome and sickening, however, this by itself would be not sufficient to bring the crime within the fold of terrorism or to attract the provisions of Ss. 6 or 7 of the Anti-Terrorism Act, 1997, unless the object intended to be achieved fell within the category of crimes, clearly meant to create terror in people and/or sense of insecurity. (2017 S C M R 1572)
اب ٹرائل کورٹ راضی نامہ کو تسلیم کرنے کی پابند تھی ۔جس سے شاہ رخ جتوئی کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ۔ مگر اب بھی سرکار سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ اپیل دائر کرسکتی ہے۔ جو یقیناً وہ نہیں کریگی مگر پرائیویٹ سطح پر دائر کر دی گئی ہے۔اس مقدمہ سے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت ملی کہ پاکستان میں امیر آدمی کے سزا سے بچنے کے بہت سے راستے ہوتے ہی,مگر درحقیقت ایسا بالکل نہیں ہے اس قانون کے تحت ہر طبقے کے افراد فیض یاب ہوئے ہیں اور یہ قانون خاندانوں کی دشمنوں کے کے اختتام کا سبب بھی بنتا ہے. مگر اگر اس قانون سے کسی کو اختلاف ہے تب اس کی تبدیلی اسمبلی سے ہی ممکن ہے بذیعہ ترمیم کیونکہ فیڈریل شریعت کورٹ (PLD 2017 page 8 FEDERAL-SHARIAT-COURT ) سے ایسی ایک پٹیشن جس میں متعلقہ دفعات 306 (b) اور (c), 307(1) (b) اور (c), 309(1), 310(1) کوچیلنج کیا گیا تھا رد کر دی گئی ہے ۔

※※※اقسام وکیل با زبان وکیل ※※※

(نوٹ یہ تحریر مجھے بذریعہ وٹس اپ موصول ہوئی لکھاری کا علم نہیں مگر حسب حال ہے)

‎ہم پر یہ راز کھلا کہ دیگر مخلوقات کی طرح وکیلوں کی بھی کئی اقسام پائ جاتی ہیں ۔

‎جن کی حتمی تفصیلات بارکونسل کے مستقل  افسران کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔کچھ ناکام وکیلوں کی مدد سے ہم تاحال وکیلوں کی جن اقسام کو دریافت کر پا ۓ وہ درج زیل ھیں

اصلی وکیل:

‎سب سے پہلے تو اصلی وکیل، یہ وکیلوں کی وہ کمیاب قسم ہے جو شاذ شاذ ہی نظر آتے ھیں۔یہ ھر نۓ قانون سے واقفیت کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ھیں۔ عموماََ ان کے جلو میں دو نہایت تابع فرماں قسم کے ننھے وکیل یعنی جونیئر ہوتے ہیں، جن میں سے ایک کے ہاتھ می مقدموں کی فائلیں اور دوسرے کے ہاتھوں میں کوئی پی ایل ڈی کی موٹی سی کتاب یا اصل وکیل کی ڈائری ہوتی ہے ، جو اس کے لئے کسی کتاب سے کم نہیں ہوتی یہ دونوں اصل وکیل کے دائیں بائیں چلتے ہوئے انتہائی ہنر مندی سے ایک ایسی مثلث تشکیل دے لیتے ہیں جس میں اصلی وکیل اور انکے درمیان شرقاََ غرباََ ڈیڑھ قدم کا فاصلہ اور آپس میں شمالََ جنوباََ ٹھیک تین قدم کا فاصلہ برقرار رہتا ہے ۔

‎اصلی وکیل اپنے مقدمات کی پیروی خود کریں یا کسی جونیئر کو بھیجیں ہر دو صورت میں انہیں مقدمے کی ٹھیک ٹھیک صورتحال معلوم ہوتی ہے ۔ اور یہ مقابلے کے وکیل سے ایک قدم آگے کی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں گفتگو کم کرتے ہیں سوچتے زیادہ ہیں ان کے منہ سے نکلنے والا ایک ایک جملہ آئین کی پُر پیچ ندیوں میں نہایا ہوا، اور قانون کی موٹی موٹی کتابوں کی ہوا سے سکھایا ہوا ہوتا ہے ۔ اس پہلی قسم کے وکیلوں کو انسانوں کے بجائے کتابوں کے درمیان رہنا زیادہ پسند ہوتا ہے۔۔۔دفتر ان کا وقت زیادہ گزرتا ھے ۔سوائے جج حضرات کے ، یہ عام زندگی میں کسی سے نہیں الجھتے ، چونکہ یہ قسم شاذ و نادر نظر آتی ہے لہذا ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔

قبلی وکیل:

یہ عموماً میرون ٹائ میں ملبوس نظر آئیں گے اور اس تکلیف کے پیش نظر کے ان کو مقدمہ میں پیش ھو نے کی ابھی اجازت نہ ھے ان کا خیال ھوتا ھے کہ اگر موصوف استاد کی جگہ یہ ھوتے تو ان کی شعلہ بیانی قابل سماعت ھوتی جبکہ مستقبل میں اس کے بالکل برعکس ھوتا ھے اور دوران بحث اپنی آواز بمشکل سنائ دیتی ھے۔

منتھلی وکیل:

یہ قسم سرکاری دفاتر میں پائ جاتی ھے جن کو منتھلی تنخواہ کی ترسیل ان کے بینک اکاونٹ میں مل جاتی ھی اور ان کا کام صرف عدالتوں کے باھر کھڑے  ھو کر اس وکیل کا انتظار کرنا ھوتا ھے جس کو اس سرکاری ادارے نے متعین کیا ھوتا ھے۔  ان کے پاس ایک سرکاری گاڑی ھوتی ھے جس میں پیٹرول ڈلتا ھی رھتا ھے۔ ان کا قوانین کی تشریح سے کوئ واسطہ نہیں ھوتا اور الیکشن کے دن بھی وارد ھوتے ھیں۔

الیکشنلی وکیل:

یہ جوائنٹ سیکرٹری سے لے کر صدر تک کا الیکشن لڑتا ھے اور  وہ کچھ کرتا ھے جو ساری اقسام کے وکیل مل کر بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔  میرا مطلب بار کی خدمت۔۔۔۔۔ کرتا ھے۔۔۔

جبلی وکیل:

جبل عربی میں پہاڑ کو کہتے ھیں ۔۔۔تو شاھیں ھے بسیرا کر لا فرموں کی چٹانوں پر۔۔۔۔ اس وکیل کو اس کے علم کے عوض دس گنازیادہ  ڈالر ملتے ھیں۔ اس کی زندگی پرتعیش اور اکثر رنگین ھوتی ھے۔۔۔ فکر معاش اس کا مسلۂ نہیں ھوتا بلکہ مزید تر معاش از خود اس کی تلاش میں ھوتا ھے۔۔۔۔ویک اینڈ پر اس کا خرچہ ایک سول جج کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ھو جایا کرتا ھے۔۔۔ یہ اکثر سوال کرتا پایا جاتا ھے کہ آجکل ھائ کورٹ کی عمارت کہاں واقع ھے۔۔۔وجود زن سے ان کی تصویر کائنات میں رنگ سنبھالے نہیں سنبھلتے۔۔۔۔۔پردہ پوشی درست است

نسلی وکیل:

‎ان کے علاوہ وکیلوں کی ایک قسم نسلی وکیل بھی ہے ، یہ وکیلوں کی وہ قسم ہے جو نسل در نسل
‎وکالت سے وابستہ ہے ان میں کچھ صرف ددیال کی طرف سے واکالت ورثے میں پاتے ہیں اور کچھ نجیب الطرفین وکیل ہوتے ہیں ادھر ابا اور دادا وکیل اور ادھر اماں اور نانا وکیل ۔ وکالت ان کی رگوں میں دوڑ تی ہے ۔ اور اگر انہیں وکالت سے دلچسپی نہ بھی ہو تب بھی یہ کامیاب وکیل ثابت ہوتے ہیں ۔ گھرانے کا گھرانا وکیل ہوتا ہے نہار منہ مقدموں کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ خاندان میں کوئی جج بھی ہوجائے تو سونے پہ سہاگہ ۔ نسلی وکیلوں کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، انہیں بچپن ہی سے وکالت کے داؤ پیچ سکھائے جاتے ہیں جس سے یہ اسکول میں اساتذہ اور ساتھ پڑھنے والے بچوں کی زندگی مشکل کردیتے ہیں بعد کو یہی مشق شدہ تربیت جج صاحبان کے لئے دردِ سر بنتی ہے ۔ ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ بھر ی عدالت میں مقدمے کی پیروی کے دوران دلائل دیتے ہوئے وکیل صاحب نے "آئی آبجیکٹ مائی لارڈ" کے بجائے روانی میں " آئی آبجیکٹ بڑے ماموں" کہہ دیا۔

‎ایک اعتبار سے یہ مظلوم بھی ہوتے ہیں کہ کسی مقدمے کی بیروری میں تاخیر سے پہنچنے پر جو ڈانٹ جج صاحب سے کمرہِ عدالت میں پڑتی ہے وہی ڈانٹ رات کو کھانے کی میز پر انہیں جج صاحب سے بحثیت والدِ محترم دوبار سننے کو ملتی ھے

کسلی وکیل:

‎نسلی وکیلوں کو جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں ، ان کے مقابلے میں وکیلوں کی ایک دوسری قسم جسے "کسلی وکیل" کہا جاتا ہے ہمیشہ آرام سے رہتی ہے ۔ ان کی نسبت ان کی کسل مندی کی بنیاد پر ہے ۔ یہ انتہائی سست اور کاہل قسم کے وکیل ہوتے ہیں ، ایک تو عدالتی نظام کی رفتار پر پہلے ہی تنقید کی جاتی ہے ، کسلی وکیل اس رفتار کو اور سست کردیتے ہیں ، ذرا ذرا سی بات بلکہ بات بے بات پیروئی کی نئی تاریخ لینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ " تاریخ پہ تاریخ ۔۔۔ تاریخ پہ تاریخ"جیسے مشہور فلمی ڈائیلاگ انہیں کسلی وکیلوں کی مرہونِ منت ہیں ۔ یہ زیادہ تر وقت اپنے دفاتر میں گزارتے ہیں بار کونسل میں کم آتے ہیں ۔ عدالتوں میں اس سے بھی کم جاتے ہیں ۔ یہ کبھی کبھی بار کونسل کے سوفوں میں یوں دھنس کے بیٹھے نظر آتے ہیں کہ کوٹ پشت سے اٹھ کر گدی سے ہوتا ہوا سر کے اوپر آکر ایک موکلہ سا بنا لیتا ہے جس سے منہ نکال کر یہ بے دلی اور نفرت سے چاک و چوبند وکیلوں کو گھورتے ہیں ۔ ویسے تو یہ تمام لوگوں کو گھورتے ہیں مگر ان کےغضب کا سب سے زیادہ شکار ، "پسلی وکیل " ہوتے ہیں ۔

پسلی وکیل:

‎جی ہاں ، "پسلی وکیل"یہ وہ وکیل ہیں جن کیلئے محاورے کا ڈیڑھ پسلی بھی زیادہ معلوم ہوتا ہے ۔ معصوم معصوم چہروں والے یہ ننھے وکیل ، اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے پڑھائی میں بہت آگے ہوتے ہیں ۔ یہ بچپن میں غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کا بڑا حصہ، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں استعمال کرتے ہیں لہذا جسمانی نشونما کی رفتار سست پڑجاتی ہے ۔ اگر ایسے چار چھ پسلی وکیل ایک جگہ جمع ہوں اور پس منظر سے عدالت کی عمارت ہٹا دی جائے ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسکول کے بچے سالانہ ٹیبلو کی تیاری کررہے ہیں ۔

‎ایسے وکیل عموماََ جرائم کے مقدموں سے دور رہتے ہیں ، عموماََ ایسے مقدمات کا انتخاب کرتے ہیں جس میں کسی زور آور موکل سے واسطہ نہ پڑےمثلاََ مالی بے ضابتگی، نام کی تبدیلی ، ملکیت کی منتقلی، اور صلاح نامہ وغیرہ

ٹسلی وکیل:

‎ ۔ان کے بالکل مخالف ، وکیلوں کی ایک سب سے خطرناک قسم پائی جاتی ہے جسے "ٹسلی وکیل " کہا جاتا ہے ۔ یہ "ٹسلی" لفظ ٹسل سے ہے ۔ بمعنی اڑ جانا، ضد کرنا، کینہ رکھنا، جھگڑا کرنا ، دشمنی رکھنا، اس لفظ میں یہ تمام کیفیات یکجا ہیں ۔ اس نوع کے وکلا ء کے پاس زیادہ تر مقدمات اپنے ہی قائم کردہ ہوتے ہیں ۔جو انہوں نے اپنے قرب و جوار کے لوگوں پر مختلف اوقات اور مختلف کیفیات میں دائر کئے ہوتے ہیں ۔جن میں عام طور سے محلے کا دھوبی ، حجام، گاڑی کا مکینک، بچوں کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر، سسرالی رشتہ دار، الغرض جہاں جہاں ان کی ٹسل ہوجائے یہ وہیں مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔ یہ وکیل اپنی وکالت کی سند کا بے دریغ استعمال اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں ۔ بعض اوقات تو مقدمہ ہارنے کے بعد مقابلے کے وکیل تک پر مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔

وصلی وکیل:
‎البتہ وکیلوں کی سب سے زرخیز قسم وصلی وکیل ہوتے ہیں ۔ یہ صرف عدالتی شادیاں یعنی کورٹ میرج کرواتے ہیں۔ ان کے پاس کبھی مقدمات کی کمی نہیں ہوتی ۔ بلکہ عدالتی شادیوں کے نتیجے میں عداوتی مقدمات کا ایسا بیج بو تے ہیں جس سے دوسرے وکیلوں کا دال دلیہ بھی جاری ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ بارکونسل میں ان کی زیادہ آؤ بھگت نہیں ہوتی مگر اعداد و شمار سے ثابت کرنا مشکل نہیں کہ یہی طبقہء وکیلاں ساٹھ فیصد وکیلوں کیلئے معاشی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

جی نہیں میں بلاگر نہیں رہا!!!!

یہ ابتدائی وکالت بلکہ وکالت کے پہلے چھ ماہ کے دور کی بات ہے ہمارے ایک دوست ایک فوجداری کیس میں پھنس گئے چونکہ ان کی جان پہچان میں ہم ہی تھے لہذا وہ مسئلہ بیان کئے بغیر (سچی بات ہے کہ بتا بھی دیتے تو فرق نہیں پڑتا) ہمیں رفیق بنا کر لے گئے اور ایک پولیس والے سے جا ملوایا۔ اب چائے کیفے میں میز کے اس طرف اے ایس آئی صاحب ہمارے دوست کے "جرم" کی تفصیل بتا کر ہمیں اپنے احسانات بشکل رعایات کی تفصیل بیان کر رہے تھے۔ اپنے دوست سے ہم کیا کہتے بس پولیس والے کی بات سن کر جی جناب، اور شکریہ ادا کرتے رہے۔ وجہ سادہ سی تھی ہمیں جرم و قانون کی سمجھ تو نہ آئی مگر پولیس والا بات بات پر کہتا  "وکیل صاحب آپ تو قانون سمجھتے ہیں آپ ہی سمجھائیں" ۔ وہاں سے اٹھ کر ہم گھر آئے قانون کی متعلقہ کتاب اٹھائی اور بیان کردہ تفصیلات کی کی روشنی میں جانا کہ پولیس والا "کمائی" کر گیا ورنہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا جس قدر وہ باور کروا رہا تھا۔
تب ہم نے جانا کہ جھوٹی تعریف اور کم علمی دونوں میری پروفیشنل زندگی کے لئے اچھی نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ آئیندہ جو علم نہ ہو اس بارے پوچھ لینے، جان لینے کے بعد ہی آگے بڑھا جائے۔
یہ خیال کہ مجھے سب آتا ہے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی یہ کہ کوئی اس شعبہ یا ایسے معاملات سے نبردآزما ہو چکا ہے اس لئے بہتر جانتا ہو گا بھی درست نہیں۔
گزشتہ دنوں اپنے میٹرک کے ایک دوست سے سر راہ ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں پرانی یادیں تازہ کی دوران گفتگو کسی بات پر اس نے ہمارے باعلم و واقف حال ہونے کی ایک دلیل یہ دی کہ "تم تو سمجھتے ہو گے آخر بلاگر ہو" ہمیں اس جملے تو اوپر بیان کیا واقعی یاد آگیا لہذا اب یہ وضاحت کر دوں کہ بھائی لوگو بلاگر ممکن ہے اپنی پروفیشنل زندگی کے مخصوص معاملات میں تو جانکاری رکھتا ہو مگر اسے ہرفن مولا نہ سمجھا جائے۔ اہل علم وہ ہی ہے جو حصول علم کی جدو جہد جاری رکھے صرف اظہار رائے صاحب علم ہونے کی دلیل نہیں۔

اور سڑک بن گئی!!!!

یہ قریب بیس سال قبل کی بات ہے میرے رہائشی علاقے ماڈل کالونی کی ایک نہایت مصروف سڑک ماڈل کالونی روڈ مکمل طور پر تباہ تھی۔ ہم یار دوست اکثر مذاق میں کہتے کہ جس نے جھولے لینے ہیں وہ بائیک لے کر اُس طرف چلا جائے۔ مگر پھر ایک دن صبح صبح اس سڑک پر کارپیٹنگ ہوئی ہوئی تھی مکمل سڑک نئی نئی سی معلوم ہوتی تھی دیکھ کر حیرت اس لئے ہوئِی کہ ایک دن قبل جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو "جھولے" لے کر آئے تھے مطلب سڑک خستہ حالت میں تھی۔ معلومات لینے پر معلوم ہوا کراچی کی مشہور زمانہ پارٹی کے لیڈران نے ایک جلسہ کی سلسلے میں تشریف لانا تھا س لئے ایک ہی رات میں انتظامیہ نے "فرض شناسی" کا ثبوت دیا جو اہل علاقہ کے لئے چند دنوں کی "سہولت" کی شکل میں برآمد ہوا۔
تب یہ جانا کہ اگر آپ کے علاقے میں بہتری چاہے وقتی یا مستقل ان "جلسوں" کے مرہون منت ہوتی ہے جن کے سبب انہیں آپ کے محلے آنا پڑے۔ یوں وہ سڑک ہر جلسے و سیاسی ایکٹیوٹی پر "نئی " سی ہو جاتی مگر اب پھر دو سالوں سے وہ دوبارہ اجڑی ہوئی ہے۔
قریب ڈھائی سال قبل عمرکوٹ میں تعیناتی ہوئی تو میرپور خاص سے عمر کورٹ تک کی روڈ کی حالت زار دیکھ کر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا کہ یہ ہماری صوبائی حکومت کام کیوں نہیں کرتی۔ مگر ڈیڑھ ماہ قبل اس سڑک کی قسمت جاگی اور یہ سڑک بہتر انداز میں کارپیٹ ہونا شروع ہوئی چونکہ سیاسی جماعتوں کے جلسے پہلے بھی ہوتے رہے مگر اس روڈ کی حالت جوں کی توں رہی اس لئے اول خیال یہ آیا کہ ممکنہ طور پر یہ الیکشن سے قبل کیا جانے والا کام ہے مگر جب گزشتہ اتوار مقامی رہنما کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے مختلف "رہنماؤں" اور خاص کر صوبے کے حاکم جماعت کے تمام وہ لیڈر جن کا تعلق سندھ سے تھا کی آمد ہوئی تو معلوم ہوا یہ "ترقیاتی پروجیکٹ" اس شادی کی بدولت ہے۔
ایسی ہی خبر اس سے قبل لاہور سے "بنت مریم" کے گھر اپنی والدہ کی آمد پر تعمیر کی جانے والی سڑک سے جڑی ہے۔ یوں یہ بات پکی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے اپنے علاقے کی بہتری کے لئے یقین کوئی ایسی ہی تقریب رکھنی پڑے گی ورنہ کوئی امید بر نہیں آتی۔

Pages