جوانی پِٹّے کا بلاگ

گوپی

سچ کہوں تو گوپی سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔
اور شائد کبھی ہوتا بھی نہیں، اگر وہ ہمارے ضرورت روم میٹ کے اشتہار کے جواب میں ایک اندھیری رات گنجو ناتھ کے ہمراہ ہمارے فلیٹ پر وارد نہ ہوا ہوتا۔
کرائے کے تین کمروں میں گیارہ طالب علموں اور ان کے تین چار مستقل مہمانوں کی موجودگی میں پہلے ہی بہت رش تھا۔
لیکن کیا کرتے۔ کرایہ ہر چھ مہینے سال بعد کسی نہ کسی بہانے بڑھ جاتا تھا۔  اور پھر یہ کہ ہر دوسرے دن فلیٹ اور کالج کی چار دیواری سے باہر کی زندگی کا علم حاصل کرنے کی خاطر نئی فلم کی سی ڈی بیس روپے روزانہ کے کرائے پر بھی آتی تھی۔  اسی لیے کونسل میں فیصلہ ہوا کہ بھیڑوں سے کھچا کھچ بھرے اس باڑے میں دو چار  لیلے اور گُھسا لیے جائیں۔ چنانچہ محلے کے تمام ہوٹلوں اور آس پاس کے کالجوں میں ضرورت روم میٹ کے اشتہار چسپاں کر دیے گئے۔
تین ہفتے بعد، اسی سلسلے میں گوپی پہلے امیدوار کے صورت آدھی رات کو ہمارے دروازے کے باہر بمع گنجو ناتھ جلوہ افروز تھا۔
 گہرا سانولا رنگ۔ کلین شیو۔ دیہاتی نین نقش۔ چار پانچ سال پرانا شلوار قمیض جس کا پھیکا رنگ اب بہت ہی پھیکا ھوتا جا رہا تھا۔ سرائیکی لہجے کی انتہائی نستعلیق اردو۔ نرم چہرے پر انتہائی سنجیدگی۔ جو صاحب دروازہ کھولنے گئے، وہ ان کو دروازے سے ہی اس بناء پر بھگانے لگے کہ اشتہار مزدوروں کے لیے نہیں سٹوڈنٹس کے لیے تھا۔ لیکن چونکہ اس رات سب کی جیبیں خالی  ہونے کی وجہ سے ہوم سنیما بند تھا، اس لیے کونسل نے فیصلہ کیا کہ امیدواران کا گروپ انٹرویو کرلیا جائے۔ انٹرویو میں واضع ہو گیا کہ مستقبل بعید میں بھی گوپی کی فلیٹ میں جگہ مشکل ہے۔ ان دنوں چونکہ کونسل مالی بحران کا شکار تھی، اسی لیے گوپی کو ہاں کر دی گئی۔ ہاں سنتے ہی گوپی نے ایک کونے میں مجذوب کی مانند گم سم بیٹھے گنجو ناتھ کو اشارے سے بتایا کہ تُو یہیں ٹھر، میں تیرا سامان لے کر آیا۔ یہ پینترا سب کو حیران کر گیا۔ یہی وہ پہلا موقع تھا جب گوپی فلیٹ والوں کی توجہ کا مرکز اور مذاق کا نشانہ بن گیا۔
تب سے ہی گنجو ناتھ سے ملاقات کرنے آتے گوپی سے سب کی آہستہ آہستہ دوستی سی ہوگئی۔ایک دن بہت ایکسائٹمنٹ میں فرمانے لگا کہ آج کالج لائبریری میں ایک لڑکی سے بات کی ہے۔
ہم نے کہا۔ بڑا کارنامہ کیا، جو تاریخ میں تجھ سے پہلے کسی سے نہیں کیا۔ اور خاص طور پر اس فلیٹ پر رھنے والے خشکے شیر دل حضرات میں سے تو کسی نے بھی ہرگز نہیں کیا۔
کہنے لگا ۔' عجیب بات ھوئی۔ میں نے اس کو اکیلا بیٹھے دیکھ کر کلاس نوٹس مانگے۔ بولی کہ دوستی کرنی ہے تو سیدھا سیدھا بولو۔ یہ کلاس نوٹس کا گھٹیا بہانہ کیوں لگا رھے ہو۔ کچھ دیر کھلے منہ کے ساتھ  اس کا منہ تکتا رھا، پھر جی کڑا کر اپنے اندر اس کمرے سے دڑکی لگانے کی خواھش پر قابو پا کر جھجکتے  ہوئے کہا کہ چلو پھر دوستی ہی کر لو۔ بولی کہ سمجھو ہو گئی۔ پھر ہم اگلا ایک گھنٹہ بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔
یہ لغو اور بے بنیاد بکواس کہانی سن کر سامعین میں سے آدھے حسد کے مارے اٹھ گئے اور باقی آدھوں نے اس پر پروفیشنل "چھوڑوو" ہونے کا الزام لگایا۔

دو ماہ بعد گنجو ناتھ نے ذکر کیا کہ زاہدِ خشک آج کل عشق کے تیل میں ڈوبا ہوا ہے۔ اپنے انتہائی غریب والد صاحب سے شادی کی بات کرنے پر مار کھاچکا ہے۔
کچھ عرصہ بعد گوپی نے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود انہی خاتون سے نکاح کرلیا۔
اس کے بعد گوپی سے ملاقات تقریباً ختم ہوگئی۔
بس خبریں ملتی رہیں کہ اپنا گھر بسانے کی خاطر دونوں میاں بیوی نے ظالم سماج اور اپنی پڑھائی چھوڑ کر دوسروں کو ٹیوشنز پڑھانا شروع کردیا۔ یہ فارمولا اتنا کامیاب ہوا کہ کچھ عرصہ بعد اسی ٹیوشنز کی کمائی سے گاڑی بھی خرید لی۔

بہت سال بعد اگلی دفعہ ملاقات ہوئی تو گوپی کے تین بچے ہوچکے تھے اور دھندہ عروج پر تھا۔
میں اس کو دیکھ کر، اس کی باتیں سُن کر سوچنے لگا کہ یار۔ کچھ لوگ کتنے خوش قسمت ھوتے ہیں۔ میں ابھی پڑھائی کے امتحانوں میں سے نہیں نکل پا رہا اور یہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے سارے امتحان اعلٰی نمبروں سے پاس کیے جا رہا ہے۔
اگلے ہفتے لاہور سے اپنے آبائی شہر کو جاتے ہوئے، آدھی رات کے بعد، گوپی اپنی بیوی اور تین بچوں پر مشتمل لوسٹوری اور گاڑی پر مشتمل جائداد سمیت، جل کر راکھ ہوگیا۔
یہ بات اب بے معنی ہے کہ پہلے سی این جی سلنڈر پھٹا یا پہلے گاڑی درخت سے ٹکرائی۔صرف یہ طے ہے کہ گاڑی کے ڈھانچے اور چند جلے ہوئے انسانی ڈھانچوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔ہاں، صرف ایک چمڑے کا بٹوہ،
جو کہ  گاڑی کی ڈرائیور سائیڈ کے پاس ہی پڑا ملا۔چمڑے کا بٹوہ ۔ ۔ ۔  جس پر تھوڑی سی انسانی چمڑی چمٹی ہوئی تھی۔
اسی بٹوے میں موجود شناختی کاغذات کی مدد سے پولیس نے  گھر والوں کو ڈھونڈا ، تاکہ جلی ہوئی ھڈیوں سے بھری گٹھڑی  ان کے حوالے کی جا سکے۔
گنجو ناتھ کا کہنا ہے کہ شائد گوپی نے آخری لمحوں میں بٹوے کو جلتی گاڑی سے باہر پھینک دیا ہو ۔تاکہ مرنے کے بعد اس کی شناخت ہو سکے۔ شناخت مرنے کے بعد بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ پیچھے زندہ رہ جانے والوں کو تسلی ہوجائے کہ مردہ انہی کا ہے۔
جیتے جاگتے لوگ، اور ان کی ہنستی بستی زندگی چند لمحوں میں محض ایک خبر بن گئے۔

موت تو آ ہی جایا کرتی ہے۔ لیکن زندہ جل کر راکھ ہو جانا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں، دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ شائد اس تاثر کی وجہ سے کہ جل کر مرنا سب سے اذیت ناک موت ہے۔ شائد تبھی انتہائی بے بس لوگ اپنے آپ کو نذر آتش کر کے اوروں کا غصہ اپنے وجود پر ٹھنڈا کرتے ہیں۔
سڑک پر ایک سو چالیس کی رفتار پر ایک ہات سے سٹیرنگ پکڑ کر گاڑی چلاتے ہوئے، شریک حیات کی باتیں اور پیچھے سے بچوں کےقہقہے سنتے سنتے، جب بھی گوپی کا خیال آتا ہے تو دوسرا ہات خودبخود اسٹیرنگ پر کھسک آتا ہے اور رفتار آہستہ ہو جاتی ہے۔ اپنے مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔ اپنی سٹوری ختم ہونے سے خوف آتا ہے۔ 

پٹھان

اٹھارہ اگست۔ اٹھارہ سو پچاسی۔ایک انتہائی غیر اھم خبر۔


ممتاز قادری

فیس بک پر ید بیضاء کے ایک حالیہ سٹیٹس سے اقتباس۔
"ابهی پچهلے دنوں ایک چوهدری صاحب نے اسلام کی مقدس جنگ ایک مسیحی جوڑے کے خلاف لڑی۔اس سے پہلے وه قادری صاحب نے ایک چهاپہ مار کاروائی میں گورنر صاحب پر ہاتھ صاف کیا تها۔۔سمجھ یہ نہیں آ رها کہ توهین رسالت، جس قانون کے حق میں گورنر سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا، اس پر خود ان کو اتنا اعتبار کیوں نہیں تها کہ اسی قانون کے تحت سلمان تاثیر کے خلاف مقدمہ درج کروا دیتے؟؟؟۔ ۔ ۔ "
پڑھنے کے بعد سوچ کا زاویہ وہی ہے یا تبدیل ھوا؟؟؟۔ ۔
واقعی ،ممتاز قادری کو پھولوں سے لادتے ھوئے ھم سب کو یہ بات ایمانداری سے سوچنی چاھیئے۔
جس قانون کے ناموس کی تحفظ کی خاطر ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کا قتل کیا، اسی کے تحت مقدمہ کیوں نہ درج کروا دیا؟۔
انگریزی محاورہ ہے کہ کمرے میں کھڑے ہاتھی کو نظرانداز کردینا۔
قادری صاحب کے اس فکری معمے کا جواب بھی سب کو معلوم ہے، لیکن سب کی ذاتی بھلائی اور بہتری اسی میں ہے کہ ہاتھی کی طرف نہ ہی دیکھا جائے۔

توکل کرمان کے حق میں حجابی سازش


بعض اوقات قوموں پر اتنا برا وقت آجات ہے کہ اپنوں کے سامنے اپنے آپ  اور اپنی  تہذیب و اقدار کو اعلٰی ظاہر کرنے کے لیے جھوٹی روایات کا سہارا لینے لگتے ہیں۔
توکل کرمان ایک یمنی بی بی ہیں، جن کو ملالہ کی طرح کسی نامعلوم وجہ سے 2011ء میں نوبل امن انعام مل چکا ھے۔
انعام ملنے کے بعد متواتر ان سے ایک روایت منسوب کی جارہی ہے:


راوی کہتا ہے کہ یمن کی "اُم الانقلاب" جنابہ توکل کرمان سے صحافیوں نے ان کے حجاب کے بارے کہا کہ یہ ان کی اعلٰی ذہنی و تعلیمی سطح سے میل نہیں کھاتا تو انہوں نے فرمایا:
"ابتدائے آفرینش میں انسان بے لباس رہتا تھا۔ پھر جیسے جیسے اس کی ذہنی صلاحیت میں بہتری ھوئی اس نے کپڑے پہننے شروع کردیے۔ میں آج جو کچھ بھی ھوں اور جو کچھ بھی میں نے پہن رکھا ہے، یہ انسانیت کی سوچ اور تہذیب کی معراج کی علامت ہے اور اسی لیے یہ تنزلی نہیں ترقی ہے۔ یہ تو بے لباسی ہے جو انسان کو قدیم دور جاہلیت کی جانب دھکیلتی ہے۔"

بحیثیت سچے مسلمان، یقیناً سر فخر سے بلند ھو گیا؟۔
سینہ بھی پھول کر کُپا ھو گیا؟۔
چلو اچھی بات۔

اب معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ
یہ روایت جھوٹی ہے۔
"اُم الانقلاب" نے کبھی ایسا نہیں فرمایا۔
اس روایت کاممکنہ  ماخذ ایک عربی فورم (لنک) پر 12 اکتوبر 2011 کو پوسٹ کی گئی ایک حکایت ہے، جس میں دور دور تک توکل کرمان کا ذکر نہیں۔



امکان یہ ہے کہ سات اکتوبر 2011 کو جب توکل کرمان کو نوبل امن انعام دیے جانے کا اعلان ھوا، تو کسی عقلمند کے دماغ میں آیا کہ کیوں نہ حکایت میں دیے گئے سبق کی پروموشن کی خاطر اس میں کسی محجوب و مشہور ہستی کا نام ٹھوک دیا جائے۔ اپنا مقصد تو محض عوام کی بھلائی ہے۔
اس کے بعد پھر "توکل کرمان" کا یہ قول زریں جنگل کی آگ کی طرح انٹرنیٹ پر پھیلا دیا گیا۔
اس جھوٹے قول سے قطع نظر، توکل کرمان کے پردے و حجاب و نقاب کے بارے حقیقی خیالات ان کے ایک انٹرویو سے ملاحظہ کریں۔


توکل کرمان نے تمام عمر چہرہ نقاب سے ڈھانپا ہے لیکن پبلک لائف میں آنے کے بعد نقاب سے جان چھڑا لی۔
فرماتی ہیں، میرے دین میں کہیں نہیں لکھا کہ پردہ کرو۔ یہ تو محض ایک (معاشرتی) روایت ھے۔

مسلمانو۔ حیا کرو۔
اپنے لوگ نوبل انعام ملنے کے بعد تمہاری قومی اجازت کے بغیر ہی کرسٹانوں، یہودیوں و ملحدوں کے ساتھ میل جول رکھنے لگ گئے ہیں تو کوئی ضرورت نہیں کہ ان کے نام سے جھوٹی روایات گھڑ گھڑ کر گھڑمس مچاؤ۔
جھوٹ بولے بغیر فارغ ٹائم نہیں پاس ھوتا تو کفار کے ساتھ -"لَو جہاد" -  (Love Jihad) کرو۔ تاکہ پولیو ڈراپس کے ذریعےمسلمانوں کی نس بندی کرنے کا سفلی عمل انہیں پراُلٹ دیا جائے۔ ویسے کفار نس بندی کا کام پولیو ڈراپس کی بجائے گھر گھر مفت بریانی کی تقسیم کے ذریعے بھی کرسکتے ہیں۔ جمہور رائے یہی ہے کہ اس طریقہ کار کی عوامی مخالفت نہ ھونے کے برابر ھوگی۔
اگر یہ بھی نہیں ہوتا تو جہاں شک پڑے کہ کوئی تمہارے  ایمانی اور ملی جذبے میں کسی جدید قول یا سائنسی تحقیق کے ذریعے ھیلیئم گیس بھرنے کی کوشش کررہا ہے، تو ہوشیار ہوجاؤ، اور تحقیق کرو کہ کہیں کوئی گیم تو نہیں کر رہا۔
اس قسم کی شرارتیں یوں تو بے ضرر نظر آتی ہیں، البتہ بعد کی نسلوں کو پریشانی ہوجاتی ہے۔

جن قاری حضرات کو اس تحریر سے اختلاف ہے، وہ توکل کرمان کے اس انٹرویو کا لنک فراہم کریں۔ تسلی ہونے پر انشاءاللہ تحریر سے رجوع کرلیا جائے گا۔ ورنہ نیچے کمنٹس میں اپنے اختلاف کی نوعیت درج کروائیں۔

خوراک آپ کا مستقبل تبدیل کرسکتی ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی تحریر میں ایسا زبردست جملہ  نظر سے گزرتا ہے کہ بندہ ٹھٹک کر سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ یہ اس بات کا یہ پہلو تو میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا۔
ابھی کچھ دن پہلے ان صاحب کے بلاگ کا پہلا پیرا گراف پڑھا تو یہی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ بھی پڑھیں اور حظ اٹھائیں۔


بات یوں تو بہت سادہ سی ہے  کہ اماں حوا نت نئے ذائقوں کے چکر میں اپنا ہاتھ کنٹرول نہ کر سکی اور آنے والی نسلوں کو جنت کی بجائے دنیا کی آزمائشیں جھیلنی پڑ گئیں۔

صاحب بلاگ کا قول قابل غور ہے کہ خوراک کی زندگی میں اہمیت اس سے بہت زیادہ ہے جتنی عموماً ہم سمجھتے ہیں۔ جیسے پہلی جنگ عظیم کی وجہ ایک آسٹرین شہزادے کا قتل تھا۔  قاتل ایک ناکام کوشش کے بعد ایک کیفے میں بھوک کے ہاتوں کچھ کھانے پینے بیٹھا تھا کہ شہزادے کا قافلہ کیفے کے سامنے سے گزرا، اور قاتل کو اپنا کام پورا کرنے کا موقع مل گیا۔

اس بات نے مجھے سوچ میں ڈال دیا۔
میں اب اپنے ماضی کے چیدہ چیدہ بہت ہی اہم (لائف ٹرننگ) سنگ میلوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ اس وقت کھانے کا کوئی اور آپشن لینے سے  میرا مستقبل کتنا مختلف ہو سکتا تھا۔
مثلاً اگر میں شادی کے بعد اپنی بیوی کی پکائی بریانی سے پرھیز برتتا ، تو بہت پتلا ہوتا۔ مستقبل میں ہر چوتھے مہینے نئے کپڑے نہ سلوانا پڑتے۔ کافی خرچ بچ جاتا جس سے چار پانچ پلاٹ اور دس پندرہ ٹرک خریدے جاتے۔
یا اگر میں پندرہ ستمبر کو پوستی کے اصرار پر اس کو اس کا پسندیدہ برگر کھلا دیتا، تو میرے تعلقات اس سے اب کی نسبت کافی بہتر ہوتے۔
یا اگر 1996ء میں پروفیسر اللہ داد کو دو چار چرغے اور کھلا دیتا تو شائد میں آخری مہینوں میں اس کے ٹیسٹوں کی کلاس سے نہ نکالا جاتا۔ اور اب ڈاکٹر ہوتا۔
یعنی مستقبل کافی مختلف ہوسکتا تھا۔
:)

اوپر ذکر کیے گئے بلاگ کا ایڈریس یہ ہے۔
www.runninginlahore.wordpress.com

صاحب بلاگ سے ان کا لکھا نقل کرنے کے لیے ہرگز اجازت نہیں لی گئی۔ اور نہ ہی لینی ہے۔

United Bank Limited

انگریزی زبان میں ایک لفظ ھے۔Worstڈکشنری اس کا مطلب عموماً "برا ترین" بتاتی ھے۔لیکن جب یہی لفظ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ  نامی پاکستانی بینک کی شان میں استعمال کیا جائے، تو اس کے مطلب کی وضاحت کے لیے جو زبان استعمال کی جانی چاھیئے، اس کی قریب ترین مثال کے لیے علی معین نوازش کی فیس بک پوسٹ پر کمنٹس کا مطالعہ فرمائیں۔پچھلے کئی سال سے امارات کا سب سے ورسٹ بنک ھونے کا اعزاز حاصل ھے۔لیکن ہم پاکستانیوں کا کیا کیا جائے  کہ اپنے وطن کی اشیاء دیکھ کر حب الوطنی جوش مارنے لگ جاتی ہے۔یہاں کی مارکیٹوں میں ایک سے ایک خالص اور اعلٰی کوالٹی کی چیز ملتی ہے لیکن ہم وطن پاکستان سپر سٹور پر جا کر مہنگے داموں اپنی وطنی اشیاء لینے چڑھ جاتے ہیں۔اسی وطنی جذبے کے تحت جب بھی پیسے یو بی ایل کو استعمال کرتے ہوئے بھیجنے کی کوشش کی، ہمیشہ مایوسی ہوئی۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ادھر سے پاکستان تک پیسے بھجوانے کے لیےسمندری لانچیں اور  افغانی خچر استعمال کرتے ہیں۔ سسٹم چیک کریں ذرا۔سروس کا نام "آن لائن" "تیز رفتار" "ٹی ٹی" "فلیش ریمٹ" وغیرہ ہوگا۔ دعوٰی فوراً پیسوں کی ڈلیوری کا ہوگا۔لیکن حقیقت یہ ہوگی کہ پیسے سمندری لانچ کے ذریعے کچھ دن بعد کراچی پہنچیں گے تو کوئی نہ کوئی خچر ان پر دو تین دن کے لیے بیٹھ جائے گا۔ اس سے جان چھٹے گی تو جس منٹھار کی بس، پٹھان کے  ٹرک یا کھوتی ریڑھی کے ذریعے آپ کے شہر تک پیسے جائیں گے، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے لیٹ ہوگا۔آخر ڈیڑھ دو ہفتوں کے بعد جب آپ رقم پر اناللہ پڑھ چکے ہونگے ، تو اچانک پورے شہر میں ڈھنڈورا پٹ جائے گا کہ مردہ قبر پھاڑ کر نکل آیا۔ خوشی سے آپ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیں گے۔یو بی ایل بےکار ترین بینک ہے۔ پرھیز کریں۔ھمیشہ سوئس بنک استعمال کریں۔
UBLWhere you come first....and remittance comes last.

ایماندار بندے کی کہانی

دبئی میں اچھی جاب تھی۔ زندگی میں ہرخوشی تھی۔ ماں کو زیور بنوا دیا۔ بہنوں کی دھوم دھام سے شادی کر دی۔ پاکستان میں دو پلاٹ خرید لیے۔ایک دفعہ ملاقات ھوئی، تو بہت خوش تھے۔ کہنے لگے کہ ایویں شغل میں ایک سیلز کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ کا ویزا اپلائی کیا تھا۔ وہ لگ گیا ہے۔ مبارک باد دی۔ہم اس بات پر مبارکباد کیوں دیتے ہیں؟۔شائد دوسروں کے بارے ہمیشہ لاشعور میں یہ ھوتا ہے کہ ان کی پہلے ہی زندگی گلزار ھے، اب سر بھی کڑاھے میں ھوگا۔یا شائد یہ کہ چلو ان کو پاکستان نامی پنجرے سے فرار کی سعادت حاصل ھوئی۔ اب جہاں چاہیں گے ، سفر کریں گے کہ انکل سیم نے جو کلیئرنس دے دی ہے۔ انکل کلیئرنس دے دیں تو مبینہ طور پر رزق کے دروازوں کو دھکا مار کے مزید وا کیا جا سکتا ہے۔ان کے پندرہ روزہ امریکی دورے پر نکلنے کے بعد دوبارہ ملاقات نہ ھو سکی۔ فیس بک پر ان کی امریکہ یاترا کی تصاویر دیکھ کر معلوم ھوا کہ بخیر و عافیت واپس پہنچ گئے ہیں۔تین چار ماہ بعد ایک مشترکہ دوست نے بتایا کہ صاحب اور ان کا نوجوان بھانجا پچھلے ایک ہفتے سے تھانے میں بند ہیں۔ کیا کیس ہے۔ کچھ معلوم نہیں۔ پلس والے کچھ نہیں بتا رہے کہ تفتیش چالو ہے۔ دو دفعہ اپارٹمنٹ پر پولیس تلاشی کی غرض سے چھاپے مار چکی ہے۔ بیوی بچے (جو دبئی میں ہی تھے) بہت ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کیا جائے۔ کسی کا کوئی واقف ہے تھانے میں تو پتہ ہی کروا دے کہ آخر بات کیا ہے!۔ پردیس میں اب کدھر سے واقف آئے ؟۔ اور وہ بھی تھانے میں۔؟ وہ بھی ڈرپوک خارجیوں کا جن کا پلس کی گاڑی پر نظر پڑتے ہی سانس بے ترتیب ہو جائے۔ بہت مشکل سے ایک بارسوخ صاحب کی منت کر کے معاملہ و خیر خیریت معلوم کرنے کا ٹاسک دیا کہ کم از کم اندھیرا تو چھٹے۔ اندر سے جواب ملا کہ جب تک معاملے کی تفتیش چل رہی ہے، دوبارہ رابطہ کرنے کا سوچنا بھی مت۔ جب تفتیش ختم ھو تو پھر بتائیں گے کہ کیا معاملہ ہے۔ ایک ہفتہ بعد بھانجا گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ پچیس تیس لاکھ درہم کی ڈکیتی کا معاملہ ہے۔ لیکن کیا کہانی ہے، یہ بھانجے کو اتنے دن حوالات میں رھنے کے باوجود معلوم نہیں تھی۔قانونی مدد کے لیے وکیل کی خدمات لی گئیں۔ پہلے وکیل نے کیس سُن کر اسی ہزار درہم مانگے۔ دوسرے نے ستر ہزار۔ پھر بہت سر پھٹول کے بعد ایک وکیل ڈھونڈا گیا جس نے کیس کی پیروی بیس ہزار درہم کے عوض کرنے پر آمادگی ظاہر کی ۔ ایک دوست نے جی کڑا کر وکیل کی فیس کے لیے اپنے دفتر سے قرض لیا۔
وکیل کرنے کا فائدہ یہ ہوا، کہ ان کی بیوی کی ان سے ملاقات کروا دی گئی۔ ان کی زبانی معلوم ھوا کہ امریکی کانفرنس میں ایک ملتانی گرائیں سے ملاقات ھوئی جو دبئی میں کاروبار کرتے تھے۔ ہم شہر، ہم زبان، خوش گفتار، ملنسار، خوش مزاج اور بظاہر خوشحال ۔ دوست بن گئے۔ ویسے بھی سفر کی حالت میں شائد دوستیاں بہت جلدی ھوتی ہیں کہ لوگوں کی اصل فطرت کہیں پیچھے ہی رہ جاتی ہے۔  امریکہ سے واپس آئے تو فیملیوں کا آنا جانا شروع ہو گیا ۔ تعلقات بہت جلد بہت گہرے ہوتے گئے۔ پھر ایک دن یہ دوست فرمانے لگے کہ پیچھے ملتان میں گھر پر کچھ ایمرجنسی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے فیملی کو واپس بھیج دیا اور خود بھی صبح جا رہا ہوں۔ مہینے دو مہینے میں واپسی ہوگی۔ لیکن مشکل یہ کہ اس دوران ایک قرض خواہ ساؤتھ افریقہ سے دبئی آ رہے ہیں۔ ان کو ادائیگی کے لیے اپنے دو ٹرک بیچ دیے ہیں۔ پیسے پاس ہیں لیکن کسی پر اعتبار نہیں۔ آپ عزیز از جان اور " ایماندار" آدمی ہیں،رقم امانتاً رکھ لیں، اور ان صاحب کے آنے پر میری طرف سے ادا کر دیں۔ یوں ڈیڑھ لاکھ درہم ان کو پکڑا دیے۔ سات آٹھ دن تک کسی نےرقم کے لیے رابطہ نہ کیا تو پریشانی ہو گئی۔ غریب بندے کے گھر میں زیادہ رقم ہو تو ویسے ہی ٹینشن ہو جاتی ہے۔ ملتانی صاحب کو فون کیا تو معلوم ھوا کہ ساؤتھ افریقن قرض خواہ کا ٹور کینسل ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ رقم اب فلاں پاکستانی ہنڈی والے کے ذریعے پاکستان بھجوا دیں۔ اگلے دن رقم بھانجے کے ہاتھ ہنڈی والے کو بھجوائی۔ ملتانی صاحب سے ھنڈی والے کی بات کروا کر کنفرمیشن لی اور سکھ کا سانس لیا کہ ذمہ داری تمام ہوئی۔دو دن بعد پولیس نے ان کو اور ان کے بھانجے کو گرفتار کر لیا اور رقم کے بارے تفتیش شروع کردی۔ تھانے میں ہی معلوم ھوا کہ ایک شاپنگ مال میں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے کیش سیکیورٹی کمپنی کے اہلکار کو ٹیزر گن (الیکٹرک شاک گن) سے مفلوج کرکے اس سے رقم کا بیگ چھینا اور فرار ہوگئے۔ سیکیورٹی کیمرے سے لی گئی فوٹیج سے ان میں سے ایک فرد کی شناخت ملتانی صاحب کے طور پر ہوگئی۔ رہائش پر چھاپہ مارا گیا۔ لیکن مجرم پاکستان کی فلائٹ لے چکے تھے۔ فون کا ریکارڈ چیک ھوا اور جس جس نے ڈکیتی سے پہلے اور بعد میں ملتانی صاحب سے گفتگو فرمائی تھی، سب دھرے گئے۔ دھرے جانے والے تمام افراد کی رہائش گاہوں پر رقم کی تلاش میں چھاپے پڑے۔ ان میں سے ایک کے بیڈ کے گدے کے بیچ چھپائے گئے ڈکیتی کے بیس لاکھ درہم برآمد ہو گئے۔ ہنڈی والا دھرا گیا، جس نے باقی رقم کا سراغ دیا۔ معلوم ہوا کہ چھ سات "ایماندار" افراد میں تقریباً ایک ہی قصہ سنا کررقم بانٹ گئے ۔پولیس کی صلاحیت ملاحظہ کریں کہ کیش انشورنس کے باوجود تقریباً تمام رقم ڈکیتی کے دو ہفتے کے اندر برآمد ہوگئی۔ یہی واقعہ پاکستان میں ھوتا تو ورثاء رو پیٹ کر خاموش ھو گئے ھوتے۔ دونوں ڈکیت ابھی تک پکڑے نہیں گئے۔ جبکہ "ایماندار" افراد جیل میں سڑرھے ہیں۔ ان صاحب کی دو مہینے جیل میں گزارنے اور پاسپورٹ پولیس کے پاس رکھوانے کے بعد بہت مشکل سے ضمانت ہوئی۔واپس اپنی نوکری پر گئے تو معلوم ھوا کہ باس کی مہربانی سے نوکری سے نکالے تو نہیں گئے، لیکن عدالت سے الزام کلئیر ھونے تک نہ تو تنخواہ ملے گی اور نہ ہی واپس نوکری پر آنے کی اجازت۔ روزمرہ خرچ کے لیے پیسے نکلوانے بینک گئے تو سر پر ہتھوڑا پڑا کہ بینک اکاؤنٹ الزام کلئیر ھونے تک فریز ھوچکا۔ کوڑی کوڑی کے محتاج ہوگئے۔ نہ یہاں رہ سکتے ہیں، اور نہ ہی واپس جا سکتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو  کہ قریبی لوگ بھی پانچ سو گز دور سے گزرنے لگ جاتے ہیں کہ پتہ نہیں اصل کہانی کیا ہے ۔ بظاہر مظلوم شخص کہیں ظالموں کا سرغنہ تو نہیں؟۔ اور یہ کہ  ان صاحب سے بدقسمتی نامی  چھوت کا مرض ہمیں بھی نہ لگ جائے!۔  اس معاشرتی رویے میں کسی کا کوئی قصور نہیں ھوتا۔ جب بھی اس طرح کے قصے معلوم ھوتے ہیں،  انسانوں پر اعتبارکا خون ہو جاتا ہے۔یہ صاحب اب چھپ چھپا کر چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا سلسلہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔
لوگ پیسے لے کر واپس نہیں کرتے، اس کی توقع و خدشہ تو ہمیشہ انسان کے ذہن میں ہوتا ہی ہے۔ لیکن اگر کوئی بظاہر خوشحال اور شریف شخص آپ کے پاس کچھ دن کے لیے امانتاً رقم یا زیور وغیرہ رکھوا جائے، تو کبھی وہم و گمان میں بھی یہ بات ذہن میں نہیں آتی کہ یہ چوری کا مال ھو سکتا ہے۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ،لوگوں کے ساتھ زندگی کے معاملات کیسے رکھے جائیں؟ایک طرف بندے ہی بندوں کے کام آتے ہیں۔  اکیلے آدمی کی زندگی کا سفر خوشگوار نہیں ہوتا۔دوسری طرف بندے ہی بندوں کی راہ میں ٹوکے تیز کیے  بیٹھے ہیں۔ لوگوں کے ہجوم میں راہزن اور راہبر کی پہچان کرنا ناممکن ھو چکا۔کیا آدمی کو اپنی تمام زندگی مسلسل محتاط رہتے ہوئے (بلا امتیاز رنگ و نسل و مذھب و رشتہ داری وغیرہ) ہمیشہ صرف اور صرف اپنے اوپر اعتبار کرتے ہوئے گزارنی چاھیئے؟۔جن لوگوں کو اس ماڈل پر زندگی گزارتے دیکھا ہے، ان کو اکثرعوام میں بری شہرت کا حامل پایا ہے۔اس سوال کا جواب جوانی ہی میں بال سفید ہونے کے باوجود میرے پاس نہیں۔کسی کے پاس ھے تو بتائے۔

فونٹ ٹیسٹ پوسٹ

دروازے کی گھنٹی کے ذریعے میرے گھر پہنچنے کی اطلاع پاتے ہی، میرے بچے چُھپ جاتے ہیں۔
تاکہ  ۔ ۔ ۔
میں گھر کی خاموشی محسوس کرتے ہی ان کا پوچھوں ۔ ۔ ۔ ان کو آوازیں دوں ۔ ۔ ۔ ان کو گھر کے مختلف حصوں میں تلاش کرتا پھروں۔
پھر جب میں ان کو، اِس ایک کمرے کے گھر میں،  بظاہر بہت مشکل سے آخر ڈھونڈ ہی نکالتا ہوں، تو وہ ہنس ہنس کر زمین پر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ایسے ہی حقیقی خوشی سے بھرے لمحوں میں،
کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے،
کہ کل جب میں چُھپ جاؤں گا،
تو کیا یہ بھی مجھے ڈھونڈیں گے؟۔

میں مجبور ھوں

ان  سے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے  شناسائی ہوئی۔  نیک  طبع۔ نیک اطوار۔ طبعیت میں شرم ۔ صوم و صلوۃ کے پابند۔ چہرے پر سُنت نبوی۔ ہونٹوں پر تبسم ۔ ماتھے پر نور۔ دھیمی آواز۔ ادب سے دلچسپی ۔ وسیع دینی علم  ۔  دوستی ہو گئی۔

ایک دفعہ  اپنی  جان سے پیارے بیٹے کے آپریشن  کا بتا کرایک  ماہ کے لیےایک بڑی رقم ادھار لے گئے۔چھ ماہ گزر گئے لیکن رقم واپس کرنے کاارادہ  نہیں کیا۔   تنگ آ کرتقاضا کیا تو   ایک سال کے بعد آدھی رقم واپس کردی۔اس کے بعد سال پر سال گزرتا گیا۔  ملاقات سے کترانے لگے۔ ہر سال گزرنے پر  ان کو خصوصی فون کر کے سالگرہ کی مبارکباد دیتا رہا۔ وہ شرمیلی سی ہنسی ہنس کر کہتے رہے کہ کچھ کرتا ہوں۔ (اور کبھی کچھ نہ کیا)۔ پھر ایک دن مشترکہ دوست  سے معلوم ہوا  کہ جناب اپنے سات  اہل و عیال کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت کر کے ابدی نروان حاصل کرنے پہنچے ہوئے ہیں۔ اس دن معلوم ہوا کہ سر پر ہتھوڑا پڑے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہت دیر تک سُن رہتی ہے۔  میں تمام عمر  غلط سمجھتا رہا کہ قرض کی ادائیگی عمرے کی ادائیگی سے زیادہ ضروری ہے۔ دو ماہ کی آنکھ مچولی کے  بعد،  گناہ بخشوائی کے سفر سے واپسی پر میں نے مبارکباد  دینے کے لیے اچانک " زبردستی " ملاقات کی۔ بوڑھے بیمار شخص کی مانندکمزور سے لہجے میں بات کرنے لگے۔میں نے عمرے کی مبارکباد دی تو حیرانی سے پوچھنے لگے کہ  کس نے بتایا؟۔ معلوم ہونے پر آواز میں بشاشیت و بے شرمی  آگئی۔دانت نکال کر کہنے لگے ہم تو جی غریب آدمی ہیں، اللہ اور اس کے حبیب کا بڑا کرم ہے کہ انہوں نے  اپنے گھر بلالیا۔  قرض کا پوچھا تو کہنے لگے دے دوں گا۔ کہیں بھاگ تھوڑی رہا ہوں۔ بندہ کسی پر اعتبار  ہی کرلیتا ہے۔تنخواہ آتے ہی  سب سے پہلے آپ کا قرض اتاروں گا۔ ابھی  میں مجبور ہوں۔ابھی میں مجبور ہوں۔ ۔ ۔ !!! چار پانچ سال کی دن رات ملاقاتوں کے بعد مولانا بولے۔ ماں نہیں مانتی۔ میں مجبور ہوں۔۔۔!!!صدمے سے بہت  دیر چپ رہنے کے بعد خاتون لرزتی ہوئی آواز سے بولی۔ مولانا،  زندگی میں مجبوری نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ صرف اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ !صرف اپنی اپنی  ترجیہات ہوتی ہیں۔ ۔ !!

مرشد

شام آٹھ بجے جب مُرشد میرے گھر کے دروازے پر پہنچے  تو بے لگام علمی پیاس کے سبب میں نے دروازے پر ہی ان سے وہ سوالات پوچھنے شروع کردیے جنہوں نے مجھے صدیوں سے مخمصے میں ڈالا ہوا تھا۔میرے سوالات پر مرشد کی آنکھیں بالکل اسی طرح  پتھرا سی گئیں، جیسے نالائق شاگرد کے بیوقوفانہ سوال سن کر مہذب استاد کی نگاہیں جواب دینے  سے قبل خلاء میں نامعلوم نقطہ پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔اسی کیفیت میں کچھ دیر مجھے گھورتے رہے  ۔آہستہ آہستہ ان کے چہرے پر ایک عجب سی تذبذب کی لہر ابھرنے لگی۔میں  بولا ۔ مرشد خاموش کیوں ہیں۔ یہ سوالات مسلسل میری جان کھا رہے ہیں۔ خدارا جواب دیں۔ کہیں میں پاگل ہی  نہ ہوجاؤں۔مرشد نے بہت ہی صبر سے مجھے دیکھا اور پھر تتلاتے ہوئے فلپائنی لہجے میں بولے۔سر۔ میں یہ پیزا ڈلیور کرنے آیا ہوں۔میں نے  پیزا کا باکس  لے کرکہا کہ  پہلے کیوں نہیں بتایا۔ ایویں میرا   ایک گھنٹہ ضائع کیا۔
اللہ اللہ ۔اس بظاہر چھوٹے سے واقعے  نے میری زندگی کو اتنا بڑا سبق عطا کیا کہ میری زندگی بدل گئی۔میں نے یہ سیکھا کہ  جب تک آپ اپنی رائے، سوچ، تجربات  کو دوسروں کے ساتھ پراثر طریقے سے شئیر کرنا نہیں سیکھیں گے، اس وقت تک آپ پیزے ہی ڈلیور کرتے رہیں گے۔ اس لیے،  ہر شخص کو اپنی ذات کے خول سے باہر نکلنا چاھئیے اور  بغیر کسی ڈر خوف کے  لوگوں کے سامنے ، اپنا علم اور رائے ظاہر  کرنی چاھیئے۔

المیہ

ورکشاپ میں گاڑی دے کر دفتر آنے کے لیے میٹرو پر چڑھا۔ میرے روبرو سامنے کی سیٹ پر ایک خاتون کتاب پڑھ رہی تھیں۔  عنوان تھا ۔۔ "اجنبیوں کے ساتھ گفتگو کس طرح شروع کی جائے؟"۔ ایک گھنٹے کے سفر کے  بعد ۔ ۔ ۔   ہم دونوں ایک دوسرے سے بات کیے بغیر آخری سٹیشن پر اُتر گئے۔

مضامین ہائے غلط

میرا بلاگ کافی عرصہ سے خاموش ہے۔لیکن  وجہ یہ کہ کچھ عرصہ سے دماغ میں لکھنے کے لیے جو بھی خیال اترتے ہیں، وہ عموماً  اسلامی بھائیوں  کے اندرونی معاملات سے متعلق ھوتے ہیں۔ کئی دفعہ لکھے۔ لیکن پھر یہ سوچ کر ہر دفعہ حذف کردیے کہ کیا فائدہ ایسے دماغی فتور کا، جس  کی وجہ سے  جان سے پیارے ، ہر آنکھ کے تارے، میرے ہر معاملے میں دخیل ، مگر کافی زود رنج اسلامی بھائی خفا ھو جائیں۔ بری بات کرنے سے بہتر ہے کہ خاموش رہا جائے۔پاکستان زندہ باد۔صرف پاکستان زندہ باد۔

چُھپن چُھپائی

دروازے کی گھنٹی کے ذریعے میرے گھر پہنچنے کی اطلاع پاتے ہی، میرے بچے چُھپ جاتے ہیں۔ تاکہ ۔ ۔ ۔میں گھر کی خاموشی محسوس کرتے ہی ان کا پوچھوں ۔ ۔ ۔ ان کو آوازیں دوں ۔ ۔ ۔ ان کو گھر کے مختلف حصوں میں تلاش کرتا پھروں۔پھر جب میں ان کو، اِس ایک کمرے کے گھر میں،  بظاہر بہت مشکل سے آخر ڈھونڈ ہی نکالتا ہوں، تو وہ ہنس ہنس کر زمین پر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔
ایسے ہی حقیقی خوشی سے بھرے لمحوں میں، کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے،کہ کل جب میں چُھپ جاؤں گا، تو کیا یہ بھی مجھے ڈھونڈیں گے؟۔

وسابی

کئی سال پہلے کسی ٹی وی شو میں ایک عجیب منظر دیکھا،  جو دماغ پر پتہ نہیں کیوں نقش ہو گیا۔ایک صاحب ایک چھوٹی سی پیالی سے پیسٹ نما  چیز کو ایک اسٹرا کے ذریعے ناک میں کھینچ رہے تھے۔ برا حال تھا ۔ بار بار الٹیاں کر کے بھی باز نہیں آئے کہ آخر چیلنج جو جیتنا تھا۔تھوڑا غور سے سنا تو معلوم ھوا کہ یہ پیسٹ"وسابی " نام کی کوئی  چیز ہے، جو جاپان میں کچھ خاص قسم کی مولی کی چٹنی  کر کے تیار ہوتی ہے۔مولی آخر کتنی کڑوی ہو سکتی ہے؟؟  یہ کیا چیز تھی کہ اتنی تھوڑی سی مقدار میں بھی حضور کے چھکے چھڑا دیے؟؟۔
تقریباً دو سال پہلے جاپانی فوڈ کے ایک سٹال پر ایک چھوٹی سی ڈبی میں بند وسابی سے بالمشافہ ملاقات ھوئی ۔ سبز رنگ کا گاڑھا سا پیسٹ۔ بس اتنا کہ شائد اپنی طرف کے  جوان روٹی کی آدھی بُرکی میں ہی نگل جائیں۔چونکہ وہ شو والا منظر  دماغ میں ہونے کی وجہ سے تجسس تھا، اس لیے ٹرائی کرنے کے لیے وسابی خرید لی۔
گھر جا کر بڑے اھتمام سے میز پر ڈبی کو رکھا اور کرسی پر بیٹھ کر ڈبی کو  گھورنے لگ گیا۔ پھر ہمت کر کے ڈبی کو کھولا اور سارا پیسٹ   (جو کہ ایک یا دو چمچ  بھر تھا) سانس روک کر منہ میں رکھ لیا۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بھی نہیں ھوا!!!ایک  عجیب  بے ذائقہ سی  پیسٹ۔
خیال آیا کہ خوامخواہ ہی اتنے پیسے برباد کیے اس چیز پر ۔ ۔ ۔ ابھی دماغ یہیں تک ہی پہنچا تھا کہ وسابی سے اٹھنے والی ایک بدروحانہ سی گیس حلق سے ھوتی ھوئی میرے ناک  کی چھت تک اس طرح جا پہنچی کہ لگا کسی نے اچانک ہتھوڑا دے مارا  ۔ شائد لہسن ڈال رکھا ھے ؟۔  اچانک غیر اضطراری طور پر سر نے جھٹکا کھایا۔  اور پھر کھاتا ہی رہا کہ شائد اس طرح ناک میں بھر جانے والی زھریلی بُو سے چھٹکارا ملے۔۔۔ ۔
موقع ملے تو ایک دفعہ ضرور ٹرائی کریں۔

کرکٹ ھیروز

مختلف لوگوں کی زندگی میں آنے والے حالات یکساں نہیں ھوتے۔ کچھ لوگوں کے منہ میں پیدا  ہوتے ہی سونے کا چمچ ہوتا ہے۔ جبکہ بہت سوں کو گھٹی بھی نصیب نہیں ھوتی۔ کچھ کے والدین انتہائی پیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ کے والدین مختلف وجوہات کی بناء پر ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کی وجہ سے بچوں پر توجہ نہیں دے سکتے۔ مختلف خانگی و معاشرتی  ماحول و حالات کی بناء پر مختلف لوگوں  کی زندگی میں آنے والے سنگِ میل و مشکلات  مختلف ھوتی ہیں۔ لوگوں سے ملاقات کے دوران میری ذہنی توجہ کا بڑا محور ان وجوہات کی تلاش ھوتی ہے، جن کی وجہ سے وہ  موجودہ نفسیاتی و معاشی و مالی  حالات تک پہنچے۔ان کو کیا سہولتیں حاصل تھیں؟ کن چیلنجز  کا سامنا تھا؟۔ اپنی زندگی کے سفر میں انہوں نے کیا صحیح کیا اور کیا غلطیاں کیں؟ اور کس طرح سے مختلف کامیابیاں و ناکامیاں حاصل کیں؟۔ کس طرح سے مختلف قسم کی مشکلات و حالات سے نپٹا  ہوگا؟۔
یہ انتہائی عجیب سا شغل  ہے، لیکن اس کے پیچھے مقصد دوسروں کی زندگی سے اپنے لیے اسباق تلاش کرنے کی جستجو ہے تاکہ کسی طرح  اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزار سکوں۔لیکن یاد رکھنا چاھیئے ، یہ ضروری نہیں کہ ایک شخص کے ٹوٹکے اختیار کر کے دوسرا شخص بھی وہی نتائج  حاصل کرجائے۔  اس لیے کسی کے ٹوٹکے استعمال کرنے سے پہلے اپنے اردگرد حالات و صورتحال کا ادراک و تجزیہ کرلینا چاھیئے۔
بہت دن پہلے ایک ٹوٹکا  بٹ صاحب سے سیکھا۔ بٹ صاحب ان پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے ساری عمر پروفیشنل پڑھائی کے بعد یکسر مختلف پیشہ اپنا لیا۔انجنیئرنگ مکمل ھوئی تو لمز میں  ایم بی اے میں داخلہ لے لیا۔ ایم بی اے کر کے انہوں نے ایک اور سرٹیفیکیشن کی اور کسی طرح انویسٹنمنٹ بنکنگ میں گھس گئے ۔ نتیجتاً ان پر اللہ کا کرم ھوا، اور آمدن انجنئیر کی نسبت کئی گنا زیادہ ھوگئی۔بٹ صاحب  کے باس بھی ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر کے امریکہ کی ییل یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا اور کسی طرح انویسٹمنٹ بینکر بن گئے۔میری ان سے  کام کے سلسلے میں ملاقات ہوئی، تو ان کی ایک خصوصیت بڑی ہی شدت کے ساتھ نوٹ کی۔ بٹ صاحب جب بھی کسی نئے بندے سے ملتے ہیں تو شروع میں کام سے غیر متعلقہ بات کرکے ریلکس اور فری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان جھجک ختم ہو جائے اور ذرا سی بے تکلفی در آئے، تو ان سے اپنا مطلب نکلوانا آسان ہوجاتا ہے۔اس مقصد کے لیے بٹ صاحب کا ٹوٹکا دوسرے آدمی کے ساتھ اس کی دلچسپی کے کھیل پر بات چیت ہے۔مثلاً اگر ملاقاتی عرب ہے تو ملتے ہی فرمائیں گے کہ باقی باتیں چھوڑو، پہلے یہ بتاؤ کہ پرسوں مانچسٹر یونائٹڈ اور آرسینل کے درمیان فٹ بال میچ کا کیا بنا؟۔  اکثر عرب  فٹ بال کے  دیوانے ہیں۔اس لیے فٹ بال پر پانچ دس منٹ کی گفتگو کے بعد  ان کے آفس سے نکلتے نکلتے بٹ صاحب کے بارے بڑی اچھی رائے لے کر نکلتے ہیں۔یعنی کہ   جب دلچسپیاں مشترک نکل آئیں تو انداز گفتگو نرم ، اور دلوں میں  ایک دوسرے کے لیے نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔میں چونکہ پاکستانی تھا،  تو فطری طور پر انہوں نے ہاتھ ملاتے ہی پوچھ لیا کہ سناؤ، کرکٹ میچ کا کیا بنا۔ دیکھنے گئے تھے؟۔ پاکستانیوں کے لیے یہ انتہائی آسان سوال ہے۔ لیکن میں ان کے سوال پر سوچ میں پڑ گیا۔کیونکہ میں نے انیس سو چھیانوے میں کواٹرفائنل میں پاکستان کی انڈیا کے ہاتھوں شکست اور جسٹس قیوم انکوائری  کے بعد سے کرکٹ سے کسی قسم کا  واسطہ نہیں رکھا۔ مجھے بالکل بھی علم  اور دلچسپی نہیں کہ  کب پاکستان کا میچ  ہے اور آجکل کون پاکستان ٹیم کا حصہ ہے۔!۔
اس کی وجہ بھی جان لیں۔میں اس نسل میں سے ہوں جو  بانوے کے ورلڈ کپ کے موقع پر ابھی لڑکپن میں ہی تھی۔ جوکرکٹ کو انتہائی لگن کے ساتھ فالو کرتے تھے۔جن کو اس زمانے کے تمام کرکٹرز کی ہسٹری، سکورز، ریکارڈز وغیرہ ازبر تھے۔ جو جنونیوں کی طرح دن رات کرکٹ کھیلتے تھے۔  جو ہمیشہ اپنے پسندیدہ کرکٹر کے انداز میں کھیلتے تھے۔  جن کے شہر کے سٹیڈیم اور میدانوں میں وکٹ گاڑنے کی جگہ نہیں ملتی تھی کہ کرکٹ کھیلنے والوں کا رش ہی اتنا ہوتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمسائے کے خالی پلاٹ کی بنیادوں کی اینٹیں اپنے گھر کے کمرے بنانے کی بجائے، کرکٹ کی وکٹ بنانے کے لیے اکھاڑی جاتی تھیں۔
ہماری نسل کے کسی بھی شخص سے پوچھ لیجیے۔  ہماری زندگی کے خوشی سے پھٹتے فخریہ لمحوں میں سے ایک بانوے کے ورلڈ کپ میں  پاکستان کی جیت تھی۔ اگر پاکستان بانوے کا ورلڈ کپ نہ جیتتا، تو میرا گمان  ہے کہ شائد نہ ہی شوکت خانم ہسپتال بن پاتا اور نہ ہی عمران خان کی تحریک انصاف کا کوئی ایک ووٹر  ہوتا۔ وجہ یہ کہ پاکستانی قوم  بلاتخصیصِ رنگ و نسل و علاقہ،  جذباتی لوگوں کا گروہ ہے، جس کی پسندیدگی حاصل کرنے میں وہی کامیاب رہتا ہے، جو اس کو جذباتیت سے بھری ڈوز دے کر مقبول عام تماشا دکھاتا رہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں، اس کی کمیوں کجیوں کو نظر انداز کر کے ان  پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں۔ اور جس سے نفرت کرتے ہیں، اس کی ساتویں نسل تک کے منہ طعنوں کے تیزاب سے گلا مارتے ہیں۔میں بھی ایسا ہی جذباتی پاکستانی ہوں۔ پاکستانی کھلاڑیوں مثلاً وسیم اکرم، وقار یونس وغیرہ پر انگلش میڈیا ہمیشہ الزامات لگاتا رہا۔ لیکن میں نے کبھی ان کے بارے بدگمانی دل میں نہیں بٹھائی۔ بال ٹمپرنگ ہو، یا پھر چرس و دیگر نشے  کے کیسز۔ نائٹ کلبوں میں راتیں گزارنے کے الزامات ہوں یا ناجائز بچوں کی پدریت۔  پاکستانی کرکٹروں کے بارے کبھی بھی رائے ہیرو سمجھنے سے نیچے نہیں آئی۔لیکن پھر چھیانوے کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں پاکستان انڈیا کے ہاتھوں ہار گیا۔  کھیل کر ہار جاتا تو شائد اتنا دھچکا نہ لگتا۔ لیکن جب ٹیم کے بڑے کھلاڑی مختلف بہانوں کے تحت میدان سے باہر بیٹھے ہوں ، اور کھیلنے والے نیم دلی سے کھیل کر صفر پر آؤٹ ہو  رہے ہوں تو دکھ تو ہوتا ہے۔  خاص طور پر دل تب تو بالکل ہی ٹوٹ جاتا ہے جب آپ کے "ہیروز" کے خلاف  جوئے اور میچ فکسنگ کے الزامات داؤد ابراہیم جیسا "معتبر" شخص لگا رہا ہو۔ آپ اپنے ہیروز کو تمام عمر آئیڈیلائز کرتے رھیں، اور پھر آخر میں آ کر پتہ چلے کہ یہ تو فراڈیے تھے تو شدید ذہنی  دھچکا لگتا ہے۔
ہیروز  کو چاھیئے کہ ہیروز بن کر جذباتی تماشے دکھاتے رہیں۔  انسان بن کر بے عزًت ہونے سے گریز کریں۔

عید میلاد النبیؐ

آج شاکر عزیز کی ایک بلاگ پوسٹ میں کئی دفعہ عید میلاد النبی ؐ نامی تہوار کے بارے "نو تخلیق شدہ" کا لفظ پڑھا۔ میرے خیال میں کم از کم چار پانچ سو سال پہلے سے جاری تہوار عموماً نو تخلیق شدہ نہیں کہلاتا۔
میلاد النبی کا تہوار عثمانی خلیفہ سلطان مراد سوم کے دور (1588ء) سے مسلسل سرکاری سرپرستی میں منایا جا رہا ہے۔
سرکاری سرپرستی اسی سال سے کیوں شروع ہوئی، اس کا علم نہیں۔ لیکن ترک معاشرے میں میلاد النبی کو تہوار کے طور اس سے بھی  کافی پہلے سے منانے کی روایت موجود ہے۔ 
ترکوں کے ایک مشہور شاعر سلیمان چلبی  (Suleyman celebi)نے 1409ء میں مولود کے نام سے  ایک لمبی نظم/نعت لکھی  ، جس کو آج بھی ترکی میں میلاد النبی اور دیگر مذہبی تہواروںمیں نہایت اہتمام کے ساتھ  گایا/پڑھا جاتا ہے۔  
غالباً اسی ترکی ذریعے سے ہی برصغیر میں میلاد النبی کے تہوار کی امپورٹ  ہوئی۔
ترکی میں میلاد النبیؐ (میلاد قندیل) سے متعلق ایک اور بھی تہوار ہے جس کو رجب قندیل کہتے ہیں، اور اس کو رجب میں (حضرت آمنہ ؓ کو آنحضرت کا حمل ٹھیرنے کا مہینہ) منایا جاتا ہے۔ قندیل لفظ لگانے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ عثمانی سلاطین کے دور سے ان تہواروں کی راتوں میں مساجد کے میناروں پر قندیلیں روشن کر دی جاتی تھیں۔
 اس لنک پر، ترکش اخبار کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ جو میلاد قندیل کو منانے پر یقین نہیں رکھتے، وہ بھی احتراماً اس دن شراب کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

جہالت

آج ایک عرب  صاحب سے لبنان میں ہونے والا ایک عجیب واقعہ سُنا۔
دو مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لڑکا لڑکی نے ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرلی۔ خاندانوں کی طرف سے مکمل مقاطعہ ہو گیا۔ پھر چھ مہینے سال بعد لڑکی والوں نے آخر ہتھیار ڈال ہی دیے اور لڑکے لڑکی کو دعوت کے لیے اپنی طرف  بہت عزت و احترام سے لے  گئے۔ لڑکی کے گھر کے دروازے  پر پندرہ بیس رشتہ داروں نے لڑکے کا  پرتپاک استقبال کیا اور اندر لے جاتے ہی لاتوں  سے اس کی دعوت شروع کردی۔ کافی دیر بعد بھی جب غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو لڑکے کے عضو تناسل کو کاٹ کر لڑکے کو دور کہیں پھینک آئے۔ کسی نے بروقت ایمبولینس کو اطلاع دی تو جان تو بچ گئی ، لیکن  ۔ ۔ ۔

لبنان کے لوگ پچانوے  فیصد سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں  اور آبادی کا  ستر پچھتر فیصد ملک سے باہر رہتا ہے۔دبئی سمیت تمام دنیا  میں رہنے والے لبنانی مرد  اور خواتین عموماً  کافی کھلے ڈلے اور آزاد خیال ہیں۔ کم از کم حلیوں سے تو یہی لگتا ہے۔ ان کے لباس و اطوار دیکھ کر یورپ کی یاد آتی ہے۔  اس تناظر میں اوپر کا واقعہ پڑھیں تو بہت حیرانی ہوتی ہے کہ اس قسم کا واقعہ اور اتنے پڑھے لکھے ملک میں۔؟؟۔
میرے ذہن میں معمہ حل نہ ھوا تو میں نے ان صاحب کو تکلیف دی۔ کہنے لگے کہ لبنانیوں کے ہاں کھلا ڈلا پن صرف نان سیریس تعلق یعنی شغل  میلے کے لیے ہے۔ جب انہوں نے شادی کرنی ہوتی ہے تو  واپس قدامت پسند بن جاتے ہیں اور صرف اپنے مسلک ، مذہب، ذات برادری وغیرہ سے ہی رشتہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تو خیر کچھ نہیں، فلسطین اور اردن میں ماں باپ لڑکوں لڑکیوں کو  شادی سے پہلےپریکٹیکلی  کھلا چھوڑ کر رکھتے ہیں جس کا وہ بھر پور فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔  لیکن یہ آزادی تب تک رہتی ہے جب تک لڑکی کو اس کے  ماں باپ یا خاندان کا کوئی اور فرد رنگے ہاتھوں پکڑ نہیں لیتا۔ پکڑے جانے کی صورت میں ان کے ہاں "شرف" (غیرت) کا رواج حرکت میں آجاتا ہے، جس کے تحت یہ دونوں کو قتل کر مارتے ہیں۔
 پوچھا کہ پھر تعلیم کدھر گئی؟ پڑھ لکھ کر ایسے جاہلانہ رواج؟  کیوں ؟۔
کہنے لگے ۔ میاں۔ تم نے سٹاک ہوم سینڈروم کا تو سُن ہی رکھا ہوگا۔ جب مغوی اغوا کاروں کے چنگل میں بہت عرصہ رہنے کے بعد اغوا کاروں کی  طرف نرم پڑ جاتا ہے اور ان کی حرام زدگیوں کو سپورٹ کرنے لگ جاتا ہے۔ تو یہ لوگ بھی ایسے ہی ہیں۔جو ان علاقوں سے بھاگنے میں کامیاب نہیں ہو سکے،  وہ جہلاء میں رہ رہ کر ان کی حرکتوں کی مذمت کرنے کی بجائے اب انہی جیسے بن گئے ہیں۔ ان کو چھوڑو۔ جہالت کی ایک اور مثال سناتا ہوں۔ سوڈا ن میں ایک خوبصورت خاتون کے لیے دو پی ایچ ڈی دوستوں نے رشتہ بھیجا۔ خاتون نے ایک کو قبول کر کے شادی کر لی۔ چار پانچ سال بعد خاوند نے اپنی بیوی کو مارکیٹ میں ایک  گاڑی میں بیٹھتے دیکھا، جس کو وہ پہچانتے تھے کہ ان کے اسی دوست کی ہے کہ جو خاتون کے لیے رشتہ بھجوانے والوں میں تھے۔ خاوند فوراً  گھر پہنچا، خاندان کو اکٹھا کیا اور اپنی بیوی کی کارستانی سنا کر اس کو طلاق دے ماری۔ تھوڑی سی دیر میں خاتون اسی گاڑی میں گھر پہنچی تو معلوم ہوا کہ یہ گاڑی کچھ دن قبل خاتون کے بھائی نے خرید لی تھی اور وہی اپنی بہن کو مارکیٹ  میں خریداری کرتے دیکھ کراپنی نئی خریدی گئی گاڑی میں گھما نے کی غرض سے  بٹھا رہا تھا۔

بلاسفیمی

کبھی سوچا کہ یہ کیا معاملہ ہے :
کارٹون بنیں ڈنمارک میں ۔ ۔ اور آگ لگے پاکستان میں۔فلم بنے ہالینڈ میں ۔ ۔ اور آگ لگے پاکستان میں۔ناول انگلینڈ اور بنگلہ دیش میں ۔ ۔ اور آگ لگے پاکستان میں۔ٹیری جونز امریکہ میں ۔ ۔ اور آگ لگے پاکستان میں۔
غالباً کڑاکے کی سردی پڑنے کی وجہ سے ولائت رہنے والے مسلمانوں کے جذبات برصغیر کے مسلمانوں کی نسبت ٹھنڈے ہوتے ھیں۔ تبھی اس ٹھنڈے پن کا سدباب کرنے کے لیے وہ اٹھ کر خود آگ جلانے کی بجائے یہ کام اپنے برصغیری "نوکروں" کو سونپ کر خود مزے سے اپنے گھروں میں ٹی وی کے آگے بیٹھ کر آگ سے ہاتھ سینکتے ھیں۔ اور اگر جی میں آئے تو ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے سامنے لال پیلے پلے کارڈ اٹھا کر ایک مِن مِن کرتا ہوا احتجاج کر کے پھر سے اپنے گرما گرم حلال گوشت والے الہلال ڈونر کباب بیچ کر ڈالر اور پاؤنڈ کمانا شروع کردیتے ہیں۔
ولائت میں قیام پزیر مسلمانوں سے التماس ہے کہ کفار ممالک میں ہونے والی گستاخیوں پر غیرت مندی کے بھاشن کی چنگاریاں پاکستان پھینک کر ادھر کے غریب لوگوں کے کاروباروں کو نیست و نابود کروانے کی بجائے "اپنے ممالک" میں ایشوز سے خود ڈیل کریں کہ پاکستان میں پہلے ہی مختلف اقسام کے کفار، منکرین و روافض ختم کرنے کا کام الحمد للہ کافی مقدار میں موجود ہے۔ اگر آپ کی مقامی حکومت آپ کی بات نہیں مانتی تو لعنت بھیج کر احتجاجاً کسی پرامن اور معاشی طور پر مضبوط مسلم ملک کی طرف ہجرت کر آئیں۔اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ دار الکفر میں بلاوجہ رہائش اختیار کیے رکھنا ویسے بھی بعضے علماء کے نزدیک ناجائز ہے۔
کیا فرمایا؟معاشی طور پر مضبوط مسلم ممالک ویزے کے بغیر آنے نہیں دیتے۔؟ (اور نیشنیلٹی تو خیر نسل در نسل رہنے کے باوجود دیتے ہی نہیں۔)اُن کو مدھر سی آواز میں علامہ اقبال کی وہ نظم گنگنا کر سنائیں نا کہ "ایک ھوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے، نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر"۔انشاء اللہ نظم کی داد دینے فوراً وردیوں میں ملبوس غیبی کمک پہنچے گی۔اور عین ممکن ہے کہ آپ کو "داد" دینے کے علاوہ یہ بھی اچھی طرح ذہن نشین کروائے کہ حرم کی پاسبانی کے لیے جو تنخواہ دار فوج تعینات ہے، اس میں پاکستان، بنگلہ دیش، سوڈان، مصر سمیت تقریباً تمام مسلم اقوام کی نمائندگی ہے۔ اس لیے پیارے چندا،  فکر کرنے کی "چنداں" ضرورت نہیں، تم صرف ہمارے چندے پر گزارہ کرو۔

قائد اعظم اور لنکنز ان میں داخلہ

آج قائداعظم کی سالگرہ ہے۔
پاکستانی صاحبان اختیار کو  چاھیئے کہ معصوم بچوں سے قائد کے بارے لغو اور جھوٹی  تاریخ پر مبنی مضامین لکھوانے اور پڑھوانے چھوڑ دے۔ اور حق و سچ بیان کر کے اسلام و قائد کے اصولوں پر عمل کرے اور کروائے۔
درسی ٹیسٹ پیپرز کے ذریعے رٹّے لگوایا گیا یہ واقعہ تو سب کو یاد ہوگا کہ جب قائد اعظم قانون کی تعلیم کے لیے لندن گئے تو انہوں نے بہت سے اداروں میں سے لنکنز ان کو اس لیے چُنا کیونکہ یہاں  نصب ایک کتبے پر  دنیا کے عظیم ترین قانون دانوں کی فہرست میں ہمارے پیغمبر حضرت محمدﷺ کا نام سر فہرست تھا۔
شنید ہے کہ اس قسم کا کتبہ یہاں کبھی آویزاں نہیں کیا گیا۔
البتہ یہاں کے گریٹ ہال میں شمالی دیوار کے اوپری حصے میں  ایک دیواری تصویر ( انگریزی میں  Mural Painting یا  Fresco   کہتے ھیں۔)  ضرور موجود ہے، جس کا نام (Justice, A Hemicycle of Law Givers)  ہے، اس کواٹھارہ سو انسٹھ (1859ء) میں پینٹ کیا گیا۔ اس میں انصاف ، سچ اور رحم کے دیوتاؤں کے سائے میں بہت سے قانون گروں  کو دیکھایا گیا ہے، جن میں مبینہ طور پر حضرت موسٰی،  آنحضرتؐ ،  کنفیوشس، منو اور بہت سے دوسروں کی تصاویر شامل ہیں۔


ایک کتاب کے کور پر گریٹ ہال کی تصویر۔ سامنے دیوار پر میورل نمایاں ہے۔


اگر میں قائد کی جگہ ادھر پڑھتا ہوتا تو کسی دن چھپ کو اس تصویر پر کالا پینٹ سپرے کر دیتا۔ تاکہ کفار کو اس گستاخی سے باز رکھ سکوں۔ 
آخر ادارے کی انتظامیہ کو بھی ملوم ہونا چاھیئے کہ اسلام کی مقدس شخصیات کی شبیھات بنانے کا شرک، غنڈہ گردی اور   بدمعاشی اِدھر مزید نہیں چل سکتی ۔ ۔ ۔
لیکن جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ قائد نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ۔ ۔ پرنسپل کو شکایت تک نہیں کی کہ یہ تصویر ہر روز میرے مذھبی عقائد مجروح کرتی ہے، اس لیے اس کو ادھر سے مٹائیں!۔ ۔ ۔ حد یہ ہے کہ بھوک ہڑتال یا خود سوزی کی کوشش بھی نہیں کی ۔ ۔ ۔ 
قائد کا یہ بزدلانہ اور بے حس رویہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بندہ غازی علم الدین شہید کی وکالت کرتے ہوئے ،محض مسلمانوں کے ووٹ اکٹھے کرنے کے لیے، رنگ بازی کر رہا تھا۔
ایمانداری سےخود بتائیں، ایسی تعلیم اور قانون دانی کا اچار ڈالنا ہے جو یہی نہ سکھائے کہ گستاخ رسول کی کیا سزا ہے؟؟؟۔ ۔ ۔ چچ۔ چچ۔ چچ۔ ۔ ۔

Pages