میرا بلاگ ۔ ںعیم خان

Papaya - Papita - Carica papaya - پپیتا

 منفرد خوشبو، کھلتے رنگ کے میٹھے گودے والے پھل پپیتے کو مشہور مہم جو کرسٹوفر کولمبس نے 'فرشتوں کے پھل' نام دیا تھا اور اگر پپیتے کی غذائی اہمیت پر نظر دوڑائی جائے تو یہ نام درست بھی لگتا ہے۔پپیتا فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کو انگریزی میں پپایا کہتے ہیں۔ماضی میں کمیاب اور نایاب سمجھا جانے والا پھل پپیتا اب دنیا کے ہر کونے میں تقریباً سارا سال ہی دستیاب ہوتا ہے۔پپیتے کے پھل کو کچا اور پکا دونوں صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ہی صورتوں میں انسانی صحت کے لیے بیش بہا فوائد کا حامل ہے۔
وٹامن اے، وٹامن سی اور بے شمار معدنیات سے بھرے اس پھل کی تھوڑی سے مقدار ہی انسانی جسم کو درکار وٹامن سی کی روزمرہ مقدار کو پورا کرسکتی ہے۔سوڈیئم، کیلوریز اور اسٹارچ کی کم مقدار کے باعث اس پھل کے اور بھی متعدد فوائد ہیں۔پپیتے میں موجود خصوصی خامرے  'پیپین' کی موجودگی کی وجہ سے اسے پروٹین کے ہاضمے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔کیمیائی عنصر 'لائکوپین' کی موجودگی کی وجہ سے پپیتے کو کینسر کے خلاف مزاحمت فراہم کرنے میں بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
لائکوپین جسم میں پروسٹیٹ، پھیپھڑوں، لبلبے، معدے کی نالی، بریسٹ اور معدے کے کینسر کو پھیلنے سے روکتا ہے۔پپیتے میں موجود کیروٹینوائڈز آنکھوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پپیتا کھانے والے افراد کی آنکھیں بڑھتی عمر کے ساتھ کمزور ہونے سے واضح حد تک محفوظ رہتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس پھل اور اس کے بیج پیٹ میں موجود کیڑوں کے خلاف حیرت انگیز طور پر کام کرتے ہیں۔بیٹا کیروٹین اور لائیکوپین سے بھرپور پپیتا انسانی جسم کے سب سے بڑے اور اہم عضو 'جلد' کے لیے بھی یکساں مفید ہے۔
پپیتے کو نہ صرف کھانے سے بہت سے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں بلکہ جلد پر لگا کر بھی اس سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔پپیتے کا رس سورج کی شعاعوں سے متاثرہ جلد کو ٹھنڈا کرنے اور نئے خلیات بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جبکہ کچے پپیتے کا گودا جلد کی بہترین صفائی یعنی ایکسفولی ایشن  کرسکتا ہے۔مختلف خامروں اور کیمیائی عناصر کی موجودگی کی وجہ سے پپیتا دل کے دورے کے خدشے میں بھی واضح کمی لانے کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو پپیتے کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں، اس کے علاوہ پپیتے کے بیجوں کا استعمال کرتے ہوئے بھی خاص احتیاط برتنی چاہیئے کیونکہ ان کا ضرورت سے زائد استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔اقتباس از پپیتا باغ کی سیر۔ طارق طفیل
پپیتا گرم مرطوب علاقوں کا پودا ہے مگر اب اس کی بہترین ہائیبرڈ اقسام نرسریز میں دستیاب ہیں اور پاکستان کے تقریباً تمام تر علاقوں میں کامیابی سے اُگایا جاتا ہے۔ آج کل ڈینگی کی وباء عام ہے، اس کے پھل کا گودا یا جوس ڈینگی بخار میں شفاء بخشتا ہے، ڈینگی بخار میں مریض کے خون میں سفید سیلز ختم ہوجاتے ہیں جس میں پپیتا کا استعمال نہایت مفیدہوتاہے۔
پپیتا کی کاشت و نگہداشت کیلئے درج ذیل لنک کو فالو کریں۔
http://www.tropicalpermaculture.com/growing-papaya.html 

Oleander-Nerium Oleander-Kaneer-گنڈیرے۔کنیر

کنیر(گنڈیرے)کئی طبی خصوصیات کا حامل ایک جھاڑی نما سدابہارپودا ہے جس پرتقریباً سارا سال خوبصورت پھول کھلتے رہتے ہیں۔ پنجابی اور اُردو میں اس کو "کنیر " کہتے ہیں، پختون خوا کے بعض علاقوں میں اس کو "گنڈیرے" کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ انگریزی میں "اولینڈر" کہتے ہیں۔ اس کا نباتاتی نام "نیریم اولینڈر"ہے۔ لمبے گہرے سبز پتوں اور ٹہنیوں سے بھری ہوئی یہ جھاڑی نما پودا بہت سخت جان ہوتا ہے، تیز گرمیوں اور کم پانی میں بھی اس پر سارا سال پھول کھلتے رہتے ہیں۔ کنیر کی ٹہنیوں کے اُوپر سفید، گلابی، سرخ، زرد، ہلکے نارنجی اور ہلکے عنابی رنگ کے پھول لگتے ہیں ۔ پھول جھڑنے کے بعد اس میں ایک پھلی بنتی ہے، بیچ  پکنے پر پھلی پھٹ جاتی ہے ، بیجوں کے اُوپر ہلکے ہلکے روئے ہوتے ہیں جو اس کو ہوا میں اُڑنے میں مدد دیتے ہیں۔   نیریم اولینڈر خاندان کے اس رکن کا اصل وطن موریطانیہ،مراکو،پرتگال بتایا جاتا ہے جہاں سے یہ بحیرہ روم کے علاقے سے ہوتا ہوا امریکہ کے مشرقی ساحل، ایشیا اور جنوبی چین تک کو اپنا گھر بنا چکا ہے۔چونکہ یہ  پودا سخت گرمی کو برداشت کرسکتا ہے اور  کم پانی میں بھی خوب پھلتا پھولتا ہے اس لئے دنیا کے اکثر گرم علاقوں میں اس کی نشونما خوب ہوتی ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں میں کنیر کا پودا پایا جاتا ہے ۔ گلابی رنگ کے پھولوں کا پودا عام ملتا ہے۔ پاکستان میں اکثر سڑکوں کے کناروں یا درمیان میں گرین بیلٹس پرعام طور پر کنیر کے پودے لگائے جاتے ہیں۔  امریکہ میں کیلیفورنیا کے ہائی ویز اور سڑکوں کے کنارروں پر یہ پودے اپنی سخت جانی کی وجہ سے لگائے گئے ہیں جن کی اندازاً تعداد 25ملین سے زیادہ ہے۔کنیر اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ طبی لحاظ سے بھی بے مثال شہرت رکھتا ہے،کنیر بنیادی طور پر ایک زہریلا پودہ ہے،بے احتیاطی سے استعمال نقصان دے سکتا ہے اس کا زہریلا مواد زیادہ مقدار میں کھائے جانے پر نظام ہضم دل کے افعال اورنروس سسٹم پر اثر انداز ہوتا ہے،اس وجہ سے مستند حکیم ہی اسے ادویہ میں استعمال کریں تو بہتر ہے۔ ذائقہ میں بد مزہ کڑوے پھول ورموں کو تحلیل کرنے جوڑوں کے درد کمر درد شیاٹیکا میں بے حد مفید ہیں،پھولوں کا رس چہرہ کے نکھار کے لیے بہترین چیز ہے لیکن آنکھوں کو نقصان دے سکتا ہے احتیاط ضروری ہے۔سفید پھولوں سے بنی نسوار پرانے نزلہ اور اس سے بننے والی دماغی رطوبتوں کے علاج میں نہائت مفید ہے۔اس کی مسواک کڑوی ضرور ہے لیکن پائیوریا جیسے مرض میں اسے اکثیر آعظم مانا گیا ہے۔اتنی خوبیوں کے حامل اس پودے کا حق بنتا ہے کہ اسے غیر ملکی فضول بلکہ نقصان دہ پودوں کی جگہ سڑکوں کے کنارے،شاہراہوں کی سبز پٹیوں،پارکوں،باغوں میں فروغ دیا جائے۔Source: Tariq Tufail, Google, Wikipedia 


کنیر کا پودا آسانی سے اُگایا جاسکتا ہے۔ اس کے چھوٹے پودے کسی بھی نرسری سے مل جاتے ہیں جو کہ قیمتاً بھی سستے ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ جھاڑی نما پودا ہے اس لئے اس کو بطور باڑ استعمال کیا  جاتا ہے۔ سڑکوں کے درمیان گرین بیلٹس پر اُگانے کیلئے یہ ائیڈیل تصور کیاجاتا ہے۔ اس پودے کی نسبتاً مضبوط ٹہنیوں کو سردیوں کے اختتام پر کاٹ کر قلمیں بنا کرگملوں میں لگانے سے نئےپودے بھی حاصل کیئے جاسکتے ہیں۔ کنیر کے پودے کو کاٹ چانٹ کر خوبصورت ڈیزائن میں بھی سیٹ کیا جاسکتا ہے۔ پھولوں کو ٹہنیوں سمیت کاٹ کر گلدانوں میں پانی میں رکھ کر کئی دنوں تک گھر کے اندرسجایاجاسکتا ہے۔ چونکہ اس کا ذائقہ کڑوا اور تاثیر زیریلی ہوتی ہے اس لئے آوارہ جانوروں کی کی خوراک بننے سے بچا رہتا ہے اور یہ تقریباًواحد پودا ہے جس کو بکری نہیں کھاتی۔ اس لئے دیگر پودوں کے اردگرد یا باغ باغیچوں کے گرد اس کے باڑ لگا کرآسانی سے اُگا کر دیگر پودوں کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔ 

Arjun Tree - Terminalia Arjuna - Combretaceae - ارجن

ارجن قدرت کا بے بہا تحفہ
تریفل(ترپھلہ) کے جزو ہریڑ اور بہیڑہ کے خاندان کمبری ٹیسی سے تعلق رکھنے والے اس درخت کا نباتاتی نام ٹرمینالیا ارجونا ہے ، امرود کے پتوں جیسے اس کے پتے دس سے پندرہ کی تعداد میں ایک ٹہنی پر لگتے ہیں،ذرد ننھے ننھے پھول جھڑنے پر سبزکمرکھ کی شکل کا پہلودار پھل نمودار ہوتا ہے جو گہرا بھورا رنگ اختیار کرکے گر جاتا ہے ۔ ارجن ایک سدا بہارہر موسم میں سرسبز رہنے والا بڑے قد کاٹھ والادرخت ہے،یہ تیس میٹر سے بھی بلندہو جاتا ہے۔ارجن اپنے مفید خواص کے ساتھ ساتھ ظاہری خوبصورتی میں بھی بے مثال ہے سارا سال سرسبز و شاداب رہنے اور اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے اسے باغات اور شاہراہوں کے اطراف لگایا جاتا تھا اس کی بلندی باغوں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی تھی لیکن اب کئی دہائیوں سے اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی روئیے بدل چکے ہیں ہم اپنے ماحول میں شامل چیزوں کو جن کا ہماری حیات سے گہرا رشتہ ہے نہ تو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ انہیں وہ اہمیت دیتے ہیں جن کی وہ حقدار ہوتی ہیں،ہمارے شہروں کا بے ہنگم اور بنا کسی نظم و ضبط کے پھیلاو ماحول کے قدرتی توازن کو ختم کر رہا ہے فضائی آلودگی قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے ایسے میں ارجن ہی وہ بہترین انتخاب ہے جو فضا میں شامل گرد، دھوئیں، بھاری دھاتوں کے ذرات کی کثافت کو دوسرے درختوں سے بہت بہتر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا قد کاٹھ موسموں کی شدت کو کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔اس کی چھال سے دوائیں بنتی ہیں جوکہ سفیدی مائل سرمئی رنگت والی اور اندر سے طبقہ دار بھورے رنگ کی ہوتی ہے،ارجن کا مزاج دوسرے درجے کا گرم خشک ہے،ارجن برصغیر پاک و ہندکی نباتاتی زندگی میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ،جانوروں کی کھالوں سے چمڑہ بنانے اور دواؤں میں اس کا استعمال برصغیر کے لوگ صدیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں،ارجن کے ہر حصے سے ٹے نین کی بڑی مقدار حاصل ہوتی ہے جو کہ اس کی چھال میں چوبیس فیصد تک ہو جاتی ہے اس کے تنے سے تین سال میں اس کو نقصان پہنچائے بغیر چالیس کلو گرام تک چھال حاصل ہو سکتی ہے،ٹے نین پودوں کے ایسے جزو کو کہا جاتا ہے جو پروٹین کو سکیڑنے اور ٹھوس بنانے میں مدد گار ہوتا ہے اسی سے جانوروں کی کھال کو گلنے سڑنے سے بچایا اور چمڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے،ٹے نین جن پھلوں میں پایا جاتا ہے ان کے کھانے سے منہ میں خشکی اور کھچاو محسوس ہوتا ہے جیسے کہ کچا امرود اور پرسیمم یا جاپانی پھل۔
اس کی چھال میں ٹے نین کے علاوہ بیٹا سائیٹو سیٹرول،ٹرائی ٹرپی نائیڈسیونین،ارجونین،ارجونیٹین،ارجو نولک ایسڈ،فراری تیل،شکر،کیشیم کے نمکیات کے ساتھ تھوڑی مقدار میں میگنیشیم اور ایلومینیم کے نمکیات بھی ملتے ہیں۔ائیورویدک طب میں اس درخت کی بہت اہمیت ہے لیکن طب یونانی میں اس کا استعمال کم ہے۔اس کو دل کے فعلی اور عضویاتی امراض میں جیسے کہ درددل انجائینا،خفقان،ورم بطانہ قلب،ورم غلاف القلب میں استعمال کیا جاتا ہے،اس کاسب سے اچھا وصف یہ ہے کہ دل پر کوئی زہریلے اثرات نہیں چھوڑتا یہ فشارالدم ہائیپرٹینشن میں خاص طور پر مفید ہے۔ارجن میں پائے جانے والے اجزاء دل کے نازک پٹھوں خون کی نالیوں کو مظبوط کرنے کے ساتھ خون میں چکنائی کو ہضم کرنے والے نظام کی اصلاح کر کے اسے فعال بناتے ہیں۔اینٹی اوکسیڈنٹ بطور دوا ایسے جزو کا نام ہے جو دوسرے اجزاء کو اکسیجن سے مل کر ٹھوس ہونے سے روکے جیسے کہ خون کی نالیوں میں چکنائی کا جمنا،ارجن کی چھال سے بننے والا قہوہ اپنی اینٹی اوکسیڈنٹ صلاحیت کی وجہ سے دل کے امراض میں انتہائی مفید ہے۔
ارجن جلد کے نیچے خون جمنے سے بننے والے نیلے سرخ دھبے زائل کرتا ہے،صفراوی امراض میں مفید ہے،مدر بول، مصفٰی خون،اسہال، سنگرہنی کا علاج ہے،زہروں کا تریاق ہے،حابس الدم، پیچش اور بخاروں میں مفید ہے،اس کا استعمال کارنری آرٹریزڈیزیز میں اچھے نتائج دیتا ہے،ارجن کاایکسٹریکٹ فنگس کی نشونما روکتا ہے،اس کی چھال میں پایا جانے والا ٹے نین خاصیت رکھتا ہے،ہومیو پیتھی میں ارجن کی چھال سے مدر ٹینکچر بنایا جاتا ہے ، ہومیو پیتھی میں اسے دل کی فعلاتی اور عضوی بیماریوں دل کی نالیوں کی خرابی، جوڑوں کے درد ،خفقان،فریکچر،سوزاک جریان کی بہترین دوا سمجھا جاتا ہے۔ارجن کی چھال سے بنی چائے جس کا نسخہ درج ذیل ہے مقوی قلب ہے، ورم غلاف دل اور درد دل میں مفید ہےدس گرام چھال ارجن دوسو گرام پانی میں ابالیں اس میں چار سو گرام دودھ شامل کر کے نرم آنچ پر پکائیں پانی سوکھنے پر مصری یا شکر ملا کر نوش کریں۔ارجن قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہے،ہمارے بے مہار بڑھتے ہوئے شہروں کی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اگر اسے استعمال کیا جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ہرقسم کے نسخہ جات کا استعمال صرف اور صرف مستند معالج، ہربلسٹ یا نباتات کے ماہر کے مشورے اور ہدایت کے مطابق کی جائے۔Source: https://www.facebook.com/tariq.tufail.37/posts/1276543715791428

KP Public Service Commission Add No.09/2017

حکومت خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں نے نئی/خالی آسامیوں کیلئے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے درخواستیں طلب کی ہیں۔آخری تاریخ 20.10.2017ہے ۔  

KHYBER PAKHTUNKHWA PUBLIC SERVICE COMMISSIONADVERTISEMENT NO.  09/2017.
APPLY ONLINE ONLY. Applications other than online will not be accepted.To apply online  please visit  www.kppsc.gov.pk
The candidates are advised to fill all the columns carefully.
Unclaimed qualification, experience etc will not be accepted.

Online applications, on prescribed form, are invited for the following posts from Pakistani citizens having domicile of Khyber Pakhtunkhwa / F.A.T.A by 20.10.2017.

agriculture, livestock & cooperative department 1.     one (01) (leftover) research officer / farm manager (minority quota) IN LIVESTOCK & DAIRY DEVELOPMENT (RESEARCH WING)
QUALIFICATION: Doctor of Veterinary Medicine (DVM) or equivalent qualification in Veterinary Sciences recognized by PVMC.
AGE LIMIT:  22 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-17      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.

anti corruption establishment 2.     one (01) (leftover) junior scale stenographer.
QUALIFICATION: (i) F.A or equivalent qualification from a recognized Board, And(ii) A speed of 80 words per minute in Shorthand in English and 40 words per minute in Typing.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-1.

communication & works department 3.     seventen (17) sub engineers civil.
QUALIFICATION: Diploma of Associate Engineering Civil (D.A.E) from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Four each to Zone-1 & 2 and Three each to Zone-3, 4 & 5.
4.     two (02) sub engineers civil (women quota).
QUALIFICATION: Diploma of Associate Engineering Civil (D.A.E) from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.
5.     one (01) sub engineer civil (minority quota).
QUALIFICATION: Diploma of Associate Engineering Civil (D.A.E) from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
6.     ten (10) draftman.
QUALIFICATION: (i). At least 2nd Division Secondary School Certificate from a recognized Board (ii). Two (02) years certificate course in Civil Draftsmanship from a recognized institute or Board of Technical Education; AND (iii). Six (06) months course in AUTOCAD (2-D, 3D) drawing and Computer Knowledge of MS office from a recognized Trade Testing Board (TTB)
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Two to Zone-1, Three each to Zone-2 & 3 and One each to Zone-4 & 5.

7.     two (02) draftman (women quota).
QUALIFICATION: (i). At least 2nd Division Secondary School Certificate from a recognized Board (ii). Two (02) years certificate course in Civil Draftsmanship from a recognized institute or Board of Technical Education; AND (iii). Six (06) months course in AUTOCAD (2-D, 3D) drawing and Computer Knowledge of MS office from a recognized Trade Testing Board (TTB)
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.
8.     one (01) draftman (disabled quota).
QUALIFICATION: (i). At least 2nd Division Secondary School Certificate from a recognized Board (ii). Two (02) years certificate course in Civil Draftsmanship from a recognized institute or Board of Technical Education; AND (iii). Six (06) months course in AUTOCAD (2-D, 3D) drawing and Computer Knowledge of MS office from a recognized Trade Testing Board (TTB)
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
9.     one (01) draftman (minority quota).
QUALIFICATION: (i). At least 2nd Division Secondary School Certificate from a recognized Board (ii). Two (02) years certificate course in Civil Draftsmanship from a recognized institute or Board of Technical Education; AND (iii). Six (06) months course in AUTOCAD (2-D, 3D) drawing and Computer Knowledge of MS office from a recognized Trade Testing Board (TTB)
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.

elementary & secondary education Deptt: 10.      ONE HUNDRED AND TWO (102) PRINCIPAL / VICE PRINCIPAL ( FEMALE)
QUALIFICATION: Masters degree with M.Ed/M.A (Edu:) or equivalent qualification from a recognized university with nine years teaching / administrative experience in recognized Secondary School / Higher Secondary School.
AGE LIMIT:  25 to 40 years.   PAY SCALE:  BPS-18        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: Merit.
11.      TWO (02) PRINCIPAL / VICE PRINCIPAL (disabled quota)
QUALIFICATION: Masters degree with M.Ed/M.A (Edu:) or equivalent qualification from a recognized university with nine years teaching / administrative experience in recognized Secondary School / Higher Secondary School.
AGE LIMIT:  25 to 40 years.   PAY SCALE:  BPS-18        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: Merit.
12.      three (03) POSTS OF PRINCIPAL / VICE PRINCIPAL (minorites quota)
QUALIFICATION: Masters degree with M.Ed/M.A (Edu:) or equivalent qualification from a recognized university with nine years teaching / administrative experience in recognized Secondary School / Higher Secondary School.
AGE LIMIT:  25 to 40 years.   PAY SCALE:  BPS-18        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: Merit.
13.      sixty one (61) director physical education (female).
QUALIFICATION: At least 2nd class Master’s Degree in Physical Education from recognized University.
AGE LIMIT:  22 to 35 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: 15 to Merit, 12 to Zone-1, 10 each to Zone-2 & 3, and 07 each to Zone-4 & 5.
14.      two (02) director physical education (Minority quota).
QUALIFICATION: At least 2nd class Master’s Degree in Physical Education from recognized University.
AGE LIMIT:  22 to 35 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: Merit.
15.      one (01) director physical education (disabled quota).
QUALIFICATION: At least 2nd class Master’s Degree in Physical Education from recognized University.
AGE LIMIT:  22 to 35 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: Merit.

establishment Department 16.      twenty three (23) (leftover) junior scale STENOGRAPHERS (female quota).
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, And (ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in English Typewriting and knowledge of Computer in using MS word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.

Forestry, environment & wildlife department 17.      THREE (03) computer operatorS in THE OFFICE OF CHIEF CONSERVATOR OF WILDLIFE.
QUALIFICATION: (a) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science Information Technology (BCS or BIT with Four Years) from a recognized University. OR (b) At least 2nd class Bachelor’s Degree from a recognized University with one year Diploma in Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT:  18 to 28 years.   PAY SCALE:  BPS-16        ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Merit, Zone-1 & 2.
18.      one (01) media technician in I & HRD & M directorate.
QUALIFICATION: At least 2nd class Bachelor’s Degree with one year diploma in Hardware from Board of Technical Education and having one year experience in handling of Audio visual equipments.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-1.
19.      three (03) female forestry extentionist in CD,E,GAD directorate.
QUALIFICATION: At least 2nd class Bachelor’s Degree from a recognized university.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  One each to Zone-1, 2 and 3.

HEALTH DEPARTMENT 20.      one (01) professor psychiatry in saidu medical college swat.
Qualification: (a) MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent medical qualification recognized by the Pakistan Medical & Dental Council; And(b) FCPS/MS/MD (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures, in the respective clinical science subject or equivalent qualification recognized by Pakistan Medical & Dental Council;(ii)EXPERIENCE:- (a) Three years teaching experience as an Associate Professor in the respective subject is essential provided that total experience as Assistant Professor and Associate Professor is not less than eight years or nine years teaching experience as an Assistant Professor and Associate Professor in the respective subject calculated as per Pakistan Medical & Dental Council Regulations duly certified by Pakistan Medical & Dental Council in case of experience gained in private sector medical colleges; And (iii)RESEARCH PUBLICATIONS:- A total of five Research Publications out of which at least two as Principal author in the relevant specialty are required. Only an original article published in a medical journal approved by the Pakistan Medical & Dental Council shall be acceptable.
AGE LIMIT: 40 to 50 years. PAY SCALE:  BPS-20.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
21.      one (01) assistant professor biochemistry in saidu medical college swat.
Qualification: (i) MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent medical qualification recognized by the PM&DC; And(ii) FCPS/Ph.D (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures, in respective basic science subject or equivalent qualification recognized by PM&DC; OR(iii) M.Phil (duration of 2 years) or qualification with other nomenclature, in respective basic science subject or equivalent qualification in the respective basic science subject recognized by PM&DC having two years teaching experience as Lecturer/Demonstrator in respective basic science subject i.e M.Phil or qualification with other nomenclature recognized by PM&DC duly certified by PM&DC in case of experience gained in private sector medical college; And (iv) FCPS/MS/MD or qualification with other nomenclature (duration of 04 years) in related clinical subject (duration of 04 years).
AGE LIMIT: 27 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-18.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
22.      one (01) Assistant professor psychiatry in saidu medical college swat.
Qualification:  (a) MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent qualification recognized by the Pakistan Medical & Dental Council; And(b) FCPS/MS/MD (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures, in the respective clinical science subject or equivalent qualification recognized by the Pakistan Medical & Dental Council;(ii)EXPERIENCE:- Three years teaching experience in the respective clinical science subject as Senior Registrar in an institution recognized by PM&DC. If qualification is general otherwise one year experience in case of sub-specialty holder duly certified by Pakistan Medical & Dental Council in case of experience gained in private sector medical colleges.
AGE LIMIT: 28 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-18.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
23.      one (01) Associate professor psychiatry in saidu medical college swat.
Qualification: MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent medical qualification recognized by the Pakistan Medical & Dental Council; And(b)  FCPS/MS/MD (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures, in the respective clinical science subject or equivalent qualification recognized by Pakistan Medical & Dental Council.(ii)EXPERIENCE:- Five years teaching experience as an Assistant Professor in the respective clinical science subject calculated as per Pakistan Medical & Dental Council Regulations duly certified by Pakistan Medical & Dental Council in case of experience gained in private medical colleges; And(iii)RESEARCH PUBLICATIONS:- A total of three Research Publications out of which at least one as Principal author in the relevant specialty are required. Only an original article published in a medical journal approved by the Pakistan Medical & Dental Council shall be acceptable.
AGE LIMIT: 35 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-19.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
24.      one (01) senior registrar urology in saidu group of teaching hospital swat.
Qualification:  (i) MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent medical qualification recognized by the PM&DC; And(ii) FCPS/MS/MD (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures in the respective clinical science subject or equivalent qualification recognized by PM&DC.
AGE LIMIT: 25 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-18.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.

25.      one (01) senior registrar psychiatry in saidu medical college swat.
Qualification:  (i) MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent medical qualification recognized by the PM&DC; And(ii) FCPS/MS/MD (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures in the respective clinical science subject or equivalent qualification recognized by PM&DC.
AGE LIMIT: 25 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-18.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
26.      two (02) senior registrar (one (01) each for neurosurgery & orthopaedic) in saidu group or teaching hospital swat.
Qualification:  (i) MBBS (duration of 5 or 6 years) or equivalent medical qualification recognized by the PM&DC; And(ii) FCPS/MS/MD (duration of 4 years) or qualification with other nomenclatures in the respective clinical science subject or equivalent qualification recognized by PM&DC.
AGE LIMIT: 25 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-18.      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
27.      six (06) (leftover) Male nurse (disabled quota).
Qualification:  (i) B.Sc Nursing (4 years) Degree or Diploma in General Nursing and one year specialized post basic diploma; And(ii) Equal for both male and female candidates duly registered with Pakistan Nursing Council.
AGE LIMIT: 21 to 35 years.          PAY SCALE:  BPS-16.             ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION: Merit.
28.      nine (09) (leftover) Male nurse (minority quota).
Qualification:  (i) B.Sc Nursing (4 years) Degree or Diploma in General Nursing and one year specialized post basic diploma; And(ii) Equal for both male and female candidates duly registered with Pakistan Nursing Council.
AGE LIMIT: 21 to 35 years.          PAY SCALE:  BPS-16.             ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION: Merit.

HIGHER EDUCATION, ARCHIVES AND LIBRARIES 29.      eighteen (18) (leftover) female lecturers in various subjects.
QUALIFICATION: (a) 2nd Class Master’s Degree in the relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
ZONAL ALLOCATION:
S.NO Subject Merit Zone-1 Zone-2 Zone-3 Zone-4 Zone-5 Total
  1.  
Food & Nutrition 01 01 01 01 - - 04
  1.  
Human development 01 01 01 01 - - 04
  1.  
Resource & Facility 01 01 01 01 - - 04
  1.  
Textile & Clothing - 01 01 01 - - 03
  1.  
Arts & Design - 01 01 01 - - 03
AGE LIMIT:  21 to 30 years.     PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Female.
NOTE:  The candidates are advised to write Serial No and Sub Serial No of the posts the space available in the application form.
30.      one (01) (leftover) male lecturer in bio informatics.
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT:  21 to 30 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Male.
ALLOCATION: Zone-1.
31.      two (02) (leftover) male lecturers in political science        (minority quota).
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT:  21 to 30 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Male.
ALLOCATION: Merit.
32.      One (01) (leftover) male lecturer in English (minority quota).
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university; OR(ii) 3rd Class Master Degree in English from a recognized university for teaching English subject with Post Graduate diploma in English language from Allama Iqbal Open University.
AGE LIMIT:  21 to 30 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Male.
ALLOCATION: Merit.
33.      one (01) (leftover) female lecturer in physics (disabled quota).
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT:  21 to 30 years.   PAY SCALE:  BPS-17        ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION: Merit.
34.      one (01) computer operator in archives & libraries.
QUALIFICATION: (i) 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/ Information Technology (BCS/BIT Four Years) from a recognized University. OR (ii) Second Class Bachelor’s Degree From a recognized University with one year Diploma in Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT:  20 to 32 years.   PAY SCALE:  BPS-16        ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION: Merit.

home & tRIBAL aFFAIRS department 35.      four (04) senior instructors in prisons department.
QUALIFICATION: At least Second Class LLB or its equivalent qualification from a recognized University.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION:  One each to Merit, Zone-1, 2 and 3.
36.      one (01) male instructor in prisons department.
QUALIFICATION: Qualified Drill Instructor from Armed/ Para-military Forces with at least Second Division Secondary School Certificate from a recognized Board.
AGE LIMIT: 21 to 45 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION:  Zone-1.
37.      one (01) deputy superintendnet jail in prisons department.
QUALIFICATION: (i) Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University; And(ii) LLB from a recognized University.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION:  Zone-3. Note: Knowledge of Computer will be compulsory.
38.      one (01) senior scale stenographer in prisons department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree or equivalent qualification from a recognized University, And(ii) A speed of 100 words per minute in Shorthand in English and 40 words per minute in Typing.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.

information and public relations department 39.      THREE (03) junior scale stenographers.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board. (ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in English Typing speed; and(iii) M.S Word & M.S Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION:  One each to Zone-1, 2 and 5.

irrigation department 40.      one (01) (leftover) senior scale stenographer.
QUALIFICATION: Bachelor’s Degree or equivalent qualification from a recognized University; And(ii) A speed of 80 words per minute in English Shorthand and 40 words per minutes in English Typing.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-1.

local government, elections & rural development department 41.      thirty five (35) TEHSIL MUNiCIPAL OFFICER / TEHSIL OFFICER(R) IN LOCAL COUNCIL BOARD.

QUALIFICATION: At least 2nd division Bachelor’s Degree from a recognized University.  

AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Both Sexes.

ALLOCATION:  09 to Merit, 06 each to Zone-1 & 2 and 3, 04 each to Zone- 4 & 5.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 06/2017 S.No. 17 needs not apply afresh.
42.      four (04) TEHSIL MUNiCIPAL OFFICER / TEHSIL OFFICER(R) (women quota) IN LOCAL COUNCIL BOARD.

QUALIFICATION: At least 2nd division Bachelor’s Degree from a recognized University.


AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Female.

ALLOCATION:  Merit.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 06/2017 S.No. 18 needs not apply afresh.
43.      one (01) TEHSIL MUNiCIPAL OFFICER / TEHSIL OFFICER(R) (minority quota) IN LOCAL COUNCIL BOARD.

QUALIFICATION: At least 2nd division Bachelor’s Degree from a recognized University.  

AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Both Sexes.

ALLOCATION:  Merit.
44.      seventeen (17) ASSISTANT TEHSIL OFFICER(R) / Assistant tax superintendent IN LOCAL COUNCIL BOARD.
QUALIFICATION: At least 2nd division Bachelor degree from a recognized University.     AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  04 each to Zone-1, 2 and 03 each to Zone-3, 4 & 5.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 07/2017 S.No. 39 needs not apply afresh.
45.      two (02) ASSISTANT TEHSIL OFFICER(R) / Assistant tax superintendent (women quota) IN LOCAL COUNCIL BOARD.
QUALIFICATION: At least 2nd division Bachelor degree from a recognized University.     AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 07/2017 S.No. 40 needs not apply afresh.
46.      eleven (11) accountants in local council board.
QUALIFICATION: At least 2nd Division Degree in B.com/B.B.A or its equivalent from a recognized University.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  03 to Zone-1, 02 each to Zone-2, 3, 4 & 5.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 07/2017 S.No. 41 needs not apply afresh.
47.      one (01) accountant (women quota) in local council board.
QUALIFICATION: At least 2nd Division Degree in B.com/B.B.A or its equivalent from a recognized University.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 07/2017 S.No. 42 needs not apply afresh.
48.      seven (07) accounts officer.
QUALIFICATION: At least 2nd class Bachelor’s degree in Commerce or Business Administration from a recognized University.
AGE LIMIT:  21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Two to Merit, One each to Zone-1, 2, 3, 4 & 5.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 06/2017 S.No. 19 needs not apply afresh.
49.      one (01) accounts officer (women quota).
QUALIFICATION: At least 2nd class Bachelor’s degree in Commerce or Business Administration from a recognized University.
AGE LIMIT:  21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17      ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 06/2017 S.No. 20 needs not apply afresh.
50.      fourteen (14) sub engineers civil.
QUALIFICATION: At least 2nd Division Diploma in Associate Engineering in Civil Technology from a recognized institute.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Three each to Zone-1, 2, 3 & 4, Two to Zone-5.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 07/2017 S.No. 43 needs not apply afresh.
51.      two (02) sub engineers civil (women quota).
QUALIFICATION: At least 2nd Division Diploma in Associate Engineering in Civil Technology from a recognized institute.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-11      ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.
Note: The candidates already applied for the above post against Adv: No. 07/2017 S.No. 45 needs not apply afresh.

police department 52.      fifty two (52) junior scale stenographers.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board of Pakistan or abroad, And (ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in Typewriting in English Typing and knowledge of Computer in using MS word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION:  Twelve each to Zone-1 and 2, Eleven to Zone-3, Eight to Zone-4 and Nine to Zone-5.
53.      four (04) junior scale stenographers (female quota).
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board of Pakistan or abroad, And (ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in Typewriting in English Typing and knowledge of Computer in using MS word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Female.
ALLOCATION:  Merit.
54.      two (02) junior scale stenographers (minority quota).
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board of Pakistan or abroad, And (ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in Typewriting in English Typing and knowledge of Computer in using MS word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.
55.      two (02) junior scale stenographers (disabled quota).
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board of Pakistan or abroad, And (ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in Typewriting in English Typing and knowledge of Computer in using MS word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit.

Service tribunal 56.      one (01) (leftover) senior scale stenographer.
QUALIFICATION: (i) 2nd Class BA / B.Sc or equivalent qualification from a recognized University.(ii) A speed of 100 words per minute in  English Shorthand and 40 words per minute in English typing and knowledge of computer in using MS Word and     MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION:  Merit
57.      one (01) (leftover) junior scale stenographer.
QUALIFICATION: (i) Intermediate from a recognized Board, And(ii) A speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in Typing with knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-3.


  قومی شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، ڈومیسائل کی فوٹو کاپیاں کسی بھی کلاس ون آفیسر سے تصدیق کرواکر منسلک کی جاتی ہیں۔ جبکہ اپنے علاقے کے دو افراد سےاچھے اخلاق کا سرٹیفیک (کریکٹر سرٹیفکیٹ) لیا جاتا ہے جس کا متن کچھ یوں ہوتا ہے:۔
تصدیق کی جاتی ہے کہ مسمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکنہ۔۔۔۔۔(ایڈریس)۔۔۔۔۔۔۔ کا مستقل باشندہ ہے اور یہ کہ مسمی۔۔۔۔(نام)۔۔۔۔۔اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہے۔
نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            ۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارم کے آخر میں تفصیل سے مطلوب دستاویزات کی لسٹ موجود ہوتی ہے۔ فارم ایک نمبر پر اور دیگر دستاویزات دیئے گئے نمبرز پر فارم کے ساتھ منسلک کئے جاتے ہیں۔ جبکہ دیگر متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کئے جاتے ہیں جو مطلوبہ آسامی کے مطابق ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کیلئے ایک علیحدہ فارم ساتھ ہوتا ہے جس کو فارم ڈی کہتے ہیں۔ اس فارم کو الگ سے اپنے محکمہ کے ذریعہ پبلک سروس کمیشن کو بھیجا جاتا ہے جس کا مقصد درخواست دہندہ کا آسامی کیلئے درخواست دینے پر حکومت کی طرف سے اجازت نامہ ہوتا ہے۔ جس کو تھرو پراپرچینل اپلائی بھی کہتے ہیں۔تمام ڈاکیومنٹس کی تصدیق شدہ کاپیاں فارم کے ساتھ لگا کر کمیشن آفس میں آخری تاریخ سے پہلے پہلے جمع کریں یا ڈاک کے ذریعے بھیجے جاسکتے ہیں۔

Kalam Swat Festival 15-17 September 2017 کالام فیسٹیول


محکمہ کھیل وثقافت حکومت خیبر پختونخوا اورضلعی انتظامیہ سوات کے اشتراک سے تین روزہ کالام فیسٹیول کا آغازکل 15ستمبر2017سے ہورہاہے۔گزشتہ سالوں کی طرح تین روزہ فیسٹیول میں صوبے کی علاقائی ثقافت کے حوالے سے رنگا رنگ پروگرامزہونگے جبکہ ہر شام کو میوزیکل نائٹ منعقد ہوگی جس میں معروف گلوکار پرفارم کرینگے فیسٹیول میں مختلف قسم کے کھانوں سمیت ہاتھ سے بنی ہوئی مختلف اشیاء کے نمونے اور دیگر سٹالز لگائے جائیں گے ۔جن میں نا صرف صوبے کے مختلف علاقوں میں ہاتھ سے تیارکی جانی والی اشیاء نمائش کیلئے رکھی جائیں گی۔ میلے میں علاقائی کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے جبکہ صوبہ بھر کے علاقائی گلوکار بھی اس تین روزہ فیسٹیول میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے فیسٹیول میں ہر شام معروف گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔وزیر اعلی پرویز خٹک مہمان خصوصی ہونگےاورٹورازم کارپوریشن کی جانب سے کالام کی خوبصورتی ٗنزئین وآرائش کے حوالے سے ترقیاتی کاموں کامعائنہ بھی کریں گے۔
source: https://www.facebook.com/kptourism/
گزشتہ سالوں منعقدہوئے کالام فیسٹیول کی کچھ جھلکیاں 

جشن آزادی مبارک Pakistan India National Anthem

جشن آزادی مبارکہندوستانی میڈیا اور بالی ووڈ جہاں ہمیشہ پاکستان، اسلام اور مسلمان کو منفی انداز میں پیش کرکے عالمی سطح پر ہمارا چہرہ مسخ کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے وہاں اُن کےکچھ من چلے نوجوانوں کے ایک بینڈ "وائس آف رام" نے جشن آزادی کے موقع پرپاکستانی قومی ترانہ پڑھ کر پاکستانیوں کو جشن آزادی کی مبارک باد دے کر ایک مثبت قدم اُٹھایا ہے، ہم اُن کے اس اقدام کی بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔ 
 اس دفعہ دوخوبصورت ترانے سننے اور دیکھنے کو ملے، پاکستان کوک سٹوڈیوز کا تیارکردہ قومی ترانہ اور انڈیا کے بینڈ "وائس آف رام" کا پاکستان اور ہندوستان کے گلوکاروں کا پڑھا گیا دونوں ممالک کا قومی ترانہ۔  ان ترانوں کے یوٹیوب ویڈیوز یہاں ملاحظہ کیجئے۔ 

پانی کی قلت اور ہمارے مجموعی روئے Scarcity of Water in Swat

پانی کی قلت اور ہمارے مجموعی رویے

صاف پانی کی قلت کی خبریں ملک کے مختلف علاقوں اور دوسرے ممالک سے آتی رہتی ہیں۔ برے دنوں کے لیے خوراک کے ذخیرے جمع کرنا حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی میں رب العالمین نے دنیا کو بتا دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگوں نے قرآن و احادیث کو قصے کہانیوں کی سطح پر رکھا ہوا ہے۔ عملی زندگی میں ہم نے ان دو عظیم ذرائع ہدایت کو تقریباً نظر انداز کیا ہوا ہے۔ آج بھی عام مسلمان سب سے زیادہ بات محراب و منبر کی مانتے ہیں اور یہ یقیناًایسے مقدس ذرائع ہیں جن سے دورِ جدید میں پُرامن اور خوشحال زندگی کم سے کم وقت میں حاصل کی جاسکتی ہے۔ بس بات تعلیم و تبلیغ کے معیار کی اور درست عمل کی ہے۔ اگر احتیاط کے ساتھ ارد گرد کے ماحول (پاکستان میں) پر نظر ڈالی جائے، تو قدرت کی طرف سے پانی کی فراہمی فی الحال اچھی خاصی ہے لیکن بے تربیت عوام، کرپٹ دفتری ماحول اور حد سے زیادہ خود سریوں نے دوسرے بے شمار مسائل کے ساتھ پانی کے مسائل کو بھی گھمبیر بنادیا ہے۔ سر فہرست ذمہ داروں میں وطنِ عزیز دفتری معیار کار ہے، پھر الراشی و المرتشی اور سفارش کا کلچر ہے۔ ہم نے اپنے معاملات کو اتنا بگاڑ دیا ہے کہ اب شاید بگاڑ ہی کے ذریعے اس کو درست کیا جاسکے گا۔ جیسا کہ روس اور چین میں کئی کروڑ لوگوں کو گولیوں سے اڑا کر کچھ درستگی لائی گئی۔ بادی النظر میں میرا یہ فقرہ بڑا سخت ہے لیکن جب ہم خود خرابیوں کو بڑھاتے ہیں، تو پھر ہمیں ہی اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ ہم چھوٹے لوگ ہیں بڑے لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں سکتے۔ کروڑوں روپے کا لاباغ ڈیم کی تعمیر کے ابتدائی امور پر خرچ کئے گئے۔ ماہرین نے (مع ورلڈ بنک) اس کو مفید اور قابلِ عمل قرار دیا، لیکن پھر معروف بائیں جماعت والی سوچ کی سیاسی پارٹیوں کے بڑوں نے اس سکیم کو ختم کروا دیا۔ ایک بڑا تو صدر پاکستان تھا، جس کی آئینی ذمہ داری پورے ملک کے مفادات کا خیال رکھنا تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حسب سابق ہم عظیم مقدار کا پانی سمندر میں پھینک رہے ہیں۔ بہت بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور وسیع پیمانے کی سمگلنگ نے ملک سے سرمایہ کو باہر منتقل کرنے، سرکار کا ایک لاکھ کا کام کئی لاکھوں میں کروانا اور وہ بھی ناقص، ان عادات نے خزانے کو خالی کروادیا ہے۔ پھر دفاتر میں دو نمبر کی بیورو کریسی اور سفارشی اور اقربا پروری نے سرکار کی قوتوں کو کمزور ترین کردیا ہے۔ ورنہ پورے ملک میں جگہ جگہ چھوٹے اور بہت چھوٹے گڑھے نما ڈیمز کے ذریعے کافی پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ پہاڑوں اور غیر آباد زمینوں پر درخت اور جھاڑ جھنکار اُگا کر ہم ماحول کی حدت کو کم کرکے اپنے پہاڑوں سے برف کی پگھلاہٹ کو آہستہ کرسکتے ہیں (پو دے اللہ کی مخلوق ہوتے ہیں، اُن کے لیے اللہ بارش بھیجتا ہے) اس طرح ہر پودے کے اندر کافی مقدار میں پانی ہوتا ہے، جو ماحول کی حدت کو کم کرکے پانی کے استعمال کو کم کروادیتا ہے۔ خود مجھے تو اس بات میں شک نہیں کہ چوری کئے گئے پانی سے وضو والی نماز درست نہ ہوگی، لیکن محراب و منبر کی خاموشی عجیب سی ہے۔ حرام کا ایک نوالہ اگر پیٹ میں ہو، تو کہتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوتی اور نماز تو دعا ہی ہے۔ اس طرح بغیر ادائیگی کے پانی کی پیٹ میں موجودگی کی بات ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے حق اور تصوف کی طرف مائل لوگ کھانے پینے کے حلال ہونے کی بہت زیادہ فکر کرتے ہیں۔ محراب و منبر پر لازم آتا ہے کہ وہ پانی کی چوری اور اس کے ضیاع پر عوام کو شریعت کے احکامات بتا دیں۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم یوں ہے کہ ہوا، پانی اور آگ (پرانے زمانے میں آگ پیدا کرنا بہت مشکل کام ہوتا تھا، اس لیے لوگ ایک دوسرے سے آگ مانگا کرتے تھے) تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص بھی پانی چوری کرتا ہو، وہ تمام عوام کی مال کا چور ہوگیا اور روزِ قیامت بے شمار لوگ اُس کا گریبان پکڑے ہوئے ہوں گے۔ میرے ان الفاظ پر بہت سارے پڑھنے والے مسکراتے ہوں گے یا غصہ ہوں گے۔ خدا ہم سب کو ہرشیطانی عمل سے بچائے۔ فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے مگر کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف مینگورہ سیدو شریف میں میونسپل عملہ بہت زیادہ نیک اور مغلوب ہے اور عوام بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ جس کا جب اور جس جگہ سے دل چاہے وہ کمیٹی کی بڑی لائن ہو یا چھوٹی اُسے توڑ کر اُس سے اپنی مرضی کا کنکشن خود لے لیتا ہے۔ پھر یہ بھی ظلم کرتا ہے کہ اُس کو مسلسل بہنے دیتا ہے۔ بہت سارے مسلمان بجلی کی موٹروں کے ذریعے پانی کھینچتے ہیں اور عموماً ضائع کرتے ہیں۔ میونسپل حکام کی کمزوری اور شرافت کی تو یہ حالت ہے کہ اُن کے وجود ہی کا کسی کو علم نہیں۔ مینگورہ بازار میں بعض دکاندار پانی کا استعمال کرتے ہیں اور اُن کے کاروبار کا پانی عین سڑک کے وسط میں یا سائیڈوں پر بہتا ہے جس سے لاکھوں روپوں کی سڑک خراب ہوجاتی ہے۔ اگر ٹی ایم اے والے پہلے ایک جرگے کی شکل میں اُن دکانداروں کو سمجھا دیں کہ پانی کا رُخ درست کرو، تو شاید وہ لوگ جلدی ایسا کرلیں گے۔ ہمارے لوگ اللہ کے کرم سے عموماً اچھے ہیں، اچھی بات مانتے ہیں لیکن اُن کو سمجھانے والا کوئی نہی، نہ حکام اور نہ علما۔ اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے یوں واضح کیا ہے کہ وہ امت فلاح نہیں پاسکتی جس کے علما اور امرا گمراہ ہوں۔ مینگورہ میں جگہ جگہ بورنگ کے ذریعے زمین سے کثیر پانی کھینچا جارہا ہے۔ اب تو لوگوں نے بہت بڑی بڑی مشینیں استعمال کرنا شروع کی ہیں۔ ٹی ایم اے؍ ٹی ایم او کے پاس ان سب ’’بور والے کنوؤں‘‘ کا ریکارڈ ہونا چاہئے۔ زمین سے بے حساب پانی چوس لینے سے نیچے پانی کی سطح مزید نیچے جائے گی۔ یوں یہ کنویں بھی بیکار ہوجائیں گے۔ پھر لوگ بور والے کنویں مزید گہرے کھودیں گے اور پانی نکال لیں گے، یوں نیچے خلا پیدا ہوگا۔ علمائے ارض جانتے ہیں کہ نیچے خلا بن جانے سے یا تو زلزلے آئیں گے یا زمین نیچے بیٹھ جائے گی۔ کچھ ہی دن قبل ایک ٹیلی ویژن چینل نے کسی ملک میں زمین کو دھنستے ہوئے دکھایا جس میں کاریں اور عظیم بلڈنگ زمین کے اندر چلی گئیں۔ پانی کو ضائع کرنا۔ اُسے آلودہ کرنا ہم لوگ برائی ہی نہیں سمجھتے۔ میری دعا ہے کہ ٹی ایم اے سوات کم خرچ والی آگاہی مہم مسلسل چلائے، تاکہ لوگ اس طرف متوجہ ہوجائیں اور احتیاط شروع کریں۔ ملا، مدرسہ، میڈیا، سکول اور کالج سب مل کر پانی کے مسئلے بارے عوام کی تربیت کریں۔ خوش قسمتی سے بجلی کی عدم دستیابی پانی کھینچنے میں کمی لارہی ہے۔ اگر بجلی مسلسل دستیاب ہوئی، تو زیر زمین پانی زیادہ تیزی کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ خدا کرے کہ ہم لوگ خود اپنی اصلاح کریں، ورنہ خدا کے لیے مشکل نہیں کہ وہ لینن، سٹالن اور ماؤ کو ہم پر مسلط کرے اور وہ لوگ ’’اصلاحِ احوال‘‘ کریں، توبہ اور عمل صالح کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ ہزاروں سالوں سے جاری مینگورہ کا چشمہ (چینہ) یزید کے پیروکاروں نے ہڑپ کرلیا ہے۔ دریائے سوات کے میٹھے اور صاف پانی کا صدیوں پرانا نہر (گاگہ) کو تباہ کیا گیا۔ کیا اس نہر کو صاف کرواکر اس کے ذریعے غیر پینے کا پانی شہر میں نہیں لایا جاسکتا؟ پروفیسر (ر) سیف اللہ خان، مینگورہ سوات

Pear Picking Tour - ATDC - Peshawar

ایگری ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کا ناشپاتی کے باغات کا ٹور
پاکستان کوقدرت نے جہاں سبزسونا اُگلتی سرزمین عطاء کی ہے وہاں ہر خطے میں انواں و اقسام کے پھل و سبزیوں کی نعمت سے بھی نوازا ہے۔جس طرح پاکستان کے ہر علاقے کی اپنی ایک مخصوص پیداوار ہے اُسی طرح سب سے بہترین ناشپاتی پشاور اورنوشہرہ کے اضلاع کے باغات میں اُگائی جاتی ہے جس کو نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی برآمد کیاجاتاہے۔شمالی علاقہ جات ، سوات، ہزارہ، چترال اور ملاکنڈ ڈیویژن کے دیگر علاقوں میں بھی اعلیٰ کوالٹی کی ناشپاتی اور اس خاندان کے دیگر پھل نہ صرف جنگلی طورپر اُگتے ہیں بلکہ اس کے باقاعدہ باغات بھی ہیں۔ سوات میں ناشپاتی کی ایک قسم "پڑاؤو" جسامت میں بڑا، میٹھا، رس سے بھرپور اور نہایت خوش ذائقہ ہوتا ہے ، جبکہ ناشپاتی، ٹانگئی، بٹنگ اور دوسرے اقسام بدرجہا یہاں اُگتے ہیں۔ ایگری ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپورشن آف پاکستان کے روح رواں جناب طارق تنویر صاحب نے اس ماہ پاکستان میں بہترین اور تجارتی بنیادوں پر مشہور ناشپاتی کے پیداوار کے علاقے
اکبرپورہ ضلع نوشہرہ(پشاور کے قریب) کے باغات کاانتخاب کیا اوراے ٹی ڈی سی کی کوآرڈینٹرمیڈیم نوشین اے خان نے کچھ دن پہلے سائٹ( باغات ) کا انتخاب کرکے ۳۰جولائی کو پروگرام تشکیل دیا۔ناشپاتی کے باغات کے ٹور کی میزبانی جناب ڈاکٹر شیرشاہ نے کی جو کہ علاقہ اکبرپورہ (ضلع نوشہرہ)خیبرپختونخوا کے رہائشی ہیں، میڈیسنل پلانٹس میں ڈگری ہولڈر اور طب و ایلوپیتھی کے بہترین طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے ہربلسٹ ہیں۔ میڈیسنل پلانٹس اور دیگر نباتات کے علوم کے ماہر اور 14سال کے وسیع تحقیق و تجربے کے مالک ہیں۔ 

ناشپاتی کے باغات کے ٹورکیلئے کئی فیملیز بشمول طارق تنویر بمعہ فیملی ایک دن پہلے ہی پشاور پہنچ گئے تھے اور باقی کے لوگوں کو ۳۰جولائی صبح گیارہ بجے مین جی ٹی روڈ پر بمقام تاروجبہ اکٹھے ہونے کا کہاگیا۔ اے ٹی ڈی سی کی کوآرڈینٹر میڈم نوشین اے خان کی کاوشوں کے نتیجے میں یونیورسٹی آف پشاور کے پاکستان سٹڈی سنٹر کے پروفیسر حضرات اورکچھ طلباء نے خصوصی طور پر شرکت کی تاکہ اے ٹی ڈی سی کا صحت مند سرگرمیوں کا مثبت پیغام معماران قوم کے ذریعے ہر طبقے کے لوگوں تک پہنچ سکے۔ سب لوگ اکٹھے ہونے کے بعد اکبرپورہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ٹورمیزبان ڈاکٹر شیرشاہ صاحب پہلے سے استقبال کیلئے موجودتھے۔ اکبرپورہ کا علاقہ پشاور نوشہرہ جی ٹی روڈ پر پشاور سے تقریباً ۲۰کلومیٹرکے فاصلہ پر نوشہرہ کی طرف واقع ہے، جی ٹی روڈ پر تارو جبہ سے شمال کی طرف ایک سڑک مڑتی ہے جو اکبرپورہ گاوں کی طرف جاتی ہے جی ٹی روڈ سے اکبرپورہ تقریباً۱۳کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جی ٹی روڈ سے اکبر پور ہ تک پورا راستہ سرسبز وشاداب کھیتوں اور باغات کے درمیان میں سے گزرتا ہے۔یہ پورا علاقہ دریائے کابل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے بہت زرخیز ہے ۔ یہ علاقہ اکثر سیلاب کی زد میں آیا کرتا تھامگر اب دریا اور اس علاقے کے درمیان موٹروے بننے سے یہاں کی زمینیں سیلابی ریلوں سے بچ گئی ہیں۔ تاریخ کے مطابق جب پرانے جنگجو اپنے لاو لشکر کے ہمراہ ہندوستان کی طرف گامزن ہواکرتے تھے تو دوران سفر اس علاقے کی سرسبزوشادابی اور باغات کو دیکھ کر یہاں قیا م کرتے، چونکہ یہاں چاروں طرف باغات اورکھیت کھلیان تھے اس لئے اس علاقے کو چارباغ کا نام دیا گیا جو بعد میں تبدیل ہوکر اکبرپورہ رکھ دیاگیا۔ یہ علاقہ ناشپاتی، خوبانی، آڑو، آلوبخارہ اور الوچہ کے بہترین پیداوار کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہے جبکہ دیگر پھل و سبزیاں بھی یہاں بہتات سے پیدا ہوتی ہیں۔ بہار کے موسم میں یہ علاقہ پھلدار پودوں کے باغات کی وجہ سے پھولوں سے لد جاتا ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے ہرجگہ خوبصورت پھولوں کی چادریں بچا دی گئی ہوں اور اسی موسم مگس بان(شہد کی مکھیاں پالنے والے) اپنی مکھیوں کے ڈبے یہاں منتقل کردیتے ہیں اور ہر باغ میں درختوں پر پھولوں کی بہار اور زمین پر شہد کی مکھیوں کے جال بچ جاتے ہیں۔ یہی شہد کی مکھیاں پھولوں میں بار آوری (پولینیشن ) کا کام کرتی ہیں اور پھولوں میں پھل انہی شہدی کی مکھیوں کے مرہون منت ہیں۔ جولائی اور اگست میں اس علاقے میں ناشپاتی اور اس کی دیگراقسام بٹنگ، ٹانگئی، بہی پک کرتوڑنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔ 
ایگری ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کی شروع سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ عام عوام کو بالخصوص بچوں اور فیملیز کیلئے ایسے پروگرام اور ٹورز ترتیب دیئے جائیں جس میں اُن کی قدرتی ماحول، پھل، پھول اور سبزیوں سے قربت پید اکی جاسکے، اُن کو صحت مند سرگرمیاں مہیا کرکے ایک مثبت سوچ کو پروان چڑھایاجائے۔ اے ٹی ڈی سی قدرتی ماحول میں بچوں کی تربیت کا اہتمام کرتی ہے۔ اُن کو قدرت کے بیش بہا نعمتوں سے متعارف کرنا اس ادارے کے منشور میں ہے۔ جس تیزی سے اربنائزیشن ہورہی ہے ہماری زندگی کے طور طریقے تبدیل ہورہے ہیں ہمار ے بچے یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ ہم جو خوراک کھاتے ہیں جو پھل اور سبزیاں ہمارے زیر استعمال ہوتی ہیں اُن کو کیسے اُگایا جاتا ہے، کیسے کسان اس پر محنت کرتا ہے، کیسے توڑتا ہے اور کیسے ان کو پیک کرکے منڈیوں اور پھرمارکیٹ سے ہوتی ہوئی ہمارے گھروں کو پہنچتی ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران ہم تک پہنچتے پہنچتے پھل اور سبزیاں زیادہ تر اپنی تازگی اور ذائقہ کھو دیتے ہیں اور قیمت میں بھی مہنگی ملتی ہیں۔ اے ٹی ڈی سی کے منشور میں یہ شامل ہے کہ صارف کو کسان کے کھیت /باغ تک لے جاکر براہ راست وہاں سے تازہ پھل اور سبزیاں خرید کر دی جائے۔ اس سے نہ صرف کسان کو بہتر قیمت اُس کے کھیت ہی میں مل جاتی ہے بلکہ عوام کو بہترین اور تازہ پھل و سبزیاں مل جاتی ہیں۔ ایگری ٹورزم کا مقصد انسان کو بناوٹی دنیا سے نکال کر قدرت کی رعنائیوں اور خوبصورتیوں کی طرف لانا ہے۔ ہر سال ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی چھٹیوں اور فارغ اوقات میں مختلف علاقوں میں سیاحت کیلئے جاتے ہیں۔ اے ٹی ڈی سی کی کاوش ہے کہ ایسی سیاحت کومزید منافع بخش بنایا جائے اور ایسے باغات اور کھیتوں کی طرف عوام کو بطور سیروتفریح لے کر جایا جائے جہاں وہ نہ صرف کسان کی محنت اور اُس کے کام سے متعلق معلومات حاصل کرسکے بلکہ مناسب قیمت پر تازہ پھل اور سبزیاں بھی لے سکے اور ساتھ ساتھ بچوں بڑوں کی قدرتی ماحول سے ہم آہنگی اور تعلیم و تربیت بھی ہو۔
اکبرپورہ میں میزبان ڈاکٹر شیر شا ہ نے ناشپاتی کے سرسبز باغ میں بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا تھااورساتھ میں مقامی موسیقاروں کو بلا کر رُباب منگے (مٹکہ) کا بھی اہتمام کیا تھا۔ تمام مہمان جہاں تازہ ناشپاتیوں اور خوش ذائقہ بٹنگ سے لطف اندوز ہورہے تھے وہاں موسیقی کی لے پر جھوم بھی رہے تھے۔ ٹورکے شرکاء بالخصوص بچے کسانوں کے ساتھ گھل مل گئے، نہ صرف اُن کے ساتھ مل کر پھل توڑے بلکہ پیکنگ میں بھی حصہ لیا۔ کسانوں نے اُن کو پھل کی گریڈینگ کے بارے میں بھی بتایا کہ کس قسم کا پھل الگ الگ کرنا ہے اور پیکنگ بھی کرنی سکھائی۔ ڈاکٹر شیر شاہ میڈیسنل پلانٹس ، پھل پودوں اور پھولوں اور خاص کر ناشپاتی کے خواص پر شرکا ء کو معلومات بھی فراہم کررہے تھے۔ اُنہوں نے ناشپاتی کے نباتاتی اور طبی خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف اقسام کے مختلف طریقوں سے استعمال کے بارے میں بھی بہت معلومات فراہم کی۔ ناشپاتی وہ پھل ہے جس کو بطور پھل استعمال کے علاوہ بطور سبزی ترکاریوں اور مختلف کھانوں میں آلو کی جگہ پر بھی استعمال کیاجاتا ہے۔ ناشپاتی کے پھل کے چھلکے کا قہوہ بھی بنتا ہے جو کہ دل کی بند شریانوں کی تکلیف کیلئے بہت مفید ہے، اُنہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ناشپاتی کے پھل کو چھیل کر اس کے چھلکے کو اُبلتے ہوئے پانی میں ڈال کر دم پر رکھ لیں اور بقدر ضرورت چینی یا شہد ملا کر استعمال کریں۔ ناشپاتی کا مربہ بنانے کیلئے ناشپاتی کو چھیل کر اس کے ٹکڑے کرکے گڑ کے شربت میں پکائیں اور محفوظ کرلیں۔ ناشپاتی کا ایک استعمال یہ بھی ہے کہ اس کی ڈنڈی کے ساتھ دھاگہ باندھ کر کسی بھی کمرے یا سائیہ دار جگہ میں لٹکالیں، دو تین دن بعد اس میں موجود نمی کم ہوجائے گی اور اس سے خوشبو بھی نکلنا شروع ہوجائے گی،
اس طرح کا پھل تقریباً ۱۵دن تک محفوظ کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ناشپاتی کا سرکہ، جیم، شربت اور دیگر مصنوعات بھی بنتی ہیں اور کئی اقسام کی دوائیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ڈاکٹرشیرشاہ صاحب نے دیگر تفصیلات سے بھی تمام شرکاء کو خوب مستفید کیا۔ باغات کی سیرو تفریح کے بعدچیف ایگزیکٹیواے ٹی ڈی سی طارق تنویر صاحب نے اے ٹی ڈی سی کے اغراض ومقاصد سمیت آنے والے ٹورز کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیااور شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ ٹورکے آخر میں بہت سارے لوگوں نے فارمر سے بڑی مقدارمیں تازہ ناشپاتی بھی خریدکر لے گئے۔
ایگری ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کاوائلڈ فروٹ ہنٹنگ، فارم ہاوسز، کھیت کھیلیانوں اور باغات کے ٹورز کا مقصد انسانوں کو شہر کی زندگی کے بے ڈھنگ مصروفیات سے نکال کر قدرت کے قریب لانا ہے ۔ ایسی مثبت اور ماحول دوست سرگرمیوں کا مقصدنہ صرف لوگوں کو خوشگوار تفریح مہیا کرنا ہے بلکہ کسان اور صارف کو قریب لانا بھی ہے تاکہ ہم براہ راست کسان سے خریداری کرکے نہ صرف تازہ پھل اور سبزیاں خرید سکیں بلکہ اس سے کسان کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو۔


















Rasbhari in Swat - Ground Cherry - Cape Gooseberry - Chinese lantern - Physalis Peruviana - Alkekengi

  رس بھریرس بھری چھوٹی بیری نما ٹماٹرکی شکل و ساخت کاایک خوبصورت اور بہت سارے طبی خواص کا حامل پھل ہے۔ اس کی خاص خوبصورتی پھل کے اردگرد ایک جالی دارتھیلی ہوتی ہے جس کے اندر پھل ایسے لگتا ہے جیسے گونگے کے اندرسیپ۔
اس پھل کو اُردو اور ہندی میں "رس بھری" کہتے ہیں جبکہ انگریزی میں "کیپ گووز بیری یا گراؤنڈ چیری" کہا جاتاہے۔ رس بھری دنیا کے بیشتر ممالک کے تھوڑے سے گرم مرطوب علاقوں میں قدرتی طور پر اُگنے والا پودا ہے جس کا آبائی علاقہ برازیل اور جنوبی امریکہ کے علاقے ہیں۔ جبکہ شمالی افریقہ، آسٹریلیا، چائنا، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، مصر، انڈیا میں اس کو باقاعدہ کاشت کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بہت سارے علاقوں میں یہ جنگلی طورپر اُگنے والا پودا ہے اور بہت کم ہی اس کی باقاعدہ کاشت ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر ممالک میں اس کو باقاعدہ بطور پھل کی طرح کاشت کیاجاتا ہے اورباقاعدگی سے مارکیٹ میں سپلائی کیاجاتاہے۔
اس کا تعلق پودوں کے"سولنسیا"خاندان سے ہے جس میں ٹماٹر، آلو اور بینگن کے پودے آتے ہیں۔ اس کا نباتاتی نام"فیسالیس پروینا" ہے، جس کا رنگ پیلازردیانارنجی گولڈن کلرہوتا ہے جبکہ اس کی ایک اور قسم جس کا رنگ نہایت خوبصورت سرخ ہوتا ہے کو"فیسالیس الکیکنجی"کہتے ہیں اورعام زبان میں اس کو "چائنیزلینٹرن"کہاجاتاہے۔ دنیا کے بیشتر علاقوں میں رس بھری "کیپ گووزبیری ؍ گولڈن بیری یا گراونڈ چیری"کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ضلع سوات کے نسبتاً گرم علاقوں میں یہ پودا جنگلی اُگتا ہے ، جس کے سرخ رنگ کے پھل کو "کوٹی لال"کہتے ہیں۔ پختونخوا کے دیگر گرم مرطوب علاقوں چارسدہ، صوابی، مردان، نوشہرہ اور شبقدر میں بھی پیلے رنگ کی رس بھری کا پودا اُگتا ہے۔ جبکہ راولپنڈی اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی اس کا پودا پایاجاتا ہے جس کا پھل اکثربازار میں دستیاب ہوتا ہے۔ پختونخوا میں چونکہ اس پھل سے کوئی اتنا آشنا نہیں اس لئے اس کی کوئی خاص استعمال بھی نہیں ہے جبکہ پنجاب و دیگر ملحقہ علاقوں کے شہروں میں اکثرجون جولائی کے موسم میں پھلوں کی دکانوں پر دستیاب ہوتاہے۔ راولپنڈی میں فیض آباد مری روڈپر پیڈسٹرن برج کے پاس والی فروٹس کی دکانوں پرمل جاتاہے۔
رس بھری کا پودا مرچ اور ٹماٹرکے پودے ہی جیسا ہوتا ہے جس کی نرم ٹہنیاں پتوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ پودوں میں جون کے اوائل میں زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول لگنا شروع ہوجاتے ہیں جن پر بعد میں ایک مخروطی شکل کی سبز رنگ کی تھیلی نما خوبصورت پوتلی ظاہرہونا شروع ہوجاتی ہے، کیپ گووز بیری میں یہ تھیلی سبز رنگ کی ہوتی ہے جو بعد میں پیلے زرد یا گولڈن کلر کی ہوجاتی ہے جبکہ چائنز لینٹرن میں یہ تھیلی سبز سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ رس بھری کا پھل اس تھیلی کے اندر لگا ہوتا ہے، رس بھری کا خوبصورت زردوسرخ رنگ کا پھل جھلکتا ہوا بہت جاذب نظر محسوس ہوتا ہے۔ اس کا خوشگوار میٹھاذائقہ معمولی ترشی مائل ٹماٹر کی طرح ہی ہوتا ہے جبکہ شکل اور پھل کی اندرونی ساخت بھی ٹماٹرہی کی طرح ہوتی ہے۔ رس بھری میں وٹامن اے اور سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے، یہ پھل ہماری روزمرہ کی ضرورت کا چودہ فیصدوٹامن اے اور18فیصد وٹامن سی کی مقدار کو پورا کرتا ہے۔اس کے ہر100گرام سے تقریباًچارگرام پروٹین بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ وٹامن بی کمپلیکس کا خزانہ ہے جبکہ اس میں تھائیمین، نیاسین اور کئی معدنیات جیسے آئرن، فاسفورس،کیلشیم بھی پائے جاتے ہیں، یعنی یہ ایک چھوٹے سے دانے میں قدرت کی طرف سے غذاکا بیش بہا خزانہ ہے۔
رس بھری کے بہت سارے طبی فوائد بھی ہیں اور کئی اطباء اس کو اپنے نسخوں میں استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ جدید ادویہ سازی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔رس بھری اینٹی استیمک، اینٹی سپٹک،اینٹی فلامیٹری،اینٹی آکسیڈنٹ،جراثیم کش اور مانع السریعنی اینٹی کینسر خواص کا حامل پھل ہے۔ اس پھل کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ جگر کی حفاظت کرتاہے، یہ آپ کے بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ہے بلکہ شوگرکی بیماری میں بھی مفید ہے۔طبی خواص کا حامل یہ پھل نہ صرف بطور میڈیسنل پلانٹ استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کا استعمال مختلف انواع واقسام کے کھانوں ، میٹھائیوں اور سویٹ ڈشز میں بھی ہوتا ہے۔ اس کا مربہ اور جام بھی بنایاجاتاہے اور شربت بھی۔ہمارے عوام کا اس پودے سے زیادہ آشنائی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر یہ پھل ضائع ہوجاتا ہے اور استعمال میں نہیں لایاجاتا۔اس کوآسانی سے عام پھل کی طرح کھایاجاتاہے۔ پھل توڑے کے بعد اگر اس کو اس کی تھیلی سے نہ نکالا جائے تو یہ تقریباً ایک مہینے تک محفوظ اور تازہ رہتا ہے۔ 
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں گوگل اور ویکیپیڈیا سے مدد لی گئی ہے۔ پودوں کے نام انگریزی میں لکھنا یہاں ممکن نہیں اس لئے اُردو میں لکھے گئے ہیں۔ 

Blackberries in Swat - Morus Nigra - Rubus


بلیک بیری Blackberries

سوات میں "بلیک بیری" کو "کروہ ڑہ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک خودرو جھاڑی نما پودا ہے۔ کروہ ڑہ کو باقی کی دنیامیں "بلیک بیری" کہتے ہیں ۔یہ ٹھنڈے علاقوں کا ایک نہایت ہی نازک اور قدرے ترشی مائل میٹھا توت یا سٹرابیری نما پھل ہے۔ اس کا باٹانیکل نام مورس نیگرا ہے (مضمون کے ٹائٹل میں صحیح تلفظ دیکھئے) جبکہ اس پودے کا تعلق "روبس" خاندان سے ہے جس میں تمام بیریز آتی ہیں۔ رسپ بیریز بھی اس خاندان کا حصہ ہےجو سوات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بلیک بیری/کروہ ڑہ کے پودے سوات کے علاقے میں خود رو پودا ہے۔ دنیا کے سرد ممالک میں یہ پودا عام پایا جاتا ہے اور تجارتی بنیادوں پر بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بلیک بیری کا پودا زیادہ تر کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور دریاوں، نہر،نالوں کے کناروں پر اُگتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار جھاڑی نما پودا ہے۔ اس کی لمبی لمبی ٹھنیاںہ ہوتی ہیں جس کو بطور بھاڑ بھی اُگایاجاسکتا ہے۔ کانٹوں سے لیس اس کی ٹہنیوں پر تین اور پانچ کی ترتیب سے پتے اُگتے ہیں اور سرے پھر پھولوں کا گچھا جس پر بعد میں پھل بنتا ہے۔ اس میں اپریل کے آخر سے لے کر جون تک گلابی یا ہلکے سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول گچھوں کی شکل میں لگتے ہیں اور پھل جون کے آخر سے جولائی سے لے کر اگست کے آخر تک لگتا ہیں۔ اس کا پھل پکنے پر سیاہی مائل جامنی رنگ کا ہوتا ہے اور پھل کی شکل توت سے زیادہ ملتی ہے۔ ذائقے میں ترش میٹھا ہوتا ہے۔ سوات میں بلیک بیری/کروہ ڑہ کے کچھ اور اقسام بھی پائی جاتی ہیں جن کو رسپ بیریز یا گولڈن ہمالین بیریز کہتے ہیں۔ سوات کے علاقے میں یہ پودا خود روجنگلی پودوں کی اقسام میں سے ہے۔ پھل کے موسم میں اکثر گاؤں کی غریب آبادی اس کا پھل اکٹھا کرکے بازارمیں بیچتی ہے مگر بہت کم دستیاب ہوتا ہے۔ یورپی ممالک میں " بلیک بیری " کی کاشت تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور باقی دنیا کے ممالک کو بھی یہ پھل برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ پھل کئی بڑے بڑے ڈپارٹمینٹل سٹورز میں دستیاب ہوتا ہے۔ ہم نے اسلام آباد کے ایک بڑے سٹور سے یہ بلیک بیری تقریباً نو سو روپے کے عوض لی تھی۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت نے اس پھل کی پیداوار اور اس کی تجارتی بنیاد پر کاشت پر ابھی تک کوئی خیر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔ سوات کا علاقہ اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لئے موزوں ترین علاقہ ہے۔ سوات کے علاقہ مدین میں ایک عزیز کے گھر اس کا قلمی پودا دیکھا جو وہ اپنے ساتھ جرمنی سے لے کر آئے تھے، اُن کے مطابق اس پودے کا پھل عام جنگلی بلیک بیری سے سائز میں بڑا اور زیادہ بھی لگتا ہے۔ سرد علاقوں اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں کی نسبتاً ٹھنڈی جگہوں پر بھی اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اب پودوں کی کسی بھی اچھی نرسریز سے اس کی امپورٹد ہائبرڈ اقسام کے پودے حاصل کئے جاسکتے ہیں جن کو آسانی سے گھروں، باغوں میں کیاریوں یا گملوں میں اُگایاجاسکتا ہے۔ تیزاور زیادہ دھوپ سے بچا کر کسی بھی دھوپ چھاوں والی جگہ پر اس کو لگایا جاسکتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے کچھ میدانی علاقوں جہاں موسم قدرے ٹھنڈا ہوتا ہے میں بھی یہ بلیک بیری کا پودا قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ شبقدر، چارسدہ کے علاقوں میں سے جہاں سے دریائے سوات کا گزر ہے کے آس پاس کے علاقوں میں بھی یہ پودا پایا جاتا ہے اور پھل بھی خوب لگتے ہیں۔ اگر حکومت اس طرف توجہ دے تو کوئی شک نہیں کو آج جو قدرتی طور پر جنگلی پھل ہم دیکھ رہے ہیں یہ کل کو ہمارے لئے ایک اچھا خاصہ زرمبادلہ بھی کمائے۔ اس پودے کے بارے میں گوگل میں سرچ کرنے پر بہت ساری معلومات مل سکتی ہیں۔Blackberries & Bluebarries
Raspberries

رسپ بیریز کے بارے میں جانئے؟

Raspberries in Swat - Rubus Idaeus-Rubus Crataegifolius

رسپ بیری

رسپ بیری شوخ سرخ رنگ کا ایک خوبصورت، خوش نما اور خوش ذائقہ پھل ہے جو کہ سوات سمیت پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کہیں کہیں میدانی علاقوں میں جہاں آب و ہوا قدرے یخ ہوتی ہے وہاں اس کا پودا دریا ، ندی نالوں اور ایسی ہی دیگر ٹھنڈی جگہوں پر قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ رسپ بیری کا تعلق گلاب کے خاندان سے ہے، اس کا پودا جھاڑی نما ہوتا ہے ، پتے ایک ٹہنی پر تین سے پانچ تک ہوتے ہیں۔ تنے پر کانٹے ہوتے ہیں اور اس کی ٹہنیاں کافی لمبی ہوتی ہیں۔ اس کے پھول ہلکے گلابی یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں جو کہ گچھوں کی شکل میں اُگتے ہیں ۔ اس کے پھل مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر گہرے جامنی رنگ، سرخ اور ایک اور قسم زردپیلے یا نارنجی گولڈن رنگ کا ہوتاہے۔اس کے پودے پر پھول اپریل کے وسط سے نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور جون کے آخر سے پھل پکنے لگتاہے جو جولائی کے آخرتک دستیاب ہوتاہے۔ اس کا پھل توت کے پھل کی طرح دانے دار ہوتاہے، جنگلی ؍قدرتی طور پر اُگے رسپ بیری کے پھل کا سائز چھوٹا ہوتا ہے تقریباً توت کے پھل جتنا ہی۔
انگریزی میں اس کورسپ بیریRaspberrieرسپ بیری کہا جاتا ہے۔سوات میں اس کے گہرے جامنی اور سرخ رنگ کے پھل کو "بیگونئی یا باگانئی" اور زردپیلے گولڈن رنگ کے رسپ بیری جن کو گولڈن ہمالین رسپ بیری کہتے ہیں کو سوات میں " گورج "کہتے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں اس کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔یہ یاد رہے کہ رسپ بیری اور بلیک بیری دو الگ الگ پھل ہیں، یہ شکل و صورت اور کسی قدر ذائقے میں بھی "بلیک بیری" کی طرح ہی ہوتا ہے۔یہ پودے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے پودے اور پھل ایک دوسرے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ بلیک بیری کو سوات کے علاقے میں "کروڑے" کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ بلیک بیری / کروڑے کا پھل تھوڑا سے بیضوی نما اور گہرے سیاہی مائل جامنی رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ رسپ بیری شکل میں تھوڑی سی گول اور جہاں اس کی ڈنڈی لگی ہوتی ہے وہاں سے اندر کو دھنسی ہوئی ہوتی ہے اور رنگ بھی اتنا گہرا نہیں ہوتا۔
 رسپ بیری یورپ ، کینیڈا ، چین، جاپان ، کوریا،روس ، وسط ایشائی ممالک اورہندوستان و امریکہ کے سرد علاقوں میں پائے جاتے ہیں اوران ممالک میں رسپ بیری کی باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر کاشت بھی ہوتی ہے اور اس کے کئی ہائبرڈ اقسام کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔رسپ بیری کے ہائبرڈ اقسام کے پودے اب پاکستان میں بھی کسی بھی اچھی نرسری سے حاصل کئے جاتے ہیں جو خاص کر میدانی علاقوں کے لئے متعارف کروائے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں پرانے پشاورموڑ کی نرسریزی میں یہ پودا دستیاب ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر بڑے شہروں میں بھی باہرممالک سے درآمد کنندگان کے پاس اس کے پودے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ ہائبرڈ اقسام میں اس کے پھل کا سائز بڑا، ذائقہ خوشگوار ترشی نما میٹھا اور رنگ شفاف سرخ ہوتا ہے۔ پاکستان میں کئی بڑے سٹورز میں باہرممالک خاص کر یورپ سے درآمد کئی ہوئی رسپ بیری دستیاب ہوتی ہے لیکن قیمت میں انتہائی مہنگی ہوتی ہیں، تقریباً بیس سے پچیس دانوں کی قیمت آٹھ سو سے نوسو روپے کے درمیان ہوتی ہے۔
 
خیبر پختونخوا اور اسلام آباد اور دیگر میدانی علاقوں میں کافی لوگوں نے اپنے گھروں میں اس پودے کو کامیابی سے اُگایا ہے جن پر پھل بھی خوبصورت اور صحت مند لگ رہے ہیں، لیکن مطلوبہ آب و ہوا نہ ہونے کی وجہ سے پھل اکثر ترش ہی ہوتا ہے، جبکہ شمالی علاقہ جات اور ٹھنڈے علاقوں میں اس کا پھل خوش ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اس کے پودے کو کہیں بھی سایہ دار جگہ پر کاشت کیا جاسکتا ہے جہاں میدانی علاقوں کی تیز دھوپ اس کو براہراست متاثر نہ کرسکے۔ کسی بڑے درخت کے نیچے سایہ دار جگہ اس کیلئے نہایت موزوں ہوتی ہے۔ رسپ بیری کے پودے کو نہایت آسانی سے آپ کسی بھی بڑے کنٹینر، گملے یاکیاری میں اُگا سکتے ہیں۔ نرسری سے صحت مند پودا منتخب کریں اور مطلوبہ جگہ پر اس کو کاشت کریں۔ عام طور پر یہ ندی نالوں اور کھیتوں میں پانی کی نالیوں کے ساتھ ساتھ پگڈنڈیوں پر جھاڑیوں کی شکل میں بھاڑ بنائے اُگی ہوتی ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں اس پھل کو تجاری بنیادوں پر کاشت کیا جاتا ہے ، جس کو بڑی کامیابی اور بڑی مقدار میں دنیا بھر میں برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی تجارتی مارکیٹس میں اس پھل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
یہ پھل کئی اقسام کے کھانوں، مٹھائیوں ، سویٹ ڈشز، بیکری مصنوعات سمیت عام خوراک کے طور پر زیر استعمال لایا جارتا ہے۔ اس کے کئی طبی خواص بھی ہیں جن کی وجہ سے ادویات میں بھی ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی دیہائیوں تک لوگ دیگر خطوں کے پھل اور سبزیوں سے ناواقف تھے مگر جب سے معلومات کی فراہمی اور دستیابی عام آدمی کے دسترس میں آگئی ہیں تو دنیا کے ایک خطے کے پھل اور سبزیاں دوسرے خطے کے لوگوں کی دہلیز پر پہنچنا شروع ہوگئے اور یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کے علاقائی پھل، سبزی، پھول،پودوں اور طبی خواص کے جڑی بوٹیوں کی مانگ دوسرے علاقوں میں بڑھ گئی ہے۔
ہم ایک زرعی ملک ہیں مگر بدقسمتی سے زراعت کی ترقی کو وہ رفتار حاصل نہیں جو کہ عہد حاظر کی ضرورت ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں محنتی طلباء و طالبات مختلف تحقیق و تجربات کرکے کامیابی حاصل توکررہے ہیں مگر اُن کی محنت بہت کم ہی عام کاشتکاریاکسان تک پہنچتی ہے۔ رسپ بیری اور اس جیسے فائدہ مند پھل ہمارے ملک میں جنگلی دستیاب ہیں لیکن کسی بھی حکومت نے اور ہمارے زراعت سے وابستہ محکموں نے ان کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کی طرف توجہ نہیں دی۔ اگر رسپ بیری اور اس جیسے دیگر پھل،پھول،سبزیوں اور جڑی بوٹیوں (جن کی زیادہ تر اقسام ہمارے علاقوں میں قدرتی طور پر اُگتی ہیں)کی اعلیٰ اور ہائبرڈ اقسام کو ملک میں متعارف کروایا جائے ، کاشتکاروں کو ان کی کاشت ،حفاظت، پیکنگ اورمارکیٹنگ کی عملی تربیت دی جائے تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے کسان اس کی کاشت تجارتی بنیادوں پر شروع کریں گے۔ رسپ بیری اور دیگر پھلوں کی جدید طریقوں سے کاشت کاری سے ہمارے کاشتکار نہایت معقول منافع کما سکتے ہیں جن کی مانگ دیگر ممالک میں بہت زیادہ ہے اور اس سے پاکستان کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ سوات، دیر،چترال، ایبٹ آباد،مانسہرہ، شانگلہ، گلگت بلتستان اس پھل کیلئے نہایت موزوں علاقے ہیں جہاں یہ پودہ قدرتی طور پر بھی اُگتاہے۔ اگر ان کی قلمکاری کی جائے یا باہر کے ممالک سے ہائبرڈ اقسام کے پودے درآمد کرکے ان علاقوں میں کاشت کئے جائیں تو کوئی شک نہیں کہ اس سے نہایت اعلیٰ معیار کا پھل حاصل کیا جاسکے گا۔
گولڈن ہمالین رسپ بیریز (گورج) کی تصاویر کیلئے عطاءاللہ جان ایڈوکیٹ کا شکریہ

"بلیک بیری" کے بارے میں جانئے؟

Science Talent Farming Scheme Scholarship For Matric & Intermediate Students by HEC

ہائر ایجوکیشن کمیشن (پاکستان) نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء و طالبات کیلئے "سائنس ٹیلنٹ فارمنگ سکیم سکالرشپ" کا اجراء کیا ہے جس کیلئے آن لائن درخواستیں وصول کی جارہی ہیں۔ اہل اُمیدواروں کیلے فل فنڈڈ چار سالہ بی ایس فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور میتھس کے مضامین میں سکالرشپ دیا جائے گا۔ و طلباء و طالبات جنہوں نے میٹرک میں کم از کم  ساٹھ فیصد  اور انٹرمیڈیٹ (ایف ایس سی) پارٹ ون) میں کم از کم
سترفیصد نمبر حاصل کیں ہوں وہ درخواست دینے کے اہل ہیں۔
درخواستیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر آن لائن وصول کی جارہی ہیں۔ ریجسٹریشن کی آخری تاریخ16جولائی2017 ہے۔ 
درخواست/ریجسٹریشن کیلئے یہاں کلک کریں

KP Public Service Commission Jobs 2017

حکومت خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں نے نئی/خالی آسامیوں کیلئے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے درخواستیں طلب کی ہیں۔آخری تاریخ 09.06.2017ہے ۔  http://kppsc.gov.pk/advertisementدرخواست دینے کا طریقہ:۔اشتہار میں مطلوبہ تعلیمی قابلیت کے مطابق آسامی کا انتخاب کیجئے۔صوبہ خیبر پختونخوا کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آسامیوں کی تقسیم زونز کے مطابق ہوتی ہے یا اوپن میرٹ پرجس کیلئے ہر علاقے سے اپلائی کی جاسکتی ہے جبکہ زونل تقسیم کے مطابق صرف متعلقہ زون کے اُمیدوار درخواستیں دے سکتے ہیں۔(پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹپر زونز کی تفصیلات موجود ہیں)۔درخواست دینے کیلئے فارم نیشنل بینک آف پاکستان کی مخصوص شاخوں پر دستیاب ہیں(جن کی تفصیل بھی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے) جو کہ مطلوبہ فیس جمع کرکے وصول کی جاسکتی ہے۔ جبکہ آن لائن بھی فارم دستیاب ہے، اس کو ڈاؤنلوڈ کرکے بھرا جاسکتا ہے۔آن لائن فارم کے ساتھ بینک چالان فارم بھی موجود ہے جس کو بھر کر مطلوبہ فیس بینک میں جمع کرکے چالان فارم اور چالان فارم کی تفصیلات آن لائن فارم میں درج کی جاتی ہیں۔ہر درخواست کے ساتھ درخواست دہندہ کے تین پاسپورٹ سائز تصاویر، قومی شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، ڈومیسائل کی فوٹو کاپیاں کسی بھی کلاس ون آفیسر سے تصدیق کرواکر منسلک کی جاتی ہیں۔ جبکہ اپنے علاقے کے دو افراد سےاچھے اخلاق کا سرٹیفیک (کریکٹر سرٹیفکیٹ) لیا جاتا ہے جس کا متن کچھ یوں ہوتا ہے:۔
تصدیق کی جاتی ہے کہ مسمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکنہ۔۔۔۔۔(ایڈریس)۔۔۔۔۔۔۔ کا مستقل باشندہ ہے اور یہ کہ مسمی۔۔۔۔(نام)۔۔۔۔۔اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہے۔
نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            ۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارم کے آخر میں تفصیل سے مطلوب دستاویزات کی لسٹ موجود ہوتی ہے۔ فارم ایک نمبر پر اور دیگر دستاویزات دیئے گئے نمبرز پر فارم کے ساتھ منسلک کئے جاتے ہیں۔ جبکہ دیگر متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کئے جاتے ہیں جو مطلوبہ آسامی کے مطابق ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کیلئے ایک علیحدہ فارم ساتھ ہوتا ہے جس کو فارم ڈی کہتے ہیں۔ اس فارم کو الگ سے اپنے محکمہ کے ذریعہ پبلک سروس کمیشن کو بھیجا جاتا ہے جس کا مقصد درخواست دہندہ کا آسامی کیلئے درخواست دینے پر حکومت کی طرف سے اجازت نامہ ہوتا ہے۔ جس کو تھرو پراپرچینل اپلائی بھی کہتے ہیں۔تمام ڈاکیومنٹس کی تصدیق شدہ کاپیاں فارم کے ساتھ لگا کر کمیشن آفس میں آخری تاریخ سے پہلے پہلے جمع کریں یا ڈاک کے ذریعے بھیجے جاسکتے ہیں۔
KHYBER PAKHTUNKHWA PUBLIC SERVICE COMMISSIONIssue Dated: 10.05.2017ADVERTISEMENT NO.  03 / 2017.
            Applications, on prescribed form, are invited for the following posts from Pakistani citizens having domicile of Khyber Pakhtunkhwa / F.A.T.A by 09.06.2017. Incomplete applications and applications without supporting documents required to prove the claim of the candidates shall be rejected.

elementary & secondary education Deptt: 1.     Thirty two (32) POSTs of assistant in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Eight to Merit, Six to Zone-1, Five each to Zone-2 & 3, and Four each to Zone-4 & 5.
2.     Four (04) POSTs of assistant (Women quota) in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Women Quota.ALLOCATION:  Merit amongst Female candidates. 3.     one (01) POST of assistant (minority quota) in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Merit amongst Minority candidates. 4.     one (01) POST of assistant (disable quota) in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Merit amongst Disabled candidates. 5.     twenty three (23) POSTs of computer operator in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  06 to Merit, 04 each to Zone-1 & 2 and 03 each to Zone-3, 4 and Zone-5. 6.     three (03) POSTs of computer operator (women quota) in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit amongst Women candidates.
7.     one (01) POST of computer operator (minority quota) in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit amongst Minority candidates.
8.     one (01) POST of computer operator (disabled quota) in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit amongst Disable candidates.

establishment Department 9.     ninety (90) POSTs of stenographer in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word, MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Bothe Sexes.
ALLOCATION: 20 each to Zone-1, 2 & 3 and 15 each to Zone-4 & 5.
10.      seven (07) POSTs of stenographer (female quota) in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word, MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION: Merit.
11.      three (03) POSTs of stenographer (disable quota) in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Merit.
12.      nine (09) POSTs of stenographer (minority quota) in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Merit.

Forestry, environment & wildlife department
13.      two (02) POSTs of geographic information system analyst in CDE & GAD Directorate, environment department.
QUALIFICATION: (a) At least Second Class Master Degree in Geographic Information System; Or
(b) At least Second Class Master’s Degree in Remote Sensing, Computer Science, Management Information System, Natural Science from a recognized university with Diploma in Geographic Information System or equivalent qualification from a recognized Board.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  One each to Zone-4 & Zone-5.
14.      five (05) POSTs of male community development officers in CDE & GAD Directorate of forest.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Master Degree in Rural Development, Sociology, Rural Sociology, Social Work, Anthropology, Agriculture Extension, Mass Communication or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION:  One each to Merit, Zone-1, & 3 and Two to Zone-2.
15.      one (01) POST of junior scale stenographer in the office of director budget and accounts cell.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from recognized board; (ii) A speed of 50 words per minute in Short Hand in English and 35 words per minute in Typing; and(iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-1.


HIGHER EDUCATION, ARCHIVES AND LIBRARIES
16.      one (01) POST of office assistant IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES.
QUALIFICATION: (i) Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University. Preference will be given to Candidate having History as one of the Subject
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.
17.      three (03) POSTs of computer operator IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES.
QUALIFICATION: (i) Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology, (BCS/BIT 04 years) from recognized University; Or
(ii) Second Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Merit, Zone-4 & 5.

home & tRIBAL aFFAIRS department
18.      one (01) POST of lady assistant superintendent jail in prison department.
QUALIFICATION:   Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Female.ALLOCATION:  Zone-5.

Information & public relations DEPARTMENT
19.      one (01) POST of assistant information officer in information and public relations department.
QUALIFICATION:  (i) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University, with Journalism as one of the subjects; or(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University with two years practical experience in Journalism.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION: Zone-2.
20.      one (01) POST of junior transmission engineer in information and public relations department.
QUALIFICATION:  (i) At least Second Class Bachelor’s Degree in Electronics or Electrical Engineering (Telecommunication) from a recognized University, or(ii) Diploma of Associate Engineering with one year experience in Radio Transmission.
AGE LIMIT: 21 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION: Zone-3.
21.      one (01) POST of cameraman in information and public relations department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Three years experience in outdoor cinematography and full knowledge of technical processing of documentaries and news reel films.
AGE LIMIT:  21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Bothe Sexes.
ALLOCATION:  Zone-3.
22.      two (02) POSTs (one fresh and one leftover) of junior scale stenographer in information and public relations department.
QUALIFICATION:  (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board,(ii) Speed of 50 words per minute in English shorthand and 35 words per minute in English typing speed; and(iii) MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION:  One each to Zone-3 and Zone-4.
23.      one (01) POST of telecom electric technician in information and public relations department.
QUALIFICATION:  Three years Diploma in Electrical Engineering from a recognized Institute or Technical Board.
Note: - Preference will be given to Information Technology literate.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION:  Zone-4.

LABOUR DEPARTMENT 24.      Five (05) POSTs of inspector (W&M) in labour department.
QUALIFICATION: Second Class Bachelor’s Degree with Physics, Chemistry, Electronics or Mathematics as one of the subject from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Male.
ALLOCATION: One each to Merit, Zone-1, 2, 3 & 5.
25.      two (02) POSTs of labour officers in labour department.
QUALIFICATION: L.L.B or Second Class Master’s Degree in Economics, MBA or Master of Public Administration from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Merit & Zone-4.
26.      six (06) POSTs of junior scale stenographer in labour department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) A speed of 50 words per minute in Shorthand in English and 35 words per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Two to Zone-3 and One each to Zone-1, 2, 4 & 5.
law, PARLIAMENTARY AFFAIRS & hUMAN rIGHTSDEPARTMENT
27.      Eight (08) POSTs of assistant in law, parliamentary affairs and human rights department.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree or equivalent qualification from recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  02 each to Merit & Zone-1 and 01 each to Zone-2, 3, 4 and 5.
28.      Thirteen (13) POSTs of computer operator in law, parliamentary affairs and human rights department.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University; OR
(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Information Technology from a recognized board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  04 to Merit, 02 each to Zone-1, 2, 3 and 4 and 01 to Zone-5.
29.      one (01) POST of computer operator (female quota) in law, parliamentary affairs and human rights department.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University; OR
(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Information Technology from a recognized board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.

police department
30.      two (02) (left over) POSTs of Junior Scale Stenographer in police department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board.(ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in English typing speed; and knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-03.







sports, tourism, archaeology, museums & youth affairs & department 31.      one (01) pOST of athletics coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.
32.      one (01) pOST of football coach in directorate of sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.
33.      one (01) pOST of hockey coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.



34.      one (01) pOST of squash coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Merit.
35.      one (02) pOSTS of volleyball coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1 & 2.
36.      nine (09) POSTs of gallery assistant in directorate of archaeology & museums khyber pakhtunkhwa.
QUALIFICATION: Bachelor’s Degree with Archaeology as one of the subject.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Two each to Zone-1, 2, 3 & 4 and One to Zone-5.
37.      one (01) POST of gallery assistant (women quota) in directorate of archaeology & museums khyber pakhtunkhwa.
QUALIFICATION: Bachelor’s Degree with Archaeology as one of the subject.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.

How to Build Living Ponds Waterfall in Gardens

خوبصورت گھر اور خوبصورت باغ ہرفطرت سے محبت کرنے والے شخص کی خواہش ہوتی ہے۔ پھیلتے شہروں اور سکڑتے قدرتی نظاروں نے انسان کی زندگی کو کنکریٹ کی دیواروں میں تقریباً قید کرکے رکھ دیا ہے مگر تھوڑی بہت کوشش سے ہم اپنے آس پاس کے ماحول کو نہ صرف خوبصورت بناسکتے ہیں بلکہ صحت افزاء اور پرکشش بھی بنا سکتے ہیں۔ پانی جہاں زندگی کا ایک اہم عنصر ہے وہاں باغوں، پارکس اور ہمارے لانز وغیرہ کی خوبصورتی کاایک ہم جز بھی  ہے۔ بہت سارے باغات جہاں پانی کے تالاب، فوارے اور آبشار وغیرہ ہوں تو اُس کی خوبصورتی کو چارچاند لگ جاتے ہیں۔ اگر پرانی تعمیرات کو دیکھا جائے تو اُس میں بھی عمارت کی خوبصورتی اور شان و شوکت بڑھانے کیلئے فوارے اور آبشار بنائے گئے ہیں۔ کافی عرصے سے عام لوگ بھی اپنے گھروں میں آبشار اور تالاب بنانے لگے ہیں جو آپ کو محدود جگہ پرایک خوبصورت نظارہ فراہم کرتے ہیں۔چونکہ یہ خیال کیاجاتاتھا کہ ایسے تالاب، فوارے اور آبشار صرف کشادہ جگہوں پر ہی بنائے جاسکتے ہیں مگر اب کچھ جدیدعمارتی علوم، مشینری اور تھوڑی بہت محنت و لگن سے چھوٹی اور محدود جگہوں پر بھی خوبصورت اور قدرتی دکھنے والے نظارے آپ اپنے گھروں کے صحن میں سجا سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ کا شوق اس میں شامل ہو اور اپنی ذوق کے مطابق اس کو قدرتی طور پر سجا سکیں۔ یوٹیوب اور گوگل کی دنیا ایسے بے شماررہنمائی والی ویڈیوز اور آرٹیکلز،تجزیوں و تبصروں سے بھری پڑی ہے، جن کو دیکھ اور پڑھ کر ہم خوبصورت چیزیں بنا سکتے ہیں۔ درجہ ذیل میں ایسے ہی ایک خوبصورت آبشار بنانے کے طریقے کو ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے جس کو آپ اپنے گھر کے کسی کونے میں محدود جگہ میں آسانی سے بنا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک کمپنی کی ویڈیو ہے اور وہ اپنے آلات کو اس میں استعمال کرکے دکھا رہے ہیں لہٰذا اگر آپ کے آس پاس اس کمپنی یا کسی دوسری کمپنی کے ایسے آلات موجود ہیں اور آپ استعمال کرنا چاہتے تو ٹھیک نہیں تو لوکل بھی آسانی سے بنائے جاسکتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو شیئر کرنے کا مقصد آئیڈیا شیئر کرنا ہے، باقی آپ اپنی جگہ کی مناسبت سے کسی بھی قسم کا خوبصورت تالاب، فوارہ، آبشار نما لینڈسکیپنگ کرسکتے ہیں اور اُس کو قدرتی پھولوں اور پودوں سے سجا کر زیادہ جازب نظر بناسکتے ہیں۔ 



Video Source: Savio

Sharbat-e-Gond Kateera شربت گوند کتیرہ


خوشبودار پھول پتیوں، مربوں، مغزیات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اس شربت کی نہ صرف خوشبو آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے بلکہ اس کا رنگ اور بہت سارے مغزیات کی جھلک بھی آپ کو ایک خوشگواراحساس دلاتی ہے اور دل کرتا ہے کہ اس کو پی کر کھا لیں یا کھا کر پی لیں اور گرمیوں کی شدید پیاس کا علاج کرلیں۔اس تمہید کے پیچھے میرا بھی خوشگوار تجربہ ہی ہے، پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار سے گزرتے ہوئے ایک تنگ سی گلی کے نکڑ پر چند رنگ برنگی بوتلوں کو سجائے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا تو کچھ تو تجسس اور کچھ پیاس کی شدت نے اُس کی طرف توجہ مبذول کروادی۔ اگرچہ دکھنے میں صفائی ستھرائی کی حالت کچھ اتنی خاص نہیں تھی مگر اپنی سی کوشش وہ کر ہی رھاتھا۔ ابھی اپریل میں جو گرمی کی لہر آئی تھی اُس نے اچھے اچھوں کو اپنی پہچان کروا دی تھی، اور ہم جو اتوار کے دن اوارہ گردی کرنے نکلے تھے پھر تو ہماری کیا مجال جو ایسی گرمی کا سامنہ کرسکیں۔ گرمی اور پیاس نے صفائی ستھرائی اور مکھیوں کی موجودگی پر منہ چڑانے والے دل کی آنکھوں پر کالے پیاس کر پردہ ڈال کر شربت والے ۔کوآرڈر دیا۔ اُس نے ہمارے سامنے ہی رنگ برنگی مربوں، مغزیات، خوشبودار اور خوش رنگ پھول پتیوں نے ہماری اشتہا اور بڑھا دی۔ سننے میں آرہا تھا کہ  بدن میں گرمی کی شدت کم کرنے اور گرمیوں کے موسم میں گرمی سے بچنے کیلئے گوندکتیرہ کے استعمال کی بہت افادیت ہے۔ اس شربت کا اہم جز گوند کتیرہ ہی ہے۔ اب تو یہ شربت کئی جگہوں پر ملنا شروع ہوچکا ہے اگر آپ بھی اس سے استفادہ کرنا چاہیں تو ضرورت نوش فرمائیں اور اگر کسی کے پاس گوند کتیرہ کے بارے میں بھی معلومات ہوں تو ضرور شیئر کیجئے گا میں اس کو اپنے بلاگ کا حصہ بنا دونگا۔ میں نے تو بغیر ناک منہ بسورے اس شربت کو پیا اور جتنا خوش رنگ نظر آرہا تھا اُتنا ہی خوش ذائقہ بھی تھا۔ جسم کی گرمی کم ہوئی کہ نہیں ، یہ نہیں معلوم ہاں البتہ اُس وقت شدید پیاس میں بڑی تسکین اور راحت محسوس کی۔ آزاما لیجئے اور اپنے تجربے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیجئے۔



Fresh Curly Icecream



جیم فوڈ ٹی وی چینل پر ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں بازار میں ایک آدمی توے نما کوکنگ ٹیبل پرٹکاٹک سٹائل میں فریش فروٹ اور دودھ سے آئس کریم بنا رہا تھا۔ کچھ دن پہلے لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم میں یہی چیز دیکھی تو دل للچایا کہ اس کو بھی ٹرائی کریں۔ اپنے سامنے تازہ آئس کریم بنتے اور پھر اس کو کھانے کا الگ ہی مزہ ہے۔ 

Preserving Fruits & Vegetables - Urdu Guide پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کے طریقے

Preserving Fruits & Vegetable
Every year a large quantity of fruits and vegetable being expired due to not utilizing them on time. The shelf life of many fruits and vegetable is very limited. The best way to keep your vegetables and fruits is to preserve them and use them for long time. Pakistan Council of Scientific & Industrial Research (PCSIR) published a very useful guide in Urdu language. Here, I am sharing this booklet in the best of public interest.Download here: eBook in PDF








How to Grow Asparagus Officinal - Liliaceae a Medicinal Plant

A complete informative post about Asparagus Officinal (Liliaceae) in Urdu language.
Asparagus is not only a healthy veg, but also keeping a treasure of medicinal value in it.Swat valley's climate is very suitable for growing Asparagus. Many farmers cultivate asparagus in Marghuzar Valley (Swat). The source of this article is Agriculture Department of Baltistan's facebook page.



Pages