میرا بلاگ ۔ ںعیم خان

جشن آزادی مبارک Pakistan India National Anthem

جشن آزادی مبارکہندوستانی میڈیا اور بالی ووڈ جہاں ہمیشہ پاکستان، اسلام اور مسلمان کو منفی انداز میں پیش کرکے عالمی سطح پر ہمارا چہرہ مسخ کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے وہاں اُن کےکچھ من چلے نوجوانوں کے ایک بینڈ "وائس آف رام" نے جشن آزادی کے موقع پرپاکستانی قومی ترانہ پڑھ کر پاکستانیوں کو جشن آزادی کی مبارک باد دے کر ایک مثبت قدم اُٹھایا ہے، ہم اُن کے اس اقدام کی بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔ 
 اس دفعہ دوخوبصورت ترانے سننے اور دیکھنے کو ملے، پاکستان کوک سٹوڈیوز کا تیارکردہ قومی ترانہ اور انڈیا کے بینڈ "وائس آف رام" کا پاکستان اور ہندوستان کے گلوکاروں کا پڑھا گیا دونوں ممالک کا قومی ترانہ۔  ان ترانوں کے یوٹیوب ویڈیوز یہاں ملاحظہ کیجئے۔ 

پانی کی قلت اور ہمارے مجموعی روئے Scarcity of Water in Swat

پانی کی قلت اور ہمارے مجموعی رویے

صاف پانی کی قلت کی خبریں ملک کے مختلف علاقوں اور دوسرے ممالک سے آتی رہتی ہیں۔ برے دنوں کے لیے خوراک کے ذخیرے جمع کرنا حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی میں رب العالمین نے دنیا کو بتا دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگوں نے قرآن و احادیث کو قصے کہانیوں کی سطح پر رکھا ہوا ہے۔ عملی زندگی میں ہم نے ان دو عظیم ذرائع ہدایت کو تقریباً نظر انداز کیا ہوا ہے۔ آج بھی عام مسلمان سب سے زیادہ بات محراب و منبر کی مانتے ہیں اور یہ یقیناًایسے مقدس ذرائع ہیں جن سے دورِ جدید میں پُرامن اور خوشحال زندگی کم سے کم وقت میں حاصل کی جاسکتی ہے۔ بس بات تعلیم و تبلیغ کے معیار کی اور درست عمل کی ہے۔ اگر احتیاط کے ساتھ ارد گرد کے ماحول (پاکستان میں) پر نظر ڈالی جائے، تو قدرت کی طرف سے پانی کی فراہمی فی الحال اچھی خاصی ہے لیکن بے تربیت عوام، کرپٹ دفتری ماحول اور حد سے زیادہ خود سریوں نے دوسرے بے شمار مسائل کے ساتھ پانی کے مسائل کو بھی گھمبیر بنادیا ہے۔ سر فہرست ذمہ داروں میں وطنِ عزیز دفتری معیار کار ہے، پھر الراشی و المرتشی اور سفارش کا کلچر ہے۔ ہم نے اپنے معاملات کو اتنا بگاڑ دیا ہے کہ اب شاید بگاڑ ہی کے ذریعے اس کو درست کیا جاسکے گا۔ جیسا کہ روس اور چین میں کئی کروڑ لوگوں کو گولیوں سے اڑا کر کچھ درستگی لائی گئی۔ بادی النظر میں میرا یہ فقرہ بڑا سخت ہے لیکن جب ہم خود خرابیوں کو بڑھاتے ہیں، تو پھر ہمیں ہی اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ ہم چھوٹے لوگ ہیں بڑے لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں سکتے۔ کروڑوں روپے کا لاباغ ڈیم کی تعمیر کے ابتدائی امور پر خرچ کئے گئے۔ ماہرین نے (مع ورلڈ بنک) اس کو مفید اور قابلِ عمل قرار دیا، لیکن پھر معروف بائیں جماعت والی سوچ کی سیاسی پارٹیوں کے بڑوں نے اس سکیم کو ختم کروا دیا۔ ایک بڑا تو صدر پاکستان تھا، جس کی آئینی ذمہ داری پورے ملک کے مفادات کا خیال رکھنا تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حسب سابق ہم عظیم مقدار کا پانی سمندر میں پھینک رہے ہیں۔ بہت بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور وسیع پیمانے کی سمگلنگ نے ملک سے سرمایہ کو باہر منتقل کرنے، سرکار کا ایک لاکھ کا کام کئی لاکھوں میں کروانا اور وہ بھی ناقص، ان عادات نے خزانے کو خالی کروادیا ہے۔ پھر دفاتر میں دو نمبر کی بیورو کریسی اور سفارشی اور اقربا پروری نے سرکار کی قوتوں کو کمزور ترین کردیا ہے۔ ورنہ پورے ملک میں جگہ جگہ چھوٹے اور بہت چھوٹے گڑھے نما ڈیمز کے ذریعے کافی پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ پہاڑوں اور غیر آباد زمینوں پر درخت اور جھاڑ جھنکار اُگا کر ہم ماحول کی حدت کو کم کرکے اپنے پہاڑوں سے برف کی پگھلاہٹ کو آہستہ کرسکتے ہیں (پو دے اللہ کی مخلوق ہوتے ہیں، اُن کے لیے اللہ بارش بھیجتا ہے) اس طرح ہر پودے کے اندر کافی مقدار میں پانی ہوتا ہے، جو ماحول کی حدت کو کم کرکے پانی کے استعمال کو کم کروادیتا ہے۔ خود مجھے تو اس بات میں شک نہیں کہ چوری کئے گئے پانی سے وضو والی نماز درست نہ ہوگی، لیکن محراب و منبر کی خاموشی عجیب سی ہے۔ حرام کا ایک نوالہ اگر پیٹ میں ہو، تو کہتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوتی اور نماز تو دعا ہی ہے۔ اس طرح بغیر ادائیگی کے پانی کی پیٹ میں موجودگی کی بات ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے حق اور تصوف کی طرف مائل لوگ کھانے پینے کے حلال ہونے کی بہت زیادہ فکر کرتے ہیں۔ محراب و منبر پر لازم آتا ہے کہ وہ پانی کی چوری اور اس کے ضیاع پر عوام کو شریعت کے احکامات بتا دیں۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم یوں ہے کہ ہوا، پانی اور آگ (پرانے زمانے میں آگ پیدا کرنا بہت مشکل کام ہوتا تھا، اس لیے لوگ ایک دوسرے سے آگ مانگا کرتے تھے) تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص بھی پانی چوری کرتا ہو، وہ تمام عوام کی مال کا چور ہوگیا اور روزِ قیامت بے شمار لوگ اُس کا گریبان پکڑے ہوئے ہوں گے۔ میرے ان الفاظ پر بہت سارے پڑھنے والے مسکراتے ہوں گے یا غصہ ہوں گے۔ خدا ہم سب کو ہرشیطانی عمل سے بچائے۔ فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے مگر کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف مینگورہ سیدو شریف میں میونسپل عملہ بہت زیادہ نیک اور مغلوب ہے اور عوام بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ جس کا جب اور جس جگہ سے دل چاہے وہ کمیٹی کی بڑی لائن ہو یا چھوٹی اُسے توڑ کر اُس سے اپنی مرضی کا کنکشن خود لے لیتا ہے۔ پھر یہ بھی ظلم کرتا ہے کہ اُس کو مسلسل بہنے دیتا ہے۔ بہت سارے مسلمان بجلی کی موٹروں کے ذریعے پانی کھینچتے ہیں اور عموماً ضائع کرتے ہیں۔ میونسپل حکام کی کمزوری اور شرافت کی تو یہ حالت ہے کہ اُن کے وجود ہی کا کسی کو علم نہیں۔ مینگورہ بازار میں بعض دکاندار پانی کا استعمال کرتے ہیں اور اُن کے کاروبار کا پانی عین سڑک کے وسط میں یا سائیڈوں پر بہتا ہے جس سے لاکھوں روپوں کی سڑک خراب ہوجاتی ہے۔ اگر ٹی ایم اے والے پہلے ایک جرگے کی شکل میں اُن دکانداروں کو سمجھا دیں کہ پانی کا رُخ درست کرو، تو شاید وہ لوگ جلدی ایسا کرلیں گے۔ ہمارے لوگ اللہ کے کرم سے عموماً اچھے ہیں، اچھی بات مانتے ہیں لیکن اُن کو سمجھانے والا کوئی نہی، نہ حکام اور نہ علما۔ اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے یوں واضح کیا ہے کہ وہ امت فلاح نہیں پاسکتی جس کے علما اور امرا گمراہ ہوں۔ مینگورہ میں جگہ جگہ بورنگ کے ذریعے زمین سے کثیر پانی کھینچا جارہا ہے۔ اب تو لوگوں نے بہت بڑی بڑی مشینیں استعمال کرنا شروع کی ہیں۔ ٹی ایم اے؍ ٹی ایم او کے پاس ان سب ’’بور والے کنوؤں‘‘ کا ریکارڈ ہونا چاہئے۔ زمین سے بے حساب پانی چوس لینے سے نیچے پانی کی سطح مزید نیچے جائے گی۔ یوں یہ کنویں بھی بیکار ہوجائیں گے۔ پھر لوگ بور والے کنویں مزید گہرے کھودیں گے اور پانی نکال لیں گے، یوں نیچے خلا پیدا ہوگا۔ علمائے ارض جانتے ہیں کہ نیچے خلا بن جانے سے یا تو زلزلے آئیں گے یا زمین نیچے بیٹھ جائے گی۔ کچھ ہی دن قبل ایک ٹیلی ویژن چینل نے کسی ملک میں زمین کو دھنستے ہوئے دکھایا جس میں کاریں اور عظیم بلڈنگ زمین کے اندر چلی گئیں۔ پانی کو ضائع کرنا۔ اُسے آلودہ کرنا ہم لوگ برائی ہی نہیں سمجھتے۔ میری دعا ہے کہ ٹی ایم اے سوات کم خرچ والی آگاہی مہم مسلسل چلائے، تاکہ لوگ اس طرف متوجہ ہوجائیں اور احتیاط شروع کریں۔ ملا، مدرسہ، میڈیا، سکول اور کالج سب مل کر پانی کے مسئلے بارے عوام کی تربیت کریں۔ خوش قسمتی سے بجلی کی عدم دستیابی پانی کھینچنے میں کمی لارہی ہے۔ اگر بجلی مسلسل دستیاب ہوئی، تو زیر زمین پانی زیادہ تیزی کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ خدا کرے کہ ہم لوگ خود اپنی اصلاح کریں، ورنہ خدا کے لیے مشکل نہیں کہ وہ لینن، سٹالن اور ماؤ کو ہم پر مسلط کرے اور وہ لوگ ’’اصلاحِ احوال‘‘ کریں، توبہ اور عمل صالح کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ ہزاروں سالوں سے جاری مینگورہ کا چشمہ (چینہ) یزید کے پیروکاروں نے ہڑپ کرلیا ہے۔ دریائے سوات کے میٹھے اور صاف پانی کا صدیوں پرانا نہر (گاگہ) کو تباہ کیا گیا۔ کیا اس نہر کو صاف کرواکر اس کے ذریعے غیر پینے کا پانی شہر میں نہیں لایا جاسکتا؟ پروفیسر (ر) سیف اللہ خان، مینگورہ سوات

Pear Picking Tour - ATDC - Peshawar

ایگری ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کا ناشپاتی کے باغات کا ٹور
پاکستان کوقدرت نے جہاں سبزسونا اُگلتی سرزمین عطاء کی ہے وہاں ہر خطے میں انواں و اقسام کے پھل و سبزیوں کی نعمت سے بھی نوازا ہے۔جس طرح پاکستان کے ہر علاقے کی اپنی ایک مخصوص پیداوار ہے اُسی طرح سب سے بہترین ناشپاتی پشاور اورنوشہرہ کے اضلاع کے باغات میں اُگائی جاتی ہے جس کو نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی برآمد کیاجاتاہے۔شمالی علاقہ جات ، سوات، ہزارہ، چترال اور ملاکنڈ ڈیویژن کے دیگر علاقوں میں بھی اعلیٰ کوالٹی کی ناشپاتی اور اس خاندان کے دیگر پھل نہ صرف جنگلی طورپر اُگتے ہیں بلکہ اس کے باقاعدہ باغات بھی ہیں۔ سوات میں ناشپاتی کی ایک قسم "پڑاؤو" جسامت میں بڑا، میٹھا، رس سے بھرپور اور نہایت خوش ذائقہ ہوتا ہے ، جبکہ ناشپاتی، ٹانگئی، بٹنگ اور دوسرے اقسام بدرجہا یہاں اُگتے ہیں۔ ایگری ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپورشن آف پاکستان کے روح رواں جناب طارق تنویر صاحب نے اس ماہ پاکستان میں بہترین اور تجارتی بنیادوں پر مشہور ناشپاتی کے پیداوار کے علاقے
اکبرپورہ ضلع نوشہرہ(پشاور کے قریب) کے باغات کاانتخاب کیا اوراے ٹی ڈی سی کی کوآرڈینٹرمیڈیم نوشین اے خان نے کچھ دن پہلے سائٹ( باغات ) کا انتخاب کرکے ۳۰جولائی کو پروگرام تشکیل دیا۔ناشپاتی کے باغات کے ٹور کی میزبانی جناب ڈاکٹر شیرشاہ نے کی جو کہ علاقہ اکبرپورہ (ضلع نوشہرہ)خیبرپختونخوا کے رہائشی ہیں، میڈیسنل پلانٹس میں ڈگری ہولڈر اور طب و ایلوپیتھی کے بہترین طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے ہربلسٹ ہیں۔ میڈیسنل پلانٹس اور دیگر نباتات کے علوم کے ماہر اور 14سال کے وسیع تحقیق و تجربے کے مالک ہیں۔ 

ناشپاتی کے باغات کے ٹورکیلئے کئی فیملیز بشمول طارق تنویر بمعہ فیملی ایک دن پہلے ہی پشاور پہنچ گئے تھے اور باقی کے لوگوں کو ۳۰جولائی صبح گیارہ بجے مین جی ٹی روڈ پر بمقام تاروجبہ اکٹھے ہونے کا کہاگیا۔ اے ٹی ڈی سی کی کوآرڈینٹر میڈم نوشین اے خان کی کاوشوں کے نتیجے میں یونیورسٹی آف پشاور کے پاکستان سٹڈی سنٹر کے پروفیسر حضرات اورکچھ طلباء نے خصوصی طور پر شرکت کی تاکہ اے ٹی ڈی سی کا صحت مند سرگرمیوں کا مثبت پیغام معماران قوم کے ذریعے ہر طبقے کے لوگوں تک پہنچ سکے۔ سب لوگ اکٹھے ہونے کے بعد اکبرپورہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ٹورمیزبان ڈاکٹر شیرشاہ صاحب پہلے سے استقبال کیلئے موجودتھے۔ اکبرپورہ کا علاقہ پشاور نوشہرہ جی ٹی روڈ پر پشاور سے تقریباً ۲۰کلومیٹرکے فاصلہ پر نوشہرہ کی طرف واقع ہے، جی ٹی روڈ پر تارو جبہ سے شمال کی طرف ایک سڑک مڑتی ہے جو اکبرپورہ گاوں کی طرف جاتی ہے جی ٹی روڈ سے اکبرپورہ تقریباً۱۳کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جی ٹی روڈ سے اکبر پور ہ تک پورا راستہ سرسبز وشاداب کھیتوں اور باغات کے درمیان میں سے گزرتا ہے۔یہ پورا علاقہ دریائے کابل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے بہت زرخیز ہے ۔ یہ علاقہ اکثر سیلاب کی زد میں آیا کرتا تھامگر اب دریا اور اس علاقے کے درمیان موٹروے بننے سے یہاں کی زمینیں سیلابی ریلوں سے بچ گئی ہیں۔ تاریخ کے مطابق جب پرانے جنگجو اپنے لاو لشکر کے ہمراہ ہندوستان کی طرف گامزن ہواکرتے تھے تو دوران سفر اس علاقے کی سرسبزوشادابی اور باغات کو دیکھ کر یہاں قیا م کرتے، چونکہ یہاں چاروں طرف باغات اورکھیت کھلیان تھے اس لئے اس علاقے کو چارباغ کا نام دیا گیا جو بعد میں تبدیل ہوکر اکبرپورہ رکھ دیاگیا۔ یہ علاقہ ناشپاتی، خوبانی، آڑو، آلوبخارہ اور الوچہ کے بہترین پیداوار کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہے جبکہ دیگر پھل و سبزیاں بھی یہاں بہتات سے پیدا ہوتی ہیں۔ بہار کے موسم میں یہ علاقہ پھلدار پودوں کے باغات کی وجہ سے پھولوں سے لد جاتا ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے ہرجگہ خوبصورت پھولوں کی چادریں بچا دی گئی ہوں اور اسی موسم مگس بان(شہد کی مکھیاں پالنے والے) اپنی مکھیوں کے ڈبے یہاں منتقل کردیتے ہیں اور ہر باغ میں درختوں پر پھولوں کی بہار اور زمین پر شہد کی مکھیوں کے جال بچ جاتے ہیں۔ یہی شہد کی مکھیاں پھولوں میں بار آوری (پولینیشن ) کا کام کرتی ہیں اور پھولوں میں پھل انہی شہدی کی مکھیوں کے مرہون منت ہیں۔ جولائی اور اگست میں اس علاقے میں ناشپاتی اور اس کی دیگراقسام بٹنگ، ٹانگئی، بہی پک کرتوڑنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔ 
ایگری ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کی شروع سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ عام عوام کو بالخصوص بچوں اور فیملیز کیلئے ایسے پروگرام اور ٹورز ترتیب دیئے جائیں جس میں اُن کی قدرتی ماحول، پھل، پھول اور سبزیوں سے قربت پید اکی جاسکے، اُن کو صحت مند سرگرمیاں مہیا کرکے ایک مثبت سوچ کو پروان چڑھایاجائے۔ اے ٹی ڈی سی قدرتی ماحول میں بچوں کی تربیت کا اہتمام کرتی ہے۔ اُن کو قدرت کے بیش بہا نعمتوں سے متعارف کرنا اس ادارے کے منشور میں ہے۔ جس تیزی سے اربنائزیشن ہورہی ہے ہماری زندگی کے طور طریقے تبدیل ہورہے ہیں ہمار ے بچے یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ ہم جو خوراک کھاتے ہیں جو پھل اور سبزیاں ہمارے زیر استعمال ہوتی ہیں اُن کو کیسے اُگایا جاتا ہے، کیسے کسان اس پر محنت کرتا ہے، کیسے توڑتا ہے اور کیسے ان کو پیک کرکے منڈیوں اور پھرمارکیٹ سے ہوتی ہوئی ہمارے گھروں کو پہنچتی ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران ہم تک پہنچتے پہنچتے پھل اور سبزیاں زیادہ تر اپنی تازگی اور ذائقہ کھو دیتے ہیں اور قیمت میں بھی مہنگی ملتی ہیں۔ اے ٹی ڈی سی کے منشور میں یہ شامل ہے کہ صارف کو کسان کے کھیت /باغ تک لے جاکر براہ راست وہاں سے تازہ پھل اور سبزیاں خرید کر دی جائے۔ اس سے نہ صرف کسان کو بہتر قیمت اُس کے کھیت ہی میں مل جاتی ہے بلکہ عوام کو بہترین اور تازہ پھل و سبزیاں مل جاتی ہیں۔ ایگری ٹورزم کا مقصد انسان کو بناوٹی دنیا سے نکال کر قدرت کی رعنائیوں اور خوبصورتیوں کی طرف لانا ہے۔ ہر سال ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی چھٹیوں اور فارغ اوقات میں مختلف علاقوں میں سیاحت کیلئے جاتے ہیں۔ اے ٹی ڈی سی کی کاوش ہے کہ ایسی سیاحت کومزید منافع بخش بنایا جائے اور ایسے باغات اور کھیتوں کی طرف عوام کو بطور سیروتفریح لے کر جایا جائے جہاں وہ نہ صرف کسان کی محنت اور اُس کے کام سے متعلق معلومات حاصل کرسکے بلکہ مناسب قیمت پر تازہ پھل اور سبزیاں بھی لے سکے اور ساتھ ساتھ بچوں بڑوں کی قدرتی ماحول سے ہم آہنگی اور تعلیم و تربیت بھی ہو۔
اکبرپورہ میں میزبان ڈاکٹر شیر شا ہ نے ناشپاتی کے سرسبز باغ میں بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا تھااورساتھ میں مقامی موسیقاروں کو بلا کر رُباب منگے (مٹکہ) کا بھی اہتمام کیا تھا۔ تمام مہمان جہاں تازہ ناشپاتیوں اور خوش ذائقہ بٹنگ سے لطف اندوز ہورہے تھے وہاں موسیقی کی لے پر جھوم بھی رہے تھے۔ ٹورکے شرکاء بالخصوص بچے کسانوں کے ساتھ گھل مل گئے، نہ صرف اُن کے ساتھ مل کر پھل توڑے بلکہ پیکنگ میں بھی حصہ لیا۔ کسانوں نے اُن کو پھل کی گریڈینگ کے بارے میں بھی بتایا کہ کس قسم کا پھل الگ الگ کرنا ہے اور پیکنگ بھی کرنی سکھائی۔ ڈاکٹر شیر شاہ میڈیسنل پلانٹس ، پھل پودوں اور پھولوں اور خاص کر ناشپاتی کے خواص پر شرکا ء کو معلومات بھی فراہم کررہے تھے۔ اُنہوں نے ناشپاتی کے نباتاتی اور طبی خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف اقسام کے مختلف طریقوں سے استعمال کے بارے میں بھی بہت معلومات فراہم کی۔ ناشپاتی وہ پھل ہے جس کو بطور پھل استعمال کے علاوہ بطور سبزی ترکاریوں اور مختلف کھانوں میں آلو کی جگہ پر بھی استعمال کیاجاتا ہے۔ ناشپاتی کے پھل کے چھلکے کا قہوہ بھی بنتا ہے جو کہ دل کی بند شریانوں کی تکلیف کیلئے بہت مفید ہے، اُنہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ناشپاتی کے پھل کو چھیل کر اس کے چھلکے کو اُبلتے ہوئے پانی میں ڈال کر دم پر رکھ لیں اور بقدر ضرورت چینی یا شہد ملا کر استعمال کریں۔ ناشپاتی کا مربہ بنانے کیلئے ناشپاتی کو چھیل کر اس کے ٹکڑے کرکے گڑ کے شربت میں پکائیں اور محفوظ کرلیں۔ ناشپاتی کا ایک استعمال یہ بھی ہے کہ اس کی ڈنڈی کے ساتھ دھاگہ باندھ کر کسی بھی کمرے یا سائیہ دار جگہ میں لٹکالیں، دو تین دن بعد اس میں موجود نمی کم ہوجائے گی اور اس سے خوشبو بھی نکلنا شروع ہوجائے گی،
اس طرح کا پھل تقریباً ۱۵دن تک محفوظ کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ناشپاتی کا سرکہ، جیم، شربت اور دیگر مصنوعات بھی بنتی ہیں اور کئی اقسام کی دوائیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ڈاکٹرشیرشاہ صاحب نے دیگر تفصیلات سے بھی تمام شرکاء کو خوب مستفید کیا۔ باغات کی سیرو تفریح کے بعدچیف ایگزیکٹیواے ٹی ڈی سی طارق تنویر صاحب نے اے ٹی ڈی سی کے اغراض ومقاصد سمیت آنے والے ٹورز کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیااور شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ ٹورکے آخر میں بہت سارے لوگوں نے فارمر سے بڑی مقدارمیں تازہ ناشپاتی بھی خریدکر لے گئے۔
ایگری ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کاوائلڈ فروٹ ہنٹنگ، فارم ہاوسز، کھیت کھیلیانوں اور باغات کے ٹورز کا مقصد انسانوں کو شہر کی زندگی کے بے ڈھنگ مصروفیات سے نکال کر قدرت کے قریب لانا ہے ۔ ایسی مثبت اور ماحول دوست سرگرمیوں کا مقصدنہ صرف لوگوں کو خوشگوار تفریح مہیا کرنا ہے بلکہ کسان اور صارف کو قریب لانا بھی ہے تاکہ ہم براہ راست کسان سے خریداری کرکے نہ صرف تازہ پھل اور سبزیاں خرید سکیں بلکہ اس سے کسان کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو۔


















Rasbhari in Swat - Ground Cherry - Cape Gooseberry - Chinese lantern - Physalis Peruviana - Alkekengi

  رس بھریرس بھری چھوٹی بیری نما ٹماٹرکی شکل و ساخت کاایک خوبصورت اور بہت سارے طبی خواص کا حامل پھل ہے۔ اس کی خاص خوبصورتی پھل کے اردگرد ایک جالی دارتھیلی ہوتی ہے جس کے اندر پھل ایسے لگتا ہے جیسے گونگے کے اندرسیپ۔
اس پھل کو اُردو اور ہندی میں "رس بھری" کہتے ہیں جبکہ انگریزی میں "کیپ گووز بیری یا گراؤنڈ چیری" کہا جاتاہے۔ رس بھری دنیا کے بیشتر ممالک کے تھوڑے سے گرم مرطوب علاقوں میں قدرتی طور پر اُگنے والا پودا ہے جس کا آبائی علاقہ برازیل اور جنوبی امریکہ کے علاقے ہیں۔ جبکہ شمالی افریقہ، آسٹریلیا، چائنا، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، مصر، انڈیا میں اس کو باقاعدہ کاشت کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بہت سارے علاقوں میں یہ جنگلی طورپر اُگنے والا پودا ہے اور بہت کم ہی اس کی باقاعدہ کاشت ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر ممالک میں اس کو باقاعدہ بطور پھل کی طرح کاشت کیاجاتا ہے اورباقاعدگی سے مارکیٹ میں سپلائی کیاجاتاہے۔
اس کا تعلق پودوں کے"سولنسیا"خاندان سے ہے جس میں ٹماٹر، آلو اور بینگن کے پودے آتے ہیں۔ اس کا نباتاتی نام"فیسالیس پروینا" ہے، جس کا رنگ پیلازردیانارنجی گولڈن کلرہوتا ہے جبکہ اس کی ایک اور قسم جس کا رنگ نہایت خوبصورت سرخ ہوتا ہے کو"فیسالیس الکیکنجی"کہتے ہیں اورعام زبان میں اس کو "چائنیزلینٹرن"کہاجاتاہے۔ دنیا کے بیشتر علاقوں میں رس بھری "کیپ گووزبیری ؍ گولڈن بیری یا گراونڈ چیری"کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ضلع سوات کے نسبتاً گرم علاقوں میں یہ پودا جنگلی اُگتا ہے ، جس کے سرخ رنگ کے پھل کو "کوٹی لال"کہتے ہیں۔ پختونخوا کے دیگر گرم مرطوب علاقوں چارسدہ، صوابی، مردان، نوشہرہ اور شبقدر میں بھی پیلے رنگ کی رس بھری کا پودا اُگتا ہے۔ جبکہ راولپنڈی اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی اس کا پودا پایاجاتا ہے جس کا پھل اکثربازار میں دستیاب ہوتا ہے۔ پختونخوا میں چونکہ اس پھل سے کوئی اتنا آشنا نہیں اس لئے اس کی کوئی خاص استعمال بھی نہیں ہے جبکہ پنجاب و دیگر ملحقہ علاقوں کے شہروں میں اکثرجون جولائی کے موسم میں پھلوں کی دکانوں پر دستیاب ہوتاہے۔ راولپنڈی میں فیض آباد مری روڈپر پیڈسٹرن برج کے پاس والی فروٹس کی دکانوں پرمل جاتاہے۔
رس بھری کا پودا مرچ اور ٹماٹرکے پودے ہی جیسا ہوتا ہے جس کی نرم ٹہنیاں پتوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ پودوں میں جون کے اوائل میں زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول لگنا شروع ہوجاتے ہیں جن پر بعد میں ایک مخروطی شکل کی سبز رنگ کی تھیلی نما خوبصورت پوتلی ظاہرہونا شروع ہوجاتی ہے، کیپ گووز بیری میں یہ تھیلی سبز رنگ کی ہوتی ہے جو بعد میں پیلے زرد یا گولڈن کلر کی ہوجاتی ہے جبکہ چائنز لینٹرن میں یہ تھیلی سبز سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ رس بھری کا پھل اس تھیلی کے اندر لگا ہوتا ہے، رس بھری کا خوبصورت زردوسرخ رنگ کا پھل جھلکتا ہوا بہت جاذب نظر محسوس ہوتا ہے۔ اس کا خوشگوار میٹھاذائقہ معمولی ترشی مائل ٹماٹر کی طرح ہی ہوتا ہے جبکہ شکل اور پھل کی اندرونی ساخت بھی ٹماٹرہی کی طرح ہوتی ہے۔ رس بھری میں وٹامن اے اور سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے، یہ پھل ہماری روزمرہ کی ضرورت کا چودہ فیصدوٹامن اے اور18فیصد وٹامن سی کی مقدار کو پورا کرتا ہے۔اس کے ہر100گرام سے تقریباًچارگرام پروٹین بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ وٹامن بی کمپلیکس کا خزانہ ہے جبکہ اس میں تھائیمین، نیاسین اور کئی معدنیات جیسے آئرن، فاسفورس،کیلشیم بھی پائے جاتے ہیں، یعنی یہ ایک چھوٹے سے دانے میں قدرت کی طرف سے غذاکا بیش بہا خزانہ ہے۔
رس بھری کے بہت سارے طبی فوائد بھی ہیں اور کئی اطباء اس کو اپنے نسخوں میں استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ جدید ادویہ سازی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔رس بھری اینٹی استیمک، اینٹی سپٹک،اینٹی فلامیٹری،اینٹی آکسیڈنٹ،جراثیم کش اور مانع السریعنی اینٹی کینسر خواص کا حامل پھل ہے۔ اس پھل کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ جگر کی حفاظت کرتاہے، یہ آپ کے بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ہے بلکہ شوگرکی بیماری میں بھی مفید ہے۔طبی خواص کا حامل یہ پھل نہ صرف بطور میڈیسنل پلانٹ استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کا استعمال مختلف انواع واقسام کے کھانوں ، میٹھائیوں اور سویٹ ڈشز میں بھی ہوتا ہے۔ اس کا مربہ اور جام بھی بنایاجاتاہے اور شربت بھی۔ہمارے عوام کا اس پودے سے زیادہ آشنائی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر یہ پھل ضائع ہوجاتا ہے اور استعمال میں نہیں لایاجاتا۔اس کوآسانی سے عام پھل کی طرح کھایاجاتاہے۔ پھل توڑے کے بعد اگر اس کو اس کی تھیلی سے نہ نکالا جائے تو یہ تقریباً ایک مہینے تک محفوظ اور تازہ رہتا ہے۔ 
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں گوگل اور ویکیپیڈیا سے مدد لی گئی ہے۔ پودوں کے نام انگریزی میں لکھنا یہاں ممکن نہیں اس لئے اُردو میں لکھے گئے ہیں۔ 

Blackberries in Swat - Morus Nigra - Rubus


بلیک بیری Blackberries

سوات میں "بلیک بیری" کو "کروہ ڑہ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک خودرو جھاڑی نما پودا ہے۔ کروہ ڑہ کو باقی کی دنیامیں "بلیک بیری" کہتے ہیں ۔یہ ٹھنڈے علاقوں کا ایک نہایت ہی نازک اور قدرے ترشی مائل میٹھا توت یا سٹرابیری نما پھل ہے۔ اس کا باٹانیکل نام مورس نیگرا ہے (مضمون کے ٹائٹل میں صحیح تلفظ دیکھئے) جبکہ اس پودے کا تعلق "روبس" خاندان سے ہے جس میں تمام بیریز آتی ہیں۔ رسپ بیریز بھی اس خاندان کا حصہ ہےجو سوات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بلیک بیری/کروہ ڑہ کے پودے سوات کے علاقے میں خود رو پودا ہے۔ دنیا کے سرد ممالک میں یہ پودا عام پایا جاتا ہے اور تجارتی بنیادوں پر بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بلیک بیری کا پودا زیادہ تر کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور دریاوں، نہر،نالوں کے کناروں پر اُگتے ہیں۔ یہ ایک سدا بہار جھاڑی نما پودا ہے۔ اس کی لمبی لمبی ٹھنیاںہ ہوتی ہیں جس کو بطور بھاڑ بھی اُگایاجاسکتا ہے۔ کانٹوں سے لیس اس کی ٹہنیوں پر تین اور پانچ کی ترتیب سے پتے اُگتے ہیں اور سرے پھر پھولوں کا گچھا جس پر بعد میں پھل بنتا ہے۔ اس میں اپریل کے آخر سے لے کر جون تک گلابی یا ہلکے سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول گچھوں کی شکل میں لگتے ہیں اور پھل جون کے آخر سے جولائی سے لے کر اگست کے آخر تک لگتا ہیں۔ اس کا پھل پکنے پر سیاہی مائل جامنی رنگ کا ہوتا ہے اور پھل کی شکل توت سے زیادہ ملتی ہے۔ ذائقے میں ترش میٹھا ہوتا ہے۔ سوات میں بلیک بیری/کروہ ڑہ کے کچھ اور اقسام بھی پائی جاتی ہیں جن کو رسپ بیریز یا گولڈن ہمالین بیریز کہتے ہیں۔ سوات کے علاقے میں یہ پودا خود روجنگلی پودوں کی اقسام میں سے ہے۔ پھل کے موسم میں اکثر گاؤں کی غریب آبادی اس کا پھل اکٹھا کرکے بازارمیں بیچتی ہے مگر بہت کم دستیاب ہوتا ہے۔ یورپی ممالک میں " بلیک بیری " کی کاشت تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور باقی دنیا کے ممالک کو بھی یہ پھل برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ پھل کئی بڑے بڑے ڈپارٹمینٹل سٹورز میں دستیاب ہوتا ہے۔ ہم نے اسلام آباد کے ایک بڑے سٹور سے یہ بلیک بیری تقریباً نو سو روپے کے عوض لی تھی۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت نے اس پھل کی پیداوار اور اس کی تجارتی بنیاد پر کاشت پر ابھی تک کوئی خیر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔ سوات کا علاقہ اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کے لئے موزوں ترین علاقہ ہے۔ سوات کے علاقہ مدین میں ایک عزیز کے گھر اس کا قلمی پودا دیکھا جو وہ اپنے ساتھ جرمنی سے لے کر آئے تھے، اُن کے مطابق اس پودے کا پھل عام جنگلی بلیک بیری سے سائز میں بڑا اور زیادہ بھی لگتا ہے۔ سرد علاقوں اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں کی نسبتاً ٹھنڈی جگہوں پر بھی اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اب پودوں کی کسی بھی اچھی نرسریز سے اس کی امپورٹد ہائبرڈ اقسام کے پودے حاصل کئے جاسکتے ہیں جن کو آسانی سے گھروں، باغوں میں کیاریوں یا گملوں میں اُگایاجاسکتا ہے۔ تیزاور زیادہ دھوپ سے بچا کر کسی بھی دھوپ چھاوں والی جگہ پر اس کو لگایا جاسکتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے کچھ میدانی علاقوں جہاں موسم قدرے ٹھنڈا ہوتا ہے میں بھی یہ بلیک بیری کا پودا قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ شبقدر، چارسدہ کے علاقوں میں سے جہاں سے دریائے سوات کا گزر ہے کے آس پاس کے علاقوں میں بھی یہ پودا پایا جاتا ہے اور پھل بھی خوب لگتے ہیں۔ اگر حکومت اس طرف توجہ دے تو کوئی شک نہیں کو آج جو قدرتی طور پر جنگلی پھل ہم دیکھ رہے ہیں یہ کل کو ہمارے لئے ایک اچھا خاصہ زرمبادلہ بھی کمائے۔ اس پودے کے بارے میں گوگل میں سرچ کرنے پر بہت ساری معلومات مل سکتی ہیں۔Blackberries & Bluebarries
Raspberries

رسپ بیریز کے بارے میں جانئے؟

Raspberries in Swat - Rubus Idaeus-Rubus Crataegifolius

رسپ بیری

رسپ بیری شوخ سرخ رنگ کا ایک خوبصورت، خوش نما اور خوش ذائقہ پھل ہے جو کہ سوات سمیت پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کہیں کہیں میدانی علاقوں میں جہاں آب و ہوا قدرے یخ ہوتی ہے وہاں اس کا پودا دریا ، ندی نالوں اور ایسی ہی دیگر ٹھنڈی جگہوں پر قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ رسپ بیری کا تعلق گلاب کے خاندان سے ہے، اس کا پودا جھاڑی نما ہوتا ہے ، پتے ایک ٹہنی پر تین سے پانچ تک ہوتے ہیں۔ تنے پر کانٹے ہوتے ہیں اور اس کی ٹہنیاں کافی لمبی ہوتی ہیں۔ اس کے پھول ہلکے گلابی یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں جو کہ گچھوں کی شکل میں اُگتے ہیں ۔ اس کے پھل مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر گہرے جامنی رنگ، سرخ اور ایک اور قسم زردپیلے یا نارنجی گولڈن رنگ کا ہوتاہے۔اس کے پودے پر پھول اپریل کے وسط سے نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور جون کے آخر سے پھل پکنے لگتاہے جو جولائی کے آخرتک دستیاب ہوتاہے۔ اس کا پھل توت کے پھل کی طرح دانے دار ہوتاہے، جنگلی ؍قدرتی طور پر اُگے رسپ بیری کے پھل کا سائز چھوٹا ہوتا ہے تقریباً توت کے پھل جتنا ہی۔
انگریزی میں اس کورسپ بیریRaspberrieرسپ بیری کہا جاتا ہے۔سوات میں اس کے گہرے جامنی اور سرخ رنگ کے پھل کو "بیگونئی یا باگانئی" اور زردپیلے گولڈن رنگ کے رسپ بیری جن کو گولڈن ہمالین رسپ بیری کہتے ہیں کو سوات میں " گورج "کہتے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں اس کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔یہ یاد رہے کہ رسپ بیری اور بلیک بیری دو الگ الگ پھل ہیں، یہ شکل و صورت اور کسی قدر ذائقے میں بھی "بلیک بیری" کی طرح ہی ہوتا ہے۔یہ پودے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے پودے اور پھل ایک دوسرے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ بلیک بیری کو سوات کے علاقے میں "کروڑے" کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ بلیک بیری / کروڑے کا پھل تھوڑا سے بیضوی نما اور گہرے سیاہی مائل جامنی رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ رسپ بیری شکل میں تھوڑی سی گول اور جہاں اس کی ڈنڈی لگی ہوتی ہے وہاں سے اندر کو دھنسی ہوئی ہوتی ہے اور رنگ بھی اتنا گہرا نہیں ہوتا۔
 رسپ بیری یورپ ، کینیڈا ، چین، جاپان ، کوریا،روس ، وسط ایشائی ممالک اورہندوستان و امریکہ کے سرد علاقوں میں پائے جاتے ہیں اوران ممالک میں رسپ بیری کی باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر کاشت بھی ہوتی ہے اور اس کے کئی ہائبرڈ اقسام کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔رسپ بیری کے ہائبرڈ اقسام کے پودے اب پاکستان میں بھی کسی بھی اچھی نرسری سے حاصل کئے جاتے ہیں جو خاص کر میدانی علاقوں کے لئے متعارف کروائے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں پرانے پشاورموڑ کی نرسریزی میں یہ پودا دستیاب ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر بڑے شہروں میں بھی باہرممالک سے درآمد کنندگان کے پاس اس کے پودے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ ہائبرڈ اقسام میں اس کے پھل کا سائز بڑا، ذائقہ خوشگوار ترشی نما میٹھا اور رنگ شفاف سرخ ہوتا ہے۔ پاکستان میں کئی بڑے سٹورز میں باہرممالک خاص کر یورپ سے درآمد کئی ہوئی رسپ بیری دستیاب ہوتی ہے لیکن قیمت میں انتہائی مہنگی ہوتی ہیں، تقریباً بیس سے پچیس دانوں کی قیمت آٹھ سو سے نوسو روپے کے درمیان ہوتی ہے۔
 
خیبر پختونخوا اور اسلام آباد اور دیگر میدانی علاقوں میں کافی لوگوں نے اپنے گھروں میں اس پودے کو کامیابی سے اُگایا ہے جن پر پھل بھی خوبصورت اور صحت مند لگ رہے ہیں، لیکن مطلوبہ آب و ہوا نہ ہونے کی وجہ سے پھل اکثر ترش ہی ہوتا ہے، جبکہ شمالی علاقہ جات اور ٹھنڈے علاقوں میں اس کا پھل خوش ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اس کے پودے کو کہیں بھی سایہ دار جگہ پر کاشت کیا جاسکتا ہے جہاں میدانی علاقوں کی تیز دھوپ اس کو براہراست متاثر نہ کرسکے۔ کسی بڑے درخت کے نیچے سایہ دار جگہ اس کیلئے نہایت موزوں ہوتی ہے۔ رسپ بیری کے پودے کو نہایت آسانی سے آپ کسی بھی بڑے کنٹینر، گملے یاکیاری میں اُگا سکتے ہیں۔ نرسری سے صحت مند پودا منتخب کریں اور مطلوبہ جگہ پر اس کو کاشت کریں۔ عام طور پر یہ ندی نالوں اور کھیتوں میں پانی کی نالیوں کے ساتھ ساتھ پگڈنڈیوں پر جھاڑیوں کی شکل میں بھاڑ بنائے اُگی ہوتی ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں اس پھل کو تجاری بنیادوں پر کاشت کیا جاتا ہے ، جس کو بڑی کامیابی اور بڑی مقدار میں دنیا بھر میں برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی تجارتی مارکیٹس میں اس پھل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
یہ پھل کئی اقسام کے کھانوں، مٹھائیوں ، سویٹ ڈشز، بیکری مصنوعات سمیت عام خوراک کے طور پر زیر استعمال لایا جارتا ہے۔ اس کے کئی طبی خواص بھی ہیں جن کی وجہ سے ادویات میں بھی ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی دیہائیوں تک لوگ دیگر خطوں کے پھل اور سبزیوں سے ناواقف تھے مگر جب سے معلومات کی فراہمی اور دستیابی عام آدمی کے دسترس میں آگئی ہیں تو دنیا کے ایک خطے کے پھل اور سبزیاں دوسرے خطے کے لوگوں کی دہلیز پر پہنچنا شروع ہوگئے اور یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کے علاقائی پھل، سبزی، پھول،پودوں اور طبی خواص کے جڑی بوٹیوں کی مانگ دوسرے علاقوں میں بڑھ گئی ہے۔
ہم ایک زرعی ملک ہیں مگر بدقسمتی سے زراعت کی ترقی کو وہ رفتار حاصل نہیں جو کہ عہد حاظر کی ضرورت ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں محنتی طلباء و طالبات مختلف تحقیق و تجربات کرکے کامیابی حاصل توکررہے ہیں مگر اُن کی محنت بہت کم ہی عام کاشتکاریاکسان تک پہنچتی ہے۔ رسپ بیری اور اس جیسے فائدہ مند پھل ہمارے ملک میں جنگلی دستیاب ہیں لیکن کسی بھی حکومت نے اور ہمارے زراعت سے وابستہ محکموں نے ان کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کی طرف توجہ نہیں دی۔ اگر رسپ بیری اور اس جیسے دیگر پھل،پھول،سبزیوں اور جڑی بوٹیوں (جن کی زیادہ تر اقسام ہمارے علاقوں میں قدرتی طور پر اُگتی ہیں)کی اعلیٰ اور ہائبرڈ اقسام کو ملک میں متعارف کروایا جائے ، کاشتکاروں کو ان کی کاشت ،حفاظت، پیکنگ اورمارکیٹنگ کی عملی تربیت دی جائے تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے کسان اس کی کاشت تجارتی بنیادوں پر شروع کریں گے۔ رسپ بیری اور دیگر پھلوں کی جدید طریقوں سے کاشت کاری سے ہمارے کاشتکار نہایت معقول منافع کما سکتے ہیں جن کی مانگ دیگر ممالک میں بہت زیادہ ہے اور اس سے پاکستان کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ سوات، دیر،چترال، ایبٹ آباد،مانسہرہ، شانگلہ، گلگت بلتستان اس پھل کیلئے نہایت موزوں علاقے ہیں جہاں یہ پودہ قدرتی طور پر بھی اُگتاہے۔ اگر ان کی قلمکاری کی جائے یا باہر کے ممالک سے ہائبرڈ اقسام کے پودے درآمد کرکے ان علاقوں میں کاشت کئے جائیں تو کوئی شک نہیں کہ اس سے نہایت اعلیٰ معیار کا پھل حاصل کیا جاسکے گا۔
گولڈن ہمالین رسپ بیریز (گورج) کی تصاویر کیلئے عطاءاللہ جان ایڈوکیٹ کا شکریہ

"بلیک بیری" کے بارے میں جانئے؟

Science Talent Farming Scheme Scholarship For Matric & Intermediate Students by HEC

ہائر ایجوکیشن کمیشن (پاکستان) نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء و طالبات کیلئے "سائنس ٹیلنٹ فارمنگ سکیم سکالرشپ" کا اجراء کیا ہے جس کیلئے آن لائن درخواستیں وصول کی جارہی ہیں۔ اہل اُمیدواروں کیلے فل فنڈڈ چار سالہ بی ایس فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور میتھس کے مضامین میں سکالرشپ دیا جائے گا۔ و طلباء و طالبات جنہوں نے میٹرک میں کم از کم  ساٹھ فیصد  اور انٹرمیڈیٹ (ایف ایس سی) پارٹ ون) میں کم از کم
سترفیصد نمبر حاصل کیں ہوں وہ درخواست دینے کے اہل ہیں۔
درخواستیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر آن لائن وصول کی جارہی ہیں۔ ریجسٹریشن کی آخری تاریخ16جولائی2017 ہے۔ 
درخواست/ریجسٹریشن کیلئے یہاں کلک کریں

KP Public Service Commission Jobs 2017

حکومت خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں نے نئی/خالی آسامیوں کیلئے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے درخواستیں طلب کی ہیں۔آخری تاریخ 09.06.2017ہے ۔  http://kppsc.gov.pk/advertisementدرخواست دینے کا طریقہ:۔اشتہار میں مطلوبہ تعلیمی قابلیت کے مطابق آسامی کا انتخاب کیجئے۔صوبہ خیبر پختونخوا کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آسامیوں کی تقسیم زونز کے مطابق ہوتی ہے یا اوپن میرٹ پرجس کیلئے ہر علاقے سے اپلائی کی جاسکتی ہے جبکہ زونل تقسیم کے مطابق صرف متعلقہ زون کے اُمیدوار درخواستیں دے سکتے ہیں۔(پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹپر زونز کی تفصیلات موجود ہیں)۔درخواست دینے کیلئے فارم نیشنل بینک آف پاکستان کی مخصوص شاخوں پر دستیاب ہیں(جن کی تفصیل بھی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے) جو کہ مطلوبہ فیس جمع کرکے وصول کی جاسکتی ہے۔ جبکہ آن لائن بھی فارم دستیاب ہے، اس کو ڈاؤنلوڈ کرکے بھرا جاسکتا ہے۔آن لائن فارم کے ساتھ بینک چالان فارم بھی موجود ہے جس کو بھر کر مطلوبہ فیس بینک میں جمع کرکے چالان فارم اور چالان فارم کی تفصیلات آن لائن فارم میں درج کی جاتی ہیں۔ہر درخواست کے ساتھ درخواست دہندہ کے تین پاسپورٹ سائز تصاویر، قومی شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، ڈومیسائل کی فوٹو کاپیاں کسی بھی کلاس ون آفیسر سے تصدیق کرواکر منسلک کی جاتی ہیں۔ جبکہ اپنے علاقے کے دو افراد سےاچھے اخلاق کا سرٹیفیک (کریکٹر سرٹیفکیٹ) لیا جاتا ہے جس کا متن کچھ یوں ہوتا ہے:۔
تصدیق کی جاتی ہے کہ مسمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکنہ۔۔۔۔۔(ایڈریس)۔۔۔۔۔۔۔ کا مستقل باشندہ ہے اور یہ کہ مسمی۔۔۔۔(نام)۔۔۔۔۔اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہے۔
نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            ۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارم کے آخر میں تفصیل سے مطلوب دستاویزات کی لسٹ موجود ہوتی ہے۔ فارم ایک نمبر پر اور دیگر دستاویزات دیئے گئے نمبرز پر فارم کے ساتھ منسلک کئے جاتے ہیں۔ جبکہ دیگر متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کئے جاتے ہیں جو مطلوبہ آسامی کے مطابق ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کیلئے ایک علیحدہ فارم ساتھ ہوتا ہے جس کو فارم ڈی کہتے ہیں۔ اس فارم کو الگ سے اپنے محکمہ کے ذریعہ پبلک سروس کمیشن کو بھیجا جاتا ہے جس کا مقصد درخواست دہندہ کا آسامی کیلئے درخواست دینے پر حکومت کی طرف سے اجازت نامہ ہوتا ہے۔ جس کو تھرو پراپرچینل اپلائی بھی کہتے ہیں۔تمام ڈاکیومنٹس کی تصدیق شدہ کاپیاں فارم کے ساتھ لگا کر کمیشن آفس میں آخری تاریخ سے پہلے پہلے جمع کریں یا ڈاک کے ذریعے بھیجے جاسکتے ہیں۔
KHYBER PAKHTUNKHWA PUBLIC SERVICE COMMISSIONIssue Dated: 10.05.2017ADVERTISEMENT NO.  03 / 2017.
            Applications, on prescribed form, are invited for the following posts from Pakistani citizens having domicile of Khyber Pakhtunkhwa / F.A.T.A by 09.06.2017. Incomplete applications and applications without supporting documents required to prove the claim of the candidates shall be rejected.

elementary & secondary education Deptt: 1.     Thirty two (32) POSTs of assistant in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Eight to Merit, Six to Zone-1, Five each to Zone-2 & 3, and Four each to Zone-4 & 5.
2.     Four (04) POSTs of assistant (Women quota) in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Women Quota.ALLOCATION:  Merit amongst Female candidates. 3.     one (01) POST of assistant (minority quota) in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Merit amongst Minority candidates. 4.     one (01) POST of assistant (disable quota) in elementary & secondary education department.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Merit amongst Disabled candidates. 5.     twenty three (23) POSTs of computer operator in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  06 to Merit, 04 each to Zone-1 & 2 and 03 each to Zone-3, 4 and Zone-5. 6.     three (03) POSTs of computer operator (women quota) in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit amongst Women candidates.
7.     one (01) POST of computer operator (minority quota) in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit amongst Minority candidates.
8.     one (01) POST of computer operator (disabled quota) in elementary and secondary education department.
QUALIFICATION: (i) At least 2nd Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University;
(ii) At least 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Computer Science/Information Technology from a recognized board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Merit amongst Disable candidates.

establishment Department 9.     ninety (90) POSTs of stenographer in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word, MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Bothe Sexes.
ALLOCATION: 20 each to Zone-1, 2 & 3 and 15 each to Zone-4 & 5.
10.      seven (07) POSTs of stenographer (female quota) in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word, MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION: Merit.
11.      three (03) POSTs of stenographer (disable quota) in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Merit.
12.      nine (09) POSTs of stenographer (minority quota) in establishment department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 word per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Merit.

Forestry, environment & wildlife department
13.      two (02) POSTs of geographic information system analyst in CDE & GAD Directorate, environment department.
QUALIFICATION: (a) At least Second Class Master Degree in Geographic Information System; Or
(b) At least Second Class Master’s Degree in Remote Sensing, Computer Science, Management Information System, Natural Science from a recognized university with Diploma in Geographic Information System or equivalent qualification from a recognized Board.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  One each to Zone-4 & Zone-5.
14.      five (05) POSTs of male community development officers in CDE & GAD Directorate of forest.
QUALIFICATION: At least 2nd Class Master Degree in Rural Development, Sociology, Rural Sociology, Social Work, Anthropology, Agriculture Extension, Mass Communication or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION:  One each to Merit, Zone-1, & 3 and Two to Zone-2.
15.      one (01) POST of junior scale stenographer in the office of director budget and accounts cell.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from recognized board; (ii) A speed of 50 words per minute in Short Hand in English and 35 words per minute in Typing; and(iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-1.


HIGHER EDUCATION, ARCHIVES AND LIBRARIES
16.      one (01) POST of office assistant IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES.
QUALIFICATION: (i) Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University. Preference will be given to Candidate having History as one of the Subject
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.
17.      three (03) POSTs of computer operator IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES.
QUALIFICATION: (i) Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology, (BCS/BIT 04 years) from recognized University; Or
(ii) Second Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Merit, Zone-4 & 5.

home & tRIBAL aFFAIRS department
18.      one (01) POST of lady assistant superintendent jail in prison department.
QUALIFICATION:   Bachelor Degree from a recognized University.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Female.ALLOCATION:  Zone-5.

Information & public relations DEPARTMENT
19.      one (01) POST of assistant information officer in information and public relations department.
QUALIFICATION:  (i) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University, with Journalism as one of the subjects; or(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University with two years practical experience in Journalism.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION: Zone-2.
20.      one (01) POST of junior transmission engineer in information and public relations department.
QUALIFICATION:  (i) At least Second Class Bachelor’s Degree in Electronics or Electrical Engineering (Telecommunication) from a recognized University, or(ii) Diploma of Associate Engineering with one year experience in Radio Transmission.
AGE LIMIT: 21 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION: Zone-3.
21.      one (01) POST of cameraman in information and public relations department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) Three years experience in outdoor cinematography and full knowledge of technical processing of documentaries and news reel films.
AGE LIMIT:  21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Bothe Sexes.
ALLOCATION:  Zone-3.
22.      two (02) POSTs (one fresh and one leftover) of junior scale stenographer in information and public relations department.
QUALIFICATION:  (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board,(ii) Speed of 50 words per minute in English shorthand and 35 words per minute in English typing speed; and(iii) MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION:  One each to Zone-3 and Zone-4.
23.      one (01) POST of telecom electric technician in information and public relations department.
QUALIFICATION:  Three years Diploma in Electrical Engineering from a recognized Institute or Technical Board.
Note: - Preference will be given to Information Technology literate.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY: Both SexesALLOCATION:  Zone-4.

LABOUR DEPARTMENT 24.      Five (05) POSTs of inspector (W&M) in labour department.
QUALIFICATION: Second Class Bachelor’s Degree with Physics, Chemistry, Electronics or Mathematics as one of the subject from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Male.
ALLOCATION: One each to Merit, Zone-1, 2, 3 & 5.
25.      two (02) POSTs of labour officers in labour department.
QUALIFICATION: L.L.B or Second Class Master’s Degree in Economics, MBA or Master of Public Administration from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY: Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Merit & Zone-4.
26.      six (06) POSTs of junior scale stenographer in labour department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized board, and (ii) A speed of 50 words per minute in Shorthand in English and 35 words per minute in Typing; and (iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Two to Zone-3 and One each to Zone-1, 2, 4 & 5.
law, PARLIAMENTARY AFFAIRS & hUMAN rIGHTSDEPARTMENT
27.      Eight (08) POSTs of assistant in law, parliamentary affairs and human rights department.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree or equivalent qualification from recognized University.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  02 each to Merit & Zone-1 and 01 each to Zone-2, 3, 4 and 5.
28.      Thirteen (13) POSTs of computer operator in law, parliamentary affairs and human rights department.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University; OR
(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Information Technology from a recognized board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  04 to Merit, 02 each to Zone-1, 2, 3 and 4 and 01 to Zone-5.
29.      one (01) POST of computer operator (female quota) in law, parliamentary affairs and human rights department.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science/Information Technology (BCS/BIT 04 years) from recognized University; OR
(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized university with one year Diploma in Information Technology from a recognized board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.

police department
30.      two (02) (left over) POSTs of Junior Scale Stenographer in police department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board.(ii) Speed of 50 words per minute in English Shorthand and 35 words per minute in English typing speed; and knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT:  18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14      ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Zone-03.







sports, tourism, archaeology, museums & youth affairs & department 31.      one (01) pOST of athletics coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.
32.      one (01) pOST of football coach in directorate of sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.
33.      one (01) pOST of hockey coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1.



34.      one (01) pOST of squash coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Merit.
35.      one (02) pOSTS of volleyball coach in sports & youth affairs department.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree from a recognized university. (ii) Five (05) years experience as Coach in the relevant sports/games before or after graduation.(iii) First or second position in the relevant individual sports event as a player at the National level organized by Pakistan Olympic Association/ Pakistan sports Federation concerned/ Pakistan Sports Board. OR(iv) Participation as a player in the relevant National level sports competition organized by Pakistan Olympic Association/Pakistan sports Federation concerned/Pakistan sports board and secured at least 2nd position.
Note: - Provided that preference will be given to International Sportsman in the relevant field.
AGE LIMIT: 21 to 35 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  Zone-1 & 2.
36.      nine (09) POSTs of gallery assistant in directorate of archaeology & museums khyber pakhtunkhwa.
QUALIFICATION: Bachelor’s Degree with Archaeology as one of the subject.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  Two each to Zone-1, 2, 3 & 4 and One to Zone-5.
37.      one (01) POST of gallery assistant (women quota) in directorate of archaeology & museums khyber pakhtunkhwa.
QUALIFICATION: Bachelor’s Degree with Archaeology as one of the subject.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION:  Merit.

How to Build Living Ponds Waterfall in Gardens

خوبصورت گھر اور خوبصورت باغ ہرفطرت سے محبت کرنے والے شخص کی خواہش ہوتی ہے۔ پھیلتے شہروں اور سکڑتے قدرتی نظاروں نے انسان کی زندگی کو کنکریٹ کی دیواروں میں تقریباً قید کرکے رکھ دیا ہے مگر تھوڑی بہت کوشش سے ہم اپنے آس پاس کے ماحول کو نہ صرف خوبصورت بناسکتے ہیں بلکہ صحت افزاء اور پرکشش بھی بنا سکتے ہیں۔ پانی جہاں زندگی کا ایک اہم عنصر ہے وہاں باغوں، پارکس اور ہمارے لانز وغیرہ کی خوبصورتی کاایک ہم جز بھی  ہے۔ بہت سارے باغات جہاں پانی کے تالاب، فوارے اور آبشار وغیرہ ہوں تو اُس کی خوبصورتی کو چارچاند لگ جاتے ہیں۔ اگر پرانی تعمیرات کو دیکھا جائے تو اُس میں بھی عمارت کی خوبصورتی اور شان و شوکت بڑھانے کیلئے فوارے اور آبشار بنائے گئے ہیں۔ کافی عرصے سے عام لوگ بھی اپنے گھروں میں آبشار اور تالاب بنانے لگے ہیں جو آپ کو محدود جگہ پرایک خوبصورت نظارہ فراہم کرتے ہیں۔چونکہ یہ خیال کیاجاتاتھا کہ ایسے تالاب، فوارے اور آبشار صرف کشادہ جگہوں پر ہی بنائے جاسکتے ہیں مگر اب کچھ جدیدعمارتی علوم، مشینری اور تھوڑی بہت محنت و لگن سے چھوٹی اور محدود جگہوں پر بھی خوبصورت اور قدرتی دکھنے والے نظارے آپ اپنے گھروں کے صحن میں سجا سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ کا شوق اس میں شامل ہو اور اپنی ذوق کے مطابق اس کو قدرتی طور پر سجا سکیں۔ یوٹیوب اور گوگل کی دنیا ایسے بے شماررہنمائی والی ویڈیوز اور آرٹیکلز،تجزیوں و تبصروں سے بھری پڑی ہے، جن کو دیکھ اور پڑھ کر ہم خوبصورت چیزیں بنا سکتے ہیں۔ درجہ ذیل میں ایسے ہی ایک خوبصورت آبشار بنانے کے طریقے کو ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے جس کو آپ اپنے گھر کے کسی کونے میں محدود جگہ میں آسانی سے بنا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک کمپنی کی ویڈیو ہے اور وہ اپنے آلات کو اس میں استعمال کرکے دکھا رہے ہیں لہٰذا اگر آپ کے آس پاس اس کمپنی یا کسی دوسری کمپنی کے ایسے آلات موجود ہیں اور آپ استعمال کرنا چاہتے تو ٹھیک نہیں تو لوکل بھی آسانی سے بنائے جاسکتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو شیئر کرنے کا مقصد آئیڈیا شیئر کرنا ہے، باقی آپ اپنی جگہ کی مناسبت سے کسی بھی قسم کا خوبصورت تالاب، فوارہ، آبشار نما لینڈسکیپنگ کرسکتے ہیں اور اُس کو قدرتی پھولوں اور پودوں سے سجا کر زیادہ جازب نظر بناسکتے ہیں۔ 



Video Source: Savio

Sharbat-e-Gond Kateera شربت گوند کتیرہ


خوشبودار پھول پتیوں، مربوں، مغزیات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اس شربت کی نہ صرف خوشبو آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے بلکہ اس کا رنگ اور بہت سارے مغزیات کی جھلک بھی آپ کو ایک خوشگواراحساس دلاتی ہے اور دل کرتا ہے کہ اس کو پی کر کھا لیں یا کھا کر پی لیں اور گرمیوں کی شدید پیاس کا علاج کرلیں۔اس تمہید کے پیچھے میرا بھی خوشگوار تجربہ ہی ہے، پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار سے گزرتے ہوئے ایک تنگ سی گلی کے نکڑ پر چند رنگ برنگی بوتلوں کو سجائے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا تو کچھ تو تجسس اور کچھ پیاس کی شدت نے اُس کی طرف توجہ مبذول کروادی۔ اگرچہ دکھنے میں صفائی ستھرائی کی حالت کچھ اتنی خاص نہیں تھی مگر اپنی سی کوشش وہ کر ہی رھاتھا۔ ابھی اپریل میں جو گرمی کی لہر آئی تھی اُس نے اچھے اچھوں کو اپنی پہچان کروا دی تھی، اور ہم جو اتوار کے دن اوارہ گردی کرنے نکلے تھے پھر تو ہماری کیا مجال جو ایسی گرمی کا سامنہ کرسکیں۔ گرمی اور پیاس نے صفائی ستھرائی اور مکھیوں کی موجودگی پر منہ چڑانے والے دل کی آنکھوں پر کالے پیاس کر پردہ ڈال کر شربت والے ۔کوآرڈر دیا۔ اُس نے ہمارے سامنے ہی رنگ برنگی مربوں، مغزیات، خوشبودار اور خوش رنگ پھول پتیوں نے ہماری اشتہا اور بڑھا دی۔ سننے میں آرہا تھا کہ  بدن میں گرمی کی شدت کم کرنے اور گرمیوں کے موسم میں گرمی سے بچنے کیلئے گوندکتیرہ کے استعمال کی بہت افادیت ہے۔ اس شربت کا اہم جز گوند کتیرہ ہی ہے۔ اب تو یہ شربت کئی جگہوں پر ملنا شروع ہوچکا ہے اگر آپ بھی اس سے استفادہ کرنا چاہیں تو ضرورت نوش فرمائیں اور اگر کسی کے پاس گوند کتیرہ کے بارے میں بھی معلومات ہوں تو ضرور شیئر کیجئے گا میں اس کو اپنے بلاگ کا حصہ بنا دونگا۔ میں نے تو بغیر ناک منہ بسورے اس شربت کو پیا اور جتنا خوش رنگ نظر آرہا تھا اُتنا ہی خوش ذائقہ بھی تھا۔ جسم کی گرمی کم ہوئی کہ نہیں ، یہ نہیں معلوم ہاں البتہ اُس وقت شدید پیاس میں بڑی تسکین اور راحت محسوس کی۔ آزاما لیجئے اور اپنے تجربے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کیجئے۔



Fresh Curly Icecream



جیم فوڈ ٹی وی چینل پر ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں بازار میں ایک آدمی توے نما کوکنگ ٹیبل پرٹکاٹک سٹائل میں فریش فروٹ اور دودھ سے آئس کریم بنا رہا تھا۔ کچھ دن پہلے لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم میں یہی چیز دیکھی تو دل للچایا کہ اس کو بھی ٹرائی کریں۔ اپنے سامنے تازہ آئس کریم بنتے اور پھر اس کو کھانے کا الگ ہی مزہ ہے۔ 

Preserving Fruits & Vegetables - Urdu Guide پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کے طریقے

Preserving Fruits & Vegetable
Every year a large quantity of fruits and vegetable being expired due to not utilizing them on time. The shelf life of many fruits and vegetable is very limited. The best way to keep your vegetables and fruits is to preserve them and use them for long time. Pakistan Council of Scientific & Industrial Research (PCSIR) published a very useful guide in Urdu language. Here, I am sharing this booklet in the best of public interest.Download here: eBook in PDF








How to Grow Asparagus Officinal - Liliaceae a Medicinal Plant

A complete informative post about Asparagus Officinal (Liliaceae) in Urdu language.
Asparagus is not only a healthy veg, but also keeping a treasure of medicinal value in it.Swat valley's climate is very suitable for growing Asparagus. Many farmers cultivate asparagus in Marghuzar Valley (Swat). The source of this article is Agriculture Department of Baltistan's facebook page.



Public Service Commission Advertisement No. 05/2016


حکومت خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں نے نئی/خالی آسامیوں کیلئے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے درخواستیں طلب کی ہیں۔آخری تاریخ 9/12/2016ہے ۔  http://kppsc.gov.pk/advertisement/index.phpاشتہار نیچے کاپی کیا گیا ہےدرخواست دینے کا طریقہ:۔اشتہار میں مطلوبہ تعلیمی قابلیت کے مطابق آسامی کا انتخاب کیجئے۔صوبہ خیبر پختونخوا کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آسامیوں کی تقسیم زونز کے حصاب سے ہوتی ہے یا اوپن میرٹ پرجس کیلئے ہر علاقے سے اپلائی کی جاسکتی ہے جبکہ زونل تقسیم کے مطابق صرف متعلقہ زون کے اُمیدوار درخواستیں دے سکتے ہیں۔(پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹپر زونز کی تفصیلات موجود ہیں)۔درخواست دینے کیلئے فارم نیشنل بینک آف پاکستان کی مخصوص شاخوں پر دستیاب ہیں(جن کی تفصیل بھی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے) جو کہ مطلوبہ فیس جمع کرکے وصول کی جاسکتی ہے۔ جبکہ آن لائن بھی فارم دستیاب ہے، اس کو ڈاؤنلوڈ کرکے بھرا جاسکتا ہے۔آن لائن فارم کے ساتھ بینک چالان فارم بھی موجود ہے جس کو بھر کر مطلوبہ فیس بینک میں جمع کرکے چالان فارم اور چالان فارم کی تفصیلات آن لائن فارم میں درج کی جاتی ہیں۔ہر درخواست کے ساتھ درخواست دہندہ کے تین پاسپورٹ سائز تصاویر، قومی شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، ڈومیسائل کی فوٹو کاپیاں کسی بھی کلاس ون آفیسر سے تصدیق کرواکر منسلک کی جاتی ہیں۔ جبکہ اپنے علاقے کے دو افراد سےاچھے اخلاق کا سرٹیفیک (کریکٹر سرٹیفکیٹ) لیا جاتا ہے جس کا متن کچھ یوں ہوتا ہے:۔
تصدیق کی جاتی ہے کہ مسمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکنہ۔۔۔۔۔(ایڈریس)۔۔۔۔۔۔۔ کا مستقل باشندہ ہے اور یہ کہ مسمی۔۔۔۔(نام)۔۔۔۔۔اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہے۔
نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔            ۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          ایڈریس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارم کے آخر میں تفصیل سے مطلوب دستاویزات کی لسٹ موجود ہوتی ہے۔ فارم ایک نمبر پر اور دیگر دستاویزات دیئے گئے نمبرز پر فارم کے ساتھ منسلک کئے جاتے ہیں۔ جبکہ دیگر متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کئے جاتے ہیں جو مطلوبہ آسامی کے مطابق ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کیلئے ایک علیحدہ فارم ساتھ ہوتا ہے جس کو فارم ڈی کہتے ہیں۔ اس فارم کو الگ سے اپنے محکمہ کے ذریعہ پبلک سروس کمیشن کو بھیجا جاتا ہے جس کا مقصد درخواست دہندہ کا آسامی کیلئے درخواست دینے پر حکومت کی طرف سے اجازت نامہ ہوتا ہے۔ جس کو تھرو پراپرچینل اپلائی بھی کہتے ہیں۔تمام ڈاکیومنٹس کی تصدیق شدہ کاپیاں فارم کے ساتھ لگا کر کمیشن آفس میں آخری تاریخ سے پہلے پہلے جمع کریں یا ڈاک کے ذریعے بھیجے جاسکتے ہیں
Dated: 10.11.2016ADVERTISEMENT NO.  05 / 2016.

            Applications, on prescribed form, are invited for the following posts from Pakistani citizens having domicile of Khyber Pakhtunkhwa / F.A.T.A by 09.12.2016. Incomplete applications and applications without supporting documents required to prove the claim of the candidates shall be rejected.

AGRICULTURE LIVESTOCK, FISHERIES & COOPERATIVE DEPTT: 1.     one (01) (leftover) POST of junior scale stenographer in livestock & dairy development DEPARTMENT (RESEARCH wing).
QUALIFICATION: (a) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board, (b) A speed of 60 words per minute in shorthand in English and 35 words per minute in typing; and (c) Knowledge of computer in using MS-Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Zone-2.
environment, Forest and Wildlife Department 2.     Five (05) POSTs of sub-divisonal wildlife officers in the office of chief conservatOR of wildlife.
QUALIFICATION: (i) Master Degree in Wildlife, Forestry or National Park Management from a recognized University / Institute; OR(ii) M.Sc Zoology or Botany in 2nd Division from a recognized University; OR(iii) B.Sc Wildlife / Forestry or Bachelor of Veterinary Science / B.Sc Animal Husbandry or Doctor of Veterinary Medicine from a recognized University / Institute:
Note-1: - Qualification at Serial No. (ii) & (iii) will only be considered when no suitable candidate with the qualification at Serial No. (i) is available.Note-2: - Appointment of candidates selected for the posts by the Public Service Commission shall be made subject to the following conditions: -
1)    The selected candidates shall undergo and successfully complete the training at the Pakistan Forest Institute leading to M.Sc Forestry Degree. Those already having M.Sc Forestry Degree from Pakistan Forest Institute shall be exempted from such training.2)    The selected candidates shall produce certificate from the standing Medical Board at Peshawar’ regarding their physical and mental fitness for performing the duties required of them.3)    The selected candidates undergoing training at Pakistan Forest Institute shall execute a bond with the Wildlife Department to the effect that on successful completion of the training they shall serve the Government for at least five years or in default shall refund all the expenses incurred in connection with their training and education.
AGE LIMIT: 21 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:            Male.
ALLOCATION: One each to Merit, Zone-2, 3, 4 & 5. 3.     one (01) POST of community development officer in cde & gad directorate of forest department.
QUALIFICATION: At least 2nd class Master’s Degree in Rural Development, Sociology, Rural Sociology, Social Work, Anthropology, Agriculture Extension, Mass Communication or equivalent qualification from a recognized University.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION: Merit.
4.     one (01) POST of FEMALE RESEARCH officer in RESEARCH AND DEVELOPMENT directorate, forest department
QUALIFICATION: At least 2nd class Bachelor’s or B.Sc. (Hon) Degree in Forestry or Agriculture with subject of Economics, Sociology or equivalent qualification from a recognized University.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Female.
ALLOCATION: Zone-2. 5.     FIVE (05) POSTS of DIGITIZING OPERATOR in cde & gad directorate of forest department
QUALIFICATION: At least 2nd class BA or B.Sc. in Geographic Information Technology or Computer Science (BCS) or Bachelor’s of Information Technology (BIT) or equivalent qualification from a recognized University.
AGE LIMIT: 22 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Zone-1,2,3,4 and 5.

establishment Department 6.     thirty (30) (leftover) POSTS of junior scale stenographer.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board, and (ii) A speed of 50 words per minute in English shorthand and 35 words per minute in English typewriting and knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: 14 to Zone-3 and 16 to Zone-5.
finance department 7.     twenty two (22) POSTs of sub accountant in finance department.
QUALIFICATION: (i) 2nd Class Bachelor Degree in Commerce, Business administration or ACMA from recognized University.(ii) Candidates with IT skill will be given preference.
AGE LIMIT: 18 to 25 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes. ALLOCATION:  Five each to Zone-1, 2 & 3, Three to Zone-4 and Four to Zone-5.
8.     three (03) POSTs of sub accountant (minority quota) in finance department
QUALIFICATION: (i) 2nd Class Bachelor Degree in Commerce, Business administration or ACMA from recognized University.(ii) Candidates with IT skill will be given preference.
AGE LIMIT: 18 to 25 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes. ALLOCATION:  Merit. 9.     ONE (01) LEFTOVER POST of JUNIOR SCALE STENOGRAPHER in DIRECTORATE OF TREASUREY AND ACCOUNTS
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board; and (ii) A speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 words per minute in typing and knowledge of computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes. ALLOCATION:  Zone-3.
HIGHER EDUCATION, ARCHIVES & LIBRARIES DEPTT 10.      one (01) (leftover) POST of male lecturer in economics (minority quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
11.      one (01) (leftover) POST of male lecturer in computer science (minority quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
12.      one (01) (leftover) POST of male lecturer in phisics (minority quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.

AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
13.      two (02) (leftover) POSTs of male lecturer in political science (minority quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
14.      one (01) (leftover) POST of male lecturer in english (MINORITY QUOTA) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION:  2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university (OR)
FOR ENGLISH: 3rd Class Master’s Degree in English with Post Graduate Diploma in English Language from Allama Iqbal Open University.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Male. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
15.      one (01) (leftover) POST of female lecturer in computer science (minority quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Female. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
16.      one (01) (leftover) POST of female lecturer in english (minority quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION:  2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university (OR)
FOR ENGLISH: 3rd Class Master’s Degree in English with Post Graduate Diploma in English Language from Allama Iqbal Open University.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Female. ALLOCATION:  Merit (Minority Quota).
17.      one (01) (leftover) POST of female lecturer in physics (disabled quota) IN HIGHER EDUCATION DEPARTMENT
QUALIFICATION: 2nd Class Master Degree in relevant subject or equivalent qualification from a recognized university.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Female. ALLOCATION:  Merit (Disabled Quota). 18.      two (02) POSTs of assistant director IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES
QUALIFICATION: Second Class Master Degree or equivalent qualification from recognized University.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-17       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  One each to Zone-1, 2.
19.      four (04) POSTs of computer operator IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES
QUALIFICATION: (i) Second Class Bachelor’s Degree in Computer Science / Information Technology (BCS / BIT 04 years) from a recognized University; OR(ii) Second Class Bachelor’s Degree from recognized University with one year Diploma in Information Technology from a recognized Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 20 to 32 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  One each to Merit, Zone-1, 2, & 3.
20.      one (01) (leftover) POST of junior scale stenographer IN DIRECTORATE OF ARCHIVES AND LIBRARIES
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board, and (ii) A speed of 50 words per minute in shorthand in English and 35 words per minute in typing (iii) Three months certificate in MS Officer from an Institution affiliated with the Board of Technical Education.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Zone-1.
home & t.a. department 21.      one (01) (leftover) POST of senior scale stenographer in INSPECTORATE OF prisons.
QUALIFICATION: (i) Bachelor’s Degree or equivalent qualification from a recognized University.(ii) A speed of 100 words per minute in shorthand in English and 40 words per minute in type.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Merit.   Information DEPARTMENT 22.      two (02) POSTs of assistant producer/ ASSISTANT INFORMATION OFFICER.
QUALIFICATION: (i) At least Second Class Bachelor’s Degree from a recognized University, with Journalism as one of the subject; OR(ii) At least Second Class Bachelor’s Degree from recognized University with two years practical experience in Journalism.
AGE LIMIT: 21 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION:  One each to Merit & Zone-1. 23.      one (01) (leftover) POST of junior scale stenographer in fm radio information department.
QUALIFICATION: (i) Intermediate or equivalent qualification from a recognized Board, and(ii) A speed of 50 words per minute in English / Urdu Shorthand and 35 words per minute in English / Urdu typing Speed and(iii) MS Word and MS Excel for English and Inpage for Urdu Stenographer.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: Zone-3. 24.      one (01) (leftover) POST of photographer cum-cameraman.
QUALIFICATION: Intermediate with three years experience of still working in Computer Photoshop and video Photography with an established Agency.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-12       ELIGIBILITY:  Male.
ALLOCATION: Zone-3.
law DEPARTMENT 25.      two (02) (leftover) POSTs of senior scale stenographer.
QUALIFICATION: (i) 2nd Class Bachelor’s Degree from a recognized University.(ii) A speed of 70 words per minute in shorthand in English and 45 words per minute in typing, and(iii) Knowledge of Computer in using MS Word and MS Excel.
AGE LIMIT: 20 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-16       ELIGIBILITY:  Both Sexes.
ALLOCATION: One each to Merit and Zone-1.
POPULATION WELFARE DEPARTMENT 26.      three (03) (leftover) POSTs of junior scale stenographer.
QUALIFICATION: (i) Intermediate with 50/40 words per minute in shorthand and Typing respectively having Diploma / Certificate in Computer / Information Technology.
AGE LIMIT: 18 to 30 years. PAY SCALE:  BPS-14       ELIGIBILITY:  Both Sexes.ALLOCATION:  One each to Zone- 1, 3 & 5.

Night-Flowering Jasmine - Coral Jasmine - Nyctanthes Arbor-Tristis - Parijat - ہارسنگھار

Night-Flowering Jasmine or Coral Jasmine is a very beautiful orange-red centered tail white flower with amazing refreshing perfumed smell, usually five to seven petals. It is plant is medium size tree or shrub. These flowers open at dusk and remains till dawn, means it is night flower. It is national flower of West Bangal (India) and Kanchanaburi (Thailand). It is called Parijat (پری جات) in Hindi & Haarsinghar (ہارسنگھار) in Urdu and its botanical name is "Nyctanthes Arbor-Tristis". It has many medicinal values too. Night-Flowering Jasmine (Wikipedia)Our friend Tariq Tufail wrote a very beautiful piece about Night-Flowering Jasmine on his facebook wall, copying as it is here:
باغِ جناح ان دنوں اک تیز مٹھاس والی بھینی سی خوشبو سے مہک رہا ہے، یہ خوشبو ہے برصغیر کی کلاسک داستانوں میں پائے جانےوالےپھول ہار سنگھار کی۔ اسےہندی میں پری جات ( Parijatham) بھی کہتے ہیں،اس کا بوٹینیکل نام ہے (Nyctanthes Arbor Tristis)
نازکی اور خوبصورتی میں بے مثال یہ پھول ایک درمیانے سے قد کاٹھ کے درخت پر رات کے وقت کھلتے ہیں،چند گھنٹے بہار دکھا کر مہکتے ہوئے علاالصبح گرنے لگتے ہیں۔ پانچ پتیوں والے یہ سفید پھول شاخ سے ٹوٹ کر گھومتے ہوئے ہمیشہ الٹے گرتے ہیں، اورنج رنگ کی ان کی ڈنڈی اوپر کی طرف رہتی ہے۔
باغِ جناح میں کچھ لوگ ان پھولوں کوچن کر اکٹھا کر تے دکھائی دیتے ہیں، یہ انہیں پنساریوں کے ہاتھ بیچ کر کچھ پیسے کما لیتے ہیں
ہار سنگھار کے درخت کو آیورودیک طریقہ علاج میں شیاٹیکا یا عرق النساء کے درد میں اکسیر مانا جاتا ہے،اس درخت کا ہر حصہ دوا میں استعمال ہوتا ہی ۔گزرے وقتوں میں خواتین اس پھول سے دوپٹے رنگنے اور میٹھے چاولوں کو رنگ اور خوشبو دینے کا کام بھی لیتی رہی ہیں۔





Prickly Pear - Cactus Fruit - Opuntia - انار پھلی - Nagphani - ناگ پھنی

Prickly Pear is the fruit of commonly available cactus species "Indian Fig Opuntia" in all over the world. Botanical name of this plant is "Opuntia" a member of Cactus family known as "زقم" in Pashto & "Nagphani ناگ پھنی" in Urdu & Hindi. This cactus grows in dry lands everywhere in the world specially in hard warmer areas. The fruit of this cactus is edible and most commonly in India & Pakistan large number of people consume it. It has many medicinal values and use for cure of a number of diseases in not only in Herbal Medicine but in the modern way of treatment too. We can feel the presence of this plant in many landscapes and natural theme parks, even in lawns and pots in garden too.Mr.Akhlak Khan Karak collected some useful information and medicinal uses of this plant and its fruit.
Prickly Pear: In Urdu: انار پھلی 
کولیسٹرال کی سطح کو کم کرتی ہے۔ عمل انہضام کے عمل کو بہتر بناتی ہے۔ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ مدافعتی نظام بہتر بناتی ہے۔ خون کی وریدوں کو مضبوط کرتی ہے۔ الزائمر کا خطرہ کم کرتی ہے، وزن میں کمی کی کوششوں میں مدد، اور پورے جسم میں سوجن کو ختم کرتی ہے۔ اسہال، یہ بھی وائرل انفیکشن سے لڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے.Prickly pea Cactus is a plant. It is part of the diet in Mexican and Mexican-American cultures. Only the young plant is eaten; older plants are too tough. Prickly pear cactus is also used for medicine.Prickly pear cactus is used for type 2 diabetes, high cholesterol, obesity, alcohol hangover, colitis, diarrhea, and benign prostatic hypertrophy (BPH). It is also used to fight viral infections.In foods, the prickly pear juice is used in jellies and candies.Most research on this product has been performed in Mexico by one research group.How does it work?Prickly pear cactus contains fiber and pectin, which can lower blood glucose by decreasing the absorption of sugar in the stomach and intestine. Some researchers think that it might also decrease cholesterol levels, and kill viruses in the body.
--------------------------------------Some of the health benefits of prickly pear include its ability to lower cholesterol levels, improve the digestive process, decrease the risk of diabetes, boost the immune system, stimulate bone growth, strengthen blood vessels, prevent certain cancers, reduce the risk of Alzheimer’s, aid in weight loss attempts, and eliminate inflammation throughout the body.
‘Prickly pear’ is the common name of the fruit that grows at the tops of the leaves of Nopales cacti. Spread throughout North and South America, about 200 different species of Nopales (scientific name Opuntia) cacti are found, all of which have some form of this prickly pear fruit, although not all varieties are edible. The most commonly used species in terms of eating and cooking would be the O. ficus-indica, also known as the Indian Fig Opuntia. The most interesting thing about this fruit is that it grows at the very edge of the spiny leaves of these imposing cacti, which are some of the hardiest lowland cacti in the world, a trait also taken on by its fruit. The fruits are oval in shape, and can range in color from yellow and light green to orange, pink, and red, depending on the variety and ripeness.Before eating a prickly pear, it is very important to remove the skin and peel it off so all of the spines are removed. If they aren’t, the glochids can lodge themselves in your lips, gums, and throat, which can be very painful. After that, however, the fruit can be used for a variety of things, either eaten raw or dry, and made into various jellies and jams, candies, or alcoholic beverages like vodka.
Photo Source: Google

Clammy Cherry - Cordia Obliqua - لسوڑا


Clammy Cherry is a medium size flowering/fruit Tree plant. It is a Medicinal Plant, having round shaped leave with small size off-white creamy color sticky pulp berry type fruit with strange sweeten taste. The pickle of its fruit is popular in India and Pakistan. This tree is providing a well shad. Clammy Cherry is called لسوڑا in Urdu (in Pakistan). Its botanical name is Cordia Obliqua. It belongs to medium sized tree family. Its fruits getting ready for harvest in August (in some areas in September). The native areas of Clammy Cherry - Cordia Obliqua - Lasoora لسوڑا are Bengal, India & some areas of Pakistan. Mr. Akhlak Khan Kakar posts a valuable note on this plant and its medicinal values which I am sharing here as it is:، لسوڑا، ایک پھل. کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے علاج میں موثر ہے. خام پھل کی حالت میں ایک بہت اچھا اچار بھی بنایا جاتا ہے.پھل کھانسی، سینے کی بیماریوں، اور دائمی بخار کے علاج میں مفید ہیں. وہ پیاس کم، اور پیشاب کے کھولتے ہوئے، جوڑوں اور حلق کے جلنے سے درد کو ہٹاتا ہے اور تللی اور باسو کی بیماریوں کے علاج میں موثر ہے. پھل جنوبی ایران میں تسکین بخش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہےپاکستان اور بھارت میں، روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے: پھل کھانسی اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے لئے ایک expectorant کے طور پر استعمال کیا جا سکتا. خام پھل ایک سبزی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے.
Medicinal properties

The fruit is sweet and have effects like slightly cooling, anthelmintic, purgative, diuretic, expectorant, and useful in diseases of the chest, urethra, dry cough, biliousness and chronic fever. It lessens thirst and the scalding of urine, removes pains in the joints, bad humours, burning of the throat and also good in diseases of the spleen (As per Yunani system).
The juice of the bark is given in gripes, along with coconut oil. The bark and unripe fruit are used as a mild tonic.
The kernels are a good remedy in treatment of ringworm. The leaves are useful as an external application to treat ulcers and headache.
The Santals use a powder of the bark for external application in prurigo. The Javanese use the bark in treatment of fevers

Adiantum Capillus-Veneris Fern

Adiantum capillus-veneris is a species of ferns. This fern is cultivated and widely available around the world for planting in natural landscaping in gardens, in indoor & outdoor in container as houseplant. This fern grows from 6 to 12 inches in height. It is found in temperate climates, from warm to tropical, where the moister content is high. It grows well in the moist, well-drained sandy soil, including rainforest, woodland, near wet/moist area near by springs, shaded & sheltered area.Adiantum capillus - veneris is also a medicinal plant. Mr. Akhlaq Khan Kakar wrote a detailed noted on its medicinal values, sharing here as it is:
Medicinal uses:Antidandruff, Antitussive, Depurative, Emmenagogue, Expectorant, Galactogogue, Refrigerant, Stings, Tonic, Vermifuge. The maidenhair fern has a long history of medicinal use and was the main ingredient of a popular cough syrup called 'Capillaire', which remained in use until the nineteenth century. The plant is little used in modern herbalism. The fresh or dried leafy fronds are antidandruff, antitussive, astringent, demulcent, depurative, emetic, weakly emmenagogue, emollient, weakly expectorant, febrifuge, galactogogue, laxative, pectoral, refrigerant, stimulant, sudorific and tonic. A tea or syrup is used in the treatment of coughs, throat afflictions and bronchitis. It is also used as a detoxicant in alcoholism and to expel worms from the body. Externally, it is used as a poultice on snake bites, bee stings etc. In Nepal, a paste made from the fronds is applied to the forehead to relieve headaches and to the chest to relieve chest pains. The plant is best used fresh, though it can also be harvested in the summer and dried for later use.:Parts UsedLeaves, above ground parts.Quality/TemperamentWarm and dry in first order/normal or balanced in warmness and dryness.Functions and Properties (Pharmacological Actions)Resolvent, demulcent, concoctive for phlegm and atrabile, expectorant, deobstruent, detersive, diuretic, anticatarrhal, emmenagogue.Specific ActionConcoctive, expectorant and purgative for bile and atrabile, anticatarrhal.Medicinal UsesBeing concoctive and expectorant useful in pleurisy, acute pneumonia, influenza, bronchitis and asthma. In fevers due to excess phlegmatic humour used as concoctive with other suitable drugs. Being diuretic and emmenagogue given for expelling the placenta. As detersive and desiccative applied on sores, ulcers, alopecia, alopecia furfuracea, for this purpose bruised to powder and applied on oral sores, stomatitis, pustules and boils of children. Resolves hard swellings, scrofulous glands and other local inflammations. Burnt into ashes, the herb has been regarded as effective when hairs are washed with it in headache and insanity (of temporary origin). Mostly its decoction is used in Unani medicine and not used alone because it brings desiccation.Compound PreparationsMatbookh Bukhar, Laooq Sapistan, Sherbet Mudir Tams, Sherbet Ustukhudus, Sherbet Faryad Ras, Sherbet Kaknaj, Sherbet Mushil.Dosage5 to 10 g.CorrigentPistacia lentiscusLinn. and flowers of Viola odorataLinn.TenediumViola odorataLinn. (Banafsha), Glycyrrhiza glabraLinn.CommentsDescribed as harmful if administered to patients suffering from spleen disorders. Regular use may cause dessication.

Pages