مصطفےٰ ملک کا بلاگ

خزیمہ نصیر کی موت کا ذمہ دار کون ؟ حکمران یا والدین

پنجاب کے چھوٹے سے شہر ڈسکہ سے جرمنی جانے والا پچیس سالہ خزیمہ نصیر جرمنی کے ہسپتال میں بے کسی کی حالت میں صرف ایک دفعہ اپنے والدین تک پہنچ چانے کی خواہش دل میں لئے اپنی زندگی کی بازی ہار گیا،آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجائے حزیمہ ایک سال سال قبل ایران، ترکی،یونان اور یورپ کے دیگر راستوں سے ہوتا ہوا جرمنی پہنچا تھا اس بھیانک اور طویل سفر کے دوران ایرانی بارڈر پر وہ اور اس کے ساتھی پکڑے بھی گئے اور حزیمہ کی ایک ٹانگ میں گولی لگ گئی اور وہ ایران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج بھی رہا،اس کے ساتھی تو ملک بدر کر دیئے گئے مگر اس کو آزاد کر دیا گیا۔ اس نے سفر جاری رکھا اور یورپی ممالک کے غیر قانونی راستوں سے سفر کرتا ہوا جرمنی پہنچ گیا۔جرمنی آنے کے صرف چندماہ بعد ہی اسے شدید بخار ہوا اور اس کی ایک ٹانگ بہت زیادہ سوج گئی تھی۔ یہ اس کی وہی ٹانگ تھی، جس پر ایران میں اسے گولی لگی تھی۔ جب اسے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو تفصیلی معائنے پر بتایا چلا کہ وہ سرطان کا مریض ہے۔ ہسپتال میں ایک ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد اسے کولون کے ایک بڑے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس ہسپتال میں ڈاکٹروں کو پتہ یہ چلا کہ خزیمہ نہ صرف ہڈیوں کے سرطان میں مبتلا ہے بلکہ اس کی یہ بیماری تب تک بہت خطرناک حد تک پھیل چکی تھی۔ پھر سرطان کے علاج کے لیے اس کی کئی طرح کی کیموتھراپی بھی کی گئی لیکن کینسر بڑھتا گیا اور آخر کار ڈاکٹروں کو اسے بتانا پڑا کہ وہ اس کا مزید علاج نہیں کر سکتے تھے۔ اپنا آخری وقت اپنے والدین کے ساتھ گزارنے کی خواہش لئے نو مارچ 1992ء کو ڈسکہ میں پیدا ہونے والا خزیمہ جو ابھی 25 برس کا بھی نہیں ہوا تھا کہ جمعہ چار نومبر کو صبح 10 بج کر 48 منٹ پر خزیمہ اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگیا۔جرمنی میں رہنے والے چند درمند پاکستانیوں نے اس کی والدہ کو جرمنی بلانے کے لیے ویزے کے حصول کی کارروائی بھی شروع کی مگر قانونی پیچیدگیوں کے باعث مکمل نہ ہو سکی اس پردیس میں ایک نوجوان اپنوں کو پکارتا اللہ کے حضور پہنچ گیا ۔خزیمہ کی موت نے مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کو رونے پر مجبور کردیا۔خزیمہ کے بارے میں مجھے معلومات ایک سرچ کے دوران جرمنی کی سرکاری اردو ویب سائیٹ سے ملیں۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ بدقسمت حزیمہ کی موت کا ذمہ دار کون ہے ،ہمارے حکمران یا اس کے والدین۔ریاست کے ہر شہری کی تعلیم ،روزگار اور کفالت کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے،اگر حکمران حزیمہ اور اس جیسے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کر دیں تو شائد کوئی اور حزیمہ اپنی ماں کے زیور فروخت کرکے سہانے مستقبل کے خواب سجائے پردیس نہ جائے ، ماں باپ کیا کریں ،جس باپ کو بڑھاپے میں اس لئے نیند نہ آتی ہو کہ چار جوان بیٹیوں کے جہیز کا کس طرح بندوبست کرنا ہے تو اس کا بیٹا اپنے والدین کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا پھر اس کے پاس پھر ایک ہی حل ہے یا تو گن اٹھا کر ڈاکو بن جائے یا پھر خزیمہ کی طرح دھکے کھاتا جرمنی چلا جائے اور پھر پھر ہمیشہ ہمیشہ کے ماں باپ سے دور ہوجائے ۔اب بھی وقت ہے کہ حکمران اور اپوزیشن دھرنا دھرنا کھیلنے کی بجائے عوام کو ریلیف دیں تاکہ آئندہ کوئی اور حزیمہ پردیس میں ایڑیاں رگڑرگڑ کر مرنے پر مجبور نہ ہو۔یاد رکھنا اگر حکمرانوں اگر آپ یہ نہ کر سکے تو روزقیامت خزیمہ کی ماں کا ہاتھ ہوگا اور آپ کا گریبان ہوگا۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور میرٹ کے قتل عام نے ملک میں ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا جس نے دہشت گردی کو بھی پروان چڑھایا ،عوام کو تعلیم صحت ،روز گار انصاف اور چھت کی سہولت دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے مگر کسی حکومت نے بھی اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جس کی وجہ سے آج کا نوجوان بے چینی ،مایوسیوں اور محرومیوں کا شکار ہو کر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خزیمہ نصیر جیسے واقعات جنم لیتے ہیںیہ تحریر اردو کی بڑی ویب سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی شائع ہو چکی جو درج ذیل لنک سے پڑھی جا سکتی ہےخزیمہ نصیر کی موت کا ذمہ دار کون ؟ حکمران یا والدین تحریر: مصطفی ملک 

کیا پنجابی بیہودہ زبان ہے ؟

تحریک انصاف کی خاتون راہنما کے سکولوں کے نیٹ ورک بیکن ہاؤس نے اپنے سکولوں میں پنجابی زبان کو بے ہودہ زبان قرار دیتے ہوئے اس زبان میں گفتگو کرنے پر پابندی لگانے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر کے پوری ایک تہذیب پر حملہ کیا ہے۔اس افسوس ناک خبر نے اپنی مادری زبان سے محبت کرنے والے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے جیسے کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کی ہے لیکن میرے خیال میں اس میں قصوروار شائد وہ سکول والے نہیں جتنے ہم خود پنجابی ہیں ،ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پنجابی متعصب نہیں ہیں،اس لئے پنجابی سے ان کی محبت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے۔اگر آپ اندرون سندھ جائیں تو آپ کو ہر ریلوے اسٹیشن پر نام اردو کے ساتھ سندھی میں بھی لکھا نظر آئے گا۔ بعض جگہوں پر دکانوں کے سائن بورڈ بھی سندھی میں لکھے نظر آئیں ،دوسری طرف پختون بھائیوں کی ایک انتہائی اچھی عادت ہے ،جب بھی جہاں بھی دو پختون اکھٹے ہوں گے تو پشتو میں بات کریں گے لیکن ہمارے ہاں پہلے گھروں میں پنجابی کی جگہ اردو نے لی اور اب اس کی جگہ بتدریج انگریزی لے رہی ہے۔ ماؤں کا اپنے بچوں سے گفتگو کا سٹائل کچھ اس طرح ہے " پپو بیٹا،جلدی سے میڈیسن لے لو،یو نو سنڈے کو تمہاری برتھ ڈے ہے،مما پاپاآپ کو وش کریں گے،کیک کاٹیں گے،پپا آپ کو سرپرائز گفٹ دیں گے،اس لئے جلدی جدی ہیل اپ ہو جاؤ" اب جو لوگ اردو کے ساتھ یہ کھلواڑ کر سکتے ہیں پنجابی ان کی کیا لگتی ہے ۔ یہ لوگ جو جی چاہیں کریں مگر میرے جیسے کروڑوں پنجابی جنہیں اس زبان سے اپنی ماؤں کی خوشبو آتی ہے ،کبھی اس سے ناطہ نہیں توڑیں گے۔بچوں کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ نے بچوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے،گھر میں اردو بولی جاتی ہے ، سکول میں انگریزی بولنے کا حکم آتا ہے تو محلے میں دوسرے بچوں کے ساتھ پنجابی بولنی پرتی ہے جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔پنجابی کو بیہودہ زبان کہنے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ تو صوفیا ء کرام کی زبان ہے ، یہ توبابا بلھے شاہ، بابا فرید گنج شکر، وارث شاہ اور شاہ حسین جیسے بزرگوں کی زبان ہے ۔کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی زبان کو ہی بیہودہ قرار دے دیا جائے ۔آپ کوکبھی کینیڈا،برطانیہ یا ان یورپی ممالک جانے کا اتفاق ہو جہاں بھارتی سکھ آباد ہیں وہ آج بھی اپنے گھروں میں اور اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی بولتے ہیں ،ان کے معصوم بچے ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کرتے کتنے پیارے لگتے ہیں ،حیرت ہے ان لوگوں پر جو اپنی ماں بولی ،اپنی تہذیب کو چھوڑنے اور برا بھلا کہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مادری زبان میں تعلیم دی جائے تو اس کے دورس اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ سکول جانے کی عمر سے پہلے ہی بچے کے پاس اپنی مادری زبان کے ہزاروں الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے لیکن جب اسے سکول میں جاکر نئے الفاظ اور نئی زبان سیکھنی پڑتی ہے تو اسے اس کے لئے کئی سال لگ جاتے ہیں ۔ ایک طرف توآئین پاکستان کی دفعہ 251 میں صوبائی حکومتوں کو مقامی زبانوں کی ترویج و اشاعت کا پابند کیا گیا ہے تو دوسری طرف ایک سکول کی طرف سے اس طرح کا نوٹیفیکیشن جاری ہونا قابل افسوس ہے ،میرا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی اس پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔یہ تحریر اردو بڑی ویب سائیٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی چھپ چکی ہے، نیچے دیئے گئے لنک سے اسے پڑھا جا سکتا ہےدلیل ڈاٹ پی کے ، مصطفیٰ ملک کا احتجاج

سلام ٹیچرز ڈے ، دوسرا رخ


ممکن ہے میری اس تحریر سے بہت سے لوگوں کو دکھ پہنچے مگر جس واقعہ نے میرا مستقبل تباہ کردیا اور میں باوجود لاکھ کوشش کے آج تک اسے منظر عام پر نہ لا سکا، سلام ٹیچر ڈے نے میرے زخم ایک بار پھر تازہ کر دیئے اور سالوں بعد آج لکھنے پر مجبور کردیا،اسی کی دہائی کے آغاز کی بات ہے،میٹرک کے بعد کالج جانے کا شوق پھر پری میڈیکل میں داخلہ اور ڈاکٹر بننے کا خواب، ایسا سہانا سپنا ہے جو ان دنوں ہر نوجوان کوہواؤں میں اڑا کے رکھ دیتاہے۔میں نے بھی میٹرک میں اپنے اچھے نمبروں کی وجہ سے شہر کے معروف کالج میں داخلہ لیا،سارے دوست بھی وہیں تھے ،والدین سے ضد کرکے نئے کپڑے اور جوتے خریدے کیونکہ ان دنوں کالجوں میں یونیفارم لازمی نہیں تھی۔ کالج میں یہ ہمارا دوسرا یا تیسرا دن تھا،فرسٹ ایئر فولنگ سے بچنے کے لئے ہم دیہاتوں سے آئے نئے چوزے کبھی ادھر اور کبھی ادھر چھپ رہے تھے ،کالج کے لمبے کاریڈور میں ہمارے آگے آگے ایک محترم استاد تشریف لے جارہے تھے کہ سیٹی جیسی تیز آواز ایک طرف سے آئی، موصوف نے مڑ کر دیکھا اور مجھے کہا کہ پہلے ہی دن اساتذہ سے مذاق،میری جان نکل گئی،میں نے کہا کہ سر میں نے کچھ نہیں کیا،غصہ سے واپس پلٹے تو سیٹی کی وہی تیز آواز دوبارہ مجھے اپنے پاؤں کے نیچے سے آتی محسوس ہوئی،پروفیسر صاحب پھر پلٹے تو میں ڈر کے مارے زمین پر بیٹھ گیا ، میں نے جوتا اتار کر دیکھا تو اس کے تلوے نیچے ایک باریک کیل کی نوک باہر نکلی ہوئی تھی جس نے فرش پر رگڑ پیدا کرکے سیٹی جیسی آواز نکال دی تھی ،میں نے انہیں صورحال بتائی تو وہ بجائے میری بات سنتے مجھے سخت سست کہتے چلے گئے،میں بھی بہت شرمندہ ہوا ،کوشش کر کے کیل کو جوتی سے نکالا اور اپنی کالج لائف کا پہلا پیریڈ پڑھنے کے لئے لیکچر ہال کا رخ کیا۔حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ وہی پروفیسر صاحب لیکچر ہال میں موجود ہیں ، میں چونکہ ایک لائق طالبعلم تھا اور پہلی سے دسویں تک ہمیشہ پہلے ڈیسک پر بیٹھتا رہا اس لئے حسب عادت فرنٹ لائن میں بیٹھنے کی کوشش کی تو صاحب کا پہلا آرڈر موصول ہوا،"میرے پیریڈ میں آپ کو میرے سامنے بیٹھنے کی اجازت نہیں ،پیچھے چلے جائیں " یا اللہ خیر ! یہ کیا ہوا ، پہلا دن ، نئی جگہ ، نئے لوگ ، یہ کیسا تعارف ۔ کلاس ختم ہوئی تو سٹوڈنٹس نے مجھے گھیر لیا ، بھائی کیا ہوا ، یہ صاحب آپ کو پہلے سے جانتے ہیں ، ایسا کیوں کہا ، میرے پاس تو کسی سوال کا جواب نہ تھا ، صبح جو ہوا وہ بتا دیا ۔کلاسز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ، سر آتے مجھے کھڑا کر لیتے ، کوئی ایسا سوال پوچھ لیتے جس کا پڑھے ہوئے نصاب سے تعلق ہی نہ ہوتا ، کبھی کلاس سے باہر جانے کا کہہ دیتے ، کبھی سارا پیریڈ کھڑا رہنے کی سزا دے دیتے، شرمندگی اور احساس کمتری کا ایک احساس پیدا ہونا شروع ہوگیا جس نے ذہن کو کند کرنا شروع کر دیا،لڑکپن کے ہنسی خوشی کے دن ہوا ہونے لگے ،دوستوں نے حالت دیکھی تو ایک نرم مزاج پروفیسر صاحب سے ملاقات کرکے ان صاحب سے دوبارہ ملاقات کرنے اور معافی مانگنے کا پروگرام بنا لیا ، پروفیسر صاحب نے حامی بھر لی کہ پہلے ان سے ملاقات کر لیتا ہوں بعد میں آپ سب کو بھی لے کر چلا جاؤں گا۔ دوسرے دن انہوں نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملاقات کرنے اور معافی دینے سے انکار کرتے ہوئے مزید سبق سکھانے کا بھی اعلان کردیا ۔بہر حال دو سال گزر گئے ،داخلے بجھوانے کا وقت آگیا ۔" سر"نے میرے لیکچرز شارٹ کر دئے،کالج انتظامیہ نے میرا داخلہ بھیجنے سے انکار کردیا،میں ایک دفعہ پھر ان کے پاس حاضر ہو گیا ، گڑ گڑاکر ان سے التجا کی کہ سر کتنی دفعہ آپ سے معافی مانگ چکا ہوں ، خدا کے واسطے میرے ساتھ یہ ظلم نہ کریں ،میرا داخلہ نہ گیا تو میری تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جائے ، گھر والے کسی موٹر سائیکل مکینک کی دکان پر بٹھا دیں گے ، میرا مسقتبل تباہ ہوجائے گا مگر اس اللہ کے بندے نے میری ایک نہ سنی اور میرا داخلہ نہ جا سکا ۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ،تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا میں بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گیا۔دل سے تعلیم چھوٹنے کا دکھ جاتا نہیں تھا ،کئی سال بعد پرائیویٹ ایف اے کیا ،بی اے کیا ، فکر معاش کی وجہ سے ماسٹرز کرنے کا شوق دل میں ہی رہ گیا۔سلام ٹیچرز ڈے آتا ہے تو دل کے پھپھولے پھوٹ پڑتے ہیں ، صاحب یاد آتے ہیں ،میں اعتراف کرتا ہوں بہت کو شش کے باوجود میں ان کو معاف نہیں کر سکا لیکن میں نے اس کہانی میں پھر بھی ان کی عزت رکھی ہے ، نہ تو ان کا نام مینشن کیا ہے اور نہ ہی کالج کا نام لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ سلام ٹیچرزیہ تحریر اردو کی بڑی ویب سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر بھی چھپ چکی ہے ،اسے نیچے دیئ گئے لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہےایک استاد نے کیسے میری زندگی تباہ کی ، دلیل ڈاٹ پی کے

ایک باپ کا اپنے بیٹے کے نام جوابی خط

عزیز ازجان بیٹے!تمہارا خط پڑھا، خوشی ہوئی میرا بیٹا اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنے باپ کو مخاطب کر سکے، سب سے بڑھ کر خوشی یہ بھی کہ میرے بیٹے نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لکھنا شروع کردیا ہے۔ قومی اخبارات اور اردو کی بڑی ویب سائٹس پر اس کے کالم چھپ رہے ہیں۔ تمہیں پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی کسی کو اپنے سے آگے نکلتا اور ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتا، سگے بھائی بھی اپنے بھائیوں کی ترقی سے جل جاتے ہیں، تم نے برادران یوسف کا قصہ تو پڑھا ہے مگر میری جان! دنیا میں صرف باپ وہ واحد فرد ہے جو چاہتا ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے زیادہ ترقی کرے، مجھ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہو، مجھ سے زیادہ بڑے گھر اور کاروبار کا مالک ہو۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ اپنی ساری توانائیاں خرچ کرتا ہے، دن رات محنت کرتا ہے، اوور ٹائم لگاتا ہے تاکہ تمہارے تعلیمی اخراجات پورے ہوسکیں اور تمہارے دوستوں کے سامنے تمہیں سبکی نہ ہو۔یں نے تمہارے خط کو بار بار پڑھا ہے، کبھی ہنسی آئی اپنے بیٹے کی معصومیت پر تو کبھی حیرانی ہوئی اپنے بیٹے کے خیالات پر، مجھے خوشی ہے کہ تم نے بار بار مجھے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ میں تمہارا آئیڈیل ہوں، تمہیں مجھ سے بہت محبت ہے، تمہیں ہر جگہ میری محبت کا عکس کا نظر آتا ہے مگر تمہیں دکھ ہوا ہے ہمیشہ میرے غصہ پر، تم نے لکھا ہے،”آپ کو یاد ہوگا کہ بچپن میں آپ نے مجھے سو روپے دے کر گھر کے ساتھ والی شاپ سے دودھ لانے کا کہا اور جب میں واپس آیا تو میری مٹھی میں پیسے دودھ کے ریٹ کے حساب سے کم تھے۔ آپ نے صرف بقیہ پیسوں کا پوچھا تھا اور میں سہم کر بیڈ کے نیچے چھپ گیا تھا۔ جب آپ نے بیڈ کے نیچے جھک کر دوبارہ سوال کیا تو میں رونے لگا تھا۔ بابا! اس وقت میں صرف سات سال کا تھا۔ مجھے کائونٹنگ نہیں آتی تھی اور آپ کا رعب مجھ پر اس قدر حاوی تھا کہ میں آپ سے یہ وضاحت بھی نہ کر سکا تھا کہ پیسے مجھے دکاندار نے کم دیے ہیں۔بابا! رویے کی اس سختی کے پیچھے ضرور آپ کے ذہن میں کوئی معقول وجہ ہوگی لیکن آپ کا وہ رویہ ہمیشہ میری خود اعتمادی، سیلف ریسپیکٹ اور خودداری میں کمی کا سبب بنتا رہا۔“بیٹا جی! آپ نے خود ہی سوال کر کے خود ہی جواب بھی دے دیا، سوچو آج چودہ سال بعد بھی تمہیں وہ واقعہ یاد ہے، کیا یہ سبق تمہاری زندگی میں کام نہیں آیا گا؟ تم کبھی بھی بغیر کائونٹنگ کے ریزگاری واپس نہیں لوگے، اس وقت تو وہ چند روپے تھے، مستقبل میں تو تمہیں لاکھوں کروڑوں کا حساب کرنا ہے، چھوٹا سا ایک سبق تمہیں زندگی بھر کے لیے راستہ نہیں دے گیا۔ بس بیٹا یہی معقول وجہ تھی، باپ کبھی بھی نہیں چاہےگا کہ اس کے بیٹے کی خود اعتمادی، سیلف ریسپیکٹ اور خودداری میں کمی ہو۔آگے لکھتے ہو،”بابا! زندگی کے قدیم آداب پر آپ کا ایقان اپنی جگہ درست ہے لیکن موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ نئے دور کی کئی چیزوں کو قبول کیے بغیر ہم آگے نہیں جا سکتے۔ میں نے کئی دفعہ گھر میں ٹی وی رکھنے اور صرف پی ٹی وی چینل چلانے کی اجازت چاہی تاکہ میرے علاوہ گھر کے دوسرے بچے بھی باہر کی دنیا اور نت نئی چیزوں سے آگاہ ہو سکیں لیکن آپ کبھی نہیں مانے۔“آپ ٹھیک کہتے ہو میرے بیٹے! مجھے ادراک ہے کہ نئے دور کی چیزوں کو قبول کرکے ہم آگے نہیں جا سکتے، مگر مجھے پتہ ہے اب تم بڑے ہوگئے ہو، اب تمہیں اچھے اور برے کی تمیز آنے لگی ہے مگر جب تم چھوٹے تھے تو میں نے اور تمہاری امی نے فیصلہ کیا تھا کہ بچوں کی تعلیم کے ابتدائی سالوں میں انہیں ٹی وی سے دور رکھا جائے تاکہ یکسوئی سے تعلیم پر توجہ دیں، کچھ بڑے اور سمجھدار ہو جائیں گے تو ٹی وی چلالیں گے، کبھی تم نے سوچا ہے کہ یہ فیصلہ ہم نے کتنا خود پر جبر کرکے کیا تھا، تب ہم کوئی بوڑھے نہیں تھے کہ ہم بھی ٹی وی نہ دیکھیں مگر تم سب کی بہتری کے لیے ہم نے خود پر بھی ٹی وی دیکھنے کی پابندی عائد کر لی۔تمہیں اپنے بچپن کا واقعہ بتاتا ہوں، جب میں چھٹی کلاس میں تھا تومیرے والد نے مجھے اپنے ایک دوست کےگھر جانے اور ان سے ملنے ملانے سے منع کر دیا۔ بار بار منع ہونے پر میری پٹائی بھی ہوئی، تب میری سوچ بھی تمہارے جیسی ہی تھی۔ میری بھی خود اعتمادی، سیلف ریسپیکٹ اور خودداری مجروح ہوئی تھی مگر آج میں سوچتا ہوں تو سب سے پہلے اپنے والد کے لیے دعا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے ایک بہت بڑی دلدل میں پھنسنے سے بچا لیا، وہ اگر آج میرا دوست ہوتا تو میں آج ایک بہت بڑے منشیات فروش کا ساتھی ہوتا۔ بیٹا! باپ کی نظریں بہت گہری ہوتی ہیں، اس کے پیش نظر ہمیشہ اپنی اولاد کی بھلائی ہوتی ہے۔ بعض اوقات مجھ سے غلط فیصلے بھی ہوئے ہوں گے مگر اس کے پیش نظر ہمیشہ تمہاری بھلائی ہی رہی ہے۔تم نے بجا لکھا ہے کہ”بابا! والدین کا اولاد کی شخصیت پر اثر ہوتا ہی ہے لیکن ایک بیٹا اپنی شخصیت کے غالب رنگ اپنے باپ سے ہی مستعار لیتا ہے۔ اس لیے احتیاط اور حساسیت کا دامن چھوڑے بغیر باپ کو اپنے بیٹے پر ویسا ہی یقین اور اعتماد رکھنا چاہیے جیسا وہ خود اپنی ذات پر رکھتا ہے۔“بیٹا مجھے تم پر یقین ہے اور ہمیشہ رہےگا مگر میری پھر وہی بات ہے کہ باپ تو صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہے وہ جس رنگ میں بھی ہو۔خوش رہو، جیتے رہو، تمہاری ہر خوشی ہی ہماری خوشی ہے، زندگی میں ہمیشہ کامیابیاں اور کامرانیاں تمہارا مقدر بنیں۔ ،یہ تحریر اردو کی بڑی ویب سایئٹ دلیل ڈاٹ پی کے پر چھپ چکی ہے ، جہاں   چھپنے والی ایک تحریر بیٹے کا باپ کے نام ایک خط کے جواب میں لکھی گئی ،نیچے دونوں تحریروں کے لنک موجود ہیں جہاں اسے  کلک کر کے پڑھا جا سکتا ھےباپ کے نام ایک بیٹے کا خط
باپ کا بیٹے کے نام جوابی خط

کریڈٹ کارڈ ، دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

سر ، ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے  ؟جی ، آجائیں ، اس نے  آہستہ سے کرسی  سرکائی اور میرے سامنے بیٹھ گیا ، آفس میں بطور اسسٹنٹ کام کرنے والا نوجوان  مجھے کئی دنوں سے پریشان نظر آرہا تھا ،اس سے پہلے کہ  میں اس سے پوچھتا ،شائد وہ خود ہی بتانے کے لئے آگیا ، سر ۔۔۔۔۔۔ کچھ پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہے ،گھر میں کچھ پریشانی ہے ، میں نے پوچھا ،کتنے ؟ جی بیس ہزار ،  جی آئندہ تنخواہ پر لوٹا دوں گا ، میں نے پوچھا کہ تمہاری تنخواہ  توپندرہ ہزار ہے تم بیس ہزار کیسے لوٹا دو گے؟ بس جی اگلے ماہ ایک کمیٹی نکلنی ہے ۔مجھے آج ہی اہلیہ نے پچیس ہزار روپے دیئے تھے بیٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کے لئے ، میں نے اس کی مشکل حل کرنے کے لئے اسے دراز سے بیس ہزار روپے نکال کر دے دیئے ۔اس نے میرے شکریہ ادا کرتے ہوئے  دوبارہ بر وقت ادا کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی ۔ ابھی وہ کمرے سے نکلا ہی تھا کہ  دوسرا اسسٹنٹ آ گیا ، کہنے لگا ،سر کتنے پیسے لے گیا ؟کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔ سر جی آپ تو بھولے بادشاہ او ، اس کا تو کام ہی یہی ہے ، کریڈٹ کارڈ بنوانے کا شوق تھا ، اب ادائیگیاں نہیں ہو رہی ہیں ، بنک والے پیچھے پیچھے اور یہ آگے آگے ، بس اب بھول جائیں اپنے پیسوں کو ، میں نے انہیں بتایا کہ وہ مجھ سے پیسے لینے نہیں بلکہ اپنے کارڈز کے سلسلہ میں مشورہ کرنے آیا تھا ۔میں نے اسے اگلے دن بلالیا ، بھائی کیا بنا تمہاری پریشانی کا ؟ جی ۔۔ جی ، وہ    ۔۔۔ جی بھائی مجھے اصل بات بتاؤ گے تو میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں گا ۔ وہ چند لمحے خلاؤں میں گھورتا رہا ، اچانک اٹھ کر زمین پر بیٹھ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گیا  ،میرے لئے یہ غیر متوقع صور حال تھی ، سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں ، میں نے جلدی سے دروازہ اندر سے لاک کر دیا ، اسے حوصلہ دیا  ۔۔۔۔ بس وہ ایک ہی بات کئے جارہاتھا ، سر مجھے بچا لیں ، میرے بہت چھوٹے بچے ہیں ، میں خود کشی کر لوں گا ، میرے بچے رل جائیں گے سر ۔۔۔۔ میں نے کہا کہ بھائی حوصلہ کرو ، کچھ بتاؤ گے تو بات بنے گی ناں ،سر ۔۔۔ میں نے ایک کریڈٹ کارڈ بنوا لیا تھا ، تین لاکھ کا ، پہلے چند ماہ تو بہت مزا آیا ، بیوی اور بچوں کو لے خوب گھومے ، اسی کے  لون پر موٹر سائیکل بھی لے لی ، پھربیوی کی بہن کی شادی تھی ، بیگم کے کہنے پر جی بھر کے شاپنگ بھی کر لی اور اس کی بہن کے لئے تحائف بھی لے لئے  ،  بیگم کہنے لگی ،بنک کا کیا  ہے ، قسطوں میں ہی تو واپس کرنا ہے ،ایک سال تک تنخواہ سے جیسے تیسے قسطیں دیتا رہا ہوں ، ایک سال بعد دیکھا ، وہ تین لاکھ تو وہیں کہ وہیں  اور الٹا کچھ انٹرسٹ اور اوپر  چڑھ گیا ہے ،تنخواہ ان کو دیتا ہوں  تو کھانے کے لئے کچھ نہیں بچتا ، ان کو نہیں دیتا تو بنک ریکوری افسران گھر  آکر گالی گلوچ کرتے ہیں ، پچھلے ماہ بیوی کا کچھ زیور بیچ کر شارٹ قسطیں جمع کروائیں تو پتہ چلا وہ ساری رقم لیٹ پیمنٹ اور جرمانوں کی مد میں جمع ہو گئی ، سر میں تباہ و برباد ہو گیا ہوں ، میں بس اب خود کشی کرلینی ہے ، میں نے اسے حوصلہ دیا ،اسے اٹھا کر کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ پہلے پانی پیو پھر بات کرتے ہیں ،اس کو حوصلہ دیا اور اس کے چائے بنوائی۔اس کی ساری رام کہانی سننے کے بعد میں نے اسے کہا کہ اب حوصلہ کرے ، رونے کی ضرورت نہیں ،نہ ہی پریشان ہونے کی ، بنک کے اہلکار آئیں تو انہیں پیسے جمع نہیں کروانے بلکہ  انہیں مجھ سے ملوانا ہے ،  کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایک نوجوان کے ساتھ اسی طرح کا المناک واقعہ پیش آیا جب بنک کے  ریکوری نمائندوں نے اسے ڈرایا دھمکایا اور اس کے گھر جاکر گالی گلوچ کی جس کے نتیجہ میں اس نے خود کشی کرلی  جس عدالت عالیہ نے نوتس لیا جس کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان نے یہ قوانین  لاگو کردیئے کہ بنک کا کوئی بھی نمائندہ بغیر اپنے کلائینٹ سے  ایڈوانس اپوئنٹمنٹ کے اس کے گھر یا دفتر نہیں جا سکتا ، اس کے علاوہ اس کے کسی عزیز سے پوچھ کچھ نہیں کر سکتا اور اگر اس سے ملاقات ہو بھی تو دن کے اوقات میں ہو گی ۔ اگلے ہی دن اس نے بتایا کہ بنک کا ایک نمائندہ آیا ہے میں نے اس کو ملاقات کے لئے بلوا لیا ، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اسٹیٹ بنک کے قوانین کا مطالعہ کیا ہے ، تم کس بنیاد پر اس کو اور اس کے گھر والوں ں کو ڈرا دھمکا رہے ہو ،جائیں ہم رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ، آپ اپنے بنک کو بتا دیں کہ وہ بنکنگ کورٹ میں ہمارے خلاف دعویٰ کر دے ۔آپ نے ایک شریف آدمی کی ساری جمع پونجی بھی لوٹ لی ہے اور اسے ڈرا دھمکا بھی رہے ہو، ہم الٹا تمہارے خلاف کیس بنوائیں گے ، اسے بات کی سمجھ آ گئی ، اس نے اجازت لینے میں ہی عافیت جانی ،میں نے اسے کہا کہ اگر آپ نے اپنی رقم واپس لینی ہے تو کوئی پلان بنا کر لے آئیں،ہم اپنی سہولت کے مطابق آپ کو رقم واپس کردیں گے کیونکہ یہ ہمارے ذمہ ہے مگر آئندہ دھونس نہیں چلے گی ۔"کریڈٹ کارڈ ایک شیطانی چال ہےلوگوںکوپھنسانےکی ،اس کا انجام صرف ڈیفالٹر کی شکل میں سامنے آتا ہے اس وقت پاکستان میں ان ڈیفالٹرز کی تعداد لاکھوں میں ہوگی جو بے چارے گھر پر "نہیں ہوتے" فون پر "نہیں ہوتے" اور آفس یا کاروبار پر "نہیں ہوتے" کیونکہ ان سب کو بنک کے ہرکاروں کا ڈر ہوتا ہے جو کہلاتے تو ریکوری افسر ہیں لیکن دراصل " بھائی لوگ" یا "کن ٹٹے" ہوتے ہیں"کریڈٹ کارڈ ایک دھوکہ کا نام ہے جس کے چکر میں ہزاروں لوگ اپنے گھر برباد کر چکے ہیں کیونکہ ایڈوانس رقم بغیر کسی محنت میں  حاصل ہوتی اس لئے اسی طرح خرچ ہو جاتی ہے ، پھر انسان  اس کی ادائیگی کرنے لے لئے اور اور کریڈٹ کارڈ بنوا لیتا ہے پھر اس کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے تو پھر دوستوں سے ادھا ، گھر کی اشیاء ، بیوی کے زیور تک بکنے کے لئے آجاتے ہیں مگر ادائیگیاں نہیں ہوتا اور انسان سود درسود کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے ، پھر اگر بات عدالتوں تک چلی جائے تو وکلاء کے اخراجات ، پیشیوں پرپورے پورے دن کا ضیاع ،پھر سزا اورگرفتاری کا  خطرہ ۔ پھر اس کا حل کیا ہے ، بس اس کا حل یہی ہے کہ اپنے اخراجات کو محدود رکھیئے ، سود کو اللہ رب العزت نے اپنے سے جنگ قرار دیا ہے تو پھر کون اللہ سے جنگ جیت سکتا ہے،اس لئے سود سے بچیں لیکن اگر آپ اس چنگل میں پھنس چکے ہیں تو گھبرانے کی بجائے  ، ان کو ماہانہ ادائیگیوں کی بجائے کسی وکیل سے مشورہ کریں ، بنک والوں کے پاس آپ کو ڈارنے دھمکانے یا بلیک میل کرنے کا اختیا نہیں ، ان سے وعدہ کیجیئے ، ادائیگیوں کا پلان بنوائیں  ، یکمشت ادائیگی میں بنک تیس فیصد سے زیادہ چھوٹ دے دیتا ہے ،وہ بھی اصل زر میں سے ، سود سارا معاف ہو جاتا ہے ،تین یا چار قسطوں میں بھی بنک مان جاتا ہے اور چھوٹ بھی دے دیتا ہے،اگر بنک عدالت میں بھی چلا جائے تو عدالتیں حسب معمول پانچ پانچ سال لگا دیتی ہیں فیصلے کرنے میں ،ایسے میں کہیں نہ کہیں سے ، کوئی چھوٹی موٹی کمیٹی دال کر رقم کا بندوبست کریں اور جس موڑ پر چاہیں بنک کو کچھ لے دے کر اپنی چان چھڑوالیں کیونکہ سود بہت بری چیز ہے سب کچھ کھا جاتی ہے ،بس یاد رکھیں ڈرنا نہیں ،ایک غلطی کر لی  اب دوسری غلطی نہ کریں ،بنک سے براہ راست بات کریں لیکن  پہلے ہی چھوٹی چھوٹی قسطوں میں انہیں ادائیگی نہ کریں 

17 اگست 1988 ء کی خون آشام شام

سترہ  اگست 1988ءکی شام آٹھ بجے تھے ، میں اپنے دوست کے ہمراہ لاہور سے واپس آرہاتھا ، تب لاہور فیصل آباد کا سفر بھی تین گھنٹہ سے زیادہ طویل ہوتا تھا اس لئے کوچز شیخوپور ہ گزرنے کے بعد مانانوالہ کے قریب ایک چھپڑ ہوٹل پر ضرور رکتی تھیں اور مسافر چائے وغیرہ پی لیتے تھے ۔ کوچ کے رکتے ہی چائے والے کی پہلی آواز جو کانوں میں پڑی وہ یہ تھی "ضیاء الحق کا طیارہ تباہ"مسافروں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ،اک عجیب سی خاموشی پھیل گئی ، خبر ہی ایسی تھی کہ کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔دراصل ہم نے ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں جمہوریت تھی ہی نہیں ،1977ء کے عام انتخابات کے بعد اس وقت کی حکومت کے خلافانتخابات میں دھاندلیکروانے پر تحریک کا آغاز ہوا جو بعد میں مشہور زمانہ تحریک نظام مصطفیٰ   کا روپ اختیار کرگئی ،اس وقت ہم ساتویں یا آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے،جلسے جلوسوں کا شوق تھا ، روز انہ کی بنیاد پر جلوس نکلتا تھا ، پھر ایک دن گولی بھی چلی ، دو افراد اپنی جان سے بھی گئے ۔جنازے پر بھی پولیس نے ہوائی فائرنگ  کی ، بھٹو صاحب جو ان دنوں وزیر اعظم تھے  ، انہیں ایک انتہائی ظالم اور جابر انسان بنا کر پیش کیا جاتا تھا اس لئے سب لوگوں کی  ہمدردیاں تحریک کے ساتھ تھیں ، ایسے میں جب تحریک کے راہنماؤں اور بھٹو صاحب کے درمیان مزاکرات عروج پر پہنچے تو  ضیاالحق صاحب قوم کے نجات دہندہ بن کر آ گئے ، بھولی  بھالی قوم کو لگا جیسا طوفان رک گیا ،ملک میں امن و امان ہو گیا ، ویسے بھی ہم نے بڑوں سے سنا تھا کہ فوج کے آنے پر ہی اب امن ہو سکتا ہے ۔پھر ضیا صاحب ہی اس کے ملک مرد آہن بنگئے، اسلامائزیشن کا عمل شروع ہوگیا ،ملک کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر سارا دن کے گن گائے جاتے اور بھولی بھالی قومسب بھول کر ان کے گن گانے لگی ۔ہم لڑکپن سے جوانی کا فسر بھی شروع کر چکے مگر ان کا اقتدار تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لینا  چاہتا تھا ، سارا دن مرد مومن مرد حق کی صدائیں ہی آتی رہتیں ۔ان کےاقتدار کی طوالت پر تو فیصل آبادی جگت بازوں نے بڑے بڑے لطیفے بنا رکھے تھے ،ضیا صاحب ہر دو تین ماہ بعد سرکاری یڈیو ٹی وی  پرقوم سے خطاب کیا کرتے تھے ، کسی نے ایک فیصل آبادی سے پوچھا " بھائی صدر صاحب کا اقتدار کب ختم ہو گا ، اس نے جواب دیا ،آپ کو پتہ ہے وہ ہر دو تین ماہ بعد قوم سے خطاب کرتے ہیں اور اس چند آئتیں بھی پڑھتے ہیں ، اب حساب لگا لو پورا قرآن کتنے وقت میں ختم ہو گا"۔ کسی کا اتنا طویل اقتدار اور بھی آمر کا ، اس لئے جب ان کے طیارہ تباہ ہونے کی خبر سنی تو عجیب سا دھجکا لگا ،شائد کسی اتنے بڑے آدمی کی اس موت پہلی دفعہ سنی تھی ، اب تو دہشت گردی کی اس لہر نے بڑے بڑے نام نگل لئے ہیں ۔پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قوم کی ان سے محبتکی نشانی تھی کیونکہ انہوں نے کچھ کام ایسے ضرور کئے جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا ۔وہ ایک سچے عاشق رسول تھے ، روس کو اس کی سرزمین پر شکست اور پاکستان میں اسلامائزیشن کا عمل ان کے ایسے کارنامے ہیں جن پر فخر کیا جا سکتا ہے ۔ ان کے زمانہ میں تو صرف سرکاری ٹی وی تھا ، آج جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صحافیوں ، ٹریڈیونین اور  طلبا تنظیموں کے نمائندوں پر حکومتی جبرو تشدد ، کوڑوں کی سزائیںایک ایسی کالک ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ان کی رحلت کے دو تین برس بعد اسلام آباد میں ان کی قبر پر جانے کا اتفاق ہوا ،میرے لئے اپنی زندگی میں ایک تجربہ تھا ، میں اپنے احساسات کو بیان نہیں کر سکتا کیونکہ جس شخص کو ہم نے اپنے بچپن سے جوانی تک اپنے پورے جلال میں دیکھا ،اس کی قبر پر جا کر جو احساس ہوا اس کو بیان کرناہی میرے لئے مشکل ہے ، وہ اب دنیا میں نہیں ہیں دعا ہے کہ اللہ کریم ان کو مغفرت کرے ۔

کپل آف فیصل آباد

 منفرد رہنے کی خواہش بعض اوقات انسان کو بہت دور تک لے جاتی ہے اور کچھ لوگ اس کے لئے کچھ ایسا بھی کر جاتے ہیں جو عام زندگی میں ممکن نہیں ہوتا ، بعض لوگ پہاڑیوں کی چوٹیوں سے چھلانگ لگا دیتے ہیں اور بعض اپنی شادی کی تقریبات گہرے پانیوں میں منعقد کروا کے اپنے آ پ کو دنیا سے منفرداور ممتاز  نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک جوڑا فیصل آباد میں بھی رہائش پزیر ہے جو سماجی تقریبات میں ایک جیسا لباس پہن کر شرکت کرتے ہیں اور اپنی انفرادیت کو برقرار رکھنے کے لئے اس کو مزید بہتر سے بنانے کے لئے کو شاں رہتے ہیں ۔ان کی اس انفرادیت کو دیکھتے ہوئے زندہ دلان فیصل  آباد نے انہیں "کپل آف فیصل آباد" کے  مسٹر اینڈ مسز ناصر حسین فیصل آباد کے رہائشی ہیں ، ناصر حسین کی جناح کالونی میں پلاسٹک کی کرسیوں اور دیگر سامان کی شاپ ہے ، اس سے قبل وہ الیکٹرنکس کا کامبھی کرتے تھے ۔ساٹھ سالہ ناصر حسین  اور شگفتہ ناصرتین جوان بیٹوں کے  والدین ہیں ۔ناصر حسین کا کہنا ہے کہ وہ اکثر فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی سماجی تقریبات میں شرکت کرتے رہتے تھے ،ہماری ہر تقریب میں اکھٹے شرکت  پر ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کی جاتی جس پر انہوں نے سوچا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس پر ہماری انفرادیت قائم ہو ۔
میں نے اور میری اہلیہ نے فیصلہ کیا کہ ان سماجی تقریبات میں ایک جیسا لباس پہن کر شرکت کی جائے  تو پھر ہم نے ایک رنگ ،کڑھائی اور ڈیزائن کے لباس کا استعمال شروع کر دیا ۔شروع  شروع میں میں ہمیں مذاق کا نشانہ بھی بنایا گیا مگر ہم اپنے اس عزم پر قائم رہے اور آہستہ آہستہ  ہماری یہ انفرادیت ہی ہماری اور ہمارے شہر کی پہچان بن گئی  پھر 2005ء میں ہونے والی ایک تقریب میں فیصل آباد کے شہریوں نے اپنی محبتوں سے نوازتے ہوئے ہمیں "کپل آف فیصل آباد" کے اعزاز دے دیا جو ہمارے لئے باعث فخر ہے ۔اسی اعزاز کی بنیاد پر پھر ہم نے  مختلف ٹی وی پروگراموں اور بیرون ملک اپنے شہر کی نمائندگی کی ۔انہیں اس پر بے حد خوشی ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں لوگ انہیں  ان کے شہر کے نام سے پہچانتے ہیں ، لوگ ان کے ساتھ تصاویر کھنچواتے ہیں ،آٹو گراف لیتے ہیں  ۔

لہو لہو اگست ، لہو لہو آزادی

ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان معرض وجود آنے کے ابتدائی بیس سالوں میں پیدا ہوئے ، ہوش سنبھالا تو قیام پاکستان کو کم و پیش پچیس سال گزر چکے ہوں گے ، بیس پچیس سال اتنا عرصہ نہیں ہوتا کہ انسان اپنے اوپر گزرے دکھ کو بھول جائے پھر وہ زمانہ ایسا تھا کہ کوئی اور ایسی دلچسپی نہیں تھی کہ جس کے ذریعے دکھ کم ہو سکے ۔ ٹی وی ،موبائل ، ویڈیو گیمز ،سوشل میڈیا کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ،صرف شہروں میں بجلی تھی،دیہات اس سے بھی محروم تھے ،تفریح کا واحد ذریعہ ریڈیو تھا جو بھی ہر کسی کو آسانی سے دستیاب نہیں تھا۔جب کچھ اور دلچسپی نہ ہو تو پھر سوائے مل بیٹھ کر پرانی یادوں اور بیتے دنوں کو یاد کرنا ایک ذریعہ رہ جاتا ہے ۔ہوش سنبھالنے پر سب سے پہلا احساس اپنی ماں کی کٹی ہوئی انگلیوں اور چہرے پر ایک بہت بڑے زخم کے نشان کو دیکھ کر ہوا کہ آخر یہ کیا ہے، کیسے اتنے بڑے زخم آئے ، جس چیزکاذکر بار بار اپنی ماں سے
سنا وہ ہجرت تھی ،اپنی مٹی، اپنا گھر بار ،ڈھورڈنگر ،جائدادیں ،یہاں تک کے اولاد بھی اس ہجرت پر قربان کردی۔ سردیوں کی لمبی راتوں میں جب مائیں اپنے بچوں کو کہانیاں سناتی ہیں ،میری ماں ہمیں ہجرت کے دوران اپنے اور اپنے خاندان کے اوپر بیتے ظلم کی ہولناک داستانیں سناتے ہوئے خود بھی زاروقطار روتی رہتی اور ہمیں بھی رلاتی ،باہر کبھی بڑوں میں بیٹھنے کا موقع ملتا تو اسی طرح کی کہانیاں سننے کو ملتیں،والد محترم بھی اسی طرح کی داستانیں سناتے۔ان کہانیوں نے ہمارے اندر دو قومی نظریہ ایسے فٹ کردیا کہ بھولے بھی بھلایا نہ جا سکے گا ،وطن کی خاطر دی گئی اپنے والدین کی قربانیوں کو میں کبھی بھول نہیں سکا ،نہ اپنی ماں کے زخموں کو،نہ اپنے باپ پر ہونے والے مظالم کو ۔قیام پاکستان کا موضوع میرے لئے ہمیشہ دلچسپی کا حامل رہا،ہر وہ کتاب اور ناول ضرور پڑھا جس میں اس کا ذکر ہوا ،خاص طور پر نسیم حجازی کا خاک اور خون۔جب کبھی قیام پاکستان کے وقت مہاجرین کی پاکستان آمد کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر دیکھتا ہوں تو ان میں گم ہو جاتا ہوں ، گزشتہ دنوں ایک عالمی ادارے نے اس کی تصاویر جاری کیں تو میں نے ان کو سینکڑوں بار دیکھا ، میں ان میں اپنی زخمی ماں تلاش کرتا رہا ،

شائد وہاں کہیں وہ وہ بھائی بھی نظر آجائے جو ظالموں نے میری ماں کے ہاتھوں سے چھین کر اس کے سامنے شہید کردیا ،جس کو بچاتے بچاتے میری ماں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے محروم ہو گئی ،جبڑے پر اتنا بڑا زخم بن گیا جو تاحیات ان کے چہرے پر نمایاں رہا،وہ شائد اس لئے زندہ رہ گئیں کہ ان کی نظروں میں وہ مر چکی تھیں ۔ ابا جی کہتے تھے جب دوبارہ قافلہ پر حملہ ہوا تو تب تیری والدہ اور بھائی تو ہم سے بچھڑ چکے تھے،ایک بڑے بھائی ان کے کندھوں پر سوار تھے ،قافلہ کی طرف سے اعلان ہوا ،بس اب اپنی اپنی جانیں بچائیں،جو بھی کسی کے پاس قیمتی سامان ہے اسے پھینک دیں ،کہتے میں نے اپنے چار پانچ سالہ بیٹے کو کندھے سے اتار کر اللہ کے سپرد کر دیا ،قافلہ پر سکھوں نے حملہ کردیا ، لوٹ مار شروع ہوگئی،میں اپنی جان بچانے کے لئے ایک درخت کی اوٹ میں ہوگیا،سکھ جو سامنے آتا اس کو اپنی تلوار کی زد میں لاتے اور دو ٹکڑے کر دیتے، ایک آہ وفغاں کا سماں تھا، خواتین کی بے حرمتی ہو رہی تھی،ہر کوئی اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا ،ایک سکھ ایک نوجوان لڑکی کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا ،میرے پاس سے گزرا تو تو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کو اس کے ٹانگوں میں اڑس کر اس کو گرا دیا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ مجھ پر حملہ آور ہوتا اس کی تلوار اٹھا کر اس کو واصل جہنم کر دیا ۔اس بچی کو دوبارہ اس کے والدین کے سپرد کیا اور قافلہ روانہ ہوگیا ،کوئی دس میل چلنے کے بعد احساس ہوا جیسے پیچھے کوئی میرا کرتا پکڑ کر کھینچ رہا ہے،پیچھے مڑ کر دیکھا تووہ میرا بیٹا تھا۔پتہ نہیں معصوم بچے نے کیسے دس بارہ میل کا سفر پیدل طے کر لیا ،اٹھایا ،چوما اور گلے سے لگا لیا ۔ میرے وہ بڑے بھائی آج بھی ماشاء اللہ حیات ہیں۔لاہور پہنچ کر کیمپوں میں میری ماں کی تلاش شروع کر دی،دو تین ماہ بعد ایک ہسپتال میں مل گئیں ، زخم خراب ہو چکے تھے ، جیسے تیسے جو ملا جیسا ملا کبھی پیدل ،کبھی سرکاری گاڑیوں پر سفر کرتے یہ مہاجر فیصل آباد آکر آباد ہو گئے ۔ یہ ایک میرے ماں باپ کی کہانی نہیں ہے ،ہمارے ارد گرد سبھی اسی طرح کی کہانیاں سنایا کرتے تھے مگر اب یہ کہانیاں سنانے والے آہستہ آہستہ کم ہوتے جارہے ہیں ،ایک دن آئے گا ہجرت کرنے والا ایک بھی فرد زندہ نہیں رہے گا اب یہ میری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسل کو اس اثاثے سے روشناس کروایا جائے ورنہ وطن کی جو محبت ہمارے دلوں میں ہے یا ان لوگوں کے دلوں میں تھی جنہوں نے اس کے قیام کے لئے قربانیاں دی تھیں ،نئی نسل کے دلوں میں قائم نہیں ہو سکے گی۔بانی پاکستان کی بے وقت موت کے بعد آنے والے ہر حکمران نے پاکستان اور اس کے اثاثوں کو جی بھر لوٹا ،برباد کیا ، آج کے حکمران بھی اسی ڈگر ہیں ،آلو پیاز کے لئے بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں حالانکہ ہندو بنیا کبھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا، کبھی موقع ملے تو پوچھئے ان لوگوں سے جنہوں نے ہجرت کی تھی کہ کیسے ان کے ہندو اور سکھ محلہ داروں نے وقت آنے پر ان کا ساتھ چھوڑا اور ان کے گھروں کی لوٹ مار کی ،کاش اس نسل کو پتہ چل سکے کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمان عورتیں آج بھی سکھ بچوں کی مائیں بن کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں ، انہیں کس جرم کی سزا ملی ،وطن کس کو نہیں پیارا ہوتا ،سنا ہے ہم سب کے محبوب نبی اکرم ﷺنے جب مکہ چھوڑا تو کتنے غمگین تھے ،جب بھی مکہ کی یاد آتی تو آزردہ ہو جاتے ۔میری ماں نے ساری زندگی "میرا دیس" کہتے کہتے گزار دی،جب بھی انہیں اپنا گھر یاد آیا تو زاروقطار روتی رہیں۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں خود ہندوستان جاؤں ، لدھیانہ کے قریب "الونہ"نامی اس گاؤں میں جاؤں جہاں میری ماں بیاہ کر آئی تھی ، جس گھر میں میری ماں نے اپنے یوسف کو جنم دیا تھا جسے دو سال کی عمر میں اس کے ہاتھوں شہیدکیا گیا ۔چشم تصور میں ہجرت کی وہ تصوریں مجھے وہیں لے جاتی ہیں ، میں خود کو  یوسف کی جگہ تصور کرتا ہوں ، ان لٹی پٹی لاشوں کی تصویروں میں ،میں اپنے بھائی  یوسف کو تلاش کرتا رہتا ہوں،میرا پہلا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے ماں سے کہا کہ اس کا نام یوسف رکھنا ہے تو وہ زاروقطار رو پڑیں ، وہ مجھے آج تک نہیں بھولا ،میں دوسرا یوسف اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتی ۔پاکستان آکر والدین نے دوبارہ محنت کی ، گھر بار ، کاروبار ، سب اللہ نے دیا ، پھر ہمیں لکھایا پڑھایا ، شادیاں کیں مگر ہم ان کا وہ دکھ دور نہ کرسکے جس کو جھیل کر انہوں نے یہ وطن حاصل کیا ۔میری میڈیا سے بھی بھی اپیل ہے کہ اگر نئی نسل کے دلوں میں پاکستان کی محبت ڈالنی ہے تو انہیں ان کہانیوں سے روشناس کروائیں ،ابھی بہت لوگ زندہ ہیں ۔

یہ تصاویردرج ذیل و ویب سائٹ سے لی گئی ہیں http://www.scoopwhoop.com/inothernews/partition-photos-1947/http://www.indiatimes.com/news/india/28-pictures-on-partition-that-are-so-strong-theyll-move-you-to-tears-231601.html

بچپن کی عید

محترم  بلاگر ڈاکٹر اسلم فہیم صاحب نے  بچپن کی عید کی یاد تازہ کرنے کے لئے فیس بک پر باقاعدہ ایونٹ رکھ دیا ، احباب کو بھی دعوت دی کہ اس موضوع پر لکھیں ، روائتی سستی کے باعث کئی دفعہ لکھنے کی کوشش کی مگر مصروفیات نے وقت ہی نہ دیا ۔ آج فیس بک پر ہمارے ہر دلعزیز دوست  اور دیار نبی ﷺ کی مستقل رہائشی محترم محمد اقبال مغل نے اپنی بچپن کی عید کی یادیں شیئر کیں تو واقعی یادوں کا دریچہ کھل گیا   ۔ یہی سب کچھ ہمارے بچپن میں ہوتا تھا ۔ آج کل کے بچوں کے پاس تو  بہت سی عیدی اور بہت سی سہولیات ہیں ،  آئیے لطف اندوز ہوتے ہیں بھائی اقبال مغل کی بچپن کی عید کی یادوں سے   

یہ رہا ہماری عیدی کا نوٹ اس کا استعمال کس طرح ہوتا تھا 1 آنہ کے لوبیا چھولے باقی ! 15 آنے ۔۔۔۔ حساب کتاب جمع نفی بھی ساتھ ساتھ چلتا تھا   آنے کی لال بوتل 2باقی ! 13 آنے  ایک آنے دا گھوڑے شیر ھاتھی والا جھُولاباقی ! 12 آنے   آنے دا 4 ڈولی والا پنگھوڑا ایکباقی ! 11 آنے  ایک آنے دی بارہ من دی دھوبن والے ڈبے کی فلم ویکھیباقی 10 آنے   آنے دی ہری بوتل دوباقی 8 آنے اوئے ھوئے ادھی عیدی خرچ ھو گئی چلو اب قسمت آزماتے ھیں ایک آنہ دی قسمت پُڑی ( 10 کا نوٹ نکلنے کا امکان)لو جی !  خالی اک ٹافی ! بس باقی رہ گئے 7 آنے چلو اک واری فیر قسمت آزماتے ھیں ،ایک آنہ قسمت پُڑی  فیر خالی صرف ایک مٹھی گولی باقی رہ گئے 6 آنے  وہ بالٹی میں پانی کے اندر ڈبی میں آنہ ڈالتے ھیں تو ایک روپیہ ملتا ھے   آنہ ڈالا وہ تو کھسک گیا سائیڈ کو ایکباقی رہ گئے ؟ 5 آنے  ( جوں جوں پیسے کم ھوتے جاتے مُوڈ خراب ھوتا جاتا ) یار  ایک آنہ اور ڈالتے ھیں شید ( شائید )  ایک روپیہ مل جاوے ایک آنہ ھوور سُٹیاء ! ! ! او وی گیا باقی رہ گئے 4 آنے کرارے پاپڑ   آنہ کا ادھا پاپڑ ایکباقی رہ گئے 3 آنے اب تو بجٹ کے ساتھ کچھ ھاضمہ بھی خراب ھونے لگا   ایک آنہ کی کھٹی مٹھی املی باقی رہ گئے  2 آنےاوھ کھلونا تو کوئی خریدا ھی نہیں ؟ دوآنہ کی دُور بین شیشوں والی خرید لی اور منہ لٹکائے گھر آ کر ایک کونے میں دبک کر سو گئے ھزاروں خواہشیں ایسی کہ ھر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں ! لیکن پھر بھی کم نکلے ممد قبال بالہ

بچپن کا رمضان

محترم شعیب صفدر گھمن نے ایک نئی روائت کا آغاز کیا اور پھر احباب کو بھی حکم نامہ صادر فرمایا کہ اپنے پہلے روزے کے متعلق لکھا جائے اور پھر ان کے حکم پر ڈاکٹر اسلم فہیم،نعیم خان اورمحترمہ کوثر بیگ اور کچھ دوسرے احباب نے بھی لکھا اور ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ترغیب دی ، شعیب صاحب کی طرح محترم نعیم خان اور داکٹر اسلم فہیم نے تو باقاعدہ حکم نامہ جاری فرمایا کہ ہرصورت لکھا جائے ۔کئی دنوں سے کوشش میں تھا کہ کچھ لکھ سکوں ،سوچنے بیٹھتا تو یادوں کا سلسلہ ایک ایسی شخصیت تک چلا جاتا کہ کہ گھنٹوں گزر جاتے اور اور کچھ بھی نہیں لکھا جاتا ۔ بچپن کہ بارے میں سوچتے ہی اولین یاد ماں ہوتی ہے اور ماں کی یاد آجائے تو باقی ساری یادیں بھول جاتی ہیں ،سلسلہ کہیں سے شروع ہوتا ہے اور چلا کہیں اور جاتا ہے ،ایسے ہی ہوا اور کچھ لکھا نہیں جا سکا ۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب کچھ کچھ ہوش سنبھالی تو ان دنوں شدید سردیوں میں روزے تھے،تب نہ تو گھر اتنے بڑے تھے اور نہ اتنی سہولتیں تھیں ۔کچھ یاد آتا ہے کہ ایک سال شدید ضد کی یہ میں نے بھی روزہ رکھنا ہے مگر ماں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ بچوں کا تو چڑی روزہ ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ بچوں سے بہت پیا ر کرتے ہیں اس لئے بچے اگر ایک دن میں دو دفعہ بھی رکھ لیں تو اللہ میاں ناراض نہیں ہوتے مگر دل کہتا کہ یہ سبھی بہلاوے کی باتیں ہیں اگر ایک دن میں دو رکھے جا سکتے تو یہ سب کیوں دو نہیں رکھتے۔وہ سال گزر گیا تو آئندہ سال شب برات کی آمد پر ہی ہم نے ضد شروع کر دی کہ اس سال روزہ ضرور رکھنا ہے،تب شب برات کی آمد اس امر کا اعلان سمجھا جاتا تھا کہ روزوں کی تیاری کر لیں اور میری ماں اس دن کا روزہ رکھتی تھی اور شام کو حلوہ پوری کے ساتھ کھولا جاتا تھا ۔رمضان شروع ہوا تھا تو ہماری ضد بھی عروج پر پہنچ گئی ،ماں نے ہماری ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔بس اتنا یاد ہے کہ ماں نے سحری کے وقت گردن سے پکڑ کر اٹھایا اور وہیں کلی کرنے کے لئے پانی فراہم کردیا ،رضائی سے نکلنے کی اجازت نہیں ملی ۔وہیں ہمیں پراٹھا اور دہی فراہم کر دیا گیا اور ماں نے اپنے ہاتھوں سے ہمیں نوالے بنا کر دیئے ،ساتھ چائے کی پیالی منہ کو لگا دی اور حکم دیا کہ سو جاؤ ۔صبح سو کر اٹھے تو حسب عادت ناشتہ طلب فرمایا تو ہمیں یاد کروایا گیا کہ ہمارا روزہ ہے اور اب بھول کر بھی کوئی چیز نہیں کھانی ، شدید سردیاں تھیں ماں نے سارا دن گھر سے بھی باہر نہیں نکلنے دیالیکن بھوک تو بھوک ہوتی ہے ،کچھ لگی بھی روئے بھی اور ماں سے جھڑکیاں بھی وصول کیں،ماں نے سارے محلہ کو بتایا کہ آج میرے بیٹے نے روزہ رکھا ہے اور شام کو سارا محلہ اکھٹا ہوا مبارک باد دینے کے لئے اور والد محترم میرے لئے میری پسندیدہ مٹھائی گرما گرم جلیبیاں لے کر آئے جس سے میں نے افطاری کی لیکن اگلے رمضان تک روزے رکھنے کی اجازت نہ ملی ،پھر نہیں یاد پڑتا کہ کبھی روزہ چھوڑا ہو کیوں کہ جن بچوں کے روزوں کی ابتدا سردیوں میں ہوتی ہے ان کی روزے رکھنے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے ، گرمیوں میں بچوں کو روزے رکھنے نہیں دیئے جاتے جس پر انہیں آئندہ زندگی میں مشکل ہی لگتے ہیں ۔اللہ کریم ہم سب کو رمضان المبارک کی سعادتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ کریم میری ماں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے جن کی تربیت سے میں روزے رکھنے کے قابل ہوا ۔

جدوجہد آزادی کشمیر کے قافلہ سالار سید صلاح الدین سے ایک ملاقات

سید صلاح الدین جدوجہد آزادی کشمیر کے قافلہ سالار ہیں ،ساری جوانی اسی دشت کی صحرائی میں گزار دی،ان کی زندگی کا ایک ہی مشن ہے کہ کشمیر آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ بن جائے ،سری نگر کے رہنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ سید صلاح الدین نے دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑا اور اس جدوجہد میں قید وبند کی صعوتیں بھی برداشت کیں ،گزشتہ 21سال سے پاکستان میں جلاوطنی زندگی گزار رہے ہیں ،جدوجہد آزدی کشمیر کی مرکزی تنظیم متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ بھی ہیں ۔گزشتہ دنوں فیصل آباد تشریف لائے تو ایک نشست میں ان سے گفتگو کا موقع ملا ۔ان کی پاکستان سے بے پناہ محبت کا یہ عالم ہے کہ اپنی بات کو پاکستان سے شروع کرتے ہیں اور پاکستان پر آکر ہی ختم کرتے ہیں۔پاکستان کے بگڑتے ہوئے اندرونی حالات پر بے حد پریشان تھے مگر حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کی گلیوں سبز ہلالی پرچم لہرائے جانے کی اطلاعات پر انتہائی خوش نظر آئے ۔انہوں نے کہا کہ مستحکم پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آرزو ہے،ہر روز سری نگر کی گلیوں میں پاکستانی پرچم لہرا کر مقبوضہ کشمیر کے عوام ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ، کشمیر یوں نے سری نگر کی گلیوں بازاروں میں پاکستانی پرچم لہرا کر عوام نے عالمی اداروں کو پاکستان سے اپنی بے پنا ہ محبت اور وابستگی کا پیغام دیا ہے، آج بھی کشمیری ہر خوشی کے موقع پر پاکستان کا پرچم پورے کشمیر میں لہرا کر مناتے ہیں،16مئی کو پورے مقبوضہ کشمیر میں عوام نے ترنگا کی بجائے سبز ہلالی پرچم لہراکر بھارت کے چہرے پر کالک ملی ہے۔ پاکستان کی بقاء کشمیر کی آزدی سے وابستہ ہے،بھارت 68برس میں بھی فوجی طاقت اور کشمیریوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا کر ان کی آواز کو نہیں دبا سکا۔ بھارت نے پاکستان کے وجود کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا وہ اکھنڈ بھارت کے نعرے لگاتاہے ۔ بھارت ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے جس نے اب تک پاکستان پر تین جنگیں مسلط کی ہیں اور 71 ء میں اس نے پاکستان کو دولخت کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ، کشمیریوں کے قتل عام اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور کشمیریوں کو اقوا م متحدہ کی قرار دادوں کی منظوری کے بعد بھی ان کو حق خود ارادیت کے حق سے محروم رکھ کر یہ عالمی ادارے و عالمی طاقتیں برابر کی مجر م ہیں۔پاکستان کی موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں پوری قیادت اور قوم یکسو ہے ،اب اقوام متحدہ بھی اپنی قراردودوں پر عمل در آمد کرواتے ہوئے کشمیریوں کو بھارت سے حق خود ارادیت لے کر دے،متحدہ جہاد کونسل کو دہشت گرد قرار ددلوانے کے لئے یو این او جانا مودی سرکارکی ناکامی کا اعتراف ہے ہم مذاکرات کے مخالف نہیں مگر بھارت مذاکرات کے نام پرجہاد کشمیر کوسبوتاژ کرنا چاہتا ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے تجارت اور غیر مشروط دوستی کا دم بھرنے والے شہداء کشمیر کے مجرم ہیں۔آج بھی کشمیری نوجوان’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر سینے پر گولیاں کھا رہے ہیں،کشمیر میں 6ہزار اجتماعی قبریں ساڑھے پانچ لاکھ افرد شہید،ہزاروں خواتین کی عصمت دری اور اب تک کشمیریوں کی اربوں روپے کی املاک بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں تباہ ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے جبکہ بھارت پاکستان کی شہہ رگ سے خون چوس رہا ہے۔بھارت کشمیر میں بیٹھ کر پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں کا رخ اپنی جانب موڑ کر پاکستان کر بنجر کردینے کے منصوبے کی تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ورکنگ باؤنڈری پر دیوار برلن کی طرز پر 145کلو میٹر طویل دیوار برہمن کی تعمیر بھارتی پاکستانی حکومت کے دوستی کے خواب کو چکنا چوراور بین الاقوامی و بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز تسلط کے خلاف یک آواز ہو کر جس جدوجہد کو وہ لے کر چل رہے ہیں ، انشاء اللہ ایک دن ان کی یہ کوششیں رنگ لائیں گی اور انہیں جلد آزادی نصیب ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات کے نام پر عالمی قوتوں کو دھوکہ دے رہاہے ،مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کا حق خود ارادیت دینا ہے ،پاکستان سے محبت کشمیریوں کے خون کا حصہ ہے ، پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا مسئلہ کشمیر پر ٹھوس موقف سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ،وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو کرپاکستان کا حصہ بنے گا ۔سید صلاح الدین نے کہا کہ بھارت ،اسرائیل اور امریکہ عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور امت مسلمہ کو پارہ پارہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ، پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرکے اس کے ایٹمی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن مجاہدین کشمیر ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کاخون اتنا سستا نہیں کہ آلو، پیاز اور ٹماٹر کی تجارت کے لیے اس کو فراموش کر دیا جائے ۔تصویر بشکریہ : شاہدمحمود

محسن رفیق بٹ بھی چل بسے ! آہ وہ جو محسن بھی تھے اور رفیق بھی

کل حافظ صفوان صاحب کی ایک پوسٹ سے ان کی ناگہانی رحلت کا علم ہوا ،میر ا بٹ صاحب سے فیس بک پر کافی عرصہ سے بڑا گہرا تعلق تھا اور میرے باغبانی بلاگ سے متاثر ہو کر انہوں نے کچن گارڈننگ شروع کی تھی اور چھت پر بڑے پودے لگا ئے تھے ، اکثر مجھے کہتے کہ آپ ایک دفعہ آکر دیکھیں تو سہی ان کے ساتھ پروگرام بھی بنا کہ گوجرانوالہ میں کچن گارڈننگ پر ورکشاپ کروائی جائے گی۔ بہت درد دل والے سچے ،محب وطن اور دین سے محبت رکھنے والے انسان تھے۔ فیس بک ایک ایسا فورم ہے جہاں کوگ جتنی تیزی سے آتے ہیں اتنی ہی تیزی سے چلے جاتے ہیں مگر کچھ احباب ایسے بھی جن سے بالکل ذاتی تعلق بن جاتا ہے،بٹ صاحب انہیں لوگوں میں سے تھے۔پاکستان سے محبت ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،اکثر گروپس اور فورمز پر پاکستان پر ہونے والی مباحث کے دوران جذباتی ہو جاتے تھے،بڑی خواہش تھی کہ ان سے ملاقات ہو جائے مگر شائد نصیب میں نہیں تھی۔ "عجب آزاد مرد تھا حق مغفرت کرے "
اللہ کریم ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ( آمین)فیس بک پر میں نے ان کی وفات کے حوالہ سے پوسٹ کی تو درجنوں احباب نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی اور تعزیت کا اظہار کیا ،۔چند ددسرے احباب نے اپنی پوسٹوں میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا ، میں سمجھتا ہوں یہ بھی ہمارے لئے ایک نعمت ہے کہ فیس بک کے ذریعے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوجاتے ہیں۔مزید فیس بک احباب کے تاثرات شیئر کر رہا ہوں۔حافظ صفوان صاحب :بڑے باغ و بہار آدمی تھے۔ تھوڑی تھوڑی خوشیوں میں بہت خوش رہنے والے۔ ہر سیاسی جماعت سے نالاں،ان کے سب سے زیادہ تحفظات صرف پی ٹی آئی سے ہیں کیونکہ یہ نان سیریس لوگوں کی جماعت ہے۔ ان کے دبنگ کومنٹس کے جواب میں بعض دوست ناراض ہوتے تو میں انھیں سمجھاتا کہ چاچو محسن رفیق کو ہماری محبت کی ضرورت ہے۔ ان سے اور ان کے تجربے سے سیکھیں اور اختلاف کو بہت دور تک نہ لے جائیں۔ اللہ کا شکر کہ بیشتر لوگوں نے میری بات مان لی۔ میں جب بھی دیکھتا کہ وہ سیریس ہو رہے ہیں، میں انھیں ہنسانے کی سوچی سمجھی کوشش کیا کرتا تھا۔کبھی کوئی زور دار کومنٹ کرتے یا کسی کی ٹھیک ٹھاک خدمت کرتے تو فواً انباکس میں لکھتے ،حافظ جی۔۔۔ کوئی اور خدمت ہمارے لائق؟۔ ان کی بیشتر باتیں درست نکلتیں کیونکہ وہ ایک بھرپور زندگی گزارے ہوئے تھے۔ایک بار میں نے لکھا کہ آپ لوگوں سے لڑتے رہتے ہیں، کیا لڑنے کے لیے چاچی کافی نہیں؟ جواب دیا کہ اب تو وہ بھی نہیں لڑتی یار، میں نے پوچھا کہ چاچی کو کسی طرح مسلمان کیا؟ جواب دیا، بیمار شیمار رہ کے۔ اب تو میرا یوں خیال رکھنے لگی ہے جیسے کبھی اپنے نو مولودوں کا رکھا کرتی تھی۔۔۔ لگتا ہے ڈاکٹروں نے اسے کوئی خوشخبری سنا دی ہے میرے بارے میں۔ لمبی بات ہوئی۔ آخر میں میں نے کہا کہ اللہ آپ کو صحت دے چاچو، تاکہ چاچی ایک بار پھر ایکشن میں آجائے۔ ایسی بے شمار باتیں ان سے ہر ہفتے عشرے ہو جاتی تھیں۔بھائی ندیم اختر اور حضرت قاری حنیف ڈار صاحب کا بہت تذکرہ کرتے تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا غم ساتھ لے گئے۔ اکثر اصرار سے کہا کرتے تھے کہ کبھی گوجرانوالہ آؤں تو ضرور ملوں لیکن یہ موقع نہ بن سکا۔ ان کا چڑوں کا ناشتہ کرانے کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ ان کے کچن گارڈن کی تصویریں بھی اب نظر نہیں آئیں گی۔پچھلے دنوں بڑی سادگی سے بچی کی شادی کی، بے حد خوش تھے،کچھ عرصے سے فون پر گفتگو میں وقفے آنے لگے تھے۔ وجہ ان کی گرتی ہوئی صحت تھی۔ سوچ رہا تھا کہ آج کل میں فون کروں گا لیکن آنا جانا لگا رہا اس لیے یکسو نہ ہو سکا۔ایک پربہار اور جی دار بندہ اپنے رب کے حضور پہنچا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین۔


ندیم اختر :سر جی یقین کریں کہ جب معلوم ہوا تو اسقدر دکھ ہوا کہ پوچِھیں نہ۔ جب بھی گوجرانوالہ گیا ہوں، وائف نے ہمیشہ کہا کہ اپنے دوست سے مل آئیں لیکن ہمیشہ اپنی سستی اور وقت کی کمی آڑے آئی، ہمیشہ اس سے کہا کہ چلو اگلی دفعہ مل لوں گا ، کون جانتا ہے کہ اگلی دفعہ آئے گی بھی یا نہیں۔


محمدفاروق :جب بھی گوجرانوالہ میں بارش ہوتی تھی آپ تصویروں کے ساتھ پوسٹ کیا کرتے ،انکی کچن گارڈن کی گوبھی اور گونگلو کی تصویر یاد رہے گی اور عیدپر پائے بنانابھی۔تطہیر عزیز :فیس بک احباب کی طرف سے مجھے یہ تیسرا بڑا دھچکہ پہنچا ہے۔ میرے احباب میں سے میرے دو اولین بزرگ محمد یاسر کلیم ، سید زیدی مجھ سے بچھڑ کر خالقِ حقیقی سے جاملے۔ ان کی شفقت و محبت ان کی یاد ہمیشہ تازہ رکھتی ہے اور آج یہ تیسرا بڑا دھچکہ مجھے انکل کی طرف سے ملا ہے۔ حمزہ نے جب میرے کسی پوسٹ پر محسن انکل کی وفات کا تذکرہ کیا تو پہلے تو میرے ایک دم سے سناٹا چھا گیا ، میں نے کمنٹ دوبارہ پڑھ ، خبر وہی ، الفاظ وہی۔۔۔۔۔ دل ماننے سے انکاری ، میں اْن کی وال پر گئی تو تعزیت سے بھری پڑی تھی۔۔ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی اپنا بچھڑ گیا۔ انسان کو جن سے محبت ملتی ہے وہ بار، بار اور ہر بار اْن کی جانب لپکتا ہے۔ محسن انکل بہت اچھے اور نہایت وسیع مطالعہ انسان تھے ،نون لیگی تھے لیکن ان کے کافی سٹیٹس ایسے بھی پڑھے جن میں نون لیگ اور حکومت پر بے لاگ تبصرہ کیا گیا تھا۔ وہ پی ٹی آئی نوجوانوں کی بدتر اخلاقیات سے کافی نالاں رہتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہے کہ وہ ایک بھائی کی وال پر سٹیٹس پڑھ کر غصہ ہوگئے اور ان کا غصہ جائز بھی تھا کیونکہ ماں بہن کی عزت و تکریم ہم پر واجب ہے چاہے وہ مریم نواز ہو یا بختاور۔۔۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان کی عزتیں اچھالیں۔وہ کوکنگ اور باغبانی سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کا خلاء میں ہمیشہ محسوس کروں گی ، اللہ پاک سے دعا ہے کہ ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگواران کو صبر عطا کرے۔ آمین بے شک یہ سب کے لیے ہی ایک بہت بڑا صدمہ ہے لیکن کوشش کریں گے ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا جائے۔زیتون  بی بی :یہ لکھتے ہوئے دل اداس ہے کہ وہ ہم میں نہیں رہے ،مسلم لیگ کے لئے ہمیشہ فرنٹ فٹ پہ کھیلنے والے یہاں تک کہ فاؤل کھیلنے میں بھی عار نہیں سمجھتے تھے،میری ان سے بڑی لڑائیاں ہوئیں،پھر کوئی ان کا دوست ان باکس میں انکی بیماری کے باے میں بتاتا اور ہاتھ ہولا رکھنے کو کہتامیں کبھی چپ ہوجاتی اور کبھی دوست کو ہی مشورہ دیتی کہ چاچے کو سمجھائیں اس حد تک تکلیف دہ نہ ہوا کریںبہرحال اللہ انکی مغفرت کرے ،موت ہم سب کی گھات میں ہے ،اپنے اپنے ضمیر کے سامنے گر ہم مطمئن ہیں تو ٹھیک ہے اللہ ہم سب پر رحم کرے ،چاچا خوش قسمت تھے ،اپنے لوگوں میں ،اپنے گھر میں اللہ کے پاس چلے گئے ہم ہر روزبے چہرہ موت کے شکارجوان اور بچے دیکھتے ہیں ،اللہ ہمارے حال پررحم فرمائے .چاچا کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ،اسکی رحمت سب سے بڑا سہارا ہے ۔ آمینخاور رانا :آہ وہ جو محسن بھی تھے اور رفیق بھی، چپکے سے ساتھ چھوڑ گے وہ کتنے بردبار تھے، اکثر و بیشتر دوست احباب انہیں اپنی تنقید کے نشتر چبھوتے رہتے تھے لیکن وہ ہر تلخ و شیریں کو خندہ پیشانی سے لینے کے عادی تھے، وہ ہر قسم کی تنقید سے بے نیاز اپنی صلاحیتوں کے مطابق سوشل میڈیا کے آسمان پر اپنی اڑان بھرنے کے عادی تھے، کتنا تدبر تھا ان کی سوچ میں، وہ ہم سوشل میڈیا والوں کا مان تھے، اللہ کریم انہیں غریق رحمت فرماے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔ امین یا رب العالمین



کس کی نظر لگ گئی اس آشیانے کو !

آج 16دسمبر ہے ، پاکستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن،آج سے 43سال قبل ہمارے اپنوں ہی سازشوں کے نتیجہ میں ہمارے وطن کو دو حصوں تقسیم ہونا پڑا، دوپہر اس سانحہ پر لکھنے کے لئے ابھی قلم اٹھایا ہی تھا کہ دوست کی کال آئی ،فوری ٹی وی آن کریں ،سقوط ڈھاکہ کے غم میں ڈوبے ہوئے دل کو ایک عجیب سانحہ کی خبر کا سامنا تھا ، پشاور کے سکول میں دہشت گردی کی کارروائی ، 14بچوں اور ایک ٹیچر کی شہادت کی خبر نے دل رنجیدہ کر دیا ،دیکھتے دیکھتے شہادتوں کی تعداد 123تک جا پہنچی ہے ۔ابھی تک ریسکیو آپریشن جاری ہے،سینکڑوں بچے زخمی ہیں ،ٹی وی پر سیاست دانوں کے روائتی بیانات زور شور سے جاری ہیں ،معصوم کلیاں اپنے دیس پر قربان ہو گئی ہیں ،ننھے فرشتے اس جنگ میں لقمہ اجل بن گئے ہیں جو ان کی اپنی بھی نہیں ،سمجھ نہیں آتی کہ بات کہاں سے شروع کی جائے اور کس پر ختم کی جائے ، کون ذمہ دار ہے ان معصوموں کے خون کا ، کتنے بچوں نے آج ضد کی ہوگی چھٹی کرنے کی مگر ماں نے اس لئے اجازت نہیں دی ہوگی کہ بیٹا تعلیم کا ہرج نہیں ہونے دینا ،پڑھو گے نہیں تو بڑے آدمی کیسے بنوگے،کیا کیا نہیں ارمان ہوں گے ان ماؤں گے جن کے پھول آج ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان سے بچھڑ گئے ۔ہر دفعہ جب کوئی ایسا سانحہ ہوتا ہے تو حکومتی وزراء کہتے ہیں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے اور یہی بیانات سنتے ساری عمر بیت گئی ،کتنے دہشت گرد گرفتار ہوئے ، کتنے بڑے بڑے گینگ پکڑنے کے حکومتی دعوے روز سامنے آتے ہیں مگر میں نے تو آج تک کسی دہشت گرد کو سر عام پھانسی لگتے نہیں دیکھا،کسی ایک کو لٹکا دیا جائے تو پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ رک جائے گا مگر کیا کریں جس ملک کے حکمران ،سیاست دان ،اعلیٰ بیورو کریسی ،ادارے سب ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہوں ،جہاں روز اپنوں کے ہاتھوں اپنے قتل ہوتے ہوں ،جہاں اتحاد اتفاق نام کی کوئی چیز ہی سرے سے موجود نہ ہو ، جہاں دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی بجائے اسے فوری قابل گردن زنی سمجھ لیاجائے ،وہاں دشمن کے لئے کیسے ہم تر نوالہ ثابت نہیں ہوں گے،دشمن ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے اور اس نے ہمیں فرقہ ورانہ سیاست میں الجھا کر ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے مگر ہم دشمن کی چال کو سمجھنے کی بجائے اسی کے آلہ کار بننے کو تیار بیٹھے ہیں وہاں تو پھر ایسے سانحات جنم لیتے ہی رہیں گے ۔قومیں ہمیشہ ایسے سانحات سے سبق سیکھتی ہیں ،بعض اوقات ایسے سانحات قوم کے جذبوں کو زندہ کرنے میں اپنا کر دار ادا کرتے ہیں ،ایسی آزمائشوں سے گزر کرقومیں ایک نئے ولولے ،نئی امنگ سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہیں ۔اب دیکھنا ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاست دان اس سانحہ سے کوئی سبق سیکھتے ہیں یا ایک دن کا سوگ منا کردوبارہ اسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں ۔اگر ایسا ہوا تو سن لو میرے وطن کے حکمرانوں اور سیاست دانوں ! ایک دن ایسا آئے گا کہ لوگ تمہاری گردنوں میں پھندے ڈالے تمہیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور تمہاری مدد کو وہ بھی نہیں آئیں گے تم دن رات جن کی چاپلوسی میں اپنی ہی قوم کو فراموش کر بیٹھے ہو۔روزقیامت یہ معصوم بچے تمہارا گریبان پکڑ کے پوچھیں گے آخر کس جرم میں تم نے ہمیں اس آگ میں جھونکا تھا ۔ میرے بچو! مجھے یقین ہے تم تواللہ پاک کی جنتوں میں پہنچ گئے ہوں گے مگر اللہ میاں سے عرض کرنا تمہارے غمزدہ والدین کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے۔پیاری بہن زیتون بی بی کی دکھ میں ڈوبی ایک نظم ان بچوں کی نظر ،میرے معصوم پھول سے بچوں کو
نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے
گھر سے جاتے ہوئے کہا بھی کہ
انکے رخسار کے دائیں طرف
ایک کالا ٹیکہ لگا دیا کرو
سنتے آئے ہیں کہ ا س طرح
نظر بد دور ہی رہتی ہے
تم نے دیکھا تھا کہ انکے چہرے
کتنے شاداب اور شگفتہ تھے
انکے لہجوں کی معصوم آوازیں
کس قدر دل کو خوش کرتی ہیں
انکے بے داغ ، اجلے یونی فارم
انکے جسموں پے کیسے سجتے تھے
انکی آنکھوں میں کھیلتی ہنسی
کس قدر شریر ہوتی تھی
کہا تھا تم سے کہ نا اتنے غور سے دیکھو
کبھی کبھی محبت سے دیکھنے پر بھی
نظر بد لگ جای جاتی ہے
کہا تھا تم سے کہ جب یہ گھر سے نکلیں
آیت الکرسی ور درود شریف
پڑھکر کر ان پر دم کردیا کرو
کہا تھا نا کہ کچھ شیطان
یوں ہی فضاووں میں گھومتے رہتے ہیں .
وہ خوبصورتی کے دشمن ہیں
الہو کی پیاس انکو بے چین رکھتی ہے
کہا تھا میں نے کہ دیکھو احتیاط کرنا
انکو نظر بد بچانے کے لئے
انکے رخسار کی دائیں طرف
ایک کالا ٹیکہ لگادیا کرو
تم سے آج بھول ہوگئی شائد
سفید رنگت او ر نیلی آنکھیں
آج سب ہی گل رنگ ہوگیں ہیں
آج شائد بہار کا دن ہے
آج سارے پھولوں کا رنگ سرخ ہے

8 دسمبر ، فیصل آباد کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

تحریک انصاف کے پلان سی کے پہلا مرحلہ آج فیصل آباد سے شروع ہوا، فیصل آباد ہمیشہ سے پر امن شہر رہا ہے ،بڑی بڑی سیاسی تحریکوں  نے اس شہر سے جنم لیا مگر زیادہ معاملات پر امن ہی رہے ، آج صبح گھر سے نکلتے ہی عجیب منظر دیکھنے میں آیا، چھوٹی عمر کے نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے لئے ٹائروں کو آگ لگا کر راستے بند کر رہے تھے، واپس آکر فیس بک پر اسٹیسس اپ ڈیٹ کیا تو احباب کے میسجز آنے شروع ہوگئے کہ بھائی  گھبرائیں ناں ، کچھ نہیں ہوتا مگر پتہ نہیں کیوں چھٹی  حس کسی آنے والے خطرہ سے کیوں ڈرا رہی تھی ،پہلا اپ ڈیٹ صبح دس بجے کے بعد کیا تھا ،ذرا اس کا مطالعہ کیجیئے"پاکستان کا سب سے پر امن شہر فیصل آباد جلتےٹائروں کے دھوائیں اور " گو نواز گو " اور " رو عمران رو " کے نعروں کی زد میں ھے ، ابھی صبح کا آغاز ھے ،ھر سڑک پر جوشیلے نوجوان ڈنڈے ھاتھوں میں تھامے لوگوں کو آگے جانے سے روک رہے ھیں ،حالات کی کشیدگی کسی بڑے ظوفان کا پیش خیمہ ثابت ھو سکتی ھے ، پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ھے ،خانہ جنگی کی سی فضا قائم کی جارہی ھے ،احتجاج ھرسیاسی جماعت کا بنیادی حق ھے مگر اس کشیدگی کے نتیجہ میں اگر ماڈل ٹاؤن لاھور، قاسم باغ ملتان جیسا کوئی سانحہ رونما ھو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ھو گا"ایک گھنٹہ بعددوسرا اپ ڈیٹ یہ تھاجس بات کا خطرہ تھا وہی ھوا ــــــــــــــ"ایک ماں اپنے جگر گوشے سے محروم ھو گئی ھے یا اللہ اس شہر پر امن کو اپنے حفظ و امان میں رکھ"تھوڑی دیر بعد یہ اپ ڈیٹ کیا کہ"ابھی گھنٹہ گھر چوک سے ھو کے آیا ھوں ، الیکٹرانک میڈیا کی گاڑیوں کے ارد گرد سو سے بھی کم افراد موجود ہیں ، اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں دو طرفہ نعرہ بازی کے ذریعے گرما گرم ماحول پیدا کیا گیا ھے ، دوسری طرف سمن ناولٹی پل پر ایک نوجوان اپنی زندگی کی بازی ھار گیا ہے ، صبح جس خدشہ کا اظہار کیا تھا , وہ درست ھوتا جا رھا ھے ، اللہ پاک میرے پر امن شہر کو نظر بد سے بچا ( آمین)"دکھی دل کے ساتھ دوپہر کو یہ ٹویٹ کیئے"‪#‎Faisalabad‬وہی ھوا جس کا ڈر تھا ، ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکن گھتم گھتا ، ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال ، کون ذمہ دار ہے اس خانہ جنگی کا ؟"
بد امنی اور خانہ جنگی سے بچا جا سکتا ھے ، ن لیگ اپنے کارکنوں کو واپس بلائے ، پی ٹی آئی کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا جائے" "
‪#‎Faisalabad‬"میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیںمیرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں"‪#‎Faisalabad‬ 
‪#‎FaisalabadLockDown‬اور لاسٹ اپ ڈیٹ کے نام سے یہ آخری اپ ڈیٹ لکھا ابھی ایک گھنٹہ قبل
"لاسٹ اپ ڈیٹ‪#‎Faisalabad‬ابھی چوک گھنٹہ گھر سے ہوتے ہوئےناولٹی چوک کے قریب رانا ثناء اللہ کے ڈیرے کے باھر خان صاحب کے خطاب کے بعد گھر واپسی ھوئی ھے ، شہر پرسکون ھو چکا ھے ، چوک گھنٹہ گھر میں کھانے پینے کی دکانیں حسب معمول سجی ہوئی ھیں ، تین سو سے زائد افراد کے خلاف مقتول حق نواز کے قتل کی ایف آئی درج ھو گئی ہے ، خاں صاحب ہسپتال سے ہوئے ہوئے مقتول کے گھر بھی جائیں گے ، سب کچھ معمول پر آجائے گا مگر ماں کو اس کا بیٹا واپس نہیں ملے گا ، اگر کوئی مجھ سے تین لفظوں میں آج کے سانحہ کو سبب پوچھے تو میرے خیال میں یہ سب فیصل آباد کی نام نہاد تاجر قیادت کی مقامی ن لیگی قیادت کو ھلاشیری کا نتیجہ ھے ،احتجاج پی ٹی آئی کا حق تھا مگر ن لیگی کارکنوں کو درمیاں میں لا کر عمران خان کے ناکام شو کو کامیاب کروانے کے ساتھ ساتھ ایک انسانی جان کی بھی قربانی دے دی گئی"میں نے تو یہی نتیجہ اخذ کیا ہے آج کے سانحہ کا
اگر کوئی مجھ سے تین لفظوں میں آج کے سانحہ کو سبب پوچھے تو میرے خیال میں یہ سب فیصل آباد کی نام نہاد تاجر قیادت کی مقامی ن لیگی قیادت کو ھلاشیری کا نتیجہ ھے ،احتجاج پی ٹی آئی کا حق تھا مگر ن لیگی کارکنوں کو درمیاں میں لا کر عمران خان کے ناکام شو کو کامیاب کروانے کے ساتھ ساتھ ایک انسانی جان کی بھی قربانی دے دی گئی(اللہ پاک میرے ملک کی حفاظت فرمائے(آمین

اردو بلاگر ،مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں

جماعت اسلامی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آرمی کے بعد یہ سب سے زیادہ منظم تنظیم ہے۔جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر اجتماع عام کا اعلان کیا تو جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم کے مرکزی ناظم شمس الدین نے اردو بلاگرز کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مجھے مینار پاکستان پر ہونے والے کل پاکستان اجتماع عام کے سوشل میڈیا کیمپ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے دیگر اردو بلاگرز کو بھی شرکت کا پیغام پہنچانے کا کہا۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہر ایک سے فوری رابطہ نہ ہو سکا۔ پاک اردو انسٹالر کے خالق محمد بلال محمود، جو سوشل میڈیا پر ایم بلال ایم کے نام سے ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں اور اردو کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں، میں نے ان سے بات کی اور کہا کہ اپنے ساتھیوں سمیت اجتماع کے سوشل میڈیا کیمپ کا دورہ کریں۔ کچھ بلاگرز کراچی سے پہلے ہی لاہور آئے ہوئے تھے جن میں کاشف نصیر، وقار اعظم،اسد خان،رضی اللہ اور دیگر کئی ایک شامل تھے۔ ایم بلال ایم نے ہنگامی طور پر چند احباب سے رابطہ کیا اور لاہور سے عاطف بٹ اور محمد عبداللہ سمیت کئی بلاگرز پاک ٹی ہاؤس میں اکٹھے ہوئے۔ اس کے علاوہ کئی احباب پہلے سے اجتماع میں موجود تھے۔ جن میں تلہ کنگ سے ڈاکٹر اسلم فہیم،لاہور سے عمران ظہور غازی،فیصل آباد سے غلام اصغر ساجد اور راولپنڈی سے انعام الحق اعوان شامل تھے۔ سب نے مل کر جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا کیمپ کا دورہ کیا۔ محترم شمس الدین نے اردو بلاگرز کا بڑا ہی پرتپاک استقبال کیا۔ اپنی سوشل میڈیا ٹیم اور ان کے کام کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ سب بلاگرز کے لئے بڑا ہی منفرد تجربہ تھا کیوں کہ جماعت اسلامی کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر ہے کہ یہ ایک روائتی مذہبی جماعت ہے جو شائد اس قسم کے جھمیلوں سے دور ہی رہتی ہو، کیمپ کا منطر واقعی حیران کن تھا،پانچ سو زائد افراداپنے اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف کار تھے ، بڑے منظم انداز میں بیٹھے تمام افراد فیس بک ،ٹویٹر اور دیگر سوشل سائٹ پر اجتماع میں ہونے پروگرامات کی اپ لوڈنگ کر رہے تھے۔ ہماری موجودگی کی اطلاع پر جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی کیمپ میں آگئے اور ہمیں خوش آمدید کہا اور اجتماعات کی تفصیلات،پروگرامات اور انتظامات سے
آگاہ کیا ،شمس الدین نے بڑی پر تکلف تواضع کی۔ یہاں سے اردو بلاگرز تو لاہور میں موجود معروف اردو بلاگر نجیب عالم کی طرف سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کے لئے چلے گئے لیکن میں اور میرے ایک دوست نے فیصلہ کیا کہ اجتماع کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور عام افراد سے مل کر ان کی رائے لی جائے ۔ہم نے عجیب منظر دیکھا،مینار پاکستان کے پورے گراﺅنڈ کو ایک منظم شہر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ایک شہر کی طرح گلیاں ،بازار ، دکانیں ،رہائش گاہیں موجود تھیں ، ہر کیمپ پر شناخت کے لئے متعلقہ ڈویژن اورضلع کا نام تحریر تھا ،عارضی طور پر بنے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں بیت الخلا اور وضو گاہیں جماعت اسلامی کے منظم کارکنوں کی تربیت کی گواہی دے رہی تھیں۔ایک ستر سالہ بزرگ بیت الخلا کی طرف جاتے ،وہاں سے خالی لوٹا اٹھاتے اور نیا بھرا ہویا لوٹا اس کے باہر رکھ دیتے ہمارے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا ۔ میں نے پوچھا باباجی ! یہ جماعت اسلامی والوں نے آپ کو اس عمر میں کس کام پر لگا دیا ، خیبر پختون خواہ کے دور افتادہ گاﺅں سے تعلق رکھنے والے اس بزرگ کے جواب نے ہمیں لاجواب کردیا،ٹوٹی پھوٹی اردومیں کہنے لگے مجھے کسی نے نہیں کہا اس کام کے لئے ، میں خود اس کام کو سرانجام دے رہاں ہوں کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور جنت میرے لئے آسان ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اللہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں ،نماز کا وقت ہوتا ہے تو سارے کام چھوڑ کر نماز کے لئے دوڑ پڑتے لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ کھانے پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کا نظم و ضبط اور بر وقت ترسیل ، مغرب اور عشاءکی درمیانی ایک گھنٹہ میں وہاں پر موجود لاکھوں افراد کو بیک وقت کھانے کی فراہمی ایک ایسا منفرد تجربہ تھا جو شائد پھر کبھی حاصل نہ ہو سکے۔ مرکزی کچن سے ایک سو سے زائد گاڑیاں ایک دم رہائشی کیمپوں پر پہنچ جاتیں اور وہاں موجود کھانے کی تقسیم کے ذمہ دار ان اس کو ایسے تقسیم کر دیتے کہ کوئی محروم نہ رہتا اور اگلے پھیرے میں وہی گاڑیاں خالی دیگیں مرکزی کچن واپس لے جاتیں اس طرح ایک گھنٹہ میں لاکھوں افراد کھانا کھا لیتے ۔سینکڑوں کارکن جو صفائی کی ڈیوٹی پر مامور تھے بڑے بڑے پلاسٹک بیگ لئے اور ہاتھوں پر پلاسٹک دستانے چڑھائے خیموں کے اس شہر میں ہمہ وقت موجود تھے ،ادھر کسی نے کاغذ کا بھی کوئی ٹکڑا گرایا ،فوراً ہی اچک لیا۔ایک صاحب نے ہمیں بتایا کہ یہ بندہ جو صفائی والا بیگ اٹھائے پھر رہا ہے ، سابق رکن اسمبلی ہے ،بس ڈیوٹی لگ گئی تو کام شروع کر دیا۔ جماعت اسلامی کے اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے آئے لوگوں میں دو ماہ کے بچے سے لے کر نوے سال تک کی عمر کے بزرگ نظر آئے ، چمکتے چہروں والے جماعت اسلامی کے کارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا میرے لئے یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو شائد میں ساری عمر نہ بھلا سکوں۔جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار سے میں نے پوچھا،اب جب کروڑوں روپیہ ایک حلقہ میں خرچ کر کے لوگ رکن اسمبلی منتخب ہوتے ہیں ،آپ کیسے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا امیر کرائے کے مکان میں رہتا ہے ،دو دفعہ صوبے کا سنیئر وزیر رہ چکا ہے،بات پیسہ کی نہیں لوگوں کے سمجھ میں آنے کی ہے ، جماعت اسلامی کے درجنوں افرادسن ستر سے اسمبلیوں اور سینٹ میں موجود رہے ہیں،کیا کبھی جماعت اسلامی کے کسی ایک رکن پر بھی کرپشن کا داغ کسی نے دیکھا ہے،بس لوگ ایک دفعہ ہمارا ساتھ دیں ،انشاءاللہ پاکستان کی تقدیر ہی بدل دیں گے ، ہم نیا پاکستان نہیں بلکہ اسی کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنا نا چاہتے ہیں ،ہم اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ کا نظام قائم کرنے کے لئے حکومت کرنا چاہتے ہیں اور دیکھنا ایک دن ہمارا یہ خواب پورا ہوگا،ویسے میری رائے ہے کہ اگر پاکستان کے لوگوں نے زرداری اور شریف خاندان جیسے لوگوں کو منتخب کیا ہے ،انہیں بھی ایک موقع ضرور دینا چاہئے ۔


انقلاب ان فیصل آباد ، ہم بھی وہیں موجود تھے

میڈیا کی مہربانی سے پچھلے دو ماہ میں قادری صاحب اور عمران خان گھر گھر پہنچ چکے ہیں ،جو نہیں بھی جانتا تھا ان دھرنوں کی بے پناہ کوریج نے ان سے متعارف ہوچکا تھا ،دھرنوں سے دل بھرنے کے بعدعمران خان کے بعد محترم قادری صاحب نے بھی شہر شہر جاکر جلسوں کا پروگرام بنا لیا اور ان کی پہلی منزل فیصل آباد قرار پائی۔میں قادری صاحب اور عمران خان کا مخالف نہیں ہوں ،دونوں نے پاکستانی سیاست میں اپنی بہترین جگہ بنا لی ہے اور روائتی سیاست کی جگہ نئے نئے آئیڈیاز متعارف کروائے ہیں اور ان کی پروموشن میں ان کی متحرک ترین میڈیا ٹیموں،وسائل کا بے انتہا اور بے دریغ استعمال اور پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کا بہت ہاتھ ہے ۔ان کی میڈیا ٹیموں کی کارکردگی واقعی قابل تعریف ہے اور الیکٹرانک میڈیا جس انداز سے ان کا ساتھ دے رہا ہے وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ڈی چوک اسلام آباد،لاہور ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ہونے والے جلسوں کی جس انداز میں کوریج کی جارہی ہے وہ آج تک پاکستان کے حکمرانوں کو بھی نصیب نہیں ہو سکی قطع نظر اس بات کے کہ اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما
ہیں ۔
 یہاں میرا اصل مدعا ان حقائق کو سامنے لانا ہے جو میں نے پچھلے دو تین دنوں میں اکھٹے کئے ہیں اور آپ کو بتا نا ہے الیکٹرانک میڈیاکی بڑی بڑی کرینوں اور اب فضائی ویڈیو گرافی کوریج کی وجہ سے چند ہزار کے مجمع کو کیسے لاکھوں کا کراؤڈ بنا دیا جاتا ہے، اس مقام پر اگر ایک ہزار افراد سما سکتے ہیں تو یہ فضائی کوریج اسے ایک لاکھ تک لے جاتی ہے اور دنیا بھر میں دیکھنے والے حیرتوں کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔
یہاں میں آپ کو چند تصویر کے ذریعے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ دکھاتا ہوں اور پارک میں لگائی جانے والی کرسیوں کتنی تعداد میں لگ سکتی ہیں اور ارد گرد کی وہ سڑکیں جن پر محترم طاہرالقادری صاحب نے تین لاکھ افراد جمع ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہاں کتنے لوگ آ سکتے ہیں اور چینلز نے کیا تعداد بتائی ہے۔ اس سے پہلے دھوبی گھاٹ کا مختصر سا تعارف یہ ہے کہ یہ پارک قیام پاکستان سے قبل سے یہاں موجود ہے اور شہر کے قلب میں واقع ہے جبکہ تاریخی گھنٹہ گھر سے محض نصف کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔بانی پاکستان محترم قائد اعظم قیام پاکستان سے قبل یہاں خطاب کر چکے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز یہاں سے کیا،اس گراؤنڈ کو اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے ہر بڑے سیاسی لیڈر نے یہاں خطاب کیا، اس تصویر کودیکھیں

 یہ گوگل سے لیا گیا دھوبی گھاٹ اور اس کے گردو نواح کا میپ ہے،اس سے آپ کو دھوبی گھاٹ گراؤنڈ کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ ہو جائے گا۔ پہلے یہ سارا ایک ہی گراؤنڈ تھا اور اس میں ہر جلسہ کے لئے سٹیج بنایا جاتا تھا جبکہ اب ضلعی انتظامیہ نے یہاں پختہ سٹیج تعمیر کروا دیا جو ایک بڑے ھال کی چھت ہے ،ھال میں نوجوانوں کے لئے جم قائم ہے،اب گراؤنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، تین حصہ جلسہ گاہ ہے جبکہ ایک حصہ میں بچوں کے لئے جھولے وغیرہ لگا دیئے گئے ہیں جب کوئی جلسہ ہوتا ہے تو ضلعی انتظامیہ حفاظتی تدابیر کے طور پر گراؤنڈ کے تین حصوں میں سے ایک حصہ جس طرف سٹیج بنا ہوا ہے کو سیکورٹی حصار کا درجہ دے کر خاردار تاروں اور آہنی پائپوں سے بند کر دیتی ہے یو ں سٹیج اور پنڈال کے درمیان تقریباً 100فٹ سے زائد جگہ خالی رہ جاتی ہے جہاں کسی صور ت بھی پنڈال سے کوئی فرد داخل نہیں ہو سکتا۔اب جو جگہ وہاں خالی رہتی ہے اس میں مردوں کے لئے کرسیاں لگائی جاتی ہیں جبکہ جو حصہ پیچھے والابچوں کا پارک ہے وہاں خواتین کے کرسیاں لگائی جاتی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے نواز شریف،عمران خان ، سنی اتحاد کونسل اورسراج الحق کے جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی اپنائی گئی۔ایک ماہر تعمیرات نے اس حصہ کی جگہ کو باقاعدہ ناپنے کے بعد دو طرح سے کرسیاں لگا کے دکھائی ہیں جوآپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

 یہاں کسی طور پر بھی پانچ ہزار سے زائد کرسی نہیں لگائی جا سکتی جبکہ خواتین کے لئے مخصوص حصہ میں بہت زیادہ بھی ہوں تو دو ہزار افراد کے لئے کرسیاں لگائی جا سکتی ہیں۔اس طرح اس پارک میں کسی طور پر سات ہزار سے زائد کرسیاں نہیں لگائی جا سکتیں، میرا ان پانچوں جلسوں کی منتظمین اور سارے الیکٹرانک میڈیا کو چیلنج ہے کہ وہ میری بات کو جھٹلا کے دکھائیں مگر اس کے باوجود ایک چینل نے کہا کہ تیس ہزار کرسیاں لگ گئی ہیں،دوسرے نے بیس ہزار اور تیسرے نے تعداد اٹھارہ ہزار بتائی جبکہ منتظمین کرسیوں کی تعداد پچیس ہزار بتاتے رہے۔اب آپ اس تصویر کو دیکھیں جو ہمارے فوٹو گرافر نے دوپہر ایک بجے بنائی ہیں ،آپ زوم کر کے کرسیاں گن سکتے ہیں،


پھر قوم کو ان فضائی کوریج کے ذریعے کیوں بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔زوار چوہدری نامی ایک نیا دانشور کراچی بیٹھ کر تبصرہ کر رھا تھا کہ جلسہ گاہ میں پچاس ہزار افراد کی گنجائش ہے اور لاکھوں لوگ باہر کھڑے ہیں۔
اب آتے ہیں جلسہ گا کی باہر کی طرف جہاں بقول علامہ صاحب تین لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے،اگر آپ دوبارہ گوگل والا میپ دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ جلسہ گاہ کے سٹیج کے بالکل بیک پر جی سی یونیورسٹی ہے جہاں علامہ صاحب کے بقول وہ بھی یہیں پڑھتے رہے ہیں ، دھوبی گھاٹ گراؤنڈ اور یونیورسٹی کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے،سٹیج سے دیکھیں تو بائیں طرف محلہ دھوبی گھاٹ ہے ، سٹیج کے بالکل سامنے پارک کے اختتام پر میونسپل لائبریری کی نو تعمیر شدہ بلند عمارت ایستادہ ہے،اس کا مطلب ہے کہ باہر کھڑے ہونے کے لئے صرف پارک کے دائیں طرف والی دو روریہ سڑک ہے جسے کوتوالی روڈ کہا جاتا ہے موجود ہے مگر اس کی صورت حال یہ ہے کہ اس دوریہ سڑک کو لائبریری سے لے کر جی سی یونیورٹی چوک تک قناتیں لگا کر بند کر دیا گیاتاکہ کوئی بندہ کسی اور طرف سے جلسہ گاہ میں داخل نہ ہو سکے ،جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لئے اسی دورویہ سڑک کے جلسہ گاہ والی طرف سے لائبریری کے پاس سے ایک واک تھرو گیٹ لگا کر باقی حصہ کو بیریئرز لگا کر بند کیا گیا تھا،بس یہی داخلی راستہ تھا اور اس کو سڑک پر لائبریری سے جلسہ گاہ کے مین گیٹ تک بیریئرز کی تین رویہ لائنیں بنائی گئی تھی تاکہ لوگ قطار میں جلسہ گاہ پہنچیں اور بد نظمی نہ ہو سکے یہیں ایک منی ٹرک پر ساؤنڈ سسٹم کا آخری حصہ نصب تھا ۔اس کا مطلب یہاں کسی بندے کی کھڑے ہونے کی گنجائش ہی نہیں۔اسی سڑک کا دوسرا خالی حصہ گزشتہ جلسوں کی طرح جی سی یونیورسٹی سے لے کر امین پور بازار تک مکمل طور پر انتظامیہ کے کنٹرول میں تھا اور وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا،انتظامیہ کے پلان کے مطابق سبھی جلسوں کے لئے یہی حکمت عملی کے اپنائی گئی تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میں ایک متبادل روٹ موجود رہے۔آپ چنیوٹ بازار سے امین پور بازار تک آسکتے ہیں آگے سارا راستہ انتظامیہ نے اسی حکمت عملی کے تحت بند کر دیا تھا جب محترم طاہرالقادری صاحب کہہ رہے تھے کہ چنیوٹ بازار تک تین لاکھ لوگ کھڑے ہیں تومیں اپنی موٹر سائیکل پر چنیوٹ بازار سے امین پور بازار کی طرف جارہا تھا اور امین پور بازار جہاں سے بیریئر لگا کر آگے جانے کا راستہ بند کر دیا تھا وہاں جلسہ کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔
میں ایک عام شہری ہوں،میرے لئے طاہرالقادری،عمران خان سمیت سبھی سیاسی لوگ قابل احترام ہیں مگر جب جلسہ کے اختتام پر علامہ صاحب کی طرف سے لوگوں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتے ہوئے جلسہ گاہ کو انسانی سمندر اور جلسہ گاہ سے باہر تین سے چار لاکھ افراد کی موجودگی کی خبر نے مجھے حیرت زدہ کر دیا،مجھے حیرت تو اس الیکٹرانک میڈیا پر بھی ہے جو جانتے ہوئے بھی ،دیکھتے ہوئے بھی کیا کیا سے بنا رہا ہے۔
ویسے میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ دھوبی گھاٹ اور جی سی یونیورسٹی سے چنیوٹ بازار تک کے علاقہ کو انسانی سمندر بنتے دیکھا ہے اور میرے شہر کے باسی اس کے گواہ ہیں،پہلی دفعہ سن1977ء میں جب قومی اتحاد کا انتخابی مہم کا جلسہ تھا اور دوسری دفعہ 1986ء میں جب محترمہ بے نظیربھٹو طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان آئی تھیں اورمینار پاکستان پر ہونے والے جلسہ کے بعد پنجاب کا دورہ کرتے ہوئے فیصل آباد آئیں تھیں جبکہ بزرگ کہتے ہیں 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو جلسہ بھی بہت بڑا تھا ۔

سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ھے

سارا کچھ ایک طے شدہ پلان اور سکر پٹ کے تحت ہو رہا ہے ، بلانے والوں نے بلایا ہے اور جہاں جہاں تک حکم ہوگاوہاں وہاں ان پر دروازے کھلتے جا رہے ہیں ، جہاں ضرورت ختم ہو جائے گی ان کو واپسی کا حکم ہو جائے گا ، نہ نیا پاکستان بنے گا نہ انقلاب آئے ، جس "طوطے" میں ان سب کی جان ہے اسے پھر سے اڑا دیا جائے گا ،چند ردوبدل کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق آجائے گا ، انقلاب ، انصاف اور نیا پاکستان بنانے کے لئے اسلام آباد کا رخ کرنے والے غریب عوام کھجل خوار ہو کر  گھروں کو واپس آ جائیں گے ــــــــــلیکن طوطا آزاد ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن قوم ان سب کو مت بھولے جنہوں نے اسے تریسٹھ سالوں میں پہلی بار یوم آزادی بھی سکون سے منانے نہیں دیا اور پندرہ دن تک قوم کے اعصاب کو سولی پر ٹانگے رکھا ۔۔۔۔۔۔۔اس ملک کو کچھ نہیں ھو گا انشاء اللہکیونکہ اس کی بنیادوں میں لاکھوں ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی عصمتوں کا خون شامل ہے ۔ تو سلامت رہے گا سدا میرے پاک وطن

قائد واقعی ایسے ہوتے ہیں

میری اس سے کوئی ذاتی سناشائی نہیں تھی،کبھی ملا بھی نہیں ،بس اتنا پتہ تھا کہ سابق ایم پی اے اور جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ہیں،
کہیں کبھی کسی خبر میں ان کا نام سننے میں آجاتا تھا ،گزشتہ روز اچانک پاکستان کے تمام چینلز پر ان کے دریائے کنہار بالاکوٹ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے بہہ جانے کی خبریں بریکنگ نیوز کی شکل میں آنا شروع ہو گئیں، سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے جذبات ایسے تھے کہ رونا آرہاتھا، یہی وہ جذبہ ہے جو جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے ، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ہر دور میں قربانی اور عزم و استقلال کی مثالیں قائم کی ہیں۔گزشتہ برس گجرات میں بچوں سے بھری سکول وین کو آگ لگنے کا سانحہ پیش آیا تو بچوں کو آگ سے نکالتے خود جل کر شہید ہونے والی سکول ٹیچر کا گھرانہ بھی جماعت اسلامی سے ہی تعلق رکھتا تھا، میں حیران ہوں اس عظیم انسان کی بہادری پر جس کے اپنے معصوم بچے ہیں مگر کسی کے بچے کو بچاتے بچاتے اپنی قربانی دے دی۔یہی وہ جذبہ ہے جو میرے جیسے لوگوں کو جماعت اسلامی اور اس کے کارکنوں سے محبت پر مجبور کر دیتا ہے، حیرانی ہے جو شخص سندھ اسمبلی کا رکن رہا ہو اپنے آپ کو ایک استاد کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہو اور بطور استاد اور شفیق باپ ان بچوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر پر لے کے جارہا ہو، قائد واقعی ایسے ہوتے ہیں،

میاں صاحب ، خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے !


میری اس یہ پہلی ملاقات تھی ، لاپتہ افراد کے لئے ایک احتجاج کے سلسلہ میں وہ فیصل آ باد کے ضلع کونسل چوک میں موجود تھی،مجھے اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی نظر آئی جس نے خود مجھے رنجیدہ کردیا مگر جب اس نے میرے ساتھ گفتگو شروع کی تو بلا کااعتماد، سنجیدگی اورمتانت اس کے چہرے پر عیاں تھی،اپنی زندگی کے سب سے بڑے کرب سے گزرنے کے باوجود وہ اوروں کی بات کر رہی تھی ، وہ دوسروں کا انصاف فراہم کروانے کے لئے پر عزم تھی ، وہ ایک ایک کا نام جانتی تھی،ایک ایک بیوہ ماں اور بوڑھے باپ کا نام لے کر بتا رہی تھی کہ کس کس کے جوان بیٹے کو لاپتہ ہوئے کتنی کتنی دیر ہو چکی ہے، وہ جس ہمت سے میرے سامنے کھڑی تھی مجھے نہیں حوصلہ تھا کہ ان کا سامنا کرسکوں ۔مجھے میرا اپنا وجود اس کا مجرم لگ رہا تھا کیونکہ میں اس معاشرہ کا فرد ہوں جہاں آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ جیسی خواتین ہمارے سامنے انصاف کی طلب گار ہیں مگر ہم ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے مگرآفرین ہے اس بپر جو اپنے سر کا تاج گنوا کر بھی وہ ناامید نہیں اسے یقین ہے کہ اگر اسے انصاف نہیں ملا مگر وہ باقی دکھیاروں کو انصاف کے حصول میں مدد گار ضرور بنے گی۔
آمنہ مسعودجنجوعہ کا خاوند جب آمر پرویز مشرف کے دور میں لا پتہ ہوا تو کبھی نہ گھر سے نکلنے والی اس باپردہ خاتون نے اپنے خاوند کی تلاش کا بیڑا اٹھایا اورسالوں سے اپنے گمشدہ خاوند کی تلاش میں ماری ماری بھٹکتی رہی مگر کسی کو اس پررحم نہ آیا۔نام نہاد این جی اوز کا لبادہ اوڑھ کر مال پانی بنانے والی مغرب زدہ خواتین کو بھی اس کی مدد کی توفیق نہ ہوئی اور جب اس کو اس کے خاوند کے قتل کیاطلاع مل گئی تو اس نے تھک ہار کر بیٹھنے کی بجائے ان سینکڑوں بے سہارا خواتین کا سہارا بننے کا فیصلہ کر لیا جن کے پیارے لاپتہ ہیں اور اس سلسلہ میں کبھی وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکا رہی ہوتی ہیں کبھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا اورکبھی شہر شہر امن واک مگر آج اسلام آباد کی فضاؤں نے جو منظر دیکھا اور ناقابل بیان ہے ،اس آمنہ کو پارلیمنٹ کے سامنے سڑکو ں پر گھسیٹا گیا۔ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،وردی پوش اخلاقیات تمیز احترام کے معنی بھول گئے،بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑادیں،خواتین اہل کاروں نے آمنہ مسعود پر مکوں کی بارش کردی اور اسی ہلڑ بازی میں گھسیٹتے ہوئے آمنہ مسعود کو گاڑی میں ڈالا گیا اور مظاہرین پر تاک تاک کر لاٹھیاں برسائی گئیں اور یہ سب ہوا بھی نواز شریف کے دور میں ، لگتا ہے نواز شریف کو ان مظلوموں کو لے ڈوبیں گی،ظلم آخر ظلم ہے اور پھر مظلوم کی آہ تو عرش ہلا دیتی ہے ،مجھے یاد ہے پرویز مشرف کی طرف سے نواز شریف کی حکومت کے خاتمہ سے صرف چند ماہ پہلے لاہور میں جماعت اسلامی کے بوڑھے کارکنوں کو انہیں میاں صاحبان کے حکم پر لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا،سیاسی کارکنوں پر اس تشدد کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی تب ایک بوڑھے کو میں نے بددعا دیتے دیکھا تھا،اس نے دونوں ہاتھ پھیلاکر چہرہ آسمان کی طرف کیا ہوا تھا، پتہ نہیں وہ زیر لب کیا بڑبڑا رہا مگر مجھے ایسا لگا کہ وہ اپنے رب سے ہم کلام ہورہا ،جیسے اللہ تبارک تعالی کے کانوں میں کوئی بات کہہ رہا ہے اور پھر چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ چند ماہ بعد ہی میاں صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے اورپھر انہیں جہاز کی کرسی سے باندھ کر جدہ پہنچایا گیا ۔مجھے آج پھر وہ منظر یاد آرہا ہے ،
میاں صاحب خدا کے لئے بچ جاؤ ان مظلوموں کی بددعاؤں سے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالچ کے اندھے اور تبدیلی کے خواہش مند

کل رات فیملی کے ہمرا فیصل آباد کے بڑے پیزا ریسٹورانٹForks N Knives - Pizza Kitchen جانے کا تفاق ہوا ۔وہاں اتنا رش ہوتا  ہے کہ دو سو سے زائد سیٹس ہونے کے باوجود اپنی باری کے لئے  بیس پچیس منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔پیزا کے ساتھ دی جانے والی کولڈ ڈرنک انتہائی غیر معیاری تھی ،یوں سمجھ لیں کہ  پانی کے ایک گلاس میں  کوک کا ایک گھونٹ  مکس کر دیا گیا تھا،میں نے منیجر کو بلایا اور کہا  اس سے صرف ایک گھونٹ پی کر دیکھ لیں،کہنا لگا مجھے معلوم ہے سر ، ہماری مشین خراب ہے،میں نے کہا کہ اگر آپ کی مشین خراب ہے تو لکھ کر لگا دو یا لوگوں کو کولڈ ڈرنک دینے سے معذرت کر لو ، دوسری صورت میں لوگوں کو  شیشے والی بوتل دو حالانکہ ہونا بھی یہی  چاہیے کہ ہر فرد کو جراثیم سے پاک علیحدہ علیحدہ بوتل ملے ناکہ ایک بڑے ڈرم سے گلاس بھر بھر لوگوں کو  دیئے جائیں،اگر دو سو روپے والا پیزا تم لوگوں کو سات سو  روپے میں فروخت کر رہے ہو تو کم از کم اتنا تو کر لو کہ  لالچ میں اندھے ہوکر لوگوں کی صحت نہ برباد کرو۔
میرا بدلتا موڈ دیکھ کر اس نے فوری طور پر پاس سے گزرتے ہوئے ویٹر کو روکا اور کہا کہ سر کے لئے فوری طور پر فرج سے بوتل نکال کر لاؤ،میں نے اس کی ضرورت نہیں  اور نہ یہ آپ کا قصور ہے بلکہ قصور ان مالکان کا ہے جو اتنا کما کر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اور لالچ میں میں پڑے ہوئے ہیں اور واقعی ایسے لوگوں کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی یا پھر وہ حکومتی ادارے  جن کی ذمہ داری ہے چیک اینڈ بیلنس کی مگر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے کیونکہ ان کو ان کا حصہ انتہائی عقیدت سے ان کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے لیکن میری نظر میں سب سے بڑے قصور وار ہم ہیں جو پیسے ادا کرنے کے باوجود شکائت نہیں کرتے ،ظاہر اس وقت وہاں دوسو سے زائد کھا رہے تھے اور اتنے ہی اپنی باری کے انتظار میں باہر کھڑے تھے مگر اسٹیسس کے مارے شکائت کرنا  شائد توہین سمجھتے ہوں گے یا محسوس کرتے ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے مگر یہی لوگ جب ریڑھی والے سے مونگ پھلی لے رہے ہوں تو ایک دانہ غلط آنے پر اس کو  ماں بہن کی گالیاں تک دے ڈالتے ہیں مگر یہاں اپنے اسٹیسس کو  بچانے کے لئے چپ چاپ کھائے جارہے ہیں حالانکہ مینیجر نے اقرار کیا کہ کہ ان کی مشین کی خرابی ہے جبکہ نہ تو مشین خراب تھی اور نہ کوئی اور مسئلہ ،صرف لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ لوگ سب سے زیادہ پاکستان میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں،

Pages