عبداللہ آدم

کچھ بھائیوں دوستوں کی نذر

گزرنے والے سب دنوں میں
دن کے مشکل ان پَلوں میں،
جن کا نقشہ زباں سے کھینچوں ،
تو چُوک جاؤں!

اُن دنوں میں ان پلوں میں
یاد آنے کی انتہائیں
دل سے نکلی سب دعاائیں
اپنے اُن دوستوں کا صدقہ،
جو رات دن کے عظیم ہیکل کی سیر کرنے
اجنبی منزلوں کی جانب،
اک تھکاوٹ بھرے سفر کا
آج بھی زاد راہ ہیں،
ہمسفر ہیں، دل کی چاہ ہیں!

جو سر کو سجدوں میں دیر تک گرائے
خدا سے گر کچھ بھی مانگتے تھے
تو خود سے پہلے وہ زبانیں
ہمارے ناموں پہ لڑکھڑاتیں
خود سے پہلے ان کے آنسو
!ہمارے ناموں پہ گرتے رہتے

کہ جن کی معیت میں
ہم نے سیکھا
نظر بچا کر سر اٹھا کر
اپنا حصہ بھی دوستوں کو
ایک لمحہ رُکے بِنا دان کر کے،
خوشی کی اس انتہا کو پانا،
جس کا نقشہ
زباں سے کھینچوں تو چُوک جاؤں!

جن سے ہم نے لا الٰہ کا
"راہ حق میں سر کٹا" کا
سیل باطل میں سدِ راہ کا
ایک ایسا سبق لیا تھا
جو آج بھی عشق کا قرینہ
جو آج بھی نغمہ بقا ہے
جو اج بھی زندگی کا مقصد
جو آج بھی دل کا رہنما ہے!
گزرنے والے سب دنوں میں،
دن کے مشکل ان پَلوں میں
جن کا نقشہ زباں سے کھینچوں
تو چُوک جاؤں !!!

عبداللہ آدم
21 اپریل 2014

مذہبی حلقوں کا طالبان مخالف استدلال


مذہبی حلقوں کا طالبان مخالف استدلال جس چیز پر بنا کرتا ہے وہ اسلامی ریاست کے خلاف قتال یعنی خروج کی بحث   ہے۔خروج ایک اسلامی ریاست یا خلیفۃ المسلمین  کے خلاف برسرپیکار ہو جانے کو کہا جاتا ہے اور اسلامی تاریخ میں اس کی مثالیں ملتی ہیں مثلا خوارج کا پورا فنامنا اور اس کے علاوہ عبدالرحٰمن بن اشعت اور نفس زکیہ و غیرھم کا خروج۔
اسلامی ریاست کے احکامات کی تطبیق ہماری آج کی مسلم قومی ریاستوں(نیشن سٹیٹس) پر لاگو کرتے ہوئے روایتی دینی حلقے ایک طرف تو اس انتہاء کو چلے گئے کہ ان جمہوری قومی ریاستوں کے حکمرانوں کو اولوالامر کے مصداق ٹھہرا دیا (مثلا سلفی) اور دوسرا گروہ مخالف سمت اتنا آگے بڑھ گیا کہ ان ریاستوں کے خلاف کسی مسلح جدوجہد کو خلافت اسلامیہ کے خلاف خروج سے جا ملایا (سلفی، بریلوی ، شیعہ سب اس تعبیر کے بہاؤ میں ہیں )۔
اس ضمن میں اصل مسئلہ اسلامی ریاست یا خلافت کے حوالےسے شرعی احکامات کو آنکھیں بند کر کے قومی ریاستوں پر چسپاں کرتے چلے جانا ہے!
جمع نقیضین کے اسے عجوبے  کا نتیجہ ہمیں کبھی زرداری اور مشرف جیسوں کے لیے اولو الامر کا خطاب سننے کی صورت میں  ملتا ہے اور کبھی لشکر صلیب کے ساتھ مل کر لاکھوں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و عفت برباد کرنے والوں کے لیے ملت کے محافظ اور مجاہد کے القابات جاری ہوتے ہیں۔

جناب ِ غامدی و "تلامذہ" اگر کوئی نئی بات کریں تو اور بات ہے ، لیکن اسلام کے سواد اعظم کی سوچ کو اپنی سوچ قرار دینے والے یہ روایتی مذہبی حلقے جانے کس طرح دارالاسلام کی شرائط کو ان موجودہ قومی مسلم ریاستوں میں پورا ہوتا دیکھ لیتے ہیں کہ  عین دارالسلام کے احکامات ہی کے یہاں جاری کرنے کو درست سمجھتے ہیں اور اسی پر بس نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام کے نظام حکم، نظامِ تجارت و تعلیم و غیرھم کے یہاں جاری نہ ہونے اور مسلمانوں کی نسل کشی پر کوئی لوگ ہتھیار اٹھا لیں تو انہیں خوارج کے القابات بھی شاید علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ یا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور سمجھ کر ہی عطا فرماتے نظر آتے ہیں۔
ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اس سب کچھ کے ساتھ ہی ساتھ یہ سارے مذہبی دھڑے بڑے دھڑلے سے خود کو نفاذ شریعت کی جدوجہد کا ٹھیکیدار بھی بتاتے ہیں،  آج دن   تک اس رستے میں اپنی "طویل اور انتھک جدوجہد" کی کہانی بھی سناتے ہیں (جس میں بس اوقات بسا اوقات دوسروں کی کاوشوں کا استخفاف یا نفی کی بساند بھی آ رہی ہوتی ہے۔ ) اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف "میری والی شریعت" کا ڈھکے چھپے رونا بھی روتے ہیں۔ پھر گورے کے دیے فریم ورک میں رہتے ہوئے خالصتا "پرامن جمہوری" طریقے سے شریعت کے نفاذ کی عظیم منزل بھی حاصل کرنے کا عزم صمیم اور اعادہ بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔ بس بندوق کی بات کی نہیں اور خروج کے فتاویٰ آئے نہیں !!!
ان طبقوں کی خدمت میں چند سادہ سوالات عرض ہیں::
۔۔فقہائے عظام اور ائمہ سلف جن پر ہماار اتفاق ہے وہ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ آیا ایسا عملا ممکن ہے کہ اسلام ایک ریاست کے نظم کے طور پر عملا اس میں نافذ نہ ہو پھر بھی وہ ایک ریاست اسلامی ہو اس کا حکمران شرعی اولو الامر ہو۔ ۔۔ علمائے سلف اور فقہائے امت دارالاسلام کی شرائط کا اطلاق دار کی موجود صورتحال پر کرتے ہیں یا اقرار باللسان ہی سے اسلامی ریاست مان لی جاتی ہے؟؟کیا علمائے امت کے ہاں ایک ایسی اسلامی ریاست کا تصور ہے جو محض نظریاتی ہو، عملی طور پر کفار کے قوانین، کفار کے نظام اس میں نافذ ہوں اور  پیشانی پر کلمہ طیبہ اس کے اسلامی ریاست تسلیم کیے جانے کی  سند دیتا  ہو!۔۔یہ تضاد کیوں ہے کہ ایک طرف اولوالامر اور اسلامی ریاست قائم ہے اور دوسری طرف اس اسلامی ریاست میں اسلام کے لیے جدوجہد ہو رہی ہے !! یہ دونوں باتیں تاریخ اسلام میں اس سے پہلے کب ایک ساتھ تسلیم کی گئی ہیں؟؟
۔۔ کیا ایک ریاست کو اسلامی تسلیم کرنے کے بعد اس میں اسلام کی جدوجہد کرنا کھلا تضاد نہیں؟؟ اگر تسلیم کر لیا ہے تو جدوجہد کس لیے اور اگر جدوجہد کی جا رہی ہےتو اسلامی ماننا چہ معنی دارد؟؟
۔۔نفاذ شریعت، اقامت دین، یا خلافت کے قیام کے ایک ہی مقصد کے لیے دو طریقے اتنا الگ حکم کیوں کر رکھتے ہیں کہ ایک طرف جمہوری طریقہ  مبارک اور عین اسلامی اور دوسری طرف قتال کا طریقہ  خروج اور فساد فی الارض قرار دیا جاتا ہے؟؟ اس تفریق پر انگریز کے دیے گئے معیارات کو چھوڑ کر قرآن و سنت و فہم سلف سے کیا دلائل ہیں؟؟
۔۔۔ آخری سوال یہ کہ ایک جگہ جہاں دین سارے کا سارا للہ کے لیے نہ ہو وہاں اسلام کا نظام نافذ کرنے کے لیےلڑنا(لیکون الدین کلہ للہ)  کیا کہلاتا ہے؟؟خروج یا جہاد!!دوسری طرف  نفاذ اسلام کے لیے جمہوری جدوجہد کیا ہے؟  اسلام کا مزاج اور طریقہ کار یا انسانیت پرستی کے مارے ہوئے مغرب کی سوچ و فکر کا سیاسی مظہر؟؟
۔۔۔اعلائے کلمۃ اللہ  کے لیے  اگر جمہوری جدوجہد(کم از کم) غیر منصوص ہونے کے باوجود ایک میسر حکمت عملی ہو سکتی ہے تو قتال منصوص و معروف ہونے کے باوجود بھی ہر صورت میں دھتکار اور تھتکار کا نشانہ ہی کیوں؟؟  اسے بھی ایک حکمت عملی کے طور پر کیوں نہیں لیا جا سکتا۔
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
(صاحب تحریر اسلامی تحریکوں کا ایک طالب علم، یا شاید یہ بھی نہیں کہلا سکتا!تحریر کا مقصد ہر حال میں قتال کی دعوت دینا نہیں  بلکہ صرف  دلائل کی بنیاد پر صورتحال کو معروضی انداز میں دیکھنےاور اس سلسلے میں شرعی معیارات کے التزام کرتے ہوئے تجزیہ کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلانے  کی ایک  کوشش ہے۔)
13فروری 2014ء

راہ یقین، زاویہ نگاہ، شہادت فی سبیل اللہ

کامیابی اور ناکامی کو مادے کے ترازو میں تولنے والے کبھی بھی مابعد الموت کی حقیقتوں پر یقین نہیں کر سکتے تو موت میں کامیابی پا جانے کے فلسفے کو کیسے سمجھ سکیں گے ، کبھی نہیں !
اس فلسفے کی جڑیں ایک طرف ایمان بالآخرۃ میں پیوست ہیں تو دوسری طرف اُس ذات پر لا زوال یقین کے دل کے نہاں خانوں میں گندھے ہونے کا تقاضا کرتی ہیں۔ نہ تو کمزور ایمان والا ایسی استقامت کااہل ہو سکتا ہے اور نہ ہی یقین کی راہ میں لڑکھڑانے والے یہ مقام عالی شان سہار پاتے ہیں !
راہِ ابراہیم تو بلال و خباب کا سا یارا مانگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گوشت ہڈیوں سے الگ ہوتا، پگھلتا ہے تو کامیابیوں کی نوید ملتی ہے،کہیں آل یاسر کو کہا جاتا ہے "صبرا صبرا یا آل یاسر ! آل یاسر صبر کرو تمہارا بدلہ جنت ہے!" پھر کہیں خبیب سامنے ہوتے ہیں " اگر انگ انگ کاٹ لیا جائے تو بھی گوارا نہیں ہے کہ نبیؐ کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بعد شہادت شاہزادوں کو ایک کفن کا کپڑا بھی پورا نہ ہو تب مقام آتا ہے کہ خون کا قطرہ زمین پر بعد میں گرتا ہے مقامِ علیین پہلے دکھا دیا جاتا ہے۔
یہ اصحاب الاخدود کی راہ ہے!!
جہاں اجسام جلتے بھنتے ہیں تو ہی ارواح بلندیوں کا سفر طے کرتی ہیں۔ کامیابی کے معیارات یہاں طے ہوتے ہیں۔ جلنے مٹ جانے والے ، فنا کے سفر پر روانہ کر دیے جانے والے تب کامران اور سب سے بڑی کامیابی کے ٹھپے لگواتے نظر اتے ہیں اور مادہ پرستی کی جیت ، دو دن کے ''حاکم اعلیٰ'' کی فتح عظیم ناکامی  !!!

بس دیکھنے والی نظر چاہیے ! ایمان کے حقائق سے دنیا کو دیکھنے والی نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیدہ عبرت نگاہ اور نور ایمان سے منور بصیرت الٰہی سے جڑی نگاہ بصیرت افروز۔ پھر شھید کے زندہ ہونے پر بھی حق الیقین ہو جاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وعدوں کے برحق ہونے پر بھی ۔ پھر باطل کتنا پرشکوہ ہو جائے  نگاہیں کچھ اور ہی دیکھ رہی ہوتی ہیں ایک زیر لب مسکراہٹ اس سارے سطوت تو جبروت کی خاک اڑاتی ہے! اور وعدوں پر ایسا لازوال یقین کہ نیزے کی انی سینے سے پار ہوتے ہوتے بے اختیاد صدا نکلتی ہے " رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا"۔
عبداللہ بن جبیر، دربارِ حجاج میں گرجتے نظر آتے ہیں کہ حجاج آج طریقہ اختیار کر لو ، جس طریقے سے مجھے مارو گے تمہیں بھی اسی طریقے سے روز قیامت مارا جائے گا !!! افق کے اس پار دیکھنے والی نگاہیں تب موت کو ہی محبوب ترین چیز بنا چھوڑتی ہیں۔اورجس نے "اُس پار" جھانک لیا پھر وہ طعنوں باتوں اور فتوؤں سے کہاں رکتا ہے۔ تب یقینی موت کو گلے لگانے رخصت ہونے والا ہنستا اور "بچ جانے والے" روتے ہیں !!!
زبان کی وفاداریاں تو ہر دور کے عبداللہ بن اُبی بھی جتاتے رہے ہیں ۔ سید احمد سے احمد یاسین تک، عمر المختارسے شامل بسایوف تک ، اور سید قطب سے عبدالقادر مولہ تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شہداء ہیں جو اپنے خونِ رگِ جاں سے حق کی گواہی دیتے ہیں! شہادتِ حق کا سب سے بڑا درجہ اپنے خون سے ادا کر کے احساس دلاتے ہیں کہ امت کی خاکستر میں کچھ چنگاریاں شعلہ جوالہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں ابھی!!!
زبان رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جاتا ہے: ""روز قیامت اہل عافیت آرزو کریں گے کاش ہمارے جسم قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے پر آج ہمیں یہ مقام مل جاتا جو اہل بلاء و ابتلاء کو مل رہا ہے!!"" ( سلسلہ صحیحہ للالبانی)
ایک دار العمل ہے ایک دار الجزاء ہو گا ۔ اللہ کی رضا سب سے بڑی رضا ہے، اللہ کا صلہ سب سے بڑا صلہ ہے۔

سانحہ راولپنڈی، عینی شاہدین اور حقائق

آج سرشام ہی کچھ ایسے حضرات سے گفتگو اور حقائق جاننے کا ارادہ تھا جو سانحہ راولپنڈی اور بعد کی صورتحال کو قریب سے دیکھتے رہے ہیں۔
کرفیو میں نرمی ہوتے ہی عشاء سے پہلے دار العلوم تعلیم القرآن کے ایک حافظ سے ملاقات ہوئی ، حافظ عبداللہ وہاں تجوید کا درس لیتا تھا اور بالکل گم صم نظر آ رہا تھا۔ اس نے زیادہ گفتگو سے کنارہ کش رہتے ہوئے مختصر جوابات دیے۔ اس بتایا کہ نماز جمعہ کا موضوع "واقعہ کربلا" تھا۔ میرے استفسار پر کہ کیا شیعہ کو کافر وغیرہ بھی کہا گیا تھا، اس کا جواب نفی میں تھا۔ یہ پوچھنے پر کہ تقریر کیا ہوئی تھی اور اس میں کیا کہا گیا؟ عبداللہ نے بتایا کہ امام صاحب نے واقعہ کربلا کے ذمہ دار خود کوفیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہی لوگ شہادت حسین کے ذمہ دار ہیں۔ سانحے کے حوالے سے اس نے کہا کہ واقعے کے بعد خود وہ اور دوسرے طالبعلم اس وقت قرب و جوار کی مختلف مساجد میں پناہ گزین ہیں۔ مقتولین کی تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے آخر میں اتنا کہا کہ  "تین لوگ میرے سامنے قتل کیے گئے اور کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا"۔
          اس کے بعد ایک بزرگ محترم یوسف صاحب سے بات چیت ہوئی جو مرکزی جامع مسجد (جامع مسجد روڈ) پر جمعہ پڑھنے کے بعد راجہ بازار سے ہوتے ہوئے واپس آئے تھے، ان کے بقول شیعہ حضرات ہاتھوں میں بلم نما تلواریں اور چھرے لیے تعلیم القرآن کے سامنے موجود تھے اگرچہ ابھی ہنگامہ آرائی شروع نہیں ہوئی تھی۔
          کل رات 12 بجے کے قریب مسجد تعلیم القرآن میں جانے والے انجمن تاجران کے ایک عہدیدار شیخ اشرف کا کہنا تھا کہ عقبی دروازے سے داخل ہوتےہی آٹھ لاشیں وہاں میرے قدموں میں پڑی تھیں، اور باقی مسجد دھویں کی شدید لپیٹ میں تھی، آگ نے سب کچھ خاکستر کر دیا۔ شیخ اشرف مدینہ مارکیٹ کے سامنے ایک اور بڑی مارکیٹ مکہ مارکیٹ میں کپڑے کے ہول سیل تاجر ہیں۔
          اس پر میرے ذہن میں یہ تجسس کل سے ہی تھا کہ فوج کا کردار کب سے شروع ہوا اور کیا رہا؟ حد تواتر کو پہنچے ہوئے بیانات کے مطابق دوپہر تین بجے کے قریب مسجد و مدرسہ تعلیم القرآن میں قتل عام ہوا اور مدینہ مارکیٹ کو آگ لگا دی گئی۔
          آگ لگائے جانے کے فورا بعد پولیس غائب ہو گئی اور ایک گھنٹے سے زیادہ کے لیے عزاداران حسین معصوم بچوں اور طالبعلموں پر شجاعت کے جوھر دکھانے کے لیے آزاد چھوڑے گئے۔ پھر ان کے دلی ارمانوں کی تکمیل کے بعد افواج پاکستان تشریف لائیں اور اس "ماتمی" جلوس کے بحفاظت اپنی منزل امام بارگاہ روڈ پہنچ جانے تک موجود رہیں۔
          مغرب سے پہلے جلوس "بخیر و خوبی" اپنی حتمی منزل امام بارگاہ روڈ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا تو افواج کو اپنے "فرائض کی ادائیگی" کے بعد واپس بلا لیا گیا(جب کہ میڈیا مسلسل فوج کی موجودگی کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا)۔ اس کے بعد رات ساڑھے گیارہ بجے تک صرف فائر برگیڈ اور ریسکیو کے اہلکار تھے اور روتے سسکتے تاجر اور دکاندار، یا طلباء کے لواحقین جو کسی نہ کسی طرح خبر ملنے پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
          ساڑھے گیارہ سے بارہ کے درمیان ریسکیو نے اعلان کیا کہ مدرسہ کلیر ہے اور تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں، چنانچہ اندر پھنسے ہوئے باقی طلباء اور زخمیوں کو باہر نکال لیا گیا۔ اس کے بعد تھوڑی دیر بعد فوج کی آمد دوبارہ ہوئی اور کرفیو کا اعلان کر دیا گیا۔
          یہ ساری منظر کشی اہل علاقہ کے بیانات کی روشنی میں کی گئی ہے جو خود جائے وقوعہ پر موجود رہے اور جن میں سب سے پہلے حافظ عبداللہ کے علاوہ باقی سب ہی اس مخصوص مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے جو دارالعلوم تعلیم القرآن کے منتظمین اور طلباء کا ہے۔ اسی طرح سارے بیانات ایک ہی گلی یا محلہ کے لوگوں کے بھی نہیں ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ رپورٹ ہوئی کہ میڈیا کی براہ راست کوریج کرنے والی تمام گاڑیاں فوارہ چوک میں ٹک ٹک دیدم کی مثال بنی رہیں، جبکہ ان کے چینل آخر وقت تک یہی کہتے رہے کہ مشتعل لوگوں نے ان کا عملہ یرغمال بنا لیا ہے، کوریج نہیں کرنے دی جا رہی۔ جبکہ جلوس کے جانے کے بعد ایسی کوئی بات تھی ہی نہیں۔  نوبت نہ ایں جا رسید کہ مدرسہ کلیر کرنے کے بعد جب بچے کھچے طلباء باہر نکلے تو فوارہ چوک میں میڈیا کو دیکھ کر زبردستی انہیں جائے وقوعہ پر لیکر گئے جو بمشکل تین سو میٹر کی دوری پر ہے، انہیں بار بار کوریج کرنے کا کہنے کے باوجود بھی انہوں نے یہ کام کرنا تھا نہ کیا، اور واپس فوراہ چوک کے "مورچوں" کا رخ کیا۔
یہ تو تھا آزاد میڈیا کا کردار جو سوشل میڈیا کو جذبات بھڑکانےوالا کہتے نہیں تھکتا لیکن اس کی غیر جانبداری ہر ایسے ہرموقع پر سب پر کھل جاتی ہے۔ اگرچہ اب سوشل میڈیا پر تصاویر بھی آ چکی ہیں جن کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ گیا کہ کس بے دردی کے ساتھ بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ اب آخر میں ایک ڈاکٹر صاحب کا بیان کوٹ کرنا چاہوں گا ، ڈاکٹر صاحب کا نام میں دانستہ نہیں لکھ رہا۔ ان سے دو اہم باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ سول ہسپتال میں دس لاشیں رکھ کر باقی شہداء کی میتیں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر دی گئی ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ اب انہیں اسلام آباد کے دو بڑے ہسپتالوں پمز اور ہولی فیملی بھی بھیجا جا رہا ہے۔ دوسری بات ڈاکٹر صاحب نے یہی بتائی کہ کسی کا پیٹ چاک ہے تو کسی کا ناک یا کان کٹا ہوا ہے۔
ایک بہت ہی افسوسناک خبر یہ کہ مسجد تعلیم القرآن کو اندر اور باہر دونوں طرف سے آگ لگائی گئی اور اس سے ملحقہ ایک عمارت گر چکی ہے، مسجد کے بارے میں بھی خدشات شدید تر ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اس کے مکمل طور پر جلائے جانے کے بعد اس کے نیچے موجود مدینہ مارکیٹ آج بھی آگ کی لپیٹ میں رہی اور ہر طرف سے عمارتی ڈھانچہ کھوکھلا ہو چکا ہے۔ شاید اب یہ اتنی خطرناک ہو جائے کہ اسے دوبارہ ہی تعمیر کرنا پڑے گا۔
           آخری بات  یہ کہ حکومت لواحقین کو خاموشی سے میتیں اپنے آبائی شہروں یا مضافات کے علاقوں میں ایک ایک کر کے دفن کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ کل دن دو بجے لیاقت باغ کے اجتماعی جنازہ میں "گنتی" دس سے زیادہ نہ ہو اور اس کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ ایک شہید کا جنازہ سرگودھا میں پڑھا بھی دیا گیا ہے۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ  لال مسجد کی تاریخ کو دہرا کر ایک مرتبہ پھر پاکستان کو شدید ترین جنگ و جدل میں دھکیل دیا جاتا ہے یا سنجیدگی سے قاتلوں کو گرفتار کر کے زخموں پر کچھ مرہم کا بندوبست کیا جاتا ہے ، جس کی اندریں حالات امید کم ہی نظر آتی ہےکیونکہ حکومت نے کل بھی کرفیو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ علماء کی طرف سے کل ہی لیاقت باغ میں جنازے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔  یا الٰہی خیر !
                   

"اسلامی وطن پرستی"

           کون کہتا ہے مسلمان وطن پرست نہیں ہوتا اور اسلام وطن پرستی کی نفی کرتا ہے؟اسلام تو سبق دیتا ہے کہ وطن کے لیے لڑو اور مرو، کٹ جاؤ لیکن وطن پر آنچ نہ انے دو ۔ ۔ ۔ ۔لیکن ایک منٹ! وطن پرستی ہے کیا؟؟ قومیت نام کس چیز کا ہے؟؟

کیا رنگ؟؟نسل، علاقہ وطن ہے؟؟یا زبان اس کی بنیاد ہے؟؟
لیکن تم نہیں جانتے مسلمان کا وطن کیا ہے!تمہاری وطن کی گنتی تو 1924 کے باؤنڈری کمیشنز اور سائیکس پیکو معاہدے سے شروع ہوتی ہے !!!

 مسلمان کا وطن تمہیں سلمان فارسی بتا گیا ہے ، سلمان بن اسلام بن اسلام بن اسلام!

            صہیب رومی سے مثنی بن حارثہ تک ، اور ابو بکر صدیق سے لیکرخالد بن ولید تک، کس کس کا نام آتا ہے ، اپنے ہم علاقہ، ہم قبیلہ، ہم زبان، ہم رنگ اور ہم نسل انسانوں   کے خون کی ندیاں بہا دینے میں !! کیوں؟؟ یہاں سے تمہیں ان کا "وطن" بھی خوب پتہ چلتا ہے اور ان کی "وطن پرستی" اور "وطن" کے لیے جان دینے کا جذبے کا بھی !!
 بس وطن کے معنی درست کر لو ، قومیت کی بنیاد سمجھ لو ،پھر تم "قوم پرست" بنو یا "وطن" کے لیے لڑو مرو !! تمہارا دین تمہیں اس کی اجازت نہیں حکم دیتا ہے !

  گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
 
صاحبو !مسلمان اگر لڑتا ہے تو دار الاسلام کے لیے ، خواہ وہ اسے بچانے کے لیے لڑے یا قائم کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔۔ وطن پرست لڑے گا تو بنتی مٹتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے یا زبان رنگ نسل کی بنیاد پر اسے قائم کرنے کے لیے !!

سو سب وفاداریاں ، سب جان نثاریاں ، سب محبتوں کے جھرنے اخوت اسلام سے پھوٹیں تو وہ قابل قبول ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ افراد کی سطح ہو، قوم کا لیول ہو یا بین الاقوامی تعلقات ہوں !!!

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیرو جوآں بے تاب ہو جائے

لوگو! انسانی اجتماعی تعلقات میں اس سے بڑا تصوراور کوئی نہیں ہے ، اس سے بڑے "قومیت" اور کوئی نہیں ہو سکتی اور اس سے بڑا "وطن" اور کوئی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست!!!
ہر ملک میرا ملک ہے کہ میرے خدا کی ملکیت ہے !!!

اور اگر میں اپنے خدا کی ملکیت سب سے پہلے خود پر تسلیم کرتا ہوں تو مجھے اسی خدا نے باقاعدہ سارے جہان پر یہ ملکیت تسلیم کروانے کا ٹھیکہ دیا ہے !!!

کسی کو برا لگتا ہے تو لگے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ ذمہ داری خود قرآں میں محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لگائی گئی ہے ۔ ۔ ۔۔

ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ الکافرون(الصف)
رسول کو ھدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ اس دین کو سارے ادیان پر غالب کر دے اور اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

جس کو قرآن پر تنقید کی جرات ہو اور بات ہے ، لیکن قرآن سے ادنیٰ سا شغف رکھنے والا بھی دوستی اور دشمنی کی اس لکیر کے علاوہ کسی لکیر کا فقیر نہیں ہو سکتا، جسے قرآن حزب اللہ اور حزب الشیطان کے مابین قائم کرتا ہے ۔

اس حد کے علاوہ بس ایک ہی اور زمرہ ہے ، ایک ہی اور کیٹیگری ہے جسے نفاق کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دونوں طرف "یکساں" اور "برابری کی سطح پر" تعلقات کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے ۔ فتح اہل ایمان کی ہو تو ان کا دم بھرتے ہیں اور اگر اہل کفر کا پلڑہ بھاری نظر ائے تو ان کے سامنے قسمیں اٹھاتے نظر اتے ہیں !!اور ان میںگھسے چلے جاتےہیں کہ کہیں کوئی افتاد نہ آن پڑے!!

مبارک ہیں وہ لوگ جو ایمان کا یہ سب سے مضبوط کڑا تھامے ، اس کے لیے ہر سطح پر ہر طرح کی مشکلات خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں ۔ ہجرت، دربدری، زخم اور  قتل کونسا پہاڑ ہے جو ان پر نہیں توڑا گیا لیکن وہ قائم ہیں!

 اورخبر ہو ان غافلوں کو جو اخوت اور محبت کے اس عالمگیر تصور کو چند لکیروں کا فقیر بنائے بیٹھے ہیں،رنگ برنگے جھنڈوں اور ترنگوں کا اسیر کیے ہوئے ہیں اور چند برس پرانے ان خانوں اور جھنڈوں کے تقدس کے لیے جان بھی قربان کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں!!

لوگو! اسلام کا دامان عافیت قیامت تک تمہیں پکارتا ہے،وحدت کی ان بنیادوں کی طرف پلٹ آنے کے لیے جو انسانیت کے سب سے بڑے محسن نے قائم کی تھیں ، اور اس کے ساتھیوں نے انہیں ساری دنیا میں پھیلا دیا تھا۔

انسان کی عظمت ، انسان کے کھینچے ہوئے نقشوں اور جھنڈوں کی غلامی میں نہیں ان سے آزادی میں ہے ۔۔۔۔ اس کی عزت اگر ہے تو صرف مالک الملک کی بندگی ،اسی کی غلامی اور اطاعت میں ہے۔

باقی سب فانی ہے ، انسان ہوں یا ان کے خود ساختہ دستور اور عارضی سرحدیں !!
سو بقا کا دامن تھام لو، ڈوبنے والی کشتیاں سواروں کو نہیں بچایا کرتیں!!

سروری زیبا فقط اسی ذات بے ہمتا کو ہے
اک وہی ذات الٰہ باقی بتان آزری

بات کریں تو کس سے کریں ہم

بات کریں تو کس سے کریں ہم
دنیا والو کس سے کہیں ہم
آج کے دن یہ چاروں طرف جو
عید کا رونق میلاہے
جس میں قہقہے گونجتے ہیں
دل میں نغمے پھوٹتے ہیں

آج کے دن میں بچھڑے لوگوں،
گزرے لمحوں ، بیتی یادوں
اور اشکوں کی برسات کا
اک سیلاب کی صورت
انکھوں کے ہر ایک دریچے
دستک دینا ٹھہر گیا ہے !

بکھرے قہقہوں ، پیاری باتوں
گزری یادوں ایسے ہم دم
عید کے رونق میلے میں
جب بھی ملنے آتے ہیں
اور بھی تنہا کر جاتے ہیں!!!

عبداللہ آدم
09/08/13

لاالٰہ الا اللہ


(( توحید رب العالمین کہ اساس ہے اسلام کی اور اولین عقائد میں سے بھی اول ہے، عملی زندگی میں اسی سانچے میں ڈھلنا یا بے رخی دکھانا  ہمیں اوج ثریا سے تحت الثریٰ تک لےآیا ہے! زندہ قوت تھی زمانے میں جو توحید کبھی۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔آج کیاہے فقط ایک مسئلہ علم کلام))
                             لاالٰہ
          پہلی چیز۔۔۔۔۔نفی مطلق۔۔۔ابن آدم پر عائد پہلا فرض۔۔۔دامن توحید کا پناہ گزین ہونے کی پہلی سیڑھی۔۔۔ شرک کی ساری الائشوں کو دھو ڈالنا ۔۔۔۔ لازم ہے کہ بندہ سب کی نفی کرے۔۔۔۔۔نفی خود ساختہ ربوبیت کے دعوے داروں کی۔۔۔ سب پوجے جانے والوں کی۔۔۔ہر نظام ،ہر نظریہ حیات۔۔۔ سب کی نفی کر دے۔ ہر طاغوت سے اعلان برات ۔۔۔ ہرآمر وقت اور ۔۔۔بزعم خود حاکم مطلق سے ۔۔۔بیزاری کا اظہار ۔ ۔۔۔ ۔زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل ۔۔۔عملا کاربند ہو جائے کہ ۔۔۔ کسی فانی کی خدائی۔۔۔۔ اور حاکمیت ۔۔۔محض  روئے زمین پر ہی نہیں ۔۔۔کائنات کی ازلی ابدی وسعتوں تک پر ۔۔۔ محیط نہ تو پہلے کبھی تھی ۔۔۔ اور نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔ ۔۔یہی پہلی "نہ" ملت ابراہیمی کا درس اولیں!۔۔۔ شجرہ ایمان کی اساس محکم !!

          نفی ہر اس کی ۔۔۔۔۔جس کی عبادت کی جائے۔۔۔ایسی ہرعبادت کی نفی۔۔۔ اور ان کی نفی جو عبادت کرتے ہیں!۔۔۔ الٰہ کی مثل۔۔۔مانند۔۔۔ الوہی خصوصیات کا حامل ۔۔۔کوئی بھی مانا جائے۔۔۔کسی کو بھی گردانا جائے ۔ ۔۔  تعظیم کے نام پر عبادت کو اس کے لیے بجا لایا جائے ۔۔۔۔یا نظام کائنات چلانے میں ۔۔۔ دخیل مانا جائے۔۔۔سب فریب نظر ہے ۔۔اس کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ نفی ان تمام معبودانہ ناموں کی۔۔۔ان سے موسوم توہمات کی۔۔۔تصورات کی۔۔۔  اس سب فتورعقل  کی نفی ۔ ۔ ۔۔  خوہ وہ مشکلات کو حل کرنے۔۔۔یا  کروانےوالے ہوں ۔۔۔ بگڑیاں بنانے ۔۔کھوٹیاں کھری۔۔ڈوبتیاں تارنے والے۔۔۔ خزانوں کی عطا کے" مالک" ہوں۔۔۔ یا اولاد دینے والے ۔۔۔ سب کی نفی کلیتا نفی!!

"لا الٰہ" نفی ہے ۔ ۔۔نفی ہے ہندوؤں کے 33 کروڑ خداؤں کی۔۔۔لا الٰہ نفی ہے۔۔۔ عیسائی تثلیث کے گورکھ دھندے کی۔۔۔عیسیٰ یا عزیرعلیھما السلام کو اللہ کا بیٹا ماننے کی۔۔۔ لاالٰہ نفی ہے ہر شرک کرنے والے کے شرک کی!لا الٰہ نفی ہے نظاموں کی خدائی کی۔۔۔ اور خود ان نظاموں کی عبادت کرنے والوں کی!۔۔۔ جمہوریت، کمیونزم ۔۔۔ ہزاروں "ازم"۔۔۔لاالٰہ کی تلوار کی زد میں  ۔۔۔ ان کی نفی ان دولفظوں میں پنہاں!نفی ۔۔۔۔۔نفس کو الٰہ کا درجہ دینے کی۔۔۔ خواہش کا بت پوجنے کی۔۔۔ اسے شتر بے مہار خود پر لاگو کیے رکھنے۔۔۔اور۔۔۔ لذات و شہوات کا اسیر ہونے کی!

ہر فانی کی خدائی کی نفی لاالٰہ  ۔۔۔ شمس و قمر ۔۔۔شجر و حجر ۔۔۔ دیوتاا وتار۔۔۔ پیر پیغمبر ۔۔۔ اولیاء شہداء۔۔۔ نظام و خواہشات  ۔۔۔ کسی کو خدا کا کوئی بھی درجہ۔۔۔کسی بھی طرح دینا ۔۔۔ علانیہ ۔۔۔یا پھر۔۔۔ حیلوں بہانوں سے۔۔۔تاویلات کے سہارے۔۔۔سب رد ہے ۔۔۔۔   مردود ہے۔۔۔خودی ہے تیغ فساں لا الٰہ الا اللہ!!!
الا اللہ
نفی کے بعداثبات!۔۔۔بس اب ایک کو مان لینا۔۔۔انما اللہ الٰہ واحد۔۔۔ معبودتو صرف ایک اللہ ہی ہے!۔۔۔لائق عبادت۔۔۔انسوؤں بھری دعاؤں سے ۔۔۔جبین نیاز کے سجدوں تک کا سزاوار۔۔۔آہ سحرگاہی سے ۔۔۔ مناجات نیم شب تک۔۔۔عبودیت کی ہر ادا۔۔۔ ایک کے لیے مخصوص۔۔۔یہ ہے مقصود "الا اللہ" ہے!!

مخلوق اس کی تو۔۔۔حکم بھی صرف اسی کا۔۔۔الٰہ وہ اکیلا تو۔۔۔دین بھی فقط اس کا۔۔۔رب العالمین وہ تو۔۔۔سربلندی کا سزاواراسی کا  جھنڈا۔۔۔رزاق وہ ہے ۔۔۔نظام اس کا۔۔۔یہ تقاضائے لا الٰہ ہے!!مردوںکو زندگی ۔۔۔بگڑی کو سنوارنا۔۔۔خزانے بخش دینا۔۔اولاد یں عطا کرنا۔۔۔اس ایک کا اختیار۔۔۔ناقابل "تقسیم"اختیار!۔۔دلوں کے حال سے آگاہ۔۔۔دل میں خیال ۔۔۔آنے سے بھی پہلے۔۔۔اسے جاننے والا!۔۔۔سب کی سب دعائیں ۔۔۔التجائیں مناجاتیں ۔۔۔ہر وقت۔۔۔ہر زبان ۔۔۔ہر جگہ سے سننے والا"سمیع"!۔۔۔ہر چیز۔۔۔ہر جگہ پر۔۔۔ہر وقت۔۔۔اس کے سامنے ۔۔۔ہر کھلا چھپا۔۔۔اندھیرا جالا۔۔۔ایک برابر دیکھنے والا"بصیر"!

محبت مودت کی انتہا۔۔۔صرف اس کے لیے۔۔۔عبادت و اطاعت بس اسی کے لیے۔۔۔کن فیکون کا حامل۔۔ صرف وہ! اعظم و اکبر۔۔۔وہاب و غفار۔۔۔قہار و جبار۔۔صرف وہی۔۔۔وحدہ لا شریک ہے۔۔۔ذو الجلال والاکرم ہے !!قائم ہے قیوم ہے۔۔۔کائنات کو قیام۔۔۔اسی کی مشیت پر۔۔۔اسی کے ارادے پر۔۔۔جب تک وہ ہے! صرف مخلوق کا نہیں۔۔۔انہیں عطا ہونے والی زندگی اور۔۔۔ آلینے والی موت کا بھی ۔۔۔خالق ہے!! قادر مطلق۔۔۔اسباب سے ماوراء۔۔۔ مثالوں سے کہیں برتر!!

حتمی فیصلہ کرنے والا۔۔۔زندگی موت کا فیصلہ۔۔۔اچھے برے حالات کا فیصلہ۔۔۔اعمال کی قبولیت کا۔۔۔رد کا فیصلہ۔۔۔الیہ یرجع الامر کلہ۔۔۔سارے معاملات اسی کی طرف تو لوٹائے جاتے ہیں !۔۔۔اسی بارگاہ میں فیصلے ۔۔۔اور ان کا نفاذ ۔۔۔کوئی نہیں جو۔۔۔ان فیصلوں کو چیلنج کرسکے۔۔۔اس کا فیصلہ سوائے انصاف کے ۔۔۔اور ہوتا بھی کیا ہے! جیسا "منصف" وہ ہے ۔۔۔اور کوئی نہیں !! اسرع الحاسبین بھی ہے ۔۔۔احکم الحاکمین بھی!!تیز ترین محاسبہ ۔۔۔ درست ترین فیصلہ!!!

لاالٰہ الا اللہ۔۔۔ کلمہ نہیں۔۔۔الفاظ نہیں ۔۔۔عقیدہ و منہاج ہے۔۔۔سلوک ہے طریق ہے! ۔۔۔طریق نبوی ۔۔۔ایک سوچ ہے ۔۔۔فکر و دعوت ہے۔۔۔ سوچو  فکرکی دنیاسے۔۔۔عالم رنگ و بوتک۔۔۔ایک تبدیلی۔۔۔دل و دماغ سے ۔۔۔قلب و نظر سے۔۔۔کار حکومت۔۔۔ایوان اقتدار تک۔۔۔ایک انقلابی دعوت!!لاالٰہ الا اللہ۔۔۔ ایک "قول ثابت"۔۔۔جو اس کو پا گیااس کو سمو گیا۔۔۔اس میں ڈھل گیا۔۔۔اس کے لیےصراط مستقیم سے ۔۔۔پل صراط تک۔۔۔خدا کا ساتھ ۔۔۔بشارتیں اور کامیابیاں۔۔۔تب "محمدرسول اللہ" کو سمجھنا بھی۔۔۔کوئی مشکل نہیں۔۔۔اور قدم قدم پر ۔۔۔راہ تکتی۔۔۔سلام کرتی  منزل بھی دور نہیں!!
07/06/2013

یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے

پچھلے دنوں ایک معتبر ترین عالم کا الیکشن کی "قباحتوں " پر بیان پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ جن میں امیدواروں کو خوف خدا کے ساتھ دیانتدارانہ انتخابی مہم، مخالفین پر بے جا الزام تراشی سے گریز ، جھوٹ اور چغلی وغیرہ کے سدباب ، اسراف اور تبذیر سے گریز کرتے ہوئے ایمان دارانہ انداز میں سارے انتخابی عمل کو بحسن و خوبی انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں ممکنہ رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا مژدا بھی سنایا گیا، مثلا ایک اچھی قیادت کا انتخاب اور قوم و وطن کی بھلائی اور خیر خواہی وغیرہ۔

فرزندان مدارس و مساجد پر ہی کیا موقوف، جدید تعلیم یافتہ اور ماڈرن اسلامسٹ کہلانے والے بھی دونوں ہی آج یہ بات باتکرار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو ایسے استعمال کریں کہ ایک امانت دار اور "صالح" قیادت سامنے آئے ، وغیرہ وغیرہ۔

ایسے تمام لوگ معاملے کی صرف اس سطح کو دیکھتے ہیں ، یا دیکھنا چاہتے ہیں جو گلیاں سڑکیں بنانے ، ترقیاتی اور مفاد عامہ کے کاموں سے متعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس سطح کو یا تو سمجھتے ہی نہیں ہیں ، یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے پس پشت ڈال دیتے ہیں جس کا تعلق ان "عوامی نمائندوں" کے اللہ کے مقابلے میں ایک الگ ہی دین و شریعت گھڑنے اور نافذ کرنے سے ہے۔

پھر یہ شریعت سازی ہوتی کیوں ہے، اس پر بھی غور نہیں کرتے شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت اس لیے معرض وجود میں نہیں لائی جاتی کہ قرآن کی طرح طاقوں میں سجا اور آنکھوں سے لگا کر اس کا حق ادا کر دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت تو عدالتوں میں فی الفور نافذ ہوتی ہے اور عدالتیں از روئے ایت قرآنی ""واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل"" "دلیل" لیتے ہوئے خدائی انصاف کی بجائے اس انسانی وضع کردہ دین کو انصاف کی صورت میں نافذ کر دیتی ہیں !!!

عوام کالانعام ان عدالتوں میں وہ "حق" لینے جاتے ہیں جو ان کو حق کی پڑیا میں باطل بنا کر دیا جاتا ہے اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی (( اگر غلطی سے "حق" مل جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ وہ بھی نہیں!! ))

تب یہ جدید پارلیمانی دین اور اس کے نئے سے نئے ایڈیشن گاہے بگاہے نظر ثانی سے گزرتے ہیں اور "قانون نافز کرنے والے ادارے" ان کی بنا پر زمین کو "عدل و انصاف" سے بھر دیتے ہیں !!

یوں "امانتوں کے لوٹائے جانے" کا وہ عمل جو مفتیان شرع متین اور زعمائے تحریکات اسلامیہ کے ہاں سے دستار فضیلت پا کر بابرکت انداز میں شروع ہوا تھا اب عمل کی دنیا میں اگلے پانچ سال تک ایک خاص خطہ زمین پر خدا کی خدائی کو 300 ان پڑھ/ نیم پڑھے لکھوں میں خوشی خوشی بانٹ بھی دیتا ہے اور یہ عین منشائے فطرت اور تقاضائے شریعت بھی قرار پاتا ہے!!

کاش یہ لوگ غور کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 60 سال بعد ہی سوچ لیں کہ عملا تو اس جمہوریت خبیثہ نے ہمیں کیا دینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو نقصان اس قومی سطح کے شرک سے ہم اپنی آخرت کا کر چکے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں وہ کتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا ہی بڑا ہے !

کیونکہ دنیا کا رونا کوئی نہین ہے ، اصحاب الاخدود بھی جلا دیے گئے تھے اور پیغمبر تک بے دردی سے شہید کر دیے گئے تھے لیکن ان کی کامیابی و کامرانی کے قصیدے آج بھی قرآں میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنے ہی دنیا میں عیش کرنے والوں کے عذاب کی دردناکی ہے جس کا تصور ہی رلا دیتا ہے !!

کاش ہمارے علماء اس پہلو پر قوم کی موجودہ زندگی سے آگے بڑھ کر اخروی زندگی پر بھی سوچ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش اے کاش !!!

دور حاضر کے اس صنم اکبر کا "حق" تو یہ بنتا ہے کہ ہر سطح پر اس کی حقیقت کو ایسے واشگاف الفاظ اور انداز میں کھولا جائے جیسے کسی دور میں قادیانیوں کی حقیقت اور ان کے کفر سے آگاہ کیا گیا تھا ، حتٰی کہ اب مسلمانوں کے کسی دور دراز گاؤں کا بچہ بھی کسی دلائل و براہین قاطعہ کی سمجھ بوجھ سے عاری ہونے کے باوجود قادیانی کفار کے کفر اور ان کے گندے موقف کے خلاف ایستادہ چٹان کا کردار ادا کرتا ہے۔

کفر کا اہل ایمان پر یہی "حق" ہوتا ہے کہ وہ اس سے انکار کریں! اور جتنا جس کسی کا حلقہ اثر ہے وہ اس انکار کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع کر دے۔

غلبہ کفر کا مطلب بھی یہ نہیں ہوتا کہ اب کفر سے سمجھوتوں کی سوچنی شروع کر دی جائے کہ یہ تو جانے والانہیں ہے ہمیں ہی کچھ "لچک" لانی چاہیے!!

انبیاء و رسل کے ادوار میں کفر کا غلبہ کتنا واضح نظر آتا ہے ، کچھ کو حکومت نصیب ہوئی تو اکثر کو نہیں ۔ لیکن انہوں نے کفر کو اسی سطح پر دیکھاا ور لوگوں کو دکھایا جو خدا کی خدائی کے متصادم ہونے کا درجہ ہے ۔

کفر کے کسی بھی "اچھے " یا "نرم خو" میٹھے میٹھے پہلو کو سامنے کر کے لوگوں کو اسی نظام میں ساجھے داری کا درس نہیں دیا ۔ یہ توحید ہے اور یہی توحید کا تقاضا ہے کہ جب تک اصل الاصول پر لڑائ ہے تب تک بھلے 1001 "مشترکات نما" چیزیں ہی کیوں نہ پائی جائیں وہ ہمارا سبجیکٹ ہی نہیں ہیں !! ہاں خدا کی خدائی کو مانو تو دیکھیں گے!

الیکشن کے تازہ فسانے میں ہمیں ہر رنگ نظر آتا ہے، سیکولرز اور لبرلز کتنے ہی فلیورز اور لیولز میں ہوں وہ اس بات پر متفق و متحد ہیں کہ حاکمیت کو خدا کے لیے خاص نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔

اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ آئین میں "یہ" لکھ دیا گیا ہے اور قانون "وہ" بن گیا ہے اس لیے اب کچھ نہیں ہو سکتا !، اس کی صرف اور صرف وجہ یہ ہے کہ خود اہل اسلام کے علماء اور "فقہاء" اس بارے میں درجہ اول سے نیچے آ چکے ہیں۔ وہ اس بنیادی فرق کو نظر انداز کرنے پر تیار ہی نہیں عملا قائل وفاعل ہو چکے ہیں جس بنیادی فرق کی خاطر بلال اور خباب نے مکہ کی گلیوں کو خوں رنگ کیا تو حنین اور خیبر کے معرکے لڑے گئے۔

اسلامی حلقے اس کرنے کے کام پر کمربستہ تو ہو کردیکھیں، پھر دیکھتے ہیں کہ انسانوں پر انسانوں کی خدائی کو کس طرح مزید چلایا جا سکتا ہے!!، اور جب آگہی ہی نہیں دی جائیگی تو کیسے شعور آئے گا اور کیسے اس نظام کو بدلنے کی سوچ اور کہاں جا کر نظام کا تلپٹ ہونا اور پھر خلاف کا قیام !!! خیال است ومحال است و جنوں، کم از کم یہ تھوڑا تھوڑا کر کے "کفر کی قبولت" والا طرز عمل تو یہی ہی ثابت کر رہا ہے۔


فرق کچھ نہیں ، صرف لات و منات کے چولے بدلنے کا عمل وقوع پذیر ہو اہے اور ہم حق سے کچھ کم پر نہیں بہت کچھ کم پر راضی ہو چکے ہیں!!
اسی لیے ہماری حالت نہیں بدلتی اور اسی لیے ہم پر اسمان سے برکتوں کے در وا نہیں ہوتے ۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ اس سارے منظر نامے میں ہمیں اگر کوئی رنگ نظر نہیں آتا، کوئی صدا سنائی نہیں دیتی تو وہ حاکمیت جمہور کا یہ بڑا اکھاڑہ سجنے وقت انہیں احکم الحاکمین کی خالص حآکمیت کی طرف بلایا جائے، پکارا جائے، یا قومنا اجیبوا داعی اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے قوم اللہ کے منادی کی پکار سن لو! کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بتائیں کہ جمہوریت شرک ہے تو کیسے؟ حاکمیت الٰہی کیا ہوتی ہے؟؟ اور نظام باطل اللہ کا حق بندوں کو کیسے تفویض کرنے کی کوشش کرتا ہے ؟؟ اور اب تک اس سب کچھ کے اجتماعی ثمرات کیا ہیں؟؟ اگردنیاوی ثمرات ایک لاکھ ہوں تو بھی کس قیمت پر ہیں !!



یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

آئین کی تشریح اور نفاذ اسلام



     کسی بھی مسودہ میں الفاظ کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی اہمیت بھی مسلمہ ہوتی ہے جو ان عبارات کی تشریح کا حق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ریاستوں میں دستور کی تدوین کرتے ہوئے ایک ایک لفظ پر بار بار نظر ثانی کی جاتی ہے تاکہ آئین کی روح سے بات کسی بھی طرح باہر نہ جانے پائے۔

    آج کل باسٹھ تریسٹھ پر گرما گرم بحث کے بعدالیکشن ہونے جا رہے ہیں، چنانچہ جمہوریت اور اسلام  کی بحث ایک بار پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ آئین پاکستان ایک ایسی دستاویز ہے جس میں سیکولرز اور اسلام پسند دونوں اپنا اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ ان ہی دونوں طبقوں کے اتفاق سے یہ آئین وجود میں‌آیا اور دونوں ہی مختلف تعبیرات اور تشریحات کی صورت میں پاکستان کی صورت گری کے  یکسر مختلف وژن رکھتے ہیں۔ اسلام پسند حاکمیت اعلیٰ اور خلاف قرآن و سنت کوئی قانون نہ بنائے جانے کی بات آئین سے نکالتے ہیں بلکہ تو اسے ماتھے کا جھومر بتاتے ہیں تو سیکولر حضرات عدل اجتماعی اور جمہوری ریاست اور ایسی ہی شقوں کے ساتھ مغربی تشریح کو لف کر کے قیام پاکستان کا اصل مدعا ایک ایسی ریاست کو قرار دیتے ہیں جس میں مذہب کا ریاستی سطح پر کوئی عمل دخل نہ ہو گا۔

    عملا کیا صورتحال ہے ؟ِ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام اگر تھوڑا بہت آئین میں ہے بھی تو حکومتی سطح پرعمل میں بالکل نہیں۔ وجہ کیا ہے؟؟ عام طور پر حکمرانوں کی "عملی کوتاہیوں" اور بد نیتی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور بات ختم۔ 
     آئیے اس تلخ حقیقت کے اسباب کو ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں۔

    یہ کافی معرکۃ الآراء بحث ہے کہ آئین کی تشریح کا حق کسے حاصل ہے؟ عدلیہ اور پارلیمنٹ  دونوں ہی اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم فی الوقت دونوں ہی کو اس بارے میں مجاز مانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے کس طریقہ کار سے ائین کی ممکنہ تشریح کا حق رکھنے والے اپنے ارکان کو اوپر لاتے ہیں۔

    عدلیہ کے جج صاحبان درحقیقت وکلاء ہوتے ہیں جو لاء کالجوں میں انگریزی قانون کی دفعات پڑھتے پڑھاتے ہیں اور ایک دن ججی کا امتحان پاس کر کے تقدس کی کرسی پر متمکن ہو کر "فاضل جج" ہونے کی سند پاتے ہیں۔ اب ایل ایل بی کا کورس ہو یا مزید ایل ایل ایم وغیرہ کی ڈگریاں ہوں، ان میں اسلام کا عنصر آٹے میں نمک برابر بھی شاید نہیں ہوتا۔اسی امتحانی طریق کار سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز اوپر آتے ہیں اور آئین کی تشریح و تعبیر کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔ 

    رہے پارلیمنٹ کے ارکان جن ان کا طریق انتخاب سب کے علم میں ہے،ان کے لیے اگر ہم آئیڈیل صوررت بھی تصور فرما لیں تب بھی ایک اچھا انسان، مسلمان، صادق و امین اور اسلام کے نظریے کے خلاف نہ چلنے والے اشخاص پارلیمنٹ میں آئیں گے، اسلام اور آئین کی اس کے مطابق تشریح کی اہلیت پھر بھی بہت دور کی بات ہے۔

    اب دونوں اداروں کے طریقہ کار اور ارکان کی اہلیت کے معیار کا خوردبینی مطالعہ کرنے سے بھی وہ وہ "چیزیں" برآمد نہیں ہو سکتیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہ لوگ "اسلامی تشریح" کے اہل قرار پاتے ہیں۔

    لے دے کے ایک فیڈرل شریعت کورٹ نامی تنکے کا سہارا بچتا ہے جس کے ججز نے گورا اور  سلامی قانون دونوں پڑھے ہوتے ہیں لیکن اس کی اتھارٹی بھی "ناقابل یقین" ہے! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود کو قانونا ناجائز قرار دینے میں اس کی بے بسی سب کے سامنے رہی ہے۔ سپریم کورٹ از آل ویز سپریم!۔
     چنانچہ آئین کی پیشانی پر موٹے مارکر سے چسپاں ایک جملہ، ابتدائیے میں ایک یادداشت نما  قراردار اور پارلیمنٹ کی پر جلی حروف میں لاالٰہ الا اللہ لکھ کر دوسری طرف مقتدر اداروں تک رسائی اور اہلیت کا طریقہ کار ہی ایسا ڈیزائن فرما دیا گیا کہ اسلامی تشریح تو درکنار "مسلمانی تشریح" بھی نہ ہو سکے !! مکرر یاد رہے کہ یہ تشریح وہ گیدڑ سنگھی ہے جس نے نافذ ہونا ہے ، بلکہ جس کے مطابق آئین نافذ  ہے، اور سب کے سامنے ہے کہ کیسا نافذ ہے!۔!

     کراس چیک کے لیے پارلیمنٹ کو رہنے دیں کہ اس پر کافی بات ہوتی رہتی ہے، صرف اس امر پر نظر ڈالنا کافی ہو گا کہ اسلامی معاشرے کے وہ راہنما اصول جو آئین میں لکھے گئے ہیں یا تشریح طلب ہیں، ان کے کما حقہ نفاذ کے لیے آج تک عدلیہ نے کیا سرگرمی دکھائی ہے؟؟ وہ عدلیہ جو ہر ایرے غیرے کلازز اور شقوں میں جا گھستی ہے اور وہاں سے نادر روزگار تشریحات برامد کرتی نظر آتی ہے۔۔۔ یہاں اس کے کان اور آنکھیں کلر بلائنڈ کیوں ہیں؟ بھئی جب بنیاد ہی غلط ڈالی جائے گی تو دیوار کیسے سیدھی ہو گی!!18 ، 20 سال گورا قانون پڑھنے پڑھانے اور اسی کی گتھیاں سلجھانے والی قانونی تشریحی نظر آخر کیسے خدا رسول کی منشا کے مطابق آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟؟
      سو میرے عزیز ہم وطنو ! اسلامی پاکستان کی داغ بیل عملا تب تک نہیں ڈل سکتی جب تک کہ وہ طریقہ کار نہ ہو جس کے تحت عملاً اسلامی ہونے کی طرف سفر کیا جا سکے۔ ورنہ لاہور کے رستے پر بگٹٹ بھاگنا مخلص اور نیک نیت ہونے کے باوجود آپ کو پشاور نہیں پہنچا سکتا۔      پہلی مرتبہ ہم 5 سال پورے کر کے جمہوریت کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ "اسلامی" ہونے کی بیل کب منڈھے چڑھے گی ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
     الغرض مجالس عوام ہوں یا عدلیہ کے مقتدر طبقے، ہر دونوں کی تشکیل اس نہج پر متعین کر   رکھی گئی ہے کہ  صدائے لا الٰہ الا اللہ کا گلا گھونٹنے کا پورا پورا اہتمام ہے!!۔ اس ساری صورتحال میں اب جبکہ الیکشن سر پر ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا عملا اسلام کے نفاذ کی اس نظام کے ذریعے کوئی گنجائش کوئی معمولی سا رخنہ بھی چھوڑا گیا ہے؟؟ جہاں سے اسلامی نظام کا "مبینہ" جن نقب لگا کر اس نظام کی بوتل سے باہر آ اجائے؟؟ یا نو من کا تیل اکٹھے کرتے کرتے ہی قومی زندگی اور اسلامی جماعتوں کے مزید پچاس ساٹھ برس گزر جائیں گے؟؟؟
       سبھی جانتے ہیں کہ فقہی اختلافات کو چھوڑ کر 90 فیصد چیزیں اتفاقی ہیں, ان کو تو اختلاف چھو کر بھی نہیں گذرا، پھر ان کا نفاذ نہ کرنا چہ معنے دارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ "یہ معنے دارد" کہ ملا صاحبان کو ویٹی کن سٹی میں خلعت فاخرہ بخش کر عیسائیت کو اس کی روح کے ساتھ پیش کرنے کی توقع رکھنا جتنا مضحکہ خیز ہے اس سے کہیں زیادہ "بی اے" پاس یا "گورا قانون" میں زندگی کی صبح شام کرنے والے ارکان پارلیمان و عدلیہ سے آئین کو اسلامی تقاضوں کے مطابق نافذ کرنے کی توقع ہے!۔    

ڈیڈی! دہشت گرد کسے کہتے ہیں؟


))ڈیوڈ کیمبل کا یہ مکالمہ کچھ دیرینہ دوہرے معیاروں کو بڑی بے ساختگی کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے ، اردو ترجمہ از قلم محترم صلاح الدین اولکھ((
بیٹا: ڈیڈی دہشت گرد کسے کہتے ہیں؟
باپ: بیٹا آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق دہشت گرد ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو سیاسی عزائم کے حصول کے لیے تشدد اور دھونس کا استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ دہشت گرد بہت برے مرد اور خواتین ہوتے ہیں جو ہم جیسے عام لوگوں کو نہ صرف خوفزدہ کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھار قتل بھی کر دیتے ہیں۔
بیٹا: دہشت گرد عام لوگوں کو قتل کیوں کرتے ہیں؟
باپ: کیونکہ دہشت گرد عام لوگوں یا ان کے ملک سے نفرت کرتے ہیں، اس کی وضاحت کچھ مشکل ہے،بس کچھ چیزیں ایسی ہی ہیں، ہماری دنیا میں بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر نفرت سے بھرے پڑے ہیں۔ بالکل عراقیوں کی طرح جو ہمارے لوگوں کو اغوا کر کے قید کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تمام اتحادی فوجیں عراق سے نہ نکلیں تو مغویوں کو قتل کر دیا جائے گا.
یہ ایک برا حربہ ہے جسے بلیک میلنگ کہتے ہیں، معصوم لوگوں کو اغوا کر کے دہشت گرد مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر مغربی حکومتوں نے ان کی بات نہ مانی تو وہ مغویوں کو قتل کر دیں گے.
بیٹا: جب ہم نے عراق پر حملہ کر کے معصوم لوگوں کو قتل کیا جو کہ بتا نہیں رہے تھے کہ ان کے تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہاں ہیں تو یہ بھی بلیک میلنگ ہی تھی نا!
باپ: نہیں .... اچھا، ہاں ایک طرح سے کہہ سکتے ہو لیکن وہ الٹی میٹم تھا، تم اسے مثبت بلیک میلنگ کہہ سکتے ہو.
بیٹا: مثبت بلیک میلنگ؟ وہ کیا ہوتی ہے؟
باپ: مثبت بلیک میلنگ وہ ہوتی ہے جب کسی کو اچھے مقصد کے لیے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے. عراقی ہتھیار بہت خطرناک تھے اور ان سے پوری دنیا میں بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا. اس لیے ان کو تلاش کرنا اور تباہ کرنا بہت ضروری تھا.
بیٹا: لیکن دیڈی وہاں تو ہتھیار سرے سے تھے ہی نہیں !
باپ: ہاں یہ سچ ہے لیکن یہ ہمیں اب پتہ چلا ہے حملے کے وقت پتہ نہیں تھا. ہمارا خیال تھا کہ عراق میں ہتھیار موجود تھے.
بیٹا: تو کیا عراق میں اتنے سارے معصوم لوگوں کا قتل عام ایک غلطی ہے؟
باپ: نہیں یہ غلطی نہیں ، بس وہ ایک سانحہ تھا لیکن ہم نے بہت سی زندگیاں بچائی ہیں، تم دیکھو ہم نے بہت سے عراقیوں کو ایک ظالم شخص صدام حسین کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا. صدام حسین اگر برسر اقتدار رہتا تو بہت سے عراقی شہریوں کے قتل کا حکم دے دیتا اور یقینا بہت سے لوگ قتل یا زخمی ہو جاتے. ان میں ماں باپ بھی شامل ہوتے اور بچے بھی.
بیٹا: بالکل اسی عراقی بچے کی طرح جو میں نے ٹی وی پر دیکھا تھا جس کے بازو بم دھماکے میں اڑ گئے تھے؟
باپ: ہاں بالکل اسی بچے کی طرح.
بیٹا:لیکن وہ بم تو ہم نے پھینکا تھا، اس کا مطلب ہے ہمارے رہنما دہشت گرد ہیں؟
باپ: اوہ میرے خدایا! تمہیں یہ خیال بھی کیسے آگیا؟وہ صرف ایک حادثہ تھا،بدقسمتی سے جنگ میں عام لوگ زخمی ہو ہی جاتے ہیں،اگر تم شہر پر بم گراؤ گے تو لوگوں کے زخمی ہونے کے علاوہ کیا توقع رکھ سکتے ہو.کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن یوں ہو ہی جاتا ہے.
بیٹا: تو کیا جنگ میں صرف فوجیوں اور سپاہیوں کو قتل کیا جاتاہے؟
باپ: ہاں سپاہیوں کو اپنے ملک کے لیے لڑنا سکھایا جاتا ہے،یہ ان کی ذمہ داری ہے ، وہ بہادر ہوتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ جنگ خطرناک ہوتی ہے اور وہ مارے بھی جا سکتے ہیں کیونکہ جونہی وہ وردی پہنتے ہیں وہ دشمنوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔
بیٹا: دہشت گرد کون سی وردی پہنتے ہیں؟دیڈی کیا جنگ کے بھی قوانین ہوتے ہیں؟
باپ: ہاں کیوں نہیں، سپاہیوں کو وردی لازمی پہننی چاہیے اور آپ اچانک ہی کسی پر حملہ نہیں کر سکتے جب تک کوئی پہلے آپ پر حملہ نہ کرے،پھر آپ اپنا دفاع کر سکتےہیں۔
بیٹا: تو کیا اسی لیے ہم نے عراق پر حملہ کیا تھا، کیونکہ عراق نے پہلے ہم پر حملہ کیاتھا اور کیا ہم اپنا دفاع کر رہے تھے؟
باپ: بالکل نہیں، عراق نے ہم پر حملہ نہیں کیا تھا، لیکن وہ ایسا کر سکتے تھےاس لیے ہم نے حملے میں پہل کی، کیونکہ عراق بڑے پیمانے پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار چلا سکتا تھا۔
بیٹا: وہ ہتھیار جو ان کے پاس تھے ہی نہیں! تو کیا ہم نے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی؟
باپ: اصولی طور پر تو یہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی لیکن۔ ۔ ۔ 
بیٹا: اگر ہم نے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی تو پھر عراقی لوگ جنہوں نے وردی نہیں پہنی ان کو قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت کیوں نہیں ؟
باپ: یہ بالکل الگ معاملہ ہے ، ہم نے قوانین کی خلاف ورزی کر کے بالکل صحیح کیا۔
بیٹا: لیکن ڈیڈی ہمیں یہ کس طرح پتہ چلا کہ ہم قوانین کی خلاف ورزی کر کے بھی درست تھے؟
باپ: ہمارے رہنماوں جارج بش، ٹونی بلیئر اور ہاورڈ نے ہمیں بتایا کہ پہلے حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔ اگر وہ نہیں جانتے کہ صحیح کیا ہے تو پھر کسے پتہ ہو گا؟ انہوں نے کہا تھا کہ عراق کو ایک بہتر ملک بنانے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔
بیٹا: تو کیا اب عراق پہلے سے بہتر ملک ہے؟
باپ: میرا خیال ہے بہترہے لیکن یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا،معصوم مغربی لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور اغوا کی وارداتیں تو خوفناک ہیں۔ مجھے ان معصوم مغویوں کے خاندانوں سے بہت ہمدردی ہے۔ لیکن ہم دہشت گردوں کے آگے ہتھیار تو نہیں ڈال سکتے۔ ہمیں ان کو مضبوطی سے کچلنا ہو گا۔
بیٹا: اگر مجھے دہشت گرد قید کر لیں تو آپ کیا کہیں گے؟
باپ: اوہ۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ میرا مطلب ہے کہ یہ بہت خوفناک اور مشکل بات ہے۔
بیٹا: تو کیا آپ مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ آپ مجھے سے پیار نہیں کرتے؟
باپ: کیوں نہیں مجھے تم سے شدید محبت ہے ، یہ بہت مشکل سوال ہے اور میں نہیں جانتا کہ اگر ایسا ہوا تو میں کیا کروں گا۔
بیٹا: اچھا اگر کوئی ہم پر حملہ کرے ہمارے گھر کو بم سے اڑا دےا ور آپ کو ممی اور جینی کو مار دے تو میں جانتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔
باپ: بیٹا کیا کرو گے تم؟
بیٹا: میں یہ پتہ کروں گا کہ ایسا کس نے کیا ہے اور ان کو قتل کر دوں گا، ان سے ساری زندگی نفرت کروں گا، جہاز اڑاؤں گا اور ان کے شہروں پر بمباری کر کے تباہ کر دوں گا۔
باپ: لیکن اس طرح تو بہت سے معصوم لوگ مارے جائیں گے؟
بیٹا: میں جانتا ہوں لیکن یہ جنگ ہے ڈیڈی! اور یاد رکھیے جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ 

کچن میں پڑنا


تو صاحبان عدل و انصاف، یہ ان دنوں کی بات ہے جب "انقلاب پاکستان " متعدد کوسٹروں اور ایک لش پش لینڈ کروزر کی قیادت میں لاہور سے روانہ ہو چکا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ اسی دن مام ڈیڈ ایک وفات کی وجہ سے سرگودھے جانے پر مجبور ہو گئے اور ہمیں اس شہر بے اماں میں اکیلا چھوڑ گئے، اب ہم تھے اور ہماری تنہائی۔  ان تین دنوں میں یا تو چوکوری ابلاغی ڈبہ تھا یا پھر کچن! کچن اس لیے کہ حلق کو سیراب اور پیٹ کو شاداب کیے بغیرکچھ بھی ہرا ہرا نہیں لگتا ، پاک نیٹ بھی نہیں۔فیس بک تو ویسے ہی نیلی ہے۔

          یاد نہیں کبھی کچنی مصنوعات بارے سوچا بھی ہو، بس چائے بنانا اپنی دانست میں آتی تھی (ہے!) اور توس سینکائی سے جیم لگائی تک اپنے کچنی تصرفات ختم ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ اکثر مرد حضرات اپنی سرشت میں بقول خواتین کے "نان کوا آپریٹو" واقع ہوتے ہیں اور ہم نے تووہ کیا کہتے ہیں  ابھی شادی وادی بھی نہیں بنائی ۔  خیر ان تین دنوں میں یہ عجیب سا رجحان جسے ضرورت ایجاد کی ماں کا نام بھی دیا جا سکت ہے اور ہڈ حرامی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کی "پاداش" بھی جہا جا سکتا ہے(( اب کوئی سگھڑ پن نہ کہہ دے:ڈڈ)) ۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے خانہ خراب کی توجہ کچن کا خانہ خراب کرنے کی طرف ہو گئی۔ ہاں تو اور کیا!اب کون روز بریڈ اور انڈے یا نان چنے یا حلوہ پوری یا فلاں فلاں لے کر آئے اور اگلی بھوک پر فیر ایہی کشٹ! کیوں نا کچن میں طبع آزمائی کی جائے ((اگرچہ بعد میں یہ زورآزمائی ثابت ہوئی))۔

          صبح صبح ( میر امطلب کم از  11 بجے کے بعد )اٹھ کر اور کچھ نہ سوجھا تو دو عدد نان بلےکے تندور سے لانے کے بعد چائے بنانے کی سوجھی۔ شاید اس جذبہ عمل کا محرک یہ تھا کہ چائے برائے فروخت تو ہوتی ہے برائے پارسل نہیں دیکھی گئی۔ایک حل یہ بھی ہو سکتا تھا کہ نان لے کر کسی ہوٹل کی راہ لی جاتی ، اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن اب تو گھر تشریف آور ہو چکے تھے اور ایک دفعہ گھرآنے کے بعد دوبارہ صرف "اتی" سی بات کے لیے ہوٹل ایک دشوار گزار سا کام لگتا ہے۔ چائےازمنہ وسطی میں  پہلی دفعہ نانا جی کی فرمائش پہ رات کے کسی ایسے ہی پہر بنائی تھی جب وہ سو کر اٹھ گئے تھے اور ہم کسی نسیم حجازی ناول کا اخیر کرنے کو تھے، باقی سب تو ٹھیک رہا تھا لیکن پتی "قدرے" زیادہ ہو گئی اور پھر جب نانا جی کے ساتھ خود بھی اسے نوش جان فرمایا تو ۔۔۔۔ خیر جناب صبح کا مینیو یہی طے کیا کہ آسان کام ہےاور کافی عرصے بعد ٹرائی کی لیکن چائے گزارے لائق بن گئی اور پسند کی گئی اسی نےآگے چل کر  مطبخانہ عزائم کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دوپہرکو فریج سے ایک آدھ چیز برآمد ہو گئی اوررات آئی تو  موت کا پیغام آ گیا۔ میرا مطلب رات تنی دیر کر دی حسب معمول کہ جب آنتیں ایسے ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے تواب اماں تو ہیں  نہیں جو کہیں "پتر کی کھانا اے" .۔۔۔ ہائے ! مائے نی میں کنوں آکھاں ۔ خیر رات کو فریج سے کچھ چاول برآمد ہو گئے اور اوون کام آگیا۔ 

صبح آملیٹ بنانے کی کوشش کی گئی ، انڈہ پھینٹ کر مرچیں دھونکیں اور نمک ڈال کر سارا ملیدہ اوپر چولہے کے ۔۔۔۔یہی ترکیب اگلی صبح جب میٹھا انڈہ بنانے کے لیے آزمائی تو منہ کی کھائی ۔ توے پر میٹھا انڈہ بنانے کے چکر میں اور پھر مزید "لذیذ" بنانے کے لیے اس میں ملائی بھی ڈال دی اور اسے "پکنے دیا" کہ کچا نہ رہ جائے اور بدمزہ معلوام نہ ہو۔وہ تو جب انڈے بیچارے نے "سی سی" شروع کی تو دیکھا کہ "برننگ انجری" واقع ہو رہی تھی!  اتارتے اتارتے کوئی 40 فیصد انڈا ، انڈا کم اور کباب کا منظر زیادہ پیش کر رہا تھا۔ بہرحال بندے نے کھایااور اس معرکے پر پھولا نہ سمایا۔

دوپہرکو اس طرح ناغہ ہوا کہ صبح دوپہر کا اکٹھا "ناشتہ کم لنچ" کیا تھا اور شام کو نظر تھی شامی کباب پر! جی آمیزہ تیار تھااور ہمیں بزعم خود اس کے بنانے کی ترکیب بھی  آتی تھی  ۔یہ ترکیب جب لڑا کر "لذیذاور خستہ"  شامی کھا کر خوش بھی ہو لیے تو اماں کا فون آیا، بڑے فخر سے کارگزاری بیان کی کہ خو پکاکر کھا رہا ہوں ۔۔۔۔ "ذرا مجھے بھی تو بتا کیا بنایا ہے "۔اب جو ترکیب بیان کی ہے تو "لیکن اماں وہ کچھ کچھ کچے لگ رہے تھے"  ۔ " انہیں آئل میں تلانہیں تھاکیا؟"، "نہیں بس انڈے میں ٹکیاں ڈال کر توے پر تل لی تھیں " :ڈڈ۔۔۔۔"آئل میں تلتے ہیں بےوقوف! توے کا بھی ناس مار دیا ہو گا"،  بس اس کے بعد کئی دفعہ حلیم مصالحہ کی ڈبیا پر لکھی ترکیب دیکھ کر سوچتا رہا ہوں حلیم بنانا سیکھ لوں اماں سے ،اور سیکھ بھی لوں  لیکن موقع بموقع تبصروں کو ہضم کرنا اپنے بس کی بات نہیں ہے بابا!!

دو منظر ایک سٹیٹس


بلاگ پوسٹ صادر ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا ( ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں)، پھر مزید" افاقہ" تب ہوا جب کئی احباب نے ہمیں تاریخ ویلنٹائن ایک بار پھر سے ازسرنو ازبر کروا کےشکریے کا موقع دے دیا۔ مسئلہ لیکن دو عدد مناظر اور ایک عدد فیس بکی سٹیٹس سے ہوا جن کا ذکر آگے آئے گا۔ ابتدا میں البتہ یہ ذکر برمحل ہو گا کہ سارا سوشل میڈیا کل رات سے آج رات تک عید محبت کی حقیقت کھول کھول کر بیان کرنے کی محنت شاقہ میں مصروف ہے، مضامین سے لیکر پوسٹرز اور تصاویر سے لیکر سلوگن اور جانے کیا کیا کچھ۔ سب اس کو برا سمجھتے ہیں ،آزادانہ اختلاط کو جائز کوئی بھی نہیں رکھتا،اگرچہ دروغ برگردن راوی آج ایک محترمہ نےکسی ٹی وی چینل پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ سے شادی کو یوم محبت کی دلیل بنانے کی کوشش فرما بھی دی ہے لیکن بہرحال یہ استثنائی "کیفیات"  ہیں ،عموما ابھی تک  خود اس میں گٹوں گوڈوں تک ڈوبےمنڈے کھنڈے یا  احباب و اصحاب بھی اسلام کو بہرحال اپنے طرز عمل کے لیے زحمت نہیں دیتے۔
                    میں نے آپ نے  بھی شاید ہی کسی دن خاص اس دن کی نسبت سے کوئی تقریر وعظ وغیرہ سنا ہو کسی ملا ملانے کا،  لیکن بنیادی اقدار اور اخلاقیات ایسی "چیزیں" اور پھر اسلامی اخلاقیات (عرف "خاص" میں غیرت برگیڈ) ،یہ سب ہمیں ایک حد تک رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔ اندر سے  ایک آدھ آواز ضرور آجاتی ہے! ۔ وجہ یہ کہ ہماری نسل نے اپنے بڑوں اور ماحول سے ایک غیر محسوس طور پر یہ چیزیں حاصل کیں اور دلائل اور اپنے طرز عمل سے سے قطع نظر آج ہم جائز ناجائز کی انہیں حدود قیود کو پسند کرتے ہیں۔

          لیکن اب ماحول ویسا نہیں رہا، گلوبل ولیج کی "آنیاں جانیاں" بہت کچھ بدل رہی ہیں۔ اب بچے  بڑوں سے زیادہ ماحول سے سیکھ رہے ہیں ، اور بڑے بھی پہلے کی طرح بچوں کو سکھانے میں مستعد نہیں ہیں ۔ کمانے کھانے کی فکر تک تواولاد کی تربیت اب بھی کی جاتی ہے، اور ایسی کہ باید و شاید۔۔۔۔ لیکن "بندے کا پتر" بننے کے عمل میں اس بے چارے  کو بڑی حد تک آزاد چھوڑدیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کیریر منتخب کرنے میں بچے آزاد ہیں ، ایسے ہی اپنا صحیح غلط بھی خود یکھ لیں گے! اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ والدین بچوں کو اور ان کے ماحول کو خود اپنے ماحول پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے سیکھا تھا یہ بھی سیکھ جائیں گےاور وہی اقدار و روایات جو ان کی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے!
                    آج پیدل چلنے کا موڈ بنا تو پیدل ہی صدر کی طرف چل نکلا ، راستے میں تیسری چوتھی کلاس  کے سکول سے واپس   آتے بچوں سے ٹاکرا ہوا جبکہ ان کا ٹاکرا کالج سے گھر جاتی ایک لڑکی سے ہو رہا تھا۔سب نے  ہاتھوں میں موجود پتیاں محترمہ کے اوپر پھینکیں اور باجماعت ہیپی ویلنٹائن ڈے کا نعرہ لگادیا۔ یہ بچے اپنے ارد گرد سے سب ہضم کر رہے ہیں اور کیپیٹل ازم کے کولہو میں بیل کی طرح جتے والدین انہیں وہ کچھ دے نہیں پا رہے ہیں جو آگے چل کر انہیں اپنی بنیادوں سے مربوط رکھ سکےگا۔ اور یہ وہ خلا ہے جو وہی پر کر سکتے ہیں ان کے علاوہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بچے جو والدین سے ،اور جیسا والدین سے سیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر وہ سکھانے والے بنیں تو!

          آج سے 15 20 سال پہلے تک ہم بہت سے ان اوزون لیئرز کے ساتھ زندہ تھے جو مہلک تابکاری اثرات کو ہم سے کافی دور رکھنے پر قادر تھیں ، لیکن اب  میڈیا کی اخلاقی حدود و قیود سے آزادی، موبائل فون جیسی نعمت غیر مترقبہ اور  انٹرنیٹ جیسے "ملٹی پرپز" کلوروفلورو کاربنز (CFC)نے ہمارا "ڈائریکٹ ایکسپوژر" شروع فرمایا ہوا ہے!! ہمارے خاندانی نظام کے تاروپود گزشتہ دس برسوں میں  بکھرتے دیکھے جا سکتے ہیں ، ہاں اتنا ہے کہ یہ سب کچھ یکبارگی نہیں سنار کی ٹھک ٹھک کے حساب وقوع پذیر ہو رہا ہے اس لیے "سنائی" ذرا کم دیتا ہے۔

          ایک سال بعد ہمیں شرم و حیا کا پرچار یاد آتا ہے ، ایسے ہی جیسے میلاد النبی پر دھوم دھڑکا کرکے اگلے ربیع الاول تک عشق رسول "پینڈنگ" لسٹ میں ، پھر راوی اور سکون اور چین! ۔ بچوں کو صرف اسی پہلو سے نہیں ، ان تمام پہلوؤں سے جن پر میڈیا انہیں سکھانے پڑھانے کی پوری کوشش کر رہا ہے ، وعظ و تبلیغ کی بجائے ٹھیک اسی انداز میں گائیڈ کرنے کی شدیدضرورت ہے جن خطوط پر میڈیا غیر محسوس انداز میں زہر انڈیلتا ہے۔کبھی آپ نے ایک موضوع کے طور پرپردے  کو ڈسکس ہوتے دیکھا چینلز پر! بہت ہی کم، لیکن عملا جو دکھایا جاتا ہے وہ خود ہی آمادہ" عمل" کر ڈالتا ہے ، کیا ضرورت ہے دلائل کےجھنجھٹ میں پڑنے کی ، بی پریکٹیکل! سو بچوں کو والدین کی راہنمائی کی  جتنی ضرورت آج اس پہلو سے ہے ،شاید پہلے نہ تھی۔ ویلنٹائن ڈےتو  اصل چیلنج کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ،ٹپ آف دی آئس برگ کی طرح ۔

          یہ رویہ اب ہم بہت دیکھ لیے کہ"کچھ نہیں ہوتا" اور "خیر ہے اس سے کیا ہوتا ہے؟"۔  کم از کم گزشتہ دس سالوں میں جو تبدیلی ہم نے  دیکھی ہے اور جتنی تیزی سے اس کو مزید آگے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، اس کے بعد ہمیں یہ "مٹی پاؤ" ڈاکٹرائن ترک کر دینا چاہیے۔ ورنہ اباحیت اور جنسی آوارگی کی کوئی حدود متعین نہیں ہیں ۔ 20 کروڑ کے ملک میں ایک آدھ فیصد کو چھور کر کوئی بھی اس طرف نہیں چاہتا جہاں مغرب کا اخلاقی نظام "پہنچ" چکا ہے، لیکن اس کے لیے شعوری کوشش چاہیےصاحب! گر یہ نہیں ہے بابا تو سب کہانیاں ہیں۔

          فیس بک پر ایک تصویر آج کافی گردش میں ہے جس میں ایک  پارک میں سورہ نور کی آیت کا بورڈ لگا ہے اور اس کے عین نیچے دو نوجوان ایک بینر لیے کھڑے ہیں جس پر دو عدد" مورحضرات "بنے ہیں اورتحریر ہے کہ "قریب آنے دو، پیار ہونے دو"!۔ ان کے نزدیک یہ محض شغل میلا رہاہو گا اور حضرت مفتی صاحب کی طرف سے اس پر فتوی بھی بڑے  آرام سے جاری ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ یہ لاعلمی ہے تو کس کا قصور ہے؟ والدین  تو عقیقہ پر بکرا دلوا کر اور ایک ناظرہ قرآن پاک  کے ختم پر قاری صاحب کو سوٹ تحفے میں دے کر مسلمانی کے حق سے سبکدوش ہو گئے، اور مولانا صاحب جمعے میں نور بشر اور رفع الیدین آمین پر خطیب دوراں کا خطاب پا گئے ۔۔۔۔ اور یہ" مسلمان کی اولاد"گواچی گاں کی طرح "جائیں تو کہاں جائیں" کی تصویر!  شاید ہم اس وقت کے انتظار میں ہیں جب مصر کی طرح یہاں بھی یونیورسٹیز میں اسلام کا اتنا کال پڑ جائے گا کہ نماز کے لیے جگہ تک مختص نہیں ہوا کرے گی (جب پڑھے گا کوئی نہیں تو ایسی بےکار جگہوں کا کوئی مفید مصرف تو ڈھونڈ ہی لیا جاتا ہے !) اور جامعہ ازہر کی طرح یہاں تہاں مساجد و منبرپر مسند نشین اسلام کو اس کی کوئی پروا نہ ہوگی، گمراہوں کی پروا ویسے بھی کیا کرنی!

          سونے پر سہاگہ وہ ٹیپ کا مصرعہ ہےجو آج بھی ایک سٹیٹس پر دیکھا کہ " اس یلغار کا مقابلہ مساجد کے منبر و محراب ہی سے کیا جا سکتا ہے!"۔ ماشاء اللہ میڈیا کے 100 سے اوپر چینلز پلس انٹرنیٹ کی حشرسامانیاں  اور منبر و محراب سے مقابلہ! مندرجہ بالا سلوگن کو  ہر طبقے میں بڑا پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے اپنی اپنی وجوہات ہیں ، مذہبی حلقے اس لیے کہ وہ پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں ، مبنر و محراب ہی تو سنبھالے ہوئے ہیں اور کیا کریں ۔۔۔۔ کیا کوئی اور یہ سنبھال سکتا ہے ، بھئی شکریہ ادا کرو ان کا،پنج وقتہ نماز تک رک جائے گی لوگوں کی!! اوردوسری طرف معاشروں کی نبضیں دیکھتے   اور پالیسیوں پر حسب منشا اثر اندز ہوتے گھاگ"دانشور" بھی تو اس عظیم کردار پر مطمئن ہیں۔ وہی  جو یہ چاہتے ہی نہیں برملا اعلان بھی کرتے ہیں کہ :پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے۔۔۔۔۔ انہیں اس سے بہتر اور کیا چاہیے کہ جس اسلام کو بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کر مسجد تک محدود کیا تھا ، خود اسی کے "مستند نمائندے" اپنا دائرہ کار منبر و محراب کو قرار دے رہے ہیں ۔  تو اور کیا! کتنے فیصدی  لوگ  مساجد میں دروس اٹینڈ کرتے ہیں؟؟ اور کتنے فیصد کا اعتبار کسی عالم  اور اس کے علم پر اتنا ہے کہ وہ مسائل زندگی میں ان سے راہنمائی چاہیں؟؟ اور اس پر طرہ تو یہ کہ خود علماء کہلانے والے کتنے ہیں جو راہنمائی کرنے کے قابل بھی ہوں !! جنہیں اپنے مسلکی جھگڑوں سے اوپر بھی کوئی سوچ فکر نصیب ہو اور جو جدید دنیا اور اس کے مسائل بارے جانکاری رکھتے ہوں ! کتنے ہیں ؟؟

          پھر عشروں کے عشرے منبر و محراب سے الحاد و بے دینی اور اباحیت و بے حیائی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی ناگزیر ضرورت کا درس اور "پانی سر سے گزر چکا" کے الارم۔۔۔ بمقابلہ آزاد میڈیا کے چند سال ! لوگ آپ تک کہاں آئیں گے ، میڈیا ہی کو دیکھ لیں جو گھروں میں گھسا ہے پھر اب جو دکھاتا ہے دیکھتے ہیں! آپ کو لوگوں تک جانا ہے ،ہر ممکن ذریعے سے ۔۔۔  اپنے قدموں پر چل کر جانے سے لیکر  ہوا کی لہروں کے دوش سمع و بصر کے ذریعے، غیر اسلام کے  آنے  کے ہر راستے پر اسلام کو کھڑا تو کریں کریں! پھر دیکھیں لوگوں کی فطرت جاگتی ہے یا نہیں !!۔۔۔۔ لوگوں کو بلانا ہےاور بتانا ہے کہ یہ دین کسی قسم کی پاپائیت کا تصور نہیں رکھتا، جتنا جتنا جس کا علم ہے وہ اس کے لیے ذمہ دار ہے اور اہل علم اس بات کے اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے علم میں اضافہ کریں ، حق کو چھپائیں ناں اور باطل کے لیے مداہنت پر راضی نہ ہوں ۔ ہاں !صاحبان منبر و محراب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں اگر وہ تھوڑا سا زحمت فرما کرمحض وعظ سنانے کے علاوہ لوگوں کے مسائل میں شریک بھی ہونا شروع کر دیں  اور اس بڑے طبقے  تک خود پہنچیں جو کسی بھی وجہ سے ان تک نہیں پہنچتا۔ عکاظ کے بازار اور طائف کے خون آلود راستےآج بھی یہی دعوت عمل دے رہے ہیں!

کشمیر کی یاد میں !


کل ایک اور کشمیر ڈے ہے.  پرانے بورڈ پھر سے اسلام اباد ہائی وے کے اطرف میں کھڑے کر دیےگئے  ہیں جن پر حق خود ارادیت کی حمایت میں نعرے درج ہیں ۔ ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی اور پریس کلبز تک ریلیاں اور واکس ہوں گی ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو گیا!

          تین جنگیں کشمیر کے خواب دیکھ دیکھ لڑنے  اور نتیجتا رن آف کچھ سے لیکر کارگل تک علاقے گنوانے کے بعد  ،90 کا  ایک پورا عشرہ پورے ا سلامی جوش و جذبے سے جہادکشمیر کی آبیاری اور پچھلے عشرے میں اتنی ہی تندہی سے  اس کی بیخ کنی کے بعد، آج ہم اور "ہمارا" کشمیر  تجارتی بس سروس اور خیر سگالی کے بنتے مٹتے نشانات کے درمیان گھرا کھڑا ہے!

          کشمیریوںکی  تین نسلوں کو امید و بیم کے عذاب سے دوچار رکھنے کے بعد آج کشمیر یوں کا پاکستان یا پاکستان کا کشمیر سالانہ بیانات، کشمیر کمیٹی کے اجلاسوں اور کھوکھلی سفارت کاری میں کہیں دور  دفن ہو کر رہ گئے ہیں ۔ 48 میں قبائلی سرینگر کے دروازے پر تھے تو آگے بڑھنے کے احکامات کا گلا دبوچ لیا گیا، 65 میں جبرالٹر تو 99 میں  کارگل نے امید پیدا کی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔

          اور صورتحال یہ ہے کہ لاہور گوجرانوالہ سے لیکر کراچی حیدر اباد تک بلا مبالغہ ہزاروں جوانوںکا لہو کشمیر کو پاکستان بنانے کے لیے ایک ایسی جنگ میں بہہ چکاہےجو  ایک عشرے بعد شایدکسی سرے لگنے کے قریب تھی کہ اسے  سرحد پار دراندازی تسلیم کر کےتقریبا اس کا گلا دبایا ہی جا چکا ہے۔ ریاستی مفادات کے تحت جہاد کا نعرہ اس افسوسناک انجام سے کیوں دوچار ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن کشمیری ایک بار پھر اپنے مسیحاؤں کا ساتھ دینے پر پہلے سے کہیں زیادہ معتوب اور مظلوم ٹھہر چکے ہیں ، کیا وہ دوبارہ یہ غلطی کرنے کی ہمت کر پائیں گے!

          یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہمارے ازاد کشمیر سے کہیں زیادہ تعمیر و ترقی کروائی ہے ۔ زلزلے سے پہلے بھی یہ حقیقت بالکل واضح تھی اور زلزلے کے بعد تو خیر ہم اب تک صحیح طور سے  تعمیر نو بھی نہیں کر پائے ہیں ۔ لیکن کشمیری پھر بھی کبھی راولپنڈی چلو کا نعرہ لگاتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی کشمیر چھوڑ دو کی بات کرتا ہے ، کہیں شرائن بورڈ کے خلاف سینہ سپر ہوتا ہے تو کہیں ہاتھ میں پتھر اٹھائے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرتا ہے۔اور ہم بس اسی پر خوش کہ ان کے دلوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے ، وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں ،خلاص!

          ہم نے کشمیریوں کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سفارت کاری یا عسکریت، دونوں میں سے ایک کام بھی تسلسل سے جاری رکھاجائے تو حل ناممکن نہیں ہوتا۔حال ہی میں فلپائن کی مسلم تحریک کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ لیکن ہم نے مستقل مزاجی سے دونوں پٹریاں حسب منشائے امریکا بہادر بدلیں تو کبھی  تجارت اور اعتماد کی بحالی کے خوشنما نعروں میں کشمیریوں کو رول کر رکھ  دیا۔  سید علی گیلانی کی آنکھوں میں بے وفائی کا کرب دیکھنے کے لائق ہوتا ہے ، اور اب تو مدت عمر الحاق پاکستان کی مالا جپنے والے اس بزرگ نے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔فوجی دور حکومت میں شاید وہ اسے مجبوری سمجھتے ہوں لیکن اسی پالیسی کا تسلسل "جمہوری انتقامی" حکومت میں بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہا ہے جو سب کے سامنے ہے ۔ توبار بار کے ازمائے کو کیا آزمانا!!  "تاریخی"قومی موقف ایک طرف،  سوال یہ ہے کہ کشمیری ہمارے ساتھ کیوں شامل ہوں؟؟   آزادی کا مطالبہ تو انسان کی فطرت ہے لیکن کیا الحاق پاکستان کے علاوہ آزادی کا کوئی راستہ طریقہ نہیں ہے؟؟

          پاکستان کی پالیسی قلابازیوں کے درمیان، اس وقت کشمیریوں کے پاس شاید سب سے بہترین آپشن یہی بچا ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ خو د مختاری کا مطالبہ بھی کریں ۔ حریت کانفرنس شاید یہ مطالبہ کبھی نہ کر سکے کیونکہ اس سے پاکستان کی نام نہاد رہی سہی سپورٹ بھی ختم ہونے کا خطرہ ہے لیکن موجودہ نسل جب پاکستانی حسن سلوک کا تجزیہ اور موازنہ کرنے بیٹھے گی تو شایدانہیں  اس کے علاوہ اور کوئی چیز بہتر نظر نہ آئے۔          لیکن حل چاہتا کون ہے؟ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی سے یہ تلخ حقیقت پھر سے نکھر کر سامنے آ گئی ہے کہ دونوں ہی ممالک کی افواج مسئلہ کشمیر کے حل کا رسک نہیں لے سکتیں ۔ مسئلہ کشمیر ہی وہ بنیادی کاروبار ہے جس میں دونوں اطراف کے کروڑر کمانڈر اور جرنیل(سنگھ) حضرات پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کیے بیٹھے ہیں ۔ وہ اس سونے کی چڑیا کو "حلال" نہیں کریں گے ۔ نہ کرنے دیں گے!!

          آثار نظر ا رہے ہیں کہ شاید کچھ دنوں تک جہاد کشمیر کے قریب المرگ گھوڑے میں پھر سے جان ڈلوائی جائے اورراہنمایان قوم ایک بار پھر سے اعلائے کلمۃ الحق کا وظیفہ کرتے نظر آئیں۔اس لیے اگلی دفعہ بھی شاہراہ اسلام آباد پر خیر سگالی کے یہی بورڈر کام آئیں گے اور ہم بھی انسانی زنجیروں کے کسی  ایسے ہی روح پرور منظر کا حصہ بن کر  کشمیریوں کو پیغام دیں گے کہ ہم تمہارے حق کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے !
کشمیر بنے گا پاکستان


سلیقہ اظہار غم


اظہار غم بھی عجیب ہی چیز ہے  ، انا پرستوں کی نظر میں انسان کتنا بھی ہلکا کیوں  ہوجائے لیکن  اپنے غم کو اٹھا باہر پٹختا ہے ۔ رونا چیخنا چلانا اور ایسے ہی فوری اظہار کے طریقے وقتی اشتعال کو کم بھی کرتے ہیں اور زہریلے مادوں  کو اندر مزید زہر گھولتے رہنے سے بھی شاید روک دیتے ہیں ۔

دوسری طرف "انا" کا پرچم اٹھانے  والے اپنا شملہ تو اونچا رکھتے ہی ہیں لیکن بہرصورت دو میں سے ایک بات سے نہیں بچ پاتے یا تو جلتے جلتے کندن ہو رہتے ہیں۔ مسلسل ہلکی آنچ پر پکتے رہنا۔۔۔۔۔ پر کندن سے پہلے "ایک آنچ" کی کسر بھی رہ جائے تو کیمیا گر ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔ دوسری صورت میں  پتہ نہیں اب اس لمحے کو آگہی کہیں گے یا ستم ظریفی کہ مدت عمر غموں کو دل کی کشادگی اور دھیمے پن کی چبھن لیے سمونے والا شاید "سیچوریٹ" ہو گیا ہے ؟؟  اندر اور گنجائش نہیں رہی اور سیم تھور کی طرح نمی اور نمکینی واپس سطح پر آنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا ہوتا ہے لیکن کم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "کندن"  کہانی بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کس کے ساتھ کہاں تک پہنچی ہے ۔  "آخری آنچ "تک کیا کہا جا سکتا ہے!


سلیقہ اظہار غم تب "حسب ذائقہ" اور "حسب بندہ" مختلف صورتوں میں پھوٹتا ہے ۔چپ کی بادشاہی، شاعری کا روگ ، لکھنے کی لت، سوچنے کی بیماری یا خود اپنی ذات سے بے نیازی ۔ ۔ ۔ اور بھی ہزار رنگ ہیں اس ایک "سمسیا" کے!"


لیکن ساتھ ہی ساتھ اندر سے نقب لگ کے ہی رہتی ہے ، شگاف بڑا ہی ہوتاجاتا ۔ ۔ ۔روح کا وہ خلا جس سے بھاگا نہیں جا سکتا ۔ جس کو بھرنے کی ایک ہی صورت ہوتی ہے کہ "سب کہہ دو"!لیکن کیسے ؟  دوا ہی سے تو  پرہیز ہوتا ہے ! روح کی تعمیر میں شاید جسم کی تخریب !! لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تعمیر بھی ہوتی ہے کہ نہیں،کون کہہ سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس کندن بننے میں خود اندر ون استعمال ہوتا  چلا جا تا ہے ،خود کو خود جلاتا ہے  جلتا ہے ، کٹتا ہے  کاٹتاہے۔


پھر حلم اور بردباری جیسی "آخری آنچ" کے بعد آتی ہے ، بس دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔۔پر آخری آنچ آتی کب ہے؟؟کاش کوئی بتا دے ! کسی نے  “wisdom is nothing more than healed pain” کہہ کر بڑی بات کم لفظوں میں تو ٹھونسی ہے لیکن شاید یہ نہیں بتاسکا کہ روح کی بیشتر کھڑکیاں کھلنے کے بعد بھی وہ تشنگی کبھی دور نہیں ہو سکتی جو زاروقطار رونے اور کسی کندھے پر سر ٹکا کر ہر چھوٹی بڑی بات کہہ کرہو جاتی ہے۔ فطرت ہے ۔۔۔۔ کمزور انسان کتنا بھی طاقتور ہو جائے ، کتنا لڑ سکتا ہے !!   

محمد قطب




محمد قطب ، سید قطب کے بھائی اور ان سے دو برس چھوٹے ہیں.93 سالہ محمد قطب 4 اپریل 1919 کو اسیوط (مصر) میں پیدا ہوئے. 1940 میں قاہرہ یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ماسٹرز کیا اور بعد ازاں اساتذہ کے ایک تربیتی پروگرام کے تحت تربیت اور نفسیات پر ڈپلومہ مکمل کیا. محمد قطب 1954 میں پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے اور کچھ عرصے بعد رہائی عمل میں آئی . 1965 میں دوبارہ اسیری آئی اور چھے سال جیل میں گزارے. رہائی کے بعد ستر کی دہائی کے اوائل میں وہ سعودی عرب منتقل ہو گئے جہاں وہ اب تک مقیم ہیں.
"ایں ہمہ خانہ آفتاب است" کے مصداق محمد قطب نے اپنے بھائی کی طرح مغربی فکر کے تاروپود بکھیرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تحریکی میدان میں بے نظیر کام کیا ہے. اس ضمن میں خود انکے بیان کے مطابق وہ اپنے بڑے بھائی سید قطب اور اپنے ماموں احمد حسين الموشي سے متاثر ہوئے جو خود شاعر و ادیب تھے اور صحافت و سیاست کے جانے پہچانے شہسوار تھے. (1)یہی وجہ ہے کہ نفسیات و انسانیات جیسے پیچیدہ موضوعات تک پرمحمد قطب کے طرز تحریر میں دھیمے ادبی رنگ کے ساتھ زبان کی چاشنی پڑھنے والے کو مسحور کر دیتی ہے.

سعودی عرب منتقل ہونے کے بعد استاذ محمد قطب مختلف سعودی جامعات سے منسلک رہے ہیں جن میں جامعہ ام القریٰ سرفہرست ہے. اس دوران ان نگرانی میں بہت سا تحریکی اور علمی کام ہوا ہے. رہے وہ خودتو ان کی 40 کے لگ بھگ تصنیفات کا کینوس تربیت و تزکیہ ، دعوت و تحریک اور مسلمانوں کے فکری مسائل سے لیکر جاہلیت جدیدہ اور اسلام و مغرب کی کشمکش کی مختلف جہات تک وسیع ہے. دل میں اتر جانے والے ادبی اسلوب کے ساتھ ساتھ محمد قطب بھی حسن البنا اور سید قطب کے نقش قدم پر اس طرح چلتے نظر آتے ہیں کہ موضوع خواہ کوئی ہو،تزکیہ اور دل کو قران کے نو ر سے منور کرنے کی ایک ایسی رو ساتھ ساتھ چلتی ہے جس میں حکایات اور پرتکلف طریقوں کو چھوڑ کر آیات قرانیہ اور اسوہ نبوی سے دلوں کو غذا فراہم کرنے کا عنصر غالب ہے۔

جو خصوصیت محمد قطب اور ان کی تحریروں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ انسانی علوم (ہیومینٹیز) اور نفسیات (سائیکالوجی) پر ان کی دسترس اور مغرب کے انسانی علوم اور علم النفس میں قائم کردہ نظریات کا علمی و عقلی تجزیہ ہے"دراسات في النفس الإنسانية"،" في النفس والمجتمع"،"حول التأصيل الإسلامي للعلوم الاجتماعية " خاص اس حوالے سے لکھی گئی ہیں جبکہ دوسری تصانیف میں بھی موقع بموقع یہ خصوصیت نظر آتی ہے.

 استاذ محمد قطب اخوانی پس منظر ، مصر کے تحریکی عمل کا بہت قریبی مشاہدہ کرنے اور پھر اس کے بعد سعودی عرب کے سلفی علماء سے یکساں سلسلہ جنبانی کے باعث اخوان کی "معاصرت" (modernity) اور سلفیت کی اصالت(tradition) کا حسین امتزاج کہے جا سکتے ہیں ان کی دعوتی فکر کا لب لباب یہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں (لا الٰہ الا اللہ کی اصل حقیقت برائے نام کی رہ گئی ہے ،جبکہ مفہوم کے لحاظ سے اجنبی ہو چکی ہے، جسے واپس ان معاشروں میں لائے بغیر نہ تو یہ معاشرے آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی نظام اسلامی کے قائم کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے.اس باب میں لاالٰہ الا اللہ کے فراموش کردہ مفہوم کا سبق معاشروں کو دوبارہ پڑھانا، اور اسی کی بنیاد پر حق و باطل کو الگ کر کے دکھائے بغیر نشاۃ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ مفصلا دعوت اسلامی کے طریقہ کار کے حوالے سے ان کی فکر کا نچوڑ " کیف ندعوا الناس؟" اردو میں" دعوت کا منہج کیا ہو؟"کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
  تربیت کے حوالے سے ان کی کتب میں ".مكانة التربية في العمل الإسلامي"،".دروس تربوية من القرآن الكريم"،" دراسات قرآني" وغیرہ شامل ہیں ۔"شبہات حول الاسلام" ایک اور اہم تصنیف ہے جس میں مغرب سے متاثر اذہان و قلوب کو اسلام کے حوالے سے زیادہ تر پیش آنے والے شبہات کو دور کیا گیا ہے. اس کا اردو ترجمہ "اسلام اور جدید ذہن کے شبہات" کے نام سے ہوچکا ہے.حال ہی میں "مفاہیم ینبغی ان تصح" (اپنے اسلامی مفہومات درست فرما لیجئے!) کے ابتدائی کچھ حصے کا ترجمہ بھی سہ ماہی ایقاظ میں شائع ہوا ہے. ذاتی طور پر ہنوز میں ایمان کے حوالے سے استاذ کی کتاب " لا إله إلا الله عقيدة وشريعة ومنهاج حياة" کو "سونگھنے" سے آگے نہیں بڑھ پایا ہوں، یہ کتاب زندگی کے ہر میدان کو لاالٰہ سے مربوط کر کے اتنی خوبصورتی سے دکھاتی ہے کہ بے اختیار اسی رنگ میں رنگنے کو جی بے تاب ہونے لگتا ہے.
استاذ محمد قطب کے شاگردوں میں ڈاکٹرسفر الحوالی اور ڈاکٹرمحمد سعید القحطانی جیسی شخصیات بھی شامل ہیں، شیخ سفر الحوالی کا ڈاکٹریٹ کا مشہور مقالہ “ظاهرة الإرجاء في الفكر الإسلامي” (فکر اسلامی میں ارجاء کا فنامنا) استاذ قطب ہی کے زیر نگرانی لکھا گیا تھا.
اسلامی تحریکوں کا یہ "بابا" ضعیف العمر ہو چکا ہے اور مکہ میں مقیم ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
"""" اور آج… یہ بالفعل اجنبی ہے؛ خود اپنے لوگوں میں اجنبی؛ جو اس کو پہچانتے تک نہیں! پھر رویے اور سلوک کا انحراف اس پر مستزاد! اسلام اپنے اصل حقیقی روپ میں ان کے سامنے پیش ہو تو یہ اُس کو کسی عجوبے کی طرح دیکھتے ہیں! وہ اسلام جو کتاب اللہ میں بیان ہوا ، جو رسول اللہ ﷺ کی سنت اور سیرت میں وارد ہوا، اور جو زمانۂ اسلاف میں زمین پر ایک جیتی جاگتی چلتی پھرتی حقیقت کی مانند دیکھا جاتا رہا، اُس اسلام کو آج یہ حیران پریشان ہوکر دیکھتے.. اور سنتے ہیں!
اصلاح کے میدان میں اترنا ہے… تو معاملے کو اُس کی اصل حقیقت اور حجم میں دیکھے بغیر چارہ نہیں۔
آج… ساری محنت اگر ‘‘کردار’’ اور ‘‘عمل’’ کی اصلاح پر لگا دی جاتی ہے، جبکہ تصورات کا انحراف جوں کا توں رہتا ہے، تو اِس محنت کا کوئی بہت اعلیٰ ثمر سامنے آنے والا نہیں۔ صرف ‘‘سلوک’’ اور ‘‘اعمال’’ پر کرائی جانے والی محنت امت کو اُس انحطاط سے اوپر اٹھانے کے لیے جس میں یہ جا گری ہے ہرگز کافی نہیں۔ یہ غربتِ ثانیہ جس کا آج ہمیں سامنا ہے، اس کو دور کرنے کے لیے آج ایک ویسی ہی محنت درکار ہے جو اسلام کی اُس جماعتِ اولیٰ نے اُس غربتِ اولیٰ کو دور کرنے کے لیے صرف کی تھی۔"""""  )مقدمہ: "مفاہیم ینبغی ان تصح " اردو ترجمہ از حامد کمال الدین(
 إن الله لم ينزل "لا إله إلا الله"؛ لتكون مجرد كلمة تنطق باللسان. إنما أنزلها؛ لتشكل واقع الكائن البشرية كله، لترفعه إلى المكان اللائق به.. الذي فضله الله به على كثير ممن خلق.. ترفعه من كل ثقلة تقعد به عن الصعود إلى تلك المكانة العالية ومحاولة الاستقامة عليها، سواء كانت ثقلة الشهوات اللاصقة بالطين، أو ثقلة "الران" الذي يرين على الأرواح، أو ثقلة "الضرورات" التي تقهر الإنسان وتذله لطغاة الأرض المتجبرين.. ترفعه فرداً وجماعة وأمة، ليتكون في الأرض المجتمع الصالح الذي يريده الله، وتقوم في الأرض أمة لا إله إلااللہ۔"""اللہ نے لاالٰہ الا اللہ صرف زبان سے بولنے کو نازل نہیں کیا، یہ حیات انسانی کی حقیقی صورت گری کے لیے اترا ہے تاکہ اسے ان رفعتوں سے ہمکنار کر سکے جو انسان کے شایان شان ہیں اورجن کی وجہ سے یہ دوسری مخلوقات سے افضل قرار پایا ہے۔ تاکہ یہ مٹی میں گندھی حقیر خواہشات ہوں یا روح کی پراگندگی ،یا ہتھیار ڈلوا کر کےطاغوت کے سامنے جھکنے پر مجبور کردینے والی نام نہاد "ضروریات"۔۔۔۔۔ سب سے اوپر کہیں اوپر اٹھتا چلا جائے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پربلندی کا سفر!! اور ایک ایسا معاشرے کی تشکیل جو اللہ کی چاہ رکھتا ہو اور زمین میں امت لاالٰہ الااللہ کھڑی ہو جائے !!"""
ولا يتم هذا كله بكلمة تنطق باللسان.. إنما يتم بحقيقة حية تملأ الكيان البشري كله وتسري في أعماقه، وتنبض نبضاً حياً يحرك كل ذرة فيه
""اور اس سب کچھ کی تکمیل کے لیے"زباں سے کہہ بھی دیا تو لاالٰہ تو کیا حاصل"! اس کی تکمیل توتبھی ممکن ہے جب زندگی کے تما م شعبے اس سے لبالب ہونے لگیں اور دل کی گہرائیاں اسے جذب کرتی چلی جائیں۔ روئیں روئیں میں چلتی زندہ نبض کی صورت""!!
 ) لا إله إلا الله عقيدة وشريعة ومنهاج حياة: (آن لائن ورژن صفحہ 19)

انٹرنیٹ پر استاذ محمد قطب کی ویب سائٹ ::http://muqtb.com/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصادر::
(1)http://www.ikhwanwiki.com/index.php?title=%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D9%82%D8%B7%D8%A8
(2)
http://muqtb.com/كتب-ومؤلفات/


ایک ملاقات


وسط دسمبر ایک ایسے بندے سے گفتگو کا اتفاق ہوا  جو ایک سال قبل ایکسیڈنٹ میں دونون ٹانگوں کے فریکچر کے بعد متعدد آپریشن کروا کر بھی ہنوز صاحب فراش ہے اور پتہ نہیں کب تک یہ کیفیت قائم رہے، حال احوال کے بعد میں نے ایک میسج سنایا جو دسمبر کی مناسبت سے تھا اور یوں شروع ہوتا تھا کہ"کوئی ہار گیا کوئی جیت گیا۔۔۔۔۔ یہ سال بھی آخر بیت گیا"
وہ:"میں تو ایک سال سے بیڈ پر ہوں"
میں :"عظیم لوگ ہو، بس اللہ سے مانگا کرو وہ دینے والا ہے"
"جب انسان بیڈ پر ہوتا ہے تو اللہ سے زیادہ اس کے قریب کوئی نہیں ہوتا اور اس سے زیادہ اللہ کے قریب کوئی نہیں ہوتا!"
"اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی بھی دوست اور مددگار نہیں ہے(سورۃ الشوریٰ)"
" میں تو اللہ کے سوا کسی کو دوست نہیں سمجھا ہوا"
"تو میں نے یہ کب کہا؟پر صبر بھی جسے اللہ دے!"
"میرے اللہ نے تو مجھے اتنا نوازا ہے کہ میں شکرادا کرنے کے قابل نہیں ہوں"
"اچھا! ذرا بتانا تو کیا نوازا ہے؟" (یہ سوال میں نے اس کا رد عمل معلوم کرنے کو کیا ، لیکن دل میں ہی سوچا کہ اس بندے نے کس چیز کا شکر ادا کرنا سال سے زیادہ تو بستر پر ہو گیا ہے اسے!)
" بن مانگے ہاتھ پاؤں دیے، آنکھیں ، دیں ، کان  دیے سب کچھ تو ہے ۔۔۔۔۔ پھر ایک ٹانگیں تھورے عرصے کے لیے لی ہیں تو باقی سب تو ہے نا!"
"مجھے ہی رلا دیا ظالما!"
"رونے کی کیا بات ہوئی؟"
"بس یار اپنی ناشکریاں یاد آگئی ہیں "
مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم یادآگئے۔  ایک جگہ لکھتے ہیں کہ نفس پرستی کی ایک صورت یہ بھی  ہے کہ انسان کو جو نعمتیں  عرصہ دراز سے حاصل ہیں ،وہ انہیں  مالک کی عطا کی بجائےاپنا حق تسلیم کرنے لگے ۔۔۔ لیجئے وہ مقام ہی نکل آیا ہے مولانا کی کتاب "حقیقت شرک و توحید " سے ، انہی کی زبانی سنیے:
""ج۔ خود پرستی کی ایک نہایت اہم اور عام شکل یہ ہے کہ جو لوگ ایک مدت تک فارغ البالی اور خوشحالی کی زندگی بسر کر چکے ہوتے ہیں اور دولت و ثروت اور اکتساب علم و فن کے وسائل پر قابض رہتے چلے آتے ہیں ، کچھ عرصہ توارث کے بعد ، اس حالت امن و اطمینان کو وہ اپنا استحقاق ذاتی اور اپنے علم و قابلت کا ثمرہ سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔ اس کی تہہ میں اتر کو غور کیا جائے تو یہ صریح شرک ہے۔ کیونکہ دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب کا خالق اللہ ہے ۔تمام ذرائع و وسائل اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور ان وسائل و ذرائع پر ہم اپنے جن اعضاء اور قوتوں قابلیتوں کے ذریعے سے تصرف کرتے ہیں وہ سب بھی خدا ہی کا عطیہ ہیں :
قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ    ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ  "کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ، آنکھیں اور دل بنائے۔ پر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو!" (الملک:23)          ہمارے عروج و کمال کا کوئی درجہ، ہمارے علم و فضل کا کوئی مرتبہ اور ہماری عظمت و سطوت کا کوئی مقام ایسا نہیں ہے جو ہمیں اس کی بندگی و غلامی سے بے نیاز کر سکتا ہو۔ ہم سلیمان و ذوالقرنین(علیھما السلام)  ہو کر بھی اس کے آگے ویسے ہی محتاج اور فقیر ہیں جیسے سلمان و بوذر (رضی اللہ عنھما)۔ احتیاج و افتقار   ہماری ایک صفت ذاتی ہے جو کسی حال میں بھی ہم سے جدا نہیں ہو سکتی، خواہ ہم کتنے ہی بلند مرتبہ پر پہنچ جائیں  اور قوت و سطوت کی کتنی ہی بڑی مقدار فراہم کر لیں۔"" (ص۔60۔61)
بازار میں  ایک بدو کو عجیب سی دعا کرتے دیکھ کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا تھا کہ  یہ کیا دعا ہوئی : "اللھم اجعلنی من عبادک القلیل"۔۔۔۔۔ کہنے لگا امیر المومنین کیا آپ نے قرآن میں پڑھا نہیں "وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ  " کہ میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں !!
واقعی کم ہے یہ "شکرگزار" نامی مخلوق ۔

اندھی نگری۔۔۔۔۔ کراچی!!!

اندھی نگری۔۔۔۔۔ کراچی!!!

اور آج کراچی پھر کرچی کرچی ہے۔۔۔۔۔۔22 جولائی کو دس بجے تک سکور 12 تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل23 جولائی کا دن کتنی اور کس کس کی جان لے گا ، شاید ہر کوئی اپنے گھر میں‌یہی سوچ رہا ہو گا!!!

آپ لوگ یقین کریں کہ میں کبھی کراچی نہیں گیا لیکن اس قبیل کی خبریں پڑھ پڑھ کے کہ::
"" حسن سکوائر کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جواد احمد جان بحق ہو گیا، لاش کو عباسی شہید ہسپتال پہنچایا گیا""
""گلشن اقبال کے علاقے میں محمد علی فائرنگ سے زخمی ہو گیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جناح ہسپتال میں چل بسا""

یہ خبریں پڑھ پڑھ کر پچھلے تین سال میں کراچی کے کتنے ہی علاقوں کے نام یاد ہو چکے ہیں۔۔۔۔ قصبہ کالونی، کٹی پہاڑی، اورنگی ٹاون، لانڈھی وغیرہ وغیرہ۔

کون کر رہا ہے یہ سب؟؟ بلکہ کون کون کر رہا ہے اور کروا رہا ہے سب جانتے ہیں۔۔۔۔۔ ایم کیو ایم ہو یا پیپلز پارٹی یا پھر ۔۔۔ اے این پی، اس گیم کے پیچھے "لیند مافیا" یا "ڈکیت گروپ" وغیرہ کی صورت میں یہی تنطیمیں ہیں جو ایک طرف تو دھشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ الاپ الاپ کر پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا چکی ہیں اور دوسری طرف مسلح ونگ بنا بنا کر ایک دوسرے کے کارکنان کے گلے پر تو چھری پھیر ہی رہی ہیں ساتھ میں اس سے زیادہ تعداد میں غریب عوام کو اس دنیائے فانی سے فنا کر ہی ہیں!!!

مان ہی لیا کہ ایم کیو ایم "لینڈ مافیا" کی صورت زمین ہر قبضے کر رہی ہے یا کرتی ہے لیکن کیا اس سے یہ لازم اجاتا ہے کہ سب اردو بولنے والے ایک ہی صف میں کھڑے کر دیے جائیں اور کوئی بھی دوسرا لسانی گروہ اپنے مقتولین کے بدلے میں گنتی پوری کرنے کے لیے جب تک اتنی ہی تعداد میں اردو بولنے والے زمین کی پشت سے اس کے پیٹ میں منتقل نہ کر دے ، "حساب" برابر نہیں ہوتا یا بالفاظ دیگر "ٹھنڈ نہیں پڑتی"۔۔۔۔!!!

یہ بھی تسلیم کہ اے این پی طالبان کی درپردہ حمایتی ہے اور اس میں داڑھیاں منڈوا کر سوات اور وزیرستان کے طالبان شامل ہو چکے ہیں جو کراچی میں "سیکولر" عناصر کو لڑا رہے ہیں ۔۔۔ لیکن کیا یہ قرین انصاف ہے کہ ہر پتھارے والا، رکشہ ڈرائیور، چوکیدار۔۔۔۔ اور تو اور مزدور انہی میں سے ہے اور "موت کا حقدار ہے"!!! بالخصوص تب جب "کشتوں کے پشتے" لگا دینے کا حکم ہو!!!

کوئی شک نہیں کہ پی پی پی لیاری گینگ وار میں پوری طرح رحمان ڈکیت اور دوسرے سماج دشمن عناصر کی پشت پناہ بنی ہوئی ہے لیکن ساری سندھی قوم ہی کیا عرصہ حیات تنگ کر دیے جانے کے قابل ہے؟؟؟

ناقابل یقین ہے یہ بات کہ طالبان کی اس بنیاد پر مذمت کرنے والے کہ وہ معصوم عوام کا قتل عام کرتے ہیں۔۔۔۔ خود جب انسانیت کی دہلیز کو عبور کرنے نکلتے تھے تو وحشت و درندگی کا رقص کبھی بوری بند لاشوں کی صورت میں سامنے آتا تھا تو کبھی ڈرل زدہ جانداروں کی دریافت ہوا کرتی تھی۔۔۔۔ لیکن اب 21ویں صدی میں یہ کشٹ کون بھوگتا پھرے ۔۔۔۔ ایک ٹی ٹی یا زیادہ سے زیادہ کلاشنکوف ، جی ہاں "اسرائیل" سے "درآمد شدہ"۔۔۔۔۔۔ اور دیکھو بھلا ہم کل کیسے آج مرنے والوں کا بدلہ گنتی پوری کر کے لیتے ہیں۔۔۔۔۔

اب تک کتنے ہی ناموں پر سرخ نشان لگ چکا ہو گا۔۔۔۔ کتنے ہی گھروں کے گرد دائرے کھینچ دیے گئے ہوں گے اور۔۔۔۔ کتنے ہی بچے کل کا سورج اپنے باپ پر طلوع ہوتے تو دیکھ پائیں گے لیکن غروب آفتاب ان کی آرزوؤں اور امنگوں کا مدفن بھی بن جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا ، کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہ ایک اندھی نگری ہے
!!!

PIMS، کچھ یادیں کچھ باتیں!!!

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جو پمز کے نام سے معروف ہے 1985 میں قائم کیا گیا، آج تک قائم ہے....البتہ بعض مساجد کی طرح آج تک مکمل نہیں ہو سکا... مزید تفصیل کے لیے یہاں "آہو" کریں!!!

یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے ، میں نیورسٹی کے ہاسٹل میں تھا کہ ایک ہم جماعت کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور اتنی خراب ہو گئی کہ ایمبولنس طلب کرنی پڑی. بارش زوروں پر تھی، خیر جیسے تیسے کر کے مریض کو ایمبولنس میں ڈالا تو ڈرائیور نے بتایا کہ ہم پمز جائیں گے کہ قریب تر وہی ہے.

گاڑی چلنا شروع ہوئی تو میری آنکھوں میں پچھلے برس انہی دنوں کا منظر اتر آیا جب ایک دوست کے پیٹ میں پانی بھر جانے سے وہ پھولنا شروع ہو گیا تھا اور ہم ایک پرائیویٹ ہسپتال میں خوار ہونے کے بعد بالاخر اسے پمز لے کر آئے تھے.
می نے خود کلامی سی شروع کر دی::"ایک سال گزر گیا ہے؟؟ " ..." نہیں یار" ..."پتہ ہی نہیں چلا"..." "ایک دن بندہ بھی گزر جاتا ہے کوئی پتہ نہیں چلتا"..." وقت بہت تیز ہو گیا ہے"" .....

اس رات بھی مجھے بہت کچھ یاد آیا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے آج آ رہا تھا کہ ماضی سے پیچھا چھڑایا ہی نہیں جا سکتا، ظاہراً انسان کتنا بھی بے پرواہی کا مظاہرہ کر لے، خود پر جبر کر کے "دوسروں" کو کوئی اندازہ لگانے کا موقع نہ دے... لیکن دماغ کی سکرین پر گزرے وقت کے جھماکے ضرور ہوتے رہتے ہیں!!!

مجھے وہ ڈاکٹر یاد آیا جو آج بھی یاد آتا ہے تو دل سے دعائیں نکلتی ہیں، ساری رات وہ مریضوں کو اتینڈ کرتا رہا تو ہم سمجھے کہ یہ اس کی ڈیوٹی ہے، لیکن حیران تو اس نے اس وقت کیا جب اس کے سب کولیگز کی شفٹ ختم ہوئی.... وہ بدستور وہیں تھا، اسی جذبے اور انہی چمکتی آنکھوں کے ساتھ، جو اس کا خاصہ تھیں. ابھی پچھلے دنوں ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کی تو مجھے وہ یاد آیا کہ میں تو بس اسی " ینگ ڈاکٹر " سے "واقف" ہوں..."اس نے ہڑتال نہیں کی ہو گی" میرے دل نے گواہی دی.

میں نے اس کمرے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، جہاں رات کے پچھلے پہر ایک بزرگ اور لاوارث خاتون نے اچانک میرا دامن پکڑ کر کہا تھا کہ " بیٹا! مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو تو لا دو!"،غالبا نفسیاتی مریض بھی تھیں وہ... اور میں نے اشکبار آنکھوں سے اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ اس نے میرے ساتھ کتنی نرمی کر رکھی ہے، ورنہ اعمال تو زمین کے اوپر رہنے کے قابل نہیں ہیں.

پارکنگ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے گھاس پر دیر سے ادا کی گئی عشاء کی نماز کا لطف یاد آیا جو ہمیں دبیز قالینوں میں باوجود کوشش کے نہیں ملتا..... وہ سکون، وہ وقت... اور وہ کیفیت... ناقابل بیان...!!!

اب ہم پمز پہنچ چکے تھے. ایمرجنسی میں بھائی کو چیک کیا گیا تو پتہ یہ چلا کہ بلد پریشر بہت لو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اسے شدید سردی لگ رہی تھی اور بہت کمزوری محسوس ہو رہی تھی، ڈاکٹرز نے ٹیسٹ لکھ کر دیے جن کا رزلت ایک بجے شب آنا تھا. چند ایک چیزیں لینے کے لیے باہر میدیکل ستور تک گیا تو فلم دوبارہ چلنی شروع ہو گئی.......!!!

یہ 25 مئی 2005 کی بات ہے، جب ابا جی کی ٹانگ ایک ایکسیڈنٹ میں فریکچر ہو گئی تھی، جنرل ہسپتال میں ابتدائی ٹریٹمنت کے بعد یہی فیصلہ ہوا کہ پمز منتقل کر دیا جائے کیونکہ وہاں تجربہ کار ترین ڈاکٹرز موجود ہیں، خیر تب میں نے شاید پہلی دفعہ اس وسیع ہسپتال کا "معائنہ" کیا تھا، پھر اگلے ڈیڑھ مہینے تک صبح شام یہی وطیفہ جاری رہا.

ابا جی کا وہ شاگرد یاد آیا جس کا نام طارق تھا اور غالبا جھنگ سے اس کا تعلق تھا ، میں نے تو کیا خاک خدمت کی تھی ان دنوں میں ، اسے دیکھ کر حیران ہوتا تھا کہ ایسے شاگرد آج کے دور میں بھی پائے جاتے ہیں... آخری ایک ہفتہ تو اس نے "بزور بازو" مجھے اور چاچو کو منع کر دیا کہ آپ نے تو سرکے پاس رہنا ہی ہے، مجھے بھی کچھ حق ادا کرنے دیں....

لان میں باتیں کرتے ایک شخص کے الفاط یاد آئے کہ جس سے میں نے زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوچھی تھی، جواب تھا:: اللہ کے ہاں مقبول شہادت.... ::مومنوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے کیا گیا عہد پورا کر دیا(الاحزاب(

اور اب، اس وقت مجھے لال مسجد کے وہ شھداء یاد ارہے ہیں جن کی سوختہ لاشیں اسی پمز کے مردہ خانے میں لا پھینکی گئی تھیں
اور تب سے پورے پاکستان میں ::ایمرجنسی:: نافذ ہے !!!