محمد سعد (تیزابیت)

کلیدساز ۲ تجرباتی نسخہ

چند سال پہلے خاکسار نے لینکس کے لیے کی بورڈ لے آؤٹ فائل بنانے کا ایک جی یو آئی تیار کیا تھا جو کہ پاک لینکس کے نسخہ اول ساتھ کلیدساز کے نام سے جاری کیا گیا تھا۔ ابتدائی نسخہ فائل تو بنا دیتا تھا لیکن پھر اس کو انسٹال کرنا صارف کی ذمہ داری بن جاتا جسے پھر خود انسٹالیشن کا طریقہ ڈھونڈنا پڑتا۔ چنانچہ خاکسار کافی عرصے سے تھوڑا تھوڑا کر کے اس میں کی بورڈ لے آؤٹ کی تنصیب کو بھی خودکار بنانے پر کام کر رہا تھا، جس کا ڈھانچہ اب مکمل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حتمی نسخہ پاک لینکس کے نئے نسخے کے ساتھ جاری کیا جائے گا لیکن اس سے پہلے اس کے کام کو پرکھنے کے لیے کئی تجربات کی ضرورت ہو گی۔ چنانچہ مجھے "بیٹا ٹیسٹرز" کی ضرورت ہے۔ یا جیسے جٹسی کے ڈاؤن لوڈ صفحے پر موبائل نسخے کے ساتھ لکھا ہے، "نڈر الفا جنگجووں" کی۔جو افراد کچھ تکنیکی مہارت رکھتے ہیں، ان کے تعاون کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
جو افراد صرف استعمال کی حد تک محدود رہنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بہتر ہو گا کہ کسی حادثاتی نقصان سے بچنے کے لیے حتمی نسخے کا انتظار کریں جو پاک لینکس کے ساتھ جاری کیا جائے گا۔موجودہ تجرباتی نسخہ کلیدساز کی گٹ ہب ریپازیٹری سے حاصل کریں۔

اعتزاز حسن کی یاد میں


کچھ زیادہ نہیں، بس ایک سال پہلے کی بات ہے۔ ضلع ہنگو میں 6 جنوری 2014ء کی صبح تھی۔ جب اعتزاز حسن نامی ایک بہادر لڑکے نے اپنے سکول کی طرف بڑھتے ہوئے ایک خودکش حملہ آور کو روکا تھا۔ کئیوں کی جان بچائی اور اپنی جان قربان کر دی۔ اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ حملہ آور کسی اور کو نقصان پہنچا دے۔
جان قربان کر دینا۔۔۔ کہنے میں کتنا آسان لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں انتہائی بھاری۔ اس کیفیت کو صحیح معنوں میں وہی سمجھ سکتا ہے جو اس لمحے کے اندر یہ فیصلہ کرتا ہے۔ کہ کوئی مقصد اتنا بڑا ہے جس کی اہمیت اس کی جان سے بھی زیادہ ہے۔
اور مقصد بھی کیا خوب! کسی اور کی زندگی کی حفاظت۔ کہ اسے ایک اور موقع مل جائے جینے کا۔ بچنے والے کے لیے تو یہ ساری کائنات جتنا فرق ہوتا ہے۔ یا شاید اس سے بھی زیادہ۔
اس دنیا میں ہر ذی روح کو اپنی زندگی پیاری ہوتی ہے۔ یہی اس کا سب کچھ ہوتی ہے۔ ایک بار چلی جائے تو یہ نعمت دوبارہ نہیں ملتی۔ ایسی نایاب نعمت کو قربان کر دینا کوئی ایسا فیصلہ نہیں جو ہر کوئی کر سکے۔
 تبھی ایسے شخص کو ہیرو کہتے ہیں۔ اور اس کی سب عزت کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ کچھ ایسا کر چکا ہوتا ہے جو عام لوگ نہیں کر سکتے۔ کچھ ایسا جو اسے انسانیت کے اعلیٰ درجوں پر لے جاتا ہے۔
پھر بے شک اس عمل میں اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے، اس فانی دنیا میں اس کا وجود ختم ہو جائے۔ لیکن اس کی قربانی ہی کئی لوگوں کی زندگی کا، ان کے باقی رہ جانے کا سبب بنتی ہے۔ اور اس کے لیے وہ انتہائی عزت و تکریم کا حق دار ہے۔

آپریشن واجب البلاگ

با وثوق ذرائع سے علم ہوا ہے کہ کچھ بلاگر احباب چھوٹی موٹی مراعات کے بدلے فیسبک کے ہاتھ بک گئے ہیں۔ یہ غدار بلاگران اب طویل و عریض تحاریر لکھ کر اپنے بلاگ پر شائع کرنے کے بجائے بلاگ کا حق مارتے ہوئے فیسبک کے اندھے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ جس کے سبب اب ان کے بلاگز کچھ ایسے نظر آنے لگے ہیں۔یاسر خوامخواہ جاپانی کا بلاگمحمد سلیم صاحب کا بلاگمیں "غیر فیسبکی بلاگرز سوسائٹی" کے پلیٹ فارم سے اس غدارانہ طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں اور غداری کرنے والے بلاگروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی یہ عادت سدھار کر اپنی تحاریر اپنے بلاگوں پر لگانا شروع کر دیں۔بصورت دیگر ہماری طرف سے اعلانِ جنگ سمجھا جائے۔ اگر آپ اپنی تحریر اپنے بلاگ پر نہیں لگانا چاہتے تو ایسے کئی "رضاکار" دستیاب ہیں جو آپ کی تحاریر بخوشی اپنے بلاگوں پر شائع کر دیں گے۔میں فیسبک استعمال کرنے والے اپنے بلاگر احباب سے بھی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس "مقدس مشن" میں ہمارا ساتھ دیں۔ آپ ہمارا ساتھ ایسی تمام پوسٹس پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر ان تحاریر کو ہائی جیک کرتے ہوئے اپنے بلاگوں پر بھی لگا سکتے ہیں (اصل لکھاری کے حوالے کے ساتھ)۔اعلان ختم ہوا۔

آؤ مل کر قدرت کے راز کھوجیں!

کیا آپ نے کبھی آرٹسٹوں کو دیکھا ہے؟ ایسی ایسی چیزوں میں خوبصورتی ڈھونڈ نکالتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ کسی بھی آرٹسٹ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے پر آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ لوگ اس حسن کو صرف خود ہی محسوس کر کے مطمئن نہیں رہ پاتے بلکہ وہ اسے سب کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہی کاوش فن پاروں کی تشکیل کا باعث بنتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  آج ہمارے پاس وان گوف کی تصاویر سے لے کر جوہان باخ کی دھنیں تک موجود ہیں۔ 
ایک سائنس دان بھی کسی  آرٹسٹ سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔ اس کو بھی قدرت کے مظاہر میں، اس کے رازوں میں، جمال و رعنائی نظر آتی ہے۔ ان رازوں کو کھوجنا اس کے لیے ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے،کیونکہ  رازوں کے اس پار مزید رعنائیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ پھر اپنی فطرت سے مجبور ہو کر وہ ان رعنائیوں کو سب کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ اس طرح کتابیں اور تحقیقی مقالے وجود میں آتے ہیں۔ پھر وہ مزید ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو اس منفرد خوبصورتی کی طرف، اسی کی طرح مائل ہوتے ہوں۔ چنانچہ سائنسی انجمنیں اور فورمز وجود میں آتے ہیں۔ 
تجسس سائنس فورم بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک اجتماع گاہ ہے جو قدرت کی خوبصورتی کی قدر کرتے ہیں اور اس کے رازوں کو کھوجنے میں لطف اٹھاتے ہیں۔ 
یوں تو ایسی اجتماع گاہیں اور بھی کئی موجود ہیں لیکن وہاں زبان کی رکاوٹ آڑے آ جایا کرتی ہے۔ جس طرح غالب کی شاعری ہم میں سے اکثر کو انگریزی میں لطف نہیں دے پاتی، اسی طرح سائنس کا ایک اجنبی زبان میں مطالعہ بھی ہمارے لیے قدرت کے حسن کو حقیقتاً قریب سے سمجھنے میں حائل ہو جاتا ہے۔ جب آپ کسی چیز کی خوبصورتی کو ہی نہ سمجھ پائیں تو اس کی جستجو میں ستاروں سے آگے نکلنے کی خواہش کیسے پیدا کر پائیں گے، بے شک اس میں آپ کو معاشی فائدہ یا وہ سب نظر آ رہا ہو جیسا کہ سائنس کی افادیت کے متعلق کسی روایتی مضمون میں آپ کو بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمیں اردو زبان میں سائنسی گفتگو کے لیے ایک مخصوص اجتماع گاہ بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 
تو آئیے! ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ تجسس سائنس فورم کے رکن بنیں اور قدرت کی خوبصورتی کو جاننے اور اس کے راز کھوجنے کے اس عمل میں ہمارے ساتھ شریک ہوں۔ کہیے، کیا خیال ہے؟

نا-مساعد

یاد نہیں کہ کتنے سال قبل کا واقعہ ہے۔ معمول کے ایک راستے سے گزرتے ہوئے وہاں دو عدد نئے کھمبے گڑے نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک نیا ٹرانسفارمر نصب ہونے لگا ہے۔ چونکہ ہمارے شہر میں بجلی کی ترسیل کے کمزور نظام کے باعث ٹرانسفارمر میں آتش بازیاں ہونا معمول کی بات ہوا کرتی ہے، تو جس کے گھر یا دکان کے سامنے کی جگہ چنی گئی، اس نے پورا زور لگا دیا کہ وہاں یہ "دھماکہ خیز مواد" نصب نہ ہو پائے۔ جب ٹرانسفارمر کو کہیں اور جگہ نہ مل سکی تو ایک ہی آپشن باقی رہ گیا۔ وہ تھا وہاں موجود ایک چھوٹے سے کوچے کا داخلی راستہ۔ چنانچہ کھمبے گاڑ کر کام شروع کر دیا گیا۔ میں وہاں سے گزرتے ہوئے اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس چھوٹی سی گلی کے مکینوں کو اس کی وجہ سے کتنی تکلیف ہوا کرتی ہوگی، کبھی کوئی بڑا سامان یہاں سے گزارنا پڑے تو وہ کیا کرتے ہوں گے، بارش میں کتنا پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔۔کچھ دن قبل دوبارہ وہاں سے گزر ہوا تو ایک نیا منظر میرے سامنے تھا۔ چند من چلوں نے اس ٹرانسفارمر کو ہی ٹرانسفارم کر کے رکھ دیا تھا۔
عرصہ دراز پہلے ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ نا ممکن کو ممکن کیسے بنایا جائے؟ جواب تھا، نا ممکن کا "نا" ہٹا کر۔اس منظر کو دیکھ کر بھی محسوس ہوا کہ گلی کے چند افراد نے اپنی نا مساعد صورت حال کا "نا" ہٹا کر اسے اپنے لیے مساعد بنا لیا ہے۔ وہی راستہ جسے دیکھ کر میرے ذہن میں پہلا تاثر گلی کے مکینوں کی تکلیف کا آتا تھا، اب وہاں ایک خوبصورت دروازہ کسی تقریب کے مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے کھڑا تھا۔جہاں ایک طرف میں اس راستے کے مسائل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، وہیں چند افراد کی نگاہوں نے اس میں ایک نیا موقع دیکھا، اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس طرح اس راستے کے ساتھ منسلک تمام مسائل غائب ہو گئے۔ لیکن اگر وہ بھی اپنی تمام تر توجہ اس کے سبب ہونے والی تکلیف پر ہی مرکوز رکھتے، تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایسا منظر دیکھنے کو ملتا۔مجھے لگا کہ اس واقعے میں میرے لیے بھی ایک سبق ہے۔ جس طرح چند من چلوں نے اپنے تمام مسائل میں گھرے رہتے ہوئے بھی ایک نیا موقع ڈھونڈ نکالا، اسی طرح ہمیں بھی زندگی میں کئی مواقع ملتے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ سکتے ہیں اگر اپنی تمام تر توجہ مسائل و تکالیف پر مرکوز نہ رکھیں۔ جس طرح انہوں نے نا مساعد کا صرف نا نکال کر اسے مساعد میں بدلا، اسی طرح ہم بھی اپنی زندگی میں بظاہر نا مساعد نظر آنے والی کئی صورتوں کو محض نا نکال کر مساعد میں بدل سکتے ہیں۔ نہ جانے ایسے کتنے مواقع کو میں صرف اپنی توجہ منفی سمت میں مرکوز کرنے کے سبب ضائع کر چکا ہوں گا۔ امید کرتا ہوں کہ اس یاد دہانی کے بعد میری زندگی میں ایسے مواقع کے ضیاع میں کمی آئے گی۔

سائنسی مواد اردو میں۔ ہاں یا نہیں۔ ایک دھندلا سا نقشہ

اردو زبان میں سائنسی مواد پر جب بات ہو تو دو اہم نکات اکثر سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف کسی کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ سائنسی مواد کی مقامی زبانوں میں موجودگی اسے عام فہم بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہم ہیں، اس حالت میں لوگوں کو اردو میں سائنس پڑھانا انہیں محدود کرنے کے برابر ہے۔ کہ جس سطح پر پہنچ کر انہیں آگے کسی اور زبان کو اختیار کرنے کی ضرورت پڑی، وہاں سے ان کی مشکلات شروع جائیں گی اور آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق شروع سے دیگر زبانوں میں انہیں تربیت دینے سے وہ زیادہ بلند سطح پر موجود مواد، جو کہ صرف غیر زبان میں ہی دستیاب ہوگا، سے بہتر استفادہ کر سکیں گے۔ وزن دونوں ہی باتوں میں ہے۔ پہلا گروہ جب اپنی زبان میں تعلیم دینے والی ترقی یافتہ قوموں کی جانب اشارہ کرتا ہے تو دوسرے گروہ والے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ممالک اس معاملے میں پہلے ہی سے کافی مستحکم بنیادیں رکھتے ہیں۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو میں سائنسی تدریس کی کوششوں کو ترک کر دیا جائے؟میری رائے میں ایسا نہیں۔موجودہ صورت حال بھی قابلِ قبول تو نہیں۔ اور تبدیلی لانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو ہاتھ پیر چلانے ہی پڑیں گے۔ لیکن جو لوگ فوری طور پر اردو میں سائنس کی تدریس رائج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں بھی اس دلیل کو مد نظر رکھنا ہوگا جس کا ذکر اوپر گزرا۔تو پھر حل کیا ہے؟یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ پائیدار نوعیت کی بڑی تبدیلی ہمیشہ آہستہ آہستہ ہی آتی ہے۔ میرے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ فی الحال رسمی سائنسی تدریس کو اسی طرح انگریزی میں چلنے دیا جائے لیکن ساتھ ساتھ اردو میں مواد کی دستیابی کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ آج اگر میں کچھ بنیادی نوعیت کا مواد اردو میں دستیاب کر دیتا ہوں تو کل کو اگر کوئی اور آ کر اس پر کام کرنا چاہے گا تو آسانی سے اس کے اوپر تھوڑی اور عمارت کھڑی کر دے گا۔ اسی طرح پھر کوئی اور آ کر کچھ اور اینٹیں لگا دے گا۔ یوں ہوتے ہوتے، اگر اللہ نے چاہا تو، ایک دن ایسا آ ہی جائے گا کہ جب ہمارے پاس بنیادی سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لیے اردو میں مواد دستیاب ہو۔ بھلے ہی وہ وقت سو سال بعد آئے لیکن اگر چل پڑیں گے تو آہستہ آہستہ ہی سہی، سفر کٹ ضرور جائے گا۔ اور پھر اگلے مرحلے میں دیگر مقامی زبانوں میں یہ سب کام کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اور تب ہم بھی، ان شاء اللہ، اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں پہنچ کر ہمارے لیے اپنی زبانوں میں سائنس کی تدریس کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گی۔لیکن ایک بات کا خیال رہے! صرف مواد ہی دستیاب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ خود تحقیق کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ اس تبدیلی کو دیر پا بنانے کے لیے اس سب کے ساتھ ساتھ خود انحصاریت کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔ دوسروں کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت سے جان چھڑانی ہوگی۔یعنی کہ بیک وقت دو جہتوں میں بڑھنا ہوگا۔ مواد کی دستیابی بھی اور تحقیق بھی۔اس کے متوازی فی الوقت تو اپنا تدریسی نظام انگریزی میں چلانا پڑے گا۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ یہ سفر قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا تو ایک دن ہم اس قابل ضرور ہو جائیں گے کہ انگریزی کی انحصاریت سے بہ آسانی جان چھڑا سکیں۔

ہماری منطق، یہ پیاری منطق

کل چھت پر دھوپ سینکتے ہوئے مطالعہ کر رہا تھا کہ پاس کھڑے کچھ لڑکوں کی گفتگو کی طرف توجہ گئی جو کہ پرسوں طالبات کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال پر اپنی ماہرانہ رائے کا تبادلہ کر رہے تھے۔ یوں تو ہڑتال کی وجہ بننے والے مسائل اور بھی تھے لیکن میں نے ہر طرف لوگوں کو صرف ایک ہی نکتہ پکڑ کر اس کی حمایت کرتے پایا جو کہ تھا پانچ بجے کے بعد ہاسٹل سے باہر نکلنے پر پابندی والا۔ شاید یہ "اسلامی" کہلوانے کے شوقینوں کا پسندیدہ نکتہ تھا، اس لیے۔ یہاں بھی وہی صورت حال تھی۔ فرمانے لگے کہ لڑکیوں کو پانچ بجے کے بعد باہر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کون سے کام کرنے ہوتے ہیں انہوں نے؟ میں خاموشی سے سنتا رہا کیونکہ مجھے اپنا سکون سے مطالعہ کرنا زیادہ عزیز تھا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ان کی گفتگو کا رخ کل چہلم پر لاگو ہونے والی موبائل فون بندش کی جانب مڑ گیا۔ اچانک کہنے لگے کہ پابندی تو مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہیں جی؟ کیا کہا؟ پابندیاں مسائل کا حل نہیں؟ لیکن کچھ دیر پہلے تو آپ حضرات کچھ اور ہی فرما رہے تھے۔ یہ اچانک یوٹرن میرے سادہ سے دماغ کے لیے اتنا پیچیدہ معمہ تھا کہ اس کے بعد آدھا گھنٹہ میں اسی کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ کیا کہہ کر گئے ہیں، اور ایسی کون سی منطق ہوتی ہے کہ جس کے تحت دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کے مسئلے کا حل ایک نئی پابندی ہو جبکہ اپنے معاملے میں پابندی کسی بھی مسئلے کا حل نہ ہو۔ کہیں یہ وہی منطق تو نہیں جسے منافقت کہتے ہیں؟ o_O

کوئک ریبوٹ

آپ کی خواہش ہوتی ہے سب سے اوپر جانے کی۔ دنیا کا بہترین اور عظیم ترین انسان بننے کی۔ اس کے لیے آپ خود پر کئی جبر کرتے ہیں۔ اپنی چھوٹی بڑی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں۔ کئی طرح کی تکالیف خوشی خوشی اٹھا لیتے ہیں۔ آپ خوش ہوتے ہیں کہ یہ تمام سختی برداشت کرنا آپ کو اپنی منزل کے قریب تر کر رہا ہے۔لیکن یہ سلسلہ ہمیشہ ایسا ہی تو نہیں چل سکتا۔ کبھی کبھار پچھتاوا آپ کو ہر طرف سے گھیرنے لگتا ہے۔ خود کو محروم رکھنے کا پچھتاوا۔ خود کو تکلیف میں ڈالنے کا پچھتاوا۔ اتنا زیادہ بوجھ اٹھانے کا پچھتاوا۔ آپ خود سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ آخر اس سب کا فائدہ کیا ہے؟ ایک ہدف جو نہ جانے حاصل ہو بھی سکتا ہے یا نہیں، کیا اس قابل ہے کہ اس کے لیے اپنی جھولی کو کنکروں سے بھر لیا جائے؟ آپ کو افسوس ہونے لگتا ہے بہت کچھ کھو دینے کا۔۔۔ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا جنہیں آپ کبھی محسوس نہ کر پائے۔ ان ہنستے مسکراتے لمحات کا جو آپ کو چھوئے بغیر گزر گئے۔ اس وقت کا جو آپ دوسروں کی طرح زندگی کا مزا لیتے گزار سکتے تھے لیکن آپ نے کھو دیا۔لیکن کیا کیا جائے۔ جو سودا کیا تھا، اس کی قیمت تو ادا کرنی ہی پڑے گی۔ چنانچہ آپ خود کو تسلی دیتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ ایک عام زندگی تو بہت سے لوگ گزار کر چلے جاتے ہیں۔ مزا تو تب آئے جب اپنی زندگی کو خاص بنایا جائے۔ کوئی شمع جلائی جائے، کوئی خوشیاں بکھیری جائیں، کوئی اچھا فرق پیدا کیا جائے۔ اب ایسی خاص زندگی مفت میں تو حاصل ہونے سے رہی۔چنانچہ اپنے مزاج کو "ریبوٹ" کر کے آپ ایک بار پھر سے اپنی زندگی کو خاص بنانے کے سفر پر چل پڑتے ہیں، ایک بھاری قیمت چکانے کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے۔۔۔

الٹی منطقِ مقابلہ

ذرا سوچیے کہ ایک جگہ دو فریقوں میں کسی بھی نوعیت کا مقابلہ ہے۔ چاہے وہ مارکیٹ ہو یا جنگ کا میدان۔ ان میں سے ایک فریق مسلسل اپنی صلاحیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق اس کے جواب میں اپنی صلاحیت مزید گھٹاتا رہتا ہے۔ ان دونوں میں سے کس کی جیت کا امکان زیادہ ہوگا؟
آپ بھی پوچھیں گے کہ یہ کیا احمقانہ سوال پوچھ رہا ہے۔ بھلا اس بات کی بھی کوئی تک بنتی ہے کہ کوئی بندہ اپنے حریف کے مقابلے میں اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے بجائے گھٹائے؟ لیکن افسوس کہ یہی احمقانہ سوچ آج کل ہمارے معاشرے پر حاوی ہے۔ خواہ وہ ہمارے کاروباری لوگ ہوں، مذہبی طبقے کے بعض عناصر ہوں یا حکومتی سیکیورٹی ادارے۔ کسی کو یہ فکر ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک کی مارکیٹ پر حاوی ہیں تو چلو ان پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے (بجائے اس کے کہ مقامی صنعت کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے)۔ کسی کو یہ ٹینشن ہے کہ انٹرنیٹ پر کفر و الحاد کا غلبہ ہے تو چلو بجائے اس کا مقابلہ کرنے کے انٹرنیٹ کو ہی شیطانی چرخہ قرار دے دو۔ اور کسی کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ کوئی بھی مواصلاتی نظام دہشت گرد بھی استعمال کر سکتے ہیں تو بنیادی ٹیلیفونی کے علاوہ فوری مواصلات کے تمام ذرائع ہی بند کر دو (بجائے اپنی انٹیلیجنس کا نظام بہتر بنانے کے)۔
ان تمام مثالوں میں یہ رویہ بالکل واضح ہے۔
جن کا کام اپنی صنعت کو بہتر بنانا ہے، وہ اپنی صنعت کو کمزور رکھتے ہوئے ہی ایک طاقت ور حریف کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ بہتر مصنوعات کے ذریعے گاہک کے دل میں جگہ بنانے کے بجائے وہی گھٹیا چیز اسے زبردستی بیچنا چاہتے ہیں۔
جن کا کام دنیا کے کونے کونے میں دین کا پیغام پہنچانا ہے، وہ اپنا دائرہ محدود کر کے سوچتے ہیں کہ شاید اس طرح کفر و الحاد کا غلبہ کم ہو جائے گا۔ ان کا حریف گھر گھر تک اپنے نظریات کی رسائی پر کام کر رہا ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان تک خود چل کر آئیں۔
جن کا کام ملک کی اور ملک کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، وہ خود آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ ان کے حریف مسلسل اپنی استعداد کار میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ حریف کے مقابلے میں اپنا نظام بہتر بنایا جائے اور اپنی صلاحیت بڑھائی جائے، یہ صرف مواصلاتی نظام بند کر دیتے ہیں جس سے ان کو تو تکلیف ہوتی ہی ہے جن کی حفاظت کے یہ ذمہ دار ہیں، ساتھ ساتھ ان کی اپنی استعداد کار بھی مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو کوئی بعید نہیں کہ ایک دن ہم سب اپنے گھروں تک ہی محدود ہو جائیں اور کرفیو ہر شہر میں روز کا معمول بن جائیں۔
یہ صرف تین مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اگر آپ غور کریں تو یہ رویہ جا بجا نظر آئے گا۔ ایسے سکول جہاں کمپیوٹر کو کینسر سمجھا جاتا ہے، ایسے والدین جو اپنی اولاد کو باہر کے ماحول کے مقابلے کے قابل بنانے کے بجائے ان کا باہر نکلنا ہی بند کر دیتے ہیں، ایسے دفاتر جہاں کے نیٹ ورکس پر بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی بند کر دی جاتی ہیں، غرض اکثر جگہ صاحبِ اختیار شخص کو ہر مسئلے کا حل ایک نئی پابندی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ پابندیاں مختصر مدتی پیمانے پر تو شاید تھوڑا بہت فائدہ پہنچانے کا تاثر دیتی ہوں، لیکن طویل مدتی پیمانے پر بے جا پابندیوں کا استعمال نہ صرف غیر مفید، بلکہ اکثر معاملات میں انتہائی نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی، اگر اتنے بڑے ہو کر اور اتنے اختیارات والی جگہ پہنچ کر بھی کسی کو ذمہ داری اٹھانا نہیں آتا، تو اسے یا تو "بڑا ہو جانا" چاہیے، یا پھر وہ ذمہ داری ہی کسی ایسے شخص کے حوالے کر دینی چاہیے جو اس کام کے لیے زیادہ اہل ہو۔

فیسبک سے آزادی کے سفر پر

میرے اکثر دوست جانتے ہیں کہ میں فیسبک سے شدید تنگ رہا ہوں اور آج صبح ہی میں نے اپنا فیسبک کھاتہ بند (ڈی ایکٹیویٹ) کیا ہے۔ یہاں پر میں اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ میں نے فیسبک چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ جنہیں زیادہ تجسس ہے، انہیں اشارے کے لیے اس ربط پر شور کے متعلق موجود یہ مضمون پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔فی الحال میں صرف ان ساتھیوں کے لیے ایک روڈمیپ پیش کرنا چاہوں گا جو میرے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندانِ فیسبک سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔تو جناب، پہلے مرحلے کا سب سے پہلا حصہ ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنا کہ آیا آپ کو واقعی فیسبک کی ضرورت ہے یا یہ آپ کے لیے صرف ایک ایسی غیر اہم آسائش ہے جس کا کام زندگی کو مزید پیچیدہ بنانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ کیا فیسبک آپ کی ضرورت ہے اور کیا اس سے الگ ہونے پر آپ کو یا کسی اور کو نقصان پہنچے گا؟ اس سوال کا جواب پاتے پاتے آپ کو ایک طویل عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔جب آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ فیسبک سے آپ کو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہو رہا جس کا آپ کے پاس کوئی بہتر متبادل نہ ہو تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے اہم دوستوں سے متبادل رابطے کی معلومات جمع کرنا۔ کیونکہ فیسبک پر آپ کو روکے رکھنے کی سب سے بڑی وجہ تو یہی لوگ ہیں۔ متبادل رابطے کے لیے آپ ان کا ای میل ایڈریس، فون نمبر یا کوئی انسٹنٹ میسجنگ آئی ڈی لے سکتے ہیں۔ اس کام میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔اس کے بعد اگلا کام ہوتا ہے اپنے ڈیٹا کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کرنا جو آپ کو (فیسبک کے موجودہ انٹرفیس میں) اکاؤنٹ سیٹنگ میں جنرل کے ٹیب میں مل جائے گا۔ یہ خیال رہے کہ یہ آپ کے تمام ڈیٹا کا مکمل بیک اپ نہیں ہوتا۔ لیکن جو بھی ملتا ہے، فیسبک والوں کا احسان سمجھ کر ڈاؤن لوڈ کر لیں۔جب یہ کام بھی ہو جائے تو اگلا فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنے فیسبک کھاتے کو صرف ڈی ایکٹیویٹ کرنا چاہتے ہیں یا مکمل طور پر ڈیلیٹ۔ چونکہ آپ فیسبک سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ہی آپ کا فیصلہ ہوگا، لیکن اس سے پہلے احتیاطی تدبیر کے طور پر کچھ عرصہ صرف ڈی ایکٹیویٹ کر کے دیکھ لیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران آپ کو خیال آئے کہ فلاں جگہ سے کچھ ڈیٹا اٹھانا باقی تھا یا فلاں شخص سے رابطے کی معلومات نہیں لیں۔ یہ کچھ عرصہ کافی اعصاب شکن ہوگا کیونکہ آپ کو رہ رہ کر خیال آئے گا کہ چلو تھوڑا سا فیسبک میں جھانک آئیں۔ اب پرانی عادتیں اتنی آسانی سے تو جان نہیں چھوڑتیں نا۔ اس عرصے میں خود پر خوب قابو رکھیں اور فارغ وقت کو تعمیری انداز سے استعمال کرنے کے اپنے آپشنز پر غور کریں۔ ایک دو ماہ تک تسلی ہو جانے کے بعد مزے سے اکاؤنٹ مستقل ڈیلیٹ کر دیں (اگر یہی آپ کا فیصلہ تھا)۔مبارک ہو! آپ زندانِ فیسبک سے باہر نکل آئے ہیں۔ لیکن ابھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ فیسبک سے باہر نکلنا محض پہلا مرحلہ تھا۔ ابھی ایک اور مشکل مرحلہ باقی ہے اس سے فارغ ہونے والے وقت کو کسی تعمیری استعمال میں خرچ کرنے کا۔ فیسبک سے نکلنے کے بعد خود کو کسی نئے کھڈے میں نہ گرا لینا۔ اپنے وقت کا خوب سوچ سمجھ کر استعمال کرنا!میں نے اس سلسلے میں یہ سوچا ہے کہ اب ایسی جگہوں سے پرہیز کرنا ہے جہاں اچھا برا سب ایک ساتھ، بغیر کسی ترتیب و تنظیم کے، قاری کے منہ پر دے مارا جاتا ہے کہ اب اس میں سے اپنے کام کی چیز خود الگ کرو۔ کتابوں کے ساتھ اپنی دوستی پھر سے جوڑنی ہے۔ اپنی آن لائن سرگرمی کے دوران ان ویب سائٹس کا استعمال زیادہ کرنا ہے جن پر ہونے والی گفتگو میری پسند کے موضوعات تک ہی محدود رہتی ہے یا کم از کم ہر قسم کی گفتگو کے لیے الگ الگ زمرے بنے ہیں، جہاں کا مجموعی مزاج تحقیقی ہے، اور جہاں لوگ باقی دنیا کے شور شرابے سے الگ تھلگ بیٹھ کر اپنی ذاتی ترقی اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔دعاؤں کی درخواست۔۔۔

ایک تھا پاکستان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک علاقے میں ایک قوم کے لوگ کچھ دوسری قوموں کے زیرِ تسلط رہ رہے تھے۔ جب زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو گیا تو انہوں نے خدا سے ایک ڈیل کی۔ کہ اگر خدا ان کو ایک ٹکڑا زمین پر ایسا دے دے جس پر وہ آزادی سے زندگی گزار سکیں تو وہ لوگ وہاں پر خدا کی مرضی کا نظام لاگو کریں گے۔
زمین کا ٹکڑا انہیں مل گیا۔ کچھ عرصہ انہوں نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ خدا کی مرضی کا نظام لاگو کرنے کے لیے خوب محنت کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ کم پڑتا گیا۔ اور وہ اپنا وعدہ بھول کر دنیا کی غیر اہم آسائشوں کی دوڑ میں لگ پڑے، جس نے انہیں اتنا مفلس بنا دیا کہ ان کو جان کے لالے پڑ گئے جس سے گھبرا کر انہوں نے نئے خدا بنا لیے اور اپنے حقیقی خدا کو فراموش کر دیا۔
آج وہ اپنے بنائے چھوٹے موٹے خداؤں سے دھکے، ٹھڈے اور ماریں بھی کھاتے ہیں لیکن ذلیل ہونے اور کچھ فائدہ نہ پانے کے باوجود انہی جھوٹے خداؤں کے دروں پر بیٹھے ہیں۔
کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنے حقیقی خدا کی طرف ہی لوٹ آئیں جو اکیلا ہی ان سب چھوٹے چھوٹے جھوٹے خداؤں کے چھکے چھڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ وعدہ پورا کریں جو ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے کیا تھا، اور پھر اپنے حقیقی خدا کی مدد و نصرت کے ساتھ ایک پروقار زندگی گزاریں؟

پے بیک ٹائم!

یہ پاکستان میں ایک عام مسئلہ ہے کہ شریف خواتین، جنہوں نے اپنی ضروریات کے لیے موبائل فون رکھے ہوتے ہیں، کو ایک دن اچانک اوباش قسم کے نوجوانوں کی طرف سے فضول پیغامات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض [سینسدڑ اسمائے صفت] لڑکے تو کال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اکثر ایسے مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا الٹا اس خاتون پر غصہ نکالا جاتا ہے کہ تمہیں موبائل کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کوئی جوابی کارروائی کرے تو زیادہ سے زیادہ بھائی صاحب کے ذریعے تڑی لگا دی جاتی ہے کہ اب نہ آئے کال۔ کسی کے تعلقات ہوں تو وہ اس نمبر کے مالک کا پورا شجرۂ نصب بھی نکال لیا کرتے ہیں لیکن یہ عیاشی ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی۔ مہذب معاشروں میں ایسے کام کے لیے پولیس ہوا کرتی ہے لیکن یہاں پولیس کے عمومی رویے کی وجہ سے لوگ ایسے مسائل کی رپورٹ درج کرانے سے بھی کتراتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نامعلوم والدین کے جنے یہ نامعلوم افراد بلا خوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں۔ایک شریف آدمی کا دل ایسی صورت حال کو دیکھ کر بہت کڑھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ان کے خلاف کچھ کارروائی ہونی چاہیے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات میں قانون کا نفاذ شامل نہ ہونا دیکھ کر خود کو بے بس و لاچار محسوس کرتا ہے۔ایسے میں مجھے ایک خیال آیا۔ کیوں نہ ان لوگوں کے ساتھ وہی (یا حسبِ توفیق اس سے بھی "بڑھیا") سلوک کیا جائے جس طرح یہ لوگ شریف خواتین کو تکلیف پہنچاتے ہیں؟ ایک ویب سائٹ بنائی جائے جہاں ایسے لوگوں کے نمبر اکٹھے کیے جائیں جس طرح یہ لوگ لڑکیوں کے نمبر ویب سائٹس پر جمع کرتے ہیں۔ اور منادی لگا دی جائے کہ اب سب لوگ ان [سینسرڈ اسمائے صفت] لڑکوں کا حسبِ توفیق بلاتکار کریں۔
بہت سے لوگوں کو ان کے اندر کی اچھائی اپنی حدود کے اندر رکھتی ہے۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ڈنڈے کے زور سے سیدھا رکھنا پڑتا ہے۔آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا ایسا کیا جانا چاہیے یا ہمارے پاس کوئی اس سے بہتر متبادل موجود ہے؟

چھوٹے چھوٹے قدم

جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، بلندی کے خوف نے غالباً میرے دل میں تب جگہ بنائی تھی جب میں بچپن میں ایک بار چھت سے کودتے ہوئے پھسل کر کافی سخت چوٹ لگوا بیٹھا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے میں درجنوں بار اسی جگہ سے کامیابی کے ساتھ چھلانگ لگا چکا تھا۔ لیکن نہ جانے یہ چوٹ کی شدت تھی یا بڑوں کا گھبراہٹ میں دیا شدید ردِ عمل کہ اس کے بعد میں کبھی ایسی جگہ سے چھلانگ لگانا تو دور کی بات، اس کے کنارے پر کھڑے ہوتے ہوئے بھی خوف محسوس کرنے لگا۔
کل چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں لگے میلے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک دیوار سی بنائی ہوئی تھی جس پر لوگ چڑھ کر اپنا کوہ پیمائی کا شوق کچھ حد تک پورا کر رہے تھے (انگ+ریزی میں بولے تو وال کلائمبنگ)۔ میں نے پہلے چند ایک بار یہ چیز دیکھی تو تھی لیکن پہلے کبھی خود دیوار پیمائی کا موقع نہ ملا تھا۔ اس بار سوچا کہ کسی دوست کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔ حفاظتی رسیاں باندھنے لگے تو مجھ پر پھر سے وہی بلندی کا خوف غالب ہونے لگا۔ تھوڑے تھوڑے پسینے بھی چھوٹنے لگے اور ہلکی سی لرزش بھی محسوس ہوئی ہاتھوں پیروں میں۔ لیکن نہ جانے اس وقت میرے ذہن میں کیا سمائی کہ اس چیز نے مجھے چیلنج قبول کرنے پر مزید اکسایا۔ شاید اتنا طویل عرصہ بلندیوں سے خوف زدہ رہنے کے بعد میں تھک چکا تھا۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر اوپر چڑھنا شروع کیا۔تین چوتھائی فاصلہ طے کرنے کے بعد ہاتھوں پر پسینہ آنے لگا اور پاؤں کچھ کچھ بے قابو سے  ہونے لگے۔ لیکن یہاں سے واپسی نہ صرف اپنی بے عزتی بلکہ خوف کے سامنے ہار ماننا بھی تھا۔ چنانچہ توجہ اپنے خوف سے ہٹاتے ہوئے اوپر  بڑھنے پر لگانے کی کوشش کرتا رہا اور کسی نہ کسی طرح اوپر پہنچ کر گھنٹی بجا ہی دی۔ نیچے اترتے ہوئے گرنے جیسی کیفیت کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑا۔ واپس زمین پر پہنچتے پہنچتے کافی تھک چکا تھا کہ اتنے پرانے خوف سے لڑنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن تھوڑی دیر پہلے کی نسبت بہت بہتر محسوس کر رہا تھا۔
میں جانتا ہوں کہ یہ کوئی اتنا بڑا غیر معمولی کارنامہ نہیں کہ جس پر میں بغلیں بجا سکوں اور خو کو کوئی بڑی توپ چیز قرار دے سکوں۔ لیکن اس نے مجھے یہ اعتماد ضرور دلایاہے۔۔۔ کہ اگلی بار خوف سے نجات کے راستے پر، جو رکاوٹ عبور کروں گا، وہ کم از کم اس سے بڑی ہوگی۔

ووٹ شوٹ

یہ منظر آج کل اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔کچھ لوگ بیٹھے حکومت وغیرہ کو کوس رہے ہوتے ہیں، حالات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں، دوسروں کی بے ایمانیوں کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کہ اچانک ان میں سے ایک شخص کسی دوسرے سے پوچھتا ہے۔ "تو پھر تم اس بار کسے ووٹ ڈال رہے ہو؟" اور جواب میں وہ صاحب فرماتے ہیں کہ "کسی کو بھی نہیں۔ سارا نظام ہی بگڑا ہوا ہے۔ صرف میرے ووٹ سے کیا فرق پڑ جائے گا!۔۔" ایسے لوگوں کی یہ منطق کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ اگر ان کو کوئی ایسی تصویر دکھائی جائے جس میں کسی اسرائیلی ٹینک کے سامنے کوئی فلسطینی بچہ ہاتھ میں پتھر اٹھائے کھڑا ہو تو (اگر سب نہیں تو) اکثر اس بچے کی ہمت کی تعریف ہی کریں گے اور اس کے طرزِ عمل کو قابلِ تحسین قرار دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب اپنی باری آئے گی تو محض دو گھنٹے لگا کر وہ ووٹ ڈالنے کی تکلیف بھی نہیں کریں گے جس پر ان کے مستقبل کا اتنا انحصار ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے ووٹ ڈالنے کے باوجود وہ تبدیلی نہیں آتی جس کے لیے آپ نے ووٹ ڈالا تھا، تب بھی کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنی سی ایک کوشش کر لی جائے؟ بجائے اس کے کہ صرف رونے دھونے پر ہی اکتفاء کیے رہیں۔۔۔

ظالمو! تاج نستعلیق آ رہا ہے!

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور نا امیدی کا اندھیرا چھٹا!
ان شاء اللہ ۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو بر صغیر کے پہلے آزاد ترسیمہ جاتی لاہوری نستعلیق فانٹ، القلم تاج نستعلیق، کا اجراء کر دیا جائے گا۔تاج نستعلیق کی ویب سائٹ:http://taj.alqlm.org
اپنی ویب سائٹ کے لیے تاج نستعلیق کا بینر حاصل کرنے کے لیے یہاں تشریف لے جائیں:http://banners.taj.alqlm.org
اور یہ رہا ایک عدد بڑے حجم کا بینر شریف:

کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟

چند ہی دن پہلے ایک جگہ کسی کا اعتراض پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علمی زوال میں امام غزالی کا اہم کردار ہے۔
دو وجوہات نے مجھے اس معاملے کی تہہ میں جانے پر اکسایا۔ ایک تو یہ کہ اس طرح مجھے تاریخ کے متعلق کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ دوم یہ کہ اتنی بڑی بات کو بغیر تحقیق قبول کر لینا کوئی علم دوست رویہ نہیں۔
پہلا مرحلہ تھا دعوے کا تجزیہ کرنا جس کے نتیجے میں اپنی آسانی کے لیے میں نے اسے ان دو حصوں میں تقسیم کیا۔اول یہ کہ امام غزالی نے ریاضی کو ایک شیطانی کھیل قرار دیا۔دوم یہ کہ امام غزالی کی وجہ سے مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔
پہلے حصے کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں اپنی تاریخ سے عدم واقفیت کے باعث کافی محنت کرنی پڑی۔ لیکن آخر کار مجھے کہیں سے امام غزالی کی احیاء العلوم کا اردو ترجمہ مل گیا جس کی پہلی جلد میں مجھے یہ متن ملا۔
"غیر شرعی علوم:غیر شرعی علوم کی بھی تین اقسام ہیں(۱) پسندیدہ علوم(۲) ناپسندیدہ علوم(۳) مباح علومپسندیدہ علوم وہ ہیں جن سے دنیاوی زندگی کے مصالح وابستہ ہیں جیسے علمِ طب اور علمِ حساب۔ ان میں سے بعض علوم فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض صرف اچھے ہیں، فرض نہیں ہیں۔ فرضِ کفایہ وہ علوم ہیں جو دنیاوی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے طب تندرستی اور صحت کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، یا حساب کہ خرید و فروخت کے معاملات، وصیتوں کی تکمیل اور مالِ وراثت کی تقسیم وغیرہ میں لازمی ہے۔ یہ علوم ایسے ہیں کہ اگر شہر میں ان کا کوئی جاننے والا نہ ہو تو تمام اہلِ شہر کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ان میں سے اگر ایک شخص بھی ان علوم کو حاصل کر لے تو باقی لوگوں کے ذمے سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
یہاں اس پر تعجب نہ کرنا چاہیے کہ صرف طب اور حساب کو فرضِ کفایہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ہم نے جو اصول بیان کیے ہیں، اس کی روشنی میں بنیادی پیشے جیسے پارچہ بافی، زراعت اور سیاست بھی فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ سینا پرونا اور پچھنے لگانا بھی فرضِ کفایہ ہیں، کہ اگر شہر بھر میں کوئی فاسد خون نکالنے والا نہ ہو تو جانوں کی ہلاکت کا خوف رہتا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس نے بیماری دی ہے، اس نے دوا بھی اتاری ہے اور علاج کا طریقہ بھی بتلایا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم ان سے فائدہ اٹھائیں؟ بلا وجہ اپنے آپ کو ہلاکت کی نذر کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے پچھنے لگانے کا علم بھی فرضِ کفایہ ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ طب اور حساب کا صرف وہ حصہ فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے انسانی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ طب اور حساب کی باریکیوں کا علم محض پسندیدہ ہے، فرضِ کفایہ نہیں ہے۔غیر شرعی علوم میں ناپسندیدہ علوم یہ ہیں: (۱) جادوگری، (۲) شعبدہ بازی، (۳) وہ علم جس سے دھوکہ ہو وغیرہ۔مباح علوم یہ ہیں: (۱) شعر و شاعری اگر وہ اخلاق سوز نہ ہو، (۲) تاریخ یا دیگر تاریخی علوم۔ان صورتوں کی روشنی میں دوسرے ناپسندیدہ یا مباح علوم و فنون کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔"
میرے خیال میں اتنا اقتباس کافی ہوگا امام غزالی کے دنیاوی علوم پر نظریات کو سمجھنے کے لیے۔ اس لیے اب اگلے مرحلے کو چلتے ہیں۔
اگر مسلمانوں نے سائنسی علوم کو امام غزالی کی وجہ سے چھوڑا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام غزالی کے بعد والے دور میں مسلمانوں میں دو چار ناموں کے علاوہ کوئی بڑا سائنس دان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنا چاہیے۔چنانچہ اس کے لیے میں نے مشہور مسلمان سائنس دانوں کی فہرستیں چھاننی شروع کیں۔ ان میں سے چونکہ وکیپیڈیا والی فہرست کو چھاننا دوسروں کی نسبت زیادہ آسان تھا، اس لیے اسی کا انتخاب کیا۔ اگرچہ دیگر کتب میں ملنے والے کچھ نام مجھے اس فہرست میں نہ مل پائے۔ لیکن یہ سوچتے ہوئے کہ اتنی طویل فہرست کے ہوتے ہوئے ان پانچ چھے ناموں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، میں نے وکیپیڈیا کی آسانی کو ترجیح دی۔http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_Muslim_scientistsفہرست کی طوالت کی وجہ سے میں نے اپنی توجہ صرف فلکیات دانوں، ریاضی دانوں، طبیعیات دانوں اور انجنئیروں والے زمروں تک محدود رکھی (شاید اپنے ذاتی شوق کی وجہ سے)۔ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ امام غزالی کی وفات (1111ء) کے بعد ان میں سے کون کون پیدا ہوا تھا۔امام غزالی پر آنے والے اعتراض کو پڑھنے کے بعد میں توقع کر رہا تھا کہ یہ تعداد انتہائی کم ہوگی جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کمی کو امام غزالی سے منسوب کر دیتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ تعداد میرے اندازے سے کافی زیادہ نکلی۔ چھانٹی کے بعد بچ جانے والوں میں سے بیس سائنس دانوں کے نام (بمع وکیپیڈیا ربط) یہاں پیش کر رہا ہوں۔

أبو الوليد محمد بن احمد بن رشد‎
فقيه، فلسفی، ماہرِ قانون، طبیب، فلکیات دان، جغرافیہ دان، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1126–1198)
http://en.wikipedia.org/wiki/Averroes

السموأل بن يحيى المغربي‎
ریاضی دان، فلکیات دان اور طبیب
(1130–1180)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Samawal

نور الدین البتروجی
فلکیات دان اور قاضی
(وفات: 1204)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nur_Ed-Din_Al_Betrugi

بديع الزمان أَبُو اَلْعِزِ بْنُ إسْماعِيلِ بْنُ الرِّزاز الجزري
عالمِ دین، موجد، ریاضی دان، انجنئیر
(1136–1206)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Jazari

شرف الدین طوسی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(وفات: 1213 یا 1214)
http://en.wikipedia.org/wiki/Sharaf_al-D%C4%ABn_al-T%C5%ABs%C4%AB

محمد بن محمد بن الحسن طوسی (المعروف نصیر الدین طوسی‎)
فلکیات دان، حیاتیات دان، کیمیا دان، ریاضی دان، فلسفی، طبیب، طبیعیات دان
(1201–1274)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nasir_al-Din_Tusi

محي الدين المغربي
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1220–1283)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mu%E1%B8%A5yi_al-D%C4%ABn_al-Maghrib%C4%AB

معید الدین الاردی
ریاضی دان، فلکیات دان، انجنئیر
(وفات: 1266)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mo%27ayyeduddin_Urdi

قطب‌الدین محمود بن مسعود شیرازی
شاعر، فلکیات دان، ریاضی دان، طبیب، طبیعیات دان، فلسفی
(1236 – 1311)
http://en.wikipedia.org/wiki/Qutb_al-Din_al-Shirazi

شمس الدین السمرقندی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1250–1310)
http://en.wikipedia.org/wiki/Shams_al-D%C4%ABn_al-Samarqand%C4%AB

ابن البناء المراکشی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1256–1321)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Banna%27_al-Marrakushi

کمال الدین فارسی
ریاضی دان، فلکیات دان
(1267–1319)
http://en.wikipedia.org/wiki/Kam%C4%81l_al-D%C4%ABn_al-F%C4%81ris%C4%AB

ابن الشاطر
فلکیات دان، ریاضی دان، انجنئیر اور موجد
مسجد میں موقت (ٹائم کیپر) کے طور پر کام کرتے تھے
(1304–1375)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Shatir

شمس الدین ابو عبداللہ الخلیلی
فلکیات دان
(1320–1380)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Khalili

قاضی زادہ الرومی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1364–1436)
http://en.wikipedia.org/wiki/Q%C4%81%E1%B8%8D%C4%AB_Z%C4%81da_al-R%C5%ABm%C4%AB

غیاث‌الدین جمشید کاشانی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1380–1429)
http://en.wikipedia.org/wiki/Jamsh%C4%ABd_al-K%C4%81sh%C4%AB

میرزا محمد طارق بن شاہرخ الغ بیگ
ریاضی دان، فلکیات دان اور سلطان
(1394–1449)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ulugh_Beg

أبو الحسن علي القلصادي
ریاضی دان
(1412–1486)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ab%C5%AB_al-Hasan_ibn_Al%C4%AB_al-Qalas%C4%81d%C4%AB

تقي الدين محمد بن معروف الشامي
فلکیات دان، انجنئیر، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1526–1585)
http://en.wikipedia.org/wiki/Taqi_al-Din_Muhammad_ibn_Ma%27ruf

محمد باقر یزدی
ریاضی دان
(سولہویں صدی)
http://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Baqir_Yazdi


اس تمام ڈیٹا کی موجودگی میں مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ مسلمانوں نے جو سائنس کو چھوڑا تو امام غزالی کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اس کے اسباب کچھ اور تھے۔
یعنی کہ میرے ساتھ "کھودا پہاڑ، نکلا چوہا" والی واردات ہو گئی۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ جس کے حقائق کی تصدیق کے معاملے میں کاہلی برتنے کی وجہ سے مجھے اتنی خواری کرنی پڑی (یعنی جس نے تصدیق کیے بغیر ہی الزام کو آگے بڑھا دیا)، اس سے جرمانے میں بریانی کی دیگ وصولی جائے۔ لیکن افسوس کہ فی الحال یہ کام انٹرنیٹ پر ممکن نہیں ہیں۔
چلو بخش دیا۔ کیا یاد کرو گے!۔۔

نکاح کا مذاق

ایک دفعہ جمعہ کے خطاب کے دوران نکاح کا موضوع آیا تو خطیب صاحب نے بڑی دلچسپ بات کہی۔کہا کہ اذان سنت ہے۔ اگر کوئی شخص اذان کے دوران آ کر گانا بجانا شروع کر دے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ یقیناً سب اسے روکیں گے کہ یہ کیا اذان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ نکاح بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت ہے۔ لیکن اس میں لوگ خوب شوق سے گانے بجانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر کوئی روکے تو طرح طرح کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ اکثریت کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔براہِ مہربانی اس چیز کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا مذاق نہ بنائیں۔ اور کوشش کریں کہ اوروں کو بھی اس طرح نکاح کی سنت کا مذاق بنانے سے روکیں۔

کرکٹی انتہا پسندی

پرسوں "بولتا پاکستان" کے فیسبک صفحے پر ایک سوال دیکھا۔سوال تھا، "لندن کی عدالت نے پاکستانی کرکٹرز کو سزا دے دی۔ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟"نیچے کیے گئے تبصروں کے درمیان کچھ عجیب و غریب سے تبصرے دیکھنے کو ملے۔کسی کا کہنا ہے کہ تاحیات پابندی لگا دی جائے۔ کسی نے کہا کہ تاحیات پابندی کے ساتھ پانچ کروڑ جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔ جبکہ کوئی اتنے کم جرمانے پر خوش نہیں اور چاہتا ہے کہ ان کے تمام اثاثے ہی منجمد کر دیے جائیں۔ کوئی چاہتا ہے کہ ان کی پاکستانی قومیت ہی ختم کر دی جائے جبکہ کسی کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کو اتنا بدنام کرنے پر انہیں پھانسی کیوں نہیں دے دی گئی۔
یہ کہتے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ اگر واقعی یہ لوگ مجرم ہیں تو بس قانون کے مطابق سزا دو اور جان چھوڑو۔

ہے نا عجیب منطق؟
ملکی دولت لوٹنے والے لٹیروں کو اگلی بار ووٹ دیکر پھر سے سارے وطن کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دو اور ایک نو بال کروانے پر لوگوں کو پھانسی چڑھا دو۔وطن عزیز میں معاشرے میں موجود برائی اور کرپشن کلچر کا الزام ملا پر۔ شدت پسندی، بم دھماکے، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا ذمہ دار مولوی ہے۔ لیکن ایک نو بال پر پھانسی کی سزا یقینا عین اعتدال پسندی ہے۔پاکستان کھپے! ملکانہ لاجک زندہ باد! (ملک ساب کو تو جانتے ہی ہوں گے آپ سب)

ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

بچپن میں، بچوں کے ایک رسالے میں، "ورلڈ کپ" کے عنوان سے یہ نظم دیکھی تھی۔ شاعر کا نام یاد نہیں۔ شاید "انوکھی کہانیاں" کا 1992ء یا 1996ء کا شمارہ تھا۔ بس نظم ہی یاد ہے، چنانچہ اسی پر گزارہ کیجیے۔


ورلڈ کپ

جو کل تک الل تھا وہ ٹپ ہو گیا ہے
جو مرغا تھا پورا ہڑپ ہو گیا ہے
جو اوور ملا تھا وہ اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو افسر تھا جا بیٹھا ٹی وی کے آگے
تو ماتحت چھٹی سے پہلے ہی بھاگے
کہ تھے صبح دم نو بجے کے وہ جاگے
سو دفتر کا دفتر ہی ٹھپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو گاہک نے پوچھا ٹماٹر کا بھاؤ
تو بوڑھا پکارا ارے جاؤ جاؤ!
ابھی ایک دو روز کچھ مت پکاؤ
کہ سبزی کو بھی ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو ٹیچر نے پوچھا کہاں پر ہے یکہ
تو شاگرد بولا کہ چھکے پہ چھکا
نہ یوں مفت میں آپ ہوں ہکا بکا
پڑھائی کا اوور بھی اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

کوشش: خواہش کی شدت کو ناپنے کا ایک پیمانہ

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ چھوٹا بھائی فیس بک چلا کر بیٹھا تھا اور میں بھی کمپیوٹر کے فارغ ہونے کے انتظار میں پاس ہی کھڑا تھا۔ اچانک ایک گروپ کے نام پر نظر پڑی۔We want change for Pakistanدیکھتے ہی اگلا جملہ جو میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا۔But we won’t change for Pakistan.اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ کہنے کو تو یہ محض ایک اتفاق تھا لیکن مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا۔اگر غور کیا جائے تو یہ جملہ انقلاب انقلاب کے خالی خولی نعرے لگانے والوں کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ بظاہر تو یہ اور اس جیسے درجنوں گروپس تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ ان لوگوں میں واقعی تبدیلی کی خواہش موجود ہے۔ یا کم از کم اتنی شدید خواہش نہیں جس کا یہ اظہار کرتے ہیں۔کیونکہ جس شخص میں اتنی شدید خواہش ہو، وہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ کسی رکاوٹ یا مشکل کی پروا نہیں کرتا۔ اس کے لیے کسی بہانے کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے لیے منزل کی طرف جانے والا ہر قدم اہم ہوتا ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ “چھوٹے قدم سے کیا ہوگا؟ میں تو صرف بڑے بڑے قدم ہی اٹھاؤں گا۔” گرے تو دوبارہ اٹھتا ہے۔ پھر سے قدم بڑھاتا ہے۔ ایسا نہیں کہتا کہ “سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ یہاں کیسے تبدیلی آئے گی!” وہ جانتا ہے کہ سسٹم خراب ہے تبھی تو اس میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ وہ کسی کا انتظار بھی نہیں کرتا کہ وہ آ کر سب ٹھیک کرے گا۔ اس کے دل میں جو شدید خواہش ہوتی ہے، وہ اسے انتظار کرنے ہی نہیں دیتی۔ایسا شخص نعرے نہیں لگایا کرتا۔ اس کے پاس لمبی چوڑی تقاریر کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ فیس بک پر ایسے گروپ بنا کر فضول بحث میں الجھے رہنے کو وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔ جہاں سے جتنا بھی وقت ملتا ہے، اسے منزل کی طرف ایک اور قدم بڑھانے میں استعمال کرتا ہے۔ایسے گروپس وغیرہ میں الجھے رہنے والوں سے گزارش ہے کہ کچھ دیر کو اپنا تجزیہ کریں اور خود سے پوچھیں کہ کیا واقعی ان کے دل میں تبدیلی کے لیے اتنی خواہش ہے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں؟میں یہ نہیں کہتا کہ ان گروپس کا سرے سے کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ یوں کہ ان پر خالی خولی اشعار، ویڈیوز اور تقاریر پوسٹ کرنے کے بجائے عملی کاموں کی منصوبہ بندی کے لیے ان کا استعمال کیا جائے۔ کل میں یہ ویب سائٹ دیکھ رہا تھا جہاں طلبائے علم اپنے لیے کوئی مشن چنتے ہیں اور پھر اس کام کو ریکارڈ کر کے دوسروں کے لیے پیش کرتے ہیں۔InterroBangاس طرح کا کوئی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یا کوئی ایسا مفید کام جس میں ایک سے زائد لوگوں کی ضرورت پڑتی ہو، اس کے لیے لوگوں کو منظم کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔اصل نکتہ یہ ہے کہ باتیں کم، اور کام زیادہ کیا جائے۔ اور ٹیکنالوجی کو صرف وقت گزاری کے بجائے کسی مفید کام کے لیے استعمال کیا جائے۔ تبھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ورنہ صرف تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے رہنا اور اسے پورا کرنے کے لیے چھوٹا سا قدم بھی نہ اٹھانا تو اس بات کی علامت ہے کہ یا آپ میں تبدیلی کی خواہش ہے ہی نہیں، یا پھر اتنی کمزور ہے کہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ صرف دوسروں کے ساتھ، بلکہ شاید خود اپنے ساتھ بھی دھوکہ کر رہے ہیں۔

Pages