ساجد قلم

تبدیلی کی سرشت اور فتویٰ جدید



انسان کی سرشت تبدیل ہو جانا ہے، اس کے لیے اسے کسی خارجی دباؤ کی ضرورت نہیں پڑتی- مثلاً آپ کسی ایک ہی جوتے کو سالہ سال پہننے کو پسند نہیں کرتے، سال دو کے بعد ہی اسے تبدیل کرنے کی خواہش آپ میں جنم لینے لگتی ہے چاہے اس جوتے کی حالت بہتر ہی کیوں نہ ہو- اس تبدیلی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عناصر میں آپ کی تنخواہ ہے یا آپ کا شیخ و میمن ہونا- آپ ہفتے کے سات دن اور ہر دن کے تین اوقات میں فقط روٹی کھانا پسند نہیں کرتے، اگر بہت ہی برے حالات بھی ہوں تو ہفتہ میں ایک آدھ دن آپ چاول بھی تناول کرتے ہیں- پھر خود روٹی کے ساتھ سالن کو تبدیل کرتے رہتے ہیں- آپ روز بینگن کے ساتھ روٹی کھا کے دکھائیں- ایسا تو حکماء مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ صبح دوپہر شام کدو چھیل کے کچا کھانا ہے- ہم اپنے گھروں میں اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں کہ ہر سال وہ کمرے کی سینٹنگ تبدیل کر دیتی ہیں، بیڈ بھی وہی ہوتا ہے، صوفہ بھی وہی ہوتا ہے، الماری اور شو کیس بھی وہی ہوتا ہے لیکن تبدیل ہونے کی سرشت مجبور کرتی ہے کہ کچھ آگے پیچھے کر کے ہی حلیہ بدل دیا جائے- اس کار جہاں میں باریک بینی سے جائزہ لیجئے تبدیل ہونے کی یہ اندرونی خواہش آپ کو پورے معاشرے میں نظر آئے گی- لیکن آپ نے دیکھا کہ کبھی انسان نے سوچا ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا جو طریقہ بتایا ہو انسان کی جبلت نے اسے بدلنے کی خواہش ظاہر کی ہو، خدا کو سجدہ ہی کرنا ہے نا، تو کیا مغرب میں خدا ہے مشرق میں نہیں ہوگا؟ کیوں نہ رخ بدل لیا جائے؟ چلیں ایک ہی سورۃ فاتحہ بار بار پڑھنے سے اکتاہت پیدا ہو گئی ہو، قرآن مجید تو پورا معتبر اور فصیلت والا ہے سورۃ فاتحہ کی جگہ کوئی اور سورت پڑھ لیتے ہیں؟ ایسی سوچ نہیں آتی کیوں کہ یقین ٹوٹنے لگتا ہے، تعلق کمزور ہونے لگتا ہے- یہاں دین کی تقریبا ساری ہی تعلیمات اور اعمال رکھے جا سکتے ہیں اور صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ الہام خود ایک خارجی عنصر ہے جسے ایمان کی طاقت بہم پہنچ رہی ہے، انسان کی دماغی ارتقاء سے ان کا مادی وجود بدل رہا ہے، ایسے میں شریعت کے فروع میں تبدیلی کا فطری جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان کے بچاؤ کے لیے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے- اور اگر ایمان پر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی تو پھر وہ اگلا سوال کرتا ہے کہ مصافحہ درست تو پھر معانقہ بھی درست ہونا چاہیے- اور اگر لونڈی حلال تھی تو گرل فرینڈ بھی حلال کرو- اور پھر کوئی اس کو اجتہاد کا نام دے تو ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ خواہش کو پورا کرنے کا نام اجتہاد ہوگا؟ اب ہم سوچنے لگیں گے کہ کیا مذہب کو جامد بنانے والی سوچ پیدا کی جا رہی ہے- نہیں انسان کو بنانے والا خالق اپنی کاریگری سے خوب واقف ہے، اس لیے اپنی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں بدلنے کی آزادی دیتا ہے لیکن اس آزادی کو خواہش کے تابع رکھنے کے بجائے ایمان کے تابع بناتا ہے- لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ حد درجہ انتہا پسندی، مسلمان کو مادی وسائل جیسے لاوڈ اسپیکر کو برتنے سے بھی روکتی ہے اور حد درجہ آزاد روی، خواتین سے مصافحے کی اجازت دے دیتی ہے

فکر مودودیؒ: ایک مباحثہ


پہلا حصہبعض احباب، مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے خلاف اہل مدارس کا ردعمل دیکھ کر دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں، اہل مدارس کا ایک مخالفانہ مزاج ہے کہ جس سے اختلاف پیدا ہوا اس کیخلاف فتوے تراشے، اس کے نام کے ہجوں پر تحقیق کر کے مقدمات تیار کیے اور کچھ کثر رہ گئی تو مخالف کی تحریروں سے چھوٹے چھوٹے فقرے نکال کر انہیں خلافِ شریعت اور خلاف اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی- یہ مزاج برصغیرمیں باپ دادا کی وراثت کی طرح جاری و ساری ہے، ہمارے نوجوان طبقہ علماء کو بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ اس مزاج نے انہیں کیا دیا ہے اورکیا لیا ہے-علم چاہے دنیا کا ہو یا دین کا، کسی کی میراث نہیں ہے، اور اللہ کا پیغام تو ہرانسان کے لیے عام ہے، وہ خود سمجھے، مختلف علمی سرمایے سے معاونت حاصل کرے یا براہ راست اہل مدارس سے رہنمائی لے، یہ انسان پر منحصر ہے، لہٰذا مدارس سے باہر بھی مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ اٹھ سکتے ہیں جو دین کو خلوص اور انہماک سے پڑھیں، سمجھیں اور دوسروں کو سمجھائیں، کیونکہ مسلمانوں کے علمی سلسلے کا زخیرہ مدارس میں موجود ہے وہ زبان بذبان اور سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک منتقل بھی ہو رہا ہے، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی آزاد مسلمان فہم میں حد درجہ کمی پیشی کا شکار ہے تو انہیں دلائل و برہان اور تقویٰ و خشیت الہیٰ کے ساتھ سمجھانا چاہیے-یہیں وہ آزاد مسلمان جو مدارس کے بجائے اپنی کوششوں سے دین کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، انہیں بھی یہ احساس رکھنا ہوگا کہ روایت سے انحراف کا رویہ تحقیقی اور علمی رویہ نہیں ہے، آپ روایت کو دریا بُرد کر کے نئے سرے سے دین کی تشریح کا بیڑا اٹھانے کی کوشش نہیں کر سکتے اور کریں بھی گے تو وہ سواد اعظم میں قبول نہیں ہو سکے گی- تاریخ اسلام میں ایسے کئی نیک اور صالح شخصیات گزری ہیں جنہوں نے یہ کوشش کر کے دیکھ لی، آج ان میں سے چند ایک کے نام ہی باقی ہیں- اسلام نے جو زبان اور الفاظ چنے وہ اپنے وقت میں مروج تھے، یہی وجہ ہے قرآن مجید عرب کے بدوں کو بھی ویسے ہی سمجھ میں آیا جیسے پڑھے لکھوں کو آیا- وقت بدلتے بدلتے لفظ اپنے اصل مطالب کھو بیٹھتے ہیں یا بدل جاتے ہیں، وقت کے مفہوم تک پہنچے کے لیے ہمیں روایت کا ہی سہارا درکار ہوتا ہے، اس کا قطعاً مطلب نہیں کہ روایتی آراء سے باہر سوچا ہی نہیں جا سکتا اور اجتہاد کے دروازے بند دینا چاہیے، لیکن یہ سب کچھ اس سہارے کے بغیر آپ کو کہیں سے کہیں اٹھا کر پھینک سکتا ہے-اس سارے پس منظر کے ساتھ ہم سب کو مودودیؒ اور جنابِ غامدی میں فرق قائم رکھنا چاہیے، مودودیؒ روایتی نہیں تھے جیسا کہ جنابِ غامدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ابتدا میں مجتہدانہ فکر رکھتے تھے لیکن جلد ہی اہل مدارس کی مخالف سے روایتی عالم دین بن گئے اور نہ وہ اس قدر جدت پسندی کے قائل تھے جیسا کہ اہل مدارس کی غالب اکثریت انکے بارے رائے موجود ہے کہ انہوں نے دین کی نئی تشریح کر کے مودودیت کا فرقہ بنانے کی کوشش کی- مودودیؒ ان دونوں آراء کے درمیان ٹھہرتے ہیں، جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ ایک پہلو میں دنیا بہت بدل چکی ہے، لوگوں کو الٹے پیر نہیں چلایا جا سکتا تو انہوں نے اجتہادی قوت استعمال کر کے مسلمانوں کو نیا راستہ دیا، اور جہاں محسوس کیا کہ روایت آراء کے ساتھ تعلق قابل فخر ہوسکتا ہے انہوں نے کھل کر اسے اپنی تحریر کا حصہ بنایا، وہ خود کہتے ہیں کہ "بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دئیے جا سکتے ہیں اور نا سب کے سب دریا برد کر دینے کے لائق ہیں۔ صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے مگر صرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد و بدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بناء پر کیا جائے۔ نیز نئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم و بصیرت کے ساتھ اتباع و اطاعت بھی رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہو کر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔رسائل مسائل (دوم)۔ صفحہ 186"رہی بات مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے تعلق کی تو وہ ہے استدلال کے استعمال کا، لیکن یہاں بھی دو مختلف راستے کے راہی بن جاتے ہیں- استدلال اگر علم کلام میں بولے تو مودودیؒ بنتا ہے اور اگر استدلال، فیصلہ ساز بن جائے تو جنابِ غامدی کی شکل اختیار کر لیتا ہے
دوسرا حصہمسلمانوں کی زندگیوں میں جس طرح امام غزالیؒ نے ایک نیا جادو بھر دیا تھا اور جس طرح امام شاہ ولی اللہؒ نے ایک سحر پھونک دیا تھا، اسی طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کے سامنے امام سید مودودیؒ نے ایک نئی دنیا پیدا کر دی تھی، اسی لیے انہیں اسلامی علمی تاریخ کی عبقری شخصیت کہا جاتا ہے، مجھے کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے کہ ان کی علمی تحریک کو وہ تسلسل نصیب نہیں ہو سکا جو ہمارے ہاں باقی علمی شخصیات کے ضمن میں رواں ہے- اس بابت اگر ہمارے ہاں کسی دینی علمی تحریک کی مثال پیش کی جائے تو دیوبند کی روایتی علمی تحریک ہے جو ایک تسلسل کے ساتھ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے یہ اس مزاج اور طرزاستدلال سے موافق نہیں جو سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے ہاں پایا جاتا ہے، البتہ سلسلہ فراہی ان کے مزاج سے موافق ہے، حمید الدین فراہیؒ بظاہر مولانا شبلیؒ کے شاگرد تھے لیکن انہوں نے دین کو ایک نئی تعبیردی، اگرچہ یہ تعبیر بڑی تعداد میں مسلمانوں کو اپنی جانب مائل نہیں کرسکی لیکن بہرحال اس میں ایک تسلسل برقرار رہا ہے، مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس کو پکڑا، یہیں سید مودودیؒ منظرنامے پر ابھرتے ہیں، چونکہ آپ غیر معمولی شخصیت تھے، مزاج کی مناسبت سے مولانا امین احسن اصلاحیؒ، سید مودودیؒ کے ساتھ آ ملے، سترہ سالہ رفاقت کے بعد سلسلہ فراہی ایک مرتبہ پھرعلیحدہ ہوکر اپنی پٹڑی پر چل پڑا، لیکن اس کے تسلسل میں پاکستان کے اندر دوسری بڑی شخصیت جاوید احمد صاحب غامدی کو بھی ابتداء میں جماعت اسلامی کی آغوش حاصل رہی لیکن ظاہر ہے مزاج کا اتفاق، طرز استدلال کو پس پشت نہیں ڈال سکتا، نتیجتاً طرزاستدلال سے پیدا ہونے والے فروع میں فرق آنے پر یہ بھی جماعت اسلامی سے ٹوٹ گئے، جناب غامدی کے بعد ان کے شاگردوں کی تعداد درجنوں میں ہے اس بحث سے قطع نظر کہ ان کے اثرات پڑھی لکھی کمیونٹی پر کس قدر محدود رہے ہیں لیکن یہ زندہ علمی تحریک ہے جس کی وجوہات موضوع بحث نہیں- اصولی طور پر فکرِ مودودیؒ کے تسلسل میں غیر معمولی شخصیت کوئی میسر آئی تو وہ خرم جاہ مرادؒ کی تھی، ان کے علاوہ ان کی فکر سے تحریک لینے والی عظیم شخصیات کی تعداد برصغیر یا دنیا بھر میں ہزاروں میں ہے، کیونکہ سید مودودیؒ کا متن اردو زبان میں موجود ہے اس لیے یہ امید رکھی جانی چاہیے تھی کہ ان کا تسلسل قائم رہتا لیکن ایسا نہیں ہوا، ان کے اٹھنے کے بعد ان کے پیروؤں کو جن مسائل نے گھیرا، وہ اس میں الجھ کر رہ گئے، اور کچھ انہیں پکڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنے بھی لگے تو وہ ان کے الفاظ میں نئے مفاہیم تلاش کرنے سرگرم رہےویسے تو یہ بات سید مودودیؒ سے منسوب کی جاتی ہے کہ ان کی فکر کو تیسری نسل بہتر طریقے سے سمجھ پائے گی، یہ بات مبنی برحقیقت لگتی ہے جب ہم عالمی منظرنامے پر ہونے والی تبدیلیوں اور ان کی وجہ سے ہر ملک اور بالخصوص اسلامی ممالک پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں، ان کے لٹریچر کے پس منظر میں ان کی فکر کی ضرورت پہلے سے زیادہ پیدا ہو رہی ہے- لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر ان علمی ورثہ میں غوطہ زن ہوا جائے اور ان کے مزاج کی چاشنی اور طرز استدلال کی روشنی سے نئی دنیا کے تمام مسائل کو پڑھا اوراسلامی حل تجویز کیا جائے
تیسراحصہویسے تو یہ دانشوری کا زمانہ ہے، ایک اینٹ اٹھاؤ، نیچے سے درجنوں اسکالرز نکلیں گے، لیکن پُراثر دانش وری تو ٹویٹر کا اکاؤنٹ ہے، جو اپنے زورِ الفاظ سے فیورٹ بھی لیتا ہے، ری ٹویٹ بھی پاتا ہے اور یہ کیفیت اس پر تسلسل کے ساتھ طاری رہے تو فالورز بھی چوکھے بنا لیتا ہے- دانشوری بھی اپنے مزاج اور طرزاستدلال کی قوت سے اپنی راہ بناتی ہے، نہ کہ روتی اور بلکتی ہے کہ مجھے اختیار فیصلہ عطاء کیا جائے- اس میں بھی بہت سی ایسی دانشوریاں بھی بڑا مقام حاصل کر لیتی ہیں جو حقیقاً فریب کا خول پہنے ہوئے ہوتی ہیں ، یہ زیادہ عرصہ نہیں چل پاتیں اور ایک دن خودبخود اس خول میں شگاف پڑتے نظر آنے لگتے ہیں-جماعت اسلامی کے حوالے سے قحطِ الرجال کا ذکر چل رہا ہے اور تخصیص کے ساتھ اس کی وجوہات پر مسئلہ اٹکا ہوا ہے، بہت سے فاضل احباب یہ رائے رکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی میں بطور تنظیم غور و فکر کرنے والوں کی گنجائش موجود نہیں ہے، قرین گمان ہے یہ بات صد فیصد درست ہو گی کیونکہ جماعت کی تنظیم بارے میری معلومات عموماً سطحی قسم کی ہیں- باوجود یہ چیز کسی پُرخلوص علمی شخصیت کی راہ کا اٹکاؤ نہیں ہے الا یہ کہ جماعت اسلامی کا فورم اس سے کھینچ لیا جائے- اس طرح کی مثالیں بھی ہمارے سامنے موجود ہیں، پہلی مثال جو مولانا مودودیؒ کی حیات میں دیکھی گئی وہ جنابِ غامدی کی ہے اور اس عہد میں جاوید اکبر انصاری کی مثال دی جا سکتی ہے- لیکن ان کی وجوہات بڑی جاندار اور دلچسپ ہیں، اور قحط الرجال کی ایک بڑی وجہ بھی-ہمارے پاس مولانا مودودیؒ کا پورا لٹریچر موجود ہے، جب ہم مولانا کے مزاج کی بات کرتے ہیں، تو اس سے مراد ہوتا ہے کہ وہ عقل کو اپیل کرے گا، فکر کو جھنجھوڑے گا، عمل پر مائل کرے گا اور جب ہم ان کے طرزِ استدلال کی بات کرتے ہیں تو وہ ہے نیا اسلوب جس کی بنیاد میں استدلال کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، وہ مرہم بھی ہے اور نشتر بھی ہے، وہ باغی بھی ہے اور محبت کا ہالا بھی ہے- ہم میں اکثر بشمول اس آنگن میں موجود میں حلقہِ دانشور ان کے بارے درست رائے قائم نہیں کر پاتا اور درست رائے باندھ بھی لے تو قائم نہیں رکھ پاتا- ہم میں بہت سے انہیں ایک مجتہد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بہت سے روایت کو استدلال کی طاقت فراہم کرنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں- یہی کچھ جاوید احمد صاحب غامدی یا جاوید اکبر صاحب انصاری کے معاملے میں ہوتا ہے، جنابِ غامدی تو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ شروع کے ادوار میں مولانا مودودیؒ کا فکری لہجہ وہ نہیں تھا جو بعد میں بن گیا، وہ مجتہد سے روایتی بن گئے اور اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا علمائے کرام کی طرف سے ہونے والی تنقید پر بدل گئے- غامدی صاحب کی یہ خواہش تھی کہ مولانا کے قلم سے تسلسل کے ساتھ اجتہادی افکار ابھرتے رہتے جیسا کہ ان کے ہاں پیدا ہوتے رہتے ہیں، دوسری طرف جاوید اکبر انصاری صاحب مزاج تو وہی رکھتے لیکن مکمل طور پر روایتی ہیں، مجتہدانہ سوچ ان کو چھو کر بھی نہیں گزری، یہی وجہ کہ وہ مولانا کے کیے ہوئے اجتہادات کو بھی حرف غلط کی مٹا دینے کی بات کرتے ہیں، خاص کر سیاست کے ضمن میں وہ جمہوریت اور سیاست میں کئے جانے والے سمجھوتوں کے خلاف بولتے رہتے ہیں اور اس پر ایک کتابچہ بھی لکھا ہے-مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جیسا کہ مزاج اور طرز استدلال میں واضع ہے کہ نہ انہیں قطعیت کے ساتھ مجتہد قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ قطعیت کے ساتھ روایتی مفکر کہا جا سکتا ہے، ان کا مسلک اعتدال کا ہے، نہ تو وہ غامدی ہیں اور نہ انصاری ہیں وہ صرف سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں- اور شاید جماعت اسلامی کا اسٹیج اسی کو چجتا ہے جو اس اعتدال کو قائم رکھتے ہوئے، مولانا مودودیؒ کے مزاج اور طرزِاستدلال کے مطابق نئے سوالات کے جواب تلاش کرتا ہے- پھر وہ کہیں مولانا سے آگے اجتہاد کرتا نظر آئے گا تو کہیں مولانا سے پیچھے روایت کو تھامتا دکھائی دے گا، اس حسنِ اعتدال کے ساتھ جماعت اسلامی کا فورم اس کے لیے ٹویٹر کا اکاؤنٹ ہے- میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں اسے رونا اور بلکنا نہیں پڑے گا چاہے اسے جماعت قبول کر لے یا نہ کرے- لیکن تاحال فکرِ مودودیؒ کو وہ تسلسل نصیب نہیں ہو سکا جو ہمارے ہاں باقی علمی شخصیات کے ضمن میں رواں ہے

مودودیؒ، غامدی اور اہل مدارس



بعض احباب، مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے خلاف اہل مدارس کا ردعمل دیکھ کر دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں، اہل مدارس کا ایک مخالفانہ مزاج ہے کہ جس سے اختلاف پیدا ہوا اس کیخلاف فتوے تراشے، اس کے نام کے ہجوں پر تحقیق کر کے مقدمات تیار کیے اور کچھ کثر رہ گئی تو مخالف کی تحریروں سے چھوٹے چھوٹے فقرے نکال کر انہیں خلافِ شریعت اور خلاف اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی- یہ مزاج برصغیرمیں باپ دادا کی وراثت کی طرح جاری و ساری ہے، ہمارے نوجوان طبقہ علماء کو بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ اس مزاج نے انہیں کیا دیا ہے اورکیا لیا ہے-علم چاہے دنیا کا ہو یا دین کا، کسی کی میراث نہیں ہے، اور اللہ کا پیغام تو ہرانسان کے لیے عام ہے، وہ خود سمجھے، مختلف علمی سرمایے سے معاونت حاصل کرے یا براہ راست اہل مدارس سے رہنمائی لے، یہ انسان پر منحصر ہے، لہٰذا مدارس سے باہر بھی مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ اٹھ سکتے ہیں جو دین کو انہماک سے پڑھیں، سمجھیں اور دوسروں کو سمجھائیں، کیونکہ مسلمانوں کے علمی سلسلے کا زخیرہ مدارس میں موجود ہے وہ زبان بذبان اور سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک منتقل بھی ہو رہا ہے، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی آزاد مسلمان فہم میں کمی پیشی کا شکار ہے تو انہیں دلائل و برہان اور تقویٰ و خشیت الہیٰ کے ساتھ سمجھانا چاہیے-یہیں وہ آزاد مسلمان جو مدارس کے بجائے اپنی کوششوں سے دین کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، انہیں بھی یہ احساس رکھنا ہوگا کہ روایت سے انحراف کا رویہ تحقیقی اور علمی رویہ نہیں ہے، آپ روایت کو دریا بُرد کر کے نئے سرے سے دین کی تشریح کا بیڑا اٹھانے کی کوشش نہیں کر سکتے اور کریں بھی گے تو وہ سواد اعظم میں قبول نہیں ہو سکے گی- تاریخ اسلام میں ایسے کئی نیک اور صالح شخصیات گزری ہیں جنہوں نے یہ کوشش کر کے دیکھ لی، آج ان میں سے چند ایک کے نام ہی باقی ہیں- اسلام نے جو زبان اور الفاظ چنے وہ اپنے وقت میں مروج تھے، یہی وجہ ہے قرآن مجید عرب کے بدوں کو بھی ویسے ہی سمجھ میں آیا جیسے پڑھے لکھوں کو آیا- وقت بدلتے بدلتے لفظ اپنے اصل مطالب کھو بیٹھتے ہیں یا بدل جاتے ہیں، وقت کے مفہوم تک پہنچے کے لیے ہمیں روایت کا ہی سہارا درکار ہوتا ہے، اس کا قطعاً مطلب نہیں کہ روایتی آراء سے باہر سوچا ہی نہیں جا سکتا اور اجتہاد کے دروازے بند دینا چاہیے، لیکن یہ سب کچھ اس سہارے کے بغیر آپ کو کہیں سے کہیں اٹھا کر پھینک سکتا ہے-اس سارے پس منظر کے ساتھ ہم سب کو مودودیؒ اور جنابِ غامدی میں فرق قائم رکھنا چاہیے، مودودیؒ روایتی نہیں تھے جیسا کہ جنابِ غامدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ابتدا میں مجتہدانہ فکر رکھتے تھے لیکن جلد ہی اہل مدارس کی مخالف سے روایتی عالم دین بن گئے اور نہ وہ اس قدر جدت پسندی کے قائل تھے جیسا کہ اہل مدارس کی غالب اکثریت انکے بارے رائے موجود ہے کہ انہوں نے دین کی نئی تشریح کر کے مودودیت کا فرقہ بنانے کی کوشش کی- مودودیؒ ان دونوں آراء کے درمیان ٹھہرتے ہیں، جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ ایک پہلو میں دنیا بہت بدل چکی ہے، لوگوں کو الٹے پیر نہیں چلایا جا سکتا تو انہوں نے اجتہادی قوت استعمال کر کے مسلمانوں کو نیا راستہ دیا، اور جہاں محسوس کیا کہ روایت آراء کے ساتھ تعلق قابل فخر ہوسکتا ہے انہوں نے کھل کر اسے اپنی تحریر کا حصہ بنایا، وہ خود کہتے ہیں کہ "بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دئیے جا سکتے ہیں اور نا سب کے سب دریا برد کر دینے کے لائق ہیں۔ صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے مگر صرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد و بدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بناء پر کیا جائے۔ نیز نئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم و بصیرت کے ساتھ اتباع و اطاعت بھی رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہو کر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔رسائل مسائل (دوم)۔ صفحہ 186"رہی بات مودودیؒ اور جنابِ غامدی کے تعلق کی تو وہ ہے استدلال کے استعمال کا، لیکن یہاں بھی دو مختلف راستے کے راہی بن جاتے ہیں- استدلال اگر علم کلام میں بولے تو مودودیؒ بنتا ہے اور اگر استدلال، فیصلہ ساز بن جائے تو جنابِ غامدی کی شکل اختیار کر لیتا ہے-

پاکستان میں سیکولرزم کا ہمہ وقتی بحران


درآمد شدہ نظریات جب کسی اجنبی معاشرے میں آتے ہیں تو پہلا مسئلہ جو انہیں درپیش آتا ہے وہ اپنی پروڈکٹ کا نام اور خصائص کو مقامی زبان میں پیش کرنے کا ہے، ظاہر ہے ایک ایسا شہر جس میں سب گنجے آباد ہوں، اس کے بازار میں کنگھے کے نام سے کوئی چیز نہیں بک سکتی، چہ جائیکہ کنگھے کا نام بدل کر بال اگانے والا آلہ رکھ دیا جائے اور زور زور سے ہاکری کی جائے کہ روزانہ تین وقت اسے گنجے سروں پر پھیرا جائے تو آہستہ آہستہ بال اگنا شروع ہو جائیں گے، ایسی پروڈکٹ کیسے نہیں بکے گی، جب تک لوگ اس کو آزما کر دیکھ نہیں لیں گے اور دوسروں کو بتائیں گے نہیں تب تک گنجوں کے شہر میں ایسی دکانوں پر ایک عارضی رش لگ جائے گا، بعینہ اسی طرح کا معاملہ مغرب کی پروڈکٹ سیکولرزم کے ساتھ درپیش آتا ہے جب وہ مغربی معاشرے سے مسلمان معاشرے میں آتی ہے تو اسے اپنی اصطلاح اور مفہوم کا ایسا بحران گھیر لیتا ہے جو وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتا ہے۔
ایک مسلمان معاشرے میں سیکولرزم اپنے اصل اصطلاح اور مفہوم کے ذریعے تواسلامی مارکیٹ کے تقاضے پورے کرنے سے رہی کیونکہ جب بھی اسلامی مارکیٹ میں 'دنیا' کے نام سے 'لااسلام' اور 'لادین' چیز بکنے کے لیے آئے گی ،گاہک اسے خریدنے کے بجائے کراہت اور نفرت کا اظہار کرنے لگیں گے، عجب نہیں کہ چند اس دکان کو بھی ڈھا دینے کا مطالبہ کرنے لگیں جو اسلام کو کاٹ کر کچھ بیچنا چاہتی ہو ،اس اسلام کو جو غارِ حرا سے اٹھ کر دنیا سے مخاطب ہوا تھا ۔لہٰذا مسلمان معاشروں کے سیکولر دانشوروں نے سوچا کہ اس پورے سیاسی فلسفے کا لیبل بدل کر ایسا معقول سا نام رکھ دیا جائے جسے سن کر مسلمان گاہک کم ازکم ان کی بات سننے اور خریدنے کی جانب مائل تو ہو سکے لیکن بدقسمتی سے اسکے علمبردار سیکولرزم کے لیےسوائے اس کے لفظی مطلب 'دنیا'کے اردو میں کوئی اصطلاح پیش کرنے میں آج تک ناکام رہے ہیں جونہ صرف اسکا متبادل ہو بلکہ اس کی اصل تعریف کی سرخی بھی بن سکے، محض 'دنیا' بنانے کی اس کوشش کے باوجود یہ فقط ' دنیا' نہیں ہے بلکہ 'دنیا' بنانے کے ایسے نظریات ہیں جس میں اسلام کی 'آخرت' بنانے کی قطعاً کوئی گنجائش نہ ہوـ عرب دنیا میں بھی سیکولرزم کو اسی بحران کا سامنا رہتاہے جہاں اس کے لیے ہمت کر کے کہیں عِلمانیہ اور کہیں علمانیہ کی اصطلاحیں پیش کی گئیں ۔عِلمانیہ کے معنی سائنس اور عِلم سے متعلقہ نظریات تھے اس لیے اس معنی و مفہوم کا اطلاق کسی صورت سیکولرزم پر نہیں کیا جا سکتا تھا ، علمانیہ اس کا درست لفظی مطلب تھا جو اردو میں دنیا سے متعلق یا دنیاوی کا ہم معنی ہے-
معنی و مفہوم کے اس ہمہ وقتی بحران کی بنیادی وجہ یہ تھی یورپ کے اندر ایسے دانشوروں کو ایک ایسا مذہب ملا جو اس دنیا سے ماوراء ایک عقیدہ رکھتا تھا اور انسان کی دنیاوی زندگی کے ارتقاء کا ازلی دشمن تھا ۔یہ دشمنی سیکولرزم سے پہلے وہ اسلام سے بھی برت چکا تھا جب مسلمانوں نے اسپین میں عیسائیوں کوعربی اعداد کی تعلیم دی تو عیسائیت نے اسے مذہبی جرم تصور کیا، اور مسلمانوں کی علمی ترقی کو فتوحات کے بعد کے سانحات میں شمار کیا گیا ۔لہذا عیسائی مذہب کی ماروائے دنیا نظریات کے ردعمل میں دنیا کا نظریہ پیش کیا گیا اور تعریف یہ کی گئی جو مذہب ہمیں نہیں کرنے دیتا وہ ہم کریں گے، مطلب ہم اپنی اجتماعی اور عملی زندگی کی ساری کاوشیں دنیاوی زندگی کی تعمیر و ترقی میں لگائیں اور مذہب ان تمام شعبوں سے خارج کر دیں گے، یہی منظرنامہ سیکولرزم کےبنیادی فلسفے میں کارفرما تھا اور اسی سے نکلے ہوئے معنی، مفہوم اور تشریح ہمیں مغرب کی ڈکشنریوں اور ان سائیکلوپیڈیاز میں ملتے ہیں۔
آکسفورڈ ڈکشنری میں سیکولر لفظ کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے:
1- دنیوی یا مادی یعنی دینی یا روحانی نہ ہو جیسے لادینی تربیت، لادینی فن یا موسیقی، لادینی اقتدار و حکومت جو کلیسا کی حکومت سے متضاد یا مخالف ہے۔
2- یہ رائے کہ دین (مذہب) کو اخلاق و تربیت کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔
لوبسٹر کی ڈکشنری آف ماڈرن ورلڈ میں سیکولرزم کی تشریح کرتے ہوئے لکھا گیا ہے:
1- دنیوی روح یا دنیوی رجحانات وغیرہ بالخصوص اصول و عمل کا ایسا نظام جس میں ایمان اور عبادت کی ہر صورت کو رد کر دیا گیا ہو۔
2- یہ عقیدہ کہ مذہب اور کلیسائی احکامات کا امور مملکت اور تربیت عامہ میں کوئی دخل نہیں ہے۔
لوبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امریکن لینگویج میں سیکولرزم کا مطلب یہ لکھا گیا ہے
سیکولرزم عقائد اور اعمال کا ایسا نظام ہے جو دینی (مذہبی) عقیدے کی ہر صورت نفی کرتا ہو۔
اب ذرا انسائیکلوپیڈیاز میں سیکولرزم کی تشریحات ملاحظہ فرمائیں۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا لکھتا ہے:
سیکولرزم ایک ایسی اجتماعی تحریک کا نام ہے جس کا اصل ہدف لوگوں کی توجہ امور آخرت کے اہتمام سے ہٹا کر صرف دنیا کو ان کی توجہ کا مرکز بناتا تھا، کیونکہ قرون وسطیٰ میں لوگ دنیا سے کنارہ کشی کا شدید رجحان رکھتے تھے اور دنیا سے بے رغبت ہو کر خدا اور آخرت کی فکر میں منہمک رہتے تھے، اس رجحان کے بالمقابل انسانی جذبہ اور رجحان کے بروئے کار لانے کے لیے سیکولرزم وجود میں آیا اور دورِ نشاۃ ثانیہ میں لوگوں نے انسانی اور ثقافتی سرگرمیوں اور دنیا کے مرغوبات کے حصول میں زیادہ دلچسی کا اظہار شروع کر دیا- سیکولرزم کی جانب یہ پیش قدمی تاریخ جدید کے تمام عرصے میں دین ( مسیحیت) سے متضاد تحریک کی حیثیت میں آگے بڑھتی اور ارتقاء حاصل کرتی رہی۔
انسائیکلولوپیڈیا آف امریکانا سیکولرزم کی تشریح ان الفاظ میں کرتاہے:
سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد پند و نصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہو اور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو، سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلاً خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے-
یہ سیکولرزم کے وہ مفہوم اور تشریحات ہیں جو نہ صرف مغرب کی مرتب کی گئیں ڈکشنریز اور لکھی گئے ہر انسائیکلوپیڈیا میں ملتی ہیں بلکہ اس حوالے سے لکھی گئی ہر چھوٹی بڑی کتاب میں اسی بنیاد پر نظریات اٹھائے گئے ہیں جس میں دین (مذہب) کی تعلیمات اور کسی بھی قسم کا کردار نہ ہو، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیکولرزم ، لادینیت کا معنی و مفہوم رکھتا ہے۔ اسی لیے مسلمان معاشرے میں سیکولرزم ایک ہمہ وقتی بحرانی کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے سیکولرزم اس بحران پر قابو پانے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے مسلمان معاشروں میں سیکولرزم پر یقین رکھنے والے پیروکار ہمیشہ تعداد میں کم ہی رہے ہیں- ایک ایسا انسان جو اسلام کے ہوتے ہوئے سیکولرزم کو قبول کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو گویا یہ معنی و مفہوم کا بحران ، ایک مسلمان کا دینی بحران بن جاتا ہے۔ یہ کیفیت اتنہائی کمزور اور نامطمئن ہوتی ہے کہ ایک انسان بیک وقت مسلمان بھی ہو اور نا مسلمان بھی، وہ اس کیفیت میں غیرارادی طور پر زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا، وہ زیادہ عرصے تک مسلمان نہیں رہ سکتا ہے یا پھر زیادہ عرصے تک سیکولر نہیں رہ سکتا-

گنجائشِ ترجمہ و تفسیر پر ایک چھوٹا سا مکالمہ



ڈاکٹر خضر یاسین صاحب، صاحبِ فکرو دانش ہیں، حقیقی سچ کی تلاش میں ان کی جدوجہد اور کوشش کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ایک بارعامر ہاشم خاکوانی صاحب نے اپنی پوسٹ میں ان کا ذکرِ خیر کیا تو ان کے حلقہِ دوستانِ فیس بک میں شامل ہونے کا شوق پیدا ہوا، خوش قسمتی سے ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب نے انہیں اگلے دن اسی پوسٹ کے کمنٹ میں ٹیگ کیا تو یہ شوق پورا ہو گیا- ان سے وقتاً فوقتاً کمنٹ باری چلتی رہتی ہے، ان سے بات کر کے ہمیشہ چیزوں کو دیکھنے کے مختلف زاویے پیدا ہوتے ہیں، ان سے آج ایک چھوٹا سا مکالمہ ہوا جسے بحثِ عامہ کیلئے یہاں پیش کر رہا ہوں 

ڈاکٹر صاحب:قرآن مجید کے ترجمہ, تفسیر اور خلاصہ کو قبول کرنا درحقیقت حضرت رسول اللہ علیہ السلام کی نبوت پر غیر کے تصرف کو قبول کرنا ھے.خبر بگیر کہ آواز تیشہ و دل است


راقم:ترجمہ، تفسیر کو قائم مقام نہیں قبول کیا جا سکتا، لیکن فہم میں اس موقف کو تسلیم کر لینا گویا سمجھ اور علم کے دائرے کو حد درجہ تک محدود کرنا ہے


ڈاکٹر صاحب:آپ بالکل درست سمجھے ھیں, یہاں سمجھ اور علم وھی ھے جو کچھ کتاب اللہ میں ھے بس وھی سمجھا جائے تو علم ھے ورنہ بے کار ھفوات ھیں.


راقم:لیکن ایک سمجھ یا فہم کا نام ہی تفسیر ہے، کیونکہ تمام عقل انسانی برابر نہیں، اس لیے تفسیر و ترجمہ کی موجودگی کی گنجائشیں خود بخود پیدا ہو جاتی ہین


ڈاکٹر صاحب:جس معنی کا ابلاغ متن نے کیا ھے اسی معنی کو دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت فقط اس وقت پیش آتی ھے جب متن کو ابلاغ معنی میں ناکافی فرض کر لیا جاتا ھے. از سرے نو اسی معنی کو بیان کرنا اس بات کی علامت ھے کہ متن ناکام ھے یا از سرے نو بیان کرنے والا غلط ھے.


راقم:اگر آپ کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ متن کو معنی دینے سے اس از سر نو بیان کی شکل پیدا ہو جاتی ہے تو فہم اور سمجھ کو آپ کس جگہ ٹھہرائیں گے؟ یا متن کے ابلاغ کی حیثیت کیا ہوگی؟


ڈاکٹر صاحب:متن بالذات ابلاغ ھے, آپ میری اس تحریر کو سمجھ رھے ھیں اور میرے مدعا کو از سرے نو بیان کرنے کی ضرورت نہیں. فہم انسانی کے لیے تحریر اور تقریر وسائل ابلاغ ھیں. تحریر و تقریر کو از سرے جدید تصنیف و تقریر میں لے آنا الگ شے ھے.


راقم:میں آپ کی بات بالکل سمجھ چکا ہوں، اس کے باوجود فہم انسانی کو ضبط تحریر میں لانے کی گنجائش پھر بھی محسوس کرتا ہوں اس قطعی شرط کے ساتھ کہ وہ متن کا قائم مقام نہیں ہوتا چاہے جتنا مرضی قریب ہو جائے-


ڈاکٹر صاحب:جزاک اللہ الخیر, انسان کے ذھنی محصولات ایک حقیقت ھیں, میں اس کا انکار نہیں کر رھا. مشکل یہ ھے کہ انہیں کس اعتبار اور لحاظ سے کلام اللہ کا آسان تر ابلاغ قبول کیا جائے؟


راقم:دیکھیں جی آپ کا مقدمہ یہ ہے کہ ایک ہے متن جو انسان کو ایک فہم عطا کرتا ہے، پھر ایک فہم یا ترجمہ، تحریر کی شکل میں ڈھال دیا جائے تو وہ دوبارہ ویسا ہی عامل بن جاتا ہے جیسا کہ متن تھا- لیکن میں فہم یا ترجمے کو متن کے بجائے ایک فہم کی تحریری شکل تک محدود رکھ رہا ہوں جو کسی دوسرے انسان کے فہم میں معاون بن سکتی ہے- اس کی گنجائش تو خود صفہ کے چبوترے سے پیدا ہو گئی تھی اور وہ بھی ایسی صورت کہ قرآن کی زبان اور انسان کی زبان میں بھی کوئی فرق نہیں تھا- آخر ایک دوسری زبان کے حامل انسان کے لیے یہ گنجائش کیسے نا معقول کہی جا سکتی ہے

زخمی طالبات کی تلاش میں



ان دنوں کراچی یونیورسٹی میں ایک  بدنام زمامہ طلبہ تنظیم کے ہاتھوں کرکٹ کھیلنے کی پاداش میں  مبینہ طور پر زخمی ہوکر غائب ہوجانے والی طالبات کی تلاش  میں  یونیورسٹی کی انتظامیہ،  سندھ رینجرز اور میڈیاسمیت ہر ایک لگا ہوا ہے  لیکن ان  بچاریوں کو گویا آسمان کھا گیا ہے یا زمین نکل گئی۔  میں نے سوچا کہ قوم کی بیٹوں کا معاملہ ہے کیوں نہ میں بھی اس تلاش گمشدہ میں اپنا حصہ ڈالوں اور انہیں تلاش کرکے انکے حق کے لئے آواز اٹھانے والوں میں شامل ہوجاوں۔ بس اسی فکر میں  مجھے اپنے ایک" جدید ترین بھائی" ہم جماعت یاد آگئے جو اس قسم کے معاملات میں اکثر فیس اور ٹوئٹر پر فعال نظر آتے ہیں ۔


ہمارے ہاسٹل میں دائیں طرف کے تین کمرے چھوڑیں تو 'جدیدترین بھائی' کا کمرہ آتا ہے۔ 'جدیدترین' بھائی کی شخصیت بھی کمال کی ہے۔ دنیا کے ہر نئے فیشن کی جیسے اوپنگ وہی کرتے ہیں، میں نے انہیں سیاہ گوگل کے بغیر کبھی نہیں دیکھا، دن ہو یا رات، دھوپ ہو یا چھاوں، اکیلے جا رہے ہیں یا مجلس یاراں میں یونیورسٹی کے 'پھولوں' کی خوشبوؤں کا ذکر خیر کر رہے ہوں، یہ گوگل ان کی ناک سے نیچے نہیں اترتے- ویسے تو ہم سب کو معلوم ہے کہ وہ بی ایس کمپیوٹر سائنس کی روبینہ سے عشق کرتے ہیں لیکن یونیورسٹی کی ہر چمکتی چیز پر اپنی نظروں کی کمندیں ڈالنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے- 'جدیدترین' بھائی خیالات میں اتنے آزاد ہیں کہ کبھی کبھی اپنی باتوں کے مقابلے میں ہی تحریک آزادی برپا کر دیتے ہیں، مذہبی لوگوں سے وہ ایک خاص قسم کی نفرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نفرت ان کی اپنی پیدا کردہ نہیں بلکہ ہر انسان کے جینز کے اندر موجود ہوتی ہے بس ذرا کوئی ان کو 'ایکسپریس' کرنے کی کوشش تو کرے۔اسی کوشش میں وہ مولوی کو دیکھ کر راہ بدل لیتے ہیں، کلاس میں پنجوں کی اس لائن میں ہی نہیں بیٹھتے جس میں کوئی مولوی بیٹھا ہو، میس میں ان کے سامنے کوئی مولوی آ بیٹھے تو کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، کہتے ہیں یہ لوگ نحوست کی علامت ہوتے ہیں، خیر 'جدیدترین' بھائی کی صفات جدیدہ سے میں آپ کو روشناس کرواتا رہوں گا۔ اس وقت بات ہو رہی تھی کراچی یونیورسٹی میں  ایک بدنام زمانہ تنظیم کے  ہاتھوں شدید زخمی ہونے والی طالبات کی تلاش کی۔
 بس انہی طالبات کی تلاش میں مدد کے لئے اپنے 'جدید ترین' بھائی کے پاس پہنچا  تھا  کہ جس طرح دنیا کا ہر فیشن سب سے پہلے اس کے جسم پر آتا ہے اسی طرح دوجہاں کی ہر لڑکی کی شکل اور خبر سب سے پہلے انہی کے پاس پہنچتی ہے- ان کے کمرے کا دروازہ بند نہیں تھا، ہم نے دروازہ ہلکا سا ناک کیا اور چند لمحے ٹھہر گئے، دوسری اور تیسری بار ناک کیا، دروازہ ذرا نہیں ہلا، دھت کھڑا رہا، تھوڑے توقف کے بعد ہم نے اسے سہارا دے کر آگے سرکا دیا تاکہ معلوم تو ہو کہ ہمارے 'جدیدترین' بھائی اندر موجود بھی ہیں یا نہیں- ہمیں خوشی ہوئی کہ ہمیں خبر مل جائے گی کیونکہ سامنے بیڈ پر وہ کسی گہرے خمار میں لیٹے تھے، بیڈ پر انہیں ویسے بھی نیند زیادہ گہری آتی ہے اسی فائدے کے پیش نظر انہوں نے ہاسٹل کی چارپائی لینے سے انکار کر دیا تھا اور یہ بیڈ گھر سے اٹھا لائے تھے- اس تبدیلی کی اصل وجہ ہمیں تب معلوم ہوا جب انہوں نے چارپائی کو قدامت کی نشانی قرار دیا- میں نے ان کے پاوں کو دو تین بار ہلایا لیکن وہ ہر بار ایک سے دوسری کروٹ لیتے اور واپس نیند میں چلے جاتے، سوچا دست بدست، آواز باآواز پوچھ لیا جائے-"'جدید ترین" بھائی سنتے ہو وہ کراچی یونیورسٹی میں جو واقعہ ہوا ہے"- ان کی "ہمممم" نکلی تو ہم نے بات جاری رکھی " یار سنا ہے آپ کے بھائیوں نے اس میں کوئی درجن بھر طالبات کے شدید زخمی ہونے کی خبر دی ہے"- طالبات کا نام سنتے ہی جیسے ان کے اندر بجلی آ گئی، سیدھی کروٹ لی اور گویا ہوئے- "یار یہ مولوی، یہ خدائی فوجیدار بنے پھرتے ہیں، یہ اسلام کے ٹھیکیدار انہیں کس نے حق دیا ہے کہ طالبات کو کرکٹ کھیلنے سے منع کریں، بیچاریوں کو کرکٹ کھیلنے کے جرم میں آئی سی یو میں بھیج دیا......."- اس سے پہلے کہ وہ کراچی یونیورسٹی پر ڈرون حملے کے لیے امریکہ کو آواز لگاتے، میں نے ٹوک دیا- " 'جدیدترین'بھائی مجھے یہ سب معلوم ہے کہ  بس میں تو یہ پوچھنے آیا تھا کہ ان شدید زخمی طالبات کے خون میں لتھڑے خوبصورت چہروں کے بارے آپ کو کوئی خبر ہو، کوئی ان باکس میں تصاویر پہنچی ہوں تاکہ ہم مل کر اس ظلم پر سوشل میڈیا پر مہم چلا سکیں"- میرا مدعاء سن کر انہوں نے گہرا سانس لیا کہ جیسے بھائیوں کی خبر کی گہرائی ماپنے کی کوشش کر رہے ہوں- غمزدہ لہجے میں گویا ہوئے "وہ جی آپ کو پتا تو ہے کہ طالبات شدید زخمی ہوئی ہیں، انہیں گہری چوٹیں لگیں ہیں، تمام کی تمام آکسیجن پر آئی سی یو میں زندگی و موت کی کشمکش میں ہیں، ایسی حالت میں نہ تو وہ معصوم کچھ بول سکتی ہیں اور نہ انہیں میڈیا پر لایا جا سکتا"- اس کے ساتھ ہی ان کی آنکھیں بھر آئیں- میں نے انہیں دلاسا دیا اور یہ کہتے ہوئے دوبارہ آنے کو کہا کہ ان جماعتیوں سے تو اللہ پوچھے گا آپ فکر نہ کریں-میس میں ہماری دوبارہ ملاقات ہو گئی، لگے ہاتھوں نے دوبارہ پوچھ لیا تو جیسے ایسے گویا ہوئے جیسے میرا ہی انتظار کر رہے تھے " شکر ہے وہ آئی سی یو سے گھر پہنچ چکی ہیں لیکن دیکھو ہم پرائے لوگوں کی دھی بھین کی عزت کرنے والے لوگ ہیں، اب کسی کی دھی بھین کو یوں میڈیا پر لے آنا بھائی معزز لوگوں کا کب شیوہ رہا ہے، یہ جمعیت والے ویسے تو اسلام، اسلام کا راگ الاپتے ہیں، حیا کا کلچر عام کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کو شرم نہیں آتی، کہتے ہیں ان درجن طالبات کو میڈیا پر دکھاو، یہ منافقت کے لبادے میں اوڑھے دہشتگرد ہیں، ان ......"- اس سے پہلے کہ روس کے جیٹ طیاروں کو آواز لگاتے کہ دیکھو کراچی یونیورسٹی میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ہیں، بمباری کر کے نیست و نابود کر دو، میں نے ٹوک لیا اور کندھے پر ہاتھ ہوئے کہا- "جدید ترین' بھائی آپ اپنی بات ہی بھول گئے یا آزاد ہو گئے مجھے یاد ہے جب زنا کے معاملہ پر سید منور حسن نے کہا تھا کہ حکمت اور حیاء کا تقاضا ہے کہ جب گواہ نہ ہوں تو انصاف کے لیے لٹی ہوئی عزت کو بازار میں لٹکانے سے ہزارہا درجہ بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کر کے اللہ سے معافی مانگی جائے- آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ عزت تو جو خراب ہونا تھی وہ ہو گئی اب انصاف کے لیے اسے میڈیا اور عدالت پر آنا ہوگا، میرے بھائی 12 طالبات پر ظلم عظیم ہوا ہے، وہ کیوں عزت کے لیے گھر پر بیٹھی رہیں، انہیں تو میڈیا پر اپنے زخم کھول کھول کر دکھانے چاہیں تاکہ پورا پاکستان ان پر مرہم پٹی رکھ سکے، ان کی ڈھارس باندھ سکے، ان کیلئے انصاف مانگ سکے،.ویسے بھی آجکل فوجی عدالتوں کا زمانہ ان سب کی بولتی بند کردی گئی، اب ایسی حرکتیں کریں گے تو سیدھا پھانسی ہی چڑھیں گے..."- 'جدیدترین' بھائی سے میرا پیار کا رشتہ ہے اس لیے وہ میری بات پر غور کرتے ہیں، یہ سب سن کر انہوں نے موبائل نکال لیا- کہنے لگے میں ابھی اپنے بھائیوں سے بات کرتا ہوں- میں نے کھانے کا آخری لقمہ لیا اور باہر نکل آیا-اپنے کمرے کی لائٹ آن کرکے بیٹھا ہی تھا کہ پیچھے سے آن دھمکے، کہنے لگے "غضب ہو ان دہشتگردوں پر، ان پر ضرب عضب کی چوٹ کیوں نہیں پڑی...."- "جدید ترین' بھائی اب کیا ہوگیا؟"میں نے حیران ہو کر پوچھا- "دیکھو ایک تو ان بیچاریوں کو لہولہان کر دیا، اب وہ زندہ بچ ہی گئی ہیں تو اب انہیں میڈیا پر آنے کی صورت میں ڈرا، دھمکا رہے ہیں"- "تو کیا آپ کے بھائی اتنے کمزور ہیں کہ ان کے گھروں سے کلپ ہی بنا لائیں تو کچھ نا کچھ تو سوشل میڈیا مہم آگے بڑھائی جا سکتی ہے"- یہ کہہ کر میں نے ٹویٹر کے لاگ ان کا بٹن دبا دیا- جیسے ہی بٹن دبایا فیصل رضا عابدی کے ٹویٹر ہینڈل سے درجنوں طالبات کے احتجاج کی ری ٹویٹڈ تصویر سامنے آ گئی- جو بدنام زمانہ تنظیم کے ظلم کیخلاف احتجاج کر رہی تھیں اور لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا حق مانگ رہی تھیں- میں نے اپنے 'جدید ترین' بھائی کو متوجہ کیا اور پوچھا " یار اتنی ساری لڑکیوں کو کوئی ڈر نہیں، جمعیت کا کوئی خوف نہیں، قوم کی یہ نڈر بیٹیاں کہاں سے اتری ہیں- کہنے لگے یار یہ تصویر تو کمال بھائی کے اکاونٹ سے ٹویٹ ہوئی ہے جو نامعلوم پارٹی سے تعلق رکھتا ہے- یقیناً یہ الطاف بھائی کی شیرنیاں ہوں گی"- میں نے کہا جی جی وہ لندن والے الطاف بھائی تو میرے 'جدیدترین' بھائی ذرا کال گھماؤ اور الطاف بھائی کے شیروں سے کہو کہ جرات سے ان زخمی طالبات کی وڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر لائیں اور آپ اور میرا کام شروع ہو'-"،جدیدترین' بھائی نے موبائل نکالا، اور کال ملا کر باہر نکل گئے- میں اسکرول دبا کر اپنی ٹائم لائن دیکھنے لگ گیا، مجھے ہلکی ہلکی آوازیں آنے لگیں جیسے وہ 'جدید ترین' بھائی سے مشورہ کر رہے تھے کہ جیسے جعلی فتوے بنائے تھے اور جیسے جماعتیوں کے جعلی پمفلٹ بنائے، ویسے ہی جعلی زخمی طالبات کیوں نہ بنا لی جائیں


یہ سن کر میں نے ٹویٹ ڈال دی:"بدنام زمانہ تنظیم کے ہاتھوں، کرکٹ کھیلنے والی زخمی طالبات جلد منظر عام پر آ رہی ہیں..."-

بھارت میں سیکولرازم ناکام کیوں؟



ہم فضائی قلعے تعمیر کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ان قلعوں کی بکھری راہ داریوں میں ایسے گم ہوتے ہیں کہ بھول جاتے ہیں کہ اخلاص احمد کو اس دھرتی ماتا میں قتل کر دیا گیا جو ایشیا کی سب سے طاقتور 'سیکولر ریاست' کا اعزاز رکھتی ہے جس کے آئین کی شق 25 تا 28 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہیں-تو کیا سیکولر ریاست اپنی ملک میں بسنے والے مذہبی افراد کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئی؟ بجائے ہم اس سوال کا جواب ڈھونڈھتے ہم نے آنکھیں بند کیں، لفظوں کی تان چڑھائی اور ملزم کو ہی منصف بنانے پر تل گئے- حالانکہ انصاف کا تقاضا تو یہی تھا کہ ہم اس 'سیکولر ریاست' کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے کہ آخر اس کے 'مذہبی آزادی' کے بلند بانگ نعروں کے باوجود ہندوستان میں ایک مسلمان کو مذہبی فریضے کا حق کیوں حاصل نہیں!اگر اپنے ہی فضائی قلعے کی راہ داروں پر بھاگم بھاگ کوئی راستہ تلاش کرنے کے بجائے ہم کسی سطح پر یہ تسلیم کرنے کو تیار ہو جائیں کہ دنیا کی ایک 'سیکولر ریاست' مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے تو لامحالہ ہم اس کی معقول وجوہات ضرور مانگیں گے-سیکولر ریاست کی ناکامی کا پہلا مقدمہ:
''خطہ ہند کی ' سیکولر ریاست' پر مخصوص مذہبی عقائد رکھنے والا طبقہ غالب ہے''، نتیجہ یہ نکلا کہ آئین تو سیکولر ہے، ہندو، عیسائی اور مسلمان کو ان کے ہی مذہبی حقوق، قانون کی شکل میں ڈھال کر کتاب آئین کا حصہ بنا دئیے گئے ہیں لیکن عملداری میں مذہبی مزاج ہے جس نے عملاً ہندوستان کی 'سیکولر ریاست' کو ناکام بنا دیا ہے-
بالکل ایسے ہی جیسے بسم اللہ سے شروع کرکے پاکستان کا آئین اسلامی بنا دیا گیا، چند قوانین بھی بن گئے، پارلیمنٹ کی پیشانی پر کلمہ طیبہ بھی کندہ کر دیا گیا لیکن عملداری میں اسلام سے بے بہرہ مزاج موجزن ہے اسی لیے پاکستان کی 'اسلامی ریاست' عملاً ناکام نظر آتی ہے-آج ہندوستان ہو یا پاکستان ایسی ہی الجھن کا شکار ہیں، ایک اصول دنیا ماننے کو تیار ہے کہ اگر جمہوریت ہے تو حکمرانی اکثریت کی ہی ہوگی، قانون انہی کی عکاسی کریں گے، اقلیتوں کے حقوق وہی متعین کریں گے-آخر الجھن ہے کیا؟ سماج، آئین و قانون اور حکومت ایک پیج پر موجود ہی نہیں کہ ریاست اور سماج کسی سمت چلنے کے قابل ہو سکے، حکمران آئین و قوانین سے دور بھاگتے ہیں اور سماج کو اپنے آئین و قوانین بارے خبر نہیں- نتیجہ آئین و قوانین کی علمداری میں گیپ آ جاتا ہے جس کا فائدہ اچھے برے لوگ اٹھاتے ہیں اور بعض اوقات سماج ان کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے بارہا ایسا بھی ہوا کہ سرکاری عدل و انصاف کی عدم موجودگی میں سماج عدل و انصاف اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے- یہی وجہ ہے کہ اخلاص احمد کا لاشہ جلتا ہے یا عیسائی کالونی کے گھر جلتے ہیں-بات صرف یہیں تک نہیں سیکولر نظام ہمارے سماج سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، یہ نظام وہیں چل سکتا ہے جہاں مذہب کسی نسوار کی ڈبیا بن جائے کبھی دل چاہا تو منہ میں رکھ کر چس لی اور تھوک دیا لیکن حقیقت یہ ہے مذہب برصغیر کے عوام کی زندگی کا اہم ترین عنصر ہے، یہ عنصر سو تو سکتا ہے مر نہیں سکتا، اسی لیے جب اکثریت کے مذہبی احساسات کے مطابق ریاست ترتیب نہیں پاتی تو قانون کو توڑ کر اخلاص احمد کو جلا دیا جاتا ہے بالکل جس طرح قانون کے مطابق حکومت عملداری قائم نہیں رکھ پاتی تو اسے بالائے طاق رکھتے ہوئے عیسائیوں کے گھر جلا دیئے جاتے ہیں، ظاہر ہے نظام اپنا کردار ادا نہیں کر سکے گا تو یہ احساسات قانون اور اصول سے نکل جائیں گے اورانکا غلط استعمال کیا جائے گا-" 'سیکولرازم' کی 'مذہبی آزادی' محض ایک قانونی اور سماجی نعرہ ہے"- یہ امر واقعہ ہے کہ سیکولر قانون اور آزادیوں کی حیثیت صرف قانونی ہے، سماجی نہیں- سماج میں اسے بطور نعرہ ہی استعمال کیا جاتا ہے- اسی لیے یورپ جہاں مذہب اجتماعی طور پر ختم اور انفرادی طور پر سکڑ چکا ہے وہاں مسجد کے میناروں پر اعتراض اٹھتا ہے اور اعتراض کرنے والی ملحد سول سوسائٹی ہوتی ہے، مسلمانوں کو مذہبی حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور عدالت اس وقت تک فیصلہ نہیں کر پاتی جب تک حکومت وقت کے احساسات نہیں جان پاتی، ایک اسکول کی بچی کو حجاب پہننے کے لیے عدالتی حکم کا انتظار کرنا پڑتا ہے، بات صرف شناخت کی نہیں حجاب پہننے والیوں کے حجاب عدالتوں میں نوچے جاتے ہیں اور حجاب پہننے کے لیے "جزیہ" دینا پڑتا ہے- درجنوں واقعات ایسے ہیں کہ حجاب پر نوکریوں سے فارغ کر دیا جاتا ہے، داڑھیوں کی وجہ سے انٹرویوز میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا- نتیجہ معاشی قتل نکلتا ہے- کیا اسی طرح کا طرز عمل اخلاص احمد کے ساتھ نہیں برتا گیا؟

سیکولر ریاست کی ناکامی کا دوسرا مقدمہ:" 'سیکولرازم' کی 'مذہبی آزادی' محض ایک قانونی اور سماجی نعرہ ہے"- یہ امر واقعہ ہے کہ سیکولر قانون اور آزادیوں کی حیثیت صرف قانونی ہے، سماجی نہیں- سماج میں اسے بطور نعرہ ہی استعمال کیا جاتا ہے- اسی لیے یورپ جہاں مذہب اجتماعی طور پر ختم اور انفرادی طور پر سکڑ چکا ہے وہاں مسجد کے میناروں پر اعتراض اٹھتا ہے اور اعتراض کرنے والی ملحد سول سوسائٹی ہوتی ہے، مسلمانوں کو مذہبی حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور عدالت اس وقت تک فیصلہ نہیں کر پاتی جب تک حکومت وقت کے احساسات نہیں جان پاتی، ایک اسکول کی بچی کو حجاب پہننے کے لیے عدالتی حکم کا انتظار کرنا پڑتا ہے، بات صرف شناخت کی نہیں حجاب پہننے والیوں کے حجاب عدالتوں میں نوچے جاتے ہیں اور حجاب پہننے کے لیے "جزیہ" دینا پڑتا ہے- درجنوں واقعات ایسے ہیں کہ حجاب پر نوکریوں سے فارغ کر دیا جاتا ہے، داڑھیوں کی وجہ سے انٹرویوز میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا- نتیجہ معاشی قتل نکلتا ہے- کیا اسی طرح کا طرز عمل اخلاص احمد کے ساتھ نہیں برتا گیا؟

آخر زلزلہ کیوں آتا ہے؟


اضطراب دونوں طرف ہے وہ بھی جو کہہ رہے ہیں ہائے پلیٹں سرکیں اور زمین یوں ہلی کہ جان ہتھیلی پر آنے لگی، وہ سوچ رہے ہیں 1ء8 کے زلزلے کو روک تو سکتے نہیں بچاؤ کی تدابیر کی جائیں- پرسکون وہ بھی نہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہمارے نامہ اعمال پر تنبیہ ہے کہ غلط راستوں پر چل نکلے ہو ذرا سنبھل جاؤـیکسوئی اور اطمینان کتنی بڑی نعمت ہے جو نا تو روپے پیسے سے خریدی جا سکتی ہے اور نہ کاسہ گدائی میں وصول ہو سکتی ہےـ دیکھتے ہو زمین ہلی تو بہت سوں کا بہت کچھ ہل گیا، زندہ بچ گئے تو تڑاخ تڑاخ باتیں آنے لگیں، حقیقت ہے کہ اضطراب میں رہنے والے سکون کی موت بھی نہیں پاتے، یہ چھوٹے موٹے جھٹکے ان کے لیے ناکافی ٹھہرتے ہیں، انہیں مرنے کے لیے بھی کسی بڑے زلزلے کی ضرورت ہوتی ہےـخالق سے تخلیق و قاعدے تک اور قادر سے قدرت و اختیار تک نشانیاں صرف عقل والوں کو ملتی ہیں جبکہ ان میں سے تنبیہ صرف وہی پاتے ہیں جن کے دل میں تھوڑا سا بھی خوفِ خدا موجود ہوـ بقول قرآن کریم " يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ " اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہےخطہ برصغیر ویسے ہی بہت عجیب سرزمین ہے یہاں سائنس کے سب سے بڑے وکیل وہی بنتے ہیں جن کی اپنی سائنس آٹھویں جماعت کی سائنس کی کتاب سے آگے نہیں بڑھ پاتی یہی وجہ ہے کہ یہاں سائنسدان نامی مخلوق مشکل سے ملتی ہے، اسی طرح یہاں اسلام کے عالم بھی وہی بنتے ہیں جن کے پاس دنیاوی تعلیم کے نہ تو مواقع ہوتے ہیں اور نہ وہ تحقیق و جستجو کا مادہ جو آنکھوں پر لگے پردوں سے آگے دیکھنے کی جرات پیدا کر سکےکوئی بھی سائنس دان اپنی بات کو حتمی تصور نہیں کرتا، تحقیقات ہمیشہ گنجائش اور ضروریات سے نکلا کرتی ہیں ہمارے ہاں اسے اٹل حقیقت تصور کر لیا جاتا ہے، اس بات کا یہاں ادراک ہی نہیں کہ سائنس کے فطری قوانین سائنس کا ایک باب ہے پوری سائنس نہیں- صرف یہی نہیں بلکہ سائنس، تحقیق و اکتشاف سے  دنیا میں ہونے والے تمام واقعات کی حاصل ہونے والی تفصیل کا نام ہے، انسان کبھی کبھی ان تفصیلات کو مزید استعمال ضرور کرتا ہے جس سے سائنسی ایجادات جنم لیتی ہیںدنیا میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ بے وجہ نہیں ہوا کرتا، زمین سے نکلنے والی جڑی بوٹی کا پودا بھی اپنی پیدائش کی وجوہات رکھتا ہے اور انسان کا ایک ایک عمل اپنے اپنے اسباب سے پیدا ہوتا ہے، ابھی موسم گرما گزرا ہے آپ کیا کرتے تھے اگر درجہ حرارت 45 سے پچاس تک جا پہنچتا ہو اور گرمی سے آپ کے پسینے چھوٹ تہے ہوں، یہی نا کہ اٹھیں گے پنکھا آن کریں گے یا اے سی موجود ہوگا تو اسے آن کر لیں گےـ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، مانیں تو اس کے تین اجزاء ہیں وجہِ واقعہ: درجہ حرارت زیادہ ہوا، آپ کو گرمی محسوس ہوئی، آپ کو پسینے آنا شروع ہوئےاختیارِ واقعہ: آپ کے پاس پنکھا تھا تو اسے آن کر لیا اور اے سی ہوا تو اسے چلا دیاتفصیلِ واقعہ: جیسے ہی آپ نے پنکھے کا بٹن آن کیا، بجلی کا سرکٹ جُڑ گیا جس سے الیکٹران کپیسیٹر کی طرف دوڑنے لگے، کپیسیٹر نے پنکھے میں لگی الیکٹرک موٹر کو گردش دی اور وہ چلنے لگی- آپ مزید تفصیل میں جانا چاہیں تو موٹر کے اندر میں گھس سکتے ہیں کہ وہاں میٹل بیس کے اردگرد کوائلز لپیٹی ہوتی ہیں جیسے ہی بجلی اس میں داخل ہوتی ہے ایک میگنیٹک فیلڈ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو کلاک وائز ایک طاقت پیدا کر دیتا ہے جس سے موٹر گھومنے لگتی ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں الیکٹریکل انرجی، مکینکل انرجی میں بدل جاتی ہے، موٹر چلی تو اس کے ساتھ جڑے پنکھے کے بلیڈ بھی گھومنے لگے جو ہوا کو نیچے کی طرف دھکیلنے لگےـ آپ چاہیں تو مزید تفصیل کے اندر جا سکتے ہیں کہ آخر میگنیٹک فیلڈ کیسے ہوا اور اس نے کلاک وائز انرجی کیسے پیدا کردیاس طرح زلزلہ بھی ایک واقعہ ہی ہے اور وہ بھی اپنے اندر یہ تمام تر اجزاء اور تفصیل رکھتا ہےوجہِ واقعہ: انسان ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ اس کائنات پر اپنے اعمال سے اثر انداز ہوتا ہے، ڈائریکٹ یہ ہے کہ وہ اپنی علم یا بدعملی کے نتیجے میں فطرت سے چھیڑخانی کردے یا اس زمین میں ایسے اعمال سرانجام دینا شروع کر دے جو کائنات میں کسی بڑے بگاڑ کا موجب ہوں تو اختیارات کا مالک حرکت میں آ جاتا ہے-اختیارِ واقعہ: اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اسی لیے وہ قادر بھی ہے- اس لیے وہ بٹن دبا دیتا ہےتفصیل واقعہ: زلزلہ کی ممکنہ تفصیل یہی ہو گی جس کا ادراک سائنس کے ذریعے یا جستجو و تحقیق کے زریعے سے انسان کو حاصل ہوئی ہے- کہ زمینمختلف پلیٹس پر مشتمل ہوتی ہے،،، پلیٹس کے نقل و حرکت کے باعث زیر زمین تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، ان طبقات کو ٹیکٹونک پلیٹس کہا جاتا ہے،،، زمین کے اندر ان پلیٹس کے متحرک ہونے کی صورت میں زمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے،،، میگما پوائنٹ یا تبدیلیوں کے مرکز کو ایپی سینٹر یعنی زلزلے کا مرکز کہا جاتا ہے۔ ٹیکٹونک پلیٹس کی نقل و حرکت سے جو زیر زمین لہریں پیدا ہوتی ہیں ان سے زمین کی بالائی سطح پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ زیر زمین لہروں کی فریکونسی بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ ویو لینتھ کم ہوتی ہے،، یہ لہریں زیر زمین ٹھوس اور مائع حصوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور زیر زمین تبدیلیوں کا باعث بنتی ہیں

دن میں اک زلزلہ آیا


دن میں زلزلہ آیا
میں ڈیسک پر ہی موجود تھاپہلے دماغ گھومنے لگا پھر پوری زمین ہلنے لگیگاڑے سے چُنی اینٹوں اور مٹی کی چھت کے نیچے گویا مجھے قیامت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئیسوچا موت سے بھاگ نکلوں صرف دس قدموں کے فاصلے پر ایک خالی میدان مجھے پناہ دینے کو تیار تھااگر میری موت کا فیصلہ ہو چکا تو کہاں تک بھاگ سکتا تھا؟ دوسرے قدم پر منہ کے بل گرتا اور اپنی جان پیش کر دیتا---- آہ اتنی سی تو وقعت ہے میریجنہیں خوشیوں میں خدا بھول جاتا ہے، انہیں مشکل میں خدا یاد آ ہی جاتا ہے، جسم تو زمین کے ساتھ ہی کانپ اٹھا تھا، گریہ و زاری کی کہ رب العالمین یہ نظام ہستی تیری ہی تخلیق ہے، اس کی رگوں میں دوڑتے قانون اور اصول تیرے ہی بنائے ہوئے ہیں، یہ سب تیرے اختیار میں ہے مولا رحم فرماء، ہم گنہگار اور ذلت خوار واقع ہوئے ہیں ہم مشکلات سے دوچار مت کرــــــمیری مسکین سے صورت پر، ٹوٹے پھوٹے لفظوں پر، واپس لوٹنے اور اسے یاد کرنے پر ایک بار پھر اسے ترس آ گیاوہ لچکتی دیوار، وہ جھولتی چھت جو چند لمحے پہلے اپنے نیچے میرا مدفن بنانے کے لیے انگڑایاں لے رہی تھیں، تھم گئیں جیسے جیسے زمین کی حرکت رکی، میرے دل کی دھڑکنوں کو ثبات آنے لگا، گہرا سانس لیا جیسے اپنے زندہ ہونے کو خود محسوس کرنا چاہتا تھا، بیس قدم اٹھائے اور جا کر پانی پیا واپس ڈیسک پر آن بیٹھا وہی کی بورڈ کی ٹھک ٹھک اور وہی اینٹر کی ٹھاہ، فقط موضوع ہی بدلا تھاکبھی لکھنے لگا کہ زلزلہ تو اس لیے آیا ہے کہ سپریم کورٹ نے سود کی حمایت میں بیان دئیے تھےکبھی لکھتا کہ کل غم حسین رضی اللہ عنہ سے آسمان پھٹ پڑا تھا، آج گریہ زہرہ سے زمین کانپ اٹھی ہےکبھی کہنے لگتا کہ اس زمین پر زنا اور بدکاری عام ہو چکی ہے اسی لیے زمین ہلا ماری گئی کہ ہوش کے ناخون لوکبھی کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے میٹرو بس منصوبے کو عیاں کرنا تھا اس لیے زلزلے سے دکھا دیا کہ پاکستانیو شرم کرو اور آئندہ نواز شریف کو ووٹ نہ دیناغرض میں نے ہر بار منہ بدلا اور ہر بار نئی بات سنی ، مجھے باتیں اس لیے آ رہی تھیں کہ میں زندہ بچ گیا تھا، اگر مجھے بھاگتے ہوئے پٹخ کر گرا مارا جاتا یا وہ جھولتی دیوار میرے اوپر آن گرتی تو میں یوں منصف بن کر رنگ برنگی باتیں نہ کر رہا ہوتا بلکہ میرے سامنے میری زندگی کے رجسٹر اکھٹے کرکے مجھے کسی بڑے منصف کے سامنے پیش کرنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہوتیں، لیکن میں بھول چکا ہوں وہ چند لمحے جو مجھ پر ابھی ابھی بیتے تھے ہاں بھول چکا ہوں، شاید یہ چھوٹے موٹے زلزلے بس اتنا ہی ہلا سکتے تھے جتنی دیر مجھے ہلا گئےـ


سانحہ مکہ اور دور جدید کے ابوجہل




خانہ کعبہ میں ہونے والے حادثے پر دکھ کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے لیکن وہ مسلمان کہ جس کی خواہش ہو کہ اس کی پوری زندگی اپنے رب کی بندگی میں گزرے، جس کی دعاؤں میں ہو کہ مرتے دم بھی اس رب العالمین کے معبود ہونے کی شہادت دوں اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اس دنیا سے کوچ کروں اس مسلمان کے لیے یہ سعادت بہت بڑی ہے کہ وہ طواف کعبہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو جائے، بندگی کی اس سے بڑی شہادت بھلا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک مسلمان مرکز اسلام میں ایک عظیم عبادت میں مصروف ہو اور اچانک اس کی جان، جان آفریں کے سپرد ہو جائے- لیکن ظاہر ہے کہ کسی بھی تمنا اور خواہش کے لیےخودکشی نہیں کی جا سکتی۔

مرنے والے الفت میں جان دے گئے اور سعادت کی موت پا گئے لیکن دنیا کے چند ایسے لوگ کہ جن کے دل و دماغ میں ٹیڑھ واقع ہو چکا ہے، انہوں نے تمام فطری اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے، اس حادثے سے خدا کے وجود پر تشکیک پھیلانا شروع کردیا- بہت سے افراد نے انکے الٹے سیدھے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی لیکن ان ٹیڑھے دماغوں میں دلیل کی سیدھی میخیں نہیں گاڑی جا سکتیں- لیکن عام مسلمانوں کو تشکیک سے دور رکھنا ہم تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

اگر ہوتا یوں کہ مکہ معظمہ میں تمام ابدی فطری قوانین شل کر دیے جاتے یا پھر کوئی کرین گرنے لگتی تو فرشتے دوڑ کر اسے سنبھال لیتے کہ ان کے نیچے خدا کے پرہیزگار بندے ایک عظیم عبادت میں مصروف ہیں، پھر اللہ رب العالمین یہ کلیہ عام کر دیتے کہ جو بھی رب کا بندہ بنے گا وہ اپنے ابدی قوانین توڑ کر اسے اپنے اکرام سے نوازے گا تو بھلا اس دنیا میں کون احمق کافر رہتا، جب اس کی بندگی میں واضح طور پر اس کی جانبداری اس دنیا میں ہی ملنا شروع جاتی تو یہ مادیت پرست ملحدین اور سیکولر لبرل جو آج تمسخر اڑا رہے ہیں، شاید اس کی عبادت میں پہلی صف میں کھڑے ہوتے- لیکن ایسا نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو یہ کائنات سجانے کا جواز ہی ختم ہو جاتا، فرد کی آزادی ہی مقید ہو جاتی، آخرت کا تصور ہی گم ہو جاتا- اس لیے اس نے یہ جواز باقی رکھا، فرد کی آزادی کو قائم رکھا اور آخرت کے تصور کو مضبوطی بخشی، اس صلائے عام کے ساتھ کہ وہ اپنے بندوں کو پسند کرتا ہے، اسے غیر جانبدار نہ سمجھو، وہ تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرتا ہے اور صرف پسندیدگی کی نگاہ ہی نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے بندوں کی دعاؤں اور التجاؤں کو سنتا بھی ہے۔ پھر اس کی تائید و نصرت اور رحمت و نعمت اور اس کا اجر صرف اور صرف اس کے حکم پر چلنے والوں کے لیے ہے-

عورت، سائنس اور اسلام


اسلام کی بنیاد عدل پر ہے جبکہ جدید نظریات مساوات پر عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں- خود اس جدید انسان کی سائنس کہتی ہے کہ مرد اور خاتون میں کاپر اور زنک کے تناسب کا فرق ہے جس کی وجہ سے دونوں اصناف کی ساخت، بیالوجی اور فزیولوجی میں فرق ہے، یہ تو خود سائنس تسلیم کرتی ہے کہ عورت کمزور ہے، جلد خوفزدہ ہو جاتی ہے، مشکل حالات میں عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے- جب یہی بات اسلام کہے اور اس بنیاد پر عورت کو مرد کے برابر مگر مختلف حقوق دے تو ہمارے اپنے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، کچھ اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو بالکل جدیدیت کا عکس ثابت کر دیں پھر کسی غور و فکر کی ضرورت پڑے گی اور نہ تدبر سے اسلام سے مختلف رحجانات و نظریات کو چھانٹی کرنے کے مشکل عمل سے گزرنا پڑے گا، اس سے بڑھ کر عام مسلمانوں کو مشکل حالات میں استقامت اور قربانی سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا اسکے برعکس وہ اس آزاد ذہن کو پکڑنے کی کوشش نہیں کرتے جو خود سائنس سے بھی راہ فرار اختیار کر رہی ہے اور مرد اور عورت کو مساویانہ حقوق دینے کی بات کرتی ہے- عدل کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت کو ان کی ساخت کے لحاظ سے حقوق دیئے جائیں اور اگر عورت فطری طور پر کمزور واقع ہوئی ہے تو اس کو تھوڑے زیادہ حقوق دئیے جائیں- اس پس منظر کو سامنے رکھ کر جب ہم خالق کی طرف سے دئیے گئے احکامات کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ بنانے والا اپنی تخلیق کو بہتر حقوق دیتا ہے-

سائنسی دعویٰ کی وضاحت
یہ قطعہ تحریر پڑھتے ہوئے بہت سی خواتین کو مشکل ہو گی، لیکن اچھے اور بُرے سے بیگانہ یہ چند ایسے حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان میں سے چند تو ایسے ہیں جن کے لیے کسی سائنسی حوالے کی ضرورت نہیں 
جسمانی ساخت:ــــــ
عورت جسمانی طور پر چھوٹی، کم وزن اور کمزور عضلات کی مالک ہے اسی لیے یہ اللہ تعالیٰ کی پر کشش اور نازک تخلیق کہلائی جاتی ہے۔ دوسری طرف مرد سے نسبتا کم چوکس ہے شاید بہت سے لوگ ایسا خیال نہیں رکھتے لیکن کبھی خوف سے بھاگتے ہوئے یا لڑتے ہوئے مشاہدہ کرنے سے بخوبی پہچان سکتے ہیں۔ 
ہارمونز:ـــــــ
ماہواری کا عمل عورت کے انگ ڈھنگ پر بہت حد تک اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر جوانی میں اس دوران مختلف دن، سوچنے اور محسوس کرنے میں عورت کے لیے مختلف ہوتے ہیں. سائنس اسے ہارمونل پرسیپشن پرابلمز کا نام دیتی ہے۔ مرد کو اس قسم کے ہارمونل احساسات سے نہیں گزرنا پڑتا۔
مرد کا غالب ہارمون ٹیسٹو سٹیران (testosterone) ہے جو نہ صرف اعتماد اور تحفظ کا احساس دیتا ہے بلکہ احساس برتری (superiority) کا مظہر بھی ہے۔ عورت کا غالب ہارمون ایسٹروجن (estrogen) ہے جو عورت میں کاپر کی مقدار بڑھا اور زنک کو گھٹا دیتا ہے جو نہ صرف اعتماد میں کمی باعث بنتا ہے بلکہ عدم فیصلہ سازی کا احساس دیتا ہے۔ اس کی میں مزید وضاحت کیے دیتا ہوں
حیاتیاتی کیمیا گری:ــــــ
عورت کے جسم میں مرد کی نسبت زیادہ کاپر جبکہ کم زنک موجود ہوتا ہے۔ کاپر جسم میں موجود حیاتیاتی مرکب امائنز کو تحرک دیتا ہے جس کے زیر اثر عورت کے جذبات (emotions) نہ صرف نمایاں ہوتے ہیں بلکہ بھڑکتے ہیں۔ مرد میں زنک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جذبات کو نہ صرف نرم رکھنے کو موجب بنتا ہے بلکہ عمل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ 
عمومی طور پر خواتین میں عمل تکسید (oxidation) کی شرح مرد سے کم ہوتی ہے۔ عمل تکسید ایسا عمل ہے جس میں آکسیجن کیمیائی طور پر نامیاتی مرکبات سے ملتی ہے اور توانائی کی کافی مقدار حاصل ہوتی ہے۔اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ عورت مرد کی نسبت کم توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سہل انگار ہارمونل بہاؤ سے عورت ہمیشہ مشکلات میں مرد کی نسبت زیادہ خوف زردہ ہو جاتی ہے۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرے رخ میں عورت کو کئی لحاظ سے مرد پر برتری حاصل ہے لیکن حیرتناک طور پر ان عوامل کے تعلق عورت کی تخلیقی صلاحیتوں سے ہے۔ جیسے کہ عورت میں خون کے سرخ خلیات کی تعداد مرد سے زیادہ ہوتی ہے۔ بہرحال ان عوامل کی تفصیل میں نہیں جائیں گے
نوٹ: یہ سائنسی حوالہ اسلام کے حقوق کی کسوٹی یا معیارحق ہونے کی دلیل کے طور پر نہیں بلکہ ان حقوق میں چھپی حکمت کو سمجھنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

ہم جنس پرستی: لبرل ازم کی جدید پروڈکٹ



میں پولیس سے جھگڑرہا تھا، موٹر بائیک میری ہے، بھلے ٹھیک کہ اس کے دو پہیے لگے ہیں لیکن رقم خرچ کرنے کے بعد اب یہ اختیار میرا ہے کہ میں جیسے چاہوں اسے بھگاؤں لیکن پولیس والا بھی بضد تھا کہ جب تک ون ویلنگ پر پابندی موجود ہے، آپ یہ حرکت نہیں کر سکتے، اگر کریں گے توآپ کو جیل جانا پڑ ے گا۔آپ کی ریاست تو انسان کی آزادی سلب کر رہی ہے، موٹر بائیک بھی میری اور چلانے کا حقدار بھی میں تو بھلا ریاست کو کیا اختیار کہ وہ میرےون ویلنگ کی خواہش کو روک سکے۔ میں ایک لبرل انسان ہوں جو اپنی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو بہتر سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں اپنے آپ کو بہتر جانتا ہوں، میں خود پسند ہوں ، مجھے پاگل سمجھیے یا جاہل اب اگر میں ون ویلنگ سے مر بھی جاؤں تو آپ کو کیا؟ یہ زندگی تو میری اپنی ہے۔ تمہاری ریاست مذہبی ہے، تمہارا بیانیہ قرار داد مقاصد ہے، تم انسانوں پر قدغن لگاتے ہو، ان کی خواہشات پر اور ان کی آزادیوں پر۔ وہ دیکھو دنیا کی سپر پاور انسانوں کی لذت کیلئے انہیں ہم جنسوں سے شادی کا اختیار دے رہی ہے، ارے "گے" تو پھر بھی انسانی نسل سے تعلق رکھتا ہے، اگر مجھے ایک کتیا سے لذت مل سکتی ہے تو مجھے اس بھی شادی کا حق ملنا چاہیے کیوں کہ میری زندگی پر کسی کو قدغن لگانے کا اختیار نہیں ۔ 


اچھا تو تم لبرل انسان ہو، اگر تم اپنی آزادی کے قائل ہوتو مجھے جسمانی ساخت کے علاوہ انسان اور حیوان می فرق سمجھا دیجئے ،تمہاری خواہش تمہیں گھاس کھانے پر اکسا سکتی ہے لیکن حضرت حیوان بھی شاید آزادیوں میں آپ سے پیچھے رہ گیا کہ گوشت کھانے والا جانور، چارے کی خواہش نہیں کرتا۔ہاں وہ اپنی آزادیوں کے لیے قرار دادیں اور قوانین پاس نہیں کرواتا، لیکن ماڈرن لبرل ازم نے تو اس فرق کو بھی غیر منطقی سمجھا۔ تمہاری آزادی، مذہب اور ریاست سے آزادتو تھی ہی، سائنس اور فطرت سے بھی فرار اختیار کر رہی ہے اور انفرادیت پسندی ایسی کہ جس معاشرے میں زندہ ہیں اسی سے بیگانہ ہو رہے ہیں، لذتوں کی چاہت میں تم اپنے تو اپنے ، معاشرے کے نفع و نقصان سے بھی دور ہو گئے۔ہم جنس پرستی جیسی آزادی سے تم نےفطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ فطرت نے جس صنف کو لذت کی نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا، ہم جنس پرست اسے کسی خدمت کی بجا آوری اور کسی فرض اور حق کی ادائیگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چرا لیتا ہے۔ہم جنس پرست انسانی معاشرے کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ نظام کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے(تفہیم القرآن)۔ 1840ء سے 1973 تک ہم جنس پرستی ایک مرض کے طور پر دیکھی جاتی رہی، نفسیاتی علاج بھی دریافت ہوئے اور ایلو پیتھک علاج بھی آزمائے گئے جس میں کاسٹریشن اور انزائم تھراپی شامل تھی لیکن سائنس اس کے کامیاب علاج میں ناکام رہی، بہتر علاج کے لیے اس پر ریسرچ جاری رہیں اور اس کی بائیولوجیکل اور جینیاتی وجوہات کی تلاش جاری رہی۔1956ء میں ایک خاتون نے شگاگو میں ریسرچ کی جس میں دونوں اقسام کے جنس پرستوں میں طبی بنیادوں پر کوئی فرق ثابت نہ ہوا اسی ریسرچ کی بنیاد پر لبرل گروپس نے خود کو تحریک دی اور سیاسی بنیادوں پر 1973ء میں "ہم جنس پرستی" کو طبی ادارے نے بیماریوں کی لسٹ سے خارج کر دیا۔ لیکن دوسری طرف ڈی این اے میں اس کے فزیولوجیکل وجود نہ ملا، خود سائنس دان کہتے ہیں کہ ہم جنسی پرستی پر ریسرچ کا سب بڑا موٹیو سیاسی تحرک تھا چاہے اس کے نتائج ہم جنس پرستی کے حق میں آئے ہوں یا مخالفت میں۔ حال میں اسے ایپی جینٹکس کا حصہ مانا گیا ہے۔ ایپی جینٹکس جدید سائنس ہے خوش قسمتی سے میں خود اسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہوں، آج سے ایک عشرہ پہلے یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسان وہی کچھ کرتا ہے جو اس کے ڈی این اے میں کوڈ کی شکل میں موجود ہو اور موجود ماحول میں ایکسپریس ہو۔ لیکن ایپی جینٹکس نے اس تصور کو تھوڑا بدلا ہے کہ انسان وہ کچھ کرتا ہے جس کا شعور اسے حاصل ہوتا ہے۔ مطلب سارا کا سارا ڈی این اے ہی کام نہیں کرتا بلکہ انسان کی سوچ بھی اس کا حصہ بنتی ہے۔ اس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ ہم جنس پرستی کا تعلق انسان کی اپنی سوچ سے ہے نہ کہ فزیکل سائنس سے۔ دوسری چیز انسان کے اعضاء کی بناوٹ اور ساخت ہے وہ ہم جنس پرستی کو سپورٹ نہیں کرتی، ہم جنس پرست دراصل اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خلل عظیم برپا کر دیتا ہے جس سے نہ صرف اس کے اخلاق بلکہ دونوں کے جسم اور نفس پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔ مرد کا عضو خاص عورت کے حساب سے بنایا گیا ہے، پھر اس کی غدود جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے، ہم جنس پرستی میں اس کی اہمیت پیشاب سے زیادہ کی نہیں رہتی۔ ہم جنس پرستی میں ہم اس کا فنکشن گم کر دیا جاتا ہے۔ یہ سراسر انسانی ساخت اور بناوٹ اور بائیو لوجی سے انحراف ہے۔ اس لیے ہم جنس پرستی کو نہ تو فطری کہا جا سکتا ہے اور نہ سائنسی ۔۔۔۔ جہاں تک ہم جنس پرستی کے دائمی اور ناقابل تبدیل کا تعلق ہے ہاں یہ ایسا ہی ہے لیکن اس کا تعلق نفسیات اور معاشرت سے ہے۔ مغرب کے پاس اس کا کوئی سوشل حل نہیں تھا اور تھا بھی تو وہ فرد کی آزادی کا قائل ہے۔ جب تک اسے بیماری قرار دیا جاتا رہا اس کا نفسیاتی علاج کیا جاتا رہا حتی کہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کے لیے "چینجنگ آور مائنڈز" نامی فلمیں بھی تیار کی گئیں۔ لیکن یہ ایسا معاملہ نہیں تھا، یہ بالکل مشت زنی جیسا عمل ہے جس کا علاج نہ سائنس کے پاس ہے اور نہ ہی نفسیات کے پاس۔ہاں اس کا علاج معاشرت میں موجود تھا، مذہب کی الہامی حدود و قیود میں موجود تھا جس سے لبرل حلقے آزاد رہنا چاہتے ہیں

سانحہ پشاور کے چند غورطلب پہلو

اس اندوہناک واقعہ نے پاکستانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر دئیے ہیں جو 14 سالہ اس جنگ میں کسی موقع پر نہیں پڑ ے۔میں نے اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا اور چند نتائج اخذ کئے جنہیں آپ کے حوالے کئے دیتا ہوں1۔مجھ سمیت بہت سے ایسے لوگ جو چند تحفظات کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اس امریکی جنگ میں اپنی ہمدردی امریکہ مخالف پلڑے میں ڈالتے تھے سوچنے پر مجبور ہوئے۔ بلاشبہ اس خطہ جسے ہم زمین کہتے ہیں اس پر بسنے والے انسانوں کے مختلف گروہ چاہے جتنے ہی حق و سچ کے شیدائی اور برحق گردانے جاتے ہوں، ان میں فطری طور پر کم یا زیادہ بُرائیاں اور غلطیاں پائی جاتی ہیں، خود ہم جس پارٹی یا گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اگر اس کے بارے انصاف کے ساتھ سوچیں تو ہمیں یہ سب نظر آئے گا۔ اسی طرح میری اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کی رائے تھی جس کا مختلف جگہوں پر اظہار بھی کیا گیاکہ تحریک طالبان میں غلطیاں موجود ہیں لیکن مقصد، خلوص اور عدل وانصاف کے پیش نظر وہ اس قابل ہیں کہ امریکہ کے مقابلے میں اس کے لیے نرم گوشہ رکھا جائے۔ اس دوران وہ غلطیاں کرتے تو مذمت اور افسوس بھی کیا جاتا رہا۔ لیکن جب کوئی گروہ یا پارٹی پےدرپے اپنی غلطیوں کو دوہراتی جائے تو اس کا مجموعی تاثراس کے بقیہ عناصر پر حاوی ہو جاتا ہے۔ تحریک طالبان کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے، اسلام جنگ وجدل کے بارے جو ہدایات جاری کرتا ہے وہ مسلسل اس کے نافرمان بن چکے ہیں۔ لہذٰا اب وہ اس درجہ سے خود بخود گر چکے ہیں جس پر ان سے کسی سطح پر ہمدردی کا رویہ رکھا جائے۔ بظاہر اس معاملے پر امریکہ اور اسلام دشمن قوتوں کی جیت ہوئی ہے، لیکن اس شکست میں خود تحریک طالبان کے اپنے ہاتھ ہیں کہ ان کی اس جنگ کے حامی اب مشکل سےملیں گے۔2۔دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں پاکستان کی شرکت مبنی بر انصاف نہیں رہی، یہ شراکت محض ایک فون کال پر قبول کر لی گئی تھی اور سالہ سال گزر گئے کسی حکمران کو اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی جرات پیدا ہو سکی کہ اپنی خارجہ پالیسی کو از سر نو مرتب کر سکے۔ اس جنگ کے لیے پاکستان نے نہ صرف اپنی زمین اور اڈے فراہم کئے بلکہ تمام تر لاجسٹک سپورٹ سمیت عسکری طور پر نان نیٹو اتحادی کا اعزاز بھی حاصل کیا، پاکستان بھر سے افغان طالبان کے عملی  حمایتوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کو بیچنا شروع کردیا حتی کہ اس مد میں ایک سال کے بچوں کا ریٹ بھی لگایا گیا۔ ان سہولتوں کے ساتھ امریکہ نے افغانستان پر ایک جنگ مسلط کی۔ اس اندھی جنگ کی کارپٹ بمباری سے لاکھوں معصوم افغانی شہید ہوئے بلکہ پہاڑتک ریزہ ریزہ ہو گئے۔ پاکستان کی مکمل حمایت کے باوجود امریکی معیشت کی کمر دوہری ہو گئی، اور کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان کی مدد شامل جنگ نہ ہوتی تو امریکہ اور اس کی معیشت کے لیے یہ جنگ لڑنا اتنا آسانی سے ممکن نہ ہوتا۔ باوجود اس کے یہ جنگ افغانستان کے جنگی ماحول میں ناکام ہو گئی۔ حال حال میں اس کا مختلف جگہوں پر اقرار بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران پاکستان میں موجود افغان طالبان کے دوستوں نے پاکستان کی اس مدد کے ردعمل میں پاکستان کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا، اس نے بھی وہی طریقہ کار اختیار کیا جو امریکہ افغانستان میں آزما رہا تھا، اس کا مشاہدہ حال ہی کے آپریشن ضربِ عضب سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں کارپٹ جیٹ بمباری سے کئی بستیاں ملیا میٹ کر دی گئیں جو مختلف وجوہات کی بناء وہاں سے نقل مکانی نہیں کر سکے تھے۔ ان میں بھی معصوم بچے شامل تھے لیکن سچ پر پہرہ بھی تھا اس لیے ہماری نظریں یہ مناظر دیکھنے سے بچی رہیں۔قانون فطرت ہے کہ جو قوم عدل و انصاف نہیں کر سکتی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا، ظلم کے مقابلے میں ظلم ہی ملا کرتا ہے آپ شاید اس بات سے اختلاف کریں لیکن یہ بات کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی کتاب "خدا کے لیے جنگ " میں بھی لکھی ہے' دنیا میں ہمیشہ شدت پسندی سے ہی شدت پسندی وجود میں آئی ہے'۔ 3۔اس قوم کو بہت چاہ تھی اور امریکہ سمیت بہت سے ممالک کی خواہش بھی پاکستان اپنےملک کے اندر آپریشن کے نام پر جنگ کا آغاز کرے، نتیجتاً ضرب عضب کے نام سےایک آپریشن شروع کیا گیا، یہ اسی دہشتگردی کیخلاف جنگ کے تسلسل میں تھی۔ 6 ماہ مسلسل بمباری کی گئی اور خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہیں کہ روزانہ درجنوں کے حساب سے دہشتگردوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔آرمی چیف نے اعلان کیا کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے اور تمام نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے۔ آپریشن کی 80 فیصد کامیابی کا اعلان بھی ہوا، ابھی حال ہی میں آرمی چیف امریکہ تشریف لے گئے، اس آپریشن کی کامیابی کی داد سمیٹ لائے۔ لیکن آرمی پبلک اسکول پر حملے نے اس آپریشن کی کامیابی کا پول کھول دیا۔ 2008 سے 2014 تک 20ہزار دہشتگرد مارے گئے، ضرب عضب میں 1800 دہشتگرد اڑائے گئے باوجود اس کے تحریک طالبان نے اپنے زندہ ہونے کاثبوت دیا ، پشاور کے حساس ترین علاقے اور آرمی میس سے چند کلومیٹر دور آرمی کے ہی ایک اسکول میں کامیاب کاروائی کر کے دل چھلنی چھلنی کر دئیے۔ اس قوم کی اکثریت اب زیادہ شدت کے ساتھ ان دہشتگردوں کا تباہ و برباد کرنا چاہتی ہو گی لیکن اس آپریشن کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں ان کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا اور افغانستان جنگ میں امریکہ کی ناکامی پر غور بھی کرنا ہوگا۔4۔اس واقعہ کا سب سے خوف زدہ پہلو یہ ہے کہ اس واقعے کو ملالہ واقعہ کی طرز پر 'سمبلائز' کر کے نہ صرف جہاد بلکہ مدرسوں، مذہبی لٹریچر اورخود اسلام اور مسلمانیت پر حملہ آور ہوا جا رہا ہے۔ جو دوست احباب ٹوئٹر پر موجود ہیں وہ اس کو لائیو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی چلا رہا ہے کہ یہ نتیجہ دیکھ لیا اسلام کے جہاد کا، اسلام اس دور میں چلنے کے قابل نہیں، کوئی کہہ رہا ان مدرسوں کو ختم کر دیا جائے، کوئی پکار رہا ہے کہ مذہبی لٹریچرکو آگ لگا دی جائے، مذہبی اداروں پر پابندی لگا دی جائے۔ اور ان آنکھوں نے ایک شخص کو یہ کہتے دیکھا کہ آج تو خود کو مسلمان کہتے شرم آرہی ہے۔ اللہ رحم فرما، آج یہ حال ہوا کہ جن لوگوں نے اسلام کے احیا کے لیے جہاد کرنا شروع کیا، وقت نے ان کو اپنے ہاتھوں ایسا استعمال کیا کہ وہ خود اسلام کی راہ سے دور بھٹکے تو بھٹکے پاکستان میں اسلام کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا۔ آج اسلام اور جہاد کو جرات کے ساتھ بیان کرنے والے مارے شرم کے منہ نیچے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

نوٹ: یہ خیالات ذاتی آراء اور معلومات پر مشتمل ہیں جومخصوص واقعے کے پش منظر میں پیدا ہوئے، راقم سمیت کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

بنگلہ دیش کے دہشت گرد؛ ماحولیات کے لیےکوشاں





مادہ مچھلی کو پانیوں میں چھوڑنا، ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اس سے دوہرا فائدہ لیا جا سکتا ہے۔اس کی وجوہات درج ذیل ہیں
الف: یہ عمل ترقی پذیر ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور ویسے بھی مچھلی اور مچھلی سےپیدا کردہ اشیاء، بیف اور مٹن سے نسبتاً سستی ہوتی ہیں۔
ب: انسانی اور غیر انسانی استعمال سے آبی مخلوق کم ہوتی جا رہی ہیں جو فلورا میں بے ترتیبی پیدا کر کے آبی ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس عمل سے پیدا شدہ خلا کو پُر کیا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کا قومی میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کی ذیلی طلبہ تنظیم شبر کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

بنگلہ دیش اسلامی چھاترا شبر قیام بنگلہ دیش کے بعد مسلسل اپنے ایجنڈے پر کاربند ہے کہ ایک روشن خوشحال بنگلہ دیش کے لیے ایماندار، باصلاحیت اور محب وطن شہری تیار کرتی رہے گی۔ اس تسلسل میں 24 ستمبر سے 30 ستمبر 2014، ایک ہفتہ پر محیط مہم چلائی گئی جس کے دوران ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں مادہ مچھلی کے بچوں کوپانیوں کے اندر چھوڑا گیا۔ مرکز سے ملک بھر کے تمام ممبران کو ہدایات پر مشتمل ایک خط روانہ کیا گیا اور زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو اس کارخیر میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ تمام مقامات پر اس ضمن میں خصوصی سیمینار، ورکشاپس اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس ہفتہ کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ کیجئے

  ڈھاکہ اور ڈھاکہ ڈویژن

باریسل ڈویژنچٹاگانگ ڈویژنکومیلا ڈویژنکھلنا ڈویژن

راجشاہی ڈویژنرنگ پور ڈویژن
سہلٹ ڈویژن







تنقید و تفکر کا قتل عام


تنقید اور تفکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تنقید اور تفکر ارتقائےِ انسانی کے ماخد کہلائے جاتے ہیں۔ اگر ان کے لفظی مطالب کی طرف جائیں تو تنقید عربی لفظ نقد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "کھرے اور کھوٹے کو الگ کرنا" ہے۔ تفکر، فکر سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "غور کرنا اور جاننا" ہے۔ 
جدید رجحانات میں ایک عرصے تک دونوں کی اہمیت برقرار رہی اور کسی حد تک اب بھی مروج ہے۔ ایک آلے کے طور پر اس کا استعمال نظریاتی، سماجی، عمرانی اور نفسیاتی علم و فلسفہ میں کیا جاتا رہا لیکن لبرل ازم نے اس پر ایسی کڑی لگائی کہ ایک بڑی تعداد میں جدید اور مابعد جدید ادباء و شعراء اور صد فیصدی معاشرتی و سیاسی پنڈت اب خود کو اس سے آزاد تصور کرتے ہیں اور آزاد تفکر اور ماروائے تنقید پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ جب ہم اس کی وجوہات کی طرف دھیان دیں تو لبرل ازم کے انفرادیت پسندی کے بعد دوسرے بڑے اصول آزادی کو علیحدہ بھی رکھ دیں تو تنقید و تفکر کے اصول کو بھلائے دینا اور تنقید و تفکر کے بجائے طنز و مخالفت کو متحرک پاتے ہیں۔
تنقید و تفکر کی بنیادوں میں یہ اصول و ضوابط کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں کہ عدل و انصاف کی کسوٹی پر ذاتی نظریات و اعتقادت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان دونوں آلات کا استعمال کیا جائے اسی سے وہ ارتقا ممکن ہے جو انسانی فلاح کا موجب بن سکتا ہے۔
لیکن افسوس صد افسوس دائیں اور بائیں دونوں طرف تنقید کے نام پر طنز اور شدید مخالفت کی جاتی ہے ۔ تفکر کے نام پر ذاتی آراء کے لیے دائرۃ المعارف میں نقب لگائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد اس بات پر بھی زور دیا جاتاہے کہ ان کی ان کاروائیوں کو تنقید و تفکر کے اصل درجہ پر رکھ کر قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
نوٹ: یہ راقم کا ذاتی تجزیہ ہے اور عمومی تناظر میں لکھا گیا ہے لہذا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

دہشتگردوں کے چند اقوال زرّیں

یہ بلاگ اُن امن پسندوں اور اُن کے حواریوں کے نام جن کی امن پسندی اور حسن اخلاق سے متاثر ہو کر تُورا بُورا کے سخت پہاڑ بھی رائی بن گئے۔سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۔۔۔ان کا نام ہے دنیا بھر کے امن پسند انہیں موجودہ دہشت گردی کا بانی لکھتے ہیں۔ اِنہوں نے دہشت گردوں کی ایک منظم جماعت بھی تشکیل دی جسے "اُم الارھابین" مطلب دہشت گردوں کی ماں کا خطاب   دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ انہیں چورپسندبھی کہتے ہیں اسکے پیچھے بھی ایک عجیب واقعہ    روایت کیا جاتا ہے کہ ایک بار اُن کے گھر چور گھس آئے اور چھوٹا موٹا سامان اٹھا کر بھاگ نکلے ، جب اگلے دن اپنے دہشت گرد ساتھیوں کو چوری کی واردات  سنا رہے تھے تو جہاں جہاں چور کا نام آتا  چہک چہک کر چور صاحب  بولتے جاتے۔ ایک  معصوم امن دوست  شخص دنیا کو اس دہشت گرد سےپاک کرنے کیلئے ان کے گھرآن ٹپکا،  سفید چمکدار باریش چہرہ  اور چند لمحوں کی باتیں سن کر  ایسی دہشت چھائی کہ قتل کرنے کی غرض سے چھپایا ہوا چاقو ، روتے ہوئے نکالا اور  ان کی جھولی میں رکھ دیا۔



یہی دہشت گرد اپنے پیرو کاروں کو ہدایات دیتے ہوئے کہتا ہے کہ:
آپ کسی حال میں مشتعل نہ ہوں اپنی زبان اور مزاج پر قابو رکھیں اور جب کبھی اشتعال کی کیفیّت ابھرتی محسوس ہو اسے نزع شیطانی سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگیں۔۔۔۔۔ مخالفین سے خواہ آپ کو کتنا ہی رنج پہنچے، آپ اسے رنج و افسوس تک محدود رکھیں اور نفرت تک ہرگز نہ پہنچنے دیں۔۔۔
ایک اور جگہ ہدایت کرتے ہیں کہ:جسے  ہمارے ساتھ اسلام کے راستے پر چلنا ہو اس کے لیے بہترین حکمت یہ ہے کہ اگر راستے میں کسی کانٹے سے اس کا دامن الجھ جائے تو ایک لمحہ ٹھہر کر دامن چھڑانے کی کوشش کرے اور جب وہ چھوٹتا نظر نہ آئے تو اپنا راستہ کھوٹا کرنے کے بجائے دامن کا وہ حصّہ پھاڑ کر کانٹے کے حوالے کرے اور آگے روانہ ہو جائے۔

ان سے کون واقف نہیں  ثابت اور تصدیق شدہ دہشت گرد  اعظم۔۔۔۔۔ کراچی کے چند گز مکاں کا مالک ، دہشت گردوں کے گڑھ منصورہ ، لاہور کے مہمان خانے میں ایک چھوٹے سے کمرے کا باسی سید منور حسن۔۔۔۔۔۔ 
چند دن پہلے کی بات ہے کہ نذیر احمد کاظمی   فکری و نظریاتی مخالف  ۔۔۔۔ دبئی میں انتقال کر گیا۔ اخبار میں خبر پڑھی تو پریشان ہو گئے، اپنے احباب سے کہا کہ کاش  مجھے اس کے خاندان کا رابطہ نمبر مل جائے کیوں کہ ان کے خاندان سے مرحوم کے فکر و نظریاتی ہمسفرتعزیت نہیں کرنےوالے۔۔۔   دہشت گردوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
شب و روز بدلتے رہیں گے،  مشاغل کے اندر تبدیلی آتی رہے گی، زندگی اپنی ترجیحات کو تبدیل کرتی رہے گی، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اندر نصاب بھی بدلتے رہتے ہیں نظام کی تبدیلی کی بات بھی کی جاتی رہے گی اساتذہ اپنے کردار کے اعتبار سے اگر کسی  کا خیال  ہے کہ پہلے جیسے نہیں رہے تو یہ آپ کا موضوع نہیں ہے ،آپ کا موضوع یہ ہے کہ آپ جوکل تھے وہ آج ہیں یا نہیں، جیسا ہونا چاہیے ویسےہیں یا نہیں۔

یہ بھی دنیا کا ایک دہشت گرد اعظم گردانا جاتا ہے، قاہرہ کی ایک سڑک پر امن پسندوں نے اسےاس وقت قتل کر دیا گیا جب یہ دہشت گرد مسجد سےنماز پڑھ کر اپنے گھر جا رہا تھا۔ اپنے دہشت گرد ساتھیوں سے  ہیبت زدہ باتیں کرتے ہوئےکہتا ہے:اے اخوانیو! کیا تم اس وقت کے فاقوں کے لیے تیار ہو جب تمام لوگوں کے پیٹ سیر ہو کر ڈھلک رہے ہوں۔۔۔ ۔۔کیا سرد راتوں  میں پہرہ دینے کے لیے تیار ہو جب تمام لوگ گرم بستروں میں نیند کے مزے اڑا رہے ہوں ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت دھوپ میں کٹھن کام کرنے کے لیے تیار ہو جب باقی لوگ ٹھنڈی چھاؤں میں آرام کر رہے ہوں۔۔۔۔۔ اور آخری بات کہ کیا تم ایسے لمحات میں مرنے کے لیے تیار ہو جب لوگ ایک مزیدار زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے جی رہے ہوں۔۔۔ابھی بھی اس دہشت گرد کا من ٹھنڈا نہیں ہوا تھوڑے وقفے کے بعد پھر لب کھلتے ہیں اور دہشت گردوں کو ترغیب دیتے ہوئے کہتا ہے:
اے اخوانیو! لوگوں کے ساتھ ایک پھلدار درخت کی طرح پیش آؤ ۔۔۔۔۔ جس پر لوگ پتھر مارتے ہیں  ۔۔۔۔ اور وہ    ۔۔۔ ان کی جانب لذید مٹھاس سے بھرے پھل پھینکتا ہے۔اے اخوانیو! جب تم دیکھو کہ لوگ نفرتوں اور مخالفتوں کی چھونپڑیاں تعمیر کر رہے ہیں تو ان کو مسمار کرنے  سے پہلے ان کے سامنے برداشت اور کردار کے  عالیشان محل بنا کر کھڑے کردو۔۔۔۔ ان کی پرواز کے الٹ اڑو ۔۔۔۔ چاہے وہ اپنے باطل پن میں جیسے ہی کیوں نہ پیش آئیں۔


یہ  وقت کا ایک اور دہشت گرد  جو دہشت گردوں کا مرشد عام بھی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد بدیع ۔۔۔۔ جسے مصر کی فوج نے  گرفتار کیا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا۔ اس دہشت گرد نے اپنی گرفتاری کے خلاف کوئی ہتھیار تو کجا لفظی مزاحمت تک نہ کی ۔۔۔۔۔ میدان رابعہ العدویہ میں لاکھوں دہشت گردوں سے  مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے:ہمارا انقلاب پر امن انقلاب ہے اور پرامن ہی رہے گااور ہمارا امن ان کے ٹینکوں سے زیادہ طاقت ور ہے
مصر کے امن پسندوں بغیر کسی ذاتی جانی و مالی  نقصان کے  8000 سے زائد دہشت گردوں کو  صفحہ ہستی سے مٹا کر جماعت  اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندی لگا دی ہے صرف پابندی ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو اس سے اپنا تعلق استوار کرے گا، اس کی مالی مدد کرے گا یا اس جماعت کے حق میں لکھے گا وہ بھی دہشت گرد کہلائے گا۔ پاکستان میں بھی کراچی کے نامعلوم امن پسندوں کی پھرپور کوششیں جاری ہیں کہ جماعت اسلامی جیسی دہشت گرد تنظیم پر پابندی لگائی جا سکےتاکہ ان کی امن پسندی کو سکون کا سانس ملے۔

عبد القادر مولاؒ کا بیوی کے نام آخری خط




صفحہ نمبر 1بسم اللہ الرحمان الرحیممیری بہت ہی پیاری رفیق حیات!السلام علیکم و رحمتہ اللہ!جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عدالت کا مکمل فیصلہ لکھا جا چکا ہے یہ کل رات یا اس کے بعد کسی وقت بھی جیل کے گیٹ تک پہنچ جائے گا اس کے بعد رول کے مطابق یقیناً مجھے  کال کوٹھری میں پہنچا دیا جائے گا۔ قرین امکان ہے کہ یہ حکومت کا آخری عمل ہے اس لیے  وہ اس  غیر منصفانہ عمل کو بہت تیزی کے ساتھ پایا تکمیل  تک پہنچائے گی۔ میرا خیال ہے کہ وہ رویو پیٹیشن کو  قبول نہیں کریں گے، اگر وہ قبول بھی کر لیں تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وہ  اپنی دی گئی سزا کو بدل دیں البتہ یہ دوسرا معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  اس سازش میں اپنی چال چلے  لیکن  اس کا ابدی و دائمی قانون بتاتا ہے کہ ہر معاملہ میں   دخل اندازی پسند نہیں کرتا۔


 صفحہ نمبر 2 ان جیسے لادینوں نے  کئی پیغمبروں کو بغیر کسی جرم کے قتل کیا، نبی اکرم ﷺ کے کئی ساتھیوں جن میں خواتین ساتھی بھی شامل تھیں انہیں نہایت بے دردی کے ساتھ مارا گیا ان شہادتوں کے بدل میں اللہ تعالیٰ  نے سچائی کے راستے  میں آسانی پیدا کی اور اسلام کو فتح سے ہمکنار کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں بھی ایسا ہی کرے گا۔کل  بھارتی وزیر خارجہ نے  نہ صرف عوامی لیگ کو داد دی بلکہ  حسین محمد ارشاد پر دباؤ بھی بڑھایا اس نے  جماعت ۔شبر کے برسر اقتدار  آنے سے بھی انہیں  ڈرایا اس سے واضع ہوتا ہے کہ  جماعت ۔شبر سے اختلاف اور نفرت  بھارت کے رگ و پے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ بات میں روز اول سے کہہ رہا ہوں۔


صفحہ نمبر3ہمارے خلاف جو بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ بھارت کی  میز پر تیار کیے جاتے ہیں۔ عوامی لیگ اگر واپس ہٹنا بھی چاہے تو اب ان اقدامات سے پیچھے بھی نہیں مڑ سکتی کیونکہ اس بار وہ صرف بھارت کی آشیر باد سے ہی اقتدار میں آئے ہیں۔یہاں بہت سے لوگ ہیں جو  اصولوں اور اخلاق کی بات کر رہے ہیں۔ جس طریقے سے مجھ سمیت جماعت کو ایک   مخصوص بنائے گئے سانچے میں ڈالا گیا ہے اور جس طریقے سے ملکی میڈیا حکومت کے ان غیر منصفانہ اقدامات کی حمایت و مدد کر رہا ہے ان حالات میں حکومت کی طرف سے  اصول اور اخلاق کی بات کس منہ سے کی جا رہی ہےجبکہ عدالتی نظام اور ٹرائل خود  جلاد  بن چکا  ہےاور معصوم لوگوں کی جان لینے کے شوق میں  مخمور ہو چکا ہے۔ کسی بھی آزاد فطری ٹرائل اور انصاف کی توقع ایسے لوگوں سے نہیں رکھی جا سکتی۔مجھے بس ایک پچھتاوا ہے کہ میں  اس قوم کو واضع انداز میں بتانے   سے قاصر ہوں کہ کیسے بالکل غیر منصفانہ طریقے سے ہم اور بالخصوص میں نشانہ بنایا جا رہا ہوں۔

صفحہ نمبر 4یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے کیونکہ سارا میڈیا  ہمارا مخالف ہے لیکن قوم اور دنیا بھر کے لوگ جانتے ہیں  کہ سچ کیا ہے ۔ میری موت اس جبر کی اس حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گی اور تحریک اسلامی  کی ترقی کا موجب  بنے گی کیونکہ یہی انصاف کی بات ہے ان شاء  اللہکل میں نے سورہ التوبہ کی آیت 17 سے 24  دوبارہ پڑھیں۔ آیت 19 میں  واضع انداز میں لکھا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد  کرنا، خانہ کعبہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ افضل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے نزدیک  اس کی راہ میں  اس لیے لڑنا کہ اسلام کا نظام قائم ہو اور بے انصافی کے خلاف لڑنا طبعی موت مرنے  کا  درجہ افضل و اعلیٰ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی ذات مجھے  جنت میں یہ افضل درجہ دینا چاہتی ہے 


صفحہ نمبر 5تو میں بخوشی اس موت کو گلے لگانے کے لیے تیار بیٹھا ہوں۔ کیونکہ  جلادوں کے ہاتھوں  غیر منصفانہ   موت تو جنت کا پروانہ ہے۔1966ء میں مصر کے ظالم  حکمران ، کرنل ناصر نے سید قطبؒ، سید عبد العدوہؒ اور دوسروں کو  پھانسی کے گھاٹ شہید کر دیا ۔ میں نے بہت سے لیکچرز میں یہ بات سنی  جیسا کہ "تحریک اسلامی کے راستے میں ٹرائلزاورایذا  رسانیاں"۔  ان لیکچرز سے بڑھ کر  یہ بات کہ  پروفیسر غلام اعظم   میرے کاندھے پر اپنا باہنی ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ پھانسی کی رسی ان کاندھوں پر بھی پڑ سکتی ہے۔ میں آج  بھی اپنا ہاتھ اپنےہی   کاندھے پر پھیر کر وہی بات سوچتا ہوں اور خوشی محسوس کرتا ہوں ۔ اگر اللہ کی ذات آج  تحریک اسلامی کی ترقی کا فیصلہ کر چکی ہے جو میری کامیابی ہے،  اس جبر کی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کر چکی ہے تو  جان لو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔  جب  نبی اکرم ﷺ شہادت کے اعلیٰ مرتبے کی بات کرتے تھے


صفحہ نمبر 6تو اپنی خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ کاش انہیں  بار بار یہ زندگی ملے اور بار بار اللہ کی راہ میں شہید ہوتے رہیں۔ وہ لوگ جو شہید ہو چکے ہیں وہ جنت کے اعلیٰ درجوں میں بیٹھ کر اللہ کے حضور اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ  یا خالق و مالک ہمیں ایک بار پھر اس دنیا میں بھیج تاکہ ہم  ایک بار پھر تیری راہ میں  شہید ہوں۔ اس سچی ذات کے الفاظ سچے ہیں اور اس کی طرف بھیجے گئے صادق  ﷺ کے الفاظ بھی سچے ہیں اگر ان پر کوئی شک ہے تو  ہمیں اپنے ایمان اور عقیدےپر شک کرنا چاہیے۔اگر حکومت اپنے اس غیر منصفانہ قدم  پر آگے بڑھ کر مجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیتی ہے تو ہو سکتا ہے میری  نماز جنازہ ڈھاکہ میں کروانے کی اجازت نہ دی جائے۔ ممکن ہے کہ وہ میری آخری رسومات میرے گاؤں کی مسجد اور گھر میں کرنے کا انتظام کرے اگر پادمہ دریا کے پار رہنے والے مسلمان میری نماز جنازہ پرھنا چاہتے ہیں تو  انہیں اطلاع کر دو کہ وہ  پہلے سے میرے گھر کے قریب آ جائیں۔

صفحہ نمبر 7میں اس سے پہلے بھی آپ کو اپنی قبر کے بارے بتا چکا ہوں کہ اسے میری ماں کے قدموں میں بنایا جائےاور میری قبر پر کوئی فضول خرچی نہ کی جائے جیسے قبروں کے گرد فصیل بنا کر مقبرے بنائے جاتے ہیں اس کے بجائے یتیم لوگوں پر جتنا خرچ کر سکو کرو، ان خاندانوں کا خیال رکھو جنھوں نے اپنے آپ کو تحریک اسلامی کے لیے وقف کر دیا ہے، خاص طور پر جو خاندان اس ظالم حکومت کے خلاف اپنے بیٹے اس تحریک کو دے چکے ہیں، جن کے باپ گرفتار ہو چکے ہیں، جن کے بوڑھے سزاؤں کے حقدار ٹھہرے ہیں۔ جب بھی برُا وقت آئے تو سب سے پہلے  ان خاندانوں کی خیر خیریت دیافت کرو۔  حسن مودود کی تعلیم کے فوراً بعد شادی کروا دینا اور اسی طرح نازنین کو بھی اس کے  اصلی گھر بھیج دینا 



صفحہ نمبر 8اے پیاری ، او پیاری!میں آپ کے اور اپنے بچوں کے بہت سے حقوق پورے نہیں کر سکا، مجھے معاف کر دینا صرف یہ سوچ کر معاف کر دینا کہ اللہ کے ہاں آپ کو اس کا اجر ضرور ملے گا ۔ میں اللہ کے ہاں دعا کرتا ہوں کہ  جب آپ اپنے بچوں اور اس کے دین کی ذمہ داریاں پوری کر لیں تو ہمارے  دوبارہ ملنے کی راہ پیدا فرما دے۔ اب دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کی زرہ بھر بھی محبت  میرے دل میں ہو تو مجھے اس سے دور کر دے اور میرے دل کو اپنے اور اپنے رسولﷺ کی محبت سے لبا لب بھر دے۔ان شاء اللہ ہم جنت کی پگڈیوں پر دوبارہ ملیں گے۔بچوں کو ہمیشہ حلال کمائی کی نصحیت کرتی رہنا، تمام فرض اور واجب کا خیال رکھنا خصوصاً نمازوں کا۔ اور تمام رشتہ داروں کو بھی یہی ترغیب دیتی رہنا۔  میرے باپ کو ہر ممکن آرام اور ہمدردی دیتی رہنا  جب تک وہ زندہ رہے۔آپ کا اپناعبد القادر مولا

سوانح حیات عبد القادر مولا شہیدؒ


اپنی سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے مقبول، عبد القادر مولا ؒ بنگلہ دیش کے ایک بہترین لیڈر تھے۔ گرفتاری سے قبل وہ بطور اسسٹنٹ سیکرٹری جنر ل جماعت اسلامی بنگلہ دیش اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ عبد القادر مولا ؒ 1948ء میں فرید پور ضلع کے گاؤں جوریپردوگی کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز جوریپردوگی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے کیا۔آپ ایک ذہین اور قابل طالب علم کے طور مشہور تھے انہوں نے پرائمری(1959ء) اور سیکنڈری (1961ء) دونوں میں وظائف حاصل کیے۔ 1964 ء میں امیر آباد فضل الحق انسٹیٹیوٹ سے ثانوی تعلیم اول درجے کے اعزاز کے ساتھ پاس کی۔ 
1966ء میں راجنڈرا کالج فرید پور سے اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی اور اسی کالج سے 1968ء میں بی ایس سی کا امتحان پاس کیا۔معاشی مسائل کی وجہ سے وہ تعلیم سلسلے کو جاری نہ رکھ سکے اور کالج میں بطور استاد کے ملازمت اختیار کر لی۔ 1970ء میں دوبارہ انہوں نے فزکس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ وہ ایم ایس سی فزکس کے فائنل پرچے 1971ء کی جنگ کی وجہ سے نہ دے سکے۔ 
1975ء میں انہوں نے اس وقت تمام سابقہ ریکارڈز توڑ ڈالے جب اعلیٰ درجے کے ساتھ سوشل اسٹڈیز کا امتحان پاس کیا، اِسی مضمون میں انہوں نے 1977ء میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پارٹ ٹائم میں اُدیان سیکنڈری اسکول میں پڑھاتے بھی رہے جو ڈھاکہ یونیورسٹی کے اندر قائم کیا گیا تھا۔
ایم ایڈ کی پیلی کیشن مکمل ہونے کے بعد وہ بنگلہ دیش رایفلز پبلک اسکول میں بطور سینئر استاد بھرتی ہو گئے۔ بعد میں اس اسکول سے بطور پرنسپل ریٹائر ہو گئے۔اس کے بعد وہ بنگلہ دیش اسلامک فاؤنڈیش میں بطور کلچرل آفیسر کے براجمان ہوئے۔ 1978ء میں آپ بطور ریسرچ اسکالر ، بنگلہ دیش اسلامک سنٹر سے منسلک ہو گئے۔ 1979ء تک وہ منارات انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز کے بانی سیکرٹری بھی رہے۔ 1981ء میں عبد القادر مولا نے ویٹرن نیوز پیپر اور روزنامہ سنگرم سے بطور ایگزیکٹو ایڈیٹر اپنے صحافتی کیرئر کا آغاز کیا۔ 
عبد القادر مولا ؒ اپنے خوبصورت سیاسی کیرئر کی وجہ سے بھی خا صے جانے پہچانے جاتے تھے ۔ جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے تو کیمونزم سے خاصے متاثر تھے جس کے نتیجے میں انہوں نے کیمونسٹ پارٹی بنگلہ دیش کے طلبہ ونگ چھاترا یونین میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1966ء تک وہ چھاترا یونین کے ساتھ منسلک رہے۔ ثانوی تعلیم کے امتحانات کے بعد ان کا تعارف شہرہ آفاق تفسیر تفہیم القرآن سے ہوا جو سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے نوک قلم سے لکھی گئی ۔ جیسے جیسے وہ تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتے گئے ویسے ویسے ان کے اندر حیرت ناک تبدیلیاں واقع ہوتی گئیں۔ یہیں سے وہ سید مودودیؒ کے لٹریچر کی طرف مڑ گئے اور اسلام کو اپنی زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھنے لگے۔ اسی کے نتیجے میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مشرقی ونگ "اسلامی چھاترا شنگو" کے ساتھ باقاعدہ منسلک ہو گئے 1966ء میں انہیں "شودوسشو(رکن)" بنا لیا گیا انہوں نے مختلف سطح پر تنظیم کی خدمت کی۔ آپ ڈھاکہ یونیورسٹی کے شاہد اللہ ہال یونٹ کے ناظم رہے اور اس کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں بطور ناظم جامعہ کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ آپ ڈھاکہ شہر کے معتمد بھی رہے اور اسی دوران مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 
1977ء میں تعلیمی زندگی ختم ہونے کے بعد آپ نے تحریک اسلامی کے وسیع مقاصد کے لیے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر لی۔نومبر 1978ء میں آپ نے رکن جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا حلف اٹھایا کچھ عرصہ بعد انہیں امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پروفیسر غلام اعظم کے پرسنل سیکرٹری کی ذمہ داری دے دی گئی۔ آپ ڈھاکہ شہر کی مجلس شوریٰ او مجلس عاملہ کے ممبر بھی منتخب ہوئے جس کے بعد وہ نائب امیر جماعت اسلامی ڈھاکہ کی ذمہ داریوں پر بھی فائز رہے۔
1985ء میں آپ ڈھاکہ کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ 1991ء میں آپ کو مرکزی شعبہ ابلاغ ، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ 2000ء میں انہیں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ اس کے ساتھ وہ عوامی لیگ کی غیر ذمہ دارانہ اور جھوٹی سیاست کو بے نقاب کرنے کے لیے چار جماعتی کمیٹی کے ایک اہم ممبر بھی تھے۔ 
آپ کی سماجی سرگرمیاں بھی کسی سے ٹھکی چھپی نہیں تھیں انہیں دو بار (1982ء اور 1983) ڈھاکہ یونین آف جرنلسٹس کے صدر منتخب ہونے کا اعزار حاصل رہا آپ کئی سوشل اور ایجوکیشنل اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے جن میں شاہ فیصل انسٹیٹیوٹ، اسلامک فاؤنڈیشن سوسائٹی اور اس کی اسکولز منیجمنٹ کمیٹی، سردار پور مدرسہ و یتیم خانہ، خادم الاسلام مدرسہ فرید پور و یتیم خانہ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اکیڈمی شامل ہیں۔ آپ منارات انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز کے بانی سیکرٹری بھی رہے۔ 
عبد القادر مولاؒ ایک اچھے لکھاری بھی تھے انہیں نے مختلف قومی اور عالمی موضوعات پر مختلف اخبارات میں لکھا۔ وہ کئی اسلامی مسائل پر ایک مستند مصنف سمجھے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی ممالک کا دورہ بھی کیا جن میں ان کی محبت پاکستان تو تھا ہی ، سعودی عربیہ، عرب امارات، جاپان ، سنگا پور اور انڈیا بھی شامل تھے۔
آپ 8 اکتوبر 1977ء سنور جہاں کے ساتھ حلقہ اذواج میں شامل ہوئے۔ ان کی اولاد میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں جو تمام کے تمام تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ ہیں اور مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ سنو رجہاں رکن جماعت اسلامی بنگلہ دیش ہیں۔ 
عبد القادر مولاؒ اپنی زندگی میں پانچ بار جیل گئے اور پانچویں بار سیدھے راہ عدم کو سدھار گئے۔ پہلی بار انہیں 1964ء میں ایوب خان کے خلاف تحریک چلانے کی پاداش میں گرفتار کر لیے گئے۔ 1972ء میں دوسری بار بغیر کسی وجہ کے انہیں گرفتار کر لیا گیا تاہم عوامی ردعمل پر جلد ہی انہیں رہا کر دیا گیا۔ ارشاد دورحکومت میں انہیں آمریت کے خلاف تحریک چلانے کے جرم میں ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا۔ 4 ماہ بعد عدالتی حکم پر انہیں رہا کیا گیا۔ 1996ء میں انہیں بی این پی حکومت بھی نے عبوری حکومت کے مسئلے پر گرفتار کیا۔ پانچویں اور آخری بار انہیں حسینہ واجد کی حکومت نے آزادی بنگلہ دیش کی جنگ میں دشمن ملک پاکستان کا ساتھ دینے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ انہیں ایک جعلی مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ بنگلہ دیش نے حکومت کی واضع ہدایات پر سزا میں تبدیلی کرتے ہوئے سزائے موت کا پروانہ ہاتھ میں تھما دیا۔ بالاخر پاکستان کی حمایت کرنے کے جرم میں 12 دسمبر 2013ء کو ڈھاکہ جیل میں انہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔

فریب زدہ جدید ذہنی رجحان

 یہ تحریر "عقلیت کا فریب 1" کے نام سے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب تنقیحات سے لی گئی ہے، اس عام  ذہنی رجحان کو سید کے قلم نے جس طرح کھول کر سامنے رکھا ہے اسے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہےتحریر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اسلامی تعلیم وتربیت کے لحاظ سے نیم پختہ یا بالکل خام نوجوان کے مذہبی خیالات پر مغربی تعلیم اور تہذیب کا جو اثر ہوتا ہے اس کا اندازہ ان تحریروں اور تقریروں سے ہوسکتا ہے جو اس قسم کے لوگوں کی زبان وقلم سے آئے دن نکلتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں صوبہ متحدہ کے ایک مسلمان گریجویٹ صاحب کا ایک مضمون ہماری نظر سے گزرا ۔ جس میں انہوں نے اپنی سیاحت چین وجاپان کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :۔
”ہمارے ساتھ جو چینی مسافر ہیں وہ انتہا کے بلانوش اور شراب خور ہیں۔ سور کا گوشت تو ان کی جان ہے۔ اب میں نے عسائیت کی ترقی کا راز سمجھا‘ چینی اب قدیم مذہب کی پیروی کو نئی تعلیم کے ساتھ عار پاتا ہے۔ اس کو اسلام قبول کرنے میں تامل نہ ہوتا اگر وہ اس کو سمجھا ہوتا مگر اسلام اس کو اس کی تمام مرغوب عذاوں سے محروم کردیتا ہے۔ چارو ناچار عیسائی ہوجاتا ہے۔ کچھ عجیب نہیں کہ آئندہ چین کا سرکاری مذہب عیسائیت ہوجائے۔ میں سور کے گوشت کے معاملہ میں اہل یورپ اور اہل چین کے نو مسلموں کے ساتھ ذرا ڈھیل دینا پسند کرتا ہوں قرآن سے بھی مجھے اس کے قطعی حرام ہونے میں شک ہے۔ زیادہ بریں نیست کہ اہل عرب کے لیے کسی خاص وجہ سے حرام کردیا گیا ہو۔ مگر ایسے ممالک جہاں ان کے بغیر (فمن اضطر غیر باغ ولاعاد) ہوجائے تو کیاحرج ہے۔؟”
 ”بہرحال قرآن کا یہی ایک حکم ہے جس کی ممانعت عمومی کی علت میری سمجھ میں اب تک نہیں آئی ورنہ اصولاً معدہ اور محرکات اخلاق میں اس قدر بعد ہے کہ مذہب ہمارے کھانے کا مینو بھی تیار کرے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہم کو آہن گری اور زرگری وخیاطی وغیرہ کاکام بھی کیوں نہ سکھائے۔ میرا خیال ہے کہ دنیا میں اسلام کے ترقی نہ کرنے کا راز اسی میں پنہاں ہے کہ وہ آدمی کے تمام حقوق سلب کرکے اس کو ایک لاشہ بے جان اور ایسا بے حس بچہ بنادیتا ہے کہ وہ اپنی دنیاوی ترقی کی راہیں سب بھول جاتا ہے۔ ور مذہب درحقیقت اسی قدر ہونا چاہیے جیسا کہ عیسائیوں نے سمجھ رکھا ہے۔”
اس کے بعد وہ شنگھائی کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 
خدا کی اس بے شمار خلقت کو خوش وخرم و خوشحال دیکھ کر دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ تمام کے تمام چند سال کے بعد دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے گویا ان کی پیدائش کا یہی ایک مقصد خدا کے پاس رہ گیا ہے۔ پھر وہ سب کے سب الاماشاءاللہ چند نفوس کے علاوہ اگر بت پرست اور کافر ہیں تو انہوں نے دوزخ میں رکھے جانے کا کیا یہی ایک قصور کیا ہے۔ کہ انہوں نے خدا کی زمین کو معمور کردیا ہے۔ نہ وہ حاجیوں کو قتل وغارت کرتے ہیں۔ نہ ان میں قوم لوط کا عمل ہے۔ نہ وہ کسی مال کو ہضم کرلیتے ہیں اور نہ اس کو جائز کرنے کے لیے تاویلیں کرتے ہیں۔ خاموشی سے اس زندگی کو بحسن وخوبی طے کررہے ہیں۔ پھر بھی ومستحق دوزخ ہیں آخر کیوں؟ یقیناً مشرکانہ عقیدہ ایک سودائے خام ہے۔ لیکن یہ تو بتاو کہ اگر ایک شخص ایک ایسی ہستی کا فطرتاً قائل ہوجاتا ہے جو اس کو مارتی اور جلاتی ہے تو محض اس لیے کہ اس کی ماہیت اس کی سمجھ سے اتنی ہی باہر ہے جتنی ہماری سمجھ سے۔ یا وہ عربی کو خدا کی زبان نہیں سمجھتا۔ تم اس کے دشمن ہو اور وہ تمہارا دشمن ہوجاتا ہے۔ مگر نہیں تمہارے نزدیک یہ سب کچھ ضروری نہیں ہے۔ ضروری تو یہ ہے کہ پائجامہ خاص وضع کا ہو۔ کرتے کی کاٹ ایسی ہو۔ فلاں قسم کا کھانا کھائے۔ منہ پر چار انگلی کی داڑھی ہو۔ کبھی اپنے ملکی مدرسوں میں قدم نہ رکھے۔ اس واسطے کہ وہاں مذہب کی زبان اور مذہب کا فن تم کو نہیں سکھایا جاتا۔““ 
جاپان کی بندرگاہ کوبے کے متعلق فرماتے ہیں۔
”دو گھنٹہ تک میں کوبے میں پھرتا رہا ایک بھیک مانگنے والا مجھ کو نہ ملا اور نہ کوئی پھٹے پرانے کپڑوں میں بدحال۔ یہ ہے اس قوم کی ترقی کا حال جو نہ مذہب کو جانتی ہے اور نہ خدا کو۔““ پھر وہ بقول خود”موعظئہ حسنہ“” شروع کر تے ہیں۔”یاد رکھو کو احسان اصل دین ہے اور احسان کسی زبان اور فن کا محتاج نہیں اس کا فطری مقصود یہ ہے کہ ہم آئندہ زندگی میں یا خود اس زندگی میں اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں اور ہوں گے۔ یہی دراصل مذہب اسلام ہے۔ اس سے زیادہ جس چیز کو تم نے مذہب کا نام دے رکھا ہے وہ محض تمہارے نفس کا دھوکا ہے۔ یا تمہارے دماغ کا خلل ہے۔ جس روز ان دونوں باتوں پر مذہب کو محدود کردو گے اور اپنی ساری بیڑیاں شریعت کی توڑ ڈالو گے توتم بھی قوموں کے ساتھ بام ترقی پر پہنچو گے۔ بلکہ یوں کہو کہ تم قوموں میں ضمیر پیداکردو گے جن کے ہاتھ سے اگر دنیا نہیں گئی ہے تو آسمانی بادشاہت بھی نہ جائے گی۔ تم خود کوئی قوم نہیں ہو بلکہ قوموں کے مصلح ہو۔ مگر خدارا اس کے کہنے کا موقع تو نہ دو کہ فلاح قوم برسراوج ہے مگر جو ان میں مسلمان ہیں۔ ان کی حالت زبوں ہے۔ اور یقیناً اس زبونی کا ذمہ دار ان کا عجیب وغریب مذہب ہے۔““
یہ تحریر ہماری نئی نسل کی عام دماغی حالت کا ایک واضح نمونہ ہے۔ مسلمان گھر میں پیدا ہوئے۔ مسلم سوسائٹی کے رکن کی حیثیت سے پلے بڑھے‘ مسلمانوں کے ساتھ معاشرت وتمدن کی بندوشوں میں بندھے۔ اس لیے اسلام کی محبت‘ مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور مسلمان رہنے کی خواہش گویا ان کی گھٹی میں پڑی اور ان کے دلوں میں اس طرح بیٹھ گئی کہ اس میں ان کے ارادے اور اپنی عقل وفکری قوتوں کا دخل نہ تھا۔ مگر قبل اس کے کہ اس اضطراری و غیر شعوری اسلام کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے اختیاری اور شعوری اسلام بنایا جاتا ، اور ان میں یہ صلاحیت پیدا کی جاتی کہ وہ اسلامی تعلیمات کو پوری طرح سمجھ کر مسلمان ہوتے اور عملی زندگی میں اس کے احکام وقوانین کو برت کر بھی دیکھ لیتے۔ انہیں انگریزی مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیا گیا جہاں ان کے قوائے ذہنی وفکری کی پرورش بالکل غیر اسلامی تعلیم وتربیت میں ہوئی اور ان کے دماغوں پر مغربی افکار اور مغربی تہذیب کے اصول اس طرح چھا گئے کہ ہر چیز کو وہ مغرب کی نظر سے دیکھنے اور ہر مسئلہ پر مغرب ہی کے ذہن سے غور کرنے لگے اور مغربیت کے اس استبلا سے آزاد ہوکر سوچنا اور دیکھنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔ مغرب سے انہوں نے عقلیت (Rationalism) کا سبق سیکھا مگر خود عقل ان کی اپنی نہ تھی بلکہ یورپ سے ہی حاصل کی ہوئی تھی۔ اس لئے ان کی عقلیت فرنگی ہوگئی نہ کہ آزاد عقلیت۔ انہوں نے مغرب سے تنقید کا درس بھی لیا مگر یہ آزاد تنقید کا درس نہ تھا بلکہ اس چیز کا درس تھا کہ مغرب کے اصولوں کو برحق مان کر ان کے معیار پر ہر اس چیز کو جانچو جو مغربی نہیں ہے۔ لیکن خود مغرب کے اصولوں کو تنقید سے بالاتر سمجھو۔ اس تعلیم وتربیت کے بعد جب یہ لوگ کالجوں سے فارغ ہوکر نکلے اور زندگی کے میدان عمل میں انہوں نے قدم رکھا تو ان کے دل ودماغ میں بعد المشرقین واقع ہوچکا تھا۔ دل مسلمان تھے۔ اور دماغ غیر مسلم۔ رہتے مسلمانوں میں تھےِ ‘ شب وروز کے معاملات مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ اپنے گردو پیس کے مسلمانوں کے مذہبی وتمدنی زندگی کے اعمال دیکھ رہے تھے۔ ہمدردی و محبت کے رشتے مسلمانوں سے وابستہ تھے۔ مگر سوچنے اور سمجھنے اور رائے قائم کرنے کی جتنی قوتیں تھیں وہ سب مغربی سانچوں میں ڈھلی ہوئی تھیں۔ جن سے نہ اسلام کا کوئی قاعدہ مطابقت رکھتا تھا۔ اور نہ مسلمانوں کا کوئی عمل۔ اب انہوں نے مغربی معیار کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کی ہر چیز پر تنقید شروع کی اور ہر اس چیز کو غلط اور قابل ترمیم سمجھ لیا جسے اس معیار کے خلاف پایا خواہ اسلام کے اصول و فروع میں سے ہو یا محص مسلمانوں کا عمل ہو۔ ان میں سے بعض نے تحقیق حال کے لیے کچھ اسلام کا مطالعہ بھی کیا۔ مگر تنقید وتحقیق کا معیار وہی مغربی تھا۔ ان کی ذہنیت کے ٹیڑھے سوراخ میں اسلام کی سیدھی میخ آخر بیٹھتی کیوں کر؟

مذہبی مسائل پر جب یہ حضرات اظہار خیال کرتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے تقریر فرما رہے ہیں۔ نہ ان کے مقدمات درست ہوتے ہیں نہ منطقی اسلوب پر ان کو ترتیب دیتے ہیں اور نہ صحیح نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کلاس کرتے وقت خود اپنی پوزیشن بھی متعین نہیں کرتے۔ ایک ہی سلسلہ کلام میں مختلف حیثیتں اختیار کرجاتے ہیں ابھی ایک حیثیت سے بول رہے تھے کہ دفعتاً ایک دوسری حیثیت اختیار کرلی اور اپنی پچھلی حیثیت کے خلاف بولنے لگے۔ سستی فکر (loose thinking) ان کے مذہبی ارشادات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ مذہب کے سوا دوسرے جس مسئلے پر بھی بولیں گے ہوشیار اور چوکنے ہوکر بولیں گے۔ کیونکہ وہاں اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ہوگئی تو جانتے ہیں کہ اہل علم کی نگاہ میں کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی۔ لیکن مذہب چونکہ ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور اس کو وہ اتنا وزن ہی نہیں دیتے کہ اس پر کلام کرتے وقت اپنے دماغ پر زور دینا ضروری سمجھیں اس لیے یہاں وہ بالکل بے فکری کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی گفتگو فرماتے ہیں۔ گویا کھانا کھاکر آرام کرسی پر دراز ہیں اور محض تفریح کے طور پر بول رہے ہیں۔ جس میں ضوابط کلام کو ملحوظ رکھنے کی کوئی حاجت ہی نہیں۔

دوسری بات جو ان کی تحریروں میں نمایاں نظر آتی ہے وہ خیالات کی سطحیت اور معلومات کی کمی ہے مذہب کے سوا کسی اور مسئلے میں وہ اتنی کم معلومات اور اس قدر کم غورو فکر کے ساتھ بولنے کی جرات نہیں کرسکتے۔ کیونکہ وہاں اگر تحقیق کے بغیر ایک کلمہ منہ سے نکل جائے تو آبرو جاتی رہتی ہے لیکن مذہب کے معاملہ میں وہ تحقیق اور مطالعہ اور غورو فکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ سرسری طور پر جو کچھ معلوم ہوگیا اس پر رائے قائم کرلی اور بے تکلف اس کو بیان کردیا۔ اس کے لیے کہ کسی گرفت کا یہاں خوف ہی نہیں گرفت اگر کرے گا تو مولوی کرے گا اور مولوں کے متعلق یہ بات پہلے ہی اصول موضوعہ کے طور پر داخل مسلمات ہوچکی ہے کہ وہ تاریک خیال‘ دقیانوسی اور تنگ نظر ہوتا ہے۔

فاضل مضمون نگار کی زیر نظر تحریر جشم بد دور ان دونوں خصوصیات کی حامل ہے سب سے پہلے تو ان کے مضمون سے یہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ مسلم کی حثیت سے کلام کررہے ہیں یا غیر مسلم کی حیثیت سے۔ اسلام کے متعلق گفتگو کرنے والے کی دو ہی حیثیت ہوسکتی ہیں۔ مسلم ہوگا یا غیر مسلم۔ جو شخص مسلم کی حیثیت سے کلام کرے گا عام اس سے کہ وہ خوش عقیدہ (Orthodox) ہو یا آزاد خیال یا اصلاح طلب بہرحال اس کے لیے لازم ہوگا کہ دائرہ اسلام کے اندر رہ کر کلام کرے یعنی قرآن کو منتہائے کلام (Final Authority) سمجھے اور ان اصول دین و قوانین شریعت کو تسلیم کرے جو قرآن نے مقرر کیے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ قرآن کو سند نہ مانے گا اور کسی ایسی بات میں کلام کی گنجائش سمجھے گا جو قرآن سے ثابت ہو‘ تو دائرہ اسلام سے باہر نکل آئے گا۔ اور اس دائرے سے نکلنے کے بعد اس کی مسلمانہ حیثیت باقی ہی نہ رہے گی کہ وہ اس میں کلام کرسکے۔ رہی دوسری حیثیت یعنی یہ کہ بولنے والا غیر مسلم ہو تو اس حیثیت میں اسے پورا حق ہوگا کہ قرآن آصول اور اس کے احکام پر جیسی چاہے تنقید کرے اس لیے کہ وہ اس کتاب کو مستنہا کلام نہیں مانتا۔ لیکن یہ حیثیت اختیار کرنے کے بعد اسے مسلم کی حیثیت سے گفتگو کرنے اور مسلمان بن کر مسلمان کو اسلام کے معنی سمجھانے اور اسلام کی ترقی وسائل بتانے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ایک صاحب عقل وشعور آدمی جب سوچ سمجھ کر اسلام کے متعلق گفتگو کرے گا تو وہ سب سے پہلے یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ ان دونوں حیثیتوں میں سے کون سی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ پھر وہ جو حیثیت بھی اختیار کرے گا۔ اس کے عقلی شرائط کو ملحوظ رکھے گا۔ کیونکہ بیک وقت اپنے آپ کو مسلمان بھی کہنا اور قران کے مقرر کیے ہوئے اصول وقوانین پر نکتہ چینی کا حق بھی استعمال کرنا قرآن کی سند میں کلام بھی کرنا اور مسلمانوں کو موعظہ حسنہ بھی سنانا کسی عاقل کا فعل نہیں ہوسکتا۔ یہ نقیضین کو جمع کرنا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص بیک وقت مسلم بھی ہو اور غیر مسلم بھی۔ دائر اسلام کے اندر بھی ہو اور باہر بھی۔مضمون نگار صاحب کی عملی قابلیت اور ان کی معقولیت کی طرف سے اہم اتنے بدگمان نہیں ہیں کہ ان سے یہ امید رکھیں کہ اگر وہ اسلام کے سوا کسی مسئلہ پر کلام فرماتے تو ان میں بھی اس طرح دو مختلف حیثیتوں کو بیک وقت اپنے اندر جمع کرلیتے۔ ہم ان سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ قیصر ہند کی عدلات میں بیٹھ کر قیصر ہند کے منظور کیے ہوئے قوانین پر نکتہ چینی کرنے کا حق استعمال فرمائیں گے نہ ہم ان سے اس جرات کی امید رکھتے ہیں کہ وہ کسی مسلک فکر (School of thought) کی پیروی کا دعویٰ کرنے کے بعد ان اصولوں پر مخالفانہ نکتہ چینی کریں گے جن پر وہ مذہب قائم ہے۔ لیکن طرفہ ماجرا ہے کہ اسلام کے معاملہ میں انہوں نے دو بالکل مختلف حیثییں اختیار کی ہیں اور یہ محسوس تک نہیں کیا کہ وہ بار بار اپنی پوزیشن بدل رہے ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مسلمان کا سا نام رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی زبوں حالی پر رنج فرماتے ہیں۔ اسلام کی ترقی کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو ”احسان“” یعنی ”اصل دین”“ کا وعظ سناتے ہیں۔ دوسری طرف اس کتاب کے مقرر کیے ہوئے اصول اور قوانین پر نکتہ چینی بھی کرتے ہیں۔ جس پر اسلام کی بنیاد قائم ہے اور جس کر آخری سند تسلیم کرنا مسلمان کے لیے لازمی شرط ہے۔

قرآن ایک نہیں چار جگہ بالتصریح سور(1) کے گوشت کو حرام قرار دیتا ہے۔ مگر آپ اس معاملہ میں ڈھیل دینا پسند فرماتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ ڈھیل دینے کی یہ خواہش بھی ”ترقی اسلام“” کے لیے ہے۔ گویا ترقی اسلام کی فکر آپ کو قرآن سے بھی زیادہ ہے! یا کوئی اسلام قرآن سے باہر بھی ہے جس کی ترقی آپ چاہتے ہیں۔ قرآن فی الواقع انسان کے لیے کھانے کا مینو تیار کرتا ہے کھانے کی چیزوں میں حرام وحلال خبیث و طیب کا فرق قائم کرتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ تم اپنے اختیار سے کسی شے کو حلال اور حرام قرار دینے کا حق نہیں رکھے۔ مگر آپ کو اپنے حق پر اصرار ہے اور خود قرآن کا یہ حق تسلیم کرنے میں تامل ہے کہ وہ کھانے پینے میں مذہب کو دخل دے۔ قرآن مذہب کو ان حدود میں نہیں رکھتا۔ جن میں سینٹ (نہ کہ مسیح) متبعین نے اس کو محدود کیا ہے۔ وہ لباسِ اکل وشربِ‘ نکاح وطلاقِ‘ وراثت‘ لین دین‘ سیاست‘ عدالت‘ تعزیرات وغیرہ کے قوانین وضع کرتا ہے۔ مگر آپ اس قسم کی قانون سازی کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کو ترقی اسلام میں مانع قرار دیتے ہیں۔ اس پر الزام رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ایک لاشہ بے جان اور بے بس بچہ بنا دیتا ہے۔ اور تجویز کرتے ہیں کہ مذہب اسی قدر ہونا چاہیے جس قدر عیسائیوں (دراصل پولوسیوں) نے سمجھا ہے۔ قران نے خود قوانین شریعت بنائے ہیں اور ان کو حدود اللہ سے تعبیر کرکے ان کی پابندی کا حکم دیا ہے۔ مگر آپ شریعت کی ان حدود کو بیڑیوں سے تعبیر کرتے ہیں اور سینٹ پال کی طرح مذہب کی توسیع وترقی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ کہ ان بیڑیوں کو توڑ ڈالا جائے۔ قرآن کے نزدیک ایمان نجات کی پہلی اور لازمی شرط ہے اور جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے ان کے متعلق بالفاظ صریح کہتا ہے کہ وہ دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے۔ (1) خواہ وہ بے شمار ہوں یا شمار میں آجائیں۔ خوشحال ہوں یا بدحال‘ مگر اپ کا یہ حال ہے کہ کافروں اور بت پرستوں کی بے شمار خلقت کو خوش وخرم وخوشحال دیکھ کر آپ کا دل گواہی نہیں دیتا کہ چند سال بعد وہ سب دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے۔ اور آپکی سمجھ میں نہیں آتا کہ انہوں نے خدا کی زمین کو معمور کردینے کے سوا اور کون سا قصور کیاہے سوال یہ ہے کہ قرآن سے اتنا کھلا اختلاف رکھتے ہوئے آپ مسلمان کیسے رہ سکتے ہیں۔ اور مسلمان ہوتے ہوئے آپ قران سے اختلاف کیونکر کرسکتے ہیں۔؟ اگر آپ مسلمان ہیں تو قرآن سے اختلاف نہ فرمائیے اور اگر قرآن سے اختلاف کرنا چاہتے ہیں تو دائرہ اسلام سے باہر کھڑے ہوکر اختلاف کیجئے۔جو شخص کسی مذہب کے اصول اور احکام وقوانین سے مطمئن نہ ہو‘ جس کا دل ان کی صداقت پر گواہی نہ دیتا ہو جو ان کی علت و مصلحت کو سمجھنے سے عاجز ہو اور جس کے نزدیک ان میں سے بعض یا اکثر زبانیں قابل اعتراض ہوں ‘ اس کے لیے دو راستے کھلے ہوئے ہےں یا تو وہ مذہب سے نکل جائے ‘ پھر اس کو حق ہوگا کہ اس مذہب کے جس قاعدے اور جس حکم پرچاہے نکتہ چینی کرے یا اگر وہ اس عدم اطمینان کے باوجود اس مذہب میں رہنا چاہتا ہے تو اس کے خلاف مظاہرہ کرنے سے احتراز کرے اور مجتہد بن کر اس کے قواعد وضوابط پرتیشہ چلانے کے بجائے طالب علم بن کر اپنے شکوک وشبہات حل کرنے کی کوشش کرے۔ عقل و دانش کی رو سے تو اس حالت میں یہی دو طریقے ہوسکتے ہیں اور مرد عاقل جب کبھی ایسی حالت میں مبتلا ہوگا تو انہی میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کرے گا۔ لیکن فاضل مضمون نگار اور ان کی طرح بہت سے فرنگی تعلیم وتربیت پائے ہوئے حضرات کا حال یہ ہے کہ پہلا طریقہ اختیار کرنے کی اخلاقی جرات ان میں نہیں اور دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے۔ اس لیے انہوں نے بیچ کا ایک غیر معقول طریقہ اختیار کررکھا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک طرف مسلمانوں میں شامل بھی ہوتے ہیں۔ ترقی اسلام کی آرزو مند بھی بنتے ہیں‘ اسلام اور مسلمانوں کے درد میں تڑپتے بھی ہیں اور دوسری طرف اسلام کے خلاف وہ سب کچھ کہتے اور کرتے ہیں جو ایک غیر مسلم کہہ اور کرسکتا ہے۔ حدیث وفقہ تو درکنار قرآن تک پر نکتہ چینی کرنے سے باز نہیں رہتے اور ان تمام بنیادوں پر ضرب لگا جاتے ہیں جس پر اسلام قائم ہے۔ ان حضرات کو دعویٰ ہے کہ اہم ارباب عقل (Rationalists) ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم کوئی ایسی بات نہیں مان سکتے جو عقل کے خلاف ہو۔ ملاؤں پر ان کا سب سے بڑا الزام یہی ہے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ مگر خود ان کا حال یہ ہے کہ مذہب کے معاملہ میں صریح متناقض باتیں کرتے ہیں‘ متضاد طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور اپنی ایک بات کی تردید خود اپنی ہی دوسری بات سے کرجاتے ہیں۔ آخر یہ ریشنلز کی کون سی قسم ہی۔ جس کی ایجاد کا شرف ان روشن خیال محقیقین کو حاصل ہوا ہے۔ اب ذرا ان کی معلومات کی وسعت اور فکر کی گہرائی ملاحظہ فرمائیے۔ اسلام کی ترقی کے لیے آپ ضروری سمجھتے ہیں کہ مسیحیت کی طرح اسلام سے بھی شرعی حدود اٹھا دی جائیں اور اسلام صرف ایک عقیدہ کی حیثیت میں رہ جائے۔ کیونکہ مسیحیت کی ترقی کا راز جو آپ نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں حلال وحرام کی قیود نہیں ہیں۔ اخلاقی پابندیاں نہیں ہیں۔ اس میں آدمی کے انسانی حقوق سلب کرکے اس کو ایک لاشہ بے جان اور بے بس بچہ نہیں بنایا گیا ہے۔ بلکہ اس کو آزادی دے دی گئی ہے کہ مسیح پر ایمان رکھ کر جو چاہے کرے مگر آپ نے یہ غور نہیں فرمایا کہ اسلام جس چیز کا نام ہے وہ قرآن میں ہے اور قرآن نے ایمان وعمل صالح کا مجموعہ کا نام اسلام رکھا ہے۔ عمل صالح کے لیے حدود و قیود مقرر کیے ہیں۔ قوانین بنائے ہیں اور انفرادی واجتماعی زندگی کے لیے ایک مکمل نظام عمل مقرر کیا ہے۔ جس کے بغیر اسلام بحیثیت ایک دین اور ایک تہذیب کے قائم نہیں ہوسکتا۔ اس نظام اور اس کی حدود کو منسوخ کرنے کا اختیار کسی مسلمان کو نہیں ہے کیونکہ اس کا نسخ قرآن کا نسخ ہے اور قرآن کا نسخ اسلام کا نسخ ہے اور جب اسلام خود ہی منسوخ ہوجائے تو اس کی ترقی کے کیا معنی؟ آپ خود کسی مذہب کو ایجاد کرکے اس کی اشاعت فرما سکتے ہیں مگر جو چیز قرآن کے خلاف ہے اس کو اسلام کے نام سے موسوم کرنے اور اس کی ترقی کو اسلام کی ترقی کہنے کا آپ کو کیا حق ہے۔؟ آپ اسلام صرف اس عقیدہ کا نام رکھتے ہیں کہ ۔”ہم آئندہ زندگی میں یا خود اس زندگی میں اپنے اعمال کے جوابدہ ہیں اور ہوں گے۔“” یہ بات غالباً آپ نے اس امید پر فرمائی ہے کہ اگر اسلام اس حد میں محدود ہوجائے تو بالکل نرم اور آسان ہوجائے گا اور خوب پھیلتا چلاجائے گا۔ لیکن اگر آپ اس عقیدہ کے معنی پر غور فرماتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ حد میں محدود ہونے کے بعد بھی اسلام آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ اس عقیدے کو مذہب قرار دینے کے لیے سب سے پہلے تو حیات اخروی پر ایمان لانا ضروری ہے۔ پھر جواب دہی کا مفہوم تین باتوں کا متقاضی ہے۔ ایک یہ کہ جس کے سامنے جواب دہی کرنی ہے اس کو متعین کرلیا جائے۔ اور اس کی بالادستی تسلیم کرلی جائے۔ دوسرے یہ کہ جواب دہی کی نوعیت متعین کی جائے اور زندگی کے اعمال میں اس لحاظ سے امتیاز کیا جائے کہ کن اعمال سے اس جواب دہی میں کامیابی نصیب ہوگی اور کون سے اعمال ناکامی کے موجب ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ جواب دہی میں کامیابی اور ناکامی کے جدا جدا نتائج متعین کیے جائیں کیونکہ اگر ناکامی کا نتیجہ بھی وہی ہو جو کامیابی کا ہے یا سرے سے دونوں کا کوئی نتیجہ ہی نہ ہو تو جواب دہی بالکل بے معنی ہے۔ یہ اس عقیدہ کے عقلی لوازم ہیں جس کو آپ اصل دین قرار دے رہے ہیں اگر آپ کی تجویز کے مطابق اسی عقیدہ پر اسلام قائم کردیا جائے تب بھی وہی مصیبت پیش آئے گی جس سے آپ بچنا چاہتے ہیں۔ پھر وہی خدا کو ماننا لازم آئے گا جس کے بغیر جاپان آپ کو ترقی کے بام پر چڑھتا نظر آرہا ہے۔ پھر وہی شریعت کی بیڑیاں اور اخلاق کی زنجیریں تیار ہوجائیں گی جس کو آپ توڑنا چاہتے ہیں۔ اور جن کے وجود میں آپ کے نزدیک اسلام کے ترقی نہ کرنے کا راز پوشیدہ ہے۔ پھر وہی عذاب و ثواب کا جھگڑا نکل آئے گا اور خدا کی بے شمار خلقت کو اس عقیدے کے بغیر خوش وخرم حال دیکھ کر آپ کا دل پھر اس بات پر گواہی دینے سے انکار کردے گا کہ چند سال بعد یہ سب عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ براہ کرم اب ذرا غور کرکے کسی ایسی چیز کا نام اسلام رکھیے جس میں کسی قسم کی قید وبند نہ ہو۔ جس کو ماننے اور نہ ماننے کا نتیجہ یکساں ہو‘ جس میں صرف خدا کی زمین کو معمور کردینا دنیاو آخرت کی کامیابی کے لیے کافی ہو‘ اور جس پر ایمان نہ لانے والی بے شمار خلقت کو خوش وخرم و خوشحال دیکھ کر آپ کا دل گواہی دے سکے کہ وہ سب جنت کی بلبلیں بنائی جائیں گی۔ قرآن کی رو سے سور کے گوشت کا قطعی حرام ہونا آپ کے نزدیک مسلم نہیں ہے۔ آپ شک فرماتے ہیں کہ شاید اہل عرب کے لیے کسی خاص وجہ سے حرام کردیا گیا ہو۔ لیکن اگر آپ اس رائے کو ظاہر کرنے سے پہلے قرآن کھول کر پڑھ لیتے تو اس شک کی تحقیق ہوجاتی اس کتاب میں صاف لکھا ہوا ہے کہ

قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّكُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوۡحًا اَوْ لَحْمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۵﴾ (الانعام , 145)

اے پیغمبر کہو کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں سے کسی چیز کو جسے کوئی کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا الایہ کہ وہ مردار ہو‘ یا بہایا ہوا خون‘ یا سور کا گوشت کیونکہ وہ بہ تحقیق ناپاک ہے۔ یا نافرمانی کے طور پر اللہ کے سوا کسی اور نام سے ذبح کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوگیا بغیر اس کے کہ وہ نافرمان اور حد ضرورت سے تجاویز کرنے والا ہو تو تیرا رب بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت میں سور کے گوشت کو ہر ”طاعم”“ یعنی کھانے والے کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے اور حرمت کی علت یہ قرار دی گئی ہے کہ وہ ”رجس“ (ناپاک)” ہے۔ کیا یہاں طاعم سے مراد عرب کا طاعم ہے اور کیا ایک ہی چیز عرب کے لیے رجس اور غیر عرب کے لیے طیب وطاہر ہوسکتی ہے اور کیا اسی طریقہ سے آپ مردار کھانے والوں کے لیے بھی ذرا ڈھیل دینا پسند فرمائیں گے۔ آپ سور کے معاملہ میں ڈھیل چاہتے ہیں تو خود اپنی طرف سے دے دیجئے مگر قرآن کے صریح الفاظ کے خلاف آپ کو یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ قرآن سے اس کی قطعی ممانعت مشکوک ہے۔؟

آج کل کے نئے مجتہدین نے اجتہاد کے جو اصول وضع کیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام کے جس حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق بلا تکلف کہہ دیتے ہیں کہ یہ خاص اہل عرب کے لیے تھا۔ خواہ قرآن میں اس تخصیص کی طرف کوئی ذرا سا اشارہ بھی نہ ہو اور تخصیص کے لیے وہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ رکھتے ہوں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بعید نہیں کہ ایک روز قرآن ہی کو اہل عرب کے لیے مخصوص کردیا جائے ۔اور فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ سے استدلال تو اتنا لطیف ہے کہ صاحب سفر نامہ کے علم و فضل کی داد دینے کو جی چاہتا ہے غالباً اس آیت کا ترجمہ انہوں نے یہ کیا ہوگا کہ جب سور کا گوشت کھانے کو بے اختیار جی چاہے تو کھالو مگر باغ میں بیٹھ کر نہ کھانا اور نہ اس کی عادت ڈالنا۔ سور کے گوشت میں اہل یورپ اور اہل چین کے ڈھیل دینے کی گنجائش اس آیت سے وہی شخص نکال سکتا ہے جو نہ اضطرار کے معنی جانتا ہو‘ نہ باغی کا مفہوم سمجھتا ہو اور نہ عادی کا۔ ورنہ جاننے والے کے لیے تو اتنی جرات کرنا بہت مشکل ہے۔ آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ جن لوگوں کو مردار خوری یا خون آشامی کا چسکا لگا ہوا ہے جو لوگ سور کے گوشت پر جان دیتے ہوں یا جن کے ہاں ما اھل بہ لغیر کے کھانے کا عام دستور ہو‘ وہ سب مجبوروں میں داخل ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو تحریم کا حکم ہی بے معنی ہوجاتا۔ کیونکہ اگر تحریم ان لوگوں کے لیے تھے جو ان چیزوں کے خوگر تھے تو استثناءسے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی عادت کے مطابق انہیں کھاتے رہتے اور اگر تحریم ان لوگوں کے لیے تھی جو خود ہی ان سے مجتنب تھے تو ان کے لیے اس حکم کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اضطرار(مجبوری( کے ساتھ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا کی شرط لگا کر جو استثناءکیا گیا ہے اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ جو شخص بھوک سے مررہا ہو اور حرام چیز کے سوا کوئی چیز اس کو نہ ملتی ہو ‘ وہ جان بچانے کے لیے حرام چیز کھا سکتا ہے۔ بشرطیکہ حد رخصت سے تجاوز نہ کرے۔ یعنی جان بچانے کے لیے جتنی مقدار ناگزیر ہو اس سے زیادہ نہ کھائے اور حدود اللہ کے تورنے کی خواہش اس کے دل میں نہ ہو۔ اسی بات کو ایک دوسری جگہ سور اور مردار وغیرہ چیزوں کی تحریم کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ(المائدہ , 3)

یعنی جو شخص بھوک کی شدت سے مجبور ہوجائے بجائے اس کے کہ گناہ کی طرف کوئی میلان اس کے دل میں ہو وہ ایسی حالت میں حرام چیز کھا سکتا ہے کہاں یہ بات اور کہاں وہ کہ اہل یورپ اور اہل چین چونکہ سور کے گوشت پر جان دیتے ہیں لہٰذا فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ سے فائدہ اٹھا کر ان کے لیے سور کو جائز کردیا جائے اور وہ بھی اس لیے کہ وہ اسلام میں داخل ہوسکیں اگر کسی طریقہ سے ہر قوم کی رغبتوں اور خواہش کا لحاظ کرکے اسلام کے قوانین میں ڈھیل دینے کا سلسلہ شروع ہوجائے تو شراب‘ جوا‘ زنا‘ سود اور ایسی ہی دوسری تمام چیزوں کو ایک ایک کرکے حلال کرنا پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ جولوگ خدا کے احکام ماننے اور اس کے قائم کیے ہوئے حدود کی پابندی کرنے اور اس کے حرام کو حرام سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کو اسلام میں داخل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اسلام ان کا محتاج کب ہے کہ وہ ان کو راضی کرنے کے لیے کم وبیش پر سودا کرے؟ پہلے تو صرف سورہی کے حرام ہونے کی علت آپ کی سمجھ میں نہیں آئی تھی مگر پھر جو آپ نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اصولاً معدہ اور محرکات اخلاق میں بون بعید ہے لہٰذا آپ نے یہ رائے قائم فرمائی کہ مذہب کو کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام کا امتیاز قائم کرنے کا سرے سے کوئی حق ہی نہیں ہے اس ارشاد سے یہ راز فاش ہوگیا کہ آپ جتنا قران کے متعلق جانتے ہیں حکمت طبیعی کے متعلق بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ قرآن سے ناواقف ہونا تو خیر ایک ”روشن خیال” تعلیم یافتہ آدمی“ کے لیے شرمناک نہیں ہے مگر سائنس سے اتنی بے خبری البتہ شرمناک ہے۔ آپ کو اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ انسان کی نفس اور اس کی ترکیب جسمانی کے درمیان کیا تعلق ہے۔ اور اس کی ترکیب جسمانی غذا سے کیا تعلق رکھتی ہے جو چیز جسم کو اس کے ضائع شدہ اجزائے ترکیبی فراہم کرتی ہے‘ جس سے بدن کے تمام ریشے اور اعصاب از سر نو بنتے ہیں جو چند سال کے اندر پرانے جسم کی جگہ نیا جسم پورا پورا بنادیتی ہے۔ اس کی خصوصیات کا اثر نفس اور روح پر ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا قابل تعجب ہے۔ اس حقیقت سے سائنٹیفک دنیا پہلے عموماً غافل تھی۔ مگر فن تغذیہ (Dietetics) پر حال میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے یہ راز منکشف ہوگیا ہے کہ انسان کے اخلاق اور اس کی ذہنی قوتوں پر اس کی غذا کا اثر ضرور مترتب ہوتا ہے۔ چنانچہ آج کل کے حکماءاس تجسس میں لگے ہوئے ہیں کہ مختلف قسم کی غذاوں سے ہمارے نفس اور قوائے فکری پر کیا اثرات ہوئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے گریجویٹ دوست کی سائینٹفک معلومات تازہ (Up-to-date) نہیں ہیں‘ ورنہ وہ اتنی جرات کے ساتھ یہ دعویٰ نہ کردیتے کہ اصولاً معدہ اور محرکات اخلاق میں بعد ہے 

ہلاکت یا شہادت؟!


بیورو آف انوسٹی گیٹو جنزلزم انٹر نیشنل نے 2012ء میں پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی اور ثابت کیا کہ ان حملوں کی زد میں معصوم لوگ نشانہ بنتے ہیں۔ اس رپورٹ میں مختلف حملوں کی تفصیلات بھی بتائی گئیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ ہے کہ 23 جون 2009ء کو طالبان کے ایک اہم رہنما خواز ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا اور ایک شرمناک پلان ترتیب دیا کہ جیسے ہی ولی محسود کے نماز جنازہ میں بیت اللہ محسود آئیں گے نماز جنازہ پر ڈرون سے حملہ کر دیا جائے گا ایسا ہی کیا گیا 5000 سے زائد لوگ نماز جنازہ میں شریک ہوئے جس میں ایک بڑی تعداد عام قبائلیوں کی بھی تھی پھرحملہ کر کے 83 افراد کو شہید کر دیا گیا جس میں غالب اکثریت عام شہریوں کی تھی جبکہ 12 طالبان بھی شامل تھے، امریکہ کو اس حملے میں حزیمت اس صورت بھی اٹھانی پڑی کہ بیت اللہ محسود محفوظ رہا۔

حکیم اللہ محسود کو جب سے نشانہ بنا یا گیا ہے ، ایک بار پھر یہ موضوع سامنے آیا ہے کہ حکیم اللہ محسود شہید ہوا یا ہلاک۔ایک طبقہ اوپر لکھے واقعے کی جب رپورٹنگ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ امریکہ کا ڈرون حملہ، 83 افراد نشانہ بن گئے جن میں سے 12 ہلاک جبکہ باقی شہید ہو گئے۔ اس رپورٹنگ پر بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہے کہ کل تک جو جنت کی ٹکٹوں پر دوسروں کو طعنہ دیتے تھےآج اپنے ہاتھوں سے جنتیں بانٹ رہے ہیں جیسے جنت کا ٹھیکہ انہوں نے سنبھال لیا ہو اور حکیم اللہ محسود کے اوپر پہنچنے پر زور زور سے چیخ رہے ہوں"چل اوے حکیم اللہ محسودچل کھبی سائیڈ تے نکل جا، دوزخ وچ ای تیرا ٹکانہ ہے۔۔۔۔ سانوں سارا پتا توں جہڑیاں ذمہ داریاں قبول کردا سی۔۔۔۔۔۔، تینوں تے جنت دی ہوا ای نہیں سنگھن دینڈی "۔(ہیلو حکیم اللہ محسود چل ابے بائیں طرف چل تیرا ٹھکانہ تو جہنم ہے۔۔۔۔ ہمیں سب معلوم ہے جو تو ذمہ داریاں قبول کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ تجھے تو جنت کی ہوا تک نہیں سونگھنے دیں گے)۔

عجب بے وقوفی کا عالم ہے اگر ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ پاکستان اور اسلام کا دشمن ہے جیسا کہ اس نے خود ثابت کیا ہے اور پھر ہم ڈرون حملوں کو اپنے ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور اپنی سرزمین پر حملے سمجھتے ہیں تو ظاہر ہے دشمن کے ہتھیار کے نیچے جو بھی آئے گا وہ جتنا بڑا مجرم ہو، ناحق ہی مرے گا اور شہید ہی کہلائے گا۔ یہ "تھم رول" ہے جو ہمیں بنانا پڑے گا کہ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے ہلاک کہلائیں گے یا شہید ، یا تو ہمیں 83 افراد کو ہلاک لکھنا پڑے گا یا پھر 83 کو شہید کا درجہ دینا پڑے گا چہ جائیکہ ان میں کوئی بڑا مجرم ہی کیوں نہ شامل ہو تب بھی کسی دشمن کو منصفی کا حق حاصل نہیں۔ البتہ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے مجرم کو نشان عبرت بنا دے لیکن بالفرض ہم حکیم اللہ محسود کو مجرم تصور کر بھی لیں تو ڈورن حملے کے وقت تو وہ آپ سے مذاکرات کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا ایسے وقت میں تو اسلام کسی دشمن پر بھی تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا ۔جب کسی غزوہ یا جنگ میں دشمن کا کوئی بڑے سے بڑا فرد بھی سفید پرچم تھامے آتا تو اسے پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا اور عزت و احترام دیا جاتا۔ مسلمانوں کے لشکر چاہتے تو ایسے لمحات میں ان بڑوں بڑوں کو قتل کر کے فتح کے جھنڈے گاڑ سکتے تھے اور خوشیوں کے شادیانے بجا سکتے تھے لیکن یہ عدل و انصاف کے برخلاف ہوتا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ امریکہ نے حسب معمول نہ صرف ڈرون حملہ کر کے پاکستان کی آزادی پر کاری ضرب لگائی بلکہ مذاکرات پر آمادہ ایک باغی کو نشانہ بنا کر نہایت ظالمانہ حرکت کرتے ہوئے شہید کر دیا ہے۔

Pages