ساجد قلم

تعمیر تعلیم سے


علم اگر خزانہ ہے تو تعلیم اس کی کنجی ہے لیکن تعلیم صرف علم کے ذخیرے کا دروازہ ہی نہیں کھولتی بلکہ اس سے بڑھ کر انسان کو ایک نئی دنیا سے روشناس کرتی ہے، اسی لیے کہتے ہیں کہ تعلیم محض حصول علم کا ذریعہ نہیں بلکہ علم کے مختلف ذرائع پر تحقیق اور جستجو کا نام ہے تاکہ اسے انسانی فلاح کا ذریعہ بنایا جا سکے اور پھر آئندہ نسل تک منتقل کیا جا سکے۔ اب یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ علم کے بغیر تعلیم ممکن نہیں اور تعلیم کے بغیر اقتصادی، سیاسی، تہذیبی اور سماجی ترقی ممکن نہیں ساتھ ہی ساتھ اخروی فلاح کا دارومدار بھی ہماری تعلیم سے ہے۔ قصہ مختصرمجموعی طور پر انسان کی کامیابی، فلاح اور ترقی کے لیے علم کے بعد جس چیز کی اہمیت ہے وہ تعلیم ہے۔


علم کسی کی میراث نہیں ہے ، مفت کا گھڑا ہے جو چاہے جتنا چاہیے پیتا چلا جائے اگرچہ معمولی نوعیت کی کاپی رائیٹ کے تحت کمرشلائزیشن ہوئی ہے لیکن یہ علم کے دریاؤں کا گلہ تر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ دنیا بھر میں بے کراں وسعتوں میں ، مختلف ذائقوں سے بھرپورعلم کے سمندر موجود ہیں جو ہر شخص، گروہ،قوم اور ملک کو برابر موقع دینے ہیں اور بلاتے ہیں کہ ہے کوئی ترقی چاہنے والا، ہے کوئی کامیابی چاہنے والا، ہے کوئی فلاح چاہنے والا، ہے کوئی پیاسا؟ ہر شخص ، گروہ، قوم اور ملک کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں کوئی اقتصادی ترقی کر کے خوشحال جینا پسند کرتا ہے، کوئی سیاسی ترقی کر کے زمانے پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے، کوئی تہذیبی و سماجی ترقی کر کے معاشرے کی نس نس میں دوڑنا چاہتا ہے اور کوئی دینی ترقی کر کے اپنے خدا کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بحیثیت ایک مسلمان ہمارا دین ِکچھ طریقہ کار اور اصول و احکام وضع کر کے زندگی اور آخرت کے ہر شعبہ میں ترقی کا تقاضا کرتا ہے۔ رہبر اعظم ﷺ اس کے لیے آپ کو چین بھی بھیجنے کو تیار ہے تاکہ تم وسیع علم جمع کر لو اور پھر کامیابی، فلاح اور ترقی کے زینے چڑھتے چلو۔


اسلام جتنا زیادہ علم اور تعلیم پر زور دیتا ہے ، اسلام کا قلعہ اتنا ہی زیادہ اس معاملے میں زبوں حالی کا شکار ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسلام کو جس طرح طاقوں یا ذاتی معاملہ قرار دے کر افراد نے اپنی اپنی جیبوں میں ڈالا ہوا ہے وہ تو اس وسیع ترقی میں رکاوٹ تو ہے ہی لیکن عملاً جو اقوام اور ممالک ہماری اقتصادیات، سیاسیات یا سماجیات پر حاوی ہیں ہم نے ان سے بھی سبق نہیں سیکھا اسی لیے وہ ہمیں ضرور سبق سکھا رہی ہیں چاہے تو اقتصادی شعبہ ہو، سیاسی ہو، یا سماجی اور تہذیبی ہو اور تو اور اب وہ ہمیں دینی شعبہ میں بھی سبق سکھانے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ ذرا بھر جو علم کی خواہش اور تعلیم کی کوشش ہم کرتے ہیں یہ اقوام اور ممالک اسلام کے دئیے گئے طریقہ کار اور اصول واحکام کے بجائے اپنے اصول و ضوابط اوراسلوب پر ہمیں مجبور کرکے ہمیں محدودکر دیتے ہیں۔


خیر سے ہمارے حکمران بھی اس قدر نااہل واقع ہوئے ہیں کہ بجائے اس ملک کو محدود دائرے سے اٹھا کر علم کے وسیع میدان میں ڈالتے ،تعلیم کا بندوبست کرتے اور تعمیر و ترقی یافتہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد رکھتے انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کے قدموں میں سجدہ کرنا ہی ترقی کا زینہ سمجھ لیا اور بجائےاسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کی نئی اصلاحات سامنے لاتے اپنے محلات، بنگلوں اور فارم ہاوسسز کی تزین و آرائش پر ہی مگن رہے ۔ یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ایسے میں ملک ِپاکستان کی مسلسل الزامات کی زد میں رہنے والی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے "تعمیر تعلیم سے" کے نام سے حساس اور فکر مند پاکستانیوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش کا آغاز کیا ہے۔


تعمیر تعلیم سے اس گمشدہ کلید کی تلاش کی کوشش کا نام ہے جس سے ہماری فلاح و ترقی کا باب کھل سکتا ہے۔ہمارے تعلیمی نظام میں بے شمار خامیاں ہیں بہت سی ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں اور کچھ محکومی نے اس پر لادھ دی ہیں۔ یہ ان تمام مسائل کا ادراک کرنے اور کروانے کی کوشش ہے ۔ہمارے روایتی سرکاری اسکول بھی ہیں جو ساٹھ کی دہائی سے آگے نہیں بڑھ سکے ، تعلیمی نظام تو شاید بعد میں، وہاں تعلیم کے حصول کے لیے سہولیات بھی موجود نہیں۔ ہر حکومت ڈھائی فیصد دے کے 60ء سے آج کے دور میں جست بھرنے کا اعلان کرتی ہے لیکن دنیا کمپیوٹر، آئی پیڈ، ڈیجیٹل لائبریری، ملٹی میڈیا اور ای لائبریری تک پہنچ گئی اور یہ اعلان اسکولوں میں بنیادی کمپیوٹر کی سہولت مہیا نہیں کر سکا۔ بڑے اداروں کا حال بھی اسکولوں سے زیادہ اچھا نہیں ہےریسرچ اور لیباٹریز عدم سہولیات کا شکار ہیں، مالی مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں جس کےنتیجے میں فیسوں میں اضافہ ہوتا ہے اور غیر ملکی فنڈنگ کے لیے غیر ملکی ایجنڈے تسلیم کرنا پڑتے ہیں لیکن قرضوں اور امداد سے تعلیم بہتر نہیں ہو سکتی اسی لیے ہمارے تھیسسز کٹ کاپی پیسٹ سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ استاد کا پیشہ انتہائی مقدس ہے جس پر تنقید کرنے کے لیے انتہا درجے کی اخلاقی قوت اور علم درکار ہے لیکن یہ استاد معمار پاکستان کی صلاحیتوں پر کم کم ہی پورا اترتے ہیں ہر ادارے میں طالب علم سے ایک ایفیڈوٹ بھروایا جاتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے گا اور وہی طالب علم اساتذہ کی داخلی و نجی سیاست کا نشانہ بنتا ہے اور تعلیمی حرج ہوتا ہے۔اپنے اصول و ضوابط اور احکام کی روشنی میں نظام تعلیم کی عدم موجودگی سے یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے کہ ایک سے زائد تعلیم نظام اس ملک میں پیدا کر لیے گئے ہیں جس میں ایک غریب کا نظام ہے جس میں ٹاٹ کا فرش ہے اور قلم دوات سیاہی کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لیے وہ تو تعلیم سے تعمیر کرنے کے قابل ہی نہیں دوسرا انگلش میڈیم ہے جو مڈل کلاس سفید پوش لوگوں کے لیے بنا یا گیا بظاہر انگلش میڈیم تصور کیے جانے والے کا حال "کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول بیٹھا " کی طرح ہے ، اردو کے ننگے ہاتھ سے علم کو محسوس کرنے سے قاصر انگلش کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہوئے انگریزی دستانہ پہن کر جو علم کا احساس رکھتے ہیں اس سے ملک تو ترقی کرنے سے رہا اپنی دو وقت کی روٹی کے لیے بھی انٹرویو بڑی مشکلات سے دے پاتے ہیں تیسری قسم آکسفورڈ نظام تعلیم ہے جو پاکستان کے باقی طبقات کو ہیچ تصور کرتے ہیں اور اس سماج سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔یہ تو چند چیدہ چیدہ مسئلے ہیں لیکن مسائل کی لسٹ بہت طویل ہے ۔

آج اسلامی جمعیت طلبہ ایک بار ان جیسے مسائل میں گھرے پاکستان کے تمام باشعور لوگوں کو بیدار کر رہی کہ تعمیر صرف تعلیم سے ممکن ہے۔یہ احساس ِبیداری ایک مطالبے کی شکل میں الیکڑانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے سےاہل اختیار کے سامنے بھی رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ محض تسبیح کے ورد سے سم سم نہیں کھلنے والا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی یہ خوبصورت کاوش محض ایک سرگرمی کے طور پر نہیں عملی سرگرمی کے طور پر ڈھالنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ واہ واہ کمال بہت اچھے سے نکل کر اس مہم کو خدمت ملک و ملت کی تعمیر میں کوئی عملی صورت پیدا کرنے کا محرک بننا ہو گا ورنہ تعلیم کے نام پر اس قسم کے پروگرامات بہت سی این جی اوز اس ملک میں کر رہی ہیں۔اس" تعمیر تعلیم سے "مہم سے اسلامی جمعیت طلبہ کو ایک این جی او کے بجائے طلباء کی نمائندہ اور پاکستان کی بہی خواہ تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے آنا چاہیے اسی سے اس کاچہرہ شفاف ابھرےگا جو مخالفین اور اپنی غلطیوں سے گرد آلود ہو چکا ہے۔

سنبل کا مجرم کون؟




میں نے بہت سے پھول دیکھے ہیں، چمکتے رنگ برنگے خوشبو بکھیرتے کتنے سونے لگتے ہیں کہ انسان دیکھتا رہ جاتا ہے پر تھکتا نہیں، ان کی مہک سے جو سکون ملتا ہے وہ ساری تھکاوٹیں ، خوشیوں میں بدل دیتا ہے لیکن کل جو میں نے ایک پھول دیکھا لیکن دیکھنے کی ہمت نہ رکھ سکا تب سے میرے دل و دماغ میں انسانیت فلک شگاف چیخیں مار رہی ہے، پورا گلشن سسک رہا ہے اور سارے پھول تڑپنے لگے ہیں، کسی وحشی درندے نے ایک معصوم سے پھول کو یوں کچلا ہے کہ انسان کسی پکے ہوئے چھالے کی طرح پھٹ جانے کو تیار ہے، ہائے کس کا ماتم کریں؟ کس سے آہ و فریاد کریں؟ کس سے انصاف کی آرزو رکھیں؟
پانچ سالہ سنبل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں وہ معصوم سا پھول جس کے چمکنے چہکنے کے دن تھے، گڑیاں پٹولے اور چھپن چھپائی کھیلنے کے دن تھے، ابھی تو وہ پینسل پکڑ کر اپنا نام لکھنا سیکھ رہی تھی، کل ہی اسکے باپ نے اسے ایک کاپی اور کتاب لا کر دی تھی کہ اس کے پڑھنے کے دن تھے لیکن آہ! انسانی وحشت کا شکار ہو گئی کہ انسانیت تار تار ہو گئی۔ اب وہ ان کاغذوں پر انسانیت کا ماتم لکھے یا اس المناک واقعے پر اپنے تبصرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں وہ لکھنا چاہتی ہو گی چیخ چیخ کر دنیا کو بتا دینا چاہتی ہو گی فریب کے سارے پردے دنیا والوں تمہاری آنکھوں سے اتار دینا چاہتی ہو گی لیکن کیسے لکھے وہ تو قلم پکڑنے کے بجائے زندگی اور موت کی کشمکش میں لاہور کے گنگا رام ہسپتال میں تڑپ رہی ہے۔
آج ہر شخص جس کے اندر انسانیت کی رتی بھر بھی باقی بچی ہو وہ تڑپ رہا ہے ، لیکن اس کی تڑپ صرف ہسپتال میں پڑی سنبل کے ٹرپنے سے ہے یا وہ اپنے اندر سے نکلتی انسانیت کے غم سے تڑپ رہا ہے؟ ہاں اسی لیے تو وہ سنبل کے مجرموں کو سر عام چوراہائے پر پھانسی لٹکانے کی بات کر رہا ہے لیکن کون جانے کہ سنبل کا مجرم کون ہے؟ کچھ لوگوں کو چار گواہوں اور ڈی این اے کی برتری ثابت کرنے کا بہانہ میسر آ گیا ہے، پولیس مشتبہ افراد کے گھروں پر چھاپا مار رہی ہے، چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لے چکے، سوشل میڈیا پر کہرام مچ گیا اور الیکٹرانک میڈیا نے سنبل کا ہاتھ تھام لو کے راگ الاپنا شروع کر دئیے۔ ہو سکتا ہے ساری پاکستانی قوم اپنی اس تگ و دو سے پھول مسلنے والے اس غیر انسان کو نشان عبرت بنا دے لیکن سنبل کا مجرم جی ہاں پھولوں کا مجرم گلابوں کا مجرم یونہی انسانیت پر وار کرتا رہے گا
لیکن یہ دنیا اس مجرم کی بات تک نہیں کرے گی کیونکہ یہاں چور ہی چور، چور کا شور مچا رہا ہے۔سنبل کا مجرم عیاں ہے اس کے لیے نہ تو چار گواہ چاہیں اور نہ ڈی این اے کا ٹیسٹ، اور نہ اس پر چھاپا مارنے کے لیے کسی کھوجی کی ضرورت ہے۔ کسے نہیں معلوم کہ اقدار اور اخلاق کو بھلا دینے کی بات کون کرتا ہے؟ وہی تو سنبل کا مجرم ہے ۔ کون ان نوجوانوں کو آزاد روی اور روشن خیالی کے گھوڑے پر چڑھا کر انسانیت کو پار کرنا سکھا رہا ہے؟ کون ہے جو مادر پدر آزادی کے نعرے لگوا رہا ہے؟ وہی تو سنبل کا مجرم ہے۔ کون ہے جسےobscene کی آج تک تعریف نہیں مل سکی وہی تو سنبل کا مجرم ہے ، کون ہے جو برہنہ وڈیوز دکھاتا ہے؟ کون ہے جو  نیم عریاں عورتوں کا ناچ اور جسمانی نمائش کے لئے ڈریس شوز، انگریزی فلموں کے سیکس کے مناظر یا بوس وکنار، گانوں کے بےہودہ بول، فلموں کے واہیات ڈائیلاگ اور تقریباً برہنہ عورتوں کی نیم عریاں چھاتیوں، ننگے پیٹ اور برہنہ ٹانگوں کی نمائش  دکھا کر قوم کے نوجوانوں سے انسانیت نکال رہا ہے؟ ہاں وہی تو سنبل کا مجرم ہے۔ کون اباحیت کا وکیل بن کر ہزاروں سنبلوں کے لیے حیاباختہ نوجوان تیار کر رہا ہے؟  وہی تو سنبل کا مجرم ہے ۔
لیکن کون ہے جو سنبل کے ان مجرموں پر ہاتھ ڈالے ، کون ہے جو ان کے خلاف بولنے کی جرات کرے کیا تم نے انصار عباسی کا حال نہیں دیکھا ؟ جس کے لفظ لفظ پر آج بھی یہ انسانیت کے ٹھیکیدار ماتھے پر شکنیں ڈالے بیٹھے ہیں۔ کیا قاضی حسین احمد کے درد کو نہیں محسوس کیا جو بوڑھا  سپریم کورٹ میں ان مجرموں پر ہاتھ ڈالنے گیا تھا وہ ابھی لوٹ کر نہیں آیا - آج وہ ڈاکٹر مہدی حسن کہاں ہے ؟ ایکسپریس ٹریبیون کا ضیاءالدین کہاں ہے کون ڈھونڈ لائے ان مجرموں کے وکیلوں کو جنہوں نے معاشرے کو مجرموں سے بھر دیا ہے دکھاؤ انہیں ہobscene کی کیا تعریف ہوتی ہے، دکھاؤ انہیں سنبل کا تڑپتہ لاشا ۔ ڈھونڈو یاسر پیرزادہ کو جنہیں اپنے قبیل کے ہر لفظ سے انسانیت اور ہر چینل پر آزادی نظر آتی ہے لیکن اس آزادی پر پلنے والے سنبل کے مجرم نظر نہیں آتے لوگو! ڈھونڈو ان کو شاید یہ سنبل کے لیے انصاف مانگنے کا ناٹک کرتے اگلی صفوں میں نظر آئیں کیونکہ یہ سب چور کے شور میں چور چور کرتے ہیں لیکن سنبل کے مجرم ان کی گٹھلیوں پر پل رہے ہیں۔

مرسی: عرب دنیا کا نیلسن منڈیلا



تحریر: توکل کرمان۔ نوبل انعام یافتہ یمنی سوشل رہنما  

فوجی شب خون کے ذریعے  مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے فورا بعد میں نے  میدان رابعہ العدویہ میں  مرسی کے حق میں جاری مظاہرے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ میرا گھر یمن کے شہر صناء میں ہے لیکن عرب بہار سے امیدیں وابستہ رکھنے والے میرے جیسے بہت سے لوگ  مصر  کی  ہونے والے واقعات کے سانجھی ہیں اس لیے میں نے چاہا کہ قتل ، تشدد کے ذریعے لوگوں کو احتجاج سے روکنا اور شب خون کی مخالفت کرنے والوں  کو زنداں میں ڈالنے کے خلاف  احتجاج کروں ۔ ایسے میں ہیومن رائیٹس کارکنوں اور ممتاز سیاستدانوں کی طرف   حیران کن خاموشی  مجھے ایک جرم لگتا ہے۔  ان لوگوں نے نہ صرف  آزادی کی خلاف ورزی پر مذمت کرنے سے انکار کیا بلکہ شب خون  کو پر جواز بنا کر اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔
میں  نے کھلا اعلان کیا کہ میں 25 جنوری 2011 ء انقلاب  کے پھل، آزادی رائے، آزادی اجتماع اور لوگوں کے ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران چننے کے حق کے  تحفظ کے لیے میدان رابعہ العدویہ میں جانے  لگی ہوں۔ میں ، اس گرم جوشی  کی وجہ سے  شب خون کے حمایتی میڈیا کی طرف سے  زبردست مخالفانہ  کمپین کا  نشانہ بن گئی ۔ مجھے شب خون کے حمایتیوں کی طرف سے  جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی حتاکہ  جاسوسی اور مصر کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی  پر عدالتوں میں لے جانے کی دھمکی دی گئی۔
4 اگست  کو میں اپنی دوست اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر آف وومن جرنلسٹس ودآؤٹ چین ، بشریٰ السیرابی کے ساتھ قاہرہ ایئرپورٹ پر اتری  تاکہ میں اپنے مقصد کو پورا کر سکوں  میرے دماغ میں تمام ممکنہ مناظر موجود تھے، میرا خیال تھا کہ  مصری اتھارٹی مجھے مصر میں داخل ہونے دے گی اور بعد میں سڑک پر  میں  نشانہ بنوں گی اور اس سے زیادہ ہوا تو مجھے گرفتار، قتل یا عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔یہ میرا پر جوش سفر تھا لیکن یہ  ختم نہ ہوا جیسا میں چاہتی تھی اورسچ کہا جائے تو نہ ہی شروع ہوا ۔ ائرپورٹ پر  آتے ہی میں ویزا پراسس  کی تکمیل کے لیے لائن میں لگ گئی، تھوڑی دیر میں ائرپورٹ کے افسر نے مجھے پہچان لیا اور  مجھے  سپیشل کاؤنٹر پر جانے کو کہا جہاں میں نے  ڈپلومیٹک پاسپورٹس کی تمام  چیکنگ کو پاس کر لیا۔
اسی لمحے ہنگامہ شروع ہو گیا  افسروں کے فون بجنے لگے اور ایک افسر کی سرگوشی تو میں نے اپنے کانوں سے سنی جو کہہ رہا تھا کہ " توکل آ گئی ہے، توکل آ گئی ہے، ہم اسے داخل نہیں ہونے دیں گے" اس نے ایسے کہا جیسے میں خطرناک ترین شخص تھی۔ مصری افسروں نے مجھے اطلاع دی کہ ہم تمہیں مصر میں داخل نہیں ہونے دے سکتے اور جلد ہی آپ کو اسی جہاز سے واپس یمن ڈی پورٹ کر دیا جائے گا جس پر آپ آئی ہیں ، اتھارٹی  مجھے اس کی کوئی واضع وجہ بتانے سے قاصر رہی اور کہا کہ آپ ہم سے بہتر جانتی ہیں کہ آپ کو کیوں ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے اور  میرا نام   سیکورٹی باڈی کے کہنے پر بلیک لسٹ کر دیا گیا۔
بدقسمتی سے میرے لیے ممکن نہیں کہ میں مظاہرین کے شانہ بشانہ میدان رابعہ العدویہ کے باہر کھڑے ہو کر ان کے ساتھ  نعرے لگا سکوں۔  ہمیں  جمہوریت، انصاف اور قابل فخر زندگی کا حق مانگنے والے لوگوں کے کھڑے ہونے میں شرم محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔  مصر کی حالیہ حکومت نے مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر کو اپنے عہدہ سے ہٹایا ہے، 60 فیصد مصری عوام کی رائے سے بنے ہوئے دستور کو کالعدم کر دیا ہے اور اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ فریڈم و جسٹس پارٹی کو مصر کی سیاست سے مکمل طور پرنکال دیا ہے۔ مصر کے مستقبل کے بارے  سوچنے والے کے پاس محدود آپشنز ہیں یا تو ہم  سماجی اقدار اور جمہوریت کی بات کریں یا  مارشل لاء،  ظلم وستم اور  جبر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ 
Morsy Is the Arab World's Mandela کا اردو ترجمہ و تدوین

مصر پر "ٹائم" کا سرورق



مشہور امریکی میگزین "ٹائم" نے کہا ہے کہ مصر میں جو کچھ ہوا وہ یہ ہے کہ فوج نے ایک منتخب جمہوری صدرڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا اور ایک نئے مارشل لاء کا نفاذ ہوا ہے۔ آج مصر میں ایک طرف "دنیا کے بد ترین جمہوریت پسند" ہیں تو دوسری طرف میدان رابعہ العدویہ میں "دنیا کے عظیم ترین مظاہرین" ہیں۔


"ٹائم" دنیا بھر میں مشہور اور پڑھا جانے والا میگزین ہے، یہ دنیا کی مختلف زبانوں میں چھپتا ہے، اس کے تازہ شمارے کے سر ورق پر میدان رابعہ العدویہ میں موجود ڈاکٹر محمد مرسی اور قانون کی حمایت میں بیٹھے مظاہرین کی تصویر ہے جسے دو برابر حصوں میں سرخ اور سفید رنگوں سے تقسیم کیا گیا ہے۔ سفید رنگ میں "دنیا کے عظیم ترین مظاہرین" لکھا ہے جبکہ سرخ رنگ جو خون اور تشدد کو ظاہر کرتا ہے پر"دنیا کے بدترین جمہوریت پسند" لکھا گیا ہے جو٦٠ سال بعد مصر کو نصیب ہونے والی جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کا سبب بنے جس کے نتیجے میں سینکڑوں پر امن لوگ خون میں نہا گئے۔
بائیں جانب لکھا "دنیا کے عظیم ترین مظاہرین" ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر کروڑوں کی تعداد میں میدان رابعہ العدویہ اور ملک بھر میں پرامن مظاہرے کر رہے ہیں، وہ مصر سے آمریت کی جڑوں کو اکھاڑ دینا چاہتے ہیں ، ملک کو جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھانا چاہتے ہیں اور ڈاکڑ محمد مرسی کی واپسی چاہتے ہیں۔
میگزین نے دونوں فقرات کا نتجہ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کا فیصلہ سڑکوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ آخر کار میدان رابعہ العدویہ کے مظاہرین فتح یاب ہوں گے۔

میں وہیں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ "ٹائم میگزین" کا تجزیہ امریکہ کی حکومت سے یکسر مختلف ہے جس نے مارشل لاء کی مخالفت کرنے کے بجائے کہا کہ یہ مارشل لاء ہے ہی نہیں بلکہ جمہوریت کی طرف ایک قدم ہے اور حکومت جلد عوامی نمائندوں کے پاس ہو گی اس سے واضع ہے کہ امریکہ مصر کے مارشل لاء کی مکمل حمایت کرتا ہے

30 جون 2013ء - مصر کے دو میدان


دو سے تین ملین افراد کا یہ اجتماع، کوئی حج کا نظارہ نہیں اور نہ کوئی محفل ذکر و نعت کا منظر ہے۔ یہ اخوان المسلمون مصر کے نوجوانوں اور ہم نواؤں کا اجتماع ہے جو قاہرہ کی ایک مشہور مسجد الرابعہ العدویہ کے سامنے گذشتہ جمعہ سے موجود ہے۔ پر امن اتنا کہ سڑک کنارے لگے پودے ان سے تنگ نہیں ہیں، صاف ستھرا اتنا کہ صبح اٹھ ہر شخص اپنے جگہ کی صفائی کرتا ہے اور سارے اجتماع کا کوڑا ایک جگہ جمع کر دیا جاتا ہے اور وہ بلدیہ کی گاڑی اٹھا کر لے جاتی ہے، انتہائی منظم کہ ان کی خواتین اجتماع میں آتے ہوئے کھانا ساتھ لاتی ہیں لیکن مجال کہ اپنے گھر والوں سے ملنا مشکل ہو جائے۔
میدان رابعہ العدویہ کا ایک منظر

لیکن یہ چوبیس گھنٹے وہاں کرتے کیا ہیں؟ آہ! مجھے بتاتے ہوئے رشک آنے لگتا ہے اپنا دعویٰ ایمانی ہیچ لگنے لگتا ہے، آہ یہ حج کا نظارہ نہیں اور نہ کوئی محفل ذکر و نعت ہے، یہ رمضان المبارک کے شب و روز نہیں۔ آنکھ کھلتی ہے تو نماز تہجد کی تیاری ہوتی ہے کون بڑا کون چھوٹا سب با جماعت کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر اذکار کا دور ہوتا ہے فجر کی جماعت کھڑی ہو جاتی ہے۔ نماز کے بعد گلے میں لٹکے چھوٹے چھوٹے قرآن کریم کے نسخے کھل جاتے ہیں۔ دیر تک تلاوت کی آوازیں آتی رہتے ہیں اتنے میں گھروں سے ناشتہ پہنچنے لگتا ہے کچھ کے لیے مرکزی کھانے کا انتظام ہے بغیر کسی ہلچل کے یہ مرحلہ گزرتا ہے ۔ قائدین آتے ہیں تقاریر کرتے ہیں، اجتماع نعرے بھی لگاتا ہے ، ڈاکٹر محمد مرسی سے اپنی محبت کا اعادہ بھی کرتا ہے، اپنی اس محبت کے جواز "قانون شریعہ" کے حق میں بھی بولتا ہے، جان قربان کرنے کا عزم بھی کرتا ہے۔ اسٹیج سے خاموشی ہوتی ہے تو سب دوبارہ اذکار کا دور شروع کر دیتے ہیں، کوئی رو رو کر دعائیں مانگ رہا ہے، کوئی قرآن مجید کھولے تلاوت میں مشغول ہے، کوئی تسبیع پر ورد کر رہا ہے، یہ حج کا نظارہ نہیں اور نہ کوئی محفل ذکر و نعت ہے، یہ رمضان المبارک کے شب و روز نہیں۔ نماز کے اوقات میں صفیں جم جاتی ہیں، فارغ اوقات میں دعائیں اور اذکار ہوتا ہے ۔ مختلف اوقات میں قائدین تقاریر کرتے ہیں اور ان میں جذبات کو بھر دیتے ہیں۔یہیں سے تھوڑی دور تحریر اسکوائر ہے یہاں بھی ایک مجمع موجود ہے ایک لڑکی جو انہی کا حصہ ہے مجمع کے درمیان سے نکل کر دوسری طرف جانا چاہتی ہے لیکن اسے راستہ نہیں دیا جا رہا۔ وہ جانے پر بضد ہے تو اسے ہاتھوں پر اٹھا کر دوسری طرف جانے کی آفر کی جاتی ہے پھر ایک دو ہاتھ نہیں بیسیوں نوجوان ہاتھوں سے گزرتی وہ دوسری طرف کمال مہارت و محبت سے پہنچا دی جاتی ہے۔ اس مجمع میں لڑکیاں بھی ہیں لڑکے بھی ہیں، عورتیں اور مرد بھی ساری رات غل غپاڑہ کرتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں، راتوں کو اپنی گرل فرینڈز کی گود میں سر رکھ کے لیٹتے ہیں۔ تحریر اسکوائر پھر تحریر کلب کا منظر پیش کرنے لگتا ہے ۔ یہ لوگ اپنے سے چند گز پر موجود صداراتی محل میں موجود مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو اقتدار سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقابلہ میدان رابعہ العدویہ میں موجود اجتماع سے ہے القیوم ہو ، اسکندریہ ہو منصورہ ہو ان لوگوں سے گلیوں بازاروں کو لوٹا ہے جگہ جگہ اخوانیوں کے جسموں سے لہو پیا ہے لیکن 30 جون 2013ء شام کے چار بجنے کو ہیں لیکن ان کی ہمت نہیں ہو رہی کہ صدارتی محل پر دھاوا بول سکیں کیونکہ ان کا مقابلہ میدان رابعہ العدویہ میں موجود اجتماع سے ہے جو دعائیں مانگ رہے ہیں
اے ہمارے رب! تو غنی ہے ہم فقیر ہیںتو طاقت ور ہے ہم کمزور ہیںجہانوں میں کوئی سپر پاور نہیں سوائے تیری ذات کےاے ہمارے رب!اے ہمارے رب!اے ہمارے رب! ہمارے لیے اپنی تدبیر فرما۔۔۔۔ ہمارے لیے اپنی چال چل ۔ ہماری مدد فرما

شاہ دولہ کے سائنسی چوہے اور ڈی این اے کی شہادت


نیشنل انسٹیوٹ فار بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ فیصل آباد میں ہمارا تیسرا ماہ شروع ہو چکا تھا، اپنی یونیورسٹی کے ہم چار طلباء و طالبات تھے جو ایک خصوصی اکیڈمک ٹریننگ کے سلسلے میں یہاں مختلف لیبارٹریز میں مختلف قسم کے ٹیسٹ اور تجربات کر رہے تھے، اسی سلسلے کی کڑی میں اب ہم ہیلتھ ڈویژن میں آئے تھے ، ہیلتھ ڈویژن پنجاب بھر میں ایک عرصے سے نبجی کی مقبولیت کا باعث بنا رہا کیونکہ جینیٹک سائنس کے ابتدائی دنوں میں یہاں کا ہیپا ٹائٹس پی سی آر بہت زیادہ معروف تھا۔ یوں ہمارا پہلا پالا ہی یہاں اسی ٹیسٹ سے پڑا۔ ہم چار طلباء و طالبات کو کہا گیا کہ آپ میں کوئی دو افراد اپنے خون کے نمونے دیں تاکہ اس پر پی سی آر تجربہ کیا جائے۔ دو طالبات نے اپنے خون کی قربانی دی اور یوں سارا دن مختلف مراحل کے ساتھ پی سی آر کا عمل چلتا رہا۔ آخر کار نتیجہ خیز مرحلے میں جب ہماری نظر جیل ڈاک سسٹم کی اسکرین پر پڑی تو نتائج حیران کن تھے دو میں سے ایک طالبہ کا رزلٹ پوزیٹو اور ایک کا نیگٹو تھا، فورا سینئر پروفیسر صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ پی سی آر دوبارہ رن کیا جائے۔ اگلے دن دوبارہ عمل دوہرایا گیا لیکن نتائج کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی اور وہ پوری ڈھڈائی کے ساتھ ایک پوزیٹو اور ایک نیگٹو کے ساتھ برقرار رہا۔ لڑکیوں کی نیچر کا تو آپ کو معلوم ہی ہو گا باقی بھی ہم سب پریشان تھے کہ یونہی لیبارٹریز میں سیکھتے سیکھتے مفت میں ایک مریض بنوا بیٹھے ہیں۔ پروفیسر صاحب سے دوبارہ مشورہ کیا تو انہوں نے پی سی آر کٹس کا ایک باکس اٹھا دیا کہ اس پر چیک کر کے دیکھیں اگر اس پر یہی نتائج آئیں تو سمجھیں حاصل یہی ہے۔ کٹ پی سی آر کم وقت لیتا ہے اور جلد نتائج ملتے ہیں اس بار نتائج کچھ زیادہ ہی ہوش اڑا دینے والے تھے ہوا یہ کہ جن محترمہ کا پہلے پوزیٹو تھا ان کا نیگٹو اور نیگٹو والی کا پوزیٹو نتیجہ نکلا۔ کافی غور و فکر اور مشوروں کے بعد فیصلہ ہوا کہ خون کے نمونے دوبارہ لیے جائیں اور دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے تیسرے دن کے اختتام پر ہم اس سسنسی خیز تجربے کا بھی اختتام کر چکے تھے اور سب شکر ادا کر رہے تھے کہ اس بار نتیجہ دونوں کا نیگٹو نکلا ہے۔ ان طالبات نے اپنے اطمینان اور تسلی قلب کے لیے بیس کے قریب کٹس پر بار بار ٹیسٹ کیا لیکن نتائج برقرار رہے۔
آج اس سسپنس سے پھرپور واقعے کو ہوئے تیسرا سال گزر رہا ہے اور میں یاسر پیر زادہ کا ایک کالم پڑھ رہا ہوں۔ آج یاسر پیر زادہ  صاحب"عالمی جینیاتی سائنسدان" لگ رہے ہیں صاف محسوس ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہ حیثیت ہائی اسکول کی سائنس کی کتاب پڑھ کر حاصل کی ہے ۔ اپنی اسی "سائنس دانی" کی بنیاد پر وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے اسلامی اور نظریاتی علماء کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ پڑے ہیں جنہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کو زنا کے کیسسز میں بنیادی شہادت ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس قبیل کے ایک اور "سائنسدان" محمد حنیف صاحب کا ایک "سائنٹفک آرٹیکل" نما بلاگ بھی میرے سامنے موجود ہے جو بی بی سی نامی معروف نیوز ایجنسی نے اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے شائع کیا ہے۔ میں اپنی کم علمی اور نا تجربہ کار معلومات کے باوجود پوری ذمہ داری اور وثوق سے کہتا ہوں کہ موصوف بنیادی طور پر زنا بالرضا کے کیسسز کے وکالت کرتے ہوئے سائنس کے ٹھیکیدار بن رہے ہیں لیکن افسوس اوپر سے انصاف کا راگ بھی الاپے جاتے ہیں اور ان علماء پر غیر منصفی کا الزام بھی دھر رہے ہیں
قرآن و سنت اور اسلامی قانون سے ناواقف ہونا تو خیر اس "روشن خیال تعلیم یافتہ لبرل طبقہ" کے لیے شرمناک نہیں ہے مگر ان کی "سائنس دانی" پانچویں کی سائنس سے آگے نہ بڑھ سکے یہ ضرور ان کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ڈی این اے ٹیسٹ کس طرح کا عمل ہے اس کا اندازہ تو آپ کو واقعہ بالا سے ہو چکا ہو گا اس کا معیاری ہونے پر کوئی دو رائے نہیں رکھی جا سکتیں کیونکہ ہر انسان جینیاتی طور پر منفرد ہے اوراس کو ڈی این اے ٹیسٹ ہی پڑھ سکتا ہے لیکن یہ ٹیسٹ اسی صورت میں معیاری کہلاتا ہے جب تمام مراحل یوری ذمہ داری اور ایمانداری سے کنڈکٹ کیےجائیں زنا کے کیسسز میں اسلامی قانون سخت سزا دینے کا قائل ہے لہٰذا ڈی این اے ٹیسٹ ایسے میں ایک کمزور شہادت ہے اس پرکلی طور پر اسلامی قانون متفق ہے، غیر ترقی یافتہ سے ترقی پذیر ممالک بہت حد تک اور کسی حد تک خود سائنس بھی متفق ہے آئیے اس کا جائزہ لیں
ڈی این اے ٹیسٹ کا پہلا مرحلہ سیال مادے کے نمونے حاصل کرنا ہوتے ہیں آپ کے ڈی این اے ٹیسٹ کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہوتا ہے کہ آپ نے جو نمونہ حاصل کیا اس میں واقعی وہ جنسی جرثومے اپنی اصل حالت میں موجود ہیں جس پر آپ ٹیسٹ کرنے والے ہیں یہ مختلف کیفیات پر منحصر ہے جس میں طریقہ واردات،ذانی کی جسمانی و جنسی صحت، نمونہ حاصل کرنے کا وقت اور نمونہ حاصل کرنے کا طریقہ کار و تجربہ کاری۔ طریقہ واردات کو میں علیحدہ بحث کے لیے رکھ چھوڑتا ہوں اور باقی چیزوں کا سرسری جائزہ لیے چلتے ہیں یہ ممکن ہے کہ ذانی کی جنسی و جسمانی صحت ایسی ہو کہ وہ سیال مادہ تو پیدا کرے مگر اس میں بہت کم جنسی جرثومے ہوں جس پر نمونہ حاصل کرنا مشکل ہو جائے اور بعض صورتوں میں ایسے بھی ممکن ہے کہ کوئی جرثومہ ہی نہ ہو خود یورپی ممالک میں ایسے بہت سے کیسسز سامنے آئے جس میں ظاہری جسمانی جائزہ سے مزنیہ (جس عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو) پر تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے شوائد موجود تھے لیکن ڈی این اے ٹیسٹ نیگٹو آ رہا تھا۔ وہیں یہ بات بھی بہت زیادہ اہم ہےکہ مزنیہ زنا کے بعد کتنے وقت میں نمونہ کے لیے پہنچی ہے کیونکہ محدود وقت کے بعد ممکن نہیں کہ نمونہ حاصل کر کےٹیسٹ کیا جائے ایسی ہی  صورت حال حالیہ گینگ ریپ کیس انڈیا میں بھی دیکھی گئی جب بوجوہ ڈی این اے ریپ کٹ کی عدم دستیابی کے نمونہ حاصل کر کے محفوط کرنا تین دن تک ممکن نا ہو سکا پاکستان جیسے ملک جہاں مریض ایمبولینس کا انتظار کرتے کرتے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا ایمبولینس ان کی میت لیے ہسپتال پہنچتی ہے ایسی صورت حال میں زنا کے بروقت نمونے کا حصول مشکل تر ہے
 ڈی این اے ٹیسٹ کا دوسرا مرحلہ حاصل کیے جانے والے نمونے کو لیبارٹری کے عمل سے گزارنا ہے یہاں مختلف اشیاء اثر انداز ہو سکتی ہیں جس میں لیبارٹری عوامل بھی ہیں اور غیر لیبارٹری عوامل بھی۔ لیبارٹری عوامل میں لیبارٹری کی ڈویلپمنٹ  اور ٹیکنیشن کی تجربہ کاری کے علاوہ مخصوص کیس اسٹڈی پر منحصر ہے کہ ٹیسٹ پوزیٹو آتا ہے یا نیگیٹو۔ یورپی ممالک کی لیبارٹریز تو بہت حد تک جدید اور ڈویلپڈ ہیں مگر پاکستان میں یہ معقولیت سے کم سطح پر ہوں گی اس سترہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک میں صرف ایک فارینزک لیب ہے اور شور الاپا جا رہا ہے کہ علماء نے ڈی این اے ٹیسٹ کو شرعی شہادت تسلیم نہیں کیا۔ غیر لیبارٹری عوامل کا ٹیسٹ پر اثر انداز ہونا بھی خارج از امکان نہیں ایسی صورت میں ایک جھوٹی ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کی جرح ہی کیسے ممکن ہے عدالت زیادہ سے زیادہ دوبارہ ٹیسٹ کنڈکٹ کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے جبکہ جھوٹے گواہان کی جرح با آسانی عدالتیں کرتی چلی آ رہی ہیں ایسے میں ڈی این اے ٹیسٹ کو کیسے بنیادی شہادت تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی بتانا بہت ضروری ہے کہ سائنس نہایت بے ثبات علم ہے اس میں ٹھہراؤ نہیں ہے اس کا اقرار خود بدل سائنس بھی کرتی ہے آج جس کو پوجا جا رہا ہے کل ہو سکتا ہے کہ کوئی سائنسدان اٹھے اور سب کچھ بدل کر رکھ دے بشرطیکہ وہ محمد حینف یا یاسر پیرزادہ جیسا "سائنسدان " نہ ہو جو مغرب کی اندھی تقلید کے خوگر ہیں۔ یہاں میڈیکل کے شعبہ میں ایسے کئی ڈایاگونسٹک ٹولز تھے جو اپنے وقت میں نہایت معتبر مانے جاتے تھے پھر ہوا یوں کہ ان کی جگہ نئے اور جدید ٹولز نے لے لی اور وہ پرانے ٹولز معتبر سے غیر معتبر ہو گئے۔ ایسے میں اسلامی قانون ایک سخت سزا کے لیے اس سائنسی ٹول کو بنیادی شہادت کیوں مانے جو بے ثبات ہے اور اگلے ہی دن بدل جانے کی گنجائش رکھتا ہے ۔
اس مباحث کے آخری اور سب سے اہم نقطہ کی جانب بڑھتے ہیں جسے میں دانستہ عارضی طور پر چھوڑ آیا تھا یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کی بناء اسلامی قانون میں ڈی این اے ٹیسٹ کو کسی بھی ملک میں بنیادی شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا جی ہاں اسی کی بنیاد پر یہ روشن خیال لبرلز زنا کی وکالت کے درجے پر فائز ہیں اور اسی کی بنیاد پر میں ان کم فہم اسلام پسندوں کے اس سادہ خیال اور خوش فہمی کی نفی کروں گا جو وہ فرما رہے ہیں کہ "اگر کبھی حد کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو شرعی شہادت تسلیم کرلیا گیا تو ہمارے روشن خیال طبقے کی آدھی عوام سنگسار ہوجائے گی اور باقی آدھی کوڑے کھا کر اسپتال میں پڑی ہوگی " حقیقت یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہی یہ روشن خیال لبرل طبقہ اٹھائے گا   آئیے پہلے یہ سمجھیں کہ اسلام میں زنا کس چیز کو کہا جاتا ہے؟ نکاح کے بغیر مباشرت کو زنا کہا جاتا ہے چاہے وہ باہمی رضامندی سے کیا جائے یا متعلقہ افراد میں سے کوئی جبر کے ساتھ کرے۔مغرب کے روشن خیال لبرلز میں باہمی رضا مندی سے کیے جانے زنا کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ افراد کی ذاتی زندگی اور آزادی کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔لہٰذا ان کے ہاں جرم وہی ہے جس کا کیس خود مزنیہ لے کر عدالت میں پہنچ جائے۔ اسلام جرم کو بغیر کسی لاگ لپٹ کے جرم کہتا ہے  اسی لیے زنا چاہے بالرضا ہو یا بالجبر زنا ہی رہے گا چونکہ ان دونوں کے طریقہ واردات میں فرق ہے ۔ میں یہ بات پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں کہ کیا خیال کرتے کہ اس دور میں زیادہ کیسسز کس قسم کے ہوتے ہیں یہ وباء بالرضا پھیل رہی ہے یا بالجبر۔

طریقہ ہائے واردات کی نظر سے دیکھا جائے تو صاف دکھتا ہے کہ باہم رضا مندی سے کیے جانے والے اس گناہ میں کئی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں  جس میں جنسی جرثوموں کو مزنیہ کے جسم میں داخل ہونے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے  کنڈومز کا استعمال اس کی ایک مثال ہے۔ یہ احتیاط اس لیے ضروری کہ ہمارا معاشرہ نا تو ایسے زنا اور ناحرامی بچوں کو سپورٹ نہیں کرتا ، لبرلز کے ہاں چونکہ اس سب چیزوں کو قبول کیا جاتا ہے لہٰذا وہاں احتیاط ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت ماننے کے بعد یہ احتیاط پہلے سے زیادہ ضروری سمجھی جانے لگے گی ایسے میں کسی انسانی شہادت کی بناء کیس عدالت میں پہنچتا بھی ہے تو ڈی این اے کے لیے شواہد موجود ہی نہیں ہوں گا اور اگر ہوں بھی تو متعلقہ افراد مٹا دینے میں سستی نہیں برتیں گے۔ پھر آپ بیسوں مرتبہ ڈی این ٹیسٹ کر لیں رزلٹ نیگیٹو ہی ملتے رہیں گےیہی یاسر پیرزادہ اور محمد حنیف کی خواہش ہے جو زنا کومعاشرے میں پھیلانے کا موجب ہے۔

ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ فیصلہ قابل تحسین ہے جس میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت ماننے سے انکار کر کے انسانی شہادت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔  یہاں یہ بات سمجھنے کے لائق ہے کہ اسلامی قانون و تعزیرات میں ہمیشہ اس بناء پر سزائیں سنائی جاتی ہیں کہ جرم کا سدباب ہو، جرم کو پھیلنے سے روکا جائے اور جرم کا پرچار نہ کیا جائے ، وہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا صرف اس لیے نہیں دیتا کہ اس نے جرم کیا ہے بلکہ وہ معاشرے کے باقی افراد کو پیغام بھی دیتا ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں۔ زنا کے معاملے میں بھی وہ اسی اصول کو مدنظر رکھتا ہے اسی لیے وہ ایسے تمام کیسسز کا پنڈورا نہیں کھولتا جب تک وہ جرم معاشرے کی نظر میں نہ آ جائے اور چار فرد اسے دیکھ نہ لیں، لیکن روشن  خیال لبرلز کے ہاں متعلقہ افراد چاہے وہ زانی ہو یا مزنیہ، اور جرم تو بالجبر ہے جب تک معاشرے میں ننگے نہ ہوں جائیں، بچہ بچہ زنا کے لفظ سے واقف نہ ہو جائے مجرموں کو سزا دینے کا راگ الاپاجاتا ہے
نوٹ: یاسر پیرزادہ صاحب سے کچھ باقی فیصلوں پر بھی اپنی روشن خیال 'تاریکی نظر' فرمائی ہے۔ کچھ دنوں میں ان کا جواب بھی آپ ساجد قلم پر دیکھ سکیں گے۔    

آؤ اجتہاد کریں!


 اجتہاد اور تقلید  ہر دور اور ہر علاقے میں موضوع سخن رہا ہے۔ ناکام اور شکست خوردہ اقوام نئے راستوں اور طریقوں پر غور کرنے کے لیے اس مباحث میں ضرور پڑتی ہیں اسی لیے ہمارے یہاں آج کل اجتہاد کا بخار بہت سے لوگوں کو چڑھا ہوا ہے اور شاید اپنی ناکامی کا کلی ذمہ دار اپنے اس استتباط کو قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ساکن نظریات، زمانے کی تیز رفتاری کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کا حق ہر ایرے غیرے کو نہیں کہ جب اس کا دل چاہے اٹھ کھڑا ہو اور اپنے من کی خواہش کو بجھا لے۔ وہیں یہ بھی ضروری نہیں وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے لیے زمانے کی چال چلا جائے۔

میں اس ضمن میں ایک دلچسپ صورت حال کی طرف لیے چلتا ہوں۔ "پردہ" کا معاملہ اجتہاد کے حوالے کافی اچھالا جاتا ہے۔ ایک طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ یہ پردہ ہے اس سلسلے میں تھوڑی نرمی کر لی جائے نقاب کو اتار کر صرف سر کے ڈھاپنے پر ہی اکتفا کر لیا جائے تو اسلام دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگے اور چند سالوں میں اس دنیا پر چھا جائے وہیں یہ سوچ بھی پیدا ہو رہی ہے کہ اسلام نے یہ چادر عورت کو صرف ایک حکم کے طور پر ہی نہیں چڑھائی بلکہ وہ اسے زمانے کی بری نظروں سے اور ہوس سے بچانے کے لیے پردے کا حکم دیتا ہے۔ چونکہ اب زمانے میں ایسا ہیجان پہلے سے زیادہ اور بڑھ گیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس عمل میں مزید سخت ہوا جائے تاکہ جو مقصد ہے وہ پورا ہو سکے۔
اب ایک مسلمان جو اسلام کی ترقی بھی چاہتا ہے اور اسلام کے مقصد کو بھی پورا کرنا چاہتا ہے وہ کہاں جائے؟۔ کس اجتہادی سوچ کو برحق کہے اور کس کو نفس کی خواہش قرار دے؟۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اس سلسلے میں رہنمائی کرتے ہیں
بزرگان سلف کے اجتہادات نہ تو اٹل قانون قرار دئیے جا سکتے ہیں اور نا سب کے سب دریا برد کر دینے کے لائق ہیں۔ صحیح اور معتدل مسلک یہی ہے کہ ان میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے مگر صرف بقدر ضرورت اور اس شرط کے ساتھ کہ جو رد و بدل بھی کیا جائے تو دلائل شرعیہ کی بناء پر کیا جائے۔ نیز نئی ضروریات کے لیے نیا اجتہاد کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ اس اجتہاد کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہو اور یہ اجتہاد وہ لوگ کریں جو علم و بصیرت کے ساتھ اتباع و اطاعت بھی رکھتے ہوں۔ رہے وہ لوگ جو زمانہ جدید کے رجحانات سے مغلوب ہو کر دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا حق اجتہاد کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔(رسائل مسائل (دوم)۔ صفحہ )186

اجتہاد میں اتباع و اطاعت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق مقصد سے ہوتا ہے  اور جب مقصد فوت ہو جائے تو ہم کس چیز اور خیال کی ترقی کا سوچتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو پھونک پھونک کر ۔ بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ علم و فکر اور مقصد و اطاعت کے ساتھ جو اجتہاد ۔کیا جائے اس میں لازمی طور پر ایک ہی رائے سامنے آئے
نبی مہربانﷺ نےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو کسی مہم پر روانہ کیا اور فرمایا کہ فلاں مقام پر جا کر نماز عصر ادا کرنا۔ کٹھن راستے کی وجہ سے نماز عصر کا وقت اس جگہ سے پہلے ہی آگیا سوال پیدا ہوا کہ کیا نماز ادا کر لی جائے یا اس مقام تک پہنچا جائے۔ کچھ اصحاب نے وہیں ادا کی اور کچھ نے اس مقام پر پہنچ کر۔ واپسی پر یہ مسئلہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تاکہ برحق ہونے کا فیصلہ ہو سکے۔ نبی مہربانﷺ نے کسی کو غلط نہیں کہا بلکہ دونوں کی تصویب فرمائی اگرچہ جواز اور عدم جواز موجود تھا۔ لیکن دونوں مقصد و اطاعت اور منشائے شریعہ کے عین مطابق تھے لہٰذا اس اختلاف کونبی مہربانﷺ نے قبول فرمایا بلکہ رحمت قرار دیا

 آج بھی اگر ہم اسلام کی آفاقیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اجتہاد کے اصل شعور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ سید مودودی ؒ کے مطابق ہر دور میں اجتہاد کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے ایک ہاتھ میں تلوار ہو، دوسرے ہاتھ میں قرآن و سنت نبوی اور نظر اسلام (پورے مقصد کے ساتھ) کی نشاۃ ثانیہ پر ہو لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں مغربی تہذیب و فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں ، ہماری نظر لبرل اور سیکولر لوگوں کی تنقید پر ہے اور ہم اسلام کی ترقی کے لیے اجتہاد پر زور دے رہے ہیں۔۔  

ناکام کون؟



اسلامی اسکالر- شاہ نواز فاروقیجماعت اسلامی کو ایک بار پھر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ کامیابی کا معاملہ ایک انگریزی محاورے کے مطابق یہ ہے کہ کامیابی کی طرح کوئی کامیاب نہیں ہوتا‘ لیکن ناکامی کا قصہ بھی یہی ہے کہ اس کی طرح کوئی ناکام نہیں ہوتا۔ کامیابی آتی ہے تو غلطی بھی ہنر بن جاتی ہے… اور آدمی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے تو ہنر بھی عیب کہلانے لگتا ہے۔ یہ دنیا عجیب جگہ ہے، یہاں کامیاب بغاوت ’’انقلاب‘‘ کہلاتی ہے، اور ناکام انقلاب کو ’’بغاوت‘‘ کہا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کامیاب نہیں ہوتی ہے تو بعض لوگ کچھ اور نہیں تو یہی کہنے لگے کہ جماعت اسلامی کو کراچی میں انتخابات کا ’’بائیکاٹ‘‘ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن حق و باطل کا معرکہ عجیب ہے۔اس معرکے میں حق کی بالادستی کی جدوجہد کرنے والے کامیاب ہوں تو بھی کامیاب ہیں اور بظاہر ناکام ہوں تو بھی کامیاب۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں اصل چیز حق کی شہادت دینا ہے۔ جس نے حق کی شہادت دی اس کے حصے میں سعادت آئی، اور جس نے باطل کے غلبے کے لیے کام کیا وہ کامیاب ہوکر بھی ناکام ہوا۔انسان کی فطرت ہے کہ وہ جدوجہد کرتا ہے تو کامیابی کی صورت میں اس کے ’’نتائج‘‘ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ خواہش غلط نہیں۔ یہ سرتاپا ایک انسانی رویہ ہے۔ لیکن اپنے کام کے اچھے نتائج دیکھنے کی خواہش کرنا اور نتائج کو پوجنا دو مختلف باتیں ہیں۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اچھے نتیجے کی آرزو کرتے کرتے نتیجے کو پوجنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل چیز تو نتیجہ ہے۔ نتیجے کی پوجا کی طرف آدمی اس لیے جاتا ہے کہ دنیا میں کامیابی کا ’’سکہ‘‘ چلتا ہے۔ یہاں تک کہ کامیابی ہی ’’حق‘‘ بن جاتی ہے۔ اس غلط فہمی نے تاریخ میں بڑے ہولناک نتائج پیدا کیے ہیں۔ سرسید احمد خان برصغیر کے مسلمانوں کی بڑی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں کہ سرسید انگریز پرست اور ’’بابائے جدیدیت‘‘ کیوں تھے؟ تجزیہ کیا جائے تو اس کی بنیادی وجہ انگریزوں کا غلبہ تھا۔ سرسید کو لگتا تھا کہ انگریز حق پر نہ ہوتے تو غالب کیوں ہوتے!سرسید کو محسوس ہوتا تھا کہ انگریزوں کا غلبہ ان کی ’’عقل پرستی‘‘ کا حاصل ہے اور عقل پرستی انہیں جدیدیت نے سکھائی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق مسلمانوں کو بھی عقل پرست اور جدید بنانے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں انہیں مذہب کے بعض تصورات رکاوٹ محسوس ہوئے تو انہوں نے بلاتکلف ان تصورات کو اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ مثلاً انہوں نے جنت اور دوزخ کا یکسر انکار تو نہ کیا، ایسا کرتے تو وہ منکرِ قرآن ہوجاتے، لیکن انہوں نے کہا کہ جنت اور دوزخ کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ جنت اور دوزخ انسان کی ذہنی کیفیات ہیں۔ اسی طرح انہیں گمان گزرا کہ فرشتوں کا تصور بھی خلاف ِعقل ہے۔ مگر وہ فرشتوں کے تصور کا یکسر انکار نہیں کرسکتے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ فرشتے دراصل انسان کی باطنی قوتیں ہیں۔ سرسید کی یہ، اور ایسی بہت سی گمراہ کن تعبیرات انگریزوں کے غلبے اور کامیابی سے متاثر ہونے کا نتیجہ تھیں، اور سرسید کو خیال آتا تھا کہ مسلمانوں کو بھی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ’’نتائج‘‘ پیدا کرکے دکھانے ہیں تو انہیں بھی اہلِ مغرب کی طرح سوچنا اور عمل کرنا ہوگا۔ لیکن ہمارے دین کی روایت میں ’’نتائج‘‘ کا معاملہ عجیب ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دل سے چاہتے تھے کہ اہلِ مکہ ایمان لے آئیں، لیکن ابتدائی برسوں میں آپؐ کو بہت کم کامیابی حاصل ہوئی تھی، جس کی وجہ سے آپؐ اکثر فکرمند رہتے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہدایت دینا تمہارا کام نہیں ہے، ہدایت تو ہم ہی دیتے ہیں، تمہارا کام تو حق کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے۔ اور بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتار اور کردار دونوں کی سطح پر بہترین انداز میں لوگوں تک حق کو پہنچایا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل کامیابی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے اور بالآخر سیلاب ان کی قوم کا مقدر بنا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوحؑ ناکام ہوگئے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کامیاب رہے ، البتہ ان کی قوم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے میں ناکام ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ کا معاملہ تو بالکل ہی واضح ہے۔ وہ حق کی گواہی دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ خود شہید ہوگئے بلکہ ان کا تقریباً سارا خانوادہ ہی شہید ہوگیا۔ بظاہر دیکھا جائے تو حضرت امام حسینؓ ناکام ہوگئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ناکام تو یزید ہوا۔ حضرت امام حسینؓ کامیاب ہوئے اور ایسے کہ سید الشہداء قرار پائے۔جماعت اسلامی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ 70 سال سے حق کی علَم بردار اور دین کے غلبے کی سب سے بڑی ترجمان ہے۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی کو فرقے اور مسلک کی دعوت نہیں دی۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے کبھی کسی کو نسل، زبان، جغرافیے، ذات اور برادری کے تعصب کی جانب نہیں بلایا۔ فرد اور گروہ کامیاب ہوتے ہیں تو ان کے لیے اپنے تصور ِحق پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے، مگر جماعت اسلامی پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے پے در پے ناکامیوں کے باوجود بھی اپنے تصورِ حق کو نہیں چھوڑا۔ حالانکہ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں کہ مشکل حالات کا سامنا ہوتے ہی انسان اور گروہ نام اور کام کیا مذہب تک بدل لیتے ہیں۔ لیکن اللہ کے فضل و کرم سے جماعت اسلامی 70 سال پہلے جو بات کہتی تھی آج بھی وہی بات کہتی ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، کرکے دکھانا دشوار ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہو تو کوئی جماعت 40 سال کی انتخابی ناکامیوں کو جذب کرکے اپنے تصورِ حق پر ڈٹی نہیں رہ سکتی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کمیونسٹ پارٹیاں دنیا کی بہت بڑی پارٹیاں تھیں، مگر ریاست کی قوت سے محروم ہوتے ہی وہ کہیں یکسر غائب ہو گئیں، کہیں سکڑ سمٹ کر صفر بن گئیں اور معاشرے پر ان کا کوئی نظریاتی اثر باقی نہ رہا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جماعت اسلامی پر انتخابی ناکامی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی انسانوں کی جماعت ہے، وہ بھی ناکامی اور کامیابی سے متاثر ہوتی ہے، لیکن جماعت کے لوگ چند دن ناکامی کے اثر میں رہتے ہیں اور پھر معمول کی نظریاتی جدوجہد کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ غور کیا جائے تو یہ عمل تقریباً ایک معجزے کی طرح ہے۔جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی تاریخ میں تین بڑی انتخابی ناکامیاں دیکھی ہیں۔ پہلی ناکامی 1970ء کے انتخابات میں ہوئی۔ دوسری قاضی صاحب کے زمانے میں پاکستان اسلامی فرنٹ کی ناکامی تھی۔ اور تیسری ناکامی 2013ء کے انتخابات کی ناکامی ہے۔ ان ناکامیوں میں سب سے بڑی ناکامی 1970ء کے انتخابات کی ناکامی تھی۔ اس کی وجہ نشستوں کی تعداد نہیں، قیادت کا فرق ہے۔ مولانا مودودیؒ ان علماء میں سے تھے جن کو عہدساز کہا جاتا ہے۔ مولانا تقویٰ کا ہمالہ اور علم کا سمندر تھے، مگر ان کے دور اور ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کو ناکامی ہوگئی۔ مگر یہ مولانا اور جماعت کی ناکامی نہیں تھی۔ یہ معاشرے کی ناکامی تھی۔ معاشرے نے حق کو پہچاننے اور قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مولاناؒ کے تقویٰ اور علم کے فرق کے ساتھ یہی صورت حال قاضی صاحب کے زمانے میں تھی، اور یہی صورت حال سید منورحسن کے زمانے میں ہے۔ سن 2013 کے انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو اگر کراچی میں ایم کیو ایم دہشت کا کھیل نہ کھیلتی تو جماعت کی مجموعی انتخابی کارکردگی اور بہتر ہوسکتی تھی، لیکن وسیع تر نظریاتی منظرنامے میں یہ ایک معمولی بات ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں عام طور پر ناکامی کے بعد کی جاتی ہیں۔ اوّل تو تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن کو حق کے ساتھ وابستگی کے معنی ہر حال میں یاد یا مستحضر ہونے چاہئیں، لیکن ناکامی کے بعد ان کو ذہن میں تازہ کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ حق کی بالادستی کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا تعلق متاثر نہ ہونے پائے۔ حق کے ساتھ ہمارا تعلق استوار رہے تو ناکامی بھی ہمارے لیے کامیابی ہے۔بشکریہ: ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل

مسئلہ ریاست کے اختیار کا




سچی بات ہے ہم مخصوص "مائنڈ سیٹ" سے باہر سوچنے کے عادی ہی نہیں، ہم خود کو اسلام پسند کہلانے پر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں لیکن اسلام کے حوالے سے ہر بات ہمیں ہی بری لگنے لگی ہے- یہ حقیقت ہے کہ آپ اسلام کے نام پر کوئی کام نہیں کر سکتے، اس کے پیچھے طالبانی سوچ ہو گی اور وہ ضرور جاہلیت زدہ ہو گا اور اگر وہی کام کسی ہورپ ملک میں کر لیا جائے اور اسے مذہبی ٹرمز کے بجائے معاشرتی اور سائنسی زبان دے دی جائے تو ہم بے چوں و چراں قبول کر لیں گے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اصل استدلال صرف لبرل ازم اور سیکولر ازم کے پاس ہے۔ آپ کے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں جب اسلام کے نام پر، بد اخلاقی، بے حیائی اور اباحیت کے خلاف کوئی ریاست یا گروہ اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق حل تلاش کرتا ہے اور اس کے نفاذ کا سوچتا ہے تو شور اٹھتا ہے کہ یہ ریاست کا کام نہیں ہے یہ ادارے کا کام نہیں ہے لیکن ویسا ہی کام اگر سیکولر اور لبرل فرانس کے اندر ، ترکی اور تیونس کے اندر سیکورٹی مسائل کے خلاف(نظری اعتبار سے) ریاست اور ادارے حجاب پر پابندی لگاتے ہیں تو اسے ریاست کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی ادارہ پاکستان کے اندر معاشرتی مسائل کی بناء پر کوئی قد غن لگاتا ہے تو اس کے خلاف شور اٹھتا ہے حتیٰ کہ اسے اسلام کے خلاف سمجھا جاتا ہے لیکن ایک یورپی ملک (نام یاد نہیں، امید ہے دی نیوز ٹرائب پر آپ نے بھی پڑھا ہو گا ) میں مردوں میں بڑھتی ہوئی 'لسٹ' اور شہوانیت سے عورت کو محفوظ کرنے کے لیے عورتوں پر یہ پابندی لگائی جاتی ہے کہ وہ پبلک مقامات پر تنگ لباس پہن کر مت آئیں ں اور جب نکلیں تو مکمل لباس کے ساتھ باہر آئیں جو ضرور پنڈلیوں کو کور کرتا ہو ۔ سوال ہے کہ اس وقت یہ شخصی آزادی کہاں گم ہو گئی؟ ریاست لوگوں کے کپڑوں اور چلنے پھرنے پر کیوں جڑھ دوڑی؟ اور اس سے بڑا سوال کہ وہ سب لوگ کہاں گم ہو گئے جو اسلام کے معاملے میں ریاست کی حدیں مقرر کر رہے ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی سوچا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ شخصی آزادی  کو ڈسپلن کے قدموں میں اس وقت قتل کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے اور جو ادارہ اپنی جو بھی یونیفام مقرر کر دے اس پر عملدرآمد فرض ہوتا ہے  ورنہ آپ اس ادارے میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتے   لیکن اگر کوئی ادارہ اپنے ادارے کے تعلیمی وقار اور معاشرتی فلاح کے لیے کوئی اسلامی شق لاگو کرے تو اسے انسانی حقوق کے خلاف اور جبر کے رویے کے طور پر لیا جاتا ہے۔
اس فکری اور عملی کشمکش کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں ریاست سے اختیار سلب کرنے کے بجائے ریاست کو بالغ نظری کے ساتھ تمام حق دینا چاہیے لیکن اس کے استعمال میں احتیاط برتنا ریاست کا کام ہو ۔جہاں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہو، کسی فتنہ کے سر اٹھانے کی بو محسوس کی جا رہی ہو یا یہ اختیار بے سود اور بے فائدہ ہو وہاں حکمت کے تحت افراد پر چھوڑا جا سکتا ہے لیکن جہاں یہ بطور مسائل کے حل اور معاشرتی بھلائی کے ضروری ہو وہاں ریاست کو پورا پورا حق حاصل ہو کہ وہ اپنی رعایا پر کوئی قانون نافذ کر دے۔

جھنگ کی سیاسی صورتحال



پیپرز کے دنوں میں سکھ چین کا ایک دن نصیب ہوا تو شہر یاترا کا لفظ شائد میرے قد قاٹھ سے بڑا ہے اس لیے آج میں شہر گردی کی - جعلی ڈگری یافتہ وزیر تعلیم پاکستان اور سپاہ صحابہ کے مرکز ہونے کی حیثیت سے الیکشن کی گہما گہمی فیصل آباد سے بھی 102 ڈگری زیادہ پہ ابل رہی ہے- روایتی مخالفین کے درمیان ٹاکرے کے باوجود نئے امیدواروں نے رنگ میں بلاشبہ بھنگ ڈال دی ہے ۔ پی پی پی کے طارق گیلانی فرزند پیر پٹھان اور دوسرے ہیں ڈاکٹر عبد الجبار - نام تو شائد اب تحریک انصاف کی مخصوص شفقت عام پر ، بدنام زمانہ شیخ وقار احمد کا بھی لیا جا نے لگا ہے جو صدر تحریک انصاف ڈاکٹر ابو الحسن کی مخالفت کے باوجود عمران خان کا فیضان پا چکے ہیں- یوں یہ مقابلہ کم و پیش پانچ امیدواروں میں سجے گا-بات ہو رہی تھی شہر گردی کی ، مقصد تھا ماحول دیکھنے کا عوام کے سینے پر سجے اسٹیکرز کو جاننے کا ، مجھے کروڑوں کی کمپین سے ہمیشہ نفرت رہی ہے ہزاروں لاکھوں کا ٹکٹ اور کروڑوں کی کمپین سے جو کوئی بھی اس قوم کا نمائندہ بنا ہے پھر اس کا ربط چند ٹکوں پر گزارہ کرنے والی غریب عوام سے نہیں رہا۔ لیکن کیا کریں یہ تو سیاست کا خاصہ ہے اب تو لوگ بھی اسے ہی ووٹ دیتے ہیں جو پورے پروٹوکول کے ساتھ ان کے دروازے پر دستک دے۔ خلوص اور پیار کی باتیں بس اب لکھنے پڑھنے تک ہی رہ گئی ہیں-تو لیجئے بات شروع کرتے ہیں شیخ محمد اکرم سے ، سابقہ ایم این اے شیخ وقاص اکرم کے والد ہیں ، اس بار ابا جی, بیٹے سے ناراض تھے کہ تم نے لوگوں کو دور کیا ہے اس لیے باوجود ام وقاص کی ناراضگی کے یہ الیکشن خود لڑنے کا اعلان کیا - شیخ صاحب پرانے سیاست دان اور پرانے سرمایہ کار ہیں، شیخ وقاص اکرم کے دور میں شیخ صاحب کی سرمایہ کاری بسوں اورچھکڑوں سے ملوں اور فیکٹریوں تک پہنچ چکی ہے اس سرمایہ کاری کے اثرات اس الیکشن کمپین میں بھی نظر آرہے ہیں چپہ چپہ پر فلیکس بینرز، اسٹیکرز اور بڑے سائز کے 12 رنگوں سے سجے اشتہار ، شائد جھنگ کے سادہ شہریوں کے سادہ دلوں کو لبھانے کے لیے کافی سامان دیواروں اور کھمبوں پر لادھ دیا گیا ہے لیکن شکر کہ لوگ سادہ ضرور پر اندھے نہیں ہوئے اس کا اندازہ شیخ صاحب کو بھی ہو رہا ہے جو دس بارہ لوگوں کی کارنر میٹنگز سے دکھائی دے رہا ہے کہ اس بار معاملہ ہاتھوں سے نکل رہا ہے - عوام کی بد دلی تو ایک طرف نئے امیدواروں نے بھی اپنے اپنے ووٹر کو اچک لیا ہے-دوسری طرف مولانا محمد احمد لدھیانوی ، سپاہ صحابہ کے سربراہ (میں اہلسنت والجماعت کا اصل نام ہی استعمال ہی کر رہا ہوں، کیونکہ ناموں کے دھوکے میں کوئی اچھائی نہیں ہے) ناموس صحابہ کے نام پر دین اور سیاست فرماتے ہیں لیکن کبھی کبھی ان کے ایک ووٹ سے ایسی فاسق حکومت وفاق میں جم جاتی ہے جو صحابہ کرام تو کجا قرآن اور سنت کی تقدس کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے - یہ حقیقت ہے کہ ناموس صحابہ کے منجن پر جھنگ میں ایک اچھا خاصا حلقہ موجود ہے جو ہمیشہ سے نعرے لگاتا آ رہا ہے کہ "جان رب دی ۔۔۔۔ تے ۔۔۔۔۔ ووٹ جھنگوی دا" - خیر لوگ ووٹ بھی دیتے ہیں اور نوٹ بھی اسی لیے شیخ اکرم کی سرمایہ کاری کا مقابلہ اس چندہ سے کرنے کی پھرپور کوشش کی جا رہی ہے - ہر صاحب استطاعت "جھنگوی" نے اپنے تیئں اپنی تصاویر کے ساتھ فلیکس اور اسٹیکرز بنوا کر ماحول کو اپنے حق میں سدھار نے کی کوشش کر رہا ہے- سپاہ کا ناموس صحابہ کا منجن بھی اس بار زیادہ بکنے کے چانسسز نہیں ہیں کیونکہ لوگ سمجھ رہے کہ اس تحفظ صحابہ کی تحریک نے قتل، لاشیں ، خون اور بد امنی تو دی ہے لیکن صحابہ کی ذات پہلے بھی زیادہ نشانہ بنی ہے- دیگر نئے امیدواروں نے سپاہ کے عام ووٹر کو متاثر کیا ہے لیکن باوجود اس کے مذہبی اور فرقے کے ووٹ توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے -تیسرے مقابلے کے امیدوار ڈاکٹر عبد الجبار ہیں، طلبہ سیاست سے آغاز کرنے والے آج جماعت اسلامی کی طرف سے امیدوار ہیں ، سادہ سی شخصیت کے مالک ڈاکٹر صاحب میرے یونیورسٹی فیلو بھی ہیں اس لیے میں بلا شک و شبہ کہہ سکتا ہوں کہ جھنگ کے تمام امیدواروں میں سے سب سے زیادہ پڑھے لکھے امیدوار ہیں۔ ایک اور بات جو دوسروں سے مختلف کہ بگل بجنے پر نہیں آئے، عرصہ ڈیڑھ سال سے عوام کے ساتھ رابطے میں ہیں - مجھے شہر گردی میں اپنے دوستوں اور سابقہ کلاس فیلوز سے گپ شپ کا موقعہ ملا جو برملا کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر عبد الجبار نے ایک لمبی محنت کی ہے اور وہ اس محنت کے ثمر میں جیت سکتے ہیں- اشتہارات، اسٹیکرز اور فلیکس میں مات نہیں دے پائے دوسرے لفظوں میں بڑے امیدواروں کے مقابلے میں کوئی ماحول ابھی تک پیدا نہیں کر پائے- اس کی وجہ شائد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ کوئی بڑے سرمایہ دار نہیں ہیں، ایک گائنی ہسپتال کے مالک جو الخدمت کے نام سے چلتا ہے اور عام ہسپتالوں سے نسبتا بہت سستا اور غرباء کے لیے مفت ہے۔ جماعت اسلامی کا اچھا خاصہ ووٹ بنک شہر میں موجود ہے شہر کی تین گنجان آباد یونینز میں ناظمین (صہیب فاروق، بہادر خان جھگڑ اور حافظ عبد الجبار (فاران کالج والے) اور درجن بھر کونسلز سے ایک بڑا ووٹ رکھتے ہیں - جھنگ کے تمام مشہور تعلیمی اداروں پر ان کی اجارہ داری ہے اگر کوئی مربوط کمپین چلی تو تیسرا نیا نمائندہ جھنگ کے نصیب میں آیا چاہتا ہے طارق گیلانی معروف پیر پٹھان کے بیٹے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں لیکن یہ خانہ پوری کے سوا کچھ بھی نہیں ، جھنگ کا حلقہ پیپلز پارٹی سے نا واقف ہے البتہ صدر زرداری کے نام اور کام سے ضرور واقف ہو گا ، رہ سہہ کے پیر پٹھان کے گنتی کے چند پیروکار اور ان کے زیر اثر حلقہ - البتہ پیسے کا استعمال ان کی طرف سے خوب کیا جا رہا ہے۔
ایک بات حالیہ منظر نامہ میں صاف نظر آرہی ہے کہ اب پرانے گڑھے جھنگ کے ماتھے سے مٹ رہے ہیں اور نئے اجالے جگہ پانے کو تیار ہیں 11 مئی کو کیا ہوتا ہے اس کا فیصلہ جھنگ کی عوام نے کرنا ہے کہ آیا وہ ان پرانے گڑھوں میں دوبارہ سونا پسند کرنا چاہتے ہیں یا ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے ہیں-

2013 انتخابات اہم کیوں؟



جس طرح 70ء دہائی میں پاکستان کے اندر سوشلزم اور اسلام کے مابین ایک جنگ کی سی صورت حال درپیش تھی حالیہ ادوار میں اس طرح اسلام اور سیکولرازم و لبرلزم کے مابین ایک کشمکش بظاہر کم ہی نظر آتی ہے  حالانکہ ایسا نہیں ہے بیسویں صدی عیسوی میں جس طرح جنگوں نے اپنے اپنے طور طریقے بدل لیے ہیں  اور ففتھ جنریشن تک جا پہنچے ہیں اسی طرح تہذیبوں اور افکار نے اپنی اثر پزیری کے دوسرے لوازم اختیار کر لیے ہیں جو بظاہر نہ تو نظر آ رہے ہوتے اور نہ کسی ایسی کشمکش کے تناظر میں دیکھائی دیتے ہیں- اسلام کو جس طرح ریاست سے جدا کرنے کیلئے چند دنوں سےحکمت عملی اپنائی گئی ہے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
اس کا پہلا مظہر عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی کا عبوری حکومت کے لیے نامزدگی تھی، خوش قسمتی سے عاصمہ جہانگیر، عوام میں اپنی متنازعہ شخصیت کی بناء وفاقی عبوری حکومت کا عہدہ نہ سنبھال سکیں لیکن وہ نجم سیٹھی جسے لبرل اور سیکولر حلقوں کا قائد اعظم بھی کہا جاتا ہے، ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں غداری کے مقدمات میں جیل کاٹ چکا ہے ، جسے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ابھی تک غیر ملکی ایجنٹ تصور کرتی ہے ، ؐخصوصی عالمی سیکولر طاقتوں کی خواہش پر پاکستان کے اہم صوبہ ، صوبہ پنجاب کے عبوری وزیر اعلیٰ بنا دئیے گئے- نجم سیٹھی کیا کر رہے ہیں یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بسنت سے لے کر اہم دستاویزات کو اپنی چڑیا بنانے تک کون سا ایسا کام ہے جس وہ اپنا ٹاسک سمجھ کر نہیں کر رہے؟
دوسرا مظہر اس وقت نظر آیا جس وقت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے بیک وقت جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ کرنے سے معذرت کر لی، پاکستان میں واحد مضبوط اسلام پسندوں کی طاقت کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے یہ بہت ضروری تھا - مصر اور ترکی میں اسلام پسندوں کی حکومت آ جانے کے بعد عالمی سیکولر طاقتوں کو پاکستان سے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے اس خدشے کا اظہار وائٹ ہاؤس میں پیش گئی ایک خصوصی رپورٹ میں بھی کیا گیا۔اگرچہ ان حالات میں یہاں کے اسلام پسندوں کے لیے بہت کم جگہ ہے لیکن اگر انہیں تھوڑا سا موقع فراہم کیا گیا تو مستقبل میں ان کے لیے عوامی دل جتنا بہت آسان ہو جائے گا اس لیے اس کا سدباب ضروری سمجھا جا رہا ہے
تیسرا مظہر 62، 63 کے گونچ کا چڑھاؤ اور پھر اتار ہے، ایمان دار اور نیک قیادت کا شور اٹھا اور پھر خاموشی سے بیٹھ گیا، الیکشن کمشن کی نااہل اور نا تجربہ کار ذمہ داروں کی وجہ سے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار 62، 63 کی خوشبو سے یہ الیکشن معطر ہوتے ہوتے رہ گئے لیکن اس کو دوبارہ کتابوں میں بند رکھنے میں امریکی سفیر کی سیکرٹری الیکشن کمشن سے ملاقات بہت اہم ثابت ہوئی کیونکہ اس کسوٹی پر شائد سیکولر اور لبرل حلقہ کسی صورت پورا نہیں اتر سکتا تھا۔ اور ملک میں موجود اسلام پسند طبقہ فائدہ اٹھا کر اسلام آباد پہنچ جاتا۔
چوتھا مظہر مذہب کے نام ووٹ مانگنے پر پابندی لگانا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین کی قید کی سزا۔ اسلامی جمہوری پاکستان میں روشن خیالی کے نام پر، سیکولر ازم کی بنیاد پر اور کنسرٹس کا انعقاد کروا کر ووٹ مانگنے پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ اس تشخص کی بنیاد پر ووٹ مانگنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس پر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے پاکستان کی تشکیل "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ" کا نعرہ لگا کر کی حالانکہ ان حالات میں بھی دیگر اسلامی و مذہبی جماعتیں موجود تھیں، اس سے بھی صاف نظر آتا ہے کہ اس پابندی کا مقصد اسلام پسندوں کا راستہ روکنا ہے
دوسری طرف جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی جماعتوں کو خطرے کا احساس ہو رہا ہے ۔ سید منور حسن نے جس کا اظہار منصورہ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں بھی کیا کہ ہونے والے الیکشن پر عالمی استعمار اور اسٹیبلشمنٹ حاوی ہو رہا ہے۔ لیکن یہ کیمپ سیکولرازم کی ان کوششوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی اختیار کرے گا یا نہیں؟ بدقسمتی سے یہ حلقہ ایک دوسرے سے دور اور بد ظن ہے ۔۔۔۔۔۔ قاضی حسین احمد اگر کچھ دیر اور ہم میں موجود ہوتے تو عالمی استعمار کے مقابلے میں ایک بڑی دیوار کھڑی کر نے کی صلاحیت اور تجربہ رکھتے تھے لیکن افسوس اس وقت اس سیکولرازم کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور پاکستان میں اسلام کے سیاسی نظام کا جنازہ تیار کیا جا رہا ہے

وجہ کی تلاش میں


تحریک انصاف اور ن لیگ کی جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ نہ ہو سکنے پر مختلف آراء ہیں، جوں جوں وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے چیزیں میچور ہوتی اور کھل کر نظر آنا شروع ہو رہی ہیں۔ تحریک انصاف میں موجود قیادت کسی بھی حتمی بات کی طرف نشان دہی نہیں کر پا رہی کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس کی وجہ سے جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ عمران خان کی پرانی خواہش کے باوجود نہ ہو سکی اور خود عمران خان صاحب کمیٹی کی تشکیل کے بعد کوئی واضع موقف پیش نہیں کر پائے اور دل پسند جماعت ہونے کے باوجود جماعت اسلامی سے اتحاد نہ ہو سکنے پر کوئی بیان جاری نہیں کر پا رہے پھر دوسری طرف شاہ محمود قریشی، عمران اسماعیل اور شیریں مزاری کا جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف کے بناء روز اول سے اس ایڈجسٹمنٹ پر اعتراض تو سمجھ میں آتا ہے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی کمیٹی نے منصورہ نہ جانے کا فیصلہ کیا اگرچہ جماعت اسلامی کے اصرار پر وہ دوبارہ تشریف لے گئے لیکن ایڈجسٹمنٹ کے اگلے صفحے کی جانب بڑھنے کے بجائے کتاب بند کرنے کے لیے - پھر اس کمیٹی نے پارٹی کو ان مذاکرات سے آگاہ کرنا بھی ضروری کیوں نہیں سمجھا؟ جس کا کھلا اشارہ اسد عمر کے بیان کی صورت میں آیا ، اسد عمر کے بارے یہ سوچا جاتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بولتے ہیں ، کوئی فالتو بات نہیں کرتے لیکن اپنی کم علمی کی بنیاد پر آخر انہوں خاموشی اختیار کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟ اور جواب دیا بھی تو یوں دیا کہ پارٹی کے پاس پہلے ہی ہر حلقے میں اچھے امیدوار موجود ہیں اس لیے وہ جماعت اسلامی سے اتحاد ضروری نہیں سمجھتی- میں حیران ہوں کہ آخر ایڈجسٹمنٹ نہ ہو سکنے کی اصلی وجہ کیا ہے جس کو چھپانے کے لیے اسد عمر جیسے فرد نے ایک فالتو بات کہہ دی۔ حالانکہ وہی تحریک انصاف سندھ میں فنکشنل لیگ، پنجاب میں نواب آف بہاولپور جیسے چھوٹے گروپس اور کے پی کے میں ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو الیکشن میں معاون ہو سکیں-
دوسری طرف ن لیگ کی صورت حال بھی تحریک انصاف سے مختلف نہیں ہے ، شہباز شریف کی دلی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ ہو جائے تو آسانی کے ساتھ یہ الیکشن جیت سکتے ہیں لیکن چند سیٹس کی قربانی دینے کی بجائے پورے پاکستان میں تمام سیٹس کو مشکلات میں ڈالنا پسند کر لیا، ان کی طرف سے کچھ واضع بیان یوں آیا کہ اس بار ن لیگ نے الیکشن حکمت عملی اپنائی ہے کہ وہ کو ایک لبرل اور معتدل پارٹی کے طور پر منوانا چاہتی ہے اس لیے مذہبی جماعتوں سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی جائے گی اور ساتھ میں جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ نہ ہو سکنے کی وجہ کچھ یوں بتائی جا رہی ہے کہ پارٹی میں نئے آنے والے امیدواروں کے بعد ن لیگ کے لیے سیٹس کا مسئلہ پہلے ہی گھمبیر ہو چکا ہےاس لیے وہ اتحاد نہیں کر پائے گی۔
تحریک انصاف اور ن لیگ میں بظاہر بہت اختلاف اور تناؤ موجود رہا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ جماعت اسلامی سے ایڈجسٹمنٹ کے معاملے میں دونوں میں حد درجہ مماثلت پائی جاتی ہے، دونوں کے پاس اچھے امیدوار موجود ہیں، دونوں مذہبی پارٹیوں سے اتحاد کو گناہ کبیرہ خیال کر رہی ہیں- میں اسی وجہ کی تلاش میں ہوں

کامیاب زندگی: ذرا غور تو کرو



"میں تمہیں صرف یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم دن یا رات میں کسی وقت علیحدگی میں سوچو، ان دو نوں قسم کی آراء میں سے بہتر رائے کو پہچانو۔ ان دونوں رائیوں سے فرد اور معاشرے کی زندگی پر جو اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ان پر غور کرو۔ اور جب تم فطرت کے عین مطابق پہلی رائے کے قائل ہو جاؤ تو اپنے نفس پر توجہ دو'اس کی خوبیوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرو'اسے بے مقصد کاموں اور گھٹیا اغراض سے بلند کر دو ، اسے اس کے عظیم اور بر تر رب سے ملا دو۔ اور اس کو اللہ کی یاد اور فرما برداری، نگرانی اور خوف کے ذریعے پاک کرو۔"
"جو اپنی حقیقت اور حیثیت سے آگاہ ہو جائے وہ اپنے رب کو بھی پہچان لیتاہے"
"اس نے تجھے ایک مقصد کے لیے تیار کیا ہے اگر تو اس مقصد سے آگاہ ہو گیا ہے تو اپنے آپ کو مقصد سے بے بہرہ لوگوں کے ساتھ ادھر ادھر منہ مارنے سے بلند بنا لیں۔"
"اور یہ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ کچھ لوگوں کو دوسری رائے پسند آجائے ، یہ رائے مصیبت بھی بن سکتی ہے اور ہدایت بھی"
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ) "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا۔ مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا ' آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا' یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے بلندی عطا کرتے مگر وہ زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا۔ لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو  تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔"
"یہی  مثال  ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایت بیان کرتے رہو، شاید کہ یہ کچھ سوچیں۔"
سورۃ الاعرافاللہ ہماری اور تمہاری راہنمائی فرمائے اور ہم سب کو سیدھا راستہ دکھائے (آمین)
( خطبات امام حسن البناء شہید ؒ) 

نجم سیٹھی: قوم کے لیے نیا تحفہ


پنجاب کی وزارت اعلیٰ  کے لیے نئے نام کی نوید سنتے ہی مجھے سخت حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ دل کو سخت صدمہ پہنچا کہ جیسے دل کی دھڑکن  کچھ رک سی گئی ہو اور زبان سے یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ شاید اس قوم کی قسمت ہی اللہ نے کچھ ایسی لکھ دی ہے لیکن دوسری طرف محسوس ہوا کہ اتنے خوش قسمت لوگ بھی اس قوم میں موجود ہیں کہ حکمرانوں کی فہرست میں جن کا کوسوں دور تک نام و نشان تک نہ دکھائی دیتا ہو حکومتی ایوانوں کی کنجیاں سنبھالنے کی پردھان کا قرعہ ان کے نام نکل آتا ہو ۔ اک ایسا فرد کہ جس کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو اس کا ٹھکانہ کسی جیل کی تنگ کوٹھری یا پھانسی گھاٹ نظر آتا ہے اس کا مقدر بادشاہت ٹھہرے، شاید اس سرزمین پر  گنگا ہی الٹے رخ بہتی ہے یا شاید میری آنکھوں کا فریب ہے کہ ہر چیز الٹی ہی نظر آتی ہے۔تو لیجیے اس ملک کے باسیوں تمہاری قسمت  میں ایک اور اچھوتی شخصیت کا تحفہ بھی لکھا تھا کہ جس کے کارناموں کا اثر رہتی دنیا تک تیرے خون میں گردش کرتا رہے گا اور اس کا نام ہے" نجم سیٹھی"۔ ان کارناموں سے آپ کے دل کو سکون ملے گا یا سکوت طاری ہو جائے گا یہ تو آپ ہی جانیں آئیے ذرا آپ کو اس اچھوتی شخصیت کے اچھوت کارناموں سے روشناس کرواتے ہیں۔1969ء کی بات ہے کہ جن دنوں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کے لیے مشرقی پاکستان کے کیمونسٹ، مارکسٹ اور نیشنلسٹ شخصیات کی جانب سے انگلینڈ اور بھارت میں بیٹھکیں جاری تھیں، ان دنوں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور انہی نظریات کے حامل 25 طلبہ انگلینڈ میں جمع ہوئے جو کہ انگلینڈ کے اداروں میں زیر تعلیم تھے ان میں ایک نوجوان کا نام نجم سیٹھی تھا، ان نوجوانوں نے مغربی پاکستان کو بھی توڑ کر  دو آزاد ریاستیں، پختونستان اور گریٹر بلوچستان بنانے کا پلان تیار کیا اور پھر اس کے لیے روز و شب محنت کرنا شروع کر دی بعد میں یہ 25 طلبہ "لندن گروپ" کے نام سے مشہور ہوئے، جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو ان نوجوانوں کو مزید آشیر باد حاصل ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اس دور اقتدار کے دوران بلوچستان میں نیشنلسٹ عوامی پارٹی نے حکومت قائم کی،  ۔ اس دوران لندن گروپ کے چار یا پانچ ممبران پاکستان پہنچے ،صوبائی نیشنلسٹ پارٹی اور مغربی استعماری قوتوں کے سائے تلے ان نوجوانوں نے اپنے عزائم میں آگے بڑھتے ہوئے گوریلا وار کا آغاز کیا کیونکہ اس نظریات کے حامل لوگ خونی یا سرخ انقلاب کا راستہ اختیار کرتے ہیں اس عرصہ  بلوچستان میں عسکری کاروائیوں کے دوران  ان چاریا پانچ میں سے دو  کراچی منتقل ہوئے، ان دو میں ایک نجم سیٹھی کی ذمہ داری گوریلا وار کے لیے فنڈ ریزنگ تھی اور  ایک انجینئر کا روپ دھارے  کراچی سے کوئٹہ کی جانب ایک آرمی ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے جہاں جا کر انہوں نے کسی حکومتی اور آرمی کے تعمیراتی پراجیکٹ کا سروے کرناتھی  کیونکہ وہ کچھ سرکاری پروجیکٹس کے لیے ایک کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھےاس دوران مخبری پر ان کے کچھ  ساتھیوں  کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیااور تسلسل میں نجم سیٹھی کو  کوئٹہ سے گرفتار کر کے حیدر آباد جیل  میں منتقل کر دیا گیا۔ بھٹو حکومت نے ان کی تحقیق کے لیے حیدر آباد ٹربیونل قائم کیا ، کیس چلا اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اس دوران اس گوریلا وار کے سینکڑوں لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔ ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے ذوالفقار علی بھٹو  کے تمام کاموں کو ختم کرتے ہوئے اس گوریلا وار کے تمام لوگوں کے لیے عام معافی کا علان کر کے رہا کر دیا جو کہ ایک سنگین غلطی تھی ، اس غلطی کی وجہ سے آج بھی بلوچستان میں گوریلا وار جاری ہے ان رہا شدہ افراد نے انداز بدل کر کام جاری رکھا لیکن محتاط ہو کر نجم سیٹھی نے ایک جرنلسٹ کا کردار اپنا لیا۔ 1984ء میں نجم سیٹھی نے ایک کتاب اپنے اخبار میں شائع کی ،یہ کتاب کیمونسٹ، سوشلسٹ اور نیشنلسٹ نظریات کے مطابق لکھی گئی  جس وجہ سے ضیاء الحق  حکومت نے ان کو جیل میں ڈال دیا لیکن کچھ عرصہ بعد رہا کر دئیے گئے۔1996ء میں جب صدر فاروق خان لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو عبوری حکومت میں نجم سیٹھی کو وفاقی محتسب کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور انہوں نے  بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فائلیں تیار کئیں، انہی فائیلوں کی روشنی میں  عبوری حکومت کے بعد بننے والی نواز شریف کی حکومت میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کیس چلا، پھر 1999ء میں انڈیا کے اندر تقریر کرتے ہوئے اس صحافی نما شخصیت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس پر اس وقت بھارت میں متعین پاکستانی  ہائی کمشنر  اشرف قاضی  نے  حکومت پاکستان کو نجم سیٹھی کی تقریر  بھیجتے ہوئے  پاکستان مخاف قرار دیا اس کے نتیجے میں نجم سیٹھی پر غداری کا مقدمہ دائر ہوا جیل میں بند کر دئیے گئے۔ غالب امکان تھا کہ ان کو اس بار سخت سزا دی جائے گی جس میں موت کی سزا بھی خارج از امکان نہیں تھی لیکن کچھ ہی دنوں میں ایک امریکن وفد خصوصی طور پر اسلام آباد پہنچا اور نجم سیٹھی کو رہا کر دیا گیا۔ کیونکہ اس پورے طبقے کو چونکہ پاکستان کے خلاف استعماری قوتوں کی ہمیشہ سے حمایت حاصل رہی ہے اور پاکستان میں موجود ایسے نظریات کا حامل طبقہ خصوصی طور پراسٹیبلشمنٹ اور آرمی میں موجود ایسا طبقہ ایسے نظریات کی سپورٹ کرتا آیا ہے- ہر ایسے کارنامے کے بعد جہاں ان کو واقعی سزا ہونا تھی یہ سرخرو ہو کر نکلتے رہےاور پھر پرویز مشرف کا دور شروع ہوا تو ایسے لوگوں کی چاندنی ہو گئی-استعماری قوتیں اپنی سازشوں کو کامیا ب بنانے کے لیے میڈیا کو ایک اہم ہتھیار کے طور پہ استعمال کرتی ہیں اورمسلم آبادیوں میں موجود ایسے نظریات کی حامل شخصیات ان کے لیے قیمتی جواہرات سے بھی بڑھ کر قیمتی ہوا کرتی ہیں جو کہ اسلام پسند طبقہ کو ہر موقع اور ہر جگہ پر بدنام اور ناکام کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے اپنی پوری قوت استعمال کرتی ہیں – جو شخصیات ان مقاصد کی تکمیل میں آگے آگے رہتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اور ان کو تقویت دینے کے لیے ان کو بین الاقوامی ایوا رڈز اور انعامات سے نوازا جاتا ہے اور اس کام کے لیے آزادئ اظہار اور میڈیا کی آزادی کا خود ساختہ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے-جب مشرف نے مغربی استعماری قوتوں کی جنگ میں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفا داری کا کام اپنے ذمہ لیا تو اپنے مغربی آقاؤں کے مشوروں پر پاکستان میں پرائیویٹ میڈیا کو لانچ کیا جس کا آغاز جیو ٹی وی سے ہوا اور جس نے اپنے آغاز سے آج تک اپنے ایجنڈا کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی- نجم سیٹی کی چڑیا بھی اسی فضا میں پروا ز کرتی رہی- اپنے ہم نظریات کی حامل اسٹیبلشمنٹ، آرمی اور دیگر عہدوں پر موجود اہم شخصیات کے ذریعہ اہم معلومات تک رسائی حاصل رہی جس کو نجم کی چڑیا مختلف پروگرامات میں گاتی رہی اور نجم ایک اچھا پیش گو، معتبر جرنلسٹ اور صحافی کے طور پر مشہور ہوتا گیا- اس کام کے سلسلہ میں استعماری آقاؤں نے ان کی حوصلہ افزائی اور اس کام کو تقویت دینے کے لیے مختلف ایوارڈز سے نوازا اور اس وقت یہ واحد جرنلسٹ اور صحافی ہیں جو کہ اپنے اس شعبہ میں تین اہم انٹر نیشنل ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں اور دیکھا دیکھی زرداری کے ماتحت حکومت پاکستان نے بھی "ہلال پاکستان" کے ایورڈ سے نوزا ہے-نجم سیٹھی اپنے ہم نظریات کی نظر میں ہی ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اسلامائزیشن کے ہر نقطہ اور نظریہ کی ہمیشہ اور ہر جگہ مخالفت کی ہے – مشرف کی اسلام مخالف پالیسیوں کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی ہے- لال مسجد کے بے گناہ بچوں اور بچیوں کو شہید کروانے کے لیے جو فضا بنائی گئی تھی اس میں بھی نجم کا اہم کردار شامل ہے – 2008 سے ان کی اہمیت اور بھی بڑھتی چلی گئی اور آج بھی لندن گروپ سے متعلقہ افراد زندہ ہیں اور بعد میں شامل ہونے والے کچھ افراد جو ابھی تک زندہ ہیں جرنلسٹ اور  انسانی حقوق کے نمائندے اور تجزیہ کار کی حیثیت سے اپنے مقاصد کی تکمیل کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہی افراد نے نجم سیٹھی  کے بارے ذہنوں کی آب یاری کی ہے اور آج کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ  پیپلز پارٹی کا بندہ ہے،کوئی کہتا ہے ن لیگ کا بند ہ ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا تعلق ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہے، ان تمام میں اس کے ہم خیال لوگ ضرور موجود ہیں لیکن اصل قدر مشترک اس سب کے تعلق دار استعماری قوتوں کے مقاصد ہیں جو نجم سیٹھی کی ہر دور میں پشت پناہی کرتے آ رہے ہیں- اور اسی لیےہی جیسے جیسے بلوچستان ایشو دوبارہ سے اہمیت پکڑتا جا رہا ہے ویسے ہی ایسے لوگوں کا گراف بھی بڑھتا جا رہا ہے- ایسے کارناموں پر   نظر دوڑائی جائے توواضع طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کون سی قدر مشترک ہے جس  پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کل تک تو  ایک دوسرے کے پیش کردہ   ناموں  پر مخالفت کر رہی تھیں اور اچانک اس نام پر دونوں کا گہرا اتفاق ہو گیا وہ قدر مشترک ایک سیکولر ایجنڈا ہے  تو دوسرا استعماری قوتوں کی زیادہ سے زیادہ خوشنودی حاصل کرنا۔اسی طرح کا پلان وفاقی حکومت میں بھی لانے کا تیار ہوا لیکن عاصمہ جہانگیر کی شخصیت کے متنازعہ ترین پہلو ابھر کر سامنے آ گئے اور اس وجہ سے پلان کا یہ حصہ کامیاب نہ ہو سکا لیکن پنجاب میں نجم سیٹھی کی پراسرا رشخصیت  کے تاثر   نے اس کام کو آسان کر دیا آج  اس حوالے سے مغرب بھی خوش، دونوں پارٹیاں بھی خوش  اور ملک میں موجود اسلام دشمن طبقہ بھی خوش، لیکن دکھ بھری بات تو یہ ہے کہ اس ملک و قوم کی خوشی اور خوشحالی کا دور شروع  بھی ہو گا یا ہر آنے والا تحفہ ایک سے بڑھ کر ایک نکلتا رہے گا اور  اس وطن عزیز کو مزید تاریک اندھیرے میں دھکیلتا رہے گا۔

گڈ بائے اینڈ گڈ نائٹ



بچے اور بچیاں جب جوان ہونے لگتے ہیں تو ان کا ہارمونل سسٹم جسم کو ایک عجیب سی رونق بخشتا ہے کسی کے لیے یہ دن ایڈونچر کا با عث بنتے ہیں تو کسی کے لیے بے وجہ کی شرمندگی لاتے ہیں ان دنوں باتوں اور دل کی تپش حیرت ناک حد تک بڑھ جاتی ہے کوئی رہنما اور مددگار نہ ملے، کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہ ہو تو ذہن اور بھی بے سمت اور بے کنار ہو جاتا ہے زندگی کے راستوں پر دھند چھانے اور بھٹکانے لگتی ہے تب شکلیں اور ارادے بدل جاتے ہیںہمارا مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ، نظام جدیدہ ہو یا روشن خیالی کا فلسفہ سب نے میری نوجوان نسل کو اندھیر رستوں پر دوڑا دیا ہےان سب لوازم کے ساتھ ساتھ ہمارے موبائل نیٹ ورک نے، جو ایک سہولت تھی آج  ایک کمزوری اور بیماری کا روپ دھار لیا ہےکسی نے یوں رہنمائی کی کہ موبائل بہت اچھا ہے اور مفید بھی مگر ٹھنڈی آگ ہے جو من میں لگا دیتا ہے اور کسی کام کا نہیں چھوڑتا ، یہ جھوٹی سچی آوازوں کا شہر ہے جہاں اکثر گلیاں بند اور راستے نہیں ملتے بلاشبہ موبائل نے میری قوتوں کو ہائی جیک کر کے مجھے  آگ کے الاؤ میں ٹھونس دیا ہےلیکن سوچتا ہوں میں خود ہی احمق ہوں اور جہاں احمق ہوں گے وہاں احمق بنانے والے کیوں نہیں ہوں گے  اس بھٹی کا کیا قصور ؟ اس میں جو بھی گرے گا جل کر راکھ بنے گا اب کوئی بچنا چاہتا ہو یا جلنا چاہتا ہو اس پر منحصر ہےرات رات بھر باتیں کرتے رہنا دلچسپ اورپر لطف ہوتا ہےاس آواز سے کہ جس کے سحر نے الفی لگا کر جکڑ لیا ہوتب لمحوں اور وقت میں کوئی فرق نہیں رہتا ، نادانی کا سورج یوں چمکتا ہے کہ میری ماں سوتے ہوۓ میرے لیے ڈھیر ساری دعائیں مانگتی ہے اور میں اپنی جھوٹی امید اور وفاء کا چراغ جلاۓ بیٹھا ہوتا ہے شائد گھر کے افراد کی اہمیت بھی اسے دے بیٹھتا ہوں جسے میرے دل کے اینٹینے نے چند لمحوں میں بغیر سمجھے سوچے کیچ کر لیا تھا، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں ماند کیوں نہ پڑ جائیں جب کورس کی کتاب کے بجاۓ انسان ساری رات کسی بے آشنا کو پڑھتا رہ جاۓ تب دن میں وائٹ بورڈ پر بھی اسی کی تصویریں جھلک رہی ہوتی ہیں جیسے مجھے کہ رہی ہوں کہ سوجا پیارےکل کی رات نے پھر آنا ہےنہیں, اب وہ رات نہ آئے جس کا گھپ اندھیرا میری قسمت کو سیاہ کر جاتا ہے میں بہت خوش ہوں کہ پی ٹی اے خواب خرگوش سے جاگ گیا ہے اب اپنے روشن مستقبل کے لیے ایک خوش حال پاکستان کی آرزو لیے میں رات میں سویا کروں گا – پی ٹی اے نے میری  بے روک ٹوک زندگی کے آگے اشارے لگا دیے ہیں کہ میں جان سکوں کہ تیز چلنے سے زندگی لیٹ نہیں ہو جاتی بلکہ قدم اکھڑ جاتے ہیں میں ممنون ہوں ان ذمہ داران کا کہ جنہوں نے مجھ جیسے ہزاروں نوجوانوں کو تباہی سے بچانے کی ایک تدبیر سوچی ہے جنہیں ” دن رات لمبی بات ” اور ” سب کہہ دو ” کے لیے مفت یا انتہائی سستے پیکج مل رہے تھے  بے راہ روی اور اخلاقی زبوں حالی کے خلاف اہم قدم اٹھایا ہے نہیں اب وہ رات نہیں آئے گی گڈ بائے اینڈ گڈ نائٹمعلوم ہوا ہے کہ ٹیلی نار ، موبی لنک ، یو فون ، وارد اور ژونگ اپنی تجوری کی بھیک مانگنے کے لیے عدالت کا رخ کر رہی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہر گھر میں بیٹا یا بیٹی یا بہو موجود ہوتی ہے
یہ بلاگ 24 نومبر 2012 کو قلم کارواں کے لیے لکھا گیا

مشرف کی واپسی کا راز


دبئی میں جنرل صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ کراچی پہنچنے پر ایم کیو ایم آپ کا عظیم الشان استقبال کرے گی اور آپ قوم کے لیے ایک مسیحا کی طرح سر زمین پاکستان پر قدم رنجہ فرمائیں گے اور بالآخر جنرل صاحب قائل ہو گئے-24 مارچ کو جنرل صاحب بلٹ پروف جیکٹ پہنچے پھر پور تیاری کے ساتھ کراچی ائیر پورٹ پر اترے جیسے ایک بڑے مجمے سے خطاب کرنا پڑ جائے گا لیکن ایم کیو ایم اس استقبال کی متحمل نہ ہو سکی جس کا بعد میں جنرل صاحب نے ایم کیو ایم کی قیادت سے شکوہ بھی کیا-جنرل صاحب کے آتے ہی ان پر موجود تمام کیسسز کھل گئے اور ہر عدالت ان کو طلب کر رہی ہے ان پر بظاہر لال مسجد، عافیہ صدیقی اور اکبر بگٹی اور بے نظیر قتل کیسسز ہی ہیں جن پر عوام کی خواہشات پر سخت سزا دئیے جانے کا امکان موجود ہے لیکن میرے لیے ان کی واپسی کا یہ سیج اتنا اہم نہیں جتنا کچھ خفیہ لوگوں کا اس واپسی میں ہاتھ ہے، ان خفیہ افراد نے پاکستان کے خفیہ راز غیر ملک منتقل کرنے پر جنرل صاحب کو پرویز مشرف سمجھ کر ناکارہ بنانے کا پلان ترتیب دے چکے ہیں اس سلسلے میں ان کیسسز کے ذریعے جکڑا جا رہا ہے اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے پرویز مشرف صاحب پر غیر ملک جانے پر پابندی عائد کر دی ہے-غالب امکان ہے کہ ان کو ماروائے عدالت ٹی ٹی پی کے ذریعے قتل کر دیا جائے گا لیکن کیا آرمی اس عمل پر کچھ کر پائے گی؟ میرے خیال میں اس پلان میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی ۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

سیاسی کچھڑی


الیکشن کا علان ہوتے ہی سیاسی ہلچل مچ گئی ہے پرانے ڈیروں پر پھر سے بڑی بڑی چارپائیاں سجا کر رونقیں بحال اور شام کی بیٹھک بیٹھنا شروع ہو چکی ہے ، ہر امیدوار نے شادی غمی کا موقع چھوڑنا، گناہ کبیرہ سمجھ لیا ہے، کارنر میٹنگز روز کا معمول بن چکا ہے قصہ المختصر عوام کی موسم بہار شروع ہو چکی ہے دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحادوں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے رابطے تیز ہو گئے ہیں ساتھ ہی ساتھ سیاسی گھوڑوں کی رفتار میں بھی اضافہ دیکھنے میں نظر آ رہا ہے سر دست آج میں آپ کو پاکستان کی چند ایسی جماعتوں کی سیاسی گری کے مناظر دکھانا چاہوں گا جو آنے والے انتخابات میں اہم حصہ قرار دی جا رہی ہیں
مسلم لیگ ن: سیاسی طور پر منجھی ہوئی پارٹی کے لیے دو ہزار تیرہ کے انتخابات ایک بہت بڑا چیلینج بن چکے ہیں، ایک طرف عمران خان کی بتائی جانے والی سونامی سونامے کا رخ دھار رہی ہے تو دوسری طرف پس پردہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے، بعض تجزیہ نگار تو اول الزکر بھی اسی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں، مسلم لیگ ن کی کوشش ہے کہ حسب معمول اس انتخابات میں بھی مذہبی ووٹ اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے، اسی خیال پر وہ تمام پارٹیوں اور گروہوں سے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہےاس لسٹ میں جمعیت اہلحدیث، اہلسنت والجماعت، سنی کونسل اور جماعت اسلامی کے علاوہ چند چھوٹے غیر سیاسی گروہ موجود ہیں لیکن اس لسٹ کی سب سے بڑی جماعت ، جماعت اسلامی سے معاملات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ، جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ن کے لیے اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اگر اس کی ایڈجسٹمنٹ تحریک انصاف سے ہوتی ہے تو یہ دونوں جماعتیں مسلم لیگ ن کے لیے سردرد بن سکتی ہیں جس کے موثر علاج کے لیے، نواز شریف کو مولانا فضل الرحمن کی ضرورت محسوس ہو گی ، لیکن جماعت اسلامی اس بار چار پانچ سیٹوں پر راضی نہیں ہے ، وہ صرف لاہور کی ساتھ ساتھ پورے بنجاب سے اپنا حق مانگ رہی ہے اور تا حال مذاکرات چل رہے ہیں ہے
تحریک انصاف: جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی کی موجودگی کے باوجود تحریک انصاف ایک نئی پارٹی ہے جو باقاعدہ طور پر اپنے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ پہلی بار میدان میں اتر رہی ہے لیکن اس سے پہلے عمران خان کو جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سابقہ انتخانات میں ایک سیٹ مل چکی ہے ۔ آنے والے انتخابات میں روز اول سے عمران خان سیاسی جماعتوں سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور مسلم لیگ ن کے معاملے میں تو وہ خاصہ شدت پسندانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں لیکن عمران خان نے ہمیشہ جماعت اسلامی کو اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے موزوں سمجھا ہے حال ہی میں سید منور حسن اور عمران خان کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے ملاقات ہوئی اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن تحریک انصاف اس نیوز کانفرنس کے بعد دو واضع حصوں میں بٹ چکی ہے ایک دھڑا عمران خان کی قیادت میں جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا خواہاں ہے اور اس دھڑے میں جاوید ہاشمی اور اعجاز چوہدری جیسے رہنما موجود ہیں دوسرا دھڑا شاہ محمودقریشی کی قیادت میں اس فیصلے کے خلاف چل رہا ہے اس میں عمران اسماعیل، شیریں مزاری بھی شامل ہیں، شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اس ضمن میں مخالف دھڑے کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ایسی سیٹوں پر امیدواران کا علان کر دیا گیا ہے جہاں پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما کھڑے ہوتے ہیں جن میں لیاقت بلوچ، نعمت اللہ خان، میاں محمد اسلم، شبیر احمد خان اور ڈاکٹر وسیم اختر شامل ہیں - اپنی ٹاپ ون سیٹس پر تحریک انصاف کے آ جانے کے بعد جماعت اسلامی کے حلقوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے، اگر عمران خان نے سمجھداری کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ اکیلے رہ سکتے ہیں جس کا فائدہ براہ راست پی پی پی اور مسلم لیگ ن کو ہو گا-
جماعت اسلامی : مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف کے لیے جماعت اسلامی کلید فتح کی حیثیت رکھتی ہے ، لیکن جماعت اسلامی ، سید منور حسن کی قیادت میں نہایت سمجھداری کے ساتھ کھیلنا چاہ رہی ہے اسی لیے اس نے تمام جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے آپشن کھلے رکھے ہوئے ہیں، ہر پارٹی کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اپنی رپورٹس جمع کروائے گی اور ان رپورٹس سے کوئی نتجہ اخذ کیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن ان کو ماضی کی طرح چند سیٹیں نواز کر حمایت لینا چاہتی ہے لیکن جماعت اسلامی شائد اس بار ایسا نہیں کر نا چاہتی، تحریک انصاف نے ایک طرف کمیٹی اور دوسری طرف امیدواران کو جماعت اسلامی کے اہم حلقوں سے سامنے لا کر اسے بد ظن کر رہی ہے۔ قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کی عمران خان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اس محبت کا صلہ جماعت اسلامی وصول کرتے نظر نہیں آ رہی۔ اگر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ، اس سے ایڈجسٹمنٹ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو جماعت اسلامی کو مجموعی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، لیکن کے پی کے میں کسی بھی پارٹی سے اتحاد کر کے حکومت بنانےکی صلاحیت پیدا کر چکی ہے۔
پی پی پی : آصف علی زرداری کی ظاہری قیادت میں پیپلز پارٹی، اس انتخابات میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہی انتخابات میں اترے گی، کے پی کے میں عوامی نیشنل پارٹی اور سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کرے گی جبکہ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام ف سے اتحاد کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا-

پاکستانی قوم پر ایک قرض!


میں لکھنا نہیں چاہتا تھا ، مجھے معلوم ہے کہ میرے عزیزوں میں کسی کا دل دکھے گا اور کسی کا جگر تڑپے گالیکن کیا کروں کچھ موضوع بہت ضدی ہوتے ہیں لوگوں کے احساسات سے لاپرواہ ، ہوا کی روش کے الٹ اور نتائج سے بے نیاز – میرے مہربان کبھی کبھی اس بے رنگ سے موضوع پر جاذب نظر سبز رنگ پینٹ کر کے     دکھاتے تھے اور کہتے تھے کتنا پیارا لگ رہا ہے اور میں چند لفظوں کا تبادلہ کر کے رک سا جاتاجی ہاں میرا موضوع وہ امید ہے جسے سونامی کا نام دے کر ڈرانے کا کام لیا جاتا ہے اس نے پاکستان کے بچے بچے کے آنگن میں امید کا چراغ روشن کر کے خوش نما مستقبل کےسبز باغ دکھاۓ نوجوان اس کی زد میں آ ئے کہ ایم اے پاس دماغ بھی کچھ کام نہ آ ئے اور اس آس نے یوں دلوں میں جڑ پکڑی کہ بینزی بیٹر (ایسا اسپرے جس سےغیر ضروری جڑی بوٹیوں کا صفایا کیا جاتا ہے ) کا اسپرے بھی کر لو تو پھلنے پھولنے لگے لیکن ابھی چند ماہ ہی گزرے کہ دھند چھٹنے لگی اور مطلع صاف ہو رہا ہے نظر آرہا ہے کہ جس نے پاکستان کے سیاسی گند کو صاف کرنے کا نعرہ لگایا تھا اس نے مزید اس کو پراگندہ کر دیا ہےآج اس امید کا حال اس پودے کا سا ہے کہ جسے آپ روزانہ خون پسینہ دیتے ہوں ، اپنے آئیڈیاز کی کھاد دیتے ہوں اور جسے صبح شام دشمن نما مخالفوں کی تپش سے بچاتے ہوں صرف اور صرف اس یقین پر کہ بڑا ہوگا تو میٹھے اور لذیز پھل دے گا لیکن ہوا کچھ یوں کہ جوں جوں یہ پودا بڑھنے لگا پھلوں کے پھول کی کونپلوں کے بجاۓ نوک دار کانٹوں کے مسام نظر آنے لگے سوچئے اس وقت ایک بے لوث کارکن کی صورت حال کسی ہپاٹائٹس کے مریض جیسی ہوتی ہے جسے اچانک پتا چلا ہو کہ اسے یہ مرض لاحق ہو چکا ہے پھر یاد آتا ہے کہ ایک نادان سی سوچ دل و دماغ پر دھند کی طرح چھا جاۓ تو ہم کس حد تک بہہ جاتے ہیں اور کھلی آنکھوں کے آگے بھی اندھیرا سا ہو جاتا ہے  ، بس مجھے یہ بتا دیجئے کہ اقتدار کا لالچ اس قدر منہ زور کیوں ہوتا ہے کہ اچھے اور برے کا فرق مٹ جاتا ہے اور لیڈروں کو اپنے قول و عمل کی سیاہی بھی نظر آنا بند ہو جاتی ہے ، دوستوں ذرا سوچو کیا ایسی امیدوں اور لیڈروں کو ، چوروں اور لٹیروں کو، جاگیرداروں اور وڈیروں کو ، گیلانیوں اور زرداریوں کو ،  حاجیوںاورشریفوں کو ، بھتہ خور دہشت گردوں اور فطرانہ خوروں کو، لبرز اور روشن خیالوں کو گھر میں پڑے مرے ہوۓ چوہے سے زیادہ اہمیت دینا چاہے ؟ جسے آپ فوراّ اٹھا کے باہر پھینک آتے ہیںچلیں کہ سوچوں کو بدل ڈالیں”سب چور ہیں ” کو دماغ سے نکال دیں کیوں کہ اللہ کی زمین کبھی بھی نیک اور صالح لوگوں سے بانجھ نہیں رہی ، ہر دور میں موسیٰ اور فرعون موجود رہے ہیں بس ہماری آنکھیں ہیں کہ دیکھ نہیں پاتی ورنہ مکہ کا وہ عظیم شخص جس پر میرے اور آپ کے ماں باپ قربان، امانت اور سچائی میں پورے عرب میں مشہور و ممتاز، اپنے پیروکاروں کی گنتی ایک دو سے شروع نہ کرتا- آئیے پاکستانی سیاست کے نیک اور پاکیزہ صفت لوگوں کو تلاش کرنے نکلتے ہیں جن پر ایمانداری رشک کرتی ہو، پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک سابق صوبائی وزیر کی سچی کہانی پڑھی تو دل تڑپ اٹھا کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی اور ہم دن میں  بیسیوں بار کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست گند کا ملغوبہ ہے  لیکن وہ محب وطن صوبائی وزیر جس کا نام اس پر نہیں لکھا تھا جرمنی کے دورہ پر جاتا ہے سیکرٹری لیول کا عہدیدار ہمراہ ہے جاتے ہی اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک دوست کو کال کی  اور اسی کی وساطت سے ایک مقامی مسجد میں پڑاؤ ڈال لیا، سارا دن سرکاری مصروفیات چلتی رہتیں اور رات مسجد میں گزرتی یوں محض پانچ سو یورو میں یہ دورہ مکمل ہو گیا لیکن اس قوم پر ایک بھاری  قرض چڑھا گئے کہ ان اور ان جیسوں کو شائد اس عمل سے پہچان لے ، کیا ہم ان کو پہچان سکتے ہیں؟ اور یہ قرض اتار سکتے ہیں؟ جب تک یہ قرض نہیں اترے گا یہ پاکستان بحرانوں میں گھرا رہے گا۔    Contact: www.facebook.com/SaijdQalam      

Pages