الطاف سیلانی

ووٹ ایک امانت ہے

 سنتے آئے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے اس کا صحیح استعمال کریں ،استعمال کرنے کا موقع تو بچاری قوم کو 65سالوں میں ملا ہی صرف پانچ چھ بار ہے،اب پھر انتخابات آرہے ہیں اور اسی بات کا شور غوغا ہے،ایک چینل سے تعلیم کو ووٹ دو،پاکستان کو ووٹ دو کے اشتہار چلائے جارہے ہیں ۔سروے اور پچھلے ڈیٹا یہ بتاتے ہیں پڑھے لکھے افراد کی اکثریت ووٹ دینے سے کتراتی ہے اور امانت میں خیانت کی مرتکب ہوتی ہے ،کچھ لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ پڑھ لکھ کر آدمی بزدل ہو جاتا ہے مگر میرا یہ خیال ہے کہ پڑھ لکھ کر وہ تجزیہ کرنے،سمجھنے اور سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔وہ ووٹ کے استعمال سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے منشور اور اس کے امیدواروں کا تجزیہ کرتا ہے اور پھر یہ سمجھتا ہے کہ انھیں ووٹ دے کر تو امانت میں خیانت کرنا ہے۔
جب وہ  تجزیہ کرتا ہے تو سیاسی جماعتوں کا منشور صرف نعرے بازی کے لئے اور امیدوار پچھلے انتخابات میں جسے گالیاں دیتا تھا اب انہی کا امیدوار بناہوا نظر آتا ہے اور امیدواروں کے معیار کا اندازاہ تو ہمیں آجکل اچھی طرح ہوہی گیا ہے۔چونکہ علم اسے مزہبی تنگ نظری،برادی،رشتہ داری،لسانیت اور تنگ نظر قوم پرستی سے آزاد کردیتا ہے تو کوئی امیدوار اسکے زاویے میں نہی بیٹھتا اور وہ ووٹ کو امانت سمجھتے ہوئے اس کو حفاظت سے اگلے انتخابات تک محفوظ کر دیتا ہے۔

ہنا می





جاپانی قوم کا یہ امتزاج ہے کہ وہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں سے بھر پور پیار کرتیں ہیں۔قدرت نے جہاں ان کو اور نعمتوں سے نوازا ہے وہیں چاروں موسم بھی واضح طور پر عطا کئے ہیں،جاپانیوں کا پھولوں سے پیار اور ان کو سجانے کا فن جسے ایکے بانا کہا جاتا یے اب ساری دنیا میں عام ہوتا جاریا یے۔اسی طرح موسموں کے اعتبار سے اسے تہوار کے طور پر منانے کی روایات بھی کئی صدیوں پر محیط ہے، سردیوں کے خاتمے اور بہار کے آغاز میں جگہ جگہ ساکورا یعنی چیری کے پھول درختوں پر کھل اٹھتے ہیں اور ان درختوں کے نیچے بیٹھ کر جاپانی قوم کھانا پینا ،اورناچتے گاتےہوئے لطف اندوز ہوتی ہے جسے ہنامی کہا جاتا یے۔
روایت کے مطابق یہ تہوار کوئی آٹھویں صدی سے منایا جاتا ہے پچھلے زمانے میں صرف اشرافیہ یہ تہوار مناتا تھا مگر اب  ہر خاص و عام اسے انجوائے کرتے ہیں، مارچ کے آخری ہفتہ سے ساکورا کا پھول مختلیف علاقوں میں کھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور اپریل کے درمیان تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ،ساکورا کے پھول کی عمر صرف ہفتہ دس دن ہوتی ہے اور وہی پھول جن سے عوام لطف اندوز ہوتی ہے پنکھریوں کی شکل میں سڑکوں اور گلیوں کو سفید و گلابی کر رہا ہوتا ہے، ہنا می کو منانے کے لئے شہری و علاقائی حکومتوں کی جانب سے باقاعدہ انتطامات کئے جاتے ہیں اور پارکوں اور ان جگکہوں جہاں ساکورا ہوتا ہے اسے روشنیوں سے منور کردیاجاتا ہے ۔
اور یہ منظر انتہائی خوب صورت ہوتا ہے



  

ارتھ ڈے

کل ساری دنیا میں ارتھ ڈے کے زریعے انرجی کی بچت کا پیغام پہنچا یا گیا۔جیو ٹی وی پر کئی دنوں سے کمپین چل رہی تھی کہ 23 مارچ کو رات ساڑھے آٹھ سے ایک گھنٹے کے لئے بجلی کی بچت کریں اور غیر ضروری بتیاں بجھا دیں ۔رات کو جیو پر پاکستان کے مختلیف شہروں کی سرکاری عمارتوں کے بتیاں بجانے کے مناظر دیکھائے جا رہے تھے،عوامی طور پر اس کا کتنا ردعمل ہوا پاکستان میں نہ ہونے کی وجہ اس کا تو مجھے علم نہی مگر یہ مناظر دیکھتے ہوئے مجھے دو سال پہلے یہاں جاپان کے وہ دن یاد آگئے جب زلزلے اور سونامی کے بعد جاپانی حکومت نے بجلی کی قلت کے سبب لوڈ شیڈینگ اور بجلی بچانے کا اعلان کیا ہوا تھا اور یہاں کی قوم نے اس کا اتنا مثبت جواب دیا کہ پورا ملک جو روشنیوں میں جگمگاتا تھا شام ہوتے ہی اندھیروں میں ڈوب جاتا تھا،شاپنگ سینٹر اسی طرح گاہکوں سے بھرے ہوتے تھے مگر جہاں چار چار لفٹیں لگی ہوئی تھیں وہاں ایک لفٹ استمعال کی جاتی تھی،اسکیلیٹر کے بجائے سیڑھیاں پر اترنا چڑھنا کیا جاتا تھا
مگر مجال ہے کہ کوئی شکایت کرے ،گھروں میں لوگوں نے جو بجلی کے پلگ مستقل لگے ہوتے ہیں ان تک کو نکال دیا ۔
        اس مثبت ردعمل پر ایک دو دنوں میں ہی حکومت کو لوڈشیڈینگ کا فیصلہ واپس لینا پرا۔ دوسری طرف جب ہماری حکومت نے  گرمیوں کے موسم میں بجلی کی بچت کے لئے صرف ایک گھنٹے شام کو جلدی بازاروں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا تو تاجروں نے  ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔واقعی قوم نعروں سے نہی عمل سے بنتی ہیں۔