عمران اسلم ( پِھر پُھر)

نفرین


ہوا درختوں کی شاخوں سے  مل کر مانوس  سا شور مچا رہی تھی۔  اوپر ٹہنیوں پر بیٹھتے اڑتے  پرندےکُرلا رہے تھے۔بے ساختہ ہنسی اس کے   منہ سے بہتی رال کے ساتھ ملتی تو ہوا میں کئی غبارے چمکنے لگتے۔ سورج پار چوٹی کے درختوں میں چھپ رہا تھا۔آملے کے تنےسے ٹیک لگائے وہ نیچے دور تک ،  پائوں پسارے  وادی  ،کی طرف نظریں جمائے ہوئے تھا۔    جدھر  بگولوں کا راج تھا۔ تھوڑی دیر بعد  آس پاس  گرا کوئی آملہ ہاتھ میں اٹھاتا ، قمیص کے پلو سے رگڑتا اور منہ میں رکھ کر چبانا شروع کر دیتا۔ دو چار چوسے لگا کر   سامنے   سر نکالتی شہتوت کی شاخوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا۔ اسے یہاں بیٹھے کتنی ہی دیر ہو چلی تھی۔    سال ڈیڑھ بعد آج ادھر آ نکلا تھا۔  کبھی وہ زمانہ تھا کہ بڑی ڈھیری  سے  گھر  کے  راستے میں ہی لڑکھنیاں کھاتا رہتا۔ کبھی اماں کے پیچھے پیچھے۔ کبھی بہن کے ساتھ گھسٹتا ہوا۔کبھی ابا کے کاندھے پر سوار۔  لیکن   اتنے وقت سے   وہ بڑے شاہ  کی دیوڑی کا پتھر ہو کر رہ گیا تھا۔ وہیں پڑا رہتا، میلا کچیلا، گندہ مندہ، زائرین کی ٹھوکروں میں،  مریدین کی جوتیوں پر۔ نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کی سدھ۔ کبھی کسی نے جھلا سمجھ کر  کچھ سامنے لا دھرا تو دو چار لقمے منہ میں دے  کر جگالی کرتا رہتا۔  سامنے اس کا مکان تھا۔ جس کی  چھجے اور صحن اماں بڑی محنت اور محبت سے لیپا کرتی تھی۔ چھت زمین سے                                                                              آ  ن ملی ہوئی اور   شہتیر ،بالے ندارد ۔  پچھواڑے  کی دیواریں اکھڑی  ہوئی اور پتھر غائب۔شاید  گائوں والوں میں کوئی باپ کا مال سمجھ کر اٹھا لے گیا  تھا۔  سڑک       تازہ تارکول کی چمک سے  کسی مالذادی کی مانند چھاتی  تانے نیچے  موڑ میں اتر رہی تھی۔ غالبا عرس کے لئے تیار  ہوئی تھی  یا پھر ووٹوں کا زمانہ قریب تھا اس لئے   مہمانوں  کی خاطر نویں نکور کردی گئی تھی۔  جب پرانے رستے پر بڑے شاہ  نے سڑک نکالنے کی ٹھانی تو   اسی رستے کو ہموار کرنے کا طے ہوا جو اس کے پڑدادا نے پیر شاہ کی گھوڑی واسطے بنایا تھا۔  اس کی  اماں بتاتی تھی کہ پڑدادا نے یہاں سے لے کر بڑی ڈھیری تک سارا رستہ اکیلے سیدھا کیا تھا۔تیلو اور اس کی بہن  نے  ابا سے ات ضد کی، لیکن وہ  بے چارہ کیا کرتا۔ اسے تو  بڑے شاہ کا حکم بجا لانا تھا، چاہے باغیچے بجائے اس کے اپنے پھولوں کی قربانی  ہی دینی پڑتی۔  سڑک ان کے پچھواڑے سے ہو کر گزرنی تھی۔ جہاں   دونوں  نے مل کر گل عباسی کے بےشمار پودے لگا رکھے تھے۔    خرگوشوں کی موریاں بھی بیچوں بیچ تھیں۔ جن کے اندر روئی کے گالوں جیسے بہت سارے بچے موجود رہتے۔  ایک طرف چنبیلی کا بڑا سا پیڑ اپنی بہار دکھلاتا۔  اور اس قطعے کے آخری سرے پر  آم کے چھتنار  پیڑ ان کی گرمیوں میں کھیلن کو سایہ فراہم کرتے۔  پھدکتی گلہریاں،  چہکتے پرندے ، رٹتے توتے یہی تو ان کے کھلونے تھے نیچے والی تھوڑی سی ہموار زمین پر ایک  کمرہ چھت کر جانوروں کے رہنے  جوگا بنایا گیا تھا۔   یوں ان کی آم  پر  ٹنگی  پینگ کا   لمبا ہلارہ لیتے   نیچے ڈھلوان میں گرنے کا خدشہ بھی ختم ہو گیا تھا۔ ایک سیدھ میں مکان کے چار کمرے، دائیں طرف چولہانہ اور اس کے پیچھے مرغیوں کا بڑا پنجرہ، جس کے ایک حصے میں  باوجود اماں کی مخالفت ،اس نے درجنوں  گلابی، نیلی، پتھری ، پیلی آنکھوں والے کبوتر پال  رکھے تھے۔ کبوتروں کے شوق میں ابا اس کا سانجھے دار تھا۔ گائوں کی باقی  تیس بتیس مکان  آدھ  میل پرے تھے ۔ درمیان پھلاہی اور شیشم کا  گھنیرا جنگل پڑتا ۔ نیچے کی ڈھلوان پتھریلی تھی۔ آدھے رستے تک اکا دُکا چیڑ وادی کی پہرہ داری  کرتے نظر آتے۔ پہاڑی چشموں  کا سارا پانی چھوٹی چھوٹی کَسیوں سے ہوتا ہوا  بڑی ڈھیری سے زرا پہلے  جوبن میں آ جاتا۔ پتن بڑی ڈھیری کے قریب بل کھاتا دوسری طرف مڑ جاتا جیسے رکوع میں جھکا  جا رہا ہو۔  سارا علاقہ "بڑے شاہ " کا مرید تھا۔ چار پانچ پشتوں سے بڑی ڈھیری آباد تھی۔ مزار میں لیٹے پیروں کی کرامت نے زندہ وارثوں کا شِملہ اونچا رکھا ہوا تھا۔ بڑے شاہ ،چھوڑ ،جب ان کے پوتے بھی راستے میں نکلتے تو چلنے والے  گھوڑی کی سموں کا غبار بیٹھنے تک ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔   گھروں  میں چارپائی تک کی پائینتی بڑی ڈھیری کی طرف نہ کی جاتی۔ اس کا ابا بڑی ڈھیری پر مٹھائیوں کی دوکان کرتا تھا۔ بتاشے،  مکھانے، نگدیاں، سنگترے وہ  جیبیں بھر بھر کھاتے رہتے۔ درگاء پر آنے جانے والوں کا جھمگٹا رہتا۔  عید، شبرات پر ہجوم دوگنا ہوتا اور بڑے عرس پر تو دور دور سے لوگ آتے۔ جھولے لگتے، ٹھیلے سجتے۔ بٹیر لڑائے جاتے، مرغے ٹھونگے مار مار اک دوجے کو لہو لہان کرتے ، تن آور جسموں، اونچے کوہانوں اور تیز نوکدار سینگوں والے  بیل  طویل کھیتوں میں دوڑ لگاتے ، کتوں کی لڑائی میں چھوٹے کتے بڑے کتوں کے کان کتر جاتے۔رنگ برنگی چوڑیوں کے تھال سجتے اور  گوریاں ،کلائیوں پر چوڑیاں چڑھاتے  دل سینوں سے باہر کھینچ لیتیں۔ اور پورے سال میں آمدن  کے بعد   واحد خرچہ جو شاہوں کی جیب سے نکلتا  سونے کے پانی میں ڈھلے وہ تاج جو جیتنے والے  مقابلہ  بازوں  کے سر وں پر رکھےجاتے۔      تیلو کا ابا  فقط کبوتر اڑاتا۔  اس کا کہنا تھا بے زبان جانوروں کو لڑا کر ،؛ ان کا لہو نکال کر گناء ملے گا۔مقابلے میں حصہ لینے والے ہر سال اس آس امید پر اپنے کبوتر فضا میں چھوڑتے کہ شاید اب کی بار تیلو کے کبوتر جلد تھک  کر چھتری پر جا بیٹھیں گےتیلو کا ابا ہر سال جیت  کا تاج سر پر سجا کر لاتا اور تیلو اپنے پیروں پر چلنے کے قابل ہوا  تب سے تاج اس کے سر سجنے لگا تھا۔  کیسا سرشاری والا لمحہ ہوتا جب  مقابلے کا آخری کبوتر بھی   فضا میں تاڑتے بہریوں، ندروں سے بچ بچا، ہانپتا کانپتا، قلابازیاں کھاتا کسی چھتری پر آ بیٹھتا۔ اور تیلو کے رنگلے رتے,روجھے لال سرےکبوتر دور فضا میں قلقلاتے ہوئے پر پھڑپھڑا   رہے ہوتے۔ پھر تیلو  لوگ ہاتھ ہلا ہلا کر اپنی ڈار کو واپسی کے لئے آمادہ کرتے۔  غول غٹر غوں کرتا ، پر پھڑپھڑاتا   معبد کے اوپر سے چکر کاٹتا، ایک ایک کر کے  کبوتر چھتریوں پر آ بیٹھتے۔   زائرین کے تالیوں، نعروں اور واہ ، شاباش کے شور میں آب زر والا تاج تیلو اپنے ننھے سر پر جمائے  گردن اکڑا لیتا۔ اب کی بار  تو میلے کی رونقیں دوگنی اور ھجوم بڑھ کر  ہونا تھا  کہ  عرس کی تاریخوں سے کچھ  دن قبل ووٹ بھی ڈلنے تھے ۔  اس لئے   خاص تیاری  واسطے تیلو کے ابے نے    بادام گری،سُچے موتیوں، عنبر ، زعفران  اور پستے سے    کبوتروں کے لئے  کشتہ تیار کیا۔ تیلو روز نور تڑکے ان سات   بازی کبوتروں کو علیحدہ  نکال کر گولیاں کھلاتا،  اور سب سے نظریں بچاتے آملے کا  تیل  ان کے پروں پر مل دیتا۔   ابھی پچھلے ھفتے   اماں اسے بخار، درد میں آملے کی کڑھی بنا کر پلاتی   رہی اور   بدن تیل میں چپڑ تے اسے سمجھاتی کہ تیل کی مالش پٹھوں  میں چستی پیدا کرتی ہے-          ہوائیں بے موسمی سرد ہو رہی تھیں۔ خنکی ھڈیوں میں  جذب ہو جاتی  ؛  پالا مردوں کے پسلیوں میں  کپککپاہٹ طاری کر دیتا اور  برودت سے ڈری عورتیں اوڑھنیوں پر ہاتھ مزید مضبوط کر لیتیں۔ ڈور ڈنگر اندرونی طویلوں میں منتقل ہو گئے۔ بستی کے کُتے بھی ، بجائے بھونکنے بس چوں چوں ہی کرتے رہتے جوں ان کے گلے میں   تریل جم گئی ہو۔   ارد گرد  گیدڑ، لومڑوں کی بولتی بند تھی۔        سورج جوں ہی  سامنے کو چوٹی سے پرے ہوتا ، چولہانوں سے دھواں اٹھنے لگتا۔  کثیف، گاڑھا، دھواں، عجیب شکلیں بناتا ،ہوا کے سنگ لہراتا دھواں۔ گائوں کی مسجد سے موذن کی آواز گونجتی یا مرغوں کی بانگ سنائی دیتی۔ اور تیلو کے پچھواڑے کبوتروں کی غٹر غوں۔ ابے نے   مٹھائیوں کے لئے زیادہ مال منگوا لیا تھا۔  ڈھیری پر     ٹھٹھ تو ابھی سے لگنے لگا تھا۔ جیپوں کا ، لمبی کاروں کا، اور بسوں ٹریکٹروں میں   ارد گرد کے گائوں دیہات سے لوگوں کی آمد ہوتی رہتی۔ ڈھول کی تھاپ،  ٹولیوں کا رقص۔ ماحول پر  میلے کے شوق سے زیادہ ووٹوں کا جوش غالب تھا۔ بڑی بڑی چمکتی گاڑیاں ، حکومتی اھلکار اور سرکار کے لوگ  جب دھول اڑاتے تیلو کے پچھواڑے سے گزرتے تو وہ شام گئے تک کبوتروں کے پروں سے پھونکیں مار مار  مٹیالہ رنگ ھٹاتا رہتا۔ مقابلے کا تو سوال ہی نہ تھا کہ شاہوں کے سامنے کون کھڑا ہوتا مگر دھوم دھام اور دھاک بٹھانے کو ھلہ گلہ بھی لازم۔ شاہوں کے اپنے جتھے دار کچھ کم نہ تھے لیکن نہروں سے منڈاسوں والی ٹولیاں بھی  آ گئی تھیں۔  ڈھیری پر اٹھنے بیٹھنے والے بتاتے   نئے  آنے والوں میں زیادہ تر ان مفروروں کے سگے ، قرابتی ہی ہیں جو سال کا بیشتر مہینے ڈھیری  کے اوطاقوں میں یا آس پاس کے دیہات میں گزارتے  ۔      لوگ ان  مفروروں کی موجودگی سے سہمے سہمے رہتے ، چوپالوں ، چولہانوں  میں ان کے متعلق بے شمار  عجیب وغریب کہانیاں مشہور تھیں۔بھینس لاٹھی والوں کے  باڑے ہی   سجتی، سو ووٹ پڑے اور  ڈھیری والے بن گئے۔    پہاڑیاں  گولیوں کی آوازوں سے تڑتڑ کر اُٹھیں۔رات کو ایسا چراغاں ہوا کہ علاقے والے پچھلے سبھی   الیکشنوں، عرسوں کو بھول گئے۔لڈیاں بھنگڑے، نچنیاں، گویے، ڈھول، بانسری؛ شاہ ساب کے حکم   پر مہمانوں کے لئے خصوصی انتظام   کیا گیا تھا۔دھن کی پیاس، جوف کی بھوک کے ساتھ شب باسی کا بندوبست کیسے چھوٹ سکتا تھا۔ لیکن اب کی بار شاید مہمانوں کی گنتی زیادہ تھی ۔ووٹوں کے دوسرے دن جب جشن  منانے والے ابھی سو رہے تھے۔    قریبی محلوں سے بین اٹھنے لگے۔ رات کو عجیب آندھی چلی تھی۔  سیاہ بگولوں والی۔      گھمن گھیری  میں کیا کچھ اٹھک  پٹخ ہوئی!  بستی والوں کو بس دو بچیوں کی اوڑھنیاں ہی مل سکیں۔   پھر بگولوں کی عادت ہی بن گئی۔ کبھی کسی کا بیل اڑ گیا، کبھی کسی کی بھوسے میں آگ لگی۔ کہیں عورتوں کی نچڑی لاشیں ملیں کہیں مردوں کے ادھ کھائے جسم۔ بستی والوں کے سیانوں نے حساب لگایا؛ آئینہ پکڑا  معصوم بچوں کو بٹھایا؛ فال نکالے؛ اور پتا کرایا کہ بگولے دن میں بڑی ڈھیری کے اوطاقوں میں جا سوتے ہیں۔  مگر مجال کس کی جو  شاہوں کی ڈھیری سے کسی کو جگا  پائے۔ بستی  والوں نے آواز اٹھائی، شور مچایا، غصہ دکھایا۔  پنچائیت بلائی گئی، پریا بیٹھی ، اور جوانی کی گرمی والے جوان لڑکوں نے منڈاسے والوں  کی  طرف ٹیڑھی آنکھوں سے دیکھا۔  بڑی ڈھیری والوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔  بات تو تکار تک پہنچی۔  اور پنچائیتی کھاناپینا کر کے اٹھ آئے۔ اس رات بستی  کے کچھ گھبرو ، ٹیلو ںمیں جا بیٹھے۔   سویرے ایک بگھیاڑ  کی لاش نالے سے ملی، اس کے چہرے پر سیاہ منڈاسا  بندھا تھا۔پھر  معمول بن گیا۔ کبھی  کوئی بستی والا بگولے میں اڑ جاتا اور کبھی کوئی منڈاسے والا بگھیاڑ  مارا جاتا۔ڈھیری والوں کے لئے یہ معاملات ناقابل برداشت تھے۔ پنچوں کو پیغام بھجوایا گیا، پریا بیٹھی اور دھمکی لگائی گئی۔ لیکن گرم خون کو بڑھاپے کا  تجربہ کب راس آتا۔ پانچ سات منڈاسے والوں کی موت ہوئی تو ڈھیری والوں کا ماتھا ٹھنکا۔  بستی والوں کو سخت پیغام بھجوائے گئے۔ اور شدید نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ مگر بات سیانوں کے ہاتھوں سے نکل کر دیوانوں کے تک جا پہنچی تھی۔ شہر سے پولیس منگوائی گئی اور بستی کا گھیرائو کر لیا گیا۔ بہت سارے مرد عورتیں گرفتار کر لئے گئے، کچھ آگے پیچھے کو کھسک لئے۔ کچھ نالوں میں اتر گئے اور کچھ پہاڑوں پر چڑھ گئے۔  تیلو کا ابا  اپنا مکان چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔ کسی طرح اس نے اپنے تعلقات والوں کے زریعے صفائیاں پیش کر کے امان حاصل کر لی۔  مگر سکون کچھ دن ہی رہ سکا۔ ایک شب تیلو کی اماں اور بہن غائب ہو گئیں۔ تیلو کا ابا بڑی ڈھیری کی طرف فریاد لے کر بھاگا اور بس اتنا پتا چل سکا کہ اس کا پیر پھسلا تھا اور وہ تیل والے کڑا میں گر کر پکوڑا ہو گیا۔بستی میں اکا دکا جی ہی باقی بچے تھے جو بڑی ڈھیری والوں کی نظر میں نمک حلال تھے مگر ڈر ان کی  لبوں پر بھی سوکھے میں پپڑیوں کی طرح جما ہوا تھا۔ اس دن بھی تیلو دروازے میں مڑا چڑا ایک کپڑے میں لپٹاتھا جب کسی زائر کی ٹھوکر سے بلبلا اٹھا۔ وہ اٹھ کر اس طرف کو نکل آیا جہاں زائرین کے لئے دیگیں  پکتی ہیں۔  دیر تک ایک چولہے کے پاس بیٹھا آگ تاپتا رہا۔ پھر نجانے دل میں کیا سمائی مٹھی بھر کر دیگ  میں ابلتے  سالن میں ڈال کر بھاگ کھڑا ہوا۔   باورچی گالیاں بکتا رہ گیا اور تیلو دور کھڑا ہوا کر اس کا منہ چڑانے لگا۔ پھر وہ روتا بلکتا اپنے مکان کی جانب  جانکلا۔سڑک سے بندوق برداروں سے لدی جیپ  زوں زوں کرتی  گزری۔  تیلو نے جلدی سے دو ڈھیلے مٹی کے اٹھائے اور جیپ کے پیچے بھاگا جو  موڑ مڑ کر دور جا چکی تھی۔ غوں غاں کی آوازیں نکال کر اس نے ڈھیلے   دھول کے پیچھے پھینک دئےہوا تیز چلنے لگی۔   اوپر گزرتے بادلوں نے پانی  کا ھلکا سا چھینٹا پھینکا جوں پیار سے پوچھتے ہوں! اوئے ٹیلو ، کیا چپ کر کے بیٹھا ہے۔ اماں   شام میں آٹا گوندھ کر ٹیلو کے چہرے پر  انگلیوں سے نچڑتا پانی پھینکا کرتی۔ " میرا شیں  ، اٹھ کبوتر بند کر کے چولہانے میں آ جا۔ اور تیلو کی بہن بھاگتی جا کے کبوتروں کو آوازیں نکال پنجرے میں بند کر تی۔ تیلو کے ہاتھ دھلا  ، چولہانے میں جا بٹھاتی۔اماں توے سے روٹی اتارتی  اور بہن شوربے میں چوری  کوٹ،  نوالے اس کے منہ میں ڈالے جاتی۔    کبھی ابا جو مغرب میں پہنچ آتا تو ان کا کھانا  جلیبیاں،مٹھائیاں ہی ہوتیں۔ماحول میں خنکی بڑھ رہی تھی۔ ٹیلو کو سردی کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ اٹھا اور  نیچے  اکھڑے صحن کے کونے میں جا لیٹا۔ اپنے گھر کے کونے کھدرے بھی  ماں کی گود جیسے ہی ہوتے۔    اسے   نیند نے آ لیا۔ نگوڑا کے دیر سویا، پھر کسی گاڑی کی چنگاڑ نے جگا دیا۔    پکی سڑک سے دھول تو نہ اٹھی لیکن دھواں اس کے نتھنوں میں بھر گیا۔  وہ اٹھ کر  سڑک کی جانب بھاگا، گاڑی  موڑ مڑتی یہ جا وہ جا۔  وہ واپس صحن میں آ بیٹھا۔ ارد گرد ایک پرحول سناٹا اور جھینگروں کا  سیاپا  تھا۔ نہ  کبوتروں کی غٹر غوں ،  نہ مرغوں کی بانگیں، نہ ممتا کا سراپا، نہ بہن کا بہناپا، نہ باپ کا پہلو، بس  تیلو کا اکلاپا۔جھاڑیوں میں آواز پیدا ہوئی تو وہ ادھر کو بھاگا   اور جھانک کر دیکھنے لگا شاید کوئی خرگوش ہے۔ ایک جھاڑی میں کسی پرندے کا گھونسلہ اور انڈوں پر نظر پڑی تو اسے اپنے کبوتر یاد آ گئےاس کی رال پھر بہنے لگی۔ لبوں سے بھی اور شاید آنکھوں سے بھی۔
وہ اٹھ کر مکان کے پچھواڑے والی سڑک پر جا  لیٹا۔ بارش کی بوندیں دھیرے دھیرے تیز ہو ری تھیں ہوا کی ٹھنڈک بڑھ گئی تو وہ کانپنے لگا۔  اسے مثانے میں سہرن محسوس ہوئی تو اٹھ کر آم کے پیڑ کے نیچے آن کھڑا ہوا جہاں کبھی وہ بہن کے ساتھ اس بات پر لڑائی کرتا تھا کہ پہلے کون پینگ کا ھلارا لے گا۔  نیچے  وادی میں درخت بین کرتی چڑیلوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ دور بڑی ڈھیری پر روشنیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ بستی کی جانب  سے گیڈڑ اور لومڑ آوازیں نکالتے تو ماحول آسیب زدہ ہو جاتا۔ تیلو نے قمیص کا پلو اٹھایا اور مثانہ خالی کرنے لگا۔ تیز ہوا کے جھونکے بڑی  ڈھیری کی جانب دوڑ رہے تھے۔

ہم بولیں گے!!!



ہمارا ضمیر ضرور جاگے گا، جب حلب کے کسی مکان تلے دبا، اکیلا بچ جانے والا زخموں سے چور بچہ زرا بڑا ہو کر کسی وڈیو میں کسی مغوی کا گلا کٹتا نظر آئے گا۔ ہم لازم آواز اٹھائیں گے جب کبھی بمباری میں تباۃ حال گائوں کی اکیلی بچی کچھ عرصے بعد کسی محاز پر کلاشنکوف پکڑے گولیوں کی بوچھاڑ کرتی دکھے گی۔ ہم بالکل احتجاج کریں گے جب گولیوں کی تڑتڑاھٹ، ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ، جہازوں کی پروازوں، گولہ بارود کی بو، دھویں، غبار کے منظر میں ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے بیچ پرورش پانے والا بچہ کل کلاں کو کسی مصروف۔ پر رونق بازار میں پھٹے گا۔ ہم بولیں گے اور ہم ہر صورت بولیں گے جب بے بسی کی پینگوں میں ھلارے لینے والا طفل یتیم کسی کے گلو پر بے حسی سے خنجر چلائے گا۔ ہم چیخیں گے اور ہم کیوں نہ چیخیں جب رنگ و نور والے چوراہے میں خون آشام دہشت گرد معصوم بے گناہ غیر مسلح انسانیت کو لہو کا چولا پہنا دے گا۔ جب کبھی سارے خاندان کی اجتمائی قبر سے لپٹ کر رونے والا بچہ، کسی چوک میں نہتوں کو رلائے گا۔ جب کبھی ماں، بہن بیٹی کی لٹی عزت پر چادر چڑھانے والا اور باپ، بھائی، بیٹے کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھانے والا کسی نیو ائیر نائیٹ کو ماتمی شام میں بدلے گا۔ ہماری ڈی پیوں کا رنگ بھی بدلے گا۔ ہمارے دلوں میں ٹیسیں بھی اٹھیں گی۔ہمارے چہرے پر ملال بھی نمایاں ہو گا۔ ہماری آنکھوں سے اشک رواں ہوں گے۔ ہمارے کی بورڈوں سے تعزیت، افسوس، لعن تعن کے لئے لمبی لمبی پوسٹیں ٹھک ٹھک کرتی نمایاں ہوں گی۔ ہم انسانیت کے ساتھ کھڑے ہوں گے جب بھی کوئی مظلوم ہماری بے حسی، پتھر دلی، ستم کوشی، طوطا چشمی اور بے غیرتی کی وجہ سے انسانیت نامی شے سے مایوس ہو کر کسی "پر امن ظالم" کے گریبان میں ہاتھ ڈالے گا ہم بولیں گے۔

میراثیوں کا رولا!

بالے میراثی کی برادری بڑی تھی اور ٹبر بھی۔ ہر تیسرے دن کوئی نہ کوئی مر پڑتا۔ کوئی بوڑھا دمے سے موت کا شکار ہوا، کوئی عورت زچگی کے دوران مر گئی، کوئی بچہ نمونیے سےفوت ہو گیا، کوئی لڑکی تندور پہ آگ لگنے سے ہلاک۔کوئی مرد کرنٹ لگنے سی لڑھک گیا۔ سبھی گھر ایک ہی گائوں میں آس پاس تھے۔ روز کی بیماریاں، 
مردے، میتیں،کفن دفن، قبریں، جنازے؛ بالا تو گویا 'اک' ہی چکا تھا۔ خاص کر سسرالیوں سے ان بن کے باوجود منہ بسورے ان کی کھاٹیں اٹھانی پڑتیں۔
ایک رات گائوں میں ڈاکہ پڑا۔ مزاحمت پر بالے کے سسر سمیت تین دیگر سسرالی گھر کے مارے گئے۔ بالا گاؤں سے باہر تھا۔ اس کی عورت تابعدار اس کی اجازت کے بغیر دہلیز پار نہ کرنے والی۔ بالے کو حادثے کا معلوم پڑا تو بھاگا چلا آیا۔ کالے کپڑے نکالے، بیوی کو بھی کہا ماتمی لباس پہنے۔ جورو کو غم کے باوجود اچھا لگا کہ پہلی بار سسرالیوں کے دکھ میں اس کو اپنے آپ مضطرب دیکھ رہی تھی۔
دونوں گھر سے باہر کو چل دئیے۔ سامنے درختوں کی جھنڈ سے پرے عورتوں کے بین کی آوازیں آ رہی تھیں۔ بالا اور اس کی جورو آگے پیچھے چلتے پگڈنڈیاں ناپنے لگے۔ شیشم کے بڑے درخت سے بالا اوپری محلے کو مڑ گیا۔ پیچھے آتی اس کی عورت ٹھٹک کے رکی۔ لمحہ بھر انتظار کے بعد روہانسی ہو کے پکاری۔'' اے بالے، اوئے میرے دکھیارے۔ غم میں پگلا گیا''۔
اودھر کو چل ناں، ساری میتیں ابے کے ویہڑے ہی رکھی ہیں۔ بالا رکا، اور پیچھے دیکھے بغیر بولا '' کمینیے، چپ کر کے چل، رات ڈاکو، چوہدری کی مج بھی لے گئے۔ پہلاں اس کا افسوس کرنا ہے۔

سپارٹکس کا مدرسہ۔

سپارٹکس، ایک دومالائی کردار، یورپ کے داستان گو کا سورما۔اساطیری سرباز،بہادر، جری۔
عظیم سلطنت روما کا باغی۔ سو ہزار برگشتہ و منحرف غلاموں کا رہنما۔جی ہاں وہی غلام شمشیر زن، نیزے باز، تیغدار جن کی بارے فلمیں بنا بنا ھالی وڈ پیسے کماتا ہے۔ گلیڈی ائیٹر!!آزادی کا متوالا، صرف اکیس سو سال قبل وہ رومن فوج کے ہر اول دستے کا بہترین سپاہی تھا۔ پھر کسی شاہی فرمان کے برعکس اس نے اپنی ہی عوام پر تلوار اٹھانے سے انکار کر دیا۔پاداش میں اس کا گھر جلا دیا گیا، اس کو بیوی سمیت غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔روم کی ان بھول بھلیوں میں جہاں موت کا کھیل کھیلا جاتا تھا۔ جہاں پنجروں میں بجائے جانوروں کے انسان پالے جاتے اور جہاں میدان میں   آدمی لڑائے جاتے۔ وہ پیدائشی حریت پسند تھا۔ آزاد منش، اس کی ماں نے اسے آزاد جنا تھا، اس کا بچپن، اس کی جوانی آزاد ہی گزری تھی۔اسے رومیوں کی دلجوئی کے لئے، ان کے وحشیانہ شوق کی تسکین کے لئے ان کے سامنے کٹنا کاٹنا، مرنا مارنا انہتائی ناگوار گزرتا۔اپنے دوستانہ انداز نے اسے  پہلوانوں کے درمیان پسندیدہ شخصیت بنا دیا اور اسی کا فائڈہ اٹھاتے ایک دن وہ اپنے ستر ساتھیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ان ستر مفروروں نے چھاپہ مار کاروائیوں سے  بہت جلد روم اور مضافات میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ لوگوں کی زبان پر ان کا نام عام ہونے لگا۔ اور غلام انہیں نجات دہندہ سمجھ کر ان کے پاس پہنچنے لگے۔وہ ستر سے سات سو ہوئے اور پھر سات ہزار۔ رومیوں کے ستائے ہوئے، ان کے انسانیت سوز مظالم سے تنگ آئے غلام فرار ہو کر ان کے پاس پہاڑوں میں پہنچنے لگے، عورتیں ، بچے، بوڑھے۔ اس قافلے میں سبھی  ملتے جارہے تھے۔ سپارٹکس جہاں  جنگی مہارت میں لاجواب تھا وہیں انتظامی صلاحیتوں کا بھی بہترین مظہر ثابت ہوا۔  اس نے سلطنت روما کے ان باغی غلاموں کے اندر   اک آزاد زندگی کا جذبہ پھونک ڈالا۔ وہ مرنے مار نے کے پروردہ تو پہلے ہی تھے اب ان کے سامنے ایک منزل تھی ایک خواہش تھی اور ایک جذبہ جو  دوسرے ہر خیال سے برتر تھا، بدلے کا،  انتقام کا، ظلم کے عوضانے کا۔ اور  برسوں ظلم کی آگ میں جلنے کے بعد،  ان غلاموں کے لئے  انسانی جان بے وقعت تھی۔ سو  وہ مستقل اور منتقم مزاجی کے ساتھ سلطنت  پر حملے کرنے لگے۔  وہ شہروں، قصبوں دیہاتوں پر حملہ آور ہوتے ، مال دولت لوٹ لیتے اور کشتوں کے پشتے لگا دیتے۔ ان کے سامنے آنے والا نہ بوڑھا ہوتا، نہ عورت نہ بچہ، ان کی نظر میں سب ایک تھے "ظالم رومی"۔اس  مفروری سپاہ کی انتقامی کاروائیوں میں جان سے جانے والے رومیوں کی گنتی کا اندازہ ہی لگایا جاتا ہے۔ چار لاکھ، پانچ لاکھ، سات لاکھ۔سپارٹکس ایک بہترین گوریلا رہنما تھا، وہ پلٹنے، چھپٹنے، چھپٹ کر پلٹنے کی حکمت عملی سے بخوبی واقف تھا  اور ان جنگی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہو کر اس نے سلطنت روما کی بنیادوں کو ھلا کر رکھ دیا۔ اس کی سرکوبی کے لئے بہت  دفعہ کوششیں کی گئیں لیکن بےسود و بےکار۔ ایک سال کے عرصے میں سپارٹکس کے پاس ایک لاکھ سے زائد لوگ اکٹھے ہو چکے تھے۔  سپارٹکس کو  اپنے لوگوں کی فکر تھی۔ اتنی بڑی آبادی کو یوں جنگلوں ، پہاڑوں میں ساتھ رکھ کے گوریلا جنگ ممکن نہ تھی اس لئے اس نے اپنے غیر جنگی ساتھیوں کو  سلطنت روما کی پہنچ سے دور پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کی مخالفت میں اس کا جانثار دوست   کرکسِز ، اپنے تیس ھزار  ہمنوائوں کے ساتھ عیلحدہ ہو  کر رومیوں کے ساتھ جا بھِڑا اور مارا گیا۔دوسری طرف سپارٹکس کے ہمراہیوں نے بھی روم سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ سپارٹکس انہیں لے کر   روما کی اس تنگ پٹی کی جانب چلا  جہاں سمندر کے اس پار سِسلی واقع ہے۔ وہ اپنی "رعایا" کو کسی محفوظ جگہ بسانا چاہتا تھا۔ لیکن  قسمت نے ساتھ نہ دیا اور وہ کبھی سمندر پار نہ کر سکا۔  رومی  اپنے رہنما کراسِس  کی قیادت میں بھرپور تیاری کے ساتھ موقعہ غنیمت جان کر  واپسی کے پینتسی میل چوڑے راستے کو بند کر دیتے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد سپارٹکس اپنے جانثاروں کے ہمراء رومیوں سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔ساٹھ ہزار کے لگ بھگ   سپارٹکس کے ساتھی بھی اس جنگ میں کام آئے۔ چھ ہزار کے قریب زندہ گرفتار ہوئے، جنہیں بعد ازاں  سلطنت روما نے اپنی دھاک بٹھانے کو سرعام ٹٹکیوں پر باندھ کر مارا۔غلاموں کی اس جدوجہد کا اثر یہ ہو کہ رومیوں کو عقل آگئی اور وہ   غلاموں سے قدرے بہتر سلوک کرنے لگے۔اور سلطنت روما۔۔۔۔ سلطنت روما کی چولیں ہل چکی تھیں، بیس پچیس برس کے بعد  نقشہ بہت بدل چکا تھا۔لاکھوں رومیوں کے قاتل، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں تک پر بھی رحم نہ کرنے والے اور عظیم سلطنت روم کے ایک بہت بڑے باغی کو یورپی عمرانیات کے ماہرین ، "ریووشنلسٹ، ریفامر، اور آئیڈئلسٹ قرار  دیتے ہیں۔  اسے مارٹن لوتھر کنگ اور  رابن ھڈ جیسا ہیرو گردانا جاتا ہے۔مکمل کہانی تاریخ کے اوراق پر درج ہے۔ اور ہمارے  لائیٹنے کا مقصد فقط یہ کہ تاریخ دانوں نے سپارٹکس کی خون ریز طبعیت کی وجہ اس کا   مسعود اظہر کی تقریریں سننا، اس کی انسانیت سوزی  کی نفسیات کے پیچھے  مرید کے والے اجتماع  میں شرکت، اور اس کے ظلم و ستم  کا موجب ضیاء الحق کی مونچھوں والا ستائل بتایا ہے۔عورتوں کو مارنے کی تعلیم اس نے بنوری ٹائون سے حاصل کی، بچوں پر رحم نہ کرنے کی تربیت کا خرچہ سعودی حکومت نے اٹھایا اور بوڑھوں کو بے دردی سے مارنے کا جذبہ اس نے  مودودی کی کتابیں پڑھ کر پالا۔ مورخین اس بات سے بھی  متفق ہیں کہ سپارٹکس  "اسلامی وہابی شدت پسندانہ" نظریات سے  متاثر تھا۔اور اس کا اسلامباد کے چند مدارس میں بھی آنا جانا تھا۔

کیا اب ختنوں کی تجدید ہو گی؟؟


تو کیا؟
حجامت کی دوکان کھولی؟
اب ریش کو زبان دانی کی قینچیوں سے کترو گے؟
اپنی داڑھیوں کو تراش کر نالیوں میں بہا دیں؟
لوطیوں سے چہرے بنا لیں!
تو کیا ؟
تمہارے ذوق نظر کی خاطر،
اپنی شلواروں کو کاندھے پر دھر لیں، کہ اونچے پائینچوں سے تمہارے عدسے کے زاویے خراب ہوتے ہیں۔
اب کاتبین کے ترلے ڈالیں ،
ہمارے اعمال ناموں میں امن کے پکوڑے ڈال کر موم بتیوں کی لو والوں میں بانٹ دو۔ہم دل کو سینوں سے نکال کر بٹوے میں رکھ لیں .
(کہ گلی کے نکڑ پر امن کے فوجدار دُکھ کی ماہیت و کیفیت چیک کریں گے)کیا آنسوءں کا خاکیوں کی لیبارٹری سے ٹیسٹ ہو گا؟
کونسا قطرہ وطن کی محبت سے لتھڑا ہوا اور کس آنکھ میں منافقت ہے۔اور قبل ازیں، آسمان کو رسیوں سے کھینچ کر خدا کو زمین پر اتاریں ۔
آئو!
ہماری سینوں پر نیک نیتی کی مہریں ثبت کر دو۔
ہم سجدوں کے نشاں چھپانے کو قشقے کھینچے،
ہم تسبیحوں کی جا گلے میں صلیبیں لٹکائیں اور ہم
مصلے کا رخ قبلے سے موڑ کر تمہارے سفید محل کی جانب کر لیں!!

صحرا کا پھول

سنتے ہیں کہ نجد کے صحرا میں عشق کا پھول کھلا تھا۔  سینہء قیس میں۔ جو زلف لیلی کا اسیر تھا۔کتنے ہی مائوں کے لال اس عشق نے بے حال کئے اور ایسے بھی   اہل بصیرت کو   دِکھے  جو اسی عشق کی بدولت  مالا مال ہو گئے ۔عشق!  لیلائے شہادت کا، محبت دین الہی کی، تڑپ میدان جہاد کی۔ایسے عشاق بھی گزرے جن کے  لئے  ہی کہا گیاآ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعدنہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعدنجد کا وہ شہزادہ بھی کچھ ایسی ہی داستان سرائی میں مشغول تھا۔صحرا کے بیچوں بیچ کھجوروں کا وہ باغ، چاندنی رات کا رومان پرور منظر،  ریت کو چھو کر آتی مست ہوا کے جھونکے اور اس پر اس کا بیان اللہ اللہ!​وہ کہے جا رہا تھا اور  میں محو سماعت تھا۔


""عرق انفعال اس کی کشادہ جبین پر چمک رہا تھا۔ آنسو موتی بن بن   ریش ، رخسار کو بھی منور کر رہے تھے۔  توبہ استغفار، آہ و فغان، ہچکیاں اور سسکیاں، اس کا بدن کانپ رہا تھا۔ وہ اپنے چہرے کو ہتھیلیوں میں چھپائے التجائیں کر رہا تھا، دعائوں کو لبوں سے   جدا کر رہا تھا۔ اس کی خوشبودار بھیگی  سیلی گیلی  سرگوشیوں میں مناجات کی چمکیلی رنگت صاف دکھتی۔ حرم پاک کے پاکیزہ، باوقار ماحول میں جہاں دل جلال الہی سے  نگوں   اور سینے  انوار سے پُر  ہوتے ہیں۔ وہ رکن یمانی کے عین سامنےایک ستون کی آڑ میں کعبہ رخ دوزانو بیٹھا  بید مجنوں   سا   لرزاں تھاجمعہ کا مبارک دن اور مکہ مکرمہ کی پاکیزہ سرزمین، ایک جم غفیر کہ امنڈا چلا آ رہا۔  فلک بوس عمارتوں کے سایوں سے نکل کر سفید سنگ مرمر  کی سلوں پر قدم رکھتے ہی بندے کی تمام تر عاجزی اور انکساری کے جذبات احاطہ کئے ہوئے محسوس ہوتے۔دل  کی زمین خود بخود نرم ہو جاتی ہے ایسے میں ایمان کی کونپلیں پھوٹتے دیر نہیں لگتی۔  ایقان اپنے اوج تک جا پہنچتا ہے اور انسان کے سینے میں حق  سانسوں کی جا ، جاری ہوتا ہے۔"عبدلوہاب رح"   کا محلے دار   اپنا  مافی الضمیر بیان کر رہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ الفاظ آسان تر اور  عام فہم ہوں تا کہ مجھ سے نابلد کو تفہیم میں مشکل پیش نہ آئے۔ لیکن جذبات کا بہائو اور احساسات کے تیز جھونکے اس کی  زبان کو  فصیح و بلیغ  عربی میں کھینچ لے جاتے۔  اور میں اس کے " بھائو تائو  کو ماپتے، اس کے اشارے کنایوں اور رموز کو  پرکھتا اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا۔وہ  دیار عبدلوہاب کا باسی کہہ رہا تھا" میری اس کی پہلی ملاقات  وہیں ہوئی تھی حرم مکی میں، عین کعبہ کے سامنے۔  وہ کتنی ہی دیر روتا رہا۔ اور میں اس کے پروقار چہرے کو حیرت سے تکتا رہا۔ ایسے بھی نوجوان ہوتے ہیں!! ایسے بھی مسلمان ہوتے ہیں!!تھکاوٹ سے چور میں  کچھ دیر آنکھ لگانے کے ارادے سے لیٹا ہی   تھا، جب اس پر نظر پڑی اور آنکھ وہیں اٹک گئی تھی۔کتنی گھڑیاں گزر گئیں، اور میں ٹک دیدم اس کا دیدار کرتا رہا۔   اس نے  ہتھیلیوں سے اپنا چہرہ صاف کیا اور اٹھ کر میری طرف مُڑا  ، میں نظریں چرانے لگا اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ پھیلی  اور  مجھے سلام کر کے اپنا سامان اٹھانے  کی اجازت طلب کی۔  اس کا تھیلا میرے سر تلے دبا تھا۔پھر وہ  بابِ فہد سے  باہر کی جانب چل دیا۔  میں سوچوں میں گم، اک عجیب کیفیت میں تھا۔ اس  کی آنکھوں سے جھلکتی کُڑھن، اس کی ھچکیاں، آنسوئوں سے تر چہرہ، اس کا لرزیدہ بدن اور اس پر طاری وجد بار بار میری نظروں کے سامنے آتا رہا۔ میرے دل میں اللہ نے اس کی محبت پیدا فرما دی۔  میں کتنی ہی دیر اس کے لئے دعا کرتا رہا۔ اور شاید زندگی میں پہلی بار مجھ گنہ گار کو  "دعا کی قبولیت" کا احساس ہوا۔   دو چار دن میں اس  کے خیال میں ڈوبا رہا اور پھر شب و روز کے بکھیڑوں میں اس کی یاد کہیں زہن  کے نہاں گوشوں میں تہہ ہو کر رہ گئی۔عبدلوہاب رح کا پڑوسی  بولتے بولتے رُکا، جوں  دور دیکھ رہا ہو۔ پھر اچانک مجھ سے معذرت خوانہ لہجے میں کہنے لگا ۔"یار میں اپنی رو میں بہہ رہا تھا۔ آپ کو سمجھ لگ رہی ناں"آپ کہتے رہئے  بندے کو سمجھنے سے زیادہ سننے میں لطف محسوس ہو رہا"میں نے اس کے احساسات کی لطافت کے بارے  خیال کرتے ہوئے کہا۔وہ پھر گویا ہوا۔
""حسین اتفاق ایسے ہی ہوتے ہیں ! زی الحج، مطاف کعبہ میں ایک بوڑھا ایرانی جوڑا   تکبیر کا ورد   کرتے  طواف کر رہا تھا۔  انتہائی ضعیف  و نخیف بابا وہیل چئیر  پر  بیٹھا تھا اور مائی بمشکل اسے دھکیل رہی تھی۔   مجھے اچھا نہ لگا اور میں نے اشاروں سے سمجھا کر کرسی کی ہتھی اپنے حساب میں کر لی۔ شدید گرمی میں  پسینے  پھوٹ رہے تھے اور  میں تیسرے چکر میں ہی ہانپنے لگا۔  مقام ابراہیم سے زرا آگے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اتنی بھیڑ میں یہ معمولی بات  ہوتی ہے۔ لیکن جب اس ہاتھ میں سے اپنائیت و محبت کی لہروں نے میرے دل پر دستک دی تو مجھے مُڑ کر دیکھنا پڑا۔ وہی نوجوان میرے زہن کی غلام گردشوں میں سفر کرتا میری آنکھ کے دریچوں سے جھانک رہا تھا۔  جی وہی رکن یمانی کے سامنے والے ستون کے پیچھے ھچکیاں لینے والا نوجوان۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "اخی تھک جائو گے۔ مجھے پکڑائو، اور پھر وہ ایرانی جوڑے کو طواف کرانے لگا۔ میں بھی اس کے  ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔اور یوں ہمقدم ہو گئے۔ حج کے تما م ایام مجھے اس کا ہمسفر بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔  اس کا اخلاق مثالی تھا، اس کی مسکراہٹ نرالی تھی۔ اس کا  لہجہ محبت و موددت سے لبریز ہوتا اور اس کا ہر انداز انکساری والا تھا۔ وہ  ہر اس دل میں گھر کر جانے والا تھا جو اس کی رفاقت میں چند گھڑیاں گزار لیتا۔ اور میرے دل میں اس کی عزت و عظمت بڑھتی ہی چلی گئی۔  اس کی صحبت کا فیض مجھے مل رہا تھا۔ میرا دل بدل رہا تھا( میرے زہن میں آیاچنگے بندے دی صحبت جیویں دوکان عطاراںسودا بھانویں مل لئے نہ لئےچلہے آن ھزاراں)
حج کے بعد مدینہ منورہ کو ارادہ تھا، اس نے اپنے ہمراہ چلنے کی دعوت دی اور اس کی زبان میں ایسی حلاوت تھی کہ انکار ہو نہیں سکتا تھا۔ سو میں اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ سے مدینہ کو چل نکلا۔بیت عتیق سے لے کر میدان عرفات اور  منی ومزلفہ  سے غار حرا تک اس اللہ کے ولی نے میرے زہن میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ توحید کیا ہے، اللہ کون ہے، انسان کا  منصب کیا ہے اور فریضہ کیا،  دعوت حق کا طریق کیا اور تبلیغ دین کا   سلیقہ کیا۔ مکہ مکرمہ میں گزری نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اس  مدینے کے شہزادے نے یوں بیان کیا کہ  میرے سامنے سارے منظر عیاں ہوتے چلے گئے۔پھر وہ  مجھے لے کر  باغوں والی سرزمین کی جانب ہو لیا۔  میں اس کے پیچھے پیچھے "یہ میرا ھادی ہے"ابو بکر رضی اللہ عنہ کفار کے پوچھنے پر  نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق فرماتے تھے۔  میرا  زہن و دل بھی  ابی بکر رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل پیرا تھا۔ وہ مجھے مکہ سے مدینے کو لئے جا رہا تھا اور میں ایک ٹرانس میں چل چلا چل۔وہ   راہ کی منزلوں کا تعارف کراتے جاتا۔اور پھر مدینہ آ گیا۔ منور و تاباں،اور میں اس کی معیت میں اس سرزمین پاک پر  اس انداز میں گھوما کیا جوں اولیں بار ہو!""میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
اک خواب سے گویا اٹھا تھا
کچھ ایسی سکینت طاری تھی""
جب مسجد نبوی کو دیکھا
میں روضہء جنت میں پہنچا
جس جاء و مبارک چہرے کو
اشکوں سے اپنے دھوتا تھا
جب دنیا والے سوتے تھے
وہ ان کیلیے پھر روتا تھا
اک میں تھا کہ سب کچھ بھول گیا
اک وہ تھا کہ امت کی خاطر
کتنے صدمے اور کتنے الم
جھلتا ہی گیا جھلتا ہی گیا
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
طائف کی وادی میں اترا
طالب کی گھاٹی سے گزار
اک شام نکل پھر طیبہ سے
میدان احد میں جا بیٹھا
واں پیارے حمزہ کا لاشہ
جب چشم تصور سے دیکھا
عبداللہ کے شہزادے کو
اس دشت میں پھر بسمل دیکھا
یہ سارے منظر دیکھ کے پھر
میں رہ نہ سکا کچھ کہہ نہ سکا
بس دکھ اور درد کے قالب میں
ڈھلتا ہی گیا ڈھلتا ہی گیا
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں کیا منہ لے کر جائوں گا
کوثر کی طرف جب آئوں گا
تلوار میں میری دھار نہیں
وعظ و اصلاح سے پیار نہیں
باتوں میں میری سوز کہاں
آہیں میری دلدوز کہاں
کتنے ہی پیماں توڑ چکا
میں رب کی یادیں چھوڑ چکا
ایک ایک میرا پھر جرم مجھے
کھلتا ہی گیا کھلتا ہی گیا
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
پھر لوٹ کے جب میں گھر آیا
اک شمع ساتھ ہی لے آیا
یہ حب سنت کی شمع
جس دن سے فروزاں کی میں نے
اس دن سے میں پروانہ بن کر
جلتا ہی گیا جلتا ہی گیا (احسن عزیز)
ہر  نماز کے بعد، ہر موقع پر میرا بھائی دعا کرتا، ایسی رقت آمیز دعا ، اسی لفط و اثر والی دعا اور ایسی خلوص و جوش والی دعا کہ دل کہتا قبول ہوئی ان شاء اللہ۔   اور پھر میں اسی کے ہمراہ طواف کے لئے مکہ کولوٹا۔اک بار پھر  ""عرق انفعال اس کی کشادہ جبین پر چمک رہا تھا۔ آنسو موتی بن بن   ریش ، رخسار کو بھی منور کر رہے تھے۔  توبہ استغفار، آہ و فغان، ہچکیاں اور سسکیاں، اس کا بدن کانپ رہا تھا۔ وہ اپنے چہرے کو ہتھیلیوں میں چھپائے التجائیں کر رہا تھا، دعائوں کو لبوں سے   جدا کر رہا تھا۔ اس کی خوشبودار بھیگی  سیلی گیلی  سرگوشیوں میں مناجات کی چمکیلی رنگت صاف دکھتی۔ حرم پاک کے پاکیزہ، باوقار ماحول میں جہاں دل جلال الہی سے  نگوں   اور سینے  انوار سے پُر  ہوتے ہیں۔ایک ستون کی آڑ میں کعبہ رخ دوزانو بیٹھا  بید مجنوں   سا   لرزاں تھا۔ میں اس کی دعائوں پر امین کہہ رہا تھا،  اس نے افغانستان سے صومال اور شیشان سے سوریا تک  آفیت طلب کی۔ کشمیر سے گجرات تک خیر مانگی۔ برما سے   افریقہ تک امت کی بھلائی کا سوال کیا۔  اور میں گم سم  یہ سوچتا رہا، کاش اس اللہ کے والی جیسا اک لمحہ مجھے میسر ہو جائے، اک ھچکی ایسی ہی میری بھی بندھے، اک آہ میرے لبوں سے اسی طرح کی پھوٹے، اک پھانس سینے میں ایسی ہی چھبے، اک درد رگوں میں ایسا ہی جاگے۔ میرے جگر میں بھی امت کا   ااثر کرے۔ کاش اک آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جائے، کاش اک دعا اسی خلوص سے میرے حلق سے بھی وا ہو اور میرا بیڑا پار ہو جائے"""مجھے بھی اس کی زیارت کرائو ناں!میں اتنی دیر بعد بے تابانہ بولا۔"ہمم اس کے لئے وہاں جانا پڑے گا"اس نے  ایویں آسمان کی جناب ہاتھ اٹھا دیا۔"کہاں" میرا دھیان کہیں اور تھا۔"جنتوں میں"او ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کب؟میں نے   دل کی گہرائی میں درد کی ٹیس محسوس کی۔" کچھ  ہفتے قبل وہ ر ب رحمان سے کیا وعدہ نبھا گیا"وہ مسکرایا۔ " ایسی جدائی کے درد میں بندہ رو بھی نہیں سکتا کہ  انعامِ شہادت کی ناقدری ہوتی"  کوئی شب گزیدہ مرغ  نور تڑکے کے آثار قریب دیکھ کر بانگ دینے لگا  اور میں  اس نجد زادے کی عین الیقین سے پُر نظروں میں سحر زدگی سے دیکھے جا رہا تھا۔ستاروں کی تنک تابی  نوید صبح روشن کی نوید سنا ر ہی تھی۔     ہم نے اٹھ کر قریبی کھال میں وضو کیا ۔  تہجد پڑھی اور میں نے اسے عرض کیا۔ بھیا! دعا مانگو۔ وہ دعا کرنے لگا۔  سسکیاں نکلیں۔ پھر  اس کی ھچکیاں بند گئیں۔ آہیں بلند ہونے لگیں۔ سینہ دھونکنی کے جیسے چلنے لگا آواز میں سوز اور درد تھا  اس نے سب مانگ لیا  ،اس سے اسی کو، پھر  خاموشی چھا گئی۔ طویل خاموشی۔   اور میں تہی دامن   کہ وہن زدہ ،  میرا جی جلنے لگا۔ میں چپ چاپ  سوچے جا رہا تھا"کاش اک لمحہ اس جیسا مجھے بھی عطا ہو جائے۔ اے کاش ایسا درد میرے دل میں بھی اٹھے، ایسی ٹیس میری روح میں بھی پیدا ہو، ایسا سوز مجھے بھی ملے، ایسا   اک آنسو میرے رخسار کو بھی چومے، ایسی اک ہچکی میری بھی بندھے، ایسی تڑپ مجھے بھی ملے۔ ایسی ہی پھانس میرے سینے میں اٹکے۔  اے کاش کہ وہ دعا میں میرا نام لے کر کہہ دے۔​تہِ شمشیر یہی سوچ ہے مقتل میں مجھے​دیکھیے اب کسے لاتی ہے قضا میرے بعد​



سیانا کسان!


"قد افلح" کی کھیتی کب لہلہاتی ہے! جب بنجر سینے پر ضرب کلیمی کا اثر ہوتا ہے۔ قد افلح کا پرنور سبزہ کب پھوٹتا ہے! جب حب جاء والی سوکھی زمین پر زکر الہی سے انوار کی بارش ہوتی ہے۔ قد افلح کا بیج کب بویا جاتا ہے! جب دلوں سے ہر "غیر" جھاڑ جھنکاڑ صاف کر دیا جائے۔ قد افلح کا موسم کون سا! جب سردیوں میں وضو کے پانی سے کپککاہٹ طاری ہو جائے، جب گرم دوپہروں میں مسجد کو جاتے پسینہ شرابور کر جائے، جب رات کی گھنی تاریکی میں رب کی پکار لگے۔جب کبھی خشیت الہی سے آنکھیں جھڑی بن جائیں۔جب کبھی حب الہی سے چہرہ تمتما اٹھے۔ بھری جوانی کی تمام تر رعنائیوں میں، بڑھاپے کی ساری کمزوریوں میں، جب اعضاء جوارح کانپنے لگیں، جب ہوش جانیں لگیں۔ قد افلح کا موسم باقی رہتا تا وقتیکہ توبہ کا در نہ بند ہو جائے۔ قد افلح دنیا سے بے نیازی میں، قد افلح واحد لاشریک کے سامنے عجز اختیار کرنے میں، قد افلح جب سنت رسول کے سوتوں سے سیرابی قلب ہوتی ہے۔ قد افلح ۔ فلاح ملتی ہے اس فلاح کو جو کھیتی کو تیار کرنے میں تساہل نہ برتے، کھیتی لہلہاتی ہے اس کسان کی جو زمین کا سینہ چیرنے میں کوتاہی نہ دکھائے، جس کے ہل کے پھل تیز رہیں، جس کی زمینوں کی سیرابی بروقت ہو، جس کی فصل میں فالتو جڑی بوٹیاں نہ ہوں۔ جس کی حسیں تیز تر ہوں موسموں کے بدلنے سے قبل، وقت کے ڈھلنے سے پہلے جو بوائی کر لے۔ فلاح پاتا ہے وہ کاشکار جو
ناہموار زمین کو سیدھا کر لے، جو اونچے نیچے ٹیلوں کو نرم بنا لے، جو جھا ڑ جھنکار کو ختم کر لے۔ کامیاب ہوتا ہے وہ زمیندار!! فلاح ملتی ہے اس کاشتکار کو! قد افلح کی خوشخبری ہے اس جاگیردار کے لئے! جس نے اپنی زمین "پٹواریوں " سے بچا لی۔ جس نے اپنے کھیت گرداورں سے محفوظ کر لئے، جو اپنے قطعے "محکمہ مال" کی ہیرا پھری سے بچا پایا۔ جو شریکوں کی دست درازیوں سے اپنے کھلیانوں کی حدود کی حفاظت کر سکا۔ قد افلح جس نے اپنی زمینوں کے لئے سینے پر زخم لگوائے، قد افلح جس نے اپنی محنت بچانے کو لاٹھی اٹھائی، قد افلح جس نے اپنی فصل کی حفاظت خاطر سینہ تانا، قد افلح جس نے غیرت کھائی، قد افلح جس نے اپنی اولاد کے حق کے لئے لڑائی کی، قد افلح جو پرکھوں کی میراث کی خاطر غصہ ہوا۔ قد افلح جس نے پسینے کے ساتھ لہو بہایا۔ قد افلح جس نے جان گنوائی۔ فلاح وہی اور فلاح اسی کی جس نے خود کو، اپنی فصلوں کو، اپنی زمینوں کو، اپنے کھلیانوں کو رب کے حکم کے مطابق جہد مسلسل کر کے بچا لیا!

سچائی کی پنہائیوں میں! پہلا حصہ۔

  ارن دھتی کہتی ہے ، "زمین ایک رِستے زخم کے جیسے  لہولہان ہے، سرخ دھول  نتھنوں سے ہوتی پھیپھڑوں میں بھر جاتی ہے۔ ان کے چہرے  لال ہیں، بال مٹیالے ہیں، لباس گرد میں اٹے ہوئے ہیں، آتے جاتے ٹرک ان کی زمینوں کا خزانہ چرا کر راستوں سے دھول اڑاتے گزرتے ہیں"۔ اور  بقول ارن دھتی رائے ، وہ  اپنے سونا   چین کی جانب جاتا دیکھ کر حسرت سے آہ ہی بھر سکتے ہیں۔
 دو ہزار نو کے شروع میں ہندوستانی سرکار نے " سبز شکار" کا ارادہ بنایا۔ ایک بڑا عمل جراحت، "گرین ہنٹ"   ان  "سبز پوش سرخوں" کے خلاف جو تین   دھائیوں سے دہلی سرکار کی ناک میں دم کئے ہوئے ہیں۔ اس تحریک میں سانولے لڑکے،  سلونی لڑکیاں،  کالی بھجنگ عورتیں، توانا    مرد،  بے ڈھول بوڑھے  شامل ہیں   وہ نکسل باڑی جو ھندوستان  کے پانچ سے زائد صوبوں اور پچاس سے زیادہ اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ وہ مائو نواز باغیوں کی تحریک جس نے  جنوب مشرق کی پوری پٹی پر اپنا اثر بنا رکھا ہے۔   کرناٹکا،  مہارشٹرا، جھاڑ کھنڈ، بہار چھتیس گڑھ، بنگال، اڑیسہ، آندھرا پردیش، کیرلا اور تامل ناڈ تک کو  اپنے قابو میں کر رہے۔ دیہاتوں میں، جنگلوں میں،  دریائوں میں ، پہاڑوں اور دلدلی علاقے میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے والی کیمونسٹ مسلح تحریک کے پاس  دو  لاکھ سے زائد رضا کار ہیں۔  چالیس ہزار کے لگ بھگ لڑاکے ۔ بہادر، بے دھڑک، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندگی گزارنے والے دیہاتی۔  جان ہتھیلی پر رکھ کر جینے والے قبائلی۔ سنگ دل ،گلے کاٹنے والے۔ سخت جان ، دشمن کو نہ بخشنے والے۔ دیش دروہی، بقول من موہن سنگھ  ہندوستانی ریاست کے لئے سب سے بڑا اندرونی خطرہ، وطن دشمن  جو اپنی ہی سر زمین کو لہو لہان کر رہے۔٭٭  ہندومت کے تکفیری ،  اپنے فوجیوں کو   "مسلمان" قرار دے کر مارنے والے٭٭۔   پولیس والوں کے سینے چھلنی کرنے والے۔
ریل کی پٹڑیاں اکھاڑنے والے،  بسوں کو اغوا کرنے والے۔" آدی واسیوں "کے لئے  ھیرو اور  ہندوستانی میڈیا       کے بقول  دہلی سرکار کے سر کا  درد۔ ہندوستانی زمین کا ناسور۔ جو  اپنے علاقوں پر کالا جنگلی قانون لاگو کرنا چاہتے۔ جو ترقی کے دشمن ہیں، جو وطن کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنا چاہتے۔   بھدے،  بد شکل، کم عقل، جاہل  مائو نواز قبائلی۔ ۔  آسان الفاظ میں سمجھئے تو ہندوستان  میں نکسلیوں کے بارے ویسی ہی کہانیاں مشہور جوں پاکستانی میڈیا  "طالبان" کے لئے پیش کرتا ہے
پاکستانی میڈیا  "طالبان" کے لئے پیش کرتا ہے۔

لیکن سب لوگ آنکھیں بند کر کے یقین کرنے والے نہیں ہوتے۔ خاص کر جب معاملہ انسانیت کا ہو، مسئلہ  زندہ جانوں کا  ہو۔  ارن دھتی رائے بھی سچ کے متلاشیوں میں سے ایک تھی۔ جو کھوٹے کو کھرے سے الگ کرنے کی سوچ رکھتی ہے، اور اس کے لئے ہمت بھی۔
ارن دھتی سچ کو اپنی آنکھوں سے  مشاہدہ کرنا چاہتی تھی۔ وہ ان کے دلائل، ان کی منطق اپنے کانوں سے سننا چاہتی تھی۔  انہیں جانچنے، پرکھنے اور سمجھنے  کے لئے، ان کی نفسیات پڑھنے کے لئے، ان کا رہن سہن دیکھنے کے لئے، ان کی سوچ، ان کے خیالات اور  ان کے جذبات جاننے کے لئے  ان کے پاس پہنچ گئی۔اس کے بائیس دن کا سفر جنگل کنارے سے شروع ہوا ۔ جو گھنے  درختوں کے تاریک سائے  سے ہوتا اونچے نیچے رستوں پر چلتا، دریا کی لہروں پر ہچکولے کھاتا کسی گائوں کی پگڈنڈی تک پہنچ جاتا ہے۔ کبھی کسی آدی واسی کی جھونپڑی تک، اس کے چولہے سے اٹھتے دھویں کی لکیروں میں  زندگی کی بےثباتی کو جاننے کی کوشش کر رہی تھی۔ کسی علاقے کے سکول میں پڑھتے بچوں  تک، ان کی آنکھوں میں جھانکتے ، ارن دھتی حقیقت تلاشنے کی سعی میں مصروف تھی۔  ان قبائلیوں کے کندھوں سے لٹکتی بندوقوں کے دھانوں سے جھانکتے بھیانک حقائق،  جو  وسطی شہروں کے اے سی لگے کمروں میں ، ٹی وی پر میکاپے چہروں والی نیوز کاسٹر، اور جھریوں کو چھپائے چیختے چنگاڑتے تجزیہ نگاروں کی زبان سے کبھی سمجھ نہ آسکیں.وہ ان کہی سچائیاں جو اپنا آپ  ظاہر کرنے کو بے تاب لیکن کوئی نظر ہی نہیں، جو دیکھ سکے۔ کوئی صاحب نظر ہی نہیں جو پرکھ سکے۔

ہر جابر وقت!!


شمال مغرب میں تباہی کے بادل منڈلا رہے۔ توپیں بجلیاں بن کر کڑکنے کو تیار اور آہنی پرندے پنجوں میں گولہ بارود بھر کر گرانے کو بے چین۔
غریب بستوں کو ملیامیٹ کرنے کا منصوبہ آخری مراحل میں، پچیس پچاس "بے زبانوں" کو ہر روز "طالبان" کہہ کر زندہ درگور کرنے کے جواز تراشے جا رہے۔ "بے جوڑ دوستانہ" دامے درمے سخنے فوج اور حکومت کو کھینچ کھانچ کر "آپریشن تھیٹر" میں لے آیا ہے۔ بے گناہوں کا خون پہاڑوں کو آبشار بنائے گا اور میدانوں کو سیراب کرے گا۔ شمال پھر سرخ ہونے جا رہا، افق کی سمت لالی بڑھے گی۔ لیکن جلتے جسموں کی بو، تڑپتے انسانوں کی چیخیں، بچوں کی سسکیاں، عورتوں کے بین، بوڑھوں کے بددعائیں شاید ہم تک نہ پہنچ سکیں، شاید ہی کوئی ملالہ "میران شاہ" سے بی بی سی کو اپنی ڈائری بجھوا سکے، شاہد ہی کسی یوسفزئی کے گھر پر ڈاکومنٹری بن پائے۔ شاید ہی ہمیں کبھی معلوم ہو سکے کہ "ملالہ کی دوست" کی ڈائری پر کسی فوجی نے "رومانوی اشعار" لکھے۔ خاک نشینوں کی گنتی کون کرے گا، لہو میں لتھڑے لاشوں کا حساب کس لئے ہو گا۔ بس "آپریشن" کے آخر میں کہہ دیا جائے گا۔ کامیاب رہا!۔
قوم کے کانوں میں "امریکی ڈالر زدہ" جہاد کا کا "بھونپوں" بجایا جا رہا۔ طبل جنگ کی ڈم ڈم سنائی دے رہی۔ پاک سرزمین کو "دہشت گردی" کے پنجوں سے نکالنے کی "امید" دکھائی جا رہی۔
قوم کو "وار ہسٹریا" میں مبتلا کیا جا رہا۔ بےہوشی والی دوا اس قدر چھڑکائی جا رہی کہ ہوش آنے پر بھی ہوش نہ آنے کا۔
نہ تباء شدہ گائوں ، نہ ملیامیٹ علاقہ، نہ گری چھتوں کا دلدوز منظر، نہ ٹوٹی ڈیوڑیوں کا دل دہلانے والا نظارہ، نہ لہو لہان لاشوں کا زکر، نہ چیتھڑے بنے انسانوں کا تذکرہ، نہ معصوم بچوں کے سرخ لاشے، نہ عورتوں کے کٹے پھٹے اجسام، نہ چیخیں، نہ آہیں، نہ سسکیاں، نہ شور شرابا، نہ رولا رپا نہ بدعائیں نہ التجائیں۔ نہ بزرگوں کی پگڑیوں کی بے توقیری کا دھڑکا، نہ عزت ماب مائوں بہنوں کی بے عزتی کا احساس۔ نہ ہنستے بستے مسکینوں کی بے گھری کا غم، نہ لٹے پٹھے قافلوں کا الم۔

نو بجے کے شو میں سنئیے دیکھیے اور سمجھئے فقط "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دہشت گرد مارے گئے"

باقی کا تجزیہ ""تاریخ اکہتر کے آئین"" کی روشنی میں خود کر لے گی۔

بیرون دریا کچھ نہیں۔



" گنہ گار ہو اس لئے اسلامی نظام کی بات نہ کرو" اخیر نتیجہ تمام تر منطق کا یہی نکلتا، یعنی چرسی کو ہسپتال کا نام نہیں لینا چاہئے، بیمار ، علاج کا سوچ نہیں سکتا!  مریض دوا کی گفتگو نہ کرے!! اور زخمی پھاہوں کا زکر نہ چھیڑے!! وہ جو کیچڑ میں پھسل کر گر پڑا اسے صفائی کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں، وہ جو کھڈے میں پڑا ہوا اسے بولنا نہیں چاہئے کہ "اُس طرف کا راستہ ہموار ہے، اِس طرف کو مت آئیو" پہلے  صحت مند ہو لو پھر صحت افزا مقام کو چلیں گے۔ پہلے ناسور ٹھیک ہو  جائے ، مرھم بعد میں دیکھیں گے۔   خلافت کی بات کرتے ہو! "ہوں" پہلے چھ فٹ  پر اسلام تو نافذ کر لو۔ اسلامی قوانین کا  زکر کرتے ہو! پہلے  اپنا آپ تو سنوار لو۔   بات تو مناسب لگتی  ۔"کتنے منافق ہیں، چوری بھی کریں گے، رشوت بھی کھائیں گے، دھوکہ بھی دیں گے، ناحق مال بنائیں گے، قتل و غارت بھی کریں گے، زنا کو معیوب نہ سمجھیں گے، شراب کے نشے میں دھت رہیں گے، "ہوں" بڑے آئے اسلامی نظام کے دعویدار۔    منطق کی میزان پر تولیں، انصاف کی نظر سے دیکھیں تو یہ تمام ، عام، لوگ اسی معاشرے، اسی سماج کا حصہ ہیں۔ ممکن ان کی "باقائدہ تعلیم" کم ہو،  وہ زمانے کے حالات سے نابلد ہوں۔ لیکن وہ اسی معاشرے کے فرد  ہیں، تھوڑا سا احساس رکھنے والے، کچھ سوچ، کچھ خیال، ہلکا پھلکا تجزیاتی زوق، اور مشاہداتی شوق ان کا بھی ہو گا۔  "اتی سی" عقل ان میں بھی ہو گی۔ تھوڑی سی سمجھ انہیں بھی ہو گی۔   اس معاشرے کی منافقت سمیت زندگی بسر کرتے ہوئے جب  کبھی یہ "منافق" لوگ  ایک "یوٹوپئائی اسلامی نظامِ خلافت" کی بابت خواب دیکھتے، یا اس کا زکر کرتے، یا اس کی خواہش کا اظہار کرتے۔، تو ان کی اس موجودہ نظام سے جھنجلاہٹ بول رہی ہوتی، اس جاری طریقہ کار ِ زندگی سے اکتاہٹ جھلک رہی ہوتی۔  اور لاشعور کے کسی کونے میں یہ ادراک ہلکورے لے رہا ہوتا کہ "اسلامی نظام" کی جو بات کہی جاتی ہے اگر وہ نافذ ہو جائے تو اس  جبر، ظلم، استحصال، کی چکی سے نکلا جا سکتا۔  اِس "منافقت" سے بچا جا سکتا۔ انہیں اس  امر کا بخوبی ادراک ہوتا ہے کہ "چوری کی سزا پر  ہاتھ کٹتے ہیں" زنا پر کوڑے لگتے ہیں یا سنگساری ہوتی ہے۔ نماز نہ پڑھنے  پر تعزیر  لاگو ہوتی ہے۔ رشوت لینے پر سر عام  ھنٹر پڑ سکتے۔  حقدار کا حق مارنے پر پھینٹی لگے گی، دھوکہ دہی، قتل ، لڑائی جھگڑے،  منشیاتی استعمال، حدود کو پھلانگنے پر بے حد سنگین  سزائوں کا اطلاق ہو سکتا۔   وہ جانتے ہیں، سمجھتے ہیں،  اسی لئے تو وہ "اسلامی نظام " کی بات کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام، عام، لوگ اس معاشرے کی رگ رگ سے واقف ہیں، اور اس کی منافقت کے علاج سے بھی،   اور "اسلامی نظامِ خلافت" کی خواہش کا اظہار کرنے والے  چاہتے ہیں کہ  نظم و ضبط ، حدود و قیود  میں رہ کر ہی "منافقت" سے جان چھوٹ سکتی۔

نشئی!!


خفاش صِفتوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ منبر و محراب  پر  اگلتے ہیں۔ چیخ و چنگھاڑ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی،گرگوں کی گلیوں میں حکومت ہے اور شغالوں  کی بھوکی نگاہوں نے ،سجدے میں پڑے بدمستوں کو  لاشے سمجھ لیا ہے۔ سگان آوارہ آتے ہیں ، مسجد کی چوکھٹ پر ایک ٹانگ اٹھا کر موت جاتے ہیں۔مداری سروں پر  گنج اگائے، تماشا لگائے، مجمع بنائے جبہ و دستار والوں کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔ ،  اہل   لحیہ پر تبرے  کو بستی کی تمام بلیوں نے ،کتوں کے ساتھ  یارانہ لگا لیا۔  فضا کی صحت یابی کو بھنگ کی کاشتکاری ، اور پوست کی تیاری میں امیر شہر کو فقیہان کِرم کا آسرا ہے۔دم مارو دم کی صدا تمام رات  لوری کا کام کرتی ہے۔  فصیل شہر کے چوبداروں کے نوکدار ڈنڈے رعایا کے پچھواڑوں کی لالی غائب نہیں ہونے دیتے، اور  عامتہ الناس اٹھتی ٹیسوں کو نشے کی لہر سمجھ کر گہری نیند سوتی ہے۔

بکروالی آتی ہے؟

یاد آیا رفحا (عراقی سرحد کے ساتھ سعودیہ کا ایک شہر)  میں ایک لڑکا نیا آیا پاکستان سے، اس کا چاچا ساتھ لایا تعارف کو۔  اقامہ بننے میں دیر تھی میرے پاس آ جاتا ھٹی پر گپ شپ کو، یہ نیت بھی رہتی کہ کچھ یہاں کے ماحول کا علم ہو جائے گا، زبان کا ٹانکا درست ہو گا۔  کچھ دن آیا اور پھر غائب، بہت دنوں بعد دوبارہ شکل دِکھی تو پوچھا! بھیا کدھر گم تھے۔ کہنے لگا اپنے جاننے والوں میں سے کچھ رنگسازی کا کام کرتے ہیں وہ ساتھ لے جاتے تھے کام پر کہ کچھ خرچہ پانی بنا لو اپنا۔ پھر! کیا ہوا۔ ہونا کیا تھا۔ سارا دن  دیواریں کھرچ کھرچ ہاتھ چنڈیا گئے، کمر دوہری ہوئی جاتی اور باتیں الگ۔ پھر بھی جی کڑا کر ہفتہ دس دن نکال لئے کہ بیکار سے بیگار بھلی، لیکن کل حد ہی ہو گئی۔  وہ اکتایا ہوا لگ رہا تھا۔ کیا ہوا؟ میں نے اشٹوری میں حصہ ڈالا۔ دیوار رگڑتے ہوئے کچھ رنگ باقی رہ گیا تو ایک بولا "  اوئے  دیکھو کمپوٹر انجینیر، سولہ سال کیا پڑھا ، تمہیں کسی نے ریتی مارنی نہیں سکھائی"
اور مامے کا قصہ!ماما پانچویں  کا  امتحان دے کر فارغ تھا جب اک دن فوجے کے ساتھ بکریاں چرانے "ٹاکے" گیا۔ سارے محلے کی مل ملا کر پچیس تیس بکریاں اور دو  بکروال۔ فوجا آوازیں لگا لگا بکریوں کو ھنکا رہا تھا۔ جب کہ مامے کی طرف سے  کوئی نہ کوئی بکری جُل دے کر کبھی ادھر کو نکلے کبھی اُدھر کو بھاگ جائے۔فوجا تنک کر بولا!"پنجویں ناں امتیان دتا ای سہ تے بکریاں موڑنیاں اجے کوئی نو آئیاں۔ سکول ماسٹر کے پڑھانے نی"
پانچویں کا امتحان دے رکھا اور بکریاں چرانا نہیں آیا۔ اسکول ماسٹر کیا سکھاتے ہیں"

وڈا آپریشن


ڈاکٹر زبیدی   پیدائشی طبیب ہے۔    علاقے کا ہر مریض  تکلیف میں مبتلا ہو کر پکار اٹھتا ہے "چھیتی آویں وے طبیبا چھیتی گولیں وے طبیبا نیئں تا میں مر گیئاں ایں"۔ بلکہ اہلیان علاقہ ہر مصیبت، پریشانی، تنگی، میں اسے آواز دیتے  ہیں۔ کہہ لی جئے زبیدی  سات کوس   دائیں بائیں  والے  گائوں کا پیر و مرشد بھی ہے۔  کہانی شروع ہوتی ہے زبیدی کی پیدائش سے بھی پہلے جب اس کا دادا انگریزوں کی فوج میں  خچر ٹہلایا ،نہلایا ،سہلایا کرتا تھا۔  لکڑی والی  کاٹھیاں  اور لوہے کے سُموں کی دیکھ بھال کرتا۔  وہاں اس کی یاری   گورے  وٹرنری  ڈاکٹروں سے ہوئی اور انہی سے اس نے ٹیکا لگانا بھی سیکھ لیا  ڈنگروں کو۔  پھر جب وہ    رٹیرڈ ہو کر گائوں کو لوٹا تو گائیوں، بھینسوں کو "نواں" کرنے کا کام بھی  شرع کر دیا۔ بکریوں کو چھٹا بٹھانے کو ایک تگڑا بکرا بھی رکھ چھوڑا۔ کام اچھا چل نکلا،  پینشن کا روپیہ، زمینوں کی آمدن اور ساتھ میں ڈنگڑ ڈاکٹری پانچوں گھی میں  اور چوہری طیفے کی بھلے بھلے۔ زبیدی کا ابا اپنے ابے  کا بڑا لاڈلا  تھا، جب زرا سیانا ہوا تو گائوں کےاکلوتے ٹیشن پر سیکل پنکچر کی دوکان کھول کر بیٹھ گیا۔  قسمت کا دھنی تھا،   سیکل چھوڑ ،آنے جانے والی گڈیاں بھی ٹیروں کا پنکچر لگوانے پہنچ جاتی۔وہ   ھوا بھرنے کے ساتھ بونٹ پر کپڑا بھی مار دیتا دائی غفوراں کی بیٹی  صفوراں جو خود بھی  قابلہ  تھی  ،سے آنکھ مٹکا ہوا اور  پھر ویاہ بھی۔  چار سال گود سونی رہی، پانچویں برس  درباروں مزاروں  پر منتوں مرادوں نے رنگ دکھایا  اور پیروں فقیروں کی محنت  پھل لائی ان کی گود میں ننھا زبیدی آ گیا۔    زبیدی کو ڈنگر ڈاکٹری، دائیانہ صفات  اور  سیکل پنکچری ورثے میں ملی تھیں۔ لوگوں کا ماننا تھا اسے فقیروں کی دعا بھی ہے۔   بچہ زہین تھا، پڑھنے میں تیز، آٹھیوں جماعت کے بعداعلی تعلیم کے لئے  مامے کے پاس اندرون سندھ بھجوا دیا گیا۔ پانچ سال بعد وہاں سے لوٹا تو ایک عدد لیڈی ڈاکٹر بیوی  ہمراہ تھی جو اسے بھی ڈاکٹر زبیدی کہہ کر مخآطب کرتی۔  پورےعلاقے میں مشہور ہو گیا کہ  صفوراں کا پُتر ڈاکٹر بن کر آیا ہے، ساتھ میں  ڈاکٹرنی بھی لایا ہے۔ زبیدی نے ابے کی سیکلوں والی ہٹی کا منہ متھا سیدھا کر وہاں کلینک کھول لیا۔ پورے علاقے کا اکلوتا کوالیفائیڈ ڈاکٹر۔ شروع شروع میں سختی  جھیلنی پڑی۔    غریبوں کا علاقہ محنت زیادہ آمدنی کم۔  آدھی آدھی رات مریض دیکھنے  پانچ پانچ میل دور پیدل  جانا  پڑتا۔  کبھی کبھار تو  خرشہ پانی چلانے کو گائے بھینس کا چیک بھی کر لیتے، کمھاروں کی کھوتیوں  کو   ڈوے کی بیماری ہوئی پشاوری چائے کی سہرپ بنا بنا کر پلائی۔ اچھی آمدنی ہو گئی  اور کھوتیوں کو آرام بھی آ گیا۔ ڈاکٹرنی بھی خواری جھیلتی ، خاص کر زچہ کیس میں۔ تیل چپڑ چپڑ مالش کرنی پڑتی۔     پھر کمائی  بھی چمکی اور عزت بھی  ۔ جو صحت یاب ہو جاتا وہ دل و جان سے واری جاتا اور جس کی جان جانی ہے اس کو بچانے والا کون! اہلیان علاقہ جوڑے کی میٹھی باتوں سے زیادہ متاثر ہوتے۔   پیسے اکٹھے ہوئے تو  کلینک کو بڑا کیا، دو چار کمروں کا اضافہ کیا۔ شہر سے ایک آدھ نرس منگوائی گئی۔ فرنیچر بدلا گیا۔ کام بڑھتا گیا، لوگوں کا اعتماد بھی۔  اور پیسے کی ھوس بھی۔  جوڑے کو لگا، اس رفتار سے تو بوڑھے ہو جائیں گے اور ککھ جوڑ نہ پائیں گے۔    آخر دماغ میں پیسے جوڑنے کی ترکیب پک ہی گئی۔ وڈا آپریشن۔ زچہ کا کوئی کیس بھی آئے۔  اس کی تکلیف کا حل وڈا آپریشن ہے۔  نویں نکور  "کاکیوں " نے تو  اسے  فیشن کے طور پر بہت پسند کیا۔  اور درد ، تکلیف سے بچائو     بھی جانا۔ تیس ھزار میں بغیر تکلیف بچہ گود میں۔ چاہے تین مہینے باقی ہوں۔   اور مریضہ سر درد کی شکایت لے کر آئی ہو ،ڈاکٹر زبیدی کے ہسپتال میں آپریشن کے لئے دیر نہیں لگتی۔   ہر درد کا ایک ہی علاج ہوتا ہے وڈا آپریشن، مائی فقیراں کے گوٖڈوں میں درد تھا،   چیرا پیٹ کو لگا۔ نُصرت کی دائیں ٹانگ میں سوزش ہوئی، ناف کے قریب سے کاٹا گیا۔  اور  تو اور حاجی  دِتے  کی کمر میں جب چُک نکلی تو ڈاکٹر نے ایکسرے   لئے، بیس منٹ  الٹ پلٹ کر غور سے دیکھتا رہا اور پھر تشویش ناک لہجے میں بولا،  حاجی ساب آپ کا وڈا آپریشن کرنا پڑے گا۔   حاجی ساب نے واویلا کیا  "میں دیسی بوٹیاں استعمال کر لوں گا" تو ڈاکٹر ڈاکٹرنی نے علاقے میں مشہور کرا دیا،  حاجی دتہ طالبان کے ساتھ مل گیا ہے۔

امن کی آشا بھو


دو سہیلیوں کی مدتوں بعد ملاقات ہوئی۔ حال احوال پوچھا اور بیٹھ کر دکھ درد بانٹنے لگیں۔ ایک نے پوچھا چنو! بتا دوسرا میاں کیسا ہے۔دوسرا میاں! چنو نے حیرت سے جوابی سوال داغا۔ھاں تیری اپنے پہلے خاوند سے ان بن ہوگئی تھی، طلاق کا کیس چل رہا تھا ناں۔چنو نے تاسف سے جواب دیا۔نہیں طلاق نہیں ہو سکی، لیکن بیس سال سے میں ماں باپ کے گھر ہی ہوںاچھا! پھر یہ  چھ بچے کیسے ہو گئے۔سہیلی نے حیرانی سے پوچھا۔چنو شرماتے ہوئے بولی۔"وہ  کبھی کبھار منانے بھی آ جاتے تھے"
درج بالا لطیفے کا درج زیل بیان سے کوئی تعلق بنا تو مجھے بھی بتائیے
کامران خان ساب فرما رہے "تمام معاملات کو ایک طرف رکھیے اور تجارت آگے بڑھائیے"
جیو والے "مال" کی لسٹ بھی بتائیں جو بھجوایا جا سکتا اور منگوایا جا سکتا۔

یا ابن تاشفین

اس بوڑھے کی نیند اڑی ہوئی تھی۔ روح کی بے چینی آنکھوں سے عیاں تھی۔ دل کا کرب ماتھے کی سلوٹوں سے کوند رہا تھا۔ جب سے اسے خبر ہوئی  تھی کہ ظالم الفانسو نے اس کے کلمہ گو بھائیوں کی بستیاں اجاڑ دی ہیں۔ مائوں  کی چادر یں، بہنوں کی ردائیں اور بیٹیوں کےآنچل محفوظ نہیں۔ بزرگوں کی پگڑیاں اچھل رہی ہیں اور نوجوانوں کو زبح کیا جا رہا اس کا چین آرام سب اتھل پتھل تھا۔جس عمر میں قوی مضمحل ہوتے ہیں۔ عمر بھر کی تھکاوٹ چہرے کی جھریوں سے عیاں ہو رہی ہوتی ہے۔ گھوڑے کی پیٹھ کی بجائے نرم بستر کی گرمائش دل کو بھاتی ہے۔ وہ اپنے روحانی جد ابن  زیاد کی پیروی میں  ٹھنڈے ٹھار موسم کا سامنا کرنے سمندر پار جا پہنچا۔ وہی جبل الطارق جہاں چار صدیاں قبل  مٹھی بھر جانبازوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر  کشتیاں جلائی تھیں اور تاریخ عالم کو ورطہ حیرت میں گم کیا تھا۔ وہی اندلس جس کے مرغزار اور حسین وادیاں چار سو سال سے مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے  بہت مانوس رہے تھے ۔   لیکن اب انگور کے  خوشوں کی لذت، اندلس کے ٹھنڈے میٹھے چشموں کے پانیوں کا لطف، لانبی گھنیری زلفوں کی چھائوں اور مرغزاروں  میں جھلنے والی باد نسیم نے طارق بن زیاد کے روحانی جانشینوں کو خوابیدہ کر دیا تھا۔ شیرازہ خلافت بکھر چکا تھا۔ سلطنت اندلسیہ زوال پذیر  اور   مسلم علاقے عیسائی حکمرانوں کے باج گزار بن کر رہ گئے تھے۔ بٹی ہوئی مسلم ریاستیں الفانسو کے لئے تر نوالہ ثابت ہو رہی تھی۔ اک ایک کر کے عیسائی فرمانروا ،  اسلامیوں کے علاقے ہڑپتا جا تا۔ اور مسلمان حکمران اپنے آپ میں مگن۔ مرد کوہستانی کی نایابی پر قدرت نے بندہ صحرائی کو چنا۔قشتالہ کا الفانسو  ایک لاکھ بیس ہزار کا ٹدی دل لشکر لے کر  مسلمانوں کی حکومت کو نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکلا۔ ۔   ادھر چھہتر سالہ شیر اپنے بیس ہزار لشکریوں کی ہمراہی میں محاز کی جانب لپکا۔   آسمان کتنی بار امتحان لے چکا۔ اللہ کے شہروں کو کبھی روباہی نہیں آئی۔ ایک سات پر بھی بھاری رہا۔ اب کی بار بھی عرصہ امتحان کا تھا۔ ایک کے مدمقابل چھ۔  باداجوز کے مقام پر میدان سجا ہوا تھا ۔ الفانسو  کو  ابن تاشفین کا پیغام بھجوایا جا چکا تھا۔  اللہ کی بندگی میں آ جائو۔ جزیہ دو یا  پھر  فیصلہ میدان میں ہو گا۔الفانسو تو اس سے قبل  ہی اپنا  سندیسہ بھجوا چکا تھا۔ جب اس نے تکبر اور نخوت کی سیاہی میں قلم ڈبو کر خط لکھوایا تھا۔ " میرا مقابلہ تم کیسے کر سکتے ہو۔ خود خدا بھی فرشتوں کو لے کر زمین پر اترے تو مجھ سے شکست کھا جائے"۔ اور جوابا  مسلم  سپہ سالار نے خط کے پیچھے فقط اتنا لکھنا گوارا کیا۔ میدان سجائو۔ جو زندہ رہا دیکھ لے گا۔"سو الفانسو نے حملہ کر دیا۔ آفتاب  بادلوں کی اوٹ سے تلواروں کی چمک اور جند اللہ کے جانبازوں کے چہروں کی دمک دیکھ رہا تھا۔  حزب الشیطان کی قوت کا کوئی تول نہ تھا۔ لیکن اللہ کے شیر اپنے جذبوں کو کندن بنائے، اپنے رب سے اجر عظیم کی امید میں حوصلے جواں کئے مقابلے میں آ گئے۔ اسلامیوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم تھا۔  الفانسو کا سامنا پہلے گروہ سے ہوا ۔ عباد ثالث المعتمد کی قیادت میں اندلسی فوجوں نے اپنے جوہر دکھانے شروع کئے۔  مسلمان مجاہد ایک ایک کر کے کٹ رہے تھے۔ مخملیں گھاس سے مزین زمین لہو سے تر ہوئی جا تی۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ، تلواروں کی جھنکار اور جنگی نعروں سے سرد موسم میں بھی ماحول آتشیں تھا۔  پھر مسلمانوں کے قدم پیچھے ہٹنے شروع ہوئے۔ لشکر اسلام میں سراسیمگی پھیلنے لگی۔  جوں جوں سورج  کی تپش بڑھ رہی تھی۔ عیسائی فوج کی یلغار میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔  فلک  چپ سادھے دیکھ رہا تھا۔ چار سو سال بعد اندلس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ظالموں کی جھولی میں گرنے والا تھا۔ تاریخ کا دھارا بدل ہی جاتا لیکن اللہ کی تدبیر کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ یوسف بن تاشفین افریقہ کے تپتے صحرائوں سے اٹھ کر سمندر پار  سیاحت کو ہر گز نہ آیا تھا۔ بصیرت سے معمور اس مجاہد نے جب دیکھا کہ دشمن کی فوج فتح کے نشے سے مخمور ہوئی جا رہی ہے۔ اور تھکن سے چور مزید جنگ لڑنے کی آرزو مند نہیں۔ اس نے اپنے لشکر کو حملے کا حکم دیا۔ تازہ دم اسلامی بجلی کی سی لپک سے میدان میں موجود اپنے بھائیوں سے جا ملے۔ پھر جذبے تلواریں بن گئے۔ حوصلے نیزوں کی طرح دشمن کے سینوں میں پیوست ہونے لگے۔ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک ایک مجاہد نے  بیس بیس دشمنوں کی گردنیں ناپ لیں۔ لشکر کا سالار خود بھی چھپٹتا، پلٹتا، پلٹ کر چھپٹتا اور  مجاہدین کا لہو گرماتا جاتا۔ اس بوڑھے  مجاہد کی تلوار بجلی کی طرح کوند رہی تھی۔ اس کے دل و دماغ میں وہی الفاظ گونجتے۔"اے رب کریم  اگر تیرے مٹھی بھر نام لیوا مٹ گئے تو پھر اس سر زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ ہو گا۔" اسے قلیل شیروں کے ساتھ ہزارہا بھیڑیوں کو قابو کرنا تھا۔    وہ  لڑائی کے عین بیچ گھوڑا دوڑاتا جاتا اور اپنے مجاہدوں کو پکار پکار کر آگے بڑھنے کی تلقین کرتا۔    کشتوں کے پشتے لگتے رہے۔ لہو بہتا رہا۔ الفانسو کے لشکری کٹ کٹ کر گرتے رہے۔ نئی تاریخ رقم ہوتی رہی۔   مسلمانوں کے ہاتھ سے پھسلتا اندلس بہادروں کے مضبوط حصار میں تھا۔ مورخین نے اس میدان کو  "زلاقہ"  (پھسلن والی زمین۔ خون کے بہنے کی وجہ سے  لشکریوں کا زمین  پر قدم جمانا مشکل  ہو رہا تھا) کا نام دیا۔  لیکن الفانسو کے ہاتھ ایک کامیابی لگی۔ وہ اپنی ایک کٹی ٹانگ اور پانچ سو وفاداروں کے ہمراہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ یوسف بن تاشفین  کی حوصلہ مندی اور مجاہدین کے جذبے نے تاریخ کے پہیے کو چار صدیوں کے لئے روک دیا۔ چار سو سال اندلس کی چوٹیوں پر مسلمانوں کا پھریرا لہراتا رہا۔ ایک مجاہد رہنما کی بے آرامی کی بددولت مسلمانان اندلس چار سو سال سکون کی نیند سوتے رہے۔

اچھو ان جدہ

ہیں جی!  اور گڈی شٹارٹ۔۔ سفید موتیوں والے دندان ، چم چم لشکارے مارتے سامنے  بندے کو دندان شکن جواب دینے میں کام آتے۔  شخصیت کا پہلا "سفید"  تاثر یہی تھا۔ اپنا رنگ تو جوں چراغ تلے ہوتا ہے۔ لیکن اتنا بھی گہرا نہیں زرا سرمئی سا۔ مناسب سی رفتار سے دھیمے انداز کی گفتگو۔ لیکن ٹو  دی پوائینٹ، یہ اور بات کہ پوائینٹ  " اسلامآبادی  زیرو پوائینٹ سے لے کر  سرائکی  ملتان " تک پہنچ جائے۔ ملتانی مٹی اور چینی ظروف کمال کا سنگم  تھا  ۔ بتلانے لگے کہ چین میں کھلونوں کا کاروبار ہے۔ حد ادب مانع رہا ، ورنہ پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہی رہے کہ عرض گزار ی کروں۔ "حضرت کھلونے بچوں کے یا بڑوں والے!"اس سے قبل کئی سال صحرائے نجد کی خاک چھانی، حیرت ہے گرمی اور گردا  تو ملتان میں بھی مل جاتا۔ عرب کی آب و ہوا کا اثر ہے کہ عربی فر فر بولتے ہیں۔ فون پر کسی سے گفتگو فرما رہے تھے اور ناچیز کو پی ٹی وی  کا رات بارہ بجے "الاخبار" پڑھنے والا یاد آ گیا۔لیکن بولنے سے  بھی زیادہ سمجھتے ہیں۔ اسی لئے اردو خوانوں کو عربوں کی سمجھداری گھول کر پلاتے ہیں۔گول مٹول  زرا چھوٹے سے،  دل ہی دل میں شکر ادا کرتا رہا کہ محفل میں کوئی تو کسی حساب میں مجھ سے کم  ہے۔ بندہ    سکول   بیٹھا نہیں  ، واقعی پڑھا ہے۔  بات چیت میں "میتھ میٹکس"  کی مشقوں جیسے مثال بھی لازمی ساتھ ہوتی۔  بہت مددگار اور کام آنے والے انسان ہیں۔ فون میں موجود  تمام تصاویر میں حضرت  ،خواتین کو سہارا دیتے نظر آ رہے تھے۔   جناب  ظاہرا  دیسی اسٹائل ہونے کے باوجود  صنف نازک کو بہت احترام بخشتے۔  ۔ حتی کے کھانے میں بھی   مونث  "بھنڈی"  پسندفرماتے۔ آدمی    محنتی نظر آیا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ہر پانچویں مہینے مکہ کا چکر ہے۔ پانچ مہینوں میں "نو سو" کی گنتی  مکمل کرنا خالہ جی کا گھر تو نہیں ناں! اب معلوم نہیں یہ "چینیوں" کی صحبت کا اثر ہے یا بچپن کی عادت۔ جدہ کے موسم سے بخوبی آگاہی تھی، تبھی سفید ساٹن کا کی کھلی ڈھلی شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ تا کہ ہوا لگتی رہے۔   اپنے کپڑے یقینا دھوبی کے پاس رکھ چھوڑے ہوں گے۔آئی فون کے علاوہ  چوتھی سفید ی ان کی ریش میں تھی۔ باریش اور بے ریش کے بین بین "بی ریش" ٹائپ کی۔ اور اس کے متعلق  توضیح بھی فرمائی کہ یہیں تک ہے ۔ چینی حدود میں داخلے  کے وقت رگید دی جائے گی۔ وہاں کی  عوام کو شاید باوقار چہرہ پسند نہیں یاموصوف  دوستوں کی چھبن کا خیال کرتے ہیں۔ جی دار اور پر مزاح ، ہر بات پر مسکرانا لازمی سمجھتے ہیں ،   رونے والی بات پر قہقہ لگاتے ہیں۔گھر والوں کا ایک آدھ بار زکر خیر فرمایا جیسے جیل سے چھوٹا قیدی جیلر کو یاد کرے۔
مسکین سی شکل بنائے سامنے بیٹھے ملتانی  اچھو کے ماتھے پر صاف لکھا تھا۔  سیدھا اور سادہ  ، تیسری ملاقات میں لاکھ  دو لاکھ  ادھار مانگ لو۔ روپے ملیں نہ ملیں ، ناں! نہیں ہو گی۔ 

بدنامی

حضور! حضور! ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ کیا رات والا مجرا جناب کو پسند نہ آیا؟جناب کی حساس طبعیت پر کہیں " طبلے" کی تھاپ تو گراں نہیں گزری!کہیں ایسا تو نہیں پازیب کی جھنکار نے کانوں میں ناگوار احساس کو بیدار کیا ہو!یا پھر گھنگھروئوں کی  آواز حضور پر بھاری ہو!ہمارے ٹھمکوں میں کوئی کمی رہ گئی؟آواز کی لوچ صحیح نہ تھی! پان کی گلوری میں چونا زیادہ تو نہ لگا دیا موئی نے!راگنی نے حضور کے مزاج کو افسردہ تو نہ کر دیا!کیا موئی نے خوشبو لگا رکھی تھی؟اف یہ گرمی۔ حضور کہیں پسینے کی بو تو ناگوار نہیں گزری؟اے ہے! کیا معلوم  کم بخت نے کمریا کو لچکایا بھی کہ نہیں۔ہماری لونڈیا کی خؤش لباسی میں کوئی شکن تو نہ رہ گئی؟حضور! بتائیے ناں۔فانوس کی روشنی تو کہیں آنکھوں کو چھب نہ گئی ہو!اے   سرمیلے!گائو تکئے کو دیکھ زرا۔ کہیں کوئی تکلیف دہ شے تو نہیں گھسی اس میں۔ اور ہاں نشست کو بھی اچھی طرح جھاڑیو!حضور۔ ہماری بدنصیبی جو آپ کا مزاج بھاری ہو گیا۔ ورنہ ماں قسم ہم نے تو اپنی سی کسر نہ چھوڑی آپ کی خوشی کے لئے۔ "حضور" (گہری سوچ سے چونکتے ہوئے۔اوں! کیا ہوا زہرہ بائی؟ کیا بڑبڑائے جا رہی ہو؟حضور! آپ کا وہ لونڈا ہے ناں، وہ کیا نام اس کا ۔ ارے وہ سرخ بالوں والا۔سارے شہر میں ڈھنڈیا پٹوا رہا کہ ہم کوٹھے  کے لئے مجرے کا سامان اس سے خریدتے۔"حضور"، تو کیا ہوا؟ اس سے خرید لیا کوئی فرق پڑا؟
نہیں حضور! لیکن کوٹھے کی بدنامی ہوتی ہے۔

ہماری جنگ، پیاری جنگ

سن 2004  کا مارچ۔  ہلکی ہلکی سردی  ،لیکن ماحول الیکشن کی گہما گہمی سے گرم۔ ماہرین، مبصرین اور تجزیہ نگار اس بار بھی پیپلز پارٹی کے جیتنے کے  سو فیصدی امکانات ظاہر کر رہے تھے۔ سیاسی پنڈت  پیپلز پارٹی آف اسپین کے پچھلے ٹریک ریکارڈ ، معاشی پالیسیوں، عوام دوست اقدامات کو دیکھتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے جیتنے کے لئے بہت کم نمبر دینے کو تیار تھے۔ گیارہ مارچ 2004 اسپین کے عام ا نتخابات میں فقط تین دن باقی تھے۔ لوگ بے چینی سے ووٹنگ والے دن کا انتظار کرتے ہوئے ،  سیاسی تقریروں، مباحثوں اور ٹی وی پروگراموں  کی جانب   متوجہ تھے ۔  میڈرڈ کے ریلوے اسٹیشنوں پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ یکے بعد دیگرے بم دھماکے۔ تباہ شدہ ریل گاڑیاں، جلے کٹے جسم۔  ایک سو نوے لاشیں اور ہزار کے قریب زخمی۔ سارا اسپین سوگ میں ڈوب جاتا ہے۔   مباحثوں کا رخ دھماکوں میں ہوئے جانی نقصان ، اس کی وجوہات اور اس کے پیچھے موجود ہاتھ تلاشنے کی طرف مڑ جاتا ہے۔  الزام القائدہ پر لگایا جاتا ہے۔ اور وجہ ہسپانوی دستوں کی عراق میں موجودگی۔سوشلسٹ پارٹی والے اعلان کرتے ہیں  کہ برسر اقتدار آتے ہی عراق سے اپنے فوجیوں کو واپسی کا حکم دیں گے۔ 14 مارچ کو مقررہ تاریخ پر انتخابات ہوتے ہیں اور سیاسی نجومیوں کی تمام تر پشین گوئیوں کے برعکس سوشلسٹ پارٹی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت جاتی ہے۔ ماہرین جیت کی وجہ فقط عراق سے فوجیوں کی واپسی کے اعلان کو قرار دیتے ہیں۔   یاد رہے کہ اس سے تین مہنے قبل عراق میں سات ہسپانوی سپاہی بم دھماکے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو  چکے تھے۔پیپلز پارٹی کی تمام تر بہترین کارکردگی کے باوجود ہسپانوی عوام نے فقط آخری  پلوں میں  ایک بم دھماکے کی زمہ داری اس حکومت  پر ڈالی اور انہیں بری شکست سے دو چار کر دیا۔سوشلسٹ پارٹی کاوزیر اعظم دوسرے دن اعلان کرتا ہے کہ عراق سے تیرہ سو فوجیوں کی واپسی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔امریکہ، نیٹو، یورپی یونین، اتحادی، دوست اپنی سی کر کے دیکھ لیتے ہیں، دھونس، دھمکیاں، پابندیوں کی باتیں۔ لیکن ہسپانوی حکومت کا ایک ہی جواب " جنگ ہماری نہیں، ہم کیوں مفت میں اپنے بندے مرواتے پھریں"۔ جائو! جو کرنا ہے تم کرو"۔یوں اسپین نے اپنے تمام نیٹو ، یورپی اتحادیوں، دوستوں کی ناراضی مول لی لیکن صرف ایک سو نوے بندے مروا کر سدھر گیا اور عراق سے اپنے لونڈے واپس بلوا لئے، دہشت گردی کی جنگ کے متعلق اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی میں بہت ساری تبدیلیاں کر ڈالیں۔اور ایک پاکستانی قوم ،ایک لاکھ کے قریب بندہ مروا لیا۔ اربوں کا نقصان کروا لیا۔ لاکھوں اپاہج ہو گئے۔ ملک کا دیوالیہ نکل گیا۔ "گھر آٹا نہیں اور امان دانے پسوانے گئی" والا حساب ہو رہا لیکن  کوئلوں کی دلالی میں ایسا لطف آ رہا کہ  پرائے چولہے کی آگ کو اپنے بستر پر رکھ کر ہلارے لے رہے۔معلوم ہی نہیں کہ جنگ کہاں سے شروع ہوئی! کس نے شروع کی! کیوں شروع ہوئی! ایک لاکھ (اف خدایا! ایک لاکھ کی گنتی گنتے بھی سانس پھول جاتی) انسانوں کو کھا گئی "ہماری جنگ"۔ لیکن نہ سر نہ پیر! نہ منہ نہ متھا۔ شاید اس بار سوئی قوم نے اس "ہماری جنگ" کے خلاف بھی فیصلہ دیا ہے اور پچھلے تمام "گندے انڈوں" کو اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیا ہے۔ نئی حکومت کو جہاں معاشی مسائل، بجلی، گیس، مہنگائی کے معاملات حل کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے وہاں بجا کہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں سے ستائی قوم نے ان "امور" کی تسلی بخش بہتری کے لئے بھی ووٹ ڈالا ہے۔ نون لیگ ، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، جے یو آئی، یہ تمام جماعتیں اس "ہماری جنگ" کو پرائی جنگ سمجھنے والی جماعتیں ہیں اور اس کا حل گفت و شنید، مذاکرات اور بات چیت میں تلاشنے کی پالیسی کے بیانات داغتی رہی ہیں۔  اب اللہ کرے کہ  میاں نواز شریف ساب بھی "جوز لیوس" ( 2004 کا ہسپانوی وزیر اعظم) کی طرح دلیرانہ، جرات مندانہ اور حقیقت  پر مبنی قوم کی امنگوں کے مطابق اس جنگ سے " خروج" کا فیصلہ کریں۔ ہم دعا گو ہیں کہ "پھجے کے پائیوں"  میں وہ غیرت موجود ہو جس کی ایسے فیصلوں کے لئے اشد ضرورت ہوتی ہے۔
بیکار کی بیگار سے جان چھڑا کر کم از کم اپنے بندے تو مرنے سے بچائیں۔ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا لڑائی کرنی ہے بعد کی بات لیکن اس میں تو دو رائے نہیں کہ "ہماری جنگ" نے ہی ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ ہمارا بدن چور چور اور انگ انگ  زخمی، اور زخم زخم رس رہا ہے۔

مولبی مرنڈا۔

ٹویٹر پر  اک دوجے کا پیچھا کیا۔  جدہ  آنا ہوا تو  نمبر مانگ لیا۔ انہوں نے عربی میں لکھ کر  دے بھی دیا۔ فون  مِلایا تو کوئی بنگالن بول رہی تھی۔ دل بڑا دکھی ہوا۔ اس لئے نہیں کہ ٹویٹر والے  کا  نمبر غلط نکلا   ،بلکہ اس لئے کہ فون والی بنگالن تھی۔  اپنے نصیب !   بعد میں غور کیا تو  عربی کا چار ہم تین سمجھتے رہے۔   خیر ٹویٹر پر ہی ڈی ایمتے رہے۔  پھر فیس بک پر بھی ایڈ کر لیا۔ سرکار کو بھی پیروکار کی حالت پر رحم آیا اور عزیزیہ کے ایک ہوٹل پر  پہنچنے کا حکم صادر کیا۔  ہم نے بھی دفتر سے جان چھڑائی اور ٹیکسی پکڑے مہران ہوٹل کے باہر  لنگر انداز ہو گئے۔ تھوڑا انتظار اور محترم سامنے سے تشریف لاتے دکھائی دئیے۔ ایک ہی نظر میں پہچانے گئے۔۔ سر مبارک ناک کو  بڑھ بڑھ کر چوم رہا اور ماتھا بیچ سے غائب! چہرہ لمبوترا سا۔ ناک متناسب۔ گال پچکتے پچکتے بچے ہوئے۔ کان اپنی جگہ پر۔ داڑھی نے چہرے کو باوقار بنا رکھا۔ چہرے کی نورانیت اور سر کی عریانیت مل ملا کر  شخصیت کو جمال  اور وجاہت بخش رہی تھیں۔  "فارغ البالی" میں" اپنا" مستقبل کا نقشہ سامنے دکھ رہا تھا۔ گلے ملتے ہوئے ایڑیوں کا ممنون ہونا پڑا لیکن پھر بھی اپنا سر محترم کے سینے تک ہی پہنچ سکا۔ ہم نے بھی دو دھڑکنوں کو گن کر کان پیچھے کر لئے۔لیکن مصافحے میں گرمجوشی، اور چہرے پر تھکاوٹ کے اثرات کے باوجود  خلوص جھلک رہا تھا۔  کچھ دیر بیٹھ کر گپ شپ لگائی، حال احوال سے آگاہی لی ،  جناب نے کھانے کا پوچھا ، ہم نے ناں کی اور بس۔  وہ تو شکر کہ واقعتا بھوک نہیں تھی ورنہ  دوسری بار نہ پوچھنے کے باوجود  کہے دیتے ۔" کچھ منگوا ہی لیتے ہیں"۔ چائے پی گئی اور رخصت طلب کر لی۔ تیسرے دن کھانے کا  معاملہ ٹھہرا۔  حضرت کی نظر انتخاب کسی ترکش ریسٹورنٹ پر ٹھہری۔ اور ہم بمطابق حکم پہنچ گئے۔  منہ سے تو بس ایک آدھ بار ہی توصیفی کلمات پھوٹ سکے۔ لیکن ہمارا دل زبان کے ساتھ ساتھ  کھانے کی لذت اور ذائقے کی داد دیتا رہا۔ بھائی جان کھانا اتنا ہی کھاتے ہیں جتنا پیٹ میں آسکے اور پیٹ کا حجم کسی انگریزی فلم کی حسینہ سے زیادہ نہیں۔   اس پیٹ نے بیلنس رکھا ہوا ۔ ورنہ شاید "ادھر چلا میں ادھر چلا" والا حساب ہو جو  زرا  ہوا چلے۔     پرسوں  تیسری ملاقات تھی۔ تین ملاقاتوں کے دوران  مولبی ساب کے گھر سے چار دفعہ فون کیا گیا ہو گا۔ مولبی ساب تاثر تو یہی دیتے رہے کہ سب خیریت ہے لیکن نجانے ہمیں کیوں محسوس ہوتا رہا "جیسے دوسری طرف سے کہا گیا ہو۔ "دروازہ بند ہو چکا۔ اب رات گاڑی میں بسر کر لینا"۔   بندہ  شرافت کا نمونہ اور   انتہائی نفاست پسند ہے، کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ اپنے ہاتھ سے دھلائی بھی کئے  ہیں اور استری بھی۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ موصوف صرف اطاعت پسند شوہر ہی نہیں تابع فرمان "ابے" بھی ہیں۔ اس کا ایک ثبوت بچوں کی وہ سائیکل  بھی تھی جو کبھی پچھلی نشست اور کبھی  ڈِگی میں سنبھالی جا رہی تھی۔دانتوں کو ایسا رنگا ہوا گویا پان "پیک بغیر پھینکے" کھانے کے عادی ہو۔ یا پھر گھر والی کی نشانہ بازی کے دوران لگنے والا زخم رنگت چھوڑ گیا ہو، یہ بھی عین ممکن کہ بچوں کی ٹافیوں کا چسکا لیتے لیتے سفیدی کو  بھورا کر لیا ہو۔  بندہ معصوم بھی تو بچوں جیسا ہی ہے۔ وہی معصومیت بھرا شریر لہجہ،  بولتی ہوئی آنکھیں، زرا زیادہ ہی باہر کو نکلی ہوئیں کہ کسی کو گھور کر دیکھنے سے آنکھیں باہر گرنے کا اندیشہ ہو سکتا۔   مردانہ ہونٹوں کی تعریف ہم حیا کے تقاضوں کے خلاف سمجھتے ہیں اس لئے ان کا زکر خیر  رہنے دیتے ہیں۔ کراچی والوں کا مخصوص دلپذیر  لہجہ، نستعلیق اور  مرصع ، مرقع۔  نہ  مولویوں والی بناوٹ اور نہ کالجی منڈوں جیسی  شو بازی۔ ہوتی بھی کیسے موصوف  عمر کی اتنی بہاریں دیکھ چکے کہ اب تسبیح ہاتھ میں  رکھنے کا حق بنتا ہے۔  شوخی لیکن سادگی کی مٹھاس میں لپٹی ہوئی۔ گفتگو شروع ہوئی تو کہاں سے کہاں جا پہنچے۔ محسوس ہی نہ ہوا  بلمشافہ تیسری ملاقات ہے۔ تبلیغوں والی انکساری، عاجزی بدرجہ اتم موجود تھی۔ لیکن عجیب ہوا کہ  ایک اصیل  مبلغ اور ایک کاٹھے تبلیغی کی ملاقات کے دوران نہ چھ نمبروں کی بات ہوئی نہ ایک دوجے کو  دعوت دی گئی۔ یہ تکلفات اپنوں میں تو نہیں چلتے ناں۔ اور ہاں محترم ہیں پورے "گھُنے"،  یقین نہ آئے تو ان کی اپنی پوسٹ بنام " 2 جنوری" پڑھ لی جئے۔

سماجی سیاپے!


 
یا حیرت! پنج ست مرن گوانڈناں تے رہندیاں نوں تاپ چڑھے۔ معاشرے میں جو جرم ہو رہا زمہ دار مولوی ہے?
اس سماجی  ڈھانچے کی جو بھی کجی ،کوتاہی ہے اس کی وجہ مُلا ہے۔لسی میں پانی ملائو اور لمبا کرکے پلاتے جائو کسی ایک آدھ کو تو نیند کا جھونکا آئے گا ہی۔ کوئی تو "نمونیا" کا شکار ہو ہی جائے گا۔ اگ اسمانے چڑھی پتنگ کی ڈور طرح جھوٹ کو بھی ڈٰھیل دیتے جائو، اتنا کذب پھیلائو کہ رگ و پے میں رچ بس جائے، سچائی چھپ نہ سکے تو اس کا چہرہ مسخ کر دو، اتنا غبار اٹھا دو کہ گرد ہر سفید، اجلے دامن کو داغدار کئے بغیر نہ چھوڑے۔ یہ فلسفہ صدیوں سے رائج ہے۔ قرنوں سے عمل ہو رہا اس پر۔ برصغیر میں انگریزی مہاشوں کی آمد کے بعد اسلامیان ہند کو اپنی جڑوں سے کاٹنے کے لئے اسی "جھوٹ سبیل" کا ٹھنڈا میٹھا پانی رج رج کے پلایا گیا۔ حق اور سچ کی مخالفت میں کیا کیا طریقے نہ اپنائے گئے۔ کیسی کیسی پروپگینڈہ مشینیں دن رات کذابوں کو ہیرو اور ہیرو کو زیرو بنا کر پیش کرنے کے لئے چلتی رہیں۔ اور پھر تقسیم ہند کے بعد انہیں مشینوں کے پر پرزے رپئیر کر کر۔ ملمع لگا، تیل پانی ڈال تیار کر دیا گیا،ایسی ٹھیٹھ "ولیتی" مشینیں کہ دہائیوں بعد بھی دوڑ رہی ہیں، نہ ہانپی نہ کانپی، بلکہ انڈوں بچوں کے زرئعے بڑھتی ہی جا رہی ہیں، شام ہوتے ہی "میکاپے" چہروں کے ساتھ مائیاں سیاپا کرنے مربع ڈبے میں سج دھج کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پھر ہر تان آ کر ٹوٹتی ہے "مذہب پسندوں" پر، ہر "لے" بس کرتی ہے دینداروں کی کسی خرابی پر۔ ڈسکشن کا دورانیہ ختم ہوتا ہے کسی مولانا کے زکر خیر پر۔ موضوع سخن کوئی سا بھی رہے۔ ٹاپک جیسا بھی ہو، وجہ بحث جو مرضی ٹھہرے لیکن غریب ملا  کا زکر کئے بغیر محفل میں گرمی نہیں آتی۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال، صلواتیں مولوی کو، سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار گالیاں مولوی کو، بجلی کا بحران، سب و شتم کا حقدار مولوی، روپیہ کی قیمت بڑھ جائے یا سونے کا بھائو گر جائے میرے ٹی وی پر بیٹھے انٹیلاکچولز کی سوئی مولوی پر ہی اٹکتی ہے۔ بیل کے "ٹل" کی طرح لٹکتی ٹائیاں پہن کر کیمرے کے سامنے بیٹھے جغادری فنکار ملا کے زکر خیر کے بغیر اپنا پروگرام مکمل کر ہی نہیں پاتے، پان ذدہ دندانے تیز کئے "وہی لہجے جو پنواڑی کے کھوکھے پر روا ہو سکتے" ٹیلیویژن سکرینوں پر بولے جاتے اور پھر عوام الناس کو زہنوں میں انڈیلا جاتا کہ ہر فساد کی جڑ ملا ہے، ہر بیماری کی وجہ مدرسہ ہے، ہر مصیبت و ابتلا مولوی کی بنا پر اتری ہے۔ (لیکن استثنائی صورت بھی ہے تیر و تفنگ کا رخ ایسے زاوئے سے سیٹ کیا جاتا کہ "خاص بندے" کبھی زد میں نہیں آتے۔ اور کسی "علامہ" کی طرف رخ سخن تو گناء عظیم شمار ہو گا)۔ قوم کو بتایا جاتا کہ ملا ہی قوم کو تقسیم کئے بیٹھے ہیں، ملا ہی ملت کے فرقے بنائے بیٹھے، مسلک کے نام ہر دھڑے بندیاں کئے ہوئے ہیں، گروہوں میں بانٹا ہوا عوام کو۔ اس زہرناک پروپگینڈے نے ایسی  اثرپزیری  دکھائی ہے کہ ہر کس و ناکس اب مولوی کو برا بھلا کہنا فیشن کا حصہ سمجھتا ہے۔ کہ ایسا نہ کیا تو دقیانوسی کہلایا جاوے گا۔ یا حیرت!
حسرت سی حسرت ہے کہ کبھی کوئی صاف نیت بندہ اینکری کرنے کی بجائے ملا کے اس معاشرے پر احسان بھی گنوا دے۔ اور عوام سے سوال کرے۔ سندھیوں کو اردو والوں سے لڑانے والے ملا ہیں? پنجابیوں سندھیوں میں نفرتیں بڑھانے والے ملا ہیں? پٹھانوں مہاجروں کو مروانے والے ملا ہیں? ہزارہ وال پختون کا جھگڑا شروع کرانے والے ملا ہیں? سرائکی وسیب سے"تخت لاہور" کو گالیاں دلوانے والے ملا ہیں? لیگوں کی سنچریاں ملا نے بنا رکھی ہیں? پارٹیوں کی لائنیں ملا نے لگا رکھی ہیں? تحریکوں کے جھمگٹے مُلا  نے لگائے ہوئے? اس سماج میں ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے  دوسری جماعت والوں کے ہاں رشتہ نہیں لیتے دیتے زمہ داری کس کی? اس معاشرے میں ایک سیاسی امیدوار کو ووٹ دینے والے مخالف امیدوار کے سپوٹروں کی موت مرگ میں شرکت نہیں کرتے۔ گناۃ گار مسجد کا خطیب ہو گیا? انہیں علاقوں میں سیاسی بنیادوں پر سینکڑوں ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے۔ جرم کسی مدرسے والے کے سر? الیکشن ڈرامے کے دوران گائوں کے گائوں ڈانگ ڈنڈا لے کر ایک دوجے پر پل پڑتے کیا کوئی مولوی ایسا کرنے کو کہتا? زات برادری کی بنیاد پر دشمنیاں مولوی پیدا کرتا? سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ مولوی کے کہنے پر ہی بنائے گئے? جن پر ہزاروں بے گناہوں کے خون کا الزام ہوتا۔کیوں کسی سیاستدان کا گریبان نہیں پکڑا جاتا! کسی سماجی کارکن سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا? کسی این جی او  والے سے کس لئے نہیں پوچھا جاتا۔ سوال کا حدف بنے تو مُلا۔ تنقید کی زد میں آئے تو مولوی، برا بھلا سہے تو بے چارا  دیندار طبقہ۔ یا تو ٹھیکہ دو معاشرے کا مولوی کو ۔یا پھر ملا کا زکر خیر کرو جتنا حق بنتا ہے۔ جتنا سچ ہوتا ہے۔

Pages