فکر فردا (سید آصف جلال)

آر ایس ایس اور پاکستان

    آر ایس ایس۔۔۔ قارئین! پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ نام سنتے ہیں ذہن میں خوف، دہشت، قتل و غارت، دنگا کاشی بلیرام بانی اور گولوارکرفساد،ہندو مسلم فسادات اورچاقوں جنجروں سے لیس دہشت ناک صورتیں نظر آنے لگتی ہیں، آج اس مضمون کی وساطت سے ہم یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ ہندوستان کی یہ تنظیم جس کو آر ایس ایس کہا جاتا ہے آخر ہے کیا؟ یہ تنظیم کب بنی؟ اس کے بانیوں میں کون کون شامل ہے؟ اس جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ ہندوستانی کلچر و معاشرے میں اس کا کردار کیا ہے؟ کس حدتک ہندو معاشرے اس کے اثر و نفوذ میں ہے؟ اور آخر میں پاکستان کو اس تنظیم سے کیا خطرات ہیں کا جائزہ لینے کی کوشش کرینگے۔
    تحریر کا بقیہ حصہ پڑھیں

    شریعت یا منافقت؟؟


      قارئین میرا موضوع ہر گز سیاسی نہیں بلکہ میں شریعت کے سماجی پہلو کچھ عرض کرنے کی جسارت کرونگا۔ ایک طویل عرصہ سے ملکی میں شرعی نظام کے نفاذ کے مطالبے ہورہے ہیں۔ شور بپا ہے کہ ملکی آئین شریعت سے متصادم ہے اور یہ کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اس کو حقیقی اسلامی ملک ہونا چاہیے۔ ایسا ملک جہاں کا آئین قرآن و سنت ہو۔ ایسے قوانین کا نفاذ ہو جو قطعی طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں،یہ اور اس طرح کئی نعرے ملکی منظر نامے میں خاصے مقبول ہو گئے ہیں
      تحریر کا بقیہ حصہ پڑھیں

      31 علماء کا 22 نکاتی ایجنڈا (نفاذ شریعت کی ایک تاریخی دستاویز)



      قارئین ! ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ اس اسلامی ریاست کی بنیاد ۱۹۴۰ کی وہ قرار داد ہے جسے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس قرار داد کے تحت مسلمانوں نے ایک الگ اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے نتیجے کے طور پر ۱۴ اگست ۱۹۴۷ ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔قائداعظم ؒ کی قیادت میں ہم نے ایک الگ ملک تو حاصل کر لیا لیکن یہاں پر ایک اسلامی نظام جس کا خواب مسلمانانِ ہند نے دیکھا تھا شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔تحریر کا بقیہ حصہ پڑھیں

      طالبان سے مذاکرت اور ریاست کی ذمہ داری


        آپریشن کر لیں ۔ ۔ ۔ جیٹ طیاروں سے بمباری کر کے جسموں کے چیٹھرے اڑا دیں ۔ ۔ ۔ طالبانائزیشن کو جَڑ سے اُکھاڑدینے کی نیت سے ان کے خلاف 'جہادی عَلم' بلند کر دیجئے ۔۔۔ لیکن مملکتِ پاکستان کی قیادت سے میں یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں ۔
        کیا اس آپریشن سے طالبان ختم ہو جائیں گے؟
        کیا جیٹ طیاروں کی بمباری اس نظریے کو تباہ کر سکتی ہے جو طالبان کے ذہن میں پرورش پارہا ہے؟
        تحریر کا بقیہ حصہ پڑھیں

        واقعہ کربلا اور اور اس کا تقاضہ


          1374  سال سے واقعہ کربلا کے حوالے سے امت کی اکثریت دو انتہاؤں میں پِس رہی ہے ۔۔ لیکن اس وقوعہ کو شعوری طور پر کوئی تسلیم کرنے کو رضامند نہیں ۔   مراد میدان کربلا میں ہونے والے معرکہ میں جگرِ رسول ﷺ اور ان کے اہل و عیال کا حکومتِ وقت کے خلاف سربکف ہوکر نکلنے کا مقصود کیا تھا ؟ وہ کونسے محرکات تھے جس بنا پر سرکارِ دو عالم ﷺ کے نواسہ اقدس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم نے کربلا کے میدان میں خیمہ زن ہوئے ؟
          .

          مکئی کی فصل


            مکئی وادی کونش بٹل کی ایک اہم اور معروف فصل ہے مقامی ہندکو  میں مکئی کے بھٹے کو "سلٹہ" کہا جاتا ہے اور پشتوں میں "وگہ/غوگہ" کہلاتا ہے۔ مکئی کی فصل کی بیجائی جون کے اواخر میں کی جاتی ہے ۔۔، زمیندار زمینوں میں زیادہ تر اسی فصل کو کاشت کرتے ہیں کیونکہ یہ فصل گاؤں کی زمین کے لئے بہت موزوں رہی ہے ۔۔۔ مکئی کا کٹائی ستمبر کے اواخر سے شروع ہو کر اکتوبر تک جاری رہتی ہے ۔

            اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

            سوشل میڈیا اور ایڈمنز ۔۔

              جیسے مملکتِ پاکستان کو جاگیرداروں، وڈیروں، دھشتگردوں، سیاسی بدمعاشوں نے نرغے میں لیا ہوا ہے ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر "ایڈمنز" کا قبضہ ہے ۔۔  یہی ہیں جو سوشل میڈیا کے وابسطہ افراد کی ذہنی و فکری تربیت کرتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں سے براہ راست Interaction اور فوری نتیجہ کا حصول ۔۔۔ لائکس اور شئرز کی بھوک ۔۔ کامنٹ کا نشہ ۔۔ یہ وہ امور ہے جو ایڈمن میں جوش و جزبہ پیدا کرتے ہیں اور اس کو تحریک فراہم کرتے ہیں ۔ صفحے پر موجود مواد ایڈمن کے رجحان کا عکاس ہوتا ہے ۔ اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

              عمران خان صاحب صحت یاب ہو کر آئیے میدان میں, سٹیڈیم منتظر



                الیکشن دو دن کی دوری پر ہیں۔ ایک افسوسناک واقعہ جس کی خبر ہر پاکستانی تک منٹوں میں پہنچ گئی یعنی’’تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان لفٹر سے 15 فٹ کی بلندی سے گرے، اس حادثے میں ان کے سر پر چوٹ آئی، عمران خان کو ہسپتال منتقل کر دیا ہے، تاہم ابھی ان کی حالت بہتر ہے‘‘یہ افسوسناک خبر سنتے ہیں عوام میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہونی لگیں۔۔۔حتیٰ کہ یہ افواہ تک گردش کرنے لگی کہ خدانخواستہ موصوف اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔(اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو) ، اللہ نے عمرِ دراز عطا فرمائے اور ان کو اپنے بوئے ہوئے پھل کا عمدہ صلہ دے جو انہوں گزشتہ 17 سال سے پالا پوسا۔
                اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                یکم مئی (یومِ م مزدور)۔۔بات نفاذِ قانون کی ہے ، قانون سازی کی نہیں۔


                آج یکم مئی 2013 ہے۔ یہ دن "یوم مزدور" کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ اس دن مزدور کے حقوق، اس کے مسائل، ان مسائل کا حل، لیبر قوانین پر عمل درامد، مزدوروں کا معاشی تحفظ وغیرہ کے متعلق سیمیناز، کانفرنسسز وغیرہ منعقد ہوتی ہیں۔ یکم مئی کو این جی اوز، سماجی حقوق کے متعلق آواز اٹھانے والی تنظیمیں ، حکومتی رہنماء اور مزدور تنظیمیوں کےعلمبردار خواب غفلت سےبیدار ہوتے ہیں اور مزدور کی حالت زار کا دل گرفتی کا پیکر بنے مزدور کے حقوق کا نعرہ لگا کر اس ظلم کو بیان کرتے ہیں جو انہوں نے پچھلے سال 2 مئی کو شروع کیا تھا اور30 اپریل تک یہ سلسلہ جاری و ساری رکھا اور آج یکم مئی کو اس ظلم کے ودیعت کردہ زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قراردادیں پیش ہوتی ہیں، سرمایہ
                اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                آئینِ پاکستان 1973ء کا آرٹیکل 62 اور 63 کیا ہے؟؟

                  الیکشن کی تاریخ قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے، اور سیاسی جماعتیں  مذاکرت، جوڑ توڑ، سیٹ ایجسٹمنٹ، اور دیگر سیاسی معاملات کی جانب پیش قدمی کر چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم زور و شور سے چلا رہی ہیں۔ سیاسی منظر نامہ میں اس وقت مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف نمایاں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو انتخابی مہم چلانے میں مذاحمت کا سامنا ہے۔ جس بنا پر ان جماعتوں کی انتخابی مہم محدود ہو گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ بوتھ  کی تشکیل و ترتیب کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اور انشاءاللہ 11 مئی 2013 کو عوام و سیاسی جماعتوں کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا کہ کس میں کتنا دم۔ ۔ ۔
                  اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                  ملازمت کے لئے انٹرویو دینے کے چند مفید مشورے

                    اس عالم کا ہر انسان کامیابی چاہتا ہے۔ کامیابی کی خواہش ہر فرد میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ کوئی مال و دولت کے حصول کو کامیابی سمجھتا ہے، کسی کی نظر میں کامیابی انسانی کی عزتِ نفس میں مضمر ہے۔ کوئی حصولِ علم کو کامیابی کا معیار گردانتا ہے۔ کسی نے کامیابی کو رضائے الہیٰ سے منسوب کیا ہے۔۔۔ غرض ہر شخص مختلف طور سے کامیابی کی تعریف کرتا اور اس کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا نظرآتا ہے۔میرے نزدیک کامیابی انسان کی منزلِ مقصود تک پہنچنےاور پانے  کا سفر ہے جس کا وہ تعین کر چکا ہوتا ہے۔ 
                    قارئین! کامیابی کےسفر کو بعض لوگ ملازمت کے حصول سے منضبط کرتے ہیں۔یعنی طرح اچھی ملازمت
                    اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                    جہدِ مسلسل۔۔۔ کامیابی کا راز

                      اس کی عمر اس وقت اٹھارہ برس تھی، وہ اپنی کلاس کے طالبعلموں کے ساتھ گرجا گھرمیں بیٹھا بظاہر تو لیکچر سن رہا تھا لیکن درحقیقت اس کی نظر گرجے کے ہال میں لٹکے لیمپ پر تھی، لیکچر ختم ہوا طلباء اور پادری ہال سے باہر آئے لیکن یہ اپنی سیٹ پر بیٹھا اس لیمپ کے مشاہدے میں مصروف عمل تھا ، وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور ایک بینچ پر چڑھ کر لیمپ کو ہلایا جس سے اس کا جھولاو کم ہو گیا‘دراصل وہ اس مشاہدہ میں مگن تھا کہ ہال میں لٹکے ہوئے لیمپ کے جھولاو سے اس کی رفتار پر کیا اثر پڑتا ہے، اس نے جھولاو کے فاصلہ کی رفتار کم کی تو لیمپ کے لیمپ کی رفتار بھی کم ہو جاتی، لیکن جونہی اس نے لیمپ کی فاصلہ زیادہ کیا اس کی رفتار بھی بڑھ گئی، اس سے اس نے یہ نتیجہ اخذ
                      اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                      نماز مومن کی معراج ہے۔


                        کسی بھی چیز کے فضائل بیان کرنے سے اس چیز کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو چیز جتنی قیمتی ہو اسی بقدر اس کے فضائل زیادہ ہوتے ہیں،شریعت محمدی ﷺ میں بھی انسانی اعمال جب تک اپنے فضائل  کے مطابق ایک مسلمان کی زندگی میں آتے ہیں تو اس عمل کا اصل حاصل ہو جاتا ہے۔ نماز، روزہ، قربانی،جہاد، زکوۃ، عبادات معاملات، عرض ہر ہر شعبہ میں اسلام نے انسانی رہنمائی کی ہے۔ ان ہر عمل کی فضیلت بھی انسان کو بتا دی گئی ہے۔عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ جوکم و بیش 700 مرتبہ قرآن کریم میں حکم فرمائی گئی ہے۔ دنیاوی مشاہدہ ہے کہ جو بات جس قدر ضروری ہے اس کی تاکید بھی اسی بقدر کی جاتی ہے۔ نماز کا اس قدر تکرار
                        اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                        ہمارا پرائمری نظامِ تعلیم۔۔ اصلاحات کا متقاضی

                          کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی صلاحیت ہر منحصر ہے۔ تعلیم، جو اندھیرے سے روشنی کی جانب رہنمائی فراہم کرتی ہے، اسے پستیوں سے بلندیوں پر فائز کرتی ہے۔۔۔۔ جہالت کی شبِ سیاہ سے روزِروشن کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ جی ہاں! تعلیمی نظام جب تک موثر ہوتا ہے قوم  کے اندر فکری دماغ اسی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔ غیر معیاری نظامِ تعلیم کبھی بھی قومی ترقی کی ضامن نہیں بن
                          سکتی ۔ ملک کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم  حوالے سے جب میں ملک کی مجموعی صورتحال انتہائی ناقص ہے۔ہمارے تعلیمی نظام کی جڑ یعنی پرائمری سیکشن کی سطح پر ملک کے سرکاری پرائمری اداروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ خوفناک مشاہدہ سامنے آئے گا کہ علم کے یہ باغ صحرا بن چکے ہیں۔
                          اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                          کرسمس۔۔۔۔ ایک تاریخ

                            سورۃ اخلاص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔۔۔ترجمہ: ’’کہو وہ اللہ ایک ہے،‘یکتا۔اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام پر تمام ادیان و مذاہب کو منسوخ کر دیا ہے اب قیامت تک یہی دین ، دینِ حق ہے جو کہ تمام عالم انسانیت کے لئے قیامت تک کے لئے ہیں۔اور نبی اکرم ﷺ قیامت تک کے انسانوں کے لئے نبی ہیں۔ اللہ اپنے امر میں کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔ وہ جب چاہے جس وقت چاہے جدھر چاہے جسطرح چاہے اپنے امرمیں خود مختار ہے۔۔۔عقیدہ توحید ایک مسلمان کی ایمان کی بنیاد ہے ۔ لاالہ الااللہ۔۔۔اللہ کے سوا کوئی معبود
                            اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ

                            ضمیر کی عدالت میں

                              محترم قارئین السلام علیکم! گزشتہ کافی عرصہ سے سے قلم و کالم سے دوری رہی اس کی بنیادی وجہ میری کچھ داخلی و خارجی مصروفیات تھی کی کی بنا کر یہ سلسلہ تعطل کا شکار رہا، آج موقع ملا تو سوچا کہ تخیلات کو اپنے معزز قارئین کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ آج میں نے موضوع پر لکھنے کی جسارت کی ہے وہ کچھ ایسا ہے کہ جس کے اردگرد ہماری معاشرتی و سماجی‘فکری و شعوری‘ہمارا ماضی حال و استقبال اور ہماری خارجی اور باطنی دنیا محو گردش ہے، زندگی جب مسائل سے الجھتی ہے تو انسان کے اندر عدم اطمینانی‘خوف اور دیگر منفی خدشات جنم لیتے ہیں ۔ دراصل مسائلِ زندگی دراصل ہماری اپنی سے سوچ سے پیدا ہوتے ہیں، کہیں خیالات کے باہمی ٹکراؤ سے تو
                              اس تحریر کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریںِ