احساس از سکندر حیات بابا

'' کراچی سکول سانحہ اصل ذمہ دار کون ''



بات صرف '' محبت '' کی ہے ، محبت جسے غلط بتایا گیا ،غلط پڑھایا گیا ، اور ہمیشہ غلط ہی سمجھایا گیا ،محبت غلط نہیں ہے لیکن وہ جسے ہمارے ہاں محبت کہتے ہیں وہ ضرور غلط ہے کیوں کہ وہ محبت ہے ہی نہیں ،

محبت قربانی کا تقاضہ کرتی ہے تو ہمارے ہاں محب اپنی محبت کی جگہ محبوب کو قربان کردیتا ہے ، اب محبت محبت نہیں رہی بلکہ وہ احساس بن گئی ہے جس میں محبوب اپنی پراپرٹی ہوتا ہے، پہلے محبوب کی خوشی کیلئے اپنی خوشیاں قربان کرنا محبت ہوا کرتی تھی اور اب اسے آپ سے محبت ہو یا نہ ہو اگر آپ کو اس سے محبت ہے تو وہ کسی کا نہیں ہوسکتا ، اگر ہونے کی کوشش کریگا تو تیزاب ڈال کر اس کے حسن اور زندگی کو برباد کردینا محبت ہے ،

تیزابی محبت کا یہ فلسفہ آخر ہمیں ملا کہاں سے ؟

جواب بالکل مشکل نہیں ، ہمارا نام نہاد آزاد میڈیا ، پڑوسی ملک کی اخلاق باختہ فلمیں ، ہماری اپنی شرمناک ڈرامہ انڈسٹری ، ہمارے وہ عظیم ناول نگار جنھیں صرف واہ واہ سے غرض ہے ان کے قلم کے معاشرتی اثرات سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں ، اور سننے میں شاید آپ کو عجیب لگے پر جی ہاں اس کے ذمہ داروں میں ہمارا مذہبی طبقہ اور مذہبی سوچ کا مخصوص زاویہ پوری طرح شامل ہے ،

اگر ضرورت سے زیادہ روشن خیالانہ سوچ کے تحت بچوں کو مادر پدر آزادی دینا غلط بات ہے تو یقین کریں مذہبی سوچ کے نام پر ان کے جذبات کا قتل بھی کسی صورت جائز نہیں ،

محبت کسی صورت ناجائز نہیں اگر آپ صحیح اور غلط محبت کے مفہوم سے خود آگاہ ہوں اور اپنے بچوں کو ان دو کے مابین فرق و تمیز رکھنے کی صحیح تربیت دے سکیں ،

بے شک کچی عمر کے ناتجربہ کار بچے دنیا کی حقیقتوں کو بہتر طور پر نہیں سمجھتے اور ان کے فیصلے صرف وقتی جذباتیت پر مبنی ہوتے ہیں لیکن اسکا یہ مطلب بھی تو ہر گز نہیں کہ ہم ان کے جذبات کو قابل التفات ہی نہ سمجھیں ، اور ان کی پسند نا پسند و مزاج کو دیکھے بغیر انہیں کسی بھی کوٹھنے سے باندھ دیں ،اور اس بات کا خوف بچوں کے دل میں اسقدر راسخ ہو کہ وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر ایسی صورتحال سے راہ فرار اختیار کرتے ہوۓ غلط فیصلے کرنے پر مجبور ہوجائیں

خاندانی سڑی ہوئی روایات ، جاہلانہ صدیوں پرانے رسوم و رواج ، اور کنویں کے مینڈک والے سوچ جب تک ہمارا طرز عمل رہی گی اس طرح کے سانحات رونما ہوتے رہینگے ،

وقت بدل رہا ہے اور اس بدلتے وقت کے کچھ اپنے تقاضے ہیں ، آپ جنگل میں جاکر نہیں رہ سکتے ، ٹی وی گھر سے باہر نہیں پھینک سکتے اور نہ ہی آپ ٹی وی کی اصلاح پر قادر ہیں ، موبائل و انٹرنیٹ کی تمام تر تباہ کاریوں اور خرابیوں کے باوجود انہیں بچوں سے دور نہیں رکھہ سکتے ،

تو آخر وہ کیا طریقہ کار ہے جسے اختیار کرتے ہوۓ ہم بچوں کی اچھی تربیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی عہدہ بر آور ہوسکتے ہیں ؟

نمبر ایک

بچوں سے دوستی ،

والدین اگر بچوں کے اچھے دوست نہ ہوں تو ان کی سخت طبعیت کی ہیبت یا الگ تھلگ رہنے کی نحوست بچوں کو خود اپنی سوچ کے مطابق اپنے فیصلے لینے پر مجبور کردیتی ہے اور تن تنہا لئے گیے ایسے فیصلے صرف ان کی سوچ کا حاصل نہیں ہوتے بلکہ ہر معاشرتی اچھے برے رجحان کا عکس ہوتے ہیں ، ایک ماں اپنی بیٹی کی اچھی سہیلی و رازدار بن کر نہ صرف اسکی بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ پیدا ہوتی پیچدیگیوں سے مکمل طور پر آگاہ رہتے ہوۓ بروقت درست مشورے دے سکتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ اسکے تبدیل ہوتے خیالات پسند نا پسند کو سمجھتے ہوۓ اسے غلط فیصلوں سے بھی بخوبی روک سکتی ہے ، اسی طرح اگر ایک باپ بیٹے کا اچھا دوست ہو تو صرف اسے انگلی پکڑ کر چلنا ہی نہیں سکھاتا بلکہ وقت کے ساتھ اسکے تیز ہوتے قدموں کے ساتھ قدم ملاکر اپنے تجربات کی روشنی میں اسے جذباتیت کے گڑھوں میں گرنے سے محفوظ رکھہ سکتا ہے ،

نمبر دو

احساس ذمہ داری

احساس ذمہ داری دیئے بغیر اعلی سے اعلی تعلیم و ڈگریاں دیکر بھی آپ اپنے بچے کو اس گدھے سے الگ نہیں بناسکتے جس پر دنیا کی بہترین کتابیں لاد کر اسے خانہ کعبہ کا طواف بھی کرادیا جائے تو وہ گدھا ہی رہتا ہے ، احساس ذمہ داری صرف کتابوں سے نہیں دیا جاسکتا اسکیلئے آپ کو عملی طور پر محنت کرنا ہوگی ، سب سے پہلے خود ذمہ دار بننا ہوگا ، بچوں سے محبت و شفقت کا معاملہ اپنی جگہ لیکن ان کے دل و دماغ میں یہ سوچ بٹھالینا کہ چونکہ آپ معاشی طور پر مظبوط ہیں اس لئے انہیں مستقبل کے حوالے سے بے فکر ہوجانا چاہئے ان کی زندگی کیلئے زہر قاتل ہے ، کام کاج سے انہیں بچائے رکھنا ، اپنے ساتھ غمی خوشی کی محفلوں میں شامل نہ کرنا ، مصیبتوں سے بچائے رکھنے کے خیال سے عملی میدان سے انہیں دور رکھنا یہ سب وہ زیادتیاں ہیں جو لوگ اپنے بچوں کے ساتھ کر رہے ہیں ، میں خود اپنے ایک بہت قریبی دوست کے حالات سے واقف ہوں کہ بیس سال اور سترہ سالہ دو بیٹے ہونے کے باوجود وہ اپنی وائف کو ہفتہ وار ہسپتال چیک اپ کیلئے خود لیجانے پر مجبور ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے جوان بچے عملی میدان سے دور رکھے جانے اور محبت و شفقت کے نام پر احساس ذمہ داری نہ دیئے جانے کی وجہ سے اپنی والدہ کو ہسپتال روٹین چیک اپ پر لیجانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے ،

احساس ذمہ داری نہ ہو تو ماں باپ کی ساری زندگی کی محبت و محنت سب اپنے معنی کھودیتی ہے اور پھر نوجوان اسی طرح اپنی محدود سوچ کے جذباتی فیصلے لیکر انہیں زندگی بھر کے غم میں مبتلا کرجاتے ہیں ،

آخر میں ایک سچے واقعے کے ساتھ اپنی بات سمیٹنا چاہونگا یہ واقعہ خصوصا'' ان نوجوانوں کیلئے ہے جن کے دماغ میں فلمی محبت کے کیڑے کھلبلاتے ہیں اور ان والدین کیلئے بھی جو احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے حوالے سے طرز عمل کو لیکر الجھن میں مبتلا ہوں

ہمارے محلے میں ایک سلمان نام کا لڑکا تھا اس نے بھی فلمی محبت میں مبتلا ہوکر خود کشی کرنے کی کوشس کرکے اپنے تئیں محبت کو امر کرنا چاہا بروقت ہسپتال پہنچادیئے جانے کی وجہ سے جان بچ گئی میں بھی ہسپتال اسکی عیادت کو گیا کچھ دیر کی ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اب بھی اپنی مخصوص جذباتی کیفیت سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلا ،

اسکا اندازہ مجھے اسکے سوال سے بھی ہوا ،

معاشرہ محبت کو تسلیم کیوں نہیں کرتا ؟

میں نے اسکے فلمی لہجے اور معصومیت بھرے انداز پر مسکراکر اسے دیکھا ،
کون کہتا ہے دوست کہ معاشرہ محبت کو تسلیم نہیں کرتا ؟ بالکل کرتا ہے اور میں اسے ثابت کرسکتا ہوں

میری بات سن کر وہ مجھے ایسے دیکھنے لگا گویا اسے میری صحیح الدماغی پر شبہ ہو

اچھا وہ کیسے ؟

میں ایک بار پھر مسکرایا ،

لڑکی کا نام بتاؤ ؟

ارم . وہ آہستہ سے بولا

ٹھیک ہے ، اب تم مجھے لڑکی کا باپ سمجھو میں ہوں ارم کا والد اور تم سلمان میری بیٹی کے رشتے کے خواہش مند ہو ، میں تم سے کچھ سوالات پوچھونگا ، تم پوری ایمانداری سے جواب دینا ...........

تمھاری تعلیم کتنی ہے ؟

انٹر !

کیا تعلیمی سلسلہ یہیں تک رکھنا ہے یا آگے بھی پڑھنا ہے ، مطلب زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنے کیلیے کوئی اچھی سے جاب پانے کیلیے اتنا کافی ہے ؟
نہیں !

تم کام کیا کرتے ہو؟

فلحال کچھ نہیں !

اب تک خود بھی کچھ کمایا ہے یا والدین کی دی ہوئی جیب خرچی پر گزارا ہے ؟
جی ابھی تک تو کچھ نہیں کمایا لیکن مستقبل میں ضرور کام کرکے کمانے کا ارادہ ہے !

میری بیٹی سے کتنا پیار کرتے ہو کیا اسے خوش رکھہ پاؤگے ؟

جی ہاں میں اسے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں اتنا زیادہ کے جب آپ نے رشتے سے انکار کیا تو میں نے زہر پی لیا، بے شک میں اسے خوش رکھہ پاونگا !

میں نے اسے تیز نظروں سے گھورا اور سخت لہجے میں کہنا شروع کیا،

اوراس محبت کا کیا جو تمھارے والدین تم سے کرتے ہیں ؟ کتنے لاڈ پیار محبت سے تمہیں پالا پوسا اس دن کیلیے کہ جب انہیں بڑھاپے میں تمھارے سہارے کی ضرورت ہو تو تم انہیں آخری وقت تک کیلیے نا قابل بیان اذیت میں مبتلا کردو ؟

جسے اپنے والدین کی بے لوث محبت کا خیال نہیں میں کیسے اس شخص پر یقین کرلوں کہ وہ اپنی محبت سے میری بیٹی کا خیال رکھے گا ؟ جسے اپنی تعلیم مکمل کرکے زندگی میں بہتر مقام پانے کا احساس نا ہو وہ کیسے ایک ذمہ دار آدمی ہوسکتا ہے ؟ جس آدمی نے اب تک اپنے ہاتھوں کچھ کمایا ہی نا ہو وہ کیسے گھر گھرستی کا نظام چلا پایگا ؟

سنو سلمان صاحب

سب سے پہلے خود کو ایک ذمہ دار انسان ثابت کرو ، والدین بہن بھایوں کی محبت کا احساس کرنے والا ، زندگی کی قدر سمجھنے والا ،

اپنے ہاتھوں نفع نقصان کی اہمیت کو سمجھو ، اپنی تعلیم مکمل کر کے زندگی میں اپنا مقام واضح کرو ، معاشی طور پر خود کو مظبوط کرنے کی کوشش کرو ، اس کے بعد اپنی پاکیزہ محبت کے سچے جذبے کے ساتھ آ ؤ شادی کے مقدس رشتے کی طرف کوئی تمہیں انکار نہیں کریگا اور نہ کرسکےگا ، لیکن اگر کوئی انکار کربھی دے تو تم سمجھو گے کہ زندگی جیسی انمول نعمت کسی ایک کے حرف انکار سے ختم کرنے لائق ہرگز نہیں ،

محبت کو معاشرہ تسلیم کرتا ہے میرے دوست بس پہلے تم خود کو محبت کے قابل تو بنادو

آج وہ سلمان لڑکا دوبئی میں اچھی نوکری کر رہا ہے رشتوں کی اسے کوئی کمی نہیں ، بقول خود اسکے وہ رشتہ داروں میں کسی کے ہاں بھی پیغام بھیج دے کوئی اسے انکار نہیں کریگا کیوں کہ پچھلے پانچ سالوں میں اس نے خود کو ایک ذمہ دار فرد ثابت کیا ہے

تو ضرورت ہے کہ بچوں کو صرف ڈگریوں کے بوجھ تلے نہ دابا جائے بلکہ احساس ذمہ داری بھی ان میں پیدا کیا جائے اور محبت کے حوالے سے فلمی افسانوں اور حقیقی تلخیوں سے انہیں خوب روشناس کروایا جائے کہ زندگی کوئی تین گھنٹے کی فلم نہیں جو کچھ دکھی مناظر کے بعد آخر میں خوشی کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے بلکہ زندگی وہ حقیقت ہے جو ہر ایک لمحے جینے کا خراج وصول کرتی ہے ،

تحریر ؛ سکندر حیات بابا

کیا آپ چریا ہیں ؟






  اس سے کم سخت  بامعنی اور  موقع کی مناسبت سے مناسب لفظ میرے پاس بالکل نہیں ، میرا ایک راشد نام کا دوست  تھا  وہ خود کو ہمیشہ  فخریہ طور پر راشد چریا کہہ کر متعارف کرواتا تھا  ،کئی بار اسے منع کیا ، سمجھایا کہ یار تیری وجہ سے مجھے شرمندگی ہوتی ہے کم از کم میرے سامنے انسانوں کی طرح تعارف کروایا کر ،لیکن وہ باز نہیں آتا ، میں نے  بارہا  پوچھا بھی ، بتا کہ  تو خود کو چریا کیوں کہتا ہے ، وہ بس مسکراکر ٹال  دیتا ، 

ایک دن  تنگ آکر میں نے پوچھا ،

اچھا بھائی یہ بتادے چریا  ہوتا کیا ہے؟  ،کون ہوتا ہے؟  یہ کسے کہتے ہیں ؟

وہ کہنے لگا ، بابا جی چریا پن ایک کیفیت کا نام ہے جب یہ انسان پر طاری ہوجائے تو وہ سامنے کی باتوں  کو دیکھنا چھوڑ کر دور دراز کی چیزوں  کے متعلق  پریشان ہوتا رہتا ہے ،

دیکھیں بابا جی

جیسے بیوقوف کی آسان تعریف یہ ہے کہ وہ ایک ہی کام کو بارہا ایک ہی طریقے سے انجام دے کر ہر بار مختلف نتیجے کی توقع رکھنے والا ہوتا ہے بس اسی طرح چریا بھی ہوتا ہے ہاں چریے  کا درجہ ذرا بلند ہوتا ہے ،  اور وہ یوں کہ  بیوقوف تو صرف اپنی غلطی سے نہیں سیکھتا اور  چریا نہ صرف اپنی غلطی بلکہ دوسروں کی بھی مکرر  غلطیوں کو ہمیشہ دیکھتا  رہتا ہے لیکن  ہر بار نتیجہ  مختلف دیکھ کر  اسے یوں شاک لگتا ہے جیسے کبھی بھی  اسے اس نتیجے  کی توقع نہ رہی ہو ،
تو اس حساب سے تم چریا کیسے ہوۓ ؟

میرے سوال پر راشد چریا مسکرایا ،

میرا دادا نعرے لگاتا تھا فلانا  زندہ باد فلانا مردہ باد ، صرف سیاسی اختلاف کی وجہ سے اس نے اپنے زمانے میں بہت سے رشتہ داروں سے قطع تعلق رکھا ، پھر میرے باپ نے اپنی مزدوری اور  دیہاڑیاں خراب کرکرکے جلسے جلوسوں میں شرکت کی ، بلکہ میں نے خود کئی بار دیکھا کہ زیادہ نعرے لگانے کی وجہ سے اس کا گلا بیٹھ جاتا  اور درد کرتا تو  کبھی  وہ ادرک پر نمک لگاکر اسے چباتا  کبھی ابلے پانی میں نمک ڈال کر اس سے غرارے کرتا ، پھر اس کے بعد میرا نمبر آیا ، کالج دور سے ہی ایک تنظیم کے ساتھ جڑ گیا ، اور جو میرے پیشتر کرتے رہے ہیں وہی سب کرنے لگا ، یہاں تک کہ ایک دن پولیس نے ایک احتجاجی ریلی پر چڑھائی کی اور اندھادھند  لاٹھی چارج میں میرا ہاتھ مرتبہ  شہادت پر فائز ہوگیا ، تنظیم نے احسان کرکے ہسپتالی اخراجات میں کچھ امداد کی اور اسکے بعد مجھے یوں فراموش کردیا جیسے میں کبھی تھا ہی نہیں ،

اب تم کہو ، میں چریا ہوں کہ نہیں ؟ دادا کی کہانی سے واقف تھا ، ابو کی زندگی کی  خبر ہے ،پھر بھی وہی سب کام اسی انداز میں کرکے میں نے الگ نتیجے کی توقع رکھی ، تو کیا مجھے اپنے نام کے ساتھ چریا لگادینا نہیں بنتا ؟

  آج رات بڑے عرصے بعد اسکی کال آئی تو وہ مجھے یاد آیا ، اب اس سے بات کرنے کے بعد میں نے پوری ایمانداری سے اپنے من کو ٹٹولا ، کہیں موجودہ تمام سیاسی جماعتوں میں سے وہ جو حکمران رہی ہیں یا پھر حکومتوں میں شامل رہی ہیں ، یا کوئی ایسی جماعت جسکے  نعرے  اور وعدے تو نئے ہیں لیکن چہرے اس میں وہی پرانے ہیں ، کہیں ان میں سے کسی بھی جماعت سے میں ان باتوں کی توقع تو نہیں کرتا  جو میرے دادا کرتے تھے یا پھر میرے والد کرتے رہے ہیں ، لیکن الحمد الله  میں نے اپنے من کو  ایسی کسی بھی خبیثانہ خوش امیدی سے پاک پایا ،
کیوں کہ  میرے بزرگوں کے انہیں آزما لینے کے بعد اور ان کی جانب سے انہیں پورے مواقع دیئے جانے کے بعد بھی  اگر میں ان تمام سیاسی جماعتوں سے  کوئی امید رکھوں جو پرانی ہیں یا پھر نئی لیکن انہیں پرانے چہروں کے ساتھ تو ایمانداری کا تقاضہ یہی ہے کہ میں بھی سکندر حیات بابا کی جگہ سکندر حیات چریا لکھا کروں

    ذہن جب غلام ہوجائیں اور دلوں میں  بت بنا لئے جائیں تو اپنے  تراشے خداؤں کی توہین کسقدر بری  لگتی ہے اس کا عملی مظاہرہ آپ کمنٹس میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں

 کسی چریا ذہن کو غیرت آرہی ہو   تو مجھ بے شرم و بے لحاظ آدمی کو گالی دیکر اپنی توانائی ضائع کرنے سے پہلے اس غیرت  کے بارے میں ضرور  سوچ لے ، ممکن ہے  ایماندارانہ تجزیے سے وہ  پائے  کہ اس غیرت سے بڑی بے غیرتی کوئی نہیں ،

سکندر حیات بابا

'' وہ ایپس جو آپ کے موبائل میں ھونا ضروری ھیں ''


 چوتھی قسط  (پارٹ 4 )

اینڈرائڈ ایپلکیشن سیریز کی چوتھی قسط کے ساتھ میں حاضر ھوں ھمیشہ کی طرح آج بھی آپ کیلیے یوز فل آزمودہ اور کار آمد پانچ مکمل فری ایپس لیکر آیا ھوں کچھ احباب کو شکایت ھے کہ میں قسط لیٹ کردیتا ھوں جبکہ وہ روز ایک تحریر چاہتے ھیں توعرض ہے کہ میں تب تک کسی ایپ کے بارے میں نہیں لکھتا اور نہ لکھنا چاہتا ھوں جب تک خود اسے اچھی طرح استعمال کرکے آزما نا لوں تاکہ کسی کا بھی قیمتی وقت برباد نہ ھو اور تحریر سو فیصد فائدہ مند ثابت ھو
تو چلتے ہیں آج کی پانچ شاندار و مزیدار ایپس کی طرف .
ایپ نمبر ایک
(sms scheduler)              
اگر آپ کسی کو کسی خاص وقت میں ایس ایم ایس کرنا چاہتے ھیں لیکن آپ کو ڈر ھے کہ آپ کو یاد نہیں رہے گا یا پھر وہ خاص وقت جاب پر آپ کی مصروفیت یا پھر آپ کے آرام کا ھو تو پریشان ھونے کی ضرورت نہیں اس مکمل فری ایپ کو انسٹال کریں کسی کو بھی کوئی ایس ایم ایس شڈول کرکے سینڈ کردیں مقررہ وقت پر ایس ایم ایس آپ کی طرف سے خود بخود آپ کے سیٹ کیے گئے نمبر پر سینڈ ھوجائگا. اس ایپ کا وزن نہ ھونے کے برابر ھے اور ایک وقت میں آپ جتنے چاہے نمبرز پر جتنے چاہے ایس ایم ایس شڈول کرسکتے ھیں.
ایپ نمبر دو
(cram)
ہوسکتا ھے آپ کے موبائل کا کیمرہ بہت اچھا ھو جو کہ اچھی بات ھے لیکن کیمرہ جتنا اچھا ھوگا اور تصویر جتنی صاف ھوگی تصویر کا وزن بھی اتنا ہی زیادہ ھوگا اور جب آپ وہ تصویر یا ایک سے زائد تصاویر کسی کے ساتھ شیئر کرنا چاہنگے تو زائد وزن کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہوسکتے ھیں ایسے میں یہ جادوئی ایپ آپ کی مددگار ھوگی اسے انسٹال کریں یہ تین سے چار سیکنڈز میں آپ کی تصویر کا.وزن ستر سے اسی فیصد کم کردیتی ھے اور مزے کی بات یہ کہ تصویر کے رزلٹ پر زرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا استعمال میں نہایت آسان ھے
ایپ نمبر تین
(heads up notification)
اس فری ایپ کو انسٹال کرکے آپ اینڈرائڈ کے روایتی نوٹیفکیشن کے انداز کو بدل سکتے ھیں آپ کو آپ کی مرضی کی تمام ایپس کی نوٹیفکیشن موبائل ہیڈ پر ملینگی وہ بھی اسطرح کہ چاہے آپ کوئی گیم کھیلنے میں مصروف ھوں یا کوئی وڈیو دیکھنے میں آپ کسی اہم نوٹفکیشن کو مس نہیں کرینگے اور آپ چاہیں تو آنے والے نوٹفیکیشن کو کلوز کرسکتے ھیں یا اسکےلیے کوئی وقت بھی سیٹ کرسکتے ھیں کہ وہ ایک سکنڈ دو یا پھر پانچ سکنڈز بعد خود ہی غائب ھوجائے.
ایپ نمبر چار
 (smart phone lock)
آپ نے ہر طرح کے فون لاک دیکھے ھونگے لیکن سمارٹ فون لاک صرف نام ہی کا سمارٹ نہیں واقعی ایک سمارٹ لاکر ھے کیوں کہ یہ خود کار طریقے سے ہر ایک منٹ بعد آپ کا کوڈ چینج کرتا رہتا ھے اس میں دو طرح کے لاک ہیں نمبر ایک آف سیٹ لاک، یہ طریقہ منتخب کرنے کے بعد آپ ایک سے لیکر دس تک کوئی بھی ایک نمبر منتخب کریں اور اسے پلس یا مائنس میں سیٹ کردیں اسکے بعد اوکے کردیں اب جب بھی فون کو ان لاک کرنا ھو تو موبائل کی گھڑی میں جو بھی ٹائم ھورہا ھوگا اس میں سے اپنے عدد کو مائنس کردیں مثلا" میں نے دس پلس منتخب کیا تھا اب گھڑی میں پورا ایک بج رہا ھے تو میرا پاسورڈ ھوگا. )
(0110)
دوسرا طریقہ ھے ریورس ٹایم یعنی موبائل کی گھڑی میں جو بھی وقت ھوگا اسے الٹا کرکے لکھیں وہ آپ کا پاسورڈ ھوگا جیسے کہ وقت ھو ایک پینتالیس کا تو پاسورڈ ھوگا
( 5410)
ھے نا کمال کی ایپ مزید تفصیل سے سمجھنے کیلئے اسے انسٹال کیجیے اس میں ٹٹوریل موجود ھے
ایپ نمبر پانچ
(dosron per jado)
اس ایپ سے آپ کو لگے گا یہ کوئی جادو کے متعلق ایپ ھے لیکن ایسا نہیں یہ بک ایپ ھے ایک اردو کتاب جو کسی جادو سے کم نہیں آپ اسے ضرور ڈاونلوڈ کریں مجھے دعائیں دینگے اسکا وزن بالکل کم ہے نہ ھونے کے برابر، موضوع شخصیت کو سنوارنا، خوبی ٹیکسٹ کو چھوٹا بڑا رکھنے پر مکمل اختیار، جسکی وجہ سے پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ھوتی ایک ہی نشست میں پڑھے جانے کے قابل .

جلد ہی مزید اچھی ایپس کے ساتھ پانچویں قسط لیکر حاضر ھوتا ھوں یہ قسط کیسے لگی اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا
شکریہ
سکندر حیات بابا

''ظالم '' مرد '' مظلوم '' عورت



پچھلے کچھ دنوں سے عورت کی مظلومیت پر مسلسل اتنے اسٹیٹس لکھے گئے کہ انہیں پڑھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرط جذبات میں ہم نے بھی بلا آخر وہ قلم اٹھالیا جسے فقط ناڑا ڈالنے واسطے استعمال کرنے کا عزم مصمم کیا تھا

سچ کہیں تو بے شک تن تنہا یہ مرد ہی ہے جو اس دنیا میں فساد کی جڑ ہے ، داماد تو اس مرد سسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتا یہ ہمیشہ اس کے کام میں کیڑے نکالتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ تنگ آکر شادی کو بربادی کہتا پھرتا ہے اور یہ کمبخت مرد ہی ہے جو گھر میں اپنی بہو کو برداشت نہیں کرتا اور مختلف حیلے بہانوں سے اسے اتنا تنگ کردیتا ہے کہ وہ الگ گھر چاہنے لگتی ہے ، کوئی بہو نہیں جو الگ گھر میں خوشی سے رہنا چاہتی ہو یہ خود غرض احسان فراموش مرد ہی ہے جو بیمار اور بوڑھے ماں باپ کو ان کی بدحالی پر چھوڑ کر الگ گھر بسانا چاہتا ہے ایک عورت اسے روکنے کیلئے کتنا زور لگاتی ہے ، ماں باپ کی دوباتیں سن کر برداشت کرنے کو کتنی نصیحت کرتی ہے کتنا ارمان ہوتا ہے ان کے دل میں ساس سسر کی خدمت کا ، لیکن ظالم مرد اسکے ارمانوں کا خون کرکے اسے الگ گھر میں لا پٹختا ہے ،

عورت کبھی دوسری عورت کی غیبت نہیں کرتی ،اور مردوں کا اسکے بغیر گزارا نہیں ،ہمیشہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہینگے ،

عورت کبھی اپنے کپڑوں زیورات سامان وغیرہ کا دوسری عورت سے تقابل نہیں کرتی ،اور یہ نامعقول مرد جب دیکھو آج رشید نے آسمانی رنگ کاٹن کا جوڑا پہنا ہوا تھا ،آج فرید نے واٹر پروف نئے ڈیزائن کی گھڑی پہنی ہوئی تھی اب جو بھی ہو یہ سب میں نے لیکر رہنا ہے ،

عورت بدترین حالات میں بھی ہمیشہ خوش گمان رہتی ہے ،کبھی برا نہیں سوچتی ،ہمیشہ اچھی بات پر فوکس کئے رکھتی ہے ، جبکہ یہ ناہنجار مرد غضب کے بدگمان ہوتے ہیں ذرا ذرا سی بات پر غلط خیال کے وہ گھوڑے دوڑاتے ہیں کہ خدا کی پناہ ، لوگ شیطان سے پناہ مانگتے ہیں شیطان مرد کی بدگمانی کی عادت کی وجہ سے اس سے پناہ مانگتا ہے

ایمانداری سے بتائیں کیا آپ نے زندگی میں کوئی شکی عورت دیکھی ؟

شک عورت کے قریب سے بھی نہیں گزرا ، اور یہ مرد حد درجے کے شکی واقع ہوتے ہیں ، عورت بال سنوار کر اور ذرا سا پرفیوم وغیرہ لگاکر سہیلیوں پڑوسیوں کی طرف کیا نکلے مرد کا دل خدشات سے بھر جاتا ہے اور طرح طرح کے اندازے قائم کرنا شروع کردیتے ہیں ، اور تو اور اگر کبھی عورت بیچاری اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہوکر ذرا گہری سوچ میں کیا ڈوب جائے مرد فورا'' سوچنے لگتے ہیں ضرور ان کی بیوی کا کہیں اور چکر ہے اور یہ اسکے بارے میں سوچ رہی ہے یا پھر اپنے شوہر سے جان چھڑانے کے طور طریقوں پر غور کر رہی ہے ،

عورت گھر کے کام کاج میں دن رات جٹی رہتی ہے تھک جاتی ہے یہاں تک کہ کئی بار تو اپنے پسندیدہ ڈرامے کی قسط بھی نہیں دیکھ پاتی ، اور یہ ظالم مرد جو دن بھر باہر بارہ سولہ گھنٹے ڈیوٹی کے بہانے آزاد فضا میں عیاشیاں کرکے گھر لوٹتے ہیں انہیں اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے لئے فرج سے سالن نکال کر گرم کرلیں ،

عورت نہایت درجہ شکرگزار ہوا کرتی ہے ، خود کے ساتھ کی گئی ایک نیکی کو بھی زندگی بھر یاد رکھتی ہے ،جبکہ ناشکرے مرد ، کسی ایک معمولی سے بات یا تکلیف پر جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ مجھے تم سے ملا ہی کیا ہے تمھارے ساتھ میں نے غم کے سوا کچھ نہیں دیکھا ،

عورت سمجھدار اور معاملہ فہم ہوتی ہے کبھی جذباتیت کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتی ،ٹھنڈے دل و دماغ سے فیصلے کرتی ہے ،اور مرد ،اندازہ لگائیں کہ کتنی طلاقیں صرف مرد کے جذباتی پن کی وجہ سے ہوئی ہیں اگر طلاق کا یہ اختیار بوقت نکاح عورت کو دے دیا جائے تو بدترین حالات میں بھی کوئی طلاق واقع نہ ہو ،

عورت سلیقہ مند ہوتی ہے یہ گھر میں ہمیشہ اچھے لباس میں اور صاف ستھری رہتی ہے تاکہ ان کا خاوند ان کی طرف ملتفت رہے جبکہ یہ مرد ذات ہمیشہ پوہڑ پن کی انتہا پر ہوتے ہیں اگر کسی شادی تقریب وغیرہ حتی کے کسی میت والے گھر بھی جانا ہو تو خوب بن سنور کر نکلتے ہیں لیکن اپنے گھر میں ہمیشہ بکھرے بال سری لنکن باولر ملنگا کے مانند رہتے ہیں ، اور تین تین دن بھی کپڑے بدلنے کی کوئی توفیق نہیں ہوتی ،

ظالم مرد کی داستان بہت طویل ہے فلحال پہلی قسط پر مظلوم عورتوں کی '' تعریف '' ہضم کرلوں دوسری قسط کل پیش کرتا ہوں


سکندر حیات بابا

'' وہ ایپس جو آپ کے موبائل میں ہونا ضروری ہیں ''پارٹ تھری (3)


.
  موبائل ایپس سلسلے کی بے حد پزیرائی سے حوصلہ پاکر  اور احباب کے اصرار پر  آج  میں آپ کو مزید ایسی پانچ انڈرایڈ  ایپس کے بارے میں بتاونگا جو اپنی خاص  خوبیوں کی بنا پر  دلچسپ اور کار آمد ہیں ،


 ایپ نمبر ایک 

(clean inbox)

 باہر کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن اگر آپ  پاکستان میں ہیں اور یہاں کی کوئی بھی سم استعمال کرتے ہیں پھر چاہے وہ کسی بھی نیٹ ورک کی ہو تو سم کمپنی کی جانب سے بے تحاشہ میسجز سے ضرور وحشت زدہ  اور پریشان ہونگے بندہ ہیلپ لائن پر ایک نہیں ہزار بار کہدے لیکن ان کی طرف سے  یہ   نامعقولیت کا سلسلہ نہیں تھمتا ، مختلف پیکجز اور انعامی سکیموں پر مشتمل  ایس ایم ایس کی بھر مار کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ کار آمد اور ضروری ایس ایم ایس مس کردیتا ہے ، یہ مکمل طور پر فری اور بالکل ہلکی پھلکی  ایپ انسٹال کریں  ایسے تمام میسجز سے ہمیشہ کیلئے آپ کی جان چھوٹ جائیگی ،  

ایپ نمبر دو
(azar )
 کیا دور تھا بچپن میں جب ہم کہانیاں سنتے تھے کہ کیسے ایک جادو گر  آئینہ نکالتا اور اس میں دیکھتے ہوۓ دنیا میں کسی بھی جگہ مطلوبہ شخص سے مخاطب ہوجاتا،  آج کے دور میں وڈیو کال کوئی اتنی بڑی بات نہیں ، درجنوں  ایسی ایپس موجود ہیں جو بالکل فری یہ سہولت فراہم کرتی ہیں لیکن یہ ایپ ان سب میں بالکل ممتاز  ہے اور اسکی وجہ اس ایپ کا زبردست اور جادوئی  طریقہ کار ہے ، سکائپ ،وائبر وغیرہ میں ہم پہلے کسی کی آئی ڈی حاصل کرتے ہیں اور پھر ان سے رابطہ کرتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ پچھلے زمانے میں یاہو کا چیٹ روم ہوا کرتا تھا جہاں سے ہم کسی کو بھی کال کرسکتے تھے لیکن یہ ایپ  ان سب سے مختلف ہے ،آپ اسے انسٹال کریں اور ایپ کو اوپن کرنے کے بعد صرف ایک یوزر نیم دیں ،اسکے بعد سکرین کو  بائیں  طرف سوائپ کریں پوری دنیا سے کوئی بھی شخص جو اس ایپ کو یوز کر رہا ہو خود کو آپ کے روبرو پائیگا  ،اگر کسی شخص سے بات نہ کرنی ہو تو دوبارہ سکرین کو  بائیں  طرف  سوائپ  کریں دو سکینڈ میں نیا بندہ آپ کے سامنے ہوگا ،کبھی پاکستان ،کبھی یورپ کبھی افغانستان ،دنیا بھر کے مختلف گوشوں سے بزریعہ وڈیو لوگ آپ سے جڑتے جائیںگے جو بندہ دوستی کے قابل لگے آپ اسے فرینڈ لسٹ میں شامل بھی کرسکتے ہیں ورنہ بغیر فرینڈ بنائے بھی دنیا بھر میں بکھرے ہوۓ  ہزاروں لاکھوں لوگوں سے روزانہ وڈیو بات چیت  کی جاسکتی ہے ،

ایپ نمبر تین
((camscaner
اس  فری ایپ کے بارے میں جب میں نے گوگل پلے سٹور پر پڑھا تو اسے کئی  دنوں تک ڈاونلوڈ کرنے سے احتراز کرتا رہا ،اسکی وجہ یہ تھی کہ میں سوچتا کیمرے  کے ذریعے کوئی ڈاکومنٹ کتاب وغیرہ سکین کرنے کی بات سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں ، سکینر نہ ہو تو بندہ سیدھے سیدھے اپنے ڈاکومنٹ کی تصویر بنا لے  سکین کرنا اور کیا ہوگا بھلا ؟ لیکن جب میں نے اسے ڈاونلوڈ کیا اور پھر ایک کتاب کا پیج اس ایپ کے ذریعے سکین کیا تو رزلٹ دیکھ کر حیران رہ گیا ،کمپیوٹر کے ساتھ جڑے کسی مہنگے سکینر جیسا رزلٹ واقعی ناقابل یقین بات تھی ، اس ایپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت تیز رفتار اور سادہ ہے ،کوئی پیچیدگی نہیں ،اور سکین کرنے کے بعد اس میں جو مختلف موڈز کا آپشن ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ، بہرحال آزمائش شرط ہے .

ایپ نمبر چار
(tapvpn )
   مکمل طور پر فری اس  ایپ کو انسٹال  کرکے رن کریں اور اپنے براوزر سے  بغیر کسی روکاوٹ کے بشمول یوٹیوب کسی بھی بلاکڈ ویب سائٹ کو وزٹ کریں ، کوئی الجھن نہیں ،کوئی پیچیدگی نہیں ،وزن میں کم ،کارآمد اور آزمودہ

ایپ نمبر پانچ
(Ditty for Messenger)
یہ ایک بہت ہی دلچسپ ایپ ہے اور سچ پوچھیں تو اسکی خوبی دیکھتے ہوۓ حیران ہوں کہ یہ بھلا  فری  کیونکر ہے ،اس ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد اوپن کریں ،اس میں بہت سارے گانوں کی تھیمز ہیں ،آپ ان میں سے کوئی ایک سلکٹ کریں ،اور ٹیکسٹ کی  جگہ  پر کوی بھی پیغام لکھیں یہ  ایپ آپ کے ٹیکسٹ پیغام کو اس گانے کی صورت آپ کو پیش کردیتی ہے وہ بھی چند سکینڈز میں ،اب آپ اس گانے کو چاہیں تو وہیں سے کسی بھی سوشل نیٹ ورک پر شیئر کرسکتے ہیں یا پھر چاہیں تو اسے اپنے موبائل میں بھی سیو کرسکتے ہیں ، جس خوبی اور کمال کے ساتھ یہ آپ کے ٹیکسٹ کو گیت میں ڈھالتی ہے وہ واقعی لاجواب ہے ،

امید کرتا ہوں آج کی تحریر بھی آپ کو پسند آئی ہوگی ، اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں ، چوتھی  قسط انشاء الله کل پیش کرونگا

  شکریہ

تحریر سکندر حیات بابا

''انٹرنیٹ کی دنیا کچھ کار آمد ٹپس ''


آج انٹرنیٹ کی دنیا کے حوالے سے کچھ ایسی ٹپس لیکر آیا ہوں کہ  اس رنگین و سنگین دنیا میں آپ اپنی زندگی کو پہلے سے کچھ بہتر اور زیادہ با اختیار  محسوس کرینگے .


ٹپ نمبر ایک

اگر کسی تصویر پر آپ کو شک ہو کہ یہ اصلی نہیں ہے .یا پھر آپ  کسی جگہ کے بارے میں  سرچ کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پاس صرف تصویر ہے باقی  معلومات نہیں ، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،

1. گوگل سرچ انجن مین پیج پر جائیے ،دائیں طرف  اوپر جہاں جی میل وغیرہ لکھا ہوتا ہے وہاں امیج بھی لکھا ہوگا اسے کلک کریں

2. اب آپ کے پاس گوگل کا امیج سرچ بار اوپن ہوجائیگا اسکی نشانی یہ کہ سرچ بار کے اوپر جو بڑا سا گوگل لکھا ہوتا ہے اس گوگل لفظ کے نیچے چھوٹا سا امیج بھی لکھا ہوا آئیگا ،

3. اب اس سرچ بار کے اندر دائیں طرف غور کریں تو کیمرے  کا  ایک چھوٹا سا آئکون بنا ہوگا اس  آئکن   کو کلک کریں اور اپنے کمپیوٹر میں محفوظ  مطلوبہ تصویر کو براوز کرکے اپلوڈ کا بٹن دبا دیں ،

4. اس تصویر کے حوالے سے نیٹ کی پوری دنیا میں اگر ذرا سی بھی کوئی خبر ہوگی تو وہ آپ کو مل جائیگی ،بلکہ وہ تصویر کب اور کہاں کہاں پوسٹ کی جاتی رہی ہے تمام تفصیلات سے آپ کو آگاہ کردیا جائیگا ،

ٹپ نمبر دو  

اگر آپ فیس بک پر  کسی خاص گیم کی انویٹیشن  سے تنگ  آگئے ہیں اور لوگوں سے درخواست کر کر کے تھک گئے ہیں لیکن آپ کی فریاد کوئی نہیں سنتا تو اپنا بلیڈ پریشر  ہائی کرنا  چھوڑیں  اور یہ طریقہ اپنائیں  ،

1. فیس بک پر دائیں  طرف سب سے اوپر جہاں  میسجز اور نوٹیفکیشن وصول کرنے کے آپشن ہوتے ہیں اس سے ذرا اور دائیں طرف سب سے آخر میں  غور کریں تو ایک ڈراپ ڈاون ایرو نظر آئیگا  اسے کلک کریں ،

2. اب جو لسٹ ظاہر ہوئی ہے اس میں نیچے سے چوتھے نمبر پر لاگ آوٹ سے پہلے سیٹنگ (settings) لکھا ہے اسے کلک کریں

3. دائیں طرف غور کریں بہت سے آپشنز ہیں ان میں سے پانچواں آپشن ہے بلاکنگ (blocking)اسے کلک کریں .

4. اب جو پیج کھلا ہے اس میں پانچواں آپشن ہے  بلاک ایپ  اس میں مطلوبہ گیم کا نام لکھیں اور اوکے کردیں نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ،اب کوئی بھی شخص آپ کو اس گیم کی انویٹیشن نہیں بھیج سکتا ،

5. اسی پیج پر چھٹا آپشن پیج بلاک کرنے کا بھی ہے اگر نہ چاہتے ہوۓ بھی کسی پیج کی پوسٹس آپ کی نیوز فیڈ میں آتی ہوں تو اس پیج  کا  نام چھٹے خانے میں لکھیں وہ پیج آپ کی طرف سے بلاک ہوجائیگا ،

ٹپ نمبر تین

اگر کبھی ایسا ہو کہ آپ کو یہ معلوم  کرنا پڑ جائے کہ کسی شخص سے فیس بک انباکس دوران گفتگو کب کب اور کتنی  تصاویر دوطرفہ طور پر شیئر کی گئی ہیں یا انباکس  شیئر کی گئی کسی خاص تصویر تک آپ رسائی چاہتے ہوں لیکن پورے انباکس کو اوپر تک پڑھنا بھی آسان معلوم نہ ہوتا ہو تو اس مسلے کا بہت آسان حل حاضر ہے

1. سب سے پہلے  اس بندے کے ساتھ گفتگو والے   چیٹ باکس میں جائیں
2. جہاں سے چیٹ باکس کلوز ہوتا ہے اس  کلوز والے ایکس کے نشان کے ساتھ سیٹنگ کا ایک آپشن ہے اسے کلک کرکے سب سے پہلے  نمبر  آپشن (سی فل کنورزیشن )پر کلک کردیں

3. اب جب چیٹ باکس فل سکرین موڈ میں کھل جائے تو چیٹ باکس کے اندر اوپر دائیں طرف دوبارہ اس سیٹنگ آپشن پر کلک کریں اور سب سے پہلے آپشن (ویو فوٹو ان تھریڈ) پر کلک  کردیں ،

4. لیں جناب اب اس چیٹ باکس میں  کسی بھی شخص کی  جانب سے شیئر گئیں تمام  تصاویر  ترتیب وار ظاہر ہوجائینگی

ٹپ نمبر چار
اگر آپ کسی کا انباکس میسج اسطرح پڑھنا چاہتے ہیں کہ اسکے پاس سیں   میسج ظاہر نہ ہو یعنی اسے معلوم نہ ہو کہ آپ نے میسج پڑھ لیا ہے  تو میسج اوپن کرتے ہی کی بورڈ سے آلٹ اور آر    (alt+r) کو ایک ساتھ پریس کریں اب آپ اطمینان سے میسج پڑھ سکتے ہیں وہاں پیغام  ان ریڈ  ہی شو ہورہا ہوگا

ٹپ نمبر پانچ
اگر ہمیشہ نئی  ونڈو کرنے کے بعد  آپ کو اپنے کام کے مختلف سافٹ وئیرز ڈاونلوڈ کرنے کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی اسطرح کے آپ کمپیوٹر کے سامنے سے آٹھ کر کہیں آ جا بھی نہیں سکتے کیوں کہ ایک سافٹ ویئر کے بعد دوسرا ڈاونلوڈ  کرنا  ہوتا ہے اور جو ڈاونلوڈ ہوجائے اسے انسٹال بھی کرنا ہوتا ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں ممکن نہیں تو اب اس مسلے کا بھی آسان حل حاضر ہے

1. اس ویب سائٹ پر جائیں ،
2. ninite.com

3. یہاں   سارے ہی کام کے سافٹ ویئر ،براوزر ، اینٹی وائرس ،میڈیا پلئیر ،وغیرہ سب کچھ رکھا ہوا ہے
4. اب ہر سافٹ ویئر کے ساتھ ایک چیک باکس بنا ہوا ہوگا جو سافٹ ویئر ڈاونلوڈ کرنا چاہتے ہیں اسے چیک کرتے جائیں
5. اب گیٹ انسٹالر پر کلک کردیں
6. آپ کے پاس    چند لمحوں میں ہی ایک انسٹالر ڈاونلوڈ ہوجائیگا ،اب آپ اسے رن کردیں

7. اسکی خوبی یہ ہے کہ یہ تمام مطلوبہ سافٹ ویئر کو نہ صرف یہ کہ ایک ایک کرکے  ڈاونلوڈ کردیتا ہے  بلکہ انہیں انسٹال بھی کرتا جاتا ہے ،یعنی  انسٹالر کو رن کرنے کے بعد آپ بے فکری سے کہیں جاسکتے ہیں ، جب آپ آئینگے تو تمام سافٹ وئیرز نہ صرف ڈاونلوڈ بلکہ انسٹال شدہ ملینگے ،

8. اسکی دوسری بڑی خوبی یہ کہ تمام سافٹ ویئر جو یہ انسٹال کرتا ہے وہ اپڈیٹڈ  ہوتے ہیں ،

9. اور تیسری بڑی خوبی یہ کہ یہ آپ  کی ونڈو بتیس بٹ یا چونسٹھ بٹ کے مطابق تمام سافٹ ویئر  خود ہی پہچان کر انسٹال کرتا ہے

10. اور چوتھی خوبی یہ کہ ایک بار جو انسٹالر آپ  بنا لیتے  ہیں اگر اس سیٹپ فائل کو آپ محفوظ رکھیں تو مستقبل میں دوبارہ انسٹالر بنانے کی ضرورت ہی نہیں آپ اسی انسٹالر کو  چلائیں وہ تمام سافٹ ویئر دوبارہ ڈاونلوڈ کردیگا وہ بھی تازہ ترین ورژن .

امید ہے  یہ تحریر آپ کو پسند آئی ہوگی اپنی رائے سے ضرور نوازیں ،موبائل ایپس سیریز کی تیسری قسط   بھی انشاء الله کل پیش کی جائیگی ،

سکندر حیات بابا

وہ ایپس جو آپ کے موبائل میں ہونا ضروری ہیں ، پارٹ (2 )






اینڈ ڈرائیڈ موبائل کے لئے ایپس متعلق پچھلی تحریر کو جو احباب نے پزیرائی بخشی اور جسطرح سے بہت سے لوگوں نے رابطہ کرکے مجھہ سے اس سلسلے کو جاری رکھنے کا کہا آپ کی محبتوں سے مجبور ہوکر باوجود آج کل کی زیادہ مصروفیت کے دوسری قسط کے ساتھ  مزید پانچ ایپس  لیکر حاضر ہوں ،امید ہے یہ تحریر بھی آپ سود مند پائیںگے ،

 ایپ  نمبر چھ

Automatic Call Recorder

یہ ایک مکمل طور پر فری ایپ ہے ،جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ دوران کال دوطرفہ گفتگو کو ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ،اسکی سب سے بڑی خوبی یہ کہ مکمل طور پر آٹو میٹکلی کام کرتی ہے یعنی آپ کو ہر بار کوئی کال ریکارڈ کرنے کیلئے بٹن آن آف کرنے کی ضرورت نہیں ،یہ آپ کی تمام کالز ریکارڈنگ کا تاریخ اور وقت کے ساتھ مکمل ریکارڈ بھی محفوظ رکھتی ہے ،اور اسکی ریکارڈنگ کسی بھی طرح کال کی کوالٹی پر اثر انداز نہیں ہوتی ،سب سے بڑی بات کہ اسکی ریکارڈنگ کا وزن بہت کم ہوتا ہے دس پندرہ منٹ کی گفتگو بھی بمشکل  دو  تین ایم بی جگہ لیتی ہوگی


ایپ نمبر سات

Fake Call & SMS

یہ بھی جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے فیک کال یا ایس ایم ایس کیلئے استعمالی جاتی ہے ، آپ  اس ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد اس میں کوئی بھی خاص نمبر یا نام  ایڈ کریں اس مخصوص وقت پر آپ کو اس نام یا نمبر سے کال یا ایس ایم ایس موصول  ہوجائیگا  اسکی بڑی خوبی یہ ہے کہ آنے والی فیک کال کو آپ رسیو بھی کرسکتے ہیں اور جھوٹی موٹی بات کرنے کا تاثر بھی دے سکتے ہیں یا پھر یہ کہ کسی خاص اوقات کار میں کسی کی طرف سے  اپنی مرضی کے پیغام کے ساتھ کوئی فیک میسج بھی وصول  کرکے کسی کو حیران کرسکتے ہیں ،  اس ایپ ک ذریعے آئی کال یا میسج کا ریکارڈ بالکل نارمل طریقے سے شو ہوتا ہے یعنی آپ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ میسج یا کال فیک ہے ،(میں صرف بطور فن اس کا ذکر کر رہا ہوں اسکا صحیح و غلط استعمال آپ  شرعی اخلاقی و قانونی طور پر خود بہتر سمجھتے ہیں )

ایپ نمبر آٹھ

MapFactor: GPS Navigation

ویسے تو جی پی ایس کیلئے تقریبا' ہر  اینڈ ڈرائیڈ فون میں گوگل میپ بائے ڈیفالٹ شامل ہوتا ہی ہے لیکن اس کی خامی یہ ہے کہ وہ استمعال میں خواہ مخاہی نسبتا'' زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے جبکہ وہ کام بھی تب ہی کرتا ہے جب نیٹ کسی نہ کسی صورت دستیاب ہو ،جبکہ مذکورہ ایپ ایک تو نہ صرف یہ کہ نہایت آسان ہے بلکہ اس میں موجود ایک آپشن کے ذریعے آپ اپنے شہر کا نقشہ ایک بار ڈاونلوڈ کرلیں پھر نیٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی یہ آپ کو رستہ دکھآئیگی ،آپ جی پی ایس کو آن کریں یہ فورا' آپ کو آپ کی لوکیشن سے آگاہ کرتی ہے پھر آپ منزل کا اندراج کریں یہ آپ کو دستیاب تمام روٹ سے آگاہ کردیتی ہے بلکہ آواز کے ذریعے بھی آپ کو گائیڈ کیا جاتا ہے کہ آگے موڑ پر آپ مڑ جائیں سب سے بڑی بات ان تمام خوبیوں کے ساتھ یہ بالکل فری ہے


ایپ نمبر نو
Urdu Columns

 انٹرنیٹ اور ویب کے دور میں آج کل نیا اخبار بھی باسی معلوم ہوتا ہے لیکن اخبار  کے ایڈ یٹوریل  پیج کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ  قائم ہے ،اب مصیبت یہ کہ آپ کے پسندیدہ کالم نگار سب ایک ہی اخبار میں نہیں لکھتے اور آپ تمام اخبارات بھی ایک ایک کالم کیلئے نہیں خریدنا چاہیںگے تو ایسے میں یہ ایپ آپ کیلئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ،اس ایپ کو انسٹال کریں تمام کالم نگاروں کی لسٹ نہایت سلیقے سے آپ کے سامنے ہوگی جس شخص کا بھی کالم پڑھنا چاہیں اس کے نام کو ٹیپ کریں اس کے تمام پرانے کالمز کے ساتھ ساتھ تازہ ترین کالم بھی آپ کے سامنے ہوگا ، یہ ایپ بھی بالکل فری ہے

 ایپ نمبر دس
3G Packages – Pakistan

تمام موبائل نیٹ ورک کے تھری جی ریٹ و پیکجز اس ایپ میں نہایت  سلیقہ و ترتیب سے رکھے گیے ہیں ، تمام تر پیکجز اور ان کے ریٹ ہمیشہ اپڈیٹ رہتے ہیں ،اگر آپ کو کوئی بھی روزانہ ہفتہ وار یا ماہانہ پیکج پسند ہو تو نہ صرف یہ ایپ  اسے حاصل کرنے کا طریقہ کار بتاتی ہے بلکہ اس  پیکج پر موجود بٹن کو ٹیپ کرنے سے بھی وہ پیکج آپ حاصل کرسکتے ہیں یہ ایپ بھی بالکل فری ہے

امید کرتا ہوں آج کی قسط بھی آپ کو پسند آئی ہوگی آپ کو کونسی ایپ زیادہ اچھی لگی یا اس حوالے سے کوئی تجویز ہو  اپنی رائے سے ضرور نوازیں

تیسری قسط کے ساتھ کل حاضر ہونگا جو احباب چاہتے ہیں میں انہیں ٹیگ کروں وہ پیشگی بتادیں


شکریہ

سکندر حیات بابا

وہ ایپس جو آپ کے موبائل میں ہونا ضروری ہیں ،

 
آج کا دور موبائل کا دور ہے ،اور بلامبالغہ اسوقت کروڑوں نہیں اربوں لوگ ہیں جو کہ کمپیوٹر سے زیادہ نیٹ کا استعمال موبائل پر کرتے ہیں ،جیسے کمپیوٹر کیلئے مختلف سافٹ ویئرز  ہوتے ہیں ویسے ہی مختلف آپریٹنگ سسٹم پر مشمل موبائل کے لئے ان کے مطابق ایپس تیار کی جاتی ہیں ،یہ ایپس کمپیوٹر کے بھاری بھرکم سافٹ ویرز کے مقابلے میں نہایت ہلکی پھلکی لیکن ان کی نسبت اپنے مخصوص مزاج  کو لیکر زیادہ کار آمد اور آسان ہوتی ہیں ،

عام طور پر جب آپ کوئی نیا موبائل خریدتے ہیں تو وہ کتنا بھی مہنگا کیوں نہ ہو خالی خولی ہی نظر آتا ہے لیکن پھر جب آپ اس موبائل کے ایپ سٹور کا رخ کرتے ہیں تو وہ اپنے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے مطابق مختلف خصوصیات کی حامل ایپ انسٹال کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے ،

ایپپس فری بھی ہوتی ہیں اور  کم زیادہ پیسوں پر براۓ فروخت بھی ، ہر نیا یوزر جب پہلی بار ایپ سٹور کا رخ کرتا ہے تو وہاں  ہزاروں بلکہ لاتعداد فری ایپس پا کر الجھ جاتا ہے   آج میں اپنے تجربے کی روشنی میں آپ کو  پانچ  ایسی فری  ایپس  کے بارے میں بتاونگا جسے اینڈ رایڈ فون میں انسٹال کرکے آپ نہایت کار آمد پائیںگے اور مجھے دعائیں دینگے

نمر ایک ؛
Google Translate
گوگل ٹرانسلیٹ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ایک ترجمہ کرنے والی ایپ ہے ،یہ ایپ بہت ہی سادہ انداز میں ڈیزائن کی گئی ہے اور وزن بھی تقریبا' نہ ہونے کے برابر ہے ،آپ اس ایپ کے ذریعے  اردو  سمیت دنیا کی پچاس بڑی زبانوں کا آپس میں ترجمہ حاصل کرسکتے ہیں ،یوزر فرینڈلی انٹر فیس کے ساتھ یہ ایپ آپ] کے لئے بہت ہی زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتی ہے کہ کے آپ اپنے ترجمہ کو وہیں سے براہ راست فیس بک ،ٹویٹر ،گوگل پلس ،سکائپ یا سوشل میڈیا کہ کسی بھی پلیٹ فارم پر شئیر کرسکتے ہیں بلکہ اگر اسے اپنے پاس کاپی کرنا چاہیں تو بھی کرسکتے ہیں اس ایپ کی سب سے بڑی ایک اور خوبی کہ  دوسری زبان کا ترجمہ  آڈیو کی صورت  بھی آپ سن سکتے ہیں  جس سے آپ اس زبان کا ٹھیک تلفظ بھی سیکھ سکتے ہیں ،

نمبر دو ؛
MultiLing Keyboard
موبائل میں ہر جگا اردو لکھنے کیلئے شاید ہی کوئی اس سے زیادہ بہتر ایپ دستیاب ہو یہ مکمل طور پر فری ہے اس میں اور بھی بہت سی زبانیں ہیں انسٹالیشن کے بعد جب پہلی بار ایپ اوپن ہوتی ہے آپ باقی ساری زبانوں کو ان چیک کرکے صرف اردو اور انگلش کو رہنے دیں یا پھر جو بھی اور زبان آپ رکھنا چاہیں اس میں پنجابی اور پشتو کی بورڈ تک دستیاب ہے ،انسٹالیشن کے بعد تمام دیگر اور ڈیفالٹ کی بورڈ کو ڈسیبل کردیں اور صرف اسے آن رہنے دیں ایک زبان سے دوسری زبان کے کی بورڈ کو منتخب کرنے کیلئے سپیس بار کو ٹیپ کئے رکھیں ،
نمبر تین ؛

Clipper - Clipboard Manager
اکثر اوقات ہمیں کوئی لنک یا ٹیکسٹ وغیرہ کاپی کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ،موبائل میں یہ کام ڈیسک ٹاپ کی طرح آسان نہیں ہوتا ،لیکن اگر یہ ایپ آپ  انسٹال کرلیتے ہیں تو آپ کا مسلہ ختم ، اس ایپ کی انسٹالیشن کے بعد کہیں سے بھی ٹیکسٹ وغیرہ  کو  کاپی کرنے کیلئے ٹیکسٹ پر کچھ دیر تک ٹیپ کریں آپ کے پاس سلکٹ کرنے کا آپشن آجائیگا اس کے ذریعے نہایت آسانی کے ساتھ اپنے مطلوبہ حصے کو سلکٹ کریں اور کاپی کرلیں ،آپ ایک ہی وقت میں یکے بعد دیگرے بہت سی الگ الگ جگہوں سے بھی مواد کو کاپی کرسکتے ہیں ،اب جہاں پیسٹ کرنا ہو وہاں خالی جگہ پر دو سکینڈ ٹیپ رکھیں اور پیسٹ کے آپشن پر کلک کردیں ،

نمبر چار ؛
Truecaller
یہ ایک بہت ہی حیرت انگیز ایپ ہے ،اگر یہ آپ انسٹال کرلیتے ہیں تو اسکے بعد کوئی شخص آپ کیلئے انجان نہیں رہتا ،یعنی اگر کوئی شخص آپ کے پاس فون بک وغیرہ میں ایڈ نہ بھی ہو تو بھی   کال آنے کی صورت میں کال کرنے والے کا نام اور ملک یا شہر آپ کے فون پر لکھا نظر آئیگا میرے ذاتی تجربہ کے مطابق ستر فیصد لوگوں کے نام تو یہ  ایپ بتادیتی ہے ،

نمبر پانچ ؛
PhotoFunia
وزن میں ہلکی پھلکی یہ ایپ کسی جادو سے کم نہیں ، آپ اسے انسٹال کریں ،کسی کی بھی تصویر بنائیں اور سینکڑوں زبردست فریمز میں سے کوئی بھی منتخب کریں یہ ایپ آپ کی تصویر کو اس فریم میں اسطرح سیٹ کردیگی کہ آپ خود حیران رہ جائیںگے ،

امید کرتا ہوں آپ کو میرا یہ نیا سلسلہ پسند آیا ہوگا ،اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں  جلد ہی دوسری قسط بھی پیش کرتا ہوں

شکریہ

سکندر حیات بابا

اردو سوشل میڈیا سمٹ ،



''خدشات ،اعتراضات اور ان کے جوابات، اور کچھ معروضات''  
اردو سوشل میڈیا سمٹ بلا آخر اپنی تمام تر ہنگامہ خیزیوں کے بعد اختتام پزیر  ہوگئی  ، کسی بڑے زلزلہ تباہ کن خیز کے بعد کی طرح اس تقریب کے جھٹکے  دیر تلک محسوس کئے جاتے رہینگے ، 
جہاں سمجھ ہوتی ہے اور سمجھدار لوگ بھی وہاں سوال بھی ضرور ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہئے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سمجھداری کچھ ضرورت سے زیادہ ہی پائی جاتی ہے تو ایسے  سوالات بھی پیدا ہوئے یا کئے گئے جو حاسدانہ سوتیلے پن سے لتھڑے ہوئے یا لا ولد تھے یعنی وہ  سوالات جو کسی طور تقریب سے متعلق نہ تھے اور انہیں زبردستی تقریب کے پس پردہ عوامل کے طور پر خدشانہ لب و لہجے میں  سستے  سنسنی  خیز ٹی وی پروگرامز کے انداز میں پیش کیا گیا ،سب سے زیادہ پروپیگنڈہ تقریب کے بجٹ کو لیکر کیا جارہا ہے ،کوئی اسے ایک کروڑ روپے بتاتا ہے تو کسی کا خیال ہے بجٹ کتنا بھی کم زیادہ کیوں نہ  ہو  یہ ضرور ''بیرونی امداد '' تھی جو کسی خاص مقصد یا مقاصد کیلئے دی گئی ،
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں. مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں.
ہمارے ہاں ایک خاص قسم کی بیمار ذہنیت نے جسطرح ہمیشہ سے معاشرے کیلئے  کچھ کر دکھانے والے پرجوش لوگوں کو قریب سے دیکھے اور سمجھے بنا انہیں بیرونی ایجنٹ قرار دینے کی روش  اختیار کر  رکھی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں کا  لاثانی  ٹیلنٹ جوک در جوک فرنگیوں عربوں حتی کے افریقیوں کے ہاں منتقل ہوا جارہا  ہے ،  تعصب کی منحوس پٹی اگر آنکھوں پر نہ بندھی ہو تو نو نمبر  کمزور نظر والا شخص بھی سوشل میڈیا سمٹ کے قد آدم بینرز  پر یا پھر ہفتوں سے قومی اخبارات میں چھپنے والے اشتہارات میں سپانسر کے نام بخوبی پڑھ سکتا ہے ، ہاں اب اگر کوئی چاہے تو سپانسر کے  تقریب سے متعلق مفاد یا ان کی معاشرے میں شرعی اخلاقی یا پھر قانونی  پوزیشن کو لیکر ضرور بات ہوسکتی ہے ، جیسے کہ آپ  کہہ  سکتے ہیں جی  فلانی کمپنی تو شراب تیار کرتی ہے آپ نے ان کا  لوگو کیوں لگایا یا پھر فلانی  کمپنی  توسماج دشمن کاروایوں من ملوث  ہے   آپ نے ان سے کیوں معاملات طے کئے وغیرہ وغیرہ ،
دوسرا بڑا اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس تقریب سے اردو کی کیا خدمت ہوئی یا معاشرے کو کیا فائدہ ہونے کے امکانات ہیں ،
سوال بے شک معقول ہے لیکن وہ معقولیت کا کوئی کام ہی کیا جسے ہم نامعقولیت سے نہ برتیں ؟ اس سیدھے سادے جائز سوال کو بھی اس ناجائز طور طریقوں سے اچھالا جانے لگا کہ مسخرانہ لہجے میں کئے گئے  طنز کے زہریلے جملوں کی بہتات کو اگر بارش کی شکل برسادیا  جاوے تو شہر کے شہر اجڑ جائیں ،
اردو کی اس سے بڑی خدمت کیا ہوگی کہ کئی سارے نوجوانوں نے بر سر میڈیا و  کیمرہ تسلیم کیا کہ وہ انگلش کے الفاظ کو متبادل اردو ہونے کے باوجود صرف احساس  تفاخر  کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے اب وہ ارادہ کرتے ہیں کہ اس احساس کمتری سے چھٹکارہ حاصل کرکے ضرورتا' تو انگلش کے استعمال کو معیوب نہ سمجھیںگے لیکن کوشش کرینگے کہ اردو کے ساتھ برتے گیے سوتیلے پن کے رویے کا ازالہ کریں ، زبان کسی بھی قوم کی تہذیب کا آئینہ دار ہوتی ہے  ہماری تہذیب و فرنگی تمدن کا فرق صرف محاورا نہ طور پر ہی نہیں  بلکہ درحقیقت  مشرق و مغرب کی دوری رکھتی ہے ،  اسے سمجھنے کیلئے قطعا'' سقراط و بقراط ہونا ضروری نہیں کہ بگڑی زبان شخصیت کو بگاڑتی ہے بگڑی شخصیت سے معاشرہ بگڑتا ہے اور جب معاشرہ بگڑ جائے تو ثقافت برباد  ہونے لگتی ہے اور ثقافت نہ رہے تو قومیں   برباد ہوجاتی ہیں ، 
 آج کے دور میں سوشل میڈیا کی طاقت اور اسکی اثر پزیری سے کوئی زی شعور  انکار نہیں کرسکتا تو کیوں نہ لوگوں کو سوشل میڈیا پر اظہار خیال واسطے اپنی زبان استعمال  کئے جانے  کی ترغیب دی جائے ،کیا اردو سوشل میڈیا  سمٹ کی یہ خدمت کم ہے کہ   سوشل میڈیا  اور مین اسٹریم میڈیا کے بڑے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے کرکے اس بات کیلئے راضی کیا جائے کہ وہ اٹھانوے فیصد عوام کو سمجھ آنے والے زبان میں نشر و اشاعت کا کام کریں تاکہ ہمارا معاشرتی شعور اپنے حقوق سے کماحقہ بہرمند ہوسکے   اسطرح برسوں کی محرومیوں کے قصے تمام ہو  اور معاشرہ خانہ جنگی کی کیفیت میں گرفتار نہ ہوپائے ،اب آپ اس سے زیادہ کس خدمت کی توقع رکھتے ہیں ؟
تیسرا اعتراض خطرناک حد تک افسوسناک اور افسوسناک حد تک احمقانہ ہے کہ اس تمام تر تقریب میں کیوں  شعوری طور پر اردو بلاگ کو نمایاں نہ کیا گیا ؟  
یہ سوال خطرناک اسلئے کہ اگر کچھ بلاگرز اسے سنجیدہ لے لیں تو اردو بلاگ کا سفر جو دن دگنی رات چگنی رفتار سے ہوتے ہوۓ اب باقاعدہ دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے جارہا ہے اسے ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے ،نقصان اسطرح کہ بلاگرز تیزی سے بدلتے ہوۓ سماجی حالات سے نظریں ہٹاکر اور  تخلیقی نوعیت کے کام چھوڑ کر  آپس میں  دست و گریبان ہوجائیںگے یا پھر سازشی تھیوریاں  لئے مختلف حصو ں میں واضح طور پر بٹ  جائیںگے اور ان  کے اس  تقسیم در تقسیم  کے  عمل کے دوران سازشی عناصر وہ  طوفان بدتمیزی  برپاہ کرینگے کہ سیاسی چوروں بلکہ ڈاکووں کو قانون کے نام پر اپنی من مانیاں کرنے کی کھلی چھوٹ ملجآئیگی ، (اور اسکی واضح مثال حالیہ بل ہے جسے جلد ہی قانون کا درجہ دینے کیلئے قومی اسمبلی ارسالہ جائیگا  اب تک تو اس بل کی  اظہار راۓ کو جکڑنے والی نامناسب ترین شقوں سے آپ  بخوبی   واقف ھوگیے ہونگے )
اب آپ کو کیا لگتا ہے یہ بل فیس بکی دانشوروں سے گھبرا کر لایا گیا ہے یا پھر بلاگ کے مخصوص مزاج اور اسکی اثر پزیری نے ہمارے عالی دماغوں کو اس کام کیلئے مجبور کیا ہے؟ اسکا جواب کچھ اتنا بھی مشکل نہیں ، رواں سال ہی ایک روسی قانون اور سعودیہ کے ایک بلاگر کا انجام بطور جواب سب کے سامنے ہے  ، 
 درج بالا دی گئیں مثالوں کے تناظر میں  تمام لوگوں پر  یہ بات خوب روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہونی چاہئے کہ بلاگرز کہ ہمدرد وہ لوگ ہیں جو مکمل بے سر و سامانی کی حالت میں بھی ہمت سے کام لیکر اسطرح کی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں یا پھر بلاگرز کے خیر خواہ وہ لوگ ہیں  جو درج بالا قسم کے بے سر و پا الزمات بلا تحقیق لگانے کا شوق رکھتے ہیں ؟
معمول کے  طریقہ کار مطابق  عوامی فورم پر  بلاگز کی نامزدگیاں کی گئیں اور پھر متفقہ اور متعین کردہ اصول  کے مطابق ایک بلاگ کو سال کا بہترین  ایوارڈ دیا گیا ،اور یہ ایوارڈ نہ صرف تقریب کا باقاعدہ حصہ تھا بلکہ اسے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر دکھایا بھی گیا اور مین سٹریم میڈیا میں بھی اس ایوارڈ کی  خاطر خواہ  واہ گونج سنائی  دی ،آپ چاہیں تو پاکستان  کا  دوسرا  بڑا  اخبار ایکسپریس دیکھ سکتے ہیں جس میں ایوراڈ  اور ایوارڈ لینے والے بلاگ  اسکے   بلاگر   کے  نام کے ساتھ باقاعدہ الگ خبر کی صورت  ذکر کیا گیا ، 
اب آپ اردو بلاگ کے لئے اس سے زیادہ کیا توقع لئے بیٹھے تھے ؟
بہت کم وسائل کے ساتھ اس بڑے پیمانے پر جامعہ کراچی جیسے بڑے ادارے میں اسطرح کی تقریب ہرگز کچھ آسان کام نہ تھی ،ہوسکتا ہے نا تجربہ کاری کے سبب کچھ چیزیں اور زیادہ بہتری کی متقاضی ہوں لیکن  یک جنبشِ قلم  سب محنت و اخلاص  رد کردینا یا پھر خوا مخواھی روایتی سازشی تھیوریاں تلاشنا اور بال کی کھال  اتارنا انتہائی درجہ حوصلہ شکن اور علم دشمن رویہ ہی گردانہ جاسکتا ہے ،
 ارادہ تو تھا کہ اعتراضات کے جوابات کے ساتھ مستقبل واسطے  کچھ  تجاویز وغیرہ بھی ہوجائیں لیکن تحریر کی طوالت کے پیش نظر اسی پر فلحال اکتفا  کرونگا اس آخری دھمکیانہ ٹائپ نوٹس کے ساتھ کہ اگر آپ خود کچھ بہتری کا حوصلہ نہیں رکھتے تو پلیز بغیر سمجھے معاملات میں چونچ بند  رکھنے کی اہمیت کو بھی سمجھیں ،ورنہ سازشی نظریات والی تھیوریاں جہاں سے بن کر یا بنواکر پھینکی جاتی ہیں ان تمام ''فیکٹریوں '' سے ہم بھی بخوبی واقف ہیں .
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریںہم اگرعرض کریں گے تو شکایت ہوگی
شکریہ 
سکندر حیات بابا




 


'' جدید فیس بکی شاعرات اور نسائی ادب ''





 نوٹ اگر آپ شاعر ہیں یا شاعری سمجھنے والے  تو  میری  یہ  تحریر نا ہی  پڑھیں تو بہتر ہے ،

حضور مانا کہ تحریکِ حقوقِ نسواں یا نسائی تحریک عورت کی حیثیت و اہمیت ، مساوی حقوق آزادی ء رائے کے حصول اور اسے مکمل انسان تسلیم کرنے کے نقطہ نظر کا احاطہ کرتی  ہوگی ،یا پھرہمیں  اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ ہر عہد میں عورت پر استحصالی قوتیں مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر حاوی رہیں ہیں ،  صنف نازک کے حقوق کی بات کرنے پر یا اسکیلئے عملی کوشش پر ہمیں کوئی اعتراض بھی نہیں بلکہ ہم آپ کے جذبہ خدمت انسانیت کو سراہتے ہوۓ آپ کو نیک مقصد میں  کامیابی کی دعا دیتے ہیں ،لیکن اب اس  غمناک موضوع کی حقیقت کو  ایسا بھی کیا رونا کہ افسانے اور حقیقت میں تمیز مشکل ہوجاۓ ، ہم تو آج کے جدید فیس بکی دور میں عورت ذات کو کہیں اوپر پاتے ہیں ، مرد ہنر مند ہوتے ہوۓ بھی اپنی خالی '' وال ''  کو حسرت بھری نظروں سے گھور رہا ہوتا ہے تو عورت صرف عورت ہونے کی بنا پر پرہجوم متعقیدین کی  جھرمٹ میں اتراتی پھرتی ہے ،
خاص کر میدان ادب میں جو بے ادیبانہ طوفان بدتمیزی جدید فیس بکی ادیباؤں نے مچا رکھا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، چند جینوئن اور اچھی خواتین کو چھوڑ کر یہ جدید بے ادب ادبائیں ہی ہیں جو  بڑے اور پرانے  مرد ادیبوں کی عقل پر پردہ ڈالے نیے لکھنے والے مرد ادیبوں کی حق تلفی کا سبب بنتی ہیں ،

کچھ اساتذہ اور کچھ نام نہاد اساتذہ کو ان '' نیے لب و لہجے '' کی ادیباؤں  کی تعریف و تصیح سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ نیے لکھنے والے مرد ادیب کی کسی  تخلیق  پر ایک نظر محبت ڈال سکیں ، 
پچھلے دنوں ایک اچھے شاعر دوست کو دل کا دورہ پڑنے کی خبر سن کر ہم بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچے ، موصوف ہوش و حواس سے بیگانہ تھے ، چار گھنٹے بیہوش رہنے کے بعد انہوں نے  روتے ہوۓ سنسنی خیز لہجے میں جو تفصیلات ہمیں بتائیں اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے ،
بابا جی یار بس کیا کہوں میری بدقسمتی ہی تھی جو میرے تھری جی پیکج کے ختم ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی رہ گیا تھا اور میں نے سوچا فیس بک کا ایک چکر لگا کر اپنی نئی غزل پر اساتذہ کی اصلاح ملاحظہ  کرلی جائے ،

میری وال تھر کے صحرا کی طرح سنسان  اور غزل کے کمنٹس باکس پاکستانی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم کی طرح ویران تھے ، میں نےخوش گمانی سے کام لیتے ہوۓ سوچا شاید کوئی صاحب ذوق  قاری یا اساتذہ میں سے کوئی  آن  لائن ہی نہ آیا ہوگا ، لیکن پھر لاگ آوٹ ہونے سے پہلے دفعتا'' میری نظر  اس نئی لالی پوڈر چہرہ  شاعرہ '' بلقیس غمزدہ '' کی غزل پر پڑی ،

غزل کے کمنٹس میں اپنے تمام شاعر دوستو  کی داد و تحسین دیکھ کر میں نے اس غزل کو پڑھنے کی کوشش کی ، پڑھنے کی کوشش اسلئے کہ غزل ایک معروف جرمن ماڈل کے نیم  برہنہ تصویر پر بہت ہی مدھم فونٹ میں تحریر تھی ،

پہلا ہی  شعر پڑھ کر مجھے اپنے ان دوستو پر  غصہ  آنے لگا جو اس غزل پر داد و تحسین کے ڈونگرے بر سا رہے تھے ،شعر تھا ............

تم جو چاہو تو مجھے روک سکتے  ہو مگر
ہے یہ حالات کا تقاضہ چلتی  ہوں خدا حافظ

اور پھر دوسرا شعر پڑھ کر تو مجھے  اس غزل پر تعریفوں کے پل باندھنے والے شاعروں کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگا ، وہ شعر تھا

ہم تو آئے تھے اس بزم میں صرف تیری خاطر
تجھے ہے اوروں کی پرواہ چلتی  ہوں خدا حافظ
تیسرا شعر پڑھنے کی تاب مجھہ میں نہیں تھی لیکن چونکہ کچھ معروف اساتذہ کی واہ واہ بھی کمنٹس میں درج تھی تو حوصلہ کرکے پڑھ ہی لیا ،
اچھا گزارا وقت تمھاری اس بزم میں !!
اب مجھ کو دو اجازت چلتی  ہوں خدا حافظ

اتنا کہہ کر میرا شاعر دوست خاموش ہوگیا اسکا رنگ ایسے متغیر ہوگیا تھا جیسے کسی پاکستانی پولیس  والے کی ایمانداری کی خبر سن کر کسی کا بھی  ہوسکتا ہے ،

میں نے اٹھ  کر اسے پانی پلایا  ، چند منٹ بعد جب اسکی حالت کچھ سنبھلی تو میں نے دردناک واقعے کو جاری رکھنے کی گزارش کی ،

بس  یار بابا جی ، یہ سوچ کر میں نے آخری شعر بھی ہمت کرکے پڑھ لیا ، کہ شاید آخری شعر میں ہی ایسی کوئی بات ہو جو ایک بڑے شاعر صاحب نے انہیں پروین شاکر ثانی کا خطاب دیا ہے ،

کیا تھا وہ آخری شعر ؟

میرے پر اشتیاق لہجے پر میرے شاعر دوست نے ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھا ،

اتنا ہی اشتیاق ہو رہا ہے تو سن لو ،شعر تھا ،
میں نہ  کہتی  تھی  ایک روز چلی جاؤنگی
اب کیا شکوہ کیا گلہ چلتی  ہوں خدا حافظ

  بدقسمتی سے چونکہ میں خود بھی ایک شاعر ہوں آخری شعر سن کر مجھہ پر   وجد  کی سی کیفیت  طاری ہوگئی ،میں نے ایک نعرہ مستانہ بلند کیا ،اور پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا ،
اب میں ایک معروف دل کے ہسپتال میں اپنے دوست کے ساتھ والے بیڈ پر بطور سیریس پیشنٹ  ایڈمٹ ہوں ، اور وہیں سے یہ دل خراش سٹوری  بذریعہ موبائل   آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ،
ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق ہمیں یعنی مجھے اور میرے دوست کو  چرس سگرٹ شراب  کسی بات کی ممانعت نہیں لیکن فیس بک ہمارے واسطے زہر قاتل ہے ،

خدا حافظ ،

 سکندر حیات بابا

راز محبت

 راز محبت
  عہدِ حاضر کے سماجی اور تمدنی پہلوؤں کو سمائے اس ناولٹ کے اندر ایک ایسے عام آدمی کی کہانی ہے جو حساس دل کی دھڑکنوں کو ساتھ لئے اپنی دنیا کہیں اور سجائے بیٹھا تھا ۔ شہروں کی گلیوں میں ابھرتی ڈوبتی اس کہانی میں کہانی کار نے کچھ افسانہ کچھ حقیقت اور کچھ دل کے درد اپنے قاری سے اسطرح شئیر کئے کہ ناولٹ ایک ایسی داستان بن گیا جسے پڑھنے والے ھر جوان سال نے اپنے اندر کی کہانی محسوس کی۔ کہانی میں محبت اور جذبات کی چاشنی نہ صرف دلکش ھے بلکہ اپنے اظہار میں بہت مضبوط اور توانا ھے سکندر حیات کی تحریریں میں پہلے بھی پڑھ چکا ھوں۔ انکا دلکش انداز اور اسلوب ایک خاص نہج پر استوار دیکھتا رھا ھوں لیکن یہ اتفاق ھے کہ اس ناولٹ میں زبان و بیان پر انکا قلم یکسر مختلف لگا۔ بیانیہ رواں رھا اور قاری کی دلچسپی کا پورا سامان اس ناولٹ میں موجود ہے
   نعیم بیگ(ناول نگار )

'' مولوی ، اور مولبیوں کی اقسام ''






 محترم و نا محترم  قارئین ،خوش قسمتی ،بد قسمتی ،یا پھر اتفاق سے اگر آپ میری یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور آپ نے اسے پڑھنے کا فیصلہ عنوان دیکھ کر کیا ہے ،تو یقینا' آپ  محبت ،ہمدردی  ،یا پھر '' دھلائی'' کے لائق ہیں ، کیوں کہ مولوی سے دلچسپی  مولوی کو  ہی ہوسکتی ہے یا پھر کسی مولبی کو ،یا مولبیوں کے ڈسے ہوئے کو ،  مولوی تو یقینا' آپ جانتے ہی ہونگے وہ شخص جو مسائل دین سے واقف ہو   پڑھا لکھا ، فقیہہ، اور فاضل  آدمی ،  یہ محبت کے لائق ہوتا ہے ،جبکہ مولبی اس شخص کو کہتے ہیں جو ان پڑھ جاہل یا پھر پڑھا لکھا جاہل ، مسائل دین سے ناواقف اور مکمل طور پر ہی  '' فاضل '' ہو ، اسے '' دھ لائی '' کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ اسکے ڈسے ہوئے قابل ہمدردی ہوا کرتے ہیں ،

پچھلے زمانوں میں مولوی کم اور عام لوگ زیادہ  ہوتے تھے ،آج کل عام لوگ کم اور مولوی زیادہ ھوگیے ہیں ،دراصل برساتی مینڈکوں کی طرح ہر جگہ پھدکتے مولیانہ شکل کے یہ لوگ مولوی نہیں مولبی ہوا کرتے ہیں ، آپ نے سنا ہی ہوگا  نیم حکیم خطرہ جان نیم ملا خطرہ ایمان . یہی وہ ملا  ہیں جنھیں ہم مولبی کہتے ہیں ،

جو مولوی ہوتا ہے اس کے اندر  انسان اور انسانیت سے  محبت رہتی ہے اور جو واقعی انسان ہو اسے '' مولبی '' سے نفرت ہوجاتی ہے ، حضرت انسان جتنا پرانا ہے مولوی اور مولبی بھی اتنے ہی پرانے ہیں ،بلکہ شاید اس سے بھی پہلے  کے  جب زمین پر آتشی مخلوق کا بسیرا تھا ، وقت کے ساتھ ساتھ  '' مولبیانہ انداز بھی ارتقائی مراحل سے گزرتا ہوا آج اکیسویں صدی میں نیا روپ اختیار کرگیا ہے ،بلکہ مولبی کا کوئی ایک روپ نہیں ہوتا مولبیانہ روپ اتنے زیادہ ہیں کہ ٹھیک سے تمام کا بیان ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ،

آج ہم  قدیم اور جدید '' مولبیوں '' کی کچھ اقسام بیان کرینگے ،

 نمبر ایک ڈسکو مولوی ،
ڈسکو مولوی جدید دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے ، عجیب سا مضحکہ خیز حلیہ ،گلے میں   دوپٹہ  یا '' پٹے '' ٹائپ کا کوئی رنگین رومال ، کرتا تو اس اہتمام سے پہنا جاتا ہے گویا اس کے علاوہ باقی تمام لباس حرام ہوں ، ڈسکو مولوی بڑا ہی  نٹ کھٹ واقع ہوتا ہے ،یہ باجی باجی کہہ کر ''مستورات '' سے کچھ یوں بے تکلفانہ انداز میں  خطاب کرتا ہے  کہ کئی مستورات ''مستور '' نہیں رہتیں ،  
ڈسکو '' مولبی '' نعت گانوں کے انداز میں  ایسے  جھوم کر پڑھتا بلکہ گاتا  ہے کہ سننے والوں پر وجد  طاری ہوجاتا ہے ،اور سامعین عالم وجد میں  ''مولبی '' اور '' سندری بائی '' کے درمیان فرق بھول جاتے ہیں ، پھر وہی کوٹھے  کا منظر ہوتا ہے ، دولت ہوتی ہے ، فرق ہوتا ہے تو بس اتنا کہ دولت یہاں  جن قدموں  میں پڑی  ہوتی ہے ان میں گھنگرو نہیں ہوتے ،

نمبر دو نجومی '' مولبی ''
یہ والے مولبی صاحب خاص کر خواتین میں بہت ہی زیادہ مقبول ہوتے ہیں ،  نوکری کا مسلہ ہو ، چٹ منگنی پٹ بیاہ کی بات ہو ، گھریلو ناچاقی کا معاملہ ہو ، شوہر دوسری عورت پر فریفتہ ہو ، یا پھر آپ محبوب کو اپنے قدموں میں چاہیں ، نجومی ''مولبی ' صاحب کی خدمات حاضر ہیں ، یہ الگ بات کہ اکثر اوقات شوہر کو قبضے میں کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین ان مولبیوں کے قبضے میں  چلی جاتی ہیں ، ان ''مولبیوں نے  تمام عبادات خاص کر  نمازیں   معاف کروا رکھی ہیں ،اور خود کو مکمل طور پر ''خدمت خلق ''کیلئے وقف کر رکھا ہے ، نجومی ''مولبی '' کمال کے مکار ہوتے ہیں اور غضب کے کمینے بھی ، یہ مکار زیادہ ہوتے ہیں کہ کمینے اس بات کا فیصلہ  گیارہ ممالک کی پولیس کو مطلوب ڈان  کو پکڑنے کی طرح مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ،

نمبر تین کمرشل  '' مولبی ''
کمرشل مولبی خاص مواقوں پر اپنے فن مولبیانہ کے اظہار میں ماہر ہوتا ہے ، اسے  تمام برگزیدہ ہستیوں کی  تاریخ پیدائش و  تاریخ وفات زبانی یاد ہوتی ہے ،  اور موقع مناسبت کے حساب سے ان کا عرس خوب اہتمام سے منعقد کرتا ہے . اگر بدقسمتی سے کوئی مہینہ اسطرح کے کسی واقعے یا سانحے سے محروم ہو تو یہ دور دراز علاقے کا اپنا کوئی ''سائیں مست قلندر بابا  '' دریافت کرکے اسکے چہلم عرس کے مواقع پیدا کرلیتا ہے ، عوام کو ٹوپی پہنانے کیلئے اسے ہری نیلی پیلی کالی یا کسی بھی رنگ کی پگڑی پہننے یا پہنے رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں ، پگڑیوں کا بیوپار کرتے ان مولبیوں کو حقیقی معنوں میں دین فروش کہا جاسکتا ہے ،  

 میڈیائی  '' مولبی ''  
  میڈیائی مولبی میں ایک اچھی اداکارہ کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں ، یعنی یہ  میڈیا میں ان رہنے کے  گر  یا ہتکھنڈوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے ، یہ بیک وقت  ڈسکو مولبی  کمرشل مولبی اور نجومی مولبیوں کی تمام خصوصیات کا حامل ہوسکتا ہے ، میڈیائی مولبیوں کی بھی دواقسام پائی جاتی ہیں ، ایک سرکاری اور دوسری قسم غیر سرکاری ،سرکاری مولبی کا کام حاضر وقت  حکمران کو  خلفاۓ راشدین کے ہم پلا قرار دینا ، اور غیر سرکاری مولبی کا کام خود کو وقت حاضر کا مجدد الف ثانی ثابت کرنا ہوتا ہے ، میڈیائی مولبی کا ظاہری حلیہ ''مولیانہ '' ہونا بھی ضروری  نہیں .یہ کلین شیو یا فرنچ کٹ  سٹائل کا حامل بھی ہوسکتا ہے ، عموما'  ان کے پروگرامز   کے نام 'عالم آن لائن  '' قطب آپ کی خدمت میں حاضر ..  ٹائپ کے ہوتے ہیں  ،

ٹھیکیدار مولبی ،
 ٹھیکیدار مولبی سے مراد ہرگز وہ لوگ نہیں جو ٹھیکیداری میں دونمبری کرتے ہیں ،بلکہ یہ ان لوگوں کا ذکر '' خیر ''  ہے جنہوں نے  جنت اور دوزخ  کیلئے بھرتی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ،  قلم کی ایک جنبش سے یہ کسی کو بھی کافر قرار دیکر جہنم کا حقدار  بناسکتے ہیں ، مزید کسی گناہ پر مانگی گئی معافی  کو قبول کرنے نہ کرنے  کا بھی یہ اختیار رکھتے ہیں ، ٹھکیدار مولبی   '' نذرانہ ''  ملنے پر کوا حلال  یا  پھر  حصہ  نہ  ملنے پر مرغی حرام کرسکتا ہے ،  آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو ٹھیکیدار مولبی کی خوشی کا  خیال رکھیے ورنہ دونوں جہاں کی بربادی کے ذمہ دار آپ خود ہونگے ،

مسلکی مولبی ،
مولبیوں کی یہ قسم ٹھیکیدار مولبیوں کی تمام خصوصیات کی حامل ہوتی ہے ، شیطان کی طرح ان کی زندگی کا بھی صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے شر انگیزی ، جمعے کے خطبات پر پاپندی عائد کردی جاۓ یا پھر انہیں کسی قانون کے تحت کردیا جاۓ تو مسلکی مولبیوں کی جان پر بن سکتی ہے ،ہفتے کے تمام دن آپسی معاملات میں لوگ اگر ایک دوسرے کے قریب ہورہے ہوں ان کے درمیان  بھائی چارہ  پیدا ہورہا ہو تو جمعے کے روز یہ محبت کے  ایسے تمام جراثیم کا خاتمہ کردیتے ہیں ، دانشمندوں کا کہنا ہے کہ ان کی اس عادت بد کی وجہ ان کے  پیٹ کی آگ ہے لیکن بعد از مشاہدہ و  تحقیق ہم نے جانا کہ یہ آگ  و جلن پیٹ کی نہیں بلکہ اس جگہ پر ہوتی ہے جو  ناقابل اشاعت و ناقابل بیان ہے ،

    مولبیوں کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں  لیکن  چونکے ہم نے ان مولبیوں اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان رہ کر ہی کاروبار زیست کرنا ہے سو اسی پر اکتفا کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ آپ  مذکورہ بالا تمام مولبیوں کے شر سے خود بھی بچے  رہینگے اور دوسروں کو بھی   محفوظ رکھنے کی کوشش  کرینگے

تحریر :سکندر حیات بابا

'' قصہ اک ڈرامے باز کا ''



کچھ لوگ زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں پھر چاہے آپ کی زندگی کتنی بھی خراب کیوں  نہ ہو انہیں دیکھ کر زندگی کی خوبصورتی کا احساس   ہو ہی  جاتا ہے اور آپ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی ابھی اتنی بھی خراب نہیں ، ایک ایسی ہی شخصیت آج ہمارا موضوع ہے ،ان کا تعلق کہاں سے ہے یہ ایک راز ہے کراچی والے  انہیں لاہور کا سمجهتے ہیں لاہور والے پنڈی کا جبکہ  پنڈی والے '' کہیں کا '' نہیں سمجهتے ، انہیں بچپن میں کسی بزرگ نے  بڑا آدمی بننے کی دعا دی تھی ،بزرگ دو نمبری تھے دعا آدھی  قبول ہوپائی اسلئے موصوف  نوجوانی میں'' NO جوان '' لگتے تھے  اور جوانی میں قوم کے سب سے بڑے آدمی یعنی قائد اعظم سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن صرف صحت کے لحاظ سے ، فلسفہ محبت پر کامل یقین رکھتے ہیں کبھی کسی غیر عورت کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا جب بھی دیکھا آنکھیں اٹھا کر دیکھا

 خود تو  کم و بیش دو درجن  محبتیں فرما ہی چکے ہیں ان کے فیس بکی اسٹیٹس پر بھی  بیسیوں لوگوں نے باہمی سیٹنگ کی ،

 موصوف کا تعلق   ڈرامہ انڈسٹری سے  ہے ، انہوں نے ہمیشہ  ڈرامے  کو  زندگی اور زندگی کو ڈرامہ  سمجھا ، 
  اپنا  پسندیدہ میوزک دھیما اور نغمگی سے بھرپور  جبکہ  پسندیدہ گلوکار مائیکل جیکسن اور ہمیش ریشمیا   بتاتے ہیں
تقریبا' ایک درجن سے زاید ڈرامے تخلیق کیے یہاں ڈراموں سے وہ ڈرامے مراد ہیں جو مختلف چینلز پر آن  آئیر ہو ئے  اور وہ عوامی طور پر قابل دید بھی تھے  ،ورنہ ان ڈراموں کی تعداد جسے کوئی بھی با شعور  وغیرت مند سنسر بورڈ کبھی پاس نہ کرے کہیں زیادہ ہے  ،

مختلف ادوار میں بتدریج  ان کے خیالات میں آنے والے انقلابات ان کے ڈراموں کے ناموں سے خوب واضح ہوتے ہیں ،جیسے سن دوہزار ایک میں ڈرامہ آ ن  ایئر ہوا  ''  یہی دوستی ہے '' اور اسی سال دوسرا ڈرامہ تھا '' ہزبینڈ اینڈ وائف ''  دوہزار چار میں بات '' پونجی '' تک پہنچی اور دوہزار پانچ میں '' دراڑ '''  لکھ مارا  دوہزار آٹھ میں '' یادیں '' تحریر کرنے کے بعد آج کل ان کا ڈرامہ ''خواب تعبیر '' آن  ائیر ہے ''
خیال فلسفیانہ، مزاج عاشقانہ ،جبکہ  سٹائل و انداز ''عمران ھاشمیا نہ رکھتے ہیں
پہلا عشق ساتویں کلاس کی ٹیچر سے ہوا ،اسی لئے پڑھائی میں دل لگانے کی جگہ دل کی پڑھائی میں مصروف ھوگیے اور یہ پڑھائی پورے  ذوق و شوق سے اب تک جاری ہے ،
ادب سے گہرا لگاو ہے اسی لگاو کے سبب انہوں نے بارہا ادب کو گہرے گھاؤ    دینے کی کوشش کی ، جس میں کئی بار تقریبا' کامیاب بھی رہے ،
شاعری پر تنقید کرتے بھی پاۓ گیے ہیں اور جس ''خوبی '' سے یہ تنقید کرتے ہیں کئی شاعروں نے اپنے حریف شاعر کے اشعار پر تنقید کیلئے ان کی خدمات بامعاوضہ حاصل کیں ، تنقید کے زہریلے بیر جب  میں رکھنے کی عادت کہ سبب کئی لوگ ان سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں ،
ان کے فیس بکی اسٹیٹس عموما' سنجیدہ ٹائپ کے ہوتے ہیں جنھیں یہ انتہائی غیر سنجیدگی سے لکھتے ہیں جبکہ تمام غیر سنجیدہ اسٹیٹس انہوں نے ہمیشہ پوری سنجیدگی سے لکھے ،یہی وجہ ہے کہ لوگ  صرف ان کی غیر سنجیدگی کو ہی سنجیدگی سے لیتے ہیں ،
شادی کو اپنی زندگی کا بڑا سانحہ سمجھتے ہیں لیکن باہمت آدمی ہیں اسی لئے ایسے دوچار مزید سانحات کیلئے ہمیشہ تیار بھی  رہتے ہیں ،
خوش مزاج اتنے ہیں کہ بیوی کے سناۓ لطیفوں  پر  ہنس لیتے ہیں اور ظرافت ان میں اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہےکہ  لطیفے سناکر ساس کو بھی ہںسادیتے ہیں ،جبکہ یہ کام ہر گز کسی عام آدمی کے بس کا نہیں ،
مکان لیتے وقت ہمیشہ ایسی لوکیشن کا  انتخاب  کرتے  ہیں جس روٹ پر زیادہ سے زیادہ بسیں چلتی ہوں اور اس کی    وجہ یہ   بیان کرتے ہیں کہ مجھے زندگی میں بے بس ہونا پسند نہیں ،
بچپن اور بچوں سے انہیں دلی لگاؤ ہے ، اسی لئے ان کی طرح دل صاف اور کپڑے گندے ہی رکھتے ہیں ،

راقم الحروف بندہ ناچیز سے انہیں ''شدید ' قسم کی محبت ہے اور اسکی وجہ یہ   بے زبانوں  سے اپنی  محبت کو قرار دیتے ہیں

آپ کو نہیں لگتا ان کی یہ محبت کچھ اتنی بھی '' ناجائز نہیں ''

سکندر حیات بابا

'' ادیبوں کی اقسام ''


 
ہمارے ہاں چار قسم کے انسان پائے جاتے ہیں  نمبر ایک مرد ،نمبر دو عورت ،نمبر تین خسرے ،اور نمبر چار ادیب ، آپ حیران ہونگے کہ ادیبوں کی  قسم بھلا کیونکر الگ ہوئی ادیب بھی مرد عورت یا خسرے میں سے ہی کوئی ہوتا ہوگا ،  جناب اگر آپ پہلے زمانے کی بات کر رہے ہیں تو آپ صحیح ہیں لیکن اگر بات ہورہی ہے فیسبکی جدید دور کی تو آپ کی کم علمی قابل افسوس ہے ،

  چلیں  تو آج ہم آپ کو ادیبوں کی قدیم اور  کچھ جدید  اقسام سے آگاہ  کرتے ہیں ، اور پھر فیصلہ بھی آپ پر چھوڑ دیتے ہیں ،

نمبر ایک،  نشئی ادیب
یہ ادیب کبھی سچ کہنے سے نہیں ڈرتا ، لیکن جب تک ٹن ہو ،  اسکا  سچ اتنا دو ٹوک اور  تلخ ہوتا ہے کہ  ہوش میں آتے ہی اپنی تحریر پڑھ کر  خود اسکے  ہاتھوں کے طوطے کبوتر اور کوے سب  اڑ جاتے ہیں ، نشئی ادیب کا ضمیر زندہ رہتا ہے ،ایسا نہیں کہ اسے خریدا نہیں جاسکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسے خرید کر بھی اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ،کیوں کہ جب یہ ٹن ہوتا ہے تو صرف اندر کی آواز سنتا ہے ، اسی لئے نشئی ادیب کا ادب بہت گہرا ہوتا ہے اور پڑھنے والا بھی اگر زیادہ گہرائی میں اتر جاۓ تو لاپتہ ہوجاتا ہے ،
نشئی ادیب   کا  ادب شرمناک ، دوستی خطرناک ، ، زندگی افسوسناک اور  موت دردناک   ہوتی ہے ،  یہ بیچارہ جب تک زندہ رہتا ہے لوگ اسے پتھروں سے مارتے ہیں اور جب   مرجاتا ہے تو اسکا مزار بناکر قبر کے پتھر  چومے جاتے ہیں ،

نمبر دو ''  ٹھرکی ادیب ،
ٹھرکی ادیب اگر چہ عمرو عیار کے زمانے سے بھی پہلے کے ہیں لیکن فیسبکی دور شروع ہونے کے بعد ان میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ، ہم نے اپنے گہرے مشاہدے سے پایا کہ فیس بک پر  ہر تیسرا آدمی ادیب اور ان میں ہر دوسرا ٹھرکی ادیب ہے ، ٹھرکی ادیبوں نے ادب کی وہ بے ادبی کی کہ ادب کی  چیخیں نکل گئیں ،ادب اگر کسی انسانی شکل میں ہوتا تو ان لوگوں پر اجتماعی بلد کار کا پرچہ کٹوادیتا ، ٹھرکی ادیب خواتین کو ''سادہ کاغذوں '' پر اصلاح دینے کیلئے کافی معروف ہیں اور ان کے اسی جذبہ خدمت خلق کے بدولت عجیب و غریب  میک اپ سے لتھڑی ہوئی ادیباؤں کی تصاویر فیس بک پر جگمگاتی نظر آتی ہیں ، ایسی ادیباؤں نے اک ادائے بے نیازی سے وہ  ناز  بھرے اشعار وال پر لگاۓ رکھے ہوتے ہیں کہ اگر منیر نیازی صاحب حیات ہوکر انہیں دیکھ لیں تو حبیب بینک سے  کود جائیں ،حبیب بینک سے بھی  اسلئے کے فلحال اس سے بڑی عمارت ہمارے ہاں دستیاب نہیں ، آپ اگر بدقسمتی سے  شاعر ہیں اور اصلاح لینا چاہتے ہیں اور مزید بدقسمتی سے آپ انہیں میسیج کرکے اس خواہش کا اظہار بھی کردیتے ہیں تو پہلے پہل تو آپ کو بالکل توجہ نہیں دی جائیگی اور زیادہ تنگ  آکر بادل نخواستہ اگر کوئی متوجہ ہو بھی گیا تو آپ کی غزل میں وہ کیڑے نکالے جائیںگے کہ آپ خود سے نظریں نہیں ملا پائیںگے ، آپ کو سخت لعن طعن اور ملامت کا نشانہ بنا کر آپ کی پیدائش کو ادب کیلئے عظیم سانحہ قرار دیا جائیگا اور عین ممکن ہے کہ اگر آپ کے اعصاب کمزور ہوں تو آپ کو شاعری کے نام سے  وحشت ہوجاۓ بلکہ دل کے ایک آدھ دورے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ٹھرکی ادیبوں کی بدولت ہی جینوئن شاعرات منظر سے غائب ہوئیں یا پھر آنے کا حوصلہ نہیں کرتیں اور ان ہی کی بدولت  متشاعرات  اور  بدادیباؤں کی تعداد میں اسقدر اضافہ ہوا کہ انہیں بیرون ممالک برآمد کرکے اچھا خاصہ  زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے ، 

نمبر تین ، فلاسفر ادیب ،
 یہ ادیبوں کی وہ قسم ہے کہ اگر آپ ان کو قسم دیکر  کہدیں کہ انہیں خود اپنی بات سمجھ آئی تو شاید جواب اثبات میں نہ ملے .ان کا ہر اک جملہ سوال ہوتا ہے اور ہر سوال کا جواب بھی سوال ہی ہوتا ہے ،اور پھر اس جوابی سوال پر بھی یہ خود ہی سوال اٹھادیتے ہیں ، فلاسفر ادیب کو مابعدالطبیعیات (Metaphysics) کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا اور اس پر بات کر کرکے وہ کسی کی بھی طبیعت خراب کرسکتا ہے ، منطق (Logic) کا استعمال مت مارنے کو کرتا ہے اور جمالیات (Aesthetics )  کی گہرائی میں اتر کر انکا  بیڑا غرق کرنے میں اسکا کوئی ثانی نہیں  ، فلاسفر ادیب دراصل وہ شخص ہے جس کے ساتھ بچپن میں کوئی نہیں کھیلتا تھا یا پھر گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے  اسے باری کبھی نہیں دی جاتی اور صرف دوڑایا ہی جاتا تھا ،

نمبر چار ، فسادی ادیب ،
انہیں شیطان کے خصوصی چیلے ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، اور یہ لال بیگ  کی طرح  ہر زمانے میں پائے جاتے رہے ہیں فی زمانہ ان کی تعداد امریکن سنڈیوں سے بھی زیادہ ہے ، فسادی ادیب نہ تین میں ہوتے ہیں نہ تیرہ میں ،لیکن ہر کسی سے دو دو ہاتھ کرنے کو بے تاب رہتے ہیں ، ہمارے سیاستدان الیکشن جیت کر اپنے حلقے سے یوں غائب نہیں ہوتے جیسے یہ کہیں پر فساد برپا کرنے کے بعد منظر سے فرار ہوجاتے ہیں ،
فسادی ادیب سچی خوشی کے معنی حقیقی معنوں میں سمجھتا ہے اور اسی '' سچی خوشی ''  کے حصول کے لئے جو اسے فساد سے حاصل ہوتی ہے فساد برپا کیے رکھتا ہے ،ایسے ادیبوں کا ایک ہی علاج ہے کہ انہیں نظر انداز کردیا جاۓ ورنہ اتفاق یا  اختلاف دونوں صورتوں میں جس  صورتحال کا سامنا آپ کو کرنا پڑ سکتا ہے اسے ہر گز خوشگوار نہیں کہا جاسکتا ،

نمبر پانچ ، غمگین ادیب ،
 اگر آپ کا کوئی دوست نما دشمن ہے جس سے آپ کو بدلہ لینا ہو ، تو غمگین ادیب کا ادب اس کام کو بخوبی سر انجام دے سکتا ہے ،یہ وہ ادیب ہوتے ہیں جنکا کام سرد آہیں بھر بھر کر موسم کا درجہ حرارت متوازن رکھنا ہوتا ہے ، انکی اسی خوبی کی بدولت سائنسدان گلومنگ وارمنگ کے پیش نظر انہیں زمین کی بقا کیلئے مفید مخلوق قرار دیتے ہیں ، غمگین ادیب بہت زیادہ ٹیلنٹڈ ہوتا ہے یہ ہر خوشی کے موقع پر یا منظر میں وہ غم تلاش کرلیتا ہے جو غم کو خود بھی معلوم نہیں ہوتے ، غمگین ادیب اگر شاعر ہو تو بلا کا مبالغہ  طراز ہوتا ہے ،یہ ایک مصرعے میں  دونوں جہان محبوب پر قربان کردیتا ہے  لیکن اگلے ہی مصرعے میں پرسوں رات نہر والے پل پر دوران انتظار  مچھروں کے کاٹنے کی درد بھری کیفیت کو بیان کرتا ہے ، زندگی میں اگر خوشی مطلوب و مقصود ہو تو غمگین ادیب سے اتنا ہی دور رہیے جتنا ہمارے سیاستدان شرم سے اور ہماری پولیس ایمانداری سے رہتی ہے ،

نمبر چھ تنگ نظر ادیب ،
تنگ نظر ادیب سے مراد ہر گز وہ ادیب نہیں  جنکی دور یا قریب کی نظر کمزور ہو بلکہ یہاں بیان ان نفسیاتی ادیبوں کا ہے جو خود ساختہ دانشور  اور ''برائی '' کے خلاف  سماجی ٹھیکیدار ہوتے ہیں ،  ان کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں ،یہ ضرورت سے زیادہ مذہبی شدت پسند بھی  ہو تے ہیں جو ہر ایک اختلاف پر کفر کا فتویٰ داغ کر آپ کا نکاح منسوخ کردیتے ہیں یا پھر یہ بہت زیادہ روشن خیال بھی ہوسکتے ہیں جو آپ کے سر پر رکھی ٹوپی کی وجہ سے ہی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور وہ اول فول بکنا شروع  کردیتے ہیں کہ آپ ان کی ایک  کسی ایک تحریر سے  بھی   گالیوں کے حوالے سے اپنے ذخیرہ الفاظ میں اچھا خاصہ اضافہ کرسکتے ہیں ، دراصل یہی وہ ادیب ہیں جنکی وجہ سے ہم نے مضمون کے آغاز میں کچھ ادیبوں کو مرد عورت اور خسروں  کی فہرست سے الگ بیان کیا ، یہ خود کو مرد کہتے ہیں ،کوسنے عورتوں کی طرح دیتے ہیں اور حرکتیں خسروں والی ہوتی ہیں ،لہٰذا انہیں ان سب سے الگ قرار دیا جانا ان کا حق بنتا بھی ہے ،

 تحریر: سکندر حیات بابا

''بات ہے دل کی ''



دل کی کیا بات کریں کہ تمام باتیں دل  ہی کی تو ہیں ،  دماغ جب دل پر حاؤی ہونے لگے تو بندہ پگلا جاتا ہے اور جب دل دماغ پر حاوی ہوجاۓ تو بندہ پگھلنے لگتا ہے ، دل کو دل سے راہ ہوتی ہے اور اسی راہ کی وجہ سے یہ بے راہ روی کا شکار بھی ہوتا ہے ،ہر اک رحم دل کی مہربانی ہے اور ہر اک ستم بھی دل ہی کی کارستانی ہے ،کسی پر دل آجاۓ تو اسکی دھڑکنیں بے قابو  ہونے لگتی ہیں  ،اور اگر بروقت سنبھالا نہ لیا جاۓ تو  جلد ہی بندہ بھی بے قابو ہوجاتا ہے اور پھر بمشکل ہی قابو میں آتا ہے ،
کچھ لوگ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر احمقانہ حرکتوں پر اتر آتے ہیں تو کچھ لوگ حماقت کی وجہ سے دل کی باتوں میں آجاتے ہیں اور جو  دل کی باتوں میں آجاۓ اسکی سمجھ میں کسی کی باتیں نہیں آتیں ،

 دل کی باتیں صرف دل والوں کو سمجھ آتی  ہیں  اور دل والوں کی سمجھ صرف دل کی باتیں کرنے والوں کو سمجھ نہیں آتیں،

 دل کراچی کی دیواروں کی طرح ہے جس پر ہر وقت کچھ نہ کچھ نقش ہوتا رہتا ہے اور اس پر نقش ہوئی باتیں آسانی سے مٹتی بھی نہیں ، دل اگر ٹھکانے پر نہ ہو تویہ  بندے کو ٹھکانے لگاسکتا ہے ،

دل اگر بھاری ہو تو کوئی حسین  مقام  حسین نہیں لگتا ،اور اگر کسی کا مقام دل میں ہلکا ہوجاۓ تو وہ حسین ہوکر بھی حسین نہیں دکھتا ،

دل سادہ ہے چالباز بھی ،نادان بھی ہے ہشیار بھی ، دل انمول ہوتا ہے لیکن اس کے خریداروں کی بھی کمی نہیں ،ضمیر دل کا نگہبان ہوتا ہے ، ضمیر سوجاۓ تو دل انمول نہیں رہتا، بک جاتا ہے ،

پاؤں پھسلے تو بندہ اٹھ  بھی  سکتا ہے ،دل پھسل جاۓ تو بندہ '' اٹھ '' ہی  جاتا ہے ،
 
دل کی آواز سننے والے عقلمند ہوتے ہیں لیکن  سمجھ کر سننے والے ,جو سن کر سمجھنے والے ہوتے ہیں ان سے بڑا نادان کوئی نہیں ،

  ہر دل کی ایک کہانی اور ہر کہانی کا ایک دل ہوتا ہے ،لوگ دل کی کہانیوں کو جتنا محسوس کرتے ہیں اگر کہانیوں کے دل کو اسی طرح محسوس کرنے لگیں تو کسی دل کی کہانی غمگین نہ ہو ،

دل اتنا بڑا ہوتا ہے کہ   دنیا بھر کے غم  ہر خوشی اور سارے جذبات اس میں سما جاتے ہیں ،اور اتنا چھوٹا بھی کہ کبھی ظرف بھی نہیں سما سکتا ،

دل کا آنکھوں سے بڑا عجیب اور قریبی رشتہ ہے ،
آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں اور دل یادوں کا قبرستان ،دل میں چھپی یاد کی پرچھائی آنکھوں میں نظر آتی ہے ،دل بھر آئے تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں ،
کچھ باتوں سے دل انجان ہی رہے تو با اطمینان رہتا ہے اور جب یہ ان سے انجان نہیں رہتا توپھر  پریشان رہتا ہے ،

دو  بدنصیبی بڑی خراب ہوتی ہیں ،
دل برداشتہ ہونا ،اور '' دلبر، داشتہ '' ہونا ، جب کسی چیز کا مقام دل میں نہیں رہتا تو بندہ دل برداشتہ  ہوتا ہے   اور دلبر کے دل میں جب دل کا کوئی مقام نہیں ہوتا تو دل ''دلبر، داشتہ ''  ہوجاتا ہے ،

کان بہرے ہوں تو بھی دل سن سکتا ہے لیکن دل بہرہ ہوجاۓ تو کان سننا چھوڑ دیتے ہیں ،
کچھ لوگ پتھر دل  بھی ہوتے ہیں ، انہیں جذبات سے کھیلنے میں مزہ آتا ہے اور احساس کو زخمی کرکے خوشی ملتی ہے ، ایسے دل کو کمینہ دل کہتے ہیں ، کمینہ دل لوگ تنگ نظر ہوتے ہیں ، اور تنگ نظر لوگ کمینہ دل ،

ہم بحثیت  قوم تنگ نظر لوگ ہیں ،کمینہ دل قوم اس لئے نہیں کہونگا کہ اب اسکے کہنے کی ضرورت نہیں رہی ،

سکندر حیات بابا

بات ہے ''زبان '' کی





 یہ  ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقاء سے ہے لیکن یہ صرف  خوراک کو چبانے،نگلنے میں مددگار و معاون نہیں  ہوتی اور نہ ہی  یہ  فقط کسی بھی شے کا ذائقہ چکھنے کے لئے  استعمال کی جاتی ہے۔ زبان انسان کو انسان بناتی ہے  اور زبان ہی کسی انسان میں انسانیت کے ہونے نہ ہونے کا پتہ دیتی ہے .
حقیقی مرد جب تک زندہ رہتا ہے اسکی ایک زبان ہوتی ہے اور حقیقی عورت وہ ہے جو صرف مر کر بے زبان ہوتی ہے ، زبان میں ہڈی کوئی نہیں ہوتی لیکن ہڈی پسلی توڑنے اور تڑوانے میں یہ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ،عقل مند کی عقل اسکی زبان کے آگے ہوتی ہے اور بیوقوف کی زبان اسکی عقل سے آگے رہتی ہے ،شریف لوگ عموما' بے زبان ہوتے ہیں لیکن ہر بے زبان آدمی شریف نہیں ہوتا ،ہاں اگر بے زبان آدمی شادی شدہ ہے تو اسکے شریف ہونے کا امکان زیادہ ہے ، 
 کچھ لوگ چکنی چپڑی باتیں  کرنے والے چرب زبان ہوتے ہیں جو کہ زیادہ تر سیاستدان ہوتے ہیں ،یہ اپنی زبان سے لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کے ہنر میں طاق ہوتے ہیں سفید جھوٹ بولنے کے ماہر یہ لوگ سبز باغ دکھانے کا کام کرتے ہیں ،زبانی جمع خرچ ہی ان کا پیشہ ہے، عملی میدان میں یہ دور بین یا خورد بین دونوں کی مدد سے بھی  دکھائی نہیں دیتے ،
زبان کی حلاوت کانوں میں رس گھول دیتی ہے اور زبان کی کڑواہٹ بدن کا خون چوس لیتی ہے ، میٹھی زبان سے غیروں کے دل میں گھر کیا جاسکتا ہے اور کڑوی زبان اپنوں کے دل سے نکال دیتی ہے ،زبان بہت بڑی نعمت ہے اور زبان ہی بڑی  مصیبت بھی ، زبان درازی مصیبت کھینچ لاتی ہے ، زبان اوقات بناتی ہے اور زبان ہی اوقات دیکھاتی بھی ہے ،
کچی زبان کا مسلمان نہیں ہوتا اور اگر خدا نخاوستہ ہو بھی تو پٹھان بالکل نہیں ہوتا ،اردو دان زبان کی جان لیتے ہیں اور پٹھان زبان پر جان دیتے ہیں ،محبت کی زبان جنھیں  آتی ہو وہ خاموشی کی زبان بھی  سمجھ لیتے  ہیں،اور پھر زبان حال سے بیان ہوتی باتیں سب  وہ جان لیتے ہیں .
اگر کسی کا ضمیر زندہ ہو تو اسکی زبان بندی ممکن نہیں رہتی ،اور جسکا ضمیر مر جاۓ اسکے منہ میں غیروں کی زبان آجاتی ہے ،
دنیا میں جتنے منہ ہیں اتنی ہی زبانیں ہیں ،اور ہر زبان اپنا اپنا راگ الاپتی ہے ، طاقتور کی زبان بدمعاشی ہوتی ہے ،اور اس کا سد باب قانون کی زبان سے کیا جاتا ہے ،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں   قانون کی اور طوائف کی زبان میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہا دونوں کی طبعیت پیسہ دیکھ کر پھسل جاتی ہے ،
ریشہ دوانیاں،نت نئی لن ترانیاں،غرض میں لتھڑی ثناخوانیاں،دشنام طرازیاں،الزام تراشیاں، یہ سب زبان ہی کے کرشمے ہیں ،
جو جیسی زبان استعمال کرتا ہے اسکے بارے میں ویسی ہی باتیں زُبان زَدِ عام ہوجاتی ہیں  اور اسی لئے زبان خلق کو نقارہ خدا  بھی سمجھا جاتا ہے 
زبان سر کی محافظ بھی اور جان کی دشمن بھی ،جس قوم کے بڑے بدزبان ہوجائیں اور ان کے مشیر درباری زبان کے ماہر ہوں اس قوم میں زبان کو لیکر متعصب باتیں عام ہوجاتی ہیں اور پھر زبان سے ایک دوسرے کو وہ گھاؤ دیئے جاتے ہیں کہ بات صرف زبانی کلامی نہیں رہتی ، ہم اسی  زبان کی وجہ سے دو لخت ہوچکے ،
اگر قوم یک زبان ہوکر ایسے بڑوں کے خلاف ہم آواز ہوجاۓ تو شاید محبت ہماری قومی زبان بن جاۓ، ورنہ  لعنتیں بھیجتی اور نفرت کی آگ اگلتی زبان تو ہماری قومی زبان ہے ہی ..................
 تحریر: سکندر حیات بابا

'' کیڑا تو پھر کیڑا ہوتا ہے ''



تو مہربان صاحبان قدردان آج ہم آپ کو چند  کیڑوں کے متعلق بتانے والے ہیں ، یہ ہر گز وہ رینگنے یا اڑنے والے کیڑے نہیں جن کی لاکھوں اقسام پائی جاتی ہیں اور سینکڑوں نئی قسمیں ہر سال  مزید  دریافت ہوتی ہیں ،
یہ کیڑے وہ ہیں جو اشرف المخلوق انسان صاحب میں پائے جاتے ہیں ، ان میں سے کچھ تو  ہزاروں سال پہلے کے ہیں جو کہ ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوۓ بتدریج  اب زیادہ سمارٹ ھوگیے ہیں ،جبکہ کچھ کیڑے جدید بھی ہیں جو حال ہی میں دریافت ہوۓ ، کل ملاکر دیکھا جائے تو  حضرت انسان کی تمام تر شر پسندی کا باعث یہ قدیم اور جدید کیڑے ہی ہیں ،  
چلئے  کیڑوں کی چند ایسی  ہی اقسام کے بارے میں بات کرتے ہیں ،  سیاسی کیڑا '' یہ کیڑا قبل از مسیح بھی انسان میں پایا جاتا تھا بلکہ اس کیڑے کی موجودگی کے  شواہد تقریبا' سوا پانچ ہزار پہلے وزیر اعلی سندھ  قائم علی شاہ کے زمانہ پیدائش میں بھی ملتے ہیں ، مختلف ادوار میں اس کیڑے نے خوب گل کھلاۓ ، کئی نامور بادشاہوں کا تخت الٹا ،پگڑیاں اچھالی اور سر نیزوں پر چڑہاۓ ، سیاسی کیڑا کافی سیانا ہوتا ہے ،اسکی تشخیص  جتنی آسان ہوتی  ہے علاج اتنا ہی مشکل ، نرم گرم کرسی اس کیڑے کی شدید خواہش ہوتی ہے ، اور اس خواہش کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ بندے سے وہ کام کرواتا ہے کہ بندہ بندے کا پتر ہی نہیں لگتا ،   یہ کیڑا ہزاروں سال کے ارتقائی منازل طے کرتا ہوا آج بہت ہی زیادہ خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے ، یہ کیڑا خواص میں جتنا عام ہوتا ہے عوام میں اتنا ہی خاص ہوا کرتا ہے ، عوامی خاص کیڑے کی دلچسپ کارستانیوں کے بخوبی مشاہدے کیلئے  سوشل میڈیا کا کوئی بھی پلیٹ فارم   ملاحظہ فرمایا جاسکتا ہے ،
  انتہا پسند کیڑا ،انسان جتنا پرانا ہے اس کیڑے کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے ، اس کیڑے کے کاٹنے سے انسان  میں اپنی سوچ  زبردستی دوسروں پر مسلط کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے ، اگر چہ یہ کیڑا مذہبی لوگوں کیلئے خاص سمجھا جاتا ہے لیکن تاریخ کے گہرے مطالعے اور جدید دور کے مذھب بیزار لوگوں کے قریبی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ  کیڑا انہیں زیادہ پریشان کرتا ہے ،  ریسنگ کیڑا ،یہ کیڑا مکمل طور پر جدید دور کی دریافت تو نہیں لیکن اس کیڑے نے پہیے کی ایجاد کے بعد سر اٹھانا شروع کیا ،یہ ان چند نایاب کیڑوں میں سے ایک ہے جو انسان کے سر دل و دماغ میں نہیں  بلکہ ایک ناقابل اشاعت و ناقابل بیان جگہ    پایا جاتا ہے ، یہ کیڑا خاص طور پر تب ایکٹویٹ ہوتا ہے جب کوئی موٹر سائکل کی سیٹ پر تشریف فرما ہو ، اسی ریسنگ کیڑے کے سبب   صرف لاہور میں آٹھ ماہ کے دوران کوئی سترکے قریب نوجوان ہلاک ہوچکے ہیں ،   
   تنقیدی کیڑا، یہ ایک انتہائی درد میں مبتلا رکھنے والا کیڑا ہے ،اس  کے ہوتے ہوۓ انسان  ایک لمحے کو چین سے نہیں بیٹھ سکتا ،  اس کیڑے کے کاٹنے سے بندہ جتنا زیادہ خود پسند ہوتا ہے اتنا ہی دوسروں کیلئے تعریف میں بخیل ہوجاتا ہے ، یہ ان چند کیڑوں میں سے ایک ہے جو خود کو جدید دور کے تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ کیے ہوۓ ہیں ، ویسے تو آپ کسی بھی فیلڈ میں ہوں آپ کو ایسے لوگ مل ہی جائیںگے جو اس کیڑے کا شکار  ہوں  لیکن ادب میں اس کے شکار لوگ زیادہ کثرت سے پاۓ جاتے ہیں ، یہ کسی بھی تحریر میں کیڑے نکالنے کے فن میں پوری طرح طاق ہوتے ہیں ،ان سے بحث و مباحثہ ان کے کیڑے کو مزید تقویت دیتا ہے اور ان کی تکلیف میں اضافے کا سبب بنتا ہے ،لہٰذا  خاموشی اور درگذر ہی ان کا واحد اچھا علاج ہے 
  منافق کیڑا ،ویسے تو اس کیڑے کے جملہ حقوق سیاستدانوں کیلئے محفوظ ہیں اور یہ خاص ان ہی کیلئے ہوا کرتا تھا  لیکن یہ کیڑا  اب عوام میں بھی اس درجہ پایا جاتا ہے کہ ہر آدمی سیاستدان لگنے لگا ہے ، منافق کیڑا بڑا ہی چالاک مکار فریبی دھوکے باز ہوا کرتا ہے ، اس کیڑے کہ کاٹنے سے انسان کو مختلف روپ بدلنے کی صلاحیت حاصل ہوجاتی ہے ،  اس کیڑے کا شکار جتنے عالی منصب پر ہو یہ اتنا ہی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، منافق کیڑے کا  زیادہ دیر تک بندے میں قیام انتہائی خطرناک ہوا کرتا ہے یہاں تک کے انسان دوسروں کے علاوہ خود کو اور آخر کار خدا کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش شروع کردیتا ہے ،
  عاشق کیڑا ،سب سے پہلا قتل حضرت انسان نے اسی کیڑے کے ہاتھوں مجبور ہوکر کیا ، عاشق کیڑا انتہائی  خطرناک اور نہایت دلچسپ کیڑا ہے ، مجنوں فرہاد ماہیوال ااور دیگر بے شمار معروف کردار اسی کیڑے کا شکار ہوۓ ،  اس کیڑے کی کارستانیوں سے معاشرے پر کچھ اچھے اثرات  بھی مرتب ہوۓ ،بہت سے اچھے  نامور شاعر ،ادیب ،فنکار ،کلاکار ،صرف اسی کیڑے کے سبب دنیا نے دیکھے ،یہ کیڑا پہلے زمانے میں زیادہ تر صرف مخالف جنس میں کشش محسوس کرکے ایکٹویٹ ہوا کرتا تھا آج کل روشن خیالی کی زیادتی کے باعث اپنی جنس میں بھی دلچسپی لینے پر مجبور کرتا ہے ، اس کیڑے کے زیادہ تر جراثیم کا گڑھ  ہمارے سکولز وکالجز ہیں ، فی زمانہ  ہر دوسرا شخص کسی نا کسی صورت اس کیڑے کا شکار نظر آتا ہے ، 
  احساس برتری کا کیڑا،ابلیس اس کیڑے کا سب سے پہلا شکار تھا ، اس کی خطرناکی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک بڑے عالم فاضل عبادت گزار کو اس نے شیطان بنادیا ،یہ کیڑا بعد ازاں انسانوں میں بھی بدرجہ اتم پایا گیا ، جدید دور میں گورے اس  کا خاص شکار نظر آتے ہیں ،کالوں کو دیکھ کر جب آپ انہیں برے برے منہ بناتے ہوۓ دیکھیں تو سمجھ لیں ان کے اندر احساس برتری کا کیڑا ایکٹویٹ ہوچکا ہے ،اس کیڑے کے کاٹنے سے  لسانی ،مذھبی ،معاشی  اور ہر طرح کا معاشرتی   تعصب انسان میں پیدا  ہوجاتا ہے ، 
  خوش فہم کیڑا ،یہ اگرچہ دنیا کے ہر آباد بر اعظم میں وجود رکھتا ہے ،لیکن جنوبی ایشیا کے چند ممالک اور پھر خاص کر پاکستان اس کیڑے کا پسندیدہ ترین مقام ہے ، یہ بہت ہی زیادہ طاقتور  ہوتا ہے ، جب یہ کیڑا دل و دماغ میں گھر کر جاۓ تو  پھر چاہے روز پندرہ سولہ لوگ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوں یا درجنوں بچے قحط کا شکار ہوکر مرجائیں ، یہ ہمیشہ ہم عظیم قوم ہیں کہ ترانہ لبوں پر جاری رکھواتا ہے .اس کیڑے کے کاٹے جانے سے سنگین حالات بھی رنگین ہی نظر آتے ہیں ، ویسے تو فرد واحد کیلئے بھی یہ کیڑا کم خطرناک نہیں لیکن اگر یہ کسی پوری قوم کو کاٹ لے تو اس سے زیادہ بدنصیبی کی کوئی بات نہیں ،اور آپ مانیں یا  نہ مانیں  بدقسمتی سے ہم اس کیڑے  کے اجتماعی  شکار ہیں ،
تحریر: سکندر حیات بابا

'' میرا کمپیوٹر سنٹر ''



شروع کے دو دن مکھیوں کو بھگانے کے بہت سے نیے طریقے دریافت اور ایجاد کیے بعد ازیں داخلہ فری پیکج کا اعلان کیا تو سٹوڈنٹ کی تعداد مکھیوں سے بھی زیادہ ہوگئی
رنگا رنگ گورے کالے نیلے پیلے وہ تمام بچے میرے ہاں لاۓ گیے جنکے والدین انہیں پیدا کرنے کے بعد مناسب اور افورڈ ایبل جگہ کھپانے کو سرگرداں تھےچونکہ ہمیں پڑھائی چھوڑے خود ایک زمانہ ہوگیا تو نیے زمانے کے '' کمپیوٹرایڈ '' بچوں کے مزاج کا کچھ خاص اندازہ نہ تھا ہم نے انہیں اپنی طرح شریف انفس سمجھتے ہوۓ تھوڑی بہت شرارتوں کو نظر انداز اور برداشت کرنے کے نیک خیال سے قبول کیا 
مزید خوشگوار حیرت تب ہوئی جب بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں نے بھی ڈرتے ڈرتے کمپیوٹر سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہم نے خندہ پیشانی کے ساتھ حوصلہ دیتے ہوۓ انہیں بھی خوش آمدید کہا
اگرچہ پہلے ہی دن بچوں نے اپنا جدید خبیثا نہ رنگ دکھاتے ہوۓ دو عدد کی بورڈ اور ایک ماؤس کو مرتبہ شہادت پر فائز کیا لیکن ہم نے مستقبل قریب میں ان کے سمجھدار ہوجانے کے خیال سے محض نصحت کرنے پر اکتفا کرتے ہوۓ صبر سے ہی کام لینا مناسب سمجھا
تیسرے چوتھے روز سے بڑوں نے بھی ان کے دیکھا دیکھی پر پرزے نکالنا شروع کردیئے
سب سے پہلے ہم بچوں کا ذکر شر کرینگے ایک گیارہ سال کا بچہ ٹائپنگ سیکھتے سیکھتے اچانک مجھہ سے مخاطب ہوا .
سر ایک بات کہوں ؟ 
جی بیٹا کہو کیا پوچھنا ہے ؟
دیکھیں سر مس شمائلہ بہت اچھا پڑھاتی ہیں وہ اچھی بھی ہیں لیکن اپ ان سے شادی مت کیجئے گا مارتی بہت زیادہ ہیں
اب آپ بتائیں بندہ کہے تو کیا کہے ، میں نے پوچھا کیوں بیٹا آپ کی امی مارتی ہیں آپ کے ابو کو ؟
اس نے ایک بار پھر سکرین پر نظریں جمائ اور بے پروائی سے بولا .نہیں سر بلکہ ابو امی کو مارتے ہیں
اوہ تو کیا تمہیں دکھہ ہوتا ہے اس بات کا ؟ 
نہیں سر دکھہ کس بات کا وہ بھی تو ہمیں گیم کھیلنے نہیں دیتی !
ایک اور بچہ میرے سامنے فون پر گرل فرینڈ سے کہتا ہے بعد میں بات کرینگے سویٹی کیا بتاؤں یار ہمارا ٹیچر بہت زیادہ پکاؤ ہے
ایک خاتون بھی آتی ہیں وہ تب تک کمپیوٹر آن کرنا پسند نہیں کرتیں جب تک مجھے پورے محلے کی خبریں نہ سنادیں اور اپنے رشتہ داروں کے کمینے پن کا خلاصہ نا بیان کردے
ایک صاحب ہیں ان کی سوئی انقلاب پر اٹکی رہتی ہے انہیں جب بھی کہوں آپ تین جگہ سے کاپی کرسکتے ہیں اور پیسٹ کا آپشن بھی تین جگہ ہوتا ہے تو وہ تھوڑی دیر تک کھوئی کھوئی نظروں سے مجھے دیکھنے کے بعد کہتے ہیں میرا خیال ہے آج شام تک نواز شریف کا فیصلہ ہو ہی جائیگا کیا خیال ہے فوج ایکشن لے گی ؟ایک خاتون اور بھی ہیں جنھیں اپنی سکن کی بہت زیادہ فکر رہتی ہے اور گوگل سے سارا وقت ٹوٹکے سرچ کرنے میں گزارتی ہیں آج میں نے انہیں بتایا کہ سکین کیلئے کریلے اور قیمے کو ساتھ ملاکر پکایا جاۓ آدھا کلو قیمے میں کم از کم ایک پاؤ ادرک بھی ہونا چاہئے اسکے علاوہ سالن میں ناریل کا پانی ہونا بھی لازم ہے اب اگر وہ کل تک زندہ رہیں تو فارمولے کے کارگر ہونے نہ ہونے کے بارے میں معلوم ہوسکے گا
ویسے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کوئی ٹیکسی خرید کر چلانا شروع کردوں آج کے د ور کے کیا بچے اور کیا بڑے اتنے بگڑ چکے ہیں کہ انہیں پڑھانے کا مطلب اپنے لئے پاگل خانے کے دروازے خود اپنے ہاتھوں وا کرنا ہے
تحریر :سکندر حیات بابا

نیکو کار

  

پروڈیوسر سیٹھ نعمان لاشاری بابر صداقت حسین کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر مسکراۓ . معروف اسکالر بابر نے قریب آکر خاص عربی لب و لہجہ میں لفظ ع پر زور دیتے ہوۓ السلام علیکم کہا . جواب دیتے ہوۓ سیٹھ نعمان نے زور دار قہقہہ لگایا . 
یار بابر ہمارے سامنے تو یہ ڈرامے مت کیا کر ........ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتے بابر نے بر ا منہ بناتے ہوۓ بات کاٹی اور کسی قدر مصنوعی ناراضگی کے ساتھ خوشامدانہ لہجے میں کہا ......نعمان بھائی تو اب آپ بھی مذاق اڑائنگے ؟ رہنے دیں یار باہر والوں سے کیا گلہ کرنا پھر 
سیٹھ نعمان جو اسوقت تعریفی نظروں سے سٹوڈیو میں لگے رمضان اسپیشل پروگرام کے سیٹ کو دیکھ رہے تھے بابر کی بات کو گویا ان سنا کرتے ہوۓ آگے بڑھے .
سیٹ واقعی شاندار تھا خاکی رنگ کے نیے ڈیزائن والے صوفے چاروں طرف ہریالی سی ہریالی اعلی میعار کی مصنوعی لیکن بالکل حقیقی نظر آنے والی گھاس اور اس پر مستزاد وہ آبشار جو رنگین لائٹوں کی جھلمل میں ماحول کو مسحور کن بنارہی تھی 
بابر کی آواز نے سیٹھ نعمان کے ارتکاز کو توڑا . میں نہ کہتا تھا سلیم سے بہتر سیٹ ڈیزائنر کوئی ہو ہی نہیں سکتا ہاں تھوڑا سا سنکی ہے کسی کی مانتا نہیں دیکھیں تو ماحول کو حقیقت سے قریب تر رکھنے کیلئے کمبخت نے پرندے بھی لاکر چھوڑ دے ہیں اور تو اور وہ پانی کے قریب رکھا ڈمی مگر مچھ بھی اسکے تخلیقی ذہن کا شاہکار ہے 
سیٹھ نعمان جن کا موڈ سیٹ دیکھ کر واضح طور پر بہت اچھا نظر آرہا تھا کھل کر ہنسے .ہاں صحیح کہا سلیم سنکی ہونے کے علاوہ تھوڑا سا مہنگا بھی ہے لیکن تم دیکھنا یہ سیٹ دیکھ کر باقی چینلز کی تو سٹی ہی گم ہوجائیگی اور پھر اس سال تم بھی تو ہو ہمارے ساتھ 
ہمارے پروگرام کا تھیم بھی اس سال کچھ ہٹ کر ہی ہوگا . بابر معنی خیز لہجے میں بولا جب مقابلہ سخت ہو تو نییے آئیڈیاز لانے پڑتے ہیں 
سکورٹی آفیسر کے ساتھ کچرا چننے والے میلے کچیلے لباس میں کچھ بچے سٹوڈیو میں داخل ہوۓ سیٹھ نعمان نے تھوڑے سے فاصلے پر کھڑے میک اپ روم انچارج شکیل ارمان کو آواز دی 
ان بچوں کا حلیہ کچھ بہتر کردو لیکن یاد رہے اتنا بہتر بھی نہیں کہ یہ کچرا چننے والے ہی نہ لگیں باقی تم خود سمجھدار ہو 
ٹھیک ہے سر . سمجھ گیا آپ بے فکر رہیں میں انہیں تیار کردونگا .شکیل بچوں کو لیکر روانہ ہوگیا 
سیٹھ نعمان بابر سعادت کی طرف متوجہ ہوۓ اب کی بار وہ سنجیدہ نظر آرہے تھے .دیکھو بابر میں نے خرچے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مجھہ پر اوپر سے بہت زیادہ دباؤ بھی تھا تمھارے سابقہ چینل کی طرف سے بھی اور کچھ اور لوگوں کی طرف سے بھی جو اس پروگرام کیلئے اپنے آدمی کی سفارش کر رہے تھے اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ مجھے صحیح ثابت کرو پروگرام جیسے بھی رکھو تمھاری مرضی بس فل ٹائم پیسہ وصول پروگرام ہونا چاہئے 
بابر بغیر برا مناۓ مسکرایا . نعمان بھائی وصولی تو سمجھو شروع ہوگئی ابھی پروگرام کوئی آن ایئر ہوا نہیں اور میرے نام کی برکت دیکھیں بڑی کمپنیوں کے اشتہارات آنا شروع ہو گییے ہیں بلکہ پرائم ٹائم ایڈ کیلئے تو گویا ایک جنگ سے چل رہی ہے 
سیٹھ نعمان نے تائید کی .ہاں صحیح کہتے ہو تم .بس اپنے اس برکتی نام کی لاج رکھنا اب اس سے میری عزت بھی جڑی ہوئی ہے 
بابر صداقت کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا پہلا دن بہت ہی اچھا رہا مارکیٹ سے دوگنا معاوضہ اس کے اعصاب پر سوار ضرور تھا کہاں پورے مہینے کے دس لاکھ اور کہاں روز کے ایک لاکھ روپے لیکن اسے خود پر بھروسا تھا بچوں کی تیاری بھی مناسب تھی 
پروگرام ختم کرکے جب وہ سٹوڈیو سے نکلا تو گاڑی کی طرف بڑھتے ہوۓ اسکی نظر ان کچرا چننے والے بچوں پر پڑی جو آجکے دن اسکی کامیابی کا سبب تھے وہ چوکیدار سے کسی بات پر جھگڑ رہے تھے چوکیدار غصے میں باہر کی طرف اشارہ کرکے چلاتے ہوۓ ان سے کچھ کہہ رہا تھا 
معاملہ جاننے کیلئے وہ قریب گیا .کیا مسلہ ہے ان کا ؟ کیوں شور مچا رکھا ہے ؟ 
اس سے پہلے کے چوکیدار کچھ کہتا .ان بچوں میں سے نسبتا' ایک بڑی عمر کا لڑکا بابر سے مخاطب ہوا .صاحب دیکھو نا چلو کپڑے تو تمھارے تھے لے لئے .لیکن ایک تو ہمیں پانچ پانچ سو روپے دینے کو کہا تھا دیئے بھی دو دو سو روپے اور پھر اوپر سے ہمارے بورے بھی واپس نہیں کر رہے اس سے تو اچھا ہم اتنی دیر میں اپنا دھندہ کرلیتے 
بابر نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوۓ چکیدار کی طرف دیکھا .تمہیں ان بیچارے غریبوں کا کوئی احساس نہیں فورا انہیں ان کے بورے لاکر دو 
لیکن صاحب وہ تو ہم نے پھینک دیئے تھے .چوکیدار ممنایا 
بابر اسکی بات سن کر ایک بار پھر دھاڑا .کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرتے تم لوگ 
ہاں تو کتنے کا آتا ہے تمہارا بورا ؟ 
ستر روپے کا صاحب .اسی لڑکے نے دوبارہ جواب دیا 
بابر نے پرس سے گن کر ڈھائی سو روپے نکالے ان تین لڑکوں کی طرف بڑھا ئے یہ لو نییے بورے خرید لینا اپنے لئے . شاباش اب جاؤ یہاں سے 
وہ اپنی نئی ماڈل کی چمکتی ہوئی بلیک کار کی طرف بڑھا اسکا دل مطمعن تھا اپنے ڈرائیور کی طرف دیکھتے ہوۓ وہ بڑبڑایا ہماری ان نیکیوں کو کوئی نہیں دیکھتا اور لوگ ہمیں ڈرامے باز کہتے ہیں ...............
تحریر : سکندر حیات بابا

ادب کی سماجی حیثیت



ادب کی سماجی حیثیت و اہمیت کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دراصل ادب کی تعریف کیا ہے ادب کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں جیسے "نارمن جودک کا قول کہ "ادب مراد ہے اس تمام سرمایہ خیالات و احساسات سے جو تحریر میں آچکا ہے اور جسے اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو مسرت حاصل ہوتی ہے۔" جزوی طور پر مجھے اس قول سے شدید اختلاف ہے بے شک ادب خیالات و احساسات کو خاص انداز سے الفاظ میں ترتیب دینے کا نام ہوسکتا ہے لیکن پڑھنے والے کو مسرت کا حاصل ہونا ادب کا میعار نہیں مانا جاسکتا کیونکہ اگر ایسا مان لیا جاۓ تو وہ تمام اعلی مضامین خاص کر زمانہ کالج میں جو دوران تعلیم ہمارے نصاب کا حصہ تھے ان کی ادبی حیثیت مشکوک ہوجاتی ہے میرا خیال ہے ادب کی مختصر اور جامع تعریف اس سے بہتر کچھ نہیں کہ ہمارے جذبات افکار خیالات و احساسات کا اظہار زبان اور الفاظ کے ذریعے ادب کہلاتا ہے سو ہم بلا شک و شبہ مان سکتے ہیں کہ ادب معاشرے میں خیالات کی ترسیل کا بہترین اور موثر زریعہ ہے اب ایک سوال ادب کا فائدہ کیا ہے؟
ایک ایسے دور میں جب لوگ اپنے پڑوسی کا حال جاننے سے پہلے بھی فائدہ و نقصان پر غور کرتے ہوں یہ سوال کچھ اتنا نامعقول بھی نہیں دراصل ادب صرف بے سر و پا لاحاصل قصے کہانیوں یا محبوب کی یاد میں درد بھرے اشعار کہنے کا ہی نام نہیں ادب اگر محض دل بہلانے کی چیز ہو یا پھر اسکا موضوع فقط جنسی جذبات کا اظہار یا پھر اسکی وحشت سے فرار کے طریقوں پر غور کرنا ہو تو بے شک ادب کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اگر دیکھا جاۓ تو ادب حقیقی معنوں میں کسی قوم کی تہذیب و مزاج کا اظہار ہوتا ہے ادب کا منشا احساس کی شدت کو تیز کرنا ہے اچھا ادب وہ ہے جو بیک وقت حقیقت اور مجاز سے متعلق ہو۔ یعنی مجاز سے حقیقت کی طرف لیکر جانے والا ہو سچا ادب ہمیشہ زندگی کی حقیقتوں کا آئینہ دار ہو تا ہے حقیقتوں کا آئینہ دار ہونے سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ ادب ہمیشہ حقیقی واقعات پر ہی مشتمل ہو یا پھر اس میں تخیل کی طاقت کو قید کردیا جاۓ تخیل ایسی قوت ہے جو عقل سے برتر ہے یہ تخیل ہی ہے جو سینکڑوں برس بعد آنے والے انقلاب کو محسوس کرلیتا ہے اور بے شک یہ تخیل ہی ہے جو تاریخ کے جھرونکھوں سے ہمیں ہمارا گزرا ہوا کل بھی دکھاتا ہے
بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی کے بعد جاگیر دارانہ نظام میں سرمایہ داروں نے شعر و ادب تحقیق و تنقید، اور فلسفہ سمیت فنون لطیفہ کی دیگر تمام اصناف کے ساتھ اجتماعی ''زیادتی " کی . غیر جمہوری ادوار میں مزاحمتی ادب کو لعنت و ملامت کا نشانہ بنایا گیا پیسے کے زور پر نہ صرف پسندیدہ ادب لکھوایا گیا بلکہ ادب کو مذہبی و غیر مذہبی خانوں میں بھی غیر جائز طریقے سے تقسیم کردیا گیا 
اچھا ادب تخلیق کیا جانا اور اسے پڑھا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ادب کی مختلف اصناف کے موثر ترین زرایع سے ادیب معاشرے کو پسماندگی کی طرف لے جانے والے عوامل کی نشاندھی کرے اور سماج جو ادب سے اپنے مسائل کی روشنی میں اپنے سوالات کی تشفی چاہتا ہے اسے مطمن کرتے ہوۓ اسکے اضطراب کو بے قابو نہ ہونے دیکر افراتفری اور خانہ جنگی کہ حالات کو پیدا نا ہونے دے 
۔ہمارے ہاں بد قسمتی سے سماجی شعور ادب کی افادیت سے کماحقہ بہرہ مند نہیں ہوسکا، شاعروں اور ادیبوں کی معاشی حالت بلکہ بدحالی کا ہی سبب ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر ادبی سرگرمیوں کے لئے زور نہیں دیتے اور ادب کی طرف رجحان رکھنے والوں کا معاشی مستقبل غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے ریاست کا فرض ہے کہ ادب نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اختلاف راۓ کے احترام کے ساتھ ادیبوں کا خاص خیال رکھا جاۓ وگرنہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہمارا ادبی مذاق اور ازراہ تفنن '' بے ادبوں کو ادیب کہنے کی روایت ہمیں شدید و ناقابل تلافی معاشرتی نقصانات سے دوچار کرسکتی ہے 
سکندر حیات بابا

Pages