نورین تبسم (کائنات ِتخیل)

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھی جانے والی چیز کے معنوں  میں استعمال ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی پہلی منزل سورۂ فاتحہ(1) سے سورۂ النساء (4)تک ہے۔ جس میں میں چار سورتیں، پچاسی(85) رکوع اور چھ سو انہتر(669) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی دوسری منزل سورۂ مائدہ (5)سے سورۂ توبہ  (9)تک ہے جس  میں پانچ سورتیں، چھیاسی(85) رکوع اور چھ سو پچانوے (695)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی تیسری منزل  سورۂ یونس (10)سے سورۂ نحل(16) تک ہے جس میں سات سورتیں، اڑسٹھ(68) رکوع اور چھ سو پینسٹھ (665)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی چوتھی منزل  سورۂ بنی اسرائیل(17) سے سورۂ فرقان (25)تک ہے جس میں نو سورتیں، چھہتر ر(76)کوع اور نو سو تین(903) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی پانچویں منزل  سورۂ الشعراء (26)سے سورۂ یٰس(36)  تک ہے جس میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع(72) اور آٹھ سو چھپن(856) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی چھٹی منزل سورۂ  الصّٰفٰت (37)سے سورۂ الحجرات(49) تک ہے جس  میں  تیرہ سورتیں، انہتر (69)رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی (887)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی ساتویں منزل  سورۂ ق (50) سے سورۂ الناس (114)تک ہے جس میں پینسٹھ(65) سورتیں، ایک سو دو رکوع(102) اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ (1561)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں (37)، انتالیس رکوع(39) اور پانچ سو چونسٹھ (564)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ(111) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ(2) ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات  اور چالیس رکوع ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ سورة الکوثر(108) ہے جس کی تین آیات ہیں۔
٭سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے۔(ترمذی)۔٭عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔٭قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔٭قرآن کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔٭قران پاک میں موجودسورتوں کو تنزیل کے اعتبار سے مکی اور مدنی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قران میں موجود 114 سورتوں میں سے 65 مکی ہیں جبکہ 18 سورتیں مدنی ہیں۔سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔
٭ سورۂ النمل (27) میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘دو مرتبہ آئی ہے۔٭ سورۂ توبہ (9) وہ واحد قرانی سورہ ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بغیر شروع ہوتی ہے٭قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔  ٭قران پاک میں دو ایسی سورۂ ہیں جو تین پاروں میں شامل ہیں۔
٭1) سورۂ بقرۂ(2)۔۔۔۔ جو پہلے پارے سے شروع ہوتی ہے اور تیسرے پارے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭2)سورۂ النساء(4)۔۔۔جو پارہ چار سے شروع ہوتی ہے اور پارہ  چھ  میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورہ سے شروع ہوتے ہیں۔
٭1)پارہ 1۔۔۔سورۂ فاتحہ۔سورۂ البقرہ
٭2) پارہ 15۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17)۔
٭3)پارہ17۔۔۔سورۂ الانبیاء(21)۔
٭4) پارۂ 18۔۔ سورۂ المومنون (23)۔
٭5)پارہ26۔۔سورۂ الاحقاف(46)۔
٭6)پارہ28۔سورۂ المجادلہ(58)۔
٭7)پارہ 29۔۔سورۂ الملک(67)۔٭8) پارہ 30۔۔سورۂ النبا(78)۔٭قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطا فرمائے گئے۔۔۔۔حوالہ ۔۔سورة النمل (27) آیت 12۔۔۔۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت 101۔۔٭پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے۔
٭1)سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران(3) آیت (45)۔
٭2)سیدنا اسحاق علیہ السلام ،3) سیدنا یعقوب علیہ السلام۔سورة ھود (11)آیت (71)۔
٭4)سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم(19) آیت (7)۔
٭5)سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف (61)آیت (6)۔لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
٭پورا کلمہ طیبہ  قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا۔٭قرآن کریم میں  صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام آیا ہے۔(سورۂ الاحزاب آیت 37 )۔
٭قرآن میں کسی عورت کانام نہیں آیاہے فقط”حضرت مریم علیہا السلام“کا۔بی بی ”مریم “کانام قرآن میں 34مرتبہ آیاہے۔٭ سورۂ لہب(111)۔۔۔قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا۔عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے۔ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے کی  بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔٭قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورۂ بنی اسرائیل(17) ہے۔٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة طحہٰ (20) ،سورة یٰسین(36) ،سورۂ ص (38)، سورة ق  (50) اور سورۂ القلم 68(سورۂ ن) کے نام  ان سورتوں کے پہلے لفظ  ہیں۔٭قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔
٭1)سورۂ المائدہ(5)۔۔ 2)سورۂ ہود(11)۔۔3)سورۂ الرعد(13)۔۔4) سورۂ طٰہ(20)، ۔۔5)سورۂ روم(30)۔۔ 6)سورۂ ص(38)۔۔ 7)سورۂ محمد(47)۔۔8)سورۂ طور(52)۔۔9)سورۂ ملک(67)۔۔ 10)سورۂ دہر(76)۔َ۔11)سورۂ الاعلی(87)، اور12)سورۂ عصر(103)۔
٭قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے۔قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون بار اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی تین سورۂ مبارکہ سورة القمر (54)،سورة الرحمن(55) اورسورة الواقعہ(56)  میں لفظ اللہ نہیں۔٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔  ٭قرآن کریم کی سورۂ التین (95)  کا آغاز دو پھلوں انجیر اور زیتون کے نام سے ہوا ہے۔٭قرآن کریم کی  سورۂ الاعلی(87)  کا اختتام دو نبیوں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسی  علیہ السلام کے نام پر ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورۂ الفاتحہ(1)،سورۂ الانعام(6)،سورۂ الکہف (18)،سورۂسبا(34)،سورۂ فاطر(35)۔٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ   کا آغاز قل سے ہوتا ہے۔
سورة الجن(72)،سورة الکافرون (109)،سورة االاخلاص(112)،سورة الفلق(113)،سورة الناس (109)۔
٭قرآن مجید کی اُنتیس(29)سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔ تمام سورۂ مبارکہ میں حروف  مقطعات  پہلی آیت کے طور پر ہیں۔صرف سورۃ الشوریٰ میں پہلی آیت میں  حٰمٓ اور دوسری آیت میں عٓسٓقٓ ملتا ہے۔٭1)سورۂ البقرۂ(2) ۔الٓـمٓ۔۔2) سورۂ  آل عمران(3) ۔الٓـمٓ ۔۔3)سورہ  الاعراف(7)۔الٓـمٓـصٓ۔ ۔4) سورۂیونس(10 )۔"الٓـرٰ۔۔ 5) سورہ ہود (11) ۔"الٓـرٰ۔۔6)سورہ  یوسف(12)۔"الٓـرٰ۔۔7)سورۂ الرعد (13)۔الٓـمٓـرٰ ۚ۔۔ 8)سورہ ابراہیم (14)۔الٓـرٰ۔۔ 9) سورۂ  الحجر (15)۔ الٓـرٰ۔۔ 10) سورۂ طہٰ (20)۔ ٰطهٰ۔۔11)سورہ  مریم (25)۔ كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ۔ ۔12)سورہ الشعراء (26)۔ٰطسٓمٓ  ۔ ۔13) سورۂ النمل (27)۔ٰطـسٓ ۚ۔۔ 14) سورۂ القصص(28)۔ ٰطسٓمٓ۔۔15)سورہ العنکبوت(29)۔ الٓـمٓ۔۔16)سورۂ الروم (30)۔ الٓـمٓ۔۔17) سورۂ  لقمان (31)۔  الٓـمٓ ۔۔ 18) سورۂ السجدہ (32)۔  الٓـمٓ ۔۔19)سورۂ  یٰس(36)۔يٰـسٓ  ۔۔20)سورۂ ص (38)۔صٓ۔۔21)سورۂ غافر(40)۔حٰمٓ۔
۔22)سورۂ فصلت(41)۔حٰمٓ۔۔ 23) سورۂ الشورٰی (42)۔حٰمٓ۔عٓسٓقٓ (2)۔
۔ 24) سورۂ الزخرف(43)۔حٰمٓ ۔۔25)سورۂ  الدخان(44)۔حٰمٓ۔۔26) سورۂ الجاثیہ (45)۔حٰمٓ۔۔27) سورۂ  الاحقاف(46)۔حٰمٓ۔۔28)سورۂ ق(50)۔ قٓ ۚ۔۔29)سورۂ  القلم (68)۔نٓ ۚ۔٭چھ سورۂ مبارکہ  سورة البقرة (2)،سورة آل عمران(3) سورة العنکبوت(29)،سورة الروم(30)،سورة لقمان(31) اور سورة السجدہ(32)"الٓــمٓ" سے شروع ہوتی ہیں۔٭قرآن کریم میں دو سورتوں سورة الشعراء (26)اورسورة القصص(28) کا آغاز "طسٓمٓ  "سے ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة الاحقاف(46) ۔٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ سورة یونس(10)سورة ہود(11)سورة یوسف(12)سورة ابراہیم(14) اورسورۂ الحجر (15)    کا آغاز"الٓـرٰ"سے ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی  چار سورتیں سورة الحدید(57)،سورة الحشر(59)اورسورة الصف(61) سورۂ الاعلیٰ (87)  "  سَبَّحَ "سے شروع ہوتی ہیں۔٭قرآن کریم میں دو سورتوں  سورة الجمعہ(62) اور سورة التغابن(64) کا آغاز " يُسَبِّـحُ" سے ہوتا ہے۔٭دو سورتوںسورة الفرقان(25) اورسورة الملک(67) کی ابتدا "تَبَارَكَ الَّـذِىْ" سے ہوتی ہے۔٭چار سورتوں سورة الفتح(48)،سورة نوح(71)،سورة القدر(97) اور سورة الکوثر(108)  کی ابتداء "اِنَّا" سے ہوتی ہے۔٭دو سورتیں  سورة المطفیفین(83)، سورة الھمزہ(104) کا آغاز" وَيْلٌ" سے ہوتا ہے۔٭ سات سورتیں سورۂ واقعہ56،سورۂ المنافقون63،سورۂ التکویر81،سورۂ انفطار82 ، سورۂ انشقاق84،سورۂ نصر110اور سورۂ زلزال99  ۔۔  ” اِذَا 'سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ بیس سورۂ مبارکہ  "قسم" ،"و" سے شروع ہوتی ہیں۔۔سورۂ الصافات 37۔۔۔سورۂ ص 38۔۔۔سورۂ ق 50۔۔۔سورۂ ذاریات 51۔۔۔سورۂ طور 52۔۔۔سورۂ نجم 53۔۔۔سورۂ ن 68۔۔۔سورۂ قیامت 75۔۔۔ سورۂ مرسلات 77۔۔۔سورۂ نازعات79۔۔۔سورۂ البروج 85۔۔۔سورۂ طارق86۔۔۔۔سورۂ فجر 89۔۔۔سورۂ بلد90۔۔۔۔سورۂ شمس 91۔۔۔سورۂ ضحیٰ 93۔۔۔سورۂ تین 95۔۔۔سورۂ عادیات 100۔۔۔سورۂ عصر 103 سورۂ لیل105۔۔۔۔٭قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ " پکارا گیا ہے۔٭تین سورتوں  سورة الاحزاب(33) ،سور ة الطلاق(65) اور سورة التحریم (66)کی ابتدا " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ"سے ہوتی ہے۔
٭قرآن کے تیسویں پارے میں37سورتیں ہیں۔٭ قرآن کریم میں  چار فرشتوں کے نام آئے ہیں۔۔(1) جبریل۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98،سورۂ التحریم(66) آیت 4۔۔۔
۔(2) میکائیل۔ ۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98۔۔ 
۔(3) مالک۔۔سورۂ الزخرف(43) آیت 77۔
۔(4) ہاروت و ماروت۔۔سورۂ بقرہ (2) آیت 102۔۔۔٭ فرشتوں کی صفات کے نام پر  تین سورتیں  ہیں ۔
۔1)سورہ الصافات (37)ـ 2)سورۂ معارج(70) ـ3)سورہ مرسلات (77)،4)سورہ نازعات (79)ـ،بعض نے اس سے مراد فرشتوں کو لیا ہے ـ٭ قیامت کے نام پر یا قیامت کی خوفناکیوں کے نام پر تیرہ سورتیں آئی ہیں ـ
۔1) سورہ الدخان 44۔۔ 2)سورہ الواقعہ56 ـ۔ 3)سورہ الحشر59۔۔ 4)سورہ التغابن64۔۔ 5)سورہ الحاقہ 69۔۔ 6)سورہ قیامہ75۔۔ 7)سورہ النبا78۔۔ 8)سورہ التکویر 81ـ 9)سورہ النفطار82۔۔ 10)سورہ الانشقاق84۔۔ 13)سورہ غاشیہ 88۔۔12)سورہ الزلزال 99۔۔13)سورہ القارعہ 101ـ٭ازمان و اوقات کے نام پر آٹھ سورتیں ہیں۔۔(1) سورہ الحج،(2) سورہ جمعہ،(3)سورہ فجر،(4) سورہ لیل ،(5)سورہ ضحٰی، (6) سورہ القدر، (7) سورہ العصر،(8) سورہ فلق،۔٭ مقامات کے نام پر سات سورتیں ہیں۔۔۔
۔(1)سورہ اعراف 7۔
۔(2) سورہ الحجر 15۔
۔(3)سورہ الاحقاف46۔
۔(4) سورہ طور52۔
۔(5) سورہ البلد90۔
۔(6) سورہ الککوثر108۔
۔(7) سورہ التین95۔
٭قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے۔مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار٭قران پاک میں  چھ پھلوں کے نام ہیں۔۔۔  کھجور،انگور،انار،کیلا،انجیر،زیتون
کھجور (نخل) ۔انگور(اعناب)۔۔۔سورۂ الانعام 6، آیت 99۔۔
انار (رمان)۔۔۔سورۂ  الرحمٰن55 آیت 68۔۔
کیلا۔۔۔ سورۂ واقعہ56 ،آیت 29
انجیر،زیتون(سورۂ والتین95)۔۔٭قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔ساگ، لہسن ،ککڑی  اور پیاز(البقرۂ2،آیت61)۔٭قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے۔یثرب،بابل اور مکہ۔٭قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے۔کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور( سورہ طور52)۔
٭دو دریاؤں کے نام قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔دریاۓ نیل (سورہ انبیاء ) اور دریائے فرات(سورہ فرقان25،سورۂ فاطر 35) ۔٭قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے۔
لوہا (سورۂ حدید57۔آیت 25)۔
سونا،چاندی(سورۂ دہر ِ76۔آِیت 16اورآیت 21)۔
تانبا(سورۂ الکہف18۔آیت96)۔٭قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے۔
کھجور(سورۂ الکہف18۔آیت 32)۔
بیری(سورۂ واقعہ56۔آیت 28)۔
  زیتون(سورۂ التین 95)۔
٭قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر ہیں۔
سورۂ البقرة(2) گائے۔۔
سورۂ الانعام(6)مویشی۔۔
سورۂ النحل(16)شہد کی مکھی۔۔
سورة النمل(27)چیونٹیاں۔۔
سورۂ العنکبوت(29)مکڑی۔۔
سورةۂ العادیات(100)گھوڑے۔۔
سورة الفیل(105)ہاتھی۔۔
٭قرآن کریم میں چارپرندوں کا ذکر آیا ہے۔
٭1)بٹیر(سلویٰ)سورۂ البقرہ(2) آیت(57)۔٭2)کوا (غراب)۔سورۂ المائدہ(5) آیت(31)۔
٭3)  ہدہد۔سورۂ النمل(27) آیت (20) ۔
٭4)  ابابیل۔سورۂ الفیل 105۔

" اعجازِآیاتِ قرانی"

٭قرآن مجید کی  سورہ الحجر(15) کی آیت (9)  میں اللہ نے حفاظت قرآن کا وعدہ لیا ہے۔
آیت ترجمہ۔"ہم نے یہ نصیحت اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں"۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت سورة البقرہ (2)کی آیت (282) ہے۔اس آیتِ قرانی میں 'الف' سے لے کر 'ی' تک حروفِ تہجی موجود ہیں۔
٭آیت الکرسی قرآن مجید کی  سورۂ بقرۂ (2) کی آیت 255  ہے۔
٭وسط کلمہ قرآن ”وَلْيَتَلَطَّفْ“ہے جو سورہ کہف (18) آیت 19میں آیاہے۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی آیت(پانچ حرفی) سورة المدثر کی آیت (21)ہے۔
آیت۔۔"ثم نظر"( پھر تامل کیا)۔٭قرآن کریم کا سب سے بڑا رکوع سورۂ الصّٰفٰتت(37) کا دوسرا رکوع ہے جس میں تریپن(53) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا رکوع سورة المزمل(73) کا دوسرا رکوع ہے جس میں ایک ہی آیت ہے۔٭قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسماء الحسنےٰ کا ذکر سورة الحشر (59)کی آیت 23میں ہے۔
٭سورہ ”الزمر (39)کی پہلی آیت اور آخری آیت میں لفظ ”اللہ“ آیا ہے۔
٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی  دو آیات ایسی ہیں  جن کو الٹی سمت میں بھی پڑھا جائے تو مطلب اور تلفظ وہی رہتا ہے۔
٭ كُلٌّ فِىْ فَلَكٍ ۔۔۔۔۔سورة الانبیا،(21) آیت (33)۔
٭ رَبَّكَ فَكَـبِّـرْ۔۔۔۔۔۔سورة المدثر(74)، آیت (3)۔٭قرآن کریم میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی آیت سورة الرحمن(55) میں ہے جو اکتیس بار(31) دہرائی گئی ہے۔
"فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ"
ترجمہ آیت۔۔پس تم اپنے پردردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
٭سورة الاخلاص(112) کی تمام آیات "د"پر ختم ہوتی ہیں۔٭ قران پاک کی   تین سورتوں میں تین  آیات ایسی ہیں جن میں "الف" سے لے کر "ی" تک حروفِ تہجی موجود ہیں۔
  ٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیت 282۔
٭2)سورۂ آلِ عمران (3) آیت154۔
٭3)سورۂ فتح آیت 29۔٭سورة التوبہ(9) کی آیت نمبر 36 میں بتایا گیا ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔
 ترجمہ آیت 36۔۔۔بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
٭قرآن کریم کی سورۂ  الحاقہ(69)، آیت (17)میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے تھام رکھا ہو گا۔
 ترجمہ آیت 17۔۔۔"اور اس کے کنارے پر فرشتے ہوں گے، اور عرشِ الٰہی کو اپنے اوپر اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے"۔
٭قرآن مجید کی سورۃ الحج آیت 73میں مکھیوں کا ذکر آیا ہوا ہے۔
 ترجمہ آیت73۔۔۔ "اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع ہوجائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے، عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں"۔
٭قرآن کریم میں سورۂ فرقان25 اور سورۂ رحمٰن55 میں دو دریاؤں کا ذکر آیا ہے کہ ایک ساتھ بہنے کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا۔ یہ دونوں دریا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں واقع ہیں۔
آیات  ترجمہ ۔۔۔
٭1)سورۂ فرقان 25۔۔۔آیت 53۔۔۔اوروہی ہےجس نے دو دریاؤں کو  آپس میں ملا دیا۔ یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے۔اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ  بنا دی۔
٭سورۂ الرحمٰن 55۔۔۔ آیت 19،20 ۔اس نے دو سمندر ملا دیے جو باہم ملتے ہیں(19)۔ان دونوں میں پردہ ہے کہ وہ حد سے تجاوز نہیں کرسکتے(20)۔

" قرانِ ہاک کی دعائیہ آیات "

افَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ ۔۔۔سورۂ النساء(4) آیت 176۔۔۔سورہ محمد(47) آیت 38)۔ ترجمہ۔۔"پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے "۔
قرآن حکیم  کا موضوع " انسان" ہے اور  کتابِ مقدس میں  اللہ رب العزت نے  اپنی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں  ہمیں دعاؤں کے عظیم  تحائف عطا کیے ہیں۔آیاتِ قرانی کی یہ دعائیں انبیاء علہیم السلام  کے حالاتِ زندگی کے سیاق وسباق  کےحوالے سے ہیں تو کہیں  اللہ کے برگزیدہ بندوں اور اہلِ علم کی دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ  نے  قران مجید کے وسیلے سے ہمیں سکھائیں۔  دعاؤں والی آیات  درج ذیل ہیں۔
٭حضرت آدم علیہ السلام کی دعا ۔۔۔
سورۃ الاعراف (7) ،آیت 23۔۔اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں  بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا۔ تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔٭حضرت نوح علیہ السلام کی دعا۔۔۔٭1)سورۂ ھود (11)آیت 47 ۔۔۔اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں،اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤںگا۔٭2)سورۂ المومنون(23) ۔آیات 26۔29۔
اے رب تو میری مدد کر کیونکہ انہو ں نے مجھے جھٹلایا ہے(26)۔
پروردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ تو بہترین جگہ اُتارنے والا ہے(29)۔
٭3)سورۂ قمر(54) آیت 10۔۔۔ اے میرے رب میں تو مغلوب ہوگیا  تو میری مدد کر۔٭4)سورۂ نوح(71) آیات۔28،10۔۔۔
پس میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو بےشک وہ بڑا بخشنے والا ہے(10)۔
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ کو  بخش دے اور جو بھی ایماندار ہو کر میرے گھر میں  داخل ہو اور تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا (28)۔٭حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی دعا۔۔۔
٭1)سورۂ البقرہ(2) آیات۔129،128،127۔۔۔۔
ترجمہ۔۔اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما،بےشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے(127)۔
اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرمانبردار بنا، اور ہمیں طریقِ عبادت بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بےشک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(128)۔
اے ہمارے رب! اور ان میں  ایک رسول  انہی میں سے مبعوث کرجو ان  پر تیری آیتیں  تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، بےشک تو ہی غالب حکمت والا ہے (128)۔  
٭2)سورۃ الصافات(37)آیت 100۔۔اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر۔
٭3) سورۂ ابراھیم (14)آیات 41-40۔۔
 اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق  عطا فرما(40)۔پروردگار! میری دعا قبول فرما، پروردگار  مجھے،میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو  حساب قائم ہونے کے دن بخش دے(41)۔
٭4) سورۂ الشعرا (26)  آیت 83۔۔ اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر،اور مجھے جنت کے وارثوں میں شامل فرما اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بےشک  وہ  گمراہ لوگوں میں سے ہے اور مجھے اس دن رسوا نہ کر، جب کہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔
٭5)سورۂ الممتحنہ(60) آیت4۔5۔۔۔
اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے(4)۔
اے ہمارے رب! ہمیں ان کی  آزمائش میں نہ ڈال جنہوں نے کفر کیا اور اے ہمارے رب ہمیں معاف کر، بےشک تو ہی غالب حکمت  والا ہے(5)۔ 
٭حضرتلوط علیہ السلام  کی دعا۔۔۔
سورۂ العنکبوت(29)آیت۔30۔۔اے میرے رب! فساد پھیلانے والی قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔۔٭حضرت یعقوب علیہ السلام کی دعا۔۔۔سورۂ یوسف(12)۔۔آیت86۔۔۔۔میں تو اپنی پریشانی اور غم کا اظہار اللہ ہی کے سامنے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔٭حضرت  یوسف علیہ السلام کی  دعا۔۔۔سورۃ یوسف(12)آیات 33۔101۔۔
اے میرے رب میرے لیے قید خانہ بہتر ہے اس کام سے کہ جس کی طرف مجھے بلا رہی ہیں، اور اگر تو مجھ سے ان کے  فریب دفع نہ کرے گا تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا(33)۔
اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا، زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا(101)۔٭حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا۔۔۔
سورۂ الانبیاء(21) آیت 81۔۔ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔٭حضرتشعیب علیہ السلام کی دعا۔۔۔سورۂ الاعراف( 7) آیت 89۔۔۔ اے ہمارے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔٭حضرت موسی علیہ السلام کی  دعا۔۔۔٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیت۔67۔۔۔میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوں۔
٭2) سورۂ الاعراف (7) آیت 151۔۔۔ اے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے۔٭3)سورۂ اعراف(7) آیات۔۔155۔156۔۔۔
تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے(155)۔
اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی کہ ہم نے تیری طرف رجوع کیا(156)۔
٭4)سورۃ طہ(20)،آیات 25تا28۔۔۔
اے میرے رب! میرا سینہ  کھول دے(25)۔ا
ور میراکام آسان کر دے(26)۔ اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے(27)۔
تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں(28)۔
٭ 5)سورۂ القصص(28) ۔۔
آیات ۔۔16،17،21،22،24۔۔۔ 
اے میرے رب!  میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو مجھے بخش دے ،پھر اسے بخش دیا، بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے(16)۔اے میرے رب! جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا ہے پھر میں گناہگاروں کا کبھی مددگار نہیں ہوں گا(17)۔اے میرے رب! مجھے ظالم قوم سے بچا لے(21)۔امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتا دے گا(22)۔اے میرے رب  جو بھی خیر تو مجھ پر نازل کرے  میں اس کا محتاج ہوں(24)۔ ٭حضرت آسیہ (زوجہ فرعون) کی دعا۔۔۔سورۂ تحریم(66) آیت 11۔۔۔اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالموں کی قوم سے نجات دے۔٭حضرت  داؤد علیہ السلام  کی دعا ۔۔۔سورۂ البقرۂ (2) آیت250۔۔ترجمہ۔۔اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ کے مقابلے میں فتح نصیب فرما۔٭حضرتسلیمان علیہ السلام کی دعا۔۔۔٭1)سورۂ النمل(27) آیت19۔۔۔اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے،اورایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔٭2) سورۂ  ص (38) آیت 35۔۔۔میرے رب ! مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو بےشک تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔
٭ملکہ سبا   (بلقیس)کی دعا۔۔۔
سورۂ النمل (27) آیت 44۔۔۔اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ کی فرمانبردار ہوئی جو سارے جہاں کا رب ہے۔٭حضرت یونس علیہ السلام کی دعا۔۔۔
سورۃ الانبیاء(21)آیت87۔۔۔کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔٭حضرت  زکریا علیہ  السلام کی دعا۔۔۔سورۂ آلِ عمران(3) آیت 38۔ ترجمہ۔۔پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر،  بےشک تو ہی دعا سننے والا ہے۔  سورۂ الانبیا (21) آیت 89) اے پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور تو بہترین وارث  ہے۔٭حضرت محمدﷺ کی  دعا۔۔۔
٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیات 285۔286۔۔۔ترجمہ۔۔۔رسولﷺ  ایمان لائے جو کچھ اُن پر اُن کے رب کی طرف سے نازل ہوا  اور ایمان والے بھی، سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں  پر مان لیا ہے، ہم اللہ کے رسولوں  میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں  کرتے، اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے(285)۔اللہ کسی کو اس کی طاقت  سے زیادہ  تکلیف نہیں دیتا، نیکی کا فائدہ بھی اسی کو ہوگا اور برائی کی زد بھی اسی پر پڑے گی، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے  ہمارے رب! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے ہمارے پروردگار !  اور  ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہمیں معاف کر دے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر،تو ہی ہمارا مولیٰ ہے، کافروں پر ہماری نصرت فرما (286)۔٭2)سورۂ طٰہٰ 20) آیت14۔۔ اے پروردگار! مجھے مزید علم عطا کر۔٭3)سورۂ آلِ عمران(3) آیت 16۔ترجمہ۔۔اے  ہمارے رب! ہم ایمان لے لائے  سو ہم کو  ہمارے گناہ  معاف فرما اور ہمیں  آگ کے عذاب سے بچا لے۔
٭اصحابِ کہف کی دعا۔۔۔سورۂ کہف(18) آیت 10۔۔۔اے ہمارے پروردگار!  ہم پر  اپنے پاس سے  رحمت عطا فرما اور  اس  معاملے میں  ہماری رہنمائی فرما۔
٭انبیاء کی دعا ۔۔۔۔۔
 سورۂ آلِ عمران(3) !یت 147۔۔ترجمہ ۔۔۔ پروردگار  معاف کردے ہمارے گناہوں کو اور جو زیارتیاں  ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ۔ہم کو ثابت  قدم رکھ اور کافروں پر فتح  عنایت فرما۔
٭ اہلِ ایمان  کی  دعائیں۔۔۔۔
٭1)سورۂ البقرہ(2) آیت201۔۔ترجمہ۔اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں  بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی  بھلائی  بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
٭2)سورۂ مومنون(23) ۔۔۔
اے میرے رب تو مجھے ظالموں میں شامل نہ کر(94)۔
 اے میرے رب میں شیطانی خطرات سے تیری پناہ مانگتا ہوں(97)۔
 اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئیں(98)۔اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے(109)۔اے میرے رب معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے  بڑھ کررحم  کرنے والا  ہے(118)۔٭3) حضرت موسیٰ  کی قوم میں سے اہلِ ایمان کی دعا۔۔۔
سورۂ یونس (10) آیت85۔۔،86۔۔۔اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ظالموں کی قوم کی آزمائش میں  نہ  ڈال۔ اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے ۔٭4)سورۂ فرقان((25)۔
۔آیت 65۔۔۔اے ہمارے رب دوزخ کے عذاب کو ہم سے  دور رکھیو۔آیت74۔۔۔ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔٭ 5)سورۂ حشر(59) آیت10۔۔۔اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان  لائے اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ نہ پیدا ہونے دے۔اے ہمارے رب بےشک تو بڑاشفقت 
کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اہلِ جنت کی دعا۔۔۔
سورۂ التحریم(66) آیت 9۔۔۔اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے،بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ ٭حاملینَ عرش(عرش کے فرشتے) کی دعا۔۔۔
سورۂ المومن(40) آیات ۔۔7،8،9۔۔۔۔
اے ہمارے رب تیری رحمت اور تیرا علم سب پر حاوی ہے پھر جن لوگوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے پر چلتے ہیں انہیں بخش دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے(7)۔
اے ہمارے رب! اور انہیں ہمیشہ قائم رہنے والی جنتوں میں داخل کر  جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور  ان کو بھی  جو ان کے آباءاجداد  اور ان کی بیویوں  اور ان کی اولاد میں سے نیک ہیں،بےشک تو غالب حکمت والا ہے(8)۔اور انہیں برائیوں سے بچا،اورجس کو تو اس دن برائیوں سے بچائے گا سو اس پر تو نے رحم کر دیا، اور یہ بڑی کامیابی ہے(9)۔
٭ اہلِ علم کی دعا۔۔۔۔
 سورۂ آلِ عمران(3) آیت۔8۔ ترجمہ۔۔اے پروردگار!جب تو  نے ہمیں  ہدایت بخشی ہےْتو ہمارے دلوں کو  نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں  رحمت عطا فرما،بےشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔
٭والدین کے لیے دعا۔۔۔
 سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت24۔۔۔۔ اے  میرے رب  تو اُن پر رحم فر ما جیسا کہ  انہوں نے مجھےبچپن میں پرورش کیا۔ 

"آپ یہ پلے باندھ لیں "

آپ یہ پلے باندھ لیں - کالم از جاوید چوہدری
روزنامہ ایکسپریس۔24 ستمبر2017
آپ اگر پاکستانی ہیں اور آپ اور آپ کا خاندان اگر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے تو آپ کو یہ چند سبق اپنے دماغ کی گرہ سے باندھ لینے چاہئیں۔پہلا سبق‘ ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق‘ غلام اسحاق خان‘ فاروق احمد لغاری‘ بینظیر بھٹو‘ جنرل پرویز مشرف اور شریف فیملی کا تجزیہ کر لیجیے‘ یہ لوگ ملک کے طاقتور ترین لوگ تھے لیکن ان کا کیا حشر ہوا‘ ان کا کیا حشر ہو رہا ہے؟ آپ ملک کے پانچ سابق آرمی چیفس کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو ان کی حالت پر بھی ترس آئے گا‘ آپ چیف جسٹس حضرات کے ساتھ ہونے والی ’’اَن ہونیوں‘‘ کی فہرست بھی بنا لیں‘ آپ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دیکھ لیجیے۔ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں چیف جسٹس انصاف کے لیے عوام کا سہارا لینے پر مجبور ہوگیا تھا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے پولیس کے طاقتور افسروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھیں‘ ججوں کو اپنی فائلیں اٹھا کر مارے مارے پھرتے دیکھا اور نیب کے افسروں کو تحریری معافی مانگتے دیکھا‘ میں نے ملک کے طاقتور ترین سیاسی خاندان کو پورے خاندان سمیت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتے اور عوام کے سامنے دہائیاں دیتے بھی دیکھا‘ میں نے جنرل پرویز مشرف کو ملک سے بھاگتے بھی دیکھا‘ میں نے ملک کے نامور بیورو کریٹس کو جیلوں میں دھکے کھاتے بھی دیکھا اور میں نے مرتضیٰ بھٹو جیسے لوگوں کو بینظیر بھٹو کی حکومت میں کراچی کی سڑک پر تڑپتے بھی دیکھا‘ صدر ایوب خان کے دور میں ملک میں 22 امیر ترین خاندان تھے‘ وہ تمام خاندان بھٹو کے دور میں ختم ہو گئے‘ بینکوں اور بحری جہازوں کے مالک دس برسوں میں کوڑیوں کے محتاج ہو گئے‘ دنیا کی سب سے بڑی کارگو کمپنی کراچی میں تھی‘ اس کے پاس ساڑھے تین سو بحری جہاز تھے‘ آج اس کا مالک لاہور میں گم نام زندگی گزار رہا ہے۔چو این لائی بیکو کمپنی کی فیکٹری دیکھنے لاہور آئے تھے‘ بیکو کے مالک سی ایم لطیف بعد ازاں جرمنی کے ایک گاؤں میں گم نام زندگی گزار کر فوت ہوئے‘ شریف فیملی تین بار زیرو ہوئی‘ ملک ریاض ملک کے امیر اور بااثر ترین شخص ہیں‘ میں انھیں 20 سال سے حکومتوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھ رہا ہوں‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ برسوں میں اپنی لیڈر بینظیر کو انصاف نہ دے سکی‘ آصف علی زرداری کے خلاف آج بھی کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں‘ میاں نواز شریف اقامے کی بنیاد پر نااہل ہو چکے ہیں‘ شہباز شریف کے خلاف 14 لوگوں کے قتل کی سماعت شروع ہو رہی ہے اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے حج سکینڈل اور ایفی ڈرین کا تاج سر پر سجا کر پھر رہے ہیں جب کہ جنرل پرویز مشرف کے ریڈ وارنٹ جاری ہو رہے ہیں چنانچہ آپ جنرل ہیں‘ سیاستدان ہیں‘ جج ہیں‘ بزنس مین ہیں، بیورو کریٹ ہیں یا پھر عام انسان ہیں ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو اس ملک میں بہرحال اس خوف کے ساتھ زندگی گزارنی ہو گی۔دوسرا سبق‘ آپ اگر اس ملک میں خوش حال ہیں اور غیرمعروف ہیں تو پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں‘ آپ لاکھوں لوگوں سے بہتر زندگی گزار سکتے ہیں‘ آپ پھر تمام محکموں‘ تمام اداروں کو ’’مینج‘‘ کر لیں گے‘ آپ صبح اٹھیں‘ ناشتہ کریں‘ دفتر جائیں‘ پیسے کمائیں‘ شام کو واک کریں‘ فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزاریں اور نو بجے سو جائیں‘ آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن جس دن آپ کے پاس پیسے کم ہو گئے یا آپ ’’لائم لائیٹ‘‘ میں آ گئے یا لوگ آپ کے نام اور شکل سے واقف ہو گئے اس دن آپ کی زندگی عذاب ہو جائے گی‘ اس دن آپ دھوتی سنبھالنے پرمجبور ہو جائیں گے۔تیسرا سبق‘ ہمارے ملک میں انسان کے پاس پیسہ ضرور ہونا چاہیے لیکن یہ ضرورت سے بہت زیادہ نہیں ہونا چاہیے‘ آپ کے پاس اگر پیسہ نہیں تو عذاب ہے اور یہ اگر بہت زیادہ ہے تو یہ بہت بڑا عذاب ہے‘ میں نے پوری زندگی کسی شخص کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھا لیکن میں لوگوں کو زیادہ کھانے کی وجہ سے روز مرتے دیکھتا ہوں‘ میں لوگوں کو غربت کی وجہ سے پریشان دیکھتا ہوں لیکن میں نے آج تک کسی رئیس شخص کو بھی خوش نہیں دیکھا‘ ہمارے ملک میں لوگوں کو غربت نہیں مارتی ہمیشہ امارت مارتی ہے‘ آپ کے پاس اگر ضرورت سے چار گناہ زیادہ دولت موجود ہے تو پھر آپ کسی دن اپنے سالے‘ بہنوئی‘ بھائی‘ داماد یا پھر نالائق بیٹے کی ہوس کا لقمہ بن جائیں گے‘ میں نے آج تک رئیس لوگوں کو صرف کورٹس‘ کچہریوں‘ اسپتالوں اور قبرستانوں میں دیکھا ہے۔میں نے انھیں والد کے جنازے میں بھی لڑتے دیکھا چنانچہ آپ اگر اچھی اور پرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی دولت کو کسی بھی حالت میں خوش حالی سے اوپر نہ جانے دیں‘ آپ کا بیٹا جس دن کھڑے کھڑے ڈیڑھ دو کروڑ روپے کی گاڑی خرید لے یا پھر اپنی گھڑی‘ اپنی گاڑی اور اپنا گھر جوئے پر لگا دے یا ایک دو کروڑ روپے کی جائیداد ٹیلی فون پر بیچ دے آپ اس دن ڈر جائیں‘ آپ اس دن اپنی آدھی رقم خیرات کر دیں ورنہ دوسری صورت میں آپ کا اختتام اسپتال یا پھر سڑک پر ہو گا‘ میں ایک صاحب کو جانتا ہوں‘ وہ خوشحال تھے‘ وہ جو کماتے تھے وہ اپنے اوپر‘ اپنے خاندان کے اوپر اور اپنی آل اولاد کی تعلیم پر خرچ کر دیتے تھے اور جو بچ جاتا تھا وہ اسے خیرات کر دیتے تھے‘ وہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے ترکے میں کچھ نہیں تھا‘ ان کے بچے آج بھی اکٹھے رہ رہے ہیں‘ یہ سب یک جان‘ یک قالب ہیں جب کہ ان کے دوسرے بھائی نے زندگی بھر دولت کمائی‘ وہ اپنے بچوں کے لیے کروڑوں روپے چھوڑ کر گئے‘ بچے والد کے انتقال کے بعد جائیداد کے لیے لڑے اور یہ آج تک لڑ رہے ہیں‘ سگے بھائی بہن ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں چنانچہ آپ کوشش کریں آپ کی دولت خوش حالی سے اوپر نہ جائے‘ یہ اگر چلی جائے تو آپ اسے ویلفیئر میں لگا دیں‘ آپ بھی بچ جائیں گے‘ آپ کا خاندان بھی اور معاشرہ بھی۔چوتھا سبق‘آپ جہاں تک ممکن ہو ڈاکٹر اور ادویات سے پرہیز کریں‘ میں نے پاکستان میں ادویات‘ ڈاکٹروں اور اسپتالوں پر اعتبار کرنے والے لوگوں کو ہمیشہ روتے دیکھا‘ ملک میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز ڈاکٹروں کے بجائے قصائی پیدا کر رہے ہیں‘ یہ ناتجربہ کار بھی ہیں اور اناڑی بھی‘ پرائیویٹ اسپتال باقاعدہ مذبح خانے ہیں‘ آپ پیٹ درد لے کر جائیں گے اور یہ آپ کا پورا پیٹ کھول کر رکھ دیں گے‘ آپ انجکشن لگواتے اور آپریشن کرواتے ہوئے دس دس مرتبہ ’’کاؤنٹر چیک‘‘ کر لیا کریں‘ میں نے بےشمار مریضوں کو ’’اوور ڈوز‘‘ اور غلط انجکشن کی وجہ سے مرتے دیکھا‘ میرے ایک دوست ایک وقت میں صرف ایک انجکشن خریدتے ہیں۔یہ دو دن سے زائد دواء بھی نہیں خریدتے‘ یہ کہتے ہیں میں نے ایک بار دو انجکشن لے لیے تھے‘ نرس نے مجھے دونوں انجکشن اکٹھے لگا دیے تھے اور میں مرتا مرتا بچا تھا‘ ایف بی آر کے ایک ممبر نے بیٹے کے لیے انجکشن کی بڑی شیشی خرید لی‘ شیشی میں دس دن کی ڈوز تھی‘ بچے کو روز ایک سی سی انجکشن لگنا تھا لیکن نرس نے پوری شیشی ڈرپ میں ڈال دی‘ بچہ تڑپ کر مر گیا‘ ہم آئے روز دایاں کے بجائے بایاں گردہ نکلنے اور رائیٹ کے بجائے لیفٹ آنکھ کے آپریشن کی خبریں سنتے رہتے ہیں اور میرے ایک دوست بال لگوانے اور دوسرے پیٹ کی چربی کم کرانے (لائپو سیکشن) کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں چنانچہ آپ کوشش کریں آپ کسی قسم کی کاسمیٹک سرجری نہ کرائیں‘ آپ آپریشن ہمیشہ تجربہ کار اور سمجھ دار سرجن سے کرائیں خواہ آپ کو اس کی کتنی ہی فیس کیوں نہ ادا کرنی پڑ جائے اور آپ کو جب کوئی ڈاکٹر دوائی لکھ کر دے تو آپ اس نسخے کو کسی دوسرے ڈاکٹر کو بھی چیک کرا لیا کریں‘ آپ کوشش کریں آپ کم کھانا کھائیں‘ روزانہ ورزش کریں اور گھی اور چربی استعمال نہ کریں‘ یہ تین عادتیں آپ کو ڈاکٹر‘ اسپتال اور ادویات سے دور رکھیں گے اور یوں آپ اپنی موت اپنے ہاتھوں سے لکھنے سے بچ جائیں گے۔پانچواں سبق‘ انسان کے لیے ایک اللہ‘ ایک بیوی اور ایک موبائل کافی ہوتا ہے‘ میں نے ہمیشہ زیادہ خداؤں‘ زیادہ بیویوں اور زیادہ موبائل والے لوگوں کو پریشان دیکھا‘ یہ اکثر اوقات جلدی فوت ہو جاتے ہیں‘ پاکستان جیسے معاشرے میں ایک کے بعد دوسری شادی حماقت ہے‘ آپ اس حماقت سے جتنا بچ سکتے ہیں آپ بچ جائیں‘ دوسرا موبائل بھی انسان کی ٹینشن میں ہزار گنا اضافہ کر دیتا ہے اور آپ اگر ایک خدا سے مطمئن نہیں ہیں تو پھر آپ نعوذ باللہ ہزاروں خداؤں سے بھی خوش نہیں ہو سکتے چنانچہ ایک اللہ‘ ایک بیوی اور ایک موبائل فون زندگی اچھی گزرے گی ورنہ پوری پوری بربادی ہے اور چھٹا سبق‘ آپ یہ بات پلے باندھ لیں آپ کو اس معاشرے میں روزانہ عزت نفس اور انا کی قربانی دینا پڑے گی‘ آپ جب بھی گھر سے باہر نکلیں گے‘ آپ جس کے ساتھ بھی لین دین کریں گے اور آپ جس سرکاری یا غیرسرکاری دفتر میں جائیں گے آپ کے ساتھ دھوکہ بھی ہو گا‘ آپ کے ساتھ وعدہ خلافی بھی ہوگی اور آپ کی عزت نفس بھی ضرور روندی جائے گی چنانچہ آپ جب بھی کسی سے ملیں اور آپ جب بھی کسی کے ساتھ ڈیل کریں آپ ذہنی طور پر انا کی قربانی کے لیے تیار رہیں آپ کو کم تکلیف ہو گی ورنہ آپ بہت جلد بلڈپریشر کے مریض بن جائیں گے‘ آپ میانی صاحب پہنچ جائیں گے۔

قرانِ پاک کی سورتیں

  قران پاک کی وہ سورتیں جوایک سے زیادہ ناموں سے جانی جاتی  ہیں۔۔۔٭ 1)سورۂ فاتحہ(1)۔۔۔ سورۂ واجبہ۔۔اُم القران٭2)سورۂ التوبہ(9)۔۔سورۂ البراءَۃ۔٭3)سورۂ بنی اسرائیل(17) ۔۔۔۔سورۂ الاسراء٭ 4)سورۂ فاطر(35)۔۔سورۂ الملائکہ۔۔٭5) سورۂ یسٰین(36)۔۔قلب القران٭ 6)سورۂ المومن(40)۔۔۔سورۂ ٖ غافر٭7)سورۂ حٰم السجدۂ (41)۔۔ سورۂ فُصِّلَت٭8)سورۂ محمد(47) ۔۔سورۂ قتال٭ 9)سورۂ الطلاق(65) ۔۔نساء صغرٰی٭10)سورۂ المجادلہ(58)۔۔۔سورۂ ظہار٭ 11)سورۂ ملک(67)۔۔سورہ تبارک ۔۔سورۂ  مانعہ ( باز رکھنے والی)،سورۂ واقیہ (حفاظت کرنے والی) ،سورۂ  منّاعہ(بہت زيادہ باز رکھنے والی اور روکنے والی)۔٭12)سورۂ القلم(68)۔۔۔سورۂ ن۔۔٭13)سورۂ دہر(76)۔۔۔سورۂ الانسان٭14)سورہ النباء (78)۔۔ سورہ تساؤل اور سورۂ عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ۔ ٭15)سورۂ الکافرون(109) ۔۔ربع قران٭16)سورۂ اخلاص(112)۔۔سورۂ صمد۔۔سورۂ نجات۔۔سورۂ اساس۔۔سورۂ معوذۂ۔۔سورۂ تفرید۔۔سورۂ تجرید۔۔۔سورۂ جمال۔۔سورۂ ایمان۔٭17) سورۂ فلق(113)،سورۂ الناس(114)۔۔۔معوذتین

"سجدۂ تلاوت"

قران پاک کی  آیاتِ کریمہ کی تلاوت کرتے ہوئے یا سنتے ہوئے پندرہ  ایسے متعین  مقامات  ہیں  جہاں رُک کر سجدہ کرنا واجب ہے۔ان میں سے چودہ  مقاماتِ سجدہ تو متفق علیہ ہیں جبکہ سورۂ حج کے دوسرےسجدے(آیت77) میں کچھ آئمہ کرام کے نزدیک اختلاف ہے۔ ایسے تمام  پندرہ مقاماتِِ  سجدہ تلاوت  درج ذیل ہیں۔ ٭1)سورۂ االاعراف(7)۔۔ آیت 206 ۔٭2)سورۂ الرعد (13) آیت 15۔
٭3) سورۂ النحل(16)  آیت 49 ۔
٭4)سورۂ الاسراء (17) آیت 107۔(109) ۔
٭5) سورۂ مریم۔(19)۔آیت 58۔ ٭6)سورۂ الحج(22)آیت 18۔۔
٭7) سورۂ الحج(22)آیت 77  (بقول امام شافعی)۔
٭8) الفرقان(25) آیت60۔۔
٭9) سورۂ النمل(27)۔۔۔آیت 25۔
٭10)سورۂ السجدہ(32)۔۔۔آیت 15۔
٭11)سورۂ ص(38) آیت 24۔
٭12)سورۂ حم السجدہ۔(41)۔۔ آیت 37 ۔(38)۔
٭13) سورۂ النجم(53)۔آیت 62۔
٭14)سورۂ  الانشقاق(84)۔۔۔آیت 21۔
٭15)سورۂ العلق(96)۔۔آیت 19۔

"کردار سے دائرہ کار تک"

معاشرہ فرد سے بنتا ہے۔مرد اورعورت معاشرے کے بنیادی جزو ہیں۔معاشرتی،معاشی،اخلاقی اورمذہبی زنجیروں سےقطع نظردنیا کا ہرانسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنے افعال وکردار میں آزاد پیدا ہوتا ہے۔ساری زندگی اِن زنجیروں کی جھنکار اسے اُس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔۔یہ قید طاقت بھی ہے جو درحقیقت اُس کی سیماب صفت فطرت کے لیے آب حیات کا کام کرتی ہے۔انسان اپنی طبعی عمر پوری کر کےاس فانی دنیا کی ہر قید وبند سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔آگے کی جزاوسزا ایک الگ کائنات کی کہانی ہے۔مرد کا دائرہ کار اُس کے کردار کا تعین کرتا ہےجبکہ گھر میں عورت کا کردار اُس کے دائرہ کار کی راہ متعین کرتا ہے۔گھر اور معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے مرد اور عورت دونوں اپنے طور پر ہمیشہ سے اُلجھن کا شکار رہے ہیں ایک"تہذیب یافتہ"معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سب جانتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی حقائق کو اپنے خیال پر فوقیت دینا پڑتی ہے۔اگر مرد اپنی ذاتی زندگی میں کم ازکم خیال کی حد تک عورت کی اہمیت اور ضرورت محسوس کر لے اورعورت حقیقت کی آنکھ سے دیکھ کر اپنا اصل مقام پہچان لے۔۔۔ توجہاں مثبت طرزفکر مرد کی گھریلو زندگی پرسکون بنا دیتا ہے۔۔۔وہیں اپنے اصل مقام کی پہچان اور اس سے دیانت داری عورت کے لیے فکر وخیال کی نئی دنیاؤں کے راستے کھول سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا خواب وخیال کی بات ہے۔۔ ہر وہ عورت جو ایک بنے بنائے راستے پر نہ چلنا چاہے اورخود سے وابستہ رشتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے بھی صرف اپنی ذات کے لیے ایک نئے راستے کی چاہ کرے ۔اس کے لیے یہ سفر عشق کے سفر کی طرح پہاڑ میں سے دودھ کی نہر نکالنے کے مترادف ہے۔عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی جانتے ہوئے،مانتے ہوئے بھی سب اُس سے خائف رہتے ہیں۔عورت کا اصل مقام صرف اس کا گھر ہے۔وہ گوشۂ عافیت خواہ جہاں اس کی سوچ کی عزت دو کوڑی کی بھی نہ ہو۔۔۔ اس کے ذہن کو نہیں اس کے جسم کو اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔اس کی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کی وجہ سے اس کو پہچانا جاتا ہے،عورت جتنا جلد یہ بات سمجھ جائے اتنا جلد سمجھوتہ کرنے میں آسانی رہتی ہےلیکن یہ وہ پھانس ہے جو اکثر بہت چبھن دیتی ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی کمزور اور ان پڑھ عورت کے مسائل سے پرے وہ عورت جو ڈگری یافتہ ہی کیوں نہ ہو اور معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتی ہو اپنے گھر والوں کے حوالے سے ناقدری کی سوچ کبھی نہ کبھی اس کو ڈنگ ضرور مارتی ہے۔کچھ کے لیے یہ زہر زندگی بخش ثابت ہوتا ہے اور وہ اسے کہیں  اندر جذب کر کے،سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔عورت کی دوسری انتہا،ایک اور رُخ یہ ہے کہ  بظاہر ترقی وکامرانی کی بلندیاں ہی کیوں نہ چھوتی نظر آئیں،کچھ آگہی کے اس  زہر کے اثر سے  زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف خود کو تباہ کر بیٹھتی ہیں بلکہ ایک خاندان اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔اس بارے میں ہم تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اندر کی بات نہ جانتے ہوئے بھی گھر بچانے میں عورت کا کردار مرد سے زیادہ اہم ہےاور زیادہ ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔۔  دیکھنے والی آنکھ ہر دو رویے بخوبی  محسوس کر سکتی ہے۔

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮ 
بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا ‘واجپائی نے مسکرا کر جواب دیا ’’مشرف کو سینس آف ہسٹری نہیں تھی‘‘ آپ کو یہ جواب یقینا عجیب محسوس ہوگا لیکن آپ جب گہرائی میں جا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا لیڈروں اور قوموں کیلئے سینس آف ہسٹری لازم ہوتی ہے‘ آپ اگرتاریخ کے بہاؤ کو نہیں سمجھتے تو آپ حال سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اور آپ مستقبل بھی تعمیر نہیں کر سکتے‘ آپ خلاء میں گردش کرتے رہتے ہیں‘ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور دوسری تلخ حقیقت یہ ہے ہم اور ہمارے لیڈر دونوں سینس آف ہسٹری سے محروم ہیں چنانچہ ہم ستر برس سے اندھوں کی طرح ہاتھی کی دم کو پورا ہاتھی سمجھ رہے ہیں اور یہ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔میں اپنی جذباتی قوم کو پوری ’’سینس آف ہسٹری‘‘ نہیں دے سکتاتاہم میں دونقطے پیش کرسکتا ہوں‘ ہم ان نقطوں پر غور کر کے اپنے بےشمارفکری قبلے درست کر سکتے ہیں‘ ہم پہلے جمہوریت کی طرف آتے ہیں‘ پاکستان میں ستر برسوں میں 23 سویلین وزیراعظم آئے‘ چھ وزراء اعظم نگران اور 17 باقاعدہ وزیراعظم بنے‘ ان17 وزراء اعظم میں سے کوئی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا‘ یہ تمام لوگ خوفناک انجام کا شکار بھی ہوئے‘۔ آپ خان لیاقت علی خان سے شروع کر لیجئے‘ یہ چار سال وزیراعظم رہے ‘ راولپنڈی میں شہید کر دیئے گئے‘۔خواجہ ناظم الدین دو سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور باقی زندگی مشرقی پاکستان میں گمنامی میں گزار دی‘۔محمدعلی بوگرہ سال سال کے دو دورانیے میں دو سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور خاموشی سے ڈھاکہ میں فوت ہوگئے‘۔ چودھری محمدعلی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دئیے گئے اور باقی زندگی عسرت میں گزار دی‘۔حسین شہیدسہروردی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ مایوس ہو کر وطن چھوڑا اور لبنان میں انتقال کر گئے‘۔اسماعیل احمدچندریگر دو ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں لندن میں فوت ہوئے‘ ۔فیروزخان نون دس ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ سیاست سے کنارہ کش ہوئے اور اپنے گاؤں نورپور نون میں انتقال کر گئے‘۔نورالامین 13 دن کیلئے وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اورراولپنڈی میں گمنامی میں انتقال کر گئے‘۔ذوالفقارعلی بھٹو پہلے تین سال سات ماہ وزیراعظم رہے پھر چار ماہ کیلئے وزیراعظم بنے‘ ہٹائے گئے اور پھانسی چڑھا دیئے گئے‘۔ محمدعلی جونیجو اڑھائی سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں انتقال ہوا‘۔بےنظیر بھٹو دو بار وزیراعظم بنیں دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دی گئیں‘ جلا وطن رہیں اور آخر میں شہید ہو گئیں‘۔ میاں نواز شریف دو بار وزیراعظم بنے‘ دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دیئے گئے‘ جلاوطن ہوئے‘ واپس آئے‘ تیسری بار وزیراعظم بنے اور ہٹائے جا رہے ہیں'(28 جولائی 2017کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیتے ہوئے نوازشریف کو  وزیرِاعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا)۔میر ظفر اللہ جمالی واحد بلوچ وزیراعظم تھے‘پونے دو سال بعد ہٹا دیئے گئے اور مایوسی‘ تاسف اور گمنامی میں زندگی گزار رہے ہیں‘۔ شوکت عزیز تین سال وزیراعظم رہے‘ ملک سے باہر گئے اور دوبارہ واپس نہیں آئے‘ ۔یوسف رضا گیلانی چار سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ عدالتو ںمیں کیس بھگت رہے ہیں۔راجہ پرویز اشرف آٹھ ماہ وزیراعظم رہے ‘ یہ بھی اس وقت نیب کے مقدمات فیس کر رہے ہیں‘۔وزراء اعظم کی اس ہسٹری سے تین سینس ملتی ہیں‘۔۔۔۔ اول‘ہمارا کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرتا‘یہ ہٹایا جاتا ہے اور یہ ہٹائے جانے کے بعد عبرت اور مایوسی کی زندگی گزارتا ہے‘۔دوم‘ ہمارا ہر وزیراعظم عدالتوں میں دھکے ضرور کھاتا ہے اور یہ دھکے کھاتے کھاتے آخر میں گمنامی میں مرجاتا ہے اورسوم ملک کے 17وزراء اعظم میں سے گیارہ انتقال کر چکے ہیں‘ قوم ذوالفقارعلی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کے علاوہ کسی کی قبر سے واقف نہیں‘ یہ تمام قصہ پارینہ بن چکے ہیں‘ ۔آپ اب دوسری سینس آف ہسٹری ملاحظہ کیجئے۔پاکستان میں چار مارشل لاء لگے‘ جنرل ایوب خان‘جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے‘ جنرل یحییٰ خان کے سوا تین جرنیلوں نے دس دس سال حکومت کی‘ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار شہادت کے بعد ختم ہوا جبکہ باقی تینوں جنرلز عوامی تحریک کے ذریعے فارغ ہوئے ‘ تینوں کے خلاف مقدمے بنے لیکن کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا‘ کسی کو سزا نہیں ہوئی‘ پاکستان میں جب بھی فوجی حکومت آئی خطے میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوئی ‘امریکا نے پاکستان کواپنااتحادی بنا کر اس جنگ میں ضرور جھونکااور آخر میں پاکستان اور فوجی آمر دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا‘ جنرل ایوب کے دور میں امریکا اور سوویت یونین کی ’’کولڈ وار‘‘ہوئی‘ پاکستان روس کے خلاف امریکا کا اتحادی بنا‘ ہم نے اپنے فوجی اڈے تک دیئے اور ایوب خان کے دور میں 1965ء کی جنگ بھی ہوئی‘ امریکا نے یحییٰ خان کو چین کیلئے کے لئے استعمال کیا‘ 1971ء کی جنگ ہوئی‘ پاکستان ٹوٹ گیااور امریکا نے یحییٰ خان کو بھی اکیلا چھوڑدیا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان وار ہوئی‘امریکا نے پاکستان کو جی بھر کر استعمال کیا اور اکیلا چھوڑ دیا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہوئی‘پاکستان اس بار بھی امریکا کااتحادی بنا اور خوفناک نقصانات اٹھائے۔ ہم اگر تاریخ کی ان دونوں سینسز کو سامنے رکھیں تو ہم بڑی آسانی سے چند نتائج اخذ کر سکتے ہیں‘۔ ہمارا پہلا نتیجہ یہ ہو گا پاکستان میں کوئی جمہوری وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکتا‘ اقتدار سے رخصت ہونے والا ہر وزیراعظم گمنامی‘جلاوطنی اور مقدمے بھگتے گا اور اگریہ خاموشی اختیار نہیں کرے گا تو اس کی قبر پر گز گز لمبی گھاس اگ آئے گی‘۔دوسرا نتیجہ‘ فوجی اقتدار کم از کم دس سال پر محیط ہو گا‘ ان دس برسوں میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوگی‘پاکستان اس جنگ کا اتحادی بنے گا ‘ امریکا آخر میں پاکستان اورفوجی آمر دونوں کو تنہاچھوڑد ے گا‘ پاکستان پر مزید امریکی پابندیاں لگیں گی‘ ملک مزید کمزور ہو گا‘ جمہوری حکومت آئے گی‘ نئے لیڈر ڈویلپ ہوں گے‘یہ ایک دو برسوں کے اقتدار کے بعد اختیار مانگیں گے ‘یہ ہٹا دیئے جائیں گے‘یہ مقدمے بھگتیں گے‘یہ جلاوطن ہوں گے اور یہ تڑپتے سسکتے ہوئے گمنامی میں انتقال کر جائیں گے‘۔تیسرا نتیجہ‘ ملک میں ہر ’’تبدیلی‘‘ کے بعد پہلے سے زیادہ کم عقل‘ نالائق‘ ناتجربہ کار اور کرپٹ لوگ اوپر آئیں گے‘ یہ لوگ بھی جب ضمیر کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جائیں گے‘ یہ جب ملک اور سسٹم سے مخلص ہو جائیں گے تو یہ بھی ہٹا دیئے جائیں گے اور ان کی جگہ ان سے بدتر لوگ سامنے آ جائیں گے‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ کسی دن پارلیمنٹس کا ڈیٹا جمع کر لیجئے آپ کو ہر نئی پارلیمنٹ پرانی پارلیمنٹ کے مقابلے میں زیادہ نالائق اور زیادہ کرپٹ لوگوں کا مجمع ملے گی‘ آپ کو ملک میں ہر وہ شخص بھی زیادہ دیر تک مسند اقتدار پر نظر آئے گا جس نے کچھ نہیں کیا اور ہر اس شخص کی مدت کم ہوگی جو کچھ کرنے کی غلطی کربیٹھا ہو‘ ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے سات لوگ مسند اقتدار تک پہنچے‘ان میں سے ایک نے آئین بنانے کی غلطی کی اور وہ عبرت کی نشانی بن گیااور چوتھا نتیجہ ‘ ہماری ستر برس کی تاریخ نے ہماری جمہوریت اور فوج دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کئے‘ دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہوئی اور جمہوریت اور فوج دونوں اس خلیج سے کمزور ہوتے چلے گئے‘اس خلیج نے ہمارا بیوروکریٹک سسٹم بھی تباکر دیا‘ ملک میں احتساب اور انصاف کا جنازہ بھی نکل گیا اور ملک میں سیاسی چیلوں کا ایک ایسا غول بھی پیدا ہوگیا جو ہر وقت اقتدار کی خوراک کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے‘یہ لوگ پرانا تالاب سوکھنے سے پہلے اڑ جاتے ہیں اور جہاں نئے چشمے کے آثار پیدا ہوتے ہیں یہ وہاں ڈیرے ڈال لیتے ہیں‘ ان سیاسی چیلوں نے پورے ملک کا کلچر خراب کر دیا ‘ ہم سب مفادپرست ہو چکے ہیں اور ہم سب روز داؤ لگانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں‘ ہمارا پورا معاشرہ گل سڑ چکا ہے۔ہمارے پاس اب کیا آپشن ہیں‘ ہمارے پاس اب دو آپشن ہیں‘ ہم یہ سلسلہ اسی طرح چلنے دیں اور قدرتی عمل کے بعد تاریخ کے خاموش قبرستان میں دفن ہو جائیں یا پھر ہم تاریخ کا دھارا بدل دیں‘ ہم اگر دوسرا آپشن لیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بات پلے باندھنا ہو گی کہ یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور یہ جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا چنانچہ دونوں طاقتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا‘ دوسرا‘ فوج اور عدلیہ کسی قیمت پر سیاست میں مداخلت نہ کریں‘ سیاسی جنگیں ہونے دیں‘یہ جنگیں سیاست کو خودبخود ٹھیک کر لیں گی اور تیسرا‘سیاسی قائدین قسم کھا لیں یہ پارٹی کو پارٹی کی طرح چلائیں گے‘ یہ اسے جاگیر یا فیکٹری نہیں بنائیں گے‘ یہ دوسروں کوغیر جمہوری طریقے سے ہٹائیں گے بھی نہیں اور عوام بھی یہ فیصلہ کر لیں ہم اپنے ووٹ کو جائےنماز کی طرح پاک رکھیں گے‘ یہ ملک بچ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچے گا اور ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا احتساب اور انصاف کے بغیرکوئی ملک ترقی نہیں کرتا‘ترقی بالٹی کی طرح ہوتی ہے اور کرپشن اور ناانصافی اس بالٹی کے سوراخ ہوتے ہیں‘ ہم جب تک یہ سوراخ بند نہیں کریں گے ہماری بالٹی اس وقت تک نہیں بھرے گی چنانچہ میاں نواز شریف کی موجودگی میں ہو یا پھر ان کے بعد ہو ہمیں بہرحال احتساب اورانصاف کا مضبوط سسٹم بنانا ہوگا‘ ایک ایسا سسٹم جو اگر مشرق کو مغرب کہہ دے تو پھر مغرب مشرق ہو جائے‘ کوئی اس ہونے کو روک نہ سکے اور ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر ہمارے ساتھ وہ ہو کر رہے گا جو ہم سے پہلے تاریخ میں ہم جیسی قوموں کے ساتھ ہوتا رہا تھا۔

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

  تئیس جون 2017 بمطابقستائیس رمضان المبارک1437 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک 
برس کے دوران "دلیل ویب سائیٹ" پر میری  چھیاسٹھ(66) تحاریر شائع ہوئیں،جن کی  ماہ بہ ماہ تفصیل کچھ یوں ہے۔
ویب سائیٹ "دلیل" پر2016 سے شائع ہونے والی تحاریر۔۔۔۔۔
(6)۔2016۔۔۔اگست (1) ۔۔۔ ستمبر(10)۔۔۔ ۔اکتوبر(11)۔۔ نومبر(6)۔۔۔ دسمبر
۔2017۔۔ ۔جنوری (7)۔۔۔ فروری(7) ۔۔۔۔مارچ(7) ۔۔اپریل (4)۔مئی (3)۔ جون(4)۔
۔"دلیل ویب سائیٹ" کی سالگرہ کے لیے لکھی گئی خصوصی  تحریر۔۔
دلیل کا سفر اور کارواں کی تشکیل"- نورین تبسم"
۔27 رمضان1437ھ۔۔۔27رمضان 1438ھ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا ایک فرد اور پھر ایک گروپ کی سوچ سے آغاز کرنے والی" دلیل ویب سائیٹ"کے قیام  کو ایک برس مکمل ہوا۔دلیل انتظامیہ کو سفرِ بخیر کی بہت بہت مبارکباد۔دلیل  جڑنے والا تعلق دو جہتیں لیے ہوئے ہے۔۔۔ ایک قاری اور دوسرا لکھاری۔بحیثیت قاری  بات کی جائے تو "دلیل"حالاتِ حاضرہ  اور معاشرتی مسائل سے لے کر فرد کے ذاتی احساسات،مشاہدات اور تجربات کی نمائندگی کرتی تحاریر سے سجا ایسا رنگارنگ گلدستہ ہے جو آنے والے ہر قاری کی اس کی ذہنی سظح  اور اخلاقی رجحان پر آ کر تسلی وتشفی کرتا ہے۔"دلیل"پر نہ صرف کئی منفرد تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں بلکہ اخبارات  میں شائع ہونے والے کالمز کا عمدہ انتخاب  بھی "دلیل" کو ہم سب کے لیے خاص بنا دیتا ہے۔ 
بطور لکھاری محسوس کروں تو "دلیل"  اپنے لکھنے والوں کو ایک باوقار اور پُراعتماد  فضا فراہم کرتی ہے جہاں وہ  حدودوقیود کے اندر رہتے ہوئے  دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔
  دلیل میں  قاری کی سہولت کے لیے کچھ تجاویز۔۔۔۔
٭ دلیل میں روزانہ کی بنیاد پر شائع ہونے والی تحاریر کی فہرست آنی چاہیے تا کہ قاری کو پتہ چلے کہ آج کتنی اور کون کون سی تحاریر  سامنے آئیں۔
٭ آن لائن اخبار میں "گذشتہ شماروں" کی طرز پر دلیل میں  بھی سابقہ تحاریر کی ایک مربوط  جگہ ہونی چاہیے جہاں قاری 
گذشتہ روز،گذشہ ہفتے  اور پھر پورے مہینے کی تحاریر  پر نظر ڈال سکے۔
٭ ہفتے کی بہترین تحریر یا مہینے کی عمدہ تحریر کی نشاندہی ضرور ہونی چاہیے۔ اس کے لیے  پوسٹ ویوز کے طریقِ کار سے ہٹ کر کچھ طے کیا جانا چاہیے کہ کبھی بہت ہی اچھی اور منفرد تحریر کو بھی بہت کم ویوز دکھائی دیتے ہیں۔
دلیل  میں لکھاری کے لیے۔۔۔
٭ دلیل میں شائع ہونے کے بعد اپنی کسی تحریر میں املاء  کی کوئی غلطی دکھائی دے جائے تو اسے ٹھیک کرنا محال ہو جاتا  ہے۔ جیسے کہ ہم اپنے بلاگ میں کوئی بھی تحریر پوسٹ کیے جانے کے بعد کبھی بھی  ایڈٹ کر کے  اُس کی درستگی  کر سکتے ہیں۔
٭ دلیل میں ڈائجسٹ ٹائپ کی سنسی خیز  طویل اور قسط وار تحاریر کی گنجائش  بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ایک تو وقت کا زیاں دوسرے یہ دلیل   کے قاری کے مزاج پر گراں گذرتی ہیں۔ 
٭بےشک دلیل بنانے کا مقصد اللہ کی رضا میں رہتے ہوئے علمِ نافع کا حق ادا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دلیل ویب سائیٹ مکمل طور پر  دعوت وتبلیغ کی اسلامی ویب سائیٹ نہیں کہ جس کے اجر کا ذمہ اللہ کے سوا کسی کے  پاس نہیں۔دلیل انتظامیہ کو ایک قدم اور  آگےبڑھتے ہوئے اشتہارات  یا سپانسرشپ کی طرف جانا چاہیے۔یہ دوسری بات ہے کہ اس میں بھی اسلامی اقدار  اور اخلاقیات  کو پہلی ترجیح دی جائے۔ یہ کوئی بری بات ہرگز نہیں بلکہ اس سے دلیل کے لیے کام کرنے والے "رضاکاروں" کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ اپنے وقت اور علم  کو بہتر طریقے سے دلیل کے لیے وقف کر سکیں   گے۔رہی بات دلیل مصنقین کی تو اپنی سوچ کو لفظ میں ڈھالنے کے بعد لکھنے والے کا سب سے بڑا انعام ہی یہی  ہے کہ اس کے لفظ کسی کی نگاہ کو چھوتے ہوئے اُس کے دل میں اتر جائیں۔ دلیل مصنفین کے لیے ہرگز کسی قسم کے  مالی فوائد  کا اجراء نہیں ہونا چاہیے اس سے ایک تو لکھنے والے کی ذہنی آزادی متاثر ہوتی ہے اور دوسرے بلاوجہ کی چپقلش یا تعصب کا شائبہ بھی جھلکتا ہے۔
آخری بات 
دلیل ویب سائیٹ کی مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے بہت سی دعائیں۔ دلیل انتظامیہ کی تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ اُن کے  اعتماد کی بدولت میری تحاریر کا میرے بلاگ سے دلیل کی طرف سفر جاری رہا۔ 

"رمضان ،روزہ اور ہم"

رمضان المبارک1438ھ بمطابق جون 2017
" دہشت گردی سے شرانگیزی کی جنگ تک "
اس میں شک نہیں کہ روزہ روزہ ہوتا ہے،دورانِ روزہ  چاہے"سو سو کر جاگا جائے" یا جاگ جاگ کر سویا جائے۔ کیا دور آگیا ہے کہ وہ محاورے ماضی میں جن کی وضاحت کرنا پڑتی تھی آج من وعن اُسی طرح برتے جا رہے ہیں۔ بات ہو رہی تھی سو سو کر جاگنے کی تواس کا عملی ثبوت ہمیں اپنی زندگیوں میں یوں اُمڈ اُمڈ کر ملتا ہے جب راتوں کو جاگنے والے صبح دم گھوڑے گدھے بیچ کر سوتے ہیں ۔یہ دوسری بات ہے کہ راتیں خواہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کٹیں،جناب میڈیا کے سامنے عقیدت کی چادر چڑھاتے ہوئے اور یا محب الوطنی کے اکلوتے ٹریڈ مارک"کرکٹ"کے میچز دیکھ کر۔ رمضان کا مہینہ سال کے گیارہ ماہ گزرنے کے بعد آنے والا وہ بارہواں مہینہ ہے جو ہر نام نہاد پیدائشی مسلمان کو ایک بار تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی دینی حمیّت جانچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ کوئی کتنا ہی "موڈریٹ" مسلمان ہو یا نعوذ باللہ اسلام کی فرسودہ تعلیمات و پیغام کا زمانۂ حال کے مطابق پرچار کرنے والا لبرل عالم ِدین۔ اس ماہ کم ازکم ایک پل کو دل میں ہی سہی سوچتا ضرور ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس ایک ماہ میں کچھ بھی تو نہیں بدلتا!!!  فرد کی سطح پر اور نہ ہی معاشرے میںکہیں ایک انچ کی تبدیلی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ہمارے بازاراسی طرح پُررونق ہیں۔۔۔ہمارے تعیشات اسی طرح جاری وساری ہیں۔۔۔ہماری ملکی سیاست اسی طرح چند افراد۔۔۔ چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔۔۔ ہمارے خوشحال طبقات اسی طرح "سانوں کی" کا ورد کرتے ہوئے زندگی کالطف اٹھائے جارہے ہیں۔۔۔ہماری افطاریاں ہماری سحریاں دیسی بدیسی طعام گاہوں  کے پُرکشش پیکجز سے استفادہ کرتی ہیں۔جہاں  بسااوقات ایک فردکے افطار یا سحر کا خرچ ایک پورے خاندان کے ہفتے بھر کے  کھانے کےبرابر سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔بھرے پیٹ کے دین دار امیر آدمی کے لیے تو  پہلے بھی رمضان کا مہینہ  عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتا تھا۔گرم موسم  میں  ڈائٹنگ کی مفت سہولت کے ساتھ ٹھنڈے کمروں  میں کاروبارِحیات سرانجام دے کر سحروافطار میں لذتِ کام ودہن بکھیرتی عالیشان کھانے کی میزوں سے لے کر  افطارپارٹیوں کے "گیٹ ٹو گیدر" عین کارِثواب  ہی تو ہیں ۔ بقول شاعر"رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی"۔ اب میڈیا کے توسط سے رمضان  کے "فیوض" میں عام آدمی بھی داخل ہو گیا ہے۔ وہ جس  کو دو وقت کی روٹی کے لیے ہر روز کنواں کھودنا پڑتا ہے ،اُس کے گھر میں اب ایک جادوئی ڈبہ موجود ہےجو کچھ پل کو ہی سہی اپنے ماحول سے یکدم دور کر دیتا ہے۔ پیٹ کی آگ جو کبھی نہیں بُجھتی لیکن نفس کی بھڑکتی آگ ضرور ذرا دیر کو تسکین پانے لگتی ہے تو پیٹ کی بھوک پیچھے رہ جاتی ہے۔ ویسے بھی روزے کی حالت میں پیٹ کا  یہ خطرہ دور ہی رہتا ہے۔ وہ پہلے دور کے قصے تھے جب محض اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آتی تھی اب ساری دُنیا کے گریبان میں دیکھ لو ہر بات جائز اور منطقی ہے۔اور کیا فرق پڑتا ہے کہ روزہ روزہ ہوتا ہے چاہے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزرے یا دین کی باتیں اپنے من پسند ریپرز میں لولی پاپ کی طرح چوستے ۔ وہ دور گیا جب روزہ صرف بندے اور مالک کا معاملہ تھا اب تو یہ بندوں اور چینلز یا پھر انسان اور بٹنز کے درمیان ہو کر رہ گیا ہے ۔ حد ہو گئی ریموٹ کے بٹن ہوں یا ماؤس کا کلک اور یا پھر موبائل فون کے پیکجز ہر طرف عجب انہماک کا عالم ہے ۔ قرآن کا نسخہ جو رمضان میں اونچے طاقوں سے اُتر کر بڑے ذوق وشوق سے ہماری زندگی میں شامل ہوتا تھا اور دل میں تہیہ کرتے تھے کہ قرآن پڑھنا ہے خواہ ایک سے زیادہ بار مکمل پڑھیں یا ایک بار ہی سمجھ کر پڑھیں۔ اب تو ٹرانسمیشن اشد ضروری ہے کہ "لائیو" ہے جو گزر گئی تو ریکارڈنگ بھی نہ ملے گی بس ابھی وقت ہے اس کی "نیکیاں" لوٹنے کا ۔ قرآن تو چودہ سو سال سے ہمارے پاس ہے اور محفوظ ہے اور ہم کونسا برا کام کر رہے ہیں یہ تو عین دین داری ہے دین کی باریکیوں کو جاننا ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ میڈیا کی چکا چوند ہمارے اندر کی روشنی سلب کر کے ہماری آنکھیں چندھیائے دے رہی ہے اور ہم سوچنے سمجھنے سے عاری روبوٹ بنتے جارہے ہیں ۔ کسی تعصب سے قطع نظر یہ بھی سچ ہےکہ سال کے گیارہ مہینے اگر چینلز پر خرافات دکھائی دیتے ہیں تو وہ اس ماہ مشرف بہ اسلام تو ہو جاتے ہیں۔اب یہ اور بات کہ چاند رات کو سب چینلز  پھر اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ زہر زہر ہوتا ہے چاہے اسے شہد میں ملا کر دیا جائے اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے ۔اس ایک ماہ میں میڈیا سے محبت کا ایسا بیج بو دیا جاتا ہے جو بانس کے درخت کی طرح خاموشی سے یوں پروان چڑھتا ہے کہ گھر کے بڑے جو دینی ذوق سے یہ نشریات دیکھتے ہیں بعد میں اپنے بچوں کو روکنے ٹوکنے کے قابل بھی نہیں رہتے ۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر دین کو پھیلانا بلاشبہ جہاد کا مقام رکھتا ہے لیکن کیا صرف اس ایک ماہ ہمارے جیّد عالم ِدین اور درد مند دل رکھنے والے اسلامی اسکالر پورے سال کا قرض چکا دیتے ہیں؟ کیا یہ محض مسلمان ہونے کی زکٰوۃ ہے جو سال گزرنے پر فرض ہو جاتی ہے؟ ۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ ہمارا دینی شعور ہماری اسلام سے محبت ہماری قرآن سے دوستی سال کے گیارہ ماہ بھی برقرار رہنی چاہیے اس  بینڈ باجے کے ساتھ نہ سہی یا پھر گھڑی کا الارم بھی نہ ہو جو ہڑبڑا کر جگا دے بلکہ اس چاہت کو دل کی دھڑکن کے ساتھ جڑی اس مدہم سی خاموشی کی طرح ہونا چاہیے جو سوتے جاگتے زندگی کی نوید دیتی ہے۔ سب سے پہلے اپنا محاسبہ کریں پھر چینلز کو بھی چاہیے اگر اسلام سے اتنی عقیدت ہے تو سال کے باقی مہینوں میں کیوں نہیں۔ اپنے "پیک آورز" نہ سہی دن یا رات کا کچھ وقت ہر روز ایسے ہی "لائیو" پروگرام کیوں نہیں کرتے۔ ٹی وی  جو ہرخاص وعام سے لے کرسب کے لیے ارزاں تفریح کا ایک ذریعہ ہے وہاں دین ودنیا" محمودوایاز" کی طرح ایک صف میں ملتے ہیں۔۔۔ ایمان بھی بچتا ہے اور نفس بھی تسکین پاتا ہے۔لیکن کون سا ایمان !!!!۔
ایمان کو پرکھنے کے تین درجےـ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنےہاتھ سے مٹائے اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے مٹائے اور اگر زبان سے مٹانے کی طاقت نہ ہو اس برائی کو اپنے دل سے مٹائےیعنی دل سے اس سے نفرت کرے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزورترین درجہ ہے"۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 179جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 49سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1137سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1312سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1275وقت اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمان کے سب سے آخری درجے پر قدم جمانا بھی دشوار سے دشوارتر ہوتا جا رہا ہے۔ سارا فساد ”ہم ” کا پھیلایا ہوا ہے جب سے ترقی یافتہ بننے کی صف میں۔۔۔ کھڑے ہونے کی ہوس میں مبتلا ہوئے ہیں ” میں اور تو ” گزرے دور کی کہانی لگتی ہے ۔ آسمان چھونے کی خواہش پیروں سے زمین نکال رہی ہے  اور ہم بغیر کسی مشقت میں پڑے“بو کاٹا ” کی صدا لگا کر گُڈیاں لوٹنا چاہ رہے ہیں۔حد ہو گئی ۔۔۔ملک ہمیشہ کی طرح تاریخ کے نازک دور سے گذر رہا ہے۔ دُشمن سرحد پار نفرتوں کی فصل کاٹ رہا ہے تو سرحد کی حد پر طبلِ جنگ بھی بجا رہا ہےملک کے اندر سیاہ ست دان آنکھوں پر طاقت کے کھوپے چڑھائے انا کی میوزیکل چئیرز میں مصروف ہیں تو بیمارِوطن دیارِغیر کی بہکی فضاؤں میں تالی بجاتے، کمر لچکاتے عجیب عالمِ فراموشی میں محورقص نظر آتے ہیں۔ اہلِ اقتدار اگر جانے یا نہ جانے کے مخمصے میں گرفتار ہیں تو اہلِ ہوس بچا کچا ایمان بھنبھورنے میں مصروف۔ مفاد کے غازے میں لتھڑا میڈیا دشمن ملک میں "اپنی ثقافت" کا ڈنکا بجانے والے فن کاروں کی ناقدری پر نوحہ کناں ہے تو حال سے بےحال ہم عام عوام  نسلوں کی  مایوسیوں کے  بوجھ  ڈھوتے  جانے کب سے برہنہ پا چلتے چلے جارہے ہیں۔
اس دور ِپُرفتن میں سب سے زیادہ خوشی دُشمن کو ہو رہی ہو گی تو سب سے بڑی ندامت بھی عظیم سُپر پاور کے ہی حصے میں آئی ہے کہ جو کام سالوں کے ڈرون نہ کر سکے ،جو افراتفری دہشت گردی کے بڑے سے بڑے حملے نہ پھیلا سکے ،جو کام ہماری قوم کے بڑے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی سازشیں نہ کر سکیں ،جو کام "اِن" کے ایوان ِاقتدار کے پالے ہوئے کتے نہ کر سکے جنہوں نے قوم کی عفت وعصمت ،غیرت وحمیت ڈالروں کے عوض گروی تو کیا ڈنکے کی چوٹ پر نیلام کر دی اور جو کام زرد صحافت کے لفافے نہ کر سکے، جو کام روٹی روزی کی دوڑ میں اور ریٹنگ کے لالچ میں سرگرم میڈیا نہ کر سکا اور سب سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ،دُنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی ،ورلڈ آرڈر کا ورق ورق لکھنے والے بھی ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہوں گے کہ یہ قوم تو محض لاتوں کی بھوت تھی اور صرف پہلا پتھر پھینکنے کی دیر تھی۔
کیا کہیں کہ پہلا پتھر کس نے پھنکا تھا اور بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی بس یوں جانو کہ "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"  ہم کیا جانیں۔ ہم تو بس لاشے اٹھائے جاتے ہیں کبھی اپنوں کے کبھی سپنوں کے۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئیاس درد کی دواکرے کوئی 
یہ اوپن سیکرٹ ہم جیسے عام لوگوں کو سمجھ آ ریا ہے تو پھر ہمارے "اعلیٰ"دماغ کہاں گھاس چر رہے ہیں یہ بات بھول کیوں گئے ہیں کہ اس شاخ پر اُن کا آشیانہ بھی ہے ۔ہم عام عوام تو چلو پِس ہی رہے ہیں اور پستے رہیں گے۔"وہ" تو پیدا ہی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر ہوئے ہیں یا ہمارے ٹیکس کے بل پر ہمیں کنڑول کر رہے ہیں ، بیرونی دشمنوں سے بچانے کے علم بردار بھی ہیں ۔ کوئی بتائے ان کی ڈگریوں اور اندھےکی ریوڑیوں میں کیا فرق ہے ؟ ۔ ہم جاہل ہی بھلے کہ کم از کم یہ تو جانتے ہیں کہ "قاتل ہے دلداروں میں " سچ کہا ہے کہ
 ۔۔۔چوراں نال "مل" گئی اے " یا چوراں نام "رل" گئی ہے؟۔ہم نہیں جانتے۔جانتے ہیں تو بس یہ کہ اس ۔۔۔ میں ہر وہ شامل ہے جو جان کر بھی انجان بنا ہوا ہے۔
آنے والے وقت میں ممکنہ شرانگیزی کو روکنے کے لیے بحیثیت قوم ہمیں آگے بڑھنا ہے۔مسلک وفرقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر صرف اسلام اور پاکستان کو سامنے رکھنا ہے ورنہ  آج کل ہونے والے فساد میں آنے والے وقت کا نوشتہ دیوار دوسروں کے ہاتھ سے لکھا نظر آ رہا ہے۔حاصل ِ کلام یہ ہے کہ ہر شے کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور نفسا نفسی کے اس دور میں اپنے آپ کو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر کسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کریں کہ جو برائی ہے اس کو برائی جانا جائے  اور عارضی چمک دمک  کے پیچھے ابدی اندھیروں کا سودا نہ کیا جائے۔اللہ ہمیں ہمیشہ کی طرح ہمارے اس خود کے پیدا کردہ عذاب سے نجات دے اور مخلوق کے شر سے پناہ دے اور وسوسے ڈالنے والے شر سےبھی نجات دلائے۔اللہ ہمیں دہشت گردی سے شرپسندی کی اس جنگ میں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے آمین۔

"قران پاک میں تذکرۂ انبیاء علیہم السلام"

قرآن کریم میں  انبیاء  کرام کا ذکر دو طرح سے آیا ہے ۔۔۔ایک "قصص الانبیاء"یعنی انبیاءعلہیم السلام پر گذرنے والے واقعات وحالات اور دوسرا انبیاء کی اقوام کی اُن کے ساتھ کشمکش ۔قران پاک میں  پچیس رسولوں اور نبیوں کے نام  ہیں۔ قران پاک میں  پچیس انبیاءکرام کے نام  اور ان کا جتنی بار بھی تذکرہ کیا گیا ہے اُس کی تفصیل درج ذیل ہے۔۔۔۔  ٭ دو۔۔۔اول الانبیاءحضرت آدم علیہ السلام کا ذکرِمبارک  اُن کے نام کے ساتھ پچیس  (25 )  مقامات پر ہے۔ آخرالانبیاء حضرت "محمدﷺ"  کا نامِ گرامی قران پاک میں چار جگہ آیا ہے اور احمدﷺ ایک جگہ آیا ہے ۔۔۔ ٭1) محمدﷺ۔۔ سورہ آلِ عمران(3)  آیت 144۔۔٭2)  محمدﷺ۔۔۔سورہ احزاب( 33)آیت 40۔۔
٭3)  محمدﷺ۔۔۔سورہ محمد(47) آیت 2۔۔٭4) محمدﷺ۔۔۔ سورہ فتح(48) آیت 29۔۔اور "احمد"ﷺ ایک جگہ۔۔سورہ الصف(61) آیت6۔  ترجمہ۔۔"اور جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل!بےشک میں اللہ کا تمہاری طرف رسول ہوں (اور) تورات جو مجھ سے پہلے ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا، پس جب وہ واضح دلیلیں لے کر ان کے پاس آگیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے"۔٭اٹھارہ انبیاء کرام  کا ذکرسورہ انعام(6)کی چار آیتوں 83 تا86 میں ایک ساتھ آیا ہے۔۔۔٭آیت 83 میں  ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان ہے جبکہ قران پاک میں  کُل 69 مقامات پر  آپ کا ذکر ہوا ہے۔٭ترجمہ آیت 83۔۔۔"اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے"۔
٭آیت84 میں نو انبیاءکرام کا ذکرِمبارک ہے۔۔۔۔
ترجمہ آیت 84۔۔"اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں"۔
حضرت اسحاق علیہ السلام( 17 مقامات)۔۔حضرت یعقوب علیہ السلام دس سورتوں میں 16مقامات پر ۔۔حضرت نوح علیہ السلام( 43بار)۔۔حضرت داؤد علیہ السلام( 16 بار)۔۔حضرت سلیمان علیہ السلام(17بار)۔۔حضرت ایوب علیہ السلام(4مقامات)۔۔حضرت یوسف علیہ السلام(27 مقامات)۔۔حضرت موسیٰ علیہ السلام (  تقریباً 136بار)۔حضرت ہارون علیہ السلام(20 مقامات)۔٭آیت85۔۔ چار انبیاءکرام۔۔۔ترجمہ آیت85۔۔۔"اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے"۔حضرت زکریا علیہ السلام(7مقامات)۔۔حضرت یحییٰ علیہ السلام(5 مقامات)۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام(25 بار)۔۔حضرت الیاس علیہ السلام( 2 مقامات۔۔سورہ انعام(6) اورسورہ الصافات(37)  آیت 123 )۔٭آیت86۔۔ چار انبیاء کرام۔۔ترجمہ آیت86۔۔۔ "اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی" ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام(12 بار)۔۔ حضرت الیسع علیہ السلام(2 مقامات)۔۔ سورہ انعام(6) اور سورہ ص(38) آیت 48۔۔حضرت یونس علیہ السلام(4 مقامات)۔سورہ انعام(6)۔۔سورہ یونس(10) آیت98۔۔سورہ الصافات(37)  آیت139۔ حضرت لوط علیہ السلام(27مقامات)۔٭ تین انبیاء کرام ۔۔۔۔قران پاک میں اِن تین انبیاء کا ذکر اکثر مقامات پر اکٹھے ہی آیا ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام(9 مقامات)۔۔حضرت ہود علیہ السلام(7 مقامات)۔۔حضرت شعیب علیہ السلام(11 مقامات)۔٭ دو انبیاء کرام۔۔۔حضرت ادریس علیہ السلام(2 مقامات) ۔۔سورہ مریم (19) آیت 56 اورسورہ الانبیا(21) آیت 85۔حضرت ذوالکفل علیہ السلام(2 مقامات)۔ سورہ الانبیا(21) آیت 85اورسورہ ص(38)آیت 48۔۔۔۔۔۔قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھ سورتیں ہیں۔۔۔
٭  10 ویں سورہ ۔۔سورة یونس ۔٭11 ویں سورہ ۔۔سورة ہود۔٭12ویں سورہ۔۔سورة یوسف۔٭14 ویں سورہ۔۔سورة ابراہیم۔٭47ویں سورہ۔۔سورة محمدﷺ۔ ٭ 71ویں سورہ۔۔سورة نوح۔۔۔۔۔۔۔۔

"تھینک یو ایڈیسن "

تھینک یو ایڈیسن از جاوید چودھری اتوار‬‮82مئی7102 |  ربڑ آخری کوشش تھی‘ وہ لیبارٹری میں ربڑ بنانا چاہتا تھا‘ ربڑ بن گیا لیکن کوالٹی اچھی نہیں تھی‘ وہ کوالٹی بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا لیکن موت کا فرشتہ آ گیا‘ وہ مسکرایا اور اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا‘ موت کا فرشتہ اسے لے گیا مگر مجھے یقین ہے موت کے فرشتے کو اس کی جان قبض کرتے وقت بہت افسوس ہوا ہو گا‘ وہ اس سے آنکھ نہیں ملا پایا ہو گا‘ وہ ایک ایسے انسان کی آنکھ میں آنکھ کیسے ڈالتا جس نے اللہ کے دیئے ہوئے ایک ایک لمحے کو استعمال کیا‘ جس نے اپنی زندگی دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کےلئے وقف کر دی‘ میں صبح دس بجے اس عظیم انسان کی اس لیبارٹری کے دروازے پر کھڑا تھا جس میں اس نے نسل انسانی کو 1100 ایسی ایجادات دیں جنہوں نے ہم سب کی زندگی بدل دی‘ یہ دنیا رہنے کےلئے زیادہ بہتر ہو گئی‘ گارڈ نے تالہ کھولا‘ لوہے کے گیٹ سے چڑڑ چڑڑ کی آواز آئی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔آپ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ جائیں‘ آپ کچھ بھی کر رہے ہوں‘ آپ زندگی کی کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں آپ تھامس ایڈیسن کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ پلاسٹک ہو‘ سیمنٹ ہو‘ چھت کا پنکھا ہو‘ ٹیلی پرنٹر ہو‘ ٹائپ رائٹر ہو‘ آڈیو سسٹم ہو‘ فلم ہو‘ ایکسرے ہو‘ بیٹری ہو‘ فوم ہو‘ بجلی کا بلب ہو‘ ٹارچ ہو‘ بال پین ہو اورالیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن سسٹم ہو آپ دنیا کی کسی اہم ایجاد کا نام لیں آپ کو اس کے پیچھے ایڈیسن کا نام ملے گا‘ وہ ان پڑھ تھا‘ وہ چند ماہ سکول گیا‘ اساتذہ نے اسے نالائق قرار دے کر نکال دیا‘ آٹھ سال کی عمر میں تجربے شروع کئے‘ گھر کو آگ لگ گئی‘ مار پڑی لیکن وہ باز نہ آیا‘ ماں نے اسے گھر سے ذرا سے فاصلے پر تجربہ گاہ بنانے کی اجازت دے دی‘ وہ تجربے کرتے کرتے دس سال کا ہوا‘ ریل گاڑی میں اخبار بیچنے لگا‘ وہ اپنا اخبار خود شائع کرتا تھا‘ وہ ریل گاڑی کے باتھ روم میں بھی تجربے کرتا تھا‘ تجربوں کے دوران ایک دن ڈبے میں آگ لگ گئی‘ گارڈز نے اسے پلیٹ فارم پر پٹخ دیا‘ یہ مار اس کے ایک کان کی قوت سماعت لے گئی‘ وہ آدھا بہرہ ہو گیا لیکن وہ اس کے باوجود ڈٹا رہا‘ وہ تجربے کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان بن گیا‘ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ ایڈیسن سے پہلے کی دنیا اور ایڈیسن سے بعد کی دنیا۔وہ نیوجرسی میں رہتا تھا‘ وہ جس شہر میں رہتا تھا وہ پورا شہر آج ایڈیسن کہلاتا ہے‘ ایڈیسن شہر نیویارک سے 30 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے لیکن یہ شہر آپ کو وقت اور شکر میں تین سو سال آگے لے جاتا ہے‘یہ آپ کے دماغ کی ساری کھڑکیاں کھول دیتا ہے‘ آپ اگر علم پسند ہیں تو پھر ایڈیسن شہر میں تھامس ایڈیسن سے متعلق تین مقامات دیکھنا آپ پر فرض ہو جاتے ہیں‘ پہلا مقام ایڈیسن کی تجربہ گاہ ہے‘ یہ تجربہ گاہ سائنس کا کعبہ ہے‘ ہم اڑھائی گھنٹے اس کعبے میں رہے اور ہر پانچ منٹ بعد دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے‘ لیبارٹری کے بے شمار حصے ہیں‘ پہلا حصہ ایڈیسن کی لائبریری ہے‘ یہ لکڑی کی تین منزلہ عمارت ہے‘ عمارت کے چاروں طرف کیبن بنے ہیں‘ ہر کیبن کی دیواروں پر کتابیں لگی ہیں اور کتابوں کے درمیان ایک کرسی پڑی ہے‘ ہر کیبن سائنس کا ایک سیکشن ہے‘ ایڈیسن ان پڑھ تھا لیکن اس نے فرنچ‘ جرمن اور اطالوی زبانیں سیکھ لیں‘ وہ دن کا ایک بڑا حصہ لائبریری میں کتابیں پڑھ کر گزارتا تھا‘ لائبریری میں اس کا بیڈ بھی رکھا ہوا تھا‘ وہ اکثر اوقات پڑھتے پڑھتے وہیں سو جاتا تھا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لائبریریاں دیکھی ہیں لیکن یہ لائبریری انوکھی بھی تھی اور پرکشش بھی‘ یہ میرے دل میں اتر گئی‘ لیبارٹری کے دوسرے فلور پر ”فونو گرام“ کا کمرہ تھا‘ ایڈیسن نے فونو گرام ایجاد کر کے ہم انسانوں کو آڈیو سسٹم دیا تھا‘ فونو گرام پر ایڈیسن کے 35 سال خرچ ہوئے لیکن اس نے کمال کر دیا‘ اس سیکشن میں اس کے ایجاد کردہ فونو گرام اور ریکارڈ (ڈسکیں) رکھے ہیں‘ ا سے اگلا سیکشن اس کی چھوٹی تجربہ گاہ ہے‘ اس تجربہ گاہ میں ہزاروں چھوٹے بڑے آلات اور اوزار رکھے ہیں‘ یہ تجربہ گاہ ایک بڑی خراد گاہ سے منسلک ہے‘ خراد گاہ میں بڑی مشینیں لگی ہیں‘ اس نے خراد گاہ کےلئے بجلی کا اپنا نظام بنا رکھا تھا‘ وہ سسٹم تاحال موجود ہے‘ خراد سے اگلے سیکشن میں اس کی ایجاد کردہ اشیاءرکھی ہیں‘ اس سیکشن سے گزرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے دنیا کی ہر اہم چیز ایڈیسن نے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے مشین کے سامنے کھڑے ہو کر پتہ چلا‘ یہ مشین اس نے بڑی مشکل سے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے کی ایجاد کے دوران اس کے بے شمار ورکرز تابکاری کا نشانہ بنے اور انتقال کر گئے‘ وہ خو بھی تابکاری کا شکار رہا لیکن جب ایکسرے ایجاد ہو گیا تو اس نے یہ ایجاد عام کر دی‘دنیا کا کوئی بھی شخص اور کوئی بھی کمپنی ایکسرے مشین بنا سکتی تھی‘ یہ اس کی ذات کا کھلا پن اور فراخ دلی تھی‘ ایڈیسن کی تجربہ گاہ کا دوسرا اہم مقام کیمسٹری لیب تھا‘ یہ لیب لیبارٹری کے احاطے میں ایک الگ کمپاﺅنڈ میں قائم تھی‘ ہم کیمسٹری لیب میں داخل ہونے لگے تو گائیڈ نے اعلان کیا ”آپ دنیا کے ایک ایسے مقام میں داخل ہو رہے ہیں جس نے پوری دنیا کا لیونگ سٹینڈرڈ بدل دیا‘ یہ لیب انسانوں کی بہت بڑی محسن ہے“ ہم اندر داخل ہوئے‘ یہ کسی سائنس کالج کی لیبارٹری جتنی لیب تھی لیکن اس میں دنیا کی بڑی بڑی ایجادات وقوع پذیر ہوئی تھیں‘ بیٹری‘ ٹارچ‘ ایکسرے‘ فونو گرام کی ڈسک اور ربڑ سمیت بے شمار ایجادات نے اس لیب میں آنکھ کھولی تھی‘ لیب میں تمام اشیاءجوں کی توں رکھی تھیں‘ شیشے کے جاروں میں کیمیائی مادے بھی اسی طرح رکھے تھے اور میزوں پر ٹیوبیں اور اوزار بھی ایڈیسن کا انتظار کر رہے تھے‘ لیبارٹری کے شیشے دودھیا تھے‘ گائیڈ نے بتایا ایڈیسن کے حریف پہاڑی پر دوربینیں لگا کر اس کے کام کی جاسوسی کرتے رہتے تھے‘ ایڈیسن نے ان جاسوسوں سے بچنے کےلئے شیشے دودھیاں کر دیئے تھے‘ یہ لیبارٹری سردیوں اور موسم بہار میں قابل برداشت ہوتی تھی لیکن یہ گرمیوں میں ناقابل برداشت حد تک گرم ہو جاتی تھی مگر اس کے باوجود ایڈیسن اور اس کے ساتھی کام کرتے رہتے تھے‘ لیبارٹری کے صحن میں سیاہ رنگ کا وہ سٹوڈیو بھی موجود تھا جس میں ایڈیسن نے پہلی موشن فلم بنائی تھی‘ یہ سٹوڈیو دنیا میں سینما کی بنیاد تھا اور وہاں ایڈیسن کا بنایا ہوا دنیا کا پہلا بلب اور پہلا ٹائپ رائیٹر بھی موجود تھا‘ لیبارٹری کا ایک ایک انچ اس کے جینئس ہونے کی دلیل تھا اور آپ ہر جگہ رک کر دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ایڈیسن کا گھر تیسرا قابل زیارت مقام تھا‘ یہ گھر لیبارٹری سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا‘ یہ 29 کمروں کا محل نما گھر تھا‘ یہ گھر اس نے اپنی دوسری بیگم میناملرکےلئے خریدا تھا‘ گھر کے دائیں بائیں وسیع جنگل تھا‘ پچاس فٹ اونچے چیڑھ کے درخت تھے‘ درختوں کے درمیان چہل قدمی کےلئے راستے بنے تھے‘ گھر کے چاروں اطراف وسیع لان تھے‘ لان میں پھولوں کے قطعے اور بیلوں کی لمبی باڑ تھی‘ گھر اندر سے بادشاہوں کی رہائش گاہ لگتا تھا‘ دیواروں پر قیمتی پینٹنگز لگی تھیں‘ فرنیچر اور کراکری انتہائی قیمتی تھی‘ قالین اور صوفے سو سال پورے کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود یوں محسوس ہوتے تھے جیسے ایڈیسن ابھی یہاں سے اٹھ کر گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت واپس آ جائے گا‘ ایڈیسن کے ہیٹ‘ چھڑیاں‘ بوٹ اور کپڑے بھی سلیقے سے رکھے تھے‘
 کچن اور ڈائننگ روم بھی قابل استعمال محسوس ہوتا تھا‘ سٹڈی میں رائٹنگ ٹیبل رکھی تھی اور دیواروں میں کتابوں کی شیلفیں تھیں‘ وہ مطالعے کا رسیا تھا شاید اسی لئے اس کے گھر اور لیبارٹری دونوں جگہوں پر ہزاروں کتابیں موجود تھیں‘ وہ ایک باذوق انسان تھا‘ اس کا ذوق اور نفاست گھر کی ایک ایک چیز سے جھلک رہی تھی‘ گھر کے پچھواڑے میں دو قبریں تھیں‘ ایک قبر میں ایڈیسن محو آرام ہے اور دوسری میں اس کی اہلیہ مینا ملر‘ دونوں قبریں زمین کی سطح پر چھ انچ اونچی ہیں‘پتھر کی سلیٹی رنگ کی سل پر دونوں کے نام‘ تاریخ پیدائش اور انتقال کا سن تحریر تھا‘ سرہانے پھولوں کے درخت لگے ہیں‘ ہم قبر پر پہنچے تو شکور عالم صاحب نے فاتحہ کےلئے ہاتھ کھڑے کر دیئے‘ وہ دعا پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا ”سر کیا غیر مسلم کی فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے“ شکور صاحب نے فرمایا ”میں نے کسی غیر مسلم کی فاتحہ نہیں پڑھی‘ میں نے انسانوں کے محسن کا شکریہ ادا کیا ہے‘ یہ شخص نہ ہوتا تو ہم آج بھی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے‘۔یہ ہمارا محسن ہے‘ ہم اگر اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو ہم احسان فراموش کہلائیں گے“ میں نے شکور عالم صاحب سے اتفاق کیا‘ زور سے تھینک یو ایڈیسن کا نعرہ لگایا اور ایڈیسن کی قبر کو سیلوٹ کر دیا‘ وہ شخص حقیقتاً پوری دنیا کے سیلوٹ کا حق دار تھا‘ وہ نہ ہوتا تو شاید ہم اتنی شاندار دنیا میں نہ ہوتے‘ ہماری راتیں شاید اندھی اور دن شاید بےرنگ ہوتے۔

"خاموشی"

خاموشی
لفظ کی صورت 
کاغذ پر اترتی ہے
خاموشی 
گیت کی صورت 
لبوں پر مچلتی ہے 
خاموشی 
سانس کی مانند
روح میں اترتی ہے 
خاموشی دل میں رہتی ہے 
 خاموشی درد میں بہتی ہے۔ 25 اپریل 2013۔

"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے"

" اردو اردو"
وطن کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے تو اردو اس کے سر کی ردا ہے۔ اور وطن کی مٹی کی بات ہو تو اردو اس مٹی کی خوشبو ہے۔وہ خوشبو جو قریب رہ کر اتنی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن ! جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا ہے ،انسانوں کے ہجوم میں تنہائی گرفت میں لیتی ہے ،شناخت کی بےیقینی تشنگی میں بدلتی ہے تو پھر ماں کی ردا اور بارش میں سوندھی مٹی کی مانند خوشبو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
جناب محمد ظہیر قندیل  نے اردو  لکھتے ہوئے عام غلطیوں کی نشاندہی کی جو ہم عام طور پر کرتے رہتے ہیں ۔
تحریر از محمدظہیرقندیل۔۔"عربی فارسی کے بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کےآخر میں ‘‘ہ’’ آتی ہے۔ اس سے پہلے لفظ پر اگر زبر ہو تو اس کی آواز ‘‘ہ" کی طرح نہیں نکلتی بل کہ اپنے سے پہلے حرف کو ہلکا سا سہارا دیتی ہے۔ جیسے : کعبہ، پیمانہ، پردہ، جلوہ ، نعرہ، قبلہ وغیرہ۔ اس ‘‘ہ’’ کو ‘‘ہائے مختفی’’ کہا جاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ہائے مختفی صرف فارسی اور عربی کے الفاظ کے آخر میں لگتی ہے۔ ان کے سوا کسی بھی زبان کے الفاظ کے آخر میں ‘‘ہ’’ نہیں لگتی۔ ہم اردو میں کثرت سے ایسے الفاظ کا املا غلط کرتے ہیں۔
ان میں سے چند درست الفاظ یہ ہیں جنھیں ہائے مختفی کے ساتھ غلط طور پر لکھا جاتا ہے۔
بھروسا، پتا (addresss ) (پتّا ۔درخت کا)، اکھاڑا، باڑا، روپیا، پیسا، رکشا، ڈراما، گھنٹا، بلبلا، بنگلا، بدلا، میلا، بھُرتا، سموسا، پیڑا، پسینا، تولیا، تانگا، ٹخنا، کمرا، جھروکا، بھوسا، توٹکا، ٹولا، چارا(جانوروں کی خوراک)، خاکا، چھاپا، دھاگا،راجا، زردا، ڈھکوسلا،کٹورا، کھاتا، کیمرا، گملا، گھونسلا، لاسا، مسالا، ملغوبا، ملیدا، ملبا، مورچا، مہینا،۔۔۔از ۔ محمد ظہیر قندیل"۔
۔۔۔۔نہیں کھیل اے داغ،یاروں سے کہہ دو"
"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے( مرزا داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
(1831۔1905۔۔۔)پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
 اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟ابھی سن ہی کیا ہے؟ جو بیتابیاں ہوں
 اُنہیں آئیں‌گی شوخیاں آتے آتےنتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی
 وہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتےنہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
 بہت دیر کی مہرباں آتے آتےسنانے کے قابل جو تھی بات ان کو
 وہی رہ گئی درمیاں آتے آتےمرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے
 چمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتےنہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو
 کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
۔۔۔۔۔۔
"اردو ہے جس کا نام"۔۔۔کالم از شاہنوازفاروقی
٭حصہ اول ۔19فروری 2017۔
٭حصہ دوم۔۔۔20فروری 2017

"صاحباں کے مرنے پر کُل خدائی آ گئی"

  محترمہ بانو قدسیہ کے انتقال(5فروری 2017) کے بعد جناب مستنصرحسین تارڑ کے آنے والے دو کالم۔۔۔۔
٭1) 12فروری 2017۔۔۔
صاحباں کے مرنے پر کُل خدائی آ گئی۔۔۔مستنصرحسین تارڑ 
 ایک مرتبہ پھر ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر ’’داستان سرائے‘‘ کی جانب جتنی بھی گلیاں جاتی تھیں، جتنی سڑکیں اُس سرائے کی طرف اترتی تھیں وہ سب کی سب لوگوں کے ہجوم سے اَٹی پڑی تھیں، اتنے لوگ بے شمار کہ وہ حرکت نہ کرتے تھے، ہولے ہولے سرکتے تھے، نوجوان عورتیں اور بوڑھیاں جیسے گھر سے کسی ماتم کدہ کی جانب رواں ہوں، اُن کے چہرے الم کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، صرف اُن کی آنکھیں تھیں جو آنسوؤں سے روشن ہوتی تھیں۔۔۔ وہاں معاشرے کے ہر طبقے کے افراد چلے آتے تھے، غریب اور مسکین بھی، ثروت مند اور حکمران بھی، کئی سفید ڈاڑھیوں والے نامعلوم درویش بھی۔۔۔ اور یہ سب سر جھکائے آنے والے لوگ حیرت انگیز طور پر آپس میں گفتگو نہ کرتے تھے، صرف اُن کی قدموں کی سرسراہٹ کی آواز آتی تھی جیسے کسی درگاہ پر حاضری دینے والے معتقدین کے قدموں سے آتی ہے۔۔۔ کبھی کبھار کسی پولیس کے ہوٹر کی آواز ماحول کی خاموشی پر ایک الم ناک چیخ کی مانند اتر کر اُس کو کرچی کرچی کر دیتی ہے۔۔۔
 آخر یہ کون سا میلہ تھا جہاں لوگ کشاں کشاں چلے آ رہے ہیں، کیا یہ اس جگ والا وہی میلہ تھا جو تھوڑی دیر کا ہوتا ہے، ہنستے ہوئے رات گزر جاتی ہے اور کچھ پتا نہیں سویر کب ہو جائے، وہی موت کا میلہ تھا۔اور آخر یہ کون سا ’’کھیل تماشا‘‘ ہے کہ اسے دیکھنے کی خاطر ایک دنیا اُمڈ اُمڈ آتی ہے۔
۔’’زبیر۔۔۔ یہ جان لو کہ یہ جنازہ اشفاق احمد کی بیوی کا نہیں، یہ بانو قدسیہ کا جنازہ ہے‘‘۔
 اور آج بانو قدسیہ ہار گئی تھی۔۔۔ جب اشفاق احمد نے اُس کے لئے اپنا خاندان، اپنا حسب نسب، اپنی جائیداد اور سب سگے چھوڑ دیئے، اشفاق کو اس لئے عاق کر دیا گیا کہ اُس نے اُن سب کی مخالفت کے باوجود چپکے سے چند دوستوں کے ساتھ قدسیہ بانو چٹھہ سے نکاح کر لیا تھا اور اُسے بانو قدسیہ کا نام دیا تھا تو اُس لمحے اُس چٹھہ جاٹ لڑکی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے پٹھان محبوب کے لئے اپنا سب کچھ تیاگ دے گی۔۔۔ ساری عمر اُس کی باندی بنی رہے گی، اُس کے پیچھے پیچھے سر جھکائے چلے گی، اپنی باگیں کھینچ کر اپنی انا اور تخلیق کے گھوڑے کو کبھی اس کرشن کی سرکشی کے گھوڑے سے آگے نہیں لے جائے گی۔۔۔ وہ اپنے آپ کو وقف نہیں تلف کر دے گی۔۔۔ وہ ایک میرا بائی ہو گئی جو کرشن سے بیاہی گئی اور ساری عمر اُس کے گیت گاتی رہی۔
ہے آنکھ وہ جو شام کا درشن کیا کرے
ہے ہاتھ وہ جو بھگوان کا پوجن کیا کرے
یعنی۔۔۔ رانجھا رانجھا کر دی میں آپ ہی رانجھا ہوئی۔۔۔
 اُس نے اشفاق احمد کو اپنا شام، اپنا کرشن، اپنا رانجھا اور مہینوال کر لیا۔۔۔ یہ لاہور کا ’’جادو گھر‘‘ فری میسن ہال تھا، کوئی ادبی تقریب اختتام پذیر ہوئی اور میں بانو آپا سے گفتگو کرتا باہر آنے لگا تو وہ صدر دروازے پر رُک گئیں ۔ ’’آئیں بانو آپا‘‘۔۔۔ وہ رُکی رہیں، دہلیز کے پار قدم نہ رکھا اورپھر کہنے لگیں ’’خان صاحب اپنے دوستوں اور مداحوں میں گھرے ہوئے ہیں، جب وہ آئیں گے اور باہر جائیں گے تو میں اُن کے پیچھے جاؤں گی، اُن سے پہلے نہیں‘‘۔مجھے یہ شوہر نامدار کی اطاعت کا رویہ اچھا نہ لگا تو میں نے شاید کہا کہ بانو آپا پلیز۔۔۔ تو وہ کہنے لگیں ’’مستنصر، پہلے انجن آگے جائے گا اور پھر اُس کے پیچھے ہی گاڑی جائے گی‘‘۔۔۔ اس اطاعت گزاری کے باوجود اشفاق صاحب کے خاندان نے کبھی اُنہیں مکمل طور پر قبول نہ کیا یہاں تک کہ اشفاق صاحب کے جنازے پر اُن کا ایک بھائی ایک سفید پیراہن میں تھا جس پر لکھا تھا ’’بانو قدسیہ میرے بھائی کی قاتل ہے‘‘۔۔۔ اُن کا کمالِ نَے نوازی اُن کے کچھ کام نہ آیا۔ میں یہاں وہ لفظ نہیں لکھ سکتا جو اُن کے کچھ اہل خاندان اُن کے لئے استعمال کرتے تھے۔۔۔ اُدھر اشفاق احمد بھی ایک بلند سنگھاسن پر براجمان ایک ایسے دیوتا تھے جن کے چرنوں میں اگر عقیدت کے پھول کم نچھاور کئے جاتے تھے تو وہ اسے پسند نہ کرتے تھے۔ پٹھان اشفاق احمد اکثر بابا اشفاق احمد پر حاوی ہو جاتا تھا۔۔۔
 یہ عجب اتفاق ہے کہ میں اُس روز ماڈل ٹاؤن پارک کے دوستوں کے ہمراہ عادل کے ترتیب شدہ سفر کے نتیجے میں لاہور سے باہر۔۔۔ بھائی پھیرو اور جڑانوالا کی جانب پنجاب کی ایک عظیم رومانوی داستان کی کھوج میں مرزا صاحباں کی نسبت سے مشہور گاؤں داناباد گیا تھا۔۔۔ صاحباں اور مرزا کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر لوٹ رہا تھا، اور بارش بہت شدید تھی جب ایک ہم سفر نے مجھے بتایا کہ بانو قدسیہ مر گئی ہے۔۔۔
 میں اُس شب برستی بارش میں ’’داستان سرائے‘‘ پہنچا تو وہاں اتنا ہجوم تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔۔۔ نورالحسن روتا چلا جاتا تھا۔۔۔ اُن کا بیٹا اسیر میرے گلے لگ کر رو دیا۔۔۔
۔’’آپ اندر جا کر بانو آپا کو دیکھ لیں‘‘۔۔۔
’’نہیں، میں نے نہیں دیکھنا‘‘۔۔۔
 تو یہ اگلا دن ہے جب ’’داستان سرائے‘‘ کی جانب جاتے سب راستے ہجوم سے بھرے پڑے تھے اور آج بانو قدسیہ اپنے کرشن سے اس لئے ہار گئی تھیں کہ اُن کا جنازہ اُن سے بہت بڑا تھا۔۔۔
صاحباں ہار گئی تھی۔۔۔
مرزا کے جنازے پر کم لوگ آئے تھے۔۔۔
صاحباں کے مرنے پر پوری خدائی آ گئی تھی۔
۔۔۔
٭2)15فروری 2017)۔املتاس کا ایک زرد پُھول بانو قدسیہ کے سفید بالوں پر۔۔۔مستنصرحسین تارڑ اشفاق صاحب کی وفات کے بعد بانو آپا حقیقتاً بھری دنیا میں اکیلی رہ گئیں۔۔۔جس دیوتا کے چرنوں میں وہ ہمہ وقت عقیدت اور اطاعت گزاری کے پھُول چڑھاتی تھیں، وہ اپنا سنگھان چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔صرف اُن کے بیٹے اسیر نے اُن کا ساتھ نہ چھوڑا، بقیہ دو بیٹے بھی اپنی ماں کے وجود سے بے خبر اپنی اپنی حیات کے بکھیڑوں میں اُلجھے رہے، منظور جھلّے نے کہا تھا کہ :
واجاں ماریاں کئی وار وے۔۔۔ کسے نے میری گَل نہ سُنی
 اُنہوں نے بھی آوازیں بہت دیں پر کسی نے اُن کی بات نہ سُنی۔۔۔ نہ اشفاق صاحب کے رشتے داروں نے اور نہ ہی اُن کی کسی بہو نے۔۔۔بلکہ اُن پر اپنے دروازے بند کرلئے۔۔۔بانو کی زندگی یونانی المیہ ڈراموں سے بھی کہیں بڑھ کر الم ناک اور دُکھ بھری تھی۔ اشفاق صاحب کے رخصت ہونے پر وہ کبھی کبھار صبح سویرے ماڈل ٹاؤن پارک میں چلی آتیں، اپنا دوپٹہ بار بار سفید بالوں پر درست کرتیں، اپنے دھیان میں مگن چلی جاتیں۔۔۔وہ جون جولائی کے قہر آلود گرم موسم تھے اور پارک میں املتاس کے جتنے بھی شجر تھے اُن پر زرد چینی لالٹینیں روشن ہو گئی تھیں۔ ہوا کا ایک جھونکا سرسراتا آیا، املتاس کے پھولوں کے انبار میں ارتعاش پیدا ہوا اور وہ پھول درختوں سے جدا ہو کر ایک زرد بارش کی صورت دھیرے دھیرے گرنے لگے۔ ان میں سے ایک پھول، ایک زرد تتلی کی مانند ایک بھنورے کی مانند گھومتا اترا اور بانو آپا کے سفید بالوں میں اٹک گیا۔ وہ اُس کی موجودگی سے بے خبر تھیں اور یہ منظر میرے ذہن کے کینوس پر ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا۔۔۔ایک بوڑھی ہیر جس کا رانجھا اُس سے بچھڑ گیا تھا اُس کی اداسی میں گُم اور اُس کے سفید بالوں میں املتاس کا ایک زرد پھول یُوں اٹکا ہوا ہے جیسے وہ اُس کے محبوب کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک خط ہو اور وہ بے خبر ہے کہ شاید اُس کے رانجھے نے اُسے یہ زرد پریم پتر بھیجا ہے اور تب مجھے محسوس ہوا جیسے اُس املتاس کے زرد پُھول کا رنگ اُن کے بالو میں سرایت کرتا اُنہیں زرد کرتا ہے، اُن کے چہرے پر پھیلتا اُسے سرسوں کا ایک کھیت کرتا ہے اور بانو قدسیہ اُس لمحے ملک چین کی کوئی زرد شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔میں نے اس بے مثال زرد تصویر کو اپنے ایک کالم میں نقش کیا۔۔۔چونکہ میں نہ کبھی کسی کو اطلاع کرتا ہوں اور نہ ہی اپنے کالم کی کاپی روانہ کرتا ہوں کہ دیکھئے یہ میں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ میں کسی کے لئے نہیں صرف اپنے لئے لکھتا
 ہوں۔۔۔تقریباً ایک ماہ کے بعد بانو آپا کا ایک خط آیا، اُن کے کسی چاہنے والے نے اُنہیں اس کالم کی فوٹوسٹیٹ روانہ کی تھی، بانو آپا نے جس طور اُس تحریر کو سراہا اُسے میں یہاں نقل کرنے سے گریز کرتا ہوں۔
 وہ میرے تینوں بچوں کی شادیوں میں شریک ہوئیں، ہر ایک کی ہتھیلی پر کچھ رقم رکھی۔۔۔اُن کے لئے دعا کی، اُنہیں پیار کیا۔۔۔ اُن کی موت کی خبر اُن تینوں تک نیویارک، فلوریڈا اور ہنوئی میں پہنچی تو وہ کتنے دُکھی ہوئے یہ میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔سُمیر نے کہا، ابّو میں نے ابھی تک وہ نوٹ سنبھال رکھا ہے جو بانو آپا نے مجھے پچھلی عید پر عیدی کے طور پر دیا تھا۔ وہ ہمیشہ میری خوشیوں میں شریک رہیں۔۔۔میری پچھترویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے وہ اپنی نرس اور زبیر اکرم کے سہارے چلی آئیں۔ وہ اور عبداللہ حسین صدارت کے لئے میری پسند تھے کہ وہی میرے نزدیک اردو ادب کے سب سے بڑے نثرنگار تھے۔۔۔ جب ابرارالحق اور فریحہ پرویز میری سالگرہ کے گیت گانے کے لئے سٹیج پر آئے تو وہ مسکرانے لگیں، کبھی کبھی سر ہلا کر اُنہیں داد دیتیں۔۔۔جب گلزار صاحب کی آواز سپیکر پر گونجی اُنہوں نے سالگرہ کے حوالے سے کچھ توصیفی کلمات کہے تو پُوچھنے لگیں۔۔۔ یہ کون صاحب ہیں۔۔۔میں نے کہا بانو آپا یہ میرے دوست ہیں۔ یہ کہاں ہوتے ہیں۔۔۔ بعدازاں اُنہوں نے میرے بارے میں کچھ گفتگو کی اور میں جان گیا کہ بانو آپا اب بہکتی جا رہی ہیں، یادداشت اُن کا ساتھ چھوڑ رہی ہے، اُن کی آپ بیتی ’’راہ رواں‘‘ میں قدم قدم پر اُن کے بھٹک جانے کے آثار ہیں۔۔۔ وہ بُھلکڑ ہو گئی تھیں۔۔۔جِی چاہنے کے باوجود میں ’’داستان سرائے‘‘ جانے سے گریز کرتا کہ وہ نہ صرف خود ایک بھولی ہوئی داستان ہیں بلکہ وہ تو اپنی داستان بھی بھول چکی ہیں۔ ایک بار اُن کے ہاں گیا تو بہت دیر کے بعد کہنے لگیں ’’مستنصر تم ہو۔۔۔ تم تو اشفاق صاحب کے ڈراموں کے ہیرو ہوا کرتے تھے۔۔۔بُوڑھے کیوں ہو گئے ہو؟‘‘
 ’’داستان سرائے‘‘کے آس پاس سب گلی کُوچے خلق خدا سے بھرے پڑے تھے، میمونہ کا کہنا تھا کہ بانو آپا کا جنازہ اس لئے اتنا بڑا تھا کہ لوگوں نے اُنہیں ہمدردی کا ووٹ ڈالا تھا۔۔۔جو کچھ اُن پر گزری اور اُنہوں نے اُف تک نہ کی، برداشت کیا تو لوگ اُن کے صبر کو سلام کرنے آئے تھے۔ وہ اشفاق احمد کی بیوی کے جنازے پر نہیں۔۔۔بانو قدسیہ کے جنازے پر آئے تھے۔۔۔اگر اُنہیں اس ہجوم کا کچھ اندازہ ہوتا تو وہ وصیت کر جاتیں کہ لوگو مت آنا۔۔۔ میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔میرے محبوب کی نسبت میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔ پر لوگ کہاں سنتے ہیں، وہ آئے اور بے حساب آئے۔ اور اس کے باوجود بانو آپا نے تُرپ کا آخری پتّا اپنی موت کے بعد یُوں پھینکا۔۔۔ کہ اشفاق صاحب کے قدموں میں دفن ہو گئیں۔ میں نے آگے بڑھ کر جھانکا تو اُن کی قبر بہت گہری تھی، لحد میں وہ اپنے سفید کفن میں روپوش سمٹی سی، سجائی ہوئی، شرمائی ہو ئی پڑی تھیں کہ اُن کے سرہانے اُن کا محبوب سویا ہوا تھا۔۔۔ اور بالآخر اُن کو وصل نصیب ہو گیا تھا۔ اور جب گورکنوں نے کُدالوں سے اُن کی قبر کو مٹی سے بھر دیا اور اُس پر پھول چڑھائے گئے تو مجھے ایک مرتبہ پھر عذرا پاؤنڈ کا وہ نوحہ یاد آگیا جو اختر حسین جعفری نے لکھا تھا۔۔۔
تجھے ہم کس پُھول کا کفن دیں
تو جُدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے
 املتاس کا ایک زرد بھنورا پُھول بھی نہ تھا۔۔۔

’’دروازے۔۔۔عرفان جاوید"



عرفان جاوید کے دروازے۔۔۔کالم جاوید چوہدری۔۔ اتوار5 فروری2017قدرت اللہ شہاب مشہور ادیب اور بیوروکریٹ تھے۔ وہ گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرنسپل سیکریٹری رہے۔ یہ عہدہ بیوروکریسی میں طاقت کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ شہاب صاحب نے بنگال میں قحط کے دوران غلّے کے ذخائر بھوکے عوام کے لیے کھول دیے، جھنگ میں عوامی فلاح کے بیشمار کام کیے اور وہیں ان کا ایک پراسرار روحانی شخصیت سے سامنا ہوا، ایوب خان کو پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنے کا مشورہ بھی انھوں نے ہی دیا تھا، شہاب صاحب نے ایک ایماندار افسر کی سادہ زندگی گزاری، اعلیٰ افسانے لکھے اور بے مثال سوانح عمری ’شہاب نامہ‘ تحریر کی۔ احمد بشیر شہاب صاحب کے دوست تھے‘ وہ معروف صحافی اور ادیب تھے۔ وہ سوشلسٹ تھے اور وہ روحانی معاملات پر زیادہ یقین نہیں رکھتے تھے‘ شہاب صاحب 1960ء کی دہائی میں وزارت ِ تعلیم کے سیکریٹری تھے اور احمد بشیر ملازم‘ یہ دونوں ممتاز مفتی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ ایک روز احمد بشیر کو قدرت اللہ شہاب کا فون آیا۔ شہاب صاحب کی آواز میں ہیجان تھا انھوں نے احمد بشیر سے کہا ’’آپ فوراً میرے دفتر آ جائیں‘‘ احمد بشیر شہاب صاحب کے دفتر پہنچے تو وہ اکیلے بیٹھے تھے۔ وہ احمد بشیر کو دیکھتے ہی بولے ’’آج میں بے انتہا خوش ہوں۔ مجھے بتا دیا گیا ہے‘ میں نے کب مرنا ہے۔‘‘
 شہاب صاحب خلاف ِ مزاج اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہے تھے۔ احمد بشیر نے سوال کیا ’’آپ کو کس نے اور کیا بتایا‘‘ شہاب صاحب نے جواب دیا ’’میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں مجھے ممتاز مفتی سے پہلے موت آئے گی۔‘‘ احمد بشیر نے یہ کشف مذاق میں اڑا دیا لیکن یہ بات بعد ازاں سو فی صد درست ثابت ہوئی۔
 شہاب صاحب چھیاسٹھ برس کی عمر میں فوت ہو گئے جب کہ ممتاز مفتی نے نوے برس کی طویل عمر پائی۔ یہ واقعہ احمد بشیر نے عرفان جاوید کو سنایا تو اُ س نے پوچھا ’’آپ لوگ کہیں شہاب صاحب کے عہدے کی وجہ سے تو ان سے متاثر نہیں تھے‘‘ احمد بشیر غصے میں آ گئے اور کہنے لگے ’’ہرگز نہیں۔ وہ بہت نفیس آدمی تھے وہ یحییٰ خان کے زمانے میں اصولی بنیادوں پر مستعفی ہو گئے تھے ہمیں ان کی ملازمت چھوڑنے اور وفات کے بعد دروغ گوئی کا کیا فائدہ؟‘‘
 یہ واقعہ عرفان جاوید نے اپنی خاکوں کی کتاب ’’دروازے‘‘ میں بیان کیا۔ ’’دروازے‘‘ میں ایسے سینکڑوں دلچسپ واقعات، تاریخی حقائق، ادیبوں کے قصّے اور عام لوگوں کی زندگیوں کا احوال ہے۔ اس میں عالمی ادب کی دلآویز باتیں‘ نفسیات اور فلسفے کے نکتے بھی ہیں۔ دروازے کے چند خاکے ایک برس تک اخبار میں شائع ہوتے رہے لیکن باقی نئے ہیں۔ میں نے ’’دروازے‘‘ اٹھائی تو میں یہ کتاب مکمل کیے بغیر سو نہ سکا‘ مجھے یقین ہے آپ بھی یہ کتاب شروع کرینگے تو ختم کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
 آپ ’’دروازے‘‘ کا ایک اور واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ تقسیم ہند کے موقع پر سکھوں کا ایک طبقہ پنجاب کو اکٹھا رکھنا چاہتا تھا۔ سکھوں کے لیڈر ماسٹر تاراسنگھ کا ساتھی گیانی ہری سنگھ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قائداعظم کو ملا اور پاکستان میں رہتے ہوئے خودمختاری کی بات کی۔
 قائداعظم نے ان سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے جواب دیا ’’ماسٹر تارا سنگھ کو میرا پیغام دیدیں میں ان سے ملنے امرتسر جانے کے لیے تیار ہوں یہ صحیح معنوں میں سکھوں کے لیڈر ہیں۔ میں انھیں ان کی خواہش سے زیادہ دینے کے لیے تیار ہوں‘‘ گیانی ہری سنگھ قائد اعظم کا پیغام لے کر ماسٹر تارا سنگھ کے پاس گئے لیکن ماسٹر تارا سنگھ پر انتہا پسند ہندو سردار پٹیل کا بہت اثر تھا۔ وہ کرپان پر ہاتھ رکھ کر دھاڑنے لگا اور قائداعظم کے ساتھ ملنے سے صاف انکار کر دیا۔
 آزادی کے بعد گیانی ہری سنگھ پاکستان میں رُک گئے اور ننکانہ صاحب میں قیام کیا۔ ایوب خان کے دور میں تارا سنگھ ننکانہ صاحب آیا اور گیانی جی کو دیکھ کر بری طرح رونے لگا‘ وہ ندامت سے بولا ’’گیانی! مجھے معاف کر دو، میں نے پنتھ کے خلاف بڑا گناہ کیا‘‘ یہ واقعہ بھی احمد بشیر نے عرفان جاوید کو سنایا اور آخر میں بتایا ’’مجھے یہ بات خود گیانی ہری سنگھ نے سنائی اور اس کی تصدیق بعدازاں سکھ دانشور جسونت سنگھ کنول نے 1981ء میں لاہور میں میرے سامنے کی‘‘ دروازے میں مستنصر حسین تارڑ کا خاکہ بھی موجود ہے۔
 مستنصرحسین تارڑ نے بھی عرفان جاوید کو بیشمار واقعات سنائے‘ ان میں سے ایک واقعہ لاہور کے دو کرداروں سے متعلق تھا‘ ایک لڑکا اور ایک لڑکی اندرونِ شہرلاہور میں رہتے تھے، وہ محبت میں مبتلا ہو گئے۔ اُس دورمیں محبت کی شادی کو معیوب سمجھا جاتا تھا چنانچہ والدین نے ملاقات اور بات چیت پر پابندی لگا دی۔ دونوں نے طے کر لیا ہم آپس میں رابطہ نہیں رکھیں گے مگر کہیں اور شادی بھی نہیں کرینگے۔ کئی برس بیت جاتے ہیں۔ لڑکی کے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اُس کی بوڑھی ماں اس غم میں نڈھال رہنے لگتی ہے وہ سوچتی رہتی ہے اس کی موت کے بعد لڑکی کا کون پرُسانِ حال ہو گا؟ مگر جب وہ لڑکی کو شادی کا کہتی ہے تووہ اپنی یہ بات دُہرا دیتی ہے کہ اگر وہ شادی کریگی تو اُسی لڑکے سے کریگی۔
 ماں بیٹی کو سمجھاتی ہے وہ اب تک شادی کر کے کئی بچوں کا باپ بن چکا ہو گا مگر لڑکی کو اپنی محبت پر یقین ہے۔ بالآخر ماں آمادہ ہو جاتی ہے اور یہ شرط رکھتی ہے لڑکی کو فوری شادی کرنا ہو گی، میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں میں تمہیں اپنی موت سے پہلے دلہن دیکھنا چاہتی ہوں۔ لڑکی کسی طرح لڑکے سے رابطے کا ذریعہ تلاش کرتی ہے۔ وہ لڑکے کو فون ملاتی ہے تو دوسری جانب سے وہی لڑکا فون اُٹھاتا ہے۔ لڑکی کی آواز سن کر وہ پوچھتا ہے ’’بارات کب لاؤں؟‘‘ لڑکی کہتی ہے ’’آج شام!‘‘ اُسی شام اُن دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔
 عرفان جاوید کے ’’دروازے‘‘ میں ’’سب رنگ‘‘ کے بانی اور ’’بازی گر‘‘ جیسے شاہکار کے مصنف شکیل عادل زادہ کی زندگی کے بیشمار رنگین واقعات بھی شامل ہیں۔ اُن کا مینا کماری کے گھر میں قیام، کرشن چندر، جون ایلیا اور جوش ملیح آبادی کے قصّے، ضیاء الحق سے ملاقات کا احوال، ہندوستان کے شہروں کی سیاحت اور گھاٹ گھاٹ کی پرُلطف کہانیاں یہ خاکہ بھی خاکہ نہیں الف لیلیٰ ہے، شکیل صاحب نے ’’دروازے‘‘ میں رئیس امروہوی کی ناگہانی موت کے راز سے بھی پردہ اٹھایا۔ وہ پچاس سال پہلے مشتاق احمد یوسفی کی اس نصیحت کا ذکر بھی کرتے ہیں جسے اُنھوں نے عمر بھر مشعلِ راہ بنائے رکھا ۔
 ’’دروازے‘‘ میں احمد فراز کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات بھی ہیں، فراز اپنے ملازم میاں بیوی کے اکلوتے گونگے بہرے بچے سے کتنی محبت کرتے تھے‘ ان کی گرفتاری کی روداد اور جنرل حمید گُل سے ملاقات کا ماجرا بھی کتاب میں موجود ہے۔ ’’دروازے‘‘ میں درجنوں چھوٹے چھوٹے چٹکلے بھی ہیں۔
 مشہور افسانہ نگار منشا یاد اپنی جوانی کے زمانے میں نسیم حجازی سے ملنے گئے اور ان سے درخواست کی آپ مجھے اپنے دوستوں کے حلقے میں شامل کر لیں‘ یہ سن کر حجازی صاحب کہنے لگے ’’برخوردار! یہ عمر نئی دوستیاں بنانے کی نہیں ہوتی یہ پرانی دوستیوں پر نظر ثانی کی ہوتی ہے‘‘ عطا الحق قاسمی صاحب نے دعویٰ کیا بچپن کے دوستوں سے اس وقت دوستی قائم رہتی ہے جب ذہنی سطح ایک ہو یا پھر دلچسپی اور روزگار مشترک ہوں ورنہ ملاقات کے کچھ دیر بعد بات کرنے کے لیے کچھ نہیں بچتا دوست مختلف انسان بن چکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عموماً مرد اور عورت کی دوستی زیادہ دیر تک نہیں چلتی۔
 اس میں رومان یا دوسرے عوامل اثر انداز ہو جاتے ہیں، ایک مرتبہ فیض صاحب سے منوبھائی نے مشورہ مانگا تھا میں کس زبان میں شاعری کروں‘ فیض صاحب نے کلاسیک مشورہ دیا تھا ’’جس زبان میں خواب دیکھتے ہو۔‘‘ اے حمید کی زندگی کی بیشمار کہانیوں میں سے ایک کہانی درختوں اور پودوں کے احساسات کی کہانی ہے یہ اب یورپ و امریکا میں سائنسی طورپر تسلیم کی جا چکی ہے۔
 قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کا ریڈیو اسٹیشن ایک اہم ثقافتی مرکز تھا ریڈیو پاکستان میں چوٹی کے شاعر اور ادیب اکٹھے ہوتے تھے۔ سردیوں کے دن تھے۔ زیڈاے بخاری مہتمم اعلیٰ تھے۔ دیوار کے ساتھ پیپل اور پیپلی کا ایک جوڑا ہوا میں جھومتا رہتا تھا۔ ایک روز بخاری صاحب نے درختوں کی جانب اشارہ کیا اور اے حمید نے اگلے روز دیکھا پیپلی کا درخت کٹا ہوا تھا اور اس کے تنے کا ٹنڈ زمین سے یوں باہر نکلا ہوا تھا جیسے ڈوبتے کا ہاتھ آخری مرتبہ پانی سے باہر آتا ہے۔ کٹے درخت کو دیکھ کر اے حمید کو یوں لگا جیسے ان کے گھر کا کوئی فرد مر گیا ہو۔
 واقعے کے چند روز بعد پیپل کا باقی رہ جانے والا درخت پیپلی کے دکھ میں مر جھانے لگا اور دو ماہ بعد خشک ہو کر مردہ ہو گیا۔ دروازے میں اے حمید کی سری لنکا، برما، ہندوستان کی آوارہ گردیوں کی بیشمار کہانیاں بھی ہیں اور ان کی بارش، جنگل، چائے، بادل، پرندوں وغیرہ سے رومان کی باتیں بھی‘ یہ باتیں دھیمی پھوار کی طرح اور پھول کی بھینی خوشبو کی مانند ہیں۔
 احمد ندیم قاسمی اپنے بٹوے میں ہر وقت کس دوست کی تصویر رکھتے تھے، مرتے وقت ’’اداس نسلیں‘‘ اور کئی شاہکار کتابوں کے مصنف عبداللہ حسین کو کیا خلش تھی، ’’ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، تم کتنے بھٹو مارو گے‘‘ کا خالق نصیر جی ٹی روڈ پر ٹھنڈی بوتلوں کا کھوکھا لگاتا تھا اس نے کسمپرسی میں کینسر کے ہاتھوں وفات پائی اس کی آخری خواہش کیا تھی، تصدق سہیل ایک عجیب و غریب زندگی گزارنے والا افسانوی نوعیت کا بڑا مصور ہے‘ اس نے ساری زندگی شادی نہیں کی، پچاس سال لندن میں گزارے اور وہ اب پاکستان میں جانوروں اور پرندوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔
 یہ تمام لوگ عرفان جاوید کے ’’دروازے‘‘ کے پیچھے بیٹھے ہیں‘ ’’دروازے‘‘ فقط ایک کتاب نہیں‘ یہ گزری راتوں کا نوحہ اور بسر ہوتے مشاہیر کا مرثیہ ہے‘ میں نے طویل عرصے بعد ایک ایسی کتاب دیکھی جس میں شخصیات بھی ہیں‘ علم بھی‘ مشاہدہ بھی‘ تاریخ بھی اور ثقافت بھی‘ یہ کتاب پڑھنے کے بعد میرے دل سے بے اختیار نکلا ’’زندہ باد عرفان جاوید‘

"تدفین کے آداب"

 تحریر از آفاق احمدپانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، ایک عزیزہ کی وفات کے موقع پر لاہور میں تدفین کے لیے قبرستان میں موجود تھے، سلیں رکھی جاچکی تھیں اور مٹی ڈالنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ایسے میں پیچھے سے آواز آئی کہ مٹی ڈالتے وقت کونسی آیات پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔
 موجود لوگوں میں خاموشی سی چھا گئی، اکثر کو آتی ہی نہ تھی، کچھ کو کچی پکی یاد تھی اوریقیناً کچھ کو آتی بھی ہوگی۔۔۔۔۔۔
 لیکن ان سب سے پہلے سولہ سترہ سالہ گورکن کا بیٹا جو مٹی ڈالنے کے عمل میں بیلچہ سے شریک تھا، سیدھا ہوا اور کمال اعتماد سے بلند آواز میں وہ آیات پڑھ دیں۔۔۔۔۔
اس کے صاف تلفظ سے مجھ سمیت کئی لوگوں کوخوشگوار حیرت ہوئی۔۔۔۔۔
یہ آیات پڑھنے کے دوران بھی وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ہمارے ذہن میں یہ سوچ آسکتی ہے کہ اس کا بچپن بھی اسی ماحول میں گزرا، اس لیے اسے یاد ہوگئی ہوگی۔۔۔۔۔
بہرحال اس کے پڑھنے میں ایک شوق اور رغبت محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
اصل بات یہ نہیں کہ اسے کیسے یاد تھی؟؟؟
بلکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم بھی یاد کرلیں تو کتنا خوب ہوجائے۔
یہ سولہویں پارے میں موجود سورہ طٰہٰ کی آیت نمبر پچپن 55 ہے۔
تین دفعہ دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کرقبر پر ڈالنی ہے۔۔۔۔۔۔
پہلی دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ۔۔۔۔۔
ترجمہ: اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ۔۔۔۔
دوسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔
وَفِيْـهَا نُعِيْدُكُمْ۔۔۔۔۔
ترجمہ:اوراسی میں ہم تمھیں واپس (بعد موت) لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
تیسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۔۔۔۔۔
ترجمہ:اور(قیامت کے روز) پھر دوبارہ اسی سے ہم تم کو نکال لیں گے۔۔۔۔
آیت بھی بہت آسان ہے اوربرکت بھی بہت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

"پچاس برس کی رام کہانی"

۔"دلیل ویب سائیٹ " پر اشاعت کے لیے اپنے بلاگز سے انتخاب۔۔۔۔
پچیس جنوری ۔۔۔1967۔راولپنڈی۔۔۔پچیس جنوری۔۔۔2017۔اسلام آباد۔۔۔
 پچاس سال۔۔۔نصف صدی۔۔۔بظاہر زندگی کی بےسمت بہتی جھیل میں پچاسواں بےضرر کنکر۔۔۔دیکھا جائے تودو صدیوں کے درمیان ہلکورے لیتی عمر کی کشتی نے وقت کے سمندر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا ۔دو صدیوں کے ملاپ سے بنتی پچاس برسوں کی ایسی مالا۔۔۔جس میں اپنے بڑوں سے سنے گئے اور کتابوں کی زبان سے محسوس کیے گذرنے والی صدی کے پکے رنگ عکس کرتے ہیں تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت آنے والے دور کے انوکھے رنگ نظریں خیرہ کیے دیتے ہیں۔
 زندگی اے زندگی!تونےبچھڑ جانے والوں کے تجربات،احساسات اور مشاہدات جذب کیے تو اب آنے والی نسل کے لیے خدشات تیرا دامن تھامے ہیں۔پچاس برس کا سفر کیا ہے گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کر رُکی ہو۔بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں،بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب جب طوق گلےتک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا توکس بوجھ سےکس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔حد ہو گئی۔۔۔۔زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے،واپسی کی گھٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت وکامیابی کی کون سی چوٹی سر کی جا سکے گی۔ ہم انسان زندگی کہانی میں حقوق وفرائض کے تانوں بانوں میں الجھتے،فکروں اور پریشانیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے، خواہشوں کی سرکتی چادر میں بمشکل اپنا تن 'من' ڈھانپتے لمحہ لمحہ جوڑ کر دن اور پھر سال بِتاتے ہیں۔ کیا مرد کیا عورت سب کی زندگی تقدیر کے لکھے پر ایک جیسی گزرتی چلی جاتی ہے۔
 اپنے فطری کردار اور جسمانی بناوٹ کے تضاد کے باعث عمر کے اس موڑ کو چھوتے مرد اورعورت کے احساسات بھی مختلف ہوتے ہیں۔دونوں کے حیاتیاتی تضاد کا اصل فرق عمر کے اس مرحلے پر واضح ہوتا ہے۔ زندگی کی کٹھنائیوں سے نبردآزما ہوتے مرد کے لیے اگر یہ محض تازہ دم ہونے اور نئے جوش و ولولے کے ساتھ زندگی سے پنجہ آزمائی کرنے کی علامت ہے تو عورت کے لیے جسم و روح پرہمیشہ کے لیے ثبت ہوجانے والی ایک مہر۔۔۔ایسی مہر جس کے بعد ساری زندگی کا نصاب یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں قدم رکھتے ہوئے مرد عمومی طور پر زندگی کمائی میں سے اپنی جدوجُہد کے مطابق فیض اٹھانے کے بعد کسی مقام پر پہنچ کر نئے سفر کی جستجو کرتا ہےتو عورت ساری متاع بانٹ کر منزلِ مقصود پر خالی ہاتھ پہنچنے والے مسافر کی طرح ہوتی ہےجس کے سامنے صرف دھندلا راستہ،ناکافی زادِ سفر اور بےاعتبار ساتھ کی بےیقینی ساتھ رہتی ہے۔عمر کے اس دور تک مقدور بھر جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ  پہنچناعورت کے لیےایسی بارش کی طرح ہےجس کی پھوار سکون بخش تو دکھتی ہے لیکن اس کے لمس میں محبت، نفرت،رشتوں،تعلقات اور اپنے پرایوں کے اصل رنگ سامنے آ جاتے ہیں۔زندگی کی سب خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ہم سے محبت کرنے والے اور اپنی جان پر ہماری جان مقدم رکھنے والے درحقیقت ہمارے وجود میں پیوست  معمولی سی پھانس بھی نکالنے پر قادر نہیں ہوتے۔اسی طرح ہم سے نفرت کرنے والے،ٹھوکروں پر رکھنے والے،ٹشو پیپر سے بھی کمتر حیثیت میں استعمال کرنے والے اس وقت تک ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتےجب تک ہمارے ذہن کو مایوسی اپنی گرفت میں لے کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ سلب کر ڈالے۔
 کوئی کچھ بھی کہے،خواہ مخالفت میں کتنے ہی مضبوط دلائل کیوں نہ دے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زندگی کے سرکتے ماہ وسال کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر صبح شام کرتے پچاس کا پڑاؤ   اگر کسی بلند چوٹی کی مانند ٹھہراجس کی بلندی تک پہنچتےراستہ بھٹکنے کے
خدشات ساتھ چلتے ہیں تو دوسری سمت اترائی کی مرگ ڈھلانوں میں قدم لڑکھڑانے اور پھسلنے کے خطرات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔واپسی کے سفر کے آغاز کےبعد انسان خواہ کتنا ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لے،اس کی محنت ومشقت کتنی ہی بارآور کیوں نہ ہوجائے،اُس کی ذہنی صلاحیت کتنےہی آسمان کیوں نہ چھو لے۔اس کے جسمانی قویٰ ہرگزرتےپل نقارۂ کوچ کی صدا لگاتے ہیں،یہ اور بات کہ ہم میں سے زیادہ تر اس کو سننا ہی نہیں چاہتے یا جان کر انجان بنے رہنے میں بھلا جانتے ہیں۔زندگی کےسفر میں صحت وعافیت کے پچاس برس ایک پھل دار درخت پر لگنے والے رسیلےپھل کی مانند ہوتے ہیں جسے اگر بروقت توڑا نہ جائے تو اس کا رس اندر ہی اندر خشک ہونے لگتا ہے، بظاہر وہ کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ دکھائی دے۔محترم اشفاق احمد "من چلے کا سودا "(صفحہ436) میں لکھتے ہیں " خوش رنگ مطمئن پھول وہ ہوتا ہے جس کی پتیاں بس گرنے ہی والی ہوں "۔کتاب زندگی کے ورق اُلٹتے جب ہم اس کے پچاسویں باب پر پہنچتے ہیں تو وہ ہمارے نصابِ زندگی کابہت اہم موڑ ہوتا ہے
یہاں پہنچ کر اگر پچھلے اسباق ازبر نہ ہوں،ذیلی امتحانات میں کی گئی غلطیوں کا احساس نہ ہو تو آنے والے آخری امتحان میں پاس ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔زندگی کی شاہراہ پر پچاس برس کا سنگِ میل ایک ایسا آئینہ ہے جسے انسان کے تجرباتِ زندگی صیقل کرتے ہیں تو  رشتوں،تعلقات اور جذبات کے حوالے سے ذہن ودل پر چھائی دھند بھی بہت حد تک چھٹ جاتی ہے۔آسمانِ دل کی وسعت دکھائی دیتی ہے تو اپنی طاقتِ پرواز کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ہم میں سے بہت کم روزِروشن کی طرح عیاں اس سچائی کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر اپنے آئینوں سے منہ چھپاتے دوسروں کی فکر کرتے ہیں اور یا پھر اپنے چہرے پر بناوٹ کے غازوں کی تہہ جمائے لاحاصل رقصِ زندگی میں خسارے کے سودے کرتے چلے جاتے ہیں۔زندگی سمجھنے سے زیادہ برتنے کی چیز ہے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر کتابِ زندگی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ زندگی آخری صفحے کے آخری لفظ سے پہلے سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔ جس لمحے اس کی پہچان آنکھ میں اترتی ہےتو انسان ایک کائنات چھوڑ کر دوسری کائنات کے سفر پر روانہ ہونے کو تیار ہوتاہے۔دُنیاوی بلندیوں کے دھوکوں اور فانی پستیوں کی ذلتوں میں دھنستے،گرتے اور سنبھلتے عمر کی بچاسویں دہائی کے آخری پائیدان پر قدم رکھتے ہوئے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو زندگی کہانی میں چہروں اور کرداروں کی ایک دنیا آباد ہے۔۔۔۔ایسے مہربان چہرے جو زندگی کا زندگی پر یقین قائم رکھتے ہیں تو ایسے مکروہ کردار بھی جو انسان کا رشتوں اور انسانیت پر سے اعتماد زائل کر دیتےہیں۔یہ نقش اگرچہ گزرچکے ماضی کا حصہ بن چکے لیکن ان کا خوشبو عکس احساس کو تازگی دیتا ہے تو کبھی کھردرے لمس کی خراشیں ٹیس دیتی ہیں۔ان چہروں کے بیچ میں دور کسی کونے میں چھپا خفا خفا سا اور کچھ کچھ مانوس چہرہ قدم روک لیتا ہے۔ہاں !!! یہی وہ چہرہ تھا جس نے دنیا کے ہر احساس سے آگاہ کیا اسی کی بدولت محبتوں کی گہرائی اور اُن کے رمز سے آشنائی نصیب ہوئی تو زندگی میں ملنے والی نفرتوں اور ذلتوں کا سبب بھی یہی ٹھہرا۔ اس کی فکر اور خیال نےاگر سب سے بڑی طاقت بن کر رہنمائی کی تو اس کی کشش کی اثرپزیری زندگی کی سب سے بڑی کمزوری اور دھوکےکی صورت سامنے آئی۔اسی چہرے نے دنیاوی محبتوں کے عرش پر پہنچایا تو اسی چہرے کے سبب زمانے کے شکنجے نے بےبس اور بےوقعت کر ڈالا۔کیا تھا یہ چہرہ ؟کہ اس نے بڑے رسان سے دنیا کی ہر کتاب سے بڑھ کر علم عطا کیا تو پل میں نہایت بےرحمی سے جہالت اورلاعلمی کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ایسا چہرہ جو ہم میں سے ہر ایک کا رہنما ہے۔۔۔ہمارا آئینۂ ذات! جوہماری نگاہ کے لمس کو ترستا ہے لیکن ہم اس سے انجان دوردراز آئینوں میں اپنا عکس کھوجتے رہ جاتے ہیں۔ظاہر کی آنکھ سے کبھی یہ چہرہ دکھائی نہیں دیتا پر جیسے ہی ہم اپنے اندر کی آنکھ کھول کراپنے آپ سے سوال جواب شروع کریں تویہ جھلک دکھلا دیتا ہے۔اسی چہرے نے بتایا کہ انسان کہانی صرف اُس کے آنکھ کھلنے اور آنکھ بند ہونے کی کہانی ہےاور درمیانی عرصے میں صرف اور صرف دھوکے ہیں محبتوں کے اور نفرتوں کے،علم کے اور لاعلمی کے، عزتوں کے اور ہوس کے۔اندھی عقیدتوں کے سلسلے ہیں تو کہیں وقتی احترام کی ردا میں لپٹی نارسائی کی کسک سرابھارتی ہے۔دنیا کی محدود زندگی میں ہندسوں کا ماؤنٹ ایورسٹ  بھی تو یہی ہے کہ جسے سر کرتے ہوئے ناسمجھی کی اندھی دراڑیں ملیں تو کبھی برداشت کی حد پار کرتی گہری کھائیاں دکھائی دیں۔جذبات کی منہ زور آندھیوں نے قدم لڑکھڑائے توکبھی پل میں سب کچھ تہس نہس کر دینےوالے طوفانوں نے سانسیں زنجیر کر لیں۔بےزمینی کے روح منجمد کر دینے والے خوف نے پتھر بنا دیا تو کبھی خواب سمجھوتوں کی حدت سے موم کی مانند پگھل کر اپنی شناخت کھو بیٹھے۔گزرے برسوں کے احساسات کو عشروں میں سمیٹا جائے اور ہر عشرےکے کینوس پر بنتی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے تو زندگی کے پہلے دس برس لفظوں اور رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنی روح میں جذب کرنے کی کیفیت کا عکس تھے۔اگلے دس برس محبتوں کی بےیقینی کی دھند میں سانس لینے کی کوشش کرتے گذرے تو بیس سے تیس کا عشرہ یقین کی ایسی خودفراموشی کی نذر ہو گیا جس میں نئے ماحول اور نئے زندگیوں کو پروان چڑھانے میں اپنی ذات،اپنے احساسات اور اپنے جذبات کہیں کھو کر رہ گئے۔زندگی شاید اسی طرح گزر جاتی کہ تیس سے چالیس کےعشرے کے بالکل درمیان پینتیس برس ایک اہم موڑ تھا گویا کسی خواب غفلت نے چونکا دیا ہو۔۔۔یہ کیا ! زندگی تو گزر گئی؟کیا یہی حاصلِ زیست تھا؟ کیا بس یہی آنے کا مقصد تھا ؟ بس اتنی ہی کہانی تھی؟۔ اس دور میں خود سے الجھتے، سوچ کو ان الفاظ میں سمیٹا۔۔
۔" ادھورا خط" سے اقتباس۔۔"یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی"۔
۔۔۔۔۔۔
زندگی کی سیڑھی چڑھتے عمر کے پینتیسویں پائیدان نے مقناطیس کی طرح  برسوں سے جامد سوچ کو اس طور گرفت میں لیا کہ برف احساسات کے پگھلنے سے لفظوں کی آبشار جاری ہو گئی لیکن اس خودکلامی کو سمجھنے اور منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار تھا اور یہ وقت دس برسوں پر محیط ہو گیا۔پینتالیس برس کی عمر میں کمپیوٹر سے دوستی ہوئی تو اس نے ایک وفادار دوست کی طرح دامنِ دل وسیع کر دیا اور یوں بلاگ ڈائری میں احساس کی رم جھم جذب ہونے لگی اور دھنک رنگ فیس بک صفحے اور ٹویٹر کی زینت بنتے چلے گئے۔
زندگی کہانی میں پچاس کے ہندسے کوچھوتی عمرِفانی نے  سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ ہمیں اپنے آپ کی پہچان ہوجائے تو پھر ہر پہچان سے آشنائی کی منزل آسان ہوجاتی ہے۔یہ پہچان جتنا جلد مجازی سے حقیقی کی طرف رُخ کرلے اتنی جلدی سکون کی نعمت بھی مل جاتی ہے اور یہی پہچان زندگی کی ترجیحات کے تعین میں رہنمائی کرتی ہے۔اللہ ہم سب کو پہچان کا علم عطا فرمائے۔ آمین نصف صدی کا قصہ تمام ہونے کو ہے۔اللہ بس خاتمہ ایمان پر کرے آمین۔زندگی سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزرے برسوں کی کتھا،کچھ یادیں۔۔۔میری بھوری ڈائری سے بلاگ ڈائری میں۔۔۔۔۔
٭خلیل جبران۔۔۔۔(1982)۔۔۔سوچ جزیرے پر پہلی کشتی
٭تجربات ِزندگی۔۔۔جنوری 67۔۔جنوری 87 ۔۔(20سال)۔ہوس،محبت،عشق؟؟؟عام خیال ہے کہ "مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن!مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی،میاں بیوی کی اور بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔۔۔ ۔"حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے عورت کی نہیں"۔۔۔آج کی اور آج سے چودہ سو سال کی لڑکیوں میں اس کے سِوا کوئی فرق نہیں کہ وہ ایک دم اپنے انجام کو پہنچتی تھیں اور آج کی آہستہ آہستہ۔
٭حاصلِ زندگی۔۔ ۔جنوری 1967۔۔جنوری 1992۔(25 سال)۔۔بچےِ،گھر،میں
٭احساسِ زندگی۔۔۔25جنوری1994۔۔۔
بجھنے سے پہلےبھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو
 سوچ کے اُفق پر جنم لینے والے یہ لفظ احساس کی ٹھہری جھیل میں پہلا کنکر بن کر طلوع ہوئے اورتخیل کی دھیرے دھیرے خشک ہوتی مٹی کو سیراب کرتے چلے گئے۔ 
٭سرکتے و قت کا نوحہ۔"بندگلی"۔ 25جنوری 67 ----25جنوری۔97۔(30 سال)۔
 وہ ایک دائر ے میں گھوم رہی تھی۔سر اُٹھا کر دیکھتی تو کوئی دروازہ اُس کے لیے نہیں کُھلا تھا آس پاس اُونچے مکان تھے،وہ سانس لینا چاہتی،گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔چیخیں مارکر رونا چاہتی،جو اندر ہی رہ جاتیں۔بھاگنا چاہتی لیکن پاؤں میں زنجیریں تھیں۔زنجیریں ٹوٹ بھی جا ئیں تو بھاگ کیسےسکتی تھی کہ یہ تو ایک بند گلی تھی۔
٭تحفۂ زندگی۔12 جنوری 2003۔۔دوست کا نامہ میرے نام۔۔۔اس میں سے اقتباس۔۔
 ۔"وظیفہ"۔۔۔۔ "اللہ تعالیٰ نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دےبھی دیتے ہیں مگر احساس ِجئرات ساتھ نہیں دے پاتا۔یہی وجہ ہےکہ گول مول طریقوں سے،ڈھکے
چھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ہوں۔بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو"۔
٭تفکرِزندگی۔۔25 جنوری 2003۔۔۔ خلیل جبران،ممتازمفتی ،اشفاق احمد اورجناب واصف علی واصف کی تحاریر پڑھتے پڑھتے محترم پروفیسراحمدرفیق اختر کے نام اور اُن کی کتب سے پہلی بار شناسائی ہوئی۔
سب سے پہلے پڑھی گئی کتاب "پسِ حجاب"سےنوٹ کیا گیا اقتباس۔۔صفحہ 135۔۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ کون اللہ کے قریب ہے،تو جان لیجیئے کہ اللہ اپنے نزدیک دیوانوں اور احمقوں کو نہیں رکھتا،اس نے نسلِ انسان کو ایک شرف اور ٹیلنٹ بخشا ہوا ہے،وہ یہ چاہے گا کہ انسان اس شرف کو استعمال کرے۔یہ تمام اوصاف ایک چیز سے حاصل ہوتے ہیں یعنی جلدسے جلد اپنی ترجیحات کا تعین،جتنی زندگی ضائع کر کے آپ ان ترجیحات کےتعین تک پہنچیں گے،اتنے ہی آپ مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔وہ چاہے فرد ہو سوسائٹی یا ملک ہو،جس قدر وہ ان ترجیحات سے دور رہے،اُتنا ہی ڈسٹرب اور مصیبت زدہ ہے۔
 ایک آدمی پچاس سال میں جن ترجیحات کو پاتا ہےمگر پچاس سال میں خدا کے نزدیک اس کی ترجیحات کی قدروقیمت کم ہو گئی،ایک شخص پچیس سال میں اپنی ترجیحات کو پا لیتا ہے اور اس کو پتہ ہےکہ میری زندگی میری سوچ،سب کچھ کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانوں۔جب ذہن ترجیحِ اول کا اعلان کر دیتا ہے تو خدا اور بندے کے ذاتی اختلافات ختم ہو جاتےہیں۔وہ کہتا ہے کہ بندے سے یہی توقع تھی کہ وہ غور کرے سوچے اور مجھے انٹلیکچوئل ترجیحِ اول واضح کر لے۔ہو سکتا ہے کہ ذہنی طور پر اس کو اولیت اور اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں اس کی اولیت قائم نہ رکھ پائیں،اس لغزش کی معافی مل سکتی ہے۔
 گناہوں کی بخشش اس کے ہاں صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بنیادی سوال تو حل کر لیا ہے۔آپ کی کمزوریاںِ،کمیاں،ہو سکتا ہے آپ کو ترجیحات کے فقدان پرمائل کریں مگر یہ آپ کا ذہن اور آپ کی سوچ وفکر سے بھرپور طاقت ہے جس نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔حتیٰ کہ خدا انسان کی کمزوری کی وجوہ کو حکم دیتا ہے،تسلیم نہیں کرتاِ،حکم دیتا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں اور فواحش سے پرہیز کرو تو چھوٹے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔جب خدا خود کہہ رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کے دور تم پر آئیں گے،تو یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ہر آدمی پر حماقتوں کے کچھ دور ضرور گزرتے ہیں۔خطاؤں کے کچھ پیٹرن ضرور بنیں گے۔اس لیے کہ خطا بذاتِ خود سیکھنے کا بھی باعث ہے۔
٭تحفہء زندگی۔۔۔"لبّیک اللہُمٰ لبّیک"۔۔۔شناسائی سے آشنائی تک۔۔۔
روانگی۔15 دسمبر 2004 ۔۔۔ادائیگی حج 20جنوری 2005 -- واپسی 25 جنوری۔2005
٭سراب کہانی ۔25جنوری 1967---- 25جنوری 2007۔ (40سال)۔
 عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اُسے ٹشّو پیپر بھی نہیں بلکہ رول ٹشُو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ 
٭ مدارِزندگی ۔۔۔22جنوری 1988۔22جنوری 2010۔(22سال)۔۔
 وہ میرا گھر ہے لیکن میں و ہاں نہیں رہ سکتی اور یہ میرا گھر نہیں ہےلیکن مجھے یہاں ہی رہنا ہے۔
٭تشکر کہانی (شادی۔ 25 سال)۔یکم اپریل 1988---یکم اپریل2013
 کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ و قت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہو ئی۔وقتی کھنک اور ستائش کی چاہ
فقط خودفریبی ہی تھی،ایک ان چھوا احساس سرما یہءحیات ہے۔
٭تھکن کہا نی۔۔ 25 جنوری 1967----25 جنوری2011۔(44سال)۔
بظاہر سرسبزوشاداب نظر آنے والے  پودے کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک قطرہ قطرہ زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے۔
٭آخری کہانی 31دسمبر 2011
 اپنی بھرپور موجودگی کے مادی اسباب کے ساتھ فرش سے عرش پر یا پھر عرش سے فرش تک کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد عورت اِتنی تہی داماں ہو جا تی ہیے کہ آخرکار پھونکیں مار مار کر اپنے ہی وجود کی بھٹی میں آگ سُلگا تے ہو ئے راکھ بنتی جا تی ہے،اُس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو تی،ہاں پہچان ختم ہو جاتی ہے" ڈھونڈنے والے اُس کی طلب سے بےنیاز اپنے رنگ میں کھوجتے ہیں۔"ا پنی نظر کی عینک سے بھی کبھی کائنات کا احاطہ ممکن ہو سکا ہے؟"آکسیجن کی طرح بےرنگ،بےبُوبےذائقہ ہو جاتی ہے۔وہ آکسیجن جو بےمول،بن مانگے ملتی رہتی ہے تو اُس کی قدروقیمت کا کبھی احساس نہیں ہو تا۔کچھ حقیقتیں آخری سانسِ،آخری منظر سے پہلے آشکار نہیں ہو تیں " عورت بھی اِنہی سچا ئیوں میں سے ایک ہے۔
٭ ختم کہانی 25 جنوری 2012۔۔۔جان کسی چیز میں نہ ڈالو ورنہ جان نہیں نکلے گی۔
۔(زندگی کہانی چند لفظوں میں کہی تو جا سکتی ہے لیکن گنتی کے چند برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتی۔۔ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ کاتبِ تقدیر نے زندگی کہانی کے آخری صفحے پر ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔۔۔"ختم کہانی اور آخری کہانی" کے عنوان سے لکھی گئی سطریں اس احساس کے تحت لکھی گئیں کہ اب قلم اور کاغذ کے رشتے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ محض چند ماہ بعد یہی تعلق نہ صرف میرے نام کی پہچان بنے گا بلکہ میرے لیے اپنی ذات کے حوالے سے انوکھے دربھی وا کرے گا )۔ 
٭انٹرنیٹ کہانی۔۔۔۔ 31مارچ 2012 سے فیس بک اور اکتوبر 2012 بلاگ۔۔۔پانچ برس کے عرصے میں اس پرواز کا احوال 450 سے زائد بلاگز کہتے ہیں۔ 
حرفِ آخر
٭زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی ۔
 ٭ہم ساری عمرجگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں مل ہی جاتی ہے ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی۔

"میرے پچاس سال"

 جنوری 25۔۔۔1967
جنوری 25۔۔۔2017
پچاس سال۔۔۔نصف صدی۔۔۔بظاہر زندگی کی بےسمت بہتی جھیل میں پچاسواں بےضرر کنکر۔۔۔دیکھا جائے تودو صدیوں کے درمیان ہلکورے لیتی عمر کی کشتی نے وقت کے سمندر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا ۔دو صدیوں کے ملاپ سے بنتی پچاس برسوں کی ایسی مالا۔۔۔جس میں  اپنے بڑوں سے سنے گئے اور کتابوں کی زبان سے محسوس کیے گذرنے والی صدی کے پکے رنگ عکس کرتے ہیں تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت آنے والے دور  کے انوکھے رنگ نظریں خیرہ کیے دیتے  ہیں۔زندگی اے زندگی!تونےبچھڑ جانے والوں کے تجربات،احساسات اور مشاہدات جذب کیے تو اب آنے والی نسل کے لیے خدشات تیرا دامن تھامے ہیں۔پچاس برس کا سفر  کیا ہے گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی  ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کر رُکی ہو۔بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں،بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب جب طوق گلےتک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا توکس بوجھ سےکس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔حد ہو گئی۔۔۔۔زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے،واپسی کی گھٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت وکامیابی کا کون سا ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا جا سکے گا۔
کوئی کچھ بھی کہے،خواہ مخالفت میں کتنے ہی مضبوط دلائل کیوں نہ دے لیکن یہ حقیقت ہے کہ   زندگی کے سرکتے ماہ وسال  کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر صبح شام کرتے پچاس کا سنگِ میل ایک ایساپڑاؤہے جس کے بعد چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہر صورت اترائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔واپسی کے سفر کے آغاز کےبعد انسان خواہ کتنا ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لے،اس کی محنت ومشقت کتنی ہی بارآور کیوں نہ ہوجائے،اُس کی ذہنی صلاحیت کتنےہی آسمان کیوں نہ چھو لے۔اس کے جسمانی قویٰ ہرگزرتےپل نقارۂ کوچ کی صدا لگاتے ہیں،یہ اور بات کہ ہم  میں سے زیادہ تر اس کو سننا ہی نہیں چاہتے یا جان کر انجان بنے رہنے میں بھلاسمجھتے ہیں۔زندگی کےسفر میں صحت وعافیت کے  پچاس برس  ایک پھل دار  درخت پر لگنے والےرسیلےپھل کی  مانند ہوتے ہیں  جسے  اگر بروقت  توڑا نہ جائے تو  اس کا رس اندر ہی اندر  خشک ہونے لگتا ہے، بظاہر وہ کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ دکھائی دے۔محترم اشفاق احمد  "من چلے کا سودا "(صفحہ436) میں لکھتے ہیں " خوش رنگ  مطمئن پھول وہ ہوتا ہے جس کی پتیاں بس گرنے  ہی  والی ہوں  "۔   کتاب زندگی  کے ورق اُلٹتے جب ہم اس کے پچاسویں باب پر پہنچتے ہیں تو وہ ہمارے  نصابِ زندگی کا بہت اہم موڑ ہوتا   ہے،یہاں پہنچ کر اگر پچھلے اسباق ازبر نہ ہوں،ذیلی امتحانات میں کی گئی غلطیوں کا احساس نہ ہو  تو آنے والے آخری  امتحان میں پاس ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔زندگی کی شاہراہ پر  پچاس برس کا سنگِ میل ایک ایسا آئینہ ہے  جہاں انسان  کے عقل وشعور پر لگی  گرہیں کھل جاتی ہیں وہیں رشتوں،تعلقات اور جذبات کے حوالے سے ذہن ودل پر چھائی دھند بھی بہت حد تک  چھٹ جاتی ہے۔آسمانِ دل کی وسعت دکھائی دیتی ہے تو اپنی طاقتِ پرواز کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت کم روز روشن کی طرح عیاں اس سچائی کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر  اپنے آئینوں سے منہ چھپاتے دوسروں کی فکر کرتے ہیں  اور یا پھر اپنے چہرے پر  بناوٹ کے غازوں کی تہہ جمائے لاحاصل رقصِ زندگی میں  خسارے کے سودے کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی سمجھنے سے زیادہ برتنے کی چیز ہے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر کتابِ زندگی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ زندگی آخری صفحے کے آخری لفظ سے پہلے سمجھ آ ہی نہیں سکتی جس  لمحے اس کی پہچان آنکھ میں اترتی ہےتو انسان ایک کائنات چھوڑ کر دوسری کائنات کے سفر پر روانہ ہونے کو تیار ہوتاہے۔گزرے برسوں کے احساسات کو عشروں میں سمیٹا جائے اور ہر عشرےکے کینوس پر بنتی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے  تو زندگی کے پہلے دس برس لفظوں اور رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنی روح میں جذب کرنے کی کیفیت کا عکس تھے۔اگلے دس برس محبتوں کی بےیقینی  کی دھند میں سانس لینے کی کوشش کرتے گذرے تو بیس سے تیس  کا عشرہ یقین کی ایسی خودفراموشی کی نذر ہو گیا جس میں نئے ماحول اور نئے زندگیوں کو پروان چڑھانے میں اپنی ذات،اپنے احساسات اور اپنے جذبات  کہیں کھو کر رہ گئے۔زندگی شاید اسی طرح گزر جاتی کہ تیس سے چالیس کےعشرے کے  بالکل درمیان پینتیس برس ایک اہم موڑ تھا  گویا کسی خواب غفلت نے چونکا دیا ہو۔۔۔یہ کیا ! زندگی تو گزر گئی؟کیا یہی حاصلِ زیست تھا؟  کیا بس یہی آنے کا مقصد تھا ؟ بس اتنی ہی کہانی تھی؟۔ اس دور میں خود سے الجھتے، سوچ کو ان الفاظ میں سمیٹا۔۔
۔" ادھورا خط" سے اقتباس۔۔"یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی"۔۔۔۔۔۔۔زندگی کی سیڑھی چڑھتے  عمر کے پینتیسویں پائیدان نے مقناطیس کی طرح  برسوں سے جامد سوچ کو اس طور گرفت  میں لیا کہ برف احساسات کے پگھلنے سے لفظوں کی آبشار جاری ہو گئی لیکن اس خودکلامی کو سمجھنے اور منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت  درکار تھا اور یہ وقت دس برسوں پر محیط ہو گیا۔پینتالیس برس کی عمر میں کمپیوٹر سے دوستی ہوئی تو اس نے  ایک وفادار دوست کی طرح  دامنِ دل وسیع کر دیا اور یوں بلاگ ڈائری میں احساس کی رم جھم  جذب ہونے لگی اور دھنک رنگ  فیس بک صفحے اور ٹویٹر کی زینت بنتے چلے گئے۔نصف صدی کا قصہ تمام ہونے کو ہے۔اللہ بس خاتمہ ایمان پر کرے آمین۔زندگی سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گزرے برسوں کی کتھا،کچھ یادیں۔۔۔میری بھوری ڈائری سے بلاگ ڈائری میں۔۔۔۔۔
٭تجر بات ِزندگی۔۔۔جنوری 67۔۔جنوری 87 ۔۔(20سال)۔ہو س،محبت،عشق؟؟؟عام خیال ہے کہ "مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن!مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی،میاں بیوی کی اور  بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔۔۔ ۔"حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے عورت کی نہیں"۔۔۔آج کی اور آج سے چودہ سو سال کی لڑکیوں میں اس کے سِوا کوئی فرق نہیں کہ وہ ایک دم اپنے انجام کو پہنچتی تھیں اور آج کی آہستہ آہستہ۔
٭حاصلِ زندگی۔۔ ۔جنوری 1967۔۔جنوری  1992۔(25 سال)۔۔بچےِ،گھر،میں٭احساسِ زندگی۔۔۔25جنوری1994۔۔۔
بجھنے سے پہلےبھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ  کو   برتنا نہیں آیا مجھ کو
سوچ کے اُفق پر جنم لینے والے یہ لفظ احساس کی ٹھہری جھیل میں پہلا کنکر بن کر طلوع ہوئے اورتخیل کی  دھیرے دھیرے خشک ہوتی مٹی کو سیراب کرتے چلے گئے۔ 
٭سرکتے و قت کا نو حہ۔"بندگلی"۔ 25جنوری 67 ----25جنوری۔97۔(30 سال)۔
وہ ایک دا ئر ے میں گھوم رہی تھی۔سر اُٹھا کر دیکھتی تو کو ئی بھی دروازہ اُس کے لیے نہیں کُھلا تھا آس پاس اُونچے مکان تھے،وہ سانس لینا چا ہتی،گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی،چیخیں مارکر رو نا چا ہتی،جو اندر ہی رہ جا تیں۔بھاگنا چا ہتی لیکن پاؤں میں زنجیریں تھیں۔زنجیریں ٹوٹ بھی جا ئیں تو  بھاگ  کیسےسکتی تھی کہ یہ تو ایک بند گلی تھی۔
٭تحفۂ زندگی۔12 جنوری 2003۔۔دوست کا نامہ میرے نام۔۔۔اس میں سے اقتباس۔۔
۔"وظیفہ"۔۔۔۔ "اللہ تعالیٰ نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دے دئیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دےبھی دیتے ہیں مگر احساس ِجئرات ساتھ نہیں دے پاتا۔یہی وجہ ہےکہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ہوں۔بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو"۔
٭تفکرِزندگی۔۔25 جنوری 2003۔۔۔ خلیل جبران،ممتازمفتی ،اشفاق احمد اورجناب واصف علی واصف کی تحاریر  پڑھتے پڑھتے محترم  پروفیسراحمدرفیق اختر کے نام اور اُن کی کتب سے پہلی بار شناسائی ہوئی۔
سب سے پہلے پڑھی گئی کتاب "پسِ حجاب"سےنوٹ کیا گیا اقتباس۔۔صفحہ 135۔۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ کون اللہ کے قریب ہے،تو جان لیجیئے کہ اللہ اپنے نزدیک دیوانوں اور احمقوں کو نہیں رکھتا،اس نے نسلِ انسان کو ایک شرف اور ٹیلنٹ بخشا ہوا ہے،وہ یہ چاہے گا کہ انسان اس شرف کو استعمال کرے۔یہ تمام اوصاف ایک چیز سے حاصل ہوتے ہیں یعنی جلدسے جلد اپنی ترجیحات کا تعین،جتنی زندگی ضائع کر کے آپ ان ترجیحات کےتعین تک پہنچیں گے،اتنے ہی آپ مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔وہ چاہے فرد ہو سوسائٹی یا ملک ہو،جس قدر وہ ان ترجیحات سے دور رہے،اُتنا ہی ڈسٹرب اور مصیبت زدہ ہے۔ایک آدمی پچاس سال میں جن ترجیحات کو پاتا ہےمگر پچاس سال میں خدا کے نزدیک اس کی ترجیحات کی قدروقیمت کم ہو گئی،ایک شخص پچیس سال میں اپنی ترجیحات کو پا لیتا ہے اور اس کو پتہ ہےکہ میری زندگی میری سوچ،سب کچھ کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانوں۔جب ذہن ترجیحِ اول کا اعلان کر دیتا ہے تو خدا اور بندے کے ذاتی اختلافات ختم ہو جاتےہیں۔وہ کہتا ہے کہ بندے سے یہی توقع تھی کہ وہ غور کرے سوچے اور  مجھے انٹلیکچوئل ترجیحِ اول واضح کر لے۔ہو سکتا ہے کہ ذہنی طور پر اس کو اولیت اور اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں اس کی اولیت قائم نہ رکھ پائیں،اس لغزش کی معافی مل سکتی ہے۔
گناہوں کی بخشش اس کے ہاں صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بنیادی سوال تو حل کر لیا ہے۔آپ کی کمزوریاںِ،کمیاں،ہو سکتا ہے آپ کو ترجیحات کے فقدان پرمائل کریں مگر یہ آپ کا ذہن اور آپ کی سوچ وفکر سے بھرپور طاقت ہے جس نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔حتیٰ کہ خدا انسان کی کمزوری کی وجوہ کو حکم دیتا ہے،تسلیم نہیں کرتاِ،حکم دیتا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں اور فواحش سے پرہیز کرو تو چھوٹے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔جب خدا خود کہہ رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کے دور تم پر آئیں گے،تو یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ہر آدمی پر حماقتوں کے کچھ دور ضرور گزرتے ہیں۔خطاؤں کے کچھ پیٹرن ضرور بنیں گے۔اس لیے کہ خطا بذاتِ خود سیکھنے کا بھی باعث ہے۔
٭تحفہء زندگی۔۔۔"لبّیک اللہُمٰ لبّیک"۔۔۔شنا سا ئی سے آشنا ئی تک۔۔۔روانگی۔15 دسمبر 2004 ۔۔۔ادائیگی حج 20جنوری 2005 -- واپسی 25 جنوری۔2005٭سر اب کہا نی ۔25جنوری 1967---- 25جنوری 2007۔ (40سال)۔عورت ا یک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اُسے ٹشّو پیپر بھی نہیں بلکہ رول ٹشُو کی طرح استعما ل کیا جا تا ہے۔  ٭ مدارِزندگی ۔۔۔22جنوری 1988۔22جنوری 2010۔(22سال)۔۔
وہ میرا گھر ہے لیکن میں و ہاں نہیں رہ سکتی اور یہ میرا گھر نہیں ہےلیکن مجھے یہاں ہی رہنا ہے۔٭تشکر کہانی (شادی۔ 25 سال)۔یکم ا پریل 1988---یکم ا پریل2013کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ و قت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہو ئی۔وقتی کھنک اور ستائش کی چاہفقط خودفریبی ہی تھی،ایک ان چھوا احساس  سرما یہءحیات ہے۔٭تھکن کہا نی۔۔  25 جنوری 1967----25 جنوری2011۔(44سال)۔بظاہر سرسبزوشاداب نظر  آنے والے  پودے کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک قطرہ قطرہ  زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے۔٭آخری کہانی 31دسمبر 2011
اپنی بھرپور موجودگی کے مادی اسباب کے ساتھ فرش سے عرش پر یا پھر عرش سے فرش تک کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد عورت اِتنی تہی داماں ہو جا تی ہیے کہ آخرکار پھونکیں مار مار کر اپنے ہی وجود کی بھٹی میں آگ سُلگا تے ہو ئے راکھ بنتی جا تی ہے،اُس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو تی،ہاں پہچان ختم ہو جاتی ہے" ڈھونڈنے والے اُس کی طلب سے بےنیاز  اپنے رنگ میں کھوجتے ہیں ۔"ا پنی نظر کی عینک سے بھی کبھی کائنات کا احاطہ ممکن ہو سکا ہے؟"۔ آکسیجن کی طرح بےرنگ ،بےبُو،بےذائقہ ہو جاتی ہے۔وہ آکسیجن جو بےمول،بن مانگے ملتی رہتی ہے تو اُس کی قدروقیمت کا کبھی احساس نہیں ہو تا۔کچھ حقیقتیں آخری سانسِ،آخری منظر سے پہلے آشکار نہیں ہو تیں " عورت بھی اِنہی سچا ئیوں میں سے ایک ہے۔٭ ختم کہانی 25 جنوری 2012۔۔۔جان کسی چیز میں نہ ڈالو ورنہ جان  نہیں نکلے گی۔ ۔(زندگی کہانی چند لفظوں میں کہی تو جا سکتی ہے لیکن گنتی کے چند برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتی۔۔ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ کاتبِ تقدیر نے  زندگی کہانی کے آخری صفحے پر ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔۔۔"ختم کہانی اور  آخری  کہانی" کے عنوان سے لکھی گئی سطریں اس احساس کے تحت لکھی گئیں کہ اب قلم اور کاغذ کے رشتے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ محض چند ماہ بعد یہی تعلق  نہ صرف میرے نام کی پہچان بنے گا بلکہ میرے لیے اپنی ذات کے حوالے سے انوکھے دربھی وا کرے گا )۔ 
 ٭انٹرنیٹ کہانی۔۔۔۔ 31مارچ 2012 سے فیس بک  اور اکتوبر 2012  بلاگ۔۔۔پانچ برس کے عرصے میں اس پرواز کا احوال 450 سے زائد بلاگز کہتے ہیں۔  ٭" کانچ کی چوڑی اور تتلی کہانی "۔پچیس جنوری۔2013۔۔۔٭"ایک کہانی بڑی پرانی"۔  پچیس جنوری 2014 ۔۔۔۔
٭"عام عورت۔۔۔خاص بات"۔پچیس جنوری 2015۔۔۔
 ٭"ایک دن ایک داستان"۔پچیس جنوری۔۔۔2016۔۔۔
حرفِ آخر ٭زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی ۔
٭ہم ساری عمرجگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں مل ہی جاتی ہے ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی۔۔۔۔۔

"لکھاری"

لفظ کہنے کا حوصلہ سننے والے کان سے ملتا ہے اور لفظ لکھنے کی لذت دیکھنے والی آنکھ کی عطا ہے۔
سوچنا اور لکھنا اہم نہیں بلکہ وہ نظر اہم ہے جو اس کے معنوں کی گہرائی میں جا کر اپنی مرضی کے سیپ کا انتخاب کرتی ہے، ور نہ کتنے ہی بند موتی اتھاہ گہرائیوں میں ان چھوئے رہ جاتے ہیں۔ ہم سب اللہ کی شاندار تخلیق ہیں بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے سب سے پہلے اپنی آنکھِ،جو اپنی ذات کے سمندر میں جھانکنے کا عزم کر لے تو پھر ہی ہم کسی دوسرے کی آنکھ سے اپنی ذات کے اندر اترنے کا حوصلہ اور اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
سب کہہ دینا چاہیے۔۔کوئی سمجھے یا نا سمجھے۔لیکن لکھنے سے ہماری اپنی بہت سی گرہیں ضرور کھل جاتی ہیں۔خود کلامی کی زبان کی پکار بہت سی بےزبانی سے نجات عطا کرتی ہے۔لکھنا دل کا بوجھ نہیں بلکہ مکمل ہونے یا چھوئے جانے کی خواہش ہے جو انسان کی جبلت میں ازل سے پرو دی گئی ہے۔اب انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ کس طرح اس خواہش یا طلب کو پورا کرنے کی سعی کرتا ہے۔ کچھ کے لیے جسم کی خواہش جسم سے عبارت ہے ۔کچھ کو روح کی پیاس بےچین رکھتی ہے۔
اپنے خیال کو لفظ میں بیان کرنا  لکھنے والے کے لیے ایک عجیب سا نشہ ہے تو  ایسی خوشی بھی جو انسان دوسروں سے شئیر کرنا چاہتا ہے۔لفظ لکھنا اگر اللہ کا انعام ہے تو اسے دوسروں تک پہنچانا ایک تحفہ ہے لیکن اس تحفے کو  دینے سے پہلے کسی بھی عام تحفے کو دینے والی نظر سے ضروردیکھنا چاہیے۔۔۔۔ تحفہ دیتے ہوئے قیمت اہم نہیں ہوتی بلکہ دینے والے اور لینے والے کا ذوق اہمیت رکھتا ہے۔ اب لفظ کا تحفہ تو بےغرض ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق اس کی خوشبو محسوس کرتا ہے۔ بات صرف  نیت کی ہے کہ دینے والا اس تحفے سے کیا چاہتا ہے۔اپنے دل کا غبار نکالنا ۔۔۔ اپنے ذہن میں جس خیال نے اسے جکڑ رکھا تھا اس کے اندر گھٹن پھیلا رکھی تھی وہ اسے دوسروں کے ذہن میں ڈال کر پرسکون ہونا چاہتا ہے اور یوں کہیں تو دوسروں کے ذہن اس کے لیے محض کوڑے دان ہیں ۔نیت سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم میں کسی چیز کی صلاحیت نہ ہو بلکہ صرف ہوا کا رخ دیکھ کر محض وقتی واہ واہ یا تحفہ دینےکی دوڑ میں زبردستی اپنا نام لکھوانا چاہیں۔ بجا کہ ایسا محض شعور کی کجی نہیں بلکہ انسان لاشعوری طور پر بھی اپنی ذات کا اظہار چاہتا ہے لیکن سب سے اہم بات اپنے احساس اور اپنی ذات کی پہچان کی ہے۔ بےشک انسان اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے اور اس کو اللہ نے  بیش بہا صلاحیتیں عطا کی  ہوئی ہیں  اور جن کو وہ اپنی عمرِفانی کی قلیل مدت میں کلی طور پر جان ہی نہیں سکتا۔لیکن اپنی زندگی  سمجھنے    میں اُس کی دستیاب عقلی   صلاحیت  بہت حد تک رہنمائی کر سکتی ہے۔ نیت کی سچائی اور بےغرضی ہر تحفہ دینے کی شرطِ اولین ہے۔معنویت خوبصورتی کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے اور محض لفاظی کاغذی پھول کی طرح ہے۔۔ خوش رنگ لیکن خوشبو سے خالی جیسے کہ رومانوی شاعری صرف شاعری ہے اس کا مقصد سوائے اپنے جذبات کے اظہار کے اور کچھ نہیں۔ جسے اپنے دل کی آواز لگتی ہے وہ اسے دل سے لگا کر رکھتا ہے ۔ اردو ادب میں شاعری کا برابر کا حصہ ہے۔ شعراء کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس لیے شاعری کو ادب سے کلی طور پر منفی نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات اپنی سوچ پر اعتماد کی ہے  کہ ہمارا تحفہ  کس قابل ہے؟  ہم   دینے سے پہلے ہی شش وپنج کی کیفیت کا شکار  ہوں اور مسترد کیے جانے کے واہموں میں مبتلا ہو جائیں تو تحفہ  ہماے ہاتھ میں ہی اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ جب بےغرض دے رہے ہوں تو پھر نفع نقصان کی پروا کرنا بےمعنی ہے کہ جس کا جتنا طرف ہے وہ اتنا پائے گا۔  کوئی بھی تحفہ دیتے ہوئے ہم اپنی طرف سے اس  کی  خوبصورتی،معنویت اور  قابلِ قبول ہونا مدِنظر رکھتے ہیں۔تحفہ تو پھر خاص چیز  ہے ہم خیرات دیتے وقت  بھی  کھرے کھوٹے سکے کا دھیان رکھتے ہیں تو پرانے کپڑے  اور پرانے برتن دیتے وقت بھی پھٹے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے کبھی بھی نہیں دینا چاہتے۔ سو لفظ کا تحفہ جو ہماری روح  کی آواز ہوتی ہے اسے دیتے ہوئے ہم کیوں چاہتے ہیں کہ لینے والا ہمارے ٹوٹے   پھوٹے لفظ قبول کر لے۔اگر ہم  تحریر لکھنے کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالیں گے تو کسی سے یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ پہلی نظر ڈالے اور وہ ٹھہر بھی جائے۔سوچ کو لفظ میں پرونا اگر ایک آرٹ ہے تو دیکھنے والی آنکھ کا اس لفظ کے معنی کو محسوس کرنا اس سے بڑا فن نہیں تو اس کے ہم پلہ ضرور ہے اور پھر اپنے احساس کو لفظ کا گلدستہ بنا کر سراہنا لفظ پڑھنے کا حق ادا کرنا ہے ، لکھنے والا کسی کی واہ واہ کے لیے ہرگز نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا بذات خود رب کا اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کی جزا انسان دینے کا اہل ہی نہیں۔جو لفظ کسی مادی منفعت کے لیے لکھا جائے وہ پیٹ تو بھر سکتا ہے لیکن روح کی تسکین نہیں کر سکتا۔
دنیا کی معلوم تاریخ میں آج تک کسی پیغمبر یا اولیاء یا عظیم مفکروں کو ان کے سامنے نہیں مانا گیا۔تو ایک عام انسان جو رب کے عطا کردہ تحفۂ فکر سے کچھ موتی چنتا ہے ۔وہ کیسے اپنے جیسے عام انسانوں سے کچھ توقع رکھ سکتا ہے۔ افسوس یا دکھ قطعی نہیں کبھی بھی نہیں ۔انسان ہونے کے ناطے بس ایک خلش یہ ضرور رہتی ہے کہ جو سچ جو راز رب نے دل ودماغ پر افشاء کیے وہ امانت ہیں اوراس کے بندوں تک پہنچانا ایک ذمہ داری۔۔۔جلد یا بدیر جاننے والے جان ہی جائیں گے۔وقت پر جان جائیں تو ان کے لیے اچھا۔
 کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی"۔"

Pages