نورین تبسم (کائنات ِتخیل)

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮ 
بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا ‘واجپائی نے مسکرا کر جواب دیا ’’مشرف کو سینس آف ہسٹری نہیں تھی‘‘ آپ کو یہ جواب یقینا عجیب محسوس ہوگا لیکن آپ جب گہرائی میں جا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا لیڈروں اور قوموں کیلئے سینس آف ہسٹری لازم ہوتی ہے‘ آپ اگرتاریخ کے بہاؤ کو نہیں سمجھتے تو آپ حال سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اور آپ مستقبل بھی تعمیر نہیں کر سکتے‘ آپ خلاء میں گردش کرتے رہتے ہیں‘ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور دوسری تلخ حقیقت یہ ہے ہم اور ہمارے لیڈر دونوں سینس آف ہسٹری سے محروم ہیں چنانچہ ہم ستر برس سے اندھوں کی طرح ہاتھی کی دم کو پورا ہاتھی سمجھ رہے ہیں اور یہ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔میں اپنی جذباتی قوم کو پوری ’’سینس آف ہسٹری‘‘ نہیں دے سکتاتاہم میں دونقطے پیش کرسکتا ہوں‘ ہم ان نقطوں پر غور کر کے اپنے بےشمارفکری قبلے درست کر سکتے ہیں‘ ہم پہلے جمہوریت کی طرف آتے ہیں‘ پاکستان میں ستر برسوں میں 23 سویلین وزیراعظم آئے‘ چھ وزراء اعظم نگران اور 17 باقاعدہ وزیراعظم بنے‘ ان17 وزراء اعظم میں سے کوئی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا‘ یہ تمام لوگ خوفناک انجام کا شکار بھی ہوئے‘۔ آپ خان لیاقت علی خان سے شروع کر لیجئے‘ یہ چار سال وزیراعظم رہے ‘ راولپنڈی میں شہید کر دیئے گئے‘۔خواجہ ناظم الدین دو سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور باقی زندگی مشرقی پاکستان میں گمنامی میں گزار دی‘۔محمدعلی بوگرہ سال سال کے دو دورانیے میں دو سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور خاموشی سے ڈھاکہ میں فوت ہوگئے‘۔ چودھری محمدعلی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دئیے گئے اور باقی زندگی عسرت میں گزار دی‘۔حسین شہیدسہروردی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ مایوس ہو کر وطن چھوڑا اور لبنان میں انتقال کر گئے‘۔اسماعیل احمدچندریگر دو ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں لندن میں فوت ہوئے‘ ۔فیروزخان نون دس ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ سیاست سے کنارہ کش ہوئے اور اپنے گاؤں نورپور نون میں انتقال کر گئے‘۔نورالامین 13 دن کیلئے وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اورراولپنڈی میں گمنامی میں انتقال کر گئے‘۔ذوالفقارعلی بھٹو پہلے تین سال سات ماہ وزیراعظم رہے پھر چار ماہ کیلئے وزیراعظم بنے‘ ہٹائے گئے اور پھانسی چڑھا دیئے گئے‘۔ محمدعلی جونیجو اڑھائی سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں انتقال ہوا‘۔بےنظیر بھٹو دو بار وزیراعظم بنیں دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دی گئیں‘ جلا وطن رہیں اور آخر میں شہید ہو گئیں‘۔ میاں نواز شریف دو بار وزیراعظم بنے‘ دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دیئے گئے‘ جلاوطن ہوئے‘ واپس آئے‘ تیسری بار وزیراعظم بنے اور ہٹائے جا رہے ہیں'(28 جولائی 2017کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیتے ہوئے نوازشریف کو  وزیرِاعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا)۔میر ظفر اللہ جمالی واحد بلوچ وزیراعظم تھے‘پونے دو سال بعد ہٹا دیئے گئے اور مایوسی‘ تاسف اور گمنامی میں زندگی گزار رہے ہیں‘۔ شوکت عزیز تین سال وزیراعظم رہے‘ ملک سے باہر گئے اور دوبارہ واپس نہیں آئے‘ ۔یوسف رضا گیلانی چار سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ عدالتو ںمیں کیس بھگت رہے ہیں۔راجہ پرویز اشرف آٹھ ماہ وزیراعظم رہے ‘ یہ بھی اس وقت نیب کے مقدمات فیس کر رہے ہیں‘۔وزراء اعظم کی اس ہسٹری سے تین سینس ملتی ہیں‘۔۔۔۔ اول‘ہمارا کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرتا‘یہ ہٹایا جاتا ہے اور یہ ہٹائے جانے کے بعد عبرت اور مایوسی کی زندگی گزارتا ہے‘۔دوم‘ ہمارا ہر وزیراعظم عدالتوں میں دھکے ضرور کھاتا ہے اور یہ دھکے کھاتے کھاتے آخر میں گمنامی میں مرجاتا ہے اورسوم ملک کے 17وزراء اعظم میں سے گیارہ انتقال کر چکے ہیں‘ قوم ذوالفقارعلی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کے علاوہ کسی کی قبر سے واقف نہیں‘ یہ تمام قصہ پارینہ بن چکے ہیں‘ ۔آپ اب دوسری سینس آف ہسٹری ملاحظہ کیجئے۔پاکستان میں چار مارشل لاء لگے‘ جنرل ایوب خان‘جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے‘ جنرل یحییٰ خان کے سوا تین جرنیلوں نے دس دس سال حکومت کی‘ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار شہادت کے بعد ختم ہوا جبکہ باقی تینوں جنرلز عوامی تحریک کے ذریعے فارغ ہوئے ‘ تینوں کے خلاف مقدمے بنے لیکن کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا‘ کسی کو سزا نہیں ہوئی‘ پاکستان میں جب بھی فوجی حکومت آئی خطے میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوئی ‘امریکا نے پاکستان کواپنااتحادی بنا کر اس جنگ میں ضرور جھونکااور آخر میں پاکستان اور فوجی آمر دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا‘ جنرل ایوب کے دور میں امریکا اور سوویت یونین کی ’’کولڈ وار‘‘ہوئی‘ پاکستان روس کے خلاف امریکا کا اتحادی بنا‘ ہم نے اپنے فوجی اڈے تک دیئے اور ایوب خان کے دور میں 1965ء کی جنگ بھی ہوئی‘ امریکا نے یحییٰ خان کو چین کیلئے کے لئے استعمال کیا‘ 1971ء کی جنگ ہوئی‘ پاکستان ٹوٹ گیااور امریکا نے یحییٰ خان کو بھی اکیلا چھوڑدیا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان وار ہوئی‘امریکا نے پاکستان کو جی بھر کر استعمال کیا اور اکیلا چھوڑ دیا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہوئی‘پاکستان اس بار بھی امریکا کااتحادی بنا اور خوفناک نقصانات اٹھائے۔ ہم اگر تاریخ کی ان دونوں سینسز کو سامنے رکھیں تو ہم بڑی آسانی سے چند نتائج اخذ کر سکتے ہیں‘۔ ہمارا پہلا نتیجہ یہ ہو گا پاکستان میں کوئی جمہوری وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکتا‘ اقتدار سے رخصت ہونے والا ہر وزیراعظم گمنامی‘جلاوطنی اور مقدمے بھگتے گا اور اگریہ خاموشی اختیار نہیں کرے گا تو اس کی قبر پر گز گز لمبی گھاس اگ آئے گی‘۔دوسرا نتیجہ‘ فوجی اقتدار کم از کم دس سال پر محیط ہو گا‘ ان دس برسوں میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوگی‘پاکستان اس جنگ کا اتحادی بنے گا ‘ امریکا آخر میں پاکستان اورفوجی آمر دونوں کو تنہاچھوڑد ے گا‘ پاکستان پر مزید امریکی پابندیاں لگیں گی‘ ملک مزید کمزور ہو گا‘ جمہوری حکومت آئے گی‘ نئے لیڈر ڈویلپ ہوں گے‘یہ ایک دو برسوں کے اقتدار کے بعد اختیار مانگیں گے ‘یہ ہٹا دیئے جائیں گے‘یہ مقدمے بھگتیں گے‘یہ جلاوطن ہوں گے اور یہ تڑپتے سسکتے ہوئے گمنامی میں انتقال کر جائیں گے‘۔تیسرا نتیجہ‘ ملک میں ہر ’’تبدیلی‘‘ کے بعد پہلے سے زیادہ کم عقل‘ نالائق‘ ناتجربہ کار اور کرپٹ لوگ اوپر آئیں گے‘ یہ لوگ بھی جب ضمیر کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جائیں گے‘ یہ جب ملک اور سسٹم سے مخلص ہو جائیں گے تو یہ بھی ہٹا دیئے جائیں گے اور ان کی جگہ ان سے بدتر لوگ سامنے آ جائیں گے‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ کسی دن پارلیمنٹس کا ڈیٹا جمع کر لیجئے آپ کو ہر نئی پارلیمنٹ پرانی پارلیمنٹ کے مقابلے میں زیادہ نالائق اور زیادہ کرپٹ لوگوں کا مجمع ملے گی‘ آپ کو ملک میں ہر وہ شخص بھی زیادہ دیر تک مسند اقتدار پر نظر آئے گا جس نے کچھ نہیں کیا اور ہر اس شخص کی مدت کم ہوگی جو کچھ کرنے کی غلطی کربیٹھا ہو‘ ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے سات لوگ مسند اقتدار تک پہنچے‘ان میں سے ایک نے آئین بنانے کی غلطی کی اور وہ عبرت کی نشانی بن گیااور چوتھا نتیجہ ‘ ہماری ستر برس کی تاریخ نے ہماری جمہوریت اور فوج دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کئے‘ دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہوئی اور جمہوریت اور فوج دونوں اس خلیج سے کمزور ہوتے چلے گئے‘اس خلیج نے ہمارا بیوروکریٹک سسٹم بھی تباکر دیا‘ ملک میں احتساب اور انصاف کا جنازہ بھی نکل گیا اور ملک میں سیاسی چیلوں کا ایک ایسا غول بھی پیدا ہوگیا جو ہر وقت اقتدار کی خوراک کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے‘یہ لوگ پرانا تالاب سوکھنے سے پہلے اڑ جاتے ہیں اور جہاں نئے چشمے کے آثار پیدا ہوتے ہیں یہ وہاں ڈیرے ڈال لیتے ہیں‘ ان سیاسی چیلوں نے پورے ملک کا کلچر خراب کر دیا ‘ ہم سب مفادپرست ہو چکے ہیں اور ہم سب روز داؤ لگانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں‘ ہمارا پورا معاشرہ گل سڑ چکا ہے۔ہمارے پاس اب کیا آپشن ہیں‘ ہمارے پاس اب دو آپشن ہیں‘ ہم یہ سلسلہ اسی طرح چلنے دیں اور قدرتی عمل کے بعد تاریخ کے خاموش قبرستان میں دفن ہو جائیں یا پھر ہم تاریخ کا دھارا بدل دیں‘ ہم اگر دوسرا آپشن لیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بات پلے باندھنا ہو گی کہ یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور یہ جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا چنانچہ دونوں طاقتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا‘ دوسرا‘ فوج اور عدلیہ کسی قیمت پر سیاست میں مداخلت نہ کریں‘ سیاسی جنگیں ہونے دیں‘یہ جنگیں سیاست کو خودبخود ٹھیک کر لیں گی اور تیسرا‘سیاسی قائدین قسم کھا لیں یہ پارٹی کو پارٹی کی طرح چلائیں گے‘ یہ اسے جاگیر یا فیکٹری نہیں بنائیں گے‘ یہ دوسروں کوغیر جمہوری طریقے سے ہٹائیں گے بھی نہیں اور عوام بھی یہ فیصلہ کر لیں ہم اپنے ووٹ کو جائےنماز کی طرح پاک رکھیں گے‘ یہ ملک بچ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچے گا اور ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا احتساب اور انصاف کے بغیرکوئی ملک ترقی نہیں کرتا‘ترقی بالٹی کی طرح ہوتی ہے اور کرپشن اور ناانصافی اس بالٹی کے سوراخ ہوتے ہیں‘ ہم جب تک یہ سوراخ بند نہیں کریں گے ہماری بالٹی اس وقت تک نہیں بھرے گی چنانچہ میاں نواز شریف کی موجودگی میں ہو یا پھر ان کے بعد ہو ہمیں بہرحال احتساب اورانصاف کا مضبوط سسٹم بنانا ہوگا‘ ایک ایسا سسٹم جو اگر مشرق کو مغرب کہہ دے تو پھر مغرب مشرق ہو جائے‘ کوئی اس ہونے کو روک نہ سکے اور ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر ہمارے ساتھ وہ ہو کر رہے گا جو ہم سے پہلے تاریخ میں ہم جیسی قوموں کے ساتھ ہوتا رہا تھا۔

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

  تئیس جون 2017 بمطابقستائیس رمضان المبارک1437 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک 
برس کے دوران "دلیل ویب سائیٹ" پر میری  چھیاسٹھ(66) تحاریر شائع ہوئیں،جن کی  ماہ بہ ماہ تفصیل کچھ یوں ہے۔
ویب سائیٹ "دلیل" پر2016 سے شائع ہونے والی تحاریر۔۔۔۔۔
(6)۔2016۔۔۔اگست (1) ۔۔۔ ستمبر(10)۔۔۔ ۔اکتوبر(11)۔۔ نومبر(6)۔۔۔ دسمبر
۔2017۔۔ ۔جنوری (7)۔۔۔ فروری(7) ۔۔۔۔مارچ(7) ۔۔اپریل (4)۔مئی (3)۔ جون(4)۔
۔"دلیل ویب سائیٹ" کی سالگرہ کے لیے لکھی گئی خصوصی  تحریر۔۔
دلیل کا سفر اور کارواں کی تشکیل"- نورین تبسم"
۔27 رمضان1437ھ۔۔۔27رمضان 1438ھ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا ایک فرد اور پھر ایک گروپ کی سوچ سے آغاز کرنے والی" دلیل ویب سائیٹ"کے قیام  کو ایک برس مکمل ہوا۔دلیل انتظامیہ کو سفرِ بخیر کی بہت بہت مبارکباد۔دلیل  جڑنے والا تعلق دو جہتیں لیے ہوئے ہے۔۔۔ ایک قاری اور دوسرا لکھاری۔بحیثیت قاری  بات کی جائے تو "دلیل"حالاتِ حاضرہ  اور معاشرتی مسائل سے لے کر فرد کے ذاتی احساسات،مشاہدات اور تجربات کی نمائندگی کرتی تحاریر سے سجا ایسا رنگارنگ گلدستہ ہے جو آنے والے ہر قاری کی اس کی ذہنی سظح  اور اخلاقی رجحان پر آ کر تسلی وتشفی کرتا ہے۔"دلیل"پر نہ صرف کئی منفرد تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں بلکہ اخبارات  میں شائع ہونے والے کالمز کا عمدہ انتخاب  بھی "دلیل" کو ہم سب کے لیے خاص بنا دیتا ہے۔ 
بطور لکھاری محسوس کروں تو "دلیل"  اپنے لکھنے والوں کو ایک باوقار اور پُراعتماد  فضا فراہم کرتی ہے جہاں وہ  حدودوقیود کے اندر رہتے ہوئے  دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔
  دلیل میں  قاری کی سہولت کے لیے کچھ تجاویز۔۔۔۔
٭ دلیل میں روزانہ کی بنیاد پر شائع ہونے والی تحاریر کی فہرست آنی چاہیے تا کہ قاری کو پتہ چلے کہ آج کتنی اور کون کون سی تحاریر  سامنے آئیں۔
٭ آن لائن اخبار میں "گذشتہ شماروں" کی طرز پر دلیل میں  بھی سابقہ تحاریر کی ایک مربوط  جگہ ہونی چاہیے جہاں قاری 
گذشتہ روز،گذشہ ہفتے  اور پھر پورے مہینے کی تحاریر  پر نظر ڈال سکے۔
٭ ہفتے کی بہترین تحریر یا مہینے کی عمدہ تحریر کی نشاندہی ضرور ہونی چاہیے۔ اس کے لیے  پوسٹ ویوز کے طریقِ کار سے ہٹ کر کچھ طے کیا جانا چاہیے کہ کبھی بہت ہی اچھی اور منفرد تحریر کو بھی بہت کم ویوز دکھائی دیتے ہیں۔
دلیل  میں لکھاری کے لیے۔۔۔
٭ دلیل میں شائع ہونے کے بعد اپنی کسی تحریر میں املاء  کی کوئی غلطی دکھائی دے جائے تو اسے ٹھیک کرنا محال ہو جاتا  ہے۔ جیسے کہ ہم اپنے بلاگ میں کوئی بھی تحریر پوسٹ کیے جانے کے بعد کبھی بھی  ایڈٹ کر کے  اُس کی درستگی  کر سکتے ہیں۔
٭ دلیل میں ڈائجسٹ ٹائپ کی سنسی خیز  طویل اور قسط وار تحاریر کی گنجائش  بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ایک تو وقت کا زیاں دوسرے یہ دلیل   کے قاری کے مزاج پر گراں گذرتی ہیں۔ 
٭بےشک دلیل بنانے کا مقصد اللہ کی رضا میں رہتے ہوئے علمِ نافع کا حق ادا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دلیل ویب سائیٹ مکمل طور پر  دعوت وتبلیغ کی اسلامی ویب سائیٹ نہیں کہ جس کے اجر کا ذمہ اللہ کے سوا کسی کے  پاس نہیں۔دلیل انتظامیہ کو ایک قدم اور  آگےبڑھتے ہوئے اشتہارات  یا سپانسرشپ کی طرف جانا چاہیے۔یہ دوسری بات ہے کہ اس میں بھی اسلامی اقدار  اور اخلاقیات  کو پہلی ترجیح دی جائے۔ یہ کوئی بری بات ہرگز نہیں بلکہ اس سے دلیل کے لیے کام کرنے والے "رضاکاروں" کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ اپنے وقت اور علم  کو بہتر طریقے سے دلیل کے لیے وقف کر سکیں   گے۔رہی بات دلیل مصنقین کی تو اپنی سوچ کو لفظ میں ڈھالنے کے بعد لکھنے والے کا سب سے بڑا انعام ہی یہی  ہے کہ اس کے لفظ کسی کی نگاہ کو چھوتے ہوئے اُس کے دل میں اتر جائیں۔ دلیل مصنفین کے لیے ہرگز کسی قسم کے  مالی فوائد  کا اجراء نہیں ہونا چاہیے اس سے ایک تو لکھنے والے کی ذہنی آزادی متاثر ہوتی ہے اور دوسرے بلاوجہ کی چپقلش یا تعصب کا شائبہ بھی جھلکتا ہے۔
آخری بات 
دلیل ویب سائیٹ کی مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے بہت سی دعائیں۔ دلیل انتظامیہ کی تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ اُن کے  اعتماد کی بدولت میری تحاریر کا میرے بلاگ سے دلیل کی طرف سفر جاری رہا۔ 

"رمضان ،روزہ اور ہم"

رمضان المبارک1438ھ بمطابق جون 2017
" دہشت گردی سے شرانگیزی کی جنگ تک "
اس میں شک نہیں کہ روزہ روزہ ہوتا ہے،دورانِ روزہ  چاہے"سو سو کر جاگا جائے" یا جاگ جاگ کر سویا جائے۔ کیا دور آگیا ہے کہ وہ محاورے ماضی میں جن کی وضاحت کرنا پڑتی تھی آج من وعن اُسی طرح برتے جا رہے ہیں۔ بات ہو رہی تھی سو سو کر جاگنے کی تواس کا عملی ثبوت ہمیں اپنی زندگیوں میں یوں اُمڈ اُمڈ کر ملتا ہے جب راتوں کو جاگنے والے صبح دم گھوڑے گدھے بیچ کر سوتے ہیں ۔یہ دوسری بات ہے کہ راتیں خواہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کٹیں،جناب میڈیا کے سامنے عقیدت کی چادر چڑھاتے ہوئے اور یا محب الوطنی کے اکلوتے ٹریڈ مارک"کرکٹ"کے میچز دیکھ کر۔ رمضان کا مہینہ سال کے گیارہ ماہ گزرنے کے بعد آنے والا وہ بارہواں مہینہ ہے جو ہر نام نہاد پیدائشی مسلمان کو ایک بار تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی دینی حمیّت جانچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ کوئی کتنا ہی "موڈریٹ" مسلمان ہو یا نعوذ باللہ اسلام کی فرسودہ تعلیمات و پیغام کا زمانۂ حال کے مطابق پرچار کرنے والا لبرل عالم ِدین۔ اس ماہ کم ازکم ایک پل کو دل میں ہی سہی سوچتا ضرور ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس ایک ماہ میں کچھ بھی تو نہیں بدلتا!!!  فرد کی سطح پر اور نہ ہی معاشرے میںکہیں ایک انچ کی تبدیلی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ہمارے بازاراسی طرح پُررونق ہیں۔۔۔ہمارے تعیشات اسی طرح جاری وساری ہیں۔۔۔ہماری ملکی سیاست اسی طرح چند افراد۔۔۔ چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔۔۔ ہمارے خوشحال طبقات اسی طرح "سانوں کی" کا ورد کرتے ہوئے زندگی کالطف اٹھائے جارہے ہیں۔۔۔ہماری افطاریاں ہماری سحریاں دیسی بدیسی طعام گاہوں  کے پُرکشش پیکجز سے استفادہ کرتی ہیں۔جہاں  بسااوقات ایک فردکے افطار یا سحر کا خرچ ایک پورے خاندان کے ہفتے بھر کے  کھانے کےبرابر سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔بھرے پیٹ کے دین دار امیر آدمی کے لیے تو  پہلے بھی رمضان کا مہینہ  عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتا تھا۔گرم موسم  میں  ڈائٹنگ کی مفت سہولت کے ساتھ ٹھنڈے کمروں  میں کاروبارِحیات سرانجام دے کر سحروافطار میں لذتِ کام ودہن بکھیرتی عالیشان کھانے کی میزوں سے لے کر  افطارپارٹیوں کے "گیٹ ٹو گیدر" عین کارِثواب  ہی تو ہیں ۔ بقول شاعر"رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی"۔ اب میڈیا کے توسط سے رمضان  کے "فیوض" میں عام آدمی بھی داخل ہو گیا ہے۔ وہ جس  کو دو وقت کی روٹی کے لیے ہر روز کنواں کھودنا پڑتا ہے ،اُس کے گھر میں اب ایک جادوئی ڈبہ موجود ہےجو کچھ پل کو ہی سہی اپنے ماحول سے یکدم دور کر دیتا ہے۔ پیٹ کی آگ جو کبھی نہیں بُجھتی لیکن نفس کی بھڑکتی آگ ضرور ذرا دیر کو تسکین پانے لگتی ہے تو پیٹ کی بھوک پیچھے رہ جاتی ہے۔ ویسے بھی روزے کی حالت میں پیٹ کا  یہ خطرہ دور ہی رہتا ہے۔ وہ پہلے دور کے قصے تھے جب محض اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آتی تھی اب ساری دُنیا کے گریبان میں دیکھ لو ہر بات جائز اور منطقی ہے۔اور کیا فرق پڑتا ہے کہ روزہ روزہ ہوتا ہے چاہے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزرے یا دین کی باتیں اپنے من پسند ریپرز میں لولی پاپ کی طرح چوستے ۔ وہ دور گیا جب روزہ صرف بندے اور مالک کا معاملہ تھا اب تو یہ بندوں اور چینلز یا پھر انسان اور بٹنز کے درمیان ہو کر رہ گیا ہے ۔ حد ہو گئی ریموٹ کے بٹن ہوں یا ماؤس کا کلک اور یا پھر موبائل فون کے پیکجز ہر طرف عجب انہماک کا عالم ہے ۔ قرآن کا نسخہ جو رمضان میں اونچے طاقوں سے اُتر کر بڑے ذوق وشوق سے ہماری زندگی میں شامل ہوتا تھا اور دل میں تہیہ کرتے تھے کہ قرآن پڑھنا ہے خواہ ایک سے زیادہ بار مکمل پڑھیں یا ایک بار ہی سمجھ کر پڑھیں۔ اب تو ٹرانسمیشن اشد ضروری ہے کہ "لائیو" ہے جو گزر گئی تو ریکارڈنگ بھی نہ ملے گی بس ابھی وقت ہے اس کی "نیکیاں" لوٹنے کا ۔ قرآن تو چودہ سو سال سے ہمارے پاس ہے اور محفوظ ہے اور ہم کونسا برا کام کر رہے ہیں یہ تو عین دین داری ہے دین کی باریکیوں کو جاننا ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ میڈیا کی چکا چوند ہمارے اندر کی روشنی سلب کر کے ہماری آنکھیں چندھیائے دے رہی ہے اور ہم سوچنے سمجھنے سے عاری روبوٹ بنتے جارہے ہیں ۔ کسی تعصب سے قطع نظر یہ بھی سچ ہےکہ سال کے گیارہ مہینے اگر چینلز پر خرافات دکھائی دیتے ہیں تو وہ اس ماہ مشرف بہ اسلام تو ہو جاتے ہیں۔اب یہ اور بات کہ چاند رات کو سب چینلز  پھر اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ زہر زہر ہوتا ہے چاہے اسے شہد میں ملا کر دیا جائے اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے ۔اس ایک ماہ میں میڈیا سے محبت کا ایسا بیج بو دیا جاتا ہے جو بانس کے درخت کی طرح خاموشی سے یوں پروان چڑھتا ہے کہ گھر کے بڑے جو دینی ذوق سے یہ نشریات دیکھتے ہیں بعد میں اپنے بچوں کو روکنے ٹوکنے کے قابل بھی نہیں رہتے ۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر دین کو پھیلانا بلاشبہ جہاد کا مقام رکھتا ہے لیکن کیا صرف اس ایک ماہ ہمارے جیّد عالم ِدین اور درد مند دل رکھنے والے اسلامی اسکالر پورے سال کا قرض چکا دیتے ہیں؟ کیا یہ محض مسلمان ہونے کی زکٰوۃ ہے جو سال گزرنے پر فرض ہو جاتی ہے؟ ۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ ہمارا دینی شعور ہماری اسلام سے محبت ہماری قرآن سے دوستی سال کے گیارہ ماہ بھی برقرار رہنی چاہیے اس  بینڈ باجے کے ساتھ نہ سہی یا پھر گھڑی کا الارم بھی نہ ہو جو ہڑبڑا کر جگا دے بلکہ اس چاہت کو دل کی دھڑکن کے ساتھ جڑی اس مدہم سی خاموشی کی طرح ہونا چاہیے جو سوتے جاگتے زندگی کی نوید دیتی ہے۔ سب سے پہلے اپنا محاسبہ کریں پھر چینلز کو بھی چاہیے اگر اسلام سے اتنی عقیدت ہے تو سال کے باقی مہینوں میں کیوں نہیں۔ اپنے "پیک آورز" نہ سہی دن یا رات کا کچھ وقت ہر روز ایسے ہی "لائیو" پروگرام کیوں نہیں کرتے۔ ٹی وی  جو ہرخاص وعام سے لے کرسب کے لیے ارزاں تفریح کا ایک ذریعہ ہے وہاں دین ودنیا" محمودوایاز" کی طرح ایک صف میں ملتے ہیں۔۔۔ ایمان بھی بچتا ہے اور نفس بھی تسکین پاتا ہے۔لیکن کون سا ایمان !!!!۔
ایمان کو پرکھنے کے تین درجےـ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنےہاتھ سے مٹائے اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے مٹائے اور اگر زبان سے مٹانے کی طاقت نہ ہو اس برائی کو اپنے دل سے مٹائےیعنی دل سے اس سے نفرت کرے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزورترین درجہ ہے"۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 179جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 49سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1137سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1312سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1275وقت اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمان کے سب سے آخری درجے پر قدم جمانا بھی دشوار سے دشوارتر ہوتا جا رہا ہے۔ سارا فساد ”ہم ” کا پھیلایا ہوا ہے جب سے ترقی یافتہ بننے کی صف میں۔۔۔ کھڑے ہونے کی ہوس میں مبتلا ہوئے ہیں ” میں اور تو ” گزرے دور کی کہانی لگتی ہے ۔ آسمان چھونے کی خواہش پیروں سے زمین نکال رہی ہے  اور ہم بغیر کسی مشقت میں پڑے“بو کاٹا ” کی صدا لگا کر گُڈیاں لوٹنا چاہ رہے ہیں۔حد ہو گئی ۔۔۔ملک ہمیشہ کی طرح تاریخ کے نازک دور سے گذر رہا ہے۔ دُشمن سرحد پار نفرتوں کی فصل کاٹ رہا ہے تو سرحد کی حد پر طبلِ جنگ بھی بجا رہا ہےملک کے اندر سیاہ ست دان آنکھوں پر طاقت کے کھوپے چڑھائے انا کی میوزیکل چئیرز میں مصروف ہیں تو بیمارِوطن دیارِغیر کی بہکی فضاؤں میں تالی بجاتے، کمر لچکاتے عجیب عالمِ فراموشی میں محورقص نظر آتے ہیں۔ اہلِ اقتدار اگر جانے یا نہ جانے کے مخمصے میں گرفتار ہیں تو اہلِ ہوس بچا کچا ایمان بھنبھورنے میں مصروف۔ مفاد کے غازے میں لتھڑا میڈیا دشمن ملک میں "اپنی ثقافت" کا ڈنکا بجانے والے فن کاروں کی ناقدری پر نوحہ کناں ہے تو حال سے بےحال ہم عام عوام  نسلوں کی  مایوسیوں کے  بوجھ  ڈھوتے  جانے کب سے برہنہ پا چلتے چلے جارہے ہیں۔
اس دور ِپُرفتن میں سب سے زیادہ خوشی دُشمن کو ہو رہی ہو گی تو سب سے بڑی ندامت بھی عظیم سُپر پاور کے ہی حصے میں آئی ہے کہ جو کام سالوں کے ڈرون نہ کر سکے ،جو افراتفری دہشت گردی کے بڑے سے بڑے حملے نہ پھیلا سکے ،جو کام ہماری قوم کے بڑے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی سازشیں نہ کر سکیں ،جو کام "اِن" کے ایوان ِاقتدار کے پالے ہوئے کتے نہ کر سکے جنہوں نے قوم کی عفت وعصمت ،غیرت وحمیت ڈالروں کے عوض گروی تو کیا ڈنکے کی چوٹ پر نیلام کر دی اور جو کام زرد صحافت کے لفافے نہ کر سکے، جو کام روٹی روزی کی دوڑ میں اور ریٹنگ کے لالچ میں سرگرم میڈیا نہ کر سکا اور سب سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ،دُنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی ،ورلڈ آرڈر کا ورق ورق لکھنے والے بھی ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہوں گے کہ یہ قوم تو محض لاتوں کی بھوت تھی اور صرف پہلا پتھر پھینکنے کی دیر تھی۔
کیا کہیں کہ پہلا پتھر کس نے پھنکا تھا اور بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی بس یوں جانو کہ "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"  ہم کیا جانیں۔ ہم تو بس لاشے اٹھائے جاتے ہیں کبھی اپنوں کے کبھی سپنوں کے۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئیاس درد کی دواکرے کوئی 
یہ اوپن سیکرٹ ہم جیسے عام لوگوں کو سمجھ آ ریا ہے تو پھر ہمارے "اعلیٰ"دماغ کہاں گھاس چر رہے ہیں یہ بات بھول کیوں گئے ہیں کہ اس شاخ پر اُن کا آشیانہ بھی ہے ۔ہم عام عوام تو چلو پِس ہی رہے ہیں اور پستے رہیں گے۔"وہ" تو پیدا ہی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر ہوئے ہیں یا ہمارے ٹیکس کے بل پر ہمیں کنڑول کر رہے ہیں ، بیرونی دشمنوں سے بچانے کے علم بردار بھی ہیں ۔ کوئی بتائے ان کی ڈگریوں اور اندھےکی ریوڑیوں میں کیا فرق ہے ؟ ۔ ہم جاہل ہی بھلے کہ کم از کم یہ تو جانتے ہیں کہ "قاتل ہے دلداروں میں " سچ کہا ہے کہ
 ۔۔۔چوراں نال "مل" گئی اے " یا چوراں نام "رل" گئی ہے؟۔ہم نہیں جانتے۔جانتے ہیں تو بس یہ کہ اس ۔۔۔ میں ہر وہ شامل ہے جو جان کر بھی انجان بنا ہوا ہے۔
آنے والے وقت میں ممکنہ شرانگیزی کو روکنے کے لیے بحیثیت قوم ہمیں آگے بڑھنا ہے۔مسلک وفرقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر صرف اسلام اور پاکستان کو سامنے رکھنا ہے ورنہ  آج کل ہونے والے فساد میں آنے والے وقت کا نوشتہ دیوار دوسروں کے ہاتھ سے لکھا نظر آ رہا ہے۔حاصل ِ کلام یہ ہے کہ ہر شے کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور نفسا نفسی کے اس دور میں اپنے آپ کو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر کسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کریں کہ جو برائی ہے اس کو برائی جانا جائے  اور عارضی چمک دمک  کے پیچھے ابدی اندھیروں کا سودا نہ کیا جائے۔اللہ ہمیں ہمیشہ کی طرح ہمارے اس خود کے پیدا کردہ عذاب سے نجات دے اور مخلوق کے شر سے پناہ دے اور وسوسے ڈالنے والے شر سےبھی نجات دلائے۔اللہ ہمیں دہشت گردی سے شرپسندی کی اس جنگ میں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے آمین۔

"قران پاک میں تذکرۂ انبیاء علیہم السلام"

قرآن کریم میں  انبیاء  کرام کا ذکر دو طرح سے آیا ہے ۔۔۔ایک "قصص الانبیاء"یعنی انبیاءعلہیم السلام پر گذرنے والے واقعات وحالات اور دوسرا انبیاء کی اقوام کی اُن کے ساتھ کشمکش ۔قران پاک میں  پچیس رسولوں اور نبیوں کے نام  ہیں۔ قران پاک میں  پچیس انبیاءکرام کے نام  اور ان کا جتنی بار بھی تذکرہ کیا گیا ہے اُس کی تفصیل درج ذیل ہے۔۔۔۔  ٭ دو۔۔۔اول الانبیاءحضرت آدم علیہ السلام کا ذکرِمبارک  اُن کے نام کے ساتھ پچیس  (25 )  مقامات پر ہے۔ آخرالانبیاء حضرت "محمدﷺ"  کا نامِ گرامی قران پاک میں چار جگہ آیا ہے اور احمدﷺ ایک جگہ آیا ہے ۔۔۔ ٭1) محمدﷺ۔۔ سورہ آلِ عمران(3)  آیت 144۔۔٭2)  محمدﷺ۔۔۔سورہ احزاب( 33)آیت 40۔۔
٭3)  محمدﷺ۔۔۔سورہ محمد(47) آیت 2۔۔٭4) محمدﷺ۔۔۔ سورہ فتح(48) آیت 29۔۔اور "احمد"ﷺ ایک جگہ۔۔سورہ الصف(61) آیت6۔  ترجمہ۔۔"اور جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل!بےشک میں اللہ کا تمہاری طرف رسول ہوں (اور) تورات جو مجھ سے پہلے ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا، پس جب وہ واضح دلیلیں لے کر ان کے پاس آگیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے"۔٭اٹھارہ انبیاء کرام  کا ذکرسورہ انعام(6)کی چار آیتوں 83 تا86 میں ایک ساتھ آیا ہے۔۔۔٭آیت 83 میں  ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان ہے جبکہ قران پاک میں  کُل 69 مقامات پر  آپ کا ذکر ہوا ہے۔٭ترجمہ آیت 83۔۔۔"اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے"۔
٭آیت84 میں نو انبیاءکرام کا ذکرِمبارک ہے۔۔۔۔
ترجمہ آیت 84۔۔"اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں"۔
حضرت اسحاق علیہ السلام( 17 مقامات)۔۔حضرت یعقوب علیہ السلام دس سورتوں میں 16مقامات پر ۔۔حضرت نوح علیہ السلام( 43بار)۔۔حضرت داؤد علیہ السلام( 16 بار)۔۔حضرت سلیمان علیہ السلام(17بار)۔۔حضرت ایوب علیہ السلام(4مقامات)۔۔حضرت یوسف علیہ السلام(27 مقامات)۔۔حضرت موسیٰ علیہ السلام (  تقریباً 136بار)۔حضرت ہارون علیہ السلام(20 مقامات)۔٭آیت85۔۔ چار انبیاءکرام۔۔۔ترجمہ آیت85۔۔۔"اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے"۔حضرت زکریا علیہ السلام(7مقامات)۔۔حضرت یحییٰ علیہ السلام(5 مقامات)۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام(25 بار)۔۔حضرت الیاس علیہ السلام( 2 مقامات۔۔سورہ انعام(6) اورسورہ الصافات(37)  آیت 123 )۔٭آیت86۔۔ چار انبیاء کرام۔۔ترجمہ آیت86۔۔۔ "اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی" ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام(12 بار)۔۔ حضرت الیسع علیہ السلام(2 مقامات)۔۔ سورہ انعام(6) اور سورہ ص(38) آیت 48۔۔حضرت یونس علیہ السلام(4 مقامات)۔سورہ انعام(6)۔۔سورہ یونس(10) آیت98۔۔سورہ الصافات(37)  آیت139۔ حضرت لوط علیہ السلام(27مقامات)۔٭ تین انبیاء کرام ۔۔۔۔قران پاک میں اِن تین انبیاء کا ذکر اکثر مقامات پر اکٹھے ہی آیا ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام(9 مقامات)۔۔حضرت ہود علیہ السلام(7 مقامات)۔۔حضرت شعیب علیہ السلام(11 مقامات)۔٭ دو انبیاء کرام۔۔۔حضرت ادریس علیہ السلام(2 مقامات) ۔۔سورہ مریم (19) آیت 56 اورسورہ الانبیا(21) آیت 85۔حضرت ذوالکفل علیہ السلام(2 مقامات)۔ سورہ الانبیا(21) آیت 85اورسورہ ص(38)آیت 48۔۔۔۔۔۔قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھ سورتیں ہیں۔۔۔
٭  10 ویں سورہ ۔۔سورة یونس ۔٭11 ویں سورہ ۔۔سورة ہود۔٭12ویں سورہ۔۔سورة یوسف۔٭14 ویں سورہ۔۔سورة ابراہیم۔٭47ویں سورہ۔۔سورة محمدﷺ۔ ٭ 71ویں سورہ۔۔سورة نوح۔۔۔۔۔۔۔۔

"تھینک یو ایڈیسن "

تھینک یو ایڈیسن از جاوید چودھری اتوار‬‮82مئی7102 |  ربڑ آخری کوشش تھی‘ وہ لیبارٹری میں ربڑ بنانا چاہتا تھا‘ ربڑ بن گیا لیکن کوالٹی اچھی نہیں تھی‘ وہ کوالٹی بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا لیکن موت کا فرشتہ آ گیا‘ وہ مسکرایا اور اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا‘ موت کا فرشتہ اسے لے گیا مگر مجھے یقین ہے موت کے فرشتے کو اس کی جان قبض کرتے وقت بہت افسوس ہوا ہو گا‘ وہ اس سے آنکھ نہیں ملا پایا ہو گا‘ وہ ایک ایسے انسان کی آنکھ میں آنکھ کیسے ڈالتا جس نے اللہ کے دیئے ہوئے ایک ایک لمحے کو استعمال کیا‘ جس نے اپنی زندگی دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کےلئے وقف کر دی‘ میں صبح دس بجے اس عظیم انسان کی اس لیبارٹری کے دروازے پر کھڑا تھا جس میں اس نے نسل انسانی کو 1100 ایسی ایجادات دیں جنہوں نے ہم سب کی زندگی بدل دی‘ یہ دنیا رہنے کےلئے زیادہ بہتر ہو گئی‘ گارڈ نے تالہ کھولا‘ لوہے کے گیٹ سے چڑڑ چڑڑ کی آواز آئی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔آپ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ جائیں‘ آپ کچھ بھی کر رہے ہوں‘ آپ زندگی کی کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں آپ تھامس ایڈیسن کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ پلاسٹک ہو‘ سیمنٹ ہو‘ چھت کا پنکھا ہو‘ ٹیلی پرنٹر ہو‘ ٹائپ رائٹر ہو‘ آڈیو سسٹم ہو‘ فلم ہو‘ ایکسرے ہو‘ بیٹری ہو‘ فوم ہو‘ بجلی کا بلب ہو‘ ٹارچ ہو‘ بال پین ہو اورالیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن سسٹم ہو آپ دنیا کی کسی اہم ایجاد کا نام لیں آپ کو اس کے پیچھے ایڈیسن کا نام ملے گا‘ وہ ان پڑھ تھا‘ وہ چند ماہ سکول گیا‘ اساتذہ نے اسے نالائق قرار دے کر نکال دیا‘ آٹھ سال کی عمر میں تجربے شروع کئے‘ گھر کو آگ لگ گئی‘ مار پڑی لیکن وہ باز نہ آیا‘ ماں نے اسے گھر سے ذرا سے فاصلے پر تجربہ گاہ بنانے کی اجازت دے دی‘ وہ تجربے کرتے کرتے دس سال کا ہوا‘ ریل گاڑی میں اخبار بیچنے لگا‘ وہ اپنا اخبار خود شائع کرتا تھا‘ وہ ریل گاڑی کے باتھ روم میں بھی تجربے کرتا تھا‘ تجربوں کے دوران ایک دن ڈبے میں آگ لگ گئی‘ گارڈز نے اسے پلیٹ فارم پر پٹخ دیا‘ یہ مار اس کے ایک کان کی قوت سماعت لے گئی‘ وہ آدھا بہرہ ہو گیا لیکن وہ اس کے باوجود ڈٹا رہا‘ وہ تجربے کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان بن گیا‘ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ ایڈیسن سے پہلے کی دنیا اور ایڈیسن سے بعد کی دنیا۔وہ نیوجرسی میں رہتا تھا‘ وہ جس شہر میں رہتا تھا وہ پورا شہر آج ایڈیسن کہلاتا ہے‘ ایڈیسن شہر نیویارک سے 30 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے لیکن یہ شہر آپ کو وقت اور شکر میں تین سو سال آگے لے جاتا ہے‘یہ آپ کے دماغ کی ساری کھڑکیاں کھول دیتا ہے‘ آپ اگر علم پسند ہیں تو پھر ایڈیسن شہر میں تھامس ایڈیسن سے متعلق تین مقامات دیکھنا آپ پر فرض ہو جاتے ہیں‘ پہلا مقام ایڈیسن کی تجربہ گاہ ہے‘ یہ تجربہ گاہ سائنس کا کعبہ ہے‘ ہم اڑھائی گھنٹے اس کعبے میں رہے اور ہر پانچ منٹ بعد دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے‘ لیبارٹری کے بے شمار حصے ہیں‘ پہلا حصہ ایڈیسن کی لائبریری ہے‘ یہ لکڑی کی تین منزلہ عمارت ہے‘ عمارت کے چاروں طرف کیبن بنے ہیں‘ ہر کیبن کی دیواروں پر کتابیں لگی ہیں اور کتابوں کے درمیان ایک کرسی پڑی ہے‘ ہر کیبن سائنس کا ایک سیکشن ہے‘ ایڈیسن ان پڑھ تھا لیکن اس نے فرنچ‘ جرمن اور اطالوی زبانیں سیکھ لیں‘ وہ دن کا ایک بڑا حصہ لائبریری میں کتابیں پڑھ کر گزارتا تھا‘ لائبریری میں اس کا بیڈ بھی رکھا ہوا تھا‘ وہ اکثر اوقات پڑھتے پڑھتے وہیں سو جاتا تھا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لائبریریاں دیکھی ہیں لیکن یہ لائبریری انوکھی بھی تھی اور پرکشش بھی‘ یہ میرے دل میں اتر گئی‘ لیبارٹری کے دوسرے فلور پر ”فونو گرام“ کا کمرہ تھا‘ ایڈیسن نے فونو گرام ایجاد کر کے ہم انسانوں کو آڈیو سسٹم دیا تھا‘ فونو گرام پر ایڈیسن کے 35 سال خرچ ہوئے لیکن اس نے کمال کر دیا‘ اس سیکشن میں اس کے ایجاد کردہ فونو گرام اور ریکارڈ (ڈسکیں) رکھے ہیں‘ ا سے اگلا سیکشن اس کی چھوٹی تجربہ گاہ ہے‘ اس تجربہ گاہ میں ہزاروں چھوٹے بڑے آلات اور اوزار رکھے ہیں‘ یہ تجربہ گاہ ایک بڑی خراد گاہ سے منسلک ہے‘ خراد گاہ میں بڑی مشینیں لگی ہیں‘ اس نے خراد گاہ کےلئے بجلی کا اپنا نظام بنا رکھا تھا‘ وہ سسٹم تاحال موجود ہے‘ خراد سے اگلے سیکشن میں اس کی ایجاد کردہ اشیاءرکھی ہیں‘ اس سیکشن سے گزرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے دنیا کی ہر اہم چیز ایڈیسن نے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے مشین کے سامنے کھڑے ہو کر پتہ چلا‘ یہ مشین اس نے بڑی مشکل سے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے کی ایجاد کے دوران اس کے بے شمار ورکرز تابکاری کا نشانہ بنے اور انتقال کر گئے‘ وہ خو بھی تابکاری کا شکار رہا لیکن جب ایکسرے ایجاد ہو گیا تو اس نے یہ ایجاد عام کر دی‘دنیا کا کوئی بھی شخص اور کوئی بھی کمپنی ایکسرے مشین بنا سکتی تھی‘ یہ اس کی ذات کا کھلا پن اور فراخ دلی تھی‘ ایڈیسن کی تجربہ گاہ کا دوسرا اہم مقام کیمسٹری لیب تھا‘ یہ لیب لیبارٹری کے احاطے میں ایک الگ کمپاﺅنڈ میں قائم تھی‘ ہم کیمسٹری لیب میں داخل ہونے لگے تو گائیڈ نے اعلان کیا ”آپ دنیا کے ایک ایسے مقام میں داخل ہو رہے ہیں جس نے پوری دنیا کا لیونگ سٹینڈرڈ بدل دیا‘ یہ لیب انسانوں کی بہت بڑی محسن ہے“ ہم اندر داخل ہوئے‘ یہ کسی سائنس کالج کی لیبارٹری جتنی لیب تھی لیکن اس میں دنیا کی بڑی بڑی ایجادات وقوع پذیر ہوئی تھیں‘ بیٹری‘ ٹارچ‘ ایکسرے‘ فونو گرام کی ڈسک اور ربڑ سمیت بے شمار ایجادات نے اس لیب میں آنکھ کھولی تھی‘ لیب میں تمام اشیاءجوں کی توں رکھی تھیں‘ شیشے کے جاروں میں کیمیائی مادے بھی اسی طرح رکھے تھے اور میزوں پر ٹیوبیں اور اوزار بھی ایڈیسن کا انتظار کر رہے تھے‘ لیبارٹری کے شیشے دودھیا تھے‘ گائیڈ نے بتایا ایڈیسن کے حریف پہاڑی پر دوربینیں لگا کر اس کے کام کی جاسوسی کرتے رہتے تھے‘ ایڈیسن نے ان جاسوسوں سے بچنے کےلئے شیشے دودھیاں کر دیئے تھے‘ یہ لیبارٹری سردیوں اور موسم بہار میں قابل برداشت ہوتی تھی لیکن یہ گرمیوں میں ناقابل برداشت حد تک گرم ہو جاتی تھی مگر اس کے باوجود ایڈیسن اور اس کے ساتھی کام کرتے رہتے تھے‘ لیبارٹری کے صحن میں سیاہ رنگ کا وہ سٹوڈیو بھی موجود تھا جس میں ایڈیسن نے پہلی موشن فلم بنائی تھی‘ یہ سٹوڈیو دنیا میں سینما کی بنیاد تھا اور وہاں ایڈیسن کا بنایا ہوا دنیا کا پہلا بلب اور پہلا ٹائپ رائیٹر بھی موجود تھا‘ لیبارٹری کا ایک ایک انچ اس کے جینئس ہونے کی دلیل تھا اور آپ ہر جگہ رک کر دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ایڈیسن کا گھر تیسرا قابل زیارت مقام تھا‘ یہ گھر لیبارٹری سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا‘ یہ 29 کمروں کا محل نما گھر تھا‘ یہ گھر اس نے اپنی دوسری بیگم میناملرکےلئے خریدا تھا‘ گھر کے دائیں بائیں وسیع جنگل تھا‘ پچاس فٹ اونچے چیڑھ کے درخت تھے‘ درختوں کے درمیان چہل قدمی کےلئے راستے بنے تھے‘ گھر کے چاروں اطراف وسیع لان تھے‘ لان میں پھولوں کے قطعے اور بیلوں کی لمبی باڑ تھی‘ گھر اندر سے بادشاہوں کی رہائش گاہ لگتا تھا‘ دیواروں پر قیمتی پینٹنگز لگی تھیں‘ فرنیچر اور کراکری انتہائی قیمتی تھی‘ قالین اور صوفے سو سال پورے کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود یوں محسوس ہوتے تھے جیسے ایڈیسن ابھی یہاں سے اٹھ کر گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت واپس آ جائے گا‘ ایڈیسن کے ہیٹ‘ چھڑیاں‘ بوٹ اور کپڑے بھی سلیقے سے رکھے تھے‘
 کچن اور ڈائننگ روم بھی قابل استعمال محسوس ہوتا تھا‘ سٹڈی میں رائٹنگ ٹیبل رکھی تھی اور دیواروں میں کتابوں کی شیلفیں تھیں‘ وہ مطالعے کا رسیا تھا شاید اسی لئے اس کے گھر اور لیبارٹری دونوں جگہوں پر ہزاروں کتابیں موجود تھیں‘ وہ ایک باذوق انسان تھا‘ اس کا ذوق اور نفاست گھر کی ایک ایک چیز سے جھلک رہی تھی‘ گھر کے پچھواڑے میں دو قبریں تھیں‘ ایک قبر میں ایڈیسن محو آرام ہے اور دوسری میں اس کی اہلیہ مینا ملر‘ دونوں قبریں زمین کی سطح پر چھ انچ اونچی ہیں‘پتھر کی سلیٹی رنگ کی سل پر دونوں کے نام‘ تاریخ پیدائش اور انتقال کا سن تحریر تھا‘ سرہانے پھولوں کے درخت لگے ہیں‘ ہم قبر پر پہنچے تو شکور عالم صاحب نے فاتحہ کےلئے ہاتھ کھڑے کر دیئے‘ وہ دعا پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا ”سر کیا غیر مسلم کی فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے“ شکور صاحب نے فرمایا ”میں نے کسی غیر مسلم کی فاتحہ نہیں پڑھی‘ میں نے انسانوں کے محسن کا شکریہ ادا کیا ہے‘ یہ شخص نہ ہوتا تو ہم آج بھی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے‘۔یہ ہمارا محسن ہے‘ ہم اگر اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو ہم احسان فراموش کہلائیں گے“ میں نے شکور عالم صاحب سے اتفاق کیا‘ زور سے تھینک یو ایڈیسن کا نعرہ لگایا اور ایڈیسن کی قبر کو سیلوٹ کر دیا‘ وہ شخص حقیقتاً پوری دنیا کے سیلوٹ کا حق دار تھا‘ وہ نہ ہوتا تو شاید ہم اتنی شاندار دنیا میں نہ ہوتے‘ ہماری راتیں شاید اندھی اور دن شاید بےرنگ ہوتے۔

"خاموشی"

خاموشی
لفظ کی صورت 
کاغذ پر اترتی ہے
خاموشی 
گیت کی صورت 
لبوں پر مچلتی ہے 
خاموشی 
سانس کی مانند
روح میں اترتی ہے 
خاموشی دل میں رہتی ہے 
 خاموشی درد میں بہتی ہے۔ 25 اپریل 2013۔

"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے"

" اردو اردو"
وطن کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے تو اردو اس کے سر کی ردا ہے۔ اور وطن کی مٹی کی بات ہو تو اردو اس مٹی کی خوشبو ہے۔وہ خوشبو جو قریب رہ کر اتنی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن ! جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا ہے ،انسانوں کے ہجوم میں تنہائی گرفت میں لیتی ہے ،شناخت کی بےیقینی تشنگی میں بدلتی ہے تو پھر ماں کی ردا اور بارش میں سوندھی مٹی کی مانند خوشبو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
جناب محمد ظہیر قندیل  نے اردو  لکھتے ہوئے عام غلطیوں کی نشاندہی کی جو ہم عام طور پر کرتے رہتے ہیں ۔
تحریر از محمدظہیرقندیل۔۔"عربی فارسی کے بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کےآخر میں ‘‘ہ’’ آتی ہے۔ اس سے پہلے لفظ پر اگر زبر ہو تو اس کی آواز ‘‘ہ" کی طرح نہیں نکلتی بل کہ اپنے سے پہلے حرف کو ہلکا سا سہارا دیتی ہے۔ جیسے : کعبہ، پیمانہ، پردہ، جلوہ ، نعرہ، قبلہ وغیرہ۔ اس ‘‘ہ’’ کو ‘‘ہائے مختفی’’ کہا جاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ہائے مختفی صرف فارسی اور عربی کے الفاظ کے آخر میں لگتی ہے۔ ان کے سوا کسی بھی زبان کے الفاظ کے آخر میں ‘‘ہ’’ نہیں لگتی۔ ہم اردو میں کثرت سے ایسے الفاظ کا املا غلط کرتے ہیں۔
ان میں سے چند درست الفاظ یہ ہیں جنھیں ہائے مختفی کے ساتھ غلط طور پر لکھا جاتا ہے۔
بھروسا، پتا (addresss ) (پتّا ۔درخت کا)، اکھاڑا، باڑا، روپیا، پیسا، رکشا، ڈراما، گھنٹا، بلبلا، بنگلا، بدلا، میلا، بھُرتا، سموسا، پیڑا، پسینا، تولیا، تانگا، ٹخنا، کمرا، جھروکا، بھوسا، توٹکا، ٹولا، چارا(جانوروں کی خوراک)، خاکا، چھاپا، دھاگا،راجا، زردا، ڈھکوسلا،کٹورا، کھاتا، کیمرا، گملا، گھونسلا، لاسا، مسالا، ملغوبا، ملیدا، ملبا، مورچا، مہینا،۔۔۔از ۔ محمد ظہیر قندیل"۔
۔۔۔۔نہیں کھیل اے داغ،یاروں سے کہہ دو"
"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے( مرزا داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
(1831۔1905۔۔۔)پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
 اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟ابھی سن ہی کیا ہے؟ جو بیتابیاں ہوں
 اُنہیں آئیں‌گی شوخیاں آتے آتےنتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی
 وہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتےنہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
 بہت دیر کی مہرباں آتے آتےسنانے کے قابل جو تھی بات ان کو
 وہی رہ گئی درمیاں آتے آتےمرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے
 چمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتےنہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو
 کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
۔۔۔۔۔۔
"اردو ہے جس کا نام"۔۔۔کالم از شاہنوازفاروقی
٭حصہ اول ۔19فروری 2017۔
٭حصہ دوم۔۔۔20فروری 2017

"صاحباں کے مرنے پر کُل خدائی آ گئی"

  محترمہ بانو قدسیہ کے انتقال(5فروری 2017) کے بعد جناب مستنصرحسین تارڑ کے آنے والے دو کالم۔۔۔۔
٭1) 12فروری 2017۔۔۔
صاحباں کے مرنے پر کُل خدائی آ گئی۔۔۔مستنصرحسین تارڑ 
 ایک مرتبہ پھر ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر ’’داستان سرائے‘‘ کی جانب جتنی بھی گلیاں جاتی تھیں، جتنی سڑکیں اُس سرائے کی طرف اترتی تھیں وہ سب کی سب لوگوں کے ہجوم سے اَٹی پڑی تھیں، اتنے لوگ بے شمار کہ وہ حرکت نہ کرتے تھے، ہولے ہولے سرکتے تھے، نوجوان عورتیں اور بوڑھیاں جیسے گھر سے کسی ماتم کدہ کی جانب رواں ہوں، اُن کے چہرے الم کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، صرف اُن کی آنکھیں تھیں جو آنسوؤں سے روشن ہوتی تھیں۔۔۔ وہاں معاشرے کے ہر طبقے کے افراد چلے آتے تھے، غریب اور مسکین بھی، ثروت مند اور حکمران بھی، کئی سفید ڈاڑھیوں والے نامعلوم درویش بھی۔۔۔ اور یہ سب سر جھکائے آنے والے لوگ حیرت انگیز طور پر آپس میں گفتگو نہ کرتے تھے، صرف اُن کی قدموں کی سرسراہٹ کی آواز آتی تھی جیسے کسی درگاہ پر حاضری دینے والے معتقدین کے قدموں سے آتی ہے۔۔۔ کبھی کبھار کسی پولیس کے ہوٹر کی آواز ماحول کی خاموشی پر ایک الم ناک چیخ کی مانند اتر کر اُس کو کرچی کرچی کر دیتی ہے۔۔۔
 آخر یہ کون سا میلہ تھا جہاں لوگ کشاں کشاں چلے آ رہے ہیں، کیا یہ اس جگ والا وہی میلہ تھا جو تھوڑی دیر کا ہوتا ہے، ہنستے ہوئے رات گزر جاتی ہے اور کچھ پتا نہیں سویر کب ہو جائے، وہی موت کا میلہ تھا۔اور آخر یہ کون سا ’’کھیل تماشا‘‘ ہے کہ اسے دیکھنے کی خاطر ایک دنیا اُمڈ اُمڈ آتی ہے۔
۔’’زبیر۔۔۔ یہ جان لو کہ یہ جنازہ اشفاق احمد کی بیوی کا نہیں، یہ بانو قدسیہ کا جنازہ ہے‘‘۔
 اور آج بانو قدسیہ ہار گئی تھی۔۔۔ جب اشفاق احمد نے اُس کے لئے اپنا خاندان، اپنا حسب نسب، اپنی جائیداد اور سب سگے چھوڑ دیئے، اشفاق کو اس لئے عاق کر دیا گیا کہ اُس نے اُن سب کی مخالفت کے باوجود چپکے سے چند دوستوں کے ساتھ قدسیہ بانو چٹھہ سے نکاح کر لیا تھا اور اُسے بانو قدسیہ کا نام دیا تھا تو اُس لمحے اُس چٹھہ جاٹ لڑکی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے پٹھان محبوب کے لئے اپنا سب کچھ تیاگ دے گی۔۔۔ ساری عمر اُس کی باندی بنی رہے گی، اُس کے پیچھے پیچھے سر جھکائے چلے گی، اپنی باگیں کھینچ کر اپنی انا اور تخلیق کے گھوڑے کو کبھی اس کرشن کی سرکشی کے گھوڑے سے آگے نہیں لے جائے گی۔۔۔ وہ اپنے آپ کو وقف نہیں تلف کر دے گی۔۔۔ وہ ایک میرا بائی ہو گئی جو کرشن سے بیاہی گئی اور ساری عمر اُس کے گیت گاتی رہی۔
ہے آنکھ وہ جو شام کا درشن کیا کرے
ہے ہاتھ وہ جو بھگوان کا پوجن کیا کرے
یعنی۔۔۔ رانجھا رانجھا کر دی میں آپ ہی رانجھا ہوئی۔۔۔
 اُس نے اشفاق احمد کو اپنا شام، اپنا کرشن، اپنا رانجھا اور مہینوال کر لیا۔۔۔ یہ لاہور کا ’’جادو گھر‘‘ فری میسن ہال تھا، کوئی ادبی تقریب اختتام پذیر ہوئی اور میں بانو آپا سے گفتگو کرتا باہر آنے لگا تو وہ صدر دروازے پر رُک گئیں ۔ ’’آئیں بانو آپا‘‘۔۔۔ وہ رُکی رہیں، دہلیز کے پار قدم نہ رکھا اورپھر کہنے لگیں ’’خان صاحب اپنے دوستوں اور مداحوں میں گھرے ہوئے ہیں، جب وہ آئیں گے اور باہر جائیں گے تو میں اُن کے پیچھے جاؤں گی، اُن سے پہلے نہیں‘‘۔مجھے یہ شوہر نامدار کی اطاعت کا رویہ اچھا نہ لگا تو میں نے شاید کہا کہ بانو آپا پلیز۔۔۔ تو وہ کہنے لگیں ’’مستنصر، پہلے انجن آگے جائے گا اور پھر اُس کے پیچھے ہی گاڑی جائے گی‘‘۔۔۔ اس اطاعت گزاری کے باوجود اشفاق صاحب کے خاندان نے کبھی اُنہیں مکمل طور پر قبول نہ کیا یہاں تک کہ اشفاق صاحب کے جنازے پر اُن کا ایک بھائی ایک سفید پیراہن میں تھا جس پر لکھا تھا ’’بانو قدسیہ میرے بھائی کی قاتل ہے‘‘۔۔۔ اُن کا کمالِ نَے نوازی اُن کے کچھ کام نہ آیا۔ میں یہاں وہ لفظ نہیں لکھ سکتا جو اُن کے کچھ اہل خاندان اُن کے لئے استعمال کرتے تھے۔۔۔ اُدھر اشفاق احمد بھی ایک بلند سنگھاسن پر براجمان ایک ایسے دیوتا تھے جن کے چرنوں میں اگر عقیدت کے پھول کم نچھاور کئے جاتے تھے تو وہ اسے پسند نہ کرتے تھے۔ پٹھان اشفاق احمد اکثر بابا اشفاق احمد پر حاوی ہو جاتا تھا۔۔۔
 یہ عجب اتفاق ہے کہ میں اُس روز ماڈل ٹاؤن پارک کے دوستوں کے ہمراہ عادل کے ترتیب شدہ سفر کے نتیجے میں لاہور سے باہر۔۔۔ بھائی پھیرو اور جڑانوالا کی جانب پنجاب کی ایک عظیم رومانوی داستان کی کھوج میں مرزا صاحباں کی نسبت سے مشہور گاؤں داناباد گیا تھا۔۔۔ صاحباں اور مرزا کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر لوٹ رہا تھا، اور بارش بہت شدید تھی جب ایک ہم سفر نے مجھے بتایا کہ بانو قدسیہ مر گئی ہے۔۔۔
 میں اُس شب برستی بارش میں ’’داستان سرائے‘‘ پہنچا تو وہاں اتنا ہجوم تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔۔۔ نورالحسن روتا چلا جاتا تھا۔۔۔ اُن کا بیٹا اسیر میرے گلے لگ کر رو دیا۔۔۔
۔’’آپ اندر جا کر بانو آپا کو دیکھ لیں‘‘۔۔۔
’’نہیں، میں نے نہیں دیکھنا‘‘۔۔۔
 تو یہ اگلا دن ہے جب ’’داستان سرائے‘‘ کی جانب جاتے سب راستے ہجوم سے بھرے پڑے تھے اور آج بانو قدسیہ اپنے کرشن سے اس لئے ہار گئی تھیں کہ اُن کا جنازہ اُن سے بہت بڑا تھا۔۔۔
صاحباں ہار گئی تھی۔۔۔
مرزا کے جنازے پر کم لوگ آئے تھے۔۔۔
صاحباں کے مرنے پر پوری خدائی آ گئی تھی۔
۔۔۔
٭2)15فروری 2017)۔املتاس کا ایک زرد پُھول بانو قدسیہ کے سفید بالوں پر۔۔۔مستنصرحسین تارڑ اشفاق صاحب کی وفات کے بعد بانو آپا حقیقتاً بھری دنیا میں اکیلی رہ گئیں۔۔۔جس دیوتا کے چرنوں میں وہ ہمہ وقت عقیدت اور اطاعت گزاری کے پھُول چڑھاتی تھیں، وہ اپنا سنگھان چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔صرف اُن کے بیٹے اسیر نے اُن کا ساتھ نہ چھوڑا، بقیہ دو بیٹے بھی اپنی ماں کے وجود سے بے خبر اپنی اپنی حیات کے بکھیڑوں میں اُلجھے رہے، منظور جھلّے نے کہا تھا کہ :
واجاں ماریاں کئی وار وے۔۔۔ کسے نے میری گَل نہ سُنی
 اُنہوں نے بھی آوازیں بہت دیں پر کسی نے اُن کی بات نہ سُنی۔۔۔ نہ اشفاق صاحب کے رشتے داروں نے اور نہ ہی اُن کی کسی بہو نے۔۔۔بلکہ اُن پر اپنے دروازے بند کرلئے۔۔۔بانو کی زندگی یونانی المیہ ڈراموں سے بھی کہیں بڑھ کر الم ناک اور دُکھ بھری تھی۔ اشفاق صاحب کے رخصت ہونے پر وہ کبھی کبھار صبح سویرے ماڈل ٹاؤن پارک میں چلی آتیں، اپنا دوپٹہ بار بار سفید بالوں پر درست کرتیں، اپنے دھیان میں مگن چلی جاتیں۔۔۔وہ جون جولائی کے قہر آلود گرم موسم تھے اور پارک میں املتاس کے جتنے بھی شجر تھے اُن پر زرد چینی لالٹینیں روشن ہو گئی تھیں۔ ہوا کا ایک جھونکا سرسراتا آیا، املتاس کے پھولوں کے انبار میں ارتعاش پیدا ہوا اور وہ پھول درختوں سے جدا ہو کر ایک زرد بارش کی صورت دھیرے دھیرے گرنے لگے۔ ان میں سے ایک پھول، ایک زرد تتلی کی مانند ایک بھنورے کی مانند گھومتا اترا اور بانو آپا کے سفید بالوں میں اٹک گیا۔ وہ اُس کی موجودگی سے بے خبر تھیں اور یہ منظر میرے ذہن کے کینوس پر ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا۔۔۔ایک بوڑھی ہیر جس کا رانجھا اُس سے بچھڑ گیا تھا اُس کی اداسی میں گُم اور اُس کے سفید بالوں میں املتاس کا ایک زرد پھول یُوں اٹکا ہوا ہے جیسے وہ اُس کے محبوب کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک خط ہو اور وہ بے خبر ہے کہ شاید اُس کے رانجھے نے اُسے یہ زرد پریم پتر بھیجا ہے اور تب مجھے محسوس ہوا جیسے اُس املتاس کے زرد پُھول کا رنگ اُن کے بالو میں سرایت کرتا اُنہیں زرد کرتا ہے، اُن کے چہرے پر پھیلتا اُسے سرسوں کا ایک کھیت کرتا ہے اور بانو قدسیہ اُس لمحے ملک چین کی کوئی زرد شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔میں نے اس بے مثال زرد تصویر کو اپنے ایک کالم میں نقش کیا۔۔۔چونکہ میں نہ کبھی کسی کو اطلاع کرتا ہوں اور نہ ہی اپنے کالم کی کاپی روانہ کرتا ہوں کہ دیکھئے یہ میں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ میں کسی کے لئے نہیں صرف اپنے لئے لکھتا
 ہوں۔۔۔تقریباً ایک ماہ کے بعد بانو آپا کا ایک خط آیا، اُن کے کسی چاہنے والے نے اُنہیں اس کالم کی فوٹوسٹیٹ روانہ کی تھی، بانو آپا نے جس طور اُس تحریر کو سراہا اُسے میں یہاں نقل کرنے سے گریز کرتا ہوں۔
 وہ میرے تینوں بچوں کی شادیوں میں شریک ہوئیں، ہر ایک کی ہتھیلی پر کچھ رقم رکھی۔۔۔اُن کے لئے دعا کی، اُنہیں پیار کیا۔۔۔ اُن کی موت کی خبر اُن تینوں تک نیویارک، فلوریڈا اور ہنوئی میں پہنچی تو وہ کتنے دُکھی ہوئے یہ میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔سُمیر نے کہا، ابّو میں نے ابھی تک وہ نوٹ سنبھال رکھا ہے جو بانو آپا نے مجھے پچھلی عید پر عیدی کے طور پر دیا تھا۔ وہ ہمیشہ میری خوشیوں میں شریک رہیں۔۔۔میری پچھترویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے وہ اپنی نرس اور زبیر اکرم کے سہارے چلی آئیں۔ وہ اور عبداللہ حسین صدارت کے لئے میری پسند تھے کہ وہی میرے نزدیک اردو ادب کے سب سے بڑے نثرنگار تھے۔۔۔ جب ابرارالحق اور فریحہ پرویز میری سالگرہ کے گیت گانے کے لئے سٹیج پر آئے تو وہ مسکرانے لگیں، کبھی کبھی سر ہلا کر اُنہیں داد دیتیں۔۔۔جب گلزار صاحب کی آواز سپیکر پر گونجی اُنہوں نے سالگرہ کے حوالے سے کچھ توصیفی کلمات کہے تو پُوچھنے لگیں۔۔۔ یہ کون صاحب ہیں۔۔۔میں نے کہا بانو آپا یہ میرے دوست ہیں۔ یہ کہاں ہوتے ہیں۔۔۔ بعدازاں اُنہوں نے میرے بارے میں کچھ گفتگو کی اور میں جان گیا کہ بانو آپا اب بہکتی جا رہی ہیں، یادداشت اُن کا ساتھ چھوڑ رہی ہے، اُن کی آپ بیتی ’’راہ رواں‘‘ میں قدم قدم پر اُن کے بھٹک جانے کے آثار ہیں۔۔۔ وہ بُھلکڑ ہو گئی تھیں۔۔۔جِی چاہنے کے باوجود میں ’’داستان سرائے‘‘ جانے سے گریز کرتا کہ وہ نہ صرف خود ایک بھولی ہوئی داستان ہیں بلکہ وہ تو اپنی داستان بھی بھول چکی ہیں۔ ایک بار اُن کے ہاں گیا تو بہت دیر کے بعد کہنے لگیں ’’مستنصر تم ہو۔۔۔ تم تو اشفاق صاحب کے ڈراموں کے ہیرو ہوا کرتے تھے۔۔۔بُوڑھے کیوں ہو گئے ہو؟‘‘
 ’’داستان سرائے‘‘کے آس پاس سب گلی کُوچے خلق خدا سے بھرے پڑے تھے، میمونہ کا کہنا تھا کہ بانو آپا کا جنازہ اس لئے اتنا بڑا تھا کہ لوگوں نے اُنہیں ہمدردی کا ووٹ ڈالا تھا۔۔۔جو کچھ اُن پر گزری اور اُنہوں نے اُف تک نہ کی، برداشت کیا تو لوگ اُن کے صبر کو سلام کرنے آئے تھے۔ وہ اشفاق احمد کی بیوی کے جنازے پر نہیں۔۔۔بانو قدسیہ کے جنازے پر آئے تھے۔۔۔اگر اُنہیں اس ہجوم کا کچھ اندازہ ہوتا تو وہ وصیت کر جاتیں کہ لوگو مت آنا۔۔۔ میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔میرے محبوب کی نسبت میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔ پر لوگ کہاں سنتے ہیں، وہ آئے اور بے حساب آئے۔ اور اس کے باوجود بانو آپا نے تُرپ کا آخری پتّا اپنی موت کے بعد یُوں پھینکا۔۔۔ کہ اشفاق صاحب کے قدموں میں دفن ہو گئیں۔ میں نے آگے بڑھ کر جھانکا تو اُن کی قبر بہت گہری تھی، لحد میں وہ اپنے سفید کفن میں روپوش سمٹی سی، سجائی ہوئی، شرمائی ہو ئی پڑی تھیں کہ اُن کے سرہانے اُن کا محبوب سویا ہوا تھا۔۔۔ اور بالآخر اُن کو وصل نصیب ہو گیا تھا۔ اور جب گورکنوں نے کُدالوں سے اُن کی قبر کو مٹی سے بھر دیا اور اُس پر پھول چڑھائے گئے تو مجھے ایک مرتبہ پھر عذرا پاؤنڈ کا وہ نوحہ یاد آگیا جو اختر حسین جعفری نے لکھا تھا۔۔۔
تجھے ہم کس پُھول کا کفن دیں
تو جُدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے
 املتاس کا ایک زرد بھنورا پُھول بھی نہ تھا۔۔۔

’’دروازے۔۔۔عرفان جاوید"



عرفان جاوید کے دروازے۔۔۔کالم جاوید چوہدری۔۔ اتوار5 فروری2017قدرت اللہ شہاب مشہور ادیب اور بیوروکریٹ تھے۔ وہ گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرنسپل سیکریٹری رہے۔ یہ عہدہ بیوروکریسی میں طاقت کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ شہاب صاحب نے بنگال میں قحط کے دوران غلّے کے ذخائر بھوکے عوام کے لیے کھول دیے، جھنگ میں عوامی فلاح کے بیشمار کام کیے اور وہیں ان کا ایک پراسرار روحانی شخصیت سے سامنا ہوا، ایوب خان کو پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنے کا مشورہ بھی انھوں نے ہی دیا تھا، شہاب صاحب نے ایک ایماندار افسر کی سادہ زندگی گزاری، اعلیٰ افسانے لکھے اور بے مثال سوانح عمری ’شہاب نامہ‘ تحریر کی۔ احمد بشیر شہاب صاحب کے دوست تھے‘ وہ معروف صحافی اور ادیب تھے۔ وہ سوشلسٹ تھے اور وہ روحانی معاملات پر زیادہ یقین نہیں رکھتے تھے‘ شہاب صاحب 1960ء کی دہائی میں وزارت ِ تعلیم کے سیکریٹری تھے اور احمد بشیر ملازم‘ یہ دونوں ممتاز مفتی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ ایک روز احمد بشیر کو قدرت اللہ شہاب کا فون آیا۔ شہاب صاحب کی آواز میں ہیجان تھا انھوں نے احمد بشیر سے کہا ’’آپ فوراً میرے دفتر آ جائیں‘‘ احمد بشیر شہاب صاحب کے دفتر پہنچے تو وہ اکیلے بیٹھے تھے۔ وہ احمد بشیر کو دیکھتے ہی بولے ’’آج میں بے انتہا خوش ہوں۔ مجھے بتا دیا گیا ہے‘ میں نے کب مرنا ہے۔‘‘
 شہاب صاحب خلاف ِ مزاج اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہے تھے۔ احمد بشیر نے سوال کیا ’’آپ کو کس نے اور کیا بتایا‘‘ شہاب صاحب نے جواب دیا ’’میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں مجھے ممتاز مفتی سے پہلے موت آئے گی۔‘‘ احمد بشیر نے یہ کشف مذاق میں اڑا دیا لیکن یہ بات بعد ازاں سو فی صد درست ثابت ہوئی۔
 شہاب صاحب چھیاسٹھ برس کی عمر میں فوت ہو گئے جب کہ ممتاز مفتی نے نوے برس کی طویل عمر پائی۔ یہ واقعہ احمد بشیر نے عرفان جاوید کو سنایا تو اُ س نے پوچھا ’’آپ لوگ کہیں شہاب صاحب کے عہدے کی وجہ سے تو ان سے متاثر نہیں تھے‘‘ احمد بشیر غصے میں آ گئے اور کہنے لگے ’’ہرگز نہیں۔ وہ بہت نفیس آدمی تھے وہ یحییٰ خان کے زمانے میں اصولی بنیادوں پر مستعفی ہو گئے تھے ہمیں ان کی ملازمت چھوڑنے اور وفات کے بعد دروغ گوئی کا کیا فائدہ؟‘‘
 یہ واقعہ عرفان جاوید نے اپنی خاکوں کی کتاب ’’دروازے‘‘ میں بیان کیا۔ ’’دروازے‘‘ میں ایسے سینکڑوں دلچسپ واقعات، تاریخی حقائق، ادیبوں کے قصّے اور عام لوگوں کی زندگیوں کا احوال ہے۔ اس میں عالمی ادب کی دلآویز باتیں‘ نفسیات اور فلسفے کے نکتے بھی ہیں۔ دروازے کے چند خاکے ایک برس تک اخبار میں شائع ہوتے رہے لیکن باقی نئے ہیں۔ میں نے ’’دروازے‘‘ اٹھائی تو میں یہ کتاب مکمل کیے بغیر سو نہ سکا‘ مجھے یقین ہے آپ بھی یہ کتاب شروع کرینگے تو ختم کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
 آپ ’’دروازے‘‘ کا ایک اور واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ تقسیم ہند کے موقع پر سکھوں کا ایک طبقہ پنجاب کو اکٹھا رکھنا چاہتا تھا۔ سکھوں کے لیڈر ماسٹر تاراسنگھ کا ساتھی گیانی ہری سنگھ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قائداعظم کو ملا اور پاکستان میں رہتے ہوئے خودمختاری کی بات کی۔
 قائداعظم نے ان سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے جواب دیا ’’ماسٹر تارا سنگھ کو میرا پیغام دیدیں میں ان سے ملنے امرتسر جانے کے لیے تیار ہوں یہ صحیح معنوں میں سکھوں کے لیڈر ہیں۔ میں انھیں ان کی خواہش سے زیادہ دینے کے لیے تیار ہوں‘‘ گیانی ہری سنگھ قائد اعظم کا پیغام لے کر ماسٹر تارا سنگھ کے پاس گئے لیکن ماسٹر تارا سنگھ پر انتہا پسند ہندو سردار پٹیل کا بہت اثر تھا۔ وہ کرپان پر ہاتھ رکھ کر دھاڑنے لگا اور قائداعظم کے ساتھ ملنے سے صاف انکار کر دیا۔
 آزادی کے بعد گیانی ہری سنگھ پاکستان میں رُک گئے اور ننکانہ صاحب میں قیام کیا۔ ایوب خان کے دور میں تارا سنگھ ننکانہ صاحب آیا اور گیانی جی کو دیکھ کر بری طرح رونے لگا‘ وہ ندامت سے بولا ’’گیانی! مجھے معاف کر دو، میں نے پنتھ کے خلاف بڑا گناہ کیا‘‘ یہ واقعہ بھی احمد بشیر نے عرفان جاوید کو سنایا اور آخر میں بتایا ’’مجھے یہ بات خود گیانی ہری سنگھ نے سنائی اور اس کی تصدیق بعدازاں سکھ دانشور جسونت سنگھ کنول نے 1981ء میں لاہور میں میرے سامنے کی‘‘ دروازے میں مستنصر حسین تارڑ کا خاکہ بھی موجود ہے۔
 مستنصرحسین تارڑ نے بھی عرفان جاوید کو بیشمار واقعات سنائے‘ ان میں سے ایک واقعہ لاہور کے دو کرداروں سے متعلق تھا‘ ایک لڑکا اور ایک لڑکی اندرونِ شہرلاہور میں رہتے تھے، وہ محبت میں مبتلا ہو گئے۔ اُس دورمیں محبت کی شادی کو معیوب سمجھا جاتا تھا چنانچہ والدین نے ملاقات اور بات چیت پر پابندی لگا دی۔ دونوں نے طے کر لیا ہم آپس میں رابطہ نہیں رکھیں گے مگر کہیں اور شادی بھی نہیں کرینگے۔ کئی برس بیت جاتے ہیں۔ لڑکی کے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اُس کی بوڑھی ماں اس غم میں نڈھال رہنے لگتی ہے وہ سوچتی رہتی ہے اس کی موت کے بعد لڑکی کا کون پرُسانِ حال ہو گا؟ مگر جب وہ لڑکی کو شادی کا کہتی ہے تووہ اپنی یہ بات دُہرا دیتی ہے کہ اگر وہ شادی کریگی تو اُسی لڑکے سے کریگی۔
 ماں بیٹی کو سمجھاتی ہے وہ اب تک شادی کر کے کئی بچوں کا باپ بن چکا ہو گا مگر لڑکی کو اپنی محبت پر یقین ہے۔ بالآخر ماں آمادہ ہو جاتی ہے اور یہ شرط رکھتی ہے لڑکی کو فوری شادی کرنا ہو گی، میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں میں تمہیں اپنی موت سے پہلے دلہن دیکھنا چاہتی ہوں۔ لڑکی کسی طرح لڑکے سے رابطے کا ذریعہ تلاش کرتی ہے۔ وہ لڑکے کو فون ملاتی ہے تو دوسری جانب سے وہی لڑکا فون اُٹھاتا ہے۔ لڑکی کی آواز سن کر وہ پوچھتا ہے ’’بارات کب لاؤں؟‘‘ لڑکی کہتی ہے ’’آج شام!‘‘ اُسی شام اُن دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔
 عرفان جاوید کے ’’دروازے‘‘ میں ’’سب رنگ‘‘ کے بانی اور ’’بازی گر‘‘ جیسے شاہکار کے مصنف شکیل عادل زادہ کی زندگی کے بیشمار رنگین واقعات بھی شامل ہیں۔ اُن کا مینا کماری کے گھر میں قیام، کرشن چندر، جون ایلیا اور جوش ملیح آبادی کے قصّے، ضیاء الحق سے ملاقات کا احوال، ہندوستان کے شہروں کی سیاحت اور گھاٹ گھاٹ کی پرُلطف کہانیاں یہ خاکہ بھی خاکہ نہیں الف لیلیٰ ہے، شکیل صاحب نے ’’دروازے‘‘ میں رئیس امروہوی کی ناگہانی موت کے راز سے بھی پردہ اٹھایا۔ وہ پچاس سال پہلے مشتاق احمد یوسفی کی اس نصیحت کا ذکر بھی کرتے ہیں جسے اُنھوں نے عمر بھر مشعلِ راہ بنائے رکھا ۔
 ’’دروازے‘‘ میں احمد فراز کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات بھی ہیں، فراز اپنے ملازم میاں بیوی کے اکلوتے گونگے بہرے بچے سے کتنی محبت کرتے تھے‘ ان کی گرفتاری کی روداد اور جنرل حمید گُل سے ملاقات کا ماجرا بھی کتاب میں موجود ہے۔ ’’دروازے‘‘ میں درجنوں چھوٹے چھوٹے چٹکلے بھی ہیں۔
 مشہور افسانہ نگار منشا یاد اپنی جوانی کے زمانے میں نسیم حجازی سے ملنے گئے اور ان سے درخواست کی آپ مجھے اپنے دوستوں کے حلقے میں شامل کر لیں‘ یہ سن کر حجازی صاحب کہنے لگے ’’برخوردار! یہ عمر نئی دوستیاں بنانے کی نہیں ہوتی یہ پرانی دوستیوں پر نظر ثانی کی ہوتی ہے‘‘ عطا الحق قاسمی صاحب نے دعویٰ کیا بچپن کے دوستوں سے اس وقت دوستی قائم رہتی ہے جب ذہنی سطح ایک ہو یا پھر دلچسپی اور روزگار مشترک ہوں ورنہ ملاقات کے کچھ دیر بعد بات کرنے کے لیے کچھ نہیں بچتا دوست مختلف انسان بن چکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عموماً مرد اور عورت کی دوستی زیادہ دیر تک نہیں چلتی۔
 اس میں رومان یا دوسرے عوامل اثر انداز ہو جاتے ہیں، ایک مرتبہ فیض صاحب سے منوبھائی نے مشورہ مانگا تھا میں کس زبان میں شاعری کروں‘ فیض صاحب نے کلاسیک مشورہ دیا تھا ’’جس زبان میں خواب دیکھتے ہو۔‘‘ اے حمید کی زندگی کی بیشمار کہانیوں میں سے ایک کہانی درختوں اور پودوں کے احساسات کی کہانی ہے یہ اب یورپ و امریکا میں سائنسی طورپر تسلیم کی جا چکی ہے۔
 قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کا ریڈیو اسٹیشن ایک اہم ثقافتی مرکز تھا ریڈیو پاکستان میں چوٹی کے شاعر اور ادیب اکٹھے ہوتے تھے۔ سردیوں کے دن تھے۔ زیڈاے بخاری مہتمم اعلیٰ تھے۔ دیوار کے ساتھ پیپل اور پیپلی کا ایک جوڑا ہوا میں جھومتا رہتا تھا۔ ایک روز بخاری صاحب نے درختوں کی جانب اشارہ کیا اور اے حمید نے اگلے روز دیکھا پیپلی کا درخت کٹا ہوا تھا اور اس کے تنے کا ٹنڈ زمین سے یوں باہر نکلا ہوا تھا جیسے ڈوبتے کا ہاتھ آخری مرتبہ پانی سے باہر آتا ہے۔ کٹے درخت کو دیکھ کر اے حمید کو یوں لگا جیسے ان کے گھر کا کوئی فرد مر گیا ہو۔
 واقعے کے چند روز بعد پیپل کا باقی رہ جانے والا درخت پیپلی کے دکھ میں مر جھانے لگا اور دو ماہ بعد خشک ہو کر مردہ ہو گیا۔ دروازے میں اے حمید کی سری لنکا، برما، ہندوستان کی آوارہ گردیوں کی بیشمار کہانیاں بھی ہیں اور ان کی بارش، جنگل، چائے، بادل، پرندوں وغیرہ سے رومان کی باتیں بھی‘ یہ باتیں دھیمی پھوار کی طرح اور پھول کی بھینی خوشبو کی مانند ہیں۔
 احمد ندیم قاسمی اپنے بٹوے میں ہر وقت کس دوست کی تصویر رکھتے تھے، مرتے وقت ’’اداس نسلیں‘‘ اور کئی شاہکار کتابوں کے مصنف عبداللہ حسین کو کیا خلش تھی، ’’ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، تم کتنے بھٹو مارو گے‘‘ کا خالق نصیر جی ٹی روڈ پر ٹھنڈی بوتلوں کا کھوکھا لگاتا تھا اس نے کسمپرسی میں کینسر کے ہاتھوں وفات پائی اس کی آخری خواہش کیا تھی، تصدق سہیل ایک عجیب و غریب زندگی گزارنے والا افسانوی نوعیت کا بڑا مصور ہے‘ اس نے ساری زندگی شادی نہیں کی، پچاس سال لندن میں گزارے اور وہ اب پاکستان میں جانوروں اور پرندوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔
 یہ تمام لوگ عرفان جاوید کے ’’دروازے‘‘ کے پیچھے بیٹھے ہیں‘ ’’دروازے‘‘ فقط ایک کتاب نہیں‘ یہ گزری راتوں کا نوحہ اور بسر ہوتے مشاہیر کا مرثیہ ہے‘ میں نے طویل عرصے بعد ایک ایسی کتاب دیکھی جس میں شخصیات بھی ہیں‘ علم بھی‘ مشاہدہ بھی‘ تاریخ بھی اور ثقافت بھی‘ یہ کتاب پڑھنے کے بعد میرے دل سے بے اختیار نکلا ’’زندہ باد عرفان جاوید‘

"تدفین کے آداب"

 تحریر از آفاق احمدپانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، ایک عزیزہ کی وفات کے موقع پر لاہور میں تدفین کے لیے قبرستان میں موجود تھے، سلیں رکھی جاچکی تھیں اور مٹی ڈالنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ایسے میں پیچھے سے آواز آئی کہ مٹی ڈالتے وقت کونسی آیات پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔
 موجود لوگوں میں خاموشی سی چھا گئی، اکثر کو آتی ہی نہ تھی، کچھ کو کچی پکی یاد تھی اوریقیناً کچھ کو آتی بھی ہوگی۔۔۔۔۔۔
 لیکن ان سب سے پہلے سولہ سترہ سالہ گورکن کا بیٹا جو مٹی ڈالنے کے عمل میں بیلچہ سے شریک تھا، سیدھا ہوا اور کمال اعتماد سے بلند آواز میں وہ آیات پڑھ دیں۔۔۔۔۔
اس کے صاف تلفظ سے مجھ سمیت کئی لوگوں کوخوشگوار حیرت ہوئی۔۔۔۔۔
یہ آیات پڑھنے کے دوران بھی وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ہمارے ذہن میں یہ سوچ آسکتی ہے کہ اس کا بچپن بھی اسی ماحول میں گزرا، اس لیے اسے یاد ہوگئی ہوگی۔۔۔۔۔
بہرحال اس کے پڑھنے میں ایک شوق اور رغبت محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
اصل بات یہ نہیں کہ اسے کیسے یاد تھی؟؟؟
بلکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم بھی یاد کرلیں تو کتنا خوب ہوجائے۔
یہ سولہویں پارے میں موجود سورہ طٰہٰ کی آیت نمبر پچپن 55 ہے۔
تین دفعہ دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کرقبر پر ڈالنی ہے۔۔۔۔۔۔
پہلی دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ۔۔۔۔۔
ترجمہ: اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ۔۔۔۔
دوسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔
وَفِيْـهَا نُعِيْدُكُمْ۔۔۔۔۔
ترجمہ:اوراسی میں ہم تمھیں واپس (بعد موت) لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
تیسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۔۔۔۔۔
ترجمہ:اور(قیامت کے روز) پھر دوبارہ اسی سے ہم تم کو نکال لیں گے۔۔۔۔
آیت بھی بہت آسان ہے اوربرکت بھی بہت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

"پچاس برس کی رام کہانی"

۔"دلیل ویب سائیٹ " پر اشاعت کے لیے اپنے بلاگز سے انتخاب۔۔۔۔
پچیس جنوری ۔۔۔1967۔راولپنڈی۔۔۔پچیس جنوری۔۔۔2017۔اسلام آباد۔۔۔
 پچاس سال۔۔۔نصف صدی۔۔۔بظاہر زندگی کی بےسمت بہتی جھیل میں پچاسواں بےضرر کنکر۔۔۔دیکھا جائے تودو صدیوں کے درمیان ہلکورے لیتی عمر کی کشتی نے وقت کے سمندر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا ۔دو صدیوں کے ملاپ سے بنتی پچاس برسوں کی ایسی مالا۔۔۔جس میں اپنے بڑوں سے سنے گئے اور کتابوں کی زبان سے محسوس کیے گذرنے والی صدی کے پکے رنگ عکس کرتے ہیں تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت آنے والے دور کے انوکھے رنگ نظریں خیرہ کیے دیتے ہیں۔
 زندگی اے زندگی!تونےبچھڑ جانے والوں کے تجربات،احساسات اور مشاہدات جذب کیے تو اب آنے والی نسل کے لیے خدشات تیرا دامن تھامے ہیں۔پچاس برس کا سفر کیا ہے گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کر رُکی ہو۔بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں،بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب جب طوق گلےتک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا توکس بوجھ سےکس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔حد ہو گئی۔۔۔۔زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے،واپسی کی گھٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت وکامیابی کی کون سی چوٹی سر کی جا سکے گی۔ ہم انسان زندگی کہانی میں حقوق وفرائض کے تانوں بانوں میں الجھتے،فکروں اور پریشانیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے، خواہشوں کی سرکتی چادر میں بمشکل اپنا تن 'من' ڈھانپتے لمحہ لمحہ جوڑ کر دن اور پھر سال بِتاتے ہیں۔ کیا مرد کیا عورت سب کی زندگی تقدیر کے لکھے پر ایک جیسی گزرتی چلی جاتی ہے۔
 اپنے فطری کردار اور جسمانی بناوٹ کے تضاد کے باعث عمر کے اس موڑ کو چھوتے مرد اورعورت کے احساسات بھی مختلف ہوتے ہیں۔دونوں کے حیاتیاتی تضاد کا اصل فرق عمر کے اس مرحلے پر واضح ہوتا ہے۔ زندگی کی کٹھنائیوں سے نبردآزما ہوتے مرد کے لیے اگر یہ محض تازہ دم ہونے اور نئے جوش و ولولے کے ساتھ زندگی سے پنجہ آزمائی کرنے کی علامت ہے تو عورت کے لیے جسم و روح پرہمیشہ کے لیے ثبت ہوجانے والی ایک مہر۔۔۔ایسی مہر جس کے بعد ساری زندگی کا نصاب یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں قدم رکھتے ہوئے مرد عمومی طور پر زندگی کمائی میں سے اپنی جدوجُہد کے مطابق فیض اٹھانے کے بعد کسی مقام پر پہنچ کر نئے سفر کی جستجو کرتا ہےتو عورت ساری متاع بانٹ کر منزلِ مقصود پر خالی ہاتھ پہنچنے والے مسافر کی طرح ہوتی ہےجس کے سامنے صرف دھندلا راستہ،ناکافی زادِ سفر اور بےاعتبار ساتھ کی بےیقینی ساتھ رہتی ہے۔عمر کے اس دور تک مقدور بھر جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ  پہنچناعورت کے لیےایسی بارش کی طرح ہےجس کی پھوار سکون بخش تو دکھتی ہے لیکن اس کے لمس میں محبت، نفرت،رشتوں،تعلقات اور اپنے پرایوں کے اصل رنگ سامنے آ جاتے ہیں۔زندگی کی سب خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ہم سے محبت کرنے والے اور اپنی جان پر ہماری جان مقدم رکھنے والے درحقیقت ہمارے وجود میں پیوست  معمولی سی پھانس بھی نکالنے پر قادر نہیں ہوتے۔اسی طرح ہم سے نفرت کرنے والے،ٹھوکروں پر رکھنے والے،ٹشو پیپر سے بھی کمتر حیثیت میں استعمال کرنے والے اس وقت تک ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتےجب تک ہمارے ذہن کو مایوسی اپنی گرفت میں لے کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ سلب کر ڈالے۔
 کوئی کچھ بھی کہے،خواہ مخالفت میں کتنے ہی مضبوط دلائل کیوں نہ دے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زندگی کے سرکتے ماہ وسال کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر صبح شام کرتے پچاس کا پڑاؤ   اگر کسی بلند چوٹی کی مانند ٹھہراجس کی بلندی تک پہنچتےراستہ بھٹکنے کے
خدشات ساتھ چلتے ہیں تو دوسری سمت اترائی کی مرگ ڈھلانوں میں قدم لڑکھڑانے اور پھسلنے کے خطرات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔واپسی کے سفر کے آغاز کےبعد انسان خواہ کتنا ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لے،اس کی محنت ومشقت کتنی ہی بارآور کیوں نہ ہوجائے،اُس کی ذہنی صلاحیت کتنےہی آسمان کیوں نہ چھو لے۔اس کے جسمانی قویٰ ہرگزرتےپل نقارۂ کوچ کی صدا لگاتے ہیں،یہ اور بات کہ ہم میں سے زیادہ تر اس کو سننا ہی نہیں چاہتے یا جان کر انجان بنے رہنے میں بھلا جانتے ہیں۔زندگی کےسفر میں صحت وعافیت کے پچاس برس ایک پھل دار درخت پر لگنے والے رسیلےپھل کی مانند ہوتے ہیں جسے اگر بروقت توڑا نہ جائے تو اس کا رس اندر ہی اندر خشک ہونے لگتا ہے، بظاہر وہ کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ دکھائی دے۔محترم اشفاق احمد "من چلے کا سودا "(صفحہ436) میں لکھتے ہیں " خوش رنگ مطمئن پھول وہ ہوتا ہے جس کی پتیاں بس گرنے ہی والی ہوں "۔کتاب زندگی کے ورق اُلٹتے جب ہم اس کے پچاسویں باب پر پہنچتے ہیں تو وہ ہمارے نصابِ زندگی کابہت اہم موڑ ہوتا ہے
یہاں پہنچ کر اگر پچھلے اسباق ازبر نہ ہوں،ذیلی امتحانات میں کی گئی غلطیوں کا احساس نہ ہو تو آنے والے آخری امتحان میں پاس ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔زندگی کی شاہراہ پر پچاس برس کا سنگِ میل ایک ایسا آئینہ ہے جسے انسان کے تجرباتِ زندگی صیقل کرتے ہیں تو  رشتوں،تعلقات اور جذبات کے حوالے سے ذہن ودل پر چھائی دھند بھی بہت حد تک چھٹ جاتی ہے۔آسمانِ دل کی وسعت دکھائی دیتی ہے تو اپنی طاقتِ پرواز کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ہم میں سے بہت کم روزِروشن کی طرح عیاں اس سچائی کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر اپنے آئینوں سے منہ چھپاتے دوسروں کی فکر کرتے ہیں اور یا پھر اپنے چہرے پر بناوٹ کے غازوں کی تہہ جمائے لاحاصل رقصِ زندگی میں خسارے کے سودے کرتے چلے جاتے ہیں۔زندگی سمجھنے سے زیادہ برتنے کی چیز ہے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر کتابِ زندگی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ زندگی آخری صفحے کے آخری لفظ سے پہلے سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔ جس لمحے اس کی پہچان آنکھ میں اترتی ہےتو انسان ایک کائنات چھوڑ کر دوسری کائنات کے سفر پر روانہ ہونے کو تیار ہوتاہے۔دُنیاوی بلندیوں کے دھوکوں اور فانی پستیوں کی ذلتوں میں دھنستے،گرتے اور سنبھلتے عمر کی بچاسویں دہائی کے آخری پائیدان پر قدم رکھتے ہوئے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو زندگی کہانی میں چہروں اور کرداروں کی ایک دنیا آباد ہے۔۔۔۔ایسے مہربان چہرے جو زندگی کا زندگی پر یقین قائم رکھتے ہیں تو ایسے مکروہ کردار بھی جو انسان کا رشتوں اور انسانیت پر سے اعتماد زائل کر دیتےہیں۔یہ نقش اگرچہ گزرچکے ماضی کا حصہ بن چکے لیکن ان کا خوشبو عکس احساس کو تازگی دیتا ہے تو کبھی کھردرے لمس کی خراشیں ٹیس دیتی ہیں۔ان چہروں کے بیچ میں دور کسی کونے میں چھپا خفا خفا سا اور کچھ کچھ مانوس چہرہ قدم روک لیتا ہے۔ہاں !!! یہی وہ چہرہ تھا جس نے دنیا کے ہر احساس سے آگاہ کیا اسی کی بدولت محبتوں کی گہرائی اور اُن کے رمز سے آشنائی نصیب ہوئی تو زندگی میں ملنے والی نفرتوں اور ذلتوں کا سبب بھی یہی ٹھہرا۔ اس کی فکر اور خیال نےاگر سب سے بڑی طاقت بن کر رہنمائی کی تو اس کی کشش کی اثرپزیری زندگی کی سب سے بڑی کمزوری اور دھوکےکی صورت سامنے آئی۔اسی چہرے نے دنیاوی محبتوں کے عرش پر پہنچایا تو اسی چہرے کے سبب زمانے کے شکنجے نے بےبس اور بےوقعت کر ڈالا۔کیا تھا یہ چہرہ ؟کہ اس نے بڑے رسان سے دنیا کی ہر کتاب سے بڑھ کر علم عطا کیا تو پل میں نہایت بےرحمی سے جہالت اورلاعلمی کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ایسا چہرہ جو ہم میں سے ہر ایک کا رہنما ہے۔۔۔ہمارا آئینۂ ذات! جوہماری نگاہ کے لمس کو ترستا ہے لیکن ہم اس سے انجان دوردراز آئینوں میں اپنا عکس کھوجتے رہ جاتے ہیں۔ظاہر کی آنکھ سے کبھی یہ چہرہ دکھائی نہیں دیتا پر جیسے ہی ہم اپنے اندر کی آنکھ کھول کراپنے آپ سے سوال جواب شروع کریں تویہ جھلک دکھلا دیتا ہے۔اسی چہرے نے بتایا کہ انسان کہانی صرف اُس کے آنکھ کھلنے اور آنکھ بند ہونے کی کہانی ہےاور درمیانی عرصے میں صرف اور صرف دھوکے ہیں محبتوں کے اور نفرتوں کے،علم کے اور لاعلمی کے، عزتوں کے اور ہوس کے۔اندھی عقیدتوں کے سلسلے ہیں تو کہیں وقتی احترام کی ردا میں لپٹی نارسائی کی کسک سرابھارتی ہے۔دنیا کی محدود زندگی میں ہندسوں کا ماؤنٹ ایورسٹ  بھی تو یہی ہے کہ جسے سر کرتے ہوئے ناسمجھی کی اندھی دراڑیں ملیں تو کبھی برداشت کی حد پار کرتی گہری کھائیاں دکھائی دیں۔جذبات کی منہ زور آندھیوں نے قدم لڑکھڑائے توکبھی پل میں سب کچھ تہس نہس کر دینےوالے طوفانوں نے سانسیں زنجیر کر لیں۔بےزمینی کے روح منجمد کر دینے والے خوف نے پتھر بنا دیا تو کبھی خواب سمجھوتوں کی حدت سے موم کی مانند پگھل کر اپنی شناخت کھو بیٹھے۔گزرے برسوں کے احساسات کو عشروں میں سمیٹا جائے اور ہر عشرےکے کینوس پر بنتی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے تو زندگی کے پہلے دس برس لفظوں اور رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنی روح میں جذب کرنے کی کیفیت کا عکس تھے۔اگلے دس برس محبتوں کی بےیقینی کی دھند میں سانس لینے کی کوشش کرتے گذرے تو بیس سے تیس کا عشرہ یقین کی ایسی خودفراموشی کی نذر ہو گیا جس میں نئے ماحول اور نئے زندگیوں کو پروان چڑھانے میں اپنی ذات،اپنے احساسات اور اپنے جذبات کہیں کھو کر رہ گئے۔زندگی شاید اسی طرح گزر جاتی کہ تیس سے چالیس کےعشرے کے بالکل درمیان پینتیس برس ایک اہم موڑ تھا گویا کسی خواب غفلت نے چونکا دیا ہو۔۔۔یہ کیا ! زندگی تو گزر گئی؟کیا یہی حاصلِ زیست تھا؟ کیا بس یہی آنے کا مقصد تھا ؟ بس اتنی ہی کہانی تھی؟۔ اس دور میں خود سے الجھتے، سوچ کو ان الفاظ میں سمیٹا۔۔
۔" ادھورا خط" سے اقتباس۔۔"یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی"۔
۔۔۔۔۔۔
زندگی کی سیڑھی چڑھتے عمر کے پینتیسویں پائیدان نے مقناطیس کی طرح  برسوں سے جامد سوچ کو اس طور گرفت میں لیا کہ برف احساسات کے پگھلنے سے لفظوں کی آبشار جاری ہو گئی لیکن اس خودکلامی کو سمجھنے اور منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار تھا اور یہ وقت دس برسوں پر محیط ہو گیا۔پینتالیس برس کی عمر میں کمپیوٹر سے دوستی ہوئی تو اس نے ایک وفادار دوست کی طرح دامنِ دل وسیع کر دیا اور یوں بلاگ ڈائری میں احساس کی رم جھم جذب ہونے لگی اور دھنک رنگ فیس بک صفحے اور ٹویٹر کی زینت بنتے چلے گئے۔
زندگی کہانی میں پچاس کے ہندسے کوچھوتی عمرِفانی نے  سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ ہمیں اپنے آپ کی پہچان ہوجائے تو پھر ہر پہچان سے آشنائی کی منزل آسان ہوجاتی ہے۔یہ پہچان جتنا جلد مجازی سے حقیقی کی طرف رُخ کرلے اتنی جلدی سکون کی نعمت بھی مل جاتی ہے اور یہی پہچان زندگی کی ترجیحات کے تعین میں رہنمائی کرتی ہے۔اللہ ہم سب کو پہچان کا علم عطا فرمائے۔ آمین نصف صدی کا قصہ تمام ہونے کو ہے۔اللہ بس خاتمہ ایمان پر کرے آمین۔زندگی سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزرے برسوں کی کتھا،کچھ یادیں۔۔۔میری بھوری ڈائری سے بلاگ ڈائری میں۔۔۔۔۔
٭خلیل جبران۔۔۔۔(1982)۔۔۔سوچ جزیرے پر پہلی کشتی
٭تجربات ِزندگی۔۔۔جنوری 67۔۔جنوری 87 ۔۔(20سال)۔ہوس،محبت،عشق؟؟؟عام خیال ہے کہ "مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن!مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی،میاں بیوی کی اور بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔۔۔ ۔"حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے عورت کی نہیں"۔۔۔آج کی اور آج سے چودہ سو سال کی لڑکیوں میں اس کے سِوا کوئی فرق نہیں کہ وہ ایک دم اپنے انجام کو پہنچتی تھیں اور آج کی آہستہ آہستہ۔
٭حاصلِ زندگی۔۔ ۔جنوری 1967۔۔جنوری 1992۔(25 سال)۔۔بچےِ،گھر،میں
٭احساسِ زندگی۔۔۔25جنوری1994۔۔۔
بجھنے سے پہلےبھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو
 سوچ کے اُفق پر جنم لینے والے یہ لفظ احساس کی ٹھہری جھیل میں پہلا کنکر بن کر طلوع ہوئے اورتخیل کی دھیرے دھیرے خشک ہوتی مٹی کو سیراب کرتے چلے گئے۔ 
٭سرکتے و قت کا نوحہ۔"بندگلی"۔ 25جنوری 67 ----25جنوری۔97۔(30 سال)۔
 وہ ایک دائر ے میں گھوم رہی تھی۔سر اُٹھا کر دیکھتی تو کوئی دروازہ اُس کے لیے نہیں کُھلا تھا آس پاس اُونچے مکان تھے،وہ سانس لینا چاہتی،گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔چیخیں مارکر رونا چاہتی،جو اندر ہی رہ جاتیں۔بھاگنا چاہتی لیکن پاؤں میں زنجیریں تھیں۔زنجیریں ٹوٹ بھی جا ئیں تو بھاگ کیسےسکتی تھی کہ یہ تو ایک بند گلی تھی۔
٭تحفۂ زندگی۔12 جنوری 2003۔۔دوست کا نامہ میرے نام۔۔۔اس میں سے اقتباس۔۔
 ۔"وظیفہ"۔۔۔۔ "اللہ تعالیٰ نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دےبھی دیتے ہیں مگر احساس ِجئرات ساتھ نہیں دے پاتا۔یہی وجہ ہےکہ گول مول طریقوں سے،ڈھکے
چھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ہوں۔بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو"۔
٭تفکرِزندگی۔۔25 جنوری 2003۔۔۔ خلیل جبران،ممتازمفتی ،اشفاق احمد اورجناب واصف علی واصف کی تحاریر پڑھتے پڑھتے محترم پروفیسراحمدرفیق اختر کے نام اور اُن کی کتب سے پہلی بار شناسائی ہوئی۔
سب سے پہلے پڑھی گئی کتاب "پسِ حجاب"سےنوٹ کیا گیا اقتباس۔۔صفحہ 135۔۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ کون اللہ کے قریب ہے،تو جان لیجیئے کہ اللہ اپنے نزدیک دیوانوں اور احمقوں کو نہیں رکھتا،اس نے نسلِ انسان کو ایک شرف اور ٹیلنٹ بخشا ہوا ہے،وہ یہ چاہے گا کہ انسان اس شرف کو استعمال کرے۔یہ تمام اوصاف ایک چیز سے حاصل ہوتے ہیں یعنی جلدسے جلد اپنی ترجیحات کا تعین،جتنی زندگی ضائع کر کے آپ ان ترجیحات کےتعین تک پہنچیں گے،اتنے ہی آپ مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔وہ چاہے فرد ہو سوسائٹی یا ملک ہو،جس قدر وہ ان ترجیحات سے دور رہے،اُتنا ہی ڈسٹرب اور مصیبت زدہ ہے۔
 ایک آدمی پچاس سال میں جن ترجیحات کو پاتا ہےمگر پچاس سال میں خدا کے نزدیک اس کی ترجیحات کی قدروقیمت کم ہو گئی،ایک شخص پچیس سال میں اپنی ترجیحات کو پا لیتا ہے اور اس کو پتہ ہےکہ میری زندگی میری سوچ،سب کچھ کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانوں۔جب ذہن ترجیحِ اول کا اعلان کر دیتا ہے تو خدا اور بندے کے ذاتی اختلافات ختم ہو جاتےہیں۔وہ کہتا ہے کہ بندے سے یہی توقع تھی کہ وہ غور کرے سوچے اور مجھے انٹلیکچوئل ترجیحِ اول واضح کر لے۔ہو سکتا ہے کہ ذہنی طور پر اس کو اولیت اور اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں اس کی اولیت قائم نہ رکھ پائیں،اس لغزش کی معافی مل سکتی ہے۔
 گناہوں کی بخشش اس کے ہاں صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بنیادی سوال تو حل کر لیا ہے۔آپ کی کمزوریاںِ،کمیاں،ہو سکتا ہے آپ کو ترجیحات کے فقدان پرمائل کریں مگر یہ آپ کا ذہن اور آپ کی سوچ وفکر سے بھرپور طاقت ہے جس نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔حتیٰ کہ خدا انسان کی کمزوری کی وجوہ کو حکم دیتا ہے،تسلیم نہیں کرتاِ،حکم دیتا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں اور فواحش سے پرہیز کرو تو چھوٹے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔جب خدا خود کہہ رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کے دور تم پر آئیں گے،تو یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ہر آدمی پر حماقتوں کے کچھ دور ضرور گزرتے ہیں۔خطاؤں کے کچھ پیٹرن ضرور بنیں گے۔اس لیے کہ خطا بذاتِ خود سیکھنے کا بھی باعث ہے۔
٭تحفہء زندگی۔۔۔"لبّیک اللہُمٰ لبّیک"۔۔۔شناسائی سے آشنائی تک۔۔۔
روانگی۔15 دسمبر 2004 ۔۔۔ادائیگی حج 20جنوری 2005 -- واپسی 25 جنوری۔2005
٭سراب کہانی ۔25جنوری 1967---- 25جنوری 2007۔ (40سال)۔
 عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اُسے ٹشّو پیپر بھی نہیں بلکہ رول ٹشُو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ 
٭ مدارِزندگی ۔۔۔22جنوری 1988۔22جنوری 2010۔(22سال)۔۔
 وہ میرا گھر ہے لیکن میں و ہاں نہیں رہ سکتی اور یہ میرا گھر نہیں ہےلیکن مجھے یہاں ہی رہنا ہے۔
٭تشکر کہانی (شادی۔ 25 سال)۔یکم اپریل 1988---یکم اپریل2013
 کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ و قت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہو ئی۔وقتی کھنک اور ستائش کی چاہ
فقط خودفریبی ہی تھی،ایک ان چھوا احساس سرما یہءحیات ہے۔
٭تھکن کہا نی۔۔ 25 جنوری 1967----25 جنوری2011۔(44سال)۔
بظاہر سرسبزوشاداب نظر آنے والے  پودے کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک قطرہ قطرہ زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے۔
٭آخری کہانی 31دسمبر 2011
 اپنی بھرپور موجودگی کے مادی اسباب کے ساتھ فرش سے عرش پر یا پھر عرش سے فرش تک کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد عورت اِتنی تہی داماں ہو جا تی ہیے کہ آخرکار پھونکیں مار مار کر اپنے ہی وجود کی بھٹی میں آگ سُلگا تے ہو ئے راکھ بنتی جا تی ہے،اُس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو تی،ہاں پہچان ختم ہو جاتی ہے" ڈھونڈنے والے اُس کی طلب سے بےنیاز اپنے رنگ میں کھوجتے ہیں۔"ا پنی نظر کی عینک سے بھی کبھی کائنات کا احاطہ ممکن ہو سکا ہے؟"آکسیجن کی طرح بےرنگ،بےبُوبےذائقہ ہو جاتی ہے۔وہ آکسیجن جو بےمول،بن مانگے ملتی رہتی ہے تو اُس کی قدروقیمت کا کبھی احساس نہیں ہو تا۔کچھ حقیقتیں آخری سانسِ،آخری منظر سے پہلے آشکار نہیں ہو تیں " عورت بھی اِنہی سچا ئیوں میں سے ایک ہے۔
٭ ختم کہانی 25 جنوری 2012۔۔۔جان کسی چیز میں نہ ڈالو ورنہ جان نہیں نکلے گی۔
۔(زندگی کہانی چند لفظوں میں کہی تو جا سکتی ہے لیکن گنتی کے چند برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتی۔۔ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ کاتبِ تقدیر نے زندگی کہانی کے آخری صفحے پر ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔۔۔"ختم کہانی اور آخری کہانی" کے عنوان سے لکھی گئی سطریں اس احساس کے تحت لکھی گئیں کہ اب قلم اور کاغذ کے رشتے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ محض چند ماہ بعد یہی تعلق نہ صرف میرے نام کی پہچان بنے گا بلکہ میرے لیے اپنی ذات کے حوالے سے انوکھے دربھی وا کرے گا )۔ 
٭انٹرنیٹ کہانی۔۔۔۔ 31مارچ 2012 سے فیس بک اور اکتوبر 2012 بلاگ۔۔۔پانچ برس کے عرصے میں اس پرواز کا احوال 450 سے زائد بلاگز کہتے ہیں۔ 
حرفِ آخر
٭زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی ۔
 ٭ہم ساری عمرجگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں مل ہی جاتی ہے ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی۔

"میرے پچاس سال"

 جنوری 25۔۔۔1967
جنوری 25۔۔۔2017
پچاس سال۔۔۔نصف صدی۔۔۔بظاہر زندگی کی بےسمت بہتی جھیل میں پچاسواں بےضرر کنکر۔۔۔دیکھا جائے تودو صدیوں کے درمیان ہلکورے لیتی عمر کی کشتی نے وقت کے سمندر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا ۔دو صدیوں کے ملاپ سے بنتی پچاس برسوں کی ایسی مالا۔۔۔جس میں  اپنے بڑوں سے سنے گئے اور کتابوں کی زبان سے محسوس کیے گذرنے والی صدی کے پکے رنگ عکس کرتے ہیں تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت آنے والے دور  کے انوکھے رنگ نظریں خیرہ کیے دیتے  ہیں۔زندگی اے زندگی!تونےبچھڑ جانے والوں کے تجربات،احساسات اور مشاہدات جذب کیے تو اب آنے والی نسل کے لیے خدشات تیرا دامن تھامے ہیں۔پچاس برس کا سفر  کیا ہے گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی  ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کر رُکی ہو۔بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں،بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب جب طوق گلےتک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا توکس بوجھ سےکس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔حد ہو گئی۔۔۔۔زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے،واپسی کی گھٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت وکامیابی کا کون سا ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا جا سکے گا۔
کوئی کچھ بھی کہے،خواہ مخالفت میں کتنے ہی مضبوط دلائل کیوں نہ دے لیکن یہ حقیقت ہے کہ   زندگی کے سرکتے ماہ وسال  کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر صبح شام کرتے پچاس کا سنگِ میل ایک ایساپڑاؤہے جس کے بعد چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہر صورت اترائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔واپسی کے سفر کے آغاز کےبعد انسان خواہ کتنا ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لے،اس کی محنت ومشقت کتنی ہی بارآور کیوں نہ ہوجائے،اُس کی ذہنی صلاحیت کتنےہی آسمان کیوں نہ چھو لے۔اس کے جسمانی قویٰ ہرگزرتےپل نقارۂ کوچ کی صدا لگاتے ہیں،یہ اور بات کہ ہم  میں سے زیادہ تر اس کو سننا ہی نہیں چاہتے یا جان کر انجان بنے رہنے میں بھلاسمجھتے ہیں۔زندگی کےسفر میں صحت وعافیت کے  پچاس برس  ایک پھل دار  درخت پر لگنے والےرسیلےپھل کی  مانند ہوتے ہیں  جسے  اگر بروقت  توڑا نہ جائے تو  اس کا رس اندر ہی اندر  خشک ہونے لگتا ہے، بظاہر وہ کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ دکھائی دے۔محترم اشفاق احمد  "من چلے کا سودا "(صفحہ436) میں لکھتے ہیں " خوش رنگ  مطمئن پھول وہ ہوتا ہے جس کی پتیاں بس گرنے  ہی  والی ہوں  "۔   کتاب زندگی  کے ورق اُلٹتے جب ہم اس کے پچاسویں باب پر پہنچتے ہیں تو وہ ہمارے  نصابِ زندگی کا بہت اہم موڑ ہوتا   ہے،یہاں پہنچ کر اگر پچھلے اسباق ازبر نہ ہوں،ذیلی امتحانات میں کی گئی غلطیوں کا احساس نہ ہو  تو آنے والے آخری  امتحان میں پاس ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔زندگی کی شاہراہ پر  پچاس برس کا سنگِ میل ایک ایسا آئینہ ہے  جہاں انسان  کے عقل وشعور پر لگی  گرہیں کھل جاتی ہیں وہیں رشتوں،تعلقات اور جذبات کے حوالے سے ذہن ودل پر چھائی دھند بھی بہت حد تک  چھٹ جاتی ہے۔آسمانِ دل کی وسعت دکھائی دیتی ہے تو اپنی طاقتِ پرواز کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت کم روز روشن کی طرح عیاں اس سچائی کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ورنہ زیادہ تر  اپنے آئینوں سے منہ چھپاتے دوسروں کی فکر کرتے ہیں  اور یا پھر اپنے چہرے پر  بناوٹ کے غازوں کی تہہ جمائے لاحاصل رقصِ زندگی میں  خسارے کے سودے کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی سمجھنے سے زیادہ برتنے کی چیز ہے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر کتابِ زندگی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ زندگی آخری صفحے کے آخری لفظ سے پہلے سمجھ آ ہی نہیں سکتی جس  لمحے اس کی پہچان آنکھ میں اترتی ہےتو انسان ایک کائنات چھوڑ کر دوسری کائنات کے سفر پر روانہ ہونے کو تیار ہوتاہے۔گزرے برسوں کے احساسات کو عشروں میں سمیٹا جائے اور ہر عشرےکے کینوس پر بنتی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے  تو زندگی کے پہلے دس برس لفظوں اور رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنی روح میں جذب کرنے کی کیفیت کا عکس تھے۔اگلے دس برس محبتوں کی بےیقینی  کی دھند میں سانس لینے کی کوشش کرتے گذرے تو بیس سے تیس  کا عشرہ یقین کی ایسی خودفراموشی کی نذر ہو گیا جس میں نئے ماحول اور نئے زندگیوں کو پروان چڑھانے میں اپنی ذات،اپنے احساسات اور اپنے جذبات  کہیں کھو کر رہ گئے۔زندگی شاید اسی طرح گزر جاتی کہ تیس سے چالیس کےعشرے کے  بالکل درمیان پینتیس برس ایک اہم موڑ تھا  گویا کسی خواب غفلت نے چونکا دیا ہو۔۔۔یہ کیا ! زندگی تو گزر گئی؟کیا یہی حاصلِ زیست تھا؟  کیا بس یہی آنے کا مقصد تھا ؟ بس اتنی ہی کہانی تھی؟۔ اس دور میں خود سے الجھتے، سوچ کو ان الفاظ میں سمیٹا۔۔
۔" ادھورا خط" سے اقتباس۔۔"یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی"۔۔۔۔۔۔۔زندگی کی سیڑھی چڑھتے  عمر کے پینتیسویں پائیدان نے مقناطیس کی طرح  برسوں سے جامد سوچ کو اس طور گرفت  میں لیا کہ برف احساسات کے پگھلنے سے لفظوں کی آبشار جاری ہو گئی لیکن اس خودکلامی کو سمجھنے اور منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت  درکار تھا اور یہ وقت دس برسوں پر محیط ہو گیا۔پینتالیس برس کی عمر میں کمپیوٹر سے دوستی ہوئی تو اس نے  ایک وفادار دوست کی طرح  دامنِ دل وسیع کر دیا اور یوں بلاگ ڈائری میں احساس کی رم جھم  جذب ہونے لگی اور دھنک رنگ  فیس بک صفحے اور ٹویٹر کی زینت بنتے چلے گئے۔نصف صدی کا قصہ تمام ہونے کو ہے۔اللہ بس خاتمہ ایمان پر کرے آمین۔زندگی سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گزرے برسوں کی کتھا،کچھ یادیں۔۔۔میری بھوری ڈائری سے بلاگ ڈائری میں۔۔۔۔۔
٭تجر بات ِزندگی۔۔۔جنوری 67۔۔جنوری 87 ۔۔(20سال)۔ہو س،محبت،عشق؟؟؟عام خیال ہے کہ "مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن!مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی،میاں بیوی کی اور  بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔۔۔ ۔"حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے عورت کی نہیں"۔۔۔آج کی اور آج سے چودہ سو سال کی لڑکیوں میں اس کے سِوا کوئی فرق نہیں کہ وہ ایک دم اپنے انجام کو پہنچتی تھیں اور آج کی آہستہ آہستہ۔
٭حاصلِ زندگی۔۔ ۔جنوری 1967۔۔جنوری  1992۔(25 سال)۔۔بچےِ،گھر،میں٭احساسِ زندگی۔۔۔25جنوری1994۔۔۔
بجھنے سے پہلےبھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ  کو   برتنا نہیں آیا مجھ کو
سوچ کے اُفق پر جنم لینے والے یہ لفظ احساس کی ٹھہری جھیل میں پہلا کنکر بن کر طلوع ہوئے اورتخیل کی  دھیرے دھیرے خشک ہوتی مٹی کو سیراب کرتے چلے گئے۔ 
٭سرکتے و قت کا نو حہ۔"بندگلی"۔ 25جنوری 67 ----25جنوری۔97۔(30 سال)۔
وہ ایک دا ئر ے میں گھوم رہی تھی۔سر اُٹھا کر دیکھتی تو کو ئی بھی دروازہ اُس کے لیے نہیں کُھلا تھا آس پاس اُونچے مکان تھے،وہ سانس لینا چا ہتی،گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی،چیخیں مارکر رو نا چا ہتی،جو اندر ہی رہ جا تیں۔بھاگنا چا ہتی لیکن پاؤں میں زنجیریں تھیں۔زنجیریں ٹوٹ بھی جا ئیں تو  بھاگ  کیسےسکتی تھی کہ یہ تو ایک بند گلی تھی۔
٭تحفۂ زندگی۔12 جنوری 2003۔۔دوست کا نامہ میرے نام۔۔۔اس میں سے اقتباس۔۔
۔"وظیفہ"۔۔۔۔ "اللہ تعالیٰ نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دے دئیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دےبھی دیتے ہیں مگر احساس ِجئرات ساتھ نہیں دے پاتا۔یہی وجہ ہےکہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ہوں۔بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو"۔
٭تفکرِزندگی۔۔25 جنوری 2003۔۔۔ خلیل جبران،ممتازمفتی ،اشفاق احمد اورجناب واصف علی واصف کی تحاریر  پڑھتے پڑھتے محترم  پروفیسراحمدرفیق اختر کے نام اور اُن کی کتب سے پہلی بار شناسائی ہوئی۔
سب سے پہلے پڑھی گئی کتاب "پسِ حجاب"سےنوٹ کیا گیا اقتباس۔۔صفحہ 135۔۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ کون اللہ کے قریب ہے،تو جان لیجیئے کہ اللہ اپنے نزدیک دیوانوں اور احمقوں کو نہیں رکھتا،اس نے نسلِ انسان کو ایک شرف اور ٹیلنٹ بخشا ہوا ہے،وہ یہ چاہے گا کہ انسان اس شرف کو استعمال کرے۔یہ تمام اوصاف ایک چیز سے حاصل ہوتے ہیں یعنی جلدسے جلد اپنی ترجیحات کا تعین،جتنی زندگی ضائع کر کے آپ ان ترجیحات کےتعین تک پہنچیں گے،اتنے ہی آپ مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔وہ چاہے فرد ہو سوسائٹی یا ملک ہو،جس قدر وہ ان ترجیحات سے دور رہے،اُتنا ہی ڈسٹرب اور مصیبت زدہ ہے۔ایک آدمی پچاس سال میں جن ترجیحات کو پاتا ہےمگر پچاس سال میں خدا کے نزدیک اس کی ترجیحات کی قدروقیمت کم ہو گئی،ایک شخص پچیس سال میں اپنی ترجیحات کو پا لیتا ہے اور اس کو پتہ ہےکہ میری زندگی میری سوچ،سب کچھ کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانوں۔جب ذہن ترجیحِ اول کا اعلان کر دیتا ہے تو خدا اور بندے کے ذاتی اختلافات ختم ہو جاتےہیں۔وہ کہتا ہے کہ بندے سے یہی توقع تھی کہ وہ غور کرے سوچے اور  مجھے انٹلیکچوئل ترجیحِ اول واضح کر لے۔ہو سکتا ہے کہ ذہنی طور پر اس کو اولیت اور اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں اس کی اولیت قائم نہ رکھ پائیں،اس لغزش کی معافی مل سکتی ہے۔
گناہوں کی بخشش اس کے ہاں صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بنیادی سوال تو حل کر لیا ہے۔آپ کی کمزوریاںِ،کمیاں،ہو سکتا ہے آپ کو ترجیحات کے فقدان پرمائل کریں مگر یہ آپ کا ذہن اور آپ کی سوچ وفکر سے بھرپور طاقت ہے جس نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔حتیٰ کہ خدا انسان کی کمزوری کی وجوہ کو حکم دیتا ہے،تسلیم نہیں کرتاِ،حکم دیتا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں اور فواحش سے پرہیز کرو تو چھوٹے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔جب خدا خود کہہ رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کے دور تم پر آئیں گے،تو یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ہر آدمی پر حماقتوں کے کچھ دور ضرور گزرتے ہیں۔خطاؤں کے کچھ پیٹرن ضرور بنیں گے۔اس لیے کہ خطا بذاتِ خود سیکھنے کا بھی باعث ہے۔
٭تحفہء زندگی۔۔۔"لبّیک اللہُمٰ لبّیک"۔۔۔شنا سا ئی سے آشنا ئی تک۔۔۔روانگی۔15 دسمبر 2004 ۔۔۔ادائیگی حج 20جنوری 2005 -- واپسی 25 جنوری۔2005٭سر اب کہا نی ۔25جنوری 1967---- 25جنوری 2007۔ (40سال)۔عورت ا یک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اُسے ٹشّو پیپر بھی نہیں بلکہ رول ٹشُو کی طرح استعما ل کیا جا تا ہے۔  ٭ مدارِزندگی ۔۔۔22جنوری 1988۔22جنوری 2010۔(22سال)۔۔
وہ میرا گھر ہے لیکن میں و ہاں نہیں رہ سکتی اور یہ میرا گھر نہیں ہےلیکن مجھے یہاں ہی رہنا ہے۔٭تشکر کہانی (شادی۔ 25 سال)۔یکم ا پریل 1988---یکم ا پریل2013کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ و قت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہو ئی۔وقتی کھنک اور ستائش کی چاہفقط خودفریبی ہی تھی،ایک ان چھوا احساس  سرما یہءحیات ہے۔٭تھکن کہا نی۔۔  25 جنوری 1967----25 جنوری2011۔(44سال)۔بظاہر سرسبزوشاداب نظر  آنے والے  پودے کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک قطرہ قطرہ  زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے۔٭آخری کہانی 31دسمبر 2011
اپنی بھرپور موجودگی کے مادی اسباب کے ساتھ فرش سے عرش پر یا پھر عرش سے فرش تک کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد عورت اِتنی تہی داماں ہو جا تی ہیے کہ آخرکار پھونکیں مار مار کر اپنے ہی وجود کی بھٹی میں آگ سُلگا تے ہو ئے راکھ بنتی جا تی ہے،اُس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو تی،ہاں پہچان ختم ہو جاتی ہے" ڈھونڈنے والے اُس کی طلب سے بےنیاز  اپنے رنگ میں کھوجتے ہیں ۔"ا پنی نظر کی عینک سے بھی کبھی کائنات کا احاطہ ممکن ہو سکا ہے؟"۔ آکسیجن کی طرح بےرنگ ،بےبُو،بےذائقہ ہو جاتی ہے۔وہ آکسیجن جو بےمول،بن مانگے ملتی رہتی ہے تو اُس کی قدروقیمت کا کبھی احساس نہیں ہو تا۔کچھ حقیقتیں آخری سانسِ،آخری منظر سے پہلے آشکار نہیں ہو تیں " عورت بھی اِنہی سچا ئیوں میں سے ایک ہے۔٭ ختم کہانی 25 جنوری 2012۔۔۔جان کسی چیز میں نہ ڈالو ورنہ جان  نہیں نکلے گی۔ ۔(زندگی کہانی چند لفظوں میں کہی تو جا سکتی ہے لیکن گنتی کے چند برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتی۔۔ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ کاتبِ تقدیر نے  زندگی کہانی کے آخری صفحے پر ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔۔۔"ختم کہانی اور  آخری  کہانی" کے عنوان سے لکھی گئی سطریں اس احساس کے تحت لکھی گئیں کہ اب قلم اور کاغذ کے رشتے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ محض چند ماہ بعد یہی تعلق  نہ صرف میرے نام کی پہچان بنے گا بلکہ میرے لیے اپنی ذات کے حوالے سے انوکھے دربھی وا کرے گا )۔ 
 ٭انٹرنیٹ کہانی۔۔۔۔ 31مارچ 2012 سے فیس بک  اور اکتوبر 2012  بلاگ۔۔۔پانچ برس کے عرصے میں اس پرواز کا احوال 450 سے زائد بلاگز کہتے ہیں۔  ٭" کانچ کی چوڑی اور تتلی کہانی "۔پچیس جنوری۔2013۔۔۔٭"ایک کہانی بڑی پرانی"۔  پچیس جنوری 2014 ۔۔۔۔
٭"عام عورت۔۔۔خاص بات"۔پچیس جنوری 2015۔۔۔
 ٭"ایک دن ایک داستان"۔پچیس جنوری۔۔۔2016۔۔۔
حرفِ آخر ٭زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی ۔
٭ہم ساری عمرجگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں مل ہی جاتی ہے ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی۔۔۔۔۔

"لکھاری"

لفظ کہنے کا حوصلہ سننے والے کان سے ملتا ہے اور لفظ لکھنے کی لذت دیکھنے والی آنکھ کی عطا ہے۔
سوچنا اور لکھنا اہم نہیں بلکہ وہ نظر اہم ہے جو اس کے معنوں کی گہرائی میں جا کر اپنی مرضی کے سیپ کا انتخاب کرتی ہے، ور نہ کتنے ہی بند موتی اتھاہ گہرائیوں میں ان چھوئے رہ جاتے ہیں۔ ہم سب اللہ کی شاندار تخلیق ہیں بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے سب سے پہلے اپنی آنکھِ،جو اپنی ذات کے سمندر میں جھانکنے کا عزم کر لے تو پھر ہی ہم کسی دوسرے کی آنکھ سے اپنی ذات کے اندر اترنے کا حوصلہ اور اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
سب کہہ دینا چاہیے۔۔کوئی سمجھے یا نا سمجھے۔لیکن لکھنے سے ہماری اپنی بہت سی گرہیں ضرور کھل جاتی ہیں۔خود کلامی کی زبان کی پکار بہت سی بےزبانی سے نجات عطا کرتی ہے۔لکھنا دل کا بوجھ نہیں بلکہ مکمل ہونے یا چھوئے جانے کی خواہش ہے جو انسان کی جبلت میں ازل سے پرو دی گئی ہے۔اب انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ کس طرح اس خواہش یا طلب کو پورا کرنے کی سعی کرتا ہے۔ کچھ کے لیے جسم کی خواہش جسم سے عبارت ہے ۔کچھ کو روح کی پیاس بےچین رکھتی ہے۔
اپنے خیال کو لفظ میں بیان کرنا  لکھنے والے کے لیے ایک عجیب سا نشہ ہے تو  ایسی خوشی بھی جو انسان دوسروں سے شئیر کرنا چاہتا ہے۔لفظ لکھنا اگر اللہ کا انعام ہے تو اسے دوسروں تک پہنچانا ایک تحفہ ہے لیکن اس تحفے کو  دینے سے پہلے کسی بھی عام تحفے کو دینے والی نظر سے ضروردیکھنا چاہیے۔۔۔۔ تحفہ دیتے ہوئے قیمت اہم نہیں ہوتی بلکہ دینے والے اور لینے والے کا ذوق اہمیت رکھتا ہے۔ اب لفظ کا تحفہ تو بےغرض ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق اس کی خوشبو محسوس کرتا ہے۔ بات صرف  نیت کی ہے کہ دینے والا اس تحفے سے کیا چاہتا ہے۔اپنے دل کا غبار نکالنا ۔۔۔ اپنے ذہن میں جس خیال نے اسے جکڑ رکھا تھا اس کے اندر گھٹن پھیلا رکھی تھی وہ اسے دوسروں کے ذہن میں ڈال کر پرسکون ہونا چاہتا ہے اور یوں کہیں تو دوسروں کے ذہن اس کے لیے محض کوڑے دان ہیں ۔نیت سے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم میں کسی چیز کی صلاحیت نہ ہو بلکہ صرف ہوا کا رخ دیکھ کر محض وقتی واہ واہ یا تحفہ دینےکی دوڑ میں زبردستی اپنا نام لکھوانا چاہیں۔ بجا کہ ایسا محض شعور کی کجی نہیں بلکہ انسان لاشعوری طور پر بھی اپنی ذات کا اظہار چاہتا ہے لیکن سب سے اہم بات اپنے احساس اور اپنی ذات کی پہچان کی ہے۔ بےشک انسان اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے اور اس کو اللہ نے  بیش بہا صلاحیتیں عطا کی  ہوئی ہیں  اور جن کو وہ اپنی عمرِفانی کی قلیل مدت میں کلی طور پر جان ہی نہیں سکتا۔لیکن اپنی زندگی  سمجھنے    میں اُس کی دستیاب عقلی   صلاحیت  بہت حد تک رہنمائی کر سکتی ہے۔ نیت کی سچائی اور بےغرضی ہر تحفہ دینے کی شرطِ اولین ہے۔معنویت خوبصورتی کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے اور محض لفاظی کاغذی پھول کی طرح ہے۔۔ خوش رنگ لیکن خوشبو سے خالی جیسے کہ رومانوی شاعری صرف شاعری ہے اس کا مقصد سوائے اپنے جذبات کے اظہار کے اور کچھ نہیں۔ جسے اپنے دل کی آواز لگتی ہے وہ اسے دل سے لگا کر رکھتا ہے ۔ اردو ادب میں شاعری کا برابر کا حصہ ہے۔ شعراء کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس لیے شاعری کو ادب سے کلی طور پر منفی نہیں کیا جا سکتا۔دوسری بات اپنی سوچ پر اعتماد کی ہے  کہ ہمارا تحفہ  کس قابل ہے؟  ہم   دینے سے پہلے ہی شش وپنج کی کیفیت کا شکار  ہوں اور مسترد کیے جانے کے واہموں میں مبتلا ہو جائیں تو تحفہ  ہماے ہاتھ میں ہی اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ جب بےغرض دے رہے ہوں تو پھر نفع نقصان کی پروا کرنا بےمعنی ہے کہ جس کا جتنا طرف ہے وہ اتنا پائے گا۔  کوئی بھی تحفہ دیتے ہوئے ہم اپنی طرف سے اس  کی  خوبصورتی،معنویت اور  قابلِ قبول ہونا مدِنظر رکھتے ہیں۔تحفہ تو پھر خاص چیز  ہے ہم خیرات دیتے وقت  بھی  کھرے کھوٹے سکے کا دھیان رکھتے ہیں تو پرانے کپڑے  اور پرانے برتن دیتے وقت بھی پھٹے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے کبھی بھی نہیں دینا چاہتے۔ سو لفظ کا تحفہ جو ہماری روح  کی آواز ہوتی ہے اسے دیتے ہوئے ہم کیوں چاہتے ہیں کہ لینے والا ہمارے ٹوٹے   پھوٹے لفظ قبول کر لے۔اگر ہم  تحریر لکھنے کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالیں گے تو کسی سے یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ پہلی نظر ڈالے اور وہ ٹھہر بھی جائے۔سوچ کو لفظ میں پرونا اگر ایک آرٹ ہے تو دیکھنے والی آنکھ کا اس لفظ کے معنی کو محسوس کرنا اس سے بڑا فن نہیں تو اس کے ہم پلہ ضرور ہے اور پھر اپنے احساس کو لفظ کا گلدستہ بنا کر سراہنا لفظ پڑھنے کا حق ادا کرنا ہے ، لکھنے والا کسی کی واہ واہ کے لیے ہرگز نہیں لکھتا، بلکہ لکھنا بذات خود رب کا اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کی جزا انسان دینے کا اہل ہی نہیں۔جو لفظ کسی مادی منفعت کے لیے لکھا جائے وہ پیٹ تو بھر سکتا ہے لیکن روح کی تسکین نہیں کر سکتا۔
دنیا کی معلوم تاریخ میں آج تک کسی پیغمبر یا اولیاء یا عظیم مفکروں کو ان کے سامنے نہیں مانا گیا۔تو ایک عام انسان جو رب کے عطا کردہ تحفۂ فکر سے کچھ موتی چنتا ہے ۔وہ کیسے اپنے جیسے عام انسانوں سے کچھ توقع رکھ سکتا ہے۔ افسوس یا دکھ قطعی نہیں کبھی بھی نہیں ۔انسان ہونے کے ناطے بس ایک خلش یہ ضرور رہتی ہے کہ جو سچ جو راز رب نے دل ودماغ پر افشاء کیے وہ امانت ہیں اوراس کے بندوں تک پہنچانا ایک ذمہ داری۔۔۔جلد یا بدیر جاننے والے جان ہی جائیں گے۔وقت پر جان جائیں تو ان کے لیے اچھا۔
 کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی"۔"

"چھوٹی سی بات"

۔ 1988 میں  پاکستان ٹیلی ویژن  کےروزانہ نشر ہونے والے پروگرام "صبح کی نشریات" کے آخر میں کہی جانے والی جناب مستنصرحسین تارڑ کی  چھوٹی سی بات۔۔۔۔٭چھوٹی سی بات میں چاہے کتنی بڑی بات کہہ دی جائے، وہ پھر بھی چھوٹی سی بات ہی رہتی ہے۔٭گہرے سمندر اور گہرے انسان کا چہرہ سطح پر ہمیشہ پرسکون ہوتے ہیں۔
٭بادل برسے نہ برسے،اسے دیکھ کر ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔۔۔اولاد خدمت کرے نہ کرے اسے دیکھ کر بھی دل میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔
٭’ہمارے چہرے نقاب ہیں، ہم اُن کے پیچھے اپنے دُکھ درد روپوش کرتے ہیں۔
٭بیوقوف بھی آپ کے استاد ہو سکتے ہیں، جو وہ کرتے ہیں آپ نہ کیجیے۔
 ٭جیسے بارش گردآلود پتے کو ہرا بھرا کر دیتی ہے ایسے آنسو دل پر جمے غم کے غبار کو دھو ڈالتے ہیں۔٭آج عمل کا بیج بو دیجیے، کل ارادے کا بوٹا نکلے گا، پرسوں خواہش کا پھل آجائے گاَ۔
٭جب کوئی ادیب آپ سے کہے کہ بےشک مجھ پر کڑی تنقید کرو،مطلب یہ ہوتا ہے خدا کے واسطے میری تعریف کرو۔٭انسان کو پہچاننے کے لئے آنکھیں درکار ہیں، انسان کے اندر کے انسان کو پہچاننے کے لئے تجربہ درکار ہے۔
٭درخت پر بیٹھے پرندے کو آپ حکم دے کر اپنے پاس نہیں بلا سکتے ۔
 ٭جو شخص اپنے بیٹے سے غافل ہے وہ اپنے گھر میں مستقبل کے ایک ممکنہ مجرم کو پال رہا ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے لیکن اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل کو تالا لگانا نہ بھولئے۔( ظاہر ہے یہ چھوٹی سی بات میں نے رسولؐ اللہ کی اس حدیث سے مستعار لی تھی جس میں ایک بدّو نے حضورؐ سے شکایت کی کہ میں نے اپنا اونٹ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑا اور وہ چوری ہو گیا تو آنحضرتؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ضرور کرو لیکن اس کے ساتھ اونٹ کو کھونٹے سے بھی باندھ لیا کرو)۔
٭دو بےوقوف مل کر ایک عقل مند تو نہیں ہو سکتے البتہ میاں بیوی ضرور ہو سکتے ہیں۔ ٭ایک بیزار شکل کے انسان کو دیکھنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک خوش شکل مسکراتا ہوا اودبلاؤ دیکھ لیں۔
٭ایک نکما شخص دیوار پر آویزاں ایک وال کلاک ہے جس کی دونوں سوئیاں تھم چکی ہیں۔
٭اندھیرا نام کی کوئی شے نہیں ہوتی ، صرف ظاہری آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔
٭اگر محبت اندھی ہوتی ہے تو شادی نظرٹیسٹ کروانے کا آسان طریقہ ہے۔
٭ کسی کو جان لینا کسی کی جان لینے سے بہتر ہے۔
٭ایک بڑی مسکراہٹ ایک بڑے غم کو چھپانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
 ٭جیسے دولت سے عینک تو خریدی جا سکتی ہے نظر نہیں، ایسے ہی دولت سے رفاقت تو حاصل کی جا سکتی ہے دوستی نہیں۔٭ محبت کی کشتی میں پہلا سوراخ شک کا ہوتا ہے۔
٭ایک لباس ایسا ہے جو دنیا کے ہر خطے کے انسان پر سج جاتا ہے اور وہ ہے مسکراہٹ۔
٭تیز زبان والا شخص اپنا گلا خود کاٹتا ہے۔
 ٭زندگی کی شاہراہ یک طرفہ ہے۔۔۔ آپ جا سکتے ہیں واپس نہیں آ سکتے۔
 ٭سب لوگ عظیم نہیں بن سکتے لیکن عظیم بننے کے لئے جدوجہد تو کرسکتے ہیں۔
٭دانش اور دولت کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
٭غم کے سیاہ بادلوں کے کناروں پر امید کی ایک رُوپہلی شعاع ہمیشہ دمکتی ہے۔
٭ زندگی ایک آئینہ ہے، آپ اسے بیزار ہو کر دیکھ لیں گے تو بیزار ہو جائیں گے،مسکراتے ہوئے دیکھیں گے تو مسکراتے چلے جائیں گے۔
٭ اگر تم پر دنیا ہنستی ہے تو تم دنیا پر ہنسو کہ اس کی شکل بھی تم جیسی ہی ہے۔
٭پیاس کے صحرا میں آج کنواں کھودو کل یہ گُل و گلزار ہو جائے گا۔
٭ جس شخص کا خیال ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے، وہ کچھ نہیں جانتا۔(افلاطون کا قول ہے کہ میں نے صرف یہ جانا کہ میں کچھ نہیں جانتا)۔
٭جیسے سفر کا پہلا قدم نصف سفر طے کر جانا ہوتا ہے، ایسے عمارت کی پہلی اینٹ نصف عمارت کی تعمیر کو مکمل کر دیتی ہے۔
٭ دوست آپ کی برائیوں کے باوجود آپ سے محبت کرتا ہے اور دشمن آپ کی خوبیوں کے باوجود آپ سے نفرت کرتا ہے۔
٭اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنے والے شاعر دراصل بِھک منگے ہوتے ہیں۔
٭ جو گیت ماں کے دل میں گونجتا ہے وہ اس کے بچے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی صورت نغمہ سرا ہوتا ہے۔
 ٭ستارے اور دوست ایک جیسے ہوتے ہیں، چاہے کتنے ہی طویل فاصلوں پر ہوں ان کی روشنی آپ تک پہنچتی رہتی ہے۔
٭جو لوگ ہواؤں سے گھر بناتے ہیں اُن کے دروازوں پر صرف ہوائیں دستک دیتی ہیں۔
٭نصیحت کرنے سے ، نصیحت قبول کرنا زیادہ افضل ہے۔
٭آزادی کا حصول آسان ہوتا ہے، آزادی کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
٭ دنیا کے تمام بڑے دریا پانی کی ایک بوند سے جنم لیتے ہیں۔
٭رَب کے سامنے جھکنے والا سَر۔۔۔ سب سے سَربلند ہوتا ہے۔
٭ناقابل اعتماد دوستوں کی نسبت تنہائی سے دوستی کرنا بہتر ہے۔
 ٭ ہر شخص اتنا عقل مند نہیں ہوتا جتنا کہ اُس کی ماں سمجھتی ہے اور ہر شخص اتنا بےوقوف نہیں ہوتا جتنا کہ اس کی بیوی سمجھتی ہے۔
٭تعلیم دراصل آہستہ آہستہ اپنی جہالت کو جان لینے کا نام ہے۔
 ٭ ندی کے پانی اور آنکھ کے پانی میں صرف جذبات کا فرق ہے( یہ چھوٹی سی بات بہت ہی پسندیدہ ٹھہری)۔
٭ جیسے وسیع آنگن میں دُھوپ زیادہ اترتی ہے، ایسے فراخ دلوں میں مسرّت زیادہ اترتی ہے۔
 ٭ ایک سیانی بیوی اپنے خاوند کے سنائے ہوئے لطیفوں پر اس لئے نہیں ہنستی کہ وہ اچھے ہوتے ہیں بلکہ اس لئے ہنستی ہے کہ وہ ایک اچھی بیوی ہوتی ہے۔
٭حیات کی ندی کے پانی وقت ہیں، اُن میں عکس ہوتے ہمارے مہرے بالاآخر فنا کے تاریک سمندروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
 ٭ شیر کو اپنی کھال اور انسان کو اپنے نام کی حفاظت کرنی چاہیے۔ شیر کی کھال میں سوراخ نہ ہو اور انسان کے نام پر دھبہ نہ لگے۔
 ٭ ماں جس شخص کو بیس برس میں عقل مند بناتی ہے ، بیوی اسی شخص کو بیس سیکنڈ میں بےوقوف بنا دیتی ہے۔
٭ زندگی کی تصویر ہمیشہ بلیک اینڈ وائٹ ہوتی ہے۔ اس میں رنگ آپ بھرتے ہیں، یا نہیں بھرتے۔
 ٭ خاموشی ایک ایسا بند دروازہ ہے جس کے پیچھے لیاقت بھی ہو سکتی ہے اور اکثر حماقت بھی ہوتی ہے۔
٭رُوٹھنا چاہیے ، پر اتنا بھی نہیں کہ منانے والا مناتے مناتے رُوٹھ جائے۔
٭ ’’کسی کے آگے مجبور ہو کر جھکنا ذلت ہے۔۔۔ اور کسی مجبور کو اپنے آگے جھکانا اس سے زیادہ ذلت ہے‘‘۔
 ٭’’انسان کی اصلیت تب کھل کر سامنے آتی ہے جب وہ کسی کے بس میں ہو اور جب کوئی اور اس کے بس میں ہو ‘‘۔
٭’’زندگی کے اخبار میں سب سے خوبصورت صفحہ، بچوں کا صفحہ ہوتا ہے‘‘ ۔
٭’’شرافت سے جھکا ہوا سر، ندامت سے جھکے ہوئے سر سے بہتر ہے‘‘۔
٭’’زندگی کی کار میں فالتو ٹائر نہیں ہوتا، ایک ٹائر پنکچر ہو گیا تو سفر تمام ہو گیا‘‘۔
٭’بچہ ایک ایسا پھل ہے، جتنا کچا ہو گا ، اتنا ہی میٹھا ہو گا‘‘۔
 (موہن سنگھ کے ’’ساوے پتر‘‘ سے ’’اِک پھل ایسا ڈِٹھا، جناں کچا، اوناں مٹھا‘‘ سے مستعار شدہ)
٭’’بیوقوف ہونے میں موجیں ہی موجیں ہیں، آپ کسی بھی محفل میں تنہا نہیں ہوتے‘‘۔
٭ ’’کسی خوبصورت جھیل کے کناروں پر کڑاہی گوشت کھانے میں مشغول لوگ اس کی آبروریزی کے مرتکب ہوتے ہیں‘‘۔
٭’’سب کچھ کھونے کے بعد اگر حوصلہ باقی ہے تو آپ نے کچھ نہیں کھویا‘‘۔
٭ ’’اگر ماں کے علاوہ آپ سے کوئی کہے کہ آپ میرے چاند ہیں تو یقین کیجیے اُس نے چاند کبھی نہیں دیکھا ورنہ۔۔۔‘‘
٭’’ریت کا ایک ذرہ صحرا نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن وہ ایک ذرہ نہ ہو تو صحرا نہیں ہوتا‘‘۔
 ٭"دیوار میں چنی ہوئی ہر اینٹ ایک عظیم الشان عمارت ہے،وہ ایک اینٹ اکھڑ جائے تو وہ عمارت نہیں کھنڈر ہو جاتی ہے‘‘۔
 ٭’’جس روز آپ کا بچہ پہلی بار ’’ماما یا بابا‘‘ کہتا ہے اس روز آپ کے دل میں ایک نئی کہکشاں جنم لیتی ہے‘‘۔
٭ ’’جس روز آپ کے بچے کا بچہ پہلی بار آپ کو ’’دادا، دادی‘‘ یا ’’نانا، نانی‘‘ کہتا ہے تو نئی کائناتیں چھم چھم کرنے لگتی ہیں‘‘۔
٭’’غلط جگہ پر آم کھانے کو ’’غلط العام‘‘ کہتے ہیں‘‘۔
٭’’اکثر بڑے گھروں میں چھوٹے اور چھوٹے گھروں میں بڑے لوگ رہتے ہیں‘‘۔
٭’’آزادی جس بھاؤ ملے، لے لو، آزادی کا جو بھی بھاؤ ملے، نہ لو‘‘۔
٭’’وہ دماغ کس کام کا جس میں محبت کا خلل نہ ہو‘‘۔
 ٭’’عمل کے بغیر صرف علم کے ساتھ زندگی گزارنا ایسے ہے، جیسے کھیت میں بیج ڈالے بغیر ہل چلاتے رہنا‘‘۔
٭’’خیالات کی آمدنی کم ہو تو لفظوں کی فضول خرچی سے پرہیز کریں‘‘۔
٭’’مہمان آتے جاتے اچھے لگتے ہیں، کچھ آتے اچھے لگتے ہیں اور بیشتر جاتے اچھے لگتے ہیں‘‘۔
٭’’تنہائی ، اداسی، خوشی اور خوبصورتی، چاروں سگی بہنیں ہیں‘‘۔
٭ ’’وطن کی محبت کا الاؤ جلائے رکھو، برفیں پگھل جائیں گی، دشمن جل جائیں گے‘‘ (سیاچن کے برفیلے محاذ پر سر بہ کف ہونے والے ایک نوجوان کپتان کی فرمائش پر لکھی گئی چھوٹی سی بات)۔
٭ ’’زندگی کی مشکلات آپ کے لان کی گھاس ہوتی ہیں، آپ توجہ نہ کریں گے تو یہ بڑھتی جائے گی‘‘۔
٭ ’’آپ عقل کا پیچھا کر کے اسے حاصل کرتے ہیں اور حماقت آپ کا پیچھا کر کے آپ کو حاصل کر لیتی ہے‘‘۔
٭ ’’آپ اس دنیا میں وَن وے ٹکٹ لے کر نہیں آسکتے، واپسی کا ٹکٹ یہاں آنے کی شرط ہے‘‘۔
٭"پردیس کے میووں کی نسبت اپنے دیس کے تھوہر زیادہ میٹھے ہوتے ہیں‘‘۔
 ٭’’دل کی کتاب میں صرف ایک نام ہونا چاہیے، بہت سے نام درج ہوں گے تو وہ کتاب نہیں انسائیکلو پیڈیا ہو جائے گی‘‘۔
٭’’اگر رزق صرف عقلمند کما سکتے تو دنیا بھر کے بیوقوف بھوکے مر جاتے‘‘۔
٭ ’’اگر خواہشیں گھوڑے ہوتیں تو بیوقوف ان پر سواری کرتے‘‘ (ایک انگریزی محاورے سے اخذ شدہ)۔
٭’’اگر خواہشیں مچھلیاں ہوتیں، تو ہر کسی کی جیب میں رومال نہیں جال ہوتا‘‘۔
٭ ’’گرتے ستارے کو اپنی جیب میں سنبھال لو تا کہ جب زمانے تاریک ہو جائیں تو تم ان کی روشنی سے راستوں کو منور کر لو‘‘ (پیری کو موک ایک گیت سے متاثر شدہ بات)۔
٭ ’’جو لوگ ہاتھی سے کہتے ہیں کہ وہ مرکر سوا لاکھ کا ہو جائے گا، وہ اس کے دوست نہیں ہوتے‘‘۔
٭ ’’شیر اُن لوگوں کا نشان ہوتا ہے جنہوں نے کبھی سچ مچ کا شیر نہیں دیکھا ہوتا، بلی کو شیر سمجھتے رہتے ہیں‘‘۔
٭’’تیزروندی کے پانیوں میں اپنا عکس نہ دیکھو، وہ بہہ کر سمندر میں اتر جائے گا‘‘۔ 
جناب مستنصرحسین تارڑ۔۔۔ اپنی نئی اسٹڈی میں ۔دسمبر 2016۔۔
 جناب مستنصرحسین تارڑ۔۔۔ اپنی پرانی  اسٹڈی ٹیبل کے ساتھ۔2014.۔۔۔ 

"حِراموش ناقابلِ فراموش"

سفرِِحراموش 2016 از مستنصرحسین تارڑ
( روزنامہ نئی بات میں چھپنے والے کالم)٭ایک ناکام پہاڑوں کی مہم کی داستان ۔۔17نومبر 2015۔۔۔۔’’ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کیا میں پہاڑوں پر جا سکتا ہوں‘‘پچھلے چیک اپ کے دوران میں نے اپنے محسن اور مسیحا ڈاکٹر محمود ایاز سے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔’’ آپ کو یاد ہوگا کہ دوسرے آپریشن کے بعد جب میرے پورے بدن میں پلاسٹک کی متعدد ٹیوبیں پیوست تھیں اور میں نیم بیہوشی میں تھا تو میں نے آپ سے یہی سوال کیا تھا کہ اگر میں صحت مند ہو گیا تو کیا میں پہاڑوں میں جا سکوں گا تو آپ نے کہا تھا، آپ صحت مند ہو جائیں گے اور پہاڑوں پر ان شاءاللہ جائیں گے تو چلا جاؤں؟‘‘۔
ڈاکٹر صاحب اپنی ترشی ہوئی ڈاڑھی کی خوشنمائی میں اپنی مسیحائی میں مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’’آپ پہاڑوں پر کیوں جانا چاہتے ہیں؟‘‘۔
۔’’ اس لئے کہ مجھے پہاڑوں میں جا کریقین آئے گا کہ میں واقعی صحت مند ہو گیا ہوں۔۔۔ یوں بھی میں اُن کے لئے اور پہاڑ میرے لئے اداس ہو چکے ہیں‘‘۔
۔’’اپنے ٹانکوں کا خیال رکھیئے گا۔۔۔ زیادہ مشقت نہ کیجئے گا۔۔۔ چلے جائیے‘‘۔
میں نے گھر واپس آ کر گھڑیال سے منادی کردی، نقارہ بجا دیا کہ ڈاکٹر صاحب نے اجازت مرحمت فرما دی، آؤ پہاڑوں پر چلتے ہیں۔
جمیل عباسی اڑتا ہوا پہنچا۔۔۔ہوائی جہاز پر سوار اسلام آباد اتر آیا۔۔۔کامران سلیم سیالکوٹ سے امڈتا ہوا آگیا۔لاہور سے  عاطف اور شاہد زیدی کشاں کشاں میرے ہاں اسلام آباد پہنچ گئے۔۔۔ عاطف، شکل سے طالبان کا نمائندہ خصوصی لگتا، اپنی گھنی ڈاڑھی سنوارتا ایک باصلاحیت اور کمال کا فوٹو گرافر ہے جس نے جلوپارک میں ایک غصیلے اور طیش میں آتے ہوئے شیر ببر کی جو تصویر اتاری وہ دنیا بھر میں تہلکہ خیز ثابت ہوئی، شیروں کی دس بہترین تصویروں میں شمار ہوئی یہاں تک کہ مشہور زمانہ پستول برٹیا تخلیق کرنے والے صاحب نے اسے اپنے دفتر میں آویزاں کرنے کے لئے ایک خطیر رقم اُس کی خدمت میں پیش کی۔۔۔اُدھر یہ جو شاہد زیدی صاحب تھے، پرانے کولو نیل لاہور کی ایک بہتّر برس کی عمر کی یادگار تھے۔ لاہور کی مال روڈ پر ہائیکورٹ کے سامنے ’’زیدی فوٹوگرافر‘‘ کا شوروم لاہور کی ایک پہچان تھا۔۔۔ میرے ابا جی نے جب میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اسی شوروم میں میری زندگی کا پہلا کیمرہ۔۔۔ ایک کوڈک بےبی براؤنی مبلغ بائیس روپے میں خرید کر دیا تھا۔۔۔ تقریباً چونسٹھ برس بعد اسی شوروم کے موجودہ مالک شاہد زیدی نے میری ایک کلاسیک پورٹریٹ بنائی جو وہ کسی ’’لیجنڈ آف پاکستان‘‘ کی تصویری کتاب میں شامل کرنا چاہتے تھے، میں نے فوری طور پر اس بوڑھے اور سمارٹ نوجوان زیدی کو پسند کرلیا۔۔۔ زیدی صاحب ایک تنہا زندگی گزارتے ہیں، گھر میں ایک وسیع سٹوڈیو بنا رکھا ہے۔جہاں جنرل پرویزمشرف بھی اپنی پورٹریٹ بنوانے کے لئے آئے۔ مچھلی کے شکار کے شیدائی ہیں لیکن مچھلی کھاتے نہیں، دوستوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، امریکہ میں چٹانوں پر چڑھتے رہے ہیں، ہوائی جہاز اڑاتے رہے ہیں، پانچ بار مجھ سے پیشتر کےٹو کے بیس کیمپ تک جا چکے ہیں۔ ہنی مون کے لئے 1964ء میں گلگت اور ہنزہ گئے تھے۔۔۔ غرض کہ شدید طورپر آوارہ مزاج اور کھلنڈرے ہیں۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں ان سے پہلے کیوں متعارف نہ ہوا۔ اُدھر فیصل آباد سے ڈاکٹر احسن چلے آئے جنہوں نے شاید پاکستان بھر میں شمالی علاقہ جات میں سب سے زیادہ کوہ نوردی کی ہے۔ ہمارے اس مہم کے آفیشل انچارج وہ تھے۔ سکردو تک ٹکٹوں کا حصول، بلتستان کے دور افتادہ دیہات تک رسائی اور پھر ہراموش وادی کی بلندوں پر واقع کتوال جھیل تک ہمیں لے جانا سب اُن کی ذمہ داری تھی۔ لیکن۔۔۔ منگل کی سویر جب اسلام آباد میں موسم صاف تھا، سکردو میں دھوپ اتری ہوئی تھی اور ہم تیار بیٹھے تھے جب چھ بجے اطلاع ملی کہ خراب موسم کی وجہ سے سکردو فلائٹ کینسل ہو گئی ہے۔۔۔ جو فلائٹ ساڑھے نو بجے روانہ ہونی تھی وہ صبح چھ بجے کیسے کینسل ہو سکتی تھی، بعدازاں کھلا کہ پی آئی اے نے وہ جہاز کہیں اور بھیج دیا تھا اور بہانہ یہی کہ موسم خراب ہے اور وہ نہ تھا۔ پی آئی اے نے اہل شمال کو ہمیشہ دو نمبر شہریوں کے طور پر سلوک کیا ہے کہ وہ احتجاج نہیں کرسکتے۔۔۔ چلئے ہم اگلے روز چلے جائیں گے۔۔۔ میں وہ دن گزارنے کے لئے اپنے ساتھیوں کو ٹیکسلا لے گیا اور وہ ایک شاندار اور پرانی یادوں کی اداسی کا دن تھا۔۔۔ ہم موہر ہ مرادو کی خانقاہ کے کھنڈروں میں چلے گئے، وہاں بلندی پر وہ سحرانگیز غار تھی جہاں میں کبھی احمد داؤد اور کبھی وحید احمد کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ میرے ناول ’’قربت مرگ میں محبت‘‘ کے مرکزی کردار خاور، سلطانہ شاہ کے ہمراہ اسی غار کے دہانے پر بیٹھ کر نیچے بچھی ہوئی ہری پور کی وادی کے گھروں میں سے اٹھتے دھویں کو دیکھا کرتاتھا، میری خواہش تھی کہ ہم وہاں پہنچ کر غار کے باہر براجمان ہو کر دوپہر کا کھانا کھائیں لیکن وہ غار میری عمر کی وجہ سے میری پہنچ میں نہ تھی۔۔۔ ہم جولیان بھی گئے۔۔۔ بدھ مذہب کی وہ ہزاروں برس قدیم درس گاہ جہاں چین، سنٹرل ایشیا اور تبت سے علم کے حصول کے لئے لوگ آیا کرتے تھے۔۔۔ جولیان تک اٹھنے والی تقریباً ساٹھ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میرے زخموں کے ٹانکے ابھی کچے ہیں۔۔۔ کچھ درد سا ہوتا تھا۔۔۔ اگر یہاں یہ حالت ہے تو میں ہراموش وادی تک کیسے پہنچ پاؤں گا۔ لیکن، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔۔ جولیان میں وہ کوٹھڑی تھی جس میں میرے ناول کے کردار خاور نے سلطانہ شاہ کے ساتھ اپنی محبت کا ایک گیلا اظہار کیا تھا۔
ڈاکٹر احسن نے بہت کوشش کی لیکن ہمیں اگلے روز کی فلائٹ پر نشستیں نہ مل سکیں، البتہ بدھ کے روز چانس پر ٹکٹ میسر تھے، کیا پتہ وہ ٹکٹ نہ کنفرم ہوں، اگر ہوں تو کون جانے اُس روز بھی فلائٹ جائے نہ جائے۔ ہم سب کے دل بجھ گئے۔۔۔ ہم نے اپنے اپنے بجھے دل میں چراغ جلانے کی کوشش کی پر ناامیدی کی پھونکوں نے سب چراغوں کو بجھا دیا۔۔۔ جمیل واپس چلا گیا۔ ڈاکٹر احسن نے فیصل آباد کا سفر اختیار کیا اور ہم تینوں ، میں ، کامران اور زیدی صاحب ہارے ہوئے جنگجوؤں کی مانند پژمردہ اور تھکے ہوئے واپس لاہور آگئے۔۔۔ دراصل بلند پہاڑوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ابھی میرے ٹانکے کچے ہیں، زخم بھرے نہیں۔ یہ میری آشفتہ سری ہے جو مجھے ان کی جانب لئے جاتی ہے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں رسول حمزہ توف کی مانند اُن کی بلندیوں پر مر جاؤں تو انہوں نے میری محبت میں مجھے وصول کرنے سے انکار کردیا۔
اگر تم تنہا اور اداس ہو۔۔۔
اور کوئی بھی تمہاری محبت میں مبتلا نہیں ہے۔
تو جان لینا کہ۔۔۔
کہیں بلند پہاڑوں میں۔۔۔
رسول حمزہ توف مر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ حراموش ناقابل فراموش  ویڈیو(پہلی قسط) ۔
٭1)بابوسر ٹاپ پر پاکستان زندہ باد۔4ستمبر 2016۔۔۔اگر بالاکوٹ سے ناران تک نوتعمیر شدہ شاہراہ نے مجھے حیران کر دیا تو ناران سے درہ بابوسر تک جانے والی سڑک کی وسعت اور ہموارگی نے مجھے پریشان کر دیا۔۔۔ میں ایک مرتبہ پھر ڈیول کو اُس کا ڈیو دیتا ہوں۔۔۔ میاں صاحب کی توصیف کرتا ہوں۔۔۔ ہم نے بہرطور آج چار بجے تک گلگت پہنچنا تھا کہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن وہاں میرے منتظر تھے۔۔۔ تقریباً دو ماہ پیشتر مجھے اسلام آباد سے اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری کا فون آیا کہ۔۔۔ بہت سی توصیف۔۔۔ ازاں بعد۔۔۔ آپ گلگت بلتستان کے ایک محسن ہیں، آپ نے شمال کے حوالے سے پورے پندرہ سفرنامے تحریر کئے ہیں۔ آپ نے فیری میڈو کو متعارف کروایا اور وہاں ایک جھیل کا نام ’’تارڑ جھیل‘‘ مقامی لوگوں نے رکھ دیا تو۔۔۔ گلگت بلتستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چیف منسٹر صاحب نہ صرف آپ کو ایک ایوارڈ سے نوازیں بلکہ آپ کے نام کے ایک ایوارڈ کا اجراء کریں جو ہر برس شمال کے بارے میں تحریر کئے جانے والے بہترین سفرنامے اور بہترین ڈاکومنٹری پر دیا جائے گا۔۔۔ تو آپ سے گزارش ہے کہ گلگت تشریف لایئے۔۔۔ میں نے بھی بصد ادب گزارش کی کہ بندہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے۔۔۔ صرف ایک ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے گلگت تک کا پُرصعوبت سفر نہیں کر سکتا البتہ میں حراموش وادی کی کوہ نوردی کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔۔۔ تب گلگت بھی آنا ہو گا، تب حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔ اُنہوں نے چیف منسٹر سے مشورہ کر کے کہا۔۔۔ منظور ہے، منظور ہے۔ناران بابوسر ٹاپ تک کا سفر اس لئے دلنشیں تھا کہ راستے میں، میں نے ایسے لوگ دیکھے، کراچی، سندھ اور بلوچستان کے جو زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔برفانی ندیوں کے کنارے ہری بھری گھاس پر سرد ہواؤں کے جھونکوں میں پورے کے پورے خاندان پکنک منا رہے ہیں۔۔۔ جہاں کہیں آبشاریں اترتی ہیں اُن کی پھوار تلے لڑکیاں غُل مچاتی بھیگتی ہیں۔ بڑے جہازی سائز کے موٹرسائیکلوں پر سوار چمڑے کی جیکٹوں میں ملبوس جوڑے درّہ بابوسر کی جانب چلے جا رہے ہیں۔ایک کار ہماری کوچ کے برابر میں سے گزر گئی۔۔۔ کار کی دونوں کھڑکیوں میں سے دو لڑکیاں اپنے آدھے دھڑ باہرنکالے۔۔۔ ’’وِی‘‘ کا نشان انگلیوں سے بناتیں، جانے کون سے نعرے لگاتی چلی جا رہی تھیں۔میں نے ندیوں میں اترتی، شلوار کے پائنچے سنبھالتی بوڑھی عورتوں کو دیکھا جن کے بوڑھے خاوند کناروں پر کھڑے اُنہیں سرزنش کرتے تھے۔۔۔ ایک جھرنے کے پانیوں میں بھیگتے میں نے ایک نوجوان کو گٹار بجاتے دیکھا۔یہ جنونی اور تعصب سے فرار ہونے والا اصل پاکستانی تھا۔ طالبان کا نہ تھا، پاکستان کا پاکستانی تھا۔۔۔ اور یہ زندہ تھا۔۔۔ مُردہ نہ تھا۔۔۔ اہل اقتدار اگرچہ سیاسی مصلحتوں کی بنا پر چشم پوشی کرتے تھے، بلکہ احتجاج کرتے تھے کہ مُردہ باد کے نعرے لگانے والوں کی قتل گاہوں کو مسمار نہ کیا جائے۔۔۔ اور تو اور مذہبی جماعتوں نے بھی محض شلغموں سے مٹی جھاڑی تھی، اُنہوں نے بھی کوئی ایک ’’ملین مین‘‘ ریلی نہ نکالی جو وہ اکثر نکالتے رہتے تھے۔۔۔ کیا اُن کے نزدیک یہ ایک بے حرمتی نہیں ہے۔۔۔ وہ ملک جو رسولؐ اللہ کی شمع کے پروانوں کا ہے اگر اُسے مُردہ باد کہا جائے تو کیا یہ بے حُرمتی نہیں ہے۔اہل اقتدار کے اپنے اور دیگر مذہبی جماعتوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں لیکن۔۔۔ یہ جو اہل پاکستان ہیں وہ ان سب سے الگ پاکستان کو زندہ کرتے ہیں۔ لعنت در لعنت اُن پر جو مُردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔۔۔ میرا خیال تھا کہ درّہ بابوسر کی چوٹی پر ایک عظیم تنہائی ہو گی، میں اُس کی بلندی پر کھڑا ایک تنہا شخص ہوں گا اور سرد ہواؤں کے تھپیڑے میرے قدم اکھاڑتے ہوں گے ۔۔۔ البتہ میں اُن لوگوں کے بارے میں رنجیدہ ہوں گا جنہیں اس مقام پر ایک بس سے اتار کر اُن کے شناختی کارڈ چیک کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔ اُن کے بال بچوں کے سامنے اُن کے سروں میں گولیاں مار دی گئی تھیں۔لیکن۔۔۔ ہم بابوسر ٹاپ پر پہنچے ہیں تو وہاں ہزاروں کا ہجوم ہے۔۔۔ بے شمار جیپیں، کوچیں اور کاریں کھڑی ہیں اور کراچی سے آنے والی کسی کالج کی لڑکیاں قطار باندھ کر نعرے لگاتی رقص کرتی ہیں۔۔۔ کچھ بوڑھی عورتیں ایک گلیشئر پر پھسلتی ’’سکی اِنگ‘‘ کر رہی ہیں۔۔۔ وہاں ایک میلہ لگا تھا۔۔۔ کچھ لوگ میرے سفید ہو چکے بالوں کے باوجود مجھے پہچان کر میرا گھیراؤ کرتے مجھ سے ’’سیلفیوں‘‘ کی فرمائش کرتے تھے۔۔۔ موبل آئل میں تلے ہوئے پکوڑے سیاح رغبت سے کھاتے ہیں۔۔۔ ہوا تیز ہے اور اُس میں دامن اور دوپٹے پھڑپھڑاتے ہیں۔۔۔ نوجوان لڑکے، کراچی اور کوئٹہ کے۔۔۔ سرمست اور بے خود درّہ بابوسر کی بلندی پر زندگی کی مسرتوں کی مے کشید کر رہے ہیں۔ہم پورے پانچ بجے، جب کہ گلگت کے گرد گھیرا ڈالے چٹانوں پر سورج کی آخری کرنیں اترتی تھیں، ہم گلگت بلتستان کے چیف منسٹر کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور وہ باہر کھڑے ہمارے منتظر تھے۔۔۔۔۔ویڈیو (دوسری قسط)۔
٭2)گلگت بلتستان کے چیف منسٹر ہاؤس میں۔11ستمبر2016۔۔۔۔گلگت ایک جزیرہ ہے اور وہاں چیف منسٹر ہاؤس ہے جہاں ہم پہنچے تو گلگت بلتستان کے چیف منسٹر حافظ حفیظ الرحمن جانے کب سے ہمارے انتظار میں باہر کھڑے تھے۔۔۔ اور یہ میزبانی کی روایت انہی خطوں کی ہے، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی اور صوبے کا چیف منسٹر آپ کے لیے اپنے شیشے کے گھر سے باہر آ کر آپ کا انتظار کرے۔۔۔ نہ صرف وہ بلکہ اُن کی کابینہ کے متعدد وزیر، اسمبلی کے سپیکر ناشاد صاحب اور گلگت بلتستان کے نامور تاریخ دان، محقق، شاعر اور ادیب بھی میری آمد کے منتظر تھے۔ ناشاد صاحب کو میں ایک عرصے سے جانتا تھا، وہ کبھی شاد نہ ہوئے، ہمیشہ ناشاد رہے۔۔۔ ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر۔۔۔ ناشاد نہ کر‘۔۔۔ لیکن مجھے دیکھ کر لمحے بھر کے لیے شاد ہوئے اور پھر ناشاد ہو گئے۔چیف منسٹر صاحب نے نہایت تفصیل سے میرے شمال کے سفرناموں کو گلگت بلتستان کی اولین پہچان قرار دیا۔۔خوب توصیف کی اور پھر مجھے گلگت بلتستان کا ایک غیر سرکاری سفیر قرار دیا۔۔۔صدشکر کہ میں ایک غیر سرکاری سفیر تھا کہ سرکاری سفیر ہونے کے لیے تو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے اور میرے پاس اتنا بڑا بیلنا نہ تھا۔۔۔ اور بہت لطیفے سنانے پڑتے تھے اور میرے پاس لطیفوں کا سٹاک بھی محدود تھا۔ حافظ صاحب کی کلائی پر ایک قیمتی گھڑی بند ھی تھی جو محترم وزیراعظم سے اُن کی محبت کا مظہر تھی۔ وہ مجھے ایک منجھے ہوئے اور قابل اعتبار سیاستدان لگے جن کے منصوبے قابل عمل لگتے تھے۔۔۔ وہ مجھے اچھے لگے۔۔۔جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں انہوں نے نہ صرف مجھے ایک خصوصی ایوارڈ سے نوازا بلکہ میرے نام کے ایک ایوارڈ کے اجراء کا بھی اعلان کیا جو ہر برس شمال کے بارے میں لکھی جانے والی بہترین کتاب اور ڈاکو منٹری پر عطا کیا جائے گا۔ حافظ صاحب مجھے اس لیے بھی بھلے لگے کہ انہوں نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک نہایت اہم میٹنگ صرف اس لیے مؤخر کر دی کہ مجھے اُن کے ہاں آنا تھا۔۔۔ شمال کے مصنف دوستوں نے بہت کرم کیا، نہ صرف مجھے ملنے کے لیے چلے آئے بلکہ اپنی تصانیف بھی مجھے تحفے کے طور پر عطا کیں۔چیف منسٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اس برس عید کی چھٹیوں کے آس پاس تقریباً بیس ہزار کاریں گلگت بلتستان میں داخل ہوئیں جب کہ پورے صوبے میں کاروں اور ویگنوں وغیرہ کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے۔۔۔ ہمارے پاس چھ ہزار افراد کی رہائش کی گنجائش ہے تو ہم کیا کرتے۔۔۔ اسی لیے سیاحوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، تارڑ صاحب۔۔۔ یہ آپ کے سفرناموں کی مصیبت ہے۔ اب کوئی ایسا سفرنامہ تحریر کیجیے کہ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کچھ کمی ہو جائے۔۔۔اگر میں نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سے ایک ایوارڈ وصول کیا تو کیا میں بھی ایک سرکاری درباری ادیب ہو گیا تھا؟ ہاں ہو گیا تھا کہ اس خطے کے لوگوں نے اپنی محبت اور خلوص سے مجھے موہ لیا ہے۔۔۔ وہ تو سکردو کی ایک نشست پر مجھے اپنا نمائندہ نامزد کرنا چاہتے تھے۔۔۔ فیئری میڈو کی ایک جھیل کو رحمت نبی نے ’’تارڑ جھیل‘‘ کا نام دے دیا تھا بلکہ انہوں نے اُس مقام کو ایک یادگار بنا رکھا تھا جہاں آج سے تیس برس پیشتر میں نے اپنا خیمہ نصب کیا تھا۔ یہاں تک کہ میں اُن کی دیومالا میں شامل ہو چکا تھا، نانگا پربت کے دامن میں رہنے والے وہاں آنے والے سیاحوں کو میری جھوٹی سچی داستانیں سناتے ہیں۔۔۔ ایورسٹ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی نذیر صابر ہر انٹرویو میں مجھے شمال کا محسن قرار دیتے ہیں۔۔۔تو جس خطے نے میری یوں پذیرائی کی ہو، میں وہاں کا درباری سرکاری ادیب ہونے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔آپ مجھے کسی اور چیف منسٹر کے دربار میں نہ دیکھیں گے۔ گلگت بلتستان میرا محبوب ہے اور اگر محبوب آپ کی عزت افزائی کرے تو کون کافر انکار کر سکتا ہے۔اور ہاں اس دوران اسلام آباد سے مجھے عکسی مفتی اور شاہنواز زیدی کے پیغام آئے کہ اس برس یوم آزادی پر آپ کو ستارۂ امتیاز عطا کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔چنانچہ شمال میرے لیے اچھی خبریں لا رہا تھا۔۔۔ اور ہاں چیف صاحب نے ہمیں ایک بہت بھاری چائے پلانے کے بعد، رات کے کھانے تک کے لیے ٹھہر جانے کو بہت کہا لیکن۔۔۔ ہم ٹھہر نہ سکتے تھے، را کا پوشی کے دامن میں مناپن کے اداس گاؤں میں دیران گیسٹ ہاؤس کے باغ بہاراں کے سیب کے درخت، چیری کے شگوفے اور خوبانیوں کے زرد سورج ہمارے منتظر تھے۔ہم رات گئے را کا پوشی کے سفید معبد کے دامن میں ویران ریسٹ ہاؤس پہنچے تو نہ صرف مہربان دوست اسرار ہمارا منتظر تھا بلکہ خوبانیوں کے ایک سورجوں سے لدے شجر تلے۔۔۔ اپنے روایتی لباسوں میں سجے ہوئے ، زیوروں سے آراستہ، ہاتھوں میں گلدستے تھامے۔ میرا ستقبال کرتے چھ نگری بچے، اتنے سوہنے اور سرخ گلاب جیسے ابھی ابھی سیبوں سے تراشے گئے ہوں، مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے، اپنی مقامی زبان میں میرے لیے ایک خوش آمدی قدیم گیت گاتے تھے۔ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں یہ خوشی کی خبر سن کر مثلِ گلاب ہم کھل گئے۔میری پژمردہ بوڑھی آنکھوں میں نمی آ گئی اور اُس نمی میں تشکر اور عاجزی اور کم مائیگی کی بادبانی کشتیاں تیرنے لگیں۔۔۔ بے شک آج مجھے گلگت بلتستان کے چیف منسٹر نے ایک اعزاز سے نوازا تھا۔اسلام آباد سے خبر آئی تھی کہ مجھے ستارۂ امتیاز دیا جا رہا ہے پر ایسےاعزاز تو بہت لوگوں کو ملتے ہیں۔۔۔ میرے لیے ان ہر دو اعزازات کو حقیر کرتا ان نگری بچوں کا استقبالیہ قدیم گیت تھا۔ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ویڈیو (تیسری قسط)۔
٭3)حراموش اور ناران سیاحوں کی قتل گاہ۔۔7ستمبر 2016۔۔۔۔
بہت برس پہلے میں شمال کی کسی کوہ نوردی کی تھکن سے نڈھال سکردو سے گلگت کی جانب جا رہا تھا اور وہاں سکردو روڈ کی جان لیوا مسافتوں کے دوران سسّی نام کی ایک آبادی کے پس منظر میں یکدم ایک شاندار برف پوش پہاڑ چٹیل چٹانوں کی اوٹ میں سے یوں ابھرا جیسے کسی دیومالائی سمندر میں سے ایک سفید عفریت ابھرتا ہے اور یہ کوہ حراموش تھا۔۔۔اُس کابرف آثار، برف انبار، برف بار وجود ابھرتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ دریائے سندھ کی گونج پر حاوی ہو گیا۔۔۔ اُس کی شاندار برفیلی عظمت نے مجھے موہ لیا۔۔۔اے حراموش میں تجھے کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ کبھی نہ کبھی تیرے دامن تک پہنچ کر تیرے چرنوں میں عقیدت کے چند جنگلی پھول چڑھاؤں گا۔۔۔ اگر میں زندہ رہا تو۔۔۔میں اب اتنے برسوں بعد حراموش سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے جا رہا تھا۔۔۔جب متعدد طویل آپریشنوں کے بعد ڈاکٹرمحمودایاز نے مجھے نوید دی کہ تارڑ صاحب۔۔۔اب آپ صحت مند ہو چکے ہیں تو میں نے اُن سے کہا ، کیا میں پہاڑوں پر جاسکتا ہوں کہ میرے لئے زندگی اورصحت کا مطلب ہے کوہ نوردی کے قابل ہو جانا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بھولے ڈاکٹر تھے اُن کا خیال تھا کہ میں مری، سوات وغیرہ کی بات کرتا ہوں تو اُنہوں نے کہا ، ہاں آپ پہاڑوں پر جاسکتے ہیں، اُنہیں کیا پتہ تھا کہ میں نے حراموش کی بلندیوں کو سر کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔دراصل میرے کچھ ایسے دوست ہیں جنہیں پرانے زمانوں میں مرید وغیرہ کہا جاتا تھا۔ کامران سلیم، عاطف سعید، ڈاکٹر احسن وغیرہ، چوتھا مرید جمیل عباسی، یہ وہ چار بیساکھیاں ہیں جو مجھ بوڑھے کو سہارا دے کر پہاڑوں تک لے جاتے ہیں، یوں جانئے کہ یہ وہ چار جن ہیں جو میری ابرو کے اشارے پر ’’جو حکم آقا۔۔۔‘‘پکارتے چلے آتے ہیں، ان کے سوا بابا شاہد زیدی تھا، لاہور کے سب سے نامور ’’زیدی فوٹوگرافر‘‘ کا آخری چشم و چراغ۔۔۔ میری صبح کی سیر کے تین ساتھی، سرفراز ملک، تنویر خواجہ اور ڈاکٹر نسیم بھی میرے ساتھ ہو لئے اگرچہ بعد میں بہت پچھتائے۔میں زندگی میں پہلی بار تھاکوٹ، بشام کے راستے نہیں، ناران اور درہ بابوسر کے راستے گلگت جا رہا تھا۔۔۔ بالاکوٹ سے ناران جانے والی شاہراہ نے مجھے حیران کردیا۔۔۔وہ پہاڑوں میں بل کھاتی ایک حیرت ناک موٹروے تھی جس پر کاروں کا ہجوم تھا۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ ۔۔۔گِو دے ڈیول ہِز ڈیو۔۔۔تو میں کھُلے دل سے اقرار کرتا ہوں کہ یہ شاہراہ تعمیر کرکےنوازشریف نے مجھے خوش کردیا تھا، ہم رات کے دس بجے کے قریب ناران پہنچے۔۔۔یہ وہ ناران نہ تھا 1955ء والا۔۔۔کنہار کنارے گوجروں کے چند جھونپڑے، ایک قدیم ریسٹ ہاؤس اور ویرانے میں دو تنور جہاں صرف آلو شوربہ ملتا تھا۔۔۔ یہ 2016ء کا ناران تھا۔ پرہجوم، دل آزار، ہوٹلوں کی بھرمار اور اہل ناران سیاحوں کا قتل عام کر رہے تھے۔ ناران کے داخلے پر سینکڑوں سفید ٹینٹ ایسادہ تھے۔سیاّح اپنے بچوں کو شب کی سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے منہ مانگی قیمت ادا کر رہے تھے۔ ہوٹلوں کے بوسیدہ اور گندے کمرے۔۔۔ دس ہزار۔۔۔ اور اگر سیاح بہت ہی مجبور ہے تو بیس ہزار۔۔۔ناران کے لوگ سونے کے انڈے دینے والی بطخ یعنی سیاحوں کو ذبح کرکے تمام تر سونے کے انڈے حاصل کرلینا چاہتے تھے۔۔۔میں نے ایک اصطبل میں  پارک شدہ ایک مرسڈیس دیکھی اور پارکنگ کے لئے پانچ ہزار وصول کیے گئے۔۔۔ اگرچہ چند ایک معیاری ہوٹل موجود ہیں لیکن ان کی تعداد ذرا کم کم ہے۔۔۔ بے شک یہاں گلے کاٹنے کا مقابلہ ہو رہا تھا لیکن اس کے باوجود ناران کے بازار میں بہت رونقیں تھیں، اس برس پورے پاکستان نے شمال پر یلغار کردی تھی۔ دہشت گردی، کرپشن اور مذہبی جنون سے تنگ آئے ہوئے لوگ اپنے شہروں سے فرار ہو کر کچھ لمحے سکون کے حاصل کرنے کے لئے یہاں چلے آئے تھے۔ میرا مشورہ تو یہی ہے کہ ناران کاغان مت جائیے، البتہ اگر کھال اتروانے کا شوق ہے تو چلے جائیے۔۔۔اور اگر جائیے تو کسی معیاری ہوٹل میں ایڈوانس بکنگ کرواکے گھر سے نکلیے۔اگرچہ یہ امکان بھی ہوگا کہ ناران پہنچنے پر طے شدہ کرایہ دوگنا ہو چکا ہوگا۔۔۔ ہم قدرے خوش نصیب ہو گئے تھے۔۔۔ میرے دوست شیرستان کی سفارش پر ہمیں ناران کے پی ٹی ڈی سی موٹل میں دو کمرے نہیں کمریاں مل گئی تھیں۔ اگرچہ میں بہت برسوں سے پی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر تھا، اختیار رکھتا تھا کہ کسی بھی موٹل میں دندناتاہوا چلا جاؤں۔۔۔ موٹل کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرکے اُسے کٹہرے میں کھڑا کردوں لیکن۔۔۔ مجھے یہ پسند نہ تھا۔ میں تو اس سرکاری حیثیت کا حوالہ بھی نہیں دیتا تھا، یوں بھی موٹل کے منیجر اصغر صاحب ایک بھلے آدمی تھے، اُنہوں نے ہمارے کمروں بلکہ کمریوں کے سامنے کنہار کنارے ایک الاؤ روشن کردیا۔اور اُس شب اُس الاؤ کی آگ میں ٹراؤٹ مچھلیاں پھڑکتی تھیں، اور اُن میں وہ ایک چاندی رنگت کی ٹراؤٹ بھی تھی جو میری بیٹی عینی نے بہت برس ہو چکے جب وہ بچی تھی، شکار کی تھی۔آپ پوچھ سکتے ہیں کہ بھلا الاؤ میں مچھلیاں کیسے پھڑک سکتی ہیں تو آپ کیا جانیں کہ تصور کے کرشمے آپ کو کیا کیا انہونے منظر دکھا سکتے ہیں۔۔۔ بھڑکتے الاؤ میں پھڑکتی مچھلیاں بھی دکھا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔
۔ویڈیوقسط(4)۔
٭4)عطا آباد جھیل میں آباد گاؤں18 ستمبر 2016۔۔۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں۔۔۔ویران ریسٹ ہاؤس یونانی دیو مالا کا ایک ’’لوٹس آئے لینڈ‘‘ تھا۔۔۔ افیونیوں کا ایک جزیرہ تھا۔ یہاں آپ کو شمال کی بہترین روایتی خوراک ملتی تھی اور اس کے باغ بہاراں میں ملتی تھی اور ذرا سی ہوا کے چلنے سے آپ کی ڈائننگ ٹیبل پر ٹپ ٹپ سیب گرنے لگتے تھے، چیریوں کے چہرے سرخ ہو جاتے تھے اور خوبانیوں کے زرد سورج طلوع ہونے لگتے تھے۔ استقبالیہ کے درو دیوار پر میری تصویریں آویزاں تھیں کہ ’’را کا پوشی نگر‘‘ کے سفر کے کچھ دن یہاں گزرے تھے۔ جب اسرار نے اپنے خاندان کی سب سے قیمتی متاع، ایک منقش اونی چوغہ جو اس کے وادئ یاسین کے گورنر عزیز اوڑھا کرتے تھے، تحفے کے طور پر مجھے پہنا دیا۔۔۔میں نے دیکھا کہ شاہد زیدی صاحب۔۔۔ ایک بہت تناور سیب کے درخت کے گھاس پر گرے ہوئے کچے سیبوں کو اٹھا رہے ہیں، اُنہیں کچر کچر کھا رہے ہیں اور مسکرا رہے ہیں اور ہوا کا ایک تیز جھونکا را کا پوشی کی جانب سے اترا اور سیبوں کی گویا بارش ہونے لگی ۔۔۔ اور میں فکر مند ہو گیا۔۔۔ اگر اُن میں سے کوئی سیب براہ راست زیدی کی کھوپڑی پر گرتا تو وہ فی الفور جاں بحق ہو جاتا ۔۔۔ زیدی فوٹو گرافر کا آخری چشم و چراغ گل ہو جاتا۔۔۔ ویسے مرنا تو سب کو ہے لیکن ایک سیب کے گرنے سے مرجانا بھی ایک منفرد اعزاز ہے۔ بے شک کشش ثقل دریافت ہو پھر بھی سبحان اللہ۔۔۔ اگر مجھے یہ اعزاز نصیب ہو تو اخباروں میں اور ٹیلی ویژن پر بریکنگ نیوز کی کیا ہی شاندار سرخی لگے گی۔۔۔ ملک کے مایہ ناز۔۔۔ پتہ نہیں کیا کیا ناز۔۔۔ آج انتقال کر گئے۔۔۔ اچھے بھلے پنیر کے آملیٹ کا ناشتہ را کا پوشی کے سائے میں کر رہے تھے کہ ناگہانی طور پر ایک سیب اُن کی کھوپڑی پر آگرا۔۔۔ جاں بحق ہو گئے۔۔۔ اللہ مغفرت کرے عجب آوارہ گرد مرد تھا۔۔۔ اُن کے آخری الفاظ تھے۔۔۔ مجھے ایک اور پنیر کا آملیٹ لادو۔۔۔ عجب پیٹو مرد تھا۔۔۔ اگلے روز ہم نے دریا پار کیا اور ہنزہ میں قدم رکھا۔۔۔ اور تب مجھے خیال آیا کہ دریائے گلگت کے بہاؤ میں کچھ برس پیشتر ایک چٹانی رکاوٹ آ گئی اور بہت سے گاؤں اس کے پانیوں میں ڈوب گئے تھے۔ ایک وسیع جھیل نمودار ہو گئی تھی، بلند چٹانوں میں گھری ایک جھیل جس کی تہہ میں گاؤں شاید ابھی تک آباد تھے۔۔۔چنانچہ میری خواہش کے مطابق ہم کریم آباد کی بلندیوں کی جانب نہ گئے۔عطاء آباد جھیل کی جانب شاہراہ قراقرم کے مسافر ہو گئے۔۔۔چینی بھائیوں نے ہماری سہولت کی خاطر شاہراہ کے اُن حصوں میں سرنگیں تعمیر کر دی تھیں جہاں اکثر ذرا سی بارش سے راستے مسدود ہو جاتے تھے۔اب اوپر سے جو شجر گرتے ہیں، سیلاب آتے ہیں وہ ان سرنگوں کی چھتوں پر سے گرتے ، بہتے جھیل کے پانیوں میں اتر جاتے ہیں۔یہ ’’فرینڈ شپ ٹنل‘‘ اتنی شاندار اور مضبوط بناوٹ کی ہیں کہ مجھے خدشہ ہے کہ چینیوں نے انہیں ہمارے لیے نہیں، اپنے لیے تعمیر کیا ہے، اُن زمانوں کے لیے جب یہاں اُن کا دوستی بھرا راج ہو گا۔ امریکہ آ کر چلا جاتا ہے۔ چین جہاں جاتا ہے، پھر واپس نہیں جاتا۔عطا آباد جھیل اگرچہ مصنوعی ہے، ایک جغرافیائی تغیر کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے، نشیب میں جو وادی تھی، جتنے گھر تھے وہ اس میں غرق ہو گئے اس کے باوجود بلند چٹانوں کے گرد گردش کرتے ہوئے گہرے پانیوں والی یہ جھیل، شمال کی سب جھیلوں سے الگ اپنی ہی شکل اور دل میں دہشت بھر دینے والی خوبصورتی کی حامل ایک انوکھی جھیل تھی۔ جھیل کے زمرد پانیوں کی سطح پر سیاحوں سے بھری موٹر بوٹس تیرتی چلی جاتی تھیں۔۔۔ البتہ سیاحوں نے زرد رنگ کی لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں کہ اس جھیل کی گہرائی کی تہ میں شاید ابھی تک کچھ گاؤں سانس لیتے تھے۔۔۔ گلگت سے پھنڈر تک جانے والے کوہستانی راستے کے درمیان ایک جھیل خلطی نام کی پڑتی ہے۔۔۔ اور یہ جھیل بھی دریا کی روانی میں ایک ناگہانی پتھریلی رکاوٹ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی، اور جب میں اپنے بال بچوں سمیت وہاں سے گزرا تھا تو اب مجھے یہی خیال آتا تھا کہ کیا اس جھیل کے پانیوں میں ڈوب چکے گاؤں واقعی غرق ہو چکے ہیں یا کیا یہ ممکن ہے کہ ان گاؤں کے چولہے ابھی تک سلگتے ہوں۔۔۔ٹھنڈے نہ ہوئے ہوں۔عطا آباد جھیل کے کناروں میں سے پانیوں میں سے ظاہرہونے والے کچھ شجر تھے ، وہ ابھی تک نہ ڈوبے تھے۔میرے بچپن میں قومی کتب خانے نے جو کہ نسیم حجازی کے جہازی ناول شائع کرتا تھا۔۔۔ ’’پانی کے بچے‘‘ نام کا ایک ناول شائع کیا جو کسی انگریزی ناول کا اردو ترجمہ باتصویر تھا۔ پانیوں کی تہ میں ایک جہاں آباد ہے۔ بستیاں آباد ہیں اور وہاں کے بچے پانیوں میں تیرتے پھرتے ہیں۔۔۔ عطاء آباد جھیل کے پانیوں کے پار اگر ہماری نظر اتر سکتی۔۔۔ اس کی گہرائی میں ڈوب سکتی تو یہاں بھی پانیوں کے بچے تیرتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے۔چشم تصور کو ذرا وا کیجیے۔۔۔ پانیوں کے بچے عطا آباد جھیل میں مچھلیوں کی مانند ڈبکیاں لگاتے، تیرتے نظر آنے لگیں گے۔
٭5) جھروکے میں بیٹھی لڑکی۔۔۔کیا آپ نے ہمارا پانی پیا ہے؟۔۔۔21 ستمبر 2016۔۔۔۔۔۔
ویڈیو قسط (5)۔
٭6)حراموش روڈ۔۔۔ موت کے بعد مرنے کا منظر۔25ستمبر2016۔۔۔دیران ریسٹ ہاؤس کے باغ بہاراں اور اسرار کے جنت ذائقوں کے پکوانوں سے دل پہ پتھر رکھ کر ہم جدا ہوئے اور وہاں را کا پوشی کے دامن میں پتھروں کی کچھ کمی تو نہ تھی۔ اگر احمد ندیم قاسمی یہاں چلے آتے تو صرف ایک ’’پتھر ‘‘ نظم نہ لکھنے، پورا دیوان پتھروں سے لبریز ہو جاتا اور ہم نے گلگت واپسی کا سفر اختیار کیا۔۔۔ سب کوہ نورد ساتھی چہک رہے تھے کہ آج وہ دن تھا جب ہماری کوہ نوردی کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ ابھی تک تو ہم موج میلا کر رہے تھے۔ شاہد زیدی کی جیبوں میں کچے سیب بھرے تھے اور وہ ایک بچے کے اشتیاق کے ساتھ کچر کچر انہیں کھا رہے تھے۔ سر فراز گو جر ہمیں بتا رہا تھا کہ بھینسوں کی جنسی زندگی بے حد پر اسرار ہوتی ہے اور یہ سب نہیں جانتے تھے کہ حراموش نے ان کا کیا حشر کرنا تھا اور ان کا یہ سفر، سفر آخر ت میں بھی بدل سکتا تھا۔گلگت سے نکل کر ہم شاہراہ قراقرم سے بچھڑ کر نیچے اترتے ہیں، دریائے گلگت پر معلق نہایت مخدوش ہو چکے عالم پُل کے ڈھانچے پر سے گزرتے ہیں اور اس پل کی حالت یہ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک گاڑی اور وہ بھی ڈولتی ہوئی اس پر سے گزرتی ہے۔ یہ ایک پل نہیں، ایک پل کی لاش ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ نہ صرف پورے بلتستان کو بقیہ پاکستان سے ملانے والا بلکہ دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن تک فوجی سامان اور گولہ بارود لے جانے والا۔۔۔ صرف یہ ایک پل ہے۔۔۔ اسے ہندوستان ایک بم سے نہیں ایک پٹاخے سے اڑا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف نے اس کے برابر میں ایک مستحکم اور جدید پل کی تعمیر کا آغاز کیا تھا جس کی تکمیل کو روک دیا گیا۔۔۔ میں تو نہیں آپ لوگ اہل اقتدار سے دریافت تو کیجیے کہ آپ بے شک چک جھمرہ اور رائے ونڈ کے لیے موٹر وے تعمیر کرتے جاتے ہیں تو کیا کچھ حرج ہے کہ دریائے گلگت پر ایک اور پل تعمیر کر دیا جائے۔۔۔ ہمارے ہاں بہت سے کلیشے مستعمل ہیں جن کے بارے میں قدرے روگرادنی کرنا آپ کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ یا تو آپ پر غداری کی کوئی تہمت لگ جائے گی، جیسے اچکزئی پر لگی اور یا پھر آپ کی محب الوطنی بہت ہی مشکوک ہو جائے گی۔ مثلاً ہم سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔۔۔ اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ تو کیا اتنے برسوں سے ہم شہ رگ کے بغیر ہی اگر زندہ ہیں تو کیسے زندہ ہیں؟ اور جو شہ رگ واقعی ہے یعنی عالم پل اُس کی جانب آپ توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔ یہ رگ اگر کاٹ دی گئی تو بلتستان اور سیاچن کٹ جائیں گے۔ عالم پل کے پار کچھ مسافت طے کر کے آپ سکردو روڈ کے چٹانی ہول میں داخل ہو جاتے ہیں۔۔۔ تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ’’سسی‘‘ نام کا ایک ہریاول بھرا مقام آجاتا ہے۔یہ تو مقامی محقق ہی کھوج کر سکتے ہیں کہ آخر سسی پیاس کی ماری، اپنے صحراؤں میں بھٹکتی کیسے سکردو روڈ پر آنکلی۔۔۔ بلکہ شاہراہ سے ذرا ہٹ کر نہایت بھڑی ہوئی چٹانوں میں سے ایک بہت پر شور آبشار جنم لے کر گرتی چلی جاتی ہے۔۔۔ اگر سسی سچ مچ کبھی ادھر آئی تھی تو وہ اپنی ازلی پیاس آبشار کے پانیوں سے بجھا سکتی تھی۔۔۔ بلکہ ان میں اشنان بھی کر سکتی تھی۔۔۔ ہم سسی میں کیوں ٹھہرے۔۔۔ اس لیے کہ ہم بھوکے تھے اور یہاں آبشار کے نزدیک مناسب خوراک کا بندوبست تھا اور ۔۔۔ ہم اس لیے ٹھہرے کہ یہیں سے ہماری منزل مراد کی جانب راستے بلند ہوتے تھے۔ وادئ حراموش جانے کے لیے سسی ایک بیس کیمپ تھا۔ڈاکٹر احسن کی انتظام کردہ چار حراموش جیپیں ہماری منتظر تھیں، سکردو روڈ کے پہلو سے ایک کچا راستہ پہاڑوں کی ویرانیوں میں اٹھتا گم ہوتا تھا۔۔۔ ہم سب تو جیسے ایک پکنک پر آئے تھے، لطیفے چل رہے تھے، جگتیں ہو رہی تھیں اور ہم کہاں جانتے تھے کہ ابھی کچھ لمحوں کے بعد ہم موت کے بعد کا منظر دیکھنے والے ہیں، کلمہ شہادت کا ورد کرنے والے ہیں۔ حراموش کی جیپوں کے کچھ ڈرائیور نامور گویے تھے۔ ایک ڈرائیور نے فخر سے بتایا کہ وہ مہدی حسن ہے، میرے حصے کی جیپ کے ڈرائیور کا نام غلام علی تھا۔ اب کھلا کہ مہدی حسن اور غلام علی اگر بے پناہ متمول ہوئے تو اپنی گائیکی کی برکت سے نہیں، وہ تو سسی سے حراموش کے گاؤں دسو تک اپنی جیپوں میں مسافر بھر کر لے جاتے تھے اور منہ مانگے دام وصول کرتے تھے۔ مجھے یہاں نصرت فتح علی خان کی کمی شدید طور پر محسوس ہوئی، شاید وہ اپنے سراپے کے ساتھ کسی بھی جیپ کی ڈرائیونگ نشست میں سما نہیں سکتا تھا ورنہ وہ ’’آفریں آفریں ‘‘ الاپتا ہمیں حراموش لے جاتا۔’’غلام علی۔۔۔ بسم اللہ کرو۔۔۔‘‘ میں نے اپنے ڈرائیور سے درخواست کی ’’چپکے چپکے رات دن گنگناتے بسم اللہ کرو‘‘اُدھر برابر کی جیپ میں براجمان تنویر خواجہ نے تان لگائی ’’ چوری تو نہیں کی ہے، ڈاکہ تو نہیں ڈالا۔۔۔ تھوری سی جو پی لی ہے‘‘ ہماری جیپیں سکردو روڈ سے جدا ہو کر اس کچے اور تنگ راستے پر اٹھیں۔۔۔ کچھ دیر تو دھول اڑاتی ویرانوں میں بلند ہوتی رہیں اور پھر وہ یکدم اس دنیا سے منقطع ہو کر کسی نادیدہ دروازے میں داخل ہو کر ایک اور کائنات کے کناروں کی دھار پر رواں ہونے لگیں۔۔۔ ہم یوں اٹھے جیسے ہم اس جہان سے اٹھتے ہوں۔۔۔ ہمارے سب ہوش و حواس اور نین پران کے پنچھی پھر کر کے اڑ گئے۔۔۔ یہ چٹیل چٹانوں کی سربلندی اور اُن کی نشیب میں بہتے کسی خاموش دریا کی کائنات تھی۔۔۔ ہماری جیپیں چٹانوں میں کھدے ہوئے کچے راستے سے چمٹی ہوئی تھیں اور گہرائی میں نہ صرف چٹانوں کے انبارتھے بلکہ ان کے درمیان میں بہتا کوئی دریا تھا جس کی روانی کا شور ہم تک پہنچتے خاموش ہو جاتا تھا۔یہ حراموش روڈ کو لمبیا کی مشہور زمانہ ’’ڈیتھ روڈ‘‘ کی سگی نہ سہی، سوتیلی بہن ضرور تھی۔یہ ایک روڈ نہ تھی، موت کا کنواں تھا۔۔۔ جس کے اندر ہم گھومتے چلے جاتے تھے۔۔۔ ’’گھوم چرخڑا گھوم۔۔۔موت کے بعد مرنے کا منظر اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو سسی سے جیپ میں سوار ہو کرحراموش کا سفر اختیار کیجیے۔۔۔۔۔۔
ویڈیوقسط(6)۔
٭7)انگوروں اور اناروں کا گاؤں۔۔۔ دسّو۔28ستمبر 2016۔۔۔
ہم وادئ حراموش کے مرکزی سب سے آباد گاؤں دسّو میں داخل ہو گئے۔ یاد رہے کہ قراقرم ہائی وے پر دریائے سندھ کے ادھر کومیلا ہے اور پُل کے پار داسو ہے تو یہ وہ داسو نہیں، حراموش کا دسّو ہے۔اس دسّو کی داستان ایک عجب باغ بہار ہے۔۔۔ ہم سب حیرتوں کے مسافر ہو گئے۔۔۔وہاں ہمارے آس پاس سے گزرتے جتنے بھی پتھریلے اور کچے گھروندے تھے جن میں سے ہماری جیپوں کے پیچھے بھاگنے والے بچے آجاتے تھے، خوش رو لڑکیاں پتھروں کے روشن دانوں میں اپنے حراموش چہرے فروزاں کرتی تھیں اور اس فراموش کردہ بستی کے جو بزرگ تھے وہ ایک تناور اخروٹ کے درخت تھے۔ پتھروں کی نشستوں پر بیٹھے لوگ ہماری جیپوں کو گزرتے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔۔۔ ہم ان سب چہروں کو دیکھ کر حیرتوں کے سفر پر نکلے۔۔۔ اور یہ سب چہرے پھلدار درختوں کی کثرت کی چھاؤں میں سانس لیتے تھے۔پورے شمال میں، آج تک میں کسی ایسے گاؤں میں نہ داخل ہوا تھا جہاں ہرجانب۔۔۔ اخروٹ کے گھناوٹ بھرے شجر۔۔۔ خوبانیوں کے درخت جن کی شاخوں سے کچھ کچے زرد سورج طلوع ہوتے تھے۔ سیب ڈالی ڈالی، روشن روشن۔۔۔ شہتوت اور انجیر کی فراوانی ۔۔۔ اور یہ سب ثمر، انگور کی بیلکوں میں لپٹے ہوئے۔۔۔ کوئی ایسا گھروندا نہ تھا جس پر انگور کے خوشے سایہ نہ کرتے ہوں۔۔۔ پتّوں میں پوشیدہ سرخ انار نہ جھانکتے ہوں۔جیسے نیوزی لینڈ میں سفر کرتے میرے ایک دوست نے اس کے حسن اور بلند تنائی سے متاثر ہو کر ایک نیوزی لینڈ سے کہا تھا کہ یہ تو ایک جنت ہے۔ آپ کیوں اس کا پرچار نہیں کرتے، دنیا بھر کے لوگ امڈ پڑیں گے، تو اُس نے کہا تھا۔۔۔ ہم اپنی جنت کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔اہل حراموش اگرچہ بیشتر کوہستانی وادیوں کے باشندوں کی مانند قدرے تنگ دستی میں زندگی کرتے تھے لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اُنہیں کچھ چاہت بھی نہیں کہ اُن کی وادی میں سیاحوں کے غول کے غول چلے آئیں اور اسے آلودہ کردیں۔وہاں انگور کی جتنی بھی کچے خوشوں سے بوجھل ہوتی بیلیں تھیں وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہ تھیں، کسی نہ کسی شجر کے گرد لپٹ کر، اُس کے سہارے بلند ہوتی تھیں۔۔۔اور اُن کی ٹہنیاں موٹی اور دبیز تھیں، نازک ملوک نہ تھیں۔کچے انگور سبز بندروں کی مانند اُن کے پتوں میں سے جھانکتے تھے۔ جی جوبہت ڈرا ہوا تھا، حراموش کا موت کا کنواں فراموش کرکے خوش ہوگیا، یوں بھی ہم بہت ڈرائے گئے تھے یہاں تک کہ شمال کے کچھ باسیوں نے بھی کچھ سرگوشیاں کی تھیں۔۔۔ تارڑ صاحب خبردار۔۔۔یہ حراموشی لوگ ایک مدت سے ایک کوہستانی تنہائی میں قید ہیں اور بہت کم کوہ نورد اُدھر جانے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔۔۔ اور گئے وہ جان سے گئے۔۔۔اُس کوہ نورد امریکی جوڑے کا انجام یاد رکھئے جسے حراموش جھیل کے قریب قتل کردیا گیا۔۔۔ اور وہ بے چارہ جاپانی سیاح، وہ بھی انہی حراموشیوں کے ہاتھوں مارا گیا، خونخوار لوگ ہیں، چنانچہ ہم اپنی خوشی کو قابو میں رکھتے تھے، احتیاط کرتے تھے، نہایت سنجیدہ چہرے بنائے سامنے راستے کی جانب تکتے تھے کہ اگر نگاہ ادھر اُدھر کی تو کیا پتا کسی حراموشی دوشیزہ پر پڑ جائے اور ہمیں فی الفور تہ تیغ کردیا جائے۔۔۔ کیا پتہ کسی پتھریلی گلی میں سے کوئی مقامی مولا جٹ ہاتھ میں گنڈاسا تھامے برآمد ہوکر ہماری جیپوں کی بارات روک لے۔۔۔ بڑھک لگا کر ہمارا سب کچھ خطا کردے اور کہے ۔۔۔ ٹھہرو یہ بارات نہیں جائے گی۔۔۔تو ہم ہر نوعیت کے وقوعے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے، لیکن۔۔۔محسوس یوں ہوا کہ حراموشی تو ہماری آمد کے منتظر تھے۔۔۔ بچے ’’ہیلو ہیلو‘‘ کرتے جیپوں کے پیچھے اٹھتی ڈھول میں بھاگے چلے آرہے تھے۔ انگور کی بیلوں میں پوشیدہ حراموشی نزاکت کے پھول کھلتے تھے۔۔۔ پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے۔۔۔ ایک چھت پر خشک خوبانیاں سمیٹتی ایک اماں جان نے ہمیں دیکھ کر اپنے دونوں ناتواں ہاتھ بلند کردیئے۔۔۔ لکڑی کے ایک آرے کے قریب تازہ تراشے ہوئے شہتیروں پر کچھ باباز براجمان تھے، اُن کے پوپلے چہروں پر بھی مسکراہٹیں کھِل اٹھیں۔۔۔ یہاں تک کہ انار جو ابھی کچے تھے وہ بھی سرخ سرخ ہوتے گئے۔دل سے سب وسوسے رخصت ہوگئے۔درست کہ یہاں حراموش وادی میں خیمہ زن ایک امریکی جوڑا قتل کردیا گیا، کچھ لوگ رات کی تاریک میں سیاح لڑکی کو ’’ریپ‘‘ کرنے کے لئے گئے تھے لیکن جب مدافعت ہوئی تو انہوں نے اُن دونوں کو ہلا ک کردیا۔۔۔ہم ہرگز اس موضوع کو زبان پر نہ لاتے لیکن حراموشی لوگ اصرار کرتے تھے کہ آپ ہماری گزارش بھی تو سنو۔۔۔ یک طرفہ فیصلہ نہ کرو، اُس امریکی جوڑے کو کسی حراموشی نے قتل نہیں کیا تھا، باہر کے لوگ تھے اور ہم سب نے باقاعدہ کھوج لگا کر اُن کا تعاقب کیا اور اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اُنہیں قانون کے رکھوالوں کے حوالے کردیا، اس قتل میں حراموش کا کچھ دوش نہ تھا۔جاپانی سیاح کیسے موت سے آشنا ہوا، اس کا کوئی جواز پیش نہ کیا گیا۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ جب ہم راکا پوشی بیس کیمپ میں مقیم تھے تب ہم تک نانگا پربت کے دیامیر چہرے کے دامن میں قتل کردیئے جانے والے درجنوں غیرملکی سیاحوں کی خبر پہنچی تھی اور وہ بھی باہر کے لوگ تھے۔شمال کی بلندیوں میں چند نہات افسوس ناک اور ہمیں شرمندگی سے دوچار کرنے والے سانحات بہرطور ظہور پذیر ہوئے ہیں، فیئری میڈو میں بھی ’’ریپ‘‘کا ایک کیس ہوا۔۔۔وادئ یاسین میں بھی کچھ وقوعہ ہوا۔۔۔ بُرے بھلے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، نیپال اور انڈیا میں بھی ہم سے زیادہ پہاڑی جرائم ہوتے رہتے ہیں۔۔۔پاکستان میں اُن کی نسبت کم ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی دفاع نہیں۔۔۔اس لئے کہ ہمارے شمال میں جو وسعتِ قلبی اور کسی بھی تعصب سے گریز کی روایت ہے وہ بقیہ پاکستان کی نسبت کہیں بڑھ کر ہے۔۔۔ شمال میں برے بہت کم ہیں اور بھلے زیادہ ہیں۔۔۔ میں ان جرائم کا دفاع نہیں کر رہا لیکن گورے سیاحوں کو بھی کچھ احتیاط کرنی چاہیے۔ وہ اپنی تہذیب کے کھلے پن اور بے در یغی میں کچھ لاپروا تو ہوجاتے ہیں۔ گوریاں قیاس بھی نہیں کرسکتیں کہ اُن کے بدنوں کی چھلک اور جھلک تہذیب سے ناآشنا نیم وحشی نوجوانوں کی حسیات بیدار کرکے اُن پر کیسی قیامتیں ڈھا دیتی ہے۔میں پھر عرض کرتا ہوں کہ میں ان جرائم کا دفاع ہرگز نہیں کر رہا، محض تہذیبی اور ثقافتی ٹکراؤ سے جنم لینے والے سانحات کا تجزیہ کر رہا ہوں۔ دور کیا جانا لاہور اور کراچی کی مبینہ تہذیب یافتہ بستیوں میں اگر ایک گوری کسی کودیکھ کر یونہی ہنس دے تو فوراً اس نتیجے پر پہنچ جایا جاتا ہے کہ ’’ہنسی تو پھنسی‘‘تو پھر صرف شمال کو اور حراموش کو ہی کیوں صرف موردِ الزام ٹھہرانا۔۔۔ ہم سب مجرم ہیں۔ہم دسّو کے آخری انگور گھر، انار باغ، انجیر شجر،اخروٹ درخت، شہتوت شہر، خوبانی بہار کی مہکوں سے مشک بار ہوتے گزر گئے۔۔۔ وہ آخری گھر گزر گیا، اور تب کچھ فاصلہ طے کیا تو نشیب میں، بہت گہرائی میں چٹانوں کی کوکھ میں ہرا بھرا ہوتا وہ گاؤں نظر آنے لگا جو کبھی ایک گھر کا گاؤں تھا، اُس کا ایک گھروندے کے گاؤں کا نام ہیحل تھا۔۔۔۔ویڈیوقسط(7)۔
٭8)حراموش کی الف لیلیٰ کے ایک گھر کا گاؤں۔2اکتوبر 2016۔۔۔شمال کے ایک شیدائی کو جب خبر ہوئی کہ میں فی الحال سفرِ آخرت نہیں سفر حراموش اختیار کر رہا ہوں تو اس نے مجھے ایک کوہستانی بھید سے آگاہ کیا۔۔۔ تارڑ صاحب۔۔۔ وہاں حراموش کی وادی میں دنیا بھر میں یکتا ایک گاؤں ہے۔۔۔ اور اُس گاؤں میں صرف ایک گھر ہے۔شمال میں کسی بھی پہاڑوں میں روپوش گاؤں کو اُس میں جلنے والے چولہوں کی تعداد سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔ چنانچہ یہ گاؤں جو بہت نشیب میں، جیپ روڈ کے کناروں تلے ایک کھائی میں دکھائی دے رہا تھا کبھی ایک چولہے کا گاؤں ہوا کرتا تھا۔۔۔کیا اس گاؤں کی پہلی جھلک میں سے ایک عجب کہانی جنم نہیں لے سکتی۔۔۔ کسی داستان کا خمیر نہیں اٹھ سکتا۔کیا ایک شہرزاد اس ایک گھر کے گاؤں کی داستان سنا کر کم از کم ایک شب کے لیے اپنے آپ کو قتل کروا دینے سے بچ نہیں سکتی۔ہم کیوں ہمیشہ بزرگان دین اور اپنے ہیروز کو مقامی طور پر دریافت کرنے کی بجائے درآمد کرتے ہیں۔۔۔ اور اسی طور اپنی داستانیں اور کہاوتیں بھی جو ہم اپنے بچوں کو سناتے ہیں باہر سے امپورٹ کرتے ہیں۔ کوہ قاف اور الف لیلیٰ کے قصے۔۔۔ نو شیروان اور بغداد کی راتوں کی کہانیاں۔۔۔ اور کبھی بدھ کی جاتک کتھائیں۔۔۔ ’’بیتال بتیسی‘‘ کے قصے۔۔۔ جب کہ ہمارے اپنے خطے میں، صرف شمال میں ہی بے شمار کوہ قاف بھرے پڑے ہیں، جہاں نانگا پربت کے سائے میں پریوں کی آماجگاہیں اور بیسرے ہیں اور وہ انسانوں کے ساتھ بیاہی جاتی ہیں۔ فیلو میں ایک گاؤں ایسا ہے جہاں پریوں کے بچے بھی ہیں۔ قبل از تاریخ ان خطوں کی ایسی عجب کہانیاں ہیں جو کوئی شہرزاد بھی تصور نہیں کر سکتی۔۔۔ روپل کے ایک نوجوان پورٹر نے قسم کھا کر بتایا تھا کہ اُس کے چچا کی بیوی ایک پری تھی لیکن وہ دراصل ایک چڑیل تھی۔ روایتوں، حکایتوں اور داستانوں میں جھوٹ سچ کی اور تصور کے کرشموں کی آمیزش تو ہوتی ہے تو پھر ہم اپنی مقامی داستانوں اور کہانیوں کو بیان کیوں نہ کریں۔ کیا کسی الف لیلیٰ میں کہیں صرف ایک گھر کا گاؤں ہوا کرتا ہے۔ وہ ایک شخص کون تھا، کوئی تو تھا، جو اپنی حیات سے مطمئن نہ تھا۔۔۔ وہ دسو کی آبادی سے جدا ہوا، نشیب میں اترا، ندی کے پار گیا، اور وہاں ایک چٹانی ویرانگی میں ایک گھر بنا لیا۔۔۔ تن تنہا رہائش اختیار کر لی۔۔۔ بہت بے ڈر تھا، اُسے کچھ خوف نہ تھا کہ چٹانوں کی اوٹ میں ہولے ہولے برف سانس لیتا گلیشیئر جو اس کے اکلوتے گھر پر معلق ہے وہ کسی بھی لمحے اُس پر انبار ہو کر اُسے دفن کر سکتا ہے۔ چاندنی راتوں میں بھیڑئیے غراتے ہیں، بھوکے سنو ٹائیگر برفانی بلندیوں سے اترتے ہیں، اُسے کچھ ڈر نہ تھا۔ویسے وہ ایک حراموش شخص، کیا ہم سب سے نڈر اور بہادر نہ تھا کہ وہ اپنے معاشرے اور بستی سے جدا اس لیے ہوا کہ اس کی سوچ کے رنگ جدا تھے، وہ اپنی تخلیق کردہ ایک کائنات میں سب سے الگ زندگی کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اور اُس نے بغاوت کر دی۔۔۔اس شخص نے وہ بغاوت اور روگردانی کی جس کے بارے میں ہم جیسے آشفتہ سر اور جنون آمیز لوگ سوچتے رہ جاتے ہیں۔ ہم بھی اس دنیا سے الگ ایک جھونپڑے میں جا بیسرا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم میں اتنی جرأت نہیں، ہمت نہیں کہ بغاوت کر دیں۔تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دوورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں، شادی کر لونشیب میں گزرتا اور دکھائی دیتا چٹانوں کی کوکھ میں ہرا بھرا ہوتا وہ گاؤں اب صرف ایک چولہے کا نہ تھا۔۔۔ اس شخص کی آل اولاد نے اپنے اپنے الگ گھر بنا رکھے تھے اور اُن میں سے ایک گھر میں سے دھواں اٹھتا تھا۔ ان گھروں کی تنہائی اب بھی کم نہ ہوئی تھی۔ کچھ کھیت تھے۔ ایک بلندیوں سے اترتی پرشور برفانی ندی تھی جس کا شور ہمیں سنائی نہ دیتا تھا۔ہمیں خبر کی گئی تھی کہ تارڑ صاحب۔۔۔ ہم سسی سے جیپوں میں سوار ہو کر اوپر جائیں گے۔ دسو نام کا ایک گاؤں آئے گا، ہم اس کے پار چلے جائیں گے۔۔۔ اور پھر ایک ایسے گھاس بھرے میدان میں جا اتریں گے جہاں آج کی شب خیمہ زن ہوں گے۔۔۔ اگلی سویر، یہ تھوڑی سی چڑھائی ہے اور ہم حراموش کے کتوال گاؤں میں قدم رنجہ فرما جائیں گے۔۔۔ یہ سب جھوٹے لوگ تھے۔۔۔ احسن اور کامران جھوٹوں کے سلطان تھے۔یکدم ہماری تینوں جیپیں اٹک اٹک کر ٹھہر گئیں۔جہاں ہم ٹھہرے تھے وہاں سے آگے جیپ روڈ غرق ہو چکی تھی۔ ’’سَوری تارڑ صاحب‘‘ احسن ایک لارڈ بائرن کی شان سے لڑکھڑاتا جیپ سے اُترا ’’جیپیں آگے نہیں جا سکتیں۔۔۔ ہمیں تھوڑا چلنا پڑے گا۔۔۔ صرف ایک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم آج کی شب خیمہ گاہ سِلپی میں پہنچ جائیں گے۔۔۔ آیئے بسم اللہ کرتے ہیں۔۔۔نگاہ بُلند کیجئے۔۔۔‘‘ہم سب کی تو نہیں، کم از کم میری اور سرفراز کی مائیں مر گئیں۔۔۔ہم تو اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ جیپوں سے اتریں گے اور ایک حراموش وادی میں خیمہ زن ہو کر شیف ذوالفقار کے چینی کھانوں سے لطف در لطف اندوز ہوتے اس شب میں سرمست ہو جائیں گے اور کہاں یہ مقام کہ جیپوں سے اترتے ہیں تو ایک ناقابل عبور لگتی بُلندی ہمارا منہ چڑھا رہی ہے، اُسے دیکھ کر ہول آتا ہے تو آپ ہی انصاف کیجئے کہ اُسے دیکھ کر ہماری مائیں نہ مرتیں تو اور کیا کرتیں۔۔۔جیپوں سے سامانِ آوارگی اتارا جانےلگا۔۔۔ پورٹر حضرات مستعد ہو گئے، سامان پشت پر بوجھ کر کے سڑک سے بچھڑ کر ہولے ہولے اٹھتے گئے۔۔۔سرفراز نے نگاہ بلند کی اور پھر مجھے اپنی بلوری آنکھوں کو شکایتوں سے لبریز کر کے دیکھا ’’حاجی صاحب۔۔۔مروا دیا ناں۔۔۔وہ اوپر تک پہنچنا ہے ۔۔۔’’ہاں جی۔۔۔ اور یہ ہمارے حق میں اچھا ہوا ہے۔۔۔آج پہاڑوں پر چڑھنے کی تھوڑی سی نَیٹ پریکٹس ہو جائے گی تو کل کا سفر دشوار نہیں لگے گا"۔۔۔’’تو پھر مجھے ذرا ڈریس اپ ہو جانے دیجئے۔۔۔‘‘ اُس نے اپنے بیگ میں سے ایک کرمزی رنگ کا نہایت اعلیٰ بناوٹ کا چمڑے سے بنا ہوا کاؤ بوائے ہیٹ نکالا جو اُس نے یقیناًٹیکساس کے کسی فٹ پاتھ سے خریدا تھا، اُسے ایک پیار کی تھپکی دے کر سرپر جما لیا اور کہنے لگا ’’کیسا؟‘‘’’اعلیٰ۔۔۔‘‘ تنویر نے داد دی۔’’آئی ایم اے کاؤ بوائے۔۔۔‘‘ سرفراز گردن اکڑا کر بولا ’’پاکستانی گوجر کاؤ بوائے۔۔۔‘‘’’لیکن ملک صاحب۔۔۔ گوجر تو بھینسیں پالتے ہیں تو آپ کاؤ بوائے نہیں اپنے آپ کو بفلو بوائے کہلا سکتے ہیں‘‘ نسیم نے چھیڑا۔۔۔’’اوئے تم ارائیں کیا جانو کہ گوجر کتنی بلند پایہ ذات ہے۔۔۔ گوجر خان، گوجرانوالا، گجرات سب گوجر۔۔۔ امریکہ میں بھی گوجروں نے ایک شہر آباد کیا تھا۔۔۔ اور اُس کا نام ہی ’’بفلو‘‘ یعنی ’’بھینس‘‘ رکھا۔۔۔ حاجی صاحب سے پوچھ لو کارنیل سے آگے کینیڈا کی سرحد کے پاس ہے۔ کیوں حاجی صاحب؟‘‘’’بفلو نام کا شہر تو ہے لیکن۔۔۔‘‘۔’’لیکن کیا۔۔۔ آپ انصاف کرو کیا کوئی بھی دانش مند شخص اپنے شہر کا نام ’’بھینس‘‘ رکھے گا جب تک کہ وہ گوجر نہ ہو‘‘’’آپ اپنا کاؤ بوائے ہیٹ سیدھا کریں اور چڑھ جائیں سُولی پر۔۔۔ رام بھلی کرے گا‘‘۔
سرفراز نے اپنا کرمزی ہیٹ ذرا ٹیڑھا کیا اور کہنے لگا’ اوئے دندان ساز۔۔۔تم لوگ ہماری بھینسوں کے لئے چارا سپلائی کرتے تھے تو اپنی اوقات میں رہو‘‘ ’’ملک جی، شام ہو رہی ہے۔۔۔‘‘ وقار نے درخواست کی۔۔۔ ’’بسم اللہ کریں‘‘۔۔۔۔۔۔ویڈیوقسط(8)۔
٭9)حراموش میں ہماری خیمہ بستی آباد ہوتی ہے،5 اکتوبر2016۔۔۔۔ہم سب اُس نامعلوم سی پگڈنڈی پر چلنے لگے۔۔۔ چلتے تو نہ تھے، بمشکل اٹھتے تھے۔۔۔ نسیم آگے نکل گیا۔ تنویر خواجہ کی یوگا ورزشوں نے یہاں کام دکھایا اور وہ ’’ہری اوم، ہری اوم‘‘ کا ورد کرتا چڑھنے لگا۔۔۔ احسن بہ طریقِ احسن نہایت آسانی سے بلند ہونے لگا۔۔۔ عاطف عام حالات میں مناسب انسان ہوتا ہے، پہاڑوں میں وہ ایک برفانی انسان۔۔۔ یعنی یےٹی ہو جاتا ہے، ایک بھالو کی مانند لڑھکتا چلا جاتا ہے۔۔۔میں دوچار قدم چلا اور مجھے احساس ہو گیا کہ بس روٹھ گئے دن بہار کے۔۔۔ خزاں کے موسموں نے تمہارے وجود کے شجرکے آخری ہرے بھرے پتّے کو بھی زرد کر دیا ہے۔۔۔ اِک ذرا سی ہوا کے چلنے سے کسی بھی لمحے شاخ سے ٹوٹ کر گر سکتا ہے۔۔۔ شجر کے دامن میں بکھرے تمہاری حیات کے خزاں رسیدہ پتّوں کی شام غریباں میں شامل ہو کر نوحہ خواں ہو سکتا ہے۔۔۔میرا سُندر سپنا بیت گیا۔۔۔ میں پریم میں سب کچھ ہار گئی، بے درد زمانہ جیت گیا۔۔۔ کوہ نوردی اور آوارگی کے سُندر سپنے کبھی نہ کبھی تو بیت جاتے ہیں، سو وہ بیت گئے۔۔۔ وہ زمانے بھی جو مجھ پر گزرے جیت گئے۔۔۔ میں جان گیا کہ ختم ہوئی بارشِ سنگ۔۔۔ یہ برف بلندیوں کی جانب میرا آخری سفر ہے۔۔۔ بات جو اب تک بنی ہوئی تھی، بگڑ گئی تھی۔۔۔وِگڑ گئی اے تھوڑے دِناں توں۔نہ آپ پہاڑوں سے لڑ سکتے ہیں اور نہ گزر گئے زمانوں سے۔۔۔ تو میں نے ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔۔۔ یہ تو کل کے لئے فیصلے تھے، آج تو مجھے چلنا تھا۔۔۔اپنے آپ کو ڈھیٹ کرنا ہے۔۔۔بےشک دیار یار تک گھسٹ کے جانا ہے پر جانا ہے۔۔۔اُس برفبارحراموشی معبد کے برف دروازوں پر دستک تو دینی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پتھریلی اور سخت پتھرول چڑھائی کے بعد،لڑکھڑاتے، ہونکتے، خون تھوکتے، ہمارے گھٹنے ٹھرتے تھے اور ٹانگوں میں سے کم از کم جان نکل چکی تھی بالآخر ہم وہاں پہنچ ہی گئے۔۔۔ اور ہم نے سلپی نام کے گھاس بھرے میدان کا جو منظر دیکھا، ہم اپنی تھکان بھول گئے۔۔۔ دُکھ درد کی ساری داستان بھول گئے۔حراموش کی نادیدہ اور دورافتادہ وادی کی بلندیوں میں ایک خیمہ بستی آباد ہو چکی تھی۔۔۔ مکئی کے ایک وسیع کھیت کے کناروں پر جو گھاس بھرا قطعہ تھا جس کے آغاز میں مویشیوں کا ایک اجڑ چکا پتھریلا باڑہ تھا وہاں۔۔۔ ہمارے پورٹر پہلے سے پہنچ چکے تھے اور ایک خیمہ بستی بسا دی تھی۔۔۔ بلکہ اُس بستی میں سے کسی چولہے سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔۔۔ مہم کا سرکاری شیف ہمارے رات کے کھانے کے بندوبست کرنے میں مشغول تھا۔ہم جو گرتے پڑتے چلے آتے تھے پورٹر ہماری جانب چلے آئے، اگر کسی نے ڈے پیک اٹھایا ہوا تھا اُسے اس بوجھ سے آزاد کیا۔۔۔ صاحب پہنچ گئے۔۔۔ مشکل تھا؟۔۔۔ لیکن آپ پہنچ گئے۔ہم گھاس پر ڈھیر ہوتے گئے۔۔۔ اور پورٹر ہمارے لئے گرم نوڈل سوپ کے پیالے لے آئے اور اُس میں سویا ساس اور چلّی ساس کی آمیزش بھی تھی۔۔۔ کوہ نوردی کی کسی بھی پہلی شب کی خیمہ زنی میں ایک عجب جادوگری ہوتی ہے۔۔۔ اس کے لطف صرف وہ جانتے ہیں جن کے دماغوں میں دانش کی بجائے آشفتہ سری اور بلندیوں کی دیوانگی کا بھس بھرا ہوتا ہے۔۔۔ آپ اپنی معمول کی حیات کو طلاق دے کر ایک مختلف زندگی کے ساتھ ایک عارضی نکاح سے منسلک ہو جاتے ہیں ۔آپ آزادی، سرخوشی اور بے پروائی سے بیاہے جاتے ہیں۔۔۔یہاں آپ کا اپنا پرائیویٹ بیڈروم، ملحقہ غسل خانہ کے ساتھ میسر نہیں، ایک خیمہ ہے، بسترنہیں، ایک سلیپنگ بیگ بچھا ہے جس میں داخل ہونا، گھس جانا ایک تردد، ایک آرٹ ہے۔ اور اگلی سویر آپ کو ایک کموڈ کی سہولت نصیب نہ ہو گی، آپ نے خیمہ گاہ سے دور، نظروں سے دور کہیں بیٹھ جانا ہے اور جب فارغ ہو کر اٹھنا ہے تو بوڑھے گھٹنوں سے کہاں اٹھا جانا ہے، لیکن یارو یہی تو زندگی ہے۔لیکن کہاں ہم لاہور کے بکھیڑوں میں اُلجھے ہوئے، بجلی پانی کے بِل دیکھ دیکھ کر خون خشک کرتے۔۔۔ بیگم کے خوف سے دبکے ہوئے۔۔۔ مذہبی تعصب اور دہشت گردی کی سولی پر مصلوب اور کہاں یہ شب۔۔۔ بدن اگرچہ تھکاوٹ سے ریزہ ریزہ لیکن روح آزاد۔۔۔ ایک خوش رنگ تتلی کی مانند پھڑپھڑاتی اڑتی پھرتی تھی۔پھر رات اتر آئی۔۔۔چولہوں کی سلگاہٹ کی روشنی کے سوا دو گیس لیمپ جلنے لگے، اُن کی دودھیا روشنی سے ساری خیمہ بستی دودھیا رنگ کی ہو گئی۔۔۔ میس ٹینٹ کے اندر کھانے کی باقاعدہ میز سج چکی تھی اور اُس کے گرد کیمپ چیئرز آویزاں ہو گئی تھیں۔یعنی آج شب ہم گوروں کی مانند ’’مکی ماؤسز‘‘ ہو گئے تھے۔میں عرض کر چکا ہوں ناں کہ کے ٹو اور سنولیک کی برف نوردیوں کے دوران جب ہم دیکھتے تھے کبھی اردوکس میں اور کبھی کنکورڈیا کے برفزاروں میں اور کبھی درّہ ہیبر کی چوٹی پر گورا لوگ کے خیموں کے برابر میں ایک سپیشل ڈائننگ ٹینٹ ایستادہ ہے اور وہاں ہنڈولے روشن ہیں، گورا لوگ کرسیوں پر براجمان ڈنر کرتے، وائن پیتے، اپنی محبوباؤں کو یاد کرتے موج میلہ کر رہے ہیں تو ہم شدید حسد میں مبتلا ہو جاتے تھے کہ یا تو ہم اپنے خیموں میں کُبڑے ہو کر کچھ دال دلیاکر لیتے تھے اور یا پھر کبھی پتھروں اور کبھی برف پر کوئی ترپال بچھا کر کھانا زہر مار کرلیتے تھے۔ ڈاکٹر احسن نے ہماری کوہ نوردی کی حیات میں پہلی بار ہمیں بھی ’’مکی ماؤسز‘‘ کر دیا تھا۔۔۔ ہم ابھی ایک سپیشل ڈائننگ ٹینٹ میں فروکش کرسیوں پر بیٹھے شیف صاحب کے خوراکی کمالات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے۔شراب تو اُس شب نہ آئی پر روح کی وہ تتلی جو آزاد ہو گئی تھی اُس کی اڑان کا خمار آیا اور خوب آیا۔۔۔خواجہ تنویر من کی موج میں تھا، عشق کے بارے میں نوجوانوں کو تلقین کر رہا تھا کہ آپ بچہ لوگ کو میں ایک بزرگ کی حیثیت میں نصیحت کرتا ہوں کہ موج میلہ ضرور کرو لیکن کبھی بھی عشق میں سنجیدہ نہ ہو جانا۔ عشق کے میلے میں شامل ہو گئے تو عمر بھر پچھتاؤ گے۔ اُس نے اِس نصیت کی دلیل میں ہم سب کو محبور کیا کہ ہم غلام علی کی غزل نہایت غور سے سنیں اور بار بار سنیں کہ ۔۔۔ کس نے کس کا دِل دُکھایا ؟یہ کہانی پھر سہی۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ہنس مکھ شخص کسی ایسے دُکھ میں مبتلا ہے جس کی کمان پھر سہی۔۔۔ویسے وہ نہیں جانتا تھا کہ جن ’’بچوں‘‘ کو وہ نصیحت کر رہا ہے یہ بہت گھاگ اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہیں، جب کسی ایک گھاٹ کے پانی سے سیراب ہو جاتے ہیں تو کسی اور معصوم گھاٹ کو غٹ غٹ پی جاتے ہیں۔ ہماری ٹیم میں صرف دو کم سن بچے تھے۔۔۔ کامران اور عاطف۔۔۔کامران کے گرد مری ہوئی مکھیوں کا ایک ڈھیر ہوتا تھا، وہ اُس پر مرتی رہتی تھی، وہ غاروں کے زمانوں کا ایک وحشی انسان تھا جو اپنے اوپر مرنے والی کسی بھی مکھی کو بالوں سے گھسیٹتا اپنی پرائیویٹ غار میں لے جاتا تھا اور وہ مکھی اس حسن سلوک پر احتجاج نہ کرتی تھی، بخوشی گھسٹتی چلی جاتی تھی۔اور دوسرا بچہ عاطف۔۔۔ ایک گھنی اور الجھی ہوئی ڈاڑھی میں پوشیدہ۔۔۔اپنے اندر ایک وحشت بھری کشش رکھتا تھا، مکھیوں کی اسے بھی کچھ کمی نہ تھی۔۔۔ وہ انہیں مارے یا نہ مارے، یہ اُس کی صوابدید پر منحصر تھا۔اور تب اُس شب میں گھاس بھرے خنک ہوتے میدان کے ایک کونے میں مویشیوں کا ایک ویران باڑہ تھا وہاں سے ایک گدھے کی فریاد بلند ہوئی۔وہ تنہائی کا مارا ہوا کوئی گدھا تھا۔۔۔یقیناًجنسی طور پر ایک بہت ناآسودہ گدھا تھا ورنہ اُس کی فریاد میں ایسی بے چارگی تو نہ ہوتی ، آپ جانتے ہیں کہ ایک گدھا بے شک خرِ عیسےٰ لیکن اُس کی تفریح صرف اُس کے اعضاء کی شاعری ہوتی ہے۔اس گدھے نے ناآسودگی کے جو سریلے گیت چھیڑے تو تقریر کرتا خواجہ بہت ڈسٹرب ہوا ’’تارڑ صاحب۔۔۔اس گدھے کو چپ کرائیں‘‘۔’’اگرتم فی الفور گریس کا ایک ڈبہ مجھے مہیا کردو تو شاید میں اسے چپ کروانے میں معاون ثابت ہوسکوں؟‘‘’’گریس کا ڈبہ۔۔۔‘‘ خواجہ کچھ ہکاّ بھی اور بکاّ بھی رہ گیا۔میں نے اُسے بتایا کہ یہاں تو ایک ہے راکا پوشی بیس کیمپ میں درجنوں گدھے کورس میں ’’چاندنی راتیں‘‘ وغیرہ الاپتے تھے۔ اسرار نے مجھے اِس اسرار سے آگاہ کیا کہ تارڑ صاحب اگر آپ نے کسی بھی گدھے کو چپ کرانا ہو تو ایک ترکیب ہے جو آزمودہ ہے۔ آپ اُس کے نازک مقام میں گریس کا پوچا پھیر دیں۔۔۔’’لا حول ولا۔۔۔‘‘تنویر نے کہا ’’گدھے کو بولنے دیں‘‘ ۔۔۔۔ویڈیوقسط(9)۔
٭ 10)آئی ایم کاؤ بوائے۔۔۔ کراس ماؤنٹین۔9اکتوبر 2016۔۔۔۔اُس شب مجھے ایک ڈراؤنا خواب آیا۔ رات کا کوئی پہر ہے۔ میں قدرے بوجھل ہوا، اپنے آپ کو ہلکا کرنے کی خاطر سلیپنگ بیگ کے سرخ کفن میں سے کھسک کر باہر آنے کی سعی کی تو کھسکا نہ گیا۔۔۔ بمشکل سلیپنگ بیگ سے الگ ہو کر اٹھا تو اٹھا نہ گیا۔۔۔ بدن ایک سوکھے ہوئے شجر کی مانند اتنا اکڑا ہوا تھا کہ اس میں اٹھنے کے لیے درکار لچک نہ تھی، کبڑا ہو کر بمشکل۔۔۔ خوابیدہ سرفراز کے پار ہو کر خیمے کی زپ بہت تردد سے کھولی اور جھکا ہوا خیمے سے باہر نکلنا چاہتا تھا کہ یکدم منہ کے بل باہر جاگرا۔۔۔ ایک اپاہج کی مانند بے اختیار، میرا بدن خیمے کے اندر اور بقیہ دھڑ باہر منہ کے بل گھاس پر گرا ہوا۔۔۔ گھر کی آسائش میں ایک شخص بیٹھا ہے تو کرسی، صوفے، ریلنگ یا کموڈ پر بیٹھتا ہے، کبھی زمین پر قالین پر بیٹھنے کا اتفاق نہیں ہوتا تو مجھے خبر ہی نہ ملتی کہ مجھے اب یہ سہولت حاصل نہیں رہی ہے۔ میں بغیر سہارے نہ بیٹھ سکتا تھا نہ اُٹھ سکتا تھا۔یہ ڈراؤنا خواب کیسا تھا کہ میرے نتھنوں میں گھاس کی پتیاں سر سراتی تھیں اور وہ ہریا ول کو سونگھ رہے تھے۔۔۔ یہ خواب نہ تھا، میں واقعی حراموش کی رات میں گھاس پر اوندھا پڑا تھا۔مجھے سلپی کی خیمہ گاہ تک کی دشواریوں نے آگاہ تو کر دیا تھا کہ۔۔۔ بس، ختم ہوئی بارش سنگ۔۔۔ لیکن کوہ نوردی کی بادشاہی کے خاتمے پر آخری مہر میرے اوندھے گھاس پر گر جانے سے ثبت ہو گئی۔میرے دن پورے ہو گئے تھے۔ پنجابی میں جب کوئی شخص انتقال کر جاتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے دن پورے ہو گئے۔کیا اُس اوندھی حالت میں گھاس پر گرے ہوئے مجھے اپنی بے چارگی پر رونا آیا۔۔۔ میں نے اپنے آپ پر ترس کھایا، بہت رنجیدہ اور دل شکستہ ہوا۔۔۔ نہیں، ہرگز نہیں ، میں نے اس اوندھے پن سے لطف اٹھایا، گھاس کی پتیوں سے سجھے ہوئے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ تو یہ زمانے بھی آنے تھے۔۔۔ اگر آگئے ہیں تو آنے دو۔۔۔ میں ان زمانوں سے کہیں برتر ہوں۔۔۔ یہ گزر جائیں گے اور میں بھی گزر جاؤں گا لیکن۔۔۔ زمانے کی گزران کا کوئی گواہ نہ ہو گا۔۔۔ البتہ گھاس کے یہ سب تنکے اور پتیاں ’’لیوز آف گراس‘‘ یہ گواہی دیں گے کہ وہ یہاں سے گزرا تھا۔ ہم اس کے ہونٹوں کو ہریاول کرتے تھے، اُس کے بوڑھے رخساروں پر سبز تتلیاں ہوتے تھے ، اور اس کے برف سفید بالوں میں نصیب کی سبز لکیروں کی مانند نمایاں ہوتے تھے۔ وہ یہاں سے گزرا تھا۔۔۔ زمانے کا ہمیں کچھ پتا نہیں کہ گزرا بھی تھا یا نہیں!جیسے خوبانی کے درختوں کے پتوں میں سے زرد سورج طلوع ہوتے ہیں ایسے ہمارے کچن ٹینٹ میں سلگتے سٹوو پر دھرے فرائنگ پین میں تلے جانے والے انڈروں کی زردی طلوع ہو رہی تھی۔ہماری بستیاں آلودگی کے زہر میں سانس لیتی ہیں، شہروں کی فضائیں مسموم ہو کر مردہ ہو رہی ہیں اور ان بستیوں اور شہروں کے باسی آگاہ ہی نہیں کہ ہوائیں اگرحراموش کی شفافی سے نتھری ہوئی ٹھٹھرتی ہوں تو اُن میں اگر فرائنگ پین میں ایک انڈا تلا جا رہا ہو تو اُس کی باس میں کیسی دیوانگی اور پاکیزگی ہر سو دھو یں مچاتی ہے۔میں نے کم از کم تین زرد سورجوں کا ناشتہ کیا۔سلپی کی خیمہ گاہ کے کناروں پر ایک پتھریلی دیوار پر کم از کم تیس پورٹر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے براجمان تھے اور تماشے دیکھ رہے تھے کہ باہر کی دنیا سے آئے ہوئے یہ جنور کیا کھا رہے ہیں۔ کیا پہن رہے ہیں اور ان میں سے کون ہے جو ایک لوٹا تھامے کسی محفوظ گاہ کی تلاش میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اور پھر کسی چٹان کی اوٹ میں غائب ہو جاتا ہے۔ ہماری خیمہ بستی مسمار ہونے لگی۔۔۔ اجڑ نے لگی۔خیمے سمیٹے گئے اور پورٹر سامان بوجھ کر کے جھکے جھکے مکئی کے کھیت کے برابر میں جو ایک پگڈنڈی نمایاں ہوتی تھی اس پر قدم رکھنے لگے تو اُس اکلوتے گدھے نے محض ایک ڈھینچوں کر کے گویا ہمیں الوداع کہا۔میری کمر پر کوئی بوجھ نہ تھا۔ میرا ڈے پیک کامران کے مضبوط کاندھوں پر تھا۔’’احسن۔۔۔ آج ہم کہاں جائیں گے۔۔۔ راستہ کیا ہے؟‘‘ڈاکٹر رخصتی کے انتظامات میں مشغول تھا چونک کر کہنے لگا ’’سر آج تو یوں جانیے کہ ہم ماڈل ٹاؤن پارک کے ٹریک پر آسانی سے چلیں گے۔ایک متروک شدہ جیپ روڈ پر واک کریں گے، پھر تھوڑی سی چڑھائی ہے اور انشاء اللہ دوپہر تک جنگل کیمپ میں پہنچ جائیں گے۔وہاں ایک برفانی ندی کے کنارے کوہ حراموش کی برفوں کے سائے میں ایک سیاہ جنگل ہے، ایک دو جھونپڑے ہیں اور آپ اُن میں سے کسی ایک میں قیام کر سکتے ہیں۔یہ راستہ پیس آف کیک ہے سر۔۔۔‘‘’’واقعی آج کا پہاڑی سفر ایک کیک کا ٹکڑا ہے؟‘‘’’سرکیا میں آپ سے جھوٹ بولوں گا۔۔۔ آپ ہمارے مرشد ہیں سر۔۔۔‘‘’’احسن، پچھلی شب میں اس خیمے میں ایک عذاب میں رہا۔۔۔ وہاں میں اُٹھ نہیں سکتا تھا تو آج کی شب میں میس ٹینٹ کی کشادگی اور بلندی میں بسر کروں گا۔جہاں میں آسانی سے کھڑا ہو سکوں‘‘۔’’کیوں نہیں سر۔۔۔ ہم آپ کے مرید ہیں‘‘میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کبھی زندگی میں ایسے مریدوں کا اعتبار نہ کرنا۔۔۔ یہ سب فریبی اور دھوکا باز ہوتے ہیں، آپ کو ورغلاتے ہیں اور کبھی حقائق سے آگاہ نہیں کرتے، درپردہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ بیکار سا بوڑھا مرشد کسی گلیشیئر کو عبور کرتے ہوئے زندگی کو عبور کر جائے تو ہم اسے آنسو بہاتے، اس کی مغفرت کی دعائیں کرتے برفوں میں دفن کر کے اس کی برف قبر پر چراغاں کر یں۔اُسے کوہ نوردی کا ’’سینٹ‘‘ ڈیکلیئر کر کے ہر برس ڈھول بجاتے ، بھنگڑے ڈالتے اس کے عرس میں شریک ہوں۔ان مریدوں کی نیت تو یہی تھی۔میرے نصیب اچھے تھے۔ویسے یہ حقیقت تھی کہ جب ہم مکئی کے کھیتوں کے پار ہوئے۔۔۔ قدرے بلندیوں کا سامنا ہوا لیکن ازاں بعد دامن کوہ سے لپٹی ہوئی ایک متروک شدہ روڈ تھی۔ سپاٹ ، ہموار پہاڑوں کے ساتھ بل کھاتی ایک روڈ تھی۔ہم خوش تھے کہ حراموش تک یہی سڑک سیدھی جاتی تھی۔بقول اُستاد امام دین۔۔۔ یہ سڑک سیدھی جلال پور جٹاں کو جاتی تھی۔۔۔ حراموش کو جاتی تھی۔’’حاجی صاحب۔۔۔‘‘ سرفراز اپنے کاؤ بوائے ہیٹ کا کنارہ چھوتے ہوئے بولا ’’ہمیں یونہی ڈراتے رہے ہو کہ یہ ہو گا وہ ہو گا۔یہ تو ماڈل ٹاؤن پارک کے ٹریک سے بھی زیادہ آسان ہے‘‘۔بائیں جانب ایک عمیق گہرائی گرتی تھی اور اُس کے نشیب میں ایک ندی تھی اور اُس کے پار کناروں پر تقریباً منہدم ہو چکی ایک جیپ روڈ کے آثار تھے جو کسی گمنام سلترو وادی کی پوشیدگی تک جایا کرتی تھی۔یکدم سب لوگ رُکنے لگے۔۔۔آگے روڈ نہ تھی، ایک خلاء تھا۔سڑک کا ایک حصہ مسمار ہو کر کھائی میں گر چکا تھا۔اگرچہ روڈ کا نام و نشان نہ تھا۔۔۔ محض ایک خلاء تھا لیکن ہم پہاڑ سے چمٹ کر، ایک نوکیلی چٹان تلے سے جھک کر قدرے بہادر ہو کر شاید پار جا سکتے تھے۔۔۔۔۔
٭!!)مجھ پہ کالی والے کا کرم ہو گیا تھا۔16 اکتوبر 2016ویڈیوقسط(10)۔
۔۔۔۔٭12)مجھ پر کالی کملی والے کا کرم ہوگیا تھا۔19 اکتوبر 2016.تو میں نے بھی پکارا کہ۔۔۔ ایک گھوڑا۔۔۔ہے کوئی گھوڑا جو مجھے اس برفانی اژدہے کے پار لے جائے۔میں نے کامران کی پیشکش ٹھکرا دی اور پھر ایک پورٹر قادر نام کا شاید شمشال کا آگے آیا ’’صاحب۔۔۔ ہم آپ کا گھوڑا ہوتا ہے‘‘۔وہ بہت ناتواں سا لگتا تھا اور میں اُس کی نسبت ایک بارہ من کی دھوبن تھا ’’پار لے جاؤ گے؟‘‘۔’’ہاں صاحب۔۔۔ہم اپنی بیوی کو اٹھا کر پار لے جاتا ہے، اپنے باپ دادا کو کاندھوں پر اٹھا کر اس سے کہیں زیادہ شوریلی اور پانیوں کے سیلاب میں غرق ہوتی ندیوں کو عبور کر جاتا ہے۔ آپ بھی تو ہمارے باپ دادا ہو۔۔۔ آؤ۔مجھے کچھ سبکی سی محسوس ہوئی کہ میں ایک ایسے انسان پر سواری کروں گا جو وزن میں مجھ سے آدھا بھی نہیں ایک پوّاہے لیکن۔۔۔پہاڑوں کے سفر کے دوران انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے چشم پوشی کرکے خود غرض اور کمینہ ہو جانا ہی دانش مندی کی معراج ہوتاہے۔قادر، بغیر لڑکھڑاتے، ٹھوکر کھائے بغیر مجھ دھوبن کو پار لے گیا۔اُس پار کے پار بہت چٹیل، بےآب وگیاہ چٹان بلندیوں کی گود میں ایک پگڈنڈی بمشکل چمٹی ہوئی تھی اور ہم بھی چمٹ گئے۔اُس نالے کے پہلو بہ پہلو ذرا بلندی پر سنبھلتے چلنے لگے۔ میں بخوبی چلتا تھا۔۔۔ سانس چڑھتا تھا پر وہ رُکتا نہ تھا، میں تھکتا تھا پر گرتا تو نہ تھا۔۔۔واہ پروردگار یہ تیری شان ہے، میں کہیں بلند پہاڑوں میں روپوش کسی وادئ حراموش کی تلاش میں اپنے پاؤں پر چلتا جا رہا تھا۔۔۔ اور بہت دن تو نہیں گزرے جب میں نیشنل ہسپتال کے کمرہ نمبر 24 میں درجن بھر ٹیوبوں سے پر ویا ہوا، آکسیجن ماسک میں سانس لیتا کھڑکی کی جانب تکتا تھا اور باہر ایک میدان تھا جہاں سرشام کچھ فٹ بالر اور اتھلیٹ پریکٹس کرنے کے لئے آجاتے تھے، ورزش کرتے اُچھلتے کودتے تھے۔اُس کھڑکی کے ویران شیشے میں سے کبھی کبھار ایک فٹ بال بلند ہوتا اور گر جاتا۔ورزش کرتی اتھلیٹ لڑکیوں میں سے کوئی ایک لڑکی اُچھلتی، وہ سیاہ رنگت کی پونی ٹیل والی کوئی لڑکی تھی، میرے کمرے کی کھڑکی کے شیشے میں سے ابھرتی۔ پل بھر کے لئے تصویر ہو جاتی اور پھر گر جاتی۔ تب مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میں کبھی اپنے قدموں پر چل سکوں گا۔۔۔ دن کی روشنی دیکھوں گا۔راتوں کو مجھ پر وہی گھبراہٹ طاری ہو جاتی جو میرے چھوٹے بھائی زبیر پر حاوی ہو جاتی تھی جب وہ جگر کے کینسر میں مبتلا۔۔۔اپنے بستر سے اُچھلتا تھا اور فنا کی تاریکی میں گر جاتا تھا۔۔۔میری حالت بھی ویسی ہو چکی تھی۔۔۔ میرے مسیحا ڈاکٹر محمود ایاز نے اپنے آپ کو میری دیکھ بھال کے لئے وقف کر رکھا تھا تو میں نے اُن سے کہا ’’پچھلی شب۔۔۔ میرا کچھ تو دوا دارو کیجئے۔۔۔میں نے یہ سب ٹیوبیں اتار کر اس کھڑکی سے کود جانا تھا اتنی گھبراہٹ اور بے چینی مجھے شکار کرتی تھی۔ میں اس لئے نہ کود سکا کہ مجھ میں بستر سے اٹھ کر کھڑکی تک جانے کی سکت نہ تھی۔ڈاکٹر صاحب نے کہا ۔۔۔’’میں آپ کو گراؤنڈ فلور پر کسی کمرے میں منتقل کردیتا ہوں تاکہ آپ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگائیں تو پارکنگ لاٹ میں آگریں‘‘ اُنہوں نے مارفین کی ایک بھاری مقدار میرے بدن میں انجکٹ کرکے مجھے مدہوش کردیا ورنہ میں کُود چکا ہوتا۔تو واہ جی واہ رب جی۔۔۔ کہاں وہ دن اور کہاں یہ دن۔۔۔ تیری شانیں نرالیاں ہیں۔۔۔ تو نے مجھے دوبارہ تخلیق کردیا ہے، نیا نکور کردیا ہے۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ میں اپنے پاؤں پرایک پہاڑی راستے پر چل رہا ہوں۔اُس نے نگاہ تو نہیں کی ہوگی، لیکن وہ سیاہ رنگت کی پونی ٹیل والی اتھلیٹ لڑکی ورزش کے دوران جب اُچھلتی میرے کمرے کی کھڑکی کے شیشے میں پل بھر کے لئے ظاہر ہوتی تھی۔۔۔ اگر وہ نگاہ کرتی اور اب نگاہ کرتی تو کیا وہ تحیر کی ایک بے یقینی میں نہ مبتلا ہو جاتی۔۔۔ یہ وہ شخص تو نہیں ہے آپریشنوں سے اُدھڑا ہوا، کچے ٹانکوں سے سِلا ہوا، آکسیجن ماسک کی مدد سے سانس لیتا ہوا جس کی تیمارداری کے لئے عبداللہ حسین اور وہ بھی خون کے کینسر میں مبتلا اور انتظار حسین لاٹھی کے سہارے چلتے آگئے تھے ۔ یہ وہ شخص تو نہیں ہے۔۔۔اُس اتھلیٹ لڑکی کو کیا پتہ کہ مجھ پر کملی والے کا کرم ہو گیا ہے۔ میں اُس کی قصویٰ اونٹنی کے پیچھے چلا آتا تھا، اُس کا سوار اگرچہ مڑ کر نہ دیکھتا تھا کہ یہ کون ہے جو قصویٰ کی مینگنیوں پر بھی میرے عشق میں مبتلا قدم نہیں دھرتا ۔۔۔ وہ اگرچہ پلٹ کر نہ دیکھتا تھا پر اُسے میرے حال کی سب خبر تھی، وہ جانتا تھا کہ یہ جو میری اونٹنی کے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے، اس نے کبھی میری غار حرا میں ایک رات گزاری تھی۔۔۔ وہ اتھلیٹ لڑکی نہیں جانتی تھی کہ مجھ پر کملی والے کا کرم ہو چکا ہے۔خشک اور پیاس کی ماری ہوئی پگڈنڈی نشیب میں اترنے لگی۔وہاں کچھ سایہ دار ٹھگنے سے شجر تھے اور کچھ جھاڑیاں اُن کی ہمجولیاں تھیں۔ اُن کی اوٹ میں کڑیل چٹانوں کی کوکھ میں سے ایک زور کرتی آبشار کا منہ زور بچہ پیدا ہوتا تھا۔۔۔ اُس کی پھوار کی بوندیں، آوارہ تتلیاں، اور سب تتلیاں پانی کے پروں کی۔۔۔ میرے پیاسے بدن کے مساموں میں گھونسلے بنانے لگیں۔ہر بوند میں جو تتلی تھی اُس کے رنگ پروردگار کی شان کے رنگ تھے، وہ میرے بدن میں جذب ہوتی گئیں، گویا اب میں تو نہ تھا، نہ میرا بدن تھا، پانی کی تتلیوں کا ایک گھر تھا۔اس آبشار کے پار بھی جانا تھا۔کامران قدرے ہنہنایا اور اس گھوڑے کے حصول کے لئے مجھے کوئی سلطنت فروخت نہیں کرنی تھی، یہ ایک مفت کا تگڑا گھوڑا تھا جو ہمیشہ وہاں آ موجود ہوتا تھا جہاں مجھے ایک گھوڑا درکار ہوتا تھا۔میں اُس پر بے دریغ سوار ہو کر آبشار کے پار اتر گیا۔ یہاں قدم قدم پر آبشاریں تھیں۔۔۔۔۔٭13)پانی کی تتلیاں اور مٹھی چاپی۔23 اکتوبر 2016۔۔۔
یہاں قدم قدم پر آبشاریں تھیں۔۔۔اس آبشار کے پار ہوئے۔ وہاں جتنے بھی پتھر تھے وہ آبشار کی مسلسل پھوار سے بھیگتے تھے اور اُن پر کائی جم رہی تھی۔۔۔ وہاں درختوں کے ایک جھنڈ کے نم آلود سائے قدم روکتے تھے۔۔۔ جیسے شریف کنجاہی کی ایک یادگار نظم ’’ون دا بوٹا‘‘ میں ون یا بان کا بوٹا اپنے قریب سے گزرتے بھوکے پیاسے مسافر کو پکارتا ہے کہ۔۔۔ اے پیاس اور بھوک سے نڈھال پر دیسی۔۔۔ آؤ میری چھاؤں میں بیٹھ جاؤ۔ میری پیلوں کھالو، ذرا آرام کر لو پھر چلے جانا۔۔۔ اسی طور اس آبشار کی پھوار کی ہر بوند مجھے پکارتی تھی۔۔۔ اے بوڑھے کوہ نورد کچھ دیر ٹھہر جا۔۔۔ ہم تیرے سفید بالوں پر موتیوں کی مانند اٹک جائیں گی، تمہارے پژمردہ بدن پر پانی کی تتلیاں بن کر اتریں گی۔ تجھے تازہ دم کر دیں گی۔۔۔ ٹھہر جا۔۔۔لیکن اگر ایک کوہ نورد کٹھن مسافتوں میں پڑتے ہر آبشار کی بوندوں کی بات سنے۔ ہر جھرنے کی منزل دل کے گیت سننے کے لیے تھم جائے۔ گھاس میں اُگے ہرپھول کی مہک آپ کے قدم روک لے۔۔۔ حیرانیوں کے ہر برف منظر کو دیکھ کر رک جائیں تو پھر کوہ نوردی کا کبھی اختتام ہی نہ ہو۔۔۔ آپ اُسی دل کش اور دل نواز مقام پر ہی جڑیں پکڑ جائیں اور ہمیشہ کے لیے حنوط ہو جائیں۔۔۔ چنانچہ ایسی کسی پکار پر کان نہ دھرئیے، سفر جاری رکھیے۔۔۔ چونکہ میں بالآخر کانوں سے بہرا ہو رہا ہوں تو میں یوں بھی پکار وغیرہ آبشار کی ہو یا کسی جھرنے کی ، سنتا ہی نہیں۔۔۔ چلتا جاتا ہوں۔آبشار کی نم آلود چھاؤں سے نکل کر دھوپ میں آئے تو بدن پر جتنی بھی پانی کی تتلیاں پھڑپھڑاتی تھیں، اس کی حدت سے بھاپ میں بدل کر کافور ہو گئیں۔۔۔زائل ہو گئیں۔آبشار کے پاردھوپ میں قدم رکھا تو سامنے ایک اور چڑھائی کی دانت نکوستی کتیا غراتی تھی۔۔۔ یعنی یہ ایک کتی چڑھائی تھی ۔ ایک بل کھاتا کچاراستہ بلندی کی جانب اٹھتا ہی چلا جاتا تھا۔ جیسے کوئٹہ جاتے ہوئے جب درہ بولان کی چڑھائی شروع ہوتی ہے تو ٹرین کے ساتھ ایک اور انجن لگا دیا جاتا ہے جو اسے دھکیلتا چلا جاتا ہے۔۔۔ یوں کامران جو ابھی گھوڑا تھا وہ انجن ہو گیا جو مجھے دھکیلتا اوپر لے گیا۔۔۔ وہاں کھلی فضامیں سبزے کو ایک سفید سانپ کی مانند کاٹنے والی ایک برفانی نالی بہتی تھی اور اس کے اردگرد گھاس پر کچھ حضرات اوندھے پڑے تھے۔۔۔ انہیں آسانی سے کوہ نوردی کے شہید کہا جا سکتاتھا اور شہید زندہ ہوتے ہیں ہم انہیں مردہ نہیں کہہ سکتے۔۔۔ ان میں ڈاکٹر احسن، زیدی اور سرفراز پہچانے گئے۔ انہوں نے ہم سے کہیں طویل اور دشوار سفر طے کیا تھا۔۔۔ کسی گلیشیئر کی برفوں پر پھسلتے رہے تھے۔۔۔ اور اب حراموش کے یہ مسافر مدہوش پڑے تھے۔۔۔ اور میرے پکارنے پر اس مدہوش کیفیت میں بھی سرفراز نے اپنی ایک بلوری آنکھ کھولی اور کہا ’’آئی ایم اے کاؤ بوائے‘‘ اور پھر مدہوش ہو گیا۔۔۔ میں بھی تو برے حالوں میں تھا، لڑکھڑا کر گرا اور برفانی نالی کے کناروں پر مدہوش ہو گیا۔کچھ دیر بعد میں نے یونہی کسی کو مخاطب کیا اور پوچھا ’’آج شب ہم کہاں کیمپ کریں گے‘‘۔ٹریک کے آغاز سے ایک حراموشی اشدر نام کا ہمارے ساتھ ساتھ چلا آتا تھا نہ وہ پورٹر تھا ور نہ گائیڈ، پتا نہیں کیا تھا اور کیوں ہمارے ساتھ ساتھ چلا آتا تھا۔ مجھے اس کا انوکھا نام یاد نہ رہتا تھا چنانچہ میں اسے یوں یاد رکھتا تھا کہ۔۔۔ میں نے ایک جل پری دیکھی اور ششدر رہ گیا اور شین کی بجائے الف کا اضافہ کر دیں تو ہو گیا اشدر۔۔۔ وہ کہنے لگا۔۔۔ سر۔۔۔ جنگل کیمپ میں‘‘۔مقیم جو پورٹروں کا حال مقیم شمشالی سردار تھا اپنی مختصر ڈاڑھی سہلا کر بولا ’’تارڑ صاحب۔۔۔ آپ جنگل کیمپ پہنچ کر شادمان ہو جائیں گے۔۔۔ سامنے حراموش کا پہاڑ باتیں کرتا ہے ، اس کی برفوں میں سے پھوٹنے والی ندی کیمپ کے کناروں پر شور کرتی ہے اور جنگل بھی بہت ہی جنگل ہے۔ دسو گاؤں کا شیر نادر بھی میری ڈھارس بندھانے لگا ’’سر جنگل میں منگل۔۔۔ اتنا گھنا جنگل۔۔۔ دور نہیں ۔۔۔ پاس ہے‘‘۔اشدر ہمارا راہنما ہوگیا۔ہم سے تو الفت کے تقاضے بھی نہ سہے جاتے تھے پر یہ تو پہاڑوں کی ہوس اور خواہش کے تقاضے تھے جو ہم سہتے گئے۔۔۔ چلتے گئے۔’’سر ۔۔۔ ہم معمول کے راستے پر نہ چلیں گے۔ میں یہاں آتا جاتا رہتا ہوں۔۔۔ ایک آسان راستہ ہے۔ چڑھائی اترائی کچھ نہیں، صرف کھیت اور چشمے ہیں، ہم ان کے کناروں پر آسانی سے چلتے جائیں گے۔ آئیے‘‘وہ راستہ نسبتاً آسان تھا لیکن کچھ بھیگا بھیگا تھا۔۔۔ کھیتوں میں پانی رواں تھے اور ہم اُن میں شڑاپ شڑاپ چلتے اپنے جوگرز بھگوتے تھے۔ہمارے عین اوپر ایک گونجدار گڑ گڑاہٹ ہوئی جو دل میں ہول بھرنے والی تھی۔ وہاں ایک عظیم گلیشیئر بلندیوں پر معلق تھا اور شاید اس نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔ اس گلیشیئر کے نشیب میں، سر سبز کھیتوں کی ایک پگڈنڈی پر دو تنہا شجر سر بلند تھے۔ شجر ثمر آور تھے۔۔۔ ان میں سے ایک شجر کے گھنے پتوں میں سے جھانکنے والی زرد رو خوبانیاں شہزادیاں۔۔۔ بے مثال رسیلے پن میں گھلی ہوئی تھیں۔۔۔ اور دوسرے درخت کی شاخوں سے پیوست کالے شاہ شہتوت نہیں صرف توت تھے، بہت ننھے منے، منی ایچر لیکن ۔۔۔ ایسے میٹھے اور مہلک آور کہ میں نے آج تک ایسے مٹھاس کے کیپسول بھی نہ چکھے تھے۔پہلے تو صرف ششدر بلکہ اشدر ان خوبانیوں اور توتوں کو شاخوں سے الگ کرتا ہمیں پیش کرتا رہا اور پھر ہم سے صبر نہ ہوا اور ذاتی طور پر انہیں حاصل کرنے کے لیے جت گئے۔تب مجھے یکدم اُن کی حلاوتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سر فراز کا خیال آیا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد بلکہ بیگم کا بھی لاڈلا تھا۔ جانے اس پر کیا گزر رہی ہے کہاں ہے۔’’سر آپ اُن کی فکر نہ کریں۔ ملک صاحب کی حالت اچھی نہ تھی چنانچہ ایک تجربہ کار حراموشی پورٹر اور پہاڑوں کے مارخور جس کی ڈاڑھی بھی ہے یعنی طائف کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے کہ وہ ملک صاحب کی نگہبان ہو جائیں، اُنہیں سہارتے چلے آئیں۔ آپ جانتے ہیں کہ طائف ایک نک چڑھا مولوی ہے لیکن وہ ملک صاحب کا گرویدہ ہے اس نے خود پیشکش کی تھی۔۔۔ چنانچہ سکون کریں۔کھیتوں کی ہریاول میں ایک پتھریلا گھر دکھائی دے رہا تھا لیکن وہ سفید چٹانوں میں دفن ہو کر اُن کے وزن سے کچلا جا چکا تھا۔’’سر۔۔۔ ابھی کچھ مدت پہلے حراموش کی برفوں تلے جو سفید چٹانیں دکھائی دے رہی ہیں وہ ایک سیلابی ریلے کے زور سے لڑھکتی ہوئی نیچے آئیں۔۔۔ اور اس اکلوتے گھر کو کچل کر رکھ دیا۔۔۔ وہاں دو نوجوان لڑکیاں مقیم تھیں اور وہ بھی کچلی گئیں‘‘۔ان بھیگے بھیگے کھیتوں کے درمیان میں کہیں کہیں سفید چٹانیں براجمان تھیں۔۔۔ اور اُن کی وہاں موجودگی سمجھ میں نہ آتی تھی۔۔۔ اب سمجھ آ گئی۔ بلندی پر گلیشیئر کے دامن میں ہم دیکھ سکتے تھے کہ سفید چٹانوں کی ایک بکھری ہوئی ، منشتر سلطنت ہے اور اس سلطنت کے لیے ٹکڑے کسی نہ کسی بہانے ٹوٹ کر اس وادی کی ہریاول میں گرتے رہتے تھے۔ہم اس سلطنت کے سائے میں خوف میں چلے۔ ڈرتے ڈرتے چلے۔ اور تب سیراب ہوتے کھیتوں ، برفانی نالیوں اورثمر آور شجروں کے درمیان میں ایک شجر سایہ دار ایک پڑاؤ کی صورت میں آ گیا۔ یہ حراموش لوگوں کا ایک سایہ دار ڈیرہ تھا۔۔۔ ایک سمر کیمپ تھا۔ گھنے درختوں میں پوشیدہ کچی کوٹھڑیاں اور طویل برآمد ے والا ایک گھر تھا۔۔۔ مویشیوں کے گوبر کی بو کے ساتھ خوبانیوں کی خوشبو ہم بستری کرتی تھی ۔ درخت سایہ دار اور پھلدار تھے۔ایک برفانی ندی اس چھاؤں بھری بستی کے بیچ میں سے گزرتی تھی۔ اس ندی کے پانیوں کی سرسراہٹ میں اس افیون کی اُونگھ تھی جس کی ایک گولی نگل کر کالر ج قبلائی خان کے ذناڈو میں منتقل ہو جاتا تھا۔ہم اس ڈیرے کو ڈھانپتے خوبانی اور شہتوت کے درختوں کی کہیں چھدری ، کہیں گھنی چھاؤں میں ڈھیر ہو گئے۔میں نے اپنے آپ کو ایک شہتیر پر توازن کیا ، اس پر براجمان ہو گیا اور کامران میرے حال کا محرم تھا۔ میری قدموں میں بیٹھ گیا اور میری دکھتی پنڈلیوں کو دبانے لگا۔ مٹھی چاپی کرنے لگتا۔میں، مالش کروانے ، مٹھی چاپی یا بدن دبوانے سے ہمیشہ جھجکتا ہوں۔۔۔ یہ کسی حد تک مجھے ایک انسان کی تذلیل لگتی ہے۔ وہ ایک غلام کی مانند آپ کے بدن کی تواضع میں جت جاتے ۔۔۔ اور یوں بھی کوئی بھی میرے بدن کو ہاتھ لگائے تو مجھے گدگدی ہوتی ہے۔ میری گدگدی اور اجتناب اپنی جگہ لیکن بدن دبوانا اور دابنا ایک ایسی قدیم ثقافتی وراثت ہے جو مختلف معاشروں کی بودو باش کا ایک لازمی حصہ ہے۔ پنجاب کی رہتل کی تصویر تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ایک چوہدریصاحب نواری پلنگ پر دراز نہ پڑے ہوں اور اُن کے کمی کمین اُنہیں داب رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیوقسط(11)۔
٭13)بلند قراقرمی چراگاہیں اور مکھی بھری لسی۔26 اکتوبر2016 


"میرا دل بدل دے"

مولا دل بدل دے از  حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقش بندیمِرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے
ہوا و حرص والا دل بدل دےخدایا فضل فرما دل بدل دےبدل دے دل کی دنیا دل بدل دے
گنہگاری میں کب تک عمر کاٹُوں
بدل دے میرا رستہ دل بدل دےسنوں میں نام تیرا دھڑکنوں میں
مزہ آ جاۓ مولا دل بدل دے
ہٹالوں آنکھ اپنی ما سِوا سے
جیوں میں تیری خاطر دل بدل دےکروں قربان اپنی ساری خوشیاں
تو اپنا غم عطا کر دل بدل دے
سہل فرما مسلسل یاد اپنی
خدایا رحم فرما دل بدل دےپڑا ہوں تیرے در پہ دل شکستہ
ر ہوں کیوں دل شکستہ دل بدل دے
تیرا ہوجاؤں اتنی آرزو ہے
بس اتنی ہے تمنّا دل بدل دےمیری فریاد سن لے میرے مولا
بنالے اپنا بندہ دل بدل دے
دلِ مغموم کو مسرور کردے
دلِ بےنور کو پُر نور کردےفروزاں دل میں شمعِ طور کردے
یہ گوشہ نور سے معمور کردے
میرا ظاہر سنور جائے الٰہی
میرے باطن کی ظلمت دور کردےہے میری گھات میں خود نفس میرا
خدیا اسکو بےمقدور کردے
مئے وحدت پِلا مخمور کردے
محبت کے نشے میں چُور کردے

"صبحِ دوامِ زندگی"

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِترتیب
موت کیا ہے اِنہی اجزاء کا پریشاں ہوناایمان ہماری زندگی کا اصل اثاثہ ہے۔ اس زندگی پر ایمان جس کی حقیقت صرف رب جانتا ہے۔انسان کے عزم اور حوصلے پر ایمان جس کی نیت رب جانتا ہے اور وہی اس کا اجر دیتا ہے۔ انسان کے تضاد پر ایمان کہ اس میں فطرت کے سارے رنگ یوں باہم ملے جُلےہیں کہ کسی ایک رنگ کی جھلک سے کبھی بھی اس کا مجموعی تاثر جانا نہیں جا سکتا۔ انسان کے ظاہروباطن کے بھرپور اور مکمل ہونے پر ایمان اور سب سے بڑھ کر اپنے رب پر ایمان کہ وہ دلوں کا حال جانتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔زندگی صرف حیرت درحیرت ہے اور کچھ بھی نہیں آخری سانس تک ہم اسے جان ہی نہیں سکتے۔موت زندگی کی جڑواں بہن ہے۔۔لیکن ہماری نظریں،ہمارا فہم اور ہماری عقل اسے بدترین سوکن تصور کرتی ہے۔موت اپنا آپ چھپاتے ہوئے زندگی کے پہلے سانس سے بھی پہلےاُس کے اندر جذب ہوئی ملتی ہے جبکہ زندگی کی چکاچوند اور بھرپور موجودگی کے سامنے موت ایک کریہہ اور بدبودار بھکاری کی مانند ہاتھ پھیلائے نظر آئے تو ہم اس سے دامن بچا کر نکلنے میں ہی بھلا سمجھتے ہیں ۔ ہم کھلی آنکھ سے اُس زندگی کا ادراک کرہی نہیں سکتے جو آنکھ بند ہونے کے بعد نہ صرف ہماری روح بلکہ جسم پر وارد ہوتی ہے۔اس وقت کا ظاہری احساس ہماری عقل کی محض چند فیصد صلاحیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے اور اتنا ہی اس کا اظہار ممکن ہے۔ جیسے معمولی جسمانی تکلیف سے لے کر شدید ترین درد کی کیفیت،یہاں تک کےجان کنی کے عالم تک ہم بہت کچھ سمجھانے اور بتانے کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن جان نکلتے ہی یکدم ایسا سکون اور خاموشی طاری ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے لیے پریشان ہونے والوں کے دل کو بھی طمانیت سے بھر دیتی ہے۔اس لمحے جسم توسب کے سامنے سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ہم عقل وشعور کے ہزارہا مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں ۔بےشک اس کیفیت کا بیان ممکن ہی نہیں اور کتابِ مقدس کے الفاظ میں "جس پر طاری ہو وہی اس کا امین ہے"لیکن سمجھنے والوں اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور مثالیں اُن کی اپنی ہی ذات کے اندر موجود ہیں، جیسے فالج کی بیماری میں ہمارا جسم ذرا سی بھی حرکت کے قابل نہیں رہتا، ہم سب دیکھ سکتے ہیں،سب سن سکتے ہیں سب محسوس کرسکتے ہیں لیکن کہہ نہیں سکتے،اظہار نہیں کر سکتے۔یہ کسی کے اس موذی مرض کا شکار ہونے کی ظاہری حالت کا تجزیہ ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی صحت مند زندگی میں بھی اکثر اس کیفیت کا ادراک ہوتا ہے جب ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے جسم کا کوئی حصہ سُن ہو جائے جسے ہم عام بول چال میں "سوجانا" بھی کہتے ہیں۔زندگی کے پلیٹ فارم پر ایک قطار میں سب اپنی باری کے منتظر ہیں کب کس کا بلاوا آ جائے؟ اور کب کسے قطار کے درمیان سے اُٹھا کر معلوم منزل کے نامعلوم سفر پر روانہ کر دیا جائے؟ ہم یہ سوچ کر مطمئن رہتے ہیں کہ ابھی قطار میں ہمارا نمبر کافی پیچھے ہے۔زندگی کے بڑھتے سالوں کی مشقت اور بھاگ دوڑ ہمیں اس سچ کے سامنے جان بوجھ کر آنکھ بند کرنے پر مجبور کر دیتی ہے تاوقت کہ ہمارااپنا،کوئی جگر کا ٹکڑا یا ہمیں چاہنے والا اس کی گرفت میں آکر ہمیشہ کے لیے نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس سمے بےحقیقت زندگی کے سامنے موت کی سچائی کھل کر سامنے آتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی کے ہر رنگ سے خوشبو کشید کرنے والا نہ صرف بےحس وحرکت اور جامد ہو جاتا ہے بلکہ اپنا ہر احساس مٹا جاتا ہے،اسی بات کو کسی نے کیا خوب کہا کہ "انسان ایسے جیتا ہے جیسے مرے گا ہی نہیں اور پھر یوں مر جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا"۔موت برحق ہے۔اس 'حق 'کوجانے والا جانے سے پہلے جتنا جلد تسلیم کر لےاُس کے لیے واپسی کے سفر میں آسانی ہو جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے مرنا موت ہے۔ لیکن مرنے سے پہلے مرنے کے لیے تیار رہنا ہی اصل زندگی ہے ۔جب تک ہم مرنے سے پہلے مریں گے نہیں تو اس زندگی کی چکاچوند آخری سانس تک حسرت بن کر ہماری آنکھ کے پردے پر جھلملاتی رہے گی۔ دُنیا کی زندگی کی محبت میں سرتاپا غرق رہنے والے آخری لمحات میں بھی اس خانہ خراب کی اُلفت سےدامن بچا کر گزر ہی نہیں سکتے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو نہ صرف دُنیا کی زندگی کی خوشیوں کو بھرپور طور پر محسوس کریں بلکہ اس کے مسئلوں اور غموں کو سمجھتے ہوئے ممکن حد تک سنوارنے کی کوشش کریں اور پھر سب کچھ منجانب اللہ کا ایمان رکھتے ہوئے "راضی بارضا" ہو جائیں۔ اسی طرح عمر کے بڑھتے سالوں میں موت کے سناٹوں کی چاپ سنائی دینے لگے تو اپنی زندگی کے اس سب سے اہم سفر ۔۔۔آخری لمس کے لیے نہ صرف زادراہ تیار رکھیں بلکہ اپنے آپ کو اسے برداشت کرنے کا حوصلہ دیتے رہیں ۔۔۔ پیغمبر سے لے کر اولیاءاللہ تک سب نے اس سفر پر اسی راستے سے گزرنا ہے۔سب سے اہم بات کہ انسان کو یہ پہچان ہو جانی چاہیے کہ دُنیا کے ہر رشتے ہر تعلق اور ہر مادی شے کی چاہ صرف اس کی سانس کی ڈور سے بندھی ہے۔ اُس کے بعد وہ فنا تو سب فنا۔ اس لیے اگر نفرتوں سے جان چُھٹنا دُنیا کے عذابوں سے نجات پا جانا نعمت ہے تو سب لذتوں سے محرومی بھی محض سراب جدائی ہی ہے۔انسانی زندگی تدبیر اور تقدیر کے مابین چپقلش کو سمجھتے گزرتی ہے۔انسان اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہوئے اکثر تدبیر کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ تقدیر کا غلام ہی رہتا ہے۔غور کیا جائے توموت ایک دن اچانک کبھی نہیں آجاتی یہ قطرہ قطرہ سلوپوائزن کی طرح ہرآن ہمارے رگ وپے میں سرایت کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی یہ تلخ دوا شکر میں لپیٹ کر دی جاتی ہےتوکبھی یکدم ہی اُس کا ذائقہ چکھنا پڑ جاتا ہے اورکبھی حوصلہ مُجتمع کرکے اپنےآپ کو تیار کر کے آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھتا ہے۔ موت زندگی کے ساتھ ہے۔ ہر آگے بڑھنے والا قدم اگر زندگی میں نیا پن لاتا ہے تو موت کے بھی قریب کر دیتا ہے۔ ہم زندگی کے بڑھتے قدم توفوراً تھام لیناچاہتے ہیں لیکن موت کے سائے ہمیں کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ سب ہماری نظر کے سامنے ہے پر ہمیں اس کا ادراک نہیں۔المیہ بھی یہی ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے،سوچنا چاہیے کہ جانے والے پر زندگی اپنےراستے کھول رہی ہوتی ہےیا سب دروازے ایک ایک کر کے بند کر رہی ہوتی ہے۔جانے والا یا تو اپنے کام سمیٹ رہا ہوتا ہے یا پھر اپنے آپ کوہر چیز میں بےانتہا مصروف کر رہا ہوتا ہے۔ وہ  پوری طرح مطمئن اور پُرباش ہوتا ہے یا ہر شخص ہر شے سے بےزار۔جانے والا یا تو اُمید کا دامن تھام کر لمبے فاصلے طے کرنے کا قصد کر رہا ہوتا ہے۔یا مایوسی کے اندھے کنوئیں میں میں اپنے آپ کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوتا ہے۔جانے والا یا تو زندگی کی ہر لذت سے آشنا ہو کر نئی منزلوں کا خواہشمند ہوتا ہے یا اُسے ہرچاہ ،ہرلمس،ہراحساس ادھورا چھوڑ جانے کا دُکھ ستاتا ہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ جانے والا پہلے ہی جا چکا ہوتا ہے ہمارے درمیان اُس کا ہمزاد ہوتا ہے ڈھول کی طرح ایک بھرپور وجود پر اندر سے خالی -ستم یہ ہے کہ ڈھول پر پڑنے والی تھاپ توسنائی دیتی ہے لیکن جانے والا اس شور کو سمندر کی طرح اپنے اندر جذب کر کے بظاہر پُرسکون نظر آتا ہے۔کوئی کچھ بھی کہے پر ہرانسان کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے خبردار کرتا رہتا ہے۔۔۔دل کی دھڑکن اگر جسم کی سلامتی کا اعلان کرتی ہے تو دماغ کی لہریں ایسی فریکوئنسی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو چمکداردن میں کالے بادلوں کی پیش گوئی کرتی ہے۔ کبھی ہم اسے اپنا واہمہ سمجھتے ہیں کبھی کسی خواب مسلسل کو منفی طرزِفکرکہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ بات جاننے کی یہ ہے کہ کب اُس کے لاشعور میں واپسی کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں؟ اور کتنا عرصہ پہلے اُسے اس بات کا احساس ہو جاتا ہے؟جسے شعوری طور پر وہ آخری لمحے سے پہلے کبھی نہیں جان پاتا۔موت  وہ عمل ہےجس سے ہر ذی روح نے گُزرنا ہے۔یہ حیات ِفانی سے حیاتِ ابدی کے سفر کی پہلی منزل ہے،پہلا دروازہ ہےاگر اس میں سے سر اُٹھا کر گُزر گئے تو یقیناً آگے آسانی ہی ہو گی۔موت کا فرشتہ  ہماری تلاش میں زندگی کے پہلے پل سے ہے۔ ہم سے بڑھ کراس کا محبوب اس کا کام اور کوئی نہیں۔ ہمیں پانے کی فکر اس کا مقصدِ حیات ہے۔ وہ صبح شام ہمارے گھر میں جھانکتا ہے کہ شاید کوئی منتظر ہو۔۔۔ شاید آج اس پل ملن لکھا ہو۔۔۔ وقت اس کے ہاتھ میں نہیں۔وہ اَن جان ہے کہ کام بتا دیا گیا ہے لگن ڈال دی گئی ہے لیکن وقت سے بےخبر وہ بھی ہے ہم بھی ہیں۔ہم خوف کے مارے دور بھاگتے ہیں اور وہ جھجھک کے مارے پرّے رہتا ہے۔ یہ کھیل چلتا رہتا ہےکہ وہ لمحہ آجاتا ہے جب سارے ڈر سارے خوف سامنے آجاتے ہیں اور وہ اپنا اصل چہرہ دکھا ہی دیتا ہے۔پھر امتحان صرف ہمارا ہی ہے کہ کیسے؟ اُس کا سامنا ہو جو برسوں سے تعاقب میں تھا۔کیا ہم اس قابل ہیں؟ کہ اعتماد سے اُس سے نگاہیں ملا سکیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں برتنے کی بات ہے اور وقت ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔۔کوئی ڈگری کوئی تجربہ کام نہیں آتا۔اللہ ہمیں ہر امتحان میں سُرخرو کرے اور ہمارے لیے ہر جگہ آسانی ہو کہ ہم بہت کمزور اورنادان ہیں۔جانے انجانے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔۔۔کیا کچھ کر جاتے ہیں۔۔۔ہم تقدیرکے چکرمیں بندھے ہیں لیکن ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ اپنی نیت خالص رکھیں اور اپنے رب کو ہمیشہ اپنے ساتھ اپنے سامنے محسوس کریں پھر تنگی میں بھی آسانی ہو گی اور آسانی میں بھی راحت ملے گی"( سورۂ الانشرح 94 )۔"یہ رُکنے کا مقام ہے۔۔۔غور کرنے کی بات ہے کہ آسانیاں بھی ہمیں خوشی نہیں دیتیں۔ہمیں دروازے کُھلے ملتے ہیں ہم بس گُزر جاتے ہیں بغیر کسی تشکّر کے۔۔۔ اپنا حق جان کر۔۔۔ نئے دروازوں، نئی آسانیوں کی راہ پر۔۔۔ خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر ہم ذرا رُک کر اپنی نعمت اپنی آسانی کو محسوس ہی کر لیں تو اس خوشی کی لذّت میں آگے کاسفر بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔ اور دروازے خود بخود کُھلتے رہیں گے۔دنیا سے جانے کے بعد کی جزاوسزا ہمارا اور رب کا معاملہ ہے۔۔۔ یہ "ون ٹوون ریلیشن شپ" ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو حالتِ سفر میں جانیں،اتنا بوجھ ہو جتنا اُٹھا سکیں،جس چیز کی ضرورت ہو وہی ہمراہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ ہم تیاری کرتے کرتے اتنا سامان اکٹھا کرلیں کہ پہلے ہی مرحلے میں سب واپس کر دیا جائے اور ہماری ساری زندگی کی محنت ومُشقت رائیگاں جائے۔"اللہ ہمیں اُس علم سے بچائے جو نفع نہ دے " آمین یا رب العالمین۔موت کوسمجھے ہے غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

"خاتونِ خانہ،کھانا اور اہلِ خانہ"

اس "دشت کی سیاحی" میں ایک طویل سفرِ لاحاصل گذار کر  بھی عورت گھر کے کارخانے میں ایک مشین سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔جسے اپنی رفتار اُس مشین کو چلانے والوں کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتی ہے۔لیکن چاہے کوئی مانے یا نہ مانے عورت گھر کے نظام کی سب سے طاقتور اکائی ہے، وہ غیرمحسوس طریقے سے افرادِ خانہ کی پسند ناپسند اپنی اہلیت اور سوچ کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سب سے پہلے بچوں سےشروع کیا جائے تو بحیثیت ماں بچوں کے رویے بنانا مکمل طور پر اس کے ذمے ہے۔گرچہ بچے کے مزاج اور خواہشات پر گھر کے ماحول اور خصوصاً باپ کے خصائل وعادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ماں بچے کی پہلی درس گاہ یا انسپریشن ضرور ہے۔معذرت کے ساتھ کہوں کہ اگر ماں چٹوری اور کھانے پینے کی شوقین ہوگی تو کیسے وہ اپنے بچے کی عادات میں سادگی کی امید رکھ سکتی ہے۔عمر کے پہلے سال سے ہی گھر کی بنی چیزوں اور سب کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر عام کھانا کھانے والے بچوں میں یہ فرق نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بچوں کو شروع سے ناشتے میں سادی روٹی گھی سی چپڑی ہوئی یاپراٹھوں کی عادت باآسانی ڈالی جا سکتی ہے،بچپن کی یہ عادت ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچی ہوئی یا سوکھی روٹی پانی لگا کر تلنا اور کسی بھی سبزی میں آٹا گوندھ کر اس کے پراٹھے بنا کر بچوں کو کھلائے جا سکتے ہیں۔چھوٹے بچے مکمل طور پر ماں باپ کی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے جائیں ان کے رویے تو بدلتے ہیں لیکن بنیادی عادات اپنی جڑیں گہری کر لیتی ہیں۔بڑھتے بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ قدرے بدل جاتا ہے کہ بچوں کے پاس صرف ایک ماں ہی تو ہوتی ہے جس سے وہ جھگڑتے اور نخرہ کرتے ہیں اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف یہی وقت ہی اُن کے سکون کا ہوتا ہے۔ آنے والی زندگی میں معاشی اور معاشرتی مسائل انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے۔ اب یہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے حوالے سے ماں کے رویے میں فرق بظاہر بہت نامناسب بلکہ سخت قابلِ اعتراض دِکھتا ہے خاص طور پر جب بیٹی بھی کہے کہ آپ کے شہزادے ہیں کہ نہ تو چھٹی والے روز جلدی اٹھنے کا کہتی ہیں اور نہ ہی کسی خاص کھانے پر اصرار کرتی ہیں۔ ماں بغیر بحث کیےسنی ان سنی کر جاتی ہے۔ اب کیا کہے کہ بیٹیوں نے گھر سنبھالنا ہوتا ہے اُن کی عادات سنوارنے کے لیے ان پر جبر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیٹوں کو کسی اور انداز سےاپنے ڈھب پر لایا جاتاہے۔مردوں کا ایک خاص جملہ جو عورتیں بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ وہ تو پانی بھی اٹھ کر نہیں پیتے،کھانا پکانا یا کچن میں جانا تو دور کی بات ہے۔ دیکھنے میں تو یہ مرد کی خوبی ہے لیکن دراصل مرد کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی بھوک پیاس مٹانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اور وہ بھی کسی عورت کا۔ مانا کہ مرد کے ذمے کمانا اور گھر کے کام کرنا عورت کے فرائض ہیں۔ لیکن رشتوں کی قیمت پر گھر کی عورت خانساماں اور ماسی نہیں۔اور کیا ہم اپنی زندگی میں کسی کی بیٹی کو اس لیے بھی شامل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مؤدب غلام کی طرح کھانے کی ٹرے سجا کر پیش کرے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے اپنے باپ کا ایسا طرزِ عمل دیکھتے ہیں تو وہ پہلے پہل اپنی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہیں، اپنی زندگی میں توبعد کی بات ہے۔بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھانا بنانا ضرور آنا چاہیے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنے لیے تو کچھ بنا سکیں۔۔ ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کے حوالے سے بات کو سمیٹوں تو بڑے بلکہ بہت بڑے ہو کر یہی بچے اپنی ماؤں کو زیادہ تر کھانے کےحوالے سے ہی تو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔وہی کھانا جسے بچپن میں بنا کسی خاص لگاؤ یا ترغیب کے بس کھا لیا جاتا تھا۔
دوسری طرف ایک وہ کلاس ہے جہاں خاندان کےساتھ چھٹی کے روز یا شام کی سب سے بڑی تفریح نت نئے ریستوران میں کھانا کھانے جانا ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مست پھرتے ماں باپ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات میں کس زہر کی آمیزش کر رہے ہیں۔ باہر کے چٹخارہ دار کھانوں کی مشکوک غذائی نوعیت اور ان کے اصراف سے ہٹ کر ایک اہم خرابی تو یہ ہے کہ بچوں میں  والدین کے محنت سے کمائے گئے روپے پیسے کا درد ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرےمعاشرے میں عام لوگوں کی تکالیف اور ان کی بھوک پیاس سے بےحسی طاری ہوجاتی ہے۔گھر سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ سیروتفریح کرنا اور کبھی کبھار باہر کے کھانے کھانا بری بات نہیں لیکن اسے عام سمجھ کر معمول بنا لینا نہایت غلط رویہ ہے۔ایسے  رویے آگے چل کرایسی پُختہ عادتوں میں بدل جاتے ہیں جو  نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
اب بات کروں گھر کے کرتادھرتا، گھرکے مرد کی ۔۔۔جس کی عمر کے اس دور تک آتے آتے عادات پکی اور ذہنیت پختہ ہو چکی ہوتی ہے اسے اپنے سانچے میں ڈھالنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔رہی بات سادہ کھانے پکانے اور بنانے کی تو اس کے لیےغیرمحسوس طریقے سے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ وہ عورت ہی کیا جو ایک مرد کو نہ بدل سکے، مرد بھی وہ جو صرف چند گھنٹوں کے لیے گھر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔مرد کی پہلی ترجیح گھر کا سکون ہے تو دوسری گھر میں پکا ہوا کھانا۔ اور یہ دونوں عورت کے اختیار میں ہیں بس اس کے لیے صرف اپنی انا،اپنی خواہشات اور اپنی زندگی میں اپنے وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔عورت تو وہ ہستی ہے جسے صرف چاہ کی نظر بھی نہیں بلکہ اس کا احساس ہی کافی ہوتا ہے جس کے عوض وہ اپنی ساری زندگی بڑی خاموشی سے دان کر دیتی ہے۔اور اسی عورت کو جب ناقدری کا گہن لگ جائے یا ناسمجھی کی دیمک اس کے وجود میں گھر کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھلا دیتی ہے،بقول شاعر "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"۔
ایک گھر ایک خاندان کا آغاز کرتے ہوئے جب اپنا آپ کسی کے حوالے کر دیا تو اپنی عادتیں بھی کسی کے ساتھ شئیر کرنا پڑتی ہیں اور اسی طرح دوسرے کی عادات اپنانا ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے والی بات ہے۔ اب یہی اصل امتحان ہے کہ مرد وعورت کس طرح دوسرے کی بری عادتیں برداشت کرتے ہوئے اپنی اچھی عادتیں اس میں منتقل کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز وقت مانگتی ہے اور عمر کا خراج چاہتی ہے۔اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے یہ جلدبازی اس کی فطرت اور جبلت کا خاصہ ہے۔ زندگی کے سبق اکثر ہمیں زندگی گزار کر ہی سمجھ آتے ہیں اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

"ابنِ انشاء کی بزمِ انشاء "

"احوالِ محفل"  اس سال 2016 میں ستمبر سے اکتوبر کے دوران  فیس  بک  کے ادبی گروپ" بزم یارانِ اُردو ادب "میں جناب ابنِ انشاء کو بطور مزاح نگار  خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے"بزم انشاء"سجائی گئی۔وہ ابنِ انشاء جن کا نام ذہن میں آتے ہی شہرِدل میں"چاند نگر" کی چاندنی اُترتی ہے تو احساس"دلِ وحشی" کی طرح کچی اور پکی عمر کا تفاوت بھول کر"اس بستی کے اِک کوچےمیں"رقص کرنے کو مچلتا ہے۔وہ جو کہتے ہیں نا کہ پہلی نظر اور پہلا احساس رگِ جاں میں یوں رچ بس جاتا ہے کہ بعد میں ہزار کوشش کر لیں وہ کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ سو ابنِ انشاء کے لفظ کی خوشبو سے ربط ان برسوں کی کہانی ہے جسے کچی عمر کہا جاتا ہے لیکن!یہ سچ ہے کہ کچی عمر کی بارشیں روح وجسم پر لگنے والے پکے رنگ تاعمر نہیں مٹا پاتیں چاہےوہ محبتوں کی حدت کے ہوں یا نفرتوں کی شدت کے۔
ابنِ انشاء کی شاعری جہاں قاری کوخواب،اداسی اورنغمگی کے چاندنگر میں لے جاتی ہے وہیں اُن کی مزاح نگاری،سفرنامہ نگاری،بچوں کے لیے لکھی نظمیں،کالم اور تراجم ہمیں عجب جہانِ حیرت کی سیرکراتے ہیں۔محض اکیاون سال (1927.1978)کی عمرِفانی میں وہ پڑھنے والوں کے لیے زندہ ادب تخلیق کر گئے۔ابنِ انشاء کی ہمہ گیر شخصیت کی طرح اُن کی تحاریر کی بھی کئی جہت ہیں۔ شاعری کے نقشِ اول سے شروع ہونے والا سفر سفرناموں،مزاحِ،ذاتی خطوط اور پھر اخباری کالمز کی سمت جا نکلتا ہے۔جناب ابنِ  انشاء نے اپنے دردِدل کو اگر "چاندنگر"،"اس بستی کے اِک کوچے میں" اور  "دلَ ِوحشی" کا جامہ پہنایا  تو آنکھ میں اترنے والی نمی کو خوبی سے کیموفلاج کرتے ہوئے  "آپ سے کیا پردہ"(اخباری کالم )،"خمارِگندم" (مضامین) اور"اُردو کی آخری کتاب"(طنزیہ مضامین)  میں معاشرے کی کمیوں  کجیوں کو شستہ طنز ومزاح  کے قالب میں پیش کیا۔ابنِ انشاء کا مزاح ہر دورمیں اسی دور کی کہانی کہتا محسوس ہوتا ہے،اُن کے مزاح اور اس سے بڑھ کر لطیف طنز کی ایک اور خاص بات اُس کی گہرائی اور کم سے کم الفاظ میں کاری وار کرنا ہے۔شاعری اور مزاح نگاری  کے ساتھ ساتھ آپ کے تحریر کردہ  منفردسفرنامے "چلتے ہو تو چین کو چلیے،دُنیا گول ہے،نگری نگری پھرا مسافر، آوارہ گرد کی ڈائری اورابنِ بطوطہ کے تعاقب میں" پڑھنے والوں کو نئی دنیاؤں کی سیر کراتے ہیں تو  دوستوں اور احباب کو لکھے گئےخطوط "خط انشاء جی کے" خوبصورت نثرنگاری اورنامور ادیبوں کے ساتھ خاص ربط کی کہانی کہتے ہیں۔
محترمہ بانوقدسیہ "راہِ رواں"  میں لکھتی ہیں " وہ مثبت شیشوں کی عینک" لگائے رکھتے تھے"۔۔۔۔ یہ بات سوفیصد درست ہے تو اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ابنِ انشاء کے  قریب رہنے والےعینک کے بغیر  دیکھتے تو ایک اُداس، دل گرفتہ  اورناکام شخص دکھائی دیتے جس کی خانگی زندگی گرپےدےپےناکامیوں سے عبارت تھی تو ادبی زندگی میں خوب سے خوب تر کی جستجونے چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ اور"عشقِ انشا" کے تو کیا کہنے،ناکامیءعشق تو ان کے  کلام میں سوز وگداز  کی بنیاد ٹھہری۔ زندگی کے بچاس برسوں میں ایک بھرپور ادبی زندگی جینے والے اپنے عزیز دوست سے کہا کرتے کہ مجھے کسی نے نہیں پہچانا اور میرے بعد بھی  کون مجھے جانے گا۔۔۔"بزم ِانشاء میں طرزِانشاء"۔۔۔
اپنے محبوب شاعر اور منفرد مزاح نگار کی یاد نگاری کرتے ہوئے بزم کے ساتھیوں کو"طرزِانشاء"میں طنزیہ یا مزاحیہ لکھنے کی دعوت دی گئی۔لکھنے والوں نےمعاشرے پر طنز کرتے ہوئے دل کھول کر لکھا اور سراہنے والوں نے بھی کُھل کر داد دی ۔بزم انشاء طرز انشاء سے ہوتے ہوئے بزمِ مزاح نگاری" تک جا پہنچی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے رنگ سچے تھے کہ یہ ان احباب کی نوکِ قلم بلکہ کی پیڈ پر تھرکتی انگلیوں کی جُنبش سے وجود میں آئے تھے جو نہ تو مستند لکھاری ہونے کے دعوےدار تھے اور نہ ہی کسی غرض کے تحت اپنا احساس لکھتے تھے۔ وہ ایک پلیٹ فارم پر لکھاری ہونے کی عزت محسوس کرتے ہوئے معاشرتی رویوں کے گرداب اور سیاست کے حمام کی غلاظتوں کے بارے میں بلاجھجکے لکھتے چلے گئے۔ بس ایک ذرا سی کسک یہ رہی کہ جب ابنِ انشاء کی  مزاحیہ تحاریر یا طرزِتحریر کا حوالہ تھا تو جو بات انشاء جی نے سو سے بھی کم الفاظ میں کہی اسے کہنے میں یارانِ ادب نے "ہزار"الفاظ خرچ کر ڈالے۔بزم انشاء کے حوالے سے جہاں نہ صرف ابنِ انشاء کی تحاریر بلکہ ابنِ انشاء کے بارے میں  کئی خوبصورت  تحاریر پڑھنے کو ملیں وہیں  بہت سے لکھنے والوں کے لفظ سے شناسائی ہوئی اور  اردو زبان وادب کی محبت نے اپنا رنگ خوب جمایا۔
بزمِ انشاء میں ہم ایسے کچھ بےنام مبصر بھی تھے جو نامِ انشاء کی کشش میں کشاں کشاں چلے آئے تو پہلے مرحلے میں اپنا تعارف اپنے انداز اور اپنے الفاظ میں سپردِقلم  کرنے کی گزارش کی گئی۔۔۔بزمِ انشاء میں تعارف۔۔۔
"گرملنا چاہیں تو مجھ سے ملیے"
یہ دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے اپنے تعارف کا مرحلہ درپیش ہے۔تین برس پہلےکی بات ہے کہ اردو بلاگر ہونے کے ناطے ایک سوال نامہ "نورین تبسم سے شناسائی" ارسال کیا گیا جس کے جواب  پڑھنے والوں سے میرا پہلا تعارف ٹھہرے۔"میں اور میں"اس شہرِ خرد میں کہاں ملتے ہیں دِوانےپیدا تو کرو اس سے ملاقات عزیزو
نام:نورین تبسم
سکونت:اسلام آباد
مقام: ماں
اہلیت:اہلیہ
مصروفیات:وہ تمام مصروفیات جو عام عورت کی ساری توانائی نچوڑ لیتی ہیں پھر بھی اسے کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا میں کچھ نہیں کیا۔
میں ایک بہت عام عورت ہوں ویسی ہی جیسے ہم اپنے آس پاس چلتے پھرتے دیکھتے ہیں۔میرا نہ کوئی ادبی پس منظر، کوئی ادبی حوالہ اور نہ ہی ادب کے حوالے سے "ڈگری" ہے،میں مستند لکھاری بھی نہیں۔ بس اپنی سوچ کو لفظ کا لباس پہنانے کی سعی کرتی ہوں۔جب سےانٹرنیٹ پر بلاگ کی جدید "سلائی مشین تک رسائی ہوئی تو تراش خراش پر ذرا سی توجہ ہے ورنہ بچوں کی استعمال شدہ کاپیوں کے دستیاب خالی صفحوں سے لے کر ان کے امتحانی پرچوں کے پچھلے سادہ اوراق سے "آمد" کی بےخودی میں لفظ کے" گڑیا پٹولے" کاٹنے اور "چُھپانے" کا سفر شروع ہوا۔ سامنے صرف اور صرف میری اپنی ذات تھی اور اب بھی ہے،کیوں نہ ہو۔۔۔پہلے ہم اپنے تن ڈھانپنے کا سامان تو کر لیں پھر کسی اور جانب نگاہ کریں۔
ہاں!!!عام کہنا لکھنا کسرِنفسی ہرگز نہیں کسی کاعام یا خاص دِکھنا صرف ہماری نگاہ کا ہیرپھیر ہے۔کبھی ہمارے ساتھ،ہمارے پاس اور ہمارے سامنے رہنے والے بھی ہمیں جان نہیں پاتے،سرسری گذر جاتے ہیں تو کبھی کہیں کوئی پل دو پل کو ملتے ہیں اور ان کہی بھی سن لیتے ہیں۔اظہارِ ممنونیت۔۔۔بزمِ انشاء کے میزبان جناب خرم بقا  نے  اس بزم میں "مہمانِ اعزازی" کی جگہ دی اور مجھ سے  میرا  ہلکا پھلکا تعارف بھی  لکھنے کو کہا  گیا اور میں جانے کیا کیا لکھتی چلی گی۔اورجو خرم بقا لکھتے ہیں!!!بس کیا بتائیں کیا نہ بتائیں کہ پڑھتے ہوئے کانوں سے دھواں نکلنے لگتا ہے اور انسان گھبرا کر آس پاس دیکھنے لگتا ہے کہ کسی کو دکھائی تو نہیں دے رہا۔ان سے شکوہ کرو تو کہتے ہیں "بہت ملفوف لکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔مزاح میں ایسا کرنا پڑتا ہے"۔ پھر پوچھتے ہیں یوسفی (مشتاق احمدیوسفی) کو آپ نے مکمل پڑھا ہے؟ اگر پڑھتیں تو مجھ سے یہ شکایت نہ کرتیں۔ شفیق الرحمٰن کی بات کرو تو کہتے ہیں،شفیق الرحمان کا مزاح یوسفی کے مقابلے  میں "نرسری رائم" ہے۔"اب کیا کیا جائے کچھ لوگ پکی عمر میں بھی کچے ہی رہتے ہیں اور یا پھر کندذہن کہ نرسری رائم پر ہی ان کی سوئی اٹک جاتی ہے" ابنِ انشاء کی نظم سے اختتام کرتی ہوں"کچھ رنگ ہیں "( دلِ وحشی ۔۔۔ابنِ انشاء)
کچھ لوگ کہ اودے ،نیلے پیلے ، کالے ہیںدھرتی پہ دھنک کے رنگ بکھیرنے والے ہیںکچھ رنگ چرا کے لائیں گے یہ بادل سےکچھ چوڑیوں سے کچھ مہندی سے کچھ کاجل سےکچھ رنگ بسنت کے رنگ ہیں رنگ پتنگوں کے
کچھ رنگ ہیں جو سردار ہیں سارے رنگوں میں
کچھ یورپ سے کچھ پچھم سے کچھ دکھن سے
کچھ اتر کے اس اونچے کوہ کے دامن سے
اک گہرا رنگ ہے اکھڑ مست جوانی کا
اک ہلکا رنگ ہے بچپن کی نادانی کا
کچھ رنگ ہیں جیسے پھول کھلے ہوں پھاگن کے
کچھ رنگ ہیں جیسے جھپنٹے بھادوں ساوں کے
اک رنگ ہے برکھا رت میں کھلتے سیئسو کا
اک رنگ ہے بر ہات میں ٹپکے آنسو کا
یہ رنگ ملاپ کے رنگ یہ رنگ جدائی کے
کچھ رنگ ہیں ان میں وحشت کے تنہائی کے
ان خون جگر کا رنگ ہے گلگوں پیارا بھی
اک وہی رنگ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی ابنِ انشاء کی تمام کتابیں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریںhttp://www.sajjanlahore.org/corners/Ibne%20Insha/index.php
ابنِ انشاء کی شاعری کے حوالے سے میرے احساس کے رنگوں کی جھلکیاں
  بلاگز "پھروہی دشت"اور"کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں" میں ملتی ہیں۔

"سندھی شاعر شیخ ایاز کے کچھ اقوال"

شیخ ایاز کہتے ہیں ۔ ۔ ۔  ٭1) شاعر فرشتہ نہیں ہے لیکن فرشتہ بھی تو شاعر نہیں ۔
٭2) اگر عورت اور شراب میں سے مجھے کسی ایک کو چننا پڑے تو میں شراب کو چنوں گا اور اگر شراب اور کتاب میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو میں کتاب چنوں گا۔
 ٭3)اگر چکور چاند تک پہنچ گیا تو چاند چاند نہیں رہےگا اور چکور چکور نہیں رہے گا۔
 ٭4)پانی میں چاند کا عکس دیکھ کر مچھلی نے سوچا کہ میں چکور سے زیادہ خوش نصیب ہوں۔
٭5) کون زیادہ حسین ہے؟ شہکار یا اس کا فنکار؟
 ٭6)جس کی روح میں راگ نہیں اس کے راگ میں روح نہیں۔
 ٭7)فنکار کی شکست فن کی فتح ہے
٭8) شاعر نے فلسفی سے کہا، اگر تم فلسفی نہ ہوتے تو خدا کو مانتے۔ فلسفی نے شاعر کو کہا، اگر تم شاعر نہ ہوتے تو خدا کو نہیں مانتے۔
٭9)میں ماضی کے ماضی اور مستقبل کے مستقبل کا شاعر ہوں۔
٭10)شاعر کا مذہب فقط شاعری ہے۔
٭11)اے کاش! میں گمنامی میں جیوں اور گمنامی میں مروں۔ بدنامی اور اس سے بھی زیادہ نیک نامی شاعر کی تخلیقی انفرادیت کے لیے مہلک ہے۔
٭12)ہر شاعرِمحبت شاعرِانقلاب ہے۔ ہر شاعرِانقلاب شاعرِمحبت نہیں ہے۔
٭13)اگر میں تمہیں کہوں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے اور نہیں بھی دیکھا تو تم مجھے پاگل سمجھو گے۔ لیکن میں بھی تمہیں عقلمند نہیں سمجھوں گا۔٭14) گلاب کے پھول پر اگر زیادہ بھنورے آجائیں گے تو گلاب کی خوشبو کم نہیں ہوگی۔٭15) غالب کا گناہ اس کی شراب نوشی نہیں بلکہ قصیدہ نویسی تھا۔
٭16)چکور کی نظر سے دیکھو تو تمہیں چاند میں داغ نہیں نظر آئیں گے۔(ترجمہ: مسرور پیرزادہ)اس پوسٹ کو شئیر کرتے ہوئے عثمان غازی  کا کہنا تھا ۔۔۔"نوٹ: اتفاق یا اختلاف ضروری نہیں ہے، خیال اور کیفیت شاید سوچ کے مختلف زاویوں کی طرح ہوتے ہیں، یہ بھی سوچ کا ایک خوب صورت زاویہ ہے"۔جس کا جواب میں نے کچھ یوں دیا۔۔۔۔"کسی خوبصورت سوچ کا زاویہ اگر ہماری سوچ سے مل جائے پھر احساس کی جگمگاتی کہکشاں تک رسائی خواب نہیں ہوتی، اسپوسٹ کا ہر جملہ مکمل زندگی کہانی ہے اور ہر خیال کا لفظ لفظ دل میں اترتا محسوس ہو رہا ہے۔عورت,کتاب اور شراب کے حوالے سے جملے  پر یہ کہوں گی کہ عورت وہ نشہ ہے جو بنا پیے بنا چھوئے ہی مخمور کر سکتا ہے اور کتاب کا نشہ جس کو ایک بار مل جائے وہ پھر کبھی اس کے اثر سے باہر نہیں آ پاتا" ۔۔۔۔۔۔شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز  کا مختصر تعارفشیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء - وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء کو شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو" کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔ 23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمدفیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔ ۔(بشکریہ وکی پیڈیا)۔

Pages