نورین تبسم (کائنات ِتخیل)

ترکہ

 دُنیا بدبودار کیچڑ کی ایک دلدل ہے۔۔۔جس کے چھینٹے پاس سے گزرنے والےکو بھی آلودہ کر سکتے ہیں۔۔۔اس کا تعفن دورسے ہی قدم روک لیتا ہے۔اگر یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اسی دُنیا میں رہنا ہے۔۔۔ ایک مقررہ وقت تک ۔۔۔ اس کی تمام ترغلاظت اورہولناکی جانتے ہوئےبھی۔ اصل بات۔۔۔ اس سے بچ کر دور بھاگنا یا اس میں قدم رکھ کر اپنے آپ کو آلودہ ہونے سے بچانا نہیں بلکہ اس کو پرکھ کر اس میں ڈوبنے سے خود کو بچانا ہے۔ توبہ کا 'آب ِزم زم' ہروقت پاس ہے لیکن آب ِزم زم کی وافر دستیابی کو جواز بنا کر دُنیا کے اندر ہی اندر جانے کی خواہش سراسر حماقت ہے۔ یہ دُنیا جو دور سے کتنا ہی خوفناک منظر کیوں نہ پیش کر رہی ہو۔اس میں قدم رکھ کر آنکھ یوں بند ہوتی ہے کہ ہرطرف رنگوں اور خوشبوؤں کی برسات ایک لمحے میں سب اسباق بھلا دیتی ہے۔ دُنیا انسان کو خطرناک حد تک نابینا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر نابینا انسان کے دوسرے حواس بھی ساتھ چھوڑ دیں تو پھرڈوبنا مقدر ہے۔ دُنیا میں ڈوبنے والا نجات پھربھی نہیں پا سکتا کہ اس کا کھارا پانی جینے دیتا ہے اور نہ مرنےسے نجات کی صورت دکھائی دیتی ہے۔انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے۔۔۔ روپیہ پیسہ جمع کرتا ہے۔۔۔جائیداد بناتا ہے۔۔۔ برے وقت کے لیے پس اندازکرتا ہے۔۔۔ نہ صرف اپنے سکون کے لیے بلکہ اپنے اہل وعیال کے آرام وآسائش کے لیے جان توڑ کوشش کرتا ہے۔ زندگی اور معاملاتِ زندگی ایسا کنواں ہیں کہ جتنا پانی نکالتے جاؤ پیاس بڑھتی جاتی ہے۔۔۔ نہ طلب کم ہوتی ہے اور نہ ہی رسد میں کمی آتی ہے۔۔۔یوں حاصل جمع ہمیشہ صفر آتا ہے۔۔۔ بظاہرکتنا ہی مال ومتاع دکھائی کیوں نہ دے رہا ہو سب خرچ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت مقرر کے بعد جب واپسی کا نقارہ سنائی دیتا ہے۔۔۔ صرف وہی ساتھ جاتا ہے جو دل کی "خفیہ" تجوری میں محفوظ کررکھا تھا۔۔۔ اور جس کے بارے میں کوشش تھی کہ دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ ایسا بھی ہوتا ہے بلکہ ہمیشہ ایسا ہی  ہوتا ہے کہ وہ دولت یا وراثت جو کسی کے لیے جمع کی تھی آخری وقت میں کسی اور کے کام آتی ہے۔احساس کا جوار بھاٹا سفر زیست کے ساتھ رنگ بدلتاجاتا ہے۔زندگی کے لیے جسم سے زیادہ ذہن کی زندہ رہنے کی خواہش اہم ہے۔ دنیا کی چاہت ختم ہو رہی ہو لیکن ذہن کی تازگی برقرار رہے تو ذہن زندگی کا ساتھ چھوڑنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتا ۔ اُس لمحے جسم کو ایک نادان بچے کی طرح اُس کی بات ماننا پڑتی ہے اس کا ساتھ دینا پڑتا ہے،اس سمے خواہشوں کے دیے ٹمٹمانے بھی لگیں لیکن امیدوں کے چراغ ضرور روشن رہنا چاہیں۔ جیسےکبھی نہ کبھی مہیب کالے بادلوں سے ڈھکے آسمان پر کہیں نہ کہیں روشنی کی ایک کرن جھلک دکھلا دے یا ایک خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ لمحہ بھر کوبجلی سی کوند جائے،بس وہ ایک لمحہ اور اُس کے بعد اتنی جل تھل ہو کہ پیاسی مٹی سیراب ہو کر دوسروں کے لیے آبِ حیات بن جائے۔بےشک انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی اس نے کوشش کی ۔ لیکن ایک کوشش عمل سے پہلے نیت کی بھی ہے۔نیت کتنا کھری ہے؟ اور اس میں لالچ، خودغرضی اور انا کی کھوٹ کتنی ہے؟ وقتی چمک دمک کی ہوس ہے یا ابدی روشنی کی تمنا؟۔لمحۂ فکر یہ ہے کہ کرنے کا وقت ہماری اسی مادی زندگی تک ہی محدود ہے۔ہمیں اپنی اسی زندگی میں اپنے آپ کو بھی مطمئن کرنا ہے اوراپنے دینی ودنیاوی حقوق بھی احسن طریقے سے ادا کرنا ہیں۔اپنے اندر کی اواز پر دھیان دینا سب سے اہم ہے اور یہی سب سے مشکل ہے۔ہم سب اپنےآپ کو جاننے کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن اکثراوقات ہماری طلب کی بازگشت ہماری ذات کے اندھے کنوئیں میں ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔ہم کبھی توسب فانی کہتے ہوئے مایوسی کو ضبط وبرداشت کے پردے میں چھپا جاتے ہیں تو کبھی برداشت کی آخری حد سے گذر کر سب سودوزیاں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں  اپنے ساتھ وقت گزارنے کا وقت کبھی نہیں ملتا۔ہماری زندگی پر ہماری ذات کا اتنا ہی حق باقی رہتا ہے جتنا کہ ہمارا نام۔اہم یہ ہے کہ اپنے قریب آنے میں بھی حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے، اپنے خول میں سمٹنے والوں کو کبھی تو خود پسندی کی آگ جھلسا دیتی ہے تو کبھی خودترسی اور ناقدری کا گہن دیمک کی طرح اندر ہی اندر سرایت کر کے  احساس کھوکھلا کر دیتا ہے۔ہم ساری زندگی اپنا وقت اپنے لیے چوری کر کے حاصل کرتے ہیں اور اس بچی کچی خیرات میں سے آگہی کی کرنیں تلاش کر لینا ہی زندگی کمائی ہے۔
زندگی میں کامیابی کا فقظ ایک ہی راز ہے۔۔۔ اپنی اہلیت کو پہچاننا۔۔۔جانچنا اور پھر اس کے مطابق سمجھوتہ کرنا۔ وقت کی پکار پردھیان رکھنا۔ وقت وہ قیمتی اثاثہ ہے جس کی موجودگی کا ہمیں قطعاً احساس نہیں ہوتا۔وہ خاموشی سےایک تابعدارخدمتگارکی طرح ہمارے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے۔ یہ آخری سانس تک ہمارا ہوتا ہےاوراس کے بعد بھی۔۔ وقت کبھی ہاتھ سے نہیں نکلتا لیکن ہم خود ہی اس کی قید سے نکل جاتے ہیں۔

" ووٹ کس کو دیں "

پانچ سال ایک شاندارجمہوریت کے مزے لُوٹنے کے بعد بالاآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارے سر پر سہرا سجنے والا ہے وہ کمی کمین جونام نہاد جمہوریت کے دور میں فُٹبال کی طرح ادھر اُدھر لُڑھکتا رہا اب محفل کا دُلہا بننے جا رہا ہے۔۔۔ خواہ ایک روز کا کیوں نہ ہو۔ سب بڑے اس کوشش میں ہیں  کہ   لفاظی کی لیپا پوتی کر کے کسی  طرح اُس  کوسنواردیں،کوئی ایسا جادوئی سنگھارمل جائے جو وقتی طوراُس کے جسم پر لگے انمنٹ داغ چُھپا ڈالے اور وہ کچھ پل کے لیے سب بُھلا کراُن کی من پسند دُلہن بیاہ لے جائے۔ اب یہ تو بعد کی بات ہے کہ اس کمی کمین کو دُلہن کا دیدار نصیب ہوتا ہے یا ہمیشہ کی طرح اُسے منہ دکھائی میں آئینہ ملتا ہے اور راہزن خوابوں کی شہزادی لے کر چمپت ہوتے ہیں۔ وقت بہت کم ہے اور جو ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے اُس سے فرار ممکن نہیں۔اب فیصلہ ہمارا ہے کہ کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کرآنکھیں موند لیں یا اپنے آپ کو   مومن جان کر بےتیغ میدان میں کود پڑیں کہ مرنا مقدر ہے تو کیوں نا کسی کو مار کر مرا جائے،شہادت تو مل ہی جائے گی۔دونوں باتیں غورطلب ہیں کہ ہم نہ  توکبوتر ہیں اورنہ مومن۔ ایک عام انسان،عام عوام ہیں، معمولی پڑھے لکھے یا پھر اُن اسباق کے پڑھے ہوئے جو زندگی نے روح وجسم پر ثبت کیے،بڑے لوگوں کی نظر میں جاہل کہ ہمارے پاس تعلیم نہیں جو شعور عطا کرے ،دُنیا کی عظیم قوموں کے سامنے تہذیب واخلاق کی اعلیٰ قدروں سے ماورا بےترتیب لوگوں کا ہجوم۔ان باتوں کو دل پر لے لیا تو واقعی ہم خس وخاشاک ہیں۔لیکن ہم زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں،سوچتے ہیں یہی ہماری بقا کا راز ہے۔ بات صرف اپنے آپ کو پہچاننے کی ہے سب سے پہلے عقیدت کی عینک اُتار کر کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لیا جائے ،تاریخ پر نظر دوڑائی جائے کیونکہ حال میں رہنمائی ماضی سے ہی مل سکتی ہے اور ماضی یہ بتاتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے دو طبقات چلے آرہے ہیں حاکم اور محکوم۔حاکم اپنی بات منواتا آیا ہے اور محکوم کبھی اتنی جرات نہیں کر سکا کہ انکار کرے،حاکم نے ہمیشہ دھوکا ہی دیا ہے۔ اس لیے اگر آئندہ بھی ایسا ہی ہونا ہے تو کم از کم ایک فیصلہ ہم کر سکتے ہیں کہ اگر جال پرانا ہے تو نئے شکاری کو آزمایا جائے شاید اُس کے پاس مارنے کے نئے سامان ہوں یا اُمید کی موہوم سی کرن کہ وہ شکاری نہ ہو۔تاریخ میں ہمارے قائد 'قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ذات تقویت دیتی ہےکہ قائد وہ ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے۔ بحیثیت پاکستانی ہم  ایک جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ سب سے پہلے شناخت خطرے میں ہے کہ قوم ہیں یا ہجوم ،نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی طور پربھی دیوالیہ پن کی طرف گامزن۔ جس مسیحا کی طرف رجوع کیا اُس کی دوا نے بہتری کی بجائے ابتری کا سامان ہی پیدا کیا۔اب پھر دوا کی ایک خوراک ملنے والی ہے۔۔۔شاید فیصلہ ہمارا ہے یا پھرایک خوش فہمی ہمیشہ کی طرح۔ جو بھی ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ اپنے آپ کو پُراُمید رکھتے ہوئے نئے عزم سے پھر وہی خوش رنگ دوا استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مضبوط اور کمپنی مستند ہے۔۔۔ شاید اس بار وہ کوئی جادو دکھا دے یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں۔۔۔ کہ جب فنا ہی مقدر ہے تو کیا علاج کیا بھروسہ۔ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اپنی قوت ِارادی کے بل بوتے پر اپنی دوا خود تجویز کریں کہ اب تو ہم بھی اپنا علاج کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ دوا کی تبدیلی ہی بہترین حل ہے۔بظاہر ان میں سے ہر فیصلہ درست اور منطقی ہے۔
لیکن ہم ایک بات بھول رہے ہیں کہ شفا اللہ کے پاس ہے۔ ہم تو شفا کےمعنی سے ہی واقف نہیں تو علاج کیا کریں گے۔ اور جب اللہ نے واضح کہہ دیا کہ جان بچانا افضل ہےچاہے جو بھی طریق ہو تو اللہ کے حُکم کے مطابق وہ دوا کیوں نہ استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مستند نہیں جس کے خواص سے بھی ہم ناواقف ہیں اور جو اس سے پہلے استعمال بھی نہیں کی ۔یہ نہ سوچیں کہ یہ ہمارے دُکھوں کا مداوا ہے۔ بس یہ ذہن میں رہے کہ ہم نہیں جانتے شفا کیا ہے۔ شفا صرف ایک بیماری کے ختم  ہو جانے  میں ہے یا تمام بیماریوں سے نجات پا کر ہمیشہ کے سکون میں  ہے۔تو نئی دوا بھی یہ سوچ کر استعمال کریں کہ سابقہ دواؤں کے برعکس شاید آرام دے سکے۔ باقی رب کی رضا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے؟ اوراس دوا کا کیا ردِعمل ہو؟۔راز کی بات یہ ہے کہ ابھی حالات اُس نہج پر نہیں پہنچے کہ مردار کھانے کی نوبت آ جائے اس لیے بہتری کی اُمید رکھتے ہوئے یہ آخری بازی دل سے کھیلیں کہ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔نئی دوا جُگنو کی چمک کی مانند ہوتی ہے جو منزل کا پتہ تو نہیں دیتی پر ایک پل کو راستہ ضرور روشن کر دیتی ہے۔
" ووٹ کس کو دیں "
ووٹ یہ سوچ کر کبھی نہ دینا کہ شاید اس بارتبدیلی کی یہ لہر تمہیں بہا کر تخت تک لے جائے گی۔۔۔اونچے محلوں کے دروازے تمہارے لیے کُھل جائیں گے۔۔۔کلف لگے کپڑے پہنے، اکڑی گردنوں والے بڑے لوگ تمہیں ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائیں گے۔۔۔ اپنی لمبی لمبی گاڑیوں میں ذرا سا سفر طے کرا دیں گے۔۔۔ تمہارے بچے اُن کے بچوں کےساتھ تعلیمی اداروں میں پڑھ سکیں گے۔۔۔ کبھی کوئی بڑا تمہارے گھر آ کر ایک وقت کی چٹنی روٹی کھائے گا ۔ یہ تبدیلی تمہارے دفتروں کے دھکے یا برسوں پرانے مقدمے  ختم  کرنے کے لیے نہیں۔ یہ نہ سوچنا کہ بوڑھے اب عزت سے پنشن وصول کریں گے۔۔۔ہسپتالوں میں وی آئی پیز کی طرح آؤبھگت ہو گی۔۔۔زندگی میں ایک بار   ہی کبھی  کسی عام شہری کو ہوائی جہازوں میں سفر نصیب ہو گا۔۔۔ایک فلاحی ریاست کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا۔
ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ پھر جب مایوسی ہی ہے تو کیا کریں چُپ کر کے اپنا تماشا دیکھیں۔۔۔اشرافیہ کو لعن طعن کر کے دل کا غبار نکالیں۔ نہیں ! اگر تبدیلی کا نعرہ ہے تو اُس پر یہ سوچ کر یقین کرلو کہ واقعی ہمیں تبدیلی چاہیے۔۔۔ نجات چاہیے ایک فرسودہ نظام سے۔ کسی نے تبدیلی کا نام تو لیا ہے۔۔۔نام کی حد تک انصاف کو اوّلیت تو ملی ہے۔۔اپنے وطن کے نام کو سربلند رکھنے کے عزم کا اظہار تو ہے۔
دھرتی ماں جس کی عزت وآبرو کی دھجیاں سالوں سے اُڑائی جارہی تھیں اور وہ سب بھلا کر پھر بھی اپنے بچوں کی سیوا میں لگی ہوئی تھی۔ جس کے کرم کا دستر خوان بہت وسیع ہے۔'اُس ماں' کی عظمت کا حق ادا کرنے کے لیے پہلا قدم تو اُٹھایا گیا ہے یہی بہت ہے۔ ہمارا کیا ہے۔۔۔ ہم تو چیونٹی کی طرح نسلوں سے محنت کیے جارہے ہیں۔۔۔ سو کرتے رہیں گے۔ بس ماں سلامت رہے وہ باقی تو ہمارا حوصلہ جوان۔
۔" ماں کے بغیر گھر قبرستان بن جاتا ہے اور دھرتی ماں کے بغیر گھر بن تو جاتے ہیں لیکن جیسے پانی پر بنے ڈانواں ڈول یا پھر فلک بوس ( سکائی سکریپرز) مٹی کے لمس سے ناآشنا"۔
آخری بات
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا شاید فیصلہ کرنے کی خوش فہمی ۔جو بھی ہے ایک پل کوٹھہر کر اپنا فرض ضرور ادا کریں صرف وطن کی خاطر۔

" اقوال اور کہاوتیں"


میری ڈائری سے۔۔۔۔
٭ اصل قید جسمانی نہیں ذہنی ہوتی ہے۔ (نیلسن منڈیلا۔۔۔" لانگ واک ٹو فریڈم")۔ 
۔۔۔۔۔۔
 ٭ دھند ۔۔لکھنا ایک بہت بڑا ذہنی بوجھ ہے۔یہ دُھند میں ایک ایسا سفر ہے جس کی راہ میں کوئی نشان نہیں۔ بلکہ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ سفرکس جانب کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔(جین پیٹرک موڈی اینا۔فرانسیسی ناول نگار۔۔۔ ادب کا نوبل پرائز 2014)۔
۔۔۔۔۔
 ٭ہر انسان پہاڑی کی چوٹی تک پہنچنا اور وہاں رہنا چاہتا ہے۔یہ جانے اور محسوس کیے بغیر کہ اصل خوشی اس رستے میں ہے جو ہمیں اس بلندی کے سفر کی طرف لے جاتا ہے۔ (گبرئیل گارسیا مارکیز۔۔۔1927۔۔2014...ادب کا نوبل انعام۔۔1982)۔
۔۔۔۔
٭زندگی کی سب سے اچھی تخلیق موت ہے۔یہی وہ سچ ہے جو سمجھاتا ہے کہ آپ کا وقت محدود ہے۔ایک ایوریج زندگی میں 25،30 ہزار دن ہوتے ہیں۔گنی ہوئی صبحیں ،گنی ہوئی شامیں۔آپ اپنے محدود قیمتی دنوں کو کسی اور کی زندگی جی کر نہ گزاریں ۔اپنی زندگی کی کہانی میں ایک ہیرو کی جگہ ایکسڑا بن کر نہ رہ جائیں۔(سٹیو جابز"ایپل" کا بانی۔ ۔پیدائش۔۔1955۔ وفات۔۔2011)۔(2005 میں سٹینفورڈ یونیورسٹی میں کی گئی تقریر سے اقتباس)۔

۔۔۔۔٭اپنے آپ کو جانو۔۔ (سقراط)۔
۔۔۔۔
٭ایمانداری قیمتی تحفہ ہے آپ سستے لوگوں سے اس کی توقع نہ رکھیں۔ (وارن بفٹ)۔
۔۔۔۔۔
 ٭زندگی کتنی ہی شان دار اورعظیم الشان ہولیکن تاریخ اپنے فیصلہ کے لیے ہمیشہ موت کا انتظار کرتی ہے۔(وکٹرہیوگو)۔
۔۔۔۔۔
 ٭آپ کا اچھا وقت دُنیا کو بتاتا ہے کہ آپ کون ہو ۔ اور آپ کا بُرا وقت آپ کو بتاتا ہے کہ دُنیا کیا ہے۔
۔۔۔۔
٭مسائل کو بھوکا رکھو۔مواقع کو کھانا کھلاؤ۔۔۔انگریزی کہاوت
۔۔۔۔
٭کامیابی ایک ایسی سیڑھی ہے جس پر جیبوں میں ہاتھ ڈال کر نہیں چڑھا جا سکتا۔۔۔امریکی کہاوت
۔۔۔۔
٭ذہن ایک پیراشوٹ کی طرح ہوتا ہےپہلے اسے کھولیں پھر کام کرے گا۔۔۔روسی کہاوت
۔۔۔۔
٭اگر آپ دوڑنا چاہتے ہیں تو پہلے چلنا سیکھیں ۔۔۔۔ یونانی کہاوت
۔۔۔۔۔
٭ناکام وہ ہوتا ہے جو ناکامی کو قبول کر لے۔اگر اسے زندگی کا محض ایک موڑ سمجھ کر آگے بڑھ جائے تو وہ ناکامی آپ کی زندگی نہیں ماضی کا ایک حصہ بن کر رہ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭لوگ اکثر پہاڑوں سے نہیں ،کنکریوں سے پھسلتے ہیں۔(کنفوشس)۔
۔۔۔۔
٭کوئی ادیب کتنا ہی تخلیقی کیوں نہ ہو ۔اپنی بیان کردہ کہانیوں کو حقیقت سے زیادہ مسحورکن نہیں بنا سکتا۔ (ٹالسٹائی)۔
۔۔۔۔۔
 ٭جب تم کسی کتاب کے بند اوراق کھولتے ہو تو تمہیں اُڑنے کے لیے پر مل جاتے ہیں ،(کامڈن)۔
۔۔۔۔۔
 ٭مسرت۔۔یہ سوچنا غلط ہے کہ زیادہ آسائش زیادہ مسرت کا منبع ہے۔مسرت آتی ہے گہرے طور پر محسوس کرنے   سے،سادگی سے لطف اندوز ہونے سے،تخٰیل کی آزاد اُڑان سے،زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے اور دوسروں کے کام آنے   سے۔(سٹارم جیمزسن)۔
۔۔۔۔۔
٭جسم ایک دروازے کی طرح ہے جو انسان کو روح کی دنیا تک لے کر جاتا ہے۔(انگلینڈ کے شاعر جان ڈن کی نظم )۔
(The Ecstasy)
۔۔۔۔۔۔

 ٭ساغر صدیقی کے مرنے کی خبر میں یہ لکھا تھا کہ اسے سپرد خاک کر دیا گیا۔ سپرد خاک کرنے کی بھی ایک خوب کہی۔ وہ تو مدت سے سپرد خاک تھا۔ خاک پھانکتا تھا۔ خاک میں مل چکا تھا، خاک ہو چکا تھا، لوگ اس پر خاک ڈال چکے تھے، وہ کبھی خاک سے علیحدہ بھی تھا جو اب اسے سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ہاں اتنا نکتہ خبر میں شايد نیا ہو کہ قبرستاں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے پہلے وہ قبرستاں میں سپرد خاک نہ تھا اس سے باہر تھا۔(ابن انشاء)۔
۔۔۔۔۔٭"کوئی چہرہ یا منظر تبھی باوقار ہوتا ہے جب اسے دیکھنے والے ہوں۔۔۔۔ دیکھنے والے ہی نہ رہیں تو وہ چہرے اور منظر کسی کام کے نہیں رہتے ۔۔۔ بیکار اور تنہا ہوجاتے ہیں"از  برفیلی بلندیاں۔مستنصرحسین تارڑ
۔۔۔۔۔۔۔

مستنصرحسین تارڑ(ویڈیوز)

صِرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیںمیں تیرا حُسن ، تیرے حُسنِ بیاں تک دیکھوںمارچ 2018۔۔دسمبر 2017۔۔۔۔11 فروری 2017۔۔۔
 2017۔۔
یکم مارچ 2016۔۔۔
 سفر ہے شرط۔۔ "سفرِحراموش"۔۔2016۔۔
 کُل بارہ اقساط ہیں ان میں سے پہلی قسط۔۔۔ 
۔75 واںجنم دن۔۔۔
یکم مارچ 2014۔۔
https://www.facebook.com/zahid.zaman.737/videos/10202671037512393/?hc_ref=ARS86KdW85pCLXAqf10qACh6w3ZRKj5HNVLEKp-3AgCQO6J96MmPumS5U_۔۔
۔ سفر ہے شرط۔"سفرِنگر"راکا پوشی  بیس کیمپ۔۔۔2014۔
ستمبر 2011۔۔۔.۔2010کوپن ہیگن۔۔۔صدف مرزا کو دیا گیا انٹرویو۔۔۔۔2007 روس۔۔۔ صدائے روس کو دیا گیا انٹرویو۔۔میزبان:آئرینا مسکیم انکو

"اب مِرا انتظار کر"

اب مِرا انتظار کر۔۔۔ انتظار حسین سے متعلق مستنصرحسین تارڑ صاحب کی ایک لازوال تحریر۔انتظار بھولنے والوں یا معاف کردینے والے قبیلے کے نہیں تھے۔گانٹھ باندھ کے رکھتے تھے اور اس گانٹھ کو یکدم تب کھولتے تھے، جب مدمقابل اپنے آپ کو برتر جان کر غافل ہوجاتا تھا۔ وہ بےخبری میں بےسرو ساماں مارا جاتا تھا۔ انتظار کے ہاتھوں پر بےخبری کے عالم میں مارے جانے والوں کے خون کے چھینٹے بہت تھے۔۔۔۔۔
مستنصر حسین تارڑ
یہ ان بیت چکے زمانوں کی داستان ہے، جب میں نے مذہبِ کاروبار اور عقیدہ معاش ترک کرکے صرف ادب کے صنم خانے کا طواف کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اگر زندگی کرنی ہے تو قلم کی مزدوری کی جتنی بھی اُجرت ہو، اس پر کرنی ہے۔ میڈیا کی قلیل آمدنی پر انحصار کرنا ہے چاہے، اس میں دو چار نہیں سیکڑوں سخت مقام آجاویں۔ بے شک ایک ڈبل روٹی خریدنے کے لیے بھی دام کم پڑ جاویں، کرنا بس یہی کتّا کام ہے اور میری بیگم نے بھی یہی کہا کہ بےشک اگر تم کاروبار کے جھمیلوں میں پڑے رہو ،تو زندگی آسانیوں اور آسائشوں میں گزرے گی، لیکن تم ہمیشہ ناخوش رہوگے، میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں، چاہے اس میں تنگی تُرشی کے دن آجائیں، میں شکایت نہیں کروں گی۔چنانچہ ایسے بہت دن آئے، لیکن ہم اپنے فیصلے پر پچھتائے نہیں۔ کٹتے ہیں دکھ میں یہ دن، بہت ایسے دن کاٹے۔ اور پھر یکدم غیب سے کچھ سامان ہونے لگے۔ دن پلٹنے اور سدھرنے لگے۔ ”التحریر“ کے خالد سیف اللہ کے توسط سے ضیاالاسلام انصاری نے مجھے اپنے اس زمانے کے مؤقر اخبار ”مشرق“ میں باقاعدگی سے کالم لکھنے کی پیش کش کردی۔ ازاں بعد سنگ میل کے نیاز احمد کا ظہور ہوا، جنھوں نے دھڑا دھڑ میری کتابوں کے درجنوں ایڈیشن فروخت کرکے رائلٹی سے مجھے لبریز کردیا۔ رہی سہی عُسرت اور غربت کی کسر ”صبح کی نشریات“ کی آٹھ برس کی مسلسل میزبانی نے نکال دی۔ لیکن بارش کا پہلا قطرہ جس نے میری بنجر کھیتی کو ہرا کردیا ”مشرق“ کی کالم نگاری تھی۔
ایبٹ روڈ پر گلستان سنیما کے عین سامنے روزنامہ ”مشرق“ کا دفتر واقع تھا اور شاید تیسری پر واقع تھا۔ اس منزل تک پہنچنے کی خاطر سیڑھیاں چڑھتے، دھیمی مسکراہٹ والے، مجھ سے کبھی کلام کرتے اکثر نہ کرتے، ایک بے اعتنائی اور غیریت اختیار کرتے۔ کسی قدر بے رنگ سے، انتظار حسین تھے۔ اور وہ ایسا کرسکتے تھے کہ میں تو ابھی ابھی چار پانچ ابتدائی کتابوں کے ڈنڈ پیل کر، اپنے بدن پر نوجوانی کی نوخیزی کا تیل مل کر اور دنیا ختم کرنے کی مٹی چھڑک کر ادب کے اکھاڑے میں داخل ہوا تھا، جب کہ وہ بہت سے رستم پاکستان، رستم ہند وغیرہ کو پچھاڑ کر اکھاڑے میں رانوں پر ہاتھ مارتے دیگر ادبی رستموں کو چیلنج کر رہے تھے۔ تو میں اکھاڑے کے ایک کونے میں دبک گیا۔
انتظار ان زمانوں میں ”لاہور نامہ“ لکھا کرتے تھے۔ان کے وہ کالم جو ادب سے متعلق ہوتے تھے ان میں ہجرت کے دکھ ہوتے تھے، کوچ کر جانے والے پرندوں کی باتیں ہوتی تھیں، جاتک کہانیاں اور نانی امّی کی سنائی ہوئی کہانیاں ہوتی تھیں۔ میرا جی، قیوم نظر، ناصر کاظمی، احمد مشتاق، سلیم شاہد، زاہد ڈار، ندرت فاطمہ، سہیل احمد خان، حنیف رامے، صلاح الدین شیخ، غالب احمد وغیرہ کے سوا اور کوئی کم ہی ہوتا تھا۔ وہ اپنی پہچان والے لوگوں کے تذکرے میں محدود رہتے تھے۔ وہ ترقی پسند مصنفین سے کسی حد تک الرجک تھے۔ چونکہ میں ترقی پسند مصنفین کا مداح اور پیروکار تھا، اس لیے میں بھی انتظار سے کچھ کچھ الرجک ہوگیا۔ مجھ میں ایک مخاصمت نے جنم لیا۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی شخص ترقی پسندی کا مخالف ہو اور اس کے باوجود وہ ایک بڑا ادیب ہو۔
ان زمانوں میں انتظارحسین کا افسانوی مجموعہ ”کچھوے“ شایع ہوا اور ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک ہفتہ وار پروگرام میں نئی کتابوں پر تبصرے کے لیے مجھے مقرر کیا گیا تھا۔ اور میں نہایت دل جمعی سے تبصرے اس لیے کرتا تھا کہ مجھے فی تبصرہ دو سو پچیس روپے کی خطیر رقم کا چیک عنایت کیا جاتا تھا۔ ورنہ میں کہاں کا دانا تھا۔ پرکھ پڑچول کا ماہر نقاد تھا۔ میں نے ”کچھوے“ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ذہنی بساط کی محدودگی میں کچھ توصیف تو کی، لیکن کچھ دل کی بھڑاس بھی نکالی اور کہا: ”کچھوے“ کے افسانوں کو ایک مدت اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ یہ اسم بامسمیٰ ہیں، کچھوے کی چال چلتے ہیں۔
دو چار ہفتوں کے بعد میں حسب معمول اپنا کالم نذیرحق کی میز پر رکھنے کے لیے سیڑھیاں طے کر رہا تھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ انتظار مجھ سے آگے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہولے ہولے چڑھ رہے ہیں تو میں نے کہا انتظار صاحب!۔ 
انھوں نے رک کر سانس بحال کیا اور مڑ کر دیکھا۔ اتنی آہستگی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔ تو وہ مسکرا دیے۔ انتظار کی مسکراہٹ، قدرے جھینپی ہوئی، کہیں کہیں شرارت کا ایک شرارہ پھوٹتا ہوا۔ علم بشریات کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر پرکھ نہیں سکتا تھا اس مسکراہٹ کا بھید کیا ہے۔ وہ آپ کو پسند کرتے ہیں یا شدید ناپسند کرتے ہیں۔ آپ بیٹھے رہیے انتظار کی مسکراہٹ کی گتھیاں سلجھانے کے لیے۔ مسکراہٹ کے گھونگھٹ کے پیچھے کیا ہے۔ کبھی نہ جان پائیں گے۔تو میرے سوال پر وہ مسکرا دیے اور کہنے لگے :”بھئی! ہم تو کچھوے ہیں، بس یہی چال چلتے ہیں“۔
میں تو سناٹے میں آگیا۔ فالج زدہ سا ہوگیا، مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ ریڈیو کے ادبی تبصرے اتنی باقاعدگی اور دھیان سے سنتے ہیں۔
انتظار بھولنے والوں یا معاف کردینے والے قبیلے کے نہیں تھے۔ گانٹھ باندھ کے رکھتے تھے اور اس گانٹھ کو یکدم تب کھولتے تھے، جب مدمقابل اپنے آپ کو برتر جان کر غافل ہوجاتا تھا۔ وہ بے خبری میں بے سرو ساماں مارا جاتا تھا۔ انتظار کے ہاتھوں پر بے خبری کے عالم میں مارے جانے والوں کے خون کے چھینٹے بہت تھے۔
ازاں بعد انتظار صاحب نے تو چھیڑ خوباں سے چلی جائے والا رویہ اپنالیا۔ ہم دونوں کسی ادبی تقریب سے باہر آرہے ہیں یا پھر کشور کے گھر سے نکل رہے ہیں تو انتظار کہتے: ”پہلے آپ....!ہم تو کچھوے ہیں، ذرا دھیرے دھیرے چلے آئیں گے۔“
۔”نکلے تری تلاش میں“ کا جب صادقین کا تصویر کردہ ایڈیشن شایع ہوا تو انتظار نے ”لاہور نامہ“ اس کی توصیف میں لبریز کردیا۔ ”کچھوے“ کے تبصرے کو فراموش کرکے مجھے اپنی شاباشی سے نواز کر بہت شرمندہ کیا۔ اگرچہ بعدازاں وہ میری تحریروں سے بظاہر غافل ہوگئے، اپنے کالموں میں قدرے احتیاط کرنے لگے، لیکن وہ ”راکھ“ کی اس تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوتے جہاں میرے ناول کے بارے میں صفدر میر، احمد ندیم قاسمی، سہیل احمد خان اور احمد بشیر نے اظہار خیال کیا۔ مجھ سے کچھ کوتاہی ہوگئی۔ میں نے انتظار صاحب سے اس محفل میں شریک ہونے اور مضمون پڑھنے کی درخواست نہ کی۔ صرف اس لیے کہ میں جھجکتا تھا کہ کہیں وہ انکار نہ کردیں،ورنہ انتظار کی تحریر سے معتبرہونے سے کون کمبخت انکار کرسکتا ہے۔ ویسے دبے لفظوں میں انھوں نے شکایت کردی۔ انھوں نے اپنے انگریزی کالم میں اس تقریب کو اور ”راکھ“ کو بہت سراہا۔ اگرچہ مجھے خفیف سا شک ہے کہ انھوں نے میرا ناول پڑھا نہیں تھا۔ انھیں ضخیم ناولوں سے یوں بھی وحشت ہوتی تھی۔ بےشک وہ مجھ سے بہت غافل ہوتے لیکن ایسا تو کم ہی ہوا ہوگا کہ میرا کوئی نیا ناول شایع ہو اور اس کی پہلی کاپی میں نے انتظار صاحب کی خدمت میں پیش نہ کی ہو۔ اور ایسا تو کبھی نہ ہوا کہ میں نے بعدازاں ان سے دریافت کیا ہو کہ انتظار صاحب! آپ نے میرا ناول پڑھا۔ اگر میں دریافت کر ہی لیتا تو یقینا اس قبیل کا جواب آتا کہ بھئی! میں نے دس بیس ورق اُلٹے ہوں گے کہ زاہد ڈار لے گیا،مسعود اشعر کے ہاں پڑا ہوگا، واپس کریں گے تو پڑھیں گے، کیوں نہیں پڑھیں گے، آخر تم ایک بیسٹ سیلر ہو۔
انتظار صاحب نے مجھے بیسٹ سیلر ہونے پر بھی کبھی معاف نہ کیا۔
جب سنگ میل والوں نے مختلف مہان ادیبوں کے شان اور شکل والے مجموعے شایع کرنے شروع کردیے، راجندر سنگھ بیدی، قرة العین حیدر، سعادت حسن منٹو، عبداللہ حسین، اشفاق احمد اور انتظار حسین تو یہ مجموعے دھڑا دھڑ مقبول ہوتے چلے گئے۔ تو نیاز احمد کے ایک یادگار لاہوری ناشتے کے دوران انھوں نے انتظار صاحب سے مخاطب ہوکر کہا۔ ”آپ کے مجموعے کا ایک نیا ایڈیشن آرہا ہے۔ آپ کی بہت مانگ ہے!“ تو میں تو بھرا بیٹھا تھا۔ میں نے کہا۔” انتظار صاحب! آخر آپ بھی تو ایک بیسٹ سیلر ہوگئے ہیں۔ یہ تو اچھی خبر نہیں ہے۔“
انھوں نے کچھ کہا نہیں، بس مسکراتے چلے گئے۔
انتظار کو میں نے تقریباً نصف صدی کی ادبی مسافتوں کے دوران ہر رنگ میں دیکھا۔ یہاں تک کہ جب ان کے بال اگرچہ تب بھی چھدرے تھے، تب بھی دیکھا۔ اس ناقابل فہم اور بھید بھری مسکراہٹ کے ساتھ مسلسل دیکھا، اکثر کشور کے ہاں، کبھی جمیلہ ہاشمی، شیخ منظور الٰہی، حجاب امتیاز علی، نثار عزیز بٹ کے ہاں اور بہت اکثر ٹی ہاؤس میں۔
وہ لاہور میں ایک مسلسل موجودگی تھے۔ کبھی کسی ادبی محفل یا گھریلو اکٹھ میں غیر حاضر نہ ہوتے۔ کسی عشق کے مارے اور اجاڑے ہوئے نے کہا تھا کہ کبھی کبھار کی یہ لُک چھپ ملاقاتیں، عشق کا مداوا تو نہیں ہیں۔ دن رات کی مسلسل رفاقت اور موجودگی ہی عشق کی تسلی اور تکمیل ہوتی ہے۔ چنانچہ انتظار صاحب ایک تسلی اور ایک تکمیل تھے۔ اگر وہ کسی محفل میں نہ ہوتے تو ایک اجاڑپن کا احساس ہوتا۔
تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
اور وہ ہمیشہ عالیہ بیگم کے ہمراہ ہوتے، شاذ ہی اکیلے آتے۔ اور عالیہ بہت سادہ، معمولی پیراہنوں میں ملبوس ایک معمولی شکل کی خاتون تھیں۔ لیکن نہایت پُر اعتماد اور ٹھسّے سے چلتی ہوئی ، محفل میں داخل ہونے والی خاتون تھیں۔ انتظار کی زندگی میں یہ طے ہے کہ وہ واحد خاتون تھیں۔ صرف وہ تھیں جن کی جانب دیکھ کر جب انتظار مسکراتے تھے تو اس مسکراہٹ میں کچھ بھید نہ ہوتا تھا۔ اُلفت، شکر گزاری اور ایک بدھ بھکشو ایسی فرمانبرداری والی محبت کی الوہی پرچھائیاں ہوتی تھیں۔ میں بھی تو کسی حد تک ایک جہاں دیدہ شخص ہوں، حیات کے کٹھن راستوں پر مسافر تو ہوا ہوں، اتنا تو جانتا ہوں کہ کہاں، کسی ایک فرد پر، کون سی محرومی کے سبب اس پر کیا گزرتا ہے۔ اس ایک محرومی کے سبب اس کی شخصیت کیسے کیسے دکھوں کو سہتی کچھ بگڑ سی جاتی ہے۔ اولاد نہ ہو تو اکثر میاں بیوی کے درمیان شک شبے کی ایک دیوار حائل ہوجاتی ہے۔ اولاد ایک دوسرے سے کچھ چاہت نہ رکھنے والے میاں بیوی کو بھی سریش کی مانند جوڑ دیتی ہے۔ اگرچہ بقول وارث شاہ....درویش اس دنیا سے جڑ نہیں سکتا کہ پتھر کو ُسریش یا گوند سے جوڑنا ناممکن ہے ۔ لیکن آپس میں کچھ ربط نہ رکھنے والے میاں بیوی کو اولاد ایک گوند کی مانند جوڑ دیتی ہے۔ کس کا دوش ہے کس کا نہیں۔ اکثر بے اولاد جوڑے ایک مجبوری اور مغائرت کی حالت میں حیات گزار دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھیبہت کم کم یہی محرومی ان دونوں کو یوں جوڑ دیتی ہے کہ انھیں سوائے ایک دوسرے کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ محرومی سے جنم لینے والے ایک عجب حیرت بھرے عشق میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ عالیہ اور انتظار کو جب ہم باہر دیکھتے تھے تو ان کی جڑت پر ہمیں رشک آتا تھا۔
تو کیا واقعی عالیہ ان کی زندگی میں پہلی اور آخری عورت تھی؟
ویسے افواہوں پر دھیان نہ کرنا چاہیے۔ ہواؤں میں ،اور وہ بھی گزر چکے ایام کی سسکیاں بھرتی ہواؤں میں جو سرگوشیاں ہوتی ہیں ان پر کان نہ دھرنا چاہیے کہ ان افواہوں اور سرگوشیوں میں کہیں نہ کہیں کچھ حقیقت ہوتی ہے۔ داستانیں یوں ہی جنم نہیں لیتیں۔ ہومر کاٹرائے کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔ ہنرخ سلمان یقین رکھتا ہے کہ سب قصے کہانیوں اور داستانوں میں کہیں نہ کہیں کوئی حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے جو دریافت کی منتظر ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ ہومر کی داستانوں میں بیان کردہ سمندری خزانوں اور ہیلن کے شہر ٹرائے کو ترکی میں دریافت کرلیتا ہے۔ چنانچہ انتظار کی داستانوں میں جو سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں، ان میں حقیقت کا پرتو ہے کہ نہیں۔ انتظار مائل تھے، خواہش رکھتے تھے، ایک افسانوی قربت کے تمنائی تو تھے۔ انتظار کے پہلے اور آخری عشق کی داستاں اب تو اصحاب کہف کی غار میں خوابیدہ ہوچکی۔
ویسے قرة العین حیدر اور انتظار حسین شاید دنیا بھر کے بڑے ادیبوں میں اس لحاظ سے حیرت ناک طور پر منفرد ہیں کہ دونوں کی تحریروں میں جنسی قربت یا صنف مخالف کی کشش کا کہیں کچھ اعتراف نہیں۔ عینی آپا ”کار جہاں دراز ہے“ میں اپنی حیات کے دیوان کے دیوان لکھ گئیں لیکن مجال ہے کہ ایک اقرار ہو کہ میں نے فلاں شخص کو دیکھا تو میرے دل کی دھڑکن میں ایک لمحے کے لیے خلل آگیا۔ بے شک اور بجا طور پر ان کے حسن اور تخلیقی عجوبہ روزگار دانش کے چرچے رہتے۔ایک زمانہ ان پر جان چھڑکتا، لٹو ہوا جاتا تھا ،ان کا حسن اور تخلیق کا تکبر اپنی جگہ لیکن وہ ایک عورت تھیں، بےشک لٹو نہ ہوئیں پر کبھی نہ کبھی تو وہ کسی کو دیکھ کر بے شک ایک لمحے کے لیے ہی سہی، تھوڑی سی گھوم تو گئی ہوں گی۔ انھوں نے کبھی اقرار نہ کیا۔ شفیق الرحمن کے ساتھ لندن میں جو ملاقاتیں رہیں، ان کا کبھی تذکرہ نہ کیا۔
اور ادھر انتظار صاحب تھے، عورت کے وجود اور اس کے بدن کی کشش سے یکسر غافل۔ مجھے ان دونوں سے بس یہی شکایتیں ہیں۔ وہ دونوں میرے نزدیک جنس کے تذکرے کے بغیر بے شک مہان ادیب ہیں لیکن نامکمل ادیب ہیں۔ان زمانوں میں یہ صرف ڈاکٹر انور سجاد تھا جو انتظار سے بھڑتا رہتا تھا۔ وہ آج بھی کہیں زندہ ہے، ناتواں ہوچکا، نہ اپنے آپ کو اور نہ کسی دوست کو پہچانتا ہے، ڈراما نگار، اداکار، رقاص، اردو میں گنجلک انداز کی جدید افسانوی روایت کا بانی جس کی پیروی بہت لوگوں نے کی۔ یہ وہ زمانے تھے جب وہ ایک اداکار اور ڈراما نگار کے طور پر پاکستان ٹیلی ویژن پر راج کیا کرتا تھا۔ میں نے اس کے تحریر کردہ سیریل ”سورج کو ذرا دیکھ“ میں ایک وِلن کے طور پر اداکاری کے میدان میں شہرت حاصل کی اور اس نے بھی میرے لکھے ہوئے متعدد ڈراموں میں مو ¿ثر اداکاری کی۔
وہ ادب کا ایک نپولین،ٹی ہاؤس میں داخل ہوتا، انتظار، داخلے کی پہلی میز کی کھڑکی کے ساتھ اپنے حواریوں کے ساتھ براجمان ہوتے۔ سلیم شاہد، سہیل احمد خان، زاہد ڈار، یوسف کامران، سگریٹ پھونکتی ندرت، الطاف قریشی،مسعود اشعر، اور وہ ٹی ہاؤس میں داخل ہوتے ہی انتظار سے مخاطب ہوجاتا ۔ اپنے ہونٹ سکیڑتے ہوئے کہتا ”کیوں انتظار! تمہاری نانی اماں نے پچھلی شب تمھیں کوئی نئی کہانی سنائی ہے جسے تم ایک افسانے کا روپ دوگے۔ جاتک کہانیوں میں سے کس کہانی کے بارے میں ایک دقیانوسی تحریر لکھوگے۔ بے شک آئندہ زمانوں میں تمہیں تمھاری زبان کے حوالے سے نصابوں میں یاد رکھا جائے گا، لیکن ایک ادیب کی حیثیت سے نہیں۔ انتظار! جاگ جا ؤ، زمانہ قیامت کی چال چل گیا، تمہیں کچھ خبر نہیں کہ افسانہ کیا سے کیا ہوگیا ہے، نانی جان مر چکیں۔“
انتظار مسکراتا رہتا، اکثر چپ رہتا۔
پھر ایک بار بولا: ”انور سجاد! میں نے تازہ ’فنون‘ میں تمہاری کہانی ’الف سے ےے تک‘ پڑھی ہے اور وہ الف سے یے تک مجھے سمجھ میں نہیں آئی۔“
انور سجاد اور انتظار کی چہلیں چلتی رہتیں۔نہ انور نے انتظار کی تحریروں کو قبول کیا اور نہ ہی انتظار نے انور کے شاہکار ناولٹ ”خوشیوں کا باغ“ کو سراہا۔
ہم دونوں سراسر مختلف مزاج اور جدا ثقافتوں سے پیوستہ شخص تھے۔ وہ یا تو انگریزی لباس زیب تن کرتے، سوٹ اور ٹائی باندھے رہتے یا پھر کھڑا پاجامہ اور کُرتا پہنتے۔ اور میں کبھی کبھار ہی سوٹ وغیرہ پہننے کا تردّد کرتا کہ انگلستان میں طویل قیام کے دوران یہی پیراہن اوڑھے رہا اور بیزار ہوگیا۔ ان دنوں یا تو میں نیلی جین اور کسی شوخ رنگ کی قیمص پہنتا یا پھر شلوار قیمص میں مسلسل قیام کرتا۔ میں نے بہت درپردہ خواہش کی کہ کبھی تو انتظار شلوار قمیص پہنیں۔ یقین کیجیے کہ وہ اس پہناوے میں بےحد بانکا لگتا۔ یہ لباس اس پر سجتا۔ لیکن وہ اپنی گنگا جمنی ثقافت میں حنوط ہوچکا تھا۔ جیسے میں پنجاب کی روایت میں آرام دہ اور پرسکون محسوس کرتا تھا۔ بے شک میں اس کے ذوق جمال، حسِ مزاح اور فقرے کی انوکھی ساخت کا شیدائی تھا لیکن ہم میں اگر کچھ مشترک تھا تو وہ پرندے تھے۔ یہ پرندے تھے جو ہمیں باہم کرتے تھے۔
کوئی ایک شام حسب معمول کشور کے گھر میں، اور یقین کیجیے لاہور میں ان زمانوں میں کوئی شام اترتی تھی تو صرف کشور کے اقبال ٹاؤن والے گھر میں یوں اترتی تھی کہ چھن چھن کرتی تھی۔ ساجن کی گلیوں میں سے گزرنے والی ڈرچی کی جھانجھروں کی چھن چھن کے ساتھ اترتی تھی۔ اس لیے بھی کہ اکثر میری فرمائش پر اقبال بانو موسیقی کے بغیر ”پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے“ گانے لگتیں۔ آپا حجاب امتیاز علی اپنی وِگ پر کب سے براجمان مکھی سے بے خبر اپنی ایک اور زرنگار ساڑھی میں ملبوس مسکراتی رہتیں کہ انھیں سنائی کم ہی دیتا تھا۔ کوئی ایک چھم سنائی دے جاتی، دوسری چھم سنائی نہ دیتی۔ منو بھائی اور جاوید شاہین آپس میں ہکلاتے ہوئے ”گفتگو“ کر رہے ہوتے۔ کشور کے گھر میں جو رونقیں ہوا کرتی تھیں ان کا تفصیلی تذکرہ میں نے ”لاہور آوارگی“ کے باب ”لاہور کے ادبی میلوں“ کے عنوان سے درج کردیا ہے۔ تو اس شام ہندوستان سے ایشیا کے سب سے بڑے اور مہنگے مصور مقبول فدا حسین آئے ہوئے تھے اور کشور کی ایک اوڑھنی پر اور وہ زرد نہ تھی، احمد فراز کو سامنے بٹھا کر اس کا پورٹریٹ بنا رہے تھے اور ہم دونوں لان میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ بہت دیر سے چپ بیٹھے تھے جب انتظار بولنے لگے: ”کیا واقعی اسلام آباد کے درختوں میں پرندے گھونسلے نہیں بناتے۔ سر شام راولپنڈی کو لوٹ جاتے ہیں؟“
میں ان وقتوں میں صبح کی نشریات کی میزبانی کے سلسلے میں اسلام آباد میں مقیم تھا۔ تقریباً دس بارہ برس میرا آنا جانا لگا رہا۔ وہاں جب شام ہوتی تو میرا دل گھبرانے لگتا۔ شام کے ساتھ ایک گہری اداسی اور بے برکتی اترتی۔ ایک بنجر پن اور روکھا پن اترتا۔ اور ہر شام میں دیکھتا کہ ہزاروں کی تعداد میں مختلف پرندے اسلام آباد کے بے روح آسمان پر اڑان کرتے وہاں سے ہجرت کرکے راولپنڈی کی جانب لوٹ رہے ہیں ہر شام دیکھتا۔ احمد داؤد اسلام آباد کا دانائے راز تھا۔ اس میں کوئی کہانی کار یا دوستوں کا دوست نہ ہوگا اس نے مجھے بتایا کہ تارڑ! اسلام آباد ایک مصنوعی شہر ہے، ایک ٹیسٹ ٹیوب بے بی ہے۔ جب اسے بسایا گیا تو اس کی ویران اور بے آب و گیاہ لینڈ اسکیپ کو ہریاول سے ڈھانکنے کی خاطر دوسرے ممالک سے جلدازجلد اگنے اور سایہ دار ہوجانے والے درختوں کے بیج درآمد کرکے انھیں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اس مردہ شہر کی زمین پر بکھیر دیا گیا۔ بے شک وہ شتابی سے قدآور اور گھنے ہوئے پر وہ یہاں کے نہیں تھے۔ ان کے پھولوں کی مہک نے لوگوں کو بیمار کردیا۔ موسم بہار میں ان اجنبی درختوں میں سے پولن کا زہر پھوٹتا ہے اور خلق خدا بیمار ہوجاتی ہے۔ تو پرندوں نے بھی انکار کردیا۔ اس بے روح شہر میں دانہ دُنکا تلاش کرو اور پھر یہاں سے فرار ہوجاؤ۔ اپنے آشیانوں کو لوٹ جاؤ۔ میں نے ”پرندوں کی واپسی“ کے عنوان سے ایک کالم لکھا۔
”جی انتظار صاحب!“
۔”کیا واقعی، کیا واقعی!“ انتظار بار بار کہتے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک ایسے بچے کی جھینپی ہوئی مسکراہٹ تھی جو کسی گھونسلے سے چڑیا کا ایک بچہ اتار لایا ہے اور وہ اس کی مٹھی کی آغوش میں پھڑپھڑا رہا ہے۔
کشور کے گھر کے اندر جانے کیا کیا ادبی ہنگامے برپا ہو رہے تھے اور باہر لان میں اس شام ہم صرف پرندوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ وہ اپنی کتھا کہتے رہے اور میں عطارکے پرندوں کا تذکرہ کرتا رہا۔ پرندے ایک فلسفۂ وحدت الوجود میں پھڑپھڑاتے اڑان کرتے ہیں۔
بس اس شام یہی کچھ ہم پر اتراپرندے
انتظار حسین لارنس گارڈن کے شیدائی تھے۔
میں نے کسی تحریر میں اعتراف کیا کہ باغ جناح میں ایک گھنا شجر ہے جس کے بھیتر میں کوئی اجنبی پرندہ روپوش ہے اور میں ہر سویر اس سے باتیں کرتا ہوں۔ اس کی کوک کی نقل کرکے کوکتا ہوں اور وہ جواب میں کوکتا چلا جاتا ہے۔
انتظار میری اس تحریر سے حیرت اور انبساط سے بندھ گئے۔ کہنے لگے: ”تارڑ! کیا واقعی۔ وہ شجر ہے؟“
”ہے۔“
”مجھے اس شجر کا اتا پتا بتلاؤکہ کہاں ہے، اگر ہے تو؟“
تب میں نے اس شجر کے جغرافیے سے انھیں آگاہ کیا۔ قائد اعظم لائبریری بلکہ جم خانہ کلب کے دائیں جانب۔ ان دو ہیبت ناک درختوں کے جھنڈ سے ذرا ادھر جن کی شاخوں پر پتے کم ہیں اور چمگادڑیں زیادہ۔ وہاں وہ شجر ہے۔
۔”لیکن انتظار صاحب ! پرندے اپنے اپنے۔ اس شجر میں پوشیدہ پرندہ، میرا اپنا ذاتی پرندہ ہے۔ وہ آپ سے کلام نہیں کرے گا۔“
”پرندہ ہے بھی کہ نہیں؟“
۔”ویسے آپ کے افسانوں میں جتنے جانور بولیاں بولتے ہیں، ہنومان مہاراج لٹکتے پھرتے ہیں اور کتّے زرد ہوئے جاتے ہیں، تو وہ بھی ہیں کے نہیں؟“
انتظار کہنے لگے :”بہرطور کچھوے تو ہیں“۔
انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، دلّی ادیبوں کی سارک کانفرنسہم دونوں برابر کے کمروں میں مقیم تھے۔ مجھے صبح کی سیر کی علت لاحق ہے، صد شکر کہ علت مشائخ لاحق نہیں ہے ،تو میں بے چین ہوجاتا تھا کہ کل صبح جوگرز پہن کر کدھر جاؤں گا، کدھر نکلوں گا، کہیں پاکستانی جاسوس ہونے کے الزام میں دھر نہ لیا جاؤں، تو میں نے انتظار سے رجوع کیا کہ ”حضور آپ تو ادھر آتے جاتے رہتے ہیں، آپ کی’ ٹیری ٹوریُو ‘ ہے تو کچھ راہ نمائی کیجیے کہ ادھر کوئی گلشن، کوئی سبزہ زار، کوئی گل و گلزار ہے جس کی سیر کے لیے میں نکل جاؤں۔“ 
تو انتظار کہنے لگے ”ہائیں آپ کیسے بےخبر ہیں، انڈیا انٹرنیشنل سینٹر دلّی کے سب سے پرفضا اور تاریخی باغ، لودھی گارڈن کے درمیان ایک جزیرہ ہے۔ دونوں نکل چلیں گے۔“
اگلی سویر انتظار مجھ سے پہلے اپنے کُرتے پاجامے میں نستعلیق تیار۔ اور میں شلوار قمیص اور جوگرز میں ملبوس۔ اور واقعی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کا ایک گیٹ کھولا تو لودھی گارڈن کے پتھریلے جہان میں داخل ہوگئے۔ قدیم پتھریلے ویران مقابر، کائی زدہ تالاب، مساجد اجڑی ہوئی، کسی قلعے کی سنگلاخ فصیل دھند میں سے یوں ظاہر ہوتی ہوئی جیسے ڈنمارک کے ہیلنسور قلعے کی قدیم فصیل جس پر ہیملٹ صاحب مٹرگشت کیا کرتے تھے اور فارغ اوقات میں ایک کھوپڑی کے ساتھ ”ٹو بی آر ناٹ ٹو بی“ کی بحث کیا کرتے تھے۔ لودھی گارڈن عجب سراب آمیز تصویراں تھا۔ فصیل کے پہلو میں سیکڑوں مرد و زن، بڑے بوڑھے، نوجوان اور نوخیز گھاس پر چٹائیاں بچھائے یوگا کی ورزشوں میں مشغول تھے اور ان کی یوگا ماسٹر ایک نوجوان مسلمان خاتون فاطمہ نام کی تھی۔
اگلی صبح فاطمہ سے اجازت حاصل کرکے میں بھی یوگا کرنے والوں کی صفوں میں شامل ہوگیا، اگرچہ پچھتایا بہت کہ ذرا سے جھکنے سے ہڈیاں کڑکڑانے لگتیں اور گھٹنوں میں سے ٹخ ٹخ کی آوازیں آنے لگتیں جو ٹخنوں تک چلی جاتیں۔ میں یہ عذاب اس لیے سہتا رہا کہ دشمن ملک ہے یہاں پسپائی اختیار کی تو وطن کی ناموس پر حرف آتا ہے۔ لال قلعے پر جھنڈا پھر کبھی لہرائیں گے فی الحال تو اس سر نگوں ہوتے بدن کو سر نگوں نہ ہونے دیا جائے۔ انتظار ایک فاصلے سے میری حالت زار سے لطف اندوز ہوتے نہایت کمینگی سے مسکراتے تھے، مسجد میں کہنے لگے: ”آپ کو یوگا سے کہاں اس یوگا ماسٹر خاتون سے دلچسپی ہوگی، ورنہ کاہے کو ان بکھیڑوں میں پڑتے۔“
انھوں نے اپنے کسی سفرنامے میں اس یوگا وقوعے کا تذکرہ اپنے انداز میں کیا اور زیب داستاں کے لیے کچھ بڑھا بھی دیا۔ جیسے آج ان کے بارے میں لکھتے ہوئے میں بھی تو کچھ بڑھاتا ہوں کہ ایک نثر نگار کا پیشہ ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ کے ذریعے سچ کو آشکار کرے۔
انتظارمیری عورتوں سے بہت نالاں تھے۔
کہا جاتا ہے کہ انتظار کی تحریروں میں عام طور پر عورت ایک شجر ممنوعہ ہے۔ اگر عورت نہ ہوگی تو ناقابل فہم طور پر جنس نہ ہوگی۔ کچھ لذت نہ ہوگی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی ایک کہانی میں جو عورت ہے تو وہ بھی ان کی اہلیہ عالیہ ہیں۔ اور بیوی عورت نہیں ہوتی۔ چنانچہ قابل فہم طور پر انتظار میری ان عورتوں سے بے حد نالاں تھے، جو نہ صرف میری تحریر میں در آتی ہیں بلکہ ادبی میلوں کے دوران میرے گرد ہجوم بھی کرلیتی ہیں۔
یہ نومولود فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا قصہ ہے کہ میں اپنے سیشن سے فارغ ہوکر ادیبوں کے لاؤنج میں چلا آیا اور کوئی درجن بھر بیشتر ادھیڑعمر خواتین میری کتابیں تھامے ان پر دستخط حاصل کرنے کے لیے پیچھے پیچھے چلی آئیں اور یہ معمول کی بات تھی۔ وہاں لاؤنج میں آگ اور پانی ساتھ ساتھ بیٹھے تھے یعنی انتظار حسین اور عبداللہ حسین باہم شیر و شکر ہو رہے تھے۔ تب انتظار نے ان خواتین کو دیکھ کر کہا :”لو جی، تارڑ کی گوپیاں چلی آرہی ہیں۔“ 
یہ اصطلاح عبداللہ کو بہت پسند آئی اور اس نے اپنا مخصوص سلسلہ وار قہقہہ لگا کر کہا: ”ہاں جی مگر اس عمر میں گوپیاں کارآمد ثابت نہیں ہوتیں۔“ بعدازاں جب کبھی کسی محفل میں کوئی بھی خاتون چاہے وہ ایک دادی اماں ہوں میری جانب بڑھتی تو عبداللہ کہتا :”لو جی، ایک اور گوپی۔“
انتظار سگریٹ نہ پیتے تھے۔ البتہ جب میں سلگانے سے پیشتر ان کی جانب پیکٹ بڑھاتا تو وہ ہمیشہ ایک سگریٹ کھینچ کر نہایت ابتدائی انداز میں اسے سلگاتے اور خواہ مخواہ پھونکتے رہتے، دھواں آنکھوں میں چلا جاتا تو انھیں مسلنے لگے۔ اور ہاں بقول غالب غالب چھٹی شراب مگر اب بھی کبھی کبھی ۔ تو انتظار بھی کبھی کبھی۔ بہ قدرِ اشکِ بلبل۔ وہ بھی کبھی کبھی!۔
پچھلے برس(2015)۔ یہی مہینے تھے، جون جولائی کے، میں نیشنل اسپتال کے ایک کمرے میں کچھ طویل آپریشنوں کے بعد درجن بھر ٹیوبوں میں پرویا ہوا، آکسیجن ماسک میں سے سانس لیتا ہوا، پڑا ہوں سلجوق اور عینی امریکا سے آچکے ہیں اور سمیر کے چہرے پر مایوسی ہے، میمونہ کچھ نہ کچھ پڑھتی مجھ پر پھونکتی ہے۔
میں چنگا بھلا تھا، ایک روز ایک سانس لیا تو دوسرا سانس آنے سے انکاری ہوگیا۔ سانس کی نالی میں کوئی اٹک آگئی۔ بہو نے 112 کو فون کردیا۔ سمیر تلاوت کرنے لگا اور مونا رونے لگی۔ سانس کا آخری گھنگھرو بسنے لگا اور پھر کوئی معجزہ ہوا اور رکا ہوا دم بحال ہوگیا۔ بچے بدتمیز ہوگئے، مجھ پر حکم چلانے لگے۔ ابو اپنا مکمل میڈیکل معائنہ کروائیے۔ شوکت خانم سے معائنہ کروایا تو الٹرا ساؤنڈ میں سوائے دل کی معمولی بے ترتیبی کے سوا کچھ نہ تھا۔ البتہ جگر کو ایک جھلّی نے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ جھلّی کسی بھی لمحے پھٹ کر اپنا زہر میرے بدن میں پھیلا کر مجھے موت سے ہمکنار کر سکتی تھی۔ ڈاکٹر محمود ایاز نے مشورہ دیا کہ پرسوں آئیے، معمولی سا آپریشن ہے، دو روز بعد گھر چلے جائیے۔ اور جب انھوں نے آپریشن تھیٹر میں میرا بدن چاک کیا تو وہاں بہت کام رفو کا نکلا۔ دس روز بعد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں قیام کے بعد جب میں اک شب گھر واپس جانے کی تمنا میں تھا تو میڈیکل کے فرشتے مجھے لینے آگئے کہ الٹراساؤنڈ ٹیسٹ کے دوران ایک عجیب دریافت ہوئی ہے۔ آپ کے بدن کے اندر مردہ آنتوں کا مجموعہ ہے جس نے آپ کے پورے نظام کو بلاک کردیا ہے، اس لیے آپ کی صحت گرتی چلی جاتی ہے۔ اس مجموعے یا گولے کو نکالنا ہے۔ 
”کب؟“
”ابھی!“ اور وہ سب کے سب سرجن محمود ایاز کے نائب فرشتے میرے بستر کے آس پاس کھڑے تھے۔
”کل کیوں نہیں؟“ میں ڈر گیا۔
”نہیں، ابھی۔“
میں نے صرف عینی کی جانب دیکھا اور اسے ڈاکٹر محمود ایاز نے اجازت دے رکھی تھی کہ وہ میرے آپریشن کے دوران تھیٹر میں موجود رہ سکتی ہے۔ اور عینی نے سر ہلادیا کہ ہاں ابّو.... ابھی۔ چنانچہ میں ایک مرتبہ پھر دریدہ بدن ہوا۔
کمرے کے باہر واضح طور پر ”نو وزیٹر الاؤڈ“ کی تختی نصب تھی۔ اگرچہ میں نے اپنے میڈیا کے دوستوں کو سختی سے منع کیا کہ میری بیماری کا چرچا نہیں کرنا۔ اسے ایک ”بریکنگ نیوز“ نہیں بنانا۔ یعنی گلدستے چلے آرہے ہیں، صحت یابی کی دعائیں کی جا رہی ہیں، یہ مجھے نہیں منظور۔
اور اس کے باوجود.... آئرلینڈ کے ایک چرچ میں، لاہور کے کیتھڈرل چرچ میں اور سندھ کے کنڈیارو کی جامع مسجد میں درجنوں حافظ قرآن میرے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔
تو ان موسموں میں یہ عبداللہ حسین تھا جو دندناتا ہوا اپنی وہیل چیئر پر براجمان میرے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ میں اس کے چہرے پر موت کی زرد پرچھائیاں دیکھ سکتا ہوں کہ اسے خون کا سرطان لاحق ہے۔ ابھی چند روز بعد مرنے والا ہے۔
وہ کہتا ہے ’:’یہ جناب عالی تم نے کیا ڈراما رچا رکھا ہے۔ اس بستر پر تو مجھے ہونا چاہیے تھا تو تم کیوں لیٹے ہوئے ہو۔ دراصل تم اصل میں ایک اداکار ہو۔ ہمیشہ لائم لائٹ میں رہنا چاہتے ہو۔ اس لیے یہاں آکر لیٹ گئے ہو۔“ 
وہ ہمیشہ مونا کو کہتا تھا کہ آپ تو میری گرل فرینڈ ہو۔
اس سے مخاطب ہوکر کہنے لگا :”مونافکر نہ کرویہ اداکاری کر رہا ہے۔ بیمار شمار نہیں ہے۔“
یہ عبداللہ حسین کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔
شاید وہی دن تھا یا اگلا دن تھا۔ میں تو نیم مدہوش تھا۔ مجھے کیا خبر کہ کون آیا کون گیا۔
تب سلجوق نے میرے کان میں سرگوشی کی: ”ابّو انتظار صاحب آئے ہیں۔“
میں نے اپنے چہرے سے آکسیجن ماسک ہٹا کر دیکھا تو بستر کے برابر میں انتظار صاحب جھکے جھکے سے تھے۔ جھکے ہوئے میرے جھاڑ جھنکار ناتواں چہرے کو تشویش سے تکتے تھے۔ مسعود اشعر ان کے ہمراہ تھے۔ مجھ میں کچھ کہنے کی سکت کہاں تھی۔ میں ناتوانی میں جتنی بھی شکرگزاری چہرے پر طلوع ہوسکتی ہے اس کی آمد سے مسکراتا رہا اور انتظار باتیں کرتے رہے۔
بھئی! تم نے اپنی بیماری کی خبر کیوں نہ کی۔ کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔ کیوں نہیں بتایا؟ تم اسپتال کے بستر پر یوں پڑے اچھے نہیں لگ رہے۔ ٹھیک ہوجاؤ۔ انھوں نے کہا تو نہیں لیکن ان کی آنکھوں میں شرارت کا ایک شرارہ دمکا ،جو کہتا تھا تمہارے گوپیاں تمہارا انتظار کرتی ہیں۔ میں نے دھیمی آواز میںمسعود سے شکایت کی کہ تم انھیں کیوں لے آئے ہو۔ لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں، جانے کیسے سیڑھیاں چڑھ کر آئے ہیں۔ نہیں لانا تھا۔
تو جیساکہ اس کاایک مخصوص انداز ہے، مسعود دونوں ہاتھوں کو نِرت کے انداز میں نچا کر کہنے لگے۔” بھئی! میں کیا کرتا، یہ مانتے ہی نہیں تھے۔ انھیں خبر ہوئی تو بے چین ہوگئے، کہنے لگے مجھے لے چلو۔ تارڑ کا حال اچھا نہیں ہے تو میں نے اسے دیکھنے کے لیے جانا ہے۔ بھئی! یہ کیا بات ہوئی کہ وہ بھی بیمار پڑ گیا ہے، مجھے لے چلو۔“
یہ کل کی کہاں آج کی بات ہے۔ سمیر نے مجھ سے پوچھا کہ ابّو ان دنوں کیا لکھ رہے ہو؟ میرے بچے بھلے وہ جو میں لکھتا ہوں اسے پڑھیں یا نہ پڑھیں، لیکن مسلسل ٹوہ میں رہتے ہیں کہ قبلہ والد صاحب جو رات گئے تک جاگتے ہیں تو ان دنوں کیا لکھ رہے ہیں۔ کچھ لکھ بھی رہے ہیں یا شبینہ غیرشرعی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ میرے آپریشنوں کے بعد کڑی نظر رکھتے ہیں، تو میں نے سمیر کو بتایا کہ ان دنوں میں انتظار کی رفاقت میں شبیں بسر کر رہا ہوں۔ میں نے پچھلی شب اسے دیکھا تھا کہ وہ لاٹھی ٹیکتا پریشان حال نیشنل اسپتال کے کمرہ نمبر 24 میں داخل ہو رہا ہے اور میں بستر پر ٹیوبوں میں پرویا ہوا، آکسیجن نقاب چہرے پر چڑھائے سانس لیتا ہوں اور وہ کہتا ہے تارڑ! تم اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔
تب سمیر کہنے لگا۔ ابّو جب ایرج مبارک نے فون کرکے کہا تھا کہ انتظار صاحب آپ کے ابّو کو دیکھنا چاہتے ہیں ،تو جب وہ آئے تو ہم نے آپ کی ٹیوبیں اور ان سے منسلک متعدد پلاسٹک کے تھیلے سمیٹ کر آپ کو ایک وہیل چیئر پر بٹھادیا تھا۔ 
یہ دیکھیے۔
مجھے اب تک کچھ خبر نہ تھی۔ سمیر میری بے خبری میں یقینا اس خیال سے کہ مجھے یہ لمحات کیمرے میں محفوظ کرلینے ہوں گے، اس کے نزدیک اس کا باپ ایک تاریخ تھا، جس کا ریکارڈ رکھنا اس کا فرض تھا۔ مسلسل تصویریں اتارتا رہا تھا۔ جب میں خوش و خرم حالت میں تھا، جب مجھے آپریشن تھیٹر کی جانب لے جایا جا رہا ہے اور سرجن حضرات چہروں پر سفید نقاب اوڑھے میرے اسٹریچر کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں، کمپیوٹر کی اسکرین پر دل کی دھڑکن کبھی کبڑی ہوتی ہے پھر ایک لمحے کے لیے ہموار ہوکر پھر سے سنبھل جاتی ہے۔
یہ دیکھیے سمیر نے کہا۔
کمپیوٹر اسکرین پر وہ کمرہ کسی اسپتال کا نہیں، کسی باذوق ڈرائنگ روم کا لگتا ہے۔ گل دانوں میں سرخ پھول، دیواروں پر معروف مصوروں کی تصویریں آویزاں، بڑی کھڑکی کے راستے دھوپ اترتی ہوئی، بستر پر ایرج مبارک، میں وہیل چیئر پر۔ یہ کون ہے، کسی قبر میں سے برآمد ہونے والا ڈھانچا، لیکن مسکراتا ہوا کہ سامنے کے صوفے پر انتظار اورمسعود براجمان مجھ سے باتیں کر رہے ہیں۔ ہم گفتگو کر رہے ہیں لیکن ویڈیو میں کچھ خلل آگیا ہے، صاف سنائی نہیں دے رہا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ انتظار ہاتھ بلند کرکے مجھ سے کچھ کہہ رہے ہیں، مسعود عینک سنبھالتے مسکرا رہے ہیں اور میں انتظار کی آمد کی خوشی میں باتونی ہوا جاتا ہوں۔
اسکرین پر منظر یوں زندہ ہے کہ گمان تک نہیں ہوتا کہ لاٹھی کا سہارا لیتا ایک شخص جس کے خدوخال کھڑکی میں سے اترنے والی دھوپ کی زد میں آکر ایک مجسمے کی صورت دکھائی دے رہے ہیں، وہ اب زندہ نہیں ہے۔
ویڈیو کی آواز میں رکاوٹ ہے، جو کچھ بولا جا رہا ہے مبہم اور بجھا بجھا سا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ موروں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انھی دنوں کسی ادبی مجلے میں ”اور سندھ بہتا رہا“ کا ایک باب شایع ہوا تھا جس میں ننگرپار کر اور تھر کے صحرا ؤں میں مرنے والے موروں کا تذکرہ تھا۔ ہم ادھر موروں کے بیری ہوگئے تھے۔ انھیں ہلاک یا حلال کرکے اپنی دعوتوں میں بھونتے تھے، تو وہ اپنی جان بچانے کی خاطر سرحد کے پار چلے گئے کہ وہاں کے لوگ انھیں اپنے من مندر میں سجاکر ان کی پوجا کرتے تھے۔ اور اُدھر سور دندناتے تھے ،وہی لوگ جو موروں کے پرستار تھے، انھیں بھون کر کھا جاتے تھے چنانچہ سور حضرات بھی اپنی جان بچانے کی خاطر سرحد پار کرکے ادھر پاکستان چلے آئے اور پھر ادھر آس پاس قیام نہ کیا۔ پورے ملک میں پھیل گئے۔ یعنی ہم ایسے سوداگر تھے جنھوں نے موروں کے بدلے میںسورحاصل کرلیے۔
انتظار نے یہ تذکرے مور وںاورسوروںکے پڑھ رکھے تھے۔ 
”تو ننگرپارکر کے کاسبو قصبے میں اب بھی مور مقدس ہیں اور اڑانیں کرتے پھرتے ہیں۔ تو یہ مور تھرپارکر کے مرتے کیوں جاتے ہیں؟“
مسعود اشعر کہتے ہیں: ”وہ ایک پرندوں کے لیے جان لیوا بیماری رانی کھیت میں مبتلا ہوکر مر رہے ہیں۔ یہ بیماری مرغیوں کو بھی ہوجاتی ہے“۔
”بھئی! مرغیاں تو مور نہیں ہوتیں۔“
پرندے تو ہوتی ہیں انتظار!“۔"
اس دوران ایرج مبارک کچھ کہتے ہیں اور میں کہتا ہوں: ”آپ یکدم کیوں کود پڑے؟“
وہ خفا سے ہوجاتے ہیں۔ ایرج نثری نظم کے سب سے بڑے مبلغ مبارک احمد کے بیٹے ہیں،۔
ادب کی پہچان رکھتے ہیں اور انھوں نے اپنے آپ کو انتظار حسین کی دیکھ بھال کے لیے وقف کردیا۔
انتظار فراموش کرچکے ہیں کہ وہ میری خبر گیری کے لیے آئے ہیں اور میں نے کچھ لمحوں کے لیے آکسیجن ماسک اتار دیا ہے۔ وہ موروں میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
اب میں رطب اللسان ہوں۔بھول چکا ہوں کہ میرے پیٹ پر ٹانکوں کی ایک کشیدہ کاری ہے، نصف درجن سے زائد سوراخ ہیں جن میں پیوستہ ٹیوبوں کے سہارے میں سانس لیتا ہوں اور میری ناک میں سے ایک ٹیوب میرے معدے میں اترتی ہے۔ تو میں کہتا ہوں: ”انتظار صاحب! مور میرے تھے۔ گھٹا گھنگھور گھنگھور، مور مچاوے شور والے مور ہیں۔ لیکن گوجرانوالہ کی ثریا شیخ کا گیت ’من مورا ہوا متوالا رے، یہ کس نے جادو ڈالا رے‘ میرے من کو متوالا کرتا جادوکر ڈالا رے۔
مسعود اپنی عینک کو اڑستے ہوئے کہتے ہیں: ”واہسبحان اللہ! کیا گیت ہے۔“
تب سلجوق کہتا ہے کہ ”انتظار صاحبابّو تھک گئے ہیں۔“
”بھئی! تم ٹھیک ہوجاؤ۔ یوں تو اچھے نہیں لگتے۔“
اور وہ تینوں رخصت ہوجاتے ہیں۔ مجھے سمیر نے بتایا کہ وہ انکل عبداللہ حسین کی خبر گیری کے لیے بعدازاں ان کے گھر گئے تھے۔ عجب کہانی ہے کہ آگ، پانی کی خبر لینے جاتی ہے۔ یعنی اصل میں آگ اور پانی ایک ہیں، ہمیں ہی فریب میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ہم جدا ہیں۔
اس روز میں نے انتظار کا ایک ایسا روپ دیکھا جو میرے گمان میں بھی نہ تھا۔ اس کے چہرے پر تشویش کی جو پرچھائیاں تھیں، ان کے سوا میرے لیے ایک پدرانہ محبت کا چراغ بھی جلتا تھا۔ مجھے اس شفقت اور قربت کی توقع نہ تھی۔ میں تو جی اٹھا، ان کی فکرمندی اور الفت بھری بے چینی میرے بدن میں پیوستہ ٹیوبوں میں سرائیت کرکے، میری شریانوں اور رگوں میں رواں یوں ہوئی کہ میں صحت مند محسوس کرنے لگا۔
رخصت ہوتے ہوئے بھی انھوں نے یہی کہا :”تارڑ! تم اچھے نہیں لگتے اسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے، اچھے ہوجاؤ۔“
بدھ حکایتوں میں بیان ہے کہ مہاتما بدھ سے پیشتر بہت سے بدھ پیدا ہوئے۔ ان کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔ یہ بودھی ستوا کہلائے۔ تو اگر آج کے زمانوں کا ایک بودھی ستوا میرے لیے دعا کرتا ہے کہ تم اچھے ہوجاؤتو میں کیسے اچھا نہ ہوجاتا، میں ہوگیا۔
میں تو اچھا ہوگیا پر عبداللہ حسین نہ ہوا۔ خون کے کینسر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ کومے کی تاریکی میں اترنے سے پیشتر اس کی اکلوتی بیٹی نور کا کہنا ہے کہ اس کا آخری فقرہ یہ تھا کہ جانے مستنصر کا کیا حال ہے۔
کچھ دنوں بعد ابھی میرے پیٹ پر چیر پھاڑ کے زخم بھرے نہ تھے، میں ایک مرتبہ پھر نیشنل اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہوتا ہوں جہاں میں نے ابھی حال ہی میں کچھ روز و شب قضا سے لڑتے جھگڑتے گزارے ہیں۔ کبھی آر کبھی پار جاتا تھا، میں اس کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں قریب المرگ لوگوں کے آخری سانسوں کو سنا کرتا تھا، میں یہاں اجنبی نہ تھا لیکن آج ایک بستر پر مصنوعی تنفس کی ٹیوبوں سے پرویا ہوا ایک بوڑھا بدن پڑا تھا۔ پڑا تو نہ تھا، سانس کھینچنے کی کشمکش میں پھڑکتا تھا۔ جیسے ایک پرندہ جان کنی کی حالت میں پھڑکتا ہے۔ اس کا چہرہ آکسیجن ماسک سے ڈھانپا ہوا تھا، کون تھا؟
اس وارڈ میں داخلے کی اجازت نہ تھی، ایک نوجوان ڈاکٹر نے مجھے پہچان لیا کہ سر! آپ بھی تو کچھ دن پہلے اس وارڈ میں مقیم ہوا کرتے تھے۔ اس نے مجھے اندر آنے دیا۔
”انتظار حسین یہی ہیں؟“
جی سر!“۔" 
”آر یُو شور؟“
”جی سر! ان کے سرہانے آویزاں میڈیکل ہسٹری کی رپورٹ پر یہی نام درج ہے۔“
میں پہچان نہیں پا رہا تھا، چہرہ آکسیجن ماسک سے ڈھکا ہوا تھا، بقیہ بدن کسی بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا شخص کا ہوسکتا تھا۔ جو سانس کی کھینچا تانی میں بسمل ہوتا تھا، میں قریب نہ جاتا تھا، دور سے دیکھتا تھا۔
”کچھ امید ہے؟“
”تارڑ صاحب! ڈاکٹروں کی کوڈ میں شامل ہے کہ وہ ہمیشہ ڈھارس بندھاتے ہیں۔ امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے، تسلی دیتے ہیں، یقینی موت کا بھی اقرار نہیں کرتے، لیکن صرف آپ سے کہتا ہوں کہ نہیں!“۔
”کیا حیات اور شعور کی کسی بھی نامعلوم سطح پر، وہ آگاہ ہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ ان کے آس پاس کون ہے یا وہ مکمل طور پر ایک بےخبری کی حالت میں ہیں۔“
”تارڑ صاحب! آپ ان کے نزدیک جاکر، ان کے کان میں انھیں پکاریے شاید وہ سن رہے ہوں۔“
نوجوان ڈاکٹر نے پیشکش تو کردی لیکن میں جھجک گیا، ایک خوف میں مبتلا ہوگیا، جب میرا سانس رک رہا تھا اور میرے گلے میں سے ایک خرخراہٹ موت کی برآمد ہوتی تھی تو اس لمحے میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی مجھے پکارے۔ مدد کی کوشش کرے کہ یہ میرے اور فنا کے درمیان ایک کشمکش جاری تھی اور کوئی بھی اس جنگ میں میری مدد نہیں کرسکتا تھا۔
اس لیے میں نے انتظار کو نہ پکارا۔ کیا جانیئے، اگر اس کشمکش کے دوران موت سے مبارزت کے لمحوں میں اگر انھیں کہیں دور سے میری آواز سنائی دے جاتی ،جبکہ وہ مدہوش ہوتے۔ جانے کون ہے جو مجھے پکارتا ہے اس کا تعین نہ کرسکتے۔ بلکہ انھیں میری پکار، انتظار سے مزید اذیت ہوتی، تو میں نے انھیں پکارا نہیں۔
دوپہر ہوچکی تھی۔ابھی تک کوئی بھی ان کی خبرگیری کے لیے آیا نہ تھا۔ انتظار تنہا پڑے تھے۔
”پچھلے پہر کچھ لوگ آئیں گے۔“ نوجوان ڈاکٹر نے بتایا۔ 
انتظار اپنے کالموں میں میری خبر لیا کرتے تھے، اکثر بےوجہ لیا کرتے تھے اور آج میں ان کی خبر لینے آیا تھا تو وہ بےخبر پڑے تھے۔ نہ کوئی شہرزاد ان کی مدد کو پہنچی، نہ کوئی جاتک کہانی اور نہ ہی کوئی زرد کتّا۔ اگلے روز وہ مرگئے۔اور یہ میری دعا کا اثر تھا کہ وہ مرگئے۔ ان کی حالت دیکھ کر جب کہ وہ بستر پر صرف ایک سانس کھینچنے کے لیے تڑپتے تھے میں نے دعا کی تھی کہ یا اللہ! یہ ایک بھلا اور معصوم شخص تھا ،اسے امتحان میں نہ ڈال، اس کی منزل آسان کردے، اسے اپنے پاس بلالے۔ ایک ایسی ہی دعا میں نے اپنے ابّا جی کے لیے کی تھی۔ وہ بھی قبول ہوگئی۔
انتظار پر بہت الزام لگے اور ان میں ایک یہ تھا کہ وہ نوسٹلجیا کا پیغمبر تھا۔ ماضی کے قبرستانوں میں دیے جلاتا تھا۔ حکایتوں اور کہانیوں کے تانے بانے میں الجھا، لمحہ موجود کی حقیقتوں کا سامنا نہ کرتا تھا۔ مجھے بھی شکایتیں تھیں کہ لاہور میں ایک عمر بسر کرنے کے باوجود کبھی لاہوری نہ ہوا۔ نہ پنجابی زبان سے آشنائی کی اور نہ مقامی ثقافت کے گیت گائے۔ اپنی ڈبائیوں میں ہی ڈوبا رہا۔ اس کی تحریروں میں بے شک دجلہ اور فرات آئے، گنگا اور جمنا کے دھارے رواں ہوئے پر اس کی کہانیوں میں راوی، چناب اور سندھ کے پانیوں پر کوئی داستانوں کی بادبانی کشتی نہ تیری۔ اور پھر جوانی کی جنوں خیزی کے بعد جب یکدم میں بڑھاپے کی خزاں میں اترا تو مجھ پر کھلا کہ بیشتر بڑے ادب نوسٹلجیا کی کوکھ میں سے جنم لیا ہے۔ میں اگر آج بھی لاہور کے ان تین گھروں کی بالکونیوں، برآمدوں، صحنوں، شب براتوں، بسنت دنوں اور دیوالی کی راتوں کو یاد کرتا ہوں جن میں میری حیات بسر ہوئی تو وہ لوگ جب کہ میں تو بچھڑا بھی نہیں، لاہور میں ہی ادھر ادھر ہوتا رہا اور وہ لوگجو ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ ہر صحن، ہر قبر اور ہر شجر سے اور شجر پر کوکنے والے ہر پرندے سے، اپنے پہلے عشق چھوڑ آئے، آباواجداد کی مٹی سے جدا ہوگئے، بچھڑ گئے تو ان پہ کیا گزرتی ہے یہ میں تو نہ جان سکتا تھا، صرف وہی جانتے تھے، جن پہ وہ گزری ہے تو اگر وہ اپنی تحریروں میں بچھڑ چکے موسموں اور اپنے لہجوں کو یاد کرتے ہیں تو برا نہیں کرتے۔ اگر میں اپنے دریا ؤں کے پانیوں اور ان کی سطح پر ٹھہری ہوئی دھند میں روپوش پرندوں اور لاہور کی گلیوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوجاتا تو میں بھی ایک نوحہ گر ہوتا۔
کیا عبداللہ حسین، عزیز احمد، قرة العین حیدر، خدیجہ مستور، کرشن چندر، بیدی اور بلونت سنگھ نوسٹلجیا کے شکار کبھی نہ کبھی نہیں ہوتے۔ میلانکنڈیرا اپنے چیکوسلواکیہ، نجیب محفوظ اپنے قاہرہ، پاشا کمال اور پاموک اپنے اناطولیہ اور استنبول، سونرے نتسن یہاں تک کہ اسماعیل کدارے اپنے البانیہ کی اجڑ چکی تہذیبوں اور بستیوں کے نوسٹلجیا میں سے اپنی فکشن کی شراب کشید نہیں کرتے۔ اگر انتظار نے ایسا کیا تو کیا برا کیا، اچھا کیا۔
جیسے برنارڈ شا کے ڈرامے ”پیگ ملین“کو ایک میوزیکل کی صورت ”مائی فیئر لیڈی“ کے نام سے تھیٹر میں پیش کیا گیا اور اس کا ایک گیت بہت مقبول ہوا۔ ”مجھے تمہارے چہرے کی عادت ہوگئی ہے“ تو کیوں مجھے بھی اپنی ادبی جبلت کی محفلوں، دعوتوں، تقریبات اور ”مشرق“ کے سیڑھیوں پر چڑھتے انتظار حسین کے چہرے کی عادت ہوگئی تھی۔ وہ ایک مسلسل اور ہمہ وقت اور ہمہ موسم موجودگی یوں تھے جیسے لاہور کا عجائب گھر، جنرل پوسٹ آفس اور اس کے فٹ پاتھ میں سے برآمد ہوتا قدیم برگد، یا پھر لاہور کی سب سے عالی شان اور پرشکوہ عمارت، بابا ڈِنگا سنگھ بلڈنگ اور اس کے پرشوکت گنبد کے چار گھڑیال، یا پھر پاک ٹی ہاؤس، فرض کیجیے آپ کسی سویر باغ جناح جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں۔ مال روڈ اور بیڈن روڈ کے سنگم پر واقع ڈِنگا سنگھ بلڈنگ کی جانب یوں ہی نگاہ کرتے ہیں تو نظر ٹھٹھک جاتی ہے کہ وہاں ایک خلا ہے۔ ڈِنگا سنگھ بلڈنگ جہاں تھی وہاں صرف ایک خلا ہے تو آپ کو ایک دھچکا تو لگے گا، یقین تو نہ آئے گا، صدمہ تو ہوگا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ لاہور ہو، مال روڈ ہو اور وہاں ڈِنگا سنگھ بلڈنگ نہ ہو۔ اس کے چار گھڑیال منادی نہ کرتے ہوں تو ایسے ہی آج انتظار وہاں نہیں، جہاں اکثر ہوا کرتے تھے تو ہر بار کسی محفل میں داخل ہوتے ہی دھچکا لگتا ہے، کسی ادبی محفل میں ان کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا تو صدمہ ہوتا ہے۔ وہ بھی تو ایک طرح سے ادب کے بابا ڈِنگا سنگھ تھے۔ ڈِنگے یعنی قدرے ٹیڑھے تھے۔ سمجھ میں نہ آتے تھے، اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ کدھر چلے گئے۔ یہیں کہیں تھے، جانے کدھر چلے گئے۔ ناصر کاظمی کے ساتھ لاہور کی رات میں کہیں آوارہ ہوئے اور ابھی تک واپس نہیں آئے۔ سب منتظر ہیں، چرند پرند، بندرابن، زرد کتّے، غاروں میں خوابیدہ لوگ، فرات اور دجلہ، کوفہ اور بغداد، کراچی اور لاہور، کرشن کی بانسری اور دف بجانے والی مدنی لڑکیاں، بدھ کے برگد، گنگا اور جمنا کے پانی، حسینی براہمن اور بنارس کے بسم اللہ خان کی شہنائی، دلّی کی گلیاں اور زبان کے کرشمے، لہجے کے معجزے اور میری گوپیاں، سب کے سب منتظر۔ میں سمجھتا ہوں کہ جیسے عبداللہ حسین نے خوش دلی سے قہقہہ لگا کر کہا تھا کہ تارڑ اگر انتظار نوّے برس کا ہوگیا تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ سو برس کا بھی ہوجائے گا۔ انتظار نے ابھی جینا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق کی ادبی کانفرنس میں، دن بھر کی شمولیت اور پھر اس شب نہ صرف اپنے آپ کو فروخت کرنے والے بلکہ دیگر ادیبوں کو بھی بہلا پھسلا کر اہل اقتدار کے سامنے حاضر کرکے انھیں بھی فروخت کردینے والے صاحب انتظار کی منت سماجت کرکے انھیں واپڈا ہاؤس کی چھت پر ایک ڈنر کے لیے لے گئے اور موسم ٹھنڈک اور برفیلے مزاج والے تھے، کھلی چھت پر، انتظار کو سردی لگ گئی، انھیں نمونیہ ہوگیا۔
انھوں نے اسے معمول کا بخار جانا، پھر طبیعت بگڑنے لگی تو ان کے ایک عزیز ڈاکٹر نے تسلی دی کہ آپ اسپرو یا ڈسپرین کی گولیاں پھانک لیجیے۔ انتظار احتجاج کرتے رہے کہ میری طبیعت بگڑتی جاتی ہے پر کسی نے دھیان نہ کیا، یوں سب کچھ بگڑ گیا۔
نصرت فتح علی نے بری نظامی، ایک غیرمعروف لائل پوری شاعر کا کلام گایا تھا کہ:
وِگڑ گئی اے تھوڑے دِناں توں
دوری پے گئی اے تھوڑے دِناں توں
یعنی چند روز سے سب کچھ بگڑ گیا ہے، چند روز سے دوری ہوگئی ہے۔
چنانچہ سب کچھ بگڑ گیا اور ہمیشہ کی دوری پڑ گئی۔
میں نے نیشنل اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جب انتظار حسین کو بستر پر صرف ایک سانس کی آرزو میں پھڑکتے دیکھا، تو کیا لکھا کہ موت، ایک انسان کی سب سے بڑی بے عزتی ہے، بے حرمتی ہے۔ یہ تو کسی کی بھی توقیر نہیں کرتی، کچھ لحاظ نہیں کرتی۔ چہرہ بگاڑ دیتی ہے، بہت ظلم کماتی ہے۔ وہ جو کوزہ گر ہے، اپنی من مرضی سے کوزے بناتا ہے، انھیں اپنی شکل میں ڈھالتا ہے، خود ہی بناتا ہے تو پھر خود ہی کیوں بگاڑ دیتا ہے، تو نہ بنائے، کیوں اسے ایک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں یوں بگاڑتا ہے کہ وہ پہچانا ہی نہ جائے اور میں پوچھوں کہ کیا یہی انتظار حسین ہیں۔
جیسے میرے ناول ”خس و خاشاک زمانے“ کا امیر بخش دریائے چناب کے پانیوں پر معلق سرما کی دھند میں ایک ست رنگے پرندے کی صورت ڈوب جاتا ہے، تو کچھ عجب نہیں کہ اگر میں کسی سویر باغ جناح میں جا نکلوں۔ اس قدیم شجر کی گھناوٹ تلے کھڑے ہوکر اس میں پوشیدہ اپنے یار پرندے کو پکاروں جو مجھ سے باتیں کیا کرتا تھا ،تو وہاں سے جواب آئے۔ اب ڈھونڈو مجھے اپنی گوپیوں کے چراغِ رُخ زیبا لے کر۔ وہ جو تمھاری تحریروں میں عطار کے پرندے اڑان کرتے تھے۔ میں ان میں شامل ہوچکا، سچ کی تلاش میں نکل چکا، مجھے اب مت پکارو۔
کارِ جہاں دراز ہے‘ اب مرا انتظار 

"مستنصرحسین تارڑ اور میمونہ تارڑ"

۔۔17 اپریل 1970۔۔(شادی کے دو ہفتے بعد)۔۔ 21 جنوری 2018۔۔ لاہور۔۔ستمبر 2017۔۔۔۔ 2اگست 2017۔امریکہ۔۔۔ مارچ 2017۔  تمغۂ امتیاز۔۔۔۔نومبر 2016۔۔۔۔6 نومبر 2015۔۔۔
۔27 ستمبر 2014۔ لاہور۔۔مارچ 2013۔۔۔

کیا بیوی، ایک گرل فرینڈ ہو سکتی ہے
مستنصر حسین تارڑ 
20/09/2015۔" ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا، کہنے لگیں ’’تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ’’منہ ول کعبے شریف‘‘ پڑھا ہے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہوں گرل فرینڈ ہوں‘‘۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’خاتون جب میں اپنے سفرناموں میں غیرمنکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے اور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔۔۔ اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہوں تو بھی آپ کو منظور نہیں‘‘۔ وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں ’’آخری عمر میں ہی کیوں؟‘‘ ۔۔۔ میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو رازداں بناتا ہوں۔۔۔ آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کئے۔۔۔ میری بے راہرو حیات کو برداشت کیا۔۔۔ کبھی شکایت نہ کی البتہ ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ بہت کی تو بس یہی عشق میں مبتلا ہونے کے لائق ہے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جوانی میں بیوی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، مرد آخر مرد ہے دل میں خیال آتا تھا کہ اگر یہ مر جائے تو سبحان اللہ میں دوسری شادی کر لوں۔۔۔ اب اس بڑھاپے میں ہر نماز کے بعد میں دعا مانگتا ہوں کہ یا اللہ اسے سلامت رکھنا، یہ مر گئی تو میں دربدر ہو جاؤں گا، مجھے تو کوئی پانی بھی نہیں پوچھے گا۔۔۔ مجھے پہلے لے جانا اِسے سلامت رکھنا۔
ویسے یہ میرا نصف صدی کا پاسے سونے کی مانند کھرا تجربہ ہے کہ نوجوانی میں اپنی بیویوں سے عشق کرنے والے اور اُس کا چرچا کرنے والوں نے ہمیشہ اُن بیویوں سے چھٹکارا حاصل کر کے دوسری شادیاں کیں۔۔۔ مجھ سے پانچ چھ برس جونیئر ایک مناسب شاعر اور ان دنوں بہت دھانسو کالم نگار نے کہا ’’تارڑ بھائی۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے عشق کی شادی کی ہے۔۔۔ میں اپنی بیوی سے ایک ایسا عشق کرتا ہوں جس کی مثال روئے زمین پر نہ ملے گی۔ میں اُس کی پرستش کرتا ہوں، وہی میرا مذہب ہے اور میں نے اُسے جو خطوط لکھے، جاں نثار اختر نے کہاں لکھے ہوں گے، یہ خطوط تاج محل سے بھی عظیم تر ہیں۔۔۔ میں یہ خطوط کتابی صورت میں شائع کروا رہا ہوں تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ عشق کیا ہوتا ہے۔۔۔ اور اس شہر میں صرف تین لوگ ہیں جنہیں میں اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خطوط کی اس کتاب کا فلیپ تحریر کریں۔۔۔ اعتزاز احسن، منو بھائی اور آپ۔۔۔ اُنہوں نے لکھ دیا ہے آپ بھی لکھ دیں۔۔۔ میں نے لکھ دیا اور پھر کتاب کا انتظار کرنے لگا۔ چار پانچ ماہ کے بعد میں نے اس کتاب کے ناشر سے پوچھا کہ خطوط کی وہ کتاب کیاہوئی تو وہ کہنے لگے ’’موصوف تو اپنے عشق کو طلاق دے چکے ہیں اور ان دنوں دوسری بیوی کے عشق میں سرشار ہو رہے ہیں‘‘۔ میرے ابّا جی کے ایک دوست نسبت روڈ چوک کے قریب حکمت کی دکان کرتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اتنا عشق کرتے تھے کہ دکان کی دیواروں پر اُس کی تصویریں سجا رکھی تھیں اور کہتے تھے ’’چوہدری صاحب۔۔۔ میں لمحہ بھر کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اُس کا چہرہ دیکھتا رہتا ہوں تب دن گزرتا ہے‘‘۔۔۔ جانے کیا ہوا کہ اُن کی بیوی ناگہانی موت سے دوچار ہو گئیں، اُن کو اتنا صدمہ ہوا کہ بہت دنوں تک کچھ کھایا پیا نہیں اور لاغر ہو گئے۔۔۔ مرحومہ کی قبر کے برابر میں ایک جھونپڑا ڈال کر اُس میں فروکش ہو گئے۔۔۔ گھر ترک کر کے قبرستان میں بسیرا کر لیا، درویشی اختیار کر لی، بیوی کی قبر کے ساتھ لپٹ کر روتے رہتے۔۔۔ ایک دو ماہ بعد میں نے ابّا جی سے پوچھا کہ آپ کے اُس دوست کا کیا حال ہے جو بیوی کی قبر کے ساتھ رہتے ہیں تو ابّا جی کہنے لگے اور مسکرا کر کہنے لگے ’’ اُس نے اپنی چھوٹی سالی سے شادی کر لی ہے اور ان دنوں ہنی مون منانے مری گئے ہوئے ہیں‘‘۔
جوانی میں اپنی بیویوں سے محبت کرنے والے لوگ ۔۔۔ ہمیشہ دوسری شادی کرتے ہیں۔۔۔ آزمائش شرط ہے۔۔۔ چونکہ میں نے اپنی اہلیہ سے جوانی میں محبت نہیں کی اس لئے میں نے دوسری شادی بھی نہیں کی۔
ویسے اس عمر میں آ کر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو کر اُس کے ساتھ فلرٹ کرنا نہایت ہی شاندار تجربہ ہے۔ میں اُسے ’’ڈارلنگ‘‘ یا ’’سویٹ ہارٹ‘‘ کہتا ہوں تو وہ ناک چڑھا کر کہتی ہے ’’دفع‘‘۔

"یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا"

یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا- جاوید چوہدری۔23 جنوری 2018میری منو بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات 1996ء میں ہوئی‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا شروع کیا تھا‘ میرے تیسرے یا چوتھے کالم پر منو بھائی کا ٹیلی فون آ گیا‘ وہ اٹک اٹک کر بولے ’’جاوید میں منو بھائی بول رہا ہوں‘‘ میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی‘ وہ فون میری توقعات کی فہرست میں شامل نہیں تھا‘ وہ سچے دل سے تعریف کر رہے تھے۔میں نے ملاقات کی اجازت طلب کی‘ وہ بولے ’’بیٹا ضرور آؤ‘ ضرور ملو‘‘ اور میں اگلے ہی دن چھٹی لے کر لاہور پہنچ گیا‘ میں ریواز گارڈن میں ان کے گھر گیا‘ وہ گرمیوں کے دن تھے ‘ وہ پسینے میں بھیگی قمیض کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے‘ میں ان کے گھٹنے کے ساتھ گھٹنا جوڑ کر بیٹھ گیا‘ وہ سیاسی انتشار کا زمانہ تھا‘ وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور صدر فاروق لغاری کے درمیان اختلافات جوبن پر تھے۔میں نے پوچھا ’’اس لڑائی کا کیا نتیجہ نکلے گا‘‘ وہ فوراً بولے ’’بی بی کی حکومت جائے گی اور نوازشریف آ جائے گا‘‘ میرے لیے یہ جواب غیرمتوقع تھا‘ میرا خیال تھا یہ لڑائی ختم ہو جائے گی اور حکومت اپنی مدت پوری کرے گی لیکن منوبھائی کے ایک فقرے نے میرے خیالات روند کر رکھ دیئے‘ میں ان دنوں آج سے زیادہ بوقوف ہوتا تھا لہٰذا میں نے ان کے ساتھ سینگ پھنسا لیے‘ ان کا کہنا تھا‘ یہ بےنظیر اور فاروق لغاری کی لڑائی نہیں‘ یہ دو وڈیروں کی جنگ ہے اور وہ دو وڈیرے آصف علی زرداری اور سردار فاروق احمدلغاری ہیں۔
یہ دونوں وڈیرے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یوں بےچاری بےنظیر ماری جائے گی‘ میں نے عرض کیا ‘میاں نوازشریف کیسے اقتدار میں آئیں گے‘ وہ مسکرا کر بولے‘ میاں نوازشریف وہ دوسرا کانٹا ہیں جو پہلا کانٹا نکالنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے اور جب پہلا کانٹا نکل جاتا ہے تو پہلے کے ساتھ دوسرا کانٹا بھی پھینک دیا جاتا ہے‘ نوازشریف بےنظیر بھٹو کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں‘ یہ جب پوری طرح استعمال ہو جائیں گے تو یہ بھی ڈمپ کر دیئے جائیں گے۔میں ادب کے ساتھ ان سے اختلاف کرتا رہا لیکن وہ ہنس کر ٹالتے رہے‘ انھوں نے مجھے لکھنے کے چند نسخے بھی عنایت کیے‘ ان کا کہنا تھا‘ کوئی لکھاری اس وقت تک کالمسٹ نہیں بن سکتا جب تک وہ بیس سال تک مسلسل نہ لکھ لے‘ تم نے بھی اگر بیس سال تھکے اور اکتائے بغیر لکھ لیا تو تم بہت اوپر جاؤگے لیکن اگر درمیان میں ہمت ہار گئے تو پھر باقی زندگی ماتم کرتے رہو گے‘ ان کا کہنا تھا‘ اچھا لکھنے کے لیے زیادہ پڑھنا اور زیادہ پھرنا ضروری ہے‘ تم پھرتے رہو اور پڑھتے رہو‘ تمہاری تحریر میں کشش پیدا ہو جائے گی۔مطالعہ گنے کی طرح ہوتا ہے‘ آدھا گلاس رہو کے لیے پانچ فٹ کا گنا بیلنا پڑتا ہے‘ فرمایا‘ کالم نگاری فل ٹائم کام ہے‘ تم یہ بات ذہن سے نکال دو تم کالم نگاری کے ساتھ کوئی دوسرا کام کر سکو گے‘ یہ عشق جیسا جنون ہے‘ یہ بندے کو کسی دوسرے کام کے لائق نہیں چھوڑتا‘ میں نے ان کی نصیحتیں پلے باندھ لیں‘ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور واپس آگیا۔میں چند ماہ میں منوبھائی کی سیاسی بصیرت کا قائل ہوگیا‘ فاروق لغاری نے واقعی بےنظیر بھٹو کی حکومت توڑ دی اور آصف علی زرداری کو جیل میں ڈال دیا‘ نئے الیکشن ہوئے اور میاں نوازشریف اقتدار میں آ گئے‘ میں نے منوبھائی کو فون کیا‘ وہ دیر تک ہنستے رہے‘ وہ چند دن بعد اسلام آباد تشریف لائے‘ میں ملاقات کے لیے ہوٹل گیا‘ میں نے ان سے پوچھا‘ کیا میاں نوازشریف اپنی مدت پوری کر لیں گے‘ وہ ہنس کر بولے‘ مشکل لگتا ہے‘ میں نے وجہ پوچھی‘ وہ بولے‘ نوازشریف پھڈے باز ہیں‘ یہ باز نہیں آئیں گے‘ یہ بھی گھر جائیں گے۔منو بھائی نے اس کے بعد ایک عجیب انکشاف کیا‘ وہ بولے ’’بےنظیر بھٹو تیسری بار وزیراعظم بنے گی‘ یہ اس بار بدلہ لینے کے لیے اقتدار میں آئے گی اور عالمی طاقتیں اس کی سپورٹ کریں گی‘‘ میں نے وجہ پوچھی‘ وہ بولے ’’یہ بری طرح زخمی ہیں اور بھٹو جب زخمی ہوتے ہیں تو یہ خطرناک ہو جاتے ہیں چنانچہ یہ فوج سے انتقام کے لیے واپس آئے گی اور یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہو گا‘‘ منو بھائی کا خیال تھا بےنظیر بھٹو دو اڑھائی سال میں واپس آ جائیں گی۔ان کی یہ پیشن گوئی آدھی غلط ثابت ہو گئی‘ میاں نواز شریف فارغ ہو ئے لیکن جنرل مشرف نے اقتدار بے نظیر بھٹو کے حوالے نہ کیا‘ وہ جلا وطن رہیں‘ منوبھائی کا کہنا تھا‘ یہ ضرور واپس آئے گی اور اپنا ایجنڈا پورا کرے گی‘ محترمہ 2007ء میں واپس آئیں لیکن وہ شہید ہو گئیں‘ منوبھائی کا خیال تھا ’’مارنے والے بے نظیر کے ایجنڈے سے واقف تھے‘ بےنظیر کے بعد یہ کام اب میاں نوازشریف کریں گے‘‘ ان کی یہ پیشن گوئی بھی غلط ثابت ہوئی‘ میاں نوازشریف 2008ء میں حکومت نہ بنا سکے۔پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور وہ جیسے تیسے اپنی مدت پوری کر گئی‘ میں اس دوران انھیں ان کی پیشن گوئی یاد کراتا رہا‘ وہ ہر بار کہتے تھے نوازشریف ضرور آئے گا اور یہ بےنظیر کا ایجنڈا پورا کرے گا‘ میاں نوازشریف 2013ء میں آئے‘ پھڈے شروع ہوئے اور یہ ڈس کوالی فائی ہو گئے‘ میری اگست میں ان سے بات ہوئی ‘ ان کا کہنا تھا نوازشریف کو اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تو یہ چوتھی مرتبہ بھی آئے گا‘ بین الاقوامی طاقتیں اسے سپورٹ کریں گی اور یہ وہ کام کر جائے گا جو بھٹو اور بےنظیرنہیں کر سکی۔میں اکیس برسوں میں ان سے درجنوں مرتبہ ملا‘ میں نے انھیں ہر حال میں کمال انسان پایا‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں سیاسی بصیرت بھی دے رکھی تھی اور دانش ور کا دماغ‘ شاعر کی آنکھ‘ نثر نگار کا مشاہدہ اور ایک صوفی کا ظرف بھی‘ وہ حس مزاح سے بھی لبالب تھے‘ وہ روانی میں ایسا کاٹ دار فقرہ پھینک دیتے تھے کہ آپ پوری زندگی اس فقرے کا لطف لیتے رہتے تھے‘ کسی صاحب نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کی بیگم بھی آپ کو بھائی کہتی ہیں‘‘ وہ عینک کے پیچھے آنکھیں گھما کر بولے ’’وہ پہلے پہل صرف کہتی تھی‘ اب بھائی سمجھتی بھی ہے‘‘۔وہ ایک دن فرمانے لگے ’’ 1947ء میں صرف امیروں کا پاکستان بنا تھا‘ صرف جاگیردار‘ تاجر اور رئیس آزاد ہوئے تھے‘ غریب آدمی کا پاکستان ابھی نہیں بنا‘ غریب ابھی آزاد نہیں ہوئے‘‘ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں لاہور میں ایک تقریب تھی‘ چیف منسٹر مہمان خصوصی تھے‘ منو بھائی اور میں ہوٹل کے سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ گئے۔میرے ہاتھ میں کتاب تھی‘ منو بھائی نے کتاب لی اور ورق گردانی کرنے لگے‘ اتنے میں پرویز الٰہی آ گئے‘ وہ رکے اور بولے ’’چا چا جی تسی تے اج بھی پڑھنے پے او‘‘ منو بھائی نے پرویز الٰہی کو دیکھا اور ہنس کر بولے ’’بھتیجے میں اس بھیڑی عادت دی وجہ نال سی ایم نہیں بن سکا‘‘ (بھتیجے میں اس بری عادت کی وجہ سے سی ایم نہیں بن سکا) چوہدری پرویز الٰہی نے قہقہہ لگایا اور جھک کر ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا‘ میں نے ایکسپریس جوائن کیا تو میں نے انھیں دعوت دی آپ بھی ہمارے پاس آ جائیں۔ہنس کر جواب دیا ’’مرد جب بیوی بدلنے کے قابل نہ رہے تو اسے نوکری نہیں بدلنی چاہیے‘‘ وہ اکثر کہتے تھے ’’یہ ملک پرانی گاڑیوں کے گیئر کی طرح پھنس گیا ہے‘ اب گیئر ٹوٹے گا یا پھر گاڑی‘‘ وہ جسم کے ایک ایک بال تک جمہوریت پسند تھے‘ وہ سمجھتے تھے یہ ملک جب بھی بدلے گا ووٹ کے ذریعے بدلے گا‘ آمریت اس ملک کو کھا جائے گی۔وہ کہتے تھے‘ جنرل ضیاء الحق کے سارے جرائم معاف کر دیئے جائیں تو بھی اس کا ایک جرم معاف نہیں کیا جا سکتا‘ جنرل ضیاء الحق نے مولویوں کو باہر لا کر ملک کا بیڑہ غرق کر دیا‘ وہ بھٹو کے شیدائی تھے‘ وہ نظریاتی لحاظ سے لبرل کمیونسٹ تھے‘ وہ ملک میں انصاف اور برابری دیکھنا چاہتے تھے‘ وہ یہ خواہش لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ملک میں برابری آئی اور نہ ہی انصاف۔منو بھائی صحافی بڑے تھے‘ ادیب‘ شاعر‘ دانش ور یا پھر ڈرامہ نگار یہ فیصلہ کبھی نہیں ہو سکے گا‘ وہ پارس کا قلم لے کر پیدا ہوئے تھے‘ وہ ادب کی جس جس صنف کو چھوتے رہے‘ وہ سونا بنتی رہی یہاں تک کہ ادبی سونے کا انبار لگ گیا اور منو بھائی‘ منو بھائی نہ رہے وہ اردو ادب بن گئے‘ اردو ادب اور اردو صحافت آنے والے وقت میں کہیں بھی پہنچ جائے‘ یہ کسی بھی بلندی تک چلی جائے منو بھائی اس کی جڑ بن کر ہمیشہ زندہ رہیں گے‘ یہ منو بھائی سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکے گی۔منو بھائی بہت بڑے انسان بھی تھے‘ وہ سندس فائونڈیشن سے وابستہ ہوئے اور آخری سانس تک اس کا ساتھ نبھایا‘ سندس فائونڈیشن تھیلیسیما کے شکار بچوں کے لیے تازہ خون کا بندوبست کرتی ہے‘ منو بھائی اپنی اضافی آمدنی بھی اسے دے دیتے تھے اور اس کے لیے رقم بھی جمع کرتے تھے‘ میری ان سے آخری مرتبہ بات ہوئی تو ان کی آواز میں نقاہت تھی‘ وہ بار بار کہہ رہے تھے ’’جاوید میرے بعد میرے بچوں کا خیال رکھنا‘ سندس فائونڈیشن بند نہیں ہونی چاہیے‘ یہ لوگ جب بھی تم سے رابطہ کریں تم نے انھیں انکار نہیں کرنا‘‘ میں نے ان سے وعدہ کر لیا۔منو بھائی 19 جنوری کو 84سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے‘ ہم ہمیشہ رخصت ہونے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’یہ خلاء کبھی پُر نہیں ہو گا‘‘ میں منو بھائی کے بارے میں یہ لکھنا چاہتا ہوں لیکن لکھ نہیں پا رہا‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا میں ہر خلاء پُر ہو جاتا ہے مگر خلیج پُر نہیں ہوتی اور منو بھائی جاتے جاتے صحافت میں خلیج چھوڑ گئے ہیں اور منو بھائی کی خلیج کو منو بھائی کے علاوہ کوئی پُر نہیں کر سکتا‘ یہ جنگل اب ہمیشہ اداس رہے گا۔

"کہانی ایک رات کی"

انسان کی زندگی کہانی رات اور دن کی آنکھ مچولی کے مابین بھاگتےگزرتی ہے۔دن کے کھاتے میں گر ہار جیت کے برابر امکانات ہوتے ہیں تو رات نام ہی شکست کا ہے۔۔۔رات ڈھلتے ہی انسانی قوٰی زوال پذیر ہونے لگتے ہیں یوں رات زندگی سے دور کرتے ہوئے بناوٹ کی موت کا نام ہی تو ہے۔رات بےیقینی بھی ہے کہ کوئی نہیں جانتا آنے والی صُبح کا سورج کیا پیغام لے کر آئے۔وہ رات!!! دو زندگیوں کی بقا کی رات تھی۔۔۔دونوں بہت قریب ہوتے ہوئے،ایک دوسرے کو محسوس کر کے بھی آنے والے وقت سے انجان،اپنی ذات کی تنہائی میں درد کی منازل طے کرتے تھے۔وہ زندگی بخش رات تھی لیکن موت کا خوف ہر چند منٹوں بعد رگِ جاں کی ساری توانائی نچوڑ لیتا۔نظریں گھڑی کی سوئی پر اٹک جاتیں، کبھی یوں لگتا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو پھر اچانک کوئی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا۔نیند تھی اور نہ ہی خواب۔اہم یہ ہے کہ خوف بھی نہ تھا۔۔۔۔ان ہونی کا خوف۔یاد تھی تو بس ایک بات کہ وقت سے پہلے کسی سے کچھ بھی نہیں کہنا اور یہ وقت کیا تھا؟ کب تھا؟ کون جانتا تھا۔۔۔سب اندازے تھے یا حساب کتاب کے پیمانے؟۔اس سمے اگر کوئی دوست تھا تو کتاب میں پڑھے گئے لفظ تھے جو ساری کہانی کی اصل سے آگاہ کیے ہوئے تھے تو دوسری طرف کلام اِلٰہی کا ورد ڈھلتی رات کی تنہائی میں دل کو تسکین دیتا تھا۔
اس رات کا اہم سبق یہ ملا کہ زندگی ہوش وحواس کو ممکن حد تک قابو میں رکھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ہم ساری دُنیا کو جاننے کے جتنے دعوے کر لیں،جب تک اپنی ذات کے اسرار سے واقف نہیں ہوں گے ہمیشہ بند گلی میں سفر کرتے رہیں گے۔
انسان اپنی زندگی میں جتنا اپنے آپ سے،اپنے رویے سے سیکھتا ہے اُتنا کسی اور کے تجربے سے کبھی نہیں سمجھ سکتا،ہماری مشکل ہی یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن ودل پر دستک دئیے بغیر اُن ان جان مہربانوں کی تلاش میں بھٹکتے ہیں جو ہمارے درد کا درماں بن سکیں ۔اسی لیے کبھی سکون نہیں پاتے نہ قرار میں اور نہ ہی بےقراری میں ۔
یہ نصف صدی کے قصے میں گزرنے والی ہزاروں بےنام راتوں اور دنوں کے باب میں سے ایک ایسی رات کا احوال تھا جس کے ہر پل کا منظر آج بھی ذہن میں اُجالے بکھیرتا ہے۔۔۔۔ اجالے!!! شاید اس لیے بھی کہ اس رات کی اذیت کا ثمر ایک مکمل اور کامیاب شخصیت کی صورت ماں کے ساتھ ہے۔۔۔ ماؤں کو اپنے بچے ویسے بھی پیارے ہوتے ہیں۔اللہ صورت کی زیبائی کے ساتھ سیرت میں بھی سچائی اور گہرائی عطا کرے آمین۔
منسلک پوسٹ۔۔۔۔دردِ زہ ۔

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقیبشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ہر ذرّے کا اور ہر انسان کے خیالات اور جذبات و اعمال کا علم بھی اسے ہو، اس قدرت کے عملی پیرائے کیا ہوسکتے ہیں؟ یہ ہر عاقل انسان کے ذہن کو شل کرنے والا سوال ہے لیکن ہماری تسلّی اس طرح کرائی جاتی رہی ہے کہ خدا اور اس کی صفات و قدرت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک درست بات ہے مگرایک سوچتا ذہن جو سائنسی بنیاد پر ہر چیزکا جواز تلاش کرتا ہے، وہ خدا کے حوالے سے بھی تجسّس کا اظہار کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے کہ اسے ہر سوال کا مناسب عقلی استدلال ملے۔ اس دور کے نوجوان سوچتا ذہن رکھتے ہیں اسی لیے ہر عقیدے کا عقلی جواب طلب بھی کرتے ہیں اور تلاش بھی کہ تجسّس بھی اللہ کی تخلیق ہے۔ ہم اپنی عقل کے بموجب یہ جاننے کی سعی تو کر ہی سکتے ہیں کہ خدا کی قدرت کی نوعیت اور پیرائے کیا ہوسکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایسی کھوج سے ہماری ایمانیات پر زد نہیں پڑتی کیونکہ ہمارا ایمان بالغیب ہمیں اللہ کی قدرت پریقین عطا کرتا ہے، مگر عقل کو چین سے بٹھانے کے لیے عقلی دلیل بھی ضروری ہے تاکہ وسوسوں کا راستہ بند ہو۔ اس لیے یہاں ہم اللہ کی عظیم الشّان قدرت کے پیرایوں کے فہم اور عقلی تشریح کے لیئے دلائل کی تلاش میں جدید سائنسی دریافتوں کی مدد لیتے ہیں۔ہماری روزمرّہ کی زندگی میں تیزی سے داخل ہونے والے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون نے سوچنے کے اتنے دریچے کھول دیے ہیں کہ بس دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والے ذہن کی توجّہ کی ضرورت ہے۔ آئیے ہم اس ضمن میں خدا کی قدرت سے قبل انسان کی قدرت پر غور کرتے ہیں کہ وہ کیا کچھ حاصل کرچکا ہے۔انٹرنیٹ یعنی انٹرنیشنل  نیٹ ورک کئی ارب کمپیوٹرز کے مابین رابطے کا عالمی نظام ہے جو انٹرنیٹ پروٹوکول  (آئی پی) کی بنیاد پر چلتا ہے یعنی ہر کمپیوٹر ایک مخصوص نمبر کا حامل ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ ایک الیکٹرانک بازار ہے جس میں ہر طرح کی اشیاء، خدمات اور تفریحات موجود ہیں۔ ایک طرف تاجر نام کے ساتھ (ویب سائٹ) تودوسری طرف خریدار یا تفریح کنندہ آئی پی نمبر کے ساتھ۔ ایک ارب سے زائد ویب سائٹ کے اتنے وسیع عالمی سسٹم میں تلاش، آپس میں رابطے اور معلومات کے حصول کے لیے سرچ سوفٹ وئیر بنائے گئے جو اربوں کھربوں ایڈریس یا معلومات میں سے ہماری مطلوبہ معلومات تک رسائی ممکن بناتے ہیں۔ انہیں سرچ انجن کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے مشہور اور برق رفتار گوگل  ہے۔ ویب سائٹ "نیٹ مارکیٹ شیئر" کی مارچ 2017ء کی رپورٹ کے مطابق روزانہ ساڑھے چھ ارب ویب سرچ میں گوگل کا حصہ ساڑھے چار ارب سے زیادہ ہے۔ اسی لیے یہاں پر انٹر نیٹ سرچ انجن گوگل کی قدرت اور کارکردگی کا، جس کا آپ خود بھی روز مشاہدہ کرتے ہیں، ایک مختصر جائزہ مناسب ہوگا۔ آئیے اس کی دسترس کا اندازہ لگائیں۔گوگل کروم کی انسٹالیشن کے بعد ہمارے کمپیوٹر اور گوگل سرورز کا ان دیکھا رابطہ قائم ہوجاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گوگل پر ہر سکینڈ میں اوسطاً 55 ہزار تلاش کے مطالبے آتے ہیں جن کا انتہائی برق رفتاری سے جواب دیا جاتا ہے۔ جس میں ہر سوال کے جواب کی تلاش میں اوسطاً اعشاریہ دو سیکنڈ میں 1000 کمپیوٹرز کا استعمال ہوتا ہے۔ اس سوفٹ وئیر کی رسائیت کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی تلاش پر کی بورڈ پر ادھورے لکھے سوال کے آگے کے ممکنہ جملے یا ایڈریس بھی یہ ہمارے سامنے لاتا رہتا ہے، تاکہ ہمیں آسانی ہو، بلکہ آپ کی آواز سے بھی کہ، کسی ویب سائٹ کا نام پکاریں تو گوگل اس لنک کو لے آتا ہے۔ ہمارے اسمارٹ فون پرگوگل کی گرفت ایسی ہے کہ اگر کھو جائے تو یہ آپ کو نہ صرف اس کی لوکیشن بتا سکتا ہے بلکہ اس کو لاک کر سکتا اور اس کا ڈیٹا بھی ڈیلیٹ کر سکتا ہے۔ آزمانے کے لیے آپ ابھی کمپیوٹر پر اپنے گوگل اکاؤنٹ  پر جا کر اپنے گوگل رجسٹرڈ اینڈرائیڈandroid موبائل کی تلاش کا آپشن find-my-phone لکھیں تویہ گوگل نقشے پر اس کا مقام ظاہر کر دے گا اور آپ سے آپشن پوچھے گا کہ گھنٹی بجائے، لاک کرے یا ڈیٹا تلف کر دے! مگر آپ صرف گھنٹی بجانے پر اکتفا کریں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ہر وقت کسی کی نگاہ میں ہیں۔کارکردگی اور قوّت کی ایک جھلک:۔2013ء کی رپورٹ کے مطابق گوگل کو ایک ارب سترہ کروڑ افراد استعمال کرتے تھے۔
پندرہ فیصد نئے سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے لیے گوگل روزانہ بیس ارب ویب سائٹ پیجز میں رینگتا ہے۔
نالج گراف ڈیٹا بیس میں پچاس کروڑ ستّر لاکھ اداروں کے 18 ارب حقائق ان کے آپس کے تعلّق کے ساتھ محفوظ ہیں۔
مئی 2017ء میں گوگل نے انکشاف کیا کہ اس کے ماہانہ انڈرائیڈ استعمال کرنے والی ڈیوائسز دو بلین تک پہنچ گئی ہیں۔
گوگل ایک سال میں 2 ٹریلین یعنی بیس کھرب سرچ کرتا ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق بارہ کھرب۔ اس پر 130 کھرب ویب پیج انڈکس ہیں۔
یو ٹیوب پر روزانہ ایک  ارب گھنٹے کی ویڈیو دیکھی جاتی ہیں۔ 2014ء میں اس کے ڈیٹا سنٹر میں استعمال ہونے والی توانائی امریکہ کے تقریباً تین لاکھ سڑسٹھ ہزار گھروں کے استعمال کے برابر تھی۔ گوگل کے تقریباً 78ہزار ملازمین ہیں۔ جی۔میل کو ایک ارب بیس کروڑ افراد استعمال کرتے ہیں۔
کم لوگوں کو علم ہوگا کہ گوگل کا ڈیش بورڈ وہ ڈیٹا بیس ہے جس میں ہر کسٹمر یا یوزر کا ہر طرح کا مکمّل ریکارڈ محفوظ ہوتا رہتاہے۔ اس میں ابتدا سے آج تک کی ہر گوگل ایپ application پر ہماری آپ کی ہر ہر نقل و حرکت تاریخ اور وقت کے ساتھ محفوظ ہوتی ہے۔ یوٹیوب پر اعلانیہ اور خفیہ نظارے اپنی ہسٹری کے ساتھ محفوظ ہیں۔ اس پر ہماری روز کی ہسٹری ڈیلیٹ کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ڈیش بورڈ سے مواد الگ سے تلف کرناپڑتا ہے۔Google.com/history یا myactivity.google.com/myactivity آپ کو اپنی سرچ ہسٹری تک رسائی دے گا، لیکن مطمئن رہیں کہ گوگل آپ کے علاوہ یہ کسی اور کو نہیں دکھاتا۔ سرچ کے علاوہ کئی خدمتی پروگرام بھی ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔سیکنڈ کے بھی ثانیوں میں آپ کے سوال اور تلاش کا جواب نگاہوں کے سامنے آنا اب معمول ہے، لہٰذا اس پر ہم غور کم کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے سسٹم کیا ہے۔
مارچ 2016ء کی ایک محتاط رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف خطّوں میں پچیس لاکھ سرورز کے پھیلے وسیع جال نے گوگل کا یہ محیّرالعقول نظام تخلیق کیا ہے۔ یہ تعداد روز بروز بڑھتی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ 2011ء میں سرورز کی تعداد نو لاکھ تھی۔
اوپر دی گئیں شماریات زیادہ تر مشاہدے اور قیاس و حساب پر ہیں کیونکہ گوگل اپنی کارکردگی عموماً شیئر نہیں کرتا۔ ان کے حوالہ جات آخر میں درج ہیں۔گوگل کی کارکردگی ایک عام انسان کے لیے ناقابل یقین ہو سکتی ہے، لیکن کیونکہ ہمیں اس کے پیچھے سسٹم کا علم ہے، اس لیے یہ ہمارے لیے عجوبہ نہیں رہا۔ گوگل کی مثال سے ثابت ہوا کہ سامنے چلتے کسی بھی بڑے سسٹم کے پیچھے بھی بہت بڑی پلاننگ اور ایک ہمہ گیر کنٹرول سسٹم ہوتا ہے۔ اب ایک قدم آگے جاکر پورے انٹرنیٹ کے نظام کو دیکھیں کہ کس طرح فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، مائیکروسوفٹ، اسکائپ، انسٹا گرام وغیرہ اپنے ایسے ہی مربوط نظام کے ساتھ روبہ عمل ہیں۔ سب سے دلچسپ اور اہم وائی فائی wi-fi (wireless-fidelity) کا ایک ان دیکھا نظام ہے جو کروڑوں اربوں معلومات لیے ہمارے اطراف "غیب" میں موجود ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر اس نظام (wi-fi) سے لاتعلّق ہی رہتے ہیں، مگر جب ہمیں کسی معلومات یا کسی تسکین کی طلب ہوتی ہے تو اس کی بدولت دنیا کی ہر معلومات صحیح یا غلط، چندثانیوں میں کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کی اسکرین پر آموجود ہوتی ہے۔ہمارے مقام قیام سے دیکھا جائے تو اس انٹرنیٹ سسٹم کے دو حصّے ہوئے، ایک وہ جو طبعی یا فزیکل ہے، جس میں کمپیوٹر سرورز، مشینی انفرا اسٹرکچر، خلائی مصنوعی سیّارے اور کیبل کا نظام ہے جو ہماری آنکھوں سے فی الوقت اوجھل ہے، اور دوسرا وہ جو ہمارے اطراف وائی فائی کی شکل میں لیکن غیر مرئی طور پر موجود ہے۔ اس سسٹم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ہمیں ایک ڈیوائس یعنی کمپیوٹر یا موبائل کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس سے ایک تعلّق قائم کر دیتا ہے۔ یہ ڈیوائس ہی، جو وائی فائی کے سگنل کو واپس معلومات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے، اس خاص ماحول کے راز کو فاش کرتی ہے کہ کوئی عام سی فضا حقیقتاً خالی نہیں ہوتی بلکہ ایک بہت فعّال دنیا اس خاموشی میں موجود ہوسکتی ہے جس میں بے پناہ معلومات موجزن ہوں۔اب گوگل کی تشریح کی جائے تو ایک ایسا نظام ہے جو ہر لمحے لاکھوں انسانوں کی بات سن بھی رہا ہے اور جواب بھی دے رہا ہے۔ انھی لمحات میں وہ ہر ہر شخص کے کمپیوٹر کی کلک بھی محفوظ کر رہا ہے گویا فرداً فرداً سب کے اعمال کا ریکارڈ بھی جمع کر رہا ہے۔ وہ سیٹلائٹ سے میپ پر کروڑوں لوگوں کو نہ صرف دنیا کا چپّہ چپّہ دکھاتا رہتا ہے بلکہ اسمارٹ فونزکی نقل و حرکت بھی محفوظ کر رہا ہے، مزید سب کو ٹریفک کی گنجانی بھی بتا رہا ہے۔ اگر اس کا کوئی تعلّق لائیو سیٹلائٹ ریکارڈنگ سے ہو تو سب کی گھر سے باہر کی تمام نقل و حرکت بھی ریکارڈ کر سکتا ہے، کریم اور اُوبر سروسز اس کی مثال ہیں۔ یہ سب کچھ شفّاف حقائق ہیں کہ ایک فعّال نظام بیک وقت کروڑوہا انسانوں سے مختلف پیرایوں میں رابطہ رکھنے کی صلاحیت کا خوگر ہے۔ گوگل انسان کی صلاحیت کو آشکارہ کرتا ہے کہ اس نے کس طرح ایک برق رفتار سسٹم کی تخلیق کی۔ اس سسٹم کی رکھوالی کرنے اور چلانے والے بھی تقریباً 78 ہزار انسان ہیں جو پس پردہ اس کا حصہ ہیں۔ گویایہ ہمہ گیر سسٹم ظاہر اور باطن میں مربوط پیرائے میں جاری ہے جس پر ایک کنٹرولنگ اتھارٹی ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ گوگل انسان کا بنایا ہوا ایک سسٹم ہے تو بھلا جس ہستی نے انسان کو بنایا، وہ کیسے کیسے سسٹم کی تخلیق پر قادر نہ ہوگی۔ اس انٹرنیٹ اور سرچ سسٹم کو سمجھ کر ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کے نظم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔گوگل کے نظام کی روشنی میں اگر ہم اس کائنات کے نظام کی تشریح کرنا چاہیں تو بآسانی بہت سے پہلوؤں کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ اللہ کے نظام جس سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، ہمیں ان کا فی الحال علم نہیں لیکن جدید ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم اور انٹرنیٹ ہم پر واضح کرتے ہیں کہ اس سے برتر نظام عین ممکن ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ کوئی سسٹم بغیر پلاننگ کے نہیں بنتا اور نہ جاری رہ سکتا ہے اور کائنات بھی ایک سسٹم ہے۔ انسان کا اپنے رب سے تعلّق ہونا انتظامی ہی نہیں بلکہ فطری ضرورت بھی ہے۔ دنیا کا ہر ذی حیات اور ہر فرد ایک اسمارٹ فون کی طرح کسی روحانی یا انجانی پروٹوکول سے منسلک ہے۔کائنات وہ سسٹم ہے جس کے دو رخ ہیں، ایک طبعی اور دوسرا غیر مرئی، لیکن انٹرنیٹ سسٹم کے مقابلے میں اس کائناتی نظم میں منفرد بات یہ ہے کہ اس کا یہاں پر معکوس یا اُلٹ اطلاق ہے۔ انٹرنیٹ میں ہم غیر مرئی ماحول (وائی فائی) سے منسلک ہوتے ہیں اور طبعی فنکشنل رخ ہم سے اوجھل اور کہیں دور ہوتا ہے، جبکہ کائناتی ماحول میں ہم طبعی ماحول میں ہوتے ہیں جبکہ اس کا فنکشنل نظم غیر مرئی اور ہمارے حواس سے اوجھل ہے کہ جس میں فطری قوانین، توانائیاں اور قوّتیں شامل ہیں۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر نظام مربوط منصوبہ بندی سے لاگو تو ہوتا ہے مگر اس کی روانی میں مختلف کارندوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کائنات کے نظام کے فنکشنل ہونے میں اللہ کے کارندوں کا جو اہم مقام ہے، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اللہ نے اپنے بعد فرشتوں پر ایمان لازم قرار دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خالق فرشتوں کا محتاج نہ ہونے کے باوجود انسان کو عقلاً بھی مطمئن کر رہا ہے کہ کائناتی سسٹم کس طرح بنایا اور چلایا جا رہاہے۔ یہاں ایک بات اور عیاں ہوتی ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنا خالق بنانے سے پہلے اپنی کچھ صفات کا عکس اس میں منتقل کیا تو اسُی کے باوصف انسان انھی پیرایوں میں اپنے نظام چلا رہا ہے، یعنی پلاننگ، انتظام، اور ناظم سے رابطہ۔ جس طرح گوگل کے نظام کا خالق باہر رہ کر ایک عظیم سسٹم کو رواں رکھتا ہے، غالباً ایسا ہی کوئی نظم ہے کہ اللہ اس سسٹم سے باہر رہ کر کائنات اور زندگی رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔رب سے ایمانی تعلّق کیا ہے؟
گوگل کے اپنے فون انڈرائیڈ کے بلِٹ ان built-in سسٹم سے لیس ہوتے ہیں جس میں اپنا جی میل gmail.account ڈال کر آپ گوگل کے سرور سے منسلک ہوجاتے ہیں، بالکل اسی طرح ہر انسان خدا کے بارے میں ایک built-in فطری تجسّس لیکر پیدا ہوتا ہے جو روح میں پیوست ہے، اور محض اس کا اقرار اس کا رابطہ رب سے قائم کرنے کے پیرائے زندہ activate کر دیتا ہے۔یہاں غور طلب یہ نکتہ ہے کہ ہم انٹرنیٹ کے ماحول یا نظم سے تعلّق اسی وقت قائم کر پاتے ہیں جب ہم اس کے فنکشنل طبعی رخ سے ہم آہنگ کوئی طبعی ڈیوائس استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ کمپیوٹر اور اسمارٹ فون اپنی ہم آہنگ ساخت میں وائی فائی سسٹم یا کیبل کے توسّط سے ہمارا رابطہ انٹرنیٹ کے پس پردہ نظام سے جوڑ دیتے ہیں۔ تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ:
کیا کائنات کے غیر مرئی فنکشنل پیرامیٹرز سے تعلّق جوڑنے کے لیے ہمیں بھی غیر مرئی واسطے درکار نہ ہوں گے؟
جیسا کہ ابھی ہم نے گوگل سے رابطے کے لیے وائی فائی ڈیوائس کا تذکرہ کیا، اسی اُصول پریہ بات بھی عین منطقی ہے کہ کائنات کوچلانے والے غیر مرئی نظام کو جاننے اور اس کے خالق سے رابطے کا کوئی طریقہ یا "ڈیوائس" یعنی رابطوں کے غیر طبعی پیرائے موجود ہوں۔
مگر وہ کیا ہوسکتے ہیں؟
کیا شعور و عقل؟ یا
رسالت، عبادات و نماز تو نہیں؟
غور کریں!
مگر ایک اہم سوال اور:
کیا ڈیش بورڈ کی طرح کوئی اعلیٰ تر خفیہ نظام ہمارے تمام اعمال و حرکات کو محفوظ نہیں کرسکتا؟ اور
کیا کسی نے گوگل کو کبھی دیکھا؟
خدا کا انکار کرنے والے کیا ہمیں گوگل، فیس بک اور مائیکروسوفٹ دکھا سکتے ہیں! ذرا سوچیں!
یہاں مقصد ان کا خدا سے تقابل نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا کے طبعی ماحول میں بھی ایسے غیر مرئی عوامل موجود ہوتے ہیں جو ہمارے اعمال میں سرایت رکھتے ہیں۔کیونکہ جدیدیت کا فلسفہ انسان ہی کو عقل کُل قرار دیتا ہے، اسی لیے اس فلسفے پر ایمان لانے والا جدید انسان خدا کو ایک بےجان اور بےعمل ہستی یا ایک تصوّر سمجھتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید انسان اپنی ننّھی منّی عقل سے اپنی اور کائنات کی ابتدا ہی نہیں سمجھ پا رہا تو بھلا اللہ کو کیسے جان پائے گا۔ اس غیریقینی سوچ اور خبط ِ عظمت کے فطری نتیجے میں جدیدیت کا پیروکار انسان "عقل کے قبض" میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی فکر میں ایسے منفی ذہنی قفل لگ جاتے ہیں، کہ ہٹ دھرمی کے باعث اپنے سے بہت برتر کسی قوّت یعنی خداکو قبول نہیں کر پاتا ۔
ورنہ، کشادہ عقل تو کہہ اٹھتی ہے کہ:
ہر جا تیری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے
حیراں ہوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوںحوالہ جات
http://www.smartinsights.com/sear…/search-engine-statistics/http://www.internetlivestats.com/google-search-statistics/https://expandedramblings.com/…/by-the-numbers-a-gigantic-…/https://www.statista.com/…/unique-users-of-search-engines-…/https://www.cnet.com/…/google-search-scratches-its-brain-5…/http://www.datacenterknowledge.com/…/16/google-data-center-…https://www.theverge.com/…/google-deepmind-ai-data-center-c…https://www.theverge.com/…/android-reaches-2-billion-monthl…https://expandedramblings.com/index.php/gmail-statistics/http://www.dailymail.co.uk/sciencetech/article-3662925/

"لفظ سے لباس تک"

لفظ روح کا لباس ہیں اورلباس انسان کے جسم کی تفسیر۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کی اصلیت لباس میں نہیں جسم میں پنہاں ہے۔اورروح کی گہرائی لفظ سے نہیں عمل سے ماپی جاتی ہے۔بیش قیمت زرق برق لباس وقتی طور دیکھنے والے کو مرعوب کر سکتا ہے۔۔۔نگاہوں کو خیرہ کر سکتا ہے۔۔۔ پرجسم کا راز جسم کو جاننے سے ہی کُھلتا ہے۔ اس کے لیے اپنے جسم کے اسرار ورموزسے آگاہی پہلی شرط ہے۔
اسی طرح الفاظ میں گھن گرج ہو یا بہتے چشموں کی سی نغمگی ۔۔۔ اگر اُن کی روح تک رسائی نہ ہو وہ محض کچھ پل کو متاثر کرتے ہیں۔ لمحاتی طور پر قدم ضرور روک لیتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ کے لیے اپنا اسیر نہیں بنا پاتے۔
لباس ہو یا لفظ موسم اور وقت کے تابع ہوتا ہے اور ببانگ دہل اس کا اظہار کرتا ہے۔ لباس سے موسم کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے تو لفظ سے روح کی کیفیت کا راز کھلتا ہے۔
لباس کی شکنیں رات کی کروٹوں کی غمازی کرتی ہیں تو بےداغ ،بے شکن لباس روزِروشن کی طرح اندر کی کہانی سناتا ہے۔ ذات کے بھید کھولتا ہے۔ 
لفظ انسان کے کردار کی منظر کشی کرتے ہیں۔ سفاک،برہنہ لفظ جگر چھلنی کردیتے ہیں تو کہیں اصل شخصیت کو تہہ درتہہ چھپائے یہ تازہ قلعی شدہ دکھتے ہیں۔ آنچ کی ہلکی سی تپش پا کرجن کی اصلیت جلد ہی سامنے آ جاتی ہے۔ 
!حرفِ آخر
لفظ کی تابندگی خیال کی سچائی کا پتہ دیتی ہے۔بےشک حرف اہم ہیں پریہ ہماری شناخت ہرگز نہیں کہ شناخت صرف عمل سے ہےجو ہر کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے۔جس قول میں عمل کی روح نہ ہو وہ اپنی موجودگی کا بھرپور احساس تو رکھتا ہے لیکن نظروں کو سالہا سال طواف پر مجبور نہیں کر سکتا۔اقوال کیسے ہی کیوں نہ ہوں عمل کی بنیاد ضرور ہوتے ہیں، جو کہنے کی جرات نہیں رکھتا وہ عمل کی کشتی کا ناخدا بھی نہیں ہوا کرتا۔ایسے لوگ بس سب تقدیر کا لکھا کہہ کر جان چھڑا جاتے ہیں۔اس کے باوجود انسان کا کہا گیا حرف آخر نہیں اور وہ خسارے کا سوداگر بھی ہے۔

"خوشی اور آزادی"

خوشی اور آزادی دو ایسے احساسات یا رویے ہیں جو عورت اور مرد کےکردار کی بُنت میں  بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔خوشی سراسر عورت کے وجود سے عبارت ہے تو مرد کی ذات آزادی کی ترجمانی کرتی ہے۔
ایک خاندان اور رشتوں کی عافیت کے سائے میں آنکھ کھولنے والے بچے سے بات شروع کی جائےتو عمر کے پہلے سال  شِیرخوار بچہ یا بچی ایک ہی طرح کا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں اورصرف پہنے جانے والے لباس کے رنگوں کی شوخی اُن کی  شخصی انفرادیت ظاہر کرتی ہے۔بچہ جیسےجیسے چلنے پھرنے اور بھاگنے دوڑنے کے قابل ہوتا ہے اپنی اپنی جنس کے محسوسات کا فرق  نمایاں ہونے لگتا ہےجو نہ صرف گھر کے ماحول بلکہ بچوں کے رویوں میں بھی دِکھتا ہے۔بچیوں کی موجودگی گھر میں رنگوں کی گہماگہمی اور شوخیوں سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ بچے کی توجہ کا مرکز گھر سے زیادہ باہر کی دنیا ہوتی ہے۔۔۔
بچیاں بہت چھوٹی عمر سے ہی اپنے کپڑوں اور اُن کے لوازمات کے بارے میں حساس ہوتی ہیں تو اُن کی عمر کے لڑکے نہ ہونے کے برابر پہنے جانے والےلباس کی پروا کرتے ہیں۔خوشی کی تقاریب اور خاص طور پر عیدین کے مواقع پر گھر میں بچیوں یا بچوں کی موجودگی کا فرق نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔چوڑیوں کی جھنکار،مہندی کی مہک اور رنگ برنگ چمکیلے پیرہن جہاں گھر کو خوشی سے بھردیتے ہیں وہیں  باورچی خانےسے اُٹھتی  کھانوں کی مہک گھر میں  صنفِ نازک کی  اہمیت کا احساس پیدا کرتی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ  گھر میں جنم لیتی یہ رونق گھر کے مرد کی آنکھ کے بغیر  پھیکی اور بےمزہ ہی لگتی ہے،گھر میں کھانا  پکانے سے کھانا کھانے تک کی مصروفیات  مرد کے  نہ ہونے سے اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔
۔"ہوس اگر مرد کی منفی خصلت ہے تو سراہنے والی نگاہ بھی صرف اور صرف مرد  کا ہی خاصہ ہے"۔کائنات  میں رنگ اگر عورت کے دم سے ہیں تو اس رنگ کی پہچان  مرد کی خاص صفت ہے۔گرچہقیمتی سے قیمتی  مکان بھی عورت کے وجود کے بغیر بےحیثیت ہے تو اپنےبھرپور وجود سے مہکتے  مکان  میں عورت کسی رشتے کےحصارمیں نہ  ملے تو وہ کسی گلدان میں خوش رنگ کاغذی پھول کی مانند ہوتی ہے جو گرفت میں آگر پل میں اپنی اصلیت جِتا دیتا ہےجبکہ اپنے مقدس رشتوں کے درمیان اپنی شناخت  گم کرتی عورت،کسی کے احساس سے بےپروا  گھر کے ہر گوشے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔اسی طور مرد کے  ساتھ ساتھ جڑے کسی جائز رشتے  کے بغیر ایک مکمل مکان  بھی  عورت کو کنکریٹ سے بنی چاردیواری  کا تحفظ تو دیتا ہے لیکن اس پنی ذات کی گہرائیوں میں   اِسے بےسکون ہی رکھتا ہے۔
 وقت کا پہیہ  گردش کرتا ہے ،عمر کی گاڑی  کے دھیرے دھیرے سرکنے سے  جہاں بچیاں اپنی ذات کے ہالے میں  جھلکنے والی  شعوری "خوشیاں" سمیٹتی ہیں  وہیں  اپنی ذات سے باہر دکھائی دینے والی  لاشعوری "آزادی" بچوں کو طمانیت سے سرشار رکھتی ہے۔
خوشی اور آزادی کی آنکھ مچولی کھیلتے بےفکرے بچے گھر کے گوشۂ سکون سے نکل کر جب عملی زندگی کے محاذ پر قدم دھرتے ہیں،نئے رشتوں میں اپنے آپ کو سموتے ہیں تو پلک جھپکتے  میں گویا سب ختم ہو جاتا ہے۔عورت کے لیے اپنی ذات سے جڑی بےقیمت خوشیاں حاصلِ زیست تھیں تو اب اپنی ذات ہی دان کرنا پڑتی ہے دوسری طرف مرد جو اپنی ذات سے بےپروا ہر سمت  حرکت کے لیےآزاد تھا تو اب اپنا آپ اپنی ذات کے دائرے میں محدود کرنا پڑتا ہے۔ 
 مقدور بھر اہلیت کے  غلاف میں  اپنی خواہشوں اور ظرف کے کھنکتے سکوں کو سمیٹتے ہم  اپنا خاندان مکمل کرنے کی چاہ  کرتے ہیں۔ انسان کہانی بھی عجیب ہے۔ مرد اور عورت مل کر ایک  رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں۔دنیا کی زندگی کمائی میں اولاد کی آمد لکھی ہو تو خاندان کے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ انگلی پکڑ کر پہلا قدم رکھنے والے وقت گذرنے کے ساتھ کاندھے کو چھونے لگتے ہیں۔یوں ایک "لائف سائیکل" شروع ہو جاتا ہے۔شادی کرنا اپنے فطری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے  سکون کی خاطر ایک دوسرے سے ناواقف مرد اور عورت کے  تازندگی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا احساس ہےاور "نکاح" اسے معاشرے اور مذہب کے دائرے میں لانے کامعاہدہ ہے۔،اس معاہدے  میں فریقین کو جہاں بہت سی شرائط اور قواعدوضوابط کاسامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اُس کی اصل  اور گہرائی کو سمجھنا بھی  بہت اہم ہے۔شادی اگر  جذبات اور احساسات کے بانٹنے کانام ہے تو نکاح اپنے خاندان، اپنی آنے والی نسل اور  معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذات  کے حصار میں جنم لینی والی ذہنی  خوشی  اور شخصی آزادی اپنے آپ تک محدود رکھنے کے احساس اور سمجھوتےکا نام بھی ہے۔  
 نکاح  دراصل اجنبی مرد اور عورت  کے درمیان بننے والا لفظ کا وہ رشتہ ہے جو ان کی رضا سے ایک  ساتھ زندگی بسر کرنے  کی بنیاد رکھتاہے۔لیکن سچ یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لفظ کا نہیں احساس کا رشتہ افضلیت رکھتا ہے۔ اور اس تعلق میں احساسِ ذمہ داری پہلے آتا ہےاور  احساسِ محبت بعد میں۔احساس کا رشتہ ہر رشتے سے بڑھ کر ہے اس کے علاوہ ہر رشتہ محض ذمہ داری  ہے  جسے نبھانا پڑتا ہےچاہے یہ محبت کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔میاں بیوی کے درمیان محبت کا رشتہ ضروری نہیں لیکن ذمہ داری اور احساس کا رشتہ ہونا چاہیےلیکن جب ذمہ داری اور مجبوری کا ہو ،احساس کا نہ ہو تو بڑی گڑبڑ ہو جاتی ہے پھر یہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ اس وقت اگر "خوف کا رشتہ" مل جائے تو بچ جاتا ہے۔کسی  تعلق  کے بکھرنے سے زندگی جڑنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی.زندگی  نے جلد یا بدیر  ہر حال میں بکھرنا تو ہے  ہی ،یہ حتمی ہے تو کیوں نہ تعلق کو بکھرنے سے روکا جائے۔   

"ریل گاڑی"

سفر زندگی ہے اور زندگی سفر کرنے کا نام ہے۔سفرِ زندگی کی بہت سی جِہت ہیں۔یہ اندرونی بیرونی دونوں طور پر ہمارے جسم وجاں پر وارد ہوتا ہے۔ سفر ذہنی بھی ہوتا ہے تو جسمانی بھی۔ ذہنی سفر جب تک جسم پر نہ اُترے اِس کی گہرائی کی شدت کا کبھی اندازہ نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح جسمانی سفر انسان کو ذہنی طور پر ایسی منزلوں سے روشناس کراتا ہے جن کا تصور بھی جسمانی حوالے سے ممکن نہیں۔
ریل کا سفر زندگی کے یادگار تجربات میں سے ایک ہے۔یہ ایک الگ ہی دنیا کی کہانی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم سے لے کر سفر مکمل ہونے تک انسان سوچ سفر کی بہت سی منازل طے کرتا ہے۔یہ سفر ایک نہ بھولنے والا رومانس ہی نہیں حقائقِ زندگی کا ایک انمنٹ باب بھی ہے۔ ریل کا سفر پلیٹ فارم سے شروع ہو جاتا ہے۔ پلیٹ فارم کبھی کسی کا نہ ہوا۔۔۔
لوگ آتے ہیں بیٹھتےہیں انتظار کرتے ہیں اور اپنی مطلوبہ گاڑی پر روانہ ہو جاتے ہیں۔
 زندگی ریل گاڑی کے بند ڈبے میں سفر کرنے کا نام ہے جس میں ہمارے رشتے ہماری ضروریات کا خیال رکھتے ہیں تو ہمارے تعلقات ہماری حسیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
 سرپٹ دوڑتی زندگی کی گاڑی منزل کے قریب آتی جاتی ہے،آخری اسٹیشن کی بتیاں دکھائی دینے لگتی ہیں،نادان مسافر سامان باندھنے اور زادِ سفر مضبوطی سے تھامے رکھنے کی بجائے مُڑ مُر کر نظر کو چھو جانے والے منظروں کو دیکھتا ہے جو پلک جھپکنے تک آنکھ میں ٹھہرے تھے تو کبھی اُن رفقاء کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھتا چلا جاتا ہے جن کا ساتھ کتنا ہی دل کے قریب نہ ہو،وہ پانی پر بنے نقش سے زیادہ پائیدار ہرگز نہیں۔وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح سرکتا ہے اور انجان ہتھیلی میں رہ جانے والے قیمتی احساس کو سنبھالنے کی بجائے دسترس سے نکل جانے والے بےوقعت لمحوں کے سوگ میں ماتم کناں ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھی جانے والی چیز کے معنوں  میں استعمال ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی پہلی منزل سورۂ فاتحہ(1) سے سورۂ النساء (4)تک ہے۔ جس میں میں چار سورتیں، پچاسی(85) رکوع اور چھ سو انہتر(669) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی دوسری منزل سورۂ مائدہ (5)سے سورۂ توبہ  (9)تک ہے جس  میں پانچ سورتیں، چھیاسی(85) رکوع اور چھ سو پچانوے (695)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی تیسری منزل  سورۂ یونس (10)سے سورۂ نحل(16) تک ہے جس میں سات سورتیں، اڑسٹھ(68) رکوع اور چھ سو پینسٹھ (665)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی چوتھی منزل  سورۂ بنی اسرائیل(17) سے سورۂ فرقان (25)تک ہے جس میں نو سورتیں، چھہتر ر(76)کوع اور نو سو تین(903) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی پانچویں منزل  سورۂ الشعراء (26)سے سورۂ یٰس(36)  تک ہے جس میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع(72) اور آٹھ سو چھپن(856) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی چھٹی منزل سورۂ  الصّٰفٰت (37)سے سورۂ الحجرات(49) تک ہے جس  میں  تیرہ سورتیں، انہتر (69)رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی (887)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کی ساتویں منزل  سورۂ ق (50) سے سورۂ الناس (114)تک ہے جس میں پینسٹھ(65) سورتیں، ایک سو دو رکوع(102) اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ (1561)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں (37)، انتالیس رکوع(39) اور پانچ سو چونسٹھ (564)آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ(111) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ(2) ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات  اور چالیس رکوع ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ سورة الکوثر(108) ہے جس کی تین آیات ہیں۔
٭سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے۔(ترمذی)۔٭عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔٭قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔٭قرآن کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔٭قران پاک میں موجودسورتوں کو تنزیل کے اعتبار سے مکی اور مدنی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قران میں موجود 114 سورتوں میں سے 65 مکی ہیں جبکہ 18 سورتیں مدنی ہیں۔سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔
٭ سورۂ النمل (27) میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘دو مرتبہ آئی ہے۔٭ سورۂ توبہ (9) وہ واحد قرانی سورہ ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بغیر شروع ہوتی ہے٭قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔  ٭قران پاک میں دو ایسی سورۂ ہیں جو تین پاروں میں شامل ہیں۔
٭1) سورۂ بقرۂ(2)۔۔۔۔ جو پہلے پارے سے شروع ہوتی ہے اور تیسرے پارے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭2)سورۂ النساء(4)۔۔۔جو پارہ چار سے شروع ہوتی ہے اور پارہ  چھ  میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورہ سے شروع ہوتے ہیں۔
٭1)پارہ 1۔۔۔سورۂ فاتحہ۔سورۂ البقرہ
٭2) پارہ 15۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17)۔
٭3)پارہ17۔۔۔سورۂ الانبیاء(21)۔
٭4) پارۂ 18۔۔ سورۂ المومنون (23)۔
٭5)پارہ26۔۔سورۂ الاحقاف(46)۔
٭6)پارہ28۔سورۂ المجادلہ(58)۔
٭7)پارہ 29۔۔سورۂ الملک(67)۔٭8) پارہ 30۔۔سورۂ النبا(78)۔٭قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطا فرمائے گئے۔۔۔۔حوالہ ۔۔سورة النمل (27) آیت 12۔۔۔۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت 101۔۔٭پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے۔
٭1)سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران(3) آیت (45)۔
٭2)سیدنا اسحاق علیہ السلام ،3) سیدنا یعقوب علیہ السلام۔سورة ھود (11)آیت (71)۔
٭4)سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم(19) آیت (7)۔
٭5)سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف (61)آیت (6)۔لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
٭پورا کلمہ طیبہ  قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا۔٭قرآن کریم میں  صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام آیا ہے۔(سورۂ الاحزاب آیت 37 )۔
٭قرآن میں کسی عورت کانام نہیں آیاہے فقط”حضرت مریم علیہا السلام“کا۔بی بی ”مریم “کانام قرآن میں 34مرتبہ آیاہے۔٭ سورۂ لہب(111)۔۔۔قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا۔عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے۔ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے کی  بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔٭قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورۂ بنی اسرائیل(17) ہے۔٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة طحہٰ (20) ،سورة یٰسین(36) ،سورۂ ص (38)، سورة ق  (50) اور سورۂ القلم 68(سورۂ ن) کے نام  ان سورتوں کے پہلے لفظ  ہیں۔٭قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔
٭1)سورۂ المائدہ(5)۔۔ 2)سورۂ ہود(11)۔۔3)سورۂ الرعد(13)۔۔4) سورۂ طٰہ(20)، ۔۔5)سورۂ روم(30)۔۔ 6)سورۂ ص(38)۔۔ 7)سورۂ محمد(47)۔۔8)سورۂ طور(52)۔۔9)سورۂ ملک(67)۔۔ 10)سورۂ دہر(76)۔َ۔11)سورۂ الاعلی(87)، اور12)سورۂ عصر(103)۔
٭قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے۔قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون بار اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔٭قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی تین سورۂ مبارکہ سورة القمر (54)،سورة الرحمن(55) اورسورة الواقعہ(56)  میں لفظ اللہ نہیں۔٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔  ٭قرآن کریم کی سورۂ التین (95)  کا آغاز دو پھلوں انجیر اور زیتون کے نام سے ہوا ہے۔٭قرآن کریم کی  سورۂ الاعلی(87)  کا اختتام دو نبیوں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسی  علیہ السلام کے نام پر ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورۂ الفاتحہ(1)،سورۂ الانعام(6)،سورۂ الکہف (18)،سورۂسبا(34)،سورۂ فاطر(35)۔٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ   کا آغاز قل سے ہوتا ہے۔
سورة الجن(72)،سورة الکافرون (109)،سورة االاخلاص(112)،سورة الفلق(113)،سورة الناس (109)۔
٭قرآن مجید کی اُنتیس(29)سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔ تمام سورۂ مبارکہ میں حروف  مقطعات  پہلی آیت کے طور پر ہیں۔صرف سورۃ الشوریٰ میں پہلی آیت میں  حٰمٓ اور دوسری آیت میں عٓسٓقٓ ملتا ہے۔٭1)سورۂ البقرۂ(2) ۔الٓـمٓ۔۔2) سورۂ  آل عمران(3) ۔الٓـمٓ ۔۔3)سورہ  الاعراف(7)۔الٓـمٓـصٓ۔ ۔4) سورۂیونس(10 )۔"الٓـرٰ۔۔ 5) سورہ ہود (11) ۔"الٓـرٰ۔۔6)سورہ  یوسف(12)۔"الٓـرٰ۔۔7)سورۂ الرعد (13)۔الٓـمٓـرٰ ۚ۔۔ 8)سورہ ابراہیم (14)۔الٓـرٰ۔۔ 9) سورۂ  الحجر (15)۔ الٓـرٰ۔۔ 10) سورۂ طہٰ (20)۔ ٰطهٰ۔۔11)سورہ  مریم (25)۔ كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ۔ ۔12)سورہ الشعراء (26)۔ٰطسٓمٓ  ۔ ۔13) سورۂ النمل (27)۔ٰطـسٓ ۚ۔۔ 14) سورۂ القصص(28)۔ ٰطسٓمٓ۔۔15)سورہ العنکبوت(29)۔ الٓـمٓ۔۔16)سورۂ الروم (30)۔ الٓـمٓ۔۔17) سورۂ  لقمان (31)۔  الٓـمٓ ۔۔ 18) سورۂ السجدہ (32)۔  الٓـمٓ ۔۔19)سورۂ  یٰس(36)۔يٰـسٓ  ۔۔20)سورۂ ص (38)۔صٓ۔۔21)سورۂ غافر(40)۔حٰمٓ۔
۔22)سورۂ فصلت(41)۔حٰمٓ۔۔ 23) سورۂ الشورٰی (42)۔حٰمٓ۔عٓسٓقٓ (2)۔
۔ 24) سورۂ الزخرف(43)۔حٰمٓ ۔۔25)سورۂ  الدخان(44)۔حٰمٓ۔۔26) سورۂ الجاثیہ (45)۔حٰمٓ۔۔27) سورۂ  الاحقاف(46)۔حٰمٓ۔۔28)سورۂ ق(50)۔ قٓ ۚ۔۔29)سورۂ  القلم (68)۔نٓ ۚ۔٭چھ سورۂ مبارکہ  سورة البقرة (2)،سورة آل عمران(3) سورة العنکبوت(29)،سورة الروم(30)،سورة لقمان(31) اور سورة السجدہ(32)"الٓــمٓ" سے شروع ہوتی ہیں۔٭قرآن کریم میں دو سورتوں سورة الشعراء (26)اورسورة القصص(28) کا آغاز "طسٓمٓ  "سے ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة الاحقاف(46) ۔٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ سورة یونس(10)سورة ہود(11)سورة یوسف(12)سورة ابراہیم(14) اورسورۂ الحجر (15)    کا آغاز"الٓـرٰ"سے ہوتا ہے۔٭قرآن کریم کی  چار سورتیں سورة الحدید(57)،سورة الحشر(59)اورسورة الصف(61) سورۂ الاعلیٰ (87)  "  سَبَّحَ "سے شروع ہوتی ہیں۔٭قرآن کریم میں دو سورتوں  سورة الجمعہ(62) اور سورة التغابن(64) کا آغاز " يُسَبِّـحُ" سے ہوتا ہے۔٭دو سورتوںسورة الفرقان(25) اورسورة الملک(67) کی ابتدا "تَبَارَكَ الَّـذِىْ" سے ہوتی ہے۔٭چار سورتوں سورة الفتح(48)،سورة نوح(71)،سورة القدر(97) اور سورة الکوثر(108)  کی ابتداء "اِنَّا" سے ہوتی ہے۔٭دو سورتیں  سورة المطفیفین(83)، سورة الھمزہ(104) کا آغاز" وَيْلٌ" سے ہوتا ہے۔٭ سات سورتیں سورۂ واقعہ56،سورۂ المنافقون63،سورۂ التکویر81،سورۂ انفطار82 ، سورۂ انشقاق84،سورۂ نصر110اور سورۂ زلزال99  ۔۔  ” اِذَا 'سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ بیس سورۂ مبارکہ  "قسم" ،"و" سے شروع ہوتی ہیں۔۔سورۂ الصافات 37۔۔۔سورۂ ص 38۔۔۔سورۂ ق 50۔۔۔سورۂ ذاریات 51۔۔۔سورۂ طور 52۔۔۔سورۂ نجم 53۔۔۔سورۂ ن 68۔۔۔سورۂ قیامت 75۔۔۔ سورۂ مرسلات 77۔۔۔سورۂ نازعات79۔۔۔سورۂ البروج 85۔۔۔سورۂ طارق86۔۔۔۔سورۂ فجر 89۔۔۔سورۂ بلد90۔۔۔۔سورۂ شمس 91۔۔۔سورۂ ضحیٰ 93۔۔۔سورۂ تین 95۔۔۔سورۂ عادیات 100۔۔۔سورۂ عصر 103 سورۂ لیل105۔۔۔۔٭قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ " پکارا گیا ہے۔٭تین سورتوں  سورة الاحزاب(33) ،سور ة الطلاق(65) اور سورة التحریم (66)کی ابتدا " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ"سے ہوتی ہے۔
٭قرآن کے تیسویں پارے میں37سورتیں ہیں۔٭ قرآن کریم میں  چار فرشتوں کے نام آئے ہیں۔۔(1) جبریل۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98،سورۂ التحریم(66) آیت 4۔۔۔
۔(2) میکائیل۔ ۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98۔۔ 
۔(3) مالک۔۔سورۂ الزخرف(43) آیت 77۔
۔(4) ہاروت و ماروت۔۔سورۂ بقرہ (2) آیت 102۔۔۔٭ فرشتوں کی صفات کے نام پر  تین سورتیں  ہیں ۔
۔1)سورہ الصافات (37)ـ 2)سورۂ معارج(70) ـ3)سورہ مرسلات (77)،4)سورہ نازعات (79)ـ،بعض نے اس سے مراد فرشتوں کو لیا ہے ـ٭ قیامت کے نام پر یا قیامت کی خوفناکیوں کے نام پر تیرہ سورتیں آئی ہیں ـ
۔1) سورہ الدخان 44۔۔ 2)سورہ الواقعہ56 ـ۔ 3)سورہ الحشر59۔۔ 4)سورہ التغابن64۔۔ 5)سورہ الحاقہ 69۔۔ 6)سورہ قیامہ75۔۔ 7)سورہ النبا78۔۔ 8)سورہ التکویر 81ـ 9)سورہ النفطار82۔۔ 10)سورہ الانشقاق84۔۔ 13)سورہ غاشیہ 88۔۔12)سورہ الزلزال 99۔۔13)سورہ القارعہ 101ـ٭ازمان و اوقات کے نام پر آٹھ سورتیں ہیں۔۔(1) سورہ الحج،(2) سورہ جمعہ،(3)سورہ فجر،(4) سورہ لیل ،(5)سورہ ضحٰی، (6) سورہ القدر، (7) سورہ العصر،(8) سورہ فلق،۔٭ مقامات کے نام پر سات سورتیں ہیں۔۔۔
۔(1)سورہ اعراف 7۔
۔(2) سورہ الحجر 15۔
۔(3)سورہ الاحقاف46۔
۔(4) سورہ طور52۔
۔(5) سورہ البلد90۔
۔(6) سورہ الککوثر108۔
۔(7) سورہ التین95۔
٭قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے۔مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار٭قران پاک میں  چھ پھلوں کے نام ہیں۔۔۔  کھجور،انگور،انار،کیلا،انجیر،زیتون
کھجور (نخل) ۔انگور(اعناب)۔۔۔سورۂ الانعام 6، آیت 99۔۔
انار (رمان)۔۔۔سورۂ  الرحمٰن55 آیت 68۔۔
کیلا۔۔۔ سورۂ واقعہ56 ،آیت 29
انجیر،زیتون(سورۂ والتین95)۔۔٭قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔ساگ، لہسن ،ککڑی  اور پیاز(البقرۂ2،آیت61)۔٭قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے۔یثرب،بابل اور مکہ۔٭قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے۔کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور( سورہ طور52)۔
٭دو دریاؤں کے نام قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔دریاۓ نیل (سورہ انبیاء ) اور دریائے فرات(سورہ فرقان25،سورۂ فاطر 35) ۔٭قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے۔
لوہا (سورۂ حدید57۔آیت 25)۔
سونا،چاندی(سورۂ دہر ِ76۔آِیت 16اورآیت 21)۔
تانبا(سورۂ الکہف18۔آیت96)۔٭قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے۔
کھجور(سورۂ الکہف18۔آیت 32)۔
بیری(سورۂ واقعہ56۔آیت 28)۔
  زیتون(سورۂ التین 95)۔
٭قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر ہیں۔
سورۂ البقرة(2) گائے۔۔
سورۂ الانعام(6)مویشی۔۔
سورۂ النحل(16)شہد کی مکھی۔۔
سورة النمل(27)چیونٹیاں۔۔
سورۂ العنکبوت(29)مکڑی۔۔
سورةۂ العادیات(100)گھوڑے۔۔
سورة الفیل(105)ہاتھی۔۔
٭قرآن کریم میں چارپرندوں کا ذکر آیا ہے۔
٭1)بٹیر(سلویٰ)سورۂ البقرہ(2) آیت(57)۔٭2)کوا (غراب)۔سورۂ المائدہ(5) آیت(31)۔
٭3)  ہدہد۔سورۂ النمل(27) آیت (20) ۔
٭4)  ابابیل۔سورۂ الفیل 105۔

" اعجازِآیاتِ قرانی"

٭قرآن مجید کی  سورہ الحجر(15) کی آیت (9)  میں اللہ نے حفاظت قرآن کا وعدہ لیا ہے۔
آیت ترجمہ۔"ہم نے یہ نصیحت اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں"۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت سورة البقرہ (2)کی آیت (282) ہے۔اس آیتِ قرانی میں 'الف' سے لے کر 'ی' تک حروفِ تہجی موجود ہیں۔
٭آیت الکرسی قرآن مجید کی  سورۂ بقرۂ (2) کی آیت 255  ہے۔
٭وسط کلمہ قرآن ”وَلْيَتَلَطَّفْ“ہے جو سورہ کہف (18) آیت 19میں آیاہے۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی آیت(پانچ حرفی) سورة المدثر کی آیت (21)ہے۔
آیت۔۔"ثم نظر"( پھر تامل کیا)۔٭قرآن کریم کا سب سے بڑا رکوع سورۂ الصّٰفٰتت(37) کا دوسرا رکوع ہے جس میں تریپن(53) آیات ہیں۔٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا رکوع سورة المزمل(73) کا دوسرا رکوع ہے جس میں ایک ہی آیت ہے۔٭قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسماء الحسنےٰ کا ذکر سورة الحشر (59)کی آیت 23میں ہے۔
٭سورہ ”الزمر (39)کی پہلی آیت اور آخری آیت میں لفظ ”اللہ“ آیا ہے۔
٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی  دو آیات ایسی ہیں  جن کو الٹی سمت میں بھی پڑھا جائے تو مطلب اور تلفظ وہی رہتا ہے۔
٭ كُلٌّ فِىْ فَلَكٍ ۔۔۔۔۔سورة الانبیا،(21) آیت (33)۔
٭ رَبَّكَ فَكَـبِّـرْ۔۔۔۔۔۔سورة المدثر(74)، آیت (3)۔٭قرآن کریم میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی آیت سورة الرحمن(55) میں ہے جو اکتیس بار(31) دہرائی گئی ہے۔
"فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ"
ترجمہ آیت۔۔پس تم اپنے پردردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
٭سورة الاخلاص(112) کی تمام آیات "د"پر ختم ہوتی ہیں۔٭ قران پاک کی   تین سورتوں میں تین  آیات ایسی ہیں جن میں "الف" سے لے کر "ی" تک حروفِ تہجی موجود ہیں۔
  ٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیت 282۔
٭2)سورۂ آلِ عمران (3) آیت154۔
٭3)سورۂ فتح آیت 29۔٭سورة التوبہ(9) کی آیت نمبر 36 میں بتایا گیا ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔
 ترجمہ آیت 36۔۔۔بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
٭قرآن کریم کی سورۂ  الحاقہ(69)، آیت (17)میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے تھام رکھا ہو گا۔
 ترجمہ آیت 17۔۔۔"اور اس کے کنارے پر فرشتے ہوں گے، اور عرشِ الٰہی کو اپنے اوپر اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے"۔
٭قرآن مجید کی سورۃ الحج آیت 73میں مکھیوں کا ذکر آیا ہوا ہے۔
 ترجمہ آیت73۔۔۔ "اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع ہوجائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے، عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں"۔
٭قرآن کریم میں سورۂ فرقان25 اور سورۂ رحمٰن55 میں دو دریاؤں کا ذکر آیا ہے کہ ایک ساتھ بہنے کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا۔ یہ دونوں دریا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں واقع ہیں۔
آیات  ترجمہ ۔۔۔
٭1)سورۂ فرقان 25۔۔۔آیت 53۔۔۔اوروہی ہےجس نے دو دریاؤں کو  آپس میں ملا دیا۔ یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے۔اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ  بنا دی۔
٭سورۂ الرحمٰن 55۔۔۔ آیت 19،20 ۔اس نے دو سمندر ملا دیے جو باہم ملتے ہیں(19)۔ان دونوں میں پردہ ہے کہ وہ حد سے تجاوز نہیں کرسکتے(20)۔

" قرانِ ہاک کی دعائیہ آیات "

افَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ ۔۔۔سورۂ النساء(4) آیت 176۔۔۔سورہ محمد(47) آیت 38)۔ ترجمہ۔۔"پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے "۔
قرآن حکیم  کا موضوع " انسان" ہے اور  کتابِ مقدس میں  اللہ رب العزت نے  اپنی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں  ہمیں دعاؤں کے عظیم  تحائف عطا کیے ہیں۔آیاتِ قرانی کی یہ دعائیں انبیاء علہیم السلام  کے حالاتِ زندگی کے سیاق وسباق  کےحوالے سے ہیں تو کہیں  اللہ کے برگزیدہ بندوں اور اہلِ علم کی دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ  نے  قران مجید کے وسیلے سے ہمیں سکھائیں۔  دعاؤں والی آیات  درج ذیل ہیں۔
٭حضرت آدم علیہ السلام کی دعا ۔۔۔
سورۃ الاعراف (7) ،آیت 23۔۔اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں  بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا۔ تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔٭حضرت نوح علیہ السلام کی دعا۔۔۔٭1)سورۂ ھود (11)آیت 47 ۔۔۔اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں،اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤںگا۔٭2)سورۂ المومنون(23) ۔آیات 26۔29۔
اے رب تو میری مدد کر کیونکہ انہو ں نے مجھے جھٹلایا ہے(26)۔
پروردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ تو بہترین جگہ اُتارنے والا ہے(29)۔
٭3)سورۂ قمر(54) آیت 10۔۔۔ اے میرے رب میں تو مغلوب ہوگیا  تو میری مدد کر۔٭4)سورۂ نوح(71) آیات۔28،10۔۔۔
پس میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو بےشک وہ بڑا بخشنے والا ہے(10)۔
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ کو  بخش دے اور جو بھی ایماندار ہو کر میرے گھر میں  داخل ہو اور تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا (28)۔٭حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی دعا۔۔۔
٭1)سورۂ البقرہ(2) آیات۔129،128،127۔۔۔۔
ترجمہ۔۔اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما،بےشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے(127)۔
اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرمانبردار بنا، اور ہمیں طریقِ عبادت بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بےشک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(128)۔
اے ہمارے رب! اور ان میں  ایک رسول  انہی میں سے مبعوث کرجو ان  پر تیری آیتیں  تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، بےشک تو ہی غالب حکمت والا ہے (128)۔  
٭2)سورۃ الصافات(37)آیت 100۔۔اے میرے رب! مجھے ایک صالح (لڑکا) عطا کر۔
٭3) سورۂ ابراھیم (14)آیات 41-40۔۔
 اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق  عطا فرما(40)۔پروردگار! میری دعا قبول فرما، پروردگار  مجھے،میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو  حساب قائم ہونے کے دن بخش دے(41)۔
٭4) سورۂ الشعرا (26)  آیت 83۔۔ اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر،اور مجھے جنت کے وارثوں میں شامل فرما اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بےشک  وہ  گمراہ لوگوں میں سے ہے اور مجھے اس دن رسوا نہ کر، جب کہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔
٭5)سورۂ الممتحنہ(60) آیت4۔5۔۔۔
اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے(4)۔
اے ہمارے رب! ہمیں ان کی  آزمائش میں نہ ڈال جنہوں نے کفر کیا اور اے ہمارے رب ہمیں معاف کر، بےشک تو ہی غالب حکمت  والا ہے(5)۔ 
٭حضرتلوط علیہ السلام  کی دعا۔۔۔
سورۂ العنکبوت(29)آیت۔30۔۔اے میرے رب! فساد پھیلانے والی قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔۔٭حضرت یعقوب علیہ السلام کی دعا۔۔۔سورۂ یوسف(12)۔۔آیت86۔۔۔۔میں تو اپنی پریشانی اور غم کا اظہار اللہ ہی کے سامنے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔٭حضرت  یوسف علیہ السلام کی  دعا۔۔۔سورۃ یوسف(12)آیات 33۔101۔۔
اے میرے رب میرے لیے قید خانہ بہتر ہے اس کام سے کہ جس کی طرف مجھے بلا رہی ہیں، اور اگر تو مجھ سے ان کے  فریب دفع نہ کرے گا تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا(33)۔
اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا، زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا(101)۔٭حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا۔۔۔
سورۂ الانبیاء(21) آیت 81۔۔ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔٭حضرتشعیب علیہ السلام کی دعا۔۔۔سورۂ الاعراف( 7) آیت 89۔۔۔ اے ہمارے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔٭حضرت موسی علیہ السلام کی  دعا۔۔۔٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیت۔67۔۔۔میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوں۔
٭2) سورۂ الاعراف (7) آیت 151۔۔۔ اے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے۔٭3)سورۂ اعراف(7) آیات۔۔155۔156۔۔۔
تو ہی ہمارا کارساز ہے سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے(155)۔
اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی کہ ہم نے تیری طرف رجوع کیا(156)۔
٭4)سورۃ طہ(20)،آیات 25تا28۔۔۔
اے میرے رب! میرا سینہ  کھول دے(25)۔ا
ور میراکام آسان کر دے(26)۔ اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے(27)۔
تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں(28)۔
٭ 5)سورۂ القصص(28) ۔۔
آیات ۔۔16،17،21،22،24۔۔۔ 
اے میرے رب!  میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو مجھے بخش دے ،پھر اسے بخش دیا، بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے(16)۔اے میرے رب! جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا ہے پھر میں گناہگاروں کا کبھی مددگار نہیں ہوں گا(17)۔اے میرے رب! مجھے ظالم قوم سے بچا لے(21)۔امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتا دے گا(22)۔اے میرے رب  جو بھی خیر تو مجھ پر نازل کرے  میں اس کا محتاج ہوں(24)۔ ٭حضرت آسیہ (زوجہ فرعون) کی دعا۔۔۔سورۂ تحریم(66) آیت 11۔۔۔اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالموں کی قوم سے نجات دے۔٭حضرت  داؤد علیہ السلام  کی دعا ۔۔۔سورۂ البقرۂ (2) آیت250۔۔ترجمہ۔۔اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ کے مقابلے میں فتح نصیب فرما۔٭حضرتسلیمان علیہ السلام کی دعا۔۔۔٭1)سورۂ النمل(27) آیت19۔۔۔اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے،اورایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔٭2) سورۂ  ص (38) آیت 35۔۔۔میرے رب ! مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو بےشک تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔
٭ملکہ سبا   (بلقیس)کی دعا۔۔۔
سورۂ النمل (27) آیت 44۔۔۔اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ کی فرمانبردار ہوئی جو سارے جہاں کا رب ہے۔٭حضرت یونس علیہ السلام کی دعا۔۔۔
سورۃ الانبیاء(21)آیت87۔۔۔کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔٭حضرت  زکریا علیہ  السلام کی دعا۔۔۔سورۂ آلِ عمران(3) آیت 38۔ ترجمہ۔۔پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر،  بےشک تو ہی دعا سننے والا ہے۔  سورۂ الانبیا (21) آیت 89) اے پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور تو بہترین وارث  ہے۔٭حضرت محمدﷺ کی  دعا۔۔۔
٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیات 285۔286۔۔۔ترجمہ۔۔۔رسولﷺ  ایمان لائے جو کچھ اُن پر اُن کے رب کی طرف سے نازل ہوا  اور ایمان والے بھی، سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں  پر مان لیا ہے، ہم اللہ کے رسولوں  میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں  کرتے، اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے(285)۔اللہ کسی کو اس کی طاقت  سے زیادہ  تکلیف نہیں دیتا، نیکی کا فائدہ بھی اسی کو ہوگا اور برائی کی زد بھی اسی پر پڑے گی، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے  ہمارے رب! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے ہمارے پروردگار !  اور  ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہمیں معاف کر دے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر،تو ہی ہمارا مولیٰ ہے، کافروں پر ہماری نصرت فرما (286)۔٭2)سورۂ طٰہٰ 20) آیت14۔۔ اے پروردگار! مجھے مزید علم عطا کر۔٭3)سورۂ آلِ عمران(3) آیت 16۔ترجمہ۔۔اے  ہمارے رب! ہم ایمان لے لائے  سو ہم کو  ہمارے گناہ  معاف فرما اور ہمیں  آگ کے عذاب سے بچا لے۔
٭اصحابِ کہف کی دعا۔۔۔سورۂ کہف(18) آیت 10۔۔۔اے ہمارے پروردگار!  ہم پر  اپنے پاس سے  رحمت عطا فرما اور  اس  معاملے میں  ہماری رہنمائی فرما۔
٭انبیاء کی دعا ۔۔۔۔۔
 سورۂ آلِ عمران(3) !یت 147۔۔ترجمہ ۔۔۔ پروردگار  معاف کردے ہمارے گناہوں کو اور جو زیارتیاں  ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ۔ہم کو ثابت  قدم رکھ اور کافروں پر فتح  عنایت فرما۔
٭ اہلِ ایمان  کی  دعائیں۔۔۔۔
٭1)سورۂ البقرہ(2) آیت201۔۔ترجمہ۔اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں  بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی  بھلائی  بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
٭2)سورۂ مومنون(23) ۔۔۔
اے میرے رب تو مجھے ظالموں میں شامل نہ کر(94)۔
 اے میرے رب میں شیطانی خطرات سے تیری پناہ مانگتا ہوں(97)۔
 اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئیں(98)۔اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے(109)۔اے میرے رب معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے  بڑھ کررحم  کرنے والا  ہے(118)۔٭3) حضرت موسیٰ  کی قوم میں سے اہلِ ایمان کی دعا۔۔۔
سورۂ یونس (10) آیت85۔۔،86۔۔۔اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ظالموں کی قوم کی آزمائش میں  نہ  ڈال۔ اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے ۔٭4)سورۂ فرقان((25)۔
۔آیت 65۔۔۔اے ہمارے رب دوزخ کے عذاب کو ہم سے  دور رکھیو۔آیت74۔۔۔ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔٭ 5)سورۂ حشر(59) آیت10۔۔۔اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان  لائے اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ نہ پیدا ہونے دے۔اے ہمارے رب بےشک تو بڑاشفقت 
کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اہلِ جنت کی دعا۔۔۔
سورۂ التحریم(66) آیت 9۔۔۔اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے،بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ ٭حاملینَ عرش(عرش کے فرشتے) کی دعا۔۔۔
سورۂ المومن(40) آیات ۔۔7،8،9۔۔۔۔
اے ہمارے رب تیری رحمت اور تیرا علم سب پر حاوی ہے پھر جن لوگوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے پر چلتے ہیں انہیں بخش دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے(7)۔
اے ہمارے رب! اور انہیں ہمیشہ قائم رہنے والی جنتوں میں داخل کر  جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور  ان کو بھی  جو ان کے آباءاجداد  اور ان کی بیویوں  اور ان کی اولاد میں سے نیک ہیں،بےشک تو غالب حکمت والا ہے(8)۔اور انہیں برائیوں سے بچا،اورجس کو تو اس دن برائیوں سے بچائے گا سو اس پر تو نے رحم کر دیا، اور یہ بڑی کامیابی ہے(9)۔
٭ اہلِ علم کی دعا۔۔۔۔
 سورۂ آلِ عمران(3) آیت۔8۔ ترجمہ۔۔اے پروردگار!جب تو  نے ہمیں  ہدایت بخشی ہےْتو ہمارے دلوں کو  نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں  رحمت عطا فرما،بےشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے۔
٭والدین کے لیے دعا۔۔۔
 سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت24۔۔۔۔ اے  میرے رب  تو اُن پر رحم فر ما جیسا کہ  انہوں نے مجھےبچپن میں پرورش کیا۔ 

"آپ یہ پلے باندھ لیں "

آپ یہ پلے باندھ لیں - کالم از جاوید چوہدری
روزنامہ ایکسپریس۔24 ستمبر2017
آپ اگر پاکستانی ہیں اور آپ اور آپ کا خاندان اگر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے تو آپ کو یہ چند سبق اپنے دماغ کی گرہ سے باندھ لینے چاہئیں۔پہلا سبق‘ ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق‘ غلام اسحاق خان‘ فاروق احمد لغاری‘ بینظیر بھٹو‘ جنرل پرویز مشرف اور شریف فیملی کا تجزیہ کر لیجیے‘ یہ لوگ ملک کے طاقتور ترین لوگ تھے لیکن ان کا کیا حشر ہوا‘ ان کا کیا حشر ہو رہا ہے؟ آپ ملک کے پانچ سابق آرمی چیفس کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو ان کی حالت پر بھی ترس آئے گا‘ آپ چیف جسٹس حضرات کے ساتھ ہونے والی ’’اَن ہونیوں‘‘ کی فہرست بھی بنا لیں‘ آپ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دیکھ لیجیے۔ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں چیف جسٹس انصاف کے لیے عوام کا سہارا لینے پر مجبور ہوگیا تھا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے پولیس کے طاقتور افسروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھیں‘ ججوں کو اپنی فائلیں اٹھا کر مارے مارے پھرتے دیکھا اور نیب کے افسروں کو تحریری معافی مانگتے دیکھا‘ میں نے ملک کے طاقتور ترین سیاسی خاندان کو پورے خاندان سمیت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتے اور عوام کے سامنے دہائیاں دیتے بھی دیکھا‘ میں نے جنرل پرویز مشرف کو ملک سے بھاگتے بھی دیکھا‘ میں نے ملک کے نامور بیورو کریٹس کو جیلوں میں دھکے کھاتے بھی دیکھا اور میں نے مرتضیٰ بھٹو جیسے لوگوں کو بینظیر بھٹو کی حکومت میں کراچی کی سڑک پر تڑپتے بھی دیکھا‘ صدر ایوب خان کے دور میں ملک میں 22 امیر ترین خاندان تھے‘ وہ تمام خاندان بھٹو کے دور میں ختم ہو گئے‘ بینکوں اور بحری جہازوں کے مالک دس برسوں میں کوڑیوں کے محتاج ہو گئے‘ دنیا کی سب سے بڑی کارگو کمپنی کراچی میں تھی‘ اس کے پاس ساڑھے تین سو بحری جہاز تھے‘ آج اس کا مالک لاہور میں گم نام زندگی گزار رہا ہے۔چو این لائی بیکو کمپنی کی فیکٹری دیکھنے لاہور آئے تھے‘ بیکو کے مالک سی ایم لطیف بعد ازاں جرمنی کے ایک گاؤں میں گم نام زندگی گزار کر فوت ہوئے‘ شریف فیملی تین بار زیرو ہوئی‘ ملک ریاض ملک کے امیر اور بااثر ترین شخص ہیں‘ میں انھیں 20 سال سے حکومتوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھ رہا ہوں‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ برسوں میں اپنی لیڈر بینظیر کو انصاف نہ دے سکی‘ آصف علی زرداری کے خلاف آج بھی کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں‘ میاں نواز شریف اقامے کی بنیاد پر نااہل ہو چکے ہیں‘ شہباز شریف کے خلاف 14 لوگوں کے قتل کی سماعت شروع ہو رہی ہے اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے حج سکینڈل اور ایفی ڈرین کا تاج سر پر سجا کر پھر رہے ہیں جب کہ جنرل پرویز مشرف کے ریڈ وارنٹ جاری ہو رہے ہیں چنانچہ آپ جنرل ہیں‘ سیاستدان ہیں‘ جج ہیں‘ بزنس مین ہیں، بیورو کریٹ ہیں یا پھر عام انسان ہیں ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو اس ملک میں بہرحال اس خوف کے ساتھ زندگی گزارنی ہو گی۔دوسرا سبق‘ آپ اگر اس ملک میں خوش حال ہیں اور غیرمعروف ہیں تو پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں‘ آپ لاکھوں لوگوں سے بہتر زندگی گزار سکتے ہیں‘ آپ پھر تمام محکموں‘ تمام اداروں کو ’’مینج‘‘ کر لیں گے‘ آپ صبح اٹھیں‘ ناشتہ کریں‘ دفتر جائیں‘ پیسے کمائیں‘ شام کو واک کریں‘ فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزاریں اور نو بجے سو جائیں‘ آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن جس دن آپ کے پاس پیسے کم ہو گئے یا آپ ’’لائم لائیٹ‘‘ میں آ گئے یا لوگ آپ کے نام اور شکل سے واقف ہو گئے اس دن آپ کی زندگی عذاب ہو جائے گی‘ اس دن آپ دھوتی سنبھالنے پرمجبور ہو جائیں گے۔تیسرا سبق‘ ہمارے ملک میں انسان کے پاس پیسہ ضرور ہونا چاہیے لیکن یہ ضرورت سے بہت زیادہ نہیں ہونا چاہیے‘ آپ کے پاس اگر پیسہ نہیں تو عذاب ہے اور یہ اگر بہت زیادہ ہے تو یہ بہت بڑا عذاب ہے‘ میں نے پوری زندگی کسی شخص کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھا لیکن میں لوگوں کو زیادہ کھانے کی وجہ سے روز مرتے دیکھتا ہوں‘ میں لوگوں کو غربت کی وجہ سے پریشان دیکھتا ہوں لیکن میں نے آج تک کسی رئیس شخص کو بھی خوش نہیں دیکھا‘ ہمارے ملک میں لوگوں کو غربت نہیں مارتی ہمیشہ امارت مارتی ہے‘ آپ کے پاس اگر ضرورت سے چار گناہ زیادہ دولت موجود ہے تو پھر آپ کسی دن اپنے سالے‘ بہنوئی‘ بھائی‘ داماد یا پھر نالائق بیٹے کی ہوس کا لقمہ بن جائیں گے‘ میں نے آج تک رئیس لوگوں کو صرف کورٹس‘ کچہریوں‘ اسپتالوں اور قبرستانوں میں دیکھا ہے۔میں نے انھیں والد کے جنازے میں بھی لڑتے دیکھا چنانچہ آپ اگر اچھی اور پرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی دولت کو کسی بھی حالت میں خوش حالی سے اوپر نہ جانے دیں‘ آپ کا بیٹا جس دن کھڑے کھڑے ڈیڑھ دو کروڑ روپے کی گاڑی خرید لے یا پھر اپنی گھڑی‘ اپنی گاڑی اور اپنا گھر جوئے پر لگا دے یا ایک دو کروڑ روپے کی جائیداد ٹیلی فون پر بیچ دے آپ اس دن ڈر جائیں‘ آپ اس دن اپنی آدھی رقم خیرات کر دیں ورنہ دوسری صورت میں آپ کا اختتام اسپتال یا پھر سڑک پر ہو گا‘ میں ایک صاحب کو جانتا ہوں‘ وہ خوشحال تھے‘ وہ جو کماتے تھے وہ اپنے اوپر‘ اپنے خاندان کے اوپر اور اپنی آل اولاد کی تعلیم پر خرچ کر دیتے تھے اور جو بچ جاتا تھا وہ اسے خیرات کر دیتے تھے‘ وہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے ترکے میں کچھ نہیں تھا‘ ان کے بچے آج بھی اکٹھے رہ رہے ہیں‘ یہ سب یک جان‘ یک قالب ہیں جب کہ ان کے دوسرے بھائی نے زندگی بھر دولت کمائی‘ وہ اپنے بچوں کے لیے کروڑوں روپے چھوڑ کر گئے‘ بچے والد کے انتقال کے بعد جائیداد کے لیے لڑے اور یہ آج تک لڑ رہے ہیں‘ سگے بھائی بہن ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں چنانچہ آپ کوشش کریں آپ کی دولت خوش حالی سے اوپر نہ جائے‘ یہ اگر چلی جائے تو آپ اسے ویلفیئر میں لگا دیں‘ آپ بھی بچ جائیں گے‘ آپ کا خاندان بھی اور معاشرہ بھی۔چوتھا سبق‘آپ جہاں تک ممکن ہو ڈاکٹر اور ادویات سے پرہیز کریں‘ میں نے پاکستان میں ادویات‘ ڈاکٹروں اور اسپتالوں پر اعتبار کرنے والے لوگوں کو ہمیشہ روتے دیکھا‘ ملک میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز ڈاکٹروں کے بجائے قصائی پیدا کر رہے ہیں‘ یہ ناتجربہ کار بھی ہیں اور اناڑی بھی‘ پرائیویٹ اسپتال باقاعدہ مذبح خانے ہیں‘ آپ پیٹ درد لے کر جائیں گے اور یہ آپ کا پورا پیٹ کھول کر رکھ دیں گے‘ آپ انجکشن لگواتے اور آپریشن کرواتے ہوئے دس دس مرتبہ ’’کاؤنٹر چیک‘‘ کر لیا کریں‘ میں نے بےشمار مریضوں کو ’’اوور ڈوز‘‘ اور غلط انجکشن کی وجہ سے مرتے دیکھا‘ میرے ایک دوست ایک وقت میں صرف ایک انجکشن خریدتے ہیں۔یہ دو دن سے زائد دواء بھی نہیں خریدتے‘ یہ کہتے ہیں میں نے ایک بار دو انجکشن لے لیے تھے‘ نرس نے مجھے دونوں انجکشن اکٹھے لگا دیے تھے اور میں مرتا مرتا بچا تھا‘ ایف بی آر کے ایک ممبر نے بیٹے کے لیے انجکشن کی بڑی شیشی خرید لی‘ شیشی میں دس دن کی ڈوز تھی‘ بچے کو روز ایک سی سی انجکشن لگنا تھا لیکن نرس نے پوری شیشی ڈرپ میں ڈال دی‘ بچہ تڑپ کر مر گیا‘ ہم آئے روز دایاں کے بجائے بایاں گردہ نکلنے اور رائیٹ کے بجائے لیفٹ آنکھ کے آپریشن کی خبریں سنتے رہتے ہیں اور میرے ایک دوست بال لگوانے اور دوسرے پیٹ کی چربی کم کرانے (لائپو سیکشن) کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں چنانچہ آپ کوشش کریں آپ کسی قسم کی کاسمیٹک سرجری نہ کرائیں‘ آپ آپریشن ہمیشہ تجربہ کار اور سمجھ دار سرجن سے کرائیں خواہ آپ کو اس کی کتنی ہی فیس کیوں نہ ادا کرنی پڑ جائے اور آپ کو جب کوئی ڈاکٹر دوائی لکھ کر دے تو آپ اس نسخے کو کسی دوسرے ڈاکٹر کو بھی چیک کرا لیا کریں‘ آپ کوشش کریں آپ کم کھانا کھائیں‘ روزانہ ورزش کریں اور گھی اور چربی استعمال نہ کریں‘ یہ تین عادتیں آپ کو ڈاکٹر‘ اسپتال اور ادویات سے دور رکھیں گے اور یوں آپ اپنی موت اپنے ہاتھوں سے لکھنے سے بچ جائیں گے۔پانچواں سبق‘ انسان کے لیے ایک اللہ‘ ایک بیوی اور ایک موبائل کافی ہوتا ہے‘ میں نے ہمیشہ زیادہ خداؤں‘ زیادہ بیویوں اور زیادہ موبائل والے لوگوں کو پریشان دیکھا‘ یہ اکثر اوقات جلدی فوت ہو جاتے ہیں‘ پاکستان جیسے معاشرے میں ایک کے بعد دوسری شادی حماقت ہے‘ آپ اس حماقت سے جتنا بچ سکتے ہیں آپ بچ جائیں‘ دوسرا موبائل بھی انسان کی ٹینشن میں ہزار گنا اضافہ کر دیتا ہے اور آپ اگر ایک خدا سے مطمئن نہیں ہیں تو پھر آپ نعوذ باللہ ہزاروں خداؤں سے بھی خوش نہیں ہو سکتے چنانچہ ایک اللہ‘ ایک بیوی اور ایک موبائل فون زندگی اچھی گزرے گی ورنہ پوری پوری بربادی ہے اور چھٹا سبق‘ آپ یہ بات پلے باندھ لیں آپ کو اس معاشرے میں روزانہ عزت نفس اور انا کی قربانی دینا پڑے گی‘ آپ جب بھی گھر سے باہر نکلیں گے‘ آپ جس کے ساتھ بھی لین دین کریں گے اور آپ جس سرکاری یا غیرسرکاری دفتر میں جائیں گے آپ کے ساتھ دھوکہ بھی ہو گا‘ آپ کے ساتھ وعدہ خلافی بھی ہوگی اور آپ کی عزت نفس بھی ضرور روندی جائے گی چنانچہ آپ جب بھی کسی سے ملیں اور آپ جب بھی کسی کے ساتھ ڈیل کریں آپ ذہنی طور پر انا کی قربانی کے لیے تیار رہیں آپ کو کم تکلیف ہو گی ورنہ آپ بہت جلد بلڈپریشر کے مریض بن جائیں گے‘ آپ میانی صاحب پہنچ جائیں گے۔

قرانِ پاک کی سورتیں

  قران پاک کی وہ سورتیں جوایک سے زیادہ ناموں سے جانی جاتی  ہیں۔۔۔٭ 1)سورۂ فاتحہ(1)۔۔۔ سورۂ واجبہ۔۔اُم القران٭2)سورۂ التوبہ(9)۔۔سورۂ البراءَۃ۔٭3)سورۂ بنی اسرائیل(17) ۔۔۔۔سورۂ الاسراء٭ 4)سورۂ فاطر(35)۔۔سورۂ الملائکہ۔۔٭5) سورۂ یسٰین(36)۔۔قلب القران٭ 6)سورۂ المومن(40)۔۔۔سورۂ ٖ غافر٭7)سورۂ حٰم السجدۂ (41)۔۔ سورۂ فُصِّلَت٭8)سورۂ محمد(47) ۔۔سورۂ قتال٭ 9)سورۂ الطلاق(65) ۔۔نساء صغرٰی٭10)سورۂ المجادلہ(58)۔۔۔سورۂ ظہار٭ 11)سورۂ ملک(67)۔۔سورہ تبارک ۔۔سورۂ  مانعہ ( باز رکھنے والی)،سورۂ واقیہ (حفاظت کرنے والی) ،سورۂ  منّاعہ(بہت زيادہ باز رکھنے والی اور روکنے والی)۔٭12)سورۂ القلم(68)۔۔۔سورۂ ن۔۔٭13)سورۂ دہر(76)۔۔۔سورۂ الانسان٭14)سورہ النباء (78)۔۔ سورہ تساؤل اور سورۂ عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ۔ ٭15)سورۂ الکافرون(109) ۔۔ربع قران٭16)سورۂ اخلاص(112)۔۔سورۂ صمد۔۔سورۂ نجات۔۔سورۂ اساس۔۔سورۂ معوذۂ۔۔سورۂ تفرید۔۔سورۂ تجرید۔۔۔سورۂ جمال۔۔سورۂ ایمان۔٭17) سورۂ فلق(113)،سورۂ الناس(114)۔۔۔معوذتین

"سجدۂ تلاوت"

قران پاک کی  آیاتِ کریمہ کی تلاوت کرتے ہوئے یا سنتے ہوئے پندرہ  ایسے متعین  مقامات  ہیں  جہاں رُک کر سجدہ کرنا واجب ہے۔ان میں سے چودہ  مقاماتِ سجدہ تو متفق علیہ ہیں جبکہ سورۂ حج کے دوسرےسجدے(آیت77) میں کچھ آئمہ کرام کے نزدیک اختلاف ہے۔ ایسے تمام  پندرہ مقاماتِِ  سجدہ تلاوت  درج ذیل ہیں۔ ٭1)سورۂ االاعراف(7)۔۔ آیت 206 ۔٭2)سورۂ الرعد (13) آیت 15۔
٭3) سورۂ النحل(16)  آیت 49 ۔
٭4)سورۂ الاسراء (17) آیت 107۔(109) ۔
٭5) سورۂ مریم۔(19)۔آیت 58۔ ٭6)سورۂ الحج(22)آیت 18۔۔
٭7) سورۂ الحج(22)آیت 77  (بقول امام شافعی)۔
٭8) الفرقان(25) آیت60۔۔
٭9) سورۂ النمل(27)۔۔۔آیت 25۔
٭10)سورۂ السجدہ(32)۔۔۔آیت 15۔
٭11)سورۂ ص(38) آیت 24۔
٭12)سورۂ حم السجدہ۔(41)۔۔ آیت 37 ۔(38)۔
٭13) سورۂ النجم(53)۔آیت 62۔
٭14)سورۂ  الانشقاق(84)۔۔۔آیت 21۔
٭15)سورۂ العلق(96)۔۔آیت 19۔

"کردار سے دائرہ کار تک"

معاشرہ فرد سے بنتا ہے۔مرد اورعورت معاشرے کے بنیادی جزو ہیں۔معاشرتی،معاشی،اخلاقی اورمذہبی زنجیروں سےقطع نظردنیا کا ہرانسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنے افعال وکردار میں آزاد پیدا ہوتا ہے۔ساری زندگی اِن زنجیروں کی جھنکار اسے اُس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔۔یہ قید طاقت بھی ہے جو درحقیقت اُس کی سیماب صفت فطرت کے لیے آب حیات کا کام کرتی ہے۔انسان اپنی طبعی عمر پوری کر کےاس فانی دنیا کی ہر قید وبند سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔آگے کی جزاوسزا ایک الگ کائنات کی کہانی ہے۔مرد کا دائرہ کار اُس کے کردار کا تعین کرتا ہےجبکہ گھر میں عورت کا کردار اُس کے دائرہ کار کی راہ متعین کرتا ہے۔گھر اور معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے مرد اور عورت دونوں اپنے طور پر ہمیشہ سے اُلجھن کا شکار رہے ہیں ایک"تہذیب یافتہ"معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سب جانتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی حقائق کو اپنے خیال پر فوقیت دینا پڑتی ہے۔اگر مرد اپنی ذاتی زندگی میں کم ازکم خیال کی حد تک عورت کی اہمیت اور ضرورت محسوس کر لے اورعورت حقیقت کی آنکھ سے دیکھ کر اپنا اصل مقام پہچان لے۔۔۔ توجہاں مثبت طرزفکر مرد کی گھریلو زندگی پرسکون بنا دیتا ہے۔۔۔وہیں اپنے اصل مقام کی پہچان اور اس سے دیانت داری عورت کے لیے فکر وخیال کی نئی دنیاؤں کے راستے کھول سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا خواب وخیال کی بات ہے۔۔ ہر وہ عورت جو ایک بنے بنائے راستے پر نہ چلنا چاہے اورخود سے وابستہ رشتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے بھی صرف اپنی ذات کے لیے ایک نئے راستے کی چاہ کرے ۔اس کے لیے یہ سفر عشق کے سفر کی طرح پہاڑ میں سے دودھ کی نہر نکالنے کے مترادف ہے۔عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی جانتے ہوئے،مانتے ہوئے بھی سب اُس سے خائف رہتے ہیں۔عورت کا اصل مقام صرف اس کا گھر ہے۔وہ گوشۂ عافیت خواہ جہاں اس کی سوچ کی عزت دو کوڑی کی بھی نہ ہو۔۔۔ اس کے ذہن کو نہیں اس کے جسم کو اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔اس کی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کی وجہ سے اس کو پہچانا جاتا ہے،عورت جتنا جلد یہ بات سمجھ جائے اتنا جلد سمجھوتہ کرنے میں آسانی رہتی ہےلیکن یہ وہ پھانس ہے جو اکثر بہت چبھن دیتی ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی کمزور اور ان پڑھ عورت کے مسائل سے پرے وہ عورت جو ڈگری یافتہ ہی کیوں نہ ہو اور معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتی ہو اپنے گھر والوں کے حوالے سے ناقدری کی سوچ کبھی نہ کبھی اس کو ڈنگ ضرور مارتی ہے۔کچھ کے لیے یہ زہر زندگی بخش ثابت ہوتا ہے اور وہ اسے کہیں  اندر جذب کر کے،سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔عورت کی دوسری انتہا،ایک اور رُخ یہ ہے کہ  بظاہر ترقی وکامرانی کی بلندیاں ہی کیوں نہ چھوتی نظر آئیں،کچھ آگہی کے اس  زہر کے اثر سے  زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف خود کو تباہ کر بیٹھتی ہیں بلکہ ایک خاندان اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔اس بارے میں ہم تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اندر کی بات نہ جانتے ہوئے بھی گھر بچانے میں عورت کا کردار مرد سے زیادہ اہم ہےاور زیادہ ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔۔  دیکھنے والی آنکھ ہر دو رویے بخوبی  محسوس کر سکتی ہے۔

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮ 
بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا ‘واجپائی نے مسکرا کر جواب دیا ’’مشرف کو سینس آف ہسٹری نہیں تھی‘‘ آپ کو یہ جواب یقینا عجیب محسوس ہوگا لیکن آپ جب گہرائی میں جا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا لیڈروں اور قوموں کیلئے سینس آف ہسٹری لازم ہوتی ہے‘ آپ اگرتاریخ کے بہاؤ کو نہیں سمجھتے تو آپ حال سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اور آپ مستقبل بھی تعمیر نہیں کر سکتے‘ آپ خلاء میں گردش کرتے رہتے ہیں‘ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور دوسری تلخ حقیقت یہ ہے ہم اور ہمارے لیڈر دونوں سینس آف ہسٹری سے محروم ہیں چنانچہ ہم ستر برس سے اندھوں کی طرح ہاتھی کی دم کو پورا ہاتھی سمجھ رہے ہیں اور یہ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔میں اپنی جذباتی قوم کو پوری ’’سینس آف ہسٹری‘‘ نہیں دے سکتاتاہم میں دونقطے پیش کرسکتا ہوں‘ ہم ان نقطوں پر غور کر کے اپنے بےشمارفکری قبلے درست کر سکتے ہیں‘ ہم پہلے جمہوریت کی طرف آتے ہیں‘ پاکستان میں ستر برسوں میں 23 سویلین وزیراعظم آئے‘ چھ وزراء اعظم نگران اور 17 باقاعدہ وزیراعظم بنے‘ ان17 وزراء اعظم میں سے کوئی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا‘ یہ تمام لوگ خوفناک انجام کا شکار بھی ہوئے‘۔ آپ خان لیاقت علی خان سے شروع کر لیجئے‘ یہ چار سال وزیراعظم رہے ‘ راولپنڈی میں شہید کر دیئے گئے‘۔خواجہ ناظم الدین دو سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور باقی زندگی مشرقی پاکستان میں گمنامی میں گزار دی‘۔محمدعلی بوگرہ سال سال کے دو دورانیے میں دو سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور خاموشی سے ڈھاکہ میں فوت ہوگئے‘۔ چودھری محمدعلی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دئیے گئے اور باقی زندگی عسرت میں گزار دی‘۔حسین شہیدسہروردی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ مایوس ہو کر وطن چھوڑا اور لبنان میں انتقال کر گئے‘۔اسماعیل احمدچندریگر دو ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں لندن میں فوت ہوئے‘ ۔فیروزخان نون دس ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ سیاست سے کنارہ کش ہوئے اور اپنے گاؤں نورپور نون میں انتقال کر گئے‘۔نورالامین 13 دن کیلئے وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اورراولپنڈی میں گمنامی میں انتقال کر گئے‘۔ذوالفقارعلی بھٹو پہلے تین سال سات ماہ وزیراعظم رہے پھر چار ماہ کیلئے وزیراعظم بنے‘ ہٹائے گئے اور پھانسی چڑھا دیئے گئے‘۔ محمدعلی جونیجو اڑھائی سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں انتقال ہوا‘۔بےنظیر بھٹو دو بار وزیراعظم بنیں دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دی گئیں‘ جلا وطن رہیں اور آخر میں شہید ہو گئیں‘۔ میاں نواز شریف دو بار وزیراعظم بنے‘ دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دیئے گئے‘ جلاوطن ہوئے‘ واپس آئے‘ تیسری بار وزیراعظم بنے اور ہٹائے جا رہے ہیں'(28 جولائی 2017کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیتے ہوئے نوازشریف کو  وزیرِاعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا)۔میر ظفر اللہ جمالی واحد بلوچ وزیراعظم تھے‘پونے دو سال بعد ہٹا دیئے گئے اور مایوسی‘ تاسف اور گمنامی میں زندگی گزار رہے ہیں‘۔ شوکت عزیز تین سال وزیراعظم رہے‘ ملک سے باہر گئے اور دوبارہ واپس نہیں آئے‘ ۔یوسف رضا گیلانی چار سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ عدالتو ںمیں کیس بھگت رہے ہیں۔راجہ پرویز اشرف آٹھ ماہ وزیراعظم رہے ‘ یہ بھی اس وقت نیب کے مقدمات فیس کر رہے ہیں‘۔وزراء اعظم کی اس ہسٹری سے تین سینس ملتی ہیں‘۔۔۔۔ اول‘ہمارا کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرتا‘یہ ہٹایا جاتا ہے اور یہ ہٹائے جانے کے بعد عبرت اور مایوسی کی زندگی گزارتا ہے‘۔دوم‘ ہمارا ہر وزیراعظم عدالتوں میں دھکے ضرور کھاتا ہے اور یہ دھکے کھاتے کھاتے آخر میں گمنامی میں مرجاتا ہے اورسوم ملک کے 17وزراء اعظم میں سے گیارہ انتقال کر چکے ہیں‘ قوم ذوالفقارعلی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کے علاوہ کسی کی قبر سے واقف نہیں‘ یہ تمام قصہ پارینہ بن چکے ہیں‘ ۔آپ اب دوسری سینس آف ہسٹری ملاحظہ کیجئے۔پاکستان میں چار مارشل لاء لگے‘ جنرل ایوب خان‘جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے‘ جنرل یحییٰ خان کے سوا تین جرنیلوں نے دس دس سال حکومت کی‘ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار شہادت کے بعد ختم ہوا جبکہ باقی تینوں جنرلز عوامی تحریک کے ذریعے فارغ ہوئے ‘ تینوں کے خلاف مقدمے بنے لیکن کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا‘ کسی کو سزا نہیں ہوئی‘ پاکستان میں جب بھی فوجی حکومت آئی خطے میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوئی ‘امریکا نے پاکستان کواپنااتحادی بنا کر اس جنگ میں ضرور جھونکااور آخر میں پاکستان اور فوجی آمر دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا‘ جنرل ایوب کے دور میں امریکا اور سوویت یونین کی ’’کولڈ وار‘‘ہوئی‘ پاکستان روس کے خلاف امریکا کا اتحادی بنا‘ ہم نے اپنے فوجی اڈے تک دیئے اور ایوب خان کے دور میں 1965ء کی جنگ بھی ہوئی‘ امریکا نے یحییٰ خان کو چین کیلئے کے لئے استعمال کیا‘ 1971ء کی جنگ ہوئی‘ پاکستان ٹوٹ گیااور امریکا نے یحییٰ خان کو بھی اکیلا چھوڑدیا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان وار ہوئی‘امریکا نے پاکستان کو جی بھر کر استعمال کیا اور اکیلا چھوڑ دیا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہوئی‘پاکستان اس بار بھی امریکا کااتحادی بنا اور خوفناک نقصانات اٹھائے۔ ہم اگر تاریخ کی ان دونوں سینسز کو سامنے رکھیں تو ہم بڑی آسانی سے چند نتائج اخذ کر سکتے ہیں‘۔ ہمارا پہلا نتیجہ یہ ہو گا پاکستان میں کوئی جمہوری وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکتا‘ اقتدار سے رخصت ہونے والا ہر وزیراعظم گمنامی‘جلاوطنی اور مقدمے بھگتے گا اور اگریہ خاموشی اختیار نہیں کرے گا تو اس کی قبر پر گز گز لمبی گھاس اگ آئے گی‘۔دوسرا نتیجہ‘ فوجی اقتدار کم از کم دس سال پر محیط ہو گا‘ ان دس برسوں میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوگی‘پاکستان اس جنگ کا اتحادی بنے گا ‘ امریکا آخر میں پاکستان اورفوجی آمر دونوں کو تنہاچھوڑد ے گا‘ پاکستان پر مزید امریکی پابندیاں لگیں گی‘ ملک مزید کمزور ہو گا‘ جمہوری حکومت آئے گی‘ نئے لیڈر ڈویلپ ہوں گے‘یہ ایک دو برسوں کے اقتدار کے بعد اختیار مانگیں گے ‘یہ ہٹا دیئے جائیں گے‘یہ مقدمے بھگتیں گے‘یہ جلاوطن ہوں گے اور یہ تڑپتے سسکتے ہوئے گمنامی میں انتقال کر جائیں گے‘۔تیسرا نتیجہ‘ ملک میں ہر ’’تبدیلی‘‘ کے بعد پہلے سے زیادہ کم عقل‘ نالائق‘ ناتجربہ کار اور کرپٹ لوگ اوپر آئیں گے‘ یہ لوگ بھی جب ضمیر کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جائیں گے‘ یہ جب ملک اور سسٹم سے مخلص ہو جائیں گے تو یہ بھی ہٹا دیئے جائیں گے اور ان کی جگہ ان سے بدتر لوگ سامنے آ جائیں گے‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ کسی دن پارلیمنٹس کا ڈیٹا جمع کر لیجئے آپ کو ہر نئی پارلیمنٹ پرانی پارلیمنٹ کے مقابلے میں زیادہ نالائق اور زیادہ کرپٹ لوگوں کا مجمع ملے گی‘ آپ کو ملک میں ہر وہ شخص بھی زیادہ دیر تک مسند اقتدار پر نظر آئے گا جس نے کچھ نہیں کیا اور ہر اس شخص کی مدت کم ہوگی جو کچھ کرنے کی غلطی کربیٹھا ہو‘ ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے سات لوگ مسند اقتدار تک پہنچے‘ان میں سے ایک نے آئین بنانے کی غلطی کی اور وہ عبرت کی نشانی بن گیااور چوتھا نتیجہ ‘ ہماری ستر برس کی تاریخ نے ہماری جمہوریت اور فوج دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کئے‘ دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہوئی اور جمہوریت اور فوج دونوں اس خلیج سے کمزور ہوتے چلے گئے‘اس خلیج نے ہمارا بیوروکریٹک سسٹم بھی تباکر دیا‘ ملک میں احتساب اور انصاف کا جنازہ بھی نکل گیا اور ملک میں سیاسی چیلوں کا ایک ایسا غول بھی پیدا ہوگیا جو ہر وقت اقتدار کی خوراک کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے‘یہ لوگ پرانا تالاب سوکھنے سے پہلے اڑ جاتے ہیں اور جہاں نئے چشمے کے آثار پیدا ہوتے ہیں یہ وہاں ڈیرے ڈال لیتے ہیں‘ ان سیاسی چیلوں نے پورے ملک کا کلچر خراب کر دیا ‘ ہم سب مفادپرست ہو چکے ہیں اور ہم سب روز داؤ لگانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں‘ ہمارا پورا معاشرہ گل سڑ چکا ہے۔ہمارے پاس اب کیا آپشن ہیں‘ ہمارے پاس اب دو آپشن ہیں‘ ہم یہ سلسلہ اسی طرح چلنے دیں اور قدرتی عمل کے بعد تاریخ کے خاموش قبرستان میں دفن ہو جائیں یا پھر ہم تاریخ کا دھارا بدل دیں‘ ہم اگر دوسرا آپشن لیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بات پلے باندھنا ہو گی کہ یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور یہ جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا چنانچہ دونوں طاقتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا‘ دوسرا‘ فوج اور عدلیہ کسی قیمت پر سیاست میں مداخلت نہ کریں‘ سیاسی جنگیں ہونے دیں‘یہ جنگیں سیاست کو خودبخود ٹھیک کر لیں گی اور تیسرا‘سیاسی قائدین قسم کھا لیں یہ پارٹی کو پارٹی کی طرح چلائیں گے‘ یہ اسے جاگیر یا فیکٹری نہیں بنائیں گے‘ یہ دوسروں کوغیر جمہوری طریقے سے ہٹائیں گے بھی نہیں اور عوام بھی یہ فیصلہ کر لیں ہم اپنے ووٹ کو جائےنماز کی طرح پاک رکھیں گے‘ یہ ملک بچ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچے گا اور ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا احتساب اور انصاف کے بغیرکوئی ملک ترقی نہیں کرتا‘ترقی بالٹی کی طرح ہوتی ہے اور کرپشن اور ناانصافی اس بالٹی کے سوراخ ہوتے ہیں‘ ہم جب تک یہ سوراخ بند نہیں کریں گے ہماری بالٹی اس وقت تک نہیں بھرے گی چنانچہ میاں نواز شریف کی موجودگی میں ہو یا پھر ان کے بعد ہو ہمیں بہرحال احتساب اورانصاف کا مضبوط سسٹم بنانا ہوگا‘ ایک ایسا سسٹم جو اگر مشرق کو مغرب کہہ دے تو پھر مغرب مشرق ہو جائے‘ کوئی اس ہونے کو روک نہ سکے اور ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر ہمارے ساتھ وہ ہو کر رہے گا جو ہم سے پہلے تاریخ میں ہم جیسی قوموں کے ساتھ ہوتا رہا تھا۔

Pages