ساحل

اک شہر آرزو



قدرت اللہ شہاب نے کہا تھا : "چندراوتی سے جب مجھے عشق ہوا تو اس کو مرے ہوئے تین دن ہوچکے تھے "۔ ہمیں بھی کراچی سے عشق اس وقت ہوا جب اسے چھوڑے ہوئے ہمیں عرصہ بیت چکا تھا ۔ اس تعبیر کے لیے منیر نیازی مرحوم کا سہارا لیتے ہیں ۔ محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگیگزر جایئنگے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگیمحبت ان لمحوں سے نہیں ہوتی جنہیں بعد کی زندگی میں ہم اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں ،ان کی یاد سے ہوجایا کرتی ہے ۔ وہ لمحے جو ذہن کے کینوس پر ایک دائمی یاد بن کر نقش ہوجاتے ہیں اس مصور کے شاہکار کی طرح جس  کے ہاتھ اس کے بعد قلم کردیے گئے ہوں ۔ کراچی میں ہم نے جو عرصہ گزارا وہ بھی یونہی گزرا ، عام سی زندگی کے الٹ پھیر کرتے دن رات کی طرح ۔ اس وقت پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کون سے یاد گار دن گزار رہے ہیں ۔ ہر شخص کی طرح ہم بھی یوں ہی بیزار اوردل گرفتہ سے رہے منیر نیازی ہی کے بقول:
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنیجس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنااکتائے اکتائے سے ہم کراچی میں بھی رہے اور کراچی پر کیا موقوف ہم تو بعد کی زندگی میں بھی کوئی روح افزا قہقہہ نہیں لگاسکے ۔ وہ قہقہہ جو بھر پور زندگی کا ایک احساس دلائے ۔ ہاں کراچی میں بیتے ہوئے طالب علمانہ زندگی کی شوخ چشمیاں یاد دلاتے ہیں تو یہ اس احساس سے دل کو یک گونہ تسلی مل ہی جاتی ہے کہ کبھی ہم بھی بھر پور زندگی جی چکے ہیں ۔ کسی نے کہا تھا کراچی ایک بے تکلف شہر ہے۔ بے تکلف ہوگا یہ کسی کے لیے ، ہمارے لیے تو یہ اس محبوب کی طرح تھا بقول غالبسادگی وپرکاری ، بے خود وہوشیاریحسن کو تغافل میں صبر آزما پایااس شہر کی تغافل اندازیوں نے ہمیں کھل کے گلے لگنے بھی نہ دیا مگر کبھی ہم نے اس سے گلوخلاصی کی کوشش بھی نہیں کی ۔" کبھی چلمن کبھی جلوہ"کی اس آنکھ مچولی میں ہمیں قطعی یقین نہیں تھا کہ کبھی ہم دل کا ایک حصہ کراچی کی یاد ہی میں تڑپتا محسوس کریں گے ۔ کراچی ایک نشہ ہے جو تلخ ہونے کے باوجود انتہائی میٹھا اور پرکشش ہے ۔ اس کی تلخی میں ایک چاشنی ہے جس سے اس شہر میں ایک دن گزارنے والا ہو یا ساری زندگی ، کبھی سیراب نہ ہوسکا ۔ ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے اس شہر نے لاکھوں غریبوں کو بھی اپنی آغوش میں جگہ دلائی ہے ۔ یہاں فٹ پاتھ پر سونے والوں نے کوٹھیاں بنائیں ۔ یہ عروس البلاد کہلاتا ہے اور روشنیوں کا شہر،مگر یہاں پنجاب یا بلوچستان کے کسی غریب ترین دیہات کی سی بستیاں اور گوٹھ بھی آباد ہیں ۔ آبادی اس شہر کی بڑھتی ہی جاتی ہے ۔ عجیب لوگ ہیں یہاں کے، گھر ان کے دیکھیے!ایسے فلیٹ جیسے ہمارے شہروں میں مرغی کے ڈربے، مگر تعلیم ، شعور، ترقی اور ہنرمندی میں ایسا زرخیز کہ دنیا بھر کے نمایاں شہروں میں اس کا نام لیا جاتا ہے ۔ باذوق لوگوں کا یہ شہردن یا رات کے کسی پہر خاموش وپرسکون نہیں ہوسکا ۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ بدامنی کا شکار اس شہر کے مکینوں نے کبھی یہاں سے نقل مکانی کا نہیں سوچا ۔

قادیانی دانشیئے



فیس بک پر بیٹھے ہوئے ہمارے قادیانی طرم خان الفاظ کے طلسم باندھ کر نہ جانے خود کو کیا سے کیا بنا بیٹھتے ہیں ۔ عقل ودانش گویاان کے سامنے نمکدانی میں ہروقت دھرا رہتا ہے ،اپنی ہرپوسٹ پر اس کا چھڑکاؤ کرکے وہ ہر بدمزہ سے بدمزہ پوسٹ کو اس کا ذائقہ چڑھاتے ہیں ۔ یا "فہم ودانش" ایک دھونی ہے جو وہ گالیوں ، مسخرے پن اور "زنا پسندی" کے ہر بھبھوکے دار چیز کو دے کر فیس بک پر روزانہ پیش کرتے ہیں اور اپنے "حلقہء قادیان" سے خوب داد حاصل کرتے ہیں ۔ "حلقہ قادیان" اس لیے کہا کہ کوئی مسلمان کبھی کسی قادیانی کے جال میں نہیں پھنستا ۔ ہر کمزور سے کمزور مسلمان اتنا باشعور ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کے مخالف امور کی پہچان کرسکتا ہے ۔ اس لیے فیس بک کی کسی پوسٹ پر اگر کسی قادیانی کو لائک یا کمنٹ مل رہی ہوں تو اس چالبازی سے بے خبر مسلمانوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ ایک قادیانی لوگوں کے ایمان لوٹنے میں کامیاب ہورہا ہے ۔ بلکہ یقین رکھیئے کہ یہ وہی چند قادیانیوں کا ٹولہ ہے جو ایک دوسرے کو شاباش دے کر اپنا حوصلہ بڑھارہے ہیں ۔
فیس بک پران کے دانش بھرے دعوے میں روز دیکھتا ہوں ، خواتین کے حقوق ، پردے کی بے حرمتی ، محمد عربی ﷺ کی ذات کی وجہ سے عربوں کے خلاف زبان درازیاں اور سب سے بڑھ کر روزانہ بلاناغہ اس بات کا پروپیگنڈا " پاکستان کو بچاؤ ملا کو بھگاؤ ۔ اس طرح کی اور ہزار باتیں ہم سنتے اور دیکھتے ہیں ۔ آزادی کے نام پر زنا کی عام دعوت ، ہم جنس پرستی کے جواز پر دلائل ، پردے، علماء اور تاریخ میں گذرے ہوئے نامور مسلمان مجاہدین کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ یہ موضوعات فیس بک پر قادیانیوں کے پسندیدہ ترین موضوعات رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حالات کے اعتبار سے تیر ونشتر کی بارش کا رخ وقتا فوقتا تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے۔ مثلا 2013 کے قومی انتخابات سے قبل فیس بک پر قادیانیوں کی جانب سےتحریک  انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان صاحب کی حمایت میں بہت کچھ لکھا جاتا تھا ۔ پاکستانی عوام کا حقیقی ہیرو اور لیڈر اسے قراردیا جاتا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں تحریک انصاف نے انتخابات میں قادیانی خلیفہ اسرار احمد سے انتخابات میں تعاون مانگا تھا۔ تحریک انصاف کی نمائندہ نادیہ رمضان کی ویڈیو ان دنوں فیس بک پر بہت عام تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ وہ انتہائی لجاجت سے ووٹ مانگ رہی تھیں اور ساتھ میں یہ وعدہ بھی کررہی تھیں کہ ان کی حکومت آئی تو وہ قادیانیوں کے بارے میں بنا ہوا قانون ختم کردیں گے ۔ ساری دنیا کے نفرت زدہ قادیانیوں کو کسی کی جانب سے اتنی سی ہمدری کافی تھی ۔ ووٹ دینے کا وعدہ تو انہوں  نے نہیں کیا مگر انہیں ہمدری ضرور پیدا ہوگئی ۔ اور آج جب عمران خان صاحب قبائلی عوام کی حمایت میں ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی بند کیے بیٹھے ہیں تو یہی دانشیے انہیں "طالبان خان "کہتے نہیں تکتے ۔ فیس بک پیجز پر قادیانی ایڈمنز کی تمام تر دانشمندی دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے ۔ دانش اور فہم کے ایسے بڑے بڑے برج خود اپنی ذات کے بارے میں دانش سے کیوں خالی ہیں ۔ دوسروں کو آزادی کا درس دینے والوں کے ذہن اس قدر محدود، بندھے ہوئے اور مقید کیوں ہیں ۔ انہوں نے اپنی سوچ پراس قدر پہرے کیوں لگائے ہیں ۔ تعلیم کا نعرہ لگانے والے خود ذوق مطالعہ سے اتنے ناآشنا کیوں ہیں ۔ جس شخص کو خدا ، نبی ، عیسی اور مہدی سبھی کچھ مانتے ہیں اس کی ذات کے بارے میں کیا کبھی انہوں نے کچھ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی؟ فلسفے اور اخلاقیات پر لیکچر جھاڑنے والے یہ سقراطی بقراطی اتنا غور کیوں نہیں کرتے کہ جس شخص کو انہوں نے پیغمبر مانا ہے وہ اپنی ذاتی زندگی میں کیسا شخص ہے ۔ اس کی اخلاقیات کیا ہیں ۔ شرافت اور حیا کا کس قدر اس کو پاس ہے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں جاننے کے لیے ہماری باتوں کو رکھییے ایک طرف خود مرزا کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ لینا کافی ہے ۔ ان کا بچپن ، جوانی ، بڑھاپا ، ذوق سخن وری ،عشق بازی ، خدائی ، نبوت ، محمد ﷺ کا ان میں حلول (نعوذ باللہ) ، عیسی، مسیح اور امام ہونے کے سب دعوے، ان کی جھوٹی پیشن گوئیاں ، مخالفین کو بدترین گالیاں ،ان کے نہ ماننے والوں پر کفر کے فتوے وغیرہ سب ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر کوئی قادیانی ٹھنڈے دل ودماغ سے خود مرزا کی کتابیں پڑھنا شروع کردے اور خاموش یقین کا پردہ ذہن سے اتار کر تھوڑا سا بھی سوچے تو اسے خود اپنے آپ سے بھبھوکے اٹھتے محسوس ہوں گے ۔ اسے قادیانیت کے تعفن زدہ گھٹن سے خود بخود نفرت ہونے لگے گی ۔ مرزا کی حقیقت خود ان کی کتابوں میں موجود ہے ۔ ضرورت پڑی تو انشاء اللہ ایک بلاگ اس کے لیے بھی وقف کردیں گے ۔ قارئین کرام یاد رکھیں ہم نے اوپر جو بھی باتیں کی ہیں ان کا مقصد کسی کو گالی دینا یا ایذاء پہنچانا نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جو مرزا صاحب کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ ان باتوں کا مقصد قادیانیت کو ماننے والوں کو تحقیق اور جستجو کی دعوت دینا ہے ۔ یہ سوال میں باربار اپنے آپ سے کرتا ہوں کہ مرزا کی کتابوں میں یہ خرافات ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں اس کے باوجود قادیانی اس کاانکار کرتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ قادیانی بڑوں نے مرزا کی کتابوں میں تحریف کرکے نئے ایڈیشن چھپواکر رکھ لیے ہیں ۔ مرزا کی لکھی ہوئی اصلی کتابوں کو منظر سے ہٹالیا گیا ہے اور یا تو قادیانی رہنماؤں کی جانب سے عوام کو مکمل اطاعت کی اتنی تاکید کی جاتی ہے کہ اس اطاعت کے ذریعے انہیں اندھا بنادیا گیا ہے ۔ ان کے سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی صلاحیت سلب کرلی گئی ہے ۔ جو بھی قادیانی ہمارے یہ الفاظ پڑھے میں پورے خلوص دل سے ایک بارپھر دہراتا ہوں کہ خدارا مرزا کی لکھی ہوئی کتابیں غور سے پڑھو ۔ پھر مسلمانوں سے لڑنے بھڑنے اور ان کو گالیاں دینے کی ضرورت ہی تمھیں پیش نہیں آئے گی ۔

تاریخ سے چشمک

وجاہت مسعود صاحب روزنامہ جنگ کے معروف رائٹر ہیں ۔ ان کے کاٹ دار مگر انتہائی سنجیدہ کالم مجھے بہت پسند ہیں ۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود تقریبا ان کی ہر تحریر میں پڑھتا ہوں ۔ ان سے نظریاتی اختلاف چند جزئیات میں نہیں پورے اصول میں ہے ۔ اس لیے ان پر تنقید کو بھی جی کرتا ہے ۔ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ وہ تقریبا ہر معاملےمیں مذہب اور عقیدے کو سائڈپر لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں انہیں ایتھسٹ تو نہیں کہتا اور نہ انہوں نے کبھی اس کا دعوی کیا ہے ہاں اس سے کم یعنی لبرل انہیں ضرور سمجھتا ہوں ۔ آ ج کی چند سطور رقم کرنے کا باعث بھی ان کا ایک کالم ہے ۔  21 دسمبر کے روزنامہ جنگ میں "تاریخ سے چشمک "کےعنوان سےشائع ہونے والے ایک کالم میں انہوں نے بنگلہ دیش کے الگ ہونے کے اسباب کا ذکر کیا ہے ۔ ان کی تحریر کا لب لباب جہاں تک مجھے سمجھ آیا ہے وہ یہ کہ ہم نے پاکستان کے شیرازے کو مذہب کی بنیاد پر جوڑنے کی کوشش کی تھی جو زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی ۔ ہمیں پاکستان کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے مذہب سے دستبردار ہوکر دیگرایسے کلیات تلاش کرنے ہوں گے جن سے ہم قوم کو متحد کرکے یکجا کرسکیں ۔ انہوں نے اس کے لیے مختلف ممالک کی مثالیں بھی دی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ سقوط ڈھاکہ کی اینٹ اس وقت رکھی گئی تھی جب ہم نے مذہب کی بنیاد پر سب کو اکٹھا کیا تھا ۔ وجاہت مسعود صاحب کے جارحانہ جملے اور اقدامی تعبیریں ہم من وعن لانے سے قاصر ہیں بہر حال اصل بات اتنی ہی   ہے ۔
وجاہت مسعود صاحب نے حسب عادت سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار بھی مذہب ہی کو قراردیا ۔ اس سے قبل ہم ان کے ہر کالم میں ہر پیش آنے والے واقعے کے ذمہ دار مذہب کو پڑھتے آئے ہیں مگر آج تو حد ہی ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی غلطی یہ تھی کہ ہم نے قوم کو مذہب کے نام پر جمع کیا تھا اور یوں پاکستان کی بنیاد ہی میں غلطی کا روڑا آگیا ۔ وجاہت صاحب کی یہ بات دراصل پاکستان کی بنیاد نہیں زیر لب بانیء پاکستان کو غلط کہنے کی جرات ہے ۔ حالانکہ یہ سوال کہ پاکستان کس لیے بنایا گیا تھا اور اسے کس لیے بنایا جانا چاہیے تھا؟ اس کا جواب اس تحریک کے بانی اور ان کی قیادت میں پاکستان کے لیے لاکھوں جانیں قربان کرنے والے لوگ دے سکتے ہیں یا آج ہم بیٹھ کر اس کا جواب طے کریں کہ پاکستان کو وجود دلانے کے لیے کیا نعرہ استعمال کیاجانا چاہیے تھا ۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان کس کرب کی زندگی گذار رہے تھے ان مصائب وآلام کا اندازہ آج ہم کرنے بیٹھ جائیں اور اپنے اندازے لگا کر ان کی بوسیدہ قبروں یا خوابیدہ روحوں کو مشورہ دینا شروع کردیں کہ تم نےجو کیا غلط کیا تمھیں ایسے نہیں ویسے کرنا چاہیے تھا۔ تاریخ کو یکسرنظر انداز کرکے تجزیے کرنا تاریخ کے ساتھ  ظلم ہے ۔  رہی  یہ بات  کہ اب مستقبل میں ہمیں مذہب کی اکائی کو ختم کرکے دیگر اقدامات پر غور کرنا ہوگا جس سے ہم قوم کومتحد کرسکیں ۔ وفاق بھی ان کے ہاں اکائی کی حیثیت نہیں کہ وہ استعماری قوتوں کی ایجاد ہے ، پھر آنجناب ہی بتادیں وہ کونسا مرکزی نکتہ ہے جس پر قوم کو جمع کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر کسی مرکزی نکتے کے بغیر قوم کو متحدکرنے کا سوچاجائے تو یہ محض اپنے لیے درد سر ڈھونڈنے یا قوم کو ایک نئے ایڈوینچر میں ڈالنے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ ہمیں زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان میں مختلف قومیں ، مختلف زبانیں اور مختلف ثقافتوں کے لوگ رہتے ہیں ۔ یہاں کسی ایک قوم اور زبان کو عروج دلانے کا مقصد دوسرے کو محروم کرنا ہے جس سے بدیہی طورپر "توڑ" پیداہوگا۔ پاکستان کی بقاء کے لیے ایک اکائی پر قوم کا اکٹھا ہونا لازمی ہے اور یہ اکائی مذہب کے علاوہ کوئی اور اکائی نہیں ہوسکتی ۔ کیوں کہ مذہب (جتنا ہے ) کو ختم کرکے ہم قوم کو ایک نئے ہیجان میں ڈال دیں گے ۔پاکستان کی بنیاد پہلے لاالہ الا اللہ کے نعرے پرپڑی ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح باربار پاکستان کو اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے تجربہ گاہ قراردے چکے ہیں ۔ انہوں نے بارہا کہا ہے کہ ہم پاکستان بناکرصرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں چاہتے، بلکہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہوگی ،جہاں مسلمان پوری آزادی سے اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہوسکیں  گے۔ رہی بات بنگلہ دیش کی کہ ڈھاکہ ہم سے الگ کیوں ہوا ۔ اس قضیے پر غور کیا جائے تو بات بہت واضح ہے ۔ اس کے لیے "تاریخ سے چشمک " کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ بنگلہ دیش جو ہم سے الگ ہوا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہم نے پاکستان کو اس کے اساس اور بنیادی نظریات سے ہٹادیا تھا ۔ ہم نے قائد اعظم کی وہ تعلیمات اور اقوال پس پشت ڈالدیے جس میں انہوں نے لسانی امتیازات کو مٹاکر ایک پاکستانی ہوکر متحد رہنے کی تعلیم دی تھی ۔ ہم نے اسلام کے مساوات اور اخوت کے ہدایات چھوڑ دیے ۔ سقوط ڈھاکہ سے قبلہ ہم نے مشرقی پاکستان کو اس کا جائز حق دینے سے انکار کردیا تھا ۔ پستہ قد اور گہری سانولی رنگت کے بنگالیوں کو مغربی پاکستان کے قدآور ، سر خ وسفید پٹھان ، سینہ تھان کے چلتے ہوئے پنجابی ، کڑیل سندھی اور بڑی بڑی مونچھوں والے بلوچ حقارت سے دیکھتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے ۔ بنگالیوں کے پاس شکل وصورت کا سرمایہ نہیں تھا مگر ان کے پاس تعلیم اور  بلند سوچ تھی ۔ یہ تو عام معاشرتی بدسلوکی تھی جس کا بنگالیوں کو سامنا تھا ۔ سیاسی سطح پر بھی ہم نے ان کے ساتھ اسلامی مساوات اور جائز حق کی بنیاد پر سلوک نہیں کیا ۔ بھٹو کا نعرہ ادھر تم ، ادھر ہم یہ بھی تفریق کی ایک بنیاد تھی ۔ بھٹو صاحب کو اسلامی مساوات یا اخوت کا لحاظ ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے کیوں کہ اسلام میں ذات پات ، قبائل ، زبانیں، رنگ ونسل کچھ بھی اہمیت نہیں رکھتا ۔ اسلام میں سب برابر ہیں ۔ ادھر تم ، ادھر ہم کے نعرے سے صاف ظاہر ہے ہم نے اپنی قوم کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی تھی ، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ارباب دانش ذرا غور کریں قوم کے درمیان یہ لکیر مذہب نے کھینچی ہے ؟ کیا اب بھی سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار مذہب ہے ؟ یا مذہب سے دوری ہی ہماری اس تباہی کا باعث بنی تھی ؟ اسی بات کوآج کے حالات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں ۔ چارصوبوں میں چاربڑی قومیں رہتی ہیں۔ یہاں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ پاکستان کے عوام میں بھائی چارہ پیدا کرنے اور انہیں اتحاد واتفاق سے رہنے کا درس کس بنیاد پر دیا جانا چاہیے ؟ لسانیت کا جو زہر سیکولر جماعتوں نے یہاں کاشت کیا ہے اس کے نقصانات سے اب بھی ملک خانہ جنگی کا شکار ہے ۔ کراچی میں متحدہ ، سندھ میں سندھی قوم پرست اور بلوچستان میں بلوچ قوم پرست پاکستان توڑ کر اپنا حصہ الگ کرنے کا نعرہ برملا لگارہے ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں اے این پی کی انڈیا سے پرانی دل پشوریاں کسی سے ڈھکی چپی نہیں ۔ سیکولر جماعتوں کی قیادت میں چلنے کا ثمرہ ہمارے عوام نے مشاہدہ کرلیا ہے ۔ ہر لسانیت پرست سیکولر تنظیم ملک توڑنے کے درپے ہے تو کیا اب ملک میں جاری تھوڑی سی مذہبیت کا خاتمہ کرکے ہم ملک کو بالکل ہی کاٹ کر رکھ دیں ۔  

اسلامی خلافت اور تھیوکریسی



پاپائیت کے اندھیر  سے نکلنے کے بعد یورپ کے سامنے سیکولر جمہوریت ہی ایک واضح نظام حکومت تھا ۔ جسے ہر مغربی قوت نے اپنی مرضی کے مطابق تراش کر اپنی مرضی کے مطابق اپنایا۔ مغرب نے اس نظام کو اپنانے کے بعد اسے تقدس کے اس سنگھاسن پر بٹھا یا کہ اب اس کے خلاف بات کرنا گویا انسانیت کے خلاف بات کرناہے ۔ حالانکہ یہ بھی ایک نظام ہے اور انسانوں کا بنایا ہوا نظام ۔ اس میں ہزار خامیوں اور برائیوں کا امکان ہوسکتا ہے۔ مگر چونکہ یہ مغرب کا پسند کیا ہوا نظام ہے اس لیے اس پر تنقید کا حق بھی انہیں کے ہاں محفوظ ہے ۔ اب دنیا میں ہر نظام کو پرکھنے کا معیار جمہوریت ہی ٹھہر گیا ۔ جمہوریت کا چشمہ پہن کر ہر نظام پر تنقیدی نگاہ ڈالی جاتی ہے ۔ حالانکہ ہرنظام اپنے اندر خصوصیات رکھتاہے ۔ ٹھیک ہے بظاہر جمہوریت میں عوام کو حق حکومت دیا جاتا ہے مگر اس کی خامیاں بھی تو الاماں الحفیظ ۔ اسلامی نظام خلافت انسانی تاریخ کا وہ نظام ہے جس نے بادشاہت اور حکمرانی کا انداز بدل رکھ دیا ۔ عوام کا خادم ہر حاکم خود کو کہتا ہے مگر حقیقی طورپر جس نے عوام کا خادم بن کر دکھایا ۔ انسانیت کو بادشاہت کا ایک نیا رخ متعارف کروایا ۔ بادشاہوں اور اہل اقتدار کو عوام کی حقیقی خدمت کا طریقہ سکھایا ۔ بے شماریوں دیگر خوبیوں کے ساتھ اس نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نظام میں رعب داب اور ہٹو بچو کا کوئی طرز عمل نظر نہیں آتا ۔ جس طرح اسلام کی ہر خصوصیت کو مغرب کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے اسی طرح   اسلامی نظام خلافت  کو بھی بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہے ۔ ان الزامات میں سے ایک بڑا الزام یہ ہے کہ اسلام کا نظام خلافت تھیوکریسی پر مبنی ہے ۔ تھیوکریسی کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے اور کیا واقعی اسلامی نظام خلافت تھیوکریسی پرقائم ہے ؟ ان سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے تھیوکریسی کی تحقیق کرنی ہوگی ۔ تاریخی اعتبارسے اس اصطلاح کے معنی ہے ہی کیا ؟ تھیوکریسی کا جب معنی بتایا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے اس کے معنی ہے مذہبی حکومت ، ایسی حکومت جو مذہب کا پابند ہو ۔ مغربی مستشرقین ہمیشہ اسلامی نظام خلافت پر تنقید کرنے کے لیے اسی تشریح کا سہارا لے کر عوام کے ذہنوں میں خلافت کا مفہوم ایک گھٹن زدہ ماحول میں قائم ہونے والے نظام حکومت کی حثیت سے بٹھاتے ہیں  ۔ کیوں کہ تھیوکریسی کا لفظ سن کر یورپ کا وہ تاریک دور ذہن میں آتا ہے جب یورپ کے سیاسی نظام پر پاپائیت سوار تھی اور پادریوں کے تاریک ذہنوں نے انسانیت کو اپنے فطری ارتقاء سے روک رکھا تھا ۔ عیسائی عوام نے پاپائیت سے بغاوت بھی اسی لیے کی کہ جب انہوں نےباہرکی دنیا میں دیکھا کہ انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں روز بروز آگے بڑھ رہا ہے ۔ علم وفن کے نئے در اس کے سامنے کھل رہے ہیں اور وہ کائنات کے سربستہ رازوں کو منکشف کررہا ہے ۔ خصوصا اسلامی دنیا میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں قائم ہیں اور اسلامی ممالک کے علم دوست حکمران علماء کی سرپرستی کرکے مختلف علوم وفنون کو پروان چڑھارہے ہیں ۔ ایسے میں صدیوں تک اسلامی دنیا کو علوم وفنون میں آگے بڑھتا دیکھ کر عیسائیت میں بھی بیداری کی رمق پیداہوئی ۔ پاپائیت کو اپنا اقتدار عزیز تھا اس لیے کلیسا نے بدعت کا فتوی دے کر ہمیشہ علوم وفنون کی حوصلہ شکنی کی ۔ عیسائیت کے علم دوست حلقوں نے ہمیشہ پوپ کے دباو پر علوم کے حصول سے احتراز کیے رکھا مگر اب اس کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوگیا اور اس نے پوپ سے بغاوت کردی ۔  سیاسی اقتدار پوپ سے الگ کرکے سیاست کو سیکولر بنادیا گیا اور پوپ کو مذہبی اقتدارتک محدود کردیا گیا ۔ پوپ کو چونکہ بہرحال اقتدار عزیز تھا اس لیے ویٹی کن سٹی کے نام سے ایک سلطنت بناکرپوپ کو الاٹ کردی گئی ۔ یوں ساری عیسائی دنیا نے ویٹی کن کے بوتل میں بند اس عفریت سے نجات حاصل کرلی ۔
تھیوکریسی کالفظ سن کر دراصل پوپ کے اقتدار کا وہ زمانہ ذہن میں آتا ہے جس کا خلاصہ اوپر کے سطورمیں ذکرکیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے اسلامی نظام خلافت کو تھیوکریسی کہہ کر لوگوں کے ذہنوں میں اس کا غلط تصور بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔تھیوکریسی درحقیقت ہے ہی کیا؟ تفصیلی انداز سےواقفیت حاصل کرنے کے لیے عیسائیت اور یہودیت کی تھیوکریسی کا مطالعہ لازمی ہے ۔ ایک عام سی مکمل تھیوکریسی تین عناصر ترکیبی سے بنتی ہے پہلاخدائی عبادت خانہ دوسرا کتاب مقدس اور تیسراپوپ وہ مذہبی پیشوا جو ایک روحانی عمل کے نتیجے میں روح مقدس { holy ghost}کے تعلیمات کی تشریح کرتا ہے ۔ان تینوں عناصر پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے سب سے زیادہ بااختیار پوپ ہے ، کیوں کہ عبادت خانہ تو ایک گھر ہے ، اور کتاب یہ اگرچہ روح مقدس کے کلمات ہیں مگر اس کی تشریح کا اختیار پوپ کو حاصل ہے ۔ کیوں کہ عیسائی عقیدے کے مطابق پوپ ایک روحانی عمل کے نتیجے میں روح مقدس سے براہ راست تعلیمات حاصل کرتاہے اس لیے روح مقدس کے کلمات کی تشریح کااختیار بھی اسی کو حاصل ہوتا ہے ۔ اس طرح کلیسا اور پوپ مذہبی طورپر لامحدود اختیارات کے مالک بن جاتے ہیں ۔ عیسائیت سے قبل یہودیت میں بھی تھیوکریسی کی اصطلاح استعمال کی گئی ۔ ان کے ہاں تھیوکریسی کا اطلاق ایسے قبائلی یا خاندانی حکومت پر ہوتا تھا جو خدائی قانون پر عمل درآمد کرنے کا دعویدار ہوتا تھا ۔ یہودیوں کے ہاں خالق کائنات یح ویح {Jahweh}کی حکومت کا باقاعدہ تصور موجود ہے ۔  یہودیوں کی تھیوکریسی میں بھی تین عناصر ترکیبی ہیں ۔خدائی عبادت خانہ ، جیسے ہیکل سلیمانی ، کتاب مقدس جیسے تورات اور یح ویح کا ترجمان یہودی ربائی ۔ عیسائیوں کی طرح یہودیوں کے ہاں بھی یہ عقیدہ تھا کہ مذہبی پیشوا ربائی ایک روحانی عمل کے نتیجے میں یح ویح سے براہ راست مخاطب ہوتا ہے ۔ اس لیے کتاب مقدس کی تمام تشریحات کا اختیار بھی اسے دے دیا گیا تھا ۔ پوپ ہو یا ربائی دونوں کوتمام تشریحات کا اختیار حاصل ہوجانا ایک ایسا ہتھیار تھاجس کا وہ جب اور جہاں چاہتا استعمال کرتا ۔ اس سے پوچھنے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں تھا ۔ پوپ اور ربائیوں کی انہیں من مانیوں نے عوام کو مذہب کا باغی بنادیا ۔ خلافت اسلامیہ کی جب بات آتی ہے تو ایک مذہبی حکومت ہونے کی وجہ سے اسے تھیوکریسی کہدیا جاتا ہے ۔حالانکہ اسلام میں عیسائیت یا یہودیت کی طرح کی تھیوکریسی کا تصور بھی ناپید ہے کیوں کہ خلافت اسلامیہ میں خلیفہ کو اللہ تعالی کا نائب تو سمجھاجاتا ہے مگر اس کے براہ راست اللہ تعالی سے رابطہ کا تصور  نہیں اسلام میں نہیں ہے  ۔ اسلام میں ایسے کسی روحانی عمل کا تصوربھی نہیں جس کی بدولت مذہبی پیشوا براہ راست الہام کے ذریعے خداتعالی سے احکامات وصول کرے ۔ اس میں تبدیلی یا تنسیخ کا حکم جاری کرے ۔ خلیفہ اللہ تعالی کا اس لحاظ سے نائب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات اور احکامات زمین پر نافذ کرے ۔ اور پھر خداتعالی کی تعلیمات میں تشریح کا حق دے کر عیسائیت نے پوپ کو جو لامحدود اختیارات سونپے ہیں اسلام میں اس کاتصور بھی نہیں ۔ اسلام میں کوئی شخص بھی اختلاف سے مبراء نہیں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چار خلفاء راشدین گزرے کسی نے بھی اپنے بارے میں یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ خداتعالی کی ذات سے براہ راست تعلیمات لیتا ہے ۔ یا اس کی بات سے اختلاف کرنا لامذہب ہونا ہے ۔ خلفاء راشدین کے بعد فقہاء اور ائمہ مجتہدین جنہوں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں فقہ مرتب کی اور صدیوں سے ان کے مرتب کردہ فقہ اور قوانین پر کروڑوں لوگ عمل پیرا ہوتے آرہے ہیں ان ائمہ مجتہدین کو بھی اس قدر تقدس اور لامحدود اختیارات نہیں بخشے گئے ۔ ہماری تاریخ یہ بتاتی ہےکہ اگر امام جعفر صادقؒ نےایک رائےقائم کی تو امام ابو حنیفہؒ نےان کےشاگرد ہونےکےباوجود ان سےاختلاف کیا اور یہی شکل ان کےتلامذہ امام حسن الشیبانی اور امام ابو یوسف نےان کےساتھ ان کی زندگی اور بعد میں اختیار کی  ۔بعض متقدمین فقہاء نےاپنےسےقبل کےاکثر علماء و فقہاء کےاجتہادات و آراء کو پس پشت ڈالتےہوئےنئےسرےسےاصول تعبیر و تفسیر کو اختیار کرتےہوئےقرآن و حدیث کی بناء پر جدید اجتہاد کی دعوت دی۔ امام ابن تیمیہ کا نام اس حوالےسےنمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اور ان تمام تعبیرات و تشریحات  میں کسی ایک مجتہد یا امام نےبھی اپنی رائےکےلیےالوہی تقدس یا Divine sanction حاصل ہونےکا دعویٰ نہیں کیا،نہ انہیں بعد میں آنےوالوں نےیہ مقام بخشا۔ حقیقت واقعہ تو یہ ہےکہ ربائیوں یا راہبوں کےتقدس کو تو خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کےارشاد گرامی ’’لارہبانیہ فی الاسلام‘‘ نےقیامت تک کےلیےمغربی اصطلاح میںde-sacrilize کر دیا تھا۔ اس لیےکسی بڑےسےبڑےمجتہد اور امام کو وہ مقام عصمت حاصل نہ ہو سکا جو ایک انسان کی فکر،تعبیر  یا تشریح کو immunityفراہم کر دے۔اس حقیقت واقعہ کی روشنی میں ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی تصور Theocracy کو اسلام پر چسپاں کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اس لیے یہ الزام لگانا کہ خلافت اسلامیہ ایک تھیوکریسی ہے انتہائی غلط ہے ۔ اسلام میں عیسائیت اور یہودیت کی  تھیوکریسی  کا کہیں بھی تصور نہیں ۔

فیس بکی ملحد اور قادیانی

کہتے ہیں زمانے کے اقدار بدل گئے ہیں ۔ یا زمانے کو رہنے دیجیئے زمانے کے لوگ بدل گئے ہیں اور ایسے بدلے ہیں کہ صلاحیتوں کے ساتھ افکار اور نظریات میں بھی کمزوری اور اضمحلال آگیا ہے ۔ اس کی ایک مثال ہمارے فیس بکی ملحد بھی ہیں ۔ ویسے کہنے کو یہ ملحد بھی وہی صدیوں پرانے حکمت ، فلسفے اور علم منطق کے زمانہ عروج کے ملحد ہیں مگر اپنے لیے جو انہوں نے نئے نام رکھے ہیں وہ بہت لکش اور شاندار ہیں ۔ عقائد میں انیس بیس کی تحریف کرکے سمجھتے ہیں دنیا میں ایک جدید فکر لے کر اٹھ رہے ہیں ۔ ان کی طرح ہمارے فیس بکی ملحدوں کو عقلیت پسندی کا دعوی ہے ۔ ہر چیز کے لیے منطقی جواز کی رٹ ان کی زبان پر بھی ہوتی ہے مگر حکمت ، فلسفہ اور منطق کے متعلق ان کی معلومات "منطق" کے اس چار حرفی لفظ سے زیادہ نہیں ہوتیں ۔ سوشل میڈیا پر ان کا بازار خوب گرم ہے ، مذہب کے حلال وحرام سے جان چھڑانے اور شتر بے مہار کی سی زندگی گذارنے کے شوقین چند مغبچے فیس بک پر جمع ہوکرمحفل گرم کرتے ہیں ۔ نجانے کتنے اکاؤنٹ بناڈالے ہیں اور ایک ایک ملحد نے نجانے کتنے پیجز بنارکھے ہیں ۔ اب محفل سجتی ہے ، ایک نے طرح پر مصرع اٹھایا دوسروں نے آواز میں آواز ملائی، ہر ایک نے حصہ بقدر جثہ ڈالا، یوں محفل گرم ہوئی ، سب نے خوش آوازی کی اور سب ہی نے ایک دوسرے کو داد ودہش سے نوازا ۔ قارئین ! پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون "کتے" کسی نے پڑھا ہو تو صورت حال خوب سمجھ آئے گی ۔ فیس بکی ملحدوں کا بھی کم وبیش حال یہی ہے ۔ ایک ایک شخص نے کئی کئی اکاؤنٹ ، پیجز اور گروپ الاٹ کررکھے ہیں ۔ مال مفت دلے بے رحم ،اکاؤنٹ یا پیج بنانے پر روپیہ پیسہ تو نہیں لگتا ۔ اس لیے ایک ایک پوسٹ پر لائکس اور کمنٹس کی بارش ہوجاتی ہے ۔ ہر کمنٹ واہ ،واہ ۔ دوچار تگڑے تو کمنٹس میں طنز کرتے ہوئے اور بھی آگے نکل جاتے ہیں ۔ زیادہ طبیعت بوجھل ہو تو niceکا مختصر سا لفظ لکھنے کی زحمت تو ہر کوئی گوارا کرہی لیتا ہے ۔
صرف ملحد ہی نہیں فیس بک پر ایسا طرز عمل قایانیوں کا بھی ہے ۔ براہ راست قادیانیت کی تبلیغ سے تو رہے کیوں کہ ایسی صورت میں انہیں مسلمانوں کی جانب سے سینکڑوں سوالوں کے جوابات دینے پڑتے ہیں اس لیے قادیانیت کی تبلیغ کی بجائے مسلمانوں کے خلاف خصوصا علماء کے خلاف زبان درازیاں کرنے لگتے ہیں ۔ مرکز اسلام سعودی عرب ، مکہ مکرمہ  اور مدینہ منورہ ان کی تضحیک و تمسخر کا خاص نشان بنتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک کو جدت ، تہذیب نو ، عقلیت پسندی ، روشن خیالی اور روشن فکری کا دعوی ہے ۔ ہراکاؤنٹ پر یہ دعوی روزانہ بلاناغہ دہرایا جاتا ہے کہ ہم دلیل اور منطق کے قائل ہیں مگر حال یہ ہے کہ کبھی یہ لوگ دلیل اور آزادیء رائے کا سامنا نہیں کرسکتے ۔ اور یہ صرف قادیانی نہیں ملحدوں کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں ۔ دعوے ، الفاظ ، طریقہ واردات سب کے ایک سے ہیں ۔ بات کرو تو لب ولہجہ دونوں کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ پہچان نہیں ہوتی ۔ ان ملحدوں اور قادیانیوں کے مشترک اوصاف سب ہی ایک جیسے ہیں ۔ ان کا ایک وصف مشترک یہ بھی  ہے کہ ڈائیلاگ مباحثہ اور مکالمہ پر یقین کا نعرہ لگانے والے کبھی مباحثے میں سنجیدہ نہیں ہوتے ۔ معلومات اور مطالعے کی قحط کے سب شکار ہیں ۔ جب بھی بات مباحثے کو پہنچے تو کج بحثی اور طنز وتشنیع پر اتر آتے ہیں ۔ زیادہ زبان بند ہوجائے تو ان کے پاس ایک ہتھیار ہے بس وہ چلا کر تمھاری زبان بند کردیں گے یعنی کمنٹ بلاک ۔ روشنی کے نام سے قادیانیوں کا ایک معروف پیج صبح شام اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک کرتا ہے ۔ کبھی ہم نے اسے لائک کیا تھا تب ان سے دوچار مباحثے ہوئے ۔ جواب ندارد تو آخر نتیجہ وہی نکلا کمنٹ بلاک ۔ کمنٹ بلاک کرنے کا مطلب ہے کانوں میں روئی ٹھونس دینا ۔ روئی ٹھونسنے کے بعد ہماری آواز ان کی سماعتوں تک پہنچنے سے رہی ۔ ہم نے آس پاس کے دوستوں سے رابطہ کرکے ان کو کمنٹ کھولنے کا کہا مگر کچھ بھی نہ ہوسکا ۔ بلآخر ہم نے بھی ان لائک کردیا ۔ ایسا ہی ایک سلسلہ سائیں نام کے ایک قادیانی سے چلا ان کی برداشت کی حدتک بہت محدود تھی دو چار کمنٹ کے بعد گالیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اس لیے ہم نے بھی یہ سلسلہ ختم کردیا ۔ پھر اسی دن ہمیں اسامہ عثمانی کے نام سے ایک فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی ۔ ہم نے کنفرم کیا تو وہ جیسے بحث کے لیے تیار کھڑا تھا ۔ فورا ہی مباحثہ شروع ہوگیا ۔ دوچار سوال جواب کے بعد ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کے حوالے دیکر پانچ ، چھ سوالات کیے جس کے جوابات تقریبا سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال نہیں مل سکے ۔ اب بھی کبھی ان کا پیغام ملتا ہے مگر اس میں بس ایک لنک ہوتا ہے جس پر کلک کے بعد قادیانیوں کی ایک ویب سائٹ کھل جاتی ہے جس میں افریقہ کے دورافتادہ قحط زدہ علاقوں میں قادیانیت کی مزید پھیلنے کی خبر نشر ہوتی ہے اور بس ۔ اس کے بعد ہم نے کئی بار انہیں ابھارا کہ وہ ذرا پھر سے رابطہ کریں اور پھر سے "ڈائیلاگ" ، "مباحثے" اور "مکالمے " کا سلسلہ شروع کردیں ۔ مگر جواب نہ دارد ۔ ملحدین کی صورتحال بھی اس سے چنداں مختلف نہیں ۔ ہمارے ایک قریبی مہربان کی بات ہوئی "مولوی استرا" کے نام سے معروف ملحد سے ۔ ان سے جوبھی سوال کرو ان کے پاس سے جواب طنز وتشنیع ہی میں ملے گا۔ پھر یہ طنز آگے جاکر فحش گالیوں میں بدل جاتا ہے ۔ اخلاقیات اور اخلاق کی رٹ بہت لگاتے ہیں مگر اخلاق کا ذرہ ان میں نہیں پایا جاتا ۔ مقابل کے لیے انسانیت کی بنیاد پر ہی سہی جذبہ احترا م تو ہونا چاہیے ۔ کسی کے عقائد کی اتنی بے احترامی کہ برداشت کے حدود سے بھی پار ہونے لگے ، یہ ان کا شیوہ ہے ۔ بات دلیل سے ہو اور جواب میں دلیل طلب کی جائے تو سنجیدہ مکالمے کا میں خود احترام کرتا ہوں مگر جہاں تم دلیل سے بات کرو تو سامنے سے وہ ساری بات ہنسی میں اڑا دیں گے ۔ ان کے بنائے ہوئے گروپ جوائن کریں پتہ چلے گا سب ہی بداخلاق اور بے وقوف قسم کے لوگ جمع ہیں جن کے پاس کسی کے احترام کے لیے کوئی پیمانہ نہیں ۔ ان کے ہاں کسی سے اخلاق سے پیش آنا یا کسی کا احترام کرنا یہ تہذیب جدید کے خلاف ہے ۔ کسی سے عاجزی سے بات کرنا آزادی پر قد غن ہے ۔ کسی بچے کو کسی بڑے کے ادب کی تعلیم دینا اس کی آزادی سلب کرنا ہے ۔ عام آدمی کی آزادی کا تو یہ نعرہ لگاتے ہیں مگر کوئی اس آزادی سے مستفید ہوکر مذہب پر عمل کرے تو یہ ان کے ہاں قابل نفرت ہے ۔ کسی مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافرکو تکلیف پہنچے تو یہ سب مذہب کا کیا دھرا ہے ۔ اور اسی لیے مذہب ناقابل عمل ہے ، بلکہ اس کے خاتمے کی ضرورت ہے ۔مگر ان کی زبان سے جو روزانہ لاکھوں مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے یہ اخلاقیات کے کسی دائرے میں نہیں آتے ۔ مسلمانوں کو شدت پسند اور بنیادپرست کا طعنہ دینے والے اپنے چند تراشے ہوئے خیالات کے بارے میں اس قدر بنیاد پرست اور شدت پسند ہیں کہ اس کی ذرہ بھر مخالفت بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی ۔ ان کی گالیوں سے اسلام کی مقدس ترین ہستیاں بھی محفوظ نہیں ۔ گالیاں دینا ، مذاق اڑانا ، تذلیل کرنا اور دلیل کے جواب میں پھبتی کسنا یہی ان کے ہتھیاروں کا کل سرمایہ ہے ۔ ان کے پاس کوئی واضح نظریہ اور خیال نہیں ۔ قادیانی ہوں یا ملحد یوں تو دونوں الگ نظریات کے لوگ معلوم ہوتے ہیں مگر فیس بک پر ان کا طریقہ ایک ہی ہے اور مقصد بھی ایک ۔  قادیانیوں کا بھی کہنا ہے اس ملک سے ملا کو نکال دو ،کیوں کہ وہ اپنا انتقام لینا چاہتے ہیں ان علماء سے جنہوں نے انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں کافر میں قرار دلوایا تھا ۔ ملحدوں کی دشمنی بھی علماء سے ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک اس ملک میں علماء ہیں ملحدوں کی دال نہیں گلنے والی ۔

عبدالقادرملا کی شہادت ......... القاعدہ کی اخلاقی فتح

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ عبدالقادر ملاکو اسلام سے محبت کی پاداش میں سزائے موت دے دی گئی ۔ان کی تدفین کے بعد پورے بنگلہ دیش میں پرتشدد ہنگاموں کا آغاز ہوگیا ۔ ان مظاہروں میں اب تک تین افراد جان بحق ہوچکے ہیں ۔ عبدالقادر ملاکوجس طرح مجرم ثابت کیا گیا پھر انہیں عمر قید کی سزاسنائی گئی اور جس طرح عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں بدل دیا گیا کوئی بھی صاحب عقل اس کا انکار نہیں کر سکتاکہ یہ سب ایک ڈرامائی پروگرام تھا۔ چارعشرے بعد کسی شخص کو آنا فانا مجرم بنانا اور عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں بدل کر سولی پر چڑھا دینا یہ کہاں کی دانشمندی ہے ؟ انصاف کے کونسے تقاضے تھے جن کے باعث یہ اقدام کیا گیا ؟ اس پر مستزاد عالمی میڈیا کا افسوسناک رویہ ہے جس سے بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے اسلام پسند عوام کے دلوں کو دکھ پہنچا ہے ۔ بی بی سی کی رپورٹیں ملاحظہ کریں ہر سطر میں عبدالقادر ملا کو ایک مجرم اور اس کے رد عمل میں ہونے والے ہنگاموں کو خون خرابے سے تعبیر کیا گیاہے اور لوگوں کے اشتعال کو انتقامی کارروائی قراردیاگیاہے ۔

جماعت اسلامی ایک سیاسی تنظیم ہے جو جمہوری عمل کے ذریعے بنگلہ دیش میں اسلام کے نفاذ کے لیے کام کررہی ہے ۔ عبدالقادر ملا نے اہلخانہ کے نام آخری پیغام میں بھی یہی کہا کہ’’ میں معصوم ہوں ، اب ہماری ملاقات جنت میں ہوگی ۔ کارکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں ، ملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک میں اسلامی نظام کے لیے کوششیں کریں ‘‘۔ اور یہ صرف اسلام نہیں دنیا بھر میں کیپٹل ازم ہو یا سوشلزم ہر نظریے کے پرچار کے لیے کوئی نہ کوئی سیاسی ، سماجی ، ادبی یا رفاہی تنظیم کام کررہی ہے اور کسی جمہوری ملک میں یہ عوام کا بنیادی حق ہے ۔ اس حق سے کوئی انہیں دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا ۔ جو بھی قوت ایسا کوئی ظالمانہ اقدام اٹھائے گی تو اس کے نتائج اس سے بھی بھیانک ہوں گے ۔ ظلم اور تشدد کے مقابلے میں تشدد کو ہی فروغ ملے گا ۔ شدت پسندی ہی کو عروج ملے گا ۔ اور پھر وہ لوگ جو کبھی جمہوریت کے پلیٹ فارم سے اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے تھے مجبورا بزور بازو اپنا حق چھیننا شروع کردیں گے ۔
عالمی افق پر نظر دوڑائیں تو دنیا اس وقت اسلام پسند اور لبرل سیکولر کے درمیان تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے ۔ اور تقسیم کی یہ خلیج روز بروز وسیع ہوتی جارہی ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں مغربی تشدد پسندی کے خلاف مسلح جد وجہد کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے ۔ القاعدہ جو طالبان کے دور میں افغانستان کے تورہ بورہ کے غاروں میں بند ایک مسلح تنظیم کا نام تھا آج مشرق اوسط سے لے براعظم افریقا اور جنوبی ایشیا تک پھیلی ہوئی ایک عالمی تنظیم بن چکی ہے ۔ جس میں عربوں کے علاوہ یورپین اور ایشیائی لوگ بھی شامل ہیں ۔ القاعدہ کو یہ عروج 2001کے بعد ملا جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کردیا ۔ دنیا میں القاعدہ کے خیالات اور مسلح طریقہ کارعام ہونے کا اصل باعث افغانستان پر امریکی جارحیت تھی ۔ مسلمان نوجوانوں میں شدت پسندی کا عنصر اس وقت اورزیادہ تیز ہوا جب امریکا نے عراق پر حملہ کردیا ۔ امریکی حملے میں صدام انتظامیہ ختم ہوگئی اور عراقی حکومت میں افراتفری اور بدانتظامی پھیل گئی جس کی وجہ سے القاعدہ کو عراق میں گھسنے اور وہاں قدم جمانے کا موقع ملا۔ افغانستان سے انخلاء کے بعد عراق ہی القاعدہ کا سب سے محفوظ ٹھکانہ بن گیا ۔ یہیں سے القاعدہ نے امریکا کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا ۔ مسلم دنیا میں القاعدہ کے لیڈر اسی عراق جنگ کے بعد ہیروز کے طورپر ابھرے ۔ القاعدہ نے عراق میں امریکا کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد اپنے پر پھیلائے ۔ آ ج دنیا بھر کے مختلف خطوں میں وہیں کے رنگ ونسل کے اعتبار سے القاعدہ کے مختلف ورژن موجود ہیں ۔ کہیں القاعدہ کے نام سے اور کہیں کسی اور مقامی نام سے تنظمیں بنائی گئی ہیں جو القاعدہ کے افکار اور خیالات لے کر کام کررہی ہیں ۔
مسلح جد وجہد کی جانب رجحان کی اصل وجہ کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب انتہائی سادہ اور آسان ہے کہ کسی کو دیوار سے لگانے کا مطلب اس کو چاروں جانب سے مایوس کردینا ہے ۔ امریکا کا یہی طرز عمل ہے جس کی وجہ سے آ ج بہت سے لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ امریکا مسلمانوں کے جائز حقوق یا مطالبات سننے کے لیے بھی تیار نہیں اس لیے اقوام یا امریکا سے کوئی امید لگانا خود فریبی کے مترادف ہے ۔ اور وار آن ٹیرر کا مقصد دہشت گردی نہیں اسلام کو مٹانا ہے ۔ اور یہی القاعدہ کی کامیابی ہے کہ وہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات ڈالنے میں کامیاب ہورہا ہے کہ امریکا اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے ۔
القاعدہ کے مقابلے میں بہت سی ایسی عالمی اسلامی تحریکیں ہیں جو مختلف خطوں میں ملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن جد وجہد کرکے اسلامی نظام خلافت کے احیاء اور اسلام کی اشاعت کے لیے کام کررہی ہیں۔ یہ تنظیمیں مختلف پابندیوں اور تکالیف کے باوجود اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ مایوسی کی گھاٹی میں گرنے کی بجائے وہ آہستہ آہستہ سہی مگر اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں ۔ القاعدہ کے افکار کے مخالف قوتوں کو مسلمان عوام کے ان پر امن کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور ان سے ڈائیلاگ کرکے ان کے مطالبات تسلیم کرنے چاہییں اور جو مینڈیٹ انہیں عوام نے دیاہے یا عوام میں جتنی ان کی حمایت موجود ہے اس کا احترام کرتے ہوئے انہیں اپنا جائز حق دے دینا چاہیے ۔ مگر افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا ۔ دنیا بھرمیں پرامن اسلامی تحریکوں اور اسلامی شخصیات کو ہر جگہ ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ان کے اس پرامن رویے کی ناقدری کی جارہی ہے ۔ مصر میں محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد شاید کسی کو اب اس بات کا یقین کرنا مشکل ہوجائے کہ اسلامی ممالک میں اسلامی نظام کا احیاء جمہوری عمل کے ذریعے ممکن ہے ۔ پاکستان میں جس طرح سے ہربار انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو مختلف مشکلات میں الجھادیا جاتا ہے اور انتخابات میں آگے آنے نہیں دیا جاتا یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ ترکی میں بھی کچھ عرصہ قبل طیب اردوان کی منتخب حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جو بعد میں اللہ کے فضل سے ختم ہوگیا ۔ فلسطین میں عوام کی حقیقی نمائندہ تنظیم حماس کی عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا ۔ اور اب بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل بنگلہ جماعت اسلامی کے عام کارکنوں کو قتل کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس قتل عام میں مبینہ طورپرپولیس اور سیکولر حکمران جماعت کے کارکن برابر کے شریک تھے ۔

عوامی نمائندگی کا حق چھین کر مظالم کا شکار بنانے کا یہ سلسلہ دراصل القاعدہ کی اخلاقی فتح ہے ۔ جمہوری سیاسی تحریکوں کے خلاف اس کریک ڈاؤن کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو القاعدہ آج جتنا پھیل چکی ہے اس سے زیادہ مقبول ہو جائے گی ۔مسلم دنیا میں القاعدہ کا یہ نعرہ اور بھی مقبول ہوجائے گا کہ جمہوری عمل میں حصہ لے کر حقوق حاصل کرنے کی بات کرنا خود فریبی اور بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں ۔ مسلم دنیا کے پرامن نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کا نتیجہ بہت بھیانک ہوگا ۔ اس سے پہلے کہ عوامی جذبات میں تلاطم پیدا ہوعالمی قوتوں کو اس صورتحال پر غورکرنا چاہیے ۔

مکمل اخلاق،مکمل ہدایت،مکمل انسانیت

بہت عرصہ ہوا ایک کتاب ایک مہربان کے ہاتھوں مطالعے کے لیے ملی ، کتاب کا نام تھا ’’سو عظیم شخصیات ‘‘۔ یہ کسی انگریز کی لکھی ہوئی ہے اوراس میں ان سو عظیم شخصیات کے مختصر حالات جمع کیے گئے جنہوں نے دنیا میں ایسا کوئی تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے جس سے دنیا کو ایک نیارخ ملا ہے ۔ اور جنہوں نے انسانی تاریخ میں کوئی نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے ۔ اس کتاب کی فہرست پر نظر ڈالیں یا کتاب کو رکھیں ایک طرف ،اپنے احاطہ معلومات پر نظر دوڑائیں ۔انسانی تاریخ میں کتنے لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے تاریخ کی لوح پر ابدی حیات پائی ہے ۔ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ان کے نام ہم تک محفوظ چلے آئے ہیں ۔ ہمارے ذہنوں سے ان کے نام محو نہیں ہوتے ۔ بہت سے ایسے ہیں جو اب ہمارے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں ۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں ان کا نام کئی بار ہماری زبانوں پر آتا ہے ،شہرت اور ابدی معرفت کے اس معیار پر آنے کے باوجود بھی کیا ایسے لوگ ہمارے لیے معیار اور آئیڈیل بن سکتے ہیں؟ یا بالفاظ دیگر انسانیت کی فلاح اور انسانی معیاروں کی درستگی کے لیے ان کا کردار کیا رہا ہے ؟انسانی سوچ کو حیوانی جذبات اور احساسات سے نجات دلا کر ایک بلند رخ پر رواں کرنے کا کریڈٹ ان مشہور شخصیات اور ابدی معرفت رکھنے والوں میں سے کس کس کو حاصل ہوا ہے ؟ کون ہے جس نے انسانوں کو مہذب بننے ، مہذب رہنے ، اخلاقیات سیکھنے اور ضد و ہٹ دھرمی سے الگ شائستگی کو سامنے رکھ کرفیصلے کرنے کا طریقہ بتایا ؟
انسانی تاریخ کے ان معروف چہروں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔ اس سٹیج پر کئی طرح کے کردار گزرے ہیں جو بہت سے انمٹ نقوش چھوڑگئے ہیں ۔ ان میں کائنات کے پردۂ راز میں چھید لگانے والے بہت سے سائنسدان بھی ہیں جن کی عقل رسا سے ایسے محیرالعقول کارنامے وجود پذیر ہوئے کہ انسانیت آج بھی دنگ کھڑی دیکھ رہی ہے ۔ کسی نے کہا تھا آ ج کی دنیا کی باتیں اگر کوئی دو چار صدیوں پہلے کے لوگوں کو بتائے تو یقیناًوہ اسے پاگل ہی سمجھیں گے ۔ یقیناًبات بھی ایسی ہے سائنس کی دنیا میں تیز رفتار انقلابات کا وجود اب آئے روز کی ایک بات بن چکی ہے ۔
ان معروف ہستیوں میں بڑے بڑے فلاسفر اور ریاضی دان بھی شامل ہیں، جن کے مقررکردہ اصول و ضوابط، جن کے تشکیل دیے گئے نظام اور وضع کردہ اخلاقیات آج دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں ۔ جن کے افکار سے علوم کے سوتے پھوٹے، جن کے خیالات سے فنون کے چشمے رواں ہوئے ۔ جنہوں نے اپنے مختصر الفاظ میں ہزاروں مفہوم سموئے ۔ لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ۔ جن کے الفاظ سمجھنے کے لیے باقاعدہ کسی سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور پڑھانے کے لیے باقاعدہ ڈگری لینی پڑتی ہے۔
ان مشہور ناموں میں ایک جماعت نامور شعراء کی بھی ہے ، شاعر بھی وہ جن کے الفاظ سحر بن عقلوں کو مبہوت کردیتے ہیں ۔ فن سخن وری کے وہ امام جن کے بلند قد دیکھنے لگو تو ٹوپی سر سے گرجاتی ہے ۔ ان کے تخیلات کی بھٹی سے تشبیہات و استعارات کے وہ نمونے تیار ہوکر نکلے شاعری کی تاریخ میں صدیوں سے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ کیا حمد ونعت ، کیا گیت اور نوحے ، کیا قصیدے اورہجویے ، کیا طنز اور رجزیے ،کیا غزل اور دوہے ۔ شہر آشوب اور کیا کیا میدان سخن ہیں جہاں انہوں نے شاعری کے جھنڈے گاڑے اور گاڑتے چلے گئے ۔ صدیاں گزرگئیں مگر یہ پھریرے اور علم اب بھی لہرارہے ہیں ۔ بہت سوں نے ان کے مقابلے کی ٹھانی مگر منہ کی کانی پڑی ۔ ان کے الفاظ لوگوں کی زبانوں پر چڑھ کر امر ہوگئے ۔ شاعری کی تاریخ میں وہ حیات ابدی پاگئے۔
اس فہرست میں تاریخ عالم کے وہ شہسوار اور فاتحِ شمشیر زن بھی ہیں جن کی تلواروں نے انسانوں کے لشکر کے لشکر کاٹ کر رکھ دیے ۔ جنہوں نے علاقے اور ملک کیا خطوں کو تاراج کرکے رکھ دیا ۔ ان میں ایسے فاتح بھی ہیں روئے زمین کے چپے چپے پر جن کی حکومت کا سکہ چلتا تھا ۔ وسیع وعریض مملکتوں کے حکمران ، پرتعیش محلات کے مالک ، جن کی شان و شوکت اور رعب وجلال سے بڑے بڑے حوصلے والے لوگ کانپ اٹھتے تھے ۔ جن کے لشکروں کا محض نظارہ دیکھنے کے لیے بھی خاصا حوصلہ درکار ہوتا تھا ۔
اور کیا کیا کمال والے نہیں آئے اس دنیا میں ۔ آئے اور چلے بھی گئے مگر ان ہزاروں لاکھوں لوگوں میں تاریخ کوئی ایک بھی ایسی شخصیت دکھادے جو اپنے کردار، اعمال اور اخلاق میں اس آخر الزمان جیسا ہو۔ عقیدہ اور عقیدت و محبت کچھ دیر کے لیے ایک طرف، معروضی حقائق اورزمینی شہادتوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیجیے ۔ افلاطون کے فلسفے آج دنیا بھر میں پڑھائے جاتے ہیں مگر دل سے کہیے کیا یہ فلسفے ان درسگاہوں سے باہر نکل پاتے ہیں ؟ ان کی اخلاقیات کی تعلیم باقاعدہ سبقا دی جاتی ہے مگر ان اخلاقیات سے کبھی کوئی متاثر ہوا ، یا کسی قبیلے ، قوم یا علاقے میں ان کی اخلاقیات سے کوئی انقلاب آیا ؟ آخر کیا وجہ ہے عملی زندگی سے زیادہ ان کے افکار پر بحث کی جاتی ہے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے ان کی اخلاقیات اور فلسفوں کے پیچھے عمل کی قوت نہیں تھی ۔ وہ محض افکار تھے جنہوں نے الفاظ کا روپ دھار لیا ۔ ایسا نہ ہوتا تو آج افلاطون ، فیثاغورث ، ارسطو ، ارشمیدس اور دوسرے یونانی مفکرین کے الفاظ سے زیادہ اعمال پر کتابیں لکھی جاچکی ہوتیں ۔ ہندوستان کے گاندھی جی کا فلسفہء عدم تشدد بہت مشہور ہے ، اسلام کے نظام قصاص کے خلاف اس کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ ’’اگر آنکھ کے مقابلے میں آنکھ کا مطالبہ کروگے تو ایک ساری دنیا اندھی ہوجائے گی ‘‘۔مگر گاندھی کے اسی عدم تشدد سے شدی اور سنگٹھن کی خالص مذہبی اور متشدد تحریکوں نے جنم لیا جن میں سینکڑوں جانیں چلی گئیں ۔ شعراء اور سخن وروں کی کہانی بھی ان سے کچھ مختلف نہیں ۔ ہر طرح کی قادر الکلامی کے باوجود کیا ان میں کبھی جذبہ عمل بیدار ہوا ہے ؟ سوچوں کی وادیوں میں بھٹکنے کے علاوہ اس طبقہ کا عملی زندگی میں کوئی کردار نہیں ہوتا ۔ الفاظ کے جوڑ بند میں ان کا عملی کردار بالکل کالعدم ہوکر رہ جاتا ہے ۔ بے انتہاء مبالغہ آرائیوں کے باعث ان کے قول و عمل کا تضاد ہر شخص کے سامنے کھلی کتاب ہو تا ہے ۔
فاتح عالم شمشیر زنوں کے احوال بھی دیکھیے ! جن کی تلواروں نے بستیاں تاراج کردیں ، انسانیت برباد کردی اور لاکھوں لوگوں کے قاتل بنے ان سے انسانیت کونسی فلاح پاتی ، انسانیت کو تباہی وبربادی کے علاوہ ان سے کچھ بھی نہ ملا۔ زیادہ سے زیادہ ملک گیری کی ہوس میں انہیں انسانیت پر کچھ بھی رحم نہیں آیا ، انسانیت کا خون بہانے میں انہیں ذرا بھی تردد نہیں ہوا ۔
رہی سائنس اور سائنسدانوں کی دنیا ،یقیناًایجادات کی دنیا میں انسانیت کا معیار زندگی بہتربنانے کے لیے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں ۔ دنیا کو ترقی دینے میں ان کا کردار سب سے زیادہ ہے ۔ وہ ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں ، زندگی کی سہولیات فراہم کرنے میں ان کے زیر احسان ہیں مگر یہ ایجادات اور مصنوعات انسانیت کو سہولیات سے زیادہ کچھ نہیں دے سکے ہیں ۔ یقیناًبنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی اورانسانیت کی خدمت کے شعبے میں ان کا احسان ہمارے کندھوں پر ہے ، مگر انسانیت کی فلاح کا عملی نمونہ جو انبیاء کرام خصوصا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا اور انسانوں کو عملی راہ دکھائی یہ صرف انہیں کا خاصہ ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنی تعلیمات میں عملیت پسندی کو ترجیح دی ۔ چینی مفکر ماوزے تنک کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ جب ان کے پاس ایک بھکاری آیا اور کھانے کو مانگا انہوں نے کہا ’’جاو کماکر کھاو اور کچھ نہیں تو مچھلیوں کا شکار کرو ، انہیں بیچ کر کھانا کھاؤ۔ ‘‘ یا تقریبا اس سے ملتے جلتے الفاظ ۔ دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ احادیث میں مشہور ہے کہ جب آپ کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیاتو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ جاو جنگل میں لکڑیا ں کاٹ کر لاؤ اور بازار میں بیچو ۔بلکہ آپ نے ان کا سارا اثاثہ ایک کٹورا اور ایک بچھونا منگوایا ۔ اسے بیچ کر آدھی رقم سے کھانا لینے اور آدھی رقم سے کلہاڑے کا پھل اور رسی لانے کوکہا۔ اس نے کلہاڑے کا پھل حاضر کیا تو آپ نے اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ ٹھونک کر فرمایا جاؤ اس سے لکڑیا ں کاٹو اور بازار میں بیچو یہ تمھارے لیے سوال کرنے اور مانگے سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس واقعے میں دیکھیے اس فقیر کے گھر سے کٹورا اور بچھونا منگوانے کا مقصد بھی یہ تھا کہ تم کسی کااحسان سر پر لینے کی بجائے اپنے بل بوتے پر اور اپنے ہی سرمائے سے کام کا آغاز کرو ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ساری غموں پریشانیوں اور تنگیوں سے عبارت ہے ۔ مکی زندگی کے دس سال کا مطالعہ کریں صبح شام تکالیف اور پریشانیاں ، محض بت پرستی کی مخالفت اور دین اسلام کی دعوت پر لوگ ایسے دشمن ہوگئے کہ جانی دشمن بھی ہوں تو اتنی سختی کا مظاہرہ نہ کریں ۔ پشتوں کی دشمنی میں بھی کوئی اس قدر شقاوت کا مظاہرہ نہیں کرتا ہوگا جتنا سخت سلوک آپ سے کیا گیا ۔شعب ابی طالب میں آپ کو مقید کرکے آپ کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا ۔ خاندان کے بچے بھوک سے روتے بلکتے تھے ، ان کی چیخیں وادی سے باہر کافروں نے خود سنیں مگر دل نہ پسیجا ۔ اس کے بعد مدنی زندگی میں مدینہ منورہ پر حملے ہوئے ، بدر ، احد اور خندق کی تین جنگیں ہوئیں ، آپ نے بچپن سے یتیمانہ زندگی گزاری ۔ آپ کے ساتھیوں پر مظالم کے پہاڑ تھوڑے گئے ، حضرت سمیہ کو ابوجہل نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر شہید کردیا ، حضرت خباب کو انگاروں پر لٹایا گیا ، بلال حبشی کو گرم ریت پر گھسیٹا گیا ، حضرت عمار ہجرت کو روانہ ہوئے تو ان کے بیوی بچوں کو ان سے چھین کر انہیں تنہا مدینے جانے دیا گیا ، گالیاں ، طنز ، طعنے یہ سب تو روز کی باتیں تھیں ۔ ایسا شخص جس کا بچپن محرومی، بے چارگی اور غربت میں گزرے اور پھر اس قدر مشقتیں اور تکلیفیں اس پر آجائیں ۔ اپنی ذات اور اپنے مخلص ساتھیوں پر اس قدر وحشیانہ مظالم سہنے کے بعد فطری طورپر انسان منتقم المزاج ، شقی القلب اور درشت مزاج ہوجا تا ہے ۔ معاشرے سے اپنا انتقام اس کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے ، اور پھر جب اسے قوت ملتی ہے تو وہ مجسم انتقام بن کر وہ خون بہاتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ مگر آپ ﷺ کی زندگی میں ڈھونڈنے کو بھی ایسی مثال نہیں ملتی ،انسانی اقدارکا دامن اور ضبط کا بندھن کبھی آپ کے ہاتھوں سے نہیں چھوٹا ۔ زندگی کے کسی موڑپر جذبات سے مغلوب نہیں ہوئے ۔ ہمیشہ شائستگی ، بہتر اخلاق ، نیک خواہشات اور ہمدردی سے پیش آئے ۔انسانیت اور شرافت کو کبھی داغدار ہونے نہیں دیا ۔ ڈرائنگ روم اور بند کمروں میں کانٹے چبھے بغیر فلسفے بگھارنا اور اصول پیش کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے مگر اصول اور قواعد بیان کرنا ، اخلاقیات کا درس دینا اور شرافت کی معیاریں بتانا اور پھر جیسے ہی مشکل سے مشکل حالات آئیں اپنے بیان کردہ اخلاقیات سے سر مو انحراف نہ کرنا ، اپنے بیان کردہ اصولوں اور
قوانین پر خود عمل کرکے دکھانا یہ سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔ انسانی معاشرے میں بگاڑ در اصل انسان کی اندرونی بری صفات کی وجہ سے آتا ہے ۔ تکبر ، اکڑ ، ہٹ دھرمی ، ضد ، بغاوت ، جہالت ، غصہ ، حسد ، بغض ، کینہ ، لالچ ، دھوکہ ، جھوٹ اور غیبت جیسی انسان کے دل کی بیماریاں ہی دراصل معاشرے کی خرابی کا باعث ہوتے ہیں ۔ انہیں کے باعث انسانیت ، انسان پروری ، رحم ، شفقت اور عفو و درگزر کے جذبات معاشرے سے مٹ جاتے ہیں ۔ اور آپ کی زندگی میں ان صفات رذیلہ کا شائبہ بھی نہیں ملتا ۔
آپ فاتح بنے تو عام فاتحین سے آپ کی زندگی انتہائی الگ تھی ، کسی سے انتقام نہیں لیا ، جنگوں میں بوڑھوں بچوں اور کمزوروں کو قتل نہیں ، لوگوں کی زراعت اور کھیتیوں کونقصان نہیں پہنچایا ، فتح اور کامیابی کے بعد اس کا جشن نہیں منایا ، اپنی کامیابی پر کبھی غرورکا ایک جملہ نہیں کہا ، دشمنوں کو ان کی پرانی دشمنی یاد تک نہیں دلائی ، فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہورہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبار ک اللہ کے حضور عاجزی سے جھکاجارہا تھا ۔ آپ کا سرمبارک بار بار اونٹنی کے کوہان سے ٹکراتا تھا اور آپ اللہ کا حمد اور ذکر کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہورہے تھے ۔ آپ عام فاتحین کی طرح ہوتے تو اس دن سینہ تان کر گھوڑے پر سوار ہوتے ، تلوار لہراتے اور چیختے دھاڑتے مکہ میں داخل ہوتے ، آپ کے سپاہی گلی کوچوں سے اپنے پرانے دشمنوں کو چن چن کر قتل کرتے، مکہ کی گلیوں میں قتل عام ہوتا ، سارے مشرکین اس دن ماردیے جاتے ، ابوسفیان قریش کا سردار اس دن مسلمان ہونے کی بجائے سرعام دار پر لٹکایا جاتا ۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمت العالمین ہیں ، آپ نے اس طرح کا کوئی طرز عمل اختیار نہیں کیا ۔ اس دن مکہ میں امن ہی امن ، سکون ہی سکون ، خاموشی ہی خاموشی چھائی رہی ۔
آپ ریاست مدینہ کے حکمران تھے ، فتح مکہ کے بعد یہ ریاست مکہ تک پھیل گئی مگر عام بادشاہوں کی طرح آپ نے کوئی طرز عمل اختیار نہیں کیا ، عیش و عشرت کی زندگی اختیار نہیں کی ، چاہتے تو عام بادشاہوں کی طرح محلات اور جائیدادوں کی ریل پیل لگاسکتے تھے مگر آپ نے اپنے قد مبارک سے بڑا کمرہ بھی تعمیر نہیں کروایا ، کوئی جمع پونجی اور تجوریاں نہیں بنائیں ، ازواج مطہرات کے پاس زیورات کا کوئی خزانہ محفوظ نہیں کروایا ۔ آپ دولت جمع کرنا چاہتے تو اتنی جمع کرلیتے کہ نواسوں (حضرات حسنین رضی اللہ عنہما) کی اولاد بھی آرام سے جی لیتی ، مگر آپ کی وفات ہوئی تو آپ کا زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھا تھا ، گھر میں نو تلواروں ، ایک لکڑی اور ایک پتھر کا پیالہ اور کچھ دیگر چھوٹی چھوٹی چیزوں سے زیادہ کوئی سامان آپ کے گھر سے برآمد نہیں ہوا ۔
آپ کی زندگی انتہائی سادہ ، بے تکلف اور کر وفر سے پاک تھی ۔ بکریاں چَرائیں ، چچاکے ساتھ تجارت کے لیے نکلے ، عام لوگوں میں اٹھے بیٹھے ، اپنے گاوں اور ملنے جلنے والوں میں سچائی ، دیانت ، نیک سیرت اور اچھے اخلاق کا نمونہ بن کر رہے ، کفر ، شرک ، بت پرستی ، جادو ، لڑائی جھگڑے ، شراب خوری اور ہر طرح کی خرابیوں سے بھر پور معاشرے میں ان ساری خرابیوں سے خود کو محفوظ رکھ کر جیتے رہے ، اور لطف تو یہ کہ خود کو ان گناہوں سے بچانے کے لیے کبھی کسی سے لڑے جھگڑے نہیں ، کسی سے ہاتھاپائی اور کشت وخون کی نوبت نہیں آئی ۔ کبھی غلطی سے بھی کسی کی دل آزاری نہیں کی ۔ کسی پر طنز ، تشنیع ، گالم گلوچ اور بے جا غصہ آپ کے مزاج ہی میں نہیں تھا ۔ کوئی ملتا تو اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک وہ خود جانے کی اجازت نہ لیتا ۔
سیرت کا مطالعہ کریں اور آپ ﷺ کے اخلاق پڑھیں اور اس کے بعد آپ ﷺکے ارشادات اور فرامین پر نظر دوڑائیں کوئی بھی شرعی حکم
ایسا نہیں ملے گا جس پر عمل کرنے میں حضور ﷺ نے تساہل سے کام لیا ہو ۔ دوسروں کو عمل کی ترغیب سے پہلے خود عمل کرکے دکھایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کچھ دیر کے لیے عقیدت اور اعتقاد سے ہٹ کرمحض ایک شخص کے حالات زندگی کی نظر سے کریں آپ کی حیات طیبہ میں ایک کامل انسان ، ایک مکمل ہادی اور مجسم اخلاقیات کا ایک نمونہ نظر آئے گا۔

اردو بلاگر


اب تک تو ایم بلال ایم کا زبانی کلامی شکریہ اداکرنا بھی ہمارے ذمے قرض ہے ۔ کوئی چار ماہ ہوتے ہیں ہم نے بھی ایک اردو بلاگ بنایا ہے ۔ بلاگ بنانے کا سارا طریقہ اور سارا نظام ہم نے انہیں کے معلومات افزاء مضامین سے سیکھا ہے ۔ بلاگ بنانے سے قبل بلاگرزکی دنیا کے متعلق کوئی خاص معلومات بھی نہیں تھیں بس کبھی کبھی ابوشامل ، ایم بلال ایم ، ڈفرستان یا اور دیگر بلاگز دیکھ لیتے اور بس اسی دیکھنے پر ہی اکتفاء کرلیتے ۔ لکھنے لکھانے سے تعلق تو یوں تو بہت پرانا ہے مگر قلم کی بجائے کی بورڈ پر تخلیقی کام کرنے کا تجربہ پہلی بار کررہے ہیں ۔ اس لیے ہم پہلے تو ایم بلال کا شکریہ اداکرتے ہیں یقینا برقی دنیا میں اردو کی ترویج کے لیے کوششیں کرنا قابل قدر ہے ۔ اردو بلاگ بنانے کے طریقے سمجھنا وہ بھی انتہائی عرق ریزی اور باریکی کے ساتھ، یہ سب چیزیں بتاتی ہیں ان کو اردو کی ترویج سے محبت ہے ۔
اس کے علاوہ اردو محفل ، اردو یونی کوڈاور یونی کوڈ میں اردو نستعلیق فونٹ وغیرہ پر محنت اور دماغ سوزی یہ سب کسی اتھاہ گہرائی سے اٹھنے والی دہک کا پتا دیتے ہیں ۔ ہمیں ان کی ذات سے کوئی واقفیت نہیں اور نہ ہی ہم کبھی ان سے ملے ہیں ۔ ہم نے تو ان کی تصویر بھی آج فیس بک پر دیکھی ہے مگر محنت کی قدر ہم ضرور کریں گے ۔ان کے بلاگز ہمیشہ پڑھتاتھا معلومات افزاء بھی تھے اور گہرے فکری بھی ۔ مگر ایک دن ایک انہونی ہوئی ۔ ان کے بلاگ پر اردو بلاگرز کانفرنس کا اشتہار بھی نظر آیا ۔ تاریخ بھی دیکھی اور پھر اس تاریخ کا انتظار بھی کیا ۔ یقینا اردو بلاگرز کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی اور انتہائی کامیاب کانفرنس تھی ۔ اس دن ہم نے بی بی سی سمیت کئی بڑے بڑے ریگولر میڈیا چینلز پر اردو بلاگرز کانفرنس کا ذکر دیکھا ۔ کانفرنس کی کامیابی کے لیے اس سے زیادہ دلائل دینے کی ضرورت نہیں ۔ کانفرنس کے انعقاد سے منتظمین نے اپنا مقصد حاصل کرلیا ہے ۔ ہاں پہلے قطرے سے سیلاب نہیں بہتے ، ابھی تک بارش کے قطرے اور بھی گرنے باقی ہیں ۔ایک بحث بلکہ اگر کہا جائے کہ ایک تفرقہ بازی اور گروپ بازی جو اردو بلاگرز کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر اردو بلاگرز کے درمیان شروع ہوئی ہے انتہائی افسوسناک ہے ۔ میرے خیال میں ابھی تو یہ پہلی کانفرنس تھی اس میں تو بلا گرزاحباب کو پورے خلوص نیت کے ساتھ شریک ہونا چاہیے تھا۔ محنت اور سرمایہ لگانے والے ساتھیوں کی قدر دانی کرنی چاہیے تھی ۔ محض اردو کی ترویج اوراشاعت کے لیے فکر وعمل سے بھرپور جد وجہد کرنے والے ساتھیوں کو ان کی محنت کا ایوارڈ ملنا چاہیے تھا ۔ سرمایہ جس نے لگا یا اور جس نے محنت کی وہ کون ہیں اور کیا ہیں وہ توسب وہیں جاکر معلوم ہوجاتا ۔ ابھی کانفرنس ہوئی نہیں اور ادھر الزامات کی بوچھاڑ ۔ میرے خیال میں رقم خرچ کرنے والے پراس قدر شدید الزامات لگانا قرین انصاف نہیں ۔ و"ضاحتوں" اور "تجدید ایمان" کے بعد تو معاملہ بالکل ہی رفع دفع ہوجانا چاہیے تھا ۔ مگر یار لوگ ہیں کہ کچھ بھی سننے کو آمادہ نہیں ۔ میرے خیال میں اگر کانفرنس میں شرکت کی ہمت ، مہلت یا استطاعت نہیں تھی تو دور بیٹھ کر بھی اپنی ہمدردیوں کا حصہ اس میں ڈالا جاسکتا تھا اور اگر ہمت و استطاعت تھی تو شرکت کرلیتے ۔ بعد میں اگر وہاں دیکھا کہ قادیانیت کی تبلیغ ہورہی ہے یا کوئی اور سازش پنپ رہی ہے تو فورم پر کھڑے ہوکر زیادہ اچھے طریقے سے اس کا سدباب کیا جاسکتا تھا ۔ پھر ایک اور بات بھی ہے ،جو بلاگرز احباب الزام لگاتے ہیں کہ منتظمیں قادیانی تھے یا اس کانفرنس کے پیچھے قادیانی لابی ہے تو ان کے پاس اپنے گروپ ہی کے ساتھیوں سے سنے سنائے الزامات سے زیادہ کچھ نہیں ۔ کسی نے نہیں بتایا کہ کون کس طرح قادیانی ہے ۔ اپنی اپوزیشن حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے سخت سے سخت بدکلامیاں جاری ہیں ۔ کوئی سنجیدہ بحث کرنے کو تیار نہیں ۔ مخالف گروپ نے اب توکانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو لبرل ، سیکولر اوربے دین جیسے القابات سے بھی نوازناشروع کیا ہے ۔میرے خیال ایم بلال ایم کے سارے بلاگز میں ہم نے کوئی الحاد اور بے دینی کی بات نہیں دیکھی ہاں کوئی ماننے ہی کو تیار نہیں توبات الگ ہے ۔ پھر ٹھیک ہے "حزب اختلاف" ہی ہمت کرکے اردو بلاگ کی خدمت کا بیڑہ اٹھائے ۔ اس سے بہتر کانفرنس کا انعقاد کریں اور دعوت دیں ، سبھی حاضر ہوجائیں گے ۔ خالص دینداری والے ماحول ہی میں کانفرنس کا انعقاد کیا جائے ۔ بلکہ ختم نبوت کے موضوع پر باقاعدہ کوئی سیکشن ہی رکھ دیا جائے ۔ آخر نبی آخرزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت سے کس کو پیار نہیں ۔ کون ہے جو اسلام کی جڑکاٹے مگر قادیانی کا الزام لگاکر اپنا الو سیدھا کرنا بھی دانشمندی کا تقاضہ نہیں ۔ دراصل اختلاف اور گروپ بندی ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکاہے ۔ بقول فیض:جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے ، نظر جھکا کے چلے جسم وجان بچا کے چلےکوئی مثبت قدم اٹھائے ، کوئی تعمیری کام کا آغاز کرے تو مخالفین منٹوں میں پیدا ہوجاتے ہیں اور سامنے آکرکھڑے بھی ہوجاتے ہیں ۔ تیر ونشتر کی بارش کی جاتی ہے ، الزام ودشنام سے زیر کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں اور پھر وہ آگے بڑھنے والا بنا بنایا مورال ہار جاتا ہے ۔ یقینا بلاگرز احباب تعلیم یافتہ اور بااستعداد لوگ ہیں انہیں اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے مثبت رخ پر قدم اٹھانا چاہیے ۔ اللہ تعالی نے انہیں تعلیم، وقت اور صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس کا درست استعمال کرکے معاشرے کو درست رخ پر لگائیں ۔ آپ کے پاس قلم ہے ، آپ لوگوں میں مثبت سوچ اور تعمیری فکر زندہ کرسکتے ہیں تو کیوں اپنی صلاحیتوں سے دریغ کرتے ہیں۔ حضورنبی آخر زمان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم میں سے ہر ایک چرواہا ہے ، ہرایک سے اس کی رعایا سے پوچھاجائے گا"۔ یقینا ہم میں سے ہر ایک بلاگر ساتھی سے اپنے قارئین کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آج جو الفاظ جوڑ کر ہم ریڈرزکے ذہنوں میں اتار رہے ہیں یقینا اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ہم نے کیا تیار کررکھاہے اس دن کے لیے ۔ہمیں اس دن کو سامنے رکھ کر ہر قدم اٹھانا چاہیے ۔

یوم خواتین،مغرب اوراسلام _ آخری قسط


مغرب کے اعتراض کا جواب:جہاں تک مغرب کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ گھر میں رہنے سے عورت کا کردار محدود ہوجاتا ہے ۔ اسلام عورت کے کردار کو محدود کرتا اور اس کی ترقی کی راہیں مسدود کرتا ہے ۔ تو عرض ہے کہ عورت کی جسمانی اور ذہنی صلاحتیں فطری طورپر ہیں ہی ایسی کہ جس کی وجہ سے اس کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دینا مشکل ہوتاہے ۔ البتہ ایسا بھی نہیں اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین رہی ہیں جن کو اللہ تعالی نے ذہانت اور صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے علوم وفنون کے میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے کہ جس کا تصور بڑے بڑَے مردوں کے لیے مشکل ہے
۔ ان کے کمالات کے سامنے بڑے بڑوں کی نگاہیں جھک جاتی ہیں ۔ اسلام کے دور عروج میں ایسی خواتین کا وجود اور ان کے ایسے نمایاں کارنامے ،اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام خواتین کی کتنی حوصلہ افزائی کرتاہے ذیل میں ہم چند خواتین صحابیات کی فہرست پیش کریں گے جنہوں نے اپنے علوم وفنون میں اس وقت ترقی کی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے  اور صحابہ کرام وہ ہستیاں تھیں جو دین کے کاموں میں بال برابر کمی بھی برداشت نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک موقع پر فرمایا :" ہم زندہ ہوں اور دین میں کمی کی جائے ایسا نہیں ہوسکتا "۔ صحابہ کرام کے ایسے مضبوط ایمان اور دین پر عمل کے باوجود ایک دو نہیں کئی کئی خواتین کا علوم وفنون میں کمال حاصل کرنا اور تاریخ میں اپنا نام صاحب فن کی حیثیت سے رقم کروانا ، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام ترقی کے لیے خواتین کی کتنی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ ان امہات المومنین، صحابیات اور دیگر نامور خواتین کی فہرست ملاحظہ کیجیے جنہوں نے علوم وفنون اور مختلف مناصب پر رہ کرکمال حاصل کیا ۔
نمبرشمار نام کردار شہرت 1 اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایتِ حدیث، فقہ و قانون، تاریخ، علم الانساب، شعر، طب 2 اسماء بنت ابی بکر روایتِ حدیث 3 اُم عبد اﷲ بن زبیر روایتِ حدیث 4 شفاء العدویہ قرات و کتابت کی ماہر، ام المومنین حفصہ بنت عمر رضی اﷲ عنھما کی {قبل از شادی}معلمہ 5 عائشہ بنت طلحہ شعر و ادب،علم الافلاک کی ماہرہ
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا کی شاگرد و بھانجی 6 سکینہ بنت حسین رضی اﷲ عنھما شعر و ادب کی ماہرہ 7 ولادہ بنت سنکنی الیادی شعر و ادب کی ماہرہ 8 علیہ بنت مہدی شعر و ادب کی ماہرہ 9 حمرہ بنت زیادت شعر و ادب کی ماہرہ 10 خنساء شعر و ادب کی ماہرہ 11 عائشہ الباعونیہ شعر و ادب کی ماہرہ 12 میمونہ بنت سعد روایتِ حدیث {حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے روایت کی ہے} 13 کریمہ مروزیہ روایتِ حدیث، امام بخاری نے ان سے اخذِ حدیث کیا۔ 14 ام فضل کریمہ بنت عبد الوہاب محدثہ، مؤرّخ محمد بن ابی شامہ کی (علم حدیث میں) معلمہ 15 فاطمۃ بنت عباس عالمہ، فقیہہ، واعظہ، مصر و دمشق میں بڑا اثر تھا۔ 16 فاطمۃ حمرانیہ محدثہ 17 اخت مزنی امام شافعی سے کسبِ علم کیا، مرافعی نے ان سے مسائل زکوٰۃ بیان کئے۔ 18 نفیسہ بنت حسن بن زید بن حسن بن علی بن ابی طالب عالمہ 19 ہجیمہ بنت حیّ تابعین میں سے ہیں، محدثہ، ترمذی و ابن ماجہ نے ان سے روایت کی۔ 20 فخر النساء سیدہ شہیدہ{5ھ} ادب اور تاریخ اسلامی کی ماہرہ اور معلمہ 21 سیدہ عائشہ بنت احمد بن قادم اندلسیہ عالمہ، فاضلہ، ماہر کتابت 22 لبنی لغت و نحو کی عالمہ 23 فاطمۃ بنت علی بن حسین بن حمزہ فقہ حنبلی کی ماہرہ، معاصر علماء نے ان سے قراۃ کی اور سند دارمی کی اجازت لی۔ 24 رابعہ قسیسہ عدویہ واعظہ، حسن بصری نے بھی ان سے استفادہ کیا۔ 25 سارہ بنت عمر بن عبد العزیز محدثہ 26 ام ایمن حبشیہ عالمہ، فاضلہ 27 شفاء بنت عبداﷲ عدویۃ روایت حدیث کی ماہرہ 28 درہ بنت ابی لہب محدثہ، شاعرہ 29 فاطمۃ بنت قیس عالمہ، فقیہہ 30 اسماء بنت ابی بکر علم طب کی ماہرہ 31 فریعہ بنت مالک محدثہ، مجاہدہ 32 سلمی بنت قیس انصاریہ علم طب کی ماہرہ 33 زینب بنت ابی سلمہ محدثہ، فقیہہ، عالمہ 34 ام کلثوم بنت عقبہ امویہ کاتبہ، قاریہ، راویہ و محدثہ 35 صفیۃ بنت عبد المطلب شاعرہ 36 ام سنان اسلمیہ محدثہ 37 ام فضل بنت حارث محدثہ، راویہ، فقیھہ۔ 38 سیدہ شریفہ فاطمہ یمن، صنعاء و نجران کی والیہ۔ 39 شفاء بنت عبداﷲ مخزومیہ حضرت عمررضی اللہ عنہ  نے انہیں عدالتی ذمہ داری، قضاء الحسبہ (accountability court) اور قضاء السوق (market administration) پر فائز کیا۔ 40 ام خلیفہ مقتدر سربراہ محکمہ استئناف (appellant court)، بغداد 41 سیدہ اروی بنت احمد بن محمد 5ھ کے اواخر میں یمن کی حاکمہ تھیں، ’الملک الاکرم‘ کی زوجہ۔ 42 سیدہ حنیفہ خاتون سلطان صلاح الدین کی بھتیجی 634ھ میں حلب کی والیہ رہیں۔ 43 80 سے زائد خواتین محدثات ابن عساکر نے ان سے روایت کی۔ خلاصہ کلام مغرب میں بھی آج اگرعورت کو مندرجہ بالا حقوق حاصل ہیں تو وہ اسلام کے طفیل ہیں رہی بات آزادی بلکہ صحیح کہا جائے تو آوارہ گردی کی تو اس بارے میں آپ نے اوپر ایک نمونہ ملاحظہ کرلیا ہے کہ اس سے مغرب میں کس قدر تباہی ہوئی ہے ۔ یہ کوئی حق نہیں بلکہ استحصال کا ایک طریقہ ہے ۔ عورت کی جسمانی ودماغی صلاحتیں فطری طورپر ایسی ہیں کہ جو انہیں حکومت ، بھاری حکومتی ذمہ داریاں اور مغز خوری کے معاملات نبھانے کے قابل نہیں چھوڑتیں ۔ خود یورپ جو عرصہ سے اس تحریک کا میدان رہا ہے وہاں بھی مارگریٹ تھیچر کے علاوہ کوئی بڑی خاتون نہیں گذری جو کسی ملک کی حکمران رہی ہو۔ 200 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب یورپ خود بخود فطری نظام کی طرف لوٹ رہا ہے ۔ اسے لوٹنا بھی چاہیے کیوں کہ اس نےاپنے بنائے ہوئے اصولوں پر چل کر تباہی دیکھ لی ہے ۔ اسلام کا نظام فطرت ہی انسانیت کی بقا کا ضامن ہے خواہ اسے کسی بھی عنوان سے اپنایا جائے ۔

یوم خواتین،مغرب اور اسلام _ چوتھی قسط



مغرب کی واپسی :مغربی مفکرین اپنی تہذیب کی بقا کے لیے اس بات پر مجبور ہیں کہ اپنے معاشرے کو پھر سے پرانے خطوط پر استوار کردیں ۔ مفکرین اور دانشور پھر سے نوجوانوں خصوصا خواتین کو اختلاط اور آزادی سے روکنے کا درس دے رہے ہیں مگر مغرب کے آوارہ نوجوان اپنی ہوس میں مست سنجیدہ طبقے کی بات سننا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔ یورپ اور امریکہ میں اب ایک بار پھر عورت کو گھر واپس آنے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ پھر سے سیمینارز اور شوز میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بچوں کی تربیت کے لیےماں کا گود پہلا سکول ہے ، بچوں کی تربیت پر توجہ دینے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ ماں کے دودھ سے زیادہ بچوں کے لیے کوئی مفید غذا نہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اب یہ کوششیں کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں اور مغرب کیسے پرانی روش پر آتا ہے اس میں تو شاید ایک صدی سے بھی زائد کا عرصہ لگے مگر مسلمان ممالک میں اب بھی ان کے ادارے انہیں کوششوں میں مصروف ہیں ۔
ہمارے مغرب پسند مسلمان اب بھی اسی تاریک فکری کاشکار ہیں ۔ دوسری طرف عورت ہے کہ مغرب کی چکاچوند روشنیوں نے جس کی آنکھیں خیرہ کردی ہیں ۔ مغرب کی نقالی میں اسے اپنی عزت نظر آتی ہے ۔ مغرب نے اپنے جنسی خواہشات کی تکمیل اور کاروبار چمکانے کےلیے عورت کو جنس بازار بنادیا ۔ اس کے بدن سے لباس کی تہیں اتاری جانی لگیں ۔ اب بازاروں ، شاپنگ سینٹرز ، سائن بورڈز پرعورت جہاں تک ہوسکے ننگی دکھائی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف مرد ہے کہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس ہوتا جارہا ہے ۔ مرد مغرب کی نقالی میں سخت گرمی میں کوٹ پہننا نہیں چھوڑتے جب  کہ عورت  لباس کو مختصر سے مختصر کرنے پر اصرار کررہی ہے ۔ مغرب کی تباہی کا جو مختصرنقشہ مندرجہ بالا اعداد وشمار میں پیش کیا گیا ہے ان سب کا باعث یہی ہے ماحول ہے جس کا ہم ذکر کیا ہے ۔ مغرب کو جرم کی سزا ملنی چاہیے:دوسری طرف اسلامی تعلیمات پر نظر دوڑائیں تواسلام نے عورت کو اس کے حقوق تو تمام کے تمام دیے ہیں ۔ تعصب سے پاک ذہن رکھ کر سوچا جائے تو مرد کے مقابلے میں عورت پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا گیا نہ  اس کے حقوق میں کوئی کمی کی گئی ۔اسلام نے حقوق میں کمی تو کیا عورت پر اتنے احسانات کیے کہ اس کا شکریہ عورت ذات قیامت تک ادا نہیں کرسکتی البتہ مغرب کے ذمہ انسانیت کا یہ سوال قرض ہے کہ مغرب نے عورت کو گھر سے نکال کر جب انسانیت کو ایک نئی  مصیبت اور تباہی میں جھونکا تو اس جرم کا حساب کس سے لیا جائے ۔ اس تباہی کا ذمہ دار کون ہوگا ۔ مغرب کو عدالت کے کٹھہرے میں کھڑاہونا ہوگا ، جس سے ساری انسانیت سوال کرے گی کہ اس نے عورت کی آزادی کے نام پر انسانیت کو ایک نئے بحران سے دوچار کیوں کیا ۔ بہرحال آئیے عورت کے حقوق کی تفصیلی فہرست ذیل میں  ملاحظہ کیجیے ۔ ذیل میں دیا گیاہر عنوان قابل بحث ہے ۔ دلائل کی ایک دنیا ہے مگر طوالت کے باعث قصدا احتراز کیا جارہا ہے۔ 1.    عورت کے انفرادی حقوق
  • عصمت و عفت کا حق
  • عزت اور رازداری کا حق
  • تعلیم و تربیت کا حق
  • حسن سلوک کا حق
  • ملکیت اور جائیداد کا حق
  • حرمتِ نکاح کا حق
2.    عورت کے عائلی حقوق
  • ماں کی حیثیت سے حق
  • بیٹی کی حیثیت سے حق
  • بہن کی حیثیت سے حق
  • بیوی کی حیثیت سے حق
3.    عورت کے ازدواجی حقوق
  • شادی کا حق
  • خیارِ بلوغ کا حق
  • مہر کا حق
  • حقوق زوجیت
  • کفالت کا حق
  • اعتماد کا حق
  • حسن سلوک کا حق
  • تشدد سے تحفظ کا حق
  • بچوں کی پرورش کا حق
  • خلع کا حق
4.    طلاق کے بعد عورت کے حقوق
  • مہر کا حق
  • میراث کا حق
  • حضانت کا حق
5.    عورت کے معاشی حقوق
  • وراثت کا حق
  • والدین کے مالِ وراثت میں حق
  • شوہر کے مالِ وراثت میں حق
  • کلالہ کے مالِ وراثت میں حق
6.    عورت کے قانونی حقوق
  • قانونی شخصیت (legal person) ہونے کا حق
  • گواہی کا حق                                      جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوم خواتین،مغرب اور اسلام _ تیسری قسط



خرابی کا آغاز اور اس کے تباہ کن اثرات:دراصل خرابی کی جڑ بھی یہی ہے ۔ وہ عورت جو اس سے قبل مرد کے لیے شریکہ حیات بن کر اسے سہارا دیتی ۔ ماں جو ہر وقت بیٹے کو اپنی دعاوں کے حصار میں رکھتی ۔ بہن اور بیٹی جس کی محبت اپنے بھائی اور باپ کے گرد ہالہ بن کررہتی ۔یورپ کے شاطر دماغ ساہوکاروں نے سب سے پہلے اسے مرد کے مقابلے میں کھڑا کردیا۔  بلاکسی وجہ اسے یہ احساس دلایا جانے لگا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے معاون نہیں بلکہ مخالف فریق ہیں حالانکہ یہ بات اسلامی تعلیمات کے  صریح خلاف ہے ۔قرآن مجید نے صاف فرمایا : هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّعورت تمھارے لیے ستر ہے اور تم ان کے لیے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : النساء شقائق الرجال ۔
عورتیں مردوں کے شریک کارہیں۔  یہیں سے خرابی کا آغاز کیا گیا ۔ عورت کے سامنے سماج ، روایات ، ماحول اور مرد کو ایک خوفناک بھوت بناکر پیش کیا گیا جو صدیوں سے عورت کے حقوق پر قبضہ کیے بیٹھا ہے ۔ سماج ، معاشرہ اور روایات سے بغاوت دراصل اسے مذہب سے بغاوت کادرس دینے کی تمہید تھی ۔ اس لیے اگلا قدم مذہب پر پڑا اور صرف حجاب اور وقرن فی بیوتکن {اپنے گھروں میں قرار پکڑو } کے حکم کی وجہ سےپورے مذہب کو عورت کا مجرم قرار دیا گیا ۔ اور یہیں سےسیکولر ازم کے لیے راہیں ہموار کی گئیں ۔ آج بھی این جی اوز اوردیگر مختلف اداروں سے وابستہ خواتین جو عورت کی آزادی کے لیے کوششیں کرتی ہیں وہ خود سیکولر اور جمہوریت پسندکہلواتی ہیں ۔ اسلام نے اپنے ظہور کے بعد عورت کو مرد کے برابر حقوق دلاکر مرد کے دل میں اس کی جو وقعت بٹھائی تھی ،جو احترام دلوایا تھا  اور جو محبت اور اتحاد کا معاشرہ تشکیل دیا تھامغرب نے عورت کومعاشرتی وخاندانی روایات اور ماحول سے بغاوت پر اکساکر معاشرتی نظام تباہ کرکے رکھ دیا ۔ معاشرتی تباہی کے بعد اگلانمبر عورت کو گھر سے نکالنے کے تھا ۔ بغاوت پر آمادہ عورت باہر نکلی تو اسلام کا حکم حجاب بھی ناقابل عمل قراردے دیا گیا ۔ اب حجاب اور گھر سے نکلنے سے کیا خرابیاں پیش آئیں وہ ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ آئیے ذیل اس کا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔ بے حجابی اور گھر چھوڑکر مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کام کرنے کی تحریک یورپ میں زیادہ کامیاب ہوئی ۔ مرد وزن سرمائے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے اندھا دھند دوڑے چلے جارہے تھے ۔  مرد تو فطری طور اس  کام کا اہل تھا اس لیے اسے کوئی مشکل پیش نہ آئی مگر مرد کی طرح کام کرنا عورت کے لیے انتہائی مشکل ہوگیا ۔ پیچھے گھر بار اور بچوں کی ذمہ داریاں تھیں جو ادھوری رہ گئیں ۔  خاندان میں وفاق کی علامت عورت ہوتی ہے جس کے گرد بچے جمع ہوتے ہیں ۔ عورت کی گود ہی بچوں کی تربیت کا پہلا مکتب ہوتا ہے ، خاندانوں میں میل جول بڑھانے میں عورت کا کردار زیادہ ہوتا ہے ۔ گھر میں عورت کا وجود زندگی کی علامت ہوتا ہے ، اسی سے گھر میں رونق ہوتی ہے ۔ سارا خاندانی نظام اسی اکائی سے شروع ہوتا ہے اس لیے جب عورت گھر سے نکلی اور دنیا بھر کی مصروفیات نے اسے جھکڑا تو اس کے لیے بچوں ، رشتہ داروں ، امورخانہ داری اور گھر کی سجاوٹ کےلیے وقت نہیں رہا جس سے خاندانی نظام تباہ ہوگیا ۔ میاں بیوی کی دوریاں ، نفرتیں ، ضداضدی اور اختلاف شدید سے شدید تر ہوتے گئے اور پھر نتیجہ طلاق پر پہنچا ۔  اس لیے ہم دیکھتے ہیں مغرب میں جب یہ کلچرعام ہوا تو طلاق کی شرح بھی بڑھ گئ۔ مغربی عورت گھر سے نکل کر شمع محفل بنی تو بھی وہاں راہ ہموار نہیں تھی ۔ مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اسے نقصان بھی بہت ہوا ۔ عزت ، احترام ، تقدس سب کچھ ہار کر بیٹھ گئی ۔ مرد اور عورت کا تعلق بڑھا تو جنسی بے راہ روی بھی عام ہوگئی ۔ زنا بالرضا اور زنابالجبر کے واقعات روز کا معمول بن گئے ۔ بن باپ کے بچے اور کنواری ماں کا رواج عام ہوگیا ۔ آخر کار اخلاقی ، معاشرتی اور خاندانی تباہی اس حال پر پہنچی کہ اب یورپ میں یہ سب کچھ عیب بھی نہیں ۔ والدین کو بچوں کی ایسی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض یا کسی قسم کی ناپسندیدگی بھی نہیں ہوتی ۔  یہی وہ وجوہات تھیں جن کے باعث یورپ  خاندانی نظام کی تباہی سے دوچار ہو گیا ۔ اعداد وشمار کے حوالے سے دیکھیں اگر ہم حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں مغربی معاشرے میں عورت کے حقوق کا جائزہ لیں تو انتہائی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔ خاندان جو کسی بھی معاشرے میں انسان کے تحفظ و نشو و نما کی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے عورت کے تقدس کے عدم احترام کے باعث مغربی معاشرے میں شکست و ریخت کا شکار ہے۔ جس کا لازمی شکار عورت ہی بنتی ہے۔ذیل میں ایک معروف انگریزی ویب سائٹ سے ایک چارٹ لے کر پیش کیا جارہا ہے ۔ جس سے آپ حال ہی میں گذرنے والے سال 2012ء میں اکثر مغربی ممالک میں واقع ہونے والے طلاق کی مجموعی شرح معلوم کرسکتے ہیں ۔ Rank Countryممالک       Percent 1 India  انڈیا 1.1 2 Sri Lankaسری لنکا 1.5 3 Japanجاپان 1.9 4 Republic of Macedoniaمقدونیا 5.0 5 Bosnia and Herzegovinaبوسنیا 5.0 6 Turkeyترکی 6.0 7 Armeniaآرمینیا 6.0 8 Georgiaجارجیا 6.6 9 Italyاٹلی 10.0 10 Azerbaijanآزربائیجان 10.3 11 Albaniaالبانیا 10.9 12 Israelاسرائیل 14.8 13 Spainسپین 15.2 14 Croatiaکروشیا 15.5 15 Greeceروم 15.7 16 Singaporeسنگاپور 17.2 17 Polandپولینڈ 17.2 18 Romaniaرومانیا 19.1 19 Sloveniaسلوانیہ 20.7 20 Bulgariaبلغاریہ 21.1 21 Switzerlandسوئیزرلینڈ 25.5 22 Portugalپرتگال 26.2 23 Slovakiaسلواکیہ 26.9 24 Moldovaمالدووا 28.1 25 Latviaلیٹویا 34.4 26 Canadaکینیڈا 37.0 27 Hungaryہنگری 37.5 28 Netherlandsنیدرلینڈ 38.3 29 Franceفرانس 38.3 30 Lithuaniaلٹوانیہ 38.9 31 Germanyجرمنی 39.4 32 Icelandآئس لینڈ 39.5 33 Ukraineیوکرائن 40.0 34 Norwayناروے 40.4 35 United Kingdomبرطانیہ 42.6 36 Russiaروس 43.3 37 Czech Republicزیورخ 43.3 38 Austriaآسٹریا 43.4 39 Belgiumبیلجیم 44.0 40 Denmarkڈنمارک 44.5 41 Estoniaاسٹونیا 46.7 42 Luxembourgلکسمبرگ 47.4 43 Finlandفن لینڈ 51.2 44 Belarusبیلاروس 52.9 45 United Statesریاست ہائے متحدہ امریکہ 54.8 46 Swedenسویڈن 54.9  یہاں ضرورت تو اس بات کی ہے کہ تمام مغربی ممالک کی شرح طلاق کا مکمل گراف پیش کیا جائے مگر مشتے نمونہ ازخروارے پر اکتفا کیا جارہا ہے ۔ اس لیے آپ ذیل میں صرف امریکہ 2012ء سے پہلے چھ  دہائیوں میں رہنی والی شرح طلاق کا گراف ملاحظہ کریں ۔ طلاق کی اتنی بلند شرح کے اثرات صرف نوجوانوں پر ہی نہیں بلکہ بچوں پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ National Center for Health Statistics کے 1988 کے جائزے کے مطابق Single-Parents خاندانوں (طلاق یافتہ اور بغیر شادی کے بننے والے والدین) کے بچے عدم دلچسپی کے باعث سکول کی تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور لڑکیاں زندگی کی دوسری دہائی میں ہی حاملہ ہوجاتی ہیں جبکہ اکثر منشیات کے عادی بھی ہیں۔معروف سماجی سائنسدان Nicholas Nill نے 1993ء میں ایک رپورٹ میں لکھا کہ طلاق یافتہ والدین کے بچے نہ صرف اقتصادی مشکلات کا شکار رہتے ہیں بلکہ تعلیم کی محرومی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لاس اینجلس کے ایک عوامی سروے کے مطابق 69فیصد امریکی طلاق کے مضر اثرات کے ازالہ کی سبیل مستحکم خاندانی نظام کو قرار دیتے ہیں۔ بچوں پر طلاق کے اثرات صرف تعلیمی، نفسیاتی یا اقتصادی ہی نہیں۔ سماجی سائنسدان Sara S. McLanahan کے مطابق وہ لڑکیاں جو اپنا بچپن اور لڑکپن طلاق یافتہ والدہ کے ساتھ گزارتی ہیں مستقبل میں ان کے اسی منہج پر زندگی گزارنے کے 100فیصد سے 150فیصد تک امکانات دیکھے گئے ہیں۔مغربی معاشرے کی عورت صرف سماجی یا معاشرتی سطح پر ہی انحطاط کا شکار نہیں بلکہ ظاہراً معاشی و اقتصادی آزادی کی حامل ہوتے ہوئے بھی استحصال سے دوچار ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مغربی عورت کی معاشی و اقتصادی حالت کا جائزہ یوں پیش کیا گیا : Women constitute half the world's population, perform nearly two third of its work hours, recieve 1/10th of the world's income, & own less than one hundredth of the world's property.۔’’دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، دنیا کے دوتہائی کام کے گھنٹوں میں عورت کام کرتی ہے مگر اسے دنیا کی آمدنی کا دسواں حصہ ملتا ہے۔ اور وہ دنیا کی املاک کے سوویں حصہ سے بھی کم کی مالک ہے۔‘‘{نوٹ: مندرجہ بالا اعداد وشمار ایک معروف مصنف کی کتاب  اور مختلف تحقیقی ویب سائٹس سے لی گئی ہیں ۔}             جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

یوم خواتین،مغرب اور اسلام _ دوسری قسط



تقابلی جائزہ:عورت کے معاشرتی مقام پر گزرنے والے تین ادوار کا سرسری جائزہ لینے کے بعد اب تقابل کی باری آتی ہے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے کا دور بھی غیرمسلم اقوام اور مذاہب کا دور تھا جبکہ یورپ کے معاشی انقلاب کے بعدکا دور بھی غیرمسلم مغربیوں کا دور ہے ۔ درمیان میں اسلام کے ظہور کےبعد اس کی تعلیمات کا انقلابی دور ہے ۔ہم خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور روشن انقلاب کا تقابل قبل از اسلام کے ساتھ نہیں کرتے کیوں کہ وہ تو خود یورپ کے ڈارک ایجز سے بھی پہلے کا دور ہے ۔ اس دور کی بڑی تہذیبیں آج بالکل نیست ونابود ہیں یا انہیں آج اپنی پرانی تہذیب پر فخر ہی نہیں رہا ۔ اس لیے اصل تقابل یورپ کے موجودہ ترقی یافتہ دور سے ہے ۔ یورپ کو اپنی جس تہذیب ، اخلاق اور ترقی کے دورپر ناز ہے اور جس میں وہ خواتین کے حقوق کا انتہائی زیادہ پروپیگنڈا کررہا ہے ہم اسلام کی روشن تعلیمات اور دیے گئے حقوق کا تقابل اس دور سے کریں گے ۔ حقوق نسواں کے حوالے سے یورپ کے تمام تر پروپیگنڈے پر سوچا جائے تواس کا خلاصہ دو باتیں سامنے آتی ہیں جس کی بنیاد پروہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں :1: حجاب اوڑھنے کی پابندی ۔2: عورت کو گھر کی چاردیواری تک محدود کردینا ، ان کے گھروں سے نکلنے اور ملازمت کرنے پر پابندی عائد کرنا ۔
دونوں نکتے بظاہر الگ نظرآنے کے باوجود ایک ہی ہیں کیوں کہ عورت کے گھر سے نکلنے کی حوصلہ شکنی کرنا اس کا باعث دراصل اسے حجاب ہی میں رکھنا ہے ۔ مغرب نے اپنے ناقص مذہب اور پوپ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد جمہوریت اور سیکولرازم کو اپنا شعار بنایا ۔ ہر بات اور ہر معاملے پر اسی زاویے سے سوچنا شروع کیا ۔ ان کے ہاں جمہوریت اور سیکولرازم ہی ہر مسئلے کا حل ہے ۔ عوامی خواہشات اور اکثریت کی مرضی ہی ہر معمے کا حل بن کر سامنے آیا ۔ خواتین کی آزادی پر بھی اس نے اسی حوالے سے نعرہ بلند کیا ۔ اسلام میں چونکہ جمہوریت کی اجازت اپنے اس معروف اصطلاح اور رائج طریقہ کار کے ساتھ نہیں ہے اس لیے فطری طور پر یہاں یورپی پروپیگنڈے اور اسلامی تعلیمات میں تضاد آگیا جس یورپ نے اسلامی تعلیمات کو بلاججھک تاریک خیالی اور سخت گیری کا طعنہ دینا شروع کیا ۔ اسلام نے خواتین کے جاب اور حجاب کے حوالے سے کیاتعلیمات دی ہیں اس سے یکسر صرف نظر کرکے صرف اس بات پر زور دیا دیا گیا کہ اسلام حجاب کے ذریعے خیمے نما لباس میں اسے قید اور گھر میں بٹھاکر دراصل نظر بند کرنا چاہتا ہے ۔ یورپی مغربی یا ان سے متاثر ہمارے مسلمان دانشوروں نے اس حوالے سے خوب خوب لفاظیاں کیں ۔ الفاظ کے جادو جگاکر ایسا سماں باندھا گیا کہ جس میں مسلمان عورت کو انتہائی مظلوم ، مقہور اور مرد کو انتہائی جابر وظالم ظاہرکیا گیا ۔                                             جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوم خواتین،مغرب اوراسلام _پہلی قسط



8مارچ کو اہل مغرب یوم خواتین مناتے ہیں ۔ مغرب کے دیکھادیکھی مسلمانوں میں بھی یہ وبا عام ہے ۔ یہ دن خواتین کے حقوق اور ان کی حیثیت اجاگرنے کے لیے منایا جاتا ہے ۔ یورپ گزشتہ دو صدیوں سے خواتین کے حقوق کا پروپیگنڈا کررہا ہے ۔ عورت کوحقوق دینے کے نام پر اس کے کئی این جی اوز اور ادارے کام کررہے ہیں ۔ اس معاملے میں کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ ،آج کی مجلس میں ہم ذرا اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے ۔معاشرے میں عورت کے تین ادوار:اجتماعی معاشرتی صورتحال کو دیکھیں تو انسانی تاریخ میں عورت پر تین ادوار گذرے ہیں ۔ پہلا دور قبل از اسلام کا ہے جہاں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ مرد کے مقابلے میں عورت کو معاشرے کا جزو معطل سمجھا جاتا تھا۔ اس کی تخلیق کا مقصد محض مرد کی خدمت اور چاکری تھی ۔ رہن سہن ، لباس پوشاک ، کھانے پینے غرض ہر معاملے میں وہ مرد کے رحم وکرم پر تھی ۔ ادھر وہ دانشور جن کے نظریات کا آج بھی چرچا ہے وہ کبھی تو عورت کو سانپ بچھو قرار دیتے اور کبھی اسے انسان نما حیوان کہتے ۔ ان کا کہنا تھااس کی تخلیق کا مقصد مرد کے لیے بچے پیدا کرنا اور اس کی خدمت کرنا ہے ، اسے سارے فساد اور خرابیوں کی جڑ کہا جاتا تھا ۔ دنیا کی دو بڑی تہذیبیں روم اور فارس جو دنیا کی متمدن تہذیبیں کہلاتی تھیں وہاں بھی یہی صورتحال تھی،جانوروں کی طرح عورتوں کی خرید وفروخت ہوتی تھی ۔ عرب معاشرے میں عورت کو جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کا سامنا تھا، جنسی تسکین کے لیے خواتین کے تبادلے اور کرائے پر لین دین عام تھی ۔ بلکہ نکاح کا نام دے کر اسے قانونی جواز بخشا گیا تھا ۔
اشرافیہ طبقہ کے لوگ جب چاہتے جہاں چاہتے اور جس کو چاہتے اپنے ہوس کا نشانہ بناتے ۔ دوسرا دور جو عورت کے معاشرتی حیثیت کے لیے بہترین دور گذرا ہے وہ اسلام کے ظہور کے بعد کا دور ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت خود ایک انقلاب کے سورج کا طلوع تھاجس کی ضوفشاں کرنوں نے تہذیب ، معاشرت ، معیشت اور نظام سیاست سمیت ہر گوشہء زندگی کو متاثر کیا ۔ اس انقلاب نے عورت کی زندگی کو بھی بدل دیا ۔ اسلام نے عورت کے حق میں ایک زوردار انقلاب کا نعرہ لگا یا اور دنیاکا رخ بالکل الٹی طرف پھیر دیا ۔عورت کے بارے میں اسلام سے قبل دنیا کی جو منفی سوچ تھی اب اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ عورت کا استحصال اسی طرح سےکیا جاسکے جس طرح اسلام سے قبل کیا جاتا تھا ۔ اسلام نے عورت اور مرد کی مساوات کا پیغام دیا اور اس کے لیے جو بنیا د بتایا وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہونا بتایا ، یہ ایسی دلیل تھی جس کا جواب کسی غاصب یا خاتون دشمن تہذیب کے پاس نہیں تھی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اس اعلان کے بعد عورت دنیا میں ایک الگ حیثیت سے متعارف ہونے لگی۔ اسلام نے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا : يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفسٍ واحدةٍ وخلق منها زوجها وبث منهما رجالًا كثيرًا ونساءً واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبًا۔
ترجمہ :اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے اور اللہ سے ڈرو جس کے ذریعہ تم ایک دوسرے سے مدد طلب کرتے ہو اور رشتوں کا احترام کرو۔ بےشک اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہ صرف اعلان نہیں تھا اسلام نے اپنی تعلیمات میں جہاں ہر گوشہء زندگی پر روشنی ڈالی وہاں عورت کے حقوق کے حوالے سے بھی واضح ہدایات دیں ۔ معاشرے اور گھر میں اس کی ہر حیثیت سے الگ الگ راستہ متعین کیا ۔ مرد کو اپنی تعلیمات کے ذریعے پابند بنایا اور اسے عورت کی احترام کا درس دیا ۔ انہیں تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ اسلام اور اسلامی نظام کے دور عروج میں عورت گھرکی ملکہ بن گئی ۔ اس کے احترام اور تقدس میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا ۔ اسلام نے حقوق تو مرد وعورت کے ایک ہی بتائے مگر تخلیق اور مجموعی جسمانی صلاحیتوں میں فرق کو ملحوظ رکھ کر ان کی ذمہ داریاں الگ الگ کردیں ۔ مرد کو فکر معاش دیا اور عورت کو گھر سنبھالنے کی ذمہ داری دی ۔ اسلام نے کہا وقرن فی بیوتکن ۔ اپنے گھروں میں قرار پکڑو۔ گھر اور باہرکی دنیا میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ دنیا میں بڑَے بڑے اور انتہائی مشکل کام سرانجام دیے جاتے ہیں جبکہ گھر میں صرف متوازن نظم وضبط قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قرن فی بیوتکن کا مطلب ہر گز اسلام نے یہ نہیں بتایاکہ گھر میں معطل ہو کر رہ جائے ۔ تاریخ اسلام میں ایسی سینکڑوں خواتین گزری ہیں جنہوں نے علم وفن کی دنیا میں کمال حاصل کیا اور تاریخ میں اپنانام درج کروایا ۔ تیسرا دور یورپ کے معاشی انقلاب کے بعد کا ہے ۔ آسمانی ہدایات سے محروم مغرب پر سائنس اور معیشت کے دروازے جب وا ہوئے تو اس نے سرمایے اور دولت کے حصول کے لیے کسی بھی ذریعہ کے استعمال سے دریغ نہیں کیا ۔ چونکہ نصف انسانی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اس لیے صنعت کاروں کو اتنی بڑی انسانی آبادی کا "بیکار" رہنا گوارہ نہیں تھا ۔ صنعتوں کو ورکرز مہیاکرنے لیے جو بڑی پریشانی تھی اس کا ایک اچھا حل یہی تھا کہ عورتوں کو بھی کارخانوں میں ملازم رکھا جائے ۔ چونکہ اس وقت تک اسلام کے دور عروج کے اثرات تھے ،یورپ میں بھی اسلامی تہذیب رائج تھی اور خواتین میں گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کا رواج نہ تھااس لیے عورت کو گھرسے نکالنے سب سے پہلے عورت اورمرد کی برابری کا نعرہ لگایا گیا ۔ خواتین کو گھروں سے نکال کر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا نعرہ دیا گیا ۔ اسلام نے حقوق تو پہلے ہی برابر دیے تھے یورپ نے ذمہ داریوں اور مشقتوں میں برابر کی تقسیم کر ڈالی ۔ اس کا ایک نقصان تو خود عورت کو ہوا وہ یہ تھا کہ گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ اسے باہرکی دنیا بھی سنبھالنی پڑی ۔ دوسرا نقصان معاشرے کو ہوا وہ یہ کہ معاشرے میں مرد وزن کا اختلاط عام ہوگیا۔ مرد وزن کے عام اختلاط نے معاشرتی روایات کے ساتھ اخلاق ، حیا اور شرافت کے اقدارکو تباہ کرکے رکھ دیا ۔ داناوں کا کہنا ہے کہ عورت کی آزادی چاہنے والے دراصل عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں ۔ یورپ آج جس اخلاقی اور خاندانی نظام کی تباہی سے دوچار ہے اس کا اندازہ اسے آج سے قبل نہیں تھا ۔ آج یورپ میں پھر سے اس فلسفے پر زور دیاجاتا ہے کہ com beak to home۔ گھر کی طرف واپس آو ۔ اب عورت نامی چڑیا ان کے پنجرے سے نکل چکی ہے اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ عورت کو پھر سے گھر کی طرف لاکریورپ میں مزید خاندانی نظام اور اخلاقیات کو بچایا جاسکے ۔ کنواری مائیں ، بغیر باپ کے بچے اور ایسی گرل فرینڈز جن کو ان کے مرد دوستوں نے ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد عمر کے زوال کے ساتھ دوستی ختم کرکے بیگانہ کردیا یورپ میں ایسے لوگوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ یورپ نظام فطرت سے بغاوت کے بعد سلوپوائزن تباہی کا شکار ہوا ہے ۔ اس تباہی کا اثر دھیرے دھیرے ہوتا رہااب تباہی کا حال یہ ہےکہ یورپ ایک اندھی کائی میں گرنے کو ہے اور اس کا گرنا یقینی بھی ہے مگر بچنے کا راستہ سوائے واپسی کے کچھ نہیں ۔                                                           جاری ہے۔ ۔ ۔

کچھ تو ہم بھی عزم کریں



منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ          منیر نیازی مرحوم کا یہ شعر زبانوں پر چڑھ کر بہت پامال ہوچکا ہے مگر اس ملک کی حالت زار دیکھ کر ہمیشہ یاد بھی آتا ہے ۔ ساٹھ سے چند زائد برس ہوئے جب اس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی ، علماءنے قربانیاں دیں ، مسلم لیگ کو مسلمانوں نے بھرپورسپورٹ کیا تو ایک ملک بنا۔ آج وہ ملک ڈھونڈرہا ہے اس قوم کو جس نے اسے دریافت کیا تھا ، جس نے اس کی تخلیق کا نقشہ مرتب کیا اور جس نے اس نقشے میںلہو سے رنگ بھرنے کے لیے اپنا جگر نچوڑ ا ۔ آج بھی ایسے لوگ بقید حیات ہیں جنہوں نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کیا اور جنہوں نے آگ اور خون کے دریا عبور کرکے بالکل تہی دامنی اور بے سروسامانی میںاس سرزمین پر قدم رکھا ۔ وہ واقعات پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اس قدر وحشت ، خوف اور ظلم وستم کاانسان صرف تصور ہی کرسکتا ہے ۔فرصت ملے تو معروف بیوروکریٹ اور شہاب نامہ کے مصنف قدرت اللہ شہاب کا ناول “یاخدا “ ضرور پڑھیے ۔
کہنے کو یہ ایک ناول ہے مگر بقول مصنف اس میں صرف نام فرضی ڈالے گئے ہیں ، اس کے کردار اور واقعات بالکل حقیقی ہیں ۔ معروف دانشور متین الرحمن مرتضی کی مختصر سے آپ بیتی ”میں نے پاکستان بنتے دیکھا“بھی اس سلسلے میں پڑھنے کی چیز ہے ۔ مگر پھر صرف ساٹھ سال کے عرصے میں سب کچھ بدل کر رہ گیا ۔ جس قوم نے عزم وہمت سے دو بڑی طاقتوں انگریز اور ہندو کو شکست سے دوچار کیا تھا آج خود حیرت زدہ وسرگرداں کھڑی ہے ۔ شیخ سعدی کے بقول اس بچے کی طرح بھرے میلے میں جس کے ہاتھ سے اپنے والد کا دامن چھوٹ جائے ۔ یہ سہمی ہوئی قوم پریشان وسرگردان کھڑی ہے کہ تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر جہاں ملک کے ہر چوراہے پر خون کے دریا بہہ رہے ہیں ،مہنگائی ، بیروز گاری، کرپشن ، بدامنی اور اس طرح دیگر مشکلات پہاڑوں کی طرح رکاوٹیں بنی کھڑی ہیں ،خون کے اس دریا اور پہاڑ جیسے ان بڑے مشکلات کو اس قوم نے پار بھی کرنا ہے ،مگر اب کوئی مسیحا نہیں جو آکر اس کا ہاتھ تھامے اورتاریخ کے اس مشکل ترین دور سے اسے پار لے جائے ۔ لیڈر اتنے ہیں کہ ہر پتھر کے نیچے مکوڑوں کی طرح ہزار ہزار رینگتے نظر آئیں پر جس قائد کی اس ملک کو ضرورت ہے وہ خورد بین سے دیکھنے کو بھی نہیں ملتا ۔ کہتے ہیں مایوسی اور بے دلی انسان کو بے وقوف اوربزدل بنادیتی ہے ۔مایوس شخص کو جہاں بھی جیسے بھی کوئی سراب نظر آجائے وہ حقیقت سمجھ کر اس کا پیچھا کرنے لگتا ہے جو کوئی بہروپیا چند مقفی ومسجع الفاظ جوڑ کر اسے لوٹنے کی کوشش کرتا ہے وہ اس کے دام میں انتہائی آسانی سے پھنس جاتا ہے ۔ کل یہاں انقلاب کا نعرہ لگانے والا ایک شخص اٹھا ، انصاف کے نعرے کو جس نے اپنا ہتھیار اور بدزبانی کو جس نے اپنا شعار بنایا ۔ روایتی لڑاکا عورتوں کی طرح گرجتا برستا اور تیز وتند بدکلامیاں کرنے والا وہ شخص اٹھ کر مینار پاکستان آیا ، وہاں سے چلا توسیدھا کراچی مزار قائد پہنچا وہاں سے نکلا تو کوئٹہ پہنچا ۔ جہاں جہاں گیاتھیٹر سجایا ، گویوں کو جمع کیا ، نوجوانوں کو گرجتی موسیقی کی تھاپ پر خوب رقصایا اور پھر چلتابنا ۔ سادہ دل قوم انقلاب کا ایک پرجوش عزم لیے اس کے پیچھے چلتی رہی پھر مگر نجانے کیا ہوا آج کل اس کا سکہ بیٹھ گیا ہے ۔ اب نہ وہ تھیٹر ہے نہ وہ رقص ، نہ وہ انقلاب کا نعرہ رندانہ ، بس ہلکی سی کسک سنائی دیتی ہے اور وہ بھی کبھی کبھی ۔ یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے اب چند دن پہلے کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ۔ ایک شخص کینیڈا سے امپورٹ ہوا وہ بھی سب سے پہلے مینار پاکستان پہنچا ۔تقریبا آدھا دن خوب گرجا برسا ،ہر ایک کو بے نقط سنائیں نجانے کیا کہتا تھا مگر سیاست وریاست کے الفاظ کا تکر ار اس کی زبان پر بہت تھا۔ پھر ایک دن وہ نکلا ہزاروں انسانوں کا لشکر جرار لے کر ۔ دارالحکومت کی سڑکوں پر گویا تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا۔ بم پروف کنٹینر میں پیک چالیس ہزار انسانوں کے بیچ جب وہ روانہ ہوا تو اس سادہ لوح قوم نے قوی امیدیں باندھ لیں کہ اب تو کچھ ہو کر ہی رہے گا مگر پھر کچھ بھی نہ ہوا ۔ تین دن کی سردی اور بارش کے بعد چالیس ہزارخواتین ، بچے ، بوڑھے اورجوان وکٹری کا نشان بناتے ہوئے گھروں کو لوٹے پر وکٹری میں کیا پایا اس کا کسی کو پتہ نہیں ۔ اب تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ۔قوم پھر اپنی پرانی حالت پر کھڑی ہے، منتظر ہے کہ کب کوئی اور بہروپیا چہرہ بدل کر آئے ، کروڑوں کا چندہ لے کر غائب ہوجائے ۔ چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگاتنا برا سلوک میری سادگی کے ساتھاب اور بھی نجانے کتنے بہروپیوں سے لٹ جانا اس قوم کی قسمت میں لکھا ہے اور نجانے کب تک یہ قوم یوں ہی لٹتی رہے ۔ اور ایک بات طے ہے کہ جب تک اس قوم کو دوسروں سے امیدیں باندھنے کی عادت ہوگی تب تک سب کچھ ایسا ہی رہے گا ۔ اقبال نے کہا تھا خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو احساس جس کو آپ اپنی حالت بدلنے کا طولانی کلام کا مقصد صرف یہ ہے کہ2013ءکے انتخابات سرپر ہیں۔ ہر لیڈر ایک نئے وعدے اور لیبل کے ساتھ آپ کے دروازے پر کھڑا ہے ۔ قسمیں ، وعدے اور لالچ دے دیکر آپ سے وعدے لے رہا ہے کہ آپ کے ووٹ کا صرف وہی حقدار ہے مگر میری قوم خدارا پھر سے 5سال کے لیے کوئی نیا بہروپیا ، نیا چور ، نیا دغا باز خود پر مسلط نہ کرو ۔ ایک ووٹ کا غلط استعمال اگلے پانچ سال کے لیے مہنگا ئی ، بدامنی ، سیکولرازم اور معاشی زوال کا ایک نیا طوفان آپ پر مسلط کردے گا ۔

فلسطین کی ملالہ


  دھویں ، آگ اور بارود کے خون آلود کہر میں لپٹے غزہ شہر کی سرحد پرایک سکول ہے ، اقوام متحدہ کا تعمیر کردہ ، مگر یہاں اب علم کی شمع فروزاں نہیں رہتی ۔ یہ اب غزہ کے مکینوں کے لیے جائے پناہ کا کام دیتا ہے جن کے گھراسرائیلی بمباری میں ملبوں کے ڈھیر بنادیے گئے ۔ یہاں ایک ہی عمارت میں کئی خاندان پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ایسے ہی ایک پناہ گزین خاندان کی ایک تیرہ سالہ لڑکی نے بی بی سی کے ایک صحافی کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پرزہ تھمایا۔
یہ کاغذ کا پرزہ ایک بسکٹ کے ڈبے سے پھاڑ کر حاصل کیا گیا تھا اور اس میں ایک املا کی غلطی کے ساتھ یہ تحریر تھا:میں امید کرتی ہوں کہ جنگ رک جائے گی۔میں ایک خوشحال زندگی جینے کی تمنا رکھتی ہوں،میں تا حیات امن کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ ہیپی ڈریم۔
یہ تو بدھ کے روز شام کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے سے قبل کی کہانی تھی مگر کیا اس جنگ بندی سے غزہ کی تاحیات خوشیاں لوٹ آئیں گی؟ اس سوال کا جواب شاید نفی میں ہے کیوں کہ اس طرح کے معاہدے ماضی میں بھی کئی مرتبہ اسرائیلی جارحیت کے بعد ہوچکے ہیں ۔ حماس اور اسرائیل ہمیشہ سے حالت جنگ میں رہے ہیں،کبھی سرد جنگ اور کبھی ننگی جارحیت۔ 2007ء میں حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا ، تب سے اب تک اگرچہ حماس نے اسرائیل کے خلاف کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کی مگرحالیہ معاہدے نے بھی ثابت کردیا ہے کہ حماس کوفتح کرنا اسرائیل کے لیے کوئی آسان ہدف نہیں ۔ یوں تو اس معاہدے سے زیادہ توقعات نہیں ہیں کیوں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے معاہدے کے دستخط کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ:" حماس کو خوش نہیں ہونا چاہیے کہ معاہدہ کرکے انہوں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے کیوں کہ ایسے حملے پہلے بھی ہوچکے ہیں اور بعد میں بھی ہوسکتے ہیں "۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے 2013ء میں اسرائیلی وزیراعظم نے اپنا اگلا انتخاب لڑنا ہے اس لیے انہوں نے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے یہ بھی سوچا ہوگا کہ صہیونیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسے اگلا حملہ کب کرنا ہے" ۔
جنگ بندی اور حتمی جنگ بندی ہی مسئلے کا حل ہے مگر جو معاہدہ اب ہوا اس سے زیادہ توقع اس لیے بھی نہیں رکھی جاسکتی کہ اسرائیل نے اس سے قبل 2006، 2008اور 2009 کو بھی غزہ پر جارحیت کی تھی اس وقت بھی ایسی جنگ بندیاں ہوئی ہیں مگر اسرائیل نے ہمیشہ معاہدہ شکنی کرکے حماس کے مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کی بجائے عوام پر اندھا دھند بمباری کی ۔ اور اسرائیل کا ہمیشہ سے یہ دعوی ہے کہ ''اس کی دفاع کے لیے غزہ پر حملہ واحد حل ہےــ'' ۔
مصری صدر کا کردار قابل ستائش ہے کہ انہوں نے پہلے دن سے جنگ بندی ہونے تک مسلسل اپنا کردار اداکیا ۔ اگر چہ تجزیہ کاروں نے اس امکان کو رد نہیں کیا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے کہنے پر ہوا ہے اور مصری صدر امریکہ کے کہنے پر ہی حماس کو مذاکرات کی میز تک لایا ہے جس کا واضح ثبوت ان کے ہاں معاہدے کے اعلان کے وقت مصری وزیرخارجہ کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ کی موجود گی بھی ہے ۔ مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی اور اسرائیلی حملوں کو اور زیادہ طول ملتا توحسب سابق اس بار بھی فلسطینی شہداء کی تعداد کئی سو تک پہنچ جاتی ۔ مصری صدر کو اس بات کا کریڈٹ دیے جانا چاہیے کہ ان کی کوششوں سے سینکڑوں جانیں محفوظ ہوگئی ہیں ۔
اب کی بار تو محمد مرسی کی کوششوں سے خداخدا کرکے اسرائیل کے دماغ سے جنگی بھوت اترا ہے مگر یہ معاہدہ کچے دھاگے سے بندھی ہوئی گٹھڑی ہے ۔ کسی بھی وقت اسرائیل کا جنگی جنون اس کے دماغ پر چڑھ سکتا ہے اور یہ کچا دھاگہ ٹوٹ سکتا ہے اس لیے غزہ کے مسئلے کا پائیدار حل ضروری ہے ۔ اقوام متحدہ کو اپنی حیثیت کو سامنے رکھ کرغزہ ایسے متنازع مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا چاہیے ۔ اورعالمی قوتوں کا بھانپو بننے کی بجائے اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور اسرائیل کو اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے ۔ کیوں کہ بدھ کے روز ہونے والے معاہدے کے بعد اسرائیل فوجیوں نے23 نومبرکو جمعے کے روز غزہ کے سرحد پر فائرنگ کرکے ایک بیگناہ شخص کو شہید کردیا ہے ۔ عینی شاہدین کے کہنا کہ یہ کسان تھے جن پر اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے ایک کو شہید اور تقریبا 20کو زخمی کردیا ۔ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایسے واقعات کا ظہور کس بات کا پیش خیمہ ہے ؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسرائیل کو دنیا کے کسی اصول یا قانون کا پاس نہیں ۔
آخر غزہ کے 17لاکھ عوام کو بھی زندگی کا حق ہے ۔ انہیں بھی اس دنیا میں جینا اور رہنا ہے ۔ تعلیم ، صحت ،خوشحال معاشی مستقبل ، پرامن زندگی اور ترقی یافتہ قوم بننے کا خواب ان کا بھی بنیادی حق ہے ۔ فلسطین کے معصوم بچوں کو بھی قلم اور کتاب سے آشنا ہونے کا حق ہے ۔ فلسطین کی اس گمنام تیرہ سالہ ملالہ کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے بستے میں کتابیں لے کر سکول جائے اور اطمینان سے واپس گھر لوٹے ، کوئی ان پر بمباری کرنے والا نہ ہو ۔ کوئی اس کے سکو ل کو پناہ گزین کیمپ بنانے والا نہ ہو۔
اقوام متحدہ نے ملالہ ڈے مناکر جس طرح ساری دنیا میں پاکستانی ملالہ کو خراج تحسین پیش کیا ، اور مغربی پریس نے ملالہ کو جتنا مظلومیت کا استعارہ بناکر پیش کیا انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ فلسطین کے ان گمنام ملالاؤں کے لیے بھی اتنی ہی قوت سے آواز اٹھائی جائے ، اقوام متحدہ عالمی سطح پر غزہ کا مقدمہ پیش کرے اور عالمی طاقتوں کومسئلے کی نزاکت کا احساس دلائے ، اور غزہ کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرے ۔ مگر . . . . . . . شاید ایسا نہ ہوسکے۔

ہم تو بندے ہیں ہمیں کیا معلوم


رات ہوگئی ہے ، اب میں اپنے سسٹم کے سامنے بیٹھا منتشر خیالات کے بے لگام گھوڑے دوڑا رہاہوں ، سوچ رہاتھا  اپنے "نومولود بلاگ "کے لیے کچھ سطور لکھوں مگر دل ودماغ پر آج کوئٹہ شہر کے صورتحال کی پرچھائیاں پڑی ہوئی ہیں اور انہیں واقعات کی فلم ذہن میں چل رہی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ اور ذہن میں آتا ہی نہیں ۔ ہوا یہ کہ آج شارع اقبال پر رکشہ جیسے ہی مڑا سامنے بازار سارا بند نظر آیا ، لوگوں میں خوف اور بے اطمینانی نظر آرہی تھی ۔ بلدیہ پلازہ اور لیاقت بازار سارا بند پڑاتھا ۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اب سے کچھ دیر قبل یہاں منان چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3افراد قتل جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا ۔ حادثہ کے فورا بعد لوگ جمع ہوگئے ، یہ ایک شخص کا آنکھول دیکھا حال ہے ، خدا جانے اس زخمی کی حالت اب کیاہے ، میں ٹی وی نہیں دیکھتا ، تازہ صورتحال کیا ہے مجھے نہیں معلوم ، جلتے ٹائر ، لپکتے شعلے اور سیاہ دھویں کے اٹھتے ہوئے مرغولے ، یہ آسیب زدہ اور خوفناک صورتحال تو شام ڈھلتے ہی نظر آرہی تھی ، ٹی وی پر پٹیاں چل چکی ہوں گی ، نیوز ریڈرز نے ایک بارپھر تازہ دم لہجے میں خبر سنائی ہوگی اور ممکن ہے وہ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہاں ہمارے رحمان ملک نے ٹی وی کیمرے کے سامنے وہی میاں مٹھو کی طرح رٹا ہوا جملہ سنایا ہو کہ "  دہشت گردوں کی شناخت ہوگئ"۔ ممکن ہے انہوں نے ان کے آنے اور واپس جانے کی روٹ بھی بتادی ہو ، بلکہ ہوسکتا ہے دہشت گردوں کے آبائی علاقے اور ان کے حسب نسب بھی بیان کرچکے ہوں ، کیا کیا جائے کہ انہیں سب معلومات ہیں مگر ان کی گرفتاری کیسے ممکن ہے یہ ملک صاحب نہیں جانتے۔یہ ایک حادثہ تھا مگر اسے سانحہ کہنا شاید زیادہ بہتر ہے کیوں کہ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا حادثہ دیکھ کر کوئی رکا نہیںیہ حادثہ بھی سربازار ہوا اور قاتل تھے کہ آئین ، قانون ، ہزاروں پولیس ، ایف سی ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کا مذاق اڑاتے ہوئے مکھن سے بال کی طرح صحیح سالم اور زندہ سلامت نکل گئے ۔ ابھی ذہن نے یہ حادثہ بھی ٹھیک طرح سے "ہضم " نہیں کیا تھا کہ پے درپے ایس ایم ایس نے ایک اور سانحے کی اطلاعات پہنچائیں ۔ یہ سانحہ میرے کراچی میں ہوا جی ہاں وہی شہر جس سے میری رومان پرور یادیں وابستہ ہیں ۔ اس سابقہ عروس البلاد شہر میں بھی وہی کچھ ہوا جو اس سے چند لمحے پہلے کوئٹہ میں ہوچکا تھا ۔ وہی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ ، بے گناہ لوگوں کاقتل اور وہی دندھناتے ، قانون ، آئین ، سیکیورٹی وانٹیلی جنس اداروں کا مذاق اڑاتے ہوئے کروڑوں لوگوں کے شہر میں لوگوں کے بیچ میں سے مکھن سے بال کی طرح محفوظ نکل جانا ۔ ایک سین ، ایک ہی منظر ، ایک ہی طرح کا ڈرامہ اور ایک ہی طرح کے کردار ۔ مختلف ہیں تو قاتل اور مقتول مختلف ہیں ۔ یہاں جو مقتول تھے وہاں وہ قاتل۔ یہاں جو کچھ دیر قبل مظلوم تھے تھوڑی ہی دیر بعد وہ ظالم ۔ یہاں سپینی روڈ ، ڈبل روڈ اور منان چوک پر فائرنگ ہوئی ، تینوں واقعات میں تقریبا 7افراد ہلاک ہوگئے جبکہ گلشن اقبال کراچی میں ہونے والے اسی طرح کے واقعے میں ایک دینی مدرسے کے 8معصوم طلبہ شہید ہوگئے ۔ اب ایک ہی جرم ہے اور ایک جیسے ہی واقعہ ۔ کس کو ظالم قراردیں اور کس کو مظلوم ؟ کھیل اور چھوٹا موٹا نہیں گریٹ گیم جاری ہے ۔ کھلاڑی پس پردہ بیٹھے بٹن دبارہے ہیں اور ہم عوام ہیں کہ جن کی جان پر بنی ہے ۔ رحم وکرم کی توقع کس سے کریں اور سمجھائیں تو کس کو ؟ ادھر غریب لوگ غریب عوام ہیں کہ غربت اور مہنگائی کے خونی پنجوں میں پھنسے ہیں ادھر بدامنی ہے کہ بیویوں کا سہاگ ، ماوں کی ممتا اور بہنوں کے مان اور بیٹیوں کے سروں سے شفقت کا سایہ چھینتے چلے جارہے ہیں ۔ خدا جانے یہ طوفان کہاں جاکر تھمے گا ۔ کب قتل وخون کا یہ سلسلہ جاکر رکے گا ۔ آگ اور دھویں کے بادل کب چھٹیں گے اور کب اس دھرتی کا سکون واپس لوٹے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا تعالی بہتر جانے کہ وہی علیم ہے ۔  ہم تو بندے ہیں ہمیں کیا معلوم وہی خبیر ہے ۔

پوئٹری آف دی طالبان


غالب نے کہا تھا:'' شاعر وہ ہے جس کو قطرے میں دجلہ نظر آجائے،جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی وہ دیدہء بینا نہیں بچوں کاکھیل ہے'' ۔ فیض نے اسی پر گرہ لگائی اور مزید کہا کہ ''شاعر کا کام محض دجلہ دیکھنا نہیں دکھا نا بھی ہے''۔شاعری کا یہ حق ہر دور میں ہر شاعر نے ادا کرنے کی کوشش کی مگر افغانستان کے'' فقیر'' منش طالبان کے'' درویش''صفت شعراء نے یہ حق اس خوبی سے ادا کیا کہ اس کی گونج اب پشتو سے ناواقف ، افغانوں کے طرز فکر سے بے خبر گورے مغربیوں کے دیس میں بھی سنائی دے رہی ہے۔بی بی سی اردو ویب سائٹ پر 17اگست 2012جمعہ کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ کیجیے :''آکسفورڈیونیورسٹی پریس پاکستان نے ''طالبان کی شاعری'' کے نام سے افغانستان کے طالبان کی دو سو ایسی نظموں کا انتخاب اور انگریزی ترجمہ شائع کیا ہے جو سنہ انیس سو نوے کے بعد لکھی گئیں۔اس کتاب کا اجرا آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید کی رہائش گاہ پر بدھ کی شام کو دیے جانے والے افطار عشائیہ میں ہوا
جس میں آکسفورڈ کی عمومی تقاریب اجرا کے برخلاف مہمانوں کی محدود تعداد نے شرکت کی۔پوئٹری آف دی طالبان نامی اس کتاب میں شامل افغان اور دری نظموں کو الکس سٹرک وان لنسکوٹن اور فیلکس کوہن نے ایڈٹ کیا ہے۔تقریب میں فیلکس کوہن موجود تھے تاہم الکس وان بہ وجوہ شرکت نہیں کر سکے تھے ۔ فیلکس نے کتاب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کتاب میں جو نظمیں ہیں وہ مختلف لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ نظمیں مختلف ویب سائٹس اور افغانستان میں فروخت ہونے والی سی ڈیز سے حاصل کی گئی ہیں اور بہت سی نظمیں ایسی بھی ہیں جو ریکارڈ کی گئیں اور پھر انھیں ٹرانسکرائب اور ترجمہ کیا گیا۔فیلکس کا کہنا تھا کہ انہیں کتاب میں شامل نظموں میں بیان کیے گئے مواد نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہ نظمیں سنہ انیس سو نوے سے سنہ دو ہزار ایک کے درمیان کی ہیں۔ اس نے بتایا کہ ان نظموں پر پروپیگنڈہ ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے لیکن ان میں سے بیشتر ذاتی جذبات اور محسوسات پر مبنی ہیں ۔ پھر بھی یہ نظمیں بہت سے لوگوں کے لیے قدرے تکلیف یا اذیت کا باعث ہو سکتی ہیں، بہر صورت کچھ لوگوں کے لیے ان کا پڑھنا ایک آزمائش اور امتحان ضرور ہو گا۔ نظموں پر کی جانے والی تنقید کے بارے میں فیلکس کا کہنا تھا کہ کچھ لوگو ں کے مطابق ان نظمو ں کو جمع اور مرتب کرنے کا مطلب طالبان کو انسان ثابت کرنا ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے انسان تو وہ ہیں، اور ان کا ایک علاقہ ہے افغانستان۔نظموں کی ہیئت کے بارے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں فیلکس نے کہا کہ ان نظموں کا پیرایہ روایتی ہے اور ان میں سے کچھ غزل کی ہیئت میں بھی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر وہ اسے عام پشتو اور دری شاعری سے الگ نہیں کہہ سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ قطع نظر اس بات کے لوگ کیا کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سنہ انیس سو نوے میں طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے لیے اتنے سکول قائم کیے کہ ان میں بیس ہزار لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔لکس ان دنوں کنگس کالج لندن کے وار سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ سے آئیڈنٹٹی آف طالبان موومنٹ 2010-1978 پر ڈاکٹریٹ کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ فارسی، عربی، پشتو، جرمن، فرانسیسی اور ڈچ زبانیں جانتے ہیں اور افغانستان، شام، لبنان اور صومالیہ میں آزاد صحافی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔فیلکس بھی عربی، افغانی اور دری زبانیں جانتے ہیں اور الکس کے ساتھ "مائی لائف ود طالبان "اور ''این اینیمی وی کری ایٹڈ نامی'' کتابیں لکھ چکے ہیں۔ وہ گذشتہ پانچ سال کے دوران اکثر افغانستان آتے جاتے رہے ہیں اور اس سے پہلے یمن میں بھی رہ چکے ہیں''۔
بی بی سی ویب سائٹ کی خبر من وعن نقل کرنے کا مقصد اس کی ثقاہت کو برقراررکھنا ہے ۔ ایسی ہی ایک خبر ایک اور برطانوی ویب سائٹ بیل فاسٹ ٹیلی گراف پر نشر ہوئی جس میں اس کتاب کی اشاعت کا ذکر ہے ۔یقینا ان شعراء اور نظم خوانوں کی یہ کامیابی ہے کہ جنہوں نے اپنی آواز ان اقوام تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو ان کی زبان بھی نہیں جانتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہلمند میں متعین برطانوی دستوں کے ایک سابق کمانڈر نے اس مجموعے کی اشاعت کو دشمن کے پروپیگنڈے کی ہمنوائی قرار دیا ہے اور اس اقدام کی مذمت کی ہے ۔
طالبان تحریک کی ابتداء سے ان شعراء نے اپنی نوا اٹھائی ہے اور اب تک ہر مرحلے اور ہر اونچ نیچ میں تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تحریک کے گذشتہ دوعشروں کے دوران بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں نظمیں لکھی اور پڑھی گئیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ شاعری کا کوئی پہلو ایسانہیں جس میں یہاں کوئی نظم نہ کہی گئی ہو ۔ ان نظموں نے طالبان تحریک میں انتہائی متاثر کن کردار اداکیا ۔ جذبات کے جگانے ، ایمانی غیرتوں کو تمازت دینے اور دین ووطن کی محبت کو بیدار کرنے میں ان نظموں اور ترانوں کاکردار ناقابل فراموش ہے ۔ مستقبل کا مورخ طالبان تحریک کا تذکرہ کرتے ہوئے یقینا ان رجزیہ ترانوں اور زجریہ نظموں کا تذکرہ کیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔یہ شعراء اپنی شاعری میں جہاں تحریک کے ساتھ ہر ہرمیدان میں ہم قدم نظر آتے ہیں وہاں اپنے فن میں بھی انتہائی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآ تے ہیں ۔ 1994میں قندہار پر قبضے کے بعد سے لے کر کابل کی فتح، مزار شریف کے سانحہ فاجعہ اور اس کے نتیجے میں دشت لیلی میں 12000طالبان قیدیوں کی بہیمانہ شہادت ، بامیان کی فتح ، پنجشیر پر حملے کی تیاری ، 2001میں امریکی حملہ ، کابل سے طالبان کا سقوط ، قلعہ جنگی کا سانحہ ، کیوبا ، قندہار اور بگرام ہوائی اڈے کی جیلوں کے تذکرے،امریکی اور نیٹو افواج کے مظالم کوئی حادثہ اور کوئی سانحہ ایسا نہیں گذرا جس پر ان شعراء کے قلم حرکت میں نہ آئے ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف واقعات کے اجمالی تذکروں کے ساتھ انتہائی باریک جزئیات پربھی کام کیا۔ ایک مجاہد کی شخصیت ، اٹھنے بیٹھنے ، لمبی داڑھی، بڑی پگڑی ، لمبے کرتے اور غبار آلود بالوں کا انتہائی محبت سے تذکرہ ملتا ہے ۔ یہاں محاذ کی طرف جاتے ہوئے مجاہدین کے قافلے بھی نظر آتے ہیں ، زخمیوں کی آہیں اور شہیدوں کی سسکیاں بھی سنائی دیتی ہیں ،غرض ایسا کوئی پہلو نہیں جس کاتذکرہ اس شاعری میں نہ ہو ۔
ثقافتی میدان میں دیکھیں تو یہ نظمیں انڈین گانوں ، فلموں اور علاقائی پشتو موسیقاروں اور گلوکاروں کا انتہائی کامیابی سے مقابلہ کررہے ہیں اور فی الوقت مذکورہ علاقوں میں خصوصی طور پر یہ نظمیں عوام کے سوچوں پر اثر انداز ہونے میں انڈین گانوں اور فلموں سے بھی آگے ہیں ۔ یہ اللہ تعالی کی نصرت ہے کہ اس نے'' فقیروں ''کی صداؤں میں اتنی جان ڈال دی کہ اب مغرب میں سنائی دینے لگے ہیں، دیکھتے ہیں آگے کہا ں تک ان کی رسائی ہوتی ہے ۔ اور اس کا کیا اثرہوتا ہے ۔

جرم ضعیفی


اقبال نے ایک لافانی مصرعہ کہا تھا :ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات برما کے مظلوم مسلمانوں کا بھی اس کے علاوہ کوئی قصور نہیں کہ وہ اپنے خطے میں کمزور تھے۔ طاقت اور اسلحہ ان کے پاس نہیں تھا ۔ سیاسی لحاظ سے انہیں مضبوط ہونے نہیں دیا گیا تھا ،اور ستم تو یہ کہ وہ لوگ جن کی گذشتہ تین نسلیں بودھسٹوں کی رحم وکرم پر ہیں اور صبح شام ان کے مظالم سہہ رہے ہیں ایسے خطے کے بارے میں مکمل معلومات آج تک دنیا کے مسلمانوں کو نہیں پہنچیں ۔ اظہار رائے کی آزادی جو اس جمہوری دور میں ہر انسان کا بنیادی حق ہے برما کے مسلمانوں کو اس سے بھی محروم رکھا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مظلومیت کی تاریخ سے تفصیلی طور پر آج تک ہم ناواقف ہیں ۔ ہمیں خبر نہیں کہ کس دور میں کون کون سے مظالم کے پہاڑ تھے جو ان مسلمانوں پر ڈھائے گئے ۔ برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے عالمی میڈیا کی بے خبری کی وجہ سے کافی عرصے تک تو اس قضیے کی کسی کو خبر بھی نہ ہوئی اور پھر جب بعض آزاد ذرائع نے سوشل میڈیا پر مظلوم برمیوں کی تصاویر شائع کیں
تو برمی حکومت نے ان تصاویر کو جعلی قراردیا اور کہا کہ یہ تصاویر ہند چینی ممالک کے سیلابوں میں ہلاک ہونے والے مصیبت زدگان کی ہیں جس سے اب مسلمان سیاسی فائدے اٹھاناچاہتے ہیں ۔ اب بھی برما کی حکومت اس مسئلے کو مسلم وغیر مسلم کی بجائے لسانی جنگ قرار دے رہی ہے ۔ جس کا اندازہ بعض عالمی میڈیا کی رپورٹوں سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔
برمی مسلمان تعداد کے اعتبار سے ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں جن کی آبادی ملک کی کل آبادی کا قریبا چار سے 5 فی صد ہے ، یہ زیادہ تر سنی ہیں ۔ برما کی تاریخ مسلم اقلیت پر توڑے گئے ظلم کے پہاڑ سے خوں رنگ ہے ، اس صورت حال کو عالمی پریس slow-burning genocide یا مسلمانوں کی بتدریج نسل کشی قرار دے چکا ہے ۔ آج کل اس خوں چکاں تاریخ کا ایک اور سیاہ باب رقم کیا جا رہا ہے ۔
برما کی خون خوار اکثریت (بدھ مت سے تعلق رکھنے والے راکھائن افراد ) کی جانب سے مسلم مخالف تشدد اور نسل کشی کے حالیہ واقعات میں برما کے صوبائی دارالحکومت اکیاب کی تمام مسلم بستیاں مکمل طور پرجلا دی گئی ہیں جب کہ مجموعی طور پر ملک میں پانچ سو سے زائد مسلم محلوں اور بستیوں بشمول مساجد کو جلا کر تباہ کر دیا گیا ہے ۔ اس ظلم وستم کے دوران پانچ ہزار سے زائد مسلمان شہید کر دئیے گئے ہیں اور مسلم خواتین کی نعشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ، ان مسلم کش فسادات کے دوران 30 ہزار افراد جان کے خوف سے بے گھر ہو کر بھٹکنے پر مجبور ہو گئے ہیں ، فسادیوں سے بچ نکلنے والے افرادخوراک اور پناہ سے محروم ہونے کی وجہ سے غذائی کمی اور موسم کی شدت کا شکار بن سکتے ہیں ۔
روہنگیا مسلم مہاجرین کی بڑی تعدا د نے پناہ کے لیے قریبی مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش کا رخ کیا لیکن بنگلہ دیشی سرحدی فورسز اور کوسٹ گارڈز نے ان کو واپس دھکیل دیا ۔ اب یہ بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے پڑ ے ہیں۔اب صورت حال اتنی گھمبیر ہو چکی ہے کہ اقوام متحدہ نے راکھائن نامی ریاست میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے جب کہ موتمر عالم اسلامی نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل سن 2009 میں اسی قسم کے واقعات کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد برباد ہوئی تھی ، ایک رپورٹ کے مطابق ان فسادات کے بعد 22 لاکھ افراد کو پناہ گزینی کی زندگی اختیار کرنا پڑی اور 40 ہزار روہنگیا مسلم بچے جبری مزدوری پر مجبور کر دئیے گئے تھے ۔ مسلمانوں کی نسل کو ختم کرنے والے فسادی آزاد ہیں جب کہ مسلمان جوڑے شادی کے لیے بھی حکومتی اجازت کے محتاج ہیں ،پکے گھروں کی تعمیر یا مرمت کے کسی کام کی ان کو اجازت نہیں، مسلمانوں کو بنا اجازت اپنی بستی اور علاقہ چھوڑ کر جانے پر پابندی ہے ان سب اقدامات کا مقصد ان مسلمانوںکو ترنوالہ بنانا ہے۔
اس خوف ناک صورت حال میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور میڈیا کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار اور میڈیا پر قابض طبقہ مسلم اخوت کا کتنا احساس اور مسلمانوں کے معاملات کا کتنا درد رکھتا ہے۔ اس جرم میں اسلامی دنیا اور اس کے میڈیا پاور سب کے سب برابرکے شریک ہیں ۔ برما کے عظیم سانحے کو اب دومہینے ہونے کو ہیں لیکن اب تک نہ اقوام متحدہ میں اس مسئلے پر کوئی قابل ذکر آواز اٹھائی گئی ہے اور نہ ہی امن وآشتی کے علمبر دار عالمی قوتوں نے اس پر کوئی صدابلندکی ہے ۔اگر اس طرح کا واقعہ کسی مسلم ملک میں پیش آتا ، کسی مسلم اکثریت علاقے میں کسی غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ، دومہینے سے جاری رہنے والے اس قتل وخون کا یہ بازاران پر گرم رہتا، پاکستان کے دیہاتوں میں مقیم ہندؤوں کی بستیا ں اجاڑدی جاتیں ، ان کے گھروں کو جلادیا جاتا ، ان کی خواتین کی عصمت دری کی جاتی ، ان کے گاؤں کے گاؤں جلادیے جاتے ، 20ہزار ہلاک اور اتنے ہی بے گھر ہوجاتے ، پیادہ پا دوڑتے دوڑتے پڑوس ملک کی سرحد پر پہنچتے اور راستہ نہ ملنے پر وہیں پڑے رہ جاتے ۔ موسم کی شدت ،بھوک اور پیاس کا عفریت ایک الگ مصیبت بن کر ان کے سر پر کھڑا ہوجا تا ، تو ذرا تصور کیجیے عالمی میڈیامیں کیا صورتحا ل ہوتی ۔ کتنے بڑے بڑے میڈیا چینل ، میڈیاپرسن ، رپورٹر اور کیمرہ مین اب وہاں پہنچ چکے ہوتے ۔ پیش آنے والے واقعے کی کتنے زاویوں سے ویڈیوزاور تصاویر بنائی جاچکی ہوتیں ۔ کتنے شوزہوچکے ہوتے ، کتنی ڈاکو مینٹریزبن چکی ہوتیں ، اداس میوزک کے ساتھ دکھا دکھا کر ان مظلوموں کو دس گنا زیادہ مقہور ومصیبت زدہ دکھا یا جاتا ۔ این جی اوز کی قطاریں لگ جاتیں ، امریکہ ، فرانس ، یورپ اور برطانیہ سے لے کر پاکستان تک امدادی ٹیموں کی لائنیں لگ جاتیں ، امدادی سامان سے بھرے پرے جہاز پاکستان کی ائیر پورٹوں پر اتر تے ،متاثرہ علاقے میں راشن کی فراہمی ، نئے گھروں کی تعمیر اور صحت کی بڑی سکیمیں چلتیں اور دیکھتے دیکھتے علاقے کی تقدیر بدل جاتی ۔ پاکستانی مسلمانوں کو دہشت گر د ، بنیاد پرست اور نجانے کن کن القابات سے نوازا جاتا ۔ پاکستان کی حکومت پوری دنیامیں منہ چھپائے پھرتی ، عالمی سطح پر پاکستان کے لیے کتنے مشکلات پیداہوجاتیں۔ کم ازکم دنیا بھر کے ممالک میں پاکستانی سفراء کی وزارت خارجہ طلبی ہوتی ، اقوام متحدہ پاکستان سے آئند ہ ایسا نہ ہونے کی ضمانت مانگتا ، متاثرہ علاقے کے علاوہ پورے ملک میں ہندو کمیونٹی کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ۔ اور ممکن تھا کہ ہندوکمیونٹی کو متاثرہ علاقہ الاٹ کردیا جاتا ۔ اگر یہ واقعہ پاکستان میں ہوجاتا اور اس کا یہ ردعمل پوری دنیا میں آتا تب توہر ایک کہتاکہ یہ عین انصاف ہے ۔ پاکستان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا ، یہاں کے مظلوموں کی ایسی ہی مدد کی جانی چاہیے تھی اور پاکستانی مسلمان دہشت گرد اور انتہاپسند سے زیادہ کسی اور ہی برے الفاظ کے ساتھ ذکر کیے جانے کے مستحق ہیں ،مگریہ واقعہ تو برما میں پیش آیا ، اقوام متحدہ، امریکہ ، یورپ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں دوماہ گذرنے کے بعد بھی سب لب سیے بیٹھی ہیں ۔ادھر اسلامی دنیا کو بھی کچھ کرگذرنے کی تو رہی ایک طرف کچھ کہنے کی بھی توفیق نہیں مل رہی ۔ اب کے دو ماہ بعداو آئی سی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے ، تقریبا ایک ماہ بعد اسلامی سربراہی کانفرنس بھی ہونے والی ہے ۔ اس سے قبل بھی انتہائی اہم مسائل پر او، آئی،سی اوراسلامی سربراہی کانفر نسوں کا انعقاد ہوچکاہے مگراس کا کوئی خاص ثمرہ نظر نہیں آیا ۔اب کی بار بھی ہمیں کوئی خاص توقع نہیں مگر امید لگانے میں کیاحرج ہے ۔ او، آئی ، سی جس میں معاشی اور عسکری لحاظ سے انتہائی اہم ممالک شامل ہیں کو اپنا وجود ثابت کرنے کےلیے کم از کم اس بار کوئی مثبت قدم اٹھانا چاہیے اور برما کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوئی مضبوط آواز اٹھانی چاہیے ۔