سرگوشیاں

گلگت بلتستان کا مستقبل

اسلام آباد میں آج کافی دنوں کے بعد زوروں کی بارش ہوئی. عام طور پر بارش خوشی اور شادمانی کا پیامبر ہوتا ہے لیکن آج بارش بھی دل کی اداسی کو دور نہیں کر سکا. کل رات کچھ "نامعلوم" ظالموں نے گلگت بلتستان کی زمین پر پھر سے خون کی ہولی کھیلی. ایک کرنل، ایک ایس ایس پی اور پاک فوج کے ایک کپتان شہید ہو گئے اور کم از کم تین افراد زخمی ہوگئے. ایسا نہیں ہے کہ ہمارے علاقے میں بربریت کا یہ پہلا واقعہ ہے،بلکہ اس سے پہلے بھی مظلوموں کے خون سے ہماری دھرتی کو متعدد بار داغدار کیا گیاہے.
دکھ اس بات کا ہے کہ حالات میں سدھار کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں. بعض لوگ تو ایسا بھی سمجھتے ہیں کہ حالات سدھارنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہو رہی ہیں. خوف یہ ہے کہ اگر اب بھی اس عفریت کا سر نہ کچلا گیا تو اس طرح کے مزید واقعات ہوں گے، خون ناحق بہتا رہیگا اور ہمارے علاقے کی معیشت اسی طرح تباہ و برباد رہے گی اور ہمارے علاقے میں بد امنی اور بے سکونی رہے گی. 
ضلع دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے. اگر یہاں بدامنی رہے گی تو سکون پورے گلگت بلتستان سے غائب ہو جائیگا. ہمارے سیاسی اور انتظامی قائدین کو چاہیے کہ گمراہ کن بیان بازی کرنے اور "مذمتی" قراردادیں اور تعزیتی کملات اخباروں میں شایع کرنے کی بجائے حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ لاقانونیت کو پھیلنے سے روکا جا سکے. 

اٹھارہ کروڑ تھپڑ .... منظور ہے نگہت شیخ صاحبہ؟

پنجاب اسمبلی کی شیرنی جیسی خاتون ممبر نے ایک بس ہوسٹیس جسکا نام اقراء نواز بتایا جا رہا ہے ....... کو تھپڑ رسید کر دیا ہے........ جرم ......  اس ہوسٹیس نے ان محترمہ کو پانی پلانے میں تاخیر کر دی ....بڑی غلطی ہے بھائی.... اسکی سزا تو ملنی چاہیے ...... ہر غلطی کی سزا ملنی چاہیے ...

یہ اقراء نواز کے ساتھ ہوا تو شاید نواز شریف اور شہباز شریف کچھ بھی نہ کرے .... لیکن اگر یہ مریم نواز کے ساتھ ہو جائے تو نہ جانے کیسی قیامت آجائیگی ......
میں محترمہ ایم پی اے نگہت شیخ صاحبہ کو یہ  بتانا چاہتا ہوں کہ عوام کو صاف پانی پلانے میں دیرکرنے، جعلی دواؤں کی تیاری اور خرید و فروخت روکنے میں ناکامی، بارش کے پانی کا نکاس نہ کرنے ، وقت پر بجلی مہیا نہ کرنے، مہنگائی میں ہوشربااضافہ کرنے، غریبوں پر ٹیکس لگانے اور امیروں کو چوٹ دینے اور ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنے جیسی غلطیوں کو جمع کا جائے تو عوام کی طرف سےآپ کو اور آپ کے درندہ صفت، بے حس اور بے غیرت سیاستدان ساتھیوں کو کم از کم اٹھارہ کروڑ تھپڑ پڑنے چاہیے .... 
منظور ہے .... ؟؟؟
کیونکہ غلطی کی سزا تو بہر حال ملنی ہی چاہیے ...... 

بلوچستان میں خون خرابہ




آج بلوچستان میں ایک بار پھر بہت زیادہ خون خرابہ ہوا۔ ایک یونیورسٹی کی متعدد طالبات ایک بزدلانہ حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، انکے ساتھ ساتھ راہگیروں اور بولان ہسپتال میں مریضوں کی تیمارداری کرنے والے بہت سارے افراد بھی گولیوں اور بموں کی زد میں آکر جان بحق اور زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ شہر کے ڈپٹی کمشنر بھی دہشتگردی کے اس حملے کا شکار بنے،جبکہ میڈیا کے مطابق زخمیوں کی عیادت کرنے کے لئے ہسپتال پہنچنے والے صوبہ بلوچستان کے چیف سیکریٹری، جناب فتح محمد بابر یعقوب اور پولیس کے انسپکٹر جنرل اس اندوہناک واقعے میں بال بال بچے۔ 


آج ہی مشہور سیاحتی مقام زیارت میں دہشتگردوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری ایام کی یاد گار، جو کہ زیارت ریذیڈنسی یا پھر قائد یا جناح ریزیڈنسی کے نام سے مشہور تھا، کو کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے مسلح کارکنوں نے راکٹوں اور بموں کے حملے میں شدید نقصان پہنچایا۔ عمارت کو آگ لگ گئی ، لیکن پورے علاقے میں فائر بریگیڈ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے کا عمل جلدی شروع نہ ہوسکا اور عمارت کا بڑا حصہ تباہ و برباد ہو گیا۔ 


کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج سے چھ دہائی پہلے جب قائد اعظم اس عمارت میں علاج معالجے کے سلسلے میں مقیم تھے تو انہیں اچانک طبعیت بگڑنے کی صورت میں کراچی منتقل کرنے کے لئے صیح حالت میں ایمبولینس موجود نہیں تھا۔ جس ایمبولینس میں ان کو منتقل کیا جارہا تھا وہ راستے میں خراب ہوگیا اور یوں بانی پاکستان کو اپنے آخری لمحات ایک خراب ایمبولینس کے اندر گزارنے پڑے۔ المیہ دیکھیں کہ آج جب انکے قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری ایام کی یاد گار شعلوں کی نذر کر دی گئی تھی تواسے بچانے کے لئے فائربریگیڈکی کوئی ایک بھی گاڑی موجود نہیں تھی۔


عمارتیں اور علامتیں قومی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی اصل شناخت ان کے نظریات سے ہوتی ہے ، نہ کہ کسی خاص عمارت یا علامت سے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمن جنگی جہازوں نے لندن شہر کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔ اسی طرح امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر تمام عمارتوں اور ان کے مکینوں کو نیست و نابود کردیا، مگر وقت نے دیکھا کہ جاپان نے صرف ان شہروں کو دوبارہ تعمیر کیا بلکہ پہلے سے بہتر بنا کر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ 


کیا ہمارے حکمران زیارت میں قائد اعظم کے آخری ایام کی یادگار عمارت کو بھی دوبارہ ایسا ہی بنا دیں گے؟ بنظر غائر تو ایسا نہیں لگتا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان چھ دہائیوں میں ملک کے نامور سیاستدانوں ، جرنیلوں اور سول سروس کے ہزاروں افسروں اور ان کے خاندانوں کی مسلسل خدمت کرنے اور خوبصورتی کی داد سمیٹنے کے باوجود زیارت کی قسمت نہیں بدلی ہے اور نہ ہی بدلے گا۔ اس خوبصورت اور دلکش علاقے کی محرومیوں کا سفراب بھی مسلسل جاری ہے۔ اور شائدنااہل حکمرانوں ، جرنیلوں اور بابووں کے نرغے میں قید مملکت پاکستان کی بدقسمتی کا سفر بھی اسی طرح جاری رہیگا۔ 


خون و کشت کا یہ سلسلہ صوبہ بلوچستان میں کافی عرصے سے جاری ہے۔ گزشتہ سال اور موجودہ سال کے اوائل میں کوئٹہ شہر میں ہزارہ شیعہ برادری کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا جسکی وجہ سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، سینکڑوں خاندان مختلف طریقوں سے متاثر ہوئے، جبکہ پورے ملک میں بے چینی اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے۔ اس سارے صورتحال میں پاکستان پوری دنیا کی نظروں میں ایک کمزور ملک کی حیثیت سے ابھرا، جسکے سیاسی اور معاشی نقصانات اپنی جگہ موجود ہیں۔ 


بلوچستان میں بیک وقت دو داخلی محاذوں پر لڑی جانے والی اس لڑائی نے پورے ملک میں ایک تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ ایک طرف مسلح قوم پرست ہیں جو علیحدگی کا نعرہ لگاکر قتل و غارت میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف فرقہ پرست تنظیمیں ہیں جو بموں اور گولیوں سے اپنی بات منوانے اور اپنی برتری جتانے کی سعی لاحاصل میں جتے ہوئے ہیں۔ ایف سی اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی ماوراء عدالت قتل اور اغوا جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات مسلسل لگائے جا رہے ہیں، اور اسی سلسلے میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔
انتظامی نااہلی اپنی جگہ، لیکن یہ مقام غور و فکر ہے کہ بلوچستان میں بعض طبقے اس حد تک ریاست سے بظاہر بدظن اور دلیر ہو چکے ہیں کہ اب انہیں ملک کے بانی کی یاد گار کو تباہ و برباد کرنے میں بھی کوئی عار یا دقت محسوس نہیں ہوتی۔ اس روئے کے محرکات پر غور کئے بغیر اور لوگوں کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل کا حل پیش کیے بغیر بلوچستان میں پھیلے بدامنی اور بے چینی کا خاتمہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ 

سائنسی علوم اور ہمارے علماء

سائینس کو رد کرنا آسان ہے، اور اس عمل پر کسی طرح کا قدغن بھی نہیں ہے۔بلکہ سائینسی علمااس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کے خیالات اور نظریات کو سچ کی کسوٹی پر رکھ کر جانچا جائے اور دلائل کی بنیاد پر انہیں رد کیا جائے۔ ایسا بہت بار ہوا ہے کہ ماضی میں رائج سائنسی نظریات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوتے مکمل طور پر بدل گئے ہیں، بلکہ بعض نظریات اب غلط بھی تصور کئے جاتے ہیں۔

 ہمارے مذہبی طبقے عموما جدید سائنسی علوم حاصل کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ سائنسی نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی بغیر دلائل اور تحقیق کے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک مضحکہ خیز صورتحال سے دوچار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے اور ان کے وعظ و نصیحت کی افادیت پر بھی غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 اسلئے ہمارے علما کو چاہیے کہ ہٹ دھرمی ختم کر کے سائینسی علوم حاصل کرے اور حکمت اور تحقیق کی روشنی میں دلائل اور استدلال کے ذریعے نظریات کو غلط یا صیح ثابت کرنے کی سعی کرے۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ سائینسی نظریات کو غلط ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں، لیکن دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرنے سے ان کی ساکھ بہتر ہو گی اور ان کو توجہ سے سنا جائیگا۔

اگر وہ سائنسی نظریات کو غلط ثابت کر سکے توپوری دنیا انکی عزت کرے گی، اور اگر نہ بھی کر سکے تو کم از کم کوئی ان پر توہینِ سائنس کا فتوی نہیں لگائیگا، اور نہ ہی پر تشدد انداز میں ان کی مخالفت کی جائیگی۔

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات


یکم مئی پوری دنیا میں ’’یوم مزدور‘‘ کے نام سے منایا جاتا ہے ۔ اس روز محنت اور صلاحیتوں کی عظمت اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے مختلف تقریبات اور جلسوں کا اہتمام کیا جاتاہے۔ مقررین محنت کشوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہیں اور سرمایہ داروں اور حکومتی اداروں کی بے حسی، شقی القلبی اور ڈھیٹ پن کا رونا روتے ہیں۔ ہر سال یہ رسم اسی طرح پوری کی جاتی ہے لیکن ترقی پزیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ صنعتی دنیا میں بھی مزدوروں کا استحصال اسی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔ آگاہی کے لئے نکالی جانے والی ریلیوں ، سییمنارز، کانفرنسز اور میٹنگز کا روایتی سیٹھوں اور جدید، تعلیمافتہ کارپوریٹ ایگزیکٹیوز پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ شائد اسکی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں حکومتیں اور ریاستیں بڑے تجارتی اداروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ سرمایہ پرست سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ محنت کشوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھتا ہے، اور استحصال کا شیطانی چکر اسی طرح جاری و ساری ہے۔ 
پاکستان میں تو حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں اگرچہ ٹریڈ یونینز اور طلبہ تنظیوں سے پابندی ہٹائی گئی تھی لیکن اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ ایسے واقعات دیکھنے میں آئے کہ مزدور یونین کے رہنماوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا کر پابند سلاسل کیا گیا، کیونکہ وہ مزدروں کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔ ایسا ایک واقعہ فیصل آباد میں پیش آیا جہاں مل کے مالک نے اپنے ذاتی اثرورسوخ کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے چھ مزدور رہنماوں کو ایک جھوٹے مقدمے میں  ٤٩٠ سال قید کی سزا دلوادی۔ ایسی  سزا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ان مزدور رہنماؤں پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایک فیکٹری کو آگ لگا دی. لیکن کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مل مالک کو ہڑتالی ملازمین پر فائرنگ سے روکنے کی کوشش کی تھی جس کی پاداش میں ان پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا. 
ایک دلخراش  واقعہ جس نے دورِ جدید میں مزدوروں کی بے بسی اور انکی لاچاری عیان کر دیا کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ میں پیش آیا جہاں کیمیکلز کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے تقریباً تین سوّ (۳۰۰) محنت کش جل کر راکھ ہوگئے ۔ان محنت کشوں کو جانوروں کی طرح فیکٹری کے اندر بند کردیا گیا تھا اور قلعہ نماعمارت کے صدر دروازے کو باہر سے بند کیا گیا تھا تاکہ کوئی مزدور فیکٹری سے باہر نہ جاسکے۔ فیکٹری کے بااثر مالکان اب بھی سزا سے بچے ہوئے ہیں۔محنت کشوں کو کسی طرح کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے نہ ان کے گھر کے دوسرے افراد کو ملازمتیں فراہم کی جاسکی ہیں۔ 

ملک بھر میں لاکھوں بچے اور بچیاں سڑکوں کی خاک چھانتے ہوئے اپنا رزق تلاش کرتے ہیں۔ کچرے کے بڑے بڑے ڈھیروں پر معصوم بچے اور بچیاں رزق ڈھونڈتی نظر آتی ہیں۔تعلیمیافتہ افراد کے بنگلوں اور فلیٹس میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں کام کرتے ہیں اور ہزاروں سماجی برائیوں کا ان کو سامنا ہے لیکن ان لوگوں کا ضمیر سویا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں ملکی سطح پر قوانین تو موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق ہوتا نظر نہیں آتا۔ 


پورے ملک میں کام کرنے والی فیکٹریوں، ہوٹلوں، ورکشاپس، دکانوں اور بڑے بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلز میں خون اور پسینہ بہانے والوں کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی ،انکی زندگی اور حرمت کی حفاظت کے معقول انتظامات نہیں کئے جاتے اور ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جاتے ہیں۔ جنسی حراسیت کی سدباب کے لئے البتہ ایک قانون منطور کر لیاگیا ہے جس سے شائد مختلف اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو تھوڑی بہت سہولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس قانون کو موثر نہیں بنایا جاسکتا اگر خواتین اس سے آگاہ نہیں ہونگی یا پھر اپنے حقوق کے حصول کے لئے ہمت نہیں باندھیں گی۔

بڑے بڑے کارپوریشنز، کمپنیوں، حتی کہ این جی اوز میں کام کرنے والے محنت کشوں پر بھی ہزار قدغنیں ہیں، انکی اظہار رائے پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور ان کو مہر بلب رہنے کی صلاح دی جاتی ہے۔ سرکشی کی صورت میں ملازمتوں سے فارغ کر دیا جاتاہے یا پھر ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں کہ بندہ خود ملازمت چھوڑ دیتاہے۔ یقیناًیہً ملکی اوربین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، لیکن اس استحصالی نظام کے خلاف اُٹھنے کو کوئی تیار ہی نہیں ہے۔ 
الغرض سرمایہ دار طبقہ آج بھی استحصال کی علامت بنے غریب محنت کشوں اور تعلیمافتہ ملازمت پیشہ افراد پر ایک عفریت کی طرح چھایا ہواہے۔ اس نظام سے نکلنے کی ایک امید یہ ہے کہ سماجی انصاف کے لئے انقلابی جدوجہد کی تحریک تیز کیا جائے، لیکن اس محاذ پر بھی کوئی قابل ذکر سرگرمی نظر نہیں آتی ہے۔ 

آج بھی ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ
 ’’ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘‘

ملازمت فراہم کرنے کی آڑ میں کرپشن


وزیر اعلی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے قومی احتساب بیورو  (نیب) کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ہے اگرچہ وہ کرپشن کے سخت خلاف ہیں لیکن لوگوں کو روزگار فراہم کرنا کرپشن نہیں ہے۔ یقینا، یہ بات درست ہے کہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کرپشن نہیں کہلائی جاسکتی۔ بلکہ، حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے اور افرادی قوت کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوے علاقائی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے کوشش کرے۔

تا ہم، اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ملازت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی بھر پور کرپشن کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس ننگی کرپشن کے عملی نمونے گلگت بلتستان کے کونے کونے میں پھیلے ہماری حکومت اور ریاست کی کارکردگی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔  
ملازت فراہم کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بہت اہم ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ روزگارکی فراہمی کس طرح سے ہو رہی ہے؟ کیا قانونی اور اخلاقی تقاضوں کو مد نظر رکھا جا رہاہے؟ کیا سب کو یکساں مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں؟ کیا حکومت اور ریاست معاشرے کے تمام طبقات کو اس قابل بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ملازمت حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کر سکے؟ 

میں سید مہدی شاہ صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر وہ گلگت بلتستان کے عوام کے خیر خواہ ہیں اور اگر وہ حقیقت میں کرپشن کے خلاف ہیں تو ان کو خود سے کچھ سوالات پوچھنے چاہیے، تاکہ ان کی اصلاح ہوسکے اور کرپشن کے بارے میں ان کے نظریات بھی درست ہو سکے۔ 

پہلا سوال جو شاہ صاحب کو خود سے پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ملازمت کن کو فراہم کی جارہی ہے؟ کیا معاشرے کے تمام اہل افراد کو ملازمت حاصل کرنے کے لئے شفاف طریقے سے مقابلہ کرنے کا موقع دیا جارہاہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ طبقات اور کچھ علاقوں کو دوسروں پر فوقیت دیا جارہاہے؟ اگر ایسا ہی ہو رہاہے، اگر اندرون خانہ بھرتیاں ہو رہی ہیں اور اگر کچھ طبقات کو دوسروں پر ترجیح دی جارہی ہے تو اس صورت میں  ملازمت کی فراہمی کرپشن میں شمار ہوگا۔ 
دوسرا سوال جو محترم مہدی شاہ صاحب کو خود سے پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ جو ملازمتیں فراہم کی جارہی ہیں، کیاان متعلقہ محکموں میں ان کی ضرورت بھی ہے؟ جن محکموں میں ملازمتیں فراہم کی جارہی ہے، کیا ان محکموں میں مزید افراد درکار ہیں؟ وہ کس طرح کے کام کریں گے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ملازمت فراہم کرنے کی کوشش میں غیر ضروری پوزیشنز پیدا کی جارہی ہیں اور وسائل کا بے جا استعمال کیاجارہے اور ضرورت سے زیادہ افراد کو اداروں میں گھسا کر خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟ اگر ایسا کیا جارہاہے تو یہ کرپشن کی بدترین مثال ہے۔ 
ایک اور سوال جو بطور وزیر اعلی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ صاحب کو خود سے پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ بہت زیادہ تعداد میں ملازمتیں فراہم کرنے کی وجہ سے ہمارے کمزور اور غیر مستحکم علاقائی خزانے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ ایسا تو نہیں کہ ملازمتیں فراہم کرنے کی کوششوں میں وسائل کا غیرمتوازن استعمال ہو رہا ہے اور عوام الناس کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں پڑ رہی ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان اس بات سے واقف ہوں گے کہ ملازمتیں دینے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو بنیادی سہولیات، مثلا تعلیم ، صحت، پانی، سڑکوں اور بجلی وغیرہ کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ان کاموں کے لئے بھی وسائل درکار ہوتے ہیں! 
چوتھا سوال، جو وزیر اعلی صاحب کو خود سے پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ملازمت کس طور اور طریقے سے فراہم کی جارہی ہے؟کیا ملازمت کے مواقع سارے علاقوں اور سارے طبقات میں یکساں مشتہر ہو رہے ہیں؟ کیا قابلیت کے معیار کا تعین بہتر طریقے سے کیا جارہا ہے ؟ انتخاب کے دوران معیار پر سمجھوتا تو نہیں کیا جارہا ؟ کیا ملازمت دیتے وقت قاعدہ اور قانون پر عمل ہو رہا ہے؟ اصولوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی؟ لوگوں سے رشوت لے کر توان کو بھرتی نہیں کیا جارہا؟ اگر ایسا ہو رہاہے کہ لوگوں سے پیسے لے کر، معیار کے اصولوں کو پامال کر کے من پسند اور صاحب حیثیت افراد کو روزگار اور ملازمت فراہم کی جارہی ہے تو  اس سے بڑی کرپشن کوئی ہو ہی نہیں سکتی ! 

آخر میں وزیر اعلی صاحب اس سوال پر بھی غور فرمائے تو بہتر ہو گا  کہ ملازمتوں کی شفاف اور دیانتداری کے ساتھ فراہمی کے لیے جن اداروں کے قیام کی ضرورت ہے وہ اب تک گلگت بلتستان میں کیوں قائم نہیں کیے جا رہے ؟ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر صوبائی پبلک سروس کمیشن قائم نہیں کیا جارہا؟ اگر آپ کرپشن کے اتنے ہی خلاف ہیں تو تین سال گزرنے کے بعد بھی اس اہم ادارے کے قیام کی کوششیں کیوں نہیں ہو رہیں؟
  آج قومی احتساب بیورو کے وفد سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی صاحب نے توجیہہ پیش کی ہے کہ گلگت بلتستان میں روزگار کا واحد ذریعہ سرکاری نوکریاں ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات حقائق کے منافی ہے کیونکہ ہزاروں نوجوان کاروبار اور سیاحت سے منسلک ہیں اور رزق کما رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بدامنی نے سیاحت کے شعبے کو تباہ وبرباد کردیا ہے ، جبکہ بعض انتہائی معتبر کاروباری افراد علاقے سے فرار ہو چکے ہیں اور دوسرے یہاں سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں۔ 

وزیر اعلی صاحب کو چاہیے کہ اپنی حکومت کی بد ترین کرپشن پر پردہ ڈالنے کی بجائے ایسے دور رس اقدامات اُٹھائے، ایسی پالیسیز بنائے، ایسی جاندار حکمت عملی طے کرے اورحکومت  کا ایسا معیار قائم کرے کہ عوام الناس علاقے کے وسائل سے فائدہ اُٹھانے کے قابل بن سکے اور اپنے لیے روزگار کے مواقع خود پیدا کرے. ۔ دنیا میں کوئی ایسی ریاست نہیں جو روزگار فراہم کرنے کے نام پر ملازمتوں کا نیلام عام کرے ، چندصاحب حیثیت (رشوت دینے کی سکت اور ہمت رکھنے والے) اور من پسند افراد کو ناجائز طریقے سے ملازمتیں فراہم کر ے اور پھر اپنی سیہ کاری کی توجیہہ پیش کرنےکے لیے مضحکہ خیز کوششیں کرے۔ 
گلگت بلتستان کے عوام نے موجود سیاسی سیٹ اپ بہت مشکلات اور قربانیوں کے بعد حاصل کی تھی۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت کے بدعنوان اور ڈھیٹ وزرا نے اسے مکمل طور پر ناکام کرنے اور عوام الناس کو اس کے فوائد سے محروم رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ایک موہوم سی امید البتہ یہ ہے کہ قوم کو ملازمتیں فراہم کرنے کے نام پر خزانے کو لوٹنے اور اپنے جیبوں کو گرم کرنے اور اپنے پیاروں کو نوازنے والوں کو گریبان سے پکڑ کر ان سے حساب لیا جائے۔ اور یہ کام قومی احتساب بیورو (نیب) کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ اسے آزادی سے کام کرنے دیا جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو عوام الناس اسی طرح محروم رہیں گے اور ان کو ملازمت اور روزگار فراہم کرنے کے نام پر چند افراد کرپشن کا بازار گرم کرتے رہیں گے اور ملازمت فراہم کرنے کے زعم میں ہم پر احسان بھی کرتے رہیں گے۔
مجھے یقین ہے کہ وزیر اعلی صاحب اس بلاگ کو نہیں پڑھینگے۔ اور اگر پڑھ بھی لے تو اسے نظر انداز کریں گے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کار حکومت درست نہیں ہونگے جب تک ہمارے رہنما اپنے اہداف اور اپنی نیتیں درست نہ کرے۔ 

پاکستان میں انتخابات اور گلگت بلتستان کے نوجوان


مملکت خداداد پاکستان میں انتخابات کی آمد آمد ہے. گلی محلوں میں بڑے بڑے پوسٹرز اور بینرز کی بھر مار ہے. رکشوں، کاروں، لینڈ کروزرز اور ٹرکوں پر ہنستے مسکراتے، پر عزم اورفضاء میں بازو لہراتے امیدواروں کی تصویریں لگ رہی ہیں. بہت سارے من چلے دیو قامت لاوڈ سپیکرز لگائے فضاء کو اپنے نغموں اور پیغامات سے بھر رہے ہیں. غرض ایک جشن کا سماں ہے. اور کیوں نہ ہو. جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ تمام امیدواروں اور ووٹرز کو کھل کر اپنے خیالات کی تشہیر کا موقع ملے. 
تاہم کچھ پارٹیز، جن کو لبرل اور "آزاد خیال" یا "سیکولر" گردانا جاتا ہے عتاب کا شکار ہیں. ان کے امیدواروں پر حملے ہو رہے ہیں اور ان کو الیکشن سے روکنے یا انکی اس جمہوری عمل میں شمولیت کو غیر موثر بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں. اس تناظر میں بعض افراد یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ یہ حملے اور ان امیدواروں کو اپنے کمپین سے دور رکھنے کی کوشش پری پول رگنگ ( یعنی انتخابات سے قبل دھاندلی) کے مترادف ہے. یہ موضوع توجہ طلب ہے لیکن آج میری گزارشات کسی دوسرے موضوع پر مرکوز ہیں. 
گلگت بلتستان کے رہائشی ہونے کی وجہ سے میں اور میرے جیسے لاکھوں افراد پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رکھنے کے باوجود ہمیشہ کی طرح اس قومی جمہوری عمل سے باہر ہیں. قومی اسمبلی اور سینٹ میں بیٹھے صاحبان اور صاحبات ہماری تقدیر کا فیصلہ تو کرسکتےہیں لیکن ہمارے ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آتے. آسان الفاظ میں یہ کہ گلگت بلتستان کا کوئی بھی نمائندہ قومی اسمبلی اور سینٹ کا ممبر نہیں بن سکتا. 
لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم حق رائے دہی سے یکسر محروم ہیں. ہمارے نمائندے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں براجمان ہیں، لیکن انکی قانون سازی کی صلاحیت اور استعداد انتہائی محدود ہے اور ان کے پر بیوروکریسی کے آگے جل جاتے ہیں! 
اس محرومی کے باوجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو مختلف وفاقی پارٹیوں کے الیکشن کمپین میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے. سماجی وابطے کے ویب سائیٹس پر متحرک یہ سیاسی کارکنان اپنی پارٹیوں کے حق میں بھر پور کمپین چلا رہے ہیں، یہ جانتے ہوے بھی کہ قانونی طور پر وہ ووٹ دینے کے قابل نہیں ہیں. 
جب ان نوجوانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ ووٹ دینے کے لیے نااہل ہونے کے باوجود وہ وفاتی پارٹیوں کے کمپین میں اتنے جوش و خروش سے کیوں حصہ لیتے ہیں تو بیشتر کے پاس کوئی واضح جواب نہیں وتا لیکن بعض کہتے ہیں کہ وہ خود ووٹ نہ بھی دے سکے تو دوسروں کو تو متوجہ کر سکتے ہیں. ان متحرک نوجوانوں کو امید یہ ہے کہ کوئی ایماندار رہنما پاکستان کا حکمران بنا تو شاید گلگت بلتستان کی تقدیر بھی بدل جائے اور اسکی آئینی حیثیت کا تعین ہو جائے. 
آیا ان نوجوانوں کی امیدیں پوری ہوجاتی ہیں یا نہیں، اسکا فیصلہ تو وقت ہی کریگا. تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ متحرک اور توانائی سے بھر پور نوجوان ان وفاقی پارٹیوں کے اندر رہتے ہوے گلگت بلتستان کی محرومیوں کی تشہیر کر سکتے ہیں. اور اپنے ساتھیوں اور رہنماؤں کو سمجھا سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق سے محروم رکھنا کسی بھی طرح پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے.

لوک میلہ اور لوک فنکار - کچھ تصویریں

اسلام آباد کی فضاء ان دنوں خوشگوار ہے. شاید اسلیے کہ پاکستان بھر سے انتہائی خوبصورت آوازیں رکھنے والے گلو کار اور چاق و چوبند رقاص شکر پڑیاں میں واقع لوک ورثہ میں اپنے فن کا جادو جگا رہے ہیں. قومی لوک میلہ میں شریک یہ فنکار پاکستان کی دیہی زندگی کی بہتری عکاسی اور نمائیندگی کرتے ہیں.  اچھی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی وادیوں سے بدین اور ٹھٹھہ کے ساحلوں تک کے فنکار اس زبردست پروگرام میں بھر پور شرکت کر رہے ہیں.
ہنرمند دستکاروں کی رنگ برنگی مصنوعات بھی مختلف سٹالز پر دستیاب ہیں اور ہزاروں شایقین اور خریداروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوے ہیں. 
قومی لوک میلہ اپریل کی ٢١ تاریخ تک جاری ہے. اگر آپ پاکستان کی دیہی زندگی اور ثقافتی ورثے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ میلہ آپ کو ایک بہت زبردست موقع فراہم کر سکتا ہے. فنکاروں سے مل کر اور دستکاروں کی ہنرمندی کی نمونے دیکھ کر یقینا آپ کو بہت لطف آئیگا. 
فی الحال یہ  تصاویر  دیکھ کر پاکستان کی ثقافتی تنوع کی خوبصورتی کا لطف اٹھائیں. 
سندھی لوک فنکار 
بلتی لوک فنکار 
گلگتی لوک فنکار 
گلگتی لوک فنکار 
بلوچ لوک فنکار 
بلوچ لوک فنکار 
پختون لوک فنکار 
سندھی لوک فنکار 
پنجابی لوک فنکار 
سندھی لوک فنکار 

بوری بند لاش

اس فن پارے کی تصویر میں نے اسلام آباد میں ایک ہوٹل میں لی تھی۔  اصلی بوری بند لاش سے بہت زیادہ مشابہت رکھنے والی یہ "لاش" بلاشبہ  ایک شاہکار فن پارہ ہے۔ تاہم، جس جرم کی یہ عکاسی کرتا ہے اس کا سوچ کر انسانی حواس شل ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں سیرینا ہوٹل میں اس فن پارے کی نمائش ہوئی تھی۔ پہلی بار اسے دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے، اور میری ہڈیوں میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی تھی، کیونکہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ درحقیقت ایک لاش ہے جسے ہوٹل کی ایک راہداری میں بے خبری سے پھینک دیا گیا ہے۔ 
 بوری بند لاشوں کا "کلچر" کراچی میں زیادہ ہے۔ دوسرے علاقوں سے اسطرح کی لاشیں فی الحال نہیں ملتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کراچی میں متحرب جماعتیں دہشت پھیلانے کے لئے اپنے مخالفین کو قتل کر کے بوریوں میں بند کر کے گلی محلوم اور سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ آئے دن بوری بند لاشوں کے حوالے سے خبریں آتی رہتی ہیں۔

جرم اور گناہ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے گروہ دہشت پھیلانے اور نفسیاتی برتری حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی گھناونی حرکتیں کرتے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ 

ساغر صدیقی کی یاد میں

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

آو، اک سجدہ کرے عالم مدہوشی میں 
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
--------------------

کہا جاتا ہے کہ یہ تصویر ساغر صدیقی کی ہے۔ جی ہاں۔ ساغر صدیقی، جسکا اصلی نام محمد اختر تھا، جو انبالہ (ہندوستان) میں 1927 میں پیدا ہوا تھا، اور جس نے لاہور کی ایک گلی میں سال 1974 میں اس بے بسی سے جان دیدی کہ کسی کو پتا بھی نہ چلا۔
کہتے ہیں کہ صبح جب خاکروب گلی میں آیا تو اسے ساغر صدیقی کی لاش ملی۔ 

کچھ لوگوں کا ماننا ہے ساغر صدیقی کو ہیروئین کا نشہ لگ گیا تھا۔ دوستوں اور احباب نے جب قرض دینا بند کر دیا تو اس نے اپنی نظمیں اور غزلیں بیچ کر پیسہ کمانا شروع کردیا۔
ان پیسوں سے ہیروئین اور دوسرے نشہ آور اشیا خرید کر ساغر صدیقی عالم مدہوشی میں چلا جاتا تھا۔  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ساغر نے اپنی سینکڑوں نظمیں اور غزلیں جلا ڈالی کیونکہ سردیوں میں اسے اپنے تن کو ڈھانپنے کے لئے مناسب کپڑے میسر نہیں تھے۔
اس عظیم شاعر نے پاکستانی اردو فلموں کے لیے سینکڑوں مقبول گیت لکھے، جو آج بھی بہت مشہور ہیں۔  اس دیوانے شاعر نے کہا تھا: 
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سوجاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں 
دور تک کوئی ستارہ ، نہ کوئی جگنو ہے
مرگِ امید کے آثار نظر آتے ہیں
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

بولان کلچرل سوسائیٹی کا شکریہ - سید مہدی شاہ بہترین وزیر اعلی

وزیر اعلی سیکریٹریٹ سے مورخہ ٢٩ مارچ ٢٠١٣ کو بذریعہ ای میل موصول ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق  آج لاہور میں وزیر اعلی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ صاحب کو بولان کلچرل سوسائیٹی نے "بہترین وزیر اعلی" کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ نیز، گلگت بلتستان کی ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور اس خوبصورت خطے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی بنیاد پر ان کو خراج تحسین بھی پیش کیاہے۔یقینا یہ ہم سب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔
اس موقعے پر میں نے یہ مناسب سمجھا کہ گلگت بلتستان کے ایک ادنی شہری کی حیثیت سے بولان کلچرل سوسائیٹی کا شکریہ ادا کروں اور ساتھ ساتھ وزیر اعلی سید مہدی شاہ صاحب کے جلی و خفی خدمات  اور ان فقید المثال خدمات کی برکات اور ان کے اثرات پر روشنی ڈال سکوں۔ 
یقینا یہ سیاحت و ثقافت کو فروغ دینے کے لئے اٹھائے گئے ان کے اقدامات کا نتیجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 5 لاکھ ماہانہ سے تجاوز کر گئی ہے۔ تحقیق سے وابستہ اداروں نے خبر رساں ایجنسیز کو بتایا ہے کہ چند مہینوں میں گلگت بلتستان سیاحت کے میدان میں سویٹزرلینڈ  اور آسٹریا کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔ ملکی آمدنی میں سیاحتی محصولات کی شرح بڑھ کر 80 فیصد ہوگئی ہے۔ ہوٹلوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے۔ سیاحوں کے غول پورے علاقے میں گھومتے رہتے ہیں۔ سکردو، خپلو، شگر، طولتی، دیوسائی، استور، درکوت (یاسین)، شندور، بلتت، دوئیکر ، پھسو، غلمت، راکا پوشی ویو پوائنٹ، ہسپر ، ہوپر، خنژراف، اور فیری میڈوز میں سینکڑوں سیاح لمبی قطاروں میں کھڑے ہاتھوں میں ٹکٹ لئے، بھاری اور قیمتی کیمرے تھامے، اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، تاکہ دوسرے سیاحوں کے جانے کے بعد وہ قدرت کے ان حسین شاہکاروں کو ایک نظر دیکھ سکے۔
بعض زرائع کے مطابق رش سے نمٹنے کے لئےحکومت ایک قانون نافذ کرنے جارہی ہے جس کے تحت سیاحوں پر لازم ہوگا کہ وہ مشہور مقامات پر پانچ منٹ سے زیادہ وقت نہ گزارے، تاکہ انتظار میں کھڑے لوگوں کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

ماہرین شماریات نے تخمینہ لگایا ہے کہ ہوٹلوں میں کام کرنے والے بیرے اور مقامی ٹورسٹ گائیڈز کی انفرادی آمدنی لاکھوں روپے ماہانہ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہوٹل مالکان میں سے بہت ساروں نے دبئی، چاند اور مریخ پرزمینیں خریدنے کے معائدے کر رکھے ہیں۔


تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو بعید نہیں کہ گلگت بلتستان چند سالوں میں دنیا کا سب سے خوشحال خطہ بن جائے ۔ اس معاشی خوشحالی کے اثرات پورے پاکستان، بلکہ جنوبی ایشیا تک بھی محسوس کئے جائیں گے۔ 


کہا جاتا ہے کہ سیاحت میں اضافے کی بنیادی وجہ گلگت بلتستان کی قابل رشک امن و امان کی صورتحال ہے۔ پچھلے تین سالوں میں گلگت بلتستان میں کوئی چوری تک نہیں ہوئی ہے۔ حکومتی اقدامات کی وجہ سے لوگ قتل و غارت اور فسادات کو بھول چکے ہیں۔ اس جنت نما خطے میں امن و امان کی صورتحال اتنی اچھی ہے کہ انسانوں کو دیکھ کر جانوروں نے بھی ایکا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ پچھلے دنوں کچھ بکریوں اور چند شیروں کو ایک سات جھولا جھولتے دیکھا گیا ہے۔ 


 اتنی خوشحالی اور ترقی ممکن بنانے کے لئے یقینا وزیر اعلی اور انکی حکومت اس ایوارڈ کی مستحق ہے۔ ہم گلگت بلتستان کے باسی بولان کلچرل سوسائیٹی کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمارے وزیر اعلی کو اس ایوارڈ سے نوازا۔

جوس کے تین ڈبے - حصہ دوئم

حصہ اول پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے سفر شروع ہوتے ہی میں نے ڈرائیور سے میوزک چلانے کی فرمائش کی۔ اس نے یو ایس بی (USB) نکال کر ڈیش بورڑ پر بنے ایک سوراخ میں لگا دیا۔ کچھ چھوٹی روشنیاں ایک کالی سطح پر نمودار ہوئیں اور تھوڑی دیر میں انیس و نوے کی دہائی کا ایک مشہور گانا "آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے " زور و شور سے بجنا شروع گیا۔ ٹیکسی بھی وہی تھی۔ باہر ماحول بھی فلمی سا تھا۔ پہلے پہل تو میر دل جھومنے لگا اور پھر میں خود بھی ہلتے ہلتے دھیرے دھیرے جھومنے لگا۔ یہ الگ بات کہ ٹیکسی بھی ایک جھولے ہی کا کردار ادا کر رہا تھا۔
ایک بات کا اعتراف کر لینے دے۔ یہ گانا سنتے ہوے تھوڑی دیر کے لئے میں خود کوفلم "راجا ہندوستانی" کا عامر خان سمجھ بیٹھا۔ اصل فلم میں تو عامر خان ٹیکسی چلا رہا ہوتا ہے، لیکن یہاں میں نے تھوڑی ردوبدل کر کے "ہیرو" کو ڈرائیور کے پہلو میں بٹھا دیا۔ اتنی رعایت تو خود کو بہر صورت دینی ہی چاہیے۔
خیر، سفر جاری تھا اور گانا جوبن پر تھا کہ پیچھے سیٹ پر بیٹھے صاحب نے گلا کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ پہلی دفعہ ہم پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا تو دوسری دفعہ اس نے زیادہ زور کے ساتھ گلا صاف کیا اور ساتھ ہی ایک مانوس سی زبان میں اپنے ساتھ موجود خاتون سے کچھ کہا۔ تھوڑی دیر تک انکی گفتگو سننے کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ شینا زبان بول رہے تھے۔
میں نے پیچھے مڑ کے کہا، "چاچا آپ گلگت کے ہیں"۔ اس نے کہا، "ہاں نا۔ میں گلگت کا ہے۔ یہ میری بیوی ہے"۔ میں نے ان کو بھی سلام کیا اور انہوں نے سر ہلا کر جواب دیا۔ میں نے پوچھا کہ وہ گلگت کس جگہے کے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ ضلع دیامرسے تعلق رکھتے ہیں۔ "تم کدھر کا ہے؟"، چاچا نے پوچھا۔ "میں بھی گلگت کا ہوں چاچا"۔ "گلگت کس جگہے کا ہے؟"۔ میں نے بات مختصر کرنے کے لئے کہا کہ گلگت شہر سے میرا تعلق ہے۔ "شینا بول سکتے ہو"، انہوں نے سوال کیا۔ میں نے کہ تھوڑی بہت سمجھ میں آتی ہے اور غفور چلاسی، جابر، غلام نبی ہمراز اور جان علی کے کافی سارے گانے مجھے زبانی یاد ہیں۔ "تو پھر یہ گانا کیوں سنتا ہے؟ اپنا علاقے کا گانا سنو نا!"، انہوں نے فورا سے جواب دیا۔ میں نے کہا کہ میرے پاس موبائل میں کچھ گانے ہیں۔ انہوں نے کہا، "سناو"۔ ٹیکسی میں روان موسیقی کی آواز تو ہم نے پہلے ہی کم کروادی تھی۔ اب بند کروادی اور شینا گانے سننے لگے۔ "سینئے بٹیس گا نوم دین مئے پتہ کھجے گے تو"۔ کچھ بند سننے کے بعد چاچا کو اللہ جانے کیا ہوا کہ وہ زور زور سے ہنسنے لگے۔ ہنستے ہنستے انہوں نے کہا کہ یار دفعہ کرو۔ وہ اردو گانا ٹھیک ہے۔
ٹیکسی کی موسیقی پھر سے چالو کر دی گئی۔ اس وقت تک ہم ایک پیٹرول پمپ کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔ چاچا نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کی فرمائش کی۔ گاڑی رکی تو انہوں نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور ڈرائیور کو کہا، "جاو جوس کے تین ڈبے لے کر آجاو"۔ (جاری ہے)

جوس کے تین ڈبے - حصہ اول

ایک اتوار کوآنکھ کھلی تو سوا دس بج چکے تھے۔ میں نے  فورابستر سے چھلانگ لگا دی کیونکہ دس بجے تو مجھے ایبٹ آباد جاناتھا۔ بھاگم بھاگ گھر کے قریب ایک اڈے تک گیا تو مسافروں سے بھری گاڑی نکل چکی تھی ۔ پشاور موڑ کی طرف موٹر بائیک پر دوڑ لگادی۔ ڈائیووکے اڈے پر گیا تو ایبٹ آباد جانے والی گاڑی کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ میں نے کنڈیکٹر سے مک مکا کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ 
مایوس ہو کر میں پریشانی کے عالم میں اڈے سے باہر نکلا۔ ایک حواس باختہ پریشان حال اور بیگ بردار مسافر کو دیکھ کر بہت سارے ٹیکسی والے لپک کر سامنے آگئے۔ سب نے اپنے اپنے دام بتائے، میں نے غربت کا رونا رویا اور کہا کہ ٹیکسی میں ایبٹ آباد جانے کی اوقات نہیں ہے۔ان میں سے کچھ نے میری حالت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایک دو نے دبے الفاظ میں پھبتیاں بھی کَسی جنکا مفہوم شائد یہی بنتا تھا کہ "مغربی" کپڑوں میں ملبوس یہ کلین شیو شخص جس نے ایک عدد سنہری فریم والا کالا چشمہ بھی پہنا ہے، بالکل ہاتھی دانت کی طرح ہے۔ اوپر سے پیسے والا لگتا ہے اور اندر سے کھوکھلا۔ انہیں کیا خبر کہ وہ چشمہ میں نے چند سو روپوں میں کسی فٹ پاتھ سے خریدا تھا۔
ابھی میں سوچوں اور بندوں کے ہجوم میں گم تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ اسکے پاس "زبردست گاڑی"ہے اور دو مسافر بھی تیار ہیں، اگر میں "ہاں" کردوں تو وہ فٹافٹ مجھے ایبٹ آباد پہنچا دیگا۔ اس نے مزید کہا کہ گاڑی "ٹو او ڈی ہے"۔ پھر اس نے فرنٹ سیٹ کا لالچ بھی دیا۔ اور گاڑی میں "میوزک" کے بندوبست کا ذکر بھی کیا۔  کرائے پر تھوڑی بہت بحث ہوئی۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔
میرے دل میں کچھ خدشات باقی تھے، جو زبردست گاڑیٗ کو دیکھنے کے بعد حقیقت کا روپ دھار بیٹھے۔  کالے رنگ کی ٹیکسی میں ٹو او ڈی والی کوئی بات نہیں تھی۔ میں نے ٹیکسی والے کو آڑھے ہاتھوں لینے کا پروگرام بنایا تو اس نے کہا، 'سر بہت اچھا گاڑی ہے۔ دو گھنٹے میں آپ کو پہنچا دیگا، شارٹ کٹ سے"۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اتنی دیر میں وہ میرا چھوٹا سا بیگ لے کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ بادل ناخواستہ مجھے بھی بیٹھنا پڑا۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد اس نے گاڑی روکی اور کسی کو آواز دی۔ برقعے میں ملبوس ایک خاتون اور ایک درمیانی عمر کا شخص آکر پیچھے بیٹھ گئے۔ اور ہمارا سفر شروع ہو گیا۔ (جاری ہے )

گلگت بلتستان میں سیکیورٹی خدشات اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں

بہت دنوں سے علاقائی اور قومی اخبارات میں گلگت بلتستان میں دہشتگردی کے خطرات کی خبریں چھاپی جارہی ہیں۔سکردو، مرکزی گلگت اور اسکے نواحی علاقے دنیور میں ممکنہ دہشتگردی کی اطلاعات مقامی میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔  یہ یقینا ایک تشویشناک امر ہے کیونکہ سانحہ چلاس، سانحہ کوہستان اور سانحہ لولوسار  اور گلگت شہر اور دوسرے علاقوں میں  دہشتگردی کے متعدد خونیں  واقعات کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔ 
تاہم، ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی معلومات سے ایسا لگتا ہے کہ علاقائی انتظامیہ ، عسکری اور نیم عسکری ادارے اور عوام کے منتخب نمائندے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ متعدد مثبت اقدامات اُٹھائے گئے ہیں اور شرپسندوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کی پوری کوششیں ہورہی ہیں۔ لیکن ملکی اور بین الاقوامی واقعات و حالات کے تناظر میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تمام تر کوششوں  اور تیاریوں کے باوجود بھی بسا اوقات دہشگرد خون کی ہولی کھیلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ 
اس صورتحال میں ہم عام لوگوں کی بھی بہت ساری ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ ہے کہ ہم کسی بھی ذریعے سے نفرت انگیز مواد پھیلانے سے گریز کرے۔ امن، رواداری اور اخوت کی باتیں کرے۔ مشترکات کی قوت کو سمجھتے ہوے اتحاد کی ترغیب دے، اور اگر خدانخواستہ (خاکم بدہن) اسطرح کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ طیش میں آکر جذبہ انتقام کے ہاتھوں اپنے حواس کو یرغمال بناکر نفرتوں کو اور بڑھانے اور کشت وخون کے سلسلے کو مزید پھیلانے کی بجائے اشتعال کو کم کرنے اور زخموں پر مرہم رکھنے کی مل کر کوششیں کرے۔ 
"گفتن آسان و کردن مشکل" کے مصداق ایسا کہنا آسان اورکرنا بہت مشکل ہے اور بسا اوقات ہم خود بھی اپنی اندر کی بات سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں ۔ دوسروں کو سمجھانا تو اور زیادہ مشکل ہوجاتاہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنے کہ ضرورت ہے کہ  اشتعال انگیزی سے مزید  سماجی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ امن پسندی کی باتیں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔ اسی لئے بطور عام شہری ہم اپنی بھر پورکوشش کر سکتے ہیں کہ امن و امان برقرار رکھنے اور عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ 
تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حیثیت سے ہم  سب پر لازم ہے کہ ہمیشہ اپنے دوستوں، بڑوں اور چھوٹوں کے سامنے انسانیت اور محبت کی باتیں کرے ، ان کو صلح جوئی اور رواداری کی تعلیم دے اور تشدد اور بد امنی کی حوصلہ شکنی کرے، تاکہ دہشتگرد اپنے مقاصد میں ہمیشہ ناکام ہوسکے۔ 

پچھلے آٹھ سالوں میں 50،000 کے لگ بھگ پاکستانی شہری ٹریفک حادثات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں

ابھی تھوڑی دیر پہلے خبر ملی ہے کہ کراچی میں ایک دیوقامت ٹرک (ڈمپر) نے دو کمسن سگی بہنوں کو کچل دیا  ہے، جبکہ انکے والد صاحب حادثے میں زخمی ہوگیے ہیں۔ تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ دونوں بہنیں زہرا (10 سال) اور عینی (12سال) اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہی تھیں کہ ایک تیز رفتار ڈمپر نے کراچی کے صنعتی علاقے لانڈھی میں ان کو بائیک سمیت روند ڈالا۔   
اگرچہ اس طرح کے اندوہناک حادثات ہمارے ملک، بلکہ پوری دنیا میں آئے روز ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس خاندان کے کرب اور ان کی تکالیف کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے ان بچیوں کے خاندان پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہوگی اور شائد پوری زندگی اس ناقابل تلافی نقصان کا ماتم جاری رہے گا۔ 


تجسس کے مارے میں نے انٹرنیٹ پر پاکستان میں ہونے والی ٹریفک حادثات کے بارے میں اعداد و شمار ڈھونڈنے کی کوشش کی تو پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ویب سائیٹ پر ایک جدول ملا جسکا عکس میں نے اوپر پوسٹ کر دیا ہے۔ اس جدول کے مطابق سال 2003 سے 2011 تک ہر سال اوسطاپانچ ہزار افراد پاکستان کے چار صوبوں میں ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس اعداد و شمار میں قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں رونما ہونے والے حادثات شامل نہیں ہیں۔ 


جان بحق ہونے والے افراد کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد انکی ہے جو ایسے حادثات میں زخمی ہوجاتے ہیں، بلکہ بعض تو عمر بھر کے لئے اپنے انمول جسمانی اعضا سے محروم ہوجاتے ہیں۔ 


ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی سطح پر ٹریفک کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اچھی حالت میں موجود گاڑیوں کو روڑ پر نکلنے کی اجازت دی جائے۔ صرف ان ڈرائیورز کو سڑکوں پر آنے کی اجازت دی جائے تو زہنی اور جسمانی طور پر ڈرائیونگ جیسے نازک کام کے لیے فٹ ہوں۔ اسکے ساتھ ساتھ، ڈرائیوروں اور راہگیروں کی تربیت کا انتظام کرنا بھی بہت لازمی ہے، جس میں ٹریفک قوانین اور حادثات سے بچاو کے طریقوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائے۔


ٹریفک حادثات کو مکمل طور پر ختم کرنا شائد ممکن نہ ہو، لیکن بہتر تیاری سے ان کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے، ورنہ ہزاروں افراد کی جانیں اسی طرح ضائع ہوتی رہیں گیں اور ہزاروں گھروں میں اسی طرح ماتم برپا ہوتارہیگا۔


دہشتگردی اور ٹارگیٹ کلنگ کی نسبت ٹریفک حادثات پر قابو پانا ممکن ہے لیکن اس کے لئے بہتر منصوبہ بندی اور دلجمعی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سپینوزا - سترہویں صدی کا باغی فلاسفر

آج سترہویں صدی کے ڈچ فلاسفر باروچ سپینوزا کے بارے میں ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانی فکر کو قید کرنا آسان نہیں ہے۔ تمام مخالفت کے باوجود انسان اپنی سوچ کو آزادانہ طور پر سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اگر اسکے راستے میں مشکلات پیدا کی جائے تو پھر وہ خفیہ طریقے سے اپنے خیالات سامنے لاتا ہے۔


سپینوزا نے اپنی سب سے اہم کتاب "اخلاقیات"/ETHICS لکھنے کے بعد اپنی موت کا انتظار کیا تاکہ اسکی غیر موجودگی میں یہ کتاب شائع کیا جاسکے۔ انہوں نے اپنی بہت ساری کتابچوں پر اپنا نام بھی نہیں لکھا کیونکہ اس وقت کے یہودی اور عیسائی مذہبی رہنما انکے خیالات کی شدید مخالفت کرتے تھے۔
 سپینوزا ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہواتھا اور ابتدائی تعلیم بھی یہودی علما سے حاصل کی لیکن بعد میں باغیانہ خیالات کے مالک اس نوجوان کو مذہب سے خارج کر دیا گیا۔ 
مذہب سے خروج کی بنیادی وجہ سپینوزا کے باغیانہ خیالات تھے۔ انہوں نے انجیل  اور دیگر مقدس صحیفوں میں درج واقعات کو من و عن تسلیم کرنے کی بجائے ان پر تحقیق کرنے اور زمانہ نزول کے سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقائق کے حوالے سے انہیں سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انجیل الہامی کتاب نہیں بلکہ اسے انسانوں نے تحریر کی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں متعدد تبدیلیاں بھی واقع ہوئی ہیں۔
 سپینوزا کا یہ بھی ماننا تھا  کہ روح دائمی نہیں، بلکہ جسم کے ساتھ روح کی بھی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یعنی آسان الفاظ میں انہوں نے حیات بعدالموت کی نفی کی۔اُنکا ماننا تھا کہ انسانوں کو اخلاقی اصول مرتب کرنے کے لئے مذہبی ہدایات کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام اخلاقی اصول اور سماجی ضوابط ضرورت کے تحت سماجی پروسیس کے ذریعے وجودمیں آتے ہیں اور منطقی سوچ رکھنے والے افراد سماج کی بہتری کے لئے مذہبی ہدایات کی عدم موجودگی میں بھی بہترین فیصلے کر سکتے ہیں۔
انہوں نے  فلسفلے کو جیومیٹری کے اصولوں کے مطابق بیان کرنے کا نظریہ دیا، تاکہ حقائق کو منطقی انداز میں سمجھایا جاسکے۔ انکی اہم ترین کتاب "اخلاقیات" میں فلسفیانہ فکر کو ریاضی کے اصولوں کے مطابق بیان کیا گیاہے۔ 
ڈیسکارٹس کے مختلف نظریات سے اختلاف رکھنے والا یہ نوجوان فلاسفر مذہبی اور سیاسی قوتوں کے زیر عتاب رہنے کے بعد  1677 صدی عیسوی میں 45 سال کی عمر میں وفات پاگیا۔ 

"Imperialist India" - The original letter


------------------------------ This is what I had sent  -------------------------------
India’s silly claim over Gilgit-Baltistan and Pakistan’s continued policy failures  
It is amusing to see the paranoia of India vis-à-vis Gilgit-Baltistan, my motherland! The NEWS reported on 3rd March that the Indian government had written a letter to Pakistan, asking it seek NOC before building power projects in the AJK and Gilgit-Baltistan region. The Indian official, Zehra Akbari, had reportedly declared Gilgit-Baltistan to be an "integral part" of India. 
The Indian government, while making such hollow and silly claims, always conveniently brushes aside the aspirations of the people of our region, not to mention the history of our ancestors’ armed struggle against the Kashmiri Dogra occupiers and invaders. They seem to forget, every now and then, that our ancestors had liberated over 72,000 square kilometers of land, after shedding blood and sweat in the battle field, where they spent almost one year, fighting the occupiers and invaders.
The monument of martyrs at Chinar Bagh, close to which stands the toothless Gilgit-Batlistan Legislative Assembly, is a testimony of the victory of our ancestors and the defeat of the Dogra occupiers. Whether the occupier of that time signed a document of accession to any country or not is none of the concern of the people of Gilgit-Baltistan, because the value of an invader and occupier’s ink is naught in front of the blood and sweat of our ancestors.
It is good that the foreign office of Pakistan has rebutted the Indian claim. Our so-called representative and its visionless leaders, whose statements fill the regional newspapers otherwise, lacked the sanity to condemn the outrageous statement, which is reflective of the Indian’s colonial aspirations.
However, will a rebuttal by the Pakistani foreign office suffice? Will it make for the deprivations of the people of Gilgit-Baltistan and their crisis of constitutional identity which the Indian government is attempting to capitalize?
The answer is a big NO!
Thousands of statements and claims later, after the passage of six and a half decades, our region still stands in a state of limbo, faced with the menace of militancy and terrorism, poverty and illiteracy and  corruption and injustice.
The people of Gilgit-Baltistan need have been demanding and deserve better treatment from the government and state of Pakistan. Our people have suffered a lot due to flawed policies of successive regimes and the situation is worsening with the passage of time, because the people, especially the youth, getting frustrated with the unjust treatment. It is in the interest of the state of Pakistan, which majority of the region’s population still loves, to resolve the longstanding political and constitutional issues, by giving more autonomy and power to the locals. --------------------------- This is what got published  --------------------------- Imperialist India ShareShare on email It is amusing to note the paranoia of the Indian state vis-à-vis Gilgit-Baltistan – my homeland. A report published in this newspaper on March 3 said that the Indian government had written a letter to Pakistan, asking it to seek an NoC before building power projects in the AJK and Gilgit-Baltistan region. The Indian official had reportedly declared Gilgit-Baltistan to be an “integral part” of India. It is good that the Foreign Office of Pakistan has rebutted the Indian claim. Our so-called representatives, whose statements fill the newspapers otherwise, lacked the sanity to condemn this outrageous statement, which is reflective of the India’s colonial aspirations.
However, will a rebuttal by the foreign office suffice? Will it make for the deprivation of the people of Gilgit-Baltistan and the crisis of constitutional identity that the Indian government is attempting to capitalise on? The people of Gilgit-Baltistan have suffered a lot due to the flawed policies of successive regimes. It is in the interest of the state of Pakistan, which the majority of the region’s population still loves, to resolve the longstanding political and constitutional issues in the region, by giving more autonomy and power to the local population. 

کیا انٹرنیٹ وخی اور دوسری چھوٹی زبانوں کے لئے رحمت ثابت ہوسکتا ہے؟



یہ ویڈیو دیکھنے میں بہت معمولی سا لگتا ہے۔ کچھ اصحاب رباب اور دف اُٹھاے ایک نامانوس زبان میں گانے گا رہے ہیں، جبکہ ایک پیاری سی بچی انگریزی میں کچھ کلمات ادا کر رہی ہے۔

تاہم، بظاہر معمولی لگنے والے اس ویڈیو کے ذریعے مشرق وسطی کے خود مختار ملک تاجکستان کے علاقے بدخشان میں مقیم وخی زبان بولنے والے اپنے پاکستانی، افغانی اور چینی ہم زبانوں کے ساتھ ایک انوکھے اندازمیں، ارادی یا غیر ارادی طور، جانے انجانے میں ہمکلام ہو رہے ہیں۔

 سینکڑوں سالوں سے مختلف وادیوں کو اپنا مسکن بنانے والے ایک ہی ثقافتی گروہ کے یہ افراد ایک دوسرے سےعملا کٹے ہوئے تھے، اور ان کے درمیان کوئی قابل ذکر روابط نہیں تھے۔ البتہ اکا دکا تجارت پیشہ افراد مہینوں کی مسافت طے کر کے دشوار گزار پہاڑوں سے ہوتے ہوے دوسرے علاقوں میں جاتے تھے، لیکن سفری  اور موسمی مشکلات کی وجہ سے عام افراد کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔

لیکن انٹرنیٹ کی جدید ٹیکنالوجی نے ان جغرافیائی دوریوں کو گویا ختم کر دیا ہے۔ اب سینکڑوں لوگ فیس بک اور مختلف ویب سائٹس کے ذریعے دوبارہ رابطے میں آرہے ہیں اور اپنی ثقافت کو یاد کرنے، زندہ رکھنے اور پروان چڑھانے کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔ آج کل دیکھنے میں آیا ہے کہ اس طرح کے سینکڑوں ویڈیوز ہر روز انٹرنیٹ پر شیر کئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے جغرافیائی اور سیاسی سرحدوں کے آر پار ثقافتی مماثلتیں رکھنے والے گروہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور اپنی ثقافتی وابستگیوں کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ 

مثبت انداز میں دیکھا جائے تو اس طرح کے سماجی روابط چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں، خصوصا وخی زبان بولنے والوں، کے لئے آب حیات کی مثال رکھتے ہیں، کیونکہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے وخی کو خطرے کی زد پر موجود زبان قرار دیا ہے۔ 

یاد رہے کہ ہند-ایرانی (Indo Iranian) زبانوں کے گروہ سے تعلق رکھنے والی اور فارسی سے تھوڑی بہت مماثلت رکھنے والی زبان، وخی (ماخذ: وخان)، کی اب تک کوئی واضح اور متفقہ رسم الخط وجود میں نہیں آئی ہے جسکی وجہ سے اس زبان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

تمام تر کاوشوں کے باوجود جدید دور میں وخی زبان کے لئے ایک متفقہ رسم الخط بنانے کے عمل  میں متعلقہ افراد اور اداروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہےکیونکہ سوویت یونین کے زیر اثر علاقوں میں سیریلیک (روسی) رسم الخط مستعمل ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان میں عربی اور رومن رسم الخط استعمال کیے جاتےہیں۔ کچھ ذرائع کے مطابق چین کے سرحدی علاقہ جات میں آباد وخی زبان بولنے والے چینی اور عربی رسم الخط استعمال کرتے ہیں۔ 

انٹرنیٹ کے ذریعے دوبارہ رابطے میں آنے کے بعد وخی زبان بولنے والے اپنی ثقافتی شناخت کی وسعت سےآشنا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی پا رہے ہیں کہ شائد ان کی زبان اور ثقافت مکمل طور پر تباہ و برباد ہونے سے بچ جائے۔ 

علمی اور فکری سطح پر ماضی میں ایسے اندیشے بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ انٹرنیٹ اور دوسرے میڈیا کے ذریعے پروان چڑھنے والی عالمگیریت، جسے ایک عفریت بھی سمجھا جاتاہے، کی وجہ سے چھوٹی زبانیں اور چھوٹے ثقافتی گروہ اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔ تاہم ، وخی بولنے والوں کے معاملے میں ایسا لگ رہا ہے کہ خطرات کے علاوہ انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی سماجی روابط بڑھانے اور ثقافتی شناخت کو مضبوط کرنے کے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے۔

عین ممکن ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان، بلکہ ساری دنیا کی دوسری چھوٹی زبانیں اور ثقافتیں بھی انٹرنیٹ اور دوسرے ابلاغی ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی شناخت کو مضبوط کرنے اور ثقافتی استحکام حاصل کرنے کے قابل بن جائیں گے، تاہم اس کے لئے متحرک افراد اور اداروں کی ضرورت ہوگی جو اس موقعے اور وسیلے کو مثبت اور موثر انداز میں بروئے کار لا کر انسانی ثقافتی ورثے کو مستحکم بنا دے۔

اگر جنگلی جانور "فاسٹ فوڈ" کھانا شروع کردے تو کیا ہوگا؟


اگر جنگلی جانور فاسٹ فوڈ (برگر، چپس، پیزا، کاربونیٹیڈ مشروبات)، جو عموما مخصوص ریسٹورینٹس جیسے کے ایف سی، پیزا ہٹ، سب وے، میکڈونلڈ اور اسی طرح کے دوسرے بہت سارے مشہور برانڈز، میں دستیاب ہوتاہے، کھانا شروع کردے تو کیا ہوگا؟ شائد ۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر ۔۔۔۔۔۔ آپ یہ زبردست Animated فلم دیکھ لے، جس میں مزاح بھی ہے اور سبق بھی :-) 



اس فلم میں ہلکے پھلے انداز میں فاسٹ فوڈ کے مضر اثرات کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ عموما یہ مانا جاتاہے کہ فاسٹ فوڈ استعمال کرنے والے افراد زیادہ وزن کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Pages