دل مضطرب (محمد عبداللہ)

عادت ہے

میں انساں ہوں مجھے اپنی ہی من مانی کی عادت ہےپتلا ہوں خطا کا میں خطا کرنے کی عادت ہے
زباں دی ہے مجھے رب نے جو چاہوں بول سکتا ہوںنہ کر پاؤں میں جو کچھ وہ بھی کہہ جانے کی عادت ہے
جو گر پوچھو میرے وعدے تو سن لو اے بھلے لوگومیں نیتا ہوں مجھے کہہ کر مکر جانے کی عادت ہے
کوئی مرتا ہے مر جائے مجھے لوگوں سے کیا لینامجھے لوگوں کے زخموں میں نمک بھرنے کی عادت ہے
میں ہوں طاقت کا سر چشمہ مجھے کچھ بھی نہ کہنا تممجھے کمزور لوگوں کو کچل دینے کی عادت ہے
 سخن ور کیا ہوئے وہ جن کو حق گوئی کی عادت تھیمیں ابن الوقت ہوں مجھ کو تو بک جانے کی عادت ہے
محمد عبداللہ

السفر وسیلۃ الظفر

کسی سیانے عربی کا قول ہے "السفر وسیلۃ الظفر"۔ یعنی سفر وسیلہ ء کامرانی ہے۔ یہ قول ہم نے تب سنا جب آتش بچہ تھا اس لئے شروع شروع میں تو ہمیں اس کی سمجھ ہی نہیں آئی اور ہم  اسے اپنے سکول کے چوکیدار ظفر چاچا سے منسوب کرتے رہے۔ سالوں بعد جب ہمیں اسکا مطلب سمجھ آیا تو ہم اس پر ایمان کی حد تک یقین کر بیٹھے اور ہم نے گویا کامیابی کا راز پا لیا۔ اور ہر طرح کی کامیابی کے لئے اس مقولے پر عمل کرنے لگے۔ جس دن سکول میں کوئی ٹیسٹ ہوتا تو  ہم اس  ٹیسٹ میں کامیابی کیلئے سکول  کی پچھلی دیوار پھلانگ کر لمبے سفر پر نکل جاتے۔ لیکن اس طرح کے سفر کا نتیجہ ہماری امیدوں کے برعکس نکلنے کی وجہ سے ہمارا ایمان اس جملے پر سے اٹھنے لگا اور کامیابی کی بجائے ٹیچرز کے ڈنڈے، ابا جی کے تھپڑ اور اماں جی کے جوتے مقدر ٹھہرے تو  ہم نے اس جملے کو دشمن کی سازش سمجھ کر نظرانداز کرنا شروع کیا۔کچھ عرصے بعد جب ہمیں اس مقولے کی ٹھیک طرح سے سمجھ آئی اور مذکورہ سفر کی نوعیت کا پتا چلا تو ہم نے پھر ایک بار اس پر یقین کر لینے کی کوشش کی۔لیکن جب ہمیں کئی بار اس تجربے سے گزرنا پڑا تو ایک بار پھر ہم نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور پھر  سے اسے دشمن کی سازش سمجھنے لگے۔ پھر ہمیں کسی مہربان نے بتایا کہ یہ عرب حکایت ہے تو ہمیں اصل کہانی سمجھ آئی۔ کیونکہ اگر یہ کہنے والا عربی تھا تو اسکا شائد پاکستان چکر نہیں لگا اور اگر لگا بھی ہے تو اسکے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ پاکستان میں سفر کرنے کیلئے انہوں نے اپنی علیحدہ سے سڑکیں بنا رکھیں ہیں  جہاں سے ہمارے جیسے راہ گزر کا گزرنا ہی ممنوع ہوتا ہے۔ رحیم یار خان میں موجود محل کے راستے تو اسی طرح کے ہیں باقی پاکستان کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔ہمارے اب تک کے تجربے سے ہمارا اس مقولے سے ایمان اٹھ گیا ہے کیونکہ سفر ہمارے لئے       "وسیلۃ الظفر"کی بجائے "قطعۃ من العذاب" ہی ثابت ہوا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ جب بھی سفر پر نکلنے کا ارادہ ہوتا ہے تو ہم  کچھ دن پہلے سے ہی دافع  بلیّات  دعاؤں اور وظائف کا ورد شروع کر دیتے ہیں کہ یا خدا اس بار کسی نئی آزمائش سے محفوظ رکھنا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ جب بھی کہیں جانے کا پروگرام بنے تو چند دن پہلے ہی سے ہماری راتوں کی نیند غارت ہو جاتی ہے اور رات کو لائٹ بند کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ اگر بد قسمتی سے نیند آ بھی جائے تو پرانے ہمسفروں اور بسوں کے عملے کی شکلیں ہمیں بھوت بن کے ڈرانے لگتی ہیں۔ انکی ہنسی سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے  وہ کہہ رہے ہوں کہ اب کہاں جاؤ گے بچو۔۔۔اب چونکہ ہم پڑھائی کیلئے گھر سے سینکڑوں میل دور آ بسے ہیں اسلئے اس سب کے باوجود وقتاً فوقتاً لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔ بالفاظ دیگر ہمارے لئے صورتحال کچھ یوں ہے کہ اک آگ کا دریا ہے اور "کود" کے جانا ہےاور دوران سفر اس اچھل کود کے دوران ہماری جو حالت ہوتی ہے  اور اس دوران جو انواع اقسام کے نمونے ملتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ لیکن بیان کئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کیونکہ یہ سب برداشت کر کے   ہماری حالت اتنی بری ہو چکی ہے کہ کتھارسس کئے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ بلکہ ایک ڈاکٹر صاحب تو ہماری حالت زار سن کر حیر ت سے فرمانے لگے کہ کمال ہے آپکا ابھی تک نروس بریک ڈاؤن نہیں ہوا۔سفر کا سب سے اہم حصہ سواری کی حالت زار ہوتا ہے۔ اگر آپ  نے  پاکستان میں چلنے والی درمیانے درجے کی روڈ ٹرانسپورٹ  پر کبھی سفر کیا ہے تو آپ ہمارے دکھ کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔  بس کا عملہ ڈرائیور کے ساتھ ٹاپے پر بیٹھ  پکے سگریٹ لگا رہا ہوتا ہے اور اسکے عین اوپر"سگریٹ نوشی منع ہے" کا ایک  بڑا سا اسٹیکر لگا ہوتا ہے ۔  اس دوران بس میں دھویں کی بو کو ختم کرنے  کیلئے ائر فریشنر کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی "خوشبو" سونگھنے کے بعد آپکو چرس کی بو بھی اچھی لگنے لگتی ہے ۔دوران سفر ایک اور کڑی مشقت جس کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بس میں چلنے والے گانے ہوتے ہیں۔منی بیگم اور عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ایسے ایسے گانے چلائے جاتے ہیں جنہیں ہم چند منٹ بھی سن لیں تو ہمیں قے آجاتی ہے اور ہم دیواروں میں ٹکریں مارنے لگتے ہیں جس سے ہمارے سر میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں کوئی بھی ذی ہوش انسان ایسے  گانے صرف اسی وقت سنتا ہے جب اسے خود اذیتی مقصود ہو۔ویسے بھی ہمارے مشاہدے کے مطابق عطاءاللہ کے گانے تب اچھے لگتے ہیں جب آپ نے کم و بیش چار پانچ شادیاں کر رکھی ہوں لیکن پھر بھی آپ سچے پیار کے متلاشی ہوں۔لیکن بسوں اور ٹرکوں والوں کو تواتر سے عطاءاللہ کے گانے سنتے دیکھ کر ہمیں اپنے خیال پر شک ہو چلا تھا کہ یہ عقدہ کھلا جس  سے ہمارے خیال کی تصدیق ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم ایک بارتنگ آ کر کنڈیکٹر سے الجھ پڑے کہ بھائی خدا کا خوف کرو ہمیں ہمارے گناہوں کی دنیا میں سزا نہ دو اور گانے بند کردو۔ کنڈیکٹر صاحب فرمانے لگےکہ اگر گانے بند کر دئیے تو استاد سے  گاڑی نہیں چلے گی۔ کیوں بھائی استاد نے ڈیک میں چرس کا تڑکہ لگایا ہوا ہے؟نئیں پا جی توانوں  نئیں پتا اگر گانے بند ہو گئے تے استاد نو نیند آ جانی فیر اگے تسی آپ سمجھدار او۔یہ سن کر ہم حیران رہ گئے اور تھوڑے سے پریشان بھی ہوئے لیکن ہم چونکہ گانوں سے بیزار ہوئے بیٹھے تھے اسلئے گانے بند کروانے پر اڑے رہے۔ کنڈیکٹر صاحب نے "جیویں تواڈی مرضی" کہہ کر گانے بند کروا دئیے۔ گانے بند ہونے پر ہم نے سکون کا سانس لیا اور اطمینان سے سیٹ پر سر رکھا اور آنکھیں بند کر کے  سفر سے لطف اندوز ہونے لگے۔گانے بند ہوئے ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بس کو زوردار جھٹکا لگا اور ہم سمیت کئی مسافروں کا سر اپنی اگلی نشستوں  سے ٹکرایا اور تمام مسافروں کے منہ سے با جماعت گالیاں ابل پڑیں۔ ہم نے غصے سے ڈرائیور کی طرف دیکھا تو کنڈیکٹر صاحب ہماری طرف آئے اور فرمانے لگے "پاجی میں توانوں پہلے ای کہیا سی"۔آپکے سفر کا اچھا یا برا ہونا آپکے ہمسفر بالخصوص آپکی ساتھ  والی نشست والے مسافر اور  اگلی اور پچھلی نشستوں پر برا جمان مسافروں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔اگر آپ ہماری طرح شریف(شریف اسلئے کہ جو کچھ کر نہیں سکتا وہ شرافت ہی دکھا سکتا ہے) اور دھان پان سے آدمی ہیں  تو آپکے ساتھ والا مسافر  آپکی چوتھائی نشست پر قبضہ کرنا اپنا حق ہمسائیگی سمجھتا ہے اور اگر وہ آپکی آدھی نشست پر قبضہ کر لے تو وہ اسکا بونس۔ اسی طرح  اکثر مسافروں کو بولنے کی بیماری ہوتی ہے انکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ 12 گھنٹے کے سفر میں  آپکے ساتھ کوئی رشتہ داری نکال لیں ۔ اگر کوئی زیادہ ایڈوانس ہوں تو وہ آپ سے رشتہ داری بنانے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے ۔مسافروں کی وہ قسم جو ہمیں پسند ہے وہ   بے حد نایاب ہے۔یہ وہ مسافر ہیں جو بس میں سوار ہو کر صرف ایک بار ہی  زبان ہلاتے ہیں۔ "ایکسیکیوزمی "  اور بیٹھ جاتے ہیں۔یا پھر ایسے لوگ جو صرف تعارف کرتے اور کرواتے ہیں اور باقی کا سفر  خاموشی سے کٹتا ہے۔ اگر آپکو ایسا ہمسفر  میسر آ جائے تو اللہ کا شکر ادا کریں اور ہو سکے تو خوشی میں کچھ صدقہ بھی کر دیں تاکہ آپکو اگلی بار بھی ایسا بیبا ہمسفر ملے۔بہت بولنے والے مسافروں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپکو کھانے کی دعوت دیتے ہیں اور اگر آپ انکار کردیں تو وہ مزید اصرار کرتے ہیں اور اگر آپ تب بھی انکی دعوت قبول نہ کریں تو وہ کوئی ایسا جذباتی جملہ بولیں گے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپکی آنکھوں میں سے آنسو آ جائیں گے۔ ایک بار یونہی ایک ہمدرد ہمسفر ملے انہوں نے ہمیں سفر کے آغاز میں ہی اپنا مکمل تعارف ، پتہ اور سفر کی وجہ بیان فرما دی ۔  اسکے  ساتھ ساتھ اپنےنومولود  بھانجے کی تصویر   بھی دکھائی اور  اپنے  گھر میں آنیوالے نئے مہمان  کی آمد  کی پیش گوئی بھی کی۔ ان صاحب نے دوران سفر ایک اسٹاپ سے کچھ چپس  وغیرہ خرید لئے اور ہمیں بھی کھانے کی دعوت دی جسے ہم نے شکریہ کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انکے بارہا اصرار پر بھی میں نے لینے سے انکار کیا تو فرمانے لگے " یہ میں نے آپکے لئے خریدے تھے میں تو چپس ویسے ہی نہیں کھاتا"۔ کچھ گھنٹوں بعد جب ہم سردی سے بچنے کے لئے اپنے اوپر چادر ڈال کر سو رہے تھے تو ہمیں سردی لگنے کا احساس ہوا   ۔ اٹھ کر خالی الذہنی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھا ۔ پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا لیکن حواس بحال ہونے پر دیکھا کہ وہ صاحب ہماری چادر لے کے آرام فرما رہے ہیں۔دوران سفر اکثر اوقات آپکے ساتھ والے مسافر آپکو امی جی سمجھتے ہوئے آپکے کندھے پر اپنا سر  رکھ کر آرام فرمانا بھی پسند کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں اور آپ سے شفقت کی امید رکھتے ہیں۔ ایک بار ہمارے ساتھ ایک بھاری بھر کم صاحب بیٹھ گئے۔حق ہمسائیگی تو وہ بیٹھتے وقت ہی حاصل کر چکے تھےمطلب ہماری چوتھائی سے کچھ زائد نشست پہ قبضہ۔ بس کی روانگی سے کچھ دیر بعد ہی انکے ناک سے جلترنگ بجنے لگا۔شروع میں تو خاصی کوفت ہوئی لیکن پھر قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا۔ یہاں تک تو بات قابل برداشت تھی ۔لیکن کچھ دیر بعد انہوں نے اپنا تقریباً پونے بارہ سیر وزنی سر ہمارے کمزور سے کندھے پہ ٹکا دیا جو کہ پہلے ہی ہمارے گناہوں کا بوجھ اٹھا اٹھا کے تھک چکے تھےاب انکے سر کا وزن کہاں برداشت کرتے۔ اب ہم اس کڑی مصیبت میں پھنسے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہے تھے اور ماضی میں کئے گئے نیک کام یاد کرنے کی  کوشش کرنے لگے جو اس "بھاری پتھر " کو ہمارے کندھے سے ہٹا دیتے۔لیکن باوجود کوشش کے جب ہمیں کوئی ایسا کام یاد نہیں آیا تو ہم نے اللہ سے اپنے اگلے گناہ کی پیشگی معافی مانگی  ۔ نیکیاں یاد کرنے کی کوشش چھوڑ کر اپنے زور بازو پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا اور انکی بڑھی ہوئی توند میں اپنی سلاخ سی کہنی چبھو دی۔زور بازو کے استعمال کی برکت سے وہ صاحب نیند سے بیدار ہوئے ۔ سیدھے ہو کر تھوڑی دیر ادھر ادھر دیکھا اور چند منٹ بعد پھر ہارمونیم بجنے لگا اور اسی ترتیب سے وہ پھر ہمارے کندھے پر آ گرے۔ ہم نے بھی اپنا طریقہ آزمایا اور ساری رات یہ کھیل چلتا رہا وہ اپنا حق استعمال کرتے رہے اور ہم اپنا زور بازو۔گیارہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد صبح جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ہمارا دایاں کندھا تقریباً سن ہو چکا تھا اور مزید بوجھ اٹھانے سے انکاری بھی۔ ہفتہ بھر ناریل کے تیل کی مالش کرنے سے ٹھیک ہوا اور تب تک ہم لاہور واپسی کےلئے تیار ہو چکے تھے۔ بس پر سفر کے دوران ہمیں عام طور پر بس کی تنگ اور سخت نشستوں سے مسئلہ رہتا اور ہم بس مالکان کو برا بھلا کہتے رہتے۔لمبے سفر کے دوران تنگ اور سخت نشست پر بیٹھنا بہت اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے۔لیکن جب پہلی بار ہمیں اسکائی ویز  لاہور پر سفر کا اتفاق ہوا تو وہ نشستیں جن پر بیٹھنا ہمیں عذاب لگتا تھا  پھولوں کی سیج لگنے لگیں۔ اسکی وجہ شیخ سعدی کی جوتوں والی حکایت سے ملتی جلتی ہے۔ شیخ سعدی کی روح سے معذرت کے ساتھ"مجھے بس کی تنگ اور سخت نشست پر بیٹھنا عذاب لگتا تھا اور میں اسکی برائیاں کر کے نا شکری کا مرتکب ہوتا تھا۔ لیکن جب اس نشست پر بیٹھ کر میں نے اپنے قدموں میں موڑھا رکھ کے بیٹھے ہوئے آدمی کو دیکھا تو نشست پا لینے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی ناشکری کی معافی مانگی"۔

انتطامی بدمعاشی بمقابلہ طلباء بدمعاشی

چند ہفتے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا تماشہ کافی حد تک ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ حسب معمول میڈیا نے اس معاملے پر بھی روایتی بد دیانتی کا مظاہرہ کیا اور حالات کی اپنی مرضی سے تصویر کشی کی ۔ میڈیا کی اطلاعات اور حقیقت میں اتنا زیادہ فرق دیکھ کرمیرا  بلاگ لکھنے کا ارادہ تو تھا ہی لیکن کچھ مصروفیت اور بہت زیادہ سستی کی وجہ سے یہ کام نہیں کر پایا۔  علی حسان بھائی سے انتہائی معذرت کہ بوجہ سستی اور اسکے محمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com0

حسرت دید ان آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں

حسرت دید ان آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں چاہت وصل لئے کبھی جیتا کبھی مرتا ہوں شب کی تاریکی میں شمع کو پانے کیلئے میں دیوانہ اسی آگ میں جل مرتا ہوں دشت زیست میں اک عمر سے آبلہ پائی کر کے زخم پیروں کے میں کانٹوں سے سیا کرتا ہوں اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کے فسانے سن کر اپنی بربادی کے قصے خود ہی لکھتا خود ہی پڑھتا ہوں بعد از رنج و الم راحت بھی کبھی ہو گی نصیب اسی امید پہ شکوہ نہ گلہ کرتا ہوں محمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com1

پولنگ اسٹیشن میں ایک رات

تحریر: علی مامون رضوان
بڑے بوڑھوں سے سنا تھا کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔ یہ بات ہمیں کبھی سمجھ نہیں آئی کہ وہ گاؤں کیوں نہیں جاتا حالانکہ فصلیں تو انکی خراب کرتا ہےشہر والوں کا تو کچھ نہیں بگاڑتا۔ خیر جب ہماری شامت آئی تو ہم  اپنے ابو کے ساتھ پولنگ اسٹیشن جانے کا ارادہ کر بیٹھے۔ جہاں وہ بطور پریزائیڈنگ آفیسر تعینات ہوئے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ چونکہ ہمارے ابا جی 19ویں گریڈ کےپروفیسر ہیں اسلئے انکے ساتھ جانے میں ہمارے بھی وارے نیارے ہو جائیں گے۔پولنگ اسٹیشن میں ہماری  خصوصی آؤبھگت ہوگی۔ہم ابا جی کا کارڈ پہنے سب پر حکم چلائیں گے۔بس مزا ہی آ جائے گا۔انہیں خیالوں میں گم اور خوشی سے سرشار صبح صبح پولنگ اسٹیشن کی طرف روانہ ہوئے جو کہ گورنمنٹ گرلز کالج وحدت روڈ پر بنا تھا۔ہم نے بائیک کا رخ پولنگ اسٹیشن کی طرف کیا تو ابا جی نے کہا کہ مال روڈ پر چلو۔ ہم نے دریافت کیا کہ  پولنگ اسٹیشن تو وحدت روڈ پر بنا ہے تو ادھر سے جواب آیا کہ" جناب ! ٹاؤن ہال سے پولنگ کا سامان آپکے فرشتے لائیں گے؟" جس پر ہم نے کھسیانے ہو کے مال روڈ کی راہ لی۔ٹاؤن ہال پہنچتے ہی ہم نے انگریز دور کی مشابہ تین عمارتیں دیکھیں جس کے گراؤنڈ میں ٹینٹ لگے ہوئے تھے۔ "سیاستدانوں کو ادھر بھی چین نہیں"  ہم نے بے زاری سے سوچا۔ کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ یہ بھی کوئی جلسہ ہی ہو رہا ہے۔ لیکن پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ کوئی جلسہ نہیں بلکہ پولنگ کا سامان یہیں تقسیم ہو رہا ہے۔ٹینٹ ہال میں داخل ہونے سے پہلےدو "پری چہرہ"کانسٹیبلوں نے تلاشی کے بہانے ہمارے جسم کی خوب مالش کی۔ اسکے بعد ہم اندر داخل ہوئے۔ اندر جاتے ہی ہمیں بھانت بھانت کی آوازیں سننے کو ملیں۔ سپیکر پر کوئی چیخ چیخ کرپریزائیڈنگ آفیسرز کو بلا رہا تھا۔ تاکہ ہر کسی کو دو دو سپاہی عنایت کئے جائیں جو کہ پولنگ اسٹیشن کی حفاظت کیلئے  مامور تھے۔ شدید انتظار کے بعد ہماری باری بھی آ  ہی گئی اور ہمیں بھی دو عدد معصوم صورت "پیٹی بند بھائی" مل گئے اب پولنگ اسٹیشن کا سامان لانا باقی تھاجو کہ ایک اور چوٹی سر کرنے کے برابر تھا۔الیکشن کمیشن والے ہمارے حلقے پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھے۔ سارے حلقوں کو انکا مکمل سامان مل چکا تھا لیکن ہماری ابھی تک باری ہی نہیں آئی تھی۔ یاد رہے کہ ہم صبح 11 بجے کے آئے ہوئے تھے اور اب شام کے 7 بج رہے تھے۔ ہمارا بےبسی اور غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔ ہمیں ہوں لگ رہا تھا کہ ہر دوسرے حلقے والا ہمیں جاتا جاتا منہ چڑا رہا ہے کہ لو ہم تو فارغ ہوئے آپ لگے رہو لائن میں۔ آخر خدا خدا کر کے رات ڈیڑھ بجے ہماری باری آئی اور ہمارے فارغ ہونے کے ساتھ ہی بارش بھی شروع ہو گئی۔ اسی بارش میں ہم نے پولنگ اسٹیشن کا سامان وصول کیا اور باہر جا کر رکشہ ڈھونڈا اور دونوں پولیس والوں کو سامان دے کر پولنگ اسٹیشن روانہ کیا اور خود بائیک پکڑ کے پولنگ اسٹیشن روانہ ہوئے۔۔پولنگ اسٹیشن پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک منحنی صورت والے پٹھان چوکیدار نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے رکشے سے سامان اتروایا اور اندر کمرے میں رکھ دیا۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ بعد میں اس پٹھان سے خوب دل لگی رہی۔خیر اب رات کے ڈھائی بج رہے تھے اور گھر جانے کے حالات نہیں تھے اسلئے ہم نے پولنگ اسٹیشن میں ہی رات گزارنے کی ٹھانی۔ ہم سونے کے لئے کمرے میں جانے ہی والے تھے کہ ہمیں پیٹ میں دوڑتے چوہوں کا خیال آیا ۔ ہم نے جلدی سے ابو کی طرف دیکھا تو وہاں بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔ میں نے ابو سے کچھ لانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے قدرے توقف کے بعد اس پٹھان چوکیدار کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ یہ شرط سننے کے بعد ہم ہلکے سے گھبرا گئے اور جب ہم نے اس خانصاحب کی طرف دیکھا تو وہ بڑے پر اسرار انداز میں مسکراتے ہوئے محسوس ہوئے۔  ایک بار تو جی چاہا کہ انکار کر دیں لیکن پھر "جل تو جلال تو" کا ورد کرتے ہوئے اسکے ساتھ جانے کا رسک لینے کا فیصلہ کر لیا۔ان خان صاحب کی ایک تو آواز بہت باریک تھی اوپر سے جب وہ بات بات پر قہقہہ لگاتے تو اور بھی  ڈراؤنے محسوس ہوتے۔ خیر اسکی رہنمائی میں مارکیٹ پہنچ گئے جہاں سے ہم نے کھانے کا سامان لیا اور واپسی پر خانصاحب کی گپوں اور قہقہوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ شروع شروع میں تو ہم خاصے محظوظ ہوئے لیکن جلد ہی تنگ آگئے۔ پولنگ اسٹیشن پہنچ کر ہم نے پیٹ پوجا کی اور چوکیدار کو بھی ہم نے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی لیکن اس نے شکریے کے ساتھ انکار کردیا جس پر ہم نے بھی خدا کا شکر ادا کیا۔  خیر کھانا کھا کر وہیں لوہے کے بنچوں پر سونے کی کوشش کرنے لگے۔رات کے نجانے کس پہر ہماری آنکھ لگ گئی۔
 صبح اٹھے تو دن خاصا چڑھا ہوا تھا ۔ہم نے انگڑائی لی اور اٹھنے کی ٹھانی ۔ باہر نکلے تو  کالج  میں خاصی گہما گہمی تھی۔دن کے دس بج رہے تھے۔لوگ جوق در جوق ووٹ ڈالنے کیلئے آ رہے تھے۔باہر  ہمیں اپنے ابّا جان نظر آئے۔ان کے ہاتھ میں پانچ چھ موبائیل تھے،جو کہ پولیس نے انہیں منچلوں سے ضبط کر کے  دیے تھے۔ابّو نے ہمیں کہا کہ گھر چلے جاو                       ،  کچھ گھنٹوں بعد آ جانا جب تک ووٹنگ بھی ختم ہو جائے گی۔
ہم نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا  کہ اس گھن چکر سے نجات ملی اور گھر آ گئے۔گھر آ کر ہم نے توبہ کی کہ آئیندہ کسی سرکاری کام میں شمولیت کا  ارادہ دل میں نہیں لائیں گے۔ آخر میں میں اتنا ضرور کہوں گا کہ سارے   مشاہدہ میں ناقص سرکاری    انتظام کو دیکھ کر بڑا افسوس  ہوا  جہاں  نوکری سے نکالے جانے کے ڈر سے صنف نازک کو بھی مردوں کے ساتھ قظار میں کھڑے ہو کر سامان لینا پڑ رہا تھا۔اور انہیں بھی سامان لیتے وقت اور دیتے وقت، اسی طرح دھکے پڑ رہے تھے جس طرح مردوں کو پڑ رہے تھے۔خواتین کی حالت زار دیکھ ھمارے دل سے یہی دعا  نکلی کہ خدایا  ہمارے ملک میں بھی ایک ایسا معاشرہ پروان چڑھے،جہاں عورتوں کا، ان کی عزت کا،ان کے احترام اور وقار کا خاص خیال رکھا  جائے اور ان پالیسیوں کو بہتر بنایا جائے جہاں مرد و زن کو ایک  ہی لاٹھی ہانکا جاتا ہے،  کیونکہ میرے مطابق ایک عورت  ہی ایک ایسی نسل کو پروان چڑھا سکتی جو کہ اس ملک اور عالم اسلام کی تاریخ بدل کے رکھ دے، لیکن صرف تب اگر اس عورت کو اپنے عورت ہونے کا احساس ہو جائے۔ 

کیسا ہے

یہ سفر زیست کیسا ہے، خوشی کا گیت کیسا ہے یہ اندھی رات میں لوگو ضیاء کا دیپ کیسا ہے کڑکتی دھوپ میں ہمدم، یہ کیسا ابر ہے چھایا یہ ساحل کے کنارے پر چمکتا سیپ کیسا ہے کہیں پر ابر رحمت ہے کہیں طوفان کی آمد کوئی مجھ کو بتائے تو کہ یہ تعزیر کیسا ہے جہاں ہر سمت ظلمت کی گھٹا تاریک چھائی تھی وہاں ظالم کے سینے میں دھنسا یہ تیر کیسا ہے محمد عبداللہ محمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com6

جب ہم لیپ ٹاپ کے حقدار ٹھہرے (دوسری قسط)

گزشتہ سے پیوستہ 24 دسمبر کی تقریب ملتوی  ہو جانے کے بعد کوئی اطلاع نہیں تھی کہ اب تقریب کب ہونی۔ ہم بھی گھر میں مزے سے چھٹیاں  بلکہ ایکسٹرا چھٹیاں گزار رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ اب وزیر اعلیٰ کب ہماری طرف نظر التفات فرمائیں گے۔4 جنوری کو بعد از نماز جمعہ ہمیں سی۔آر  کا ایس ایم ایس ملا جس میں نادر شاہی حکم جاری کیا گیا تھا کہ آج انڈرٹیکنگ فارم ملنے ہیں اسلئے فوراً یونیورسٹی رپورٹ کرومحمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com4

جب ہم بھی لیپ ٹاپ کے حقدار ٹھہرے (پہلی قسط)

دسمبر 2012 میں جب ہم اپنے مڈ ٹرم ایگزامز سے فارغ ہوئے ہی تھے اور  شہباز شریف سے مایوس ہو کے  دل ہی دل میں  اپنا لیپ ٹاپ خریدنے کا پختہ ارادہ بھی کر چکے تھے ۔ تب ہمیں ایک ہمدرد دوست نے مشورہ بلکہ نصیحت کی کہ تھوڑا انتظا ر کر لو شائد لیپ ٹاپ مل ہی جائے۔ لیکن ہم نے تو اتنی بڑی امید کبھی خود سے نہیں لگائی تھی یہ توسیاستدان تھے نہلے پہ دہلا یہ کہ تھے بھی شریف جن سے ہمیں اپنے انتہائی بچپن سے ہیمحمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com8

میں کیا ہوں ،بھٹکا ہوا مسافر ،گرم ہوا سے جو جل رہا ہے

میں کیا ہوں ،بھٹکا ہوا مسافر ،گرم ہوا سے جو جل رہا ہے اندھیر شب میں کھڑا جو تنہا،افق کی جانب وہ تک رہا ہے وجود جسکا ہے ریزہ ریزہ، ہے دل میں جس کے چبھن چبھن سی شکستہ لب اور برہنہ پا جو، پر خار وادی میں چل رہا ہے اجاڑ رستے ہیں جسکی راہ اور،ویران کھنڈر ہیں جسکا مسکن کھو کے رہبر کو وہ اپنے، دربدر اب بھٹک رہا ہے شباب جس کا ہے ناتواں اور، کمر ہے جسکی جھکی جھکی سی سازش اپنوں کی دیکھ کر وہ،ذرہمحمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com0University of The Punjab, Lahore 54890, Pakistan31.4956027 74.2942207999999531.4414432 74.21353979999995 31.5497622 74.37490179999995

کس کے لئے؟؟؟؟؟

میں بھوکا ہوں ، میں بے گھر ہوں ، یہ ملک بنا ہے کس کے لئے میرا روز جنازہ اٹھتا ہے، میں زندہ ہوں تو کس کے  لئے میں دن بھراپنے پیاروں کی ،لاشوں کے ٹکڑے چنتا ہوں اب اپنی ایسی حالت میں، میں خوشیاں مناؤں کس کے لئے میرے حاکم میرے مرنے پر، خوشیوں کے جشن مناتے ہیں میں اپنے غم اور غصے کو ، سینے میں چھپاؤں کس کے لئے اب تلوے میرے پاؤں کے، کانٹوں سے چھلنی رہتے ہیں میں اس دنیا کی راہوں میں، محمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com0

مولانا ڈیزل اور ان پر لگنے والے الزامات

گذشتہ دنوں ایک مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی جو خیر سے مولانا فضل الرحمن کے  پر جوش حمایتی اور  مرید تھے۔ ہماری پھوٹی قسمت کہ باتوں باتوں میں مولانا فضل الرحمن کو مولانا ڈیزل کہہ بیٹھے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اپنی مصیبت کو آواز دے بیٹھے کہ آ مولانا مجھے مار۔ خیر یہ لقب سننا تھا کہ وہ صاحب جلال میں آ گئے اور پنجے جھاڑ کہ مجھ پہ چڑھ دوڑے اور زور و شور سے مولانا کے حق میں دلائل دینے لگے محمد عبداللہhttps://plus.google.com/102848413842402001777noreply@blogger.com9

Pages