عاطف بٹ (زاویہ)

نسلِ آدم کا خون ہے آخر


لاہور میں اتوار کی شام جو سانحہ رونما ہوا اس کے بارے میں اخبارات، ٹیلیویژن اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کی مدد سے اعداد و شمار تو آپ تک پہنچ گئے ہوں گے۔ لاہور کے رہائشی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ گلشنِ اقبال پارک شہر کے چند بارونق ترین تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔ ہفتے کے ساتوں دن یہاں عوام کی ایک خاص تعداد موجود ہوتی ہے۔ اتوار کو عام تعطیل کی وجہ سے یہ تعداد کئی گنا ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے بےتحاشا رش اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود میں نے اس پارک کے داخلہ گیٹ پر کبھی آنے جانے والوں کی چیکنگ ہوتے نہیں دیکھی۔ یہ بات صرف اسی پارک تک محدود نہیں ہے، شہر کے دیگر اہم پارکوں کا بھی تقریباً یہی حال ہے جن میں جیلانی پارک (جسے عام طور پر ریس کورس بھی کہا جاتا ہے) سرِ فہرست ہے۔ 23 مارچ کی سہ پہر کچھ دیر کے لیے مجھے ریس کورس جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اور حفاظتی انتظامات کی دگرگوں صورتحال یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ سیکیورٹی اداروں نے عوام کی حفاظت کا کام ربِ کائنات کے سپرد کررکھا ہے۔
خیر، اس وقت میرا موضوع شہر کے تفریحی مقامات کے حفاظتی انتظامات یا سیکیورٹی اداروں کی غفلت نہیں بلکہ اتوار کی شام پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے جس کا میں عینی شاہد ہوں۔ یہاں ایک غیر ضروری سی وضاحت کرتا چلوں کہ میرا مکان گلشنِ اقبال پارک سے دو ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سانحے کی خبر ملی تو کچھ دیر کے بعد میں پہلے جائے وقوعہ پر گیا اور پھر فاروق اسپتال سے ہوتا ہوا شیخ زاید اسپتال پہنچا۔ ان دونوں اسپتالوں میں خون کے عطیات دینے والوں اور رضا کارانہ طور پر زخمیوں اور ان کے لواحقین کی خدمت کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن، ہلالِ احمر، الخدمت فاؤنڈیشن اور بعض دیگر فلاحی تنظیموں کے کارکن تو اپنا کام کر ہی رہے تھے لیکن ایسے لوگ بھی بہت زیادہ تعداد میں تھے جو کسی ادارہ جاتی وابستگی کے بغیر مصیبت میں گرفتار لوگوں کی خدمت کا انسانی فریضہ ادا کرنے کے آئے ہوئے تھے۔
شیخ زاید اسپتال کے شعبۂ حادثات کے سامنے واقع کھلی جگہ پر کئی نوجوان کھڑے خون کے مطلوبہ گروپس کے بارے میں اعلان کررہے تھے جبکہ شعبۂ حادثات کے اندر خون کے عطیات دینے والے بڑی تعداد میں جمع تھے۔ نیگیٹو اور پازیٹو بلڈ گروپس کی دو الگ الگ قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ میں بھی ایک قطار میں لگ کر کھڑا ہوگیا۔ وہاں لوگوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ اپنے خون کا عطیہ دے کر اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خون کے عطیات دینے کے لیے صرف مرد ہی نہیں بلکہ باپردہ عورتیں بھی آئی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک ادھیڑ عمر خاتون بھی اپنے دو بیٹوں کو لے کر آئی۔ بڑے بیٹے کو خون دینے کے لیے اندر بھیج کر چھوٹے سے متعلق مجھ سے پوچھنے لگی، "پتر، ایہہ خون دے سکدا وے؟" (بیٹا، کیا یہ خون دے سکتا ہے؟) میں نے پوچھا، "اماں، ایہدی عمر کنی وے؟" (اماں، اس کی عمر کتنی ہے؟) جواب ملا، "پندرہ سال۔" میں نے کہا، "نئیں اماں، اجے نئیں دے سکدا۔" (نہیں اماں، ابھی نہیں دے سکتا۔)
دیکھتے ہی دیکھتے اسپتال میں خون کے اتنے عطیات جمع ہوگئے تھے کہ وہاں موجود لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے نام، بلڈ گروپ اور رابطہ نمبر درج کروا کے واپس چلے جائیں، اگر ضرورت ہوئی تو ان سے رابطہ کرلیا جائے گا۔ اسپتال کے باہر ایسے لوگ بھی قابلِ ذکر تعداد میں موجود تھے جو خون کے عطیات دینے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لیے جوس کے ڈبے اور پانی کی بوتلیں لیے کھڑے تھے۔ یہی صورت جناح اور فاروق اسپتال میں بھی نظر آئی۔ ان اسپتالوں میں آئے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ سماجی رابطے کی ویب گاہوں اور ذرائع ابلاغ پر اقلیت کے نام پر الاپے جانے والے راگ سے بےخبر ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تمیز سے بالاتر ہو کر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے کام آرہے تھے اور اس کام کے لیے انھیں نہ تو کسی ستائش کی خواہش تھی اور نہ ہی کسی صلے کی تمنا۔ انھیں تو بس یہ پتا تھا کہ
خون اپنا ہو یا پرایا ہونسلِ آدم کا خون ہے آخر

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے


جنید جمشید پر حملے کی ویڈیو مجھے ایک دوست کی وساطت سے رات دو بجے بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی۔ میں جاگ رہا تھا کیونکہ اس وقت میرے محلے میں ایک جگہ میلاد کی محفل جاری تھی جس میں باقاعدہ آلاتِ موسیقی استعمال کیے جارہے تھے اور بڑے بڑے اسپیکروں کی وجہ سے کافی فاصلے کے باوجود آواز میرے مکان تک آرہی تھی۔ میں اس وقت اس سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے مکان کے دور ہونے کے باوجود اگر "خیر و برکت" مجھ تک پہنچ رہی ہے تو جن کے گھر اس جگہ کے اردگرد واقع ہیں وہ کس حد تک "فیض یاب" ہورہے ہوں گے اور اگر کوئی شخص کسی نہ کسی وجہ سے پہلے ہی بےچین اور بیزار ہے تو یہ "سمعی فیضان" اس کے لیے کس حد تک اثر انگیز ہوگا۔ خیر، میں نے ویڈیو دیکھی، پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر اس دوست کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ یہ ویڈیو کیا اور کہاں کی ہے۔ مجھے بےحد افسوس اور تشویش ہوئی اور کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس واقعے پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کیا جائے۔
میرا ماننا یہ ہے کہ حملہ کس پر ہوا، کیوں ہوا، کرنے والے کون تھے، ان کا اصل مقصد کیا تھا، حملہ آوروں کا محرک کون تھا، یہ سب باتیں اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں لیکن آپ یہ دیکھئے کہ قومی سلامتی کو لاحق شدید خطرات کے اس نازک ترین دور میں ہمارے سیکیورٹی ادارے کیسے مستعد اور چوکنا ہیں کہ ملک کے دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر یہ سب کچھ ہوا اور سیکیورٹی اہلکار ایسے بےنیاز رہے کہ گویا کوئی معمول کی کارروائی ہو۔ قومی سلامتی کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں کا بجٹ جتنا بڑھ رہا ہے ان اداروں سے وابستہ افراد کی بےنیازی میں بھی اتنا ہی اضافہ ہورہا ہے۔ اگر قومی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر حفاظتی اقدامات کا یہ حال ہے تو خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ ہمارے شہر، دیہات، قصبے، کوچے اور قریے کس حد تک محفوظ ہیں؟

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹامجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے
میں کئی حوالوں سے جنید جمشید کا ناقد ہوں مگر یہ واقعہ غیر مشروط طور پر انتہائی مذمت کے قابل ہے۔ واقعے میں ملوث افراد نے اس حرکت سے اپنی طرف سے عاشقانِ رسولؐ ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے اس شدت پسندانہ اقدام سے وہ جس مقدس ہستی سے عشق ثابت کرنا چاہ رہے تھے وہ خود سراپا رحم و کرم تھی۔ پاکستان میں اپنے اندر کی وحشت اور جنون کو عشقِ رسولؐ جیسے مقدس جذبے کے لبادے میں پیش کرنے کی یہ پہلی یا آخری کوشش نہیں ہے۔ قبل ازیں بھی ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں عشقِ رسولؐ کے دعویداروں نے ایسی حرکتیں کی ہیں جن سے اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ پاکستانی مسلمان عقل و فہم سے عاری ایک بپھرا ہوا ہجوم ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے اور اسی نوعیت کے دیگر واقعات سے پاکستان اور اس کی اسلامی اساس کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے الٹا نقصان ہی ہوا ہے۔

میں ریاستی نظام کو مذہب سے جوڑنے کا قائل ہوں اور اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ "جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی" لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب سے وابستہ لوگ جنون و وحشت کے اظہار کے لیے جس طرح حدیں پھلانگتے جارہے ہیں اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ "عاشقی" یا "پاکستان مارکہ مسلمانی" چنگیزی پر سبقت لے گئی ہے۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں مغرب کے مالی ایندھن سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے گماشتوں اور عوامی چندوں پر چلنے والی مسجدوں کے وابستگان کے رویوں میں صرف اتنا ہی فرق نظر آتا ہے کہ ایک بائیں طرف سے گزند پہنچا رہے ہیں تو دوسرے دائیں جانب سے کچوکے لگارہے ہیں۔ ریاست جس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ دونوں گروہوں کو لگام ڈال کر پاکستان اور اسلام کے تشخص کو مسخ ہونے سے بچائے اس کی ترجیحات اتنی مختلف ہیں کہ رہبروں کا اپنا حال رہزنوں سے بھی بدتر دکھائی دیتا ہے۔

ڈاکٹر انور سدید انتقال کرگئے


مختلف تحقیقی و تخلیقی جہتوں کے حامل ڈاکٹر انور سدید 88 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی نمازِ جنازہ آج بعد از عصر سرگودھا کے بڑے قبرستان میں ادا کی جائے گی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
انور سدید 4 دسمبر 1928ء کو سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی قصبے میانی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نومسلم راجپوت خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ 1944ء میں ایف ایس سی کے لیے اسلامیہ کالج لاہورمیں داخلہ لیا لیکن تحریک پاکستان میں سرگرمیوں کی وجہ سے امتحان نہیں دے سکے۔ 1946ء کے انتخابات میں انھوں نے مسلم لیگ کے لیے خدمات انجام دیں۔ بعدازاں، ان کے بڑے بھائیوں نے میٹرک کی بنیاد پر انھیں محکمہ آبپاشی میں کلرک بھرتی کروادیا۔ 1947ء میں انھوں نے گورنمنٹ انجینئرنگ اسکول، رسول سے سول انجینئرنگ کے ڈپلومے میں داخلہ لیا اور امتحان میں اول بدرجہ اول کامیابی حاصل کرنے کے بعد آبپاشی کے محکمے میں ہی اوورسیئر کے طور پر ملازم ہوگئے۔ ملازمت کے دوران میں انھوں نے ادیب فاضل کا امتحان اول بدرجہ اول پاس کیا اور آزادی کے بعد اس امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ بعدازاں، انھوں نے ایف اے، بی اے (صرف انگریزی) اور ایم اے (اردو) کی اسناد بطور پرائیویٹ امیدوار حاصل کیں۔ ایم اے میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر انھیں طلائی تمغہ اور بابائے اردو مولوی عبدالحق گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی ترغیب پر انھوں نے ”اردو ادب کی تحریکیں“ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران میں انھوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز ڈھاکہ سے ایسوسی ایٹ ممبر آف دی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز (اے ایم آئی ای) کا امتحان پاس کیا جو ان کے نوکری میں ترقی کا وسیلہ بنا۔ یوں وہ پہلے سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) بنے اور پھر 1977ء میں ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے پر ترقی پائی۔ دسمبر 1988ء میں اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
​سدید صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد عملی صحافت میں قدم رکھا۔ 1990ء سے 1995ء تک وہ ’قومی ڈائجسٹ‘ کے مدیر رہے۔ پھر روزنامہ ’خبریں‘ سے ڈپٹی ایڈیٹر کی حیثیت میں وابستہ ہوگئے اور 1998ء تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعدازاں،’نوائے وقت‘ سے وابستہ ہوگئے اور یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ سرگودھا میں قیام کے دوران میں وہ کالم نگار کی حیثیت سے ’جسارت‘، ’حریت‘ اور ’مشرق‘ سے منسلک رہے اور ماہنامہ ’اردو زبان‘ کے پسِ پردہ مدیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

1966ء میں سدید صاحب نے اپنے تخلیقی اور تنقیدی سفر کا آغاز کیا۔ بچوں کے رسالے ’گلدستہ‘ اور فلمی پرچے ’چترا‘ میں لکھنے سے شروعات کی۔ اسی دور میں ڈاکٹر وزیر آغا نے ’اوراق‘ نکالا تو اس کے لیے لکھنے لگے۔ بعدازاں، انھوں نے افسانہ، انشائیہ، سفرنامہ، جائزہ، تحریف، خاکہ، دیباچہ، تبصرہ، ترجمہ، کالم اور شعر کی مختلف اصناف سمیت بہت سی صورتوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ’اردو ادب کی تحریکیں‘، ’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘ اور ’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘ جیسی تصنیفات سے تحقیق اور تاریخ نگاری کے میدان بھی انھوں نے اپنا لوہا منوایا۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’میر انیس کی قلمرو‘، ’غالب کا جہاں اور‘، ’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘، ’شاعری کا دیار‘، ’اردو نثر کے آفاق‘، ’اردو ادب میں سفرنامہ‘، ’انشائیہ اردو ادب میں‘، ’اردو افسانہ - عہد بہ عہد‘، ’مولانا صلاح الدین احمد - شخصیت اور فن‘، ’ڈاکٹر وزیر آغا - ایک مطالعہ‘ اور ’شام کا سورج‘ شامل ہیں۔
​ان کی شادی 9 مئی 1956ء کو ان کے چچیرے بھائی میاں بشیر احمد کی بیٹی نصرت بیگم سے ہوئی۔ ان کے چار بیٹے ہیں جو روزگار کے سلسلے میں مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں۔

جیون کہیں جسے۔۔۔


بچپن، لڑکپن، جوانی، ادھیڑپن اور بڑھاپا، یہ وہ مختلف مراحل ہیں، جن سے گزر کر ہر عام آدمی اپنی زندگی کے سفر کو طے کرتا ہے۔ سفرِ زیست میں کئی ایک کٹھن اور دشوار مرحلے بھی آتے ہیں اور بہت سے سہل اور دلآویز مواقع بھی۔ یہ سب زندگی کا حصہ ہیں اور زندگی کی رنگینیاں تلخ و شیریں کے اس حسین امتزاج سے ہی عبارت ہیں۔ زندگی کے جملہ مراحل میں جوانی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ یہ زیست کے اس سنہری اور یادگار کا دور نام ہے جب انسان کی رگوں میں خون نہیں بلکہ بجلیاں گردش کررہی ہوتی ہیں۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے، جب کمزور سے کمزور انسان بھی مشکل سے مشکل چیلنج کو قبول کرلیتا ہے۔ درحقیقت جوانی ہی طاقت و تندرستی کا دوسرا نام ہے۔ سنتے آئے ہیں کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے اور جوانی میں کسی بھی کام کو انجام دینا مشکل نہیں ہوا کرتا۔ ایامِ شباب میں دنیا کو راتوں رات فتح کرنے لینے کا جوش و جذبہ تو ہر کسی میں بیدار ہوتا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اپنے اس خواب کو صرف وہی لوگ شرمندۂ تعبیر کرپاتے ہیں جن میں ابنِ نیل کا حوصلہ، ابراہیم کی قوت، اسمٰعیل کی فرمانبرداری، سکندر کا جنون، عیسیٰ کا زہد، خالد کا عزم اور حسین کا ارادہ ہوتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے مضبوط ارادوں اور دست و بازو سے ہواﺅں کا رخ اور طوفانوں کا منہ پھیر دیا کرتے ہیں۔ 
لڑکپن کی دہلیز سے نکل کر جب کوئی شخص جوانی کی چوکھٹ پر قدم رکھتا ہے تو اس جسم اور ذہن میں واضح تبدیلیاں رونما ہورہی ہوتی ہیں۔ جوانی، انسان کی کتابِ زیست پر ایسے انمٹ نقوش مرتب کرجاتی ہے جن کا مٹایا جانا مشکل ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ناممکن بھی ہوا کرتا ہے۔ یہی وہ دور ہوتا ہے جب ایک انسان کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کے عقائد و نظریات بھی پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں۔ جوانی میں انسانی ذہن اس لوہے کی مانند ہوتا ہے جسے دہکتی ہوئی بھٹی سے نکالا گیا ہو، لہٰذا اگر عمر کے اس حصے میں کسی شخص کے خوابوں، خیالوں، خواہشوں، امیدوں اور امنگوں کے گرم لوہے کواثبات کے ہتھوڑے سے انتھک محنت اور جہدِ مسلسل کے سانچے میں ڈھال لیا جائے تو دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو کامیابی و کامرانی کو اس کا مقدر بننے سے روک سکے۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ اس خطۂ ربع مسکون پر آج جو اقوام حکومت کررہی ہیں ان کی لازوال کامیابیوں کے پیچھے پڑھے لکھے، مہذب اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شبانہ روز محنت، مشقت اور جدوجہد کارفرما تھی۔ ان لوگوں نے وقت کا صحیح استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، اسی لئے آج وہ ساری دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں۔
یاد رکھئے! وقت کبھی کسی کا انتظار نہیں کیا کرتا، وہ تو گزرتا ہے اور گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ ٹھہراﺅ وقت کی فطرت میں ہی نہیں ہے۔ زمانے کی بوڑھی آنکھ ہم سے قبل بہت سے لوگوں کو دیکھ چکی ہے اور ہمارے بعد بہت سوں کو دیکھے گی۔ ایک عظیم فلسفی کا قول ہے کہ ”اگر تم حیات جاودانی کے امین بننا چاہتے ہو تو کچھ ایسا لکھو جو پڑھنے کے قابل ہو یا کچھ ایسے کام کرو جو لکھنے کے قابل ہوں۔“ توکیوں نہ ہم کچھ ایسا کر جائیں جس سے ہم آنے والے لوگوں کی یادوں اور دعاﺅں کا حصہ بن کر رہ جائیں۔ کچھ ایسا جو ہمیں مرنے کے بعد بھی زندہ رکھے۔ایک انگریزی کہاوت کے مطابق ابھی تاخیر نہیں ہوئی بلکہ ابھی تو کرنے کے بہت سے کام باقی پڑے ہیں۔ توکیوں نہ آج اور ابھی سے ہم اپنی ذات کے ساتھ یہ عہد کر لیں کہ ہم بھی اس جیون میں کچھ ایسا کر جائیں گے جس سے آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں۔
عزیزانِ من! جیون گزارنا بڑی بات نہیں ہے بلکہ بڑی بات تو یہ ہے کہ کسی نے جیون کس طرح گزارا۔ ایسے بھی لوگ اس کرۂ ارض پر موجود ہیں جو اس حیاتِ مستعار کو ”عہدِ الست“ کے سانچے میں ڈھالے ہوئے ہیں اور ساڑھے چھ ارب کی آبادی میں آپ کو ایسے بھی بہت سے مل جائیں گے جو عزازیل کے دامِ ہمرنگِ زمیں کا نخچیر بن کر اس دنیائے فانی کو ہی سب کچھ مانے بیٹھے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم تمام عمر زندگی کے ساتھ شرط باندھ کر دوڑتے ہیں اور آخر میں پتا چلتا ہے کہ ہم دونوں ہار گئے اور موت جیت گئی۔ ایسا نہ ہو کہ ایک مرتبہ پھر سے موت بازی لے جائے۔ سو، جیون کو گزارئیے! قبل ازیں کہ جیون ہی آپ کو گزار دے۔۔۔


پس نوشت: یہ انشائیہ آج سے تقریباً دس برس پہلے اس وقت لکھا گیا تھا جب میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں ایم اے اردو کے پہلے سال کا طالبعلم تھا اور اگر میری یادداشت دھوکہ نہیں دے رہی تو یہ اس وقت ہمارے یونیورسٹی گزٹ میں شائع ہوا تھا۔

سوچ مرتی نہیں، انسان ہیں مرتے رہتے


تقریباً دو دہائیاں قبل وجود میں آنے والی کالعدم لشکرِ جھنگوی کے بانی امیر ملک اسحاق کو ان کے دو بیٹوں، ملک عثمان اور ملک حق نواز، اور دس سے زائد ساتھیوں کے ہمراہ جس مبینہ پولیس مقابلے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اس کی تفصیلات پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس پوری کارروائی کی نوعیت کیا رہی ہوگی۔ اس خبر کے انٹرنیٹ پر آتے ہی سماجی رابطے کی ویب گاہوں پر مختلف طرح کے تاثرات دیکھنے میں آئے۔ جو لوگ ملک اسحاق کو دہشت اور بربریت کی علامت سمجھتے تھے وہ خوشیاں منارہے اور مبارکبادیں دے رہے تھے جبکہ مقتول کو ردعمل کی ایک بڑی قوت کا درجہ دینے والے لوگ مذکورہ پولیس مقابلے کو ریاستی دہشت گردی اور ظلم سے تعبیر کررہے تھے۔
اس پورے واقعے کے تناظر میں بیشتر لوگ محض ملک اسحاق اور ان کے ساتھیوں کا قتل دیکھ رہے ہیں اور مجھے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی فکر لاحق ہے۔ ایک تو فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل اور دوسرا ماورائے عدالت؛ ایسی صورتوں میں ردعمل شدید نہیں، شدید تر ہوتا ہے، اور ویسے بھی جہاں لڑائی فرقے یا نظریے کے نام پہ لڑی جارہی ہو وہاں کسی ایک فرد یا چند افراد کے مارے جانے سے نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی بلکہ مزید بھڑکتی ہے۔ ملک اسحاق ایک انسان کا نام تھا جس نے بہرطور مرنا ہی تھا لیکن لشکرِ جھنگوی ایک سوچ اور ایک نظریے کا نام ہے جو تب تک زندہ رہے گا جب تک اس کے وجود کا جواز فراہم کرنے والی وجوہ کو ختم نہیں کیا جاتا۔
لشکرِ جھنگوی کی بنیاد رکھنے والے لوگ انجمن سپاہِ صحابہ یا سپاہِ صحابہ پاکستان کے پروردہ اور تربیت یافتہ تھے جسے حق نواز جھنگوی نے ستمبر 1985ء میں قائم کیا تھا۔ فروری 1990ء میں حق نواز جھنگوی کو قتل کردیا گیا تو ان کے ساتھیوں ریاض بسرا، اکرم لاہوری اور ملک اسحاق نے 1996ء میں اپنے سابق امیر کے نام سے ہی لشکرِ جھنگوی کا آغاز کردیا۔ بہت سے لوگ اپنی نظریاتی وابستگی یا کسی اور وجہ سے اس بات سے انکار کرتے ہیں لیکن یہ سب کچھ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتہائی خوفناک صورتحال اس متن کا ضمیمہ تھی جسے ہم ایرانی انقلاب کو پاکستان درآمد کرنے کا منصوبہ کہہ سکتے ہیں۔ بعدازاں، اس پوری صورتحال میں دونوں جانب سے غیرملکی عناصر کچھ اس طرح شامل ہوگئے کہ حکومت چاہ کر بھی بگڑتے ہوئے معاملات کو اپنے قابو نہیں کر پائی۔
یہ بات بہت افسوسناک ہے کہ گذشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے پاکستان فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کی جس آگ میں مسلسل جل رہا ہے ہمارے ذرائع ابلاغ اس کے صرف ایک پہلو کے بارے میں ہی بات کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ کے اس متعصب اور دوہرے رویے کی وجہ سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بگاڑ کی طرف گامزن ہوئے۔ اسی طرح ریاست جس کا کام معاملات میں توازن قائم کرنا اور لوگوں کو احساسِ تحفظ فراہم کرنا تھا وہ بھی اپنے میلان کو قابو میں نہیں رکھ پائی۔ اگر آج بھی ریاست یہ طے کر لے کہ کسی بھی قسم کے تعصب اور تمیز کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کو واقعی فرقہ واریت کے عفریت سے نجات دلانی ہے تو مسائل کا حل یقیناً ممکن ہے لیکن اگر اس سلسلے میں متوازن حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو اس کے جو منفی نتائج برآمد ہوں گے ان کا تدارک شاید کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوپائے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد اس نظریے کا علم تھامنے کے لیے ریاض بسرا، اکرم لاہوری اور ملک اسحاق کھڑے ہوسکتے ہیں تو ملک اسحاق کے قتل کے بعد بھی ایسے اور بہت سے لوگ سامنے آسکتے ہیں جو معاشرے کے ایک طبقے کے لیے دہشت اور بربریت کی علامت ہوں گے تو دوسرا طبقہ انھیں ردعمل کی تحریک کا علمبردار سمجھے گا۔

عزت مآب بمقابلہ ذلت مآب


27 مئی کو پشاور ہائیکورٹ کے جج جناب اکرام اللہ خان بنوں کینٹ جارہے تھے کہ وہاں ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکاروں نے انہیں روک لیا اور مبینہ طور پر ان کو سرکاری کارڈ دکھانے کو کہا اور کینٹ میں داخلے سے منع کردیا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت جج صاحب اپنی سرکاری گاڑی میں سوار تھے اور ان کے ساتھ حفاظتی عملہ بھی موجود تھا۔ واقعہ کے فوراً بعد پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ کے ایڈیشنل رجسٹرار کی طرف سے سیکرٹری دفاع، حکومتِ پاکستان، سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور، خیبر پختونخوا، 325 بریگیڈ بنوں کے بریگیڈئیر اور بنوں کے ڈپٹی کمشنر کو نوٹس جاری کیا گیا کہ اگلے ہی روز یعنی 28 مئی کو وہ بنوں میں پشاور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے اصالتاً یعنی خود پیش ہوں۔

اس معاملے میں مزید کیا پیشرفت ہوئی اور آگے معاملات کہاں تک جائیں گے، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ مجھے تو جج صاحب کے روکے جانے کے واقعے اور اس کے بعد چار اہم عہدوں پر فائز افراد کو جاری ہونے والے نوٹس سے غرض ہے اور میں انہی امور پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس پورے قضیے میں میرا جھکاؤ دونوں میں سے کسی بھی فریق کی جانب نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہاتھیوں کی لڑائی ہے جس کا ہم عام لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تاہم میرا یہ ماننا ہے کہ اگر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی اہلکار کنٹونمنٹ میں داخلے پر پولیس کے حفاظتی عملے کے ہمراہ آنے والے ایک جج کو روک کر شناخت وغیرہ کے بارے میں سوال کرسکتے ہیں تو فوجی حفاظتی عملے کے ساتھ شہری علاقوں میں آنے والے کسی کرنل، بریگیڈئیر یا جنرل کو بھی پولیس کی جانب سے روک کر پوچھا جانا چاہیے کیونکہ شناخت تو کسی کے بھی ماتھے پر نہیں لکھی ہوتی اور اطلاعات کے مطابق کچھ گزشتہ واقعات میں دہشت گرد سیکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کی مدد سے ہی اپنے اہداف تک پہنچے تھے۔

خیر، واپس چلتے ہیں اس واقعے اور نوٹس کی طرف۔ پاکستان میں ماتحت عدالتوں سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک فراہمیِ انصاف کے ضمن میں جو کچھ کیا جاتا ہے اسے جاننے اور سمجھنے کے لیے آپ کو کسی واقفِ حال سے ملنا پڑے گا اور وہ آپ کو بتائے گا کہ ہمارے ہاں انصاف کے حصول کے لیے لوگ برسوں تک کیسی کیسی ذلتوں کا سامنا کرتے ہیں اور اس سلسلے میں بالعموم عدالتی عملہ اور بالخصوص کرسیِ انصاف پر براجمان منصفین کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کے عدالتی نظام کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہاں سے انصاف لینے کے لیے آپ کو قارون کی دولت، حضرت ایوبؑ کا صبر اور حضرت نوحؑ کی عمر درکار ہے۔ اگر یہ تینوں چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں تو بہتر یہی ہے کہ اپنا مقدمہ واپس لے لیں اور آپ کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی ہو تو اسے بھول جائیں، بصورتِ دیگر زندگی بھر ذلیل ہونے کے لیے کمر کس لیں۔

عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کے لیے بیٹھے ہوئے جج صاحبان چونکہ عزت مآب ہیں اور اس ملک کے تمام عام شہری ذلت مآب ہیں، لہٰذا یہ تو عزت مآب کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ ذلت مآب کو کب اور کیسے انصاف مہیا کرنا پسند فرمائیں گے۔ بیشتر عزت مآب برسوں تک یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ کسی ذلت مآب کو انصاف کی ضرورت ہے، سو یوں لوگ عدالتوں کچہریوں کے دھکے کھاتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ حصولِ انصاف کے لیے تگ و دو کرتے گزر جاتا ہے۔ وہ کن حالات سے گزرتے ہیں، ان پر کیا بیت رہی ہے، وہ کس کرب و الم میں مبتلا ہیں، ان کے لیے عرصۂ حیات کس حد تک تنگ ہوچکا ہے، یہ سب سوچنا عزت مآب کا کام نہیں ہے کیونکہ وہ عام آدمی نہیں ہیں، اسی لیے تو ان پر کسی بھی قسم کا کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، ان کے سامنے کوئی فضول بات نہیں کہی جاسکتی، ان کے کسی عمل پر تنقید نہیں ہوسکتی، ان کا احتساب نہیں ہوسکتا، انہیں کسی غلطی کے لیے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اور اگر کسی شخص کے دماغ میں یہ خناس بھرا ہوا ہے کہ وہ عزت مآب پر انگلی اٹھا سکتا ہے تو اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ توہینِ عدالت کی پاداش میں عزت مآب اسے ایسا سبق سکھا سکتے ہیں کہ آئندہ وہ چاہ کر بھی یہ نہیں بھول پائے گا کہ وہ ایک ذلت مآب ابن ذلت مآب ہے!

لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 227 کہتا ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی بھی قانون سازی نہیں کی جاسکتی لیکن اس کے باوجود قانون کے تحت ہمارے منصفینِ کرام کو ایسی مقدس گائے بنا کر رکھا جاتا ہے جس کے کردار پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح صدرِ مملکت سمیت اور بھی کئی عہدوں کو استثنیٰ حاصل ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ ایک طرف عمر بن الخطاب جیسی جلیل القدر شخصیت ہیں جن کے سامنے کھڑا ہو کر ایک عام آدمی معمولی سی چادر کے حوالے سے بھی احتساب کے انداز میں سوال کرسکتا ہے اور دوسری جانب ہمارے منصفینِ کرام کی ماورائے احتساب و تنقید ہستیاں ہیں جن کے کسی عمل کے بارے میں استفسار تو دور کی بات ہے ان کی موجودگی کوئی ایسی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی نہیں کی جاسکتی جو عزت مآب کی طبعِ نازک پر گراں گزرے۔ اب یہ پتا نہیں کہ قانون کے تحت بندہ و آقا جیسی یہ جو تمیز پیدا کردی گئی ہے اسے کس طرح قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس موضوع پر لکھنے کو میرے پاس حوالے اور باتیں تو بہت سی ہیں لیکن ڈرتا ہوں کہ میں ایک ذلت مآب ہوں اور میری اتنی اوقات نہیں کہ کسی عزت مآب کے قلم کا ایک وار بھی برداشت کرسکوں، سو میں اپنی ذلت کی پوٹلی سمیٹ کر نکلتا ہوں، آپ سے پھر کسی نئے موضوع کے ساتھ ملاقات ہوگی۔

بنتے ہیں تیرے چار سو، فی الحال چار رکھ


گزشتہ تقریباً گیارہ برس کے دوران میں ذرائع ابلاغ کے درجن بھر اداروں کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کرچکا ہوں۔ ان اداروں میں دن رات مذہبی اور نظریاتی وابستگی کے کھوکھلے نعرے لگانے والے بھی شامل ہیں اور انسان حقوق اور جمہور پرستی کے نام نہاد چیمپئن بھی۔ مطبوعہ اور نشریاتی صحافت کے ان درجن بھر اداروں میں رپورٹر، ایڈیٹر اور اینکر وغیرہ کی حیثیت میں کام کرتے ہوئے جو کچھ دیکھا وہ اپنی جگہ ایک داستان ہے جسے مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے یہ موزوں موقع نہیں ہے کہ ابھی تو مجھے بات کسی اور حوالے سے کرنی ہے۔
صحافت کے علاوہ میں کچھ اور صنعتوں میں بھی ملازمت کرچکا ہوں، لہٰذا ان کے حال سے بھی واقف ہوں کہ وہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بالعموم کسی بھی صنعت میں اور بالخصوص صحافت میں یہ رواج ہی نہیں ہے کہ کسی کو اس کا محنتانہ مناسب وقت پر اور موزوں شکل میں ادا کردیا جائے۔ اول تو تنخواہ مقرر ہی اتنی کی جاتی ہے کہ اس سے بس گھر کا چولہا جلتا رہے، اس پر کچھ پکنا نہ پکنا ادارے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی ادارہ حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے معاوضے کو کسی معقول سطح پر لانا بھی چاہے تو وہ جان اور تن کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کفایت کرنے والی رقم سے زیادہ پیسے دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
اخبارات میں اخلاقیات اور انسانی اقدار پر مضامین لکھنے والے اور ٹیلیویژن چینلز پر بیٹھ کر ظالم حکمرانوں کو کوسنے والے خود کیا کچھ کرتے ہیں، اس کا احوال مجیب الرحمٰن شامی، نذیر ناجی، ضیاء شاہد، حسن نثار، عرفان صدیقی، ہارون الرشید اور اسی قماش کے دیگر صحافیوں کو قریب سے دیکھنے والوں کو بخوبی معلوم ہے۔ اس فہرست میں سے ایک بزرگ کا نام ان کے مرحوم ہونے کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہے ورنہ کارکنوں کا استحصال کرنے اور نظریاتی وابستگی کے نام پر لوگوں کو بےوقوف بنانے کے حوالے سے وہ ملک بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
ملک بھر میں موجود صحافیوں کی تنظیمیں بھی استحصال اور ظلم و ستم کے اس سلسلے میں مالکان اور بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں۔ صحافت سے وابستہ ہزاروں کارکن ایسے ہیں جنہوں کئی کئی مہینے ان کے اداروں کی طرف سے ایک پھوٹی کوڑی بھی ادا نہیں کی جاتی اور آج تک کسی ایک صحافتی تنظیم کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی مؤثر لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا۔ اگر اس مسئلے پر زیادہ شور مچ جائے تو ایک آدھ اجلاس بلا لیا جاتا ہے جس میں نشستن، گفتن، برخاستن کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

زرد صحافت کا علم اٹھانے والے صحافتی ادارے ملک کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اے آر وائی کے مرحوم مالک بہت ہی نیک آدمی تھے اور ان کی نیکی کی ایک شاندار مثال یہ ہے کہ آپ نے ایم سی بی سے پانچ ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا تھا جو آج تک واپس نہیں کیا گیا اور بینک رقم واپس مانگتا ہے تو اس کے خلاف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ جیو اور اے آر وائی سمیت پاکستان کے ہر نجی ٹی وی چینل نے ٹیکس کی مد میں حکومت کے کروڑوں اربوں روپے دینے ہیں لیکن کیا مجال کے کوئی ان کے خلاف کچھ بول سکے۔
اب ان سب غنڈوں اور چور ڈاکوؤں کے مقابلے میں شعیب شیخ نے 'بول' کا اعلان کیا اور کارکن صحافیوں کو اچھی تنخواہیں اور مراعات دینے کی بات کی تو ان سب کی چیں بول گئی۔ پاکستان میں تو یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ خبری اداروں کے نام پر عقوبت خانے قائم کیے جاتے ہیں اور وہاں ملازمت کے نام پر غلام بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ان غلاموں سے جو کام لیا جاتا ہے اس کے بدلے میں کسی معاوضے کی بات ہو تو اس حوالے سے مالکان نے ایک بہت سیدھا سا کلیہ اختیار کررکھا ہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھبنتے ہیں تیرے چار سو، فی الحال چار رکھ
اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں شعیب شیخ کو کوئی مسیحا سمجھتا ہوں جو کارکن صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے آسمان سے نازل ہوا ہے لیکن وہ کچھ بھی ہے اور جس کے ایماء پر بھی آیا ہے، کم از کم وہ ان لوگوں سے بہتر ہے جو کروڑوں اربوں روپے بھی کھا جاتے ہیں اور ظلم و ستم بھی اس حد تک کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کئی لوگ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کتنے کارکن صحافیوں کے بیوی بچے یا ماں باپ اور بہن بھائی ان خبیث مالکان اور بڑے عہدوں پر بیٹھے حرامخوروں کی وجہ سے کتنے کتنے دن تک ایک وقت کی روٹی کو بھی ترستے رہے؟ کون بتا سکتا ہے کہ کتنے ایسے کارکن صحافی ہیں جن کے گھروں میں بیمار پڑے ان کے عزیزوں کو محض اس لیے دوا نصیب نہیں ہوسکی کیونکہ اس کے ادارے کا بدمعاش مالک محنتانہ ادا نہیں کررہا تھا؟ کس کے علم ہے کہ ان صحافیوں کی تعداد کتنی ہے جو ہر روز سسک سسک کر اس آس پر دفتر جاتے رہے کہ شاید آج انہیں کئی مہینے کی رکی ہوئی تنخواہ میں سے کچھ پیسے مل جائیں اور وہ ان کی مدد سے اپنے پیاروں کے چہروں پر لگے رنج و الم کے داغ دھو سکیں؟ کسے پتہ ہے کہ ایسے کتنے صحافی ہیں جنہیں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کے وابستگان عید کے روز بھی پڑوسیوں کے رحم و کرم پر رہے؟
لمبے عرصے تک ایک کارکن صحافی کے طور پر کام کرنے اور سینکڑوں کارکن صحافیوں کو ذاتی طور پر جاننے کی وجہ سے میں یہ بات دعوے سے کہتا ہے کہ شعیب شیخ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی گھٹیا پن، حرامخوری اور رذالت کے اس درجے تک نہیں پہنچ سکتا جہاں ہمارے مطبوعہ اور نشریاتی صحافتی اداروں کے مالکان اور ان کے بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ پہلے سے براجمان ہیں۔ اسلام، پاکستان، انسانیت، جمہوریت، یہ سب وہ خوشنما نعرے ہیں جن کو استعمال کر کے یہ حرامخورانِ قوم دن رات لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں پورے حقائق سامنے آجائیں تو شعیب شیخ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود ان کے مقابلے میں ایک فرشتہ نظر آئے گا۔

پس نوشت: بعض قارئین/احباب کو اس مضمون میں میرا لہجہ بہت تلخ لگا ہوگا لیکن اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

نوجوان نسل اور ملکی ترقی


۔۔۔ نوجوانوں میں پیشہ ورانہ صلاحیت ہونی چاہیے۔ ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے سیکھنا ضروری ہے جبکہ صلاحیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مشق کام آتی ہے۔ نوجوانوں کی خوبیاں اور صلاحیتیں چینی خواب کی تکمیل پر براہِ راست اثر انداز ہوں گی۔ ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ ”تعلیم کمان ہے جبکہ صلاحیت تیر ہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ تعلیم کی بنیاد کمان کی طرح ہے جبکہ صلاحیت ایک تیر کی طرح ہے، بھرپور علم کے ساتھ ہی کوئی شخص اپنی صلاحیت کو پوری طرح استعمال کرسکتا ہے۔ نوجوانی سیکھنے کے لیے اہم ترین وقت ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کو سیکھنے کو سب سے پہلی ترجیح، ذمہ داری، اخلاقی حمایت اور طرزِ حیات سمجھنا چاہیے۔ آپ لوگوں کو اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ خواب سیکھنے سے شروع ہوتے ہیں جبکہ پیشہ ورانہ کامیابی کا انحصار صلاحیت پر ہے۔ آپ کو گہری توجہ کے ساتھ سیکھنے کو آگے بڑھنے کی قوت اور صلاحیت کو نوجوان مساعی کے لیے ذریعے کی تعمیر کا وسیلہ سمجھناچاہیے۔
نوجوانوں کو تجدید، دنیا اور مستقبل کے حوالے سے خود کو تیار کرنا چاہیے، اپنے علم کو فوری ضرورت کے احساس کے ساتھ تازہ کرنا چاہیے، انتہائی شوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرنی چاہیے، بنیادی علم کی اچھی بنیاد بنانی چاہیے اور اپنے علم کو تازہ کرتے رہنا چاہیے، جوش و جذبے کے ساتھ اپنی مہارتوں کو بڑھاتے ہوئے گہری توجہ کے ساتھ نظریات کا مطالعہ کرنا چاہیے، اور وقت کی ترقیاتی ضرورتوں اور ہماری ذمہ داری کے تقاضوں کے مطابق مستقل طور پر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو بڑھاتے رہنا چاہیے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ جو کچھ سیکھیں اسے عمل کے سانچے میں ڈھالیں، اپنی بنیادوں اور عوام کے قریب رہیں، اور اصلاح، کشادہ روی اور اشتراکی تجدید کی عظیم بھٹی میں رہیں، حقیقی مہارتیں اور اصل علم حاصل کریں، اپنی صلاحیت بڑھائیں، اپنے آپ کو قابل افراد بنائیں جو اہم معاشرتی ذمہ داریاں اٹھا سکیں۔
سوم، نوجوانوں میں ایجاد اور تخلیق کے لیے جرات ہونی چاہیے۔ جدت کسی قوم کی ترقی کی روح اور کسی ملک کی خوشحالی کا ناقابل تسخیر ذریعہ ہے۔ یہ چینی قومی کردار کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ کنفیوشس نے جب کہا تھا کہ ”اگر تم ایک دن میں اپنی تجدید کرسکتے ہو تو روز ایسا کرو۔ ہاں، روزانہ تجدید ہونی چاہیے“، تو ان کا مطلب یہی تھا۔ زندگی کبھی بھی پسماندہ رستے پر چلنے والوں اور موجودہ حالات پر مطمئن ہونے والوں کی حمایت نہیں کرتی، اور یہ کبھی بھی ان کا انتظار نہیں کرتی جو امنگوں سے عاری ہوں اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور دوسروں کی محنت کے ثمرات سمیٹیں۔ اس کی بجائے وہ ایجاد کی صلاحیت اور جرات رکھنے والوں کو زیادہ مواقع مہیا کرتی ہے۔ نوجوان ہمارے معاشرے کا سب سے متحرک اور تخلیقی گروہ ہیں اور انہیں جدت اور تخلیق کے میدان میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔
نوجوانوں میں پہل کرنے کی جرات ہونی چاہیے، انہیں جرات کے ساتھ اپنے ذہنوں کو آزاد کرنا چاہیے اور وقت کے ساتھ ترقی کرنی چاہیے، ان میں آگے بڑھنے کے لیے نشیب و فراز پر چلنے کی ہمت ہونی چاہیے، اور ان میں بزرگوں سے سیکھنے اور پھر ان سے آگے نکلنے کی خواہش ہونی چاہیے۔ اپنی جوان توانائیوں کے ساتھ آپ لوگ ایک جوان ملک اور ایک جوان قوم تعمیر کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں میں پہاڑوں کو کاٹ کر رستہ بنانے اور دریاؤں پر پُل باندھنے کی ہمت ہونی چاہیے اور انہیں ناقابلِ تسخیر ہونا چاہیے اور نئے تصورات پیش کرنے کے لیے انہیں بہادری سے آگے بڑھنا چاہیے۔ آپ کو مثبت رویے کا حامل ہونا چاہیے جو سچ کے لیے سرگرداں ہو تاکہ آپ مستقل طور پر تجربہ حاصل کریں اور اپنے منتخب پیشوں میں نئے تصورات پیش کر کے ان سے نتائج حاصل کرسکیں۔
(چینی صدر ژی جن پنگ کی کتاب ”چین کا نظامِ حکومت“ سے اقتباس)

فیصلہ آپ کا!


میں ایک مشہور و معروف شخصیت ہوں۔ لوگ میری ایک جھلک دیکھنے کو گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ حسین سے حسین لڑکیاں بھی مجھ سے ایک بار بات کرنے کے لیے ترستی ہیں۔ میں اگر کبھی کسی سڑک یا شاپنگ مال میں نظر آجاؤں تو لوگ سب کام چھوڑ کر مجھے دیکھنے لگتے ہیں۔ مجھ سے آٹوگراف لینے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ میں اپنے ان تمام پرستاروں پر دھیان دینے کی کوشش تو کرتا ہوں لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ میرے لیے ہر کسی کو وقت دینا یا اس کی بات سننا ممکن ہی نہیں ہے۔
میرے کام کے حوالے سے بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں سے میرا رابطہ رہتا ہے اور میں دن رات شدید مصروفیت میں گزارتا ہوں۔ اس حوالے سے مجھے مختلف دعوتوں میں بھی جانا پڑتا ہے تاکہ لوگوں سے میرے تعلقات مزید استوار ہوں اور میرے کام کے سلسلے میں مجھے مزید ترقی ملے۔ انہی اچھے تعلقات کی بدولت میری شہرت میں شب و روز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ساتھ میرے بینک کے کھاتوں کے ہندسے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ہر شخص کی طرح میں بھی چونکہ ایک اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہوں، لہٰذا مجھے اس سب سے بےحد محبت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کوئی خود غرض آدمی ہوں، میں ملک بھر میں اپنی فیاضی اور سخاوت کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہوں۔
ایک رات کچھ دوست مجھے اپنے ہاں دعوت پر بلا لیتے ہیں۔ میں ہوں تو مسلمان اور میرے مذہب نے مجھ پر بہت سی پابندیاں بھی عائد کررکھی ہیں لیکن کیا کروں اگر میں پوری طرح ان پابندیوں کا احترام کرنے لگ جاؤں تو پھر میں اپنے تعلقات سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا، اور اگر یہ تعلقات نہ رہے تو میری عزت، شہرت اور دولت بھی آہستہ آہستہ رخصت ہوجائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ان پابندیوں کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ خیر، میں بتارہا تھا کہ میرے کچھ دوستوں نے مجھے ایک رات دعوت پر بلایا۔ ایسی دعوتوں میں اکثر کھانے کے ساتھ شراب و شباب سے بھی دل بہلایا جاتا ہے۔
میں پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ میں مسلمان ہونے کے باوجود اپنے کام کی وجہ سے اسلام کی مجھ پر عائد کردہ پابندیوں کا احترام نہیں کرتا، لہٰذا اس محفل میں میں نے بھی جی بھر کر شراب پی۔ میں شدید نشے کی حالت میں تھا اور مجھے گھر بھی پہنچنا تھا۔ میرے ساتھ ڈرائیور نہیں تھا۔ ایک محافظ ضرور تھا لیکن اسے گاڑی چلانی نہیں آتی تھی۔ میں نے نشے کی حالت میں خود ہی گاڑی چلانے کا فیصلہ کیا۔ میں جب گاڑی لے کر نکلا تو اس وقت آپ، جی ہاں آپ، اپنی بےسروسامانی کے سبب اپنے کچھ عزیزوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر سورہے تھے۔ میری گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی، میرے محافظ نے مجھے رفتار کم کرنے کو کہا لیکن میں شدید نشے کی حالت میں تھا، سو مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی۔ مجھے نہیں پتہ کہ میری گاڑی کس وقت بےقابو ہو کر فٹ پر سوئے ہوئے آپ لوگوں پر جا چڑھی۔ اس حادثے کی وجہ سے آپ کے ایک عزیز کا موت واقع ہوگئی اور باقی لوگ بری طرح زخمی ہوئے۔ آپ لوگ چیختے چلاتے رہے مگر میں گاڑی لے کر فرار ہوگیا۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے مجھے گرفتار کرلیا۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا، میں نے شراب نہیں پی ہوئی تھی اور نہ ہی میں گاڑی چلارہا تھا۔ میرا محافظ اور کچھ عینی شاہدین میرے خلاف گواہی دیتے ہیں۔یہ مقدمہ تقریباً تیرہ برس تک عدالت میں زیرِ سماعت رہتا ہے۔ تیرہ سال بعد میرا ڈرائیور عدالت کے سامنے آ کر کہہ دیتا ہے کہ گاڑی میں نہیں بلکہ وہ چلارہا تھا۔ عدالت گواہوں کے بیانات کی روشنی میں میرے ڈرائیور کے بیان کو مسترد کردیتی ہے۔ اب عدالت ان سب باتوں کو سامنے رکھ کر جائزہ لے رہی ہے کہ حالات و واقعات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مجھے مجرم قرار دیا جائے یا میرے بیان کو درست تسلیم کرتے ہوئے مجھے بےقصور مان لیا جائے۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ میں جس صنعت سے وابستہ ہوں اس کے کروڑوں اربوں روپے میرے اوپر چلنے والے اس مقدمے کی وجہ سے داؤ پر لگے ہیں۔ اب عدالت کسی فیصلے پر پہنچنا چاہ رہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ تو جو ہونا ہے وہ ہوگا، لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک لمحے کو اس پوری صورتحال کا تصور کرتے ہوئے آپ بتائیے کہ مجھے مجرم قرار دے کر سزا دی جائے یا بےگناہ تسلیم کرتے ہوئے چھوڑ دیا جائے؟؟؟

تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں


میں اس وقت جلالپور جٹاں میں تھا جب برادرِ عزیز قیصر شریف (ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات، جماعت اسلامی) کی طرف سے عثمان ملک کی وفات کے بارے میں خبر ملی۔ میں نے سرسری طور پر پیغام پڑھا اور جواب میں انا للہ و انا الیہ راجعون لکھ کر بھیج دیا۔ شام کے بعد جب میں لاہور واپس آرہا تھا تو موبائل فون پر فیس بک کے ذریعے پتہ چلا کہ قیصر صاحب نے کس عثمان کی بات کی تھی۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے بالکل یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ موت کے لیے کوئی فارمولا تو طے نہیں ہے لیکن پھر بھی عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جوانی مرنے نہیں بلکہ جینے کے لیے ہوتی ہے۔
عثمان سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات آج سے تقریباً چھے برس قبل اس وقت ہوئی جب میں نے سما ٹیلیویژن کو خیرباد کہنے کے بعد وقت ٹی وی میں ملازمت اختیار کی۔ میں نیوز ایڈیٹنگ میں تھا اور عثمان رپورٹنگ میں، اس لحاظ سے ہم دونوں کا کام ایک دوسرے سے بلاواسطہ جڑا ہوا تھا۔ ابتداً میں نے انٹرنیشنل ڈیسک پر کام کیا، پھر مجھے نیشنل ڈیسک کی ذمہ داری بھی دیدی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کے لیے نیوز ایڈیٹنگ کا ایک الگ یونٹ بنادیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ اس یک رکنی یونٹ کی ذمہ داری مجھے دی جائے۔ میں نے اس نئی ذمہ داری کو بخوشی قبول کرلیا۔
عثمان چونکہ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کا حصہ تھا، لہٰذا اب کام کے سلسلے میں روزانہ ہی ہمارا ایک دوسرے رابطہ ہونے لگا۔ مجھے عثمان کی لکھی ہوئی کسی خبر سے متعلق کوئی بات کرنی ہوتی تو ایکسٹینشن سے فون کرتا اور عثمان فوری طور پر خبر کی تفصیل بتانے لگتا یا اپنی سیٹ سے اٹھ کر میرے پاس ایڈیٹنگ ڈیسک پر آجاتا۔ یہ سلسلہ چند مہینے تک جاری رہا۔ اس دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ عثمان بہت محنتی رپورٹر ہے اور اس میں بات کو سمجھنے اور سیکھنے کی چاہ بھی بہت زیادہ ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کر کے کچھ سمجھایا جاتا تو میرا تقریباً ہم عمر ہونے کے باوجود وہ ایک مؤدب بچے کی طرح ساری بات سنتا۔
وقت ٹی وی کو چھوڑنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے میں ایک انگریزی اخبار سے منسلک ہوگیا لیکن اس دوران گاہے ماہے عثمان سے ملاقات ہو ہی جاتی تھی کہ ایک ہی شہر میں رپورٹنگ کرنے والے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے ٹکرا ہی جاتے ہیں۔ عثمان کا رویہ ہمیشہ ہی انتہائی پُرتپاک رہا اور اس رویے کے باعث اس سے مل کر ہر بار بہت خوشی ہوتی تھی۔ میں یہ تو بھول گیا ہوں کہ ہماری آخری ملاقات کب ہوئی تھی مگر یہ یاد ہے کہ وہ ایک مقامی صحافتی تنظیم کی طرف سے منعقدہ کوئی پروگرام تھا جس میں ہم ملے تھے۔ یہ سطور لکھتے ہوئے عثمان کا وہ ہنستا کھلکھلاتا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گردش کررہا ہے مگر افسوس کہ میں اس چہرے کو اب صرف تصویر اور تصور میں ہی دیکھ سکتا ہوں!

جیمز ہیریسن: ایک معجزاتی انسان


یہ جو بزرگ آپ کو تصویر میں دکھائی دے رہے ہیں ان کا نام جیمز کرسٹوفر ہیریسن ہے۔ دنیا انہیں ایک معجزاتی انسان کے طور پر جانتی ہے۔ انہیں 'سنہرے بازو کا حامل شخص' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 27 دسمبر 1936ء کو پیدا ہوئے۔ 1950ء میں جب جیمز چودہ برس کے تھے اس وقت ان کے سینے کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے دوران ان کی جان بچانے کے لیے تیرہ لیٹر خون استعمال کیا گیا۔ آپریشن کے بعد جیمز کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے عزم کرلیا کہ وہ جب اٹھارہ برس کے ہوجائیں گے تو اپنے خون کا عطیہ دے کر لوگوں کی جانیں بچایا کریں گے۔
اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے عزم کے مطابق خون عطیہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ جیمز کے خون میں کچھ ایسے غیرمعمولی طور پر مضبوط جراثیم پائے جاتے ہیں جو نوزائیدہ بچوں کو ریسس (Rhesus) نامی بیماری سے بچانے کے لیے کام آسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے جب یہ بات جیمز کو بتائی تو انسانی جانیں بچانے کا ان کا عزم مزید پختہ ہوگیا اور انہوں نے ریسس سے متاثرہ نوزائیدہ بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنا پلازمہ (Plasma) عطیہ کرنا شروع کردیا۔
خون کے برعکس چونکہ پلازمہ ہر دو سے تین ہفتے کے بعد عطیہ کیا جاسکتا ہے، لہٰذا جیمز نے اسے اپنا معمول بنالیا۔ مئی 2011ء میں پچھتر برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے تک جیمز ایک ہزار بار اپنا پلازمہ عطیہ کرچکے تھے جس کی مدد سے چوبیس لاکھ سے زائد بچوں کی جانیں بچائی گئیں۔ انہوں نے عطیات کا یہ سلسلہ بعدازاں بھی جاری رکھا جو تاحال چل رہا ہے اور وہ تقریباً ہر دو ہفتے کے بعد اپنا پلازمہ عطیہ کرتے ہیں۔ ان کے پلازمہ سے جن بچوں کی جانیں بچائی گئیں ان میں ان کی اپنی بیٹی ٹریسی کے بچے بھی شامل ہیں۔
خون کے عطیات کے حوالے سے جیمز نے عالمی سطح پر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جنوری 2013ء میں ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے اس ریکارڈ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ "یہ واحد ریکارڈ ہے جس کے ٹوٹنے کی میں خواہش رکھتا ہوں کیونکہ اگر کوئی اسے توڑے گا تو اسے ایک ہزار (سے زائد) عطیات دینے ہوں گے۔" جیمز جن دنوں چھٹیوں پر ہوتے ہیں وہ تب بھی باقاعدگی کے ساتھ عطیات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ان کے خون کی مدد سے ریسس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے بھی بنائے گئے ہیں جو مذکورہ بیماری سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے نوزائیدہ بچوں یا زچگی سے قبل حاملہ ماؤں کو لگائے جاتے ہیں۔
ان کے خون کی غیرمعمولی اہمیت کے پیش نظر جیمز کی زندگی کا دس لاکھ ڈالرز کے عوض بیمہ کیا گیا۔ 7 جون 1999ء کو ان کی انسانیت کے لیے خدمات کے صلے میں جیمز کو 'میڈل آف دی آرڈر آف آسٹریلیا' سے نوازا گیا۔ انہیں 'آسٹریلین آف دی ائیر' کے اعزاز کے لیے بھی نامزد کیا گیا، تاہم وہ اس اعزاز کو حاصل نہ کرسکے۔ جیمز کو شاید اس اعزاز کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ان کی خدمات کے سامنے یہ اعزاز بہت ہی چھوٹا ہے۔ جیمز جیسے لوگ کسی ایک ملک، علاقے یا خطے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ ایسے لوگ کسی ایک نسل یا قبیلے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے سر کا تاج ہیں۔ ایسے لوگوں کے دم سے ہی ایثار، قربانی اور اخلاص جیسے الفاظ آج بھی بامعنی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

وجہِ حیات (نظم)


یہ جو دہقان ہیں، یہ جو مزدور ہیںشب کی زینت ہیں یہ، سحر کا نور ہیں
ان کے دم سے بہاریں ہیں پھیلی ہوئیان کے ہاتھوں سے مٹی ہے سونا بنی
زندگی کے سبھی رنگ ان کی عطا ان کو خالق کے یاروں کا درجہ ملا
تیرے میرے سکوں کا یہ باعث بنیںان کے ہونے سے دنیا کی سب رونقیں
زندگانی کا پہیہ ہے ان سے رواںعزم و ہمت ہیں ان کے درخشاں نشاں
یہ جو نہ ہوں تو جیون ٹھہر جائے گاروح کا تن سے رشتہ بکھر جائے گا
یہ جو دہقان ہیں، یہ جو مزدور ہیںشب کی زینت ہیں یہ، سحر کا نور ہیں
پس نوشت: یہ نظم گزشتہ برس 06 مئی کو لکھی گئی اور اسی روز لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے 'یومِ مئی' کے حوالے سے منعقدہ مشاعرے میں پڑھی گئی۔

مطالعہ: ایک اکسیرِ اعظم


کسی مضمون میں حقیقی دلچسپی بہترین استاد ہے۔ یہ تصور اس چینی کہاوت کا عکاس ہے کہ ”علم کے حوالے سے جو لوگ اسے سیکھنے کے لیے پُرعزم ہوتے ہیں وہ ان لوگوں سے بہتر ہوتے ہیں جو اس سے واقف ہوتے ہیں، اور جو اس سے سب سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں وہ بہترین طالبعلم ہوتے ہیں۔“ اہم عہدیداروں کو مطالعے کو ایک کھوج، ایک مشغلے اور صحت مند زندگی کے ایک عنصر کے طور پر اپنانا چاہیے، جو انہیں خوش اور سیکھنے کے لیے زیادہ مشتاق بنائے گا۔ مطالعے میں گہری دلچسپی کے ساتھ ہم جبری بھرتی کیے ہوئے فوجیوں کی بجائے پُرجوش رضاکار بنیں گے، اور مطالعہ ہمارے لیے ایک زندگی بھر ساتھ چلنے والی عادت ہوگی، نہ کہ ایک وقت گزاری کا مشغلہ۔
مطالعے اور عمل کی طرح مطالعہ اور سوچ بچار بھی مل کر ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ ایک اور چینی کہاوت ہے کہ ”سوچ بچار کے بغیر کیا گیا مطالعہ انسان کو مبہم بناتا ہے جبکہ مطالعے کے بغیر سوچ بچار سے انسان وہمی بن جاتا ہے۔“ اگر آپ کے ذہن میں مسائل ہیں اور آپ ان کا حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو آپ کو مطالعہ شروع کرنا چاہیے اور دلجمعی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ آپ کو ”بہت زیادہ سیکھنا چاہیے، توجہ سے کھوج کرنی چاہیے، گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہیے، مختلف چیزوں میں وضاحت کے ساتھ تمیز کرنی چاہیے اور اخلاص کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔“
ہمیں مطالعے کے لیے وقت نکالنے میں ماہر ہونا چاہیے۔ میں اکثر عہدیداروں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ ہم مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ”کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے انہیں وقت ہی نہیں مل پاتا۔“ یہ بات ظاہری طور پر قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ کبھی بھی مطالعے میں سست پڑنے کا جواز نہیں ہوسکتی۔ ہمارے کام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ ہمیں سوچنے اور پڑھنے میں زیادہ وقت صرف کرنا چاہیے، اور بے معنی دعوتوں اور رسموں کو کم کرنا چاہیے۔
ان دنوں یہ عوام کا ایک عمومی شکوہ ہے کہ بعض عہدیدار پڑھنے میں کم اور دعوتوں میں زیادہ وقت لگاتے ہیں۔ ”جو خود اندھیرے میں ہیں وہ دوسروں کے لیے رستہ کیا روشن کریں گے۔“ اس سے ہمارے کام پر منفی اثر پڑے گا اور بالآخر ہماری مجموعی ترقی میں رکاوٹ پڑے گی۔ اگر ہم اپنے مطالعے کا نقصان کرتے ہوئے خود کو اپنے کاموں میں مگن کرلیں تو ہم ذہنی طور پر سختی اور لغویت کا شکار ہوجائیں گے۔ جب ہم مطالعہ کررہے ہوں تو ہمیں پوری توجہ اس پر لگانی چاہیے اور توجہ نہیں بٹنے دینی چاہیے۔ ہمارے اندازِ فکر کو مستقل ہونا چاہیے اور اسے عطائیوں جیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بغیر تفہیم کے سطحی طور پر پڑھنے کی بجائے ہم جو کچھ پڑھ رہے ہیں اسے اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ اہم عہدیداروں کو مستقل مزاجی کے ساتھ سیکھنے اور پڑھنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ جب ہم اس بات کو خود پر لاگو کریں گے تو ایک دن کے دوران آدھے گھنٹے میں پڑھے جانے والے چند صفحات بھی وقت کا اچھا استعمال ہوں گے۔
(چینی صدر ژی جن پنگ کی کتاب ”چین کا نظامِ حکومت“ سے اقتباس)

عطاء، تم تو مجھ سے بھی چھوٹے تھے یار!


کراچی میں ایک نوجوان مذہبی عالم عطاء سراجی تھا۔ اس جملے میں "تھا" لکھتے ہوئے مجھے انتہائی تکلیف محسوس ہورہی ہے۔ خواہش کے باوجود میری عطاء سراجی سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے درمیان تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ حائل تھا۔ البتہ اس کی عربی سے اردو اور اردو سے عربی میں ترجمہ شدہ کچھ چیزیں پڑھنے کا کئی بار موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ دونوں زبانوں پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ میں فیس بک پر اس کے کیفیت نامے پڑھ کو اکثر سوچتا تھا کہ آئندہ جب کراچی گیا تو اس بندے سے ملاقات کروں گا تاکہ میں اس سے کچھ سیکھ سکوں۔
عطاء کے کیفیت نامے عموماً مسلم دنیا کے حالات کے حوالے سے ہوتے تھے۔ فلسطین اور مصر کے مسئلے پر وہ بہت سرگرم تھا۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو چن چن کر سزائیں دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس مسئلے پر بھی وہ بہت فعال دکھائی دیا۔ کبھی اردو میں چیزیں لکھتا، کبھی عربی میں، اور کبھی خود لکھ کر ترجمہ کردیتا یا پھر کہیں اور لکھی ہوئی چیزیں لے کر ان کا ترجمہ کرتا۔ تحریروں سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس بندے کے دل میں قوم کے لیے سچا درد اور خالص احساس پایا جاتا ہے۔
مخلص اور باصلاحیت نوجوان تو کسی بھی قوم کے لیے انمول خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عطاء ایک ایسا ہی نوجوان تھا کہ اسے قوم کے لیے انمول خزانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ صد افسوس کہ اس شاندار نوجوان سے میری ملاقات ایک خواب ہی بن کر رہ گئی۔ کچھ دیر پہلے ایک دوست کی وساطت سے پتہ چلا کہ عطاء دو روز پہلے ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوا تھا اور آج اس کا انتقال ہوگیا ہے۔
عطاء کے انتقال کی خبر پڑھ کر مجھے یقین ہی نہیں آیا کیونکہ دو تین روز پہلے تک تو وہ بنگلہ دیش میں قمرالزمان کی پھانسی کے خلاف کیفیت نامے لکھ رہا تھا اور اس کا ایک کیفیت نامہ جو مجھے بہت اچھا لگا وہ یہ تھا، "یہ قانون فطرت ہے کہ اس دنیا میں جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک دن ضرور مرتا ہے۔ اگر دنیا کی زندگی کا انجام موت ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کیلئے زندہ رہیں یا ایک صدی تک زندہ رہیں۔ مرنے والی کی قبر سے دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ تم زندہ رہے تو کس شان سے زندہ رہے اور مرے تو کس آن سے مرے۔۔۔"
عطاء کی باتوں سے جھلکتا خلوص دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ زندگی شان سے گزار رہا ہے۔ میں تو اس شاندار نوجوان سے ملنے کا منصوبہ بنارہا تھا لیکن اس نے فاصلے کو ایک ہزار کلومیٹر سے بڑھا کر اتنا طویل کردیا کہ اب تو وصالِ یار فقط آرزو کی بات دکھائی نہیں دیتا۔ جانا تو سب نے ہی ہوتا ہے لیکن عطاء، تم تو مجھ سے بھی چھوٹے تھے یار!

غسل خانہ پیر، گٹر مرید


امریکی قصرِ سفید میں پہلا بلاامتیاز غسل خانہ کھول دیا گیا۔ اس غسل خانے میں جانے کے لیے جنسی تمیز ضروری نہیں۔ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق اس غسل خانے کا مقصد ہم جنس پرستوں کے تحفظات دور کرنا ہے۔ ویسے دنیا بھر میں ذلیل ہونے کے بعد اوبامہ انتظامیہ اب غسل خانے بنانے کے قابل ہی رہ گئی۔ یوں بھی اوبامہ نے سوچا ہوگا کہ صدارت چھوڑنے کے بعد کوئی اور کام تو شاید ملنا نہیں ہے تو چلو غسل خانوں کے ٹھیکے لے کر ہی گزارہ کیا جائے گا۔

مسلمہ روایات کے مطابق پارلیمان میں بیٹھے منتخب ارکان کا کام قانون سازی ہے اور ان میں سے جن کو وزارتیں وغیرہ مل جائیں انہوں نے قانون سازی کے ساتھ انتظامی معاملات کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔ اسی بناء پر پاکستان میں ہم اپنے سیاستدانوں کو طعنے دیتے ہیں کہ وہ قانون سازی چھوڑ کر گٹر اور سڑکیں بنا رہے ہیں۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ ان کا پیر و مرشد غسل خانے بنا کر کریڈٹ لے رہا ہے۔ جب پیر غسل خانے بنائے گا تو ظاہر ہے کہ مرید گٹروں کی تعمیر پر ہی دھیان دیں گے۔ غسل خانہ پیر، گٹر مرید۔۔۔ واہ، کیا شاندار جوڑ ہے!

اندر کا آئینہ


یہ آئینہ بھی بڑے کمال کی چیز ہے، ہماری ذات کے وہ سب رنگ، زاویے اور پہلو ہمارے سامنے عکس کی صورت میں پیش کردیتا ہے جن کا اس کے بغیر ہمیں احساس نہیں ہوپاتا۔ ظاہری آئینہ تو محض شکل صورت دیکھنے اور بننے سنورنے کے کام آتا ہے لیکن ایک آئینہ ہمارے اندر بھی نصب ہوتا ہے جو انسانی شخصیت کے نکھار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اندر کا آئینہ جتنا صاف شفاف ہو انسان کی شخصیت اتنی ہی نکھرتی چلی جاتی ہے اور اس پر جتنی گرد پڑی ہو انسان اتنا ہی کجی اور ٹیڑھے پن کا شکار ہوتا جاتا ہے۔
چین کے صدر ژی جن پنگ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران پارٹی ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "۔۔۔ حقیقی زندگی میں کچھ لوگ اپنے بارے میں ہمیشہ اچھا محسوس کرتے ہیں اور وہ آئینہ کبھی کبھار ہی دیکھتے ہیں۔ بعض لوگوں کو اپنی خامیوں کا خوب اندازہ ہوتا ہے، لہٰذا وہ آئینہ دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ اپنی تعریف کرنا پسند کرتے ہیں، لہٰذا وہ آئینہ دیکھنے سے پہلے خود کو اچھی طرح تیار کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ خود کو کامل سمجھتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ نقائص صرف دوسرے لوگوں میں ہیں، لہٰذا وہ آئینے کا رخ دوسروں کی طرف ہی رکھتے ہیں۔۔۔"
مجھے ژی کی یہ بات بہت پسند آئی تو سوچا کہ صبح سویرے اسی موضوع پر دو چار جملے میں بھی لکھ لوں اور ساتھ یہ اقتباس بھی استعمال کرلیتا ہوں تاکہ میرے ساتھ ساتھ آپ بھی اس بات سے محظوظ ہوسکیں۔ یہ اقتباس اور میری باتیں تو اپنی جگہ لیکن ہم سب کو ظاہری آئینے کے ساتھ ساتھ باطنی آئینے میں بھی جھانک کر دیکھتے رہنا چاہیے تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ ہماری ذات کو اصلاح کی کتنی ضرورت ہے۔

اسلام: دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب


حال ہی میں سامنے والی ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن رہا ہے اور توقع ہے کہ 2050ء میں دنیا کی مسلم اور عیسائی آبادی تقریباً برابر ہوجائیں گی۔ پیو ریسرچ سنٹر کی اس رپورٹ کے لیے دنیا بھر کے ملکوں سے آبادی میں اضافے کی شرح، نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور تبدیلیِ مذہب کے اعداد و شمار کو سامنے رکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "اگلی چار دہائیوں میں عیسائی دنیا کا سب سے بڑا مذہبی گروہ تو رہیں گے، تاہم اسلام کسی بھی دوسرے بڑے مذہب کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلے گا۔" رپورٹ کے مصنفین نے پیش گوئی کی ہے کہ 2050ء تک دنیا میں مسلم آبادی 2.76 ارب ہوجائے گی جبکہ عیسائی آبادی 2.92 ارب ہوگی۔ یوں دنیا بھر کی آبادی کے مقابلے میں ان دونوں کا تناسب بالترتیب 29.7 اور 31.4 فیصد ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق 2050ء میں ہندو مت دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہوگا جس کے پیروکار دنیا کی کل آبادی کا 14.9 فیصد ہوں گے جبکہ لامذہبیت 13.2 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہوگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چار دہائیوں بعد بھی مسلم آبادی کا سب سے بڑا مرکز ایشیا پیسیفک ہی رہے گا۔ واضح رہے کہ 2010ء میں دنیا کی عیسائی آبادی 2.17 ارب تھی جبکہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد 1.6 ارب تھی لیکن موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں مسلم آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اوپر بیان کی گئی سب باتیں انگریزی جریدے "ڈان" میں کل شائع ہوئی تھیں۔ میں بہت خوش فہم قسم کا مسلمان ہوں، لہٰذا مجھے تو یہ اعداد و شمار پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اللہ کا پیغام تیزی سے دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہا ہے اور لوگ جوق در جوق حلقۂ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ لیکن سوچ یہ رہا ہوں کہ کیا دنیا میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے سے اسلام واقعی پھیلے گا یا محض اسلام کے نام لیواؤں کی گنتی میں اضافہ ہوگا؟ اور اگر یہ محض گنتی میں اضافہ ہی ہے تو ایسا اضافہ مذکورہ پیش گوئی سے دس گنا زیادہ تیزی سے بھی ہو تو اس کا اسلام کہلانے والے فلاحِ انسانیت کے اس نظریے کو کیا فائدہ پہنچے گا جس سے وابستگی کا دعویٰ دنیا بھر کے مسلمان کرتے ہیں؟ خیر، یہ سب باتیں چھوڑئیے کہ ان کا تعلق تو سوچ بچار اور غور و فکر سے ہے اور بھلا ہمارا ان چیزوں سے کیا لینا دینا!

جی ایس ٹی: مہنگائی کی بنیاد


محمد رمضان لاہور کے نواح میں واقع شرقپور نامی قصبے سے منسلک ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہے۔ وہ گزشتہ تقریباً تیس برس سے سرکاری ملازمت کررہا ہے۔ چھے بچوں سمیت اس کے گھر میں کل نو افراد رہتے ہیں جن کی کفالت کی ذمہ داری اس پر ہے۔ سرکاری ملازمت سے ملنے والی ماہانہ بیس ہزار روپے تنخواہ کے علاوہ اپنے گھر کو چلانے کے لیے اس کے پاس موروثی طور پر ملنے والا تقریباً دو ایکڑ کا ایک قطعۂ زمین بھی ہے جس پر وہ اناج وغیرہ کاشت کرتا ہے۔
رمضان نے میٹرک کے امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد جب سرکاری ملازمت شروع کی تو اس وقت اس کی عمر تقریباً اٹھارہ برس تھی۔ ملازمت کے دوران ہی اس نے انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔ پھر کوشش کی کہ کسی طرح بی اے بھی کر لے لیکن گھریلو حالات کی سختی نے اسے اس بات کی اجازت نہ دی۔ اس نے کلرک بھرتی ہونے کی بھی کوشش کی مگر سفارش اور رشوت کے بغیر یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔ سو، سرکاری ملازمت میں تین دہائیاں گزارنے کے بعد بھی وہ درجۂ چہارم کا ایک ملازم ہے جس کا کام دوسروں کے حکم پر چائے بنانا اور پانی پلانا وغیرہ ہے۔
رمضان کے مطابق اس کے گھر کے راشن اور یوٹیلٹی بِلوں پر ہی اتنی رقم خرچ ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس کی تنخواہ کم پڑجاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اسے اپنے ان دوستوں یا عزیزوں سے قرض لینے کے لیے رجوع کرنا پڑتا ہے جن کے حالات رمضان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک ڈیڑھ ہفتے کے لیے وہ اپنی ضروریات کو جان و تن کا رشتہ برقرار رکھنے کی حد تک لے جائے تاکہ مہینہ پورا کیا جاسکے۔
رمضان یوں سسک سسک کر زندگی گزارنے والا پہلا یا آخری پاکستانی نہیں ہے۔ اس جیسے لاکھوں بلکہ کروڑوں پاکستانی اسی جیسے حالات کے تحت زندگی گزار رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ زندگی انہیں گزار رہی ہے۔ راشن، یوٹیلٹی بل، بچوں کی فیس، علاج معالجے کا خرچ اور دیگر بہت سے اخراجات عام آدمی کی آمدن کو کسی عفریت کی طرح یوں نگل جاتے ہیں کہ گویا وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
عوامی حمایت سے ایوان ہائے اقتدار پہنچنے والے سیاستدان انتخابات کے موقع پر جب جھولی پھیلا کر در در جاتے ہیں، اس وقت وہ وعدے تو بہت سے کرتے ہیں لیکن یہ وعدے کبھی بھی ایفا نہیں ہوتے۔ پاکستان کے تناظر میں افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر پارلیمان تک پہنچنے والے سیاستدان بھی آمر ہی ہوتے ہیں اور ان کا طرزِ حکمرانی بھی آمروں جیسا ہی ہوتا ہے۔
اگر عوامی لوگ ہونے کے دعویدار پاکستانی سیاستدان واقعی عوام کے دکھ درد کا علاج کرنا چاہیں تو ایسے کئی چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جن کے عوامی زندگی پر بہت گہرے اور بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح میں کمی لانا ہی ایک ایسا چھوٹا سا اقدام ہوسکتا ہے جس سے مہنگائی جیسے اہم ترین مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔
اس وقت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے سوا باقی تمام اشیا پر جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد ہے۔ 2007ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت قائم ہونے سے پہلے تک یہی شرح 15 فیصد ہوا کرتی تھی۔ پی پی پی نے اس شرح کو ایک فیصد بڑھا کا 16 فیصد تک پہنچایا اور اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے اس شرح میں مزید ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 17 فیصد کردیا۔ بازار میں بکنے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پر یہ ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے 2 فیصد کے فرق سے چیزوں کی قیمتیں کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہیں۔ 2 اضافہ کا اثر جانچنے کے لیے بھارت کی مثال دیکھ لیجئے جہاں 2007ء سے پہلے جی ایس ٹی کی شرح 12.50 فیصد تھی لیکن اسے عوام پر بوجھ سمجھتے ہوئے 12.36 فیصد کردیا گیا۔ 0.14 فیصد کمی ویسے تو کچھ بھی نہیں لیکن اس کا مجموعی اثر یقیناً قابلِ ذکر حد تک ہوگا۔

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی چونکہ اسی فیصد سے زائد لوگ متوسط اور زیریں متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا جی ایس ٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی وہی لوگ ہیں حالانکہ آمدن کے اعتبار دیکھا جائے تو ان کا اعلیٰ اور بالائی متوسط طبقے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس کے حصول کے دیگر ذرائع کو فعال بنائے اور زندگی کی دوڑ میں پہلے ہی تھکے ہارے لوگوں پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ان کے مسائل میں کمی کا چارہ کرے تاکہ رمضان جیسے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں میں کم از کم زندہ ہونے کا احساس تو پیدا ہوسکے۔

یومِ احمقاں


آج دنیا بھر میں انسانیت کے روایتی جذبۂ جہالت کے ساتھ "یومِ احمقاں" منایا جارہا ہے۔ کائنات اور اس کے مختلف مظاہر پر اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق جاندار مخلوقات کا وجود صرف زمین نامی اس گولے پر ہی پایا جاتا ہے۔ اس وقت زمین پر بسنے والے لوگوں کی تعداد سات ارب سے زائد ہے۔ اگر اربوں باسیوں کا حامل یہ خطہ ایک پورا دن حماقت کے لیے مختص کردے تو اس سے بڑی جہالت کی بات اور کیا ہوگی؟
بھئی، کرنا ہی ہے تو ایک پورا دن ہمدردی، ایثار اور قربانی کے لیے وقف کرو اور لوگوں کو بھرپور ترغیب دو کہ وہ اس روز زیادہ نہیں تو ایک وقت کا کھانا خود کھانے کی بجائے ان لوگوں کو دیدیں جن کے پاس کھانا خریدنے کی استطاعت نہیں ہے، نئے نہیں تو چلو اپنے پرانے اور استعمال میں نہ آنے والے کپڑے اور جوتے ہی ان لوگوں کو دیدیں جن کے پاس تن ڈھانپنے کو کچھ نہیں ہے، چند منٹوں کے لیے ہی سہی اسپتالوں میں پڑے لاوارث مریضوں کی عیادت کے لیے چلے جائیں، یا اور کچھ نہیں تو چلو گلی محلے یا سڑک سے گزرتے ہوئے کسی پریشان حال شخص کو ایک مسکراہٹ کا خوشگوار تحفہ ہی دیدیں۔
انسان کی اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں پر غالب آنے کی خواہش اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کی جانے والی بےرحم جدوجہد کی وجہ سے دنیا ویسے ہی ایک حماقت کدہ بنی ہوئی ہے، ایسے میں ہم "یومِ احمقاں" نہ بھی منائیں تو پتہ چل ہی رہا ہے کہ اشرف المخلوقات کا تاج سر پر پہننے والے ہم لوگ کتنی دانش و بینش کے مالک ہیں۔

سبب کچھ اور ہے۔۔۔ (2)


یمن کی حکومت پر قبضہ کرنے والے حوثی جس تنظیم یا گروہ کا حصہ ہیں اس کا نام انصاراللہ ہے۔ ان لوگوں کو حوثی حسین بدرالدین الحوثی کی وجہ سے کہا جاتا ہے جس نے 2004ء میں یمن میں بغاوت کی بنیاد رکھی تھی۔ الحوثی 10 ستمبر 2004ء کو یمنی افواج کی ایک کارروائی کے دوران یمن کے صوبہ صعدہ کے مران نامی شہر میں مارا گیا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد ہی اس تنظیم سے وابستہ لوگوں نے حوثی کہلانا شروع کیا۔
حوثی یمن کے زیدی شیعہ ہیں۔ شیعہ مکتبۂ فکر سے وابستگی کی بنیاد پر ان کی یمن کے سنی عقائد کے حامل حکمرانوں سے چپقلش ایک قابل فہم بات ہے۔ حوثیوں کی قیادت اس وقت ایک نوجوان عبدالمالک الحوثی کے ہاتھ میں ہے جو حسین بدرالدین کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس کے دو اور بڑے بھائی، یحییٰ بدرالدین الحوثی اور عبدالکریم بدرالدین الحوثی، بھی انصاراللہ میں شامل ہیں۔
یمن کی تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ آبادی میں سے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد سنی ہیں جن غالب اکثریت شافعی مکتبۂ فکر سے جڑی ہوئی ہے جبکہ کچھ مالکی اور حنبلی بھی ہیں۔ بقیہ پینتیس سے چالیس فیصد شیعہ آبادی ہے جس کی اکثریت زیدی ہے اور باقی اثنا عشری اور اسماعیلی ہیں۔ زیدیوں کی زیادہ تعداد صنعا اور اس کے اردگرد آباد ہے اور یہ تقریباً چار سو قبائل پر مشتمل ہیں۔
رقبے کے لحاظ سے سعودی عرب کے بعد یمن جزیرۂ عرب کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تقریباً سوا پانچ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے یمن کے مشرق میں عمان واقع ہے۔ اس کے مغرب میں بحیرۂ احمر ہے۔ جنوب میں بحیرۂ عرب اور خلیجِ عدن موجود ہیں۔ شمال کی طرف سعودی عرب واقع ہے جس کی اٹھارہ سو کلومیٹر لمبی سرحد یمن کے سب سے بڑے علاقے صنعا سے جڑی ہوئی ہے۔
سعودی عرب نے یمن کے دگرگوں حالات اور اپنے ملک کے اندر بعض عناصر کے خلاف کارروائی کی وجہ سے 2003ء میں دونوں ملکوں کے مابین واقع سرحد پر حفاظتی حصار بنانا شروع کیا تو یمنی حکومت نے تین برس قبل کیے گئے 'میثاقِ جدہ' کا حوالہ دیتے ہوئے اس کام پر شدید اعتراض کیا۔ سعودی عرب نے اس حصار کا جواز اس بات کو بنایا تھا کہ یمن سے اسلحے کی ترسیل اور سمگلنگ وغیرہ کو روکا جائے لیکن یمنی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ حصار مقامی آبادی کے لیے شدید مسائل کا باعث بنے گا اور روزگار کے سلسلے میں ہمسایہ ملک کا رخ کرنے والے لوگوں کے لیے امکانات محدود ہوجائیں گے۔ حصار کی تعمیر چار برس رکی رہی لیکن سعودی عرب نے 2008ء میں اسے دوبارہ شروع کیا اور اب یہ حصار کنکریٹ سے بھری ہوئی پائپ لائنز کی شکل میں موجود ہے۔
اب یمن اور سعودی عرب کے جغرافیائی حوالے اور اس پورے منظرنامے کو سامنے رکھیں تو یمن میں حوثی باغیوں کے صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے سعودی عرب کا بہت زیادہ مستعد ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔ (جاری ہے)

Pages