خود کلامی (فرحانہ صادقہ)

شہید

   جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتے ہیں وہ شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں "
مسجد کے مرکزی ہال میں موجود سینکڑوں لوگ بڑی توجہ اورعقیدت سے مولوی اصغر الدین کا بیان سن رہے تھے
"شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ اللہ کے حکم سے اسکو رزق ملتا رہتا ہے "
 اسکے علاوہ شہادت کے ادنیٰ درجات بھی ہیں جیسے
حصول علم کی راہ میں مرنے والا شہید کہلاتا ہے
جو جل کر مرجائے وہ بھی شہید ہوگا
جو ڈوب کر مر جائے  یا پیٹ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید کہلائے گا۔
حاضرین کے چہرے مسرت سے روشن ہوگئے 
مولوی صاحب کے بیان کے مطابق انکے کتنے ہی عزیز شہیدوں کے زمرے میں آتے ہیں 
" اور یہ دیکھئے عورتوں پر اللہ کا خاص احسان ۔۔۔۔۔ کہ جو عورت زچگی کی حالت میں مرے گی وہ بھی شہید کہلائے گی "
یہ سن کر درمیانی صف میں سر جھکاکر بیٹھا ہوا ایک نوجوان جھٹکے سے چونکا اور بلا ارادہ کھڑا ہوگیا 
مولوی صاحب سمیت تمام لوگوں نے اسے استفساری نظروں سے دیکھنا شروع کردیا اتنے لوگوں کی توجہ پر نوجوان گھبرایا مگر فورا ہی سنبھل کر بولا ۔۔۔۔
" میں یہ پوچھنا چاہتا تھا جناب کہ  ۔ ۔ ۔۔ ۔  غیرت کے نام پر باپ بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والوی عورت بھی کیا شہید کہلائے گی ؟؟؟؟"
حاضرین کی منتظر نظروں کا رخ اب مولوی صاحب کی طرف تھا جن کی پیشانی عرق آلود ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭فرحانہ صادق 

خالی ڈبے


اچھے ماموں سے میرا رشتہ سگے ماموں بھانجی کا نہ تھا ۔کبھی چھٹپن میں امی نے انہیں اپنا بھائی بنایا اور مرتے دم تک اس رشتے کو نبھاتی رہیں۔اگلے زمانے میں منہ بولے رشتوں کی بھی حرمت ہوا کرتی تھی اب تو خیر سگے رشتوں کی  بھی نہ رہی۔
اس منہ بولے رشتے کے علاوہ بھی ہمارا ایک اور رشتہ تھا اور وہ جو کتابوں سے محبت کرنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔
مطالعہ کرنا میرے نزدیک ایسا مرض تھا جو لاعلاج ہو اور مجھے یہ مرض اچھے ماموں سے ہی لگا تھا ۔
وہ جب بھی ہمارے گھر آتے انکی بغل میں کوئی نہ کوئی کتاب دبی ہوئی ہوتی۔اچھے ماموں بہت قناعت پسند اور گوشہ نشین تھے انکی واحد تفریح ، واحد مشغلہ صرف کتابیں پڑھنا اور انہیں سینت سینت کر محبت سے رکھنا تھا ۔
گورنمنٹ کالج میں اردو کے استاد تھے اور بال بچے دار بھی تھے اس لئیے بہت زیادہ پیسے تو کتابوں پر خرچ نہ کر سکتے تھے پھر بھی کسی نہ کسی طرح  انہوں نے اچھی خاصی کتابیں جمع کر لی تھیں ۔
مذہب ، سائنس، فلسفہ، ادب، ، تاریخ ، سفر نامے ، کھیل کونسا ایسا موتی تھا جو انکے خزانے میں نہ تھا۔
انکے حلقہ احباب میں گنتی کے چار پانچ ہی لوگ تھے جنہیں وہ اپنے یہ موتی واپسی کی یقین دہانی کے ساتھ عنایت کرتے۔ اور میرا شمار بھی انہی خوش نصیبوں میں ہوتا تھا
۔کبھی کبھی کوئی کتاب اتنی اچھی لگتی کہ واپس کرنے کو جی ہی نہیں چاہتا مگر میں جانتی تھی کہ اگر میں نے اسے رکھنے کی ضد کی تو اچھے ماموں اداس ہو جائیں گے ۔
اللہ نے انکا جوڑ بھی خوب بنایا تھا ۔ ماموں جتنا اپنی کتابوں پر نثار تھے ممانی اتنا ہی بیزار رہتی تھیں۔
وہ مزاج کی اچھی تھیں اور ماموں کا خیال بھی رکھا کرتیں مگر جب بھی ان دونوں میں کوئی تلخ کلامی ہوتی وہ براہ راست ماموں کی کتابوں کو ہدف بناتیں اور کہتیں دیکھ لیجئے گا جس دن میرا داؤ چلا میں اس کباڑ کا آگ لگا دوں گی اور ماموں ایسے ہو جاتے جیسے کسی نے انہیں قتل کرنے کی دھمکی دے دی ہو۔انکے دونوں بیٹوں کو بھی ان کتابوں سے کوئی شغف نہ تھا ۔ گھر والوں کے اس روئیے کے باعث ماموں اپنی کتاوں کے بارے ایسے فکر مند ہوتے جیسے ایک باپ اپنی اولاد کے مستقبل کے متعلق ہوتا ہے ۔
سبھی انکا مزاق اڑایا کرتے۔مگر میں جانتی تھی کہ انکا دُکھ کیا ہے ۔۔۔ میں انکی دل جوئی کرتی تو کہا کرتے نجمہ وعدہ کرو میرے مرنے کے بعد تم میری کتابوں کا بہت خیال رکھو گی اور میں انکا دل رکھنے کے لئیے ہاں کر دیتی ۔اور ماموں کے چہرے پر ایک سکون اتر آتا ۔
گریجویشن کے فورا بعد میری شادی کا ہنگامہ شروع ہوگیا  اور میں  بیاہ کر دوسرے شہر اپنے سسرال  آگئی۔ ۔ ۔ ۔  تو ماموں  اور کتابوں دونوں سے رشتے میں لاتعلقی آگئی  
۔ویسے میاں جی کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہ تھی مگر کچھ سسرال کا ماحول پڑھنے پڑھانے والا نہ تھا   دوسرا گھر کے بکھیڑوں سے فرصت ہی نہ ملتی کہ کسی دوسرے مشغلے کی طرف دیکھا جائے۔ ۔
کبھی کبھی ہمک اٹھتی بھی ،،، مگر کوئی نہ کوئی بچوں کا کام سامنے آجاتا  ۔ سو مطالعہ میرے لئیے خواب پارینہ بن گیا  
چار چھ ماہ میں میکے کا چکر لگتا تو اچھے ماموں کی خبر مل جاتی ایک آدھ بار وہیں ان سے ملاقات بھی ہوئی وہ کافی کمزور ہوگئے تھے ذیابیطس نے انکی صحت اور اعصاب دونوں پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔
۔وہ کسی بات کو لے کر  بے چین بھی لگ رہے تھے  ۔ چونکہ میری چھوٹی بیٹی بیماری کی وجہ سے  چڑچڑا رہی تھی اور اس نے مجھے اپنے ساتھ لگا رکھا تھا۔اس لئیے ماموں سے بات چیت خیر خیریت سے آگے نہ بڑھ سکی
۔۔آخری عمر میں اچھے ماموں کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ یہ ہی خبریں  ملتیں کہ ہفتہ ہفتہ ہسپتال میں داخل ہیں اور ہر دوسرے تیسرے روز ڈائی لیسز ہورہا ہے  ۔ انکی صحت تیزی سے گرتی جا رہی تھی ۔
امی کی بار بار یاد دہانی کے باوجود  کہ وہ مجھے بہت یاد کر تے ہیں ۔۔۔ ایک بار ہی ان سے ملنے ہسپتال جا سکی ۔۔۔۔۔ وہ دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں تھے۔ سو اس وقت بھی میری ان سے کوئی بات  نہ ہو سکی ۔
ایک دن ماموں کے چھوٹے بیٹے عمر کا روتے ہوئے فون آیا کہ نجمہ آپی ابو کے بارے ڈاکٹرز نے جواب دے دیا ہےانکی ضد پر انہیں ہم گھر لے آئے ہیں ۔ آپ آج ہی ابو سے ملنے آجائیے وہ آپکا بہت پوچھ رہے ہیں۔
میں نے فورا اپنے میاں جی کو لیا اور ماموں کے گھر پہنچ گئی ۔ 
اچھے ماموں کے کمرے کا ماحول بلکل ویسا ہی تھا جیسا ایک جلد مرنے والے بیمار شخص کا ہوتا ہے۔ فضا میں پھیلی ہلکی سی دوائیوں کی  بو، مدہم اداس خاموشی اور بیڈ کے آس پاس سوگوار  چہروں کا ہجوم ۔
میری آواز پر ماموں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور پلکیں جھپکا کر میرے سلام کا جواب دیا ۔
شدید کمزوری کے باعث وہ بولنے سے قاصر تھے ۔انکے ہونٹ پھڑپھڑائے تو میں ان کے قریب ہوگئی ، بہت جدوجہد کے بعد بھی ان سے کوئی لفظ ادا نہ ہوسکا مگر مجھے ایسا لگا وہ مجھے کہنا چاہتے ہیں کہ  وعدہ کرو تم میری کتابوں کا خیال رکھو گی  ۔
مجھ سے اپنے جزبات سنبھالنا مشکل ہوگئے میں نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور جواب میں صرف وعدہ ہی  کہہ سکی  ۔ مجھے لگا کہ میرے ایک لفظ سے ماموں کے چہرے پر اطمنان پھیل گیا۔
کب انکی سانس اکھڑی اور کب تین دن گزرے پتا ہی نہیں چلا ۔ 
سوئم کے شام تمام مہمانوں کے چلے جانے کے بعد  ممانی نے مجھے بلایا اور  کہا ۔۔۔ اللہ بخشے تمہارے ماموں کی ببیماری میں عیادت کے لئیے آنے  والوں کی آمد کا بہت سلسلہ رہتا تھا  ۔۔۔ تو  کمرے میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے میں نے کتابوں کی الماری اوپر سٹور روم میں رکھوا دی ہے تم  ایسا کرو آج ہی انہیں لے جانے کا انتظام کرلو ۔۔۔ 
میری نظر میں ماموں کی کتابوں سے کھچا کھچ بھری الماری گھوم گئی اور میں یہ سوچ کر پریشان ہوگئی کہ اتنی کتابیں آج ایک ساتھ کیسے لے جاؤں گی۔۔میں نے ان سے کچھ نہ کہا  اور اثبات میں سر ہلا تی ہوئی عمر کے ساتھ چھت پر بنے سٹور روم  میں آگئی ۔
کتابوں کی الماری ایک کونے میں کھڑی تھی  مگر اسمیں کتابیں نہ تھیں بلکہ کچھ پرانے برتن اور گھر کا دوسرا فالتو سامان نظر ارہا تھا ۔۔
میں نے استفساری نظروں سے عمر کی طرف دیکھا مگر اسکا جواب آنے سے پہلے ہی میری نظر سٹور روم کے دوسرے کونے میں ناقدری سے پڑے اک  ڈھیر پر جم گئیں ۔میں نے حیران ہوکر کہا ۔۔ ماموں کی تو بہت ساری کتابیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ہاں جب ابو بہت بیمار ہوگئے اور مطالعہ کرنے کے قابل نہ رہے تو ہم نے سوچا اب کون اتنی کتابیں  سنبھالے گا ہم نے انہیں بیچ دیا ۔۔۔ عمر نے لاپرواہی سے جواب دیا۔کچھ کتابیں آپ کے لئیے روک لیں کیوں کہ ابو بار بار آپ کو کتابیں دینے کا ذکر کرتے تھے ۔۔
کیا ماموں کو اس بات کا علم تھا ۔۔۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے اندر اٹھنے والی تلخی کی لہر کو روکا   ۔۔۔نہیں ! !  اگر انکو اس بات کی بھنک پڑ جاتی تو وہ کبھی بھی ہمیں ایسا کرنے نہیں دیتے آپ کو تو انکی عادت کا علم تھا نا ۔۔۔ ویسے بھی آخری وقت میں تو انہیں ہوش ہی نہیں رہتا تھا ۔۔
۔ ہائے میرے ماموں ۔۔۔ ! ! ! !  جن کتابوں کو انہوں نے اپنی اولاد کی طرح رکھا آج انکی یہ بے قدری دیکھ کر میری آنکھیں بھیگ گئیں  ۔
۔نجمہ آپی آپ کیا سوچ رہی ہیں ؟؟؟اگر آپ یہ کتابیں نہ لے جانا چاہیں تو بتا دیں ردی والا میرا  جاننے والا ہے میں  انکے آپ کو  اچھے پیسے دلوا دوں گا ۔۔۔ عمرنے  پیشکش کی ۔
۔نہیں نہیں ! ! !  اب انہیں کیسے لے جایا جائے میں تو یہ سوچ رہی تھی  ۔۔۔ میں نے بہتے ہوئے آنسو پوچھے ۔۔
۔کتابوں کو کیسے پیک کیا جائے یہ مسئلہ عمر نے حل کیا وہ الماری کے پیچھے حفاظت سے تہہ کر کے رکھے ہوئے دو  ٹی وی کے خالی کارٹن نکال لایا اور میرے ساتھ مل کر ساری کتابیں پیک کروا دیں ۔
۔میاں جی سے میں کتابوں کے بارے میں پہلے ہی تھوڑی سی حجت سے راضی کر چکی تھی ۔۔۔ انہوں نے اس معاملے کو میری ایما پر چھوڑ دیا تھا ۔۔ ۔ممانی کے میکے سے بھی کچھ لوگ میرے شہر  سے آئے ہوئے تھے جنکی واپسی ہمارے ساتھ ہی  تھی۔۔ سو کتابوں کو سامان کے ساتھ لے جانے کا مسئلہ بھی حل ہو ہی ہوگیا۔
۔ دوسرے دن دفتر سے واپسی کے بعد کارٹن کو خالی کرواتے وقت میاں جی بولے ۔اچھا ہوا نجو تم یہ  کتابیں کارٹن میں بھر لائیں ۔۔۔۔  پتا ہے چلتے وقت عمر کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔کیا کہہ رہا تھا ؟؟؟۔۔۔ میں نے سر اٹھائے بغیر کام جاری رکھا  ۔۔۔۔۔۔کہہ رہا تھا بھائی جان ! ! !کارٹنز خالی ہوجائیں تو واپس بھجوا دیجئے گا ۔ضرورت کی چیز ہیں کام آجائیں گے  کبھی نہ کبھی۔۔۔ کرب کی اک لہر میرے اندر دوڑ گئی ۔۔۔۔ میں نے آہستہ سے پوچھا ۔۔۔ پھر آپ نے کیا جواب دیا ؟؟ میاں جی نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور بولے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا بھئی  ! ہم تمہارے گھر سے اتنی ردی اٹھا لے جا رہے ہیں ۔۔۔ تو کارٹنز   کے ہزار بارہ سو پر تو ہمارا ہی حق بنتا  ہے نا ۔۔۔از فرحانہ صادق     

پہلی رات





" نہیں کاشی آج نہیں "۔۔۔۔گہری نیند سے اُٹھائے جانے کی برہمی ثمن کے لہجے میں نمایاں تھی"میں آج بہت تھک گئی ہوں "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں بھی تو بہت تھک گیا ہوں جانو پلیز" ۔۔۔۔ کاشان نےاہستگی سے اسکا رخ اپنی سمت موڑا ۔۔۔"۔کیوں آپ کیوں تھک گئے ! ! ! "۔۔۔۔ ثمن ممنائی
"آپ نے کیا کیا ہے ؟ صرف مزدوروں کے ساتھ سامان شفٹ کروایا اور آفس بھاگ گئے "۔۔۔۔۔
کاشان نے اک مسکراہٹ کے ساتھ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرنا شروع کردیں ۔۔۔۔"جانا ضروری تھا نا جان ۔۔۔۔۔۔۔ ایمرجنسی کال تھی کلائنٹ کی "
"جانتی ہوں کتنی ایمر جنسی کال تھی "۔۔۔۔ شکایت بوجھل ہونے لگی
رات کی خاموشی ، خوابناک ماحول اور کاشان کی گہری قربت نے ثمن کو پگھلانا شروع کیا تو اس نے کاشان کے سینے میں منہ چھپا لیا
" اونہہ ! میں نے سارا دن لگا یا پھر بھی صرف کچن اور بیڈ روم سیٹ ہوئے ۔۔۔۔ اگر جو آپ ساتھ ہوتے تو ہم اب تک فارغ ہو چکے ہوتے "۔
"ہاں ! یہ تو ہے " ۔۔۔۔۔۔۔وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا
اس کے شرارت بھرے جملے نے ثمن کی ساری خفگی دور کردی اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی
"بہت برے ہو آپ "۔۔۔۔ اس نے اپنے بازو کاشان کی گردن کے گرد حمائل کر دیئے"جانتا ہوں ! ! ! ! "۔۔۔۔ کاشان نے اس پر جھک کر اپنے برے ہونے کا ثبوت دینا شروع کردیا
درڑڑڑڑڑ۔۔۔۔۔۔۔ درڑڑڑڑڑ"کاشی سنئیے ! یہ کیسی آواز آرہی ہے "۔۔۔۔۔ ثمن چونکی
" اونہہ ہوں !" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاشان نے تو شاید ثمن کی بات بھی غور سے نہ سنیٹھک ٹھک چرڑڑڑڑڑ چرڑڑڑڑڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو سیکنڈ کے بعد پھر آواز گونجی"دیکھئیے دیکھیئے کاشی ۔۔۔۔۔ کوئی ہے ہمارے گھر میں "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمن جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی ۔۔۔۔
" کوئی نہیں ہے یار " ۔۔۔۔۔۔تسلسل ٹوٹا تو کاشان جھلا گیا ۔۔۔۔۔
نہیں نہیں کوئی ہے ۔۔۔۔۔دیکھئیے آواز چھت سے آرہی ہے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ ثمن بے چینی سے انگیاں چٹخانے لگی وہ بار بار کمرے کی چھت کی طرف دیکھ رہی تھی
کاشان نے اسکے ہاتھوں پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ دئیے
"" مجھے تو کوئی آواز نہیں آئی یہ تمہارا وہم ہوگا "۔۔
"نہیں میرا وہم نہیں ہے ۔۔۔آج پڑوس سے ایک آنٹی آئیں تھیں وہ بتا رہی تھیں کہ اس علاقے میں چوریاں بہت ہوتی ہیں تم سارا دن اکیلی ہوگی زرا دروازے کھڑکیوں کا خیال رکھنا "۔۔۔۔
"افوہ ایک تو یہ عورتیں بھی نا ،،، تم گھبراؤ نئیں جانو ! میں نے ساری کھڑکیاں دروازے چیک کئیے ہیں اور چھت کا دروازہ بھی بند کر کے آیا ہوں ۔۔۔۔"۔ ثمن اب بھی ڈری ہوئی تھی ۔۔۔
۔سہمی ہوئی ثمن پر کاشان کو بہت پیار آنے لگا اس نے بے تابی سے اسے اور قریب کرلیا
ثمن بھی اس سے لپٹ گئی"میں ہوں نا جان تمہارے پاس !!! "۔۔۔ ۔۔کاشان کے لہجے میں وارفتگی تھی
کاشان کا ساتھ دیتے ہوئے ثمن گومگوں کفیت میں مبتلا تھی ۔۔۔۔ وہ پھر سے اسی آہٹ کی منتظر تھی مگر اب اسے پنکھے کی گھر گھر اور گھڑی کی ٹک ٹک کے سوا کوئی آواز سنائی نہ دی ۔۔۔
آج کاشان کی گرم جوشی بھی سوا تھی ۔۔۔ سو تھوڑی ہی دیر میں اسکے زہن سے خوف کا ہر احساس مٹ گیا
تکمیل کے مختصر مگر جامع لمحے بڑی خوش اسلوبی سے گزر گئے ۔۔دودھیا نائیٹی کے بٹن بند کرتے ہوئے ثمن نے کاشان کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور پریشان ہو کر کہا
"کیا ہوا کاشی ۔۔۔۔ یہ آپکی آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہوگئیں اور بدن بھی تپ رہا ہے ! ! ! ! "کاشان نے اسکا جملہ مکمل بھی نہ سنا ۔۔۔۔ دھیرے سے مسکرایا کروٹ لی اور آنکھیں موندھ کر بے سدھ ہو گیا ۔
لگتا ہے تھکن سے بخار ہوگیا ہے ابھی تو سوگئے اب صبح ہی دوا دوں گی۔۔۔ ثمن نے سوچا اور واش روم کی طرف چل دی ۔۔۔۔چرڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ۔۔۔۔۔۔ چرڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ڑ
اس بار آواز بلند تھی ۔۔۔۔ ثمن کو فوراً اس صندوق کا خیال ایا جو اس نے صبح ہی مزدوروں سے چھت پر رکھوایا۔۔۔۔ کوئی اسے بڑی تیزی سے کھسکا رہا تھاوہ واش روم کے دروازے پر کھڑی کی کھڑی رہ گئی
چرڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ! ٹھک ! ٹھک !گہرے سناٹے میں صندوق کو کھسکا کر پٹخنے کی آواز بلکل واضح سنائی دے رہی تھی ۔۔۔ثمن نے ادھ کھلے گریبان کو کس کے جکڑ لیا
کاشی ! ۔۔۔۔ اس نے چیخنا چاہا مگر آواز حلق میں ہی گُھٹ گئکاشان بے خبر سو رہا تھا
کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ !اس بار کوئی تیزی سے صحن میں سیڑھیاں اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثمن نے کپکپاتے ہوئے ایک تیز سانس کھینچادھپ ! دھپ ! دھپ ! دھپ !
تیز قدموں کی آواز بیڈروم کے دروازے کے پاس آکر رک گئی
اس نے اپنی پوری قوت جمع کی اور بیڈ کی طرف قدم بڑھا دیے۔۔۔
ابھی دوسرا قدم رکھا ہی تھا کہ لاک آہستگی سے گھومااور ہلکی سی چرچراہٹ سے دروازہ کُھل گیا۔۔۔
"ارے ثمن تم جاگ گئیں ۔۔۔۔ !" !!!
ثمن ساکت ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ دروازے پر کاشان کھڑا تھا ۔۔۔۔
"نئے گھر میں پہلی رات ہے نا اسی وجہ سے شاید مجھےنیند نہیں آرہی ،
اور تم بھی سو رہی تھیں تو میں نے سوچا چلو چھت پر بکھرا سامان سمیٹ دوں یہاں کی بارش کا تو تمہیں پتا ہے نا کبھی بھی بن موسم برس جاتی ہے۔۔۔"
ثمن نے پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے قریب آتے کاشان کو دیکھا اور بیڈ کی طرف گردن موڑ لی
"مگر تم کو کیا ہوا تم اتنی سہمی ہوئی کیوں کھڑی ہو ! ! ! "
ثمن نے خود کو جھنجھوڑتے کاشان کو کوئی جواب نہ دیا
وہ تو مسلسل خالی بستر پر بکھری چادر کی اُن سلوٹوں کو دیکھ رہی تھی ، جو تھوڑی دیر پہلے وہاں کسی کی پہلی رات گزرنے کی داستان بیان کر رہی تھیں
فرحانہ صادق

٭٭٭٭ بڑا آسیب ٭٭٭٭




یہ لڑکا کون ہے جو ابھی گزرا ہے ؟؟
دوھزار گز پر بنی قلعے جیسی حویلی سے بڑے سائیں کی پراڈو آہستہ آہستہ باہر نکل رہی تھی ۔۔
زینت مائی کا پوتا ہے سائیں ! ۔ ۔ ۔ ۔اگلی سیٹ سے آواز آئی
اُس کالی چمارن کا ! ! ! ! ۔ ۔ ۔ ۔ بڑے سائیں چونکےذرا روک تو اسے
جی حکم !!! سامنے آتے ہی لڑکے نے ہاتھ جوڑ لئیے اور نظریں جُھکالیںکیا نام ہے تیرا؟ ۔ ۔ ۔ آواز میں گرج تھی
ہارون سائیں ! ۔ ۔ ۔ لڑکا کچھ اور جھُک گیا
یہ تُو اتنا صاف ستھرا ہوکر بستہ اُٹھائے کہاں جا رہا ہے ؟؟غراتا ہوا سوال تھا ۔۔۔۔
سکول جارہا ہوں سائیں ۔ ۔ ۔ ۔لڑکا تھر تھر کانپ رہا تھاسکول ! ! ! ! !اب کمیوں کے بچے بھی سکول جائیں گے ۔ ۔ ۔ ایک بھاری قہقہہ فضا میں گونجاآقا ہنسا تو حواری بھی ہنسنے لگے ۔۔۔
پاگل ہو گیا ہے کیا ۔ کبھی تیرے اگلوں نے بھی سکول کی شکل دیکھی ہےبڑے سائیں کی آواز میں اب بھی گرج تھی ۔۔۔
خنک موسم کے باوجود لڑکا پسینے سے شرابور تھا ۔
چل پھینک بستہ ! ! ! ! !
لرزتے ہاتھوں سے بستہ چھُٹا اور ساتھ ہی لڑکا بھی گھٹنوں پر گرگیا ۔ ۔ ۔یہ صاف کپڑے اُتار ۔ ۔ ۔ ۔
کانپتے ہاتھ اپنے بدن سے اپنے خواب الگ کر رہے تھےیہ جوتے بھی اتار ۔ ۔ ۔
اب لڑکا جھلنگے بدرنگ بنیان اور پاجامے میں تھا ۔ ۔ ۔ ۔
ہاں اب لگ رہا ہے نا تُو اپنی ذات کا ۔ ۔ ۔ چل اب زمین پر لوٹ لگا۔ ۔ ۔ ۔
بڑے سائیں کا حکم حتمی تھا
خاک کو خاک میں ملا تے وقت بھی لڑکے کے ہاتھ جُڑے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔
کمی غلامی کے جملة آداب سے واقف جو تھا
چل اُٹھ اب جا کر گند سمیٹ ۔ ۔جھاڑو مار ۔ ۔ ۔ ۔
گاڑی کا بلیک کوٹڈ شیشہ آہستہ آہستہ اوپر اُٹھتا چلا گیا ۔ ۔ ۔۔بڑے سائیں کی بیوی نماز پڑھ رہی تھی جب زینت مائی حویلی کے واش روم صاف کرنے آئی
اس نے روتے ہوئے کہا ۔ ۔ اماں سائیں تم تو ولی لوگ ہو نا ۔۔۔۔میرے ہارون کے لئیے دعا کرو
درگاہ والے بابا کہتے ہیں اُس پر کسی بڑے آسیب کا سایہ ہوگیا ہےنہ کھاتا ہے نہ سوتا ہے ۔  
بس دن رات دیوانوں کی طرح گلیوں کی جھاڑو لگاتا رہتا ہے اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے ہیں ۔
فرحانہ صادق 

بسلسلہ ہفتہِ مکتوب نویسی انحراف فرحانہ صادق صاحبہ کا خط بنام ناصر کاظمی

 
میں نے آج تک تمہیں نہ کوئی خط لکھا اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجا ۔۔ مگر آج بہت جی کر رہا ہے کہ تمہیں کچھ لکھوں ۔۔ آج تمھاری سالگرہ ہے نا اور سوچتی ہوں اگر آج بھی کچھ نہ لکھا تو تمہارے حوالے سے جو دکھ مجھے ہوتے ہیں ان میں اک پچھتاوے کا اور اضافہ ہو جائے گا ۔  سالگرہ مبارک ہو !!!!!!!!!!  میرے ناصر !   میرے لیئے تم کسی گمشدہ خزانے کی طرح ہو جسے میں تلاش کرتی پھرتی ہوں ۔ ۔۔۔ نہیں معلوم ریحانہ تمہارے ان احساسات تک کبھی پہنچی ،جن سے میں خود کو گھائل محسوس کرتی ہوں تمہاری ہر غزل ہر نظم ہر تحریر اس یقین سے پڑھتی ہوں گویا یہ تم نے میرے لیئے ہی لکھی ہے ۔آج کے دن تمہاری راہ ایسے دیکھتی ہوں جیسے تمہارا آنا طے ہے۔۔۔۔۔۔  تمہیں سرخ گلاب بہت پسند ہیں نا اسی لیئے تمہاری کتابوں سےہر سال سوکھے پھول نکال کر ان میں تازہ گلاب رکھ دیتی ہوں اس امید پہ کہ شاید انکی مہک کے ساتھ میرے پیار کی خوشبو تم تک پہنچ جائے ۔۔۔۔۔   لوگ پوچھتے ہیں کہ مجھے تمہاری شاعری سے اگر ایسا ہی عشق ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتا ۔ میں تمہارے شعر دنیا کے سامنے کیوں نہیں گنگناتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں انہیں کیا کہوں کہ میری رگوں میں بہتا رقابت کا زہر ہی میرے سچے عشق کی دلیل ہے   ۔۔ یہ بڑی عجیب اور خودغرضانہ خواہش ہے مگر کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ ہر ایک کی یاداشت سے تمہارا نقش مٹا دوں ۔۔۔۔۔۔۔ماسوا اسکے جو کتابیں میرے پاس ہیں تمہاری ہر تحریر جلادوں ۔کاش تمہارا اور میرا جنم ایک ہی زمانے میں ہوتا ،  میں جانتی ہوں کہ اپنے قاری سے تم بے خبر ہزاروں ، لاکھوں میل دور زندگی بھر یکجا کیے سوالوں کے جوابات پانے میں سرگرداں ہوگے ۔۔۔۔ پھر بھی مجھے تمہارے جواب کا انتظار رہے گا ۔۔۔۔  منتظر فرحانہ  مورخہ 8 دسمبر 2013 بسلسلہ ہفتہِ مکتوب نویسی انحراف فرحانہ صادق صاحبہ کا خط بنام ناصر کاظمی_

بلاعنوان




 ۔عزادار پوری شدت و عقیدت سے گریہ و ماتم میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔ ذکر اور نعروں کی آوازیں بلند ہوتیں تو زنجیریں کھنک جاتیں اور آنسوؤں کے ساتھ لہو کا نذرانہ بھی پیش ہو جاتا ۔۔۔۔۔ گو میثم کی تمام تر توجہ جلوس و عزاداری پر تھی مگرکسی کسی وقت  اُسے  عمر کا بھی خیال آجاتا۔۔۔۔۔ وہ حیران تھا کہ آج جلوس کی رفتار اتنی سُست کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہ بار بار اُن لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا جو  اچانک کہیں سے نکل کر جلوس کے آگے آگئے تھے  اور اتنا سست چل رہے تھے  کہ جلوس کی رفتار دھیمی پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔ میثم ایک  بار اُن کے قریب بھی گیا ۔۔۔۔ اُسے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ ان میں سے کچھ کے ہاتھوں میں ماتم کے لیئے جو تلواریں تھین وہ کافی تیز دھار تھیں ۔۔۔۔۔ اتنی تیز کہ جتنی عموما ماتم کے لیئے استعمال نہیں کی جاتیں تھیں ۔۔۔۔۔ مگر اُس نے اس بات کا ذکر کسی سے نہ کیا۔۔۔۔اور لوگوں نے بھی تھوڑی دیر اُن کا نوٹس لیا مگر  کچھ بھی مشکوک نہ پا کر اُن پر توجہ ہٹا دی۔۔۔ میثم کا ذہن بھی ؑعمر میں اٹکا ہوا تھا اسے پوری امید کہ جس طرح آج اس نےجس طرح عمر کو مجبور کیا تھا وہ اسکی بات ضرور مانے گا ۔۔۔۔۔
.یار تُو کب تک آئے گا ۔۔ میثم نے آنکھیں ملتے ہوئےعمرکے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
آنا ضروری ہے کیا ؟ جواب میں عمر نے بھی سوال داغ دیا
ہاں ! میثم کا جواب حتمی تھا
چھُٹی ہے نا یار ابا گھر پر ہی ہے ۔۔۔۔ اُسے پتا چل گیا تو بہت مارے گا ۔۔۔۔۔۔
 چل ہٹا یار تُو ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے ۔۔۔۔۔ میثم نے ناراضگی سے عمر کا ہاتھ جھٹکا اور واپسی کے لیئے مُڑ گیا  
اچھا اچھا رُک تو عمر نے اسے کندھے سے روکا
نہیں رہنے دے یار تُو ہر بار ایسے ہی کرتا ہے ۔۔۔۔ میثم کے لہجے میں خفگی تھی
اچھا بتا ابھی کیا ٹائم ہورہا ہے ۔۔۔۔۔ عمر نے پوچھا
ابھی تو ساڑھے نو ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ میثم نے سامنے والی دُکان کی گھڑی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔دس بجے تک سب ہمارے گھر جمع ہو جائیں گے اور جلوس شروع ہو جائے گا۔۔۔
مگر میں تیرے گھر سے شامل نہیں ہوسکتا یار ۔۔۔۔۔ ابا کتنا بھی کھُلے ذہن کا سہی اسکی اجازت نہیں دے گا ۔۔۔۔۔ عمر نے آہستہ آواز میں کہااور ویسے بھی ابا جمعہ پڑھنے جاتے وقت میرا ضرور پوچھتا ہے ۔۔۔۔
رہنے دے یارپھر تیری سٹوری شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ میثم کے انداز میں دوبارہ غصہ عود آیا
عمر نے جیسے ہار مانی ........اوئے رُک تو ۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں آج جمعہ بڑے مدرسے والی مسجد میں پڑھ لوں ۔۔۔۔۔ تیرا جلوس وہاں سے بھی تو گزرتا ہے میں وہاں سے تیرے ساتھ آجاوں گا۔۔۔
لے وہاں تو نماز ڈیڑھ بجے ہوتی ہے تجھے فارغ ہوتے ہوتے ڈھائی بج جائے گا جب تک تو ہمارا جلوس وہاں سے گزر چُکا ہوگا ۔۔۔ میثم ابھی بھی خفا تھا
 چل اچھا میں وہاں ساڑھے بارہ تک پہنچ جاوں گا ۔۔۔۔۔ پہلے تیرے ساتھ مل جاوں گا پھرجمعہ پڑھ لوں گا ۔۔۔۔۔ عمر نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا
 بھائی !!! اماں کہہ رہی ہیں ناشتے کے لیئے دودھ اور انڈے جلدی سے لادو ۔۔۔۔۔ چھ سالہ رمل نے عمر کے ہاتھ میں سو کا نوٹ پکڑواتے ہوئے کہا
ارے سکینہ ادھر آ !!! ۔۔۔۔۔ رمل کو دیکھ کر میثم کا موڈ اچھا ہوگیا
 میں سکینہ نہیں رمل ہوں ۔۔۔۔۔ رمل منہ بنا کر ممنائی
ہوگی پر میں تو تجھے سکینہ ہی کہوں گا ۔۔۔۔۔ میثم نے اُس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔
ہنہ !!! رمل نے اٹھلا کر اسکا ہاتھ جھٹکا اور  اندر چلی گئی
۔
 اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے میثم کو ہر لمحہ بھائی بہن کی محرومی کا احساس رہتا ۔۔۔اس کمی کو اُس نے اپنے جگری دوست سے پورا کر لیا تھا ۔عمر اُسے بھائیوں سا عزیز تھا ۔۔۔۔ اور رمل بہنوں سی ۔۔۔۔۔۔۔ویسے تو اُسے عمر کے باقی بہن بھائیوں سے بھی اُنسیت تھی مگر رمل میں تو گویا اسکی جان تھی پہلے وہ سوچا کرتا تھا اُسکی بہن ہوگی تو وہ اُسکا نام سکینہ رکھے گا ۔۔۔۔۔۔ رمل آئی تو اُس نے اُسے ہی سکینہ کہنا شروع کردیا ۔۔۔۔۔۔ عمر کے گھر والوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا ۔۔۔۔۔ میثم کے گھر سے اُنکے گھر کی دیواریں ملی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ اور مسلکوں کے فرق کے باوجود دل سے دل ۔۔۔۔۔ دونوں گھرانے ایک دوسرے کے مذہبی عقائد کا احترام بھی کرتے تھے اور ایک حد تک ان میں شرکت بھی ۔۔۔۔۔عمر اور میثم ایک ساتھ پلے بڑھے ۔۔۔۔ دونوں ایک ساتھ سکول میں داخل ہوئے اور ایک ساتھ درجات پار کرتے ہوئے نویں میں پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔میثم کو ہر جگہ عمر کے ساتھ کی اتنی عادت ہوگئی تھی کہ محرم میں اُسے اکیلے مجلسوں میں شامل ہونا ناگوار لگتا ۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ عمر کو اپنے ساتھ لے جانے کی ضد کرتا کبھی عمر اسکی بات مان لیتا اور کبھی ابا کے ڈر کی وجہ سے ٹال دیتا ۔۔۔۔خون سے اُسے کراہیت آتی تھی اِس لیئے باوجود میثم کی بار بار کی ضد کے وہ کبھی برچھیوں اور آگ کے ماتمی جلوس میں اُسکے ساتھ نہ گیا ۔۔۔۔۔۔ مگر اس بار میثم نے اسے گویا اپنی قسم دے دی تھی ۔۔۔۔عمر نے  وعدہ تو کر لیا تھا مگر اب اُسے یہ سوچ سوچ کر گھبراہٹ ہو رہی تھی کہ وہ میثم کو زنجیروں اور برچھیوں کا ماتم کرتے دیکھے گا کیسے ۔۔۔۔۔بارہ بجے تک اُس نے اپنے سارے کام نمٹا لیئے اور جلدی سے غسل کر کے گھر سے نکل آیا تاکہ ابا اُسے اپنے ساتھ محلے کی مسجد میں جمعہ پڑھنے نہ لے جائے ۔۔۔پون ایک تک وہ مدرسے
والی مسجد پہنچ گیا ۔۔۔۔ سڑک پر بس مسجد میں آنے جانے والوں کی چہل پہل تھی ۔۔۔۔۔۔ جلوس کا کچھ پتا نہ تھا ۔۔۔۔کہیں جلوس گزر تو نہیں گیا ۔۔۔۔۔ عمر بُڑ بڑایا
اُس نے سوچا سڑک کے کنارے کھڑے سپاہی سے پوچھ لے جلوس کب تک آئے گا پھر یہ سوچ کر چُپ رہا کہ جانے وہ کیا شک کرے کہ یہ کیوں پوچھ رہا ہے۔۔۔مسالک کی جنگ اور فرقہ واریت کے زہر نے ایسے حالات کر دیئے تھے کہ ہر شخص دوسرے پر شک کرتا ہے اور خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔
آذان کب کی ہو چکی تھی اب تو مسجد سے خطبے آواز آرہی تھی ۔۔۔۔ عمر بے چین ہو رہا تھا۔۔۔۔میثم کو مس کال دوں کیا ۔۔۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے عمر نے جیب پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔موبائل کی غیر موجودگی کے ساتھ ہی اُسے خیال آیا نو دس محرم پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیئے حکومت نے موبائل سروس بند کی ہوئی ہے ۔۔۔۔اپنی بیوقوفی پر اُسے ہنسی آگئی ۔
 نماز شروع ہوا ہی چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔ اُس نے اندر جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اسے دور نعروں اور شور کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔۔ آوازوں کے تعاقب میں اُس نے نظریں دوڑایں جلوس اُسے اپنے داہنی جانب مرکزی سڑک پر ڈھیروں عَلم اور انسانوں کا جم غفیر اٹھائے ایک بڑے سے دھبے کی مانند نظر آیا۔۔۔۔اُس نے دل ہی دل میں وقت کا حساب لگایا .......اسے یہ اطمنان ہوا جب تک جلوس مسجد کے سامنے سے گزرے گا جماعت ہو چکی ہوگی اور وہ بآسانی میثم کو تلاش کر کے اُسکے ساتھ شامل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسلی ہونے کے باوجود اُس نے سب سے پیچھے والی صف کا انتخاب کیا اور اللہ اکبر کہتے ہوئے نیت باندھ لی۔۔۔
 جلوس اسی جوش مگر سست روی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا  مسجد کا مینار دیکھتے ہی میثم کا دھیان مکمل طور پر عمر کی طرف ہوگیا ۔۔۔۔ اسے جلوس کی رفتار سے کوفت سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔وہ سوچ رہا تھا کہ اگر دیر ہو گئی تو عمر واپس نہ لوٹ جائے ۔۔۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ جلوس مسجد کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔۔ اندر سے نماز پڑھانے کی آواز آرہی تھی ۔۔۔۔۔اُس نے خود کو مسجد کے داخلی دروازے سے قریب کر لیا اور جلوس کے ساتھ گزرتے ہوئے عمر کی تلاش میں نظریں دوڑایں ۔۔۔۔۔ اُسے عمر نظر آگیا  ۔۔۔۔وہ آخری صف میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
اُس نے نماز پڑھ لی تھی اور سلام پھیر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ میثم چیونٹی کی سی رفتار چلنے لگا ۔۔۔۔۔۔ اچانک اُسکی نظر داخلی دروازے کے پیچھے چھُپے ایک شخص پر پڑی ۔۔۔۔۔۔ اُس کے دونوں ہا تھوں میں بڑے بڑے پتھر تھے جنہیں اُس نے آن کے آن میں جلوس کی طرف اچُھال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مسجد کی پچھلی طرف دوڑتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا جلوس میں بھونچال آگیا ۔۔۔ لوگ غم و غصہ کی شدت سے نعرے لگانے لگے ۔۔۔۔۔۔میثم نے دیکھا وہی اجنبی افراد جو جلوس کے آگے آگے چل رہے تھے مسجد میں داخل ہوگئے اور انہوں نے تیزی سے نمازیوں پر وار کرنا شروع کر دئے ۔۔۔۔۔۔ میثم بھی بنا سوچے سمجھے مسجد میں بڑھتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ بھگدڑ مچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ عمر نے بھی میثم کو دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔۔ میثم نے چاہا کہ وہ عمر تک پہنچ جائے مگر جب تک وہ اُس کے پاس پہنچتا اُنہی مشکوک افراد میں سے ایک نے پکڑ کر عمر کی گردن پر یک فُٹی چھُرا چلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ میثم کے سر پر بھی کسی چیز کی زور دار ضرب لگی ۔۔۔۔ بے ہوش ہونے سے پہلے میثم نے دیکھا کہ اس نے گرتے ہوئے عمر کو تھام لیا ہے اور اُسکی گردن سے پھوٹنے والا خون کا فوارہ اُسکے اپنے سینے پر بہتے خون سے اس طرح رل مِل رہا ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں پہچان سکتا کہ اُسکا خون کون سا ہے اور عمر کا کونسا۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں کے خون ایک سے تو تھے ۔۔۔۔۔۔۔
۔دوسرے دن جب ہسپتال کے بستر پر اُسے ہوش آیا تو اُسے پتا چلا عمر اپنی آرامگاہ کی طرف جا چُکا ہے ۔۔۔۔تقریبا تیس افراد کے بہیمانہ قتل کے بعد شہر بھر میں کرفیو لگا دیا گیا ہےمزید فسانے نہ پھوٹیں اس لیئے عزاداروں نے اپنے حلقے اپنے علاقے تک محدود کر دئیے ۔۔۔۔۔۔۔
میثم گھر لوٹ آیا ۔۔۔۔۔ عمر کے گھر والوں سمیت محلے کے کافی لوگوں کو پتا چل چکا تھا کہ عمر اسکے اصرار کی وجہ سے وہاں گیا تھا۔۔۔۔۔۔ دونوں گھرانوں کے تعلقات میں سخت دراڑ پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔ جو پھیلتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔محلے کے لڑکوں کے دو گرہوں میں سخت فساد ہوا وجہ عمر کی موت کا واقعہ ٹہرایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حالات میثم کے گھر والوں کے لیئے قابل قبول نہ تھے ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی اُن کے بیٹے کو نقصان پہنچائے انہوں نے محلہ چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلتے ہوئے میثم نے سوچا ایک بار عمر کے گھر جائے اور اسکی اماں ابا سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لے مگر ہمت نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔ گلی میں رمل کو کھڑے دیکھا تو گویا سارے بند ٹوٹ گئے ۔۔۔۔۔ اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر روتا رہا ۔۔۔۔۔
رکھ کر روتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔
 دن گزرتے گئے ۔۔۔۔۔ سال بھی گزر گیا ....وہی دن آگیا ۔۔۔۔۔ آج بھی دس محرم تھا ۔۔۔۔۔ 
شہر کے مرکز سے پھر عزاداروں کا بڑا ماتمی جلوس گزرنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔پھر وہی  زنجیروں اور آگ کا ماتم ہونا تھا
میثم نے اپنی زنجیریں نکالیں اور صاف کرنے لگا ۔۔۔۔۔ عمر کی یاد آتے ہی اسکا سینہ دھویں سے بھر گیا ۔۔۔۔آنسو رواں ہو گئے
میثم کہاں ہے اُسے جلدی بلاو۔۔۔۔۔ باہر سے آوازیں آرہی تھیں ..
میثم! میثم ! ۔۔۔۔۔۔۔ صحن میں ماموں کی آواز گونجی
میثم شاید اپنے کمرے میں ہے۔۔۔کوئی  سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ 
میثم  نے تیزی سے آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے ...
زنجیریں اُٹھائیں اور ایک زنجیر کے سرے پر عمر کے نام کا اضافی برچھا اٹکا دیا
فرحانہ صادق 

" اُف یہ انشائیہ ''



انشائیے پر انحراف کے تخلیقی و تنقیدی پروگرام کے سلسلے میں موصول ہو نے والا محترمہ فرحانہ صادق کا انشائیہ

نوٹ: جو لوگ اس تحریر کو انشائیہ سمجھ کر پڑھیں گے وہ یقیناً اِس کو ویسا ہی پائیں گے جیسا ایک انشائیہ کو چاہتے ہیں ۔

یہ بات خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ادب کی اس خاص صنف انشائیہ کو شیطان سے ایسا کیا خطرہ تھا کہ اُس کے قید ہوتے ہی رحمان حفیظ صاحب نے انحراف میں اِس کے حوالے سے غلغلہ مچا دیا ۔ ابھی چوتھی سحری کا قرض بھی نہ اترا تھا کہ معراج رسول صاحب کا پیغام آ پہنچا کہ نثر نگار ہونے کا حق ادا کرو اور انشائیہ کے ایونٹ میں اپنا حصہ ڈال جاو۔ ہمیں اس کارِ خیر میں شرکت سے کوئی اعتراض تو نہ تھا پر ایک بات کا گلہ ضرور ہوا۔۔۔۔ کہ اتنے عرصے کی بات چیت کے بعد بھی وہ اس تشکیک میں مبتلا ہیں کہ آیا ہم مسمی ہیں یا مسماۃ۔ ہمیں یہ شکایت دعوت نامے پر لکھے اُن القاب کی وجہ سے ہوئی جس میں ہمیں محترمہ کے ساتھ محترم بھی پکارا گیا۔

انشائیہ کا لفظ ہمارے لیئے اتنا مانوس نہ تھا ،ہم سے اس کے تعارف کا سہرا ادریس آذاد صاحب کے سر جاتا ہے۔۔۔۔ ایک بار انہوں نے مخلصانہ مشورہ دیا کہ تم شاعری چھوڑو صرف انشائیے لکھو( ہو سکتا ہے ان کے اس خلوص کی اصل وجہِ تسمیہ ہماری وہ غزل رہی ہو جو ہم نے انہیں تصحیح کے لیئے ارسال کی ہوئی تھی اور جسکی قطعاتی بحر دیکھ کر خود انکا عروض پر سے ایمان اُٹھ رہا تھا ) ۔۔۔۔ ہم انکے مشورے پر فوراً عمل کر لیتے لیکن مجبوری یہ تھی ۔۔۔۔ کہ ہم تو انشائیے کو عطا الحق قاسمی کی کتاب " عطائیے " کی طرح ابنِ انشاء کے کسی دیوان کا عنوان ہی سمجھتے تھے ۔۔۔ ہم نے اُن سے انشائیہ کی بابت دریافت کیا تو قدرے حیران ہو کر بولے ارے وہی جو تم لکھتی ہو ۔۔۔۔
 اس بار حیران ہونے کی باری ہماری تھی ۔۔ اپنی یاداشت کو ٹٹولا کہ ہم کیا کیا لکھتے ہیں ۔ غزل ، نظم ،نثر، سلیبس پلانرغرض کہ سودے کا پرچہ اور دھوبی کا حساب سب زہن سے باری باری گزر گئے مگر ان میں سے کوئی بھی ہمیں انشائیہ نہ لگا ۔۔۔۔ ڈرتے ڈرتے پھر عرض کیا قبلہ ہم تو بہت کچھ لکھتے ہیں کچھ اور مزید تعریف بتادیں کہنے لگے ۔۔۔ وہی جو تم سب سے زیادہ لکھتی ہو اور میں اسے ضرور پڑھتا ہوں ۔۔۔۔ہم نے جواب دیا سب سے زیادہ تو ہم ایس ایم ایس لکھتے ہیں جو آپ کبھی پڑھتے ہی نہیں اور نہ کبھی اُسکا ریپلائی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر یہ بات ہم نے دل میں ہی کہی کیوں کہ وہ ہمارے استاد ہیں اور شاگرد کی طرف سے ایسا جواب آنے کی صورت میں استاد ناراض ہو جاتے ہیں اور کافی دیر تک ناراض رہتے ہیں ( یہ ہمارا ذاتی تجربہ بھی ہے ) ۔۔۔۔

 اس سوال کا جواب معلوم کر نے کے لیئےکہ آیا انشائیہ ہوتا کیا ہے سب سے پہلے ہم نے لغت کو کھنگالا مگر اس میں سوائے اس لفظ کے معنیٰ " کوئی بات بیان کرنا " کے کچھ نہ ملا ۔۔۔ پھر اِس کے حوالے سے جتنی کتابیں نیٹ پر دستیاب تھیں سب کا جائزہ لیا مگر اسمیں موجود تحریر کی ثقالت اور جناتی طرزِ بیان کے باعث کوئی بھی مضمون دو سطر سے زیادہ ہضم نہ کر پائے ۔۔۔۔۔۔ اس ناکامی کے بعد سوچا کسی ادبی شخص سے ہی پوچھا جائے سو اپنے ایک قریبی دوست ( جنکا نام ظاہرنہ کرنا ہماری مجبوری ہے بس آپ پہچان کے لیئے اتنا جان لیجیئےکہ قریبی دوست ہونے کے باوجود وہ ہماری فرینڈ لسٹ میں نہیں ) سے انشائیہ کے متعلق رائے مانگی انہوں نے اسکا تسلی بخش جواب دینے کے لیئے مہلت توتھوڑی دیر کی مانگی مگر مشرقی روایات کو پوری طرح نبھاتے ہوئے دو دن بعد اسکا کچھ یوں جواب دیا ۔۔ "وہ تحریرجسے لوگ انشائیہ سمجھتے ہیں وہ انشائیہ نہیں ہوتی ، اور وہ تحریر جو بظاہر انشائیہ نہ لگے وہی اصل میں انشائیہ ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کیوں انکا یہ جواب پڑھ کر ہمارے دل میں ایک شک دوڑ گیا کہ یہ کہیں سدرہ کی فیک آئی ڈی تو نہیں کیونکہ یہ دلیل اسی کے انشائیہ کے حق میں جارہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا سوچا کیوں نہ پہلے انشائیہ لکھ لیا جائے بعد میں دیکھیں گے یہ ہوتی کیا بلا ہے ۔۔۔۔۔۔ خوب دل لگا کر ایک مضمون تیار کیا اب کسی کو دیکھانے کا مسئلہ تھا ۔۔۔ دوستوں کی فہرست میں ڈاکٹر ناہید ہی سب سے زیادہ بے ضرر لگتی ہیں سو انہی کو بھیج دیا ۔۔۔۔ انہوں نے رائے دی کہ فری انشائیے میں کوئی مقصد نہیں ہوتا سو ہم نے اپنے مضمون سے مقصدیت کو نکال پھینکا پھر کہا کوئی خاص ترتیب بھی نہ ہو ۔۔۔ ہم نے جملوں اور پیراگراف کوگڈ مُڈ کردیا انہیں پھربھی چین نہ آیا لکھ بھیجا کہ انشائیہ کی اصل خوبصورتی تو اسکا احساس ِعدم ِتشکیل ہے سو اسکا اختتام نکال دوپھر یہ انشائیہ ہو جائے گا انکی یہ فرمائش پوری کرنے کے بعد جب ہم نے اپنے مضمون پر نظر ڈالی تو اسکا حدود ِ اربعہ ایسے رہ گیا تھا جیسے مہینے کے تیسرے ہفتے میں ہماری تنخواہ کٹی پھٹی رہ جاتی ہے ۔۔۔۔

 انشائیہ کے حوالے سے تشنگی ابھی بھی ختم نہ ہوئی تھی ہم ادھر اُدھر نظرمار ہی رہے تھے کہ انحراف میں معراج رسول صاحب کا انشائیہ کے تعارف پر ترتیب دیا گیا مضمون شائع ہوا۔۔۔۔۔۔ جی خوش ہو گیا کہ اب تو ہم یہ جان لینے میں کامیاب ہو ہی جائیں گے کہ انشائیہ ہے کس چڑیا کا نام ۔۔۔۔ مشکل الفاظ اور مبہم اصطلاحات سے پھر پور مضمون پڑھا اور دل ہی دل میں مصنف کو خوب شاباشی دی کہ وہ اپنی اس کوشش میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں کہ کسی کو بھی آسانی سے سمجھ نہ آسکے کہ انشائیہ ہوتا کیا ہے ۔۔۔۔

۔بحرحال اتنی چھان بین اور تگ و دو کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ " انشائیہ دراصل وہ تحریر ہے جو ایک قاری اس امید پر پوری پڑھتا ہے کہ شاید اس میں سے کوئی کام کی بات نکل آئے مگر مایوس رہتا ہے "اب تک کے لکھے گئے انشائیوں میں سے دس فیصد کے کچھ مصرف بھی نکالے جا چکے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر نوے فیصد انشائیے وہ ہیں جن میں قاری ناکام رہے اور مصنف کامیاب ۔۔۔۔۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارا انشائیہ بھی انہی نوے فیصد میں شامل ہے ۔۔۔۔۔۔۔

(وہ تمام احباب جنکے حوالے سے اس تحریر میں بات کی گئی ہے اگر انہیں کچھ گراں گزرا تو پیشگی معزرت سوائے سدرہ کے )
 :)))))))))))))))))))))))))))))

فرحانہ صادق

ڈارون اور ہم



مجھے لگتا ہے ڈارون کے اس نطریہ سے کہ ہم سب بندر کی اولاد ہیں ۔۔۔ بندر بھی بہت ناراض ہوئے ہوں گے اور آج تک ناراض ہیں تبھی تو کبھی کپڑے لے کر بھاگ جاتے ہیں تو کبھی جوتے لے کر ۔ ۔۔ویسے کچھ لوگوں کو دیکھ کر تو قائل ہونا پڑتا ہے ڈارون بے چارہ ٹھیک ہی کہتا تھا مگر اس بات کا اصرار ضرور ہے کہ سبھی کے آباء و اجداد بندر نہ ہوں گے کچھ کے گدھے ، کتے ، اور گدھ بھی رہے ہوں گے اور تو اور کچھ خواتین کو دیکھ کر بے اختیار انکا شجرہ شیرنیوں سے ملانے کو چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ڈارون کی تھیوری کا ایک فائدہ تو ہے ۔ ۔ ۔ مسجد سے جوتیاں چرانے کا الزام بآسانی بزرگوں کی طرف سے وراثت میں ملنے والی خصلت پر ڈالا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کبھی بندروں کو غور سے دیکھو تو صاف پتا چلتا ہے کہ آباءاجداد کے حوالے سے جو شکوک انسان کو بندروں پر تھے وہی بندروں کو بھی انسانوں پر ہیں۔ ۔ ۔ ۔دُم جیسی قیمتی اور فائدہ مند چیز سے محرومی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ڈارونی نظریہ کا دُکھ فی زمانہ محسوس کیا جاسکتا ہے مگر کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات اب بھی باقی ہیںجیسے کہ۔آخر یہ ارتقاء محدود پیمانے اور محدود مدت کے لیئے ہی کیوں ہوا۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ جو باقی بچنے والے بندر ہیں وہ ابھی تک کس جرم میں بندرہیں ؟؟؟؟؟یہ ارتقائی عمل رُک کیوں گیا ہے ہم صدیوں سے انسان ہیں ، انسان ہی کیوں ہیں حالانکہ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں اپنی پہچان کے لیئے دُم اور سینگوں کی اشد ضرورت ہے ؟؟؟؟حیوانی ارتقاء کی ایک منزل انسان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسانی ارتقاء کا اگلا پڑاو کس شکل میں ہے ؟؟؟؟؟؟؟
فرحانہ صادق بقلم خود :))))))))))))))))))))))))))

آداب عرض ہے !

۔روزہ منہ کو لگا ہوا ہے ، بجلی غائب ہوئے چار گھنٹے بیت گئے ہیں ، گرمی سے بُرا حال ہے ، موبائیل بار بار لَو بیٹری کا سگنل دے رہا ہے ، لیپ ٹاپ کی چارجنگ ختم ہو چکی ہے ، گھر میں ہر کوئی ایک دوسرے کو کاٹ کھانے دوڑ رہا ہے کیا کیا جائے ۔۔۔۔۔ گھبرائیے نہیں کسی بچے کو پڑوسی کے گھر بھگوائیے اور آج کا تازہ اخبار منگوا لیجئے ، جاتے ہوئے بچے کو ہدایت کر دیجئے گا کہ اگر تازہ نہ ملے تو کل پرسوں کا پرانا اخبار ہی لیتے آنا ۔۔۔۔ بازار کا مشورہ اس لیئے نہیں دیا کیونکہ جب ایک چیز پر آپ کے پڑوسی خرچہ کر ہی چکے ہیں تو آپ کے دوبارہ خرچ کرنا اصراف کے ضمرے میں آئے گا ۔۔۔۔۔ اسی بچنے والے دس روپے سے آپ افطاری کے بعد دو سگریٹ پی سکتے ہیں ( یہ مشورہ خواتین کے لیئے نہیں ہے وہ ان پیسوں کے ذریعے ناز پان مصالحہ اور شاہی سپاری وغیرہ وغیرہ سے مستفید ہو سکتی ہیں ) ۔۔۔ اخبار آجائے تو اطمنان سے گیلری یا چھت کے کسی کونے میں دبک جائیے اور اسکی ورق گردانی شروع کر دیجئےیاد رہے ہم نے ورق گردانی کا مشورہ دیا ہے مطالعہ کا نہیں۔۔۔ مطالعہ ایک وقت طلب کام ہے اور آپ کو ایس ایم ایس پیکجز سے فرصت کہاں۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی اللہ کا شکر ہے اخبار بینی جیسی بری لت کا شکار انگریز زیادہ ہیں ہم نہیں ۔۔۔۔ صفحہ اول کو اتنی اہمیت مت دیجئے اس پر جھوٹے سچے سرکاری بیانوں کی کئی چھوٹی بڑی ، سر خیاں ہوں گی اور چند تصاویر ۔۔۔۔۔۔ یہ تصاویر یا تو میچ ہارے ہوئے روتے بسورتے کھلاڑیوں کی ہوں گی یا عوام کو الو بنا کر ہنستے مسکراتے بدصورت سیاستدانوں کی ۔۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر وہ خود ہی خوش ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ اندرونی صفحات پر آجائیے یہاں آپ کی دلچسپی کا سامان ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان میں کہیں نہ کہیں آپ کو کسی اداکار یا اداکارہ کی چوتھی طلاق اور چھٹے سکینڈل کی تفصیل مل جائے گی۔۔۔۔ اگر اداکارہ یا اداکار آپ کی پسند کا ہے تو دو بار ورنی ایک بار ساری خبر پڑھ لیجئے ۔۔۔۔اِ س سے فارغ ہو جائیں تو دیکھئے گاوہیں کہیں موسم، قدرتی آفات، دہشت گردی و حادثات، ملکی بجٹ ، ڈرون ، وغیرہ وغیرہ کی خبریں بھی مل جائیں گی ۔۔۔۔ ان خبروں پربھی ارتکاز ضروری نہیں ورنہ طبیعت میں فکر مندی پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔۔۔۔۔ اب وہ صفحہ کھولیئے جسمیں اداریہ ہوتا ہے ہلکی سی نظر اس پر دوڑائیے کوئی کام کی بات تو نہیں ۔۔۔۔ اداریہ مت پڑھنے بیٹھ جائیے یہ بھی بھلا کوئی پڑھنے کی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے اخبار کا کوئی قاری نہیں پڑھتا یہاں تک کہ پروف ریڈر بھی اسے بنا پڑھے پروف کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔ آپ خواتین کا صفحہ کھول لیجئے ۔۔۔۔ کم کپڑوں اور زیادہ میک اَپ میں لتھڑی ایک مشہور ماڈل کی تصویر آپ کے سامنے ہے آپ بس تصویریں دیکھ لیں کیوں کہ ان کے متعلق باتیں تو وہی لکھی ہیں جو آپ پہلے بھی کئی بار انہی جیسی ماڈلز کے بارے پڑھی ہیں مثلاً سادہ طبیعت ہوں ، بہت گھریلو ہوں یہاں تک کہ گھر کا جھاڑو پوچا خود ہی کر لیتی ہوں ، بچپن سے ہی اپنے وطن سے محبت ہے ، غریبوں کی خدمت کا شوق ہے وغیرہ ۔۔۔۔۔آخری صفحہ پر آجائے ۔۔۔ بھلے آپ شادی شدہ بھی ہوں ضرورتِ رشتہ کے اشتہاروں پر ضرور نظر ڈالیئے کیا پتا مستقبل میں دوسری شادی کا کوئی سنہرا موقعہ میسر آجائے۔۔۔۔۔ آج کا دن کیسا گزرے گا ۔۔ یہ پڑھنا مت بھولیئے گا کہیں ایسا نہ ہو آپ جس سمت اپنی زندگی کی گاڑی لے جارہے ہیں ستارے آپ کی بے خبری کے باعث اسی کے مخالف سمت اپنا سفر شروع کر دیں۔۔۔۔لیجیئے جناب چھ گھنٹے کی "مناسب" لوڈ شیڈنگ کے بعد آپ کی لائٹ واپس آگئی ہے۔۔۔۔۔ جلدی سے اخبار لپیٹیے، موبائل چارجنگ پر لگا کر یا تو ایس ایم ایس شروع کر دیجئے یا کمپیوٹر آن کر کے فیس یا ٹیوٹر پر لاگ آن ہو جائیے۔۔۔۔۔ ہاں مگر ایک بات کا خیال رہے ۔۔۔ ان سارے کاموں سے پہلے پڑوسیوں کا اخبار واپس بھجوانا نہ بھولیئے گا ۔۔۔۔ کیوں کہ انہوں نے شام کو اسی پر افطاری کے پکوڑوں کا تیل نتھارنا ہے ۔فرحانہ صادق

ادریس آزاد صاحب کی کہانی " عشق کا ادھورا افسانہ " سے متاثر ہو کر لکھا گیا اقتباس



                                                                                   (کتاب: عورت ابلیس اور خدا )

"عشق کا ادھورا افسانہ "
.
.






فریادی کے وکیل- صفائی کا بیان....


" استغاثہ کی ہر بات تسلیم مگر کہانی  کچھ یوں ہوئی کہ.......  محبوب اب خود سراپا عشق تھا ....فریادی سے محبت کا یہ عالم ہوا کہ اسکی دلجوئی کے لئے اسکی جوڑی دار اس ہی کی پسلی سے تخلیق کردی گئی..... ناز - محبت میں محبوب کا امتحان لیا گیا....لغزش مقصود تھی اسی لئے قوت - لغزش عطا  کی گئی تھی.......سو گناہ ہوا ......کوئی نہیں جانتا محبوب اور اسکی جوڑی دار میں جدائی کی سزا بوجہ حسد (شرک..... خدا کے ساتھ اپنی محبت میں کسی کو شریک کرنا ) دی گئی یا براے اصلاح .......
اب فریادی صرف ایک تخلیق اور محبوب خالق تھا..... وقت گزرتا رہا اشک - ندامت پرندوں  کو سراب کرتے رہے.....رحمت - خداوندی جوش میں آئ....سزا تمام ہوئی ....معافی نامہ  کے ساتھ کائنات کے سر بستہ رازوں کو کھوجنے کا حکم جاری ہوا.....پھر یوں ہوا کہ فریادی کو رنگینی کائنات میں مبتلا  دیکھ کر محبوب کا جذبہ خداوندی پائمال ہونے لگا....عاشق کی توجہ کے لئے جنت کا لالچ اور دوزخ کا ڈراوا دیا گیا.......مگر


اس بار تو عاشق کے سامنے لا متناہی خوش رنگ نظارے تھے ....اور ہر نظارے میں اسکا محبوب ہی چھپا تھا.....سو وہ یہ کہتا ہوا چل دیا...


         باغ بہشت سے مجھے ازن - سفر دیا تھا کیوں
 کار - جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
                
(افسانہ بہرحال اب بھی ادھورا ہی ہے )
                                           فرحانہ صادق

""" مجبوری """

                                 میں نے کہہ دیا اپیا ! میں کل سے کالج نہیں جاوں گی ۔ ۔ ۔  سنبل کراہی۔ کیوں ! اب کیا ہوا ؟۔ ۔ ۔ ۔ استری کرتے کرتے میرے ہاتھ رک گئےآپ جانتی ہیں ۔ ۔ ۔  اُس نے دھیرے سے سر جھکا کر کہا کیا کچھ کہا ہے اُس نے ؟ ۔ ۔ ۔ میں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھاکہنا کیا ہے پہلے تو صرف گھور گھور کر سیٹیاں بجاتا اور گانے گاتا تھا آج تو راستے کے درمیان آکر کھڑا ہو گیا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنبل کی آواز بھرا گئی اس سے جملہ مکمل نہ ہوسکا ۔۔۔۔ تم پریشان مت ہو ایک دو دن گھر میں رہ کر ہی پڑھائی کر لو میں دیکھتی ہوں اسکا کیا کرنا ہے۔ ۔ ۔ میں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا ۔ ۔ امی بابا کی بے وقت حادثاتی موت نے  ہم تینوں بہنوں کو اکیلا اور غیر محفوظ کردیا تھا۔ صرف چار ماہ کے قلیل عرصے میں ہم نے چالیس سال کے تجربے حاصل کر لیئے تھے ۔ رشتے داروں کے سرد اور خودغرضانہ رویوں سے لے کر اخراجات کے عفریت تک ۔ ۔زندگی جیسے ریشمی ڈور سی الجھ گئی  مگر اب ہم نے اسے خود سلجھانا شروع کردیا تھا ۔۔۔  سب ہی نے اپنے اپنے حصے کے کام بانٹ لئیے ۔ ۔ بابا کے پرویڈنٹ فنڈ کی رقم کی سیونگ سے جو رقم ہر ماہ بینک سے آتی وہ ماہانہ اخراجات کے لئے ناکافی تھی سو صفیہ باجی نے ایک پرائیوٹ کمپنی میں جاب کرلی ۔ ۔ میرا گریجویشن  ابھی مکمل ہوا تھا ، یونیورسٹی کے داخلوں میں دیر تھی اس لیئے گھر سنبھالنے کی ذمہ داری میں نے ۔ ۔ اور ہم دونوں کو اپنی اپنی حرکتوں اور باتوں سے خوشی دینے کی ذمہ داری سنبل نے اٹھا لی ۔ ۔ ۔ ۔۔ سنبل اتنی چھوٹی بھی نہ تھی اسی سال اُس نے میٹرک کر کے فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تھا ۔ ۔ مگر ہمارے لئیے وہ بچہ ہی تھی اُس میں ہماری جان تھی ۔۔سب دبیر کا خاندان ایک ماہ پہلے  ہماری گلی کے آخری مکان میں شفٹ ہوا تھا ۔ ۔ صرف ایک ہفتے بعد ہی دبیر کی بدمعاشی اور اوباش حرکتوں نے محلے کے لوگوں کی نیندیں حرام کر دیں ۔ ۔ چونکہ وہ ایک سیاسی پارٹی کا "فعال" کارکن  تھا اس لئیے محلے کے "شریف مردوں" نے اس سے الجھکر کہیں اسکی شکایت کرنے کے بجائے خود انحصاری کی بنیاد پر اپنی اپنی عورتوں کی حفاظت شروع کردی تھی۔ ۔ ۔ ۔ مگر ہم ! ! ! ! ۔ ۔ ۔ ۔ ہم کیا کرتے ۔ ۔  ہمارے پاس تو کوئی مرد ہی نہ تھا صفیہ آپی کو آفس کی طرف سے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت تھی مگر سنبل کو کالج کے لئے سٹاپ تک جانا پڑتا ۔ ۔ ۔ مجھے بھی جب کبھی گھر کے سودے سلف کے لئیے باہر نکلنا پڑتا تو ایسا ہی تلخ تجربہ ہوتا ۔ ۔آج سنبل کی حالت نے میرے اندر غصہ بھر دیا تھا۔ ۔ ۔  دل میں دبیر سے نمٹنے کا ارادہ لے کرمیں نے اپنے کپڑے جھاڑے ، بال درست کئے اور چادر سر پرلے کر گھر سے نکل آئیگلی کے کنارے کھڑے دبیر کے فحش گانے کی آوازہمارے گھر کے دروازے سے ہی آنا شروع ہوگئی ۔ ۔ میں نے دھیرے دھیرے اُسکی سَمت قدم بڑھانا شروع کر دئے۔ ۔ ۔ مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر اُس نے گانا بند کردیا اور ایک عامیانہ حرکت کرتے ہوئے اپنے دوست کی طرف قدرے جھک کر بلند آواز میں بولا۔ ۔ چھوٹی تو چھوٹی بڑی بھی قیامت ہے ۔ ۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ اور امی بابا سے معافی مانگی ، سر سے چادر ڈھلکائی اور اُسکے قریب آکر مسکرا دی ۔ ۔ ۔میں مرد تو تھی نہیں ۔ ۔ ۔  لہٰذا میں نے اپنی بہن کو عورت کی طرح بچانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔
 تحریر : فرحانہ صادق 

" تخلیق "

۔تکلیف کی تیز لہر دوڑییا اللہ میری مدد فرما!!ذکیہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرےکہ جو کچھ اسکے اندر مچل رہا ہے یکدم ہی باہر نکل جائےدرد کی شدت سے ذہن پھٹنے لگااس کی شکوہ بار نگاہیں بار بار آسمان کو اٹھ رہی تھیں  تو نے تخلیق کو اتنا مشکل کیوں بنا دیا ! !وہ دھیان بٹانے کی کوشش کرتی رہی اس بار مہینے کا سودا جلد ہی ختم ہو گیا ہے  بڑی خالہ نے کافی دنوں سے چکر نہیں لگایااجمل سے پوچھوں گی کل امی کے ہاں لے جائیں گےصبا اور زین کے یونیفارم چھوٹے ہو رہے ہیںاُف ! ! ! ! کوئی ایک بات بھی تو اسکے کرب کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی تھیچلو چائے پی لیتی ہوںاچھا لاو یہ برتن ہی دھو لوںوہ جھنجھلا رہی تھیکیا کروں ! ! کیسے اپنی مشکل آسان کروں ! ! ایک اور شدید لہر کُلبلا کر سوچااب وقت آگیا ہےہاں ہاں اب وقت آگیا ہے  اس نےادَھ دھلی پتیلی واپس سنک میں پٹخی اور تیزی سے کمرے میں داخل ہو گئیمشکل آسان ہوا ہی چاہتی تھیتخلیق کا عمل شروع ہوچکا تھادھیرے دھیرےڈائری کُھلیقلم اُٹھااور اورلفظ موتیوں کی لڑیاں بنتے چلے گئےـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــفرحانہ صادق
  

النکاح مِن سنتی ۔ ۔ ۔

صبا رو رو کر ہلکان ہوچکی تھی
بھوک ہڑتال،
لمبے لمبے سجدے، 
 ماں کی منت سماجت،
کچھ بھی تو کام نہ آیا
پیر کو کلثوم بیگم  نے  اسے نکڑ کی دکان والے سلیم کے ساتھ کالج سے واپس آتے دیکھا
اور منگل سے اس کے لیئے رشتے دیکھنے شروع کر دیئے
 سمجھدار عورت تھیں 
جان گئیں  کہ دیر کی تو پانی سر سے گزر جائے گا
گھر گھر پھرنے والی جمیلہ آپا کو دس ہزار اور جوڑے کا لالچ دیا 
 ہفتہ بھی نہ گزرا ،
 جمیلہ آپا اپنی ہی کسی دور کی  نند کے بیٹے کا  رشتہ لے کر آپہنچیں
 دو دن رسمی چھان بین ہوئی
ایک آدھ سے مشورہ کیا گیا
تیسرے دن کی صبح  کلثوم بیگم نے اعلان کر دیا مجھے استخارہ میں بشارت نظر آئی ہے
گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
صبا اب چُپ تھی
لڑکے والوں کو ہاں کہلوا دی گئی
ساس نندیں آئیں اور منگنی کی رسم پوری کی گئی
چھوٹی نند بڑے فخر سے سب کو بتا رہی تھی
بھابھی  بڑی خوش نصیب ہیں
بھائی جان تو راضی ہی نہ تھے
انہیں تو باہر پڑھنے جانے اور کمانے کا شوق تھا
وہ تو امی اور ہم نے ضد کی کہ جب تک شادی نہ کریں گے باہر نہیں جا ئیں گےتو مان گئے
مٹھائی بٹی تو  ہر طرف سے مبارکباد کے پیغام آنے لگے
صبا چُپ تھی
چھوٹی بہنوں کی چھیڑ چھاڑ بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہ لاسکی
کلثوم بیگم کے دل میں ہول اٹھتے جنہیں وہ شدت سے دبا دیتیں
جانے کس بات کا ڈر تھا جوانہوں نے صبا پرکڑی نگاہ رکھنی شروع کر دی تھی
لڑکے والوں نے جلد ہی شادی کا عندیہ بھی بھیج دیا
شاید ماں بہنوں کو اپنے ارمان پورے کرنے کی جلدی تھی 
یا شاید لڑکے کو اپنا شوق
کلثوم بیگم کی توفکر سے نیندیں ہی اُڑ گئیں تھیں 
 ایک طرف شادی کی تیاری
تو دوسری طرف صبا کا سکوت
جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ ہو رہا تھا
گھر کی پہلی خوشی تھی سبھی نہال تھے
 مگرصبا  چُپ تھی
کلثوم بیگم کے خدشات آسمان کو چھو رہے تھے
ابٹن ہلدی تیل مہندی خوشبو
 کچھ بھی تو اُس پر اثر نہ کر رہا تھا
شادی کے دن سجی سنوری صبا کو دیکھ کر کلثوم بیگم کا دل بھر آیا
اسے گلے لگایا
ماتھے پہ پیار کیا
اور سرگوشی میں مجھے معاف کردے بیٹی کہتے ہوئے رو پڑیں
ماں کو روتا دیکھ کر چھوٹی بہنیں بھی رونے لگیں
اک اک کر کے سبھی عورتوں کی آنکھیں گیلی ہو گئیں
صبا نے سر جھکا لیا
وہ نہیں روئی ۔۔۔ وہ اب بھی چُپ تھی
جگہ دو جگہ دو! ! ! !  نکاح کا وقت ہو گیا مرد اندر آرہے ہیں
بڑے ماموں نے ہدایت کی کہ اونچی آواز میں ہاں کہنا تاکہ سب سُن لیں
صبا احمد ولد سعید احمد ! !  تمہیں بعوض شرعی حق مہردانیال قیوم ولد عبدلقیوم اپنے نکاح میں قبول ہے
نہیں ! ! ! ! ! !  ایک زور دار آواز گونجی
مگر اس آواز کی گونج فقط صبا کے دل تک تھی
صبا احمد ولد سعید احمد ! !  تمہیں بعوض شرعی حق مہردانیال قیوم ولد عبدلقیوم اپنے نکاح میں قبول ہے
 صبا چُپ تھی
کمرے میں بے چینی پھیل گئی
کلثوم بیگم بڑی مشکل سے خود کو سنبھالے دل ہی دل میں خدا سے ساز باز میں مصروف تھیں
بات چالیس نوافل سے سو نوافل 
تین روزے 
اور  ہزار روپےکی نیازتک پہنچ چکی تھی
صبا احمد ولد سعید احمد ! !  تمہیں بعوض شرعی حق مہردانیال قیوم ولد عبدلقیوم اپنے نکاح میں قبول ہے
ہاں بولو یہ کہتے بڑی خالہ نے کمر میں زور سے ٹہوکا مارا 
سکوت ٹوٹا اورہلکی آواز آئی ۔۔۔۔۔ جی
مبارک ہو مبارک ہو۔۔۔۔ شور ہی شور
کلثوم بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا سب کو ایک طرف کر کے یہیں  سجدہ شکر بجا لائیں
کھانا چنا گیا رسمیں ہوئیں اور رخصتی ہوگئی
صبا چُپ چاپ سسرال پہنچی اور حجلہ ء عروسی میں جا بیٹھی
بقیہ رسمیں پوری کی گئیں 
شرارتی فقرے کسے گئے
دولھا مسکرا رہا تھا 
مگرسر جھکائے  صبا کے چہرے پرخوشی کا ایک شائبہ نہ تھا
 بڑی بہن نے سب کوڈانٹ کر کمرے سے نکال دیا
اب وہاں صرف دو لوگ رہ گئے تھے
دروازہ بند ہوا
تھوڑی دیر بعد بتی بھی بند ہو گئی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
رات کا آخری پہر تھا
دونوں گھروں میں خاموشی تھی
سب ہی تھک کر سو چکے تھے
مگر کلثوم بیگم مصلیٰ بچھائےشکرانے کے  نوافل ادا  کر رہی تھیں
اور اُدھر
ایک خوابیدہ مہکتے کمرے میں
 زنا کا عمل جاری تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرحانہ صادق