ساجد نامہ

صحافت , صحافی کا کرداراور سوشل میڈیا

صحافی ایک خبر رساں نمائندہ ہی نہیں ہوتا اور اگر کوئی دوسرا یا وہ کوئی صحافی خود کو صرف خبر رساں سمجھتا ہے تو وہ سرے سے غلط سمجھتا ہے ۔ صحافی گو کہ ایک فرد ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے آپ میں ایک تحریک کا درجہ رکھتا ہے وہ تحریک جو معاشرے میں پائے جانے والی ناہمواریوں کو ایک عام آدمی کے سامنے لانے کے لئے ہمہ دم کوشاں رہتی ہے اور اس کے حل کے لئے اپنے قلم کو یوں استعماال کرتی ہے کہ وہ جہاں تلوار سے زیادہ کاٹ دار نظر آتا ہے وہیں ایک   شیریں زبان مصلح کا روپ بھی دھارتا ہے ۔تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے ادوار میں اردو صحافت اپنے معیار اور کام کے حوالے سے بلندی پر تھی ۔ تب نہ سوشل میڈیا تھا نہ الیکٹرانک لیکن اس وقت کے صحافیوں کو کردار ایسا جاندار نظر آتا ہے کہ آج کے صحافی کے لئے مشعل راہ ہے ۔ لیکن آج کل جہاں ہمارے اوپر تساہل اور بے عملی چھائی ہے اس کا ایک مظاہرہ صحافت میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے ۔ نہیں نہیں ، میں زبان و بیاں کے اغلاط اور نامکمل معلومات کے ساتھ خبر دینے کی طرف اس تحریر میں کوئی بات نہیں کرنے والا بلکہ میں جو کہنے والا ہوں وہ ان دونوں باتوں سے زیادہ مایوس کن اور صحافتی اقدار کے منافی رویہ کی نشان دہی ہے ۔ 
دیکھئے ، بات کو سمجھنے سے قبل یہ ذہن نشین کر لیجئے کہ صحافت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ آپ اپنے کا م کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ عوام کے ردعمل یا فیڈ بیک سے لیتے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ اکثر صحافی جو یہ بات کرتے ہیں کہ جناب "ہم جن اخبارات کے ساتھ منسلک ہیں وہ دراصل ہماری تحریر کو یوں کانٹ چھانٹ کر شائع کرتے ہیں کہ اس کا مفہوم کچھ کا کچھ بن جاتا ہے ۔ اخبارات کی اپنی پالیسی ہوتی ہے یوں وہ ہماری تحریر کی شکل بگاڑ دیتے ہیں "۔ میں ان صحافیوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ نے واقعی تحریر لکھنے میں اپنی پوری استعداد ، تجربہ ، دیانت ، خلوص اور تحقیقی عرق ریزی کی ہے تو آپ کی تحریر آپ کے لئے آپ کی اپنی اولاد کی طرح سے ہے۔ اور کوئی باپ یا ماں کسی کے ہاتھوں اپنی اولاد کو ذبح ہوتے یا اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتی۔ اگر آپ کا آجر اخبار آپ کی تحریر کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے تو اس کو روکنے کے لئے کھڑے ہونا ، اس کے خلاف مزاحمت کرنا اور ایسا ہونے سے روکنا آپ کی اولین زمہ داری ہے اور ایک صحافی ہونے کے ناطے آپ پر دہری ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ ایسا نہ ہونے دیں کیونکہ اگر آپ اپنی تحریر کے وجود کا دفاع ہی نہیں کر سکتے تو آپ معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف ادا کی جانے والی اپنی ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ بر ا ہو سکتے ہیں ؟ ۔ جبکہ آپ کے خیالات ہی عوام کے سامنے نہیں پہنچنے دئیے جا رہے ، اپ کی کوششوں ، آپ کے تجربے اور آپ کی محنت کو ضائع کیا جا رہا ہے تو آپ کس طرح سے عوام کے حقوق کے لئے اپنے اندر لگن پیدا کریں گے ؟ ۔ اگر آپ نے یہاں تک بات سمجھ لی ہے تو اب بات ایک نئے زاوئیے کی طرف مڑتی ہے ۔  ہمارے کچھ صحافی دوست کہتے ہیں کہ چونکہ اخبارات ہماری تحاریر کی شکل بگاڑتے ہیں اس لئے ہم سوشل میڈیا یعنی فیس بک یا بلا گنگ کی طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ کسی کانٹ چھانٹ کے بغیر اپنی بات عوام تک پہنچا سکیں ۔ سوشل میڈیا پر ان  صحافی دوستوں کا آنا بہت اچھی بات ہے ،لیکن سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ہمارے ان صحافی دوستوں نے صحافت کو اختیار کرتے وقت اپنی ذات سے جو عہد و پیماں کئے تھے کہ ہم قلم کی عظمت اور قلم کی طاقت کو تلوار کی دھار پر بھاری ثابت کر کے رہیں گے کیا وہ ایک اخباری پالیسی کے سامنے ڈھیر ہو گئے ؟ اور کیا اخبار جیسا عوامی میڈیا جو نہ صرف تازہ ترین حالت میں روزانہ کی بنیاد پر زندگی کے ہر شعبے کے افراد تک پہنچتا ہے اور اس کے بعد  یہ تحریریں حکیموں ، پنساریوں کی دکانوں ، سموسوں کی ریڑھیوں اور تندوروں پر روٹی لپیٹ کر چھوٹے شہروں ، قصبوں ، دیہاتوں ، گاؤں اور بستیوں میں معاشرے کے ان افراد تک بھی پہنچتی ہیں جو باقاعدہ اخبار کے قاری نہیں ہوتے ، پر آپ نے سوشل میڈیا کو طاقتور خیال کر لیا  کہ جس تک صرف 16 سے 18 فیصد پاکستانیوں کی رسائی ہے اور ان میں سے بھی اکثر صرف دن بھر کی تھکن اتارنے کے لئے محض تفریح یا چیٹنگ کے لئے ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔ پھر اس کے بعد کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا آپ نے اخبار کے مالکان یا انتظامیہ کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ آپ کی محنت پر یوں پانی پھیرنے سے آپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہے ؟ دیگر سوالات بھی ذہن میں جگہ بناتے ہیں لیکن یہاں ان پر اس لئے بات نہیں کی جا رہی کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان میں ان خطرناک حالات سے ہے جن کے چلتے ہمارا صحافی بہ مشکل تمام اپنے فرائض ادا کر پاتا ہے بصورت دیگر وہ بھی یہاں بیان کئے جاتے ۔ لیکن کم از کم یہ معاملہ مکمل طور پر صحافی دوستوں کی دسترس میں ہے کہ وہ اپنی لکھی بات کو من و عن عوام تک پہنچانے کے لئے مزید متحرک ہوں اور اپنی تنظیموں کو اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بنائیں ۔چلیں جی اب ہم تھوڑا تقابل کرتے ہیں کہ جب صحافی خود اس پوزیشن میں آ جاتے ہیں کہ ان کی بات مکمل سیاق و سباق کے ساتھ عوام کے سامنے سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچتی ہے تو وہ خود اخبارات سے کیوں کر مختلف اور کیوں کر موافق دکھائی دیتے ہیں ۔ بلاگنگ کی طرف جائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اردو بلاگنگ اس وقت کافی کمزور حالت میں ہے ۔ اور اس کی یہ کمزوری دراصل بلاگرز کا فیس بک اور ٹویٹر کی طرف التفات ہے کہ جہاں فوری رد عمل ملتا ہے اور بات کم وقت میں زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے اور ایک سبب یہ بھی ہے کہ بلاگ سپاٹ اور ورڈ پریس کی رفتار ہمیشہ سے ہی فیس بک اور ٹویٹر سے کم رہی ہے ۔ پاکستان کہ جہاں ابھی زیادہ تر لوگوں کے پا س سست رفتار نیٹ ہے وہ فیس بک اور ٹویٹر جیسے تیز رفتار میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں یوں ان سارے عوامل کے ہوتے پاکستانی اردو صحافیوں کا رجحان بھی اسی روش کا غماز ہے ۔ سوشل میڈیا ہر بہت سارے کہنہ مشق اور ان کے علاوہ نئے صحافی بھی موجود ہیں ۔ کچھ صحافی پیشہ ور ہیں تو کچھ جز وقتی صحافت کرتے ہیں ۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ جز وقتی صحافت صرف اور صرف خبر رسانی تک ہی بہتر نتائج دیتی ہے اور معاش کا دیگر ذریعہ اپنانے کے دوران تحقیق و تدقیق کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے اور یہ دونوں عوامل ایک صحافی  کو کامل تجزیہ نگار بننے اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل تجویز ہیش کرنے کے لئے جزو لاینفک ہیں ۔ عام طور پر سوشل میڈیا پر موجود صحافی دوست ان منفی باتوں سے دور رہتے ہیں جو اکثر فیس بکی دوستوں کے درمیان مشترک ہیں ۔۔۔ یعنی اشتعال اور الزام تراشی ۔ لیکن بہر حال ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے اندر یہ صفت صحافی ہونے کے باوجود موجود ہے ۔ ان میں زیادہ تر نئے صحافی اور ان غیر معروف اخبارات کے لئے کام کرنے والے ہوتے ہیں کہ جو اخبارات صحافت کو بلیک میلنگ اور گروہی پراپیگنڈا کے لئے استعمال کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ بھی منفی صحافت کا ایک المیہ ہے جس پر پھر کبھی بات کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔چند روز قبل ہمارے ایک صحافی دوست یہ فرما رہے تھے کہ ہم صحافی اپنے اخبارات کو جو کالم لکھ کر دیتے ہیں ان میں سے 20 فیصد تک کو وہ سرے سے چھاپنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں اور بہت سارے کالمز مین مجبور کر کے تبدیلیاں کرواتے ہیں کہ یہ ان کی پالیسی کے مطابق ہو جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مجھے یہ سہولت حاصل ہے کہ میں جو چاہوں لکھوں اور جو کہنا چاہتا ہوں کہوں لیکن انہوں نے ساتھ ہی ایک بات اور کہہ دی کہ جس کو میری بات پڑھنی ہے پڑھے اور جو نہیں پڑھنا چاہتا وہ مجھے ان فرینڈ کر دے اور جو میری بات پر اعتراض اچھالے میں اسے بلاک کرنے میں دیر نہیں لگاتا ۔ وہ صحافی دوست ابھی مزید کچھ فرما رہے تھے لیکن میں یہ سوچتا رہ گیا کہ فیڈ بیک ( تعریف کی صورت میں ہو یا تنقید کی صورت میں) ایک صحافی کی قیمتی متاع ہوتی ہے اور یہ کیسے صحافی ہیں کہ اپنی متاع سے ہاتھ دھونے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں کہ اعتراض کرنے والے کو میں بلاک کرنے مین دیر نہیں لگاتا ۔ اگر ان صحافی دوست کو اپنے اخبار سے اس کی پالیسی کی وجہ سے شکایات ہیں تو ان کو اس بات کا زیادہ احساس ہونا چاہئیے تھا کہ لکھنے لکھانے کا عمل تنقید کے بغیر نا مکمل ہے تبھی تو وہ اخبارات کی پالیسی پر تنقید کر کے اس عمل کی تکمیل کر رہے تھے اور ستم ظریفی یہ کہ دوسروں کو یہ عمل مکمل کرنے کی آزادی دینے کو وہ تیار نہیں تھے ۔ حالانکہ اب تو دنیا بھر کے تمام پرنٹ میڈیا کے اخبارات ، رسائل اور جرائد فیڈ بیک کی خاطر اپنے آن لائن ایڈیشن بناتے ہیں تا کہ ان کے ہاتھ عوام کی نبض پر رہیں ۔ پاکستان میں صحافت کرنا ایک مشکل امر ہے ۔ یہاں کے سیاسی حالات ، معاشی حالات اور سب سے بڑھ کر شرح خواندگی کی کمی صحافیوں کو اظہار رائے میں خاصی احتیاط پر مجبور کرتی ہے اور شاید اخبارات بھی انہی وجوہات کے تحت اپنی پالیسیاں بناتے ہوں گے ۔ لیکن جب آپ سوشل میڈیا پر آ کر  تحریر کی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو اپنے قاری کو بھی کہنے کی آزادی دیں۔  پاکستان میں  لکھنے اور کہنے کی جو آزادی ہے وہ دنیا کے کئی آزادی اظہار کے چمپئن سمجھے جانے والے ممالک میں بھی موجود نہیں ہے  ۔  کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم اس آزادی کو  برداشت ، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ مزید تقویت دیں اور اپنے صحافتی فرائض کی بجا آوری کے لئے ان مواقع سے یوں مستفید ہوں کہ ہماری صحافت معیار  کی بلندیوں سے روشناس ہو سکے ۔  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سارے شدت پسند گروہ اس آزادی سے ہمیں محروم کرنے کے درپے ہیں اور ہمارے صحافی دوستوں کا فرض ہے کہ ایسے کسی بھی گروہ کے نظریات سے متاثر ہو کر اپنی بنیادی تربیت کے خلاف نہ چلیں ۔

قصہ شش درویش

ہوا کچھ یوں کہ جب ہم اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے تو ہمارے سامنے ایک عدد مینو پیش کر دیا گیا ۔ اخباری کاغذ پر چھپی اس فہرست کو ہماری فہم تو مینو ماننے سے انکاری تھی لیکن اس چار صفحی فہرست کے اندرونی 2 صفحات پر کھانے پینے کی چند چیزوں کے نام دیکھ کر چار و نا چار اس پر نظر دوڑانے لگے ، لیکن کوئی ڈش (کھانا) دل کو نہ بھائی ۔ ورق الٹ کر بیرونی صفحات کی طرف جھانکا تو میاں شہباز شریف کی لہراتی انگلی والی تصویر سے مڈ بھیڑ ہو گئی ۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ بندہ گھر سے کھانے کے لئے نکلے اور مینو میں اسے انگلی پیش کر دی جائے تو اس سے زیادہ سنگین مذاق کیا ہو گا ؟ ۔ میاں صاحب کی انگلی سے بچے تو اپنے سامنے ایک  مزید "قرطاس ابیض" موجود پایا ۔ یہ بکس بورڈ(سفید گتے) کا ایک ورق تھا ۔ اسے بغور دیکھا تو آشکار ہوا کہ یہ ایک اور مینو ہے ۔ سگریٹ کے کثیف دھوئیں سے آلودہ انتہائی کم اونچائی کی چھت والے ہال کی بالائی منزل میں جہاں  دھوئیں کی  گھٹن ، سستے عطر نسائی (لیڈیز پرفیوم) کی بواور دوستوں کی بلا توقف جگت بازی کے دوران مجھ جیسے سادے آدمی کی ذہنی کیفیت پہلے ہی سے ایسی ہو جاتی ہے جسے انگریز نے فرسٹریشن کا نام دے رکھا ہے ، اس پر مستزاد کہ دو دو مینوز میں سے کھانے کا انتخاب کرنا پڑ جائے وہ بھی لہراتی انگلی دیکھ دیکھ کر۔۔۔ ظلم تو ہے نا ؟؟؟ ۔خیر اپنے حواس کو مجتمع کرتے ہوئے اپنے قریب کھڑے بیرے پر بھرپور نگاہ ڈال کر اپنے اعتماد کو بحال کرنے کی کامیاب کوشش کی اور مینو پر نظر جمائے اس سے پوچھ لیا " یار یہ بکس بورڈ کے مینو کے آخر میں کون سی ڈش ہے' ؟ ۔ اس نے کسی روبوٹ کی طرح کھڑے اور تنے رہ کر جواب دیا " یہ ببلی بریانی ہے" !۔ جواب سُن کر دماغ آؤٹ ہو گیا کہ یہ کم بخت ببلی تو بد معاش ہوا کرتی تھی یہاں مینو میں اس نا ہنجار کا کیا کام ۔ بیرے کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ اپنے کان کو ہمارے منہ کی سطح پر لے آئے لیکن وہ کم بخت ہمارے ہاتھ کے اشارے کو پاکستان ہاکی ٹیم  کے کھلاڑی والا "فحش" اشارہ سمجھ بیٹھا ۔ اس کے چہرے پر پھیلتی ناگواری کو دیکھتے ہوئے اب کی بار مٹھی کھول کر انگلیوں کی حرکت سے اشارے کی وضاحت کی تو اس نے رکوع کی حالت میں جھک کر بات سننے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے کان کے قریب منہ کر کے پوچھا " یار ، یہ بتاؤ یہ جو ببلی بریانی ہے کیا یہ ببلی نے بنائی ہے یا بریانی کے ساتھ ببلی بھی پیش کی جاتی ہے " ؟ ۔ ابھی میری بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ پھر سے اس تیزی سے پہلے والی حالت میں آ گیا کہ میری بات میں شاید بجلی کا کرنٹ تھا ۔ میرے دوستوں کی ایک بہت اچھی خاصیت ہے کہ ان کی بصارت اور سماعت ایسے رنگین و سنگین  مواقع پر قابل رشک بلکہ  قابل دید ہوتی ہے ۔ اگرچہ سڑک پر چلتے ہوئے ان کو ٹرک کا ہارن بھی سنائی نہیں دیتا لیکن اس ہال میں پہنچتے ہی کوئی نقرئی قہقہہ ہال کے آخری کونے پر گونجے تو یہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہال میں یہ تک بتا دیتے ہیں کہ یہ قہقہہ کون سی میز سے کس مہہ جبین کا تھا ۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ بیرے سے ہونے والی میری گفتگو ان کی سماعتوں سے محفوظ رہتی ۔ ببلی کا نام سنتے ہیں لینکس والے مولوی سعد صاحب سر نیہوڑا کر کچھ شرما گئے لیکن بعد میں معلوم ہوا یہ شرم نہیں تھی بلکہ مینو پر نظر ڈالی گئی تھی کہ ببلی کے علاوہ کوئی شیلا یا رضیہ برییانی بھی دستیاب ہے یا نہیں ۔ نجیب عالم بھائی نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا " یار ، کچھ بھی لے آ ۔ بے شک پپو بریانی لے آ" ۔ محمد عبداللہ چونکہ ابھی نوجوان ہیں اس لئے ببلی اور پپو کا نام سُن کر ان کو تو حق حاصل ہو گیا تھا کہ چاروں طرف گردن گھما کر کسی ببلی یا پپو کو تلاش کرنے لگے ۔ عاطف بٹ صاحب چونکہ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور استاد بھی ہیں اس لئے ان کا "طریقہ واردات" بھی استادانہ ہی تھا ۔ 45 رجے پر گردن جھکا کر آنکھوں کا زاویہ 135 درجے پر فٹ کر کے انہوں نے جھکی جھکی اکھیوں سے کالے کجروں اور پھولوں کے گجروں کو سلام کر لیا ۔مزید احوال اگلی قسط میں 

"گر خامُشی سے فائدہ اخفائے حال ہے "

گر خامُشی سے فائدہ اخفائے حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
-----------------------------------------------مجھے ہمیشہ سے ایک شکایت رہی ہے کہ من حیث القوم ہم بہت جلد ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں ۔ ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ تو رہے ایک طرف ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی اسی سوچ کا پیروکار دکھائی دیتا ہے ۔  ادھر کسی  نے کوئی ایسی بات کہی جو ہمارے شعور یا  توقعات کے خلاف ہو ئی  وہیں ہم بات  کہنے والے کی ایسی تیسی کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانے اور سمجھنے کی تو کوشش ہی نہیں کرتے کہ کہنے والے نے وہ بات کس پیرائے میں کہی ہے ۔اردو بلاگرز ، پاکستان کے اہل قلم کی  نہایت قابل احترام کمیونٹی ہے ۔ گو کہ خاکسار نے بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے خیالات کو کبھی کبھار سپرد قلم کرنے کے لئے ایک ادنی سا بلاگ بنا رکھا ہے لیکن اپنے فطری بے ساختہ پن اور آزاد منش طبیعت کی وجہ سے  کبھی خود کو اس معیار پر  پورا نہیں پایا جوکہ ، فی زمانہ ، ایک کامیاب بلاگر بننے کے لئے درکار ہوتا  ہے ۔ اس  بات کا  مجھے کوئی پچھتاوا ہے نہ رنج  ۔ بلکہ اس کے برعکس مجھ سے بالمشافہ میل ملاقات رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ میں اپنے خیالات کے اظہار میں کس قدر بے وقوفی کی حد تک ہمت کا مظاہرہ کر جاتا ہوں ۔  فیس بُک  اور بلاگ پر آپ احباب مجھے پڑھتے ہیں ، میری سنتے ہیں ، اپنی سناتے ہیں  اور کچھ دوست تو مجھے کھری کھری بھی سنا دیتے ہیں لیکن کبھی کسی دوست سے میں نے محض تنقید ، سیاسی  یا مسلکی وابستگی کی وجہ سے رشتہ نہیں توڑا ۔  ہاں یہ ضرور ہوا کہ چند ایک نے خود ہی مجھے  اپنی دوستی کے دائرے سے باہر نکال دیا لیکن اس پر بھی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کسی نے مجھے دائرہ اسلام سے نکالنے کی کوشش نہیں کی  :)ایسا بھی نہیں ہے کہ میری "بلاکڈ لسٹ " سرے سے  ہے ہی نہیں ۔  یہ نہ صرف موجود ہے بلکہ اچھی خاصی آباد بھی ہے ۔ لیکن اس کی آبادی صرف ان لوگوں کی بدولت ہے  جو انسانی قتل کو شریعت کا لازمہ گردانتے ہیں  اور قاتلوں کی وکالت کا کام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اس ضمن میں اس سے زیادہ وضاحت  پیش کرنا میں ضروری نہیں سمجھتا ۔ میری آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں ، میرے کان جو کچھ سنتے ہیں اور میری حسیات جو کچھ محسوس کرتی ہیں  ؛ دیگر انسانوں کی طرح یہ سب کچھ میرے دل اور دماغ پر اپنےنقوش ثبت  کر جاتا ہے ۔ یہ  میری سوچ کے دائروں کو جہاں وسیع کرتا ہے وہیں ان میں ارتعاش کا سبب بھی بنتا ہے ۔ یہ ارتعاش کبھی کبھار میری تحاریر میں دیکھا بھی کیا جا سکتا ہے اور میری تکلم کے صوتی اثرات میں اس کی تاثیر محسوس بھی کی جا سکتی ہے ۔ حالات و واقعات کی مطابقت سے کبھی کبھار اس ارتعاش کی شدت بڑھتی ہے تو کوئی دوست میری تحریر پر رائے نہ دینے میں  بہتری سمجھتا ہے   یعنی "ایک چپ سو سُکھ"   پر عمل کر گزرتا ہے تو کوئی مجھے ذاتی پیغام میں "محتاط" رہنے کا مشورہ دے کر حق دوستی ادا کر دیتا ہے اور جن کو مجھ سے زیادہ "پیار" ہو یا میری تحریرجس  کسی کے تخیلاتی دائرے سے باہر ہو تو و ہ  دوست مجھے تحریر کو ہٹا دینے کا  کہہ دیتے ہیں اور عام طور پر یہ "کہنا" حکم کے لہجے میں ہوتا ہے ۔ اور اکا دکا واقعات ایسے بھی ہوئے جب مجھے سنگین نتائج  اور"رنگین" انجام کی ای میلز بھی نا معلوم ناموں سے بھیجی گئیں ۔_________ لیکن ، بخدا ، جب سے سوشل میڈیا اور بلاگنگ میں قدم رکھا ہے ،میں نے  مذکورہ بالا کسی بھی طبقے کے دوست سے جوابی طور پر ادنی سی جھڑپ بھی نہیں کی ۔ ان پر کسی قسم کے غدار ، متعصب ، جھوٹے اور اس قماش کے کسی بھی الزام کا گند نہیں اچھالا ۔  اگر کسی ووست سے سلسلہ کلام طیش کا شکار ہوا بھی تو خود کو سرنڈر کر دیا ۔ یوں معاملہ جتنے وقت میں بگڑا تھا اس سے بھی کم وقت میں سدھر گیا ۔ہر انسان کی طرح میرے بھی کچھ نظریات ہیں ۔ اور قصہ مختصر یہ کہ اگر میں ان نظریات کو مکمل طور پر درست سمجھتا ہوں تو تبھی ان پر کاربند ہوں ۔ میں اپنے نظریات میں ملاوٹ کو سخت نا پسند کرتا ہوں کیونکہ یہ میرے ضابطہ حیات کی اساس ہیں ۔ اسی لئے میں ان نظریات کو بہتر سے بہتر اور خالص رکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ نہ میں روایتی مسلکی بن سکتا ہوں جو اپنے مسلکی  رہنما کی ہر بات پر سر خم کر دے اور نہ ہی روایتی سیاسی کارکن جو اپنے لیڈر کی شان میں زمین آسمان ایک کر دے ۔ میں ان شخصیات پر تنقید کو ناجائز سمجھتا ہوں اور نہ ہی گناہ خیال کرتا ہوں حتی کہ میں اپنی شخصیت پر خود تنقیدی کو پسند کرتا ہوں اور جب کوئی دوست مجھ پر تنقید کرتا ہے تو گویا وہ مجھے مزید بہتر بنانے میں میری مدد کر رہا ہوتا ہے  ۔مجھے بحث صرف اس صورت میں پسند ہے کہ جس میں تعمیر کا کوئی پہلو ہو ورنہ میری 90 فیصد باتوں اور تحاریر کے پہلو میں ہمیشہ ایک  مسکراتا ہوا شطونگڑا دکھائی دیتا ہے جو اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ  "دل پہ مت لے یار " :)میں ایک مزدور پیشہ بندہ ہوں لیکن اہل قلم سے شناسائی میرے لئے فخر کی بات ہے ۔ مجھے ہر گز ہرگز اہل قلم ہونے کا دعوی نہیں ہے لیکن اہل قلم سے کچھ شکایات ضرور رہتی ہیں  کہ وہ  کبھی کبھار معاملات کو درست تناظر میں  سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں  یا پھر اپنے اوپر ہونے والے سوال یا تنقید پر خفا ہو جاتے ہیں ۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ اہل قلم اپنی بات کہنے کی بجائے بات منوانے  کو ترجیح دینے لگتے ہیں ۔ ہاں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ اہل قلم جانے یا ان جانے میں  اپنی سوچ کو دوسروں کی سوچ کے تابع کر لیتے ہیں جہاں سے گروہی بالا دستی کے راستے کھلتے ہیں ۔ یہ  اسی قسم کی گروہی بالا دستی ہے جو ہم اپنے ارد گرد ظلم کی شکل میں موجود پاتے ہیں ۔  خاکسار جب نیا نیا اردو بلاگنگ میں وارد ہوا تھا تو بہت پرجوش تھا اور حقیقت میں اردو بلاگران میں ایسے اعلی لکھاری ، ماہرین فن ، نقاد ، دانش ور ، تکنیکی ماہرین ، مزاح نگار ، سیاسی تجزیہ نگار ، ماہرین زراعت ، اساتذہ  غرضیکہ تمام رائج الوقت علوم کے ماہرین  موجود ہیں جن کو کسی بھی زبان کے بلاگران کے مقابلہ میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔  نا مساعد سیاسی و معاشی حالات کے باوجود ان بلاگران نے خود کو منوایا ۔ کچھ دیگر بلاگر دوستوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ اردو بلاگران کو ایک پلیٹ فارم ملے اور ان کی کوئی رجسٹرڈ تنظیم ہو لیکن میری یہ خواہش وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑتی گئی ۔ اس کی بہت ساری وجوہات تھیں جن میں سے ایک وہ بھی تھی جس کا ذکر  میں نے اس تحریر کے ابتدائی پیرے میں کیا ہے ۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ اردو بلاگرز کو اپنی اس کمزوری پر دھیان دینا چاہئیے ۔ ان کو اعتراض کا جواب الزام کی بجائے دلیل سے دینے کی عادت اپنانا چاہئے ۔  محض تعلق داری یا دوستی کی وجہ سے اپنی انفرادی سوچ پر بند نہیں باندھنا چاہیے۔چبھتے سوالات ، تیکھے الزامات ، ٹیڑھے طرز ہائے کلام اور تشنہ طلب معاملات کو کمال مہربانی اور مثبت انداز کار میں نمٹانا چاہیے۔کیونکہ کامیاب اور نامور اہل  علم  و ادب کا یہی شیوہ رہا ہے ۔میں نے اپنی بہت ساری فیس بکی تحاریر میں اس طرف اشارہ کیا کہ ہمارا اردو بلاگر بلاغت تو رکھتا ہے لیکن بلوغت  (معاملہ فہمی) میں قدرے مار کھاتا ہے ۔   اور اسی کا نتیجہ ہے ذرا  سا اختلافی معاملہ بھی اردو بلاگرز کو ایک دوسرے سے الجھا کر رکھ دیتا ہے  ۔ اپریل کے ماہ میں کراچی میں اردو کانفرنس ہونے جا رہی ہے ۔ میری بڑی خواہش ہے کہ وہ کانفرنس ماضی کے برعکس کسی سیاسی مقاصد کے الزامات  یا  پھر مسلکی  تناظر کی بجائے خالص اردو کی خدمت اور ترویج کے مقاصد کے تحت منعقد ہو ۔ گو کہ میری کہی ایک بات پر کچھ دوستوں نے مجھے "متعصب" قرار دے ڈالا لیکن  مجھے یقین ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ان کا رد عمل غیر ضروری  اور شدید ہے ۔  اور سچی بات تو یہ ہے کہ وہ بات کہنے کے پیچھے بھی میرا ایک مقصد تھا کہ اپنے دوستوں  کو اس بات کا احساس دلاؤں کہ ہم بلاگران کے اندر جس چیز کی کمی کو میں محسوس کر رہا ہوں وہ کتنی شدت سے اپنے ہونے کا وجود یاد دلاتی ہے لیکن ہم اسے دور کر نے کی بجائے  سوال کرنے والے کو دلیل کی بجائے الزام سے نوازنے کا غیر ادبی رویہ رکھتے ہیں ۔اردو بلاگنگ ، اب مائکرو بلاگنگ سے کافی متاثر ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل مائکرو بلاگنگ کا ہے ۔ کانفرنس کے شرکاء میں کمپیوٹر کے تکنیکی امور کے ماہرین بھی شامل ہوں گے اور ان کا دھیان اس بات پر بھی ہو گا کہ تفصیلی بلاگنگ کے برعکس مائکرو بلاگنگ میں اردو کے لئے ابھی تک بہت کم سہولیات دستیاب ہیں ۔ بلاگ سپاٹ اور ورڈپریس گو کہ مائکرو بلاگنگ کے لئے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں لیکن آج کا مصروف دور اس بات کا متقاضی ہے کہ ایسے گیجٹس بنائے جائیں جن کی بدولت صارف اپنے براؤزر کی بار سے ہی مائکرو ونڈو کے ذریعے  اردو مائکرو بلاگنگ کی پیغام رسانی تک رسائی پا سکے ۔_______________________مزید باتیں پھر کبھی  ۔

شاہ ، شیخ اور شہزادہ

میرے موبائل کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی اور مجھے کچھ کچھ اندازہ بھی تھا کہ اس وقت کون مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش میں ہے لیکن میں اپنا موبائل فون جیب سے نکال کر اپنے کان تک لانے سے قاصر تھا ۔ جب آپ بند دروازے کے پیچھے بٹھا دئیے گئے ہوں اور آپ کی شہہ رگ ایک تیز دھار آلے کی زد میں ہو اور تیز دھار آلہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو کہ جس کی حرکات کی وجہ سے آپ کو "بندر کے ہاتھ میں استرا" والی مثال بار بار یاد آئے تو ایمان سے کہیے گا کہ کیا آپ اپنے جسم کو ادنی سی  جنبش دینے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں ؟ ۔ یہ شخص اپنا نام شہزادہ بتا رہا تھا لیکن کام اس کے راجوں بلکہ مہا راجوں والے دکھائی دیتے تھے جو خون ریزی کے رسیا ہوتے تھے ۔اس شخص کا ایک ہاتھ میری گردن پر تھا اور دوسرے ہاتھ میں وہ خطرناک آلہ تھا جو  میری شہہ رگ کو آن واحد میں کاٹ دینے کے لئے کافی تھا ۔ بار بار گھنٹی بجنے سے ایک گمان یہ بھی گزرا کہ شاید اس بند دروازے سے باہر حضرت عزرائیل علیہ السلام میری موت کا فرمان لے کر تشریف فرما ہیں اور فون کر کے مجھے ہلنے کی تحریک دے رہے ہیں تا کہ موت کا سبب اپنی تکمیل کو پہنچے ۔ نہ جانے اس کے جیسےاور کتنے خیالات ایک لمحے کے لئے ذہن میں آتے اور پھر ان کی جگہ نئے خیالات میرے دماغ پر قبضہ کرتے رہے ۔ تیز دھار آلے سے مسلح وہ شخص مسلسل مجھے اپنے حصار میں لئے ہوئے تھا اور اس نے اب تک اس آلے سے مجھے چند چھوٹے چھوٹے زخم لگا دئیے تھے جن سے خون بہہ رہا تھا ۔ بند دروازے کے باہر،  اٹک شہر میں ، سردیوں کی پہلی بارش ہو رہی تھی ۔ یہ سال 2015 عیسوی کے جنوری مہینے کا 13 واں روز تھا ۔ موسم خنک اور ہوا کافی زیادہ سرد تھی لیکن میں سردی سے زیادہ اس خوف کی وجہ سے ٹھنڈا ہوا جا رہا تھا جو اس تیز دھار آلے سے مسلح شخص کی وجہ سے مجھ پر طاری تھا ۔ جس جگہ مجھے بٹھایا گیا تھا اس کے بیرونی دروازے کا بالائی حصہ سرخ تھا اور اس پر میت کے چہرے جیسی پیلی مائل سفیدی سے لکھا ہوا تھا " لال گرم حمام" ۔ گو کہ میں نے اپنی اٹک آمد کی اطلاع جناب سید شاکر القادری صاحب کو دو روز قبل ہی کر دی تھی اور اس روز پشاور روڈ سے اٹک شہر کے داخلی راستے پر اپنے سفر کے آغاز پر ہی سید صاحب کے استفساری فون پر انہیں مطلع کر دیا تھا  کہ میں بس تھوڑی ہی دیر میں آپ کو اٹک شہر کے بس سٹینڈ پر دستیاب ہوں گا ۔ پشاور روڈ،  اٹک شہر سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور آج کے موٹری دور میں یہ فاصلہ 15 سے 20 منٹ میں طے ہو جاتا ہے ۔ سید صاحب نے وقت اور فاصلے کا درست اندازہ لگاتے ہوئے مجھے قریب آدھ گھنٹے بعد فون کیا لیکن میں جو "خوب سے خوب تر " نظر آنے کی کوشش میں اپنی گردن ایک استرے کے نیچے دے بیٹھا تھا اب سید صاحب کا فون سننے سے معذور تھا اور استرا بھی کسی عام   بندے کے نہیں بلکہ ایک ایسے  نائی کے ہاتھ میں تھا جو شاید اس سے قبل کسائی کے پیشے سے وابستہ رہا ہو گا اور انسداد بے رحمی حیوانات کے محکمے نے اسے اس کام کے کرنے سے بوجوہ روک دیا اور اب یہ حضرت اپنے فن کا مظاہرہ انسانی گردنوں پر دکھانے کے لئے اٹک شہر کے بس سٹینڈ پر لال گرم حمام کے نام سے زلف تراشی سے زیادہ چہرہ خراشی کے کام سے وابستہ ہو گئے تھے ۔مزید 15 منٹ  تک یاس و امید کی کش مکش میں مبتلا رکھنے کے بعد ان حضرت کوبالآخر میری ڈھلتی جوانی پر ترس آ ہی گیا ۔ چہرے اور گردن پر ان کی کلا کاری سےبرآمد ہونے والا  وہ خون  جوقطروں کی صورت میں برس رہا تھا  شاید ان کے دل میں رحم پیدا کرنے کا سبب بن گیا تھا ۔انہوں نے استرے کو میری گردن سے پرے ہٹایا ۔ ایک فاتحانہ مسکراہٹ ، جو مجھے مکروہ دکھائی دے رہی تھی ، میرے چہرے پر ڈال کر اپنے مخصوص پوٹھوہاری لہجے میں گویا ہوئے " دانے بوؤں نکلے ہوئے نے چہرے تے " ۔ یہ فقرہ بول کر گویاان صاحب نے میرے چہرے پر لگائے جانے والے زخموں پر نمک چھڑک دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ پھٹکڑی  کی مدد سے، ان زخموں  سے بہتے خون پر ،بندھ باندھنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے ۔ اب چونکہ تیز دھار آلہ مجھ پر سے ہٹا لیا گیا تھا اس لئے میں نے اپنا ہاتھ اپنی جیب کی طرف بڑھایا تا کہ شاکر القادری صاحب سے رابطہ کروں ۔ ہاتھ نے ابھی آدھا سفر ہی طے کیا تھا تو موصوف پھٹکڑی تھراپی کے دوران ہی بول پڑے "40 روپے"۔ میں نے ہاتھ کو وہیں سے واپس دوسری جیب کی طرف موڑا اور جھٹ سے 40 روپے نکال کر اس کے حوالہ کئے تا کہ وہ کسی طرح سے ان سے جان خلاصی کرواؤں۔ ایک لمحے کے لئے موصوف نے نوٹ پکڑ کر اپنے کیش باکس کی راہ لی تو میں نے بجلی کی سی تیزی سے دروازے کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔ دروازے سے باہر نکل کر دیکھا تو رم جھم میں موسلادھاری کاٹ پیدا ہو چکی تھی ۔ سید صاحب کو فون کیا ، آپ بیتی کی تفصیل میں جائے بغیر ان سے درخواست کی کہ لاری اڈے کے داخلی دروازے کے کونے میں ہی لال گرم حمام کے سامنے تشریف لے آئیں ۔ شاہ صاحب ، اپنے بلیلے پر سوار ہو کر چند ہی منٹ میں نمودار ہوئے اور میں اپنے چہرے کو رومال سے صاف کرتا ہوا ان کے ساتھ  پچھلی سیٹ پر سوار ہو گیا ۔ لیکن میری حالت یہ تھی کہ بار بار منہ پر رومال رکھ رہا تھا اوریہ  منظر اگر شاہ صاحب دیکھ لیتے تو بالیقین میرے کریکٹر کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو جاتے ۔ ---------- سید شاکرالقادری صاحب سے ایک مفید ملاقات کا احوال اگلی قسط میں ان شاء اللہ ۔

احتیاط لازم ہے

وہ بہت خوب صورت تھی ۔ اتنی خوب صورت کہ اس کی ہم عصر اس پر رشک کیا کرتیں ۔ اس کی اعضاء کا تناسب  اور جسم کے ابھار پوری تابانی کے ساتھ دیکھنے والوں کو یوں اپنی طرف متوجہ کر لیتے کہ نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا ۔ حسن و خوبصورتی کی پوری قوس قزاح  کے انگ انگ سے  جھلکتی تھی۔ اس کی سبک خرامی کے کیا کہنے ۔ ایسی مستانی چال کی مالک تھی کہ دیکھنے والا اس پر عاشق ہو جائے ۔ اس کا شباب اسے زمین پر پاؤں نہ رکھنے دیتا یو ں لگتا کہ وہ ہواؤں میں اُڑتی چلی جا رہی ہے ۔ وہ گھر سے باہر نکلتی تو ہر کسی کی نظر کا نشانہ بنتی ۔ اس کا حسن و شباب اپنی جگہ پر لیکن ایک مرد کی غیرت کیسے گوارہ کر سکتی ہے کہ اس کی " ملکیت" کو کوئی دوسرا مرد میلی آنکھ سے دیکھے اسی لئے وہ جب بھی اس کے ساتھ گھر سے باہر نکلتا تو اس کے پردے کا خاص  خیال رکھتا ۔ تا کہ اس کے حسن کو کسی کی نظر نہ لگے ۔ وہ اسے زمانے کی نظروں اور حالات کی برائی سے ہر صورت بچا کر رکھا کرتا لیکن وہ اتنی لا پرواہ تھی کہ گھر سے نکلتے ہی اسے نہ اپنے پردے کا ہوش رہتا  نہ اپنی چال پر قابو۔ وہ اب کسی حد تک خود سر بھی ہو چکی تھی اور تو اور اب وہ سیاست میں بھی دلچسپی لینے لگی اور کبھی کبھار کسی سیاسی میٹنگ یا جلسہ میں بھی شرکت کرتی ۔ وہ جہاں بھی جاتی وہیں لوگ اس کی تعریفیں کرتے ۔ جب وہ سیاست میں زیادہ ہی دخیل ہو گئی تو بہت سارے لوگوں کی نظروں میں رہنے لگی اور وہ لوگ اس کی دیگر مصروفیات پر بھی نظر رکھنے لگے ۔ اس کی چند مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے انتظامیہ نے پولیس کو بھی اس پر نظر رکھنے کے آرڈر دے دئے ۔

ایک دن  مرد اسکے ساتھ گھر سے نکلا  تو شاہراہ پر چلتے ہوئے پولیس نے ان دونوں کو روک لیا ۔ پولیس نے مرد سے ضروری دستاویزات طلب کیں لیکن وہ پیش نہ کر سکا ۔ چند منٹ کی بحث و تکرار کے بعد پولیس آفیسر نے فیصلہ سنا دیا کہ چونکہ یہ غیر قانونی سیاسی سرگیوں میں ملوث رہتی ہے اس لئے اسے گرفتار کر کے تھانے لے جانا پڑے گا ۔ مرد نے بہتیرا کہا کہ آپ اسے میرے بغیر تھانے کیسے لے جا سکتے ہیں لیکن پولیس کے پاس معقول عذر تھا کہ تم لوگ کسی بھی دستاویزات کے بغیر پھر رہے ہو اس لئے یہ تو تھانے جائے گی ۔ مرد سے کہہ دیا  گیا کہ تم ضروری دستاویزات لیکر تھانے پہنچو تا کہ اسے اور تمہیں صاحب کے سامنے پیش کیا جا سکے ۔مرد کو دستاویزات نہیں مل رہی تھیں لیکن وہ ہر روز اس کو تھانے میں جا کر دیکھ آتا ۔ اسے یہ دیکھ کر قدرے اطمینان ہوتا کہ وہہاں وہ اکیلی نہیں ہے بلکہ اس کی دیگر سیاسی ساتھی بھی ہیں جن کو اسی الزام میں وہاں رکھا گیا تھا ۔ تین چار روز کی تلاش بسیار کے بعد دستاویزات مرد کو مل ہی گئیں ۔ اب اسے جلدی تھی کہ وہ اسے وقت ضائع کئے بغیر گھر واپس لے آئے نہ جانے وہاں اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ پولیس والے کیا سلوک کرتے ہوں گے ۔ کیونکہ تھانے میں چند روز گزارنے سے ہی اس کا حسن ماند پڑ گیا تھا ۔ جسم کی خوبصورتی و تابانی پہلے جیسی نہ رہی تھی ، رنگ روپ  بھی مرجھا گیا تھا اس لئے مرد کو یہ کھٹکا تھا کہ ضرور اس کے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے ۔ مرد نے بڑے صاحب کے سامنے دستاویزات پیش کیں ۔ بڑا صاحب مرد کے ساتھ چل کر خود اس تک گیا ، اسے تیکھی نظروں سے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بڑی ڈھٹائی سے اس کے جسم کو بہانے بہانے سے چھوا ۔ مرف یہ سب دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔ بالآخر دفتر میں واپس آ کر بڑے صاحب نے اسے منشی کے کمرے میں جانے کو کہا ۔ وہاں منشی نے اس سے اپنا خرچہ پانی لیا   اور بطور خاص یہ وعدہ لیا کہ وہ آج کے بعد سے کسی سیاسی جلسے میں شریک ہو گی نہ کسی سیاسی سرگرمی میں شرکت کرے گی ۔ مرد نے یہ سب کچھ تحریر کر کے دیا کہ وہ اب اسے  ہر قسم کی سیاست سے دور رکھے گا۔ یوں مردکو اسے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت  مل گئی ۔لیکن مرد کو جس بات کا ڈر تھا وہ ہو چکی تھی ۔ جب وہ اسے ساتھ لے جانے کے لئے اس کے پاس آیا تو وہ بالکل گم صم اور اداس کھڑی تھی ۔ گویا کہ اس کا سب کچھ لٹ چکا تھا ۔ اس کی رنگت و شوخی تو غائب تھی ہی اس کا جسم بھی خاصا منحنی و مضمحل تھا ۔ جب اسے ہلا جلا کر ہوش میں لایا گیا تو پتہ چلا کہ کہ اس کی آوازبھی بیٹھ چکی ہے ۔ اس کا نطام استخوان شدید متاثر ہو چکا تھا ۔ وہ بغیر سہارے کے کھڑی بھی نہیں ہو پا رہی تھی ۔ بار بار کھانستی اور پھر مردے کی طرح ساکت ہو جاتی ۔  اس کی روشن پیشانی پر ایک بڑا سا گڑھا پڑ چکا تھا ۔ اس کے جسم کے دیگر نطام بھی تباہ ہو چکے تھے کیونکہ اس کے اعضائے خفیفہ و اعضائے رئیسہ کے ساتھ بڑی بے دردی سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی ۔۔  کئی دنوں سے اسے بھوکی رکھا گیا تھا لہذا اس کی حرارت غریزی اب حرارت گریزی کی سطح پر پہنچ چکی تھی ۔ اس کی پشت پر تشدد کے اثرات نمایاں تھے۔ 
مرد بے چارہ مرتا کیا نہ کرتا ۔ اسے ایسی حالت میں وہاں بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔ اس لئے اپنی نئی نویلی ہنڈا 125 یورو 2014 کو اس بری حالت میں ہی گدھا ریڑھی پر لاد کر گھر کو چلتا بنا ۔

بلاگ کا انتقال

قارئین کرام ، میرا یہ بلاگ اب ایک نئے ربط پر منتقل کر دیا گیا ۔ گو کہ پرانی تحاریر یہیں پر موجود رہیں گی لیکن اب یہاں
کوئی نئی تحریر پیش نہیں کی جائے گی ۔ نئی تحریروں کے لئے آپ کو ذیل کے ربط پر تشریف لانا ہو گی ،

http://sajidsh.blogspot.com/

لہذا پہلی فرصت میں ہی اپنے بک مارکس میں میرے بلاگ کا نیا ایڈریس محفوظ فرما لیجئے ۔

سراب کے اسیر

میرے گھر کے ارد گرد کی گلیوں میں اتنی زیادہ مساجد ہیں کہ متصلہ چوک کو مساجد سکوائر کہا جا سکتا ہے ۔ ایک گلی میں تو چند قدم کے فاصلے سے دو مختلف مکاتب فکر کی مساجد ہیں اور ہر عیدالفطر پر ان کے درمیان عید کی نماز کے لئے بینر لگانے کا مقابلہ یوں ہوتا ہے کہ اس پر موبائل کمپنیوں جیسی کاروباری رقابت کا گماں گزرتا ہے جبکہ عید الاضحٰی پر اس کشاکش میں " جنگ چرم " کا گھمسان بھی پڑ جاتا ہے ۔ اگر کسی وقت ان مساجد کی مقابلہ بازی کی وجہ سے عقل کے ساتھ ساتھ کچھ بندے بھی اپنی جان سے گزر گئے تو کسی نہ کسی فرقے کے "شہداء" کی تعداد میں اضافہ یقینی ہے اور اگر "شہادت" کا ہما بیک وقت دونوں فرقوں کی منڈیر پر جا بیٹھا تو سمجھ لیجئے کہ پھر بلخ و بخارے کی تمیز ختم ہو جائے گی ۔
 اب ایسی شہادتوں کا خدشہ یوں بھی زیادہ رہتا ہے کہ ہر بندہ ہی اپنے فرقے کی خاطر " جہاد" کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے اور دوران وعظ منبر پر براجمان اپنے " شَیخ یا فاتح مخالفیت" کی طرف فرط عقیدت سے یوں دیکھ رہا ہوتا ہے کہ جیسے کہہ رہا ہو " دل دیاہے جاں بھی دیں گے اے صنم تیرے لئے " ۔ خاکسار چونکہ اس قبیل کا "فعال" مسلمان نہیں ہے اس لئے مذکورہ دو مساجد کے علاوہ بھی کسی مسجد میں جانے سے ہرگز نہیں ہچکچاتا شاید یہی وجہ ہے کہ خاکسار کو کوئی بھی فرقہ " دلدار و وفادار" نہیں مانتا کیونکہ آج کل "وفاداری بشرط استواری" کا زمانہ ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب خلیل خاں بھی فاختہ اڑانے کی بجائے بندے" اڑانے" لگے ہیں ـــ وہ بھی ٹرپل ٹو سے ۔ سنا ہے کہ پہلے وقتوں میں مسلمانوں کے دشمن کسی "مشکوک" کا زیر جامہ اتار کر یہ دیکھا کرتے تھے کہ اگراس کی " مسلمانی" ہوئی ہے تو اسے پار کر دیا جائے لیکن اب چونکہ ہم سب نے پہلے ہی سے ایک دوسرے کی "اتار کر رکھ دی ہے" اس لئے یہ کشٹ اٹھانے کی حاجت نہیں ہے بس "گھوڑا" دباؤ اور بندہ پھڑکاؤ ۔ اگر پھڑکنے ولا مسلمان ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ داخلی سے لے کر بین الاقوامی سطح پر اس قتل کو قتل مانا ہی نہیں جاتا اور کچھ " بے ہدایت" تو اسے عین سعادت سمجھتے ہیں ـــ مرنے والے اور مارنے والے بھی ۔ اور اگر مارا جانے والا غیر مسلم ہے تو پھر ہم سو جوتے کے ساتھ سو پیاز بھی کھا لیں گے لیکن اپنا لہو گرمانے کے لئے دوسروں کا لہو بہانے سے نہیں رکیں گے تا وقتیکہ کسی دن خود بھی لہو لہو ہو کر کسی سڑک کنارے پڑے مل جائیں یا ہماری باقیات بجلی کے تاروں اور درختوں کی شاخوں پر جا اٹکیں ۔ وقت کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسے بریکوں کے بغیر تخلیق کیا ہے اور یہ ہمارے لئے کبھی نہیں رُکتا اور نہ ہم اسے روک سکتے ہیں لہذا جب ہم اس کا ساتھ نہیں دیتے تو ہم سے بہت دور نکل چکا ہوتا ہے ۔ لیکن آنے والی نسلیں جو وقت کے ساتھ چل رہی ہوتی ہیں وہ جب ہمارے مساکن و مقاتل کے پاس سے گزرتی ہیں تو پھر تلوار کی بجائے قلم کے نوک سے ہمارے بو سیدہ جسموں کو کھرچتے ہوئے ان پر تحریر کرتی ہیں " یہ باقیات ہیں ان کی جو اپنےوقت کے مہذب ترین لوگ ہوا کرتے تھے لیکن جب انہوں ن ے تہذیب کی جگہ وحشت اپنا لی تو وقت کا ساتھ نہ دے سکے اور ایک دوسرے کو روندتے روندتے سب ختم ہو گئے " ۔

علی رضی اللہ عنہ مشکل کشا ہے


علامہ تاثیر انصاری مرحوم ہمارے اردو کے استاد ہوا کرتے تھے ۔ بڑی نفیس شخصیت کے مالک اور بذلہ سنجی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ عمر کا بڑا عرصہ ایران میں گزرا تھا اور ان کی اہلیہ بھی ایران سے تعلق رکھتی تھیں ۔سردیوں کی ایک دوپہر میں دوران تدریس ہمیں قصہ سنایا کہ ؛" ایک بار میرا برادر نسبتی ایران سے آیا ہوا تھا ۔ ہمارے گھر میں سردی کے موسم میں حسب معمول سیخ کباب بنائے جا رہے تھے ۔ ہوتا یوں تھا کہ سارا کنبہ ایک دائرے کی شکل میں کوئلوں کی انگیٹھی کے گرد بیٹھ جاتا اور ہر کوئی اپنے ہاتھ سے سیخ میں کباب پروتا ، سینکتا اور کھاتا جاتا تھا ۔مہمان تک کبابوں کی خوشبو پہنچی تو سفر کی تھکن بھول گئی اور اشتہا اتنی غالب ہوئی کہ موصوف کباب کھانے آ بیٹھے ۔ ایک دو کباب کھائے ،مزیدار لگے تو کافی زیادہ کھا گئے ۔ ایرانی لوگ چونکہ ہماری نسبت بہت کم مرچ کا استعمال کرتے ہیں لیکن کبابوں میں ملائے گئے مصالحوں نے مہمان کو زیادہ کھانے پر مجبور کر دیا ۔ دن ڈھل گیا ، رات ہو گئی ۔ سب لوگ اپنے اپنے بستر پر دراز ہو گئے لیکن مہمان موصوف بار بار بیت الخلاء کے چکر لگانے لگے۔ مصالحہ جات اپنا کام خوب دکھا رہے تھے ۔ آٹھ دس چکر لگانے کے بعد میرے برادر نسبتی کی ہمت جواب دینے لگی اور وہ نڈھال سے دکھائی دینے لگے لیکن پیٹ کے مروڑ انہیں بار بار بیت الخلاء کے چکر لگانے پر مجبور کر رہے تھے ۔
پھر یوں ہوا کہ موصوف کافی دیر تک بیت الخلاء میں بیٹھے زور لگاتے رہے لیکن جلن کا احساس کم نہیں ہو رہا تھا ۔ اب کی بار جو انہوں نے زور لگایا تو ان کے منہ سے نکلا " یا علی ادرکنی" ، تو میں جو ان کا پتہ لینے بیت الخلاء کی طرف جا رہا تھا اس آواز پر چونک گیا ۔ میرے دل میں شرارت سوجھی تو مین نے وہیں کھڑے کھڑے آواز دی " او میرے بھائی ، علی مشکل کشا ہے قبض کشا نہیں " ۔ "علامہ تاثیر انصاری اب دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کا انداز تعلیم اور دوستانہ رویہ آج بھی میرے دل کو گدگدا دیتا ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کی زبان سے سنا ہوا کوئی مزیدار سا واقعہ اکیلے میں میرے شعور میں ابھرتا ہے اور میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر کر ان کی عظمت کی یاد دلا دیتا ہے ۔ اللہ کریم ، ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔

آہ مسمی کا جوس

آج میں مال روڈ کے کنارے ایک بس سٹاپ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میرے سامنے کچھ فاصلے پر ایک جوس کا ٹھیلا لگا تھا جس پر لکھا تھا مسمی اور مالٹے کا جوس 30 روپے ۔ میں خود کو وی آئی پی نہیں سمجھتا لیکن ایسی جگہوں پر برتنوں اور چیز کی تیاری میں صفائی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہوں۔ عام طور پر ریڑھیوں والے جوس اور گنے کے رس والے جھوٹے گلاسوں کو پانی کی ایک ہی بالٹی ہی ڈبو ڈبو کر نکالتے رہتے ہیں اور کچھ تو "بہتر نتائج" کی خاطر صبح سے رات تک ایک ہی کپڑے سے انہیں صاف بھی کرتے رہتے ہیں ایسی صفائی سے گلاسوں کی صفائی سے زیادہ انسانی صحت کی صفائی ہو جاتی ہے اور ہیپا ٹائٹس کو قابو میں رکھنے کی خاطر پیا گیا گنے کا جوس ان "صاف" گلاسوں کی وجہ سے دوسروں افراد کو بھی اس موذی مرض سے دوچار کر دیتا ہے۔لیکن آج معاملہ خوش کن تھا ۔ میرے سامنے کھڑا جو س والا گلاسوں کو تازہ پانی سے دھو رہا تھا ۔ اس نے ایک بڑا  ڈرم صاف پانی سے بھر کر رکھا تھا اور اس کے برابر تھوڑی جگہ چھوڑ کر پلاسٹک کی ایک بڑی بالٹی رکھی تھی۔ ڈرم سے پانی کا مگ بھرتا اور جھوٹے گلاس کو بالٹی کے اوپر تازہ پانی سے یوں دھوتا کہ پانی سے سڑک پر کیچڑ نہ بنے ۔ دو تین گاہک آئے ، جوس پیا اور چلے گئے اور جوس والے نے ہر بار گلاس دھونے کا یہی طریقہ اختیار کیا تو دل چاہا کہ جوس پینے کی عیاشی کی جائے ۔  بس سٹاپ کے بنچ سے کسلانہ انداز میں ہلا ، "سلیم شاہی جوتا" پاؤں میں پہنا اور خراماں خراماں ٹھیلے کی طرف چل پڑا ۔ ٹھیلے والا اپنی دھن میں مگن تھا ۔ اسی دوران ایک شخص نے جوس پی کر گلاس واپس کیا تو اس نے حسب سابق ڈرم سے مگ میں تازہ پانی لیا  اور گلا س کو بالٹی کے اوپر کر کے دھویا ۔ لیکن اب کی بار اس نے یہ بھی کیا کہ  گلاس دھونے کے بعد مگ کو اپنے منہ سے لگایا ۔ مگ میں بچے ہوئے پانی سے منہ بھرا اور گلاس کو ہاتھ میں پکرے پکڑے ایک زور دار کلی اس انداز سے کی کہ اس کلی  کا پانی تو بالٹی میں گیا لیکن ساتھ پڑا صاف پانی کا ڈرم اور ہاتھ میں پکڑا گلاس بھی اس کے چھینٹوں میں نہا گیا ۔ اور پھر اس صفائی کا اختتام اسی جھوٹے مگ کو صاف پانی والے ڈرم میں واپس ڈالنے سے ہوا ۔ اُدھر گلاس صاف ہوا اور اِدھر میری طبیعت صاف ہو گئی ۔ یوں جوس پینے کا جوش اتر گیا ۔

بابو اور بابا


اسی جمعے کی بات کر رہا ہوں جو پرسوں ہی گزرا ہے ، ہاں بھئی اسی دن کی جب میں آوارہ گردی کرنے نکلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دن میں کوٹ لکھپت ریلوے اسٹیشن بھی پہنچ گیا ۔ سردی کی ویران شام اور اس سے بھی زیادہ ویران اسٹیشن ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھمبوں پر ٹوٹے ہوئے بلبوں کے آثار ۔ کتوں کی بہتات ۔ کچھ فاصلے پر ریل کی پٹڑیوں کے درمیان نشئیوں کی چوپال در چوپال ۔ ناکام عاشق کے دل کی طرح ٹوٹے ہوئے بنچ ۔ بیوہ کی مانگ کی طرح اجڑی انتظار گاہ ۔ وقت گزاروں سے آباد دفاتر ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیاس لگے تو پانی ندارد ۔ ریلوے لائن کے اُس پار بھاگتی دوڑتی گاڑیوں سے آباد پیکو روڈ کی طرف دیکھیں زندگی کے رواں دواں ہونے کا احساس اور اِس پار جمود کی نحوست کا راج ۔
یہ جمود اس وقت ٹوٹا جب لاہور کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کی جانب سے ایک ٹرین چیختی چلاتی ہوئی آئی اور اسٹیشن پر رُکے بغیر اسی سُبک رفتاری سے یہ جا وہ جا ۔ اس کی ساری بوگیاں قدرے نئی تھیں اور رفتار اور حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ کوئی بزنس کلاس قسم کی ٹرین ہے جو کراچی پہنچنے تک چند ایک جگہوں پر ہی رُکے گی ۔
میں ٹرین کے گزرنے کے بعد اڑنے والی گرد کو دیکھ کر نہ جانے کیا سوچنے لگ گیا تھا کہ پہلو سے ایک آواز سنائی دی " صاحب جی  ایہہ کیہڑی گڈی سی " ؟۔ یہ اس ادھیڑ عمر شخص کی آواز تھی جو دھیرے دھیرے چلتا ہوا اب میرے پاس آ کھڑا ہوا تھا ۔ میں نے گرد کی طرف نظریں جمائے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم یہ کون سی ٹرین تھی ۔ کچھ دیر تک خاموشی کا راج رہا پھر اسی نے خاموشی توڑی اور میری توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہوئے بولا " تساں کتھے جاناں اے "؟ ۔ میں نے الفاظ سے زیادہ نفی میں سر ہلانا مناسب سمجھا ۔ وہ سیدھا سادہ دیہاتی ان نزاکتوں کو بھلا کیا سمجھتا ۔ کہنے لگا " ٹھند وددھی پئی اے تو تہاڈے کول تے کوئی چادر لوئی وی نئیں " ۔ تب میں دوسری بار اس سے مخاطب ہوا کہ مجھے کہیں نہیں جانا ۔ میں تو یہ دیکھنے آیا ہوں کہ ریلوے کی حالت کیا ہے ۔ اس دیہاتی نے سر کو ہلکی سی جنبش دی اور میری بات کو سمجھتے ہوئے بولا " حالت تے تہاڈے سامنے اے ۔ 9 گڈیاں آؤندیاں سن تے ہُن 3 رہ گئیاں نیں" ۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک مزدور ہے اور 13 برس سے لاہور شہر میں مزدوری کرنے کے بعد بذریعہ ٹرین نواحی قصبے واپس جاتا ہے ۔ ٹرین اندھیرا ہونے سے پہلے آ جائے تو اس میں جاتا ہے نہیں تو پٹڑی پار کر کے دوسری طرف جا کر بس میں سوار ہو جاتا ہے ۔ اسی سے مجھے معلوم ہوا کہ اب ٹرینوں کی آمد و رفت میں بس اتنی بہتری ہوئی ہے کہ راستے میں ان کے انجن فیل نہیں ہوتے اور جو ٹرینیں چل رہی ہیں وہ عام طور پر ٹھیک وقت پر آ جاتی ہیں ، زیادہ ذلیل نہیں کرتیں ۔
پھر وہ خود ہی گویا ہوا کہ یہ ٹرین جو ابھی گزری ہے یہ کراچی جائے گی اور راستے میں 3 یا 4 جگہ رُکے گی ۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اس نے مجھ پر ایک اور سوال داغ دیا " صاحب جی ایہہ گڈی رحیم یار خاں رُکے گی ناں "؟ ۔ میں نے قدرے بیزاری سے جواب دیا " مجھے کیا پتہ رُکے گی یا نہیں" ! ۔ اس نے پھر سے سلسلہ کلام جوڑا " اک گل ہے ، ایہہ گڈی جے رحیم یار خاں نا رُکی تے خانپور تے لازمی رُکے گی ۔ اُتھے ہر گڈی  رُکدی اے " ۔ میں چونک گیا کیونکہ میری معلومات کے مطابق خانپور ریلوے اسٹیشن جنکشن نہیں ہے ، لہذا میں نے بیزاری کو بر طرف کرتے ہوئے اس سے پوچھا " کیوں جناب آپ کس یقین پہ کہتے ہو کہ یہ ٹرین خانپور ضرور رکے گی؟ ۔ وہ بولا " تہانوں نئیں پتہ صاب جی ، اوتھے ریل دیاں پٹڑیاں دے نال اک بزرگ دا دربار اے ۔ ہر گڈی اوتھے کھڑی ہو کے اوہنوں سلام کردی اے ۔ جے ناں کرے تے او اپنی منزل تے نئیں پہونچدی ۔ اک واری اک "بابو" نے اوتھے گڈی ناں روکی تے "بابے" نے اوس گڈی نو پچھے کھچ لیا تے اوس تو بعد اج تیکر ہر گڈی اوتھے لازمی رُکدی اے " ۔
میرا مخاطب ابھی اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا لیکن میرا دماغ اب ٹرین کی گرد سے ہٹ کر " بابو " کی ہٹ دھرمی اور " بابے" کی طاقت پر اٹک گیا تھا ۔ یہ قوم "بابو" اور "بابے" کے حصار سے باہر کب نکلے گی یار ؟ ۔ ہماری قومی ٹرین کب تک کسی نہ کسی  " بابو " کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے "بابوں" کے ذریعے پیچھے کی طرف " کھینچی " جاتی رہے گی ؟۔

" اچھا باجی " !!!

لو جی ، آج طویل عرصے بعد ہم نے لاہور کے چند علاقوں میں " آوارہ گردی " کی ۔ جمعہ کی نماز پڑھ کر ڈیفنس کے علاقے میں ایک دوست کے الیکٹرک سٹور پر اس سے ملنے چلا گیا ۔ یہ دیکھ کر تو اطمینان ہوا کہ الیکٹرک کے سٹور پر الیکٹرک موجود تھی لیکن  دل میں کھٹکا ہوا کہ دوست پھر بھی پریشان ۔ میں نے الو جیسی بوتھی بنانے کا سبب بوچھا تو بولا " یار جب سے لوڈ شیڈنگ کم ہوئی ہے یو پی ایس کا دھندہ تو جیسے ختم ہی ہو گیا ہے " ۔ یہ بات سُن کر مجھے یقین ہو گیا کہ اُس کی صرف بُوتھی ہی الو جیسی نہیں بلکہ وہ خود بھی بہت بڑا الو ہے :)
اس اثناء میں اس کی دکان کے باہر ایک پراڈو نے بریک لگائی ۔ ڈرائیونگ سیٹ کا کالا شیشہ نیچے ہوا تو اندر کا انتہائی ماڈرن " چاند " کالا چشمہ پہنے نظر آیا ۔ چاند نے دکان کا سرسری جائزہ لیا اور پھر دوست کی دکان پر " چڑھ " آیا ۔ 34 فیصد ااردو33فیصد انگریزی اور 33 فیصد پنجابی میں گویا ہوا کہ " مجھے ایک اوپن فٹنگ کا فین ڈمر چاہئیے ۔ نوکر دے کمرے دا سڑ گیا اے َ"۔  دکان دار دوست نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے قصائی کٹے کو خریدتے وقت اس میں گوشت کا حساب لگاتے وقت دیکھتا ہے اور ساتھ ہی " اچھا باجی " کہتے ہوئے ڈمر اٹھانے چلا گیا ۔ میں سوچتا رہ گیا کہ اس اہل خرد کی " نظر " کا اعتبار کروں یا " زبان " کا :)
تھوڑی دیر بعد ، "باجی " کے سامنے ، 3 اقسام کے فین ڈمر سجا دئیے گئے ۔ 2 پر اعلی قسم کے پنکھے بنانے والی کمپنیوں کے نام درج تھے اور تیسرے پر ایک ملٹی نیشنل الیکٹرک کمپنی کا نام ؛ لیکن وہ تمام کے تمام مقامی طور پر تیار شدہ تھے اور ان کمپنیوں کا ان ڈمرز کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا ۔ میرے دوست نے اپنی " باجی " کو ان کی قیمت بالترتیب 200 اور 250 روپے بتائی جبکہ تیسری " ملٹی نیشنل قسم " کا ریٹ 350 بتایا اور کہا کہ اس کی چھ ماہ کی وارنٹی بھی ہے ۔ " باجی " چونکہ ڈمر کا تقاضا کرتے ہوئے دو تین بار اچھی قسم کے ڈمر کا تقاضا کر چکی تھی اس لئے بلا تردد اس نے " ملٹی نیشنل " ڈمر اٹھایا ، اپنے پرس سے 350 روپے نکال کر اس کے حوالے کئے اور اگنیشن مین چابی ڈال کر یوں گھمائی کہ شاید اس کی قوت مزاحمہ کا امتحان مقصود ہو ۔ ایکسیلیٹر پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی پاؤں دبایا اور گاڑی ہلکی سے چیخ مار کر سڑک پر بھاگنے لگی ۔
ایک بار پھر دکان پر میں تھا اور میرا دوست ۔ میں نے ذرا سے مصنوعی غصے کے ساتھ پہلے تو اپنے دوست کے شجرہ نسب کا پوسٹ مارٹم کیا اور پھر پوچھا  "ابے ڈھکن جو ڈمر تو  45 روپے میں خریدتا ہے اسے 350 روپے کا بیچتے ہوئے تجھے شرم نہیں آئی ، اور یہ کیا بکواس تھی کہ ایک ہی بندے کے ہاتھ کے بنے ڈمرز کہ جن پر مختلف کمپنیوں کے نام وہ جعلسازی سے لگاتا ہے تو نے نہ صرف اصلی بتائے بلکہ تونے اپنی " باجی " کو  ایک کی تو 6 ماہ کی وارنٹی بھی دے ڈالی "۔
اب اس کے بولنے کی باری تھی ، وہ بولا " تم نہیں سمجھو گے بھولے بادشاہ ۔ اگر میں اس ڈمر کا 100 روپیہ بھی مانگ لیتا تو اس " باجی " نے کبھی نہیں خریدنا تھا کیونکہ اس کی نظر میں اچھی چیز اتنی سستی نہیں ہو سکتی دوسرے یہ کہ ان امیر لوگوں کو یاد ہی کب رہتا ہے کہ ہم نے کون سی چیز کب ، کہاں سے اور کتنے میں خریدی تھی تو وارنٹی سے کیا خطرہ ؟ اور مان لو کہ وہ ڈمر واپس لے بھی آئے تو میں نے پیسے ہی اتنے کما لئے ہیں کہ مجھے اس کو تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ بھی تو سوچو کہ وہ واپس لائے گی کیسے ؟ اس نے مجھ سے کوئی رسید وغیرہ  تو لی ہی نہیں  " ۔
اس کا بیان ختم ہونے تک ، الو ہونے کی میری جو رائے اپنے دوست کے بارے میں تھی وہ دوست کی " باجی " کی طرف منتقل ہو چکی تھی ۔
سچ ہی تو ہے کہ ہم سب ایک دائرے میں کولہو کے بیل کی طرح گھوم رہے ہیں جن کی آنکھوں پر دھوکے اور لالچ کی پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ جیسے میرے دوست نے اپنی " باجی " کو  الو بنایا بالآخر وہ " باجی " بھی کسی نہ کسی کو تو  الو بنا کر اس دائرے کی تکمیل کرتی ہو گی اور اگر نہ بناتی ہوتی تو اسے یہ تو پتہ ہوتا کہ میں کس چیز کی کیا قیمت ادا کر رہی ہوں اور ویسے بھی کالے شیشے اور کالے چشمے "روشنی" کا گزر روکنے ہی کے لئےتو لگائے جاتے ہیں ۔

ہم سب چور ہیں

ہاں جی توایک بار پھر میری بات دھیان سے سنئے کہ آپ چور ہیں ۔ آپ ہی کیا وہ چو ماتھے پہ تیوریاں ڈالے ، مجھے دیکھتے ہوئے ، زیر لب کچھ  بُڑبڑائے جا رہا ہے وہ بھی چور ہے ، وہ ، جوعینک کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی موٹی موٹی خوفناک آنکھوں والے صاحب ہیں ، بھی چور ہیں ۔ ارے ہاں یاد آیا اپنے مولوی صاحب کو بھی تو میں نے چوری کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یار مولوی صاحب کے نام پر جذباتی مت ہو ، ذرا عنوان پر غور کرو " ہم سب چور ہیں " تو کیا آپ نے مجھے "ہم" سے باہر سمجھ لیا ؟ نہیں سجنو ایسی بے گانگی اچھی نہیں ہوتی میں بھی آپ ہی میں سے ہوں اور آپ ہی کی طرح چور ہوں ۔  سوچئے کہ ہم نے کب کب اور کہاں کہاں چوری کی ؟ ۔ نہیں نہیں میں وہ بات نہیں کر رہا ، پریشان مت ہوں ، کسی کے "چاند" پر گاٹی ڈالنا تو آج کے دور میں چوری کے زمرے سے نکل چکا ہے  اورابا جی کی ، کھونٹی پر لٹکتی قمیص کی ، جیب پر "کمند"  ڈالنا تو ہمارے سائنسی تجربات کا عملی مظاہرہ ہے۔  میں جس چوری کی بات کرنے جا رہا ہوں وہ ذرا "وکھری" ٹائپ کی ہے ۔ اگر آپ کی یاری کمپیوٹر نامی یار سے ہے تو  اس یار کی فرمائش پوری کرنے کے لئے آپ یہ چوری اس وقت کرتے ہیں جب 30 یا 50 روپے کی ڈسک خرید کر یا کسی دوست سے سی ڈی/ یو ایس بی مانگ کر اس پر ونڈوز کا کوئی ورژن انسٹال کرتے ہیں۔ پھر اس چوری شدہ ونڈوز کو استعمال کرتے ہوئے ہم "پاکیزہ" عشق لڑاتے ہیں ، "سچی" دوستیاں کرتے ہیں، اخلاقیات کے بھاشن جھاڑتے ہیں نیز مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور میں بھی اسی چوری شدہ "ونڈوز" کا استعمال کرنے کے باوجود آپ کو چوری سے منع کرنے کی "منافقت" کر رہا ہوں۔ گویا کہ "چور مچائے شور" والا معاملہ بھی درپیش ہے :) تو کیا کریں؟ اب عشق لڑانا چھوڑ دیں ؟ دوستیاں کرنا چھوڑ دیں ؟ بھاشن جھاڑنا چھوڑ دیں ؟ یا پھر مذہب کی تبلیغ چھوڑ دیں؟ ۔ ۔۔۔۔؛؛؛؛؛؛ہاں جی میں نے سُن لیا کہ  آپ اب مجھ پردل ہی دل میں  تین یا تین سے زیادہ حروف سے بنے "مرکبات" پھینک رہے ہیں اور اگر میرا بھاشن کچھ دیر مزید جاری رہا تو مجھ پر "سفوف"  "معجونات" اور "مغلظات" کی بارش ہونا بھی بعید از قیاس نہیں۔ آخری "تین" حروف خالص حکیمی ہیں اور کوئی حکیم صاحب ہی ان کی "خلعتوں اور خلطوں" کو سمجھ سکتے ہیں اس لئے باقی احباب اپنے دماغ کی لسی بنانے کی بجائے آگے پڑھتے جائیں تا کہ "جریانِ خیالاتِ مفسدہ"  اور " تبخیرِ صرفی و نحوی" کے عوارض کا شکار نہ ہو جاویں۔ :) تو جناب ہم نے چوری کی جس قسم کا ذکر کیا ہے اس سے بچنا نا صرف ممکن ہے بلکہ نہایت آسان بھی ۔ یہ ہماری "بیک ورڈی" سمجھئے یا خوش بختی کہ ہم ابھی تک اخلاقیات کو تنہا یا مذہب کے ساتھ ملا کر حیوان ناطق اور حیوان غیر ناطق کے درمیان فرق کرنے کا پیمانہ سمجھتے ہیں ۔ تو ہمارے "پیمانے" کے مطابق چوری سے بچنا چاہئیے بھلے وہ کتنی ہی خفیف کیوں نہ ہوکیونکہ چوری ایک غیر اخلاقی عمل ہے ۔ یہ بات ہمسائے کے "چاند" پر گاٹی ڈالنے والوں پر بھی پوری طرح لاگو ہوتی ہے کہ وہ سنگین نوعیت کی چوری بلکہ ڈاکہ  ہے ۔
تو جناب جب تک مارکیٹ میں کمپیوٹر یار کی فرمائش پوری کرنے کے لئے ہماری مالی حالت سے کہیں زیادہ مہنگی ونڈوز ہی دستیاب تھی تب تک تو "یار" کی خوشی کے لئے بہ امر مجبوری اس چوری کا ارتکاب ہم سب کو کرنا پڑتا تھا لیکن اب ہمارا "یار" بالکل مفت میں بھی راضی کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی چوری کئے بغیر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ "مفتا" ہماری "تخلیقی " صلاحیتوں کے اظہار کے لئے بھی بہت موزوں ہے ۔ اب آپ "تخلیقی" پر غور کرتے کرتے اپنی صلاحیت ضائع نہ  کریں :) اس مفتے کا نام ہے " لینکس " ۔ نام تو سنا ہو گا آپ نے ؟ تو کیا خیال ہے کہ اس کو استعمال کرنے کے بارے میں ؟ ۔اس کے بہت سارے ورژن دستیاب ہیں ۔ جو اچھا لگے اس کو ڈسک یا یو ایس بی پر اتاریں اور موجیں ماریں۔ اوپن سافٹ وئیر ہونے کے سبب  اپنی مرضی سے چلانے کی بے انتہا آزادی دیتا ہے جس کا ونڈوز پر تصور ہی کیا جا سکتا ہے ، انٹر فیس ، مینوز اور 3D کی من مرضی کی سیٹنگز تو ہیں ہی ساتھ ہی  اوپن مصدر ہونے کی وجہ سےیہ ونڈوز کی نسبت وائرس سے زیادہ محفوظ بھی ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہے کہ ابھی تک اس پر وائرس کا حملہ شاذ ہی ہے ۔  براؤزنگ اور سرفنگ میں ونڈوز سے تیزرفتار ہے نیز ونڈو کو ختم کئے بغیر اس کے برابر میں انسٹال بھی کیا جا سکتا ہے۔ سیمپل چیک کرنے کے لئے اس کو یو ایس بی یا سی ڈی سے  انسٹال کئے بغیر بھی چلایا جا سکتا ہے ۔ یہاں تھوڑی سی کڑوی بات کہنا پڑ رہی ہے کہ ہم اتنے آرام پسند ہو گئے ہیں کہ  " مفتا " بھی وہ پسند کرتے ہیں جس میں سب کچھ ریڈی میڈ ہو ۔ ہماری اس عادت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے لفظ " تخلیقی " کو صرف ایک ہی معانی میں سمجھ رکھا ہے شاید اور وہ معانی آپ بھی "سمجھ : گئے ہوں گے :) لینکس دنیا بھر میں تیزی سے اپنا مقام بنا رہا ہے ۔ کمپیوٹر کے ماہرین اور شیدائی اس کے فیچرز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے تکنیکی تجربات کر رہے ہیں کہ جو مائکروسافٹ کی ونڈوز پر رہتے ممکن نہ تھے ۔ ان کے تجربات کی بدولت تیسری دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں بھی کمپیوٹر اور آپریٹنگ سسٹم کی تکنیک پر کام کرنے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے لینکس کے ظہور سے قبل ایسا تحقیقی کام بہت کم ہوا کرتا تھا کیونکہ مائکروسافٹ اپنا آپریٹنگ سسٹم مفت نہیں دیتا ۔ ہمارے پڑوس میں بھارت اور بنگلہ دیش میں آئی ٹی کے ماہرین نے لینکس پر کافی کام کیا ہے اور تو اور فنی طور پر ہم سے پیچھے سمجھے جانے والے عربوں نے بھی اسے اپنی زبان میں ڈھال لیا ہے ۔ شاید بھارت میں بھی لینکس کامیابی کے ساتھ ہندی اور ملیالم زبان میں ڈھال لیا گیا ہے  اور بھارت میں لینکس کا استعمال نہایت سرعت سے فروغ پا رہا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان اس شعبے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے اور ہم ابھی تک چوری شدہ ونڈوز سے آگے بڑھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ درست کہ لینکس پر اردو لکھنے کے لئے تھوڑی سی ردو بدل کرنا پڑتی ہے لیکن محمد بلال محمود پاک اردو انسٹالر والے بھائی نے ونڈوز کی طرح لینکس کے لئے بھی اردو انسٹالر فراہم کر دیا ہے بس دو تین کلک کرو اور آپ کا کمپیوٹر اردو لکھنے اور پڑھنے کے لئے تیار۔
تو جناب جیسا کہ میں نے لکھا کہ لینکس آپیٹنگ سسٹم بہت ساری آسانیاں فراہم کرتا ہے تو اسے انسٹال کرنے کے بعد آپ شوق سے عشق فرمائیے ، دوستی کیجئے ، بھاشن جھاڑئیے یا مذاہب کی تبلیغ کیجئے لینکس ان سارے کاموں میں آپ کی توقع سے بڑھ کر سہولیات فراہم کرے گا اور وہ بھی ضمیر پر "چوری" کا بوجھ لادے بغیر۔
جو لوگ ڈیزائننگ یا دفتری کام کرتے ہیں انکو ونڈوز کے ساتھ مزید کچھ عرصہ جڑا رہنا پڑے گا لیکن براؤزنگ اور سرفنگ کے لئے اب ونڈوز سے بغاوت کی جا سکتی ہے ۔ مجھے اعتراف ہے کہ اس تحریر کو پوسٹنے کے بعد بھی میں چوری کی ونڈوز کا استعمال کرتا رہوں گا کیونکہ مجھے کچھ کام ایسے کرنا ہوتے ہیں جن کے سافٹ وئیرز لینکس کو سپورٹ نہیں کرتے لیکن بخدا میں نے دل میں عہد کر رکھا ہے کہ جہاں جہاں جتنی جلدی ممکن ہوا اس چوری سے بچتا جاؤں گا اور اگر آپ بھی میری طرح سوچتے ہیں تو لینکس استعما کرنا شروع کیجئے اور پیش آمدہ مسائل اپنے ماہرین کے سامنے رکھیں تا کہ وہ ان کا جائزہ لے سکیں۔ جب یہ ماحول پیدا ہو گا تو ان کی مزید حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ لینکس کو اردوانے کا کام شروع کر دیں اور اوپن سافٹ وئیر ہونے کے سبب لینکس کے آفیشلز سے لینکس اردو میں فراہم کرنے کی گزارش کی جا سکتی ہے لیکن شرط وہی کہ پہلے اس کا وسیع پیمانے پر استعمال ہو گا تو وہ اس بارے سوچیں گے ۔ جب ہم کسی برائی سے بچنے کا عہد کر لیں تو قدرت ہمارے لئے آسانیاں فراہم کر دیتی ہے تو کیوں نہ چوری سے بچنے کی طرف آج ہی پہلا عملی قدم بڑھا دیں ۔ ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ کیا خیال ہے ؟

انا للہ و انا الیہ راجعون

10 محرم الحرام جمعۃالمبارک کادن پاکستان کے عوام کے لئے المناک یادیں چھوڑ گیا ۔ اس کی سنگینی اس لحاظ سے دو چند ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جاں بحق ہونے والے بھی ہمارے اپنے اور ان کی جان لینے والے بھی ہمارے اپنے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کے ہاتھوں ہوا جو اسلام کو امن کا مذہب مانتے ہیں ، انسان کی جان کی حرمت سے آشنا ہیں ، مومنین کے باہمی حقوق اور ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری کے بھی مکلف ہیں لیکن آپس میں یوں بھڑ گئے کہ دور جاہلیت کی جہالت بھی شرم سے منہ چھپا لے ۔ نہ ان کو خدا یاد رہا نہ خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ نہ ان کے اندر صبر بلالی نظر آیا نہ ایثار حسینی ( رضی اللہ عنہما) ، بس ایک جنون تھا جو وحشیوں کا شیوہ ہوا کرتا ہے ، جو جنگلی جانوروں کی جبلت ہے اور جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہے ۔ اس قبیح فعل کے مرتکب ننگِ دیں ، ننگِ انسانیت اور ننگِ وطن ہیں۔
 میرے بلاگر دوستوں نے اس پر اپنے اپنے انداز میں بہت کچھ لکھا۔ کچھ نے صورت احوال کی وضاحت کی تو کچھ نے تجزیہ کیا ۔ کچھ نے مرحومین کی تعداد پر جرح کی تو کچھ نے قصورواروں کا تعین کرنے کا بیڑہ اٹھایا  ، لیکن میں ایسا کچھ بھی کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں پاتا۔ میں اپنوں کی لاشیں گن کر ہمدردیوں کی بھیک مانگنے کی بھی سکت نہیں رکھتا کہ میں اُس قوم میں سے شمار ہوتا ہوں جس کی اکثریت منافقت کی ساری حدود پھلانگتی جا رہی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسی خونریزیوں کے بعد ہم من حیث القوم ہمدردی کے بھی مستحق  کہلائے جا سکتے ہیں ۔ منبر ومحراب کی تقدیس سر عام پامال کر دی گئی اور ان سب سے بھی زیادہ مقدس و محترم یعنی زمین پر اپنے خالق جل جلالہ کا نائب اپنے ہی ہم نفسوں کے ہاتھوں خاک و خون میں تڑپا دیا گیا ۔ یوم کربلا پر ایک اور کربلا برپا کر دیا گیا ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
دل پریشاں ، دماغ بو جھل ، سوچیں منتشر ، حال کا غم ، مستقبل کی فکر غرض کون سی ایسی آفت ہے جو ایسے واقعات کے بعد ہر پاکستانی ، خواہ ا سکا کوئی مذہب ہو ، کوئی مسلک ہو ، کوئی ازم ہو ، وہ خدا پرست ہو یا منکر خدا ، پر نازل نہیں ہوتی ۔  ہم کیوں نہین سمجھتے کہ انسان کو زندگی خدا نے دی  ہے اور ہمیں گروہی مناقشت یا ذاتی دشمنی کے تحت کسی کی زندگی ختم کرنے کا کوئی حق ہے نہ ہمارا خدا ہمارے اس عمل پر ہمیں کبھی معاف کرے گا۔ آئیے ہر پاکستانی اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے تحت اپنے ایمان کو حاضر رکھتے ہوئے خود سے عہد کرے کہ اپنے عقیدے و مذہب کی تبلیغ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی قیمت پر نہییں کرے گا اور نہ ہی ایسا کرنے  اور کہنے والوں کی پیروی کرے گا۔
اہل قلم کمیونٹی اور میرے بلاگر ساتھیوں کے لئے ذیل کا کلام خصوصی طور پر شاملِ بلاگ کیا گیا ہے۔


یہ کیا ، متاعِ زیست گنوانے میں لگ گئے
اہلِ قلم بھی نام کمانے میں لگ گئے
دیکھا نہیں کہ گھر کی ٹپکنے لگی ہے چھت
برسا جو ابر جھومنے گانے میں لگ گئے
یہ ظرف ہی نہیں تھا کہ سنتے کسی کی بات
سب لوگ مل کے شور مچانے میں لگ گئے
بے اعتباریوں کی چلی ہیں وہ آندھیاں
ہم لوگ اپنا آپ بچانے میں لگ گئے
سجدہ کیا کسی نے کہاں پھر لبِ فرات
سب اپنی اپنی پیاس بجھانے میں لگ گئے
اس دور ابتلاء میں بھلا ہم نے کیا کیا ؟
اک آہ بھر کے غم کو بھلانے میں لگ گئے
کلام : عنبریں حسیب عنبر

دو بہنیں ایک کہانی

یہ کہانی ہے دو بہنوں کی ۔ دونوں کی ادائیں اور ادائے دلربائی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ جس پر ڈورے ڈالیں اس کا ان کے جال سے بچنا بہت مشکل ہے۔٭٭٭٭٭٭ اگر آپ کا دھیان نرگس اور دیدار کی طرف جا رہا ہے تو اس دھیان کو واپس میرے الفاظ کی طرف لے آئیں :)
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ بڑی بہن ایسی خرانٹ کہ بڑے سے بڑےجغادری کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے ۔ اُس کی تنہائیوں میں یوں جگہ بناتی ہے کہ اسے لگتا ہے کہ اسے پا کر میں دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان بن گیا ہوں ۔ یہ میری عقل و دانش یا پھر ہوشیاری ہے کہ یہ میری محبوبہ بن گئی ۔ کسی اور میں یہ صلاحیت اور عقل نہیں کہ اتنی خوبصورت محبوبہ کا محبوب بن سکے۔ یہ اس کو اپنے نشے میں مست کر لیتی ہے ۔٭٭٭٭٭٭ارے بھائی ،پلٹو میرے الفاظ کی طرف ، مَیں " تُو چیز بڑی ہے مست مست " روینہ ٹنڈن کی بات بھی نہیں کر رہا :)   جس پر یہ ساحرہ اپنا سحر کر دے وہ دنیا و مافیہا سے بے گانہ ہو جاتا ہے اور اس کے عشق کا جادو یوں سر چڑھ کر بولتا ہے کہ اس کے عاشق کے دوست ، عزیز اور اقرباء اس کو ویسا نہیں پاتے جیسا کہ وہ ہوا کرتا تھا ۔ یہ اس قدر ہوشیار ہے کہ نہ صرف جوانوں بلکہ ادھیڑ عمر اور بوڑھوں پر وار کرنے سے بھی باز نہیں آتی ۔ ٭٭٭٭٭٭یار باز آ جاؤ ، تمہیں کہہ رہا ہوں میری تحریر پر دھیان دو اور تم ریما کے بارے میں سوچنے لگے ہو :)
اس کے عشاق میں سکول و کالج کے طالب علم ، صحافی ، مولوی ، سیاستدان ، ڈاکٹر ، وکیل ، انجینئر ، استاد اور بابے غرض کہ ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ ٭٭٭٭٭٭ یار اب تمہاری مرضی ہے کہ تم ودیا بالن کی طرف دھیان لے جاؤ یا سنی لیون کی طرف :) ،،،،،، کیونکہ میں اب تمہیں چھوٹی بہن کی کہانی سنانے جا رہا ہوں۔
چھوٹی بہن یوں تو چھوٹی ہے لیکن بجلیاں گرا کر اپنے عاشقوں کو دام میں پھنسانے میں بڑی بہن سے بھی بڑی ہے ۔ یہ اپنے خدو خال سے اپنے شکار کو یوں گھائل کرتی ہے کہ اس کا عاشق اس کے عشق میں پڑ کر اپنا حلیہ ہی بدل لیتا ہے۔ ٭٭٭٭٭٭او نہیں یار میں سیف علی خاں کی بات نہیں کر رہا :)
گو کہ اس کی عادتیں بڑی بہن جیسی ہی ہیں لیکن اس کا عاشق چننے کا معیار اس سے اعلٰی تر ہے ۔ یہ ایسے ویسے بندے کو گھاس نہیں ڈالتی ۔ خاص طور پر ان پڑھ اور پینڈوؤں کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی ۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں پر تیر چلاتی ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا ، شو بزنس یا پھر نیٹ گردی کرنے والوں کو اپنی زلفوں کا اسیر بنائے ۔ ٭٭٭٭٭٭تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اب تم " میرا" کے بارے میں سوچنے لگے ہو :)
یہ روپ بدلنے میں ماہر ہے  اور دلیل دینے میں تاک ۔ یہ جذبات میں آ کر اکثر کپڑوں سے باہر ہو جاتی ہے لیکن اپنے اندر موجود صفت کی وجہ سے کمال ہوشیاری سے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے ننگ کو چھپانے کا فن بھی جانتی ہے ۔ یہ کئی کئی دن منظر سے غائب بھی رہتی ہے لیکن اتنی ہوشیار ہے کہ منظر پر آتے ہی ایسا بہانہ بناتی ہے کہ اس کے عاشق کو اپنی معشوقہ کی بات پر یقین آ جاتا ہے ۔ ٭٭٭٭٭٭یار اب مجھے واقعی تم پر غصہ آ رہا ہے  ،،،،،،بھلا وینا ملک یہاں کہاں سے آ گئی ؟ :)
حالانکہ یہ ہر کام کھلم کھلا کرتی ہے لیکن اس کے برعکس اس کا عاشق خود کو دنیا سے چھپاتا ہے تا کہ اس کے اس کے اس حرافہ سے تعلقات کا علم کسی کو نہ ہو ۔ وہ اپنی ہر بات کو مختلف الفاظ کے پردے میں چھپاتا ہے اور تو اور اپنے گھر والوں حتٰی کہ بیوی بچوں  سے بھی اپنی بہت ساری باتوں کو خفیہ رکھتا ہے ۔ اپنے روابط اور ان پر لکھی  جانے والی باتوں کو کسی اور نام سے لکھنا شروع کر دیتا ہے کہ مبادا اس کا پاس ورڈ اس کی بیوی یا گھر والوں کے ہتھے چڑھ بھی جائے تو اس کی پہچان نہ ہو پائے ۔٭٭٭٭٭٭ اوئے میں تمہارا سر توڑ دوں گا ۔ اب تم فیس بکیوں اور بلاگروں جیسی معصوم ہستیوں پر بھی شک کرنے لگے ہو ۔ سڑیل اور حاسد کہیں کا :)  بے خبرا ، یہ تو وہ لوگ ہیں کہ "دامن نچوڑ دیں تو اینکر وضو کریں " ۔
چلئے قارئین اس بد بخت کی بار بار کی دخل اندازی کی وجہ سے میں یہ کہانی یہیں ختم کرتا ہوں ۔ کبھی اس بدبخت نے میرا پیچھا چھوڑ دیا تو میں بقیہ کہانی آپ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔  اس سے پہلے کہ میں بلاگروں اور فیس بکیوں کی اہانت کرنے پر اس منہ پھٹ کو جتم جتی کروں آپ کو کہانی والی دونوں بہنوں کے نام بتا دوں کیونکہ ان کے نام جانے بغیر کہانی کا مزا ادھورا رہے گا ۔
تو جناب اس کہانی میں مذکور بڑی بہن کا نام ہے " منافقت " اور چھوٹی بہن " تلبیس " کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ بہت اچھے انسان ہیں اور ان دو بہنوں میں سے کسی کے ساتھ بھی آپ کا معاشقہ نہیں چل رہا ہو گا ۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی اپنے پاسورڈز اور بُک مارکس اپنے گھر والوں سے چھپائے ہوں گے ۔ ،،،،،،ویسے  اگرایسی کوئی بات ہے تو میرے کان میں ہولے سے اس کا طریقہ ضرور بتا دیں :) ۔

"برطانیہ کو شرم آنی چاہئیے "۔

جی ہاں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم بھی روشن خیال ہیں لیکن اتنے ہی ہیں جتنے کہ ہمیں ہونا چاہئیے ۔ ہمارے خیالات کی روشنی بس اسی قدر ہے جو ہمیں ہدایت کے راستے سے بھٹکنے نہ دے ، بہت تیز روشن خیالی سے ہماری اپنی ہی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور ہم "انہے واہ " انجانے راستوں پر چلنے لگتے ہیں۔  ہم اس دینِ حنیف کے پیرو کار ہیں جس نے ہمیں اعتدال کا سبق دیا اور انسانی رشتوں کے مابین حقوق و فرائض کا ایک ایسا اتوازن قائم کر دیا جس کی نظیر کسی دوسرے دین یا ازم میں ملنا مشکل ہے۔ دیگر عقائد و مذاہب پر تنقید و تنقیص میرا مقصد نہیں ہے لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جب بھی کسی بشر نے انفرادی طور پر یا کسی قوم نے اجتماعی طور پر حقوق و فرائض کے ضوابط متعین کرنے کی ٹھانی تو ان کو انہی تعلیمات پر اپنے قوانین کو تشکیل دینا پڑا جو اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش کئے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے آپس میں اختلافات اور فروعی تنازعات کو یوں پروان چڑھا لیا ہے کہ ہماری تمام تر توانائیاں ایک دوسرے کو جاہل ثابت کرنے میں صرف ہو رہی ہیں اور اسلام کی سنہری تعلیمات پر عمل ہمارے ہاں عنقا ہوچکا ہے۔ گو کہ ہم ایک ایسی ہدایت کے امین ہیں جو روزِ قیامت تک کے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم خود کو اس کے اہل ثابت نہیں کر سکے ۔      آپ تصویر میں جس جوڑے کو دیکھ رہے ہیں اس میں بیوی کا تعلق چین سے ہے اور اس کا شوہر برطانوی ہے۔ بیوی کا نام لوسیا گُو ہے اور شوہرِ نامدار برطانیہ کے وزیر صحت جناب جیرمی ہنٹ ہیں . لوسیا ، کنفیوشس مت کی پیرو کار ہے ۔ بابے کنفیوشس کی تعلیمات بھی بنیادی انسانی حقوق و فرائض کے بارے میں بہت اچھی ہیں جن میں بزرگوں کے احترام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور لوسیا نے ہنٹ سے شادی کرنے کے بعد ہنٹ کو کنفیوشس کی تعلیمات سے یوں آگاہ کیا کہ وزیر موصوف کی مغربی " روشن خیالی" کی روشنی میں چندھیائی آنکھیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔ اور انہوں نے جب برطانیہ میں بزرگوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر غور کیا تو انہیں بے دریغ کہنا پڑا کہ 'برطانویوں کو بزرگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شرم کرنا چاہئیے '۔ اس کے لئے انہوں نے برطانویوں کو مشرقی ممالک کے مشترکہ خاندانی نظام اور بطور خاص مشرق بعید میں بزرگوں کو بوجھ نہ سمجھنے کے قابل تقلید روئیے کی مثال دی ہے اور ساتھ ہی کنفیوشس کی تعلیمات کا ذکر کیا ہے ۔ مسٹر ہنٹ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور عیسائیت بھی اسلام ہی کی طرح ایک آسمانی مذہب ہے جس کی بہت ساری تعلیمات اسلامی تعلیمات سے ملتی ہیں یا یوں کہئیے کہ اگر مسٹر ہنٹ اپنے مذہب سے سب سے زیادہ قریب رہتے تو اسلامی تعلیمات میں دیکھ سکتے تھے کہ اسلام میں بزرگوں کے احترام پر کس قدر زور دیا گیا ہے ۔ محبت سے ان کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی نیکیوں کے حصول کا وسیلہ ہے۔ اور کہہ دیا گیا کہ جو چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں حتی کہ ہماری نماز والدین کے لئے دعا کئے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔ لیکن مسئلہ وہی کہ اگر مسٹر ہنٹ ایک آسمانی مذہب کے پیرو کار ہونے کے باوجود"روشن خیالی " کی روشنی سے چندھیا گئے تھے تو ہمارے ہاں بھی معاملہ اس سے مختلف نہیں کہ یہاں روشن خیالی کے ساتھ ساتھ اسلام کے نئے نئے ورژن ایجاد کرنے سے فرصت نہیں ۔ کس کے پاس وقت ہے کہ آج کے دور میں امن اور راحت کے لئے ترسی ہوئی انسانیت کو اللہ کے پیغام کی طرف اس طرح سے لائیں جس طرح سے اللہ کی منشاء ہے اور یاد رکھئے واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو اسی اللہ کی منشاء بلکہ حکم ہے۔ یہاں ہم احکام خداوندی کو ہس پشت ڈالے جارہے ہیں تو پھر بھٹکے ہوؤں کو تو بابا کنفیوشس بھی نجات دہندہ ہی نظر آئے گا نا؟۔ مسٹر ہنٹ انگریزی کے استاد کے طور پر جاپان میں مقیم رہ چکے ہیں اور مشرق بعید کے مشترکہ خاندانی نظام کا بڑا گہرا مشاہدہ رکھتے ہیں اور برطانیہ واپسی پر جاپان کو برطانوی مارملیڈ کی لذت سے روشناس کروانے کی ناکام کوششیں کر چکے ہیں۔ اگرچہ ان کے مارملیڈ کی مٹھاس مشرق میں نہ پہنچ سکی لیکن مشرق کے مشترکہ خاندان کی ثقافت کی شیرینی نے انہیں اپنا گرویدہ ضرور کر لیا ہے۔            

"لکھ پتی" ایک میٹر والی کا مشن

لکھ پتی بننے کی لگن ہر اس بندے کو ہے جس کے دماغ میں مغز نام کی چیز اپنی ادنی سی استطاعت کے ساتھ بھی کام کرتی ہے ۔ الفا ، بیٹا ، گیما ، تھیٹا کی گردان کے وزن پر ہر مِیدا ، شیدا ، گاما ں اور ریٹا اس لگن میں یوں مگن ہیں کہ ڈالر و دراہم ہی  ان کی دھرتی اور گگن ہیں ۔ ارے ارے ، آپ کیاسوچنے لگے کہ آج ہم کوئی وعظ کرنے جا رہے ہیں ؟ ۔ ہر گز نہیں !!! ہمارا قطعی ارادہ نہیں ہے کہ آپ کے لبوں سے ہمارے لئے "پھول جھڑیں" یا پھر آپ ، بہ نفسِ نفیس ، ہمیں تین چار "جڑیں"۔ آپ کی یادداشت اگر باقی ہے تو اپنے دماغ کو بیک گئیر لگائیں اور پہنچ جائیں آٹھویں جماعت کے کمرے میں ۔ The Sun rises in the east. ہم یاد کر رہے ہیں اور انگریزی کے استاد اس کے اردو معانی ہمیں یوں ازبر کروا رہے ہیں کہ گویا اگر ہم نے اسے یاد نہ کیا تو اگلی صبح سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو جائے گا ۔ 'قہر درویش بر جان درویش' ہم بھی کچھ انگریزوں کی روح کو ثواب پہنچاتے ہوئے اسے یاد کر لیتے اور پھر یہ بھی سوچتے کہ اگر سورج ہر روز مشرق سے نکلتا ہے تو چاند ہر روز مغرب سے کیوں نہیں نکلتا ؟۔ اس بدیسی زبان سے پلہ چھوٹتا تو  اردو کے استاد آتے ، شعر چلتے اور شاعری بھاگتی ، نثر ہم سے منہ چھپاتی تو گرامر اپنے نصیبوں کو کوستی۔ صرف و نحو گلے مل مل کے آہ و زاری کرتیں۔ استاد جی دل لگی کا مرقع تھے اور ہم دل پشوری سے مرصع ۔ وہ کچھ بتاتے ہم کچھ سنتے اور جب وہ سنتے تو ہم کچھ اور بتاتے بہ ایں ہما جب اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھتا تو "حضرت مولا بخش " خصوصی طور پر مدعو کئے جاتے جو ہماری "کل سیدھی" کرتے ۔ وہ ایسا دم کرتے کہ ہم دم دما دم کرنے لگتے ۔ اسی کِل کلیان میں اردو کا پیریڈ ختم ہو جاتا اور ہم " دو پئیاں کدھر گئیاں " گنگناتے ہوئے دیگر ضروری کاموں کی طرف متوجہ ہوتے جس میں سب سے اہم کام چاک کے ٹکڑوں کے ساتھ ہم جماعتوں پر چاند ماری ہوتا ۔ ہم جانتے تھے کہ آفتاب ، شمس اور خورشید اچھے لوگ نہیں ہیں۔ اردو کے استاد جب بھی ان کا ذکر کرتے تو ہم سمجھ جاتے کہ ان تینوں نے اپنی اصیت کو چھپا رکھا ہے اور دنیا کے سامنے خود کو " سورج" کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ہی سورج لاکھوں برس سے اپنی ڈیوٹی پر بلا ناغہ آئے ۔ نہ کبھی بخار نہ زکام ، نہ منہ میں چھالے نہ آشوب چشم ، داڑھ میں درد ہے نہ پیٹ میں مروڑ ۔ ثبوت کے طور پر چاند کی مثال ہمارے سامنے تھی جوکبھی چڑھتا تو کبھی نہ چڑھتا اور دن تہوار پر تو اسے کبھی کبھی خود بھی چڑھانا پڑتا تھا۔ البتہ ہمارا معاملہ ذرا سا مختلف تھا کہ ہم ہر روز ہی کوئی نہ کوئی چاند چڑھا دیتے تھے ۔ ایسے چاند عموما تب چڑھتے جب ہم کبھی کسی اور کے " چاند " پر گاٹی ڈالنے کی کوشش کرتے اورایسے میں  "چاند" کی "بڈھی مائی" اپنا چرخہ چھوڑ کر ہمیں چرخہ بنا دیا کرتی تھی ۔  اب وقت بدل گیا ہے ہم جیسے لفینٹر ہی چاند نہیں چڑھاتے بلکہ بہت سارے معزز لوگ بھی یہ کام کرتے ہیں تبھی تو ہمارا ملک چاند بنتا جا رہا ہے کہ جہاں بجلی ہے نہ پانی ۔ اپنی تکلیفوں پر جتنا مرضی چیخو ، چلاؤ ، تڑپو یا ہڑ بڑاؤ کوئی شنوائی نہیں ہو گی کیونکہ چاند پر آواز سفر نہیں کرتی بلکہ انسان Suffer کرتے ہیں ۔ "مشن" کی تکمیل کے لئے پر عزم دوستو لکھ پتی سے شروع ہونے والی بات چاند تک پہنچ ہی گئی ہے تو عرض کر دیں کہ ہمارے علم میں ایک نئی قسم کا چاند آیا  ہے جو حال ہی میں "چڑھتے چاندوں " کی سرزمین یعنی یورپ کی ایک بی بی نے چڑھایا ہے۔ بی بی خود تو پولینڈ سے تعلق رکھتی ہے کہ جہاں " اُس قسم " کی باتیں کرنے والوں کو ابھی تک " کھسکے ہوئے " سمجھنے کی اچھی روایت موجود ہے لیکن یہ بی بی اتنی کھسک گئی ہے کہ 21 برس کی بالی عمر میں ہی ابالیاں کھاتے ہوئے اسفل سافلین کی کھائی میں یوں گر گئی ہے کہ اعلان کر رہی ہے کہ اس کی ابالیوں کا جوار بھاٹا  دنیا بھر کے ایک لاکھ مردوں کے ساتھ وصل تنہائی کی انتہائی شراکتوں کا متقاضی ہے ۔ بی بی نے اس "مشن کے لئے خود کو یوں وقف کیا ہے کہ باقاعدہ ایک آئن لائن روزنامچہ بنایا ہے جو ہر کس و ناکس کی دسترس میں ہو گا اور اس میں "باعث تحریر آنکہ" کی طرز پر ان جانور نما انسانوں کا ذکر ہو گا جو اس کی " راہداری " کی سند سے مستفیض و مستفید ہو چکے ہوں گے۔  ہاں جی ! یہ بی بی جانے اور اس کا کام۔ جہاں یہ رہتی ہے وہاں کے قانون کے مطابق اس کا جسم اس کی ذاتی پراپرٹی ہے جس میں تصرف کا مکمل اختیار اسے حاصل ہے ۔ بس ہمیں اس بات پر اعتراض ہے کہ یہ بی بی اپنی پراپرٹی میں جس قسم کی اعلانیہ " زراعت" کرنے جا رہی ہے اس سے نہ تو وہ خود شخصی طور پر "پراپر" رہے گی اور نہ ہی اس کی " ٹی " سلامت رہنے کا کوئی امکان ہے ۔
آخری اطلاعات تک اس بی بی کے روزنامچے میں اب تک 424 سند یافتہ انسان نما جانوروں کا اندراج ہو چکا ہے۔ اس کے میٹر کی ریڈنگ ایک لاکھ تک پہنچنے میں ایک طویل عرصہ درکار ہو گا لہذا اسے چاہئیے کہ وقت ضائع نہ کرے بلکہ واپڈا کے کسی میٹر ریڈر سے رابطہ کرے ، بخدا اتنی ایڈوانس ریڈنگ ڈالے گا کہ بی بی کا میٹر یوں گھومے گا کہ یونٹ شمار کرنا بھول جائے گا ۔  سرسری نظر سے دیکھا جائے تو یہ بی بی ایک لاکھ "پتیوں" کی عارضی پتنی بن کر " لکھ پتی " بننے کی طرف عملی طور پر گام زن ہے ۔ لیکن " لکھ پتی " بننے کا ایسا فارمولا اگر آپ نے پہلے کبھی دیکھا یا سنا ہو تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔

شارپ شُوٹر

کوئی ہم سے پوچھے کہ ڈینگی کو ختم کرنے کا آسان طریقہ  کیا ہے تو ہم بلا تردد  کہیں گے "ریلی" ۔ ہر گلی ، محلے ، چوک ، سکول  ، کالج ، دفتر ،اور کمیونٹی سنٹر سے ریلیاں نکالو اور ڈینگی کی مچھری کو اتنا زچ کر دو کہ ان ریلیوں میں لگنے والے نعروں اور بے ہنگم شور کی وجہ سے اس کے اعصاب جواب دے جائیں ، بلڈ پریشر تیز ہو جائے ، قوت سماعت متاثر ہو جائے ، اعضائے رئیسہ غیر رئیسی حرکتوں پر اتر آئیں، دن کا سکوون اور رات کا چین برباد ہو جائے ،چڑچڑا پن اس کی تخلیقی اور غیر تخلیقی صلاحیتوں کو بانجھ کر دے  اور وہ اس قدر بے بس ہو جائے کہ اسے موسیقی، خوشبو ، تازہ پانی ، پودوں  اور میک اپ سے سجے چہروں کی طرف رغبت نہ رہے۔ اگر مزید سخت کارروائی کرنا مقصود ہو تو ریلی کے دوران ایک آدھ ٹائر جلانے ، پلے کارڈز کے ڈنڈوں کی مدد سے بند دکانوں کے دروازے بجانے  اور اشتہاری بورڈز کو و نشانہ بنانے  میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر کار اوپر بیان کئے گئے اقدامات سے اگر عقل سلیم رکھنے والے انسانوں کو بے بس کیا جا سکتا ہے ، حکومتوں کے ہوش ٹھکانے لائے جا سکتے ہیں تو  شعور سے عاری مچھری کے ہوش اڑائے بھی جا سکتے ہیں۔
ہم نے تو ایسی ریلیاں بھی دیکھی ہیں جو مون سون   کی برسات کے پانی سے بھرے ہوئے گڑھوں پر سے شڑاپ شڑاپ گزریں تو ااس پانی پر محو استراحت مچھریاں اپنے  شوہروں اور بال بچوں سمیت    دھوئیں کے مرغولوں کی صورت میں پر شور احتجاج  کرتے ہوئے قرب و جوار میں واقع مرغی کے گوشت کی دکانوں ،  ڈھابوں ، چائے کے کھوکھوں اور دودھ بیچنے والوں کے  سٹالوں پر پناہ گزین ہو گئیں ۔ جب تک ان کے ٹھکانوںپر ڈینگی کی ریلی کا ریلہ جاری رہے گا یہ تب تک ان نئے ٹھکانوں پر ریکی کریں گی اور شارپ شوٹر کی طرح پنے شکار کو نشانہ بنائیں گی۔ ریلی کا ریلہ ختم ہونے کے بعد بھی یہ تمام " پناہ گزین" اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے بلکہ ان میں سے کچھ یہیں کے "شناختی کارڈ" بنوا لیں گے اور اپنے " میزبانوں " کا خون پئیں گے۔ ادھر ڈینگی سیزن شروع ہوتا ہے ادھر ریلی سیزن کا آغاز ہو جاتا ہے۔  کچھ ریلیاں سرکاری ہوتی ہیں تو کچھ غیر سرکاری۔ این جی اوز کی طرف سے   ڈینگی سے آگاہی کی مہم چلائی جاتی ہےاور مخلوط ریلیوں میں اس آگاہی  کا عملی تجربہ کروایا جاتا ہے ۔ سرکاری ریلیاں ہماری سرکار کی طرح دھکے کھاتی ، نعریں مارتی ، بے ہنگم چال چلتی اور کسی بھی قسم کے تال میل سے آزاد ہوتی ہیں۔ مچھر بھاگے نہ بھاگے سکولوں سے بچے ضرور بھاگتے ہیں  اور اساتذہ و طالب علموں کو ایک مزید دن تعلیمی عمل سے نجات مل جاتی ہے  ۔ بخدا ہم نے آج تک ایسی ریلی کے ذریعے ڈینگی کے لاروے کو ختم ہوتے نہیں دیکھا ۔ اگر اسی " ورک فورس " کو انہی کے اداروں میں ڈینگی کے خاتمے کی تربیت دی جائے  اور ان کے اداروں کے آس پاس کھڑے ہونے والے بارشی پانی کو خشک کرنے کے لئے  انہیں استعمال کیا جائے مزید یہ کہ انہیں ماحول صاف رکھنے کی ترغیب دلائی جائے  تو شاید بہت بہتر نتائج بر آمد ہوں گے۔ لیکن اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریلیاں  نکال کر ، نعرے لگا کر اور شور مچا کر ڈینگی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گےتو یاد رکھیں ہم بڑی غلطی پر ہیں وہ ہر برس ہماری ریلیوں کے جواب میں پہلے سے بڑھ  ریکیاںکرے گا  اور کسی شارپ شوٹر کی طرح ہمیں نشانہ بناتا رہے گا ۔

جشن بہاراں، محفلِ یاراں آباد رہے 2

اگر آپ نے اس تحریر کا پہلا حصہ نہیں پڑھا تو یہاں تشریف لائیے۔ باقی دوستوں کی آمد ہوئی تو "پینے پلانے" کا سلسلہ شروع ہوا۔  سب کو" کالا پانی " پیش کیا گیا  ۔ گپ شپ بھی جاری  رہی جس میں کسی حد تک چغلیوں کا عنصر شامل تھا ، اگر یہ نہ ہو تو گفتگو بہت پھیکی پھیکی لگتی ہے لہذا جب تک بریانی ہماری میزوں پر نہ سجا دی گئی تب تک ہم نے اس   زنانہ عادت کو مردانہ رنگ دئیے رکھا ، تا وقتیکہ بریانی نے ہمارا منہ بند کر کے یہ  ثابت نہیں کر دیا کہ بھوک بہت ساری برائیوں کی جڑ ہوتی ہے۔ بریانی تناول فرما کر گفتگو کچھ تعمیری رنگ اختیار کر گئی لیکن میری طرف سے اس میں بار بار تخریبی کارروائی جاری رہی کیونکہ "تعمیر" بہت امیرانہ تھی اور ہماری پہنچ نہایت فقیرانہ  ، اس لئے اس تعمیر کو اپنی ادبی اوقات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے میں نےدوستوں کے بہت سارے ہوائی قلعوں کو طنز  کے بارودسے تباہ کر کے  اپنے " مہذب" ہونے کا سیاسی ثبوت فراہم کیا ۔
محترم عاطف بٹ صاحب ، حسب سابق میرے درپے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ قرب و جوار میں چہچہاتی "بلبلوں "کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں "مجاہدانہ" چمک  بار بار نمودار ہو رہی تھی۔ ان کی بے چینی دیکھ کر متعدد بار انہیں سمجھانا پڑا کہ جناب یہ " جہاد " کا نہیں " مجاہدے" کا وقت ہے۔ آپ کا شروع کردہ جہاد کارگل کی لڑائی بھی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ جس "غنیم" کو آپ "مال غنیمت " سمجھ رہے ہیں اس کے ساتھ اس "مال" کے رکھوالے بھی موجود ہیں  ۔
جناب محسن بٹ صاحب جو کہ یو اے ای سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پنجاب کے گھبرو پتر ہیں ۔آپ  یو اے ای کر کٹ بورڈ کے آفیشل ایمپائر ہیں۔ انتہائی نفیس انسان ہیں۔ یاروں کے یار ہیں۔ ان سے کرکٹ کے قوانین اور پیچ و خم کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا۔ ان کی مصرفیات سے جیسے ہی انہیں کچھ فارغ وقت ملا تو میری کوشش ہو گی کہ انہیں بھی کرکٹ بارے اردو بلاگنگ کی طرف راغب کیا جائے۔ اس بارے کچھ ابتدائی بات ہم سب دوستوں نے ان سے کی ہے اور انہوں نے اس کی ھامی بھی بھری ہے۔
کاشف رحمان صاحب  ، بابا جی کے کزن ہیں۔ شاید اوکاڑہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں ۔ ان سے بھی ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ ان کا رجحان زیادہ تر فارسی یکھنے کی طرف پایا اور اسی سے متعلاقہ کچھ کتابوں کی خریداری بھی انہوں نے کی ۔
سید فیضان شاہ ، بابا جی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ میرے بہت بڑے فین ہیں ۔ کئی دفعہ دل چاہا کہ میرے گھر کے ایک کمرے میں پنکھا نہیں تو کیوں نہ انہیں وہاں الٹا لٹکا دیا جائے لیکن ان سے مجھے خود اتنا پیار ہے کہ طبیعت اس طرف نہیں آتی ، یوں ان کی بچت ہو جاتی ہے ۔ سید فیضان بہت پیارا نوجوان ہے۔ دھیما مزاج اور بڑوں کی عزت اس کی خاص خوبیاں ہیں۔ وہ میرے لئے میرے چھوٹے بھائیوں جیسا ہے اور میرے بیٹے کی طرح مجھے پیارا ہے۔
حسیب نزیر گل ،  قدرے شرمیلا اور حساس طبیعت کا مالک ذہین نوجوان۔مستقبل میں افسر بننے کے ارادے۔ آنکھوں میں بلا کی چمک اور چہرے پر گاؤں کی صحت بخش فضا کی بھرپور جھلک ،تصنع سے کوسوں دور ، سید فیضان کی طرح سے بڑوں کی عزت کرنے والا دھیمی طبیعت کا حامل۔ ان دونوں نوجوانوں کے لئے میں ہمہ وقت دعا گو رہتا ہوں۔
بابا جی یعنی سید فراز شاہ صاحب ، انتہائی نفیس اور مخلص دوست۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی نرم خوئی ہے۔ اتنی ٹھنڈی طبیعت کے ہیں کہ لگتا ہے ان کے معدے میں دھنیا  اور دماغ میں ستو  کاشت ہوتے ہیں۔ سگریٹ یوں پیتے ہیں کہ اس کے دھوئیں سے آنکھیں واش کر لیتے ہیں۔ پھر  دھوئیں بھری آنکھ بند کر کے یوں ہم کلام ہوتے ہیں کہ قریب بیٹھی لڑکیاں سمجھتی ہیں انہیں آنکھ مار رہے ہیں۔ بدلے میں لڑکیوں نے کئی بار انہیں بہت ساری چیزیں ماریں ، جن کا ذکر کرنا یہاں مناسب نہیں۔ ایک بار مجھے بتا رہے تھے کہ نوکری چھوڑ کر دکان بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے استفسار کیا بیچو گے کیا ؟ تو فرمانے لگے " لیڈیز جوتے "۔ اب آپ خود ہی سمجھ لیجئے علی ہذا القیاس۔
اب آتے ہیں جناب ہمارے انتہائی قال قدر بڑے بھیا جناب نجیب عالم عرف پردیسی بھائی کی طرف۔ مرنجاں مرنج شخصیت ایسی شخصیت کو پنجابی میں "ڈُونگا بندہ " بھی کہا جاتا ہے۔ اتنے ڈُونگے ہیں کہ ان کے اندر ظرافت کی مچھلیوں نے بسیرا کر رکھا ہے۔ خود بھی خوبصورت ہیں اور ہر وقت خوبصورت لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ میرے ساتھ ان کی دوستی اسی خوبصورتی کی تلاش کا شاخسانہ تھی لیکن دوستی کے بعد انہیں پتہ چلا  کہ میں اسی تلاش میں بہت سارے  پردیس کاٹ  چکا ہوں ۔ اب دوستی میں  یہ عالم ہے کہ وہ نجیب عالم تو ہیں لیکن لاحقہ پردیسی کا لگاتے ہیں۔ اور ان کے سابقہ لاحقے"شیخو" کا شائبہ میرے نام کے ساتھ لگے " ایس ایچ" میں ہے۔ اب اس سے زیادہ تفصیل میں لکھا تو شاید کچھ دوست ہمارا تعلق نا معلوم کس کس قسم کے " پرستوں " کے ساتھ جوڑ دیں۔  نجیب بھائی میرے ان  دوستوں میں سے ہیں جن کو میں اپنے قلم کی نوک سے "شدید زخمی"  کرنے کا  پختہ ارادہ رکھتا ہوں اور جب کبھی مجھے موقع ملا تو ان کی محبتوں کا قرض اتارنے کی کوشش کروں گا۔
تحریر کافی طویل ہو رہی ہے لیکن لکھنے کے لئے اتنا مواد موجود ہے کہ آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں۔ لہذا مختلف مواقع پر اپنے دوستوں کو اپنی "تحریری زیادتی" کا نشانہ بناتا رہوں گا اور آپ کے " منو رنجن " کا انتظام بھی ہوتا رہے گا۔
اب تصاویر سے " آنند " لیجئے۔  پاک ٹی ہاؤس کا ایک منظر ہم سب کے بڑے بھائی، جناب نجیب عالم (پردیسی ) روشن چہرہ ، دل کش مسکراہٹ، محترم عاطف بٹ صاحب ترو تازہ نوجوان، حسیب نذیر گل


بندہ پر تقصیر، ساجد
اوکاڑہ سے تشریف لائے، جناب کاشف رحمان صاحب یو اے ای سے تشریف لائے جناب محسن بٹ صاحب بابا جی کے ہمراہ بابا جی کے چھوٹے بھائی سید فیضان شاہ ایسی سنجیدگی !!! نجیب بھائی اور حسیب نذیر گل ہوائی قلعوں کی تعمیر کرتے ہوئے اور بٹ صاحب فون پر کسی کو تلاش کرتے ہوئے میرا بھاشن سنتے ہوئے   کہیں پہ نگاہیں ، کہیں پہ نشانہ      میری یہ تصویر عاطف بٹ صاحب کی خصوصی فرمائش پر یہاں پیش کی گئی ہے      عاطف بٹ صاحب کا ایک اور انداز  
جب لوٹ کے بدھو گھروں کو جانے لگے

مزید کچھ تصاویر بھی ہیں جوبہت جلد پیش کر دی جائیں گی    

پاک ٹی ہاؤس میں اردو بلاگران کی ملاقات

لیجئے جناب حاضر ہے مختصر احوال بلاگرز کی ایک ملاقات کا جو مؤرخہ 14 ستمبر 2013 کو پاک ٹی ہاؤس دی مال لاہور میں ہوئی۔ اس ملاقات کا کوئی ایجنڈا پہلے سے طے نہ تھا۔ ہوا یوں کہ 13 ستمبر کی شام  "جریدہ" والے ریاض شاہد صاحب نے مجھے فون کیا ۔ چونکہ میری ان سے پہلے سے شناسائی نہ تھی اس لئے شاکر عزیز   آواز دوست والے اور  جریدہ کے حوالے سے ریاض شاہد صاحب نے اپنا تعارف کروایا ۔ میں اس وقت ایک ضروری کام کے سلسلے میں مصروف تھا اس لئے اگلے روز ملاقات طے پائی۔  ریاض شاہد صاحب نے بعد ازاں نجیب عالم صاحب یعنی پردیسی بھائی سے رابطہ کیا اور پردیسی بھائی نے ملاقات  کے لئے میرے اور عاطف بٹ صاحب کے مشورے سے اگلے روز سہ پہر 3 بجے کے لئے ملاقات کا وقت مقرر کر لیا۔ نجیب بھائی سے ہی معلوم ہوا کہ ریاض شاہد صاحب کے ساتھ پاک اردو انسٹالر والے محمد بلال محمود  یعنی م بلال م صاحب بھی تشریف لائے ہیں۔ یہ یادگار ملاقات وقت مقررہ پر پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہوئی اور اس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے دیگر بلاگران میں سے سعد ملک صاحب  ، بابا جی اور محمد عبداللہ صاحب  بھی ہمارے ہم نشیں ٹھہرے۔ اس ملاقات کی تصاویری جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
Inline image 1

Inline image 2 کرسی پر تشریف فرما ہیں جناب م بلال م صاحب ، ان کے پہلو میں صوفہ پر چشمہ پہنے ہوئے جناب محمد عبداللہ صاحب اور کالی شرٹ میں  ملبوس مسکراتا چہرہ جناب ریاض شاہد صاحب کا ہے۔ تصاویر میں موجود باقی احباب آپ سب کے دیکھے بھالے ہیں۔ Inline image 3

Inline image 4

Inline image 5

Inline image 6

Inline image 7

Inline image 8

Inline image 9

Inline image 10

Inline image 11



جشن بہاراں، محفلِ یاراں آباد رہے 1

یہ 2013 کے ماہ اگست کی آخری شام تھی جب نجیب عالم المعروف پردیسی بھائی مجھ سے موبائل پر متصل ہوئے ، فرمانے لگے " عید گزرے کافی دن ہوئے اور ہم سب کو ملے بھی, تو کیوں نہ کل کچھ دوستوں سے ملاقات کا اہتمام کیا جائے ؟" ۔    بات ختم ہوئی تو ہم نے موبائل کو پاکٹ کی استراحت سے محرومِ مسلسل رکھتے ہوئے اس پر عاطف بٹ صاحب کا نمبر لکھا اور انہیں دعوتی فون "دے" مارا کہ کل مؤرخہ یکم ستمبر دن ایک بجے پاک ٹی ہاوس تشریف لے آئیں۔ ان سے ایجاب و قبول کا عمل مکمل کروانے کے بعد ، ہم نے  انہیں"پابندی وقت ملحوظ خاطر رکھیں" کا اضافی پیغام سلامی کے طور پر دیا ۔  اس کے بعد حسیب نذیر گل صاحب سے رابطے کی کوششیں شروع ہوئیں ۔ موصوف چونکہ بھارت کی سرحد  کے اِس پار قیام رکھتے ہیں اس لئے ان سے رابطہ ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوا کرتا۔کسی نہ کسی طرح ان کو بھی مدعو کر لیا اور حیرت کی بات یہ کہ انہوں نے کسی عذر کے بنا میری درخواست کو شرف قبولیت بخش دیا۔
اس کے بعد سید فراز حسین المعروف بابا جی  (پینو فیم)کو مدعو کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا۔ میں نےمتعدد بار ان  کا نمبر ملایا لیکن ہر بار ایک مسحور کن نسوانی آواز بڑے پیار سے مجھے ہر بار ٹرخا دیتی۔ ہم سمجھ گئے کہ بابا جی کہیں دھونی رمائے بیٹھے ہوں گے ۔ بابا جی تک رسائی میں ناکامی کے بعد ہم نے امپائر سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور جناب محسن بٹ صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجا دی۔ محسن بٹ صاحب یو اے ای کرکٹ بورڈ کے آفیشل امپائر ہیں اور بابا جی کے توسط سے کوئی ڈیڑھ برس سے ہمارے حلقہ احباب میں شامل ہیں۔ ان دنوں لاہور میں بابا جی کے گھر قیام پذیر تھے سو ان کو پیغام دے دیا کہ آپ اور بابا جی کل دوپہر ایک بجے پاک ٹی ہاؤس میں نزول فرمائیے۔ یوں ہماری ٹیلی فونی دعوت سازی کا سلسلہ تمام ہوا۔
کچھہ مزید رات بھیگی ، آسمان پر ہلکی سی گھٹا چھا گئی تو گھڑی کی ایک سوئی غائب ہوتے ہی ہم نے نجیب بھائی کو فیس بُکی پیغام کھڑکا دیا ، باس اس پیغام کے کھڑکے سے کچھ زیادہ ہی کھڑک گئے یا شاید ان پر بھی ایک سوئی کے غائب ہونے کا طلسم طاری تھا کہ جناب میرے پیغام کو سمجھ ہی نہ سکے اور جواب لکھ بھیجا کہ "میں فون کرتا ہوں" لیکن چند لمحے بعد ہی فون کی بجائے ان کا فیس بکی پیغام آ گیا کہ " ٹھیک ہے جناب ، اس دعوت کا اعلان عام فیس بک پر کر دیا جائے"۔  وہ تو اگلے دن پاک ٹی ہاؤس میں عاطف بٹ صاحب کی معطوفیانہ مسکراہٹوں  کے درمیان وا ہوئے راز سے اندازہ ہوا کہ معاملہ سوئی کے غیاب سے بھی آگے کا تھا ۔
بہر حال فیس بک پر اپنے صفحے اور دیگر دوستوں کے صفحات پر اس کا اعلان عام کر دیا گیا اور اگلی صبح جلدی بیدار ہونے کے لئے ہم "صبح " ہوتے ہی سو گئے۔ الارم کی بجائے گھر والی کے ذمہ لگا دیا کہ مجھے وقت پر جگا دینا  ، کیونکہ جس وقت سونے جا رہے تھے اس کے بعد وقت پر ہمیں جگا دینا  الارم کے بس کی بات نہ تھی ۔ صبح کا نہ جانے کیا وقت تھا کہ ہم برسات کا شکار ہو گئے ۔ فورا دماغ میں آئی کہ  رات کو سوئے تو کمرے میں تھے تو کیا چھت ٹپکنے لگی ہے ؟ کلاک پر نظر جمائی تو 10 بج رہے تھے ۔ ارد گرد نظر دوڑائی تو ہر چیز کو اپنی جگہ براجمان پایا سوائے نصف بہتر کے ، جو دروازے میں کھڑی اپنے گیلے ہاتھوں کو اپنے ہی دوپٹے سے پونچھ رہی تھی۔تب معاملہ سمجھ میں آیا کہ برسات کہاں سے آئی تھی۔ ہم نے پھر سے لیٹنے کی کوشش کی تو  دھمکی آمیز حکم ملا کہ " اب اٹھ جاؤ ، دوبارہ لیٹے تو فریج میں سے  ٹھنڈےپانی کا گلاس ہمارے اوپر انڈیل دیا جائے گا"۔ ہم نے دل ہی دل میں ،روایتی شوہروں کی طرح ، اسے کوسا اور اگلے ہی لمحے غیر روایتی شوہروں کی طرح حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتر آئے ۔
اتوار کا دن ہو اور جلدی اٹھنا پڑے تو بندے کا نقطہ اشتعال ا س قدر کم ہو چکا ہوتا ہے کہ گلی میں سبزی بیچنے والا بھی آواز لگائے تو دل چاہتا ہے کہ اس کا سر پھوڑ دیا جائے۔ بہرحال بھونپو جیسا منہ بنائے ہم نے ناشتہ کیا ۔ واش روم میں قدم رنجہ فرمایا تو وہاں تولیے کی عدم موجودگی پر خاتون خانہ سے بھرپور احتجاج کیا لیکن وہ بھی پوری سیاستدان نکلی فورا بولی "جتنی کیلوریز  مجھ پرچلانے پر خرچ کی ہیں  تولیہ چھت سے اتارلانے میں اس سے کم کا خرچہ ہونا تھا۔ بجلی بند ہونے والی ہے اور میں آپ کے کپڑے استری کر رہی ہوں" ہم پھر سےمرتفع چہرہ لئے تولیہ اتارنے چلے گئے۔
12 بج کر 45 منٹ پر ہم پاک  ٹی ہاؤس پہنچے ۔ 15 منٹ تک  پاک ٹی ہاؤس کی کچھ تصاویر بنانے  کے بعد ہم نے نجیب بھائی سے فونی رابطہ کیا تو ان کی مخمور آواز سنائی دی۔ فرمانے لگے کہ " میں تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گا ۔ آپ پہنچ جائیں" ہم نے عرض کیا کہ حضور ! بندہ پاک ٹی ہاؤس میں ہی براجمان ہے ۔ نجیب بھائی کی خوابیدہ آواز سن کر ان سے تاخیر کا سبب پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہی تھی ۔ اب عاطف بٹ صاحب کو فون لگایا تو یوں لگا کہ فون کا رابطہ کسی خلائی سٹیشن سے ہو گیا ہے۔ کچھ سیکنڈز تک کوشش کرتے رہے کہ موصول ہونے والے سگنلز کو ہمارا دماغ صوتی صورت میں ڈھال سکے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔ ہم نے دوبارہ سے کوشش کی تو اب کی بار فون صراط مستقیم پر چلا اور عاطف بٹ  صاحب تک پہنچ گیا۔ موصوف لیٹ ہونے کے معاملہ میں بندہ ناچیز سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں بلکہ اب تو لگتا ہے کہ پاکستان ریلوے اور عاطف بٹ صاحب کے درمیان  لیٹ ہونے کامقابلہ ہوتا ہے جس میں زیادہ تر عاطف بٹ صاحب  فاتح قرار پاتے ہیں۔ اور اگر کسی تقریب میں غلطی سے وقت پر پہنچ جائیں تو بعد میں آنے والوں کی خوب خبر لیتے ہیں۔ آج چونکہ مابدولت وقت سے پہلے پہنچ چکے تھے اس لئے  بٹ صاحب سے انتقام لینے کی آگ ہمارے اندر بھڑک اٹھی ۔ ان سے دریافت کیا کہ کہاں تشریف فرما ہیں ۔ بولے گھر میں ہی  ہوں۔ اور ہم سمجھ گئے کہ اس وقت گھر میں ہونے کا مطلب ہے کہ بستر پر تشریف فرما ہیں۔ انہیں وعدہ شب یاد دلایا تو بولے " آپ نے یاد دلایا تو ہمیں یاد آیا"۔ ہم نے پوچھا اب کیا ارادے ہیں ۔ بولے بس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتا ہوں۔   اب کسی کو یہ بتانے کی مجھے کیا ضرورت ہے کہ بٹ صاحب کی "تھوڑی دیر " 60 منٹ سے کم نہیں ہوا کرتی۔
کچھ دیر بعد میرے فون کی گھنٹی بجی ۔ متصل ہوئے تو بابا جی سے ہم کلامی کا شرف ملا۔ بابا جی بمعہ اپنے چھوٹے بھائی سید فیضان ، اپنے کزن جناب کاشف رحمان اور محسن بٹ صاحب کے ساتھ تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں پھنس گئے۔ دراصل بابا جی کو پھنسنے کی پرانی عادت ہے۔ طالبعلمی کے دور میں تعلیم میں پھنس پھنس کے چلتے تھے۔ عملی زندگی میں قدم رکھا تو کام کے ساتھ پھنس گئے۔ انار کلی گئے تو پینو کے ساتھ پھنس گئے۔   فیشن کرنے پر آئے تو تنگ پینٹس میں پھنس گئے  اور اس دن پاک ٹی ہاؤس آ رہے تھے تو کالی سیاہ گھٹاؤں کے ساتھ ساتھ بارش میں پھنس گئے۔ اور تو اور اپنے ساتھ تین دیگربندوں کو بھی پھنسا دیا بابا جی نے۔ یعنی  "جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے"  ۔ اور بارش میں پھنسنے کی تازہ ترین داستان مجھے بتانے کے لئے ہی انہوں نے فون کیا تھا کہ " ہم پھنس گئے ہیں ، ہمارا انتطار کیا جائے" ۔
پھنسنے کی یہ داستان بابا جی تک موقوف نہ رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حسیب نذیر گل صاحب کا فون آ گیا کہ " ساجد بھائی ! میں مال روڈ پر پھنس گیا ہوں" ۔ ما بدولت کا سر چکرا گیا کہ اتنا شریف لڑکا مال روڈ پر کس کے ساتھ پھنس گیا۔ تفصیل پوچھی تو پتہ چلا کہ کہ یہ شریف لڑکا کسی کے ساتھ نہیں پھنسا بلکہ اس لڑکے کو ایک مؤنث نے پھنسا لیا ہے اور اسی وجہ سے یہ شریف لڑکا " بے چین" ہو گیا ہے۔ انہیں سڑک کے عین بیچ میں پھنسانے والی  یہ مؤنث ان کی موٹر سائیکل کی " چین" تھی جس نے ٹوٹنے کے بعد اپنی حفاظت پر مامور حفاظتی کور کو یوں  " پیار کا لپیٹا پا لیا " کہ وہ کور " چُوڑی وانگوں ٹُٹ " گیا اور حسیب صاحب جٹ ہونے کے سبب ان کے اس پیار کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھے۔  چین اور کور کو جوں جوں سنوارنے کی کوشش کرتے توں توں یہ جوڑی زُلفِ یار کی طرح مزید بل کھاتی جا رہی تھی۔ حسیب کی پکار پہ جب راقم ظالم سماج کی نمائندگی کرتا دو پریمیوں کو  ایک دوسرے سےالگ کرنے کے لئے سڑک پر آیا تو  پتہ چلا کہ معاملہ بہت بگڑ گیا ہے۔ چین کو بڑے عرصہ سے ادھر ادھر منہ مارنے کی کھلی چھٹی دی گئی تھی اور اس کی "کھنچائی" بہت عرصہ سے نہیں ہوئی تھی ۔ اب جو وہ اپنی آئی پر آئی تو اپنا منہ اور ہمارے ہاتھ کالے کر گئی۔
حسیب کی بائیک  کی چین کھول کر واپس  آئے تو نجیب بھائی بھی تشریف لے آئے ۔ اور جب ہمارے یہ بڑے بھائی ہمارے ساتھ مل جائیں تو پھر " باہمی دلچسپی " کے ایسے ایسے امور پر بات چیت ہوتی ہے کہ امریکی سنسر بورڈ بھی اسے پاس نہ کرے۔ محاسن و مخامی کے پرکھنے ، لطافت کی حدود مقرر کرنے ، ظرافت کو اس کے مفاہیم  تک پہنچانے اور طنز  کی ہیر کو مزاح کے رانجھے سے ملانے کے ہمارے اپنے پیمانے اور معیارات ہوتے ہیں۔ اشارے  اور کنائے کی ترکیبات کو ان کے اصل معانی سمجھائے جاتے ہیں۔
------- جاری ہے۔
 اگلی قسط میں تصاویر بھی پیش کی جائیں گی۔

Pages