ساجد نامہ

مجھے مل گیا بہانہ تری دید کا

اس بار عیدالفطر پر ہم نے فیصلہ کیا کہ لاہور شہر کی بھیڑ بھاڑ سے نکل کر اپنے آبائی شہر کمالیہ اور اس کے مضافاتی گاؤں میں عید منائی جائے۔ چونکہ انتہائی طویل عرصہ بعد یہاں عید منانے کا موقع ملا تھا اس لئے اپنے بچپن اور لڑکپن سے بھی ملاقات ہو گئی ۔ شہر سے  ملاقات کی تصویری کہانی ابھی شامل کی جا رہی ہے البتہ گاؤں کی ملاقات کا احوال ابھی باقی ہے وہ بھی جلد پیش کر دیا جائے گا۔ شہر کے مضافات میں طلوع شمس کا منظر

ایک اور منظر دل کش لینڈ سکیپ میرا بہت پرانا دوست جس کے ساتھ الٹا سیدھا لٹک کر میں ڈارون کی تھیوری کو لا علمی میں تقویت پہنچایا کرتا تھا گھر سے کچھ دور واقع چھوٹی سی مسجد جو میرے امتحانات کی تیاری میںمیرا سٹڈی روم بھی ہوا کرتی تھی ایک اور چھوٹی سی بغیر چھت کے مسجد۔ پاکستان کے شہری مضافاتی اور دیہاتی علاقوں میں عام طور پر ایسی مساجد دیکھی جا سکتی ہیں ۔ ان مساجد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ ہر قسم کی مذہبی و مسلکی فرقہ بندی سے مامون ہیں۔ ایسی مساجد عام طور پر گھنے درختوں  کے نیچے اور پانی کے ذریعوں کے قریب بنائی جاتی ہیں۔ رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی ۔ خوبصورت فطری ماحول میں قدرت کے عطا کردہ دو تحفے ما حول کو مزید خوبسورت بناتے ہوئے۔


اکیسویں صدی کی بھینسیں بھی ماڈرن ہیں ۔ تصویر بنوانے کے لئے باقاعدہ پوز بناتی ہیں۔
اس ٹیوب ویل کو دیکھ کر آج بھی اس ٹھنڈک کا احساس طبیعت کو سرشار کر دیتا ہے جو اس میں نہانے سے ملتی تھی اور اس دنیا کی سیر ہو جاتی ہے جب گھروں میں نلکے کم کم ہوا کرتے تھے اور قرب و جوار کی خواتین کپڑے اور برتن دھونے یہاں آیا کرتی تھیں ۔
ٹرو کے دن سرمئی گھٹاؤں نے عید کا مزا دوبالا کر دیا
ہمارے گھر سے متصل اللہ کا گھر ، یوں ہم اللہ کے ہمسائے ہوئے
ساون کی پھواہاریں اور لڑکپن کی عمر ۔ یہ مناظر زندگی کا سرمایہ ہو جاتے ہیں
شاہ رخ خان میرے سامنے کیا چیز ہے !!! پڑھاکو بچی سب نے چشمہ پہن رکھا ہے تو میں کیوں نہ پہنوں ؟ یہ صاحب بڑے ہو کر سگھڑ شوہروں میں سے شمار ہوں گے یہ سماں پیارا پیارا ، یہ ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے

میرے خوابوں کا پاکستان (خصوصی تحریر برائے بلاگستان فیڈز)


پاکستان ۔۔۔۔۔میری جان ، میرا مان ، میری پہچان جس سے وفا کے بغیر نا مکمل ہے میرا ایمان۔  سات حروف کے امتزاج سے تشکیل پانے والا یہ لفظ میری حیات  کو اپنے ہر حرف  سے یوں  مقصدیت دیتا ہے کہ جس طرح خورشید کی کرن منشور میں سے گزر کراپنے تمام رنگوں کے ساتھ یوں جلوہ دکھائے کہ ،
 زباں پر بے اختیار آ جائے فبائ الاء ربکما تکذبان۔

قارئینِ کرام ، آج میں جس موضوع پر لکھنے جا رہا ہوں وہ اپنی لفظی ساخت کے اعتبار سے تو بحوث و مقالات کے لاکھوں کروڑوں موضوعات کے جیسا ہی دکھائی دیتا ہے لیکن اس کی اساسی نسبت میرے خیالات و محسوسات کے ساتھ جو اٹوٹ بندھن رکھتی ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

"میرے خوابوں کا پاکستان"
عزیزانِ من ، قبل اس کے کہ میں اس پاکستان کی بات کروں جس کا خواب میں آج دیکھتا ہوں، میں اس پاکستان کی ایک تصویر آپ کے سامنے رکھ دوں جو ماضی کے کل کا حقیقی پاکستان تھا  اور جس کی بنیاد پر "میرے خوابوں کا پاکستان" میرے شعور میں نمودار ہوا۔ یہ وطن جو جغرافیائی لحاظ سے 1947 میں منصہ شہود پر آیا اپنے قیام سے پہلے اپنے وقت کے عظیم لوگوں کا خواب تھا۔ وہ عظیم لوگ جنہوں نے تاریخ عالم پر ایسے انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں کہ اصول پسندی و استقامت کو اس کے اصل معانی سے روشناس کروا گئے ۔ یہ پاک وطن ان عظیم المرتبت ہستیوں کا عظیم خواب تھا جو ان کی محنت شاقہ کی بدولت اپنی تعبیر پا گیا لیکن آج اگر میں اپنی انفرادی حیثیت میں اس مادر وطن کے لئے دیکھ جانے والے خوابوں کا تقابل اُن عظیم خوابوں سے کروں تو جو اس کے بانیان نے اس کے لئے دیکھے تو ندامت کا احساس میرے قلم کی روانی میں حائل ہو جاتا ہے۔ میرے خیالات منتشر ہو جاتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ۔

صاحبانِ گرامی قدر ، خواب کیا ہیں ؟ ماہرین کہتے ہیں کہ ہم اپنی حقیقی زندگی میں جن مشاہدات ، تجربات اور واقعات سے
دوچار ہوتے ہیں ہمارا دماغ ان کی روشنی میں اپنی سوچ کے دھاروں کا رخ متعین کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ ہمارے لاشعور میں جمع ہو جاتے ہیں اور انہی واقعات و تجربات کے زیر اثر ہمیں خواب دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ہمارا لاشعورعالم نیند میں بھی کام کرتا رہتا ہے۔ یعنی خواب جہاں حقیقت کا متضاد سمجھے جاتے ہیں وہیں ان کا ماخذ بھی یہی حقیقتیں ہیں جن سے ہمارا روزمرہ کی زندگی میں واسطہ پڑتا ہے۔

عزیزانِ محترم ، بات دور نکل رہی ہے ، مختصر عرض کر دوں ۔ جب ہم اپنے دور طالب علمی میں دن بہ دن ترقی کی منزلیں طے کرتا پر امن اور خوشحال پاکستان دیکھا کرتے تھے تو اس حقیقت کے تحت جو خواب ہمیں نظر آیا کرتے تھے وہ عنقا ہوئے۔ وہ خواب اسے مزید بہتر کرنے اور اسے دنیا کے لئے ایک بہترین مثال بنا دینے کے ہوا کرتے تھے ۔ لیکن آج جب کہ شاہینوں کا یہ مسکن کرگسوں کے تصرف میں ہے تو ان تلخ حقائق نے ہمارے خوابوں کا رخ اس کے وجود کو مزید ٹکڑے ہونے سے بچانے کی طرف موڑ دیا ہے۔  سوچنے کا مقام ہے کہ نوبت یہاں تک کیوں اور کیسے آ گئی ۔

"میرے خوابوں کا پاکستان"
 وہ پاکستان کہ جس کی اقتصادی ترقی کی رفتار دنیا کے بہت سارے ممالک کے لئے قابل تقلید نمونہ ہوا کرتی تھی  ۔

وہ پاکستان کہ جس کے ماہرین معاشیات کوریا ، ملائشیا اور انڈو نیشیا جیسے ممالک کے ترقیاتی منصوبہ جات تیار کیا کرتے تھے ۔

وہ   پاکستان کہ جس کی یونیورسٹیاں طب اور زراعت میں بڑی اعلی تحقیقات کی حامل ہو کرتی تھیں ۔

وہ پاکستان کہ جس کی ائر لائن "باکمال لوگ لاجواب سروس " کے سلوگن کی حامل تھی  ۔


وہ پاکستان کہ کس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایشیا بھر میں کوئی ثانی نہ تھا ۔

وہ پاکستان کہ دنیا بھر کے کھلاڑی اس کے تیار شدہ سامان کے ساتھ میدان میں اترا کرتے تھے ۔

وہ پاکستان کہ جس کے آلات جراحی مغرب کے جدید ترین شفا خانوں کی اہم ترین ضرورت ہوا کرتے تھے ۔

وہ پاکستان کہ جس کی فلم انڈسٹری انتہائی کم وسائل کے باوجود اپنے پڑوسی ملک کی جدید ترین انڈسٹری پر حاوی ہوا کرتی تھی ۔

وہ پاکستان کہ جو عالم اسلام میں اعتدال و رواداری کا نشان سمجھا جاتا تھا ۔

وہ پاکستان کہ جس میں طبقاتی تقسیم کا وجود نہ تھا ۔

وہ پاکستان کہ جس میں توازن ، تناسب اور تعاون کا چلن تھا ۔

وہ پاکستان کہ جس کے محنت کش خوشحال ہوا کرتے تھے ۔

وہ پاکستان کہ جس کا گورنر جنرل ایک انکم ٹیکس آفیسر کو اس لئے ڈانٹتاہے کہ اس نے اسے وقت پر انکم  ٹیکس ادا نہ کرنے پر نوٹس جاری کیوں نہیں کیا تھا ۔

اور

 وہ پاکستان کہ جہاں مؤاخاتِ مدینہ کے بعد بھائی چارے کی سب سے بڑی مثال دنیا نے دیکھی تھی۔

جی ہاں یہی ہے" میرے خوابوں کا پاکستان" جو ماضی میں ایک حقیقت ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ مستقبل کے لئے "میرے خوابوں کا پاکستان" ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچئے!!

آج یہ پاکستان اس قدر کسمپرسی کی حالت میں کیوں ہے؟

دوستانِ ذی وقار ، شاعر نے بڑی سچی بات کہی

؎جس دور میں لُٹ جائے فقیروں کی کمائی اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے
قارئین کرام ،

 آج کے پاکستان میں اس کے فقیر کی کمائی ہی نہیں لٹی بلکہ عزت نفس لٹ گئی ہے
مائیں اپنے بچوں سمیت خودکشی پر مجبور ہیں تو دوسری طرف دندناتے دہشت گرد ماؤں کی گود اجاڑ رہے ہیں اور ڈرون حملے ہماری خود مختاری کو آئے دن تاراج کرتے ہیں۔ ۔خلقِ خدا کوڑے کے ڈھیروں پر رزق تلاش کرنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ سونا اگلنے والی زمینوں کے ہوتے بھی پاکستانی قوم غذائی کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے  لا محدود ذرائع کے باوجود اندھیرے ہمارا مقدر بن چکے ہیں۔ جہالت کے اندھیرے اس پر مستزاد کہ اب ہمارا طالب علم ڈگری رکھنے کے باوجود اپنے وطن کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا ہے کیونکہ اسے وہ تعلیم دی جاتی ہے جس کا ہمارے مسائل کے حل سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ملاوٹ  ، ذخیرہ اندوزی اور ماپ تول میں کمی اب باعثِ شرم نہیں رہی۔ قانون پر عمل کرنا باعث شرم اور اس کی خلاف ورزی کو فخر سمجھا جانے لگا ہے۔ الغرض لا تعداد مثالیں ہیں کہ جن کے بیان سے سوائے بے زاری و بے قراری کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

مقام فکر ہے کہ تنزلی اور گراوٹ کے ان اسباب کے پیچھے کیا صرف اور صرف "سلطان کی بھول" ہی ہے ؟۔۔۔۔نہیں ہرگز نہیں !

علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا
؎افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
دوستان عزیز ، میں پاکستان کے تمام لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں کہ اقبال کے اس شعر کے مفہوم کی کسوٹی پر خود کو پرکھیں اور ہر پاکستانی خود سے سوال کرے کہ "میرے خوابوں کا پاکستان" کہاں کھو گیا ؟ ۔ اب ہم کیسے پاکستان کے خواب دیکھتے ہیں ۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ صرف اشرافیہ ہی نہیں ہم سب افراد بھی اپنے خوابوں کے قاتل ہیں۔ ہم نے ترقی اور خوشحالی کے ان حقائق کو دوام دینے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جن کی بنیاد پر "میرے خوابوں کا پاکستان" دنیا کے لئے قابل تقلید بن سکتا ۔ نتیجہ یہ کہ اب ہم مضمحل ہیں اور ہمارا پاکستان مفلوج۔

قارئین کرام ، گمراہ اشرافیہ آسمان سے اترتی ہے نہ سیاسی جماعتیں۔ دہشت گرد زمین سے اگتے ہیں نہ غداران  وطن ۔ یہ سب طبقے ہم ہی میں سے ہیں لہذا "میرے خوابوں کا پاکستان" کسی کو مؤرد الزام ٹھہرانے ، کسی پر انگلی اٹھانے یا پھر کسی کو کوسنے سے ہرگز وجود میں نہ آئے گا ۔ "میرے خوابوں کا پاکستان" تب وجود میں آئے گا جب ہم الزام تراشی کے اس روئیے کو ترک کر کے دل وجان سے اس پاک وطن کے لئے خلوص اور چاہت سے کام کریں گے اور ہم سب کواپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر سوچنا ہو گا کہ "میرے خوابوں کے پاکستان" کے حصول کی منزل دور ہونے میں ہم انفرادی طور پر کس حد تک قصور وار ہیں۔ قوم کے افراد کاا انفرادی کردار ہی  مجموعی قومی شناخت بنتا ہے۔ اس وطن کی تقدیر ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری تقدیر اس کی سالمیت و ترقی سے وابستہ ہے ۔ آئیے پنی پوری قوت و صلاحیت اسے مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے پر صرف کیجئے تا کہ ہم قوموں کی صف میں باعزت مقام حاصل کر سکیں اور اگر ہم نے وطن کی ترقی کی طرف سے اغماض برتا تو تاریخ ہمیں حرفِ غلط کی طرح مٹا ڈالے گی۔
ہم صنعت کار ہوں یا زمیندار ، آجر ہوں یا اجیر ،معلم ہوں یا متعلم ،دکاندار ہوں یا خریدار،سیاستدان ہوں یا عوام ،سرکاری اہلکار ہوں یا عرضی گزار ،ڈاکٹر ہوں یا بینکار ، وکیل ہوں یا مؤکل، ادیب ہوں یا قاری ، شاعر ہوں یا سامع،سندھی ہوں یا پنجابی ، پختون ہوں یا بلوچ، مہاجر ہوں یا انصار،کشمیری ہوں یا بلتستانی، شیعہ ہوںیا سنی ، مسلم ہوں یا غیر مسلم اور اشرافیہ ہوں یا رعایا ہمیں اپنے ہر مقام ، ہر روپ ، ہر حیثیت ، ہر رتبے،ہر پہچان ، ہر عہدےاور ہر صلاحیت کو اپنے وطن کی ترقی، بہتری اور استحکام کے لئے وقف کرنا ہو گا۔ تب جا کر وجود میں آئے گا
"میرے خوابوں کا پاکستان"
خدا کرےکہ میری ارضِ پاک پہ اُترے وہ فصلِ گُل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں کہ پتھروں سے بھی روئدگی محال نہ ہو
خدا کرے کہ وقار اس کا غیر فانی ہو اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و وصال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پہ اُترے وہ فصلِ گل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو

 ----------------- یہ خصوصی تحریر بلاگستان فیڈز کے تحت ،25 اگست 2013 کو، منعقد ہونے والے مقابلہ تحریر نویسی میں شمولیت کے لئے پیش کی گئی۔ اگر آپ بھی اس مقابلہ میں شرکت کے خواہش مند ہیں تو اس ربط پر تشریف لائیں۔




ایک خدا کی دو دو نمازیں ہیں !


خواجہ حیدر علی آتش مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ خواجہ حیدر علی آتش کی سیدھی سادی طبیعت اور بھولی بھالی باتوں کے ذکر میں میر انیس مرحوم نے فرمایا کہ ایک دن آپ کو نماز کا خیال آ گیا۔ کسی شاگرد سے کہا کہ بھئی ہمیں نماز سکھاؤ۔ وہ شاگرد اتفاق سے اہلسنت میں سے تھا اس نے ویسی ہی نماز سکھا دی اور یہ کہہ دیا کہ استاد ! عبادت الہی جتنی پوشیدہ ہو اتنی ہی اچھی ہوتی ہے۔ جب نماز کا وقت ہوتا خواجہ صاحب حجرے میں جاتے یا گھر کا دروازہ بند کر کےاسی طرح پڑھا کرتے ۔ میر دوست علی خلیل ان کے شاگرد خاص اورجلوت و خلوت کے حاضر باش تھے ؛ ایک دن انہوں نے بھی دیکھ لیا۔ بہت حیران ہوئے۔ یہ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ استاد ! آپ کا مسلک کیا ہے؟ فرمایا ' شیعہ ۔ ہیں ! یہ کیاپوچھتے ہو؟۔ انہوں نے کہا کہ نماز سنیوں کی؟۔ فرمایا ! بھئی میں کیا جانوں ' فلاں شخص سے میں نے کہا تھا  ' اس نے جو سکھلا دی "سو پڑھتا ہوں۔ مجھے کیا خبر کہ ایک خدا کی دو دو نمازیں ہیں۔

من کہ مسمی معمار قوم (2)

جیسا کہ سابقہ قسط میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ حالات کی ابتری یک طرفہ عمل کا نتیجہ نہیں ہوا کرتی بلکہ انسانی معاشرہ ایک پیچیدہ مشین کی طرح سے بہت سارے  سماجی ، معاشرتی ، معاشی ، مذہبی ، سیاسی و اخلاقی کل پرزوں پر مشتمل ہوا کرتا ہے  ان پرزوں میں سے کسی ایک میں بھی خرابی پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات متاثرہ حصے تک ہی محدود نہیں رہتے ، مشین کی مجموعی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے اور اگر اس کو مناسب وقت پر دور نہ کیا جائے تو پوری سماجی مشینری کے تار پور بکھر جایا کرتے ہیں ۔ آپ غور فرمائیے کہ ماضی کے اوراق اور حال کے لوحات پر جن اقوام کے نام تہذیبی ترقی کے حوالے سے سنہرے الفاظ میں مرقوم ہیں ان میں ایک چیز بڑے اہتمام کے ساتھ پائی جائے گی جسے خود احتسابی کہا جاتا ہے ۔ جب تک یہ صفت کسی قوم میں موجود رہتی ہے تب تک اس کے مقدر کا ستارہ دیگر اقوام کے لئے قطب نما کا مقام رکھتا ہے لیکن جیسے ہی کوئی قوم اس سے روگردانی کرتی ہے وہ بذاتِ خود راستہ کھو بیٹھتی ہے۔ لہذا قومی ترقی کے لئے لازم ہے کہ ہم سب انفرادی طور پر اپنا احتساب ہر لمحہ کرتے رہیں تا کہ اجتماعیت کے حوالے سے یَداللہ علٰی الجماعۃ کے حق دار بن سکیں اور اگر ہم ذاتی حیثیت میں خود احتسابی کی بجائے معاشرے کے دیگر افراد و طبقات سے یہ توقع رکھیں کہ یہ کام تو ان کے کرنے کا ہے تو جان لیجئے کہ یہ حماقت اس قدر سنگین ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف ہماری معاشرتی بقا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے بلکہ ہماری نظریاتی و جغرافیائی حدود بھی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں ، اور اگر خود احتسابی سے روگردانی کا عارضہ معاشرے کے خواص میں اس حد تک سرایت کر جائے کہ وہ مذہبی ، تہذیبی اور تمدنی اصولوں اور تعلیمات سے روشناس ہونے کے باوجود بد قماشی و بد دیانتی کو اپنا شعار بنا لیں تو پھر مجھے ، اجتماعیت کے حوالے سے ، آپ کی خدمت میں کسی اور کی نہیں آج کے متشدد و منقسم پاکستانی معاشرے کی مثال پیش کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ؛ اور انفرادی تنزلی کے بارے میں ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں :
میرے ایک لائق شاگرد ، آپ کی آسانی کے لئے میں اس کا فرضی نام غلام عباس لکھ دیتا ہوں ، کی دادی اللہ کو پیاری ہو گئی اور گاؤں کے رواج کے مطابق فوتیدگی کے بعد آنے والی پہلی جمعرات کو اس کے ساتویں کا ختم کا اہتمام کیا گیا۔ اور گاؤں کے رواج کے مطابق ہی ختم میں شرکت کے لئے ہم تمام اساتذہ کو مدعو کیا گیا۔ جب ہم پنڈال میں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ غلام عباس کے والد غلام محمد نے اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے کوئی 20 دیگیں آگ پر چڑھا رکھی تھیں ۔ گاؤں اور اس کے نواح میں دو روحانی شخصیات خاصی با رسوخ تھیں وہ بھی وہاں تشریف فرما تھیں۔ کوئی 300 افراد وہاں موجود تھے جن کی اکثریت ان شخصیات کے ارد گرد بیٹھنے کو اپنے لئے ایک سعادت سمجھتے ہوئے ان کی قربت کی خواہاں تھی اور کچھ افراد فرطِ جزبات میں ان کے پاؤں میں سجدے کے مشابہہ سر رکھ کر شاید "جنت" تلاش کر رہے تھے ۔ ہماری قوم کا یہ المیہ ہے کہ بر انگیختی اس مین کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ، لہذا ان کو سمجھانے کے لئے عام طریقہ اختیار کرنا "آ بیل مجھے مار" کی عملی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے لیکن اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے گویائی و دلیل کی کچھ بہتر صلاحیت دی ہے کہ جس کو استعمال کرکے میں  اپنے شاگردوں کو ایسے افعال کی خطرناکی سے مختلف اوقات میں آگاہ کرتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نئی نسل کے ان طالبعلموں میں سے کچھ بچے ان کے سامنے جھکنے کی بجائے ان سے مصافحہ کرنے سے آگے نہ بڑھتے اس کا لا محالہ یہ نتیجہ تھا کہ میں ان شخصیات کے نزدیک "مرتد" تھا اور ان کے اندھے عقیدتمندوں ، کچھ گاؤں والوں ، کے نزدیک ان کے بچوں کو اسلام سے دور کررہا تھا۔ گاؤں کی اکلوتی مسجد کے مولوی صاحب تو میرے زبردست بیری تھے اور جب کبھی گاؤں کے کسی ختم پر میرا اور ان کا آمنا سامنا ہو جاتا تو اگلے ہی روز جمعہ کی تقریر میں موضوع تقریر میرا "کفرو ارتداد" ہوتا تھا۔ یہاں میں وضاحت کر دوں کہ میری مولوی صاحب سے مخالفت اس بات پر نہ تھی کہ ختم کی شرعی حیثیت کیا ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور تھی جو اگلی سطروں کے مطالعے سے آپ پر منکشف ہو جائے گی۔
گاؤں کے دیگر عمائدین کی تکمیلِ آمد پر مولوی صاحب مسجد سے پنڈال کی طرف تشریف لائے اور دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی ان کے احترام میں ان کی آمد پر کھڑا ہو گیا ۔ یہ احترام مولوی صاحب کی ذات کا نہیں بلکہ ان کے مقام کا تھا جس کو وہ پامال کیا کرتے تھے اور میں اسی پامالی پر ان سے اختلاف رکھتا تھا ۔ ان مولوی صاحب نے بھی چند معزز سیاسی و روحانی شخصیات سے دعا سلام کر کے اپنے دائیں طرف کن اکھیوں سے دیکھا اور مجھے وہاں بیٹھا دیکھ کر اپنے چہرے پر عمودی ابھار لے آئے ۔ خیر سے ، غلام محمد کی طرف سے ، ختم شروع کرنے کا اذن مولوی صاحب کو دیا گیا۔ اب مولوی صاحب کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک پیدا ہوئی اور جوں جوں وہ اس قیمتی سامان کو دیکھتے رہے جو ختم کے بعد مولوی صاحب کے ساتھ جانا تھا اس چمک میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ اب اس سامان کی تفصیل بھی پڑھ لیجئے ، سونے کی بالیاں ، ایک روئی بھری ریشمی رضائی معہ ریشمی بستر، لکڑی کی بنی رنگین چارپائی ، 5 زنانہ سوٹ ، 5 مردانہ سوٹ ، ایک پیتل کا لوٹا ،مخمل کے دو جائے نماز ، ایک پگڑی ، ایک جوڑا زنانہ جوتے ، ایک جوڑا مردانہ جوتے اور 2000 روپیہ نقد۔ مولوی صاحب نے ہر چیز کو بغور دیکھا اور چند لمحوں کے لئے ایسے بیٹھ گئے جیسے کسی غیر مرئی مخلوق سے رابطے میں ہوں ، پھر اچانک ہی بہ آواز بلند بولے "اوئے غلام محمد ، تیرا پیو جیوندا اے؟" غلام محمد نے جواب دیا ،"نہیں مولوی صاحب ، آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ 4 برس قبل اس کا انتقال ہو چکا ہے" ۔ مولوی صاحب جلالت بھری آواز میں مخاطب ہوئے "اوئے بیوقوفا ، تو اپنی ماں کو تو پیتل کا لوٹا ، ریشمی رضائی اور رنگین چارپائی دے رہا ہے تیرا باپ وضو کے لئے کس لوٹے میں پانی لے گا؟ وہ سردی کا مقابلہ کیسے کرے گا؟ اور وہ کیا زمین پر سوئے گا؟ شرم کر کہ تیری ماں اس رنگین چارپائی پر گرم بستر میں سوئے گی اور اس کا سرتاج یعنی تیرا باپ نیچے زمین پر سردی میں لیٹے گا۔ ختم شریف کو پہلے ہی بہت تاخیر ہو گئی ہے جا جلدی کر اپنے باپ کے لئے بھی ایک ایسا ہی ریشمی بستر ، ایک رضائی ، ایک پیتل کا لوٹا اور ایک چارپائی بھی لے کر آ تا کہ تیرا باپ تجھ پر ناراض نہ ہو"۔
ان پڑھ غلام محمد بجلی کی تیزی کے ساتھ گھر کی طرف بھاگا  تا کہ مطلوبہ سامان بھی مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کر سکے لیکن جب وہ میرے قریب سے گزرنے لگا تو میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ مولوی صاھب نے یہ منظر دیکھا تو شدید ناگواری ان کے چہرے سے عیاں تھی ۔ میں غلام محمد کا بازو تھامے تھوڑا سا مولوی صاحب کی طرف سرکا اور ان کے پہلو مین بیٹھی دو نوں روحانی شخصیات کو مخاطب کر کے مولوی صاحب سے بات کی اور کہا " مولوی صاحب ، کوئی قانونی ، اخلاقی ، شرعی یا سماجی رکاوٹ کا بیان کریں جو غلام محمد کی مرحومہ ماں کو اپنے پہلے سے مرحوم شوہر کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر ایک ہی بستر میں ایک ہی رضائی میں لیٹنے میں حائل ہوتی ہو؟ کتنی اچھی بات ہے کہ یہ مرحومہ 4 برس کی جدائی کے بعد اپنے شوہر سے ملے گی اور آپ ہین ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے پر تلے بیٹھے ہیں ، آپ جانتے ہیں نا کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے والے کو اللہ تعالی کتنا ناپسند کرتے ہیں۔ یہ تو وہ رشتہ جہاں روح تک میں شراکت ہو جاتی ہے اور آپ ہیں کہ ایک لوٹے اور ریشمی چارپائی میں ان کی شراکت پر بھی معترض ہیں۔ غلام محمد مزید سامان نہیں لائے گا ، جو سامان یہاں پڑا ہوا ہے اس کی بھی ضرورت نہ مرحومہ کو ہے اور نہ ان کے مرحوم شوہر کو ۔ کیونکہ جب روح جسم سے الگ ہو جاتی ہے تو اس کی دنیاوی ضروریات بھی باقی نہیں رہ جاتیں"  اور ساتھ ہی میں نے ان دونوں روحانی شخصیات سے تصدیق چاہی کہ کیوں جی شاہ جی مین نے کچھ غلط کہا؟۔ شاہ صاحب کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ بچا کہ وہ میرا چہرہ دیکھ کر مسکراتے رہے اور چند ثانیے بعد مولوی صاحب سے یوں مخاطب ہوئے " مولوی صاحب ، استاد جی ٹھیک کہتے ہیں ۔ مرحومین ان دنیاوی اسباب و ضروریات کے مکلف نہیں ہوتے ، اب ان کو اس دنیاوی مال کی نہیں بلکہ اعمال کی ضرورت ہے۔ آپ قرآن پڑھنا شروع کریں اور اللہ کے حضور ان کی مغفرت کی دعا کریں کہ مرحومین کو سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہوتی ہے"۔
برسوں گزر گئے ، اب غلام عباس ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن چکا ہے ۔ ڈیڑھ برس قبل اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا ، اس نے مجھے اطلاع دی ۔ ختم تو اب بھی ہوا لیکن نہ کوئی دنیاوی اسباب کسی کو دئیے گئے نہ کسی نے مطالبہ کیا ۔ ختم کے بعد غلام عباس بچوں کی طرح میرے پہلو سے چپک گیا ۔ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ، میں نے اسے دلاسہ دیا تو وہ بولا " استاد جی یہ آنسو صرف امی کی جدائی کے نہیں ہیں بلکہ آپ کے دئیے اس سبق کےتشکر کے بھی ہیں جو آپ نے برسوں قبل یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب کو دیا تھا اور پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ شاہ جی بھی آپ کی دلیل کے سامنے بے بس ہو گئے تھے۔"
واقعہ بیان کرنے کا مقصد خود نمائی ہر گز نہیں بلکہ ان طریقوں مین سے ایک طریقے اور طرزِ عمل کی وضاحت کرنا مقصود ہے جن کو اختیار کر کے ہم اپنی معاشرے کے سدھار میں انفرادی کوشش کر سکتے ہیں اور میرا یقین ہے کہ انفرادی کوشیں اجتماعی کامیابی پر منتج ہوا کرتی ہیں۔ ہمارے بوسیدہ سماجی نظام  میں جس طرح سے لوگوں کا مذہب اور سیاست کے نام پر استحصال کیا جاتا ہےہمیں اس استحسال کے خلاف اپنی ایسی کوششیں ہمیشہ جاری رکھنی چاہئیں ۔ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی "غلام عباس" ان کوششوں سے استحصال سے بچے گا تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے احتساب کے عمل میں حصہ داری کر لی۔۔۔۔۔۔جی ہاں وہی احتساب جو قوموں کی سربلندی کے لئے شرط اول ہے۔
ختم شد



من کہ مسمی معمار قوم (1)

آغاز کہاں سے کیا جائے؟؟؟۔ چلئے وہاں سے آغاز کرتے ہیں جہاں ہم معماری کیا کرتے تھے۔ یہ دریائے راوی کے کنارے آباد ایک گاؤں تھا جو اب بھی اتنا ہی غیر ترقی یافتہ ہے جتنا کم و بیش ربع صدی قبل تھا۔ وہاں ہمیں لوگوں کے لئے پر تعیش مسکن بنانے کا کام نہیں سونپا گیا تھا بلکہ قوم کے مستقبل کو تابناک بنانے کی ذمہ داری ہمیں سونپی گئی تھی اور اس ذمہ داری کی ادائی کے اجر میں ہمیں معمارِ قوم کا قابلِ فخر لقب ملتا تھا اور بدلہ اجرت  کی شکل میں۔ یہ ایک سرکاری ہائی سکول تھا جو چوہدری کی دان شدہ زمین پر قائم کیا گیا تھا۔ دادا چوہدری نے بھلے وقتوں میں زمین حکومتِ پنجاب کوعطیہ کی تھی لیکن پوتا چوہدری اب تک اس زمیں کو اپنی خاندانی وراثت سمجھتا تھا اور اس کا تصرف بھی اسی طرح کرتا۔ چھٹی ہونے کے بعد یہ پوتا اپنی "چوہدراہٹ" سے متعلقہ کچھ لوازمات  و افعال کی تکمیل سکول کی عمارت ہی میں کیا کرتا جس میں تاش کی بازی سے لے کرمتعدد اقسام کی "بازیاں" بھی شامل ہوا کرتیں۔ شراب سے لے کر شباب تک کی محفلیں بھی جمتیں۔اس قسم کی چوہدراہٹ اور بالک ہٹ میں ہم نے ایک چیز مشترک پائی ہے اور وہ ہے بے وقوفی۔ سو ایسے بے وقوف کو سمجھانے کے لئے اس سے ماتھا کون بھیڑے ؟ اس لئے عام لوگ صرفِ نظر کرتے دکھائی دیتے لیکن معاملہ جب عام لوگوں سے نکل کر خواص تک آ جائے تو پھر صرفِ نظر کا عمل بذاتِ خود ایک المیہ بن جاتا ہے جو افراد اور معاشرے کو بالترتیب انفرادی اور اجتماعی طور پربکھیر کر رکھ دیتا ہے اور کسی بھی قوم کے خواص اور اشرافیہ کی اکثریت جب برائی کو روکنے کی بجائےصرفِ نظر کی قائل ہو جائے تو پھر معاملہ یہیں  موقوف نہیں رہتا بلکہ قانون کی عملداری سے لے کر مثبت روایات اور اخلاقیات سے لے کر معاملات تک یوں اثر انداز ہوتا ہے کہ معاشرے کی شکل مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔
اُس گاؤں میں  یہی معاملہ اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا اور یہ صرف اس چوہدری یا اس کے حواریوں تک ہی موفوف نہ تھا اور نہ ہی گاؤں کے ان کرتا دھرتاؤں پر بات ختم ہوتی تھی جو مذہب ، طریقت ، شریعت ، سیاست ، پنچایت اور فیصلہ سازی پر سند سمجھے جاتے تھے بلکہ صرفِ نظر کے اس عملِ قبیح میں ہم معمارانِ قوم کے بھی بہت سارے افراد شامل تھے جو پیغمبرانہ پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود شیطانی راہوں کے مسافر تھے ۔ جو برائی کو پھیلنے سے روکنے کے ذمہ دار بنائے گئے تھے لیکن اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہ کرتے۔ جو لوگ روایات کو مذہب ، قانون اور اخلاق کی کسوٹی پر پرکھ کر نئی نسل کے لئے ان کے مفید یا مضر ہونے سے آگاہی کے لئے متعین کئے گئے تھے وہ خود روایت پرستی کے طوفان میں اپنی عقل گنوا چکے تھے۔ خود ہم نے کبھی ساگ کی ایک ڈھیری تو کبھی دودھ کا ایک ڈول ، کبھی سنگتروں کی ایک درجن تو کبھی تھوڑے سے رس بھرے میٹھے میٹھے گنے ، کبھی تلوں کے چند پاؤ تو کبھی مکھن کی کٹوری ان کے ضمیر کو خریدنے کے لئے کافی ٹھہرتے دیکھے۔ اور تو اور ایک معمار قوم ، جو اب مرحوم ہو چکے ہیں ،  اپنی روح کی سرشاری کے لئے چوہدری کے بھتیجے کے ہاتھ کی کشید کردہ خالص دیسی شراب کے رسیا تھے اور استفسار پر ان کا استدلال یہ ہوا کرتا کہ "یہ میرے دمہ کے مرض کو ٹھیک رکھتی ہے"۔ سبحان اللہ ، عمل تو جیسا تھا سو تھا لیکن استدلال کی جہالت دیکھئے کہ شراب سے دمہ کے علاج کی ان کی اپنی کوئی سائنس تھی ۔
اب اشرافیہ کی طرف آئیے تو بتلائے دیتا ہوں کہ سکول کے کل طالبعلم تھے 330 اور ان کے لئے 35 اساتذہ بھرتی کئے گئے تھے۔ اس پر مستزاد 2 نائب قاصد ، 3 چوکیدار ، 3 مالی ، ایک لائبریرین ، ایک لیبارٹری اٹینڈینٹ (حالنکہ وہاں لیبارٹری کا نام و نشان نہ تھا)۔ یاد درہے کہ یہ کسی کینیڈین ، آسٹریلوی ، جاپانی یا امریکی سکول کا احوال نہیں بلکہ پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں کے سکول کی بات ہے کہ جس کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں 3 مزید پرائمری سکول بھی تھے اور مزے کی بات ہے کہ ان کا عملہ ایک یا دو اساتذہ پر مشتمل ہوتا اور اکثر پوسٹیں برسہا برس سے پُر ہی نہیں کی گئی تھیں۔ وجہ اور کچھ نہ تھی سوائے سیاست کے!!!۔
تدریسی و تکنیکی عملے کے علاوہ باقی درجہ چہارم کے ملازمین کہنے کو تو سرکار کے نوکر تھے اور ہر مہینے عوام کی خون پسینے کی کمائی میں سے ادا کئے گئے ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرتے لیکن عملی طور پر ، سوائے ایک کے، وہ چوہدری ہی کے ملازم تھے کیونکہ وہ اس کے گاؤں کے تھے، اسی کے کمی تھے اور چوہدری نے انہیں  سیاسی اثرو رسوخ کی بنا پر نوکریاں دلوائی تھیں جبکہ ان مین اکثر کی وہاں ضرورت بھی نہ تھی۔ چوکیداربھلا چوہدری کو اس کی من مانی سے کیسے روک سکتے تھے ؟ ظاہر ہے چوہدری ان کا محسن تھا جس نے انہیں فارغ بیٹھ کر تنخواہیں لینے کا اہل بنا دیا تھا۔ ادھر سکول سے چھٹی ہوتی ادھر چوہدری پہلے ہی سے سکول کے گیٹ پر منڈلا رہا ہوتا اور سکول خالی ہوتے ہی اس کی محفل پہلے سکول کے میدان میں جمتی پھر شام ہوتے ہی کسی کلاس روم کو اس کے خلوت خانے کا درجہ دے دیا جاتا۔
"منہ کھائے آنکھ شرمائے" ، جی ہاں بالکل یہ عالمی سچائی وہاں بھی اپنی پوری تابانی کے ساتھ اپنا وجود رکھتی تھی۔ کچھ معمارانِ قوم کی بد اعمالیوں کی بدولت سکول کے نطام میں خرابی کچھ اس طرح سے سرایت کر چکی تھی کہ اس کا سرا پکڑنا اور پھر سلجھانے کی سعی کرنا دشوار تھا۔ مثال کے طور پر چوہدری کے بھتیجے اور بیٹا امتحانوں کے دنوں مین بھی چھٹی کر لیتے اور امتحانوں کے بعد  چوہدری ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں آ کر حجت پوری کرنے کے لئے درخواست گزارتا کہ جناب یہ بچے بیمار تھے ان امتحانات دوبارہ لئے جائیں۔ صرفِ نظر کا مبینہ عمل کام دکھاتا اور ہیڈ ماسٹر صاحب ان بچوں کے امتحانات دوبارہ لینے کا فرمان جاری فرما دیتے اور پھر کمال ہوشیاری سے طے شدہ منصوبے کے مطابق چوہدری کا کوئی  نہ کوئی منظور نظر معمار قوم اس امتحان کا نگران بن جاتا ۔ یوں چوہدری کے بچوں کا اگر ایک بھی جواب غلط ہوتا تو میں بر ملا کہہ دیا کرتا کہ یہ جواب بچے نے غلط نہیں لکھا بلکہ اس خلاصے میں ہی غلط پرنٹ ہو گیا ہو گا کہ جس کو سامنے رکھ کر اس بچے نے تسلی سے پرچہ حل کیا ہے۔
جاری ہے








حلقہ مری زنجیر کا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،لیجئے قارئین کرام آج سے ہم بھی۔۔۔۔بلا"گر" ہو گئے ۔ گو کہ ارادہ یہی ہے کہ اپنے خیالات و محسوسات کو آپ سب تک پہنچانے کی چارہ گری کی جائے لیکن ہماری کم علمی و کم عقلی کے باوصف عین ممکن ہے کہ  یہ کام ، کبھی کبھار، بہ طریق احسن انجام کو نہ پہنچایا جا سکے اور ہم آپ کے لئے سر دردی کا مؤجب بن جایا کریں یعنی "مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا" والا معاملہ بارہا پیش آ سکتا ہے تو پیشگی خبردار کئے دیتے ہیں کہ ہم سے بہت ساری امیدیں ہرگز ہرگز وابستہ نہ کیجئے ،پس ہماری تحاریر کو "جیسے ہے جہاں ہے" کی بنیاد پر پڑھا کیجئے اور اپنے رد عمل سے ضرور نوازئیے کہ اس کے بغیر بہتری کے عمل کا جاری رہنا نا ممکن ہو جائے گا۔گو کہ یہاں پیکر تصویر کا پیرہن کاغذی ہو گا اور نہ ہی نقوش فریاد کرتے نظر آئیں گے لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ اکثر اوقات "سینہ شمشیر سے باہر، ہے دم شمشیر کا" جیسی صورت حال آپ کو حیرت و استعجاب یا پھر اضطراب میں مبتلا کردے یا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ہمارے اناڑی ہاتھوں کے ہاتھوں ، نوک قلم کے نشتر سے ، الفاظ کے تڑپنے اور پھڑکنے کے عمل کی تاب نہ لا سکیں اور خود بھی تڑختے و بھڑکتے الفاظ کے ساتھ ،زیر لب ، ہماری شان میں قصیدے پیش فرما دیں تو ایسے میں، جان لیجئے، کہ ہماری خامہ فرسائی اور آپ کی علمی رسائی میں بس بال برابر فرق رہ جائے گا، اس لئے ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ ہماری معروضات کے مطالعے کے بعد بھنا کر اپنےکسی "بال (بچے)" کی کھال اتار دیں اس لئے براہ راست ہمیں تختہ مشق بنائیے اور یہ مت بھولیں کہ تختے پر مشق کے لئے نشانے کا درست ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔آپ کے لئے بہت ساری نیک خواہشات کے ساتھساجد

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تیرے ہوتے جنم لیاہوتا
 کوئی مجھ سانہ دوسراہوتا
ہجرتوں میں پڑاؤ ہوتامیں
 اورتوکچھ دیر کورکاہوتا
تیرے حجرے کے آس پاس کہیں
 میں کوئی کچاراستہ ہوتا
بیچ طائف بوقت سنگ زنی
 تیرےلب پرسجی دعاہوتا
کسی غزوہ میں زخمی ہوکرمیں
 تیرے قدموں پہ جاگراہوتا
کاش احدمیں شریک ہوسکتا
 اورباقی نہ پھربچاہوتا
تیری پاکیزہ زندگی کامیں
 کوئی گمنام واقعہ ہوتا
میں کوئی جنگجوعرب ہوتا
 جوتیرے سامنے جھکاہوتا
میں بھی ہوتا تراغلام کوئی
 لاکھ کہتانہ میں رہاہوتا
پوراہوتامیں جلتے صحرامیں
 اورترے ہاتھ سے لگاہوتا
خاک ہوتامیں تیری گلیوں کی
 اوترے پاؤں چومتاہوتا
پیڑہوتاکجھورکامیں کوئی
 جس کاپھل تونے کھالیاہوتا
بچہ ہوتاغریب بیوہ کا
 سرتری گودمیں چھپاہوتا
رستہ ہوتاترے گزرنے کا
 اورترارستہ دیکھتاہوتا
بت ہی ہوتامیں خانہ کعبہ میں
 جوترے ہاتھ سے فناہوتا
مجھ کومالک بناتاغارحسن
 اورمیرانام بھی حراہوتا
حسن نثار

حمد باری تعالی

یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا جب تک ہے دل بغل میں، ہردم ہو یاد تیری جب تک زباں ہے منہ میں، جاری ہو نام تیرا ایمان کی کہیں گے، ایمان ہے ہمارا احمد رسول تیرا، مصحف کلام تیرا ہے تُو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی اسفل مقام میرا، اعلیٰ مقام تیرا محروم کیوں رہوں میں، جی بھر کے کیو ں نہ لوں میں دیتا ہے رزق سب کو، ہے فیض عام تیرا یہ داغ ؔ بھی نہ ہوگا تیرے سوا کسی کا کونین میں ہے جو کچھ، وہ ہے تمام تیرا
داغ دہلوی

Pages