بیاض منصور

بنی گالا میں دھرنا

ان کے پاؤں میں خواتین ملازمین نے دوپٹے  رکھ دئے اور اپنا فیصلہ واپس لینے کی التجاء کی ،لیکن اس نے نہایت غرور و تکبر سے ان ماؤں بیٹیوں کے دوپٹوں کو پاؤں سے روندا اور  گاڑی میں سوار ہوئے۔جیسے ہی ڈرائیور نے گاڑی مین گیٹ کی طرف بڑھا دی توخواتین ملازمین نے مین گیٹ کے سامنے کھڑے ہوکر انکو کو کہا "ہمارے اوپر گاڑی چڑھالیں اور اسکے بعد آپ اس جگہ سے نکل سکیں گے"۔

یہ منظر 24 مارچ 2015  کی شام عمران خان کے بنی گالا میں واقع گھر میں دیکھا گیا۔جہاں وزارت محنت و افرادی قوت کے ماتحت ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ہزاروں ملازمین گذشتہ دو ہفتوں سے سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے صوبائی حکومت کے ایک فیصلے کے خلاف عمران خان کے گھر کے سامنے دھرنا دے کر احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے ہیں،چنانچہ عمران خان نے انکے مسلئے کے حل کیلئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو بلایا،لیکن پرویز خٹک نے ملازمین کے مطالبات ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے اپنے فیصلہ سُنا دیا۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ وفاقی محکمہ وزارت محنت (ورکرز ویلفیئر فنڈ) کے تعاون سے خیبر پختون خواہ میں محنت کشوں اور فیکٹریوں کے ملازمین کیلئے مختلف قسم کے سہولیات مہیا کرنے والا ایک ادارہ ہے۔18 ویں ترمیم کے بعد اس کے انتظامی امور صوبوں کو سونپ دئے گئے۔
سابقہ صوبائی وزیر محنت شیراعظم وزیریہ ادارہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے زمانے میں مزدوروں کے فلاح و بہبود کیلئے قائم کیا گیا تھا۔لیکن اسکے بعد سے لیکر 2008 تک خیبر پختونخواہ کی سطح پر اس محکمے کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔  سابقہ ادوار میں اس محکمے کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخواہ کے ماہانہ اخراجات چند لاکھ روپوں سے آگے نا بڑھ سکے۔ چنانچہ مزدوروں کے بچوں کیلئے تعلیم،صحت،فوتگی،جہیز فنڈز نہ ہونے کے برابر فراہم کئے جاتے تھے۔ 
2008 کے پیپلز پارٹی کے دور میں جب یہ محکمہ بنوں سے تعلق رکھنے والے ایم پی ائے شیر اعظم وزیر کو سونپ دیا گیا،تو انہوں نے اس محکمے کو ترقی اور وسعت کی راہوں پر ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ صوبائی وزیر محنت شیر اعظم وزیر صاحب نے لیبرز کے بچوں کیلئے قائم کردہ ورکنگ فوکس گرائیمر سکولوں کو نا صرف ہائیر سیکنڈری تک اپگریڈ کیا ،بلکہ صوبے میں ان سکولوں کا جال بچھا دیا۔ چنانچہ صوبہ بھر میں جہاں جہاں کارخانے اور فیکٹریاں موجود تھیں،ان تمام علاقوں میں نئے ورکنگ فوکس سکول قائم کئے گئے ،اور کیڈٹ کالجز کے طرز پر ان سکولوں کی عمارتیں تعمیر گئیں۔
اسی طرح شیراعظم صاحب نے ملازمین کی تنخواہوں میں 200 فیصد اضافہ کیا۔ جہیز فنڈ،ڈیتھ گرانٹ وغیرہ کی رقم کئی گُنا زیادہ کردی گئی۔ ملک کی معروف یونیورسٹیوں میں لیبرز کے بچوں کیلئے ادارے کی جانب سے لاکھوں روپوں کے سکالر شپ فراہم کرکے انکو فری تعلیم کا موقع دیا گیا،جس سے ہزاروں مزدوروں کے بچے مفت فراہم کردہ اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشغول ہوگئے۔چنانچہ ان اقدامات کے بعد ورکرز ویلفیئر بورڈ اپنی عروج پر پہنچنے لگا،اور ایک اندازے کے مطابق ادارے کا ماہانہ بجٹ 12 کروڑ روپوں تک جا پہنچا۔
ورکنگ فوکس گرائیمر ہائیر سیکنڈری  سکول خیبر پختونخواہپرانے سکولوں کے اپگریڈیشن اور نئے سکولوں کے قیام سے ہزاروں ملازمتیں  بھی وجود میں آگئی۔ چونکہ ورکرز ویلفیئر بورڈ نیم خودمختار سرکاری ادارہ تھا،اور اسکی اپنی گورننگ باڈی تھی لھذا نئے ملازمین کے بھرتی کیلئے پبلک سروس کمیشن یا این ٹی اس کے بجائے ڈیپارٹمنٹل ٹسٹ رکھا گیا۔اور تین تین سال کے قابل توسیع کنٹریکٹ پر ملازمین کو بھرتی کیا گیا۔ 
چنانچہ اس ترتیب سے ہزاروں نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی گئی،اور صوبے پر بے روزگاری کا بوجھ کافی حد تک کم ہوگیا۔
لیکن جیسے ہی پیپلز پارٹی کی دور حکومت کا اختتام ہوا،تو ویلفیئر بورڈ ایک بار پھر تنزلی کی طرف بڑھنے لگا۔کئی کئی مہینے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم فراہمی، مزدوروں کے سکالرشپس اور دیگر گراٹنس میں بےجا تاخیر و کٹوتی،اور ایمپلائیز پر مختلف الزامات لگا انکو نوکری سے برطرفی جیسے مسائل روز کا معمول بن گئے۔
تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں جب یہ محکمہ اُس وقت کے اتحادی شیرپاؤ گروپ کے حوالے کیا گیا توصوبائی وزیر محنت بخت بیدار صاحب نے نا صرف ادارے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کیا بلکہ ملازمین کو بھی مختلف بہانوں سے تنگ کرکے پیسے بٹورنے شروع کئے۔
خواتین ملازمین کے ساتھ ناروا اور ہیجان انگیز روئے کے سبب جلد ہی بخت بیدار کا نام ہر کسی کے زبان پر آنے لگا۔
چنانچہ تحریک انصاف نے بدنامی سے بچنے کیلئے شیرپاؤ گروپ سے اتحاد توڑ کر محکمہ اپنے ایم پی ائے شاہ فرمان کے حوالے کردیا۔
چونکہ ورکرز ویلفیئر بورڈ ہزاروں ملازمتوں سے مالا مال ادارہ تھا، اسلئے تحریک انصاف کی نظریں اسی محکمے پر ٹک گئی۔
دیگر محکموں کی طرح ویلفیئر بورڈ میں بھی کامل شفافیت موجود نہیں تھی،چنانچہ پہلے پہل تو ملازمین کی ڈگریاں نیب کے ذریعے چیک کروائی گئی، تھرڈ ڈویژن، جعلی ڈگریوں اور اوؤر ایج  سینکڑوں ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔
 کنٹریکٹ پر تعینات ملازمین کا تین سالہ دورانیہ اختتام تک پہنچنے لگا تو انکےکنٹریکٹ میں دوبارہ 6،6 ماہ کی توسیع کی گئی۔
حالیہ دنوں مین جب ملازمین نے اپنے لئے سروس سٹرکچر اور مستقلی کا مطالبہ کیا تو جناب وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ پرویز خٹک صاحب اور صوبائی وزیر محنت شاہ فرمان نے ملازمین کیلئے این ٹی ایس ٹسٹ پاس کرنے کی شرط رکھ دی اور الزام لگایا کہ یہ سب غیر قانونی طور پربھرتی شدہ ملازمین ہیں۔ 
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ جناب پرویز خٹک صاحب نے نا صرف ان ملازمین پر سیاسی اور غیرقانونی طور پر بھرتی ہونے کا الزام لگایا ،بلکہ انہوں نے میڈیا کے سامنے اس بات کا اعلان  کیا کہ ہم صوبے میں کہیں بھی غیرقانونی بھرتی نہیں ہونے دیں گے،اور ناہی خود کوئی غیر قانونی کام کریں گے۔
یاد رہے کہ 24 مارچ کی شام جب وزیراعلیٰ پرویز خٹک اوراحتجاجی ملازمین کے صدور کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے تو وزیراعلیٰ نے صاف کہہ دیا کہ
بحث کی ضرورت نہیں ،ٹسٹ دینا ہوگا۔میری مرضی جس کو پاس کروں اور جس کو فیل کروں۔
دھرنا ختم کرو،ورنہ نوشہرہ سے اپنے بندے بلوا کر یہ دھرنا ختم کروا دونگا۔
ملازمین کی طرف سے جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ ہم غیرقانونی بھرتی شدہ نہیں،بلکہ ہم نے ڈیپارٹمنٹل ٹسٹ و انٹرویو کلیئر کرکے ہی نوکری پائی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک ملازم کو ٹسٹ انٹرویو کے بعد ملازمت پر رکھ دیا جائے اور وہ تین چار سال ملازمت بھی کرلے،اسکے بعد ان ملازمین سے دوبارہ ٹسٹ انٹرویو کا مطالبہ کیا جائے۔کیا اس سے یہ بات ظاہر نہیں ہورہی کہ اپنے من پسند آفراد کو چھوڑ کر باقی ملازمین کو ناجائز طور برطرف کرنے کا موقع تلاش کیا جا رہا ہے؟
احتجاجی ملازمین،جن میں اکثریت اساتذہ کی ہےملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ہم سے این ٹی ایس (نیشنل ٹسٹنگ سروس) کے ذریعے ٹسٹ لینا چاہتی ہے ،جبکہ این ٹی ایس ایک پرائیویٹ ادارہ ہونے کے ناطے ہمیں اسکی شفافیت پر کوئی اعتماد نہیں۔ان ملازمین کے بقول ٹسٹ کے بعد صوبائی وزراء اپنے بندوں کی لسٹیں این ٹی ایس والوں کے سپرد کرکے انکو پاس کرادیتے ہیں۔اور باقی ملازمین کو فیل ڈکلیئر کروا دیتے ہیں۔

چنانچہ وریلفیئر بورڈ کے ایک 17 گریڈ کے سبجیکٹ سپیشلسٹ زاہد خان کے بقول کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ادارے کا راہنماء پاکستانی ہومسلمان ہوحکومتی اداروں کے معاونت سے اسکا ذاتی ادارہ چلتا ہوںہر روز حکومت کی طرف سے اسکو پراجکٹس دی جاتی ہوں 
میں کیسے یہ اعتماد کر لوں کہ وہ بندہ حکومتی اہلکاروں اور صوبائی حکومت کے وزراء کو ناراض کر کے انکے مقابلے میں مجھے انصاف پر مبنی نتیجہ دے سکتا ہے۔
جعلی ڈگریوں کے الزام کے جواب میں  ملازمین نےکہا کہ ہماری ڈگریاں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کلیئر قرار دے چکی ہیں اور نیب ویریفیکیشن میں بھی ہم سرخرو ہوئے ہیں۔نیز ہم میں سے اکثر ایم فل و پی ایچ ڈی کے طلباء ہیں،تو کس طرح ہماری ڈگریوں کو جعلی کہا جا رہا ہے؟


طلباء بھی اساتذہ کے حقوق کیلئے میدان میں۔ ویلفیئر بورڈ ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جن کی عمریں ملازمت کے حصول کے وقت مناسب تھیں ،لیکن ابھی اگر انکو نکال لیا گیا تو اوور ایج ہوجانے کے سبب ان پر سرکاری نوکریوں کے دروازے تک بند ہوچکے ہیں۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک ملازم اسی محکمے میں تین چار سالوں سے نوکری کر رہا ہے ،اور اب جب کہ اسکی عمر زیادہ ہوگئی تواسکو نکال کر دوبارہ ٹسٹ انٹرویو کیلئے کہا جا رہا ہے۔ ایسے ملازمین پر تو عمر بھر کیلئے سرکاری ملازمت کے دروازے بند کردئے گئے۔

احتجاجی ملازمین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ادارے میں ہمارا کئی سالوں سے تجربہ ہوچکا ہے،اسلئے ہمیں نکال کر نئے بندوں کو ملازمت پر رکھنا بھی ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔
احتجاجی ملازمین گذشتہ دو ہفتوں سے بنی گالا میں عمران خان صاحب سے اپنے مطالبات منوانے کیلئے دھرنا دئے ہوئے ہیں۔گرمی و بارشوں میں بھی انکے عزم میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔بلکہ مرد ملازمین کے ساتھ ساتھ خواتین ملازمین بھی دھرنے میں برابر شریک ہیں۔
ان میں سے اکثریت ورکنگ فوکس سکولوں کے اساتذہ اور استانیوں کی ہے۔ جن کے ساتھ اپنے سکولوں کے بچے بھی دھرنے میں شریک ہیں۔ 
احتجاجی دھرنے میں شریک عطاءاللہ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا عمران خان نے ذاتی طور پر بھی آپکے مسئلے کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی دکھائی ہے؟
لیبر منسٹر شاہ فرمانتو عطاء اللہ نے جواب دیا کہ عمران خان صوبائی وزیر محنت شاہ فرمان یا وزیراعلیٰ کوبنی گالا اپنے گھر بلوا لیتے ہیں اور پھر خود منسٹر لیبر شاہ فرمان یا وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو یہ کہہ کر کمرے سے نکل جاتے ہیں کہ ان ملازمین کا مسئلہ حل کردو۔

اور یہ صاف ظاہر ہے کہ جن بندوں (منسٹر لیبر شاہ فرمان و وزیراعلیٰ پرویز خٹک ) نے ہمارے لئے مسائل پیدا کئے ہیں ،وہ کیونکر ہمارے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لیں گے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض مواقع پر لیبر منسٹر ہمارے سارے مطالبات مان لیتا ہے لیکن بعد میں ڈرافٹنگ میں ردوبدل کیجاتی ہے، جس  میں ہمارا کوئی مطالبہ بھی حل نہیں ہوا ہوتا۔

سننے میں آرہا ہے کہ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کیلئے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے  میں اپنوں کو خفیہ طریقے سے نوازنے کیلئے بھی صوبائی حکومت ویلفیئر بورڈ کے ملازمین کو برطرف کروانا چاہتی ہے،تاکہ اپنے من پسند لوگوں کو ملازمت دی جا سکے۔

صورت حال یہ ہے کہ احتجاجی ملازمین نے عمران خان کے گھر کے دونوں راستے بند کئے ہیں،اور ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مسائل کو احسن طریقے سے حل نہیں کئے جائیں گے،تب تک ہم یہاں دھرنا دیں گے ،اگرچہ دھرنا دینے میں ہم عمران خان کا ریکارڈ ہی کیوں نا توڑ دیں۔ اگر عمران 126 دن دھرنا دے سکتا ہے تو ہم اس سے بھی طویل عرصے تک دھرنا دیں گے۔





تلخ حقیقت

چند دن قبل  کچھ فرصت ملی تو دل نے چاہا کہ کیوں نا  چند احباب کے بلاگی باغیچوں کی چہل قدمی کی جائے۔ چنانچہ اردو بلاگرز فیس بکی گروپ میں جھانکا تو دیکھا کہ ایک حالیہ چند دن قبل کے پنجاب کے ایک کیس (جس میں مسیحی جوڑے کو جلا گیا تھا۔)پر کافی زور وشور سے بحث چل رہی تھی ۔کوئی ایک طرف مائل تھا کوئی دوسری طرف۔
اگرچہ ایسے اوقات میں میانہ روی اختیار کرنے والوں کو اکثر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ یہ دو کشتیوں کی سواری کر رہا ہے۔ لیکن کبھی کبھی حقیقت تلخ ہوتے ہوئے بھی اپنے اپ کو منواتی ہے۔میں یہ بات کافی عرصے سے محسوس کر رہا ہوں کہجب دین دار لوگوں سے  کوئی غلطی ہوجائے تو بجائے اس غلطی کو سنوارنے ،ہم عصری اداروں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔اور وہاں سے کھینچ کھینچ کر مثالیں پیش کرتے ہیں اسی طرح عصری اداروں کی غلطی پر ہم بجائے اسکے اصلاح کے الٹا ہم دینی اداروں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔اور علماء و اہل علم پر اپنی بھڑاس  نکال لیتے ہیں، بلکہ بعض تو اس حد تک  جذباتی ہوجاتے ہیں کہ بندہ کو انکے ایمان کی فکر پڑ جاتی ہے۔میرے خیال میں یہ طریقہ درست نہیں۔اس سے اصلاح کے بجائے بغض و کینہ کی کیفیت پروان چڑھتی ہے۔معاشرہ ترقی کے بجائے تنزل کی طرف  قدم بڑھا دیتا ہے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہمارے اکثریتی دینداریوں کامتشدد ذہن  ،تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ،کہ دین کے معاملے میں بلکہ میں یہ کہنا چاہونگا کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہم انتہاء تک پہنچتے ہیں۔آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بعض اوقات مفتیان کرام یا باضابطہ علماء کی جانب سے کسی معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے پر عوام ان علماء تک کو بائی پاس کردیتے ہیں۔اور ان علماء کو مختلف القابات سے نواز دیا جاتا ہے۔اور ایسے سینکڑوں واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔
چنانچہ ایک نوجوان سے میری ملاقات ہوئی جو کہ جمہوریت تلے پنپنے والی تمام قوتوں اور ملازمتوں کو کفر کا نام دیتے تھے۔ ایک موقع پر میں نے انکو بتایا کہ کسی کے کافر بننے سے تو اسکا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے،تو کیا یہ سب سرکاری ملازمین  اور جمہوریت کے سائے تلے پارٹیوں والے توبہ کے ساتھ ساتھ تجدید نکاح کا عمل بھی کریں گے؟یہ بھی کہنا چاہونگا کہ اس معاملے میں پاکستانی عوام چاہئے تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ،سب برابر کے شریک ہیں۔چنانچہ میں نے ان پڑھ لوگوں کے ساتھ 19 یا 20 گریڈ کے آفسران کو بھی دیکھا ہے کہ بعض معاملات میں وہ دین کے حدود سے بھی بڑھ کر شدت اختیار کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ شدت دین کی طرف سے نہیں بلکہ انکی اپنی نفسیاتی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔رہی بات دینی اداروں کی ،تو اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ جب تک "مخلص" حکومت کی زیر سرپرستی علماء کو تیار نہ کیا جائے ،اس وقت تک ہمیں علماء سے کامل راہنمائی کی توقع عبث ہیں ،یہ جو سینکڑوں میں چند مثالی نمونے ہیں یہ شاذ ہیں۔

سب سے عمدہ مثال حضرت عثمان (رضی  اللہ عنہ) کے دور حکومت کا ہے کہ جب قران مجید کے تلفظ پر اختلاف بڑھنے لگا تو  حضرت عثمان (رضی  اللہ عنہ)  نے صرف قریشی لہجے میں قران مجید کو رہنے دیا اور باقی تمام نسخے جلا دئے۔

اسی طرح اگر مخلص حکومتوں کے زیر سایہ باقی دینی علوم  کی ترویج کی جاتی تو شائد آج اختلافات اس حد تک نہ بڑھ چکے ہوتے۔اسکے ضد پر اگر کوئی موجودہ عصری علوم کے اداروں کی مثال دیں تو اسکی خدمت میں عرض ہے کہ حکومت عصری اداروں کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی تباہی عروج پر ہے۔اور ہماری نوجوان نسل برباد ہو رہی ہے۔آپ لوگوں کو شائد یاد ہوگا کہ انگریزوں کی آمد کے بعد ایمرجنسی بنیادوں پر دینی علوم کی ترویج کیلئے دینی ادارے قائم کئے گئے۔تاکہ جتنا ہوسکے ،اس حد تک لوگوں کو دین سے روشناس کرا یا جائے۔اسی طرح اُس وقت کے نوجوانوں کو اُس وقت کے ایمرجنسی بنیادوں پر ہندووں کے مقابلے کیلئے تیار کیا گیا۔چنانچہ سرسید یا اس جیسے دوسرے عصری اداروں کا اولین مقصد ہی مسلم نوجوانوں  کو ہندوؤں کے مقابلے میں لا کھڑا کرنا تھا۔
اور یہ ایمرجنسی نظام ہائے تعلیم ابھی تک چل رہے ہیں۔حالانکہ ایمرجنسی صورت حال کو گذرے ہوئے دھائیاں بیت گئی ہیں۔اور یہ بات سب لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ایمرجنسی کام صرف ایمرجنسی حالات کے وقت مفید ہوتا ہے ، ورنہ نارمل حالات میں وہ بذات خود بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ عام زندگی میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں۔

اندھیری رات کا سفر

انسانی فطرت یہ ہے کہ ہر نئی چیز کی طرف اسکی طبیعت مائل ہوتی ہے ۔چنانچہ سائیکل  سیکھنے کے زمانے میں شوق اسقدر غالب ہوتا تھا کہ ہمیں معمولی معمولی چوٹوں کی پروا تک نہیں ہوتی تھی ،لیکن بس ایک جنون سا تھا کہ سائیکل ضرور چلانی ہوگی۔
لیکن رفتہ رفتہ جب سائیکلنگ کی عادت پرانی ہوگئی تودل ڈرائیونگ کی طرف للچایا۔ بہانے بہانے سے گاڑی چلانا ، اور لانگ ڈرائیو پر ابو سے گاڑی چلانے کی درخواست کرنا ،ابو بھی شوق کی خاطر گاڑی دے دیتے۔

پھر ایک مرحلہ ان پہنچا کہ ڈرائیونگ سے طبیعت اکتا گئی،بلکہ اکثر کہیں سیر کیلئے جاتے تو ڈرائیونگ سیٹ دوستوں کیلئے چھوڑ دیتا اور خود آرام سے بیٹھ کر انجائے کرتا۔
اور آج کل ایک شوق یہ بھی غالب ہے کہ کاش جہاز چلانا سیکھا ہوتا۔بلکہ اسکے لئے کچھ معلومات بھی حاصل کی تھی۔اور اس وقت تو شوق اپنے انتہاء پر پہنچا جب پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری جناب خالد مسعود صاحب نے بتایا کہ میں نے کس طرح جہاز اڑانا سیکھا تھا۔ 
بات دور نکلتی جا رہی ہے۔ کل ایک دوست کے ساتھ بنوں گیا تھا۔ چونکہ دن دو بجے نکلے تھے اسلئے شام تک آرام سے بنوں پہنچ گئے۔ 
لیکن اگلے دن ضروری کام نمٹا کر جب میں واپس آنے لگا تو اس وقت کوئی ہم سفر ساتھ نہ تھا۔ ادھر عصر کا وقت تھا اور مجھے آج رات پشاور پہنچنا تھا۔ چنانچہ عصر کے وقت بنوں سے نکل پڑا۔ کرک کے علاقے تک تو سورج کی روشنی رہی ،اسلئے دقت نہ ہوئی ۔
لیکن اسکے بعد کوئی 120 کلومیٹر کا علاقہ اکیلئے اور رات کے اندھیرے میں سفر کرنا تھا۔
اگرچہ اپنی حفاظت کیلئے اقدامات کئے تھے، لیکن جو بات سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی وہ رات کے اندھیرے میں ڈرائیونگ کرنا تھی۔
میں نے موٹرویز پر بھی رات کو ڈرائیونگ کی ہے، اور میں رات کو انتہائی تیز ڈرائیونگ کا عادی بھی ہوں کہ بروقت اپنی منزل پر پہنچا جا سکے۔لھذا موٹرویز پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ شام کے بعد سپیڈ لمٹ ختم ہوجاتی ہے،اور دوسری بات یہ کہ سڑک کے درمیان پارٹیشن ہوتی ہے ،اسلئے سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکراؤ نا ممکن ہوتا ہے ۔ نیز اسکی ہیڈ لائٹس بھی ڈرائیور کے ویژن کو متاثر نہیں کرتی۔
لیکن روڈ سنگل بھی ہو ،
 ہائی وے بھی ہو،
بھاری ٹرکوں کی آمد ورفت بھی ہو۔
تو اس وقت بحثییت ایک ڈرائیور مجھے سخت کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
بنوں کی جانب سفر کیلئے انڈس ہائی وے پر ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔ انڈس ہائی وے سنگل لیکن چوڑا روڈ ہے۔شام کے بعد اس پر بھاری ٹریفک چلتی ہے۔ 
چنانچہ رات کے وقت انڈس ہائی وے پر سفر کافی مشکل ہوجاتا ہے۔بڑی گاڑیوں سے آگے نکلنا، رات کے اندھیرے میں سڑک پر نظر رکھنا،سامنے والی گاڑیوں سے آپنے آپ کو بچانا اور سب سے مشکل سامنے والی گاڑیوں کے ہیڈ لائٹس سے اپنی نظر محفوظ کرنا۔
اسکی ایک مثال آپ خود دیکھ لیجئے۔




کہتے ہیں کہ رات کی ڈرائیونگ میں حادثات کا امکان تین گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔لیکن اگرکچھ اصول مدنظر رکھے جائیں تو کافی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
1) کبھی بھی کوئی نشہ آور چیز یا دوا مت لیں۔کیونکہ اس سے آپکی آنکھوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ 
2) سفر سے پہلے اپنی ہیڈ لاٹس چیک کریں،تاکہ دوران سفر آپکو مشکل سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
3) رات کو ڈرائیونگ کے دوران کبھی بھی سامنے سے آنے والی گاڑی کی لائیٹس پر اپنی نظر مرکوز نہ کریں ،ورنہ آپ وقتی طور پر آندھے ہوسکتے ہیں۔جس کا کم از کم دورانہ 30 سیکنڈ تک ہوتا ہے۔اور یہ 30 سیکںڈ آپکی موت کیلئے کافی ہیں۔لھذا بہتر یہ ہے کہ اس وقت اپنی نظر سڑک پر یا سڑ ک کے درمیان یا کنارے پر بنائے گئے زرد یا سفید لائن پر مرکوز رکھیں۔اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ سڑک کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرسکیں گے۔
4)گاڑی کے اندر کی لائٹس بند رکھیں،اس سے آپ باہر کا منظر بہتر طریقے سے دیکھ سکیں گے۔
5) کچھ کمپنیاں زرد رنگ کے عینکوں کو نائیٹ ویژن کیلئے موثر مانتی ہیں۔ لیکن کمپنیوں کی بہتات کی وجہ سے معیاری عینکوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اگر کہیں سے معیاری چشمہ مل جائے تو رات کے وقت ڈرائیونگ کیلئے موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ بعض محققین کی رائے ہے کہ زرد رنگ کےشیشوں یا لینزپر مشتمل عینکیں پہن کر بظاہر تو لگتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے ،لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے۔انکے بقول ابھی تک کوئی بھی اس بات کی وضاحت نہیں کرسکا کہ کس طرح زرد رنگ کی عینکیں اندھیرے میں دیکھنے میں معاونت کرسکتی ہیں۔ بلکہ انکے بقول تواس قسم کی عینک پہن کر تاریک گوشے مزید تاریک دکھائی دے سکتے ہیں۔
6) اندھیرے میں گاڑی کی رفتار کم اور اگلے گاڑی سے فاصلہ زیادہ رکھا کریں۔ تاکہ بوقت ضرورت گاڑی سنبھالنے میں دقت نہ ہو۔
7) اپنی ہیڈ لائٹس بغیر ضرورت فُل نہ کریں،اس سے سامنے سے آنے والی گاڑی کا ڈرائیور شائد دیکھ نہ سکے۔ جس کی وجہ سے سامنے والی گاڑی آپ سے ٹکرا سکتی ہے۔
8) رات کو نیند کا غلبہ ہو تو کسی محفوظ مقام پر گاڑی سڑک کنارے کھڑی کرکے کچھ چہل قدمی کریں،تاکہ نیند کا غلبہ ختم ہوجائے ،یا منہ ہاتھ دھو لیں۔
9)گاڑی کھڑی کرتے وقت سڑک سے دور کھڑے ہوں،رات کے اندھیرے میں آنکھوں کا ویژن کافی کم ہوجاتا ہے۔
10)اپنی انکھوں کا وقتا فوقتا معائنہ کراتے رہئے۔
لو جناب سفر کرتے کرتے ہم کوہاٹ ٹنل پہنچ گئے۔ آپ بھی دیکھ لیجئے


کوہاٹ کے بعد درہ آدم خیل اور پھر پشاور کا مضافاتی علاقہ متنی اور بڈھ بیر شروع ہوتا ہے۔یہ علاقہ رات کے وقت کافی پُرخطر ہوتا ہے۔ کافی واقعات ہوئے ہیں اس علاقے کے حدود میں، جس میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی رینک کے آفسران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
عموما ایسے علاقوں سے گذرتے وقت مقامی پولیس گاڑیوں کے قافلے یا کانوائے  بنا کر جانے دیتی ہے۔لیکن اگر آپ کسی ایسے علاقے سے گذر رہے ہیں اور پولیس کی طرف سے کوئی سیکورٹی بندوبست نہیں ،تو خود ہی اگلی یا پچھلی گاڑی کے  قریب ہوجائیں ،تاکہ کوئی آپ کو اکیلئے پا کر کوئی واردات نہ کرسکے۔

میں جب ابتداء میں ڈرائیونگ سیکھ رہا تھا تو ایک دن میرے چچا نے مجھے بتایا کہ ڈرائیونگ کرتے وقت یہ گمان کیا کرو کہ آپ کے علاوہ باقی سب آندھے اور بہرے ہیں۔لھذا خود کو بھی بچانا ہے اور دوسروں کو بھی بچانا ہے۔تب ہی بندہ ڈرائیور کہلاتا ہے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی اگر مسنون اذکار پڑھیں جائیں تو یہی سفر توشہ اخرت بھی بن سکتا ہے۔

قصہ ایک تقریب کا

عشاء کا وقت تھا، بجلی گئی ہوئی تھی، کمرے میں گھپ اندھیرے اور شدید گرمی کی وجہ سے  ٹہرنا محال تھا۔ میں روشنی اور ٹھنڈی ہوا کی طلب میں  دوستوں کے ساتھ ہوٹل کے صحن کی طرف  چلا گیا ۔صحن میں ہوٹل ملازمین نے  میزوں کے ارد گرد چارپائیں رکھی ہوئی تھی۔ہم نے بھی ایک میز کے قریب رکھی ہوئی چارپائی پر بیٹھنا پسند کیا ۔ باقی ساتھی بھی  وہیں پا س ہی بیٹھ کر کل کیلئے منصوبہ بندی کرنے لگے۔ چنانچہ ہر بندہ اپنے خیال  کے مطابق مشورہ دے رہا تھا کہ درمیان میں میڈیا کا ذکر بھی آ گیا ۔ میرے پاس ہی بیٹھے ایک دوست نے پیچھے مُڑ کر دیکھا  اور میرے کان میں کہا کہ آپکے پیچھے جو پارٹی بیٹھی ہے تو اس میں ایک بندہ جیو کا نمائندہ ہے،اور رپورٹنگ کے سلسلے میں اس شہر میں مقیم   ہے۔

میں نے جیو کے نمائند ے کے پاس ایک بندے کو بھیجا ،چنانچہ وہ اسکو ہمارے پاس لے آیا۔جیو کے نمائندے سے علیک سلیک کے بعد میں نے انکا نام پوچھا ،تو انہوں نے اپنا نام رسول بتایا۔شمالی وزیرستان میں  دو قبیلے آباد ہیں ۔ایک وزیر ،دوسرا داوڑ۔رسول داوڑچنانچہ داوڑ قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انکا پورا نام رسول داوڑ تھا۔رسول داوڑ سے میں نے گذشتہ چند دنوں کا احوال پوچھا اور ان چند دنوں میں میڈیا کو درپیش مشکلات کے بارے میں  پوچھا ،تو رسول داوڑ نے بتایا کہ آج تقریبا 8 بار مجھے پیمرا کی جانب سے وارننگ کال موصول ہوئی ہے ،کہ  متاثرین سے متعلق اپنی رپورٹنگ بند کرو ۔میں نے رسول داوڑ سے پوچھا کہ کیا آپ نے ان کالز کے بعد رپورٹنگ بند کی ،تو انہوں نے کہا کہ بالکل بھی نہیں۔میں نے کہا کہ  اسکے انجام سے بھی واقف ہو ؟تو رسول داوڑ نے مجھے بتایا کہ میرا فرض منصبی حقیقی حالات کی رپورٹنگ ہی ہے،مجھے جیو اور جنگ گروپ میں کام پر فخر ہے کہ اتنے دباؤ کے باوجود بھی مجھے متاثرین کی مشکلات کی بھرور کوریج کا موقع دیا جا رہا ہے۔ باقی انجام اللہ کے حوالے۔
قارئین یہ اس دن کا واقعہ ہے جب رمضان سے قبل ہم متاثرین شمالی وزیرستان کی نقل مکانی کے دوران مشکلات کا جائزہ لینے بنوں گئے تھے۔ اور آپ نے جان لیا ہوگا کہ صرف متاثرین کے احوال کی رپورٹنگ پر ایک صحافی کو حکومت کی طرف سے  کس  تنگ کیا گیا۔
چند روز قبل پشاور پریس کلب کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا کہ متاثرین شمالی وزیرستان کو بہترین  کوریج دینے والے  شمالی وزیرستان کے صحافیوں کو انعامی سرٹیفیکیٹ دینے کیلئے تقریب منعقد کی گئی ہے ۔لھذا آپ کو بھی شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔چنانچہ مقررہ وقت پر ہم بھی دوستوں کے ساتھ پریس کلب گئے۔کانفرنس روم میں تقریب  کا انعقاد کیا گیا تھا ،جس میں مختلف شہروں سے لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔اس پروگرام میں بعض مقررین نے کافی اچھی تقریریں کی ۔ لیکن چند ایک مقررین ایسے تھے کہ جنہوں نے بنیادی باتیں  حاضرین محفل کے ساتھ شیئر کیں۔چنانچہ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر جناب صفدر حیات داوڑ نے بتایا کہ فاٹا بالخصوص وزیرستان میں صحافت کی مثال ایسی ہے جیسے مگرمچوں کے تالاب میں ہم کام کر رہے ہوں۔ قدم قدم پر درپیش مشکلات میں ایک ایسی رپورٹ بنانا کہ جس سے سب خوش بھی رہیں اور رپورٹ بھی بن جائے ، کافی جان جوکھوں کا کام ہے۔
انہوں نے ایک واقعہ سُنایا کہ ملک میں جاری حالیہ عسکری کشمکش سے قبل میں ایک بار  شمالی وزیرستان ایجنسی کے تحصیل میرعلی  کے مین بازار میں ایک دوکان کے اندر چند صحافیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک شخص کو بھرے بازار سے اغوا کیا گیا۔
اب ظاہر ہے کافی بڑا واقعہ تھا ،لیکن اس واقعے کی رپورٹنگ نے ہمیں چکرا کر رکھ دیا۔کیونکہ اگر یہ لکھتے کہ فلاں مسلح گروپ نے ایک بندے کو اغوا کیا ہے، تو پولیٹیکل انتظامیہ اس گروپ پر ہاتھ یہ کہہ کر ڈالتی کہ ہم نے تو چشم پوشی اختیار کی تھی لیکن صحافیوں نے آپ کے جُرم سے پردہ اُٹھایا ہے۔اور پھر ہم اس مسلح گروپ کے نشانے پر آجاتے۔اور اگر کہتے کہ فلاں شخص کو اغوا کیا گیا ہے ، تو بھی مغوی کے قبیلے کی طرف سے خدشہ تھا کہ وہ اسکو اپنی بے عزتی نہ سمجھ لے۔اور اگر لکھتے کہ میرعلی بازار سے اغوا ہوا ہے تو  بھی پولیٹیکل انتظامیہ اس علاقے کے رہائیشیوں کے خلاف 40 ایف سی آر کے تحت  ایکشن لیتی،اور ظاہر ہے اہل علاقہ نے ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہوجانا تھا۔چنانچہ ہماری رپورٹ کچھ یوں بنی کہ نامعلوم افراد نے نامعلوم مقام سے نا معلوم شخص کو اغوا کرلیا۔
صفدر حیات داوڑاس واقعے سے فاٹا میں صحافی برادری کو درپیش مشکلات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان سخت حالات میں بھی صحافیوں نے  معیاری رپورٹنگ کو ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ چنانچہ بعض صحافی انہی وجوہات کی بناء پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔میڈیا ایک علاقے کیلئے آنکھ کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔کیونکہ جس طرف میڈیا متوجہ ہوجائے تو تمام توجہ اسی طرف مبذول ہوجاتی ہے اور مسئلے کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔لیکن آج کل کے دور میں اگر میڈیا نہ ہو تو بڑے سے بڑا واقعہ بھی بے توجہی کے سبب بے وقعت ہوکر رہ جاتا ہے۔اور کوئی اس مسئلے کی حل کیلئے خاطر  خواہ سنجیدگی نہیں دِکھاتا۔پروگرام سے سنیئرترین قبائلی صحافی جناب سیلاب محسود نے بھی تقریر کی۔انہوں نے موجود ہ حالات میں درست رپورٹنگ کے حوالے سے درپیش مشکلات کے چند واقعات سُنائے کہ کس طرح حالیہ ضرب عضب آپریشن کے موقع پر  ہمیں رپورٹنگ سے روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی گئی،اور پھر پہاڑوں میں دس دس گھنٹے پیدل سفر کے بعد انکی ٹیم متاثرہ علاقوں میں چوری چھپے پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔
سیلاب محسود نے ہمیں بتایا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے تحصیل میرعلی میں حالیہ ضرب عضب آپریشن سے قبل جن مکانات پر جیٹ تیاروں سے بمباری کی گئی تھی ، تو انکی ٹیم بالکل ان مکانات تک پہنچ گئی۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ جب میں ان تباہ شدہ مکانات کے ملبے پر کھڑا ہوا تو اسی دوران ہلکی سی ہوا چلی ۔اس ہوا کی وجہ سے مجھے ایک بو محسوس ہوئی ،تو میں نے اہل علاقہ کو جمع کیا اور  انکو کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس ملبے کے نیچے کئی لاشیں ہونگی۔تو اہل علاقہ نے جواب دیا کہ بالکل یہاں لاشیں ہونگی ،لیکن اس خاندان کا کوئی فرد نہیں بچا کہ جو یہ کہہ سکے کہ ہمارے فلاں بندے کی لاش نہیں ملی ہے،کہ ہم اسکو نکال دیں۔

سیلاب محسود نے بتایا کہ میرعلی میں ہمارے اقامت کے دوران ہی آپریشن ضرب عضب کا اعلان کیا گیا تو جس  مشکل سے ہم پہاڑوں پر سفر کرتے ہوئے بنوں پہنچے ہیں، وہ ناقابل بیان ہے۔انہوں نے کہا  کہ صرف ان جیٹ طیاروں کی بمباری کی رپورٹنگ کیلئے حکومت سے چھپ کر بہت سی  مشکلات جھیل کر حقیقت تک پہنچنا پڑا،اور یہ کوئی اخری موقع نہیں ہے۔

 انہوں حضرت اللہ نامی ایک دوکاندار کا واقعہ بھی سُنایا کہ جو آپریشن کے اعلان سے قبل اپنے بیوی بچوں کو یہ کہہ کر پشاور چلا گیا تھا کہ میں دوکان کیلئے سامان  خرید کر جب واپس آجاؤں تو اس وقت آپ لوگوں کو  ممکنہ آپریشن کی وجہ سے محفوظ مقام کی طرف  لے جاؤنگا۔لیکن جیسے ہی حضرت اللہ پشاور پہنچے تو اُدھر حکومت نے آپریشن کا اعلان کردیا۔
سیلاب محسوداب حضرت اللہ اِدھر محصور اور اسکے بچے شمالی وزیرستان میں اپنے ابو کی راہ تکتے رہے۔سارا وزیرستان نقل مکانی کرگیا لیکن نہ ملے تو حضرت اللہ کے بیوی بچے۔ حضرت اللہ کہتا ہے کہ میں نے لکی مروت ،سرائے نورگ  ،بنوں ،کرک کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن میرے اہل وعیال نہ ملے۔حضرت اللہ کی یہ داستان شائد مشال ریڈیو پر نشر ہوچکی ہے۔

یہ حقیقت بھی ہے کہ پورے ملک بالخصوص فاٹا میں صحافت کو جس قدر  جکڑنے کی کو شش کی جا رہی ہے تو اس کی مثال نہیں ملتی۔
 اس سے پہلے بھی خیبر ایجنسی میں امن امان کی بگڑتی صورت حال پر جب جیو نیوز نے مقامی انتطامیہ کی نااہلی پر رپورٹ چلائی تھی تو  خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ نے بذات خود جیو نیوز کے نمائندے کو سبق سکھانے کا ٹیلیفونک آرڈر دیا تھا۔چنانچہ کئی کوششوں کے بعد اس صحافی کو جب  خاصہ دار فورس نے پکڑا تو  حوالات میں اسکے ہاتھ پاؤں توڑ دئے تھے۔
شائد آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ ایک بار جب ہم  ٹرانسپوٹرز کی شکایات پر صحافیوں کی ٹیم کے ساتھ  افغانستان کے بارڈر طورخم  گئے تھے تو وہاں بھی پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت خاصہ دار فورس نے کیمرہ مینوں کے کیمرے بلاخوف و خطر توڑنے  کی کوشش کی تھی۔
کہا جا تا ہے کہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاء پر ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ جب عسکری کشمکش  وہاں عروج پر تھی تو  اس دوران صحافیوں کو کسی واقعے کی رپورٹنگ کیلئے باقاعدہ پرنٹ شدہ خبریں ملتی تھیں، کہ اس واقعے کو اس انداز میں نشر کیا جانا لازمی ہے۔ چنانچہ کئی صحافی اپنے ضمیر کے بوجھ سے علاقہ تو چھوڑ گئے لیکن حقیقت پسندی نہ چھوڑی۔  جنہوں نے  پہلے سے ہی ٹائپ شدہ خبروں کو نشر  کرنے سے انکار کردیا تو گولی کے ذریعے اسکی قسمت کا فیصلہ کردیا گیا۔چنانچہ اس تقریب میں  شمالی وزیرستان ایجنسی کے صحافی ممتاز داوڑ ،حیات اللہ داوڑ اور دیگر مقتولوں کے اذیت ناک موت کا ذکر بھی کیا گیا۔

اس تقریب میں ایسے متاثرین بھی شریک تھے ، جو راستوں کی بندش کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے پیدل افغانستان نقل مکانی کر گئے تھے۔وہاں  چند دن گزارنے کے بعد پاکستان کرم ایجنسی کے راستے واپس آئے۔چنانچہ ان میں سےا یک گُل زمان بھی تھے۔گل زمان نے بتایا کہ آپریشن کے اعلان کے وقت میں سب ڈیژن رزمک چلا گیا،یہ علاقہ ایک پُرفضاء مقام ہے اور یہاں کئی سالوں سے کوئی عسکری کشمکش نہیں ہوئی ہے۔انہوں  نے بتایا کہ   رزمک سے باہر نکلنے کے سب راستوں پر کرفیو لگا دی گئی تھی،لھذا پشاور پہنچنے کیلئےگل زمان  پہلے تو رزمک سے دتہ خیل پیدل چلے گئے۔ انہوں نے  بتایا کہ یہ صرف کہنا آسان ہے کہ میں رزمک سے دتہ خیل پیدل چلا گیا۔ بقول گل زمان  مجھ جیسے پہاڑوں کے عادی شخص کے پاؤں اس سفر میں ساتھ دینے سے کئی بار عاجز آگئے۔دتہ خیال  میں رات گذارنے کے بعد صبح وہاں سے مداخیل اور پھر افغانستان کے علاقے خوست پیدل چلا گیا۔گل زمان  نے بتایا کہ خوست بازار میں باقاعدہ افغان پولیس نے مجھے خوش آمدید کہا۔میں نے گل زمان سے پوچھا کہ سُنا ہے کہ متاثرین کی بھاری تعداد افغانستان گئی ہے؟تو انہوں نے بتایا کہ خوست بازار میں مجھے کئی جانے پہچانے چہرے نظر آئے۔کچھ لوگ گھروں میں رہائش پذیر تھے ،کچھ کی قسمت میں خیمے لکھے تھے۔ متاثرین اپنے قبائلی روایات کے مطابق بندوقیں اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ساتھ گھومتے پھرتے تھے۔میں نے گل زمان سے پوچھا کہ کتنے دن وہاں رُکے ،تو انہوں نے جواب دیا کہ میں وہاں صرف چند گھنٹے رہا ،اسکے بعد پاکستان آگیا۔

اسی  تقریب میں معلوم ہوا کہ پاکستانی طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ بھی آج کل خوست اور متعلقہ بارڈر علاقوں میں موجود ہے۔اور یہ کہ پاکستانی طالبان نے بارڈر ایریا پر کسی قسم کی عسکری کاروائیوں کو سختی سے منع کیا ہے ، اور افغان آرمی کیمپوں کے قریبی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔بلکہ یہ تک بتایا گیا کہ  رمضان میں افغان آرمی دو تین سو پاکستانی طالبان کیلئے  افطار پارٹی منعقد کرتی ،اور اسکے بعد ایک تقریر کی جاتی کہ جس میں پاکستان اور خاص کر پنجاب کے خلاف نفرت آمیز زبان استعمال کی جاتی۔پھر اپنی ہمسائیگی اور پشتون ولی کی باتیں کی جاتیں ،جس سے پاکستانی طالبان میں پاکستان مخالف جذبات ابھارنے کی بھرپور کوشش کی جاتی،بلکہ بتایا گیا کہ کس حد تک وہ کامیاب بھی ہو رہے ہیں،اور جس طرح  حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، ہوسکتا ہے کہ ایک حقانی نیٹ ورک وہاں سے بھی پاکستان کے خلاف لانچ ہوجائے۔
سننے میں آیا کہ باقاعدہ افغان حکومت کی طرف سے پاکستانی طالبان کے ساتھ باضابطہ معاہدے کی پیش کش بھی کی گئی ہے ،لیکن تاحال شائد اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

اندرون وزیرستان کے حالات کے سلسلے میں مختلف شرکاء سے معلوم ہوا کہ میرعلی و میرانشاء کے تقریبا تمام بازار گولہ باری سے شدید متاثر ہیں۔ جس میں عوامی نقصان اربو ں روپے تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ میڈیا کے مطابق بازاروں کی تباہی میں بارودی سرنگوں کا بھی کردار ہے ،جنکو صاف کرنے کے بجائے وہیں بلاسٹ کیا گیا۔

اسکے علاوہ بعض رہائشی علاقوں پر بھی شدید شیلنگ کی گئی ہے اور خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود تمام رہائشی گھر تباہ ہوگئے ہیں۔

اربوں روپوں کے کاروباری مرکز میرعلی بازار کی تباہی کا ایک منظر



میرعلی بازار کی تباہی کی ایک ویڈیو جھلک دیکھنے کیلئے کلک کیجئے

اسی طرح شمالی وزیرستان کے سب سے بڑے کاروباری مرکز اور کئی مربع میل پر محیط میرانشاء بازار کی تباہی



میرانشاء تباہی کے مزید تصاویر دیکھنے کیلئے Destroyed Miranshah گوگل کریں۔

اسکے ساتھ ایک اور بات جو سامنے آئی وہ یہ کہ آرمی نے کئی ٹرک قیمتی سامان گھروں سے نکالا ہے ،اور انکو  نامعلوم مقام پر لے جایا جاتا ہے۔ صحافی نور بہرام نے تو بتایا کہ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ سامان مختلف آرمی کیمپوں یا سول کالونی میں بھی رکھا گیا ہے۔اب یہ علم نہیں کہ آیا یہ سامان حفاظت کیلئے گھروں سے نکالا جا رہا ہے ؟اسی طرح کی رپورٹیں بازاروں کے بارے میں بھی آرہی ہیں کہ اکثر دوکانیں خالی کردی گئی ہیں۔اور بیش قیمت سامان کو ٹرکوں میں ڈال کر منتقل کیا گیا ہے۔ ایک حکومتی اہلکار کے بقول انٹیلیجنس ادارے بھی اس امر کی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں۔

ان تمام حالات کو سامنے رکھ کر جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے تو وہ شائد یہی ہے کہ متاثرین شمالی وزیرستان کو جلد از جلد اپنے گھروں میں آباد کیا جائےتاکہ یہ نوجوان جنکے تعلیمی سلسلے مسدود ہوگئے ہیں، کہیں غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں ۔ وہ قبائل جو وطن کے بے لوث سپاہی تھے، کہیں اپنے انکو اس قدر بد ظن نہ کرلیں کہ انکو دوسروں کی گود سنہری نظر آئے۔

ہم نے بنوں یوں بھی دیکھا

میرے پچھلی تحریر میں بنوں کی جانب سفر کا ذکر کیا گیا تھا۔بنوں جنوبی اضلاع میں سے ایک ایسا ضلع  ہے کہ جہاں سے کرک،سراے نورنگ، لکی مروت ،اور شمالی وزیرستان کے عوام نہ صرف مستفید ہوتے ہیں بلکہ ان علاقوں کی اکثر ضروریات زندگی یہی سے پوری ہوتی ہیں۔
میڈیکل کالج، یونیورسٹی ، میڈیکل کمپلیکس ،اور مختلف تفریحی پارکس بنوں شہر کی نمایاں خاصیات ہیں۔اگرچہ سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کا تعلق بھی بنوں سے تھا،لیکن اسکے دور میں بنوں میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں ہوسکا۔
ایم ایم ائے کے دور میں جب بنوں سے صوبائی نشست جیتے والے اکرم خان دُرانی صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ بنے۔تو انکے دور حکومت میں بنوں میں نمایاں ترقیاتی کام ہوئے۔ جس کے سبب جنوبی اضلاع اور متصل قبائلی علاقہ جات کیلئے بنوں ایک ماڈل سٹی کے مثل بن گیا۔
بنوں کے عصر کا وقت کافی تفریح بخش ہوتا ہے۔ بنوں کے عصر کے وقت کو امتیازی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ (دَ بنوں مازدیگر) کے عنوان سے کئی ٹی وی چینلز نے پروگرام کئے ہیں۔

خاص کر چھٹی کے دن عصر کے وقت جب شادی کے دولہے بنوں بازار آجاتے ہیں تو ایک شغل و رونق کا ماحول بن جاتا ہے۔دولہا لفظ ویسے بھی رونقیں بکھیرنے والا  ہے،اور جب اس قسم کی آوٹ ڈور تفریح بھی ساتھ ہو تو رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔
عید کے دنوں میں بھی اطراف کے اضلاع و قبائلی علاقہ جات کے لوگ بنوں چلے جاتے ہیں ،اور مختلف پارکوں میں تفریحی سرگرمیوں میں مشغول ہو کر شام ڈھلے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔
اس سے پہلے بھی کئی بار بنوں گیا ہوں،اور یہ رنگینیاں میری نظروں سے بھی گذری ہیں۔لیکن اس بار بنوں پہنچنے پر دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر شوخی اور رنگینیوں کے بجائے آفسردگی نے ڈھیرے ڈال رکھے تھے۔
بنوں شہر میں داخل ہوتے ہی ہر طرف گاڑیوں کا رش ،اور گاڑیاں بھی ایسی کہ جن میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین شمالی وزیرستان بمع گھریلو ساز و سامان سوار ہوتے تھے۔

سڑکوں پر نان کسٹم پید گاڑیاں بھی گھومتی نظر ائیں۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ حکومت نے نقل مکانی کرنے میں سہولت کے سبب نان کسٹم پید گاڑیوں مین بھی سفر کی اجازت دے رکھی ہے۔


 چلو یہ تو شکر ہے کہ ہر قسم کے ٹرانسپورٹ  کے استعمال کی حکومت نے اجازت دے رکھی ہے۔
چونکہ ہماری کچھ ملاقاتیں پہلے سے طے تھیں،ان میں سے ایک ملاقات ایک نجی فلاحی ادارے کے سربراہان کے ساتھ بھی تھی۔ ملاقات میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔جس میں ان فلاحی ادارے کے سربراہ  نے بتایا کہ ایک نجی ہسپتال والوں سے بات کی گئی ہے ۔ یہ اگرچہ ایک زنانہ ہسپتال تھا،لیکن فی الوقت ایمرجنسی بنیادوں پر ہر قسم کے مریضوں کو طبی امداد فراہم کرنے کیلئے یہاں بندوبست کیا گیا تھا۔
متاثرین شمالی وزیرستان چونکہ تھکے ہارے بنوں پہنچ رہے تھے،اسلئے انکے لئے ایک ریفریش منٹ پوائینٹ کا مشورہ ،ابتدائی طبی امداد کے سٹال ، معصوم بچوں، خواتین اور بیمار متاثرین کیلئے ایمبولینس وغیرہ کے بنیادی انتطامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی،اور اس پر فوری عمل کیا گیا۔
نجی زنانہ ہسپتال کا اندرونی منظر

ہمیں مختلف مقامات دکھائے گئے جہاں سٹال لگانے کی تیاری کرنی تھی۔ نجی فلاحی ادارے کے ڈونرز نے ان لوگوں سے کافی تفصیلات مانگی تھیں،جن کو ہمارے ساتھ شیئر کیا گیا۔ادارے کی اس مشکل کو یوں حل کیا گیا کہ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا ،اور اس میں بنیادی ضروریات و دیگر اہم باتیں تفصیل سے بیان ہوئیں۔ اس طرح ڈونرز کو تفصیل سے متاثرین کی مدد کی راہنمائی مل گئی۔
اجلاس  کے بعد شمالی وزیرستان سے آنے والی سڑک پر جانے کا پروگرام بنا ، چنانچہکل کے ریلیف کیمپ کیلئے ایک دو جگہیں دیکھی۔ اس دوران بھی وقتا فوقتا لوگ نقل مکانی کر رہے تھے۔
اس تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک خاندان فلائینگ کوچ میں سفر کرکے بنوں پہنچ گیا ہے۔ یہ لوگ 12 -13 گھنٹے سیدگی آرمی چیک پوسٹ پر انتطار کرکے پہنچتے ہیں۔
بعض لوگ ایسے بھی کہ انتہائی معمولی گھریلو سامان ساتھ گھر سے نکلے ہیں۔ 

 مغرب کا وقت قریب تھا اور اس سڑک پر آرمی کسی بھی وقت کرفیو لگا سکتی تھی،جس کے سبب یہاں ہم سب کے پھنسنے کا خدشہ تھا،میزبان بھی کافی بے چین تھے۔اسلئے ہم نے آج کے دورے کو مختصر کرتے ہوئے واپس ہوٹل جانا مناسب سمجھا۔
یوں تو ہم نے پہلے بھی لوگوں سے یہ باتین سُنی تھی کہ سخت گرمی،بھوک پیاس میں پیدل نقل مکانی کے دوران کئی متاثرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
لیکن تازہ ترین خبر ہمارے لئے یہ تھی کہ صبح جب ہم ناشتہ کر رہے تھے کہ اس دوران جوتے پالش کرنے والا بھی ہمارے قریب آبیٹھا۔ گفتگو کے دوران اس نے بتایا کہ ابھی بنوں کے علاقے سوکاڑی میں ایک عورت نقل مکانی کرکے پہنچی ،لیکن رات بھر پیدل سفر ،بھوک پیاس کا تاب نہ لا کر فوت ہوگئی۔میں نے مزید تفصیلات پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ بنوں میں ہی اس عورت کے رشتہ دار موجود ہیں ، وہ موقع پر پہنچ گئے اور اس عورت کے کفن دفن کا انتظام کرلیا۔
صبح ہم نے بنوں سے متصل ایف آر بکاخیل میں آرمی کی طرف سے بناے ہوے کیمپ جانے کا منصوبہ بنایا۔بنوں کے حدود میں واقع باران پُل کے قریب تبلیغی مرکز کے پاس ہم کچھ دیر کیلئے رُک گئے۔ متاثرین وزیرستان کے کئی خاندان نقل مکانی کرتے ہوئے آپ دیکھ سکتے ہیں۔ 
باران پُلباران پُل ایک برساتی نالے پر بنا انگریزوں کے زمانے کا پُل ہے،لیکن اسکی چوڑائی کم ہے اسلئے یک طرفہ ٹریفک ہی اس پر چل سکتی ہے۔چنانچہ لوگ قریبی برساتی نالے میں راستہ بنا کر بنوں کی طرف جا رہے ہیں۔






سواری کی عدم دستیابی کے سبب 40 میل تک پیدل لائی جانے والی گائے،جو خود بمع مالکان تھکن سے چور ہیں۔

 ذیل کی تصویر میں پیدل لائی جانے والی بکری تھکن ،پیاس اور گرمی کے سبب مرچکی ہے۔ ایسے بے شمار جانور آپ کو سڑک کنارے نظر آئیں گے،جو شمالی وزیرستان سے پیدل سفر کا تاب نہ لا کر مرچکے ہیں۔

نقل مکانی کی چند دیگر تصاویر





نقل مکانی کے دوران مستعمل نان کسٹم پیڈ گاڑیاں۔پس منظر میں باران پُل پولیس چوکی اور بنوں تبلیغی مرکز




متاثرین وزیرستان کے نقل مکانی کا ایک ویڈیو منظر
کہنے والے کہتے ہیں کہ کبھی اس علاقے میں افغان مہاجرین کیلئے کیمپ بنائے گئے تھے،لیکن افسوس کہ آج اپنے ہی ملک کے محب وطن اور وفادار باشندے در بدر پھر رہے ہیں۔افغان مہاجرین کیلئے بنائی گئی تعمیر
ایف آر بکاخیل کے مقام پر ایک لق دق پتھریلی زمین پر متاثرین کیلئے حکومت کی طرف سے کیمپ بنایا گیا ہے۔جہاں صرف کیکر ہی کیکر آپ کو نظر آئیں گے۔ کیمپ  کے تمام تر معاملات کی نگرانی فوج کرتی ہے۔ ہم کیمپ کے طرف گئے ،تو راستے میں آرمی والوں نے روک دیا۔ہم نے انکو بتایا کہ کیمپ کی وزٹ کرنا چاہتے ہیں،تاکہ پھر متاثرین کو یہاں لایا جا سکے۔

لیکن ہمیں یہ کہہ کر کیمپ میں نہیں جانے دیا گیا کہ یہ آرمی کا کیمپ ہے اور بدون آرمی کی مرضی کوئی ادھر نہیں جائے گا۔بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر متاثرہ خاندان بھی آئے تو نادرا ویریفیکیشن کے بعد ہی اسکو یہاں پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

فوجی سپاہی بہت گرم جوشی دکھا رہا تھا اور بھڑکیں مار رہا تھا کہ اب علاقہ صاف ہوجائے گا اور پورے پاکستان میں آمن قائم ہوگا۔

اس بیچارے کو یہ علم نہیں تھا کہ حکومتی حمایت یافتہ حقانی گروپ اور اس جیسے دیگر عسکری گروہوں کو حکومت پہلے ہی کرم ایجنسی کی طرف بمع ساز وسامان راہ دری فراہم کر چکی ہے۔بلکہ آرمی آفسران تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ یہ آپریشن حقانی نیٹ ورک کے خلاف بالکل نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ چند دوسرے عسکری گروہوں کو بھی محفوظ مقامات کی طرف جانے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے۔

بہرحال فوجی کو اسی طرح بھڑکیں مارتا چھوڑ کر ہم واپس بنوں کی طرف روانہ ہوئے،تاکہ متاثرین کے عارضی ریلیف کیلئے اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔



متاثرین کیمپ کا دور سے ایک منظرحالیہ رپورٹوں کے مطابق لاکھوں متاثرین نے حکومت و آرمی کے مشترکہ کیمپ میں ذلت کی زندگی گذارنے سے انکار کردیا۔ اور کھلے آسمان تلے زندگی گذارنا قبول کرلی.اندازہ کے مطابق8-9 خاندان صرف منت وزاری کرکے کیمپ  لائے گئے ہیں،تاکہ شرمندگی سے بچا جا سکے۔لیکن وہ بھی یہاں  پر کافی مشکلات کا شکار ہیں۔اور سوشل میڈیا پر کبھی کھبار انکی فریادیں سنائی دیتی ہیں۔
اس تمام سفر میں اگرچہ میرے دوسرے ساتھی کافی غمگین تھے،لیکن اس وقت دکھ کی ایک لہر میرے دل میں اتری جب میں نے بھینس کا بچھڑا بھوک پیاس تھکن سے تپتی سڑک پر گرتا دیکھا۔ میں جب قریب پہنچا تو اسکی سانسیں تیز ہو رہی تھی۔اور ہانکنے والا چھوٹا بچہ اسکے قریب پریشان حال کھڑا تھا۔ 
یہاں پر میرے بھی ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے،شکر ہے دھوپ کے چشمہ  نے میری آنسوں کو چھپا لیا۔

یہ لیجئے ایک ویڈیو ،گرمی ،بھوک پیاس اور تھکن سے چور  متاثرین اپنے جانور بنوں کی طرف ہانکتے ہوئے

راستے میں ایک مقام پر جند احباب نے ریلیف کیمپ لگایا تھا،جس میں چنا چاول اور تحنڈا پانی متاثرین کو پیش کیا جا رہا تھا یہ لوگ ہم سے سبقت کر گئے تھے۔ان لوگوں نے ہم سے دو دن پہلے یہاں پہنچ کر انتظامات کئے تھے۔



کیمپ میں مردوں کیلئے الگ حصہ بنایا گیا تھا،جہاں پر کرسیاں اور دریاں بچھائی گئی تھی۔اور خواتین کیلئے الگ پردہ دار جگہ بنایا گیا تھا۔جہاں انکے واسطے خوراک و سستانے کا بندوبست کیا گیا تھا۔
کیمپ چلانے والوں نے بڑے مشکل مرحلے دیکھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دن رات میں ہم 15 ہزار کی برف استعمال کر چکے ہیں۔ اس سے متاثرین کی تعداد اور گرمی کی شدت کا اندازہ خود لگایا جا سکتا ہے۔ 
کیمپ  کے انچارج نے ہمیں بتایا کہ گذشتہ رات 4-5 بچے میری گود میں موت کے منہ میں چلے گئے۔ بے شمار پردہ دار عورتوں نے  بے آسرا قریبی کھیتوں میں کھلے آسمان تلے رات گذاری۔
دنیا نیوز کے صحافی کے ریکارڈ کے مطابق 21 معصوم بچے اس نقل مکانی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ وہ ریکارڈ ہے جو صرف انکو معلوم تھا،جو آف دی ریکارڈ ہیں یا جن کو رپورٹ نہیں کیا گیا ،وہ کتنے ہونگے۔بے شمار خواتین طبی وجوہات کی بناء پر فوت ہوگئی۔بے ہوش ہونے والوں کا تو کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔
حسین احمد کی24 سال عمر ہے اور شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی سے اسکا تعلق ہے۔ ایک انتہائی قابل کالج سٹوڈنٹ ہے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ جب میں نقل مکانی کر رہا تھا ،تو اس دوران ایک لڑکے کو دیکھا جو کہیں چارپائی ڈھونڈ رہا تھا۔حسین کہتا ہے کہ میں نے اس لڑکے سے پوچھا کہ کیوں چارپائی کی تلاش میں ہو،تو اس لڑکے نے جواب دیا کہ میری ماں میرے ساتھ پیدل نقل مکانی کر رہی تھی ،لیکن ابھی ہم چند کلو میٹر ہی گئے تھے کہ چند لڑکے ہمارے قریب سے حالیہ آپریشن سے متعلق باتیں کرتے ہوئے گذرے۔
تجسس کے مارے ماں نے بیٹے سے پوچھا کہ یہ لڑکے کیا کہہ رہے ہیں؟
تو لڑکے نے جواب دیا کہ ماں یہ کہہ رہے ہیں کہ آرمی نے پوری کی پوری بستیوں کو ملیا میٹ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ماں نے بیٹے کو کہا کہ بیٹا !
 اس غربت میں بڑی مشکل سے  یہ گھر بنایا ہے،میرے پاس تو کچھ نہیں بچے گا ،اور اسی کے ساتھ عورت کو ہارٹ آٹیک ہوا۔
اب لڑکا سرگرداں پھر رہا ہے کہ کہیں چارپائی ڈھونڈ لے۔
اسی طرح سید سیف جو میرعلی بازار کا دوکاندار ہے۔ بار بار اُف اُف کرتا جاتا تھا،اسکے بیٹے نے بتایا کہ ابھی ہم نیا گھر بنا رہے ہیں ،اور 40 لاکھ تک اس پر لگا چکے ہیں۔اگر حکومت نے اسکو مسمار کردیا تو ہم تو بالکل کنگال ہوجائیں گے۔
سید سیف کے بیٹے نے بتایا کہ میرے ابو بستر پر خاموش لیٹے رہتے ہیں اور بولتے تک نہیں۔
اس طرح کے بے شمار واقعات ہوئے،کہ جس میں راستے کی تکلیف یا دیگر اسباب کی وجہ سے لوگوں کو طبی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟آ دیکھ سکتے ہیں بنوں میرعلی یا بنوں میرانشاء کا فاصلہ اتنا بھی زیادہ نہیں،تو کیا وجہ ہے کہ اتنی اموات ہوئی؟

عموما یہ راستہ گاڑی میں 45 منٹ میں طے ہوتا ہے۔لیکن نقل مکانی کے دوران لوگ 50،40  گھنٹوں میں بنوں پہنچے ہیں۔
 سید سیف  کے بڑے بیٹے نے بتایا کہ ہم دن گیارہ بجے ٹریکٹر میں سوار ہو کر بنوں کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن اگلے دن صبح ہم بنوں پہنچ سکے۔ہماری عورتوں کے پاؤں سُن ہوچکے تھے۔چنانچہ ٹریکٹر سے اترنے کے بعد بھی انکو چلنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔
وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ میرعلی سے نکلنے کے بعد سیدگی جو کہ ایک خشک و پتھریلی علاقہ ہے۔یہاں آرمی نے چیک پوسٹ بنایا ہے۔اول تو چیک پوسٹ ایسی جگہ پر ہے کہ نیچھے گہری کھائی ہے،اور اسکے بعد ایک دم ایک طویل چڑھائی۔
اس چڑھائی کے بالکل شروع مین آرمی نے چیکنگ کیلئے چیک پوسٹ بنایا ہے۔اسلئے گاڑی کو اسی چڑھائی پر ہی کھرا ہونا پڑتا ہے،جو کہ لوڈ گاڑی کیلئے کتنا مشکل ہے،اسکا اندازہ ڈرائیور حضرات ہی کرسکتے ہیں۔
سیدنور کے بیٹے نے بتایا کہ یہان چیکنگ کا عمل اتنا سست تھا کہ کوئی اسکا تصور نہیں کرسکتا۔اوپر سے جلانے والی سورج کی گرمی،نیچھے پتھریلی زمین جہاں انسان تو کیا جانور بھی پانی کیلئے ترس جائےاس پر 10 -12 گھنٹوں کا انتظار
حسین نے بتایا کہ سیدگی چیک پوسٹ پر میں سپاہی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا،تو اس دوران سفید جیپ آئی،جس میں سے کوئی اترا،اور چیک پوسٹ پر کھڑے سپاہیوں پر خوب برسا۔اسکے جانے کے بعد حسین نے سپاہی سے پوچھا کہ یہ کون ہے اور کیا کہہ رہا تھا؟
تو سپاہی نے جواب دیا کہ یہ ہمارے آفسر ہیں،اور اس بات پرغصہ ہیں کہ کیوں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے ساتھ (اتنی) نرمی برتی جا رہی ہے۔مزید سختی کرو۔
گویا سپاہی اپنے بس کے مطابق نرمی کرتے تھے ،لیکن آفسران بالا سے مجبور تھے۔
چند مقامی ڈرائیوروں نے بتایا کہ سیدگی چیک پوسٹ پر ایک عورت کے گود میں بچہ تھا،جس کی جان گرمی ، اور پیاس کی وجہ سے خطرے میں تھی۔ چنانچہ وہ عورت سپاہی کے پاس گئی کہ خدارا کسی ایمبولینس کو اطلاع دیجئے،یا ہماری گاڑی چیکنگ کا نمبر پہلے لائے تاکہ ہم بنوں ہسپتال بروقت پہنچ سکیں۔
لیکن فوجی سپاہی نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ ہمیں اوپر سے آرڈر نہیں ہے۔عورت منتیں کرتی رہی اور سپاہی انکار کرتا رہا۔چند منٹ اسی طرح مزید گزرے اور بچہ اس عورت کی گود میں موت کے منہ میں چلا گیا۔ عورت کا کلیجہ تو غم سے پھٹ گیا،چنانچہ مردہ بچے کو لے کر فوجی کے سامنے رکھ دیا کہ تم جانو اور یہ لاش جانے ۔اپنے لئے اسکو پکاؤ ،یا سُکاؤ، شیشے کے فریم میں بند کرواپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں اسکو دیوار کے ساتھ ٹھونک دو،تاکہ اس پر نظر پڑ کر تمھیں آرڈر کی پاسداری یاد آتی رہے۔
فوجی سپاہی بھی آخر انسان تھا ،یہ منظر برداشت نہ کرسکا۔عورت سے کہا کہ باقی تو میرا بس نہیں چلتا لیکن اب میں بھی مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا،چنانچہ سیدگی چیک پوسٹ پر ہی آپنے آپ کو شوٹ کردیا۔گولیاں ایک دوسرے سپاہی کو لگیں،لیکن وہ صرف زخمی ہوا۔
ظلم کا نتیجہ یہی ہوا کرتا ہے کہ انسان کی زندگی تاریک ہوجاتی ہے۔چنانچہ تاریک قوموں کی افواج میں خودکشی کی شرح کافی زیادہ ہوتی ہے۔اور یہی حالت شائد ہماری بھی ہونے والی ہے۔جس روش پر ہمارے عسکری اداروں کے آفسران جا رہے ہیں وہ بہت ہی قابل افسوس ہے
یہ سپاہی اگر نرمی کرنا بھی چاہتے تو آفسران بالا انکو سختی سے روکتے۔بلکہ یہاں تک کہ الخدمت ایمبولینس سروس کے سربراہ نے مجھے خود بتایا کہ میں دیسگی چیک پوسٹ پر گیا،اور وہاں کے میجر سے میں نے درخواست کی کہ یہاں اگر الخدمت ایمبولینسوں کو کھڑا کرنے کی اجازت دی جائے ،تاکہ طبی امداد کے مستحق متاثرین کو فوری ہسپتال پہنچایا جا سکے۔لیکن میجر نے سختی سے اس درخواست کو رد کردیا۔
بعد میں رات بارہ بجے سیدگی چیک پوسٹ سے کیپٹن کا فون آیا کہ کل اپنی ایمبولینسیں لے کر ضرور چیک پوسٹ پر آجانا۔ایمبولینسوں کے نگران نے مجھے بتایا کہ میں نے کپیٹن کو جواب دیا کہ آپکے میجر نے تو مجھے اجازت نہین دی،آپ تو اسکے ماتحت ہیں۔
تو کیپٹن نے فون کے سامنے ہی وائرلیس پر حکم چلا دیا کہ کل سے کوئی الخدمت کے ایمبولینسوں کو نہیں روکے گا۔چنانچہ ایک آدھ دن تک تو الخدمت والوں نے متاثرین کو امداد فراہم کردی،لیکن جب معاملہ دوبارہ بڑوں کے پاس گیا تو ایک بار پھر الخدمت والوں کو ایمبولینس سروس فراہمی سے روک دیا گیا۔
بنوں میرانشاء روڈ پر ایک ایسے خاندان سے بھی ملاقات ہوئی،جو کبھی پیدل اور کبھی گاڑی میں یہ راستہ طے کرکے بنوں پہنچے تھے۔راستہ میں کئی بار یہ خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گیا ،لیکن ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیتے۔ لڑکے نے اپنا نام علی بتایا اور کہا کہ دوران نقل مکانی میری بڑی عمر کی بہن کو اس درجے پیاس لگی کہ وہ مزید چل نہیں سکتی تھی۔ چنانچہ سڑک کنارے بیٹھ کر پیاس کی تکلیف کی وجہ سے رونے لگی۔علی نے بتایا کہ چند گھنٹے تو اسطرح گذر گئے لیکن بعد میں بڑی مشکل سے ایک گلاس پانی مل گیا،جس سے میری بہن کی طبیعت کچھ بحال ہوگئی۔
سب سے زیادہ نظم ضبط کی دعویدار فوج نے جب بھی سول معاملات کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ،تو شدید بد نظمی کو رواج دیا۔شمالی وزیرستان کی کل آبادی اندازا 11 لاکھ تک ہے،جس میں 7 لاکھ تک لوگ نقل مکانی کرچکے۔اور فوج کی طرف سے 7 لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کیلئے صرف تین دن دئے گئے،اور اسمیں مختلف چیک پوسٹوں پر کئی گھنٹوں کیلئے کرفیو لگا دیا جاتا۔جس کے سبب لوگوں کو شدید مشکل درپیش آئی۔
ایک جگہ پر مختلف ٹی وی چینلز کی گاڑیاں کھڑی تھی،چنانچہ ہم بھی وہاں رۃک گئے،اس دوران کسی نے باتای کہ فلاں شخص مولوی گل رمضان ہے،جو کہ فوج اور طالبان کے درمیاں مذاکرات میں شریک تھے۔ہم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ،ان سے مذاکرات  بارے میں جاننے کی خواہش ظاہر کی۔جو انہوں نے قبول کی چنانچہ ان سے گپ شپ ہوتی رہی۔گپ شپ کے دوران انہوں نے بتایا کہ جب حافظ گل بہادر(امیر طالبان شمالی وزیرستان) نے عوام کو دن جون تک نقل مکانی کرنے کی ہدایت کی ،تو ہم اور شیر محمد صاحب نے ایک جرگہ تشکیل دئے کر گورنر خیبر پختونخواہ اور کور کماندر سے ملاقات کی۔انہوں نے ہمیں 20 جون تک کا اپریشن نہ کرنے کا اطمینان دلایا۔
مولوی گل رمضان نے بتایا کہ ابھی ہم مختلف طالبان گروہوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے کہ آرمی نے اچانک آپریشن کا اعلان کردیا۔آرمی نے ہمارے ساتھ اور شمالی وزیرستان کے عوام کے ساتھ بڑا دھوکہ کیا ہے۔کونکہ 20 جون سے قبل ہی آرمی نے آپریشن کا اعلان کردیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک طرف وعدے کی خلاف وزری اور دوسری طرف آرمی نے کرفیو کا اعلان کردیا،جس کے سبب عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئےتھے۔چنانچہ ایک طرف بمباریاں اور توپ کی شیلینگ شروع کردی گئی اور دوسری طرف عوام کو گھروں میں محصور کردیا گیا۔
بعد میں بی بی سی اور وائیس آف آمریکہ والے بھی پہنچ گئے ،چنانچہ انکو بھی مولانا صاحب نے یہی باتیں بتائی۔
بنوں میرانشاء روڈ پر جگہ جگہ لوگ متاثرین کو ممکن ریلیف فراہم کر رہے تھے۔کئی لوگوں نے سڑک کنارے ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگا رکھی تھی۔کچھ جانوروں کیلئے پانی کے بڑے بڑے ٹب بھر رہے تھے،کچھ لوگوں نے ہاتھوں میں جانوروں کیلئے چارہ پکڑا ہوا تھا۔
چاول، حلوئے کی پیکٹیں،چھوٹے بچوں کیلئے کھلونے اور ٹافیاں وغیرہ،غرض بنوں کے عوام سے جو ہوسکا،انہوں نے متاثرین شمالی وزیرستان کی امداد کی۔ واقعی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنوں کے عوام نے متاثرین شمالی وزیرستان کی  حد درجے مہمان نوازی کی۔




وقت کم اور کام زیادہ تھا اسلئے ہم اپنے ریلیف کیمپ کو عملی جامہ پہنانے میں جُت گئے۔جلد ہی سب کچھ تیار ہوگیا۔ کیمپ کے تین حصے بنائے گئے۔ ایک حصہ مردوں کے خوراک و آرام کیلئے۔دوسرا حصہ خواتین کیلئے ،اور تیسرا حصہ ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کا۔
خوراک کے سلسلے میں وہی چنا چاول اور ٹھنڈا پانی ہم نے مناسب سمجھا ،البتہ ابتدائی طبی امداد پر زور دیا ،کہ بہت کم لوگ یہ سہولت فراہم کر رہے تھے۔
اسی کے ساتھ کپمپ میں جناوروں کے پانی کیلئے بھی ایک عارضی ٹب کا بندوبست کیا گیا۔
میں کیمپ میں کھڑا تھا کہ ایک باباجی آگئے کہ میری بیٹی بیمار ہے،اسکا علاج کرو۔چنانچہ فوری طب سے متعلقہ شخس نے بچی کو چیک کیا۔بچی کو معمولی بخار بھی تھا لیکن اسکے کان اندر سے معمولی زخمی تھے۔
بچی کے ساتھ بوڑھی دادی بھی تھی،جب ایک بندے نے اس سے پوچھا کہ تمارا گھر کدھر ہے،تو وہ بوڑھی عورت رو پڑی اور پیچھے کھیتوں میں لگے درخت کی طرف اشارہ کیا کہ اس درخت کے نیچے ٹہرے ہیں۔
کیمپ رضا کار بچی کو اُٹھائے ہوئے،پیچھے بچی کا باپ کھڑا ہے۔
فورا ہی ایمبولینس کو بٰلایا۔اس دوران بچی کو آو آر ایس وغیرہ پلایا گیا ،تاکہ کچھ بچی کیلئےبچی کی طبیعت کچھ بہتر ہوسکے۔

ORS کے بعد بچی کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی
لیکن دادی پوتی کے آنکھوں میں اب تک آنسو تھے

کئی بچوں کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب وہ موت کے منہ میں چلے گئے تھے،اسلئے جب ایمبولینس تھوڑی لیٹ ہوئی تو میں نے اپنی گاڑی  میں ڈرائیور کے ساتھ انکو ہسپتال روانہ کیا۔

کیمپ میں ہم  کھڑے ہی تھے کہ سامنے سڑک چند بھیڑ بکریاں گذرنے لگی۔ سخت گرمی،تھکن اور پیاس کی وجہ سے ایک بھیڑ سڑک کنارے بیٹھ گئی ،اور مزید چلنے سے انکار کردیا۔
چنانچہ کچھ دیر سستانے کے بعد کیمپ میں موجود پانی کے ٹب کی طرف انکو ہانکا گیا۔

ریلیف کیمپ میں جانوروں کو پانی پلایا جا رہا ہے۔


بکریاں اگر پانی پیئں گی تو میمنہ بھی کسی سے کم نہیں

مختلف لوگوں کی جانب سے یہ شکایت کی گئی کہ کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی تاکہ اس میں رہائش اختیار کی جاسکے۔چنانچہ بنوں کے مختلف علاقوں میں گھومتا رہا،جلد ہی ایک بچیوں کا سکول خالی مل گیا۔ہیڈ مسٹرس سے بات کی تو اس شرط پر مان گئی کہ پھولون کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ہم نے اسکو اطمینان دلایا اور آپس میں رشتہ داری رکھنے والے چار پانچ خاندانوں کو وہاں منتقل کروایا۔
مسئلہ یہ تھا کہ ہم بنوں میں مسافر تھے،اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہوٹلوں میں تین ہزار پر ایک رات گذاریں۔ہم چاہتے کہ اپنی راحت کے بجائے زیادہ سے زیادہ ریلیف متاثرین  کو فراہم کریں،اسلئے اتنے مہنگے کمرے میں رات گذارنا خالص عیاشی لگی۔ چنانچہ میرے بعض ساتھی واپس چلے گئے ۔جب کہ میں اور میرا دوسرا ساتھی بنوں میں ہی رہ گئے۔ایک دوست کو کال کی تو اس نے بتایا کہ رات گذارنے کیلئے صرف اوپر کی چھت فراہم کرسکتا ہوں۔ ہم نے یہ پیشکش قبول کرلی۔لھزا دن متاثرین کی مختلف خدمات میں گزارتے اور رات دوست کے گھر کی چھت پر دری بچھا کرسوجاتے۔یقین جانئے بہت پرسکون نیند ہوتی،کہ ضمیر ایک حد تک مطمئن ہوتا۔
5-6 دن ہم نے بنوں میں گذارے۔اسکے بعد پشاور میں متاثرین ہی کے ریلیف کے سلسلے میں چند مزید ملاقاتیں متوقع تھی،اسلئے ہم نہ چاہتے ہوئے بھی پشاور کی طرف کوچ کرگئے۔
یہاں بھی کافی متاثرین آئے ہوئے ہیں،انکے مختلف مسائل کیلئے تاحال تگ ودو میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعاء ہے۔

ایک سفر بنوں تک

رات تقریبا ساڑے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ میں گھر میں موجود تھا اور رات کا کھانا کھانے کے بعد سونے کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس دوران میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ نمبر دیکھا تو انجینئر صاحب کا فون تھا،کہنے لگا آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔
میں نے کہا جی حکم فرمائیں ، تو آگے سے انجینئر صاحب بول پڑے کہ کل میں نے بنوں جانا ہے ۔اور میری پوری کوشش یہی ہوگی کہ اپکو بھی ساتھ لے جاؤں۔
میں نے کہا جناب خیریت تو ہے ،تو انہوں نے کہا کہ وزیرستان آپریشن کا اعلان ہوگیا ہے ،اور متاثرین بڑی مشکل سے بنوں پہنچ رہے ہیں۔ چنانچہ ان متاثرین کیلئے ضروری اقدامات کرنے کیلئے بعض اعلیٰ حکام اور چند فلاحی اداروں سے ملاقاتیں طے ہوگئی ہیں،اسلئے تمام ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ ہماری خواہش یہی ہوگئی کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلے جائیں۔
میں نے بتایا کہ ٹھیک ہے ،میں سوچ کر جواب دیتا ہوں، اگلے دن کچھ کام ضروری تھے،اسلئے فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا۔لیکن آخر میں انجینئر صاحب کو بتا دیا کہ کل اگر دس یا گیارہ بجے نکلیں تو ممکن ہے کہ میں بھی آپکا ہم سفر بن سکوں۔خیر وہ اس پر بھی راضی ہوگئے۔اور یوں ہم نے کل بنوں جانے کی تیاری شروع کی۔
چنانچہ اگلی صبح چند ضروری کام نمٹانے کے بعد ہم بنوں کیلئے روانہ ہوئے۔بنوں عام طور پر سفر انڈس ہائی وے سے کیا جاتا ہے ۔جو کہ پشاور سے ہوتا ہوا کراچی جا پہنچتا ہے۔ انڈس ہائی وے پشاور سے کوہاٹ تک دو رویہ ہے،لیکن اسکے بعد سڑک کے درمیان پارٹیشن ختم ہوجاتا ہے اور یہ ایک چوڑے سڑک کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
ضلع پشاور کے حدود سے نکلنے کے بعد انڈس ہائی وے پر

لگتا ہے۔اس علاقے کے کھیتوں میں خربوزوں کی یہ چھوٹی نسل خوب کاشت کی گئی ہے،کیونکہ سڑک کنارے کافی تعداد میں نظر آئے۔


متنی کے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں رات کو عسکروی گروپوں کی حکومت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس پولیس والے کو سزا دینی ہوتی ہے تو ان کا ٹرانسفر یہاں کردیا جاتا ہے۔

علاقہ  متنی کی بدامنی کے سبب یہاں کے پولیس تھانے ایک قلعہ کی شکل میں بنائے گئے ہیں،تاکہ پولیس اہلکاروں کو زیادہ حفاظت فراہم کی جا سکے۔

متنی کے علاقے سے گذرتے ہوئے ایف سی اہلکاروں کا چیک پوسٹ ،یہاں آپ کا شناختی کارڈ چیک کیا جا سکتا ہے۔

متنی چونکہ درہ آدم خیل کے قریب واقع ہے ،اسلئے یہاں کی سیکورٹی پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی دستوں کو بھی سونپ  دی گئی ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود یہاں سیکورٹی اداروں کے کئی اعلیٰ آفسران کے سر تن سے جدا کئے جا چکے ہیں۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو عسکری گروہیں کافی مضبوط ہیں، یا ہمارے ملک کے سیکورٹی ادارے کافی کمزور و نااہل ہیں،اور یا جان بوجھ کر اس قسم کے حالات پیدا کئے جا ہے ہیں۔

درہ آدم خیل کے حدود شروع ہونے والے ہیں۔اس درہ کے رہائشی ہر قسم کے اسلحہ کے نقول بنانے کے ماہر ہیں۔چنانچہ انکی اس مہارت کو دیکھتے ہوئے حکوممت نے اس علاقے کے نوجوانوں کو مختلف سرکاری اسلحہ فیکٹریوں میں بھرتی کیا۔جس کے سبب اس علاقے کی نوجوانوں کی صلاحیت غلط ہاتھوں میں جانے سے محفوظ رہ گئی۔
لیکن آج بھی پاکستان بھر میں معیاری و غیر معیاری اسلحہ یہاں بن کر سپلائی کیا جاتا ہے۔


ایک ایسا چوک ،جہاں سے درہ بازار اور کوہاٹ ٹنل کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔ کوہاٹ ٹنل کے بننے سے پہلے انڈس ہائی وے درہ بازار کے درمیان سے ہو کر گذرتی تھی،جس کے سبب درہ بازار کی رونقیں بھی بحال تھیں۔لیکن کوہاٹ ٹنل کیلئے الگ بائی پاس اور درہ آدم خیل میں پے در پے آپریشنوں نے اس بازار کی رونقیں ماند کردی۔

لو جی کوہاٹ ٹنل کا بائی پاس شروع ہوا چاہتا ہے۔بائی پاس کے کنارے ایک بورڈ ،جس پر پشتو میں خوش آمدیدی پیغام لکھا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر وقت آسکتے ہو،ہم مہمان نوازی کیلئے تیار ہیں

کوہاٹ ٹنل کے پائی پاس کے شروع میں ایک برساتی نالے پر بنا پُل۔لیکن جہاں پورا ملک عسکری اداروں اور عسکری گروپوںکے درمیان جاری کشمکش سے متاثر ہے،وہاں یہ پُل بھی انکے تختہ مشق بننے سے محفوظ نہ رہ سکا۔کئی بار اسکو تباہ کیا گیا،اور پھر بنایا گیا ،پھر تباہ کیا گیا،پھر بنایا گیا،غرض کئی سالوں تک چوہے بلی کا یہ کھیل جاری رہا۔ ابھی شکر ہے کہ چند مہینوں سے یہ صحیح سالم ہے۔

درہ آدم خیل کے پہاڑ اہل علاقے کیلئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی ثابت ہوئے۔کیونکہ ابھی دو تین سال قبل یہاں کوئلے کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے۔جس کو اہل علاقہ نے اپنے کنٹرول میں لے کر خوب مال بنایا ۔لیکن پھر عسکری اداروں نے اس علاقے سے کوئلہ نکالنے پر پابندی لگائی۔
درہ آدم خیل کے ایک رہائشی کے بقول،ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ادارے ہم سے کیا چاہتے ہیں۔لیکن یہ بات طے ہے  کہ اس پر خوب لے دے ہوئی۔فی الحال تازہ صورت حال کا علم نہیں ہوسکا کہ کس طرف کا پلہ بھاری ہوگیا۔

چونکہ بائی پاس پہاڑوں کے کنارے کاٹ کر بنایا گیا ہے،اسلئے درہ آدم خیل کی آبادی سے یہ کافی اونچھا بنا ہے۔آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔



درہ آدم خیل کے پہاڑوں کو چیرتا ہوا انڈس ہائی وے
کوہاٹ ٹنل سے پہلے آرمی چیک پوسٹ۔یاد رہے اگر آپ پہلی مرتبہ اس روٹ پر جا رہے ہیں،تو علاقے کی سنگینیکے سبب  چیک پوسٹوں پر کافی محتاط رہیں،بصورت دیگر آپ کو شوٹ کیا جا سکتا ہے۔

کوہاٹ ٹنل کے شمالی سرے کا ایک منظر۔چونکہ یہ ٹنل پاکستان اور جاپان کے مشترکہ تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے،اسلئے اسکو فرینڈ شپ ٹنل بھی کہا جاتا ہے۔

ٹنل کا اندرونی منظر


ٹنل کے جنوب کی طرف کا ایک نظارہ

کوہاٹ ٹنل سے جیسے ہی جنوب کی طرف جائیں،تو ٹنل ٹول پلازہ نظر آجاتاہے۔



یہ جو اس ویڈیو میں گاڑیوں کی قطار نظر ارہی ہے ،تو یہ تمام گاڑیاں سیکورٹی چیک پوسٹ پر اپنے باری کیلئے کھڑی ہیں۔دراصل یہ گاڑیاں جنوبی اضلاع سے آنے والی گاڑیاں ہیں۔ ٹنل کے شمال و جنوب دونوں کی طرف سخت سیکورٹی چیکنگ ہوتی ہے،تاکہ ٹنل میں کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔



کوہاٹ کے ساتھ متصل ضلع کرک کا علاقہ ہے۔اور انڈس ہائی وے پر کرک کا سب سے پہلا جو بازار آتا ہے تو وہ لاچی بازار ہے۔



ضلع کرک کے خشک لیکن قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے
یاد رہے کہ انہی خشک علاقوں میں قدرتی گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔جن پر بڑے بڑے پلانٹ تعمیر کئے گئے ہیں۔
لیکن کیا کیجئے حکومت کی روایتی ہٹ دھرمی کا ،کہ ابھی تک کرک کے رہائشی گیس رائلٹی سے محروم ہیں۔جس کے سبب آے روز کبھی تو ان گیس پلانٹوں پر حملے کئے جاتے ہیں ،اور کبھی احتجاجی مظاہرین سڑک بلاک کردیتے ہیں۔





کرک میں دریافت شدہ قدرتی گیس سے لوگ مستفید ہوتے ہوئے
چونکہ اس علاقے میں چند ہی سی این جی سٹیشن بنے ہیں،اسلئے ڈی آئی خان تک کی گاڑیوں کا بوجھ ان سٹیشنز پر ہوتا ہے۔جس کے سبب یہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں۔


انڈس ہائی وے ایک ایسی شاہراہ ہے ،جس نے ملک کے کئی دوردراز حصوں کو آپس میں مربوط رکھا ہے،اسلئے اس ہائی وئے پر بڑی گاڑیاں بھی دوڑتی نظر اتی ہیں۔


ضلع کرک کے جنوب کی طرف آخری حدود میں ایک مشہور ہوٹل واقع ہے ،جس کا اصل نام تو من وسلویٰ ہوٹل ہے،لیکن چونکہ یہاں بیری کے درخت موجود ہیں،اسلئے عرف عام میں اسکو بیری کا ہوٹل کہا جاتا ہے۔



اگر آپکی گاڑی مین ایندھن کم ہے،تو گھبرائے نہیں،یہاں کثرت سے ایسے ڈیزل-پٹرول پمپ موجود ہیں۔


اچھا جی تو بنوں اور انڈس ہائی وے کو باہم مربوط کرنے والی سڑک یعنی لنک روڈ پر پہنچ گئے۔چونکہ ہماری منزل بنوں ہے ،اسلئے یہاں سے ہم انڈس ہائی وے کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔



بنوں میں داخل ہونے سے پہلے بنوں ٹاؤن شپ آتا ہے،اور اس ٹاؤن شپ کے بالکل سامنے اکرم درانی کالج واقع ہے۔اور یہی پر وہ مشہور بنوں جیل واقع ہے،جس پر تحریک طالبان نے حملہ کرکے عدنان رشید سمیت اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو رہا کروایا تھا۔

بنوں جیل کی چاردیواریبنوں جیل کا مین گیٹبنوں میں داخل ہونے سے پہلے دریاے کرم پار کرنا پڑتا ہے۔



بنوں کے قدیم شھر کے شروع میں باب دُرانی


ہم چونکہ آپریشن ضرب عضب سے متاثرہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے سلسلے میں بنوں آئے تھے،اسلئے وہ ایک الگ بلاگ پوسٹ کا متقاضی ہے،جو کہ عنقریب منظر عام پر لایا جائے گا۔
۔اس سلسلے میں ہم نے بنوں میں باقاعدہ چند دن گذارے ،اور ان دنوں میں بعض اہم شخصیات اور فلاحی اداروں کے سربراہوں سے تفصیلی ملاقاتیں کی۔یہ ملاقاتیں خالصتا  نجی حیثیت سے کی گئی۔

بنوں بس آڈے کے قریب سڑک کا ایک منظر

بنوں کے مشہور سوغات میں سے ایک بنوں کا سوہن حلوہ



بنوں سے واپسی پر ہم نے انڈس ہائی وے پر سفر کے بجائے بنوں کوہاٹ کے پرانے روڈ کو ترجیح دی،جس کی حالت بھی کچھ بری نہیں ہے۔
یہ سڑک بھی ضلع کرک میں سے ہو کر گذرتی ہے۔ اور یہاں سڑک کنارے گیس پلانٹ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔چونکہ شام کا وقت تھا،اسلئے پلانٹ میں ہر طرف روشنیاں جل رہی تھی۔



کوہاٹ پہنچ کر ایک سی این جی سٹیشن پر رُک گئے۔وہاں جب میں پانی پینے کیلئے گاڑی سے اترا تو ٹھنڈے پانی کا ایک عجیب سسٹم نظر آیا۔
عربی مقولہ ہے کہ   لیس الخبر کالمعائنہ
یعنی خبر میں وہ منظر بیان نہیں کیا جا سکتا،تو دیکھنے میں نظر آجاتا ہے۔ اسلئے میں بھیخبر کے بجائے آپ لوگوں کو اس سسٹم کا معائنہ ہی کروا دیتا ہوں۔




کچھ سمجھ میں آیا کہ نہیں!!!

پانی کی پلاسٹک کی ٹینک میں سپلیٹ اے سی کا ایسا سسٹم کیا جیا ہے کہ جس کے سبب پانی ٹھنڈا رہے۔گویا برف سے جان چھوٹ گئی۔

لیجئے ٹنل تک پہنچ گئے۔اور ٹنل کے بعد پھر درہ آدم خیل اور پھر پشاور ۔

کوہاٹ ٹنل کا جنوب کی طرف سے

دیوانے کا گریبان

ایک دھماکے کی آواز سُنائی دیتی ہے،اور ٹیلیفون کے تاروں کا کیبن اُڑ جاتا ہے۔علاقہ کے تحصیلدار  کی گاڑی گاؤں آجاتی ہے ۔گاؤں کے ملک کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ملک صاحب نکلتا ہے ،تو سرکاری   پیغام رساں  سامنے کھڑا ہے۔مجھے تحصیلدار صاحب نے بھیجا ہے اور آپ کیلئے ایک پیغام ہے۔کیا پیغام ہے بھئی!!!ٹیلیفون کیبنپیغام یہ ہے کہ کل آپ نے اور اس گاؤں کے تمام رؤساء نے تحصیلدار کے دفتر میں جمع ہونا ہے۔وہ آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔یہ کہہ کر سرکاری ہرکارہ چلا جاتا ہے اور ملک صاحب گاوں کے دوسرے رؤساء کو بلا کر تحصیلدار کا پیغام پہنچادے دیتے ہیں۔
کل جب سب رؤساء تحصیلدار کے دفتر میں جمع ہوتے ہیں تو صاحب ایک تیز نظر ان لوگوں پر ڈال دیتا ہے اور پھر انکو بیٹھنے کا کہا جاتا ہے۔جب سب بیٹھ جاتے ہیں تو تحصیلدار صاحب بول پڑتے ہیں ۔۔۔کل آپکے گاؤں کے حدود میں ایک سرکاری ملکیت یعنی ٹیلیفون کے تاروں والے کیبن کو کسی شرپسند نے بم دھماکے سے اُڑا یا ہے۔اور 40 ایف سی آر اور علاقائی قانون کے تحت ان املاک کی حفاظت کی ذمہ داری آپ گاؤں والوں کے ذمے ہے۔
لیکن گاؤں والے چونکہ اس سرکاری ملکیت کی حفاظت سےغفلت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔اسلئے آپکے گاؤں  پر حکومت کی طرف سے 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔اور اس جرمانے کی ادائیگی کی مدت صرف ایک ہفتہ ہے ،ورنہ قانون درشتی کے ساتھ آپ لوگوں کے خلاف حرکت میں آئے گا۔
بیچارے ملک صاحب اور گاؤں کے دوسرے رؤساء سہمے سہمے دفتر سے باہر نکل کر آپس میں چہ میگویاں کرتے ہوئے  اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔عصر کا وقت جب ہوجاتا ہے تو گاؤں کا ملک صاحب اعلان کردیتا ہے کہ حکومت نے ہمیں بُلایا تھا ،اور  کل کے کیبن کی حفاظت سے غفلت برتنے پر ہم پر 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے ،اور ساتھ ہی ادائیگی کیلئے ایک ہفتے کا ڈیڈ لائن دیا گیا ہے۔
بات گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے،اور ہر محفل اور ہر بیٹھک میں اسی موضوع پر بحث مباحثے شروع ہوجاتے ہیں۔اسی اثناء میں لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ  دو لڑکے اور ایک بوڑھی عورت  ملک صاحب کے گھر کی طرف  قدم بڑھا رہے ہیں۔بوڑھی عورت عمر کی اکثر بہاریں گذر جانے پر  ایک خزاں کی ماری ہوئی شجر کا منظر پیش کر رہی ہے،اسلئے وہ آہستہ آہستہ لاٹھی ٹیک کر جا رہی ہے۔
یہ لوگ جب ملک صاحب کے ہاں پہنچ جاتے ہیں ۔دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو ملک صاحب اندر سے نکل آتے ہیں۔ان لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ملک صاحب انکو بھی تحصیلدار کے دفتر کی روؤداد سنائے۔
جب انکی کواہش پوری کردی جاتی ہے تو ایک لڑکابول پڑتا ہے کہ انکل میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے جو کیبن کو تباہ کرنے آئے تھے۔جی وہ تو ایک مٹی جیسی رنگ کی گاڑی تھی ،اور  جو لوگ  اس گاڑی سے اترے ،وہ ٹیلیفون کے کیبن تک آئے اور پھر چلے گئے ۔ دوسرا بچہ بولا ہاں انکل اس گاڑی میں سے  تین بندے اترے تھے،اور میں نے خود دیکھا تھا۔بوڑھی عورت بھی بول اٹھتی ہے کہ ملک صاحب میں قریبی کھیت میں کام کر رہی تھی تو یہ گاڑی آئی ،بالکل سرکاری گاڑی جیسی ڈبل کیبن  پک اپ،پھر اسمیں سے بندے اترے اور جب گاڑی چلی گئی تو چند منٹ بعد دھماکہ ہوا۔
ملک صاحب کو پہلے تو حیرت کے جھٹکے لگے ،لیکن پھر مسکرائے اور ان لوگوں کو رخصت کردیا۔
دو دن بعد چپڑاسی کمرے میں جا کر بولتا ہے: صاحب وہ گاؤں کے رؤساء آئے ہیں۔تحصیلدار صاحب  حیرت سے: اچھا اتنی جلدی انہوں نے جرمانہ اکھٹا کرلیا۔چلو انکو اندر بھیجو ۔
گاؤں کے ملک صاحب اور دیگر رؤساء جب اندر چلے جاتے ہیں تو  تحصیلدار صاحب بولےہاں ملک صاحب فرمائیےگاؤں کے رؤساء آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور ملک صاحب کو بولنے کیلئے اشارہ کرتے ہیںملک صاحب بول اٹھتا ہے کہ جناب (اشاروں کنائیوں میں مجرم  کی نشاندہی کی جاتی ہے،اور گول مول انداز اختیار کیا جاتا ہے)تحصیلدار صاحب کا ماتا پسینے سے شرابورچلیں ہم نے قوم کی وسیع تر مفاد میں یہ جرمانہ کم کرکے 2 لاکھ کردیا ہے۔ بس اسکے آگے کوئی نہیں سنی جائے گی۔ ملک صاحب بخوشی گاؤں کے فنڈ سے وہ جرمانہ جمع کرادیتے ہیں کہ مبادا پھر 60 لاکھ کی ضد نہ پکڑلے۔
اندر کی بات:ایک (ضروری )کام کیلئے پیسے کی اشد ضرورت تھی،لیکن صاحب پورا نہیں کر پا رہے تھے۔دوسرے طرف یہ طعنہ بھی کہ شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی کے ذمہ دار ہو ،اور معموی سی رقم کیلئے اتنی پریشانی!!!چنانچہ کھیل کھیلا گیااب یہ انکی بدقسمتی کہ مناسب پلاننگ نہ ہونے کے سبب سارا کھیل بگڑ گیا۔
دوستوں یہ کھیل پاکستان میں ہر جگہ کھیلا جاتا ہے بلکہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹورنمنٹیں ہو رہی ہیں۔اور اس مشن میں فوج اور سول ادارے دونوں برابر کی شریک ہیں۔یقین نہیں تو اپنے ہی ملک کے ماضی و حال پر ذرا  نظر دوڑائیں،سب کچھ سامنے آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرانسیسی ٹیکنیشنز کی بس،جس کو کمیشن نہ
ملنے پر بم سے اُڑادیا گیا
اگر ماضی میں پاکستان کیلئے ایٹمی ابدوز بنانے والےفرانسیسی سائنسدانوں کو کراچی میں صرف اسلئے ایک بم دھماکے میں مار دیا جاتا ہے جن کے قتل میں کمیشن کا عمل دخل تھا۔ اس واقعے کو کراچی آفیرزبھی کہا جاتا ہے۔
تو کیا نیول بیس پر حملے یا جون 2014 کے کراچی ائرپورٹ حملے میں اس قسم کے واقعات ممکن نہیں ہیں۔میرے خیال سے تو بالکل ممکن ہے۔اگر ان حادثات کی شفاف شفاف تحقیقات ہوجائیں، تو شائد لرزادینے والے انکشافات ہوجائیں۔صحافتی تنظیموں کی احتجاجی ہڑتالوں میں یہ بات کثرت سے سنی جاتی ہے کہ سلیم شھزاد کو  اسی طرح کے انکشافات کرنے کے جرم میں لاپتہ کرکے قتل کرنے کے بعد پھینک دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائد آپکو یاد ہو کہ افغانستان پاکستان کے طورخم بارڈر پر اکثر تینوں افواج(پاکستانی،افغانی ،نیٹو) کے معلومات کے مشترکہ تبادلے کیلئے مخصوص ٹیمیں  منتخب کی گئی ہیں۔اسی ٹیم میں سے ایک پاکستانی کرنل رات دس بجے پشاور میں اپنے دیرینہ دوست سے ملنے آئے تھے۔دوست نے کرنل صاحب کی میزبانی بھی کی،اسی دوران گپ شپ بھی چلتی رہی۔ باتوں باتوں میں دوست نے کرنل سے پوچھ لیا کہ سر جی کیا فرماتے ہیں  آپکے اندرونی ذرائع موجودہ اپریشنوں کے بارے میں۔اور یہ شمالی وزیرستان  حملوں کا کیا ماجرا ہے!

تو کرنل صاحب نے کہا کہ بعض باتیں اتنی بڑی بڑی ہیں کہ وہ ہمارےہاتھ سے نکل چکی ہیں۔دوست کی طرف سے کہا گیا کہ سرجی کچھ تشریح درکار ہے۔تو کرنل صاحب نے بتایا کہ پاکستان کو مختلف ٹکروں میں بانٹنے کا مکمل پلان بن چکا ہے۔ یہ ٹکڑا یہاں سے یہاں تک ہوگا اور یہ تقسیم یہاں سے یہاں تک۔مزید پوچھا گیا کہ سر جی پھر پاکستانی  (پُر وقار )  فوج کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی۔تو جواب ملا کہ فوج دیکھتی رہ جائے گی،لیکن فوج کا اس تقسیم کو روکنے میں کوئی بس نہیں چلے گا۔وجہ پوچھی گئی تو  کرنل صاحب کی طرف سے صاف جواب دیا گیا کہ  خرچہ بہت زیادہ ہے ،کہیں اور سے پورا کیا جاتا ہے۔اسلئے فوج کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں۔حیران نہیں ہونا،اب تو فیس بک پر بھی ملک کی تقسیم کے  خواہشات  ظاہر کی جارہی ہیں،اور اسمیں جاہل و اعلیٰ تعلیم یافتہ برابر کے شریک ہیں۔
گفتگو مزید بھی چلتی رہی چنانچہ دوران گفتگو یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکہ کہتی ہے کہ حقانی نیٹورک ہر حال میں زندہ اور  ایک حد تک فعال بھی رہنا ضروری ہے۔اور پاکستان پر اس سلسلے میں باقاعدہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ خبردار جو حقانی نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا ،ورنہ تو افغانستان میں ہمارے قیام کیلئے  نیا جواز ڈھونڈنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مئی 2014  میں میرعلی پر کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں گاؤں موسکی  کے شریف اللہ کا پورا خاندان صفحہ ہستی سے ختم کیا گیا،جس میں اخباری اطلاعات کے مطابق شریف اللہ کے ایک بھائی بھی قتل ہوئے،جو کہ شائد دیر سکاوٹس (یا اس جیسی کوئی دوسری سکاوٹس) میں صوبیدار میجر تھے۔یہ صوبیدار میجر صاحب چھٹی لے کر چند دن گھر میں گذارنے کیلئے آئے ہوئے تھے کہ بمباری کا نشانہ بن گئے۔ شریف اللہ موسکیآرمی والے کہتے ہیں کہ اس خاندان کو اسلئے نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے غیر ملکی جنگجوؤں کو پناہ دی تھی۔
سوال یہ ہے کہ جب صوبیدار میجر صاحب ڈیوٹی پر تھے ،تو انکو وہاں کیوں گرفتار نہیں کیا گیا کہ آپ نے کیوں غیر ملکیوں کو پناہ دی ہے۔کیا جیٹ طیاروں سے بم مار کر ہی انصاف کے تقاضے پورے کئے جانے کا آپشن رہ گیا تھا؟
دوسری بات یہ کہ  ان ازبک و تاجک جنگجوؤں کو باقاعدہ حقانی نیٹ ورک کی طرف سے ماہانہ تنخواہیں و فنڈ مہیا کیا جاتا ہے۔کیا پاکستانی حکومت اس  پوزیشن میں ہے کہ وہ حقانی نیت ورک  کو پاکستان سے ختم کردے،تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جون  2014 کے ابتدائی دنوں میں شمالی وزیرستان کے ایک قبائیلی جرگہ کے اراکین  شیر محمد صاحب کی قیادت میں  گورنر خیبر پختون خواہ سردار مہتاب خان عباسی اور موجودہ کور کمانڈر پشاور  سے ملاقات کیلئے  گورنر ہاؤس تشریف لائے۔قبائلی جرگہ کی سرپرستی کرنے والے شیرمحمد صاحب فقیر ایپی مرحوم کے نواسے  ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جرگہ اراکین کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کور کمانڈر کا لہجہ انتہائی  جابرانہ اور متکبرانہ تھا۔جس کو محسوس کرتے ہوئے شمالی وزیرستان ایجنسی کے جرگہ اراکین   نےکچھ کہے بغیر خاموش احتجاج کے طور پر گورنر کی طرف سے اعزازیے  کا بائیکاٹ کیا۔
جرگہ اراکین کو یوں حال سے نکلتا دیکھ کر حکومت کو کچھ احساس ہواچنانچہ فورا حال کے دروازے بند کرائے گئے اور جرگہ اراکین کوحال میں محصور کیا گیا،اور بعد میں انکو چائے  پینے کیلئے راضی کیا گیا۔
اسی سے قبل اسی طرح کے ایک ملاقات میں جب ایک ملک صاحب نے جرنیل کے سامنے آئینہ دکھا یا تھا ،تو انکو فوجی آفسر کی طرف سے جواب یہ دیا گیا کہ باقی عمائدین کے ساتھ آئے ہو، ورنہ تم یہاں سے ایسے نہ جاتے۔
اسی طرح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاء میں ایک  پروگرام میں جرنیل نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں میرے بندے مر رہے ہیں،اور پشتونوں کی روایت ہے کہ وہ اپنے بندے کا بدلہ ضرور لیتا ہے،اس لئے میں شمالی وزیرستان  کے اہلیان سے اپنے بندے کے خون کا حساب ضرور پوچھونگا۔
تو جواب میں مولانا  عبدالرحمٰن وزیر نے اٹھ کر کہا  جرنیل صاحب مجھے بڑا افسوس ہے کہ آپ نے فوجی سپاہی کو تو اپنا بندہ کہا ،جبکہ  میرے  قبائلی کو  دشمن کی جگہ پر رکھا۔حالانکہ میں فوجی سپاہی کو بھی اپنا کہتا ہوں اور ایک قبائلی کو بھی اپنا کہتا ہوں۔
مولانا صاحب  کے بھتیجے کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ہمارے چچا  کو کسی بھی ایسے مجلس میں نہ تو بُلایا جاتا ہے اور اگر بُلایا بھی جائے تو قطعابولنے کا موقع اسکو نہیں دیا جاتا۔

ساری باتوں کا مقصد یہ کہ اندرونی صورت حال کس حد تک بگڑی ہوئی ہے۔سول وفوجی اداروں کا رویہ کس حد تک تبدیل ہوا ہے یا ہو رہا ہے،عوام کو کتنے اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔صرف اپنے ذاتی مفاد کیلئے ملک و ملت کے ساتھ کتنی زیادتی ہو رہی ہے۔
بقول پشتون شاعر:تار تار پروت دے چا راٹول نہ کو سائلہ زما خوگ وطن گریوان دہ لیونی دے
(اے سائل تار تار پڑا ہے،کسی نے اسکو   برابر نہیں کیامیرا پیارا وطن دیوانے کے گریبان جیسا ہے)

فرحت

کل توجیسے ہی میں نے گاڑی کھڑی کرنے کیلئے مین گیٹ کھولا ،تو برامدے میں کھیلتی ہوئی میری ڈھائی سالہ گڑیا (سارہ خان) میرے اچانک آمد سے شائد گھبرا گئی ،اور کمرے کی طرف فل سپیڈ دوڑ لگادی۔
اسکی اس  اچانک دوڑ پر میری ہنسی نکل گئی،لیکن پھر کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے ہی وہ کمرے کے دروازے کے پاس پہنچی ،اور مڑ کر دیکھا تو جیسے ہی اسکی نظر مجھ پر پڑی ،تو بس دوبارہ اسی سپیڈ سے میری طرف دوڑ لگادی،اور ادھر بے اختیار پدرانہ شفقت عروج پر پہنچ کر  میری باہیں اسکے لئے کھلتے گئے،اور ایک دم سے وہ میری گود میں پہنچ گئی۔
اور پھر اسکو کلیجے کے ساتھ لگا کر اٹھا لیا۔تو ایک فرحت و تازگی میرے وجود میں دوڑ گئی۔اسکو گاڑی میں ساتھ بٹھا کر گاڑی پارک کردی۔اور ہم اکھٹے اتر آئے۔
اسی لئے کہتے ہیں کہ بچے جنت کے پھول ہوتے ہیجو اپنے بیٹیوں کی اچھی طرح پرورش کرے،اور انکی اچھی تربیت کرے ،اسکے لئے ہی تو جنت کے وعدے ہی

سارہ خان 4 سم والے موبائل کو لیکر اپنے باباجان کے قریب کھیل رہی ہے۔

اسلحہ لائسنس کیسے بنائیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمگزشتہ دنوں دل میں خیال آیا کہ اکثر لوگ حالات کی سنگینی کے سبب غیر قانونی اسلحہ ساتھ لے کر پھرتے ہیں۔ جب اُن سے لائسنس کا پوچھا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ لائسنس طریقہ کار کافی پیچیدہ اور لمبا ہے ،اسلئے ہم لائسنس کے حصول کیلئے کوشش ہی نہیں کرتے۔بعض دوسرے لائسنس حصول کے طریقہ کار سے ناواقفیت کی بناء پر لائسنس حاصل نہیں کرپاتے۔
بعض لوگ ایجنٹوں کے شکنجوں میں پھنس جاتے ہیں ،اور  دوگنی قیمتوں پر اسلحہ لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ پھر یہ مسئلہ الگ ہوتا ہے کہ ایجنٹ کا بنایا ہوا لائسنس اصلی بھی ہے کہ نہیں۔چنانچہ میں نے مناسب جانا کہ کیوں نا اسلحہ لائسنس  حصول کے طریقہ کار کو سامنے لایا جائے ،تاکہ اس مہنگائی کے دور میں بندہ بے جا مصارف اور ایجنٹوں کے ہتھ کنڈوں سے بچ سکے۔اگر آپ  اسلحہ لائسنس بنوانا چاہتے ہیں تو  آپکو اپنے علاقے کے ڈپٹی کمشنر آفس  میں لائسنس برانچ سے  یا کسی اسلحہ ڈیلر سے لائسنس فارم لے کر پُر کرنا ہوگا۔آپکےشناختی کارڈکی ایک فوٹو کاپی، تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر اور 150 روپے کا سٹامپ پیپر بھی لائسنس فارم کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔ سٹامت پیپر عام طور پر یا تو وکلاء کچہری میں ملتے ہیں، یا قریبی آس پاس کے علاقوں میں جو وکلاء نے دفاتر کھولے ہوتے ہیں،وہاں سے بھی آپکو سٹامپ پیپر  مل جائے گے۔سٹامپ پیپر  خریدتے وقت وکیل صاحب  سے کہیں کہ میں نے یہ سٹامپ پیپر اسلحہ لائسنس کے حصول کیلئے لکھوانا ہے ،وہ آپکو اسلحہ لائسنس کیلئے درخواست بنام ڈی سی او لکھ دئے گا ،اور ساتھ میں اپنی مہر لگا کر اسکی تصدیق بھی کرلے گا۔
بعض ڈی سی اوز  اپنے متعلقہ اضلاع کے علاوہ  دوسرے اضلاع والوں کیلئے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کرتے ،تو اس صورت میں یا تو آپکو اپنے مستقل پتے والے ضلع میں لائسنس  بنوانا ہوگا، بصورت دیگر ڈپٹی کمشنر سے مل کر اسکو  مطمئن کرنا ہوگا کہ میں کیوں اور کن وجوہات کے بناء پر اپنے آبائی ضلع نہیں جا سکتا کہ وہاں سے لائسنس بنوا سکوں۔مثلا اگر ایک بندہ کسی ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہے ، کہ جہاں اسکا جانا خطرے سے خالی نہ ہو ، تو ڈی سی او سے مل کر اسکو قائل کیا جاسکتا ہے ، کہ میری جان کو خطرہ ہونے کے سبب میں اپنے آبائی ضلع نہیں جا سکتا، اسلئے میرے عارضی پتے پر میرا لائسنس جاری کیا جائے۔قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد  اپنے  ) (Assistant Political Agent  کے دفتر اسلحہ لائسنس کے حصول کیلئے فارم جمع کروائیں گے۔جس کا مزید طریقہ کار وہاں سے ہی معلوم کیا جا سکتاہے۔
فارم پُر کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ پولیس  ویریفیکیشن کا ہوتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آپکا لائسنس فارم ڈپٹی کمشنر آفس سے  سی سی پی او(چیف کیپیٹل پولیس آفسر) آفس چلا جاتا ہے ،اور وہاں سے متعلقہ علاقے کے ڈی ایس پی کے پاس چلا جاتا ہے اور وہاں سے متعلقہ تھانےکے انچارج کے پاس بھیج دیا جاتا ہے ۔ تھانے  سے یہ رپورٹ دئے دیا جاتا ہے کہ درخواست دہندہ کسی طور پر دہشت گردی یا دوسرے جرائم میں ملوث نہیں ہے۔اسکے بعد پھر یہ لائسنس فارم ڈی اس پی کے پاس اور پھر سی سی پی او کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔اور وہاں سے پھر ڈپٹی کمشنر آفس بھیج دیا جاتا ہے۔
بقول لائسنس برانچ کے ایک کلرک، جو فارم  سی سی پی او آفس چلاجاتا ہے تو اسکی واپسی نا ممکن ہوتی ہے ،کہ وہ لائسنس فارم  اُدھر ہی فائلوں میں دب جاتا ہے ،اسلئے اگر آپ سرکاری ملازم نہیں ہیں تو  بہتر یہ ہوگا کہ آپ کچھ وقت نکال کر خود ہی یہ مرحلہ سر کرلیں،یا پھر کسی ایجنٹ کی خدمات حاصل کرلیں۔جو کہ 4 یا 5 ہزار میں آپکو تیار لائسنس حوالہ کردے گا۔
اور اگر آپ سرکاری ملازم ہیں ،تو پولیس ویریفکیشن کی ضرورت نہیں ،بلکہ صرف  اپنے محکمے سے ایک کورننگ لیٹر لائیے،کہ جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ فلاں اس محکمے میں فلاں پوسٹ پر کام کر رہا ہے ۔اور اپنے متعلقہ آفسر سے  کورننگ لیٹر پر دستخط کرایئے ۔اس کے ساتھ اپنے ماہانہ تنخواہ کی پے بل  کی ایک کاپی بھی لادیجئے۔یہ دونوں  کاغذات اپنے لائسنس فارم کے ساتھ منسلک کیجئے ۔اور لائسنس برانچ میں متعلقہ کلرک کےپاس جمع کیجئے۔
لائسنس برانچ کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب انکے پاس 50 -100 درخواستیں جمع ہوجاتی ہیں، تو پھر اسکی ایک لسٹ بنا دیتے ہیں،اور پھر وہ لسٹ ڈپٹی کمشنر کو بھیج دیتے ہیں، جو ان لسٹوں پر دستخط کرکے ان درخواستوں کو منظور کرلیتا ہے۔
یہ عموما  دو قسم کی لسٹیں ہوتی ہیں۔ ایک سرکاری درخواستوں والا لسٹ اور دوسرا غیر سرکاری درخواستوں والا۔چنانچہ جس کیٹیگری کے تحت آپ نے لائسنس فارم جمع کرایا ہوگا ،اسی لسٹ میں آپکا نام لکھا ہوا ہوگا۔
جب یہ دونوں قسم کی لسٹیں ڈی سی او منظور کرلے، تو اگر آپ نے پرائیوٹ لائسنس فارم جمع کرا یا تھا ، اور لسٹ میں آپکا نام بھی آچکا ہے ،  تو  اب آپ نیشنل بینک  کے کسی بھی برانچ میں چلے جائیں اور وہاں لائسنس فارم کیلئے مخصوص فارم حاصل کیجئے ،اس فارم کو پُر کرکے  1500 روپے  بینک میں جمع کرالیں۔
بینک آپکو ایک رسید حوالہ کردے گا۔ اس رسید کو لا کر لائسنس برانچ واپس آجائیں اور متعلقہ کلرک کو رسید حوالہ کردیں ۔ کلرک آپکے لائسنس فارم کے ساتھ وہ رسید بھی منسلک کردئے گا
اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو لائسنس برانچ سے معلوم کیجئے کہ کیا آپکے محکمہ کیلئے اسلحہ لائسنس فری میں بنتا ہے کہ نہیں۔دراصل بعض سرکاری محکموں کو لائسنس فیس سے استثناء حاصل ہے اور بعض سرکاری محکموں کو لائسنس بناتے وقت فیس جمع کرانے کی استثناء حاصل نہیں ہوتی۔اگر آپ کا محکمہ لائسنس فیس سے مستثنیٰ ہے تو بینک جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپکو اسلحہ لائسنس فری میں مہیا کیا جائے گا۔اور اگر آپکا محکمہ لائسنس فیس سے مستثنیٰ نہیں ہے تو آپ کو نیشنل بینک کے کسی برانچ میں 1500 روپے لائسنس فیس جمع کرانا ہوگا۔اور پھر جو رسید بینک آپکو دئے گا، اس رسید کو لا کر لائسنس برانچ واپس آجائیں اور متعلقہ کلرک کو رسید حوالہ کردیں ۔ کلرک آپکے لائسنس فارم کے ساتھ وہ رسید بھی منسلک کردئے گا
آپ کی کاغذی کاروائی تقریبا مکمل ہوچکی ہے۔کلرک آپ سے دو سو روپے کاپی فیس جمع کرادئے گا اور اسکی رسید کاٹ کر آپکے حوالے کردے گا۔ آپکو   مخصوص دن یا وقت بتا دئے گا ،جس دن آپ کو لائسنس کاپی مل جائے گی۔عموما یہ ایک سے دون دن تک کا وقت دیتے ہیں۔
چنانچہ اس دن جب آپ لائسنس برانچ تشریف لے جائیں تو آپکو لائسنس کاپی حوالہ کردی جائے گی۔اب مرحلہ آتا ہے لائسنس پر اسلحہ درج کرنے کا ،تو اس بارے میں آپ نے یہ کرنا ہے کہ آپ نے اگر اسلحہ نہیں خریدا ہے ،تو آپ کسی اسلحہ ڈیلر کے پاس جائیں اور وہاں سے اسلحہ  خریدیں۔اسلحہ خریدنے کی جو رسید آپکو ملے ،تو اسی رسید کو واپس لائسنس برانچ لے آئیں ،لائسنس برانچ کا کلرک آپکا خریدا ہوا اسلحہ آپکے لائسنس میں درج کردئے گا،اور اسپر اپنی مہر لگا دئے گا۔
اور اگر آپ نے اسلحہ پہلے سے خریدا ہے تو اسکے لئے نمبر کسی اسلحہ ڈیلر سے وصول کرلیں ،اور پھر لائسنس برانچ چلے جائیں تاکہ آپکے اسلحے کا اندراج آپکے لائسنس پو ہو سکے۔

اب آپکا اسلحہ نمبر  لائسنس کاپی پر درج کردیاگیا ہے۔آپ اسکو قانون کے مطابق اپنی حفاظت کیلئے پھرا سکتے ہیں۔ 

ان ائر ہینگ آوٹ کیسے کریں

اکثر احباب کو گوگل کی ایک سروس ہینگ آؤٹ کا علم تو ہوگا،لیکن میرے علم کے مطابق بہت سے لوگوں کو ان ائر ہینگ آؤٹ  کے طریقہ کار کا علم نہیں ہوگا۔ ان ائر ہینگ آؤٹ سے مراد ایسا ہینگ آؤٹ کہ جو یوٹیوب پر براہ راست سنی یا دیکھی اور محفوظ کی جاسکے،تاکہ بعد میں آنے والے حضرات بھی اسکو سن سکیں یا دیکھ سکیں۔
چنانچہ اس مضمون میں کوشش کی جاتی ہے کہ تصاویر کی مدد سے  ان ائیر گوگل ہینگ آوٹ کا طریقہ کار بتایا جائے۔
سب سے پہلے گوگل پلس میں سائن ان ہوجائیں۔ آپکے سامنے مرکزی  صفحہ کھل جائے گا۔اس صفحے پر آپ بائیں جانب اگر دیکھیں تو سب سے اوپر انگریزی میں +Google لکھا ہوگا۔ اوراسی کے نیچھے Home لکھا ہوگا۔ Home والے بٹن پر کلک کریں تو ایک فہرست نیچھے کی طرف کھل جائے گی۔
اس فہرست میں لکھا ہوا ہے Hangouts، اس پر کلک کرنا ہے۔


Hangouts پر کلک کرنے کے بعد ایک صفحہ کھل جائے گا ،جس پر مختلف قسم کی ان ائر ہینگ آوٹس آپکو نظر آرہی ہونگی۔ اس صفحے پر دائیں طرف آپکو ایک آپشن نظر آئے گا،جسکو ذیل کی تصویر میں تیر کے نشان سے واضح کیا گیا ہے


Schedule a Hangout on Air پر کلک کرنے کے بعد ایک چھوٹی ونڈو کھل جائے گی،جہاں پہلے خانے میں آپ ہینگ آوٹ کا عنوان  لکھیں گے،اگر دوسرے خانے میں تفصیل لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں ،لیکن ضروری نہیں۔اسکے بعد اگر آپ ہینگ آؤٹ ابھی کرنا چاہتے ہیں توStarts میں Now  منتخب کرلیں۔ اورجن حضرت کو انفرادی طور پر یا کسی مخصوص دائرے کے شرکاء کو مطلع کرنا چاہتے ہیں،تو Audience میں انکا انتخاب کریں۔ اور آخر میں share پر کلک کردیں۔

اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہینگ آؤٹ کا بندوبست یا انعقاد تو ابھی سے کیا جائے ،لیکن  کسی خاص موقع پر اسکو باقاعدہ شروع کیا جائے تو ہینگ آؤٹ کی باقی ترتیب پہلے کی طرح ہے ،صرف Starts میں Later منتخب کریں اور پھر تاریخ اور وقت کا انتخاب کریں۔ وقت کے انتخاب میں آپ اپنے ملک کا وقت منتخب کریں،تاکہ بعد میں غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اور پھر share پر کلک کریں۔
وقت کے انتخاب کے بعد جن لوگوں کو آپ اس ہینگ آؤٹ کے باے میں مطلع کرنا چاہتے ہیں،چاہئے وہ انفرادی ہو یا کسی مخصوص دائرے کے شرکاء ہوں،انکے نام Audience میں لکھ دیں۔ اور شئیر پر کلک کردیں

اسکے بعد ایک دوسرا صفحہ کھل جائے گا،جہاں آپکے ہینگ آؤٹ کی پوری تفصیل دی گئی ہوگی۔اس صفحے پر اوپر بائیں جانب ایک آپکے ہینگ آؤٹ کا عنوان لکھا ہوگا،اور ساتھ میں نیچھے Start لکھا ہوگا۔سٹارٹ پر کلک کرنے کے ساتھ ہی ہینگ آؤٹ ونڈو کھل جائے گی۔
یہ رہی آپکی ہینگ آؤٹ والی ونڈو،لیکن ٹہرئے ابھی ایک دوسرا مرحلہ باقی ہے ہینگ اؤٹ میں پہنچنے کیلئے،اور وہ مرحلہ ہے خود دو مراحل پر مشتمل ہےایک مہمانوں کو مدعو کرنادوسرا کیا اپ کا ہینگ آؤٹ میں کوئی ایسی بحث تو نہیں چل رہی  کہ 18 سال سے کم عمر افراد کیلئے اسمیں شرکت ممنوع ہو،اگر ہاں تو اس خانے کو بھی منتخب کریں۔

اگر آپکا ہینگ آؤٹ 18 سال سے کم عمر والوں کیلئے ممنوع نہیں،نیز آپ مہمانوں کو یہاں سے مدعو کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو Skip پر کلک کرکے اگے بڑھ جائیں 
اب آپکے سامنے ہینگ آؤٹ کی ونڈو اس شکل میں آجائے گی۔
جیسے ہی ہینگ آؤٹ کی ونڈو کھل جائے تو نشان شدہ دائرہ اپنی تکمیل کی طرف بڑھتا جائے گا،اور آپکو اسی تکمیل کا انتظار کرنا ہوگا۔ابھی تک آپکا ہینگ آؤٹ براہ راست نشر نہیں ہورہا ہے۔اور آپکو بتایا بھی جا رہا ہے کہ ہینگ آؤٹ آف ائر ہے۔جیسے ہی یہ دائرہ 100 فیصد مکمل ہوجائے تو ایک بٹن نمودار ہوجائے گا۔
جب آپ Start broadcast  پر کلک کریں گے تو آپکا ہینگ آؤٹ یوٹیوب پر نشر ہونا شروع ہوجائے گا۔ونڈو کا منظر کچھ یوں ہوجائے گا۔

آپکو بتایا جا رہا ہے کہ آپکا ہینگ آؤٹ براہ راست یوٹیوب لنک پر نشر ہو رہا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہینگ آؤٹ کی براہ راست نشریات بند کی جائیں تو Stop broadcast  پر کلک کریں۔آپکی ہینگ آؤٹ کی براہ راست نشریات بند ہوجائیں گی۔
اگر اپ چاہتے ہیں کہ آپکے ہینگ آؤٹ کا لنک بھی آپکو میسر ہوجائے تو ہینگ آؤٹ کے دائیں نیچھے کی طرف لنکس پر کلک کیجئے ،آپکو ہینگ آؤٹ کا لنک بھی مل جائے گا ،اور اگر اپ چاہتے ہیں کہ ہینگ آؤٹ کی ویڈیو کو اپنے مضمون میں یا کسی  دوسری جگہ شامل(Embed) کریں تو اسکا کوڈ بھی مل جائے گا۔   ہینگ آؤٹ کے باقی آپشن عام ہینگ آؤٹس کی طرح ہے۔اسمیں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہے۔

مصلحت ٹھیک،لیکن لوگ بڑھ گئے

گذشتہ دنوں جب میں نے سانحہ میرعلی کے عنوان سے ایک ایسے پروگرام کے احوال لکھے،جس میں شمالی وزیرستان ایجنسی میں ہونے والے فوجی کاروائی کے متاثرین نے اپنی تاثرات و مشکلات کو بیان کیا تھا، تو کافی لوگوں نے اسکو سراہا ،اور اسکو پڑھا ،یہاں تک کہ میرے بلاگ وزٹرز میں ہزار کا ہندسہ دو بار تبدیل ہوگیا ،اور اس نئے بلاگ کے زائرین 5 ہزار سے بڑھ کر 7 ہزار تک پہنچ گئے۔
مختلف لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا،کوئی ڈر گیا، کوئی حیرت زدہ رہ گیا، کسی کے آنکھوں پر پڑے پردے ہٹ گئے، کوئی اسکو بھی پروپیگنڈا کہہ کر آگے بڑھ گیا،کسی کو بے زبانوں پر ظلم نے افسردہ کردیا،کسی کو املاک کی تباہی نے غمزدہ کردیا، کوئی خاموش تماشائی بن کر چلا گیا ،کسی سے عوام کا معاشی قتل نہ دیکھا گیا اور کسی نے میرے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے دعاء دی۔
چونکہ ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے ،اپنی اپنی پسند ہوتی ہے ،اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے ،اسلئے بحیثیت ایک بلاگر میں ہر اس بندے کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے میری تحریر کو پڑھنے کیلئے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ نکالا۔
لیکن اسکے ساتھ ساتھ  مجھے ایک ایسی بات یاد آگئی ،جو کہ نامعلوم آج سے کتنے سال پہلے سُنی تھی۔جس کی ایک جھلک مجھے آج محسوس ہوئی،تو وہ بات ذہن میں دوبارہ تازہ ہوگئی ۔
کہتے ہیں کہ ہر چیز کے فائدے اور نقصان دونوں رُخ ہوتے ہیں۔لیکن اگر ایک مقررہ حد سے بڑھ جائے تو پھر نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
سیانےکہتے ہیں کہ مصلحت ایک بہت ہی کارآمد اور مفید چیز ہے ،اسی کے سبب بعض اوقات بڑے بڑے کام لمحوں میں ہوجاتے ہیں،لیکن یہی مصلحت اگر ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر اسکا نام مصلحت نہیں بلکہ (ڈر) رکھ دیا جاتا ہے۔اور جب ڈر کا عنصر انسان کے ذہن میں سرائیت کرنے لگتا ہے، تو پھر اس بندے کی ذہنی صلاحیتوں کو زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔
یہی حالت ہمارے عمومی احباب کی بھی ہے، میں نے جب سانحہ میرعلی پر لکھا، تو اکثر وبیشتر انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ بندہ کیا لکھ گیا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میں بہت پیچھے ہوں، لوگ بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔اس موضوع پر باقاعدہ اخبارات میں بیانات دئے گئے ،لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ پریس کانفرنسیں ہوئی ،یہاں تک کہ سیاسی پارٹیاں اپنی دکانیں چمکانے کیلئے فون کرنے لگے۔
مجھے گذشتہ دن کے  پروگرام میں ایک بندے نے کہا کہ وہ ممبران قومی اسمبلی ،جن کو ہم فون ملا کرتھک گئے تھے،آج وہ بھی ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔لوگ دعوت نامے پر دعوت نامے دئے رہے ہیں کہ ہمارے احتجاجی کانفرنسوں میں شرکت کی جائے۔
صرف سوشل میڈیا کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو فیس بک میں لوگ کیا کیا نہیں لکھ رہے،اسکی ایک جھلک خود ہی دیکھ لیجئے



















درجہ بالا تصاویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح میرعلی کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جارہی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ درجہ بالا تصاویر کی باتیں غلط ہیں یا درست۔ صرف میرعلی کے ظلم کے خلاف عوامی ردعمل کی ایک جھلک دِکھانا چاہ رہا تھا۔
اسکے بعد آتا ہوں اسی فیس بک سے ماخوذ بین الاقوامی میڈیا کی میرعلی کے حوالے سے رپورٹنگ۔تو لیجئے پہلے نمبر پر وائیس آف امریکہ ڈیوہ ریڈیو/ٹی وی
لیکن ٹھرئیے ! ٹی وی کی رپورٹنگ تو حصول روزگار کا ذریعہ ہوگا،پہلے خود وائیس آف امریکہ کے پشتو نمائندے عدنان بھٹنی کی تصویری البم کی ایک جھلک کیلئے یہاں کلک کیجئے،اور پھر نیکسٹ نیکسٹ دباتے جائیں،اور افسوس کرتے جائیں
اس فیس بکی ویڈیو میں ہیلی کاپٹر میرعلی تحصیل میں شیلینگ کرتا ہوا سنا جا سکتا ہے۔کسی نے تو اسکو نشر کرنے کی جراءت دکھائی ہے۔


اور یہ رہاوائس آف امریکہ کے ڈیوہ ٹی وی کی ویڈیو رپورٹ
وائیس آف امریکہ کی ایک دوسری آڈیو رپورٹ میں انسانی حقوق کے نمائندے سانحہ میرعلی پر افسوس اور غمزدگی کا اظہار کرتے ہوئے
اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں قبائلی طلباء کی طرف سے کیے گئے ایک احتجاجی مظاہرے کی فیس بکی ویڈیو   یہاں پر فیس بک کا باب ختم کرتا ہوں ۔
 اسکے بعد نمبر آتا ہے سوشل میڈیا کے معروف و مشہور سروس ٹوئیٹر کا،تو جناب اسمیں تو صرف ہیش ٹیگ میرعلی Mirali  ہی کافی ہے۔کیجئے ایک نظر کرم اس پر بھیاسی طرح سیاست ڈاٹ پی کےپر میری نقل کی گئی تحریر پر پندرہ کے قریب لوگوں نے کس قدر کھلے انداز میں تبصرے کئے،وہ آپ لنک پر کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ رہ گیا عام میڈیا تو اس پر بھی چند لوگوں نے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اور بعض چینلز یا اخباروں نے تو خود بھی رپورٹنگ کی ہے۔ملاحظہ کیجئےخیبر نیوز کی ایک ویڈیو رپورٹGomal University students demands end to NW operation: Report by Naseer Azam http://www.khybernews.tv/video_detail.php?id=MTQ0#sthash.zmiFqqmq.5P5mb3O4.dpufوال سٹریٹ جرنل کچھ یوں کہتا ہےجنگ نیوز کچھ یوں کہتا ہےاسی طرح ڈان نیوز،اور دوسرے اداروں نے بھی کچھ کچھ اس واقعے کی رپورٹنگ کی۔ AVT Khyber  نے تو باقاعدہ علاقائی خبروں میں ایک متاثرہ شخص کا انتہائی سخت انٹرویو تک نشر کردیا۔ ان تمام باتوں سے غرض یہ ہے کہ احتیاط اچھی چیز ہے ،لیکن اس قدر بھی نہیں کہ ایک ایسے واقعے پر ،کہ جس پر دنیا تو بول رہی ہے، اور ہم دبک کر بیٹھ جائیں۔ میں کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن گذشتہ دن کے پروگرام میں ایک شخص نے باقاعدہ مجھے نام لیکر انتہائی افسردگی اور شکوئے کے انداز میں مخاطب کیا تم لوگوں نے بھی ہماری آواز نہ اُٹھائی۔ ایک بندے نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ کبھی فوج کیلئے بھی اسی انداز میں لکھا ہے؟ تو جناب عرض ہے کہ چڑھتے سورج کے پجاری بہت ہوتے ہیں۔پورا پاکستانی میڈیا ہی آئی ایس پی آر کا ہے،تو کیا وہ اسکے لئے کافی نہیں۔ لوگ باقاعدہ عملی میدان میں اترے ہیں،اور متاثرین میرعلی کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
اس لئے مجھے تو اپنی یہ تحریر متاثرین میرعلی آپریشن کیلئے لوگوں کی اُٹھائی گئی صداؤں میں فقط ایک کمزور سا نعرہ محسوس ہوتا ہے۔

سانحہ میرعلی

سب ریڈی ہوجاؤ اور اپنی اپنی بندوقیں ریڈی کرؤ۔
دوسری گاڑی والے اردگرد پوزیشنیں سنبھال لو۔
تم دونوں اندر  داخل ہوجاؤ،ہم کور  کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی کمرے کی طرف بڑھتی بھاری بوٹوں کی  چھاپ سنائی دیتی ہیں۔
اندر کوئی نہیں، کمرہ خالی ہے۔
اچھا ،دوسرے کمرے کی طرف بڑھو،
سر دروازہ اندر سے بند ہے۔
توڑ دو  اسکو
اوکے سر ،اور اسی کے ساتھ ہی دھڑام سے دروازہ توڑ دیا جاتا ہے۔
سر یہاں بھی کوئی نہیں۔
سرچ کرو  اندر
سر  مل گیا ،ایک کونے میں نیچے تہہ خانے کی سیڑیاں  ہے۔
ایک منٹ ،سب ادھر پوزیشنیں سنبھال لو،
سر کافی اندھیرا ہے،ٹارچ جلا کے دیکھتا ہوں ۔
سر اندر 20-25 کے قریب ہیں۔
اوکے ، تہہ خانے میں مت اترو،ڈینجر ایریا  ہے۔
نکل آو سب ،ایک ایک کرکے
اور پھر ایک ایک کرکے سب کو باہر نکالا جاتا ہے۔

ہاں تم وہی ہو نا جو اتوار کی شام والے واقعے میں ملوث ہو!!!
نہیں جی،ہم تین تو باہر کھڑے ٹرکوں کے ڈرائیور ہیں۔
ہم دس تو مزدوری  کیلئے آئے تھے۔ دوسرے کونے سے آواز آئی

انکے پیچھے کھڑے ہونے والوں میں سے ایک بول پڑا: ہم سبزی منڈی  میں سبزی فروخت کرنے والے ہیں۔
زیادہ بکواس مت کرو۔ تم ہی انکے ساتھی ہو، لائن میں کھڑے ہوجاؤ۔ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں ۔۔۔بے غیرت
اور پھر برسٹ فائر کی آواز  سُنائی دیتی ہے۔
یہ واقعہ ایک قبائلی نوجوان زرین خان نے سُنایا ،جو اس ہوٹل والے کا رشتہ دار ہے ،جس ہوٹل میں یہ واقعہ  پیش آیا تھا،جس میں ہوٹل اور قریب واقع فلور مل کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا ۔
ہوا یوں کہ آج اتوار کا دن تھا ،اسی لئے نماز فجر پڑھ کر میں دوبارہ سو گیا کہ اس دوران موبائل پر پیغام ملا کہ آج دوپہر سے قبل ایک اہم پروگرام  ہے ،جس میں آپ کی شرکت  ضروری ہے۔
چنانچہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی گرم بستر  چھوڑ کر تیاری کرنے لگا۔اور پھر ناشتہ کرکے پروگرام میں شرکت کی غرض سے گھر سے نکلا۔چنانچہ جب مقررہ مقام تک پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دفاع پاکستان کونسل کا نمائندہ بھی موجود ہے۔
علیک سلیک کے بعد اس نے بتایا کہ جناب آج ہمارا اہم اجلاس ہے ،نوشھرہ میں ،آپ  بمع فلاں فلاں اراکین بھی وہاں مدعو ہیں۔
ہم نے دعوت نامہ شکریے کے ساتھ وصول کرکے انکو  رخصت کردیا۔اور پروگرام کا انتظار کرنے لگے۔کچھ دیر کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ چند گاڑیوں میں سوار دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے۔ چنانچہ علیک سلیک کے بعد ان سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ یہ سارے شمالی وزیرستان ایجنسی کے باشندے ہیں۔اور حالیہ فوجی کاروائیوں سے بچنے کیلئے پشاور آئے ہیں۔چنانچہ میں نے ان سے شمالی وزیرستان ایجنسی کے تحصیل میرعلی میں ہونے والے دھماکے ،اور پھر آرمی کی جوابی کاروائی کے بارے میں گفتگو کی ، تو انہوں نے تمام تفصیل سُنائی ،جو کہ ذیل میں ہے۔
سب سے اول جس بندے سے بات کی ،تو اسکا نام سردار خان ہے ،اور گورنمنٹ سکول کا پرنسپل رہ چکا ہے۔بڑی عمر کاآدمی ہے۔ میرعلی کے گاؤں حیدر خیل سے اسکا تعلق ہے۔ میں نے گفتگو کی ابتداء کرتے ہوئے  اس سے پوچھا کہ کھجوری چیک پوسٹ آپکے گاؤں کے قریب واقع ہے ،اور فاٹا میں 40 ایف سی آر کے تحت علاقائی ذمہ داری کے طور پر کھجوری چیک پوسٹ اور کھجوری قلعہ   آپ لوگوں کی ذمہ داری میں آتا ہے ۔تو کیسے بارود سے بھرا ہوا ٹرک آپکے ہاں سے ہو کر فوجی قلعے پر دھماکہ کرتا ہے؟
تو سردار خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ آرمی پوسٹ پر حملہ اتوار کے دن ہوا۔ اور  شمالی وزیرستان ایجنسی میں عرصہ سے یہ معمول ہے کہ اتوار کے دن کرفیو لگا دی جاتی ہے۔نیز شام کے وقت ویسے بھی آرمی پوسٹیں بند کردی جاتی ہیں۔
تو کرفیو کے دن اور چیک پوسٹوں کی بندش کے باوجود  بارود سے بھرا ٹرک آرمی قلعے کے قریب کس طرح پہنچ جاتا ہے؟

پھر انہوں نے بتایا آرمی قلعے سے ہر طرف 100 میٹر کے فاصلے سے سڑک زگ زیگ کی شکل کا بنایا گیا ہے ،اور ہر زگ زیگ کے شروع میں  ملیشیاء فورس  اور  آرمی والے کھڑے ہیں ،تو اتنی سختی میں بھی کس طرح بارود سے بھرا ٹرک اس زگ زیگ سڑک سے گذر کر   آرمی چیک پوسٹ تک پہنچ جاتا ہے؟ 
تیسری بات یہ کہ جس مسجد میں فوجی مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے،تو یہ مسجد بالکل بھی محفوظ نہ تھی، لھذا میرا سوال یہ ہے کہ  ایسی ڈینجر ایریا میں کونکر اتنی نفر ی ایک کھلی جگہ میں جمع ہوگئی تھی؟ 
نیز اس سردی میں بھی وہ کیونکر باہر نماز پڑھ رہے تھے؟
چوتھی بات یہ کہ جب علاقائی ذمہ داری کے تحت فوج اور عوام نے آپس میں دن تقسیم کردئے ہیں کہ ہفتے کے 6 دن تو عوام سفر کریں گے ،اور اتوار یا ہفتے کے دن صرف فوج کو نقل وحمل کرنے کی اجازت ہوگی،علاقے میں کرفیو ہوگا،اور عوام میں سے کسی کو بھی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی،خلاف ورزی پر  شوٹ کا آرڈر ہے۔تو ایسے میں جب فوج کرفیو لگا کر بھی  خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتی ،تو ملک کی کیا حفاظت کرئے گی۔
پانچویں بات یہ کہ روس کے انقلابات سے لیکر آج تک قبائلیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے سرزمین کی حفاظت کی ہے۔مغربی سرحد سے کبھی بھی پاکستان پر حملہ نہیں ہوا،یہاں تک کہ جب غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد ورفت بڑھ گئی ،تو بھی ہم نے حکومت کو بتایا کہ انتظامیہ اور عوام اس معاملے کو حل کرسکتے ہیں۔اگر ضرورت پڑی بھی تو ملیشیاء اور خاصہ داروں کی معاونت کافی ہے۔ لیکن فوج پھر بھی دخل اندازی کرتی رہی ،اور یہاں آکر انہوں نے  قبائلی ایجنسیوں میں ڈیرے ڈال دئیے۔
اب جب بن بلائے مہمان کی طرح یہ لوگ یہاں آگئے ہیں ،تو ہم تو فوج کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہیں۔اور نا ہی ہم علاقائی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔فوج اگر اپنی حفاظت نہیں کرسکتی ،تو برائے مہربانی کرکے قبائلی علاقوں سے نکل کر بیرکوں میں واپس چلی جائے۔روس کے زمانے سے لیکر اب تک قبائلی عوام ،ملیشیاء اور لیوی فورسز مل  مغربی سرحد کی حفاظت کر سکتے تھے ،تو اب بھی کرسکتے ہیں۔
میں نے سردار خان سے پوچھا کہ آپکے اُٹھائے گئے سوالات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آرمی گویا خود ہی اپنے اوپر حملہ کرتی ہے؟
تو سردار خان نے جواب دیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔کہ بڑی قوتیں پاکستان میں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں،جن میں ہماری ایجنسیاں بھی شامل ہے۔اسی لئے ہم عوام کو کچھ سمجھ نہیں آرہی،کہ حقیقت کیا ہے۔
اسکے بعد میں ایک ایسے بندے کی طرف متوجہ ہوا ،جسکا تعلق تحصیل میرعلی کے گاؤں موسکی کے ساتھ تھا۔میرے پوچھنے پر اس نے اپنا نام علی شاہ بتایا ۔
میں نے پوچھا کہ علی شاہ یہ تو بتاؤ کہ آپکے گاؤں میں بھی چند عورتیں اور بچے آرمی کی گولہ باری سے مرے ہیں۔کیا یہ سچ ہے ؟اور آپ ہی کے گاؤں پر کیوں گولہ باری کی گئ ؟
تو جواب میں علی شاہ نے بتایا کہ ہمارے گاؤں  میں ثناء اللہ نامی سکول ٹیچر کے گھر پر چند گولے گرے ہیں، جس میں اسکی بیوی اور چند بچے مارے گئے ہیں۔اسکے علاوہ بھی دس بارہ لوگ مرے ہیں۔ لیکن فی الحال  وہاں ٹیلیفون بند کردئے گئے ہیں،اسی لئے ہمارا اپنے گھروں سے رابطہ نہیں ہو رہا،کہ ہم تازہ ترین معلومات حاصل کرسکیں۔جس وقت میں گھر سے نکلا تھا تو ہمارے گاؤں میں کوئی بھی نہیں رہا تھا،سب دوسرے علاقے کی طرف نقل مکانی کرچکے تھے۔
علی شاہ کے قریب ہی جو بندہ بیٹھا ہوا تھا ،اس کے ساتھ میں نے گفتگو کرنی مناسب سمجھی،تو انہوں نے اپنا نام رضوان بتایا ،اور کہا کہ میرا گھر میر علی بازار کے پشت پر واقع ہے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ آپکے گھر والے تو اس جنگ سے متاثر نہیں ہوئے۔
تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے گھر میں توپ (آرٹلری) کے دو گولے لگے ہیں۔ ایک گولہ ہماری بھینس کے پاؤں کو رگڑتے ہوائے گرا  ہے جو کہ خوش قسمتی سے پھٹ نہ سکا،جس کہ وجہ سے اگرچہ ہماری بھینس کا پاؤں تو نہیں ٹوٹا ہے ،لیکن بھینس کے پاؤں پر سے سارا گوشت چھیل گیا ہے۔ 
توپ(ارٹلری) کے گولےجو پھٹ نہ سکے
میں نے پوچھا کہ دوسرے گولے کا کیا ہوا ،تو رضوان نے بتایا کہ  گھر بناتے وقت ہم نے ایک تہہ خانہ بھی بنایا تھا،اور فوجی کاروائی کے دوران ہم اس تہہ خانے میں اتر گئے،اور ساتھ ہی میں نے تمام گھر والوں کو ذکر وتلاوت میں مشغول ہونے کی تلقین کی ۔چنانچہ ابھی ہم ذکر و تلاوت میں مشغول ہی تھے کہ عین  تہہ خانے کی چھت پر ایک توپ کا گولہ آکر لگا۔ اور یہاں بھی ہماری قسمت کام کرگئی کہ یہ گولہ بھی باوجود گرنے کے نہ پھٹ  سکا۔
اسی دوران  مجھے شمالی وزیرستان ایجنسی سے تحریک انصاف کے گزشتہ انتخابات میں نامزد امیدوار  دکھائی دئے۔انہوں نے بھی آتے ہی یہ گلہ کیا کہ ابھی تک ہمیں کوئی کوریج نہیں دی گی ۔میں نے خود پشاور یونیورسٹی جا کر قبائلی طلباء کو جمع کیا ،اور ایک احتجاجی جلوس نکالا۔لیکن کوئی خاص کوریج نہیں ملی،اور نا ہی کسی نے ہماری دادرسی کی۔
میں نے اس سے پوچھا کہ جناب والا  آپ بھی تو اس شیلینگ سے متاثرہ علاقے کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور آپ ایک سیاسی لیڈر بھی ہیں ،آپکا  اپنا  نقطہ نظر ہوگا۔تو کیا کہتے ہیں اس آرمی پوسٹ پر ٹرک حملے اور پھر بعد میں عوام کے خلاف کی گئی فوجی کاروائی کے بارے میں؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ دراصل یہ سارا ایک پلان اور منصوبے کے تحت  کیا گیا ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ جب طورخم کے راستے سے نیٹو کنٹینرز بند کردئے گئے ،تو اسٹبلشمنٹ نے اس راستے سے انکو لے جانے کا منصوبہ بنایا ،اسی لئے یہاں پہلے تو اس قسم کے  اپریشن کئے جائیں گے ،اور جب اس راہداری پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہوجائے ،تو نیٹو کنٹینرز کو اس راستے سے نکالا جائے گا۔اسکے ساتھ انہوں نے مزید یہ کہا کہ اب بھی رات کو کئی کنٹینرز  جاتے دیکھے گئے ہیں۔
میں نے مزید سوال کیا کہ  جناب حکومت کہتی ہے کہ ان علاقوں میں آپ لوگوں کے پاس غیر ملکی جنگجو رہتے ہیں۔جن میں اکثر ازبک باشندوں کا نام سامنے آتا ہے؟اور  حکومت یہ بھی  کہتی ہے کہ ہم ان علاقوں میں جس گھر کو نشانہ بناتے ہیں ،تو  اسکے بارے میں یہ رپورٹ ملتی ہے کہ یہاں ازبک  جنگجو رہتے ہیں؟
تو انہوں نے بتایا کہ  ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ یہاں غیر ملکی نہیں ہیں،لیکن میرا حکومت سے سوال یہ ہے کہ جب یہی ازبک آرمی چیک پوسٹوں پر سے روزانہ سینکڑوں بار گذرتے ہیں،تو اس وقت انکو کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا؟
یہ کونسی پالیسی ہے کہ چیک پوسٹوں پر تو انکو کچھ نہ کہو ،لیکن جب یہ رہائشی علاقوں میں جائیں تو ان پر دور سے آرٹلری گولے داغے جائیں ۔دوسری بات جو آپ نے کہی کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہم نے صرف بیرونی جنگجو ؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ،تو یہ بات سراسر عوام کو اندھیرے میں رکھنے والی بات ہے۔ یہاں اس پروگرام میں جتنے بندے شریک ہیں ،سب کے سب اس کاروائی سے متاثرہ ہے ،لیکن ان میں کوئی آپکو  ازبک جنگجو  یا  انکا حمایتی نظر نہیں آئے گا۔
ہماری گفتگو میں دلچسپی لینے والے ایک دوسرے بندے سے میں نے پوچھا کہ بھائی آپ کا کیا نام ہے۔تو انہوں نے اپنا نام صباح الدین بتایا اور کہا کہ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک میڈیکل سٹور چلاتے ہیں،جو کہ میر علی بازار میں واقع ہے۔
میں نے صباح الدین سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ دوائیوں کے پوری مارکیٹ کو  ٹینک سے گولے داغ کر تباہ کیا گیا ہے،اس میں کتنا سچ ہے؟
تو صباح الدین نے کہا کہ ہاں یہ سچ ہے کہ فوجی ٹینک نے دوائیوں کی مارکیٹ پر شدید شیلنگ کی ہے ،جس کی وجہ سے دو منزلہ مارکیٹ تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔ اور چونکہ یہ کافی بڑی مارکیٹ تھی،لھذا ہم تاجروں کو کروڑوں کا نقصان پہنچا ہے۔
 تباہ شدہ دوائیوں والی مارکیٹ میں نے اس سے پوچھا کہ تحصیل میر علی کا کون کونسا علاقہ اس فوجی کاروائی سے متاثرہ ہے؟
تو صباح الدین نے بتایا کہ میرعلی کے علاقے میں تقریبا تمام گاؤں  متاثر ہوئے ہیں،اور لوگ گھر بار چھوڑ کے خالی ہاتھ ننگے پاؤ ں بھاگنے پر مجبور ہوئے تھے،کیونکہ ایک طرف آرمی کیمپ سے  توپ کے گولے داغے جارے تھے ،تو دوسری طرف ہیلی کاپٹروں سے شدید شیلنگ ہورہی تھی۔
تیسرا ظلم ہمارے ساتھ یہ کیا گیا کہ سڑکوں پر کرفیو لگا دیا گیا،تو گویا نہ جائے رفتن ،نہ پائے ماندن والی بات ہوگئی تھی۔جو بندہ جدھرزخمی ہوا، ادھر ہی تڑپ تڑپ کر مر گیا،اور جو فورا ہی مر گیا تو وہ دو دن تک اسی طرح بےگوروکفن پڑا رہا۔اس نے مزید بتایا کہ تیسرے دن دوپہر کے وقت آرمی نے کرفیو میں نرمی کی،جس کی وجہ سے ہم لاشے اٹھانے کیلئے جاسکے۔جب ہم بازار  گئے تو دیکھا کہ میرعلی کی مشہور جامع مسجد گلون اور اسے ملحقہ عمارات کو بھی شدید شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے،مسجد کے صحن میں گولہ پھٹا ہے ،جس کی وجہ سے مسجد  کی دوسری چھت بالکل گر گئی ہے۔نیز مختلف اشیاء خوردونوش کی دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
میرعلی بازار کی مشہور جامع مسجد گلون
مسجد گلون کا محرابمسجد کی صحنمیرعلی بازار میں شیلنگ سے متاثرہ دوکانیں




تباہ حال سبزی منڈیصباح الدین  کے ساتھ اسکا چھوٹا بھائی عمادالدین بھی کھڑا تھا،جو کہ بنوں کے سائینس اینڈ ٹیکنالوجی ہونیورسٹی میں انجنیئرنگ کا طالب علم تھا۔
عماد الدین سے میں نے یہ پوچھا کہ جب آرمی نے کرفیو میں نرمی کی تو آپ بھی بنوں کی طرف نکلے آئے؟
تو انہوں نے کہا کہ ہاں ،کرفیو میں نرمی یک طرفہ تھی،یعنی صرف میرعلی سے لوگ نکل کر بنوں جا سکتے تھے،جو لوگ بنوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں ،وہ تاحال ہوٹلوں میں رہائش پزیر ہیں۔اس حال میں کہ انکے پاس خرچ وغیرہ بھی سب ختم ہوگیا ہے۔
میں نے عمادالدین سے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ جب آرمی اپنے زخمیوں کو علاج کیلئے اٹھا کر لے جانے لگی ،تو ان پر دوبارہ  حملہ کیا گیا؟
تو انہوں نے مختصرا جواب دیا کہ کیا کرفیو میں ایسا ممکن ہے؟میں نے کہا شائد منصوبے کے تحت پہلے سے ہی اس حملے کا انتظام کیا گیا ہو؟
تو عماد الدین نے جواب دیا کہ پھر اسی مخصوص جگہ پر آپریشن کیا جاتا، پورے پچاس کلومیٹر پر پھیلےلاکھوں آبادی والے تحصیل میرعلی کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔اس فوجی کاروائی سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ فوج عوام پر اپناغصہ رہی تھی۔
اوپر ہوٹل کی روؤداد سنانے والے زرین خان سے میں نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ ہوٹل میں آرمی والوں نے ہی کاروائی کی ہے، تو انہوں نے بتایا کہ اول تو اس روز کرفیو تھا، لھذا کوئی بھی اپنے گھروں سے نہیں نکل سکتا تھا۔دوسری بات یہ کہ  دو دن بعدجب  چند گھنٹوں کیلئے کرفیو میں نرمی ہوگئی ،تو لاشے اٹھانے والوں میں ،میں بھی شامل تھا،اور ہمیں ایک بندہ ایسی حالت میں ملا کہ جو مرا تو نہیں تھا لیکن بےہوش ضرور تھا،جس نے بعد میں تمام واقعہ ہمیں سُنایا۔ہوٹل کے تہہ خانے میں پناہ لینے والوں کی لاشیں


اسی پروگرام میں  شامل ایک بندہ خان زمان بھی تھا ،جو کہ پیشے کے لحاظ سے حکومتی کنٹریکٹر تھا،بے چارہ بہت زیادہ پریشان تھا، کہ اسکے اہل خانہ جنگ کی وجہ سے دوسرے علاقے کی طرف نقل مکانی کرچکے تھے،بے سروسامانی کی حالت میں شدید سردی کا سامنا کر رہے تھے۔
خان زمان نے مجھے بتایا کہ کل ہم سب اسلام آباد جائیں گے،اور شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے،ہم اپنے شناختی کارڈ وغیرہ سامنے رکھیں گے اور حکومت سے درخواست کریں گے کہ ہم سے یہ شناختی کارڈ واپس لئے جائیں،کہ ہمارے ساتھ پاکستانیوں جیسا نہیں بلکہ دشمنوں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ ہم نے 2007  میں حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا ،لیکن اس دن سے لے کر آج تک بار بار حکومت مختلف موقعوں پر معاہدے کی خلاف ورزی کرتی چلی آرہی ہے۔
مجھے افغانستان سے الحاق کرنے پر کوئی عار محسوس نہیں ہوتا،کیونکہ اگر وہاں امریکیوں کے ہاتھوں سے مریں گے تو کم ازکم شھادت میں کوئی تردد تو نہیں ہوگا۔ہمیں صاف علم ہوگا کہ بیرونی یلغاریوں نے ہمیں قتل کیا ہے۔ جبکہ یہاں پر حکومت خود ہماری تحفظ کے بجائے الٹا ہم پر ہی حملے کرتی ہیں ۔
ہم سب کوشش کریں گے کہ یا تو حکومت  ہمارے ساتھ ظلم بند کرے اور یا پھر ہماری پاکستانی شھریت ختم کردے۔ میں اس ظلم سے مزید تنگ  آگیا ہوں ،اور یہی حالت ہر قبائلی کی ہے۔
اپنے متاثرہ قبائلی بھائیوں کے درد بھرے حالات جان کر مجھے شدید دکھ ہوا ،کہ خدا جانے کب ہماری حکومت ہوش کے ناخن لے گی،ملک کس طرف جا رہا ہے ،اور ہم پالیسیاں کس انداز کی بنا رہے ہیں۔اسی پروگرام میں شامل ایک بندے نے مجھے بتایا کہ میں تو بمع اپنے اہل وعیال کے نکل رہا ہوں ،کہ اس ملک میں اب گذارہ ممکن نہیں رہا۔
(تصاور بشکریہ صحافی فہد شبیر نیوز ایڈیٹر اردو پوائینٹ )

چھوٹی چھوٹی

عرصہ قبل ایک اردو فورم پر ایک بندے کی تحریر پڑھی تھی۔جس میں اس بندے نے پاکستانی قوم کے نیکیوں کا مزاق کچھ اس انداز سے اُڑایا تھا کہ پاکستانی عوام کی اکثریت جو نیکی کرتی ہیں ،تو ان میں سے چند یہ نمایاں ہیں۔بھائی موٹر سائیکل کا سٹینڈ اُٹھالوبہن اپنی چادر سنبھالو،موٹر سائیکل کے پہئے میں پھنس سکتی ہے وغیرہ 
چنانچہ اسی طرح کی بعض باتوں کو جمع کرکے شائد  یہ تاثر دیا گیا تھا کہ پاکستانی قوم یہ خدمت کرکےگویا اسکو بڑی نیکی سمجھتی ہے۔
عموما یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی آپ کے کسی کام پر طنز کرئے تو وہ طنزیہ انداز بندے کے ذہن میں گُھس کر بیٹھ جاتا ہے۔اور وقتا فوقتا آپ کے دماغ میں وہ بات گھوم گھوم کر آنے لگتی ہے۔کچھ یہی حال میرا بھی تھا،کہ اس بندے کی بات جب سے میں نے پڑھی تھی،تو بس میرے دماغ میں گھس کر بیٹھ گئی تھی۔اور جب بھی میں کسی موٹر سائیکل سوار کو دیکھتا یا کسی سواری پر بیٹھی عورت پر نظر پڑتی تو بس وہ جملہ میرے  ذہن میں گھوم جاتا۔اور میں سوچھنے لگتا کہ اس بندے نے یہ کیا کہہ دیا۔
لیکن اسکے بعد میں یہ کوشش کرتا کہ میں کسی حد تک اس طنز سے اپنے آپ کو بچا سکوں ،لیکن موقع بھی کوئی ایسا نہیں آیا کہ میں وہ چھوٹی نیکیاں کرجاتا۔
آج شام کو جب میں اپنے معمول کے مطابق گھر سے نکلا،تو میں ایک سنگل روڈ پر 70،80 کی سپیڈ سے گاڑی دوڑا رہا تھا کہ اسی اثناء میں ایک موٹر سائیکل سوار میرے بائیں طرف سے آگے کو نکل گیا ۔
اب چونکہ روڈ سنگل تھا اور سامنے سے بھی گاڑیاں تیز رفتاری سے آرہی تھی ۔لھذا جیسے ہی موٹر سائیکل گاڑی کے لائیٹوں کے سامنے آیا تو میں نے دیکھا کہ اسکا سٹینڈ نیچے تھا۔
میرے ذہین میں اسی بندے کی بات گھوم گئی۔ایک طرف خیال آیا کہ اگر اس بندے کو بروقت مطلع نہ کیا تو یہ موٹر سائیکل والا میری گاڑی سے بچنے کیلئے بائیں کو مزید جھک کر چلے گا،کہ موٹر سائیکل کو سائیڈ پر لانے کیلئے اسکو معمولی ترچھا کرنا پڑھتا ہے۔لیکن مجھے یہ صاف نظر آرہا تھا کہ اگر اس بندے نے میری گاڑی سے بچنے کیلئے اسی 70،80 کی رفتار میں موٹر سائیکل کو بائیں طرف ترچھا کیا تو پھر اسکی خیر نہیں۔یہ بندہ ایک ہولناک حادثے سے دوچار ہوسکتا ہے۔یہ خیال آتے ہی دوبارہ میرے ذہن میں وہ طنز والی بات گھوم گئی۔
اور اسی اثنا میں جب میں نے دیکھا تو سامنے سے بڑی تیز رفتاری سے ایک گاڑی آتے دِکھائی دی گئی۔لیکن اس سے پہلے کہ گاڑی ہم تک پہنچتی ، میں نے فیصلہ کرلیا کہ جو بھی ہو اس بندے کو بروقت خبردار کرو کہ جناب بائیں طرف معمولی سا بھی جھکنے سے آپ حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
چنانچہ فورا ہی میں نے گاڑی کی رفتار بڑھائی تاکہ اسکو مطلع کرکے سامنے سے آنے والے گاڑی سے بچ سکوں۔فورا ہی شیشہ کھولا اور اسکو خبردار کردیا۔
اسی واقعے سے ہی تحریک ملی کہ کیوں نا اسی پر ایک مضمون ہوجائے۔
تو جناب ہوتا یہ ہے ہم گوروں کی معمولی معمولی باتیں لے کر انکی تفریفوں کے پُل باندھنے لگ جاتے ہیں۔لیکن جب یہی کام اپنے کرتے ہیں تو بجائے انکی حوصلہ افزائی کے اُلٹا انکا مزاق اُڑانے لگتے ہیں۔حالانکہ یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں اگلے کی زندگی سنوار دیتی ہے۔
عرصہ قبل ایک دوست بنوں سے آکر مہمان ہوئے تھے، تو انہوں نے بتایا کہ سلیم (اسکا دوست) اپنی موٹر لےکر جا رہا تھا کسی دوسرے شہر،راستے میں کسی جان پہچان والے کو دیکھا کہ سڑک کنارے  سواری کی گاڑی کا منتظر ہے اور ساتھ میں ایک زنانی بھی ہے برقع یا بڑی چادر میں۔
چنانچہ سلیم نے گاڑی روک انکو لفٹ کرایا،وہ آدمی آگے سیٹ پر بیٹھ گیا اور وہ عورت پیچھے بیٹھ  گئی۔ ابھی سلیم تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ عورت کے منہ سے خوف ناک چیخ نکل گئی،اور یک دم عورت سیٹ سے گر کر گاڑی کی فرش پر آرہی۔
سلیم نے فورا سے پہلے جھٹکے سے بریک لگائے اور جب اتر کر دیکھا تو اس عورت کے دوپٹے کو  ٹائر کے ساتھ پھنسا ہوا پایا۔
ہوا یہ تھا کہ جب عورت گاڑی میں بیٹھ گئی تھی ،تو ہیبت یا جلدی کی وجہ سے وہ اپنے چادر کو سمیٹ نہ سکی،اور چادر کا اکثر حصہ دروازے میں پھنس کر باہر رہ گیا تھا۔چنانچہ عورت کی طبیعت خراب دیکھ کر سلیم واپس بنوں میں ہسپتال کی طرف گاڑی دوڑانے لگا۔
میرے والد صاحب اکثر صبح گھر کے قریب سڑک پر واک کرتے تھے۔ایک دن جب گھر پہنچے تو ہمیں بتایا کہ آگ تو اللہ نے موت سے بچا لیا ہے۔
جب پوچھا گیا کہ ہوا کیا ہے ،تو بتایا کہ جب میں سڑک پر واک کر رہا تھا تو تھوڑے فاصلے پر ایک سکول بس گذری ،سکول بس کے ٹائر کے دباؤ کے سبب سڑک سے ایک پتھراُڑکر انتہائی تیزی سے میرے والد صاحب کے سر کے قریب سے گذر کر دور جا گرا۔
ورنہ تو اگر یہ پتھر کسی کے سر میں لگ جاتا تو شائد ہی وہ بچ پاتا۔
لوگ کہیں گے کہ دیکھو سڑک سے پتھر ہٹا رہا ہے۔لیکن یہ خیال نہیں کریں گے کہ یہی پتھر کسی کا گھر اُجاڑ سکتا ہے۔گویا 
ایک حدیث شریف میں بھی یہی بات ہے کہ ایمان کا ایک ادنیٰ درجہ یہ بھی ہے کہ بندہ راستے سے موذی شے ہٹا دے۔گویا اسلام بھی ان چھوٹے چھوٹے کاموں کے کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔کہ اسی سے زندگی سنورتی ہے۔
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں،جن سے انسان کو خوشی وراحت بھی مل سکتی ہے اور انہیں باتوں سے غفلت کی صورت میں نقصان بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔
ایک بار میں اپنے ایک دوست کے ساتھ گپ شپ لگا رہا تھا تو اسی دوران اس نے سوال کیا کہ اگر بالفرض آپ کسی مجلس میں چلے جائیں کہ وہاں کے لوگ آپ کو دیکھ کر گھبرا جائیں ۔تو آپ نے کونسا ایسا عمل کرنا ہے کہ وہ لوگ آپ سے خوفزدہ نہ ہوں؟
میں نے جواب دیا کہ جب آپ مجلس میں داخل ہونے لگیں تو سب سے پہلے وہاں سلام کریں۔جس سے وہ لوگ سمجھ جائیں گےکہ یہ بندہ غلط ارادے سے یہاں نہیں آیا ہے۔
پھر اس نے سوال کیا کہ سلام تو اسوقت ہوگا جب آپ انکے قریب پہنچ جائیں ۔لیکن اگر وہ لوگ آپکو اتنا  دور سے دیکھ رہے ہیں کہ جہاں سے سلام کہنا مناسب نہ ہو،اور وہ لوگ سوچ رہے ہوں کہ یہ اجنبی بندہ آرہا ہے،اب انکے دلوں میں ڈر جو پیدا ہوا ہے تو اسکو ختم کرنا ہے۔؟
پھر خود ہی انہوں نے زبردست جواب دیا کہ جب آپ دور سے انکے قریب آرہے ہیں تو بس صرف اپنے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ لایئے تو وہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ جو بھی ہے لیکن بندہ کم از کم ایسا نہیں کہ اس سے خطرہ محسوس کیا جائے۔
اسی طرح ایک حدیث کا اردو ترجمہ بھی کہیں دیکھا تھا کہ جو بندہ کسی دوسرے انسان کو ایسا گھور کر دیکھے کہ جس سے وہ دوسرا بندہ خوفزدہ ہوجائے،تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس گھورنے والے کو ڈرائے گا۔اللہ تعالیٰ کا ڈرانا کیسا ہوگا بھئی(اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے ۔آمین)
تو کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہمیں اس جیسی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو رواج دینا چاہئے۔ضروری نہیں کہ ہم  لوگوں سے بڑی بڑی توقعات رکھیں، کہ جن کے پورا نہ ہونے پر ہم ان پر کوئی سا بھی لیبل لگالیں۔ہم اپنی حد تک کوشش کریں کہ جتنا بھی ہم سے ہوسکے ،ہم چھوٹی چھوٹی اچھائیوں کو اپنائیں۔
کوئی ان چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر ہنسے تو بلا سے ہنس لے،لیکن اسکو ضرور ایک دن ان ہی نیکیوں کا احساس ہوگا۔

قرآنی باغ

چند مہینے قبل خیبر پختون خواہ کے ایک مقامی روزنامے میں قرانی باغ کے بارے میں جامعہ پشاور کے بوٹینکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا۔جس میں موصوف نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اضاخیل کے مقام پر بوٹینیکل گارڈن میں انہوں نے قرانی باغ کے نام سے ایک باغیچہ بنایا ہے،جس میں قران مجید میں ذکر شدہ درختوں کو ہم نے جمع کیا ہے۔
چنانچہ ہمیں بھی شوق ہوا کہ کیوں نا اس باغ کی سیر کی جائے، اور ساتھ میں اس کی تصاویر بھی کھینچی جائیں ۔لیکن ہوتا یہ کہ کوئی نا کوئی مسئلہ بن جاتا اور سیر کا منصوبہ ختم کرنا پڑتا۔چنانچہ کئی مہینوں سے یہ خواہش ہم دل میں لئے پھرتے رہے۔
آخر کار ایک موقع ایسا آیا کہ جس میں باغ کی سیر ممکن ہوسکی۔چنانچہ اپنے عام کیمرے کو بھی رفیق سیر بنایا تاکہ کچھ یادیں ہم محفوظ کرسکیں۔
باغ کے پاس جب ہم پہنچے تو مین گیٹ بند تھا ،لیکن ایک طرف کو بڑا گیٹ کھلا تھا، جہاں سے لوگ باغ میں جارہے تھے۔ہم  بھی گاڑی کھڑی کرکے مین راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے باغ میں داخل ہوئے۔
جس راستے سے ہم داخل ہوئے تو اسکے ایک طرف کھلا میدان سا تھا اور دوسری طرف گھنے درخت۔ساتھ میں ایک بورڈ بھی لگا ہوا تھا، جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اس جنگل کو جامعہ پشاور والوں نے ہی اگایا ہے۔یہ لیجئے اسکی ایک جھلک

اور ساتھ میں لگا بورڈ

باغ کی طرف جاتی ہوئی کچی پکڈنڈی ،جس کے ذریعے ہم باغ کے وسط تک پہنچ سکے۔

باغ میں داخل ہونے سے پہلےپک ڈنڈی کے ایک طرف خوبصورت ماڈل اور دوسری طرف مصنوعی شیر(جن کی آج کل ہمارے ملک میں بہتات ہے۔)


لیجئے بوٹینیکل گارڈن میں ہمارے مطلوبہ باغیچے (قرانی باغ) تک پہنچ گئے۔اب یہاں ہر ایک پودے کے ساتھ ایک بورڈ بھی لگا ہوا ہے،جس پر اس پودے کے نام ، سائینسی نام اور انگریزی نام مع جس ایت میں اسکا ذکر آیا ہے، یہ سب لکھا ہوا ہے۔
یہ رہا باغ کا نظارہ 





1) کھجور 


2) کیلا 

3) انگور


4)زقوم

5) انار

6) زیتون

7)ریحان


8) انجیر


9) مسواک


10) لہسن لہسن کا ایک ننھا پودالھسن کی اوپری چھلکا
11) کدومجھے سخت افسوس اسوقت ہوا جب میں دوبارہ گھوم پھر کر یہاں پہنچا تو دیکھا کہ کدو کا یہ ننھا پودا بھی کسی نے اُکھاڑ پھینکا تھا،غالبا جب میں یہاں سے جا رہا تھا تو یہی ایک فیملی بیٹھی تھی، جن کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔مجھے یہی لگتا ہے کہ بچے کی ماں باپ نے لاپروائی برتی اور بچے نے یہ پودا اکھاڑ پھینکا۔
12) ادرکچونکہ ادرک ایک جڑ ہوتی ہے ،اسلئے شائد اسکی کیاری خالی پڑی تھی۔
13) ترف،ترفا
14) جوجو کے ننھے ننھے پودے
15) پیاز
16) گندم
باقی پودے یہاں دستیاب نہیں تھے،اسلئے انکی تصاویر بھی ہم نہ کھینچ سکے۔باغیچے کی ایک تصویر
باغ میں گھومتے ہوئے چند دوسرے پودے بھی سامنے آئے ،جن کی تصاویر ذیل میں پیش کئ جاتی ہیں۔(بوتل برش)
(بیربیری)
(بید مجنون)
(ایک درخت پرخوبصورتی سے لکھا گیا لفظ اللہ)
(شیشم)
گارڈن میں ایک چھوٹا سا چڑیاگھر
گارڈن میں ایک چھوٹی سی نرسری بھی قائم ہے۔
یہ رہا جنگلی زیتون
مورپنکھ
(زرد گرانٹا)
(موتیا)
(زقوم)
 نرسری میں خوشبو بکھیرنے والا گلاب کا پھول 
دورنگی
یہ رہا لیمن گراس 

سونف کا پودا
ایک باغیچے کے درمیان یہ خوبصورت پودا
چلتے چلتے ہم گارڈن کیفیٹیریا پہنچ گئے۔لیکن یہ کیا !کیفیٹیریا تو بند تھا ،چلو یہاں بھی اپنا کام شورع ۔۔۔ہیییییں!!!یہ لکھیر دیوار پر کیوں؟اچھا اچھا یہ تو لکھا ہوا کہ 2010 میں جب طوفانی سیلاب آیا ہوا تھا تو پانی 10 فٹ یعنی یہاں تک چڑھا تھا۔گویا بوٹینیکل گارڈن بھی کچھ مدت کیلئے جھیل کے عھدے پر فائز رہ چکا ہے۔
لوجی سائینس واقعی ترقی کر گئی ہے ،کیونکہ مرغابیوں کے پیٹ سے پودے نکلنے لگ گئے ،یقین نہیں آتا تو خود ہی دیکھ لیجئے
چلتے ہیں مین گیٹ کی طرف،لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ایک خشک فوارے کا نظارہ
شکوہ بزبان بطخاں۔۔۔ہم تو مائل بہ سوئیمنگ ہیں کوئی پانی ہی نہیں۔
میری بھی تصویر کھینچو نا،میں ادھر اکیلا ہی ہوں۔۔۔۔۔۔قریب سے یہ آواز آئی تو دیکھا کہ ایک ننھا پودا گملے میں پوز بنائے تیار تھا۔ہم نے بھی دیر نہیں کی اور بس کھینچ لی تصویر ۔ننھے ہیں نا۔۔۔۔۔۔ناز نخرے تو کریں گے
مین گیٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا کہ کئی خوبصورت جملوں پر مشتمل بورڈز لگے ہیں۔ملاحظہ کیجئے گا۔سمجھ نہ آئے تو انگلش کی مس سے پوچھ لینا،اگر اپنی نہیں تو بچوں والی سے بھی استفادہ ممکن ہے۔اچھی طرح سمجھا دے گی۔

لیجئے مین گیٹ تک پہنچ گئے
چمن کے درمیان ایک نمونہ

گارڈن میں کھیلتے کودتے ہُد ہُد
یارا اتنے بڑے منصوبے میں کوئی اکیڈیمک بلاک نہیں ؟
کیوں نہیں ،باغ کا اکیڈیمک بلاک تو موجود ہے لیکن آج اتوار ہے نا،اسلئے چھٹی پر ہیں سب۔آو تمہیں دِکھاؤں انکی بلڈنگ، یہ رہی
اچھا پیارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس کس نے گرین ہاؤس نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔سب نے نہیں دیکھا،چلو میں دکا دیتا ہوں گرین ہاؤس ،یہ لیجئے 
کیا کہا، باغ میں تالاب بھی تھا،اچھااااااااااااآو دیکھتے ہیں کہ ابھی بھی ہے یا قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
ارے یہ تو ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔گویا کسی زمانے میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شائد سنکدر اعظم کے زمانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں 
اچھا تو پھر مغلوں کے زمانے کا ہوگا۔
اور یہ کیاانہوں نے تو ایسے لکھا ہے جیسے لوگ تیار بیٹھے ہیں نہانے کیلئے
لوجی اس تالاب میں مچھلیاں بھی ہیں ۔ہیییییییییییییں  کون کونسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود ہی دیکھئے
جس نے یہاں بیٹھنا ہے ،بیٹھ جائے 
ہم تو چلے گھر،بلڈنگ کے پاس ہماری گاڑی کھڑی ہے



ڈاکٹروں کے شر

آج مصطفیٰ ملک صاحب کا بلاگ پوسٹ (مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے) پڑھا، جس میں  لاہور کے ایک سینئر  ڈاکٹر نے  ناتجربہ کاری کے سبب انجینئرنگ کی ایک طالبہ کو عمر بھر کیلئے معذور کردیا۔تو مجھے بھی اپنی زندگی میں بیتے ہوئے اس قسم کے چند واقعات یاد آگئے، کہ جس میں ڈاکٹر سراسر حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  مریض کو اپنی فیس کی خاطر پھنسانے کی کوشش  میں ہوتا تھا۔تو جناب ہوا یہ کہ میں ایک  دن گھر کے قریب موجود تھا کہ میرےموبائل پر نامعلوم نمبر سے فون آیا۔ میں نے  جب فون  ریسیؤ کیا تو دوسری طرف سے میرا نام لے کر مجھے پکارا گیا۔ اب میں حیران کہ  یہ کون بندہ ہے ،جسکا نمبر بھی انجان ہے اور مجھے جانتا بھی ہے۔
خیر میں نے  اس کو اپنا تعارف کروانے کا کہا، تو انہوں نے میرے ایک دوست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں مشکل میں ہوں ،اور آپکے فلاں دوست نے مجھے آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔
میں نے  اس سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے اور میں کیا خدمت کرسکتا ہوں،تو انہوں نے بتایا کہ ہم پشاور کے مشہور  لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں موجود ہیں ،اور ہمارے ساتھ ایک چھوٹی بچی مریضہ ہے۔جس کے سر میں ایک چھوٹی سی رسولی ہے جو کہ اپریشن سے ہٹائی جاسکتی ہے۔اب  متعلقہ وارڈ کے ڈاکٹر نے معائنہ کے بعد ہمیں وارڈ میں تو داخل کردیا  ہے لیکن   اپریشن کی تاریخ 11 ماہ  بعد کی دی ہے۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ نا تو وہ مریضہ کو اس حال میں گھر لے جاسکتے تھے اور نا ہی 11 مہینے ہسپتال میں گزار سکتے تھے۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ اگر آپ اس سلسلے میں ہماری مدد کرسکتے ہیں تو ہمارا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔
میں نے انکو دلاسہ دیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ،میں کچھ کرتا ہوں۔چنانچہ اسی دن شام کو ایک ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو کہ اسی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔ میں نے تمام معاملہ انکے سامنے رکھا تو انہوں نے  عجیب جواب دیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ دراصل اس ہسپتال میں ڈیوٹی کرنے والے اکثر ڈاکٹروں نے ایک عجیب سی روش اپنائی ہوئی ہے  کہ جب تک مریض انکے ذاتی کلینک میں نہ جائے اور انکو اپنی مقررہ فیس ادا نہ کرے ،تو  اس وقت تک مریض کا علاج کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ مریض کے لواحقین کو بتاؤ کہ جس ڈاکٹر نے انکو ہسپتال میں داخل کرایا ہے، اسکے کلینک کا پتہ کرکے مغرب کو دوبارہ اسکے ہاں مریض کو چیک اپ کیلئے لے جائے۔
جب ایک بار ڈاکٹر پرائیوٹ کلینک میں مریض کو دیکھ لے تو بس پھر دیکھو کہ اسکا اپریشن ایک ہفتہ کے اندر اندر ہوتا ہے کہ نہیں۔گویا سارا ڈرامہ صرف اس فیس کیلئے رچایا گیا تھا۔
دوسرا واقعہ یہ کہ میری چچا کی چھوٹی بیٹی کے پیٹ میں درد  اُٹھا، اور ایسا درد کہ  بچی پر دن رات کا آرام حرام ہوگیا۔بچی تھی کہ درد سے کراہنے لگی۔
چنانچہ فورا ہی اسکو قریبی ہسپتال لے جایا گیا، تو وہاں کے ڈاکٹر نے فورا اپینڈکس کا  کہہ کر بچی کے والدین کو بچی کے اپریشن پر تیار کرنا شروع کیا۔لیکن بچی کے والدین نہ مانے اور قریبی دوسرے ہسپتال میں لے گئے، وہاں کے ڈاکٹر نے بھی اپینڈکس کا کہہ کر بچی کو اپریشن کیلئے داخل کروانے کا کہہ دیا۔لیکن بچی کے والدین کسی صورت نہیں مانے ،اور انہوں نے  بچی کو پشاور  لے جانے کا ارادہ کیا۔
یہاں جب ایک جاننے والے ڈاکٹر نے بچی کا معائنہ کیا تو گیس ٹربل کی چند گولیاں اور چند ایک دیگر دائیاں بچی کیلئے تجویز کردی۔چنانچہ جب بچی نے دوائیاں لینا شروع کردی تو وہ دن اور آج کا دن کہ بچی  کو دوبارہ پیٹ کے درد کی شکائت نہ ہوئی۔
تیسرا واقعہ خود میرے ساتھ ابھی  چند ہفتے قبل ہوا ۔وہ اسطرح کہ اس عید الاضحیٰ کو میں جب گنڈیریاں چوس رہا تھا تو میرا ایک RCTکیا ہوا دانٹ جو کہ صرف U کی شکل میں تھا ،کا اندرونی  سائیڈ ٹوٹ گیا۔
میں گیا ایک ڈینٹل ہسپتال ،اور انکو میں نے سمجھایا کہ میرے دانت کا اندرونی طرف ٹوٹ گیا ہے ،اسکا علاج کس طرح ممکن ہے؟سینئر ڈاکٹر نے دیکھ کر کہا کہ اسکی ری فلنگ ہوگی۔میں نے کہا کہ جناب والا میرے دانت کا ایک سائیڈ ٹوٹ چکا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے اور ہم ہی بہتر سمجھتے ہیں۔بس آپ مشورے نہ دیں۔
میں نے کہا کہ چلو جی دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔چنانچہ انہوں نے پرانی فلنگ  ہٹا کر نئی فلنگ ڈال دی لیکن  وہی میری والی بات کہ دانت کا ایک طرف  جب ٹوٹا تھا، تو خاک فلنگ ہوتی۔
چنانچہ انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ جناب ہم نے تو بھرپور محنت کی لیکن دانٹ کا ایک سائیڈ ٹوٹ گیا ہے۔ اب مجھے غصہ بھی آنے لگا کہ بدبختو ! یہ طرف پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا لیکن تم لوگ کسی کی سُن ہی نہیں رہے تھے۔
پھر انہوں نے کہا کہ اس دانت کو نکالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
اب ہوا یہ تھا کہ جب بچپن میں ہمارے سامنے کے دانت کمزور ہوجاتے اور گرنے کے قریب ہوتے تو ہم انکو اکھاڑ کر کھینچ لیتے اور دانت نکل آتا۔میرا خیال تو یہی تھا کہ اگرچہ یہ سائیڈ دانت ہےلیکن  جلدی نکل جائے گا۔لیکن اُف اللہ ۔۔۔کیسے خطرناک ہوتا ہے RCT کیا ہوا دانت نکالنا۔دو تین بار تو میرا تالو زخمی ہوتے ہوتے بچ گیا ۔خیر انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ RCT دانت ہے اور ٹکڑوں میں ہی نکلے گا۔لھذا وہی ہوالیکن بعد میں جو تکلیف ملی ،تو میں نے دوبارہ دانت نکالنے سے توبہ کی۔
اچھا جب میں گھر آیا تو ہمارے ایک رشتہ دار جو  کہ خود بھی دوسرے ضلع میں ڈینٹل ڈاکٹر ہیں، وہ بھی آئے ہوئے تھے۔
میں نے جب ان کو صورت حال بیان کی تو انہوں نے کہا کہ جناب اس دانت پر بیس بنا کر کراؤن کیا جاسکتا تھا۔ دانت نکلوانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔بس جب یہ جملہ امی نے سُنا تو جی بھر کر ہسپتال والے ڈاکٹر کو بد دعائیں دی، کہ متبادل علاج موجود ہوتے ہوئے بھی اس نے خطرے والا طریقہ کیوں اختیار کیا۔
دو تین ایسی کیسوں کا مجھے علم ہے کہ بندے نے دانت نکلوایا ،اور  پھر یا تو اسکا خون نہیں رُک سکا اور موت کی منہ میں چلا گیا، یا  گندھے اوزار استعمال کرنے کے سبب بندے کو کینسر ہوگیا۔
اسی طرح میرے ماموں کو ایک دن  دل کی جانب سخت درد محسوس   ہوا۔ چنانچہ فورا پشاور پہنچ کر انہوں نے ایک بڑے ڈاکٹر کا نمبر لیا اور ان سے معائنہ کروایا ،تو انہوں نے کہا کہ آپکی حالت خطرناک ہے،فورا ہارٹ سرجری کرنی پڑے گی۔وہ بندہ بھی ڈاکٹر کی باتوں میں آکر تیار ہوا،اور بھائی کو ہسپتال میں خدمت کیلئے بُلا لیا۔
اسکا بھائی جب آیا تو ضد کرنے لگا کہ ،دوسرے ڈاکٹر سے بھی معائنہ کروانا ہے۔چنانچہ جب دوسر ے ڈاکٹر کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ سرجری کی کوئی ضرورت نہیں ،بس انہیں دوائیوں کے ساتھ مسئلہ حل ہوجائے گا۔
ان ساری باتوں سے غرض یہ ہے کہ  آج کل کے ڈاکٹر بالکل ویسی ہی حرکات کر رہے ہیں جس طرح معاشرے کے دوسرےنا اہل لوگ کرتے ہیں۔ ہرکوئی آپکی زندگی تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔لھذاکبھی بھی ڈاکٹر کی ڈاکٹری پر آنکھیں بند کرکے اعتماد نہیں کرنا۔
جب بھی ایسی کوئی مشکل صورت حال سامنے آئے تو کوشش یہی کرنا چاہئے کہ  تین چار ڈاکٹروں  سے معائنہ کروایا جائے۔ اگر کوئی ڈاکٹر کسی سیریس قدم اُٹھانے کیلئے ضد کریں تو ڈھٹ کر اسکے منہ پر جواب دینا چاہئے۔ یہ صرف آپکی جیب پر ہاتھ صاف کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں،انکو مریض کی صحت یابی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
ان ڈاکٹر حضرات سے معذرت ،جو بری عادتوں کے مالک نہیں لیکن  محتاط رہنا ہر کسی کا حق ہے۔ اور اس پر کسی کو بھی خفاء نہیں ہونا چاہئے۔ 

سرینا کی سیر

چند مہینے قبل جب افغانستان کے صدر  حامد کرزئی اسلام آباد کے دورے پر آے ہوئے تھے،تو قدرت نے ہماری بھی چند ساعتیں انکی ٹیم کے ساتھ  لکھی ہوئی تھیں۔چنانچہ حسب معمول ہم نے اپنے چھوٹے کیمرے کو بھی ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا ،تاکہ موقع مناسبت سے بلاگ کیلئے تصاویر بھی جمع کی جا سکیں۔ 
چنانچہ ہمارے اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہی کرزئی اسلام آباد پہنچے تھے، اور چائے کی دعوت انکے لئے سرینا ہوٹل اسلام آباد میں کی گئی تھی۔لھذا ہم بھی فورا وہاں پہنچے اور گاڑی ڈرائیور کے حوالے کرکے ہم اندر چلے گئے۔
پھر جب چند گھنٹوں بعد کرزئی وزیراعظم ہاوس چلے گئے ،تو میں نے ارادہ کیا کہ کیوں نا اسی موقع پر سرینا ہوٹل کے مختلف مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جاے۔
چنانچہ ابتدائی تصویر۔۔۔۔کیمرے کو تیار کرتے ہوئے 


سامنے چھت کے ساتھ لگا بہت بڑا آئینہ ،جس میں میرے پیچھے کی جانب لگا فانوس نظر آرہا ہے۔

میں ھال کے اندر ہی تھا، جبکہ شیشے کے اُس پار یہ کرسیاں کھلے آسمان تلے رکھی ہوئی تھی، تاکہ اگر کوئی چاہے تو باہر کے موسم سے بھی محفوظ ہوسکے۔اِس کھلی جگہ کے اُس طرف ڈائیننگ ھال ہے۔جس میں میزوں پر رکھے ہوئے کھانے کے برتن نظر آرہے ہیں۔لیکن یہ اسوقت خالی تھے۔

حال میں رکھا ہوا چارباغ 

اور یہ چارباغ پر لگی تختی کا عکس

سرینا ہوٹل کی اپنی لیموزین ٹیکسی سروس بھی ہے ،اسکا ایک تصویری نمونہ ،جو کہ شیشے کے فریم میں بند تھا۔

پاس ہی ایک میز پر رکھے ہوئے میڈلز 

انتظار گاہ سے بزنس ھال کی طرف جانے کیلئے اس راہداری سے گذرنا پڑتا ہے۔جسکے سائیڈوں میں صوفے لگے ہوئے ہیں اور دھیمی دھیمی موزک بج رہی ہوتی ہے
۔یہ لیجئے موزک بجانے والے

راہداری میں سائڈ کی طرف بنا ایک ڈیزائن لیجئے ہم برنس کلاس ھال کے دروازے تک پہنچ گئے،سامنے استقبالیہ نظر آرہا ہے۔

ایک دیوارکے ساتھ یہ  تختیاں بھی لگائی گئی تھیں۔

بزنس کلاس ھال کے کاونٹر کے اوپر لگے یہ گھڑیال
سرینا ہوٹل میں خوبصورتی کیلئے بعض ستونوں کے ساتھ پودوں کے گملے رکھے گئے ہیں۔

ایک میز پر رکھے گئے  خوبصورت مصنوعی پھول

شیشے کے باہر صحن میں خوبصورت چھوٹے تالابوں کے درمیان ایک کیاری کا منظر

سریناہوٹل کی عمارت کا ایک منظر



سرینا ہوٹل میں جابجا خطاطی کے نمونے آپکو نظر آئیں گے۔









ایک دوسری راہداری کا منظر
ھال میں بنے گنبد کی ایک جھلک

میز پر رکھے پھول
اوپری منازل کی طرف رسائی کیلئے بنی لفٹیں

ڈائیننگ ھال کا ایک منظر


ڈایننگ ھال میں جیسے ہی داخل ہوا تو ایک جوان لڑکی میری طرف آئی ،اور مجھ سے سلام دعاء کے بعد گپ شپ لگانے لگی،میرے پوچھنے پر اس نے اپنا نام آمنہ بتایا اور کہا کہ میں صوابی سے ہوں۔اور شائد اپنے والدین کی اکلوتی تھی۔میں نے تھوڑی دیر تو اسکے ساتھ گپ شپ لگائی،لیکن وہ شائد کچھ زیادہ ہی بولنے سننے کی موڈ میں تھی،ادھر میری یہ حالت تھی کہ کب جان چھوٹ جائے کہ میں ڈائیننگ ھال کی تصاویر لے سکوں،شکر ہے ڈائیننگ ھال کے کاونٹر پر رکھے فون کی گھنٹی بجی اور وہ اسکو اٹینڈ کرنے لگی ،ادھر میں موقع پا کر ڈائیننگ ھال سے باہر کی طرف بھاگ آیا۔
ہوٹل کے تہہ خانے میں پہنچنے کا راستہ

یہ رہا سرینا کا لیموزین ٹیکسی سکواڈ
پارکینگ لاٹ کے قریب سرسبز باغیچہ
تصویر میں بائیں طرف گاڑیوں کا ہوٹل کے ھال تک پہنچنے کا راستہ،جبکہ دائیں طرف پیدل راستہ

پارکینگ لاٹ میں راہنامئی کیلئے لگے بورڈ

ہوں تو سرینا ہوٹل کے تہہ خانے میں بھی ایک کار پارکنگ ہے لیکن وہ صرف بزنس کلاس کیلئے مخصوص ہے۔یہ رہا بیرونی گیٹ کے قریب کار پارکنگ
سرینا ہوٹل کے باہر سڑک پر حفاظتی انتظامات کی ایک جھلک۔یہ تصویر لیتے ہوئے سیکورٹی انچارج نے بتایا کہ یہاں تصویریں کھینچنا منع ہے ،لیکن اس وقت تک میں اپنا کام کرچکا تھا۔

چونکہ تھکان زیادہ ہوئی تھی اور ظاہر ہے جب تک سفر ختم نا ہو، بندہ بے آرامی محسوس کرتا ہے۔ اسلئے گھر کی طرف جانے میں تیزی دکھاتے ہوئے

ٹور ڈی طورخم


دوسرا عنوان : افغان ٹرانسپورٹرز کے مسائل
ایک بلاگر کا سب سے بڑا یہی کام ہوتا ہے کہ جو حالات وہ دیکھے یا جن حالات سے گذرے ،یا جن مسائل کا سامنا کرئے ،بس اسکو تحریر میں لائے۔
رمضان میں ٹرانسپورٹ یونین کی طرف سے رابطہ کیا گیا کہ ایک ٹیم تیار ہے ،طورخم(پاک افغان بارڈر) تک جانے کیلئے تاکہ ہمارے مسائل پر روشنی ڈال سکے۔لھذا آپ سے بھی استدعاء ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔
دراصل انکے پاس کورٹ آرڈر بھی موجود تھا کہ ان سے کسی قسم کا ٹیکس وصول نہ کیا جائے ،کہ انکی لوڈنگ اَن لوڈنگ کراچی یا لاہور سے ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی کسٹم ،ایکسائز، ملیشیاء ،لیوی، موٹر وئے پولیس ،ٹریفک پولیس ،عام پولیس،خاصہ دار فورس اور پولیٹیکل ایجنٹ کا عملہ ہر گاڑی سے کل ملا کرایک پیرے(ٹرپ) میں تقریبا 20-30 ہزار روپے تک ظالمانہ رشوت لیتے ہیں۔
نہ دینے پر ڈرائیوروں کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں،عدالت کو گالیاں دی جاتی ہیں۔بلکہ خیبر ایجنسی میں تو پولیٹیکل ایجنٹ کا ذیلی عملہ کسی عدالت کو جانتا تک نہیں۔
کلاشن کوف انکے ہاتھ میں ہوتی ہے،اور رشوت دینے میں معمولی تاخیر پر ڈرائیوروں کو بے عزت کیاجاتا ہے،انکی گاڑی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے،ٹرکوں کے شیشے توڑے جاتے ہیں۔
اگر کوئی یہ کہے کہ جناب یہ کیوں نیٹو کا سامان لے جاتے ہیں ،تو انکے علم میں یہ بات لاؤنگا کہ یہ نیٹو سپلائی والے نہیں بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔جس میں افغان تاجر پاکستان سے سامان لے جاتے ہیں۔گویا انکے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا مطلب پاکستانی مارکیٹ کا راستہ روکنا ہے۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ افغان تاجر بد ظن ہوتے جا رہے ہیں۔
بلکہ انہی حالات کے سبب و اب ایران کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ نہ ایک گاڑی ہوتی ہیں نہ دو بلکہ صرف مذکورہ بالا یونین کے ساتھ 200 ٹرک و ٹرالرز رجسٹرڈ ہیں۔اسکے علاہ بھی چند ٹرانسپورٹ یونینز ہیں۔


چنانچہ ہم نے ان تمام وقعات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کا ارادہ کیا۔ ہمارے ساتھ انٹر نیشنل میڈیا کا اہلکار بھی تھا اور لوکل پاکستانی میڈیا کے اہلکار بھی۔
اب انہوں نے چونکہ اس پر باقاعدہ پروگرام کرنے تھے ،اسلئے رشوت والے وقوعات کی ریکارڈنگ وہی کرتے رہے۔ اور میں اپنے بلاگ کیلئے مواد اکھٹا کرتا رہا۔
بچپن میں ابو کے ساتھ کئی بار جانے کے بعد کافی عرصہ ہوا تھا کہ میں بھی طورخم نہیں گیا تھا،اسلئے میں انکے ساتھ جانےپر راضی ہوا۔چنانچہ اپنے چھوٹے کیمرے کو ساتھ لے جانے کیلئے تیار کردیا۔تاکہ محفلین اور بلاگ کے قارئین کیلئے تصاویر مہیا کئے جاسکیں۔
ہمارا دو گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا۔ سب سے پہلے جب خیبر ایجنسی میں داخل ہوتے ہیں تو تختہ بیگ چیک پوسٹ آتی ہے جو کہ لیوی فورس، ملیشیاءاورخاصہ دار فورس کی مشترکہ چیک پوسٹ ہے۔یہاں باقاعدہ روزانہ 7-8 لاکھ روپے کی رشوت جمع کی جاتی ہے ،اور پھر انکو تقسیم کیا جاتا ہے۔
تختہ بیگ چیک پوسٹ کے قریب سڑک کی تعمیر کی ایک جھلک[​IMG]
[​IMG]
سڑکی کی تعمیر کے حوالے سے ایک ویڈیو
تختہ بیگ کے بعد جمرود بازار کا علاقہ ہے،جو کہ پشاور سے 25 منٹ کے فاصلے پر ہے۔[​IMG]
سامنے باب خیبر کی ایک دھندلی جھلک[​IMG]
جمرود بازار میں عین باب خیبر کے دائیں طرف آرمی اور ایف سی کا مشترکہ قلعہ ہے،اور بائیں طرف اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر اور جیل۔

سڑک کنارے ایک قبائلی گھر [​IMG]
سامنے سے آنے والے ٹرک میں امریکی فوج کی عسکری گاڑی


[​IMG]
چونکہ سڑک زیر تعمیر ہے ،اسلئے بعض جگہوں پر پہاڑی ندی نالوں میں سے گذرنا پڑتا ہے۔یہ بھی دراصل ایک برساتی نالہ ہے،جس کےقریب ٹیلے پرملیشیاء فورس اور خاصہ دار کی مشترکہ پوسٹ موجود ہے۔[​IMG]
سامان سے لدے ڈاٹسن کیلئے گھات لگائے فورسز، روپوں کی لالچ میں روزے کی حالت میں اور سخت گرمی میں بھی انہوں نے عارضی ٹھکانہ بنایا ہے ،کہ کوئی مال گاڑی چھوٹ نہ جائے۔[​IMG]
ایک برساتی نالے میں سے گذرتے ہوئے،جس کے اوپر انگریز کے زمانے میں بنایا گیا ریل گاڑی کا پل نظر آرہا ہے۔یہ سامنے سفید ٹو ڈی بھی ہمارئے قافلہ میں شریک ہے۔[​IMG]
اسی کا ایک ویڈیو منظر
نالہ سے اوپر پکی سڑک کی طرف جانے کیلئے اس خطرناک چڑھائی پر چڑھنا پڑتا ہے۔[​IMG]
[​IMG]یہ کالی کرولا جو اوپرنظر آرہی ہے ،تو یہی ہماری سواری تھی۔
چڑھائی کتنی سخت ہے ؟
شائد ویڈیو دیکھے بغیر آپ اندازہ نہ کرسکیں۔

اوپر کی دو تصاویر میں جو پانی نظر آرہا ہے،یہ قدرتی چشمے کا پانی ہے۔یہ چشمہ اسی خراب راستے کے ساتھ بہتا ہے۔ایک جھلک یہاں ملاحظہ کیجئے۔
ایک پہاڑی منظر[​IMG]
ذیل کی تصویر میں کچھ خاص۔۔۔ [​IMG]کچھ دیکھا ۔۔۔ ۔۔۔ !!!

نہیں ۔۔۔ ۔ 
تو دیکھئے انگریز کے زمانے کے ریلوے ٹنل جو ابھی تک قائم ودائم ہیں ،بس معمولی مرمت کرنی ہے۔
لو جی شگئی قلعہ تک پہنچ گئے۔[​IMG]
[​IMG]
[​IMG]
شگئی قلعہ سے گزرنے کے بعد ایک پہاڑی کے پر تعمیراتی کا ہو رہا تھا ،لیکن نیچے اس سے تھوڑا فاصلے پر ایک فوجی کھڑا تھا، اور وہ بھی سادہ لباس میں لیکن مسلح، جیسے ہی اس نے ہماری گاڑیاں دیکھی ،اور کیمرئے دیکھے تو معلوم نہیں اس کے دل میں کیا خیال آیا کہ ہماری دوسری گاڑی کو روک لیا، اور لگا اس سے جھگڑنے۔
عجیب بات یہ دیکھئے کہ جس بندے سے یہ فوجی باتیں کر رہا تھا، اس کو اسی وقت سورس نے کال کی کہ باڑہ میں مزید بے گناہ لوگوں کی 18 لاشیں مل گئی ہیں،جس کے چہروں کو مسخ کیا گیا تھا،پورے باڑہ پر فوجی کنٹرول اور پھر بھی 18 مسخ شدہ لاشیں۔۔۔ ۔
شائد اس گیم کو ہم نہ سمجھ سکیں۔
چنانچہ فوجی اسکے ساتھ جھگڑتا رہا اور وہ بے نیاز فون پر باتیں کرتا رہا۔
ہمیں تو یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ اگر اسکی ڈیوٹی تھی تو سادہ لباس میں کیوں۔۔۔ ۔۔

بہر حال ہم نے اسکو بتایا کہ ہم یہاں انسپیکشن کیلئے آئے ہوئے ہیں تو پھر بندے سے جان چھوٹی۔

یہ رہا وہ فوجی[​IMG]
تیر نشان اسکی کمر سے لٹکی بندوق کی طرف ہے۔
خیر چونکہ ہم نے اگے جانا تھا ،اسلئے اس واقعے کو اگنور کرکے ہم آگے علی مسجد (ایک علاقے کا نام) کی طرف بڑھ گئے۔ تصویر میں فورسز کا نشان اور خوش آمدیدی پیغام نمایاں ہے۔[​IMG]

لو جی انگریزوں کے بنائے ہوئے ریلوئے ٹنل قریب سے دیکھنے ہیں ۔۔۔ 
تو یہ لو ۔۔۔ ۔۔[​IMG]
[​IMG]
ساتھیوں نے بتایا کہ یہ تاریخی دیوار ہے، تاریخی دیوار کیوں بھئی ۔۔۔ ۔۔؟؟
یہ کسی کو نہیں معلوم تھا ،ہم نے بھی صرف تصویر کھینچنے پر اکتفاء کیا[​IMG]
گرمی سے بچنے کیلئے سڑک کنارے جوہڑ کے پانی میں نہاتے ہوئے بچے
[​IMG]
لو جی طورخم آگیا۔ پہاڑی سے ایک فضائی منظر
[​IMG]
چونکہ ہم آے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ تھے ،اسلئے انہیں کے ڈیرے پر گئے یعنی جہاں ٹرکوں کی قطار بنی ہوتی ہے ،کسٹم کلیرنس کے بعد افغانستان جانے کی۔چونکہ روزہ تھا اور سخت گرمی تھی،اسلئے پیدل گھومنے پھرنے سے پرھیز کیا۔
اس پارکنگ میں ٹرک کھڑا کرنے کیلئے ان بیچاروں کو فی ٹرک 3000 روپے دینے پڑتے ہیں ۔جسکی وصولی خاصہ دار فورس کے ذمہ ہے۔اور اگر کوئی ڈرائیور یہ رشوت نہ دئے تو بس اسکا پھر کبھی بھی نمبر نہیں آئے گا۔[​IMG]
[​IMG]
پارکنگ کے قریبی پہاڑی کا ایک منظر۔یاد رہے کہ اسی پہاڑی کا مغربی حصہ افغانستان کے زیر کنٹرول ہے۔[​IMG]
یہ لیجئے اسکی تصویر بھی۔یہ جال ایک قسم کی باونڈری لائن ہےجسکو ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، جس نے ایک ہی پشتون قوم کو ٹکڑےکردیا ہے۔[​IMG]
اس تصویر میں تو افغانستان کا جھنڈا بھی نظر آرہا ہے۔[​IMG]
[​IMG]
اب آپکو دکھاتا ہوں طورخم گیٹ ،جو کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک راستے کےطور پر استعمال ہوتا ہے۔یہاں پہلے ایک گیٹ نصب تھا،جسکو چندمہینے قبل افغان آرمی نے ٹینک کے ساتھ باندھ کر اکھاڑ لیا، اور دعویٰ یہ کیا کہ پاکستان نے یہاں پر چند میٹر تک افغانستان کی زمین پر قبضہ کیا ہے،اور شائد حقیقت بھی یہی ہو کہ اسکے بعد سے پاکستان نے اس واقعے کو دبا لیا،لھذا یہ راستہ اب بغیر گیٹ کے ہے۔
[​IMG]
[​IMG]اوپر کی تصویر میں ٹرک افغانستان سے پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں ٹریفک پاکستان کے برعکس چلتی ہے۔جس کا اندازہ آپ اس ٹرک سے لگا سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کے بعد بائیں ہاتھ کی طرف جانے کی کوشش میں ہے۔
ذیل کی تصویر میں بھی آپ یہی نکتہ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
ذیلی تصویر میں سامنے نظر آتی بلڈنگ پاکستان کے حدود میں واقع ہے۔
دیوار پر انگریزی میں لکھا ہے کہ
لوو پاکستان اور لیو پاکستان(پاکستان سے محبت کرو ،یا پاکستان چھوڑ دو)
جو بورڈ نظر آرہا ہے نیلا والا،تو اس پر لکھا ہے کہ اختتام حدود اسلامی جمہوریہ پاکستان۔
اختتام تک تو ٹھیک ہے ، رہا اسلامی + جمہوریہ تو اسکے بارئے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
آپکی اطلاع کیلئے عرض کردوں کہ یہی وہ طورخم گیٹ ہے ،جہاں سے اوگرا پاکستان کے سابق چئیر مین توقیر صادق صرف ایک ہزار روپے رشوت دئے کر ملک سے زمینی طور پر فرار ہوئے تھے۔
[​IMG]
اچھا جی کیمرہ مینوں نے ویڈیو شیڈیو بنا لئے ۔ساتھ میں تحصیل دار سے منہ ماری بھی ہوئی کہ اس پر جو اچانک بجلی گری تھی،پہلے تو بھڑکیں ماری لیکن جب ہم نے اسکے نکتے نوٹ کرنے شروع کئے تو پھر ہم اسکے اپنے بچے ہوگئے۔ لیکن ہم کہاں آسانی سے بچے بننے والے تھےبھئی۔
بڑا ہونے کیلئے پتہ نہیں کتنی روٹیاں کھائی ہیں، انکا ازالہ کون کرئے گا اور ہاں ابو کی مار الگ۔۔۔ ۔۔
جب بات نہ بنی تو انہوں نے اپنے پارٹنر یعنی ایف سی کرنل کو بُلایا ،کہ ان پر دباؤ ڈالو ۔
لیکن صحافی اور دباؤ توبہ توبہ۔۔۔ ۔ اخر وہی منتیں ،جناب ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،روزہ ہے،عید آنے والی ہے۔
ہم نے کہا کہ بچے تو ہمارے بھی ہیں اور روزہ ہمارا بھی ہے،نیز عید بھی شائد ہم پر آپ سے پہلے آجائے کہ عموما پشتونوں کی عید سرکار سے ایک دن پہلے ہوتی ہے۔
تو کیا دیکھتے ہیں کہ میز کے دراز سے خاکی لفافے نکل آئے کہ جی یہ رکھ لیں ۔۔۔ ۔۔کام آئیں گے۔
ہمارے ایک ساتھی نے لفافے تحصیل دار کے ہاتھ سےلے کر اپنی جیب میں ڈال دئے ،



اور پھر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔





اور پھر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔


پتہ نہیں وہ اسکی جیب تھی یا اندھا کنواں

وہ دن اور آج کا دن ،ہم لفافوں کی شکل دیکھنے کیلئے ترس گئے۔


اچھا جناب اب محفل میں کافی رش ہے اسلئے سب کچھ بتانے سے بہتر (اگرچہ اِس سب کچھ سے میں محروم ہی رہا )
واپسی کا سفر شروع کرلیں۔
تو جناب یہ ہوئی واپسی ۔۔۔ ۔۔
[​IMG]

طورخم کے قریب پہاڑ میں چند غاریں ،
وجہ کا علم مجھے بھی نہیں ،
اور نا ہی کسی سے پوچھ سکا کہ حلق بالکل خشک تھا،
یہ تو شکر ہے کہ گاڑی میں ائیر کنڈیشن تھا ورنہ تو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
[​IMG]
اکثر قبائلی علاقوں کے برساتی نالوں میں انگریز نے یہ چھوٹے چھوٹے۔۔۔ ۔۔ (اب اسکو کیا کہتے ہیں)۔۔۔ ۔ بنائے ہیں۔
اچھا کیوں بنائے ہیں ،تو اسکا جواب میرے پاس بھی نہیں ہے۔
[​IMG]
راستے میں ایک اور ریلوئے پُل جو کہ انگریزوں نے بنایا تھا۔[​IMG]
اور یہ رہے ریلوئے ٹنل[​IMG]
یاد رہے کہ لنڈی کوتل تک ریلوئے لائن انگریزوں نے بچھائی تھی،اور لنڈی کوتل کے قریب ایک چھوٹا سا سٹیشن بھی بنایا تھا،یہ ایک تفریحی پوائینٹ تھا،اور انگریز یا دیگر سیاح سیاحت کیلئے اکثر یہاں تشریف لاتے تھے۔
میں جب چھوٹا تھا تو میں نے خود بھی اس ریل گاڑی کو دیکھا تھا جو کہ کوئلے سے چلتی تھی۔ اور شائد ہر جمعہ یا ہر اتوار کو لنڈی کوتل صبح جاتی اور شام کو واپس لوٹتی تھی۔لیکن پھر آج سے تقریبا کوئی دس بارہ سال قبل وہ ٹرین بند کردی گئی اور ساتھ میں اس پٹھڑی کو بھی تباہی کے دھانے پر لے جایا گیا۔جسکی ایک جھلک آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔


راستے میں ایوب آفریدی کا گھر بھی آتا ہے،ایک مشہور ہئروئن سمگلر،کہ جس نے ایک موقع پر زرداری کے ساتھ بھی ہاتھ کیا تھا۔اور زرداری ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔بھئی آفریدی کے ساتھ پالا جو پڑا تھا۔
ویسے تو ٹرکوں کے پیچھے نہیں لکھا ہوتا کہ
بوم بوم آفریدی
انکا گھر اندر کافی بڑا ہے اور اسمیں ہر چیز باہر کی لگوائی گئی ہے۔ لیکن ابھی شائد وارثین نے اس محل کو اپنی حالت پر نہیں چھوڑا۔بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے۔اور لکھنے کیلئے مواد بھی دستیاب نہیں۔تو اس موضوع کو یہی چھوڑتے ہیں، ہاں اسکے گھر کی بیرونی دیوار کی ایک جھلک آپ دیکھ سکتے ہیں

واپسی پر پھر جمرود کے علاقے میں باب خیبر سے گذرتے ہوئے
[​IMG]

[​IMG]
[​IMG]اختتام کرتا ہوں اپنے اس مضمون کا اس پاک وطن کے جھنڈے کی تصویر سے جو کہ ہمارے گذرتے ہوئے باب خیبر کے اوپر لہرا رہا تھا۔

ایک قبائلی لڑکے کے خوابوں کا پاکستان







اردو بلاگرز  کمیونٹی کی طرف سے میرے خوابوں کا پاکستان  کے عنوان کے تحت ایک انعامی مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔اور اسکے ساتھ ہم پر زور دیا گیا کہ بھئی لکھنا تو ضرور ہے،ہم نے بڑا کہا کہ جناب ہم مقابلوں والے رائٹر نہیں،لیکن ایڈمن صاحب کا کہنا تھا کہ آپکو لکھنا ہی ہے ،چاہے جیسے بھی لکھ لیں۔
چنانچہ  اس پریشانی میں ہم سرگرداں گھوم رہے تھے کہ یکایک سامنے سے دلاور خان آتے نظر آئے۔دلاور خان  ایک قبائلی لڑکا ہے ،جسکی عمر 20-22 سال تک ہوگی، چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنے ابو کا ہاتھ بٹاتا ہے۔
خیر ہم تو بڑے خوش ہوئے کہ لوجی مسئلہ ہی حل ہوگیا۔لوگ اپنے اپنے خواب بتاتے ہیں پاکستان کے بارئے ،آج میں ذرا دلاور خان کے خواب جان لوں ،کہ موصوف کیا خواب دیکھتے ہیں پاکستان کے بارئے میں۔
چنانچہ علیک سلیک کے بعد میں اسکو  قریبی چائے کے ہوٹل پر لے گیا ،اور ہم باہر تھڑے پر بیٹھ گئے۔دلاور خان کے خواب سننے کیلئے چائے پلانا تو ضروری تھا ،ورنہ تو یہ خطرہ پورے جوبن پر تھا کہ وہ خواب ادھورا چھوڑ کر نکل جائیں۔
ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد میں نے دلاور خان سے پوچھا کہ خانصاحب یہ تو بتاؤ کہ 14 آگست منایا ہے  کہ نہیں۔تو خان  صاحب کی منہ سے ایک اہ نکلی گئی۔
بولے منصور بھائی وہ ایک زمانہ تھا ،جب ہم بچے تھے اور اپنے قبیلے کے سکول میں پڑھتے تھے،اور 14 آگست کیلئے جیب خرچ بچاتے تھے کہ اس سے بیج خریدیں گے ،جیب پر لگانے کیلئے۔ اور میں تو سب دوستوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑا جھنڈا خرید کر گھر کی چھت پر لہرانے کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی سکول کی آدھی چھٹی میں کینٹین سے خوراک لینا بند کردیتا تھا، تاکہ میرے پاس زیادہ پیسے بچ جائیں ۔ 
پھر جب 14 آگست کا دن ہوتا تھا، تو جب ابو  فجر کی نماز پڑھنے کیلئے مسجد جانے لگتے ،تو میں اسی وقت  اُٹھ جاتا تھا اور جلدی جلدی چھت پر چڑھ کر جھنڈا لگا لیتا تھا۔چنانچہ جب لوگ فجر کی نماز پڑھ کر ہمارے گھر کی گلی سے گذرتے تو جھنڈا دیکھ کر ادب سے گذرنے لگتے۔
اس کے بعد میں فورا کپڑے بدل کر بیج اپنی جیب پر لگا لیتا تھا،اور چائے پی کر سکول کی طرف جاتا تھا۔وہاں دوستوں کے سامنے میرا سر فخر سے اونچا ہوتا تھا کہ گاؤں کے سب بچوں سے بڑا جھنڈا میں نے لہرایا ہوا ہوتا تھا۔پھر سکول میں ملی نغمے  اور قومی ترانے پڑھے جاتے ،جس کو ہم سب مل کر جوش و خروش سے  بلند آواز سےپڑھتے۔
اسی طرح وقت گذرتا گیا ،اور ہم ساتھویں جماعت تک پہنچ گئے۔ساتھویں جماعت  میں ابھی پڑھائی شروع ہوئے چند مہینے ہوئے تھے کہ  ہمارے علاقے میں حکومت نے طالبان کے خلاف اپریشن کرنے کا اعلان کردیا ۔ اور ہمیں بتایا گیا کہ تم سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گزینوں کے کیمپ میں چلے جاؤ، تاکہ ہم یہاں مکمل اپریشن کرکے امن بحال کرسکیں۔
میں چونکہ سب سے بڑا تھا ،اسی لئے ابو  کے بعد میں ہی گھر کا رکھوالا تھا۔ جن دنوں ہمیں گھر سے جانے کا کہا گیا تو ان وقتوں میں ابو جی دوبئی میں مزدوری کرنے گئے ہوئے تھے۔ایک میں ہی گھر میں بڑا تھا ،اسی لئے ضروری سامان اکھٹا کرکے میں اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ متاثرین کیمپ چلا گیا۔
ابھی ہم کیمپ میں ہی تھے کہ 14 آگست کی تاریخ آگئی۔ میں نے ارادہ کیا کہ ابو نے جو رقم بھیجی ہے گھر چلانے کیلئے ،اسی میں سے کچھ بچا کر اپنے خیمے کے اوپر پاکستان کا جھنڈا لہرا  دوں۔لیکن جب امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹا ان روپوں میں سے صرف اتنی رقم بچی ہے کہ  ہم چند دن اس پر گذارا کرسکیں۔لیکن پھر بھی امی نے مجھے خوش کرنے کیلئے 20 روپے مجھے دئے ،کہ جاؤ بیٹا ،اس سے ہی جشن آزادی مناؤ۔
لیکن 20 روپے میں تو صرف ایک چھوٹا سا جھنڈا ہی خریدا جا سکتا تھا۔جبکہ مجھے تو بڑ ا والا جھنڈا خریدنا تھا اور ساتھ میں بیج  بھی۔ چنانچہ میں  نے ہمت کی اور کیمپ سے باہر نکل کر دیکھا کہ لوگ بازار جا رہے ہیں ،تو میں بھی امی سے چھپ کر بازار گیا اور   وہاں سے غباروں کا ایک چھوٹا سا پیکٹ خرید لایا ،اور  پھر ان غباروں کو پُھلا کر میں  نے ایک ڈنڈے کے ساتھ باند لیے،اور کیمپ کے بچوں  کی طرف روانہ ہوگیا۔ دوپہر تک سب غبارے فروخت ہوگئے تھے، جب میں نے دیکھا کہ اب مجھے کافی روپے مل گئے تو پھر میں بازار گیا اور ایک بڑا جھنڈا خرید لیا۔ اور خوشی خوشی واپس اپنے خیمے میں آگیا ،اور خیمے کے بانس کے ساتھ وہ بڑا جھنڈا باند لیا،لیکن میں صرف جھنڈا ہی خرید سکا ،کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھےکہ میں بیج بھی خردیتا،اسلئے اس سال جشن آزادی منانے کیلئے میرئے پاس بیج نہیں تھا ،اور جو بیج میں نے خریدے تھے پچھلے سال ،تو وہ گھر سے افراتفری کی صورت میں نکلنے کے سبب ادھر اُدھر ہوگئے۔
پھر  اپنے خیمہ کے قریب ہی باقی خیمہ  بستی کے چند بچوں کو اکھٹا کر لیا ، اور ہم سب نے مل کر پاکستان زند ہ باد کے نعرے لگائے، مجھے سکول والی ایک نظم یاد تھی ،
محبت امن ہے ،اور امن کا پیغام  پاکستانپاکستان پاکستان ،پاکستان پاکستان


وہ میں نے بچوں کو سُنا ڈالی۔اور پھر ہم سب اپنے اپنے خیموں کو لوٹ گئے۔
پھر میرے ابو کے پاس جب کچھ روپے جمع ہوگئے تو وہ واپس پاکستان اگئے۔ ہمارے خیموں کے خستہ حالی دیکھ کر ابو  بہت خفاء ہوگئے۔لیکن کیا کرسکتے تھے،ہم اپنے گھر بھی تو واپس نہیں جا سکتے تھے۔
چنانچہ ابو نے ایک دوست سے بات کی، جس کے گھر کا ایک حصہ خالی تھا، تو انہوں نے ہمیں رہائش کیلئے دے دیا۔اور ہم خیمہ بستی سے نکل کر ابو کے دوست کے گھر کے خالی حصے میں آباد ہوگئے۔اور اب یہاں چار چانچ سال  ہوگئے ہیں ہمارے۔
میں نے پوچھا کہ دلاور خان یہ تو بتاؤ کہ اب  تمھارے کیا خواب ہیں  اپنے پاکستان کے بارئے میں۔
تو دلاور خان نے بتایا کہ
خوچے  منصور بھائی  امارا  کیا خواب ہوسکتا ہے۔ ام اپنا گھر جانا چاہتا ہے۔ اپنے گاؤں کو دیکھنے کو دل بہوت خواہش کرتا ہے۔امارا اپنا سکول جانا چاہتا ہے۔ ہمارا سبق درمیان میں رہ گیا ہے، اسکو مکمل کرنا چاہتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ تو آپ نے اپنی بات کی ،اسکے علاوہ بھی تو خواب ہوسکتے ہیں آپکے۔
تو انہوں نے بتایا کہ
منصور بھائی خوچہ خواب تو بہوت ہے لیکن کونسا کونسا خواب بیان کروں میں۔
اسی دوران میری نظر اسکے پیالے پر پڑی تو وہ خالی ہوچکی تھی، مجھے فورا خیال آیا کہ اگر اسکے خواب کے بارئے میں جاننا ہے تو اسکو ایک پیالی چائے اور پلانی ہوگی۔
چنانچہ بیرے کو ایک پیالی چائے اور لانے کا آرڈر دیا۔بیرے کو چائے کا آرڈر دئے کر میں نے دلاور خان کو گویا خواب کی تفصیل بیان کرنے پر راضی کر ہی لیا ۔چنانچہ دلاور خان  میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے یوں گویا ہوا کہ
منصور بھائی خوچہ میرا خواب تو یہ ہے کہ امارا وطن دوبار امن والا بن جائے۔ امارا   بڑا  بڑا  جو  لوگ ہے، انکو یہ سبق مل جائے کہ یہ وطن ہمارا ہی ہے،اسکو لوٹنا نہیں چاہئے۔ امارا تعلیم خراب ہوگیا ہے۔ جس سکول میں ہم پڑھتے تھے ،اسمیں فوجی رہتے ہیں۔ہم کو بھی ڈر لگتا ہے ،سکول کو جانے میں کہ فوجی ماما     غصہ نہ ہوجائے۔
ہمارا دل چاہتا ہے کہ امارا ابو یہی ہمارے ساتھ رہے،اور یہی کوئی روزگار کا ذریعہ بن جائے۔ہمارا چھوٹا بھائی جو ہے ،اسکو بھی سکول میں داخل کرنا ہے۔ لیکن وہ ہر وقت بیمار رہتا ہے۔ امارا دل کرتا ہے کہ کسی اچھا  ڈاکٹر کو دکھائے لیکن اتنا رقم نہیں ہے۔ منصور بھائی تم تو جانتا ہے کہ ہمارا گذارا کس طرح ہوتا ہے۔
ہمارا دل چاہتا ہے کہ یہاں اچھا ہسپتال بن جائے ،تو پھر ہم اپنے چھوٹے کاکے بھائی کا علاج کروائے۔امارا دل کرتا ہے کہ ہم اس ملک میں خوش خرم  رہیں ۔ہمارا دل کرتا ہے کہ ہم یہاں چین وسکون سے رہیں۔امارا یہ خواب بھی ہے کہ ہم اچھا تعلیم حاصل کرکے بڑ آدمی بن جائے ،اور اپنے وطن کی ترقی کیلئے کام کرئے ۔امارا دل بہوت کچھ چاہتا ہے ۔اسلئے ہم اللہ سے روز دعاء کرتا ہے کہ امارا ملک ایک اچھا ملک بن جائے۔
اسی دوران میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ دلاور خان کو بھی جانا تھا ،اپنے گھر ۔چنانچہ چائے کی پیالی پی کر ہم وہاں سے رخصت ہوئے  اور میں اپنے گھر چلا آیا ،تاکہ دلاور خان کے خوابوں کو تحریر شکل دئے سکوں۔

اٹک کی ٹھنڈک

رات جب تراویح کے بعد میں اسکو رخصت کرنے لگا ،تو اس نے اپنے گھر کی طرف دیکھ کر کہا کہ آج پھر ہماری بجلی خراب ہے،چونکہ رات کافی دیر ہوچکی تھی ،اور علاقہ بھی خاموشی کے سبب ڈراونا منظر پیش کر رہا تھا، اسلئےمیں اسکی بات کو بے توجہی سے سُن کر  اپنے گھر چلا گیا۔
رمضان میں رات کو دیر سے سونے اور پھر سحری کیلئے جاگنے کی وجہ سے میں دن کو 11-12 بجے تک سویارہتا ہوں ،اور یہی معمول میرے دوست کا بھی ہے۔لیکن صبح خلاف معمول   9 بجے اسکی کال آئی۔پہلے تو میں حیران ہوا کہ اس وقت اسکا فون کیسے آگیا ،اسی حیرانی میں فون اٹھایا تو دوسری طرف سے  دوست بولاکہ ساری رات گرمی کی وجہ سے بے آرامی میں گذری ہے ،اسلئے کہیں روزے کی گرمی کم کرنے کیلئے ٹھنڈک  حاصل کرنے جاتے ہیں۔
کافی دنوں سے میرا  کہیں صاف پانی میں  نہانے کا ارادہ تھا،چنانچہ دوست کو لے کر اٹک جانے کا ارادہ کیا۔ بد قسمتی سے رات کو میں ائے سی آن کرکے سویا تھا جس کی وجہ سے سارا بدن ٹھنڈک کی وجہ سے درد کر رہا تھا،اور فی الحال مزید کسی طریقے سے بدن کو ٹھنڈک دینا نہیں چاہتا تھا۔لیکن میں نے سوچا کہ چلو  میں سیر کرلونگا اور میرا ساتھی دریا میں نہا کر اپنے بدن کی گرمی دور کردئے گا۔سو  ہم اٹک کی جانب چل پڑئے۔
راستے میں وہی جی ٹی روڈ کی ہریالی اور سرسبز مناظر
SAM_2086
SAM_2088
SAM_2091
نوشھرہ کے قریب پہنچ کر  عجیب منظر یہ دیکھا کہ سڑک کنارئے سمندری  پنگوئین  کا جُھنڈ  ہے ۔پینگوئن اور وہ بھی نوشہرہ میں ،ہے نا حیرانی کی بات.
لیکن ابھی رُکئے!  تصویر دیکھیں اور خود ہی اندازہ لگائیں کہ کیا واقعی یہ وہی مشہور پنگوئن کی نسل ہی ہے ۔ ۔ ۔
SAM_2181
SAM_2092
خراماں خراماں چلتے ہوئے ہم ضلع اٹک پہنچ ہی گئے،اور سیدھے جا کر  درائے سندھ کے اوپر بنے پل پر گاڑی کو بریک لگائے،اخر یہاں بھی کیمرے نے اپنا کمال تو دِکھانا ہے۔تو آئے دیکھتے ہیں کیمرئے کے کمالات۔ ۔ ۔
SAM_2101
SAM_2102
اٹک پُل کے قریب مشہور اٹک قلعے کی دور سے ایک جھلک۔
SAM_2103
پہاڑ کے دامن میں اور دریائے سندھ کے کنارے خیر آباد گاؤں،جو کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حدود میں آتا ہے۔
SAM_2104
صوبہ پنجاب کی طرف اٹک پُل کے قریب پکنک پوائینٹ،جہاں لوگ سیر کرنے اور نہانے کیلئے جاتے ہیں۔ہمارا منزل مقصود بھی یہی جگہ ہے۔
SAM_2106
دریائے سندھ کے درمیان میں ایک چھوٹا سرسبز جزیرہ۔
SAM_2109
چونکہ اٹک کے مقام پر دو دریاؤں کا ملاپ ہوتا ہے یعنی دریائے کابل و دریائے سوات،اور عجیب بات یہ ہے کہ دریائے کابل کا پانی گدلا ہے،جبکہ دریائے سوات کا پانی  صاف شفاف اور ٹھنڈا،اگرچہ اس مقام پر دونوں دریا مل جاتے ہیں لیکن انکا پانی پھر بھی اپنےالگ الگ رنگ کے ساتھ بہتا ہے ۔ اس تصویر میں آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔اور ساتھ میں دریا کے درمیان میں کھڑے بجلی کے کھمبے کا نظارہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
SAM_2111
SAM_2113
لو جی ہم اسی پکنک پوائینٹ پر پہنچ گئے۔اس مقام سے اٹک پل کا ایک نظارہ
SAM_2116
میرا خیال تھا کہ اس چٹان پر کھڑا ہوجانے کا تھا لیکن ان پتھروں کی نوکیں کافی تیز ہیں ،اسلئے اس پر ننگے پاؤں کھڑے رہنا
ممکن نہ تھا۔
SAM_2122
SAM_2121
ہاں یہ جگہ مناسب ہے دریا میں اترنے کیلئے۔ ۔ ۔
SAM_2119
دریا میں لوگ نہاتے ہوئے اور ٹھنڈے پانی سےلطف اندوز ہوتے ہوئے۔
SAM_2120
SAM_2163

SAM_2146
دریا کے کنارے یہ چھپر کسی نے بنایا ہوا ہے اور اسکے قریب ہی مچھلیوں کو پکڑنے کیلئے پانی میں جال بچھایا گیا ہے۔جال تو نظر نہیں آرہا،لیکن اسکےاوپر جو نشانیاں ہیں وہ دیکھی جا سکتی ہیں۔
SAM_2132جال کے اوپری نشانیاں اس تصویر میں واضح ہیں
SAM_2156دریا  کنارئے پارکنگ مع کمرئے برائے کرایہ اور قریب ہی ایک چھوٹی سی مسجد
SAM_2150

SAM_2149

SAM_2148پہلے پانی کم تھا لیکن اخر میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی، شائد پہاڑوں سے پانی کا تازہ ریلا پہنچ گیا تھا۔ ان تصاویر میں واضح  دریا کی بلند ہوتی سطح کودیکھا جا سکتا ہے۔
SAM_2124SAM_2172
دریا کے درمیان میں چھٹانیں جو کہ بعد میں پانی کی سطح کی بلندی کے سبب ڈوب گئی
SAM_2147

SAM_2177دریا کے درمیان میں جانے کی کوشش کرنے والا ایک لڑکا، جسکا  پانی کی سطح چڑھنے کے بعد مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ کس طرف
چلا گیا۔

boy in the mid of river indus attock by darveshkدریائے سندھ کا ایک ویڈیو منظر

indus river near attock by darveshkدریا کنارے مزید سیاحتی مقامات

SAM_2179

SAM_2180
چلو جی سیر تو کافی ہوگئی ،اب آپکا ایک چھوٹا سا امتحان ،لیکن گھبرائیے نہیں ۔یہ تو صرف  تفریح کیلئے ہے۔ تو شروع کرتے ہیں پہلے اس تصویر سے۔ ۔ ۔
یہ کس سیارے کا ٹکڑا ہے،مریخ یا عطارد!!!
SAM_2138
یہ کس آبی جانور کا انڈہ ہے  !!! کوئی بتائے گا ۔ ۔ ۔
SAM_2143
کون بتائے گا یہ کونسی سبزی ہے۔ ۔ ۔ !!!
SAM_2166چلو جی ہم نے واپسی کی تیاری شروع کردی، کیونکہ افطاری کیلئے گھر بھی تو پہنچنا تھا، دن بھر کی تھکان کے سبب نیند بھی آرہی تھی اور بھوک بھی لگی تھی۔ لھذا گھر کی طرف واپسی کے ارادئے سے ہم چل پڑئے۔

Pages