حرف آرزو

آؤ حج کو چلیں


سن دوہزارکی بات ہے میرا ایک دوست خدام الحجاج کی ڈیوٹی کیلئے سعودیہ چلا گیا فون تو تھا نہیں سو کبھی کبھار خط کے ذریعے آدھی ملاقات ہو جاتی،مکہ اور مدینہ کے تذکرے ہوتے وہاں کی پرنور اور پر رونق فضاؤں کا حال پڑھنے کو ملتا تو دل مچلتا کہ کبھی ہمیں بھی حاضری نصیب ہوجائے،اور وسائل اپنے پاس تھے نہیں ایک دن ڈرتے ڈرتے والد صاحب سے کہا "ابا جی اگر کچھ پیسے مل جائیں تو اس رمضان میں میں عمرہ کیلئے جانا چاہتا ہوں"عمرے کیلئے کیا جانا ہے ایک ہی دفعہ حج کو چلے چلومعلوم نہیں ابا جان نے کس لہجے میں بات کہی لیکن مجھے لگا انہوں نے میرے دل کی بات کر دی ہوشام کو ابا جان گھر لوٹے تو میں کچھ حساب کتاب میں مصروف تھا ابا جان نے پوچھا "کیا ہو رہا ہے" میرے بتانے پر کہ حج کیلئے رقم کا حساب لگا رہا ہوں ابا جان مسکراتے ہوئے بولے تو گویا ارادہ پکا ہے"حج درخواستیں شروع ہوچکی تھیں اور میرے پاس رقم آدھی سے بھی کموالد صاحب کے مشورے سے میں نے اپنی بائک بیچ ڈالی اور یوں 98500 روپے کی رقم پوری کرکے حج کیلئے درخواست دے دیرب ذوالجلال نے کرم کیا اور بلاوا آگیانوجوان ساتھی مل گئے ہم پر بھی "جوانی" کے دن تھے خوب بھاگ دوڑ کر ارکانِ حج ادا کئے،اس سفر کی خوشگوار یادیں آج  "بڑھاپے" میں بھی جذبوں کو "جوانی کی رعنائی" عطا کردیتی ہیں میں سفر حج سے واپس لوٹا رب کائنات نے قرض لوٹا دیا اور میں نے پہلے کی نسبت "اپ ماڈل" موٹر سائیکل خرید لیایک بار پھر سے حج کیلئے درخواستوں کا "موسم" شروع ہونے کو ہے 
آئیے اپنے رب کے ساتھ تجارت کیجئے
اسی کے دئیے مال میں سے کچھ اسے قرض دیجئے
وہ بہت غیرت والی ذات ہے
آپ کو خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا
قرض کی رقم منافع سمیت واپس لوٹائے گا
تجربہ تو کیجئےاگر آپ نے فریضہ حج کی ادائیگی کر لی تو شکر ادا کیجئے اگر نہیں کی تو فکر کیجئےکوئی پلاٹ جو بچوں کیلئے بچا رکھا ہے کوئی گاڑی جو بہت کم استعمال میں ہوتی ہےکوئی بینک بیلنس جسے بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر سنبھال چھوڑا ہےکسی ایک کو بھی استعمال میں لائیے فریضہ حج ادا کیجئے
ممکن ہے جب اگلا برس آئے تو آپ کے پاس وسائل نہ ہوں
ممکن ہے آپ کی صحت آپ کو سفر کی اجازت نہ دے
اور ممکن ہے آپ جن بچوں کیلئے وہ رقم پس انداز کر رہے ہیں وہ حج کو محض سیر سپاٹا سمجھیں اور آپ حج پر نہ جا سکیں
اس لئے جلدی کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب کائنات کا ارشاد ہے
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى  کہ بے شک انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کیلئے اس نے کوشش کی

یہ کس کا لہو ہے،کون مرا

بچوں سے وعدہ کر رکھا تھا رزلٹ آجائے تو آپ سب کو سیر کیلئے لے چلوں گا ہم کسی تفریحی مقام پہ جائیں گے کسی پارک میں جھولے جھولیں گے ہلا گلا کریں گے خوبصورت نظاروں سے آنکھوں کو تراوٹ ملے گی سب کے پسند کے کھانے ہوں گے اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بچے کا رزلٹ ابھی باقی تھا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سو پروگرام کو پایہء تکمیل تک پہنچنے میں کچھ دیر تھی میں کل ہی مسز سے کہہ رہا تھا کہ ابھی بچوں کو بھی کہیں لے کے جانا ہے
اور پھر شام ڈھلے سوشل میڈیا کے ذریعے ملنے والی خبروں نے دل کی دنیا کو الٹ پلٹ کردیا،لاہور کے تفریحی پارک میں ہونے والے دھماکے نے خون کے آنسو رلا دیا جذبات کے اظہار کو الفاظ نہیں،اس باپ کے جذبات کیا ہوں گے کے جس کے تین بچے اس دھماکے میں شہید ہو گئے اور جس کے بیٹے نے آج گلشنِ اقبال جانے کی ضد کی تھی، اس خاندان کے لوگوں پہ کیا گزری ہوگی جن کے آٹھ پیارے اس دھماکے میں جان کی بازی ہار گئے، بابا اور ماما کی انگلی پکڑے سیر کو آنے اور جھولے جھولنے کی خواہش میں موت کی سولی پہ جھول جانے والی کٹی پھٹی لاشوں،کسمساتے پھولوں اور ننھی کلیوں،کے پرسے کو الفاظ میسر نہیں ہیں اس لئے کہ  بہت سے احساسات وجذبات ایسے ہوتے ہیں جن کےاظہار کیلئے انسان اپنی تمام نثری، شعری اور ادبی صلاحیتوں کے باوجود صحیح الفاظ ڈھونڈھنے میں ناکام رہتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ الفاظ کے سارے خزانے میں، انکی ترجمانی کیلئے کوئی موزوں لفظ موجود نہیں ہےلیکن غم واندوہ میں ڈوبے ملک  میں،زخمی دلوں اور لہو لہو آنسوؤں سے لبریز آنکھیں لاہور کے ہسپتالوں میں دیکھنے والے اس منظر سے کچھ حوصلہ پاتی ہیں کہ خون دینے والوں کی ایک لمبی قطار ہے حوصلے بلند ہیں اور اپنے بچوں کو ساتھ لئے اپنے بیٹوں کو لہو دینے کیلئے ہسپتالوں میں موجود مائیں حوصلوں کو جلا بخشتی ہیں اور تو اور ڈیوٹی پہ موجود ایک ڈاکٹر کی تصویر بھی نگاہوں سے گزری جو سفید اوورآل میں ملبوس خون کی بوتی عطیہ کر رہا ہےلیکن سوال تو یہ ہے ؟؟؟کہ آخر کب تک ہم اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے اور ہمارے حکمران "دشمنوں" اور "دوست نما دشمنوں" کی سازشوں سے باخبر ہونے کے باوجود کب تک مصلحتوں کا شکار رہیں گےکب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار 
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد 

تباہی کا طوفان


شیر خان میرا پڑوسی تھا،میں نے ہوش سنبھالا تو اسے اسی مکان میں رہائش پذیر دیکھا اس کی بیوی ماسی نوراں اس کی ماموں زاد بھی تھی، "شیرا" سارے محلے کے بچوں کا "ماما" اور نوراں سب کی "ماسی" ۔ شیر خان پیشے کے لحاظ سے مستری تھا محنت مزدوری کرتا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا،رب نے اسے چار خوبصورت بیٹیوں سے نوازا تھا،بیٹے کی خواہش اسے پاگل بنائے رکھتی، بیٹے کیلئے ایک اور شادی کی خواہش گھر میں جھگڑوں کو جنم دیتی اکثر "برتن ٹکراتے"  اور پھر خاموشی چھا جاتی کچھ دن گزرتے کہ یہ "کھٹ مکھٹ" پھر سے شروع ہو جاتی، روز روز کی "چخ بخ" بڑھتی چلی گئی اوراب اکثر ایسا ہوتا کہ بات "برتنوں کے ٹکرانے" سے "مار کٹائی" کی صورت اختیار کر جاتی، شیر خان غریب تو تھا ہی "مسکین" بھی تھا بیوی کی نسبت کمزور لیکن تھا ایک محبت کرنے والا آدمی، جتنی اسے بیٹے کی چاہ تھی اس سے کہیں بڑھ کے اپنی بیوی اور بیٹیوں سے محبت کرتا اور اسی محبت میں اس نے اپنا مکان بھی بیوی کے نام کر دیا تھا لیکن مقابلے میں یہ ماں بیٹیاں اس کی بیٹے کی خواہش پر اس سے خوب جھگڑا کرتیں اور پھر ایک دن ماں بیٹیوں نے مل کر اس کی پٹائی کر دی،اگر بات پٹائی تک ہی رہتی تو اور بات تھی ماں بیٹیاں تھانے جا پہنچیں اور یوں زندگی میں پہلی بار شیرخان کو رات حوالات میں گزارنا پڑی صبح محلے کے چند بزرگوں کی مدد سے معاملہ رفع دفع ہو گیا، ماسی نوراں بہت خوش خوش ہر کسی کو بتاتی پھِرتی کہ ایک رات تھانے گزار کے آیا ہے ناں تو اب بالکل "سیدھا" ہو گیا ہے ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ معلوم ہوا "ماما شیرا" نے ماسی نوراں کو طلاق دے دی اور نئی شادی کر لی،شیرا بیٹے کا باپ بن پایا یا نہیں یہ تو معلوم نہ ہو پایا لیکن یہ پانچوں ماں بیٹیاں مرد کے سائے سے محروم ہو گئیں اب گھر کا بوجھ بھی  انہیں خود ہی اٹھانا تھا نوراں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی اور اس کی "پھول سی بچیاں" لوگوں کے برتن مانجھتیں، وقت پر لگا کے اڑتا رہا بچیاں اہلِ محلہ کی کوششوں سے پیا دیس سدھار گئیں اور ماسی نوراں منوں مٹی تلے جا سوئی مامے شیرے اور ماسی نوراں کے نام وقت کے گرداب میں کہیں گم ہو گئے لیکن پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے حقوق خواتین نامی بل نے مجھے پھر سے "ماسی اور ماما" یاد دلا دئےخواتین کے حقوق کے نام پر بل منظور کرنے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ مرد کو پولیس کے ذریعے گھر سے نکال دیا جائے تو واپسی کے سارے رستے بند ہو جاتے ہیں ، مرد کے پاس وہ تارپیڈو ہے جس سے گھر کی کشتی تباہی سے دوچار کی جاسکتی ہے ،کوئی جج مرد کو طلاق دینے سے نہیں روک سکتا ، عورت تو غصے میں بس روٹھ سکتی ہے روٹھ کر میکے نکل جاتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی اور شوہر اس کو منا کر لے آتا ہے ، مگر شوہر یہ ذلت برداشت نہیں کرے گا طلاق دے کر نکلے گا اور کوئی قانون مرد کو طلاق دینے سے نہیں روک سکے گا ،ان قانون سازوں نے عورت سے ہمدردی نہیں کی بلکہ اسے اجاڑنے کی بنیاد رکھ دی ہے، اس قانون سے معاشرے میں طلاق اور گھروں کے اجڑنے کا وہ طوفان اٹھے گا کہ کہیں بھی کسی کو پناہ نہیں ملے گی اور جب طوفان آتے ہیں ناں تو اونچے محلوں میں بسنے والے بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ پاتے

میں کیوں لکھتا ہوں ؟

کاغذ اور قلم بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ قلم اور تختی کا بچپن سے قائم رشتہ اس وقت کی بورڈ اور سکرین میں بدل گیا جب میں نے انٹر نیٹ پر رنگ برنگے اردو بلاگ دیکھے،میں مشکور ہوں جناب مصطفٰی ملک صاحب کا جن کی تحریک نے مجھ جیسے طالبعلم کو اردو بلاگرز کی صف میں لا کھڑا کیا ،اور حقیقت یہی ہے کہ میں آج بھی کلاس میں سب سے آخری رو میں بیٹھا وہ طالب علم ہوں جسے اپنا سبق یاد نہیں ہوتا ۔بس احساسات کی ایک دولت ہے جو بے چین کرتی ہے تو خیالات قلم کے ذریعے قرطا س پہ بکھرتے چلے جاتے ہیں اوریوں کمپیوٹر کے کی بورڈ پہ ٹھک ٹھک چلتی انگلیاں ان خیالات کو پردہ سکرین پر الفاظ کی صورت ڈھا ل دیتی ہیں جس کی نتیجے میں ایک ذہنی سکون اور ایک نامکمل سی آسودگی طبیعت میں در آتی ہے کہ میں نے اپنے حصّے کاکام مکمل کر لیااس لئے کہڈھنگ کی بات لوگ سن لیں گےشوروغوغا کے باوجود حسنحرفِ آرزو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہشوں اور آرزؤں کو زبان دینے،کچھ دل کی باتیں آپ تک پہنچانے اور کچھ آپ کی باتیں سننے،کچھ پرانے قصّے دہرانے،شاندار ماضی کا تذکرہ کرنے،اس دیس اور اس دیس کے گلی کوچوں اور چوکوں چوراہوں اس کی بستیوں اور گوٹھوں میں رچی بسی حسِین روایات اور خوشبوؤں کا نام ہے گویا محسوسات سے معنویّت کا سفر حرفِ آرزو کا عنوان ہےیہ سوال میں نے خود اپنے آپ سے کیاکہ آخر میں کیوں لکھتا ہوں؟؟؟؟؟تو دل کے کسی نہاں خانے سے کوئی آوازجواب بن کے ابھری کہ تم زندگی کی اس چہل پہل میں سرگرداں کیوں نظر آتے ہو،تمہاری آنکھیں کیوں اردگرد کے مناظر کو دیکھتی اور ذہن کے پردوں میں محفوظ کرتی چلی جاتی ہیں ،اور کیوں تمہارا تھکن سے چور بدن نیند کی وادیوں میں اتر کر پرسکون ہو جاتا ہےتب مجھے معلوم ہواکہ خوابوں اور خیالوں ۔۔۔۔۔۔۔ تجربے اور مشاہدے اور سوچ وفکر کو لفظوں کا پیرہن دے کر قلم وقرطاس کے حوالے کرنا میری فطرت کا تقاضا ہے،لکھنا میرا شوق ہے جسے میرے قارئین کے تبصروں اور ان کی حوصلہ افزائی نے جلا بخشی،مطالعے نے مجھے لفظوں کا چناؤ سکھایاتو حالات و واقعات نے اس شوق کو جنون بنا ڈالا،مستقبل میں میں اپنے بلاگ کو کہاں دیکھتا ہوں تو بس اتنا ہی کہوں گااپنا چہرہ ہو ہر اک تصویر میںفن یہی ہے اور یہی ہے معراجِ فنیہ دو منٹ کی وہ تقریر ہے جو اردو بلاگرز کی منتخب تحاریرپر مشتمل کتاب "بے لاگ"کی تقریب رونمائی میں 28 فروری 2016 کو الحمرا ہال لاہور میں کی گئی۔

اشکے کہ زدل خیزد

ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔۔۔۔۔۔ ابا جان بھی چلے گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون )،جوانوں کی سی ہمّت،عزم و حوصلے کا کوہِ گراں کبھی ان کے ساتھ جو پیدل چلنا پڑے تو ان کا ساتھ دینا مشکل ہو جاتا78سال کی عمر میں بھی چاق وچوبند،دل ،شوگر ،پھیپھڑوں اور گردوں کے عوارض کا بڑی جوانمردی سے مقابلہ کیا،زندگی کے آخری لمحوں تک اپنی اور اہلِ خانہ کی نمازوں کیلئے فکر مند رہے وفات سے تین روز قبل تک نہ صرف پنج وقتہ نمازبلکہ تہجد کیلئے بھی باقاعدگی سے اہتمام کرتے رہے،پوری زندگی اللہ کے دین اور اللہ کی مخلوق کی خدمت میں وقف کئے رکھی،نہ صرف لوگوں کی جسمانی صحت بلکہ ان کی روحانی صحت کیلئے بھی فکر دامن گیر رہتی قرآن سے لوگوں کو جوڑنے اور زندگیوں کو منوّر کرنے کیلئے شہر میں قرآن کلاس کی روایت شروع کی اور ہزاروں مردو خواتین تک قرآن کے پیغام کو پہنچانے کیلئے پروفیسر عرفان احمد صاحب کے ذریعے مسلسل کئی بار قرآن کلاسز کا اہتمام کروایا حقیقت یہ ہے کہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ فریضہ اقامت دین کیلئے وقف تھا،ان کی ساری زندگی کی تگ و دو اللہ کی رضا کے حصول کیلئے تھی اللہ کی مخلوق کی خدمت کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنایایہی وجہ تھی کہ ان کی رخصتی پر لوگوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ اللہ کا بندہ لوگوں کی بے لوث خدمت کرتا تھادور تک پھیلی ہوئی جنازے کی صفیں دیکھ کر بڑے بوڑھوں نے گواہی دی کہ آج تک اس قبرستان میں دفن ہونے والے کسی شخص کا اتنا بڑا جنازہ ہم نے نہیں دیکھا،انسان ساری زندگی تگ ودو کرتا ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کر لے لیکن دمِ رخصت معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو پایا کہ نہیں لیکن ابا جان کی خوش نصیبی تھی کہ لوگوں نے گواہی دی کہ یہ شخص کامران ٹھہرا۔اباجان کا بچپن کسمپرسی کی حالت میں گزرا بچپن ہی سے محنت کے عادی تھے والدہ کی وفات کے بعد گھر اور گھر داری کو بھی چلایا تو کاروبارِ زندگی بھی ،لیکن کبھی بھی خودی اور خودداری پر آنچ نہ آنے دی۔حق کی تلاش میں شیعیّت سے دیوبند اور دیوبند سے جماعت اسلامی تک کے سفر کی داستان لکھنے کیلئے کئی صفحات درکار ہیں ،جہاں بھی گئے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت صفِ اوّل میں شمار کئے گئے ،گاؤں میں اہل تشیع کے سرکردہ لوگوں کی کمیٹی کے سینئر ممبر رہے تو سپاہِ صحابہ کے جنرل سیکرٹری بھی بنے ،دین کی دعوت کو لے کر قریہ قریہ لوگوں کے دلوں پر دستک دینے کی دھن میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت بھی گزارا،مولانا غلام سرور مرحوم(علامہ اقبال کالونی راولپنڈی والے) کے ساتھ شناسائی ہوئی تو ان کے ذریعے سیّد ابولاعلٰی مودودیؒ کے لٹریچر تک رسائی ہوئی ،جماعت اسلامی کے کارکن بنے تو یہی تحریک ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونابنی اور پھرزندگی کے آخری لمحوں تک اسی کے ساتھ وابستہ رہے جماعت اسلامی زون 17کے امیر رہے ،امیرِ شہر کی ذمہ داریاں نبھائیں طویل عرصہ سے وقتِ آخر تک ضلعی مجلسِ شوریٰ کے منتخب رکن رہے اور الخدمت فاؤ نڈیشن کی کوئی بھی سرگرمی ان کی شرکت کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی۔قیدوبند کی صعوبتیں گلی،محلے کی مخالفتیںاوروڈیرہ شاہی کی دشمنی ان کی منزل کو کھوٹا نہ کر سکی۔ اکثر ایک بات کہتے کہ میں نے نماز کی درستگی اور اپنی ذات کی اصلاح تبلیغی جماعت سے ،مشن اور نصب العین کیلئے مالی ایثار اہلِ تشیع سے اورمخالفتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حق کیلئے ڈٹ جانے کا سبق جماعت اسلامی سے سیکھا،زندگی میں مشکل حالات کا مقابلہ جوانمردی سے کیا تو اللہ نے اپنی بے بہا نعمتوں اور رحمتوں سے بھی نوازا لیکن معاشرتی روایات کے برعکس مالی آسودگی ان کے رہن سہن اور چلت پھرت پراثر انداز نہ ہو سکی ،ایمانداری اور سادگی ان کی زندگی کا خاصہ تھی ہمیشہ سفید رنگ کے کپڑے پہنتے سادہ غذا استعمال کرتے ،انہوں نے کبھی اپنے ماضی سے رشتہ نہیں توڑا،عزیزوں رشتہ داروں اور اہلِ محلہ کے ساتھ ان کے تعلقات مثالی تھے دکھ سکھ میں کام آنا غریبوں کی مدد کرنا حاجت مندوں کے کام آنا ان کی نمایاں خصوصیات تھیں کتنے ہی گھروں کے چولہے ان کی بدولت گرم رہتے ،ہمارے کلینک پر مدارس کے طلبہ کو مفت علاج معالجے کی سہولیات میسر تھیں ، انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن ادا کیا۔ہومیوپیتھک طریقہ علاج کو ذریعہ معاش بنایا تواسے صرف رزق روزی کا ذریعہ نہیں بلکہ عبادت اور خدمت خلق کا ذریعہ بھی سمجھا ،مریضوں کے مسائل کو سلجھانے اور ان کی بیماری کو صحت میں بدلنے کیلئے اپنے تمام تر صلاحیتوں کو صرف کیااپنے پیشے اور فن میں طاق تھے اور پورے اخلاص کے ساتھ دکھی انسانیّت اور ہومیو پیتھی کی خدمت کی ،کبھی کلینک میں ایلوپیتھک ادویات کو گھسنے نہیں دیا منافع اور ڈسکاؤنٹ کی بجائے ہمیشہ معیار کو ترجیع دی۔2006میں پہلی بار ہارٹ اٹیک ہوا تین دن بعد ہسپتال سے واپس لوٹے تو طبیعت بہتر ہوتے ہی دوبارہ زندگی کی مصروفیات کی طرف لوٹ آئے،ڈاکٹر نے انجیو گرافی کا مشورہ دیا تو ہنس کر کہنے لگے ڈاکٹر صاحب جو زندگی تھی وہ تو میں گزار چکا ہوں اب توجو دن مل جائیں وہ بونس ہے کیوں مجھے چکروں میں ڈالتے ہیں بس جو زندگی باقی ہے وہ سکون سے گزر جائے یہی کافی ہے،عیدالاضحٰی پر اجتماعی قربانی کیلئے جانوروں کی خریداری میں مگن رہے کئی بار بہت دور تک پیدل چل کے بھی جانا پڑا جس کے باعث تھکاوٹ ہو جاتی لیکن اگلے دن پھر سے تازہ دم ہو کے ساتھیوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے اسی بھاگ دوڑ میں ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور پھر یکم اکتوبر 2015کو دل کی شدید تکلیف کے باعث انہیں اے ایف آئی سی راولپنڈی لے جایا گیاچند دن کے بعد طبیعت پھر سے بحال ہونا شروع ہوگئی مسجد تک چل کے چلے جاتے لیکن کمزوری حد سے زیادہ بڑھ رہی تھی پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن اور سانس کی تکلیف بھی ساتھ میں ہوگئی 25نومبر کو ایس ایم حسین ساملی سینیٹوریم مری میں ایڈمٹ ہوئے پانچ دن بعد اچانک تکلیف میں شدت پیدا ہوئی وہاں سے ڈی ایچ کیو راولپنڈی،پھر آر آئی سی، اور پھر وہاں سے پمز ہاسپٹل اسلام آباد منتقل کیا گیاجہاں دو دن تک مسلسل آکسیجن پر رہے اور پھر یکم اور دو دسمبر منگل اور بدھ کی درمیانی شب اللہ کے دین کایہ سپاہی اپنی مستعار زندگی کے 78برس مکمل کرکے رب ذوالجلال کے حضور اس انداز میں حاضر ہوگیا کہ مرنے سے چند گھنٹے قبل تک بھی انہیں اپنی اور اپنی اولاد کی نمازوں کی فکر تھی عصر کے وقت مجھ سے پوچھا کہ کیا چار نہیں بجے جب میں نے بتایا کی چار بج چکے ہیں تو کہنے لگے تو پھر جا کے نماز پڑھ آؤ.میں بہت چھوٹا تھا جب 21جون 1983کو میری والدہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اباجان نے والدہ کی وفات کے بعد ہمیں نہ صرف باپ بلکہ ماں کا پیار بھی دیا جب امّی جان کا انتقال ہوا تو اس روز منگل کا دن تھا اور آج جب ابا جان اس دنیا سے رخصت ہوئے تو بدھ کا دن تھا،آج ساڑھے32برس گزرنے کے بعد بس یوں محسوس ہوتا ہے کہ منگل کی سہ پہر میں نے اپنی والدہ کو دفن کیا اور ٹھیک 24گھنٹے بعد بدھ کی سہ پہر ابا جان منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں ساڑھے بتیس برس نہیں بلکہ صرف ایک دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو بہت ہی محبت کرنے والی اور بے لوث دعاؤں کے خزانوں سے ہم محروم ہو گئے،
رب کائنات کا دستور ہے یہاں آنے والا ایک دن رخصت ہوتا ہے کوئی کتنا بھی جی لے اسے ایک دن جانا ہے ، اللہ رب العزت ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کی آخرت کی منزلوں کو آسان کرے آمین

طلاق


موبائل کی مسلسل بجتی ہوئی گھنٹی نے مجھے گہری نیند سے بیدار کر دیا تھا لیکن اتنی دیر میں کال کٹ چکی تھی،نمازِفجر کے فوراً بعد سے مسلسل سفر کے بعد واپس لوٹتے ہی میں ذرا کمر سیدھی کرنے کو جو لیٹا تو جلد ہی نیند کی آغوش میں پہنچ گیا,تھوڑی ہی دیر میں کال دوبارہ آنے گی کال اٹینڈ کرنے پر بتایا گیا کوئی نور شاہ صاحب بات کر رہے ہیں میں نے عرض کیا جی فرمائیے کہنے لگےوہ جی آپ سے معلومات لینی ہیں کہ میرے ایک عزیز نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور اس کی بیوی تین ماہ کی حاملہ ہے تو کہیں سے کوئی فتوٰی مل جائے ہم نے سنا ہے کہ حاملہ عورت کو طلاق نہیں ہوتی، میں نے اپنی معلومات کے مطابق ان کی خدمت میں عرض کیا کہ دیکھئے کہ طلاق ایک ایسی چیز ہے جو مذاق میں بھی واقع ہوجاتی ہے، کہنے لگے نہیں جی دیکھیں ناں وہ غصے میں تھا تو اس نے یہ حرکت کر ڈالی میں نے پوچھا کہ کیا کوئی خوشی سے بھی طلاق دیتا ہے طلاق تو ہمیشہ غصے ہی میں دی جاتی ہے، کہنے لگے پھر بھی اگر مسئلہ حل ہو جائے میں نے انہیں کہا کہ یہ مسئلہ تو پھر کوئی "مفتی صاحب" ہی حل کر پائیں گےان صاحب کا فون بند ہو گیا لیکن میرے لئے مطالعے کی جستجو پیدا کر گیاقرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے طلاق کے احکامات پر مشتمل "سورۃ الطلاق" کے نام سےایک پوری سورۃ نازل فرمائی،میں نے اس کا مطالعہ کیا اور جو باتیں مجھے قرآن وحدیث کی رو سے سمجھ آئیں سوچا آپ سے بھی شئر کرتا چلوں،امید ہے اہلِ علم حضرات میری کسی بھی غلطی کی تصحیح فرمائیں گے۔طلاق ۔۔۔۔۔۔۔۔ چار الفاظ پر مشتمل ایک ایسا لفظ ہے جو منہ سے نکالنے کے ساتھ مرد اورعورت ایک دوسرے کیلئے حرام ہو جاتے ہیں،اورشوہر کسی بات کے رد عمل یا بغیر رد عمل کے اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔چونکہ جنابِ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا ثلاث جدهن جد وهزلهن جد : النکاح والطلاق والرجعة.(ترمذی، ابوداؤد) تین چیزیں ایسی ہیں کہ ارادہ کریں پھر بھی درست ہیں اور مذاق کریں پھر بھی صحیح مراد ہے اور وہ تین چیزیں  نکاح، طلاق اور رجوع ہیں بیوی حاملہ ہو یا غیر حاملہ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ بیوی مرد پر حرام ہو گئی ہے بغیر حلالہ کے اسکے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔طلاق کی تین اقسام ہیںنمبر 1:طلاق بدعت--------  ایک ساتھ میں تین طلاقیں دینے کو طلاقِ بدعت کہا جاتا ہے جو غیر شرعی اور غیر پسندیدہ طریقہ ہے ۔ اس میں رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی،طلاقِ بدعت کی کئی صورتیں ہیں مچلاً یہ کہ ماہواری کے دوران طلاق دینا،یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں میاں بیوی آپس میں جنسی تعلق قائم کر چکے ہوں یا ایک ہی مجلس یا ایک ہی وقت میں تین طلاقیں بیک وقت دے ڈالے۔ اس طرح طلاق دینے سے طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے لیکن طلاق واقع ہوجاتی ہے خواہ ایک طلاق دے دو دے یا تین، جتنی طلاقیں دے اتنی ہی دفعہ طلاق واقع ہو جاتی ہے نمبر 2:طلاق حسن -------- اس طریقے میں عورت کو تین طہر میں الگ الگ تین بار طلاق دی جاتی ہے لیکن یہ طریقہ بھی ٹھیک نہیں کہ اس طرح عدّت کے اختتام پر دوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں رہتینمبر 3:طلاق احسن -------- طلاق دینے کا یہ طریقہ سب سے بہتر ہے کی ایک طہر میں ایک طلاق دو اور پھر عدت گزر جانے دو اس طریقے میں عدت کی مدت کے دوران دوبارہ رجوع کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے اور اگر فرض محال عدّت گزر جاتی ہے تومرد اور عورت دوبارہ نکاح کرکے پھر سے میاں بیوی بن سکتے ہیں طلاق کا یہ طریقہ سب سے بہتر تصوّر کیا جاتا ہےیہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طہر سے کیا مراد ہے ----------- عورت ماہواری (Manses) سے پاک ہو اور میاں بیوی نے اس دوران آپس میں جنسی تعلق قائم نہ کیا ہو اس عرصے کو طہر کہتے ہیں سورۃ طلاق میں اللہ رب العزت نے طلاق کا طریقہ کار بہت واضح انداز میں بیان فرما دیا ہے اور عدّت کی مدّت،حاملہ عورتوں کی عدّت اورجنہیں ماہواری نہیں آتی ان کی عدّت کے متعلق بہت وضاحت فرمائی ہےارشادِ ربانی ہےاے نبی ﷺ، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کیلئے طلاق دیا کرو۔اورعدت کا زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو ، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے ۔ (زمانہ عدت میں ) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ خود نکلیں،  الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں ۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی )کوئی صورت پیدا کر دے  پھر جب وہ اپنی (عدت کی ) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں ) روک ر کھو، یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہو جاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں۔ اور (اے گواہ بننے والو ) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیۓ ادا کرو۔یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوۓ کام کرے گا اللہ اس کے لیۓ مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیۓ وہ کافی ہے ۔ اللہ اپنا کام پورا کرے کے رہتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کے لیۓ ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے ۔ اور یہی حکم ان کا ہے ۔ جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو ۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہو  جاۓ ۔ جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملہ وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے ۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ۔ جو اللہ ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ان کو (زمانہ عدت میں ) اسی جگہ رکھو جو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمھیں میسر ہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیۓ ان کو نہ ستاؤ۔اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جاۓ ۔ اور پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو ) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو، بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ ) باہمی گفت و شنید سے طے کر لو ۔ لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں ) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلالے گی۔ خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے ، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے ۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسے مکلف نہیں کرتا۔ بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے ۔

محبت دلیل کی محتاج نہیں

برسوں پہلے جب اس کے والد کی مالی حالت اتنی اچھی نہ تھی کپڑے تو لے دے کے نئے بن ہی جاتے وہ بھی کبھی عید ،بقر عید پر لیکن سویٹر یا جوتے تو اکثر ہی "لندن بازار" سے خریدنے پڑتے،اللہ کے سہارے زندگی کی گاڑی چلی جارہی تھی شکر تھا کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آتی اور گزر بسر اچھے انداز میں ہو ہی جاتی روکھی سوکھی کھانے کو مل جاتی اور یوں سفید پوشی کا بھرم قائم تھا، وقت اپنی رفتار سے چلا جا رہا تھا کہ ایک دن ایک عجیب واقعہ ہوا بازار سے گزرتے ہوئیے اس کے والد نے اسے نئے جوتے خرید دئیے اور "بچہ" نئے جوتے خرید کے پھولے نہ سمایا، نئے جوتوں سے اس کی محبت "دیکھنے والی" تھی، ذرا مٹی لگ جاتی تو فوراً کپڑا لے کے اسے صاف کرتا کپڑا دستیاب نہ ہوتا تو قمیض کے کونے سے ہی اپنی "گرگابی" صاف کر لیتا اس کے دوست جوتوں سے اس کی "محبت" پر اس کا مذاق اڑاتے لیکن وہ دیوانہ اپنے جوتوں کی محبت میں دو سال تک گرفتار رہا تاآنکہ اس کی  "گرگابی" موسموں کے سردوگرم کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی وہ تو اب بھی اسے اپنے سے جدا نہ کرتا لیکن  ایک دن جب وہ گھر پر موجود نہ تھا اس کی بڑی بہن نے ان ٹوٹے جوتوں کو اٹھا کے گھر کے پچھواڑے کچرے  کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ مہینہ بھر گزرا ہوگا کہ چھت پہ کھیلتے ہوئیے "کپڑے کی بنی گیند" بھی اسی پچھواڑے جا گری. گیند تلاش کرتے کرتے جونہی اس کی نظر اپنے جوتوں پہ پڑی اس نے جھٹ سے آگے بڑھ کے انہیں اٹھا لیا، کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا اور اپنے "ہونٹ" اپنی گمشدہ "گرگابی" پر رکھ دئیے اور اسے "چوم" لیا کہ "محبت" تو "محبت" ہوتی ہے ناں جو ٹوٹے پھوٹے، پھٹے پرانے ہونے کی  دلیل کی محتاج نہیں ہوتے

آزادی کا جشن 90 کی دہائی میں


اس گروپ کے ساتھ مجھے بھی پاکستان جانا ہے مگر کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟آپ کی تو ابھی چھٹی نہیں بنتیوہ اصل میں ناں میں 14 اگست پاکستان میں منانا چاہتا ہوں اور پھر مجھے چھٹی مل گئی یہ آج سے 25 برس پہلے کی بات ہے جب میں پاکستان کی سرحدوں سے دور تھا اور پاکستان آکر دھوم دھام کے جشنِ آزادی میں شریک ہونے کیلئے بے چین،اور جونہی مجھے چھٹی ملی بھاگم بھاگ پاکستان پہنچ گیا،تاکہ یہاں آکے پھر سے اس رونق سے لطف اندوز ہو سکوں جو یہاں کا خاصہ تھابچپن سے جڑی "جشنِ آزادی" کی حسین یادیں بس آج یادیں ہی ہیں کہ اب توہرسال آنے والا 14 اگست یونہی خاموشی سے گزر جاتا ہےسکول میں چھٹیوں کے باوجود یکم اگست کو شہر کی مساجد میں سکول کھل جانے کے اعلانات ہوتے اور ساتھ ہی سکول میں حاضر نہ ہونے والے بچوں کے نام خارج کردینے کی وارننگ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اگلے ہی روز 90٪ طلبہ سکولوں میں حاضر ہوجاتے گراؤنڈ سے گھاس پھونس کوصاف کیا جاتا سب مل کے کلاس روم کی صفائی کرتے کہیں سفیدی کی ضرورت ہوتی تو "چونا" لگا کے کلاس روم کوچمکا دیتے، اور یوں چند ہی دنوں میں سکول خوب نکھرا نکھرا چمکا چمکا نظر آنے لگتا، 14 اگست کی صبح ہی صبح سارا سکول رنگ برنگی جھنڈیوں اور پاکستانی پرچموں سے سج دھج جاتا ،ہاں یاد آیا اس سے پہلےنمازِفجرمیں مسجد میں تقسیم ہونے والی "سرخ مٹھائی" اس بات کا اعلان ہوتی کہ آج پاکستان کا یومِ آزادی ہے، پاکستانی کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاؤں کے بعد اونچی آواز میں آمین کی صدائیں اب قصہ پارینہ ہو چکیں ، سکول میں دن بھر رنگا رنگ پروگرامات، ترانے، ملی نغمے اور تقریری مقابلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوزیشن ہولڈرز میں انعامات کی تقسیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں یہ سارادن ہنستے کھیلتے اچھلتے کودتے اور عید کی طرح خوشیاں مناتے گزرتا، تحریکِ پاکستان، مہاجرین کی آمد اہلِ پاکستان کی ہمدردی وغم گساری اور اخوت وبھائی چارے کے سارے قصے انہیں تقاریب میں سنے تو نسیم حجازی کے "خاک اور خون" نے تحرکِ پاکستان کی "حقیقتوں"سے آشنا کیا اوریوں ہم اپنے آپ کو تصور ہی تصور میں ان قافلوں کا حصہ دیکھت رہے۔14 اگست کی شام میں ان سجی سجائی رنگ برنگ جھنڈیوں کا سمیٹنا،گری پڑی  پاکستانی جھنڈے کے رنگ کی جھنڈیوں کو اٹھا کے چومنا آج بھی یاد آتا ہے تو یادوں کا ایک سیلِ رواں ہے جو امڈتا چلا آتا ہے،"پپو" کے ہاتھوں چھن جانے والی"پاکستانی جھنڈیوں"پر رونا مجھے آج بھی اچھی طرح یاد آتا ہےبچپن میں سیکھا ہوا پاکستان سے محبتوں کا سبق "خون" کی طرح جسم میں گردش کرتا ہے تو ان لوگوں کیلئے دل سے بے شمار دعائیں نکلتی ہیں جوان جذبوں کو پروان چڑھانے کا باعث بنےپاکستان زندہ باد

حصار


اسلام آباد کے نواحی علاقے مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں اس گاؤں کا نام مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں لیکن وہ منظر میں بھول نہیں پایا،جب گاؤں کی گلیوں میں خوبصورت بچے اور بچیاں ادھر سے ادھر گھومتے پھر رہے تھے اور تو اور ٹافیاں اور بتاشے بیچنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا تھا میں حیرت سے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایسے مناظر تو شادی بیاہ کی تقریبات کا خاصہ ہوتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے کپڑے ٹافیاں بتاشے اور مہکتے پکوانوں کی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بہت چھوٹا تھا جب والدہ کاانتقال ہو گیا مجھ سے چھوٹا بھائی لگ بھگ کوئی دو سال کاہی ہو گااور مجھ سے بڑا کوئی دس سال کے لگ بھگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں میں ہماری کریانے کی ایک چھوٹی سی "ہٹی" ہماری گزر بسر کا ذریعہ تھی لیکن لین دین روپوں پیسوں کی بجائے اجناس کی شکل میں ہوتا تھا کام بہت اچھا تو نہیں تھا لیکن گزر بسر ہو ہی جاتی، والدہ کے انتقال کے ساتھ ہی "خوشحال" رشتہ داروں نے نہ جانے کیوں ہم سے گویا ناطہ توڑ لیا تھا،"گھرداری اور دکانداری"اکٹھے چلانا ،گھر کاکام کاج بھی ہوتا تو کھاناپکانا بھی دکان کھولنا بھی مجبوری ہوتی کہ اس کے بغیر کاروبار حیات چلنا ممکن نہ تھا پھر ایک دن گاؤں میں ایک "مستری" نے آکے اپنی دکان سجائی ، ایسے پرانے "تالوں" میں لوگ اس سے "چابیاں" بنواتے جن کی چابیاں گم ہو چکی تھیں ہر چابی کے عوض وہ "آٹھ آنے" وصول کرتا میں دن بھر اس کے پاس بیٹھا اسے چابیاں بناتے دیکھتا رہا اور شام کو گھر آکے والد صاحب سے کہا کہ آپ تو اپنے گھر کے کسی تالے میں جب "چابی" ٹوٹ جائے تو خود ہی چابی بنا لیتے ہیں اور آج وہ جو تالوں میں چابی ڈالنے والا آیا تھا وہ ایک دن میں اچھے خاصے پیسے کماکے لے گیا تو آپ بھی یہی کام کیوں نہیں شروع کردیتے، والد صاحب کو یہ بات پسند آئی اگلی صبح ہم نے ایک روپے کی کوئی درجن بھرچابیاں خریدیں اور میں اور والد صاحب دونوں بھائیوں کو پڑوسیوں کے سہارے گھر چھوڑ کر قسمت آزمائی کرنے نکل کھڑے ہوئیے بستی بستی قریہ قریہ گھومتے دن میں مزدوری کرتے اور رات کسی مسجد میں ہم دونوں "مسافر" شب بسری کے بعد اگلی صبح پھر سے مزدوری کو نکل کھڑے ہوتے،اللہ نے ہماری محنت میں برکت ڈال دی کام چل پڑا لوگ ہماری آمد کے منتظر رہتے ہم اپنا "آٹا"ساتھ رکھتے کبھی کوئی کام کروانے والا کام کے بدلے میں کھانا کھلا دیتا اور کبھی ہم اپنا آٹا کسی کو دے کے "روٹی" کے ساتھ ایکسچینج کر لیتے۔ دودھ بیچنے کا رواج تو تھا نہیں لوگ دودھ سے دہی،مکھن،لسی اور گھی بناتے اور وہی گھروں میں استعمال ہوتا جن کے گھر میں کوئی گائے بھینس نہ ہوتی وہ"لسی" پڑوسیوں سے مانگ لیتے ہمیں بھی کہیں نہ کہیں سے "لسی" مل جاتی اور یوں لسی کے ساتھ خوب سیر ہو کے کھانا کھاتے صبر شکر کرتے اور رات گاؤں کی مسجد میں بسر کرنے کے بعد اگلی صبح پھر کسی دوسرے گاؤں کا رخ کرتے ، ہفتے عشرے بعد اپنے "گاؤں" کا چکر لگا آتے، وقت پر لگا کے اڑتا رہا اور پھر ہم اسلام آباد کے نواحی گاؤں میں جا نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام آباد کے نواحی علاقے مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں اس گاؤں کا نام مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں لیکن وہ منظر میں بھول نہیں پایا،جب گاؤں کی گلیوں میں خوبصورت بچے اور بچیاں ادھر سے ادھر گھومتے پھر رہے تھے اور تو اور ٹافیاں اور بتاشے بیچنے والوں کا کاروبار بھی خوب چمک اٹھا تھا میں حیرت سے ان بچوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایسے مناظر تو شادی بیاہ کی تقریبات کا خاصہ ہوتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے کپڑے ٹافیاں بتاشے اور مہکتے پکوانوں کی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جاننے والے نے ہمیں اچھا سا کھانا کھلایا میں نے بھی خوب جی بھر کے کھانا کھایا اور پھر جو سوال بہت دیر سے میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا "والد صاحب" سے پوچھ ہی لیا، "چاچا جی" یہاں اس گاؤں میں آج کسی کی شادی ہے کیا اور والد صاحب کے جواب کی گونج آج بھی کہیں میرے ذہن کے "نہاں خانوں" میں گونجتی سنائی دیتی ہے نہیں پتر آج تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عید کا دن ہے۔وقت اور حالات نے محنت کی اس کمائی میں برکت عطاکی حالات بدلے گاؤں میں کریانے کی دکان خوب چل نکلی "کم منافع زیادہ سیل" کے فارمولے پہ کام چلتا رہا،گاؤں کے پرائمری سکول کے شفیق استاد "ماسٹر الف دین" صاحب کی کمال محبت سے میں نےمیٹرک تک تعلیم مکمل کر لی، ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر دوست بنے تو اس میدان میں چلا آیا۔
اور پھر اگلی صبح "ابا جی" کہنے لگے آج ایک عجیب سی بات ہوئی کسی نے گویا مجھے سوتے میں زور سے جھنجھوڑا اور کہنےلگا "ماضی کے دریچوں میں مت جھانکئیے""ابا جی" کا لہجہ کچھ اس انداز کا تھا کہ میں جب بھی اسے یاد کرتا ہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور اب جب کہ میری انگلیاں کمپیوٹر کے "کی پیڈ" پر"ٹھک ٹھک" لکھنے میں مصروف ہیں میری آنکھوں کے سامنے "بار بار" آنسوؤں کے پردے حائل ہو جاتے ہیں۔بچپن کی عیدوں کا تذکرہ ہوا، میں اپنی عید کاتذکرہ کیا کروں میں تواپنے "والد صاحب" کے بچپن کے عید کے حصار سے ہی کبھی نکل نہیں پایا، اور ان کے سامنے، ان کے زیرِ سایہ آج بھی ایک "بچہ" ہی ہوں بس اس کی کافی سمجھئے اور آخر میں حسبِ روایت ایسی ہی تحریرکیلئے میں ٹیگ کر رہا ہوں محترم ڈاکٹرجواد احمد خان، ملک غلام مصطفٰی،نورین تبسّم،اسرٰی غوری، ایم بلال ایم اور جنابمحمد سلیمکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ان کی تحریروں کا انتظار رہے گا

32 برس پہلے کا روزہ

جی ہاں 32 سال پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب نہ امن وامان کی صورتِ حال خراب تھی نہ نفرتوں کے بیج پھوٹے تھے،جب ایک ہی پیڈسٹل فین گھر کے سبھی افراد کو ہوا دینے کو کافی تھا اور جب نہ فریزر تھا تو نہ کولڈ ڈرنکس کی بہتات روزہ تو بس لسی اور تنور کی روٹی کھا کے رکھ لیا جاتا اور شکر یا گڑ کا شربت ہی سافٹ ڈرنک ہوتا اور اگر کہیں کسی گھر میں تھوڑی خوشحالی تھی تو وہاں "روح افزاء" ہی سب کچھ تھا، روزے پکوڑوں کے بغیر بھی افطار ہو جاتے اور جب پکوڑوں کی خواہش میں ہمارا پہلا "مکمل روزہ" میڈیسن کے ہاتھوں افطاری سے محض چند لمحے قبل جان ہار گیا سحری میں تنور پر پکتی روٹیوں کی "پٹک پٹک"کےساتھ بھی جب آنکھ نہ کھلتی توپاس سے گزرتی باجی چپکے سے پانی کا چھینٹا ہم پر مار جاتی اگر یہ بھی نہ ہوتا تو کوئی کزن ایک چٹکی ہی کاٹ جاتا اور ہم بھی اٹھ جاتے،جب سخت گرمی کے موسم میں ہم جیسے"چھوٹے بچوں" کو روزہ نہ رکھنے دیا جاتا توسبھی کزنز آپس میں طے کرکے سوتے کہ جس کی بھی آنکھ کھل جائے وہ دوسروں کو لازماً جگائے گا تاکہ سب مل کے روزہ رکھ سکیں کبھی کبھار تو یوں بھی ہوتا کہ کوئی کزن اٹھ جاتا اور دوسروں کو نہ جگاتا کہ اس کے روزے دوسروں سے زیادہ ہو جائیں لیکن ہم بھی کہاں پیچھے رہنے والے ہوتے اگلے دن ، دن میں چار کی بجائے پانچ رزے رکھ کے حساب برابر کردیتےمیرے بچپن کا رمضان بھی آج ہی کے رمضان کی طرح خوب "گرما گرم" تھا۔ سحری میں تنور کی روٹی اور ساتھ میں دہی ، لسی اور گھی شکر توافطاری میں روح افزاء ، شکر کا شربت اور فروٹ میں تربوز ہی اس دور کی سوغات تھی لیکن ایک "عجیب" بات یہ تھی کہ اس دور کا روزہ "پکوڑوں" کے بغیر بھی افطار ہو جاتا تھا۔ ابا جی تراویح پڑھنےجاتے تو ہم بھی گھر سےسر پر ٹوپی سجائے بڑے نمازیوں کی طرح تراویح پڑھنے کے بہانے ساتھ آجاتے ادھر تراویح کی جماعت کھڑی ہوتی ادھرہم دوستوں کی فوج گلی میں "چھپن چھپائی" کھیلنے کو نکل پڑتی اور جب معلوم ہوتا کہ تراویح اختتام کے قریب ہے تو ہم بھی چپکے سے جا کے "آخری صف" میں ہاتھ باندھ کے کھڑے ہوجاتے۔ افطاری میں روزے داروں سے بڑھ کے اپنے سامنے شربت کا گلاس رکھنا تو معمول تھا ہی تربوز پر بھی خوب ہاتھ صاف کرتے اور رات سونے سے پہلے صرف اس لئے "واش روم" نہ جاتے کہ سحری کے وقت پیشاب کے دباؤ سے آنکھ کھل جائے گی اور پھر کل روزہ رکھیں گے۔وہ ایسا ہی گرمی کا اک دن تھا جب میں نے ضد کرکے پورا روزہ رکھنے کی ٹھان لی دوپہر بارہ بجے تک تو کام ٹھیک ہی چلتا رہا لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی عصر کے قریب میں نے ضد شروع کی کی افطاری میں میں تو "پکوڑے" بھی کھاؤں گا۔ ابا جان سے "دوروپے" لے کے جو پکوڑوں کی ریڑھی کے پاس پہنچا تو سر ہلکا سا چکرایا فوراً واپسی کی راہ لی لیکن ابھی "کلینک" سے چند قدم دور ہی تھا کی زور سے لڑکھڑایا ابا جان جو میری واپسی کے منتظر تھے کہ میں لوٹوں تو گھر جایا جائے فوراً مجھے تھامنے کو آگے بڑھے لیکن میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا ، میڈیسن کے ہاتھوں افطاری سے چند لمحے پہلے میرا "پہلا روزہ" دم توڑ گیارمضان کی سحری اور افطاری کے ساتھ وابستہ حسین یادیں جہاں زندگی کا خوبصورت سرمایہ ہیں وہیں ہر سال آنے والا "رمضان" ایک مہربان "ہستی" کی یادوں کو بھی تازہ کر جاتا ہے ایسے ہی ایک "رمضان" میں جب میں چوتھی کلاس کا طالب علم تھا 1983 کے 9 رمضان المبارک میں میری "ماں" اس دنیا سے رخصت ہو گئیں زندگی کے گزرتے لمحوں میں دکھ اور تکلیف کی بجائے سکھ اور چین کے لمحے ہمیشہ ان کی یادوں کو تازہ کر دیتے ہیں۔میں شکر گزار ہوں محترمہ کوثر بیگ صاحبہ کا جن کی پہلی"رمضان تحریر"نے بچپن کےرمضان کو ایک تحریری چین(Chain) بنا دیاخصوصی شکریہ محترم رمضان رفیق صاحب کا جنہوں نے مجھے خصوصی طور پر ٹیگ کیا اور یہ تحریر ضبطِ قلم میں آسکیاختتام پر میں بھی کچھ لوگوں کو ٹیگ کرتا چلوں تاکہ کچھ اور خوبصورت یادوں سے ہم لطف اندوز ہو سکیں محترم محمد سلیم ، نورین تبسّم ، اسرٰی غوری ، ایم بلال ایم ، غلام اصغر ساجد ، وجدان عالم اور محترم مصطفٰی ملک صاحب کی"رمضانی" تحریروں کا انتظار رہے گا

میرا محسن

دو اجنبی طائف کی گلیوں اور بازاروں میں ایک ایک دروازے پر دستک دیتے ایک ایک دل کی دنیا کو بسانے کی کوشش میں صبح سے شام کر گزرتے ہیں لیکن کوئی ایک بھی نہیں جو ان کی دعوت پہ لبیک کہے کوئی ایک بھی نہیں جو ان کی بات سننے پہ آمادہ ہو، کوئی ایک بھی نہیں جو ان کی دعوت کو اپنے دل میں جگہ دینے والا ہو۔دعوت کو سننا اور اسے قبول کرنا تو درکنار انہوں نے تو مذاق اور ٹھٹھے کی بھی انتہا کردی کوئی کہتا ہے اچھا تم کو نبی ﷺ بنا کر بھیجا ہے اللہ میاں کو کوئی اور نہیں ملا تھا کہ جس کو نبی بنا کر بھیجتا طنز کے کیسے کیسے نشتر اور تیر تھے جو ان پر چلائے نہیں گئے لیکن پھراسی پرہی بس نہیں کیا گیا طعن وتشنیع اور طنزومزاح کے تیروں سے دل تو زخمی تھا ہی کہ واپس لوٹتی اس عظیم ہستیﷺ اور ان کے ساتھی کے پیچھے گلی کے بچوں اورآوارہ لڑکوں کو لگا دیا اور نتیجتاً اتنا پتھراؤ آپﷺ پر کیا جاتا ہے ،اتنی کنکریاں ماری جاتی ہیں کہ جسمِ اطہر سے خون نکل نکل کر نعلین مبارک میں جم جاتا ہے اور اس حال میں آپﷺ ایک درخت کے نیچے سستانے کو ٹھہرتے ہیں کہ جبریل امین علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھ پہاڑوں کے فرشتے کو لایا ہوں اگر آپﷺ حکم کریں تو اس بستی کے گرد ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا کر اس کو تہس نہس کردےاس لئے کہ آج آسمانوں پر اللہ رب العزت بھی بڑا غضبناک ہے کہ اس کے محبوب بندے کو یوں ستایا گیا ہے یہی نہیں بلکہ پتھروں سے لہو لہان کرکے خالی ہاتھ لوٹایا گیا ہے بس آپ ایک اشارہ کیجئے کہ اس بستی کورہتی دنیا تک کیلئے عبرت کا نشان بنا دیا جائے، کس قدر سنہری پیشکش ،ابھی چند لمحوں پہلے ہی جن لوگوں نے ظلم کی انتہا کر دی خون میں نہلا دیا، پاگل اور مجنوں کہا ان سے بدلہ لینے کا موقع ہاتھ آگیا تھا لیکن آپ ﷺ جبرئیل امین علیہ السلام کی زبانی اس پیشکش کو سنتے ہیں تو فرماتے ہیں نہیں جبرئیل یہ نہیں تو ان کے بعد والے ایمان لے آئیں گے، وہ نہیں تو ان کی آئندہ نسلیں ایمان لے آئیں گی ان کی نسلوں میں کوئی تو ہوگا کہ جو ان راہوں پہ چلے گا،  یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آج انہیں فنا کے گھاٹ اتار کے مستقبل کے متعلق کوئی امید قائم کی جاسکے،بلاشبہ ایسے الفاظ تو کوئی ایسی ہی ہستی کہہ سکتی ہے جورحمۃاللعالمین ہوجس کے دل ودامغ میں بس انسانوں کی خیر خواہی ہی پیشِ نظر ہو۔ نبی اکرم ﷺ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے یہ بات کہتے ہیں اور پھر ضبط کا دامن ٹوٹ جاتا ہے اور سجدے میں گر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں پروردگار! یہ تو نے مجھے کن کے حوالے کر دیا جو میری بات ہی نہیں سنتے ، میری بات کو دل میں جگہ ہی نہیں دیتے، لیکن اس گلے اور شکوے کے بعد فرماتے ہیں پروردگار! اگر تو اسی پر راضی اور خوش ہے تو میں بھی اس پر راضی ہوںلاکھوں ، کروڑوں اور اربوں درودو سلام نبی مہربان ﷺ کی بصیرت پر کہ "یہ لوگ نہیں تو ان کے بعد آنے والے وہ نہیں تو ان کی آئندہ نسلیں تو ان راہوں پہ چلیں گی" کبھی آپ نے سوچا یہ میں اور آپ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور نبی ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں یہ نبی ﷺ کے اسی صبر اور رحمۃاللعالمین ہونے کا نتیجہ ہے، وہ جو نبیﷺ نے فرمایا تھا "یہ لوگ نہیں تو ان کے بعد آنے والے وہ نہیں تو ان کی آئندہ نسلیں تو ان راہوں پہ چلیں گی" گزرتے وقت نے ثابت کیا کہ انہی اہلِ طائف کی بدولت اسلام مجھ تک اور آپ تک پہنچا ہجرتِ مدینہ کے 92 برس بعد 10 رمضان المبارک 92 ہجری میں محمد بن قاسم ایک مسلمان بیٹی کی پکار پرسندھ کے راستے برصغیر میں داخل ہی نہیں ہوا بلکہ اسلام کی ٹھنڈی ہوائیں بھی اپنے ساتھ لایا لاکھوں درودوسلام حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر جن کے نعلین بارک خون سے لت پت ہوئے اور ان کی اس قربانی کے نتیجے میں اہلِ طائف کی اولاد میں سے محمد بن قاسم ،اسلام کا داعی بن کے پورے برصغیر کی تاریک فضاؤں کو اسلام کی روشنی سے منور کر گیابلاشبہ وہ میرا محسن ہے 

اٹل حقیقت


سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے اسے ایک عمر گزر گئی محنت و مشقت تو اس کی "گھٹی" میں "رچی بسی" تھی، اپنے ہاتھوں سے برتن بنانا آباؤ اجداد سے اس کا پیشہ چلا آرہا تھا،اس کے بیٹے گاؤں کی زندگی ترک کرکے شہر میں جابسے لیکن اس نے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ بس"جینا مرنا" یہیں ہو گا، محنت مشقت کےعادی اس شخص کی صحت بھی بلا کی تھی "خشک روٹیاں" کھا کے 80 سال کی عمر میں بھی جوان دِکھتا تھا،عجیب سادہ آدمی تھا زندگی کی 80 بہاریں گزار دیں لیکن کبھی گاڑی میں سفر نہیں کیا اس خوف سے کہ گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ میں لوگ مر جاتے ہیں،"تایا جان" اس کا تذکرہ کر رہے تھے اور میں کمال حیرت سے ان کی باتیں سنے جا رہا تھا کیا آج کے دور میں بھی ایسا ممکن ہے کہ کوئی پیدل سفر کو گاڑی پہ سفر کرنے پہ ترجیح دے لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ تو 30 میل دور بسنے والی ہمشیرہ سے ملنے بھی ہمیشہ "پیدل" ہی چل دیتا تھا ،اور کل صبح بھی ہمشیرہ سے ملنے کیلئے گاؤں سے پیدل نکل کھڑا ہوا۔ کوئی تین میل ہی چلا تھا کہ پرانے "گرائیں" غلام نبی سے ملاقات ہوگئی اور جب دو دیوانے یار مل بیٹھے تو روڈ کنارے ہی محفل سجا لی باتوں ہی باتوں میں وقت گزرنے کااحساس ہی نہ ہوا اور فرشتئہ اجل آپہنچا روڈ سے گزرنے والی کار کا ٹائر نکلا اور گاڑی "مست اونٹ" کی طرح "جھومتی" ان دونوں لنگوٹیوں سے آٹکرائی۔ "جمعہ خان" جو کبھی موت کے خوف سے گاڑی پہ سوار نہ ہوا تھا گاڑی ہی کی ٹکر سے داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا اور اس کا "لنگوٹیا" یار موت وحیات کی کشمکش میں ہسپتال جا پہنچا۔ موت کے خوف سے گاڑی میں سوار نہ ہونے والا "چاچا جمعہ خان" اس بات سے بے خبر رہا کہ موت تو انسان کے سائے کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے جو ایک اٹل حقیقت ہے اور جس سے فرار ممکن نہیں۔ بے شک سچ فرمایا اللہ ب العزت نےاَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ تم جہاں کہیں (بھی) ہوگے موت تمہیں (وہیں) آپکڑے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں (ہی) ہو(سورۃ النساء  آیت 78)

سیؔد منوؔر حسن کی کھری کھری باتیں

 کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں قائم اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی وسیع وعریض عمارت کے کانفرنس روم میں ہم ٹھیک وقت پر پہنچے تھے اس لئے کہ ہمیں اپنے میزبان کی "پابندئِ وقت" کی خوبی کا بخوبی علم تھا معلوم ہوا وہ ٹریفک جام کی وجہ سے 5 منٹ لیٹ ہیں اور یہ پانچ منٹ گزرتے ہی روشن پیشانی سادہ لباس اور چہرے پہ مسکراہٹ سجائے "سید منور حسن" ہمارے درمیان موجود تھے سب سے فردًا فرداً ہاتھ ملایا خیریت پوچھی تعریف وتعارف کے مرحلہ طے ہوا،ادرے میں اردو بلاگرز کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا،اردو کے علاوہ دیگر زبانوں پر کام سے حوالے سے معلومات لیں،انہیں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی زبانوں میں اردو کے علاوہ سندھی اور پشتو کے استعمال کرنے والے بھی موجود ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات لیں،اور اپنی دلچسپی کا اظہار کیا، ہلکی پھلکی گپ شپ ہوتی رہی اسی دوران "گرما گرم" چائے آ گئی اور چائے کی "چسکیوں" کے درمیان گفتگو کا موضوع کراچی کی صورتحال کی طرف آگیا ، "سیّد صاحب" نے اس حوالے سے تفصیلی اور بے لاگ گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ایم کیو ایم کو ٹارچر کر کے یا اس کو نشانہ بنا کے الیکشن لڑا گیا تو ہمیشہ ایم کیو ایم کو ووٹ پڑا کیونکہ عصبیت ایسی چیز ہے کہ اگر اسے چھیڑا جائے تو یہ ملٹی پلائی کرتی ہےایم کیو ایم نے مہاجر کارڈ کو بہت کامیابی سے کھیلا ہے کہ وہ لوگ جو ایم کیو ایم کو چھوڑ کے دوسری جانب چلے گئے تھے انہوں نے بھی یہ اعلان کیا کہ آدھے مہاجر ہونے سے پورا مہاجر ہونا بہتر ہے،یہ ایک ایسا حلقہ تھا جہاں مہاجر ووٹ بہت بڑی تعداد میں ہے اور پنجابی یا پختون ووٹ نہ ہونے کے برابر، بنیادی بات یہی ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے مہاجروں کو انڈر پریشر کرنے کی کوشش کی گئی عمران خان نے مہاجروں کو گالی دی تو جماعت اسلامی نے بھی مہاجروں کے ساتھ مس بی ہیو(Misbehave) کیا اور یہی وجہ ہے کہ 25 سے 30 پزار ووٹ صرف اس وجہ سے ایم کیو ایم کو زائد پڑے،یہ ایک تلخ حقیقت  ہے کہ یہ الیکشن سیریس ہو کے لڑا ہی نہیں گیا۔بدلتے ہوئے عالمی اور ملکی حالات میں اسلامی جماعتوں کے مستقبل، مصر بنگلہ دیش،الجزائراور خود پاکستان میں اسلامی تحریکوں کے گرد تنگ ہوتے دائروں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا جسے اب "گلوبل ویلج"کا نام دیا جاتا ہے اس گلوبل ویلج کی ساری معلومات آپ کی انگلیوں کے پوروں تلے ہیں لیکن ان معلومات کے ذرائع آپ کے کنٹرول میں نہیں یہ انفارمیشن سے زیادہ ڈس انفارمیشن کی دنیا ہےجو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپ کی نہیں بلکہ غیروں کی دنیا ہے اور داعش سے لے کر گنتے چلے جائیں تو بے شمار واقعات ایسے ہیں جو ڈس انفارمیشن کا نتیجہ ہیں ایشو یہ نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا،ایشو یہ ہے کہ اس کے باوجود ہم موجود ہیں،موت کی سزائیں سنا دی گئیں، لوگ جیلوں میں بند ہیں لیکن آج بھی پوری آب وتاب کے ساتھ تمام دائروں میں ہمارا وجود باقی ہے اتنے بڑے پیمانے پرامریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں موجود رہیں لیکن وہاں کچھ بگاڑ نہیں پائے ابھی بھی کم از کم 37 صوبے ایسے ہیں کہ جہاں شریعت نافذ ہے وہاں عدالتوں کے تمام فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں حکومت کی قائم کردہ عدالتیں بھی موجود ہیں لیکن کوئی ان کی طرف رجوع ہی نہیں کرتا کیونکہ نہ وہاں انصاف نہ فوری ملتا ہی نہ مفت بلکہ وہاں انصاف ملتا ہی نہیں ۔چھوٹے چھوٹے دائروں میں بھی اسلامی اور جہادی تحریکیں ہیں یہ سب لوگ زندہ ہیں اوران کی گردنوں پر سر قائم ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بمباری ،ڈرون حملے، بم دھماکے،گرفتاریاں ، سزائیں اور قیدوبند کے باوجود ان کے قدم آگےبڑھے ہیں ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی اور ان کو ختم کرنا ممکن نہیں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریکوں کے پاس  جوعلاج ہے وہ کرتے رہنا چاہئیے،رستے بن رہے ہیں، نکل رہے ہیں ریاست کے اعتبار سے صرف ترکی کی ایک ریاست ہے جو آپ کی پشتیبان ہے باقی تو کہیں کہیں جزوی حمایت ہےپاکستان کے اسلام پسند نوجوان موجودہ سیاسی سسٹم سے مایوس نظر آتے ہیں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیٹکس کی گیم یوتھ کا مسئلہ تہ در تہ ہے پاکستان کے باہر یورپ اور امریکہ اور مڈل ایسٹ میں پاکستان کے بہت زیادہ نوجوان جابز کیلئے گئیے ہیں لیکن ان نوجوانوں نے اپنے آپ کو اسلامی تحریکوں کے ساتھ منسلک رکھا ہے پاکستان میں بڑی تعداد جو بیرون ملک سے اسلامی تحریک سے متاثرہوئی انہوں نے وہاں سیاسی کام کے علاوہ سارے کام کئے اور صلاحیتوں کو زنگ آلود نہیں ہونے دیا،لیکن پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں آکربڑی تعداد ڈس سیٹسفائیڈ ہوئی ہے اوران کے  اس مؤقف کو رد نہیں کیا جاسکتا،یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جو یہ سمجھتی ہے کہ ہم غلط کر رہے ہیں ان کا ایک بہت بڑا گروپ جو جہاداور جہادی تحریکوں کی طرف چلا گیا اگرچہ اس سے تحریک کو نقصان پہنچ بھی رہا ہے اور ہوا بھی ہے،لیکن ان کی قدر کرنا چاہئیے اوران کوواپس دھارے میں لانے کیلئے کوششیں جاری رہنی چاہئیں،بہت اچھے حالات سننے کی نوید ملے کی تو اسلام کے نام لینے والے ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہو جائیں گے،بہت ساری چیزیں پلان کرنے کے باوجود نہیں ہو پاتیں، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اچھی پلاننگ بھی کریں لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ بہت ساری چیزیں بغیر پلان کئے بھی ہو جاتی ہیںاسلامی جمعیّت طلبہ کے غیر مؤثر ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین کے الیکشن ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں باصلاحیت لوگوں کا جمعیت کی طرف آنا کم ہوا ہے ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں کا پرائیویٹ سیکٹر میں چلے جانا بھی ہے جہاں جمعیت کا داخلہ ہی ممنوع ہے جس کی وجہ سے جمعیت کو ہی نہیں پوری تحریک کو نقصان ہوا ہے یہ بھی اسلامی تحریک کے سوتوں کو خشک کرنے کی مسلسل کوششوںکا ایک حصؔہ ہے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سیکولرازم جتنا مضبوط آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں رہا، اور آج کا سیکولرازم  کسی نظریے کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی نظریہ اور فلسفہ سرے سے ہے ہی نہیں لیکن نقصان پہنچانے کیلئے اورلوگوں کے نظریے اور ترجیحات بدلنے کیلئے اتنا بھی کافی ہے۔اس کا علاج اور حل کیا ہے اس کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سید منور حسن کا کہنا تھا کہ اس کا علاج تو یہی ہے ایک یا دو بڑی کامیابیاں ضروری ہیں اور ان میں سے ایک الیکشن میں کامیابی بھی ہے اور پاکستان میں تو الیکشن کی کامیابی تو پنرہ بیس سیٹوں کی کامیابی بھی شمار کی جاتی ہے، اور اگر ایسا ممکن ہو گیا تو امید ہے کہ حالات کی بہتری کی کوئی امید نظر آتے ہی عوام ایک بڑی تعداد میں آپ کے ساتھ ہوں گے جیسے  کچھ فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے اور کچھ بعد میں۔سوشل میڈیا پر اسلامی تحریک کے کارکنان کے نام پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریکوں کے بہت کم لوگ سوشل میڈیا پر موجود ہیں آپ لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس خلاء کو پرکیا ہے اور اب جب کہ دنیا میں حالات کے اعتبار سےان گنت پلیٹ فارم وجود میں آئے ہیں تو جن کے بارے میں معلوم نہ ہو اس کی مخالفت نہ کریں ممکن ہے کہ ہم غلط فہمی کی بنیاد پر کسی صحیح چیز کی مخالفت کر بیٹھیں اور وہ نقصان کا باعث بن جائے،جن کے بارے میں معلوم ہو ان کی سپورٹ کریں اور اس کا ساتھ دیں سید منور حسن کے ساتھ 30 منٹ کی طے شدہ ملاقات لگ بھگ ایک گھنٹہ تک جای رہی سید صاحب نے کمال محبت سے ہمیں وقت دیا اورملاقات کے اختتام پر دروازے تک ہمیں رخصت کرنے آئے ایسے لوگ پہاڑی کا وہ چراغ ہوتے ہیں جو خود جلتے اور دوسروں کو اپنی روشنی میں راستہ دکھاتے ہیں۔

اردو سے اردو سورس تک


میں نے قدم قدم چلنا شروع کیا۔ امّی، ابّا اور چاچا،ماما زبان سے نکلا،گھر اور گلی محلّے کے "بولتے لوگوں" کی باتیں میری سمجھ میں آنا شروع ہوئیں تو ارد گرد کے سبھی لوگوں کو "ہندکو" ہی بولتے پایا اور تو اور محلے کے جس "گرلز پرائمری" سکول میں مجھ لڑکے کو "پڑھ لکھ" کے "بڑا آدمی" بننے کیلئے بھیجا گیا وہاں کی زبان بھی "ہندکو" ہی تھی۔ لے دے کے پوری کلاس میں ایک "بی بی " ہی ایسی تھی جو اردو بولتی تھی اور جس کی دیکھا دیکھی ہم بھی "گلابی اردو" میں بات کرنے کی کوشش کرتے سنا تھا وہ بھی "کراچی" سے آئی تھی گزرتے وقت اور حالات نے پھر ثابت کیا کہ پاکستانی معاشرے میں رابطے کی زبان تو اردو ہی ہے کبھی کبھی میں سوچتا ہوں بغیر بولے،بغیر لکھے،بغیر سمجھے اور بغیر پڑھے انسان کتنے حقیر ہوتے اگر ان کی کوئی زبان نہ ہوتی، زبان اظہار کا ذریعہ ہے اور یہی انسانوں کی پہچان بنتی ہے اور جب بات اردو کی ہو تو یہ میری اور آپ کی پہچان بنتی ہے،مادری زبانوں کی اہمیّت اپنی جگہ لیکن چترال کی بلندیوں سے کراچی کے پانیوں اور کشمیر کی وادیوں سے گوادر کے ساحلوں تک اس ملک کی98 فیصد آبادی کا رابطے کا ذریعہ اردو ہے،جب ہم اردو کی بات کرتے ہیں تو اس پر احسان نہیں کرتے بلکہ "اردو" کا احسان ہے کہ ہم "اردو" میں لکھتے ہیں، اسے بولتے ،سمجھتے اور اس میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں۔ایسے حالات میں جب اردو بولنا باعثِ عار اور"منہ ٹیڑھا" کر کے انگلش بولنا باعثِ فخر گردانا جارہا ہے کراچی کے چند اردو بلاگرز نے جامعہ کراچی میں"اردو سوشل میڈیا سمٹ" کا انعقاد کر کے اپنے حصّے کی شمع جلانے،اپنے حصّے کا پودا لگانے کی کوشش کی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ شمع کب ایک رشن چراغ اور یہ ننھا پودا کب ایک پھل آور درخت کا روپ دھارتے ہیں۔8 مئی کو اس ایک روزہ "اردوسوشل میڈیا سمٹ" میں بحیثیت "اردو بلاگر" دیگر اردو بلاگر دوستوں ایم بلال ایم،محمد سعد،وجدان عالم،غلام اصغر ساجد،مرزاغلام عباس اورمہتاب عزیز کے ساتھ شمولیّت کا دعوت نامہ ملا تو تو ہم بھی "بچپن کی ناکام محبت" کو دل میں بسائے کراچی کیلئے عازم سفر ہوئیے جہازکے ٹائروں نے رن وے کو چھوا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بج اٹھی پروگرام کے روحِ رواں برادرِ محترم کاشف نصیر مخاطب تھے"ہم سیکورٹی کے مراحل سے گزر رہے ہیں اگر آپ کو تھوڑے انتظآر کی زحمت برداشت کرنا پڑے تو ہم آپ سے پیشگی معذرت خواہ ہیں" جلد ہی جامعہ کراچی کے مہمان خانے میں پہلے سے موجود پنجاب بھر سے آئے ہوئے اردو بلاگرز کے درمیان موجود تھا،دو احباب کے علاوہ سبھی چہرے میرے لئے ناآشنا تھے لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے سے آشنا ہوں یوں تپاک سے  یوں ملے کہ اپنی محبتوں کا اسیر کرلیا۔جامعہ کراچی کا ایچ ای جے آڈیٹوریم پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی کھچا کھچ بھر چکا تھا لوگ کرسیوں کے علاوہ سیڑھیوں پہ بھی بیٹھے تھے جو ان کی اردو سے محبت کا ثبوت تھا،مقررین کی تقریریں ہوں،منتظمین کے انتظامات ہوں یا مذاکرے کی روداد،اس کے متعلق لکھنے کیلئے تو الگ سے ایک بلاگ پوسٹ کی ضرورت ہے۔یہ بحث ایک طرف کہ"اردو سوشل میڈیا سمٹ" میں بلاگنگ یا بلاگرز کیلئے کیا کیا گیا یہ بات بہرحال قابلِ تحسین اور منتظمین قابلِ مبارکباد ہیں کہ یہ سب اس زبان کے فروغ کیلئے تھا کہ جس میں ہم لکھتے، پڑھتے ،بولتے، سوچتے اور خواب دیکھتے ہیں،اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا کہ یہ سمٹ اردو کی ترقی میں کوئی کردار ادا کر سکا یا کہ نہیں۔ اس کو منظم کرنے والے اور اس میں شریک ہونے والے ایک طرف اس کی کامیابی کے شادیانے بجا رہے ہیں تو دوسری طرف بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے پیٹ میں اٹھنے والے "مروڑوں" کیلئے کوئی دوا کارگر نہیں ہو رہی۔مجھ جیسے "ہندکو سپیکنگ" کیلئے "اردو" سے "اردوسورس" تک کا یہ سفر ایک منفرد تجربہ تھا جہاں اور کچھ ملا یا نہیں سمٹ میں شریک شرکاء کی محبتیں سمیٹنے کاذریعہ ضرور ثابت ہوا۔شکریہ کراچی، شکریہ اردو سورس، شکریہ اردو سوشل میڈیا سمٹمخالفت برائے مخالفت اور اصلی نقلی کے چکروں سے نکل کر اردو کی ترویج وترقی کیلئے اٹھنے والے قدم قابلَ تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ غلطیوں سے سبق سیکھیں جو کمی رہ گئی اسے دور کرنے کی کوشش کریں امید ہے اگلے برس ایک بہتر تنظیم اور مؤثر پروگرام کے ساتھ اردو سوشل میڈیا 2016 کا انعقاد جذبون کو مزید مہمیز کا باعث بنے گا

مزدوروں کادن

ایک عجیب رواج چل پڑا ہے بس سال میں ایک دن منا لو اور پھر سب بھول جاؤ کبھی ماؤں کا دن تو کبھی استاد کادن کبھی مزدوروں کا دن تو کبھی محبت اور پیار کا دن اور اغیار کی دیکھا دیکھی ہم بھی اب بس "سن" ہی مناتے ہیں آج پاکستان کے طول وعرض میں بھی مزدوروں کا دن منانے کیلئے قومی تعطیل ہے لیکن مزدور بیچارا پھر بھی اپنی دیہاڑی تلاش کرنے کو چوکوں اور چوراہوں میں کھڑا ہے چوک میں کھڑے مزدور سے جب میں نے سوال کیا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج ملک میں تمہارے نام پر چھٹی ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا "صاحب لیکن میں چھٹی نہیں کر سکتا اس لئے کہ اگر چھٹی کروں گا تو شاکو میرے بچے بھوکے ہوں گے مزدوری اس لئے کرتا ہوں کہ دو وقت کی روٹی روزیکا بندوبست ہو جائے مجھے کیا پاکستان چھٹی کرے یا پوری دنیا مجھے تو مزدوری کرنا ہے" 
پاکستان کا مزدور اپنے حقوق سے کس قدر دُور ہےاس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عام محنت کرنے والا شخص، دیہاڑی کرنے والا اورمِل ورکر غریب، کمرتوڑ اورمنہ زور مہنگائی کے ہاتھوں مسائل کے گرداب میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ مہنگائی کے عفریت نے اکثریتی آبادی کو دووقت کی روٹی سے بھی محروم کردیا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 300 سے 400 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور افراطِ زرمیں اضافے اور بجلی کی عدم دسیتابی نے پاملک بھر کے لاکھوں مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے ان حالات میں سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ایک دن منا لینے سے کیا ہم کسی کا حق ادا کر سکتے ہیں؟نبی مہربان ﷺ نے تو اپنے ہاتھ سے مزدوری کرنے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا اور یہ حکم ارشاد فرمایا کہ مزدورکی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکرو۔ مزدورکی اُجرت کم ادا کرنے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ روز ِقیامت مَیں اس شخص کے خلاف ہوںگا جو مزدور سے پورا کام لے مگر اس کو اُجرت پوری نہ دے۔آپ ﷺ نے ایک بدو(دیہاتی) سے ہاتھ ملایا تو اس کے ہاتھوں کی سختی سے متعلق اس سے استفسار کیا اس شخص نے جواب دیا کہ رزقِ حلال کمانے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے پتھرکی ایک کان میں کام کرتا ہوں جس کی وجہ سے میرے ہاتھ سخت ہو گئے ہیں سرکارِ دوجہاںﷺ نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ جو ہاتھ رزقِ حلال کمانے کیلئے پتھر کوٹتے ہوئے سخت ہو جائیں وہ اس قابل ہیں کہ ان "نبوّت" ان کا بوسہ لے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محض ایک دن منانے کی بجائے ہم آگے بڑھیں اور معاشرے میں مزدور کو اعلٰی مقام دیں کہ جس کی محنت کی بدولت نظامِ زندگی رواں داں ہے

نیکی


سوشل میڈیا پراوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا بےمقصد شاعری،بے تحاشا گروپس اور پیج جہاں وقت کے ضیاع کاباعث ہیں تو وہیں انسانی "نامہ اعمال" میں کچھ فضولیات کے اندراج کا باعث بھی لیکن اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو آج کے اس دور میں بڑھتے ہوئیے اس غیر روایتی میڈیا کو اپنی اور دوسروں کی آخرت سنوارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں برادرِ محترم محمد سلیم کا نام اس فہرست میں بہت اوپر لکھا نظر آتا ہے۔ تو بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی، لوگوں کی دیکھا دیکھی چند دن پہلے میں نے بھی ایک سٹیٹس ڈال دیا لائکس اور کمنٹس کی لائن لگنا شروع ہوئی ہی تھی کہ ایک دوست کی طرف سے ان باکس پیغام موصول ہوا واہ جی واہ۔ "گناہ" کا ثواب کماکر فیس بک پر اسکے ہزاروں کی تعداد میں گواہ بھی بنالئےاب آپ کے اس "گناہ" والے اسٹیٹس کی وجہ سے جتنے لوگ وہ "گناہ" کریں گے۔۔۔۔ان کے "ثواب" میں سے آپ کا بھی حصہ۔۔۔۔۔۔یعنی "صدقہ جاریہ" ہو گا۔نہ کریں یار۔ کرنا ہی ہے تو چھپ چھپاکر کرلیںمیں نے ان کا پیغام پڑھا اوراپنا سٹیٹس ڈیلیٹ کر ڈالا لیکن جو پڑھ چکے سو پڑھ چکے گناہ کا گواہ جتنوں نے بننا تھا وہ تو بن چکے لیکن اس شخص کیلئے دل سے ڈھیروں دعائیں نکلتی ہیں جس نے میری غلطی کی نشاندہی کی اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارک یاد آرہی ہے کہ مومن، مومن کا آئینہ ہے اسے اس میں عیب نظرآئے تو اصلاح کرے، میرے اس بھائی نے میری اصلاح کرکے اپنے مومن ہونے کا حق ادا کیا اس کی نیکی قیامت کے روز یقیناً اس کیلئے باعثِ اجر وثواب ہوگی لیکن میں بھی اس کی نیکی کو ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ اس کی یہ نیکی میرے نزدیک بہت بڑی ہے کیوں کہ نبی مہربان ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایاکہ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ‘‘ وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ أَخِیْکَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔‘‘ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ إِنبَائِ أَخِیْکَ۔)) 
’’نیکی میں سے کسی چیز کو بھی حقیر نہ جانو۔ چاہے تم اپنے (مسلمان) بھائی کو ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہی ملو۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے: ’’تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرا دینا بھی تمہارے لیے نیکی ہے۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’ہر بھلائی ، خیر کا کام نیکی ہے اور خیر کے کام میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو ہشاش بشاش چہرے سے ملو۔ اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے ( کنویں والے)ڈول میں سے اپنے بھائی کے برتن میں بھی کچھ ڈال دو۔‘‘ (یوں تمہارے مسلمان بھائی کے دل میں بھی خوشی پیدا ہو گی۔)

سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو


میں نے کبھی اسے دیکھا نہیں،میں کبھی اس سے ملا نہیں، لیکن یقیناً وہ ایسا تھا کہ اس سے ملنے، اسے دیکھنے، اس سے باتیں کرنے اور اس کی باتیں سننے کو جی کرے۔ میرا اس سے پہلا تعارف تب ہوا جب مجھے سالگرہ کے موقع پراس کی طرف سے عربی میں لکھا دعاؤں بھرا ایک خوبصورت پیغام موصول ہوا۔

پھر وقتاً فوقتاً ان سے بات چیت ہوتی رہتی۔ سینے میں امّت کادردلئے یہ نوجوان "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" کی عملی تصویر تھا،اس کا ہر انباکس میسج اس کی گواہی دیتا خوشی کا لمحہ ہو یا درد کی داستاں اس کی طرف سے اس کا پیغام امت کا درد لئے ہوتاعید مبارک کے ایک پیغام میں لکھاالسلام علیکمجنابِ محترم ڈاکٹرمحمد اسلم فہیم صاحبآپ اورآپ کےاہلِ خانہ کو ہم سب کی جانب سےعیدِ قرباں کی خوشیاں مبارک ہوں ۔۔۔۔۔جب بھی ایسے مسرت اور خوشی کے لمحات آئیں تو آپ مکمل خیر و عافیت سے ہوں ۔۔۔۔اپنی نیک تمناؤں میں مجھے اور میرے اہلِ خانہ اور پوری امت مسلمہ کو ضرور یاد رکھیے گاجزاک اللہ
آپ کا بھائیعطاءسراجی
 مصر کے مسلمانوں پر "میدان الرابعہ" میں ٹوٹنے والی قیامت کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا تحریک ہو یا بنگلہ دیش کے نام نہاد عدالتی کمیشن کی جانب سے پاکستان پسندوں کو سنائی جانے والی پھانسیوں کے خلاف ردِّ عمل کشمیریوں کی تحریکِ آزادی ہو یا غزہ کے مظلوم مسلمانوں پرڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف اٹھنے والی کوئی تحریک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نوجوان نے "قلم" کا حق ادا کیا۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو اس نے  بنگلہ دیش میں قمرالزمان کی پھانسی کے خلاف کیسے خوبصورت الفاظ میں اپنا دردِ دل بیان کیا "یہ قانون فطرت ہے کہ اس دنیا میں جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک دن ضرور مرتا ہے،اگر دنیا کی زندگی کا انجام موت ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ایک لمحہ کیلئے زندہ رہیں یا ایک صدی تک زندہ رہیں۔ مرنے والی کی قبر سے دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ تم زندہ رہے تو کس شان سے زندہ رہے اور مرے تو کس آن سے مرے"عطاء سراجی خود بھی ایسا ہی تھا زندہ رہا تو پورے قد سے کھڑا رہا اور ہسپتال میں جب وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا تو کتنے ہی ہاتھ تھے جو اس کی سلامتی کیلئے ربِّ ذوالجلال کے حضور دست بہ دعا تھے اور آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو اس حال میں کہ ہزاروں نہیں لاکھوں ہاتھ اس کی مغفرت کیلئے اٹھے ہوئے ہیں سلام تم پر افق کے اس پار جانے والو

سوشل میڈیا اور بندر کا استرا

لوگوں کے"رنگ برنگے"لشکارے مارتے "ٹچ سکرین موبائل "دیکھ دیکھ کے اپنا بھی جی للچاتا کہ ہم بھی ایسا ہی ایک موبائل خرید لیں لیکن مہنگائی کےمنہ زور گھوڑے کے سامنے ایک نہ چلتی اور نتیجتاً اپنے 3310 کے ساتھ یاری نبھانی پڑتی
لیکن جب میرے پرانے نوکیا3310 نے انڈرائیڈ ایپلی کیشن کو قبول کیا تو لوگوں کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی اس پر "بی مانو" کے ساتھ ساتھ فیس بک، سکائپ،ٹویٹر اور وائبر سمیت بہت کچھ "الم غلم" انسٹال کر لیا حالانکہ نہ تو ہم نے "وائبر" پہ آکے "وائبریشن" لگوانی تھی نہ ہی"بی مانو" کے ساتھ "آنکھ مٹکا" کرنے کا وقت،ہاں البتہ فیس بک پہ آنا اور "ٹویٹر" پہ "ٹویٹ ٹویٹ" کھیلنے کے "چسکے" سے جان چھڑانا ممکن نہ تھا،اینڈرائیڈ کی رنگ ونور میں چمکتی لش پش کرتی ایپس نے بالآخر پنگا لینے پر مجبور کر ہی دیا اور قرعہ فال Viber کے نام نکلا، ہم نے جھٹ سے اکاؤنٹ بنایا اور دوستوں کو بتانے کیلئے کہ ہم بھی Android موبائل رکھتے ہیں جھٹ سے السلام علیکم لکھا اور سب کو Send کر دیا اس خیال سے کہ سب لوگوں تک میراسلام پہنچے گا اور ہر کوئی یہ جان لے گا کہ ہم بھی Viber پہ آگئے ہیں لیکن "وائبر جی" نے ہمارے سلام کو گروپ کی شکل دے ڈالی اور جواب میں دوستوں کے وعلیکم السلام کے بعد کچھ "رنگین مزاج" دوستوں کے گرافکس اور پیغامات کے ایک نہ تھمنے والے سلسلے نے ہمیں حقیقت میں "وائبریشن" پہ لگا دیا صبح سویرے بیدار ہوتے ہی میرے آفیشل نمبر پہ ایک محترم ہستی کا پیغام میرا منتظر تھا براہِ کرم مجھے اس گروپ سے نکال باہر کرنے کی کوئی سبیل کیجئے ورنہ یہاں تومیسجز کا ایک طوفانِ بدتمیزی آیا ہوا ہے اور مجھے مجبوراً اس محترم ہستی کو گروپ سے نکالنے کی بجائے اس گروپ کو ہی ڈیلیٹ کرنے کیلئے "انکل گوگل" سے راہنمائی لینی پڑی،گروپ تو ڈیلیٹ ہو گیا لیکن ایک سبق مل گیا کہ بغیر سوچے سمجھے "بندروں" کے ہاتھ میں "استرا"تھما دینے سے سب کی ٹنڈ تو بنتی ہی ہے لیکن ساتھ میں اپنی درگت بھی بنتے دیر نہیں لگتی

ضابطہ


بچپن میں چینی کیلئے لمبی لائن میں کھڑے رہنے کا تجربہ ہوا تو لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی سردیوں میں ایل پی جی سلنڈر کی دستیابی نایاب ہوگئی سلنڈر کا حصول جان جوکھوں کا کام تھااکثر لوگ رات کے وقت ہی ایجنسی کے سامنے سلنڈروں کو زنجیروں کے ساتھ باندھ کے لائن بنا جاتے ،کبھی لوگوں کو آٹے کیلئے لمبی لائن بنائے کھڑے دیکھا تو کبھی بجلی اور سوئی گیس کے بل جمع کروانے کیلئے لائن میں لگے سارا دن گزر جاتا، وقت گزرتا گیا اور پھر سی این جی کی لمبی لائن کا آغاز ہو ا تو یہاں بھی ڈرائیور رات کو ہی گاڑیاں لائن میں کھڑی کر جاتے ، لیکن جب سی این جی تین ماہ کیلئے لوڈشیڈنگ کے نرغے میں آئی تو خیال تھا کہ اب لائنوں سے اس قوم کی جان چھوٹ جائے گی لیکن گزشتہ چند روز سے لوگوں کو پٹرول کیلئے لائن میں لگے دیکھ بلکہ خود اس تجربے سے گزرتے ہوئے ماضی کی یادیں ایک بار پھر سے تازہ ہو گئیں کہ جب صبح سویرے نماز کے وقت ہم بھی ایل پی جی سلنڈر لئے لائن میں لگ جاتے تھے۔اس وقت ذہن میں ایک خیال آتا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی شخص ہماری باری رکھے رکھے اور جب ہمارا نمبرآئے تو ہم جھٹ سے آکے  اپنے حصّے کی چینی یا سلنڈر حاصل کر لیں ۔اس خواب کی تعبیر آج کے اخبار میں ایک خبر نظر سے گزرنے کے بعد حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی ہے کہ جنوبی امریکہ کا ایک ملک وینزویلا ان دنوں شدید معاشی بحران کا شکار ہے جہاں چینی،چاول،اور دیگر اشیاءِ خوردونوش کے حصول کیلئے صبح سویرے سے ہی لوگ قطار بنا کر کھڑے ہوجاتے ہیں ، اس اثناء میں کچھ پیشہ ور لوگوں نے لائنوں  میں کھڑا ہونے کو اپنی آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہے وہ صبح سویرے لائن میں لگ جاتے ہیں اور امیر لوگوں کیلئے سامان کی خریداری کرکے اپنی دیہاڑی کھری کرلیتے ہیں، اشیاءِ ضروریہ کی قلّت نے جہاں لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے وہیں یہ بحران کئی ایک گھرانوں کے پیٹ کا ایندھن فراہم کرنے کا سامان بھی کئے ہوئے ہے۔ہزاروں میل کی مسافت پر بسنے والے جنوبی امریکہ کی اس ریاست کے باشندے ہوں یا اسلام کی بنیاد پر بننے والی مملکتِ خدادا پاکستان کے باسی ربِّ ذوالجلال نے اس دھرتی کے سینے پر بسنے والے ہر فرد کیلئے ایک ضابطہ طے کر دیا وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی ﴿۱۲۴﴾ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا ﴿۱۲۵﴾ قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی ﴿۱۲۶﴾ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ اَسۡرَفَ وَ لَمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَ اَبۡقٰی ﴿۱۲۷﴾
اور جو میرے ذکر(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کیلئے ہم دنیا کی زندگی کو تنگ کر دیں گے،اور قیامت کے روز اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے،وہ کہے گا” پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔اس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں )بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے۔دنیا کی زندگی تنگ ہونے کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ ان کو مالی مشکلات ہوں بلکہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ پیسے جیب میں ہوں اور اشیاءِ ضروریہ کیلئے مارے مارے پھرتے ہوں۔ پیسے ہاتھوں میں اٹھائے پٹرول ،گیس، بجلی، آٹے اور چینی کیلئے ترستے لوگوں کیلئے دنیا کی یہی زندگی قرآن کی زبان میں "مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا" ہے۔

میرا قلم لہو لہو میری زباں لہو لہو


43 برس بعد 16دسمبر نے ایک بار پھر سے لہو لہودسمبر کی یاد تازہ کر دی،پشاورمیں آرمی پبلک سکول میں132بچوں سمیت 142 افراد کی شہادت سےدل ودماغ قابو میں نہیں ملک کے طول وعرض میں صفِ ماتم بچھی ہےہر فرد رنجیدہ ہے، اور تو اور ایسے حادثات میں زخمیوں اور شہیدوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دینے والے رضاکار بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں، آج صبح بچوں کو سکول چھوڑنے جاتے ہوئے میں نے معصوم بچوں کے چہروں  کو دیکھا جو آج خلافِ معمول سر جھکائے شرارتوں کی بجائے سنجیدہ سنجیدہ اپنے مادرِ علمی کی جانب رواں دواں تھے،کل صبح آرمی سکول پشاور کے وہ طلبہ بھی ایسے ہی یونیفارم پہنے اپنے اپنے سکولوں کی طرف رواں دواں ہوں گے، لیکن گھروں سے سکول روانہ کرتے ہوئے والدین کو معلوم نہ تھا کہ وہ انہیں آخری بار پیار کر رہے ہیں۔ دہشت گردی نے میرے ملک کو لہو لہان کر دیا ہے مرنے والے معصوم اپنے پیاروں کو غم واندوہ میں ڈوبا چھوڑ کے منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں تو کتنے ہی زخموں سے چور،حکومت کی طرف سے زخمیوں اور شہداء کیلئے معاوضوں کا اعلان کیا جاچکا لیکن دلوں کے زخموں پہ مرحم کون رکھے گا، ہر سال سقوطِ ڈھاکہ کے زخم کے ساتھ ایک اورزخم کا اضافہ ہوگیا،ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی ہیںبأَيِّ ذَنبٍ قتِلَت (تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا)۔ ان معصوموں کی کہانیوں سے اخبارات بھرے پڑے ہیں کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا تو کوئی انجینئر، کوئی وکیل تو کوئی تاجر۔بہت سے ایسے تھےجو بہنوں کے اکلوتے بھائی۔ اور کئی ایک تو والدین کی واحد اولاد،ان والدین پر ٹوٹی قیامت کی ترجمانی کسی صورت ممکن نہیں۔ سبزکوٹ اور سویٹر پہنے کشاں کشاں سکول جانے والے ننھے منے فرشتہ سیرت یہ بچے سفید کفن اوڑھے لہو سے غسل کرکے اپنے ابدی سفر کو روانہ ہو گئے کئی ایک کے جنازے پڑھے جاچکے تو کئی ایک کیلئے تیاری آخری مراحل میں ہےقبروں پر پھول چڑھا کر فاتحہ پڑھ کرسبھی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے،دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنےکےعزم کا اعادہ کیا جائے گا،شہداء کیلئے دعائے مغفرت کی جائے گی اور "آمدن، نشستنِ ،خوردن، برخواستن" کے مصداق اجلاس ختم ہو جائیں گے۔ اور پھر زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ یہ حادثہ دیگر حادثوں کی طرح وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جائے گا،ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان ہوا ہے،لیکن کیا ایسے واقعات پر صرف سوگ منا لینا کافی ہے؟؟؟؟ کیا ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا ؟؟؟؟؟ اگر حملہ آوروں کا پتہ چلا لیا گیا وہ کون تھے کہاں سے آئے تھے، تو کیا ان تک پہنچنے اور بے نقاب کرنے کی کوئی سعی بار آور ہوگی ؟؟؟؟ یا پھر یوں ہی میری ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گیاجاڑ رستے،عجیب منظر،ویران گلیاں ، یہ بند بازار
کہاں کی خوشیاں کہاں کی محفل،
شہر تو میرا لہو لہو ہے۔
وہ روتی مائیں،
بےہوش بہنیں لپٹ کے لاشوں سے کہہ رہی ہیں۔
اے پیارے بھیا ،
سفید کُرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟

Pages