گھریلو باغبانی

آیئے کچن گارڈننگ شروع تو کریں !


اکثر احباب پوچھتے ہیں کہ ہم بھی کچن گارڈننگ شروع کرنا چاہتے ہیں مگر سمجھ ہی نہیں آتی کیا کریں ، کچھ دوست تو کہیں نہ کہیں سے مٹی گملے اکٹھے کرتے ہیں اور کام شروع کر دیتے ہیں مگر کچھ اگتا ہی نہیں ، دلبرداشتہ ہوکر چھوڑ دیتے ہیں ،ایک بہن نے شکوہ کیا آپ صرف لکھ سکتے ہیں ، کبھی کچھ اگایا بھی ہے کہ نہیں ؟ خوشی ہوتی ہے کہ الحمد اللہ میرے چھوٹے سے کام کی وجہ سے پاکستان کے عام لوگوں میں کچن گارڈننگ کا شعور پیدا ہورہا ہے ،میں خود ابتدا میں ایسے ہی حالات کا شکار رہا ہوں ،سو اپنے تجربات کی روشنی میں کچھ مفید مشورے دینا چاہتا ہوں کہ آپ کچن گارڈننگ شروع تو کریں۔ویسے میں خود ابھی تک محترم طارق تنویر کے مشوروں کا محتاج ہوں ،انہوں نے قدم قدم پر راہنمائی فرمائی جس کی وجہ سے یہ سب کچھ لکھنے کا حوصلہ ہو سکا۔

اکثر دوست ابتدا ہی میں سارا زور لگا لیتے ہیں ،اچھا خاصا خرچہ کر لیتے ہیں ،گھر میں اگر لان ہے تو اس کو ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا ہے ،خوبصورتی ختم اوربیگم صاحبہ کی جھڑکیاں الگ سے سننے کو ملتی ہیں اور پھر جب کوئی چیز اگتی بھی نہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔لان کی جگہ نہیں تو سارے گھر کو گملوں سے بھر دیا جاتا ہے ،چھتوں ،بالکونیوں تک گملے سجا دیئے جاتے ہیں مگر حال ویسا کا ویسا ہی رہتا ہے ۔میری اپنی رائے ہے کہ کچن گارٖڈننگ کی ابتدا بہت معمولی سے کام سے کرنی چاہیئے اور اس کو بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جائے تاکہ آپ اکتائیں بھی ناں اور آپ کا دل بھی لگا رہے ۔ پودے لگانا بذات خود ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو دل کوخوشیوں سے بھر دیتا ہے اور ڈیپریشن کا آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ لکھا تھا کہ چند سال پہلے تک سبزی فروش سبز مرچ،دھنیا،سلاد کے پتے اور سبز پیاز فری دے دیتے تھے جبکہ اب علیحدہ سے اس کے لئے کم از کم سو روپیہ خرچ ہو جاتا ہے ،اگر یہ سب آپ کو اپنے گھر میں فری ملے تو آپ معقول بچت کر سکتے ہیں۔ آپ ایسا کریں صرف پانچ ساتھ گملے لے لیں ،صحن نہیں تو چھت پر رکھ لیں ،گملے نہیں تو پرانے لکڑی یا پلاسٹک کریٹ لے لیں، مٹی اور قدرتی کھاد مکس کر کے ان کو بھر دیں، مٹی آپ کو وہ چاہیئے جو نہری پانی کے کھال کی ہوتی ہے اس پنجابی میں بھل بھی کہتے ہیں ،نہ ملے تو کسی قریبی نرسری سے لے لیں،قدرتی کھاد کی تیاری کا طریقہ بھی میں اسی بلاگ میں لکھ چکا ہوں ورنہ نرسریوں سے معمولی قیمت پر تیار قدری کھاد مل جاتی ہے ، بس تین حصہ مٹی اور ایک حصہ کھاد ملا لیں،آپ کے گملے تیار ہیں۔اب ایسا کریں وہی گھر والا خشک دنیا ایک دو گملوں میں چٹکی چٹکی بکھیر دیں اور اس کے اوپر بہت ہی ہلکی سے مٹی کی تہہ بکھیر دیں، کسی شاور سے ہلکہ ہلکہ پانی دے دیں،بازار سے پودینہ کی جڑیں مل جاتی ہیں ایک دو گملوں میں وہ لگا لیں،ایک آدھ گملے میں لہسن کے جوئے بیج دیں ،کسی نرسری سے ایک دو چائنا لیموں کے پودے لے آئیں ،دو گملوں میں لگا دیں ،پچاس سے بھی کم قیمت میں ایک پودا مل جاتا ہے جلدہی اس میں لیموں لگنے شروع ہوجاتے ہیں، اگر مل سکے تو کسی گملہ میں لیمن گراس بھی لگا لیں ۔لیجئے آپ کا چھوٹا سا کچن گارڈن تیار ہے ،اللہ پر بھروسہ رکھیںاور بقول میاں محمد بخش رحمۃاللہ علیہمالی دا کم پانی دینا تے بھر بھر مشکاں پاوےمالک دا کم پھل پھول لانا ، لاوے یا نا لاوےایک دو ہفتوں میں ان سب گملوں میں ہریالی بھی آجائے گی،آپ کا دل بھی خوش ہوگااور جب بیگم صاحب تازہ دھنیا سے سالن پکائیں گی تو ضرور آپ کی کارکرگی کو سراہیں گی اور اس کا اگلہ فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اب وہ باقاعدگی سے ان کو پانی بھی دیں گی اور خیال بھی رکھیں گی۔آپ ان گملوں میں میتھی،سلاد، دھنیا، پودینہ، سبز مرچ،پالک،لہسن ا گاسکتے ہیں،محترم طارق طفیل جیسے بہت سے دوستوں نے چھتوں پر اپنا شوق پورا کیا ہوا ہے۔سردیوں اور گرمیوں کی سبزیوں کی کاشت کے بارے میں بھی آپ مضامین اس بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

قادر بخش فارمز ، جہان رنگ و بو

فیصل آباد شہر سے شیخوپورہ روڈ پر جاتے ہوئے گٹ والا پولیس پوسٹ کراس کرتے ہوئے آدھ کلومیٹر مزید آگے جائیں تو آپ کو بائیں طرف ایک قادر بخش فارمز کا بورڈ لگا ہوا نظر آتا ہے، مین روڈ سے نظر آنے والے اس بورڈ کی سمت چلیں تو چند گز کے فاصلہ پر آپ کو ایک نئی دنیا آباد نظر آئے گی۔معروف کچن گارڈن ایکسپرٹ،باغبان اور کے ماہر طارق تنویر نے یہاں ایک علیحدہ ہی دنیا بسا رکھی ہے،دنیا کے جہاں کے انتہائی قیمتی اور نایاب پودے اور ایسا پر سکون اور رومانٹک ماحول جو انسان کو اپنے ہی سحر میں گرفتار کرلیتا ہے اور سونے پر سہاگہ طارق تنویر اور ان کے والد محترم جناب چوہدری محمد اسلم کی آنے والوں کے ساتھ محبت اور تواضع ،طارق تنویر سے میرا تعارف فیس بک پر بنے پودوں اور کچن گارڈننگ کے پیجز کے زریعے ہی ہوا مگر دنوں کے اندر اس انسان کی محبت کے سحر نے ایسا جکڑ لیا ہے کہ بیان سے باہر ہے،۔ سنا ایک بڑے شاعر نے کسی زمانہ میں شہر میں ہونے والے ایک مشاعرہ کے موقع پر اس شہر کو لالچ اور لٹھے کا شہر قرار دیا تھا مگر طارق کی بسائی ہوئی اس دنیا میں آپ داخل ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی شہر امن و محبت میں داخل ہو گئے ہیں جہاں محبتوں ،خوبصورتیوں اور فطرت کے حسین نظاروں کے سوا کچھ نہیں ۔طارق تنویر کا سب سے بڑا کارنامہ لونگ والزہے جو انہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے متعارف کروائیں ہیں اور لا ہور ، فیصل آباد ، پشاور اور کراچی میں ضلعی حکومتوں اور سرکاری اداروں کے توسط سے آویزاں ہیں۔دنیا بھر میں فصلوں پر کیمیائی کھادوں اور زہروں کے بے پناہ استعمال نے عام شہریوں کو یہ سوچنے پرمجبور کر دیا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو ان زہروں کے اثرات سے پوری دنیا انتہائی مہلک امراض میں مبتلا ہو جائے گی اور اس پیدا ہونے والی صورت حال سے نبردآزماہونا مشکل ہوجائے گا، ایسے میں دنیا بھر میں چند درمندوں نے دنیا بھر میں عام شہریوں کو ان زہریلے اثرات کے بارے میں آگاہی دینے اور انہیں ان کیمیکل سے پاک اور اپنی گھریلوضرورت کی سبزیاں گھروں میں اگانے کی ترغیب دینے کے لئے اپنی کوششیں شروع کر دیں ہیں۔ پاکستان میں بھی اس سلسلہ میں آگاہی مہم چلائی جارہی ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ فیصل آباد کے اسی باہمت نوجوان طارق تنویر کا ہے جو تن تنہا سالہا سال سے اپنے فارم قادر بخش فارمز پر کچن گارڈننگ کے حوالہ سے آگاہی مہم چلا رہے ہیں اور جونوجوان طلبا اور طالبات اور گھریلو خواتین کو تربیتی کلاسز دے رہے ہیں اور خود عملی طور پر کچن گارڈننگ کر رہے ہیں۔       طارق تنویرسے ملاقاتوں کا سلسلہ چلا تو انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں لوگوں کو یہ آگاہی دینا چاہتا ہوں کہ گھر میں جتنی بھی جگہ میسر ہے وہاں گارڈن کی بجائے کچن گارڈن قائم کریں اور بازار سے غیر معیاری اور مہنگی سبزیاں خریدنے کی بجائے انہیں اپنے گھر پر اگائیں اور استعمال کریں ، خود ان کے قادر بخش فارمز پر وہ اپنی سبزیاں خود کاشت کرتے ہیں جن پر کسی قسم کا سپرے اور کھاد استعمال نہیں کی جاتی ۔اسی سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لئے آج کل محترم ڈاکٹر خالد محمود شوق ، محترم طارق طفیل ان کی ٹیم کا حصہ ہیں جبکہ بہت سے دوسرے دوست ان کے ساتھ کام کرنا اپنے لئے فخر اور اعزاز سمجھتے ہیں ،خود میرے لئے بھی باعث اعزاز ہے کہ وہ مجھے بھی اپنی ٹیم کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔طارق تنویر کا کہنا ہے کہ عام طور پر حکومت اور مخیر حضرات علاج معالجے کے لیے اسپتال اور ڈسپینسریاں بنواتے ہیں لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہ رقم صحت مند سرگرمیوں پر خرچ کی جائے تو سپتال جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ کچن گارڈننگ ایک صحت مند سرگرمی ہے، سرکاری سطح پر اس کام کو پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اگرگھر گھر میں کچن گارڈننگ ہوگا تو سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں گر جائیں گی اور معاشرہ صحت مند رہے گا۔ گھر میں سبزیاں لگانے سے بچوں کی بھی تربیت ہوتی ہیں۔جب وہ اپنے بڑوں کو گوڈی کرتے ، بیج بوتے اور سبزیاں توڑتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی ان کاموں میں جْٹ جاتے ہیں۔ انھیں اس کام میں مزا آنے لگتا ہے پھر رفتہ رفتہ انھیں پودوں اور درختوں سے پیار ہوجاتا ہے اور وہ اْن کی دل و جان سے حفاظت کرتے ہیں۔ پاکستان میں درختوں اور جنگلات کی ویسے بھی شدید کمی ہے،جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ کچن گارڈننگ سے ہم ایک ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جنہیں قدرت سے پیار ہوگا اور یہی نسل ہمارے ملک کو ہرا بھرا اور صحت مندبنائے گی اورسبز رنگ صرف جھنڈے تک محدود نہیں رہے گابلکہ یہ ملک کے طول و عرض میں پھیل کر قدرت کے ساتھ انسان کا وہ رشتہ جوڑے گا، جسے انسان بھْلابیٹھا ہے۔ اس ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ فیصل آباد سے آغاز کر کے ملک بھر سے سکولوں کے بچوں کو قادر بخش فارمز مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ فطرت کو زیادہ قریب سے دیکھ سکیں ،اس کے لئے ا س ٹیم نے ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشنکے نام سے ایک ادارہ کی داغ بیل بھی ڈال دی ہے جس کے تحت سال میں ورلڈ کچن گارڈنگ ڈے ، مشروم ڈے ، سالانہ عید ملن اور دسمبر میں ہماری دیہی ثقافت اور کھانوں کو رواج دینے کے لئے ایک بڑا فیملی اکٹھ بھی منعقد کروایا جائے گا۔مزید معلومات کے اس پروگرام کے کوارڈینیٹر طارق طفیل سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے

آیئے گل کلغہ سے اپنے گھر کو سجائیں

گل کلغہ کو موسم سرما کی آمد سے قبل موسمی پھول کے طور پر باغات اور گھریلو باغیچوں میں لگایا جاتا ہے اسے انگریزی میںCelosia یا Cockc'somb بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی پنیری اگست سے ستمبر کے دوران منتقل کی جاتی ہے ۔اس لئے جلدی کیجئے اور اس کی پنیری لگا لیجئے۔اس پر مرغ کی کلغی کی طرح کے زرد، نارنجی اور گلابی رنگ کے نرم و ملائم اور مخمل جیسے خوبصورت پھول آتے ہیں جو موسم خزاں کے اختتام تک اپنا جوبن دکھاتے رہتے ہیں۔ گل کلغہ ایک سدا بہار پودا ہے لیکن اسے ہمیشہ موسمی پھول کے طور پر ہی لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک سخت جان اور نہایت تیزی سے بڑھنے اور پھلنے پھولنے والا پودا ہے۔ اس کے پودوں کو عام طور پر کیاریوں میں لگایا جاتا ہے، لیکن گھریلو پودے کے طور پر گملوں میں لگا یا جا سکتا ہے ۔                          گل کلغہ کی پنیری کو کیاریوں اور گملوں وغیرہ میں منتقل کرنے کے بعد اچھی طرح مناسب اور درمیانی مقدار میں پانی لگاتے رہنا چاہئے تاہم پھول آجانے کے بعد پانی کی فراہمی نسبتاً کم کردیں۔ دیگر پودوں کی طرح گل کلغہ کے پھولدار پودوں کیلئے بہت زیادہ یا بہت کم پانی کی مقدار
نقصان دہ ہے۔ ٹھنڈی جگہ پر گھر وغیرہ کے اندر رکھے ہوئے پودے باہر رکھے گئے پودوں کی نسبت نہ صرف بہتر چلتے ہیں بلکہ اکثر ان کے پھولوں کے رنگ بھی شوخ ہوتے ہیں۔ گل کلغہ کے پودوں کے لئے ہوا میں نمی کی مقدار درمیانی ہونی چاہئے، جبکہ ان پودوں کو روشنی کی وافر مقدار بھی درکار ہوتی ہے۔ اکثر اوقات گل کلغہ پرپھپھوندی کا حملہ ہوتا ہے ایسی صورت میں کوئی اچھا پھپھوندی کش زہر چھڑکا جا سکتا ہے۔ پھولوں کا موسم گزر جانے کے بعد گل کلغہ کے تمام پودوں کو تلف کردیا جاتا ہے۔

نوٹ:گھریلو باغبانی کے قارئین مزید معلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیچ کو بھی جوائن کریں

کچن گارڈننگ ، موسم سرما کی سبزیوں کی کاشت

ستمبر اکتوبر کے مہینے موسم سرماکی سبزیوں کی کاشت کے مہینے ہیں بلکہ اکثر جگہوں پر پنیریوں کی کاشت شروع ہو چکی ہے،کچن گارڈننگ کے لئے ابھی بھی آپ اپنے گھر میں موسم سرما کی سبزیوں کی کاشت کر سکتے ہیں۔پنجاب کی حکومت نے کچن گارڈننگ کے فروغ کے لئے کافی کام کیا ہے ، گرمیوں اور سردیوں کی سبزیوں کی کاشت کے لئے بیجوں کا پیکٹ زراعت کے دفاتر سے صرف پچاس روپے میں مل رہا ہے بلکہ گزشتہ برس اسے سکولوں میں مفت بھی تقسیم کروایا گیا
تھا۔ایک پیکٹ پانچ مرلہ کے قطعہ اراضی کے لئے کافی ہے یعنی اگر آ پ کے گھر کے آس پاس صرف پانچ مرلہ یا ا س سے کم زمین کا کوئی ٹکڑا ہے تو صرف مناسب دیکھ بھال کرکے صرف پچاس روپے میں پورے سیزن کی سبزیاں حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر آپ کے پاس زمین نہیں ہے تو کوئی بات نہیں آپ گملوں ، خالی ٹین اور پلاسٹک اور تھرماپورکے ڈبوں یا پولی تھین بیگز میں بھی باآسانی ان سبزیوں کی کاشت کر سکتے ہیں۔ میری پچھلی پوسٹ پڑھ کر پاکستان کے مختلف شہروں میں رہنے والے اکثر خواتین و احباب نے معلومات طلب کی ہیں کہ پیج کے پیکٹ کہاں سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔اگرچہ ہر ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز پر محکمہ زراعت کے دفاتر موجود ہیں مگر ہر شہر میں موجود سبزی منڈی کے ارد گرد کھاد اور بیج کی دکانیں ہوتی ہیں جہاں سے اعلی ٰ اور معیاری بیج حاصل کئے جاسکتے ہیں جو محکمہ زراعت سے حاصل کئے گئے بیجوں سے کئی گنا بہتر ہیں اور قیمت بھی تقریبا برابر ہی ہے۔میں نے آج ہی یہ پیکٹ حاصل کیا ہے۔اس پیکٹ میں گا جر، مولی، شلجم، پالک، دھنیا، سلاد، میتھی اور سرسوں کے بیج ہیں۔ اس کے علاوہ سبز مرچ ،لہسن، پیاز ،پودینہ،سلاد بھی اگایا جا سکتا ہے۔

چند احتیاطی تدابیر:
سبزیوں کی کاشت کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں کم از کم آٹھ گھنٹے دھوپ آتی ہو۔
کچن گارڈننگ میں آب پاشی اہم کردارادا کرتی ہے۔ اگر پانی کی رسد مناسب نہ ہو تو پودوں کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے۔ لہذا پودوں کو پانی کی رسدتو جاتی ہے مگر اکثر گھروں میں پودوں کی بڑھوتری خاصی کم ہوتی ہے اور پودے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں جن میں ناموزوں پانی، پانی کی زیادتی یا کمی، پانی بروقت نہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ پانی کی کمی یا زیادتی کو تو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے مگر ناموزوں پانی کا حل خاصا مشکل اور مہنگا کام ہے۔ عمومی طور پر پودوں کو عمودی ایک انچ پانی فی ہفتہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر حالات اورموسم کے پیش نظراس وقفہ کو کم یا زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
گملوں میں لگائے جانے والے پودوں کی تھوڑی سی احتیاط ضروری ہے، ان کی نمی بھی نہ سوکھنے دیں مگرپانی کی بھی کسی طور زیادتی نہ ہونے دیں۔ بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی کا وقفہ ایک سے دو ہفتہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر گملوں میں سبزی کاشت کرنی ہو تو فالتو پانی کے نکاس کیلئے ان میں سوراخ رکھنے ضرور ی ہیں۔
بیلوں والی سبزیوں کو دیواروں یا سہاروں کی مدد سے اوپر چڑھائیں تاکہ روشنی او ہوا کا مناسب گزر ہو جس سے پودوں میں بیماریاں بھی کم حملہ کرتی ہیں اور اور پیداوار بھی بہتر ہوتی ہے۔
بیجوں کو ہموار سطح پر لگانے کی بجائے کھیلیوں پر کاشت کریں کیونکہ ہموار سطح پر کاشت کی گئی سبزیوں پر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

پنجاب میں کچن گارڈننگ کے تحت موسم سرما کی سبزیات کی کاشت کے لئے بیجوں کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں کچن گارڈننگ کے تحت موسم سرما کی سبزیات کی کاشت کے لئے بیجوں کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ گھروں میں سبزیوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لئے موسم سرما کی آٹھ سبزیات جن میں گاجر، مولی، شلجم، پالک، دھنیا، سلاد، میتھی اور سرسوں کے بیج ایک ہی پیکٹ میں دستیاب ہوں گے اور پیکٹ کی قیمت صرف50 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بیج 5 مرلہ جگہ پر کاشت کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ پیکٹ پنجاب بھر میں محکمہ زراعت کے دفاتر سے دستیاب ہیں ۔موسم سرما کی سبزیات کی کاشت یکم ستمبر سے31 اکتوبر تک کی جا سکتی ہے۔ اس لئے جلدی کیجئے اور فوراً بیج حاصل کر لیجئے ۔میں اس بلاگ پران سبزیوں کی کاشت ، حفاظت اور دیکھ بھال کے متعلق پوسٹ انشاء اللہ تعالی چند روز میں لکھ دوں گا۔نوٹ:گھریلو باغبانی کے قارئین مزید معلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیچ کو بھی جوائن کریں

اپنے باغیچہ میں منی آبشار اور فوارے بنائیے

آپ نے اکثر گھروں کے باغیچوں یا ان ڈور پلانٹس میں بنی چھوٹی چھوٹی آبشاریں یا فوارے دیکھے ہوں ، بعض اوقات ان خوبصور ب روشنیاں بھی لگی ہوتی ہیں ،یہآبشاریں یا فوارے ماحول میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں اور گھر میں آنے والے مہمانوں پر آپ کے جمالیاتی ذوق کا خوبصورت تاثر بھی چھوڑتے ہیں،اگر آپ چاہیں تو تھوڑی سے محنت سے اپنے باغیچہ یا ان ڈور پلانٹس کے درمیان اسے بنا کر اپنے گھر کی خوبصورتی ہیں اضافہ کر سکتے ہیں ۔آج میں آپ کو آسانی سے انہیں بنانے اور سجانے کا طریقہ بتانے جا رہا ہوں جس کے زریعے آپ انہیں اپنے گھر پر تیار کر سکتے ہیں اور پھر جب کوئی چیز خود آپ کے ہاتھوں کی تیار کردہ ہو گی تو تو آپ گھر میں آنے والے مہمانوں کو فخر سے اپنی کارکرگی دکھا بھی سکیں گے۔آپ اس ویڈیو کو اگر ایک بار دیکھ لیں گے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ یہ کوئی بہت مشکل کام نہیں بلکہ تھوڑی سے محنت ہے۔آپ کو بازار سے ایک چھوٹا سا آلہ
خریدنا پڑے گا ،جو پمپ کا کام دیتا ہے،چائنہ کی بنی پمپ نما یہ ڈیوائس تین چار سو روپے میں مل جاتی ہے،آج کل روم کولرز میں بھی اسے استعمال کیا جارہا ہے اس کا کام یہ ہے کہ یہ پانی کو ری سائیکل کرتی رہتی ہے،نیچے جمع پانی اوپر پہنچادیتی ہے جو گھوم کر پھر واپس وہیں آجاتا ہے اس طرح پانی گھومتا رہتا ہے۔بس یہ ڈیوائس ہی اس کا اصل پرزہ ہے باقی ڈیزائن آپ اپنی مرضی اور اپنے ذوق کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں،اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد آپ کو اس کی کارکرگی کا اندازہ ہو جائے گا اور پھر اسی ڈیزائن یا اپنی مرضی اور سہولت کے ڈیزائن میں آپ اپنی آبشار یا فوارہ تیار کر سکتے ہیں،مختلف ڈیزائنز کی تصاویر بھی شیئر کر رہا ہوں جن کو دیکھ کر آپ اپنی مرضی کا ڈیزائن تیار کر سکتے ہیں پھر روشنیوں کا اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے اور انہیں اردگرد دیگر مصنوعی اشیاء اور گملے رکھ کر مزید خوبصورت بھی بنایا جا سکتا ہے۔آپ کی طرف سے فیڈبیک کا بھی منتظر رہوں گا،
آپ ان تصاویر میں نمونہ کے لئے  بنے چند ڈیزائن دیکھ سکتے ہیں



نوٹ:گھریلو باغبانی کے قارئین مزید معلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیچ کو بھی جوائن کریں

گرمیوں میں بھی اپنے گھروں کو پھولوں سے سجایئے

پاکستان میں موسم بہار اپنی پوری بہار اور خوبصورتی دکھا کر رخصت ہو رہا ہے،ہر طرف پھول ہی پھول قدرت کی بڑائی بیان کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ،پھولوں کے بھی اتنے رنگ کہ آپ گننا بھی چاہیں تو گن نہ سکیں،جونہی مئی کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو یہ پھول مرجھانے شروع ہوجاتے ہیں تو ہر طرف پھیلی رنگوں کی بہار جب نظر نہیں آتی تو عجیب سی اداسی پھیل جاتی ہے۔جون جولائی اور اگست میں شدید گرمی اور حبس ہر چیز کو جھلسا کہ رکھ دیتا ہے تو ایسے میں دل چاہتا ہے کہ ارد گرد پھول ہوں جن کی خوبصورت آنکھوں کو بھلی لگے اور ٹھنڈک کا احساس پیدا ہو،ایک خاتون کی کال آئی کہ گرمیوں میں تو باغیچوں میں بھی جانے کو دل نہیں کرتا ،کہیں پھول نظر نہیں آتے، واقعی میدانی علاقوں میں ایسی صورت حال کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے، میں نے سوچا اپنے دوستوں سے کچھ ایسے پودے شیئر کروں جو گرمیوں اپنے پھولوں اور خوشبو کی وجہ سے ماحول میں تازگی اور خوشبو پھیلا کر ہمیں خوش رکھ سکیں۔
ویسے تو گرمیوں میں بہت ایسے پودے ہیں جو تھوڑی سی محنت سے ہمارے ذوق کی تسکین کر سکتے ہیں مگر چند ایسی کامن ورائٹیز بھی ہیں جو بہت ہی آسانی سے اگائی جا سکتی ہیں۔

فوٹولاکا:گرمیوں میں باغیچوں کے کناروں اور گملوں میں لگانے لئے سب سے سستی اور ورائیٹی فوٹولاکا ہے جسے عام طور پر گل دوپہری بھی کہا جاتا ہے،شدید گرمیوں میں اسے جتنی دھوپ زیادہ لگتی ہے اتنے ہی اس کے پھول زیادہ کھلتے ہیں ، سارے رنگ اس کے پھولوں میں پائے جاتے ہیں جو دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت دکھائی دیتے ہیں اور لگانا اتنا آسان کہ پنیری لگائی اور پھول شروع ، بس زیادہ پانی سے پرہیز کریں اس لئے شدید بارشیں اکثر اس کو نقصان پہنچا دیتی ہیں۔

رات کی رانی:میں نے اپنی زندگی میں رات کی رانی سے زیادہ مسحور کن خوشبو نہیں دیکھی،گرمیوں کی حبس زدہ راتوں میں جب کچھ سجھائی نہیں دیتا،رات کی رانی کی خوشبو آپ کو سب کچھ بھلا دیتی ہے،خوبصور ت جھاڑی نما پودا ہے،گملوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے مگر زمین میں اگائے جانے والا زیادہ پھول دیتا ہے،پورے گھر میں صرف ایک پودا آپ کے گھر کو مہکا دیتا ہے۔

کاس ماس: چھوٹا سا موسمی پودا ہے جو گرمیوں میں پھولوں کی بہار دکھاتا ہے


گل چیں: یہ ایک سدا بہار درخت ہے اور گرمیوں میں اس کے سفید اور سرخی نما پھول پورے درخت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں،اگر اس کی قلم لگا لی جائے تو یہ اسی سال پھول دینا شروع کر دیتا ہے اور گملوں میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔


کنیر : یہ ایک جھاڑی دار پودا ہے جو تیز دھوپ اور کم پانی میں بھی گرمیوں میں خوشنماپھول دیتا ہے


لینٹانا: یہ ایک چھوٹی سی جھاڑی کی شکل میں پھیلتا ہے،جب اس پر پھول آتے ہیں تو باریک باریک پھول اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ پتے دکھائی ہیں دیتے ،لگتا ہے پھولوں کا کوئی کارپٹ بچھا دیا گیا ہے ، گملوں میں بھی لگایا جا سکتا ہے،


نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئےبلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

سٹیویا ، ایک جادو اثرپلانٹ

سٹیویا اپنے میٹھے پتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔یہ قدرتی طورپر پیراگوئے اور برازیل میں پایا جاتا ہے لیکن اب اس کی کاشت دینا بھر میں شروع ہوگئی ہے۔ اس کے پتے چینی سے 15گنا زیادہ میٹھے ہوتے ہیں اور اس کے عرق میں چینی سے 200سے 300گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔اس میں نشاشتہ اور حرارے نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے اور یہ خون میں شوگر کی مقدار اوربلڈ پریشر کو بھی کم کرتاہے ۔سٹیویا نامی شوگر پلانٹ سے چائے، مشروبات کو میٹھا کرکے چینی کی سالانہ طلب میں 6سے 8لاکھ ٹن کمی لائی جاسکتی ہے۔
اس سے تیاکردہ مشروبات اور کھانے شوگر کے مریض بھی بلاجھجک استعمال کرسکتے ہیں۔ سٹیویا چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس کے پتوں سے حاصل کیے جانے والے ایک کلوگرام سفوف کی مٹھاس 300 کلوگرام چینی کے برابر ہوگی ۔
مزید بہتر نتائج کے حصول کے لیے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ پلانٹ فزیالوجی میں اس پودے پر تحقیقی کام جاری ہے ۔ چین سے منگوائے جانیوالے ایک پودے پر ریسرچ کے بعد یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اگر سٹیویا نامی شوگر پلانٹ کے پتوں کو چائے کی پتی کے ساتھ ملا کر پکایا یا دیگر مشروبات میں ملا کر استعمال کیاجائے تو اس سے بالکل چینی جیسی مٹھاس پید ا ہو سکتی ہے۔ یہ جراثیم کش ہے جس کی وجہ سے ٹوتھ پیسٹ میں بھی استعمال ہورہا ہے، دانتوں کو بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتا ہے،جلدی امراض اور کیل مہاسوں میں اس کی افادیت بھی تسلیم کی گئی ہے۔اس میں کیلشیئم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی ہڈیوں کی نشونما کی لئے بھی مفید ہے۔نظام انہضام اور معدے کی تیزابیت میں بھی کارآمد ہے،معدے کے السر کو بھی کم کرتا ہے۔خون کی خلیوں کو بننے اور خون کی نالیوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے،انسانی جسم میں روٹا وائرس کے خلاف اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی طور پر یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ اس پودے کو فورٹ منرو اور مری سمیت نسبتاً کم درجہ حرارت رکھنے والے علاقوں میں کاشت کرکے بہترین نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔پھول آنے سے قبل اس کے پتوں کوتوڑ کر سایہ میں سکھا لیا جاتا ہے اور پیس کر پاؤڈر کی شکل میں چائے یا کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اگرچہ یہ باقاعدہ ایک فصل ہے مگر اسے تھوڑی سی محنت سے گھروں میں گملوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے ۔

مزید معلومات کے لئے ڈاکٹر حافظ محمد اکرم پراجیکٹ منیجرسٹیویا، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ ،جھنگ روڈ ، فیصل آباد سے رابطہ کیا جاسکتا ہے

ایک معلوماتی ویڈیو اس لنک سے دیکھی جا سکتی ہے

نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

کچن گارڈننگ ،موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت

 مارچ موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت کا مہینہ ہے بلکہ اکثر جگہوں پر کاشت ہو بھی چکی ہے،کچن گارڈننگ کے لئے ابھی بھی آپ اپنے گھر میں موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت کر سکتے ہیں۔پنجاب کی حکومت نے کچن گارڈننگ کے فروغ کے لئے کافی کام کیا ہے ، گرمیوں اور سردیوں کی سبزیوں کی کاشت کے لئے بیجوں کا پیکٹ زراعت کے دفاتر سے صرف پچاس روپے میں مل جاتا ہے بلکہ گزشتہ برس اسے سکولوں میں مفت بھی تقسیم کروایا گیا تھا۔ایک پیکٹ پانچ مرلہ کے قطعہ اراضی کے لئے کافی ہے یعنی اگر آ پ کے گھر  کے آس پاس  صرف پانچ مرلہ  یا ا س سے کم  زمین کا کوئی ٹکڑا ہے تو صرف مناسب دیکھ بال کرکے
صرف پچاس روپے میں پورے سیزن کی سبزیاں حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر آپ کے پاس زمین نہیں ہے تو کوئی بات نہیں آپ گملوں ، خالی ٹین اور پلاسٹک  اور تھرماپورکے ڈبوں  یا پولی تھین بیگز میں بھی باآسانی ان سبزیوں کی کاشت کر سکتے ہیں۔

 میں نے آج ہی یہ پیکٹ حاصل کیا ہے۔اس پیکٹ میں کریلہ ، بھنڈی توری،ٹینڈا، گھیا توری،ٹینڈی ،ککڑی اور کدو کے بیج ہیں۔ اس کے علاوہ بینگن، کھیرا،ٹماٹر ، دھنیا ،پودینہ،سلاد بھی اگایا جا سکتا ہے۔
چند احتیاطی تدابیر:
سبزیوں کی کاشت کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں کم از کم آٹھ گھنٹے دھوپ آتی ہو۔
کچن گارڈننگ میں آب پاشی اہم کردارادا کرتی ہے۔ اگر پانی کی رسد مناسب نہ ہو تو پودوں کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے۔ لہذا پودوں کو پانی کی رسدتو جاتی ہے مگر اکثر گھروں میں پودوں کی بڑھوتری خاصی کم ہوتی ہے اور پودے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں جن میں ناموزوں پانی، پانی کی زیادتی یا کمی، پانی بروقت نہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ پانی کی کمی یا زیادتی کو تو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے مگر ناموزوں پانی کا حل خاصا مشکل اور مہنگا کام ہے۔ عمومی طور پر پودوں کو عمودی ایک انچ پانی فی ہفتہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر حالات  اورموسم کے پیش نظراس وقفہ کو کم یا زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
 گملوں میں لگائے جانے والے پودوں کی تھوڑی سی احتیاط ضروری ہے، ان کی نمی بھی نہ سوکھنے دیں مگرپانی کی بھی کسی طور زیادتی نہ ہونے دیں۔ بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی کا وقفہ ایک سے دو ہفتہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر گملوں میں سبزی کاشت کرنی ہو تو فالتو پانی کے نکاس کیلئے ان میں سوراخ رکھنے ضرور ی ہیں۔
 بیلوں والی سبزیوں کو  دیواروں یا سہاروں کی مدد سے اوپر چڑھائیں تاکہ روشنی او ہوا کا مناسب گزر ہو جس سے  پودوں میںبیماریاں بھی کم حملہ کرتی ہیں اور اور پیداوار بھی بہتر ہوتی ہے۔
 بیجوں کو ہموار سطح پر لگانے کی بجائے کھیلیوں پر کاشت کریں کیونکہ ہموار سطح پر کاشت کی گئی سبزیوں پر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید معلومات کے لئے اس لنک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے
یا ناظم ا دارہ تحقیقات سبزیات،ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ ، جھنگ روڈ ،فیصل آباد
یا directorvegetable@yahoo.com
سے بھی معلومات لی جا سکتی ہیں

رنگ بہاراں ، آپ کے گھر میں

پاکستان میں بہار کے موسم کا احساس ہی دلفریب ہے،بہار کا نام ذہن میں آتے ہی رنگا رنگ اور خوبصورت پھلوں اور سبزے کا لازوال تصور آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے،اسلام آباد ، لاہور ،کراچی،فیصل آباد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں چشن بہاراں اور رنگ بہاراں کے نام سے پھولوں کی نمائشیں لگائی جاتی ہیں۔بڑے شہروں میں آج کل سڑکوں کے کناروں اور ڈیوائڈرز میں پھول اور پودے لگائے جارہے ہیں اس لئے وہاں تو سڑکوں پر آئی بہار نے عجب سماں باندھ رکھا ہے۔ سوکھی کھاس میں اگے عام سے پھول بھی اس اس انداز میں کھلے ہوئے ہیں کہ انسان قدرت کی اس حسین تخلیق کے رنگوں میں کھو جاتا ہے ۔چارسو پھیلے ہوئے ہر رنگ کے پھولوں دلکشی بکھیر رکھی ہے،یوں لگتا ہے قوس قزح کے ساتوں رنگ آسمان سے اتر کر زمیں پر آگئے ہیں ۔ایسے ہم اپنے گھروں کو اس بہار سے کیوں دور رکھیں، نرسریوں میں موسم بہار کے پھولوں کے تیار گملے فروخت ہورہے ہیں،بس تھوڑی سی محنت اور معمولی رقم سے آپ اس بہار کو اپنے گھر میں لا سکتے ہیں۔میں یہاں چند عام اور سستے پودوں کے نام اور تصویریں آپ کو دے رہا ہوں تاکہ آپ بھی ان کو اپنے گھروں میں لا کر اپنے اہل خانہ کو اس بہار سے لطف اندوز کروائیں، اس کے دو فائدے بھی ہوں گے ،پھولوں کا سیزن ختم ہونے کے بعد گملے آ پ کے پاس محفوظ ہو جائیں گے جوآئندہ آپ کے لئے پودے لگانے کے کام آئیں گے۔ یہ تمام پودے تقریباً مئی کے پہلے ہفتہ تک اپنی بہار دکھاتے رہتے ہیں۔
پٹونیا: یہ ایک سستا سا پودا ہے جو ممکن ہے آپ کو گملہ سمیت پچیس سے پچاس روپے میں مل جائے، دنیا کا ہر رنگ اس ننھے سے پودے میں موجود ہے ، گھر لائیں اور دھوپ میں رکھیں، کوئی خاص نگہداشت کی ضرورت نہیں، مناسب پانی دیتے رہیں اور روزانہ کھلنے والے رنگ برنگے پھولوں سے اپنی آنکھیں خیرہ کیجئے ۔
وروینا: رنگ برنگے خوبصورت پھول آپ کے گھر کی دلکشی میں اضافہ کریں گے،اسی قیمت میں مل جائے گا ۔
فلاکس:چھوٹے چھوٹے خوبصورت پھول اپنی دلکشی اور خوبصورتی کی وجہ سے آپ کا دل موہ لیں گے۔
نٹریشیم:سبز گول پتے ،پیلے اور سرخ گول مٹول پھول جو لٹکانے والی ٹوکریوں میں اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔
گل اشرفی: اس کے دلکش رنگ اور خوبصورت پھولوں کی اپنی ہی انفرادیت ہے۔نوٹ:گھریلو باغبانی بلاگ کے قارئین مزیدمعلومات کے لئے بلاگ کے فیس بک پیج کو جوائن کریں

اپنے پیاروں کا دل جیتیئے،خوشنما اشکال کی سبزیوں اور پھلوں سے تواضع کرکے

 موسم گرما کی سبزیوں کی کاشت کا وقت قریب آ گیا ہے ، اس موسم میں کچن گارڈننک کے طور آپ اپنے گھر میں کریلے،بینگن،ٹماٹر،کھیرا،پالک اور دیگر سبزیاں گملوں میں بھی اگا سکتے ہیں جبکہ دھنیا،پودینہ اور سلاد بھی اگایا جا سکتا ہے،آج کی تحریر میں ان سبزیوں کی کاشت کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنے کا ارداہ تھا مگر ایک محترم بلاگر دوست محمد سلیم نے ایک بڑا ہی دلچسپ لنک دیا ہے جس میں آپ اپنے گھر میں اگائی جانے والی سبزیوں کو اپنی مرضی کی شکل دے سکتے ہیں،اس سلسلہ میں  برطانیہ کی ایک بیج فروخت کرنے والی کمپنی نے اپنے صارفین کے لئے
اپنی سائٹ پر معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیج اور سانچے بھی فروخت کرنے شروع کئے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے گھر میں اگائے جانے والے ٹماٹر اور چند دوسری سبزیوں کو اپنی مرضی کی شکل دے سکتے ہیں ۔ کمپنی نے اس کے بارے میں بڑا خوبصورت سلوگن دیا ہے ۔" اپنے پیاروں کا دل جیتیئے،خوشنما اشکال کی سبزیوں اور پھلوں سے تواضع کرکے "کمپنی کا کہنا ہے ان سبزیوں کو نئی اشکال دینے سے ان کی افادیت اور معیار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن ان کی خوبصورت اور خوشنما اشکال دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کریں گی جس پر کھانے والوں خاص کر بچوں میں سبزی کھانے میں خصوصی رغبت پیدا ہوگی۔کمپنی کے مطابق سبزی یا پھل جب ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہو تومطلوبہ سانچہ اس پر چڑھا دیں ، جو نشو نما پا کر اسی طرح کی شکل اختیار کرلے گا جس طرح کا سانچہ آپ نے اس کو دیا ہوگا۔انہوں نے یہ سانچے دل اور ستاروں کی شکل میں بنائے ہیں ،جو نیچے دی گئی تصاویر میں آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔امید ہے قادر بخش فارمز والے طارق تنویر صاحب یا محترمہ سلمیٰ کمال اس سلسلہ میں مزید بہتر راہنمائی کر سکیں گے۔





اس تحریر کی تیاری میں اس لنک سے استفادہ کیا گیا ہے

اب پلاسٹک بیگز میں بھی پودے لگا ئیے


پاکستان میں پودوں کو زمین کے علاوہ لگانے کے لئے ابھی تک وہی روائتی گملے ہی استعمال کئے جارہے ہیں جبکہ دنیا میں اب ان روائتی گملوں کی جگہ انواع اقسام کی چیزوں نے لے لی ہے بلکہ یورپ میں گھر کے کاٹھ کباڑ کو  خوبصورت گملوں کی شکل دے کر پودے لگائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے گھر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تک وہی گملےاور انہیں ایک ہی طرح سے سجانے کارواج ہے مگر دنیا نے اس سلسلہ میں بہت ترقی کر لی ہے اور پرانے ٹائر،پرانی کرسیاں ،میز،کچن کیبنٹ اور پلاسٹک بیگز استعمال میں لائے جارہے ہیں  بلکہ یورپ میں ہر طرح کی باغبانی کوعلیحدہ علیحدہ کیٹیگری میں تقسیم کر کے اس کی علیحدہ علیحدہ معلومات قارئین تک پہنچائی جاتی ہیں ،اس طرح بیگ گارڈننگ بھی ایک مکمل کیٹیگری ہے جہاں مختلف قسم کی پولیتھین ، پلاسٹک یا کپڑے  کے بنے بیگز میں پودے لگائے جا رہے ہیں اور ان کا استعمال سکھایا جارہا
ہے ،گزشتہ دنوں  میرے اس بلاگ کے ایک قاری نے جو  سوئزر لینڈ  میں رہتے ہیں رابطہ کیا  کہ ان کے عزیز نے پاکستان میں گرین بیگز کے نام سے پراڈکٹ تیار کی ہے  جن میں پودے لگائے جاسکتے ہیں اور  گھر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتے ہیں اور انہوں نے کمال مہربانی کی کہ ان کا سیمپل بھی مجھے بجھوادیا ۔میں نے پہلے بھی اس طرح کے بیگز میں پودے لگانے کے بارے میں سرچ کی تھی اور  ان بیگز میں آسانی سے پودے لگائے جا سکتے ہیں ، ایک تو ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے دوسرے دیکھنے میں خوبصورت نظر آتے ہیں۔ گرین بیگز مختلف سائز میں دستیاب ہیں  جن میں بڑے اور چھوٹے پودے لگائے جا سکتے ہیں،جبکہ دیواروں کے ساتھ لٹکانے والے بھی ہیں۔میرے خیال میں ان میں سبزیوں کی کاشت بہت آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ جو احباب  ان بیگز کے بارے میں  مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ فاروق صاحب سے 03017033145پر رابط کر سکتے ہیں۔





گھروں کو پھولوں سے سجانے کا موسم آگیا !!!!

پاکستان میں موم سرما کے آغاز سے ہی پھولوں کا موسم شروع ہو جاتا ہے اور مئی تک رنگا رنگ پھول اپنی بہار دکھاتے ہیں اور دلوں کو لبھاتے ہیں ، کچھ عرصہ قبل پھول صرف باغوں یا سرکاری دفاتر تک ہی محدود تھے مگر اب اسلام آباد کے بعد اب لاہور سمیت پنجاب کے سبھی بڑے شہروں میں میونسپل ایڈمنسٹریشن نے شہروں کی خوبصورتی اور اور ماحول کو آلودگی کے صاف رکھنے کے لئے سڑکوں کے کناروں اور درمیانی ڈیوائڈرز پر پھول پودے لگانے شروع کر دیئے ہیں جو ایک انتہائی عمدہ روایت ہے ، صبح سویرے اپنے کام کاج پر جانے والوں کی
آنکھوں کو یہ پھول اپنی تروتازگی اور خوبصورتی کی وجہ سے خیرہ کرتے ہیں، فیصل آباد میں سڑکوں کے کنارے ہزاروں کی تعداد لگے گیندے کے پھولوں نے جہاں شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے وہاں عام آدمی کا بھی ان پھولوں سے لگاؤ میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اب لوگوں میں اپنے گھروں میں بھی پودے اور پھول اگانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ موسم سرما کے آغاز میں ہی گیندے، گل کلغہ اور گل داؤدی اپنی بہار دکھانا شروع کردیتا ہے۔ یہ پودے چونکہ اب گملوں میں پھول دے رہے ہیں اس لئےآپ ان کے چند گملے خرید کر اپنے گھر کو قدرتی حسن سے مالامال کر سکتے ہیں،اب انہیں اگانے کا موسم نہیں رہا ، ساتھی بلاگر نعیم اللہ نے اپنے بلاگ پر گیندے اور گل داؤدی پر ایک جامع تحریر لکھی ہے ،اس سے بھی استفادہ کیا جا سکتاہے۔
اب موسم آگیا ہے کہ آپ گملوں یا کیاریوں میں موسم سرما کے پھول اگائیں جو اگلے ہفتہ ہی انشا ء اللہ آپ کے گھر کو قدرتی حسن سے مالا مال کر دیں گے اور اپنی دلکشی اور رعنائی سے آپ کے گھر کو دوسرے گھروں سے ممتاز بھی کریں گے اور آپ کی خوشیوں اور مسرتوں میں اضافہ بھی کریں گے۔
موسم سرما میں یوں تو بہت سے پھول اگائے جاتے ہیں جو مہنگے بھی ہوتے ہیں اور سستے بھی مگر میں یہاں آپ کو چند ایسے پھولوں سے متعارف کروا رہا ہوں جس سے آپ بہت سستے انداز سے اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں اور پورے گھر کو پھولوں سے بھر سکتے ہیں ، موسم سرما میں چونکہ دھوپ مین حدت نہیں ہوتی اس لئے تھوڑی سے توجہ سے آپ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور ان کو آپ گملوں میں لگا کر بیرونی دیواروں ، برآمدوں اور اگر کیاریاں موجود ہیں تو لان کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔
گل اشرفی(Calandula) بہت ہی خوبصور ت پھول ہے گملوں بڑی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔ نرسریوں سے آ ج کل اس کی پنیری س دستیاب ہے،اگر تو گھر میں جگہ زیادہ ہے تو پنیری کی گملی لے آئیں اور کیاریوں اور گملوں میں لگا لیں ورنہ نرسری سے چند ایک چھوٹے گملوں میں لگے خرید لیں ،سارا سیزن پھول اپنی بہار دکھاتے رہیں گے۔
نیسٹریشیم(Nasturtium):اس بھی اسی طرح گملوں میں یا کیاریوں میں لگایا جاتا ہے اور یہ بھی مئی تک پھول دیتا رہتا ہے،اس کے بھی آپ چند گملے خرید سکتے ہیں
پٹونیا(Patunia): بہت ہی خوبصورت پھول ہے دنیا کا کوئی رنگ ایسا نہیں کو اس میں شامل نہ ہو،رنگ برنگے پھول آپ کو ہمیشہ ہشاش بشاش رکھیں گے۔اس بھی اسی طرح آپ گملوں میں یا کیاریوں میں لگا سکتے ہیں اور یہ بھی سارا سیزن پھول دیتا رہتا ہے،اس کے بھی آپ چند گملے خرید سکتے ہیں۔
السی: اکثر گھروں میں اس کا استعمال ہوتا ہے ۔آپ کسی پنساری کی دکان سے اس بیج پانچ دس روپے کے خرید لیں اور کیاروں یا گملوں میں بیج دیں ، سخت جان پودا ہے ۔آسانی سے اگ جائے گا اور سارا سیزن پھول کھلتے رہیں گے۔

گھریلو پودوں کے لئے کھاد اپنے گھر پر تیار کیجیئے

اکثر دوستوں کو شکوہ ہے کہ جب پودے نرسری سے خریدیں تو بڑے لش پش گرین اور خوبصورت ہوتے ہیں مگر گھرآ کر چند ہی دنوں میں اپنا رنگ و روپ کھونا شروع کر دیتے ہیں۔ نرسریوں  میں تو انہیں ترو تازہ رکھنے کے لئے مختلف قسم کی کھادوں اور کیمیکلز کا استعمال کیا  جاتا ہے مگر آپ گھر پر بھی بآ سانی قدرتی کھا د تیار کرکے اپنے پودوں کی بڑھوتی اور خوبصورتی میں اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ پانی کے ساتھ ساتھ چند اور اجزاء بھی ان کی صحت کے لئے ضروری ہیں جو آپ باآسانی گھر پر بھی تیار کرسکتے ہیں۔ گھر میں روزانہ انواع قسم کو کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے
جسے ضائع کرنا ایک بڑا مسلہ ہے مگر آپ اس کے ایک بڑے حصہ کو قابل استعمال لا سکتے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے،انڈوں کے خالی خول ، گلی سڑی سبزیاں اور پھل،چائے کی استعمال شدہ پتی، بچے کھچے کھانے ،درختوں کے پتے ، کھاس پھونس،مرغیوں  اور پرندوں کی بیٹ اور گوبر وغیرہ ہر گھر میں دستیاب ہیں ۔ اگر گھر میں جگہ ہے تو لان کے کونے میں ایک گڑھا کھود کر پتّوں اور سبزیوں کے چھلکوں کو جمع کرتے جائیں۔ گڑھا جب پتّوں سے بھر جائے تو اس پر مٹی کی کم از کم چھ انچ موٹی تہہ لگا دیں اور اوپر سے پانی ڈالیں تاکہ مٹی کی نمی قائم رہ سکے۔ زیادہ پانی نہ ڈالیں کیونکہ اس طرح سے کھاد خراب ہوجائے گی۔ تین سے چار مہینے میں یہ کھاد تیار ہوجائے گی۔ یہ جانچنے کے لیے کہ آیا کھاد تیار ہے کہ نہیں، درست طریقہ یہ ہے کہ آپ کھاد والے گڑھے کو کھود کر دیکھیں کہ ان چیزوں کی جن کے ذریعے کھاد بنائی جارہی ہے، رنگت تبدیل ہوئی ہے یا نہیں۔ ان کی بدبو ختم ہوئی ہے یا ابھی باقی ہے۔ یہ بھربھری ہوئی ہے یا نہیں۔ اگریہ تینوں علامات ان میں نظر آجائیں یعنی کہ ان چیزوں کی اصل مہک ختم ہوجائے، اصل رنگت تبدیل ہوجائے اور وہ بھربھری ہوجائے تو پھر سمجھیں کہ کھاد تیار ہے، ورنہ کچھ دن اور انتظار کریں۔ یہ کھاد پھلواری کے لیے بہت موزوں ہے کیونکہ اس میں اتنی تیزی نہیں ہوتی، اور یہ موسمی پھولوں کے لیے بہترین ہے۔

گھر میں ٹماٹر اُگائیے اور مہنگائی کو شکست دیجیے

وجہ فصلوں کی تباہی ہو یا ذخیرہ اندوزوں کی ہوس،سچ یہ ہے کہ سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے نچلے و متوسط طبقوں کو ازحد متاثر کیا۔ظاہر ہے،دس پندرہ ہزار روپے کمانے والا 200روپے کلو ٹماٹراور 100روپے کلو آلو خرید کر نہیں کھا سکتا۔ عام سبزیوں کی قیمتیں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔اس مہنگائی کا ایک توڑ یہ ہے کہ اپنے گھرکم از کم روزمرہ استعمال کی سبزیاں مثلاً ٹماٹر،آلو،پیاز،گوبھی،دھنیا،پودینہ اگا لی جائیں۔ان کا اگانا مشکل نہیں اور نہ ہی وسیع زمین کی ضرورت ہے،بس یہ
عمل تجربہ اور محنت مانگتا ہے۔
گھریلو کاشت کاری انسان کو دو اہم فوائد دیتی ہے:اول کم خرچ میں قیمتی سبزی میسّر آتی ہے۔دوم وہ فارمی سبزیوں سے زیادہ غذائیت رکھتی ہیں۔یہی فوائد مدنظر رکھ کر فی الوقت گھر میں ٹماٹر اگانے کا طریق کار پیش ہے۔ ٹماٹر کا پودا معتدل موسم میں پلتا بڑھتا ہے۔اگر درجہ حرارت 32 سینٹی گریڈ سے زیادہ یا 10سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے،تو وہ صحیح طرح پرورش نہیں پاتا۔خصوصاً کہر یا پالا اسے تباہ کر دیتا ہے۔لہذا پودے کو کہر سے بچانا لازمی ہے۔ گرمی زیادہ ہو تو اس کا توڑ پودے کو زیادہ پانی دینا ہے۔تاہم پودے کو زیادہ نمی سے بھی بچائیے۔نمی اسے مختلف امراض کا نشانہ بنا ڈالتی ہے۔یاد رہے،نشونما پاتے پودے کو روزانہ کم ازکم چھ گھنٹے دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹماٹر کی 7500سے زائد اقسام وجود میں آ چکیں جن کے دو بڑے گروہ ہیں ۔غیر معین (Indeterminate) اور محدود (Determinate) ۔غیر معین اقسام اُگ کر مسلسل پھل دیتی ہیں تاایں کوئی بیماری یا کہر پودے کو مار ڈالےجبکہ محدود اقسام کے پودے صرف ایک دفعہ پھل دیتے اور پھر مر جاتے ہیں۔ آپ اپنی پسند کی قسم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔اور اگر نوآموز ہیں ،تو بہتر ہے کہ شروع میں ایک دو پودے ہی لگائیے تاکہ تجربے سے جو اسباق ملیں ،ان کی مدد سے آپ خودکو مستند گھریلو کسان بنا سکیں۔ اب آئیے اُگانے کے مرحلے کی طرف!سب سے پہلے ا س گملے ،ڈبے،برتن،کریٹ،بالٹی وغیرہ کا انتخاب کیجیے جس میں پودا اگانا مقصود ہو۔اسے کم از کم 8 انچ گہرا ہونا چاہیے۔تاہم 16انچ گہرائی بہترین رہے گی۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ٹماٹر کا پودا پلاسٹک کے کسی ڈبے یا برتن میں لگائیے۔وجہ یہ کہ ایسا برتن گملے کے برعکس جلد نمی نہیں چوستا اور خشک ہونے میں دیر لگاتا ہے۔چونکہ ٹماٹر کا پودا پانی پسند کرتا ہے،لہذا وہ اس میں پنپتا ہے۔دوسرے پلاسٹک کے چھوٹے برتن عموماً گملوں کی نسبت سستے پڑتے ہیں۔ جب موزوں ڈبے یا برتن کا انتخاب کر لیں ،تو اس کا پیندا دیکھیے۔اگر اس میں سوراخ نہ ہوں ،تو چھوٹے چھوٹے چھ سات سوراخ کر دیجیے تاکہ مٹی میں پانی کھڑا نہ ہو۔جمع شدہ پانی پودے کو سڑا کر مار ڈالتا ہے۔تاہم سوراخ اتنے بڑے نہ ہوں کہ ساراپانی مٹی میں جذب ہوئے بغیر نکل جائے۔ اب ڈبا کھاد ملی مٹی سے بھر دیجیے۔پودے اگانے والی مٹی ہر نرسری سے مل جاتی ہے۔ڈبے میں باغ یا زمین کی مٹی نہ ڈالئیے کیونکہ اس میں اتنی غذائیت نہیں ہوتی کہ پودا پنپ سکے۔ یہ کام تکمیل پائے ،تو بیج بونے کا مرحلہ آتا ہے۔ٹماٹر کی من پسند قسم کے بیج بڑی نرسریوں سے مل سکتے ہیں۔راقم کے ایک دوست نے تو انوکھا گُر آزمایا۔انھوں نے ڈبے میں کھاد ملی مٹی بھری،اور اس میں عام ٹماٹر بو دیا۔ڈبا پھر کھڑکی پہ رکھ دیا تاکہ اسے دھوپ ملتی رہے۔پانی بھی باقاعدگی سے دیا گیا۔دو ہفتے بعد ٹماٹر سے پودا نکل آیا۔اب وہ موسم پہ رس بھرے پھل دیتا ہے۔ موسم سرما میں خصوصاً بیجوں سے پودا نکالنے کا یہ طریق بھی مروج ہے کہ پہلے انھیں چھوٹے سے گملے میں بویا جائے۔تاکہ جب سورج نکلے تو اسے باآسانی دھوپ کے سامنے رکھ سکیں ۔ورنہ وہ گرم کمرے میں ہی رہے۔جب پودا نکل آئے اور تھوڑا بڑا ہو چکے،تو پھر اسے بڑے ڈبے یا گملے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ٹماٹر کا پودا خاصی نگہداشت مانگتا ہے۔نشونما پاتے ہوئے اسے کافی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔پانی دینے کا وقت جاننے کا آسان طریق یہ ہے کہ ڈبے یا گملے میں انگلی ڈالئیے۔اگر دو انچ تک مٹی خشک ملے،تو گویا پانی دینے کا سمّے آ پہنچا۔ دوسری اہم بات یہ کہ بڑھتے پودے کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔لہذا جب پودا پرورش پانے لگے،تو ڈبے میں بانس یا ڈنڈا نصب کیجیے اور اسے اس کے ساتھ پودا نرمی سے باندھ دیجیے تاکہ وہ بلند ہو سکے۔بانس مٹی میں گاڑتے ہوئے احتیاط کیجیے کہ وہ پودے کی جڑوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ٹماٹر کا پودا آٹھ فٹ تک بلند ہو سکتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ بڑھتے پودے کو خاصی غذائیت بھی درکار ہوتی ہے۔سو بہتر ہے کہ ہفتہ دس دن بعد ڈبے میں مناسب کھاد ڈال دیں۔یوں پودا تیزی سے نشوونما پائے گا۔ بڑھتے پودے کے جو پتے زرد ہو جائیں،انھیں توڑ ڈالئیے۔نیز بالائی شاخوں کو چھوڑ کر نیچے اگر ٹہنیاں نکلیں،تو انھیں بھی کاٹ دیں۔یوں پودے کے مرکزی تنے کو زیادہ غذائیت ملتی ہے اور وہ جلد بڑا ہوتا ہے۔ ٹماٹر کی قسم کے لحاظ سے پودے پر تین تا پانچ ماہ میں پھول نکل آتے ہیں۔چونکہ پودے پہ پولی نیشن(زیرگی)سے پھل لگتا ہے،لہٰذا بہتر ہے کہ پھول نکلنے کے بعد تین چار بار ڈبے کو ذرا زور سے ہلا دیں،تاکہ پھولوں کے نر و مادہ حصّے مل جائیں۔ پھول نکلنے کے بعد پودے کو پانی دینا کم کر دیں۔بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ایک ہفتے تک صرف صبح ایک گلاس پانی دیں۔جب پھول پہ پھل نمودار ہوں،تو تب موسم کے اعتبار سے پانی دیجیے۔ صوبہ پنجاب اور سند ھ کے ہم وطن معتدل موسم والے مہینوں مثلاً اپریل مئی اور ستمبر میں ٹماٹر کے پودے لگا سکتے ہیں۔یوں انھیں نشوونما پانے کی خاطر مناسب ماحول ملتا ہے۔پھر تین چار ماہ بعد آپ گھر میں اگے رس بھرے،سرخ ٹماٹر کھا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ شروع میں غلطیاں کرنے کے باعث آپ کو کامیابی نہ ملے۔مگر حوصلہ نہ ہارئیے ،بلکہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر دوبارہ پودے اگایئے۔نیز ماہر باغبانوں اور مالیوں سے مشورہ کرنے میں بھی کوئی ہرج نہیں۔تھوڑے سے صبر اور محنت سے آپ بھی ماہر باغبان بن سکتے ہیں۔

سید عاصم محمود کی یہ تحریر روزنامہ دنیا لاہور ، 10 نومبر 2013ء کے ڈائجسٹ ایڈیشن میں شائع ہوئی

گھر کی فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے والے چند پودے(2)

اس سلسلہ کی پہلی تحریر کا آپ مطالعہ کر چکے ہیں ۔ میں ان احباب کا بھی مشکور ہوں جو اس سلسلہ میں میری راہنمائی فرماتے ہیں اور وہ احباب بھی  جو ان تحریروں کو پسند کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی پودوں کے بارے میں دلچسپی اور شوق میں  اضافہ ہو رہا ہے بلکہ چند احباب نے تو  باقاعدہ  باغبانی شروع کر دی ہے اور کچھ دوستوں نے اس موضوع پر لکھنا بھی شروع کر دیا ہے جو ایک مثبت  پیش رفت ہے۔ یہ وہ عام سے پودے ہیں جو ہمیں آسانی سے  مل جاتے ہیں مگر ان پر تحقیق کرنے والوں نے ان کی ایسی بے شمار خوبیاں ثابت کی ہیں کہ  قدرت کی اس عظیم صناعی پر عقل دنگ  رہ جاتی ہے۔ خاص طور پر یہ پودے گھریلو فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے میں  خصوصی کر دار ادا کرتے ہیں۔آج میں ان مزید پودوں کا آپ سے تعارف کروا ہوں جنہیں آپ اپنے گھر میں گملوں اور کیاریوں میں لگا کر  اپنے گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کےساتھ ساتھ اپنے گھر کی فضا کو بھی صاف رکھ سکتے ہیں

Palms پالم ۔
آپ نرسری جائیں تو آپ کو انواع اقسام کے پالم مل جائیں گے ، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گھر کی فضا کو  آلودگی سے پاک رکھنے میں ان سب کا کردار ایک جیسا ہے۔ یہ انتہائی خوبصور پودے ہیں جو زیادہ تر گملوں میں اگائے جا سکتے ہیں اور کوئی خاص مہنگے بھی نہیں ہوتے






 Gerbraجربرا  ڈیزی ۔ 
یہ ایک انتہائی خوبصورت پھول  ہے جو بہت سے رنگوں میں دستیاب ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سدا بہار پودا ہے اور سارا سال اپنی بہار دیکھاتا ہے، مجھے عام دفاتر  اور گھروں میں کبھی زیادہ نظر نہیں آیا حالانکہ نہ تو زیادہ مہنگا اور اور نہ ہی نایا ب  ہے ۔ میں نے جہاں بھی آلودگی سے فضا کو پاک رکھنے والے پودوں پر تحقیق کا مطالعہ کیا اس کا نام ہمیشہ ٹاپ ٹین فہرست میں پایا ، یہ خوبصورت  آپ کے گھر کے حسن کو مزید دوبالا کعے گا اور اسے باآسانی گملوں اور کیاریوں میں لگایا جا سکتا ہے۔


Ferns فرن  ۔


گملوں اور لٹکانے والی ٹوکریوں میں لگانے والا بے حد خوبصورت پودا ہے اور اپنے گہرے سبز پتوں اور پھیلاؤ  کی وجہ سے  گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے، اس کی بھی بہت سی اقسام دستیاب ہیں۔






Ficus فائکس ۔
گملوں اور زمین میں یکساں طور پر لگایا جاتا ہے ، گہرے سبز اور پیلے شیڈز میں چمکیلے پتوں کی وجہ اس کو دوسرے پودوں سے  ممتاز حاصل ہے ۔ اس کی کٹنگ کر کے مالی حضرات اس کی بہت خوبصورت اشکال بھی بناتے ہیں ، ایک دفعہ کا لگایا پودا سالہا سال تک چلتاہے اور یہ بھی آلودگی سے فضا کو پاک رکھنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتا ہے 




یہ پودے انہی ناموں سے نرسریوں سے دستیاب ہیں ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں انشاء اللہ   اگلی قسط میں مزید پودوں کا تعارف کروایا جائے گا
اس تحریر کی تیاری میں متعدد تحقیقاتی مقالہ جات اور مقامی زرعی ماہرین سے مدد لی گئی ہے

گھر کی فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے والے چند پودے(1)

آج  میں آپ سے جن نئے پودوں کا تعارف کروا رہا ہوں ان پر  کی گئی تحقیق مں  ثابت ہو اہے کہ یہ پودے گھر کی فضا کو صاف رکھے کے لئے ایک ائر  فلٹر کا کام کرتے ہیں اور مغربی ممالک میں خاص طور پر کو ان پودوں کو گھروں   ،دفاتر ،ہسپتالوں اورہوٹلوں کے  کمروں میں رکھا جاتا ہے تاکہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک ہوا بھی مسیر آتی رہے۔ ان ممالک مںک یہ پودے مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بال بھی ایک بڑا مسلہ ہے مگر اس کے باوجود انہیں رکھا جاتا ہے ۔ ہماری خوش قسمتی ہے  کہ ہمیں یہ پودے بہت آسانی سے اور سستے داموں دستا ب ہں  مگر ہم انتہائی مہنگے ایئر فریشنر تو خرید رہے ہںہ قدرت کی اس لاجواب نعمت سے استفادہ نہں  حاصل کر رہے۔ یہ پودے گھروں میں استعمال ہونے والے کئی قسم کے کیمیکلز میں استعمال ہونے والے مواد  کو تلف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو آپ کے
سانس کے ذریعے  آپ کے جسم میں داخل ہو کر آپ کی صحت کو متاثر کرتے ہیں



1ـ ڈریسینیا  ،

یہ ایک عام سا پودا ہے جسے ان ڈور پلانٹ  کے طور پر گھروں میں لگایا جاتا ہے ، اس کی کئی اقسام پاکستان میں ملتی ہیں ، سبز اور سرخ پتوں والے ڈریسینیا زیادہ گھروں میں نظر آتے ہیں ،کسی بھی نرسری سے آپ کو انتہائی معمولی قیمت پر مل سکتا ہے۔




2ـ ایلو ویرا

عام سا پودا  جتنی غذائی اور طبی اہمیت کا حامل ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے،دنیا  بھرمیں کاسمیٹیکس میں اس کا استعمال سب سے ذیادہ ہے۔آپ نے اگر ایک بار گملہ میں لگا لیا تو کبھی ختم نہیں ہوتا اس کی بڑھوتی بھی بہت ذیادہ ہے۔گھریلو فضا کو صاف رکھنے والے پودوں میں صف اول میں شمار کیا جاتا ہے۔


3ـ سپائڈر پلانٹ

سبز اور پیلے پتوں والا چھوٹا سا پودا گملوں میں انتہائی خوبصورت لگتا ہے اور معمولی قیمت پر نرسریوں  سے مل سکتا ہے ۔





4ـ سانپ پلانٹ

انتہائی سستا پودا ہے ممکن ہے اس وجہ سے لوگ اس کی افادیت سے آگاہ نہیں ہیں۔آپ کے ارد گرد کہیں لگا ہو تو اس کا ایک آدھ پودا اخھیڑ لیں جلد سارا گملہ بھر جائے گا،اس کے ارد گرد سے نئے پودے نکلتے رہتے ہیں ۔یہ بھی کئی رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے،اس کی سخت لمبے پتوں کی دھاریاں سانپ جیسی ہوتی ہیں اس لئےاس کو سنیک پلانٹ کہا جاتا ہے  اس کا دوسرا )نام بھی اس کے لمبے پتوں کی وجہ سے)Mother in law’s Tongue)



5ـ  منی پلانٹ 

گھروں میں پایا جانے والا سب سے خوبصور ت پودا ہے،گملوں ،لٹکانے والی  ٹوکریوں  میں لگایا جاتا ہے مگر اس کی اس فادیت سے عام آدمی لاعلم ہے کہ اس کا شمار ان ٹاپ 15 پودوں میں ہوتا ہے  جو ہوا کو فلٹر کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں
پیارے دوستوں اس میں سے کوئی بھی پودا مہنگا نہیں  تو پھر آپ کیوں نہیں قدرتی طریقہ سے اپنے گھر کی فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے ان نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے


 یہ پودے انہی ناموں سے نرسریوں سے دستیاب ہیں ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
 ( انشاء اللہ  اس کی دوسری قسط میں مزید پودوں کا تعارف کروایا جائے گا)

اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر


اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر بھی کیا جاسکتا ہے ،پھل اورسبزیوں کا روزمرہ استعمال نہ صرف جسمانی طور پر تندرست رکھتا ہے بلکہ بہت زیادہ پھل اور سبزی کھانے سے دماغ بھی آسودہ اور مطمئن رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زیادہ پھل اورسبزیاں کھانے والے لوگ مستقبل کےحوالے سے زیادہ پر امید ہوتے ہیں۔
محقیقین کو ان کےخون میں ایک نامیاتی مرکب کیروٹینائڈ کی بلند سطح ملی ہے۔کیروٹینائڈ کو عام طور پر'بیٹاکیروٹین' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک سرخی مائل گندھکی رنگ دارمرکب ہے جو نارنجی پھلوں اور سبز پتے دارسبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ نامیاتی مرکب جسم میں ایک طاقتوراینٹی آکسیڈنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ انسان کو افسردگی یا ذہنی دباؤ کی کیفیت میں آرام پہنچانے کے کام آتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹ خلیات ،ڈی این اے اور پروٹین کے ڈھانچے کو فری ریڈیکل کے نقصانات سے بچانے میں مدد دیتے ہے اور جسم کے لیے دائمی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیقی  سروے میں ایک ہزار مرد اور عورتوں کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 25 سے 74 برس کے درمیان تھیں ۔ محققین نے شرکا کے خون کے نمونوں میں موجود نو مختلف اینٹی آکسیڈنٹ جن میں بیٹا کیروٹین سمیت وٹامن ای کی سطح کی جانچ پڑتال کی۔ تحقیق میں شامل شرکاء نے اپنی طرز زندگی سے متعلق ایک سوالنامہ بھرا اور محققین کو خون کے نمونے بھی فراہم کئے۔ نتیجےمیں پتا چلا کہ جو شرکا دن بھرمیں دو یا اس سے کم پھل اورسبزیاں کھاتے تھے وہ نمایاں طور پرنا امید اور یاسیت کا شکار نظر آئے اسی طرح زیادہ پھل اور سبزیوں کا استعمال کرنے والوں کے خون میں کیروٹینائڈ کی مقدار 13 فیصد زیادہ پائی گئی ان لوگوں کے مقابلےمیں جو یاسیت کا شکار تھے۔ سائیکوسمیٹک میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق کا نتیجہ کیروٹینائڈ اور پرامیدی کے درمیان پائے جانے والے باہمی رشتہ کی بہت معمولی سی وضاحت پیش کرتا ہے۔ گذشتہ برس برطانیہ کی وارک یونیورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی تھی جس میں محققین نے کہا تھا کہ  جو لوگ دن میں سات پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں وہ زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔ برطانیہ میں محکمہ صحت ہرسال فائیو آ ڈے  کی اشتہاری مہم پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کرتا ہے جبکہ فرانس میں لوگوں کو دن بھرمیں دس پھل اور سبزیاں کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے اسی طرح کینیڈا میں پانچ سے دس اور جاپان میں ایک روز میں تیرہ سبزیاں اور چارپھل کھانے کے لیے لوگوں کو حکومتی سطح پرآمادہ کیا جاتا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے ہری سبزیوں اور نارنجی رنگ کے پھلوں کو نسخے کے طور پر تجویز کیا ہے۔

 (اس مضمون کی تیاری میں متعدد تحقیقاتی مضامین سے مدد لی گئی ہے)

اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر



 اداسی اور پریشانی کا علاج اب پھل اور سبزی کھا کر بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے ہری سبزیاں اور نارنجی رنگ کے پھلوں کو نسخے کے طور پر تجویز کیا ہے۔ پھل اورسبزیوں کا روزمرہ استعمال نہ صرف جسمانی طور پر تندرست رکھتا ہے بلکہ بہت زیادہ پھل اور سبزی کھانے سے دماغ بھی آسودہ اور مطمئین رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زیادہ پھل اورسبزیاں کھانے والے لوگ مستقبل کےحوالے سے زیادہ پر امید ہوتے ہیں۔ محقیقین کو ان کےخون میں ایک نامیاتی مرکب کیروٹینائڈ کی بلند سطح ملی ہے۔ کیروٹینائڈ کو عام طور پر'بیٹاکیروٹین' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک سرخی مائل گندھکی رنگ دارمرکب ہے جو نارنجی پھلوں اور سبز پتے دارسبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ نامیاتی مرکب جسم میں ایک طاقتوراینٹی آکسیڈنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ 'ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ 'سے منسلک تفتیش کارجولیا بوہم نےکہا کہ اس تحقیق میں پہلی بار پرامیدی اورکیروٹینائڈ کی صحت مند سطح کے درمیان پائے جانے والےتعلق کی نشاندھی کی گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ نظریہ پہلے بھی پیش کیا گیا تھا کہ اینٹی آکسیڈنٹ انسان کو افسردگی یا ذہنی دباؤ کی کیفیت میں آرام پہنچانے کے کام آتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹ خلیات ،ڈی این اے اور پروٹین کے ڈھانچے کو فری ریڈیکل کے نقصانات سے بچانے میں مدد دیتے ہے اور جسم کے لیے دائمی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ موجودہ تحقیقی مطالعے میں ایک ہزار مرد اور عورتوں کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 25 سے 74 برس کے درمیان تھیں ۔ محقیقین نے شرکا کے خون کے نمونوں میں موجود نو مختلف اینٹی آکسیڈنٹ جن میں بیٹا کیروٹین سمیت وٹامن ای کی سطح کی جانچ پڑتال کی۔ تحقیق میں شامل شرکاء نے اپنی طرز زندگی سے متعلق ایک سوالنامہ بھرا اور محقیقین کو خون کے نمونے بھی فراہم کئے۔ نتیجےمیں پتا چلا کہ جو شرکا دن بھرمیں دو یا اس سے کم پھل اورسبزیاں کھاتے تھے وہ نمایاں طور پرنا امید اور یاسیت کا شکار نظر آئے اسی طرح زیادہ پھل اور سبزیوں کا استعمال کرنے والوں کے خون میں کیروٹینائڈ کی مقدار 13 فیصد زیادہ پائی گئی ان لوگوں کے مقابلےمیں جو یاسیت کا شکار تھے۔ سائیکوسمیٹک میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق کا نتیجہ کیروٹینائڈ اور پرامیدی کے درمیان پائے جانے والے باہمی رشتہ کی بہت معمولی سی وضاحت پیش کرتا ہے۔ گذشتہ برس برطانیہ کی وارک یونیورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی تھی جس میں محقیقین نے کہا تھا کہ  جو لوگ دن میں سات پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں وہ زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔ برطانیہ میں محکمہ صحت ہرسال فائیو آ ڈے  کی اشتہاری مہم پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کرتا ہے جبکہ فرانس میں لوگوں کو دن بھرمیں دس پھل اور سبزیاں کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے اسی طرح کینیڈا میں پانچ سے دس اور جاپان میں ایک روز میں تیرہ سبزیاں اور چارپھل کھانے کے لیے لوگوں کو حکومتی سطح پرآمادہ کیا جاتا ہے
(اس مضمون کی تیاری میں متعدد تحقیقاتی مضامین سے مدد لی گئی ہے)

کچن گارڈننگ ، ایک صحت بخش مشغلہ

گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا مشغلہ نہ صرف انسانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ انسان کے جسم اور دماغ کو توانا رکھنے میں بھی اہم کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ گھر کے باغیچے میں کاشت کی گئی سبزیاں سپرے، کیمیکل اور دیگر غلاظتوں سے پاک ہوتی ہیں ۔ دنیا بھر میں آج کل بازاری سبزیوں کی خرید سے بچنے اور اپنی صحت کو بہترین حالت میں رکھنے کیلئے کچن گارڈننگ  رواج پا رہا ہے۔گھر میں سبزیاں اگانے سے مہنگائی سے پریشان اور کم آمدنی والے افراد کو نہ صرف بہتر اور تازہ سبزیاں میسر آئیں گی بلکہ گھر کا بجٹ بنانے میں بھی آسانی ہوگی ۔
پاکستان میں سالانہ فی کس سبزیوں کا استعمال صرف 50 کلو گرام ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہر شخص سالانہ اوسطاً 105 کلوگرام سبزیاں استعمال کرتا ہے ،  طبی نقطہ نگاہ سے ہر شخص کیلئے سال میں کم از کم 73 سے 80 کلوگرام سبزیوں کااستعمال ضروری ہے ۔  چین میں تقریباً ہر شخص سال میں 311 سے 315 کلو گرام سبزیاں استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے چین میں شرح امراض نہ ہونے کے برابرہیں گھر یلو پیمانے پر سبز یوں کی کاشت سے ہم سبزیو ں میں نہ صرف خود کفیل ہو جائیں گے بلکہ روز مرہ کے اضا فے کا رجحان پکڑتا گھر یلو بجٹ سمٹنا شروع ہو جائیگا، جہاں سے گھریلو اخراجات میں کمی آئے گی ،وہاںمنڈیوں میں آنے والی غیر معیا ری اور زہریلی سپرے شدہ سبز یوں کے استعمال سے بچ کر ہم صحت کے بے شمار مسائل سے چھٹکا رہ حاصل کر لیں گے۔کم از کم  ایک  مرلہ کاپلاٹ رکھنے والے عوام اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،گھر کی کیا ریوں گملوں پرا نے بر تنوں پرانے ٹائیر ں میں بھی سبز یاں کاشت کی جا سکتی ہیں۔اگر گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کیلئے جگہ دستیاب نہ ہو تو ضرورت کیلئے گملوں، کھلے ڈبوں، پلاسٹک یا لکڑی کی ٹرے میں بھی سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں۔ گھریلو پیمانے پر چھوٹے پلاٹوں میں ایسی سبزیاں کاشت کی جائیں جوکافی دیر تک پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ پالک، دھنیا، میتھی، گوبھی، ٹماٹر، شلجم، گاجر، مولی جیسی سبزیاں تین سے پانچ مرلہ کے پلاٹ میں باآسانی کاشت کی جاسکتی ہیں۔ ان سبزیوں کیلئے اگر نہری پانی دستیاب نہ ہو تو پینے کا گھریلو پانی بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ستمبرموسم سرما کی سبزیاں کاشت کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں مٹر ،پیاز،لہسن،پالک،میتھی،پھولگوبھی،آلو،مولی،ٹماٹر،دھنیا،پودینہ وغیرہ اگائی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ کے گھر میں جگہ نہیں تو کم از کم گملوں میں  میتھی،سلاد،دھنیا، پودینہ،سبزمرچ،پالک،لہسن ضرور اگائے جا سکتے ہیں،چند سال پہلے تک سبزی فروش سبز مرچ،دھنیا،سلاد کے پتے اور سبز پیاز فری دے دیتے تھے جبکہ اب علیحدہ سے اس کے لئے کم از کم سو روپیہ خرچ ہو جاتا ہے ،اگر یہ سب آپ کو اپنے گھر میں فری ملے تو  آپ  معقول بچت کر سکتے ہیں۔مزید معلومات کے لئے آپ  اس لنک سے یا طارق تنویر کے فیس بک پیچ سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

Pages