انترمنتر

First Ever Zoo


دنیا کا پہلا چڑیا گھر/ حضرت نوح علیہ السلام کا قصہکسی زمانے میں اللہ تعالیٰ کے ایک نبی تھے حضرت نوح علیہ السلام ۔ ان کے زمانے میں لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام انھیں سمجھاتے اور اللہ تعالیٰ کے احکام ان تک پہنچاتے تھے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اچھے کام کریں۔ لیکن لوگ ان کی بات نہیں مانتے تھے۔
ایک دن اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے کہا کہ وہ ایک بڑی سی کشتی/ شپ تیار کریں اور اس میں اپنے گھر والوں اور اللہ کا حکم ماننے والوں کے ساتھ ساتھ ہر جاندار جانور کا ایک ایک جوڑا اور ہر طرح کا ایک پودا رکھیں جانوروں کے کھانے پینے کے لیے سامان جمع کر لیں۔
حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنانی شروع کردی۔ وہ جہاں کشتی بنا رہے تھے وہاں نہ کوئی دریا تھا نہ سمندر، نہ ہی کہیں پانی کا کوئی نشان تھا ۔ سب لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے کہ نوح تم کشتی کیا ریت پر چلاؤ گے، لیکن حضرت نوح علیہ السلام کوئی جواب نہ دیتے اور اپنے کام میں لگے رہتے۔
آخر ایک دن ان کی کشتی مکمل ہوگئی اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس میں تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا رکھا جن میں چرند، پرند، گوشت خور حیوانات، دودھ دینے والے جانور، انڈے دینے والے جانور اور ہر طرح کے پودوں کا ایک ایک پودا شامل تھا۔ جب تمام اچھے لوگ اور تمام جانور اس کشتی میں آگئے تو بارش شروع ہوگئی ۔ پورے چالیس دن اور رات بارش ہوتی رہی ، ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا، ساری زمین پانی سے ڈھک گئی اور سارے گناہ گار اور حضرت نوح علیہ سلام کا مذاق اڑانے والے سیلاب میں ڈوب گئے۔
یہ کشتی دنیا کا پہلا چڑیا گھر تھی۔ اس میں ہر طرح کے جانور اور پودے تھے۔ چالیس دن تک بارش ہوتی رہی اس لیے سب کشتی میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے، جانوروں کی دیکھ بھال کرتے تھے، انھیں گھاس ، چارہ، دانا اور پانی دیتے تھے، اور ان سے دودھ انڈے وغیرہ حاصل کرتے تھے۔
چالیس دن کے بعد جب بارش رک گئی تو کچھ دن انتظار کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے ایک پرندے کو اڑایا ، پرندہ اڑا اور اڑتے اڑتے تھک کر واپس کشتی میں آگیا اسے کہیں بیٹھنے کو جگہ نہ ملی، سب جگہ پانی ہی پانی تھا۔ کچھ دن انتظار کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے پرندے کو دوبارہ اڑایا ، وہ کافی دیر کے بعد اپنی چونچ میں ایک ہری شاخ لے کر آیا جس سے پتہ چلا کہ اب زمین پر پانی کم ہوگیا ہے اور پودے اگنے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر چند دن بعد حضرت نوح علیہ السلام نے جب پرندے کو دوبارہ اڑایا تو پھر وہ واپس نہیں آیا ۔ اس نے کہیں پر گھونسلہ بنا لیا ۔
جب پانی کم ہوا تو کشتی ترکی کے ایک پہاڑ کوہ ارارات پر رک گئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے باہر نکلے اور باقی سب انسانوں اور جانوروں کو بھی کشتی سے باہر نکالا۔ اس کے بعد سب جانور اور انسان زمین پر آباد ہوگئے اور ان کی آبادی پھر بڑھ گئی۔ اب زمین پر جتنے بھی جانور اور انسان ہیں وہ سب ان کشتی والے جانوروں اور انسانوں کی اولاد ہیں۔

زمرہ: مذہبی/اخلاقی کہانیاں
عمر: 5 سال اور زائد
آموزش: مختلف انبیاء علیہ سلام کی کہانیاں سنا کر بچوں میں یہ احساس پیدا کرنا کہ ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ کو ہی پکارنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی ہمیں ہر پریشانی اور مشکل سے نجات دیتا ہے، مشکلات اور پریشانیاں انبیا علیہ السلام پر بھی آتی رہی ہیں اس لیے ہمیں بھی پریشانیوں کا مقابلہ حوصلے سے کرنا چاہیے اور اللہ تعالی سے مدد مانگنی چاہیے۔ اسکے لیے کچھ ناممکن نہیں۔

ویڈیو کی صورت میں یہ کہانی بچوں کے لیے اسلامی ورژن اور عیسائی ورژن میں یو ٹیوب پر موجود ہے،لیکن سب سے بہتر ورژن دی بائبل نامی مووی میں حضرت نوح علیہ سلام والا حصہ ہے۔ بچوں کو ضرور دکھائیے۔

The Path through the Sea


مصر میں دو قومیں رہتی تھیں: ایک مصری قوم یعنی فرعون کی قوم اور دوسری حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل۔ فرعون کی قوم بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتی تھی، سارے محنت کے کام بنی اسرائیل سے لیتی تھی، انھیں مارتی تھی، اور کھانے کو بھی پورا نہیں دیتی تھی۔
حضرت موسیٰ علیہ سلام اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ اُنھوں نے فرعون سے کہا کہ وہ ان کی قوم کو آزاد کر دے اور انھیں ان کے آبائی وطن فلسطین جانے دے۔ لیکن فرعون نے بنی اسرائیل کو آزاد کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت موسیٰ علیہ سلام نے فرعون سے کہا کہ اگر وہ بنی اسرائیل کو آزاد نہیں کرے گا اور انھیں ان کے وطن واپس نہیں جانے دے گا تو اس پر اور اس کی قوم پر خدا عذاب نازل کرے گا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اس بات کو مذاق میں اُڑا دیا۔
آخر اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم پر مختلف قسم کی مصیبتیں یعنی عذاب نازل کیے۔ کبھی آسمان سے آگ برستی، کبھی مینڈکوں کی بارش ہوتی، اور ہر چیز میں مینڈک ہی مینڈک بھر جاتے۔ کبھی کوئی وبا پھیل جاتی اور بہت سارے لوگ مر جاتے، اور کبھی مصر میں ہر قسم کا پانی خون میں تبدیل ہوجاتا۔ دریا، چشمے، ندیاں، حتیٰ کہ گھروں میں مٹکوں کے اندر رکھا ہوا پانی بھی خون بن جاتا ۔
جب فرعون اور اس کی قوم ان عذابوں سے تنگ آگئی تو فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنی قوم کو لے کر مصر سے باہر نکل جائیں اور جہاں چاہیں وہاں چلے جائیں۔
جب موسیٰ علیہ سلام اپنے سارے لوگوں کو لے کر بحیرۂ احمر کے ساحل تک پہنچے تو فرعون پیچھے سے اُنھیں مارنے کے لیے اپنی فوج لے کر آگیا۔ سارے لوگ پریشان ہوکر موسیٰ علیہ سلام سے کہنے لگے کہ ہم اب کہاں جائیں گے۔ ہمارے آگے سمندر ہے اور پیچھے سے فرعون کی فوج ہمیں مارنے آرہی ہے۔
اس پر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم تیری عبادت کرتے ہیں، تجھ پر بھروسا کرتے ہیں، تیرے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلے ہیں، تیرے لیے تیرے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں، تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں، تُو ہی ہمیں فرعون سے بچا سکتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سمندر میں زور سے ماریں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی سمندر میں ماری تو سمندر کا پانی وہاں سے دونوں طرف ہٹنا شروع ہوگیا اور سمندر میں راستہ بن گیا۔ موسیٰ نے اپنے لوگوں سے کہا کہ وہ جلدی جلدی سمندر کے پار دوسری طرف چلے جائیں ۔ سب جلدی جلدی سمندر پار کر کے دوسری طرف چلے گئے۔
پیچھے سے فرعون بھی انکا پیچھا کرتا ہوا اسی راستے پر آنے لگا۔ لیکن فرعون اور اسکی فوج ابھی آدھے راستے میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ دوبارہ اپنی جگہ پر آجائے۔ پانی دوبارہ اپنی جگہ پر آگیا اور فرعون اپنی فوج سمیت سمندر میں ڈوب گیا۔ یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی اور وہ مصر سے باہر اپنے وطن کی جانب چلی گئی۔

زمرہ: مذہبی/اخلاقی کہانیاں
عمر: 5 سال اور زائد
بنیادی خیال: بچوں کو کہانی سنانا، کہانیوں کی صورت انبیاء علیہ سلام کے ناموں سے روشناس کرانا، واقعات کو سادہ اور عام فہم انداز میں چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی صورت سنانا کہ بچے انہیں دلچسپی سے سنیں اور یاد بھی رکھ سکیں۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کا قصہ تین سے چار کہانیوں کی صورت سنایا جاسکتا ہے، 1۔ انھیں آگ میں ڈالنے اور آگ کے ٹھنڈا ہوجانے کا قصہ، 2۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا قصہ، 3۔ بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوعرب کے صحرا میں چھوڑ جانے کا قصہ بشمول زم زم اور مکہ کی بستی بس جانے کا واقعہ، 4۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کا قصہ۔
آموزش: مختلف انبیاء علیہ سلام کی کہانیاں سنا کر بچوں میں یہ احساس پیدا کرنا کہ ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ کو ہی پکارنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی ہمیں ہر پریشانی اور مشکل سے نجات دیتا ہے، مشکلات اور پریشانیاں انبیا علیہ السلام پر بھی آتی رہی ہیں اس لیے ہمیں بھی پریشانیوں کا مقابلہ حوصلے سے کرنا چاہیے اور اللہ تعالی سے مدد مانگنی چاہیے۔ اس کے لیے کچھ ناممکن نہیں۔

Brother Bear 2

پیش لفظ:برادر بئیر ٹو دراصل پہلی فلم کا تسلسل ہے لیکن اسکا تعلق پہلی فلم سے اتنا ہی ہے کہ بڑا بھالو پہلی فلم میں ایک انسان تھاجو اپنے ایک غلط کام کی سزا میں بھالو بن گیا تھا۔ لیکن پہلی فلم کو نظر انداز کر کے بھی یہ مووی بچوں کو دکھائی جاسکتی ہے۔ بصری طور پر بچوں کے لیے بہت دلچسپ مووی ہے، جس میں بہت خوبصورت اور شوخ رنگ استعمال کیے گئے ہیں، بہت سارے جانور ہیں اور منظر کشی بہت پرکشش ہے۔
کہانی:یہ دو بھالووں کی کہانی ہے دونوں دوست ہیں۔ ایک بڑا بھالو کینائی Kenai اور ایک چھوٹا بھالو کوڈا Koda d دونوں برفانی جنگل میں رہتے تھے ایک ساتھ کھیلتے تھے، ایک ساتھ کھاتے تھے اور ایک ساتھ سوتے تھے۔ بڑا بھالو پہلے ایک لڑکا تھا لیکن اس نے ایک بھالو کو مار دیا تھا تو سزا کے طور پر اسے بھالو بنا دیا گیا تھا۔ اس کی ایک دوست تھی نیتا Nita دونوں میں بہت دوستی تھی۔ اس نے اپنی دوست نیتا کو ایک جادوئی لاکٹ دیا تھا جو اس کی حفاظت کرتا تھا۔لیکن کینائی تو اب بھالو بن گیا تھا۔ لیکن وہ نیتا کو یاد کرتا تھا۔ نیتا کی اب شادی ہونے والی تھی لیکن اس کی شادی جب تک نہیں ہوسکتی تھی جب تک وہ لاکٹ کے جادو کو ختم نہ کردے۔ اسے اس کی دادی نے بتایا کہ جس نے تمہیں یہ لاکٹ دیا ہے اس کے ساتھ مل کر یہ لاکٹ آگ میں جلانا ہوگا اسی مقام پر جہاں اس نے تمہیں یہ لاکٹ دیا تھا، تب اس لاکٹ کا جادو ختم ہوگا اور تمہاری شادی ہوسکے گی۔
لہذہ نیتا اپنے دوست کی تلاش میں جنگل میں جاتی ہے اور کینائی کو تلاش کرکے اسے اپنے ساتھ اسی غار میں لے جاتی ہے جہاں اس نے یہ لاکٹ نیتا کو دیا تھا۔ راسے میں بہت سے جانور ملتے ہیں،بہت ساری مشکلات آتی ہیں، دریا پار کرنا پڑتا ہے، چھوٹا بھالو اپنے دوست سے ناراض ہوجاتا ہے کہ اسکا دوست بھالو نیتا کی وجہ سے اسے نظر انداز کر رہا ہے۔
آخر وہ تینوں وہاں پہنچ جاتے ہیں اور لاکٹ جلا دیتے ہیں ۔ پھر نیتا واپس اپنے گھر چلی جاتی ہے۔ مووی کے آخر میں نیتا بھی ایک مادہ بھالو میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر اسکی کینائی سے شادی ہوجاتی ہے اور تینوں بھالو جنگل میں ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

فلم کا نام: برادر بئیر 2
صیغہ: بچوں کے لیے والدین کی رہنمائی میں
عمر: دو سال اور اس سے زائد

ہدایات برائے والدین/اساتذہ:
والدین یا اساتذہ بچوں کو مختلف جانوروں کے ناموں سے روشناس کروائیں، جنگل کے بارے میں بتائیں۔ نسبتاً بڑے بچوں کو فکشن سے روشناس کروائیں ۔ بچوں کو بتائیں کہ موویز میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بس کہانی ہوتی ہے، اصل کردار نہیں یا حقیقی زندگی میں کوئی اس طرح بھالو یا جانور نہیں بن سکتا۔


Usi Se Thanda, Usi Se Garam

ایک لکڑہارا روز لکڑیاں کاٹنے جنگل کو جاتا تھا۔ وہ صبح سویرے جاتا اور شام کو واپس آتا۔ اُس کی بیوی اُس کے تھیلے میں کچھ کچے آلو ڈال دیتی اور کچھ پانی ساتھ میں دے دیتی۔ جب لکڑیاں کاٹتے کاٹتے لکڑ ہارا تھک جاتا اور اسے بھوک لگتی تو وہ آلو نکالتا، کچھ لکڑیاں جلاتا اور آگ پر  آلو بھون کر کھا لیتا۔
ایک دن بہت سردی تھی۔ اسکے ہاتھ بار بار ٹھنڈے ہوجاتے اور کلہاڑا اس کے ہاتھ سے چھوٹنے لگتا۔ وہ لکڑیاں کاٹتے ہوئے بار بار اپنے ہاتھوں کو گرم کرنے کے لیے رکتا اور دونوں ہاتھوں کوپھونک مار کے آپس میں رگڑتا۔ اس طرح ہاتھ گرم ہو جاتے اور وہ پھر سے لکڑیاں کاٹنے لگتا۔
ایک بار وہ اپنے ہاتھ پھونک مار کر گرم کر رہا تھا کہ اسے اپنے قریب بھنبھناہٹ سنائی دی۔ اس نے دیکھا کہ وہاں کچھ بونے تھے جو اسے ہاتھوں پر پھونک مارتے دیکھ کر حیرت کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ لکڑہارے نے انھیں بتایا کہ وہ پھونک مار کر اور ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر اپنے ٹھنڈے ہاتھ گرم کر رہا ہے تاکہ ہاتھ سن ہوجانے سے اس کی کلہاڑی اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔
کچھ دیر بعد اسے بھوک لگی تو اس نے آلو آگ میں بھننے کے لیے رکھ دیے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ایک آلو کو نکال کر دیکھا کہ آیا آلو گل گیا ہے یا نہیں۔
آلو بہت گرم تھا۔ اس نے جلدی سے آلو پر پھونک ماری کہ وہ ٹھنڈا ہو اور اس کا منھ نہ جلادے۔
بونے بہت حیران ہوئے کہ آلو تو پہلے سے گرم ہے پھر اس پر پھونک کیوں ماری۔ انھوں نے لکڑہارے سے اپنی حیرت کا اظہار کیا۔ لکڑ ہارے نے کہا کہ وہ آلو کو ٹھنڈا کر رہا ہے۔
بونے بے چارے یہ کہتے ہوئے چل دئیے کہ عجیب مخلوق ہے، اُسی سے ٹھنڈا کرتی ہے اسی سے گرم۔
کہانی: اسی سے ٹھنڈا اسی سے گرممصنف: نامعلوم
راوی: +Nasreen Ghori موضوع: سائنس [ٹھنڈے اور گرم کا موازنہ، حرارت کا تصور]عمر: 4 سال یا اس سے زائدآموزش: درجہ حرارت کا تقابل کرنا، ٹھنڈی اور گرم چیزوں میں تمیز کرنا ہدایات برائے والدین:بچوں کو مختلف اشیاء کے درجہ حرارت محسوس کروائیں اور ان سے پوچھیں کے کوئی شے گرم ہے تو کیسے اور کیوں اور اگر ٹھنڈی لگتی ہے تو کیوں اور کیسے۔ اسی حساب سے انھیں سمجھائیں کہ انسانی درجہ حرارت کے مقابلے میں ٹھنڈی چیز پر پھونک ماریں تو وہ گرم ہوکر انسانی درجہ حرارت پر آجاَئے گی، اور گرم چیز پر پھونک ماریں تو وہ ٹھنڈی  ہوکر انسانی درجہ حرارت پر آجائے گی۔  یہی بات بونوں کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔بچوں کو ٹھنڈے اور گرم پانی کا تجربہ کروائیں:ان کا ایک ہاتھ نسبتاً ٹھنڈے پانی میں ڈلوائیں اور دوسرا نسبتاً گرم پانی میں ، پھر باری باری ہاتھ نارمل پانی میں ڈلوا کر پوچھیں کہ پانی کیسا ہے ٹھنڈا یا گرم، ٹھنڈے پانی والے ہاتھ کو پانی گرم لگے گا اور گرم پانی میں ڈبوئے ہاتھ کو نارمل پانی ٹھنڈا لگے گا۔

Fly Away Home - Film Review

بچوں کے لیے اور ان کے بڑوں کے لیے بھی ایک بہت خوبصورت فلم جس میں مہاجر پرندوں اور انکے قدرتی ماحول کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ فلم کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاسکتا ہے۔ بطور کہانی بھی بچوں کو سنائی جاسکتی ہے۔ واپس گھر کو چلیںایمی اپنی امی کے ساتھ نیوزی لینڈ میں رہتی تھی۔ ایک حادثے میں اسکی امی کی وفات کے باعث اسے اپنے والد کے پاس کینڈا جانا پڑا۔ اسکے والد کو جانوروں سے بہت محبت تھی اور انہیں چھوٹے ہوائی جہاز بنانے اور اڑانے کا شوق تھا۔ ان کا فارم ہاوس کینیڈا کے ایک قصبے میں تھا۔ جہاں ہر سال امریکہ سے بڑی بطخیں سردیوں میں ہجرت کر کے آتی تھیں اور جنگل میں گھونسلے بنا کر انڈے دیتی تھیں، پھر اپنے بچوں کے ساتھ گرمیوں میں واپس امریکہ چلی جاتی تھیں۔ایک دن صبح صبح مشینوں کے شور سے اس کی آنکھ کھلی ، اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ بڑے بڑے ٹریکٹروں اور مشینوں کی مدد سےجنگل کے درخت کاٹنے اور گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور اس کے ابو انہیں اس کام سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعد میں اس کے ابو نے اسے بتایا کہ یہ لوگ جنگل کاٹ کر لکڑی فروخت کرتے ہیں لیکن یہ جنگل ان مہاجر بطخوں کے لیے بہت اہم ہے۔ ہر سال یہ بطخیں یہاں آتی ہیں اور یہاں جنگل میں گھونسلے بنا کر انڈے دیتی ہیں۔ اگر یہ جنگل نہیں رہے گا تو پرندے کہاں پر رہیں گے اور کہاں پر نسل بڑھائیں گے۔ایمی کا نئی جگہ پر دل نہیں لگتا تھا، وہ اپنا وقت گزارنے کے لیے اپنے ابو کے فارم ہاوس اور ارد گرد جنگل میں سیر کے لیے جاتی تھی۔ ایک دن سیر کے دوران اسے بطخ کے بہت سارے انڈے نظر آئے جن میں سے چوزوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ ان کی امی بطخ جنگل کاٹنےسے پریشان ہو کر کہیں اور چلی گئی تھیں۔ ایمی ان انڈوں کو اٹھا کر اپنے گھر لے آئی اور اسٹور میں ایک الماری کی دراز میں پرانے کپڑے بچھا کر ان پر آرام سے رکھ دیا۔ ان کو گرم کرنے کے لیے ایک بلب جلا کر ان کے قریب رکھ دیا۔ تھوڑے دنوں میں ان میں سے بہت سارے بطخ کے چوزے نکل آئے۔ ایمی ان چوزوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ اس نے اپنے ابو سے ان چوزوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت لے لی۔ اسطرح ایمی اور چوزے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ ایک ساتھ کھاتے، ایک ساتھ نہاتے، ایک ساتھ سیر کو جاتے۔ جب ایمی اسکول جاتی تو اسکے ابو چوزوں کا خیال رکھتے کہ بلی انہیں نہ کھا جائے۔ محکمہ جنگلی حیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بطخ کےچوزے جب انڈوں سے نکلتے ہیں تو جو متحرک چیز انہیں سب سے پہلے دکھائی دیتی ہے اسے وہ اپنی امی سمجھتے ہیں۔ اور ایمی کے چوزے ایمی کو اپنی امی سمجھتے ہیں اسی لیے وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ جاتے ہیں۔تھوڑے دن گزرے تو چوزے تھوڑے بڑے ہوگئے۔ ان کی اصلی امی ہوتیں تو انہیں اپنے ساتھ اڑنا سکھاتی۔ اب ایمی کو انہیں اڑنا سکھانا پڑا۔ کیوں کہ وہ ایمی کو اپنی امی سمجھتے تھے۔ کچھ عرصے بعد گرمیاں آگئیں۔ اب بطخ کے بچوں کو اپنے گھر امریکہ واپس جانا تھا۔ لیکن ان کو راستہ نہیں آتا تھا۔ ان کی بطخ امی تو گم ہوگئی تھیں۔ بطخ کے بچوں کو ان کے گھر واپس پہنچانے کے لیے ایمی کے ابو نے ایک چھوٹا ہوائی جہاز بنایا جو دور سے ایک بڑی بطخ کی طرح لگتا تھا۔ پھر ایمی کو جہاز چلانا سکھایا۔ ایمی جہاز میں بیٹھ کر آگے آگے اڑتی جاتی اور اس کے چوزے اس کے پیچھے پیچھے۔ اس طرح اس نے دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بطخ کے بچوں کو واپس ان کے گھر پہنچا یا ۔ اگلی سردیوں میں وہ سارے چوزے بڑے ہوکر دوبار کینیڈا میں ایمی کے گھر اس سے ملنے آئے۔
فلم کا نام: فلائی اوے ہومصیغہ: بچوں کے لیے والدین / اساتذہ کی رہنمائی میں عمر: تین سال اور اس سے زائدہدایات:والدین / اساتذہ درج بالا کہانی بھی بچوں کو سنا سکتے ہیں اور فلم بھی بچوں کو دکھا سکتے ہیں ۔ دوران فلم بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ فلم کے دوران یا فلم کے بعد بچوں کو مہاجر پرندوں کے بارے میں بتائیں۔ پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی مثال دیں ۔ انسانی زندگی اور جنگلی حیات کے لیے جنگلات کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔ پرندوں کی افزائش نسل ، پرندوں کی زندگی کے مختلف ادوار اور انکے قدرتی ماحول سے انکے تعلق کے بارے میں بتائیں۔انسانوں اور پرندوں میں والدین اور بچوں کا تعلق اور محبت، بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش میں والدین کے کردار کو وضاحت سے بتائیں۔
تجزیہ: نسرین غوری

Story of Two Brothers


ایک آدمی کے دو بیٹے تھے، بڑا بیٹا چالاک تھا، جبکہ چھوٹا بیٹا بہت سادہ تھا۔ وہ آدمی بہت بیمار رہتا تھا، جب اسے لگا کہ اب اس کا آخری وقت آگیا ہے تو اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور انہیں نصیحت کی کی دونوں اس کے بعد مل جل کر رہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ کچھ دن بعد اس آدمی کا انتقال ہوگیا ۔ دونوں بھائیوں کے پاس وراثت میں ایک گائے، ایک کھجور کا درخت اور ایک کمبل آئے ۔
اب وراثت میں تین چیزیں تھیں اور بھائی تھے دو۔ وراثت تقسیم کیسے ہوتی۔ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ گائے کا اگلا حصہ صاف ستھرا ہوتا ہے، وہ تم لے لو اور پچھلا حصہ گندہ ہوتا ہے، گوبر وغیرہ صاف کرنا پڑتا ہے وہ میں لے لیتا ہوں، تم بس گائے کو کھلانا پلانا اور صفائی میرے ذمے۔ چھوٹا بھائی بہت خوش ہوا کہ بڑے بھائی کو میرا کتنا خیال ہے۔ کھجور کے درخت کے بارے میں بڑے بھائی نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ کھجور کے درخت کا نیچے کا آدھا حصہ تمہارا کیوں کہ تم درخت پر چڑھ نہیں سکتے اور اوپر والا حصہ میرا۔ چھوٹا بھائی اس پر بھی خوش ہوگیا۔ کمبل کے بارے میں اس نے کہا کہ ایسا کرنا کہ دن بھر کمبل تمہارا، اور رات کو میرا۔ چھوٹا بھائی اپنی سادگی کے باعث اپنے بھائی کی تقسیم پر بہت خوش اور مطمئن تھا۔
اب یہ ہوتا کہ چھوٹا بھائی گائے کو خوب کھلاتا پلاتا اور خیال رکھتا ، اور بڑا بھائی سارا دودھ نکال لیتا، آدھا خود پی لیتا اور آدھا بازار میں بیچ دیتا، چھوٹے بھائی کو کچھ نہ دیتا، چھوٹا بھائی مطمئن تھا کیوں کہ اسے پتا تھا کہ گائے کا پچھلا حصہ اسکے بڑے بھائی کا ہے۔
چھوٹا بھائی کھجور کے درخت کو خوب کھاد اور پانی ڈالتا اور جب کھجور پک کر تیار ہوجاتیں تو بڑا بھائی درخت پر چڑھ کر ساری کھجوریں اتار لیتا ، کچھ خود کھاتا باقی بازار میں بیچ آتا۔ چھوٹے بھائی کو کچھ نہ دیتا۔ چھوٹا بھائی کوئی شکایت نہ کرتا کہ اسکا حصہ تو نیچے کا آدھا درخت تھا۔
گرمیوں میں تو کسی کو کمبل کی ضرورت نہیں پڑی، لیکن جب سردیاں آئیں تو دن بھر کمبل چھوٹے بھائی کے پاس ہوتا اور رات کو بڑا بھائی کمبل اوڑھ کر مزے سے سوجاتا جبکہ چھوٹا بھائی سردی میں سکڑتا رہتا۔
محلے والوں نے دیکھا کہ بڑا بھائی اپنی چالاکی اور چھوٹے بھائی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ تو انہوں نے چھوٹے بھائی سے بات کی اور اسے سمجھایا کہ گائے کے دودھ، کھجور کے پھل میں تمہارا بھی حصہ ہے۔ اور کمبل بھی ایک دن تمہارے پاس اور ایک د ن تمہارے بھائی کے پاس ہونا چاہیے۔
اگلے دن جب بڑا بھائی دودھ دوہنے لگا تو چھوٹا بھائی ایک چھڑی لے کر گائے کے اگلے حصے پر مارنے لگا، گائے  بدکنے لگی اور ادِھر اُدھر ہلنے جلنے لگی۔ بڑا بھائی بولا ’’یہ کیا کر رہے ہو، دیکھتے نہیں میں دودھ دوہ رہا ہوں‘‘، چھوٹا بھائی بولا کہ میں تمہارے حصے کی گائے کو نہیں اپنے حصے کی گائے کو مار رہا ہوں۔ اس لیے تم اعتراض نہیں کرسکتے۔اور وہ گائے کو بدستور چھڑی سے مارتا رہا، گائے ٹانگیں مارنے لگی ، دودھ دوہنا مشکل ہوگیا۔ بڑا بھائی بولا اچھا ٹھیک ہے میں تمہیں دودھ میں سے حصہ دوں گا، تم گائے کو مت مارو۔ چھوٹا بھائی بولا کہ تمہیں گائے کو کھلانے پلانےمیں بھی حصہ لینا چاہیے، بڑے بھائی نے وعدہ کیا کہ ایسا ہی ہوگ۔ اسطرح چھوٹے بھائی کو بھی اپنے والد کی گائے کا دودھ ملنے لگا۔
کچھ دن بعد جب کھجور پر پھل پک گئے تو بڑا بھائی کھجور توڑنے اوپر چڑھا، ابھی اس نے تھوڑی سی کھجوریں توڑی تھیں تو اسکو لگا کہ کوئی نیچے سے درخت کو کاٹ رہا ہے۔ اس نے نیچے دیکھا تو چھوٹا بھائی کلہاڑا لے کر درخت کا تنا کاٹ رہا تھا۔ وہ اوپر سے چلایا، تم پاگل ہوگئے ہو کیا، دیکھتے نہیں کہ میں کھجوریں توڑ رہاہوں۔ چھوٹا بھائی بولا کہ ہاں ، لیکن میں اپنے حصے کا درخت کاٹ رہا ہوں۔ تمہارے حصے کا نہیں۔ بڑا بھائی چلایا ، اچھا میں تمہیں اپنے حصے کی کھجوروں میں سے تمہیں بھی دونگا پر تم کلہاڑی چلانا بند کرو۔ چھوٹابھائی کلہاڑی چلاتے ہوئے بولا مگر تمہیں درخت کی دیکھ بھال میں بھی ہاتھ بٹانا چاہیے۔ بڑے بھائی نے وعدہ کیا کہ وہ درخت کو پانی اور کھاد ڈالنے میں اسکا ساتھ دے گا۔
جب سردیاں آئیں تو ایک دن رات کو جب بڑا بھائی سونے کے لیے کمبل لینے گیا تو دیکھا کہ کمبل بالٹی میں پانی میں بھیگا ہوا ہے۔ اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو ڈانٹا کہ اب وہ یہ کمبل اوڑھ کر کیسے سو سکتا ہے۔ چھوٹا بھائی بولا کہ دن میں کمبل اسکا ہوتا ہے، اور وہ اسکا جو چاہے کرے، اب کمبل بڑے بھائی کا ہے، سو جو کرنا ہے کرے لیکن اس کو نہ ڈانٹے۔ بڑا بھائی سمجھ گیا کہ چھوٹے بھائی کو کسی نے سمجھایا ہے۔
اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے معافی مانگی اور اسے کہا کہ اب وہ دونوں مل جل کر رہیں گے، دونوں گائے کی دیکھ بھال کریں گے، اور دونوں اسکا دودھ پئیں گے۔ اسی طرح دونوں کھجور کے درخت کو پانی اور کھاد دیں گے اور دونوں اس کا پھل کھائیں گے۔ رات کو دونوں بھائی باری باری کمبل اوڑھیں گے۔
کہانی: دوبھائیوں کی کہانیمصنف: نامعلوم
راوی: نسرین غوریموضوع: اتفاق سے رہنا/ مل جل کر رہناعمر: +4آموزش:
  • اپنے سے چھوٹوں کا خیال کرنا
  • بہن بھائیوں کا خیال رکھنا
  • مل جل کر رہنے کے فائدے

A Story of Shoes

جب انسان نے نئی نئی اشیا بنانا سیکھیں اور ان کا استعمال سیکھا تو ان میں سے ایک جوتے بھی تھے۔ پہلے پہل وہ ایک پاؤں میں ایک طرح کا جوتا پہنتا اور دوسرے میں دوسری طرح کا، لیکن بعد میں دونوں جوتے ایک جیسے بننے لگے۔ انھی دنوں کی کہانی ہے کہ ایک شخص نے محنت سے دن رات پیسے کما کر موچی سے جوتوں کا ایک جوڑا لیا۔ چمڑے کے بنے جوتے خاصے دیدہ زیب تھے اور جو کوئی اُس کے جوتے دیکھتا، وہ اُس شخص کی پسند اور موچی کی مہارت کی تعریف کیے بنا نہ رہ پاتا۔زیادہ تعریف چونکہ کسی کو بھی گمراہ کر سکتی ہے تو وہ جوتے بھی آہستہ آہستہ گھمنڈ کرنے لگے اور اس شخص کے وقت بے وقت پہننے پر چیں بہ چیں ہونے لگے۔ کبھی وہ اس کو کاٹ لیتے کبھی پاؤں سے اتر جاتے لیکن وہ شخص برداشت کرتا رہا ۔ ایک دن ایک جوتے کو خیال آیا کہ دراصل ساری خوبصورتی تو اُس میں ہے، داہنی طرف والا تو اندر کی طرف سے خوبصورت ہے اور وہاں سے وہ کسی کو نظر ہی نہیں، جبکہ اصل میں تو اس کی خوبصورتی ہے جو باہر سے دکھتی ہے اور لوگ تعریف کیے بنا نہیں رہ پاتے۔ اُدھر دوسرے جوتے کو بھی ایسے ہی خیال ستانے لگے کہ اصل خوبصورت تو وہ ہے اور اس کے ساتھ والا جوتا اس کی وجہ سے تعریفیں سمیٹتا پھرتا ہے۔برے خیالات نے آہستہ آہستہ ان کے دماغ پر قبضہ جما لیا اور آخر کار ایک دن وہ دونوں ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ ایک نے دوسرے کو کہا، ’’تم آہستہ نہیں چل سکتے؟ جبکہ تم جانتے ہو میری اصل خوبصورتی تب ظاہر ہوتی ہے جب آہستہ آہستہ قدم جمائے جائیں۔‘‘ دوسرا یہ بات سن کر خوب ہنسا اور بولا، ’’یہ تم سے کس نے کہا تم خوبصورت ہو۔ میری مہربانی سمجھو کہ میں نے تم کو اپنی تعریفوں میں حصہ لینے دیا ہے۔‘‘جب کوئی بدگمان ہو جائے تو اس بدگمانی کا علاج آسان نہیں ہوتا۔ تو ہوا یوں کہ اگر جوتوں کے مالک نے سیدھا جانا ہوتا تو داہنا جوتا دائیں مڑ جاتا اور بائیاں بائیں۔ اس شخص نے کچھ دن تو برداشت کیا لیکن آخر ایک روز جو اسے غصہ آیا تو اس نے قینچی سے دونوں جوتوں کو کتر کر ردی میں پھینک دیا۔حالت سے بے حالت ہو کر چند روز ردی کی ٹوکری میں گزار کر دونوں جوتوں کو عقل آگئی۔ چند روز بعد جب ایک مزدور نے انہیں کوڑے سے نکال کر الٹا سیدھا سی کر بدنما کر دیا تو وہ تب بھی پہننے میں مزدور کو اتنے آرام دہ لگے کہ وہ رات کو بھی ان کو بمشکل اتارا کرتا تھا۔ کیونکہ جوتے سیکھ چکے تھے زندگی گزارنے کے لیے مل جل کر رہنا ضروری ہے۔

Wizard of Oz - 03 How Dorothy Saved The Scarecrow


In this third chapter of The Wonderful Wizard of Oz - How Dorothy saved the Scarecrow – Dorothy, with wearing the silver shoes of dead witch, starts her journey to the city of emerald to meet wizard of Oz. Everyone there welcomes her because they know that she is the one who set them free from the cruel witch of east.  She spends one night in a big house of a Munchkin where the celebration of freedom is going on. Munchkins think that she is a good witch. The next day on her journey to the city of Emerald with Toto, she sees a Scarecrow hanging. The scarecrow asks her to make him free and she does. He is made of stuff and he wants to have a brain like human. So he joins Dorothy in the journey so he can ask wizard of Oz for some brain.
تیسرا بابڈوروتھی اور باگڑبلّاجب ڈوروتھی اکیلی رہ گئی تو اُسے بھوک کا احساس ہوا۔ اُس نے ڈبل روٹی کے چند ٹکروں پر مکھن لگایا، تھوڑا خود کھایا اور تھوڑا ٹوٹو کو کھلایا۔ پھر اُس نے طاق سے ڈول اُٹھایا اور ٹوٹو کو ساتھ لے کر صاف ستھرے بہتے پانی کے چشمے کی طرف چل دی۔ اِدھر اُس نے ڈول میں پانی بھرا، اُدھر ٹوٹو کو شرارت سوجھی اور وہ درخت کے اوپر چڑھ کر وہاں موجود پرندوں پر بھونکنے لگا۔ ڈوروتھی جب اُسے پکڑنے کے لیے اوپر چڑھی تو اُس نے دیکھا کہ درختوں پر بہت ہی لذیذ پھل لٹک رہے ہیں۔ اُس نے کچھ پھل توڑ لیے اور گھر واپس آگئی۔گھر آکر اُس نے خود بھی پانی پیا اور ٹوٹو کو بھی پلایا؛ اور پھر وہ شہرِ زمرد کی طرف سفر کے لیے تیار ہونے لگی۔ڈوروتھی کے پاس دوسرا لباس صرف ایک ہی تھا جو دُھلا ہوا اُس کے بستر کے پاس ٹنگا ہوا تھا۔ وہ رنگین سوتی کپڑے کی فراک تھی جس پر سفید اور نیلے خانے بنے ہوئے تھے؛ اور اگرچہ کئی بار دُھلنے کے باعث اُس کا نیلا رنگ ماند پڑ چکا تھا، پھر بھی دیکھنے میں اچھی لگتی تھی۔ ننھی لڑکی نے اچھی طرح منھ ہاتھ دھویا، صاف ستھری فراک پہنی اور سر پر گلابی ٹوپی رکھ لی۔ اُس نے ایک چھوٹی ٹوکری کو ڈبل روٹی سے بھرا اور اُسے ایک سفید کپڑے سے ڈھک دیا۔ تب اُس کی نظر اپنے پیروں کی طرف پڑی۔ اُس نے سوچا کہ اُس کے جوتے تو بہت پرانے اور تقریباً بے کار ہوچکے ہیں۔’’طویل سفر میں تو یہ جوتے میرا ساتھ بالکل نہیں دے سکیں گے، ٹوٹو،‘‘ اُس نے کہا۔ ٹوٹو نے اپنی ننھی منّی سیاہ آنکھوں سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا اور اپنی دُم کو ایسے ہلایا جیسے وہ اُس کی بات کا مطلب سمجھ رہا ہو۔اُسی لمحے ڈورتھی کی نظر میز پر پڑی جہاں مشرق کی چڑیل کے نقرئی جوتے رکھے تھے۔’’پتا نہیں، یہ مجھے آئیں گے بھی یا نہیں،‘‘ اُس نے ٹوٹو سے کہا۔اُس نے اپنے پُرانے چمڑے کے جوتے اُتارے اور نقرئی جوتے پہننے کی کوشش کی۔ وہ جوتے اُس کے پاؤں میں اتنے آرام سے آگئے جیسے وہ خاص طور پر اُسی کے لیے بنے ہوں۔آخر اُس نے اپنی ٹوکری اُٹھالی۔’’چلو، ٹوٹو،‘‘ اُس نے کہا، ’’ہم شہرِ زمرد جائیں گے اور عظیم اوز سے کہیں گے کہ وہ ہمیں واپس کنساس بھیج دے۔‘‘اُس نے دروازہ بند کیا، تالا لگایا اور چابی احتیاط سے اپنی فراک کی جیب میں رکھ لی۔ اور یوں، اُس نے اپنے سفر کا آغاز کیا، جب کہ ٹوٹو اُس کے پیچھے پیچھے دُلکی چال چلنے لگا۔یوں تو وہاں کئی سڑکیں تھیں، لیکن اُسے پیلی اینٹوں سے بنی سڑک تلاش کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ اپنے جھنجھناتے ہوئے نقرئی جوتوں کے ساتھ وہ شہرِ زمرد کی طرف چل دی۔ سورج خوب روشن تھا اور پرندے چہچہا رہے تھے۔ آپ شاید سوچیں کہ ایک چھوٹی لڑکی ایسے موقع پر بہت خوف زدہ ہوگی جب کہ اُسے ہواؤں نے اپنے وطن سے میلوں دور ایک اجنبی سرزمین پر پہنچا دیا ہو، لیکن ڈوروتھی کو ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا۔جیسے جیسے وہ آگے بڑھتی گئی، وہ اُس علاقے کی خوب صورتی دیکھ کر حیران ہوتی گئی۔ سڑک کے  کنارے صاف ستھرے جنگلے لگے تھے جن پر نیلا رنگ کیا گیا تھا، اور اُن کے عقب میں اناج اور سبزیوں کے کھیت کثرت سے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ منچکن بہترین کسان تھے اور بڑے پیمانے پر فصلیں اُگایا کرتے تھے۔ جب وہ ایک گھر کے پاس سے گزری تو لوگ گھر سے باہر آکر اُسے دیکھنے لگے ، اور جہاں جہاں سے وہ گزرتی رہی لوگ اُسے جھک جھک کر سلام کرتے رہے؛ کیوں کہ ہر ایک یہ جان چکا تھا کہ یہی وہ لڑکی ہے جس نے ظالم چڑیل کا خاتمہ کیا ہے اور اُنھیں غلامی سے آزادی دلائی ہے۔ منچکنوں کے گھر دیکھنے میں بڑے عجیب تھے۔ سب گھر گول تھے اور اُن کی چھت پر بڑا گنبد بنا ہوا تھا۔ ہر گھر کا رنگ نیلا تھا، گویا ملکِ مشرق کا پسندیدہ ترین رنگ نیلا تھا۔جب شام ہوئی اور ڈوروتھی اپنی طویل چہل قدمی سے تھک کر یہ سوچنے لگی کہ رات کہاں گزاری جائے، اُس نے ایک گھر دیکھا جو باقی تمام گھروں کے مقابلے میں بڑا تھا۔ اُس کے سامنے سبززار میں بہت سے لوگ خوشی سے رقص کر رہے تھے۔ پانچ چھوٹے سارنگی نواز حتی المقدور بلند آواز میں موسیقی بجا رہے تھے اور لوگ ہنس رہے تھے اور گیت گا ر ہے تھے۔ قریب ہی ایک بڑی میز پر لذیذ پھل اور میوے، سموسے، کیک اور دیگر مزے مزے کے کھانے موجود تھے۔تمام لوگوں نے ڈوروتھی کو محبت سے خوش آمدید کیا، اور اپنے ساتھ کھانا کھانے اور رات وہیں گزارنے کی دعوت دی۔ وہ گھر اُس علاقے کے امیر ترین منچکن کا تھا۔ اُس کے دوست وہاں اُس کی دعوت پر جمع تھے اور ظالم چڑیل کی غلامی سے آزادی کی خوشیاں منا رہے تھے۔ڈوروتھی نے خوب جی بھر کر کھانا کھایا اور بوق نامی امیر منچکن کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ لوگ رقص میں مصروف تھے۔ جب بوق آیا اور اُس نے ڈوروتھی کے پاؤں میں نقرئی جوتے دیکھے تو کہنے لگا:’’آپ یقیناً کوئی عظیم جادوگرنی ہوں گی۔‘‘’’کیوں؟‘‘ اُس نے پوچھا۔’’کیوں کہ آپ نے نقرئی جوتے پہن رکھے ہیں اور آپ نے ظالم چڑیل کو بھی مار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کی فراک میں سفید رنگ بھی ظاہر ہے اور صرف چڑیلیں اور جادوگرنیاں ہی سفید رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں۔‘‘
’’دراصل میرے لباس پر نیلے اور سفید خانے بنے ہوئے ہیں,‘‘ ڈوروتھی نے اپنے کپڑوں کی شکن دور کرتے ہوئے کہا۔’’یہ آپ کی نوازش ہے کہ آپ نے یہ رنگ زیب تن کیا ہے،‘‘ بوق کہنے لگا۔ ’’نیلا رنگ منچکنوں کی پہچان ہے اور سفید رنگ چڑیلوں کے لیے مخصوص ہے؛ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ہماری دوست چڑیل ہیں۔‘‘ڈوروتھی فیصلہ نہیں کر سکی کہ اُسے جواب میں کیا کہنا چاہیے۔ ہر ایک شخص کو یہی لگتا تھا کہ وہ چڑیل ہے؛ جب کہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ ایک معمولی لڑکی ہے جسے اتفاقاً بگولوں نے ایک اجنبی سرزمین پر پہنچا دیا ہے۔جب وہ لوگوں کا رقص دیکھتے دیکھتے تھک گئی تو بوق اُسے گھر میں لے گیا اور ایک کمرہ اُسے دے دیا جس میں بہترین بستر لگا ہوا تھا۔ بستر پر نیلی چادر بچھی ہوئی تھی۔ ڈوروتھی صبح تک آرام سے سوئی، اور ٹوٹو بھی اُس کے ساتھ ہی بستر میں لپٹ کر سو گیا۔صبح اُس نے خوب اچھی طرح ناشتہ کیا۔ اس دوران ایک ننھا منچکن بچّہ، ٹوٹو کے ساتھ کھیلتا رہا اور اُس کی دُم پکڑ کر کھینچتا رہا۔ ڈوروتھی یہ دیکھ کر خوب ہنسی۔ وہاں کے تمام لوگوں کے لیے ٹوٹو حیرت کا سبب تھا، کیوں کہ اُنھوں نے اُس سے پہلے کبھی کوئی کتّا نہیں دیکھا تھا۔
’’شہرِ زمرد یہاں سے کتنا دور ہے؟‘‘ ڈوروتھی نے ناشتہ ختم کرنے کے بعد پوچھا۔’’میں نہیں جانتا، کیوں کہ میں وہاں کبھی نہیں گیا۔‘‘ بوق نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ’’لوگوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اوز سے دور رہیں، جب تک اُنھیں واقعی اُس سے کوئی کام نہ ہو۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ شہرِ زمرد یہاں سے خاصا دور ہے اور وہاں تک پہنچنے میں آپ کو کئی دن لگ جائیں گے۔ یہ علاقہ یہاں تو زرخیز اور خوش گوار ہے، لیکن منزل تک پہنچنے میں آپ کا گزر کئی خراب اور خطرناک راستوں سے بھی ہوگا۔‘‘ڈوروتھی یہ سن کر تھوڑا پریشان ہوئی، مگر وہ جانتی تھی کہ صرف عظیم اوز ہی ہے جو کنساس واپس جانے میں اُس کی مدد کرسکتا ہے، لہٰذا اُس نے بہادری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔اُس نے اپنے دوستوں کو الوداع کہا، اور پیلی اینٹوں کی سڑک کے ساتھ ساتھ اپنا سفر دوبارہ شروع کردیا۔ جب وہ سات میل کا سفر طے کرچکی تو اُس نے سوچا کہ کچھ دیر رُک کر آرام کر لیا جائے۔ چناں چہ وہ سڑک کے کنارے لگے جنگلے کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئی۔ اُس نے دیکھا کہ کچھ ہی فاصلے پر، پرندوں کو اناج سے دور رکھنے کے لیے، ایک اونچے بانس پر باگڑبلّا لٹکا ہوا ہے۔ (باگڑبلّا گھاس پھوس، لکڑی اور کپڑے کا بنا ہوا ایک پُتلا ہوتا ہے جسے پرندوں کو ڈرانے کے لیے باغ میں لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ پرندے فصل خراب نہ کریں۔)ڈوروتھی نے اپنی ٹھوڑی کے نیچے اپنا ہاتھ رکھا اور غور سے باگڑبلّے کو دیکھنے لگی۔ اُس کا سر گھاس پھوس اور تنکوں سے بھرے ایک چھوٹے تھیلے سے بنا ہوا تھا، اور چہرے جیسا نظر آنے کے لیے اُس پر رنگ کے ذریعے آنکھیں، ناک اور منھ بنائے گئے تھے۔ کسی منچکن کی ایک پُرانی، نوک دار ٹوپی بھی اُس کے سر پر رکھی ہوئی تھی۔ اُس کے باقی جسم پر نیلا لباس تھا جو پرانا دِکھائی دیتا تھا اور اُس کا رنگ ماند پڑ چکا تھا؛ اُس میں بھی جھاڑ جھنکاڑ بھرا ہوا تھا۔ اُس کے پاؤں میں پُرانے جوتے تھے جن کا بالائی حصّہ نیلا تھا۔ باگڑبلّے کی کمر زمین میں گڑے لمبے بانس سے جڑی ہوئی تھی۔ڈوروتھی پوری توجہ سے باگڑبلّے کے رنگے ہوئے بے ڈھنگے چہرے کو تک رہی تھی کہ اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اُسے لگا جیسے باگڑبلّے نے اُسے آنکھ سے اشارہ کیا ہو۔ پہلے تو اُس نے سوچا کہ یقیناً یہ اُس کی نظر کا دھوکا ہوگا؛ کیوں کہ کنساس میں کبھی کسی باگڑبلّے نے اپنی آنکھوں کو حرکت نہیں دی تھی۔ وہ جنگلے سے نیچے اُتر کر باگڑبلّے کے پاس گئی، ٹوٹو بھی اُس کے ساتھ چلتا ہوا گیا اور بھونکنے لگا۔
’’دن بخیر،‘‘ باگڑبلّے نے قدرے بھاری آواز میں کہا۔’’کیا یہ تمھاری آواز تھی؟‘‘ ڈوروتھی نے حیرانی سے پوچھا۔’’اور کیا! تم کیسی ہو؟‘‘ باگڑبلّے نے سوال کیا۔’’میں بالکل ٹھیک ہوں، شکریہ،‘‘ ڈوروتھی نے نرم آواز میں جواب دیا؛ ’’تم کیسے ہو؟‘‘’’میں ٹھیک نہیں ہوں،‘‘ باگڑبلّے نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ’’کوّوں کو بھگانے کے لیے دن رات یہاں لٹکے رہنا بہت ہی تکلیف دہ کام ہے۔‘‘’’کیا تم نیچے نہیں اُتر سکتے؟‘‘ ڈوروتھی نے پوچھا۔’’نہیں، کیوں کہ بانس میری کمر سے چپکا ہوا ہے۔ اگر تم مجھے بانس سے اُتارنے کی زحمت کرو تو میں تمھارا بہت شکر گزار ہوں گا۔‘‘ڈوروتھی  نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اُسے بانس سے نیچے اُتار لیا۔ تنکوں سے بھرے ہونے کی وجہ سے اُس کا وزن بہت ہلکا تھا۔’’تمھارا بہت بہت شکریہ،‘‘ باگڑبلّے نے زمین پر اُترنے کے بعد کہا۔ ’’ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے نئی زندگی مل گئی ہو۔‘‘ردّی کے بنے آدمی کو باتیں کرتا اور اپنے ساتھ چلتا دیکھ کر ڈورتھی دنگ تھی ۔’’تم کون ہو اور کہاں جا رہی ہو؟‘‘ باگڑبلّے نے انگڑائی اور جماہی لیتے ہوئے سوال کیا۔’’میرا نام ڈوروتھی ہے،‘‘ لڑکی نے جواب دیا، ’’اور میں شہرِ زمرد جا رہی ہوں تاکہ عظیم اوز سے درخواست کرسکوں کہ مجھے واپس کنساس بھیج دے۔‘‘’’شہرِ زمرد کہاں ہے؟ اور یہ اوز کون ہے؟‘‘ اُس نے پوچھا۔’’ارے، تم اُسے نہیں جانتے؟‘‘ وہ حیران ہوگئی۔’’نہیں، بالکل بھی نہیں؛ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ تم تو دیکھ سکتی ہو کہ میں ردّی ہوں، اور میرے پاس تو دماغ بھی نہیں ہے،‘‘ اُس نے افسردہ انداز میں جواب دیا۔’’اوہ! مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے،‘‘ ڈوروتھی نے کہا۔’’تمھارا کیا خیال ہے، اگر میں بھی تمھارے ساتھ شہرِ زمرد جاؤں اور اوز سے کہوں کہ وہ مجھے تھوڑا دماغ دے دے؟‘‘ اُس نے سوال کیا۔’’میں کچھ کہہ نہیں سکتی، لیکن اگر تم چاہو تو میرے ساتھ چل سکتے ہو۔ اگر اوز نے تمھیں دماغ نہ بھی دیا، تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ تمھارے پاس ابھی بھی تو دماغ نہیں ہے۔‘‘’’تم ٹھیک کہتی ہو،‘‘ باگڑبلّا اعتماد سے کہنے لگا، ’’اگر میرے ہاتھ اور پاؤں اور باقی جسم ردّی کا ہے تو مجھے فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ میں زخمی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی میرا پاؤں کچل دے یا مجھ میں سوئی چبھا دے، تو بھی مجھے فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ میں اُسے محسوس ہی نہیں کرسکتا۔ مگر میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے احمق پکارے۔ اور اگر میرے سر میں تمھاری طرح دماغ کی بجائے بھوسا بھرا ہوگا تو بھلا مجھے کسی بھی بات کا کیسے پتا چلے گا؟‘‘میں سمجھ سکتی ہوں کہ تمھیں کیسا محسوس ہوتا ہوگا،‘‘ معصوم لڑکی نے اُس کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے کہا۔ ’’اگر تم میرے ساتھ چلو گے تو میں اوز سے کہوں گی وہ تمھارے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔‘‘’’تمھارا شکریہ،‘‘ اُس نے خوشی خوشی جواب دیا۔پھر وہ سڑک کی طرف بڑھے، ڈورتھی نے اُسے جنگلا پھلانگنے میں مدد کی۔ یوں پیلی اینٹوں کی راہ نمائی میں ایک بار پھر شہرِ زمرد کا سفر شروع ہوگیا۔شروع میں ٹوٹو کو ایک نئے شخص کا اضافہ پسند نہیں آیا۔ وہ باگڑبلّے کو سونگھتا رہا جیسے اُسے شک ہو کہ اُس کے بھوسے میں چوہے وغیرہ چھپے ہیں، اور وہ اُس پر کئی بار غیر دوستانہ انداز میں غرایا۔’’ٹوٹو کا بُرا نہ منانا، یہ کبھی نہیں کاٹتا،‘‘ ڈوروتھی نے اپنے نئے دوست سے کہا۔’’مجھے کوئی ڈر نہیں،‘‘ باگڑبلّے نے جواباً کہا، ’’یہ بھوسے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ لاؤ، میں تمھاری ٹوکری اُٹھا لوں۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیوں کہ میں تھکتا نہیں ہوں۔ میں تمھیں ایک راز کی بات بتاتا ہوں،‘‘ وہ ساتھ چلتے چلتے بتانے لگا؛ ’’دنیا میں صرف ایک چیز ہے جس سے مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘’’وہ کس سے؟‘‘ ڈوروتھی نے پوچھا؛ ’’کیا اُس منچکن کسان سے جس نے تمھیں بنایا تھا؟‘‘’’نہیں،‘‘ باگڑبلّے نے جواب دیا؛ ’’جلتی ہوئی ماچس سے۔‘‘

گزشتہ سے پیوستہ

Wizard of Oz - 02 The Council With The Munchkins


In the second chapter - The Council with the Munchkins - of The Wonderful Wizard of Oz, Dorothy founds herself in a very strange but beautiful land. Then little three men and a women appear. Little old woman introduces herself as the witch of North and men as Munchkins, people of the land. What does they point out and what is this strange land? Read the second chapter of this interesting story.
The Wonderful Wizard of Oz is a children's fairytale, written by Layman Frank Baum and illustrated by W. W. Denslow. The book consists of 24 chapters. AntarMantar presents Urdu translation of one new chapter weekly.
دوسرا باب
منچکنوں سے ملاقات

اچانک ایک جھٹکا لگا اور ڈوروتھی بیدار ہوگئی۔ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ اگر وہ اپنے نرم بستر پر نہ لیٹی ہوتی تو شاید زخمی ہوجاتی۔ اُس نے اپنے حواس بحال کیے اور سوچنے لگی کہ اُس کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا۔ ٹوٹو اُس کے پاس آیا اور اپنی ننھی سی ناک اُس کے چہرے سے رگڑتے ہوئے اُداس آواز میں رونے لگا۔ ڈوروتھی اُٹھ بیٹھی اور حالات کا جائزہ لینے لگی۔ گھر اب حرکت نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی پہلے کی طرح تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ کھڑکی سے آنے والی سورج کی کرنوں سے پورا کمرہ روشن تھا۔ وہ چھلانگ مار کر بستر سے اُتری، جوتے پہن کر ٹوٹو کو اپنے بازوؤں میں اُٹھایا اور دروازہ کھول دیا۔گھر کے باہر کا منظر دیکھ کر حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے جذبات سے اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جیسے جیسے وہ اپنے اردگرد کا مشاہدہ کرتی رہی، حیرت انگیز مناظر سے اُس کی آنکھیں پھیلتی گئیں۔ہوا کے بگولے نے گھر کو ایک بے حد خوب صورت ملک کے بیچوں بیچ بہت آرام سے اُتار دیا تھا۔ چاروں طرف خوش نما سبز گھاس اُگی ہوئی تھی اور قطار در قطار درخت ہی درخت تھے جن پر بہترین اور لذیذ پھل لٹک رہے تھے۔ ہر جانب رنگ برنگے پھولوں کے ڈھیر لگے تھے۔ درختوں اور جھاڑیوں میں موجود نت نئے اور چمکیلے پروں والے پرندوں کی پیاری آوازیں ہر سُو گونج رہی تھیں۔ سرسبز جگہ کے بیچ میں پانی کا چھوٹا سا چشمہ بہ رہا تھا۔ یہ سب آوازیں ایک ایسی ننھی لڑکی کے لیے بہت خوش کن تھیں جس کا تمام تر وقت بھورے اور سوکھے علاقے میں گزرا تھا۔جب وہ حیرت سے اپنے اردگرد کے اجنبی مگر خوب صورت مناظر دیکھ رہی تھی تو اُسے ایک طرف سے کچھ انوکھے لوگ اپنی طرف آتے ہوئے دکھائی دیے۔ اُس نے ایسے لوگ پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اُس نے کہانیوں میں بہت سے عجیب و غریب لوگوں کے بارے میں سنا اور پڑھا تھا؛ لیکن وہ لوگ نہ اُن کہانیوں کی طرح دیوقامت تھے اور نہ ہی بونے۔ بل کہ وہ لوگ  جسامت میں ڈوروتھی کے برابر تھے؛ جب کہ عمر میں اُس سے کافی بڑے لگ رہے تھے۔وہ ایک عورت اور تین آدمی تھے، اور اُن سب نے عجیب و غریب لباس پہن رکھا تھا۔ اُن کے سروں پر گول ٹوپی تھی جو اوپر سے تقریباً ایک فٹ اونچی نوک دار تھی، اور کناروں پر چھوٹی چھوٹی گھنٹیاں لٹک رہی تھیں جو اُن کے حرکت کرنے سے بجتی تھیں۔ آدمیوں نے نیلے رنگ کی ٹوپی پہن رکھی تھی؛ جب کہ چھوٹی عورت کے سر پر سفید ٹوپی تھی اور اُس نے سفید چوغہ پہن رکھا تھا۔ چوغے میں چھوٹے چھوٹے ستارے ٹنکے ہوئے تھے اور جب اُن پر سورج کی روشنی پڑتی تھی تو وہ ہیروں کی طرح جگمگاتے تھے۔ آدمیوں کا لباس اُن کی ٹوپیوں کی طرح نیلا تھا۔ اُن کے نوک دار جوتے ایسے چمک رہے تھے جیسے اُن پر ابھی ابھی پولش کی گئی ہو۔ ڈوروتھی کو وہ آدمی چچا ہنری کی عمر کے لگے، اُن میں سے دو آدمیوں کی ڈاڑھی تھی۔ لیکن وہ چھوٹی عورت بلاشبہ کہیں زیادہ بوڑھی تھی؛ اُس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا، اُس کے تقریباً تمام تر بال سفید ہوچکے تھے اور وہ بڑی مشکل سے قدم اُٹھا رہی تھی۔
جب وہ لوگ ڈوروتھی کے گھر کے پاس پہنچے اور اُنھوں نے ڈوروتھی کو دیکھا تو وہ ٹھٹک کر رُک گئے اور اس طرح آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے جیسے مزید آگے آتے ہوئے ڈر رہے ہوں۔ پھر وہ چھوٹی بوڑھی عورت ڈوروتھی کی طرف بڑھی، اُسے جھک کر سلام کیا اور میٹھی آواز میں کہنے لگی:’’انتہائی قابلِ احترام جادوگرنی کو منچکنوں (Munchkins) کی سرزمین پر خوش آمدید! ہم آپ کے بہت ممنون ہیں کہ آپ نے مشرق کی ظالم چڑیل (wicked witch) کو مار ڈالا، اور ہمارے لوگوں کو غلامی سے نجات دلائی۔‘‘ڈوروتھی نے حیرانی سے اُس کی بات سنی۔ وہ سوچنے  لگی کہ چھوٹی عورت کا اُسے ’جادوگرنی‘ کہہ کر مخاطب کرنا اور یہ کہنا کہ اُس نے مشرق کی ظالم چڑیل کو قتل کیا ہے، اس سب کا کیا مطلب ہے۔ ڈوروتھی تو بہت معصوم اور بے ضرر لڑکی تھی جسے بگولے نے اپنے گھر سے میلوں دور یہاں پہنچا دیا تھا اور اُس نے تو اپنی زندگی میں کبھی کسی چھوٹے سے جان دار کو بھی نہیں مارا تھا۔چھوٹی عورت کے چہرے کے تاثرات سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اُسے اپنی بات کے جواب کا انتظار ہے؛ چناں چہ ڈوروتھی نے جھجکتے ہوئے کہا:’’آپ بہت اچھی ہیں؛ لیکن آپ کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں نے کسی کو قتل نہیں کیا ہے۔‘‘’’ہاں، مگر تمھارے گھر نے تو کیا ہے ناں،‘‘ چھوٹی عورت نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ’’وہ دیکھو!‘‘ اُس نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرکے کہا: ’’وہاں دو پاؤں اب بھی نظر آ رہے ہیں جو تمھارے گھر کی لکڑی کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔‘‘ڈوروتھی نے اُس طرف دیکھا اور خوف سے اُس کی آہ نکلی۔ گھر کے اُس کونے میں لکڑی کے ایک بڑے ٹکڑے کے نیچے دو پاؤں دبے ہوئے نظر آ رہے تھے جن میں نوک دار نقرئی (silver) جوتے تھے۔’’اوہ! اوہ!‘‘ ڈوروتھی کراہی اور ڈر کے مارے اُس نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لیے؛ ’’یقیناً گھر اس کے اوپر گر گیا ہوگا۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘’’کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے،‘‘ چھوٹی عورت نے آرام سے جواب دیا۔’’لیکن یہ تھی کون؟‘‘ ڈوروتھی نے پوچھا۔’’جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، یہ مشرق کی ظالم چڑیل تھی،‘‘ چھوٹی عورت نے جواباً کہا۔ ’’اُس نے کئی سالوں سے منچکنوں کو زبردستی اپنا قیدی بنایا ہوا تھا اور دن رات اُن کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتی تھی۔ اب وہ سب آزاد ہیں اور اس مہربانی پر تمھارے شکر گزار ہیں۔‘‘’’منچکن کون ہیں؟‘‘ ڈوروتھی نے سوال کیا۔’’وہ لوگ جو اس زمین پر رہتے ہیں۔ یہ ملکِ مشرق ہے، جس پر ظالم چڑیل حکومت کرتی تھی۔‘‘’’کیا آپ منچکن ہیں؟‘‘ ڈوروتھی نے پوچھا۔’’نہیں، میں اُن کی دوست ہوں لیکن میں ملکِ شمال میں رہتی ہوں۔ جب مشرق کی چڑیل کے مرنے کی خبر عام ہوئی تو منچکنوں نے پیغام بھیج کر مجھے بلالیا، اور میں فوراً یہاں آگئی۔ میں شمال کی چڑیل ہوں۔‘‘’’اوہ، خدایا!‘‘ ڈوروتھی گھبرا گئی؛ ’’کیا آپ اصلی چڑیل ہیں؟‘‘’’ہاں، بالکل؛‘‘ چھوٹی عورت نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں اچھی چڑیل ہوں اور لوگ مجھے پسند کرتے ہیں۔ میں اُس ظالم چڑیل کی طرح طاقت ور نہیں ہوں جو یہاں حکومت کرتی تھی، ورنہ میں نے خود اپنی طاقت کے زور پر یہاں کے لوگوں کو آزاد کروالیا ہوتا۔‘‘’’مگر مجھے تو لگتا تھا کہ تمام چڑیلیں ہی ظالم ہوتی ہیں،‘‘ ڈوروتھی نے کہا۔ اُسے یہ سوچ کر ہی خوف آ رہا تھا کہ وہ ایک اصلی چڑیل کے سامنے کھڑی ہے۔’’ارے، نہیں! یہ بالکل غلط بات ہے۔ سرزمینِ اوز (Oz) پر صرف چار چڑیلیں ہیں؛ جن میں سے دو چڑیلیں اچھی ہیں جو شمال اور جنوب میں رہتی ہیں۔ میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کیوں کہ میں اُن اچھی چڑیلوں میں سے ایک ہوں۔ ہاں، مشرق اور مغرب کی دو چڑیلیں ظالم تھیں؛ جن میں سے ایک تو تمھارے ہاتھوں ماری گئی ہے، اور اب سرزمینِ اوز پر صرف ایک ہی ظالم چڑیل بچی ہے جو مغرب میں رہتی ہے۔‘‘’’لیکن، چچی ایم تو کہتی تھیں کہ تمام چڑیلیں سال ہا سال پہلے ہی مر گئی تھیں،‘‘ ڈوروتھی نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔’’چچی ایم کون ہیں؟‘‘ چھوٹی عورت نے سوال کیا۔’’وہ میری چچی ہیں جو کنساس میں رہتی ہیں، جہاں سے میں آئی ہوں۔‘‘     شمال کی چڑیل سر جھکا کر نظریں زمین پر جمائے کچھ دیر سوچتی رہی۔ پھر اُس نے اوپر دیکھا اور کہا: ’’میں نہیں جانتی کہ کنساس کہاں ہے، اور نہ ہی میں نے آج سے پہلے کبھی اس علاقے کا نام سنا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ کیا وہ تہذیب یافتہ علاقہ ہے؟‘‘’’جی ہاں!‘‘ ڈوروتھی نے جواب دیا۔’’اچھا، تو پھر یہی وجہ ہوگی۔ میرے علم کے مطابق تہذیب یافتہ علاقوں میں اب نہ کوئی چڑیل  ہے؛ نہ کوئی جادوگر؛ اور نہ ہی کوئی جادوگرنی۔ لیکن، جیساکہ تم یہاں دیکھ سکتی ہو کہ سرزمینِ اوز کبھی بھی تہذیب یافتہ نہیں رہی، کیوں کہ ہمارا باقی تمام دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ہم اُن سے الگ ہوکر رہتے ہیں۔ اسی لیے یہاں اب تک چڑیلیں بھی ہیں اور جادوگر بھی۔‘‘’’جادوگر کون ہیں؟‘‘ ڈوروتھی نے سوال کیا۔’’اوز خود بھی ایک عظیم جادوگر ہے،‘‘ چڑیل نے اپنی آواز آہستہ کرتے ہوئے سرگوشی کی۔ ’’وہ ہم سب سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ وہ شہرِ زمرد (City of Emeralds) میں رہتا ہے۔‘‘ڈوروتھی اگلا سوال پوچھنے ہی والی تھی کہ اچانک منچکنوں نے، جو اب تک خاموش کھڑے ہوئے تھے، چیخنا چلّانا شروع کردیا اور گھر کے اُس کونے کی طرف اشارہ کرنے لگے جہاں ظالم چڑیل مری پڑی تھی۔’’ارے، یہ کیا ہوا؟‘‘ چھوٹی بوڑھی عورت نے اُس طرف دیکھ کر کہا اور پھر ہنسنے لگی۔ مُردہ چڑیل کے دونوں پاؤں آہستہ آہستہ بالکل غایب ہوگئے اور وہاں اب اُس کے نقرئی جوتوں کے علاوہ اب کچھ موجود نہیں تھا۔’’وہ بہت بوڑھی ہوچکی تھی،‘‘ شمال کی چڑیل نے وضاحت کی، ’’یہی وجہ ہے کہ سورج کی روشنی میں وہ جلد ہی سوکھ گئی اور یوں اُس کا کام تمام ہوا۔ اُس کے نقرئی جوتے اب تمھارے ہیں اور تمھیں وہ پہن لینے چاہییں۔‘‘ وہ اُس طرف گئی، جوتے اُٹھاکر اُن پر لگی مٹی جھاڑی اور اُنھیں ڈوروتھی کے حوالے کردیا۔’’مشرق کی چڑیل کو اپنے ان نقرئی جوتوں پر بہت غرور تھا،‘‘ ایک منچکن نے کہا؛ ’’اور ان کے ساتھ ضرور کوئی نہ کوئی طلسم جڑا ہوا ہے، مگر ہم اس سے ناواقف ہیں۔‘‘ڈوروتھی وہ جوتے اُٹھاکر کمرے میں گئی اور اُنھیں میز پر رکھ دیا۔ پھر وہ دوبارہ منچکنوں کے پاس آئی اور کہا، ’’میں بہت پریشان ہوں اور اپنے چچا اور چچی کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں۔ یقیناً وہ بھی میرے لیے بہت پریشان ہو رہے ہوں گے۔ کیا میرا راستہ تلاش کرنے میں آپ لوگ میری مدد کرسکتے ہیں؟‘‘منچکنوں اور چڑیل نے پہلے ایک دوسرے کو، اور پھر ڈوروتھی کو دیکھا، اور اپنے سر ہلا دیے۔’’مشرق یہاں سے دور نہیں ہے۔ اُس طرف ایک بہت بڑا صحرا ہے جسے کبھی کوئی بھی عبور نہیں کرسکا ہے۔‘‘ ایک منچکن نے کہا۔’’بالکل اسی طرح جنوب میں بھی ہے کیوں کہ میں وہاں رہ چکا ہوں۔ جنوب کوڈلنگوں (Quadlings) کا ملک ہے،‘‘ دوسرے نے کہا۔’’میں نے سنا ہے کہ مغرب میں بھی ایسا ہی ہے۔ وہ وِنکیوں (Winkies) کا ملک ہے جس پر مغرب کی ظالم چڑیل حکومت کرتی ہے۔ اگر تم وہاں سے گزرو گی تو وہ تمھیں اپنا غلام بنا لے گی،‘‘ تیسرے نے بتایا۔’’شمال میرا گھر ہے،‘‘ بوڑھی عورت کہنے لگی، ’’اور اُس کی سرحد پر بھی وہی عظیم صحرا ہے جس نے سرزمینِ اوز کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے۔ مجھے افسوس ہے، میری پیاری بچّی، اب تمھیں ہمارے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔‘‘ڈوروتھی نے جب یہ سنا تو وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔ وہ اپنے آپ کو ان اجنبی لوگوں میں تنہا محسوس کر رہی تھی۔ اُس کے آنسو دیکھ کر منچکنوں کو بھی رونا آگیا، اور اُنھوں نے فوراً اپنے رومال نکال کر آنکھوں پر رکھ لیے۔ اُسی وقت چھوٹی بوڑھی عورت نے اپنی ٹوپی اُتاری، اُسے اپنی ناک کی نوک کی سیدھ میں رکھا، پھر اُس نے سنجیدہ آواز میں گنتی گنی ’’ایک، دو، تین‘‘۔ پلک جھپکتے ہی اُس کی ٹوپی ایک تختی میں تبدیل ہوگئی جس پر سفید چاک (chalk) سے لکھا ہوا تھا:’’ڈوروتھی کو شہرِ زمرد جانے دو۔‘‘چھوٹی بوڑھی عورت نے تختی اپنی ناک سے ہٹائی، اُس پر لکھی ہوئی عبارت بلند آواز سے پڑھی، اور پوچھا: ’’پیاری بچّی! کیا تمھارا نام ڈوروتھی ہے؟‘‘’’ہاں،‘‘ ڈوروتھی نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا۔’’تو تمھیں شہرِ زمرد جانا چاہیے۔ شاید اوز تمھاری مدد کرے۔‘‘’’یہ شہر کہاں ہے؟‘‘ ڈوروتھی نے پوچھا۔’’یہ اس سرزمین کے عین مرکز میں ہے، اور اس پر اوز کی حکمرانی ہے؛ وہی عظیم جادوگر جس کے بارے میں، میں نے تمھیں بتایا تھا۔‘‘’’کیا وہ اچھا آدمی ہے؟‘‘ ڈوروتھی نے تجسس سے پوچھا۔’’وہ آدمی ہے یا نہیں، یہ تو میں نہیں جانتی، کیوں میں نے اُسے کبھی دیکھا نہیں ہے۔ مگر وہ بہت اچھا جادوگر ہے۔‘‘’’میں وہاں تک کیسے جاسکتی ہوں؟‘‘ اُس نے پوچھا۔’’تمھیں پیدل چلنا پڑے گا۔ یہ ایک طویل سفر ہے۔ راستے میں کبھی بہت خوش گوار مناظر آئیں گے اور کبھی تاریک اور خوف ناک۔ لیکن مجھے جتنے بھی منتر آتے ہیں میں وہ تمام استعمال کروں گی تاکہ تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔‘‘کیا آپ میرے ساتھ نہیں چلیں گی؟‘‘ ڈوروتھی نے التجائیہ انداز میں پوچھا۔ اُسے اس اجنبی سرزمین پر صرف وہ چھوٹی بوڑھی عورت ہی اپنی واحد دوست لگ رہی تھی۔’’نہیں، میں نہیں جاسکتی،‘‘ اُس نے جواب دیا؛ ’’لیکن میں تمھیں اپنا بوسہ دوں گی، اور ایسے شخص کو کوئی نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں کرسکتا جسے شمال کی چڑیل نے بوسہ دیا ہو۔‘‘وہ ڈوروتھی کے قریب آئی اور اُس کے ماتھے کو چوما۔ اُس کے ہونٹ جس جگہ مس ہوئے وہاں ایک گول روشن نشان بن گیا، جسے ڈوروتھی نے بعد میں دیکھا۔’’شہرِ زمرد کو جانے والی سڑک پیلی اینٹوں سے بنی ہوئی ہے، اس لیے تم راستہ نہیں بھٹکو گی،‘‘ چڑیل نے کہا؛ ’’جب تم اوز کے پاس پہنچو تو اُس سے خوف زدہ مت ہونا، بل کہ اُسے اپنی کہانی سنانا اور اُس سے مدد کی درخواست کرنا۔ خدا حافظ، میری پیاری بچّی۔‘‘تینوں منچکنوں نے سر جھکاکر اُسے الوداع کہا اور اُس کا سفر اچھا گزرنے کی دُعا دی۔ اس کے بعد وہ روانہ ہوگئے اور درختوں کے عقب میں کھوگئے۔ چڑیل نے بھی سر خم کرکے دوستانہ مسکراہٹ سے اُسے دیکھا، بائیں پاؤں کو تین بار گھمایا اور ایک دم غایب ہوگئی۔ ننھا ٹوٹو یہ دیکھ کر حیران ہوگیا اور چڑیل کے غایب ہوتے ہی زور زور سے بھونکنے لگا، حال آں کہ اس سے پہلے جب وہ موجود تھی تو ڈر کے مارے اُس کی غراہٹ بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔لیکن ڈوروتھی جانتی تھی کہ چڑیل کے لیے اس طرح غایب ہوجانا کوئی مشکل بات نہیں، اس لیے وہ بالکل حیران نہیں تھی۔
گزشتہ سے پیوستہ

Wizard of Oz - 01 The Cyclone

The Wonderful Wizard of Oz is a children's fairytale, written by Layman Frank Baum and illustrated by W. W. Denslow. The book consists of 24 chapters. AntarMantar presents Urdu translation of one new chapter weekly. This is the translation of Chapter 1 "The Cyclone".

Download PDF of The Wonderful Wizard of Oz - Chapter 1: The CycloneTrouble in reading Urdu? Click Here
اوز کا نرالا جادوگرپہلا باب : آندھیڈوروتھی (Dorothy)، کنساس (Kansas) کے شان دار سبزہ زاروں کے بیچ اپنے چچا ہنری (Henry) اور اُن کی بیوی چچی ایم (Em) کے ساتھ رہتی تھی۔ چچا ہنری کسان تھے۔ اُن کا گھر بہت چھوٹا تھا اور کباڑہ لکڑی سے بنا تھا جسے کسی دور دراز علاقے سے لایا گیا تھا۔ وہ گھر کیا تھا، صرف چار دیواریں تھیں، ایک فرش تھا اور ایک چھت، جو کُل ملا کر ایک کمرہ بناتے تھے۔ یہ کمرہ ایک زنگ آلود چولھے، برتن رکھنے کے لیے چھوٹی الماری، ایک میز، تین یا چار کرسیوں اور بستروں پر مشتمل تھا۔ ایک کونے میں چچا ہنری اور چچی ایم کا بڑا سا بستر تھا اور دوسرے کونے میں ڈوروتھی کا چھوٹا سا بستر۔وہاں نہ کوئی دو چھتی تھی اور نہ ہی کوئی تہ خانہ؛ ہاں، بس ایک چھوٹا سا گڑھا تھا جو زمین ہی میں کیا گیا تھا۔ کبھی کبھی اتنی تیز آندھی آتی تھی جس میں پورے پورے گھروں کو اپنی جڑ سے اُکھاڑ کر رکھنے کی طاقت ہوتی تھی۔ ایسے میں پورا خاندان اُس گڑھے نما تہ خانے میں چھپ جاتا تھا۔ تہ خانے کے منھ پر ایک تختہ رکھا رہتا تھا اور اُس کے اندر سیڑھیاں تھیں جو اُس چھوٹے اور تاریک سوراخ کی تہ تک پہنچاتی تھیں۔
جب ڈوروتھی دروازے پر کھڑی ہوتی اور اپنے اردگرد دیکھا کرتی تو اُسے ہر طرف گھاس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ دور اُفق تک (جہاں زمین اور آسمان ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں)، نہ کوئی درخت اور نہ ہی کوئی گھر دِکھائی دیتا۔ سورج نے  زرخیز زمین کو اتنی جلایا تھا کہ اب اُس کی رنگت بھوری ہوچکی تھی۔ یہاں تک کہ گھاس بھی سبز نہیں رہی تھی اور سورج کی گرمی سہتے سہتے اُس کے کے کنارے ہر طرف پھیلے رنگ کی طرح بھورے ہوچکے تھے۔ کسی زمانے میں گھر پر رنگ کیا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سورج کی گرمی سے رنگ پھول گیا اور بارشوں نے اُسے دھو ڈالا، اور اب گھر بھی دوسری تمام چیزوں کی طرح بھورا ہوچکا تھا۔
جب چچی ایم یہاں رہنے کے لیے آئی تھیں تو وہ نوجوان اور خوب صورت خاتون تھیں۔ سورج اور ہوا نے اُنھیں بھی تبدیل کردیا تھا۔ اُن کی آنکھوں کی چمک غایب ہوگئی تھی اور دھیرے دھیرے اُن کا رنگ بھورا ہوگیا تھا؛ اُن کے گالوں اور ہونٹوں کی سرخی بھی اب برقرار نہیں رہی تھی اور وہ بھی بھورے ہوچکے تھے۔ چچی اب دبلی اور کم زور ہوگئی تھیں اور اُنھوں نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا۔ جب ڈوروتھی یتیم ہوگئی اور اُن کے ہاں آئی، تو چچی ایم اُس کی ہنسی سے چونک جایا کرتیں اور اتنا ڈر جاتیں کہ جب بھی ڈوروتھی کی آواز اُن کے کانوں میں آتی، وہ اپنا دِل تھام لیتیں۔ وہ اکثر ننھی ڈوروتھی کو دیکھا کرتی اور حیران ہوا کرتی تھیں کہ بھلا ایسی کون سی بات ہے جس پر اسے ہنسی آسکتی ہے۔
 چچا ہنری کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ اُنھیں بھی کبھی ہنسی نہیں آتی تھی۔ وہ صبح سے لے کر رات تک کھیت میں سخت محنت کرتے تھے اور وہ بھول چکے تھے کہ خوشی کسے کہتے ہیں۔ اپنی لمبی ڈاڑھی سے لے کر کھردرے جوتوں تک، وہ بھی بالکل بھورے ہوچکے تھے۔ چچا اپنے انداز سے سخت اور سنجیدہ طبیعت کے نظر آتے تھے، اور کبھی کبھار ہی بات کیا کرتے تھے۔
بس ایک ٹوٹو (Toto) تھا جو ڈوروتھی کو ہنساتا تھا، اور اُسے اپنے اردگرد کی چیزوں کی طرح بھورا ہونے سے بچائے رکھتا تھا۔ ٹوٹو بھورا نہیں تھا؛ وہ ایک چھوٹا کالا کتّا تھا، جس کے لمبے اور ملایم بال تھے، اور چھوٹی چھوٹی سیاہ آنکھیں تھیں جنھیں وہ مٹکاتا اور جھپکاتا رہتا تھا؛ لیکن ٹوٹو کی سب سے پیاری چیز اُس کی ننھی سی ناک تھی۔ ٹوٹو سارا دِن کھیلتا رہتا۔ ڈوروتھی اُس کے ساتھ کھیلا کرتی اور اُسے بہت پیار کرتی تھی۔
ہاں، مگر آج وہ نہیں کھیل رہے تھے۔چچا ہنری دروازے کے باہر بیٹھے پریشان نگاہوں سے آسمان کو تک رہے تھے جو عام دِنوں  سے زیادہ بھورا ہو رہا تھا۔ ڈوروتھی اپنے ہاتھوں میں ٹوٹو کو لیے دروازے پر کھڑی تھی، اور چچا کی طرح آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ چچی ایم برتن دھو رہی تھیں۔
دور کہیں شمال کی طرف سے اُنھیں ہوا کی چنگھاڑ سنائی دی۔ چچا ہنری اور ڈوروتھی نے دیکھا کہ آندھی اُن کی طرف دوڑی چلی آ رہی تھی اور اُس کے راستے میں آنے والی لمبی گھاس اِدھر اُدھر لہرا رہی تھی۔ پھر اچانک جنوب کی طرف سے بھی تیز ہوا کی سیٹی اُن کے کانوں سے ٹکرائی، اور جو اُنھوں نے نگاہیں پھیریں تو وہاں لہراتی گھاس نے اُس سمت سے بھی آندھی آنے کی خبر دی۔
چچا ہنری ایک جھٹکے سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
’’ایم! آندھی آ رہی ہے،‘‘ اُنھوں نے اپنی بیوی کو پکارا؛ ’’میں گودام کا خیال رکھنے جا  رہا ہوں۔‘‘ پھر وہ گودام کی طرف بھاگے جہاں گاییں اور گھوڑے رکھے جاتے تھے۔
چچی ایم نے فوراً اپنا کام چھوڑا اور دروازے کی طرف دوڑی آئیں۔ ایک لمحے میں اُنھیں اندازہ ہوگیا کہ تباہی سر پر آ پہنچی ہے۔
’’جلدی، ڈوروتھی!‘‘ وہ چیخیں؛ ’’تہ خانے میں بھاگو!‘‘
ٹوٹو نے ڈوروتھی کے ہاتھوں سے چھلانگ لگائی اور بستر کے نیچے چھپ گیا۔ وہ اُسے پکڑنے کے لیے بھاگی۔ چچی ایم بُری طرح خوف زدہ تھیں۔ اُنھوں نے تہ خانے پر رکھا تختہ ہٹایا اور سیڑھی کی مدد سے چھوٹے، تاریک سوراخ کی تہ میں اُتر گئیں۔ آخر ڈوروتھی نے بھی ٹوٹو کو پکڑلیا، اور اپنی چچی کے پیچھے پیچھے بھاگی۔ ابھی وہ تہ خانے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ ہوا کا ایک طاقت ور جھکڑ آیا اور پورا گھر اس قدر زور سے ہلا کہ ڈوروتھی اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکی اور اچانک فرش پر گرگئی۔
تب ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا۔
پورا گھر دو یا تین بار گول گھوما اور پھر آہستہ آہستہ ہوا میں بلند ہونے لگا۔ ڈوروتھی کو ایسا لگا جیسے وہ کسی غبارے میں بیٹھی اُڑ رہی ہو۔
ہوا یہ کہ شمال اور جنوب سے آنے والی ہوائیں عین اُس مقام پر آپس میں ٹکرائیں جہاں ڈوروتھی کا گھر واقع تھا، اور یوں وہ بگولے کا مرکز بن گیا۔ بگولے کے مرکز میں عموماً ہوا ٹھہری ہوئی ہوتی ہے، لیکن چاروں طرف سے ہوا کے بے حد تیز دباؤ سے گھر بلند اور بلند تر ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ بگولے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بگولے کے دوش پر گھر اُڑتا رہا اور کسی پنکھ (یا پرندے کے پر) کی طرح میلوں کا سفر طے کرتا ہوا بہت دور آگیا۔
گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور ڈوروتھی کے گرد ہوا کا خوف ناک شور تھا؛ لیکن ڈوروتھی کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مزے سے اُڑتی چلی جا رہی ہو۔ جب شروع میں دو تین بار ہوا کی تیز سیٹیاں سنائی دیں اور گھر بُری طرح ڈگمگایا تو اُسے ڈر لگا لیکن پھر اُسے مزہ آنے لگا جیسے وہ کسی جھولے میں بیٹھی ہو۔
ٹوٹو کو یہ سب بالکل پسند نہیں آیا۔ وہ بلند آواز سے بھونکتے ہوئے، کمرے میں کبھی ایک طرف بھاگتا تو کبھی دوسری طرف؛ لیکن ڈوروتھی فرش پر خاموش بیٹھی رہی اور انتظار کرتی رہی کہ دیکھیں، اب کیا ہوتا ہے۔
ٹوٹو پریشانی کے عالم میں اِدھر سے اُدھر بھاگتے ہوئے ایک بار تہ خانے کے کھلے دروازے کے پاس آگیا اور پھر اُس سوراخ میں گرگیا۔ ایک لمحے کے لیے ڈوروتھی نے سوچا کہ شاید اب وہ کبھی ٹوٹو سے نہیں مل سکے گی۔ پھر اُسے ٹوٹو کا ایک کان دِکھائی دیا۔ وہ فرش پر رینگتی ہوئی سوراخ کے پاس پہنچی اور ٹوٹو کو کان سے پکڑ کر کمرے میں کھینچ لیا۔ اس کے بعد، مزید کسی حادثے سے بچنے کے لیے اُس نے تہ خانے کا دروازہ بند کردیا۔
’’ڈوروتھی نے ٹوٹو کو کان سے پکڑ لیا۔‘‘جب اسی حالت میں کئی گھنٹے گزر گئے تو ڈوروتھی کا خوف کم ہونے لگا؛ لیکن ساتھ ہی اُسے تنہائی کا احساس بھی ستانے لگا۔ ہوا کی چنگھاڑ اتنی تیز تھی کہ وہ تقریباً بہری ہوچکی تھی۔ ایک بار اُسے خیال آیا کہ جب گھر دوبارہ زمین پر گرے گا تو گھر کے ساتھ ساتھ اُس کے بھی پرخچے اُڑ جائیں گے اور وہ کئی ٹکڑوں میں بکھر جائے گی؛ مگر جب وقت گزرتا گیا اور کوئی بھی خوف ناک واقعہ رونما نہیں ہوا تو اُس نے پریشان ہونا چھوڑ دیا اور اطمینان سے آنے والے وقت اور واقعات کا انتظار کرنے لگی۔ آخرکار، وہ جھولتے ہوئے فرش پر رینگتے رینگتے اپنے بستر کی طرف بڑھی اور اُس پر لیٹ گئی۔ ٹوٹو نے بھی اُس کی نقل کی اور اُس کے ساتھ ہی آکر لیٹ گیا۔
ڈگمگاتے ہوئے گھر اور ہوا کی چیخ و پکار کے باوجود ڈوروتھی کی آنکھیں بند ہونے لگیں اور وہ فوراً ہی گہری نیند میں چلی گئی۔

گزشتہ سے پیوستہ

The Wonderful Wizard of Oz - Intro

The Wonderful Wizard of Oz is a children's fairytale, written by Layman Frank Baum and illustrated by W. W. Denslow. The novel is originally published by George M. Hill Company in Chicago, New York in 1900. The story is about a young girl named Dorothy, who finds herself in a strang land (the land of Oz), when a twister cyclone swept his house from Kansas. And then the adventure begins.
L. Frank Baum wrote 13 sequels of this novel on public demand. I'm going to present the translation of this famous novel. It consists of 24 chapters and AntarMantar will publish the translation of one chapter weekly.

Title: The Wonderful Wizard of Oz (Oz#1)
Author: Layman Frank Baum
Illustrator: William Wallace Denslow
Publication: May, 1900
Publisher: George M. Hill Company
Urdu Title: Oz Ka Niraala Jadoogar
Translator: Ammar IbneZia
Publication: 2014
Presented by: AntarMantar




اوز کا نرالا جادوگرانگریزی کتابمصنف: لیمین فرینک باؤماشاعت: ۱۹۰۰ءتصاویر: ڈبلیو ڈبلیو ڈینسلوناشر: جورج ایم ہل کمپنی، شکاگو، نیویورک، امریکااُردو ترجمہمترجم: عمار ابنِ ضیااشاعت: ۲۰۱۴ءپیشکشانترمنتر

جملہ حقوق محفوظ
دیباچہلوک کہانیاں، روایات، داستانیں اور پریوں کی کہانیاں بچپن کے ہر مرحلے پر ساتھ ساتھ چلتی ہیں؛ کیوں کہ ہر صحت مند نوجوان کو کہانیوں سے فطری محبت ہوتی  ہے؛ وہ کہانیاں جو تخیل سے بھرپور، حیرت انگیز، اور بلاشبہ غیر حقیقی ہوتی ہیں۔ بلند و بالا پرواز کرتی پریوں کے بارے میں گریم اور اینڈرسن کی کہانیوں نے، کسی بھی دوسری انسانی تخلیق سے بڑھ کر بچّوں کے دلوں کو خوشی پہنچائی ہے۔اب چوں کہ پریوں کی پُرانی کہانیوں سے کئی نسلیں لطف اندوز ہوچکی ہیں، چناں چہ اُنھیں بچّوں کے کتب خانوں میں ’’تاریخی‘‘ کتب کے درجے میں رکھا جاسکتا ہے اور یہ وقت ہے کہ نئے ’’حیران کن قصّے‘‘ لکھے جائیں جن میں تمام تر خوف ناک اور خونی واقعات کے ساتھ روایتی جن، بونے اور پریاں نکال دیے جائیں، جو اُن کے مصنّفین نے اس لیے بیان کیے تھے کہ قصّے کے آخر میں خوف کی بنیاد پر اخلاقی سبق ذہن نشین کروایا جاسکے۔ جدید تعلیم میں اخلاقیات شامل ہیں، لہٰذا دورِ جدید کے بچّے اپنی حیران کن کہانیوں میں صرف تفریح چاہتے ہیں اور کوئی بھی ناپسندیدہ واقعہ بہت آرام سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہی خیال پیشِ نظر رکھتے ہوئے، دورِ حاضر کے بچّوں کی صرف اور صرف تفریح کے لیے کہانی ’’اوز کا نرالا جادوگر‘‘ تحریر کی گئی ہے۔ یہ پریوں سے متعلق ایک جدید طرز کی کہانی ہے جس میں تحیر اور مسرت کا عنصر برقرار رکھا گیا ہے اور ذہنی اذیتوں اور ڈراؤنے خوابوں کو نکال باہر کیا گیا ہے۔
ایل فرینک باؤمشکاگو، اپریل ۱۹۰۰ء
انتساب(مصنف)
یہ کتاب میری پیاری دوست اور کامریڈمیری بیویکے نامایل ایف بی
انتساب(مترجم)
یہ کتاب میری پیاری شہزادیمیری بیٹیکے نامکہ خصوصاً اُس کے لیے اس کہانی کا ترجمہ کرنے کی تحریک ملیعمار ابنِ ضیا

اور کچھ بیاں اپنا۱۹۰۰ء میں لیمین فرینک باؤم کی کتاب ’’The Wonderful Wizard of Oz‘‘ (اوز کا نرالا جادوگر) ابھی شایع بھی نہیں ہوئی تھی کہ اُس کی تمام تر دس ہزار کاپیاں پیشگی فروخت ہو چکی تھیں۔ پہلی اشاعت کے فوراً بعد اس کی پندرہ ہزار کاپیاں دوبارہ طبع کی گئیں اور دو ماہ میں ہی وہ تمام بھی قریب قریب فروخت ہوگئیں۔ تب سے لے اب تک اس کہانی پر ڈرامے لکھے گئے، تھیٹر کیے گئے، فلمیں بنائی گئیں، تصویری کہانیاں شایع کی گئیں، اس کے واقعات پر گیت تحریر ہوئے؛ غرض پوری صدی میں یہ کہانی نت نئی صورتوں میں پیش کی جاتی رہی۔پہلے ناول کی اشاعت کے بعد ہزاروں بچّوں نے فرینک کو خطوط لکھے کہ کہانی کو آگے بڑھایا جائے۔ چناں چہ ۱۹۰۴ء میں اس کہانی کا دوسرا حصّہ شایع ہوا۔ یکے بعد دیگرے سلسلے کی پانچ کتابیں شایع ہونے کے بعد مصنّف نے اعلان کیا کہ اب مزید کتابیں نہیں آئیں گی اور کہانی کو اپنے انجام تک پہنچانے کی کوشش کی؛ لیکن عوام اور خصوصاً بچّوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔ لوگوں کے مسلسل اصرار کے بعد فرینک ۱۹۱۳ء سے ۱۹۱۹ء میں اپنی وفات تک ہر سال ایک کتاب لکھتے رہے، یوں اُنھوں نے اس سلسلے کی ۱۴ کتب تحریر کیں۔فرینک کی وفات کے بعد بھی ’اوز جادوگر‘ کی طلب باقی رہی، چناں چہ ناشر نے ایک دوسرے مصنّف رتھ پلملی تھومپسن سے رجوع کیا جو ۱۹۴۲ء تک بچّوں کو ہر سال ایک کتاب کا تحفہ دیتے رہے؛ یوں اُنھوں نے اس سلسلے میں ۲۱ کتب کا اضافہ کیا۔ ان کتب کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ یہ تعارف اس کتاب کی مقبولیت بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔فرینک کی زبان سادہ، عام فہم اور اندازِ بیان بچّوں کے لیے بالکل مناسب ہے۔ دیباچے میں اُنھوں نے یہ کہانی لکھنے کا ایک اہم مقصد بیان کیا ہے کہ بچّوں کی کہانی کو روایتی جن اور پریوں کے خونی اور ڈراؤنے واقعات سے نجات دلائی جائے اور خوف کی بنیاد پر اخلاقیات کے اسباق ذہن نشین کروانے کی بجائے کہانی کو صرف اور صرف تفریح فراہم کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ تاہم فرینک نے کہانی کو مقصدیت سے عاری نہیں ہونے دیا، بل کہ ہلکے پھلکے انداز میں کئی جگہ اخلاقی درس بھی دیے ہیں۔ البتہ ہر صفحہ دل چسپی اور تجسس سے بھرپور ہے۔کتاب کے ۱۱۴ سال مکمل ہونے کو آئے ہیں۔ اس موقع پر میں اس مقبولِ عام سلسلے کی پہلی کتاب کا اُردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں۔ میں نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ ترجمہ سلیس، رواں، بامحاورہ اور عام فہم رکھوں، مشکل الفاظ کی کثرتِ استعمال سے گریز کروں اور ہدف قارئین یعنی بچّوں کی ذہنی سطح پیشِ نظر رہے۔ ساتھ ہی ساتھ میری یہ کوشش بھی رہی ہے کہ ترجمہ اصل عبارت سے مختلف نہ ہونے پائے۔ مجھے اُمید ہے کہ میرے ننھے قارئین یہ ترجمہ نہ صرف دل چسپ اور رواں پائیں گے؛ بل کہ اگر اصل انگریزی عبارت کے ساتھ رکھ کر پڑھیں گے تو انگریزی زبان کی سمجھ میں اضافہ بھی کر سکیں۔ ایک عرصے سے اُردو تحاریر میں علاماتِ وقف کے درست استعمال سے صرفِ نظر کیا جا رہا ہے، گویا یہ غیر ضروری ہوں۔ یہ ترجمہ اس خامی سے پاک رکھنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ ترجمے میں کچھ الفاظ بچّوں کے لیے مشکل ہوں، لیکن میں نے اُنھیں دانستہ شامل رکھا ہے تاکہ دل چسپ کہانی کے ذریعے بچّوں کے ذخیرۂ الفاظ میں بھی اضافہ ہو۔دنیا بھر میں نت نئے موضوعات پر کتب جدید سے جدید انداز میں شایع ہو رہی ہیں، مگر ہمارے ہاں کتب بینی اور مطالعے کی عادت گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ خصوصاً بچّوں کے لیے لکھا جانے والا ادب تعداد میں کم ہے اور اُس کا انداز اکثر و بیشتر وہی روایتی اور قدیمی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ ترجمہ بچّوں کے ادب میں ایک عمدہ اضافہ ثابت ہوگا۔
عمار ابنِ ضیا ستمبر ۲۰۱۴ء
اوز کا نرالا جادوگر : تعارف - پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں

نوٹ: یہ کتاب چوبیس (۲۴) ابواب پر مشتمل ہے اور انترمنتر پر ہر ہفتے ایک باب کا ترجمہ شایع کیا جائے گا (ان شاء اللہ)۔

The Croods - Film Review


The film tells the story of a girl Eep whose cavemen family lives and haunts in pre-historic times, that is usually refers as Croodaceous era. Her father tells stories about problems of life and survival. One night, Eep leaves the cave to know the source of light. And then fun begins. A short review of a Hollywood animated movie "The Croods", released in 2013.

یہ بہت پرانے زمانے کی کہانی ہے کہ جب انسان غاروں میں رہا کرتے تھے اور اُن کی زندگی کے دو ہی مقاصد ہوتے تھے: زندہ رہنے کے لیے خوراک حاصل کرنا اور خطرناک جانوروں اور بلاؤں سے خود کو محفوظ رکھنا۔ انسان کو ذرا ذرا سی باتوں سے خوف آتا تھا۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک خاندان تھا جس کا سربراہ گرگ تھا۔ گرگ ایک غار میں اپنی بیوی، اپنی بوڑھی ماں، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔  اُس کی بیٹی ایپ کو اس طرح ڈر ڈر کر رہنا بالکل پسند نہیں تھا۔ اُس کا دل کرتا تھا کہ وہ رات کے وقت باہر جائے جب سب غاروں میں چھپے سو رہے ہوتے ہیں اور دیکھے کہ باہر کی دنیا رات میں کیسی لگتی ہے۔ لیکن گرگ اپنے بچوں کو ایسی کہانیاں سنایا کرتا تھا جس سے وہ ڈر جائیں اور کوئی غلط کام نہ کریں۔
ایک رات جب سب سوگئے تو ایپ کو غار کے باہر روشنی محسوس ہوئی۔ ایپ دبے پاؤں اٹھی، غار کے منھ سے پتھر ہٹایا اور باہر نکل پڑی۔ روشنی کی تلاش میں گھومتے پھرتے اُسے کوئی نظر آیا اور ایپ نے اُس پر حملہ کردیا۔ پھر اُس نے دیکھا کہ وہ تو ایک لڑکا تھا۔ لڑکے نے اُسے چند ایسے کمالات دکھائے کہ وہ متاثر ہوگئی اور اُس سے سیکھنا چاہا۔ لڑکے نے اُسے اپنا نظریہ بتایا کہ یہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور کہا کہ وہ اُس کے ساتھ چلے لیکن ایپ نے انکار کردیا۔ پھر لڑکا اپنے راستے پر چل پڑا اور ایپ کو اُس کے باپ نے ڈھونڈ نکالا۔ لیکن اس کے بعد اُن کے ساتھ کیا ہوا اور ایپ کیسے دوبارہ اس لڑکے سے ملی، اُن کے ساتھ کیسے دلچسپ، حیرت انگیز اور مزے دار واقعات پیش آئے، یہ سب جاننے کے لیے آپ کو ہالی ووڈ کی اینی میٹڈ فلم ’’دی کروڈز‘‘ (The Croods) دیکھنی پڑے گی۔
دی کروڈز 2013ء میں ریلیز ہوئی۔ اسے ڈریم ورکس اینی میشن اسٹوڈیو میں تیار کیا گیا اور مشہورِ زمانہ 20th سنچری فوکس کے بینر تلے جاری کیا گیا۔ اس فلم میں مشہور و معروف اداکاروں کی آوازیں شامل ہیں جن میں نکولس کیج، ایما واٹسن اور ریان رئینولڈز شامل ہیں۔
فلم کی مرکزی کردار ایپ (ایما واٹسن) اپنی کہانی بیان کرتی ہے کہ کس طرح اُس کی بیزار کن زندگی دلچسپ اور رنگین ہوگئی۔ فلم ہلکے پھلکے اور تفریح بھرے انداز میں سکھاتی ہے کہ قدامت پسندی اور دقیانوسیت کس طرح ہمیں ایک چھوٹے سے خول میں بند کیے رکھتی ہے اور ہمیں کنوئیں کا مینڈک بنا دیتی ہے۔ انجانے خوف، اَن دیکھے خطرات اور حد سے زیادہ محتاط پسندی وہمی بنادیتی ہے اور زندگی کو بے رنگ کردیتی ہے۔ اگر اپنے ڈر پر قابو پاکر آگے بڑھنے اور نت نئی چیزوں سے خوف کھانے کی بجائے اُنھیں سیکھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ زندگی میں تجربات کرنا نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
فلم ’’دی کروڈز‘‘ بچوں اور بڑوں، دونوں کے لیے یکساں دلچسپ اور مفید فلم ہے۔ تقریباً 98 منٹ کی اس فلم کو دیکھتے ہوئے آپ مسکرائیں گے بھی، ہنسیں گے بھی، قہقہے بھی ماریں گے اور بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملے گا۔
نوٹ: فلم ہندی اُردو زبان میں بھی دستیاب ہے۔



انتباہ:
  1. فلم میں چند مقامات ایسے ہیں جہاں ایپ اور اجنبی لڑکا (گائے) قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک موقع پر گائے اور ایپ ایک دونوں کا بوسہ لیتے ہیں۔ لیکن یہ مناظر طویل یا سنجیدہ نوعیت کے نہیں اور انھیں بآسانی نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
  2. اگر آپ انتہائی قدامت پسند انسان ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ حسِ ظرافت سے بھی محروم ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے مذاق پر یہ فلم گراں گزرے۔ اپنی ذمہ داری پر دیکھیے اور دکھائیے۔

Meethi Meethi Baatain


برسوں پہلے کی بات ہے کہ ایک قصبے میں ایک پٹواری رہتا تھا جس کا نام پرسو تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پرسو پٹواری نے علاقے کے تحصیلدار اور ان کی بیگم کو اپنے گھر کھانے کی دعوت پر بلا لیا۔ تحصیلدار صاحب نے پہلے تو ٹالا لیکن پھر دعوت قبول کرلی۔پرسو نے اس دعوت کی خوب تیاری کی کہ کسی چیزکی کمی نہ رہ جائے۔ گھر پر چونا پھروایا اور گھر تو کیا گلی کی بھی اچھی طرح صفائی کروائی۔ دعوت والے دن پرسو نے اپنی بیوی سے کہا کہ تحصیلدار صاحب کی بیوی بھی آرہی ہیں اس لیے کوئی بے وقوفی کی بات مت کرنا بلکہ ان سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور ہاں کوئی چمکیلے بھاری کپڑے اور زیور پہن لینا تاکہ انھیں پتا چلے کہ پٹواری کی بیوی بھی اچھے کپڑے اور زیور پہنتی ہے۔ یہ ہدایات دینے کے بعد پرسو دعوت کے دوسرے انتظامات دیکھنے کے لیے باہر بیٹھک میں چلا گیا اور بیوی نے تیاری شروع کردی۔دوپہر میں تحصیلدار صاحب اپنی بیگم کے ساتھ پرسو کے گھر پہنچ گئے۔ پرسو نے انھیں بیٹھک میں بٹھایا اور بیگم کو اندر گھر میں بھیج دیا۔ مہمانوں کی آمد کا سنتے ہی پرسو کی بیوی کو اپنے شوہر کی ہدایات یاد آئیں کہ بے وقوفی کی کوئی بات نہیں کرنا ، چمکیلے بھاری کپڑے پہن لینا اور تحصیلدار صاحب کی بیوی سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا۔یہی سوچ کر پرسو کی بیوی نے جو پہلے ہی منھ پر سرخی پوڈر لگا کر اور سونے کے بہت ساری زیورات پہن کر تیار ہوچکی تھی ، بکس میں رکھی ہوئی اپنی نئی چمکیلی رضائی نکال کر چادر کی جگہ اوڑھ لی اور میٹھی میٹھی باتوں کے بارے میں سوچتی ہوئی گھر میں آنے والی مہمان سے جاکر ملی۔تحصیلدار کی بیگم نے اپنی میزبان کو رضائی اوڑھے دیکھ کر سوچا کہ ان کے ہاں یہی طریقہ ہوتا ہوگا ، یا انھیں زیادہ سردی لگ رہی ہوگی لیکن پھر بھی وہ اس حلیے کو دیکھ کر مسکرا دیں۔ سلام دعا کے بعد تحصیلدار کی بیگم نے پوچھا ، ’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘پٹواری کی بیوی نے ہنستے ہوئے کہا ، ’’جی، ربڑی۔‘‘’’آپ کے شوہر کا نام تو لالو ہے نا؟‘‘ تحصیلدار کی بیوی نے بات آگے بڑھانے کے لیے سوال کیا۔’’لالو نہیں ہے جی بلکہ پرسو ہے۔ ویسے یہ نام تو دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔ گھر میں تو اُن کا نام پیٹھا ہے۔‘‘ پرسو کی بیوی نے سوچتے ہوئے کہا۔تحصیلدار کی بیگم کو نام عجیب سا لگا۔ اُس نے بات آگے بڑھائی، ’’آپ کے کتنے بچے ہیں؟‘‘’’ابھی تو صرف پانچ ہی بچے ہیں۔‘‘ پرسو کی بیوی نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔’’اچھا اچھا ، ماشاء اللہ۔ کیا کیا نام ہیں ان کے ؟‘‘ تحصیلدار کی بیگم نے پوچھا۔’’سب سے بڑا لڑکا ہے لڈو ، پھر پیڑا ، پھر دو لڑکیاں ہیں برفی اور چم چم اور ان کے بعد سب سے چھوٹا بیٹا قلا قند۔‘‘ پرسو کی بیوی نے خوش ہوتے ہوئے کہا، اور دل ہی دل میں سوچا کہ وہ کامیابی سے میٹھی میٹھی باتیں کررہی ہے۔ابھی کھانا نکالنے میں تھوڑی دیر تھی اور پٹواری نے بچوں کو سختی سے تاکید کر رکھی تھی کہ وہ مہمانوں کے سامنے کوئی شرارت نہ کریں، تمیز سے مہمانوں کو سلام کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جائیں اور پھر خاموشی سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے جائیں۔ اگر مہمانوں کے ساتھ کھانا کھائیں تو کھانا شروع کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھوئیں، جب کھانا کھائیں تو منھ سے چپ چپ کی آواز نہ نکلے اور نہ ہی انگلیاں سالن میں ڈوب کر گندی ہوں۔ پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا نہ نکالیں اور کھانا اپنے سامنے سے کھائیں۔ کھانا ختم کرنے کے بعد ہاتھ دھوئیں اور کلی کریں۔جب پٹواری کی بیوی نے تحصیلدار کی بیوی سے میٹھی میٹھی باتیں شروع کیں تو بچوں نے پہلے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر چپکے چپکے کھوں کھوں کرکے ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کی اور پھر زور زور سے ہنسنے لگے اور اٹھ کر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے دوسرے کمرے میں چلے گئے۔تحصیلدار کی بیگم بھی اس صورتحال کو بھانپ چکی تھیں۔ اُنھوں نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے پوچھا ، ’’اس گھر میں آپ لوگوں کے ساتھ اور کون کون رہتا ہے؟‘‘پٹواری کی بیوی بولی: ’’ساس رس ملائی اور سسر سوہن حلوا رہتے ہیں لیکن آج کل وہ ٹنڈو میں اپنے بیٹے مکھن بڑے کے گھر گئے ہوئے ہیں، ابھی کچھ دن پہلے ہی اُس کے ہاں جڑواں ریوڑیاں، میرا مطلب ہے جڑواں لڑکیاں ہوئی ہیں۔ دو نندیں ہیں، جلیبی اور امرتی۔ اُن کی شادی ہوگئی ہے لیکن وہ بھی اپنے بتاشے جیسے بچوں اور مُرمُرے جیسے شوہروں کے ساتھ آتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بھائی ہیں حبشی حلوہ اور اُن کی بیوی کالی گلاب جامن ، وہ اوپر کی منزل میں رہتے ہیں۔‘‘
’’اچھا یہ بتایئے کہ آپ کو ہمارے گھر آکر کیسا لگ رہا ہے؟‘‘ پٹواری کی بیوی نے تحصیلدار کی بیوی سے پوچھا۔وہ مسکراتے ہوئے بولی، ’’بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ میں کسی حلوائی کی دکان میں آگئی ہوں۔‘‘’’ہاں ، ہمارے گھر میں تو ہر وقت شیرے اور شیرینی جیسی ہی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔‘‘ پٹواری کی بیوی نے خوش ہوکر کہا۔’’بہت خوب !‘‘ بیگم بولیں۔ باتوں کا سلسلہ چلتا رہا اور بیگم پٹواری کی بیوی کی میٹھی میٹھی باتوں پر مسکرا رہی تھیں۔ انھوں نے بھی پٹواری کے بچوں کی طرح باقاعدہ ہنسنا شروع کردیا تھا۔ اسی دوران کھانا کھایا گیا اور مہمان رخصت ہوگئے۔دعوت ختم ہونے کے بعد جب پٹواری نے اپنی بیوی سے آکر پوچھا کہ بیگم صاحبہ سے تم نے کیا باتیں کیں تو اُس نے ساری بات چیت کہہ سنائی۔ اپنی بیوی کی باتیں سن کر پرسو پٹواری نے اپنا سر پیٹ لیا۔ کچھ دن بعد وہ پٹواری ، تحصیلدار صاحب کے دفتر گیا تاکہ دعوت اور اپنی گھر والی سے ملاقات کے بارے میں جان سکے تو پہلے تو تحصیلدار صاحب مسکرائے، پھر کہا کہ میری بیوی کہہ رہی تھی کہ اسے کسی دعوت میں شرکت کرکے اتنا مزا نہیں آیا جتنا آپ کے گھر میں آیا ہے۔
ہدایات برائے اساتذہ/ والدین/ کہانی خواں:
  • بچوں سے پوچھیں کہ اُنھیں کون کون سی مٹھائیوں کے نام آتے ہیں؟ اُنھوں نے کون سی مٹھائیاں کھائی ہوئی ہیں؟ کون سی مٹھائی سب سے زیادہ پسند ہے؟
  • کہانی کے جس حصے میں پرسو پٹواری کی اپنے بچوں کو ہدایات کا ذکر ہے کہ مہمان کے سامنے کس طرح رہا جائے اور کھانا کیسے کھایا جائے، وہاں بچوں سے بھی سوال جواب کیے جاسکتے ہیں؛ مثلاً، کیا وہ بھی ان ہدایات پر عمل کرتے ہیں، مہمان کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں، وغیرہ۔
  • بچوں سے پوچھیں کہ کیا کبھی اُنھیں مہمانوں کے سامنے بہت زیادہ ہنسی آئی ہے؟
  • پرسو پٹواری کی بیوی کی باتوں کے ذکر کے بعد بچوں سے پوچھیں کہ اگر وہ اُن سے ایسی باتیں کرتے تو اُن کے تاثرات کیا ہوتے اور وہ اُسے کیا جواب دیتے؟
  • کہانی کے اختتامی حصے میں جب پٹواری، تحصیلدار صاحب کے پاس دعوت کے بارے میں اُن کی رائے معلوم کرنے کے لیے جاتا ہے تو پہلے بچوں سے دریافت کریں کہ اُن کے خیال میں تحصیلدار صاحب کیا جواب دیں گے؟ غصہ کریں گے، نوکری سے نکال دیں گے، یا خوش ہوں گے؟

میٹھی میٹھی باتیں - پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں

کہانی: میٹھی میٹھی باتیں
کہانی نگار: امتیاز متین
موضوع: ذخیرۂ الفاظ، اخلاقیات و اقدار، آدابِ مہمان نوازی، آدابِ گفتگو
آموزش:
  • مٹھائیوں اور دیگر میٹھی اشیا کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ
  • مہمان سے اچھی طرح پیش آنے کا درس
  • کھانا کھانے کے آداب کا بیان
  • سب سے اہم یہ کہ اصل اہمیت خلوص کی ہوتی ہے

Aarim Ki Khawahish


ایمن آباد ایک بہت خوب صورت علاقہ تھا۔ وہاں ہرے بھرے درخت اور سرسبز باغات تھے۔دور دور سے رنگ برنگے پرندے ایمن آباد آتے اور درختوں پر بیٹھ کر اپنی اپنی بولی میں گنگناتے۔ صرف علاقہ ہی نہیں، بل کہ ایمن آباد کے لوگ بھی بہت اچھے تھے۔ وہ آپس میں مل جل کر محبت اور اتفاق کے ساتھ رہتے تھے۔ ’’مہربانی‘‘، ’’شکریہ‘‘ اور ’’معاف کیجیے گا‘‘ جیسے الفاظ تو ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر عام تھے۔’’کیا آپ مہربانی کرکے میرا مسئلہ سنیں گے؟‘‘’’مہربانی کرکے مجھے پانی پلادیں۔‘‘’’آپ کی مدد کا شکریہ۔‘‘’’بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اتنا وقت دیا۔‘‘’’براہِ مہربانی مجھے راستہ دے دیں۔‘‘’’معاف کیجیے گا، آپ نے کیا کہا؟‘‘’’معافی چاہتا ہوں۔‘‘اسی طرح کے بہت سارے اچھے الفاظ اور نرم لہجہ ایمن آباد والوں کی پہچان تھا۔ لیکن عارم کو یہ سب بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ اس علاقے میں نیا نیا آیا تھا۔ عارم کے سامنے جب کوئی ایسے الفاظ استعمال کرتا تو اُسے یہ سب بہت عجیب اور بناوٹی لگتا۔ ’’آخر یہ سب کہے بغیر بھی تو کام ہو سکتے ہیں۔ کسی کا شکریہ ادا کرنا یا کسی سے معافی مانگنا کوئی لازمی ہے؟ یہ تو بڑی بے وقوفی ہے۔‘‘ وہ اکثر سوچتا کہ کس طرح ایمن آباد کے پیارے لوگوں کو تنگ کرے۔ وہ راہ چلتے لوگوں سے جان بوجھ کر ٹکراجاتا، لوگوں کے پاؤں پر چڑھ جاتا، منھ پر ہاتھ رکھے بغیر چھینکتا، لیکن پھر بھی سامنے والا شخص اس سے کہتا، ’’معاف کیجیے گا‘‘ اور آگے بڑھ جاتا۔ وہ سوچتا کہ عجیب لوگ ہیں، مجھے ٹوکنے کی بجائے مجھ ہی سے معافی مانگتے ہیں۔ایک دن عارم شہر میں موجود جھیل کے کنارے جا رہا تھا۔ اچانک اُس کی نظر ایک خوب صورت گیند پر پڑی جو کنارے پر بیٹھی ایک پیاری سی لڑکی کے ہاتھ سے چھوٹ کر جھیل میں جا گری تھی۔ عارم نے سوچا، موقع اچھا ہے کہ وہ گیند لے کر بھاگ جائے۔ اُس نے چھلانگ لگائی اور گیند لے کر باہر آگیا۔ لیکن یہ کیا، پانی سے باہر آتے ہی گیند تو تتلی بن گئی اور ا’ڑ کر کنارے بیٹھی لڑکی کے ہاتھ پر جا بیٹھی۔وہ چھوٹی سی لڑکی بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی: ’’تم نے میری پالتو تتلی جھیل سے نکالی، میں اس کے لیے تمھارا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ میں ایک پری ہوں اور تمھاری ایک خواہش پوری کر سکتی ہوں۔‘‘عارم نے سوچا: ’’واہ! اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اگرچہ میں نے اس کی مدد کے لیے تو یہ کام کیا نہیں تھا، لیکن اب وہ کوئی خواہش پوچھ ہی رہی ہے تو بتادوں۔‘‘ وہ بولا: ’’مجھے ایمن آباد کے لوگوں میں تبدیلی چاہیے۔ وہ طرح طرح کے بناوٹی الفاظ بولنا چھوڑ دیں۔ کچھ لڑائی جھگڑا کریں، کچھ تُو تُو میں میں ہو تو مزا آئے۔‘‘لڑکی نے یہ سن کر اُس کی طرف حیرانی سے دیکھا اور کہنے لگی: ’’چوں کہ میں تم سے وعدہ کر چکی ہوں اس لیے تمھاری یہ خواہش ضرور پوری کروں گی لیکن ایک دفعہ پھر سوچ لو۔ اس سے تمھیں بڑا نقصان ہوگا۔‘‘عارم نے ہنس کر کہا: ’’مجھے کیا نقصان ہوگا! مجھے تو مزا آئے گا مزا۔‘‘ وہ خوشی سے ناچنے لگا۔ لڑکی اٹھی اور یہ کہہ کر چل پڑی کہ لو، اب بھگتو۔عارم وہاں سے بھاگتا ہوا بازار میں آیا یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا اُس کی خواہش پوری ہوئی۔ لیکن بازار میں داخل ہوتے ہی ایک آدمی نے کیلے کا چھلکا اُچھالا اور اِس سے پہلے کہ عارم سنبھلتا، وہ اُس پر سے پھسلتا ہوا ایک اور آدمی سے جا ٹکرایا۔ وہ جس آدمی سے ٹکرایا، اُس نے فوراً ہی عارم کا گریبان پکڑ کر دو تھپڑ لگائے اور اُسے خوب باتیں سنائیں۔’’اندھے ہو کیا؟ دیکھ کر نہیں چلا جاتا؟‘‘’’یہ میرا قصور نہیں تھا۔‘‘ عارم چلّایا۔ اِس پر آدمی نے اُسے ایک اور تھپڑ جڑا: ’’اتنا چلّا کر بولتا ہے جیسے میں بہرا ہوں۔ تُو نے اپنی آنکھیں کہیں گروی رکھ دی ہوں گی مگر میں تو سب دیکھ رہا تھا کہ تُو کیسے بد مست ہاتھی کی طرح بھاگتا پھر رہا تھا۔‘‘ اتنا پٹ جانے کے بعد عارم نے وہاں سے بھاگ لینے میں ہی اپنی خیریت سمجھی۔عارم سر جھکائے چلا جا رہا تھا کہ ایک گھر  کی چھت کے نیچے سے گزرتے ہوئے اچانک اُس پر گندگی کا ڈھیر آگرا۔ کسی نے اوپری منزل سے کچرا نیچے پھینک دیا تھا۔’’یہ کیا کیا؟؟ میرے اوپر سارا کچرا پھینک دیا۔‘‘ وہ چیخا۔’’تو تم ہمارے گھر کی چھت کے نیچے سے کیوں گزر رہے تھے؟ ہمارے گھر کا سامنا ہے۔ ہم اِسے اچھا رکھیں یا گندا۔ تم کون ہوتے ہو ناراض ہونے والے۔‘‘ اوپر سے کسی نے جواب دیا۔’’ارے یہ کیا، ظالم مارے اور رونے بھی نہ دے۔‘‘ عارم نے سوچا۔پھر وہ سارا دن اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔ اُسے اندازہ ہوا کہ  اُن تمام اچھے الفاظ کے غایب ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کے لہجے سخت ہونے لگے اور اُنھیں ہر بات پر غصہ آنے لگا۔ اب جب کوئی غلطی سے اگر کسی سے ٹکراجاتا تو معذرت کرنے کی بجائے کہتا: ’’اندھے ہو کیا، دیکھ کر نہیں چلتے؟‘‘ اب اگر کوئی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو شرمندہ ہونے کی بجائے کہتا: ’’میں تمھارا نوکر نہیں ہوں جو تمھاری بات مانوں۔‘‘ اب اگر کہیں جھگڑا ہوجاتا تو لوگ صلح صفائی کی بجائے ہاتھا پائی پر اُتر آتے اور لڑنے لگتے۔ غرض ایمن آباد کا ماحول بدل کر رہ گیا۔سارا دن یہ ہنگامے دیکھ کر عارم کا دل اُکتا گیا تھا۔ وہ دوبارہ جھیل پر یہ سوچتے ہوئے واپس پہنچا کہ شاید وہ پری دوبارہ مل جائے اور اِس بےکار خواہش کو واپس کر دے۔ اب عارم کو وہی پرانا ایمن آباد چاہیے۔خوش قسمتی سے پری وہیں موجود تھی۔ عارم کی بات سن کر وہ مسکرائی۔’’اگر پرانا والا ایمن آباد واپس آیا تو تم بھی پرانے والے عارم بن جاؤگے، وہی لوگوں کو تنگ کرنے والے۔ لہٰذا ایمن آباد کو تبدیل کرنے کے لیے اب اِس اچھے عارم کو کوشش کرنی پڑے گی۔ جاؤ! جو لوگ لڑتے ہیں اُنھیں سمجھاؤ کہ وہ لڑنے کی بجائے صلح کر کے رہیں، جو لوگ بد تمیزی سے بات کرتے ہیں اُنھیں خوش اخلاقی سے بات کرنا سکھاؤ، جو لوگ غصیلے ہو گئے ہیں اُنھیں  غصہ پر قابو کرنا سکھاؤ۔ عارم! جب ایک خواہش پوری ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اگلی خواہش پوری کرنے سے پہلے محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر تم نے ایمن آباد میں دس لوگوں کو اپنی کوشش سے بدل ڈالا تو میرا وعدہ ہے کہ ایمن آباد پھر سے پہلے جیسا ہوجائے گا۔‘‘پیارے بچو! اُس دن عارم کو پتا چل گیا کہ لوگ خوش اخلاق ہوں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے ورنہ بڑی مشکل ہوتی ہے۔ عارم نہ صرف خود با اخلاق بن گیا بل کہ کوشش کر رہا ہے کہ دس لوگوں کے اخلاق کو بھی بدل دے تاکہ اُس کا ایمن آباد پھر سے اچھا ہوجائے۔ کیا آپ اُس کی مدد کریں گے؟ لیکن اِس کے لیے سب سے پہلے آپ کو خود با اخلاق بننا پڑے گا  اور دو جادوئی الفاظ سیکھنا پڑیں گے۔ یعنی ’’شکریہ‘‘ اور ’’معاف کیجیے گا‘‘۔
ہدایات برائے اساتذہ/ والدین/ کہانی خواں:
  • کوئی کام کہنے کی درخواست کرنے سے پہلے ’’مہربانی کرکے‘‘ کا استعمال اگر مشکل لگے تو انگریزی لفظ ’’پلیز‘‘ (Please) کا استعمال سکھایا جاسکتا ہے لیکن اُردو الفاظ کو ترجیح دیں تو زیادہ مناسب ہے۔
  • یہ بھی بتائیں کہ اگر کوئی شخص آپ کو کرنے کے لیے کوئی کام کہے اور آپ نہ کرسکتے ہوں تو دو ٹوک انداز  میں منع کرنے کی بجائے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرکے انکار کریں۔
  • صرف کہانی سناکر یا حکم دے کر بچوں میں یہ عادات پیدا نہیں کی جاسکتیں۔ اس کے لیے بڑوں کو بھی بچوں کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • مسلمان بچوں کو ترغیب دلانے کے لیے بتایا جاسکتا ہے کہ اسلام بھی اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے۔
  • قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے اخلاق کی تعریف کی ہے۔ (سورۂ قلم، پارہ29، آیت4)
  • پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ’’مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘
یہ کہانی پی ڈی ایف صورت میں پڑھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں

کہانی: عارم کی خواہش
تحریر: عمار ابنِ ضیا
موضوع: اخلاقیات و اقدار، آدابِ گفت گو
مناسب عمر: +5
آموزش:
  • دوسروں سے گفت گو کرتے ہوئے ادب و احترام کو ملحوظ رکھنے کی اہمیت
  • گفت گو میں نرم اور مہربان الفاظ کا استعمال کرنے کی افادیت
  • کسی سے کوئی کام کہتے ہوئے ’’مہربانی‘‘ کہنا اور کام مکمل ہونے پر ’’شکریہ‘‘ ادا کرنا
  • اپنی غلطی قبول کرنا اور معذرت کرنا

انتساب
اُردو بلاگر مرحومہ +Aniqa naz کے نام
جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس بے جان کہانی میں جان ڈال دی

Munni Ka Mustaqbil



ٹافیاں اور چاکلیٹ کسے پسند نہیں ہوتی؛ خاص کر بچّوں کو تو یہ چیزیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ لیکن کچھ بچّے ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں چاکلیٹ اور ٹافیاں حد سے زیادہ پسند ہوتی ہیں۔ اُن کا دل کرتا ہے کہ بس ہر وقت یہی کھاتے رہیں۔ یہ کہانی بھی ایسی ہی ایک چھوٹی سی پیاری سی بچّی کی ہے جس کا نام مُنّی تھا۔ مُنّی کو چاکلیٹ اور ٹافیاں بہت پسند تھیں۔ وہ اپنے سارے پیسے اِن ہی چیزوں پر خرچ کردیتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُس کو بھوک بھی نہیں لگتی تھی؛ کیوں کہ، اُس کا پیٹ تو ایسی چیزیں کھانے سے بھر جاتا تھا۔
اُس کی امی اُس کو سمجھاتی تھیں: ’’میری بچّی! چاکلیٹ اور ٹافیاں اِتنی زیادہ نہیں کھاتے۔ اِن سے صحت خراب ہوجاتی ہے۔‘‘ لیکن وہ یہ ساری باتیں ایک کان سے سنتی اور دوسرے کان سے نکال دیتی۔ مُنّی کو پریوں کی کہانیاں بہت پسند تھیں۔ روز سونے سے پہلے اُس کی اَمی اُسے کوئی مزے کی کہانی سُناتیں، اُس کو لوری دیتیں اور پھر وہ سو جاتی تھی۔ اُس کے پاس ایک گڑیا تھی جس کے ساتھ وہ اکثر پریوں والا کھیلا کرتی تھی۔ ایک دن مُنّی کی نانی اماں اُس سے ملنے آئیں اور اُس کے لیے ٹافیوں سے بھرا ڈبّا لے کر آئیں۔ اُنھوں نے اُسے سمجھایا کہ روز ایک ٹافی سے زیادہ نہیں کھانا۔ مُیّ  نے اُن سے وعدہ تو کرلیا لیکن جب وہ چلی گئیں اور کمرے میں کوئی نہیں رہا تو اُس نے چپکے سے الماری کھولی اور ایک ٹافی کھالی۔ ’’واہ! یہ تو بہت مزے دار ہے۔‘‘ مُنّی نے سوچا۔ ٹافی اُس کے منھ میں گھلنے لگی۔ پھر اُس سے رُکا نہیں گیا اور اُس نے بہت ساری ٹافیاں کھالیں۔ پھر اگلے دِن پتا ہے کیا ہوا؟ اگلے دِن مُنّی بیمار پڑگئی۔ اُس کے گلے میں شدید درد ہونے لگا اور اُسے بخار بھی چڑھ گیا۔ سارا دن وہ بستر پر لیٹی رہی۔ اُسے کڑوی کڑوی دوائیاں کھانی پڑیں۔ وہ دِن تو اُس کی زندگی کا سب سے بُرا دِن تھا۔ اُسے بہت رونا آیا۔رات کو اُس کی اَمی نے اُسے پریوں کی کہانی سنائی اور لوری دی۔ للا للا لوری دودھ کی کٹوری دودھ میں بتاشا مُنّی  کرے تماشا روز مُنّی کو یہ لوری سن کر بہت مزا آتا تھا اور وہ ہنستے ہوئے سوجاتی تھی؛ لیکن اُس رات تو اُسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ یوں ہی آنسو بہاتے بہاتے سوگئی۔ رات میں کسی وقت مُنّی کی آنکھ کھل گئی۔ اُس کے کمرے میں بہت روشنی ہورہی تھی۔ اُس نے دیکھا کہ ایک بہت خوب صورت اور پیاری سے پری اُس کے پاس کھڑی ہے اور اُسے دیکھ کر مسکرارہی ہے۔ پری کے ایک ہاتھ میں جادو کی چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں شیشے کی ایک گیند تھی۔ مُنّی اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ ’’پیاری پری! میری طبیعت بہت خراب ہے۔ مجھے ٹھیک کردو نا۔‘‘ مُنّی نے پری سے کہا۔ پری نے اپنی جادو کی چھڑی مُنّی کے سر پر پھیری اور مُنّی کو ایسا لگا جیسے وہ بالکل ٹھیک ہوگئی۔ ’’شکریہ، پری۔ یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ مُنی نے شیشے کی گیند کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔ ’’یہ مستقبل گیند ہے۔ اِس میں ہم کسی بھی انسان کا مستقبل دیکھ سکتے ہیں کہ وہ بڑا ہوکر کیسا ہوگا۔‘‘ پری نے بتایا۔یہ سُن کر تو مُنّی کو شوق ہوا کہ وہ بھی اپنا مستقبل دیکھے۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ بڑی ہوکر کتنی پیاری اور اچھی لگے گی۔ پری نے اپنی مستقبل گیند پر جادو کی چھڑی پھیری اور گیند مُنّی کے سامنے کردی۔ اُس نے جب گیند میں جھانکا تو وہ حیران رہ گئی۔ اُسے گیند میں ایک بہت کم زور اور خراب صحت والی لڑکی نظر آئی جس کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور اُسے شدید کھانسی ہو رہی تھی۔’’یہ کس کی تصویر ہے؟ یہ تو میں نہیں ہوسکتی۔‘‘ مُنّی نے پری سے کہا۔ ’’یہ آپ ہی ہو مُنّی۔ چاکلیٹ اور ٹافیاں کھا کھاکر آپ کی صحت خراب ہوگئی ہے۔ اصل طاقت اور توانائی تو سبزیوں اور پھلوں میں ہوتی ہے، چاکلیٹ اور ٹافیوں میں نہیں۔ جو بچّے ہر وقت یہی چیزیں کھاتے رہتے ہیں، اُن کی صحت خراب ہوجاتی ہے اور وہ مسلسل بیمار رہنے لگتے ہیں۔‘‘ پری نے پیار سے سمجھایا۔ ’’دیکھو! پالک کھانے سے جسم میں طاقت آتی ہے۔ گاجر کھانے سے آنکھیں تیز ہوتی ہیں۔ چقندر کھانے سے خون بنتا ہے۔ ٹماٹر کھانے سے وٹامن کی کمی پوری ہوجاتی ہے۔‘‘ مُنّی کو تو اپنا مستقبل دیکھ کر جھرجھری آگئی۔ اُس نے پری سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ سبزیاں شوق سے کھایا کرے گی اور ٹافیاں کم کھائے گی۔ پری نے اُسے پیار کیا اور پھر چلی گئی۔ اُس کے بعد مُنّی کو بہت اچھی اور سکون کی نیند آئی۔ اب آپ بتائیں کہ آپ ٹافیاں کھاکر بیمار ہونا چاہتے ہیں یا سبزیاں کھاکر طاقت ور اور مضبوط؟ 
یہ کہانی پی ڈی ایف صورت میں پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہانی: مُنّی کا مستقبل تحریر: عمار ابنِ ضیا موضوع: خوراک، پھل، سبزیاں، ٹافیاں مناسب عمر: +4 آموزش:
  • سبزیوں کے نام اور فوائد 
  • ٹافیاں زیادہ کھانے کے نقصانات 

Sarim Ka Homework



صارم کبھی اپنا ہوم ورک نہیں کرتا تھا۔ ’’یہ تو بہت بور ہے۔‘‘ وہ ہمیشہ یہی کہتا۔ ’’جب ایک چیز سمجھ آگئی تو اب بیٹھ کر اُس کو لکھو بھی؟ یہ انتہائی فضول کام ہے۔‘‘ اُسے کرکٹ کھیلنا پسند تھا۔ اُس کے اساتذہ اُسے سمجھاتے: ’’صارم بیٹا! اپنا ہوم ورک کیا کرو۔ اس سے چیزیں یاد ہوجاتی ہیں۔ جب بچّے خود سے کام کرتے ہیں تو اُنھیں بہت سی نئی باتیں سمجھ آتی ہیں اور اُن کا دماغ بھی زیادہ کام کرتا ہے۔ اگر سمجھے ہوئے کام کو دوبارہ نہیں کروگے تو تم کچھ بھی نہیں سیکھ سکوگے۔‘‘ یہ بات سچ بھی تھی۔ صارم کو زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ کبھی کبھی اُسے خود بھی حیرانی ہوتی تھی کہ ویسے تو اُسے سب کچھ سمجھ آتا ہے پھر بھی امتحانی نتیجہ اچھا نہیں آتا۔ لیکن وہ کیا کرتا؟ اُسے تو ہوم ورک سے نفرت تھی۔

سوچیں اور بتائیں:صارم کو ہوم ورک کرنا پسند کیوں نہیں تھا؟ کیا آپ کو اپنا ہوم ورک کرنا پسند ہے؟ اگر ہاں تو کیوں اور اگر نہیں تو کیوں؟
ایک دن جب وہ اسکول سے واپس گھر آیا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی بلّی ایک چھوٹی سی گڑیا سے کھیل رہی ہے۔ اُس نے بلّی سے وہ گڑیا چھین لی۔ لیکن یہ کیا؟ وہ گڑیا نہیں تھی۔ وہ تو چھوٹا سا آدمی تھا، بالکل بونا، جیسا کہانیوں میں ہوتا ہے۔


’’مجھے چھوڑ دو۔ مجھے اُس بلّی کے حوالے مت کرنا۔ اُس نے مجھے بہت پنجے مارے ہیں۔ اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو میرا وعدہ ہے کہ میں تمھاری کوئی ایک خواہش پوری کروں گا۔‘‘ بونا روتے ہوئے بولا۔صارم کو پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ کھلونا بھی بول سکتا ہے۔ لیکن جب بونے نے ایک خواہش پوری کرنے کی بات کی تو اُس نے سوچا کہ پریوں کی کہانیوں میں بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
سوچیں اور بتائیں:صارم سے بونے نے کہا ہے کہ وہ اُس کی کوئی ایک خواہش پوری کرے گا۔ آپ کے خیال میں صارم کیا خواہش کرے گا؟ اگر آپ صارم کی جگہ ہوتے تو آپ کی خواہش کیا ہوتی؟
صارم نے بونے سے کہا: ’’تمھیں پورا سال میرا ہوم ورک اچھی طرح کرنا ہوگا۔ اگر تم نے یہ کام ٹھیک کیا اور میرا امتحانی نتیجہ اچّھا آیا تو میں تمھیں آزاد کردوں گا۔‘‘یہ سُن کر بونے کا چہرہ سُرخ ہوگیا۔ ’’اف! یہ میں کہاں پھنس گیا۔‘‘ بونا بڑبڑایا۔ ’’لیکن میں نے چوں کہ وعدہ کرلیا ہے، اس لیے اپنا وعدہ پورا کروں گا۔‘‘اور پھر بونے نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے صارم کا ہوم ورک کرنا شروع کردیا۔ لیکن ایک مشکل تھی۔ بونا کبھی اسکول نہیں گیا تھا؛ اس لیے اُس کو اکثر پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کیا کام کرنا ہے۔ پھر وہ چلّاتا: ’’میری مدد کرو، صارم! میری مدد کرو۔‘‘ اور صارم کو کسی نہ کسی طرح اُس کی مدد کرنی پڑتی۔ آخر وہ ہوم ورک بھی تو اُسی کا کرتا تھا۔’’مجھے اس لفظ کا مطلب نہیں معلوم۔‘‘ صارم کا ہوم ورک کرتے ہوئے بونا کہتا۔ ’’مجھے لغت دو۔ بل کہ مجھے تو لغت دیکھنی بھی نہیں آتی۔ تم خود لغت سے اس لفظ کا مطلب دیکھ کر بتاؤ۔‘‘


جب ریاضی اور حساب کی باری آتی تو صارم کے لیے مشکل مزید بڑھ جاتی۔ ’’یہ پہاڑے کیا ہوتے ہیں؟ ہم بونوں کی دنیا میں تو کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور یہ جمع، تفریق، ضرب، تقسیم کیا ہیں؟ میرے پاس بیٹھو۔ تمھیں یہ سب مجھے سمجھانا پڑے گا۔‘‘ بونا صارم سے کہتا اور صارم اُس کو بڑی محنت سے سمجھاتا۔انسانی تاریخ بھی بونے کے لیے کسی معمے سے کم نہیں تھی۔ اُسے انسانوں کی دنیا کے بارے میں پتا ہی نہیں تھا کہ کس انسان نے کیا کیا، کون سا ملک کب بنا اور کب کہاں کیا ہوا؟ وہ تنگ آکر صارم سے کہتا: ’’جاؤ! اپنی کتابیں لے کر آؤ اور مجھے پڑھ کر سناؤ۔‘‘صارم معمول سے زیادہ محنت کررہا تھا۔ وہ شام سے لے کر رات تک ہوم ورک مکمل کرنے میں بونے کی مدد کرتا۔ یوں ہی دن گزرتے گئے اور امتحانات بھی ہوگئے۔ جب اسکول میں امتحانی نتیجہ سنایا گیا تو صارم کو خود اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ وہ اپنی جماعت میں اوّل آیا تھا۔ صارم کے اساتذہ، دوست، ہم جماعت اور والدین، سب ہی حیران تھے کہ یہ سب کیسے ہوا؟ اب صارم پوری طرح تبدیل ہوچکا تھا۔ اُس کا ہوم ورک ہمیشہ مکمل ہوتا تھا۔تمام لوگ صارم کی کارکردگی سے خوش تھے۔ صرف صارم حقیقت جانتا تھا کہ یہ سب بونے کا کارنامہ ہے۔ اُسی کے ہوم ورک کرنے کی وجہ سے صارم کا نتیجہ اتنا اچھا ہوا تھا۔ اسکول کا سال مکمل ہوگیا۔ بونا اپنا وعدہ پورا کرچکا تھا اور اب وہ آزاد تھا۔ بونا صارم کو خدا حافظ کہ کر چلا گیا۔ صارم اُداس تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ ہوم ورک کیسے کرے گا؟ اُس نے ایک نظر اپنے ہوم ورک پر ڈالی اور کاپی کو اُٹھاکر گھورنے لگا۔’’ارے! میں جانتا ہوں کہ یہ کیسے کرنا ہے۔ اور اس میں تو بہت مزا آتا ہے۔‘‘ اُسے یاد آیا کہ یہ سارا کام تو وہ بونے کو کروا چکا ہے۔ پھر اُس نے لپک کر کتاب اُٹھائی۔ کتاب ہی تو اصل مددگار ہوتی ہے۔اب آپ اصل راز کی بات سمجھے یا نہیں؟ بھئی! ہوم ورک بونے نے نہیں، خود صارم ہی نے کیا تھا۔ بونا تو بس وہ سب لکھا کرتا تھا جو صارم اُسے کتابوں سے دیکھ کر بتایا کرتا۔ یقین نہیں آتا تو خاموشی سے اپنی کاپیاں اور کتابیں اُٹھاکر پڑھنے بیٹھو، اور پھر دیکھو جادو۔

یہ کہانی پی ڈی ایف صورت میں ڈاؤن لوڈ کریں


کہانی: صارم کا ہوم ورک کس نے کیا؟تحریر: عمار ابنِ ضیا
کیرول مور (Carol Moore) کی کہانی ’’Who Did Patrick’s Homework‘‘ سے ماخوذ
موضوع: اسکول، ہوم ورکمناسب عمر: +4آموزش:
  • سوچنا سمجھنا اور کہانی سے نتیجہ اخذ کرنا
  • اپنا کام خود انجام دینا
  •  محنت کرنے سے ہر مشکل کام آسان ہوجاتا ہے

Welcome


انتر منتر ڈاٹ کام پر خوش آمدید۔اس بلاگ پر آپ پڑھ سکیں گے بچوں کے لیے دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں، بچوں کے لیے مخصوص ویب سائٹوں پر تبصرے اور بچوں ہی کے پروگراموں، کارٹونوں یا فلموں پر تبصرے۔ہمیں امید ہے کہ اس ویب سائٹ کی مدد سے والدین، سرپرست، اساتذہ اور کہانی خواں حضرات کو بچوں کی تربیت اور تعلیم و تدریس کے لیے مفید مواد میسر آئے گا۔
انتر منتر کے بارے میں مزید۔