کچھ دل سے

زندگی دریا کی طرح ہے۔۔۔ جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔

Image result for riverزندگی دریا کی طرح ہے۔۔۔ جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔تحریر:   ڈاکٹر خالد سہیل 
ایک مشرقی محبوبہ کی طرح دھیرے دھیرے مجھ پر یہ راز بے نقاب ہوا کہ زندگی ایک دریا کی طرح ہے جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دریا کا ایک حصہ اگر بہنا بند کر دے تو وہ جوہڑ بن جاتا ہے جس میں پہلے کاہی جمتی ہے اور پھر اس سے بدبو آنے لگتی ہے۔
زندگی کے اس راز سے سب سے پہلے میرا تعارف میڈیکل کالج میں ہوا۔ جب میں جسمانی صحت اور بیمای کے راز سیکھ رہا تھا تو میں نے اساتذہ اور طب کی کتابوں سے یہ جانا کہ صحتمند انسان کے دل کی نالیوں میں خون ہر دم بہتا رہتا ہے۔ اگر وہ خون کی گردش رک جائے تو انسان کو ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے اور وہ مر بھی سکتا ہے۔ دل کی نالیوں کی طرح اگر جسم کے کسی اور حصے کی نالیاں بند ہو جائیں تو انسان کے جسم کا وہ عضو مفلوج ہو سکتا ہے اور مر بھی سکتا ہے۔
خون کی نالیوں کی طرح نظامِ انہضام کا بھی یہی عالم ہے۔ اگر ہماری آنتوں میں خوراک کی گردش رک جائے تو پہلے قبض ہوتا ہے اور پھر INTESTINAL OBSTRUCTION ہوتی ہے جس سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
خون کی نالیوں اور نظامِ انہضام کی طرح انسانی دماغ اور اعصاب کا بھی یہی عالم ہے۔ اگر اعصابی نظام میں برقی لہریں چلنی بند ہو جائیں تو انسان کے جسم کا کوئی حصہ بے حس بھی ہو سکتا اور مفلوج بھی۔
ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انسانی جسم کا ہر نظام دریا کی طرح بہتا رہے کیونکہ یہی جسمانی صحت کا راز ہے۔
جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت کا دارومدار بھی حرکت پر ہے۔ صحتمند انسان اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ جو ان کا اظہار نہیں کرتے وہ اکثر کڑھتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے کلینک میں ہم ان مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار زبانی یا تحریری طور پر کریں تا کہ ان کے جذبات اور خیالات کا دریا دوبارہ بہنا شروع کر دے اور وہ ایک صحتمند اور بامعنی زندگی گزار سکیں۔
جب زندگی کا دریا بہہ رہا ہوتا ہے تو لوگ اپنی چیزیں خوشی سے دوسروں سے شیر کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی دکھ اور سکھ‘ دولت اور طاقت میں شریک کرنے سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے لوک ورثہ کی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ دانائی کی بات جہاں بھی ملے میں اسے اپنے ذہن اور دل میں سنبھال رکھتا ہوں۔
ایک پادری نے خدا سے کہا کہ میں ہر ہفتے اپنی قوم کو جنت دوزخ کی کہانیاں سناتا رہتا ہوں لیکن میں نے کبھی جنت اور دوزخ دیکھے نہیں۔ اے خدا کیا میں دوزخ دیکھ سکتا ہوں؟ خدا نے پادری کی دعا قبول کی اور کہا کہ سیدھا جاؤ تمہیں بائیں طرف ایک دروازہ نطر آئے گا اسے کھولو اور اندر جاؤ وہاں تمہیں دوزخ نطر آئے گی۔ پادری نے حکم پر عمل کیا اور جب بائیبں دروازے سے داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا برتن ہے جس میں لذیذ کھانا ہے لیکن اس کے چاروں طرف جو مرد اور عورتیں بیٹھے ہیں وہ سب بھوکے اور غمزدہ ہیں۔ ان مردوں اور عورتوں میں کالے بھی ہیں گورے بھی مشرقی لوگ بھی ہیں اور مغربی بھی۔ جب اس پادری نے غور سے انہیں دیکھا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ لوگ بھوکے اور غمزدہ کیوں ہیں تو اسے یہ نظر آیا کہ انسانوں کے ہاتھوں میں چھ فٹ لمبے چمچ ہیں۔ وہ اس چمچ سے کھانا اٹھا تو لیتے ہیں لیکن اپنے آپ کو کھلا نہیں سکتے اسی لیے وہ سب بھوکے اور غمزدہ ہیں۔
پادری واپس آیا تو اس نے جنت دیکھنے کی دعا کی۔ خدا نے کہا کہ اس دفعہ سیدھا جاؤ اور تمہیں دائیں طرف ایک دروازہ نطر آئے گا اس دروازے سے داخل ہو تو تمہیں جنت نظر آئے گی۔ پادری بڑے شوق سے گیا۔ دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہے کہ اسی طرح کا بڑا برتن ہے اسی طرح کے ہر رنگ ’ نسل اور قوم کے مرد اور عورتیں ہیں اور ان کے ہاتھوں میں چھ فٹ کے چمچ ہیں لیکن وہ سب ہنس رہے ہیں اور خوشحال ہیں۔ پادری نے ان کی خوشی کا راز جاننے کی کوشش کی تو اسے اندازہ ہوا کہ ان لوگوں نے زندگی کا یہ راز جان لیا تھا کہ وہ چمچ سے کھانا اٹھا کر اپنے سامنے والے انسان کو کھلاتے تھے۔ گورے کالوں کو‘ مرد عورتوں کو اور مغربی لوگ مشرقی لوگوں کا۔
پادری جنت اور دوزخ کا راز جان کر بہت خوش ہوا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں انسان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں ایک راستہ جنگ اور تباہی کی طرف جاتا ہے دوسرا امن اور آشتی کی طرف۔ یا تو انسان اجتماعی خود کشی کر لیں گے یا ارتقا کی اگلی منزل کی طرف بڑھیں گے۔ ارتقا کی طرف جانے والے یہ راز جاتے ہیں کہ ہم سب انسان ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور ہم سب دھرتی کے باسی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ اور یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم یہ راز جان لیں کہ زندگی دریا کی طرح ہے جو بہتا رہے تو بہتر ہے۔

دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 02 نومبر 2018

دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے  خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) 24 صفر 1440 بمطابق 02 نومبر 2018امام و خطیب: ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسمترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 24 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ "دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے" کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ دنیاوی زندگی میں مشکلات لازمی جز ہیں، جبکہ پریشانیوں سے نجات تمام مخلوقات کی چاہت ہے، اور یہ شرح صدر کے بغیر ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ دلی سکون کے اسباب میں : ذات باری تعالی کی معرفت، اللہ تعالی پر مکمل توکل، حالت ایمان میں عمل صالح، تقدیر پر ایمان، صبر و شکر ، اللہ سے حسن ظن، قلبی راحت کی دعا، ذکر الہی، تلاوت قرآن، تسبیح، تحمید، نوافل کی ادائیگی، تقوی، نماز فجر کی پابندی، کتاب و سنت کا علم، خلقت کے ساتھ نیکی، للہیت سے بھر پور رفاہی کام، دوسروں کی غلطیوں سے چشم پوشی، اچھے لوگوں کی صحبت، اہل لوگوں سے مشورہ، قناعت، ماضی و استقبال کی بجائے حال پر توجہ، فراغت کے اوقات میں مثبت سرگرمیاں، گناہوں سے اجتناب اور دلی بیماریوں سے نجات شامل ہیں، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: مملکت حرمین شریفین پر اللہ تعالی کی لا تعداد نعمتیں ہیں، یہ ملک مسلمانوں کا قبلہ اور قلب ہے، اس ملک کے متعلق افواہوں اور اڑتی پھرتی خبروں پر کان مت دھریں، اس ملک کے دشمن جتنی کوشش کریں گے یہاں کے عوام اپنے حکمرانوں پر اعتماد اتنا ہی بڑھاتے جائیں گے، مسلمانوں کو چاہیے کہ مثبت سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں، آخر میں انہوں نے دعا کروائی۔
⇥ منتخب اقتباس ⇤
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللی علیہ وسلم- اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔
مسلمانو!
دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے، تنگی ترشی دنیا کی فطرت میں شامل ہے، یہاں انسان بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ}ہم نے انسان کو تکلیفیں برداشت کرتے رہنے والا پیدا کیا ہے۔ [البلد: 4] دنیا میں انسان کی زندگی مختصر ہوتی ہے، اور اس کا بھی وہی حصہ کام آتا ہے جو اچھا گزرے۔
قلبی سکون کا حصول جبکہ پریشانی اور غموں کا خاتمہ ہر انسان کی تمنا ہے، اگر ایسا ہو جائے تو خوشحال زندگی میسر آتی ہے۔
ساری مخلوقات خوشحالی کی چاہت رکھتی ہیں اور اس کے لیے کد و کاوش بھی کرتی ہیں، شرح صدر اور قلبی اطمینان خوشحالی کی بنیاد ہیں؛ اسی لیے جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لے تو اس کی شرح صدر فرما دیتا ہے ، اس سے بڑی نعمت بھی کوئی نہیں ہے۔ شرح صدر عظیم ترین نعمت اور اسباب ہدایت میں شامل ہے جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "شرح صدر جس طرح ہدایت کا سبب ہے اسی طرح یہ ہر نعمت اور بھلائی کی بنیاد بھی ہے"
اسی لیے جب موسی علیہ السلام کو فرعون کی جانب بھیجا گیا تو انہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالی سے شرح صدر ہی مانگی اور کہا: {قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي}انہوں نے کہا: میرے پروردگار! میری شرح صدر فرما دے۔ [طہ: 25] پھر نبی صلی اللی علیہ وسلم پر نعمتوں کے شمار میں اللہ تعالی نے اسی کو سب سے پہلے ذکر کیا اور فرمایا: {أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ}کیا ہم نے تمہاری شرح صدر نہیں فرمائی؟! [الشرح: 1]
ایمان اور عمل صالح شرح صدر کے موجب بننے والے بنیادی اسباب میں شامل ہیں، ان سے قلب و بدن میں بہتری آتی ہے، ظاہر اور باطن بھی سنور جاتا ہے، ان دونوں کی بدولت اچھی زندگی اور دائمی سعادت حاصل ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً} کوئی مرد یا عورت ایمان کی حالت میں جو بھی نیک عمل کرے تو ہم اسے لازما بہترین زندگی میں رکھیں گے۔[النحل: 97]
اللہ تعالی سے محبت ،انابت اور لذت کے ساتھ عبادت کے ذریعے سب سے زیادہ شرح صدر ہوتی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر تم اپنے دل میں عبادت کی لذت اور شرح صدر نہ پاؤ تو اپنے آپ پر نظر ثانی کرو؛ کیونکہ اللہ تعالی انتہائی قدر دان ہے۔"
خوشحالی اور بدحالی لوگوں کی زندگی کے لازمی عناصر ہیں، ان سے راہ فرار کسی کو حاصل نہیں تو ایسے میں اللہ کے فیصلوں پر اطمینان عین سعادت مندی ہے، اس لیے خوشی ملے تو شکر اور تکلیف ملے تو صبر کرے، رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مومن کا معاملہ بہت تعجب خیز ہے کہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر والا ہوتا ہے، یہ امتیاز مومن کے علاوہ کسی کا نہیں، چنانچہ اگر مومن کو خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو یہ شکر اس کے لیے خیر بن جاتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو صبر اس کے لیے خیر بن جاتا ہے) مسلم
اللہ تعالی سے ملاقات اور اجر الہی پر یقین رکھنے والے کا دل بہتر سے بہترین کی تمنا رکھتا ہے، کوئی چیز نصیب میں نہ لکھی ہو تو غم نہیں کرتا بلکہ وعدہ شدہ چیزوں پر خوش رہتا ہے، اس طرح اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں
تمام معاملات کی باگ ڈور صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، وہ جیسے چاہتا ہے کہ دلوں کو ڈھال دیتا ہے: صحیح یا خراب، تنگ یا فراخ اور نیک بخت یا بد بخت بنا دیتا ہے۔ تو جس ذات کے ہاتھ میں یہ سب کچھ ہے اسی پر توکل کرنا اور سب کچھ اسی کے سپرد کرنا شرعی طور پر واجب ہے، بلکہ یہ دنیا کی جنت ہے، فرمان باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} اور جو اللہ پر توکل کرے تو اللہ ہی اسے کافی ہے۔ [الطلاق: 3] لوگوں کا رزق اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، کوئی بھی جاندار اپنا رزق پورا حاصل کیے بغیر نہ مرے گا، اس لیے اللہ تعالی نے جو تمہارے لیے لکھ دیا ہے اس سے راضی رہو، اگر کوئی چیز تمہیں نصیب نہ ہو تو اس پر غم نہ کرو۔
قلبی راحت اور سکون کے متلاشی کو رب کریم کا دروازہ زیادہ سے زیادہ کھٹکھٹانا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی دعائیں کرنے والے کے قریب ہوتا ہے اور اللہ سے امید لگانے والا نامراد نہیں ہوتا، دعاؤں سے دنیا و آخرت کے سب امور سنور سکتے ہیں، نبی صلی اللی علیہ وسلم کی ایک دعا ہے: (اَللهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ [ترجمہ: اے اللہ! میرے دین کو درست کر دے، جو میرے ہر کام کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور میری دنیا کو درست کر دے اس میں میرا معاش ہے اور میری آخرت کو درست کر دے وہیں پر میں نے لوٹنا ہے اور میری زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا سبب بنا دے اور میری وفات کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنا دے۔])
قلبی راحت اور سکون کے لیے ذکر کی تاثیر بھی بہت عمدہ ہے، ذکر سے پریشانیاں اور غم دھل جاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، توجہ کریں! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔ [الرعد: 28] رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم پریشانی کے وقت فرمایا کرتے تھے: (لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ۔[ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں جو صاحب عظمت اور بردباد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا مالک ہے۔]) بخاری
قرآن کریم افضل ترین ذکر ہے، اللہ کا کلام رہنمائی اور شفا پر مشتمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت اور سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا آ گئی ہے، یہ مومنین کے لیے رہنمائی اور رحمت بھی ہے۔[يونس: 57] چنانچہ قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس پر عمل کرنے والے لوگ راحت اور سعادت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {طه (1) مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} طہ، ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ شقاوت میں ڈوب جائیں۔[طہ: 1، 2]
سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنے ، کثرت سے نوافل ادا کرنے نیز اطاعت پر استقامت سے دل میں راحت پیدا ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} یقیناً ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے کڑھتا ہے [97] تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدے کرنے والوں میں شامل رہیں [98] اور یقین [یعنی موت] آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں۔[الحجر: 97 - 99]
جب انسان اپنے دن کا آغاز نماز سے کرے تو اس کا سارا دن بہترین گزرتا ہے؛ کیونکہ نماز فجر پڑھنے والا اللہ کے ذمے ہوتا ہے، اور جو شخص نماز فجر کی سنتیں بھی ادا کرے تو دن کے آخر میں اللہ تعالی اسے کافی ہوتا ہے، آپ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم! دن کے آغاز میں تم چار رکعات پڑھنے سے قاصر مت رہو تو میں دن کے آخر میں تمہارے لیے کافی ہوں گا) احمد
اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم سے حاصل شدہ علم با عمل بھی قلبی راحت کا باعث ہے، ایسے اہل علم کے سینے وسیع ، کشادہ، پر اطمینان، خوش و خرم اور بہترین اخلاق کے مالک ہوتے ہیں، جس قدر انسان کا علم بڑھتا جائے اس کی قلبی راحت بھی بڑھتی جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا} ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دیا کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں سے نکل ہی نہ پائے؟ [الأنعام: 122]
ابن قیم رحمہ اللہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں: "میں نے آپ سے بڑھ کر کسی کو خوش و خرم نہیں دیکھا، حالانکہ آپ بہت تنگ حالات سے گزرے، آپ عیش و عشرت سے کوسوں دور تھے، مزید برآں آپ کو قید و بند، دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود آپ خوش و خرم تھے، قلبی راحت اور قوت کے مالک تھے، خوشی آپ کے چہرے پر چمکتی ہوئی نظر آتی تھی"
نیک اہل علم، اور دیندار لوگوں کی صحبت میں پیار بھی ملتا ہے اور محبت بھی، ان کی صحبت سے انسان علم ، حکمت اور تزکیہ نفس حاصل کرتا ہے، نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والا شخص اپنے ہم عمروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔
اپنے معاملات میں اہل دانش اور مشاورت کی صلاحیت رکھنے والوں سے رجوع کرنے پر دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے اور فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} جب انہیں کوئی خبر امن یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اس خبر کو رسول (ﷺ) اور مقتدر افراد کے حوالے کر دیتے تو تجزیہ کار لوگ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے۔[النساء: 83]
شیطان کی انسان دشمنی لازوال ہے، شیطان سے پناہ حاصل کرنے پر برے وسوسوں سے نجات مل سکتی ہے، اسلام میں مسلمانوں کے لیے ایسے اسباب اپنانے کی ترغیب ہے جن سے مسلمان چاق و چوبند ہو جائے ؛ لیکن شیطان ایسا ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے، آپ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب کوئی سویا ہوا ہوتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ کہتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے، اس لیے سوئے رہو۔ لیکن اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز فجر پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور وہ خوش مزاج اور ہشاش بشاش رہتا ہے، بصورت دیگر وہ بد مزاج اور سست رہ کر اپنا دن گزارتا ہے) متفق علیہ
مومن کی ایمانی قوت ہشاش بشاش رہنے کے لیے انتہائی اہم ماخذ ہے، اس لیے کہ مومن وہمی باتوں کے پیچھے نہیں لگتا، دکھی باتوں کے سامنے ہمت نہیں ہارتا، نیز مشکلات کے سامنے ڈھیر بھی نہیں ہوتا، بلکہ ہر وقت مضبوط دل کے ساتھ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، لہذا بندہ اللہ کے فضل اور نعمتوں کو اپنے ذہن میں اجاگر کر لے تو اس سے دل مطمئن ہو جاتا ہے اور شرح صدر حاصل ہوتی ہے۔
اپنے حال پر توجہ مرکوز کرنے والا انتہائی پرسکون رہتا ہے، کیونکہ وہ ماضی کے متعلق افسوس نہیں کرتا اور مستقبل کے متعلق پریشان نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ گزرا ماضی واپس نہیں آئے گا جبکہ مستقبل غیب بھی ہے اور لکھا ہوا بھی، اسی لیے آپ صلی اللی علیہ وسلم کی دعا میں یہ بھی شامل تھا: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ[یا اللہ! مستقبل کی پریشانی اور ماضی کے غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں])بخاری
فارغ اوقات سے مستفید نہ ہوں تو یہ ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے اس لیے اپنے وقت کو مثبت سرگرمیوں اور حصول علم میں صرف کرنے سے ذہنی دباؤ پیدا ہی نہیں ہوتا۔
قلبی راحت کا جامع ترین راستہ یہ ہے کہ مفید سرگرمیوں کے لیے اللہ تعالی سے مدد مانگیں، اور منفی چیزوں سے دور رہیں، منفی امور دل اور قوت ارادی کو کمزور بناتے ہیں، آپ صلی اللی علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مفید سرگرمیوں کا اہتمام کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جاؤ، اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش! میں اس طرح کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس لیے کہ کاش [حسرت سے کہنا] شیطانی عمل کو کھول دیتا ہے۔)مسلم
ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!
اسلام ہی ہر طرح کی بھلائی اور سعادت مندی کی بنیاد ہے، اہل اسلام ہی دنیاوی جنت اور دائمی نعمتوں میں رہتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ} جن لوگوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ان کا بدلہ بھلائی ہے، جبکہ آخرت کا گھر اس سے بھی بہتر ہے، اور متقی لوگوں کا گھر تو بہت اعلی ہے۔[النحل: 30] جاہلوں کی بدبختی جسے معلوم ہو وہی اسلام اور مسلمانوں کی خوشحالی کا اندازہ لگا سکتا ہے، اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ اپنے دین پر مزید مضبوط ہو گا، اسلام پر ثابت قدمی اس کے لیے اعزاز ہو گی، اور دوسروں کو دین اسلام کی دعوت بھی دے گا۔
أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ} جسے اللہ ہدایت دینا چاہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے تو اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر پلیدگی ڈال دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ [الأنعام: 125]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں اگر توں ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]
تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

دیوار میں در رکھنا

Image result for door in wall
دیوار میں در رکھنادیوار مگر رکھنا

پرواز کے موسم تکٹوٹے ہوئے پر رکھنا

شیشے کی عمارت ہےپتھر کا جگر رکھنا

حق میرا مجھے دے دوپھر دار پہ سر رکھنا

جانا ہے عدم بستیکیا زاد سفر رکھنا

پندار بھلے ٹوٹےکردار مگر رکھنا

کٹ جائے بھلے گردندستار میں سر رکھنا

لمبی ہے شب فرقتآنکھوں میں سحر رکھنا

سورج سے نہیں خطرہجگنو پہ نظر رکھنا

تہذیب کے لاشے کومت لا کے ادھر رکھا

باطن ہے منور توکیا شمس و قمر رکھنا


شعروں میں حسیب اپنےکچھ لعل و گہر رکھنا

حسیب احمد حسیب​

قرآن کہانی ۔۔۔ حضرت یونس علیہ السلام


 ❞ قرآن کہانی❝
حضرت یونس علیہ السلام
تحریر:عمیرہ علیم
بشکریہ:الف کتاب ویب

حضرت یونس  کا شمار اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کو حضرت یونس  بن متی بھی پکارا جاتا ہے۔ آپ بنی اسرائیل پر مبعوث کیے گئے۔ ہدایت و تبلیغ کے لیے آپ کو عراق کی طرف بھیجا گیا۔ اس کے شہر نینویٰ میں لوگ اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوچکے تھے کہ ان کی ہدایت کے لیے آپ بھیجے گئے۔ اس شہر کے کھنڈراب بھی دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے واقع شہر موصل کے مقابل موجود ہیں۔ حضرت یونس کو قرآن مجید میں وَذَالنُّوْن اور صاحبِ الْحُوْتِ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ''یونس'' ہے، لیکن اس میں بھی آپ کا ذکرِ مبارک مختصراً ملتا ہے بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں چند مقامات پر آپ کا ذکر فرمایا ہے اور آپ  کی زندگی کے بیشتر واقعات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
اہلِ نینویٰ کے باسی دولت مند شمار ہوتے تھے۔ دولت کی ریل پیل نے اس قوم میں اُن تمام برائیوں کو اجاگر کردیا جس کی وجہ سے وہ دین سے دور ہوگئے اور خدا سے بغاوت و سرکشی کے مرتکب ہوئے۔ حضرت یونس جب حکمِ الٰہی سے نبی بنائے گئے تو آپ اپنی قوم کو شرک اور بت پرستی سے روکنے لگے اور انہیں خبردار کیا کہ یہ گناہِ عظیم ہے کیوں کہ شرک و بت پرستی کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے، لیکن وہ گناہوں کی دلدل میں بُری طرح دھنس چکے تھے کہ اپنے نبی کی آواز پر کان نہیں دھرتے تھے جب کہ حضرت یونس کی پاکیزہ زندگی اور دربارِ الٰہی میں کی جانے والی عبادت اس بات کا مظہر تھی کہ آپ ایک باکمال، پاکیزہ اور راست گو ہستی ہیں۔
قومِ یونس نے جب اپنے پیغمبر کی بات پر کان نہ دھرے، تو آپ  سخت غضب ناک ہوئے اور انہوں نے اپنی قوم کو حکمِ الٰہی سنا دیا کہ تین دنوں میں ان پر عذاب ِ الٰہی آنے والا ہے اور پھر آپ انہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ آپ نے خیال کیا کہ اب ان کا یہاں قیام کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کی تباہی و بربادی یقینی ہوچکی۔ اب اس قوم پر رشد و ہدایت بے اثر ہے اور حکمِ خداوندی آنے سے پہلے ہی اپنی قوم کو تنہا چھوڑ گئے۔ آپ نے خود ہی قیاس کیا اور اس مقام سے نکل آئے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناپسندیدہ ٹھہری۔ آپ کوئی عام انسان نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر تھے سورة الصافات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''اور بے شک یونس بھی (ہمارے) رسولوں میں سے ہیں۔''
چوں کہ رب کریم کو اپنے نبی کی یہ ادا پسند نہ آئی تو اللہ تعالیٰ نے قومِ یونس کے دلوں میں خوفِ الٰہی ڈال دیا اور وہ نادم ہوئے کہ ہم نے اپنے نبی سے یہ گستاخی کیوں کی۔ تمام قوم گھروں سے باہر نکل آئی۔ گڑگڑا کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنے لگی۔ مائوں نے بچوں کو خود سے چھڑوا دیا۔ سبھی آہ و بکا کرنے لگے۔ بکرے، بکریاں، بھیڑیں، گائے اور بچھڑے رونے لگے۔ بچوں کا بلکنا، بڑوں کا تڑپنا، جانوروں اور مویشیوں کا رونا اتنا ہول ناک منظر پیش کررہا تھا کہ رحمتِ الٰہی جوش میں آگئی اور ان پر سے عذاب ہٹا لیا گیا۔ یہ وہ واحد قوم ہے جسے عذاب کی خبر سنائی گئی، لیکن انہوں نے توبہ کی اور ایمان لے آئے تو دردناک عذاب سے مستثنیٰ قرار دیے گئے اور ان کو ایک خاص مدت تک دنیا کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
''پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونس کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں)۔ وہ قوم جب ایمان لے آئی تو البتہ ہم نے اس پر دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدّت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔'' (سورۂ یونس)
حضرت یونس  نے عذاب کی خبر دی اور اللہ تبارک تعالیٰ کے حکم کے بغیر اپنا مستقر چھوڑا۔ ابھی عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے ہی تھے کہ قوم کے توبہ و استغفار کی وجہ سے ان کو معافی مل گئی۔ اللہ کی کتاب میں یہ خدائی دستور واضح ہے کہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں آتا جب تک مہلت پوری نہ ہو جائے اور اللہ کا نبی آخری وقت تک نصیحت و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے جب کہ حضرت یونس اپنی قوم کو چھوڑ گئے۔ اپنے نبی کی ہجرت کی وجہ سے اللہ کے انصاف نے یہ گوارا نہ کیا کہ اس قوم کو عذاب دیا جائے کیوں کہ اللہ کی مقرر کردہ شرائط پوری نہیں ہوئی تھیں۔ قومِ یونس  کی توبہ اور فرعون کی توبہ میں فرق ہی یہ ہے کہ جیسے ہی ان کو حضرت یونس نے عذاب کی اطلاع دی، تو ان کے دل پلٹ گئے۔ عذاب چوں کہ شروع نہیں ہوا تھا، صرف آثار ہی ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے، تو قوم اپنے نبی کو ڈھونڈنے نکل پڑی جب کہ حضرت یونس  ہجرت کرچکے تھے۔ دوسری طرف فرعون کو جس وقت احساس ہوا کہ اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو تب اس نے کہا تھا کہ میں موسیٰ  کے خدا پر ایمان لاتا ہوں، حالاں کہ وہ عذاب کے بھنور میں جکڑا جاچکا تھا۔
جب حضرت یونس  اپنی بستی کے مسلسل انکار پر ناراض ہوکر چل دیے اور سمندر پر پہنچے، تو وہاں ایک کشتی مسافروں کے لیے  لے جانے کو تیار کھڑی تھی۔ آپ  بھی اس میں سوار ہوگئے۔ سمندر کے وسط میں جاکر کشتی ڈولنے لگے۔ مسافر پریشان ہوگئے۔ کشتی پر بوجھ زیادہ تھا۔ ملاح نے کہا: ''کشتی والو! میرے تجربے کے مطابق جب کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگ کر آتا ہے، تو کشتی ایسے ہی ڈولتی ہے۔ باہم مشورے سے طے پایا کہ قرعہ اندازی کی جائے اور جس کا نام نکلے اُسے کشتی سے پھینک دیا جائے تاکہ  بوجھ کچھ کم ہو، کیوں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی مسافر پانی میں کودنے پر تیار نہ ہوتا۔ جب قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت یونس  کا نام نکلا۔ آپ کی وضع قطع اور بردباری آپ کی شخصیت سے ظاہر تھی۔ اس لیے کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ ایک نیک بندے کو اپنے سے جدا کرلیں۔ پھر قرعہ نکالا گیا۔ دوبارہ بھی آپ کا نام نکلا۔ آپ  کپڑے اتارنے لگے، لیکن سواریوں نے روک دیا کہ ہم آپ کو سمندر میں نہیں ڈال سکتے۔ آپ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا کہ وحی ٔالٰہی کی آمد سے قبل انہیں اپنی قوم کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ تیسری مرتبہ نام نکلنے پر آپ نے خود ہی سمندر میں چھلانگ لگا دی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ ہمارے بندے یونس  کو اپنے پیٹ میں رکھ۔ وہ تیری غذا نہیں بلکہ تیرا پیٹ اس کے لیے قید خانہ ہے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
  ''جب بھاگ کر گئے بھری ہوئی کشتی کی طرف (سوار ہونے کے لیے) پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوئے اور دھکیلے ہوئوں میں سے ہوگئے۔ پس نگل لیا انہیں مچھلی نے حالاں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ '' (سورۂ الصافات)
حضرت یونس  کو جب مچھلی نے نگلا، تو آپ  کو لگا کہ آپ کی جان قبض کرلی گئی لیکن جب آپ نے جسم کو ہلایا جلایا، تو سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ آپ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے اور ایسی جگہ کو عبادت گاہ بنا لیا جہاں پہلے کسی نے سجدہ نہ کیا تھا۔ مچھلی آپ کو لے کر سمندر میں پھرتی رہی۔ کہتے ہیں کہ اس مچھلی کو بھی ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا تھا۔ آپ مچھلی کے پیٹ میں کتنی مدت رہے، اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ مختلف اقوال کے مطابق آپ ایک دن، تین دن، پانچ دن، سات دن یا چالیس دن رہے۔ (واللہ اعلم)
جب حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں قید ہوئے تو باقاعدہ مچھلی کو وحی کی گئی کہ یہ اللہ کا خاص بندہ ہے، اس کو خراش نہ آئے اور نہ ہی اس کی ہڈی ٹوٹے۔ مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے کر پانی کی تہوں میں اتری، تو وہاں آپ کو ایک آواز سنائی دی۔ دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ کس طرح کی آواز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی کہ یہاں سمندری مخلوق اپنے رب کی تسبیح کررہی ہے۔
حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے رب کی پاکی بیان کی۔ فرشتوں نے آپ کی تسبیح سنی تو عرض گزار ہوئے:''اے پروردگار! ایک باریک اور نحیف سی آواز کسی اجنبی زمین سے سنتے ہیں۔'' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔''یہ میرا بندہ یونس ہے۔ اس نے میری حکم عدولی کی۔ میں نے اسے مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا۔ اب وہ سمندر میں ہے۔'' فرشتوں نے پھر پوچھا: ''وہ پاک باز بندہ جس کی طرف سے تیرے لیے روزانہ صبح و شام صالح اعمال چڑھتے رہے؟'' ارشاد ہوا: ہاں! وہی بندہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس وقت فرشتوں نے حضرت یونس کی سفارش کی۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ میرے بندے کو ساحل پر اگل دو۔ تبھی تو ربِ کریم سورة الصافات میں فرماتا ہے:
''پس اگر وہ اللہ کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو پڑے رہتے مچھلی کے پیٹ میں قیامت کے دن تک۔''
آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کے پرہیزگار اور عبادت گزار بندے تھے۔ اپنی قوم کی اصلاح کے بعد جو وقت بچتا وہ یادِ الٰہی میں گزارتے اور جب اپنی غلطی کی پاداش میں سمندر کی تاریکیوں کو آپ کا مسکن بنایا گیا، تو آپ اپنی غلطی کا احساس ہونے پر اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوئے اور معافی کے طلب گار رہے۔ لاالہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین۔ (کوئی معبود نہیں سوائے تیرے پاک ہے تو، بے شک میں ہی قصور وار ہوں (سورۃ الانبیاء)'' جسے آیتِ کریمہ بھی کہا جاتا ہے، آپ سے منسوب ہے۔
آپ نے جس عاجزی وانکساری سے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب فرمائی اور اپنی غلطی پر توبہ کی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو معاف فرمادیا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''پس ہم نے ان کی پکار کو قبول فرما لیا اور نجات بخش دی انہیں غم و اندھیرے سے اور یونہی نجات دیا کرتے ہیں مومنوں کو۔'' (سورۃ الانبیاء)
حضرت یونس کی دعا کو آیتِ کریمہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کلمات ہیں جن کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ان کلمات کے بارے میں حضرت ابنِ عباس کی بیان کردہ حدیث ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
''اے بچے! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں انہیں یاد کرلے۔ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ تجھے اپنی حفظ و امان میں رکھے گا۔ ان کلمات کو یاد کر لے تو اللہ تعالیٰ کو تو ہر جگہ مددگار پائے گا۔ تو اللہ کو فراخی میں پہچان، اللہ تعالیٰ تجھے شدت میں پہچانے گا۔''
حضرت سعد ابن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی محمد صلی اللی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
''اللہ تعالیٰ کا وہ نام جس کے ذریعے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتا ہے اور جب اس نام کے ذریعے اس کی بارگاہ میں سوال کیا جائے تو ضرور پورا ہوتا ہے۔ وہ حضرت یونس بن متی  کی دعا ہے۔ '' فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ! کیا یہ دعا یونس کے لیے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:''یہ حضرت یونس کے لیے خاص تھی اور اب تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔''
اللہ رب العزت بڑے بڑے گناہ گاروں کو معاف فرمانے والا ہے جب کہ آپ  تو اس کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔ معافی مل گئی، مچھلی کو حکم مل گیا۔ میرے بندے کو خیریت کے ساتھ ساحلِ سمندر پر پہنچا دو۔ مچھلی نے آپ کو کھلے میدان میں ڈال دیا۔ وہاں اللہ کے حکم سے کدو یا اس جیسی کوئی بیل اگ آئی۔ ارشاد ربانی ہے:
''پھر ہم نے ڈال دیا انہیں کھلے میدان میں اس حال میں کہ وہ بیمار تھے اور ہم نے اُگا دی ان پر کدو کی بیل۔'' (سورۂ الصافات)
اس بیل کے پتے نرم و نازک تھے۔ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ بہت کم زور ہوگئے تھے اور جسم پر کوئی بال بھی نہ بچا تھا۔ دھوپ کی تپش سے آپ کو تکلیف ہوتی حتیٰ کہ مکھی کے بیٹھنے پر بھی آپ بے زار ہو جاتے۔ اس بیل کے پتوں نے اس چٹیل میدان پر آپ کو بستر کی نرمی اور سایہ دیا۔ آپ اس بیل کا پھل بھی کھایا کرتے۔ حکمِ خداوندی سے ایک جنگلی بکری آپ کے پاس صبح شام آتی اور آپ کو اپنا دودھ پلاتی جو آپ کے لیے فرحت بخش تھا۔ آہستہ آہستہ آپ کی جسمانی کمزوری دور ہونے لگی۔ جسم پر بال بھی دوبارہ اُگ آئے۔ کچھ عرصے بعد آپ تندرست و توانا ہوگئے اور حکم ہوا کہ واپس اپنی بستی کی طرف جائیں اور ان کا حال دریافت کریں۔ آپ نے واپسی کا سفر کیا اور اپنی قوم میں آگئے۔ آپ کی قوم کی تعداد تقریباً ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد تھی۔ جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:
''اس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا اور وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقتِ خاص تک انہیں باقی رکھا۔'' (سورۂ الصافات)
اللہ تعالیٰ کو آپ کی تعداد میں کوئی شک نہیں تھا، لیکن لوگوں کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اس بستی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک گنجان آباد بستی ہے اور آپ دوبارہ اس لیے بھیجے گئے تاکہ قوم یونس اپنے نبی پر باقاعدہ ایمان لے آئیں۔ واپسی پر آپ کا شان دار استقبال ہوا۔ قوم سنبھل چکی تھی اور آپ اپنی قوم کی اصلاح میں مشغول ہوگئے۔
حضرت یونس  سے غلطی ہوئی، پھر انہیں اس کا احساس ہوگیا، تو آپ نے رب تعالیٰ سے معافی طلب فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی توبہ قبول فرمائی۔ آپ بھی انسان تھے تبھی خطا کار ہوئے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر عیب سے مستثنیٰ ہے۔ حضرت یونس  کے بلند مرتبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آپ  چیدہ ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
''آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کرلیا۔''
پھر فرمایا:
''ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی۔'' (سورة النساء)۔
سورة الانعام میں آپ کا ذِکر مبارک ان الفاظ میں آتا ہے:
''اسماعیل، الیسع اور یونس اور لوط کو (راستہ دکھایا)۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔''
ایک مرتبہ ایک یہودی کو ایک مسلمان نے اس لیے تھپڑ مارا کہ اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو تمام عالموں پر چن لیا ہے۔ جب معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں پہنچا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:''کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمانا آپ کی عاجزی و انکساری کا مظہر ہے جب کہ آپ کے مقام کی ابتدا تو وہاں سے ہوتی ہے جہاں تمام رسولوں اور نبیوں کے مقام کی انتہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے ساتھی انبیائے اکرام کی فضیلت و مرتبے کو بلند کیا کیوں کہ وہ ایسی ہستیاں ہیں جن کے بارے میں عام مسلمان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اہلِ مکہ کے ایمان نہ لانے پر پریشان رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو کافروں کے معاملات پر صبر و برداشت کی تلقین فرمائی اور قصہ یونس بیان فرمایا اور بتایا کہ جتنا کوئی شخص اللہ کا مقرب ہوتا ہے اتنا ہی اس کا امتحان سخت ہوتا ہے اور اس کی بہت معمولی سی خطا بھی قابلِ گرفت ہوتی ہے۔ مصائب و آلام سے گھبرانا نہیں چاہیے یادِالٰہی سے ان کا خاتمہ ممکن ہے۔ وہ بے قرار کی دعا سنتا ہے اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو راہِ ہدایت سے فیض یاب کرے اور سب کے لیے آسانیاں فرمائے۔ (آمین)٭…٭…٭


تجدید کے اصول وضوابط ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس) ۔۔۔ 19 اکتوبر 2018


تجدید کے اصول وضوابط  خطبہ جمعہ مسجد الحرام  (اقتباس)  10 صفر 1440ھ بمطابق 19 اکتوبر 2018ءمسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس حفظہ اللہترجمہ: محمد عاطف الیاسبشکریہ: عمر وزیر 
↪ منتخب اقتباس ↩
ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے معافی کا سوال کرتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس کی کامل نعمتوں، اور حیرت انگیز نشانیوں پر اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔اللہ کی ایسی تعریف بیان کرتے ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں۔ چھپی ہوئی چیزیں بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں اور ظاہر چیزیں بھی اسی کی تخلیق ہیں۔ہر صبح کی تازہ ہوا کے ساتھ اور بادل سے برسنے والے ہر قطرے کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوتی رہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے ہمیں اپنی واضح شریعت سے مختص فرمایا ہے، یہ شریعت اپنی عظمت اور بلندی کی وجہ سے جہانوں میں پھیل گئی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہذیبوں کی تعمیر وترقی کا راستہ واضح فرمایا- اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت والی آل، بلندی میں ثریا کے تاروں کو چھونے والے چنیدہ اور نیک صحابہ کرام پر، تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی پاکیزہ بابرکت اور بے انتہا سلامتی نازل ہوتی رہے۔
اے مسلمانو!
دانش مندوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ بڑی بڑی اور طاقتور تہذیبوں نے بھی یہ گواہی دی ہے کہ ہماری واضح اور روشن اسلامی شریعت نے دنیا کی ظلمات کو نور میں بدل دیا ہے۔ دنیا والوں کے سخت حسد اور شدید کینے کے مقابلے میں بھی اپنے واضح اور ناقابل تبدیل اصولوں کی بدولت قائم رہنے میں کامیاب رہی ہے اور دنیا والوں میں اپنی عظیم رحمت اور بلند اخلاق کا بیج بونے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہ شریعت، انتہائی کشادہ اور وسیع شریعت ہے۔ اس کے پھول اور پتے انتہائی خوشبودار ہیں، شمولیت اور کمال اسکی خاصیتیں ہیں اور یہ لوگوں کی دنیا اور آخرت کے معاملات کو سدھارتی ہے۔ احکامِ شریعت تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے دینِ قویم کا عظیم اصول ہے۔ اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:’’اے نبیؐ، پھر ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے‘‘(الجاثیۃ: 18)
اے مسلمانو!ہماری واضح اور پرنور شریعت، دنیا وآخرت کے حوالے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے جامع اصولوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کی نصوص، اس کے مقاصد، اس کی حکمتوں اور اس کے شاندار قواعد کی بدولت ہی دنیا میں عدل، حکمت، نرمی اور آسانی پھیلی ہے۔ اس میں اجتہادی مسائل اور عصر جدید میں پیش آنے والے نئے مسائل کے احکام بھی موجود ہیں۔ شریعت نے اِن احکام کو بھی واضح کیا ہے اور ایک میزانِ دقیق، طے شدہ معیار اور واضح اصولوں کے مطابق ان میں بھی حلال وحرام کو واضح فرمایا ہے۔ انہی اصولوں پر علمائے اسلام اور مجتہدین امت عمل کرتے رہے ہیں اور انہی اصولوں کی بدولت معاشروں اور افراد کی فلاح وبہبود ممکن ہو سکی ہے، انہیں اپنا کر اجتہادی اور جدید مسائل میں صحیح اور درست رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ شریعت کوئی جامد شریعت نہیں ہے، اس کے احکام خشک، یا بہتری اور ترقی سے مستثنی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ انتہائی لچک دار اور ہر دم ترقی کرنے والی شریعت ہے۔ یہ عصر حاضر کے تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھلنے کے خلاف ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ مسائل اور نتائج میں کمال توازن برقرار رکھتی ہے، طے شدہ اصولوں اور قابل ترمیم احکام کو مدنظر رکھتی ہے، اصول پرستی اور تجدید پر بیک وقت عمل کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تجدید بڑا پرکشش لفظ اور معنی خیر کلمہ ہے۔ اس پر عمل کرنے کے لیے بہت بڑی عقل کی ضرورت ہے۔ آیات و احادیث سے احکام نکالنے میں کمال مہارت درکار ہے، مسائل کی فرعی تقسیم، چھوٹے مسائل کو اصولی مسائل کے ساتھ ملانے، فرعی مسائل کو طہ شدہ اصولوں پر ڈھالنے، فقہی اصولوں پر مسائل کو جانچنے اور ہر مسئلے کو شریعت کے مقاصد کے مطابق پرکھنے کی کمال صلاحیت درکار ہے، تاکہ کسی بھی مسئلہ کے متعلق صحیح شرعی حکم صادر کیا جاسکے۔
امام ابو داؤد اور امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امت کے لیے ہر ایک سو سال کے بعد ایسا شخص ضرور بھیجتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کردیتا ہے۔
اے مومنو!تجدید کے روشن اور جگمگاتے اصول اور پر نور ضوابط ہمارے دین کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین اصول یہ ہے کہ تجدید کتاب و سنت کے کسی حصے کے خلاف نہ ہو اور شریعت کے مقاصد میں سے کسی مقصد کی زد پر نہ ہو، کیونکہ تجدید میں اگر کتاب وسنت کی حفاظت کا بھی خیال نہ رکھا گیا اور مقاصد شریعت کو مد نظر نہ رکھا گیا، تو شریعت کی بقا بھی ممکن نہیں رہے گی۔ مقاصد شریعت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ شریعت انہی کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔
امام ابن عاشور علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: شریعت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کا نظام صحیح طرح چل سکے اور لوگوں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جن کی بدولت وہ ہلاکت اور فساد سے محفوظ رہ سکیں۔
تجدید کے بنیادی اصول میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں اہل علم اور اہل حل وعقد ہی ہاتھ ڈالیں، کیونکہ شریعت کے مقاصد کو سمجھنے اور ان کے مطابق مسائل کو ڈھالنے کے لیے ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جو اجتہاد میں کمال کی مہارت رکھتے ہوں، دین کی بنیادوں کو ٹھیک طرح سمجھتے ہوں، دین کے اصولوں کو خوب جانتے ہوں اور ہر مسئلے کو شریعت اسلامیہ کے میزان میں ڈال کر جانچ سکتے ہوں۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ تجدید صرف فرعی مسائل میں، دین کے چھوٹے حصوں میں، شرعی مقاصد تک پہنچنے کے طریقوں میں، لفظوں کے چناؤ اور جملے کی ترتیب میں اور اس سے ملتے جلتے احکام میں ہو۔ شرعی مسائل کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ان میں بڑی لچک پائی جاتی ہے اور یہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں قابل عمل ہوتے ہیں۔ ان میں ہر انسان کے حالات، زندگی کے بدلتے احوال، معاشروں کے اختلاف، رسم و رواج کے تنوع اور خصوصی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہوتا ہے۔ شریعت بھی یہی سمجھتی ہے اور عقلی تقاضا بھی یہی ہے کہ شریعت میں ان تمام چیزوں کا خیال رکھا جائے۔
تجدید کے اصول میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ شریعت کے کسی اہم مقصد کی تکمیل کے لیے کی جائے یا کسی ایسی برائی کو ٹالنے کے لیے کی جائے جس کا آنا یا تو یقینی ہو یا اس کا احتمال بہت زیادہ ہو۔ کیونکہ یہ شریعت کے احکام لوگوں کی دنیا وآخرت سنوارنے کے لیے آئے ہیں۔
اسی طرح تجدید کے لیے ضروری ہے کہ کتاب وسنت کی صحیح اور درست سمجھ کو غلط تشریحات اور تاویلات سے ممتاز کیا جائے۔ آیات واحادیث میں سے شرعی احکام کو اخذ کرنے کے طریقہ کار میں سلف صالحین کے طریقے پر چلا جائے اور اس طریقے کے خلاف جانے والے تمام طریقوں کو شرعی نظر سے دیکھ کر خوب پرکھا جائے اور شریعت سے قریب ترین رائے کو راجح قرار دیا جائے۔
اسی طرح اقدار کے مقاصد کو بھی شریعت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور ان کے مفید یا ضرر رساں ہونے کا فیصلہ خواہشاتِ نفس کے مطابق نہیں بلکہ شریعت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق کرنا چاہیے۔
امام شاطبی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جن مصلحتوں سے لوگوں کی زندگی درست ہوتی ہے، انہیں اِن کے خالق اور موجد کے سوا کوئی صحیح طرح نہیں جان سکتا۔ انسان کو اِن مصلحتوں کے بہت تھوڑے پہلوؤں کا علم ہوتا ہے اور جو پہلو اس سے پوشیدہ ہوتے ہیں، وہ معلوم پہلووں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں، جو ایک کام کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ کبھی بھی اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے یا اپنی محنت کا پھل کبھی کھا نہیں پاتے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے، تو ہمیں چاہئے کہ جس چیز کو شریعت نے مصلحت تسلیم کیا ہے، ہم بھی اسی کو مصلحت تسلیم کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے ہی مصلحت حاصل ہو سکتی ہے۔
اے امت اسلام!
جہاں تک اختلافی مسائل کا معاملہ ہے، تو ان کے حوالے سے ہمارے دل کشادہ ہونے چاہیں، اختلاف کرنے والے اور جن سے اختلاف کیا جائے، دونوں کو رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، دوسرے کو غلط کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ شریعت میں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ جس معاملے میں اختلاف کی گنجائش موجود ہو ان میں اختلاف کرنے والے کو کبھی غلط نہیں کہا جاتا۔ فتویٰ زمانے، علاقے، معاشرے، حالات، عادات وتقالید اور افراد کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مگر حکمران کا حکم اختلاف کو ختم کردیتا ہے اور اس کا حکم مصلحت کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
اے اہل ایمان!
ان اہم اصولوں کو سمجھنے کے بعد ہمیں چاہیے کہ اسلام کی روشن تہذیب کو اپنانے کی کوشش کریں، جو کہ انسان کی تہذیب اور لوگوں کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ امت کے علماء، حکمرانوں اور دانشمندوں کو دعوت دیں کہ وہ دین کے طے شدہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے احکامِ دین کی تجدید کے لیے چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیں۔ سب مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دیں کہ جس کی بدولت امت کو فتنوں سے بچایا جا سکے، اس کے مسائل حل کیے جا سکیں اور اس کی نسل کی جانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب عالم اسلام کے کچھ علاقوں سے جنگوں اور لڑائیوں کے اسباب کو ختم کر دیا جائے گا۔ فرقہ واریت جیسی برائی اور علاقائی تعصب جیسی مذموم عادت کو جڑھ سے اکھیڑ دیا جائے گا۔ اکثر جھگڑوں، لڑائیوں، بدترین فتنوں اور امت میں عدم استحکام کے پھلاؤ کا سبب ایسے ہی تعصب ہوتے ہیں۔
اسلامی شریعت ہدایت اور استقامت کی شریعت ہے، وسطیت اور اعتدال کی شریعت ہے، رحمت اور رواداری کی شریعت ہے، امن اور استحکام کی شریعت ہے، سکون اور سلامتی کی شریعت ہے۔ فرمان الہی ہے:’’یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو‘‘(الانعام: 153)
اے امت ایمان!
اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے اور ان کا ذکر کرنا چاہیے۔ چناچہ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس ملک کی صورت میں ہمیں ایک شاندار نعمت عطا فرمائی ہے جو شرعی، اخلاقی اور تہذیبی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ دوسرے ملکوں کے لیے ایک شاندار نمونہ اور اچھے اخلاق پر قائم رہنے میں ایک بہترین مثال ہے۔ اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں، تعمیر وترقی، اتحاد واتفاق اور اس کی تہذیب پر ہونے والے بدترین حملوں کا مقابلہ کرنے میں اس کے حکمرانوں اور اس کے علماء کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہی وہ ملک ہے جہاں حکمت کے ساتھ بھلائی کی دعوت دی جاتی ہے، یہاں نرمی بھی ہے، درست اور پاکیزہ طریقہ بھی ہے۔ منہجِ حق کی پیروی کا نتیجہ بھی یہی ظاہر ہوا ہے، یہاں بردباری اور علم کے راستے بھی روشن ہے۔
ہم انصاف پسند لوگوں کے موقف کو، عقل وحکمت پر مبنی بیانات کو سراہتے ہیں، جن میں ٹھہراؤ اور حق کا ساتھ دینے کاجذبہ نظر آتا ہے، جو مبنی بر حقیقت ہیں اور جن میں اندازوں اور گمان پرستی سے دوری نظر آتی ہے۔ ایسے انصاف پسند لوگ الزامات اور جھوٹی خبروں کی بنیاد پر کوئی موقف اختیار نہیں کرتے۔ فرمان الٰہی ہے:’’بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘(فاطر: 43)اسی طرح فرمایا:’’اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘(یوسف: 21)ایک اور جگہ فرمایا:’’عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں‘‘(منافقون: 8)
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! نبی مصطفیٰ اور رسول مجتبیٰ پر درود و سلام بھیجو۔ اللہ تعالی نے آپ کو اسی کا حکم دیا ہے۔ کلام پاک میں اس کا فرمان ہے:’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘(الاحزاب: 56)
اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ انہیں اپنے نیک بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔

پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 26 اکتوبر 2018


پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)17 صفر 1440 ۔۔۔ 26 اکتوبر 2018امام و خطیب: ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: دلیل ویب
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 17 صفر 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " پریشانیوں سے نکلنے کا نبوی وظیفہ" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے امت اسلامیہ کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو متنوع بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بتلایا اور کہا کہ اگر ہم اللہ تعالی کی بندگی کا حق ادا کر دیں تو ہماری حالت دنیا کی ہر چیز اللہ تعالی کے حکم کے تابع ہونے کی وجہ سے یک لخت ہی بدل سکتی ہے، اس کے لیے انہوں نے ایک اہم ترین ذکر بھی بتلایا اور اس کی معنی خیزی اور اہمیت و فضیلت میں متعدد ثابت شدہ احادیث بھی ذکر کیں، اور مسلمانوں پر زور دیا کہ اپنی زبان کو اس ذکر سے ہمیشہ تر رکھیں، دل سے اس کی تصدیق کریں اور اعضائے جسم پر اس کے اثرات رونما کریں۔
↪ منتخب اقتباس ↩
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہی نیک لوگوں کا ولی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی سب مخلوقات کا معبودِ بر حق ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ تمام انبیائے کرام اور رسولوں کے سربراہ ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو وہی نصیحت اور وصیت کرتا ہوں جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں ہمیں کی ہے: ۔
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا کرے گا اور ایسا نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے اور تمہیں معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔ [الحديد: 28]
دورِ حاضر میں جہاں فتنوں کی بھر مار ہے، مشکلات بہت زیادہ ہیں، تو تمام پریشانیوں سے نکلنے کے یقینی راستے مسلمانوں کے سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، نیز ہمہ قسم کے دکھ اور پریشانیوں سے نجات کے حقیقی اسباب بتلانے کی ضرورت مزید دو چند ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالی کے سامنے اظہارِ عاجزی و انکساری اور سب کچھ اللہ تعالی کے سپرد کرنے کی تعلیمات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد صحابہ کرام کو کی ہوئی نصیحتیں بھی شامل ہیں کہ صحابہ ان پر دل و جان ،قولاً اور فعلاً عمل کریں، اٹھتے بیٹھتے اسی میں رنگے رہیں؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسی رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: (تم "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" [نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں]کہا کرو؛ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے) بخاری ،مسلم
اسی طرح ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : (مجھے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی نصیحت کی تھی کہ میں زیادہ سے زیادہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا کروں)
اس ذکر کی وجہ سے بندے کو یہ یقینِ محکم ہو جاتا ہے کہ وہ خود یا کوئی اور بری حالت سے اچھی حالت میں منتقل ہونے کی ذاتی طاقت کا حامل نہیں ہے، بندہ اپنا کوئی بھی کام تنہا مکمل نہیں کر سکتا، کسی بھی ہدف کو پانے کے لیے انتہائی مضبوط ، بلند و بالا اور عظمت والی ذات باری تعالی کی جانب سے قوت کا ملنا ضروری ہے۔
جس وقت یہ ذکر انسانی زبان پر جاری ہو تو عین اس وقت دل عظیم الشان ذات کی وحدانیت کا اقرار کر رہا ہوتا ہے، اس کے اعضا بھی اللہ تعالی کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں؛ کہ اسی سے مدد، کامیابی، تنگی سے نکلنے کا راستہ اور خوشحالی طلب کی جاتی ہے؛ فرمانِ باری تعالی ہے: {سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا} عنقریب اللہ تعالی مشکل کے بعد آسانی فرما دے گا۔ [الطلاق: 7]
اس وظیفے اور اللہ تعالی کی دائمی اطاعت گزاری کے باعث فلاح ،کامیابی ، خلاصی اور نجات ملتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے ایمان والو! جب تمہارا کسی دشمن سے ٹکراؤ ہو تو اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرو، تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔[الأنفال: 45]
یہ ذکر ہر مسلمان کو اپنی حقیقی زبان اور زبانِ حال دونوں سے ہر وقت کرتے رہنا چاہیے؛ کیونکہ حقیقت میں یہی عقیدہ توحید کا جوہر ہے کہ انسان ظاہری و باطنی ہر اعتبار سے ہمہ وقت اللہ تعالی کے سامنے متواضع رہے، اسی سے تعلق ہو، اللہ تعالی کے سوا کسی سے بھی قوت و طاقت کی وصولی مسترد کر دے۔
اللہ کے بندو!
یہ عظیم واقعہ سنو! اس میں واضح ترین دلیل ہے کہ عقیدہ توحید کی طاقت کے ذریعے بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان ہو جاتی ہے، اور سخت ترین پریشانیاں چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہوں وہ بھی مندمل ہو جاتی ہیں۔
یہ واقعہ متعدد مفسرین اور دیگر اہل علم نے بیان کیا ہے اور اس کی سندیں کم از کم حسن درجے کی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ : عوف بن مالک اشجعی کے بیٹے سالم کو مشرکوں نے قید کر لیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:" اللہ کے رسول! میرے بیٹے کو دشمنوں نے قید کر لیا ہے اور گھر میں بھی فاقہ کشی ہے"، تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آل محمد کے پاس بھی کل شام تک ایک مد [دنوں ہاتھوں کے بھراؤ کے برابر] غلہ تھا، تقوی اختیار کرو اور صبر سے کام لو اور  "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کثرت سے کہو)، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بیٹے کی ماں کو بھی کثرت سے اس ذکر کا حکم دیا، اس پر انہوں نے عمل کیا، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں ہی تھے کہ ان کا بیٹا واپس آ گیا ، اور دشمن کو پتا بھی نہ چلا، ساتھ میں وہ دشمن کے اونٹ بھی اپنے والد کے پاس لے آئے ان دنوں ان کی مالی حالت بہت پتلی تھی، اس کے با وجود وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیٹے کے بارے میں خبر بتلائی اور یہ بھی بتلایا کہ وہ ساتھ میں دشمن کے اونٹ لے آیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: (تمہیں اختیار ہے ان کا جو مرضی کرو، جیسے تم اپنے اونٹوں کے ساتھ کرتے تھے) اور اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ [2] اور وہ اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق: 2، 3] اس واقعے کو ہر وقت اور ہر حالت میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی کہ ہمارے سلف صالحین اس پر عمل پیرا رہتے تھے۔
چنانچہ ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ ابو عبیدہ محصور ہو گئے اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب لکھ بھیجا کہ: "انسان کو کوئی بھی تنگی لاحق ہو تو اللہ تعالی اس کے بعد فراخی بھی عطا فرما دیتا ہے، نیز ایک تنگی دوہری آسانی پر غالب نہیں آ سکتی، اور ویسے بھی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} خود بھی ڈٹ جاؤ اور دوسروں کو بھی ڈٹنے کی تلقین کرو، مورچوں میں ہمہ وقت تیار رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔[آل عمران: 200]"
یہ ایسے واقعات ہیں جنہیں محض سننے کے لیے ہی گوش گزار مت کریں! بلکہ ہم بھی اسی طرح ان پر عمل پیرا ہوں جیسے ہمارے سلف صالحین نے عمل کر کے دکھایا، اللہ تعالی کے ساتھ مضبوط تعلق بنایا۔
مسلم اقوام:
مشکل کشائی اور پریشانیوں کے خاتمے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ انسان کو جس وقت بہ تقاضائے بشریت نصرتِ الہی میں تاخیر ہوتی نظر آئے اور دعاؤں التجاؤں کے بعد مایوسی چھانے لگے ،قبولیت کے اثرات عیاں نہ ہوں تو پھر اپنے آپ پر نظر ثانی کرے، اور سچی توبہ کرے، مخلص ہو کر اللہ تعالی سے رجوع کرے، بندہ اللہ کے سامنے اظہار انکساری کرے ۔
مسلمانو!
ہر وقت اور ہر آن اس عظیم ذکر کی پابندی کرو؛ کیونکہ اس کے فوائد اور فضائل بہت زیادہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اس دھرتی پر کوئی بھی شخص : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"  [اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، اللہ بہت بڑا، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔]کہے تو اس کے سارے کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں چاہے سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں) اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا، جبکہ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
اسی طرح عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص رات کے وقت بیدار ہوا، اور اس نے یہ کہا: "لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"  [اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، وہ یکتا و تنہا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اور تعریفیں اسی کیلئے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، الحمد للہ، سبحان اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اللہ اکبر، نیکی کرنے کی طاقت، اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر نہیں ہے] پھر اس نے کہا: یا اللہ! مجھے بخش دے، یا کوئی اور دعا مانگی تو اس کی دعا قبول ہوگی، اور اگر وضو کر کے نماز پڑھی تو اس کی نماز بھی قبول ہوگی) بخاری
مسلم اقوام!
" لَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"  عقیدہ توحید پر مبنی عظیم دعا اور ذکر ہے، اس دعا میں رب العالمین کی جانب سے سلامتی اور تحفظ کی ضمانت بھی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : (جو شخص گھر سے نکلتے ہوئے کہے: "بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ وَلَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"   [اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ تعالی پر ہی بھروسا رکھتا ہوں، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔]تو اسے کہا جاتا ہے: تمہارے لیے اللہ کافی ہے ،تمہیں محفوظ کر دیا گیا ہے اور تمہاری رہنمائی کر دی گئی، نیز شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے) ابو داود، ترمذی
اس لیے کہ سب کچھ اللہ کے سپرد کر کے ہر چیز اللہ تعالی کے حوالے کرنا اس ذکر کا تقاضا ہے، اور یہ کہ بندے کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، تمام معاملات کی باگ ڈور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، تمام مخلوقات کے امور اللہ تعالی کے فیصلوں اور تقدیر کے ساتھ منسلک ہیں، کوئی اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کر سکتا اور کوئی بھی اس کے حکم پر نظر ثانی نہیں کر سکتا۔
اب تمہارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو عبادات میں مشغول رکھو، اللہ کے قریب کرنے والے بھلائی کے کام کرو، دکھ ہو یا سکھ مختلف قسم کے اذکار خوشی غمی ہر حالت میں کرتے رہو؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ : (جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ اللہ تعالی تنگی ترشی میں اس کی دعائیں قبول کرے تو وہ خوشحالی میں بھی اللہ تعالی سے ڈھیروں دعائیں کیا کرے) کیونکہ دنیا اللہ کے ذکر سے ہی خوش نما بنتی ہے، اور آخرت اللہ تعالی کی معافی کے بغیر آسودہ نہیں ہو گی، جبکہ جنت اللہ کے دیدار کے ساتھ ہی خوبصورت لگے گی۔
ہم اللہ تعالی سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اسی پر بھروسا کرتے ہیں، "وَلَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ"  ۔
ایسے سچے اور مخلص مومن جو توحید پرست، حدودِ الہی کے محافظ ، اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر گامزن ہوں انہیں اللہ تعالی کی خصوصی معیت اور نصرت حاصل ہوتی ہے، اسی معیت کے بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ} بیشک اللہ تعالی متقی لوگوں کے اور اعلی درجے کی عبادت کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[النحل: 128] ہم یہ آیت بہت بار پڑھتے تو ہیں لیکن یہ حاصل اسی کو ہو گی جو خلوت و جلوت ، خوشی اور غمی میں اللہ کا اطاعت گزار ہو۔
یہ ایسی معیت ہے اسے حاصل کرنے کے لیے مومن ہر قسم کی مشقت اور تکلیف برداشت کر لیتا ہے، ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر گزرتا ہے، اسی معیت کی بدولت اللہ کی مدد اور نصرت حاصل کرتا ہے، تو جس کے ساتھ اللہ تعالی کی معیت اور نصرت ہو تو اس کے ساتھ ناقابل شکست قوت ہے، اس کے ساتھ ہمیشہ بیدار رہنے والا محافظ اور کبھی راہ سے نہ بھٹکنے والا رہنما ہے، اللہ تعالی ہمیں اور آپ سب کو اپنی معیت ، نصرت، حمایت اور تحفظ عطا فرمائے، بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ تعالی نے ہمیں ایسے جلیل القدر عمل کا حکم دیا ہے جس سے ہمارے حالات سنور سکتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہم کثرت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں، یا اللہ! ہمارے حبیب، نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔
یا اللہ! مسلمان اور مومن مرد و خواتین کو بخش دے، یا اللہ! تقوی کے ذریعے ہمارا تزکیہ نفس فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں کو عقیدہ توحید کی بدولت پاک صاف کر دے، یا اللہ! ہمارے دلوں کو عقیدہ توحید کی بدولت پاک صاف کر دے، یا ذالجلال والا کرام!
ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز ، نیز ہمیں جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔

قرآن کہانی ..... حضرت ابراہیم علیہ السلام

❞ قرآن کہانی ❝حضرت ابراہیم علیہ السلامتحریر: عمیرا علیمبشکریہ: الف کتاب ویب
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سفرِ حیات امتحان و آزمائش کا مظہر ہے۔ درحقیقت قرآن مجید میں اللہ تبارک تعالیٰ دنیوی زندگی کو ابتلاء و آزمائش سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وہ جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو کہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے سب سے اچھا عمل کے اعتبار سے۔‘‘ اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں کی زندگیوں میں صبرواستقلال کے بہت سے ایسے مظاہر ہیں کہ عقل انسانی حیران و پریشان ہے کہ یہ ممکنات میں سے ہے بھی یا غیر ماورائی باتیں ہیں۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ’’ہم گروہ انبیاء اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے امتحان کی صعوبتوں میں ڈالے جاتے ہیں۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں کفروشرک اور بدی و فتنہ انگیزی کی اجارہ داری تھی۔ بت پرستی عام تھی۔ مشرکین ستاروں، مورتیوں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مطلق العنان بادشاہ بھی خدائی دعوؤں کے ساتھ موجود تھا۔ خدائے بزرگ و برتر نے اُن کو عقلِ سلیم اور دانائی کی دولت سے مالا مال کیا۔ اپنا خلیل بنایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور یقیناً ہم نے عطا فرمائی تھی ابراہیم کو دانائی۔ اس سے پہلے ہم ان کو خوب جانتے تھے۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی استقامت کی جانچ پڑتال کا ایک بہت لمبا اور جاں گسل سلسلہ تھا۔ ایک طرف ساری سوسائٹی اور مستحکم نظام اور دوسری جانب ایک ایسا نوجوان جس نے عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے ٹکرلی اور پھر صبرو ثبات، برداشت و حوصلہ مندی اور ایثار و قربانی کی بلند مرتبہ مثالیں پیش کیں۔ گھر بدر ہوئے۔ معبد میں آپ پردست درازی ہوئی، دربار میں پیشی ہوئی، آگ میں ڈالے گئے، ملک بدر ہونا پڑا اور ہجرت کے بعد مسافرت و مہاجرت کی طویل داستان۔ لیکن فکر تھی تو بس توحید کی اور جب امتحان میں کامیاب ٹھہرے تو بشارت ملتی ہے: ’’(اے ابراہیم علیہ السلام) یقیناً میں تجھے پوری نوع انسان کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اے اللہ یہ وعدہ صرف مجھ سے ہے یا میری نسل سے بھی ہے!‘‘ جواب دیا گیا: ’’میرا یہ عہد ظالموں کے ساتھ نہیں ہوگا۔‘‘ بے شک آلِ ابراہیم میں سے، جو لوگ نیکوکار اور پرہیزگار تھے، دنیاوی اور آخروی زندگی میں وہی لوگ بلند مرتبے کے حق دار ٹھہرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیابی تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔
لیکن جب بڑھاپے کے آثار واضح ہونے لگے تو ایک نئی فکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دامن گیر ہوئی۔ اولاد کی نعمت سے محرومی محسوس ہونے لگی اور پریشانی ہوئی کہ اس مشن کی باگ ڈور کوئی سنبھالنے والا نہیں۔ ایک بھتیجے (حضرت لوط علیہ السلام) نے ساتھ ہجرت کی تھی وہ مشرقِ اردن میں دعوتِ توحید میں مشغول تھے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ’’پروردگار نیک وارث عطا کر۔‘‘ معجزانہ خداوندی تھی کہ ستاسی (86) برس کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو چاند سے بیٹے سے نوازا۔ 
حضرت سارہ آپ علیہ السلام کی پہلی بیوی تھیں۔ لیکن آپ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کوئی اولاد نہ تھی۔ حضرت سارہ کو اولاد کی چاہ تھی۔ اُنھوں نے اپنی خادمہ حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہبہ کردیں۔ آپ علیہ السلام حضرت ہاجرہ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ حضرت ہاجرہ حاملہ ہوگئیں۔ حضرت سارہ کو رشک ہوا اور آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شکایت کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا جوتیری مرضی ہوگی ویسا ہی ہوگا۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت ہوتی ہے تو حضرت ہاجرہؑ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ کے کہنے پر ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ جاتے ہیں۔ حضرت ہاجرہ پریشان حال ہیں۔ آپ علیہ السلام واپس جانے کا قصد فرماتے ہیں تو حضرت ہاجرہ آپ علیہ السلام کا دامن تھام لیتی ہیں اور فرماتی ہیں۔ اے ابراہیم! کہاں چھوڑے جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خاموش ہیں۔ آپ بار بار پوچھ رہی ہیں۔ آپ علیہ السلام کی زبان مبارک سے الفاظ نہیں نکلے۔ تب حضرت ہاجرہ پوچھتی ہیں کہ ’’یہ حکمِ خداوندی ہے؟‘‘ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ہاں‘‘۔ تب آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دامن چھوڑ دیتی ہیں اور بے اختیار آپ کی زبان سے یہ الفاظ جاری ہوجاتے ہیں: (مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور میں نے اس کی ذات پر توکل کیا)۔ حکمِ ربی جان کر بی بی ہاجرہ اس بے آب و گیاہ وادی میں بسیرا کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں اور اپنے نومولود کے پاس واپس آجاتی ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے آئے اور (ان دنوں) حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلا رہی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے انہیں بیت اللہ شریف کے پاس زمزم کے قریب مسجد کی بلند جگہ بٹھا دیا۔ ان دنوں مکہ میں کوئی شخص بھی نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی کا نام و نشان تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان ماں بیٹے کو وہاں چھوڑ دیا۔ ان کے پاس ایک تھیلا تھا۔ جس میں کچھ کھجوریں تھیں اور ایک پانی سے بھرا مشکیزہ تھا۔ جس میں پانی تھا۔ آپ علیہ السلام نے یہ سامان وہاں رکھا اور واپس پلٹے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ان دونوں سے کچھ فاصلے پر پہنچے تو قبلہ رو ہوکر اپنے رب کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھائے اور دعا فرمائی: ’’اے ہمارے رب! میں نے بسا دیا ہے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں جس میں کوئی کھیتی باڑی نہیں۔ تیرے حرمت والے گھر کے پڑوس میں۔ اے رب! یہ اس لیے تاکہ وہ قائم کریں نماز۔ پس کردے لوگوں کے دلوں کو کہ وہ شوقِ محبت سے ان کی طرف مائل ہوں اور انہیں رزق دے پھلوں سے تاکہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔‘‘
حضرت ہاجرہ اپنے لاڈلے صاحبزادے کو دودھ پلاتی رہیں اور اپنے پاس موجود پانی اور کھجوروں پر گزارہ کرتی رہیں لیکن بالآخر پانی ختم ہوگیا۔ بچہ بھوک سے بلک رہا ہے۔ ماں بے بس، بے چین و بے قرار۔ بچے کو تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ وہاں سے چل پڑیں۔ قریب ہی صفا کی پہاڑی ہے اُس پر چڑھ جاتی ہیں اردگرد نظر دوڑاتی ہیں شاید کوئی بندۂ خدا نظر آئے اور پانی کی سبیل بنے لیکن بے سود۔ پھر بچے کی محبت میں دوڑ کر واپس آ جاتی ہیں۔ دوسری جانب مروہ کی پہاڑی ہے۔ بے چینی و بے قراری میں وہاں چڑھ جاتی ہیں لیکن تاحدِ نگاہ سنسان بیاباں ہے پھر تیزی سے بچے کی طرف لوٹ آئی ہیں۔ ایسے ہی سات چکر لگ جاتے ہیں۔
ساتویں بار جب آپ مروہ پر پہنچیں تو اچانک آپ کو ایک آواز سُنائی دی۔ دل میں کہتی ہیں ٹھہرو۔ اچھی طرح کان لگا کر سُنتی ہیں تو پھر وہی آواز سُنائی دیتی ہے۔ تب آپ فرماتی ہیں: اے شخص تو نے آواز تو سُنا دی۔ کیا تیرے پاس کوئی چیز فریاد رسی کو ہے۔ اچانک مقام زمزم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام کھڑے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے پَر سے زمین پر ضرب لگاتے ہیں تو پانی ظاہر ہوجاتا ہے۔حضرت بی بی ہاجرہ مٹی سے پانی کے گرد حوض بنانے لگیں اور اپنی چلو میں پانی بھر بھر کر مشک میں ڈالنے لگیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحم کرے۔ اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں (کہ وہ چلو بھر پانی نہ بھرتیں) تو زمزم ایک بڑا چشمہ بن جاتا۔‘‘ حضرت ہاجرہ نے خود پانی پیا اور اپنے نونہال کو دودھ پلایا۔ فرشتے نے آپ سے کہا اپنی ہلاکت کے بارے میں سوچیں بھی مت۔ یہاں اللہ کا گھر ہے۔ جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور یہ نونہال اللہ کے حکم سے تعمیر فرمائیں گے۔
بیت اللہ اردگرد کی زمین سے نمایاں مقام پر تھا۔ سیلاب آتے اور دائیں بائیں سے گزر جاتے۔ حتیٰ کہ ایک دن قبیلۂ جرہم کا قافلہ پاس ہی آٹھہرا۔ اُنہوں نے ایک پرندہ آسمان میں منڈلاتے دیکھا اور خیال کیا کہ آس پاس پانی کی موجودگی کے آثار ہیں۔ کچھ لوگ خبر لینے کو بھیجے گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک وضع دار خاتون ایک نومولود کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ اُنھوں نے بی بی ہاجرہ سے وہاں قیام کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اجازت مرحمت فرمائی اور کہا کہ پانی پر آپ کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ قبیلۂ جرہم راضی ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت ہاجرہ کے لیے یہ لوگ غنیمت ثابت ہوئے کیوں کہ آپ انسانوں کو چاہتی تھیں۔
درحقیقت مصلحتِ خداوندی یہ تھی کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بدولت شہر مکہ کو آباد کرنا تھا اور ساتھ اُس کو اپنے خلیل کے گھر کسی بھی قسم کا کوئی جھگڑا مقصود نہ تھا۔ لیکن پہلوٹھی کی اولاد سے جُدائی اور پیاری بیوی سے دوری آزمائشِ خداوندی تھی۔ خلیل اللہ اُس پر راضی ہوئے۔ کیوں کہ وہ صالحین میں سے تھے۔نومولود مختلف مراحل طے کرکے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا۔ قبیلۂ جرہم سے عربی سیکھی تو وضاحت و بلاغت میں اُن پر بھی سبقت لے گئے۔ آپ صادق الوعدہ اور اللہ کے بھیجے ہوئے نبی بھی تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اکثرو بیشتر اذنِ خداوندی سے بیوی اور بیٹے سے ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ تشریف لائے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو زمزم کے کنارے تیر بناتے ہوئے پایا۔ آپ علیہ السلام اپنے محترم والد کو دیکھ کر احتراماً کھڑے ہوگئے اور تعظیم و تکریم بجا لائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے میرے ذمہ ایک کام لگایا ہے۔ کیا تم میرا ساتھ دو گے؟‘‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام فرماں برداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ فوراً ہاں کردی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں اور آپ نے ایک سرخی کی طرف جو اپنے ماحول میں نمایاں تھی اس کی طرف اشارہ کیا۔‘‘
پھر دونوں باپ بیٹے نے مل کر کعبۃ اللہ کی بنیادیں کھڑی کیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر پکڑاتے جاتے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کا گھر تعمیر کرتے جاتے۔ دونوں باپ بیٹوں کی زبانوں سے سے یہ مبارک الفاظ جاری تھے۔ ’’اے ہمارے رب! ہمارا یہ عمل قبول فرما بلاشبہ تو خوب سُننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔‘‘
سبحان اللہ خلیل اللہ معمار اور اللہ تعالیٰ کا ایک جلیل القدر پیغمبر مزدور۔ کیسے پاک ہاتھ ہیں اللہ تبارک تعالیٰ کا گھر تعمیر کرنے والے۔ اسی دنیاوی گھر کو تعمیر کرنے کا صلہ ہے کہ آج حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور پر موجود ہیں۔ بیت المعمور ساتویں آسمان پر عین اُس مقام پر اللہ کا گھر ہے جہاں زمین پر کعبۃ اللہ واقع ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۂ آل عمران میں فرماتے ہیں:۔ ’’بلاشبہ پہلا گھر جو انسانوں کیلئے (اللہ تعالیٰ کا معبدومحور) بنایا گیا ہے وہ یہی (عبادت گاہ) جو کہ مکہ میں ہے۔ وہ برکت والا اور تمام انسانوں کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے اس میں (دینِ حق) کی روشن نشانیاں ہیں۔‘‘
اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آزمائش کی گھڑی آپہنچی۔ ایک سوسالہ بوڑھے باپ اور نوجوان بیٹے کے اصل امتحان کے لیے سٹیج تیار ہوگیا۔ بیٹا وہ بھی اکلوتا۔ دعاؤں کا حاصل، فرماں بردار، سلیم الفطرت، حلیم و سعادت مند۔ باپ کے ساتھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوچکا بلکہ تعمیر کعبہ میں باپ کا بازوبنا۔ تبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے لاڈلے فرزند کو ذبح کرنے کا اشارہ دیا گیا۔ درحقیقت یہ ہے اصل اور آخری آزمائش۔
آپ اللہ کے اولعزم اور عالی مرتبہ پیغمبر اور نبی تھے۔ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی رضا کے آگے سر تسلیم خم ہوئے۔ لیکن مسئلہ تنہا اپنی ذات کا نہیں تھا۔ ایک نوجوان بیٹے کا بھی تھا۔ باپ بیٹے کے پاس آئے۔ معاملہ اس کے سامنے پیش کردیا۔ نیک خصلت اور سعادت مند بیٹا فرماتا ہے: ’’اے میرے باپ! آپ کریں جو کچھ آپ کو حکم کیا جاتا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘
اصل مدّعا یہ نہیں تھا کہ بیٹا رضا مندی دے گا تو ابوالانبیاء خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ درحقیقت صالح نبی اپنے صالح بیٹے کی فرماں برداری کا امتحان لے رہے ہیں اور سعادت مند بیٹا جان قربان کرنے کو تیار ہے اور باپ کی بات پر مہر لگا رہا ہے کہ وہ صرف جسمانی ہی نہیں روحانی اعتبار سے بھی آزمائش پر پورا اُتر رہا ہے اور ان کی دعا قبول ہوئی ہے جو اُنھوں نے رب تعالیٰ سے مانگی تھی کہ ’’اے پروردگار! مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو۔‘‘ اللہ تبارک تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی تھی اور جواب میں فرمایا تھا: ’’ہم نے اس کو حلیم (بُردباد) لڑکے کی بشارت دی۔‘‘ اور پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ مقصد تھا کہ بیٹے کی صورت سامنے نہ رہے اور کہیں فطری محبت عیاں نہ ہوجائے اور بیٹے پر چھری پھیرنے کو تیار ہوگئے۔ امتحان پورا ہوا۔ آپ کو پکارا گیا:’’اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کردکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی جزا دیتے ہیں۔ یقیناًیہ ایک کُھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا اور اس قربانی کوبہ طورِ یادگار ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں کی خاطر چھوڑ دیا۔ سلام ہے ابراہیم پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناًوہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔‘‘
قربانی مقبول ہوئی۔ دریائے رحمت نے جوش مارا اور اللہ نے آسمانوں سے جنتی مینڈھا بھیجا اور اپنے خلیل کو حکم صادر فرمایا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بجائے اس کو قربان کریں۔حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایک سیاہ آنکھوں اور بڑے سینگوں والا مینڈھا اُترا جو ممیا رہا تھا۔ آپ نے اسے ذبح فرما دیا۔ یہ وہی مینڈھا تھا، جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے حضرت ہابیل نے قربانی کی تھی اور ان کی قربانی اللہ نے منظور کرلی تھی۔‘‘بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ نے خواب میں ابراہیم علیہ السلام کو یہ نہیں دکھایا کہ وہ اپنے فرزند کو ذبح کررہے ہیں بلکہ یہ دکھایا تھا کہ تم ذبح کررہے ہو اور خواب پورا ہوا۔ اصل مقصد فرزندِ ابراہیم کی جان لینا نہیں بلکہ ان کی آمادگی اور رضا مندی کو دیکھنا تھا۔
خدائے بزرگ و برتر اپنے محبوب لوگوں کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے آیا کہ وہ اس رتبے کے اہل ہیں یا نہیں۔ درحقیقت وہ ان کی فضیلت اُبھارتا ہے اور لوگوں کو دکھاتا ہے کہ دیکھو میرے بندے صعوبتوں کے پرُ خطر راستوں سے گزرے لیکن ان کے قدم نہ ڈگمگائے اور انعام کے طور پر تا قیامت تعریف و توصیف کے حق دار قرار پائے۔ ممتحنِ امتحان نے اس عظیم قربانی کو کھلی آزمائش اور امتحان قرار دیا اور امتحان میں کامیاب ہونے پر ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے درودِ ابراہیمی جیسا انعام عطا کیا۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان نبی آخر الزماں کے ساتھ ساتھ خلیل اللہ پر اور ان کی آل پر درودِ و سلامتی بھیجتے ہیں سلام ہے ابراہیم علیہ السلام پر اور اسماعیل علیہ السلام پر۔ کیسا بلند مقام و مرتبہ پایا ہے ابو حمید الساعدیؓ سے روایت ہے ’’لوگوں نے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ ہم آپ پر درود کس طرح پڑھا کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یوں کہو ’’اے اللہ درود بھیج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج و اولاد پر جیسے تو نے درود بھیجی آلِ ابراہیم پر اور برکت ڈال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وولم پر اور ان کی ازواج و اولاد میں جیسے تو نے برکت ڈالی آلِ ابراہیم میں، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگی والا ہے۔‘‘ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوش خبری سنائی، جوکہ بنی اسرائیل کے جدِ امجد ہیں۔
خدائے رحمن نے انسان کو فرشتوں پر فضیلت دی۔ کیوں کہ وہی ذاتِ اقدس پوشیدہ اور ظاہر حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔ یہ عظیم قربانی اس بات کا مظہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدائے بزرگ و برتر کی اطاعت و فرماں برداری کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور بدلے میں رب العالمین نے قیامت تک کے لیے یہ قربانی امتِ مسلمہ پر لازمی قرار دے دی۔ اب ہر سال کروڑوں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرنے کے لیے عیدالاضحی کے موقع پر اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں۔ بیتُ اللہ آج کے مسلمانوں کے لیے رشد و ہدایت کا مرکز ہے۔ لاکھوں مسلمان ہر سال کعبۃ اللہ کا حج کرتے ہیں۔ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے حضرت بی بی ہاجرہ کے اس عمل کی یاد تازہ کرتے ہیں جو اُنھوں نے پانی کی تلاش میں صفاو مروہ میں بھاگتے ہوئے سات چکر لگائے تھے۔
سورۂ صافات میں جب اس عظیم قربانی کا ذکر مبارک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نام ان آیات میں درج نہیں۔ مؤرخین نے یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نہیں بلکہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ اہلِ کتاب نے حضرت اسحاق علیہ السلام سے یہ عظیم قربانی منسوب کردی کیوں کہ وہ بنی اسرائیل کے جدِامجد ہیں۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام قریشِ مکہ کے جدِامجد تھے۔ یہودی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں لیکن وہ عربوں سے حسد کی بنا پر غلط بیانی کرتے ہیں۔ قرآنی تعلیمات سے یہ بات واضح ہے اور اس میں الجھاؤ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔
نسلِ ابراہیمی کو جو عزت و توقیر حاصل ہوئی وہ ان کی قربانیوں کا اعجاز ہے، جو اُنھوں نے خدائے ذوالجلال کے حضور دیں اور معتبر ٹھہریں اور وہ ان دنیوی رتبوں اور آخروی عنایات کے مستحق قرار پائے جو محض فخرو انبساط پر نہیں ملتیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ اُمتِ محمدیہ کو قربانی کی اصل روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

طلاق کے اسباب اور حل - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 12 اکتوبر 2018


طلاق کے اسباب اور حل  خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)امام و خطیب: پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: دلیل ویب
فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 04 صفر 1440کاخطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "طلاق کے اسباب اور حل" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو ایک جان سے پیدا فرما کر ان کے جوڑے بنائے اور کرۂ ارضی کی آباد کاری کے لیے نکاح جیسے نعمت عطا فرمائی اور بد کاری کے راستے بند کیے، پھر انہوں نے زانیوں کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ شادی کے بہت سے فوائد ہیں جبکہ زنا کاری کے اس سے زیادہ نقصانات ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ طلاق دینے سے معاشرے اور خاندان کا توازن بگڑتا ہے نیز طلاق شیطان کے لیے اعزاز کا باعث بھی بنتی ہے، پھر انہوں نے شادی کو دوام بخشنے کے اسباب میں کہا کہ: حسن معاشرت، اختلافات کا ابتدا میں ہی خاتمہ، دو طرفہ رشتہ داروں کی طرف سے صلح کا اقدام، صبر و تحمل، اپنے چند حقوق سے دستبرداری، بیوی سے غلطی ہونے پر سمجھانا شامل ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی شرحِ طلاق کے اسباب میں بتلایا کہ : بد اخلاقی اور بد زبانی، دو طرفہ رشتہ داروں کی میاں بیوی کے درمیان دخل اندازی ، ایک دوسرے کی حق تلفی، بغیر اجازت گھر سے نکلنا اس کے اسباب میں آتا ہے، پھر انہوں نے طلاق دینے کا شرعی طریقہ بیان کیا اور آخر میں سب کے جامع دعا فرمائی۔
❝ منتخب اقتباس ❞
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انسانوں اور زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کے جوڑے بنائے نیز ان کے بھی جوڑے بنائے جن کے بارے میں انسان لا علم ہے، اللہ تعالی نے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کا حکم دیا اور فساد سے روکتے ہوئے فرمایا: {وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ} اصلاح کرو اور فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142] 
اللہ تبارک و تعالی نے لوگوں کے لیے مصلحتوں و فوائد کے حصول اور مفاسد و نقصانات سے بچانے کی غرض سے شرعی احکامات جاری کیے، میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں اور توبہ و استغفار کرتا ہوں، نیز گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ تمام جہانوں سے مستغنی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے صادق و امین رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔
لوگو! اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل یاد کرو کہ اللہ تعالی نے اتنے مرد و زن ایک جان سے پیدا فرمائے، اور ان کو جوڑے بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً } لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے [دنیا میں] بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ۔ [النساء : 1]
اسی طرح فرمایا: {هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا} وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے [الأعراف : 189]
اس کے بعد اللہ تعالی کا نظام اور شریعت یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت شرعی عقدِ نکاح کے ذریعے ایک بندھن میں بندھ جائیں، تا کہ فطری اور انسانی ضروریات ازدواجی تعلقات کے ذریعے نکاح کی صورت میں پوری کریں اور بد کاری سے بچیں۔
چنانچہ نکاح عفت، برکت، افزائش نسل، پاکیزگی، عنایت، قلبی صحت، اور نیک اولاد کی صورت میں لمبی عمر کا راستہ ہے، جبکہ بد کاری اور زنا خباثت، قلبی امراض، مرد و زن کے لیے تباہی، گناہوں، آفتوں، بے برکتی، نسل کُشی اور آخرت میں عذاب کا راستہ ہے۔
ازدواجی زندگی ایسا گھر ہے جو اولاد کی پرورش، دیکھ بھال، اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے، والد کی شفقت اور ممتا کی محبت ایسی نسلیں تیار کرتی ہے جو زندگی کے بار اٹھانے کی صلاحیت رکھے، معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں، معاشرے کو ہر میدان میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرے، پدری شفقت اور ممتا کی محبت نئی نسل کی اعلی اخلاقی اقدار کی جانب رہنمائی کرتی ہے اور مذموم صفات سے دور رکھتی ہے، نیز اخروی دائمی زندگی کے لیے نیکیاں کرنے کی تربیت دیتی ہے، چنانچہ چھوٹے بچے انہیں دیکھ کر یا سن کر سیکھتے ہیں؛ کیونکہ وہ خود سے پڑھ کر سبق حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اس بندھن کے ساتھ میاں بیوی کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، بچوں کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، میاں بیوی کے اقربا کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، پورے معاشرے کی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں، دنیا و آخرت کی اتنی مصلحتیں اور فوائد منسلک ہیں جنہیں شمار کرنا ممکن ہی نہیں ، چنانچہ اس بندھن کو توڑنا، اس معاہدے کو ختم کرنا ، اور ازدواجی زندگی کو طلاق سے برخاست کرنا مذکورہ تمام فوائد اور مصلحتوں کو منہدم کردیتا ہے، اس کی وجہ سے خاوند کو بہت ہی زیادہ آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے جس سے دین، دنیا، اور صحت سب متاثر ہوتی ہیں، دوسری جانب بیوی کو خاوند سے کہیں زیادہ آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چنانچہ عورت اپنی زندگی پہلے کی طرح استوار نہیں کر پاتی جبکہ بقیہ زندگی ندامت کے سپرد ہوتی ہے، اور آج کل کے دور میں تو خصوصی طور پر پریشانی ہوتی ہے کیونکہ حالات عورت کے لیے سازگار نہیں ہوتے، بچے اجڑ جاتے ہیں، انہیں بھی سنگین ترین حالات سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ والدین کی سائے میں گزاری ہوئی گذشتہ زندگی سے بالکل الگ تھلگ ہوتے ہیں، لہذا انہیں زندگی میں رنگ بھرنے والی تمام خوشیوں کا دامن چھوڑنا پڑتا ہے، نیز ان سنگین حالات میں ان کے سروں پر ہمہ قسم کے فکری انحراف اور امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہوتے ہیں، پورا معاشرہ بھی طلاق کے بعد رونما ہونے والے نقصانات سے متاثر ہوتا ہے، چنانچہ قطع رحمی زور پکڑتی ہے، بلکہ طلاق کی جتنی بھی خرابیاں شمار کر لو کم ہیں ۔
 طلاق کے عمومی اور خصوصی مفاسد و نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر غور کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابلیس اپنا تخت پانی پر لگا کر اپنے چیلوں کو بھیجتا ہے ؛ اور اس کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہی مقرب ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالے ، چنانچہ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔۔۔" تو شیطان اسے کہتا ہے کہ : "تو نے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا " پھر ان میں سے ایک اور آ کر کہتا ہے کہ : "میں نے فلاں کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈلوا دی " شیطان اسے اپنے قریب کر کے کہتا ہے: "ہاں !تو ہے کارنامہ سر انجام دینے والا" پھر وہ اسے گلے لگا لیتا ہے) مسلم
آج کل معمولی وجوہات اور وہمی اسباب کی بنا پر طلاق کی شرح بہت بڑھ چکی ہے، بلکہ طلاق کے اسباب میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، ان میں سب سے اہم سبب طلاق کے شرعی احکام سے جہالت اور کتاب و سنت کی تعلیمات سے رو گردانی ہے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے شادی کے بندھن کو مکمل تحفظ اور اہمیت دی ہے کہ مبادا یہ بندھن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، ہوس پرستی کی اندھیریوں سے متزلزل ہو۔
چونکہ طلاق کا سبب خاوند اور بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں ہو سکتے ہیں یا ان میں سے کسی کے رشتہ دار طلاق کا باعث بنتے ہیں تو شریعت نے ہر صورت حال سے نمٹنے کا الگ حل تجویز کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں خاوند کو اس بندھن کی قدر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: { وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا} اور بیویوں کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم اور زیادتی کے لیے نہ روکو جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ [البقرة : 231]
اور خاوند کو چاہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک، حسن معاشرت سے پیش آئے اور اگر کوئی بات بری بھی لگے تو صبر کرے عین ممکن ہے کہ حالات بہتر سے بہترین ہو جائیں ، یا انہیں اللہ تعالی نیک اولاد سے نوازے اور خاوند کو صبر کرنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اجر بھی ملے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: { وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا} اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت بھلائی رکھ دی ہو [النساء : 19]
میاں بیوی کو اپنے اختلافات شروع میں ہی ختم کر دینے چاہئیں چہ جائیکہ مزید بڑھیں، میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں اور پھر ایک دوسرے کی پسند اور نا پسند کا بھر پور خیال کریں، یہ کام بہت ہی آسان ہے اور سب اس سے واقف ہیں۔
صبر اور در گزر بھی ازدواجی زندگی کے دوام اور خوشحالی کا سبب ہے، چنانچہ ایسے میں صبر کا کڑوا گھونٹ لمبے عرصے کی مٹھاس کا باعث بنتا ہے، ویسے بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے صبر جیسی کوئی چیز نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} یقیناً صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔[الزمر : 10]
صرفِ نظر اور در گزر زندگی کے لیے لازمی عناصر ہیں، میاں بیوی کو ان کی خصوصی طور پر ضرورت ہوتی ہے، لہذا غیر ضروری یا قابل تاخیر امور سے صرفِ نظر میاں بیوی دونوں کے لیے بہتر ہے؛ کیونکہ دور حاضر میں بہت سے خاوند عیش پرستی پر مبنی مطالبات پورے کرتے کرتے تھک چکے ہیں، پورے حقوق کا مطالبہ ،کسی ایک حق سے بھی عدم دستبرداری اور صرف نظر نہ کرنے کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نفرت اور بغض جنم لیتا ہے۔
ازدواجی زندگی دائمی بنانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے اخلاق میں شگفتگی پیدا کرے، اور اس کے لیے شریعت کی روشنی میں جائز امور بروئے کار لائے۔
قاضی اور منصفین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے پاس آنے والے میاں بیوی کے جھگڑوں میں صلح صفائی کروائیں، تا کہ باہمی اتفاق قائم ہو اور طلاق کے خدشات زائل ہو جائیں۔
خاوند پر بیوی کا حق ہے کہ حسن معاشرت، بیوی کے لیے مناسب رہائش، نان و نفقہ اور لباس کا انتظام کرے، ہر وقت خیر خواہی چاہے، تکلیف مت دے، اور گزند نہ پہنچائے۔
طلاق کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی زبان دراز ، بد اخلاق، اجڈ اور گنوار ہو، تو ایسی صورت میں بیوی اپنا اخلاق درست کرے، اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے، اور بچوں کی صحیح تربیت کے لیے خوب محنت کرے، اور خاوند کی صرف وہی بات مانے جو اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث نہ ہو، چنانچہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب کوئی عورت پانچوں نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا: جنت کے من چاہے دروازے سے داخل ہو جاؤ) احمد، یہ حدیث حسن ہے۔
طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ میاں بیوی کے دو طرفہ یا یک طرفہ رشتہ دار ان کے درمیان دخل اندازی کریں، اس لیے رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور صرف اچھی بات ہی کیا کریں۔ ایک حدیث میں ہے کہ : (اللہ تعالی کی ایسے شخص پر لعنت ہے جو کسی کی بیوی کو خاوند کے خلاف یا خاوند کو بیوی کے خلاف بھڑکائے)
بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاوند کے رشتہ داروں کے حقوق بھی ادا کرے اور خصوصی طور پر ساس سسر کا خیال رکھے، اسی طرح خاوند بیوی کے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے، چنانچہ کئی بار کسی ایک کے رشتہ دار کی حق تلفی بھی طلاق کا سبب بن جاتی ہے۔
طلاق کا یہ بھی سبب ہے کہ : حیا باختہ ڈارمہ سیریل دیکھے جائیں یا فحاشی پھیلانے والی ویب گاہیں دیکھی جائیں۔
خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا بھی طلاق کا سبب ہے، چنانچہ بیوی کے لیے خاوند کی اجازت سے ہی باہر جانا جائز ہے؛ کیونکہ خاوند کو معاملات کا زیادہ علم ہوتا ہے۔
تاہم اگر شادی کا بندھن قائم رکھنا ناممکن ہو جائے تو اللہ تعالی نے طلاق دینا جائز قرار دیا ہے اگرچہ یہ ناپسندیدہ عمل ہے، جیسے کہ حدیث میں ہے کہ: (اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ ترین حلال چیز طلاق ہے) چنانچہ خاوند مکمل سوچ و بچار کے بعد اللہ تعالی کے حکم کے مطابق شرعی طلاق دے، فرمانِ باری تعالی ہے: { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ} اے نبی! جب بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت گزارنے کے لیے طلاق دو، اور عدت شمار کرو[الطلاق : 1] آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفسرین کہتے ہیں کہ: ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں جماع نہیں کیا، طلاق دینے کے بعد اگر چاہے تو دوران عدت رجوع کر لے، وگرنہ عدت ختم ہونے دے، جیسے ہی عدت ختم ہو گی زوجیت کا تعلق ختم ہو جائے گا۔
غور کریں کہ شادی کے بندھن کو تحفظ دینے کے لیے شریعت نے کتنی تاکید کی ہے جبکہ دوسری طرف آج کل طلاق کو اتنا ہی معمولی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ طلاق کے اسباب سے دوری ضروری عمل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا [النور : 21]
مسلمانو!
کچھ نوجوانوں کی زبان پر طلاق کا لفظ اولاد، اقربا، اور کسی بھی دوسرے شخص کے حقوق کا خیال بالائے طاق رکھتے ہوئے پانی کی طرح جاری ہے، بسا اوقات مختلف مجالس میں تو کبھی ایک ہی مجلس میں کئی بار طلاق دے دیتا ہے، پھر اس کے بعد فتوے تلاش کرتا ہے، بسا اوقات حیلہ بازی بھی کرتا ہے اور کبھی کسی قسم کی گنجائش نہیں ملتی اور بلا سود ندامت اٹھانی پڑتی ہے؛ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ } جو بھی اللہ سے ڈرے وہ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے [2] اور اسے ایسی جگہ سے عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق : 2 - 3]
لہذا شرعی طور پر طلاق دینے والے کے لیے اللہ تعالی آسانیوں کے راستے کھول دیتا ہے، نیز شادی کے بندھن کی قدر کرنے والے اور اس کی اہانت سے دور رہنے والے کے لیے اللہ تعالی برکتیں ڈال دیتا ہے، چنانچہ وہ شادی کے اچھے نتائج سے بہرہ ور ہوتا ہے۔
یا اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق بھی عطا فرما، نیز باطل کو ہمیں باطل دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے باطل کو ہمارے لیے پیچیدہ مت بنا کہ مبادا ہم گمراہ ہو جائیں، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]
صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

آدمی جزیرے ہیں

Image result for man islandآدمی جزیرے ہیں ۔۔۔!شاعر: حسیب احمد حسیب

آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے
بیچ اک سمندر کے
تند خو سی موجوں میں
ان کو ڈوب جانا ہے
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں پر
زندگی پنپتی ہے
پیڑ کھلکھلاتے ہیں
پھول جگمگاتے ہیں
روشنی اترتی ہے
لیکن ایک دن ان کو
خود ہی ٹوٹ جانا ہے
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے
بیچ اک سمندر کے
تند خو سی موجوں میں
لوگ ان جزیروں پہ
گھومنے کو آتے ہیں
چار دن ٹھہرتے ہیں
اور اس پڑاؤ میں
کچھ نئے تعلق بھی
کچھے نئے سے رشتے بھی
روز روز بنتے ہیں
اور ان جزیروں سے
چاہتیں ابھرتی ہیں
پر یہ تلخ سچائی
بھولنے نہیں دیتی
بیچ اک سمندر کے
ریشمی جزیروں کی
زندگی ادھوری ہے
تند خو سی موجوں میں
ان کو ڈوب جانا ہے
اور پھر نہیں آنا
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کے
پاس سے گزرتی ہیں
کشتیاں وفاؤں کی
مچلھلیاں جفاؤں
تتلیاں ہواؤں کی
کتنے نا خداؤں کی
انگنت صداؤں کی
روز ہی اترتے ہیں
کتنے خوبرو پنچھی
لیکن ان جزیروں کی
زندگی بڑی کم ہے
اور ان جزیروں کو
جلد ڈوب جانا ہے
تند خو سی موجوں میں
وقت کے سمندر میں
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کو
یاد کس نے رکھنا ہے
ہاں مگر کتابوں میں
ہاں پرانے قصوں میں
بھولی بسری یادوں میں
ہاں کسی مسافر کو
کل یہ یاد آئیں گے
کہ کسی سمندر کی
تند خو سی موجوں میں
ہاں کوئی جزیرہ تھا
وہ جو اسکا اپنا تھا
وہ جو ایک سپنا تھا
آدمی جزیرے ہیں
اور ہر جزیرے کا
ڈوبنا ہی فطرت ہے
وقت کے سمندر کی
اک نئے جزیرے کو
وہ ابھار لاتا ہے
کوکھ سے سمندر کی
زندگی کا یہ منظر
پھر سے سامنے آکر
آسماں کے سائے میں
بے کراں سمندر میں
پھر سے سانس لیتا ہے
کل کوئی جزیرہ تھا
آج وہ نہیں شاید
کل کے اس جزیرے کا
اک نیا تسلسل ہے
اک نیا جزیرہ ہے
وقت کے سمندر میں
اک نئی علامت ہے
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے
کل کو ان جزیروں کو
زیر آب آنا ہے
لیکن ان جزیروں نے
وقت کے سمندر کی
لازوال چادر میں
اک نئی کہانی کو
زندگی بنانا ہے
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بھلے کم ہو
تند خو سی موجوں میں
ان کو ڈوب جانا ہو
وقت کے سمندر میں
زیر آب آنا ہو
پر یہ ان ہواؤں میں
اور ان فضاؤں کے
ایک ایک ذرے میں
اور اس سمندر کی
تند خو سی موجوں میں
کل بھی سانس لیتے تھے
اور آنے والے کل
آنے والے لوگوں کو
ٓمشک بو ہواؤں میں
اور اس سمندر کی
ڈوبتی ابھرتی سی
بے ثبات لہروں میں
تیرتے ہوئے یا پھر
کچھ نئی چٹانوں کی
اور یا کسی سیپی
اور یا کسی گوہر
موج کے کسی جوہر
آنے والے لوگوں کو
یہ کسی بھی ہیت میں
کل دکھائے جائیں گے
آدمی جزیرے ہیں
اور ان جزیروں کی
زندگی بہت کم ہے۔

شدت (Magnitude)


Related image
شدت (Magnitude)تحریر: ابنِ فاضل
اگر آپ کا چوکیدار آپ سے کہے کہ صاحب میں نے بہت مہنگا فون خریدا ہے . تو یقیناً آپ بآسانی اندازہ لگا لیں گے کہ اٹھارہ، بیس ہزار تنخواہ لینے والا شخص پانچ سات ہزار کے فون کو مہنگا سمجھ رہا ہوگا. لیکن اس کے برعکس اگر آپ کا کوئی کروڑ پتی دوست کہے کہ اس نے ایک مہنگا فون خریدا ہے… تو فوراً آپ کے ذہن میں آئے گا کہ یقیناً لاکھ سے اوپر ہوگا…..
         اسی طرح اگر کوئی معیشت دان آسمان دیکھ کر اندازہ لگا رہا ہو کہ آج بارش کا امکان ہے تو آپ اس کی بات کو اتنا سنجیدہ نہیں لیں گے جتنا کسی ماہر موسمیات کی پیش گوئی کو لیں گے کہ جس کو اس بارے میں زیادہ اور درست معلومات ہوسکتی ہیں.
     اب سوچیں اگر کہنے والا خدائے بزرگ و برتر خود ہو کہ بلا تشدید و تکبیر سب سے بڑا ہے اور بہت ہی بڑا ہے اور ہر ہر چیز کا بہت ہی درست اور کامل علم رکھنے والا ہے اور کہہ یہ رہا ہو کہ 'جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے' اور پھر بار بار کہہ رہا، زور دے کر کہہ رہا ہو تو ہمیں یقیناً چند ساعت نکال کر، تنہائی میں بیٹھ اس کی شدت کا اندازہ ضرور کرنا چاہیے….
     اللہ کریم سب انسانوں کو جہنم سے بچائے.اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ

آج کی بات ۔۔۔ 01 اکتوبر 2018

《《 آج کی بات 》》
اسلام ہمیں حقوق کی بجائے "حقوق العباد" کا لفظ دیتا ہے ، یعنی دوسرے انسانوں کو حقوق دو اس طرح سب کو اور خود آپ کوحقوق مل جائیں گے ،
یہاں 'حق' کی جگہ 'فرض' رکھ دیایعنی "قربانی ، ایثار ، محبت اور درد دل" 
عرفان اصغر

آج کی بات ۔۔۔۔۔ 29 ستمبر 2018

✰ آج کی بات ✰
کانٹا چبھنے کی تکلیف برداشت کرنے پر جہاں اجر کی بشارتیں ہوں، وہاں دل میں نشتر چبھنے کی اذیت برداشت کرنے پر کیا کیا اجر لکھتا ہو گا رب؟ 

نیر تاباں

نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 28 ستمبر 2018

Image result for ‫قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمین‬‎نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیےخطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)امام و خطیب: ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 18 محرم الحرام 1440 کا خطبہ جمعہ " نماز اور قربانی، موت اور زندگانی اللہ کے لیے" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ سورت انعام کی آیت 162 پوری زندگی کا با مقصد خاکہ پیش کرتی ہے اس میں زندگی کے ہر گوشے کو اللہ کے لیے گزارنے کی ترغیب ہے، زندگی میں للہیت کی موجودگی سے انسان کا ہر کام اسی کی رضا کے لیے مختص ہو جاتا ہے۔ عبادات میں فرائض کا مقام سب سے بلند ہے اور فرائض میں نماز سب سے اہم رکن ہے، عقلمند انسان فرائض کے ساتھ نوافل کی پابندی بھی کرتا ہے تا کہ اللہ کی محبت پا لے، اور مستجاب الدعوات بن جائے۔ اسی طرح اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا بھی بہت بلند عبادت ہے، یہ صرف اللہ کے لیے خاص ہے کسی حجر ، شجر، قبر یا ولی کے لیے نہیں ہو سکتی، اگر کوئی کرے تو یہ شرک کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی جانب سے لعنت کا باعث بھی ہے۔ ہماری زندگی حیات اور ممات دو حصوں میں منقسم ہے اور ہر ایک حصہ اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں تو یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے، اس سے ہمیں انفرادی اور معاشرتی دونوں فوائد حاصل ہوں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان جب للہیت کے ساتھ زندگی گزارے تو کسی نکتہ چینی کرنے والے کی جانب متوجہ ہی نہیں ہوتا وہ اپنے مشن پر گامزن رہتا ہے۔ اسی طرح ملکی اور قومی تعمیر و ترقی میں معاونت بھی اللہ کے لیے زندگی گزارنے میں شامل ہے، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔
《《 منتخب اقتباس 》》 
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کی تکریم کرتے ہوئے اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، میں نعمت ایمان اور اس فضیلت پر اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کی بندگی ساری مخلوقات کا مقصد ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں گھٹیا حرکتوں اور گالم گلوچ سے روکا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور قلب سلیم والے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔
میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} آپ کہہ دیں کہ میری نماز ،میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے [162] اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الأنعام: 162، 163]
اس آیت کریمہ نے زندگی کے ہدف، ذمہ داری اور مقصد کی منظر کشی کی ہے، وہ اس طرح کہ مسلمان کی زندگی اور موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، حیات و ممات اللہ کے لیے ہے جو یوم جزا کا مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا ، ہمیں رزق دیا اور ہمیں زندگی عنایت کی۔
اس آیت کی تلاوت ، اس کے ذریعے وعظ اور اس میں غور و فکر عظیم مفاہیم اور معانی کو جلا بخشتے ہیں، ایسے خوبصورت معانی کی تجدید ہوتی ہے جن کا ہر وقت ذہن میں تازہ رہنا ضروری ہے، جنہیں غفلت یا فراموشی کے دائرے میں نہیں چھوڑا جا سکتا ، وہ خوبصورت معانی یہ ہیں کہ انسان کی نماز، عبادات، زندگی اور موت سب کچھ اللہ کے لیے ہو، انسان اپنے تمام امور میں خالق ،رازق ، مختار کل، اور مُدبر ذات کے تابع ہو، انسان اپنے تمام معاملات میں رضائے الہی کا متلاشی ہو اس کے علاوہ اسے کسی چیز کی تمنا نہ ہو؛ یہی وجہ ہے کہ رضائے الہی کا متلاشی بولتا ہے تو اللہ کے لیے ، کوئی کام کرتا ہے تو صرف اللہ کے لیے، رات دن صبح اور شام اس کا ہر وقت اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ہوتا ہے۔
یہ آیت اعلی ترین مقام حاصل کرنے کی یاد دہانی کراتی ہے اور وہ ہے عبودیت کہ مسلمان کسی بھی چیز کو اپنائے یا چھوڑے ہر اقدام اللہ تعالی پر ایمان اور اخلاص کے باعث ہو، اللہ تعالی سے محبت اور اشتیاق کی بنا پر ہو، اللہ تعالی سے خوف اور اس کے فضل کی تمنا کے لیے ہو۔ لال خوری اور حرام سے دوری، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ، حسن اخلاق، آنکھوں کی حفاظت اور حجاب، اللہ تعالی کی جانب دعوت، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا سب کچھ اللہ کے لیے ہو۔
{قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي} آپ کہہ دیں: میری نماز اور میری قربانی [الأنعام: 162] حصولِ قربِ الہی کے لیے بنیادی ترین اور عظیم ترین عبادات وہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔
ڈھیروں اجر و ثواب کا متلاشی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل اور سنتوں کا بھی خصوصی اہتمام کرتا ہے، اس طرح وہ اللہ تعالی کی محبت بھی پا لیتا ہے، جس کی بدولت اس کی روح اور جسم رفعت و طہارت کے اعلی مقام تک پہنچ جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث قدسی میں فرماتے ہیں: (۔۔۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں) بخاری
اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا ایمان کے بنیادی امور میں شامل ہے، عقیدہ توحید کے مظاہر میں سے ایک ہے، اس کو قربانی بھی کہتے ہیں، اسلام میں صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہی قربانی کرنا جائز ہے، قربانی کا جانور روزِ قیامت اپنے چمڑے ، بال اور کھروں سمیت پورے جسم کے ساتھ حاضر ہو گا اور اسے بندے کے ترازو میں شامل کر دیا جائے گا؛ بشرطیکہ قربانی اللہ کے لیے کی گئی ہو، اللہ کے سوا کسی کے لیے نہ ہو۔ اس لیے جانور کسی حجر، شجر، قبر یا ولی کے لیے ذبح نہ کیا جائے، بلکہ صرف اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے خالص ہو۔
{وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔[الأنعام: 162] زندگی اللہ رب العالمین کے لیے ہو، یہ وہ زندگی ہے جو اللہ کے دین اور شریعت کے مطابق ہو، اوامر اور نواہی کے مطابق ہو، زندگی میں خوشی غمی، رات اور دن سب اللہ کے حکم کے مطابق ہوں، زندگی میں اٹھنا بیٹھنا، حرکت و سکونت، نیند اور بیداری، خرید و فروخت، کھانا پینا، تعلیم و تعلم، تجارت و ملازمت، الغرض ہر چیز اللہ رب العالمین کے حکم کے مطابق ہو۔
مسلمان کا ایک ہی معبود ہے اور وہ اللہ ہے، وہ مالک الملک ہے، اللہ تعالی یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کے علاوہ ہر کسی کی غلامی سے آزاد ہو جائے، انسان کی ساری زندگی اور لین دین سمیت اس کا انجام کار اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب ہو، اس طرح مسلمان اللہ کے لیے زندہ رہے گا اور اللہ تعالی کی اطاعت میں ہی زندگی گزارے گا۔
یہ زندگی اگر ہم اللہ کے لیے گزاریں، اس کی رضا کے مطابق بسر کریں، اللہ کی محبوب چیزوں سے محبت کریں اور ناپسند چیزوں کو ناپسند جانیں، اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے جلا بخشیں، تو یہ زندگی انتہائی خوش گوار اور پر لطف ہو گی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} جو ایمان لائے ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ [الرعد: 28]
اللہ رب العالمین کے لیے زندگی اس طرح بھی ہوگی کہ اپنی عمر تعمیر و ترقی میں صرف کریں، عقل کو دھرتی سنوارنے کے لیے کام میں لائیں، صنعتی اور زرعی ترقی میں استعمال کریں، معاشرتی زندگی میں بہتری لائیں، امن و خوشحالی قائم کریں، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، تو اس شہر کو پر امن بنا دے، اور یہاں کے رہنے والوں میں سے جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں، انہیں مختلف قسم کے میوے عطا فرما، اللہ نے کہا اور جو کافر ہوگا اسے بھی کچھ دنوں تک نفع پہنچاؤں گا، پھر اسے جہنم کے عذاب میں داخل ہونے پر مجبور کر دوں گا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے [البقرة: 126]
ایسا مسلمان جو اپنی زندگی اللہ کے لیے بنا لے تو وہ بارش کی طرح ہوتا ہے، جہاں بھی جائے فائدہ پہنچاتا ہے، دلوں میں امید کی کرن جگاتا ہے، اللہ پر اعتماد کو مضبوط کرتا ہے، زندگی میں خدا ترسی کو فروغ دیتا ہے، خیر پھیلاتا ہے اور مساکین کو کھانا کھلاتا ہے، کمزور، یتیم اور بیماروں کا خیال کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا} اور جس نے ایک جان کو زندہ کیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کیا [المائدة: 32]
اور جس کی زندگی اللہ کے لیے ہو تو وہ اللہ کے سوا کسی اور سے بدلے یا شکریہ کا بھی متمنی نہیں ہوتا، وہ اپنے مشن میں بڑھتا چلا جاتا ہے کسی کی نکتہ چینی اور اعتراضات اس کے قدموں کو نہیں روک پاتے، ان کی زبان یہ کہتی ہے کہ: {إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (9) إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (10) فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (11) وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا} ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی کلمہ شکر[9] ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بڑا ہی اداس بنانے والا ہوگا، اور جس کی تیوری چڑھی ہوگی [10] تو اللہ نے انہیں ان کی اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں چہرے کی شادابی اور فرحت عطا کی [11] اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس دیا ۔ [الإنسان: 9 - 12]
اللہ کے بندو!
رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23]
 {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10]
 {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}[البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]


مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (القرآن)

❃ مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا ❃کلام: مظفر وارثی

میں تیرا فقیر مَلنگ خدامجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا
تُو دن میں ہے تُو رات میں ہےہر پھول میں ہے، ہر پات میں ہےمیری سوچ، میرے نغمات میں ہےمیری روح میں ہے، میری ذات میں ہے
تیرا نور، تیرا آہنگ خدامجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا
تیری رحمت یوں اپنائے مجھےآنکھوں پر وقت بٹھائے مجھےتجھ بن اک سانس نہ آئے مجھےشیطان اگر بہکائے مجھے
کروں اپنے آپ سے جنگ خدامجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا
سینہ ہو میرا شیشے کی طرحاور بینائی جھرنے کی طرحآواز بھی ہو شعلے کی طرحچمکوں میں سدا ہیرے کی طرح
مجھے لگنے نہ پائے زنگ خدامجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا
میں تیرا فقیر مَلنگ خدامجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا






حوض کوثر کی صفات اور خواص ۔۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔۔ 21 ستمبر 2018

حوض کوثر کی صفات اور خواصخطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)21 ستمبر 2018 امام و خطیب: ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: دلیل ویب

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے11 محرم الحرام 1440 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "حوض کوثر کی صفات اور خواص" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ آخرت سنوارنے کے لیے نیکیاں کریں اور انہیں ضائع ہونے سے بچائیں جبکہ دنیا سنوارنے کے لیے حلال کمائیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں؛ لہذا دین و دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلیں، دنیا مومن کے لیے نیکیوں کی بدولت بہتر اور کافر کے لیے گناہوں کی وجہ سے بد تر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہاں سے یقینی طور پر جانا ہے تو اس کے لیے تیاری میں ہرگز سستی نہیں کرنی چاہیے، اس لیے ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ حوض کوثر سے پانی پیے، حوض کوثر پر ایمان آخرت پر ایمان کا حصہ ہے، یہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اعزاز کے لیے عطا فرمایا ہے، روز قیامت ہر نبی کو مخصوص حوض دیا جائے گا تاہم دیگر انبیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوگ آپ کے حوض سے سیراب ہوں گے اور پھر کبھی پیاس محسوس نہیں کریں گے، حوض کوثر کا رقبہ ایلہ تا عدن سے بھی زیادہ ہے، اس کا پانی دودھ سے سفید، مہک کستوری سے اچھی، شہد سے میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا، اور آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، حوض کوثر کے پرنالے سونے اور چاندی کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: سنت پر عمل اور کثرت سے درود پڑھنا ، جبکہ بدعت، ریاکاری، شہرت پسندی سے احتراز حوض کوثر سے اپنی پینے کا سبب بنیں گے، دوسری جانب سیاہ کاروں، مشرکوں، بدعتیوں اور خود ساختہ شریعت بنانے والوں کو حوض کوثر سے دھتکار دیا جائے گا ، آخر میں انہوں نے سب کے لیے جامع دعا کروائی۔
❞ منتخب اقتباس ❝
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، وہی غالب اور عطا کرنے والا ہے، گناہ معاف اور توبہ قبول کرنے والا ہے، وہ سخت عذاب اور شدید پکڑ والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، میں اپنے رب کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، اسی کی طرف توبہ کرتے ہوئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بہت بڑا اور بلند ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، آپ جنت کی خوشخبری دینے والے اور عذاب الہی سے ڈرانے والے ہیں، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد پر ، ان کی آل اور نیکیوں کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تمام صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرما۔ اللہ کے بندو!
اپنی آخرت سنوارنے کے لیے نیک کام کرو، اور اپنی نیکیوں کو ضائع مت کرو ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} 
ان سے کہہ دیں کہ : عمل کرتے جاؤ! اللہ، اس کا رسول اور سب مومن تمہارے طرز عمل کو دیکھ لیں گے اور عنقریب تم کھلی اور چھپی چیزوں کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو [التوبۃ : 105]
اپنی دنیا سنوارنے کے لیے حلال کمائیں اور اسے فرض، مستحب اور مباح امور میں خرچ کریں، اس دنیا کو سفرِ جنت کے لیے کام میں لائیں، دیکھنا تمہیں دنیاوی رونقیں دھوکے میں نہ ڈال دیں، اور تم آخرت سے غافل ہو جاؤ، اس لیے مسلمانو! اپنی دنیا بنانے اور آخرت پانے کے لیے نیکیاں کرو۔
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دنیا اور آخرت کا تذکرہ کر رہے تھے اس دوران کچھ لوگوں نے کہا: دنیا [افضل ہے اس لیے کہ یہ]آخرت کی دہلیز ہے، اس میں نیکیاں، نمازیں اور زکاۃ ادا کی ادائیگی ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے کہا: آخرت میں جنت ہے[اس لیے آخرت دنیا سے افضل ہے]، انہوں نے کچھ اور باتیں بھی کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈالے تو جو کچھ اس کی انگلی کے ساتھ لگے تو وہ دنیا ہے) "حاکم نے اسے مستدرک میں روایت کیا ہے۔
ہر کسی کو یقین ہے کہ اس نے یہاں سے جانا ہے، اور اللہ کی طرف سے نوازا ہوا سب کچھ یہیں چھوڑ جانا ہے، اُس کے ساتھ صرف عمل ہی جائے گا، یہ عمل اچھا ہوا تو اچھا بدلہ ملے گا اور اگر برا ہوا تو بدلہ بھی برا ملے گا، جب ہر ایک کی یہی صورت حال ہوگی ، اور اس مرحلے سے لازمی گزرنا ہے تو سب کے لیے حسب استطاعت اچھے سے اچھا عمل لے کر جانا ضروری ہے، کیونکہ خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی وسیلہ عمل کے بغیر کار گر نہیں  ہو گا؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ}
 تمہارے اموال اور اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جن سے تم ہمارے ہاں مقرب بن سکو ، ہاں جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا دگنا صلہ ملے گا اور وہ بالا خانوں میں امن و چین سے رہیں گے [سبأ : 37]
اے مسلم! تمہارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ سید ولد آدم نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر سے پانی پینے میں کامیاب ہو جاؤ، یہ ہدف کیسے پا سکتے ہو ؟ اہل جنت اولین کش اسی حوض سے لگائیں گے۔
حوض کوثر پر ایمان رکھنا یوم آخرت پر ایمان کا حصہ ہے، اور جو شخص حوض کوثر پر ایمان نہیں رکھتا اس کا کوئی ایمان نہیں ہے، کیونکہ اجزائے ایمان میں تفریق ممکن نہیں ہے، لہذا جو شخص ایمان کے ایک رکن کا انکار کر دے تو وہ سب ارکان سے کفر کرتا ہے۔
حوض کوثر اللہ تعالی کی طرف سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اعزاز و تکریم ہے، اس حوض سے آپ کی امت ارض محشر میں پانی پیے گی، وہ دن کفار پر پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، لیکن اللہ تعالی مؤمنوں کے لیے اس دن کو مختصر فرما دے گا۔
اس دن لوگوں کے سر چکرا رہے ہوں گے، حساب کے دوران ان پر تکلیف کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہوں گے، اگر اللہ تعالی انہیں برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت نہ دے تو سب کے سب مر جائیں ۔
دوران حساب لوگوں کو اتنی سخت پیاس لگے گی جس سے کلیجا پھٹنے کو ہوگا، پیٹ پیاس کی وجہ سے آگ بن چکا ہوگا، انہیں اس سے پہلے اتنی سخت پیاس نے کبھی نہیں ستایا ہوگا۔
پھر اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اعزاز بخشتے ہوئے امت محمدیہ کے لیے حوض کوثر عطا فرمائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حوض کے کنارے کھڑے اپنی امت کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوں گے، اور سب کو پانی پینے کی دعوت دیں گے۔
حوض کوثر کے رقبے اور پانی کی شفافیت متعلق متواتر احادیث ہیں بلکہ حوض کوثر کے تذکرے کے لیے قرآن مجید میں ایک سورت "الکوثر" کے نام سے موجود ہے۔
ہر نبی کو الگ سے ایک حوض دیا جائے گا، چنانچہ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انبیاء اپنے پیروکاروں کی زیادہ تعداد پر ایک دوسرے سے فخر کرینگے ، اور مجھے امید ہے کہ اس دن سب سے زیادہ میرے پاس لوگ پانی پینے آئیں گے، اور ہر نبی اپنے بھرے ہوئے حوض پر کھڑے ہو کر ہاتھ میں عصا لیے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان کر بلائے گا، ہر امت کے لیے خاص نشانی ہوگی جس سے ہر نبی اپنی امت کو پہچان لے گا) ترمذی، طبرانی
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض آپ کی شریعت کی طرح سب سے بڑا اور سب سے میٹھا ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے حوض کا رقبہ ایلہ سے عدن کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے، وہ دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ، برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے، اور اس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے)مسلم۔ جبکہ دیگر احادیث میں یہ بھی ہے کہ: (اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ اچھی ہوگی)
اسی طرح زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: (کیا تم جانتے ہو "کوثر" کیا ہے؟ یہ ایک جنت کی نہر ہے جو مجھے میرے رب نے عطا کی ہے، اس میں بہت ہی خیر ہے، میری امت اس سے پانی پیے گی، اس کے آبخورے تاروں کے برابر ہیں، میری امت کے ایک شخص کو وہاں سے دور ہٹا دیا جائے گا! میں کہوں گا: یا الہی! یہ میرا امتی ہے، تو کہا جائے گا: "آپکو نہیں معلوم اس نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کیں" ) احمد، مسلم، ابو داود
حوض کوثر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھوں سے پانی پینے والے خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت پر عمل پیرا اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
{إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا}
 اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے بچو تو ہم تمہارے گناہ مٹا کر عزت کی جگہ میں داخل کر دینگے۔[النساء : 31]
وہ لوگ سنت نبوی پر کار بند ہوتے ہوئے علی وجہ البصیرت اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ}
 آپ کہہ دیں: یہ میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتے ہیں، اور اللہ تعالی ہر عیب سے پاک ہے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔[يوسف : 108]
وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت کی طرف لوگوں کو زبانی  اور عملی نمونہ بن کر بلاتے ہیں، دین میں بدعات اور خود ساختہ امور سے بچتے ہیں اور شریعت سے متصادم کوئی کام نہیں کرتے، نیز ریا کاری اور شہرت پسندی سے بالکل پاک اخلاص کے پیکر ہوتے ہیں، ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرتے ہیں۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر کثرت سے درود و سلام پڑھنا حوض کوثر سے پانی پینے کے لیے بہترین نسخہ ہے۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
  بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ: {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (3)}
 یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے [1] چنانچہ آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں [2] بیشک آپ کا دشمن ہی لا وارث ہے۔[الكوثر : 1 - 3]
اللہ کے بندو!
اس شخص کی کامیابی کے کیا کہنے جسے اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے حوض سے پانی پینے کی سعادت نصیب کر دے، وہاں سے پانی پینے کے بعد وہ کبھی بھی پیاسا نہیں رہے گا۔
اس کے برعکس وہ کتنا بد نصیب شخص ہے جسے اس سعادت سے محروم رکھا جائے گا ، بلکہ دھتکار دیا جائے گا، اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
مسلمانو!
حوض کوثر سے آب نوشی میں رکاوٹ بننے والے اعمال میں یہ بھی شامل ہیں کہ بدعات اور خود ساختہ امور دین میں داخل کیے جائیں یا پھر زبانی کلامی یا عملی طور پر اسلام سے روکا جائے، یہ باتیں حوض کوثر سے دھتکارے جانے سے متعلق احادیث میں موجود ہیں مثلاً: (آپکو نہیں معلوم آپ کے بعد انہوں نے کیا بدعات ایجاد کیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فرمائیں گے: (میرے بعد دین تبدیل کرنے والوں کے لیے تباہی ہے)
اسی طرح حوض کوثر سے پانی پینے کے لیے رکاوٹوں میں کبیرہ گناہ بھی شامل ہیں ؛ کیونکہ یہ دلوں کو خبیث بنا دیتے ہیں، اسی طرح ریا کاری، شہرت پسندی  اور لوگوں پر ظلم کرنا بہت بڑی رکاوٹ  ہیں۔
ان اعمال کے رکاوٹ بننے کی وجوہات اہل خرد کے لیے بالکل واضح ہیں کہ جس نے دنیا میں نبوی شریعت کی اطاعت کی اور مرتے دم تک آپ کی عملی سیرت پر کار بند رہا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حوض سے پانی پیے گا، جبکہ دین میں تبدیل کرنے والے اور بدعتی کو روک دیا جائے گا، کیونکہ اس نے حق بات سے اپنے آپ کو روکے رکھا۔
اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو تیری اطاعت پر ثابت قدم بنا دے، یار ب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ مت کرنا، اور ہمیں اپنی طرف سے خصوصی رحمت سے نواز، بیشک توں بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
یا اللہ! ہم تیرے فضل ، کرم، سخاوت اور تیرے اسما و صفات کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے ان پسندیدہ لوگوں میں شامل فرما جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھوں جام کوثر نوش کریں گے،  یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہمیں اپنے فضل سے محروم مت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمیں اپنے در اور فضل سے مت دھتکار، یا اکرم الاکرمین!

آمین یا رب العالمین

برانڈز کی دوڑ

Image result for brands
برانڈز کی دوڑتحریر: ابو یحییٰ
موجودہ دورکنزیومرازم کا دور ہے۔ اس دور میں لوگوں میں اشیاء کے بے دریغ استعمال کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اس رجحان میں ایک نیا اضافہ مہنگی برانڈڈ اشیاء کی خریداری کا ہے۔ پہلے پہل تو لوگ قیمتی اشیائے تعیشات ہی کسی خاص برانڈ کی لیا کرتے تھے، مگر اب عام استعمال کی چیزوں جیسے لباس ، جوتوں وغیرہ میں بھی لوگ برانڈڈ چیزیں خریدتے ہیں۔
تجارتی کمپنیوں کے پیش نظربرانڈ کا اصل مقصد تو اپنی ایک الگ شناخت قائم کرنا ہوتا ہے۔ تاہم رفتہ رفتہ برانڈ ایک معیار کی علامت قرار پا چکی ہے۔ اور اب دنیا بھرمیں یہ اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ برانڈڈ پروڈکٹ عام اشیائے صَرف کے مقابلے میں کافی مہنگی ہوتی ہیں اور اعلیٰ معیار کے ساتھ اونچی شان کا بیان بھی بن جاتی ہیں۔
برانڈز کا یہ تصوراپنے اندر ایک ممکنہ اخلاقی خرابی رکھتا ہے جس کی نشان دہی ضروری ہے۔ یہ اخلاقی خرابی اسراف، نمودونمائش اور تکبر کی ہے۔ یہ وہ اخلاقی خرابیاں ہیں جو دنیا میں خرابی کے ساتھ آخرت میں جواب دہی اور خدا کے حضور گرفت کا سبب بھی بن جائیں گی۔
برانڈڈ چیزیں معیار کے ساتھ اپنے اندر مہنگی قیمت اور اظہارشان کا پہلو لیے ہوئے ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک شخص کسی برانڈ کو اس کے معیار یا اپنے اعلیٰ ذوق کی بنا پر استعمال کرتا ہو۔ ایسی صورت میں اس کے استعمال کرنے میں کوئی خرابی نہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے پیش نظر اصل مقصد اظہار شان ہے تو وہ تکبر کا مرتکب ہوگا۔ اور اگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر مہنگی برانڈ خریدتا رہتا ہے تو اسراف کا مرتکب ہوگا۔ یہ دونوں بڑے اخلاقی گناہ ہیں۔ چنانچہ ہر شخص کو مہنگی برانڈڈ اشیاء خریدنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پیش نظر اظہار شان یا دوسروں سے مقابلے کی کوشش میں اپنی گنجائش سے مہنگی چیز لینا تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ ایک گناہ بن جائے گا۔

ہے زندگی کا مقصد


ہے زندگی کا مقصدشاعر: نامعلومبشکریہ: افتخار اجمل بھوپال

کوشاں سبھی ہیں رات دن اک پل نہیں قرار پھرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ گُرگِ خونخوار
اور نام کو نہیں انہیں انسانیت سے پیار کچھ بات کیا جو اپنے لئے جاں پہ کھیل جانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 
سیرت نہ ہو تو صورتِ سُرخ و سفید کیا ہے  دل میں خلوص نہ ہو تو بندگی ریا ہے
جس سے مٹے نہ تیرگی وہ بھی کوئی ضیاء ہے ضد قول و فعل میں ہو تو چاہيئے مٹانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
بھڑ کی طرح جِئے تو جینا تيرا حرام جینا ہے یہ کہ ہو تيرا ہر دل میں احترام
مرنے کے بعد بھی تيرا رہ جائے نیک نام اور تجھ کو یاد رکھے صدیوں تلک زمانہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 
وعدہ ترا کسی سے ہر حال میں وفا ہو  ایسا نہ ہو کہ تجھ سے انساں کوئی خفا ہو
سب ہمنوا ہوں تیرے تُو سب کا ہمنوا ہو  یہ جان لے ہے بیشک گناہ “دل ستانا”
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
تو زبردست ہے تو قہرِ خدا سے ڈرنا اور زیردست پر کبھی ظلم و ستم نہ کرنا
ایسا نہ ہو کہ اک دن گر جائے تو بھی ورنہ  پھر تجھ کو روند ڈالے پائوں تلے زمانہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 
مل جائے کوئی بھوکا کھانا اسے کھلانا مل جائے کوئی پیاسا پانی اسے پلانا
آفت زدہ ملے ۔ نہ آنکھیں کبھی چرانا مضروبِ غم ہو کوئی مرہم اسے لگانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 
دل میں ہے جو غرور و تکبر نکال دے اور نیک کام کرنے میں اپنی مثال دے
جو آج کا ہو کام وہ کل پر نہ ڈال دے  دنیا نہیں کسی کو دیتی سدا ٹھکانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
ایمان و دِین یہی ہے اور بندگی یہی ہے  یہ قول ہے بڑوں کا ہر شُبہ سے تہی ہے
اسلاف کی یہی روشِ اولیں رہی ہے تجھ سے بھی ہو جہاں تک اپنے عمل میں لانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 
نفرت رہے نہ باقی ،نہ ظلم و ستم کہیں ہو اقدام ہر بشر کا اُمید آفریں ہو
کہتے ہیں جس کو جنت کیوں نہ یہی زمیں ہو  اقرار سب کریں کہ تہہِ دل سے ہم نے مانا
 ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

آج کی بات ۔۔۔۔۔ 20 ستمبر2018

【〝آج کی بات〞】
جلوت انسان کا وہ پہلو ہے جودوسروں کے ساتھ  روابط، تعلقات، رشتے، خواہش، جذبات، دوستی اور محبت  سے اسے مطمئن اورآسودہ خاطر رکھتا ہے یا بےچین اور پرملال۔ 
خلوت انسان کے اندر کی وہ دنیا ہے جہاں وہ بالکل تنہا ہوتا ہے اور اس کی روح  کا وہ سفر جو اسے درِ کائنات تک رسائی  پانے کے لئے صبر، شکر، بندگی کی پر کشش قوت کا حامل بناتا ہے۔

در دستک از محمود الحق

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 ستمبر 2018

~!~ آج کی بات ~!~
یہ عارضی زندگی در حقیقت آپ کے اخلاق کا امتحان ہے،اور اس امتحان کا سب سے بڑا میدان آپ کا اپنا گهر ہے.

Pages