کچھ دل سے

جگنو بچے

“جگنو بچے”
(بچوں اور بڑوں کے نام)

یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے خورشید بنیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بے درد اندھیرے مِٹ جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
ظالم نہ رہے ظلمت نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
ہر جان فروزاں ہو جائے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
رہبر نہ رہے رہزن نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
یاں رزق میں سب کا حصہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
سائل نہ رہے صاحب نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
کھلیان برابر بٹ جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
آقا نہ رہے بندہ نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
کمزور کی خدمت پہلے ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
عہدہ نہ رہے رتبہ نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
سب علم کے طالب ہو جائیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
عالم نہ رہے جاہل نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
قانون محافظ ہو سب کا
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بیکَس نہ رہے بے بس نہ رہے
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
تحقیق ہمارا شیوہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
یاں صید نہ ہو صیاد نہ ہو
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
احساس کے قیدی ہوں ہم سب
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
آزاد جو ہو آزاد نہ ہو
ہاں ممکن ہے اے اہلِ چمن
یہ سن رکھّو اور جان رکھو
ان چھوٹی چھوٹی شمعوں سے
غافل نہ رہو غافل نہ رہو
یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے خورشید بنیں
کل ممکن ہے اے اہلِ چمن
بے درد اندھیرے مِٹ جائیں

– اِبنِ مُنیبؔ

بشکریہ: عمر الیاس

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ- 5

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفرحج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیلحصہ-5
شیطانی مشنعمرے کی ادائیگی کے بعد میں ہوٹل پہنچا۔ تھکن کافی ہوچکی تھی جس کی بنا پر نیند آجانا چاہئے تھی۔ لیکن نئی جگہ کے باعث نیند نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ میری سوتی جاگتی آنکھوں میں وہی منظر آنے لگا جب شیطان نے چیلنج دیا تھا کہ میں انسان کے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے غرض ہر جگہ سے آؤں گا اور اسے جنت کے راستے سے بھٹکا کر جہنم کے دہا نے تک لے جاؤں گا۔ میں نے غور کیا تو علم ہوا کہ شیطان نے بڑی عیاری سے انسان کے گرد اپنے فریب کا جال بنا اور اکثریت کو راہ راست سے دور لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔
اس نے پہلا وار تو حضرت آدم و حوا علیہما السلام پر کیا اور انہیں جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری کاری ضرب حضرت آدم کے بیٹے قابیل پر لگائی اور اسے حسد اور مادہ پرستی کی راہ پر ڈال کر اپنے ہی بھائی کے قتل پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد اس نے انسان کا پیچھا نہ چھوڑا اور تواتر سے اپنی سازشوں کا دائرہ وسیع کرتا گیا۔ قوم نوح کو شرک کی گمراہیوں میں اس طرح الجھایا کہ وہ مرتے مر گئے لیکن خدا کی توحید پر ایمان نہ لائے۔ شرک کی گمراہیوں میں تو اس نے ہر قوم کو الجھایا لیکن اس کے ساتھ کئی دوسرے پہلوؤں سے لوگوں کو خدا سے دور کرتا رہا۔ اس نے کبھی تو قوم عاد ، قوم ہود قوم ثمود اور قوم شعیب کو مادہ پرستی ، جھوٹی شان و شوکت ، انکار آخرت، لوٹ مار اور قتل و غارت جیسے گناہوں میں الجھادیا تو کہیں قوم لوط کو جنسی بے راہ روی کی پست ترین سطح میں ملوث کردیا ۔ لیکن یہ سب کام کرنے پر اسے انسان پر کوئی اختیار نہ تھا۔ اس نے تو بس انسان کو دعوت دی اور لوگوں نے اس کی دعوت پر لبیک کہہ کر خود کو طاغوت کے سپرد کردیا۔ شیطان کی کارستانیوں اور نفس کے جھانسوں کے سبب کئی قومیں طاغوت کی بندگی میں داخل ہوئیں اور بے شمار شخصیات نے اپنے نفس کو آلودہ کرکے جہنم کا حق دار بنالیا۔
دوسری جانب شیطان کے مقابلے میں خدا کا فرمان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا کہ میرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہ ہوگا۔ چنانچہ شیطان کو ہر دور میں ان بندوں نے شکست فاش سے دوچار کیا۔ اگر قابیل نے شیطان کی دعوت پر لبیک کہا تو ہابیل نے تقویٰ کا پیکر بن کر خدا کی راہ امیں جان دے ڈالی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے مخالفین کی سختیاں برداشت کیں اور بیٹے کو قربان کردیا لیکن خدا کی راہ نہ چھوڑی۔ حضرت صالح، ہود،شعیب اور لوط علیہم السلام نے مشکلات، جبر و تشدد اور شدید مخالفت کے باوجود خدا کی بندگی کا قلاوہ نہ اتارا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں کودنا گوارا کرلیا لیکن صراط مستقیم پر قائم رہے۔حضرت موسی و ہارون علیہما السلام تنہا فرعون کے ظلم و ستم برداشت کرتے رہے لیکن ان کے قدموں میں لغزش نہ ہوئی۔ حضرت زکریا کو آرے سے چیر دیا گیا اور حضرت یحیٰی کا سر رقاصہ کی فرمائش تھال پر رکھ کر پیش کیا گیا لیکن وہ کلمہ حق سے دستبردار نہ ہوئے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے یہود کے الزامات سہے اور ان کی تمام سازشیں جھیلیں لیکن خدا کا پیغام پہنچاتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کی سختیاں جھیلیں، طائف میں پتھر کھائے، جنگوں میں سختیوں سے گذرے لیکن کبھی کوئی شکایت کا حرف بھی زبان پر نہ لائے۔
ان پیغمبروں کے علاوہ ان کے ماننے والے بھی ہر دور میں طاغوت کو شکست دینے کے لئے کھڑے رہے۔گو کہ یہ سب تعداد میں کم تھے لیکن شیطان کی ناک رگڑنے کے لئے کافی تھے۔
یہ کشکمش آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔ آج بھی شیطان نے انسان کو اپنے جال میں جکڑا ہوا ہے اور ہر طرف سے اس کی یلغار جاری ہے۔ ماضی کی تمام برائیاں آج وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہیں۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار الحاد کا ہے جس میں اس نے ڈارونزم، کمیونزم اور مادہ پرستی جیسے فلسفوں کے ذریعے خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری جانب آج کے ماڈرن اور سائنسی دور میں بھی لوگوں کو بت پرستی اور شرک کے دیگر مظاہر میں الجھا رکھا ہے۔ ابلیس کا تیسرا جال آخرت سے غفلت کا ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو مادہ پرستی، نفسانی خواہشات کی تکمیل اور مفاد پرستی کی جانب لانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کا ایک اور طریقہ واردات ماڈرنزم کا ہے جس کی بنا پر اس نے حیا کو ایک فرسودہ روایت اور عریانی کو ایک جدید اور اعلی قدر کے طور پر پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کی بنا پر زنا، ہم جنس پرستی، فحش تصاویر، جنسی فلمیں اور عریاں ادب عام ہوچکے ہیں۔ معیشت کے میدان میں شیطان نے لوگوں کو سرمائے کا غلام بنادیا کہ صبح سے رات تک غلاموں کی طرح کام کرتے رہتے اور اگلے دن دوبارہ کولہو کے بیل کی طرح اس لامتناہی مشقت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیطان نے انسان کو صرف دعوت دی باقی اس دعوت پر لبیک انسان نے خود کہا اور طاغوتی قوتوں کا ساتھی بن گیا۔
شیطان کی اس عظیم یلغار کے باوجود اللہ نے انسانیت کی راہنمائی کا بہترین اہمتام کر رکھا ہے۔ چنانچہ آج دنیا کے کسی بھی خطے میں انسان موجود ہو وہ برائی کو برائی ہی مانتا ہے اور جب بھی وہ کوئی برا عمل کرتا ہے اس کا ضمیر اس پر اسے ملامت کرتا ور معاشرہ بحیثیت مجموعی اسے ٹوکتا ہے۔ چنانچہ آج بھی خدا کے وجود کا انکار کرنے والے اقلیت میں ہیں۔ آج بھی حیا کو ایک اعلی اخلاقی قدر مانا جاتا اور اس کی خلاف ورزی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب شرک کو بھی چند کمزور قسم کے دلائل سے سہارا دینے کی کوشش کی جاتی ہے جسے سائنس کی دریافتیں آہستہ آہستہ رد کررہی ہیں ۔ لہٰذا ایسا نہیں کہ شیطان نے دنیا پر قبضہ کرلیا ہے۔ خدا کی ہدایت آج بھی فطرت اور وحی کی صورت میں موجود ہے اور آج بھی اس شورش زدہ ماحول میں خدا کے بندوں نے اپنے نفس کو آلودگی سے پاک رکھا ہوا ہے۔ اب یہ لوگوں کا اختیار ہے کہ وہ ابلیس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں یا رحمٰن کی دعوت پر لپکتے ہیں۔
جاری ہے ۔۔۔۔ 

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ- 4

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفرحج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھ
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیلحصہ-4
طوافمیں لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے مطا ف میں داخل ہوا۔ وہاں خلاف توقع رش کم تھا۔ کچھ دور چلنے کے بعد سبزلائٹ کی سیدھ میں آگیا۔ اب حجر اسود میرے بائیں جانب تھا۔ یہاں حجر اسود کو استلام کیا یعنی اس کی جانب ہاتھ کا اشارہ کیا۔ یہ درحقیقت اپنا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دینے کی تعبیر تھی۔ یہ اللہ سے بیعت اور عہد کرنے کا انداز تھا، یہ تجدید عہد کا اظہار تھا۔ یہ اپنی خواہشات، رغبات، شہوات، مفادات اور تعصبات کو خدا کی رضا اور اس کے حکم پر قربان کرنے کا وعدہ تھا۔
طواف کی حقیقت یہ ہے کہ قدیم زمانےسے روایت تھی کہ قربانی کے جانور کو معبد ( عبادت گاہ) کے گرد پھیرے دلوائے جاتے تھے جس سے معبد کی عظمت اظہاراور قربانی کے ثمرات کا  حصول مقصود ہو تا تھا ۔ طواف اسی روایت کا علامتی اظہار ہے۔
میں نے طواف کا آغاز کیا۔ اس دوران مقام ابراہیم کو قریب سے دیکھا اور کعبہ کا بغور مشاہدہ کیا۔ ان سات چکروں میں کوئی مخصوص دعا نہیں، کوئی بھی دعا مانگ سکتے اور کسی بھی زبان میں مانگ سکتے ہیں ۔ لیکن میں نے کچھ لوگوں کو مطاف میں دیکھا کہ وہ طواف کے دوران دعاؤں کی کتاب ہاتھ میں لیے طواف کررہے تھے۔ جبکہ کچھ لوگ کورس کی شکل میں دعائیں پڑھ رہے تھے ۔ اس سے طواف کا حسن اور روح برباد ہورہی تھی۔ طواف تو خاموشی سے اللہ سے لو لگانے ، اس کے مناجات کرنے اور اس کی بڑائی بیان کرنے کا نام ہے۔ یہ اپنی جان کا نذرانہ خدا کے حضور پیش کرنے کا علامتی اظہار ہے۔ لیکن ہمارے بھائی عام طور پر اس فلسفے سے ناواقف ہوتے ہیں اور ظاہر پرستی کی تعلیم نے انہیں اتنا الجھادیا ہوتا ہے کہ وہ ان اعمال کی روح بالکل کھو بیٹھتے ہیں ۔
طواف مکمل کرنے کے بعد دورکعت نماز ادا کی۔ اکثر لوگ مقام ابراہیم کے پاس ہی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں جس سے نماز پڑھنے والوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے ۔ کسی کو تکلیف دینا یوں تو ویسے ہی حرام ہے لیکن حرم میں یہ حرمت اور بڑھ جاتی ہے ۔ چنانچہ بہتر یہ ہے کہ ایسی جگہ نوافل ادا کیے جائیں جہاں لوگوں کے طواف میں رکاوٹ نہ ہو۔ اسی طرح کچھ لوگ حجر اسود اور ملتزم یعنی بیت اللہ کی چوکھٹ کو پکڑنے کے چکر میں لوگوں کو دھکا دیتے اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔ حجر اسود کو بوسہ دینا ایک نفلی عمل ہے اور ایک نفل کے حصول کے لئے لوگوں کو اذیت دینے جیسا کام کرنا گناہ کا باعث ہے۔
سعیاس کے بعد اگلا مرحلہ سعی کرنے کا تھا۔ سعی کے لغوی معنی کوشش کے ہیں۔ مسلمانوں کی معروف روایات کے مطابق سعی حضرت حاجرہ علیہ اسلام کی اضطرابی کیفیت کی نقالی ہے جو انہوں نے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑ کر کی۔ لیکن کچھ اور علماء کی تحقیق کے مطابق حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام جب حضرت اسمٰعیل علیہ اسلام کو قربان کرنے کے لئے صفا پر پہنچ کر آگے بڑھے تو شیطان نے حکم عدولی کے لئے وسوسہ ڈالا۔ اس وسوسے کے برخلاف وہ حکم کی تعمیل کے لئے تیزی سے دوڑے اور مروہ پر پہنچ کر لختِ جگر خدا کے قدموں میں ڈال دیا۔ بہرحال سعی شیطان کی ترغیب سے بھاگنے اور خدا کی رضا کی جانب دوڑنے کا نام ہے۔
حلق اور غلامیسعی کے بعد میں باب فتح سے باہر آیا اور لوگوں سے حجام کے بارے میں دریافت کیا۔ قریب ہی بڑی تعدا د میں حجاموں کی دکانیں تھیں۔ ایک دکان میں داخل ہوا۔ وہ پانچ ریال میں حلق کررہے تھے۔ بال کٹوانے کے دو آپشن شریعت میں موجود ہیں ۔ یا تو پورا سر منڈوایا جائے جسے حلق کہتے ہیں اور یا پھر کچھ بال کٹوالئے جائیں جو قصر کہلاتا ہے۔ حلق کا فلسفہ یہ ہے کہ زمانہء قدیم میں جب لوگوں کو غلام بنایا جاتا تو انکا سر مونڈ دیا جاتا تھا جو اس بات کی تعبیر ہوتی کہ یہ کسی کا غلام ہے۔ حاجی علامتی طور پر غلامی کے لوازمات پورے کرتا ہے لہٰذا یہ بھی اپنا سر منڈا کر خدا کی غلامی کی تجدید کرتا اور ہمیشہ اسی کا وفادار رہنے کا عہد کرتا ہے کہ وہ ہر سرد و گرم ،دھوپ چھاؤں، فقروامارت ، تنگی و آسانی پر راضی رہے گا کیونکہ وفادار غلاموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروانے والوں کے لیے تین مرتبہ اور قصر کروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ دعا فرمائی۔ چنانچہ میں نے زیادہ فضیلت والے عمل کو فوقیت دی۔ شعور کی عمر تک پہنچنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب میں گنجا ہوا۔لیکن اللہ کی غلامی کا احساس اتنا شدید تھا کہ یہ عمل بھی پر لطف معلوم ہونے لگا۔
یہاں سے واپس ہوٹل کی راہ لی۔ یہ ہوٹل حرم سے صرف ۳۰۰ میٹر کے فاصلے پر اجیاد روڈ پر واقع تھا۔ وہاں غسل کیا اور احرام اتارا۔ یوں احرام پہننے سے لے کر اتارنے تک کے عمل میں پورے چوبیس گھنٹے لگے۔ اب عمرہ پورا ہوچکا اور احرام کی پابندیاں ختم ہوچکی تھیں۔ لیکن مجھے اس بات کا احسا س تھا کہ میں حدود حرم میں ہوں۔ حدود حرم میقات کے اندر موجود رقبے کو کہتے ہیں۔ حرم کا مطلب ہے حرمت والی جگہ ۔ یہ حدود حرم بادشاہ سے قربت کی علامت ہے۔ جب ایک شخص بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے تو اس کا پورا وجود انتہائی ادب اور احترام کی تصویر پیش کرتا ہے۔ نگاہیں نیچی،اعضا ساکن، ہاتھ بندھے ہوئے اور چہرے پر سنجیدگی ۔ گویا ہر عضو یہ کہہ رہا ہے کہ سرکار میں آپ کا تابعدار اور وفادار ہوں۔ اس دربار میں اونچی آواز بھی گستاخی سمجھی جاتی اور معمولی غلطی بھی کڑی سزاکا پیغام بن جاتی ہے۔
مکہ کا حرم بادشاہوں کے بادشاہ کا دربارہے ۔اس دربار کا اپنا پروٹوکول ہے۔ یہاں لمحوں کی غلطی ابدی سزاکا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اس دربار میں معصیت بدرجہء اولیٰ حرام ہوجاتی اور کچھ جائز امور پر اضافی پابندی لگ جاتی ہے۔مثلاََ یہاں حکم ہے کہ ادب پیشِ نظر رہے، خیالات پاکیزہ ہوں، کسی جاندار کونہ مارا جائے، کسی پتے یا گھاس کو نہیں توڑا جائے اور کسی کو ایذانہ پہنچائی جائے ۔
جاری ہے ۔۔۔۔ 

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر۔۔۔ حصہ- 3

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفرحج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھتحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-3
جدہ ائیرپورٹبالآخر جدہ ائیر پورٹ آگیا۔ اس وقت وہاں فجر کی نماز کا وقت ہورہا تھا۔ چنانچہ لاؤنج ہی میں فجر ادا کی۔ وہاں فلو کی ویکسی نیشن بھی ہوئی۔ امیگریشن کے مراحل ڈیڑھ گھنٹے ہی میں طے ہوگئے پھر کچھ دیر بعد ہی ہمیں پاکستان کے کیمپ میں بٹھا دیا گیا جہاں سے مکہ روانگی تھی۔ اس دوران پہلی مرتبہ سعودی باشندوں کو دیکھا ۔ ابتدا میں ا نکی باڈی لینگویج خاصی جارحانہ لگی لیکن بعد میں احساس ہوا کہ میرا یہ احساس غلط تھا اور یہ ان کا فطری انداز تھا۔موجودہ سعودی عرب کی بنیاد عبدالعزیز بن سعود نے سن ۱۹۳۲ عیسوی میں رکھی۔ اس کی ابتدا سن ۱۷۴۷ میں ہوچکی تھی جب محمد بن سعود نے ایک اسلامی اسکالر عبدالوہاب کے ساتھ اشتراک قائم کیا۔ابتدا میں سعودی عرب ایک غریب ملک تھا لیکن ۱۹۳۸ میں تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے بعد اس ملک کی قسمت بدل گئی۔ آج سعودی عرب کا شمار امیر ملکوں کی فہرست میں ہوتا ہے۔ یہاں کا سیاسی نظام بادشاہت پر قائم ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کی یہاں کوئی اجازت نہیں۔
مکہ روانگیتقریباً تین سے چار گھنٹے کے بعد مکتب کی بس آئی جب اس میں سوار ہوئے تو ہم سے پاسپورٹ لے لیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ اب واپس جاتے وقت ہی ہمیں پاسپورٹ ملیں گے ۔بس جب مکہ میں داخل ہونے لگی تو ایک عجیب سی کیفیت عود آئی۔ میں سوچنے لگا کہ یہ وہی مقدس مکہ ہے جہاں خدا کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے، جہاں خدا کا کلام نازل ہوا، جہاں جبریل امین نے قدم رنجا فرمایا، جہاں معراج کا واقعہ ہوا، جہاں کفر و اسلام کی جنگ لڑی گئی۔ یہ وہی مکہ ہے جہاں انسانوں کے لئے عبادت کا پہلا گھر تعمیر کیا گیا،جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیوی اوربچے کو خدا کے حکم سے بسایا، جہاں حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سعی کرکے صفا مروہ کو امر کردیا، جہاں اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی داستان رقم کی گئی۔
جدہ سے مکہ قریب دوگھنٹے میں پہنچے اس وقت وہاں کے وقت کے مطابق بارہ بج رہے تھے۔وہاں حج مرکز میں رجسٹریشن ہوئی۔ مرکز میں بس کھڑی ہوئی تھی ۔ رجسٹریشن کے بعد بس اگلی منزل روانہ ہوئی جو معلم کا دفتر تھا۔ یہاں رجسٹریشن ہونے کے بعد سوئے حرم چلے۔ہوٹل پہنچتے پہنچتے ڈیڑھ گھنٹا مزید لگ گیا۔
ہوٹل کا نام السرایا ایمان تھا اور یہ ہوٹل حرم سے پانچ منٹ کی واک پر تھی ۔ مجھے کمرہ چوھویں فلو ر پر دیا گیا جس میں میرے ساتھ دو نوجوان دانش اور یاسر تھے۔ میری بیوی کا فلورتیرھواں تھا۔ جب ہم ہوٹل پہنچے تو اس وقت سعودی وقت کے مطابق ساڑھے تین بج رہے تھے۔ ہوٹل پہنچ کر تھکن سے چور ہوچکے تھے چنانچہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھی اور بستر پر ڈھیر ہوکر یاسر کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کی پلاننگ کرنے لگے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ کعبہ پر پہلی نظر پڑے تو جو دعا مانگو قبول ہوجاتی ہے۔ لیکن محدثین اس روایت کو ضعیف مانتے ہیں۔
عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے میں دانش اور یاسر کے ساتھ مسجد الحرام جانب نکلا  لیکن تاخیر سے پہنچنے کی بنا پر پہلی رکعت رہ گئی اور مسجد الحرام کے باہر ہی جگہ ملی۔ نماز کی امامت میرے فیورٹ قاری الشریم کررہے تھے۔ ان کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ شاید میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں اور ابھی کوئی مجھے جگا دے گا۔ لیکن وہ ایک حقیقت تھی۔
نماز ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ مسجد الحرام کو غور سے دیکھا۔ میں اس وقت باب عبد العزیز کے سامنے کھڑا تھا۔میں نے ارد گرد نگاہ ڈالی تو علم ہوا کہ یاسر اور دانش جدا ہوچکے ہیں۔ اب مجھے تن تنہا مسجد میں داخل ہوکر عمرہ کرنا تھا۔ میں باب عبدالعزیز کے سامنے کھڑا ہوکر لوگوں کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا ۔ لیکن جب دس منٹ تک بھی نکلنے والے لوگوں کی تعداد میں کوئی کمی نہ ہوئی تو پھر بائیں جانب ایک ذیلی دروازے سے داخل ہونے کی ٹھانی۔ دروازے سے داخل ہوا تو سمت بھول گیا کہ کعبہ کس جانب ہے۔ سوچا کسی سے پوچھ لوں۔ لیکن پھر شرم آئی کہ کوئی کیا کہے گا کہ اسے کعبہ کا علم نہیں ہے۔ بہر حال اندازے سے دائیں جانب چلنے لگا۔ جب تھوڑا سا آگے چلا تو سامنے کعبہ موجود تھا۔
بیت اللہسامنے بیت اللہ اپنی پوری آب و تاب سے سیاہ غلاف میں ملبوس موجود تھا۔ اس وقت پورا ماحول دودھیا روشنی سے منور تھا اور اس کے ساتھ ہی خدا کی رحمت کا نور بیت اللہ کو چار چاند لگائے دے رہا تھا۔ وہ خانہ کعبہ جس کی سمت ہمیشہ سجدے کیے وہ آج بالکل سامنے تھا۔ اس سے پہلے کعبہ ٹی وی پر یا تصویروں میں دیکھا تھا لیکن وہ دیکھنا کوئی دیکھنا نہ تھا۔ آج کے دیدار کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔
کعبہ کا سیاہ غلاف ہیبت الٰہی کی عکاسی کررہا تھا۔ یہ کعبہ قدرت الٰہی کی تمام صفات کو خاموش زبان میں بیان کرہا تھا۔ یہ کہہ رہا تھا کہ خدا بادشاہوں کے بادشاہ ہیں، ان کے جیسا رعب ، وجاہت، قہاری، عظمت، بزرگی، بڑائی،جلال اور شان وشوکت کسی کے پاس نہیں۔وہ ایک عزت والی، زبردست، صاحب قوت و اختیار، غالب اور قادر ہستی ہیں۔ وہ ملکیت رکھنے والے ، آقا، حاکم ، بااختیار، قابض اور متصرف ہیں۔ وہ ایسی قدرت مطلق کے حامل ہیں کہ کسی سرکش، بڑے سے بڑے قوی اور باجبروت کا ناپاک ہاتھ انکی عظمت اور طاقت کی بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔
میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور زبان پر دعائیں۔ ساتھ ہی خدا کا شکر گزار تھا کہ اس نے آج ان گناہ گار آنکھوں کو وہ گھر دکھایا جسے ابراہیم، اسماعیل اور نبی کریم علیہم السلام نے دیکھا۔
جاری ہے ---- 

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ-2

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھتحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ- 2
لبیکہماری فلائٹ رات ایک بج کر بیس منٹ پر تھی۔ میں نے لاؤنج میں اردگرد نگاہ ڈالی تو سب ہی مرد حضرات سفید احرام میں ملبوس تھے اور یہ منظر انتہائی دلفریب لگ رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے عمرے کی نیت کرلی تھی ۔تقریباً رات کے ایک بجے ہم جہاز میں سوار ہوئے۔ رن وے پر اس وقت تاریکی کاراج تھا لیکن فضا ساکت اور خوشگوار تھی۔ جہاز تقریباً آدھے گھنٹے لیٹ تھا۔میری بائیں جانب ایک بزرگ بیٹھے تھے جبکہ دائیں جانب میں نے اپنی بیوی کو بٹھا یا تھا۔ جہاز نے ہولے ہولے سرکنا شروع کیا اور میں نےبھی تلبیہ پڑھ عمرے کی نیت کرلی۔ طیارے کی فضا میں لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔
لبیک اللہم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک۔یہ تلبیہ پڑھتے ہی اپنے رب کے بلاوے پر بندہ اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے :اے رب میں حاضر ہوں ، حاضر ہوں کہ تیرا کوئی شریک نہیں، تعریف تیرے ہی لئے، نعمت تیری ہی ہے اور تیری ہی بادشاہی ہے جس میں تیرا کوئی شریک نہیں۔
یہ ترانہ پڑھتے ہوئے بندہ اپنی وفاداری کا اظہار کرکے،اپنا مورال بلند کرتا او ر یقینی فتح کے نشے میں جھومتے ہوئے دشمن کے تعاقب میں نکل چکا ہے۔ وہ دشمن جو اس کا ازلی دشمن ہے جس نے اس کے آباو اجداد کو جنت سے نکلوایا اور اب بھی اس کوشش میں مصروف ہے کہ اسے شکست دے سکے۔
پاکستان سے جانے والوں کے لئے فضا میں ہی نیت کرنا لازمی ہوتا ہے کیونکہ جہاز فضا ہی میں میقات پر سے گذرجاتا ہے۔ میقات وہ حرم کی حدود ہے جس سےباہر احرام باندھنا اور اس کی نیت کرنا باہر سے آنے والوں کے ضروری ہوتا ہے۔
شیطان اور انسانجہاز فضا میں بلند ہوتا گیا اور میرا ذہن ماضی کے دھندلکوں میں گم ہونے لگا۔میں چشم تصور میں اس زمانے میں پہنچ گیا جب انسان کی تخلیق ہونے والی تھی۔اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ زمین پر ایک ایسی ہستی کو بھیجنے والے ہیں جسے دنیا میں بھیج کر آزمایا جائے گا۔اس فیصلے سے قبل اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام انسانی ارواح کو نکال کر اس آزمائش کے بارے میں بتایا اور ان کے سامنے ارادہ و اختیار کی امانت پیش کی جسے انسان نے بہ رضا و رغبت قبول کرلیا۔اس کے بعد اللہ نے اپنا تعارف کروایا اور اپنی توحید کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا۔انسان کو یہ واضح طور پر بتادیا گیا کہ اس آزمائش میں اللہ کی وفاداری میں کامیابی کا نتیجہ جنت کی کبھی نہ ختم ہونے والی نعمتیں ہیں جبکہ سرکشوں کا ٹھکانہ جہنم کے گڑھے ہیں۔انسان تخلیق کرنے سے قبل اللہ نے دیگر مخلوقات کو بھی اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا۔ ان مخلوقات میں جنات اور فرشتے شامل تھے۔ فرشتوں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انسان کو ارادہ و اختیار دے کر دنیا میں بھیجا گیا تو یہ بڑا خون خرابا اور فساد برپا کرے گا۔ خدا نے جواب دیا:"ہاں ایسا تو ہوگا لیکن انہی لوگوں میں انبیاء، شہداء ، صدیقین اور نیک لوگ بھی پیدا ہونگے جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر میری وفاداری نبھائیں گے اور میرے لئے اپنی جان اور اپنا مال قربان کریں گے ۔یہ سیج انہی کے لئے سجائی جارہی ہے ۔ باقی جو نافرمانوں کی گھاس پھونس ہے اسے میں جہنم کے ایندھن کے طور پر استعمال کروں گا"۔
پھر اللہ نے اپنے ہاتھوں سے کھنکھناتی مٹی سے آدم کو تخلیق کیا اور فرشتوں حکم دیا کہ وہ سجدے میں گر جائیں۔اس سجدے کا مطلب یہ تھا کہ انسان دنیا میں محدود معنوں میں بادشاہ اور حاکم کی حیثیت سے بنے گا ۔یہ خدا کی مشیت کے مطابق اس دنیا میں مسکن بنائے گا، تمدن کی تعمیر کرے گا، کائنات مسخر کرے گا، اپنی مرضی سے خیر و شر کا انتخاب کرے گا اور آزمائش کے مراحل طے کرکے اپنی جنت یا دوزخ کا انتخاب کرے گا۔ اس سارے عمل میں فرشتوں اور جنات کو انسان کے سامنے عمومی طور پر سرنگوں رہنا اور اس آزمائشی عمل میں روڑے اٹکانے سےگریز کرنا لازم تھا ۔
یہ حکم صرف فرشتوں ہی کے لئے نہیں تھا بلکہ ان کی مانند دیگر مخلوقات کے لئے بھی تھا جن میں جنات بھی شامل تھے۔ انہی جنوں میں سےایک جن عزازیل نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ سجدے سے انکار درحقیقت خدا کی اسکیم سے بغاوت کا اعلان تھا ۔ خدا نے جب شیطان سےپوچھا کہ تونے سجدہ کیوں نہ کیا؟ ؟ تو اس نے کہا کہ میں اس انسان سے بہتر ہوں۔میں آگ اور یہ مٹی۔چنانچہ اللہ نے شیطان کو مردود بنادیا ۔ لیکن شیطان جھک جانے کی بجائے اکڑ گیا اور وہ خدا کو چیلنج دے بیٹھا:"اے خداوند! تیری عزت کی قسم! میں نچلا نہیں بیٹھنے والا۔میں اس انسان کو تجھ سے گمراہ کردوں گا، میں اس کی گفتگو، میل جول، لباس، تمدن و تہذیب غرض ہر راستے سے اس پر نقب لگاؤنگا تاکہ اسے تیری وفاداری و بندگی سے برگشتہ کردوں اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا پائے گا۔ بس تو مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے دے”۔
شیطان نے یہ مہلت اس لئے مانگی تھی تاکہ وہ انسان کو منزل مقصود یعنی جنت تک نہ پہنچنے دے۔ لیکن اللہ کو اپنے چنے ہوئے اور متقی بندوں پر اعتماد تھا اس لئے اللہ نے فرمایا:"جا تجھے اجازت ہے۔ تو اپنے پیادے اور سوار سب لشکر لے آ۔لیکن تیرا اختیار صرف وسوسے ڈالنے اور بہکانے کی حد تک ہے۔ پھر جس نے بھی تیری پیروی کی تو میں ان سب کو تیرے ساتھ جہنم میں ڈال دونگا جبکہ میرے چنے ہوئے بندوں پر تیرا کوئی اختیا ر نہ ہوگا”۔
اس چیلنج کے بعد اللہ نے حضرت آدم اور انکی بیوی کو جنت میں بسادیا اور جنت کی تمام نعمتیں ان پر ظاہر کر دیں۔ بس ایک پابندی تھی کہ وہ ایک مخصوص درخت کا پھل نہیں کھائیں گے۔ لیکن شیطان نے انہیں ورغلایا کیونکہ وہ ان کا ازلی دشمن تھا۔ یہاں تک کہ اس نے انہیں اس درخت کا پھل کھانے پر مجبور کردیا اور یوں وہ اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوگئے۔لیکن شیطانی رویے کے برعکس دونوں اللہ کے سامنے عجزو انکساری کا پیکر بن گئے اور رجوع کرلیا۔ چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں دنیا میں بھیجا اور ساتھ ہی یہ ہدایات بھی کیں ۔"اے آدم، اس تجربے سے سبق حاصل کرنے کے بعد اب تم اپنی بیوی کے ساتھ زمین میں اترو اور ساتھ ہی یہ مردود شیطان بھی۔ تم دونوں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اسی زمین میں جینا اور یہیں مرنا ہے اور اسی زمین سے تم دوبارہ زندہ کرکے آخرت کی جوابدہی کے لئے اٹھائے جاؤگے۔بس اپنے اس ازلی دشمن ابلیس اور نفس امارہ سے بچ کر رہنا۔میں نے تمہاری فطرت میں خیر اور شر کا بنیادی شعور رکھ دیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ہی میں نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہدایت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ چنانچہ جس کسی کے پاس بھی یہ نور ہدایت پہنچے اور وہ اس کی پیروی کرے تو وہ شیطان کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا ۔یاد رکھو شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تمہارا گمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں فحاشی، خدا سے بغاوت، ظلم و عدوان اور فساد فی الارض کی زندگی میں ملوث رکھے تاکہ تمہیں میری بندگی سے نکال کر لے جائے۔ پس جس نے میرا کہا مانا تو وہ میراوفادار ہے اور جس نے اس کی بات مانی تومیری بندگی سے نکل گیا”۔
شیطا ن کا چیلنج اور حجشیطان کا چیلنج آج بھی موجود ہے۔ وہ اور اس کے چیلے مصروف ہیں کہ کسی طرح انسان کو اس امتحان میں فیل کرواکے خدا کے انتخاب کو غلط ثابت کروادیں ۔ چنانچہ ہر دور میں شیطان نے انسان پر نقب لگائی اور اسے راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کی۔ شیطان کے ہتھکنڈے بڑے مؤثر نکلے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان کبھی شرک و الحاد کی غلاظتوں میں لت پت ہوا تو کبھی مادہ پرستی سے دامن کو داغدار کیا۔ کبھی جنسی بے راہ روی کو اپنایا تو کبھی معاشی فساد کو پھیلایا۔
شیطانی سازشوں کے باوجود ہر دور میں خدا کے ایسے بندے ضرور موجود رہے جنہوں نے خود کو ان آلائشوں سے پاک رکھا لیکن اکثریت نے شیطان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے نفس کو آلودہ کردیا ۔ اس آٖلودگی کو دور کرنے کے لئے اللہ نے انسان کے لئے کئی اہتمام کئے۔ ایک طرف تو اس نے انسان کے اندر نفس لوامہ یعنی ضمیر میں خیر و شر کا شعور رکھ دیا تاکہ اس کے نفس پر جب بھی غلاظت کا چھینٹا پڑے تو اسے احساس ہوجائے اور وہ توبہ کے ذریعے دوبارہ اسے پاک کرلے۔ دوسری جانب اس نے وحی کا سلسلہ روز اول ہی سے شروع کردیا تاکہ انسان کو خیرو شر کے تعین میں جو ٹھوکر لگ سکتی تھی اس سے بچایا جاسکے۔ اس عظیم الشان اہتمام کے باوجود انسان کا نفس آلودگی کا شکار ہوتا رہا ۔ چنانچہ عبادات کا ایک جامع تربیتی نظام مرتب کیا تاکہ ان آلائشوں سے پاکی اختیار کی جاسکے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔ 

آخرت کے مقابلے میں دنیا کی قیمت - اقتباس خطبہ جمعہ مسجد نبوی


آخرت کے مقابلے میں دنیا کی قیمت - خطبہ جمعہ مسجد نبویترجمہ: شفقت الرحمان مغل
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 12-ذو القعدہ- 1438 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "آخرت کے مقابلے میں دنیا کی قیمت" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے فرمایا کہ دنیا کی زندگی فانی اور آخرت کی زندگی دائمی ہے اس لیے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینا ہی عقلمندی ہے؛ کیونکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں سمندر کے ایک قطرے کے برابر ہے، نیز انسان جتنی بھی دنیا کما لے انسان اسے اپنے ساتھ نہیں لے کر جاتا بلکہ وہ یہی رہ جاتی ہے، اس لیے انسان کو چاہئیے کہ اپنی زندگی کی قدر کرے اور اس میں آخرت کے لیے زادِ راہ بنا لے۔
خطبے کا منتخب اقتباس درج ذیل ہے:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ان تعریفوں پر میں معاوضے کا خواہاں نہیں ، میں اسی کی ثنا خوانی کرتا ہوں کیونکہ اسی نے گمراہی اور تباہی سے ہمیں تحفظ عنایت فرمایا، ہماری رہنمائی کے ساتھ ہمیں ہدایت یافتہ اعمال کیلیے توفیق بھی دی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کی شریک حیات یا اولاد کچھ بھی نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ سے بڑھ کر کوئی بھی اتباع اور اقتدا کے لائق نہیں ۔اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرمائے ، کہ انہوں نے دین کی سر بلندی کے لیے خوب محنت کی اور دشمنوں کے سامنے مداہنت کا شکار نہیں ہوئے۔
مسلمانو!دنیا کی زندگی کمتر اور فانی ، جبکہ آخرت کی زندگی برتر اور دائمی ہے۔ مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کی قسم! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ کتنا پانی انگلی پر لگا ہے) مسلم
دنیا کا مقام اس پانی کی مثل ہے جو ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر میں انگلی ڈبونے والی کی انگلی کے ساتھ لگ جائے، جبکہ آخرت عظیم موجوں والے پانی سے بھرے باقی ماندہ سمندر کی مثل ہے۔تو عقل مند انسان کس طرح آخرت کی نعمتوں سے اعراض کر کے گھٹیا سی دنیا کے پیچھے پڑ سکتا ہے؟!حالانکہ دنیا سے جانے کا وقت بھی قریب ہے اور دنیا کا اختتام بھی ہونے والا ہے!
اللہ کے بندو!مان لو کہ دنیا تمہارے ہاتھوں میں ہے، بلکہ موجودہ دنیا سے بھی دو گنا تمہیں دے دی گئی ہے پر یہ دیکھو کہ مرتے وقت تمہارے پاس کتنی دنیا ہو گی؟!روزانہ تمہارے لیے یکے بعد دیگرے عبرتیں سامنے آتی ہیں، اور اگر تم باز آنے والے بنو ، تو موت تمہیں ہر برائی سے روکتی ہے۔کب تک، آخر کب تک، جہالت میں ڈوبے رہو گے؟! اور تقوی الہی اختیار نہیں کرو گے؟! کیا دنیا کے بعد بھی دار العمل ہے؟! یا تم نے آخرت کی بجائے کہیں اور جانا ہے؟!
زندگی عبرتوں سے بھری ہوئی ہے اس میں تقدیری فیصلوں کا راج ہوتا ہے، کسی سے بادشاہت چھین لی جاتی ہے، تو کسی سے تندرستی واپس لے لی جاتی ہے، تو کسی کو آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے!!
ہر ایک مخلوق فنا ہونے کے لیے ہے تو ہر بادشاہت بھی خاتمے کی جانب گامزن ہے، پروردگار کے علاوہ کسی کی بادشاہت قائم نہیں رہے گی وہ حقیقی بادشاہ اور قہّار ہے، غلبہ اور بقا اسی کو حاصل ہے اس کے سوا ہر چیز فنا کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دیکھتی آنکھوں کو کیا ہو گیا ہے کہ بصیرت نہیں رکھتیں!دل پتھر ہوگئے ہیں کہ سوچتے ہی نہیں!نفس بھول بھلیّوں میں گم ہیں کہ نصیحت پکڑتے ہی نہیں!کیا نفس کو مہلت اور ڈھیل نے دھوکے میں ڈال دیا ہے؟یا نفس کی کارکردگی نے کامیابی کا نقارہ اسے سنا دیا ہے؟یا نفس کو ابھی تک دنیا کے فنا ہونے کا یقین نہیں ہوا؟یا غفلت نے اس پر اتنا تسلط جما لیا ہے کہ دلوں پر غفلت کے تالے پڑ گئے ہیں؟!اے وہ شخص جس نے اپنے آپ کو کھلی آزادی دی ہوئی ہے!جس نے اپنے لیے گنجائش نکالی ہوئی ہے!کیا یہ بھول گئے ہو کہ ہم سب بشر ہیں؟!ہم تقدیر کے گھیرے میں ہیں؟!ہم ایک سفر میں محو ہیں؟!ہم زمین کے ایک گڑھے تک جا رہے ہیں؟!موت ہم سب کو آنی ہے؟!حشر میں ہم سب نے اکٹھے ہونا ہے؟!کب تک تم باز نہیں آؤ گے اور اپنے آپ کو لگام نہیں دو گے؟!کب تک تم نصیحت کرنے والے کی بات پر کان نہیں دھرو گے؟!کب تک تمہارا دل ملامت گر کے سامنے موم نہیں گا؟!کیا ابھی تک وقت نہیں آیا کہ تم خشوع اپناؤ اور تہجد گزار بن جاؤ؟!کیا ہم نیم بیہوشی میں ہیں یا ہمارے دل ہی سنگلاخ ہو چکے ہیں؟!پیارے بھائی ہوش کے ناخن لے، دیکھنا کہیں سوئے ہی نہ رہ جانا!!اے دھوکے میں پڑے ہوئے ! تم خواب خرگوش میں ہو اور آگ کو دہکایا جا رہا ہے!اس آگ کے شعلے بھجائے نہیں جائیں گے اور نہ ہی وہاں کے انگارے ماند پڑیں گے!!
ایسا شخص خوشخبری کا مستحق ہے جسے نصیحت فائدہ دے، وعظ سے ہی بیدار ہو جائے پھر بھر پور محنت کرنے لگے اور غفلت میں نہ پڑا رہے، کمر کس لے اور دھوکے میں نہ رہے، فوری عمل کرے تاخیر اور سستی کا شکار نہ ہو، تمام احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے برے دوستوں کو خیر آباد کہہ دے اور اللہ سے تعلق بنا کر توبہ کر لے۔لیکن وہ شخص انتہائی خسارے میں ہے جس کو ہوس توبہ سے روک دے، شیطان اسے گمراہ کر کے تباہ کر دے، پھر اسے مزید غفلت، سنگ دلی، تکبر اور نخوت کی دلدل میں پھنسا دے۔
{قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} آپ کہہ دیں: اپنے نفسوں پر زیادتی کرنے والے میرے بندو! تم اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا، بیشک اللہ تعالی تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔[الزمر: 53]
مسلمانو!گرم لو سے بچنے کی کوشش کرنے والو!تپتی دھوپ سے بچ کر بھاگنے والو!گرمی کی حدت سے تنگ آ جانے والو!آفتاب کی تمازت سے گھبرانے والو!گرمی کی شدت سے بچنے کیلیے سوتی اور لینن کا لباس پہننے والو!سورج تیز شعاعوں سے بچنے کیلیے بند کمروں، محلات، درختوں، گھروں ،سائے دار جگہوں اور ٹھنڈے علاقوں کا سفر کرنے والو!تم جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اس کیلیے واجبات ادا کرو ، نمازوں کی پابندی کرو، گناہوں اور معصیت چھوڑ دو، ؛ کیونکہ جہنم کے شعلوں ، لپٹوں اور تپش سے بچاؤ کی دنیاوی گرمی سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔
تم سورج کی تپش سے تو بچاؤ کرتے ہو جہنم کی آگ سے کیوں بچاؤ نہیں کرتے!؟تم جہنم کا ہلکا ترین عذاب بھی برداشت نہیں کر سکتے، اگر تم فولاد کے بھی بن جاؤ تو پگھل جاؤ گے۔اس لیے کسی بھی گناہ پر راضی نہ ہو ؛ کیونکہ یہ بہت بڑا عیب ہے جس سے انسان ناراضی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
مسلمانو!تم آج کل ایسے دور سے گزر رہے ہو جس میں فتنے تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں! نت نئی برائیاں جنم لے رہی ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک نیا فتنہ پیدا ہو رہا ہے ،ان فتنوں نے خوب دھول اڑا رکھی ہے، ان کا رونما ہونا انتہائی المناک معاملہ ہے، چیخ و پکار سے بھر پور زندگی میں یہ فتنے ہر اس شخص کو اپنی طرف گھسیٹ رہے ہیں جو ان کی جانب تھوڑی سی بھی توجہ کرتا ہے، پھر یہ فتنے اسے نظریاتی اور اخلاقی ہر دو اعتبار سے پیچھے کی طرف دھکیل دیتے ہیں، اس کی فکر اور سلوک تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لیے اپنے دلوں کو خواب گاہوں سے بیدار کرو، اپنے آپ کو شہوت پرستی سے نکال کر جادۂ حق کی جانب گامزن کرو، کتاب و سنت کے سائے تلے اپنے آپ کو تحفظ فراہم کرو، 
غفلت سے گہری کوئی نیند نہیں ۔شہوت پرستی سے بڑھ کر کوئی غلامی نہیں ۔دل کے مردہ ہونے سے بڑی کوئی مصیبت ہیں۔بڑھاپے سے بڑا کوئی ڈرانے والا نہیں۔اور جہنم سے برا کوئی ٹھکانا نہیں۔
{وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ (31) كَلَّا وَالْقَمَرِ (32) وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ (33) وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ (34) إِنَّهَا لَإِحْدَى الْكُبَرِ (35) نَذِيرًا لِلْبَشَرِ (36) لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ} یہ بشریت کی لیے نصیحت ہی ہے [31] قسم ہے چاند کی [32]اور رات کی جب وہ جانے لگے [33] اور صبح کی جب وہ روشن ہونے لگے [34]بلاشبہ جہنم یقیناً ایک بہت بڑی چیز ہے [35] یہ بشریت کو ڈرانے والی ہے [36] ہر اس شخص کے لیے جو آگے بڑھنا چاہتا ہے یا پیچھے رہنا چاہتا ہے۔[المدثر: 31 - 37]

آج کی بات ۔۔۔ 04 اگست 2017

~!~ آج کی بات ~!~
انسان کے لیے زندگی کا کامیاب فارمولا صرف ایک ہے، اور وه یہ ہے..... آخرت کے لیے غم، اور دنیا کے لیے بے غم. یہی انسان کے تمام معاملات کا خلاصہ ہے. یہی واحد طریق زندگی ہے جس میں انسان اپنے لیے سکون پا سکتا ہے 
مولانا وحید الدین خان

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ-1

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر
حج کی داستان حج کی اصل روح کے تعارف کے ساتھتحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
حصہ-1
پس منظررات اپنے اختتام کے آخری مراحل میں تھی اور سورج طلوع ہونے کے لئے پر تول رہا تھا۔ فلائٹ آنے میں ابھی وقت تھا ۔اس اجالے اور تاریکی کے ملاپ نے ائیرپورٹ کے مادیت سے بھرپور ماحول میں بھی روحانیت کا احساس پیدا کردیا تھا۔یہ مئی ۲۰۰۹ کا واقعہ ہے جب میں ائیر پورٹ پر اپنے والدین ، بھائی اور دادی کو رسیو کرنے آیا تھا جو عمرہ ادا کرکے واپس آرہے تھے۔ فجر کا وقت ہوگیا تھا چنانچہ میں نے نماز فجر مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جب فلائٹ آگئی تو میرے والدین باہر آگئے۔میں نے جب اپنے بھائی اور والد کے منڈےہوئے سر دیکھے تو طبیعت میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا ہونے لگا۔ میرا دل چاہا کہ میں بھی اپنا سر منڈوا کر خود کو اللہ کی غلامی میں دے دوں، میں بھی سفید احرام میں ملبوس ہوکر اس کی بارگاہ میں حاضری دوں، میں بھی اس کے در پرجاکر لبیک کا ترانہ پڑھوں۔ یہ احساس زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے ہوا جو ایک خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔مجھے یوں محسوس ہو ا کہ شاید حرم سے بلاوے کا وقت آگیا ہے۔اس کے بعد میں نے اپنا یہ احساس کسی سے شئیر نہیں کیا لیکن خاموشی سے حج پر جانے کا طریقہ کار لوگوں سے معلوم کرنے لگا۔دوسری جانب جب میں نے زمینی حقائق کا جائزہ لیا تو علم ہوا کہ میرے پاس معقول رقم کا بندوبست نہیں ہے اور نہ ہی ملازمت سے آسانی سے چھٹی ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ میری اس وقت دو بیٹیا ں بھی تھیں جن کی عمر یں چھ سال اور ساڑھے تین سال تھیں اور انہیں چھوڑ کر جانا ایک مشکل امر تھا۔یہ سب حقائق امور حج پر جانے میں رکاوٹ تھے۔ لیکن میں جانتا تھا کہ جب بلاوہ آجائے تو کوئی روک نہیں سکتا۔ چنانچہ ان تمام رکاوٹوں سے قطع نظر میں نے حج پر جانے کی نیت کرلی ۔ میں نے اس بات کا ذکر اپنی بیوی سے بھی کیا جس پر انہوں نے اصولی طور پر اتفاق کرلیا۔ میں نے انہیں یہی بتایا کہ ابھی حالات سازگار نہیں لیکن میں نے اپنا کیس اللہ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ اگر اس نے بلانا ہوگا تو ضرور راستہ نکالے گا۔کچھ ہی دنوں بعد میرے والدین نے خود ہی ہمیں حج پر جانے کی ترغیب دینا شروع کردی اور ساتھ ہی بچوں کو رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔ میرے بچے اس سے قبل ایک رات کے لئے بھی ہم سے جدا نہیں ہوئے تھے اور ان کا پاکستان میں رکنے کا معاملہ خاصا گھمبیر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن ایک عالم ظاہری اسباب کا ہے اور ایک اسباب سے ماورا دنیا ہے ۔ انسان ظاہری اسباب کا پابند ہے لیکن اللہ نہیں۔ چنانچہ ایک ایک کرکے تمام مسائل حل ہوتے چلے گئے۔ مالی مشکل بھی آسان ہوگئی، بچوں کو چھوڑنے کی ہمت بھی ہوگئی اور ملازمت سے چھٹی کا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔
روانگیحج کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔ ویکسین لگوالی تھی اور ساتھ ہی تمام سامان کی خریداری مکمل کرلی تھی۔ سن ۲۰۰۹ میں حج ۲۶ نومبر کو متوقع تھا۔ میری فلائٹ کا شیڈول ۵ نومبر رات ۱یک بجے کا تھا۔ میں چار نومبر کو جب کالج سے گھر پہنچا تو ارادہ تھا کہ کچھ دیر آرام کرلوں گا تاکہ رات کو سفر کی تکان سے بچ سکوں۔ لیکن جب کالج سے گھر پہنچا تو مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ یہ ہمارے سماج رابطوں ایک حصہ ہے۔ اور اسے نبھانا بھی پڑتاہے۔ چنانچہ میں نے سب سے ملاقات کی۔ اور فراغت کے بعد فائنل پیکنگ کی ۔ اسی اثنا ء میں عشاء کی نماز ادا کی۔ عشاء کے بعد روانگی تھی۔ احرام باندھا جس کی بنا پر چلنے میں خاصی دشواری ہورہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بعد میں مشکل آسان کردی۔ احرام دراصل حج اور عمرے کا یونیفارم ہے۔ جس طرح کسی ملک کے فوجی وردی پہننے کے پابند ہوتے ہیں اسی طرح ایک حاجی بھی اس وردی کا پابند ہے۔مجھے احرام باندھنے کے بعد ایک طمانیت اور قرب الٰہی کا احساس ہوا کہ اللہ نے مجھے اپنے سپاہیوں میں شامل کرلیا۔پاکستان سے جانے والے حاجی زیادہ تر حج تمتع کرتے ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ اپنے وطن سے احرام عمرے کے لئے باندھا جائے اور پھر مکہ میں عمرے کی ادائگی کے بعد احرام اتار دیا جائے۔ پھر جب حج کے ایام شروع ہوں تو دوبارہ حج کے لئے دوسرا احرام باندھا جائے۔ حج کی دوسری قسم حج قران ہے جس میں حاجی اپنے ملک سے حج ہی کی نیت سے احرام باندھتا ہے اور دس ذی الحج تک اسے پہنے رکھتا ہے۔میرا حج بھی حج تمتع تھا۔
احرامہمارے گروپ لیڈر رافع صاحب نے بتایا تھا کہ بعض اوقات فلائیٹ لیٹ ہوجاتی ہیں یا کسی ایمرجنسی کے سبب کینسل بھی ہوسکتی ہیں ۔ اسی بنا پر احرام باندھنے کے باوجودمیں نے عمرے کی نیت نہیں کی تھی کیونکہ نیت کرنے کے بعد اور میقات کی حدود شروع ہوتےہی احرام کی پابندیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔ ان پابندیوں میں سر یا چہرے کو ڈھانپنا، بال یا ناخن کاٹنا،خوشبو لگانا، خشکی کا شکار کرنا، شہوت کی باتیں کرنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔ ان پابندیوں کا فلسفہ یہی ہے کہ حج شیطان کے خلاف جہاد کا اعلان ہے۔ چنانچہ جب رب اپنے بندے کو پکارتا اور شیطان کے خلاف برسر پیکار ہونے کا حکم دیتا ہے تو یہ بندہ سفید کپڑوں کی وردی ملبوس کرلیتا ہے۔ اب اس پر دنیا کی زیب و زینت اور لذت حرام ہے یہاں تک کہ وہ اس جنگ میں برسر پیکار ہوکر اپنے دشمن کی ناک رگڑ دے اور اور اپنے مالک کی وفاداری کا ثبوت پیش کردے۔
ائیرپورٹ پر کافی رش تھا۔ وہاں کچھ مدد گار لوگوں کو گائیڈ کررہے تھے اور انہیں حج کے بارے میں بتارہے تھے۔ میرے گھر والے اور بیٹیاں بھی مجھے چھوڑنے آئیں تھیں لیکن ان کی محبت پر خدا کی محبت غالب آچکی تھی اور اب ان کی اتنی فکر محسوس نہیں ہورہی تھی۔ بہرحال تمام گھر والے ائیر پورٹ پر آئے تھے۔ ان سے ملنے کے بعد تقریباً دس بجے بورڈنگ شروع ہوئی اور میں اندر داخل ہوا۔ امیگریشن کے مراحل طے ہونے میں دو گھنٹے لگ گئے۔ بالآخر تمام مراحل طے کرنے کے بعد ڈیپارچر لاؤنج میں بیٹھ گئے۔ ہمارے گروپ کے تمام ساتھی جمع ہوچکے تھے۔میرا ایک دوست آصف بھی اسی گروپ سے جاررہا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔
جاری ہے ۔۔۔۔ 

لبیک الھم لبیک


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَک
ترجمہ :حاضر ہوں اے اﷲ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔بے شک حمد تیرے ہی لائق ہے ساری نعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں بادشاہی تیری ہی ہے اورتیرا کوئی شریک نہیں۔
ایک بار پھر حج کی آمد آمد ہے اور لبیک کا ترانہ پڑھتے خوش نصیب قافلے حج کی سعادت حاصل کرنے سوئے حرم جا رہے ہیں اور ساتھ میں یادوں کے دریچوں پر بھی دستک دے رہے ہیں، وہاں گزارے گئے ایام یاد دلا رہے ہیں۔ اللہ ان کی عبادات قبول فرمائے اور ہم سب کو بار بار اپنے در کی حاضری نصیب فرمائے آمین!!
موسمِ حج کی مناسبت سے اپنی اور بہت سے لوگوں کی یادوں کو تازہ کرنے اور جو ابھی تک اس سعادت سے محروم ہیں ان کے لیے بھی حج جیسی بڑی عبادت کا مقصد بیان کرتا ایک "سفر نامہ" یہاں شروع کرنا چاہوں گی، جو کہ "پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل" کا تحریر کردہ ہے۔ آپ اس کو "مکمل" بھی پڑھ سکتے ہیں، مگر میں یہاں اس کو چند اقساط میں پوسٹ کروں گی ان شاء اللہ۔ پہلا حصہ ان شاء اللہ کل پڑھ سکیں گے آپ۔ 
شکریہ۔

اپنے درد کا اشتہار نہ بنائیے


 اپنے درد کا اشتہار نہ بنائیےجویریہ سعید
ہم واقعی نہیں جانتے کہ ہمیں خدا کی کن کن نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے. ہم بہت سی نعمتوں کو فور گرانٹڈ لیتے ہیں (ہلکا لیتے ہیں، احساس اور قدر نہیں کرتے) اور اس کا ایک اظہار یہ ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید اور نصیحتیں کرنے میں بہت بےرحمانہ عجلت سے کام لیتے ہیں.
ایسی ہی نعمتوں میں سے ایک نعمت جذباتی استحکام (emotional stability) ہے. اگر آپ جذباتی طور پر مستحکم رہتے ہیں تو اس پر اللہ کا شکر بنتا ہے. بہت سے لوگ اس معاملے میں آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں.
"جذباتی عدم استحکام" (emotional instability)  کی ایک شکل تو (Mood Swings) کا ہونا ہے. مراد اس سے یہ ہے کہ یا تو بہت خوش یا بہت اداس یا بہت چڑچڑا رہا جائے، اور آپ ایک پنڈولم کی طرح ان دو انتہاؤں کی طرف جھولتے رہیں. اس کی دوسری شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کے جذبات کی شدت آپ کو پریشان رکھے، مثلا آپ غمگین رہتے ہوں اور خود کو اداسی کے سمندر میں ڈوبتا محسوس کرتے ہوں، کسی سے محبت کریں یا چاہیں تو طبیعت پر اختیار نہ رہے اور دل کا قرار کھو جائے، یا اندیشے اور شکوک آپ کو بےانتہا مضطرب رکھتے ہوں.
ایسا عارضی طور پر بھی ہو سکتا ہے، نارمل بھی ہو سکتا ہے، اس قدر بڑھ بھی سکتا ہے کہ آپ کی روز مرہ کی زندگی اور معاملات کو متاثر کرنے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کی شخصیت کا ہی حصہ ہو. کبھی اس حد تک تو نہ بڑھے کہ معاملات زندگی یا تعلقات بہت زیادہ متاثر ہونے لگیں، لیکن اتنا ضرور ہو کہ خود آپ کو اذیت میں مبتلا رکھے.
جو لوگ اس آزمائش سے محفوظ ہیں، انھیں خیال کرنا چاہیے کہ ان کے ذومعنی رویے، تنقید اور بےجا نصیحت انھیں "ignorant" اور "arrogant " بناتی ہے.
غمگساری کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی مسند سے اتر کر نیچے آئیے، بغور سنیے اور اس شخص کی نظروں سے اس کے معاملے کو دیکھنے اور محسوس کرنے کی کوشش کیجیے. ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے ایک چیز یا ایک واقعہ اہم نہ ہو، اس لیے آپ کے لیے نصیحت کرنا آسان ہو جائے، لیکن اس شخص کے لیے وہ کیا معنی رکھتا ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے اور اگر آپ محسوس نہیں کر سکتے، جو ایک بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے، تو کم از کم احترام کیجیے اور اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ آپ کو اس کیفیت میں مبتلا نہیں کیا گیا. اور کم از کم اپنی نادان دوستی سے اسے نقصان پہنچانے سے گریز کریں.
اور جو لوگ اس حالت سے گزرتے ہیں، ان کے لیے بھی کچھ باتیں مفید ہو سکتی ہیں.سب سے پہلی باتجذبات ایک دریا کی مانند ہیں، اور دریا اللہ کی نعمت ہے، اس کا بہاؤ انسان کی ضرورت ہے. دریا کا متلاطم ہونا اور بپھرنا کوئی انہونی بات نہیں. اس لیے اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، تو آپ یہ سوچ کر خود کو مزید اذیت میں مبتلا نہ کریں کہ ایسا آپ کے ساتھ ہی کیوں ہوا؟ اور شاید آپ واحد ہیں جس کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے. ایسا نہیں ہے.
دوسری باتدکھی، مضطرب، خوفزدہ یا خوش ہونا کوئی بری بات نہیں. یہ ہمیں انسان بناتا ہے. کچھ مذہبی اور اخلاقی سدھار کے جوش میں مبتلا افراد ہمیں جتانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اچھے مسلمان، یا کامیاب اور مضبوط انسان غمزدہ نہیں ہوتے، انھیں خوف یا اندیشے نہیں ستاتے، وہ روتے بھی نہیں، انھیں بزدلانہ یا غیر اخلاقی خیالات بھی نہیں آتے. ایسا وہ اس لیے کہتے ہیں کہ شاید ان کے نزدیک اچھے مسلمان یا مضبوط انسان ہونے کا مطلب فرشتہ ہونا یا دیوتا ہونا ہے. یا شاید ان کو اپنے جذباتی استحکام کی قدر نہیں اور وہ اس کا شکر ادا نہیں کر پا رہے. یا وہ خود اپنی کمزوریوں کی طرف سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں.
البتہ چند باتوں کی کوشش کی جاسکتی ہے.آپ اوروں سے خفا نہ ہوں. آپ کو درد کی دولت ملی ہے، اس لیے آپ ان دوسرے لوگوں کی طرح نہ بنیے جو محض اس لیے دوسروں کو اپنے رویوں سے تکلیف دیتے ہیں کہ وہ ان کا درد سمجھ نہیں سکتے. آپ سمجھ سکتے ہیں؟ آپ کو اندازہ ہے، کہ ان کو آپ کے کرب کا اندازہ نہیں، اس لیے شان استغنا سے ان سے صرف نظر کرنے کی کوشش کیجیے. اس لیے کہ ان سے الجھنا اپ کو صرف مزید تکلیف پہنچائے گا. اور دوسروں سے لڑ جھگڑ کر اپ اپنی اس نعمت عرفان کا کفران کریں گے.دوسری بات، اپنے وقار کا خیال رکھیں. ایک آزمائش نے آپ کی ساری قابلیتوں پر پانی نہیں پھیر دیا ہے. اس لیے خود پر اعتماد نہ کھونے دیں. اپنے درد کا اشتہار نہ بنائیے اور اسے اپنی کمزوری نہ بننے دیجیے. اپنی دوسری صلاحیتوں کو کام میں لانے کی کوشش کرتے رہیں. وہ آپ کا حوالہ بن جائیں گی. جس طرح دریا منہ زور ہو جائے تو اس سے نبٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے بہاؤ کو ذرا چوڑا کر دیا جائے، نہریں اور نالیاں نکالی جائیں، اس سے بجلی بنا لی جائے، ٹربائن چلائے جائیں، ان کا رخ موڑا جائے، اس طرح کے کچھ طریقوں سے جذبات کی طغیانی کو سنبھلنے کی کوشش کرنی چاہیے. لکھیں، باغبانی کریں، سلائی کڑھائی کریں، جانور پالیں، مصوری کریں، ورزش، یوگا اور چہل قدمی کریں. فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیں.
آپ کے لیے سب سے اہم اپ کی اپنی ذات ہے. ہمارا دین بھی ہمیں تلقین کرتا ہے کہ اپنے نفس کی فکر کریں، اس کا حق ادا کریں، اسے بےجا اذیت میں مبتلا نہ کریں. اس لیے اگر ہمارے وجود کو مدد کی ضرورت ہے، تو کچھ تنگ دل اور تنگ نظر لوگوں کے ناگوار اور نادان رویوں کی وجہ سے اپنے وجود کو اس کے حق سے محروم نہ کریں. اپنے درد کو اپنی کمزوری نہ سمجھیے، اس کو جانیے، اس کو برتیے، اس کے مثبت استعمال کے لیے راستے نکالیے، یہ آپ کی طاقت بن جائے گا. ان شاء اللہ.

آج کی بات ۔۔۔ 02 اگست 2017

~!~ آج کی بات ~!~
خوشی کشید کیجیے ۔۔۔بالکل عام سی لگنے والی چیزوں سے ۔۔۔خوشی کا تعلق روپیہ پیسہ سے نہیں ہے اپنی سوچ کے زاویے سے ہے۔

عرش الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

عرش الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت - خطبہ جمعہ مسجد نبویترجمہ: شفقت الرحمان مغل
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے05-ذوالقعدہ-1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "عرشِ الہی کا تعارف اور مسجد اقصی کی حالت" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی صفت خالق اللہ تعالی کے معبود حقیقی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اگر کسی چیز میں صفت خالق نہ ہو پھر بھی اس کی پرستش کی جائے تو یہ اس کے باطل ہونے کی علامت ہے۔
خطبے کا اقتباس درج ذیل ہے:
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔
اللہ تعالی صفاتِ جلال اور جمال سے موصوف ہے۔ اس کی ذات، اسما، صفات اور افعال سب ہی کامل ترین ہیں۔ اس کا کوئی ہم نام یا ہم سر نہیں ، اس کی کوئی شبیہ یا اس کا کوئی ثانی نہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} اس کی مثل کوئی نہیں ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔[الشورى: 11]
اللہ تعالی کے خصوصی ناموں میں سے "خالق" اور "الخلّاق" ہیں۔ پیدا کرنا اللہ تعالی کی صفت اور فعل ہے، یہ ایسی صفت ہے جو اللہ تعالی کے سوا کسی اور کے لائق نہیں۔ اللہ تعالی کا خالق ہونا واضح ترین علم ہے۔ اللہ تعالی کا خالق ہونا ہر حقیقت کی بنیاد ہے کیونکہ تمام کی تمام موجودات اسی کے ایجاد اور پیدا کرنے کی وجہ سے ہیں۔ وہی پیدا کرتا ہے اور جانتا ہے، اسی لیے تمام اقوام اس کے خالق ہونے کی قائل رہی ہیں، نیز اللہ تعالی نے شرک و کفر کرنے والوں پر اسی صفت کو حجت بنایا اور فرمایا: {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ} کیا انہیں عدم سے وجود دیا گیا ہے یا وہ [اپنے آپ کو]خود ہی پیدا کرنے والے ہیں؟[الطور: 35] 
کسی بھی چیز کا وجود اسی کی تخلیق ہے؛ کیونکہ {اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ} اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الزمر: 62] اس کی مخلوقات بہت زیادہ اور لا متناہی ہیں، تخلیق میں اس کا کوئی ثانی نہیں ، {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} اللہ برکتوں والا ہے اور وہ سب سے بہترین خالق ہے۔[المؤمنون: 14]
تمام مخلوقات اسی کے تسلط اور اختیار میں ہیں، نیز اللہ تعالی نے ہر مخلوق کی معین مقدار بنائی ، {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} بیشک ہم نے ہر چیز کو خاص مقدار میں پیدا کیا ہے۔[القمر: 49]
ہر مخلوق کی تخلیق حکمت سے بھری ہوئی اور فضولیات سے مکمل طور پر منزّہ ہے: {أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ} کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف نہیں لوٹایا جائے گا؟![المؤمنون: 115]
سارا جہاں اللہ تعالی کی ربوبیت کا گواہ ہے، اور ہر چیز اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (6) وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (7) تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ} کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اسے بنایا اور آراستہ کیا اور اس میں کوئی شگاف نہیں اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی پر بہار چیزیں اگائیں [8] یہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے بصیرت اور سبق ہے [ق: 6 - 8]
مخلوقات کے بارے میں سوچ و بچار نصیحت اور عبرت کا باعث ہے، اس سے خالق کی تعظیم کیلیے رغبت پیدا ہوتی ہے ، یہ ایمان میں اضافے کا باعث بھی ہے۔
سب سے عظیم اور بڑی مخلوق رحمن کا عرش ہے، اللہ تعالی نے عظمت کو عرش کی صفت قرار دیا ہے، اور عرش کی لمبائی چوڑائی اس کو بنانے والا ہی جانتا ہے، عرش اللہ تعالی کی مخلوق ہے، {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ} یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، وہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الأنعام: 102]
اللہ تعالی نے اپنے آپ کو عرش کا پروردگار بیان کر کے اپنی تعریف بھی بیان فرمائی ہے: {رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} [اللہ] عرش عظیم کا پروردگار ہے۔[التوبہ: 129] نیز اپنی تعریف میں عرش کی ملکیت کو بھی بیان کیا کہ میں ہی اس کا مالک ہوں اور فرمایا: {رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ} بلند درجوں والا اور عرش والا ہے۔ [غافر: 15] اس کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی عرش عظیم کا مالک ہے جو کہ تمام مخلوقات سے بلند و بالا ہے"
اللہ تعالی نے اسے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے پیدا کیا تھا: {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا} وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے [هود: 7]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی موجود تھا اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اللہ کا عرش پانی پر تھا، پھر اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور ذکر [یعنی لوح محفوظ] میں ہر چیز لکھ دی) بخاری
عرش غیبی چیز ہے یعنی ہم اسے دنیا میں نہیں دیکھ سکتے، تاہم اللہ تعالی نے ہمیں اس کی کچھ صفات کے بارے میں بتلایا ہے تا کہ اللہ پر ایمان پختہ ہو اور یہ بات بھی ذہن میں محکم ہو جائے کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق سے بلند ہے۔ چنانچہ عرشِ الہی پورے جہان پر قبے کی طرح ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرش کو ایسے ہی بیان کیا اور فرمایا: (بیشک اللہ کا عرش آسمانوں کے اوپر ایسے ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے ساتھ قبے کی طرح کا اشارہ فرمایا۔ ابو داود
عرش سب سے اعلی اور بلند مخلوق ہے ،وہ تمام مخلوقات کے لیے چھت بھی ہے، اللہ تعالی نے عرش کو اپنا خصوصی قرب دیا، اس سے بڑھ کر کوئی مخلوق اللہ کے قریب نہیں نیز چونکہ اللہ تعالی پاکیزہ ذات ہے لہذا اس کے قریب بھی پاکیزہ چیز ہی ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالی نے عرش کو پیدا فرما کر اسے اپنی تمام مخلوقات سے امتیازی بلندی عطا فرمائی ہے، ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "عرش تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے، تمام آسمان ،زمینیں ، ان کے درمیان اور ان کے اندر کی ہر چیز عرش سے نیچے ہیں، سب کی سب اللہ تعالی کے اختیار ، قدرت اور علم میں گھری ہوئی ہیں، اللہ تعالی کے تخمینے ہر چیز پر درست ثابت ہوتے ہیں اور وہ ہر چیز کا کار ساز ہے"
اللہ تعالی نے آسمان کو بزرگی سے موصوف فرمایا: {ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد} وہ بزرگی والے عرش کا مالک ہے (1) [البروج: 15] عرش کی بزرگی کا مطلب یہ ہے کہ یہ عرش بہت بڑا ہے، اس کی شان بہت اعلی ہے، بہت ہی معزز ہے، اس میں بہت سی خوبیاں ہیں مخلوقات میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں، اس کا منظر اور شکل و صورت انتہائی لبھانے والی ہے۔
عرش سب سے وزنی مخلوق ہے، ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے صبح سویرے فجر کی نماز کے وقت گزرے تو سیدہ جویریہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھی تھیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت کے بعد واپس آئے تو تب بھی سیدہ جویریہ وہیں بیٹھیں تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (کیا آپ اس وقت سے اسی حالت میں بیٹھی ہیں جس حالت پر میں چھوڑ کر گیا تھا؟) انہوں نے کہا: "جی ہاں" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں نے تمہارے بعد چار جملے تین بار کہے ہیں اگر انہیں اب تک کے تمہارے کیے ہوئے اذکار سے تولا جائے تو میرے جملے تمہارے اذکار سے وزنی ہو جائیں گے: "سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ " )مسلم
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس سے واضح ہوتا ہے کہ عرش کا وزن سب سے زیادہ ہے۔"
عرش کو اٹھانے کے لیے اللہ تعالی نے چار بہت بڑے بڑے فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے، یہ فرشتے ہر وقت اللہ تعالی کی تسبیح، ثنا اور مومنوں کیلیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔
عرش کے گرد و پیش موجود فرشتوں کا کام ہی ذکر اور دعا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ [الزمر: 75]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاؤں میں کثرت سے وسیلہ دیتے کہ اللہ عرش کا پروردگار ہے، عرش کی تخلیق پر اللہ کی ثنا بیان کرتے اور مصیبت کے وقت اللہ تعالی کی اس صفت کا واسطہ دیتے ہوئے دعا فرماتے: " لَا إِلَه إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيْمُ الْحَلِيْمُ، لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ العَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَواتِ ، وَرَبُّ الْأَرْضِ ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ " متفق علیہ
کل مخلوقات کے فنا ہو جانے پر اللہ تعالی نے عرش کو خصوصیت بخشی کہ وہ باقی ہی رہے گا، چنانچہ عرش ان مخلوقات میں شامل نہیں ہے جنہیں قیامت کے دن مٹھی میں لیا جائے گا یا لپیٹ دیا جائے گا، نیز اہل سنت کا اتفاق ہے کہ عرش فنا نہیں ہوگا۔ 
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "عرش اللہ تعالی کی ان مخلوقات میں شامل نہیں جو چھ دن میں پیدا کی گئیں، اللہ تعالی عرش کو شق نہیں فرمائے گا اور نہ ہی اسے ختم کرے گا، بلکہ مشہور احادیث بھی قرآن مجید کی طرح اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ عرش باقی رہے گا"
آخرت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالی مخلوقات کے مابین فیصلے کیلیے آئے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ}اور تیرے رب کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے[الحاقہ: 17]
جس وقت لوگ انبیائے کرام سے شفاعت طلب کریں گے تو تمام انبیائے کرام قیامت کی سختی اور ہولناکی کی وجہ سے شفاعت کرنے سے معذرت کر لیں گے، تو پھر لوگ سید الخلق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں گے، اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (وہ میرے پاس آئیں گے، پھر میں عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر کہا جائے گا: "محمد! سر اٹھائیں، شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، مانگیں آپ کو دیا جائے گا") متفق علیہ
جس وقت محشر میں لوگوں کی تکالیف بڑھ جائیں گی، سورج سر کے ایک میل قریب آ جائے گا تو اللہ تعالی اپنے چنیدہ بندوں کو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا،
 آپ ﷺ کا فرمان ہے: (سات قسم کے افراد کو اللہ تعالی عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: 1) عادل حکمران، 2) اپنے پروردگار کی عبادت میں پروان چڑھنے والا نوجوان، 3) ایسا آدمی جس کا دل مسجد سے جڑا ہوا ہو 4) دو ایسے آدمی جو اللہ کیلیے آپس میں محبت کرتے ہو اسی پر ملیں اور جدا ہوتے ہوں5) ایسا آدمی جس سے جاہ و جمال والی خاتون بدکاری کا مطالبہ کرے اور وہ کہہ دے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں 6) ایسا شخص جو صدقہ کرتے ہوئے اتنا خفیہ انداز اپنائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا؟ 7) ایسا شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو اس کی آنکھیں نم ہو جائیں) متفق علیہ
جنت کے مختلف درجے ہیں ان میں سب سے اعلی جنت الفردوس ہے اور اس کی چھت رحمن کا عرش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب بھی اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگو؛ کیونکہ یہ سب سے بہترین اور بلند ترین جنت ہے، اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔) بخاری
ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!اگر اللہ کا عرش اتنا عظیم اور بڑا ہے تو پھر اللہ تعالی کی ذات اس سے بھی بڑی اور عظیم ہے، وہ ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اسے کوئی چیز اپنے گھیرے میں نہیں لے سکتی، وہ ہر چیز پر غالب ہے اس پر کوئی چیز غالب نہیں، وہ اتنا خفیہ ہے کہ مخلوق تک رسائی سے اسے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ مخلوق کی شان اصل میں اللہ تعالی کی عظمت اور کبریائی کی دلیل ہے، مخلوق کی عظمت اللہ تعالی کی شان و شوکت کی دلیل ہے، ایک مسلمان کے لیے ایمان بالغیب اور یقین شرف کی بات ہے، اسی پر ایمان کا دار و مدار ہے، اللہ تعالی نے اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: {يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ [البقرة: 3] پھر غیب پر ایمان لانے والوں کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی: {أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔[البقرة: 5]
ایمان بالغیب، خشیت، عظمتِ الہی کے اقرار اور اطاعت کی وجہ سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے، انسان کی شرح صدر ہوتی ہے، دنیاوی اور اخروی سعادت حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالی اپنی شایان شان کیفیت کے ساتھ عرش پر مستوی ہے، اور یہ عظیم ترین مخلوق [یعنی عرش] پر خاص علو ہے، {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} رحمن عرش پر مستوی ہے۔[طہ: 5] 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کے عظیم پیغام کی وجہ سے آپ کو مکہ سے مسجد اقصی لے جایا گیا، پھر وہاں سے انہیں ساتویں آسمان تک اوپر لے جایا گیا، آپ نے محرر فرشتوں کے قلموں کے چلنے کی آواز بھی سنی۔
اللہ تعالی نے مسجد اقصی کا مقام و مرتبہ واضح کرنے کی غرض سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسرا کے لیے اسے منتخب فرمایا، وہیں سے آپ کا سفرِ معراج شروع ہوا، مسجد اقصی کو انبیائے کرام نے بنایا ہے، یہ قبلہ اول اور مسجد الحرام کے بعد بنائی جانے والی دنیا کی دوسری مسجد ہے، نیز مسجد اقصی ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن کی جانب ثواب کی نیت سے رخت سفر باندھ سکتے ہیں، یہیں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے انبیائے کرام اور رسولوں کی امامت کرواتے ہوئے نماز پڑھائی، اللہ تعالی نے اس مسجد میں اور اس کے ارد گرد خطے کو بابرکت بنایا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ} [مسجد اقصی] جس کے آس پاس ہم نے برکت فرمائی۔[الإسراء: 1]
بیت المقدس اور اس کے آس پاس کے علاقے کی جانب لوگ محشر کے لیے جمع ہوں گے۔ مسجد اقصی سے محبت دین اور ایمان کا حصہ ہے، نیز مسجد اقصی کی تعظیم اللہ تعالی کی تعظیم میں بھی شامل ہے، جس وقت سے انبیائے کرام کی یہ مسجد قید میں ہے اس وقت سے وہاں کے حالات مایوس کن ہیں، وہاں سے المناک خبریں آتی ہیں، در ناک مسائل وہاں پر کھڑے کر دئیے گئے ہیں، مسجد اقصی کی عمارت کی بے حرمتی اور اسے جلا دیا جاتا ہے۔ نمازوں اور ذکرِ الہی سے منع کیا جاتا ہے، مسجد کے احاطے میں عبادت گزاروں کا قتل عام اور انہیں تکلیفیں دی جا رہی ہیں، اللہ کے اس پر امن گھر کو دہشت اور وحشت کی جگہ میں بدل دیا گیا ہے۔
اللہ تعالی مسجد اقصی کو دوبارہ مسلمانوں کو لوٹانے پر قادر ہے کہ مسلمان مسجد اقصی کو عبادت گزاری اور ذکر الہی سے آباد کریں ، لیکن اس کے لیے مسلمانوں کو اللہ تعالی کے احکامات کی پابندی کرنی ہو گی؛ کیونکہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے: {إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ} اگر تم اللہ کی مدد کرو تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔[محمد: 7]
اللہ تعالی سعودی حکمرانوں کو جزائے خیر سے نوازے کہ انہوں نے اس مسئلے کے حل کیلیے بھر پور کاوشیں کیں۔
یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا قوی! یا عزیز! یا اللہ! مسلم خطوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! خونِ مسلم کی حفاظت فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔ یا ذو الجلال والاکرام! یا اللہ! تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر اپنی جانب متوجہ فرما لے۔ آمین!!

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)از- ابویحییٰ
ہمارے ملک میں سیاست عوام کی دلچسپی کا ایک بہت اہم موضوع ہے۔ شام سات سے رات بارہ تک جس طرح ہمارے ہاں ٹالک شو دیکھے جاتے ہیں ، دنیا میں کم ہی کہیں دیکھے جاتے ہوں گے۔ یہی معاملہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر سیاسی امور کا ہے۔ ایسے میں نواز شریف صاحب کی برطرفی جیسے واقعات کے ساتھ عوام کی دلچسپی سیاسی امور میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
سیاست اور سیاستدانوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ احتسابِ غیر میں زندہ رہتے ہیں۔ دوسروں کی ہر خامی کو نمایاں کرنا اور اپنی ہر خرابی کو دوسروں کی کمزوری کی آڑ میں چھپانا سیاست میں ایک فن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر فکری رہنما جن کا کام قوم کے مزاج کی اصلاح ہوتا ہے، عملی یا نظری سیاست سے پوری طرح وابستہ رہے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے بھی قوم میں اسی مزاج کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ خود دین اسلام کی حقیقت ہمارے ہاں احتساب کائنات قرار پائی ہے۔ جبکہ قرآ ن مجید دین کا مقصد اپنی ذات کا تزکیہ بیان کرتا ہے جو احتساب ذات سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر سے۔
سیاسی اور فکری قائدین کا پیداکردہ یہی وہ مزاج ہے جس میں ہمارے ہاں افراد میں احتساب ذات یعنی اپنی غلطی کے اعتراف اور اپنی اصلاح کا مزاج نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں ہر شخص دوسرے کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی سولی پر چڑھانا پسند کرتا ہے، مگر خود کبھی اس کے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ دوسروں کی صداقت اور امانت کو چیلنج کرتے ہیں، مگر اپنے کذب و خیانت سے ہمیشہ بے پروا رہتے ہیں۔
یہ رویہ کچھ چالاک، چرب زبان اور طاقتور لوگوں کو عارضی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، مگر اجتماعی طور پر قوم اور انفرادی طور پر فرد کی آخرت کے لیے یہ رویہ تباہ کن ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں غلطی کا اعتراف کرکے اصلاح کا جذبہ عام ہو ۔ قیامت کی نجات انھی لوگوں کا مقدر ہے جو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں نواز شریف صاحب کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی بنیاد پر عہدے سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اس فیصلے کی صحت و عدم صحت پر بحث چھڑگئی۔ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ باقی لوگ کون سے دودھ سے دھلے ہیں۔ مگر کتنے لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد اس احساس سے تڑپ اٹھے ہوں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کا احتساب شروع کریں گے۔ ان کے دل کا ہر خیال، تنہائی میں کیا گیا ہر کام، خفیہ طور پر کی گئی ہر گفتگو، رائی کے دانے کے برابر کیاگیا ہر کام، خلوت وجلوت کی ہر مشغولیت دن کی روشنی کی طرح سب کے سامنے آجائے گی۔
لوگوں کو اگر لازمی طور پر ہونے والے اس احتساب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی رسوائی اور سزا کا معمولی اندازہ بھی ہوجائے تو ان کا سکون ختم ہوجائے گا۔ وہ دوسرا کا احتساب کرنا بھول جائیں گے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ بن جائے گا کہ وہ روزِقیامت عالم الغیب رب کی پکڑ سے بچ جائیں۔ ان کا پورا وجود سراپا توبہ و استغفار بن جائے گا۔
یہی وہ لوگ ہیں جو کسی معاشرے میں پیدا ہونے لگیں تو پھر صداقت و امانت عام ہوجاتی ہے۔ لوگ کرپشن اور ظلم کی ہر قسم سے دور رہتے ہیں۔ لوگ اپنی زبان، نگاہ اور ہاتھ پاؤں کو خدا کی امانت سمجھ کران کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور اختیار کو ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگ پیدا ہواجائیں تو پھرآئین میں کسی آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر شخص اپنا محتسب خود بن جاتا ہے۔
مگر جب احتساب غیر کا مزاج پیدا ہوجائے تو پھر ہر شخص دوسروں کا احتساب کرتا ہے اور اپنے احتساب کا کبھی موقع نہیں آنے دیتا۔ ہر شخص دوسروں کی آنکھ کا تنکا ڈھونڈتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر اسے نظر نہیں آتا۔ ایسے معاشرے میں صادق و امین تو کوئی نہیں ہوتا، مگر پکڑا صرف وہ جاتا ہے جو کسی طاقتورکے نیچے آجائے۔باقی لوگ اپنی زندگی منافقت کے ساتھ گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کی پکڑ آتی ہے اور قوم کی دنیا اور فرد کی آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔
Inzaar.org

مسجد اقصیٰ کی پکار - خطبہ جمعہ بیت اللہ

کہاں ہیں خالد اور ایوبی، مسجد اقصیٰ کی پکار - خطبہ جمعہ بیت اللہ
ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی نے مسجد اقصیٰ کے علاقے کو بابرکت بنایا ہے، اسی نے نافرمانوں کو نامراد کیا کیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور ان گنت نوازشوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔
اے مسلمانو!
جو شخص تاریخ کے واقعات پر نظر دوڑاتا ہے اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم حکمت پر آن ٹھہرتی ہے۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کا چناؤ اور انتخاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں حضرت جبریل کو چنا، انسانوں میں سے انبیاء کو چنا، انبیاء میں سید الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور جگہوں میں سے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کو چنا۔ اللہ رب العالمین نے مسجد اقصیٰ کو بلندی اور پاکیزگی سے متصف فرمایا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے‘‘ (مؤمنون: 50)
توحید ورسالت کی گواہی کے بعد جب اہم ترین اسلامی فریضہ، یعنی نماز، کا حکم نازل ہوا تو اس میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا کہا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے تیرہ برس اور مدینہ منورہ کے پہلے سترہ مہینے اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ پھر قرآن کریم میں مسجد حرام کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم نازل ہو گیا۔ ان دونوں مسجدوں کا تعلق بہت پرانا، گہرا، دینی اور تاریخی ہے۔ یہ زمین پر پہلی دو مسجدیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ
سیدنا ابو ذر غفاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام! انہوں نےپوچھا: اس کے بعد کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد اقصیٰ‘‘ سیدنا ابو ذر نے دریافت کیا کہ مسجد حرام بنائے جانے کے کتنے عرصے بعد مسجد اقصیٰ بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چالیس سال بعد‘‘ (بخاری)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح فرماتے ہیں:
’’مخلوقات اور احکام الٰہیہ کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی اور بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے میدان حشر بنایا۔ تمام لوگ بیت المقدس میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وہیں حشر کا میدان ہو گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ حشر کی جگہ اور حشر کے بعد منتشر ہونے کی یہی جگہ ہے ۔ یہ وہ مسجد ہے جو تمام شریعتوں میں مقدس ہے، تمام انبیا نے اس کا احترام کیا ہے اور اس میں اللہ کی چاروں کتابوں کی تلاوت کی گئی ہے۔زبور، تورات، انجیل اور قرآن ‘‘
اللہ اکبر! یہ ہے ان دونوں مسجدوں کا ایمانی اور تاریخی تعلق۔ دونوں نبوت کی جگہیں ہیں اور دونوں دنیا کی افضل ترین جگہیں۔
دینِ اسلام نے اس تعلق کو مضبوط تر اور اس رشتے کو مزید طاقتور بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’سفر کر کے جانا صرف تین ہی مسجدوں کے لیے درست ہے۔ مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی)‘‘ (بخاری)
اسی طرح فرمایا:
’’مسجد حرام میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں میں پڑھی گئی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں پر پڑھی گئی ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی ایک نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔‘‘ (طبرانی)
بھلا مسلمان اس سرزمین سے تعلق کیوں نہ جوڑیں جبکہ یہ انبیا اور رسولوں کی سرزمین ہے۔ اسی پر ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، لوط ، داؤد ، سلیمان ، صالح ، زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ رہے اور اسی بنی اسرائیل کے بہت سے ایسے انبیاء بھی رہے کہ جن کا ذکر ہم نہیں پاتے۔
اے امتِ اسلام!
؁05 ہجری میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ وہاں کے پادریوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی کنجیاں خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہ کریں گے۔ ہم اپنی کتابوں میں ان کا ذکر پاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور بیت المقدس کی کنجیاں حاصل کیں۔
تاریخ میں روشن لفظوں سے لکھا ہے کہ حضرت عمر نے کوئی چرچ، کلیسہ، عبادت گاہ گرائی اور نہ کوئی گھر توڑا، بلکہ دوسروں کی عبادت گاہیں سلامت رکھیں اور اہل علاقہ کے لیے عمومی امان کا عہد نامہ لکھا اور لوگوں کو اس پر گواہ بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان دورِ حکومت میں یہودی اور عیسائی ایسی بہترین زندگی گزارتے رہے، جس کی مثال کسی دوسرے دورِ حکومت میں نہیں ملتی۔ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی عبادت سرانجام دیتے رہے۔
تاریخ زمانے کے لیے آئینہ ہے، یہ حال میں ماضی دکھانے والا دریچہ ہے اور یہی حال میں مستقبل دکھانے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں گزرا کہ جس کے بارے میں ہماری شرعی نصوص، تاریخی حقوق اور تہذیبی وابستگی یوں اکٹھی ہو گئی ہوں، جس طرح اس مسئلے میں یہ اکٹھی ہیں۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اسلامی مسئلہ ہے۔ تازہ مسائل یا لڑائیوں میں اسے بھلانا نہیں چاہیے۔
یہ پہلا قبلہ، تیسری مقدس مسجد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے معراج کا مسئلہ ہے۔ یہ اقصیٰ مبارک کا مسئلہ ہے کہ جو ہر مسلمان کے دل میں رہنا چاہیے اور اس کے بارے میں کوئی سودا بازی یا دستبرداری کی بات نہیں ہونی جاہیے۔
گزشتہ حالات پر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل افسوس میں ڈوب جاتا ہے۔ سنو! ہماری مقدسات کے بارے میں کوئی سودا بازی قابل قبول نہیں! ہمارے دین کے معاملے میں کوئی پیچھے ہٹنا روا نہیں۔
حالیہ حالات نے ہمارے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ کہاں ہیں خالد اور صالح؟ کیا ہمارے مقدس مقامات مسلسل چیختے رہیں گے، کیا ہمیں قدس ہمیشہ ہی بلاتی رہے گی، فلسطین مدد کا منتظر رہے گا اور اقصیٰ مدد کے لیے پکارتی رہے گی؟ اور ہم اپنی زندگی میں مگن ہی رہیں گے، ہمیں کبھی سکون بھی نصیب ہو گا یا یوں ہی بہتے بہتے ہمارے آنسو خشک ہو جائیں گے؟ 
اللہ کی قسم! کہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! مسجد اقصیٰ ظالم، جابر اور سرکش یہودیوں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ہمارے دل افسوس سے بھر جاتے ہیں اور ہماری نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے مسلمانوں کے قبضے میں واپس لوٹا کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرمائے! آج جو اس میں ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمارے دل افسوس اور غم سے بھر جاتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے، مسجد اقصیٰ کی مصیبت ہماری مصیبت ہے اور مسجد اقصیٰ کی مشکل ہمارے دلوں مشکل ہے۔
امت کے احوال درست کرنا اور اسے مشکلات سے نکالنا ساری امت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور علم، عقل اور حکمت کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ ہو جائے جو اس نے ہم سے کیا ہے۔
ہم پر امید ہیں کہ امت کی مصیبتیں گرما کے بادلوں کی طرح جلد ہی بکھر جائیں گی۔ نصرت تو اسلام اور اہل اسلام ہی کے لیے ہے۔ اہل اسلام اس خوشخبری سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں۔ ہم اللہ تعالیٰ ہی سے نصرت اور عزت کا سوال کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے کی، قیادت کی اور مقدس مقامات کی دشمنان اسلام سے حفاظت فرمائے! میرا رب دعا سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘ (حج: 40-41)۔
تمام اہل اسلام کا فرض ہے کہ مسجد اقصیٰ اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کی کوشش کریں اور ان کے لیے نصرت اور ثابت قدمی کی دعا کریں۔
’’یہ اس نبی کا پہلا قبلہ ہے کہ جس کے دین کے بعد پچھلے تمام ادیان ختم ہو گئے۔ اس میں سرکش شیر بن گیا ہے۔ وہ اپنے دل میں دشمنی اور عداوت لیے ہوئے ہے اور اس کا سینہ حسد سے کھول رہا ہے۔ جبکہ اقصیٰ درد بھری نظریں لیے ادھر اُدھر دیکھ رہی ہے۔ اس کا صحن جھلس رہا ہے۔ اے قدس! صبر کر! آپ کی نصرت آنے والی ہے! اے قربانیوں کے شہر! چور ہمیشہ بزدل ہی ہوتا ہے‘‘
اے اہلِ قدس! اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو بابرکت بنائے! آپ کی مرادیں پوری فرمائے! میرا رب رحیم اور بڑا نرم ہے۔
ترجمہ: محمد عاطف الیاسنظر ثانی: حافظ یوسف سراجبشکریہ، پیغام ٹی وی۔

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟اقتباس خطبہ جمعہ مسجد نبوی
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 27-شوال- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ پر سکون اور خوشحال زندگی ہر انسان کا ہدف ہے ، لیکن اسے پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالی کے احکامات کے تابع کر دے، اپنا عقیدہ مضبوط بنائے، اللہ کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
خطبے کا اقتباس پیش ہے:
تمام  تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سعادت مندی اور مسرتیں اپنے اطاعت گزار بندوں کے لیے لکھ دی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی پہلے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کا معبود ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے بندے  اور تمام انبیاء میں افضل ترین ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
ذہنی سکون، دلی اطمینان اور سعادت  پوری انسانیت کے مقاصد میں شامل ہے، یہ ساری بشریت کا  ہدف ہے، سب لوگ انہیں حاصل کرنے کیلیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خوب کوشش  اور تگ و دو کرتے ہیں، لیکن انسان جتنی بھی کوشش کر لے اس کے لیے دنیا کی جتنی مرضی رنگینیاں جمع کر لے، خواہشات نفس  پوری کرنے کے لیے جتنی بھی دوڑ دھوپ کر لے، انہیں یہ سب ملنے والا نہیں ہے  وہ تو اس کی راہ کے راہی بھی نہیں بن سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خوشحال اور  زندگی میں لہر بہر کی تمام تر صورتوں کا راز خالق انسانیت کے اس فرمان میں پنہاں ہے:  فرمانِ باری تعالی ہے:{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ } جو مرد یا عورت ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی بسر کرائیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے[النحل: 97]
 اس آیت کریمہ میں محقق مفسرین کے ہاں "خوشحال زندگی" سے مراد دنیا کی زندگی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی  میں ملنے والی مسرتیں، خوشیاں، راحتیں اور نعمتیں اس کے علاوہ ہیں۔
اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (مومن کا معاملہ تعجب خیز ہے کہ اس کا سارے کا سارا معاملہ ہی  خیر والا ہے، اور یہ خوبی صرف مومن کے ساتھ خاص ہے۔ چنانچہ اگر مومن کو تکلیف پہنچے تو مومن اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ تکلیف اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے۔ اور اگر مومن کو خوشی ملے تو وہ اس پر شکر کرتا ہے تو یہ خوشی اس کیلیے بھلائی کا باعث بن جاتی ہے) مسلم
یہ ایمان ہی ہے جو انسان کو ملی ہوئی معمولی دنیا پر بھی خوش کر دیتا ہے، اللہ تعالی کی عنایت پر راضی کر دیتا ہے، اور اللہ تعالی کی نوازشوں پر قناعت پسند بنا دیتا ہے۔
چنانچہ مسرتوں اور نعمتوں سے بھر پور کامیابی صرف ایسے ہی ممکن ہے جیسے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمائی ہے: (یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا  جو اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر دے ، اللہ تعالی اسے ضرورت کے مطابق رزق دے، نیز اللہ تعالی اسے جو کچھ بھی عنایت کرے اس پر قناعت عطا کر دے) مسلم
دل ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو تو اسے جوڑنے کے لیے صرف اللہ تعالی سے لگاؤ ہی کار گر ثابت ہوتا ہے۔ دل وحشت زدہ ہو تو اس کی تنہائی اللہ تعالی سے محبت کے ذریعے ہی  ختم ہوسکتی ہے۔ دل کے غموں کو  وحدانیتِ الہی  اور معرفت الہی سے زائل کیا جا سکتا ہے۔
لہذا اگر کوئی شخص ابدی راحت  اور قلب و جان  میں ظاہری و باطنی دائمی خوشحالی کا متمنی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے نفس کو اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ڈھال لے، اپنی زندگی  کے ہر گوشے کو اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے تو پھر وہ اس دنیا میں بھی مختلف نعمتوں کے مزے لوٹے گا اور آخرت میں بھی، فرمانِ باری تعالی اسی کے بارے میں  کہ : {إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} بیشک نیک لوگ  نعمتوں میں ہوں گے۔ [الانفطار: 13]
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جس وقت انسان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس پر اپنے دو سپاہی مسلط کر دیتا ہے یہاں تک بندہ توبہ نہ  کر لے: پہلا سپاہی: "غم" اور دوسرا سپاہی "پریشانی"۔
اس لیے مسلمانو! اپنے دل کا تعلق صرف اللہ تعالی سے بناؤ، اپنے پروردگار کے بارے میں حسن ظن رکھو، اگر تم متقی اور پاک صاف بن جاؤ تو تمہیں سعادت مندی اور خوشحالی نصیب ہو گی۔
محصور وہ ہے جس کا دل پروردگار سے  روک دیا جائے، اسیر وہ ہے جو اپنی خواہشات کا اسیر ہو، پریشان  وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں میں ملوّث کر لے، مغموم وہ ہے جو اپنے نفس کو تباہ کن گناہوں اور شرعی خلاف ورزیوں میں ڈبو لے۔
کسی صاحب معرفت کا کہنا ہے کہ:  "دنیا میں سے مسکین لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن دنیا کی بہترین چیز سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ کہا گیا: وہ کیا چیز  ہے؟ تو بتلایا: اللہ کی محبت، اللہ کے ساتھ انس، اللہ سے ملنے کا شوق، صرف اسی کی جانب متوجہ ہو کر بقیہ ہر چیز سے رو گردانی کا لطف"
فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}  یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا  اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ [الأحقاف: 13]
اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

آٹھ مصیبتیں


》 وہ آٹھ مصیبتیں جو انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں 《منقول
کوئی بندہ جب اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتا ہے… یا کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر بہت سی مصیبتیں آتی ہیں…مگر ان مصیبتوں میں سے ’’آٹھ‘‘ بہت خطرناک ہیں …یہ آٹھ مصیبتیں انسان کی زندگی برباد کر دیتی ہیں اور اس کی آخرت کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں…اس لئے ہمیں سکھایا گیا کہ ہر دن صبح اور شام ان آٹھ مصیبتوں سے بچنے کی دعاء مانگا کریں …عجیب بات یہ ہے کہ …شیطان ان آٹھ مصیبتوں کے تیر…ہر صبح اور ہر شام ہم پر چھوڑتا ہے…پس جو انسان صبح شام اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے…وہ بچ جاتا ہے…اور جو یہ پناہ نہیں پکڑتا وہ ان تیروں میں سے کسی ایک یا زیادہ تیروں کا شکار ہو جاتا ہے…وہ آٹھ مصیبتیں یہ ہیں:
(1) ’’الھم ‘‘ یعنی فکر میں مبتلا ہونا(۲)’’الحزن‘‘ یعنی غم میں جکڑا جانا(۳ )’’العجز‘‘ یعنی کم ہمتی ، بے کاری، محرومی(۴)’’الکسل‘‘ یعنی سستی ، غفلت(۵)’’الجبن‘‘ یعنی بزدلی، خوف، دل کا کمزور ہو کر پگھلنا( ۶) ’’البخل‘‘ یعنی کنجوسی، حرص، لالچ اور مال کے بارے میں تنگ دلی(۷)’’غلبۃ الدین ‘‘ یعنی قرضے میں بری طرح پھنس جانا کہ نکلنے کی صورت ہی نظر نہ آئے( ۸) ’’قھرالرجال ‘‘ یعنی لوگوں کے قہر، غضب ، غلبے اور ظلم کا شکار ہو جانا…
》قیمتی دعاء《
ان آٹھ مصیبتوں سے حفاظت کی دعاء… کئی احادیث مبارکہ میں آئی ہے… صحیح بخاری میں تو یہاں تک آیا ہے کہ…رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعاء مانگتے تھے…بس اسی سے اہمیت کا اندازہ لگا لیں حضور اقدس ﷺ معصوم تھے، محفوظ تھے اور شیطان کے ہر شر سے پاک تھے… مگر پھر بھی اس دعاء کی کثرت فرماتے…ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ… حضور اقدس ﷺ دن کے وقت مسجد تشریف لے گئے تو وہاں اپنے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو بیٹھا پایا…پوچھا کہ نماز کا تو وقت نہیں پھر مسجد میں کیسے بیٹھے ہو … عرض کیا…تفکرات نے گھیر رکھا ہے…اور قرضے میں پھنس چکا ہوں… فرمایا یہ کلمات صبح شام پڑھا کرو… انہوں نے اہتمام فرمایا تو تفکرات بھی دور ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے سارا قرضہ بھی اُتار دیا …یہ دعاء الفاظ کی تقدیم تاخیر اور کچھ فرق کے ساتھ کئی احادیث میں آئی ہےدعاء کے دو صیغے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں …جو آسان لگے اُسے اپنا معمول بنا لیں…(۱) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ(۲) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِالفاظ کا ترجمہ ایک بار پھر اختصار کے ساتھ سمجھ لیں…1..’’الھم‘‘ تفکرات کو کہتے ہیں…آگے کی فکریں، پریشانیاں ، فضول پریشان کرنے والے منصوبے اور خیالات…2.. الحزن ‘‘غم کو کہتے ہیں …ماضی کے واقعات کا صدمہ اور غم ایک دم اُبھر کر دل پر چھا جائے… حالانکہ حدیث شریف میں آیا ہے … ’’کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے رہ نہیں سکتا تھا…اور جو کچھ اس سے رہ گیا وہ اسے پہنچ نہیں سکتا تھا۔‘‘(مسند احمد)یعنی جو نعمت مل گئی وہ ملنا ہی تھی اس سے زیادہ نہیں مل سکتی تھی…جو تکلیف آئی وہ آنی ہی تھی اس سے بچا نہیںجا سکتا تھا…اور جو کچھ نہیں ملا وہ نہیں ملنا تھا خواہ میں کچھ بھی کر لیتا… مطلب یہ کہ اللہ کی تقدیر پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونا…یہ غم کا علاج ہے…3..’’العجز‘‘ کا مطلب اچھے کاموں اور اچھی نعمتوں کو پانے کی طاقت کھو دینا…اس میں کم ہمتی بھی آ جاتی ہے…4..’’الکسل‘‘ کا مطلب سستی… یعنی انسان کے ارادے کا کمزور ہو جانا… میں نہیں کر سکتا … میں نہیں کرتا…5..’’الجبن‘‘ بزدلی، موت کا ڈر، اپنی جان کو بچانے کی ہر وقت فکر …اللہ تعالیٰ نے جان دی کہ اس کو لگا کر جنت پاؤ مگر ہم ہر وقت جان لگانے کی بجائے جان بچانے کی سوچتے ہیں…اللہ تعالیٰ نے جان دی تاکہ ہم اسے لگا کر…دین کو غلبہ دلائیں، اسلامی حرمتوں کی حفاظت کریں…امت مسلمہ کو عزت دلائیں… مگر ہم جان بچانے کے لئے ہر ذلت برداشت کرنے پر تیار ہو جائیں … اسے ’’ جبن ‘‘ کہتے ہیں…6.. البخل‘‘ مال کے بارے میں کنجوسی کرنا …مال سے فائدہ نہ اٹھانا… مال جمع کرنے اور گننے کی حرص میں مبتلا ہو کر …مال کا نوکر اور ملازم بن جانا…اور مال کے شرعی اور اخلاقی حقوق ادا نہ کرنا…7.. ضلع الدین‘‘ قرضے کا بری طرح مسلط ہو جانا… فضول قرضے لینے کی عادت پڑ جانا … قرضوں کے بوجھ تلے دب جانا…8.. غلبۃ الرجال یا قہرالرجال ‘‘ … لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ، رسوا ، مغلوب اور مقہور ہونا…اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی ان آٹھ آفتوں اور تمام آفتوں سے حفاظت فرمائے…اللھم آمین یا ارحم الراحمین.

Pages