کچھ دل سے

ادب کی ضرورت اور اہمیت ... خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) 21 دسمبر 2018


ادب کی ضرورت اور اہمیت۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)امام و خطیب: جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ14 ربیع الثانی 1440 بمطابق 21 دسمبر 2018ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 14 ربیع الثانی 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ادب کی ضرورت اور اہمیت" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ادب انسان کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی اور شرف کی ضرورت نہیں رہتی۔ ادب یہ ہے کہ: انسان کے گفتار اور کردار میں تقوی الہی نظر آئے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کریں، نیز ادب کو محض فصاحت و بلاغت میں محصور کر دینا مناسب نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ: ماں کا کردار ہر معاشرے میں کلیدی ہوتا ہے چنانچہ اگر آپ اپنی بیٹی کو اچھی ماں بنا دیں تو وہ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کر سکتی ہے۔ کتب احادیث میں خصوصی طور پر ادب کے عنوان کے تحت احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ ادب کا صلہ اور بدلہ بہت عظیم ہوتا ہے چنانچہ با ادب شخص کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں محلات کی ضمانت دی ہے۔ سلف صالحین ادب سیکھنے اور سکھانے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے مملکت سعودی عرب میں ہونے والی بارشوں پر اللہ کا شکر ادا کیا اور ان بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہریالی کی سیر کرنے کے آداب بھی بتلائے اور کہا کہ راستوں ، اور سائے دار جگہوں پر گندگی مت پھیلائیں یہ مذموم اعمال ہیں، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔
↲ منتخب اقتباس ↳
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ تعالی نے ہمیں کتاب و سنت کے ذریعے بہترین انداز میں ادب سکھایا، ہم پر اپنی فضل کی بہاریں برسائیں، ہمیں اپنی وسیع رحمت کے زیر سایہ رکھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، میں اسی کی جانب دعوت دیتا ہوں اور خود بھی اسی کی جانب انابت کرتا ہوں۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں، آپ کو حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا، اعلی اخلاق کے بعد کسی حسب نسب کی ضرورت نہیں رہتی، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے ، دردو و سلام کے ذریعے ہمیں وافر اجر اور عظیم ثواب ملے گا۔
مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو ؛ کیونکہ متقی کامیاب ہوں گے اور حد سے تجاوز کرنے والے بد بخت تباہ و برباد ہوں گے، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام پر۔[آل عمران: 102]
ادب انسان کا شرف ہے، ادب پر مبنی شرف کی وجہ سے حسب و نسب کے شرف کی ضرورت نہیں رہتی۔ شرف بلند ہمتی سے حاصل ہوتا ہے، بوسیدہ ہونے والی ہڈیوں سے نہیں!
مَا ضَرَّ مَنْ حَازَ التَأَدُّبَ وَالنُّهَىأَلَّا يَكُوْنَ مِنْ آلِ عَبْدِ مَنَافِ
ادب اور دانشمندی حاصل کرنے والے کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ عبد مناف کی آل میں سے نہیں ہے
شرف اور خوبی یہ ہے کہ ادب انسان کے رگ و پے میں رچ بس چکا ہو۔
زَانُوْا قَدِيْمَهُمْ بِحُسْنِ حَدِيْثِهِمْوَكَرِيْمِ أَخْلَاقٍ وَحُسْنِ خِصَالِ
بہترین لوگوں نے حسن گفتگو، اچھے اخلاق اور خوبیوں کی بدولت اپنی نسل کو قدر فراہم کی
فَطُوْبَى لِقَوْمٍ أَنْتَ فَارِعُ أَصْلِهِمْوَطُوْبَاكَ إِذْ مِنْ أَصْلِهِمُ أَنْتَ فَارِعُ
آفرین ہے تمہارے خانوادے پر جس کے تم سپوت ہو، اور تم پر بھی آفرین ہے کہ تم ان کی اولاد ہو۔
ادب: قابل ستائش کلام اور کام کا نام ہے۔
ادب: اعلی کردار اور مذموم چیزوں کو ترک کرنے کا نام ہے۔
ادب: بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کا نام ہے۔
ادب: حسن اخلاق کو کہتے ہیں۔ فرمان باری تعالی: {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} [القلم: 4] کی تفسیر میں عطیہ عوفیؒ کہتے ہیں: "مطلب یہ ہے کہ: آپ بہت عظیم ادب کے مالک ہیں۔"
ادب: تقوی اور اطاعت الہی بجا لانے اور نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔
أَدَّبْتُ نَفْسِيْ فَمَا وَجَدْتُ لَهَابِغَيْرِ تَقْوَى الْإِلَهِ مِنْ أَدَبِ
میں نے اپنے آپ کو با ادب بنانا چاہا تو مجھے تقوی الہی کے علاوہ کہیں بھی ادب نہیں ملا۔
مجاہدؒ اللہ تعالی کے فرمان: {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ} [التحريم: 6] کی تفسیر میں کہتے ہیں: "اپنے آپ اور اہل خانہ کو تقوی الہی کی تلقین کرو اور اسی کے ذریعے انہیں با ادب بناؤ"
قَدْ يَنْفَعُ الْأَدَبُ الْأَحْدَاثَ فِيْ مَهَلٍوَلَيْسَ يَنْفَعُ عِنْدَ الْكَبْرَةِ الْأَدَبُ
نو عمر افراد کو ابتدا میں ادب سکھانا مفید ہو سکتا ہے، لیکن بڑھاپے میں نہیں ۔
إِنَّ الْغُصُوْنَ إِذَا قَوَّمْتَهَا اعْتَدَلَتْوَلَنْ يَّلِيْنَ إِذَا قَوَّمْتَهُ الْخَشَبُ
کیونکہ گیلی ٹہنی کو سیدھا کرو تو سیدھی ہو جائے گی، لیکن لکڑی بن جانے کے بعد سیدھی نہیں ہوگی
لَيْسَ الْجَمَالُ بِأَثْوَابٍ تُزَيَّنُنَاإِنَّ الْجَمَالَ جَمَالُ الْعِلْمِ وَالْأَدَبِ
پہنا ہوا لباس ہمیں خوبصورت نہیں بناتا، انسان خوبصورت تو علم اور ادب سے بنتا ہے۔
[عربی زبان میں ادب دعوت دینے کے معنی میں مستعمل ]تو ادب کو ادب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ لوگوں کو اچھے کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی دعوت دیتا ہے۔
ادب: اچھی گفتگو، خوبصورت کلام، چاشنی بھری بات، حسین عبارت، بہترین تعامل اور روح و اخلاقیات کی عمدگی کا نام ہے۔
ادب صرف فصاحت، بلاغت، علوم و فنون پر دسترس، اور اشعار یاد ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ ادب کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ دوسروں پر اللہ کی نعمتوں سے خوش ہو۔ حسد اور کینے سے اپنے آپ کو پاک صاف رکھے۔ جس با ادب شخص کی عقل کامل ہو جائے تو وہ کم بولتا ہے اور زیادہ خاموش رہتا ہے، اس کے بول میٹھے ہو جاتے ہیں اور اس کی برد باری عیاں ہوتی ہے۔
وَكُنْ كَرِيْمًا، حَلِيْمًا، عَاقِلًا، فَطِنًامُنَزَّهَ الْخُلْقِ عَنْ طَيْشٍ وَعَنْ غَضَبِ
تم سخی، حلیم، عقل مند اور فطین بنو، طیش اور غصے سے یکسر دور رہو
وَصُنْ لِسَانَكَ مِنْ هَجْوٍ، وَمِنْ سَفَهٍوَمِنْ مُجَاوَرَةَ الْأَوْبَاشِ، وَالْكَذِبِ
اپنی زبان کو ہجو اور بیوقوفانہ کلام سے محفوظ رکھو، نیز اوباشوں کی صحبت سے دور رہو۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے: تین چیزوں کی بدولت اجنبیت ختم ہو جاتی ہے، مشکوک افراد سے بچاؤ، با ادب رہنا، کسی کو تکلیف نہ دینا۔
يَزِيْنُ الْغَرِيْبَ إِذَا مَا اغْتَرَبَثَلَاثٌ فَمِنْهُنَّ حُسْنُ الْأَدَبِ
مسافر شخص کی اجنبیت تین چیزیں ختم کر دیتی ہیں: اول، حسن ادب
وَثَانِيْةٌ: طِيْبُ أَخْلَاقِهِوَيَخْتِمُهُنَّ اجْتِنَابُ الرِّيَبِ
دوم: حسن اخلاق اور آخری ہے مشکوک سرگرمیوں سے اجتناب
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "با ادب شخص کامیاب اور خوش حال ہوتا ہے، جبکہ بے ادب شخص بد بخت اور تباہ حال ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کے لئے ادب کا کوئی ثانی نہیں، بعینہٖ ان سے محرومی کے لئے بے ادبی کا بھی کوئی ثانی نہیں۔ آپ والدین کے ساتھ ادب کو دیکھیں: کیسے والدین کا ادب کرنے والے کو غار سے خلاصی ملی انہیں چٹان نے محصور کر دیا تھا!؟ آپ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نماز پڑھانے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادب دیکھیں: کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش امام نہ بنے اور کہا: ابن ابی قحافہ کو زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امام بنے۔ ان کے اس ادب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہیں پوری امت کی امامت کا وارث بنا دیا!"
إِنّي لَتُطرِبُني الخِلالُ كَريمَةًطَرَبَ الغَريبِ بِأَوبَةٍ وَتَلاقي
میں اچھی خوبیوں کو دیکھ کر جھوم اٹھتا ہوں جیسے پردیسی واپس لوٹنے اور ملاقات ہونے پر جھوم جاتا ہے۔
وَتَهُزُّني ذِكرى المُروءَةِ وَالنَدىبَينَ الشَمائِلِ هِزَّةَ المُشتاقِ
مجھے مروت اور نرم مزاج خوبیوں کا تذکرہ کسی مشتاق کی طرح بے خودی میں مست کر دیتا ہے۔
فَإِذا رُزِقتَ خَليقَةً مَحمودَةًفَقَدِ اصْطَفاكَ مُقَسِّمُ الأَرزاقِ
لہذا اگر تمہیں کوئی اچھی خوبی مل جائے تو یقیناً رزق تقسیم کنندہ نے تمہیں چنیدہ بنا لیا ہے۔
فَالناسُ هَذا حَظُّهُ مالٌ وَذاعِلمٌ وَذاكَ مَكارِمُ الأَخلاقِ
کچھ لوگوں کے نصیب میں مال تو کسی کے نصیب میں علم اور کسی کو حسن اخلاق ملتا ہے۔
وَالعِلمُ إِن لَم تَكتَنِفهُ شَمائِلٌتُعليهِ كانَ مَطِيَّةَ الإِخفاقِ
تو اگر علم اچھے اخلاق کے زیر سایہ نہ ہو تو یہ علم بھی تنزلی کی جانب گامزن کر دیتا ہے۔
لا تَحسَبَنَّ العِلمَ يَنفَعُ وَحدَهُما لَم يُتَوَّج رَبُّهُ بِخَلاقِ
یہ مت سمجھنا کہ صرف علم ہی مفید ہے! جب تک صاحب علم اخلاقیات سے متصف نہ ہو کوئی فائدہ نہیں!
كَم عالِمٍ مَدَّ العُلومَ حَبائِلاًلِوَقيعَةٍ وَقَطيعَةٍ وَفِراقِ
دیکھ لو کہ کتنے ہی علم رکھنے والوں نے اپنے علوم کو رخنے ڈالنے، قطع تعلقی اور دشمنی کا ذریعہ بنا دیا!
وَفَقيهِ قَومٍ ظَلَّ يَرصُدُ فِقهَهُلِمَكيدَةٍ أَو مُستَحِلِّ طَلاقِ
کتنے ہی فقیہانِ ملت نے اپنی فقاہت مکاری یا طلاق دلوانے کے لئے استعمال کیا!
الأُمُّ مَدرَسَةٌ إِذا أَعدَدتَهاأَعدَدتَ شَعباً طَيِّبَ الأَعراقِ
ماں ایک مکمل تربیت گاہ ہے، اگر تم ایک ماں کی تربیت کر دو تو تم ایک انتہائی اچھا معاشرہ تشکیل دے دو گے
الأُمُّ رَوضٌ إِن تَعَهَّدَهُ الحَيابِالرِيِّ أَورَقَ أَيَّما إيراقِ
ماں ایک گلستان ہے، اگر حیا اس کی آبیاری کرے تو بہت ہی پھل آور ثابت ہوتا ہے۔
الأُمُّ أُستاذُ الأَساتِذَةِ الأُلىشَغَلَت مَآثِرُهُم مَدى الآفاقِ
ماں ان تمام اولین اساتذہ کی بھی استاد ہے، جن کے کارناموں سے افق بھرے ہوئے ہیں۔
رَبُّوا البَناتِ عَلى الفَضيلَةِ إِنَّهافي المَوقِفَينِ لَهُنَّ خَيرُ وِثاقِ
بیٹیوں کی اچھی تربیت کریں، اس کی بدولت وہ دونوں جہانوں میں ثابت قدم رہیں گی۔
وَعَلَيكُمُ أَن تَستَبينَ بَناتُكُمنورَ الهُدى وَعَلى الحَياءِ الباقي
خیال کرنا جب تمہاری بیٹیاں اپنے گھروں کو سِدھاریں تو نورِ ہدایت اور دائمی حیا ان کی رفاقت میں ہو۔
احادیث کی کتب صحاح، سنن اور مصنفات نے ادب سے متعلقہ احادیث کا خصوصی اہتمام کیا ہے، اہل اسلام کے ہاں ان عظیم کتابوں کے مصنفین نے اپنی کتب میں ادب کے لئے خصوصی عنوان اور ابواب لکھے ہیں۔
آپ صحیح بخاری میں کتاب الادب دیکھ لیں، صحیح مسلم میں بھی کتاب الادب موجود ہے، سنن ابو داود میں کتاب الادب شامل ہے، ایسے ہی سنن ترمذی میں بھی کتاب الادب کو شامل کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادب کا اسلام میں کتنا بلند مقام اور مرتبہ ہے۔ شریعت اور احادیث میں ادب کو واضح ترین اہمیت دی گئی ہے۔
آداب اور اخلاقیات کے بارے میں احادیث کے ذخیرے میں یہ حدیث بھی ہے جسے ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں جنت کے کنارے پر ایک محل کا ضامن ہوں اس کے لئے جو حق پر ہوتے ہوئے بھی لڑائی نہ کرے، اور جنت کے وسط میں ایک محل کا ضامن ہوں اس کے لئے جو مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے، اور اعلی ترین جنت میں محل کا ضامن ہوں اس کے لئے جس کا اخلاق اچھا ہے) اس حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے۔
ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ہمیں بہت زیادہ علم کی بجائے تھوڑے سے ادب کی زیادہ ضرورت ہے"
مسلمانو!
اللہ تعالی کی نعمت کا شکر ادا کرو کہ اللہ تعالی نے تمہارے لیے ٹھنڈی ہوائیں ، بارشیں برسانے والے بادل، اور گھن گرج والی گھٹائیں تسلسل کے ساتھ بھیجیں، ان سے پیاسی زمینوں، بنجر صحراؤں، بے آب و گیاہ کھلیانوں ، خشک اور چٹیل پہاڑوں پر بارشیں ہوئیں، ان پر قحط سالی کا راج تھا، تو بارشوں کی وجہ سے سر سبز اور ہرے بھرے ہو گئے، ان پر جڑی بوٹیاں نمودار ہو گئیں، اللہ کے فضل سے تمہاری زمینیں لہلہا اٹھی ہیں، اللہ کی بارش سے تمہارے کھیت اور کھلیان آباد ہوگئے ہیں، اللہ کی رحمت سے تمہارے پہاڑ تک سبزے سے ڈھک گئے ہیں، یہ زرعی پیداوار کا سال ہوگا۔ ان پہاڑوں کا منظر بھی انتہائی سہانا ہو گیا ہے، جو کہ اللہ تعالی کی قدرت، حکمت، رحمت، فضل، رزق اور احسان کی واضح ترین دلیل ہے۔
اپنی نظروں کو اللہ تعالی کے دلفریب مناظر سے لُبھائیں، اور سیر تفریح کے آداب کو مد نظر رکھیں، لہذا کسی بھی ایسی جگہ کو گندگی سے آلودہ مت کریں جہاں پر لوگ سایہ کے لئے بیٹھتے ہوں، یا آرام کرتے ہوں یا سواریاں کھڑی کرتے ہوں، یا کوئی سر سبز جگہ ہو، یا پھل دار درخت ہو، یا پانی پینے کی جگہ ہو یا پیدل، سواری اور گاڑیوں کے چلنے کی جگہ ہو کہیں پر بھی گندگی مت پھیلائیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم لعنت کا سبب بننے والے کاموں سے بچو) تو اس پر صحابہ کرام نے کہا کہ: "اللہ کے رسول! یہ لعنت کا سبب بننے والے کام کیا ہیں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو لوگوں کے راستے یا سائے میں قضائے حاجت کرے) مسلم
یا اللہ! ہمیں اپنے لطف و کرم کے ذریعے اپنے قریب فرما لے، ہمارا امتحان مت لینا۔ یا اللہ! ہمیں اپنا اطاعت گزار اور ولی بنا لے، یا اللہ! ہمیں حلال پر اکتفا کرنے والا بنا، حرام سے بچنے والا بنا، یا اللہ! ہمیں اپنے فضل سے ہر کسی کی محتاجی سے محفوظ فرما دے، یا رب العالمین!

اکتاہٹ سے بچیے۔ خطبہ مسجد حرام (اقتباس) ۔۔۔ 14 دسمبر 2018

اکتاہٹ سے بچیے۔ خطبہ مسجد حرام (اقتباس) امام وخطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہجمعۃ المبارک 7 ربیع الآخر 1440ھ بمطابق 14 دسمبر 2018ءترجمہ: محمد عاطف الیاسبشکریہ: عمر وزیر
ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ وہی کائنات کو پیدا کرنے والا ، دنیا کی ہر چیز کو تخلیق کرنے والا ہے۔ وہی رزق بانٹنے والا ، وہی عطائیں دینے والا اور نوازشیں کرنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے، عدل کے مطابق اپنا فضل وکرم عطا فرما دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق محروم کر دیتا ہے۔ اس کی عطا کو کوئی نہیں روک سکتا اور اس کی روکی چیز کوئی دے نہیں سکتا۔ اس کے مقابلے میں کسی کی طاقت کام نہیں آ سکتی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے دیے پر راضی، اللہ کے لکھے پر قناعت کرنے والے، اچھے دنوں میں شکر کرنے والے اور برے دنوں میں صبر کرنے والے تھے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی بہت سلامتی نازل ہو۔
اے مسلمانو!
لوگوں کے رزق، آمدنی اور ان کے نصیب صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ ہی یہ چیزیں اپنے بندوں میں تقسیم کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے
امام بغوی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: یعنی وہ جس کا رزق چاہتا ہے، کشادہ کر دیتا ہے، اور جس کا چاہتا ہےتنگ کر دیتا ہے۔ وہی مکمل عدل اور حکمت والا ہے۔
یہ بھی اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے لوگوں کے رزق میں فرق رکھا ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دیا ہے۔ کسی کو دیتا ہے پھر اُسے اسی چیز سے محروم کر دیتا ہے، کبھی اس کے برعکس کر دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو پہچان نہ سکے اور ان کی ناقدری اور تحقیر کرنے لگے، پھر وہ ان سے تنگ آ جائے اوراس کا دل بھر جائے، وہ ان سے بیزار ہو جائے اور بے تابی میں رہنے لگے۔ یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمتیں چھن جائیں اور ان کی جگہ دوسری نعمتیں مل جائیں۔ اس حوالے سے ہمارے لیے پچھلی قوموں میں بہت بڑا سبق ہے۔ بنی اسرائیل نے اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ مَنُّ وسلویٰ کی جگہ کوئی اور کھانا دیا جائے، کہ وہ اس سے اکتا گئے تھے اور تنگ آ گئے تھے چنانچہ انہوں نے اس کی جگہ اس سے کم تر چیز کو اختیار کر لیا۔ ساگ، کھیرے، گندم، دال، پیاز کو پسند کر لیا۔ سب سے افضل اور شاندار کھانوں کو چھوڑ کر انہوں نے ان سےکم تر چیز کا مطالبہ کر دیا۔
اسی طرح قومِ سبأ، جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کی برکھا خوب برسائی اور مشکلات سے مکمل حفاظت عطا فرمائی، انہیں دنیا میں دو عظیم باغ عطا فرمائے، جو پھلوں سے لدے رہتے تھے، ان کے شہر کا ماحول بہترین بنایا، اسے گندگی اور غلاظت سے پاک فرمایا اور انہیں وافر رزق عطاء فرمایا۔ مگر انہوں نے اللہ کے شکر کی بجائے ناشکری اور نعمت سے اکتاہٹ کا اظہار کیا، اور یہ مطالبہ کیا کہ ان کی بستیاں دور دور کر دی جائیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ انتہائی قریب رہتے تھے ،آنا جانا انتہائی آسان تھا۔ وہ امن وامان میں بھی رہ کر تنگ پڑ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا دی اور ان پر سیلاب کا عذاب نازل کر دیا۔ ان کے باغوں کو تلف کر دیا۔ وہی جنتیں، جو دلفریب باغوں سے پھلوں سے گھنے درختوں بھری تھیں، اب بے فائدہ جھاڑیوں کا جنگل بن گئیں۔
اے مسلمانو!
اللہ کی نعمتوں سے اکتاجانا بہت بڑی آفت ہے، جس کی وجہ سے انسان کو موجودہ نعمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ جس کے بعد وہ یقینی طور پر یہ تمنا کرے گا کہ وہ اللہ کی دی گئی نعمتوں پرہی راضی رہتا۔ اس آفت کے متعلق ابن القیم علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
یہ بہت عام اور چھپی آفت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چنیدہ اور عطا کردہ نعمت انسان کو میسر ہو اور وہ اس سے اکتا جائے اور اسی اپنی جہالت کی بنا پر ایسی چیز سے تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے جسے وہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے بہتر سمجھتا ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کی جہالت کو دیکھتے ہوئے اس کے برے اختیار کو پورا نہ کر رہا ہو بلکہ اس کی بہتر نعمت ہی قائم رکھ رہا ہو، اور وہ اس نعمت سے بہت تنگ آ جائے اور تنگ دل ہو جائے اور اکتاہٹ اپنے عروج کو پہنچ جائے تو اللہ نعمت چھین لے۔ جب وہ اپنی مانگی ہوئی نعمت حاصل کر لے اور پھر گزشتہ اور حالیہ نعمت میں تقابل کرے تو وہ افسوس اور سخت ندامت کا شکار ہو جائے، پھر پچھلی چھنی نعمت کا مطالبہ کرنے لگے۔ ایسی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ انسان کو کامیابی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو وہ اسے گواہ بنا لیتا ہے کہ یہ دوسری نعمت بھی اللہ ہی کی عظیم نعمت ہے، اسی سے راضی کر دیتا ہے اور شکر کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔
امام طبرانی نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلان! تونے کس حال میں صبح کی؟ اس نے کہا، میں اللہ کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے یہی چاہتا تھا۔ یعنی کہ تم اللہ کا شکر اور اس کی حمد وثنا بیان کرو۔
جب ابن المغیرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اے ابو محمد؟ تونےکس حال میں صبح کی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی نعمتوں میں غرق، شکر سے عاجز، ہمارا پروردگار ہم سے بے نیاز ہونے کے باوجود ہمارا پیار جیتنے کی کوشش کرتا ہے اور ہم اس کے محتاج ہونے کے باوجود اسے ناراض کرتے ہیں۔
یہ ہیں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں: جب تک میرے کپڑے مجھے پورے آتے ہیں، میں ان سے کبھی نہیں اکتاتا، میری بیوی جب تک میرے ساتھ اچھی رہتی ہے، میں اس سے بھی نہیں اکتاتا، جب تک میری سواری مجھے اٹھاتی ہے، میں اس سے بھی نہیں اکتاتا۔ اکتاہٹ برے اخلاق میں سے ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا۔ اکتاہٹ واقعی بہت برا اخلاق اور مذموم صفت ہے۔ اس کی وجہ سے انسان اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے، ان سے تنگ پڑتا ہے، رزق میں اللہ کی تقسیم سے ناراض ہوتا ہے۔ یہ بات کتنی بری ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں اور عطاؤں میں ہو، اس کے باوجود وہ نعمتوں سے تنگ پڑ جائے اور نا شکری کرنے لگے۔
ابن القیم علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: انسان کے لیے اللہ کی نعمتوں سے اکتاہٹ سے زیادہ نقصان دہ چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جب انسان اکتا جاتا ہے تو وہ نعمت کو نعمت نہیں سمجھتا، اس پر شکر ادا نہیں کرتا، اس سے خوش بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس سے تنگ دل ہو جاتا ہے اور اسی کی شکایت کرنے لگتا ہے اور اسے مصیبت سمجھنے لگتا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عظیم نعمت ہوتی ہے۔
تو اے مسلمانو! لوگ موجودہ نعمتوں سے کس طرح تنگ پڑ جاتے ہیں، انہیں حقیر کس طرح سمجھنے لگتے ہیں اور کم تر نعمتوں کی تمنا کیوں کرنے لگتے ہیں جبکہ بہتر نعمتیں پہلے سے ہی ان کے پاس ہوتی ہیں؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: فلاں مجھ سے افضل کیوں ہے؟ میں دوسروں سے کم تر کیوں ہوں ؟ اگر کسی نعمت سے کچھ عرصہ سے لطف اندوز ہوتا رہے، توحقارت کے ساتھ کہنے لگتا ہے: کیا ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور نعمت نہیں ہے؟ اللہ کی نعمت سے تنگ ہو جاتا ہے، اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا اور الہ کے دیے پر قناعت نہیں کرتا۔
ایسے لوگ دنیا کو درست نگاہ سے دیکھنا کیوں نہیں جانتے؟ امام مسلم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیاوی نعمتوں کے حوالے سے کم تر لوگوں کی طرف دیکھو، بہتر لوگوں کی طرف نہ دیکھو۔ ایسا کرنے سے تم اللہ کی نعمتوں کی ناقدری سے بچ جاؤ گے۔
یعنی اگر اللہ کے دیے پر راضی ہو جاؤ گے اور دوسروں کے ہاتھ میں دی گئی نعمتوں پر نظر نہیں اٹھاؤ گے تو شکر کی توفیق ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ انسان اگر قناعت پسندی اپنا لے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اور اگر لالچ میں آ جائے تو غلام بن جاتا ہے۔
بھائیو! موجودہ صورت حال میں بہت سے لوگ اکتاہٹ کا شکار ہیں، تنگ دلی اور مایوسی کے عالم میں ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ تعلق باللہ مضبوط نہیں ہے، فرمان برداری کا فقدان ہے اور منہج الٰہی سے رو گردانی ہے۔ اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ بڑھاپے میں انسان اپنی زندگی سے تنگ پڑ جائے۔ جیسا کہ دورِ جاہلیت کے شاعر نے کہا تھا:
تھک گیا ہوں میں، زندگی کےبوجھ سے
اور جسے اسی سال جینا پڑے، میرے بھائی! وہ تنگ پڑ ہی جاتا ہے۔
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے آپ کو موت کی بد دعا دے، بھول جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خبردار فرمایا تھا۔ فرمایا:
کسی مصیبت یا تنگی کی وجہ سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر کرنی ہی ہو تو یہ کہے: اے اللہ! جب تک زندگی بہتر ہے، اسے دراز کرتا جا اور جب موت بہتر ہو تو مجھے اپنے پاس بلا لے۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
لوگ وہ بھی ہیں جو اپنے والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ احسان کر رہے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ نیکی کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ رہنے کو نا پسند کرنے لگتے ہیں اور ان کی صحبت سے تنگ ہو جاتے ہیں۔ ان کے احسانوں اور ان کے ساتھ تعلق تک کے منکر ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ دشمنی کرنے لگتے ہیں، انہیں اذیت دینے لگتے ہیں، ان سے تنگ پڑنے لگتے ہیں، انہیں نازیبا الفاظ اور جملے سنانے لگتے ہیں، ان کے احساسات مجروح کرنے لگتے ہیں، ان کے فضائل بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کون سی گستاخی ہو سکتی ہے؟ کیا اس نا شکرے کو والدین کے حقوق کا کوئی علم نہیں؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ برا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
ایسےلوگ بھی ہیں جو قرآن کریم سیکھنا شروع کرتے ہیں یا دینی علوم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جلد ہی تنگ پڑ جاتے ہیں اور راستے کو طویل سمجھنے لگتے ہیں۔ ثابت قدم نہیں رہتے بلکہ جلدی مچاتے ہوئے کسی دوسرے علم کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ علم کو آہستہ آہستہ نہیں سیکھتے اور کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کرتے۔ صبر وتحمل اختیارنہیں کرتے۔
ایسے بھی ہیں کہ لوگوں کو دین کی طرف لانے، انہیں وعظ ونصحیت کرنے اور رہنمائی کرنے میں جن کا بڑا کردرا ہوتا ہے، مگر جب تھوڑا وقت گزرتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ہی چیز بار بار دھرانے کا، یا اس راستے پر چلنے یا قائم رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یا اس راستے میں ہٹ دھرم یا متکبر کا سامنا ہوتا ہے جو حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے، تو وہ لوگوں کے فائدے سے امید توڑ دیتے ہیں اور مایوس ہو جاتے ہیں اور اس راہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی نیک اور فضیلت والا کام کر رہے تھے۔
ایسے بھی ہیں جو کوئی خیراتی کام کرتے ہیں۔ نیک کام کرتے ہیں یا قرب الٰہی کی غرض سے کوئی عمل سرانجام دیتے ہیں، لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، محتاجوں اور فقیروں کی مدد کرتے ہیں، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتیں آسان کرتے ہیں، یتیموں کی کفالت کرتے ہیں، لوگوں میں صلح کراتے ہیں، مگر یکا یک ان سب کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کوئی خاص عذر بھی نہیں ہوتا، نہ کوئی واضح سمجھ آنے والا سبب ہوتا ہے، بلکہ اس کی وجہ صرف اکتاہٹ اور تنگی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ نیکی کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے اجر سے محروم ہو جاتے ہیں ۔
اللہ کے بندو!
ہمیں اللہ کی طرف جانے والے راستے پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور اپنی سمت درست رکھنے کی کوشش میں رہنا چاہیے۔ گمراہی سے بچنا چاہیے۔ نیکی اور نعمت کی اکتاہٹ سے بھی بچنا چاہیے۔ اور ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اکتاہٹ کا علاج کرنا چاہیے جو کہ چند چیزوں سے ممکن ہو سکتا ہے۔
اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کیا جائے، کثرت سے دعا کی جائے ، تاکہ ثابت قدمی نصیب ہو جائے اور عمل جاری رہ سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیشتر دعا یہی ہوتی تھی کہ
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما!
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: معاذ! ہر نماز کے بعدیہ دعا کبھی نہ چھوڑنا:
اے اللہ! اپنا ذکر کرنے میں، شکر کرنے میں اور بہتر طریقےسے عبادت کرنے میں میری مدد فرما! سےے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح اکتاہٹ سے بچنے کے لیے اللہ کے ساتھ سچائی اپنانی چاہیے، چیزوں میں سنجیدگی سختی اپنانی چاہیے، تاکہ انسان سستی اور اکتاہٹ کےجوہڑ سے محفوظ ہو جائے۔ 
اکتاہٹ سے بچنے کے لیے امیدوں کم کرنا اور آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔ ہمت دلانے کے لیے یہ بہت کارگر نسخہ ہے اور اللہ کی طرف متوجہ کرنے والا بہترین راستہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ یاد رکھے کہ دنیا، آخرت کی کھیتی ہے جس میں نیک اعمال کمائے جا سکتے ہیں۔
عون بن عبد اللہ بن عتبہ علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، کچھ بات چیت کی، پھر ہم نے کہا: ہم نے آپ کو اکتاہٹ کا شکار تو نہیں کر دیا۔ انہوں نے کہا: نہیں! ہر گز نہیں۔ میں آپ سے نہیں اکتاتی۔ میں نے ہر عبادت کر کے دیکھی ہے، مگر جب میں نے علم سیکھا اور علم کا دور کیا تو میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا۔
انسان کو چاہیے وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ جب بھی غلطی ہو، توبہ کو دہرا لے۔
حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ سے کہا گیا: ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور پھر ان ہی گناہوں کا شکار ہو جاتے ہیں، پھر معافی مانگتے ہیں اور پھر ان ہی گناہوں میں پڑ جاتے ہیں۔ کیا ہم اللہ سے حیا نہ کریں؟ حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ نے فرمایا: شیطان کی تمنا ہے کہ وہ ایسا کرانے میں ہی کامیاب ہو جائے۔ شیطان کی تمنا ہے کہ وہ ایسا کرانے میں ہی کامیاب ہو جائے۔ تو توبہ سے کبھی مت اکتائیے گا۔
اکتاہٹ، تنگ دلی اور تھکاوٹ کا شکار تو گناہ گار کو ہونا چاہیے، اس فاسق کو ہونا چاہیے جو سب کے سامنے کھلے عام گناہ کرتا پھرتا ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ گناہوں سے تنگ آ جائے، ہلاک کرنے والے جرائم سے دور ہو جائے، توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف کرنے والے پروردگار کا رخ کرے۔
اے مسلمانو! اپنے پروردگار کے راستے پر چلنے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ کار کو ملحوظ خاطر رکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی عبادت نہیں چھوڑی، بلکہ وہ ہمیشہ اللہ کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے، اسی کا رخ کرتے، اسی کی عبادت میں محو رہتے، کبھی نہ تھکتے، کبھی نہ اکتاتے، کبھی نہ تنگ ہوتے اور کبھی نہ ہمت چھوڑتے۔
اے اللہ! ہم ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں، نیکی میں پیش قدمی اور عبادت کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ تیری نعمتوں کے شکر کی اور بہترین انداز میں عبادت کی توفیق مانگتے ہیں۔ پاکیزہ دل اور سچی زبان کا سوال کرتے ہیں۔ ہر اس خیر کا سوال کرتے ہیں جسے تو جانتا ہے اور ہر اس شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں جسے تو جانتا ہے۔ جن گناہوں کو تو جانتا ہے ان سے ہم معافی مانگتے ہیں۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے!
تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

آج کی بات ۔۔۔ 21 دسمبر 2018


«« آج کی بات »»
ہر بات کہہ دینے کی نہیں ہوتی، کچھ سننے کی بھی ہوتی ہیں ،کچھ سمجھنے کی ، کچھ جذب کر لینے کی اور کچھ سہہ جانے کی .....!!!!

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 دسمبر 2018


~√~ أج کی بات ~√~
اِیمان داری چار عادتوں کا پیکج ہے ۔1 - وعدے کی پابندی 2 - جھوٹ سے نفرت3 - زبان پر قائم رہنا اور4 - اپنی غلطی کا اعتراف کرنا

آج کی بات ۔۔۔ 12 دسمبر 2018

↩ آج کی بات ↪
انسان تین حالتوں میں سچائی کی انتہا پر ہوتا ہے ،◀ شدید غصے میں◀ شدید دکھ میں اور◀ انتہائی خوشی کے وقت
تعجب کی بات ہے ان تین حالتوں ہی میں انسان زندگی کی اصل لذت سے لطف اندوز ہوسکتا ہے خواہ وہ دکھ کی صورت میں ہو یا خوشی کی صورت میں۔

صاف دل؛ ایک عظیم نعمت اور ضرورت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 07 دسمبر 2018

No automatic alt text available.صاف دل؛ ایک عظیم نعمت اور ضرورت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)29 ربیع الاول1440 بمطابق 07 دسمبر 2018امام و خطیب:  ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: دلیل ویب
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 29 ربیع الاول1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " صاف دل،،، ایک عظیم نعمت اور ضرورت" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ مادہ پرستی کے دور میں ایک دوسرے کا بازو بننے کی ترغیب بہت ضروری ہے، اور یہ صاف دلی سے ممکن ہے۔ صاف دلی بہت بڑی نعمت بلکہ دنیا کی جنت ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ ایمان، تقوی اور عقیدہ توحید کے ساتھ دل میں کینہ، عداوت، کدورت، نفرت، حسد، بغض نہ ہو۔ مسلمانوں کی خوشی پر خوشی محسوس ہو، دوسروں کی خیر خواہی، اشک شوئی اور دکھ درد بانٹنے کا جذبہ موجود ہو، جس کے ساتھ بھی تھوڑا یا زیادہ وقت گزارا ہو اس کے لیے دل صاف ہو۔ صاف دل رکھنے کے اثرات چہرے پر چمک کی صورت میں عیاں رہتے ہیں، اس کی بدولت انسان بلند درجات حاصل کر لیتا ہے۔ دل کو صاف رکھنے کے معاون اسباب ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتلایا کہ: دل میں للہیت، سچائی، تقدیر پر ایمان، تعلیمات الٰہیہ پر عمل، کثرتِ تلاوت، مجاہدۂ نفس، تحائف کا تبادلہ، مسلمانوں کے لئے دعا، زبانی اور عملی ہر طرح سے مسلمانوں کی مدد، شیطانی چالوں سے دوری، اور فضول بحث و تکرار سے اجتناب شامل ہیں۔ پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔
↺ منتخب اقتباس ↻
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ انتہائی عظیم اور حلم والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ کو تمام اخلاق حسنہ کے ساتھ بھیجا گیا، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، تمام صحابہ کرام اور دین قویم پر قائم تابعین اور ان کے پیروکاروں پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی اور اطاعت گزاری کی وصیت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا بہت بڑی کامیابی حاصل کر گیا۔[الأحزاب: 71]
مسلمانو!
جب دنیا سے محبت کی نت نئی شکلیں سامنے آ رہی ہوں تو مسلمان میں دوسروں سے محبت اجاگر کرنے والی نصیحت اور وعظ کی ضرورت ہوتی ہے؛ کہ مسلمان دوسروں کے کام آئے، ان کا ہاتھ بٹائے، مسلمانوں کو پہنچنے والی تکالیف دور کرے۔ تو وہ نصیحت یہ ہے کہ انسان کا دل سب کے لئے صاف ہو؛ کیونکہ دل صاف ہو تو مسلمان کی زندگی انتہائی خوش حال ، پر بہار، اور پر مسرت بن جاتی ہے۔
یہ بہت ہی بڑی خوبی اور امتیازی صفت ہے کہ انسان کا دل صاف ہو ، اس کی بدولت مسلمان عظیم اجر بھی حاصل کرتا ہے بلکہ اس کا انجام بھی بہترین ہو گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} قیامت کے دن مال اور بیٹے کچھ فائدہ نہیں دیں گے [88]مگر اس شخص کو جو اللہ کے پاس صاف دل کے ساتھ آئے۔[الشعراء: 88، 89]
ایمان، تقوی، عقیدہ توحید اور یقین کے بعد دل کے صاف ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ دل مسلمانوں کے بارے میں کینے، حسد، اور عداوت سے پاک ہو۔ مسلمان اپنے بھائیوں کے ساتھ زندگی گزارے تو اس کا دل صاف ہو، خوشی محسوس کرے اور من پاک ہو۔ مسلمانوں کے متعلق دل میں غبار اور نفرت نہ ہو۔ کینہ، دھوکا، فریب اور مکاری مسلمانوں کے خلاف مت رکھے بلکہ ان کے ساتھ جود و سخا، اخلاق حسنہ، صاف دلی ، نیک نیتی اور پاک ضمیر کے ساتھ رہے؛ اس طرح وہ خود بھی پر سکون رہے گا اور لوگ بھی سکون پائیں گے۔
صاف دلی کی یہ بھی علامت ہے کہ لوگوں نے کبھی بھی ایسے شخص کے بارے میں برے کلمات نہیں سنے ہوتے، انہوں نے کبھی اس کی جانب سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی اس وقت تک [کامل] ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے) متفق علیہ
اسلامی بھائیو!
اپنے سینے کو ہر قسم کی کدورت اور ہمہ قسم کے بغض سے پاک صاف رکھنا افضل ترین اعمال میں بھی شامل ہے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ: "کون سے لوگ افضل ترین ہیں؟" تو اس کے جواب میں فرمایا: (مخموم القلب اور سچی زبان والا شخص افضل ترین ہے) صحابہ نے عرض کیا: "سچی زبان والا تو ہمیں معلوم ہے، لیکن یہ مخموم القلب کون ہوتا ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس سے مراد پرہیز گا ر پا ک صاف شخص ہے جو گنا ہ ،زیادتی ،کینہ اور حسد سے پاک ہو) اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند کو منذری اور دیگر محدثین نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حقیقت کو امت کے سلف صالحین نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا، اس لیے انہوں نے دلی صفائی کی خوب ترغیب دلائی جیسے کہ زید بن اسلمؒ ، ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کے بیمار ہونے پر تیمار داری کے لئے تشریف لائے تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا، اس پر زیدؒ نے کہا: "کیا بات ہے کہ آپ کا چہرہ چمک رہا ہے!" اس پر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "مجھے اپنے دو اعمال کے متعلق زیادہ امید ہے کہ ان کی وجہ سے ہے: ایک یہ کہ: میں کسی بھی غیر متعلقہ معاملے میں زبان نہیں کھولتا اور دوسرا عمل یہ کہ: میرا دل تمام مسلمانوں کے لئے صاف رہتا ہے"
اسلامی بھائیو!
دل کو صاف رکھنے کے معاون اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ للہیت اور سچائی دل میں جا گزین ہو جائے، اللہ تعالی نے بندے کے لئے اس زندگی میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جائیں، تعلیمات الٰہیہ کی پابندی کریں، قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں، ساتھ میں انسان مجاہدۂ نفس کرتے ہوئے دھوکا، کینہ، اور حسد جیسی خبیث بیماریوں کا مقابلہ کرے؛ یہ بھی یاد رکھے کہ ان خبیث بیماریوں کا خود انسان پر جلد یا تاخیر کے ساتھ بہت برا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح خوب محنت کے ساتھ دعا مانگے کہ اللہ اسے صاف دل عطا کرے، سچی زبان عنایت فرمائے۔ نیز ہر غالی اور نفیس چیز کو محبت، مودت پیدا کرنے کے لئے خرچ کرے تا کہ باہمی بغض اور نفرت کا خاتمہ ہو جائے؛ دلی صفائی کے لئے سب کی سلامتی کو یقینی بنائے، لوگوں کے معاملات میں بلا وجہ دخل نہ دے۔ زیادہ سے زیادہ تحائف اور عطیات دے؛ ان سے مودت پیدا ہوتی ہے اور نفرت ختم ہوتی ہے۔ اسی طرح سب مسلمانوں کے لئے دعا کرے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دے۔ زبانی یا عملی تمام تر ممکنہ صورتوں میں سب کے کام آئے، اس سے مسلمانوں کو خوش رکھنے میں مدد ملے گی؛ کیونکہ مسلمان کا معاملہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی خوشیوں سے خود بھی خوش ہوتا ہے، اور جب انہیں کوئی دکھ یا تکلیف پہنچے تو ان کے درد بانٹ کر اشک شوئی کرتا ہے۔
دلی صفائی کے لئے انسان حالات و واقعات اور رونما ہونے والے روزمرہ مسائل میں بحث و تکرار سے اجتناب کرے؛ کیونکہ ان سے عام طور پر حسد اور نفرت پیدا ہوتی ہے، دلوں میں کدورتیں اور دوریاں آتی ہیں۔ بحث و تکرار کا فائدہ وہاں ہوتا ہے جہاں حق بات کی جستجو ہو، اور کوئی مخلص، خیر خواہ، سچا اور سُچا ، مکمل صلاحیت رکھنے والا صاحب علم گفتگو کرے، نیز تمام کے تمام اخلاقی اور علمی آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا } اور لوگوں سے بات کرو تو اچھی کرو۔[البقرة: 83]
صاف دلی دائمی نعمتوں کے حصول کا بہت بڑا دروازہ ہے، سلف صالحین میں سے کسی نے کہا تھا: "پرہیز گاری دین کی بنیاد ہے۔ افضل ترین عبادت رات کی محنت ہے۔ جبکہ جنت کا مختصر ترین راستہ صاف دلی ہے"
اس لیے اپنے دل کو صاف رکھیں، اپنے اندر کسی کے بارے میں کدورت اور نفرت نہ رہنے دیں، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہدف کو پانے کی خوب ترغیب دی اور اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور فرمایا اور کہا: (آپس میں بغض نہ رکھو، نہ ہی باہمی حسد کرو، ایک دوسرے سے منہ مت موڑو، اور اللہ کے بندے ہو کر بھائی بھائی بن جاؤ، کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے) مسلم
اس لیے اللہ کے بندو! اللہ کے لیے محبت کرنے والے بن جاؤ، تقوی کی بنیاد پر دوستی کرنے والے بن جاؤ اور ایک دوسرے کو نیکی اور اطاعت کی تلقین کرتے رہو۔
یا اللہ! ہمارے دلوں کو صاف کر دے، یا اللہ! ہمارے دلوں کو صاف کر دے، یا اللہ! ہمیں اپنے گفتار اور کردار میں سچائی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!
یا اللہ! ہمیں نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والا بنا دے، یا ذالجلال والا کرام!
یا اللہ! یا غنی! یا حمید! ، یا قابض! یا باسط! یا ماجد! یا اللہ! ہمیں رحمت کی بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں رحمت کی بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں رحمت کی بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ملک اور مسلم ممالک میں بارشیں عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ملک اور مسلم ممالک میں بارشیں عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ملک اور مسلم ممالک میں بارشیں عطا فرما۔
اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔

آج کی بات ۔۔۔۔ 10 دسمبر 2018


سفید کپڑے پر انار کے دانے کے چند چھینٹے گر جائیں تو ساری عمر دھو دھو کر بھی وہ کپڑا واپس پہلے سا سفید نہیں ہوتا۔ یہ سفید کپڑا آپ کا کردار ہے۔ اسے سنبھال سنبھال رکھیے۔
 از نیر تاباں

آج کی بات ۔۔۔۔ 04 دسمبر 2018

⇉ آج کی بات ⇇
کبھی کسی کے اچھے مقدر کو حسرت سے تکتے ہوئے اپنی تقدیر بننے کی دعا نہ کرنا ورنہ اُس کے مقدر کے سارے کانٹے بھی اپنی پلکوں سے چننے پڑ جائیں گے.

اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 30 نومبر 2018

 sky and outdoor
اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوقخطبہ جمعہ مسجد نبوی ( اقتباس)22 ربیع الاول 1440 بمطابق 30 نومبر 2018امام و خطیب:  ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 22 ربیع الاول 1440 کا خطبہ جمعہ " اسلام میں مسلمان کے سماجی حقوق" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام میں سماجی حقوق کی بہت اہمیت ہے، ان کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے ان پر ثواب بھی عنایت کیا، ان حقوق پر مشتمل ایک جامع حدیث ذکر کی اور اس کی تفصیلات بھی بتلائیں کہ: سلام در حقیقت پیغام محبت اور امان ہے، سلام کی حقیقت سے آشنا معاشرہ بہت سی خرابیوں سے پاک ہو سکتا ہے۔ کھانے کی دعوت قبول کرنی چاہیے تاہم دعوت میں حاضر ہو کر کھانا تناول کرنا یا نہ کرنا آپ کی چاہت پر منحصر ہے، دعوتوں پر فضول خرچی اسلام کے منافی عمل ہے۔ اچھا مشورہ اور نصیحت بھی مسلمان کا حق ہے، خیر خواہ شخص کسی کے عیوب کی تشہیر نہیں کرتا بلکہ متعلقہ شخص تک محدود رکھتا ہے، کچھ لوگ پگڑی اچھالنے کو نصیحت کا نام دیتے ہیں جو کہ بدنیتی کی علامت ہے۔ چھینک آنے پر الحمدللہ کہنا اور سننے والے کا"یَرْحَمُكَ اللهُ" کہنا بھی مسلمان کا حق ہے، چھینک اللہ کی نعمت ہے جو کہ اللہ کا خصوصی شکر کی متقاضی ہے۔ تیمار داری بھی مسلمان کا حق ہے، تیمار داری کرنا بہت ہی فضیلت والا علم ہے، تیمار داری میں مریض پر دم کرنا چاہیے، تیمار داری جنت میں داخلے، فرشتوں کی دعائیں، اور اللہ کی رحمت لینے کا باعث عمل ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: نماز جنازہ بھی مسلمان کا حق ہے اور دفن تک ساتھ رہنے سے دو احد پہاڑ کے برابر ثواب ملتا ہے، آخر میں انہوں نے کہا کہ ان حقوق کی ادائیگی کرنے والا معاشرہ انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم رہتا ہے، انہیں کوئی بیرونی طاقت متزلزل نہیں کر سکتی، پھر آخر میں انہوں نے سب کے لئے جامع دعا کروائی۔
↺ منتخب اقتباس ↻
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اس نے اطاعت گزاری اور حقوق کی ادائیگی کے لئے توفیق دی، اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے اپنے بندوں کو گمراہی اور فسق سے محفوظ رکھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالی نے حق کو غلبہ عطا کیا اور باطل کو نیست و نابود فرمایا، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں اعلی اخلاق کی تبلیغ فرمائی اور نافرمانی سے خبردار کیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک صبح ہوتی رہے اور سورج چمکتا رہے۔
مصروفیات اور مادیت کے سیل رواں کی وجہ سے مسلمان کی توجہ کچھ واجبات اور سماجی تعلقات سے ہٹ جاتی ہے، اور بسا اوقات انہیں بھول جاتا ہے یا عمداً توجہ یہ کہتے ہوئے نہیں دیتا کہ میں یہ کمی ، کوتاہی اور سماجی تعلقات میں سرد مہری بعد میں ختم کر دوں گا؛ پھر اسی امید پر سالہا سال گزر جاتے ہیں اور عمر بیت جاتی ہے، جس کی وجہ سے دوری بڑھتی جاتی ہے اور دراڑیں گہری ہوتی جاتی ہیں، زندگی پر خشک سالی کا غلبہ ہو جاتا ہے اور جذبات سوکھ جاتے ہیں۔
اسلام نے سماجی تعلقات کو بھر پور اہمیت دی، سماجی تعلقات پر اتنا اجر بھی مرتب کیا کہ تعلقات میں پہل کرنے کی ترغیب ملے؛ تا کہ دل آپس میں جڑ جائیں، باہمی تعلقات گہرے ہوں ، ایک دوسرے کی ضروریات پوری ہوں، معاشرے کے سب افراد اچھے اخلاق اور بہترین تعامل کو فطرت ثانیہ بنا لیں، پھر میزان بھی نیکیوں سے بھر جائے اور درجات بھی بلند ہو جائیں۔
جس وقت سماجی حقوق ادا کیے جائیں، تو تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، جن کی بدولت مضبوط ، آہنی، اور گہری بنیادوں والا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ) پوچھا گیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جب تم ملو تو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے مشورہ طلب کرے تو اس کو خیر خواہی والا مشورہ دو، اور جب چھینک آنے پر الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں جاؤ۔) مسلم
یہ ایک عظیم حدیث ہے ، یہ حدیث مسلمانوں کی باہمی تعلق داری اور محبت کے آفاق عیاں کرتی ہے، مسلمانوں کی زندگی میں روح پھونکتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ} ان کے دلوں میں الفت ڈال دی، اگر آپ ما فی الارض بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتے تھے؛ لیکن اللہ نے ان میں الفت ڈال دی ۔ [الأنفال: 63]
◄ایک مسلمان کا دوسرے پر اولین حق محبت اور مودت پر مبنی دعائیہ جملہ ہے جو کہ اہل جنت کا سلام بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو۔) مسلم
سلام دلوں میں محبت سرایت کرنے کا ذریعہ ہے تو کسی بھی دروازے پر اجازت لینے کا سلیقہ بھی ، سلام زندگی کو برکت، ترقی اور فروغ دیتا ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً } جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنوں کو سلام کہا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ [النور: 61]
سلام در حقیقت پروانۂ امان ہے، اور اہل ایمان کی شان بھی۔ جو بھی سلام کا معنی، مقام، اور اس کی حقیقت و فضیلت سے آشنا ہو جائے تو اس کا باطن پاک ہو جائے، تعامل مہذب بن جائے، اور اس شخص کا معاشرہ بھی دین و دنیا کے اعتبار سے ترقی کر جائے۔
◄مسلمان کا مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ: مسلمان کی کھانے پر دعوت قبول کرے، ولیمے میں شرکت کر کے اس کی حوصلہ افزائی کرے، اور اس کی خوشی میں شریک ہو، دعوتوں کے تبادلے سے باہمی الفت اور یگانگت کو فروغ ملتا ہے، ایک دوسرے سے ملنے اور ملاقات کا موقع بنتا ہے، جس کی بدولت مسائل بھی تحلیل ہو جاتے ہیں، اہل عقل و خرد ناراضیوں سے تجاوز کر جاتے ہیں، دوریاں ختم ہو جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے، پھر [وہاں پہنچ کر] اس کی مرضی ہے کہ چاہے تو کھانا کھا لے اور چاہے تو نہ کھائے۔) مسلم
دعوت کی قدر و قیمت دعوت پر کیے جانے والے خرچے اور تکلف پر نہیں بلکہ دعوت کا مقصود باہمی بھائی چارے اور مسلمانوں کے آپس میں رابطے سے پورا ہو جاتا ہے، جبکہ دعوتوں میں فضول خرچی یکسر قابل ستائش عمل نہیں ہے، یہ شریعت کے منافی ہے، فضول خرچی سے برکت مٹ جاتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ} کھاؤ، پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ [الأعراف: 31]
◄مسلمان کا تیسرا حق یہ ہے کہ: اپنے بھائی کو نصیحت کرے تو نرمی اور پیار کے ساتھ، نصیحت اور مشورہ در حقیقت مسلمان کا اپنے بھائی کے لئے پیغامِ محبت ہوتا ہے؛ کیونکہ مسلمان اپنے بھائی کے لئے ہمیشہ خیر چاہتا ہے اور اسے اپنے بھائی کا نقصان کسی صورت قبول نہیں۔
خیر خواہ شخص کا دین میں بہت عظیم مقام اور مرتبہ ہے، جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اس دن بھی اس کا بہت بلند مقام ہو گا، تو جس وقت خیر خواہ شخص کسی کو نصیحت کرتا ہے تو سُچا آدمی نصیحت کو سن کر کشادہ دلی سے قبول کرتا ہے، نصیحت قبول کر کے بڑے پن کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ نصیحت گر کے بارے میں بد گمانی نہیں کرتا، یا اس کی غلط توجیہ نہیں کرتا، اسی لیے امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: "اللہ اس شخص پر رحمت فرمائے جو ہمیں تحفے میں ہمارے عیب بتلائے۔"
◄مسلمان کا چوتھا حق یہ ہے کہ چھینک لے کر الحمدللہ کہنے پر چھینک لینے والے کے لئے اللہ سے دعا اور رحمت مانگیں۔ دعا سے ہر ایک خوش ہوتا ہے اور مزید دعا چاہت رکھتا ہے، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مسلمان آدمی کی اپنے بھائی کے لئے پیٹ پیچھے کی دعا مقبول دعا ہوتی ہے، دعا کرنے والے کے سر پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کے لئے کہتا ہے: آمین، تمہیں بھی یہی کچھ ملے) مسلم
چھینک اللہ تعالی کی نعمت ہے، چھینک آنے پر اللہ کا شکر اور الحمدللہ پڑھنا اس نعمت کا حق ہے، چھینک لینے والے کے الحمدللہ کہنے پر دعا کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے سے شیطان غضبناک ہوتا ہے۔ پھر چھینک لینے والے کے لئے حکم ہے کہ اس کے الحمدللہ کا جواب "یَرْحَمُكَ اللهُ" کہہ کر دینے والے کے لئے مغفرت، ہدایت اور اصلاح احوال کی دعا کرے اور کہے: "يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" کہے، دعا کے ان الفاظ میں ہر طرح کی بہتری مراد ہے۔
◄مسلمان کا مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ جب بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرے ؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض کو کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ بیماری ہفتوں اور مہینوں تک لمبی ہو جائے، بیماری کے باعث نہ آنکھیں آرام کر سکیں اور نہ ہی ذہن کو سکون ملے، درد اور الم سے کڑھتا اور کروٹیں ہی لیتا رہے، مریض شخص کو ایسی مقبول دعا کی تمنا ہوتی ہے جسے قبول کر کے اللہ تعالی مریض کو شفا یاب فرما دے، اس کے درجات بلند کر دے۔ مریض کو ایسی تیمار داری کی چاہت ہوتی ہے جس سے اس کی تکلیف کم ہو جائے، ایسے بول کی ضرورت ہوتی ہے جو پریشانی میں غم گسار بن جائے، ایسے احساس کی ضرورت ہوتی ہے جو بھائیوں کے قریب ہونے کی اطلاع دے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کا ابھی وقت نہ آیا ہو اور سات بار اس کے پاس یہ دعا پڑھے: "أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ " [ترجمہ: میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت اور بڑائی والا اور عرش عظیم کا رب ہے کہ تجھے شفا عنایت فرمائے ]تو اللہ تعالی اسے اس بیماری سے عافیت دے دے گا) ابو داود
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل "خرفۂ جنت" میں رہا)آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! "خرفۂ جنت" کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: (جنت کے چنے ہوئے پھل) مسلم
یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (کوئی بھی مسلمان کسی مسلمان کی دن کے کسی بھی حصے میں عیادت کرے تو اللہ تعالی ستر ہزار فرشتوں کو بھیجتا ہے اور وہ اس کے لیے شام تک دعا کرتے ہیں اور اگر رات کو عیادت کرے تو صبح تک اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں) احمد
جب آپ ان حقوق پر غور کریں کہ یہ متنوع، ہر طرح کے اور با مقصد ہیں تو آپ کو یقینی طور پر علم ہو جائے گا کہ مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر ایسے حقوق بھی ہیں جو اس کی وفات تک جاری و ساری رہتے ہیں،◄ بلکہ وفات بعد بھی کچھ حقوق ہیں کہ: اس کے جنازے کے ساتھ جائیں اور اس کے لئے دعا کریں، یہ مسلمان کی تکریم اور اظہار شان ہے، دوسری جانب اہل ایمان کے ہاں وفا کی حقیقی منظر کشی بھی کرتا ہے، در حقیقت یہی مسلمانوں کے ما بین اخوت کا تقاضا بھی ہے۔
مسلمان فوت ہو جائے تو غسل اور کفن دینے کے بعد اس کا جنازہ ادا کیا جاتا ہے، دعائے مغفرت کی جاتی ہے اور پھر قبر تک اسے رخصت کرنے کے لئے لوگ جاتے ہیں، پھر اسے قبر کی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے، پھر قبر کی بھی رکھوالی کی جاتی ہے کہ قبروں کی بے حرمتی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو کوئی ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے پھر نماز جنازہ اور دفن سے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر واپس آتا ہے۔ ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔) متفق علیہ
ایسا معاشرہ جہاں پر حقوق؛ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کیے جائیں تو وہ معاشرہ انتہائی مضبوط بنیادوں اور اتحاد کا حامل ہوتا ہے، اس معاشرے کے افراد معزز ہوتے ہیں، کسی بھی دشمن کو ایسے معاشرے میں قدغن لگانے کا موقع نہیں ملتا، ان کی بنیادوں کو ہلانے یا باہمی محبت میں رخنے پیدا کرنے میں انہیں کامیابی نہیں ملتی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} ان کے بعد آنے والے کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے [الحشر: 10]
اللہ کے بندو!
رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
یا اللہ! ہم تجھ سے تیری رضا اور جنت مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تیری ناراضی اور جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے کوئی جلدی ملنے والی یا دیر سے، یا اللہ ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی برائی سے پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والی ہے یا دیر سے ۔
یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہماری عبادات اور دعائیں قبول فرما، بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے، یا اللہ! ہمیں بخش بھی دے، تو ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]
تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

انگوٹھا کہانی



ヅ انگوٹھا کہانی ヅمنقول
 ‏تعلیم انسان کو انگوٹھے کے نشان سے دستخط تک لے گئی،اورٹیکنالوجی دستخط سے انگوٹھے پر واپس لے آئی۔

دنیا گول ہے ヅ ヅ ヅ

آج کی بات ۔۔۔ 01 دسمبر 2018

⟲ آج کی بات ⟳
ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے، اسے چھوڑ کر ہم جس چیز میں بھی عزت تلاش کریں گے اللہ ہمیں رسوا ہی کرے گا

نصیحت کے پھول

Image result for person giving you advice isn t perfect
ہم میں سے اکثریت یہ سوچ کر کسی کی اچھی نصیحت رد کر دیتی ہے " مجھے سمجھانے سے پہلے خود عمل کرو " 
یہ ضروری نہیں جو شخص آپکی اصلاح کر رہا ہو ، آپکو سیدھے راستے کی طرف نشاندہی کر رہا ہو ، آپ میں موجود کسی خامی کو دور کرنے کا کہہ رہا ہو وہ شخص خود اپنی ذات میں مکمل ہو ، عیب سے پاک ہو ، سیدھے راستے پر ہو ، ہو سکتا ہے وہ شخص بیسیوں خامیوں کا مجموعہ ہو لیکن آپ کو نصیحت کر کے وہ آپ کے اندر موجود کسی خامی کو دور کر کے آپکی ذات کو مکمل کرنا چاہتا ہو ۔ 
سچ پوچھیے تو بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ملتا ہے ۔ گمراہ راہوں پر چلنے سے باز رکھتا ہے ۔۔ بظاہر غصہ آتا ہے جب آپ اپنے نفس کی خواہش پر چلنا چاہیں اور کوئی آپ کا بڑا ، آپ کا ہمدرد آپ کو سمجھائے ، آپ کو روکے لیکن جب ہمارے یہ بڑے ، یہ ہمدرد ہم سے منہ موڑ لیتے ہیں ، جب انکا سایہ اٹھ جاتا ہے تو پھر تمام عمر کان اس ایک جملے کو ترستے ہیں:
" بیٹا یہ نا کرو " " دوست ایسا مت کرو " "بھائی آپکی بھلائی کے لیے ہی کہہ رہا ہوں " 
ان الفاظ کا درد آج بھی سینے میں محسوس کرتا ہوں جب میلے کپڑوں میں ملبوس ایک کم سن بچے کو سگریٹ پیتے دیکھا تو پوچھا " بیٹا سگریٹ کیوں پیتے ہو ؟ کوئی منع کرنے والا نہیں ؟ ابو کچھ نہیں کہتے ؟؟اسکا جواب میرے پاوں سے زمین کھینچنے کیلئے کافی تھا ۔۔۔ کہنے لگا ۔۔
" میرے ابو مر گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ " اس لئے دوستو ! جہاں سے نصیحت ملے لے لیا کرو ۔۔۔ یہ دیکھے بغیر کہ کہنے والا خود کتنا با عمل ہے ۔۔۔۔
منقول

کیا فرق پڑتا ہے

Related imageکیا فرق پڑتا ہے۔۔۔تحریر: لبنیٰ سعدیہ عتیق
ــــــــــــــــ
شاید پہلے بھی لکھا ہو۔۔ پھر لکھ دیتی ہوں۔۔۔
بازار میں پیاس لگے، کوئی جوس خریدا، پیا اور خالی ڈبہ بیگ میں رکھ لیا، اسٹرا اور اسٹرا پہ چڑھی پتلی سی پنؔی سمیت۔۔۔۔
گھر لاکر کوڑے دان میں ڈال دیا۔
چاروں طرف کوڑا بکھرا ہوا ہے ایک ڈبے سے کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں
ـــــــــــــــــــ
گھر میں سودا آتا ہے، چائے کی پتؔی، گلوکوز، شیمپو، مچھر بھگائو کوائل، دوا اور اسی طرح کی مختلف اشیاء۔۔۔
سب کے گتے کے ڈبے، بوتل، صاف کاغذ، اسٹیل وغیرہ روزانہ کے کچرے میں پھیکنے کے بجائے ایک صاف شاپر میں جمع کرتی ہوں اور بھر جانے پہ گتا/کاغذ چننے والے کو دے دیتی ہوں، جسے وہ بیچ کر پیسہ کماتا ہے اور یہ اشیاء مکرر گھمائو یعنی ری سائیکلڈ ہوکر دوبارہ استعمال میں آتی ہیں۔۔۔
اتنی درد سری کی ضرورت نہیں، روز کا روز پھینک دوں ۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔۔
ــــــــــــــــ
نناوے فیصد ایسا نہیں ہوتا مگر کبھی بجلی کی مہربانی سے کوئی غذائی شے ناقابل طعام ہوجائے تو اسے باہر جاکر مٹی میں ڈال کر اسے مٹی سے ڈھانپ دیتی ہوں تاکہ مٹی میں مل کر کھاد بن جائے اور کوڑے دان میں سڑ کر بدبو کا باعث نا بنے۔
کھرپی اٹھا کر باہر نکل کر مٹی میں ڈال کر کھرپی سے مٹی ڈالنے سے آسان کوڑے دان میں پھینک دینا ہے۔۔۔ مگر نہیں
ــــــــــــــ
دھلائی کے دوران رکابی و پتیلیوں میں‌ کھانے کے کچھ نا کچھ  ذرے رہ جاتے ہیں۔ چائے بنا کر اسکی پتی بچ جاتی ہے۔ اسکے لئے ایک فاضل چھنؔی رکھی ہے جس سے تمام ذرات و پتی چھان کر برتن دھوتی ہوں تاکہ نکاس کے پائپ میں یہ ذرات جاکر اور جمع  ہو کر رکائو کا باعث نا بنیں۔۔۔
کبھی یہ رکائو آپ کے گھر کی نالی میں ہوتا ہے جس کے لئے آپ کو پیسہ خرچ کر کے خاکروب بلوانا پڑتا ہے اور کبھی یہ رکائو گلی کے گٹر میں ہوتا ہے جہاں سے ’خوشبودار‘ پانی بہہ کر آپ کی ناک کو آتے جاتے معطر کرتا ہے۔
دھلائی میں وقت ذیادہ لگتا ہے ۔۔۔۔ مگر خیر ہے۔۔
ـــــــــــــــ
بازار سے خریداری کر کے آؤ تو دس پندرہ ہر سائز کے شاپر ساتھ  آتے ہیں۔ آسانی تو یہ ہے کہ سامان نکالو اور شاپرز پھینکو مگر سارے شاپر جمع کرلیتی ہوں۔ ہلکا پھلکا کوئی سامان لینا ہو تو گھر سے شاپر لے کر جاتی ہوں اور ساتھ ہی جمع شدہ شاپرز کا بنڈل کسی نا کسی دکاندار کو پکڑا دیتی ہوں جسے وہ عموماً خوشدلی سے قبول کرلیتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــ
معلمہ فردِ واحد ہیں، شاید ان کے کچھ کرنے سے فرق تو کچھ نہیں پڑتا ۔۔۔
شہر کا کچرا کم نہیں ہوتا
تمام سوکھا کچرا مکرر گھمائو کا حصہ نہیں بنتا
تمام گیلا کچرا کھاد نہیں بنتا
گٹر ابلنے سے نہیں رکتا
کینسر کی وجہ بننے والے شاپرز ختم نہیں ہوتے
مگر مگر مگر
ایک احساس بہت خوش کُن ہوتا ہے
کہ
شہر کے پھیلے کچرے معلمہ کا حصہ نہیں ہے
کچھ اشیاء جو دوبارہ قابلِ استعمال ہوئی ہیں ان میں معلمہ کی کاوش شامل ہے
کوئی مسکرانا گلاب معلمہ کی بنائی کھاد کا ثمر ہے
گلی میں بہتا گندے پانی میں معلمہ سے گھر سے نکلا کوئی رکاوٹ ڈالنے والا مادہ شامل نہیں
نالوں میں پھنسے شاپرز میں کوئی معلمہ کا پھینکا ہوا نہیں
کیا آپ کے پاس بھی یہ احساس ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟

آج کی بات ۔۔۔ 27 نومبر 2018

 ⇚ آج کی بات ⇛
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جسے عزت دی ہے اس کی عزت کرنا لازم ہے لیکن جسے ذلیل کیا اسے ذلیل کرنا ضروری نہیں۔

رازِ زندگی

Image result for ‫راز زندگی‬‎
〜》 رازِ زندگی《〜اقتباس از محمود الحق
جب دعویٰ عمل سے بڑا ہو تو دراز قد والا بھی چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔ زندگی کو جاننے والے راز زندگی پا جاتے ہیں۔ پھر جینا انہیں اتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسانوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے فطرت سے دل لگا لیتے ہیں۔ کیونکہ انسان کا  چلن کسی فارمولہ کا محتاج نہیں۔ وہ اپنے لئے دودھ شہد کی نہر خود کھودتا ہے۔ دینا نہ بھی چاہے  تو اس کے بس میں ہے مگر دکھانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے کیونکہ چھپانا اس کے بس میں نہیں۔ زندگی گزارنے والے سینکڑوں ملتے ہیں مگر جینے والے بہت کم اور وہ بھی عدم اعتماد رکھنے والے۔
درسگاہوں میں استاد تعلیم وہی دیتے ہیں جنہیں سلیبس میں رکھا جاتا ہے۔ امتحان وہی ہوتا ہے جو پڑھایا جاتا ہے۔ محنت کے صلے پاس یا فیل کی صورت میں نکلتے ہیں۔ علم درسگاہوں اور استادوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ تو پہاڑوں پر برسنے والی اس بارش کی مانند ہے جو اپنے راستے خود بناتی ہوئی  آبشاروں، ندیوں ،دریاؤں سے گزرتی سمندر تک جا پہنچتی ہے۔

سہولت کار

Related image
سہولت کارمنقول
برائی کو پھیلانے والے کتنے ہیں؟بہت ہی کم۔ شاید ایک فیصد بھی نہیں۔اور برائی کے خلاف جہاد کرنے والے زیادہ ہیں، شاید 2 فیصد یا 5 فیصد۔لیکن پھر بھی برائی پھیل رہی ہے۔آخر کیوں ؟کیونکہ زیادہ تر لوگ یعنی 98 فیصد یا 95 فیصد لوگ نیوٹرل رہنا پسند کرتے ہیں۔اور یہی نیوٹرل رہنے والے برائی پھیلانے والوں کے سہولت کار ہیں۔

آج کی بات ۔۔۔ 25 نومبر 2018

↬آج کی بات ↫
اپنی زندگی میں اُصولوں کی حدود قائم کیجئے۔ ان حدود کا یہ مقصد نہیں کہ لوگوں کو دور رکھے، بلکہ یہ تو خود کو محفوظ رکھنے کا ایک سمجھ دارانہ فعل ہے۔

خیر خواہی۔۔۔ دین کا بنیادی حصہ ۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 23 نومبر 2018

Related image
خیر خواہی۔۔۔ دین کا بنیادی حصہخطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس) 15 ربیع الاول 1440 بمطابق 23 نومبر 2018امام و خطیب: پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفیترجمہ: شفقت الرحمٰن مغلبشکریہ: اردو مجلس فورم
فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 15 ربیع الاول 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "خیر خواہی۔۔۔ دین کا بنیادی حصہ" ارشاد فرمایا جس انہوں نے کہا کہ قرآن کریم پر توجہ کر کے ہم دنیا اور آخرت میں کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں، اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے تھے، اس لیے ایسی احادیث کو اچھی طرح دیا بھی کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے انہیں سمجھیں ، انہی احادیث میں سے ایک حدیث "دین خیر خواہی کا نام ہے۔۔۔" ہے اس کی انہوں نے مکمل شرح بیان کی اور بتلایا کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ تعالی، رسول اللہ، کتاب اللہ ، مسلمان حکمران، اور عامۃ الناس کی خیر خواہی کس طرح ممکن ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیر خواہی پیغمبروں کا شیوہ اور مومنوں کی امتیازی خوبی ہے، اگر انسان اپنے دل میں تمام لوگوں کے لیے خیر خواہی بسا لے تو انتہائی عظیم مقام پا سکتا ہے، آخر میں انہوں نے سب کے لئے کروائی۔
⤽منتخب اقتباس ⤼
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ عزت اور کرم والا اور تمام جانداروں کو پیدا کرنے والا ہے، اس کا فضل اور نعمتیں بہت وسیع ہیں، میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم نعمتوں پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ معزز ترین اور نہایت کرم کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو اللہ تعالی نے جوامع الکلم سے نوازا، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور راہ راست پر چلنے والے صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اپناؤ اور اس کے لیے نیک اعمال کے ذریعے قرب الہی کی جستجو کرو، حرام کاموں سے بچو؛ کیونکہ متقی ہی کامیاب و کامران ہوں گے، جبکہ ہوس پرست اور کوتاہی برتنے والے نامراد ہوں گے۔
مسلمانو!
اپنا محاسبہ خود ہی کر لو قبل ازیں کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، دلوں کو غفلت سے بیدار کرو، اپنے نفوس کو حرام کاموں اور ان کی لذت سے روکو، گناہوں سے توبہ کر لیں اس سے قبل کہ موت آئے، امیدیں بکھر جائیں اور مزید عمل کرنا ممکن نہ رہے۔
آپ سالہا سال اور ایام تیزی کے ساتھ گزرتے دیکھ رہے ہیں، اس زندگی کے بعد موت ہی ہے، اور موت کے بعد یا تو نعمتوں والی جنت ہو گی یا درد ناک عذاب۔
آپ جس طرح فانی دنیا کے لئے کد و کاوش کرتے ہیں اسی طرح دائمی آخرت کے لئے بھی محنت کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى} بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو [16] حالانکہ آخرت بہتر اور دائمی رہنے والی ہے۔ [الأعلى: 16، 17]
مسلمانو!
قرآن کریم پر توجہ دیں اسی میں تمہاری عزت اور سعادت ہے، اسی سے تمہارے حالات سنور سکتے ہیں، اسی میں تمہاری موت کے بعد کامیابی ہے، فتنوں سے تحفظ بھی اسی سے ملے گا اور یہ فتنے قربِ قیامت تک بڑھتے چلے جائیں گے، یہ فتنے ایسے ہیں کہ ابتدائی طور پر واضح نہیں ہوتے، لیکن جب انتہا ہو جائے تو ان کے بارے میں آنکھیں کھل جاتی ہیں؛ چنانچہ ان فتنوں سے وہی محفوظ رہ سکے گا جو قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے، اور ملت اسلامیہ کے ہم رکاب رہے، اس لیے کتاب اللہ پر غور و فکر کرو، اسی پر عمل پیرا رہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث یاد کرو تا کہ دین قائم رہے، عقیدہ صحیح رہے اور عبادات مکمل ہوں، خصوصاً ایسی احادیث پر توجہ دو جن میں فضیلت والے اسلامی اعمال کے احکام جمع ہیں، ان احادیث کا معنی اور مفہوم ان پر عمل کرنے کے لئے اچھی طرح سمجھیں، سلف صالحین کا یہی منہج ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے [التوبہ: 100]
میں یہاں پر ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو کہ جوامع الکلم میں سے ہے، ہر حالت میں اس حدیث پر عمل ہر مسلمان مرد و زن کی ذمہ داری ہے، جسم میں جب تک روح باقی ہے اس وقت تک تمام آدمیوں اور عورتوں کے لئے اس پر عمل ضروری ہے، وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: (دین خیر خواہی کا نام ہے ) تو ہم نے کہا: "کن کی خیر خواہی؟" تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی ، کتاب اللہ، رسول اللہ، مسلم حکمرانوں اور عوام الناس کی) اس حدیث کو امام مسلم نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
نیز اس حدیث کو امام مسلمؒ کے علاوہ دیگر بہت سے محدثین نے روایت کیا ہے، یہ حدیث بہت عظیم حدیث ہے۔ امام ابو داودؒ کہتے ہیں: "فقہ پانچ احادیث کا نچوڑ ہے، پہلی حدیث: (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔۔۔) دوسری حدیث: (نہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی کسی اور کو نقصان دو) تیسری حدیث: (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے) چوتھی حدیث: (دین خیر خواہی کا نام ہے) پانچویں حدیث: (جس چیز سے میں تمہیں روک دوں اس سے فوری رک جاؤ، اور جس چیز کے کرنے کا حکم دوں تو اس پر حسب استطاعت عمل کرو)"
اور اس بات کی دلیل کہ اس حدیث پر عمل ہر مسلمان مرد اور عورت پر ہر حالت میں واجب اور ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ عبادات کو بعض مکلف افراد مرد یا عورتوں سے کسی عذر یا دیگر کسی سبب کی بنا پر ساقط کر دیا لیکن خیر خواہی کو کسی حالت میں بھی ساقط نہیں فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے:{لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} کمزور ،مریض اور وہ لوگ جن کے پاس انفاق فی سبیل اللہ کے لئے کچھ نہیں تو ان پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں ۔ نیکی کرنے والوں پر [اعتراض ]کا کوئی راستہ نہیں، اور اللہ درگزر کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ [التوبہ: 91] تو اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا کہ کسی بھی مسلمان کا ایک لمحے کے لئے بھی خیر خواہی سے عاری ہونا قبول نہیں ہے۔
عربی زبان میں "النصيحة" [خیر خواہی]نصح سے ہے، جو کہ کسی بھی چیز کو ملاوٹ، مٹی اور غیر متعلقہ چیز سے صاف کرنے کو کہتے ہیں، چنانچہ: "نَصَحَ العَسْلُ" اس وقت کہا جاتا ہے جب شہد کو موم سے صاف ستھرا کر لیا جائے۔

اس حدیث میں اللہ تعالی کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ سے محبت ہو، اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری ہو، شریعت الہی کے سامنے مکمل سرنگوں ہو کر تابعداری اس لیے ہو کہ اللہ کی رضا اور ثواب ملے، اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں، فرمان باری تعالی ہے: {إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (15) تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ان کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ [15] ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ [السجدة: 15، 16]
اللہ تعالی کی عظیم ترین خیر خواہی یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی اور عبادت کی جائے، اخلاص، سنت نبوی، اور طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عبادت کریں، ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالی کے لیے بجا لائیں۔ دعا، مدد طلبی ،استغاثہ اور توکل اللہ پر ہی کریں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا} آپ کہہ دیں: میں تو اپنے پروردگار کو ہی پکارتا ہوں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔[الجن: 20]
اللہ تعالی کی بندگی اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ صفاتِ کمال اور جلال کا مالک ہے، وہ ہمہ قسم کے نقائص اور عیوب سے پاکیزہ اور منزہ ہے، ساری مخلوقات پر اسی کی نعمتیں ہیں، سب لوگ اسی کی رحمت کے سوالی ہیں، اس لیے اللہ کی عبادت اللہ تعالی سے خیرات ملنے کا باعث ہے۔ اللہ کی بندگی؛ زندگی میں اور زندگی کے بعد بلائیں ٹالنے کا باعث ہے۔ اللہ تعالی کی خیر خواہی یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے لیے ثابت کیا ہے اور جو کچھ اسما و صفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے لئے ثابت قرار دی ہیں انہیں اسی انداز سے ثابت مانا جائے جیسے سلف صالحین نے مانا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: آپ سے محبت ہو، آپ کا احترام کیا جائے، آپ کی سنت کی تعظیم ہو اور آپ کے احکامات کی تعمیل کریں، آپ کے منع کردہ کاموں سے بچیں، آپ کی شریعت کے مطابق اللہ کی عبادت کریں، آپ کی سیرت کو اپنائیں، آپ کی احادیث کی تصدیق کریں، ان احادیث کو آگے پھیلائیں، دین محمدی کی جانب لوگوں کو دعوت دیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا} کہہ دو: اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، لیکن اگر تم پھر جاؤ تو رسول کے ذمے صرف وہ ہے جس کا وہ مکلف بنایا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جس کے تم مکلف بنائے گئے اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔ [النور: 54]
کتاب اللہ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: قرآن کریم کی تعظیم کریں، قرآن سے محبت کریں، اسے سیکھنے ، سکھانے اور قرآنی احکام سمجھنے کی پوری کوشش کریں، قرآن کریم کی صحیح انداز سے تلاوت کریں، قرآن کے احکامات کی تعمیل کریں اور ممنوعہ امور سے اجتناب کریں، پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کریں، قرآن کے حروف اور حدود کو یاد رکھیں، قرآن کریم کی تفسیر، معنی اور مراد کی معرفت حاصل کریں، قرآن کریم پر تدبر کریں، اپنا اخلاق قرآن کے مطابق بنائیں، قرآن و سنت کے فہم میں غلطی کھانے والوں کو جواب دیں، ان کی باطل باتوں کا رد کریں اور ان سے خبردار کریں۔ فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ} بیشک یہ قرآن اسی کی رہنمائی کرتا ہے جو انتہائی مضبوط راستہ ہے۔[الإسراء: 9]
مسلم حکمرانوں کے لئے خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: حکمرانوں کے لئے خیر پسند کریں، ان کے عدل کو پسند کریں، ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کریں، انہیں دھوکا نہ دیں، ان کے ساتھ خیانت نہ کریں، ان کے خلاف بغاوت نہ کریں، ان کے خلاف مظاہرے نہ کریں۔ حق بات پر ان کے ساتھ تعاون کریں، گناہوں کے علاوہ ہر کام میں ان کی اطاعت کریں، ان کی کامیابی اور فیصلوں میں درستگی کی دعا کریں۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "اجتماعیت میں جو چیز تمہیں ناگوار ہے، وہ اختلاف میں تمہاری چاہت سے بہتر ہے۔"
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیف مقام پر اپنے خطاب میں فرمایا تھا: (تین چیزوں کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کمی نہیں کرتا: عمل کرتے ہوئے اللہ کے لئے اخلاص، حکمرانوں کی خیر خواہی، اور ملت اسلامیہ کا التزام) اس حدیث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔
مسلمان عامۃ الناس کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: عوام الناس کو ان کے فائدے کی باتیں بتلائیں، انہیں دین سکھلائیں، ان کی عیب پوشی کریں، ان کی ضروریات پوری کریں، انہیں دھوکا مت دیں، خیانت سے کام مت لیں، ان سے حسد مت کریں، ان کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر صبر کریں۔
خیر خواہی انبیائے کرام اور رسولوں کی صفت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَاعَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} بلاشبہ یقیناً تمہارے پاس تمہی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت گراں ہے، تمہارا بہت خیال رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ [التوبہ: 128]
اسی طرح نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ} میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں [الأعراف: 62]
ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ} میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارے لیے ایک امانت دار، خیر خواہ ہوں۔ [الأعراف: 68]
ایسے ہی صالح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ} بلاشبہ یقیناً میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی [الأعراف: 79]
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور و فکر کرو: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے۔ [التوبہ: 71] اس آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعاون، مدد، خیر خواہی، تکافل، اخوت، مودت اور شفقت کا ذکر ہے۔
ابو بکر مزنی ؒ کہتے ہیں: "ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ کرام پر نماز اور روزے کی وجہ سے امتیازی مقام نہیں رکھتے تھے، بلکہ یہ ان کے دل میں کسی چیز کی وجہ سے تھا" اس کی تفصیل میں ابن علیہؒ کہتے ہیں: "سیدنا ابو بکر کے دل میں جو چیز تھی وہ اللہ کی محبت اور خلق خدا کی خیر خواہی تھی"
اور جناب حکیم بن ابو یزید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ: (جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے تو اسے خیر خواہی پر مبنی مشورہ دے) اس حدیث کو احمد نے اور طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56] اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا) اس لئے سید الاولین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔
اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد۔
یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اگلے ، پچھلے ، خفیہ ، اعلانیہ سارے گناہ معاف فرما دے، وہ بھی معاف فرما جنہیں تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے۔
یا اللہ! ہم تجھ سے جنت کے قریب کرنے والے قول اور فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم کے قریب کرنے والے ہر قول اور فعل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
یا اللہ! ہم عذاب قبر اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہمارے سب معاملات کے نتائج بہتر فرما دے، اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ }اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90، 91]
صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔

ہماری تباہی اور اسوہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)

Image result for ‫لقد کان لکم فی رسول‬‎ہماری تباہی اور اسوہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)ڈاکٹر محمد عقیل

آخر کیا وجہ ہے کہ رسول کریم کا اسوہ مبارک ہم سب کے لیے نمونہ ہے لیکن مسلمان اس کوسوں دور معلوم ہوتے ہیں؟آئیے جذبات سے بالاتر ہوکر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ 
سب سے بڑی وجہ تو ظاہر پرستی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بننا ہے تو اپنا ظاہر ان کے مطابق کرنا ہوگا۔ داڑھی کم از کم ایک مشت ہونی چاہیے، ٹخنوں سے اوپر پائنچے ہونے چاہئیں، سر پر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ۔ حالانکہ نبی کریم کے جس اسوہ کو مشعل راہ بنایا گیا وہ آپ کا ظاہری حلیہ نہیں بلکہ باطنی کیفیت تھی۔ وہ ایمان جو بندے کو خدا کے قریب کرتا، وہ تعلق باللہ جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرتا، وہ رب سے محبت جو اس کی انا کو جھکا دیتی، وہ اطاعت خداوندی جو اس کے گفتار کو درست کرتی اور اس کے کرادر کو اجلا بنادیتی ہے۔ ظاہر پرستی ہی کی بنا پر ہم نبی کی اصل شخصیت سے دور ہوگئے ہیں۔ 
ایک اور وجہ نبی کریم سے ادھورا تعلق ہے۔ ہماری اکثریت نبی کریم سے جذباتی وابستگی تو رکھتی ہے لیکن عقلی طور پر اسے علم ہی نہیں کہ آپ کی نبوت کی اصل دلیل کیا ہے؟ اور آپ کن علمی  بنیادوں پر خدا کے سچے پیغمبر کہلائے جاتے ہیں؟ اس کم علمی کی بنا ہمارا نبی سے تعلق جذبات کی حد تک ہوتا ہے اور اس کی کوئی زیادہ عقلی گہرائی نہیں ہوتی۔ چنانچہ جذباتی موقعوں پر ہم نبی کے لیے مرنے کا دعوی کرنے کو تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کے مطابق جینے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ مرنے کا دعوی کرنے لیے محض ایک جذباتی اور وقتی ابال  کافی ہوتا ہے جبکہ نبی کے طریقے کے مطابق جینے کے لیے عقلی تعلق بھی چاہیے ہوتا ہے اور مسلسل نفس کو مجاہدے سے گزارنا پڑتا ہے ۔ اسی بنا پر نبی کا مقام ہمیں عید ، بقرعید، بارہ ربیع الاول اور چند اور مقامات پر تو یاد آتا ہے لیکن ہماری روزمرہ زندگی میں اس کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہوتا۔
ایک اور وجہ نبی کریم کے مشن اور پیغام کو محض چند رسمی عبادات تک محدود کردینا اور باقی زندگی کے معاملات کو سنت یا آپشنل مان لینا ہے۔ چنانچہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی بات کی جاتی ہے تو معاملات نماز، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور قرآن کے تلفظ  کو حلق  سے نکالنے   سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ زیادہ محبت کا مظاہر ہ کرنا ہوتو کھانے کے  بعد میٹھا کھانے، سیدھی کروٹ نیند لینے، داڑھی ایک مشت کرنے اور دیگر ظاہری امور پر توجہ کرنے ہی کو مذہب سمجھا جاتا ہے۔حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ مذہب یا دین کا بنیادی مقصد صراط مسقتیم یا وہ راہ دکھانا ہے جس کے ذریعے بندہ خدا تک پہنچ جاتا اور دنیا و آخرت میں سرخروہوجاتا ہے۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل پیغا م تھا کہ بندوں کو خدا سے ملانا، بندوں کو بندگی سکھانا اور ان کے نفس کو تربیت سے گزار کر آگے ارتقا کے مراحل طے کرانا۔ جب تک یہ فلسفہ واضح نہ ہو، نبی کریم کے مشن سے آگاہی ممکن ہی نہیں۔ اور جب آگاہی ہی نہیں ہوگی تو عمل کیسے ہوگا؟ 
ایک اور وجہ سنت کے تصور کا غلط اطلاق ہے۔سنت وہ اعمال نہیں جو نبی کریم نے کلچر، عادت، ذوق یا کسی اور ذاتی وجہ سے اپنائے۔ سنت وہ طریقہ ہے جس پر چل کر وہ خود خدا تک پہنچے اور جس پر چل کر ہم بھی خدا کی رضا حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ زبان کی سنت گالیوں کے جواب میں بھی میٹھا بولنا ہے۔ ہونٹوں کی سنت مشکلات میں بھی مسکراتے رہنا ہے۔ ہاتھ کی سنت اس سے کسی کو ناحق نقصان پہنچانے سے گریز کرنا ہے۔ نگاہوں کی سنت اسے خدا کے حکم کے مطابق پست  رکھنا ہے۔ سیاست کی سنت اقتدار کی ہوس کی بجائے انسانوں کی خدمت ہے۔ ۔  تجارت کی سنت دیانتداری سے لین دین کرنا ہے۔ ملازمت کی سنت ایمانداری سے اپنا کام کرنا ہے، معاشرت کی سنت حسن سلوک اور عہد کو مشکل حالات میں بھی نبھانا ہے۔
آخری معاملہ ہمارے قول فعل کا تضاد ہے۔ نبی کریم نے کبھی وہ دعوی نہیں کیا جس پر  آپ نے عمل نہ کیا ہو۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہِیں اور جو کرتے ہیں وہ بیان نہیں کرتے کیونکہ وہ  شاید بیان کرنے کے لائق ہی نہیں ہوتا۔ ہم جو جو اشیاء بیچتے ہیں ان کے بارے میں کہتے کچھ اور ہیں اور ان کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ ہم تنخواہ پوری لیتے ہیں اور کام ادھورا کرتے ہیں۔ ہم دعوی خدا پرستی کا کرتے ہیں اور پوجا اپنی خواہش کی کرتے ہیں۔ ہم بات حیا کی کرتے ہیں اور میڈیا میں بے حیائی کو دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ہم بات نرم گوئی کی کرتے ہیں اور جلسوں میں گالیاں نچھاور کرتے ہیں۔  ہم بات بھائی چارے کی کرتے ہیں اور سیاسی و کاروباری مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتےہیں۔ ہم بحیثیت فرد، جماعت اور ادارہ اسی قول و فعل کا شکا رہیں جس کی قرآن و سنت نے سختی سے مذمت کی ہے۔ 
جب تک ان سب باتوں کی اصلاح نہیں ہوگی ، خدا کی مدد ہمارے پاس نہیں آئے گی ۔ اگر ہم ان حقیقی سنتوں کو نہیں اپنائیں گے تو یونہی ملاوٹ شدہ اشیاء ہمارا مقدر بنی رہیں گی، ہسپتال میں مریض سسکتے رہیں گے، منبروں سے قتل کا پیغام ملتا رہے گا، بد سے بدتر حکمران مسلط ہوتے رہیں گے، گل محلے تعفن سے سڑتے  رہیں  گے، عورتوں اور بچوں  کی عزتیں لٹتی رہیں گی، قتل و غارت گری جاری  رہے گی اور تنزلی و تباہی تھمنے کا نام نہیں لے گی۔ 
یہ سب کچھ ہوتا رہے گا خواہ ہم کتنے ہی میلاد منعقد کرلیں، کتنی ہی خوشیاں منالیں، کتنا ہی شور مچا کر نبی کی محبت کا اعلان کرتے پھریں۔ لیکن نبی کے ساتھ اگرجذبات کے ساتھ ساتھ عقلی و روحانی  تعلق قائم نہیں کیا، نبی کی ظاہری سنتوں کے علاوہ حقیقی سنتوں پر عمل نہیں کیا، نبی کے مشن کو رسمی عبادت سے آگے بڑھا کر معیشت ، معاشرت، اخلاقیات و معاملات تک وسیع نہیں کیا تو پھر عید میلاد النبی آتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے ، لوگ خوشیاں مناتے رہیں گے لیکن خدا کے فرشتے افسوس کے ساتھ یہ پڑھتے ہوئے گذرجائیں گے کہ ۔
صم بکم عمی فہم لایرجعون۔۔۔۔۔
 یہ اندھے ، گونگے بہرے لوگ ہیں جو ہرگز اپنی غلطی سے رجوع کرنے والے نہیں۔

Pages