کچھ دل سے

خیال کا آسرا محمد ﷺ



حبیبِ رب العلی محمد ﷺشفیعِ روزِ جزا محمد ﷺنگاہ کا مدعا محمد ﷺخیال کا آسرا محمد ﷺ
یہی ہے زخمِ جگر کا مرہمانہی کا ہے اسم اسمِ اعظمقرار بے تابیوں کو آیازُباں سے جب کہہ دیا محمد ﷺ
دُرود بھیجا ہے خُود خُدا نےرَموز کو اُن کے کون جانےکہیں وہ محمودِ کبریا تھےکہیں لقب اُن کا تھا محمد ﷺ
اسی تمنا میں جی رہا ہوںکہ جا کے روضہ کی جالیوں پرسناؤں حالِ دل میں ان کوسنیں میرا ماجرا محمد ﷺ
ہے بارِ عصیاں صبا کے سر پرنہ کوئی ساتھی نہ کوئی یاورقدم لرزتے ہیں روزِ محشرسنبھالیے آکے یا مُحَمَّد ﷺ
صبا اکبر آبادی

پناہ


پناہ(منقول)

ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗﻮجہ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ , ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﺲ ﺳﮯ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’
ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ , ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﮐﭽﮫ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺸﺘﺮﮎ ﮨﯿﮟ , ﺟﯿﺴﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ . ﺑﻠﮑﮧ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮯ , ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ , ﺍﺯﻝ ﺳﮯ ﺍﺑﺪ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮓ ﭼﮭﮍﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﮭﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺴﯽ ’ ? ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ’ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﭘﺴﻠﯽ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ , ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮨﮯ . ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮈﺭ ﮐﺮ ﻭﮦ , ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻼﺗﺎ , ﻣﮕﺮ ﻣﺠﺎﺯﯼ ﺧﺪﺍ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﮩﻼﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮫ ﭨﮭﯿﮏ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ . ﻇﺎﮨﺮﺍً ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ , ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ , ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﺟﻨﮓ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮨﮯ ’ ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮐﮭﺠﺎﺗﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ , ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ . ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺳﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ
ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﯿﭩﮯ , ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ . ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺣﺼّﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ . ﺭﺍﺯﻕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻣﺘﮑﺒّﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻗﺎﺑﺾ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ , ﻋﺎﺩﻝ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺻﻔﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ , ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺻﻔﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ  ﺑﯿﭩﮯ .
ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ .
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻃﺎﻗﺖ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﻮ ﺩﻭﺍﻡ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﮯ . ﻗﻮﺕ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .
ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﻻ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ , ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﺎ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ ﻧﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺊ ؟  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍۓ , ‘ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﭩﮯ , ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ . ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯﻧﺎﻡ ﮐﯽ , ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺎﮦ ﮐﯽ , ﭨﮭﮑﺎﻧﮯ ﮐﯽ , ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﭗ ﺳﮑﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒّﺖ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ .’ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺭﮐﮯ , ‘ ﺍﺏ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ کہ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﻨﺎﮦ ﺗﮭﯽ؟ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ..؟

آج کی بات ۔۔۔ 19 اکتوبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~
اپنی خوشیوں اور خواہشوں کو اپنے اندر رکھیں۔ورنہ لوگ خوشیوں کو نظر اور خواہشوں کوآگ لگانا خوب جانتے ہیں۔۔۔۔!!!!

انصاف کرو



ایک عورت کہتی ہے . “زن مرید ہے“ دوسری عورت بولتی ہے “ماں کا مرید ہے“.ایک عورت دوسری عورت کو اس کا پیر و مرشد بنا دیتی ہے.عورت کی فطرت بھی عجیب ہے. بیٹا کنوارہ ہوتا ہے تو دن رات اس کے سر پہ سہرا سجانے کے خواب دیکھتی ہے بہو لانے کے سپنوں میں کھوئی رہتی ہے خیالوں ہی خیالوں میں پوتے پوتیوں سے کھیلتی ہے .
مرنے سے پہلے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹے کا گھر بسائے . بیٹا شادی پر راضی نہ ہو تو ضد سے کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے . بالآخر سہرا سجا دیا جاتا ہے ارمان پورے ہو جاتے ھیں۔ بہو آجاتی ہے تب اس کے اندر ایک نئی عورت جنم لیتی ہے . بیٹے کے ساتھ بہو کو بیٹھے دیکھتی ہے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، طعنے کوسنے اور زہریلے جملے تخلیق کرنے لگتی ہے پہل اکثراس کی طرف سے ہوتی ہے جو بہو کے ارمان میں پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ وہ نئی آنے والی کچھ دن تو اپنا قصور تلاش کرنے میں لگی رہتی ہے تب اسے اپنے جرم کا پتہ چلتا ہے، اسے معلوم ہوتا کہ ایک عورت ہونا ہی دوسری عورت کی نظر میں اس کا اصل جرم ہے تب وہ اپنے اس جرم پر ڈٹ جاتی ہے قانونی طور پر کیونکہ مرد اس کی ملکیت ہوچکا ہوتا ہے۔
تو وہ اپنی اس ملکیت کو اپنی ذات کی حد تک محدود کرنے کی فکر میں لگ جاتی ہے، جس نے پیدا کیا ہوتا ہے اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو صرف دو کلموں کے عوض دوسری کو سونپ دے۔ تب۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ بغیر اس بات کو سوچے کہ ملکیت کی اس جنگ میں وہ کس کرب سے گزر رہا ہے جو دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتا ، مکرو فریب کا ایسا سٹارپلس گھر میں آن ائیر ہونے لگتا ھے جس کی ہر قسط اسے ذہنی مریض بنا کر رکھ دیتی ہے۔ ایک جملہ اس کے کانوں میں تواتر کے ساتھ انڈیلا جاتا ہے کہ "انصاف کرو"۔ سو موٹو ایکشن لینے کا مطالبہ بہن بھائیوں اور سسرالیوں کی جانب سے کیا جانے لگتا ہے۔
” ماں کی شان” سنانے والے اسے قدموں میں جنت تلاش کرنے پر لگانے کی سرتوڑ کوششیں کرنے لگتے ہیں اور بیوی کے حقوق کے “علمبردار” اس کے لیے انصاف نہ کرنے کی صورت میں آخرت کے عذابوں سے ڈرانے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ انصاف کے مطالبوں سے تنگ آکر یا تو جنت پانے کے چکر میں ایک کے ہاتھ میں طلاق تھما دیتا ہے ، یا بیوی کے حقوق کے تحفظ میں ماں کی گستاخی پر اتر آتا ہے اور اگر ان دونوں کے ساتھ “انصاف” نہ کر سکے تو گلے میں رسی ڈال کر “منصف” کا ہی انصاف کر دینے پر مجبور ہو جاتا ہے
ان تینوں انتہائی اقدام کے بعد ایک عورت کی طرف سے بغیر ضمیر کی خلش سے کہہ دیا جاتا ہے” میں نے تو ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا، میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ انصاف کرو”
۔نوٹ : یہ تحریر ہر گھر اور ہر فرد پر لاگو نہیں ہوتی معاشرہ اچھے اور برے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے ۔ جہاں برے ہوتے ہیں وہ اچھے بھی ہوتے ہیں بس اپنا اپنا ضمیر زندہ ہونا چاہئیے۔

علم کوشیطان کا ہتھیاربنانے سے بچیں


علم کوشیطان کا ہتھیاربنانے سے بچیںاسرا میگ:اگست 2017 تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
" حضرت! میں بہت زیادہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں، بہت زیادہ" میں نے کہا۔"تو حاصل کرلو، کس نے روکا ہے؟" حضرت نے جواب دیا"جناب مسئلہ یہ ہے کہ علم بعض اوقات تکبر پیدا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہی سب کچھ نہ ہو جو شیطان کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنے علم کے زعم میں خدا کے سامنے کھڑا ہوگیا؟"" دو ہدایات پر عمل کرو،پہلی یہ کہ جو کچھ علم حاصل کرو، اس کی تمام اچھائیوں کو من جانب اللہ سمجھو۔ ہر اچھی کوٹ، آرٹیکل یا کتاب لکھو تو اس کے اچھے پہلووں کو من جانب اللہ سمجھو۔اس کا سارا کریڈٹ خدا کے اکاؤنٹ میں ڈال دو۔ اس سے ملنے والی تعریفوں پر یوں سمجھو کہ لوگ تمہاری نہیں بلکہ اس خدا کی توفیق کی تعریف کررہے ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ۔"" بہت عمدہ بات کہی آپ نے حضرت!، دوسری ہدایت کیا ہے؟"" دوسری ہدایت یہ کہ جب کسی کو علم سکھاؤ تو استاد نہیں طالب علم بن کر سکھاؤ۔ اس کو سمجھانے کی بجائے اس سے طالب علم بن کر سوال کرو۔ اس کے سوالوں کے جواب ایک طالب علم کی حیثیت سے دو۔ اپنی کم علمی اور غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرو۔ اس طرح تم خود کو عالم نہیں طالب علم سمجھو گے اور تکبر پیدا نہیں ہوگا۔" بہت شکریہ حضرت! آپ نے بہت اچھے طریقے سے بات کو سمجھایا۔""یاد رکھو ! علم وہ ہتھیار ہے جس کا غلط استعمال خود کو ہی ہلاک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ شیطان سب سے آسانی سے عالموں ہی کو پھانستا ہے۔ پہلے اسے یہ یقین دلاتا ہے تم تو عالم ہو، تمہیں سب پتا ہے۔ جب سب پتا ہے تو یہ کل کے بچے تمہارے سامنے کیا بیچتے ہیں؟ اس کے بعد لوگوں کو حقیر دکھاتا ہے ۔، لوگوں کے لائکس اور واہ واہ کو استعمال کرکے انسان میں تکبر ، غرور اور انا کو مضبوط کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود کو عقل کل سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر اپنی اور دنیا والوں کی نظر میں عالم اور متقی نظر آتا ہے، لیکن خدا کی کتاب میں اسے "ابوجہل" لکھ دیا جاتااور فرشتوں کی محفل میں اسے شیطان کا ساتھی گردانا جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔"

آج کی بات ۔۔۔ 17 اکتوبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~
اللہ کو تم سے کوئی چیز چھین لینا مقصود نہیں ہے، وہ صرف تمہیں کھو دینے کے خوف سے اور پا لینے کے لالچ سے آزاد کرکے ایک مضبوط انسان بنانا چاہتا ہے۔
حالم از نمرہ احمد

درخت لگانے کا بہترین موقع


درخت لگانے کا بہترین موقعتحریر: ابو یحییٰ
ایک چینی کہاوت اس طرح سے ہے کہ درخت لگانے کا بہترین موقع بیس سال قبل تھا، دوسرا بہترین موقع آج ہے۔ درحقیقت یہ ایک انتہائی حکیمانہ قول ہے۔ اس میں زندگی کی دو عظیم ترین حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے جن کے بارے میں بہت کم لوگ حساس ہوتے ہیں۔
پہلی حقیقت کا تعلق تعمیری کام سے ہے۔ اس کہاوت میں درخت لگانے کا عمل دراصل تعمیری کام کا استعارہ ہے۔درخت لگانے سے مراد کوئی بھی تعمیر ی عمل ہے۔ ایک درخت اپنے آغاز پر ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے۔ اس وقت اس پودے کو ہر طر ح کی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔نگہداشت کے اس طویل عرصے میں نہ پھل ملتا ہے نہ سایہ ، نہ لکڑی ملتی ہے نہ پھول۔ لیکن جب نگہداشت کا یہ وقت گزرجاتا ہے اور آخر کار پودا درخت بن جاتا ہے تو پھر وہ ہر طرح کی پیداوار دینے لگتا ہے۔اسی طرح کا معاملہ ہر تعمیری کام کا ہے۔شروع میں یہ تعمیری کام یک طرفہ طور پر محنت، مشقت، صبر اورنگہداشت چاہتا ہے۔ اس دوران میں مطلوبہ نتائج کم ہی سامنے آتے ہیں۔ لیکن جب یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے تو پھر ہر طرح کے مثبت نتائج سامنے آنے لگتے ہیں۔
بچوں کی پرورش سے لے کر گھر بنانے تک اس تعمیری عمل کی مثالیں روز مرہ زندگی میں ہر جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ مگر ہم لوگ فرد اور قوم کی مجموعی تعمیر و ترقی کے معاملے میں اس معاملے کو اکثر بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایک دم نیک بن جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس اچانک بہت سارے پیسے آجائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم ایک ہی جست میں اس دنیا کی غالب قوم بن جائے۔ ہماری خوش گمانیوں کی یہی وہ مثالیں ہیں جن کی نفی یہ کہاوت کرتی ہے۔
یہ کہاوت بتاتی ہے کہ اگر ہمیں اپنی اور اپنے بچے کی کردار سازی کرنی ہے تو اس کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کرنا ہوگی۔ اگر ہمیں اپنے معاشی معاملات کو بہتر کرنا ہے تو اس کے لیے کوشش، جدوجہد، منصوبہ مندی اور مواقع کے انتظار کے صبر آزما مراحل سے گزرنا ہوگا۔ ہم اگر اپنی قوم کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کسی عظیم لیڈر کا انتظار بند کرنا ہوگا جو اچانک آسمان سے اترے یا زمین سے کہیں نمودار ہوکر ایک دم سے چیزیں ٹھیک کردے۔ اس کے لیے ہمیں برسہا برس کی تعلیم و تربیت کے ذریعے سے مجموعی قومی مزاج کو درست کرنا ہوگا۔دنیا پر حکومت کرنے والا مغرب اس مقام پر صدیوں میں پہنچا ہے۔ مغرب کے ورثے کو اپنا کر چینی اقوام کو بھی اس مقام پر پہنچنے میں کم از کم ایک نسل یا بیس برس کا انتظار کرنا پڑا ہے۔ دو چار سال میں قوموں کی زندگی میں کچھ نہیں ہوتا۔یہ وہ بات ہے جو ہماری قوم کو سمجھنا چاہیے۔
دوسری بات اس کہاوت میں یہ کہی گئی ہے کہ اگر بیس برس پہلے آپ نے اپنی انفرادی و اجتماعی تعمیر کاآغاز نہیں کیا تو مایوس نہ ہوں۔ بلکہ جان لیں کہ آج بھی اس کام کا بہترین موقع موجودہے۔ آپ آج سے کوشش شروع کردیں۔ اگلے بیس سال بعد آپ مطلوبہ نتائج پالیں گے۔ لیکن اس کے برعکس رویہ اختیار کیا گیا تو پھرمایوسی اور بے عملی کے بیس برس بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آج کھڑے ہوئے ہیں۔

آج کی بات ۔۔۔۔ 16 اکتوبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~
منزلوں کا پا لینا کتنی بڑی قیامت ہے، سب کچھ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔خود منزل بھی۔۔۔
مجھے ایسا لگتا ہے جیسے طلب سےعظیم تر کوئی منزل نہیں۔طلب اور جدوجہد، شاید یہ بشریت کا تقاضا ہو 
اقتباس: ممتاز مفتی کی کتاب "لبیک" سے

اللہ کا صفاتی نام "السلام" اور اس کے تقاضے

اللہ کا صفاتی نام "السلام" اور اس کے تقاضےخطبہ جمعہ مسجد نبویترجمہ: شفقت الرحمان مغل
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے23-محرم الحرام-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"اللہ کا صفاتی نام السلام اور اس کے تقاضے" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ السلام اللہ تعالی کا نام ہے اور اس میں اللہ تعالی کی ہمہ قسم کے نقائص ، شرکاء، ہمسر سے سلامتی کا معنی ہے، اللہ تعالی سے سلامتی مانگنا اسم مبارک کا تقاضا ہے، اللہ تعالی نے انبیائے کرام سمیت اپنے بندوں پر سلامتی نال فرمائی اور ہم سب نماز میں سب کیلیے سلامتی طلب بھی کرتے ہیں، اسی نام کی نسبت سے ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔
خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:
مسلمانو!
اللہ تعالی کے نام بہترین ہیں اور اسی کی صفات اعلی ترین ہیں، کائنات اور شرعی احکام میں موجود نشانیاں اسی بات کی گواہ ہیں، اللہ تعالی کے تمام اسما و صفات مخلوق سے بندگی اور عبادت کا تقاضا بھی بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی کے خالق ہونے اور پیدا کرنے کے متقاضی ہیں، نیز ہر نام اور صفت کی مخصوص بندگی بھی ہے جس پر ایمان رکھنا اور جاننا لازمی جزو ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اللہ کو ان کے ذریعے پکارو اور ان لوگوں کو مسترد کر دو جو اللہ کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں، انہیں ان کے عملوں کا عنقریب بدلا دیا جائے گا۔[الأعراف: 180]
اللہ تعالی کے انہی ناموں میں "اَلسَّلَامُ" بھی شامل ہے، یہ ایک ایسا نام ہے جس میں تمام صفات بھی سمو جاتی ہیں، یہ نام اللہ تعالی کے تقدس اور پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے، یہ اللہ تعالی کی بے عیبی ظاہر کرتا ہے، نیز ہر ایسی بات سے اللہ تعالی کی بلندی عیاں کرتا ہے جو اللہ تعالی کے جلال، کمال اور عظمت کے منافی ہے۔
"اَلسَّلَامُ" یہ بھی بتلاتا ہے کہ اللہ تعالی ہمہ قسم کی معذوری سے سلامت ہے، کسی بھی کمی سے منزّہ ہے، لہذا وہ ہر عیب اور نقص سے سلامت ہے؛ کیونکہ اس کی ذات، اس کے نام ، اس کی صفات اور افعال سب کچھ کمال درجے کے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ} وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہی بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے سلامت، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زور آور، بڑائی والا ہے، اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ [الحشر: 23]
لہذا ذات باری تعالی بیوی اور بچوں سے سلامت ہے، وہ کسی بھی قسم کے مماثل، ہم سر، ہم نام اور ہم پلہ سے سلامت ہے، وہ ہمہ قسم کے شریک اور ساتھی سے سلامت ہے، اللہ سبحانہ و تعالی کی زندگی موت، اونگھ اور نیند سے سلامت ہے، وہ اپنی مخلوقات کو قائم دائم رکھنے والا ہے، وہ تھکاوٹ، ناچاری اور اکتاہٹ سے بھی سلامت ہے، اس کا علم بھی جہالت اور بھول چوک سے سلامت ہے، اس کا کلام بھی مبنی بر عدل اور سچ ہے، اس کا کلام جھوٹ اور ظلم سے سلامت ہے، اس کی تمام تر صفات کسی بھی ایسی چیز سے سلامت ہیں جو کمال کے منافی ہو، یا صفات میں نقص کا شائبہ پیدا کریں۔
تو جس طرح ذات باری تعالی اور اس کے اسما و صفات سلامت اور سلامتی والے ہیں تو ہمہ قسم کی امن و سلامتی بھی اسی کی جانب سے ہوتی ہے، اسی سے سلامتی مانگی جاتی ہے، اگر کوئی شخص کسی اور سے سلامتی کا طلب گار ہو تو خالی ہاتھ لوٹے گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نام مبارک کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے تھے جیسے کہ آپ ﷺ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے: (اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ[یا اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی آتی ہے، اے ذو الجلال والاکرام ! تو ہی بابرکت ذات ہے]) مسلم
پھر چونکہ اللہ تعالی خود سلامتی والا ہے اور اسی کی جانب سے سلامتی ملتی ہے تو یہ کہنا جائز نہیں کہ: "اللہ تعالی پر سلامتی ہو"؛ اس لیے کہ: (اللہ تعالی بذات خود سلامتی والا ہے) بخاری
اللہ تعالی نے اپنے انبیائے کرام اور رسولوں کو سلام بھیجا؛ کیونکہ رسولوں کی دعوت ہر قسم کے عیب اور نقص سے سلامت تھی، فرمانِ باری تعالی ہے: {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ}ان کی باتوں سے تیرا رب العزت پروردگار پاک ہے [180] اور سلام ہو رسولوں پر [الصافات: 180، 181]
اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلیے بھی سلامتی لکھ دی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى} آپ کہہ دیں: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اور اللہ کے چنیدہ لوگوں پر سلامتی ہو۔ [النمل: 59]
اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو ہمارے نبی ﷺ پر سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اے ایمان والو تم اس [نبی ] پر درود و سلام پڑھو۔[الأحزاب: 56]
ہر نمازی بھی اپنے تشہد میں نبی ﷺ سمیت تمام نیک لوگوں پر سلام بھیجتے ہوئے کہتا ہے: (اَلسَّلَامَ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ[اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمت اور برکتیں ہوں آپ پر اے نبی، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر])
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے دین بھی وہی مقرر فرمایا ہے جس میں ہدایت اور سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} بیشک اللہ تعالی کے ہاں دین؛ اسلام ہے[آل عمران: 19]
اسی دین کی اتباع میں دنیا و آخرت کی سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى} اور متبعین ہدایت پر سلامتی ہو ۔[طہ: 47] پھر ا س دین کے پیروکاروں کا آخری ٹھکانہ بھی سلامتی والا گھر ہے یعنی جنت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} اور اللہ تعالی سلامتی والے گھر کی جانب دعوت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے کہ صراط مستقیم کی رہنمائی کرتا ہے۔[يونس: 25]
اسلام نے جانوروں اور چوپاؤں کے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت بھی دی چنانچہ (ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی) متفق علیہ ۔ اور دوسری طرف : (ایک زانی عورت نے کتے کو پانی پلایا تو اسے بخش دیا گیا) متفق علیہ
مسلمان کو مخلوق میں قولی اور فعلی ہر اعتبار سے سلامتی کا پیغام پھیلانے کا حکم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان سلامت رہیں) بخاری
سلام کرنا بھی اسلام کا شعار ہے، سلام کہتے ہوئے مسلمان اللہ تعالی کا نام ذکر کرتا ہے اور اللہ تعالی سے ہی سلامتی طلب کرتا ہے، ساتھ میں مخاطب کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کرتا ہے اسے کسی قسم کی تکلیف اور اذیت نہیں پہنچائے گا۔
سلام حقیقت میں باہمی الفت اور محبت پیدا کرنے کی کنجی ہے، سلام عام ہونے پر مسلمانوں میں باہمی الفت بڑھے گی، مسلمانوں کا امتیازی شعار ظاہر ہو گا، آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گا ، بلکہ سلام کرنے سے ایک دوسرے کی عزت اور تعلق میں بھی مضبوطی آئے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یہودی تم سے اتنا حسد کسی چیز پہ نہیں کرتے جتنا تم سے سلام اور آمین کہنے پر کرتے ہیں) ابن ماجہ
اسلام نے سلام میں پہل کرنے کی ترغیب بھی دی : (بیشک اللہ تعالی کے ہاں قریب ترین وہی ہے جو اسلام میں پہل کرے) ابو داود
اللہ تعالی نے سلام کا جواب انہی الفاظ میں دینے یا ان سے بھی اچھے الفاظ میں دینے کا حکم دیا اور فرمایا: {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا}جب کوئی شخص تمہیں سلام کہے تو تم اس سے بہتر اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم وہی کلمہ کہہ دو [النساء: 86] ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: " اچھے الفاظ میں جواب دینا مستحب ہے، جبکہ انہی الفاظ میں جواب دینا فرض ہے"
سلام کرنے والے کیلیے دس تا تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، " ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا" پھر آپ نے فرمایا: (دس نیکیاں) ، " پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا" اس پر آپ نے فرمایا: (بیس نیکیاں) ، " پھر تیسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، تو آپ نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ آدمی بھی بیٹھ گیا" اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیس نیکیاں) ابو داود
سلام کرنا اور پھر سلام کا جواب دینا مسلمانوں کے باہمی حقوق میں سے ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، انہی میں آپ نے فرمایا: جب ایک مسلمان دوسرے کو ملے تو سلام کہے) مسلم۔ جبکہ بخاری کی روایت میں ہے کہ: (سلام کا جواب بھی دے)
ایمان کی تکمیل اور حالات کی بہتری باہمی محبت سے ہو گی[اور باہمی محبت سلام سے پیدا ہوتی ہے]، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور ایمان اس وقت تک نہیں لا سکتے جب تک تم باہمی محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں جب تو اسے کرنے لوگو تو آپس میں محبت بھی کرنے لگے گو؟ تم آپس میں سلام عام کرو) مسلم
اللہ تعالی کی طرف سے روزِ قیامت مومنین کا شعار بھی سلام ہی ہو گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ} جس دن وہ اللہ سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا [الأحزاب: 44]
اللہ تعالی کے اسما و صفات سے متعلق علم اعلی ترین علم ہے، اسی کی بنا پر اللہ تعالی سے محبت، اللہ تعالی کی عظمت، امید اور خشیت پیدا ہوتی ہے، جس قدر انسان کا اللہ تعالی کے بارے میں علم زیادہ ہو گا وہ اللہ تعالی کی جانب اتنا ہی متوجہ ہو گا، اللہ تعالی کے احکامات اور نواہی کی پاسداری کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ بندگی کی تمام تر صورتیں اللہ تعالی کے اسما و صفات کے تقاضے ہی ہیں۔ انتہا درجے کی سعادت مندی اور راہِ الہی میں بلند مقام پانے کا یہی ذریعہ ہے، اللہ تعالی کو اپنے اسما و صفات بہت پسند ہیں، اللہ تعالی پسند فرماتا ہے کہ اس کی مخلوق میں اسما و صفات کے اثرات رونما ہوں۔
یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]
تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

آج کی بات ۔۔۔ 14 اکتوبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~
" لوگوں كو آپ میں تبدیلی نظر آجائے گی۔۔ لیكن اپنا وه رویہ نظر نہیں آئے گا جو اس تبدیلی كی وجہ بنا "

طاغوت کا انکار


"*طاغوت* لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا۔ قران کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جو بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔
خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں:
پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرمانبرداری ہی کو حق مانے، مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام *فسق* ہے۔
دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرمابرداری سے اصولاً منحرف ہو کر یا تو خود مختار بن جائے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے، یہ *کفر* ہے۔
تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہو کراس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے اس کا نام *طاغوت* ہے۔اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللّه کا مومن نہیں ہو سکتا , جب تک کہ وه اس طاغوت کا منکر نہ ہو.
"..اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے. جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے"
(سورة البقره, آیت: 256-257)
یہاں تاریکیوں سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں،جن میں بھٹک کر انسان اپنی فلاح و سعادت کی راہ سے دور نکل جاتا ہے اور حقیقت کے خلاف چل کر اپنی تمام قوتوں اور کوششوں کو غلط راستوں میں صرف کرنے لگتا ہےـ اور نور سے مراد علمِ حق ہے جس کی روشنی میں انسان اپنی اور کائنات کی حقیقت اور اپنی زندگی کے مقصد کو صاف صاف دیکھ کر علٰی وجہ البصیرت ایک صحیح راہ عمل پر گامزن ہوتا ہے.
"طاغوت" یہاں اس آیت میں *طواغیت* کے معنٰی میں استعمال کیا گیا ہے.یعنی خدا سے منہ موڑ کر انسان ایک ہی طاغوت کے چُنگل میں نہیں پھنستاـ بلکہ بہت سے طواغیت اس پر مسلّط ہو جاتے ہیں ـ ایک طاغوت شیطان ہےـ جو اس کے سامنے نت نئی جھوٹی ترغیبات کا سدا بہار سبز باغ پیش کرتا ہےـ دوسرا طاغوت آدمی کا اپنا نفس ہے، جو اسے جذبات و خواہشات کا غلام بنا کر زندگی کے ٹیڑھے سیدھے راستوں میں کھینچے کھینچے لیے پھرتا ہے. اور بےشمار طاغوت باہر کی دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں. بیوی اور بچّے، اَعِزّو اور اقربا، برادری اور خاندان، دوست اور آشنا، سوسائٹی اور قوم، پیشوا اور رہنما، حکومت اور حکّام، یہ سب اس کے لئے طاغوت ہی طاغوت ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اس سے اپنی اغراض کی بندگی کراتا ہے اور بےشمار آقاؤں کا یہ غلام ساری عمر اسی چکر میں پھنسا رہتا ہے کہ کس آقا کو خوش کرے اور کس کی ناراضی سے بچے.
آیت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مومن کا حامی و مددگار اللہ ہوتا ہے اور وہ اسے تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے، اور کافر کے مددگار طاغوت ہوتے ہیں جو اسے روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں. اب اسی کے لئے تین واقعات مثال کے طور پر پیش کئے جارہے ہیں، ان میں سے پہلی مثال اس شخص کی ہے، جس كے سامنے واضح دلائل كے ساتھ حقيقت پيش كى گئی اور وه اس كے سامنے لا جواب بھی ہو گيا. مگر چونکہ اس نے طاغوت کے ہاتھ میں اپنى نكيل دے ركهى تھی, اس ليے وضوحِ حق کے بعد بھی وه روشنى ميں نہ آیا اور تاریكيوں میں ہی میں بهٹکتا ره گيا. 
بعد كى دو مثاليں ايسے اشخاص كى ہیں ، جنہوں نے اللہ کا سہارا پکڑا تها، سو اللّه ان كو تاریكيوں سے اس طرح روشنى میں نكال لايا کہ پرده غيب میں چھپى ہوئی حقیقتوں تک کا ان كو عينى مشاہده کرا ديا.
اب آپ دیکھیں کہ آپ پر کون کون سے طاغوت مسلط ہیں, یا یہ کہ آپ نے خود مسلط کر لیے ہیں. 
تو پہلے طاغوت سے انکار. اور اسکے بعد الله پر ایمان کا اقرار.
اب مجھے دیکھنا ہے کہ میں کس کا بتایا لائف سٹائل اپناؤں گی. کس کے *ڈووز اینڈ ڈونٹس* فالو کروں گی. 
اب دل کی خدائی, دل کی حکمرانی جو خیر باد کہ دیں.یہ نہیں کہ *دل نہیں چاه رہا*. ارے بھائی دل اب اپنا کہاں رہا. یہ تو اسلام میں داخلے پر الله کو دے دیا. سب تو الله کے غلام بننا ہے. الله کے *روبوٹ*. اپنی مرضی ختم. صحابہ الله کے روبوٹس تھے. ہم نے بھی نبیؐ اور انکے صحابہ کو آئیڈیل بنا کر انکی کاپی بننا ہے. من و عن !! اپنی مرضیاں نہیں چلانی.
ڈاکٹر بنت اسلام کے ناول "غرباء" سے انتخاب

آئینہ سوچ گر دکھانے لگے


حل مسائل ہیں خود بتانے لگےاب تو خود خواب ہیں جگانے لگے
غور کرتا ہوں اب میں لہجوں پرلفظ معنی نہیں بتانے لگے
جانے کیا کیا فساد ہو جائےآئینہ سوچ گر دکھانے لگے
سمجھو دستک ہے خوش نصیبی کیوقت جب آپ کو سکھانے لگے
اتباف ابرک

کہانی ہم سب کی



کہانی ہم سب کی !!!(عربی سے ترجمہ) (منقول)
میں نے خواہش کی میں شادی کروں،اور میں نے شادی کر بھی لی،اولاد کی نعمت سے محرومی کے باعث زندگی میں وحشت سی تھی.پھر میں نے خواہش کیمیرے آنگن میں بھی پھول کھلے،میرے گھر میں بھی بچوں کی ننھی آوازیں سنائی دیں.مجھے رب تعالی نے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا،اب گھر کی دیواریں تنگی ء داماں کی شکایت کرنے لگیں.پھر میں نے خواہش کیمیرا اپنا گھر ہو،اس کے ساتھ میں ایک باغیچہ ہو، کچھ عرصہ بعد میرے پاس گھر بھی تھا اور باغیچہ بھی مگر اولاد بڑی ہوچکی تھی.پھر میں نے خواہش کیبچوں کی شادیاں کروں،میں اس فریضے سے بھی سبکدوش ہوا،مگر اب مشقت بھرے کام اور جاب سے تھک گیا تھا.پھر میں نے خواہش کیریٹائرمنٹ لیکر باقی زندگی آرام کروں، میں نے ریٹائرمنٹ لی، بچے شادیاں کرکے اپنے گھر بسا چکے تھے میں تنہا ہوچکا تھا بالکل اسی طرح جب میں یونیورسٹی اور سٹوڈنٹ لائف سے فارغ ہوا تھا مگر فرق یہ تھا تب میں زندگی کی طرف بڑھ رہا تھا اور اب واپس لوٹ رہا تھا.لیکن خواہشات تھی کہ ختم نہیں ہو رہی تھیں.پھر میں نے خواہش کیقرآن مجید حفظ کروں، لیکن میرا قوت حافظہ جواب دے چکا تھا.پھر میں نے خواہش کیاللہ کے لیے روزے رکھوں مگر صحت ساتھ چھوڑ چکی تھی.پھر میں نے خواہش کیرات اٹھ کر تہجد پڑھوں مگر میرے کمزور پاؤں میرے جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکاری تھے.
سچ فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو جوانی کو بڑھاپے سے صحت کو بیماری سے امیری کو فقیری سےفارغ بالی کو مصروفیت سے زندگی کو موت سے 
اے اللہ ! اپنے ذکر ،شکر اور عبادت کی حسن بجا آوری میں ہماری مدد فرما.
اے میرے مسلمان بھائی اور بہن!اگر آپ کے روزانہ کے شیڈول میں چاشت کی دو رکعات قرآن مجید کا کوئی رکوع رات کی وتر کوئی اچھی بات کوئی صدقہ جو رب کی ناراضگی کو خوشنودی میں بدل دے.کوئی ایسی نیکی جو آپ اور آپ کے رب کے درمیان ہو اگر نہیں۔۔۔۔۔توپھر زندگی کا کیا لطف؟پھر کس لیے جی رہے ہیں؟!
آو روز حسرت کے آنے سے پہلے ،بڑھاپے کا جوانی کو کھانے سے پہلے،بیماری کا صحت کو چاٹ جانے سے قبل... عمل کریں ،خود کو بدلیں .!!

حفظ ما تقدم



ائیرپورٹ سات بجے پہنچنا ہو تو ہم  کہتے ہیں۔۔...!!پہنچنا تو 7 بجے ہے لیکن !!!            To Be On The Safe Sideہم 5 بجے ہی گھر سے نکل جائیں گے ...یعنی دیرسے پہنچنے کا رسک نہیں لینا....
انٹرویو کے لیے 11 بجے پہنچنا ہے لیکن بندہ 10 بجے نکل لیتا ہے...کہتا ہے!جناب مجھے پہنچنا تو 11 بجے ہی ہے مگر۔۔۔۔۔۔       To Be On The Safe Sideمیں ایک گھنٹه پہلے ہی نکل جاتا ہوں!!یعنی لیٹ ہوجانے کا رسک نہیں لیتا.....!!!
مہمان بلاتے ہیں پندرہ لیکن  کہتے ہیں.....!!! مہمان تو آنے پندرہ ہی ہیں لیکن!        To Be On The Safe Side 20 مہمانوں کا کھانا بنا لیتے ہیں..۔!!یعنی مہمان تو 15 ہی آئیں گےلیکن کھانا کم ہوجانے کا رسک نہیں لے رہے....!!!
ہم دنیا کے بارے میں بہت محتاط ہیں، یه جو           To Be On The Safe Side کے الفاظ ہیں ان کو اسلامی نکتهِ نظر سے دیکھا جائے...... تو اسی کو تقویٰ کہتے ہیں!!کہ بندے کو ہمیشه           To Be On The Safe Side ﭘر ہوکر زندگی گزارنى چاھیئے....اسکو گناه کا رسک ہی نہیں لینا چاھیئے۔۔۔کیا پتا کب کہاں زندگی کی شام ہو جائے!!..

دور جدید کی بد تہذیبی: پگڑی اچھالنا - خطبہ جمعہ مسجد نبوی


دور جدید کی بد تہذیبی: پگڑی اچھالنا - خطبہ جمعہ مسجد نبویترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ  نے مسجد نبوی میں 16-محرم الحرام- 1439 کا خطبہ جمعہ " دور جدید کی بد تہذیبی: پگڑی اچھالنا" کے عنوان پر ارشاد فرمایا  جس میں انہوں نے  کہا  کہ  انسانیت کے ارتقائی مراحل کی تکمیل کے لیے اسلام نے  پہلے پر امن زندگی کا مفہوم بتلایا پھر اس کی تکمیل کے لیے ترغیب  دیتے ہوئے تعلیمات بتلائیں ،اس کے بعد تعلیمات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کڑی سزائیں رکھیں، اس طرح اسلام نے جرائم کی روک تھام کے لیے جرائم سے پہلے اور بعد میں مثبت اقدامات کیے ،
خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اسی نے فرمایا: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم [یعنی شرک] کی آمیزش نہیں کی تو انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام: 82]
اسلام نے انسانیت کو اعلی مقام دینے کے لیے  پر اطمینان  اور امن  و سلامتی والی زندگی کا فہم عطا کیا، پھر شریعت اسلامیہ  کے احکامات میں ہر قسم کی رہنمائی بھی دی، نیز پوری امت کو  اعلی اخلاقی اقدار  کی باڑ عطا کی جس کے باعث امت کے تمام گوشوں تحفظ  ملا، ساتھ میں بلند اخلاقی اقدار اور اعلی کردار کی دعوت دی جو کہ امت کو گھٹیا اور گرے ہوئے  کردار سے کہیں بلند کر دیتے ہیں، 
اسلامی تعلیمات نے جرائم کو پھیلنے سے روکنے کے لیے  جرائم کے اسباب ہی دفن کر دیے ہیں، جرائم کی وجہ بننے والی چیزوں کا خاتمہ کیا اور ان کے سر اٹھنے سے پہلے ہی ان کی سر کوبی  کر دی؛ صرف اس لیے کہ معاشرے کا امن برقرار رہے اور ہر فرد کے حقوق کو تحفظ ملے۔
اسی طرح  اسلام نے منبعِ جرائم  خشک کرنے کے لیے  معاشرے کی اعلی اخلاقی اقدار پر تربیت کی، ان کے اندر اتنی اخلاقی غیرت پیدا کی جو انہیں برائی سے روک دے، پھر اس کے بعد شریعت نے  شرعی حدود، قصاص اور تعزیری سزائیں پورے معاشرے کے امن کے لیے قائم کیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اور قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے، اے عقل والو تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 179]
ایسے جرائم جن کی تباہ کاریوں سے لوگ چیخ اٹھے ہیں اور اہل دانش ان جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر متفق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ  لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جائیں، یہ جرم گمراہی، ایذا رسانی اور دھوکا دہی  جیسے گناہوں میں ملوث ہونے کا موجب بنتا ہے، کسی کی پگڑی اچھالنا گھٹیا حرکت ہے اور تباہ کن خرابی ہے، اس سے جذبات بھڑکتے ہیں اور حساسیت بڑھتی ہے۔
کسی کی عزت اچھالنے کے  نقصانات شدید نوعیت کے ہوتے ہیں، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی جانب سے حرام کردہ گناہوں میں ملوث ہو جاتا ہے، معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، بلکہ متاثر شخص میں ایسے  نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو اسے اندر سے توڑ دیتے ہیں اور وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
دوسروں کی عزتوں سے کھیلنے والے  اجڈ اور گھٹیا لوگوں کی روک تھام شرعی واجب ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی ضرورت بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا} اور جو لوگ مومن مرد و خواتین کو بلا وجہ اذیت دیتے ہیں  تو وہ بہتان اور واضح گناہ اٹھا رہے ہیں۔[الأحزاب: 58] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کے ہاں روزِ قیامت بد ترین شخص وہ ہے جس کی بدی سے بچنے کے لیے اسے لوگ چھوڑ دیں یا  مسترد کر دیں)
پگڑی اچھالنے کے عمل کو جرم قرار دینا اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا بہت بڑا عمل ہے، اس میں حکم الہی کا نفاذ بھی ہے کہ اس سے ان لوگوں کی سرزنش ہے جو دھرتی پر فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، فتنوں کو چنگاری دکھا کر امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور باطل امور میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
کسی کی عزت اچھالنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے، ایسی حرکت وہی کرتے ہیں جو کمزور دل اور بے عقل ہوں، جن کے دلوں میں بیماری ہو، جن کے ہاں اخلاقی گراوٹ پائی جائے، مروّت کا پاس نہ رکھتے ہوں، اور یہی عزتیں اچھالنے والے قبیح اعمال میں ملوث ہوتے ہیں۔
کسی کی پگڑی اچھالنے کی کئی ایک صورتیں ہیں، اس کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں، پگڑی اچھالنے کی ابتدا  بد زبانی اور بد کلامی سے شروع ہوتی ہے  جو کہ پگڑی اچھالنے والے منہ پھاڑ کر کرتے ہیں۔
اور جب انسان کی زبان لغو باتوں میں مگن ہو تو انسان اپنے آپ کو دنیا میں  تباہی کے در پے کر دیتا ہے اور اسی کی وجہ سے آخرت میں اسے افلاس کا سامنا کرنا پڑے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ} کوئی بھی بات منہ سے نکالتا ہے تو چوکنّا نگران [اسے لکھنے کے لیے] اس کے پاس ہی ہوتا ہے۔[ق: 18]
کسی کی پگڑی اچھالنے کا عمل ہر میدان میں بڑھتا جا رہا ہے، زندگی کے تمام گوشوں پر اس کا راج ہے، بلکہ [سوشل میڈیا کی]تصوراتی دنیا  جو کہ وقت اور جگہ کی حدود سے بھی آزاد ہے اس میں یہ مزید پھل پھول رہا ہے کہ ، ایسے ایسے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ  پہلے ان کا تصور تک بھی نہیں تھا؛ ان کی وجہ سے دلوں میں کدورتیں بھر گئی ہیں، دماغ خراب ہو گئے ہیں اور طبعی فطرت کو بھی اس نے تباہ کر دیا ہے۔
پگڑی اچھالنے کے طریقوں میں یہ بھی شامل ہے کہ سوشل میڈیا پر گھٹیا قسم کے ویڈیو کلپ  نشر کیے جائیں کہ جن کی وجہ سے برائی پروان چڑھتی ہے، بے حیائی پھیلتی ہے، اشتعال انگیزی پیدا ہوتی ہے اور ناقابل بیان  نقصانات  ہوتے ہیں،
ایسے ویڈیو کلپ نشر کرنے اور ان کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرنے والوں کا انجام انتہائی برا اور بھیانک ہوتا ہے، ان کا خاتمہ درناک اور المناک ہوتا ہے، اللہ تعالی ہم سب کو برے خاتمے سے محفوظ رکھے۔
فرمانِ باری تعالی ہے: {لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ} روزِ قیامت وہ اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں  کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کو اِنہوں نے علم نہ ہونے کے باوجود گمراہ  کیا تھا۔[النحل: 25] 
کسی کی عزت کو نشانہ بنانے کی بیماری اس لیے پھیلی ہے کہ بہت سے لوگ اعلانیہ گناہ کرنے لگے ہیں، احتیاط سے کام نہیں لیتے، برائی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور برائی کو اچھائی سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف گھروں میں حد سے زیادہ خشک مزاجی  نے نوجوان لڑکیوں ، بچوں اور خواتین کو  ایسے لوگوں کے لیے بہت ہی آسان ہدف بنا دیا ہے۔
اہل علم،  دانش مند، با اثر شخصیات اور صحیح فکر رکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ اس موذی مرض سے بچاؤ کا سب سے بہترین ذریعہ یہ ہے کہ دینی غیرت دلوں میں پیدا کی جائے، دلوں میں ایمان کو پختہ کیا جائے اور قرآنی تعلیمات پر مضبوطی سے کار بند رہنے کی تلقین کی جائے، قول و فعل پر تقوی کے آثار نظر آئیں، نظریں جھکی ہوئی ہوں، لباس ڈھانپنے والا ہو، دل و دماغ عفت اور خوفِ الہی سے سرشار ہو۔
اسی طرح والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد بھرا تعلق بھی ایک مضبوط شخصیت کو پروان چڑھاتا ہے، اس سے مثبت طریقے اور سلیقے کو مہمیز ملتی ہے، یہ اعتماد لڑکوں میں بہادری کو پروان چڑھاتا ہے اور بزدلی کو اتار پھینکتا ہے، نیز دوسری طرف اس اعتماد سے بچیوں کو عفت، پاکدامنی  اور باپردگی  پر تربیت ملتی ہے۔ جبکہ ایسے خاندان جو ہمیشہ مسائل، لڑائی جھگڑوں اور انتشار  میں پنپتے ہیں تو ایسے گھرانے بد کردار لوگوں کے لیے زر خیز زمین ثابت ہوتے ہیں۔
اور اس موضوع میں یہ بھی ہے کہ: بچوں کے چال چلن پر کڑی نظر رکھنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اسے معمولی مت سمجھیں؛ خصوصاً ایسے حالات میں جب بچوں کی جانب سے مشکوک حرکتیں سامنے آئیں۔
کسی کی عزت سے کھیلنے اور دیگر جرائم کا خاتمہ کرنا  معاشرے کے تمام افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ویسے بھی جس شخص کو قرآنی تعلیمات اور ایمانی رہنمائی جرائم سے نہ روکے تو اس وقت حکومت کی جانب سے آہنی ہاتھوں  نمٹنا لازمی ہو جاتا ہے، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ : "بیشک اللہ تعالی سلطان  کے ذریعے ایسی حرکتوں کا بھی سد باب فرما دیتا ہے جن کا خاتمہ قرآن کے ذریعے نہیں فرماتا"
یا اللہ! ہم تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں چاہے وہ فوری ملنے والی یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں۔  اور اسی طرح یا اللہ! ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں چاہے وہ فوری آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے  یا نہیں۔ آمین یا رب العالمین!

ہم نے تجھے جانا ھے فقط تیری عطا سے ۔


حمد باری تعالیٰعتیق احمد جاذب
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے ۔
سورج کے اجالوں سے ، فضاوں سے ، خلاء سے ‛چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیاء سے ‛جنگل کی خموشی سے ، پہاڑوں کی انا سے ‛پُر ہَول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے ‛بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے ‛مٹی کے خزانوں سے ، اناجوں سے ، غذا سے ‛برسات سے ، طوفان سے ، پانی سے ، ہوا سے ‛
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔
گلشن کی بہاروں سے ، تو کلیوں کی حیاء سے ‛معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے ‛لہراتی ہوئی بادِ سحر ، بادِ صبا سے ‛ہر رنگ کے ، ہر شان کے ، پھولوں کی قبا سے ‛چڑیوں کے چہکنے سے ، تو بلبل کی نوا سے ‛موتی کی نزاکت سے ، تو ہیرے کی جلا سے ‛ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے ‛
​ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔
دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے ، جفا سے ‛رنج و غم و آلام سے ، دردوں سے ، دوا سے ‛خوشیوں سے ، تبسم سے ، مریضوں کی شفا سے ‛بچوں کی شرارت سے ، تو ماؤں کی دعا سے ‛نیکی سے ، عبادات سے ، لغزش سے ، خطا سے ‛خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے ‛وحدت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے ‛
​ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔
ابلیس کے فتنوں سے ، تو آدم کی خطا سے ‛اوصافِ براہیم سے ، یوسف کی حیا سے ‛اور حضرتِ ایوب کی تسلیم و رضا سے ‛عیسی کی مسیحائی سے ، موسی کی عصا سے ‛نمرود کے ، فرعون کے انجامِ فنا سے ‛کعبہ کے تقدس سے ، تو مرویٰ و صفا سے ‛تورات سے ، انجیل سے ، قرآں کی صدا سے ‛یسین سے ، طٰہٰ سے ، مزمل سے ، نبا سے ‛ایک نور جو نکلا تھا کبھی غارِ حرا سے ‛
​ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے​ ۔

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ المؤمنون ۔۔۔ از نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ -3

تدبر القرآنسورۃ المؤمنوناز نعمان علی خانحصہ -3
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَاور جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدہ کا لحاظ رکھنے والے ہیں
یعنی جب ان لوگوں کو امانت دی جاتی ہے یا وہ کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ ان معاملو ں کو ہلکا نہیں لیتے۔ اور یہ امانت اور وعدے، دولت کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں، یا کوئی راز جو انہیں بتایا گیا ہو، کوئی کام جو آپ کے ذمے دیا گیا ہو، یا کوئی فرض جسے پورا کرنا ضروری ہو، کیونکہ وعدے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ یہ کوئی ذمہ داری بھی ہوسکتی ہے جو کسی نے آپ کو دی ہو۔وہ وعدے جو انہوں نے بندوں سے کیے ہیں یا پھر اللہ سے وہ اُس پر توجہ دیتے ہیں۔
وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَاور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں
شروعات میں نماز کے دوران خشوع کا ذکر ہوا تھا اور یہاں پر نماز کی حفاظت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ صلاۃ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کرنا ہوگی۔ آپ فجر پڑھ کر عشاء نہیں چھوڑ سکتے۔ پوری نمازوں کو ادا کرنا لازم ہے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اسلیے ہمیں اس کا دیہان کرنا چاہیے ہے، وقت پہ تمام ارکان کے ساتھ ادا کرنی چاہیے ہے
اور جو لوگ ان چیزوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے اللہ فرماتے ہیں:
أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَوہی وارث ہیںوہ کس کے وارث ہیں؟
الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَجو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گےجنت الفردوس۔ فردوس کیا ہے؟ جنت کا سب سے اونچا درجہ۔ اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔
استاد نعمان علی خان

آج کی بات ۔۔۔ 04 اکتوبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~
ہر انسان دوسرے انسان کے بنائے گئے ذہنی سانچے میں ڈھل ہی نہیں سکتاطبیعتوں کا اختلاف فطری امر ہے البتہ برداشت اور احترام انسانی اختیار ہے۔

Pages