کچھ دل سے

اعتدال اور فتوی نویسی کے ضوابط۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)

Image result for ‫مسجد نبوی‬‎
اعتدال اور فتوی نویسی کے ضوابطخطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)از  ڈاکٹر جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ 
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 14 جمادی ثانیہ 1439 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "اعتدال اور فتوی نویسی کے ضوابط" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ انسان کے بعد انسان کی اچھی یا بری یادیں باقی رہ جاتی ہیں اس لیے انسان کو حسن کارکردگی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ شریعت اعتدال اور میانہ روی کا نام ہے، اللہ تعالی نے شرعی احکامات انسان کی کمزوری کو مد نظر رکھ کر مرتب فرمائے ہیں، متعدد آیات اور احادیث اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اسلام آسانی والا دین ہے، لیکن آسانی سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان من مانیاں کرنے لگے اور دل چاہتے انداز میں شرعی احکام کی تعبیر اور تعمیل کرے، بلکہ آسانی سے مراد یہ ہے کہ شرعی دلائل جس چیز کی رخصت دیتے ہیں ان پر عمل کیا جائے، پھر یہ سنگین غلطی ہے کہ شریعت میں موجود اعتدال اور میانہ روی کے نام پر ایسی گری ہوئی باتیں کی جائیں جن کا اسلام سے دور کا تعلق نہ ہو، اس پر انہوں نے اہل علم کے اقوال ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ فقہی مذاہب میں موجود شاذ اور اچنبھے اقوال کو اپنانا شریعت سے دوری ہے، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں بھر پور انداز سے عمل کرنے کی کوشش کی جائے، اور اسی کی دوسروں کو دعوت دیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نا اہل اور مقاصد شریعت سے نابلد افراد دنیاوی مفادات کی خاطر فتوی نویسی پر تل جائیں تو یہ اسلام کے لیے انتہائی نقصان دہ امر ہے، ان کی وجہ سے بڑے بڑے فتنے بپا ہوتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی دنیا کی خاطر آخرت خراب نہیں کرتے بلکہ کسی کی دنیا کے لیے اپنی آخرت اجاڑ بیٹھتے ہیں، ایسے لوگوں کو روزِ قیامت کا دن اپنی نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیے جب انسان کے تمام بھید کھولے جائیں گے اور تمام تر کارستانیاں سب کے سامنے رکھی جائیں گی، فتوی نویسی میں جلد بازی کی مذمت میں انہوں نے اہل علم کے اقوال ذکر کیے، نیز انہوں نے کہا کہ ایسی فتوی نویسی کو اللہ تعالی اپنی ذات پر تہمت اور جھوٹ قرار دیا ہے، پھر دوسرے خطبے میں انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں غلو اور بے جا سختی سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی تلقین فرمائی، اور آخر میں جامع دعا مانگی۔
منتخب اقتباس:
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے مومنوں کو روشن بصیرت عطا کی، مکلف بندوں کے لیے حلال اور حرام واضح فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، معاون اور مدد گار نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ نے راہ چلتے افراد کے لیے احکامات واضح اور راستے کی نشانیاں مقرر فرمائیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر رحمتیں برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔
مسلمانو! تقوی الہی اپناؤ ؛ کیونکہ سانسیں گنی جا چکی ہیں، اعمال کی کڑی نگرانی جاری ہے:

"انسان کو اس کی خوبیوں کے ذریعے یاد کیا جاتا ہے، اس لیے اپنے اچھے تذکرے کی عمارت کو بلندیوں تک لے جا
یہ ذہن نشین کر لو! یقیناً تمہارا کبھی نہ کبھی ذکر ضرور ہو گا، اس وقت کہا جائے گا: فلاں بہت اچھا تھا یا کہا جائے گا کہ وہ برا تھا!"
اس لیے اپنی زبان کو لگام دو، صرف تشنگی دور کرنے والی نصیحت، یا حکمت بھری بات، یا جامع خیر خواہی یا اچھا کلام ہی زبان سے نکالو، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور ہمیشہ راست گوئی سے کام لو [70] اللہ تعالی تمہارے معاملات سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ بہت بڑی کامیابی پا گیا۔ [الأحزاب: 70، 71]
مسلمانو!
شریعت اعتدال اور میانہ روی لے کر آئی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ شریعت کے احکام میں آسانی، وسعت اور کشادگی ہے، پھر مکلف افراد سے تنگی کو دور رکھا گیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں بنائی۔ [الحج: 78]
ایک اور مقام پر فرمایا: {يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا} اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تم پر نرمی کرے، اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔[النساء: 28]
 یعنی مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی تم پر اپنے شرعی احکامات، اوامر اور نواہی میں اس حد تک نرمی کرتا ہے جس کی تم استطاعت رکھتے ہو؛ {وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا} اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ [النساء: 28] چنانچہ انسان کی کمزوری اور ناتوانی کی بنا پر نرمی اور آسانی انسان کے لیے مناسب ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا [یعنی اس کی سختی نہ چل سکے گی ] لہذا ہر ممکنہ حد تک صحیح انداز سے عمل کرو اور خوش ہو جاؤ [ کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ] اور صبح ،دوپہر، شام اور کسی قدر رات میں [ عبادت سے ] مدد حاصل کرو) متفق علیہ
اور ایک روایت میں ہے: (بیشک تمہاری بہترین دینداری وہ ہے جو آسانی سے ہو، بیشک تمہاری بہترین دینداری وہ ہے جو آسانی سے ہو) مسند احمد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آسانی کرو، سختی مت کرو، اطمینان پھیلاؤ متنفر مت کرو) بخاری ، مسلم
جس معاملے میں بھی مشکل در پیش ہو تو وہاں آسانی ہماری شریعت کے قواعد میں سے ہے۔
لیکن یہاں آسانی سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ: فقہی مذاہب اور علمائے کرام کے موقف میں سے رخصتوں کو تلاش کر کے آسان ترین موقف پر عمل کیا جائے، بلکہ یہاں آسانی سے مراد شرعی رخصتیں مراد ہیں جن کے بارے میں شرعی دلائل موجود ہیں اور اہل عذر افراد مثلاً: مریض، مسافر ، یا چھوٹے بچے کے لیے فرائض اور واجبات میں رخصت دی گئی ہے۔
ابو حمزہ کہتے ہیں کہ : "میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: "آسانی اور مشکل دو چیزیں ہیں، تو اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی آسانی پر عمل کرو""
قتادہ رحمہ اللہ فرمانِ باری تعالی : {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} اللہ تعالی تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے وہ تمہارے لیے مشکل نہیں چاہتا ۔[البقرة: 185] کے بارے میں کہتے ہیں: "تو تم وہی اختیار کرو جو اللہ تعالی تمہارے لیے چاہتا ہے"
شریعت میں موجود اس قسم کے اعلی اور خوبصورت قطعی مفاہیم کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی پر بہتان باندھتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی کے نام پر ایسی باتیں شریعت میں شامل کر دی جائیں جو بے دلیل اور ہوس پرستی کے مطابق ہوں، اور بلا دلیل ہر چیز کی اجازت دینے والوں کے فتوے تلاش کیے جائیں۔
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "کچھ لوگوں کی دینی حالت اور تقوی کی اتنی پتلی حالت ہو چکی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی کا بھی فتوی تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں، چنانچہ وہ ہر اس شخص کا موقف اپناتے ہیں جس میں چھوٹ اور رخصت ہو، انہیں اس چیز کی غرض نہیں ہوتی کہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نے ہم پر کیا واجب کیا ہے۔"
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر کوئی شخص ہر رخصت والے فتوے پر عمل کرے تو وہ فاسق ہو جائے گا"
یہ بڑی آزمائش ہے کہ ایسے لوگ فتوے صادر کرنے لگیں جو اہل علم کے ہاں نامعلوم یا غیر معروف ہیں، فتوی نویسی میں ان کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے، وہ در حقیقت اس بات سے دھوکا کھا گئے کہ ان سے سوال پوچھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، نیز جاہل ترین لوگ ان سے سوال کرنے میں پہل کرتے ہیں۔
مسلمانو!
نا اہل لوگوں کے شاذ فتوے اور ان کے غیر معقول موقف اسلام کو منہدم کرنے اور دین کا حلیہ بگاڑنے کا باعث بنتے ہیں، ان سے فتنے اور فساد پھیلتے ہیں، جو کمزور عقل، علم اور دین کے مالک ہیں وہ ان کی وجہ سے پریشانی میں ملوث ہو جاتے ہیں، انہیں حق باطل کی صورت میں اور باطل حق کی صورت میں نظر آتا ہے۔
یہ بات اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے اور اللہ کی شریعت کے ساتھ اس کے بندوں پر تہمت لگانے کے مترادف ہے کہ کچھ لوگ عارضی ،گھٹیا اور دنیاوی فوائد کی خاطر علم کے بغیر فتوے صادر کر رہے ہیں، بغیر کسی حجت کے اللہ کی جانب بات منسوب کرتے ہیں، ہوس پر مبنی اور من گھڑت فتوے صادر کر رہے ہیں اور صحیح دلیل سے متصادم رخصتوں پر عمل کرنے والے ہیں، منسوخ یا ضعیف دلائل پر مبنی شاذ اقوال اپناتے ہیں، ان کے فتووں سے پیدا ہونے والی خرابیوں اور اسلام سمیت مسلمانوں کے ہونے والے نقصان کا ادراک معمولی سی بھی بصیرت رکھنے والا بھی رکھتا ہے، ایسا موقف اپناتے ہیں جو وہی شخص ہی کہہ سکتا ہے جس کا دل اللہ تعالی کی تعظیم، جلال اور تقوی سے خالی ہو، جو شخص دنیا کی محبت میں خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے تعلق بنانے کا رسیا ہو۔
{لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ} تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ تو پورے کے پورے اٹھائیں اور کچھ ان لوگوں کے بھی جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے دیکھو ! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے [النحل: 25]
یہ ایسے لوگ ہیں کہ علم سے کورے ، اور ان کا مطالعہ انتہائی محدود ہے، بے راہ روی میں مبتلا ہیں، یہ شریعت سے متصادم امور کا علی الاعلان اظہار کر رہے ہیں، اسلام کے نام پر انہوں نے ایسے کام کیے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
 ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: "میں نے امام مالک رحمہ اللہ کو سنا کہ :فتوی دینے میں جلد بازی بھی جہالت اور نابلد ہونے کی قسم ہے" امام مالک رحمہ اللہ ہی مزید کہتے ہیں: "میں نے اس وقت تک فتوی دینا شروع نہیں کیا جب تک میرے بارے میں ستر اہل علم نے فتوی نویسی کے اہل ہونے کی گواہی نہیں دی"
اللہ تعالی نے اس شخص کو خوب وعید سنائی ہے جو من مانی کرتے ہوئے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے، یا اللہ تعالی کی جانب سے حلال کردہ چیز کو حرام قرار دے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (116) مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} اپنی زبانوں سے جھوٹ بولتے ہوئے یوں نہ کہو کہ: "یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے " تا کہ تم اللہ پر جھوٹ افترا کرنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے [117] انہیں بہت معمولی فائدہ ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے۔ [النحل: 116، 117]
مسلمانو!
دین الہی غلو اور شدت کے درمیان اعتدال کا نام ہے۔ غلو، شدت اور افراط و تفریط یہ دو انتہائی آفتیں ہیں، یہ منحرف راستے اور کج روی ہیں، یہ مضبوط دین اور صراط مستقیم سے دوری کا باعث ہیں؛ اس لیے غلو اور شدت سے اجتناب کرو، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی اور پھر فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے بعد اس لکیر کے دائیں بائیں بھی لکیریں کھینچیں، اور پھر فرمایا: یہ الگ الگ راستے ہیں، ہر ایک راستے پر شیطان بیٹھا اس کی طرف بلا رہا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: 
{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ} اور بلاشبہ یہی میری سیدھی راہ ہے لہذا اسی پر چلتے جاؤ اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا کر جدا جدا کر دیں گی اللہ نے تمہیں انہی باتوں کا حکم دیا ہے شاید کہ تم (کجروی سے) بچ جاؤ [الأنعام: 153]) احمد
نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے صراط مستقیم کی مثال ذکر کی کہ: صراط مستقیم کے دونوں جانب دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں، اور راستے کے دروازے پر ایک بلانے والا پکار رہا ہے: لوگو! راستے میں سب کے سب داخل ہو جاؤ ، اور اِدھر اُدھر مت ہونا، پھر راستے کے اوپر ایک اور بلانے والا ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: تمہاری بربادی ہو! اسے مت کھولو، اگر تم اس کو کھولو گے تو اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس مثال میں راستہ اسلام ہے، لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدود ہیں، کھلے ہوئے دروازے اللہ کے حرام کردہ امور ہیں، اور اس راستے کے سرے پر پکارنے والا اللہ کا قرآن ہے، اور اوپر سے پکارنے والا ہر مسلمان کے دل میں موجود ضمیر ہے ) احمد، ترمذی



آج کی بات ۔۔۔ 01 مارچ 2018

~!~ آج کی بات ~!~
صبر کرنا بڑے ظرف کی بات ہے۔۔۔صبر آ جانا چوٹ کی شدت پر منحصر ہوتا ہے آپ بے بس ہو جاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ صبر " آ " گیا۔۔

سرسوں کا بیج

Related imageسرسوں کا بیجمنقول
کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت، اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن، خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کے لیے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے جس کے عوض بس ایسا کوئی نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔
حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کے لیے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔ عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔
عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا گھر ہی تو ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں تھا۔ آجکل وہ گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔
جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔
مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں ایک اور صدمہ اُس کےلیے یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔ گھر میں بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان نا صرف یہ کہ موجود ہی نہیں تھا بلکہ یہ بچے اس وقت بھوکے بھی تھے۔ عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔
اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں کا ایک حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔
گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔ وہ یہ تک بھولتی چلی گئی کہ اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔ بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس کے غموں پر قابو پانے کا جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔
جی ہاں، یہ قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کے لیے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرتے سے خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت بن جائیں گے، بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔
عربی سے ترجہ و تلخیص

علم کی ابتدا ہے ہنگامہ۔۔۔۔۔ علم کی انتہا ہے خاموشی


ایک دن میری خامشی نے مجھے
لفظ کی اوٹ سے اشارہ کیا

مسلسل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے

ہم نے اول تو کبھی اس کو پکارا ہی نہیں
اور پکارا تو پکارا بھی صداؤں کے بغیر

– یہ خاموشی،
جو اب گفتگو کے بیچ ٹھہری ہے
.یقین جانو!
یہی اک بات ساری گفتگو سے گہری ہے.

خاموشی میں چاہے جتنا بیگانہ پن ہو
لیکن اک آہٹ جانی پہچانی ہوتی ہے

خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی
ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی

جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے
جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی

بے مقصد محفل سے بہتر تنہائی
بے مطلب باتوں سے اچھی خاموشی

ہر ایک بات زباں سے کہی نہیں جاتی
جو چپکے بیٹھے ہیں کچھ ان کی بات بھی سمجھو

رَاضی کر لے اپنا اللہ (منظوم ترجمہ)

Related imageرَاضی کر لے اپنا اللہ(منظوم ترجمہ)سیما آفتاب
اٹھ بندے اورپکڑ مصلیٰرَاضی کر لے اپنا اللہ
کھائے سود اور حج کو جائےلوگوں میں حاجی کہلائےیوں بخشش کب ہوگی تیریچاہے لاکھوں روپ بنائےوہ پیسہ نہ کام آئے گاجس نے تجھے پاگل کرڈالا
اٹھ بندے اورپکڑ مصلیٰرَاضی کر لے اپنا اللہ
پڑھ پڑھ تو نے حد کرڈالیپر سچ جھوٹ سمجھ نہ پایاہر شے کو صابن سے دھوتااندر سے کوئی نہ صفائی تیرے ساتھ نہ جائیں گے ’وہ‘
جن کی خاطر جھوٹ تُو بولا
اٹھ بندے اورپکڑ مصلیٰرَاضی کر لے اپنا اللہ
بڑے بڑے ہیں محل بسائےپر آگے کی خبر نہ پائے'مالک' کا جب حکم آئے گاپھر نہ ملے گا ٹھکانہ کوئیاب بھی وقت ہے کرلے توبہورنہ قبر میں روئے گا تنہا
اٹھ بندے اورپکڑ مصلیٰرَاضی کر لے اپنا اللہ
جب پڑھ کر ہے عمل نہ کرناپھر کاہے کو کلمہ پڑھنارب کو منانا کیوں کر ممکنجب اس 'رب' سے ہے نہیں ڈرناگر کہلائے تو ’عبداللہ‘کرلے صاف تودامن اپنا
اٹھ بندے اورپکڑ مصلیٰرَاضی کر لے اپنا اللہ

حوصلہ افزائی اور اصلاح کی منتظر

سیما آفتاب


آج کی بات ۔۔۔ 25 فروری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
 گمان سے دھیان تک ہر شے الله کے حکم سے اثر کرتی اور اثر رکھتی ہے، اسی لیے ہم سے آنکھ کی جنبش اور نیت کی خامی تک کا سوال کیا جائے گا۔  
منقول

الفاظ سے خوشبو ترے کردار کی نکلی

Image result for wordsالفاظ کا اثرتحریر: نعیم شاہ
 الفاظ کس طرح نہ صرف انسان بلکہ دیگر موجودات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اس کا آنکھیں کھولنے والا تجربہ ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر کیا جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’’پانی کے عجائبات‘‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیں شکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلزکی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔
اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔
ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You” والی بوتل کے پاس ٹھہرکر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔
یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے “SATAN” یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔
نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔اس کا مطلب یہ کہ نعمتوں کو ٹھکرانے، انھیں حقیر سمجھنے اور ان کا مضحکہ اڑانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خالص پانی آلودہ پانی میں تبدیل ہوگیا۔ نعمتوں کا ادراک کرنے اور انھیں دیکھ کر شکریہ ادا کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ آلودہ پانی خالص آب حیات میں تبدیل ہوگیا۔ہمیں ترقی یافتہ، مہذب قوم بننے کے لیے دوسروں کی تعریف اور شکریہ ادا کرنا سیکھنا ہوگا۔ ان کی خامیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے ان کی اچھائیاں تلاش کرکے انھیں کھلے دل سے باآواز بلند سراہنا ہوگا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ صرف اسی وقت ہم ایک اخلاقی و ایمانی طور پر پھلتی پھولتی قوم بن پائیں گے۔

آج کی بات ۔۔۔24 فروری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
ہم زندگی میں اکثر چیزوں کی تمنا کر کے سوچتے ہیں کہ جب مجھے یہ مل جائے گا تو میں بہت خوش ہو جاؤں گا۔غلط۔۔۔ خوشی ہمارے اندر ہوتی ہے۔ اگر کچھ نہ ہو کر بھی ہم خوش نہیں ہیں تو کچھ پا کربھی نہیں ہوں گے۔
نمل از نمرہ احمد

شرم و حیا شریعت کی روشنی میں۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)




شرم و حیا شریعت کی روشنی میں (اقتباس)
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل
بشکریہ: اردو مجلس فورم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے07-جمادی ثانیہ-1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" شرم و حیا شریعت کی روشنی میں" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے، حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے معتبر اور مطلوب ہیں، حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں، آدم، نوح، موسی سمیت تمام کے تمام انبیائے علیہم السلام حیا سے آراستہ تھے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ با حیا تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق حیا سرتا پا خیر ہی خیر ہے، حیا کی وجہ سے ہمیشہ خیر ہی برآمد ہوتی ہے، حیا کی بدولت انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے، اور تمام اہل سنت کے ہاں حیا ایمان کا حصہ ہے، حیا چھن جائے تو یہ ایمان چھن جانے کی علامت ہوتی ہے، اور جب حیا ہی نہ رہے تو انسان جو چاہے کرتا جائے، اگر انسان میں گناہ کرے تو اس سے حیا میں کمی آ جاتی ہے، حیا کسی بھی چیز میں پائی جائے تو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، جو شخص اللہ تعالی سے حیا کرے تو اللہ تعالی بھی اس کی لاج رکھ لیتا ہے، حیا کا اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی سے حیا کرے، حیا ایک نور ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں استقامت پر مجبور کرتا ہے، دل میں حیا پختہ کرنے کیلیے اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کو یاد کریں اور اس کے مقابلے میں اپنی کارستانیوں کو مد نظر رکھیں، اور یہ تصور بنائے کہ اللہ تعالی اسے ہر وقت دیکھ اور سن رہا ہے، انسان کو اپنے ساتھیوں سمیت نگران فرشتوں سے بھی حیا کرنی چاہیے، بلکہ تنہائی میں اپنے آپ سے بھی حیا کرے، اگر کوئی شخص تنہائی میں اپنے آپ سے حیا نہیں کرتا تو اس کے ضمیر میں لوگوں کی اپنے آپ سے زیادہ اہمیت ہے؛ اسی لیے تو جو گناہ لوگوں کے سامنے نہیں کرتا وہ تنہائی میں کر گزرتا ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں موجود حیا سے مراد ایسی اخلاقی قدر ہے جو انسان کو اچھے کاموں پر ابھارے اور برے کاموں سے روکے، لیکن جس حیا سے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کمی آتی ہے تو در حقیقت اس کا حیا سے کوئی تعلق نہیں۔ آخر میں انہوں نے جامع دعا فرمائی۔
منتخب اقتباس:
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔
عبادتِ الہی کی کنجی اور راز اسما و صفاتِ الہی کی معرفت میں پنہاں ہے، اللہ تعالی کے تمام نام اچھے اور اس کی صفات اعلی ہیں، اللہ تعالی کے ہر نام اور صفت کی خاص عبادت بھی ہے جو کہ ان کی معرفت کا تقاضا ہے، اللہ تعالی کو اپنے اسما اور صفات پسند ہیں، اللہ تعالی اپنے اسما و صفات کے آثار اپنی مخلوق میں دیکھنا چاہتا ہے اسی لیے اللہ تعالی نے ان کے واسطے سے دعا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: {وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا} اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اللہ کو ان کے ذریعے پکارو ۔[الأعراف: 180]
اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک "اَلْحَيِيُّ" ہے اور حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اللہ تعالی نے خود اپنی اس صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا} اللہ تعالی قطعاً اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کسی مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی مثال بیان کرے۔ [البقرة: 26] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تعالی کا یہ نام بتلاتے ہوئے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی"اَلْحَيِيُّ" اور "اَلسِتِّیْرُ" ہے، اور حیا سمیت پردہ پوشی کو بھی پسند فرماتا ہے ) ابو داود
اللہ تعالی کو اٹھے ہوئے ہاتھ خالی لوٹانے سے بھی حیا آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (بیشک تمہارا پروردگار حیا کرنے والا اور نہایت کرم کرنے والا ہے، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ جب وہ اس کی جانب ہاتھ اٹھائے تو انہیں خالی واپس لوٹا دے) ابو داود
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے"
حیا ایک ایسی اخلاقی قدر ہے جو اولین زمانۂ نبوت سے مطلوب اور اخلاقی فرائض میں شامل ہے، تمام کے تمام انبیائے کرام نے اپنی امتوں کو حیا کی ترغیب دلائی، نیز سابقہ انبیائے کرام کی شریعتوں کی تنسیخ کے دوران حیا کو منسوخ نہیں کیا گیا، نہ ہی اس کا کوئی متبادل لایا گیا؛ کیونکہ حیا سر تا پا اعلی اور افضل ترین خصلت ہے، عقل اس کی خوبیوں کی معترف ہے؛ چنانچہ جس چیز میں اتنی خوبیاں پائی جاتی ہوں اس کی تنسیخ یا اس میں تبدیلی روا نہیں ہو سکتی ؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (لوگوں نے ابتدائی نبوتوں کی تعلیمات میں سے جو چیز [آج تک] پائی وہ یہ ہے کہ: "جب حیا نہ ہو تو جو مرضی کر")بخاری
انبیائے کرام اپنی اقوام میں حیا داری میں مشہور ہوتے ہیں، روزِ قیامت جب لوگ (آدم ،نوح اور موسی علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے تو انہیں اپنی اپنی غلطی یاد آ جائے گی اور شفاعت کرنے سے شرما جائیں گے) بخاری
موسی علیہ السلام حیا کے پیکر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (بیشک موسی علیہ السلام انتہائی حیادار اور پردے میں رہنے والے تھے، آپ کی حیا کی وجہ سے آپ کی جلد کا کوئی حصہ دِکھ نہیں سکتا تھا) بخاری
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا آپ کے چہرے سے عیاں ہو جاتی تھی، چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (نبی صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں چھپی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے، آپ کو کوئی چیز ناگوار گزرتی تو آپ کے چہرے سے ہم پہچان جاتے تھے ) متفق علیہ
معراج کی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم موسی علیہ السلام اور اللہ تعالی کے درمیان بار بار چکر لگاتے رہے کہ نمازوں میں مزید تخفیف کر دی جائے، یہاں تک آپ نے فرما دیا: (اب مجھے اپنے پروردگار سے شرم آتی ہے) متفق علیہ
خواتین کو پیدا ہی حیا پر کیا گیا ہے، در حقیقت حیا ہی عورت کا زیور اور زینت ہے، یہی حیا عورت کیلیے تحفظ اور امن کی ضامن ہے، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا [شادی پر رضا مندی کے متعلق]کہتی ہیں کہ: "اللہ کے رسول! کنواری تو شرمیلی ہوتی ہے" [وہ ہاں یا انکار نہیں کر پاتی]تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کی خاموشی ہی شادی پر رضا مندی ہوتی ہے) بخاری
[موسی علیہ السلام کے واقعے میں]مدین والے کی بیٹی جب چلتی ہوئی آئی تو مکمل طور پر حیا کی پیکر تھی، انہوں نے اپنا چہرہ کپڑے اور ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا اسی کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:{فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ} اتنے میں ان دونوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی۔ [القصص: 25]
ایک صحابیہ نے تکلیف تو برداشت کر لی لیکن حیا کا پردہ چاک ہونا منظور نہ کیا تو انہیں جنت کی بشارت دے دی گئی، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ سے کہتے ہیں: "کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ تو میں [عطاء] نے کہا: کیوں نہیں!۔ تو ابن عباس نے کہا: یہ کالی عورت جنتی ہے، وہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے بیہوشی [مرگی] کی شکایت ہے ، جس کی وجہ سے پردہ کھل جاتا ہے، اللہ سے میرے لیے دعا کر دیں" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم چاہو تو صبر کر لو اور تمہیں جنت ملے گی، لیکن اگر چاہو تو میں اللہ سے تمہارے لیے عافیت کی دعا کر دیتا ہوں) "تو اس خاتون نے کہا: میں صبر کرتی ہو، لیکن بیہوشی میں پردہ کھل جاتا ہے تو اللہ سے دعا کر دیں میرا پردہ نہ کھلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرما دی" متفق علیہ
حیا داری ان عظیم اخلاقیات میں سے ہے جن پر اہل جاہلیت بھی قائم دائم تھے، ابو سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "جس وقت مجھ سے ہرقل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا اور میں اس وقت ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا تو: بخدا! اگر مجھے حیا داری کا خیال نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میری جھوٹی بات آگے بتلائیں گے تو میں اس وقت جھوٹ بول دیتا ، لیکن مجھے اس وقت ایسا کرنے سے حیا نے روک دیا ، اس لیے میں نے سچ بات کی" متفق علیہ
در حقیقت حیا ہی خوشحالی اور ترقی کا سبب ہے، حیا ساری کی ساری خیر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (حیا خیر ہی خیر ہے)یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (ساری کی ساری حیا خیر ہے) مسلم
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی"
حیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان اچھے اخلاق کا عادی بن جاتا ہے اور مذموم صفات سے دور رہتا ہے، پھر جب انسان کی حیا جوبن پر ہو تو اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے ، اپنی کوتاہیوں کو چھپاتا ہے اور اپنا مثبت کردار سامنے لاتا ہے۔
ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا ایمان کا حصہ ہے، مومن جنت میں جائے گا، کسی سے حیا اسی وقت چھینی جاتی ہے جب اس میں ایمان باقی نہ رہے"
ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے بھائی کو حیا کی وجہ سے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہہ رہا تھا: "تم بہت زیادہ حیا کرتے ہو" اس نے یہاں تک بات کہنا چاہی کہ: "تمہاری حیا نے تمہیں نقصان پہنچایا ہے" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے چھوڑ دو، حیا تو ایمان کا حصہ ہے) متفق علیہ
اللہ تعالی کی طرف سے کسی بھی دل کو سب سے سنگین سزا یہ ہے کہ اس میں سے حیا چھین لے، ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "حیا اور ایمان دونوں کا آپس میں مضبوط رشتہ ہے، لہذا اگر ان میں سے ایک چیز بھی اٹھ گئی تو دوسری بھی اٹھ جائے گی"
اور اگر انسان سے حیا ہی چھین لی جائے تو قبیح، مذموم اور گری ہوئی حرکتوں سے کوئی چیز مانع نہیں رہتی، جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان بھی ہے کہ: (جب تم حیا نہ کرو تو جو من میں آئے کرتے جاؤ) بخاری۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں: "اگر حیا کسی شخص کو حرام کاموں سے روک نہ پائے تو وہ صغیرہ گناہ کرے یا کبیرہ ؛ اس کیلیے سب یکساں ہیں۔ یعنی اس حدیث میں حیا کی کمی پر سخت وعید اور ڈانٹ پلائی گئی ہے"
گناہوں سے انسان کی حیا متاثر ہوتی ہے ، اور ممکن ہے کہ کلی طور پر حیا ختم ہو جائے ، بلکہ اسے اس چیز کی پرواہ ہی نہ رہے کہ لوگوں کو میری اس حالت کا علم ہو گیا تو وہ کیا کہیں گے! یا اس سے بھی دو قدم آگے بڑھتے ہوئے اپنی کارستانیاں خود سے بیان کرنے لگ جائے۔
حیا انسان کو با ادب ہونے پر ابھارتی ہے، (ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے بارے میں پوچھا کہ اس کی خوبیاں مسلمان جیسی ہوتی ہیں[وہ کون سا درخت ہے؟]) اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ میرے ذہن میں آیا کہ وہ تو کھجور کا درخت ہے، لیکن میں نے ابو بکر و عمر کو دیکھا کہ وہ جواب نہیں دے رہے تو مجھے بھی اچھا نہیں لگا کہ میں ان کی موجودگی میں بولوں" ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں کہ: "مجھے شرم آئی کہ میں بولوں" متفق علیہ
اعلی ترین حیا وہ ہے جو اللہ تعالی سے ہو؛ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی آپ کو ایسی جگہ نہ پائے جہاں سے اس نے روکا ہے اور جس جگہ کا اس نے حکم دیا ہے وہاں تمہاری غیر حاضری نہ ہو، اللہ تعالی کا حق زیادہ بنتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی سے کما حقہ حیا کرو) ترمذی
انسان کے دل میں اللہ تعالی سے حیا اس وقت پختہ ہوتی ہے جب انسان اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات پر نظر دوڑائے اور ان کے مقابلے میں اپنے کمی کوتاہی کو سامنے رکھے نیز یہ بھی تصور اجاگر کرے کہ اللہ تعالی ہر خفیہ اور اعلانیہ چیز سے واقف ہے؛ چنانچہ جس وقت انسان یہ بات اچھی طرح جانتا ہو کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے اور اس کی ہر چیز اللہ تعالی کی نظروں اور سماعت کے زیر اثر ہے تو انسان اللہ تعالی سے بہت زیادہ حیا کرے گا اور اللہ تعالی کی ناراضی کا باعث بننے والے امور سے دور رہے گا۔
انسان کے ساتھ ہر وقت فرشتے ہوتے ہیں ، ان فرشتوں کے احترام میں یہ شامل ہے کہ ان سے حیا کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ} اور بیشک تم پر محافظ مقرر ہیں، [10] وہ معزز کاتب ہیں [11] انہیں معلوم ہے جو تم کرتے ہو۔[الانفطار: 10 - 12]
 ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ان معزز محافظوں سے حیا کرو، ان کا احترام کرو اور انہیں ایسی حرکت دکھانے سے شرم کرو جو تم انسانوں کو دکھانے سے شرماتے ہو"
لوگوں سے حیا اور شرم انسان کو اچھے کاموں پر ابھارتی ہے، اگر کسی انسان کو اپنے مسلمان بھائی سے صرف اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے شرماتے ہوئے گناہ نہیں کرتا تو یہی اس کیلیے کافی ہے، لوگوں سے حیا اللہ تعالی سے حیا کا ذریعہ ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص لوگوں سے حیا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالی سے بھی حیا نہیں کرتا، نیز اگر کوئی شخص باحیا لوگوں سے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے تو اس کی حیا تروتازہ ہو جاتی ہے۔
سب سے اعلی بات تو یہ ہے کہ انسان خود اپنے آپ سے حیا کرے، چنانچہ اگر کوئی شخص تنہائی میں ایسا کام کرتا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کرتا تو در حقیقت وہ شخص خود اپنا احترام نہیں کر رہا، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں سے تو شرماتا ہے لیکن خود اپنے آپ سے نہیں شرماتا تو اس نے اپنے آپ کو لوگوں سے بھی حقیر اور ذلیل بنایا ہوا ہے، لیکن اگر اپنے آپ اور لوگوں سے شرماتا ہے لیکن اللہ تعالی سے حیا نہیں کرتا تو وہ معرفت الہی سے نابلد ہے۔
ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!
دین اسلام خوبیوں اور امتیازی صفات کا دین ہے، دین اسلام میں اعلی ترین اخلاقیات اور اوصافِ حمیدہ یکجا ہیں، دین اسلام میں ہر قسم کی بھلائی کا حکم موجود ہے، اسی طرح ہر قسم کے شر سے تنبیہ بھی ہے، اس لیے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم خود عملی طور پر اسلام کو تھامیں، لوگوں کو اس کی دعوت دیں، اللہ تعالی سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے احکامات کی تعمیل کریں اور نافرمانی سے بچیں۔
مسلمانو!
احادیث نبویہ کی روشنی میں قابل ستائش حیا ایسی اخلاقی قدر ہے جو انسان کو اچھے کام کرنے پر ابھارے اور برے کاموں سے روکے، جبکہ ایسی سستی اور کاہلی جس کی وجہ سے حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کمی واقع ہو تو اس کا حیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص حیا کے باعث خیر سے محروم ہو تو یہ بھی اچھی چیز نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "بہترین خواتین انصاری خواتین ہیں، وہ دینی مسائل سمجھنے میں حیا کو رکاوٹ نہیں بناتیں" مسلم
لہذا دینی مسائل سیکھنے میں حیا اور شرم کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی شخص شرم کھاتے ہوئے حصولِ علم کیلیے آگے نہیں بڑھتا تو وہ ہمیشہ علم سے محروم رہتا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حیا اور تکبر کرنے والا کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا"
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]
تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

راستہ صرف ایک

Image result for ‫صراط مستقیم شاعری‬‎راستہ صرف ایک ۔ نہ کہ تيناز: افتخار اجمل بھوپال
میں سوچا کرتا تھا کہ مسلمان تنزّل کا شکار کیوں ہیں جبکہ غیر مُسلم ترقی کر رہے ہیں ؟
مارچ 1983ء سے ستمبر 1985ء تک میں پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ تھا ۔ 1983ء میں جدید ٹیکنالوجی سے لَیس انسٹیٹوٹ کی منصوبہ بندی کے دوران متذکرہ بالا سوال نے میرا ذہن کئی دنوں سے پریشان کر رکھا تھا کہ ایک دن مجھے آواز آئی ” اگر تُو نے اللہ کے خوف کو دل میں بٹھا کر پڑھی تو وہ ہے تیری نماز“۔
بولنے والا میرا چپڑاسی محمد شکیل تھا جو چوتھی جماعت پاس سابق فوجی تھا ۔ اللہ کریم نے مجھے بابا شکیل کے ذریعہ وہ بات سمجھا دی تھی جو کوئی پڑھا لکھا مجھے نہ سمجھا سکا تھا ۔ بلا شُبہ بابا شکیل دُنیاوی عِلم اور مال سے محروم تھا لیکن اللہ نے اُسے دینی عِلم و عمل سے مالا مال کر رکھا تھا
اللہ سُبحانُہُ و تَعالٰی نے ہمیں ایک راستہ دِکھایا [صِراطُ المُستَقِیم] اور ہدایت کی کہ ہمارا کھانا ۔ پینا ۔ اُٹھنا ۔ بیٹھنا ۔ سونا ۔ جاگنا ۔ مِلنا ۔ جُلنا ۔ اِخلاق ۔ لین ۔ دین ۔ کاروبار غرضیکہ ہر عمل دین اِسلام کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ ویسے تو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کہتے ہیں ِاھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم یعنی دِکھا ہم کو راہ سیدھی جو کہ ایک ہی ہو سکتی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں ہم نے تین راستے بنا رکھے ہیں ۔
Three Paths
1 ۔ خانگی یا خاندانی معاملات کو ہم ایک طریقہ سے حل کرتے ہیں ۔
2 ۔ دفتر یا کاروبار کے معاملات کو ہم کسی اور نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔
3 ۔ دین کو ہم نے بالکل الگ کر کے مسجد میں بند کر دیا ہے اور مسجد سے باہر صرف کسی کی موت یا نکاح پر استعمال کرتے ہیں ۔
ہماری حالت اُس شخص کی سی ہے جو ایک مقام سے ایک سِمت چلا ۔ بعد میں اُسے ایک اور کام یاد آیا ۔ چونکہ دوسرے کام کا راستہ مختلف تھا چنانچہ وہ واپس ہوا اور دوسرے کام میں لگ گیا ۔ پھر اُسے تیسرا کام یاد آیا اور اِس کا راستہ پہلے دو کاموں سے مختلف تھا چنانچہ وہ پھر مُڑا اور تیسرے کام کی طرف چل دیا ۔ اِس طرح وہ جس مقام سے چلا تھا اُسی کے گرد مُنڈلاتا رہا اور کسی سمت میں زیادہ پیش قدمی نہ کر سکا ۔
One Path
متذکّرہ بالا آدمی کے بر عکس ایک شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سارے کام ایک ہی طریقہ سے سرانجام دے گا چنانچہ وہ ایک ہی سِمت میں آگے بڑھتا گیا اور بہت آگے نکل گیا ۔ ملاحظہ ہوں دونوں صورتیں علمِ ہندسہ کی مدد سے ۔
غیرمُسلموں نے دین کو چھوڑ دیا اور اپنے خانگی اور کاروباری معاملات کو صرف نفع اور نقصان کی بُنیاد پر اُستوار کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے گو دین کو چھوڑنے کے باعث اخلاقی اِنحطاط کا شکار ہوئے ۔ جب کہ بے عمل مسلمان نہ دین کے رہے نہ دُنیاوی کاموں میں ترقی کر سکے ۔ بقول شاعر ۔
نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔ ۔ ۔ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

آج کی بات ۔۔۔۔ 22 فروری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
اہم بات یہ نہیں ہوتی کہ آپ کتنے پل اور کتنے لمحات زندہ رہے ہیں بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کتنے لمحات میں زندگی بھر دی اور ان سے فائدہ اُٹھایا۔
قاسم علی شاہ

منہ بند رکھیں

Image result for Close your mouth.
نیا گھر خرید رہے ہیں؟؟ ۔۔۔ منہ بند رکھیں

نئی گاڑی خرید رہے ہیں؟؟۔۔۔۔ منہ بند رکھیں

شادی کر رہے ہیں؟؟۔۔۔ منہ بند رکھیں

چھٹیاں گزارنے جا رہے ہیں؟؟۔۔۔ منہ بند رکھیں

ملازمت میں ترقی کا امکان ہے؟؟... منہ بند رکھیں

ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو خواب دیکھتے ہیں/جو مقصد بناتے ہیں وہ پورے نہیں ہوتے جیسے ان کو پورا ہونا چاہئیے۔۔ اس کی ننانوے فیصد وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم قبل از وقت ،غلط لوگوں کے سامنے اور غلط وقت پر اپنے خوابوں اور خیالات کا اظہار کردیتے ہیں

ہم اس وقت غلط ہوتے ہیں جب ہم اپنی منصوبے، اپنی کامیابیاں، اپنے مقاصد ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو خود کو ہمارا 'دوست' کہتے ہیں (جوکہ حقیقت میں ہوتے نہیں)۔ ان کا حسد اور منفی سوچ لوگوں کو آپ کے خلاف کرنے اور آپ کی عزت کو کم کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ اور آپ کا کوئی بھی منصوبہ اور کوشش کامیابی ہے ہمکنار ہونے سے پہلے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم اپنے منصوبے اور کامیابیاں ایسے لوگوں کت ساتھ شئیر نہ کریں تاکہ وہ آپ کو نقصان نہ پہنچا سکیں ۔۔۔

"اپنا منہ مند رکھیں" اور خدا پر سب چھوڑ دیں، کہ صحیح وقت پر سب کچھ ہو گا!

آپ کے 'دوستوں' کی ایک بڑی تعداد آپ کو کامیاب اور اچھا دیکھنا چاہتی ہے، مگر خود ان سے زیادہ نہیں۔۔ خاندان کے لوگوں میں بھی 'چھپا حسد' موجود ہوتا ہے

یہ ایک یاددہانی ہے۔۔۔ 
(منقول)



دین کی کمزوری اور اس دور میں دین پرقائم رہنے والوں کی صفات۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس)

دین کی کمزوری اور اس دور میں دین پرقائم رہنے والوں کی صفات
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاویجمعۃ المبارک 30 جمادی الاول 1439 ھ بمطابق 16 فروری 2018
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
منتخب اقتباس:
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ تعالی گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر۔
فرمان الٰہی ہے:’’ اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔ اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (الاحزاب: 70۔ 71)
بعد ازاں!امام مسلم نے اپنی کتاب “صحیح مسلم” میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسلام اپنے آغاز میں بہت کمزور تھا اور ایک وقت آئے گا کہ یہ پھر ویسا ہی کمزور ہو جائے گا۔ اس وقت دین پرقائم رہنے والوں کا بھلا ہو۔اسی طرح سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالئ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک اسلام اپنی ابتدا میں بہت کمزور تھا اور ایک وقت آئے گا کہ یہ پھر ویسا ہی کمزور ہو جائے گا۔ اس وقت کے غرباء کا بھلا ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس وقت کے غرباء کون ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جو لوگوں کی گمراہی کے دور میں بھی نیکی پر قائم رہیں گے۔ اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے
امام آجُرّی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! غرباء کون ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: بگڑے معاشرے میں چند نیک لوگ ہونگے جن کی بات ماننے والے کم اور نہ ماننے والے زیادہ ہوں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بھی ظاہر ہوگئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلام اپنی ابتدا میں بہت کمزور تھا، پھر یہ نمایاں ہوگیا اور دنیا پر چھا گیا، دیندار لوگوں کو عزت ملی اور لوگ جوق درجوق دین اسلام میں داخل ہونے لگے، پھر اسلام کی کمزوری دوبارہ آگئی، کئی جگہوں پر بڑی شدت سے اس کی کمزوری محسوس ہونے لگی۔
اللہ کے بندو! دین کی کمزوری کی وجہ لوگوں میں شکوک وشبہات پیدا ہونا اور نفس کی پیروی کرنا ہے۔ لوگ ان میں یوں غرق ہوگئے ہیں کہ شیطان ان پر حاوی ہوگیا ہے، اور لوگ مخلوق کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ اس طرح فتنے اور آزمائشیں بڑھتی گئیں اور حالات خراب ہوتے گئے اور چیزیں غیر واضح ہوتی گئیں، مگر پھر بھی فتنوں سے بچنے کا طریقہ اور ان سے خلاصی کا راستہ بالکل واضح اور معلوم ہے۔
فرمان نبوی ہے:نیک اعمال کے ذریعے ان فتنوں کا مقابلہ کرو جو بالکل رات کے سیاہ حصے جیسے ہونگے۔ جن میں انسان صبح مومن اور رات کو کافر، اور رات کو مومن اور سب وہ کافر ہو جائے گا۔ وہ اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے بہت فائدے کیلئے بیچ ڈالے گا۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اے مسلمانو!اہل ایمان کو کمزوری کا سامنا کرانے میں ایک بڑی پوشیدہ حکمت ہے، اور وہ یہ ہے کہ اچھے اور برے کو الگ الگ کر لیا جائے، سچے اور جھوٹے کو جان لیا جائے اور اہل ایمان کو منافقین سے الگ کر لیا جائے۔ 
فرمان الٰہی ہے:’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ “ہم ایمان لائے ” اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ (2) حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون۔‘‘ (العنکبوت: 2 3)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کی کمزوری کے وقت اس پر قائم رہنے والے نقصان میں ہونگے، بلکہ وہ خوش نصیب ترین لوگ ہوں گے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان کا بھلا ہو۔حدیث کے الفاظ ہیں: ان لوگوں کے لئے طوبیٰ ہے۔ اور طوبی کا لفظ نیکی اور پاکیزگی سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ ان لوگوں کی طرح ہوں گے جنہوں نے دین کی ابتدا میں اس کا ساتھ دیا تھا اور وہ لوگ بھی سعادت مند ترین لوگ ہیں۔
اے میرے بھائیو!ایسے لوگوں کو ممتاز کرنے والی چند صفات ہمیں ملتی ہیں جو ان کی نیکی، ثابت قدمی، بلند ہمت اور پختہ ارادے کو ظاہر کرتی ہیں۔ان کے حوالے سے آنے والی احادیث میں سے ایسے لوگوں کی چند صفات ملتی ہیں:ایک یہ کہ جب لوگ سنت کو چھوڑ دیں گے اور بدعتیں گھڑ لیں گے تو یہ لوگ سنت رسول پر قائم اور لوگوں کی بنائی ہوئی بدعتوں سے دور رہیں گے۔ یھی وہ لوگ ھیں جن کی مثال آگ کے کوئلے کو ہاتھ میں لینے والے کی سی ہے۔ کیونکہ یہ معاشرے میں بہت کم ہیں اور عام برای میں ان چند نیک لوگوں کو غلطی پر سمجھا جاتا ہے۔ مگر ان کے لیے دین پر ثابت قدمی کا شرف اور اللہ سے ملنے والا عظیم اجر ہی بہت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسے دن آنے والے ہیں کہ جن میں دین پر قائم رہنا ایسا مشکل ہوگا، بالکل ویسا جیسا اپنی مٹھی میں آگ کا کوئلہ رکھنا۔ ان دنوں میں نیک اعمال کرنے والے کو آپ جیسے پچاس لوگوں کا اجر ملے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پچاس لوگوں کا یا اس دور کے پچاس لوگوں کا؟ آپ نے فرمایا: نہیں! بلکہ آپ کے پچاس لوگوں کا۔ اسے امام ترمذی اور امام ابو داؤد اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
احادیث میں آنے والی ان لوگوں کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ جب لوگوں میں برائی عام ہو جائے گی تو وہ حق پر قائم رہیں گے، دین کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور اللہ کی اطاعت پر اور دین پر ثابت قدم رہیں گے۔اسی طرح وہ ان چیزوں کی اصلاح کرنے کی بھی کوشش کریں گے جنہیں لوگوں نے اپنی بدعتوں کی وجہ سے خراب کیا ہوگا۔ زمین میں فساد پھیلانے سے منع کریں گے۔
لوگوں کی عدم توجہ سے وہ حق سے دور نہیں ہوں گے بلکہ وہ برابر اس پر قائم رہیں گے اور اس کی طرف بلاتے رہیں گے۔
احادیث میں آنے والی صفات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی کمزوری کے وقت اس پر قائم رہنے والے لوگ محض اپنے آپ میں ہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ اصلاح کرنے والے بھی ہوتے ہیں، ان میں بصیرت اور سمجھداری پائی جاتی ہے اور وہ دعوت و تبلیغ کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کے اعتراضات کو دیکھتے ہوئے مایوس ہوکر معاشرے سے الگ ہوکر صرف اپنے لئے جینے اور اپنا خیال رکھنے میں مصروف نہیں ہو جاتے، بلکہ وہ پیغام دینے والے ہوتے ہیں اور لوگوں کو دین کی طرف لانے کے لیے ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھے رہتے ہیں۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو اپنا رہبر مانتے ہیں کہ:لوگوں کے ساتھ گھل مل جل کر ان کی اذیتیں برداشت کرنے والا مومن، ان سے الگ ہوجانے والے اور ان کی اذیتوں پر صبر نہ کرنے والے مومن سے بہتر ہے۔
 فرمان الٰہی ہے:’’تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔‘‘ (ہود: 117)جب زینب بنت جحش رضی اللہ تعالئ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا تھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی ہمیں ہلاک کر دیا جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا تھا: جی ہاں! اگر برائی غالب آگئی! اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے رکنے کی وجہ اور ہلاکت سے لوگوں کی حفاظت کی وجہ محض نیک لوگوں کی موجودگی نہیں بلکہ اصلاح کا کام کرنے والوں کی موجودگی ہے۔ چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ خود بھی صالح ہو اور دوسروں کی بھی اصلاح کرتا رہے۔
الحمداللہ ہماری امت میں ابھی بہت خیر موجود ہے۔ اگرچہ حالات ویسے نہیں رہے اور اختلافات پھیل گئے ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ ابھی تک موجود ہیں جو دین اسلام کی خدمت میں لگے ہیں اور جو اسلام کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا شعار ہے کہ اگر دین کی خدمت میں نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا!ایسے لوگ اس چیز کا انتظار نہیں کرتے کہ دوسرے اٹھ کر دین کی خدمت کریں اور نہ وہ دوسروں سے یہ مطالبہ ہی کرتے ہیں کہ وہ امت کے لئے اور دعوت کے کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، بلکہ وہ خود پیش قدمی کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ اپنے آپکو دین کا رکھوالا سمجھتے ہیں۔
اللہ کے بندو! بعض لوگ دین کی کمزوری کے حوالے سے آنے والی احادیث کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ جب وہ فتنوں کے متعلق آنے والی احادیث سنتے ہیں جیسے:ہر آنے والا سال پچھلے سال سے برا ہوگا۔اور دوسری حدیث کہ جس میں آپ نے فرمایا:تم میں سے جسے زندگی ملے گی وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا۔بعض لوگ ان احادیث سے یہ مطلب لے لیتے ہیں کہ امت کو تو کمزوری کی طرف جانا ہی ہے اور اسے کمزوری سے نکالنے کے لیے جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ بزدلی کے ساتھ پستی اور ذلت کی زندگی گزارتے رہنا چاہیے۔
ایسے لوگوں کے ذہنوں سے دوسری احادیث اوجھل رہتی ہیں کہ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی عزت اور روشن مستقبل کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسا کہ آپ کا فرمان ہے:میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والوں کا انہیں کچھ نقصان نہ پہنچے گا یہاں تک کہ جب اللہ کا حکم آئے گا تو وہ اسی حالت میں ہوں گے۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اسی طرح آپ کا فرمان ہے:اللہ تعالی اس امت کے لیے ہر ایک سو سال کے بعد ایک ایسا شخص بھیجتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کردیتا ہے۔ اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔
اے مسلمان معاشرے کے لوگو!امت کو درپیش مسائل، مصیبتیں اور آزمائشیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہیں، تاکہ لوگ اپنی نیند سے اٹھ جائیں اور وہ اپنی غفلت سے نکل آئیں۔ کیونکہ اس امت کو بیماری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اس کے احوال بگڑ سکتے ہیں، فتنے آسکتے ہیں اور اس کی آزمائش سخت ہو سکتی ہے جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں، لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے کہ یہ امت مکمل طور پر ختم ہو جائے یا ساری امت کو ہلاک کردیا جائے، بلکہ یہ امت ہمیشہ قائم رہنے والی ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا ہے:’’دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔‘‘ (آل عمران: 110)
اے میرے بھائیو!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب مشرکین نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور وہ مدینہ کو تباہ کرنے کے لیے آ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھود کر مدینہ کی حفاظت کا انتظام کیا اور ان سخت دنوں، تنگیوں اور پریشانیوں میں بھی لوگوں کے ساتھ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کا وعدہ کیا۔ یہ بشارت سن کر اہل ایمان کے دل مطمئن ہو گئے اور ان کے دلوں میں امید کی کرنیں پھیل گئیں۔ فرمان الٰہی ہے:’’اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔‘‘ (الاحزاب: 25)پھر اللہ تعالی نے اس حکومت کو بہت عزت عطا فرمائی، یہ تمام رکاوٹیں پار کرتی ہوئی فتح پر فتح حاصل کرتی گئی، خلفائے راشدین کے دور میں، بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر امت اسلام کو ایک بڑے سانحے کا سامنا ہوا اور بغداد میں ایک بڑے قتل عام ہوا۔ بغداد کی گلیوں میں خون بہنے لگا اور تاریخ نگار شہداء کی تعداد میں مختلف آراء کا اظہار کرنے لگے۔ کچھ نے تو آٹھ لاکھ شہید کا ذکر کیا ہے۔اس واقعہ کے بعد لوگوں میں بے چینی پھیل گئی اور اور ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ انہوں نے سمجھا کہ توحید کا علم اب گر گیا ہے، اور اسلام کی تلوار اب ٹوٹ گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کیا آج کے بعد اسلام دوبارہ نہ اٹھے گا، مگر چند ہی سال گزرے اور امت کا زندہ دل پھر سے دھڑکنے لگا اور اس کی روح پھر سے حرکت میں آگئی، اور اس کی ہمت پھر بلند ہو گئی اور پھر کمزوری کی جگہ طاقت نے لے لی اور ذلت کی جگہ عزت نے لے لی، اور مسلمانوں نے بت پرست تاتاریوں کو شکست دی اور لوگوں کی یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی کہ تاتاریوں کی فوج کو کبھی ہرایا نہیں جاسکتا۔
پھر چند سالوں کے بعد صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا اور صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا، بہت لوگوں کو قتل کیا اور اتنے لوگوں کو قیدی بنایا کہ ان کی تعداد اللہ ہی جانے! مگر پھر کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اللہ تعالی نے اس امت کو صلاح الدین ایوبی سے نوازا، ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی، اسلام کی مقدسات محفوظ ہو گئیں اور باغی دشمن ہلاک ہوگیا۔
تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جب بھی امت کے اندر کمزوری آتی ہے تو اس کمزوری کے بعد تجدیدی لہر ضرور پھیلتی ہے اور مجدد ائمہ اور مصلح علماء نکل آتے ہیں۔
بعد ازاں!اہل اسلام کے ہاں یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ تعالی نے دین اسلام کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے، تاکہ لوگوں پر حجت قائم رہے۔ فرمان الٰہی ہے:’’رہا یہ ذکر، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں۔‘‘ (الحجر: 9)اسی طرح فرمایا:’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اِس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘ (الفتح: 28)
یہ غلبہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور ہی میں نہیں تھا بلکہ یہ ہر زمانے میں ہے۔
ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی اس دین میں ایسے لوگوں کے بیج ضرور بوتا رہتا ہے جن سے وہ دین کی خدمت کراتا ہے۔ اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دین ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ چاہے وقتی طور پر حق کے آثار مٹ جائیں اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ختم ہوجائے اور دین کمزور ہو جائے، مگر یہ یقینی طور پر دین پھر سے توانا ہو کر مزید تیزی کے ساتھ دوبارہ پھیلتا ہے۔
بعض اہل علم نے تو دین کی کمزوری والی حدیث کو بشارت کے طور پر لیا ہے۔ جس میں آپ نے فرمایا ہے: دین اپنی ابتدا میں بہت کمزور تھا اور یہ دوبارہ ویسا ہی ہو جائے گا۔ اہل علم فرماتے ہیں یعنی جس طرح پہلی کمزوری کے بعد اسے عزت اور طاقت نصیب ہوئی ہے اسی طرح دوسری کمزوری کے بعد بھی اسے عزت اور غلبہ نصیب ہوگا۔
ایسی احادیث سے دلوں میں امید پیدا ہو جاتی ہے اور ان لوگوں کو تسلی ملتی ہے کہ جو مسلمانوں کی مصیبتیں دیکھ کر رنجیدہ اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ ان بشارتوں سے ان لوگوں کے دلوں میں یقین مضبوط ہو جاتا ہے اور دین پر عمل کرنے کے لیے ہمتیں بلند ہو جاتی ہیں۔
دشمنان دین اس کے ساتھ کتنی ہی جنگ کیوں نہ کر لیں، اسے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور کیوں نہ لگا لیں، اہل اسلام کو اذیت دینے کی کتنی کوشش کیوں نہ کر لیں، مگر پھر بھی یہ دین کبھی نہ رکے گا، اس کا نور پھیل کر رہے گا، اس کا اثر لوگوں پر ظاہر ہو کر رہے گا اور جب تک یہ دن اور رات کا نظام قائم ہے اس وقت تک یہ دین موجود رہے گا۔ فرمان نبوی ہے:یہ دین وہاں وہاں تک پہنچے گا جہاں جہاں تک دن کی روشنی اور رات کی تاریکی پہنچتی ہے۔ اللہ تعالی کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہ چھوڑے گا کہ جس کے اندر یہ دین داخل نہ ہو۔ چاہے اس کے لیے کسی عزت والے کو عزت ملے یا ذلیل کو رسوائی ملے۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
اے امت محمد!اپنے دلوں میں اس یقین کو مضبوط کر لیجئے کہ اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا، اللہ تعالی اپنے بندوں کی نصرت ضرور فرمائے گا، دین کی یہ کمزوری عارضی کمزوری ہے۔ دین پر قائم رہو اور اسکے احکام بجا لاؤ اور دین کے مددگار بنو۔اے حق کی طرف بلانے والو! معاشرے کی اصلاح، حق کی طرف بلانے اور لوگوں کو اپنے دین سے آگاہ کرنے کی مزید کوشش کرو مگر حکمت اور اچھے طریقے سے۔
اے اصلاح کرنے والو! اے تربیت کرنے والو! اپنی اولاد کا خاص خیال رکھو! انہیں صحیح عقیدہ توحید سے کھاؤ، درست منہج پر لاؤ، غلط اعتقادات اور غیر صحیح تصورات سے روکو۔ گمراہ کن افکار اور راہ راست سے ہٹے ہوئے منہج کی روک تھام کرو۔ لوگوں کو دین اسلام کی فضیلتوں کی طرف بلاؤ اور انہیں برائیوں اور گناہوں سے دور کرنے کی کوشش کرو۔اے امت کے نوجوان لڑکو اور لڑکیو! دین اسلام پر فخر کرو، اس کی میانہ روی اور اعتدال پر مبنی تعلیمات پر عمل کرو، دین سے دور نہ جاؤ اور اسکی راہ چھوڑ کر دوسری راہ نہ اپناؤ۔ ایسا نہ ہو کہ تم دین کی کمزوری کا سبب بن جاؤ۔اے مسلمان عورتو!یاد رکھو کہ دین اسلام نے آپ کو بہت بلند مقام دیا ہے، دین اسلام کی آسان تعلیمات پر عمل کرتے رہو، اس کے بہترین اخلاق اپنائے رکھو، تربیت اور اصلاح میں اپنا کردار ادا کرتی رہو، گمراہی اور خواہشات نفس کی طرف بلانے والوں سے چوکنی رہو۔اللہ کے بندو!میں اللہ کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا اگر ہر باپ، ہر ماں، ہر تربیت دینے والا، ہر استاد اور ہر ذمہ دار اپنی ذمہ داریاں مکمل طریقہ سے ادا کرے اور اپنے سر پر ڈالی جانے والی امانت صحیح طرح ادا کرے تو کیا ہمیں ایسی بیماریاں نظر آئیں گی جیسی ہمیں آج معاشرے میں نظر آ رہی ہیں؟ کیا ہم میں سے ہر ایک نے اپنا کردار ادا کیا ہے، کیا ہر کوئی اللہ تعالی کے سامنے اپنی ذمہ داری کے حوالے سے سرخرو ہو سکتا ہے؟ ہر انسان خود اپنا محاسبہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے، اور ہر کوئی اپنے آپ کو بہتر جانتا ہے اور اللہ تعالی سب پر غالب ہے۔

آج کی بات ۔۔۔ 20 فروری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
عاجزی و انکساری کسی امیر کو غریب نہیں بناتی،اور نہ ہی غرور و تکبراپنا کر کوئی غریب امیر بن سکتا ہے۔

آج کی بات ۔۔۔۔۔ 19 فروری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
ہم دس روپے کا نوٹ گر جانے یا جل جانے کو توخسارہ سمجھتے ہیںلیکن دس منٹ غفلت میں گزرنے جانے کو خسارہ نہیں سمجھتے,
 جب کہ ایک کا تدارک ممکن ہے اور دوسرے کا تدارک ناممکن۔

زندگی آخرت کی تیاری کا واحد موقع - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)

Image result for masjid nabawi haramainزندگی آخرت کی تیاری کا واحد موقع - خطبہ جمعہ مسجد نبویترجمہ: شفقت الرحمان مغل
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 30-جمادی اولی- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " زندگی آخرت کی تیاری کا واحد موقع " ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بہت زیادہ دنیا کی جانب مائل ہو چکے ہیں، ان کی زندگی کا اولین مقصد دنیا ہے، ان کی سوچ دنیا سے بالا تر ہو نے کی سکت نہیں رکھتی، ان کے ہاں دوستی اور تعلق داری کا یہی ایک معیار ہے، حالانکہ کامیاب شخص آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اللہ تعالی کے فرامین کی عملی شکل بن کر زندگی گزارتا ہے، اللہ کا فرمان یہ ہے کہ آخرت کی تیاری رکھو اور دنیا کے لیے بقدر ضرورت تگ و دو کرو، یہی وجہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالی نے مختلف دعاؤں میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائیاں طلب کرنے کا حکم دیا ہے، دنیا کے لیے جینے والا شخص ہمیشہ ذہنی اسیری والی زندگی گزارتا ہے، اس کی فکری یکجہتی مفقود ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آخرت کو اپنا ہدف بنانے سے بہت سے معاملات آسان ہو جاتے ہیں پھر اس کے نتیجے میں دنیا بھی ذلیل ہو کر اسے ملتی ہے، فرامین الہیہ کے مطابق آخرت کو بھول جانے والا انتہائی خسارے میں ہے، اور دنیا کے اسیر کی علامت یہ ہے کہ وہ دنیا ملنے پر خوش وگرنہ ناراض رہتا ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے تعلق ایک مسافر جیسا تھا جو سستانے کے لیے کسی سایے دار درخت کے نیچے بیٹھے اور پھر روئے منزل چل دے اور یہی طرزِ زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے، آخر میں انہوں نے سب کےلیے جامع دعائیں فرمائیں۔
منتخب اقتباس:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس کا فرمان ہے: {بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى} بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت تمہارے لیے بہترین اور دائمی ہے۔[الأعلى: 16، 17]
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
مسلمانو!

آج کچھ لوگوں کے حالات کو گہری نگاہ سے دیکھنے والا اس نتیجے پر پہنچے گا کہ وہ بہت زیادہ دنیا کی جانب مائل ہو چکے ہیں، حصولِ دنیا میں مگن ہیں، یا ان کا ہدفِ زندگی صرف دنیا ہے جس کی وجہ سے وہ صرف دنیا کے لیے ہی سوچتے ہیں، ان کے ہاں دوستی اور دشمنی کا معیار یہی دنیا ہے، ان کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی اسی دنیا کی خاطر ہوتی ہے، ان کے بارے میں کسی نے سچ کہا کہ:

ہر آفت زدگی کی علامت ہوتی ہے، اور تمہاری علامت ہے کہ تم ہوس پرستی سے باہر نکلتے نظر نہیں آ رہے۔

جبکہ کامیاب مومن شخص اپنی آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے، اور اپنی زندگی اسی نہج پر گزارتا ہے جس کی اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں منظر کشی کی اور فرمایا:
 {وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ}
 جو مال اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور اپنا دنیاوی حصہ بھی فراموش نہ کر۔ اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔ [القصص: 77]
اسی لیے مومن حصول رزق حلال کے لیے اسباب اپنا کر مقدور بھر کوشش کرتا ہے، اور اس دھرتی کو رضائے الہی کا موجب بننے والے کردار سے آباد رکھتا ہے۔

پھر دنیا سے صرف اتنا مستفید ہوتا ہے کہ اس کا مذہبی تشخص اور آخرت متاثر نہ ہو یہی اللہ تعالی کے فرمان: {وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا} اور دنیا میں بھی اپنا حصہ فراموش نہ کرو [القصص: 77] کے دو معنوں میں سے ایک معنی ہے۔

مزید اللہ تعالی نے کا فرمان ہے:
 {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}
 ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی ، نیز ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ [البقرة: 201]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس دعا نے دنیا کی تمام بھلائیاں سمولی ہیں اور ہر قسم کی برائی کو مٹا کر رکھ دیا ہے؛ کیونکہ اس دعا میں " حَسَنَةً " سے صحت، وسیع گھر، اچھی بیوی، کشادہ رزق، علم نافع، بہترین کارکردگی اور اچھی سواری سمیت ناموری جیسی تمام ضروریات مراد ہیں "

اسلامی بھائیو!

جو شخص اپنا بنیادی مقصد آخرت کو بنا لے، اسی کے لیے تگ و دو کرے تو اللہ تعالی اس کی دنیاوی ضروریات خود ہی پوری فرما دیتا ہے، لیکن جس کے دل پر دنیاوی فکر قابض ہو جائے، اس کا بنیادی مقصد دنیا ہی بن جائے تو وہ ہمیشہ ذہنی غلامی کی زندگی گزارتا ہے، اس کی سوچ بکھری ہوئی ہوتی ہے، وہ ذہنی یکسوئی سے محروم ہوتا ہے، اس کا فراوانی میں بھی پیٹ نہیں بھرتا، اور تھوڑی چیز پر خوش نہیں ہوتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس کا مقصودِ زندگی آخرت ہو اللہ اس کے دل میں بے نیازی پیدا کر دیتا ہے، اور اسے دل جمعی عطا کرتا ہے ، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔ اور جس کا مقصود دنیا ہو، اللہ تعالی اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے) اس حدیث کو احمد، ترمذی، اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، عراقی رحمہ اللہ کے مطابق اس کی سند جید ہے، جبکہ دیگر محدثین نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

اللہ کے بندو!

جو شخص آخرت بھول کر اپنی شہوت کے پیچھے لگ جائے اور اللہ تعالی کی شریعت سے رو گردانی شروع کر دے تو وہ بہت بڑے خسارے میں پڑ گیا ہے، وہ بڑی بدبختی میں ملوث ہو چکا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ}
 اے ایمان والو! تمہیں تمہارے اموال اور اولاد ذکرِ الہی سے غافل نہ کر دیں، اور جو غافل ہو گیا تو وہ ہی خسارہ پانے والے ہیں۔[المنافقون: 9]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (دیناروں کا غلام تباہ ہو گیا، درہموں کا غلام تباہ ہو گیا، لباس کا غلام تباہ ہو گیا، وہ بار بار گرنے کیلیے تیار رہتا ہے، اور جب اس کو کانٹا بھی چبھ جائے تو کوئی اس کا کانٹا نکالنے والا نہیں ہوتا۔ اگر اسے کچھ دے دو تو راضی رہتا ہے اور اگر کچھ نہ دو تو ناراض ہو جاتا ہے۔)

اس لیے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈور، اور ایسے کسی بھی اقدام سے احتراز کرو جو تمہیں رضائے الہی سے دور لے جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى}
 بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت تمہارے لیے بہتر اور دائمی ہے۔[الأعلى: 16، 17]

مسلمانو!

 اس وقت بہت سے لوگوں کے دلوں پر دنیا کی چکا چوند کا قبضہ ہے، دنیاوی رنگینیوں اور لذتوں کے لیے بہت سے مسلمانوں کے دل ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، تو ایسے میں مسلمان کو محاسبۂ نفس والی نگاہ سے دیکھنا چاہیے تا کہ حقائق واضح ہو سکیں اور ممکنہ نتائج کی آشنائی ملے؛ چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
{الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا}
 مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں آپ کے رب کے ہاں جو باقی رہنے والا ہے وہ نیک اعمال ہیں ان پر امید رکھنا بھی بہتر ہے۔ [الكهف: 46]

اور یہ نبوی وصیت کو عملی جامہ پہنانے کیلیے گوش گزار فرمائیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے سے پکڑا اور وصیت میں فرمایا: (دنیا میں ایسے رہو کہ گویا تم اجنبی ہو یا راہ گزرتے مسافر)" اسی لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی کہا کرتے تھے: "جب تم شام کر لو تو [اخروی عمل کے لیے]صبح کا انتظار مت کرو، اور جب صبح کر لو تو شام کا انتظار مت کرو، اپنی صحت کے ایام میں بیماری کے لیے اور زندگی میں موت کے لیے کچھ اسباب اپناؤ" بخاری


Pages