طب گردیاں

اُس رات کا مارچ

منظور نشیمن کو نہ خود کی شناسائیاُس لفظ کے سننے میںکچھ کم نہ تھی رسوائیسب شام نگر کے دشتکہاں خاک اڑا پائیپھر ویسی دھواں شامیںاور دل کی نوا خوائیخاموش  بصارت کوخشبو بھی نہ سن پائیمیرا سفر تو رستہ شکنسب دنیا تماشائیجب دیکھا عبارت نےخود پر ہی ہنسی آئیاِس جھوٹ کے قیدی کوکہاں راس وہ گویائیمنزل کا گماں بے حسگمنام سماں کائیدِکھنے میں کہاں قائمجُوں دِکھتے وہ سودائیوحشت کی اڑانوں سےدنیا کہ جہاں رائیپتھر کی جاگیروں میںہوا مجھ کو کہاں لائیمیری راتیں اماؤس ابوہاں رنگوں کی رشنائیخاموش ہوئے منظر پھروحشت  بنی ہرجائیچند وقت کے دیپ جنوںسماوارکی پہنائیآخر میں ملی نفرتمیرے زیست کی رعنائینئی شامِ بہاراں پربجلی ہی تو لہرائیاُس رات کے آخر میںکہیں دِل میں گھٹا چھائیبادل ہی نہیں گرجےآندھی سی بھی ٹکرائیمیں خواب سے جاگا جبسرِ دار بھی تنہائیپسِ دار بھی تنہائی۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

واپسی کا سفر

پہروں سے چلنا دوبھرآساں سوار کے تھےجھکی نہیں جبیں تبسجدے کیوں خار کے تھےمجھ سے ٹکراکے چلتےپتھر  بھی یار کے تھےنشیمن کی شام نگریوہیں انتظار کے تھےشبنم یہاں نہ ویسیصدقے دیار کے تھےمقتل کی کچھ نشانیمنظر مستعار کے تھےہنسنا عطا کسی کیآنسو جرار کے تھےسانسیں پڑی تھیں گرویلمحے دیدار کے تھےخوشبو کی تین لہریںعطیے عطار کے تھےخوابوں پہ  کون قابضملزم عیار کے تھےیہاں گرتے سوکھے پتےپچھلی بہار کے تھےنظروں کی ٹکٹکی میںمیلے تو دار کے تھےاڑتا تھا جن پروں پربے جاں طیار کے تھےاندازے بے نشی توازلی غبار کے تھےاِس من میں پھٹتے گولےخوابی مزار کے تھےپہلی شکست تھی جبعنواں سدھار کے تھےپھر سے کیوں بھول بیٹھاکیسے تیار کے تھےبارش کہاں کی صاحبآنسو بیمار کے تھےوہ گونج تھی طبل سےسُر تو ستار کے تھےساکت ہوئی ہوا جببےدل مہکار کے تھےاِسےبزدلی نہ کہیئےعادی ہی ہار کے تھےدلدل مزید گہریبادل سے پیار کے تھےسرِراہ لٹا گئے سبجو متاع وقار کے تھےچہروں کی بات چھوڑووحشی گفتار کے تھےحرفوں نے خوب نوچامیداں غیار کے تھےہوئے پھروہیں کے قیدیپاؤں سیّار کے تھےرستے کٹھن تو تھے ہیبولی بیزار کے تھےگمنام دل کے باسیاِسی کوہسار کے تھےمڑتے وہ کاہے ساقی محرُوں پکار کے تھےمیں تو پہلی بار پہنچاوہ تاجر بازار کے تھےراس آتی کیسے محفلسب اعلیٰ معیار کے تھےمیں نے تو ظرف کھویاوہی لفظ خوار کے تھے خالی ہی ہاتھ واپسرستے بیکار کے تھےپھر سے بساط ہاریمہرے ادھار کے تھے٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سردیاں اور سِنگلیاں

وہ موسم جس میں برف پھٹوں پر بکنے کی بجائے نیلے نیلے امبر سےسر پر پڑتی ہوئی محسوس ہو، سردیاں کہلاتا آیا ہے۔ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ سردیوں کے بعد گرمیاں آتی ہیں یا گرمیوں کے بعد سردیاں، اور نہ ہی کسی صاحبِ ذوق نے اس گھن چکر میں پڑنے کی کبھی کوشش ہی کی ہے کیونکہ آج کل ہر کسی کے اپنے رولے ہی ماشاء اللہ اتنے زیادہ  بڑھ چکے کہ  ایسے فضول سوال مخصوص اوقات میں  اٹھنے سے پہلے ہی شرافت سے بیٹھ جاتے ہیں۔  سردیوں سے ہمارا گزشتہ بیس سال سے پیدائشی اور اسی حساب کا سینتیس والا آنکڑہ رہا ہے۔ روایت ہے کہ جب ہم نے اس جہانِ رنگ و بُو میں آنکھ کھولی اُس وقت سردیاں لاہور کے دروازے پر دستک دے رہی تھیں اور لاہور ان کو مسلسل کل پر ٹرخا رہا تھا۔ اُسی روایت سے روایت ہے کہ سن ترانوے کا دسمبر اگلی پچھلی کسریں نکالنے پر آمادہ نظر آرہا تھا۔ اُدھر سردی کے ریکارڈ ٹوٹے اور اِدھر ہمارا نمونیے سے وصل شروع ہوگیا۔ راویان چونکہ اُس وقت اپنی اپنی پریشانیوں میں تھے اس لئے کافی ساری باتیں نوٹ کرنا بھول گئے، مثلاً ہم نمونیے کو ہوئے یا نمونیہ ہمیں ہوا؟تب اگر یہ بات ہسپتال والوں نے تاریخ میں جلی حروف سے رقم کی ہوتی تو ہمیں اپنی جنم کنڈلی کے وحشی ہیر پھیر کی وجہ سے آج محبوب تلاش کرنے کی کوئی ٹینشن نہیں ہونی تھی۔ ہماری سردیوں سے  اس طرح کی عشقسٹک آشنائی اور  پھیپھڑیائی سرد مزاج پہلی محبت بعد میں ہمارے ناتواں گلے کا پھندہ بن گئی اور حفظِ ماتقدم کے طور پر ہمیں نومبر کی پہلی تاریخ سے لیکر مارچ کے اختتام تک خطرناک حد تک سنبھال کے رکھا جانے لگا۔ یہیں سے ہمیں ایک محبوب کو دوسرے محبوب سے جدا کرنے والے خالصتاً گھریلو زمانے کی ستم گیری کا پہلا سبق ملا۔۔۔ دن مہینے سال میں بدلے۔۔ اور سردیاں باقاعدہ آنے جانے لگیں۔ ہم لکھ کے دے سکتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نے ٹھنڈ کو کسی چیز پر بھی نہیں لکھا۔ یہ سردیوں کی مہربانیاں ہی ہیں جن کی وجہ سے  آج ہم بنا کوئی کارنامہ سرانجام دیئے اپنا سینہ ایک مخصوص حد تک چوڑا کرکے(کہ اس کے بعد پسلیوں میں بل آنے کا گماں غالب و جالب ہے) کہہ سکتے ہیں کہ ہم علامہ اقبال کے ساتھ برتھ منتھ شئیر کرتے ہیں۔  سردیوں کے آنے جانے کے جو اوقات مغربیوں نے مقرر کررکھے تھے وہ تو ہیں دسمبر اور جنوری، لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی سسٹم نہیں۔ ہمارے ہاں جب بارش ہو ٹھنڈ ہوجاتی ہے اور جب دھوپ ہو اسے گرمی گرمی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔سائنس دانوں کے بقول  ہماری زمین پر( جہاں تب ملک ریاض صاحب، ایل ڈی اے صاحبہ اور ڈی ایچ اے صاحب کا قبضہ نہیں تھا ) آئس ایج بھی رہا تاکہ تاکہ بیسویں صدی میں ہالی ووڈ والوں کو فلم بنانے کی سہولت ہو۔ اس کے بعد سمر کیمپ لگا جس پر بعد میں حسبِ مصالحہ بہار اور خزاں چھڑکی گئی تو موسموں کا اننت کال شروع ہوگیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ پہلے پہل سردیوں کی پہچان کرنا اتنی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ جس تن لاگے سو تن جانے دوجا کوئی نہ جانے۔۔۔ اسی طرح جب لوگ ایک دوسرے کو سلام کرتے وقت ہاتھ کو دو اک منٹ دابے رکھتے تو اگلا اگر قسمت مارا فریقِ ہاتھ دابر کا محبوب نہ ہوتا تو سمجھ جاتا کہ سردیاں آ چکی ہیں اور گھر واپس جاکے زیبِ تن پوشی کا کام نبٹاتا۔ اُس زمانے میں سردیاں کپکپانے کا کام کیا کرتی تھیں اور اس موسم میں ریچھ وغیرہ اپنی ہائبرنیشن کو ٹیون اپ بھی کیا کرتے تھے۔ انسانی ٹیون اَپ تو خیر بات ہی چھوڑیں، یہ تو جب "دل" چاہا کے انداز میں سارا سارا سال ہی جاری رہتی ہے۔ آج کل کی سردیاں بھی صنفِ گُل بہار کے مزاجانِ گرامیان جیسی نازک اندام ہوچکی ہیں، آنے لگیں تو اکتوبر میں ہی ہری جھنڈی دکھا کے بسمِ اللہ کرلیں اور نہ آنا چاہیں تو بیس بیس دسمبر تک عاشق اپنے برانڈڈ مفلروں سے نہر والے پُل پر پسینہ پونجھتے نظر آئیں لیکن وہ نہ آئیں۔ چونکہ یہ دونوں ایکسٹریم کیسز ہیں اس لئے ہم میانہ روی اور شریف سیزن کے حساب سے سردی لگنے کی اداکاری سولہ نومبر سے شروع کرتے ہیں جس کا سلسلہ مؤرخہ یکم مارچ تک کھینچ کھانچ کے لے ہی جاتے ہیں۔ سردیاں نوعِ انسانی اورمرغیوں کیلئے آہوں اور سسکیوں کا موسم ثابت ہوتا رہا ہے کیونکہ انسانی آہوں کو ابلنے سے بچانے(یا بڑھانے) کیلئے ان کی مرغی کے انڈوں کو فتنہ سمجھ کر ابالا جاتا ہے۔ اس موسم میں کچھ کے تو جینوئن محبوب انہیں  چھوڑ کر پپا دیس سے پیا دیس(نقطے کی اہمیت نوٹسی؟) چلے گئے ہوتے ہیں، عرض کی کہ "کچھ" کے، باقی بچتا ہے  ہماری طرح کا کاٹھ کباڑ، جن کے دم سے ٹوئٹر پر فار ایور الون کا ہیش ٹیگ زندہ ہے۔ یہ بیچارے تیس نومبر کی شام  تک تو کر کرا کے گزارہ چلا نے کی سعی کرتے ہیں لیکن! انسان ہی تو ہیں آخر، سنگ تو نہیں۔۔۔ کیوں نہ کریں آہ زاریاں۔ ونٹر کی یکم سر پر آن پہنچی۔۔۔۔۔ حالت خراب ہونے لگی، دوپہر کی بھوک اُڑی(تین ایکس ایل سائز پراٹھے چھوٹے دنوں میں ہضم کرنا مشکل کام ہے، لیکن کیا کریں، اس طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا) سہہ پہر تین بجے چائے کا کپ آیا تو اُس سے امڈنے والے دھویں پر فوکس کیا، چائے نے معدے کی بجائے دل پر وار کیا، دھویں کی بونگی لہروں نے موقع کی مناسبت سے پٹرول چھڑکا، شام کو گھر واپسی ہوئی، پیٹ نے ابھی تک دو پراٹھوں سے ہی جان نہیں چھڑوا پائی تھی کہ کڑوی کسیلی سن کر ڈنر نذرِ شکم ٹھونسا، انتڑیوں نے صدائے احتجاج بلند کی،ہاجمولہ دستیاب نہیں اور نہ ہی اس طرف سوچ گئی، سر بھاری ہوا، دماغی ایکٹیویٹ ہوا، امیجینیشن جاگی اور دو منٹ میں محبوب ہاتھ باندھے جی حضوری کرتا ہوا آن سامنے "لو میرے بھائی، خدا کا واسطہ جو کرنا ہے کرلو لیکن ان سکردوی آہوں سے غریب عوام کو ٹھنڈ نہ لگوا دینا۔ پلیس"۔ یہ زندگی تو آلریڈی فاسٹ فارورڈ  موڈ پر تھی ، محبوب نے آن کے آن کچھ ایسے خطرناک انداز کا دھکا لگایا کہ رات بارہ بجے تک معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔۔۔ اگلے دن صلوٰاتوں کے ڈر سے پھر ویسا ہی ناشتہ کیا، باہر کی دنیا دیکھی، ہر چہرے میں محبوب کو پایا، ہر طرف محبوب ہی محبوب، ایک نمبر محبوب اور دو نمبر محبوب، پتلون والے محبوب اور قومی لباس والے محبوب،فرفر انگریزی کی ٹانگیں دابتے ہوئے ٹوٹی فروٹی اردو بولنے والے محبوب۔۔۔ ونٹر کی دو تاریخ کی شام کو خیالی وصل ہوا اور اُسی رات وہ ظالم، بے وفا، پتھر دل، سنگدل، کلموہ(الف یا چھوٹی یے حسبِ ذائقہ) بمعہ قسموں کو دہی بھلے سمجھ کر ڈکار جانے والا محبوب صنفِ کرخت جبیں یا صنفِ گل بہارکو ہجر میں انٹاغفیل کرکے وہاں سے چل بھاگا۔ کہاں گیا کمبخت؟ وہاں!جہاں سے اُس بیچاری/ے کو اپنی خبر نہ کبھی آئی، نہ آنی۔۔۔ صاحب! تین  سے لے کر اکتیس ونٹر تک ، اٹھائیس دن ہجر میں وہ وہ چیزیں یاد آئیں کہ اگر بتا دیں تو بہتوں کے سر پھٹیں، بہتوں کو ڈنڈے پڑیں اور بہتوں پر کھڑے کھڑے حدود آرڈیننس کے پرچے کٹیں۔ اگر کسی خوشدامن(ہ) لیس خوش نصیب پر کسی وجہ سے مندرجہ بالا صوفیانہ علامات ظاہر نہ بھی ہوئیں تو اُس نے بھی دیکھا دیکھی وصی کیٹرنگ  اینڈ چُوڑی بریک-اپ سروسز پرائیویٹ ان لمیٹڈ کے پاجامے میں ملبوس دیوان پر اپنے قیمتی انٹرنیٹ کنکشن کے دو تین میگا بائیٹس ضائع کئے اور اُس میں مخمور تین سے تین کو ضرب دے کر اکیاسی بنا لیا۔۔۔ ایسا کرنےمیں ہم پاکستانی خودکفیل ہیں۔ صاحب! اپنے پاس بھی کافی ساری امیجینیٹڈ چیزیں  پڑی ہوئی ہیں جو ہجرِ بے کراں کا کرب دوبالا کرتی رہتی ہیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اپنی تو زندگی ہی امیجی نیٹیو ہے۔۔۔ اور ویسے بھی پارٹنر، زندگی کا جو مزہ امیجینیشن میں ہے ناں، وہ کھٹے میں بھی نہیں۔۔ امیجینیشن سے بندہ ونٹر میں محبوب کے ساتھ شمالی علاقہ جات میں کرینہ کپوروی اور عامر خانوی حرکتیں کرنے  کے بعدگرمیوں میں پھر سے فیس بُک پر سٹیٹس کو بیک جنبشِ انگل سے سنگل کرسکتا ہے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

چوک

جب مجھے اپنی اس رتجگوں کے بعد بھی تھکاوٹ کی اداکاری کرنے والی اور میرے گرد سے اٹے وجود کو پہروں جگائے رکھنے کی خود اذیتی و خود منافقی میں مبتلا بوجھل روح کے ساتھ کسی دھندلی اور افق سے دور نکلتے ہوئےسراب سے ہزاروں سال کی دوری پر موجود وقت کی ذات میں مقفّل ہوکر شور کرتے ہوئے آسمانوں کی  مہرباں حد تک سفاک سرخی کو اپنی آغوش میں لے کر سمٹی ہوئی جان بہ لب پیاسی شام کے بعد اچانک عود آنے والی خشک آندھی سے لبریز پھر سے ویسی ہی ابر آلود رات کی مغرور خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے دل میں  نقش ایک بہت ہی پرانے کھنڈر کی دیوار سے ٹیک لگا کر بمشکل آنکھیں کھولے وسعتِ جہاں میں اپنا پہلا جھوٹا نقاب بچانے کی خاطر ایک اور نقاب اوڑھ کر مزید لاچاری کے کرب سے تعلق جوڑ کر روزانہ مجھے توڑنے والے اپنے آدھے رستوں سے واپس مڑنے کے عادی بوڑھے مسافر نما تھکے خواب میں سمندر سے اچانک اٹھ کر دوبارہ فنا ہوتی ہوئی اکلوتی اور کمزور لہر کی تھرتھراتی مہین سی ہوا میں مدغم ہوکر دوبارہ بکھرتے اُس بے ضرر اور خوبصورت بلاوے کی خودپسند سرگوشی میں بے یقینی کے ساتھ ہی ختم ہونا ہے تو پھر یہ کیا ہے جو مجھے اپنی اتنی خطرناک ہولناکی سے پریشان کرتا رہتا ہے؟ یہ کیا ہے جو گریویٹی کو زیرو نہیں ہونے دیتا؟ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مرغے

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA عین ادیلhttp://www.blogger.com/profile/15122224778946363481noreply@blogger.com3

میں اور وہ

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA عین ادیلhttp://www.blogger.com/profile/15122224778946363481noreply@blogger.com4

ناک

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA عین ادیلhttp://www.blogger.com/profile/15122224778946363481noreply@blogger.com16

بھینسوی سُخن

بھینس آنکھیں اور کان کھلے رکھ کرچار ٹانگوں پر چلنے باامرِ مجبوی ہی چلنے والا ایک اہم ممالیہ ہے، اور ممالیہ ہونا اس کی مجبوری ہے۔ یہ مخلوق اپنے شدید کالے رنگ کے باوجود بھی تاحال ویسٹ انڈیزی ڈیرن سیمی سے ہزاروں نوری سال  پیچھے ہے۔بھینس اِس عالمِ پُرخار میں وہ واحد نکتہ ہے جس پر مغرب اور مشرق میں اتفاق پایا جاتا ہے، مغرب والےاسے بی سے شروع کرکے بیفولو بناتے ہیں اور ہم ب سے شروع کرکے بھینس تک لے جاتے ہیں۔ بھینس کی اگر شرم وحیا کو دیکھا جائے تو یہ روائتی مشرق کی شاہکاری لگتی ہے لیکن اس کے کھانے پینے کی بگڑی عادات کو دیکھیں تو غیر روائتی اور  ہٹ دھرم مغربی شاکاہاری کا گماں غالب آجاتا ہے۔بھینس جب نہیں ہوا کرتی تھی تو یہ تب بھی ہوا کرتی تھی فرق بس اتنا سا ہے کہ تب یہ امورِ خانہ داری اور ایسی دیگر نازک اندامیاں چھپ چھپا کر سرانجام دیا کرتی تھی۔ پھر خدا کی کرنی کچھ یوں ہوئی کہ حضرتِ انسان  کو اِس کی کام چوری کا پتا لگ گیا، اور تب سے تادمِ تحریربھینس کو لگ پتا گیا ہے۔حضرتِ انسان پر جب اس کے(بھی) دودھیل ہونے کا انکشاف ہوا تو وہ اچھا خاصا حیران ہوا "کیا یہ( بھی) دودھ دیتی ہے؟"، اور اس کے بعد سے ازلی چل سو چل آج تک جاری و ساری ہے۔  بھینس چونکہ بیرونی کانوں والا جانور ہے اس لئے انڈوں کی بجائے دودھ دینا اس کی مجبوری ہے، لیکن  جب سے فیس بُک پر چڑی کا دودھ عام ہوا ہے، بھینسوں میں عجیب سی تشویش اور بے چینی پھیلتی دیکھی گئی ہے۔ بھینس جب بھوترتی ہے تو سب کو آگے لگا دیتی ہے مگر اپنے مالک کے ڈنڈے سے بہرحال اس کی جان نکلتی ہے، شائد یہ انسان نہیں ہے اس لئے۔ وہ ڈنڈے والا اسے توآگے لگا کے رکھتا ہے، اورجب بات شہریوں کی ہو تو ان کو اپنے پیچھے، نتیجۃً مہینے کے آخر میں شہری اُس ڈنڈے والے کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں اور یہ سلسلہ دس گیارہ تاریخ تک چلتا ہے۔گجروں اور بھینسوں کا اٹوٹ انگ کا رشتہ ہے۔ ان کو جہیز میں بھی یہی ملتی ہے۔ یہ اپنی دلہن سے پہلے بھینس کو دیکھنا ہی شائد نیک شگون مانتے ہوں، کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔بھینس کی اولادوں کو کٹی یا کٹا کہا جاتا ہے۔ اسے پالنے والےکٹےکی پیدائش پر سوگ مناتےہیں اور کٹی پر خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ آخر بھینس بھی توکبھی کٹی تھی۔کٹے کی پیدائش پر اُسے ماں کا تو کیا، باپ کا دودھ تک بند کردیا جاتا ہے۔ اگر ڈھیٹ نکلے تو بڑا ہوکر سانڈ بنتا ہے اور بچپن کی زیادتیاں نکالتا ہے۔بھینس کو موسیقی میں (بھی) دلچسپی ہوتی ہے لیکن موجودہ نسل کے (بے) نسلی غلوقاروں کی طرح صرف اپنے راگوں سے، اس کی پسندیدہ موسیقی اپنے مالک کی آواز میں "ہڑڑڑڑ۔ ہٹ ہے۔ او تینوں چھری پھیراں" وغیرہ شامل ہیں۔اس کی آواز یوں تو مدھر اور سوز و گداز سے بھرپور ہوتی ہے لیکن انسانوں کو غیر معیاری ذوق کے سبب وہ صرف "ایڑڑڑڑڑاں ایڑڑڑڑڑاں" ہی لگتی ہے۔یہ جتنی کالی اور موٹی ہو، اتنی ہی خوبصورت کنسڈری جاتی ہے۔ اگر اسے سمارٹ یا گوری کہیں تو صاحبِ بھینس کے ہاتھوں زدوکوب ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔پہلے زمانے میں دودھ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ بھینس ہی ہواکرتی تھی۔ مِلک پیک اور دیگر جدید بھینسیں بعد میں آئیں لیکن !بہرحال! بھینس ان کی گاڈ مدر ہے۔بھینس اور روحانیت کا چولی دامن کا ساتھ ہےکیونکہ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس جدید دور اور سرد  موسم میں ٹھنڈے پانی سے جو جتنا کم نہائے،  وہ اتنا ہی زیادہ معرفت کے نزدیک ہوتا ہے، اسےصوفی جانور بھی کہنا مناسب ہے۔بھینس کے قدوقامت کا اندازہ لگانا ہو تو اس فقرے سے لگایا جاسکتا ہے"عقل بڑی کہ بھینس؟"، امیدِ واثق ہے اگر یہ بے زبان بول پاتی تو کہتی "تیری بےبے"۔جہاں بھینس کا جسمانی و روحانی استحصال کیا گیا، وہاں معصومت کاتمغہ اس سے لے کر گائے کو دے دیا گیا حالانکہ بھینس کا دھکیلا اُٹھ سکتا، گائے کا نہیں۔بھینسیں پہلے دیہاتوں تک محدود رہا کرتی تھیں اور تب کافی شرمیلی ہوا کرتی تھیں، اب یہ بھلے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے مارچ کرتی گزر جائے، کوئی اس کا کچھ نہیں اکھاڑ سکتا۔ بھینس کے دودھ میں کیلشئم اور باقی چیزوں کے علاوہ پانی بھی ہوتا ہے، اگر یہ پانی مختلف وجوہات کی بناء پر ٹیکنیکلی اندر مکس نہ ہوا ہو تو نلکے اور ٹونٹی سے کام چلایا جاتا ہے۔بھینس اور محبوب وہی اچھا ہوتا ہے جو مقہور کو پاس آنے دے ورنہ بھینس کی ٹکر اور محبوب کی ٹُکر تو مشہور ِزمانہ ہیں۔کچھ بھینسوں کو نیلی راوی بھی کہا جاتا ہےشائد اسی نام کا نتیجہ نکلا کہ ہمارے لاہور کا راوی نیلے آسماں والے کو پیارا ہوگیا۔بھینس کی اہمیت سمجھنی ہو تو سڑک پر چلتے ہوئے غول کو دیکھنا پڑے گا، جہاں گاڑیوں کی قطاریں اور بھینس کمانڈر کی بے اعتنائی قابلِ دید ہوتی ہے اور کچھ کہنا آبھینس مجھے مار کے مترادف ہوتا ہے۔بھینس سے دودھ حاصل کرنے کے علاوہ دریا اور نہریں بھی اس کی دم کو پکڑ کے زندہ پار کی جاسکتی ہیں۔ وہ ایک مشہور گانا۔۔۔۔ جب تک ہے دُم، جب تک ہے دُم۔۔ ۔تو سنا ہوگا آپ نے، بلاشبہ وہ گانا لکھنے والے نے بنیادی تھیم یہیں  سے چرایا۔۔۔ اِن شارٹ! انسان کا بھینس دریافت کرنا امریکہ دریافت کرنے سے زیادہ اہم اور مفید کارنامہ ہے۔تو میرے عزیزو! دودھ صرف بھینس کا ہی استعمال کیا کیجیئے۔ اسی سے آپ کی اورآپ کے بچوں کی صحت اچھی رہ سکتی ہے۔ آیئے! مل کر اس نعر ے کے ساتھ لافانی عہد کی تجدید کریں۔۔۔ جیئے بھینس جیئے، بھینس والا جیئے۔۔۔ بھینسی چال جیئے، رنگ کالا جیئے۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سوزِ اِبنِ بھینس

خواتینز کیغیر فلاحی انجمنیں خواتینوں کو اور شادی شدہ امراد مردوں کو اکثر دنیا کا مظلوم ترین طبقہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔اگر ہم سے پوچھا جائے کہ سب سے زیادہ ظلم کس ذی روح پر ہوتا ہے تو ہماری عوامی رائے کے مطابق خاندانِ بھینس کا مرد بچہ دنیا کا مظلوم ترین طبقہ کہلوانے کا صحیح حقدار ہے۔اس غریب کے ساتھ انسانوی جینڈر ڈسکریمینیشن کا اُلٹ آغار اسکی پیدائشِ مبارکہ سے بھی پہلے شروع ہوجاتاہے جب بھینس کا مالک اسے ویٹرنری ڈاکٹر سے نیلی راوی کا ٹیکہ لگواتا ہے۔یوں تو اس کی آمد کے قصے کی راہیں حتی المقدورووحتی الامکان مسدود کرنے کی اپنی سی کوششیں کی جاتی ہیں، لیکن صاحب! ایم ایم بخش صاحب "اوس نوں کون مارے" کے عین مطابق ٹیکے میں فالٹ کا آجانا بھی تو ممکنات میں سے ہے ناں؟جب یہ معصوم دنیا میں تشریف لاتا ہے تو بھینس والے کے ارمانوں پر اس کی تشریف آوری دیکھ کر اوس پڑ جاتی ہے اور بلند آواز دی جاتی ہے "مج نے کٹا دتا ای"۔اس کی پیدائش اور اس دوران پیش آنے والی تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود اسے ماں کے اوّلین دودھ سے محروم رکھا جاتا ہے اور اسکے حصے کی وہ شُدھ خوراک بھینس والا اپنے رشتے دارز میں تقسیم کرکے اپنی طرف سے عشق پر احسان چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ تو صاحب! اِس غیر جانوری روّیے کے باعث کٹا یا بےبی بھینسے کی صحت اور کریکٹر روز اول سے ہی بگڑنے کیلئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ یہ کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ ہوتا ہے اور روکھی سوکھی کھاکے گزارہ کرلیتاہے کیونکہ کاتبِ تصویر و تحریر و تفسیر نے اپنی جمع بندیوں کے دوران برگرسٹ اور کے ایف سِسٹ نخرے اسکی قسمت میں درج ہی نہیں کئےہوتے۔جب یہ اس حسرتوں سے بھرپور زندگی کا پہلا ماہ مکمل کرتا ہے تب تک اپنی معصوم خارجہ اور انسانوں کی دو نمبر داخلہ پالیسیوں کو اچھی طرح سمجھ چکا ہوتا ہے، جن سےبعد میں چن چن کے بدلے بذریعہ ٹکر لیتا پایاجاتاہے۔اگر یہ مظلوم سردیوں میں جہانِ رنگ و بُو میں تشریفا ہو تو گرمیوں میں، اور اگر گرمیوں میں آمدِ حویلی ہوا ہو تو سردیوں میں چیچڑ اس کو مالِ مفت دِل بے رحم اور مالِ غنیمت سمجھ کر  حملہ آور ہوجاتے ہیں، اور اسکارہاسہا خون چوس کر وہیں اس معصوم کی پیٹھ پر اپنی افزائش بڑھانے کو ثواب  دارین سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔اسی دوران کمزوری اور شدید نان ہائی جینک خوراک کی وجہ سے یہ دستوں یا لُوز موشن میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بھینس والے کے کپڑے خراب کرنے کے کام آتا ہے۔ اکثر یہ اپنی فطری و عشقی ڈھٹائی کے سبب ان تمام محاذوں سے  غازی بن کر دوبارہ باؤنس بیک تو ہوجاتا ہے لیکن اس ساری جدوجہد میں اپنے بالوں سے ہاتھ دھو کر جسمانی گنج کا نمونہ بن جاتاہے۔آٹھ یا دس ماہ کی عمر میں اسے بکنے کیلئے منڈی بھجوایا جاتا ہے لیکن کمزوری صحت و نان نقشہ کی بدولت شام کو واپس اپنے کھونٹے پر آن باندھا جاتا ہے، اور مالکین کا منہ چڑاتے ہوئے "اُکھاڑ لیا جو اکھاڑنا تھا؟"  سوچ کر جگالی کرنے لگتا ہے۔اسے ہر اُس جگہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں گدھا فلاپ ہوجائے۔اِسے ریڑھی سے لیکر ریڑھے اور گڈے تک کے آگے لگا کر غصہ نکالا جاتا ہے، لی      کن صاحب! یہ شدید قسم کا شکوہ کش جانور ہوتا ہے اور ایسی مشکلات کو اپنے سینگوں پر بھی نہیں لکھتا۔جب یہ دھکے ٹھڈے کھاکر کڑیل و خوبرو جوان ہوجاتا ہے تو اندیشہء نقص امن کے تحت بھینسوں سے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ تادم قصائی، انکی جائز خواہشوں کا نہ تو احترام کیا جاتا ہے اورنہ ہی تکمیل، بلکہ اس کااکثر و بیشتر تو جنازہ تک بھی جائز نہیں ہونے دیا جاتا۔  اکثر بارحضرت انسان اسے اپنے کچھ انتہائی شدید ضروری کام جائز کرنے کے چکر میں دیئے جانی والی دعوتِ ولیمہ کے موقع پرلوگوں کو کاٹ کھلاتےہیں۔اسکی کھال کوئی لے جاتا ہے، سری کوئی، پائے کوئی، گردے کوئی، آنتیں کوئی۔۔۔۔ اور باقی سارے سپئرپارٹس انسانی معدے کا حصہ بن کر ذاتِ کٹا کو ہمیشہ کیلئے فنا کردیتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہی دنیاکی وہ مخلوق ہےجس پر "ہزاروں خواہشیں ایسی کہ" والا شعر بنا کر فِٹ کیا گیا تھا، ہاں!  بعد میں اس سے دوسرے مقاصد بھی پورے کیے جانے لگے۔ اگربھینس کے اس مرد بچے میں قدرت نے بلیک باکس لگا رکھا ہوتا تو انکے غموں اور خود کلامیوں کی ڈی کوڈنگ کر کرکے انسانی لبوں سے ہنسی ختم ہوجاتی اور ہردم دریاءِغم و نم و الم غلم بہاکرتے۔کٹے شروع دن سے قربانیاں دیتے آئے ہیں اور آتے رہیں گے، لیکن! ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ انکی قربانیوں کو انسانز کب ریکگنائز کرتے ہیں؟  کب تک یہ سپاہی گمنام رہیں گے؟ کچھ بتایئے ناں صاحب! آخر کوئی ذی روح کب تلک اگنور ہونا برداشت کرسکتی ہے؟نوعِ انسانی کےان عظیم  اور بے لوث خدمتگاروں کے نام ہمارا اکثر صاحبان کیلئے متلی کا باعث بننے والا کلام۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے دونوں گناہگار و مجبور ہاتھوں سے عاجزانہ سلام۔آباد ہے ناں آج جانم تیرا گلشن باغ و بہار سے؟کیاری کسی نے سینچی تو ہوگی اپنے لیل و نہار سے٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ان کی پرانی عادت ہے

ان کی پرانی عادت ہےلمحوں میں دیوانے کرنابےخودمسکان سجائے رکھناخود سے بیگانے کرناسانسوں نے دوبارہ جی اُٹھنا جب خواب سہانے کرنا ادھ جلےلفظوں نے بھی نئے نئے فسانے کرنا ان سے باتیں کرنے کولاکھوں ہی  بہانے کرنالمحوں نے تو رُکتے رہناوقتوں نے زمانے کرنالبوں سے نکلے حرفوں نےکئی سال پرانے کرنادل اب جب تھمنے لگنایادوں کو خزانے کرناسنو!وہاں سے تمہیں گزرنا ہوتو ہوش عین ادیلhttp://www.blogger.com/profile/15122224778946363481noreply@blogger.com8

ان کی پرانی عادت ہے

ان کی پرانی عادت ہےلمحوں میں دیوانے کرنابےخودمسکان سجائے رکھناخود سے بیگانے کرناسانسوں نے دوبارہ جی اُٹھنا جب خواب سہانے کرنا ادھ جلےلفظوں نے بھی نئے نئے فسانے کرنا ان سے باتیں کرنے کولاکھوں ہی  بہانے کرنالمحوں نے تو رُکتے رہناوقتوں نے زمانے کرنالبوں سے نکلے حرفوں نےکئی سال پرانے کرنادل اب جب تھمنے لگنایادوں کو خزانے کرناسنو!وہاں سے تمہیں گزرنا ہوتو ہوش ٹھکانے کرنااُن کی پرانی عادت ہےلمحوں میں دیوانے کرنا

سات جنوری

جنوری کی سات ہے آجکچھ تو ایسی بات ہے آجکہ بکھری  اپنی ذات ہے آجابھی ہیں سال کے پہلے دِناِس الگ انداز کے پہلے دنکچھ پچھلے باب کے پہلے دنیہ جو دسمبر گزرا ہےاِک اداس پیامبر گزرا ہےبڑا ہی ستمگر گزرا ہےایسے لوگ جو پیارے تھےجو پچھلے برس ہمارے تھےجہاں چند پل گزارے تھےکچھ اپنے سے بیگانے سےکچھ خشبو سے سہانے سےکچھ  ہم جیسے نمانے سے وہ آخری سال کی پارٹی تھیہاں بڑے کمال کی پارٹی تھی لیکن وہ  زوال کی پارٹی تھی ارادہ ہی  ایسا کرابیٹھےپچھلی باتیں بُھلا بیٹھےہنسنا سب گنوا بیٹھےوہ اپنی اپنی پیتھالوجیوہی فارما اور انٹمالوجیبھول کے  جب بیالوجیعلی انداز میں گاتا تھاتھاپ اظہر  جگاتا تھارضی پھر لے لگاتا تھاڈاکٹر فصیح اِک سیاست داںفہیم، عمر، تھے آتش داںنعمان، رضوان،یُوسف زماںحسام بدر تو سمندر تھابلال سمیع قلندر تھاوہ لمبے بال؟ سکندر تھاکہاں کیسی تھکن کہ کیا کہنےایسےسماع شکن کہ کیا کہنےسب جلاوطن کہ کیا کہنےلوگوں کےلئے بیکار  تھے ہممحفل کے مگر ہتھیار تھے ہمگروپ میں سبھی سردار تھے ہمیہ سب اُن سے کہا کب تھا؟خود کو  جی، سنا کب تھا؟کچھ ایسا سا بُنا کب تھا؟جو آتے ہیں رہتے ہی نہیں سورج سے ہیں، بجھتے ہی نہیںاندھیرا ہے،دِکھتے ہی نہیںکچھ یادوں کے زمانے ابوہی ادھڑے درد  پرانے ابہیں سالہا سال دفنانے ابیہاں کے دن اب تھوڑے سےچند ادھورے خواب ہیں جوڑے سےکچھ مندمل زخم اور پھوڑے  سےجنوری یہ بھی ہےویسا یاردوہزار نو کے جیسا یاریہ موسم  ہی ہے  ایسا یار  اُن وعدوں نے بھی دیا کیا تھا؟ اُن سپنوں کا بھی ہوا  کیا تھا؟کچھ بولو ناں اب۔۔۔۔۔۔؟نیا کیا تھا؟

لاحول و لاہور

تحقیق سےثابت ہوتا آیاہے، اورآئے گا بھی کہ لاہورہمیشہ سےہی لاہور  تھا، یہ کبھی بھی  کُج ہور نہیں رہا۔ فرق بس اتنا ہے کہ لاہور پہلے اپنے گھر رہتا تھا جبکہ  اب یہ رہنے سہنے، کھانے پینے، لیٹنے نہانے، اور اس قبیل کے دیگر انتہائی غیرپیداواری کام ہمسائیوں کے گھر سرانجام  دیتا ہے۔ پہلے پہل یہ دریائے راوی کی ایک جانب سہما سہما سا پڑا رہتا تھا اور سکھوں بمعہ مغلوں کیلئے صرف گیسٹ ہاؤس کا کام سرانجام دیا کرتا۔ مگر پھر جب جب زمانہ بدلا، لاہور بھی سترہویں سال(آج کے حساب سے تیرہویں سال ) کی الہڑ مٹیار کی طرز پر اپنے قدم تھرکانے پرتُل آیا اور خوب پر پرزے نکالنا شروع کردیئے۔ پہلے مرحلے میں یہ قصور کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔ صاحب بڑی نازک صورتحال درپیش تھی، کل فلاں کالونی بنی ہے تو آج فلاں بن رہی ہے، اور کل فلاں کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔ سبھی کالی کلوٹی اور ابنِ الوقت کالونیاں مکمل رفتار سے لاہور کو حکومتی اتحاد سمجھ کر اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اس معصوم میں ضم ہوتی رہیں۔ کچھ بعید نہ تھا کہ قصور شہر بنا کسی قصورِ کبیرہ اسی رگڑے میں آجاتا،  خدا بھلا کرے اپنے رائیونڈ شریف کا کہ جس نے  کر کرا کے آخر کار کچھ حد تک بلی کے گلے میں گھنٹی ڈال ہی لی۔ وہاں سے منہ کی کھائی تو پانی کے بلندی سے پستی کی جانب بہنے کے مصداق لاہور نے بطور اگلا نشانہ راوی کا پُل کراس کیا اور شاہدرے جان وڑنا چاہا۔یہاں سب سے پہلے اس کو ٹول پلازے کے روپ میں رقیبِ اعلیٰ سے نبرد آزماہونا پڑا جو لاہور سکندر کی راہ میں پہلی اور شائد تب تک کی آخری رکاوٹ تھا۔ سالوں پر سال بیتتے رہے لیکن نہ تو لاہور نے محاصرہ ختم کیا اور نہ ہی شاہدرے کی ناں ہاں میں بدل سکی۔ عشق اور لاہور روکنے سے کبھی رکے ہیں بھلا؟ آخر ایک دن سائیڈ والے کونوں کھدروں سے نکل کر جی ٹی روڈ پر آن براجمان ہوا۔  وہ رات لاہور اور شاہدرے کی سہاگ رات تھی جو خوب گزری،دونوں دیوانے گلے مل مل کے روئے بھی اور قہقہے لگا لگا کر ہنسے بھی۔ اب معاملہ کچھ یوں بنا کہ بُرے خاوند کی طرح لاہور بھی شاہدرے سے ہنی مون ختم کرتے ہی مریدکے کی زلفوں کا اسیر بن بیٹھا۔ اور آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔ مختصراً عرض ہے کہ  آج کی تاریخ میں لاہور شاہدرے کی اجازت کے بغیر ہی مریدکے کو بھی اپنے عقدِ ثالثہ میں لے لینے کے باوجود  بڑی ترسیلی نگاہوں سے کامونکے کو دیکھ رہا ہے۔ آخر کامونکے کی اٹھان بھی توقابلِ دید و شنید  ہے۔۔۔ آپ آج کے لاہور کو وہ ٹھرکی بوڑھا کہہ سکتے ہیں جو اپنی پروڈیوس کی ہوئی ٹریفک کو سنبھالنے کی بجائے دوسروں کی ٹریفک متاثر کرنے کے چکر میں دائیں بائیں خوار ہوا پھر رہا ہو۔ محققین کا اس بات پربھی خاصا سر پھوڑ قسم کا اختلاف ہےکہ لاہور میں لاہوری آئے تو لاہور بنا، یا لاہور کو لاہور بنانا ہی دراصل لاہوریوں کا کارنامہ تھا؟ اس حوالے سے لاہوریوں کی عادات و خصائل کا مختلف حوالوں سے حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ لاہور میں رکھنے کیلئے ابتدائی دور میں بندے اردگرد سے بدست و گریباں پکڑ کر لائے گئے اور انہیں لاہوری ماحول میں رہنے کی باقاعدہ ٹریننگ دی گئی، جو اُن پائینیرز سے اولادین تک منتقل ہوتی ہوتی اس مقام تک آن پہنچی ہے جہاں کھوّے سے کھوّے کو چھیلنا چھلانا معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔جبکہ مخالف تحقیق دانوں کے مطابق لاہور ایک سرائے ٹائپ تھنگ تھی جہاں کابل والے آہنی دہلی والے زبانی لوگوں سے آپس میں پیار بھری گفت و شنید کیا کرتے، جو بسا اوقات اتنی اتنی لمبی ہو جاتی کہ فریقینز کی ٹانگیں واپس جانے سے انکار کرجاتیں اور لاہور انہیں اپنے پاس ہی رکھ لیتا۔پھر جب مہمانوں کو بیٹھنے کی جگہ مل جاتی تو وہ لیٹنے کا بندوبست خود ہی کرلیا کرتے، اور آپ جانتے ہی ہیں کہ ڈھلتی عمر میں لیٹ کے پڑھا ہوا اورپیار سے سنا ہوا دماغ میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس لیٹنے لٹانے کے ری ایکشن میں کبھی کامران کی بارہ دری بنائی گئی تو کبھی انارکلی، کہیں عاشق بنائے گئے، تو کہیں عاشقین کی معشوقین چنوائیں اور پھنکوائیں گئیں۔ اور یہ فرض کفایہ آج تک اُسی جوش و جذبے سے جاری ہے، اگر یقین کرنے میں ذرا بھی تامل محسوس ہورہا ہے تو کبھی پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس یا ڈیفنس کی مشرقی سائیڈ میں واقع جامعہُ المغربیہ مِن المشرقیہ  لمز کا ایک آدھ چکر نکال آیئے، پھر آکے خود حساب کیجیئے گا کہ کب کب کیسے کیسے کیا کیا ہوسکتاہے۔خیر صاحب! ہمیں اپنے روزِ جنم ِ مبارکہ سے ہی صرف عام آم کھانے سےدلچسپی رہی ہے تو لاہور جیسے اس تاریخی موضوع پر ایک لفظ بھی نہیں لکھنا چاہیں گے۔ صئی ؟ ویسے لاہورکےابھی تک بچے رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ اگرلاہوری کہیں اورچلاجائےتولا-ہوری ہی رہتاہے لیکن اگر لاہورکہیں اور چلا جائےتو بجائے میزبان کے رنگ میں رنگنے کے، خود کا نام چھوڑ آتا ہے، مثلاً رانا ٹاؤن ولد لاہور، امامیہ کالونی ولد لاہور، کالا شاہ کاکو ولد لاہور وغیرہ وغیرہ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لاہوری ہر کام باقاعدہ پلاننگ سے کرتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے،  اور اس مشاہدے کی نفی لاہور کی آج تین تو کل تریسٹھ کی انتھک رفتارسےدھڑ دھڑ دھڑ کرتی ہوئی پاپولیشن بخوبی کرسکتی ہے۔اس شہر کے باشندوں میں تین مشاغل مشترک ہیں اور وہ ہیں کھانا۔۔۔ یہاں آکے کھانا، وہاں جاکے کھانا اور جہاں مل جائے وہیں بیٹھ کے کھانا۔ یہ تینوں الفاظ جملہ لاہوریوں کو قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے ،سے بھی زیادہ رومانٹک لگتے ہیں۔یہ شائد دنیا کا واحد شہر ہے جہاں بازاری  ناشتہ شام آٹھ بجے بھی بآسانی مل سکتا ہے۔ صاحب جہاں لوگ انارکلی جیسے فنڈامینٹلسٹ اور سینٹی مینٹلسٹ واقعے کو بھی سوگ یا عشق کے روگ کی بجائے ماؤتھ واٹرنگ کے انداز میں یاد کریں وہاں کیا بعید ہوگا؟ یہاں انارکلی کا آٹھ بائے دس کا دربار بنا کر جگہ گھیرنے کی بجائے فوڈ سٹریٹ بنا کر اس کی معصوم عاشقیلی روح کو ایصالِ ثواب پہنچانے کا ساماں کیا گیا ہے۔ ہاں، یاد رکھنے کی بات، یہ وہی انارکلی ہے جسے اکبر مغل کے لونڈے سلیم مغل نے عشق کے نام پرگیڑاکروا کے اپنے اُلٹی کھوپڑی کے اندر موٹے دماغ رکھنے والے اَبّے کے ہاتھوں عین شباب میں مروا دیا تھا، حالانکہ اکبر مغل پرانی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے سلیم مغل کی معشوق کو خالصتاً اپنے ذاتی و بلاشرکت غیرے حرم کا پروانہ جاری کرکے داخلِ دفتر بھی کرسکتا تھا۔ خیر! لوگ یہاں آتے جاتے ہیں، بیٹھ کر کھاتے کھلاتے ہیں، بِل بھرتے بھراتے ہیں اور عبرت پکڑ پکڑا کر اپنی راہ ناپتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ذہنوں میں اس حوالے سے چند شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں کہ اگر لاہوری اتنا کھاتے ہیں تو موٹے کیوں نہیں ہوتے؟ تو اس کے جواب میں ہم صرف اتنا لکھنا مناسب سمجھیں گے کہ لاہوری کھاکر پروٹین کو کنزیوم کرنے میں بھی ماہر ہیں۔ فوڈ سٹریٹ سے چند گھنٹے(پیدل ہو یا چارپہیوں پر، کچھ خاص فرق نہیں پڑتا) کے فاصلے پر مشہورِ زمانہ بادامی باغ واقع ہے، جسے تب تو شائد بلکہ یقیناً کسی اور مقصد کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہوگا لیکن اب یہاں سے بھانت بھانت کی لاریاں دن رات پورے ملک میں بندے سپلائی کرنے کو ہی عین ثواب سمجھتی ہیں۔ بادامی باغ کے بالکل سامنے مینارِ پاکستان ایستادہ ہے۔ اکثر لوگ اس کے وسیع و عریض لان کو پہلی نظر میں بھنگیوں کے سونے کی جگہ سمجھتے ہیں جو بالکل غلط تاثر ہے۔مینارِ پاکستان کے احاطےکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ملکہِ ٹھرک و قہرُ العاشقین محترمہ مایا خاں کو وہ والے شکار نہیں مل سکتے۔ لاہوری ویسےشکارز خود ڈھونڈتے ہیں اور بنا سرف ایکسل استعمال کیئے اور نکاح فارم دیکھنے جیسی فضولیات میں پڑے صنفِ کرخت جبیں کو تو وہیں رج کے دھوتے ہیں اور پھر دھلائی کو غلط فہمی کا شاخسانہ ڈکلئیر کرکے اس کے ساتھ والی صنفِ گُل بہار سے بڑے پیار سےمعذرت وغیرہ کہہ کر اپنی سیٹنگ گول کرجاتے ہیں، دنیا کا یہی چلن ہے صاحب! اور چلن کب بدلتا ہے؟ مینارِ پاکستان پر پہلے ٹکٹ کے پیسے بھرکےاوپر تک جایا جانا عام سی بات ہوا کرتی تھی لیکن کچھ لاہوری و مشابہاتی لطائف کی معنی خیزی اور کچھ اُن کاموں  کے ستائے عشاق کی عالمِ بالا کی جانب ڈائریکٹ پروازوں میں اضافہ، اسے آدھے رستے سے ہی بند کروا دیا گیا اور عوام کے پرزور اصرار پرمرنے مرانے کی سہولت فٹ پاتھز  اور فلائی اوورز پر مفت مہیا کروا دی گئی۔ لاہور کی آبادی کے بڑھنے اور ہر وقت کی سفروسفری سے تنگ آکر سکندرانِ لاہور نے ترکی سے چند بڑی بڑی لال بسیں منگوا رکھی ہیں جنہیں سڑکوں پر چھوڑنے کے بعد میٹرو کا خطاب دیا گیا ہے۔ یہ آج کل ٹھیک اسی جگہ سے بندے بٹھاتی ہے جہاں لاہور کی شاہدرہ فتح کرتے وقت رقیبِ اعلیٰ سے تاریخی محاذآرائی ہوئی تھی، اور شہر بھر میں چکر کھاتی پھرتی ہے۔ کچھ ان بسوں کے لال محبتی رنگ اور کچھ گلبرگ تھری کے ہارٹ کرنچی ماحول کی وجہ سے اب لاہور کوپیرس پیرس کہہ کر بھی بلایا جاتا ہے۔ بالکل اُسی شہزادے کی طرح جسے سپہ سالاری کی بجائے "اوئے شژادے، چینی پتی تیز رکھ کے دو چاواں بھجوا چھیتی چھیتی"جیسے نازک اور انتہائی غیر ازدواجی امور سنبھالنے پڑ گئے ہوں۔یُوں تو لاہورمیں کئی ایسی چیزیں ہیں جن سے زندگی کے نشیب و فراز اور ارزندگی کا اندازہ لگا کر بآسانی عبرت پکڑی جاسکتی ہے، لیکن ہم صرف ایک مثال دے کر ہی یہاں سے بھاگنا چاہیں گے۔۔بڑے بڑوں سےسنتے ہیں کہ پہلےوقتوں میں لاہور ایک قلعے میں بندہواکرتا تھا جسے شاہی قلعہ کہا جاتا تھا۔ قرینِ قیاس ہےکہ جنہوں نےقلعہ کھلوایا تھا وہ اب اُسی قلعے کے بغل میں واقع شاہی محلے میں رہتے ہیں۔تو صاحب! بات یہ ہے کہ اس وسیع تر جہانِ رنگ و بُو میں کچھ ایسی ہائیڈروجنی طاقتیں بھی ہیں جن کی مدد سے مضبوط تر قلعہ بند افواج اور ایٹم بم رکھنے والے ممالک کو بھی فتح کیا جاسکتا ہے۔ کیا سمجھے بھئی؟ کچھ اور ہی تو نہیں سمجھے بھئی؟اندرونِ لاہور کی سیر۔۔۔۔۔۔ڈِیُو رہی صاحب۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Pages