عرفان احمد راجپوت

شرمندہ نا ہوں .........

 ہر انسان غلطیاں کرتا ہے اور اس سے ہی آگے بڑھنے کا راستہ بھی ملتا ہے ، تاہم جب بھی ہمارے کسی فیصلے کو لوگ غلط قرار دیتے ہیں تو ہم معذرت خواہانہ رویے کے ساتھ معافی مانگ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جبکہ ہم میں سے کچھ لوگ بحث کر کہ شرمندگی کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں  مگر کچھ دنیا میں کچھ کام اسے بھی ہیں جن کہ کرنے پر ہمیں پچھتانے یا شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی مگر ان کا جواب دیتے ہوۓ بھی ہم شرمندگی سے نظر چرانے میں عافیت جانتے ہیں. جبکہ در حقیقت وہ کام ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں اور ایسے وہ کام  کسی بھی معذرت خواہانہ رویے کا باعث نہیں  بلکہ  ستائش کے حقدار ہوتے ہیں۔جلد سونے کی عادتاگر آپ اور دیگر دوست شام کو کسی پروگرام کے لیے رات دیر تک جاگنا چاہتے ہیں مگر آپ تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں اور سونے لیٹ جاتے ہیں تو اس میں کچھ غلط بھی نہیں کیونکہ نیند ہر ایک کی صحت اور خوشی کے لیے لازمی ہوتی ہے، اور سائنس کا ماننا ہے کہ کم نیند ہمارے اندر تناﺅ اور دیگر سنگین طبی مسائل کا سبب بنتی ہے، تو بستر پر جلد چلے جانا آپ کے جاگنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اس پر معذرت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسلام کے مطابق  بھی رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنے کا حکم ہے مگر ہم سے اگر کوئی رات کو جلدی سونے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اسے فورا کہتے ہیں کہ بھائی اتنی جلدی سو کر کیا کرے گا ابھی تو کچھ بھی ٹائم نہیں ہوا اور وہ بیچارہ اپنی صفائی شرمندگی سے پیش کرتا ہوا نہیں  سو پائے گا . انکار کرناکئی بار مختلف چیزوں کو انکار کردینا ہاں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے، درحقیقت اگر آپ اپنی شخصیت کو بوجھ تلے دبانے سے بچانا چاہتے ہیں تو انکار کرنے کی جرات پیدا کرنا ہی پڑتی ہے اور یہ کوئی غلط بات بھی نہیں کیونکہ یہ آپ کے اپنے ہی حق میں بہتر ہوتی ہے اور اس پر دیگر افراد کی تنقید کو نظرانداز کردیا جانا چاہئے۔ مگر اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں اگر آپ کسی دوست، عزیز یا رشتہ دار کو کسی کام سے انکار کردیں . تو جواب میں آپ کو بہت سی تلخ باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، آج کل ہمارے معاشرے میں انکار کو اپنی بےعزتی سے معمور  کیا جانے لگا ہے حالانکہ وہ کام آپ کے دائرہ اختیار سے باہر ہو مگر آپ کو ہاں کرنی ہے اور اس کے بعد  کام نا کرنے کے باعث آپ کو مزید تلخ باتوں کا سامنا کرنا ہے تو بہتر ہے پہلے انکار کر دیں.تنہا وقت گزارناہوسکتا ہے کہ ہم میں سے بیشتر اس خیال سے اتفاق نہ کریں کہ اپنے خیالات کے ساتھ کچھ وقت تنہا گزاریں مگر سائنس کا ماننا ہے کہ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے خاص طور پر اس وقت جب ہم اپنے لیے کچھ وقت چاہتے ہو، تنہا رہنے سے متعدد فوائد ہوتے ہیں یہ آپ کو ری چارج کرنے میں مدد دیتا ہے،اس سے آپ خود پر کنٹرول کرنا اور  اپنی غلطیوں سے سبق  سیکھ سکتے ہیں۔مگر ہم سے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو فورا ہی سنے کو ملتا ہے پاگل ھوگئے ہو کیا اکیلے بیٹھے کیا کر رہے ہو. یا پتا نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے ، بہت زیادہ مغرور ہوگیا ہے. دماغ خراب ہوگیا ہے غرض اس طرح کے کئی باتیں ہمارے سماعتوں سے ٹکراتی ہیں اور ہم شرمندہ ہو جاتے ہیں حالانکہ اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں . اپنی پسند کو  ترجیح دیں زندگی میں خوشی بہت اہمیت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی پسند اور ضروریات کو ترجیح دینا چاہئے جس پر معذرت کی بھی ضرورت نہیں، درحقیقت یہ سوچ صحت مندانہ ہوتی ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ذہنی، جذبات، جسمانی اور روحانی طور پر اپنے موجود خلاءکو بھررہے ہیں اور یہ خودغرضی نہیں ہوتی مگر ہم اپنی پسند کے بجائے دوسروں کی پسند کو ترجیح دیتے ہیں اور کوئی ہماری پسند پر تنقید کردے تو شرمندگی کے ساتھ توجیحات پیش کرتے ہیں .خراب دوستی سے جان چھڑانادوستوں سے علیحدگی بہت مشکل ہوتی ہے بلکہ کئی معاملات میں تو یہ کسی رومانوی تعلق توڑنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر کئی بار یہ علیحدگی آپ کی صحت کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے، کیونکہ کسی دوست کے ساتھ کشیدگی اور دوست کے کسی غلط کام یا دوستوں کی غلط صحبت  آپ کے اندر تناﺅ بڑھاتا ہے اور مختلف مسائل کا سبب بنا دے گا، اگر ایسے تعلق کو ختم کیا جاتا ہے تو اس پر معذرت خواہانہ سوچ کسی بھی طرح درست نہیں۔ اور مزید براں  مستقبل میں کسی مسئلے میں پھنسنے سے بہتر ہے کہ  اس سے پہلے ہی جان چھڑا لی جائے ، اور لوگوں کی اس بات پر کہ وہ تو اس بندے کا فعل ہے تمہارا نہیں تو جناب اس کے لیے بڑے بزرگوں کی دی جانیوالی یہ مثال کے "گیہوں کے ساتھ گہن بھی پستا ہے " بہترین جواب ہے.  غرض یہ کے اس قسم کے کئی کام ہیں جو کرنا کسی بھی طرح شرمندگی کا باعث نہیں ہے ، مگر ہم ان کو کرتے ہوۓ شرمندہ سے ہو جاتے ہیں . حالانکہ شرمندہ ہونے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہئیے کے یہ کام ہمارے لیے فائدہ مند ہے تو ہمیں شرمندہ نہیں ہونا چاہئیے.

پاکستانی جمہوریت


ہمارا پیارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان  جہاں اسلام بھی پورا نہیں اور جمہوریت تو ہے ہی  لولی لنگڑی ، یہاں اسلام بھی مذہبی رہنماؤں کی مرضی کا نافذ ہے اور جمہوریت سیاسی رہنماؤں کے مفاد کی خاطر نافذ ہے اور اسی مفاد کے پیش نظر آج پوری پارلیمنٹ جمہوریت کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے  مفاد کی خاطر ایک ہوگئی ہےکیونکہ ان تمام سیاستدانوں کو پتہ ہے یہ طرز حکومت ختم ہوگیا تو ان لوگوں کو کچھ نہیں ملنا.  جمہوریت کیا ہے ، جمہوریت  ایک طرز حکومت ہے جس میں عوام کی حکومت ہوتی ہے ۔ جس میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں، یا یوں کہا جاتا ہے کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتی ہے، جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ بلاواسطہ جمہوریت ، اور بالواسطہ جمہوریت ۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہے۔ جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غوروفکر کرنا ممکن ہوجدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور اظہار رائے کرنا طبعاً ناممکنات میں سے ہے۔ پھر قانون کا کام اتنا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق تجارتی اور صنعتی زندگی قانون سازی کے جھگڑے میں پڑ کر جاری نہیں رہ سکتی۔ اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمائندگی پر رکھی گئی۔ چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کے بجائے رائے دہندگی کے ذریعے چند نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ جو ووٹروں کی طرف سے ریاست کا کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کارفرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب صحیح ہو۔لیکن مملکت خداد پاکستان میں نہ تو حقیقی جمہوریت ہے  اور نہ ہی پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی نمائندے موجود ہیں،  کیونکہ نمائندے منتخب کرنا کا ذریعہ الیکشن ہیں اور حالیہ ہونے والے الیکشن پر بدترین دھاندلی کا الزام ہے   عوام کا  ووٹ کو چوری کئے جانے کا الزام ہے، اور یہ الزام اس صرف الیکشن میں نہیں بلکہ اب تک  ہونے والے تمام الیکشن  میں دھاندلی کا شور سنائی دیتا تھا مگر ہوتا کچھ نہیں تھا .  موجودہ حکومت کا رویہ  جمہوری نہیں بلکہ  آمرانہ  ہے. ملک کے ترقی یافتہ شہر کے پوش علاقے میں 14 لوگوں کو مار دیا جاۓ اور  انکے لواحقین کو FIR درج کرانے کے لیے لانگ مارچ اور دھرنوں کا سہارا لینا پڑے. کیونکہ اس  واقع میں حکومت کے اعلی حکام کے گریبان تک ہاتھ جاتا ہے اس لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ FIR  درج نا ہو . تو یہاں طاقت کا سر چشمہ عوام ہوئی یا حکمران ؟پچھلے  14 دن سے جو کچھ اس ملک کے دارلحکومت اسلام آباد میں ہو رہا ہے اس نے پوری قوم کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے. جمہوریت  کا لفظ قوم کو ایک گالی کی طرح سے لگ رہا ہے کہ کیا ہے یہ جمہوریت،  جس کو بچانے کے لیے ملک کے تمام چور ڈاکو مل کر بیٹھ گئے .  یہ ہے جمہوریت جس میں جمہوری نمائندے عوام کا نمائندہ منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقوں میں جانے کی زحمت نہیں کرتے   پرانے الیکشن ختم ہونے اور نئے الیکشن ہونے تک یہ تمام عوامی نمائندے عوام سے پرہیز کرتے ہیں کہ کہیں غریب عوام سے مل کر انھیں کوئی عوامی بیماری نا لگ جاۓ .  ملک میں آمرانہ طرز حکومت ہو یا جمہوری عوام کو کیا فرق پڑتا ہے میرے خیال میں کوئی فرق نہیں پڑتا جب سے ہم نے ہوش سھمبالا ہے  عوام کے حقوق سلب ہوتے ہی نظر آتے ہیں .  ہاں یہ فرق ہوتا ہے کہ آمرانہ نظام میں ہم ایک آدمی پر تنقید ہوتی ہے  ہیں جبکہ جمہوری نظام میں پوری پارٹی   اور اس میں شامل سیاستدانوں پر تنقید کرنی پڑتی  ہے مگر اس تنقید سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا وہ جماعت اپنی باری مکمل کر کہ دوسری جماعت کو موقع دے جاتی ہے ، عوام کی حالت زار پر کوئی فرق نہیں پڑتا  یہ عوام پہلے بھی خواب پر زندہ تھی  اور آئندہ بھی خواب اور امید پر ہی زندہ رہے گی. یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں عوام کو صحت و صفائی کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں، سرکاری اسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی، عدالت سے انصاف نہیں ملتا،  نلکے میں پانی نہیں آتا گھر میں بجلی نہیں آتی ، ہاں اس جمہوریت میں اگر کچھ ملتا ہے تو مہنگائی ملتی ہے ، کرپشن ملتی ہے ،  لاقانونیت  ملتی  ہے ، بیروزگاری ملتی ہے ، یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں غریب  مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتی جا رہی ہے،تمام سیاستدان اس بات کا شور کر رہے ہیں کہ آئین سے انحراف نہیں کریں گے ، یہ آئین کس نے بنایا  اور کس کے لیے بنایا گیا عوامی نمائندوں نے عوام کے لیے بنایا  لیکن اس آئین کو اس طرح پیش کیا  گیا ہے جیسے یہ آسمانی صحیفہ ہے  اور اس میں  ردوبدل کرنے سے یہ گناہ میں مبتلا ہو جائیں گے .  اس آئین میں عوام کے حقوق  کی جتنی شقات شامل ہیں ان پر تو عمل ہی نہیں کیا جاتا  اور وہ تمام شقا ت جو کہ حکمرانوں کے مفاد میں وہ سب نافذ العمل ہیں اگر کچھ کمی رہ جاتی ہے تو آئین میں ترمیم کر کے پوری کر لی جاتی ہے  نہیں تو اس شق پر عمل ہے نہیں کیا جاتا اس کی مثال ہمیں  پچھلے الیکشن میں دیکھنے کو ملی، اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ  آئین کی شق  62 اور 63 کے تحت صادق اورامین  لوگ ہی الیکشن لڑنے کے اہل ہیں  اور تمام لوگوں کے کاغذات  کو اسی تناظر میں پرکھا گیا  اور اگر اس بات کو مان لیا جاۓ  تو موجودہ اسمبلی میں تو سارے لوگ صادق اور امین ہی ہیں لیکن کچھ صادق اور امین جعلی ڈگریوں کے باعث تو اسمبلیوں سے باہر ھوگئے ہیں لیکن باقی جو بچے ہیں ان کی صداقت کے چرچے زبان زدو عام ہیں . یہ صادق اور امینوں کی اسمبلی ہے  اس لئے اس اسمبلی کو نہیں توڑا جا سکتا. پاکستان کی اکثریت اس بات کی حامی ہے ملک میں تبدیلی آنی چاہئیے لیکن حکومت کی جانب سے مستقل ایک بات سامنے آرہی ہے کہ جمہوریت کو نقصان نہیں ہونے دیا جاۓ گا  ، اب یہ تبدیلی کس طرح آئیے گی ؟ ووٹ کے ذریعے تبدیلی کا عمل تو بااثر لوگ ہونے نہیں دیتے  اور روڈ پر تبدیلی لانے کے دھرنے یا لانگ مارچ ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ غیر آئنی اور غیر قانونی عمل ہے . اب اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے تو نہیں بھیجے گا جس سے تبدیلی آئی گی.  یہ تمام لوگ جو باری باری حکومت کرتے ہیں یہ کبھی نہیں چاہیں گے ملک میں صاف شفاف الیکشن ہوں اور ملک میں حقیقی عوامی حکومت بن جاۓ. بہرحال الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ  ان لانگ مارچ اور دھرنوں کا جو بھی نتیجہ نکلے وہ پاکستان اور اس کی عوام کے حق میں بہتر ہو.  

ایک عام پاکستانی کی سوچ

کیا قیامت آجائے گی اگر نواز شریف ملک کی خاطر استعفیٰ دے دیں گے یا پھر دنیا تباہ ہو جاۓ گی اگر عمران خان لچک کا مظاہرہ کر دیں گے. یہ انا کی جنگ ملک کو کہاں لے جائی گی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ہر کوئی اپنا تجزیہ اور تبصرہ کر رہا ہے. مگر ہوگا کیا کسی کو معلوم نہیں . نواز شریف ملک کی خدمت کے خاطر کرسی نہیں چھوڑیں گے،مگر انہوں نے ملک کی کیا خدمت کی ہے اس کا سوال کسی بھی عام اور غیر جانبدار پاکستانی کے پاس نہیں ہے. میڈیا کے ذارئع سے یہ ہر پاکستانی کو پتہ ہے کہ اس حکومت نے ملک میں  میٹرو بس اور ٹرین کے منصوبے شروع کئے، کیا اس بس اور ٹرین سروس سے غریب لوگوں کے گھر تک روٹی پہنچائی جائی گی یا لاہور میں آزادی سگنل فری ٹریک سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب تھم جاۓ گا.  یا اس سگنل فری ٹریک سے مہنگائی بغیر کسی رکاوٹ کے ملک کی عام عوام کو مزید پریشان کرے گی. اور یوتھ لون  سے نوجوانوں کو قرضہ فراہم کر کے نوجوانوں کو الله تعالیٰ سے جنگ کرنے کے لیے مجبور کر دیا ہے.  دوسری جانب یہ سوچ بھی ہے کہ کیا   عمران خان   کے پاس جادو کا کوئی چراغ ہے جس سے وہ ملک کے حالات فورا درست کر دیں گے.  کیا یہ تمام لوگ ملک کی خاطر ایک اور سب سے بڑھ کر نیک نہیں ہو سکتے. نون لیگ کے وزراء میڈیا پر ببانگ دہل چلا رہے ہیں کہ اس ایک سال میں ہم نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں انقلاب پیدا کر دیا ہے لیکن اس انقلاب کا اثر پاکستانی عوام پر کیوں نہیں ہو رہا ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے.ڈاکٹر طاہر القادری بھی لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں جو کہ مملکت خداد پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب ہے، لال مسجد کی لاشیں   پرویز مشرف کے سیاسی کیرئیر کو  اختتام کی طرف لے گئی، ذولفقار علی بھٹو کو ایک لاش پھانسی تک لے گئی، اور ذولفقار علی بھٹو کی لاش  ضیاالحق کو ناگہانی موت کی طرف لے گئی،  بینظیر بھٹو کی لاش آصف علی زرداری کو اقتدار کی جانب لے گئی، اور اب یہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے لاشیں نواز شریف اور شہباز شریف کو کہاں تک لے جائیں گی اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا.  عمران خان روز آزادی کا جشن منا رہے ہیں  مگر آزادی کا دن نہیں آرہا .  عوام انتظار میں ہیں کہ یا تو نیا پاکستان بن جاۓ یا ہم لوگ جیسے پرانے پاکستان میں مختلف عوامل سے ڈر ڈر کر  زندگی گزار رہے  تھے اسی طرح گزارتے رہیں. یہ پارلیمنٹ کی اپوزیشن آج جمہوریت کو بچانے کے لیے ایک ہوگئی ہے، یہ اس وقت کیوں ایک نہیں ہوتی جب پاکستانی عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے مزید دبا دیا جاتا ہے . ملک کو کرپشن کی جانب مزید دھکیلا جاتا ہے. ہاں یہ پارلیمنٹ اس وقت بھی ایک ہو جاتی ہے جب ارکان اسمبلی کے کسی ذاتی مفاد کی بات ہو جیسا کہ ان کی تنخواؤں اور دیگر مراعات کا معاملہ ہو. پاکستان قوم کے مفاد کی بات ہو تو یہ کبھی ایک نہیں ہوتے. اس وقت بھی پورے ملک کے سیاستدان اپنے اپنے مفاد کی خاطر سیاست کر رہے ہیں. کوئی ملک کے لیے نہیں سوچ رہا کیا ملک اہم ہے یا جمہوریت ؟ سب جمہوریت کے لیے تو ایک ہیں مگر ملک کے لیے ایک نہیں ہو سکتے. پاکستانی عوام مہنگائی کے ہاتھوں ، سٹریٹ کرائمز کے ہاتھوں، دهشت گردوں کے ہاتھوں، کرپشن کے ہاتھوں جکڑی ہوئی ہے. ترسی ہوئی قوم کو  جہاں بھی امید کی کوئی کرن نظر اتی ہے یہ اس طرف چل پڑھتے ہیں. ان لوگوں کا قصور نہیں ہے جو دھرنے میں بیٹھے ہوۓ ہیں قصور تو ان کرپٹ سیاستدانوں کا ہے جنہوں نے اس ملک کے لیے کچھ نہیں کیا . یہ اپنے مفاد کی خاطر پارٹیوں میں لوٹوں کی طرح  لڑھکتےرهتے  ہیں . مگر پاکستان اور اس کی عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے.ایک عام پاکستانی یہ سوچتا ہے کہ ملک میں خوشحالی آجاۓ ، مہنگائی ختم ہوجاۓ  ملک میں امن و امان ہو.دہشت گردی کا خاتمہ ہو ہر کوئی چین و سکون کے ساتھ رہیں  مگر یہ سب کیسے ہوگا اس کا جواب نا تو موجودہ حکمرانوں کے پاس ہے نا ہی اپوزیشن کے پاس ہے  اور نا ہی عوام کے پاس ہے  مگر امید پر دنیا قائم ہے، اور ہماری قوم "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ" پر زندہ ہے.   

عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم - غازی علم دین شہید



مسلمانوں کی سب سے گراں قدر ہستی اور تمام مسلمانوں کی متاع حیات محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے. الله تبارک تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ "مومن وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان و مال، اولاد اور والدین سے زیادہ عزیز سمجھتا ہو. اسی لیے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموس رسالت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینے کی خوہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے  مگر اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پھنچانا کسی سعادت مند کے نصیب میں ہوتا ہے. ایسے ہی ایک سعادت مند لاہور سے تعلق رکھنے والے علم دین ہیں جنہوں نے 1929میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ایک ہندو راجپال کو جہنم واصل کرکے شہید کا درجہ حاصل کیا. جس وقت لاہور میں راجپال نے حضرت محمد رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک گستاخانہ مواد شائع کرکے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کئے  اس وقت برصغیر کے مسلمانوں نے عدالت سے رجوع کیا تاہم عدالتوں نے کوئی خاطر خواہ فیصلہ نہ کیا اور راجپال ان فیصلوں کے خلاف اپیلیں کر کے بلآخر بری ہوگیا. جس کے بعد عاشقان رسول رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی اور پورے برصغیر میں جلسے، جلوس اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا.  اسی سلسلے کا ایک مظاہرہ لاہور میں دلی دروازے کے پاس ہو رہا تھا . علم دین کام سے واپسی پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رک گئے  مسلمان مقررین راجپال کے خلاف اردو میں تقاریر کر رہے تھے. علم دین پڑھے لکھے نہ ہونے کے باعث کچھ سمجھ نا سکے تاہم ایک مقرر کی جانب سے جب پنجابی میں تقریر کی گئی تو انھے سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ایک ہندو راجپال کی جانب سے حضور پاک محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ہے  اور مسلمان مقرر کی جانب سے کی گئی تقریر کے ان الفاظ "راجپال واجب القتل ہے " نے علم دین کے دل و دماغ میں طلاطم برپا کر دیا. دوسرے دن ایک بزرگ نے خواب میں علم دین کو کہا کہ علم دین سو رہے ہو تمھارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان میں دشمن اسلام گستاخی کر رہے ہیں اٹھو جلدی کرو . علم دین نے اپنے خواب کا ذکر جب اپنے قریبی دوست شیدے سے کیا توو جواب میں اس نے کہا کہ اس نے بھی یہی خواب دیکھا ہے اور پھر دونوں دوستوں کے درمیان بحث چھڑ گئی کے راجپال کا قتل کون کرے گا   بلآخر اس بحث کا خاتمہ دونوں عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قرعہ اندازی کے ذریعے کیا  اور  قرعہ فال علم دین کے نام نکلا تاہم دوست کے اسرار پر دوبارہ اور تیسری بار قرعہ اندازی کی گئی مگر ہر بار نتیجہ ایک ہی تھا . علم دین کے دوست نے ان سے بغلگیر ہو کر کہا کہ " علم دین تم خوش نصیب ہو جو اس کام کے لئے  منتخب کر لیے گئے ہوکاش یہ کام میرے نصیب میں ہوتا علم دین نے دوست کو جواب دیا کہ " دعا کرنا میں اس کام میں کامیاب ہو جاؤں" 2 اپریل 1929 کو انار کلی میں واقع راج پال کے آفس میں داخل ہو کر علم دین نے گستاخ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم  راجپال کو چھری کا وار کر کے جہنم واصل کر کے سچے عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہونے کا ثبوت دے دیا.  وقوع کے بعد لوگوں نے  علم دین کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا . راجپال کے قتل کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ھوگئے . مسلمانوں کی جانب سے علم دین کے حق میں اور ہندوں کی جانب سے ان کی مخالفت میں جلسے اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا. علم دین کے گھر کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا . اس مشکل وقت میں علم دین کے قریبی دوست شیدے نے ان کے گھر والوں کا ساتھ نا چھوڑا  اور پولیس کی موجودگی کے باوجود علم دین کے گھر والوں کی خبر گیری کرتے رہے. عدالتی کاروائی  کے دوران خواجہ فیروز الد ین ایڈووکیٹ ، فرخ حسین اور دیگر مسلمانوں نے علم دین کا بھرپور ساتھ دیا  تاہم سیشن کورٹ نے علم دین کو پھانسی کی سزا سنا دی. اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی اور علم دین کی جانب سے بانی پاکستان قائد  اعظم  نے عدالت میں دلائل دئیے مگر ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا . غرض یہ کہ ہر متعلقہ ادارے کو اپیل کی گئی مگر نتیجہ بے سود ہی رہا. اور بلآخر  برمنگھم پیلس کی جانب سے بھی سزا کو برقرار ہی رکھا گیا.سزا کے بعد لاہور کے خراب حالات کے پیش نظر 4 اکتوبر 1929 کو علم دین کو میانوالی کی جیل منتقل کر دیا گیا . جیل اہلکاروں اور قیدیوں کے مطابق جیل میں موجود قیدی علم دین کی بہت عزت کرتے تھے اور جب کوئی قیدی بیمار ہو جاتا تھا تو علم دین کےہاتھ سے پانی پی کر صحت یاب ہو جاتا تھا.  ایک سپاہی جو ان کی نگرانی پر مامور تھا  اس نے دیکھا کے علم دین جیل میں موجود نہیں ہیں اس نے  اعلی حکام کو فوری اطلاع دی جب انہوں نے آکر دیکھا تو  علم دین جیل میں موجود تھے. اپنے دوست شیدے سے جیل میں ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ راجپال کا قاتل میں ہوں لوگ کہتے ہیں کہ میں نے موت کے ڈر  سے عدالت میں صحتِ جرم سے انکار کیا   لیکن میں نے موت کے ڈر سے نہیں اپنے بزرگوں کے کہنے پر عدالت میں انکار کیا تھا.  اپنے عزیز و اقارب  سے آخری ملاقات میں خوشی کا اظہار کرتے ہوۓ ان لوگوں کو بتایا کہ  میں نے دعا مانگی تھی کے حضرت موسی علیہ السلام کا دیدار نصیب ہو  اور آج وہ مجھے خواب میں ملے اور پوچھا علم دین کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا حضرت اپ کلیم اللہ ہیں  خدا سے کہیں کہ عدالت میں اپنے والد کی وجہ سے جو جھوٹ بولا ہے  کہ راجپال کا قتل میں نہیں کیا . اللہ تعالیٰ میرا وہ گناہ معاف کردے  چنانچہ حضرت موسیٰ  علیہ  السلام نے مجھے خوشخبری دی کے میرا وہ گناہ معاف کر دیا گیا ہے. اسی وجہ سے میں آج اتنا خوش ہوں. میانوالی جیل میں  31 اکتوبر 1929 کو عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو تختہ دار پر لٹکا کر فانی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف روانہ کر دیا گیا . تختہ دار پر پوچھی گئی آخری خواہش  کے جواب میں شہید علم دین نے کہا    کو میں چاہتا ہوں کہ پھانسی کا پھندا خود اپنا گلے میں ڈالوں  اورمیرے ہاتھ پاؤں نا باندھے جائیں تاکہ شدید اذیت سے دوچار ہو کر اگلے جہاں میں محبوب خدا کا قرب حاصل کر سکوں تاہم دونوں خواہشات کو رد کر دیا گیا.
پھانسی کے وقت وہاں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ میں حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لیے راج پال کو قتل کیا تم گواہ رہوں کہ میں عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں کلمہ شہادت پڑھ کر جا ن آفریں کے سپرد کر رہا ہوں.  اور پھر کلمہ شہادت پڑھا اور اپنی جان کو ناموس رسالت صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا.  اعلیٰ حکام نے حالات خراب ہونے کے ڈر سے شہید کی تدفین غسل کے بناہ ہی قیدیوں کے قبرستان میں کردی . حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خاطر جان قربان کرنے والے کی اس طرح تدفین کی خبر جب مسلمانوں کی ہوئی تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا . جلسوں میں مسلمان مقررین نے مسلمانوں کے قلوب کو ایسا گرما یا  کہ وہ شہید علم دین کا لاشہ حاصل کرنے کے خاطر مر مٹنے کو تیار ہوگئے . اسی دوران مسلمانوں کے وفد نے جو کہ علامہ اقبال، سر شفیع، میاں عبدالعزیز ، مولانا غلام محی الدین قصوری پر مشتمل تھا نے ڈپٹی کمشنر ، کمشنر  اور گورنر پنجاب سے ملاقات کی . اور کچھ شرائط کے بعد لاش کی حوالگی کا معاملہ طے پاگیا.  حکام کی جانب سے پھانسی کے 13 دن بعد علم دین شہید کی لاش کو میانوالی سے لاہور لاکر مسلمان معززین کے حوالے کر دی. چوبرجی کے میدان میں لاکھوں فزراندن اسلام نے شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی . جنازے کے راستے میں خواتین اسلام گھروں کی چھتوں پر کلام اللہ کی تلاوت کر رہی تھی  اور مرد حضرت جنازے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ کلمہ طیبہ  کا ورد ، نعرہ تکبیر اور علم دین شہید زندہ آباد کے نعرے بلند کر رہے تھے.  جنازہ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھی. تدفین سے قبل ہی قبر کو پھولوں سے بھر کر پھولوں کا بستر بنا دیا گیا اور تدفین کے بعد قبر کو پھولوں سے لاد دیا گیا تھا.
بلاشبہ یہ مقام ایک سچے عاشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ہی مل سکتا تھا، جس نے اپنی جان کی پروا نہ  کرتے ہوۓ   خود کو حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیا. وہ علم دین  جس کو کچھ عرصہ  قبل تک چند  لوگ  ہی جانتے تھے اس واقعہ کے بعد   آج مسلم امہ اسے علم دین شہید اور سچے عاشق رسول  صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے. اور رہتی دنیا تک  غازی علم دین شہید کا نام عاشق رسول  اور حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر جان قربان کرنے والوں کی فہرست میں چمکتا دمکتا رہے گا.

اگر شاہد خان آفریدی نہیں تو پھر کون ؟



اگر شاہد خان آفریدی نہیں تو پھر کون ؟
حال ہی میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ میں پاکستانی آل راؤنڈر  شاہد خان آفریدی نے پہلے بھارت اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف جس سے طرح سے گرین شرٹس کو فتح دلوائی اس نے نا صرف یہ ثابت کیا کہ ابھی ان کی کرکٹ ختم نہیں ہوئی بلکہ میڈیا پر بیٹھ کر تنقید کرنے والے ناقدین کو بھی خاموش کرا دیا.گزشتہ دنوں ختم ہونے والے ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ایک اہم میچ میں آفریدی نے وہ کر دکھایا جو 28 سال قبل جاوید میانداد نے شارجہ کے مقام پر بھارت کے خلاف آخری بال پر کیا تھا. بھارت کے خلاف میچ کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان نے اپنی تاریخ کے ون ڈے کرکٹ کے سب سے بڑے ہدف کا تعاقب کیا اور اس میں بھی سب سے اہم کردار شاہد آفریدی نے 24 بال پر 59 رنز بنا کر ادا کیا اور پاکستان کو ایشیا کپ کے فائنل میں پہنچا دیا. شاہد خان آفریدی نے 4 اکتوبر 1996 کو اپنے دوسرے ہی ون ڈے اور اپنی پہلی اننگ میں ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ قائم کرکے شہرت کی بلندیوں کو چھوہ لیا. گو کہ یہ ریکارڈ اب ان کے پاس نہیں  ہے مگر وہ بلا شرکت غیرے کم و بیش 16 سال تک اس ریکارڈ کا حامل رہے ہیں، تیز ترین نصف سنچری کی بات کریں تو کئی بار یہ ریکارڈ ان کے ہاتھ سے بچ چکا ہے حالیہ ایشیا کپ میں بھی یہ ریکارڈ ایک گیند کے فرق سے رہ گیا ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین نصف سنچری کے مالک سری لنکا کے سنتھ جے سوریا ہیں جنہوں نے17گیندوں پر یہ ریکارڈ قائم کیا جب کہ آفریدی تین مختلف مواقع  پر 18 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کر چکے ہیں.  ون ڈے کرکٹ  میں سب سے زیادہ 333 چھکے لگانےریکارڈ بھی شاہد خان آفریدی کے پاس ہے ان کے قریب ترین سری لنکا کے سابق اوپنر  سنتھ جے سوریا ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں 275 چھکے لگائے ہیں. شاہد آفریدی کے پاس اس کے علاوہ بھی کئی ریکارڈ موجود ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ٹیم کو ان کی ضرورت  ہے.  ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ سٹرائیک ریٹ کے حامل کرکٹر کی فہرست میں بھی شاہد آفریدی کا نام سب سے اوپر ہے . ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ مرد بحران کا ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی لالا کے پاس ہے اور دنیا کی فہرست میں ان کا نمبر تیسرا ہے. پاکستان کو پہلی بار بینسن اینڈ ہیجز سیریز جتوانے میں شاہد آفریدی کا بہت اہم کردار تھا اس ٹورنامنٹ میں انہوں نے مین آف تھے سیریز کا ایوارڈ اپنے نام کیا. جب گرین شرٹس نے T20 ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا تو اس میں بھی شاہد آفریدی نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا تھا.   گو کہ شاہد آفریدی اپنی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے دنیا میں شہرت رکھتے ہیں مگر آفریدی خود کو ایک بولنگ آل راؤنڈر کی حثیت سے متعارف کرتے ہیں. اور ون ڈے کرکٹ میں 378 وکٹ اپنے نام کر چکے ہیں.  یہ دنیا کے واحد کرکٹر ہیں جنہوں نے ون ڈے میں پانچ ہزار رنز اور 200 سے زائد وکٹ اپنے نام کر رکھی ہیں.  ون ڈے کرکٹ کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی ایک ہزار سے زائد رنز اور 50 سے زائد وکٹیں حاصل کر چکے ہیں. نا مساعد حالات میں آفریدی کو ورلڈ کپ 2011 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی  ایک بکھری ہوئی ٹیم کو آفریدی نے متحد کیا اور پاکستان ٹیم کو سیمی فائنل تک پھنچایا   مذکورہ ٹورنامنٹ میں آفریدی کی بولنگ عروج پر تھی  انہوں نے ٹورنامنٹ میں 21 وکٹیں حاصل کی. ون ڈے کرکٹ کے  سب سے زیادہ گلیمرس کھلاڑی شاہد خان آفریدی کو اپنے کیریئر میں بہت بار ملک میں اور ملک سے باہر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر انہوں نے ہر بار ثابت کیا کہ وہ ایک میچ  ونر ہیں اور پاکستان ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت  رکھتے ہیں ان کے بغیر پاکستان ٹیم ادھوری لگتی ہے. حالیہ دور میں تو پاکستان میں کوئی بھی کھلاڑی ان کا نعم البدل بنے کے قابل نظر نہیں آتا اگر آفریدی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا  اعلان کر دیں تو  پھر شاہد آفریدی کی جگہ کون لے گا یہ ایک سوال ہے ارباب اختیار کے لیے اگر آفریدی نہیں تو پھر کون ؟  

عہد فاروقی ؓ - ایک عہد ساز دور

محرم اسلامی کلینڈر کا پہلا مہینہ ہے اور اس پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو  داماد علی اور سسر نبی حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی . آپ کی شہادت سے مسلمان ایک جلیل القدر صحابی ، عدل و انصاف کے پیکر  اور ایک مثالی حاکم سے محروم ہوگۓ.  حضرت عمر کی پیدائش واقع فیل کے چھ سال بعدقبیلہ بنو عدی مکہ میں  ہوئی. زمانہ جاہلیت میں آپ ان چند لوگوں میں شامل تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے. آپ کا شمار مکہ کے بہادر ترین لوگوں میں ہوتا تھا.  پہلے پہل آپ نے نبی کرم  صلی الله علیہ وسلم کی دعوت اسلام کی سختی سے مخالفت کی مگر نبی کریم کی اس دعا کہ  یا الله ! اسلام کو عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام کے ذریعے تقویت بخش  کے بعد حضرت عمرؓ کا سینہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا اسی لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے .  حضرت عمر فاروق ؓکے اسلام قبول کرنے کے بعد  مسلمانوں نے بیت الله میں نماز ادا کی  جبکہ اس سے قبل مسلمان چھپ چھپ کر نماز ادا کرتے تھے. جس کے باعث کفار قریش کے اعصاب کمزور ہوۓ اور اسلام کو تقویت ملی. آپ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا عالم دیدنی تھا . آپ کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا. حضرت عمر فاروق ؓ نے چالیسویں نمبر پر اسلام قبول کیا اور قبول اسلام کے بعد آپ کا زیادہ تر وقت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قربت میں گزرتا تھا آپ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ 27 جنگوں میں شرکت کی .  آپ نے اپنی ایک صاحبزادی حضرت حفصہ کا نکاح نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کیا . اور دور خلافت میں حضرت علی ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم سے نکاح کیا.    اس کے علاوہ آپ نے سات اور نکاح کئے تھے ، جن سے آپ کے  سات صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں. حضور پاک صلی الله علیہ وسلم نے آپ کے لیے متعدد ارشاد کئے ، ایک موقع پر حضور پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کے اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا.  حضور کے اس ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بارگاہ نبوی میں حضرت عمر ؓ کی کتنی اہمیت تھی . ایک اور موقع پر  حضور پاک صلی الله علیہ  وسلم نے فرمایا جس راستے سے عمر گزرتا ہے  شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے یعنی کے شیطان بھی حضرت عمر ؓ سے خوف کھاتا ہے .   اسی طرح سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کے خدا نے عمر کی زبان سے حق جاری کر دیا  ہے. آپ کا لقب فاروق بھی اسی امر کی نشاندھی کرتا ہے ہے جس کے معنی  ہیں  سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والا. آپ کی علمیت کےبارے میں  حضرت ابن مسعود  ؓ فرماتے ہیں کہ  علم کے دس حصوں میں سے ایک حصہ ساری امت کو دیا گیا اور باقی نو حصے  حضرت عمر ؓ کو دئیے گۓ ہیں.  صحابی رسول کی اس شہادت کو اگر تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے  تو کافی حد تک یہ بات درست معلوم ہوتی ہے .  دور خلافت میں آپ کی جانب سے کئے جانے والے کام، آپ کے فیصلے، اجتہادات  اور آپ کے فرمادات رہتی دنیا  تک لوگوں کو فائدہ پہنچا تے رہیں گے.  اسی سلسلے میں حضرت علی کرم الله وجہ  کا بھی ارشاد ہے کہ جب صالحین کا ذکر کرو تو عمر ؓ کو ضرور یاد کر لیا کرو. حضرت عمر ؓ نے منصب خلافت حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے وفات کے بعد 13 ہجری میں سنبھالا   اور تقریبا ساڑھے دس سال تک یہ ذمہ داریاں سنبھالی.  حضرت عمر فاروق  ؓ کا دور اسلامی فتوحات کا دور تھا . اس وقت کی دونوں طاقتور ریاستیں ایران اور روم کو شکست دیکر ایران، عراق، شام اور بیت المقدس  کو اسلامی ریاست میں شامل کیا گیا اور چھوٹے بڑے 3600 علاقوں کو فتح کر کہ 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی حکومت قائم کی  اتنی فتوحات آج تک کسی حکمران کو حاصل نہیں ہوئی  اسی لیے اگر کوئی سکندر اعظم ہے تو بجا طور پر حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنہ ہیں. دور فاروقی میں 900 جامع مسجد اور 4000 عام مسجدیں تعمیر ہوئی.  اسی دور میں اسلامی ریاست میں باقاعدہ عدالتی نظام رائج کیا گیا ، چھاونیاں قائم کی گئی . پولیس اور ڈاک  کے محکموں  کو تشکیل دیا گیا  شراب نوشی کی حد 80 کوڑے مقرر کی  ،  تراویح  کو باقاعدہ جماعت کی شکل دیکر مساجد کو مزین کیا گیا ، آپ کے دور میں عدالت میں ایسے بے مثال فیصلے ہوۓ جو کا آج تک لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں . انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پر آپ  منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم یرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ مجھ  کو کیا حق ہے کہ خدا کے مال میں سے باندی رکھوں۔ میرے لیۓ صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا سردی  کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی کوکسی دوسرے ملک کا گورنر یا  عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے کہ گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا، عمدہ کھانا نہ کھانا، باریک کپڑا نہ پہننا  اور حاجت مندوں کی داد رسی کرنااور اگر کوئی ان شرائط کی خلاف ورزی کرتا تو سزا دیتے تھے  غرض یہ کہ اسلامی سلطنت کے حکمران سے لیکر عام شہری تک کوئی بھی قانون سے مستثنیٰ نہیں تھا. یہی وجوہات تھی کہ پورے اسلامی سلطنت میں امن و امان قائم تھا. حضرت عمر فاروق ؓ نے حکمران ہونے کے باوجودساری ساری رات گلیوں اور بازاروں میں پہرے دئیے، ضرورت مندوں ، ناداروں ، بھوکوں اور پیسوں کی مدد کے لیے خود چل کر گۓ، اسلامی سلطنت میں موجود ہر شخص  کی ضروریات کی تکمیل کے لیے دن رات کام کیا ، قحط کے دنوں میں خود گھی اور زیتون ترک کر دیا اور غریبوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک رہے.  آج کے عہد کی کامیاب اور سپر پاورز حکومتیں بھی  حضرت عمر ؓ کے دور حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتی  اور اگر موازنہ کریں  تو  اندازہ ہوگا کہ اس دور کی اسلامی سلطنت میں جوعوام کی فلاح کے لیے، سستے اور آسان انصاف کے لیے  اور لوگوں کی داد رسی کے لیے جو  کام 1400 سال قبل کئے گۓ تھے ، موجودو دور کی جدید حکومتیں تمام سہولیات ہونے کے بعد بھی ان تک نہیں پہنچ سکی ہیں.  بقول غیر مسلموں کے کہ اگر حضرت عمر ؓ دس سال اور رہتے تو پوری دنیا میں اسلام ہوتا. ایک مجوسی غلام ابو لولوفیروز مجوسی  نے28 ذی الحج  کو  نماز فجر کے وقت آپ ؓ پر حملہ کیا  اور آپ کے شکم مبارک میں خنجر سے وار کیا جس کے باعث حضرت عمر فاروق  ؓنے یکم محرم الحرام کو شہادت کا جام نوش کیا . اور حضرت عائشہ ؓ کی اجازت کے بعد آپ کو نبی کریم  صلی الله علیہ وسلم اور اپنے پیش رو حضرت ابو بکر صدیق کے پہلو میں دفن کیا گیا.   دور فاروقی اسلامی عہد  کا بے مثال دور ہے  اس دور کے کارنامے اور فیصلے تمام ملکوں اور مذاہب کے لیے مثال کی اہمیت رکھتے ہیں . دیگر مذاہب کے بڑے بڑے لوگ حضرت عمر ؓ  کے کارناموں سے متاثر ہیں اور آپ کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکے  مگر آج کے دور کا مسلمان اپنے کارناموں کو یاد کرنے کے بجائے غیر مذاہب سے مدد مانگنے کے لیے دوڑا چلا جاتا ہے. ہمارے حکمرانوں کو چاہئیے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے غیر اسلامی ملکوں کی پیروی کرنے کے بجائے خلفاۓ راشدین کی اصلاحات ، کارناموں اور فیصلوں کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں . اور خلفاۓ راشدین کے کارناموں  کو نئی نسل کی اصلاح اور ہدایت کا ذریعہ بنائیں.   

ملالہ حقیقت یا ڈرامہ



ملالہ حقیقت یا ڈرامہشہرت کے دوام عروج پر پہنچنے والی ملالہ یوسفزئی نے امن کے لیے ایسا کیا کام کیا جو اسے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سےکئی ایوارڈز دئیے گۓ یہ ایسی گتھی ہے جسے سلجھانے کی کوشش کئی لوگوں نے اپنے مفروضے اور اندازوں کی مدد سے  کی مگر یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس کا جواب ملالہ نے خود ہی اپنی کتاب I am Malala میں دے دیا ہے . پاکستان اور اسلام کے خلاف بولنے کے صلے میں بین الاقوامی سطح پر تو ملالہ کی شہرت میں تو اضافہ ہو رہا ہے مگر پاکستان کی سطح پر اس کی شہرت بتدریج گر رہی ہے  اور سوشل میڈیا پر جس طرح سے ملالہ پر تنقید ہو رہی ہے اس سے یہ لگ رہا ہے کہ پاکستانی عوام نے ملالہ اور اس کے والد ضیاء الدین کو ایک امریکن ایجنٹ کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے. ملالہ یوسفزئی کو شہرت ملنے کا آغاز بی بی سی کی ویب سائٹ پر گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھنے کے بعد ہوا  اور اس شہرت کو ہوا دینے میں ہمارے اور مغربی میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا مگر بعد میں مختلف ذریعے سے یہ بات سامنے آئی کہ گل مکئی نے نہیں بلکہ بی بی سی کے نمائندے عبد الحیئ کاکڑ نے لکھی اور اس کے لئےملالہ اور اس کے والد سے اجازت لینے کے ساتھ ان کو  معاوضہ بھی ادا کیا گیا تھا .  ملالہ کی ڈائری کے ویب سائٹ پر شائع ہونے کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کے ملالہ کی ڈائری کے بعد سوات اور اس سے ملحقہ علاقے کی لڑکیوں نے اسکول اور کالج جانا شروع کیا حالانکہ یہ تاثر بلکل غلط ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سوات میں بچیوں کے اسکول اور کالج جانے کی شرح میں تھوڑا تو اضافہ ہوتا سوات میں لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کی شرح جتنے پہلے تھی آج بھی کم و بیش اتنی ہی ہے .ملالہ کو  شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے میں اس گولی نے بڑا اہم کردار ادا کیا جو کہ اس کے سر پر لگی  اور گردن تک اتر گئی مگر کمال ہے کہ ملالہ کو صرف بولنے میں تھوڑی پرابلم ہوئی اور باقی سب خیر ہوگیا. ملالہ کو گولی لگی یا نہیں یہ الگ بحث ہے  مگر اس حملے کے بعد پاکستانی عوام کے دل میں ملالہ کے دل میں ہمدردی کے جذبات ضرور جاگے تھے مگر جس سے طرح سے امریکی صدر بارک اباما جنہوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد معافی مانگنے سے یکسر انکار کر دیا تھا ، نے جس طرح سے ملالہ پر حملے کی مذمت کی  اور راتوں رات ملالہ کی انگلینڈ روانگی ہوئی اس نے لوگوں کے دل شکوک و شہبات کو جنم دیا اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکہ کے لئے کام کرنے والوں اور امریکی مفادات کے لیے ملکی وقار اور عزت کا سودا کرنے والوں کی اہمیت امریکہ کی نظر میں پاکستان کی فوج سے زیادہ ہے .اس حملے کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر ملالہ اور اس کے والد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور دونوں کو امریکی ایجنٹ قرار دیکر اس حملے کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا. ملالہ متنازع شخصیت کی تو شروع  مالک تھی مگر رہی سہی کسر ملالہ کی کتاب نے پوری کر دی . کتاب پڑھ کر لگا کہ یہ پاکستان اور اسلام دشمن لوگوں کی آواز ہے .جس طرح سے اس کتاب میں سلمان رشدی  کی حمایت ، پاک بھارت جنگ، احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے واقعہ ، ناموس رسالت کے قانون  اور ملالہ کے والد کی جانب سے پاکستان کے یوم آزادی کے دن سیاہ پٹیاں باندھنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے یہ بات عیاں ہوگئ کہ یہ کتاب ایک سولہ سالہ بچی کی آواز نہیں بلکہ  یہ سب مغرب کی اسلام دشمن عناصر کی جانب سے کی جانے والی کوشش ہے  اور ملالہ اور اس کے والد  صرف ایک مہرے کی  طرح سے کام کر رہے ہیں . اب اگر  بات کریں ملالہ کے آبائی شہر سوات کی، تو سوات کے لوگ بھی ملالہ سے ناخوش ہی نظر آتے ہیں  اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے وہ واقعہ ہی کافی ہے جب سوات میں موجود سیدہ گرلز کالج کا نام بدل کر ملالہ کے نام سے منسوب کیا گیا تو سوات کی تاریخ میں پہلی بار کالج کی طالبات  نے روڈ پر نکل کر بھرپور احتجاج کیا جس کے باعث مجبور ہو کر انتظامیہ کو نام واپس تبدیل کرنا پڑا. اگر سوات کی عوام کے دل میں ملالہ کے لیے عزت و احترام ہوتا تو یہ واقعہ ہی نہیں ہوتا .ملالہ کی نوبل انعام کے لئے  نامزدگی ،  اقوام متحدہ میں خطاب اور  مختلف فورم  پر ایوارڈ کے ملنے میں مغرب کی حمایت ، پاکستان  اور اسلام دشمن زبان کے علاوہ بظاہر تو اور کوئی خاص بات نظر نہیں آتی ، مگر جس طرح سے ہمارے میڈیا نے اسے بھرپور کوریج دی اس نے میڈیا کی مغرب نظری کو بھی ہمیشہ کی طرح واضح کیا میڈیا نے تو یہ بات ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ ملالہ پاکستان کا سرمایہ ہے مگر اس کے برعکس سوشل میڈیا نے بھرپور تنقید اور مخالفت کر کہ یہ ثابت کیا کہ پاکستانی عوام کے دل میں ملالہ کے لیے کوئی ہمدردی باقی نہیں بچی ہے.

عید الاضحیٰ – الله کی خوشنودی حاصل کرنے کا دن



جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لاۓ تواہل مدینہ کے لیے دودن ایسے تھے جس میں وہ لھو لعب کیا کرتے تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( بلاشبہ اللہ تعالٰی نے تمہیں اس سے بہتر اور  اچھے دن دن عطاکیے ہیں وہ عید الفطر اورعیدالاضحی کے دن ہیں ۔ تواللہ تعالٰی نے وہ لھولعب کے دو دن ذکر وشکراورمغفرت درگزر میں بدل دیے . عید الاضحیٰ ذوالحج کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اس دن مسلمان کعبۃ اللہ کا حج بھی کرتے ہیں۔  عیدالاضحی ہے جو کہ ذی الحج کے دن میں آتی اوریہ دونوں عیدوں میں بڑی اورافضل عیدہے اورحج کے مکمل ہونے کے بعدآتی ہے جب مسلمان حج مکمل کرلیتے ہیں تواللہ تعالٰی انہیں معاف کردیتا ہے۔اس لیے کہ حج کی تکمیل یوم عرفہ میں وقوف عرفہ پرہوتی ہے جوکہ حج کاایک عظیم رکن ہے جس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے. حج عرفہ ہی ہے یوم عرفہ آگ سے آزادی کا دن ہے جس میں اللہ تعالٰی آگ سے آزادی دیتے ہیں ۔ تواس لیے اس سے اگلے دن سب مسلمانوں حاجی اورغیرحاجی سب کے لیے عید ہوتی ہے ۔ اس دن اللہ تعالٰی کے تقرب کے لیے ہر صاحب نصاب شخص پر قربانی کرنا واجب  ہے ۔ جو صاحب نصاب ہو کر بھی قربانی نہ کرے اس کے لیے رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کا واضح ارشاد ہے کہ جس میں وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب   ہر گز نہ آئے (ابن ماجہ)یہ دن اللہ تعالٰی کے ہاں سب سے بہترین دن ہےاللہ تعالٰی کے ہاں سب سے افضل اوربہتر دن یوم النحر ( عیدالاضحی ) کا دن ہے اوروہ حج اکبروالا دن ہے جس کا ذکر حدیث میں بھی ملتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یقینا یوم النحر اللہ تعالٰی کے ہاں بہترین دن ہے (سنن ابوداود حدیث نمبر 1765 )۔حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوم النحر میں ابن آدم کا کوئی  عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (ےیعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سنگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک قبول ہو جاتا ہے لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو (ترمذی ، ابن ماجہ)قربانی کا مقصد یہ ہے کہ خالص اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے  لیے قربانی کی جاۓ نہ کہ نمود و نمائش اور دنیا دکھاوے  کے لیے قربانی کی جاۓ .عیدالاضحی ہمیں اپنا سب کچھ الله کی راہ میں قربان کرنے کا درس دیتی ہے. لیکن  آج کل لوگ دنیا دکھاوے کے لیے مہنگا سے مہنگا سے جانور خریدتے ہیں  اور اس کی تشہیر کرتے ہیں قربانی کے جانور کے ساتھ فوٹو اور ویڈیوز بنوا کر مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر اپ لوڈ کرتے ہیں جو کو سراسر غلط ہے . اسلام میں ویسے ہی تصویر بنانا گناہ کے زمرہ میں آتا ہے . لیکن لوگ اس اسلامی شعار کے ساتھ گناہ کو شامل کرنے سے باز نہیں آتے بلکہ اس میں بھی اپنی تشہیر کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے سے دیتے. یہ تو وہ عمل ہے جو کہ اگر الله کی رضا کے لیے کیا جاۓ تو آخرت میں نامہ اعمال میں قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی دی جاۓ گی .  صحابہ اکرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں ؟  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے لوگوں نے عرض کیا  یا رسول اللہ صلی علیہ وسلم ہمارے لیے کیا ثواب ہے ؟ فرمایا ہر بال کے برابر نیکی ہے عرض کی اون کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا! اون کے ہر بال کے بدلے بھی نیکی ہے (ابن ماجہ). اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے ، الله تعالیٰ اپنے بندے کی نیت دیکھتا ہے  کہ میرے بندے نے کس نیت سے قربانی کی ہے  خالص اللہ کی راہ میں قربانی کرنے کی نیت ہونی چاہئیے قرآن کریم  میں الله تبارک تعالیٰ کا ارشادہے کے الله تعالیٰ کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے  اور نہ  خون بلکہ اسے تمہارا تقوی پہنچتا ہے. 

قربانی کے وقت جانورکے گلے پر چھری پھیرتے وقت ہمیں اپنے نفس اور خواہشات پر بھی چھری پھیرنی چاہئیے  جس کام کا حکم الله تعالیٰ نے دیا ہے اس کو کرنا چاہئیے اور جس کام سے ہمیں روکا گیا ہے ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئیے . اب یہ ہم لوگوں پر منحصر ہے کے اس دن اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں یا نمودونمائش کر کہ دنیا میں اپنی تشہیر کریں. الله ہماری نیتوں کو درست کرے اور ہم سب لوگوں کو ہدایت نصیب فرماۓ  اور ساتھ ہی نیک اعمال کرنے اور برائی سے روکنے کی توفیق دے (آمین).

زکوٰۃ ، مذہبی اورسماجی فرض



زکوٰۃ ، مذہبی اورسماجی فرضعربی زبان میں زکوٰۃ کے معنی ہیں کسی چیز کو گندگی سے، آلائشوں سے اور نجاست سے پاک کرنا، زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ کا نام اسی لیے دیا گیا ہے کہ وہ انسان کے مال کو پاک کر دیتی ہے اور اس مال میں الله کے رحمت و برکت شامل ہو جاتی ہے . اور جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے وہ ناپاک اور گندہ رہتا ہے. زکوٰۃ  اسلام کے پانچ بنیادی  ارکان میں سے ایک ہے، زکوٰۃ کی فرضیت قرآن میں نماز کے ساتھ ساتھ آئی ہے  قران کریم میں ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کی کیا اہمیت ہے. سب سے بڑھ  کر یہ کہ قرآن کریم میں تقریبا 32 مقامات پر زکوٰۃ کا ذکر فرمایا ہے اور مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس اہم فریضے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے. مگر جس سے طرح سےمسلمان  دنیاوی کاموں میں لگ کر الله کے دئیے گۓ احکامات سے چشم پوشی کرنے لگے ہیں بلکل اسی طرح سے مختلف مفروضوں کی بناء پر زکوٰۃ ادا کرنے سے کترانے لگے  ہیں . صرف یہ سوچ کر زکوٰۃ ادا نہیں کرتے کہ شائد زکوٰۃ ادا کرنے سے ان کے مال و دولت میں کوئی کمی آجاۓ گی حالانکہ ایسا بلکل نہیں ہے. جس سے طرح سے درخت کی تراش خراش کرنے کے بعد وہ پھلتا پھولتا ہے بلکل اسی طرح زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد مال و دولت میں بھی اضافہ ہوتا ہے. انسان زکوٰۃ کی مد میں جتنا خرچ کرتا ہے اس کے مال میں اتنی ہی زیادہ برکت ہوتی ہے . زکوٰۃ ادا کرنے سے مفلسی نہیں آتی .آج کی دنیا مادہ پرست دنیا ہے، ہر کام میں نفع نقصان دیکھا جاتا ہے  بظاہر زکوٰۃ دینے سے انسان کو یہ لگتا ہے کہ اس کے مال میں کوئی کمی ہوگئی مگر عملا اسے فائدہ ہوتا ہے. جوکہ وقتی طور پر انسان کو نظر نہیں آتا . جس کے باعث بھی وہ زکوٰۃ ادا کرنے سے کتراتا ہے. قران کریم میں الله تبارک تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "فلاح پاتے ہیں جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں". ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ "جو کچھ تم  خرچ کرو گے الله تعالیٰ اس کی جگہ اور دے گا اور وہ بہتر روزی دینے والا ہے " زکوٰۃ کے حوالے سے حضرت جابر  رضی الله  تعالیٰ سے مروی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا " جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بے شک الله تعالیٰ نے اس سے شر دور فرما دیا".الله تعالیٰ نے زکوٰۃ کا فریضہ ایسا رکھا ہے کہ اس کا اصل مقصد تو اللہ تبارک تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے دوسری جانب جو انسان زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس کے دل سے اللہ تعالیٰ مال و دولت کی محبت کو ختم فرما دیتے ہیں لہذا جس کے دل میں مال کی محبت ہوگی وہ زکوٰۃ ادا کرنے سے کترائے گا  کیونکہ بخل اور مال کی محبت انسان کی بدترین کمزوریوں میں سے ایک ہے اور اس کمزوری کا علاج الله تبارک تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے میں پوشیدہ رکھا ہے . زکوٰۃ ادا کرنے کا دوسرا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ جو  غریب لوگ  شرمندگی کے باعث کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے  ان کی مدد ہوجانے.  اگر پاکستان کے  وہ تمام لوگ جن پر زکوٰۃ فرض ہے وہ صحیح طریقے سے  زکوٰۃ ادا کریں  تو اس اسے یقینا پاکستان سے غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں ہوتا  کیونکہ کافی لوگ تو زکوٰۃ ادا ہی نہیں کرتے اور جو ادا کرتے ہیں ان میں سے بھی اکثر بغیر کسی حساب کتاب کے  اندازے سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں غریبوں کو جو فائدہ پہنچنا چاہئیے وہ ان کو نہیں پہنچ رہا . زکوٰۃ  محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دی جاتی ہے ۔جن سے ان کی ضرورتیں اور حاجات پوری ہوتی ہیں ۔اگر تمام مالدار اپنی زکوٰۃ نکالتے رہیں او رصحیح مقامات پر خرچ کرتے رہیں تو یقینا تمام غرباء کی ضروریات پوری ہوجائیں گی ۔اس سے معاشرے میں بگاڑ اور فساد بھی  بہت حد تک ختم ہوجائے گا. زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے حوالے سے بہت سخت وعید ہیں. حدیث پاک حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں ، جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ دے   تو قیامت کے دن اس سونے چاندی کی تختیاں بنا کر جہنم کی آگ میں تپائیں گے پھر ان سے اس شخص کی پیشانی، کروٹ، اور پیٹھ پر داغ دیں  گے جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی تو پھر انھیں تپائیں گے. قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہے یونہی کرتے رہیں  گے یہاں تک تمام مخلوق کا حساب ہوچکے. شریعت نے زکوٰۃ کا نصاب مقرر کر دیا ہے جس شخص کے پاس وہ نصاب ہوگا اس پر زکوٰۃ فرض ہو جائے گی.  ہم میں سے اکثر لوگوں کا زکوٰۃ کا صحیح نصاب کا پتہ نہیں ہوتا  جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہے . حالانکہ بہتر تو یہ ہے کہ سب لوگ زکوٰۃ کے صحیح نصاب کا پتہ کرکے زکوٰۃ کو صحیح ادا کریں.

تبدیلی کس طرح ممکن ہے

تبدیلی کس طرح ممکن ہے ایک پر فریب اور دِلکش نعرا جس کی مدد سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں بہت آسانی ہوجاتی ہے وہ تبدیلی کا نعرا. اس نعرے کی بازگشت سب سے پہلے ہمیں امریکا کے صدارتی اتخابات میں سنائی دی جب امریکیوں نے یہ نعرا لگا کر تاریخ میں پہلی بار بارک اباما کو امریکا کا صدر منتخب کرا لیا ان کے منتخب ہونے کے بعد بھی مسلم امہ کو کیا فائدہ پہنچا ہمیں تو نہیں لگتا کے ان کے انتخاب کے بعد مسلمانوں کو لیے کوئی تبدیلی آئ ہو امریکا پہلے بھی مسلمانوں پر حکومت کرنے کے لیے"تقسیم کرو اور حکومت کرو " کے فارمولے پر عمل کر رہا تھا اور آج بھی یہی کر رہا ہے اور شاید اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک مسلمانوں میں میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگ موجود رہیں گے اور امریکا کے آلہ کار بنتے رہیں گے. ہاں یہ بات الگ ہے کے امریکیوں کے لیے کوئی تبدیلی آی ہو تو وہ ہمارے لیے ایسے ہی ہے جیسے جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا.
پاکستان میں سب سے زیادہ اس نعرے کی گونج ہمیں حالیہ الیکشن میں سنائی دی جس میں ہر جماعت یہ دعویٰ کرتی نظر آی کے ہم لائیں گے تبدیلی مگر الیکشن ختم ہونے کے کئی ماہ بعد بھی تبدیلی کے نعرے صرف نعرے کی حد تک ہی نظر آرہے ہیں تبدیلی کہیں کوئی خاص نظر نہیں آرہی ہے. کیا تبدیلی صرف نعروں کی مدد سے آجاتی ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کے تبدیلی کیوں نہیں آتی ؟ اس کی وجہ بظاہر جو ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب تبدیلی کا نعرا لگاتے ہیں مگر خود تبدیل نہیں ہوتے کیا ہم نے خود کبھی اپنے گریبان میں جھانکا ہے کے تبدیلی لانے کے کے لیے ہم نے خود کیا کیا. کیا ہم نے خود کو تبدیل کیا ؟ یا ہم نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی کی ؟ نہیں جناب ہم لوگ ایسی کوئی کوشِش ہی نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی دوسرا کوشِش کرتا نظر آے تو ہم لوگ اس پر ہنسنے اور طنز کرنے سے باز نہیں آتے.
ہم میں سے اکثر لوگ چند سیکنڈ سگنل پر روکنا گوارا نہیں کرتے اپنا گھر صاف کر کے سارا کچرا گھر کے باہر ڈھیر کی صورت میں جمع کر دیں گے گھر بنانے میں لاکھوں روپے خرچ کر دیں گے مگر کچرا اٹھانے کے لیے دو سو روپے خرچ نہیں کریں گے. پبلک مقامات پر تھوک پھینکنے، کچرا پھینکنے، سگریٹ پینے کے واقعات تقریبا ہم سب نے ہی دیکھ رکھے ہیں اور ہم میں سے متعدد لوگ ایسا کر بھی چکے ہونگے. کسی تہوار کے موقع پر بغیر سلنسر موٹر سائیکل چلانا تو جیسے ایک فیشن بن گیا ہے. سڑک پر ریس لگانا ون وہیلنگ کرنا تو عام سی بات ہے. ان میں سے کسی کو اگر روکا جاۓ تو جس قسم کے جوابات سے واسطہ پڑتا ہے وہ سنے کے بعد شاید ہی کوئی دوبارہ روکنے کی جسارت کرے گا.
تبدیلی صرف نعرے لگانے سے نہیں آتی بلکہ تبدیلی لانے کے لیے پاکستان میں رہنے والے ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی. ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا کہ یہ ملک ہمارا گھر ہے. ہمیں پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہ سوچ کر نہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا بلکہ یہ سوچ کرکہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا. اگر ہم لوگوں نے یہ کر لیا تو مجھے امید ہے کہ ہم لوگوں کو تبدیلی کا نعرا لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ تبدیلی تو آچکی ہوگی.
(Irfan Ahmed Rajput)

جہیز ایک مہذب بھیک



آج کتنی جوانیاں گھر بیٹھے مرجھا چکی ہیں؟ آج کتنی عصمتیں سر بازار نیلام ہوتی ہیں ؟ آج کتنے نوجوان اپنے ہاتھوں سے خود کو تباہ کر رہے ہیں؟ اگر جہیز کی لعنت کو چھوڑ کر نکاح کو آسان اور سستا نہ بنایا گیا تو ہر طرف بے راہ روی کہ ایسا سیلاب آے گا جو سب کچھ بہا کر لے جاۓ گا. آج ہمارے مسلمان طبقے نے جہیز کی لعنت کو گلے کا طوق بنا لیا ہے. انھیں صرف کافرانہ اور ظالمانہ رسموں کی فکر ہے. جہیز کے نام پر شادی بیاہ میں جو خرافات اور مشرکانہ رسوم رائج ہیں ان کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں. جہیز کے نام پر نقدی اور لین دین غیر مسلموں کا طریقہ ہے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے. حقیقت تو یہ ہے جہیز ایک لعنت ہے اور ہم مسلمانوں نے اس لعنت کو کو تہذیب و تمدن سمجھ کر قبول کر لیا ہے اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس لعنت نے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے.اس میں شبہ نہیں ہے کہ جہیز کی موجودہ شکل ایک تباہ کن رسم ہو کر رہ گئی ہے لڑکی کو ماں باپ اپنی محبت و شفقت میں رخصت ہوتے وقت جو کچھ دیتے ہیں وہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے مگر ہندوانہ رسم کی دیکھا دیکھی اب مسلمانوں میں بھی یہ رسم ایک مطالبہ کی صورت اختیار کر چکی ہے جہیز کے مطالبہ کو پورا کرنے کے لیے آج کتنے گھر اجڑ چکے ہیں. لڑکی کی پیدائش جو کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے اس کو اس مطالبے نے بدبختی میں تبدیل کر دیا ہے . لڑکی کی پیدائش رحمت ہوتی ہے مگر لالچی لوگ اسے زحمت میں بدلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں . حیرت تو اس پر ہے کے لڑکی اپنے والدین سے کچھ مطالبہ کرے تو کر سکتی ہے کہ ماں باپ سے فرمائش کرنا اس کا پیدائشی حق ہے اگرچہ اسے مطالبہ کرتے وقت واپنے والدین کی بساط و وسعت کا خیال کرنا بھی ضروری ہے مگر یہ ہونے والے داماد اور  اس کے گھر والوں کو یہ  حق کس نے دیا کہ  جہیز کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے فرمائش کریں. یہ تو ایک قسم کی مہذب بھیک ہوگئی  جسے رسم و رواج کے نام پر قبول کیا جا رہا ہے. اسلام دو ہی صورتوں میں مانگنے کی اجازت دیتا ہے یا تو سائل کا حق دوسرے سے متعلق ہو یا پھر سائل اتنا تنگدست ہو کہ اس کا گزر بسر مشکل سے ہوتا ہو اور سوال کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو اس کا سوال کرنا جائز ہے.  ظاہر ہے ہونے والے داماد کا ہونے والی بیوی یا سسرال پر کوئی حق تو ہوتا نہیں جس کا مطالبہ اس کے لیے جائز ہو لہٰذا اب دوسری بات تنگدستی والی رہ جاتی ہے جب کے سماج میں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ داماد تنگدستی ظاہر کرکہ سسرال سے کچھ تقاضا کرے حالانکہ بقدر ضرورت سوال کرنا اسلام میں جائز ہے . لیکن اگر دونوں صورتیں نہیں توایک قبیح فعل ہے. حدیث مبارکہ میں ہے کہ  "حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مال بڑھانے کے لیے سوال کرتا ہے وہ انگارے کا سوار کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کام (ابن ماجہ) "جہیز کی رسم ایک ناسور کی طرح معاشرے میں پھیل چکی ہیں  جس کے باعث دیگر برائیاں ، خود کشی، چوری، طلاق، پرتشد اموات، دھوکہ دہی اور دیگرکئی سماجی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں. بے چارے والدین سود پر قرض حاصل کر کہ اپنی لڑکیوں کو بیاہتے ہیں اور زندگی بھر سود کے جال میں پھنس جاتے ہیں مگر پھر بھی دامادوں کی فرمائشوں کو پورا کرنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح بیٹی کا گھر بنا رہے. بہن یا بیٹی کو جہیزدینے  کے لیے چوری یا ڈاکہ ڈالنے اور دھوکہ دہی کے واقعات ہم نے سن رکھے ہیں. بسا اوقات لڑکیوں کی جانب سے خود کشی کے واقعات، سسرال کی جانب سے بہوؤں کو آگ میں جلانے اور دیگر پرتشدد طریقوں سے جان سے مارنے کے واقعات میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں. جہیز کم لانے یا نہ لانے کے باعث طلاق کے واقعات بھی زبان زدوعام ہیں. جہیز کی اس لعنت کے باعث ہونے والے ان جرائم کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، معاشرے پر حکومت پر یا ان لوگوں پر جنہوں نے جہیز کا مطالبہ کیا؟ تینوں میں سے کوئی بھی اس کہ ذمہ داری قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی ہمارا ملکی قانون کچھ کر سکے گا. ہاں یہ ضرور ہوگا کہ منذ رجہ بالا کسی بھی امر کی وجہ سے لڑکی کا خاندان مزیدکرب اور  پریشانیوں میں ضرور مبتلا ہوجاۓ گا. اورالله کے سوا دنیا میں اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا. جہیز کی رسم انفرادی نہیں اجتماعی معاشرتی مسئلہ ہے. جس سے واقف تو ہم سب ہیں مگر اس کھیں چرانا اور اس مسئلے سے پہلوتی بھی ہم ہی لوگ کرتے ہیں .  موجودہ سماج میں لڑکیوں کی شادی کے لیے بہتر رشتے کا انتخاب مانگ و مطالبات، بھاری رقوم، قیمتی چیزوں اور جائیداد کے دینے پر منحصر ہوگیا ہے. لڑکی کی شرافت، دینداری، اخلاق و سیرت دیکھنے کا معیار باقی نہیں رہا. بلکہ لڑکے والوں کی نظر اس پر ہوتی ہے کہ کس گھر سے زیادہ جہیز ملے گا. بعض اوقات جہیز مانگنے کے ساتھ تو لڑکے کو کاروبار کراکر دینے کی شرط عائد کردی جاتی ہے. ایک مرد کی یہ شان نہیں کہ وہ دوسروں سے مال کا ناجائز مطالبہ کرے اور دوسرے کے مال کو جہیز کے منحوس نام پر بٹورنے کی کوشش کرے اور جہیز کے نام پر مال و دولت، کار، موٹر سائکل ، فرج ، ٹی وی اور دیگر قسم کے مطالبات کرکے لڑکی کے گھر والوں کو پریشان کرے بلکہ مرد کی تو یہ شان ہے کہ اپنی زورو بازو کے بل بوتے پر کمائے اور اپنی منکوحہ اور اولاد کو بہتر زندگی دے.رسم جہیز قابل لعنت ہے اور انتہائی حقارت سے دیکھے جانے کے قابل ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ فعل نہ سنت ہے نہ واجب اور اسلامی معاشرے میں اس کی نہ کوئی اصلیت ہے نہ حقیقت، بلکہ یہ معاشرے کے لیے ایک ناسور ہے.  اگر جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہوجاۓ اور شادیاں سستی ہوجائیں تو کئی نوجوان بچیوں کے چہرے ان گنت خدشات سے پاک ہوجائیں گے اور غریب والدین ان داخلی زنجیروں اور فرسودہ رسموں کے طوق سے آزاد ہوکر اپنے فرائض کو ادا کر سکیں گے.

حرام کام حرام ہی ہوتا ہے



حرام کام حرام ہی ہوتا ہے

آج کل جس طرح سے حرام کام ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکے ہیں ان کو دیکھ کر صرف یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کے جانے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلمان عوام نے حرام کو حرام سمجھنا چھوڑ دیا ہےاور یہ بات حقیقت سے قریب تر اس لیے بھی لگتی ہے کہ جھوٹ کو مذاق، شراب کو تفریح، رشوت کو حق اور سود کو منافع کا نام دے دیا گیا ہے. حرام کام کو کوئی بھی نام دے دیں، رہے گا تو وہ حرام ہی اور اس کام کے کرنے والوں کے لیے جو سزا الله تبارک تعالیٰ نے مقرر کی ہے اس میں کسی بھی کسی قسم کا ردوبدل کرنے کا اختیار کسی انسان کے پاس نہیں ہے. مگر اس کے باوجود بھی عقل و شعور رکھنے والا حضرت انسان اور سب سے بڑھ کر کلمہ  گو مسلمان حرام کام کو کرنے سے باز نہیں آرہے فانی دنیا کے لیے آخرت کی ابدی زندگی کو بھلا بھیٹے ہیں.  کیا یہ تمام کام کر کے ہم لوگ الله کے غضب کو آواز نہیں دے رہے ؟  اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو کیوں پاکستانی معاشرہ میں یہ برائیاں عام ہیں.  وہ  شاید اسلئے کہ مسلمانوں نے گناہ اور ثواب کے فرق  اور حرام کام کو حرام سمجھنا چھوڑ دیا ہے.  اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے مانے والوں کی رہنمائی کرتا ہے . روحانی اور معاشرتی مسائل کی طرح وہ انسان کو ان کے معاشی مسائل کا حل بھی بتاتا ہے . قرآن اور حدیث میں زندگی گزا ر نے کے تمام اصول بتا دئیے گئے ہیں  مگر اس کے باوجود بھی ہم لوگوں کو کوئی رہنمائی نہیں مل رہی وہ اس لیے کے قرآن کو گھر میں رحمت حاصل کرنے کے لیے صاف ستھرے کپڑے میں لپیٹ کر کسی اونچی جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے چہ جائکہ اس سے رہنمائی حاصل کی جاۓ . اسلام میں جھوٹ بولناتمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اللہ کے حبیب نبی کریم صلّی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "میں تم کو سب گناہوں میں بڑا گناہ بتاتا ہوں الله (عزو جل ) کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے پھر نبی کریم سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا ، جان لو کہ جھوٹی بات کرنا سب سے بڑا گناہ ہے ."  (صحیح بخاری ) اتنی واضح ہدایت کے باوجود بھی ہمارے معاشرے میں جھوٹ اس حد تک پھیل چکا ہے  کہ ہم نے جھوٹ کو  جھوٹ سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے. جھوٹ کیا ہے ؟ حقیقت کے خلاف بات بیان کرنا جھوٹ کہلاتا ہے .  اتنی معمولی بات کے لیے ہم جھوٹ بول دیتے ہیں کہ احساس نہیں ہوتا  کہ ہم ایک حرام کام اور گناہ کبیرہ کر چکے ہیں . قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے ارشاد فرمایا  ہے کہ : "جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے ."جھوٹ بولنے کی ہمارے معاشرہ میں جو مثالیں ہیں  وہ یہ کہ دفتر سے فون آنے پر گھر پر موجود ہونے کے باوجود ہم کہ دیتے ہیں کے شہر سے باہر ہیں. گھر میں موجود ہوتے ہیں کسی نے نہ ملنا ہو تو گھر والوں سے جھوٹ کہلوا دیتے ہیں کے گھر پر نہیں ہیں. کوئی ادھار مانگ لے تو پیسے ہونے کے باوجود کہہ دیتے ہیں کے پیسے نہیں ہیں.دوست کسی کام کا کہہ دے اور ہمیں نہ کرنا ہو تو بھی جھوٹ کا سہارا لے کر اسے ٹال دیتے ہیں . یہ وہ بڑ ی عام سی مثالیں ہیں جن سے ہمارا روزمرہ زندگی میں اکثر واسطہ پڑتا ہے مگر ہم بغیر سوچے سمجھے اتنی روانی سے جھوٹ بول جاتے ہیں ہیں کے ہمیں خود بھی اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ ہم گناہ کبیرہ اور ایک حرام کام کر چکے ہیں اسی وجہ سے ہمیں  احساس گناہ بھی  نہیں ہوتا . بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں  اتنے  جھوٹ بولنے کے بعد بھی  ہم کہتے ہیں" شکر خدا کا جان بچ گئی "اگر ہم سوچیں تو کیا واقعی ہماری جان بچ گئی ایسا نہیں ہیں وقتی طور پر تو اُس انسان کو ہم نے ٹال دیا مگر خالق کائنات کے آگے گناہگار ہوگئے. جھوٹ بدکاری کا راستہ بتاتا ہے اور بدکاری جہنم میں پہنچا دیتی ہیں  عقل رکھنے والے کے لیے تو یہ نقصان کا سودا ہے  کہ تھوڑی سے مشکل سے بچنے کی خاطر جہنم کا راستہ اختیار کر لے .دوسرا سب سے بڑا حرام کام سود ہے. جان بچانے کے لیے رب العالمین نے جن چار چیزوں کو حلال کر دیا ہے ان میں سود شامل نہیں ہے. الله تبارک تعالیٰ نے سود کو ہر شکل میں حرام قرار دیا ہے اگر اس کے کسی قسم کے جائز ہونے کی دلیل ہوتی تو قرآن کریم میں جان  بچانے کے لیے چار چیزوں کو مجبوری کے وقت کھانے کی اجازت ہے ، اس میں سود شامل ہوتا.ہماری نگاہوں میں اگرچہ سود کے مال سے ترقی ہو رہی ہے لیکن دراصل دنیا میں عداوتوں کی کثرت ،  مال کی فراوانی ، دلی بے اطمینانی  او ر  بے چینی کی وجہ سے نقصان زیادہ ہو رہا ہے. اور آخرت میں تو سراسر نقصان ہی ہے.    الله تعالیٰ سود کو حرام قرار دے کر اس کو مٹانا چاہتا ہے . اس کے برعکس اگر کوئی شخص سودی لین دین  سے باز نہیں آتا تو اسے جا ن لینا چائے کہ وہ تباہی کے غار میں گر گیا ہے .جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہے.حضرت جابر  کہتے ہیں کے رسول کرم صلی الله علیہ وسلم نے سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں  پر لعنت فرمائی ہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کے یہ سب (اصل گناہ) برابر ہیں اگرچہ مقدار کے اعتبار سے مختلف ہوں.    سودی نظام، مملکت پاکستان کی جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور پاکستان کو کھوکھلا کر رہا ہے. ہمارے ملک پاکستان کا بنیادی مسئلہ غربت اور معاشی نا انصافی ہے . معاشی نا انصافی کا سب سے بڑا سبب سرمایا داری نظام ہے اور اس نظام کی اساس سود پر قائم ہے.  اس لیے ضرورت اس امر کی ہے اسلامی اقتصادی نظام کو رائج کیا جاۓ  اسلامی نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ زمین، دولت یا کسی بھی قسم کا سرمایا صرف الله کی دی  ہوئی ملکیت ہے اور جب تم اپنا مال حاجت  مندوں  کو تقسیم کرتے ہو تو اللہ کی دی ہوئی ملکیت میں سے دیتے ہو .قران پاک میں ہے کہ "جو لوگ سود کھاتے ہیں، ان کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جسے شیطان نے لپٹ کر جنون سے دیوانہ بنا دیا ہو اور ان کے اس حالت میں مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں سودا بچنا (تجارت) بھی تو آخر سود جیسی چیز ہے حالانکہ اللہ نے سودے (تجارت)کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام. لہذا جس شخص کے پاس اللہ کی طرف سی یہ نصیحت پہنچی وہ آئندہ کے لیے سود لینے سے باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ہے سو کھا چکا ہے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے وہ جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا.  حکومت پاکستان سودی نظام کو ختم نہ کرکے الله کے غضب کو دعوت دے  رہی ہے. ہماری زیادہ تر مالی مشکلات سودی نظام کی وجہ سے ہیں اگر آج سودی نظام کو ختم کر دیا جاۓ تو بحثیت مسلمان مجھے  امید ہے کے کچھ ہے عرصے میں اسلامی اقتصادی نظام کی برکت ظاہرہونا شروع ہوجائیں گی.  تیسرا حرام کام جو پاکستانی عوام کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے وہ ہے رشوت . جو لوگ سرکاری دفاتر میں کام کرتے ہیں یا ان کا واسطہ سرکاری دفاتر میں پڑتا ہے وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ ان دفاتر میں  رشوت کے پہئیے لگاۓ  بغیر فائل کو آگے کرنا کتنا مشکل ہے شازو ناظر ایسا ہوتا ہے کہ ان کا کام بغیر لیے دئیے بغیر ہوجاۓ .  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ  آجکل کے دور میں رشوت کو حق سمجھ کر وصول کیا جا رہا ہے . رشوت اسلام کی حرام کی گئی چیزوں میں سخت ترین ہے. حدیث شریف میں ہے کہ "رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں."مگر اس کے باوجود بھی جس طرح سے پاکستان میں کرپشن اور رشوت کا بازار گرم ہے اس سے تو لگتا ہی نہیں کے رشوت کوئی حرام کام ہے. آج ہم اس فانی دنیا کے فانی کاموں کے لیے رشوت دیکر کام نکال کر خوش ہو جاتے ہیں حالانکہ اسی دنیا میں ہم ماچس کی تیلی کی آگ کو برداشت نہیں کر سکتے تو آخرت میں جہنم کی آگ کو کس طرح سے برداشت کریں گے ؟ آجکل ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے اکثریت  آخرت کو بھلا کر  بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہے. ماحول تو یہ ہوگیا ہے کہ جو لوگ رشوت کی لعنت سے بچنا چاہتے ہیں ان کو تنگ کیا جاتا ہے ان کے کام نہیں کئے جاتے . نوکری پیشہ افراد جو رشوت نہیں لینا چاہتے ان کے لیے نوکری کرنا مشکل کر دیا جاتا ہے مختلف جگہوں پر تبادلے کر دئیے جاتے ہیں .رشوت کے ذریعے قاتل اور مجرم رہا ہو جاتے ہیں ، بے گناہ پھانسی کے پھندے پر جھول جاتے ہیں . فیل کو پاس اور پاس کو فیل کیا جاتا ہے ، نا اہل کو اہل اور اہل کو نا اہل کر دیا جاتا ہے ، میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں غرض یہ کے دنیا کا کوئی کام مملکت  پاکستان  میں رشوت دے کر کرایا جا سکتا ہے.  رشوت کے با رے میں ارشاد ہوتا ہے کہ!اے مسلمانوں الله کے عذاب و غضب سے ڈرو  اور اس کی ناراضی اور ناراضی کے اسباب سے بچو. اس لیے کہ الله تعالیٰ بلند تر اور غیرت والا ہے  تم اپنے اہل و عیال اور رشتے داروں کو حرام مال کے خانے سے بچاؤ کیوں کہ الله تعالیٰ نے اس جسم کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی اور حرام کھانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دعا بے اثر ہو جاتی ہے.  رشوت انسان کی غیرت کو کھا جاتی ہے  اس کی عزت کو ختم کر دیتی ہے  اور سب سے بڑھ کر یہ انسان کی محنت کو ختم کر دیتی ہے . کس قدر تشویش کی بات ہے کوئی شخص حق پر ہونے کے باوجود اپنا حق بغیر رشوت دئیے حاصل نہیں کر سکتا ، اسی طرح مظلوم پر بھی رشوت حاصل کرنے کے لیے لیے مختلف بہانے استعمال کئے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ رشوت نہ ادا کر دے.اسلام میں حرام قرار دیا جانا ہے والا کام جو کہ ہمارے معاشرے خصوصانوجوان نسل کو تباہی اور گمراہی کے راستے پر لے جا رہا ہے وہ ہے شراب  نوشی، مشروبات میں شراب بالکل اسی طرح سے حرام ہے جس طرح سے کھانوں میں سور کا گوشت حرام ہے. مگر ہمارے ملک میں لوگ خصوصا مسلمان شراب کی دوکانوں کے باہر  قطار لگاکر جس سے طرح سے شراب خرید رہے ہوتے ہیں اس سے لگتا نہیں کے یہ ایک اسلامی ملک ہے . شراب کے حرام ہونے کے باوجود بھی نوجوان نسل تفریح کے نام پر یہ زہر اپنی رگوں میں انڈیل رہی ہے اور تفریح کے نام پر اپنی صحت و تندرستی برباد کر رہے ہیں . حدیث شریف میں ہے کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کے وقت وہ مومن نہیں ہوتا. اسی طرح جب شراب پیتا ہے تو عین شراب پینے کے وقت وہ مومن نہیں ہوتا اور اسی طرح جب وہ چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا. اگر سوچا جائے تو یہ کیسی تفریح ہے  جو ہمیں لمحہ بھر میں مومن کی  فہرست سے نکال دیتی ہے اورایمان باقی نہیں رہنے دیتی.   دیگر حرام کاموں کی طرح سے شراب پینے کا کوئی دُنیاوی فائدہ نظر نہیں آتا . یہ تو وہ کام ہے جس کو کرنے کے بعد انسان بہک جاتا ہے وہ اپنے ہوش و حواس کھودیتا ہے ، انسان کو اچھے برے ، ماں بہن، باپ بھائی ، دوست دشمن کی تمیز ختم ہو جاتی ہے.انسان شراب کے نشے میں بہک کر متعدد کام اسے کر دیتا ہے جن بارے  میں وہ ہوش میں سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا . حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ تین آدمی جنت میں نہیں جائیں گے ایک شراب کا عادی ، دوسرا  قاطع رحم،  اور تیسرا جادو کی تصدیق کرنے والا.   ایک اور روایت میں ہے کہ رسول کریم نے فرمایا کے میری امّت کے کچھ لوگ شراب پیا کریں گے لیکن اس کا نام کوئی دوسرا رکھیں گے (تو ان لوگوں پر دوہرا گناہ ہوگا) ،  شرابیوں میں اس قدر بو ہوگی کے اہل دوزخ بھی پریشان ہوجائیں گے.  صحابہ اکرم کا تقوی اور خوف اتنا تھا کے حلال چیزوں سے بھی اپنے آپ کو بچاتے تھے ان لوگوں کی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق گزرتی تھیں وہ بے حد پرہیز گار اور متقی تھے اس کے باوجود وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر کام میں الله اور اس کے رسول کرم صلی الله علیہ وسلم کی پیروی کریں ہم لوگ ان کے تقوی تک تو نہیں پہنچ سکتے مگر اسلام نے جن حرام کاموں سے منع کیا ہے ان سے بچنے کی کوشش کریں  اور اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں . خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے پاک و حلال کھایا ا ور سنت محمدی صلی الله علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزاری . الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ الله ہم سب کو حلال کام کرنے اور حلال کھانے کی توفیق عطا فرماۓ  (آمین)