عَلَم گویَد

ٹام جس دیس سدھارے ۔۔۔ وہاں ظفر، غالب اور آزاد سے ضرور ملنا !

محمد علم اللہ یہ کم بخت کینسر ایسا مرض ہے، جو اکثر جان لے کر پیچھا چھوڑتا ہے۔ اب اس نے تھیٹر اور فلم کی دنیا کے لیجنڈ اور مایہ ناز اداکار ٹام آلٹر کو ابدی نیند سلا دیا ہے۔ ٹام آلٹر کی وفات کی اطلاع ملی تو تھوڑی دیر کے لیے یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اول اول جب یہ خبر دیکھی تو لگا کہ یہ افواہ ہوگی، جو بس ایسے ہی اڑا دی گئی ہے۔ مجھے ایسا لگا جیسے کل ہی تو ان سے ملاقات ہوئی تھی اور اتنی جلدی وہ کیسے جا سکتے ہیں؟ تصدیق کے لیے انٹرنیٹ کھولا تو دیکھا کہ نو منٹ قبل ٹائمس آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ سچ مچ میں اب ٹام آلٹر نہیں رہے۔ خبر پڑھتے ہی بس دل سے یہی نکلا "خدایا ! ٹام کی روح کو شانتی دے!!!
ٹام سے میری کوئی ایسی گہری شناسائی نہیں تھی کہ میں ان کے بارے میں کچھ لکھتا ،لیکن ان کے انتقال کی خبر کے بعد ان کے ذریعے ادا کئے گئے ڈرامے اور مکالمات بہت یاد آئے اور انگلیاں خود بخود ہی کی بورڈ پر گویا محوِ رقص ہو گئیں ۔
مجھے دو تین پروگراموں میں ٹام آلٹر کے ڈرامے دیکھنے اور ایک آدھ مرتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ تب سے ٹام سے ایک انسیت سی ہو گئی تھی۔ وہ میرے پسندیدہ اداکاروں میں سے ایک تھے اور دہلی میں جب کہیں ان کا پروگرام ہوتا، میں اس میں شرکت کی کوشش ضرور کرتا۔ ان کے پروگرام کو جتنی مرتبہ بھی دیکھتا طبیعت کو سیری حاصل نہیں ہوتی اور بے چین طبیعت کی تسکین کے لیے اکثر یوٹیوب پر ٹام کے دیگر کلپس کا سہارا لیتا۔
ٹام آلٹر سے میری یہ محبت شاید فن کی روح تک اتر جانے والے ان کے انفرادی جذبے کے علاوہ ان کی اردو دوستی کی وجہ سے بھی تھی۔ میرے لئے آج بھی اس منظر کو بھولنا بہت مشکل ہے، جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کھچا کھچ بھرے انصاری آڈیٹوریم میں دو اداکار مولانا ابوالکلام آزاد اور ہمایوں کبیر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ بےاندازہ سکوت اور مدھم روشنی میں ڈراما جاری تھا۔
مولانا آزاد کے بہروپ میں شیروانی زیب تن کیے، لاٹھی ٹیکتے، نحیف مگر با رعب انداز میں ٹام آلٹر اسٹیج پر نمودار ہوئے تھے۔ اور اسی وقت سارا آڈیٹوریم تالیوں کی گونج کے ساتھ جاگ اٹھا تھا۔ دوسری طرف ایک ہیولا ہمایوں کبیر کے کردار میں محرر کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ مولانا آزاد کی زبان کھلی ہے اور پورا ماحول مہر بہ لب ہو گیا۔ مولانا آزاد اپنے مخصوص انداز میں "انڈیا ونز فریڈم" کا املا لکھوا رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے اردوئے مبین میں کسی الہامی کتاب کا نزول ہو رہا ہو۔
جامعہ کے وہ شرارتی لڑکے جو کسی کو اسٹیج پر زیادہ وقت ٹکنے نہ دیتے اور جن کی ہوٹنگ اچھے اچھوں کی بولتی بند کر دیتی ہے ، حیرت انگیز طور پر ہمہ تن گوش ہو کے قائد ملت کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینوں میں جذب کر رہے تھے۔ مولانا آزاد کے بہروپ میں ٹام آلٹر کی زبان سے کبھی بجلی کڑکتی دکھائی دیتی، کبھی ماحول پر غم کے بادل چھا جاتے، کہیں دلوں کو ان کی مسکراہٹ گدگداتی ، تو کبھی اچانک ساری فضا قہقہوں سے لالہ زار ہو جاتی۔ کہیں اپنوں کی نارسائیوں کا قصہ شروع ہوتا، تو کبھی غیروں کی دھوکے بازی اور دغا بازی کی المناک داستان سن کے آنکھیں ڈبڈبا جاتیں۔
علم و ادب کی شکل میں انوار رحمت برستی تو کبھی فصاحت و بلاغت کا غلغلہ بلند ہو جاتا۔ تاریخ کے جھروکے وا ہوتے، تو کہیں چوٹ، درد، کسک کی صرصر عصیاں جیسا معلوم ہوتا۔ اس لمحے ایسا لگ رہا تھا، جیسے سچ مچ ٹام آلٹر کی صورت میں مولانا ابوالکلام آزاد فلک سے زمین پر اتر آئے ہیں اور ایک مرتبہ پھر سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ مولانا آزاد کو گزرے برسوں بیت گئے، اب ٹام آلٹر بھی آنجہانی ہوئے۔
ٹام آلٹر! آپ کے ذریعے ادا کئے گئے غالب کے اس کردار کو کیسے فراموش کیا جائے جب اٹھارہ سو ستاون کے غدر کا خوں آشام ماحول ہو اور آپ اس بے کسی ، بے بسی ، روتی بلکتی ، بین کرتی جنگ کی داستان سنا رہے ہیں۔ جن لوگوں نے اٹھارہ سو ستاون کی تاریخ نہیں پڑھی تھی ، انھیں آپ نے اپنی اداکاری کے ذریعہ اس عہد کی داستان گوش گذار کرائی، وہ بھی مرزا غالب کی زبان میں ۔ جب آپ مرزا غالب کا کردار ادا کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے واقعی درد، کرب ، کسک اور زمانے بھر کا دکھ لیے ہوئے مرزا اسد اللہ اس زمین پر اتر آئے ہوں ۔
ہم نے تو غالب کو محض کتابوں میں پڑھا تھا ، بزرگوں اور اساتذہ سے ان کے قصے سنے تھے ، ان قصوں میں زیادہ تر ان کی شراب نوشی ، عشق و عاشقی اور شعر گوئی کی باتیں بیان ہوتی تھیں لیکن جب غالب کے روپ میں اسٹیج پر ٹام آتے تو محسوس ہوتا جیسے دلی کی پوری تہذیب غالب کے ساتھ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ واپس لوٹ آئی ہے ۔ یہ ٹام کا اپنا انداز تھا ، ان کا اپنا اسٹائل تھا، وہ روح تک پہنچ جاتے تھے ۔ دلوں کو چھو لیتے تھے ۔
ٹام آلٹر کے ذریعے نباہے گئے مغل سلطنت کے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر کے روپ کو کون فراموش کر سکتا ہے؟ جب انگریز ایک بوڑھے بادشاہ کو سزا دینے کی خاطر رنگون جیسی بے کیف جگہ قید کر کے رکھ چھوڑتے ہیں، ان کے دونوں بیٹوں کے سر کاٹ کر ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، پورے ہندوستان کو اس معزول بادشاہ کے سامنے یوں لوٹا اور تباہ کیا جاتا ہے جیسے کسی بچے کے سامنے اس کی ماں کی آبرو تار تار کی جاتی ہو، تب بادشاہ ایسے دشمنوں کی تکا بوٹی کر دینا چاہتا ہو مگر کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے۔
اور صدیوں بعد جب ہندوستان کی بساط بدل چکی ہے، ہندوستان تین ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے، اتنے برسوں میں نجانے کتنی جانوں کا اتلاف ہو چکا ہے، ایسے ماحول میں ماضی کی داستان سننے کے لیے ایک لڑکا پھٹی پرانی جینز پہنے بہادر شاہ ظفر کے پاس پہنچتا ہے۔ اور ٹام آلٹر بہادر شاہ ظفر کا کردار ادا کرتے ہوئے اس ہندوستان کی کہانی اسے سناتے ہیں، جس میں شیر اور بکری ایک ساتھ پانی پیتے تھے۔ لیکن عیار اذہان کو یہ رویہ اچھا نہیں لگتا اور وہ توڑ پھوڑ کے ذریعے اس پورے تہذیبی نظام کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔
بہادر شاہ ظفر، بدلے حالات، نوجوان کے تلفظ اور تذکیر و تانیث سے ناآشنا ہندی زبان سن کر ششدر رہ جاتے ہیں، لیکن اس کی دل چسپی دیکھ کر کہانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ صدیاں الٹی جاتی ہیں۔ تہذیبوں، روایتوں اور حقیقتوں کا تصادم ہوتا ہے، اکیسویں صدی میں لوگ وہ زبان سن رہے ہوتے ہیں جو قلعہ معلی میں بولی جاتی تھی، لیکن یہ قلعہ معلی زیادہ دیر نہیں سجتا، چراغ گل کر دیے جاتے ہیں، بہادر شاہ ظفر کہانی سناتے سناتے ابدی نیند سو جاتے ہیں، لڑکا بہت جگاتا ہے مگر وہ نہیں جاگتے اور پردہ گر جاتا ہے۔
ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمیں اپنے پرکھوں کی یاد دلانے والا آپ جیسا زندہ اداکار جو ہماری تاریخ سے خود ہم کو رُوشناس کرا رہا تھا، کہانی کہتے کہتے یوں سو جائے گا اور پردہ گر جائے گا۔
حق ہے کہ وہ پردے کے اس پار سے اب کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ سچ کہا ہے کسی کہنے والے نے کہ جانے والے تو چلے جاتے ہیں، صرف ان کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ سو اب صرف آپ کی یادیں ہی باقی ہیں۔
ٹام آلٹر! ہماری تہذیب اور تاریخ کی باقیات کی شکل میں آپ دیر تلک یاد رکھے جائیں گے۔ آپ کی فصیح لسان، شستہ لہجہ اور دل کش اندازِ بیاں۔ آپ کے چاہنے والے جو آپ کے فن کے رسیا ہیں، انھیں لگتا ہے کہ نیلی آنکھوں والا ٹام آلٹر مرا نہیں، ہنوز اداکاری میں مصروف بہ کار ہے۔ کاش ایسا ہوتا، مگر ایسا نہیں ہے۔
نہیں! اب ٹام نہیں آئیں گے، داستایں سنانے والی ان کی متحرک نیلی آنکھیں اب ساکت ہو گئی ہیں، اور یہی سچ ہے۔
مگر ذرا سننا! آپ جس دیس گئے ہیں وہاں غالب ، ظفر اور آزاد سے ضرور ملنا۔ اور غالب سے کہنا کہ جس دیس کی اٹھارہ سو ستاون میں ہوئی جنگ کی آپ نے داستان لکھی تھی اب وہاں روزانہ اٹھارہ سو ستاون کی غدر دہرائی جاتی ہے ۔ چچا غالب کو بتا دیجیے کہ دلی سے لاہور ، کلکتہ اور ڈھاکہ تک جس دیس میں خطوط لکھ لکھ کر یاری گانٹھا کرتے تھے اب وہ تین حصوں میں بٹ چکا ہے اور تینوں جانب بہت اونچی دیوارِ چین کی طرح باڑھ لگا دی گئی ہے۔ تینوں جگہ روزانہ جنگ ہوتی ہے۔
مگر بدقسمتی سے اب کوئی تاریخ نہیں لکھتا کیونکہ بصیرت رکھنے والے قلم کار ہی نہیں ہیں۔ آپ جسے ابلاغ کہتے تھے اب ابلاغ کے ذرائع کی فراوانی ہو گئی ہے ، مگر وہ سب چند گھرانوں کے بکے ہوئے مخصوص کھلونے ہیں۔اب آپ کے زمانے کی طرح وہاں قلم، دوات اور روشنائی کا چلن نہیں ہے۔ اب لوگ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ ، ٹیب اور موبائل میں لکھتے ہیں، جس میں قلم ، دوات اور پنسل کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔فارسی اب صرف ایران تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، آپ کا فارسی کلام تو دور کی بات، اردو کو ہی سمجھنے والے بہت محدود رہ گئے ہیں۔ اب وہاں آپ کی طرح نہ تو کوئی خطوط لکھتا ہے اور نہ ہی بغاوت اور حالات کی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ اگر کوئی جانباز کچھ کوشش بھی کرتا ہے تو اس کی انگلیاں کاٹ لی جاتی ہیں، سر قلم کر دیا جاتا ہے۔
آزاد سے بھی آپ ملیے گا اور انہیں ضرور بتا دیجیے کہ ان کا اب نام و نشان تک وہاں باقی نہیں ہے بلکہ جو کچھ بچا ہے اسے بھی مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس فاشزم اور ملک دشمن عناصر سے وہ زندگی بھر لڑتے رہے تھے اب انہی قوتوں نے وہاں ڈیرا جما لیا ہے جو روزانہ ملک کے جسم و جاں کی توہین بالجبر کر رہے ہیں ۔ ان کو ضرور بتانا کہ جس اردو کی وہ زندگی بھر دہائی دیتے رہے اور جس زبان میں انہوں نے آزادی کا صور پھونکا تھا اسے دیش نکالا جا چکا ہے ۔ ان کے جانے کے بعد جامع مسجد دہلی کے بغل میں ان کا مقبرہ بنایا گیا تھا ، جہاں اردو میں ان کا نام بھی غلط لکھا گیا، شاید اسی وجہ سے ہندوستان کے بچارے کتوں کو بھی نہیں پتہ کہ وہ جہاں لڑتے ، جھگڑتے اور غراتے ہیں وہاں دراصل سویا ہوا کون ہے؟ وہ تو مقبرے میں گھس کر بول و بزار بھی کر جاتے ہیں لیکن انھیں کوئی نہیں بھگاتا۔
اور ہاں ٹام ! آپ کو اللہ کا واسطہ، بہادر شاہ ظفر کو کچھ بھی مت بتانا ورنہ وہ دکھیارا انسان ایک مرتبہ پھر جیتے جی مر جائے گا۔ اب تک وہ اپنے دکھ کی داستان کو شاید بھول چکے ہوں گے، لہذا آپ خدارا ادھر سے گذرنا بھی مت کہ ان کی نظر کہیں آپ پر نہ پڑ جائے ۔
اور اگر ان سے ملاقات کے لئے آپ کا دل اتنا ہی بےچین ہو جائے تو ازراہ کرم کنی کاٹنے کی کوشش کیجیے گا ، مگر مجھے پتہ ہے آپ سے ایسا ہوگا نہیں اور آپ ان سے بہرصورت مل بیٹھیں گے ۔ ٹھیک ہے مل لیجیے گا مگر للہ شکوہ شکایت مت کیجیے ، ہندوستان کے موجودہ حالات کے بارے انہیں کچھ مت بتائیے گا۔ اگر وہ کرید کرید کر کچھ پوچھیں بھی تو انہیں صرف ویسی ہی اچھی اچھی باتیں بتائیں جیسے ہمارے عزت مآب وزیراعظم صاحب اپنے عوام کو بتاتے ہیں۔
انھیں بتائیے کہ وہاں بہت خوشحالی ہے ، ان کے جانے کے بعد انگریزوں نے ہندوستان چھوڑ دیا، پھر ان میں سے تین بھائیوں نے اپنے اپنے خوبصورت محل تعمیر کرا ئے ، تینوں کے بہت اچھے آپسی تعلقات ہیں، وہ بہت ہنسی خوشی رہتے ہیں ، تینوں جگہ خوب خوب ترقی ہوئی ہے ، ہر جگہ امن اور سکون کا ماحول ہے۔ اب انگریزوں کے زمانے جیسا انارکی اور بد امنی کا ماحول نہیں ہے ۔ اب آپ کے زمانے کی طرح ٹم ٹم اور بگھی نہیں چلتی ، کہار ڈولی نہیں ڈھوتے ،گھوڑے اور ہاتھیوں کو زحمت نہیں دی جاتی اب ہر جگہ سکون ہی سکون ہے ، اب تینوں جگہ ہوائی جہاز ، بلٹ ٹرین اور میٹرو دوڑ رہی ہیں ۔
اور ہاں انھیں یہ بھی بتا دیجیے کہ ابھی کچھ دن قبل ہمارے عزت مآب وزیر اعظم صاحب نے رنگون کا دورہ کیا تھا ، جہاں آپ کا مزار ہے، وہاں انھوں نے مزار پر پھول چڑھائے اور آپ کو بہت یاد کیا۔ وہاں آپ کو سب بہت یاد کرتے ہیں۔
***
alamislahi[@]gmail.com
موبائل : 09911701772
E-26, AbulFazal, Jamia Nagar, Okhla , New Delhi -110025پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

سرحد پار سے ایک طالب علم اس دیس میں آیا ہے

محمد علم اللہ کبھی ڈائری لکھی جاتی تھی، گزرے ایام کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی، سائبر ورلڈ نے روزنامچے محفوظ کرنا شروع کیے تو گاہے بگاہے گزرے دنوں کی جھلک سامنے آتی رہتی ہے۔ فیس بک نے یاد دلایا کہ استاد من ظفر عمران سے دوستی کیے ایک سال ہو گیا۔ یہ دوستی کیسے ہوئی اس کے پیچھے ایک داستان ہے۔ ذکر ان دنوں کا ہے، جب میں ای ٹی وی اردو میں کام کرتا تھا اور میری نائٹ ڈیوٹی تھی۔ رات کو کام کم ہوتا ہے تو وقت گذارنا بھی پہاڑ کاٹنے جیسا لگتا ہے۔ وقت گذاری کے لیے کبھی فلمیں، ٹی وی سیریلز وغیرہ دیکھتا یا انٹرنیٹ کی خاک چھانتا۔ ایک دن یو ٹیوب پر ایک فلم دیکھ رہا تھا، کوئی ٹیلی فلم تھی اس وقت نام یاد نہیں آ رہا ہے۔ اس میں اسکرپٹ رائٹر کا نام ظفر عمران لکھا تھا، فلم مجھے بہت اچھی لگی، اس کے مکالمات، زبان، بیان، کہانی کا اسٹائل سب کچھ اچھا تھا۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب میں کوئی اچھی چیز دیکھتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو اس کے خالق سے ملنے کو دل بے قرار ہو جاتا ہے۔ کسی فنکار کی کوئی اچھی چیز دیکھی تو اس کی انگلیاں چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ جامعہ میں بھی اسی وجہ سے مالی، بڑھئی آرٹسٹ سبھی سے دوستی ہو گئی ہے۔ میں حتی الامکان فنکار کو کم از کم ہمت افزائی کے دو کلمات ہی کہہ دوں، اس بات کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ مذکورہ فلم کو دیکھنے کے بعد یہ تجسس پیدا ہوا کہ اس شخص سے ملاقات کی جائے۔ آخر یہ کون ہے اور کیسے اتنا اچھا لکھتا ہے۔چھان بین شروع کی، آنٹی گوگل سے فریاد کی، ڈارلنگ فیس بک کو زحمت دی، تو معلوم ہوا کہ جس شخص کو ہم اپنا عزیز بنائے ہوئے ہیں وہ تو ’دشمن ملک‘ یعنی پاکستان کا ہے، ہم پڑوسی ملک کے بارے میں اپنے طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں، کہ وہاں کے سب لوگ برے ہی ہوں گے، اسٹیریو ٹائپ کے طور پر جب سر حد کے اس پار کی بات آتی ہے تو کسی سے ملنا توبہت دور کی بات رہی، مبارکباد دینے پر بھی شک کے دائرے میں نہ آ جائیں اس کا ڈر لگا رہتا ہے۔ پھر ہم بظاہر جس کو فیس بک میں دیکھ رہے ہیں یہ وہی ہے یا کوئی دوسرا ان کے نام سے چلا رہا ہے، اس کی تصدیق کرنا بھی مشکل کام ہوتا ہے۔بسیار تلاش کے بعد مجھے کہیں سے ظفر عمران صاحب کی ای میل آئی ڈی حاصل کرنے میں کامیابی ہوگئی، اور میں نے ڈرتے ڈرتے اس آئی ڈی پر فلم کو لے کر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کچھ ناقدانہ کمنٹس بھی اس میں ڈال دیے۔ دوسرے دن خوشگوار حیرت کی انتہا نہیں تھی کہ فنکار نے مجھے جواب لکھا تھا اور میری معروضات پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے، یقیناً یہ بھی ایک معرکہ ہی تھا، جس پر خوش ہونا میرا حق بنتا تھا۔ میں نے ان کو فورا جواب لکھا اور یوں یہ میل ایک خوبصورت منزل کا رستہ ثابت ہوا۔ یہ آدھی ملاقات ہماری پوری ملاقات بن گئی۔ اس درمیان ہماری کبھی نہ ویڈیو کالنگ ہوئی اور نہ آڈیو لنک لیکن شاید ہی ایسا کوئی دن گزرا ہوگا جب کسی نا کسی موضوع پر ہمارے اور عمران صاحب کے درمیان تبادلہ خیال نہ ہوا ہو۔ اس درمیان ایک مشفق مہربان مربی استاد کی طرح وہ مجھے کسی اچھے مضمون یا فلم کا لنک بھیجتے اور میں اس کو پڑھنے اور دیکھنے میں منہمک ہو جاتا۔اس درمیان ظفر عمران صاحب نے لکھنے پڑھنے کی جانب جہاں میری رہنمائی کی وہیں اپنی کئی فلموں اور سیریلز کی نشاندہی کی جسے میں نے دیکھا اور اس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ عموما ً دیکھا یہ گیا ہے کہ فلم انڈسٹری یا اس قسم کے پیشے سے وابستہ افراد خود کو بہت بڑا سمجھتے ہیں، ان میں رعونت بہت ہوتی ہے، وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ہیں اور خاص کر اگر وہ تخلیق کار ہے تو اس کی انا کا پندار بہت جلد ٹوٹتا ہے، لیکن میں نے دیکھا کہ ظفر عمران صاحب کے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ بلکہ ان کی تحریروں میں جس طرح سے خوش مذاقی، خوش مزاجی، خوش سلیقگی، خوش خلقی، خوش نستعلیقی جھلکتی ہے۔ ان کی طبیعت میں بھی وہ چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ نفسیات کا ذرا بھی علم رکھنے والا شخص کسی کی بھی تحریر پڑھ کر اندازہ لگاسکتا ہے، کہ وہ شخص کس قسم کا ہوگا۔ میں یہاں پر ٖظفرعمران کی تحریروں کا نفسیاتی جائزہ لینے نہیں بیٹھا ہوں، لیکن ان کی تحریر پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نستعلیق اور نفیس انسان ہیں سلیقہ مندی ان کی طبیعت کا حصہ ہے اور مجھے ان کے یہ اطوار بہت پسند ہیں، میں بھی ایسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر ایسا ہو کہاں پاتا ہے۔جب ہماری ظفر عمران صاحب سے شناسائی ہوئی تو انھی دنوں ہمارے ای ٹی وی کے کچھ احباب نے ایک مختصر فلم بنانے کا منصوبہ بنایا اور اسکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری میرے سپرد کر دی۔ اس سے قبل گرچہ میں’ریتو مہرا‘ اور’اجئے شاہ‘ کے ساتھ ’دوردرشن‘ کے سیریلز میں ’کو رائٹر‘ کے طور پر کام کر چکا تھا، لیکن پھر بھی اسکرپٹ رائٹنگ کو لے کر پس و پیش کی کیفیت میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایک آئیڈیل اسکرپٹ کیسا ہوتا ہوگا۔ ریتو مہرا کے ساتھ تو خوبی یہ تھی کہ وہ سڑیل سے سڑیل اسکرپٹ کو بھی اپنے جاندار انداز میں شوٹ کر کے کامیاب بنا لیتی تھی، مگر یہاں مسئلہ اپنی اہمیت کو ثابت کرانا تھا۔ میں نے لکھنے سے قبل ظفر عمران صاحب سے مشورہ چاہا اور ان سے کچھ نمونے کے اسکرپٹ مانگے تو انھوں نے ایک دو نہیں درجنوں اسکرپٹ بھیج دیے، ساتھ میں فلموں اور سیر یلز کی بھی نشاندہی کر دی، ان کا یہ رویہ مجھے بہت بھایا۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ محض ایک ای میل ہم دونوں کے درمیان اس قدر قربت کا باعث بنے گا، میں نے ظفر عمران صاحب کو ایک چھوٹا سا اسکرپٹ لکھ کر بھیجا، جسے انھوں نے خاصا پسند کیا اور زبان و بیان کی اصلاح کرکے مجھے واپس بھیج دیا، یہ الگ بات ہے کہ اسے شوٹ کرنے کی ابھی تک نوبت نہیں آئی، لیکن ان کی ہمت افزائی اور سراہنے نے مجھے کافی حوصلہ دیا۔ اس محبت میرے اندر بھی ہمت آئی اور اس کے بعد ہم دونوں کی اس فلم، ٹیلی ویژن اور صحافت پر خوب باتیں ہونے لگیں، وہ مجھے دنیا جہان کی فلمیں بتاتے، میں اسے دیکھتا اور ان سے اس پر دیر گئے رات تک گفتگو کرتا۔ یہ گفتگو رات کے بارہ ایک بجے سے شروع ہو کر کبھی کبھی صبح کے چھہ بجے تک جاری رہتی۔ میں ایشیاء کے ایک بڑے ادارے سے دو سالہ باضابطہ فلم اور جرنلزم کا کورس کرنے کے دوران اساتذہ سے جو سوال نہیں کر سکا تھا، وہ سب موصوف سے پوچھتا۔ پھر جس سمے انسان کلاس میں کوئی چیز پڑھ رہا ہوتا ہے، اس وقت یہ ضروری نہیں کہ ساری چیزیں سمجھ میں بھی آجائیں، میری نا سمجھی ہوئی باتوں کا روز ایک پٹارا ہوتا، جسے میں کھولتا جاتا اور ظفر عمران صاحب ایک اچھے اور مخلص استاد کی طرح اس کو حل کرتے جاتے۔ مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ان سے اس درمیان میں نے بہت کچھ سیکھا، خصوصاً فلم اور تیکنیک کے حوالے سے۔ ان سے جو کچھ بھی باتیں ہوئیں وہ میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں۔اسی دوران انھوں نے مجھے آن لائن ویب پورٹل ”ہم سب“ پر لکھنے کے لئے مجبور کیا۔ میرے جھجھکنے پر بار بار مجھے لکھنے کے لیے اکساتے، کچوکے لگاتے، سمجھاتے بجھاتے۔ اس طرح انھوں نے ”ہم سب“ پر ایک مضمون ’بدلتے ہندوستان میں کتابوں کی واپسی ‘کے عنوان سے لکھوانے میں کامیابی حاصل کر ہی لی، اس مضمون پر انھوں نے اصلاح دی۔ نوک پلک سنواری اور ”ہم سب“ پر وہ شائع ہو گیا۔ ”ہم سب“ پر اس مضمون کا چھپنا تھا کہ اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ ہندی اور انگریزی میں اس کے ترجمے شائع ہوئے۔ پہلی مرتبہ میرے کسی مضمون کا ترجمہ بغیر میری کوشش کے شائع ہوا تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی اور پھر مضمون کا معاوضہ نہ ملنے اور اردو میں لکھ کر پذیرائی کی کمی کا جو شکوہ تھا دور ہو گیا۔ پھر وہ برابر مجھ سے مضمون کا تقاضہ کرنے لگے۔یہی نہیں اچھا مضمون کیسے لکھیں، خیالات کو کیسے قلم بند کریں، پیراگرافنگ کیسے کی جاتی ہے، رموز و اوقاف، لسان و قوائد کا کتنا خیال رکھنا چاہیے۔ کیا لکھنا اور کیا نہ لکھنا، ان سب باتوں کی انھوں نے مجھے باریکیاں بتائیں۔ میں فیس بُک پر کچھ پوسٹ کرتا، اس میں کوئی غلطی ہوتی تو وہ اس کی نشاندہی کرتے اور ان غلطیوں پر قابو پانے کے طریقے بتاتے۔ جس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ انھوں نے ”ہم سب“ پر میرے بلاگ کا پیج بنوایا، میرا تعارف لکھا اور قلم کو مزید رواں اور صیقل کرنے کے لیے برابر ابھارتے رہے۔ ان کے ذریعے ”ہم سب“ کی ٹیم میں شامل عدنان خان کاکڑ، وصی بابا اور نام نامی وجاہت مسعود جیسے معتبر صحافی سے متعارف ہونے اور ان کو پڑھنے کا موقع ملا اور تب اپنی اوقات بھی سمجھ میں آئی۔جب بھی کوئی مضمون شائع ہوتا تو کوئی نا کوئی کچھ نا کچھ مشورہ ضرور دیتا، جس کو میں اپنے اگلے مضمون میں برتنے کی کوشش کرتا۔ میرے استاد ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب کہا کرتے ہیں، ”لکھنے سے لکھنا آئے گا، بولنے سے بولنا اور پڑھنے سے پڑھنا، جو کام پسند ہو تو دیکھو کہ لوگ اس کو کیسے برتتے ہیں۔ “ اور معروف کمپنی ایپل کے سی او کا قول ہے ”انسان کو ہمیشہ بھوکا اور بے وقوف بن کے رہنا چاہیے کہ اس سے اسے سیکھنے کو ملتا ہے۔ “ تو میں ہمیشہ اس کی کوشش کرتا ہوں۔ آ ج کے اس مادہ پرستانہ دور میں جبکہ ہر چیز کو لوگ مادیت سے ناپتے ہیں، ایسے مخلص لوگوں کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ انسان بہتوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے، میں نے اپنے قلمی زندگی میں جن لوگوں سے سیکھا ہے، ان میں ظفر عمران صاحب کے علاوہ ناموں کی ایک طویل اور لمبی فہرست ہے۔ ان میں بچے سے لے کر جوان، بوڑھے اور ادھیڑ سبھی شامل ہیں۔ میں انشاء اللہ وقتا فوقتا ان شخصیات پر لکھنے کی کوشش کروں گا، جن سے میں کسی طور متاثر ہوا اور کچھ سیکھا۔ میں فیس بک کے بانی مارک ذکر برگ کا بھی شکر گذار ہوں کہ اس کی بنائی ہوئی فیس بک کی بدولت ہم ایسے مخلص اہل علم و ادب اور اپنی پسندیدہ شخصیتوں مکمل نہ سہی نصف ہی مل تو پاتے ہیں۔کہتے ہیں آرٹسٹ کی کوئی سرحد یا حد بندی نہیں ہوتی ہے، وہ انسانیت کے لئے جیتے اور انسانت کے لیے مرتے ہیں۔ سرحد کے اس پار اور سر حد کے اس پار بھی دونوں جانب ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان امن چاہتے ہیں محبت چاہتے ہیں۔۔ ظفر عمران صاحب سے کتنی ہی مرتبہ اس موضوع پر گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے دونوں ملکوں کے مابین خلیج، دراڑ اور نفرت پر افسوس کا اظہار کیا ہے. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسے افراد کو لے کر آگے بڑھیں اور دونوں جانب امن، اخوت، محبت کے پھول اگائیں تاکہ آئندہ آنے والی ہماری نسلوں کو ایک ایسا خطہ ملے، جس میں بم، بارود کی بو، توپ، میزائل اور ٹینکوں کی گھن گرج نہیں بلکہ الفت، محبت اور رحمت کے نغمے سننے کو ملے جہاں خوشحالی، بھائی چارگی اور ہمدردی کے نقوش ملیں۔24/09/2017پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

رویش جی! آپ کو کیا چیز ڈراتی ہے؟


بٹلا ہاوس اِنکاونٹر کے پس منظر میں ’شبلی‘ تم تو واقف تھے؟
نوٹ : اس مضمون کا مرکزی خیال میرے عزیز دوست فہیم خان(فلم ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر) کے فیس بُک وال سے اخذ کیا گیا ہے، فہیم بھائی کا درد میرا درد ہےاور یہ مضمون اسی کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔
محمد علم اللہ ، نئی دہلی ان دِنوں رویش کمار (پیدائش 5 دسمبر 1974ء ) مشرقی چمپارن بہار سے تعلق رکھنے والے این ڈی ٹی وی سے وابستہ معروف صحافی اور ٹی وی اینکر کو دھمکی دی جا رہی ہے، کہ وہ سیکولرازم کی بقا، اقلیتوں اور پچھڑے طبقات، جن کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا، کی آواز اٹھاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رویش کمار فی زمانہ ایک حق گو اور بے باک صحافی کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے بہتوں کو ان سے امیدیں بھی ہیں کہ ایک ایسے دور میں، جب ایک خاص ذہنیت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، رویش جیسے لوگ اندھیرے میں امید کا چراغ جلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انسان بہرحال انسان ہوتا ہے اور خواہ کتنا ہی جرات مند اور بے باک ہو اس کے اپنے مفادات اور اپنی مصلحتیں ہو تی ہیں۔ ہم اس پر بات نہیں کریں گے تاہم ان دنوں پورے ملک میں ایک خاص قسم کے خوف اور دہشت کی نفسیات کو ہوا دی جا رہی ہے اور رویش بھی تقریبا ہر تقریر میں اس کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ ملک میں ایسا ماحول ہے جس نے ہر باشعور شہری کو متفکر کر دیا ہے۔ یہاں بات کسی فرد واحد یا کسی ایک قوم کے تحفظ کی نہیں، بلکہ ملک کی سالمیت اور جمہوریت کے تحفظ کی ہے۔ اس لیے ہم آج اسی پر گفتگو کریں گے، اور ہمارے مخاطب براہ راست رویش جی ہوں گے۔رویش کمار جی! آج آپ خوف کی جس لہر کی بات کر رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ خود آپ کو خوف زدہ کرتی بھی ہے یا نہیں؛ لیکن زیادہ دور نہیں بس یہی آٹھ نو سال پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ اس وقت آپ نے خوف کی اس لہر کو ہمارے سینوں میں اتارنے کا کام کیا تھا۔ اور تب ہم سچ میں ڈر گئے تھے۔ کہتے ہیں خوف ایک خطرناک بیماری ہے جو انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ وہ انسان کی نفسیات پر طویل عرصے تک غالب رہتی ہے اور یہ بات شخصیت کے ارتقا کے لیے سم قاتل سے کم نہیں ہے۔ بات اس دن کی ہے جب ہمارے علاقے (بٹلا ہاوس) میں19 ستمبر 2008ء کو مبینہ طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو طالب علموں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک ”انکاونٹر“ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس دن ایک ریلی نکالی تھی۔ ان دنوں ہم ایک اخبار کے لیے خبر فراہم کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ دن بھر ہم اپنے دوستوں کے ساتھ انکاونٹر والی جگہ پر خبروں کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے۔ شام تک ہم نے اپنے آفس کو خبریں فائل کر دی تھیں۔ رات کو ٹیلی ویژن پر کیا آتا ہے، اس کا انتظار تھا۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت جب انسپکٹر موہن چند شرما (پیدائش 23 ستمبر 1965ء وفات 19 ستمبر 2008ء، ایک متنازع پولیس انسپکٹر جو مشتبہ طور پر بٹلہ ہاوس انکاونٹر کے دوران ہلاک ہوا اور جسے بعد میں حکومت نے اشوک چکر سے نوازا) کے مرنے کی خبر آئی تو ٹی وی اسٹوڈیو میں نام نہاد حب الوطنی کا رنگ ظاہر ہونے لگا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آج کل ظاہر ہورہا ہے۔ ہم نے سوچا کہ این ڈی ٹی وی بہت سنجیدہ چینل ہے، دیکھتے ہیں یہ کیا دکھاتا ہے۔ رویش جی آپ بھی اسٹوڈیو میں بیٹھے تھے، ویسے ہی کوٹ پینٹ پہنے ہوئے، پرائم ٹائم سلاٹ پر، جیسا کہ ارنب گوسوامی (9 اکتوبر 1973ء کو گوہاٹی میں پیدا ہونے والے، چیخنے چلانے اور نام نہاد وطنیت کا گن گانے والا صحافی) بیٹھا رہتا ہے۔ آپ ارنب کی طرح چیختے چلاتے نہیں۔ یہ فرق اس دن بھی تھا۔ آپ آپے سے باہر نہیں تھے، سنجیدہ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ یہ آپ کا انداز ہے، لیکن اس دن آپ کی سنجیدگی پر ”حب الوطنی“ کا پر تو صاف جھلک رہا تھا۔ ”انا الحق“ والے منصور کو سب پتھر مار رہے تھے، بڑے بڑے پتھر۔ منصور مسکرا رہا تھا، مگر جب منصور کے دوست شبلی نے بھی ایک پھول سے منصور کو مارا تو منصور درد سے چیخ اٹھا۔ شبلی تم بھی؟! لوگوں نے پوچھا: جب سب مار رہے تھے تو تم مسکرا رہے تھے، شبلی نے تو پھول سے مارا؟ منصور نے کہا کہ وہ لوگ جانتے نہیں کہ وہ معذور ہیں مگر شبلی جانتے ہیں، اس لیے ان کا پھول مجھ پر گراں گزرا۔ اس کے بعد منصور کے ہاتھ، پاؤں کاٹ دیے گئے اور آنکھیں نکال دی گئیں (ٹھیک اسی طرح جیسے آج کل بعض خاص طبقات کے ساتھ ہورہا ہے) رویش آپ بھی۔۔۔؟ہاں! ہاں! اس دن، دِبانگ (بھگوا چولا کے پرستار ہندی نیوز چینل اے بی پی سے وابستہ صحافی، جو روزانہ پرائم ٹائم اور ہفتہ واری پریس کانفرنس شو کی میزبانی کرتے ہیں) کے ساتھ اسٹوڈیو میں بیٹھے آپ بھی بٹلہ ہاوس انکاونٹر پر بحث کر رہے تھے اور گراؤنڈ زیرو سے رپورٹنگ کرنے والی عارفہ خان شیروانی کا لائیو پروگرام جاری تھا تو رپورٹنگ کو درمیان ہی کاٹ کر آپ نے ایک جملہ کسا تھا۔ وہ طعنہ ارنب کے پتھر نہیں بلکہ شبلی کے پھول تھے جس نے ہمیں زخمی کر دیا تھا۔ اس دن ہم چوٹ سے بلبلا اٹھے تھے۔ آپ نے تو محض ایک طعنہ دیا تھا جو صرف عاطف اور ساجد پر نہیں تھا بلکہ پوری کمیونٹی پر تھا، ایک پورے علاقے پر تھا، اور اس دن کی رپورٹنگ کی وجہ سے عارفہ کو آپ کا چینک چھوڑنا پڑا تھا۔کیا یہ آپ کی مجبوری تھی؟ شاید نہیں! لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ جب مسلمانوں کی بات آتی ہے توآپ اور آپ ایسے بہتوں کے رویے ان کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ اچھے اچھے لوگ ایسے مواقع پر پھسل جاتے ہیں، بہک جاتے ہیں؛ ان کے قدم لڑ کھڑا جاتے ہیں اورجام ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ ذہین، سمجھ دار اور سیکولر افراد بھی اس مفروضے اور رویے کو کنارے نہیں رکھ پاتے، جس میں ہم انھیں ماضی میں ’حملہ آور‘ اور حال میں ’دہشت گرد‘ نظر آتے ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ اپنے ضمیر کی سنتے ہیں، لیکن جب پورا ہجوم پتھر مار رہا ہوتا ہے، تو آپ بھی انھی میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی پتھر مارنا شبلی کی مجبوری بن جاتی ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آخر ایسی مجبوری کہاں سے آتی ہے؟ کیا اس مجبوری کی بنیاد خوف ہے؟ کیا اس دن آپ سچ مچ ڈر گئے تھے؟ مجھے نہیں لگتا کہ اس دن آپ ڈرگئے تھے۔ آپ تو چوتھے ستون کی طرح مضبوط نظر آ رہے تھے، اپنے کندھے پر حکومت کی چھت لیے۔ آپ شہید گنیش شنکر ودیارتھی (پیدائش 26 اکتوبر 1890ء وفات 25 مارچ 1931ء، کانپور۔ ہندی صحافت کے ستون جو کانپور فسادات کے دوران انگریزوں کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے) کے صحافت کے اصولوں کو فراموش کرکے انسپکٹر موہن چندرا شرما کے وکیل دکھائی دے رہے تھے۔ آپ جذبات میں بہہ گئے تھے۔ جذباتی ہونا غلط بات نہیں ہے، یہ اچھی بات ہے۔ ملک کے ہرباشندے کو اپنے وطن کے تئیں جذباتی ہونا ہی چاہیے۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ایک صحافی کو بھی محب وطن اور اس کی محبت میں جذباتی رویہ اپنانا چاہیے۔ یہ قابل تعریف ہے۔ مگر جو لوگ آج آپ کی حب الوطنی کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، ان کی نظروں میں ہماری ’دیش بھکتی‘ ہمیشہ سے مشکوک رہی ہے۔ انھوں نے اسی شک کی بنیاد پر ہمارا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ کئی مرتبہ آپ بھی ہمارے خلاف اس شک میں ان کے ہم جولی اور ہم نوا دکھائی دیئے اور بٹلہ ہاوس انکاونٹر والے دن بھی آپ ان کے ساتھ تھے۔ جس بے لگام بھیڑ کو لے کر آپ آج بے چین ہو رہے ہیں، اس دن اسی بھیڑ کے ساتھ آپ بھی تھے۔آپ من موہن سنگھ سے تو وہ سوالات کر لیتے ہیں، جس کی مثال اب آپ اپنی وضاحتوں میں بھگتوں کو دیتے ہیں، مگر وہ سوالات جو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر اٹھائے گئے تھے یا اٹھائے گئے ہیں، ان میں آپ من موہن سنگھ حکومت کے ساتھ ہی کھڑے نظر آئے، انھی کے جملے میں کہ ایک انسپکٹر کی موت کے بعد بھی کمیونٹی کو یقین نہیں آ رہا ہے کہ عاطف اور ساجد دہشت گرد تھے۔ رویش جی! آپ کو بھی اب یقین آ گیا ہوگا کہ صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال بھی اطمینان کے قابل نہیں ہے۔آپ کی طرح نہ تو مجھے زبان و بیان پر گرفت ہے اور نا ہی میرے پاس آپ جیسے منطقی دلائل ہیں۔ مگر ایک چیز اب میرے اور آپ کے درمیان یکساں ہو گئی ہے، اور وہ ”خوف“ کی وہ لہر ہے جو میرے اور آپ کے وجود کی گہرائی تک اتر گئی ہے۔ اب آپ کو بھی ڈرایا جا رہا ہے جیسے ہم لوگوں کو ڈرایا جاتا رہا ہے، صدیوں سے۔ جس خوف کی نفسیات کے بارے میں آپ بول رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے البتہ یہ پہلے ایک خاص طبقے تک ہی محدود تھی اور اب ذراعام ہوگئی ہے، جس پر ملک کا لبرل طبقہ فکرمند نظر آرہا ہے۔ آپ غور کیجیے۔ اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بطور خاص اس وقت جب یہ خوف ایک فرد کا نہ ہو کر ایک طبقہ اور کمیونٹی اور پوری ایک قوم کا مقدربن جائے۔ میں آپ کو بتاوں، اس ڈر نے ہمیں بہت دکھی کیا ہے اور اب بھی اکثر ستاتا رہتا ہے۔ بنا کسی جرم اور قصور کے کسی کو مجرم بنا دینا یا سمجھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ آپ کے پاس تو پھر بھی اسٹوڈیو ہے، پرائم ٹائم، کوٹ ٹائی اور آپ کے چاہنے والوں کا ایک جم غفیر ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے؟ خوف کے لفافوں میں لپٹے ہوئے ماضی کے طعنے اور حال کے الزامات۔ میرا خیال ہے اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ خوف کے عالم میں جینے والے کیسا محسوس کرتے ہیں۔مجھے معلوم ہے آپ سے بے انتہا محبت کرنے والے بہت سے لوگوں کو میری یہ بات اچھی نہیں لگے گی اور وہ مجھ سے یہ سوال کر سکتے ہیں، کہ اب جب کہ رویش کی امیج بہت بدل چکی ہے تو آپ نے اس کے ماضی اور حال کے کردار کا موازنہ کیوں ضروری سمجھا، تو ان سے مجھے یہ کہنا ہے کہ انسان کو جس سے امید ہوتی ہے، شکایت بھی اسی سے ہوتی ہے۔ جب آپ یا آپ جیسے لوگ، جو بظاہر انصاف اور حق کی بات کرتے ہیں، ان کو مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ جن کو لوگ اپنا سمجھتے ہیں ان سے جب کوئی زیادتی ہوتی ہے تو زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ چوں کہ اب آپ کو ڈر کا احساس ہو گیا ہے اس لیے بھی ہم نے یہ سطریں لکھنے کی جرات کی ہے۔ میں آپ سے یہ قطعا نہیں کہوں گا کہ آپ کسی خاص طبقے کی حمایت کی بات کریں۔ ایسا ممکن بھی نہیں ہے، مگرجس چیز کے لیے آپ جانے جاتے ہیں اس میں تو سچے بنیے۔ اگر آپ معروضیت پسند (objective) نہیں رہ سکتے تو پھرصاف ستھرے (fair & accurate) تو رہیے۔ یہاں پر بات کسی خاص طبقے کی نہیں ہے بلکہ بات ملک کی سالمیت، اس کی بقا اور ترقی کی ہے۔ اس لیے ہم سب کو اس کے لیے آگے آنا ہوگا اور عوام کے دلوں سے خوف کی اس لہر کو دور کرنا ہوگا۔خوف کی وہ لہر جوآپ کو اور ہم سب کو ستاتی ہے، وہ لہر اور اس کی خوف ناکی اپنی جگہ، مگر میرے اندرون میں ایک اور لہر دندناتی پھر رہی ہے، جو اس لہر سے قدرے مختلف ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ خوف کی یہ لہر کہیں ہمارے وجود پر اور خاص کر رویش کمار جیسے دیو ہیکل وجود پر مصلحت کی چادر نہ تان دے اور وہ اپنی موجودہ بے باکی اور منصفانہ امیج کو کہیں اپنے من گہرائیوں میں دفن کرکے پھر سے وہیں نہ جا بیٹھیں جہاں آپ اس دن بیٹھے تھے، یعنی 19 ستمبر 2008ء کو، اور ایسا ہوتا ہے، بلکہ ہوچکا ہے۔ اس کے لیے صرف چند مثالیں دوں گا۔ دور کیوں جائیں، قریب ہی میں دیکھتے ہیں ایم جے اکبر کو جس نے اپنے بے باک مضامین اور India: The Siege Within: Challenges to a Nation’s Unity اور Riots after Riots جیسی کتابیں لکھ کردنیائے صحافت میں نام پیدا کیا تھا، مگر اب کہاں چلے گئے؟ اسی طرح اگر کلدیپ نائیر کی بات کی جائے تو چند لمحات ہی کے لیے سہی لیکن 2014ء میں لغزش کھا گئے تھے اور اپنے رشتے دار ارون جیٹلی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے پہنچ گئے تھے، مگر انھیں اپنی غلطی کا جلد احساس ہوگیا اور پیچھے ہٹ گئے۔ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ڈر ہے کہ کہیں آپ اور آپ جیسے جری صحافی مصلحت جسے ہم ڈر بھی کہہ سکتے ہیں، کا واقعی شکار نہ ہو جائیں۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ماسٹر اللہ داد کریم---- محمد علم اللہ

کس طرح امانت نہ رہوں غم سے میں دل گیرآنکھوں میں پھرا کرتی ہے استاد کی صورت(امانت لکھنوی)انسان کے ذہن پر کچھ ایسے نقوش بن جاتے ہیں، جو کبھی نہیں مٹتے۔ ان ہی میں سے ایک ماسٹر اے ڈی کریم کا نقش بھی ہے، جن سے وابستہ میرے بچپن کی یادیں آج بھی میرے ذہن میں مرتسم ہیں۔ 21 اگست 2017ء کو یہ اطلاع ملی کہ ماسٹر اللہ داد کریم جنہیں ہم ماسٹر اے ڈی کریم کے نام سے جانتے تھے کا انتقال ہو گیا۔ یہ اطلاع میرے گاؤں کے نام سے موجود فیس بک پیج پر ایک ساتھی کے ذریعہ ملی تو ماسٹر صاحب سے وابستہ کئی یادیں عود کر آئیں۔ انتقال کی خبر ملنے کے بعد ہی سوچا تھا کہ ماسٹر صاحب سے متعلق یادوں اور باتوں کو رقم کروں گا۔ لیکن ادھر کچھ ایسی مصروفیات اور ذہنی خلجان میں مبتلا رہا کہ چاہ کر بھی کچھ نہ لکھ سکا۔ پھر پانچ ستمبر کو یوم اساتذہ کے موقع پر بھی کچھ لکھنے کا خیال آیا، لیکن عید الاضحی اور دیگر روزانہ کے معمولات میں اس قدر مصروف رہا کہ کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہو سکی۔ آج ایک مرتبہ پھر فیس بک پیج پر موجود اس خبر کو دیکھا توماسٹر صاحب سے متعلق کئی باتیں یاد آئیں اور میں یہ سطریں لکھنے بیٹھ گیا۔
ماسٹر صاحب کو جب میں یاد کرتا ہوں، تو مجھے جگنو، تتلی اور بیر بہوٹی یاد آتے ہیں؛ دراصل ماسٹر صاحب نے ہی بتایا تھا کہ جگنو کیا ہوتا ہے، تتلی کسے کہتے ہیں اور بیر بہوٹی کیا شئے ہے۔ ان کے پڑھانے کا انداز نرالا اور سب سے الگ تھا۔ ابھی جب میں ماسٹر صاحب سے متعلق یادوں کوضبط تحریر کرنے بیٹھا ہوں تو میری نظروں کے سامنے پندرہ سولہ سال قبل گاؤں کے اسکول درس گاہ اسلامی اٹکی کا منظرنامہ سامنے ہے، جس نے کئی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ہی خلوص، محبت، الفت اور تہذیب و شایستگی کا پاٹھ پڑھایا ہے۔ ماسٹر صاحب اس انمول ادارے کے ایسے جاں نثار تھے، جنھوں نے انتہائی کم اجرت کے باوجود اسے اپنے خون جگر سے سینچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے بہار شریف کے دور افتادہ علاقے سے آ کر خود کو اس ادارہ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ماسٹر صاحب درس گاہ کے عقبی حصے میں قائم کمرے میں رہتے تھے۔ ان کا اپنا انداز اور اسٹائل تھا جس سے وہ پہچانے جاتے تھے؛ دو پلی کج کلاہ ان کی شان تھی۔ وہ اونچے درجے کے بچوں کو پڑھایا کرتے تھے، کچھ کلاس چھوٹے بچوں کی بھی لیتے اور وہ کلاس ہم بچوں کے لئے عذاب جاں ہوا کرتی تھی۔ ہم نے اس زمانے میں جن اساتذہ کے مر نے کی دعائیں کیں ان میں ماسٹر صاحب بھی شامل تھے۔ لیکن ماسٹر صاحب کو ہماری دعاوں کے صدقے نہ مرنا تھا اور نہ مرے، وہ تو اپنی طبعی موت مرے۔ انھوں نے شاید ہی کبھی کلاس آنے میں تاخیر کی ہو۔


سارے بچے ماسٹر صاحب سے بے حد خوف کھاتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ ماسٹر صاحب مارتے بہت تھے۔ ان سے خوف کا یہ عالم تھا کہ گھر پر بھی شرارت کرنے پر والدین یا سرپرست ماسٹر صاحب سے شکایت کی دھمکی دیتے تو بچہ سہم ساجاتا، مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ ماسٹر صاحب صرف غصیلے اور مارنے ہی والے تھے؛ ماسٹر صاحب اچھے بھی تھے اور سبق یاد کرنے والے بچوں کو شفقت و محبت سے نوازتے اور انھیں انعام بھی دیتے تھے؛ ہم ماسٹر صاحب کی ان دونوں ہی خصوصیات سے خوب فیض یاب ہوئے، مار بھی کھائی اور کئی مرتبہ چاکلیٹ، اٹھنی اور ایک دو مرتبہ ایک آدھ روپے بھی وصول کیے۔مجھے یاد پڑتا ہے ماسٹر صاحب جہاں رہتے تھے اس سے ذرا آگے پھولوں کی کیاریاں تھیں اور ان کیاریوں کے بیچوں بیچ مچان لگا کر کدو، کریلے، کھیرا اور ککڑی وغیرہ کے پودے لگائے گئے تھے، جنھیں ماسٹر صاحب ہی نے بچوں سے لگوایا تھا۔ یہ ماحولیات کے کلاس کا حصہ تھا، جس میں بچوں نے اپنے ہاتھوں سے کیاریاں بنائی تھیں۔ اینٹوں سے اسے گھیرا تھا۔ جس میں مختلف قسم کے پھول کھلے تھے؛ ان پھولوں میں رات کی رانی کے علاوہ گل بہار، چنبیلی، بیلا، موتیا، چمپا، نرگس، گیندا اور گلاب کے پھول تھے جو ہمیشہ پوری فضا کو معطر رکھتے۔ اس قدر خوش نما منظر ہونے کے باوجود ہم بچے رات کی رانی کے پھول کے قریب نہیں جاتے تھے، کیوں کہ بچوں کے درمیان یہ بات مشہور تھی کہ رات کی رانی میں جنات بسیرا کرتے ہیں اور ماسٹر صاحب کی ان جناتوں سے دوستی ہے۔ ماسٹر صاحب اپنی چھڑی بھی اسی رات کی رانی کی جھاڑیوں میں چھپا کر رکھا کرتے۔ جب کلاس آتے تو اپنی چھڑی کو آستین میں چھپا لیتے تاکہ بچے ڈریں نہیں۔ چھڑی کو وہ تنبیہ الغافلین کہا کرتے تھے۔ مشہور تھا کہ ماسٹر صاحب چھڑیوں سے صرف انسانوں کے بچوں ہی کی دھنائی نہیں کرتے ہیں بلکہ جناتوں کی پٹائی بھی کرتے ہیں اور جنات بھی ان سے خوف کھاتے ہیں۔ ماسٹر صاحب چھڑی کو مضبوطی کے لیے تیل پلاتے تھے، جس کی وجہ سے چھڑی میں ایک عجب سی چمک دکھائی دیتی تھی۔یوں تو درس گاہ کے سبھی اساتذہ مخلص، بے ریا اور شفیق تھے لیکن ماسٹر صاحب کا انداز ان میں سب سے جدا تھا؛ اسی لیے وہ مارتو خان یعنی بہت زیادہ مارنے والا، گسیڑو یعنی بہت زیادہ غصے والا، ظالم، قصائی اور نہ جانے کن کن ناموں سے مشہور تھے۔ جن القابات سے ہم بچے ماسٹر صاحب کو جانتے ماسٹر صاحب اس کے بالکل برعکس ہم بچوں کو پھول ہی کے لقب سے نوازتے۔ کسی کو گلاب، کسی کو چنبیلی، کسی کو چمپا، کسی کو کچھ تو کسی کو کچھ۔ کسی نے بہت اچھا کام کیا تو اسے گلاب کہہ دیا۔ کسی نے ان کی مرضی کے خلاف کام کیا، یا ہوم ورک نہ کیا تو ماسٹر صاحب اسے گڑھل کا پھول کہتے۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک لڑکی تھی، پڑھنے میں بہت کم زور؛ وہ کبھی بھی ہوم ورک مکمل کر کے نہیں لاتی تھی؛ ماسٹر صاحب اس کو بہت سمجھاتے، مارتے ڈانٹتے مگر اس کے دماغ میں کچھ بھی نہیں گھستا، ماسٹر صاحب نے اس کا نام گڑھل رکھ دیا۔ گڑھل پھول کے بارے میں وہ بتاتے کہ یہ بے گن کا پھول ہے جو خوب صورت تو ہے مگر اس میں کوئی خوش بو نہیں، اور وہ پھول ہی کیا جس میں خوش بو نہ ہو۔ ماسٹر صاحب ہم بچوں کو خوب صورت پھول کے ساتھ ساتھ بوئے خوش بودار یعنی مہک دار پھول بننے کی بھی ترغیب دیتے اور کہتے؛ جس طرح سے اچھے پھول کو لوگ دور ہی سے دیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور اس کی کشش لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے، انسان کو بھی ویسا ہی بننا چاہیے۔ ایک لڑکا گول مٹول اور موٹا تازہ تھا ماسٹر صاحب اسے گیندے کا پھول کہتے، ایک لڑکی بہت شرمیلی تھی، اس کا نام ماسٹر صاحب نے چھوئی موئی رکھا ہوا تھا۔ ایک لڑکی کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں ماسٹر صاحب اسے سورج مکھی کہتے۔ ایک لڑکی دبلی پتلی تھی بالکل سوئی کی طرح ماسٹر صاحب اس کو سرو کہتے اور پھر یہ کس طرح دیو قامت ہوتا ہے اس کی کہانی بتاتے۔مجھے امید ہے کہ کلیوں، کیاریوں اور پھولوں کا شوقین، نا تراشیدہ پتھروں کو زندگی بھر تراش کر خوب صورت روپ دینے کی کوشش کرنے والا وہ صورت گر ویسے ہی خوب صورت، پر بہار، تر و تازہ اور خوش بووں سے معطر باغوں میں آرام کی نیند سو رہا ہوگا۔

طلبا کے علاوہ اساتذہ بھی ماسٹر صاحب کا بڑا احترام کرتے؛ ماسٹر صاحب ایک فوجی جوان کی طرح ہمیشہ فٹ رہتے اور بچوں کو بھی اسی طرح چاق چوبند رہنے کی تلقین کرتے۔ ماسٹر صاحب بہت با رعب دکھائی دیتے؛ ان کی کلاس چھوڑنے کی ہمت کسی کو نہیں ہوتی تھی۔ وہ اچھے سے اچھے کائیاں اور ڈھیٹ بچے کو بھی ٹھیک کر دیا کرتے تھے۔ انھیں غیر حاضری یا کلاس میں موجود ہونے کے باوجود پڑھائی میں توجہ نہ دینا، بالکل بھی پسند نہ تھا۔ وہ ایک چیز کو کئی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرتے، کبھی کبھی غصے بھی ہو جاتے۔ جسے وہ ’محبت‘ کا نام دیا کرتے۔ ماسٹر صاحب کی اس مخصوص’شفقت و محبت‘ کا شکار میں بھی ہوا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے شاید درجہ دوم یا سوم تھا، ٹھیک طرح سے یاد نہیں، ماسٹر صاحب کلاس میں پڑھا رہے تھے کہ پتا نہیں کیسے مجھے نیند آ گئی اور میں اونگھنے لگا۔ انھوں نے اشارے سے کسی بچے کو مارنے یا جگانے کے لیے کہا۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں، جیسے بچے اسی انتظار میں بیٹھے تھے، تڑا تڑ کئی ہاتھ میرے سر پر پڑے اور میں رونے لگا۔ ماسٹر صاحب نے سبھی لڑکوں کو بلایا اور ان کی گوشمالی کرتے ہوئے کہا ”میں نے اتنا زور سے مارنے کے لیے تھوڑا ہی کہا تھا، میں نے تو محض جگانے کو کہا تھا۔ “ماسٹر صاحب کی تربیت کا انداز بھی عجیب و غریب تھا۔ وہ بچوں کی ایمان داری کو آزمانے کے لیے سر راہ کچھ روپے یا پیسے گرا دیتے اور یہ دیکھتے کہ بچہ اسے اٹھا کر رکھ لیتا ہے یا پھر ہیڈ ماسٹر کے حوالہ کرتا ہے۔ اگر بچے نے لے جا کر لقطہ کی پیٹی، ہیڈ ماسٹر یا پھر جس کا سامان ہے اس کے حوالہ کر دیا تب تو ٹھیک اور اگر غلطی سے بھی اپنی جیب میں رکھ لیا تو اس کی خیر نہیں؛ ایمان داری دکھانے پر ماسٹر صاحب بچوں کو شاباشی دیتے اور شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ماسٹر اللہ داد کریم ہر فن مولا تھے یعنی ریاضی، جغرافیہ، اردو، تاریخ، سوشل سائنس، اسلامیات سبھی کچھ پڑھاتے مگر بنیادی طور پر وہ انگریزی کے استاد تھے؛ شکل صورت سے بھی بالکل انگریزوں کی طرح گورے چٹے اور لمبے تڑنگے نظر آتے۔ سبق یاد نہ کرنے والے بچوں کی وہ ایسی دھنائی کرتے کہ بس۔ ایسے موقع پر وہ اپنے مخصوص انداز میں کہا کرتے ’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘ اور یہ کہتے ہوئے چھڑیوں کی برسات کر دیتے۔ ماسٹر صاحب کے نزدیک ساری بیماریوں کا علاج بس چھڑی ہی سے ممکن تھا۔مجھے یاد پڑتا ہے درس گاہ میں ہم سارے بچے کلاسیں شروع ہونے سے قبل ترانہ اور دعا پڑھا کرتے تھے۔ دعا کیا تھی علامہ اقبال کی ’یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘ اور ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ اس وقت ہمیں ترانہ ختم ہونے کے بعد آداب سکھائے جاتے مثلاً کوئی چیز گری پڑی ملے تو اس کا کیا کرنا ہے، چھینک آئے تو الحمد للہ کہنا ہے، سننے والے کو جواب میں یرحمک اللہ، جمائی کے وقت الٹا ہاتھ منہ پر رکھنا ہے، کھانا بسم اللہ سے شروع کرنا ہے، کھانے کے بعد دعا پڑھنی ہے، سڑک میں بائیں طرف سے جانا اور دائیں طرف سے لوٹنا ہے وغیرہ۔ یہ سب باتیں ماسٹر صاحب بڑے ہی دل نشیں انداز میں بتاتے۔ صفیں سیدھی کرنے کا طریقہ اور دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا سلیقہ بھی وہ اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتے۔ صف ذرا بھی ٹیڑھی ہوئی تو بس وہ تنبیہ الغافلین ہی کا سہارا لیتے۔ ناخن چیک کرتے اور بڑھے ہوئے ہونے پر اسی چھڑی سے ناخنوں پر کُٹائی (ضرب کاری) ہوتی۔ ماسٹر صاحب اپنا قلم، کان کے اوپری حصے پر کھونس کر رکھتے۔ اگر کبھی چھڑی بھول گئے تو قلم کا بھی سہارا لیتے اور سزا کے طور پر قلم انگلیوں کے بیچ رکھ کر اتنے زور سے دباتے کہ بچے بلبلا اٹھتے۔ ماسٹر صاحب کو چچا غالب کی طرح آم بڑے پسند تھے؛ ماسٹر صاحب آم کو بھوجن گھسیڑ کہتے۔ جو بچے ان کے نشانے پہ رہتے، وہ انھیں غصے سے ”ایڈیا“ کہا کرتے تھے۔ جب ماسٹر صاحب کو اس کی خبر ہو جاتی تو وہ دبے پاوں کلاس میں داخل ہوتے اور اس بچے کو پکڑ کر کہتے، ’’کیا کہا تھا تم نے؟ ایڈیا آ رہا ہے۔ لو ایڈیا آ گیا“۔ اور پھر کسی نئے آئیڈیا یا مشکل سبق میں اس کو گرفتار کر لیتے اور مجرم بے چارہ سوچتا ہی رہ جاتا۔ماسٹر صاحب کی کچھ عادتیں بڑی عجیب سی تھیں، آج انھیں یاد کرتا ہوں تو ہنسی بھی آتی ہے اور ان کے انداز تربیت پر مسکرائے بغیر نہیں رہا جاتا۔ امتحان کے دنوں میں ماسٹر صاحب امتحان ہال میں طلبہ کو کچھ نہیں کہتے بس اخبار پڑھنے میں مصروف ہوجاتے، مگر نقل کرنے والوں کو بہت آسانی سے پکڑ لیتے۔ ان کا انداز ہی نرالا تھا، جس اخبار کے مطالعے میں بظاہر وہ غرق دکھائی دیتے اس میں ایک دو جگہ چھوٹے چھوٹے شگاف کر دیتے اور انھیں شگافوں سے طلبہ پر نظر رکھتے، جب کہ طلبہ یہ سمجھتے کہ ماسٹر صاحب تو اخبار کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
ماسٹر صاحب بچوں سے باقاعدگی سے دریافت کرتے کہ کس نے نماز نہیں ادا کی ہے، نگرانی کے لیے ہر محلے کے ایک ایک دو دو لڑکوں کو ایک دوسرے کی ذمہ داری سونپ دیتے کہ دیکھنا فلاں مسجد میں آیا تھا، یا نہیں؛ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی ہم لوگ سانٹھ گانٹھ (Setting) بھی کر لیتے، لیکن پتا نہیں کیسے ماسٹر صاحب کو اندازہ ہو جاتا تھا اور پھر ہماری درگت بنتی تھی؛ نماز نہ پڑھنے پر الگ اور جھوٹ بولنے پر الگ۔
ماسٹر صاحب کتاب پڑھاتے تو کبھی کبھی متن کی قرات بھی کراتے تھے، اس میں ح، ہ، ق، ک، س، ش وغیرہ پر بڑی باریک نظر رکھتے۔ ماسٹر صاحب آنکھیں بند کیے رہتے ایسا لگتا جیسے سو رہے ہیں مگر جیسے ہی غلطی ہوتی صرف ٹوکتے ہی نہیں بلکہ دوبارہ، سہ بارہ اس کو درست کراتے۔ آزمایش کے لیے چاک یا پنسل دور پھینک دیتے اور کہتے اسے اٹھا لاؤ اور ایک دو، تین، چار گنتے ہوئے جاؤ اور گنتے ہوئے واپس آو؛ اس درمیان بچے کو گنتی سے زیادہ اپنی غلطی کے اصلاح پر توجہ مرکوز کرنی ہوتی کہ گنتی ختم ہوتے ہی ماسٹر صاحب وہی الفاظ پھر دہرانے کو کہتے اور غلطی ہونے پر دھنائی کرتے۔ جغرافیہ کی کلاس میں بحرالکاہل، بحرمنجمد شمالی، بحر اوقیانوس، اور اس طرح کے بھاری بھرکم الفاظ یاد نہ رکھنے پرنہ جانے کتنے طلبہ کی شامت آتی۔یہ سطریں لکھتے ہوئے عجیب کیفیت سے دو چار ہوں؛ ماسٹر صاحب ہم لوگوں کو اسپورٹس بھی سکھاتے اور ہفتے میں ایک آدھ دن ورزش بھی کراتے۔ کبھی کبھی وہ کلاس کی چہار دیواری سے باہر نکال کر میدان میں لے جاتے اور وہیں اپنے مخصوص انداز میں پڑھاتے۔ میں آج بھی اپنے اسکول سے متصل اس بوڑھے آم کے پیڑ کو نہیں بھول سکتا، جب اس کے نیچے لکڑی کی کرسی پر بیٹھ کر ماسٹر صاحب ہمیں درس دیا کرتے تھے اور ہم بچے ان کے گرد حلقہ بنائے کھڑے ہوا کرتے۔ ماسٹر صاحب کی موٹے لینس والی عینک سے جھانکتی آنکھیں، برسوں کے تجربات سے سفید ہوئی داڑھی اور حالات زمانہ کے سبب ہاتھوں میں پڑی ہوئی جھریاں اور اس میں موٹی سی بانس کی قمچی آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔

آج میں ایک مرتبہ پھر گاؤں آیا ہوں اور آتے ہی اسکول کی طرف رخ کیا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہر سو خاموشی چھائی ہے، ماسٹر صاحب کے کوارٹر کا دروازہ بند ہے۔ کنوئیں کا منڈیر جہاں ماسٹر صاحب بیٹھ کر وضو کرتے تھے خالی خالی سا ہے۔ بچے اپنے اپنے درجوں میں پڑھائی میں مشغول ہیں لیکن پھول کی کیاریاں، مچان اور اس میں اگے ہوئے سبز پتے کدو، ککڑی، کھیرا اور پھول اور سبزیوں کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے۔ جہاں ہم لوگ ترانہ اور دعائیں پڑھا کرتے تھے وہ لان بھی خالی پڑا ہے، مجھے لگا ماسٹر صاحب وہیں کرسی پر کونے میں بیٹھے ہیں، میری نگاہ کونے پر طرف گئی وہاں بے ترتیب اینٹوں کا ڈھیر پڑا ہے۔ ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں موجود وہ چارپائی بھی خالی ہے، جس پر ماسٹر صاحب لیٹا کرتے تھے۔ میں چند لمحے وہاں رکتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے ابھی ماسٹر صاحب کچھ بولیں گے؛ اپنا کرتا اور ٹوپی ٹھیک کرتے ہوئے کچھ پوچھیں گے۔ ”پڑھائی تو ٹھیک چل رہی ہے ناں؟ کھانے پینے کی کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ مجھے امید ہے تم ہم سب کا نام روشن کروگے، ہمیں تم پر فخر ہے۔ “ اور میں صرف جی جی کرتے ہوئے، شرم سے گڑا جارہا ہوں؛ اپنی کم مائیگی اور نا ہنجاری پر شرمندہ، خدا تعالیٰ سے دل ہی دل میں دعا کر رہا ہوں، خدایا! عزت رکھ لیجیو! کاش میں الفت و محبت اور امید کی لو لگائے ہوئے ان بزرگوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر پاوں۔ میرے اندر مزید وہاں رکنے کی ہمت نہیں ہے اور میں بوجھل قدموں کے ساتھ اسکول سے باہر نکل آیا ہوں۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

کرائم شوز: چند سوالات اور ان کے جوابات


فرحان احمد خان معروف صحافی اور مترجم ہیں جو متعدد موضوعات پر  لکھتے ہیں ، گذشتہ دنوں انھوں نے اپنے فیس بُک پر کرائم شوز سے متعلق چند سوالات کئے تھے ، ان کے سوالوں کا میں نے بھی اپنی فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی تھی ۔سوالوں کے ساتھ جوابات فیس بُک احباب کی نذر ہے ۔ فرحان بھائی کے شکریے کے ساتھ ۔محمد علم اللہدہلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
1- کیا یہ پروگرام معاشرے کے سدھار کے لیے ضروری ہیں؟اگر ہاں تو کیسے؟جواب : میرے خیال میں اس سے سماج کے سدھار کے بارے سوچنا ویسے ہی ہے جیسے ریت میں سراب کے پیچھے دوڑنا ۔ایک منفی رویہ کو فروغ دیکر اس سے مثبت نتیجہ کی توقع  کیسے کی جا سکتی ، ببول بوکر آپ گلاب نہیں اگا سکتے  ۔ چونکہ اس میں باضابطہ طور پر  جرم کو فلما کر دکھایا جاتا ہے یا اس کی تفصیلات بتائی جاتی ہیں کہ فلاں ظلم کس طرح وقع پذیر ہوا یا اس کے پیچھے کیا کیا عوامل  تھے  کس طرح کا اسلحہ ، زہر اور انسانی جان کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کا کیسے  استعمال کیا گیا اور آج کل چھوٹے سے لیکر بڑے تک یہاں تک کہ بچے بھی  ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ کے ذریعہ ایسے پرگراموں تک بآسانی رسائی  رکھتے ہیں ۔متاثر نہ ہونا ناممکن ہے ۔ انسان کسی نا کسی حد تک  اس کا اثر بھی قبول کر تا ہی ہے ۔
2- کیا جرائم پیشہ افراد کی آپ بیتیاں نشر کر کے جرائم ختم ہو جائیں گے؟جواب : آپ بیتی ، سوانح ، افسانہ ، کہانی یہ سب کچھ در اصل معاشرہ کا آئینہ ہوتے ہیں ،آپ معاشرے کو جس طرح کا آئینہ دکھائیں گے اثر اس کا ویسے ہی ہوگا ، اس معاملہ میں گرچہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب تک برائی کو برائی نہیں کہا جائے گا بندہ کیسے جانے گا کہ یہ غلط ہے ،  یا صحیح ، اپنی جگہ پر یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن مجموعی طور پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا ، اس لئے جرائم پیشہ لوگوں کی آپ بیتیاں شائع نہیں کرنی چاہئے ، اگر  شائع کرنا بہت ضروری بھی ہو تو اسکرپٹ اس انداز سے لکھا جانا چاہئے کہ بجائے اس سے ہمدردی پیدا ہو، اس کو واقعی جرم تصور کئے جانے کا مادہ پیدا ہو ۔ لوگ  خاص کر بچے اس کو آئیڈیل کے طور پر قبول نہ کریں بلکہ جانیں کہ یہ ایک خراب آدمی تھا جس کو لوگ آج اس کے خراب کام سے یاد کر رہے ہیں نا کہ اچھے کام سے ۔ 
3-کیا جرائم کی تمثیلی منظر کشی اور پیش کش جرائم کی تعلیم تو نہیں بن رہی؟جواب : بہت حد تک ، اسی وجہ سے آپ دیکھیں گے  اور اکثر  نوجوانوں کی زبان سے اس طرح کی باتیں سنیں گے کہ اس نے اس چیز کو یوں انجام دیا اور اس کو  کو فلاں فلم میں یوں دکھایا گیا ہے  وغیرہ وغیرہ ۔  جب انسان کے اندر جنون سوار ہوتا ہے تو پھر اس کو کچھ سجھائی نہیں دیتا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کی منظر کشی یا لٹریچر جنونی کیفیت پیدا کرنے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں ۔ ابھی کچھ دنوں قبل کہیں میں نے یہ پڑھا تھا کہ نوجوان بڑی تعداد میں ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں اور سیکس اور جنسی موضوعات کے علاوہ وہ جن چیزوں کو گوگل میں تلاش کر رہے ہیں ان میں بلا تکلیف آسان طریقہ خود کشی  کیا ہے ؟ اس  بارے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایسے معاشرے میں جرائم کی تمثیلی منظر کشی جذبات کو مزید بر انگیختہ کرنے کا کام کرے گا چہ جائکہ ہم اس سے اصلاح اور سدھار کی امید رکھیں ۔ 
4- پولیس سرکاری ادارہ ہے، بتایا جاسکتا ہے کہ کس ضابطے کے تحت کسی نجی چینل کو پولیس کی نفری بطور ایکٹر فراہم کی جاتی ہے؟جواب : میرے خیال میں پولس کی باضابطہ نفری تو کسی چینل کو فراہم نہیں  کی جاتی ہوگی ، جو چینل  یا  پروڈکشن ہاوس اس طرح کے پروگرام کراتے ہیں ان کے پاس مختلف قسم کے ڈریس اور میک اپ کا ساز و  سامان ہوتا ہے جس سے وہ اپنا مطلوبہ کیریٹر ڈیولپ کرلیتے ہیں ۔ آپ جیسا  بتا رہے ہیں اگر کسی چینل یا ادارے کو واقعی اداکاری کے لئے باضابطہ اور حقیقی کارکن فراہم کئے جا رہے ہیں تو یہ تباہی کا عندیہ ہے ، اس کی روک تھام کے لئے سماجی کارکنان اور سنجیدہ طبقہ کو آگے آنا چاہئے ۔ 
5- ریٹنگ اور منافع کے لیے پروگرام چلانے والے چینلز کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے تن خواہ پانے والے پولیس اہلکار کیسے میسر آجاتے ہیں ؟ انہیں پیشہ وارانہ مصروفیات میں سے فلم شوٹنگ کا وقت کیسے مل جاتا ہے؟جواب : یہ ایک تحقیق کا موضوع ہے ، صحافی حضرات اور سماجی کارکنان کو اس  پر نظر رکھنی چاہئے اور اس کے خلاف نہ صرف احتجاج کرنا چاہئے بلکہ ان پر  تادیبی کاروائی کے لئے  منسلکہ اداروں کے ذمہ داران  کے علاوہ  عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے ۔ 
6- کرائم پروگراموں کے اینکرز کو جیلوں میں ملزمان یا مجرموں سے براہ راست بات چیت کی اجازت کس ضابطے کے تحت اور کیوں دی جاتی ہے؟ وہ کس اختیار کت تحت سوال پوچھ کر نشر کرتے ہیں ؟جواب : اس کی اجازت  کسی بھی ملک کا قانون نہیں دیتا ، یہ ساری چیزیں افسران اور ایسے افراد کے ملی بھگت سے انجام دی جاتی ہیں ۔  دسمبر 2012 میں دہلی میں ایک چلتی بس میں لڑکی کو ریپ کرنے والے مجرموں سے بات چیت پر مبنی دستاویزی فلم لیزلی اڈون نے جب بنائی تھی اور اس میں مجرموں سے بات چیت کی تھی تو اس وقت ہندوستان سمیت عالمی سطح پر اس  موضوع پر کافی بحث ہوئی تھی ، اس فلم پر  حالانکہ ہندوستانی حکومت نے پابندی عاید کر دی تھی یہ الگ بات ہے کہ وہ فلم بعد میں لندن سے نشر ہوئی ۔ اس سلسلہ میں ماہرین کی رائے گوگل سرچ سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
7- میڈیا کو گالیاں دینے والے ناظرین نے کبھی ان چٹ پٹے پروگراموں کی پیش کش پر غور کیا ہے؟ کوئی سنجیدہ سوال اٹھایا ہے؟جواب : میرے خیال میں اس طرح کی چیزوں پر دونوں طرح کےافراد پائے جاتے ہیں ، کچھ اس کو پسند کرتے ہیں کچھ نا پسند ، ایک سنجیدہ معاشرے میں اس کے اثرات پر  دونوں جانب سے غور کیا جانا چاہئے اور منطقی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش ہونی چاہئے ۔ مجھے نہیں پتہ کہ ہندوستان میں یا پاکستان میں اس طرح کے پروگراموں پر کسی نے باضابطہ آواز اٹھائی ہے ۔ ہماری یہاں بد نصیبی تو یہی ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ، نہ تو اس طرح کے موضوعات پر ریسرچ ہو تی ہے اور نہ ہی اس کے مثبت اور منفی پہلووں پر کوئی غور و خوض کرتا ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارا پورا بر صغیر کا معاشرہ دن بدن قعر مذلت میں گر رہا ہے ۔ یہ صرف جرائم سے متعلق اثرات کی بات نہیں ہے ، ماحولیات ، بیماری ، حفظان صحت وغیری جیسے موضوعات کو بھی لیکر  ہمارے یہاں آپ کو غیر سنجیدگی ہی نظر آئے گی ، گویا یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ، اور جب تک آپ کسی چیز کو مسئلہ نہیں سمجھیں گے اس کے حل کی تد بیر کیسے تلاش کریں گے ۔ 
8- کیا ان پروگراموں میں آپ نے کبھی کسی ہائی پروفائل مجرم یا ملزم کو چیخنے والے اینکر کے سامنے نظریں جھکائے ہتھکڑی لگے کھڑے دیکھا ہے؟جواب : میں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا ۔
9- کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال نہیں اٹھتا ہے کہ پولیس ، مجرم ، اور عدلیہ کے بیچ کسی بھی تیسرے گروہ کاکمرشل مقاصد کے لیے حائل ہونا پہلے ہی سے خستہ حال نظام عدل کو مزید متاثر کر رہا ہے ؟جواب : بالکل متاثر کر رہا ہے ، ہمارے یہاں عدالتی نظام جس سست روی کا شکار ہے ، اس کی وجہ سے یہ عناصر تو فائدہ اٹھا ہی رہے ہیں ۔ جرمن سماجی علوم کے ماہر جرگن  ہیبر ماس  نے 18 ویں صدی سے لے کر اب تک کے ميڈيائی ترقی  کا مطالعہ کیا  اس کی تحقیق کے مطابق لندن، پیرس اور تمام یورپی ممالک میں اس کا رواج  پبلک اسفیر  کے آس پاس  ہوا ،   عوامی  مباحثے کو کافی  ہاوس  اور سیلون سے حاصل کیا گیا تھا لیکن یہ طویل عرصہ تک نہیں تھا۔  انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیاست پارلیمان میں اور میڈیا میں ہوتی  ہے، جبکہ عوام کے مفادات اقتصادی مفادات پر غلبہ رکھتے ہیں۔  یہ  تسلیم  کیا  گیا کہ عوام  کے خیالات  کا تبادلہ کھلے عام نہیں  بلکہ بڑے لوگوں کے اثرات اور توڑنےمروڑنے کے سٹائل پر منحصر ہے۔ ظاہر ہے کہ اکثر  اقدام  جس عوام کے نام پر کی جاتی ہے، وہ اصل میں خود سکھ سے متاثر دماغی تانے بانے کا شکار ہوتی ہے۔جرم کے نام سے تیزی سےکٹتی فصل   بھی اس نقطہ نظر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ قریب 225 سال کی عمر پرنٹ میڈیا اور 60 سال سے ٹکے رہنے کی جدوجہد کر رہے الیکٹرانک میڈیا کی خبروں کا پیمانہ جرم کی بدولت اکثر چھلكتا ظاہر ہوتا ہے۔ خاص طور پر 24 گھنٹوں کے ٹیلی ویژن کی تجارت میں، جرم کی دنیا خوشی کا سب سے بڑا سبب بن گیا ہے کیونکہ جرم کی دریا کبھی  بھی خشک نہیں ہوتی  ہے۔ نادان صحافی مانتے ہیں کہ جرم کی ایک انتہائی معمولی خبر میں بھی اگر مہم جوئی، راز، مستی اور تجسس  پروس  دیا جائے تو وہ چینل کے لئے  دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے۔ لیکن عوام کا خیال ہے کہ، کوئی ثابت کرنے کے لئے کافی مضبوط نہیں ہے۔گونگا باکس کہلانے والا ٹی وی اپنی  پیدائش کے کچھ ہی سال بعد اتنی تیزی سے کروٹیں بدلنے لگے گا، اس کا تصور آج سے چند سال پہلے شاید کسی نے بھی نہیں کیا ہوگا ، لیکن ہوا یہی ہے اور یہ تبدیلی اپنے آپ میں ایک بڑی خبر بھی ہے۔ میڈیا انقلاب کے اس دور میں، قتل، عصمت دری اور تشدد کے واقعات  سبھی میں کوئی  نہ کوئی خبر ہے۔ یہی خبر  24 گھنٹے کے چینل کی خوراک ہے۔ یہ نئی صدی کی نئی چھلانگ ہے۔
10-کیا یہ سنسنی خیر پروگرام سماج میں شک ، عدم تحفظ اور خوف سمیت دیگر تباہ کن نفسیاتی عوارض کا باعث نہیں بن رہے ؟جواب : بالکل بن رہے ہیں ، اسی لئے میں نے کہا یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو اس جانب توجہ دینا چاہئے اور اس کی پوری تحقیق کر کے اس سے سماج میں پڑنے والے اثرات سے عوام کو رو برو کرانا چاہئے ۔ اس وقت ہمارے سامنے میڈیا کا  جو چہرہ ہے وہ مستقل تغیر پذیر  ہے۔ اس میں اتنی لچک ہے کہ پلک جھپکتے ہی  یہ ایک نئے اوتار کی شکل میں تبدیل  کیا جا سکتا ہے۔ نئے زمانے میں نئے  انداز  اور جرم کے نئے  طریقوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ایسے میں اس کے  روک تھام کی بھی  ضرورت  بڑھ رہی ہے۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ہندوستان کی تعلیم میں علم کو ٹھونسا جارہا ہے، سمجھنے اور غور و فکر کرنے کے بر عکس طلبہ کورٹّوبنایا جارہا ہے/ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

ہندوستانی اسکالر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب سے انٹرویو محمد علم اللہ گذشتہ دنوں معروف ملی قائد ، محقق، مترجم اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب کے ساتھ دلی کے پاس ضلع بلند شہر جانا ہوا۔ مقصد تھا ایک گمنام مگرآئیڈیل شخصیت اور مجاہد آزادی عبدالعلی خان سے ملاقات اور انٹرویو کرنا۔ عبدالعلی خان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروردہ ہیں۔ آزادی سے پہلے اور اس کے بعد کے حالات کو انہوں نے نہ صرف بہت قریب سے دیکھا ہے بلکہ ایک مجاہد کی حیثیت سے اس میں شریک بھی رہے ہیں ۔ آزادی کے بعد انہوں نے لندن کوچ کیا اور وہاں سے ایک انگریزی جریدہ (مسلم نیوز) جاری کرکے پہلی مرتبہ عالم اسلام کے مسلمانوں کی آواز اس پلیٹ فارم سے اٹھانے کے لئے اپنی کوشش کی ، یہ الگ بات ہے کہ کئی سال بعد یہ رسالہ بند ہو گیا لیکن اپنی جرات ، بے باکی اور شاندار تبصروں اور فیچرز کے لئے آج بھی اس کو یاد کیا جاتا ہے۔ وہ انگریزی زبان میں پہلا نیوز میگزین تھا ۔ کئی سال لندن میں نکلنے کےبعد وہ پاکستان منتقل ہوا لیکن جنرل ایوب خان کے عتاب کی وجہ سے اس کے فائننسر باوانی صاحب نے ہاتھ کھینچ لیا اور وہ پرچہ بند ہوگیا اور عبد العلی خان اپنے وطن لوٹ آئے لیکن یہاں ان کو حکومت نے چین سے نہیں رہنے دیا ۔ برسہا برس کی لڑائی کے بعدان کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت ملی لیکن ایک غیر ملکی کے طور سے۔ برطانوی شہریت رکھنے کے باوجود پاکستان میں چند سال گذارنے سے وہ بھی “دشمن” کی فہرست میں لکھ لئے گئے اور کئی بار نوبت ہندوستان سے نکالے جانے کی آئی اور بڑی مشکلوں سے ٹلی ۔ اب تقریبا نوے سال کی عمر میں وہ بلند شہر کے قصبے سیانا میں اپنی زندگی کے آخری ایام گن رہے ہیں۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام کا شدید احساس ہے کہ اس غیر معمولی شخصیت سے مسلمانان ہند نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور خود ان کے وطن نے ان کے ساتھ جفا کی ساری حدود پار کردیں۔ہم جب ان کی رہائش گاہ پہونچے تو وہ بستر پر دراز تھے اور طبیعت بھی خراب تھی ۔ معلوم ہوا کہ کچھ دنوں قبل ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے معذور تھے ۔ حوائج وغیرہ کے لئےبھی انھیں دوسروں کا سہارا لینا پڑرہا تھا ۔ ایسے میں مناسب نہیں تھا کہ مزید ان کو زحمت دی جائے ۔ اس لئے آئندہ کے لئے انٹرویو کے پروگرام کو ملتوی کرتے ہوئے ہم وہاں سے واپس چلے آئے۔البتہ موقع کو غنیمت دیکھتے ہوئے میں نے مناسب جانا کہ اس موقع سے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کا ہی انٹرویو کیوں نہ کرلیا جائے۔ وہ نہ صرف اپنی علمی ،ادبی اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ایک شناخت رکھتے ہیں بلکہ اپنے علم اور فضل کی وجہ سے ایک بڑے حلقے میں قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ ایسی شخصیتوں کی زندگی میں بہر حال سبق کے بہت سے پہلو مضمر ہوتے ہیں ۔ اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے اپنے موبائل کا ریکارڈر آن کیا اور ڈاکٹر ظفرالاسلام سے سوالات کرکے ان کی زندگی کے کئی گوشوں کو ٹٹولنے کی کوشش کی۔جس چیز کو “انٹرویو” کہتے ہیں، اس انداز سے یہ انٹرویو نہیں لیا گیا ۔ اس کے لئے پہلے سے نہ تو کوئی تیاری کی گئی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ ہی تھا ۔ لیکن ان سب کے باوجود اس انٹرویو کی اہمیت اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ انٹرویو چلتی ہوئی گاڑی میں ریکارڈ کیا گیاہے ۔ قارئین کو اس انٹرویو سے اندازہ ہوگا کہ ایک شخص کو شخصیت بننے میں کن طویل اور دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔کیا ایک شخص ماں کے پیٹ سے ہی سیکھ کر جنم لیتا ہے ، یا پھر اسکی محنت، جد وجہد اور آرزواس کو کہیں پہونچاتی ہے؟اگرچہ یہ منتشر سوالات کے منتشر جوابات ہیں لیکن پھر بھی ان میں بہت کچھ ایسا ہے جس سے ہم ہمت اور حوصلہ لیکر آگے کے مراحل طے کر سکتے ہیں ۔ یہ انٹرویو خصوصا مدارس سے فارغ طلباء کے لئے دلچسپی کی چیز ہے ۔ اس انٹرویو کے ذریعے قارئین کو اندازہ ہوگا کہ ایک شخص کس طرح خار دار جھاڑیوں ، رویوں اور راہداریوں کو پار کر تے ہوئے اپنا مقام بناتا ہے ۔ تو آیئے بات چیت کو سنتے ہیں۔محمد علم اللہ
نئی دہلی سوال: ہندوستانی تعلیم اور بیرونی تعلیم کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں اور دونوں میں آپ کو کیا فرق نظرآیا؟جواب: بہت فرق ہے ۔ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے ۔ ہندوستان کی تعلیم میں علم کو ٹھونسا جارہا ہے یعنی سمجھنے اور غور و فکر کرنے کے بر عکس طلبہ کورٹّوبنایا جارہا ہے۔ بس یاد کرلو ، امتحان پاس کر لینا ، پھر بھول جانا ۔ باہر ایسا نہیں ہے ۔ طلبہ کو ہر چیزسمجھنی پڑتی ہے اور آپ ایک بار کسی چیز کوسمجھ لیں تو زندگی بھر اسکو بھولیں گے نہیں ۔ پریکٹیکل پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے ۔ ہر طالب علم کو ذاتی اٹنشن ملتا ہے۔ ایک کلاس میں بہت زیادہ طالب علم نہیں ہوتے ہیں بلکہ ایک استاد کے ذمے چھوٹی چھوٹی کلاسیں ہوتی ہیں ۔ ہال یا کمرے پوری طرح بھرے نہیں ہوتے ۔ مصر میں بھی ہمارے یہاں والی حالت ہے ۔ وہاں بھی ہال بھرے ہوتے ہیں لیکن انگلینڈمیں حالات بہت مختلف ہیں ۔ وہاں ذاتی اٹنشن ملتا ہے اور ہر طالب علم کافی استفادہ کر سکتا ہے ا گرکرنا چاہے ۔ نہیں کرنا چاہے تو الگ بات ہے، اس کا تو کوئی علاج ہی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے جو لوگ انگلینڈ وغیرہ سے پڑھے ہوئے ہیں ان کے دماغ کھل جاتے ہیں، و ہ صحیح اور غلط کو سمجھنے کی تمیز اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، صحیح مشورہ دے سکتے ہیں ، صحیح نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر غور وفکر کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ہمارے یہاں ہندوستان میں یہ حالت ہے ، اور وہ مصرمیں بھی ایک حد تک ہے ،کہ جو بات کہہ دی گئی اس کو اندھے بہرے ہوکے قبول کرلو ۔ انگلستان میں ایسا نہیں ہے بلکہ وہاں کا استادآپ سے کہتا ہے کہ خود فیصلہ کرو،دماغ استعمال کرو، صحیح ہے غلط ہے تم فیصلہ کرو، ہم نہیں کریں گے۔ہمارے یہا ں معاملہ بالکل الٹا ہے ۔اسی وجہ سے ہمارے یہاں قائدانہ صلاحیت والی شخصیتیں نہیں نکلتیں۔یہاں اس کو پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن وہاں کا نظام دوسرا ہے ۔وہاں شخصیت اور غوروفکر کوابھارا جاتا ہے ۔اور جن کے اندر خاص صلاحیت نہیں ہے ان کا حل بھی نفسیاتی تجزیہ کے ذریعے نکالا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ سب طلبہ بعد میں اپنے اپنے میدان میں بہت نمایاں رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں ہزاروں کی کھیپ مدارس اور یونیورسٹیوں سے نکل رہی ہے لیکن شاذونادر ہی ان میں سے ایک دو ایسے نکلتے ہیں جوکہ واقعتا اپنے علم پر دست رس رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگ اسی وقت نکلیں گے جب آدمی کا دماغ کھل جائے گا۔ جب آدمی کا دماغ بند ہو، اس سے آنکھ بند کرکے جو بھی کہا جارہا ہو قبول کرنے کو کہا جائے تو اس کا دماغ کبھی کھلے گا ہی نہیں ۔سوال: اچھا یہ بتائے کہ ہندوستان میں آپ نے جو کچھ بھی پڑھااور باہر بھی پڑھائی کی تو ہندوستان کی تعلیم کس حد تک آپ کے لئے کارآمد ثابت ہوئی ، آپ نے اپنی ابتدائی زندگی کا ایک حصہ ہندوستان کے مختلف مدارس میں گذارا تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ ہندوستان کے مدارس میں یا ہندوستان میں آپ نے جو کچھ سیکھا وہ کس حد تک آپ کی زندگی میں کار آمد رہا۔آپ نے کتنا اس سے فائدہ اٹھایا؟جواب: یہاں بھی جو علم ملتا ہے وہ بہر حال کہیں جا کے فٹ ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ بالکل بیکار ہوتا ہے۔، ہم نے یہاں عربی پڑھی ، فقہ پڑھی اور نحو پڑھی۔ ان سب کا فائدہ ہے۔ لیکن میرا مقصد کہنے کا یہ ہے کہ جو بھی ہے اور جو انسان اس تعلیم سےبنتا ہے وہ مجموعی طور سے کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ انسان سازی نہیں ہوتی ہے ۔فارم کوئی بھر دیا، امتحان دے دیا، سرٹیفکٹ لے لیا اور نوکری کرلی ۔۔۔ بس اسی پر بات ختم ہو جاتی ہے ۔ نوکری کر لینا مقصد کبھی نہیں ہونا چاہئے بلکہ جس میدان میں بھی آدمی کام کرے اسے قائدانہ ہونا چاہئے ۔ آدمی چاہے جو بھی کام کرے اسے بہترین ہونا چاہئے۔ میں تو کہتا ہوں موچی بھی ہو تو اس کو بہترین موچی ہونا چاہئے ۔ آدمی کسی قسم کا کاریگر ہو تو اسے اپنے پیشے میں بہترین ہونا چاہئے۔ اسکا بہت احترام ہوگا اپنے میدان میں۔ یوں ہمیں اپنا مقام بنانا چاہئے ۔ کسی عالم یا مفتی میں جب تک اخاذ اور اجتہادی کیفیت نہیں پیدا ہوگی ،وہ خالی ایک ٹٹو بن کے رہے گا۔ جیسے ہم دیکھتے ہیں یہاں ، کوئی مسئلہ آیا فوراََ جاکر کے کوئی پرانی صدیوں پہلے لکھی گئی کتاب کھول کے دیکھتے ہیں ۔ اب وہاں پہ نئے مسائل کے بارے میں لکھا تو ہے نہیں۔ ایسے مسائل تھے ہی نہیں اس زمانے میں تو وہاں پہ کیسے لکھا ہو گا ۔ لیکن اگر انہوں نے علوم پر تمکن حاصل کرلیا ہوتا اور شریعت کی روح سے آشنا ہوگئے ہوتے تو یقیناًکوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے۔سوال: میں یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ طلبہ ہندوستان کے مدارس میں اتنا عرصہ گذارتے ہیں اور انھیں عربی کی تعلیم اتنی پختہ دی جاتی ہے، لیکن آج تک کوئی ایسا نام نظر نہیں آتا جو کوئی بہت بڑا ادیب یا صاحب قلم ہوا ہو ۔ ادھر آزادی کے بعد تو بالکل خلا نظر آتا ہے ۔ جب کہ اسی طرح کے طلبہ جب باہر جاتے ہیں تووہ بہت کچھ کرتے ہیں عربی میں ۔ ان کی لکھنے کی صلاحیت بھی ہوجاتی ہے اور عربی میں ان کی استعداد اتنی اچھی ہوجاتی ہے کہ وہ لکھ اور بول سکتے ہیں ۔ ہندوستان میں اس طرح کیوں نہیں ہوپاتا ہے؟ کیا کمی ہے ؟ کیا ہمارے مدارس میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ اس لائق نہیں ہے کہ ان کے اندر استعداد پیدا کرسکے؟ کچھ تو ہے ! آپ کیا سمجھتے ہیں ؟۔جواب: ہمارے مدارس میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ طلبہ پرانے نصوص کو سمجھنے لگیں ۔ تو یہ ہوجاتا ہے ۔ صحیح ہے یہ ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کہ طالب علم قادر الکلام ہوجائے ، خود لکھنے کے لائق ہوجائے ، خود ایسی عربی لکھے جو کہ دوسرے لوگ سمجھیں، ایسی عربی بولے جس کو دوسرے لوگ قابل قدر نگاہ سے دیکھیں ۔ تو یہ نہیں ہوتا ہے، اس لئے کہ اسکے لئے ان کواس کے لئے تیار ہی نہیں کیا گیا ۔آج جدید سے جدید جو کتابیں آپ کے یہاں پڑھائی جاتی ہیں وہ بھی پچاس ساٹھ ستر سال پرانی ہیں ۔ زبان بدلتی رہتی ہے ۔ مروجہ عربی زبان بھی بدلتی رہی ہے ۔قرآن شریف نہیں بدلا،لیکن عربی زبان جو کہ عام انسان آج استعمال کرتا ہے اورلکھتا ہے یا جو کتابوں میں لکھی جاتی ہےیا اخبارات میں یا مجلات میں لکھی جاتی ہیں وہ روز بدل رہی ہے۔ نئے الفاظ ،نئی تراکیب ، نئی تعبیرات روزانہ آتی رہتی ہیں ۔ اگر آپ اس سے واقف نہیں ہونگے توکیسے کوئی قائدے کی عربی لکھیں گے یا پڑھیں گے یا سمجھیں گے۔؟ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء ایسی عربی لکھتے ہیں جو وہ خود ہی سمجھتے ہیں ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ پرانے نصوص وغیرہ پر ہمارے علماء کی جو دسترس ہے وہ شاید عام عربوں میں بھی نہیں ہے۔ قدیم عربی شعر اور قدیم عربی ادب آج کے عام عرب نہیں سمجھ پائیں گے،لیکن ہمارے مدارس میں اگر کسی نے ٹھیک سے تعلیم حاصل کر لی ہے تو بآسانی انھیں سمجھ سکتا ہے،اس لئے کہ ہمارا کل منشا یہی یہ ہے کہ اتنی عربی پڑھ لو کہ قرآن پاک اور قدیم فقہی کتب سمجھ پاؤ۔ اس کو بدلنا چاہئے ۔ یہ علم بھی مطلو ب ہے لیکن آج کی عربی بھی مطلوب ہے ۔ آج کی عربی میں ہم اگر اپنی بات نہیں کہہ سکتے یانہیں لکھ سکتے تو اپنی بات وہاں تک کیسے پہنچائیں گے؟ میرے خیال میں ہمارے طلبہ جو کہ مدارس سے نکلتے ہیں ان کو بہت اچھی اردو بھی نہیں آتی جبکہ اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اردو بذات خود ایک موضوع کے طور سے نہیں پڑھائی جاتی ہے۔ یعنی جدید اردو ادب، تنقید ، غزل اور شاعری کے نئے رجحانات وغیرہ سے بھی واقف ہوناضروری ہے۔ ہمارے مدارس میں اس پربھی کچھ وقت دینا چاہئے ۔ اردو آج ایک نئی زبان ہے ۔ ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے کیا نئے رجحانات ہیں تبھی جاکر ان کی زبان اچھی بنے گی ۔ ورنہ ان کا نشان قدامت پرستی رہے گا ۔ وہ اردو لکھتے ہیں لیکن اس میں چاشنی نہیں ہوتی،روانی نہیں ہوتی ہے ۔روانی اسی وقت آئے گی جب وہ دوسرے ادب یاجدید لکھنے والوں کی تحریریں پڑھیں گے۔سوال: مجھے یہ بتائیے کہ آپ کی شخصیت میں رفتہ رفتہ کیسے ارتقاء آیا ہے ۔ مدرسۃ الاصلاح سے آپ ندوۃ العلماء گئے ۔ آج مجھے پتہ چلا کہ آپ نے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں بھی کچھ عرصہ گذارا۔اس کے بعد جامعہ ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی میں اور پھر مانچسٹر یونیورسٹی میں۔ تو ان چاروں پانچوں جگہوں میں کیسے کیسے آپ میں تبدیلی آئی، یعنی مرحلہ وار ارتقاء،اس کے بارے میں کچھ بتائیے؟۔جواب: یہ سب چیز اتنی آسان اور مختصر نہیں ہے کہ ایک جملے میں بتا دی جائے ۔ انسان جب کسی جگہ کسی معاشرے میں کئی کئی سال گذارتا ہے، تو اس سے بہت سبق لیتا ہے۔میری حالت تھی کہ مجھے ہمیشہ سے آنکھ بند کرکے کوئی چیز تسلیم کرنے کی عادت کبھی نہیں رہی۔کسی کو بہت زیادہ سر پہ چڑھانے کی عادت بھی کبھی نہیں رہی بچپن سے ۔ اور اسی وجہ سے جب ہم لکھنؤ میں تھے تو ہم کو باغی سمجھا جاتا تھا ۔ اس طرح کی کوئی بات نہیں تھی۔ہمارا صرف یہ مسئلہ تھا کہ آنکھ بند کر کے کسی چیز کو تسلیم نہیں کرتے تھے اورکسی کے سامنے اتنا سر تسلیم خم بھی نہیں کرتے تھے کہ سجدہ کرنے لگیں ۔ احترام الگ بات ہے۔ تو یہ عادت ہمیشہ سے ہماری رہی ہے اس کی وجہ سے فائدے اور نقصانات دونوں ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات سے سکون ملتا ہے کہ ہمارا مقصد صحیح ہونا چاہئے۔دوسری بات یہ کہ مجھے بہت زیادہ فائدہ مصر جانے سے ہوا ۔ مصر کا معاشرہ بہت کھلامعاشرہ ہے ، یعنی open society ہے۔ ان کے یہاں کافی اعتدال ہے ،دوسرے کی رائے کو سننے سمجھنے کی خواہش اور صلاحیت ہے ۔ ہمارے یہاں پر جو تنگ نظری ہے، مسلکی ،مذہبی وغیرہ اسلامی بھی جو ہے ، وہ سب وہاں نہیں ہے۔ یعنی وہاں لوگ بہت معتدل ہیں ۔یہاں تک کہ جن لوگوں کو ہم تنگ نظر کہہ سکتے ہیں وہ بھی ہمارے یہاں کے لحاظ سے بہت معتدل ہیں ۔ اس تجربے کا مجھے بہت فائدہ ہوا ۔مصر کے اس معاشرہ میں، میں سات سال رہا ۔ اور اس عرصہ میں ،میں مصری معاشرے میں بہت گھل مل گیا ۔شایداتنا تو اورکسی ہندوستانی کو نصیب نہ ہوا جتنا کہ مجھے ۔ ہرسطح کے لوگوں سے قریبی تعلقات قائم ہوئے جن میں شعراء بھی تھے ، ادباء و صحافی بھی تھے ، اساتذہ بھی تھے، یہاں تک کہ ایک وزیر بھی تھے یعنی ڈاکٹر حلمی مراد جو پہلے عین شمس یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے ، پھر وزیر تعلیم ہوئے ۔ ان لوگوں کے گھروں پر آنا جانا ہوگیا ۔ ان میں ایک بہت بڑے ادیب یحیٰ حقی بھی تھے ، ڈاکٹر مصطفی محمود بھی تھے، شیخ محمد الغزالی ، ڈاکٹر عبد الصبور شاہین بھی تھے ، صحافیوں میں بہت سے لوگ تھے ۔ ان میں میرےجامعۃ القاہرۃ میں ہم سبق ڈاکٹر عبد الحلیم عویس بھی تھے۔ان لوگوں کا بہت بڑا نام آج بھی ہے ۔ ان کی کتابیں جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے ۔ان کے گھروں بھی میں آنا جانا ہو گیا ۔ بعض ادباء وشعراء وصحافی اس وقت نوجوان تھے ، بعد میں بہت مشہور ہوگئے لیکن اس وقت اتنے مشہور نہیں تھے جیسے شاعر حسن توفیق ، شاعر عفیفی مطر جو” سنابل” نامی ادبی پرچہ نکالتے تھے ، نقاد کمال حمدی وغیرہ، وغیرہ ۔اس تجربے سے مجھے کافی فائدہ ہوا جو کہ شاید اگر میں ہندوستان میں ہوتا تو نہ ہوتا ۔ یہاں پہ ہوتا تو تقلیدی قسم کا مولوی نہیں تو مسٹر ہی ہوجاتا، لیکن وہ وسعت نظری اور دماغ کا جو کھلا پن ہوتا ہے وہ نہیں ملتا اگر میں مصر نہیں گیا ہوتا ۔جامعہ ازہر کے کلیہ اصول الدین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے قاہرہ یونیورسٹی میں چند سال گذارے اور وہیں سے اسلامی تاریخ میں ایم اے کیا جس کے لئے مجھے مصر کی اکسچینج اسکالرشپ دو سال کے لئے ملی ۔ پھر میں نے قاہرہ ریڈیو میں بحیثیت اردو اناؤنسر بھی کام کیا ۔ فروری ۱۹۷۳ ء سے میں نے لیبیا کی وزارت خارجہ میں چھ سال بحیثیت مترجم و ایڈیٹر کام کیا ۔ اس وقت مجھے باقاعدہ ملازمت کی ضرورت ہوگئی تھی کیونکہ ۱۹۷۲ ء کے آخر میں میری شادی ہوگئی تھی اور شادی کے بعد ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں اور خود ہندوستان ،میں میرے والدین کو ضرورت تھی۔ اس لئے میں نے لیبیا میں چھ سال گذارے کہ یہ مسئلہ حل ہو حالانکہ وہاں کی سنگلاخ زمین اور بدو معاشرے میں کافی وقت گزارنا مشکل ہے ۔بہر حال جب لگا کہ گھر پر مسائل کسی حد تک حل ہوگئے ہیں۔ والد صاحب کی کتابیں چھپنے لگی تھیں اور الرسالہ کو چھپتے ہوئے کئی سال ہو گئے تھے ، تو میں اکتوبر ۱۹۷۹ ء میں لندن چلا گیا ۔ گیا تو تھا مزید پڑھنے یعنی پی ایچ ڈی کرنے ،لیکن اس کا زیادہ موقع نہیں ملا کیونکہ مسلم انسٹی ٹیوٹ نے ، جس نے مجھے بلایا تھا، مجھے اپنے کام میں اتنا مشغول کردیا کہ میں ٹھیک سے پڑھائی نہیں کرسکا،حالانکہ کہ میں نے وہا ں مانچسٹر یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا تھا۔ میرا موضوع “تصور ہجرت “تھا یعنی مفسرین، علماء حدیث اور فقہاء نے حکم “ہجرت” کو کیسے سمجھا اور اسلامی تاریخ میں اس پر کیسے عمل کیا گیا۔ میں نےکچھ کام کیا لیکن بہت زیادہ نہیں کرسکا ۔برطانیہ میں رہنے سے بہت فائدہ ہو ا۔ مغربی معاشرہ یا انگریزی معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی خوبیاں ،ان کی محنت ،بچے سے لیکر 80 سال کے بوڑھے سب کو کام کرتے دیکھا ۔ سب محنت کے خوگر ہیں۔ کوئی اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے کہ کوئی دوسرا اس کا کام کر دے گا۔ یہ سب چیزیں دیکھ کربہت متاثر ہوا ۔ سال بھر موسم خراب رہنے کے باوجود انکی وقت کی پابندی (Punctuality)ان کے کردار کا پتہ دیتی ہے ۔ سارے دفاتر اور بینکوں کے باہر لکھا ہے کہ 9 بجے کھلے گا تو 9بجے کھلا ہوا ملتا ہے اور ہر کارندہ اپنی سیٹ پر ہوتا ہے، چاہے موسم کیسا بھی ہو۔ موسم ان کا بہت خراب ہے ہمارے لحاظ سے ۔ کبھی خوب بارش ہوتی ہے تو کبھی خوب برف پڑتی ہے لیکن اس کے باوجود ہمیشہ ہم نے کبھی اور کہیں ایک منٹ کی دیر نہیں دیکھی ۔ اول وقت میں بینک گیا تو کھلا ہو ا دیکھا ۔ ہر کاؤنٹر پر لوگ بیٹھے ہوئے ملے ۔ یہ ایک بار نہیں بلکہ ہر بار ہوا ۔ یہ سب چیزیں میں نے دیکھیں اور ان سے سبق بھی لیا اور ایک حد تک ان کو اپنی زندگی میں برتنے کی کوشش کی ۔ وہ اپنا کام پوری ایمانداری سے کرتے ہیں ۔ انگریز کام چور نہیں ہیں ۔ جو کام ان کو دیا جائے ، اس کو ذمے داری سے پورا کرتے ہیں۔ اس کا تجربہ مجھ کوذاتی طور سے بھی ہوتا تھا کہ اپنے پروفیسر (اڈمنڈ بوزورتھ) کو میں اپنا چیپٹر شام کو دیتا تھا اور وہ اسے اگلی صبح کو پڑھ کر واپس کر دیتے تھے جب کہ ہندوستان میں پرفیسر حضرات سال سال بھر چیپٹر رکھے رہتے ہیں اور مصر میں مہینوں رکھے رہتے تھے ۔ یہ ان پروفیسر کی بات ہے جو عالمی شہرت واہمیت کے حامل ہیں اور انسائکلو پیڈیا آف اسلام کے چیف ایڈیٹر تھے۔ شام کو چیپٹر دینے پر کہتے تھے کہ اگلے دن صبح میری سیکریٹری سے لے لینا ۔ جب میں صبح میں جاتا تھا جو وہ چیپٹر سیکریٹری کے پا س ملتا تھا ۔ یہ تجربہ ہر بار ہوا۔ تو یہ کام کا طریقہ ہے ۔یہ مجھ کو مصر میں نہیں ملا ۔ انگلینڈ میں ہر آدمی اپنا کام ذمہ داری کے ساتھ کر رہا ہے ۔ جب پورا سسٹم ذمہ دار ی کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے تو سب کچھ ٹھیک چلتا ہے ۔ ایسی قوم اور ایسے ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔سوال: اچھا ڈاکٹر صاحب !اس کا انکشاف تو آج ہوا کہ آپ نے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں بھی تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہاں کا تجربہ کیسا رہا؟جواب : دراصل جب میرے والد صاحب جماعت اسلامی میں تھے تو مولانا جلال الدین عمری صاحب سے بہت متاثر تھے ۔ رام پور میں جماعت کے آفس میں دونوں ساتھ ہی شعبہ تصنیف میں کام کرتے تھے ۔ دونوں کی کرسیاں ایک ہی کمرے میں ساتھ ساتھ تھیں۔ اس تعلق کی وجہ سے والد صاحب نے مجھے جامعہ دار السلام عمر آباد بھیج دیا۔ میں نے ایک سال وہاں زیادہ تر فارسی پڑھی ۔ چھٹی میں رام پور آیا اور جب دوبارہ عمر آباد واپس جانے کا وقت آیا تو میں نے پہلی دفعہ زندگی میں ابا سے مخالفت کرتے ہوئے کہا :میں نہیں جاؤں گا وہاں ، اتنی دور ، بالکل ایک نئی جگہ، زبان الگ ، تہذیب الگ ، جامعہ کے باہر سب لوگ تامل بولتے ہیں ۔ مجھے بھی تامل تھوڑی موڑی آگئی تھی جیسے’’ ٹیا کڑپاّ ‘‘(چائے لاؤ)۔ تامل کی گنتیاں وغیرہ بھی سیکھ لی تھی ۔ لیکن مجھے وہاں بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس لئے وہاں واپس نہیں گیا۔ پھر والد صاحب نے مجھے مدرسہ اصلاح بھیج دیا جو ہمارے اپنے ہی ضلع اعظم گڑہ میں ہے۔ مدرسہ اصلاح میں میں تین سال رہا : عربی کے درجات اول ، دوم اورسوم۔ اس دوران والد صاحب تصنیف و تالیف کے سلسلے میں لکھنؤ آگئے، ندوۃ العلماء کے شعبہ تصنیف وتالیف جس کا نام مجلس تحقیقات ونشریات اسلام ہے۔ اب انہوں نے مجھ کو لکھنؤ بلا لیا ۔ میں مدرسۃ الاصلاح سے درجہ سوم عربی پاس کرکے آیا تھا ۔ یہاں ٹسٹ ہوا ۔ آپ کو معلوم ہے میرا داخلہ کس کلاس میں ہوا ؟ چھٹے میں ہوا اس شرط کے ساتھ کہ عربی نحو (شذور الذہب) اور ایک کسی اور مضمون میں اگلے سال امتحان دوں اور اس کو پاس کر لوں ۔ یوں عربی ششم میں شرط کے ساتھ داخلہ ہو ا۔ عربی کے استاد و ادیب مولانا سعیدالرحمن اعظمی نے میرا ٹسٹ لیا تھا جو اب ندوۃ العلماء کے مهتمم ہیں۔ یوں میں مدرسۃ الاصلاح کے درجہ سوم سے نکل کر ندوہ کے درجہ ششم پہنچا۔جن دو موضوعات میں مجھے امتحان دینا تھاوہ اگلے سال میں نے امتحان دے کر پاس کر لیا۔ اس طرح سے ہم عربی ہفتم (ساتویں) درجے میں پہنچے ۔ اس وقت ندوے میں عا لمیت سات سال کی ہی تھی۔لیکن مجھے لگا کہ مجھے یونیورسٹی جانا چاہئے ۔ تب تک والد صاحب شاید ندوے سےچلے گئے تھے ۔ یوں ہم نے لکھنؤ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔ وہاں پر بھی “عالم” ہوتا ہے جو یونیورسیٹی کے بورڈ آف اورینٹل اسٹڈیز کے تابع ہے۔ جیسے اب علیگڑھ مسلم یونیورسیٹی کا بریج کورس ۔ تو اگر لکھنو یونیورسٹی کا عالم اور فاضل پاس کر لیں تو پھر بی اے میں داخلہ ہوجاتا ہے۔عالم اور فاضل دونوں ایک ایک سال کا کورس تھا۔ ہم نے عالم میں داخلہ لے لیا۔ ہم عمر میں بہت چھوٹے تھے اور ہمیں اساتذہ وغیرہ کچھ سمجھتے نہیں تھے۔مطلب کوئی بھاؤ نہیں دیتے تھے ۔ لیکن جب امتحان کانتیجہ آیا تو ہم فرسٹ فرسٹ آئے (ہنستے ہوئے)۔ فرسٹ ڈیویژن اور ٖفرسٹ پوزیشن دونوں ۔اس کے بعد اساتذہ کا رویہ بالکل بدل گیا۔اس دوران مصر کے جامعۃ الازہر کی اسکالر شپ کی بات آئی تھی ،امریکن یونیورسٹی قاہرہ کی اسکالر شپ کی بات بھی آئی تھی۔ ان دونوں میں ہم نے درخواست دیدی ۔ اور ان میں دونوں میں ہمارا سیلیکشن ہو گیا ۔ لیکن ہمارا پاسپورٹ نہیں بن پارہا تھا ۔ اس زمانے میں پاسپورٹ بہت مشکل سے ملتا تھا ۔ لکھنو یونیورسٹی میں ہمارے ایک ساتھی اور ہم سبق ایک صاحب صبرحد کے محمد صابر صاحب تھے جو کہ بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسسٹنٹ لائبریرین ہوئے۔ ان کے توسط سے پاسپورٹ بنا ۔ ورنہ یہ بہت مشکل کام تھا۔ پاسپورٹ بنانا اس زمانے میں آج کی طرح آسان نہیں تھا ۔ آج تو تھوک کے بھاؤ سے پاسپورٹ بنتے ہیں۔پہلے بڑی انکوائری ہوتی تھی۔لیکن ضابطے میں یہ بھی تھا کہ سرکار کا کوئی اعلیٰ افسر، کم از کم ڈپٹی سکریٹری رینک کا، اگر لکھ دے کہ ہم ان کو جانتے ہیں تو پولیس انکوائری نہیں ہوتی تھی۔ہم کئی بار لکھنو میں پاسپورٹ آفیسر کے پاس گئے ۔ ہر بار اس نے کہا: نہیں، یا تو تمہاری پولیس انکوائری ہوگی جس میں دو تین مہینہ یا کتنا وقت لگے گا ہم نہیں جانتے ،یا پھر تم کسی بڑے افسر سے لکھوا کر لاؤ ۔ ہم کو جانے کی جلد ی تھی کیونکہ مصر میں تعلیمی سال شروع ہورہا تھا۔ کئی لوگوں کے پاس گئے ، جن میں ہمارے ایک دور کے رشتے دار اسلام احمد صاحب ڈی آئی جی پولیس بھی تھے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا۔ ہمارے ساتھی محمد صابر صاحب ہم کو اپنے ایک رشتےدار کے گھر لے گئے جو اس وقت یو پی گورنمنٹ کے لیگل ریممبرنسر(قانونی مشیر) تھے۔ وہ صاحب ہم کو نہیں جانتے تھے مگر صابر صاحب کے کہنے پر انھوں نے فارم پر دستخط کر دیا ۔ اسے ہم نے اگلے ہی دن پاسپورٹ آفس میں جمع کر دیا اور یوں ہمیں جلدی سے پاسپورٹ مل گیا۔پاسپورٹ کے بعد پیسے کی ضرورت تھی ۔ اس کے لئے ہم لکھنو سے اعظم گڑھ گئے اور والد صاحب کے توسط سے درکار رقم بڑے ابا (عبد العزیز خان صاحب) سے حاصل کی ۔ پھرلکھنو واپس آئے اور جب ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کا مرحلہ آیا تو معلوم ہو ابھی ایک اور کاروائی باقی ہے۔ اس زمانہ میں ملک سے باہر جانے والے کو ریزرو بینک آف انڈیا سے اجازت لینی پڑتی تھی۔بڑی مشکل تھی بھائی۔ کام آسان نہیں تھا ۔ اس زمانہ میں کانپور میں ریزرو بینک آف انڈیا کاریجنل آفس تھا اور شاید اب بھی ہو۔ وہ لکھنؤ سے قریب تھا ۔ تووہا ں گئے ۔ وہاں ہمارے ایک رشتہ دار شعیب صاحب تھے اعظم گڑھ کے ۔ ان کے یہاں ٹھہرے ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کے ایک بھائی ریزرو بینک میں کام کرتے ہیں۔تو ان سے جاکر بات کی ۔ ان صاحب نے کہا کاغذات جمع کرادیجئے اور اگلے دن آجائیے گا ۔ انہوں نے کام کروا دیا اور اس طرح اگلے دن ہمیں اپناپاسپورٹ ریزرو بینک کے “نو آبجکشن” کی مہر کے ساتھ واپس مل گیا ۔اس طرح اللہ پاک نے یکے بعد دیگرے راستے کھولے ۔ اگر شاید ہم اپنے اوپر رہتے تو پاسپورٹ بھی نہ بنتا ، نہ ہم قاہرہ جاتے۔ ریزرو بینک کے کام کے بعد ہم دلی گئے ۔ یہاں پہلے ہم مصری سفارت خانے گئے ویزہ لینے کے لئے ۔ وہاں بھی بغیر کسی مشکل کے ویزہ مل گیا ۔ اس ہم چند دن کے بعد بریٹش ایر ویز سے ، جو اس وقت بی۔او۔ اے ۔سی کہلاتی تھی، قاہرہ پہنچ گئے۔باہر جاتے ہوئے اس وقت کے قاعدے کے مطابق مجھے ۳ (تین) بریٹش پاؤنڈ کی زر مبادلہ ملی ۔ اس کے علاوہ میرے پاس صرف ۳۰۰ ہندوستانی روپئے تھے جو ملک کے باہر بیکار تھے لیکن مصر میں مقیم ایک ہندستانی طالب علم نے اسے مجھ سے خرید لیا۔
قاہرہ پہنچے تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہمارا اسکالرشپ امریکن یونیورسٹی والا ختم ہوچکا تھا لیکن جامعۃ الازہر والے اسکالرشپ کا ٹسٹ بھی دلی میں ہم پاس کرچکے تھے ۔ جامعۃالازہر کا یہ اسکالرشپ ، جو ہندوستانی ایجوکیشن منسٹری کے ذریعہ ہو اتھا ، ہمیں کچھ کوشش اور تاخیر کے بعد مل گیا۔اس طرح سے الازہر کے کلیۃ اصول الدین میں تعلیم شروع ہوئی اور ازہر کے بیرونی طلبہ کے ہاسٹل میں رہنے کے لئے کمرہ بھی مل گیا۔سوال: آپ کو یہ شوق کیسے پیدا ہوا کہ باہر جاکر پڑھائی کریں؟جواب : شوق کی بات نہیں تھی! بات دراصل یہ ہے کہ میں جو پڑھائی کر رہا تھا ، اس میں میرا کوئی اختیار نہیں تھا ۔والد صاحب نے زبردستی بھیجاتو میں چلا گیا ۔ ایک مدرسہ میں نہیں گیا تو دوسرے مدرسہ میں بھیج دیا ۔ دوسرے سے نکال کر تیسرے میں داخل کرا دیا ۔ اس میں میرا کوئی اختیا ر نہیں تھا ۔ لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ میرے سامنے اس تعلیم سے فراغت کے بعد کوئی مستقبل نہیں تھا ۔ یعنی میرا مستقبل یہی تھا کہ اسی طرح کا ایک مدرس بن جاوں یا کوئی امام وغیرہ ۔ اس تعلیم سے اسی قسم کے کام مل سکتے تھے ۔بہرحال میرے خیال میں اس وقت بھی میرے پاس اتنی سمجھ تھی کہ وہ سب چیزیں میری صلاحیت سے بہت کم ہیں ۔ اس طرح سے میں زندگی میں جو کنا چاہتا ہوں نہیں کرپاون گا ۔ میرے خیال سے یہی وہ واحد سبب تھا جس کی وجہ سے میں کسی بھی طرح سے یہاں سے نکل کر بھاگا۔ میں،گیا نہیں، بلکہ بھاگا ،تاکہ میں اس زندگی سے جو نظر آرہی تھی سے بھاگ کر میں کچھ بن سکوں ۔ میرے خیال میں اس وقت میری سمجھ میں یہی بات آرہی تھی اور غالبا میں اگر میں باہر نہ گیاہوتا تو میں بھی آج کسی مدرسہ میں پڑھا رہا ہوتا اور کڑھ رہا ہوتا یاور اس کڑھن کی وجہ سے شاید متعدد امراض کا شکار بھی ہوچکا ہوتا ۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ ایک طرح سے میں نے غیر مطمئن مستقبل سے ، جو مجھے نظر آرہا تھا، بھاگنے کی کوشش کی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں مجھے ناکامی نہیں ہوئی ۔ ٹھیک ہی ہوا ۔ یہاں جو ہوسکتا تھا اس سے بہر حال بہتر ہی ہوا ۔سوال: ایک مرتبہ آپ نے بہت پہلے بتایا تھا کہ جب آپ مصر جارہے تھے تو آپ کے والد صاحب راضی نہیں تھے اور آپ کے جانے کے بعد انھوں نے کہا تھا آپ سے کہ تم نے مجھے دیوار قہقہ پھندوا دیا۔ان کا خیال شاید یہ تھا کہ آپ مصر کی جدیدیت میں کھو جائیں گے ؟جواب: نہیں !نہیں! یہ غلط ہے ۔ دراصل یہ بات مولانا عبدالباری ندوی صاحب نے کہی ، جو متکلم و فلسفی کہے جاتے تھے ۔ وہ بہت مشہور عالم اور ندوہ کے فارغین میں سے تھے ۔آج لوگ ان کو نہیں جانتے لیکن انکا بہت ہی بڑا مقام تھاجیسے مولانا سلیمان ندوی وغیرہ کا تھا ۔ وہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے شعبہ فلسفہ کے صدر اور استاذ بھی تھے ۔ریٹائرمنٹ کے بعد لکھنؤ میں رہتے تھے ۔ اس وقت ان کی کافی عمر ہوچکی تھی ۔ میں جاکر ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا اور انکی باتیں سنا کرتا تھا ۔مجھے ہمیشہ سے پسند تھا کہ میں اس طرح کے ذی علم اور میری عمر سے بہت بڑے لوگوں کے پاس بیٹھوں تاکہ کچھ سیکھ سکوں ۔ تو جب میں قاہرہ چلا گیا تو یہ بات مولانا عبدالباری صاحب نے میرے والد سے کہی کہ آخر کار آپ نے ظفرالاسلام کو دیوار قہقہ پھندوا دیا ۔ مطلب یہ ہےکہ قصوں میں مشہور ہے کہ کوئی دیوار تھی ،دیو مالائی دیوار، کوئی اسطوری دیوار ، جس پہ لوگ کھڑے ہوتے تھے، مسکراتے تھے اور چھلانگ مارکر دوسری طرف چلے جاتے تھے اور پھرکبھی واپس نہیں آتے تھے۔ تو ایک طرح سے اسکا مجازا یہ کہنا تھاکہ یہ لڑکا مصر چلا گیا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئے گا، وہاں کی جدیدیت میں گم ہو جائے گا ، وغیرہ ۔میرے خیال میں مولانا عبدالباری کی یہ پیشن گوئی تھی پوری طرح سے غلط ثابت ہوئی۔ نہ میں مصر جاکر کوئی ملحد اور کافر ہوگیا نہ یہ کہ مصر جاکرمیں واپس نہیں آیا ۔ وہاں بھی میں اپنے دین اور عقیدہ پر قائم بھی رہا اور واپس بھی ہندوستان آیاجب کہ مجھے یہا ں آنے کی کوئی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ جب میں انگلستان گیاتو وہاں پرحالات بہر حال اللہ پاک کے فضل سے ٹھیک تھے۔ وہاں پہ میرا اچھا خاصہ کام تھا، ملازمت تھی ۔ میں نے وہاں مکان بھی خرید لیا تھا ۔ وہاں مکان خریدنے کے بعد لگتا ہے کہ آدمی وہاںسٹل ہوگیا ہے۔ عموما یہی ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود میں نے وہ مکان بیچ دیا اورہندوستان واپس آگیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ہندوستان میں ہی مجھے کام کرنا چاہئے۔ یعنی اپنے اصل مقام پر کام کرنا چاہئے ۔ دوسرے لفظوں میں میرے جیسے آدمی کو اپنےملک جانا چاہئے حالانکہ میرے ملک میں بہت مشکلات تھیں۔ اگر چہ اس کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں جن میں میں ابھی نہیں جاتا، لیکن بحیثیت مجموعی میں سمجھتا ہوں کہ میں نے یہ فیصلہ درست ہی کیا۔ حالانکہ اس کی اس وقت بہت لوگوں نے مخالفت کی۔ میرے گھر والوں یعنی بیوی اور بچوں نے کی اور دوسرے رشتہ داروں نے بھی مخالفت کی کہ کیا بیوقوفی کرتے ہو تم، بھلا کوئی انگلستان چھوڑ کر آتا ہے اس طرح سے؟بہر حال میں نے سوچا تھا کہ یہاں واپس آکر کہ کچھ کروں گا،اور میرے خیال میں ایک حد تک میں نے کیا بھی۔ پوری طرح سے تو نہیں کرسکا کیونکہ یہاں آنے کے بعد میں بہت سے مسائل میں گھر گیا ،جسکی مجھے توقع نہیں تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود میں نے یہاں الحمد للہ سروائیو بھی کیا یعنی باقی وقائم رہا، بچوں کی مناسب تعلیم بھی ہوئی اور ایک حد تک میں نے کام بھی کیاجس میں ملی گزٹ سترہ سال تک نکالنا شامل ہے جوکہ میرے جیسے اکیلے آدمی کے لئے ،جس کے پاس وسائل کی سخت کمی تھی ، ایک معجزہ ہی تھا۔ کسی کے پاس بہت وسائل ہوں، یا اس کے پیچھے ایک بڑا ادارہ ہو ،تو اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔ لیکن میں نے جو بھی کمایا وہ ملی گزٹ وغیرہ میں لگایا اور اس کے ساتھ اپنا پورا وقت بھی لگایا۔ ملی گزٹ کے ذریعے میں نے سترہ سال تک ملت کی آواز دنیا تک پہنچائی اور اسی کے ساتھ ساتھ اس عرصے کے سارے واقعات کو ایک رجسٹر کی طرح محفوظ بھی کر دیاکہ کبھی کوئی آدمی آئے اور جاننا چاہے کہ ان سترہ سال میں ہندوستانی مسلمان کیا کہہ رہے تھے ،کیا بول رہے تھے، کیا سوچ رہے تھے، ان کے ساتھ کیا ہو رہا تھا ، تو اس کو ایک حد تک وہ تصویریں مل جائیں گی جو شاید اور جگہوں پر نہ ملے۔ اور یہ بھی پوری کوشش کی گئی کہ جذباتیت سے دور رہ کر یہ سب بیان کیا جائے ، اگر چہ کافی مشکل ہوتا ہے کہ آدمی ایسے حالات میں جب بہت سنگین واقعات ہورہے ہیں ،جیسے گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ جو ۲۰۰۲ میں ہوا اور اسی طرح جیسے آسام اور مظفر نگر میں جو کچھ ہو ا، ن سب کے باوجود ہم نے اپنے ہوش کو برقرار رکھااور عدل وانصاف کی بات کی جو کوئی آسان کام نہیں تھا۔ میرے خیال میں ہم نے ملی گزٹ میں اپنے ہوش وحواس کو برقرار رکھااور انصاف کی با ت کہی، چاہے وہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور ملت کو بھی اس کی تلقین کی۔ بہرحال لندن سے واپسی کے بعد بہت کچھ ہو جس میں سترہ سال نکالنا شامل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے لئے یہ سب کار خیر ہی تھا۔اللہ پاک اس کا ثواب انشاء اللہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیں گے۔سوال: ایک چیز یہ بتائیے کہ آپ جب لندن سے لوٹ رہے تھے تو آپ نے کوئی پلان بنایا تھا کہ مجھے ہندوستان میں جاکر یہ کرنا ہے۔ کوئی لانگ ٹرم پلان یا شارٹ ٹرم پلان ؟ تو آپ نے اپنے پلان اور ہدف کو کس حد تک پورا کیا اورکس حد تک آپ کو کامیابی ملی اور کیا آپ نہیں کرسکے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں یہ کرسکتا تھا لیکن نہیں کر پایا، یا آگے کا آپ کا کوئی خواب ہے جو آپ نے دیکھا اور وہ پورا نہ ہوپایاہو؟جواب :دیکھئے ، ابھی میں اس کو نہیں بتاؤں گا۔ یہ بات انشاء اللہ کبھی مجھے اپنی سوانح عمری لکھنے کاوقت اگر ملا ۔۔ معلوم نہیں ملے گا یانہیں۔۔بہر حال، اگر موقع ملا تو انشاء اللہ اس میں یہ سب باتیں لکھوں گا ۔ میرا جو ہندوستان آنا ہوا اکتوبر سنہ 1984ء میں وہ در حقیقت میرے اپنے پلان کے مطابق نہیں تھا ۔ میرا پلان ہندوستان واپس آنے کا ضرور تھا لیکن اتنی جلدی نہیں تھا ۔ آنا کیوں اور کن حالات میں ہوا، اس کے بارے میں انشاء اللہ کبھی تفصیل سے لکھوں گا ۔ ابھی میں اسکے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں۔

پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ایک سفر جس نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا

محمد علم اللہ، نئی دہلیگزشتہ دنوں معروف ملی قائد اوردہلی اقلیتی کمیشن کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے ایک منصوبے پر بات چیت ہوئی۔ منصوبہ یہ تھا کہ ان دِنوں ہندوستان کے مسلمان، خصوصا نوجوان، جس نا امیدی، قنوطیت اور یاس کی کیفیت میں جی رہے ہیں، ان کو اس حالت سے باہر نکالنے کے لیے کچھ عملی اقدام کیے جائیں۔ اس سلسلے میں ایسی گم نام مگر فعال شخصیات کو متعارف کرانے کی بات سامنے آئی، جنھوں نے واقعی میں کسی صلے کی تمنا کے بغیر کام کیا ہے۔ اس سے ایک تو یہ کہ ان شخصیات میں مزید کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا، دوسرا ایسی شخصیات سے تحریک پا کر نوجوان نسل بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ پائے گی۔ اس منصوبے کے تحت ایک کتابی سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔
سب سے پہلے ہم نے اتر پردیش کی ایک شخصیت کا انتخاب کیا، جن کی بے لوث خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا؛ البتہ ان کی خدمات سے لوگ متعارف نہیں ہیں۔ اس کام کے لیے ہم اتوار کی صبح یوپی کے ضلع بلند شہر جا پہنچے۔ منتخب شخصیت سے فون پر پہلے ہی بات ہو چکی تھی۔ ہم اپنی متعین مقام پر پہنچے تو ڈاکٹر ظفر الاسلام خان تھوڑی دیر بیٹھ کر، اپنے کسی کام سے ایک دوسری جگہ چلے گئے اور بات چیت کے لیے مجھے ان کے یہاں چھوڑ گئے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے ایک ’’رف آوٹ لائن‘‘ پہلے ہی بنوا دی تھی، کہ کہاں سے بات شروع کرنی ہے اور کیا کیا پوچھنا ہے۔ رسمی خیر خیریت کے بعد ہمارے درمیان بات چیت شروع ہوئی۔ میں ان سے پوچھتا کچھ تھا، وہ جواب کچھ دیتے تھے۔ مجھے احساس ہو گیا، کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں، لیکن ایسا کیوں کر رہے ہیں، یہ میری سمجھ سے بالا تھا۔ وہیں سامنے ان کے بیٹے، بھتیجے اور کچھ رشتے دار بھی موجود تھے۔
میں نے جب پوچھا، ’’آپ اپنے بچپن اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیے، جس وقت آپ نے ہوش سنبھالا ملک کی حالت کیسی تھی؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتے، ان کا بڑا بیٹا انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا، ’’ارے! کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں، تم کو اس سے کیا مطلب؟ تم کون ہو اور کیوں پوچھ رہے ہو یہ سب؟‘‘ اس نے میرے ہاتھ میں سیل فون دیکھا تو کہنے لگا، ’’اچھا! تو تم ریکارڈ بھی کر رہے ہو!‘‘ یہ کہتے میرے ہاتھ سے میرا فون جھپٹ لیا اور ریکارڈنگ ڈیلیٹ کردی۔ میں بالکل سٹپٹا گیا؛ کیوں کہ اس طرح کے سلوک کی مجھے قطعا امید نہ تھی۔ تمام باتیں تو آنے سے پہلے ہی فون پر طے ہو گئی تھیں؛ پھر یہ کیا ماجرا ہے! میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس کو کیا جواب دوں۔ وہ جوان لحیم شحیم، مضبوط اور توانا تھا۔ مجھے لگا کہ کہیں وہ مجھے دو چار ہاتھ ہی نہ جڑ دے۔ مجھے حیرانی اس بات پر بھی تھی، کہ اس دوران بزرگ محترم کسی بھی رد عمل کا اظہار نہیں کررہے تھے، جس سے ان کے بیٹے کی تشفی ہوتی۔ میں نے اس کو سکون سے بیٹھنے کے لیے کہا اور پوری تفصیل سے آگاہ کیا؛ آمد کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سب کام اپنے ذاتی غرض کے لیے نہیں کر رہا، اور نا ہی اس میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا کوئی شخصی مفاد ہے؛ بلکہ اس میں ان کا اپنا فائدہ ہے کہ لوگ ان کو جانیں گے، ان کا نام ہوگا۔ لیکن وہ انتہائی غصے میں تھا، اور اسی حالت میں پتا نہیں کیا کیا بولے چلا جا رہا تھا۔ ’’ہمیں نہیں چاہیے نام وام۔‘‘ یہ سب دیکھ کر میں نے اپنا سامان سمیٹتے کہا، ’’ٹھیک ہے، اگر آپ نہیں چاہتے، تو میں بند کر دیتا ہوں۔‘‘ یوں میں نے اپنی تمام چیزیں سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیں۔
ابھی میں گو مگو کی کیفیت میں مبتلا تھا، کہ کیا کیا جائے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کو تفصیل بتاتا تو وہ ناحق پریشان ہوتے اور اپنا کام ادھورا چھوڑ کر جلد ہی لوٹ آتے۔ اس درمیان ظہر کی اذان کی آواز آئی۔ میں تھوڑی دیر وہاں بیٹھا رہا، پھر سوچا کیوں نہ مسجد جایا جائے۔ میں پوچھتے پاچھتے مسجد پہنچ گیا۔ وضو کیا اور صحن کو عبور کرتے ہوئے اس حصے میں داخل ہوا، جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔ مسجد میں اکا دکا لوگ دکھائی دے رہے تھے؛ ابھی نمازیوں کی آمد شروع ہوئی تھی۔ میری نظر ایک باریش پر گئی، جو کرتا اور لنگی پہنے ہوے تھا۔ ماشاء اللہ! خاصی لمبی ڈاڑھی ہوا سے لہرا رہی تھی۔ حال حلیے سے مسجد کا امام لگ رہا تھا۔ میں اس کے قریب گیا، سلام کیا اور پوچھا، ’’جناب! جماعت کتنے بجے ہے؟‘‘ اس نے میرے سلام کا جواب بھی نہ دیا، اور انتہائی رعونت سے میری جانب دیکھا۔ میں جینز شرٹ پہنے ہوئے تھا؛ داڑھی بھی چھوٹی تھی، جو شاید اسے بری لگی۔ نہایت کریہہ لہجے میں ٹوکری نما پلاسٹک کی ٹوپیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’مسجد کا احترام لازم ہے، پہلے سر پر ٹوپی رکھ لو۔‘‘ مجھے اس کا یہ انداز بہت برا لگا؛ تعجب بھی ہوا۔ موڈ تو پہلے سے خراب تھا، جی میں آئی، کہ اس کو سخت جواب دوں، لیکن پھر کچھ سوچ کر تلخ جواب نہ دیا؛ فقط اتنا کہا کہ ٹوپی نماز کا حصہ نہیں ہے اور سنت پڑھنے کے بعد مسجد کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی جماعت کھڑی ہونے میں چند منٹ باقی تھے کہ میں نے دیکھا؛ وہی باریش ایک دوسرے باریش سے کچھ کھسر پھسر کر رہا ہے۔
مسجد میں بہت سے نمازی اکٹھے ہو چکے تھے۔ جماعت کھڑی ہونے لگی تو وہی شخص کھڑا ہوا اور زور سے چیخ کر کہنے لگا، ’’جناب! ٹوپی پہننا سنت ہے اور بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا مکروہ، اور مکروہ حالت میں جان بوجھ کر نماز پڑھنا حرام ہے۔‘‘ سب نمازی مجھے خشمگین نظروں سے گھور رہے تھے، جیسے میں کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں۔ (سچ مچ میں کسی اور دنیا کا باسی تھا) میں سوچ رہا تھا، ’’یا اللہ میں کہاں آکر پھنس گیا۔ کیا تیرے گھر میں بھی امان نہیں ہے؟‘‘ بہرحال جیسے تیسے نماز ادا کی۔
انجان جگہ تھی نماز تو پڑھ لی اب کہاں جاتا؟ کیا کرتا؟ سوچا وقت گزاری کے لیے تھوڑی دیر قران ہی پڑھ لوں۔ سامنے رکھے ریک سے قرآن اٹھایا، جلد گرد آلود تھی، اس کو جھاڑا اور ایک طرف بیٹھ کر دل ہی دل میں تلاوت کرنے لگا، لیکن مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کچھ ہی دیر گزری ہوگی، کہ ایک شخص میرے سامنے داروغے کی طرح آن کھڑا ہوا۔ کہنے لگا، ’’قرآن پیچھے ہو رہا ہے، آپ قرآن کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ آگے ہو کر بیٹھ جائیے۔‘‘ اس کے سرزنش کرنے پر میں نے اپنا رخ تبدیل کر لیا، لیکن اب میرا دل و دماغ پر بیزاری طاری ہو گئی تھی۔ میں سوچ رہا تھا، کیا اسی اسلام کی تعلیم لے کر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے تھے؟ ذرا تصور کیجیے، اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو حکمرانی دے دے، تو پھر وہ کیا کیا غدر نہ مچائیں گے!
طبیعت بالکل مکدر ہوگئی تھی۔ قرآن ہاتھ میں پکڑ کر مسجد ہی میں بیٹھے بیٹھے آنکھیں موند لیں۔ تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ میزبان کا دوسرا بیٹا مجھے تلاش کرتے مسجد آن پہنچا۔ آتے ہی کہا، ’’چلیے کھانا کھانے۔‘‘ اس کوفت کی حالت میں کھانا کیا کھاتا، سو میں نے کہا، ’’میں تو کھانا کھا چکا ہوں۔‘‘ وہ بہت ضد کرنے لگا لیکن میں نے بھی ہٹ نہ چھوڑی۔ پھر وہ انتہائی لجاجت سے کہنے لگا، ’’اچھا چلیے! گھر چلتے ہیں۔‘‘ اس کی باتوں میں کچھ اپنائیت بھی تھی اور کچھ ندامت بھی۔ میرا دل پگھل گیا اور میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ گھر پہنچا تو سبھی ایک مرتبہ پھر کھانے کے لیے ضد کرنے لگے، لیکن میں نے کھانا نہیں کھایا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کا بڑا بھائی، جس نے بد تمیزی کی تھی، مجھ سے معافی مانگنے لگا اور کہا۔
’’مجھے اس طرح نہیں بولنا چاہیے تھا، غصے میں بول دیا۔ آپ کو برا لگا اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔‘‘میں عجیب مخمصے سے گزر رہا تھا۔ میں نے کہا، ’’کوئی بات نہیں، میں سمجھ سکتا ہوں۔‘‘
پھر اس نے اپنی داستان سنانا شروع کی۔ ’’چالیس سال سے ہم مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔ اب نہیں چاہتے کہ کوئی اور مصیبت جھیلیں۔ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ایک غیر ملکی کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ آزادی کے بعد ابا ہجرت کر کے لندن چلے گئے۔ ہم سب کی پیدائش وہیں ہوئی تو ہم بھی غیر ملکی ٹھہرے۔ ہر قدم پر پہرے ہیں، سازش ہے، ہم کوئی بزنس نہیں کر سکتے، ہم کہیں اپنی آواز نہیں رکھ سکتے، ہم ووٹ نہیں دے سکتے، ہمارے بارے میں من گھڑت اور فرضی رپورٹس اور کوئی نہیں اپنے ہی بھائی بند ایجنسیوں تک پہنچاتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں عتاب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اگرچہ آپ مثبت مقصد سے لکھیں گے لیکن چالیس سال کے بعد جس مصیبت سے ہم باہر نکلے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ اس عمر میں آکر پھر کسی نئی افتاد میں جا پھنسیں۔ شاید اسی احساس کی وجہ سے میں آپ کو ایسا بول گیا، مجھے معاف کر دیجیے۔‘‘
وہ اپنی کہانی سنا کر چلا تو گیا، مگر میں ایک ایسے دو راہے پر کھڑا تھا، جہاں سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔
یہ دونوں واقعات اگرچہ معمولی ہیں، لیکن ان کے اندر جھانک کر دیکھیے تو آپ کو حقیقت سمجھ آ جائے گی۔ دونوں واقعوں میں قوم کے لیے سبق ہے۔ ایک طرف ہم نے اسلام کی ایسی شبیہہ بنائی ہے، جہاں جہالت اور تشدد ہی تشدد ہے، برداشت کا مادہ نہیں۔ دوسری طرف مخالف ہم سے برسرِ پیکار ہے لیکن ہم نوشتہ دیوار پڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ اے کاش! ہم نوشتہ دیوار پڑھتے، اپنے اندر لچک پیدا کرتے، دلوں کو توڑنے کے بجائے جوڑتے، تو آج جن حالات سے دو چار ہیں، یقیناً یہ دن ہمیں دیکھنے نہ پڑتے۔
http://www.humsub.com.pk/74456/muhammad-alamullah-3/پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

وزیر اعظم ہند جناب نریندر مودی کے نام کھلا خط


عزت مآب وزیر اعظم ہند جناب نریندر دمودر داس مودی صاحب
آداب و تسلیمات
سارے ہندوستان نے کل اکہترواں یوم آزادی کا جشن منایا۔ آپ نے صبح صبح لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے جہاں بہت سی باتیں کی ہیں، وہیں یہ بھی کہا کہ نیا ہندوستان جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ تک محدود نہیں ہے۔ نئے ہندوستان کی جمہوریت ایسی ہوگی جس میں نظام کے بجائے عوام سے ملک چلے گا۔ آپ نے فرمایا، ملک کی سلامتی آپ کی اولین ترجیح ہے؛ ملک کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے حوصلے پست کرنے کے آپ اہل ہیں۔ آپ نے خاصے دنوں کے بعد ملک میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ کا بھی ذکر کیا اور کہا ہے کہ عقیدے کے نام پر تشدد کو ملک میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ ملک امن، اتحاد اور خیر سگالی سے چلتا ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہماری تہذیب اور ثقافت ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں مجھے آپ کی باتوں کا عوامی سطح پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ تین سال قبل جب آپ اقتدار میں آئے تھے، اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی باتیں کی تھیں مگر حالات دن بدن بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ آپ نے جو وعدے کیے تھے، وہ محض وعدے ہی رہے، جن سے ہم جیسے نوجوان تشویش میں مبتلا ہیں اور اسی تشویش نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں آپ کو خط لکھوں۔
گزشتہ کئی روز سے میرے ذہن میں مختلف قسم کے خیالات ہیجان برپا کیے ہوئے ہیں اور میں انھیں جھٹک کر آگے بڑھ جانے کی کوشش کرتا ہوں۔ صبح سے شام تک اٹھتے، بیٹھتے، کھاتے پیتے، آفس میں کام کرتے ہوئے، ہرجگہ، ہر لمحہ، یہ پریشان خیالی مجھے اطمینان نہیں لینے دیتی؛ ڈھیروں سوالات جنم لیتے ہیں مگر کسی سوال کا کوئی جواب سمجھ نہیں آتا؛ بس ہر طرف وحشت اورتاریکی نظر آتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی مشعل بردار نہیں، کوئی خضر راہ نہیں۔ ایک عجیب خوف ہے، سراسیمگی ہے، بے یقینی اور تذبذب ہے یہ تمام چیزیں دل کے نہاں خانوں میں جاکر ایک ایک کونا پکڑ کر بیٹھ گئی ہیں۔ میں اپنے سوالات کے جوابات تلاش کرنے سے پہلے ہی بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہوں؛ اس لیے نہیں کہ مجھے کوئی بیماری ہے یا میرا کوئی بہت قریبی عزیز مر گیا ہے، یا مجھ پر کوئی مصیبت آن پڑی ہے۔ خدا کا شکر ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ تو پھر میں اس قدر پریشان کیوں ہوں؟۔ بظاہرمیرا بہت بے باک قلم بھی جو میں سوچ رہا ہوں اس کو لکھنے سے کترا رہا ہے، مصلحت سے کام لینے کے لیے کہ رہا ہے۔ اسے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں جذبات کی رو میں کوئی ایسی بات نہ لکھ دوں جس سے آپ کی شان میں کوئی گستاخی ہو جائے اور اس کی وجہ سے مجھے”غدار وطن“ کہہ کر میرے قتل کو جائز قرار دے دیا جائے۔
لیکن یہاں ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ نہ لکھنے سے پہلے، کون سا مجھ کو دیش بھکتی (محب وطن) کا سرٹیفیکٹ مل گیا تھا؟ پھر ڈر کیسا؟ کیوں؟ یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم! اگرآپ کہتے ہیں کہ یہ واہمہ ہے تو خدا کرے کہ یہ واہمہ ہی ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہماری یہ حالت اسی طرح کے واہموں میں گرفتار رہنے کا نتیجہ ہے۔ آج میں ان واہموں سے باہر نکلنا چاہتا ہوں اوراس خوف و بے چینی کی وجہ تلاش کرنا چاہتا ہوں جس نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں ایک آزاد ملک میں رہتے ہوئے آزاد ہوں یا زندگی کسی کولیٹرل ڈیمیج کے کنٹینر میں حصار بند ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں پرورش و پرداخت پانے کے باوجود’سرودھرم سمبھاؤ ‘والے اس قدیم ترین تہذیبی ملک میں، مجھے اجنبیت کا شکار کیوں ہونا پڑ رہا ہے، یا شکار بنایا جارہا ہے!؟ کیوں؟
مجھ جیسا ایک اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان اس محتاط پرندے کی طرح کیوں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جو دانا چگتے ہوئے چاروں طرف نظر رکھتا ہے کہ مبادا کوئی اس پر حملہ نہ کر دے! کوئی شکاری اسے جھپٹ نہ لے، اس کی آزادی پر قدغن نہ لگادے، اس کا حصہ اس سے چھین نہ لے۔ شاید اس وجہ سے وہ ایک ایسی بستی میں رہنا پسند کرتا ہے، جہاں نوے فی صد سے زیادہ اس کے اپنے بھائی بند رہتے ہیں۔ یعنی کہ گھیٹو (Ghetto) میں رہتا ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو کسی زمانے میں مشرقی یورپ کی یہودی بستیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اب یہ لفظ ہماری اجتماعی حالت کی علامت بن چکا ہے۔ وہ گھیٹو میں رہتا ہے پھر بھی اسے یہ خوف ستاتا رہتا ہے کہ خدا جانے کب پوری بستی کو خاک و خون میں نہلا دیا جائے؟ کب بم بلاسٹ کرا کے پورے علاقہ کو تباہی و بربادی کے دہانے پر دھکیل دیا جائے۔ کب اس کے آشیانے کو تہس نہس اور برباد کر دیا جائے۔
اپنے آبائی وطن یا دور دراز علاقے کا سفر کرتے ہوئے ٹرین اور بس میں وہ کیوں بہت محتاط ہو جاتا ہے؟ گھر سے نکلتے وقت ماں بار بار یہ کیوں کہتی ہے ذرا جی بھر کے دیکھ لینے دو، پھر ملاقات ہوگی یا نہیں کون جانتا ہے؟ زمانہ بہت خراب ہو گیا ہے۔ بوڑھے ابو جو کبھی اسٹیشن چھوڑنے کے لیے نہیں آتے تھے، اب کیوں آتے ہیں؟ اور کیوں بار بار یہ کہتے ہیں کہ سفر میں کسی بھی موضوع پر کسی سے بھی مباحثہ، بات چیت یا الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟ بہن کیوں کہتی ہے، بھیا! اردو کی کتاب بیگ میں رکھ لیجیے آپ کو ٹرین میں پڑھنا ہی ہے تو یہ والی ہندی کتاب یا وہ انگریزی کتاب اوپر رکھیے؛ ٹرین میں اسی کو پڑھیے گا۔ گھر ایک دن نہ فون کرنے پر امی، ابو اور گھر والے سب تشویش میں کیوں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ مزید پڑھائی کی چاہ میں دیر گئے رات تک اگر کسی دن لائبریری میں رک جانے کا منصوبہ بن جائے اور احباب کو نہ بتایا ہو تو وہ کیوں پریشان ہو جاتے ہیں کہ اتنی دیر تک کمرے میں واپس کیوں نہیں لوٹے؟ کہیں کسی پولِس یا اسپیشل سیل والوں نے اٹھا تو نہیں لیا؟ کرتا پاجامہ اور شلوار پہن کر سفر کرتے ہوئے اسے خوف کیوں آتا ہے؟ ایک طالب علم ہونے کے ناطے وہ دنیا جہان کے لوگوں سے بات کر سکتا ہے لیکن علم کی طلب کے لیے بہت معتبر اور علم و ادب کے پرستار سینیر اور بڑے پاکستانی فن کار، استاد، ادیب یا قلم کار سے فیس بک پر بھی علمی باتیں کرتے ہوئے اسے دھڑکا کیوں لگا رہتا ہے کہ جانے کب اس کی کون سی بات کو داستان بنا دیا جائے، اور کب اس کی یہ علمی چاہ اسے جیل کی کال کوٹھری میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دے؟
گھر میں بھائی ابو کو کیوں کہتا ہے: ابا! اب آپ گوشت کے شوق کو چھوڑ ہی دیجیے، کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم گوشت کھائیں، آپ گرچہ بہت چھپا کے کاغذ اور پلاسٹک میں لپیٹ کر گوشت لے آتے ہیں، مگر لوگوں کو تو بس بہانہ چاہیے؛ نہیں دیکھتے، آئے دن جنونی ہجوم کس طرح نہتے مسلمانوں کو تشدد اور قتل کا نشانہ بنا رہا ہے، ہم سبزی سے ہی کام چلا لیں گے۔
میری امی کو پتاہے، کہ مجھے بریانی بہت پسند ہے اور وہ توشہ میں لے جانے کے لیے بریانی بناتی ہیں، پیک بھی کر دیتی ہیں، پھر جانے کیا خیال آتا ہے اور بریانی میں سے سارے گوشت چن لیتی ہیں، کیوں کہ پتا نہیں کب، کیا حادثہ پیش آ جائے؟
دہلی جیسے مرکزی شہرمیں آٹو والا جس علاقے میں پہلے ہی سے خوف زدہ نوجوان رہتا ہے، وہاں نہیں جانا چاہتا؛ اسے لگتا ہے کہ اس علاقے میں دہشت گرد بستے ہیں۔ حیدر آباد جیسے بڑے شہر میں اسے کمرہ اس لیے نہیں ملتا کہ وہ مسلمان ہے۔ اپنی شناخت چھپا کر وہ ایک جگہ کرائے کا مکان لینے میں کام یاب بھی ہو جاتا ہے مگر جیسے ہی مالک مکان کو پتا چلتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، اسے جلد از جلد کمرہ خالی کر دینے کا الٹی میٹم دے دیا جاتا ہے۔ اس کے ایک رشتے دار کی بچی جوعلاقے کے معروف انگریزی میڈیم اسکول میں تیسری جماعت میں زیر تعلیم ہے اور جس نے ابھی دنیا نہیں دیکھی ہے اور جو ابھی زمانے کے اتار چڑھاو سے بھی واقف نہیں ہے، اس بات پرخوشی کا اظہار کرتی ہے کہ اس کا نام 'ماریہ' ہے اور اسے یہ نام اس لیے پسند ہے کہ اس کا نام عیسائیوں جیسا ہے اور وہ اپنے اسکول کے بچوں کو نہیں بتانا چاہتی کہ وہ مسلمان ہے مبادا وہ بھی ان مسلم بچوں کی طرح عتاب کا شکار ہو جائے جن کے بارے میں وہ اکثر سنتی رہتی ہے۔
لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے، واقعات و حادثات کی ایک لمبی فہرست؛ جسے واقعی اگر نوک قلم پر لانے لگوں تو ایک دفتر تیار ہو جائے، لیکن پھر بھی میرے اور میرے جیسے ان لاکھوں نوجوانوں کے سوالوں کا جواب نہیں مل سکے گا جو ہر دن انتہائی کرب کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں؛ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں ان کی مرضی کے مطابق ملازمت نہیں ملتی۔ انھیں شک و شبہ اور تجسس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑے کیے جاتے ہیں؛ ان کے اداروں کو قومی دھارے سے الگ کہہ کر دہشت گردی کا اڈہ کہا جاتا ہے۔ ان کے گھروں میں گھس کرچولھا، فریج اور دیگچی کو چیک کیا جاتا ہے کہ اس کے گھر میں کیا پکا ہے؟
کہاں تک سنیے گا اور کہاں تک سناؤں!؟ لیکن نہیں! سنیے! کہ زندگی حادثہ ہوتے ہوتے کیسے بچی ہے؛ ہم رائیگاں کے ریگ زار میں رزق خاک ہونے سے کیسے بچے؟ عید کا دوسرا دن ہے۔ میں اور میرا دوست وسیم اکرم شہر رانچی سے ایک دوسرے شہر لوہردگا اپنی بہن کو لینے جا رہے ہیں؛ ابھی شہر رانچی کی سرحد میں داخل ہی ہوئے ہیں کہ دیکھتے ہیں، ایک ہجوم سامنے ہے۔ زعفرانی لباس میں ملبوس جنونیوں کا ہجوم 'جے شری رام' کے نعرے لگا رہا ہے؛ ہجوم کے ہاتھوں میں تلوار، بلم، لاٹھی، ڈنڈا اور تیل کے کنستر ہیں؛ وہ ہر گاڑی والے کو روک کر چیک کر رہے ہیں، لوگوں کو نکال کر مار رہے ہیں، انھیں آگ کے حوالے کر رہے ہیں۔میں موت کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں؛ موت کبھی بھی ہماری گاڑی کے شیشے پر دستک دے سکتی ہے۔ اب ہم بچنے والے نہیں ہیں۔ وسیم تسلی دیتا ہے گھبراو نہیں، سورہ رحمٰن کی تلاوت کرو، ان شا اللہ کچھ نہیں ہوگا۔ مجھے جتنی دعائیں یاد تھیں سب کا ورد کر ڈالا۔ صد شکر خدا نے سن لی! میں نے اپنے کانوں سے یہ آواز سنی : ”یہ اپنے لوگ ہیں، کٹوا نہیں ہیں سالے! آگ مت لگانا“۔
وسیم نے کسی طرح گھسٹتے ہوئے اسٹیرنگ گھمایا اور ایک تھانے کے پاس آ کر گاڑی روک دی۔ وہ گاڑی میرے استاد مولانا نسیم انور ندوی کی تھی اور انھوں نے چند روز پہلے ہی ایک ہندو بھائی سے خریدی تھی ۔ اس کے آگے 'جے ماتا دی' لکھا ہوا تھا۔ کیا اگر گاڑی پر 'جے ماتا دی ' نہ لکھا ہوتا تو ہم مار دیے جاتے؟ ہاں! مار دیے جاتے۔
مجھے معلوم ہے، میری اس تحریر پر میرے بہت سے اپنے ہی اعتراض کریں گے، لیکن اگر وہ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں گے، تو میرے خیال سے خود کو متفق پائیں گے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم کتنے ہی بلند بانگ دعوے کرلیں، اپنی قدیم تہذیب و ثقافت، تعددیت ، عقیدہ، مساوات اور سرو دھرم سمبھاو کی باتیں کرلیں، ہر جگہ یہ کہتے پھریں، کہ مجھے”بھارتیہ“ ہونے پر’گرو‘ ہے، لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں میرے لیے اب یہ صرف چند کھوکھلے الفاظ ہیں؛ معنویت سے عاری کلیشے ہیں۔ جب اس قسم کے بے روح الفاظ میری سماعت سے ٹکراتے ہیں تو دل کڑھتا ہے، غصہ بھی آتا ہے اور شرم بھی کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ہمیں ان پر فخر محسوس کرنا چاہیے یا شرم۔
یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی، کہ سچر کمیٹی، مشرا کمیشن، کنڈو کمیٹی اور نہ جانے اس قسم کی کتنی ان گنت کمیٹیوں کی سفارشات ہمیں ہماری حالت بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم دلتوں سے بھی بد تر ہیں، ہم آئے دن کے فسادات کی نذر ہوتے ہیں، جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر ہمارے نوجوانوں کو جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔عدالت عالیہ سالوں گذرنے کے بعد ان کو معصوم قرار دیتی ہے لیکن کوئی معافی نہیں مانگی جاتی ، کوئی معاوضہ نہیں ملتا، کوئی سعی غم خواری نہیں کی جاتی۔ ایک جانور کے مرنے پر پوری حکومت اور اس کے کارندے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن ایک انسان کی موت پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا! کیا پھر بھی میں یہ کہوں کہ مجھے ایک ہندوستانی ہونے پر فخر ہے؟ پتا نہیں کیوں، مگر مجھ سے یہ کہا نہیں جاتا کہ مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں منافقت کر رہا ہوں؛ خود کو شاید جھوٹی تسلی دینے کی کوشش کر رہا ہوں اور کچھ بھی نہیں!
میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پڑھائی کی ہے، سنا ہے اب آپ کی حکومت اس کا اقلیتی کردار بھی ختم کرنے جا رہی ہے اور اس کے لیے آپ کی حکومت سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرے گی۔ اگر اس کا اقلیتی کردار ختم ہو گیا تو ہم جیسے نوجوان کہاں جائیں گے، جہاں بہت ساری جگہوں پر صرف ہماری شناخت دیکھ کر داخلہ نہیں دیا جاتا۔ پھر ہم غریبوں کے پاس اتنی رقم بھی تو نہیں ہوتی کہ ہم بڑی یونیورسٹیوں میں موٹی رقم دے کر پڑھائی کر سکیں۔ آپ ہمیشہ ' سب کا ساتھ سب کا وکاس' کی بات کرتے ہیں تو پھر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔
آپ نے لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کے درمیان اِس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ ”ہمیں فرقہ پرستی اور نسل پرستی“ سے آزاد ہوناہے ۔ اس 'خواب' کو حقیقت میں بدلنے کا ’سپنا‘ آپ کس انداز میں دیکھ رہے ہیں، مجھے اس کا اندازہ نہیں ہے، لیکن اِس بات کا اندازہ مجھے ضرور ہے کہ 'فرقہ پرستی' اور 'نسل پرستی' کے خلاف اب تک کہی گئی آپ کی باتوں پر خود آپ کے نام لیوا بھی عمل نہیں کر رہے ہیں! حال میں جتنے بھی ایسے ناخوش گوار واقعات رونما ہوئے ہیں، اُن میں سے زیادہ تر معاملوں میں میڈیا کی زبانی جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اور ایسے معاملوں میں جو گرفتاریاں ہوئی ہیں، اُن میں سے کئی معاملوں میں کوئی دوسرا نہیں بلکہ خود آپ کی جماعت سے جڑے ہوئے لوگوں ہی کو پولِس نے پکڑا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں، جو آپ کے خوش کن نعرہ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“ کا عملاً مذاق اُڑا رہے ہیں۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ آپ کی فکرمندیاں، آپ کی وارننگ اور آپ کی پھٹکار کے باوجود ایک خاص طبقے کے 'وناش' کی کوشش کیسے ہورہی ہے؟ میری باتوں پر اگر آپ کو یقین نہ آئے تو 'عدم تحفظ'کے شکار لوگوں کے 'من کی بات' آپ خود سن لیجیے! اپنی اُس ’رعایا‘ کو جسے جمہوری لفظوں میں ”عوام“ کہا جاتا ہے،”جنتا “پکارا جاتا ہے، اور جس کا تعلق بطور خاص مسلم طبقے سے ہے، کے ’دردِ دل‘ کوآپ نہیں سنیں گے، تو آخر کون سنے گا؟ آپ پردھان سیوک ہیں؛ آپ کے ’من کی بات‘ ہم سب سنتے ہیں؛ ہمارے ’من کی بات‘ آپ بھی تو سن لیجیے!
امید کرتا ہوں کہ آپ میری فکرمندیوں پر توجہ دیں گے اور میرے جیسے ان لاکھوں نوجوانوں کے اضطراب کو دور کرنے کے لیے جلد از جلد کوئی عملی اقدام کریں گے۔
آداب
ہندوستان کا ایک دکھی ناگرک
محمد علم اللہ ، نئی دہلی
http://www.humsub.com.pk/73751/muhammad-alamullah-2/پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

اردوصحافت اپنا وقار کیوں کھو رہی ہے؟ ایک دلچسپ مباحثہ

اردوصحافت اپنا وقار کیوں کھو رہی ہے؟ ایک دلچسپ مباحثہآئی بی سیاردو نیوز
ہندستان کے نوجوان صحافی محمد علم اللہ نے اپنی فیس بک وال پر کچھ دن قبل اردو صحافت کے زوال پر ایک بحث چھیڑی اور اردو اخبارات میں‌ شائع ہونے والے مواد کی سطحیت پر کچھ سوال اٹھا کر احباب کو اپنی رائے دینے کے لیے کہا ، علم اللہ کے سوالات کو صحافتی اور علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سنجیدہ لیا اور اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں آراء دیں . (مدیر):محمد علم اللہ نے اردو صحافت کے بارے میں لکھا:گذشتہ دنوں میرے دوست اور ‘دی وائر’ اردو کے ایگزی ‘کیٹیو ایڈیٹر’ جناب مہتاب عالم کے توسط سے وائر اردو کے لئے کچھ مضامین کے تراجم اور کچھ کی ادارت کا اتفاق ہوا ۔ اس درمیان میں نے ایک چیز شدت سے محسوس کی کہ ہندی اور انگریزی میں صحافت کافی بالغ، پختہ، وقیع، معلوماتی اور مضبوط ہے جبکہ ٹھیک اس کے برعکس اردو میں انتہائی سطحی ،کمزور اور لاغر ۔بلا مبالغہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ اردو میں مہینوں بلکہ کبھی تو شاید برسوں میں ایک آدھ مضامین اس قدر وقیع ،علمی اور معلوماتی پڑھنے کو ملتے ہیں جن کے بارے میں ہم کہہ سکیں کہ ہاں واقعی طبیعت کو سیری حاصل ہوئی یا کچھ نیا سیکھنے کو ملا ۔اس احساس کا اظہار میں نے اردو کے اپنے دو سینئر احباب اور صحافی جناب ‘شاہد الاسلام’ اور’جناب اشرف بستوی’ سے کیا تو انھوں نے بھی میرے خیال کی تائید کی ۔میں جاننا چاہتا ہوں کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ یہاں پر میں اردو کے قلم کار ،صحافی ، محققین اور مدیران کو بھی ٹیگ کررہا ہوں اس امید کہ ساتھ کہ وہ کچھ وجہ ضرور بتائیں گے اور کم از کم اپنے اخبارات میں اس کمی کو دور کرنے کی سعی کریں گے .اس پوسٹ پر مختلف جہات سے آراء کا تبادلہ ہوا جو ان سطور میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے.ہندستان میں کچھ لوگ ہیں جو اردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہیںظفر عمران نے کہا:اس کی وجہ واضح ہے۔ ہندستان میں اردو رسم الخط سیکھنے سے روزگار میں مدد نہیں ملتی، یہ تو کچھ لوگ ہیں جو اردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انھیں جہاں کہیں سے مواد ملتا ہے، لے لیتے ہیں، کیوں کہ اردو اخبار کم بکتے ہوں‌ گے، کم اشتہار ملتے ہوں‌ گے ، ان کے بجٹ نہیں ہوتے کہ لکھنے والوں کی مدد لیں.اخبار مالکان قلم کار کو کوئی محنتانہ نہیں‌دیتےمکرم نیاز نے ظفر عمران کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا:اردو اخبار بکتے بھی ہیں اور سرکاری/غیر سرکاری اشتہار بھی انہیں ملتے ہیں ۔ چند بڑے اخبار مالکان کے پاس بجٹ بھی مناسب ہوتا ہے کہ قلمکار کو معاوضہ دیں مگر نہ وہ قلمکار کو کوئی محنتانہ دیتے ہیں اور نہ ہی معاوضہ دے کر قلمکاروں سے مخصوص موضوعات پر تحقیقی مضامین لکھنے کی ترغیب دلاتے ہیں
اردو اخبارات کے قارئین کو خطابت اور نعرے بازی کی عادت پڑچکی ہےعاطف کے بٹ نے کہا:خطابت اور نعرے بازی دو ایسے بنیادی عناصر ہیں جن کے بغیر اردو صحافت چلتی ہی نہیں ، برسوں بلکہ عشروں سے قارئین کو ان دونوں چیزوں کی عادت پڑچکی ہے، لہٰذا اردو میں آپ کو سنجیدہ، وقیع اور پختہ قسم کی چیزیں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ جب تک ان دونوں عناصر سے جان نہ چھڑائی جائے تب تک اردو صحافت سے سنجیدگی اور پختگی کی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ہندوستان میں اردو صحافت صرف مسلمانوں کے مسائل کی عکاسی کرتی نظرآتی ہےجاوید نہال ہاشمی کہتے ہیں:جس طرح ہندوستان میں اردو زبان ایک مخصوص قوم کی زبان ہو کر رہ گئی ہے، اسی طرح اردو صحافت بھی صرف مسلمانوں کی نمائندگی کرتی اور ان ہی کے مسائل کی عکاسی کرتی نظرآتی ہے۔ اس کے موضوعات میں تنوع نہ ہونے کا سبب اس کا parochial ہونا ہے۔ یعنی اپنی قوم سے باہر کے مسائل پر بہت کم لکھا جاتا ہے۔اگر معاوضہ اچھا دیا جائے تواردو کا صحافی دنیا کے کسی بھی کونے میں جاکر کوریج کرسکتا ہےیحیی خان اردو صحافت کی صلاحیت سے مایوس نہیں ہیں ، ان کے بقول : اردو صحافت میں لکھنے والے بہت ہیں اور وہ مکمل حوالوں کے ساتھ لکھیں گے ، بہترین لکھیں گے ! لیکن ان دنوں کوئی بھی اردو اخبار بے باک اور تحقیقاتی رپورٹس کو شائع کرنے سے گھبرارہا ہے ( بعض معاملات میں تو اشخاص اور اداروں کو تحقیقاتی رپورٹ بتاکرہی سودہ بازی کرلی جارہی ) اب کون آگے آئے گا لکھنے کیلئے . اردو صحافت اعراس شریف ، مجالس ، دیوان خانوں کے مشاعروں کی خبروں کی جانب واپس لوٹ رہی ہے ، اگر کوئی نمائندہ کہیں سے خبریں لابھی لیتا ھے تو دیگر ” نااھل” ساتھیوں کے حسد کا شکار ہو جاتا ہے ،اور شکاتیں شروع ہوجاتی ہیں کہ ان کو ہی فوقیت دی جارہی ہے دیگر زبانوں کے اخبارات باقاعدہ بھاری معاوضہ دے کر مضامین حاصل اورشائع کرتے ہیں اور موضوعات دے کر مضامین لکھواتے ہیں ۔ چند اردو اخبارات تو اب مفت میں راوش کمار کی خبروں کا اردو ترجمہ کرکے شائع کررہے ہیں اور جہاں سے یہ مضمون / ویڈیو اٹھایا ہے ان کیلئے ” بشکریہ ” تک نہیں لکھ رہے ! اب پڑوسی ملک کے مضامین پر تو ایسے ہاتھ صاف کیا جارہا ہے جیسے کہ تقسیم کے وقت معائدہ ہوا تھا کہ ایسا کرسکتے ہیں !یحییٰ خان نے ایک اور رائے کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا: ممبئی کااردو کا مفلس صحافی بھلا جھارکھنڈ جاکر کیسے کچھ کور کرسکتا ہے !! مقامی کوریج کیلئے جانے کے لئے اس کو ٹیکسی کا کرایہ تک نہیں دیا جاتا !! اور نہ ہی بیچارے کی اتنی آمدنی ہوتی ہے کہ اپنی کار / ٹو وھیلر مینٹین کرسکے ، سب مقامات کا یہی حال ھے جناب والا ۔۔۔! اگر معاوضہ اچھا دیا جائے تو جھارکھنڈ تو کیا اردو کا صحافی دنیا کے کسی بھی کونے میں جاکر کوریج کرسکتا ہے !اردو میں صحافت نہیں ہے، محرری اور چوری چماری ہےمحمد ہاشم خان نے کہا:انگریزی والوں کو مضمون لکھنے کے جتنے پیسے ملتے ہیں اس حساب سے وہ گھٹیا مضامین لکھتے ہیں، اردو والوں کے پاس پیسے نہیں سو ان کی ساری صحافت فرض کفایہ ہے. کچھ یہاں سے چرا لیا اور کچھ وہاں سے. مجھے اس مفروضے”اردو میں صحافت ہے ” پر اعتراض ہے . اردو میں صحافت نہیں ہے، محرری اور چوری چماری ہے، آپ نے کب کسی اردو صحافی کو کسی اہم جائے حادثہ پر دیکھا ہے؟ کوئی ایسی مثال کہ ممبئی کا کوئی صحافی کسی حادثے کو کور کرتے ہوئے جھارکھنڈ میں آپ کو ملا ہو؟ای ٹی آئی ، پی ٹی آئی . رائٹر ، اے ایف پی، اے پی (اخباری ایجنسیاں )سب ان کے ڈیسک پر سجدہ ریز ہوتے ہیں. اردو اخبارات کے 99 فیصد مالکان کمیونٹی سوداگر ہیں ، جو صحافت کی اخلاقیات سے بس اتنا ہی واقف ہیں کہ جہاں جس قیمت پر موقع ملے بیچ سکیں. پاکستان کی اردو صحافت اور بھی زیادہ ناگفتہ بہ ہے کہ تمام سرکاری مراعات اور عوامی حمایت (عوامی حمایت ریڈرشپ کے معنی میں ہے) وہ کبھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں رہے ، نیز زرد صحافت حاوی رہی. وہاں کے اداریے پڑھتا رہتا ہوں. معذرت خواہ ہوں کہ کوئی خاص کیفیت نہیں پیدا کرتے. بہت کچھ ہے کہنے کے لیے کہاں تک سنو گے اور کہاں تک ہم سنا پائیں گے.
مواد اور خیالات کے حوالے سے یہاں کی صحافت کو بھی بہت اعلی قرار نہیں دیا جا سکتااقبال حسن کا کہنا تھا:میری نظر سے آپ (ہندوستان )کے اردو اخبارات کم گزرے ہیں اس لیے قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا عبث ہے لیکن پھر بھی غنیمت جانیے کہ اسی بہانے اردو زندہ ہے۔مواد اور خیالات کے حوالے سے یہاں کی صحافت کو بھی بہت اعلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ادارتی تحاریر تک بعض اوقات زبان و بیان کے تعلق سے معیاری نہیں ہوتیں۔یہ امر میرے لیے ہمیشہ باعث تعجب رہا کہ اردو کو مسلمان کی زبان فرض کر لیا گیا ہے جبکہ یہ ہندوستانی زبان ہے۔اگر یہ فارسی رسم الخط میں نہ ہوتی تو شاید اس الزام سے مبرا ٹھہرتی۔اردو جریدوں کی اکثر رپورٹس بین الاقوامی اداروں سے ہی لی جاتی ہیں، انگریزی صحافتی ادارے ملازمین کی تربیت کرتے ہیںسلمیٰ جیلانی اردو صحافت کے بارے میں اپنا مشاہدہ بیان کرتی ہیں :چونکہ میری دسترس آن لائن اخبار اور رسائل تک ہے اور اردو میں پاکستان کے جو جریدے آن لائن پڑھتی ہوں ، ان کے یہاں صحافت کے معیار کو پست تو نہیں کہا جا سکتا. پرنٹ میڈیا(اخبارات ) کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی ، ویسے بھی اکثر رپورٹس بین الاقوامی اداروں سے ہی لی جاتی ہیں اور ترجمے کے ذریعے اردو میں منتقل ہوتی ہیں .
عمومی طور پر جو سوال علم اللہ نے اٹھائے ہیں ان کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انگریزی میں پلیجر ازم (چربہ سازی )ایک جرم ہے جس کی سزا جیل ہو سکتی ہے،دوسرے کاپی رائٹ ایکٹ ، اور پرائیویسی ایکٹ کے فعال ہونے کی وجہ سے چوری کر کے لکھنا ناممکن ہے ، اس کے علاوہ بینچ مارک اور دوسرے اصولوں کی موجودگی میں سب کو معیار کی ایک خاص سطح کی پابندی کرنی پڑتی ہے ، اس کے لئے انہیں اپنے ملازمین کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے، مغربی ملکوں میں صحافت ایک باوقار پیشہ ہے ، اس کی وجہ معیار کا بلند ہونا ہی ہےاردو صحافت، مطالبہ، احتجاج، محرومی کا رونا اور شکایتی رپورٹنگ کا نام ہے۔آزاد میر کے بقول :ہمارے ہاں اردو صحافت، مطالبہ، احتجاج، محرومی کا رونا اور شکایتی رپورٹنگ کا نام ہے۔اس میں اب کاپی پیسٹ بھی شامل ہو چکا ہے۔اپنی محنت اورخود کے ذرائع سے جو خبریں چھاپی جاتی ہیں ، وہ اعلان برائے چندہ، اظہار تعزیت، مجلس، بزم شاعری کا انعقاد، اور دستار بندی، چاند دیکھنے وغیرہ کی سرخیوں کے ساتھ شائع ہوتی ہیں۔ نتیجہ اردو اخبار جو تھڑا بہت بکتے ہیں ، اپنی انہی ضرورتوں کی وجہ سے پڑھے جاتے ہیں۔باقی خبروں کیلئے لوگ ہندی انگریزی اخبار اور ٹی وی کو ترجیح دیتے ہیں۔
سطحی اور غیر معیاری ہونے کی ایک وجہ صحافی کو خاطرخواہ معاوضہ نہ ملنا بھی ہو سکتا ہےمنصور قاسمی کا کہنا تھا:اردو صحافت ہندوستان میں اب تک باقی ہے ، یہ کوئی کم نہیں ہے۔ جن حالات پر آ پ کو شکوہ ہے ، مجھے اس سے بھی بدتر حالات مستقبل میں نظر آرہے ہیں۔سطحی اور غیر معیاری ہونے کی ایک وجہ صحافی کو خاطرخواہ معاوضہ نہ ملنا بھی ہو سکتا ہے ،مطلب جیسا دال بھات ویسی فاتحہ.
اردومیڈیا میں آج بھی اپنے ذاتی خیالات اور جذبات کے اظہار ہی کو صحافت سمجھا جاتا ہےمحمد غزالی خان نے اٹھائے گئے سوالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا: بدقسمتی سے اردومیڈیا میں آج بھی اپنے ذاتی خیالات اور جذبات کے اظہار ہی کو صحافت سمجھا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو پورے واقعے پر تبصرہ ہوجاتا ہے جبکہ واقعے کی تفصیلات لمبے چوڑے مضمون میں برائے نام ہی ملیں گیں۔ مضمون پڑھتے وقت ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا مگر جن لوگوں کو اردو سے انگریزی یا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا پڑا ہو انہیں معلوم ہو گا کہ بڑوں بڑوں کے مضامین کی زبان بھی اتنی مبہم اور غیر واضح ہوتی ہے کہ ترجمہ کرنے والے کوخود کوئی بات سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے ، بیچارہ ترجمہ کیا کرے گا۔ جو معلومات فراہم کی بھی جاتی ہیں ان کا کوئی حوالہ مشکل ہی سے ملے گا۔رپورٹنگ انتہائی ناقص ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات تو رپورٹنگ کے نام پر پورا تبصرہ ہوتا ہے۔آپ حالات حاضرہ کو چھوڑ دیجیے ، مذہبی کالموں تک کا یہی حال ہے ، جس پر مزید تبصرہ کرنا خطرے سے خالی نہیں ۔ بہتر ہے کہ یہیں رک جایا جائے۔انہوں‌نے مزید کہا:اس بحث میں اگر اس خاص نکتے کو شامل نہ کیا گیا تو ناانصافی ہوگی اور وہ یہ ہے کہ اردو صحافت کا محور ہمارے ملی مسائل ہیں۔ یا یہ کہیے کہ اردواخبارات کمیونٹی نیوز پیپرز کا کردار زیادہ ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان اخبارات میں غیر ملی مسائل پر مواد یا تو ہوتا ہی نہیں یا بہت کم ہوتا ہے۔یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا شکار کسی قدر ہمارے انگریزی نیوز پورٹلز بھی ہیں۔ اس لحاظ سے دیگر اخبارات سے ان کا موازنہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ اور اردو میں لکھنے والے تمام صحافیوں کو ایک ہی خانے میں رکھ دینا بھی زیادتی ہے کیونکہ کئی نام ایسے ہیں جن کے کالمز میں معلومات بھی ہوتی ہیں اور جن مسائل پر وہ بات کرتے ہیں ان پر سیر حاصل بحث بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے سر دست جو نام ذہن میں آرہے ہیں ان میں حسن کمال صاحب، حفیظ نعمانی صاحب، آغا منصور صاحب،ودود ساجد صاحب، اشرف بستوی صاحب، معصوم مراد آبادی صاحب شامل ہیں۔محمد غزالی نے منصور قاسمی کی رائے پر یوں ردعمل کا اظہار کیا:منصور قاسمی بڑی حد تک آپ کی بات درست ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جیسی تیسی اردو صحافت زندہ ہے وہ دینی مدارس اردو کو زندہ رکھ کر اور اس طرح اردو اخبارات کو آکسیجن دے کر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مگر پھر بھی جب ایک کام ہو رہا ہے تو کیوں نہ اسے بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کی جائے؟ تھوڑی سی محنت اور کر لی جائے۔ مثال کے طور پر یونیفارم سول کوڈ پر لکھتے وقت یہ کہنے کے بجائے کہ “قانون بنانے والوں نے مسلمانان ہند کو یقین دلایا تھا کہ ان کے آئیلی قوانین محفوظ رہیں گے۔” کیوں نہ قاری کو حوالے کے ساتھ بتایا جائے کہ جس وقت دستور ساز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ کا مسئلہ زیر بحث آیا، مسلمانوں نے اس پر سخت اعتراض کیا جس کے جواب میں ڈاکٹر امبیڈکر نے یقین دلایا کہ ۔۔۔“کسی کو اس بات سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر حکومت کے پاس اختیارات ہوں گے تو وہ فوراً کوئی ایسا قدم اٹھالے گی جو مسلمانوں یا عیسائیوں یا کسی دوسرے فرقے کیلئے قابل اعتراض ہو۔ جن مسلم ارکان نے اس مسئلے پر تقاریر کی ہیں ان سمیت ہم سب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اختیارات ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان اختیارات کو استعمال کرتے وقت مختلف فرقوں کے جذبات کا خیال رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکومت اپنے اختیارات اس انداز میں استعمال نہیں کر سکتی کہ وہ مسلمانوں کو مشتعل کر کے بغاوت پر آمادہ کر دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی حکومت نے ایسا کیا تو وہ احمق حکومت ہوگی۔”(حوالہ: Constituent Assembly Debates Vol VII)ایسی کوشش کیلئے اضافی وسائل کی ضرورت نہیں۔
اردو صحافت ہندوستان میں غیروں کے کرم پر زندہ ہےشمس تبریز قاسمی کا کہنا ہے:اردو صحافت کے بجائے ”ہندوستان کی اردو صحافت” لکھیں ۔پاکستان میں اردو صحافت بہت مضبوط ہے ، دوسری بات اردو صحافت کی بے بسی کا شکوہ کرنے کے ساتھ کبھی اس کے اسباب وسائل اور قارئین کا بھی جائزہ لیں۔اردو صحافت ہندوستان میں غیروں کے کرم پر زندہ ہے ۔آپ جائزہ لیں کہ آپ کے محلے میں کتنے لوگ اردو اخبارات خریدتے ہیں
طنز و تشنیع کے عادی لوگ تجزیہ کرنے، اسباب و علل سے واقفیت حاصل کرنے سے عاجز ہیںابوطلحہ نے کہا:اصل بات یہی ہے. جتنے لوگوں نے طنز و تشنیع سے متعلق الفاظ کی دکان لگائی ہے، وہ تجزیہ کرنے، اسباب و علل سے واقفیت حاصل کرنے سے عاجز محض ہیں اور رد عمل کی نفسیات کا شکار ہیں
سیاست دانوں کے ساتھ فوٹو کھنچوا کر فیس بک پر ڈالنے سے صحافت یا اخبار نہیں چلتاشمس الرحمان علوی نے تفصیلی رائے دی :یہ ایک عجیب و غریب مسئلہ ہے۔ اس میں نہ وسا ئل کی کمی والی بات ہے اور نہ زبان اور صرف مسلمان تک محدود رہنے کا معاملہ۔ یہ در اصل ویژن کی کمی، عدم واقفیت، ٹرینینگ اور تربیت کی کمی ہے۔ اخبار اور جرنلسٹ کا کام خبر لانا ہوتا ہے، آپ سوسائٹی میں رہتے ہیں اور آپ کو خبریں نہیں ملتیں .. .؟ اردو اخبار ہفتے یا مہینے میں کتنی ایسی خبریں چھاپتے ہیں جو دوسرے اخبار میں نہیں ہوتیں اور جن کی وجہ سے ان کو ڈسکس کیا جائے؟ اردو کے صحافی کی تربیت کا نظام دفتروں میں صحیح نہیں ہے اور نہ ان کو رہنمائی کرنے والے ملتے ہیں۔ مسلم اداروں، اوقاف یا سیاست دانوں کی پریس کانفرنس کور کرنا ہی اور اس میں بھی صرف بنیادی خبر لکھنا ہی صحافت نہیں ہے۔
بہت چھوٹے اخبارات جو چھ اور آٹھ صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کا سرکولیشن نہیں ہوتا، ان کے رپورٹرز بھی جانتے ہیں کیسے اپنی خبر پر امپکیٹ ہو سکتا ہے، کیسے سرکار ایکشن لے سکتی ہے۔ زبان الگ ہو اس کے باوجود، یہاں مسئلہ ہی دوسرا ہے۔ آپ رپورٹر ہیں تو ایک بنیادی ٹرینینگ ہوتی ہے، کس خبر میں کس کا ”کوٹ” لینا ہے، اسکیم پر کس طرح لکھنا ہے، دس سے بارہ اہم ”بیٹ” ہوتی ہیں، جن میں آپ شروع کے کئی سال کام کرتے ہیں، زمین پر اس ‘بیٹ’ کا ہر آدمی آپ کو پہچاننے لگتا ہے۔ مگر اردو اخباروں میں شاید یہ سکھایا نہیں جاتا۔اگر ایک ان کاؤنٹر ہوا ہے تو اس کو کب تک فالو کرنا ہے اور یہ کہ کس کس طرح اس پر ایکشن ہوا، ایک غریب آدمی کی اگر پولیس کے تشدد سے موت ہوتی ہے تو آپ خاطی پولیس والوں کو صرف سسپنڈ نہیں بلکہ سخت سزا دلوا سکتے ہیں مگر آپ کو وہ طریقے، سسٹم تو پتا ہوں، یہ پتا چلتے ہیں ”بیٹ” میں سالوں محنت سے کام کرنے سے ۔ہر شہر میں ہر بیٹ میں آپ کو کئی ایکسپرٹ صحافی ملیں گے، مثال کے طور پر اگر کوئی پاور دیکھتا ہے تو اسے یہ سب تو معلوم ہوتا ہے کہ پاور کمپنیز میں کیا گھوٹالے چل رہے ہیں ، ساتھ ہی اس کے ٹیکنیکل ایشوز بھی اتنے معلوم ہو تے ہیں کہ کئی بار اسپیشلسٹ سے زیادہ اس کی سمجھ ہوتی ہے، یہ سب لوگ ٹی وی پر نہیں آتے، مگر ان کے نالج کی وجہ سے ان کی اہمیت ہوتی ہےآپ کرایم دیکھتے ہیں تو آپ کو صرف کنٹرول روم یا تھانے یا پی ایچ کیو نہیں بلکہ انٹیلیجینس، اے ٹی ایس، لوکایکت، اور تمام برانچز، بٹالینز، سب جگہ جانا ہوتا ہے، شروعاتی چند سالوں کی محنت ہوتی ہے اور پھر سب آپ کو جان جاتے ہیں، زندگی بھر خبریں خود چل کر آتی ہیں۔ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ‘اسٹرنگر’ ہوتے ہیں مگر ان کی طاقت سے سب واقف ہوتے ہیں کیوں کہ بوقت ضرورت وہ نیشنل ٹی وی چینل کے جرنلسٹس کو مزیدار اور ضروری اِن پُٹ دیتے ہیں، وہ لوگ بھی ایسےاسٹرنگر کا خیال رکھتے ہیں اور اس کی بھیجی کسی خبر کو نیشنل بریکنگ نیوز بنا کر صوبے سے قومی لیول تک ہنگامہ کروا سکتے ہیں،زیادہ تر انگریزی اخباروں کے اسٹرنگر ہندی میں خبریں بھیجتے ہیں مگر باہر لوگوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا۔افسوس کے لوگ بغیر محنت کیے ہی سب کچھ چاہتے ہیں، اور ساتھ ہی دہلی میں کیرل کے ملیالی اخبار کے نامہ نگار بھی اکثر آپ کو جرنلسٹس میں اپنی اہمیت منواتے ملیں گے کیوں کہ ان کے پاس خبر ہوتی ہے، ایکسپرٹیز ہوتی ہے، یہاں عالم یہ ہے کہ حیدر آباد جیسے شہر میں جب روہت ویمولا کی موت ہوئی آٹھ نو بجے رات میں پتا چل گیا تھا کہ کچھ ہوا ہے، مگر اردو سائٹس خاموش رہیں، اگلے دن اردو اخبار خالی تھے۔ حد تو تب ہو گئی کہ سینٹرل یونیورسٹی میں جو مہم چلی جس کا پورے ہندوستان پر اثر ہوا اس کو ایک دن بھی بڑے اردو اخباروں نے نامہ نگار بھیج کر کور نہیں کیا –بیحد سطحی اور ایجنسی جیسی رپورٹس اکا دکا نظر آتی تھیں، جب کہ حیدرآباد کے اخباروں کو اس میں لیڈ کرنا چاہیے تھا۔ جھارکھنڈ میں بچہ چوری میں لوگ مارے جاتے ہیں تو اگلے دن کا کم از کم دو دن بعد اردو اخباروں میں جامع گراؤنڈ رپورٹ تو ہونی چاہیے، . . . نہیں ہوتی! ہاں ویوز(تبصرے) ضرور ہوتے ہیں۔صحافی کو خبر پر نظر رکھنی چاہیے، سیاست دانوں کے ساتھ فوٹو کھنچوا کر فیس بک پر ڈالنے سے صحافت یا اخبار نہیں چلتا، کیوں کہ یہ تو سب سے آسان ہے،صحافی کو ‘ایکسیس’ ہوتا ہے، اصل چیز تو خبر ہے۔عوام اور خواص ہر جگہ برانڈ کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی اس بات کی کہ آپ نظر آئیں۔ ایسے بہت صحافی ہوتے ہیں جو کہیں نہیں ہوتے مگر لوگ انہیں صحافی مانتے ہیں کیوں کہ وہ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، افسر یا کوئی مظلوم بھی ان کو اس لئے خبر بتاتا ہے کیوں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے یہ خبر آگے نشر ہو جائےگی، وہ صحافی چاہے وہاٹس ایپ گروپس کے ذریعہ یا درجنوں دوسرے طریقوں سے خبر کو آگے لے جانے میں کامیاب ہوتا ہے کیوں کہ وہ اس نیٹ ورک میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں، سارے اردو اخبارات غریب نہیں ہیں، کم از کم ایک رپورٹر کو تو بھیج کر اسپیشل سیریز کروا سکتےہیں، مظفر نگر یا پہلو خان کی موت یا آسام میں شہریت کے مسئلہ پر جو ہو رہا ہے، اس پر بریکنگ اسٹوریز اردو اخبار میں کیوں نہیں ہوتیں جو بعد میں انگریزی اور ہندی والے بھی فالو کریں . . . بالکل ہو سکتی ہی- جو خبر لکھے گا یا چھاپےگا، اسی کی خبر ڈسکس ہوگی، اسی کو کل کوئی اسمبلی میں کوٹ بھی کرے گا، ایکشن بھی ہوگا مگر۔۔۔اخبار کا قاری گاہک ہوتا ہے آپ ان سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا مال خریدو تو ہم تمہیں آئندہ اچھا مال دیں گےافسر فریدی نے کہا:اردو صحافت میں جو احباب ہیں وہ رپورٹنگ پر توجہ دیں تو صورت حال میں قدرے بہتری آسکتی ہے۔ ہم اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق کم ہی کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری صلاحیت صرف جامعہ نگر کو کور کرنے کی ہے لیکن ہم پورے ملک کو کور کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے سب کچھ ہوا میں لکھتے ہیں۔ اخبار کا قاری گاہک ہوتا ہے آپ ان سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا مال خریدو تو ہم تمہیں آئندہ اچھا مال دیں گے ۔ اردو اخبارات کا حلقہ قارئین جذبات سے لبریز اور ”تیز” مسالے دار چیزوں کا عادی ہےفرحان احمد خان نے کہا:یہ دلچسپ موضوع ہے ۔ میرے خیال میں اردو اخباری صحافت اور چینلزکا سب سے بڑا مسئلہ اس کا جذباتی پن ہے۔اردو اخبارات کا حلقہ قارئین جذبات سے لبریز اور ”تیز” مسالے دار چیزوں کا عادی ہے۔ وہ گہرائی میں جانے کی مشقت پسند نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سطحی اور قدرے تیز مواد دیا جاتا ہے ۔ ایسے مواد کی زندگی کم ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اردو میں جو چیزیں شائع ہوتی ہیں ، وہ اب ٹھوس حوالے کی حیثیت کھوتی جا رہی ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اردو صحافت میں کام کرنےوالے کو بہت حد تک کلرک بنا دیا گیا ہے ۔ وہ دفتر سے باہر نہیں نکلتا ۔ وہ رئیل ٹائم اسٹوریز کی بجائے ٹیبل اسٹوریاں کرتا ہے ۔ وہ پہلے سے شائع شدہ چیزوں کا ترجمہ کرتا ہے یا الفاظ کو آگے پیچھے کر کے صفحات بھرتا ہے ۔ اسٹوری کےلیے کچھ سہولیات اور وقت کے حوالے سے ذرا ڈھیل درکار ہوتی ہے ، جو اسے اداروں کی جانب سے میسر نہیں آتی ۔ اب اردو صحافت میں کوریج تو مل جاتی ہے لیکن تحقیقاتی اسٹوریاں نہیں ملتیں ۔ ایک اوروجہ یہ ہے کہ حالات بہت تیزی سے بدلتے ہیں ۔ پہلے کی گئی اسٹوری کا فالو اپ بھلا دیا جاتا ہے ۔ اس طرح اس اسٹوری کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔ شاید قارئین بھی بھول جاتے ہیں ۔ اب اردو صحافت کا بڑا حصہ صرف ”ری پروڈکشن” کر رہا ہے جو افسوسناک ہے ۔
http://ibcurdu.com/news/51343
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

تعلیمی ادارے یا تنظیموں کے گڈھ

دارالعلوم دیوبند میں تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پر پابندی کو لیکر جس قسم کی باتیں آجکل ہو رہی ہیں ٹھیک یہی کیفیت 70کی دہائی میں مدرسۃ الاصلاح پر بھی تھی جب تبلیغیوں اور جماعت اسلامیوں نے اصلاح کو اپنا گڈھ بنا لیا تھا جس کے خطرناک اثرات مرتب ہو رہے تھے،نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں ماند پڑ رہی تھیں بلکہ طلباء ایک مخصوص سوچ اور فکر کے پروردہ ہو رہے تھے بہرحال منتظمین کو ہوش آیا اور انھوں نے ایک تاریخی فیصلہ لیا اور ایسی ہر سرگرمی پر پابندی عائد کی اور اس کو جرم قرار دیا کہ دوران تعلیم کسی تنظیم یا تحریک سے تعلق رکھا جائے. اس کے بہت اچھے نتائج مرتب ہوئے کم از کم طلباء آزاد فضا میں سوچنے لایق ہوئے کسی ایک کے فرضی بھکت نہیں بنے . محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

گورکھپور حادثہ پر

خود مرنا انتہائی مشکل کام ہے اس لئے ہم حادثوں میں مار دیے جاتے ہے، پھر مختلف کہانیاں گڑھ دی جاتی ہے سیاسی فائدوں کی حصولیابی کے لئے، ارذلین اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں آگے ان کی مرضی کے مطابق کام شروع ہوجاتا ہے، مسائل پیدا ہوتے نہیں کئے جاتے ہیں،کیونکہ ہم بغاوت کرنا بھول گئے یا کہوں تو ہمیں بغاوت کرنا بھلا دیا گیا ہے یا ہم ایسا چاہتے ہی نہیں ہیں کیونکہ ہمارے ارد گرد فرضی دانشوروں کی فوج کھڑی کر دی گئی ہے ہم دنیا کے سب سے عظیم بزدلانہ لوگ ہیں، ہم نے کبھی سچائی پر کام ہی نہیں کیا. مختلف فرقوں کی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں لڑتے رہے اگر عظیم جنگ لڑی ہوتی تو ہم باغی ہوتے. چیختے، چلاتے اور نعرہ لگاتے ہوئے متحد ہوتے اور اکھاڑ پھینکتے اقتدار کو.کہیں بھی کبھی بھی کسی کے لئے بھی. یہ تو پھر بھی 60 بچوں کی موت ہے.پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

صحافی خورشید احمد کے انتقال پر ملال پر

خورشید بھائی !
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مجھے پتہ ہے اب آپ میرے سلام کا جواب دینے کے لئے اس دنیا میں نہیں ہیں ، لیکن آپ کی مسکراہٹ ،ہمت افزا کلمات اور راہ چلتے روک کر دیر تک باتیں کرنے کی ادا مجھے ابھی تک یاد ہے۔ آپ تو صحافت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے ،خصوصا ہندی میڈیا میں آپ کو جو وقار اور اعتبار حاصل تھا وہ ہم نو آموزوں کے لئے تو بس ایک تمنا ہی تھی،ظاہر ہے اس طرح کا اعتبار حاصل کرنے کے لئے زندگی بیت جاتی ہے، خون ، پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے اور آپ نے اپنی زندگی ہی اس راہ کی نوردی میں لگا دی تھی۔ آپ کے اسی علم دوستی کی وجہ سے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب اپنے ادارے سے کوئی کتاب چھاپتے تو خاص طور سے آپ کو بھجواتے تھے۔
بغیر کسی صلہ کے آپ مسلمانوں کے مسائل کو جس انداز میں ہندی میں اٹھانے کی کوشش کرتے تھے وہ آپ کا ہی حصہ تھا ، اب ہم کس سے کہیں گے کہ کاش۔۔۔! اس پر ہندی میں کوئی کچھ لکھتا؟۔۔۔ اور۔۔۔ دوسرے ہی دن آپ فون کرکے کہتے بابو! آج جن ستا(ہندی روزنامہ) دیکھ لینا، کیسا لگا ضرور بتانا؟ ۔
مجھے دہلی میں وقف املاک کی تباہی پر آپ کی وہ اسٹوری ابھی بھی یاد ہے جب میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعہ آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل کی گئی تفصیلات آپ کو فراہم کی تھی اور محض چند دن بعد ہی آپ نے اس پر جن ستا میں چھہ کالم کی تفصیلی خبر لکھی تھی، جس پر حکومتی سطح پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا اور جس کو بعد میں ملی گزٹ نے بھی اپنے یہاں انگریزی میں شائع کیا تھا ، یہ ملت کے تئیں آپ کا درد ہی تھا کہ آپ اس طرح کی چیزوں پر بے قرار ہو جاتے تھے اور اپنے قلم سے اس کی دفاع کے لئے سینہ سپر ہو جاتے تھے ، یہ الگ بات ہے کہ ہماری بے حس قوم کو آپ جیسے بے لوث سپاہیوں کو یاد کرنے کے لئے وقت نہیں تھا اور نہ ہی ہے ۔
آپ کے انتقال کی خبر آج صبح صبح آپ کے عزیز دوست سہیل انجم نے وہاٹس اپ کے ذریعہ دی ، ساتھ میں انھوں نے آپ کی ایک تصویر بھی بھیجی ہے ، اس تصویر کو دیکھنے کے بعد یقین ہی نہیں ہوا کہ وہ سچ مچ میں آپ کی ہی تصویر ہے ، آپ کی طبیعت اتنی خراب تھی ، آپ کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا تھے اور ہم معاش و روزگار کی دوڑ میں اس قدر بھاگے چلے جا رہے تھے کہ عیادت کے لئے بھی نہ آ سکے ۔ معاف کیجئے گا خورشید بھائی ۔ آپ کہا نہ کرتے تھے کسے اتنی فرصت ہے ملنے ملانے کی ،شاید آپ اسی لئے راہ چلتے ہوئے ہی چند منٹوں میں سب کچھ پوچھ لیتے تھے۔ آپ ہم سب کو بہت یاد آئیں گے ۔ خورشید بھائی ! ہم آپ کے روح کی شانتی اور جنت میں بہت اونچے مقام کے لئے دعا گو ہیں ۔
والسلام سوگوار آپ کا چھوٹا بھائی محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

میرے یار کا خط آیا


یہ دوست بھی عجیب ہوتے ہیں، کل رات میرے یار نے مجھے خط لکھا، ابھی اس کا جواب لکھنا باقی ہے، لیکن محبت و الفت میں گندھے ہوئے ان الفاظ نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ، میں ایک مرتبہ پھر ماضی کے اتھاہ سمندر میںگھر گیا ہوں۔ بہت سی کہی ان کہی باتیں یاد آرہی ہیں۔ فی الحال یہ ملاحظہ فرمائیے میرا جواب بعد میں ۔ علم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز دوست علم اللہ بہت سی دعائیںزندگی کی دوڑ بھاگ اور پیشہ وارانہ مصروفیات کے درمیان آج اچانک کچھ خیال آیا اور تمہیں یہ ای میل لکھنے بیٹھ گیا۔ میں تمہیں دس برس پہلے اسی اگست مہینہ کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پرانی لائبریری کا وہ منظر یاد دلانا چاہتا ہوں جہاں ایک دبلا پتلا سا لڑکا کسی اخبار کے لئے مراسلہ لکھنے میں مصروف تھا اور اس کے بالکل برابر میں ایک اور اتنا ہی دبلا لڑکا اخبار پڑھ رہا تھا۔ وہیں پہلی بار دونوں میں دعا سلام اور تعارف ہوا۔ اس وقت ہم دونوں کو ہی نہیں پتہ تھا کہ یہ دعا سلام ہم دونوں کی کتنی قریبی دوستی کا آغاز ثابت ہوگی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پانچ برس کا طالب علمی کا زمانہ اور اس کے بعد کے پانچ برس۔ اس عرصے میں کتنی یادیں ہیں جو ہماری اس دوستی کی کتاب میں درج ہیں۔ محدود وسائل میں ایک دوسرے کی تواضع، دھواں دار علمی بحثیں، ایک دوسرے کے ساتھ دیر رات تک سرد شاموں میں جامعہ کے پارکوں میں بیٹھ کر سماجی معاملات پر گفتگو پھر اچانک گھر کا ذکر آ جاتا اور کتنی ہی بار یا تو تم جذباتی ہو جاتے یا میں آبدیدہ۔
دس برس کی اس دوستی میں تم سے کتنی ہی بار اختلاف رائے ہوا، کبھی کبھی اپنائیت بھری خفگیاں بھی رہیں لیکن باہمی احترام میں کبھی ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ مجھے کبھی یاد نہیں پڑتا کہ ان خفگیوں کو دور کرنے کے لئے کسی تیسرے دوست کو بیچ میں پڑنا پڑا ہو۔
علم اللہ ! مجھے تمہاری دو باتوں نے بہت متاثر کیا ہے بلکہ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ میں تمہاری ان دو خوبیوں پر رشک کرتا ہوں۔ پہلا تمہاری درک کرنے کی صلاحیت اور دوسرا تمہارا مسلکی اعتدال۔ جس دور میں مدرسہ کے قریب سے گذر جانے پر بھی آدمی مسلکی عصبیت کا شکار ہو جاتا ہے اس دور میں تمہارے اندر میں نے کبھی مسلکی تعصب نہیں دیکھا تمہاری یہ خوبی تمہیں بہت بڑا بناتی ہے۔ تمہاری تحریری صلاحیتیں تو خیر کسی تعریف یا تعارف کی محتاج ہیں ہی نہیں۔
دوست، وہ کتنا خوبصورت دور تھا جب ہم جامعہ کی لائبریری میں اتنا وقت گذارتے تھے کہ اکثر طلبہ کو بیٹھے بیٹھے بتا دیتے کہ فلاں کتاب کس الماری کے کس خانے میں ملے گی۔ جب لائبریری بند ہوتی تو کینٹین میں آ بیٹھتے اور جب وہ بند ہو جاتی تو ریڈنگ روم میں دیر رات تک بیٹھ کر کتابیں پڑھتے، ایک دوسرے کو دلچسپ نکات پڑھ کر سناتے اور جب رات زیادہ اتر آتی تو گھر کی راہ پکڑتے۔
میں جب کبھی ہاسٹل میں تم سے ملنے آتا تو تمہاری مہمان نوازی مجھے شرمندہ کر دیتی۔ طالب علمانہ مالیاتی حدود کے باوجود کتنا لطف آتا تھا اس چائے میں، اس کھانے میں،اس دعوت میں۔ وہ کیا دور تھا کہ ہماری تحریری شرارتوں کا کئی بڑے نشانہ بن جاتے، شائد ہی مستشرقین میں کوئی ایسا بڑا نام بچا ہو جسے ہم نے اپنی تنقید کی توپ سے باندھ کر کبھی نہ کبھی اڑا نہ دیا ہو۔
دیکھو، کیسا تعجب ہے کہ اتنا وقت ساتھ بتانے والے ہم دو دوست اب کتنا کم مل پاتے ہیں۔ ایک ہی شہر کے ایک ہی علاقے میں رہنے کے باوجود ہم گذشتہ چار برس میں شائد دو بار ملے ہیں البتہ فون پر خیر خبر ملتی رہتی ہے۔ سرکاری ٹی وی میں ملازمت کی مصروفیات تم بھی سمجھتے ہو اور بڑی دانش گاہ میں تمہاری رابطہ عامہ کی ملازمتی مصروفیات سے میں باخبر ہوں،اس لئے شکوہ نہیں کرتے بس اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب زیادہ سا وقت نکال کے بہت دیر تک باتیں کریں گے وہیں جامعہ میں چائے پیئیں گے، پرانی یادیں تازہ کریں گے اور ویسے ہی جی بھر کر ہنسیں گے۔
بھائی، ہماری دوستی کو دس برس ہو گئے، امید ہے یہ تعلق ایسے ہی باقی رہے گا۔ مجھے امید نہیں یقین ہے کہ تم علمی دنیا میں اس بلندی کی طرف گامزن ہو جہاں ہم سب تم سے استفادہ کریں گے۔ خوش رہو اور خوب ترقی کرو۔۔۔۔اور ہاں ملنے کے لئے وقت نکالو، بہت سی باتیں کرنی ہیں۔
تمہارا دوستمالک اشتر
 textپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

چھوٹا ناگپوری زبان میں مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں دوہا : ریکارڈنگ اینڈ ایڈیٹنگ : محمد علم اللہ

https://www.youtube.com/watch?v=qWroMXSftHo
چھوٹا ناگپوری زبان میں مولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں دوہا :ریکارڈنگ اینڈ ایڈیٹنگ : محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

منہ میں لواٹھی کھور گے بیٹی ، منہ میں لواٹھی کھور ریکارڈنگ اینڈ ایڈٹنگ : محمد علم اللہ ۔

https://www.youtube.com/watch?v=a7wxo8jv13Aمولانا انعام اللہ رحمت ندوی کی آواز میں اپنی بیٹی کے نام رخصتی ، جسے سن کر آپ روئے بغیر نہیں رہ سکیں گے:
منہ میں لواٹھی کھور گے بیٹی ، منہ میں لواٹھی کھور
ریکارڈنگ اینڈ ایڈٹنگ : محمد علم اللہ ۔
मौलाना इनामुल्लाह रहमत नदवी की आवाज में अपनी बेटी के नाम विदाई, जिसे सुनकर आप रोए बिना नहीं रह सकेंगे:
मुंह में लूवाठी खोर गए बेटी, मुंह में लूवाठी खौरू
रिकॉर्डिंग और ऐडटिंग: मुहम्मद अलमुल्लाह ।پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہ

طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریریں: ایک مطالعہ محمد علم اللہ
گذشتہ دنوں ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب کے یہاں جانا ہوا تو ان کے ڈیسک پر ایک انتہائی پر کشش اور دیدہ زیب کتاب پر نگاہ پڑی اور میری نظریں وہاں ٹک کر رہ گئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے میری دلچسپی دیکھ کر وہ کتاب میرے حوالے کر دی۔ یہ کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبائے برج کورس کی خود نوشت تحریروں پر مبنی اظہاریہ تھی۔ جس کا نام ہے ”منزل ما دور نیست“۔ گھر آتے ہی ورق گردانی شروع کی۔ ایک کہانی، دو کہانی، تین کہانی اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا ایک رات میں تین سو پانچ صفحات پر مشتمل کتاب چاٹ ڈالی۔ کتاب اس قدر دلچسپ تھی کہ درمیان میں حاجت کو بھی روک دینا پڑا۔ یہ کتاب در اصل دینی مدارس سے فارغ طلباء کی داستان حیات تھی جسے انھوں نے خود رقم کیا ہے۔
کتاب کو پڑھتے ہوئے احمد فراز کی معروف نظم ”خواب مرتے نہیں“گردش کرتی رہی، جس میں احمد فراز نے کہا تھا : ”خواب مرتے نہیں/خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو/ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے/جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے/خواب مرتے نہیں/خواب تو روشنی ہیں/نوا ہیں ہوا ہیں/جو کالے پہاڑوں سے رُکتے نہیں/ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں/ روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلم/مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں/خواب تو حرف ہیں/خواب تو نُور ہیں/خواب سُقراط ہیں/خواب منصور ہیں/خواب مرتے نہیں“۔
اس کتاب کو ہم احمد فراز کے اس نظم کی شرح سے تعبیر کر سکتے ہیں جس میں کل 39 خوابوں کی روداد اور خود نوشت کہانیاں ہیں اور ہر کہانی ایک مکمل داستان ہے۔ جس میں درد ہے، کسک ہے، تڑپ ہے، احساس ہے۔ پاکیزہ جذبوں، آنسووں اور نیک تمناوں سے مزین یہ کہانیاں اس وجہ سے بھی دلچسپ اور معلوماتی ہیں کہ اس میں مدارس دینیہ سے فارغ طلباء کی داستان ہے جن کے بہت سارے خوابوں کو بچپن میں ہی کچل دیا جاتا ہے اور ایک مخصوص ذہن اور کینوس میں ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ دنیا دیکھتے ہیں اور ان کو اپنی اہمیت اور قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے تو کیسے ان کے خواب زندہ ہو جاتے ہیں! اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے وہ کس قدر بے قرار ہو جاتے ہیں! یہ کہانیاں مدارس سے فارغ طلباء کو اندھیرے میں اجالے کی نوید سناتی ہیں ۔ ان کے سوچ اور ذہن کے پردے پر کس قسم کی تہیں جمی ہوئی تھیں اور اس کو کیسے ان طلباء نے کھرچ کر پھینک دیا! کیسے مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے ماننے والے ایک بینر تلے جمع ہو گئے! کیسے ان کے اندر دین، اسلام، انسانیت اور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ (اسکول اور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ طلباء کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر )جاگزیں ہوا! کیسے وہ مسلک اور فرقہ بندی کے قیودسے آزاد ہو کر“ ان الدین عند اللہ الاسلام“ کی تعبیر بننے کے لئے کوشاں ہوگئے! یہ کتاب یہ سب ایک دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہے۔
کہانی کاروں میں محمد تمیم، اظہر احسن، محمد اسمعیل، نعیم احمد، شرافت حسین، محمد ارشد، محمد عظیم، فاطمہ اسعد، عتیق الرحمان، فرخ لودی، محمد سلمان، ابرار عادل، فرحانہ ناز، اجمل حسین، محمد اسلم، نہال احمد، مشیر احمد، عمیر خان، رقیہ فاطمہ، روشنی امیر، محمد عادل خان، ساجد علی، اصلاح الدین، عبد الاحد، عمر شمس، فہیم اختر، محمد ثوبان، نعمان اختر، اشتیاق احمد ربانی، محمد نثار احمد، محمد فرمان، نہال احمد، عبد الرقیب انصاری، محمد عدنان، ابو اسامہ، محمد اسلم، توصیف احمد، محمد منفعت اورسلیم الٰہی کے نام شامل ہیں جو ہندوستان کے مقتدر اداروں مثلا ند وۃ العلماء، دار العلوم دیوبند، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعۃ الصالحات رامپور، جامعہ حفصہ للبنات لکھنو وغیرہ سے فارغ التحصیل ہیں۔
بیشتر طلباء کا تعلق یوپی اور بہار کے ان دور افتاد اور پسماندہ علاقوں سے ہے، جہاں کے لوگ شاید ہی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں یا اپنے سپوتوں کو کچھ بڑا بنانے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اگر بھولے سے کبھی ان کے ذہن میں ایسا کوئی خیال پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ اس کو وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے کچل دیتے ہیں۔ بعض کہانیاں اس قدر دلدوز اور جذباتی ہیں کہ آپ کے آنکھوں میں آنسو آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان میں سے کسی نے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا ہوا ہے تو کوئی آئی اے ایس افسر بننے کا متمنی ہے۔ کوئی محقق، کوئی لیڈر تو کوئی قانون داں اور سماجی کارکن بن کر قوم و ملت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہے۔ مدارس سے پڑھنے کے بعد یہ طلباء اپنے خواب کو شر مندہ تعبیر نہیں کر سکتے تھے لیکن اب ان کے لئے راہیں ہموار ہو گئی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ طلباء تو ملک کی معتبر یونیورسٹیوں میں اچھے کورسوں میں داخلہ پانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔
کہانی کا انداز انتہائی سادہ اور دلچسپ ہے جو کہ نوجوانوں کےقلم، ان کی سوچ اور فکر کو ہی نہیں درشاتا بلکہ بتاتا ہے کہ یہ بہت اونچی اڑان کا خواب دیکھنے والے نوجوان ستاروں پر کمندیں نہ بھی ڈال سکیں تو کم از کم وہاں کی سیر تو کر ہی آئیں گے۔ نوجوانوں کا فطری انداز صرف قاری کو جذباتی ہی نہیں بناتا ہے بلکہ ان کے چھوٹے چھوٹے خواب اور یونیورسٹی آنے سے قبل اور بعد کی داستان آپ کو مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔ ایک جگہ ایک طالب علم محمد اسماعیل انگریزی نہ جاننے اور محفل میں اس سے انگریزی میں سوالکیے جانے پر کیسے اپنے راز کو افشاء نہیں ہونے دیتا، اس بارے میں وہ بتاتا ہے : ”باہر چند کر سیاں پڑی ہوئی تھیں، جن پر لوگ سلیقے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ دیکھنے ہی سے معلوم ہوتا تھا کہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ چونکہ میری بچپن سے عادت رہی ہے کہ جہاں پڑھائی لکھائی کی بات ہوتی وہاں میں ضرور بیٹھتا تھا۔ لہذا میں نے بھی اپنی کرسی کو جنبش دی اور ان کے قریب ہو لیا۔ وہ لوگ آپس میں کسی موضوع پر بات کر رہے تھے اور درمیان میں انگریزی کے الفاظ بھی استعمال کر رہے تھے، اس وجہ سے مجھے پوری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ خیر میں اس وجہ سے ہاں میں ہاں ملاتا جا رہا تھا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ آخر ایک صاحب نے Where are you from؟ کہ کر میری پول کھولنے کی کوشش کر ہی ڈالی، لیکن میں بھی کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا، آخر مولوی طبقے سے تعلق رکھتا تھا! چچی کے بلانے کا بہانہ کیا اور وہاں سے کھسک لیا۔ اس دن تو میری عزت کسی طرح بچی لیکن جو صدمہ میرے دل پر لگا وہ بہت گہرا تھا اور میں نے اسی دن سے پکا ارادہ بنا لیا کہ میں عصری تعلیم ضرور حاصل کروں گا“۔
اس طرح کے سینکڑوں ، دلچسپ، علمی، معلوماتی اور جذباتی خوبصورت شہ پارے پوری کتاب میں بکھرے ہوئے ہیں، جس سے نئی نسل کی فکر، سوچ اوراس کے رویے کا اندازہ ہوتا ہے۔ مدارس اور جدید دانش گاہوں کے درمیان دوری اور کھائی پر کرب کا اظہار کرتے ہوئے ایک طالب علم محمد تمیم سوال کھڑے کرتے ہیں اور علی گڑھ کے اپنے اساتذہ کے بارے میں بتاتے ہیں: ”یہ بہترین اور اعلیٰ قسم کے دماغ جو موجودہ دور کے تمام جدید علمی ہتھیاروں سے لیس اور اسلامی جذبات سے سر شار، اپنی صلاحیت، اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے قربان کرنے کو تیار کھڑے ہیں، مگر یہ سب کے سب ہمارے تقدس اور دینی و دنیوی علوم کی تفریق کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ دنیا کا باشندہ سمجھتے ہیں اور اپنے انداز، لب و لہجے، تہذیب و تمدن اور لائف اسٹائل ہر چیز میں اگر ہم سے الگ کھڑے نظر آتے ہیں تو آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ حضرات ہمیں اس قدر تقدس کا حامل سمجھتے ہیں، پر کیا ہم نے انھیں کبھی گلے لگانے اور مدرسے میں آنے کی دعوت دی؟ اب معاملہ روز بروز بد تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم لاکھ اسلام کی غلبے کی دعا کرتے ہیں، مگر اپنے عمل سے بالکل اس کا الٹا کرتے ہیں، کہیں بھی دور دور تک کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی جس سے اسلامی نظام کے برپا ہونے کی امید کی جا سکے اور طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اوپر سے اہل مدارس اسلام کے تحفظ کے نام پر اسلام کے گرد گھیرا اور تنگ کر رہے ہیں“۔
ایک طالبہ فاطمہ اسعد جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچی اور داخلہ وغیرہ کی کارروائی کے بعد ہاسٹل چھوڑ کر اس کے والد جانے لگے تو اس نے کیسا محسوس کیا، اس کا منظروہ کچھ اس طرح جذباتی انداز میں بیان کرتی ہے : ”یہ کیا؟ والد کی آنکھوں میں آنسو؟ یہ میرے لئے نہات حیران کن بات تھی۔ آج تک اتنی بڑی ہو گئی مگر کبھی والد کو اتنا کمزور نہیں پایا تھا۔ نہ جانے کیوں آنسو خود بخود آ گئے تھے اور اس بات کی دلیل دے رہے تھے اور مجھے احساس کرا رہے تھے کہ یہ آنسو ایک بیٹی کے لئے ہے جو ان کے لئے ایک بیٹا ہے اور ان کا فخر، ان کا غرور۔ جب میری طرف سے انھوں نے اپنی آنکھیں پھیر دیں تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا، کہیں میرے آنسو ان کے پیروں کی بیڑیاں نہ بن جائے۔ وہ آخری وقت جب والد نے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا جاؤ اندر!بس اتنا ہی کہا، نصیحت بھی نہیں کی۔ یہ کیا کہوں میں؟ شاید ان کی آواز بھرا سی گئی یا ان کو مجھ پر خود سے سکھانے یا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ “۔
غازی پور کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی فرحانہ ناز کی کہانی کافی دلپذیر ہے۔ وہ کہتی ہے : ”بچپن کے اس لمحے کو یاد کرکے آنکھو ں میں آنسو بھر لاتی ہو ں جب میں ڈاکٹر کی ڈریس پہن کر کھیلتی تھی۔ میرے آس پڑوس کے لوگ مذاق مذاق میں کہتے کہ یہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی۔ لیکن میں جانتی تھی کہ یہ نا ممکن ہے۔ اپنے ماحول کو دیکھتی پھر کالج کی پڑھائی۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اللہ پاک کا ہم پر کرم تھا کہ ہم فضیلت ایک ہاسٹل میں رہ کر کر رہے تھے۔ اور میں نے وہاں پر بی یو ایم ایس کی کتابیں خرید کر چوری چوری پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ جب ہاسٹل میں کسی لڑکی کو سر درد ہوتا یا بخار ہوتا تو ہم اسے دوائی دے دیتے تھے۔ جب مدرسہ کی چھٹی ہوتی تو میں مطالعہ کے درمیان، جب دوسری لڑکیاں کھیل رہی ہوتیں یا بات کر رہی ہوتیں، تو میں یہ سب سیکھتی اور میں نے ڈھیر ساری کتابیں اپنی جیب خرچ سے خریدی تھیں۔ میرے استاد نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی اور کہا : تم ضرور کامیاب ہوگی انشاء اللہ۔ اور میں نے پاپا کو اگلے دن سب بتا دیا۔ میرے پاپا مجھے پڑھانا تو چاہتے تھے لیکن پیسے کی کمی تھی کہ اتنا خرچہ ہوتا تھا گھر کا اور میرے بھائی لوگوں کی پڑھائی پر اور میرے چچا زاد بھائی بہن بھی پڑھ رہے تھے، اس لئے اتنا پیسہ نہ تھا کہ ہم کالج میں پڑھائی کر سکیں۔ اس کے بعد گاؤں میں آہستہ آہستہ پڑھانے اور پڑھنے کا رواج عام ہو گیا۔ جو لوگ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے تھے وہ اب انھیں پڑھانے لگے۔ اور میں نے اپنے ایک استاد کی مدد سےایک اسکیم چلائی۔ گھر گھر میں دوائی سپلائی کرائی۔ اور ہر گھر میں مجبوری کے تحت جن دواوں کی ضرورت ہوتی ان کو رکھوایا۔ میرا محلہ مجھے ڈاکٹر بٹیا کہنے لگا۔ اس کے بعد میرے انھیں استاد نے اخبارات میں میرے لئے کھوج شروع کر دی۔ لیکن میری مارک شیٹ کوئی کالج نہیں مانتا تھا۔ پھر بھی ہم نے ہمت نہ ہاری اور برابر اپنی کوشش جاری رکھی۔ اب میرے ساتھ پورا گاؤں تھا“۔
ایک اور طالبہ رقیہ فاطمہ، جس کا تعلق اتر پردیش کے ایک قصبہ لونی سے ہے، اپنی داستان سناتے ہوئے کافی پر عزم ہے۔ وہ کہتی ہے: ”انسانیت جس کرب سے کراہ رہی ہے اسے نجات دلانے کی فکر عمر کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ اسلام نے جو حقوق دیے تھے مسلم خواتین کے اعتبار سے اس کو معاشرہ نے چھین لیا۔ مسلم خواتین کو پبلک اسپیس سے بے دخل کر دیا اور گھر کو محدود دائرہ کار بتا کر گھروں میں بند کر دیا۔ حالانکہ عورتوں کا دائرہ کار اگر صرف گھر ہوتا تو ہماری تاریخ میں عورتوں کے جو نام ملتے ہیں وہ نہ ملتے۔ اب برج کورس اس پر کام کر رہا ہے کہ مسلم خوتین کی بھی ایک نئی نسل سامنے آئے جو اسی رول کو زندہ کرے جو کہ صد ر اول کی مسلم خواتین نے کیا۔ لہذا سماجی و فلاحی کاموں کا حصہ بن کر سماج کی انسانیت کی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں ”۔
میں نے یہاں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر محض چند اقتباسات پر ہی اکتفا کیا ہے، ورنہ پوری کتاب میں ایسے بے شمار واقعات، حالات اور رویوں کا ذکر ہے جس سے جوجھتے لڑتےیہ طلباء اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے علی گڑھ پہنچے جہاں انھیں اپنی منزل کی مراد ملتی نظر آئی۔ طلباء کے اس لازوال خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ بنا برج کورس جو معروف مفکر، عالم دین، محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر راشد شاز کی تمناوں کا مرکز ہے، جسے انھوں نے سوچا اوراپنے خون جگر سے سینچا ہے۔
کتاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ہی پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ معروف عالم دین اور جدید مسلم مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی نے پیش لفظ لکھا ہے جس میں انھوں نے کتاب کے منصہ شہود پر لانے کی وجوہات بیان کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں : ”برج کورس اب طلباء کے مضامین کے اس مجموعہ کو شائع کر رہا ہے تاکہ ملت اسلامیہ ہند کے سامنے خود ان طلباء کی زبانی برج کورس کی افادیت، اس کی یافت اور اس کے امکانات کی ایک جھلک حقیقی پس منظر کے ساتھ آ جائے اور برج کورس کے بارے میں جو معاندانہ پرو پیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے باعث کچھ حلقے اس کے بارے میں تشویش بے جا کا شکار ہو گئے ہیں اور مدارس اور علماء کے حلقوں میں جو بے جا تحفظات پائے جاتے ہیں ان کا ازالہ ہو سکے اور ان کی غلط فہمیاں اور خدشات دور ہو جائیں“۔ کتاب کی اشاعت کا اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےمرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ِ ہند نے کیا ہے۔ کتاب عمدہ موٹے کاغذپر مجلد شائع کی گئی ہے۔
http://www.humsub.com.pk/63728/طلبائے-برج-کورس-کی-خود-نوشت-تحریریں-ایک/پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موتمحمد علم اللہ ٭
اور عدالت کے ایک کونے میں پڑے سید شہاب الدین نے اپنی کھانسی سے دستک دی۔ جو انڈین مسلم نہیں ’’مسلم انڈیا‘‘پرچہ نکالتے تھے اور اپنی ’’انصاف پارٹی‘‘کی لاش سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ عدالت نے شہاب الدین سے پوچھا: ’’ تم یہاں کیسے؟ ‘‘۔ ان دنوں میری حالت مردوں سے بدتر ہے، مجھے کچھ کہنا ہے! اتنا کہہ کر سید شہاب الدین پھر کھانسنے لگے۔ عدالت کھانسی کا جواب نہیں دیتی۔ لیکن اس کھانسی میں بیماری کے جراثیم تھے۔ اس لئے یہ کھانسی بھی دستک بن گئی تھی۔ لیکن دستک کی آواز کون سنتا؟ ۔ دستکیں تو در کھلنے کی آس پر دی جاتی ہیں۔ روشن دلوں پر دی جاتی ہیں۔ جہاں سبھی بہرے ہوں۔ وہاں دستک کون سنتا ہے؟ غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں ان سے کیا گلہ؟ لیکن جب اپنے بھی نہ سنتے ہوں تو۔ اس نے وہیں دم توڑ دیا!
سید شہاب الدین کے انتقال کے فوراً بعد فیس بک پر تحریر کردہ میری یہ تحریر کیا محض ایک شخص کی کہانی ہے یا صدیوں کی کہانی؟ حقیقت تو ایک بے لاگ تجزیہ نگار یا مورخ ہی بتائے گا، لیکن یہ بھی اپنی جگہ سچ ہی ہے کہ سید شہاب الدین کے انتقال کے بعد ہندوستان میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تقریبا تین دہائیوں تک سید شہاب الدین تعریف وتنقید کے درمیان، مسلم سیاسی شعور کی بیداری، شرکت اور تقویت کے لئے سرگرم رہے۔ ان کی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن ان کے اخلاص، بے باکی اور ملک و ملت سے بے پناہ محبت کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کام کرنے والوں سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن آخری دنوں میں قوم نے ان کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا، وہ بھی انتہائی افسوس اور ماتم کے لائق تھا۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ ہم شخصیتوں کی خدمات کا اعتراف ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کرتے ہیں، سید شہاب الدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ بھی ہماری مردم خور قوم کے ساتھ آخر وقت تک انھیں کے لئے لڑتے لڑتے ہمیشہ ہمیش کی نیند سو گئے۔
جمعرات، 27 نومبر، 2014 کی وہ شام آج بھی مجھے یاد ہے جب میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ گلابی سردیوں کی ایک معمول سی شام۔ انتقال کے بعد ان سے متعلق کچھ لکھنے کا سوچا تو بے شمار چیزیں یاد آئیں کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ میری ان سے بہت زیادہ آشنائی نہیں تھی لیکن مشاورت کے بارے میں تحقیق کے دوران جب ان کی چیزوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ وہ ہندوستان میں اس صدی کے جناح، اقبال اور ابوالکلام آزاد سے کم نہیں ہیں۔ ان کی تحریروں میں سب سے پہلے مسلم مسائل سے متعلق ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں معروف انگریزی مجلہ’’مسلم انڈیا‘‘کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو سید شہاب الدین کی ادارت میں 1983 سے نکلنا شروع ہوا اور 2009میں بند ہو گیا۔ اس رسالے کو دیکھنے اور خصوصاً اس کے اداریوں کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ حالانکہ ان کے بارے میں بہت پہلے سے سنتا رہا تھا لیکن ان کی علمیت اور قابلیت کا قائل میں ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہوا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے ملنے کا ارادہ بنایا تو پتہ چلا کہ وہ ایمز میں ایڈمٹ ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک ہے۔ اس خبر کو سن کر دل میں ایک دھکا سا لگا تھا کہ شاید امت مسلمہ ایک اور عظیم قائد سے محروم ہو جائے گی۔ مگر پھر جلد ہی یہ مژدۂ جاں فزا بھی ملا کہ وہ اسپتال سے گھرواپس آگئے ہیں اور پھرموصوف مشاورت کے آفس بھی باضابطہ آنے بھی لگے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے بتا یا کہ ا گرچہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں لیکن کام کا شوق اور خالی نہ بیٹھنا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔
اسپتال سے واپسی کے بعد میں نے ان سے ملنے کا پھر ارادہ کیا اور اس غرض سے کئی مرتبہ مشاورت کے دفتر گیا لیکن ان کے انہماک اور کام میں یکسوئی کو دیکھ کر ہمت نہ ہوئی کہ میں ان کے کام میں حارج ہوجاؤں اور وہ بلا وجہ ڈسٹرب ہوں۔ اور پھر ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ ہفت روزہ’’عالمی سہارا‘‘کی جانب سے مجھے ایک اسٹوری لکھنے کوکہا گیا، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے راستے کی نشان دہی کرنے والے بورڈوں اور ہورڈنگز سے پی ڈبلیو ڈی نے لفظ’’اسلامیہ‘‘ کو حذف کر دیاتھا۔ سید شہاب الدین نے اس سلسلہ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلی ذمہ داران کو متوجہ کراتے ہوئے اس میں اصلاح کی خاطر خطوط ارسال کیے تھے۔ اس کا درست اندازہ ’’مسلم انڈیا‘‘ اور’’مشاورت بلیٹن‘‘کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس چیز کو اردو اخبارات نے اب موضوع بحث بنایا تھا، اس بارے میں برسوں پہلے منتظمین کو سید شہاب الدین نے خطوط لکھے تھے۔
ان کا بیان ایک انگریزی اخبار میں بہت پہلے میں نے دیکھا تھا اور جب’عالمی سہارا‘ کی جانب سے اس موضوع پر اسٹوری لکھنے کے لئے کہا گیا تو براہ راست سید شہاب الدین سے ملاقات کرنے اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور ایک صبح مشاورت کے دفترپہنچ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ٹیبل لیمپ جل رہا ہے اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ اس قدر پیرانہ سالی میں بھی بابوؤں والا ٹھاٹ نہیں گیا ہے۔ مشاورت کے آفس سکریٹری عبد الوحید صاحب نے میرا نام اور ملاقات کا مقصد لکھ کرانہیں دیا۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا بھیج دو۔ کمرے میں تاریکی اور خاموشی دونوں مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔
ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ بات کی ابتدا کیسے کروں کہ آواز آئی ’’جی! تشریف رکھیے! ‘‘آواز میں ارتعاش اور کڑک تھی۔ میں سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ حکم ہوا:۔ ’’فرمائیے کس غرض سے آنا ہوا ہے؟ ‘‘میں نے دیکھا کہ ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے، میں نے انھیں اپنا تعارف کرایا، مگر ان کے اشاروں سے لگا کہ وہ میری بات یا تو سن نہیں سکے یا سمجھ نہیں سکے، اب میں نے پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلندآواز سے بولنا شروع کر دیا، لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آلہ سماعت کا لیول ٹھیک کیا اور کہا’’چیخئے مت دھیرے دھیرے بولئے‘‘۔ میں نے دھیرے دھرے بولنا شروع کیا، لیکن پھر بھی وہ میری بات نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر اپنا مدعا اوراپنا سوال لکھ کر بڑھا دیا۔ انہوں نے سوال پڑھتے ہی جواب دینا شروع کر دیا اور بات ختم ہوتے ہی یکے بعد دیگرے میں انہیں سوالات لکھ لکھ کر دیتا رہا اور وہ ان سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ جواب کے درمیان کبھی کبھی وہ زور زورسے ہنسنے لگتے تو کبھی افسوس کا اظہار کرتے۔ جواب کیا تھے بس علم، تاریخ، زبان، سیاست، قیادت، ثقافت کا مرقع تھے، میرا اشہبِ قلم بہت تیزی سے صفحہ قرطاس پر دوڑ رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے گفتگو کرتے جا رہے تھے۔ اندازِتخاطب انتہائی دلچسپ اور شاندار تھا اور ایسے میں میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون سی بات چھوڑ دوں اور کو ن سی لکھوں، جی چاہ رہا تھا وہ گفتگو کرتے رہیں اور میں سنتا رہوں، لیکن اس کا وقت نہیں تھا۔
آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ آخر کیا کیا باتیں ہوئیں، یادداشت کی بنیاد پر سب کچھ لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے کہ بات کرتے وقت جس مقصد سے میں اُن کے پاس گیا تھا وہی نکتہ پیش نظر تھا۔ یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ’’ اسلامیہ‘‘ کے خاتمے کا موضوع۔ اس سے متعلق تحریرعالمی سہارا کے 18 ستمبر2014 کے شمارے میں آچکی ہے جس کا مکرر تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں۔
اس کے علاوہ میں نے ان سے اور کیا سوالات کیے وہ تو یاد نہیں ہیں لیکن ڈائری میں جو نکات درج کیے تھے ان کی روشنی میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ جب ہماری بات مکمل ہو گئی تو میں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر ان کی طرف بڑھا دیا ’’آپ کی خدمات بہت ہیں اور آپ ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں، کاش آپ میری بات سن سکتے تو میں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرتا‘‘ اس پر وہ مسکرائے اور کہنے لگے :’’ ارے نہیں بھائی! ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق کرتا ہے۔ میری خواہش تو بہت کچھ کرنے کی تھی، آپ کو کیا کیا بتاؤں، اب صحت ساتھ نہیں دیتی۔ اب تو بس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر تجھے لگتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں تو کم از کم مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بکھرے ہوئے کام کو سمیٹ سکوں‘‘۔
میں نے سید صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کی شخصیت سے متعلق ایک کتاب لکھوں۔ ابھی کچھ مصروفیات ہیں۔ ان سے نمٹ لوں تو بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا، یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے : ’’ارے بھئی! یہ تو بس ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ ہیچ مداں کے بارے میں یہ سوچا۔ ’’میں نے جلدی سے ایک اورکاغذلکھ کر بڑھایا ’’نہیں! میں نے خودبھی ’’مسلم انڈیا‘‘کی فائلیں پڑھی ہیں۔ آپ نے جو لکھ دیا ہے وہ خود ایک تاریخ ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی کہنے لگے :’’آپ نے کتاب لکھنے کی بات کہی تو کیا بتاؤں بہت سی یادیں ہیں کن کن چیزوں کا تذکرہ کروں۔ کوئی اچھا اسٹینو گرافر مل جائے تو اسے لکھوا دوں‘‘۔ پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔’’آہا! وہ کیا زمانہ تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے اس زمانے میں! دیکھئے آپ نے تذکرہ کیا تو یاد آیا، آپ کو بتاتا ہوں: ’’میں نے سول سروسز کے لئے امتحان دیا میرا نام آ گیا لیکن مجھے جوائننگ لیٹر نہیں ملا۔ میرے ماموں نے مجھ سے کہا ارے بھئی شہاب الدین! تمہارے تمام ساتھیوں کا تو لیٹر آ گیا، تمہیں اب تک کیوں نہیں ملا؟ تو میں سیدھے ڈی ایم آفس گیا اور ان سے ڈائرکٹ کہا: آپ نے میرے خلاف کیا لکھا۔ وہ مجھے جانتے تھے، مسکرا کر کہنے لگے جو کچھ میں نے لکھا ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کیا لکھا ہے؟ تو انھوں نے دراز میں سے اس خط کی کاپی نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا دیکھو میں نے اس میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں یہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد دو سال سے پٹنہ یونیورسٹی میں استاذ ہے اور اس درمیان میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے جو قابل اعتراض ہو ‘‘۔
(ہنستے ہوئے! ) ’’اصل میں مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ جب میرے کالج میں پنڈت نہرو پٹنہ آئے تھے تو میں نے ان کے خلاف لڑکوں کو موبلائز کیا تھا اور انھیں کالا جھنڈا دکھایا تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اسی وجہ سے میری جوائننگ روک دی گئی ہے۔ بات یہی تھی۔ اس کا علم مجھے بعد میں ہوا اورانہیں ڈی آئی جی صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ میری فائل پنڈت نہرو کے پاس گئی۔ اور میری فائل میں انھوں نے جو لکھا وہ قابل قدر بات ہے۔ اس سے بڑے لوگوں کے بڑکپن کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنڈت نہرو نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھاوہ ایسے ہی ہے جیسے لوگ حافظ کے اشعار کو نقل کرتے ہیں‘‘۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے فخریہ انداز میں کہا’’’میں پنڈت جی کی بات آپ کو سناتا ہوں ’’( اپنا گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا )‘‘انگریزی سمجھتے ہیں ناں؟ ’’میں نے کہا: جی! ۔ اچھا تو پنڈت جی نے لکھا :
I know I have met Shahabuddin. His participation in the part of disturbances was not for politically motivated; it was an expression of his youthfulness.
یعنی’’ انہوں نے یہ کام جوانی کے جوش میں کیا۔ اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی‘‘۔ اب میں اس آدمی کے بارے میں کیا کہوں؟ میں نے تو اسے کالا جھنڈا دکھایا تھا اور میرے بارے میں وہ یہ تبصرہ کر رہا ہے، ان سے میری زبانی کشتی بھی ہوئی۔ کالج کے زمانے میں نے انہیں بتایا کہ بی این کالج کی دیوار پر 74گولی کے نشانات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ چل کر دیکھیں۔ تو پنڈت جی کہنے لگے ’’ دیکھئے بھائی! دیکھ کے کیا کریں گے‘‘ارے بڑے افسوس کی بات ہے اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں پٹنہ‘، پھر کہنے لگے : ’ارے بھئی! گولی چلنا بڑی بری بات ہے وہ جب چلتی ہے تو کسی کو بھی لگ سکتی ہے ‘‘۔ اسی رات کو جب پنڈت نہرو تقریر کے لئے آئے تو خوب ہنگامہ ہوا، ہم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن پنڈت جی خود ہی کہنے لگے :’’بچے آئے تھے ملنے کے لئے، ہم نے ان سے کہہ دیا ہے جو کارروائی ہونی ہے کریں گے ‘‘، کچھ لوگوں نے ادھر سے شور مچایا کہ واپس جاؤ! واپس جاؤ! تو تنک مزاج تو تھے ہی بگڑ گئے، کہنے لگے (پنڈت نہرو کے ہی انداز میں اچک کر اور سینہ تان کر)’ابھی میں نے آپ کو سمجھایا۔ جو کچھ کہا آپ نے سن لیا ہے، میں نے بات کر لی ہے، جو ممکن ہے وہ کروں گا، اب میں آپ سے کچھ دیس کی ترقی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہاں تو میں نے یہ بھی کہا بچوں سے کہ اگر پولیس کی غلطی پائی گئی تو اس کو سزا دی جائے گی۔ ‘‘ تو میاں خوب تالیاں بجیں وہاں لان کے میدان میں۔ (پھر اچانک نہرو کے ہی اسٹائل میں چیخ کر)’تالیاں کیوں نہیں بجاتے ہیں، بجائیے تالیاں ‘۔ (ہنستے ہوئے ) کیا آدمی تھا :
سید شہاب الدین نے پھر تھوڑی دیر توقف کیا اور آگے بات کی۔ ’’ایک ڈیڑھ سال کے بعد موقع ملا مجھ کو پنڈت جی کے گھرپراُن کے ساتھ کھانا کھانے کا۔ کھانے کے بعد کافی پینے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلے۔ اور مدعو لوگوں کے ساتھ میں بھی تھا پنڈت جی کے ساتھ، تو میرے کندھے پر انہوں نے ہاتھ رکھا۔ میں نے کہا اے پنڈت جی :تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :
‘‘You are that mischievous boy from Bihar’’
’’تم وہ شرارتی لڑکے ہو بہار والے۔ پیار سے کہا انھوں نے۔ عجیب و غریب انسان تھا وہ۔ ‘‘
ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص دوا لے کر ان کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بات اس سے ہونے لگتی ہے۔ ’’اچھا تو یہ دوا ہے ‘‘۔ پھر دوا کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے : ’’اب یہی میری زندگی ہے جس کے سہارے ٹکا ہوں۔ بہت کام کر لیا، جو کچھ کرنا تھا سب کر لیا۔ اب تو بس نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! اگر تومیری زندگی اوررکھنا چاہتا ہے تو مجھے طاقت دے کہ میرا جو بکھرا ہوا کام ہے، اس کو پورا کر سکوں۔ (پھر پر امید لہجہ میں)’’: دیکھئے اگر اللہ نے صحت دی تو’ اداریہ ‘ کو جمع کر کے کتابی شکل میں لاؤں گا۔ اس کے لئے کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اب دیکھئے کب تک مکمل ہوتا ہے۔ ‘‘
پھر اچانک جیسے انھیں کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ’’جائیے اب مجھے کام بھی کرنا ہے، لیکن ہاں اتنی گذارش ہے اب جب کبھی آئیں تو ریکارڈر ضرورساتھ لائیں ‘‘۔ میں نے ایک چھوٹی سی شکریے کی چٹ لکھ کر ان کی جانب بڑھا دی۔ وہ ’’ویلکم‘‘کہتے ہوئے مسکرا دیے اور میں یہ سوچتے ہوئے واپس آگیا کہ اس ضعیف العمری میں بھی کام کا انہیں بے حد احساس ہے۔ کس کے لئے کام؟ اپنے لئے نہیں بلکہ قوم کے لیے، اے کاش اگر ایسا ہی احساس ہمارے سب قائدین کو ہو جاتا تو آج ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔ افسوس آج وہ مرد درویش نہ رہا جس کی سوانح لکھنے کی میری تمنا پوری نہ ہوسکی اور خود ان کی خواہش بھی ان کے سینے میں ہی دفن ہوگئی۔
٭ محمد علم اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہیں ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

تنقید کی میعاد زیادہ نہیں ہوتی


محمد علم اللہ 
مشاورت کی تاریخ پر لکھی جا رہی کتاب میں ایک جگہ استادمحترم ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے بحث جاری تھی ، میرا کہنا تھا ۔ 
" میں تاریخ لکھ رہا ہوں اور اگر ہمارے بزرگوں نے ایسی کوئی غلطی کی ہے تو لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے ، تاکہ آنے والی نسلیں اس کا اعادہ نہ کریں "۔ 
استاد محترم نے کہا " ٹھیک ہے آپ لکھئے پھر دیکھتے ہیں" ۔
میں نے اپنے مخصوص انداز میں مع حوالہ و دلیل تحریر مکمل کیا ،اور درست بات تو یہ ہے کہ سب کو اکھاڑ پکھاڑ کر رکھ دیا ۔
استاد محتر م نے باریکی سے تحریر کا مطالعہ کیا ، دوسرے روز مجھے بلا کر کافی دیر تک سمجھاتے رہے ، اور کہا "آپ ا س کو دوسرے انداز میں بھی لکھ سکتے تھے " ۔
اور پھر آگے انتہائی ناصحانہ انداز میں کہا جو مجھے آج اچانک پھر یاد آ گیا ۔
" تنقید کی مدت زیادہ دنوں باقی نہیں رہتی ، زیادہ سے زیادہ آپ جس پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ان کے دشمنان خوش ہوتے ہیں یا ایک مخصوص حلقہ اس سے دلچسپی لیتا ہے ، پھر لوگ بھول جاتے ہیں کہ آپ نے کچھ لکھا بھی تھا ، مثال کے طور پر آپ عامر عثمانی کی تجلی کو دیکھئے ، ان کا لہجہ کیسا کانٹے دار تھا ، متعدد لوگ اس کو دلچسپی سے پڑھتے ، لیکن اس کا حلقہ محدود تھا ، آج عامر عثمانی کو کتنے لوگ جانتے ہیں ؟۔ جبکہ اسی عہد میں لکھنے والے سینکڑوں نام ایسے ہیں جنھیں آفاقی حثیت حاصل ہے "۔
ظاہر ہے مزید بحث کی میرے پاس گنجائش نہیں تھی ، کتاب چھپی ، اشاعت سے قبل جن بزرگوں کے پاس نظر ثانی کے لئے کتاب گئی ، سب نے اس کو سراہا ،آج ایک اور بزرگ نے فون پر گفتگو کی ، مبارکباد دیا اور کافی دیر تک میری اور کتاب کی تعریف کرتے رہے ۔میں سمجھتا ہوں اس میں میرا کچھ بھی کمال نہیں تھا ، بس اللہ کو ایک کام لینا تھا سو مجھ حقیر کے ذریعہ لیا ،تاہم کتاب میں کچھ بھی اچھائی ہے تو اس کا سارا کریڈٹ استاد محترم کو ہی جاتا ہے جنھوں نے اس قدر دلچسپی سے میری رہنمائی فرمائی ، اللہ ان کا سایہ تادیر قائم رکھے ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ بہرحال میرے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ تبصرہ نگار کا نام نہیں دیا ہے ، لیکن تبصرہ کے نیچے ع ص لکھا ہے ، یعنی محترم جناب عمیر الصدیق ندوی صاحب نے یہ تبصرہ کیا ہے ۔ میری کبھی ان سے نہ بات ہوئی اور نہ ملاقات ،مگر عمر کے تعلق سے ان کے اندازہ سے مجھے حیرانی ہوئی ۔بہرحال میں ان کا شکر گذار ہوں کہ انھوں نے کتاب پڑھی اور تبصرہ بھی کیا ۔ جزاکم اللہ احسن ۔
Mohammad Alamullah's photo.Mohammad Alamullah's photo.Mohammad Alamullah's photo.Likeپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط سے ایک اقتباس

آج میں آپ کو دو مزید باتیں بتاتا ہوں ۔ ستم طریفی ۔ آپ اس کے اثر میں نہ آئیں ۔ خصوصا اس وقت تخلیقی لمحات میں نہ ہوں ۔ ہاں جب آپ اپنے تخلیقی لمحات میں ہوں تو اسے زندگی پر گرفت حاصل کرنے کے ایک ذریعہ طور پرلیں ، اگر اسے صدق دلی سے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مثبت رویہ ہے اور اس کے استعمال پر کسی قسم کے خلجان میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ لیکن اگر آپ کو لگے کہ کچھ زیادہ ہی اس میں الجھن کا شکار ہو رہے ہیں تو پھر سنجیدہ چیزوں کی جانب متوجہ ہوں جس کے سامنے یہ انتہائی حقیر اور بے بس شئے ہے ۔ چیزوں کی گہرائی تک پہنچیں ، اور جب اس طرح آپ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا یہ ستم ظریفانہ رویہ آپ کی کوئی فطری ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ سنجیدہ باتوں کے زیر اثر یا تو یہ اگر محض اتفاقی ہے آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور یا اگر واقعی آپ کا فطری رویہ ہے تو یہ ایک مضبوط آلہ کار بن جائے گی اور ان اجزا میں شامل ہو جائے گی جن سے آپ اپنے فن کو سنوار سکتے ہیں ۔Today I would like to tell you just two more things:
Irony: Don't let yourself be controlled by it, especially during uncreative moments. When you are fully creative, try to use it, as one more way to take hold of fife. Used purely, it too is pure, and one needn't be ashamed of it; but if you feel yourself becoming too familiar with it, if you are afraid of this growing familiarity, then turn to great and serious objects, in front of which it becomes small and helpless. Search into the depths of Things: there, irony never descends and when you arrive at the edge of greatness, find out whether this way of perceiving the world arises from a necessity of your being. For under the influence of serious Things it will either fall away from you (if it is something accidental), or else (if it is really innate and belongs to you) it will grow strong, and become a serious tool and take its place among the instruments which you can form your art with.Letters To A Young Poet - #2You must pardon me, dear Sir, for waiting until today to gratefully remember your letter of February 24. I have been unwell all this time, not really sick, but oppressed by an influenza-like debility, which has made me incapable of doing anything. And finally, since it just didn't want to improve I…CARROTHERS.COM
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

Pages