عَلَم گویَد

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موت

ہندوستان میں مسلم جدوجہد کے استعارے کی موتمحمد علم اللہ ٭
اور عدالت کے ایک کونے میں پڑے سید شہاب الدین نے اپنی کھانسی سے دستک دی۔ جو انڈین مسلم نہیں ’’مسلم انڈیا‘‘پرچہ نکالتے تھے اور اپنی ’’انصاف پارٹی‘‘کی لاش سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ عدالت نے شہاب الدین سے پوچھا: ’’ تم یہاں کیسے؟ ‘‘۔ ان دنوں میری حالت مردوں سے بدتر ہے، مجھے کچھ کہنا ہے! اتنا کہہ کر سید شہاب الدین پھر کھانسنے لگے۔ عدالت کھانسی کا جواب نہیں دیتی۔ لیکن اس کھانسی میں بیماری کے جراثیم تھے۔ اس لئے یہ کھانسی بھی دستک بن گئی تھی۔ لیکن دستک کی آواز کون سنتا؟ ۔ دستکیں تو در کھلنے کی آس پر دی جاتی ہیں۔ روشن دلوں پر دی جاتی ہیں۔ جہاں سبھی بہرے ہوں۔ وہاں دستک کون سنتا ہے؟ غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں ان سے کیا گلہ؟ لیکن جب اپنے بھی نہ سنتے ہوں تو۔ اس نے وہیں دم توڑ دیا!
سید شہاب الدین کے انتقال کے فوراً بعد فیس بک پر تحریر کردہ میری یہ تحریر کیا محض ایک شخص کی کہانی ہے یا صدیوں کی کہانی؟ حقیقت تو ایک بے لاگ تجزیہ نگار یا مورخ ہی بتائے گا، لیکن یہ بھی اپنی جگہ سچ ہی ہے کہ سید شہاب الدین کے انتقال کے بعد ہندوستان میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تقریبا تین دہائیوں تک سید شہاب الدین تعریف وتنقید کے درمیان، مسلم سیاسی شعور کی بیداری، شرکت اور تقویت کے لئے سرگرم رہے۔ ان کی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تاریخ کرے گی لیکن ان کے اخلاص، بے باکی اور ملک و ملت سے بے پناہ محبت کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کام کرنے والوں سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن آخری دنوں میں قوم نے ان کے ساتھ جو رویہ اختیارکیا، وہ بھی انتہائی افسوس اور ماتم کے لائق تھا۔ ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ ہم شخصیتوں کی خدمات کا اعتراف ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کرتے ہیں، سید شہاب الدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ بھی ہماری مردم خور قوم کے ساتھ آخر وقت تک انھیں کے لئے لڑتے لڑتے ہمیشہ ہمیش کی نیند سو گئے۔
جمعرات، 27 نومبر، 2014 کی وہ شام آج بھی مجھے یاد ہے جب میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ گلابی سردیوں کی ایک معمول سی شام۔ انتقال کے بعد ان سے متعلق کچھ لکھنے کا سوچا تو بے شمار چیزیں یاد آئیں کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ میری ان سے بہت زیادہ آشنائی نہیں تھی لیکن مشاورت کے بارے میں تحقیق کے دوران جب ان کی چیزوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ وہ ہندوستان میں اس صدی کے جناح، اقبال اور ابوالکلام آزاد سے کم نہیں ہیں۔ ان کی تحریروں میں سب سے پہلے مسلم مسائل سے متعلق ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں معروف انگریزی مجلہ’’مسلم انڈیا‘‘کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو سید شہاب الدین کی ادارت میں 1983 سے نکلنا شروع ہوا اور 2009میں بند ہو گیا۔ اس رسالے کو دیکھنے اور خصوصاً اس کے اداریوں کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ حالانکہ ان کے بارے میں بہت پہلے سے سنتا رہا تھا لیکن ان کی علمیت اور قابلیت کا قائل میں ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہوا۔ چنانچہ جب میں نے ان سے ملنے کا ارادہ بنایا تو پتہ چلا کہ وہ ایمز میں ایڈمٹ ہیں اور ان کی صحت انتہائی نازک ہے۔ اس خبر کو سن کر دل میں ایک دھکا سا لگا تھا کہ شاید امت مسلمہ ایک اور عظیم قائد سے محروم ہو جائے گی۔ مگر پھر جلد ہی یہ مژدۂ جاں فزا بھی ملا کہ وہ اسپتال سے گھرواپس آگئے ہیں اور پھرموصوف مشاورت کے آفس بھی باضابطہ آنے بھی لگے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے بتا یا کہ ا گرچہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں لیکن کام کا شوق اور خالی نہ بیٹھنا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔
اسپتال سے واپسی کے بعد میں نے ان سے ملنے کا پھر ارادہ کیا اور اس غرض سے کئی مرتبہ مشاورت کے دفتر گیا لیکن ان کے انہماک اور کام میں یکسوئی کو دیکھ کر ہمت نہ ہوئی کہ میں ان کے کام میں حارج ہوجاؤں اور وہ بلا وجہ ڈسٹرب ہوں۔ اور پھر ایک بہانہ ہاتھ آگیا۔ ہفت روزہ’’عالمی سہارا‘‘کی جانب سے مجھے ایک اسٹوری لکھنے کوکہا گیا، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے راستے کی نشان دہی کرنے والے بورڈوں اور ہورڈنگز سے پی ڈبلیو ڈی نے لفظ’’اسلامیہ‘‘ کو حذف کر دیاتھا۔ سید شہاب الدین نے اس سلسلہ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر اعلی ذمہ داران کو متوجہ کراتے ہوئے اس میں اصلاح کی خاطر خطوط ارسال کیے تھے۔ اس کا درست اندازہ ’’مسلم انڈیا‘‘ اور’’مشاورت بلیٹن‘‘کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جس چیز کو اردو اخبارات نے اب موضوع بحث بنایا تھا، اس بارے میں برسوں پہلے منتظمین کو سید شہاب الدین نے خطوط لکھے تھے۔
ان کا بیان ایک انگریزی اخبار میں بہت پہلے میں نے دیکھا تھا اور جب’عالمی سہارا‘ کی جانب سے اس موضوع پر اسٹوری لکھنے کے لئے کہا گیا تو براہ راست سید شہاب الدین سے ملاقات کرنے اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور ایک صبح مشاورت کے دفترپہنچ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ایک نیم تاریک کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ٹیبل لیمپ جل رہا ہے اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ اس قدر پیرانہ سالی میں بھی بابوؤں والا ٹھاٹ نہیں گیا ہے۔ مشاورت کے آفس سکریٹری عبد الوحید صاحب نے میرا نام اور ملاقات کا مقصد لکھ کرانہیں دیا۔ ایک نظر دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا بھیج دو۔ کمرے میں تاریکی اور خاموشی دونوں مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔
ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ بات کی ابتدا کیسے کروں کہ آواز آئی ’’جی! تشریف رکھیے! ‘‘آواز میں ارتعاش اور کڑک تھی۔ میں سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ حکم ہوا:۔ ’’فرمائیے کس غرض سے آنا ہوا ہے؟ ‘‘میں نے دیکھا کہ ان کے کانوں میں آلہ سماعت لگا ہوا ہے، میں نے انھیں اپنا تعارف کرایا، مگر ان کے اشاروں سے لگا کہ وہ میری بات یا تو سن نہیں سکے یا سمجھ نہیں سکے، اب میں نے پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بلندآواز سے بولنا شروع کر دیا، لیکن پھر بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آلہ سماعت کا لیول ٹھیک کیا اور کہا’’چیخئے مت دھیرے دھیرے بولئے‘‘۔ میں نے دھیرے دھرے بولنا شروع کیا، لیکن پھر بھی وہ میری بات نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر اپنا مدعا اوراپنا سوال لکھ کر بڑھا دیا۔ انہوں نے سوال پڑھتے ہی جواب دینا شروع کر دیا اور بات ختم ہوتے ہی یکے بعد دیگرے میں انہیں سوالات لکھ لکھ کر دیتا رہا اور وہ ان سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ جواب کے درمیان کبھی کبھی وہ زور زورسے ہنسنے لگتے تو کبھی افسوس کا اظہار کرتے۔ جواب کیا تھے بس علم، تاریخ، زبان، سیاست، قیادت، ثقافت کا مرقع تھے، میرا اشہبِ قلم بہت تیزی سے صفحہ قرطاس پر دوڑ رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے گفتگو کرتے جا رہے تھے۔ اندازِتخاطب انتہائی دلچسپ اور شاندار تھا اور ایسے میں میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون سی بات چھوڑ دوں اور کو ن سی لکھوں، جی چاہ رہا تھا وہ گفتگو کرتے رہیں اور میں سنتا رہوں، لیکن اس کا وقت نہیں تھا۔
آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ آخر کیا کیا باتیں ہوئیں، یادداشت کی بنیاد پر سب کچھ لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے کہ بات کرتے وقت جس مقصد سے میں اُن کے پاس گیا تھا وہی نکتہ پیش نظر تھا۔ یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لفظ’’ اسلامیہ‘‘ کے خاتمے کا موضوع۔ اس سے متعلق تحریرعالمی سہارا کے 18 ستمبر2014 کے شمارے میں آچکی ہے جس کا مکرر تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں۔
اس کے علاوہ میں نے ان سے اور کیا سوالات کیے وہ تو یاد نہیں ہیں لیکن ڈائری میں جو نکات درج کیے تھے ان کی روشنی میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ جب ہماری بات مکمل ہو گئی تو میں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر ان کی طرف بڑھا دیا ’’آپ کی خدمات بہت ہیں اور آپ ہماری نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں، کاش آپ میری بات سن سکتے تو میں آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرتا‘‘ اس پر وہ مسکرائے اور کہنے لگے :’’ ارے نہیں بھائی! ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق کرتا ہے۔ میری خواہش تو بہت کچھ کرنے کی تھی، آپ کو کیا کیا بتاؤں، اب صحت ساتھ نہیں دیتی۔ اب تو بس اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر تجھے لگتا ہے کہ میں کچھ کر سکتا ہوں تو کم از کم مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بکھرے ہوئے کام کو سمیٹ سکوں‘‘۔
میں نے سید صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کی شخصیت سے متعلق ایک کتاب لکھوں۔ ابھی کچھ مصروفیات ہیں۔ ان سے نمٹ لوں تو بہت جلد آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا، یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں میں جیسے چمک سی آ گئی۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے : ’’ارے بھئی! یہ تو بس ڈاکٹر صاحب کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ ہیچ مداں کے بارے میں یہ سوچا۔ ’’میں نے جلدی سے ایک اورکاغذلکھ کر بڑھایا ’’نہیں! میں نے خودبھی ’’مسلم انڈیا‘‘کی فائلیں پڑھی ہیں۔ آپ نے جو لکھ دیا ہے وہ خود ایک تاریخ ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی کہنے لگے :’’آپ نے کتاب لکھنے کی بات کہی تو کیا بتاؤں بہت سی یادیں ہیں کن کن چیزوں کا تذکرہ کروں۔ کوئی اچھا اسٹینو گرافر مل جائے تو اسے لکھوا دوں‘‘۔ پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔’’آہا! وہ کیا زمانہ تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے اس زمانے میں! دیکھئے آپ نے تذکرہ کیا تو یاد آیا، آپ کو بتاتا ہوں: ’’میں نے سول سروسز کے لئے امتحان دیا میرا نام آ گیا لیکن مجھے جوائننگ لیٹر نہیں ملا۔ میرے ماموں نے مجھ سے کہا ارے بھئی شہاب الدین! تمہارے تمام ساتھیوں کا تو لیٹر آ گیا، تمہیں اب تک کیوں نہیں ملا؟ تو میں سیدھے ڈی ایم آفس گیا اور ان سے ڈائرکٹ کہا: آپ نے میرے خلاف کیا لکھا۔ وہ مجھے جانتے تھے، مسکرا کر کہنے لگے جو کچھ میں نے لکھا ہے اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے کہا کیا لکھا ہے؟ تو انھوں نے دراز میں سے اس خط کی کاپی نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا دیکھو میں نے اس میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں یہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد دو سال سے پٹنہ یونیورسٹی میں استاذ ہے اور اس درمیان میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے جو قابل اعتراض ہو ‘‘۔
(ہنستے ہوئے! ) ’’اصل میں مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ جب میرے کالج میں پنڈت نہرو پٹنہ آئے تھے تو میں نے ان کے خلاف لڑکوں کو موبلائز کیا تھا اور انھیں کالا جھنڈا دکھایا تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اسی وجہ سے میری جوائننگ روک دی گئی ہے۔ بات یہی تھی۔ اس کا علم مجھے بعد میں ہوا اورانہیں ڈی آئی جی صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ میری فائل پنڈت نہرو کے پاس گئی۔ اور میری فائل میں انھوں نے جو لکھا وہ قابل قدر بات ہے۔ اس سے بڑے لوگوں کے بڑکپن کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنڈت نہرو نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھاوہ ایسے ہی ہے جیسے لوگ حافظ کے اشعار کو نقل کرتے ہیں‘‘۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے فخریہ انداز میں کہا’’’میں پنڈت جی کی بات آپ کو سناتا ہوں ’’( اپنا گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا )‘‘انگریزی سمجھتے ہیں ناں؟ ’’میں نے کہا: جی! ۔ اچھا تو پنڈت جی نے لکھا :
I know I have met Shahabuddin. His participation in the part of disturbances was not for politically motivated; it was an expression of his youthfulness.
یعنی’’ انہوں نے یہ کام جوانی کے جوش میں کیا۔ اس کے پیچھے کوئی سیاست نہیں تھی‘‘۔ اب میں اس آدمی کے بارے میں کیا کہوں؟ میں نے تو اسے کالا جھنڈا دکھایا تھا اور میرے بارے میں وہ یہ تبصرہ کر رہا ہے، ان سے میری زبانی کشتی بھی ہوئی۔ کالج کے زمانے میں نے انہیں بتایا کہ بی این کالج کی دیوار پر 74گولی کے نشانات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ چل کر دیکھیں۔ تو پنڈت جی کہنے لگے ’’ دیکھئے بھائی! دیکھ کے کیا کریں گے‘‘ارے بڑے افسوس کی بات ہے اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں پٹنہ‘، پھر کہنے لگے : ’ارے بھئی! گولی چلنا بڑی بری بات ہے وہ جب چلتی ہے تو کسی کو بھی لگ سکتی ہے ‘‘۔ اسی رات کو جب پنڈت نہرو تقریر کے لئے آئے تو خوب ہنگامہ ہوا، ہم نے تو کچھ نہیں کہا لیکن پنڈت جی خود ہی کہنے لگے :’’بچے آئے تھے ملنے کے لئے، ہم نے ان سے کہہ دیا ہے جو کارروائی ہونی ہے کریں گے ‘‘، کچھ لوگوں نے ادھر سے شور مچایا کہ واپس جاؤ! واپس جاؤ! تو تنک مزاج تو تھے ہی بگڑ گئے، کہنے لگے (پنڈت نہرو کے ہی انداز میں اچک کر اور سینہ تان کر)’ابھی میں نے آپ کو سمجھایا۔ جو کچھ کہا آپ نے سن لیا ہے، میں نے بات کر لی ہے، جو ممکن ہے وہ کروں گا، اب میں آپ سے کچھ دیس کی ترقی کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہاں تو میں نے یہ بھی کہا بچوں سے کہ اگر پولیس کی غلطی پائی گئی تو اس کو سزا دی جائے گی۔ ‘‘ تو میاں خوب تالیاں بجیں وہاں لان کے میدان میں۔ (پھر اچانک نہرو کے ہی اسٹائل میں چیخ کر)’تالیاں کیوں نہیں بجاتے ہیں، بجائیے تالیاں ‘۔ (ہنستے ہوئے ) کیا آدمی تھا :
سید شہاب الدین نے پھر تھوڑی دیر توقف کیا اور آگے بات کی۔ ’’ایک ڈیڑھ سال کے بعد موقع ملا مجھ کو پنڈت جی کے گھرپراُن کے ساتھ کھانا کھانے کا۔ کھانے کے بعد کافی پینے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلے۔ اور مدعو لوگوں کے ساتھ میں بھی تھا پنڈت جی کے ساتھ، تو میرے کندھے پر انہوں نے ہاتھ رکھا۔ میں نے کہا اے پنڈت جی :تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا :
‘‘You are that mischievous boy from Bihar’’
’’تم وہ شرارتی لڑکے ہو بہار والے۔ پیار سے کہا انھوں نے۔ عجیب و غریب انسان تھا وہ۔ ‘‘
ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص دوا لے کر ان کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بات اس سے ہونے لگتی ہے۔ ’’اچھا تو یہ دوا ہے ‘‘۔ پھر دوا کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہنے لگے : ’’اب یہی میری زندگی ہے جس کے سہارے ٹکا ہوں۔ بہت کام کر لیا، جو کچھ کرنا تھا سب کر لیا۔ اب تو بس نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! اگر تومیری زندگی اوررکھنا چاہتا ہے تو مجھے طاقت دے کہ میرا جو بکھرا ہوا کام ہے، اس کو پورا کر سکوں۔ (پھر پر امید لہجہ میں)’’: دیکھئے اگر اللہ نے صحت دی تو’ اداریہ ‘ کو جمع کر کے کتابی شکل میں لاؤں گا۔ اس کے لئے کام شروع بھی کر دیا ہے۔ اب دیکھئے کب تک مکمل ہوتا ہے۔ ‘‘
پھر اچانک جیسے انھیں کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ’’جائیے اب مجھے کام بھی کرنا ہے، لیکن ہاں اتنی گذارش ہے اب جب کبھی آئیں تو ریکارڈر ضرورساتھ لائیں ‘‘۔ میں نے ایک چھوٹی سی شکریے کی چٹ لکھ کر ان کی جانب بڑھا دی۔ وہ ’’ویلکم‘‘کہتے ہوئے مسکرا دیے اور میں یہ سوچتے ہوئے واپس آگیا کہ اس ضعیف العمری میں بھی کام کا انہیں بے حد احساس ہے۔ کس کے لئے کام؟ اپنے لئے نہیں بلکہ قوم کے لیے، اے کاش اگر ایسا ہی احساس ہمارے سب قائدین کو ہو جاتا تو آج ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔ افسوس آج وہ مرد درویش نہ رہا جس کی سوانح لکھنے کی میری تمنا پوری نہ ہوسکی اور خود ان کی خواہش بھی ان کے سینے میں ہی دفن ہوگئی۔
٭ محمد علم اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہیں ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

تنقید کی میعاد زیادہ نہیں ہوتی


محمد علم اللہ 
مشاورت کی تاریخ پر لکھی جا رہی کتاب میں ایک جگہ استادمحترم ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے بحث جاری تھی ، میرا کہنا تھا ۔ 
" میں تاریخ لکھ رہا ہوں اور اگر ہمارے بزرگوں نے ایسی کوئی غلطی کی ہے تو لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے ، تاکہ آنے والی نسلیں اس کا اعادہ نہ کریں "۔ 
استاد محترم نے کہا " ٹھیک ہے آپ لکھئے پھر دیکھتے ہیں" ۔
میں نے اپنے مخصوص انداز میں مع حوالہ و دلیل تحریر مکمل کیا ،اور درست بات تو یہ ہے کہ سب کو اکھاڑ پکھاڑ کر رکھ دیا ۔
استاد محتر م نے باریکی سے تحریر کا مطالعہ کیا ، دوسرے روز مجھے بلا کر کافی دیر تک سمجھاتے رہے ، اور کہا "آپ ا س کو دوسرے انداز میں بھی لکھ سکتے تھے " ۔
اور پھر آگے انتہائی ناصحانہ انداز میں کہا جو مجھے آج اچانک پھر یاد آ گیا ۔
" تنقید کی مدت زیادہ دنوں باقی نہیں رہتی ، زیادہ سے زیادہ آپ جس پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ان کے دشمنان خوش ہوتے ہیں یا ایک مخصوص حلقہ اس سے دلچسپی لیتا ہے ، پھر لوگ بھول جاتے ہیں کہ آپ نے کچھ لکھا بھی تھا ، مثال کے طور پر آپ عامر عثمانی کی تجلی کو دیکھئے ، ان کا لہجہ کیسا کانٹے دار تھا ، متعدد لوگ اس کو دلچسپی سے پڑھتے ، لیکن اس کا حلقہ محدود تھا ، آج عامر عثمانی کو کتنے لوگ جانتے ہیں ؟۔ جبکہ اسی عہد میں لکھنے والے سینکڑوں نام ایسے ہیں جنھیں آفاقی حثیت حاصل ہے "۔
ظاہر ہے مزید بحث کی میرے پاس گنجائش نہیں تھی ، کتاب چھپی ، اشاعت سے قبل جن بزرگوں کے پاس نظر ثانی کے لئے کتاب گئی ، سب نے اس کو سراہا ،آج ایک اور بزرگ نے فون پر گفتگو کی ، مبارکباد دیا اور کافی دیر تک میری اور کتاب کی تعریف کرتے رہے ۔میں سمجھتا ہوں اس میں میرا کچھ بھی کمال نہیں تھا ، بس اللہ کو ایک کام لینا تھا سو مجھ حقیر کے ذریعہ لیا ،تاہم کتاب میں کچھ بھی اچھائی ہے تو اس کا سارا کریڈٹ استاد محترم کو ہی جاتا ہے جنھوں نے اس قدر دلچسپی سے میری رہنمائی فرمائی ، اللہ ان کا سایہ تادیر قائم رکھے ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ

میری کتاب(مسلم مجلس مشاورت ، ایک مختصر تاریخ : از محمد علم اللہ ) پر ماہنامہ’’ معارف ‘‘ اعظم گڈھ کا تبصرہ بہرحال میرے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ تبصرہ نگار کا نام نہیں دیا ہے ، لیکن تبصرہ کے نیچے ع ص لکھا ہے ، یعنی محترم جناب عمیر الصدیق ندوی صاحب نے یہ تبصرہ کیا ہے ۔ میری کبھی ان سے نہ بات ہوئی اور نہ ملاقات ،مگر عمر کے تعلق سے ان کے اندازہ سے مجھے حیرانی ہوئی ۔بہرحال میں ان کا شکر گذار ہوں کہ انھوں نے کتاب پڑھی اور تبصرہ بھی کیا ۔ جزاکم اللہ احسن ۔
Mohammad Alamullah's photo.Mohammad Alamullah's photo.Mohammad Alamullah's photo.Likeپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط سے ایک اقتباس

آج میں آپ کو دو مزید باتیں بتاتا ہوں ۔ ستم طریفی ۔ آپ اس کے اثر میں نہ آئیں ۔ خصوصا اس وقت تخلیقی لمحات میں نہ ہوں ۔ ہاں جب آپ اپنے تخلیقی لمحات میں ہوں تو اسے زندگی پر گرفت حاصل کرنے کے ایک ذریعہ طور پرلیں ، اگر اسے صدق دلی سے استعمال کیا جائے تو یہ ایک مثبت رویہ ہے اور اس کے استعمال پر کسی قسم کے خلجان میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ لیکن اگر آپ کو لگے کہ کچھ زیادہ ہی اس میں الجھن کا شکار ہو رہے ہیں تو پھر سنجیدہ چیزوں کی جانب متوجہ ہوں جس کے سامنے یہ انتہائی حقیر اور بے بس شئے ہے ۔ چیزوں کی گہرائی تک پہنچیں ، اور جب اس طرح آپ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ کیا یہ ستم ظریفانہ رویہ آپ کی کوئی فطری ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ سنجیدہ باتوں کے زیر اثر یا تو یہ اگر محض اتفاقی ہے آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور یا اگر واقعی آپ کا فطری رویہ ہے تو یہ ایک مضبوط آلہ کار بن جائے گی اور ان اجزا میں شامل ہو جائے گی جن سے آپ اپنے فن کو سنوار سکتے ہیں ۔Today I would like to tell you just two more things:
Irony: Don't let yourself be controlled by it, especially during uncreative moments. When you are fully creative, try to use it, as one more way to take hold of fife. Used purely, it too is pure, and one needn't be ashamed of it; but if you feel yourself becoming too familiar with it, if you are afraid of this growing familiarity, then turn to great and serious objects, in front of which it becomes small and helpless. Search into the depths of Things: there, irony never descends and when you arrive at the edge of greatness, find out whether this way of perceiving the world arises from a necessity of your being. For under the influence of serious Things it will either fall away from you (if it is something accidental), or else (if it is really innate and belongs to you) it will grow strong, and become a serious tool and take its place among the instruments which you can form your art with.Letters To A Young Poet - #2You must pardon me, dear Sir, for waiting until today to gratefully remember your letter of February 24. I have been unwell all this time, not really sick, but oppressed by an influenza-like debility, which has made me incapable of doing anything. And finally, since it just didn't want to improve I…CARROTHERS.COM
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط سے ایک اقتباس

رائنر ماریہ رلکے کے خطوط کا مطالعہ جاری ہے ۔رلکے کی پیدائش 4 ستمبر 1875 میں پراگ میں ہوئی تھی ۔ رلكے کو جرمن زبان کے معروف شاعراور ادیب کے طور پرجاناجاتا ہے۔ جرمن اور فرانسیسی زبانوں کےماہر رلكے نے جدید زندگی کی پیچیدگیوں کی عکاسی اپنے مخصوص انداز میں خوبصورتی سے پیش کی ہے ۔ چند اقتباسات کا ترجمہ ملاحظہ فر مائیں ۔
علمادبی تنقید کا جہاں تک ممکن ہو کم مطالعہ کریں ۔ ایسی چیزیں تو یک رخی ہوتی ہیں یا زندگی سے عاری اور پتھر کی طرح بے جان یا پھر محض لفظوں کی پوٹلی جن میں آج ایک نظریہ حاوی ہوتا ہے کل کوئی اور نظریہ جگہ لے لے گا ۔ فن پارے انتہائی انفرادیت کے حامل ہوتے ہیں اور تنقید ان کو سمجھنے کا محض ایک ادنی ذریعہ ہے ۔ صرف محبت انھیں سمجھ سکتی ہے، ان کی گرفت کر سکتی ہے اور ان کے ساتھ انصاف کر سکتی ہے ۔ ہر دلیل ، ہرحجت اور ہر بحث کے متعلق آپ صرف خود اپنے آپ کو اور اپنے احساس اور ضمر کو درست تصور کریں ۔ اگر آپ پر غلطی واضح ہو جائے تو یہ آپ کی باطنی زندگی کو فروغ دینے کے علاوہ آپ کو نئی بصیرتیں عطا کرے گا ۔ اپنے نظریات کو اطمینان اور سکون کے ساتھ فروغ پانےدیجئے جو ہر ارتقائی عمل کی طرح دل کی گہرائیوں سے وا ہوتے ہیں ۔ اور جنھیں نہ زبردستی بڑھاوا دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نہ کسی اور ذریعہ سے اس میں افزودگی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ ہر عمل ایک تخلیقی عمل ہے، ولادت ہے ۔
احساس کے ہر نقش اور عنصر کی تشکیل کرنا اسے پایہ تکمیل کو پہنچاتا ہے ۔ وہ جو پوشیدہ ہے ، جو ناقابل بیان ہے شعور سے پرے ہے ، جس کا ادراک نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی تخلیق کا صبر سے عاجزی کے ساتھ انتظار کرنا ، واضح کرنا ، یہی ایک فنکار کی زندگی ہے کہ تخلیقی عمل کے ذریعہ وہ حقیقت کا ادراک کرتا ہے ۔
یہ گھڑیوں کو ناپنے کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہاں وقت کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ایک فنکار کے لئے دس برس کوئی چیز نہیں ۔ ایک فنکار بننے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس کو حساب کتاب میں مقید کر دیا جائے ۔ مگر ہاں ایک درخت کی طرحاسے پھلنے پھولنے کا موقع دیناچاہئے اس کو زبردستی بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔بلکہ ایسا بننا بہار کے طوفانوں کو بھی وہ اعتماد کے ساتھ جھیل سکے ، اسے اس بات کا خوف نہ ستائے کہ اس کے بعد موسم گرما آ جائے گا ۔اسے تو آنا ہی ہے ، مگر صرف اس کے لئے جس کے اندر صبر اور تحمل کا مادہ ہو ۔ جوایسے بے نیازی سے ، اطمینان اور وسعت کے ساتھ ہو جیسے کہ ہمیشگی اس کے سامنے ہو ۔ میں روزانہ اپنی زندگی میں اس کو سیکھتا ہوں ۔ درد اور کسک کے ساتھ اس کو سیکھتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ صبرایک بہت بڑی نعمت ہے ۔
Read as little as possible of literary criticism. Such things are either partisan opinions, which have become petrified and meaningless, hardened and empty of life, or else they are clever word-games, in which one view wins , and tomorrow the opposite view. Works of art are of an infinite solitude, and no means of approach is so useless as criticism. Only love can touch and hold them and be fair to them. Always trust yourself and your own feeling, as opposed to argumentation, discussions, or introductions of that sort; if it turns out that you are wrong, then the natural growth of your inner life will eventually guide you to other insights. Allow your judgments their own silent, undisturbed development, which, like all progress, must come from deep within and cannot be forced or hastened. Everything is gestation and then birthing. To let each impression and each embryo of a feeling come to completion, entirely in itself, in the dark, in the unsayable, the unconscious, beyond the reach of one's own understanding, and with deep humility and patience to wait for the hour when a new clarity is born: this alone is what it means to live as an artist: in understanding as in creating.In this there is no measuring with time, a year doesn’t matter, and ten years are nothing. Being an artist means: not numbering and counting, but ripening like a tree, which doesn’t force its sap, and stands confidently in the storms of spring, not afraid that afterward summer may not come. It does come. But it comes only to those who are patient, who are there as if eternity lay before them, so unconcernedly silent and vast. I learn it every day of my life, learn it with pain I am grateful for: patience is everything!Letters To A Young Poet - #3You gave me much pleasure, dear Sir, with your Easter letter; for it brought much good news of you, and the way you spoke about Jacobsen's great and beloved art showed me that I was not wrong to guide your fife and its many questions to this abundance.CARROTHERS.COM
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

مولانا احتشام اصلاحی


محمد علم اللہ کے بعد ان کے اوپر کچھ لکھنے کا سوچا تو ایک واقعہ ذہن میں گھوم گیا ، اور اس کا پورا پس منظر کسی فلم کی طرح ذہن کے اسکرین پر چلنے لگا ۔ ہم غالبا عربی چہارم میں تھے مولانا ایوب اصلاحی صاحب قران پڑھا رہے تھے ، بغل والے کلا س میں مولانا احتشام صاحب عربی نحو و ادب پڑھا رہے تھے ۔ ایک اور سیکشن میں مولانا فیض احمد اصلاحی عربی انشاء پڑھا رہے تھے ۔ اچانک طلباء کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ۔روئی کے گالوں کی دھنائی کے وقت جو آواز آتی ہے ، ہم سب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں ، شٹاک شٹاک کی آواز تیز ہوتی جاتی ہے ،ہم سب طلباء سہم جاتے ہیں ۔ مولانا ایوب صاحب پوچھتے ہیں یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ ۔ دیکھو کیا ہو رہا ہے؟ ۔ایک طالب علم خوف زدہ انداز میں بتاتا ہے ، مولانا فیض صاحب طلباء کی پٹائی کر رہے ہیں ۔مولانا ایوب صاحب قران پڑھانا چھوڑ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، اور تیزی سے تقریبا دوڑتے ہوئے دوسری کلاس کی طرف بڑھتے ہیں ، مولانا کے ساتھ ہم سب یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ مولانا فیض اصلاحی صاحب کی چھڑی فضا میں معلق ہے ، ان کا چہرہ شر مندگی ، غصہ اور پسینے سے شرابور ہے ۔ ایک طالب علم کے ہاتھ کے اوپر مولانا احتشام الدین اصلاحی ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں، مارنا ہی ہے تو مجھے مار لو! مگر اللہ کے واسطے ان بچوں کو چھوڑ دو ۔اس واقعہ کے بعد مولانا فیض احمد اصلاحی نے طلباء کو پٹائی کرنا چھوڑ دیا ۔چھڑیوں کی اس اندھا دھُند فائرنگ میں خود استاد محترم فیض احمد اصلاحی کے صاحبزا دے بھی شدید زخمی ہوئے تھے ۔یہاں پر یہ بتاتا چلوں کے مولانا کو اس قدر شدید غصہ کیوں آ گیا تھا اعراب میں طلباء نے غلطی کر دی تھی ۔محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

دی روڈ ٹو مکہ سے ایک اقتباس

قاہرہ کے سب سے پرانے شاپنگ سینٹر ماوسکی اسٹریٹ کی بھیڑ باڑ سے نکل کر ہم اپنے چھوٹے سے احاطہ میں پہنچے۔ اس کی ایک طرف الازہر مسجد کا چوڑا سیدھا ماتھا تھا ۔ ایک دوہرے گیٹ اور سایہ زدہ پیش دالان سے گذر کر ہم مسجد کے صحن میں آئے ۔ قدیم محرابی راہداریوں میں گھرا ہوا چو کور احاطہ ۔لمبے گہرے رنگ کے جبوں اور سفید پگڑیوں میں ملبوس طلبا تنکوں سے بٹی چٹائیوں پر بیٹھے دھیمی آواز میں کتب اور مسودات پڑھ رہے تھے ۔ لیکچر پرے واقع مسجد کے مسجد کے کھلے اور وسیع و عریض ڈھکے ہوئے ہال میں دئے جاتے تھے ۔ متعدد اساتذہ بھی ستونوں کی ایک قطاروں کے درمیان بچھی چٹائیوں پر بیٹھتے اور ہر استاد کے سامنے طلبا کی ٹولیاں نیم دائرے بنا کر بیٹھی ہوتیں ۔ لیکچر دینے والا کبھی اپنی آواز بلند نہ کرتا ، لہذا اس کا ہر لفظ سننے کے لئے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت تھی ۔ آپ سوچتے کہ اس قسم کا انہماک حقیقی تبحر علمی کی طرف لیجاتا ہوگا لیکن شیخ المراغی نے جلد ہی میرے تمام وہم منتشر کر دئے ۔ اس نے مجھ سے پوچھا ۔: آپ ان طلبا کو دیکھ رہے ہیں ؟یہ ہندوستان کی مقدس گایوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گلیوں میں ملنے والا ہر طباعت شدہ کاغذ کھا جاتی ہیں ۔ جی ہاں وہ صدیوں قبل لکھے ہوئے کتب کے تمام چھپے ہوئے صفحات ہڑپ کر جاتے ہیں ، مگر انھیں ہضم نہیں کر پاتے ۔ یہ خود غور و فکر نہیں کرتے ، وہ پڑھتے اور دہرائی کرتے ہیں ، نسل در نسل ۔میں نے بات کاٹی : لیکن شیخ مصطفی ، الازہر تو اسلامی علوم کا مرکز ہے اور دنیا کی قدیم ترین یو نیورسٹی ہے ۔ آپ اس کا نام مسلم ثقافتی تاریخ کے تقریبا ہر صفحہ پر دیکھتے ہیں ۔ گزشتہ دس صدیوں کے دوران یہاں پیدا ہونے والے عظیم مفکروں ، ماہرین الٰہیات ، مورخین ، فلسفیوں اور ریاضی دانوں کا کیا ہوا ؟۔انھوں نے تاسف بھرے انداز میں جواب دیا ۔: اس نے کئی سو سال قبل انھیں پیدا کرنا بند کر دیا ۔ مانا کہ حالیہ ادوار میں کبھی کبھی الازہر سے کوئی آزاد مفکر ابھر کر سامنے آ گیا ۔ لیکن بحیثیت مجموعی الازہر بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے ۔ جس کا نقصان ساری مسلم دنیا کو ہو رہا ہے اور اس کی تحریک انگیز قوت بجھ چکی ہے ۔ان قدیم مسلم مفکرین ، جن کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ کئی سو سال بعد ان کے خیالات کو سمجھنے اور ترقی دئے جانے کے بجائے محض رٹا لگایا جائے گا ۔ کہ جیسے وہ مطلق اور ناقابل تر دید سچائیاں ہوں ۔ اگر کوئی بہتری لانی ہے تو موجودہ نقالی کے بجائے غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرنا لازمی ہے۔۔۔ ۔الازہر کے کر دار کے بارے میں شیخ المراغی کی صاف گوئی نے مجھے مسلم دنیا کو درپیش ثقافتی انحطاط کی عمیق ترین وجوہ میں سے ایک کو جاننے میں مدد دی ، کیا اس قدیم یو نیورسٹی کی متکلمانہ سڑاند مسلم حال کے سماجی بانجھ پن میں منعکس نہیں ہو تی تھی ، کیا اس عقلی جمود کا ہم مقام بہت سے مسلمانوں کی جانب سے غیر ضروری غربت کی مجہول تقریبا لاپر وا قبولیت ، متعدد ماجی خرابیوں کو چُپ چاپ سہنے میں نہیں ملے گا ۔ میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا مسلم زوال کے انھیں قاب محسوس شواہد کی وجہ سے سارے مغرب میں خود اسلام کے متعلق تصور سرایت کر گئے تھے ۔۔۔۔The Road to Makka ..189-190written By : Muhammad Asadپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ

ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ
نام کتاب :ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ مصنفہ : نسترن احسن فتیحی مبصر : محمد علم اللہ ۔ رانچی ۔جھارکھنڈ
مطبع : عفیف پبلی کیشنز دہلی.( ایجوکیشن پبلشنگ ہاؤس ) سن اشاعت : 2016قیمت : 360اردو میں عموماً نئے موضوعات پرکتابیں کم لکھی جاتی ہیں۔خاص طور سے بدلتے حالات کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسائل کاکسی بھی زاویۂ نظرسے احاطہ کرنے والی کتابیں کم ہی شائع ہوتی ہیں۔ موضوعاتی لحاظ سے تنوع کااحساس دلانے والی کتابیں اگر ملتی بھی ہیں تو ان میں زیادہ ترترجمہ شدہ ہوتی ہیں یاپھر کسی غیر ملکی زبان میں لکھی گئی کتابوں کے چربہ کی شکل میں سامنے آجاتی ہیں جس کااردو متن یا ترجمہ اس قدر گنجلک اور ناقص ہوتا ہے کہ قاری اس سے استفادہ کرنے یا معلومات کشیدکرنے کے بجائے متن کے پیچ و خم میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً قاری ایسی کتابیں کم از کم اردو میں پڑھنے سے یا تو توبہ کر لیتا ہے یا اس کی طبیعت اس قدر مکدر ہو جاتی ہے کہ وہ آئندہ ایسی کتابوں سےدور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔یہ عمومی رویہ اپنی جگہ،البتہ اچھوتے اور نئے موضوع پربعض اہل قلم کے ذریعہ لکھی گئی کچھ کتابیں ایسی ضرور منظرعام پر آرہی ہیں جن کا مطالعہ قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔ابھی حال ہی میں عفیف پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہونے والی کتاب ایکو فیمینیزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ بھی ایسی ہی ایک دل آویز اور قابل مطالعہ کتاب ہے،جو معروف افسانہ نگار اور ادیبہ نسترن احسن فتیحی کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔تقریبا تین سو چار صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہمارے عہد کی ماحولیاتی مادریت اور تانیثیت جیسے سنگین مسئلہ کو عصری تانیثی اردو افسانہ کے حوالہ سے پرکھنے اور تحقیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے کہیں بھی یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ اس موضوع پر ان کی یہ پہلی کتاب ہے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو میں اب تک اس مسئلہ پر ادب کے حوالہ سے کسی نے جھانکنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس وجہ سے مصنفہ ہم سب کی جانب سے مبارکباد کی مستحق ہیں کہ ایک حساس اوروقت کے سلگتے موضوع پر خامہ فرسائی کر کے انہوں نے اردو کے قارئین کو ایک خوبصورت تحفہ عطا کیا ہے۔کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں ایکو فیمینزم یعنی ماحولیاتی تانیثیت کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ہے اور تاریخی جھروکوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہر زمانے میں سماج کی ترقی اور بہتری میں اپنی حصہ داری نبھائی ہے۔اس باب میں انقلاب انگلستان اور خواتین .انقلاب فرانس اور خواتین . برطانیہ میں مزدور تحریک اور خواتین .انقلاب روس اور خواتین .تیسری دنیا کا پدر سری معاشرہ .ایکو فیمینزم یا ماحولیاتی مادریت ، ماحولیاتی تنقید.ایکو فیمینزم بحیثیت ادبی تنقید فیمینزم پہلی تانیثی لہر .دوسری تانیثی لہر .تانیثی تحریک کی تیسری لہر.ماحولیات ، فضائی آلودگی پانی کی آلودگی .صوتی آلودگی .ماحولیات سے خواتین کی وابستگی .ماحولیاتی آلودگی اور عوامی تحریکیں .چپکو تحریک.گرین بیلٹ تحریک .کینگ شی آن گرین پروجیکٹ تحریک .نودانیہ تحریک .گری گین ازم.لوک ادب اور ماحولیات .اردو ادب میں ماحولیات جیسے موضوعات پر فاضلانہ انداز میں بحث کی کی گئی ہے۔ کتاب کا دوسرا باب عصری تانیثی اردو افسانہ اور ایکوفیمنزم کا تصور ہے .جس میں مصنفہ نے اپنے تجربات .احساسات .اور مشاہدات کو ذاتی بلکہ نجی حوالے کے ساتھ پرکھنے کے بعد اس کے جزئیات کو احاطہ ٔتحریر میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ آج جو خواتین افسانے لکھ رہی ہیں، ان کے افسانوں میں گوناگوں موضوعات کی رنگا رنگی اور زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے شعورکو مصنفہ نے اس باب میں کامیابی سے منعکس کرنے کی کوشش کی ہے۔اس حوالہ سے انھوں نے متعدد خواتین قلم کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے فکشن .ڈکشن .ڈسکورس .اسلوب اور رویہ پر خوبصورتی سے گفتگو کی ہے۔
تیسرا باب اسی حوالہ سے افسانوں کے انتخاب پر مبنی ہے.جس میں سلمیٰ جیلانی .سبین علی .ترنم ریاض .عینی علی .غزال ضیغم ، ڈاکٹر کوثر جمال .نسیم سید . عذرا نقوی.نگار عظیم .انجم قدوائی .ڈاکٹر نکہت نسیم .شاہین کاظمی .سیمیں درانی .نسترین فتیحی.ڈاکٹر ناہید اختر .نور العین ساحرہ .شہناز یوسف .روما رضوی .صادقہ نواب سحروغیرہم کے کل سترہ افسانے شامل ہیں۔ ہر افسانہ اپنی جگہ ایک کائنات ہے۔یہ افسانے گویا دنیا بھر میں بسنے والی خواتین افسانہ نگاروں کی شاہکارکہانیاں ہیں۔ان افسانوں کا انتخاب ایک خاص پس منظر سے کیا گیاہے۔ اس حوالہ سے افسانوں کا مطالعہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے ۔یہ افسانے عالم کاری کے دباو اور ٹوٹ پھوٹ کو کچھ اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ یہ ماحولیات کے تئیں گہری درد مندی اور سماجی رویوں کے خلاف پر زور احتجاج کی شکل میں ابھر کر سامنے آتے ہیں ،جن میں دکھ ، درد ، کرب، خواب ، امید ، حوصلہ،عزم سبھی کچھ شامل ہے۔ اس ذیل میں مصنفہ کے نگاہ انتخاب کا بھی کمال ہے کہ جانے کہاں کہاں سے انھوں نے ان جواہر پاروں کو اکٹھا کیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس دور کو اردو کا بانجھ دور کہا جاتا ہے ،اس دور میں ایسی بھی خوبصورت خاتون قلم کار وں کی صف موجود ہے ،جو دنیا کے گوشے گوشے میں اردو کی جوت جگانے میں مصروف ہیں۔چوتھا اور آخری باب ..ماحولیاتی تانیثیت اور عصری تانیثی افسانے ایک تجزیاتی مطالع کے نام سے ہے -جس میں مذکورہ بالا افسانہ نگاروں کے افسانوں سے بحث کی گئی ہے اور موضوعاتی احساس کو کریدنے کی کوشش کی گئی ہے جوان کہانیوں میں پنہاں ہے ۔اس میں ان مصنفین کے علا وہ دیگر اردو کی معتبر خاتون قلم کاروں کی تخلیق کے نمونے بھی پیش کئے گئے ہیں اور ان میں چھپے عکس اور خیال کو ابھارنے کی سعی کی گئی ہے ۔ گو کہ سارے افسانے اپنی کہانی خود آپ بیان کرنے میں پوری طرح کامیاب ہیں لیکن ان کہانیوں کا تجزیہ اور مصنفہ کی تفہیم و تشریح کتاب کی وقعت میں اضافہ کا باعث بن رہاہے ۔آخری باب کے تجزیے میں افشاں ملک نکہت فاروق، ڈاکٹر عشرت ناہید اور مہر افروز جیسے خواتین افسانہ نگاروں کے تراشے شامل کئے گئے ہیں جو کافی دلچسپ ادبی پیکر تراشی ومنظر نگاری اور اسلوب نگارش کی خوبصورت مثا لیں ہیں ۔زیرتبصرہ کتاب میں کچھ خامیاں بھی ہیں۔مذکورہ کتاب میں مصنفہ نے جگہ جگہ اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے دانشوروں ادیبوں اور بڑے بڑے قلم کاروں کے اقتباسات پیش کئے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس میں چند ایک کوچھوڑ کر باقی مقامات پرانھوں نے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ اگر مصنفہ اپنی اس کتاب میں ان حوالوں کا اہتمام کرتیں تو کتاب کی معتبریت دوچندہوجاتی۔کتاب کا پیش لفظ معروف دانشور اور انٹر نیشنل اسلامک یونیوورسٹی اسلام آباد پاکستان سے وابستہ فرخ ندیم کا تحریرکردہ ہے-جس میں انھوں نے انتہائی باریکی بینی کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں ایکو فیمنزم بیسویں صدی کے پہلے پچاس سال اور بعد کے انسانی مسائل کو دیکھنے کے رویہ پر گفتگو کی ہے .. جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مجموعی لحاظ سے یہ کتاب اردو ادب کے جمود کو توڑنے کی ضامن کہلاسکتی ہے۔مبصر کا پتہ :alamislahi@gmail.comMob No :09911701772پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا ، دہلی میں عصری اردو صحافت

ابھی حال ہی میں میرے ایک ’’صحافی دوست‘‘ شاہد الاسلام کی کتاب آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔’’ دہلی میں عصری اردو صحافت۔۔۔تصویر کا دوسرا رُخ‘‘۔۔۔ اب تک کئی بڑے صاحبان قلم نے ان کی متذکرہ کتاب پر تبصرے لکھے ہیں۔ سب کا اپنااپنا انداز ہے۔ ایک تبصرہ یہ بھی ہے جسے جناب کے کے کھلر نے رقم کیا ہے جو اردو کے گنے چنے ہندو قلم کار ہیں اور جنہیں ہم اردو کے باقیات الصالحات کے درجہ میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ اردو زبان و ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والے احباب کے لئے یہ تبصرہ پوسٹ کر رہا ہوں ۔۔ضرور پڑھئے ۔۔۔ مزا آئے گا۔۔۔۔...........
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا ، دہلی میں عصری اردو صحافت
(شاہد الاسلام کی زبانی)
از کے کے کھلر
اگر آپ اردو صحافت کی بلندی دیکھنا چاہتے ہیں تو مولانا آزاد، حسرت موہانی اور شبلی نعمانی کو پڑھیئے اور اگر اسی صحافت کی پستی درکار ہے تو دہلی کے 85 اخبارات میں کسی کو بھی اٹھالیجئے۔ لیکن صحافتی تقاضہ یہ ہے کہ ان 85روزناموں میں 6درجن سے زیادہ روزنامے ایسے ہیں جن کی بقول شاہد الاسلام زیارت کا انہیں کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ ہر روزنامے کا دعویٰ ہے کہ وہ ہزاروں میں چھپتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پردہ داری ،چور بازاری اور سرقہ داری اور ناشائستہ الفاظ کا استعمال ان روزناموں کا دستور بن چکا ہے۔ اردو صحافت جو کسی زمانے میں ایک مشن تھی آج ایک بزنس اور تجارت کی شکل میں ابھر رہی ہے اور اردو صحافی کی گورنمنٹ کی گرانٹوں اور ڈی اے وی پی کے اشتہاروں کے باوجود بھوک نہیں مٹتی۔
کہتے ہیں کہ جب سکندر ایک اپلی کے بھیس میں پورس کا جاہ و جلال دیکھنے کے لئے پورس کے دربار میں پہنچا تو پورس نے اپنے درباری باورچی کو حکم دیا کہ یونان کے بادشاہ کے لئے ایک ہیرے جواہرات سے جڑی ہوئی سونے کی روٹی تیار کی جائے کیونکہ ہندستانیوں کی بھو ک تو گیہوں کی روٹی سے مٹتی ہے لیکن یونان کے بادشاہ کی بھوک سونے کی وٹی سے۔ سکندر یہ سن کر طیش میں آگیا اور اس کا ہاتھ اپنی تلوار کی میان تک پہنچ گیا۔ لیکن وہ سنبھلا اور بولا ” آپ میرے بادشاہ کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ کو جو کہنا ہے میرے بادشاہ کے سامنے کہئے۔“
”ہم جو کہہ رہے ہیں آپ کے بادشاہ کے سامنے کہہ رہے ہیں“ یہ سنتے ہی درباریوں کی تلواریں میان سے باہر نکل آئیں۔ دربار میں سنسی پھیل گئی۔ یہ دیکھ کر سکندر نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کہا۔ ”یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک نہتے انسان پر اتنے لوگ ٹوٹ پڑیں۔ یہ کیسا سلوک ہے۔“ پورس نے سکندر کو یہ کہتے ہوئے رخصت کیا کہ اب ملاقات میدان جنگ میں ہوگی۔ جہاں آپ نہ اس بھیس میں ہونگے اور نہ نہتے۔ عین اسی طرح دلی کے اردو صحافیوں کی بھوک گندم کی روٹی سے نہیں مٹتی انہیں سونے کی روٹی چاہئے۔ لیکن جب حکومت انہیں روٹی کے بجائے کیک کھانے کو کہتی ہے تو بات بگڑجاتی ہے۔
ان بگڑے ہوئے حالات میں دلی کا اردو صحافی خوف زدہ ہے۔ تنگ دل ہے۔ وقت شناس ہے۔کیوں؟ اس کیوں کا جواب شاہد الاسلام کی 316صفحات پر مبنی بعنوان ’دہلی میں عصری اردو صحافت‘ تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ اسی تصویر کے دوسرے رخ کی قیمت350روپے ہے اور اسے ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاﺅس دہلی نے شائع کیا ہے۔ مقدمہ شاہین نظر کا ہے جو فی الوقت شاردا یونیورسٹی سے وابستہ ہےں اور ٹائمس آف انڈیا پٹنہ(انگریزی) روزنامے سے منسلک ہیں۔
بے چہرہ صحافت :۔ منظر نامہ بعنوان ”بے چہرہ صحافت“حقانی القاسمی کا ہے جس میں انہوں نے اردو صحافت کی نہ صرف ماضی کی تصویر جو معتبر اور معیاری تھی اور دوسری طرف موجودہ صحافت کے زوال کے اسباب کی تصویر، اس کی پستی اور بلندی کو نہایت شائستہ زبان میں قلم بند کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہد الاسلام نے صحافت کو تحریک اور تجارت دونوں مشکلوں میں دیکھا ہے اور ان نام نہاد صحافیوں کو بے نقاب کیا ہے جو ڈی اے وی پی اور دیگر سرکاری اداروں سے ہونے والی آمدنی سے مالا مال ہوئے ہیں۔ بہرحال اردو صحافت کا سب سے برا حال دہلی کے روزناموں میں ہے جو نہایت بے حیائی کے ساتھ پاکستانی اخبارات کی خبریں اور ادارتی مضامین میں سرقہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔حتیٰ کہ ہندستان ایکسپریس جس سے وہ خود وابستہ ہیں پر بھی انہوں نے چوٹ کی ہے ۔ لکھتے ہیں کہ
سرقہ دار ادارتی صفحہ:۔” ادارتی صفحہ پر شائع کئے جانے والے مضامین برسوں پاکستانی اخبارات سے سرقہ کی صورت میں حاصل کئے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی مضامین پر مبنی نہایت بے شرمی کے ساتھ پاکستانی ویب سائٹ سے چوری کئے جاتے ہیں۔ اور انہیں ادارتی صفحہ میں اشاعت کردیا جاتا ہے۔“
سرقہ داران دہلی:۔ دلی کے یہ سرقہ دار بھول گئے ہیں کہ مانگے کے اجالے سے گھر روشن نہیں ہوتے اور گورنمنٹ کی گرانٹوں پر پلے ہوئے اردو کے صحافی اردو کی جڑیں دن بدن کمزور کررہے ہیں۔ اردو کے بڑے سے بڑے صحافی نے گرانٹ لینے سے انکار نہیں کیا لیکن قاری کو ہمیشہ ہدایت کی ہے کہ گورنمنٹ کی گرانٹ مت لو یہ رشوت ہے۔ اردو کے سب سے بڑے وقت شناس گوپی چند نارنگ نے بھی اردو والوں کو یہی صلاح دےکر گمراہ کیا تھا۔ حالانکہ وہ خود گورنمنٹ کے ٹکروں پر پلے ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی گورنمنٹ سروس کرتے ہوئے بھی گورنمنٹ کی اردو پالیسی کا مرثیہ پڑھنے سے نہیں چوکتے۔ لیکن اردو سے ان کی والہانہ محبت ہے اسی والہانہ محبت کی ایک مثال حاضر ہے۔فاروقی صاحب محکمہ ڈاک خانہ جات کے ملازم تھے۔بیورو آف پروموشن فار اردو کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ لیکن جب ان کے اپنے ڈاک تار محکمہ میں ان کی ترقی قریب آئی اور انکی تنخواہ میں تھوڑا اضافہ ہواتو ان کی اردو نوازی اور والہانہ محبت یک لخت ختم ہوگئی اور 24گھنٹے کا نوٹس دیکر اپنے محکمہ میں واپس چلے گئے۔ کلدیپ نیر جن کی معاشی زندگی کا آغاز پرانی دہلی کے کسی اخبار سے شروع ہوا کچھ ہی عرصے بعد اردو اخبار کی نوکری چھوڑ کر انگریزی اخبار اسٹیٹس مین(Statesman) میںچلے گئے۔ فرماتے ہیں کہ یہ قدم انہوں نے حسرت موہانی جو ان کے اردو دفتر کے پاس ہی رہتے تھے کے کہنے پر اٹھایا۔ موہن چراغی کو بھی افسوس ہوا کہ انہوں نے اردو صحافت کے بجائے انگریزی صحافت کی اتنی خدمت کی ہوتی تو وہ اپنی آخری عمر میں اتنے بے کس اور بے سہارا نہ ہوتے۔ یاد رہے کہ اردو کے یہ کاغذی شیر پاکستان کے امتیازی تغمے بھی لے چکے ہیں اور ہمارے اخباری نمائندہ اور مدیر ان کی سرقہ دارانہ تحریریں چھاپنے کے لئے پیش پیش ہیں۔ فاروقی صاحب تو خود بھی شب خون نام کا رسالہ نکالتے تھے۔
شاہد صاحب نے ایک اور نقطے پر زور دیا ہے کہ بے شک انٹرنیٹ اور سائبر کلچر نے دنیا کو ایک عالمی گاﺅں میں تبدیل کردیا ہے اور اطلاعات پر اجارہ داری بھی قصہ پارینہ بن چکی ہے لیکن دلی کی صحافت شاہجہاں آباد کی چہار دیواری کی تنگ اور تاریک گلیوں سے باہر نہیں نکلی ۔ پھاٹک حبش خان، گلی قاسم جان، بلی ماران، دریبہ، کناری بازار کا نام سنتے ہی دلی کے اردو صحافیوں کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ وہ عالمی گاﺅں کے بجائے عالم میں انتخاب کی باتیں کرتے ہیں۔ جولیّس سیزر(Julius Caesar) کے زمانے میں اخبار دیواری تھے۔ دہلی کے اندر اخبار آج بھی بیشتر چہار دیواری ہیں۔
سرکولیشن:۔ شاہد صاحب نے سرکولیشن سے متعلق کچھ حیران کن حقائق کا انکشاف کیا ہے ۔ اوکھلا اور فتح پوری کو چھوڑ کر اردو کا پسندیدہ اخبار مشکل سے ہی ملتا ہے۔ میں وسنت کنج میں رہتا ہوں۔ جہاں تقریبا چار لاکھ لوگ رہتے ہیں لیکن اردو جاننے والے ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہیں۔ مجھے اردو کا اخبار یا رسالہ خریدنے کے لئے کناٹ پیلس کے سنٹرل نیوز ایجنسی میں جانا پڑتا ہے۔ اگر مجھے اپنا مضمون فوٹو کروانا ہو تو بھی مشکل کیونکہ فوٹو کرنے والے کو اردو کے مضمون کو staple کرنا نہیں آتا۔ وہ غلط جگہ stapleکرتا ہے۔ کیونکہ اردو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور دیگر زبانیں بائیں سے دائیں۔
ناقص ترجمے:۔ اور یہاں بات ترجمے کی آتی ہے تو حالات اور بھی بدتر ہیں۔ اردو کے شاید ہی کسی اخبار میں کوئی معتبر مترجم ہوگا۔ بیشتر اخبارات میں وہائٹ پیپر(White Paper) کا ترجمہ سفید کاغذ ہے۔ Copy rightصحیح کاپی۔Red light zoneسرخ بستیوں کا علاقہ۔ بلی ماران گیٹ کا ترجمہCat killer's gate ہی چلتا ہے حالانکہ بلی ماران میں کوئی گیٹ نہیں ہے۔ یہ ایک گلی ہے جہاں مرزا غالب رہتے تھے۔ کسی زمانے میں یہ ایک لکڑی کا ٹال تھا اور حال ہی میں یہ برات گھر کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو طوفان آجاتا۔ لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ہر چیز ممکن ہے۔ بہت جد و جہد کے بعد حکومت نے اس گھر کو Heritage gharکا (Status) درجہ دیا ہے اور پھر بہت اردو کا دم بھرنے والے اردو کے اخبار خرید کر نہیں پڑھتے۔ جو میری طرح پڑھتے ہیں ۔یاتو سن رسیدہ ہیں۔ یا پھر جنہیں مسلم حالات و مسائل سے واقفیت میں کسی بنا پر دل چسپی ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ سچائی ہے جس سے انکار یا فرار کی قطعا گنجائش نہیں نکلتی۔
مشن سے کمیشن:۔ کوئی زمانہ تھا جب اردو صحافت کو ایک مشن کا درجہ حاصل تھا آج یہ کمیشن پر چل رہا ہے۔ اور پورے کا پورا ایک پروفیشنل کی شکل اختیار کرچکا ہے اور بزنس کی تمام شرائط پوری کرتا ہے۔ یعنی اگر منافع ہے تو اخبار چلاﺅ ورنہ بند کردو۔بہار میں تو کہاوت ہے۔ مرغ لڑائے جائیںگے بوٹی کے واسطے اخبار نکالے جائیںگے روٹی کے واسطے اردو اخبارات میں فلم اور کھیل کی خبریں تو چھپتی ہیں لیکن تعلیم ، سائنس ، تجارت، صنعت وحرفت، تکنیکی اور طبی امور کے مضامین نہیں چھپتے کیونکہ بیشتر مدیروں کو ان مضامین کا نہ کوئی علم ہے نہ شوق، کسی زمانے میں اخبار کا منصب تھا ۔ کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔
اردو یوجنا انگریزی یوجنا کی نقل:۔ اب گورنمنٹ کا ایک ماہانہ رسالہ ”یوجنا“ ہے جو اوپر لکھے مضامین کی اردو صحافت میں کمی کو پورا کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ اردو کا رسالہ لکھنے والے اردو نہیں جانتے اور جو اردو جانتے لیکن وہ ان انسانی وسائل کے فروغ والے مضامین سے بے خبر ہیں۔ نتیجتا یہ رسالہ ایک ترجمے کا دفتر بن کر رہ گیا ہے اور ترجمے کا معیار اس کے بارے میں کچھ بھی لکھنا بے کار ہے۔ گورنمنٹ کا ایک اور ماہانہ رسالہ ہے۔ ”آجکل“ وہ اپنے اصلی مقصد سے کب کا دور جاچکا ہے اور اردو ادب کا ضمیمہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اردو اکیڈمیوں کے رسالے چونکہ گورنمنٹ کے ہیں۔ وہاں مضامین صرف گورنمنٹ کے نقطہ نظر سے چھپتے ہیں۔ اردو کونسل کے رسالہ کا معیار نہ گفتہ بہ ہے۔ وہ بکتا ہی نہیں اور بیشتر ردی کے بھاﺅ جاتا ہے۔رہی ریڈیو اور دوردرشن کی بات وہ بھی نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔
”روزگار سماچار“ اردو کا نام نہاد ایڈیشن:۔ ایک اور گورنمنٹ کا ہفتہ وار نکلتا ہے جس کا نام ہے”روزگار سماچار“ اس میں دو یا تین اقتصادی، سماجی اور انسانی وسائل کے فروغ کے لئے مضامین چھپتے ہیں۔ رسالہ در اصل انگریزی زبان میں چھپتا ہے اور اردو ایڈیشن انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔ صرف انگریزی مضامین کو معاوضہ ملتا ہے۔ اردو اور ہندی والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ جہاں تک اردو ورزن(Version) کا سوال ہے۔ پہلے تو اس کا ترجمہ ناقص ہے دوسرے جس انگریزی کے ادیب نے یہ مضمون لکھا ہے اس کو علم ہی نہیں کہ وہ اردو میں بھی چھپ رہا ہے۔ اگر علم ہے تو المیہ یہ ہے کہ اسے اردو نہیں آتی۔ پھر ایک اور بات ہے کہ انگریزی والا(Employment news) لاکھوں میں چھپتا ہے اردو کی زیادہ سے زیادہ دوسو کاپیاں چھپتی ہیں۔ جوکسی بھی اخبار کے اڈے پر نہیں آتیں۔ یہی حال ریلوے کا ٹائم ٹیبل اردو میں بھی چھپتا ہے لیکن آج تک کسی نے یہ کاپی دیکھی۔ یاد رہے کہ اردو میں ریلوے کے ٹائم ٹیبل کی اشاعت گجرال کمیٹی کی ایک اہم سفارش تھی۔ ڈاک گھروں میں اردو کا نام کی کوئی چیز نہیں۔ اردو جاننے والے محلوں کے ڈاکیوں کو اردو نہیں آتی۔ حتیٰ کہ اردو اخبارات میں کیشیر(Cashier) اور اکاﺅنٹنٹ(Accountant) کو اردو نہیں آتی۔ ان کے سارے اکاﺅنٹ انگریزی میں ہیں۔( Students) طلبہ اور طالبہ کی رہنمائی کےلئے کسی اخبار میں کچھ نہیں ملتا۔ IASاور Banking کی کوچنگ کے سہولتیں کہاں دستیاب ہیں کسی اردو اخبار میں نہیں چھپتی۔شاہد الاسلام لکھتے ہیںکہ” دہلی کے اخبارات میں صحافتی سنجیدگی غائب ہوتی جارہی ہے اور مذہبی وابستگی اردو صحافت پر اس حد تک غالب آجاتی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے اردو صحافت اپنے طرز عمل سے صحافیانہ کردار ادا کررہی ہے یا قائدانہ رول نبھا رہی ہے۔ لہٰذا دہلی سے شائع ہونے والے تمام اردو اخبارات کوئی تعمیری کردار نہیں نبھا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔“ آگے چل کر شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ اردو پر ظلم اور زیادتی کی خبریں تو شائع ہوتی ہیں لیکن اردو کی حقیقی صورت حال کیا ہے؟ قارئین کو یہ بتانے سے اردو اخبارات قاصر ہیں۔ آپ کو ایک سال کے اردو اخبارات کا جائزہ لینے کے بعد بھی یہ پتہ نہیں لگ سکے گا کہ بحیثیت مجموعی پرائمری اسکولوں کی کتنی تعداد ایسی ہے جہاں اردو کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ موجود ہیں۔ مگر اساتذہ کا تقرر عمل میں نہیں آیا۔ کتنے اسکول اردو میڈیم کے ہیں جہاں ہندی میڈیم میں تعلیم دی جارہی ہے۔ لسانی اور مذہبی اقلیتوں کی دہلی میں کیا صورت حال ہے۔ اس کا بھی کوئی اندازہ اردو اخبارات کو نہیں ہے۔“ اور کتنے طالب علم ایسے ہیں جو اردو کی تعلیم ناقص ہونے کی وجہ سے ہندی میڈیم میں چلے گئے ہیں۔ پڑھائی کے بیچ اسکول چھوڑنے والوں کی کتنی تعداد ہے۔ یہ تو گورنمنٹ کو بھی پوری طرح سے نہیں پتہ۔ ریلوے کے قلیوں کے بچے، رکشہ چلانے والوں کے بچے، کوڑا اٹھانے والوں کے بچے اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے بارے میں تو کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ غیر رسمی تعلیم بڑے بینڈ باجے سے شروع ہوئی تھی۔ آج اس کا نام لیوا کوئی نہیںہے۔ بچہ مزدوری جو قانونا جر م ہے۔ زوروں پر ہے۔
اخلاقیات :۔ شاہد الاسلام صاحب کے نظریئے میں صحافت میں اخلاق کا درجہ بہت اونچا ہے مگر آج کی اردو صحافت میں اخلاقی قدروں کو نظر انداز کرنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔ شاہد صاحب رقم سرا ہیں۔
”اردو صحافت میں اخلاقی قدروں کا گلا گھونٹنے کی روایت بہت قدیم ہے۔ اس سلسلے کی عہد بہ عہد تجدید ہوتی ہے۔ اردو صحافتی سرگرمیوں کی انجام دہی کے درمیان بالکل متوازی انداز سے اردو صحافت کو دریدہ ذہن بنانے اور چرب زبانی کے ذریعے مفاد خصوصی حاصل کرنے کی کوششیں جارہی ہیں۔ دہلی میں عصری صحافت کا منظر نامہ بھی اس سے خاصا متاثر دکھائی دیتا ہے۔ بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ایسے کھوٹے سکوں کو سکہ رائج الوقت کا درجہ حاصل ہوچکا ہے“۔
بہر حال اردو اخبارات کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی فہرست لمبی ہے اور تصویر کا دوسرا رخ بہت مایوس کن ہے۔ سہیل انجم جو ایک طویل مدت سے قومی آواز سے منسلک رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اردو صحافت کا رکنان کے لئے تو مشن بنی ہوئی ہے لیکن مدیروں اور مالکان کیلئے یہ بہترین تجارت اور بزنس ہے۔ دن بھر کی سخت محنت اور مشقت کرنے کے بعد شام کے وقت صحافیوں کو جزاک اللہ کہہ کر رخصت کردیا جائے اور اگر کارکن اپنی محنت کا کچھ معاوضہ مانگیں تو یہ کہہ کر ان کی زبان بند کردی جائے کہ آپ اردو کی خدمت کررہے ہیں اب اردو صحافت کو خدمت کی نہیں راست تجارت بنانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ان مالکوں اور مدیروں کی زینت جو خود تو آم کھاتے ہیںمگر کارکنوں کو چھلکے اور گھٹلیاں دینا بھی گوارہ نہیں کرتے۔
دوسرے الفاظ میں اچھا مالک اور مدیر وہ ہے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے یعنی دودھ خود پی جائے اور پانی اپنے کارکنوں کو دے۔حال ہی میں انہوں نے اخبار مشرق میں لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں اردو اخباروں کی تعداد سیلاب کے پانی کی مانند بڑھی ہے۔ لیکن جس طرح سیلاب اپنے ساتھ وبائی امراض کا تحفہ بھی لے کر آتا ہے اسی طرح کثرت اخبار بھی بہت سی صحافتی خرابیاں وبائی شکل میں اپنے ساتھ لے کر آتی ہے اور اس وبائی شکل کو ’تصویر کا دوسرا رخ‘ کے عنوان سے شاہد الاسلام نے بڑی دیانت داری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بقول ظفر انور وہ ایک بے خوف اور بے لاگ صحافت کے علمبردار کہے جاسکتے ہیں جن کی عبارت کی روانی ، زور بیان، بلاغت اور تاثیر کلام کی اپنی ایک الگ کیفیت ہے۔ وہ ان صحافیوں کے جانشین ہیں جنہوں نے اپنے جگر کے لہو سے وادی ¿ صحافت کی آبیاری کی ہے۔ 1995 میں صرف22سال کی عمر میں انہوں نے قلم سنبھالا۔ وہ دن اور آج کا دن ان کا قلم اخبار و رسائل میں رواں دواں ہے۔ ان کا قلم آج تک نہ جھکا ہے۔ وہ اردو ادب کے ڈاکٹر جانسن ہیں جنہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں بھی کسی صحافتی تقاضے سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ جو سچ ہے وہ سچ جو جھوٹ ہے وہ جھوٹ، جو حق ہے وہ حق جو ظلم ہے وہ ظلم۔ پنچابی کے شاعر بلے شاہ نے اپنی چالیسویں سالگرہ پر ایک شعر کہا تھا۔ ”کر بسم اللہ کھول دی میں نے چالیس گانٹھیں“ شاہد الاسلام نے 39 گانٹھیں تو کھول دی ہیں جو چراغ راہ میں منزل نہیں ہیں۔ چالیسویں گانٹھ کے کھلنے کا میں بڑی بےتابی سے انتظار کررہا ہوں۔
کتاب کے اختتام پر شاہد الاسلام صاحب لکھتے ہیں۔ ”دہلی میں اردو صحافت کا کردار کبھی قابل رشک ہوا کرتا تھا لیکن آج یہی اردو صحافت بے وزن ، بے اختیار، بے وقار اور بے وقعت ہوکر رہ گئی ہے۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہو کبھی اردو صحافی جام شہادت نوش کیا کرتا تھا لیکن آج۔۔۔۔۔۔ صحافت کی آبرو نیلام ہورہی ہے ۔ مسائل و مشکلات سے گھری اردو صحافت معیاری نقطہ نظر سے وجود کی آخری لڑائی لڑ رہی ہے“۔
”وہ صرف معتبر تھا جو نکلا تھا برملا یہ اور بات ہے کہ لہو تھوکنا پڑا“
لیکن اس کے باوجود شاہد صاحب پر امید ہیں اور اردو صحافت ایسے مسیحا کی منتظر ہے جس کی شرمندہ احسان ہوکر یہ صنف ادب اپنی حرمت، عزت، وقار اور اعتبار کو دوبارہ بحال کرسکے گی۔ بظاہر مستقبل قریب میں اس کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں لیکن اردو صحافت کے دن ضرور پھریںگے۔
کہتے ہیں سکندر ہر فتح کے بعد تاوان جنگ سے ملی ہوئی رقم اپنی فوج میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ ایک شام سیلوکس نے اپنے بادشاہ سے پوچھا، حضور والا، آپ نے اپنے لئے کیا رکھا ہے۔ سکندر نے بادلوں سے گھرے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا”امید“ جس پر دنیا قائم ہے۔ جوہر دھڑکتے سینے میں موجود ہے۔ جو ہر خزاں رسیدہ چمن کو گلشن بہار بنادیتی ہے“ مبارک ہو شاہد بھائی۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

بارے ترکی بغاوت کے

ترکی کے فوجی بغاوت میں ان مہ جبینوں کے نام ہو سکتے ہیں جنھوں نے مصر میں مرسی کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ جہاں تک بات فتح اللہ گولن اور ان کی خدمات کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں گولن نے اپنے فکر و فلسفہ کو پھیلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے ان کے کئی ادارے ہندوستان میں بھی چل رہے ہیں ، خود حیدر آباد شہر میں ان کی تنظیم کے زیر نگرانی کئی ادارے اپنا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن صوفیت اور جدیدیت کے بینر تلے اس سے اسلام کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے ۔ چونکہ گولن کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس سے قبل انھوں نے طیب اردوان کی حکومت کو گرانے یا نیچا دکھانے کے لئے متعدد قسم کے اقدامات کئے ہیں، جس کی خبریں ہم اخباروں میں دیکھتے اور پڑھتے رہے ہیں اس لئے کوئی بعید نہیں ہے کہ یہ اقدام انھوں نے نہ کیا ہو، ابھی چند ماہ قبل زمان نامی اخبار میں طیب اردوان کے خلاف زہر افشانی کرنے اور ملک مخالف مواد چھاپنے کے الزام میں دو صحافیوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا مگر روزنا مہ زمان جو کہ گولن تحریک کا ایک طرح سے ترجمان ہے کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اردوان کے فکر و فلسفہ سے نالاں ہیں ،چونکہ عالمی سطح پر اردوان اسلام کی ایک معتدل شبیہ رکھنے والی شخصیت کے طور سامنے آئے ہیں اور عالم اسلام میں انھیں ایک مسیحا کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے ایسے میں اسلام دشمن طاقتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ ان کی قیادت مضبوط ہو اس لئے بھی ان کے خلاف اس قسم کی ریشہ دوانیاں کی جا رہی ہیں ۔ اسرائیل اور فلسطین والے معاملہ پر اب تک دو ہی ممالک ایران اور ترکی کا نظریہ کھل کر سامنے آیا ہے ، باقی سب تو منہ میں گھگھنی لئے بیٹھے ہیں انھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے کلمہ گو بھائی مارے جا رہے ہیں یا ان کا جینا دوبھر کیا جا رہا ہے ، انھیں تو بس اپنی کرسی بچانے کی فکر لگی ہوئی ہے ۔ ابتدائی جانچ میں جس قسم کے انکشافات ہو رہے ہیں وہ بھی چونکا دینے والے ہیں ، داعش کے خلاف ترکی میں موجود امریکہ کے زیر استعمال ہوائی اڈہ میں جنرل کی گرفتاری، کرنل کوز کا فتح اللہ گولن سے رابطہ ، جنرل آکین اوزترک کا اسرائیل سے تعلقات جیسی چیزیں بہت کچھ کہتی ہیں ۔
محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

پہلا ناول لکھنے کے دوران بہت کچھ سیکھا

پہلا ناول لکھنے کے دوران بہت کچھ سیکھاتحریر: امبترو ایکو
ترجمہ: محمد علم اللہ1978 کے ابتدائی دنوں میں ایک چھوٹے اشاعتی ادارہ کے لئے کام کرنے والی میری ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اس نے کچھ غیر ناول نگار مصنفین (یعنی فلسفیوں، ماہرین سماجیات، سیاستدانوں وغیرہ) سے کہا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی جاسوسی کہانی لکھ کر دیں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ میں تخلیقی تحریر میں دلچسپی نہیں رکھتا اور مجھے پورا یقین ہے کہ میں اچھے مکالمے لکھنے میں مکمل طور پر غیر فعال ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنی بات ختم کی کہ جب بھی میں ایک جرم پر مبنی ناول لکھوں گا، وہ کم از کم پانچ سو صفحات طویل ہوگا اور کسی قرون وسطی کے زمانے کے خانقاہ کے پس منظر میں ہوگا۔ پتہ نہیں، یہ بات میں نے کیوں کہی تھی، لیکن یہ تھوڑا سا اشتعال انگیز انداز میں میں نے کہی تھی۔ میری دوست نے مجھ سے کہا کہ وہ ایسے کسی جلد از جلد فروخت ہو جانے والے ادب کی بابت بحث کرنے میرے پاس نہیں آئی ہے۔ اور ہماری ملاقات وہیں ختم ہو گئی۔خیر جیسے ہی میں گھر پہنچا، تو میں نے اپنی میز کی دراز میں کاغذ کا وہ ٹکڑا تلاش کرنا شروع کیا جس پر کچھ راہبوں کے نام گزشتہ سال میں نے لکھ رکھے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میری روح کے سب سے زیادہ خفیہ حصے میں ایک ناول کا خیال پہلے سے ہی موجود تھا، لیکن میں اس سے لاعلم تھا۔ اسی وقت مجھے یہ خیال آیا کہ بہتر ہوگا کہ میری کہانی میں ایسا ہو، کہ ایک راہب کی موت ایک پراسرار کتاب پڑھتے ہوئے ہو۔ اس طرح میں نے 'دی نیم آف دی روز' لکھنے کی شروعات کی۔ناول شائع ہونے کے بعد اکثر لوگ مجھ سے یہ سوال کرتے کہ آخر مجھے اس ناول کو لکھنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی، پھر میں انہیں جو بھی وجہ بتائی وہ ہمیشہ میرے مزاج کے حساب سے تبدیل ہوتی گئی،وہ سارے کے سارے حق بجانب تھے لیکن وہ غلط بھی تھے۔ آہستہ آہستہ مجھے خود ہی اس بات کا ادراک ہوا کہ صرف ایک ہی جواب درست تھا اور وہ یہ کہ زندگی کے کسی ایک خاص لمحے میں میرے اندر ناول لکھنے کی چاہ پیدا یوئی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ اس بارے میں ہر کسی کے سوال کا ایک یہی جواب کافی ہے۔جب انٹرویو کرنے والے مجھ سے پوچھتے ہیں، آپ اپنا ناول کس طرح لکھتے ہیں'، تو میں ان کے سوال کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے جواب دے دیتا ہوں،بائیں سے دائیں کی طرف۔مجھے پتہ ہے کہ یہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے اور اس وجہ سے بہت سے عرب ممالک اور اسرائیل میں ایک خاص قسم کی حیرت بھی پھیل سکتی ہے۔ اس سوال کا تفصیلی جواب دینے کے لئے اب میرے پاس کافی وقت ہے۔پہلا ناول لکھنے کے عمل میں میں نے کچھ چیزیں بہت غور سے سيكھیں۔ پہلا محرک ایک ایسا برا لفظ ہے، جس کا استعمال جگاڑو مصنف اپنی فنکارانہ حیثیت بڑھانے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ ایک پرانی کہاوت ہے کامیابی کا مطلب دس فیصد تحریک اور نوے فیصد سخت محنت ہے۔فرانسیسی شاعر لامارتينے کے بارے میں ایک واقعہ بتایا جاتا ہے۔ وہ اپنی ایک انتہائی معروف نظم کے بارے میں کہتے تھے کہ ایک رات وہ گھنے جنگل میں گھوم رہے تھے ، تبھی ایک خاص لمحے میں یہ نظم ان پر وارد ہوئی۔ ایک دم اسی طرح لکھی ہوئی۔ اور ان کی موت کے بعد کسی نے ان کے مطالعہ گاہ سے اسکی شاعری کے بہت سے الگ الگ ڈرافٹ نکالے۔ یعنی اس نظم کو وہ لکھنے اور کاٹنے کس عمل کئی برسوں سے کر رہے تھے۔جس ناقد نے دا نیم آف دی روز پر پہلا تبصرہ لکھا تھا، اس کا کہنا تھا کہ یہ ناول کسی خاص لمحے میں ہی لکھا گیا ہے، لیکن اس کی زبان، ساخت اور تھیم مشکل ہیں، اس ناول کو صرف ایک خاص طبقہ ہی پڑھ سکتا ہے۔ جب اس ناول نے لاجواب کامیابی حاصل کی، اس کی دسیوں لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں، تو اسی ناقد نے اس کی مقبولیت اور تعریف کو ہضم نہ کر پاتے ہوئے یہ لکھا، مجھے پورا یقین ہے کہ اس ناول میں تیکنیکی طور پر کسی خفیہ نسخوں یا ہدایت کا بہت سارا مواد استعمال کیا گیا ہے۔ بعد میں ان لوگوں نے یہاں تک کہا کہ اس کتاب کی کامیابی کے پیچھے ایک کمپیوٹر پروگرام کی شراکت ہے۔یہ بات کہتے ہوئے وہ لوگ بھول گئے کہ کسی طرح کچھ کھٹ پٹ کر لینے والے تحریری سافٹ ویئر کے ساتھ جو پہلا کمپیوٹر آیا تھا، وہ اَسی کی دہائی کے اوائل میں آیا تھا۔ اور میں اپنا ناول اس سے پہلے لکھ چکا تھا۔ 1978-79 میں ۔ امریکہ میں بھی آپ کو جو بہترین کمپیوٹر مل سکتا تھا، وہ تھا تینڈی کا بنایا ہوا ناقص کمپیوٹر، جس کا زیادہ سے زیادہ استعمال آپ ایک مختصر خط لکھنے کے لئے کر سکتے تھے، اس سے زیادہ نہیں۔نوٹ: عظیم اطالوی مصنف امبریتو ایکو نے جب پہلا ناول لکھا، اس وقت ان کی عمر تقریبا پچاس سال تھی۔ وہ مفکر اور فلسفی کے طور پر اس سے پہلے ہی دنیا بھر میں معروف ہو چکے تھے۔ ان کا پہلا ناول دا نیم آف دی روز، جسے شروع میں ناقدین نے نشانے پر لیا تھا، بہت جلد ہی پوری دنیا میں مقبول ہوا اور اب وہ جدید کلاسیکی ادب میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ حصہ ہارورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے شائع ایکو کی کتاب 'کونفیکشن آف آ ینگ ینگ نولسٹ' (2011 ) سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ایکو کی جانب سے ایم رائے یونیورسٹی میں ایک سیریز کے تحت دیئے گئے خطبات بھی موجود ہیں۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ملک زادہ منظور کی کتاب سے ایک اقتباس

ان دنوں ملک زاد ہ منظور کی خود نوشت رقص شرر زیر مطالعہ ہے آزادی اور اردو کو لیکر نئی نسل کے رویے کی مناسبت سے ایک خوبصورت اقتباس فیس بُک احباب کی خدمت میں۔۔۔۔۔۔۔اس المیہ کا ماتم کہاں تک کیا جا ئے کہ ہماری نئی نسل آج ان مسلم مجاہدین آزادی کے ناموں سے واقف بھی نہیں ہے ، جنھوں نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا ۔ واقفیت تو درکنار جو مسلم شخصیتیں آزادی کی لڑائی کی سر براہی کر رہی تھیں ، نئے دور کے رہبر ان اُن کے ناموں کا صحیح تلفظ بھی نہیں کر پاتے ۔ میں نے کسی زمانے میں ایک مرکزی وزیر سے عبد الکلام آزاد کا نام سنا ہے ۔ ایک دوسرے لیڈر نے رفیع احمد قدوائی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جب ان کے اکتسابات پر روشنی ڈالی تو ان فلموں کا تذکرہ بھی کیا جن میں انھوں نے گیت گائے تھے ۔ انھیں یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ رفیع احمد قدوائی اور محمد رفیع دو الگ الگ شخصیتیں ہیں ۔ایک بار مرحوم عباس حسینی مدیر نکہت الہہ باد نے حسین ڈے میں ایک مقامی نیتا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مدعو کیا ۔ وہ تشریف لائے اور اپنی تقریر میں عباس حسینی کے مناقب و فضائل بیان کرنے شروع کئے اور کہا کہ حسینی صاحب نے اردو کی بڑی خدمت کی ہے نکہت اور جاسوسی دنیا نکالا ہے ۔ شاعروں اور ادیبوں کی سر پرستی کی ہے ۔ تقریر آگے بڑھ رہی تھی کہ کسی نے پیچھے سے ان کی شیروانی پکڑ کر ان کو متوجہ کیا اور کہا کہ یہ جلسہ حسینی صاحب کے لئے نہیں بلکہ امام حسین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہے جو کر بلا میں شہید ہوئے تھے ۔ مقرر نے فورا سامعین کی طرف رخ کیا اور کہا ساتھیو مجھے تو یہی معلوم تھا کہ حسینی صاحب نے اردو ادب کی بہت زیادہ خد مت کی ہے ۔ لیکن ابھی ابھی بھائی صاحب نے یہ بھی بتلایا کہ وہ کر بلا میں شہید بھی ہو چکے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ حال جب ہمارے اکابر کا ہے تو نئے دو ر کی تر تیب دی ہوئی تاریخ جس سے جان بوجھ کر مسلم مجاہدین ازادی کے ناموں کو حذف کیا جا رہا ہے ، ان سے نئی نسل کیسے واقف ہو سکتی ہے ۔۔۔۔
رقص شرر (خود نوشت)، ملک زادہ منظور، ص۔ 97۔ ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

ایک دوست کے اسٹیٹس پر کیا گیا تبصرہ ۔۔۔۔۔۔

ایک دوست کے اسٹیٹس پر کیا گیا تبصرہ ۔۔۔۔۔۔
محمد علم اللہ
اب ادھر سے بھی ایک واقعہ سماعت فرمائیے ، میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن اور بعد ازاں ماس کمیونی کیشن سے ایم اے کیا ۔ ماس کمیونی کیشن میں زیادہ تر غیر مسلم طلبا داخلہ لیتے ہیں ، اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو فیس بہت زیادہ ہے دوسرے ٹیسٹ کچھ زیادہ سخت مانا جاتا ہے ، بہر حال کہنا یہ ہے کہ جامعہ کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دئے جانے کے باوجود پروفیشنل کورسیز میں مسلمانوں کی تعداد کم ہی رہتی ہے جس میں سے جامعہ کا ماس کام بھی ہے ، یہاں عموما بڑے گھرانوں اور الیٹ کلاس کے طلباء داخلہ لیتے ہیں جن کا پڑھائی کے علاوہ خاص مشغلہ شباب ، شراب ، سیکس بھی ہوتا ہے ان کے نزدیک کھلے عام بوس و کنار ، شراب نوشی ، ناجائز تعلقات فضول خرچی وغیرہ کو معیوب نہیں بلکہ الیٹ اور بڑے ہونے کی نشانی تصورکیا جاتا ہہے ۔ ہم نماز پڑھنے جاتے تو کبھی کبھی ہمارے کچھ ہندو احباب بھی ہچکچاتے ڈرتے مسجد آجاتے ۔ ایک دن میرے ساتھ ایک مسلم دوست بھی آ گیا میں نے اس سے کہا اب مسجد آئے ہو تو نماز پڑھ لو وہ پہلے تو لیت و لعل سے کام لیتا رہا انکار کرتا رہا ، پھر میں نے وجہ جاننی چاہی تو بولا میں ناپاک ہوں ، میں نے اس سے کہا یار ! تم میرے کمرے سے غسل کر کے چلے ہو صاف کپڑا بھی پہنا ہوا ہے پھر کیسے ناپاک ہوئے ۔ تو وہ ہنسنے لگا اور ہندو احباب بھی ہنسنے لگے اور اسکی بہانہ بازی پر اس کا مذاق اڑانے لگے تو وہ شرماتے شرماتے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ میں نے محسوس کیا ابھی میں نے ایک رکعت بھی مکمل نہیں کی اور وہ نماز پڑھ کے بیٹھ چکا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا میں ایک سانس میں ثنا ، الحمد شریف ، انا اعطین پڑھ سکتا ہوں پھر بھی اتنی تیز نماز نہیں پڑھ سکتا ، آخر تم نے کس اسپیڈ سے نماز پڑھی ذرا مجھے بھی سنا و تو دیکھوں کتنا اسپیڈ پڑھ لیتے ہو ، تو اس نے کہا یہ ثنا ، الحمد اور ان کیا ہوتا ہے ، مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں ہے ،میں نے پوچھا پھر نماز میں کیا پڑھتے ہو تو کہنے لگا بس لا الہ الہ کہہ لیتا ہوں ، باخدا مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک بیس پچیس سال کے مسلم نوجوان کو جسے ساری دنیا کی معلومات ہے لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ناواقف ہے ۔ میں اس کی شرمندگی کو دیکھتے ہوئے بس اتنا کہہ سکا اگر تم چاہو تو میں یاد کرا سکتا ہوں ، لیکن میرے مسلم بھائی نے نہیں چاہا جبکہ میرے کئی ہندو دوست اردو سیکھ کر جامعہ میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

بارے ترکی کے

محمد علم اللہ جناب ایم ودود ساجد صاحب آپ کی باتوں سے اتفاق کرنا انتہائی مشکل ہے ، اس لئے کہ آپ کی باتوں میں نہ تو کوئی دم ہے اور نا دلیل سب سے پہلے آپ نے بغاوت پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے تو بات وہیں سے شروع کرتے ہیں ، ہم نے بچپن سے سنا ہے ہیرا چور یا کھیرا چور ، چور ہی ہوتا ہے ،اب اگر دو ہزار آٹھ سو انتالیس افراد کا کسی غیر قانونی کام میں شریک ہونا اور اس کی وجہ سے دو سو سے زاید معصوم لوگوں کا ناحق قتل ہوجانے کو بھی یہ کہہ کر مسترد کر دیا جائے کہ یہ تعداد کم ہے اور چونکہ اس کے لیڈر اور قائد اس میں شامل نہیں اس لئے اسے بغاوت نہیں کہہ سکتے انتہائی بے وقوفی والی بات کہلائے گی ۔ حالانکہ اس لیڈر کے اس میں نہ شامل ہونے کے دلائل بھی آپ نے بہت پھسپھسے پیش کئے ۔ جہاں تک بات فتح اللہ گولین کا اس بغاوت میں ہاتھ نہ ہونے کی بات ہے اور آپ نے اس کی دلیل کے طور پر کہا ہے ہے کہ گولین انسانیت پسند اور امن پسند ہیں ، ان کی تقریروں سے انھیں دو چیزوں کا پیغام ملتا ہے ، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ نے ان کی تقریر سنی ہی نہیں ورنہ ایسی سیکڑوں تقریریں انٹر نیٹ کے ایک سرچ پر موجود ہیں جس میں دیگر موضوعات کے ساتھ گولین صاحب تختہ پلٹ کی ناکامی سے نا خوش ہیں، اور اپنے فکر و فلسفہ کی تو سیع کے لئے وہ اس بات کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر آپ کو کہیں قبضہ کرنا ہے تو پہلے اس کی بنیادوں کے اندر اپنے افراد کو داخل کرو ۔ یہ بات ان کے آفشیل ویب سائٹ میں بھی موجود ہے ۔ جمہوریت ان کے نزدیک ایک نا پسندیدہ عمل ہے اس کا اظہار انھوں نے کئی چینلوں سے بھی کیا ہے جس میں اے پی ٹی این شامل ہے ۔ اور گولین صاحب کی یہ فکر بھی واضح ہے کہ وہ ہمیشہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو بے وقوف اور مرگ انبوہ جیسے القابات سے تعبیر کرتے رہے ہیں۔
آپ کی یہ بات بھی قابل گرفت ہے کہ طیب اردوان نے بزعم خویش خود کو امیر المومنین کہا ۔ کیا آپ اس کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں ، عرصہ دراز سے ترکی کے روزنامہ زمان سمیت ٹی آر ٹی اور کٹر اسلام پسندوں کا اخبار روزنامہ صباح کا مطالعہ کرتا رہا ہوں لیکن یہ الزام کبھی انھوں نے بھی نہیں لگایا ، اگر اس سلسلہ میں آپ کوئی ثبوت فراہم کریں تو یقینا ہمارے علم میں اضافہ کا باعث ہوگا ۔
آپ نے اپنی تحریر میں اردوان کو گولین کا شاگرد قرار دیا ہے ،ساتھی اور چند چیزوں میں فکری ہم آ ہنگی کی بات تو سنا تھا لیکن شاگرد ؟ آپ کی اس تحقیق پر بھی مجھے تشویش ہے ۔
آپ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اردوان دو ہزار پانچ میں پی ایم بنے حالانکہ وہ دو ہزار تین میں وزیر اعظم بنے اور اس سے قبل دو ہزار دو میں ہی ان کی پارٹی کا وجود ہو چکا تھا ۔۔
آپ نے ایک جگہ لکھا ہے " ترکی میں ان (فتح اللہ گولن )کے چھوٹے سے چھوٹے اسکو ل کے معیار کا ہندوستان کی بڑی سے بڑی مسلم تنظیم کا کوئی بڑا تعلیمی ادارہ مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ یہ بھی فتح اللہ سے حد درجہ مر عویبیت کا شاخسانہ ہے ۔ یا پھر ہندوستانی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بڑے مسلم تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ۔میں ملی مسائل سے آپ کی دلچسپی اور فکر پر مشتل جو تحریریں پڑھتا رہا ہوں اس کی بنیاد پر ہندی تنظیموں کے ذریعہ چلائے جانے والے اداروں سے ناواقفیت کی بات تو نہیں کہہ سکتا۔ غالبا آپ دھوکہ یا گولین سے حد درجہ محبت میں یہ بات کہہ گئے ۔
جہاں تک اسکولوں کے معیار کی بات ہے تو اس سلسلہ میں ابھی چند ہفتہ قبل حیدرآباد کے حیات نگر میں واقع فتح اللہ گولین کے اسکول کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا اس کے معیار اور انداز کو دیکھ کر جب ہمارے دوست نے تبصرہ شروع کیا تو بس میں نے اس سے یہی کہا دور کے ڈھول سہاون ۔ اگر آپ حقیقت دیکھنا چاہتے ہیں تو دہلی کے تیمور نگر میں واقع گولین تنظیم کے ذریعہ قائم کردہ شبلی ہاسٹل کو جاکے دیکھ آئیں آپ کو خود حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا بلکہ گولن تحریک کے کاز پردازوں سے ملاقات اور بات کا بھی موقع ملے گا۔اگر عرض حال میں مراتب کا خیال نہ رکھ پایا ہوں یا کچھ زیادہ سخت الفاظ کا استعمال کر گیا ہوں تو چھوٹا بھائی سمجھکر معاف کر دیجئے گا

..................
یہ ’اردوگانی‘ بغاوت ہے!
ایم ودودساجدترکی کی حالیہ ناکام بغاوت کو فوجی بغاوت کہنا اس لئے درست نہیں ہے کہ فوج کے اعلی حکام اور اس کا ایک بڑا حصہ اس میں شامل نہیں تھا۔ترکی میں پچھلی چار دہائیوں میں چار مرتبہ ہونے والی فوجی بغاوت کبھی ناکام نہیں ہوئی۔لیکن ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے پاس اس امر کا بھی کوئی پختہ حقیقی یا واقعاتی ثبوت نہیں ہے کہ اس بغاوت کے پیچھے ترکی کے خودساختہ جلاوطن مذہبی وسماجی رہنما فتح اللہ گلین کا ہاتھ ہے۔ہم محض یہ جان کر کہ فتح اللہ گلین ایک عرصہ سے امریکہ کے پینسلوانیا میں رہتے ہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ترکی میں ہونے والی اس بغاوت میں فتح اللہ گلین یا امریکہ کا ہاتھ تھا۔ کسی بھی نتیجہ پرپہنچنے کے لئے فتح اللہ گلین کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔
فتح اللہ گلین ایک مذہبی قائد ہیں ‘وہ1999سے امریکہ میں مقیم ہیں ‘ انہوں نے ’خدمت‘(ترکی نام ہزمت)نامی ایک عالمی فلاحی تنظیم بناکر پوری دنیا میں اس کا جال بچارکھا ہے۔یہ تنظیم امریکہ‘برطانیہ‘وسط ایشیا اور افریقہ ویوروپ ‘برصغیر ایشیا کے ممالک ہندوستان‘پاکستا ن اورسری لنکا جیسے 150ملکوں میں بڑے پیمانے پر تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے۔اس کے بہت سے اسکول‘کالج اور کوچنگ سینٹر ہیں۔خود ترکی میں بھی اس تنظیم نے اسکول‘کالج اور یونیورسٹیاں قائم کر رکھی ہیں۔صرف ترکی میں ہی اس کی 11یونیورسٹیاں ہیں۔استنبول کی مشہور فاتح یونیورسٹی اسی تنظیم کے تحت چلتی ہے۔ان کے پیروکاروں میں اتنے متمول لوگ ہیں کہ 11میں سے زیادہ تر یونیورسٹیاں ذاتی طورپرایک ایک شخص کی بنائی ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ دنیا بھر میں مذاکرات بین المذاہب کے لئے بھی یہ تنظیم کام کرتی ہے۔یہ جماعت ترکی کے مصلح بدیع الزماں نورسی اور ہندوستان کے مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی کے اصلاحی کارناموں سے بھی متاثر ہے ۔اس تنظیم سے ترکی کے تقریباً ایک ہزار تاجر وصنعت کار وابستہ ہیں جو فتح اللہ گلین کو اپنا قائد ہی نہیں بلکہ اپنا پیرومرشد بھی مانتے ہیں۔یہی وہ تاجر ہیں جوپوری دنیا میں اس تنظیم کا صرفہ برداشت کرتے ہیں۔مگر آج نہ صرف یہ تاجر اردوگان کے عتاب کا شکار ہیں بلکہ ان کے تحت چلنے والے تمام تعلیمی وفلاحی ادارے بند کردئے گئے ہیں۔ ترکی میں ان کے چھوٹے سے چھوٹے اسکول کے معیار کا ہندوستان کی بڑی سے بڑی مسلم تنظیم کا کوئی بڑا تعلیمی ادارہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔فتح اللہ گلین نے 35سے زائد مذہبی اور سماجی موضوعات پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ان کا دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔سیرت پر ان کی لکھی ہوئی انگریزی کتاب’’محمد‘‘بہت ہی عمدہ تصنیف ہے۔ان کی تصنیفات کے مطالعہ سے اس کی رمق بھی نہیں ملتی کہ فتح اللہ گلین کچھ سیاسی عزائم بھی رکھتے ہیں۔گلین کی ہزاروں تقریریں گوگل اور یوٹیوب پر موجود ہیں لیکن کسی ایک تقریرسے بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو سب کے لئے تعلیم اور سب سے محبت کے علاوہ اور کوئی ترغیب دی ہو۔ گوکہ ان کی تنظیم ترکی کے میڈیااور مالیاتی سیکٹر پر حاوی ہے لیکن کبھی انہوں نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔وہ چاہتے توکوئی سیاسی پارٹی بنالیتے یامصر کی سابق اخوان کی طرح بغیر پارٹی بینرکے اپنے حمایت یافتہ لوگوں کو الیکشن میں اتاردیتے۔ان کے لئے الیکشن جیتنا اس لئے مشکل نہیں تھا کہ ترکی کا سب سے مقبول عام روزنامہ ’زمان‘ انہی کی ملکیت ہے۔اس کی کم سے کم پچاس لاکھ کاپیاں ہر روز شائع ہوتی تھیں۔ب تو اردوگان نے اس پر پابندی لگادی ہے اور اس سے وابستہ ہر بڑے صحافی کو گرفتار کرلیا ہے۔جو ہاتھ نہیں لگا اس کے بیوی بچوں کو پکڑکربٹھالیا ہے۔اسی طرح ایک خبر رساں ایجنسی ’’جہان‘‘ہے۔اس کے تحت کئی ٹی وی چینل بھی چلتے ہیں جو ترکی کے علاوہ بھی کئی ملکوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ترکی کے چند بڑے بنکوں میں سے ایک ایشیابنک ہے جو اسلامی طرزپر چلتا ہے۔یہ بھی اسی تنظیم کی ملکیت ہے۔اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جو جماعت برارہ راست سیاسی میدان میں نہ اترے کیا وہ ایسی حماقت کرسکتی ہے کہ کمال اتاترک کی اسلام مخالف ذریات پر مشتمل بددین فوج میں گھس پیٹھ کرکے جمہوری طورپر منتخب حکومت کے خلاف ایسی ناقص بغاوت کرادے جو خود اسی کے لئے عذاب بن جائے؟
خود فتح اللہ گلین نے اس بغاوت کے خلاف بیان جاری کرکے کہا کہ’ جمہوری طورپرمنتخب حکومت سے ہمارے کتنے ہی سخت اختلافات ہوں لیکن اسے غیر قانونی طورپرگرانے کی کوشش سراسر حرام ہے اور یہ کہ میں اس کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں‘۔فتح اللہ گلین کے تعلق سے میرا خیال ہے کہ اتنا بتانا کافی ہوگا۔اب آئیے ذر ا’امیرالمومنین‘ حضرت قبلہ رجب طیب اردوگان ‘صدر ترکی کے بارے میں کچھ ایسے حقائق کاذکر کیا جائے جنہیں عام طورپربرصغیر کے مسلمان نہیں جانتے۔زیر نظر مضمون دوسوسے زائد صفحات پر مشتمل مضامین‘رپورٹوں‘انٹرویوز‘بیانات اور خبروں کے مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ممکن ہے کہ آج کے اس کالم میں تمام حقائق کا بیان نہ ہوسکے۔
رجب طیب اردوگان خود فتح اللہ گلین کے شاگرد اور ان کے افکار کے حامی رہے ہیں۔وہ خود کو اسلام پسند ظاہرکرکے ہی 2005میں اقتدار میں آئے تھے۔انہوں نے آنے کے بعد کچھ ایسے اقدامات کئے بھی تھے جن سے لگتا تھا کہ وہ اسلام پسند ہیں اور ترکی کی بددین فوج میں اصلاحات چاہتے ہیں۔لہذا جب وہ وزیر اعظم تھے توانہوں نے کئی درجن جنرلوں کو گرفتاربھی کرایا اور سزائیں بھی دلوائیں۔یہ صورت حال کمال اتاترک کی حامی فوج کے لئے قطعی حیرت انگیز تھی۔اسی دوران اردوگان نے ایک طرف تو مسلم دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ اسرائیل کے مخالف ہیں لیکن دوسری طرف یوروپ کا حصہ بننے کے لئے انہوں نے خود کوبعض معاملات میں معتدل اور سیکولربھی ثابت کیا۔تیسری بات جوبرصغیر میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے لیکن جسے ترکی کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ رجب طیب اردوگان نے ایک طرف تو اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے لوگوں (بڑے کاروباریوں)سے کہا کہ میں امیرالمومنین ہوں اور مجھے خمس یعنی آمدنی کا بیس فیصد ادا کرو۔اور دوسری طرف اپنے بیٹے اور دوسرے اعزاء کے ذریعہ بدعنوانی کو عروج پر پہنچادیا۔ابھی تک فتح اللہ گلین کے اخبارات اور چینل اردوگان کا ساتھ دے رہے تھے۔لہذا جب کچھ برس قبل(تاریخ معلوم نہیں)اردوگان اپنے جگری دوست اور شام کے بے گناہوں کے قاتل بشارالاسدکو ساتھ لے کر پینسلوانیا میں اپنے استاذ فتح اللہ گلین سے ملنے گئے اور ان سے کہا کہ مجھے حکمرانی کے تعلق سے کچھ نصیحت کیجئے تو فتح اللہ گلین نے جو کچھ کہا اس سے اردوگان سمجھ گئے کہ اب گلین ’’باغی‘‘ہوگئے۔گلین نے کہا کہ’’ہماری حمایت اصولوں کی بنیاد پر ہے۔عوام کی خدمت کیجئے اور بدعنوانی سے بچئے۔اگر آپ ان اصولوں سے منحرف ہوں گے تو ہم حمایت سے دست کش ہوجائیں گے۔‘‘
گلین کی تنظیم نے اردوگان کے صدارتی الیکشن میں ان کا ساتھ بھی دیااور وہ 50فیصد عوام کی حمایت سے صدر بن گئے۔لیکن اس کے بعد جب انہوں نے بدعنوانی کو مزید فروغ دیا تو گلین کے اخبارات نے ان کے کرپشن پرمبنی مضامین اور رپورٹیں شائع کرنی شروع کردیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمانی الیکشن میں اردوگان کی پارٹی کا فیصد گرگیا۔اردوگان آئین بدلنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس ایوان میں مطلوب تعدادمیں ارکان نہیں ہیں۔اردوگان نے سمجھ لیا کہ جب تک گلین طاقتور ہیں اس وقت تک بلاشرکت غیرے امیرالمومنین بننے کا ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
ایک نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ اردوگان ترکی کے 11 سال تک (یعنی دومرتبہ) وزیر اعظم رہے۔اس دوران انہی کانام زبان زد عام وخاص رہا۔جب کہ اس وقت کے صدر عبداللہ گل بھی مرتبہ اور مقبولیت میں ان سے کچھ کم نہ تھے۔مگر اقتدار پر گرفت اردوگان کی ہی مضبوط رہی۔ترکی کے آئین کے مطابق کوئی ایک شخص تیسری مدت کے لئے وزیر اعظم نہیں بن سکتا لہذاانہوں نے فتح اللہ گلین سے حمایت طلب کرکے صدارتی الیکشن لڑا اور جیت گئے۔اب ترکی کا وزیر اعظم کون ہے شاید زیادہ لوگوں کو اس کا علم نہ ہو۔ایک بہت ہی نامانوس سا نام ‘بناری یلدرم۔لہذا جب وہ خود وزیر اعظم تھے تو ترکی کے صدر کو لوگ نہیں جانتے تھے آج جب وہ خود صدر ہیں تو ترکی کے وزیر اعظم کو کوئی نہیں جانتا۔کیا یہ اس امر کا اشاریہ نہیں ہے کہ اردوگان ہر حال میں اقتدار پر خود ہی حاوی وقابض رہنا چاہتے ہیں اور یہ کہ وہ طبعاً آمر مطلق ہیں؟ان کے اس مزاج کا ایک بڑا‘کھلا اور بدیہی ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بغاوت کی ناکامی کے 24گھنٹے کے اندر اندرہزاروں ڈاکٹروں‘انجینئروں‘ٹیچروں‘وکیلوں‘پولس اور فوجیوں اور بڑے کاروباریوں کو گرفتار کرالیا۔آج تک کی تاریخ کی تفصیل یہ ہے: 72078افراد کو نوکری سے نکال دیاگیا۔18510کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا۔9949کو گرفتار کرلیاگیا۔1058اسکول‘کالج اور یونیورسٹیوں کو بند کردیاگیا۔1229تنظیموں کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔35ہسپتالوں کو بند کردیا گیا۔150اخبارات اور چینلوں کو بند کر دیا گیااور 59صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اس موضوع کے تعلق سے جیسا کہ مجھے اندیشہ تھا ابھی درجنوں نکات رہ گئے ہیں۔لیکن جواعدادوشمار آپ نے اوپر پڑھے ان کی روشنی میں ترکی کے امیرالمومنین کے ہندوستانی دوستوں سے ایک سوال ضرورکیجئے کہ فوج کی ایک ٹکڑی کی بغاوت کااسکولوں‘کالجوں‘یونیورسٹیوں‘فلاحی تنظیموں‘ہسپتالوں‘ٹیچروں اور ڈاکٹروں سے کیا تعلق ہے؟اتنی بڑی تعداد میں عوام اور خواص کوگرفتارکرکے اورفلاحی اداروں کو بند کرکے دہشت کون پھیلا رہا ہے؟پینسلوانیا میں بیٹھا ہوا استاذفتح اللہ گلین یا ترکی میں بیٹھاہواان کا شاگردرجب طیب اردوگان؟
(جاری)
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

عکس افسانچہ محمد علم اللہ

پڑوسی ملک پاکستان کے کوئٹہ میں دھماکہ کے تناظر میں، دھماکہ ہند میں یو یا پاک میں یا دنیا کے کسی بھی حصہ میں دل دکھ سے بھر جاتا ہے، ہم خطہ سمیت پوری دنیا میں امن و امان کے لئے دعا گو ہیں ۔ خدایا ہماری دعاوں میں اثر پیدا کر، امن و امان کے لٹیروں اور سفاکوں کے سازشوں کو انھیں کی طرف لوٹادے ۔۔۔عکس
افسانچہمحمد علم اللہسینکڑوں ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
دھماکے کے دوسرے روز بھی شہر کے باسی بے حد پریشان تھے۔ لیڈران ، تفتیشی ایجنسیاں ، صحافی، چینلز اب بھی جائے حادثہ پر اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔ایک بچی ان سب سے بے خبر، اپنی پیاری گڑیا کوپکڑے ۔ آگے بڑھی چلی جا رہی تھی۔ میری نظر بچی پر پڑی۔
لپکا ’’ منی !ادھر کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’اُدھل میلا کھلونا ہے ‘‘
’’ڈر نہیں لگتا؟‘‘
’’میلی گلیا ہے تو ساتھ میں۔‘‘
بچی کی معصومیت مجھے ڈھیر کر گئی ، خیال ہی نہ رہا ، بچی کا عکس ہی محفوظ کرلیتا ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

نظم ائے ! غزا کے شرارتی بچو شاعر: خالد جمعہ ۔ فلسطین ،غزہ اردو ترجمہ:محمد علم اللہ


نظمائے ! غزا کے شرارتی بچو
شاعر: خالد جمعہ ۔ فلسطین ،غزہ


اردو ترجمہ:محمد علم اللہ اے غزہ کے شرارتی بچو !
تم ! جو میری کھڑکی تلے اپنی تیز آوازوں سے مجھے پریشان رکھتے تھے
تم ! جن کے دم سے میری ہر صبح دھماچوکڑی اور شور شرابے سے آباد رہتی تھی
تم ! جو میرے گلدان کو بھی نہیں چھوڑتے ، توڑ دیتے تھے
اور میری بالکونی میں کھلے اکلوتے پھول کو بھی نوچ لیتے تھے
واپس آؤ ! پھر تم شور کرو ، جتنا چاہو ! چیخو اور چلاؤ !!
میرے سارے گلدان توڑ ڈالو
اچک لے جاو ! سارے پھول۔۔
مگر واپس آؤ !
آ بھی جاؤ !!!پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

میری ڈائری سے

میری ڈائری سےمحمد علم اللہ
آج کل بعض واعظ اور اہل مذہب اس امر پر بڑا زور دیتے ہیں کہ ہم بد ترین زمانے میں پیدا ہوئے ہیں ، انگریزی تعلیم اور مغربی اثرات نے ہماری خوبیوں کو نیست و نابود کر دیا ہے اور آج سے پہلے اسلامی حکومت کے دوران میں ہر طرف نیکیوں کا دور دورہ تھا ۔ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس خوشگوار نظریے میں صداقت کا عنصر کس قدر ہے ۔ لیکن یہ دلچسپ نفسیاتی حقیقت ہے کہ راہبانہ طبیعتیں ہمیشہ دنیا کو دار الشیا طین سمجھتی رہی ہیں۔ داتا گنج بخش اس زمانے کی نسبت جب دنیا کے سب سے بڑے "بُت شکن" نے ابھی ابھی اپنا کام پورا کیا تھا لکھتے ہیں : ( ترجمہ)" خدا وند بزرگ و برتر نے ہمیں اس زمانے میں پیدا کیا ہے جب لوگوں نے حرص و لالچ کا نام شریعت اور تکبر و جاہ و ریاست کی طلب کا نام عزت اور علم ، ریائے خلق کا نام خوف الٰہی اور دل میں کینہ پوشیدہ رکھنے کا نام حلم ، لڑائی جھگڑے کا نام بحث و مباحثہ ، ہذیان طبع کا نام معرفت ، نفسیاتی باتوں اور دل کی حرکتوں کا نام محبت۔ خدا کے رستے سے منحرف اور بے دین ہونے کا نام فقر حق تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے کا نام فنا فی اللہ ، اور ترکِ شریعت کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔خیال رہے جس اقتباس کا ترجمہ میں نے یہاں نقل کیا ہے، وہ حضرت گنج بخش لاہوری رح کے عہد یعنی ۱۰۰۹اور ۱۰۷۲ کے درمیان کا ہے جو ہند میں محمود غزنوی کی آمد اور آس پاس کا زمانہ کہلاتا ہے ۔پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

بلا ترتیب خیال

ہر انسان کے اپنے کچھ حدود اور دائرے ہوتے ہیں اور وہ ان اکائیوں اور چکر کی پیروی کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ مبادا اس سے وہ باہر نکلا ، یا اسے پھلانگنے کی کوشش کی تو معاشرہ اسے اچھا نہ سمجھے گا ،لیکن انسان کا ایک فلسفہ یا نکتہ پر ہمیشہ قائم رہنا بھی درست نہیں ہوتا بلکہ کبھی غلط بھی ہوجاتا ہے ۔اور کبھی کبھی ایسی غلطیوں کو سمجھنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے ۔یا پھر اپنے بنائے گئے نکتہ پر اصرار خود انسان کو لے ڈوبتا ہے ۔ 
محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

بے حس ہوتا معا شرہ


محمد علم اللہ
ہم میڈیا سے وابستہ افراد روزانہ ہی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے لاشوں کے انبار ، لوگوں کی دردناک موت ، کٹے پھٹے بدن اور دماغ تک باہر نکل آئے سر دیکھتے ہیں ۔ روزانہ ایسی چیزیں دیکھنے کی وجہ سے یہ معمول کی شئے نظر آنے لگتی ہے ۔ لیکن کبھی کبھی کچھ تصاویر ایسی آجاتی ہیں جو ذہن و دماغ کو ہلا کر کے رکھ دیتی ہیں۔ کل کی ایسی ہی اس تصویر نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ جس میں ایک مجبور و بے بس شوہر اپنی بیوی کے لاش کو کاندھے پر رکھ کر دس کلومیٹر تک پیدل ہی ڈھونے پر مجبور ہوتا ہے اور بے حس و حرکت افراد تماشائی بنے اسے دیکھتے رہتے ہیں۔ میڈیا والے اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے تو اسٹوری اہم ہے۔ یعنی آپ گاڑی میں بیٹھ کر دم توڑتی انسانیت کی ویڈیو گرافی کر سکتے ہو ۔ اس کو اس چنگل سے نکالنے کی کوشش نہیں کر سکتے ۔ تف ہے ایسی میڈیا پر اور اور ایسے میڈیا کارکنوں پر ،ایسی اسٹوری پر اور ایسی سوچ پر۔ احساس و جذبہ سے عاری ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں ،جہاں انسانیت مر چکی ہے ۔ یہ تصویر سوالات کھڑے کرتی ہے ہمارے ضمیر پر ۔ پارہ پارہ ہوتی انسانیت پر۔ لوگوں کے مرتے احساس پر اور ان سب سے بھی بڑھ کر دم توڑ چکے اس نظام پر جس میں ایک غریب کو اپنی بیوی کی میت کو لے جانے کے لئے ایک عدد گاڑی بھی نہ مل پا تی۔ جب کہ اسی ملک میں دو ٹکے کے جاہل لیڈران کے قافلے کے لئے بھی انتظامیہ منٹوں میں سرکاری گاڑیوں کی قطار لگا دیتی ہے۔ ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں ؟ جہاں ایک غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ۔
پڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

بلا ترتیب خیال


علامہ شبلی علیہ الرحمہ نے کہیں لکھا تھا‍: ہمارے دانشوروں کو کم از کم دو مغربی زبانوں کا علم ہونا چاہئے تاکہ وہ اس زبان کے علم سے بھی واقف ہوں گے اور اپنی بات مضبوطی سے رکھ سکیں گے ۔
تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مادری زبان میں انسان جتنی آسانی سے اپنے ما فی الضمیر کی ادائگی کر سکتا ہے دیگر زبان میں نہیں، ممکن ہے یہ بات غلط بھی ہو لیکن میرا احساس یہی ہے ۔ اس انگریزی کے چکر میں ہم نے اتنا وقت لگایا پھر بھی چار سطریں لکھتے دس مرتبہ سوچنا پڑتا ہے ۔ اور پھر بھی دھڑکا لگا رہتا ہے خدا جانے درست ہے کہ نہیں ۔محمد علم اللہپڑھنے کے لئے آپ کا شکریہ

Pages