چائلڈاسٹار

اخلاق کی اہمیت وضرورت



حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جہاں بہت سارے کمالات وامتیازات وصفات سے مالا مال فرمایا تھا، ان میں سے ایک بڑی صفت”خلق عظیم“ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکے اخلاق کی تعریف بھی فرمائی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنَکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ( سورة القلم:۴) ترجمہ:”اور بے شک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔“

جو شخص بھی آپ ﷺ کے قریب ہوا ،وہ آپ کے اخلاق کو دیکھ کر مفتوح ہوکر رہ گیا۔

خلق کے لغوی معنی ہیں :عادت اور خصلت۔ اور حسن خلق سے مراد خوش اخلاقی، مروت، اچھا برتاؤ، اچھا رویہ اور اچھے اخلاق ہیں۔ اخلاق کی دو قسمیں ہیں۔

۱:-عام اخلاق ۲:-اعلیٰ اخلاق۔

اخلاق کی معمولی قسم یہ ہے کہ آدمی کا اخلاق جوابی اخلاق ہو کہ جو مجھ سے جیساکرے گا، میں اس کے ساتھ ویسا کروں گا۔ یہ اس کا اصول ہو، جو شخص اس سے کٹے وہ بھی اس سے کٹ جائے، جو شخص اس پر ظلم کرے وہ بھی اس پر ظلم کرنے لگے، جو شخص اس کے ساتھ برائی کرے وہ بھی اس کے لئے برا بن جائے، یہ عام اخلاق ہے۔

اس کے مقابلے میں اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواہ کئے بغیر اپنا رویہ متعین کرے۔ اس کا اخلاق اصولی ہو ،نہ کہ جوابی۔ اعلیٰ اخلاقیات اس کا ایک عام اصول ہو، جس کو وہ ہرجگہ برتے، خواہ معاملہ موافق کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ، وہ جوڑنے والا ہو ،حتی کہ اس کے ساتھ بھی جو اس سے براسلوک کرے، اور وہ نظر انداز کرنے والا ہو حتی کہ اس سے بھی جو اس پر ظلم کرتا ہو۔
حضرت حذیفہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تم لوگ امتعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے اور لوگ براکریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے،بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ براسلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔(مشکوٰة المصابیح) اور فرمایا جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو، جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کرو اور جو تمہارے ساتھ بُراسلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

حضرت سعید ابن ہشام تابعی رحمة اللہ علیہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ”کان خلقہ القرآن“ یعنی آپ ﷺکا اخلاق تو قرآن تھا۔

گویا قرآن کی صورت میں مطلوب زندگی کا نقشہ آپ ﷺنے جو دوسروں کے سامنے پیش کیا، خود آپ ﷺاسی نقش میں ڈھل گئے۔

ایک بوڑھی عورت کا قصہ مشہور ہے وہ ہر روز آپ ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی، ایک دن حضور ﷺ اس کے مکان کے پاس سے حسب معمول گزرے تو آپ ﷺ پر کسی نے کوڑا نہ پھینکاتو آپ ﷺنے محلہ والوں سے دریافت کیا کہ فلاں مائی خیریت سے تو ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو بیمار ہے، آپ ﷺ یہ سنتے ہی صحابہ کو ساتھ لے کر اس بڑھیا کی تیمار داری کے لئے اس کے گھر چلے گئے، مائی نے دیکھا یہ وہی شخص ہے جس پر میں روزانہ کوڑا پھینکا کرتی تھی مگر وہ برا ماننے اور کچھ کہنے کے بجائے خاموشی اور شرافت سے برداشت کرکے چلاجاتا تھا اور آج وہی میری تیمارداری کے لئے آگیا ہے، یہ دیکھ کروہ بہت متأثر ہوئی اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ یہ عام انسان نہیں، واقعی خدا کا پیغمبر ہے،اسے اپنی غلطی کااحساس ہوگیا،اس نے حضور ﷺ سے معافی مانگی اور آپﷺ پر ایمان لے آئی، گویا یہ آپ ﷺکے اخلاق کا اثر تھا، اسی طرح بے شمار واقعات ایسے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اخلاق انسان کی وہ صلاحیت ہے جس میں انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے اور اگر انسانیت میں سے اخلاق کی صفت نکال لی تو باقی صرف حیوانیت رہ جاتی ہے۔

حضرت معاذ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کو جب رسول اللہ ﷺ نے یمن کا عامل بناکر بھیجا تو وصیت فرمائی کہ: لوگوں کے ساتھ آسانی کا برتاؤ کرنا اور سختی سے پیش نہ آنا اور ان کو خوشخبری سنانا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں متفق رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔(بخاری) ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
قیامت کے روز مجھے سب سے زیادہ محبوب اور مجھ سے سب سے زیادہ قریب تر وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہوں گے۔ دین اسلام میں اخلاق کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ ﷺ دعا مانگتے تھے: "اے اللہ جس طرح تونے مجھے خوبصورت پیدا فرمایا ہے اسی طرح مجھے خوبصورت اخلاق بھی عطا فرما۔" آپ ﷺ نے اخلاق حسنہ کے لئے اتنی دعائیں اور اتنی تاکید اس لئے فرمائی ہے کہ انسان اخلاق ہی سے بنتا ہے اور عمدہ سیرت سب سے بڑی سفارش ہوتی ہے اور انسان کی پہچان بھی اخلاق سے ہوتی ہے۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے پیارے نبی ا والے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی جملہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دلوں کو احسان سے شکار کرنا


جناب شیخ سعدی علیہ رحمۃ بتاتے ہیں کہ انہوں نے راستے میں ایک جوان کو دیکھا، اس کی پیچھے پیچھے اس کی بکری بھی بھاگتی آ رہی تھی تو شیخ سعدی نے کہا کہ یہ بکری جو تیرے پیچھے پیچھے آتی ہے اس کی وجہ کیا یہ رسی ہے جس سے یہ بندھی ہوئی ہے۔

اس پر اس جوان نے اس بکری کے پٹے کو کھول دیا تو بکری ادھر ادھر دائیں بائیں دوڑنے لگی۔ وہ اسی طرح راستے میں اس کے پیچھے آتی رہی کیونکہ بکری نے جوان کے ہاتھ سے سر سبز چارہ کھایا تھا، پھر جب وہ سیر اور کھیل کود سے واپس ہوا اور مجھے دیکھا تو بولا اے صاحب ، اس جانور کو یہ رسی میرے ساتھ لے کر نہیں چلتی ، بلکہ اس کی گردن میں میرے احسان کا پٹہ بندھا ہوا ہے۔
ہاتھی نے جو مہربانی اپنے فیل بان میں دیکھی ہے اس وجہ سے وہ مستی میں بھی اس پر حملہ نہیں کرتا۔ لہذا اے نیک مرد!برے لوگوں پر بھی نوازش اور مہربانی ہی کر ، کیونکہ ایک کتا بھی جس نے تیری روٹی کھائی ہے وہ تجھ سے وفا داری کرتا ہے۔

(شیخ سعدی شیرازی کی "بوستان" سے اقتباس)

بہلول کی باتیں


(مسعود احمد برکاتی)
کہتے ہیں ایک بار شیخ جنید بغدادی سفر کے ارادے سے بغداد روانہ ہوئے۔ حضرت شیخ کے کچھ مرید ساتھ تھے۔ شیخ نے مریدوں سے پوچھا: "تم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے؟"

لوگوں نے کہا: " حضرت! وہ تو ایک دیوانہ ہے۔ آپ اس سے مل کر کیا کریں گے؟"

شیخ نے جواب دیا: "ذرا بہلول کو تلاش کرو۔ مجھے اس سے کام ہے۔"

مریدوں نے شیخ کے حکم کی تعمیل اپنے لیے سعادت سمجھی۔ تھوڑی جستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ شیخ، بہلول کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔ شیخ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا: "تم کون ہو؟"

"میں ہوں جنید بغدادی۔"

"تو اے ابوالقاسم! تم ہی وہ شیخ بغدادی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو؟"

"جی ہاں، کوشش تو کرتا ہوں۔"

"اچھا تو تم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو ں گے؟"

"کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں اور اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں، دوسروں کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔"

پھر دوبارہ کہا: "جو لقمہ بھی کھاتا ہوں، الحمدللہ کہتا ہوں۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہوں اور فارغ ہونے کے بعد بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔"

یہ سن کر بہلول اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ جنید کی طرف جھٹک دیا۔ پھر ان سے کہا: "تم انسانوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔"

یہ کہہ کر بہلول نے اپنا راستہ لیا۔ شیخ کے مریدوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔"

"ہاں! دیوانہ تو ہے، مگر اپنے کام کے لیے ہوشیاروں کے بھی کان کاٹتا ہے۔ اس سے سچی بات سننا چاہیے۔ آؤ، اس کے پیچھے چلیں۔ مجھے اس سے کام ہے۔"

بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔ شیخ بغدادی اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے شیخ سے پھر یہ سوال کیا: "کون ہو تم؟"

"میں ہوں بغدادی شیخ! جو کھانا کھانے کا طریقہ نہیں جانتا۔"

بہلول نے کہا: "خیر تم کھانا کھانے کے آداب سے ناواقف ہو تو گفتگو کا طریقہ جانتے ہی ہوں گے؟"

شیخ نے جواب دیا: "جی ہاں جانتا تو ہوں۔"

"تو بتاؤ، کس طرح بات کرتے ہو؟"

"میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں۔ بےموقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلق خدا کو اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ باطنی اور ظاہر ی علوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں۔" اس کے ساتھ گفتگو کے آداب سے متعلق کچھ اور باتیں بھی بیان کیں۔

بہلول نے کہا: "کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف رہے۔ تمھیں تو بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔" پھر شیخ سے منہ پھیرا اور ایک طرف چل دیے۔ مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا۔ انہوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔ آپ دیوانے سے بھلا کیا توقع رکھتے ہیں؟"

"بھئی! مجھے تو اس سے کام ہے۔ تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔" اس کے بعد شیخ نے پھر بہلول کا پیچھا کیا۔ بہلول نے مڑ کر دیکھا اور کہا: "تمھیں کھانا کھانے اور بات کرنے کے آداب نہیں معلوم ہیں ۔ سونے کا طریقہ تو تمھیں معلوم ہی ہو گا؟"

شیخ نے کہا: "جی ہاں! معلوم ہے۔"

"اچھا بتاؤ، تم کس طرح سوتے ہو؟"

"جب میں عشا کی نماز اور درود و وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔" یہ کہہ کر شیخ نے سونے کے وہ آداب بیان کیے جو انہیں بزرگان دین کی تعلیم سے حاصل ہوئے تھے۔


بہلول نے کہا: "معلوم ہوا کہ تم سونے کے آداب بھی نہیں جانتے۔"

یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا: "اے حضرت! میں نہیں جانتا ۔ اللہ کے واسطے تم مجھے سکھا دو۔"

کچھ دیر بعد بہلول نے کہا: "میاں! یہ جتنی باتیں تم نے کہیں، سب بعد کی چیزیں ہیں۔ اصل بات مجھ سے سنو۔ کھانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہیے۔ اگر غذا میں حرام کی آمیزش (ملاوٹ) ہو جائے تو جو آداب تم نے بیان کیے، ان کے برتنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور دل روشن ہونے کے بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔"

شیخ جنید نے بےساختہ کہا: "جزاک اللہ خیرأً۔" (اللہ تمہارا بھلا کرے)

پھر بہلول نے بتایا: "گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے دل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اس کا بھی خیال رہے کہ جو بات کہی جائے ، اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اگر کوئی غرض یا دنیاوی مطلب کا لگاؤ یا بات فضول قسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے گی، تمہارے لیے وبال بن جائے گی، اس لیے ایسے کلام سے خاموشی بہتر ہے۔"

پھر سونے کے متعلق بتایا: "اسی طرح سونے سے متعلق جو کچھ تم نے کہا وہ بھی اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تم سونے لگو تو تمہارا دل بغض، کینہ اور حسد سے خالی ہو۔ تمہارے دل میں دنیا اور مالِ دنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔"

بہلول کی بات ختم ہوتے ہی حضرت جنید بغدادی نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لیے دعا کی۔ شیخ جنید کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ جو بات نہ جانتا ہو اسے سیکھنے میں ذرا بھی نہ شرمائے۔

حضرت جنید اور بہلول کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے۔

کاٹھ کا پتلا


ایک دن میں نے کھیتوں کے کاٹھ کے پتلے سے کہا۔۔۔ تم اس کھیت میں کھڑے اکتا گئے ہو گے۔۔۔۔۔
اس نے کہا۔۔۔۔ "جانوروں کو ڈرانے کی لذت اس قدر عمیق اور دیرپا ہے کہ میں اس سے کبھی نہیں اکتاتا۔۔۔۔" میں نے ایک منٹ سوچ کر کہا۔۔۔۔ "یہ سچ ہے کیونکہ میں نے بھی اس مسرت کا مزاچکھا ہے۔" 
اس نے کہا۔۔۔۔ "ہاں وہی لوگ جن کے جسم میں گھاس پوس بھری ہو اس لذت سے آشنا ہو سکتے ہیں۔۔۔۔"
یہ سن کر میں وہاں سے چل دیا لیکن مجھے یہ خبر نہیں کہ اس نے میری تعریف کی یا میرا مضحکہ اڑایا۔ 
ایک برس گزر گیا اور اس مدت میں وہ کاٹھ کا پتلا ایک فلاسفر بن چکا تھا۔ اور جب میں دوبارہ اس کے پاس سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ اس کے سر پر دو کوؤں نے گھونسلا بنا رکھا ہے۔
(حکایتِ خلیل جبران)

قرآن کریم میں بیان کئے گئے درختوں کا پارک



 اگر آپ قرآن کریم میں بیان کئے گئے تمام درختوں اور پودوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر اس کے لئے دبئی کا رخ کریں جہاں مقامی انتظامیہ ایک ایسا وسیع پارک تعمیر کر رہی ہے جس میں قرآن کریم ميں بیان کئے گئے 54 میں سے 51 درختوں اور پودوں کو لگایا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق دبئی کے پروجیکٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرجنرل محمد نور مشروم کا کہنا تھا کہ قرآن میں 54 درختوں اور پودوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں انار، زیتون، تربوز، کیلے، گندم ، پیاز ، املی، انگور، نیاز بو ،کددو اور دیگر شامل ہیں، 158 ایکٹر وسیع رقبے پر مشتمل پارک میں اب تک 31 درختوں اور پودوں کو لگایا جا چکا ہے جب کہ بقیہ 20 کو تیسرے مرحلے ميں لگایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک میں بیان کئے گئے 3 پودے اس وقت دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ۔
محمد نور مشروم نے کہا کہ پارک میں ایک ایئرکنڈیشنڈ سرنگ بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس میں قرآن پاک کے کرشمے اور دیگر بیان کئے گئے واقعات سے متعلق بھی آگاہی دی جائے گی جب کہ پارک کے درمیان میں ایک جیل بھی بنائی جا رہی ہے۔

اللہ کی محبت کا بیج


کسان ہل جوتتا ہے، کھاد ملاتا ہے، مٹی نرم کرتا ہے، بیج ڈالتا ہے، پانی دیتا ہے اور پھر پودے کے انتظار میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ پھولوں کو پودوں سے زبردستی کھینچ کر نہیں نکالا جا سکتا۔ اس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاموشی کے ساتھ اورجرأت کے ساتھ۔۔۔۔۔ اور محبت کے ساتھ !!!
اللہ کی محبت کا بیج بھی ایسے ہی بویا جاتا ہے اور پھر اسی طرح روحانی مراد کا بھی انتظار کیا جاتا ہے۔ خاموشی سے محبت سے، جرأت سے! جو کوئی بھی اس میں بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ مراد حاصل نہیں کرتا۔ بے صبری بار آوری کے لیے مناسب کھاد نہیں۔
ابدی پھولوں کے حصول کے لیے ابدی انتظار کی ضرورت ہے اور جو ابدی انتظار کا تہیہ کر لیتا اس کے لیے فٹ سے بھی دروازہ کھل جایا کرتا ہے۔ ہمارے اندر، اندر کی طاقت موجود ہے اور کافی مقدار میں موجود ہے۔ لیکن ہم بے صبری کے ساتھ اس کو گنوا دیتے ہیں۔
گدلے جوہڑ کے اندر اپنے چھکڑوں کو تیزے سے ہانکتے ہوئے گذارنا اور بھی گدلاہٹ پیدا کرتا ہے۔ آرام سے چلو گے تو سب گار بیٹھ جائے گی۔۔۔۔۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم محض شاہد بنیں۔ دیکھنے والے بنیں۔ ذہن خودبخود پاکیزہ ہو جائے گا۔ ہمیں ذہن کو پاکیزہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ساری گڑبڑ اس ذہن کو پاکیزہ بنانے سے پیدا ہوتی ہے۔ آرام سے کنارے پر بیٹھ کر
نظارہ کریں اور پھر دیکھیں کیا نظارہ ابھرتا ہے۔

(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)

بچے


خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بےچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔ میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بےچارے بہت ہی بےزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہوجاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے، رات کی دیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سُر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اُٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔ ان ہی مرزا صاحب کے گھر جب میں جاتا ہوں تو ایک ایک بچہ کو بلا کر پیار کرتا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں۔ کئی دفعہ دل میں آیا مرزا صاحب سے کہوں حضرت آپ کی ان نغمہ سرائیوں نے میری زندگی حرام کر دی ہے، نہ دن کو کام کرسکتا ہوں نہ رات کو سوسکتا ہوں۔ لیکن یہ میں کہنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ان کا ایک بچہ کمرے میں آجاتا ہے اور مرزا صاحب ایک والدانہ تبسم سے کہتے ہیں۔ اختر بیٹا!ان کوسلام کرو، سلام کرو بیٹا، ان کا نام اختر ہے۔ صاحب بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، کبھی ماں کو دق نہیں کرتا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی نالائق ہے جو رات کو دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کے روتا ہے۔ مرزا صاحب قبلہ تو شاید اپنے خراٹوں کے زور شور میں کچھ نہیں سنتے، بدبختی ہماری ہوتی ہے لیکن کہتا یہی ہوں کہ ”یہاں آؤ بیٹا“ گٹھنے پر بٹھا کر اس کا منہ بھی چومتا ہوں۔ خدا جانے آج کل کے بچے کس قسم کے بچے ہیں۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم بقرعید کو تھوڑا سا رولیا کرتے تھے او رکبھی کبھار کوئی مہمان آنکلا تو نمونے کے طور پر تھوڑی سی ضد کرلی، کیونکہ ایسے موقعہ پر ضد کارآمد ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ کہ چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہیں۔ ایسی مشق ہم نے کبھی بہم نہ پہنچائی تھی۔
(پطرس بخاری کے مضمون "بچے" سے اقتباس)

میرا اللہ کتنا اچھا ہے...


اخبار میں ایک اشتہار دیکھ رھا تھا... "ہم اپنے بیٹے کو بوجہ نافرمانی، گستاخی، بدچلنی و آوارہ گردی اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے عاق کرتے ہیں... ہم اس کے کسی نفع نقصان کے ذمہ دار نہیں ہونگے... ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا... "

میرا اللہ کتنا اچھا ہے...

میں بدچلن ہوں، آوارہ ہوں، گستاخ ہوں، نافرمان ہوں لیکن میرا اللہ کبھی مجھے اپنی نعمتوں سے عاق نہیں کرتا، مجھ سے قطع تعلقی کا اشتہار نہیں نکالتا، میری روٹی روزی سے غافل نہیں ہوتا، لوگوں کو بتا کر مجھے ذلیل و رسوا نہیں کرتا... خاموشی سے دروازہ کھلا چھوڑ کر میرے لوٹنے کا دن رات انتظار کرتا ہے...

میرا اللہ کتنا اچھا ہے...

اور جب کبھی اپنی شامت اعمال کے نتیجے میں کسی تکلیف میں مبتلا ھو کر اسے پکارتا ہوں تو میری سن کر مجھے ڈھارس بھی دیتا ہے اور اس تکلیف سے مجھے نکالنے کی سبیل بھی کرتا ہے جس میں خود اپنی غلطی سے پھنس جاتا ہوں.. پھر کبھی کسی رات پشیمانی سے مجبور ھوکر آنسو بہاتے ہوئے اس سے شرمسار ہوتا ہوں تو وہ ماں سے بھی زیادہ تڑپ کے ساتھ اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے...

میرا اللہ کتنا اچھا ہے...!!

محبت کی حقیقت


مجھے معلوم ہے آپ کو سکون اور مسرت کی تلاش ہے- لیکن سکون تلاش سے کس طرح مل سکتا ہے- سکون اور آسانی تو صرف ان کو مل سکتی ہے جو آسانیاں تقسیم کرتے ہیں، جو مسرتیں بکھیرتے پھرتے ہیں- اگر آپ کو سکون کی تلاش ہے تو  لوگوں میں سکون تقسیم کرو، تمھارے بورے بھرنے لگیں گے...........طلب بند کر دو .........!

یہ دولت صرف دینے سے بڑھتی ہے- احمقوں کی طرح بکھیرتے پھرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے- الله سائیں کے طریق نرالے ہیں- سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا، بادشاہ کی طرح جانا، جھومتے جھامتے، دیتے بکھیرتے ................ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور بھکاری کون ہوتا ہے- وہ جو مانگے، جو صدا دے، تقاضا کرے اور شہنشاہ کون ہوتا ہے جو دے عطا کرے- لٹاتا جائے پس جس راہ سے بھی گزرو بادشاہوں کی طرح گزرو شہنشاہوں کی طرح گزرو .......... دیتے جاؤ دیتے جاؤ- غرض و غایت کے بغیر- شرط شرائط کے بغیر-

(اشفاق احمد کی "زاویہ ٣" سے اقتباس)

علم وفہم اور ہوش


جاننا چاہیے کہ ذہن وہ نوکر ہے، جس نے اپنے مالک کے گھر پر اس کی غیر موجودگی میں قبضہ کر رکھا ہے۔
کیا یہ نوکر چاہے گا کہ اس کا مالک واپس آجائے!
وہ اپنے مالک کی واپسی بالکل پسند نہیں کرے گا۔ ایسے ایسے حیلے، اور ایسی ایسی ترکیبیں سوچتا رہے گا کہ گھر کا مالک گھر واپس نہ آسکے۔ اس کے بہانوں اور ترکیبوں میں سب سے بڑی ترکیب یہ ہو گی کہ خود ہی کو گھر کا مالک سمجھنے لگ جائے۔ اور خود ہی سب کو بتاتا پھرے کہ وہی بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ چنانچہ ذہن کبھی بھی شعور کو اندر داخل ہونے نہیں دے گا۔ جو اصل مالک خانہ ہے۔ لیکن اگر شعور کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں اور حقدار کو اس کا حق واپس دلانا چاہتے ہیں۔ تو پھر دماغ کو ریلیکس کرنے کا طریق اپنا لیں، اس کو کارکردگی اور عمل سے نکالیں۔ اسے خالی کر دیں، اسے کھلا چھوڑ یں۔ اسے نیوٹرل کلچ میں ڈال دیں۔ اس کی موت واقع ہونے لگے گی۔ اور جونہی اس کی موت واقع ہوگی گھر کا قبضہ اس کے مالک کو مل جائے گا۔

(اشفاق احمد کی کتاب "زاویہ 3" سے اقتباس) 

آرام کی قدر


ایک بارشاہ ایک عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا. غلام نے کبھی دریا نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کشتی میں سوار ہوا تھا. پانی سے ڈر کر اُس نے رونا دھونا شروع کردیا. بادشاہ کو غلام کا رونا دوھونا ناگوار گزرا. کشتی میں ایک دانا شخص سوار تھا جو بادشاہ سے بولا آپ حکم دیں تو میں اسے خاموش کراوا سکتا ہوں. بادشاہ نے کہا بڑی مہربانی ہوگی. دانا کے کہنے پر لوگوں نے غلام کواُٹھا کر دریا میں پھینک دیا. چند غوطے کھانے کے بعد غلام کو دریا سے با ہر نکال لیا گیا. باہر آنے کے بعد وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور اُس کو سکون ہو گیا. بادشاہ کو تعجب ہوا اور دانا سے دریافت کیا کہ اس میں کیا حکمت تھی تو جواب ملا کہ غلام نے اس سے قبل ڈوبنے کی تکلیف نہیں اُٹھا ئی تھی اور کشتی میں محفوظ رہنے کی قدر سے نا واقف تھا. آرام کی قدر وہی کرتا ہے جو کسی مصیبت میں پھنس جائے.
(حکایت ِ سعدی)

سکندر اعظم


یہ بادشاہ جو پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلیٰ اور پاکستان کے ایک صدر کا ہم نام تھا، مقدونیہ کے بادشاہ فیلقوس کا بیٹا تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد گدی پر بیٹھا جو اس کی سعادت کی دلیل ہے۔ باپ کی زندگی میں بیٹھ جاتا تو باپ کیا کر لیتا۔مورخین نے سکندر کی شجاعت اور دوسری صلاحیتوں کی بہت تعریف کی ہے۔ مشہور مورخ سہراب مودی بھی اپنی ایک فلم کے اسکرپٹ میں لکھتے ہیں کہ سکندر بہت اچھا بادشاہ تھا۔
سکندر یونان سے فوج لے کر نکلا اور ایران پہنچا۔ یہاں پہنچتے ہی اس نے دارا کو مارا اور پھر ہندوستان کی راہ لی۔ جہلم کے قریب اس کی مڈبھیڑ راجا پورس سے ہوئی۔ اس زمانے میں راجاؤں کے نام بڑے اور درشن چھوٹے ہوتے تھے۔ جتنی بڑی راجہ پورس کی سلطنت تھی اتنی بڑی تو پنجاب کے کئی زمینداروں کی جاگیریں ہیں۔خیر لڑائی ہوئی۔ چونکہ لڑائی میں ایک فریق کا ہارنا ضروری تھا اور سکندر کی حیثیت ایک طرح سے مہمان کی تھی، لہٰذا پورس ہار گیا۔ پھر پکڑا گیا اور سکندر کے سامنے پیش ہوا۔ سکندر نے دعا سلام، راضی باضی اور بھلو چنگو کے بعد پوچھا "اے راجا پورس! بتا تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟"
پورس نے کہا "اے سکندر اعظم! حیف کے تو اتنا بڑا بادشاہ ہو کر غلط زبان بولتا ہے۔ یہ کہاں کی بولی ہے۔ ایسے تو گنوار بولتے ہیں۔ اب رہا سلوک کا سوال، بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ وہ سلوک کر جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔"
سکندر نیا نیا بادشاہ ہوا تھا،اسے کیا معلوم تھا کہ بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کیاسلوک کرتے ہیں۔ اس نے اپنے درباری مورخوں سے پوچھا۔ انھوں نے مثالیں دے کر جو کچھ بتایا اس کی روشنی میں سکندر نے کھڑے کھڑے تلوار نکال کر پورس کی جھٹ سے گردن اڑادی۔ بعد میں پورس پچھتایا کہ اس نے ایسی احمقانہ فرمائش ہی کیوں کی؟
واضح رہے کہ بعد میں سکندر بھی مر گیا جس کا پس منظر بہت افسوسناک ہے۔ مبینہ طور پر جناب خضر نے سکندر سے کہا تھا کہ چلو میرے ساتھ آب حیات کے چشمے پر دو گھونٹ پانی پی لینا پھر ابد تک دنیائے فانی میں دندانا اور لوگوں کے سینے پر مونگ دلنا۔ وہاں پہنچ کر سارا پانی خضر صاحب خود پی گئے اور سکندر کو سوکھا لوٹایا۔ جو کیا خضر نے سکندر سے، وہی کیا حیات نےسکندر حیات سے کیونکہ سکندر حیات تو مدت ہوئی لد گئے اور خضر حیات جو ان کے وزیر تھے، ساٹھے پاٹھے اپنی جاگیر پر بیٹھے ہیں۔
(از: ابنِ انشاء)

کسی غمگسار کی محنتوں



کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا

جو جمالِ روئے حیات تھا، جو دلیل راہِ نجات تھا
اسی رہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا
مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

یہ میری عقیدت بے بسر ،یہ میری ریاضت بے ہنر
مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

تیرا نقشِ پا تھا جو رہنما، تو غبارِ راہ تھی کہکشاں
اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرادیا

کبھی اے عنایتِ کم نظر ! تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی
جو تبسم رخِ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا

لالٹین کی باتیں


ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا:

کیوں بی! تم کو رات بھر جلنے سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی؟

بولی: آپ کا خطاب کس سے ہے؟ بتی سے ، تیل سے ، ٹین کی ڈبیہ سے ، کانچ کی چمنی سے یا پیتل کے اس تار سے جس کو ہاتھ میں لے کر لالٹین کو لٹکائے پھرتے ہیں۔ میں تو بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوں۔

لالٹین کے اس جواب سے دل پر ایک چوٹ لگی ۔ یہ میری بھول تھی۔ اگر میں اپنے وجود کی لالٹین پر غور کرلیتا تو ٹین اور کانچ کے پنجرے سے یہ سوال نہ کرتا۔

میں حیران ہوگیا کہ اگر لالٹین کے کسی جزو کو لالٹین کہوں تو یہ درست نہ ہوگا اور اگر تمام اجزاء کو ملا کر لالٹین کہوں تب بھی موزوں نہ ٹھہرے گا، کیونکہ لالٹین کا دم روشنی سے ہے۔ روشنی نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ مگر دن کے وقت جب لالٹین روشن نہیں ہوتی ، اس وقت بھی اس کا نام لالٹین ہی رہتا ہے۔ تو پھر کس کو لالٹین کہوں۔ جب میری سمجھ میں کچھ نہ آیا ، تو مجبوراً لالٹین ہی سے پوچھا:

میں خاکی انسان نہیں جانتا کہ تیرے کس جزو کو مخاطب کروں اور کس کو لالٹین سمجھوں۔

یہ سن کر لالٹین کی روشنی لرزی ، ہلی، کپکپائی۔

گویا وہ میری ناآشنائی و نادانی پر بےاختیار کھلکھلا کر ہنسی اور کہا:

"اے نورِ خدا کے چراغ ، آدم زاد ! سن، لالٹین اس روشنی کا نام ہے جو بتی کے سر پر رات بھر آرا چلایا کرتی ہے۔ لالٹین اس شعلے کو کہتے ہیں جس کی خوراک تیل ہے اور جو اپنے دشمن تاریکی سے تمام شب لڑتا بھڑتا رہتا ہے۔ دن کے وقت اگرچہ یہ روشنی موجود نہیں ہوتی لیکن کانچ اور ٹین کا پنجرہ رات بھر ، اس کی ہم نشینی کے سبب لالٹین کہلانے لگتا ہے۔"

"تیرے اندر بھی ایک روشنی ہے۔ اگر تو اس کی قدر جانے اور اس کو پہچانے تو سب لوگ تجھ کو روشنی کہنے لگیں گے ، خاک کا پتلا کوئی نہیں کہے گا۔”

دیکھو ،خدا کے ولیوں کو جو اپنے پروودگار کی نزدیکی و قربت کی خواہش میں تمام رات کھڑے کھڑے گزار دیتے تھے، تو دن کے وقت ان کو نورِ خدا سے علیحدہ نہیں سمجھا جاتا رہا ، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی ان کی وہی شان رہتی ہے۔

تو پہلے چمنی صاف کر۔ یعنی لباسِ ظاہری کو گندگی اور نجاست سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کے بعد ڈبیا میں صاف تیل بھر۔ یعنی حلال کی روزی کھا، اور پھر دوسرے کے گھر کے اندھیرے کے لئے اپنی ہستی کو جلا جلا کر مٹا دے۔ اس وقت تو بھی قندیلِ حقیقت اور فانوسِ ربانی بن جائے گا۔
(از: خواجہ حسن نظامی)

نیکی کا پھل



کسی نے ایک شخص کو ، جس نے کبھی کسی یتیم کے پیر سے کانٹا نکالا تھا، خواب میں دیکھا کہ وہ باغوں کی سیر کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اس کانٹے کی بدولت مجھ پر کس قدر پھول کھلے ہیں۔ لہذا جب تک ممکن ہو سکے لوگوں پر رحم کروکیونکہ جب تک انسان دوسروں پر رحم کرتا رہے گا، اس پر بھی رحمت ہوتی رہے گی۔ یعنی جب انسان کسی پر شفقت کرتا ہے تو رحمت خدا و ندی کا مستحق ہو جاتا ہے۔

جب کسی پر رحم کرو تو اس عمل پر غرور نہ کرنا اور یہ نہ سوچنا کہ تم نے جس کی مدد کی ہے وہ تم سے کم تر ہے۔ اگر زمانے کی گردش نے اسے گرا دیا ہے تو کیا اس زمانے کی گردش اب ختم ہو گئی ہے ۔ اسی طرح جب لوگوں کو دعا گو دیکھو تو اس وقت پروردگار کی نعمتوں کا شکر ادا کیا کرو۔ یہ بھی جان لو کہ بہت سے لوگوں کی نظریں امید سے تم پر لگی ہوئی ہیں اور مہربانی اور کرم کرناتو سرداروں کی سیرت ہوتی ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالٰی کی مہربانی اور رحمت ہے کہ تمہیں کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے میں یہ کہتا ہوں کہ لطف و کرم کرنا تو پیغمبروں کا شیوا ہے۔
( حکایتِ شیخ سعدیؒ، بوستان: نمبر3)

عقل کی حقیقت



ساڑھے پانچ فٹ کے ایک انسان کو”عقل“ نامی ایک ایسے 'ڈیوائس' کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے جس کے استعمال سے وہ نہ صرف زندگی کے ہر نشیب و فراز سے واقف ہو جاتا ہے بلکہ سمندروں کی گہرائیوں، پہاڑوں کی اونچائیوں، ہواؤں کے بہاؤ کو ناپنے لگتا ہے اور اِن کی حسبِ کیفیت اِن سے اپنے رویوں کا تعین کرتا ہے اور اپنی زندگی کو محورِ تعیش عطا کر کے اپنی عقل پر اِترانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پھر وہ رفتہ رفتہ اِسی عقل کو، عقل دینے والے کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں پر لگا دیتا ہے۔ لیکن اُس کی عقل کی حقیقت تب کھلتی ہے جب وہ اپنے اختیارات کا حدود آشنا ہو جاتا ہے اور یہ مقام وہ ہوتا ہے جہاں سے پلٹنا اُس کے بس کی بات نہیں ہوتی یعنی وہ 'پوائنٹ آف نو ریٹرن' پر پہنچ جاتا ہے۔ اِس لیے کہ سمندر بپھر جاتے ہیں، پہاڑ آتش فشاں بن کر لاوا اُگلنے لگتے ہیں، ہوائیں آندھیوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور بگولے اِنسانی عقل ہی کو نہیں خود انسان ہی کو اُڑا لے جانے کے لیے تیار رہتے ہیں، پاؤں تلے زمین کھسکنے لگتی ہے۔ اُس کی قوت و حشمت اور قابلیت و صلاحیت بے حقیقت ہو جاتی ہے۔ تب اُسے اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے، وہ سارا شرک بھول کر ایک ہی خالق و مالک کے آگے جھکنے پر آمادہ ہوتا ہے اور اِسی بحران میں وہ شرک کو بھولنا چاہتا ہے اور خلوص کے ساتھ صرف اپنے خالق کو پکارنے لگتا ہے۔ لیکن بقول شاعر;

                                  جب زمین پھٹتی ہے آتا ہے سمندر میں اُبال
                                  تب تو فرعون بھی اقرارِ خدا کرتے ہیں
(از: عزیز بلگامی)

تھری ڈی پرنٹنگ


 کیا تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی دنیا میں نیا صنعتی انقلاب برپا کرنے والی ہے؟  بچوں کو کھلونوں کا "کارخانہ" گھر میں ہی ملے گا۔ نہایت قلیل عرصے میں دنیا نے تیزی سے ترقی کی ہے اور ہم ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ کمپیوٹرٹیکنالوجی میں ہونے والی شب و روز ترقی ایک جدید ٹیکنالوجی یعنی تھری ڈی پرنٹنگ تک پہنچ چکی ہے۔ تھری ڈی پرنٹنگ کیا ہے اور ہم اس سے کیا کام لے سکتے ہیں ؟اس بارےمیں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک ایسا چھوٹا سا گھریلو کارخانہ ہے جس کی مدد سے آپ کوئی بھی چیز تیار کر سکتیں ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین اسے انٹرنیٹ سے بھی بڑی ایجاد تصور کرتے ہیں۔ 
تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے کم وزن اور پائیدار  مصنوعی جسمانی اعضاء بنائے جاسکتے ہیں۔ 

آج پرنٹرایک اہم ضرورت بن چکا ہے اور تقریباً ہر کمپیوٹر سے ایک پرنٹر منسلک ہے جو ہماری لکھی ہوئی تحریر کاغذ پر چھاپنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ کے گھر میں ایک ایسا پرنٹر ہو جو آپ کے کمپیوٹرمیں کسی تین جہتی( تھری ڈی) ماڈل کو حقیقت کا روپ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔جس کے ذریعے آپ اپنے بچوں کے لئے نت نئے کھلونے، کسی بحری جہاز، ہوائی جہاز، کاراور دیگر آٹوموبائلز کے ماڈلز، اپنے موبائل اور روز مرہ کے استعمال کی دیگر اشیاء خود تیار کر سکیں گے۔ یہ باتیں کسی سائنس فکشن ناول یا سٹارٹریک طرز کی سائنسی فلم کی لگتیں ہیں لیکن تھری پرنٹر ز ایک حقیقت بننے والی ایسی مشین ہے جو کسی بھی چیز کو مطلوبہ سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انجینئرز اور ڈیزائنر زگزشتہ کئی سالوں سے تھری ڈی پرنٹر استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ استعمال محدود پیمانے پر تھا اور صرف عملی تجربے سے قبل آگاہی کے لیے کیا جاتا تھا، آج تھری ڈی پرنٹرزکی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ 
تھری ڈی پرنٹڈ جوتے تھری ڈی پرنٹرز پلاسٹک سمیت مختلف دھاتوں کوآپ کے ڈیزائن کردہ ماڈل میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ اس کے ذریعے اپنے لئے کار بھی بنا سکتے ہیں۔ جی ہاں! اور ایسا ہوا ہے۔ "یوربی۔ٹو" کے ماہر ڈیزائنر جم کور نے اپنے لئے پلاسٹک کی کار تیار کی ہے۔ اس کار کا پلاسٹک اسٹیل جیسا ہی مضبوط ہے اور وزن بھی نہایت ہی کم ہے۔ تین پہیوں کی کار کا کل وزن صرف 544 کلو گرام ہے۔ جم کور کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی اسے ایک عام کار سے بھی زیادہ مضبوط کار بنا دیں گے۔

یوربی 2، تھری ڈی پرنٹنگ کار اس جدید ٹیکنالوجی کاتجرباتی استعمال ان گنت میدانوں کیا جارہا ہے۔شعبہ طب میں اس کے تجرباتی استعمال میں دانتوں کے کراؤن ، مصنوعی ہڈیاں اور جوڑ تیار کیے گئے ہیں۔جاپان میں اس کے ذریعے انسانی کلون بنانے کی بات سامنے آئی ہے۔مستقبل میں تھری ڈی پرنٹنگ زیورات اور آرکیٹکچر جیسے شعبوں میں استعمال ہونے لگے گی۔


یہ ٹیکنالوجی صرف کھلونوں، کاروں اور دیگر چیزوں کی حد تک محدود نہیں ہوگی بلکہ آپ اس کے ذریعے اپنے من پسند کھانے بھی "پرنٹ" کرسکیں گے۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے تھری ڈی پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانوں سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بھی ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
 اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔
تھری ڈی پرنٹڈ پیزا
اس ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے کسی مخصوص چیز کے لئے اس کے تیار کنندہ کی اجارہ داری کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائیگا۔ خریدار کو اصل تیارکنندہ سے کچھ خریدنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ اپنی مرضی کے کھلونے، برتن ، جوتے، موبائل فون کورز وغیرہ گھر بیٹھے خودتیار کر سکیں گے۔ایک جانب تو یہ ایک سہولت ہوگی لیکن دوسری جانب مصنوعات کی تیاری کے لیے کارخانوں اور مزدوروں کی ضرورت کم ہوجائے گی جو بہرحال عالمی بیروزگاری کا باعث ثابت ہوگی۔ 
اس معزور بچی کے ہاتھوں کو تھری ڈی پرنٹر سے بنے کم وزن ایکسو اسکیلیٹن کی مدد سے کار آمد بنایا گیا ہے۔  ٹیکنالوجی جہاں سہولیات اور آسائشیں بہم پہنچاتی ہیں وہیں کچھ لوگ انہیں منفی مقاصد کے لئے استعمال کر نا شروع کر دیتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک خبر سنی کہ امریکہ میں بندوقوں کے تھری ڈی پرنٹ ایبل ماڈلز پرپابندی لگا دی گئی ہے اور انٹرنیٹ سے ایسی تمام اسلحے کے تھری ڈی ماڈلز ہٹائے جا رہے ہیں۔ڈیفنس ڈسٹریبیوٹڈ نامی متنازعہ گروپ نے ایک مشین گن ،تھر ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس گروپ نے مشین گن کو تیار کرنے کے لیے ایک سال تک کوشش کی جس کا جنوبی آسٹن کے ٹیکساس شہر کے ایک فائرنگ رینج میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا۔ اس ٹیسٹ فائر کی وڈیو نے انٹرنٹ پر جاری ہوتے ہی تہلکہ مچادیا ہے۔ دنیا میں پہلی بار کسی پرنٹر سے "شائع شدہ" گن سے فائر کیا گیا ہے۔ ڈیفنس ڈسٹریبیوٹڈ نامی متنازعہ گروپ جس نے یہ بندوق تیار کی ہے وہ انٹر نیٹ پر دستیاب بلو پرنٹ کے ذریعے مزید اسلحہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یورپ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یوروپول کے سائبر کرائم سنٹر نے کہا ہے کہ "موجودہ مجرم ہتھیار خریدنے کے روایتی ذرائع پر ہی زیادہ انحصار کریں گے۔وقت کے ساتھ جب یہ ٹیکنالوجی لوگوں کے لیے زیادہ آسان اور سستی ہو جائے گی تو ایسے میں ممکن ہے کہ اس کے خطرے بڑھ جائيں۔"اس پرنٹر سے تیار کیے گئے خودکار ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ اس طرح تیار ہونے والا اسلحہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل ہی میں ہے اور اصل سے مہنگا پڑتا ہےلیکن یہ انسانی تباہی کا یک نیا باب کھول دے گا۔ لوگ اپنی مرضی سے، بغیر قانونی مراحل سے گزرے خطرناک اسلحہ گھر بیٹھے بنائینگے اور جہاں مرضی استعمال کریں گے۔ پلاسٹک کا ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے میٹل ڈیٹیکٹرز اور ویپن اسکینرز اس اسلحے کا کھوج نکالنے میں ناکام رہینگے۔
ان پرنٹرز کا دوسرا شدید خطرہ ماحولیاتی ہے۔صنعتی انقلاب نے اس سیارے کو طرح طرح کی زہریلی گیسوں اور کثافتوں سے بھر دیا ہے۔ صنعتی فُضلے کو ٹھکانے لگانا بجائے خود ایک لاینحل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں اگر صارفین کے ہاتھ ایسے پرنٹر لگ جائیں جو، ان کی مرضی کے موافق انھیں چیزیں بنا بنا کر دیے چلے جائیں تو اندازہ کیجیے کہ آلودگیاں، صنعتی فضلہ اور شہری کچرا مزید کتنا بڑھ جائے گااس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے



انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے -

اور بے شک وہ خود بھی اس بات کو خوب جانتا ہے-

اور بلا شبہ وہ مال سے سخت محبّت کرنے والا ہے -

کیا نہیں جانتے اس وقت کو جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے - اور سینوں کے سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے -

بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے خوب واقف ہوگا -

آخری آیت پر نوجوان سمندر خان نیازی کی آنکھوں سے آنسو جھرنوں کی طرح بہنے لگتے - حالانکہ نہ وہ مال سے محبّت کرتا تھا ، نہ اس کے پاس مال تھا - اور نہ ہی اس کے سینے میں کوئی مخفی راز تھا - وہ بس اپنے خدا کی بات سے اور الله کے خوف سے روتا تھا- اور اپنی چھوٹی سی سیاہ داڑھی کو آنسو سے بھگوتا تھا -
(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)

کتے ہمارے عہد کے


علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سرکھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم ہلائے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔
(از: شفیق الرحمان)

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔۔۔



کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔يہ آباديوں ميں، جنگلوں ميں،مولوی اسماعيل ميرٹھي کي کتاب ميں، غرض يہ کہ ہر جگہ پايا جاتا ہے۔کبوتر کي دو بڑي قسميں ہيں۔ نيلے کبوتر اور سفيد کبوتر ۔ نيلے کبوتر کي بڑي پہچان يہ ہے کہ وہ نيلے رنگ کا ہوتا ہے، سفيد کبوتر بالعموم سفيد ہي ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاريخ ميں بڑے بڑے کارنامے انجام ديئے ہيں۔ شہزادہ سليم نے مسماہ مہر النسا کو جب کہ وہ ابھي بے بي نورجہاں تھيں ،کبوتر ہي تو پکڑايا تھا جو اس نے اڑا ديااور پھر ہندوستان کي ملکہ بن گئي۔يہ فيصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے ميں زيادہ فائدے ميں کون رہا؟ شہزادہ سليم؟ نورجہاں؟ يا وہ کبوتر؟ رعايا کا فائدہ ان دنوں کبھي معرض بحث ميں نہ آتا تھا۔پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہي استعمال کرتے تھے۔اس ميں بڑي مصلحتيں تھيں۔بعد ميں آدميوں کو قاصد بنا کر بھيجنے کا رواج ہواتو بعض اوقات يہ نتيجہ نکلا کہ مکتوب اليہ يعني محبوب قاصد ہي سے شادي کر کے بقيہ عمر ہنسي خوشي بسر کر ديتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کي حزب مخالف نے ايک صاحب کو الٹي ميٹم دے کر وائي ملک کے پاس بھيجا تھا۔الٹي ميٹم تو راستے ميں کہيں رہ گيا۔دوسرے روز ان صاحب کے وزير بننے کي خبر اخباروں ميں آگئي۔طوطے کے ہاتھ يہ پيغام بھيجا جاتا تو يہ صورت حال پيش نہ آتي۔

Pages