چائلڈاسٹار

عشق اور حساب کتاب



روایت ہے کہ مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے۔ایک دکان پر جا کر رک گئے۔دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے۔سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا،"عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے،چھوڑو پیسے اور جاؤ۔"
مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر گر پڑے۔دکان دار سخت گھبرایا اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی۔خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،
"مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہو ئے؟"
مولانا رومی نے جواب دیا،  "میں اس بات پر بے ہوش ہوا کے تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح کے دانے گن گن کر گراتا ہوں۔"

گوشت ابھی ہضم نہیں ہوا


کہتے ہیں پرانے زمانے میں کوئی حکیم صاحب تھے جنھوں نے پردہ نشین بیبیوں کی نبض دیکھنے کا یہ طریقہ نکالا کہ رسی کے ایک سرے پر پردہ نشین خاتون کی کلائی باندھتے اور دوسرا سرا پردے کے باہر حکیم صاحب تک پہنچا دیا جاتا۔ حکیم صاحب اتنے ذکی الحس تھے کہ اس پر اپنی انگلیاں رکھ کر نبض کی کیفیت معلوم کرتے اور تشخیص مکمل کر کے نسخہ لکھ دیتے۔

ایک بار کچھ لوگوں کو دل لگی سوجھی، وہ نہایت سنجیدگی سے حکیم صاحب کو بلا کر گھر لے گئے۔ گھر کے اندر رسی کے ایک سرے سے بلی کی ٹانگ باندھ دی اور دوسرا سرا حکیم صاحب کو تھما دیا اور بولے "حضور مریضہ کی نبض دیکھ لیجئے۔" حکیم صاحب نے اپنی انگلیاں رسی پر رکھیں اور فرمانے لگ"“مریضہ کچا گوشت کھا گئی ہے اور وہ ابھی ہضم نہیں ہوا۔"
وہ لوگ بے اختیار ہنس دیئے اور حکیم صاحب کے کمالِ نبض شناسی کے قائل ہو گئے۔

تھرڈ ڈویژن



جینے کی کشمکش میں نہ بیکار ڈالیے

میں تھرڈ ڈویژنر ہوں مجھے مار ڈالیے

پھر نام اپنا قوم کا معمار ڈالیے
ڈگری کو میری لیجیے اچار ڈالیے
کچھ قوم کا بھلا ہو تو کچھ آپ کا بھلا
میرا بھلا ہو کچھ مرے ماں باپ کا بھلا

جاتا ہے جس جگہ بھی کوئی تھرڈ ڈویژنر
کہتے ہیں سب کہ آگیا تو کس لیے ادھر
تو چل یہاں سے تیری نہ ہوگی یہاں گزر
لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر ہوں میں ، مگر
یار رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
ہر شخص مجھ کو آنکھ دکھاتا ہے کس لیے

میں پاس ہو گیا ہوں مگر پھر بھی فیل ہوں
تعلیم کے اداروں کے ہاتھوں میں کھیل ہوں
جس کا نشانہ جائے خطا وہ غلیل ہوں
میں خاک میں ملا ہوا مٹی کا تیل ہوں
اوریونیورسٹی بھی نہیں ہے ریفائنری
صورت بھی تصفیے کی نہیں کوئی ظاہری

اخبار میں نے دیکھا تو مجھ پر ہوا عیاں
ہوتے ہیں پاس وہ بھی نہ دیں جو کہ امتحاں
یعنی کہ آنریری بھی ملتی ہیں ڈگریاں
میں جس زمیں پہ پہنچا وہیں پایا آسماں
ہے آسماں کی گردشِ تقدیر میرے ساتھ
ڈگری ہے اک گناہوں کی تحریر میرے ساتھ

گر ہو سکے تو مانگ لوں اک عمر کو اُدھار
اور امتحان جس کا نہیں کوئی اعتبار
اس امتحاں کی بازی لگاؤں گا بار بار
کہتے ہیں لوگ اس کو یہ مچھلی کا ہے شکار
یہ امتحان مچھلی پھنسانے کا جال ہے
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
 سید ضمیر جعفری

سچ بات عین عبادت ہے


شیخ سعدی فرماتے ہیں ایک بادشاہ کسی نیک فقیر کی بات پر غصہ ہوا تو اسے جیل میں ڈالوا دیااور اس پر مظالم شروع ہو گئے۔ فقیر کے دوستوں نے اسے نصیحت کی کہ بادشاہ کو ناراض کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس پر فقیر نے کہا کہ سچ بات کرنا عین عبادت ہے۔ بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ اب فقیر جیل میں ہی مرے گا اور یہ پیغام ایک غلام کے ذریعے فقیر تک پہنچا دیا۔ اس پر اس مرد نیک نے کہا کہ دنیا کی زندگی میرے لئے ایک گھڑی کے برابر ہے، مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہو جائیں گے، لٰہذا اے بادشاہ، زندگی اس طرح گزار کہ لوگ تیرا ذکر اچھے انداز میں کریں، نہ کہ تیرے مرنے کے بعد تجھ پرلعنت بھیجیں۔

(حکایات شیخ سعدی)

جراثیموں کا خوف


گاڑی کا وہ میکینک کام کرتے کرتے اٹھا اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کیے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ الله کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑ جاؤ گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائینگے، کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول یا صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھی، تو اس نے جواب دیا کہ "صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بہ خود مر جاتے ہیں اور جب بسم للہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہو جاتی ہے۔"

مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا۔ میں اس سے اب بھی ملتا ہوں۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے۔

(اشفاق احمد کی کتاب "زاویہ ٣" سے اقتباس)

ملا نصرالدین اور حلوائی


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین ایک حلوائی کی دوان کے قریب سے گذرے تو تازہ تزہ حلوہ دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا۔ حسب معمول جیب بلکل خالی تھی۔اس کے باوجود وہ دکان کے اندر تشریف لے گئے اور داخل ہوتے ہی بڑے اطمینان کے ساتھ حلوہ کھانا شروع کردیا۔۔حلوائی نے پیسوں کا مطالبہ کیا تو نفی میں سر ہلا دیا۔ یہ دیکھ کر حلوائی کو بہت غصہ آیا اور ایک لکڑی اٹھا کر ملا پر حملہ آور ہوگیا۔حلوائی نے ملا کو پیٹنا شروع کردیالیکن ملا کے حلوہ کھانے کی رفتار میں ذرہ برابر فرق نہ آیا۔وہ بے فکری سے حلوہ کھانے میں مصروف رہے۔
جب ڈنڈے ذرا زور زور سے پڑنے لگے تو ملا نے کھانے کی رفتار کو تیز کردیا اور ہنس کر کہنے لگے: "بھئی عجیب شہر ہے۔ یہاں کے باشندے کتنے مہربان اور نیک دل ہیں۔غریبوں کو ڈنڈے مار مار کر حلوہ کھانے پر مجبور کرتے ہیں۔"

(یہ تحریر ہمیں چارسدہ، خیبر پختونخواہ، سے محمد طاہرخان نے ارسال کی ہے۔)

کھوٹی عبادت


بغداد میں ایک نانبائی تھا ، وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے نان کلچے خریدنے کے لیے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات معاوضے کے طور پر اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے جیسے یہاں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں۔ وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اور اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اسے اپنے گلے (پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبّت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔

جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر کہا " اے الله تو اچھی طرح سے جانتا ہے کے میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لیکر انھیں اعلیٰ درجے کے خوشبو دار گرم گرم صحتمند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔ آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آ رہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں ہے جیسے تو چاہتا ہے میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔"

(از اشفاق احمد، زاویہ ٢)

کچھ فارسی کے بارے میں


سچ تو یہ ہے کہ فارسی شعر کی مار آج کل کے قاری سے سہی نہیں جاتی۔ بالخصوص اس وقت جب وہ بےمحل بھی ہو۔ مولانا ابوالکلام آزاد تو نثر کا آرائشی فریم صرف اپنے پسندیدہ فارسی شعر ٹانگنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے اشعار بےمحل نہیں ہوتے ، ملحقہ نثر بےمحل ہوتی ہے۔ وہ اپنی نثر کا تمام تر ریشمی کوکون (کویا) اپنے گاڑھے گاڑھے لعابِ ذہن سے فارسی شعر کے گرد بنتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ریشم حاصل کرنے کا زمانۂ قدیم سے ایک ہی طریقہ چلا آتا ہے۔ کوئے کو ریشم کے زندہ کیڑے سمیت کھولتے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جب تک وہ مر نہ جائے ، ریشم ہاتھ نہیں لگتا۔

مرزا کہتے ہیں کہ کلامِ غالب کی سب سے بڑی مشکل اس کی شرحیں ہیں۔ وہ نہ ہوں تو غالب کا سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا میں غالب واحد شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزا دیتا ہے۔

ایک دفعہ میں نے منظور الٰہی صاحب سے عرض کیا: "آپ نے اپنی دونوں کتابوں میں فارسی کے نہایت خوبصورت اشعار نقل کیے ہیں۔ لیکن میری طرح قارئین کی نئی نسل بھی فارسی سے نابلد ہے۔ یونہی شد بد اور اٹکل سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مطلب فوت ہو جاتا ہے۔ اگر اگلے ایڈیشن میں بریکٹ میں ان کا مطلب اردو میں بیان کردیں تو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔"

سوچ میں پڑ گئے۔ پھر آنکھیں بند کر کے ، بند ہونٹوں سے اپنے دلآویز انداز میں مسکرائے۔ فرمایا :
"مگر بھائی صاحب ، پھر مقصد فوت ہو جائے گا!"

(مشتاق احمد یوسفی کی "آبِ گم" سے اقتباس)

اس شخص سے ڈر جو تجھ سے ڈرتا ہے


لوگوں نے ہرمز بادشاہ سے پوچھا:

” تو نے اپنے والد کے وزیروں کا کیا قصور دیکھا کہ انہیں قید کردیا۔"

ہرمز نے کہا:

” قصور تو میں نے معلوم نہیں کیامگر میں نے دیکھا کہ ان کے دلوں میں میرا بہت زیادہ خوف ہے اور میرے عہد پر پورا یقین نہیں رکھتے۔ میں ڈر گیا کہ کہیں اپنے نقصان کے ڈر سے مجھے ہلاک کرنے کا ارادہ نہ کریں۔ بس میں نے داناؤں کے قول پر عمل کیا کہ انہوں نے کہا ہے کہ جس آدمی کا رعب و دبدبہ لوگوں کے دلوں پر چھاجائے، لوگ اسے ہلاک کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔"

شیخ سعدی اسی لیے ایسے لوگوں سے محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور دلیل پیش کرتے ہیں کہ سانپ کو چرواہے سے اپنی جان کا خطرہ ہوتا ہے. اسلی لیئے وہ اسے ڈس لیتا ہے۔
اسی طرح جب بلّی کو اپنی جان بچتی نظر نہیں آتی تو وہ چیتے پر جھپٹ پڑتی ہے۔اور اس کی آنکھیں نکال دیتی ہے۔
(حکایت شیخ سعدی)

ایک کمرہ امتحان میں


بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو
بےخیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر، انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں

ہر طرف کن انکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں
شاید اسطرح کوئی راستہ ہی مل جائے
بے نشاں جوابوں کا،کچھ پتا ہی مل جائے
مجھ کو دیکھتے ہیں تو
یوں جواب کاپی پر ،حاشیے لگاتے ھیں

دائرے بناتے ھیں
جیسے انکو پرچے کے سب جواب آتے ہیں

اس طرح کے منظر میں
امتحان گاہوں میں دیکھتا ہی رہتا تھا
نقل کرنے والوں کے
نت نئے طریقوں سے
آپ لطف لیتا تھا، دوستوں سے کہتا تھا!

کس طرف سے جانے یہ
آج دل کے آنگن میں اک خیال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں سا اک سوال لایا ہے

وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں، اک سوال نامہ ہے
کس نے یہ بنایا ہے
کس لئے بنایا ہے
کچھ سمجھ میں آیا ہے؟

زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ہیں سب سوال مشکل ہیں!
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتا ہوں

حاشیے لگاتا ہوں
دائرے بناتا ہوں
یا سوال نامے کو
دیکھتا ہی جاتا ہوں
(امجد اسلام امجد)

اسلام کو سمجھ کر سیکھیں۔۔۔


"اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس میں کتنی وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دل کا دین نہیں ہے نہ ہی ان دونوں چیزوں کی اس میں گنجائش ہے۔ یہ میں سے شروع ہو کر ہم پر جاتا ہے۔ فرد سے معاشرے تک۔ اسلام آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ چوبیس گھنٹے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر جگہ مصلٰے بچھائے بیٹھے رہیں۔ ہر بات میں اس کا حوالے دیتے رہیں۔ نہیں، یہ تو آپ کی زندگی سے۔۔۔۔۔ آپ کی اپنی زندگی سے حوالہ چاہتا ہے۔ یہ تو آپ سے راست بازی اور پارسائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دیانتداری اور لگن چاہتا ہے۔ اخلاص اور استقامت مانگتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اپنی باتوں سے نہیں اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔“
(عمیرہ احمد کی کتاب، "پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم"، سے اقتباس)

دعاؤں میں یاد رکھنا


دعا کا سلسلہ ہی ایسا ہے جیسا نلکا " گیڑ" کے پانی نکالنے کا ہوتا ہے۔ جس طرح ہینڈ پمپ سے پانی نکالتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا جو ہینڈ پمپ بار بار یا مسلسل چلتا رہے یا "گڑتا " رہے، اُس میں سے بڑی جلدی پانی نکل آتا ہے اور جو ہینڈ پمپ سُوکھا ہوا ہو اور استعمال نہ کیا جاتا رہا ہو، اُس پر " گڑنے" والی کیفیت کبھی نہ گزری ہو۔ اُس پر آپ کتنا بھی زور لگاتے چلے جائیں، اُس میں سے پانی نہیں نکلتا۔ اس لئے دعا کے سلسلے میں آپ کو ہر وقت اس کی حد کے اندر داخل رہنے کی ضرورت ہے کہ دعا مانگتے ہی چلے جائیں اور مانگیں توجّہ کے ساتھ، چلتے ہوئے، کھڑے ہوئے، بے خیالی میں کہ یا اللہ ایسے کردے۔ عام طور پر جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں "دعاؤں میں یاد رکھنا " اور وہ بھی کہتے ہیں ہم آپ کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے اور بہت ممکن ہے کہ وہ دعاؤں میں یاد رکھتے بھی ہوں لیکن آپ کو خود کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

خدا کے واسطے دعا کے دائرے سے ہرگز ہرگز نہیں نکلئے گا اور یہ مت کہیئے گا کہ جناب دعا مانگی تھی اور اُس کا کوئی جواب نہیں آیا، دیکھئے دعا خط وکتابت نہیں، دعا نامہ نگار نہیں ہے کہ آپ نے چٹھی لکھی اور اُس خط کا جواب آئے۔ یہ تو ایک یکطرفہ عمل ہے کہ آپ نے عرضی ڈال دی اور اللہ کے حضور گزار دی اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کہ یہ عرضی جا چکی ہےاور اب اس کے اوپر عمل ہو گا۔اُس کی (اللہ) مرضی کے مطابق کیونکہ وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کس دعا یا عرضی کو پورا کیا جانا ہے اور کس دعا نے آگے چل کر اُس شخص کے لئے نقصان دہ بن جانا ہے اور کس دعا نے آگے پہنچ کر اُس کو وہ کچھ عطا کرنا ہے جو اُس کے فائدے میں ہے۔ دعا مانگنے کے لئے صبر کی بڑی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں خط کے جواب آنے کے انتظار کا چکر نہیں ہونا چاہیئے۔
(قدرت اللہ شہاب کی "زاویہ" دوم سے اقتباس)

ارسطو کہاں ہے؟؟؟


ایک دہقان ارسطو کا فین تھا۔ وہ گاؤں سے چل کر بڑے شوق سے ارسطو سے ملنے آیا۔ شہر آکر پوچھتے پوچھتے وہ ارسطو کے گھر پہنچا۔ اتفاق سے اس وقت ارسطو حکیم کی دکان پر جانے کے لیے گھر سے باہر نکل رہا تھا۔

دہقان نے پوچھا "یہ ارسو کا گھر ہے؟"

"جی ہاں۔" ارسطو نے جواب دیا۔

"ارسطو اندر ہے کیا؟"

"نہیں"

"وہ کہاں ملے گا؟"

"حکیم صاحب کی دوکان پر۔"

"حکیم صاحب کی دوکان کہاں ہے؟"

ارسطو نے اتا پتا بتایا۔ کچھ دیر کے بعد دہقان حکیم صاحب کی دوکان پر پہنچا۔ حکیم سے کہا "مجھے ارسطو سے ملنا ہے۔" حکیم نے ارسطوکی طرف اشارہ کیا "یہ ہے ارسطو۔"

"اچھا تو تُو ارسطو ہے"۔ دہقان نے حیرت سے پوچھا۔

"ہاں" ارسطو بولا۔ "میں ارسطو ہوں۔" دہقان کو غصہ آگیا، بولا "تو نے مجھے وہاں کیوں نہ بتایا کہ تو ارسطو ہے۔"

ارسطو نے جواب دیا "تو نے وہاں یہ نہیں پوچھا تھا کہ تو ارسطو ہے؟ پوچھتا تو بتادیتا۔"

(ممتاز مفتی کی کتاب "لبیک" سے اقتباس)

اچھا مصور کون؟


دو مصوروں نے آپس میں کہا کہ دیکھیں ہم دونوں میں اچھی تصویر کون بناتا ہے۔ ایک میں انگوروں کی تصویر بنائی اور دروازے پر لٹکا دی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اصلی انگور لٹک رہے ہیں۔ چڑیا آکر اُس پر چونچ مارنے لگی۔ لوگوں نے دیکھا اور سب نے اُس کے کمال کی بہت تعریف کی۔ 
اگلے دن یہ مصور دوسرے مصور کے پاس گیا اور پوچھا کہ آپ نے بھی کوئی تصویر بنائی ہے؟ اُس نے کہا، ہاں اور اشارہ کیا کہ تصویر اُس پردے کے پیچھے ہے۔ مصور نے بڑھ کر پردے پر ہاتھ ڈالا تو پتا چلا کہ وہ پردہ نہیں، پردے کی تصویر ہے۔ 
اُس مصور نے کہا کہ کیوں صاحب، یہ کمال ہے کہ نہیں؟ تمہاری تصویر پر چڑیوں نے دھوکا کھایا، میری تصویر پر مصور نے۔۔۔۔

استاد، شاگرد اور درسگاہ


مالی، پودے اور باغیچہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز نہ ہو تو باقی دونوں چیزیں بیکار ہوجاتی ہیں اور ان کی انفرادیت اور اثر انگیزی بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ ان تینوں چیزوں میں مالی کا کردار نہایت اہم ہے۔ پودے اور باغیچہ کے حسن پر رنگینی اور بہار کا انحصار ہوتا ہے۔ ایک محنتی اور فرض شناس مالی اپنے پودوں کی اچھی طرح نگہداشت کرتاہے۔ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے باغ کے پودوں کی نشوونما، خوبصورتی، اور کے حسن کو بر قرار رکھنے کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ اس کی اس محنت کے بدولت باغیچہ اپنے حسن اور معیار میں انفرادیت کا حامل ہوتا ہے۔
اسی طرح استاد، شاگرد، اور درس گاہ کا تعلق ہے۔ اگر ان میں کوئی ایک بیکار ہو تو دوسروں کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ مالی ہی کی طرح استاد ان میں سر فہرست ہے۔ اگر استاد محنتی، فرض شناس، لائق اور ذمہ داریوں کو نبھانے والا ہوگا تو اس کے سائے تلے آبیاری پانے والے شاگرد نکھر جائیں گے۔ وہ علم کے شجر سایہ دار بن جائیں گے۔ بلکل اسی طرح اگر شاگرد بھی فرض شناس ہوگا تو درس گاہ تعلیمی حسن و معیار میں یکتا ہو جائے گا۔ 

صبر - ایک افضل صفت


کسی تکلیف، اشتعال انگیزی، درد اور جبر کو ٹھنڈے مزاج سے برداشت کرنے کو صبر کہتے ہیں۔ صبر کا الٹ کم ہمتی، کم برداشت اور کم استقلال ہے۔
صبر کی صفت جس طرح دین میں ایک افضل صفت ہے، اسی طرح دنیا میں بھی افضل صفت ہے۔ جو شخص محنت سے بچنے کے لیے کام کی تکمیل سے پہلے کام کو چھوڑ دیتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔
بے صبر آدمی میں استقامت نہیں ہوتی۔ وہ کسی کام کو جم کر نہیں کرتا اس لیے ترقی نہیں پاتا۔ آسانی کے لالچ میں تیزی دکھانا، صلہ پانے کے لیے جلدی کرنا، کسی فرض کو پورا کیے بغیر ادھورا چھوڑ دینا، یہ سب ایسی کم زوریاں ہیں جو آدمی کو اچھے نتائج سے محروم کرتی ہیں۔
صبر وہ کرتا ہے جس کا ایمان مضبوط ہو جو اللہ تعالیٰ  کا شکر گزار ہو۔ سورة ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: "ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔"
اگرچہ یہ صفت پوری انسانیت کے لیے ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے تو لازمی ہے، کیوں کہ اس کے بغیر نیکی حاصل نہیں ہوسکتی۔
('جاگو جگاؤ' - حکیم محمد سعید)

انٹرنیٹ کوڈ 'ایرر 404' - مقبول ترین لفظ


انٹرنیٹ کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا اندازہ ایسے ہوا کہ ایک تحقیق کے مطابق 2013کاسب سے مقبول ترین لفظ 404ایرر کوڈ ہے۔

امریکی ادارے گلوبل لینگوئج مانیٹر کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق موجودہ سا ل میں مشہور ترین انگریزی لفط انٹر نیٹ کا ایرر کوڈ 404ثابت ہوا ہے، دوسرے نمبر پر موجود ہے ، فیل، جسکی وجہ شاید 4 Chanگیم کا زیادہ استعمال لگتا ہے۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر بھی انٹر نیٹ سے متعلقہ لفظ موجود ہیں، یعنی' ہیش ٹیگ' اور ٹویٹر کا ' Pontifex '۔




میرا بہترین دوست



وہ کتنا پیارا لگ رہا تھا۔ میں نے پہلے ہی نظر میں اسے پسند کیا۔ سجانے والے نے اسے کتنے خوب صورت انداز سے سجایا تھا۔ کیسے شاندار اسٹائل سے کھڑا تھاوہ۔ شاید اس کے کھڑے ہونے کے اس خوبصورت انداز نے ہی مجھے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ ان چند ساعتوں میں، میں نے اسے ہمیشہ کیلئے اپنا دوست بنانے کا تہیہ کر لیا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا اور گھر والوں سے ملوایا۔ سب اس سے مل کے بہت خوش ہوئے۔ اگلے دن میں اسے اپنے ساتھ اسکول لے گیا اور اپنے دوستوں سے اسکا تعارف کروایا۔ سب نے اسکی بے حد تعریف کی۔

مجھے ڈر تھا کہ کوئی اسے مجھ سے جدا نہ کردے۔ میرا دوست بہت وفادار ہے۔ ہمیشہ کام آتا۔ کلاس کے ٹیسٹ اور امتحانات میں، میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا اور یہ میری پوری پوری مدد کرتا۔

وہ مجھے بہت عزیز ہے۔ ایک مرتبہ ہوا یہ کہ ہم اسکول سے واپس گھر جارہے تھے کہ راستے میں ہمیں ٹھوکر لگی۔ میں نے کسی طرح اپنے آپ کو تو سنبھال لیا لیکن وہ گر گیا اور اُس کا سر ایک پتھر سے ٹکراگیا۔ اُس کی چوٹ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ زخم کا نشان اب بھی اُس کے سر پر موجود ہے جو ہمیں اُس دن کی یاد دلاتاہے۔

میرا دوست میری ہر جگہ مدد کرتا ہے۔ وہ میرے خیالات کا بہترین ترجمان ہے۔ میرے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔

مجھے اپنے دوست سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی دوستی ایک دن مجھے ترقی کی راہ پر گامزن کرےگی۔ کیا آپ میرے اِس دوست کو پہچان گئے؟ اگر نہیں تو میں آپ سے اسکا تعارف کرواتا ہوں۔ میرے اس عظیم دوست کا نام 'قلم' ہے۔

(یہ تحریر ہمیں وادئ سوات کے شہر منگورہ سے جناب انوارالحق صاحب نے ارسال کی ہے۔ یہی تحریر ماہنامہ چائلڈاسٹار کے اکتوبر 1997 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ ہم، تحریر دوبارہ بھیجنے پر جناب انوارالحق صاحب کے مشکور ہیں۔)

دنیا ایک میلہ


بچپن میں شیخ سعدی اپنے والد کی انگلی پکڑے ہوئے کسی میلے میں جارہے تھے۔ راستے میں کسی جگہ بندر کا کھیل دیکھنے میں ایسے لگے کہ والد کی انگلی چھوٹ گئی۔ والد اپنے دوستوں کے ساتھ آگے نکل گئے اور سعدی تماشا دیکھتے رہے۔ کھیل ختم ہوا تو والد کو سامنے نہ پاکر بے اختیار رونے لگے۔ آخر اللہ اللہ کر کے والد بھی انھیں ڈھونڈتے ہوئے آنکلے۔ انھوں نے سعدی کو روتا دیکھ کر ان کے سر پر ہلکا سا چپت مارا اور کہا: "نادان بچے! وہ بے وقوف جو بزرگوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، اسی طرح روتے ہیں۔"
سعدی کہتے ہیں کہ میں نے سوچا تو دنیا کو ایسا ہی پایا، ایک میلے کی طرح۔ آدمی اس میلے میں مجھ جیسے نادان بچوں کی طرح ان بزرگوں کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، جو اچھے اخلاق سکھاتے اور دین کی باتیں بتاتے ہیں، تب اچانک اسے دھیان آتا ہے کہ زندگی غفلت میں گزر گئی، پھر روتا اور پچھتاتا ہے۔ 

پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ روس سے لانچ کردیا گیا

پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی نے ڈیزائن اور تیار کیا۔ لاگت 35 لاکھ روپے آئی۔  زمین کے نچلے قطبی مدار کیساتھ 600کلومیٹر کی بلندی پر خلائی تحقیق کیلئے کام کریگا پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ آئی کیوب-1، ڈنیپر نامی راکٹ کے ذریعے روس کے لانچ بیس یاسنے سے لانچ کردیا گیا۔آئی کیوب-1جسے انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی پاکستان نے تیار کیا، کے ڈیزائن اور تیاری پر تقریباً 35 لاکھ روپے لاگت آئی ہے ۔ واضح رہے کہ کیوب سیٹ انتہائی مختصر سائز کا ایک سیٹلائٹ ہوتا ہے ، جسے خلائی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ عام طور پر اس کا حجم ایک لیٹر (دس مربع سینٹی میٹر) اور اس کا وزن ایک کلو 33گرام سے زیادہ نہیں ہوتا۔اس کیوب سیٹ سیٹلائٹ سے مستقبل کے تجربات کے لیے ایک وسیع سلسلے کا آغاز ہوسکے گا، اس کیوب سیٹ کی کارکردگی کا دائرہ امیجنگ، مائیکرو گریویٹی، بائیولوجی، نینو ٹیکنالوجی، سپیس ڈائنامکس، کیمسٹری، سپیس فزکس اور دیگر مختلف شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔

یہ کیوب سیٹ بہت سے سیٹلائٹ کی تیاری میں کام آنے والے مخصوص پروگراموں کے لیے ایک بنیاد بھی فراہم کرے گا۔بیس فیکلٹی ممبرز اور پندرہ طالبعلموں پر مشتمل ایک ٹیم نے اس پراجیکٹ پر 2009ء میں کام کا آغاز کیا تھا۔آئی کیوب-1 کے بارے میں توقع ہے کہ یہ دو سال کے عرصے تک کام کرتا رہے گا۔ یہ زمین کے نچلے قطبی مدار کے ساتھ چھ سو کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے ۔پاکستانی کیوب سیٹ ہو بہو بڑے سیٹلائٹ کی ہی طرح ہے تاہم اسے سٹوڈنٹ سیٹلائٹ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ کم خرچ اور کم وقت میں جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے ۔

Pages