چائلڈاسٹار

نفس کو مغرور کرنے والی مدح سرائی


صوفی ابو علی فارندی عہد سلجوق میں ایک بڑے نامور صاحبِ علم گزرے ہیں۔ علوم معرفت میں امام غزالی ان کے شاگرد اور مرید تھے۔ جب شیخ ابوعلی، خواجہ نظام الملک طوسی کے دربار میں جاتے تھے تو خواجہ اپنی جگہ سے اٹھ کر شیخ صاحب کا استقبال کرتے پھر اپنی مسند پر بٹھا کر خود الگ ہوجاتے اور شیخ کے سامنے بیٹھ کر ادب سے گفتگو کرتے۔

خواجہ نظام الملک طوسی سے کسی نے پوچھا، آپ دوسرے علماء و صوفیا کی ایسی عزت و تعظیم کیوں نہیں کرتے، اس تخصیص کے کیا معنی ہیں؟

نظام الملک نے کہا: "اور حضرات جب مجھ سے ملنے آتے ہیں تو میں نے اکثر دیکھا ہے کہ وہ میری تعریف کرتے ہیں کہ آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں بلکہ ان صفات سے یاد کرتے ہیں جو مجھ میں نہیں ہیں۔ ایسی مدح سرائی سے ظاہر ہے کہ نفس مغرور ہوجاتاہے، برخلاف اس کے شیخ ابوعلی مجھے میرے عیوب سے آگاہ اور آزادی و بے لوثی سے گفتگو کرتے ہیں اور میں ان کی ہدایت سے مستفیض ہوجاتاہوں۔

(نظام الملک طوسی - حصہ اول – صفحہ 140)

ایک معصوم بیٹی کی کہانی


اتنی ساری بیٹیوں کی موجودگی میں آدمی کا دل بہت خوش ہوتا ہے اور اس کو ہمیشہ بڑی تقویت ملتی ہے. اصل میں بات یہ ہے کہ بیٹا مطلوب ہوتا ہے اور بیٹی لاڈلی ہوتی ہے. بیٹی کی جگہ بیٹا نہیں لے سکتا اور بیٹے کی جگہ بیٹی نہیں لے سکتی. لیکن اگر حساب لگا کے دیکھو اعداد و شمار کے مطابق تو بیٹی کا نمبر ہمیشہ اوپر ہی رہتا ہے – ہمارے معاشرے میں یہ طے شدہ بات ہے کہ عورت کا احترام بہت ہے.

جب آپ باہر نکل کر دیکھیں تو ہر ایک شے کے اوپرآپ کو ماں کی دعا لکھا ہوا ملے گا- پیو کی دعا کہیں نہیں ایک بھی رکشہ پر نہیں لکھا ہوتا.

عورت ماں کے روپ میں ہو، بیٹی کے روپ میں، بہن کے روپ میں ہو عورت کی بڑی عزت ہوتی ہے دلوں میں. جھگڑے وگڑے ہو جاتے ہیں لیکن بابا کو اپنی بیٹی اور بیٹیاں ہمیشہ بہت لاڈلی ہوتی ہیں. یہ بات الگ ہے کہ یورپ کے کچھ ملک سمجھتے ہیں ہمارے یہاں پر عورت کی عزت نہیں ہے اور اس کے ساتھ برا برتاؤ کیا جاتا ہے.
(از اشفاق احمد  - زاویہ ١ "ایک معصوم بیٹی کی کہانی")

ہمارا آج اور کل


کچھ دن قبل فیس بک پر یہ تصویر نظروں سے گزری تو بچپن میں پڑھا ایک واقعہ یاد آیا۔ کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ کا قافلہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ راستے میں بادشاہ کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو بڑی محنت اور محبت سے پودے لگا رہا تھا۔ بادشاہ دیر تک اس کا یہ کام توجہ سے دیکھتا رہا۔ جب بوڑھارک کر آرام کرنے لگا تو بادشاہ نےپوچھا۔۔۔۔
"بابا کیا تمھیں یہ یقیں ھے ان پودوں کے پھلوں سے تم کبھی فائدہ اٹھا سکو گے اگر نہیں تو پھر اس عمر میں اتنی محنت کا فائدہ کیا؟"
یہ سن کر بوڑھا مسکرایا اور کہنے لگا:
"جناب عالی! آج جو پھل میں کھارہا ھوں اُس کے پودے کل کسی اور نے لگاۓ تھے اور جو آج میں لگا رھا ھوں انکا پھل وہ کھایئں گےجو میرے بعد آنے والے ہیں۔"
دیکھا جائے تو ہمارا حال اس سے کچھ کم نہیں ہے۔ ہماری زندگی اسی آج اورکل کے درمیان کھو کر رہ گئی ہے۔ ہمیں یہ تو فکر ہے کہ اپنے آنے والے کل کو کس طرح شاندار بنائیں۔ رہنے کے لئے کیسا مکان بنایا جائے، کیسی گاڑی خریدی جائے۔ والدین کو اپنی اولاد کی کل کی فکر ھے کہ کیسے پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدے پر پہنچے اور دنیا میں اپنا اور اپنے خاندان کا نام روشن کرے۔۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارا آج اورکل صرف اس فانی دنیا کے لئے ہے۔ ہمیں اپنے حقیقی کل کی کوئی فکر نہیں ہے تو عنقریب آنے والی ہے اور جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ کل جسے قبر بھی کہتے ہیں، جسے میدان حشر بھی کہتے ہیں۔ جس کی تیاری کے لئے ہمیں ابھی سے ایسے پودے لگانے چاہئے جن کا پھل ہمیں وہاں جا کے فائدہ دے سکے۔
آئیے آج ھم اس کل کی فکر کرلیں جسکی فکر کی دعوت ھم سب کے رب نے اور پیارے نبی کریمﷺ نے دی۔

عملِ ناقص


کبھی نماز میں دل لگتا ہے، کبھی نہیں لگتا، کبھی ذہن میں سکون ہوتا ہے کبھی انتشار، کبھی وساوس کا ہجوم ہوتا ہے، کبھی پریشان خیالیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔ نماز کے وقت یکسوئی شازونادر ہی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے دل میں یہ کھٹک رہتی ہے کہ ایسی ناقص نماز کا کیا فائدہ جو صرف اٹھک بیٹھک پر مشتمل ہو۔ رفتہ رفتہ ایک بات سمجھ میں آئی کہ عمارت کی تعمیرکے لیے ابتداء میں تو صرف بنیاد مضبوط کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسے کے خوشنما ہونے کے پیچھے نہیں پڑتے۔ اس میں روڑے پتھر وغیرہ بھر دیتے ہیں اور بعد میں اس پر عالیشان محل اور بنگلے تعمیر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناقص عمل کی مثال بھی کامل عمل کی بنیاد کے مترادف ہے۔ بُنیاد کی خوبصورتی اور بدصورتی پر نظر نہ کی جائے۔ جو کچھ جس طرح بھی ہو، کرتا رہ، جیسے نماز گویا ناقص ہی ہو مگر ہو حدود میں، وہ ہو جاتی ہے۔ اسی پر عمل کرنے سے نمازِ کامل کا دروازہ بھی اپنے پر کھولنا شروع ہو جاتا ہے۔
(قدرت اللہ شہاب کی کتاب "شہاب نامہ" سے اقتباس)

کوشش و جدوجہد


کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور Straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا۔
(اشفاق احمد - زاویہ 2)

ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو



ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو
جیسے جنگل میں رنگ و بُو لوگو

ساعتِ چند کے مسافر سے
کوئی دم اور گفتگو لوگو

تھے تمہاری طرح کبھی ہم لوگ
گھر ہمارے بھی تھے کبھو لوگو

ایک منزل سے ہو کے آئے ہیں
ایک منزل ہے رُوبُرو لوگو

وقت ہوتا تو آرزو کرتے
جانے کس شے کی آرزو لوگو

تاب ہوتی تو جتسجُو کرتے
اب تو مایوس جستجُو لوگو

(ابنِ انشا)

برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی


برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی۔ بی بی سی لے مطابق برطانیہ کے بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اعلان کیا ہے کہ 20 کے قریب بلا ڈرائیور گاڑیاں ملٹن کینز کے مرکز میں مخصوص سڑکوں پر چلا کریں گی۔

منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط میں سو کے قریب مکمل طور پر خودکار کاریں شہر میں کام کر رہی ہوں گی جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر چلا کریں گی جن میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے سنسرز لگے ہوئے ہوں گے۔
بغیر ڈرائیور کے ان گاڑیوں میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ ان گاڑیوں میں ایسی سکرینیں لگی ہوں گی جن پر مسافر انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے اور اپنی ای میل وغیرہ چیک کر سکیں گے۔ ابتدا میں ان گاڑیوں پر مسافر سوار ہو کر ریلوے سٹیشن سے شہر کے مرکز تک کا فاصلہ طے کرے گا جو ایک میل کی چڑھائی ہے اور اس پر پیدل بیس منٹ لگتے ہیں.
نسان، ٹویوٹا اور وولوو جیسی دنیا کی بڑی کاریں بنانے والی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے کاریں بنانے پر تحقیق کر رہی ہیں۔اگست میں وولوو نے ایک ایسی کار کا تجربہ کیا تھا جو دو بٹن دبانے پر ڈرائیور سے بریک، انجن اور سٹیئرنگ کا اختیار لے لیتی ہے۔

خدا کی محبت


اس مبہم اور غیر واضح دور میں جب ہمارے دلوں میں دشمنیاں پیدا ہو چکی ہیں جب ہمارےضمیر مردہ ہو چکے ہیں جہاں نفرت و عداوت اپنے عروج پر ہے تو بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں محبت اور رحمدلی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پانی اور ہوا کی۔ ایسے لگتا ہے ہم محبت کو بھلا چکے ہیں اور اس سے بڑھ کرشفقت اور کرم ایسا لفظ ہے جو خال خال نظر آتا ہے۔ ہمارے اندر نہ ہی اپنےلئے رحمدلی ہے نہ ہی دوسرے لوگوں کیلئے محبت ہے۔ ہمارے اندر نرمی کا احساس ختم ہو تا جا رہا ہے ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں اور ہمارا اردگرد عداوت کے سیاہ بادلوں سے ڈھک چکاہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اور ہر شخص مبہم نظر آتا ہے۔ دنیا میں برداشت اورتحمل کو نقصان پہنچانے والے بہت زیادہ ظالم موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ جنگ کرنے کے بہانےاور مختلف جھوٹوں کے ذریعے دوسروں کو بدنام کرنے کے طریقے ڈھونڈھتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو زندان، پنجہ اور ایسے الفاظ سےیاد کرتے ہیں جو خون کھولا دیتا ہے۔

یہ افراد اور لوگوں کے بیچ خطرناک قسم کی تفریق ہے ہم اپنے جملوں کو'ہم'، 'تم' اور 'دوسرے"سےشروع کرتے ہیں۔ ہماری نفرت کبھی ختم نہیں ہو تی۔ ہم اپنی صفیں متلا دینے والے طریقے سے ختم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جاری رکھیں گے لیکن پھر بھی ایسے احساسات برقرار رکھتے ہیں جومستقبل میں اختلافات کو جنم دیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں اور جدائی اور دوری ہمارے ہر عمل سے عیاں ہو تی ہیں۔ ہم کٹی ہوئی مالا کی طرح ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم غیرمسلموں سے زیادہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

حقیقت میں ہم نے اپنے خدا کو بھلا دیا ہے جس کے نتیجے میں اس نے ہمیں بکھیر دیا ہے۔ چونکہ ہم نے اس پر ایمان اور محبت کو چھوڑ دیا ہے اس لئے اس نے ہمارے دلوں سے محبت کا احساس چھین لیا ہے۔ ہم اپنے آغوش کی گہری کھائی میں جو کچھ کر رہے ہیں اور جہاں اس کی خواہش میں مبتلا ہیں یہ سب اسی کم عقلی پر مبنی '٘میں'، "تم" اور ایک دوسرے کو" کافر اجڈ' کا لیبل لگانے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پر غضب ہوا ہےجس سے کہ ہم محبت کرنے اور کئے جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ اور ہم کرم اور شفقت کو گھن لگا رہے ہیں۔ ہم اس سے پیار نہیں کرتے تو اس نے ہم سے پیار چھین لیا۔ پتہ نہیں اس میں کتنا وقت لگے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اسکی طرف متوجہ ہو کر اس سے محبت نہیں کرٰیں گے وہ ہماری آپس کی محبت ہمیں عطا نہیں کرے گا۔ وہ راہیں جن پر ہم چل رہے ہیں وہ اس تک بالکل نہیں پہنچا تیں۔ اس کے برعکس اس سے دور لے جا رہی ہیں۔ وہ نفوس جو اس کی محبت کی نہروں کا منبع تھے آج بالکل ویران ہٰیں۔ ہمارے دل خشک صحراؤں کی طرح ہیں۔ ہماری اندر کی دنیا میں غار بن چکے ہیں جیسے جانوروں کے کچھار ہو تے ہیں ۔ ان سب منفی باتوں کا علاج صرف اور صرف خدا کی محبت ہے۔خدا کی محبت ہر چیز کی بنیاد ہے اور تمام محبتوں کیلئے خالص ترین اور صاف ترین ذریعہ ہے۔ انسانی رشتےصرف اسی وقت بنیں گے جب اس سے ہمارا رشتہ استوار ہو گا۔ خد کی محبت ہمارا ایمان، یقین جسم میں داخل روح کی طرح ہے۔ اس نے ہمیں جینا سکھایا اگر آج ہم زندہ ہیں تو صرف اسی وجہ سے زندہ ہیں۔ ہر وجود کی بنیاد اس کی محبت ہے اور آخر میں خدا کی الہی محبت کی وسعت بشکل جنت عطا ہو تی ہے۔ جو کچھ اس نےپیدا کیا ہے وہ محبت پر مبنی ہے اور اس نے انسان کے اپنے ساتھ تعلق کو محبوب ہو نے کے مقدس جذبے میں رکھ دیا ہے۔

(یہ تحریر ترک مصنف جناب محمد فتح اللہ گولن کے مضمون "انسان پرستی اور انسانی محبت" سے لی گئی ہے)

وادیٔ کونش –قدرتی حسن سے مالامال ایک دلکش تفریحی مقام



اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تمام تر رعنائیوں اور خوبصورتیوں نوازاہے۔ اس کے فلک بوس پہاڑ، شور مچاتے دریا،جھیلیں، سمندر، سبزہ زار، اور بے پناہ قدرتی حسن پاکستان کودنیا بھر کے سیاحوں کے لئے گوشہ ٔجنت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سوات، مرغزار،کالام، مالم جبہ، کاغان، ناران، شوگراں، ایوبیہ، ٹھنڈیانی، مری، کلرکہار، وادیٔ سون،ہنزہ ، کالاش اور شمالی علاقہ جات اپنی اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ انہیں میں سے ایک مقام وادیٔ کونش بھی ہے۔ پاکستان کی یہ خوبصورت وادی اپنے دلفریب اور دل موہ لینے والے مناظر ،صحت بخش آب و ہوا، بلند و بالا پہاڑ، دیدہ زیب اور دل کشا مرغزاراور جنگلات ،جازبِ نظر آبشار، حد درجہ خوبصورت، پُر اسرار اور طسلماتی نیلگوں جھیلوں کے باعث جنت اراضی کا درجہ رکھتی ہے ۔وادی ٔکونش مانسہرہ شہر کے شمال واقع ہے۔
دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ ِقراقرم جو شاہراہِ ریشم کے نام سے بھی مشہور ہے اسی ضلع سے گزرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی شاہراہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے اور ہنزہ، گلگت، چلاس، داسو، بشام، بٹ گرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔

یہ وادی اسلام آباد کے شمال میں تقریباً ایک سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ مانسہرہ سے اس کی مسافت محض پچاس کلومیٹر ہے۔اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ ٹیکسلا اور پھر حسن ابدال سے شاہراہ قراقرم کے ذریعے ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور شنکیاری سے ہوتے ہوئے آپ اس دلکش وادی میں پہنچ سکتے ہیں۔ راستے میں بل کھاتی ندیاں، سرسبز وادیاں اور چیڑ کے درخت سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑدیتے ہیں ۔ قراقرم ہائی وے کے ذریعے اس وادی میں داخل ہوتے ہی آپ پہاڑوں کی گود میں واقع ایک سرسبز وشاداب شہر بٹل پہنچ جائیں گے۔ بٹل 1857کی جنگ ِآزادی کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت کا حامل ایک خوبصورت شہر ہے۔ بٹل سے بذریعہ سڑک صرف پانچ منٹ کی مسافت پر وادیٔ کونش کا ایک حسین اور دلکش مقام چھترپلین آتا ہے اور اس سے آگے ضلع بٹ گرام کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ وادی کونش ،بٹل اور چھترپلین کے مشرق میں برف سے ڈھکی ایک بلند پہاڑی چوٹی موسیٰ کا مصلیٰ اور وادیٔ کاغان، مغرب میں وادیٔ سوات، شمال میں ضلع شانگلہ کا ایک خوبصورت علاقہ بشام جبکہ جنوب میں شنکیاری کے خوبصورت مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف موسیٰ کا مصلیٰ اپنے جلوے دکھا کر باہمت سیاحوں کو اپنی چٹانوں پر آنے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری جانب سوات اور کاغان کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وادیٔ کونش کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ 
وادی کونش اپنے حدود اربعہ کے لحاظ سے کچھ یوں وضاحت ِ طلب ہے کہ اس کے مشرق میں درہ بھوگڑ منگ واقع ہے جس میں دھڑیال ۔سُم ڈاڈر ، جبوڑی ،نواز آباد ، سچہ کلاں جیسے خاص خاص مضافات ہیں ۔ جبکہ مغرب میں وادی اگرور جسے عرفِ عام میں میدانِ اگرور بھی کہا جاتا ہے کے مشہور و معروف گاؤں کھبل، شمدھڑہ ، اوگی ، دلبوڑی ، شیرگڑھ ، اور تربیلہ جھیل واقع ہیں ۔ شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ ، کے چھوٹے مضافات اور بستیاں واقع ہیں جبکہ جنوب میں مانسہر شہر ، ہزارہ یونیورسٹی ، عطر شیشہ ، کا وسیع و عریض علاقہ اپنے اپنے قدرتی مناظر کو سموئے ہوئے ہیں ۔

وادیٔ کونش کے گردونواح کاہرعلاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ جہاں تک نظر دوڑائی جائے قدرتی مناظر کا ایک دلکش سلسلہ پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ بہار کاموسم ان قدرتی مناظر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ پہاڑ، جنگلات اور خوبصورت بل کھاتے ندی نالے اس وادی کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہاں پہاڑوں کے درمیان ایک دریا گزرتا ہے جسےمقامی آبادی دریائے کونش ، کٹھا اور بٹ کَس کے ناموں سے پکارتے ہیں ۔ یہ دریا اس وادی کی خوبصورتی اور رعنائی کو مزید بڑھا تا ہے ۔ اس وادی میں چھترپلین ، بٹل اور مضافاتی علاقے سیاحوں کے لئے نہایت کشش اور جاذبیت کے حامل ہیں۔یہ علاقہ شہد، مرغ اور مچھلی کی فارمنگ کیلئے بھی نہایت موزوں ہے۔

وادیٔ کونش جغرافیائی لحاظ سے بہت خوبصورت علاقہ ہے۔موسمِ گرما میں بھی یہاں رات کا آخری پہر سرد ہوتا ہے حتیٰ کہ لحاف یا کمبل میں بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔ یہ علاقہ شہد، مرغی اور مچھلی فارمنگ کیلئے بھی انتہائی موزوں ہے۔

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے



خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

(احمد ندیم قاسمی​)

شیخ الاطباء-ابن سینا


شیخ الرئیس بو علی سینا ابن سینا (AVICENNA) کا پورا نام "ابو علی الحسین ابن عبداللہ ابن علی سینا"تھا۔ یہ بخارا کے قریب افشنہ نامی قصبے میں 980ء میں پیدا ہوا۔ تعلیم و تربیت کے لیے اس کے والد نے "شیخ اسمٰعیل زاہد"کے سُپرد کر دیا۔ دس سال کی عمر میں ہی اس نے قرآن حفظ کر لیا اور فنِ ادب پر دسترس حاصل کر لی۔ بعد ازاں اس نے ایک سبزی فروش سے علم ریاضی اور ایک نصرانی عالم "عیسیٰ بن یحییٰ"سے علم طب سیکھا۔ ان علوم کے علاوہ بھی اسے منطق، موسیقی، شاعری، طبیعات، الہیاٰت، ہیئت، کیمیا اور علم الخواص اشیاء پر عبور حاصل تھا۔ شیخ کی علمی قابلیت اور ذہانت کا کچھ ہی دنوں میں دور دور تک شہرہ ہونے لگا۔ انہیں دنوں امیر بخارا "نوح بن منصور" ایک سخت مرض میں مبتلا ہوا۔ اس کے مقرب اطباء علاج سے قاصر رہے۔ امیر کے علاج کی غرض سے ابن سینا کو بلایا گیا۔ اس نے چند ہی دنوں میں امیر بخارا کو اس مرض سے نجات دلا دی۔ امیر بخارا نے خوش ہو کر اسے اپنا طبیب خاص مقرر کر لیا۔

شیخ ابنِ سینا کی پوری زندگی تعلیم و تعّلم اور علاج معا لجہ میں گزری۔ اس کی تصانیف کے مطالعہ سے اس کی ذہانت اور غیر معمولی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اہل یورپ نے بو علی سینا کے کارناموں کی جو قدر کی اس سے پوری دُنیا واقف ہے۔ اس کی ہمہ گیر شخصیت نے مشرق و مغرب پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جس کی وجہ سے مورخین نے اسے زبر دست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور اسے "شیخ الاطباء"اور "شیخ الرئیس" جیسے معزز القاب سے نوازا۔

مشہور جملہ ہے کہ "علم طب ناقص تھا ابن سینا نے اسے مکمل کیا۔"اس نے علمِ طب میں نئے نئے وسائل ایجاد کیے اور جو نقائص اور خامیاں نظر آئیں انہیں دور کر کے اس فن کو ایک مکمل علم کی صورت میں پیش کیا گویا علمِ طب میں اسے مجتہد کا درجہ حاصل ہے۔ ابن سینا پہلا شخص ہے جس نے قناطیر (Catheter)، علم بتر (Amputation) اور دماغی امراض کے لیے برف کی ٹوپی (Ice cap) کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس نے آنکھوں کے ناسور کے علاج کا طریقہ

شیخ الرئیس ابن سینا کثیر التصانیف اور ماہر علم جراح تھے۔ "کتاب الشفاء" اور "القانون فی الطب" آج بھی فظعیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ "القانون فی الطب"ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کا اصل نسخہ پہلی مرتبہ روم سے 1593ء میں شائع ہوا۔ اس طرح عربی زبان کی یہ پہلی کتاب ہے جو شائع ہوئی۔ اس کے بعد روسی اور فرانسیسی زبان میں بھی اس کے تراجم ہوئے اور صدیوں تک یورپ کی مختلف طبی درس گاہوں میں شامل نصاب رہی۔ مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ بھی "الارشادات"، "کتاب النجات"، "الادویۃ القلبیہ" اور "الار جوزہ فی الطب" "کتاب السیاست"، "تہافتہ التہافتہ"، "منطق المشرکین و القصیدہ المزدوج فی المنطق" کافی مشہور ہیں۔ سرجری سے متعلق اس کا رسالہ"رسالہ فی الفصد"آج بھی ملک کی متعدد لائبریریوں میں محفوظ ہے۔ ابنِ سینا جہاں دیگر علوم اور علمِ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ وہیں فنِ جراحی میں بھی وہ یکتا تھا۔ اتنی خوبیوں کا ما لک 1037ء میں 57 برس کی عمر میں ایران کے شہر ہمدان میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا اور اپنے پیچھے بے شمار ایجادات اور تصانیف کا خزانہ چھوڑ گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کریں۔
(از: طالب انصاری - اجالے ماضی کے)

جنگل میں محفل مباحثہ


ایک صوفی تھکا ہارا جنگل میں جا رہا تھا اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں جنگل کے جانوروں کا اجتماع تھا اور محفل مباحثہ گرم تھی ۔ اس صوفی کو چونکہ جانوروں کی بولیوں کا علم تھا اس لیے وہ رک کر سننے لگا ۔ مباحثے کی صدارت ایک بوڑھے شیر کی سپرد تھی۔
سب سے پہلے لومڑی اسٹیج پر آئی اور کہا برردارنِ دشت سنئے اور یاد رکھئے کہ "چاند سورج سے بڑا ہے اور اس
زیادہ روشن ہے"۔ ہاتھی نے اپنی باری پر کہا " گرمیاں سردیوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہیں۔"
جب باگھ اسٹیج پر آیا تو سارے جانور اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو گئے ۔ اس نے اپنے پیلے بدن پر سیاہ دھاریوں کو لہرا کر کہا "سنو بھائیو ! دریا ہمیشہ سے اوپر کو چڑھتے ہیں۔" 
صوفی نے شیر ببر سے کہا صاحبِ صدر! یہ سب غضب کے مقرر ہیں اور ان کی وضاحت نے اس محفل کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن میں حیران ہوں کہ سارے مقررین نے سارے ہی بیان غلط دیئے ہیں اور ہر بات الٹ کہی ہے۔ سامعین کو یا تو پتہ نہیں یا انہوں نے توجہ نہیں دی یا پھر وہ لا تعلقی سے سنتے رہے ہیں ۔ ایسی احمقانہ اور غلط باتیں کرنے کی کس نے اجازت دی۔
شیر نے کہا " صوفی صاحب ! یہ واقعی ایک عیب دار بات ہے اور شرمناک بات ہے لیکن ہمارے سامعین انٹرٹینمنٹ مانگتے ہیں انلائنمنٹ نہیں ۔ پتہ نہیں ہم کو یہ عادت کیسے پڑی لیکن پڑ گئی ہے صوفی صاحب "۔ 
(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)

عمر ؓ ثانی - عمر بن عبدالعزیز


عمر بن عبدالعزیز خلفائے بنو امیہ میں ایک قابل عزت نام ہے۔ ان کے دور خلافت کو خلیفہ ثانی کے دورخلافت کے مماثل قرار دیا جاتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز کی والدہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پوتی تھی۔ اُن پر نانہال کا بڑا اثر پڑا تھا۔ عادات و خصائل میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ عزت و احترام کا جو اونچا مقام انہیں نصیب ہوا، خلفائے بنی اُمیہ میں اور کسی کو نصیب نہ ہوسکا۔ آج بھی لوگ اُن کا نام بڑی عزت سے لیتے ہیں۔ 
عمر بن عبدالعزیز خلافت سے قبل عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے زمانے کے سب سے زیادہ خوش لباس شحص سمجھے جاتے تھے۔ لیکن خلیفہ مقرر ہوتے ہی اُن کا انداز بالکل بدل گیا۔ سیدھی سادی زندگی اختیار کرلی۔ ملکی انتظام کے جن قاعدوں اور اصولوں پر خلفائے راشدین کے زمانے میں عمل کیا جاتا تھا خلفائے بنو امیہ نے اُن پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اُنہیں دوبارہ رواج دیا اور لوگوں کو ایسا معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کا مبارک زمانہ پلٹ آیا ہے۔
عمر بن عبدالعزیز عدل و انصاف کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ سچائی کے راستے سے ذرا اِدھر اُدھر نہیں ہوتے تھے اور کسی حالت میں بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے چُھوٹنے نہیں پاتاتھا۔ اِس کےساتھ ساتھ وہ جس قسم کی زندگی بسر کرتے تھے اُس میں بدوؤں کی سی سادگی نظر آتی تھی۔ 
اُن کی خلافت کا انداز خلفائے بنو امیہ سے یکسر جدا تھا۔ اپنی ذمہ داریوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد دعا مانگنے کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو جی بھر آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ بیوی نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے۔ "مجھے مسلمانوں اور غیر مسلم ذمیوں کا حاکم بنا دیا گیا ہے۔ میری حکومت میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں پیٹ بھرنے کو روٹی میسر نہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جنہیں تن ڈھانکنے کو کپڑا نہیں۔ کوئی بیمار اپنے بستر پر پڑا کراہ رہا ہے لیکن علاج کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں۔ کسی مظلوم پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کی مدد کرے۔ کوئی بے وطن قید خانے میں بیٹھا اپنے بچوں کو یاد کررہا ہے اور کوئی سفید ریش بوڑھا اِس خیال سے بیکل ہے کہ کوئی اُسے سہارا دینے والا نہیں۔ پھر ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کنبہ بڑا ہے اور آمدنی کم۔ اِس لئے بڑی مشکل سے گزر ہوتی ہے۔ غرض اِس قسم کے مصیبت زدہ کثرت سے ہیں جو مختلف ملکوں اور صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب اللہ مجھ سے سوال کرےگا کہ تم نے اِن لوگوں کے لئے کیا کیا، تو میں کیا جواب دوں گا؟"
عمر بن العزیز نے خلیفہ بننے کے بعد انتہائی سادہ زندگی بسر کی اور اپنے گزارے کے لئے خلیفہ ولید کے زمانے میں ملی ہوئی جاگیر سے بھی دست بردار ہوگئے۔ ساری جمع جتھا حتیٰ کہ بیوی کا سارا زیور بھی بیت المال میں جمع کروا دیا اور اپنے گزارے کے لئے روزانہ دو درہم بیت المال سے لیتے تھے۔ انہیں میں سارے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ 

آسٹریلیا میں بطخوں کی ماڈلنگ


موجودہ دور میں روزانہ نت نئے فیشن متعارف کئے جارہے ہیں اورلوگ خود کو ان کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی کوششوں میں نظر آتے ہیں۔ دنیا میں کچھ سر پھرے ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود تیار ہونے کیساتھ ساتھ جانوروں کو بھی سجانا سنوارنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ ایسا ہی رنگ آسٹریلیا میں نظر آیا جہاں بطخوں نے فیشن کی دنیا میں قدم رکھ کر ماڈلنگ کا آغاز کیا۔
آسٹریلیا میں بطخوں نے اپنے لئے ڈیزائن کر دہ ماہر ڈیزائنرز کے ملبوسات اور ہیٹس پہن کر گھاس اور پھولوں سے سجے ریمپ پرسپر ما ڈلز کی طرح واک کر کے شائقین سے داد وصول کی۔ اس منفرد ترین فیشن شو میں بطخوں نے روایتی دولہا دلہن کا روپ دھار کر بھی ماڈلنگ کی اور اپنے ننھے قدموں سے ریمپ پر چل کر اپنی اس پوشیدہ صلا حیت کا بھی اظہار کیا جو سب کو بے حد پسند آئی۔

رکوع میں جانے کا فن


میں نے ندی کے کنارے لڑکیوں کو پانی بھرتے دیکھا اور میں دیر تک کھڑا ان کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ پانی بھرنے کے لئے جھکنا پڑتا ہے اور رکوع میں جائے بغیر پانی نہیں بھرا جا سکتا. ہر شخص کو رکوع میں جانے کا فن اچھی طرح سے آنا چاہیے تاکہ وہ زندگی کی ندی سے پانی بھر سکے اور خوب سیر ہو سکے…. لیکن افسوس کی بات ہے کہ انسان جھکنے کا اور خم کھانے کا آرٹ آہستہ آہستہ بھول رہا ہے اور اس کی زبردست طاقتور انا اس کو یہ کام نہیں کرنے دیتی. یہی وجہ ہے کہ ساری دعائیں اور ساری عبادت اکارت جا رہی ہے اور انسان اکھڑا اکھڑا سا ہو گیا ہے -
اصل میں زندگی ایک کشمکش اور جدوجہد بن کر رہ گئی ہے.اور اس میں وہ مٹھاس، وہ ٹھنڈک اور شیرینی باقی نہیں رہی جو حسن اور توازن اور ہارمنی کی جان تھی. اس وقت زندگی سے چھلکنے اور رکوع کرنے کا پرسرار راز رخصت ہو چکا ہے اور اس کی جگہ محض جدوجہد باقی رہ گئی ہے. ایک کشمکش اور مسلسل تگ و تاز-

لیکن ایک بات یاد رہے کہ یہ جھکنے اور رکوع میں جانے کا آرٹ بلا ارادہ ہو ورنہ یہ بھی تصنع اور ریا کاری بن جائے گا اور یہ جھکنا بھی انا کی ایک شان کہلانے لگے گا.

(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔

قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"

بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔
اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!

ایک عرب بدو کا خلیفہ مامون الرشید سے مکالمہ



عباسی خلیفہ مامون الرشید خرسان سے حج کے لیے مکہ مکرمہ جارہے تھے۔ طوس کے مقام پر اسے ایک شخص ملا۔ کہنے لگا: " اے خلیفہ! میں ایک بدو ہوں۔" مامون یہ سن کر کہنے لگے: "کوئی تعجب کی بات نہیں۔"
یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا: "میں حج کے لیے جانا چاہتاہوں۔" مامون کہنے لگے: "اللہ کی زمین وسیع ہے، بڑی خوشی سے جاؤ۔" اس پر بدو کہنے لگا: " میرے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔" مامون الرشید نے کہا: "تب تو تجھ پر حج فرض نہیں ہوتا۔" بدو بولا: "امیر المومنین! میں آپ سے کچھ انعام لینے آیا ہوں، فتوی تو نہیں پوچھنے آیا۔"
مامون الرشید ہنس پڑے اور اسے انعام دینے کا حکم دیا۔ 

سلطان محمود غزنوی


محمود غزنوی 998ء میں غزنی کے سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے۔ اُس زمانے میں غزنی کا علاقہ سامانیوں کے زیر تسلط تھا۔ سامانی، شمال مشرقی ایران سے آئے تھے اور انہوں نے چین سے لیکر خلیج فارس تک ایک وسیع سلطنت قائم کر لی تھی۔ محمود نے انہیں سامانیوں کی ماتحتی سے آزادی حاصل کی پھر آس پاس کی ریاستوں کو نیچا دکھا کے غزنی کی حکومت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ یہ عباسی خلفاء کا دور تھا۔ اگرچہ تمام سلاطین اور حکمران اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار تھے لیکن کمزور خلافت عباسیہ کے باوجود تقریباً سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کا دم بھرتے تھے اور خطبہ میں اُس کا نام لیا جاتا تھا۔ عباسی خلیفہ کو محمود کی فتوحات کا حال معلوم ہوا تو خراسان کی حکومت کا پروانہ اور خلعت بھیجا۔ یمین الدولہ امین الملۃ کا خطاب بھی دیا۔ چنانچہ آگے چل کے محمود کے خاندان نے یمینی خاندان کے نام سے شہرت پائی۔ 
یہ وہ وقت تھا جب ہندو راجاؤں کا ایک خاندان جو ہندو شاہی کہلاتا تھا، پنجاب پر حکومت کرتا تھا۔ محمود کے والد امیر سبکتگین کی حکومت کے زمانے میں اِس خاندان کے ایک راجہ جے پال نے بہت سے ہندو راجاؤں کو ساتھ لے کر کابل پر چڑھائی کی۔ لیکن شکست کھائی اور خراج ادا کرنے کا وعدہ کرکے لوٹا۔ گھر پہنچ کر اُس کی نیت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اب کے پھر سبکتگین سے معرکہ ہوا۔ جس میں جے پال نے پھر شکست کھائی۔ محمود ان معرکوں میں والد کے ساتھ ساتھ رہا تھا۔ اور ہندو شاہیوں کی طاقت کو اچھی طرح آزما چکا تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب اُسے اندرونی جھگڑوں سے اطمنان نصیب ہوا اور غزنی میں اس کے قدم اچھی طرح جم گئے تو اُس نے ہندوستان پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا اور سترہ حملے کرکے اس سرزمین میں ہل چل ڈال دی۔ جے پال کا جانشین انند پال بڑے لاؤلشکر کے ساتھ محمود کا راستہ روکنے آیا۔ کئی راجپوت راجاؤں نے اُس کی مدد کی لیکن محمود نے انہیں ایسی شکست دی کہ وہ اسے راستہ دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ وہ سرکش راجپوتوں کو نیچا دکھاتا جنگلوں اور پہاڑوں کے جنگجو قبیلوں کو دباتا وادئ گنگا جا پہنچا۔ 
محمود غزنوی نے وادئ گنگا پر پورے زور سے پہلے مرتبہ جو حملہ کیا، اُس میں قنوج، بلند شہر، متھرا، اٹاوہ، میرٹھ کے علاوہ کئی اور چھوٹے بڑے شہر فتح ہوئے۔ ان شہروں اور ان کے مندروں سے وہ بے شمار دولت سمیٹ کے غزنی لے گیا۔ اِس موقع پر اُسے جو کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کی وجہ سے سارے عالم اسلام میں اُس کی بہادری اور اولوالعزمی کی دھاک بیٹھ گئی اور جابجا اس کا نام بڑی عزت سے لیا جانے لگا۔
ہندو شاہیوں اور دوسرے راجاؤں نے مل کر ایک جتھا بنایا اور محمود غزنوی کا راستہ روکنے کا منصوبہ بنایا۔ جب محمود کو خبر ملی تو وہ لشکر لے کر مقابلے کے لیے روانہ ہوا۔ ہندوشاہیوں کے دلوں پر محمود کی ایس ہیبت چھائی ہوئی تھی کہ جب اس کی فوج سیلاب کی طرح ہندوکش کے پہاڑوں سے اُترا تو یہ جتھہ خودبخود ٹوٹ گیا اور کسی کو اُس کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔
محمود غزنوی کا سب سے بڑا کانامہ سومناتھ کی فتح ہے۔ سومناتھ، گجرات کاٹھیاوار کے علاقے میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ایک مشہور مندر تھا جس کی یاترا کو دور دور سے لوگ چلے آتے تھے۔ غزنی سے گجرات کافی دور تھا۔ راستے میں ہر طرف لق و دق میدان اور سنسان ریگستان پھیلے ہوئے تھے جن میں دور تک نہ پانی کا پتہ چلتا تھا اور نہ کہیں ہریالی تھی۔ محمود سفر کی صعوبتوں کی پروا کئے بغیر فوج لیکر یلغار کرتا ہوا چلا۔ راجپوت راجہ ہر طرف سے سمٹ کے یہاں جمع ہوگئے تھے۔ فوجوں کا تانتا بندھا ہوا تھا لیکن محمود نے اس طرح جھپٹ جھپٹ کے حملے کئے کہ راجپوتوں کی فوج تتر بتر ہوگئی۔ اس فتح میں ان گنت دولت ملی۔ سومناتھ کا بت بھی ہاتھ آیا۔ چنانچہ اس کامیابی پر اسلامی ملکوں میں جابجا بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ 
(از: تاریخ ہند و پاکستان - ریاض الاسلام)

میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟


ایک دن ملا نصرالدین منبر پر وعظ کرنے پہنچ گئے اور حاضرین سے پوچھا۔ کیا تم کو خبر ہے کہ میں تمہیں کیا سنانے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ملا نصرالدین یہ سن کے منبر سے اترے اور کہنے لگے کہ میں تم جیسے بے خبر لوگوں کو کیا بتاؤں جن کو کچھ خبر نہیں۔ 
دوسرے دن ملا نصر الدین پھر منبر پر پہنچے اور کہنے لگے، کیا تم کو خبر ہے کہ میں تمہیں کیا سنانا چاہتا ہوں؟ پہلے دن کے تجربے سے لوگ کہنے لگے کہ ہاں ہمیں خبر ہے۔ ملا یہ سن کر منبر سے اترے اور کہا کہ جب تمہیں پہلے ہی پتہ ہے تو میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ 
تیسرے دن وہ پھر منبر پر پہنچ گئے اور وہی سوال دوبارہ دہرایا، لوگ چونکہ دو روز کے جوابات سے تنگ آچکے تھے اس لیے کچھ لوگوں نے کہا کہ خبر ہے اور کچھ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے۔ ملا نصرالدین یہ سن کر منبر سے اترے اور کہنے لگے: جنہیں خبر ہے وہ دوسروں کو بھی بتا دیں، میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔

غلافِ کعبہ : تاریخ کے آئینے میں

1962ء میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی۔  کعبة اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل نے چڑھایا تھا۔ ظہو ر اسلام سے قبل بھی حضور اکرمﷺ کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا‘ آپﷺکے جدامجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے خصوصی بیت المال قائم کیا تاکہ تمام قبائل اپنی حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں۔ فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرمﷺ نے یمن کا تیار کیا ہوا‘ سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا۔ آپﷺ کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا‘ بعد میں یہ غلاف عیدالفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا۔ بعدازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ 9اور 10ہجری میں بھی آپﷺ نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا۔
اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروق پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کر دیئے جاتے۔ آج کل یہ ٹکڑے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور اہم شخصیات کو تحفہ میں دیئے جاتے ہیں۔حضرت عثمان غنی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی۔
بنو عباس نے اپنے 500 سالہ دور حکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے۔ عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ کی بنوائی میں خصوصی دلچسپی لی اور اسکو انتہائی خوبصورت بنایا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما م کیا۔ مامون الرشید نے سفید رنگ کا غلاف چڑھایا تھا‘ خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا‘ اسکے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر زری کا کام ہوتا ہے۔140ھ سے غلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے ۔
761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا۔ 810 ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جاذب نظر بنایا جانے لگا‘ جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے۔ محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا۔ سلمان دوم کے عہد حکومت تک غلاف مصر سے جاتا تھا‘ جب اس رسم میں جاہلانہ باتیں شامل کرلی گئیں تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاف لینے سے انکار کر دیا گیا۔ شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923ء میں خراب ہوئے چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے۔
1927ءمیں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلدازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کرکے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونیوالا یہ پہلا غلاف کعبہ تھا۔ مکہ میں قائم ہونیوالی اس فیکٹری کا نام ”دارالکسوہ“ ہے۔غلاف میں 150کلو سونے اور چاندی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(بشکریہ: فضل حسین اعوان-نوائے وقت)

Pages