چائلڈاسٹار

بیٹیاں! ان کی قدر کرو، یہ آبگینے بڑے نازک ہیں


وہ بیٹیاں تم جس کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دو،وہ اُف کئے بغیرتمہاری پگڑیوں اور داڑھیوں کی لاج رکھنے کے لئے ان کے ساتھ ہو لیتی ہیں ،سسرال میں جب میکے کی یاد آتی ہے تو چھپ چھپ کر رو لیتی ہیں،کبھی دھوئیں کے بہانے آنسو بہا کر جی ہلکا کر لیا ،آٹا گوندھتے ہوئے آنسو بہتے ہیں وہ آٹے میں جذب ہو جاتے ہیں ،کوئی نہیں جانتا کہ ان روٹیوں میں اس بیٹی کے آنسو بھی شامل ہیں،غیرت مندو! ان کی قدر کرو یہ آبگینے بڑے نازک ہیں۔
 مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری

منٹوں میں چارج اور ہفتوں چلنے والی موبائل فون بیٹریاں


پاکستان میں لوڈشیڈنگ جہاں بہت سے شعبوں میں مالی نقصانات کاسبب بن رہی ہے وہیں یہ رابطے کے ذریعے، موبائل فون پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اکثر موبائل صارفین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اچھی طرح چارج نہیں کر پاتے اور یوں وہ اپنے کاروباری اور گھریلو روابط سے کچھ وقت کےلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یوپی ایس اور شمسی توانائی جیسی متبادل ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کم پاور اور چارجنگ کا دورانہ بھی مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اب اس مسئلے کا بھی حل آنے والا ہے۔امریکی سائنسدانوں نے نئے تجربوں کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ فون کی ایسی بیٹریاں بنائی جا سکتی ہیں جو منٹوں میں چارج ہوں گی اور ہفتوں تک چلیں گی۔


برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سلیکون کے ایسے آلات بنائے ہیں جن سے فوری طور پر بیٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ٹینیسی کی ونڈربلٹ یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سائنسدانوں نے سُپر کیپسیٹر زکے سائز اور اس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے متعددتجربات کیے ہیں۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ بیٹریوں کے مقابلے یہ بیٹریاں نسبتاً زیادہ وقت تک موبائل فون کو توانائی مہیا کرسکے گی۔


سلیکون کے یہ حصے موجودہ چِپ پروڈکشن سسٹم میں بآسانی لگائے جا سکتے ہیں۔ان سستے سُپر کیپسیٹر زسے دوبارہ قابِل استعمال توانائی کے وسائل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کاربن سے بنائے گئے سُپر کیپسیٹر کو پہلے ہی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز میں توانائی سٹور کرنے کے نظام کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔

ریاکار درویش



بیان کیا جاتا ہے کہ ایک ریاکار شخص جو صرف دنیا کو دکھانےکے لئیے نیکیاں کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کا مہمان ہوا۔ اس نے بادشاہ پر اپنی بزُرگی کا رعب ڈالنے کے لیے بلکل تھوڑا کھانا کھایا لیکن نماز میں کافی وقت لگایا۔ جب یہ شخص بادشاہ سے رخصت ہو کر اپنے گھر آیا تو آتے ہی کھانا طلب کیا۔ اسکے بیٹے نے کہا، کیا آپ بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا کے نہیں آئے؟ اس نے کہا، وہاں میں نے اس خیال سے کم کھایا تھا کہ بادشاہ کو میری پرہیزگاری کا اعتبار ہو آ جائے اور اسکے دل میں میری عزت زیادہ ہو۔

بیٹے نے کہا، پھر تو آپ نماز بھی دوبارہ پڑھیں کیونکہ وہ بھی آپ نے بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ہی پڑھی تھی۔​
؎ عیب اپنے چھپا لیے تو نے اور ہُنر آشکار کرتا ہے​ تیرا کیا حشر ہوگا، اے مغرور! تُو برا بیوپار کرتا ہے۔​ وضاحت:​ اس حکایت میں شیخ سعدی  نے ریاکاری کی مذمت کی ہے ۔ ریاکار اگرچہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی سے لوگوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالم الغیب خُدا کو کس طرح دھوکہ دے گا! قیامت کے دن اسکے اچھے برے سب اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور اسکی ریاکاری سخت عذاب کا موجب بنے گی۔

امیر کی اطاعت


ایک درویش بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ سے مکہ مکرمہ کے ارادے سے چلا۔ راستہ میں حضرت ابراہیم خواص  سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے صحبت میں رہنے کی اجازت مانگی انہوں نے فرمایا صحبت میں ایک امیر ہوتا ہے، اور دوسرا فرمانبردار۔ تم کیا منظور کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، آپ امیر بنیں اور میں فرمابنردار، انہوں نے کہا اگر فرمابنردار بننا پسند کرتے ہو تو میرے کسی حکم سے باہر نہ ہونا۔ میں نے کہا۔ یہی ہوگا۔ جب ہم منزل پر پہنچے تو انھوں نے کہا بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کنویں سے پانی کھینچا جو بہت سرد تھا پھر لکڑیاں جمع کر کے ایک جگہ پر آگ جلائی اور پانی گرم کیا۔ میں جس کام کا ارادہ کرنے کی جسارت کرتا وہ فرماتے بیٹھ جاؤ۔ فرمانبرداری کی شرط کو ملخوظ رکھو۔ جب رات ہوئی تو شدید بارش نے گھیر لیا۔انہوں نے اپنی گڈری اتار کر کندھے پر ڈالی اور رات بھر میرے سر پر سایہ کئے کھڑے رہے۔ میں ندامت سے پانی پانی ہوا جارہا تھا مگر شرط کے مطابق کچھ نہ کر سکتا تھا۔

 جب صبح ہوئی تو میں نے کہا اے شیخ! آج میں امیر بنوں گا۔ انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے، جب ہم منزل پر پہنچے تو انہوں نے پھر وہی خدمت اختیار کی میں نے کہا اب آپ میرے حکم سے باہر نہ ہوجائیے۔ فرمایا! فرمان سے وہ شخص باہر ہوتا ہے جو اپنے امیر سے خدمت کرائے۔ وہ مکہ مکرمہ تک اسی طرح میرے ہم سفر رہے جب ہم مکہ پہنچے تو میں شرم کے مارے بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ انہوں نے مجھے منیٰ میں‌دیکھ کر فرمایا اے فرزند! تم پر لازم ہے کہ درویشوں کے ساتھ ایسی صحبت کرنا جیسی کہ میں نے تمہارے ساتھ کی ہے۔ ("کشف المحجوب" - مترجم غلام معین الدین نعیمی)

اخبارات کی تاریخ


اخبار,خبروں کی ترسیل کا ایک بہت پرانا ذریعہ ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان مختلف طریقوں سے خبروں کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے ہزاروں سال قبل انسان مختلف ذرائع سے اطلاعات کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ ان میں دھویں کے ذریعہ، ڈھول، نقارے یا ناقوس کی آواز کے ذرائع شامل تھے۔ انہیں کے ذریعے انسان اطلاعات کی ترسیل کرکے دُشمنوں سے بچنے کی تدا بیر کیا کرتا تھا۔
دُنیا میں پہلا اَخبار کب اور کہاں شائع ہوا یہ وثوق سے کہنا تو نہایت مشکل ہے تاہم اخبارات کی عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم روم میں جولیس سیزر کے عہد میں سرکاری اعلانات کے بلیٹن ’ایکٹا ڈیورنا ‘کے نام سے شائع کیے جاتے تھے۔پتھر یا دھات کی تختیوں پر اطلاعات کندہ کرکے انہیں عام جگہوں پر نصب کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح چینی حکومت نے بھی پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں اپنے درباریوں کے لیے ایک اطلاع نامہ جاری کیا تھا، جسے ’تِپاؤ‘ کہا جاتا تھا۔ چین میں ٹینگ حکمرانی کے دوران بھی ایک سرکاری اخبار ریشم کے کپڑے پر دستی تحریر سے شائع کیا جاتاتھاجسے صرف سرکاری افسران پڑھتے تھے۔

چاکلیٹ زمانہ قبل از مسیح سے زیر استعمال ہے



سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں شواہد دریافت کر لیے ہیں کہ وسطی امریکہ کے باشندے کم از کم تین ہزار سال سے کاکاؤ سے بنائی گئی چاکلیٹ کے مشروبات پی رہے ہیں۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اس چاکلیٹ کے مشروب کا استعمال اس سے پانچ سو برس بعد شروع ہوا تھا۔

نیویارک کی کرنیل یونیورسٹی میں بشریات کے پروفیسر جون ہینڈرسن نے کہا کہ ان کی ٹیم نے جنوبی امریکہ کے ملک ہانڈوراس میں ملنے والے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں پر پائے جانے والے بچے کھچے اجزاء کا تجزیہ کیا۔ ہنڈرسن نے کہا کہ وسطی امریکہ کے پرانے باشندے ممکن ہے ایک ایسا مشروب بھی پیتے ہوں جو کاکاؤ پودے سے تیار ہوتا تھا۔

ہینڈرسن نے خیال ظاہر کیاکہ ان ابتدائی مشروبات نے ممکن ہے بعد میں چاکلیٹ کے اس مشروب کی شکل اختیار کرلی ہو جو سولھویں صدی کے یورپی باشندے پیا کرتے تھے۔ یہ مشروب یورپی باشندوں کے ساتھ ان کے وطن پہنچا جس کے نتیجے میں چاکلیٹ کی جدید صنعت وجود میں آئی۔ (وائس آف امریکہ)

اللہ کے ذکر کی طاقت


ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو بلاکر مریضہ کو دکھایا گیا۔ اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے! تعجب! اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش! تم سب لوگ گدھے ہو اور احمقوں کی سی بات کرتے ہو۔ اس کا علاج ذکر ہی سے ہوگا۔" اپنے لیے گدھے اور احمق کے الفاظ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہوگیا اور ان کے جسموں کے اندر خون کا فشار بڑھ گیا۔ اور انہوں نے صوفی کے خلاف مکے تان لیے۔ صوفی نے کہا "اگر گدھے کے لفظ نے تم کو چراغ پا کر دیا ہے اور تم سب کا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا ہے اور تم نے میرے خلاف مکے تان لیے تو کیا ذکر اللہ اس بیمار بچی کے وجود پر کوئی اثر نہیں کرے گا؟" اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے، آمین۔
(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)

حقوق اللہ اور حقوق العباد


انسان پر سب سے پہلے حقوق اللہ کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو عدم سے وجود بخشنے والا صرف ایک اللہ ہے، لہذا انسان کے خالق و مالک ہونے کے ناطے اللہ تعالی کے حقوق ہر لحاظ سے فائق و برتر ہیں اور حقوق اللہ میں سرفہرست حق یہ ہے کہ اللہ تعالی کو وحدہ لاشریک مانا جاۓ اور توحید باری تعالی کا قولی وعملی اقرار کیا جاۓ- روز آخرت انسان کی نجات کا معیار یہی توحید باری تعالی ہے۔

حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا معاملہ ہے- حقوق العباد میں سرفہرست والدین کا حق ہے- اللہ تعالی کے بعد انسان کا سب سے قریبی تعلق اپنے والدین سے ہوتا ہے- والدین ہی اسکی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں اور اسکی تعلیم وتربیت کی وجہ سے دیگر انسانوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انکے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کیا جاۓ۔

قرآن مجید کی کم وبیش چار آیات میں اللہ تعالی نے والدین کے حق کو اپنے حق کے متصل بعد ذکر کیا ہے جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں والدین کے حقوق کی کیا اہمیت ہے۔

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو

قرآن ایک عظیم نعمت


اللہ تعالٰی نے انسانوں کے لئے بے شمار نعمتیں دنیا میں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے۔قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ دنیا میں ہم کس طرح زندگی گزاریں تاکہ ہماری دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی اور مرنے کے بعد اللہ تعالٰی ہم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائیں۔
یہ سب کسی بھی طور مشکل نہیں ہے۔ ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔ اس میں جن باتوں کا حکم ہے اسے پورا کریں اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے، اس سے خود بھی بچنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی تلقین کریں۔ ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ قرآن مجید کی تعلیم ہر جگہ پھیلانے کی کوشش کریں۔ 
اللہ تعالٰی ہمارا مددگار ہو۔ آمین۔ 

حضور صلى الله عليه و سلم کے محراب میں کھڑے ہو کر نفل پڑھنا



اس وقت مجھے وہ سہ پہر یاد آ رہی ہے جب شہاب کا بازو کھینچ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی کہ چلو اصحاب صفہ کے چبوترے پر تم بھی جا کر نفل ادا کرلو -
میں وہاں بڑی مشکل سے جگہ بنا کر آیا ہوں – اور ایک عرب صوفی کو اپنے پاکستانی صوفی ہونے کا یقین دلا کے آیا ہوں کہ ابھی میں اپنے بڑے بھائی کو لاتا ہوں - لیکن شہاب نے یہ کہہ کر اپنا بازو چھڑا لیا کہ اتنے بڑے مقام پر اور اتنی اونچی جگہ پر بیٹھ کر میں نفل نہیں ادا کر سکتا… میں یہیں ٹھیک ہوں بلکہ یہ بھی کسی کے کرم سے رعایت ملی ہوئی ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں -

مجھے اس کی بات پر غصہ بھی آیا ور کفران نعمت پر افسوس بھی ہوا – لیکن وہ ایسا ہی تھا -

صبح بھی جب میں نے اس کو بتایا کہ چلو حضور کے محراب میں لوگ نفل ادا کر رہے ہیں تم بھی میرے ساتھ چلو میں جگہ بنوا دوں گا اور ایک دو دھکے لگا کر محراب خالی کروا دونگا لیکن وہ نہیں مانا اور شرمندہ سا ہو کر کہنے لگا:

” یار حضور کے محراب میں کھڑے ہو کر نفل پڑھنا بڑے دل گردے کا کام ہے وہاں تو حضرت ابو بکر کو بھی تھرتھری آ گئی تھی میرا کیا منہ ہے جو اس جگہ کے قریب بھی جاؤں- میری شکل دیکھتے ہو یہ اس محراب میں کھڑے ہونے کے قابل ہے تم جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھو اس مسجد کی بہاریں جتنی بھی لوٹ سکتے ہو لوٹ لو– ایسا موقع بار بار ہاتھ نہیں آتا - ہر ہر مصلے سے، ہرکونے سے، اور ہر صف سے، جہاں جہاں موقع ملے اپنا حصہ بٹور لو اور جو حصہ تمہارا نہیں بھی ہے وہ بھی ہتھیا لو – ایسا چانس روز نہیں ملا کرتا – “


(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)

میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا


میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا

جب سب سے مشہور کھیل “چھپن چھپائی“ ، “برف پانی “ اور “اونچ نیچ“ ہوتے تھے

جب سب سے بہترین میٹھے “پولکا“ ، “پاپ کارن“ “جوبلی“ اور “میچل ٹافی“ ہوتے تھے
جب پیپسی چھ روپے کی ہوا کرتے تھی

جب ہم ساڑھے سات بجے اسکول جانے سے پہلے پی ٹی وی پر کارٹون دیکھتے تھے

اور

شام سات بجے “ننجا ٹرٹلز“ اور “کیپٹن پلینٹ“ دیکھتے تھے

جب ہمیں موویز دیکھنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اور ہم پھر بھی کسی طرح مینج کر لیتے تھے

جب ہمارا بہترین اثاثہ “ببل گمرز شوز“ ہوتے تھے

جب پچاس روپے عیدی ملنے کا مطلب ہوتا تھا کہ آپ امیر ہو گئے ہو

جب ہم “ اکڑ بکڑ بمبے بو “ سے فیصلے کیا کرتے تھے

جب ہمارے لیے سب سے خوفناک چیزیں “انجیکشنز“ ، “تاریک کمرے“ اور “قاری صاحب“ ہوا کرتے تھے

جب “ ونڈر بریڈ کی بی ایم ایکس سائیکل “ پورے محلے میں جیلسی کا سبب ہوتی تھی

جب کرکٹ کھیلتے ہوئے اصول ہوا کرتا تھا کہ گھر میں جانا آئوٹ ہے اور جو مارے گا وہی لے کر آئے گا

بچگانہ لیکن بہترین یادیں

نئی نسل یہ چیزیں کبھی انجوائے نہیں کرے گی

(خوبصورت یادیں - اجد تاج)

ٹیکنالوجی اور ہمارے سماجی رویے


لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔
لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:
آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔ (مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)

گناہوں کی دوا


حضرت شبلی نے ایک حکیم سے کہا’’مجھے گناہوں کا مرض ہے اگراس کی دوا بھی آپ کے پاس ہو تو عنایت کیجئے، یہاں یہ باتیں ہورہی تھیں اورسامنے میدان میں ایک شخص تنکے چننے میں مصروف تھا،اس نے سراٹھاکر کہا کہ جوتجھ سے لولگاتے ہیں وہ تنکے چنتے ہیں‘‘ شبلی! یہاں آؤ میں اس کی دوابتاتاہوں۔"
حیاکے پھول، صبروشکر کے پھل، عجز ونیاز کی جڑ، غم کی کونیل، سچائی کے درخت کے پتے، ادب کی چھال، حسن اخلاق کے بیج یہ سب اشیا لیکرریاضت کے باون دستہ میں کوٹنا شروع کرو اوراشک پشیمانی کاعرق ان میں روز ملاتے رہو۔ پھر ان سب کو دل کی دیگچی میں بھرکر شوق کے چولھے پرپکاؤ جب پک کرتیار ہوجائے توصفائے قلب کی صافی میں چھان کر شیریں زبان کی شکر ملاکرمحبت کی تیزآنچ دینا، جس وقت تیارہوکر اترے تو اس کو خوف خداکی ہوا سے ٹھنڈاکرکے استعمال کرنا‘‘

حضرت شبلی نے نگاہ اٹھاکر دیکھاتو وہ اللہ کا دیوانہ غائب ہوچکا تھا۔
( سچے موتی۸/۳۸۲)

ان پڑھ سقراط


میرے پاس ولایت اور یہاں کی بے شمار ڈگریاں ہیں ۔ لیکن اس سب علم اور ڈگریوں کے با وصف میرے پاس وہ کچھ نہیں ہے جو ایک پینڈو مالی کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی عطا ہے ۔ بڑی دیر کی بات ہے ہم سمن آباد میں رہتے تھے ، میرا پہلا بچہ جو نہایت ہی پیارا ہوتا ہے وہ میری گود میں تھا ۔ وہاں ایک ڈونگی گراؤنڈ ہے جہاں پاس ہی صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب رہا کرتے تھے ، میں اس گراؤنڈ میں بیٹھا تھا اور مالی لوگ کچھ کام کر رہے تھے۔ ایک مالی میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ ماشاءاللہ بہت پیارا بچہ ہے ۔ اللہ اس کی عمر دراز کرے ۔ وہ کہنے لگا کہ جی جو میرا چھوٹے سے بڑا بیٹا ہے وہ بھی تقریباً ایسا ہی ہے ۔ میں نے کہا ماشاء اللہ اس حساب سے تو ہم قریبی رشتے دار ہوئے ۔ وہ کہنے لگا کہ میرے آٹھ بچے ہیں ۔ میں اس زمانے میں ریڈیو میں ملازم تھا اور ہم فیملی پلاننگ کے حوالے سے پروگرام کرتے تھے ۔ جب اس نے آٹھ بچوں کا ذکر کیا تو مین نے کہا اللہ ان سب کو سلامت رکھے لیکن میں اپنی محبت آٹھ بچوں میں تقسیم کرنے پر تیار نہیں ہوں ۔ وہ مسکرایا اور میری طرف چہرہ کر کے کہنے لگا
” صاحب جی محبت کو تقسیم نہیں کیا کرتے ۔ محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں ۔ “
وہ بلکل ان پڑھ آدمی تھا اور اس کی جب سے کہی ہوئی بات اب تک میرے دل میں ہے ۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ واقعی یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کے پاس ہنر یا عقل کی ڈگری ہو ، یہ ضروری نہیں کہ سوچ و فکر کا ڈپلومہ حاصل کیا جائے ۔

(از: اشفاق احمد - اقتباس: زاویہ 2) 

چل انشاء اپنے گاؤں میں


چل انشاء اپنے گاؤں میں
یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت

پر اصلی کم، بہرُوپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا

جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟

یہاں ہر اِک بات نرالی ہے
اِس دیس بسیرا مت کرنا

یہاں مُفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
جہاں سچے رشتے یاریوں کے

جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے
جہاں جھرنے کومل سُکھ والے

جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں
(ابن انشاء)

ہم کون ہیں؟


ہمارے متعلق ملک شام اور اس کے باغات سے پوچھو۔۔۔۔۔۔ عراق اور اس کے نخلستانوں سے پوچھو، مصر اور اس کی وادیوں سے پوچھو، الجزائر اور اس کے جنگلات سے پوچھو۔۔۔۔۔۔ افریقہ کے ریگستانوں اور ایران کے سبزہ زاروں سے پوچھو۔۔۔۔۔۔

پوچھو روس کی برفانی چوٹیوں سے۔۔۔۔۔۔ پوچھو فرانس کے دریاؤں سے۔۔۔۔۔۔ پوچھو یوگوسلاویہ اور رومانیہ کے پانیوں سے۔۔۔۔۔۔ بلکہ ربع مسکون کےہر ٹکڑے سے پوچھو۔۔۔۔۔۔! آسمان کے نیچے بسنے والی ہر مخلوق سے پوچھو۔۔۔۔۔۔

ان سب کے پاس ہماری شجاعت و بسالت، ایثار و قربانی، علوم و فنون اور عدالت و شرافت کی خبریں ہیں۔ !ہم مسلمان ہیں ہمارے سوا اور کون تھا جس نے شرافت کے باغوں کو اپنے خون سے سینچا ہو۔ بتاؤ ہمارے علاوہ کس نے شجاعت و بسالت کے گلستان کو مزین کیا ہے۔ بھلا دنیا نے ہم سے زیادہ کوئی شریف، نبیل، مہربان اور شفیق، اعلٰی اور افضل کہیں دیکھا ہے؟ ہم نے جہالت کے اندھیروں میں ہدایت کی شمع روشن کرکے لوگوں کو بتایا کہ راہ ہدایت یہ ہے۔۔۔۔۔۔

وہ زمین ہماری ہی ہے جہاں قرآن پڑھا جاتا ہے اور میناورں سے اذان آتی ہے کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ کاش کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں تو فتح و کامرانی اور جہاں بانی ہمارا مقدر بن جائے۔۔۔۔

(اقتباس: اسلامی تاریخ کے دلچسپ اور ایمان آفرین واقعات؛ از: ابو مسعود عبد الجبار) 

ایسی تنہائی


ایسے اجاڑ سفر میں کون میرے دکھ بانٹنے کو میرے ساتھ چلے گا۔ یہاں تو ہوا کے سہمے ہوئے جھونکے بھی دبے پاؤں اترتے ہیں اور چپ چاپ گزر جاتے ہیں۔ یہاں کون میرے مجروح جذبوں پر دلاسوں کے پھائے رکھے، کس میں اتنا حوصلہ ہے کہ میری روداد سنے؟ کوئی نہیں۔

سوائے میری سخت جان "تنہائی" کے۔ تنہائی چونکہ میری خالی ہتھیلیوں پر قسمت کی لکیروں کی طرح ثبت ہے، میرے رت جگے کی غمگسار اور میری تھکن سے چور آنکھوں میں نیند کی طرح سما گئی ہے۔ ہوا مجھ سے برہم، سناٹا میرے تعاقب میں، مصیبتیں مجھ پر گریزاں اور شامیں میری آنکھیں پر اندھیرا باندھنے کے لیے منتظر اب کوئی چنگاری، کوئی کرن، کوئی آنسو یا پھر کوئی آس ہی مجھے دیرتک جینے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔

(محسن نقوی کی کتاب "طلوع اشک" سے اقتباس)

نوکیا کل ابو ظہبی میں چھ نئی ڈیوائسز متعارف کروائے گا




نوکیا کی جانب سے صارفین کے لئے چھ نئی ڈیوائسز کل 22 اکتوبر کو متعارف کروائی جارہی ہے۔ نوکیا ،کل ابو ظہبی میں نوکیا ورلڈ نامی ایک تقریب کا انعقاد کرنے جارہا ہے جس میں ان ڈیوائسز کی رونمائی کی جائے گی۔ مائیکروسافٹ اور نوکیا کے درمیان ہونے والی حالیہ اشتراک کے بعد نوکیا کی یہ تقریب خصوصی اہمیت کی حامل ہوگی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ نوکیا کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر سٹیفن ایلوپ ، مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے اس تقریب کی میزبانی کریں گے۔ انٹرنیٹ پر جاری خبروں کے مطابق نوکیااس تقریب میں پہلی ونڈوز آر ٹی ٹیبلیٹ لومیا 2520 اور 6 انچ سکرین کا حامل نیا سمارٹ فون لومیا 1520 فیبلیٹ متعارف کروائےگا۔ ساتھ ہی ساتھ نوکیا دیگرچار نئے گیجٹس بھی متعارف کروائے گا۔  نئی ٹیکنالوجی، سمارٹ فون اور ٹبلیٹس کے حوالے سے خبریں لیک کرنے والے ایک مستند نام evleaks نے آج ٹویٹر پر Moroleaks حوالے سے آئی پوڈ شفل سے ملتی جلتی ایک میوزک ڈیوائس کی تصویر لیک کی ہے۔ اس ڈیوائس میں بلیوٹوتھ اور این ایف سی موجود ہے تاہم اس کے بارے میں مزید کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاکستانی وقت کے مطابق کل دوپہر 12 بجے یہ تقریب ابو ظہبی میں شروع ہوگی۔ انٹرنیٹ پر یہ تقریب براہ راست conversations.nokia.com پر دیکھی جاسکتی ہے۔ نوکیا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ شاید کمپنی عنقریب موبائل اور ٹیبلیٹس کے بعد لیپ ٹاپ بھی متعارف کروائے۔

بیت اللہ کی کشش


میں بارگاہِ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتا ہوا اندر داخل ہوا۔ صحن میں پاؤں رکھتے ہی خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ اس کی چھت آسمان کو چھو رہی ہے۔ سینکڑوں آدمی وہاں طواف کر رہے تھے۔ کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنا گوارا نہ تھا۔ جو طواف سے فارغ ہو چکے تھے، ان میں سے کوئی حطیم کے اندر نفل پڑھ رہا تھا اور کوئی غلافِ کعبہ تھام کر گریہ و زاری کر رہا تھا۔ کسی کو کسی سے سروکار نہ تھا۔ کسی کو کسی سے دلچسپی نہ تھی۔ دو تین چکر لگانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ میں‌ کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میری آواز بیٹھ گئی۔ میری قوت گویائی جواب دے گئی اور آنسوؤں کا سیلاب جو نہ جانے کب سے اس وقت کا منتظر تھا میری آنکھوں سے پھوٹ نکلا۔ یہ ایک ایسا مقام تھا جہاں بچے کی طرح سسکیاں لینا بھی مجھے معیوب معلوم نہیں ہوتا تھا۔ کسی نے میری طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں‌ کی، کسی نے یہ نہ پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو، ان کی بے اعتنائی اور بے توجہی ظاہر کر رہی تھی کہ ایک انسان کے آنسو اسی مقام کے لیے ہیں.

( نسیم حجازی کے سفرنامے "پاکستان سے دیارِ حرم تک" سےاقتباس)

انسان - ایک عجیب مخلوق


انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے، یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں مبتلا کر کے خوش ہوتا ہے ۔

یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے ۔ لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کے رستا ہوا خون چاٹتا ہے ۔

انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے ۔

انسان پتھروں سے مشینوں سے جانوروں سے پیار کر سکتا ہے انسانوں سے نہیں ۔
(از اشفاق احمد)

Pages